خلائی ہتھیاروں میں مسابقت کی دوڑ

تحریر: فرخند اقبال

اس وقت ساری دنیا کی نظریں امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے وا لے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز ہیں۔ جنوری میں باضابطہ طور پر امریکہ کے 45ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے وقت میں عنان اقتدار سنبھال رہے ہیں جب امریکہ کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی کے منفرد دور کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں خارجی سطح پر امریکہ کے چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کا فوکس یورپ، ایشیاء اور مشرق وسطیٰ پر ہے جہاں وہ عالمی منظرنامے پر تیزی سے اُبھرتی ہوئی دو طاقتوں روس اور چین کے ساتھ طاقت کے موجودہ توازن کو قائم رکھنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔یہ ا یک ایسا موضوع ہے جس پر دنیا بھر میں سیاسی مبصرین نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع خارجہ پالیسی کے تناظر میں تبصرے کررہے ہیں لیکن اس جنگ کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر اس کی اہمیت کے مطابق بحث نہیں کی جارہی۔ دراصل یہ ممالک اس جنگ کو اب کرہ ارض سے بہت دور خلاء میں منتقل کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت لے جاکر مستقبل میں جنگی مقاصد کے لئے خلاء پر اپنا کنٹرول جمانے کی کوششیں کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں زمین کے بعد اب خلاء میں بھی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس وقت خلاء میں ان ممالک کے ایسے سیاروں کی موجودگی میں اضافہ ہورہا ہے جو کسی بھی تنازعے کی صورت میں مخالف ملک کے سیاروں کو تباہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نیچے زمین اور سمندروں میں موجود ان کی جنگی تنصیبات اور جہاز ایسے طاقتور راکٹوں اور میزائلوں سے لیس ہیں جو کہ چند لمحوں میں خلاء میں موجود دشمن کے خلائی جہازوں اور سیٹلائٹس کو تباہ کرسکتے ہیں۔ یہ ممالک ہر سال خلائی دفاعی بجٹ پر اربوں ڈالر کی رقوم خرچ کرتے ہیں جس میں بدستور اضافے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ فی الوقت امریکہ کو اس میدان میں بھی برتری حاصل ہے اور وہ دیگر دو ممالک سے بہت آگے ہے۔معتبر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی مئی 2016کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگان خلائی پروگرام پر سالانہ 22بلین ڈالر کی رقم خرچ کرتا ہے اور وہ اس سال اس مد میں 5بلین ڈالر کی مزید رقم کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس میں خلاء پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے جنگی مقاصد کے بہت خفیہ رکھے جانے والے پروگرامز شامل ہیں جس کے لئے 2بلین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔

khlaihatyar.jpgامریکہ کی خلا ء میں برتری کئی عشروں سے قائم ہے اور وہ سول مقاصد کے علاوہ جنگی مقاصدکے حصول کے لئے ہمیشہ اس سے استفادہ کرتا رہا ہے۔امریکہ نے 2001میں افغانستان جنگ میں انٹیلی جنس سیاروں کی مدد سے نہ صرف فوٹوگرافی اورریڈار تصاویرکے ذریعے طالبان پر کڑی نظر رکھی بلکہ جدید خلائی دفاعی نظام کے ذریعے جنگ کے دوران میدان میں موجود اپنے فوجیوں کوان کی کارروائیوں پر اثرانداز ہونے والی اچانک موسمی تبدیلیوں سے بھی باخبر رکھا، جبکہ میدانِ جنگ میں ان کے درمیان منظم روابط برقرار رکھنے اور انھیں دشمن کی موجودگی کے مقامات بتانے کے ساتھ ساتھ اسے ہدف بنانے میں بھی مدد فراہم کی۔ اس کے بعد امریکہ نے جب 2003میں عراق پر حملہ کیا تو بحیرہ احمر اور خلیج فارس میں موجود امریکی جنگی جہازوں نے ہزاروں میل اوپر خلاء میں رکھے گئے جی پی ایس سیٹلائٹس کی مدد سے کروز میزائلوں سے دشمن کے اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اسی نظام کی مدد سے خاموشی سے کارروائی کرنے والے جنگی طیاروں سے ٹھیک نشانے پر بم برسائے گئے جس نے چند ہی دنوں میں عراقی افواج کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس کے بعد بھی صدر باراک اوبامہ کے اقتدار کا ایک طویل دورانیہ خلاء میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے کنٹرول ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کے واقعات سے بھرپور رہا ( یہ حملے افغانستان، پاکستان، لیبیا، عراق، صومالیہ اور یمن میں کئے گئے) ا مریکہ اپنی خلائی طاقت میں اضافہ کرنے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے اور وہ وقتاً فوقتاً خلاء میں مختلف مشنز بھیجتا رہتا ہے جس میں زیادہ تر کا تعلق اس کے خلائی دفاعی نظام کے ساتھ ہوتا ہے۔ خلائی امور پر نظر رکھنے والے معروف ادارے
Space.com
کے مطابق امریکہ کی جانب سے 20مئی 2015کو خلاء میں لانچ کئے جانے والا خلائی جہاز بوئنگ -ایکس 37کو بھی خلاء میں موجود سیاروں کو تباہ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ امریکی خلائی طاقت کی صرف چند مثالیں ہیں جسے بیان کرنے کے لئے اس مضمون کا دامن ناکافی ہے۔لیکن اب روس اور چین اس میدان میں بھی امریکہ کی برتری چیلنج کرنے کے لئے کمر کس رہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 21ویں صدی کی بین الاقوامی سیاست میں عالمی طاقت بننے کے لئے زمینی، بحری اور فضائی طاقت کے ساتھ ساتھ اب ایک بھرپور خلائی طاقت بننا بھی لازمی ہے۔انھیں بخوبی احساس ہے کہ مستقبل قریب میں ایک مضبوط خلائی دفاعی نظام کی عدم موجودگی ان کی روایتی طاقتوں (زمینی، بحری اور فضائی افواج)کو غیر متعلق بنا سکتی ہے اور انھیں اس دوڑ میں بہت پیچھے رکھنے کا باعث بن سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ خلاء کو ہتھیاروں سے لیس کرنے یا وہاں سول مقاصد کے لئے پہلے سے موجود سیاروں کو جنگی مقاصد کے لئے تیار کرنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو رہے ہیں جو کہ مستقبل میں ناقابل تصور خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ان خدشات کے پیش نظر امریکی فضائی فوج کی میجر جنرل نینا ارمانگو نے اکتوبر میں
US Air Force Space Command
کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ روس اور چین2025 میں خلاء میں امریکی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی اہلیت حاصل کر لیں گے اس لئے امریکہ کو چاہئے کہ وہ اپنے اس نظام کے تحفظ کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے۔


دیکھا جائے تواس وقت چین کا سالانہ خلائی بجٹ 3بلین ڈالر ہے۔ سال 2015 میں خلاء میں 19کامیاب مشن بھیجنے کے بعد چین نے اس سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2016میں 20سے زائد سویلین اور ملٹری خلائی مشن بھیجے گا۔ ان مشنزمیں نئے راکٹوں کے تجربات کرنا، خلائی لیبارٹری قائم کرنا، خلابازوں کو خلاء میں بھیجنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور نئے سیارے بھیجنے کے منصوبے شامل ہیں۔اس کے علاوہ چین اینٹی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے جس کا مقصدکسی تنازعے کی صورت میں خلاء میں موجود مخالف فریق کے سیاروں ودیگر اہداف کو تباہ کرنا یا بے کار بنانا ہے،اس میں زمین سے چھوڑے جانے والے راکٹ شامل ہیں جس کے ذریعے خلاء میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا جبکہ لیزرز اور سگنل جیمرزکے ذریعے سیاروں کو بے کار بنایا جائے گا۔
US Strategic Command
کے سابق کمانڈر سیسل ڈی ہینی نے 25فروری 2015 کو امریکی کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ چین خلائی جنگ کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے جو کہ امریکی سٹریٹجک سیٹلائٹ نظام کے لئے خطرہ ہے۔ ان کے مطابق ’’ہم خلاء میں انتہائی پریشان کن رجحانات دیکھ رہے ہیں، بالخصوص چین اور روس کی جانب سے، جو کہ خلاء میں اپنی جنگی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کو فروغ دینے کی کارروائیوں کا کھلے عام اظہار کرتے ہیں۔‘‘ اس سے قبل امریکی کانگریس کی امریکہ،چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیٹی نے بھی دسمبر 2014میں اپنی سالانہ رپورٹ میں چین کے خلاء میں جنگی پروگرام میں توسیع کرنے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔اس کے علاوہ مختلف امریکی دفاعی عہدیدار وقتاً فوقتاً چین کی خلاء میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
اس خطرناک کھیل کا تیسرا بڑا کھلاڑی روس ہمیشہ سے خلائی میدان میں امریکہ کے لئے درد سر رہا ہے۔ روس سویت یونین کے زمانے میں خلائی پروگرام میں کسی وقت امریکہ سے بھی آگے تھالیکن وہ1991میں افغان جنگ میں شکست کے نتیجے میں کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور میں داخل ہوگیا جس کے بعد اس کے لئے اپنا خلائی پروگرام اس شد و مد سے جاری رکھنا ناممکن ہوگیا تھا۔لیکن صدر پیوٹن کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے 2006 میں اپنا یہ ادھورا سفر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ پیوٹن کی حکومت اس وقت سے خلائی بجٹ میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے اور اب وہ بالآخر ایک بار پھر امریکہ کو چیلنج کرنے کے لئے خلاء میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہورہا ہے۔ 2012 میں سیٹلائٹس بنانے والی بڑی کمپنی آئی ایس ایس ریشٹنیوف میں روس کے 85فیصد ملٹری سیٹلائٹس کو مزید ترقی یافتہ بنایا گیا۔اسی کمپنی نے رواں سال کے وسط میں ایک بیان دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت خلاء میں روس کے 91سیارے گردش کر رہے ہیں۔ 17 نومبر 2015کو روس کی وزارت دفاع نے شام میں جاری ماسکو کی فوجی مہم میں مدد فراہم کرنے کے لئے استعمال ہونے والے اپنے خلائی اثاثوں کی تفصیلات جاری کیں۔ چیف آف جنرل سٹاف ویلری جیراسموف کے مطابق اس مہم میں دس خلائی جہاز استعمال کئے جارہے ہیں۔نومبر 2015 میں ہی روس نے اپنے پہلے ا ینٹی سیٹلائٹ میزائل )نیوڈل میزائل ( کا بھی کامیاب تجربہ کیا۔ روس اپنی خلائی طاقت میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔ مشکلات میں گھری ہوئی صنعت کے باوجود روس کی وفاقی حکومت نے 16مارچ 2016 کو ایک سال کے طویل انتظار اور بحث و مباحثے کے بعد اگلے دس سال تک خلائی پروگرام کے لئے 20.5بلین ڈالر کا بجٹ منظور کرلیا۔اس موقع پر روسی وزیر اعظم ڈمرٹی میدویدوف نے بیان دیا کہ ’’یہ ایک بڑا پروگرام ہے لیکن ہمیں ایسے حالات میں بھی اس قسم کے بڑے پروگرامز کی ضرورت ہے جبکہ ہماری معیشت مشکل حالات سے دوچار ہے۔‘‘ اس کے بعد اگست میں
Russian Aerospace Forces
کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل وکٹر گومنی نے اعلان کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب خلا میں برتری حاصل کرنے کی جنگ عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کے لئے نئی طرز کے ہتھیاروں کی ضرورت ہے ، حکومت عنقریب کرہ ارض سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل میزائل نظام فوج کے حوالے کرے گی۔ان چند مثالوں سے روس کی اس نئی خلائی جنگ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


دوسری جانب امریکہ اس ساری صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔بے شک وہ اس وقت ہر لحاظ سے کرہّ ارض کی سب سے بڑی طاقت ہے جس کی حیثیت مسلمہ ہے لیکن اب شاید تہذیبوں کے عروج و زوال کا وہ چکر دوبارہ شروع ہوچکا ہے جس میں کبھی چین تہذیبوں کا گہوارہ رہا تھا اور روس کو وہ ریچھ کہا جاتا تھا جو کسی جگہ پر اپنے پنجے گاڑ لیتا تھا تو پھر اسے کوئی طاقت وہاں پر قبضہ جمانے سے نہیں روک سکتی تھی۔صاف نظر آرہا ہے کہ خلاء میں ہتھیاروں کی یہ نئی دوڑ بہت تیزی سے آگے بڑھے گی۔ا مریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتہائی جارحانہ عزائم رکھنے والے راہنماکے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اپنی انتخابی مہم میں انھوں نے ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے‘‘کے نعرے کے ذریعے امریکی عوام کی بڑی تعداد کو اپنی جانب کھینچا ہے۔ امریکی عوام صدر باراک اوبامہ کی خارجہ پالیسی سے کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آئے ،وہ عالمی منظرنامے پر کسی بھی تنازعے یا کشمکش میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو قابو نہیں کرسکے۔ڈونلڈ ٹرمپ خارجہ پالیسی میں اس خلاء کو پرکرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ یورپ، ایشیا، مشرق وسطی کے ساتھ ساتھ خلاء میں اپنی برتری قائم رکھنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اس وقت چین کا سالانہ خلائی بجٹ 3بلین ڈالر ہے۔ سال 2015 میں خلاء میں 19کامیاب مشن بھیجنے کے بعد چین نے اس سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2016 میں 20سے زائد سویلین اور ملٹری خلائی مشن بھیجے گا۔ ان مشنزمیں نئے راکٹوں کے تجربات کرنا، خلائی لیبارٹری قائم کرنا، خلابازوں کو خلاء میں بھیجنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور نئے سیارے بھیجنے کے منصوبے شامل ہیں۔اس کے علاوہ چین اینٹی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے جس کا مقصدکسی تنازعے کی صورت میں خلاء میں موجود مخالف فریق کے سیاروں ودیگر اہداف کو تباہ کرنا یا بے کار بنانا ہے۔

*****

 
Read 561 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter