کشمیریوں کا بھارت سے اظہار نفرت

تحریر: اویس حفیظ

گزشتہ دنوں یہ خبر سننے کو ملی کہ بھارتی پارلیمینٹ میں ایک
Geospatial Information Regulation Bill
پیش کیاجارہاہے جسے قانونی شکل دئیے جانے کی صورت میں جموں و کشمیر ، اروناچل پردیش سمیت بعض دیگر متنازع علاقوں کوبھارت کے نقشے کا حصہ نہ دکھانے پر 7سال تک قید اور 100کروڑ روپے تک کا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم پاکستان نے اس پر فوری ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اور وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر سے متنازع بل کی بھارتی پارلیمان سے منظوری کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے خطوط کے ذریعے اقوامِ متحدہ کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کروائی ہے کہ یہ بل تو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کے بھی خلاف ہے جس میں کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا ہے۔

kasmiryounkab.jpgمیری دانست میں بھارت کی جانب سے اس طرح کے اقدام کا مقصد کشمیر میں جاری آزادی کی نئی لہر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے کیونکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی جنگ ر بروز تیز ہو رہی ہے اور کشمیریوں کی نئی نسل نے ہتھیار ڈالنے کے بعد مذاکرات اور گفت و شنید کے کھیل کا انجام بھی دیکھ لیا ہے کہ کشمیریوں کو گزشتہ 7دہائیوں میں سوائے وعدۂ فردا اور گمنام قبروں کے کچھ حاصل نہیں ہو سکا۔یہ آزادی کی جنگ میں شدت کا اثر ہی ہے کہ کشمیر میں ہر روز، چار نوجوانوں کو شہید کر کے انہیں مختلف قسم کی جہادی تنظیموں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ا بھی حال ہی میں آزادکشمیر کی وادئ نیلم میں بھارتی فوج نے مسافر بس کو نشانہ بنایا جس میں کئی مسافر شہید ہو گئے۔ عام اور نہتے کشمیریوں پر چھرے فائر کر کے سیکڑوں افراد کو نابینا اور معذور بنا دیا گیا ہے۔ شاید بھارت یہ خیال کر رہا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے وہ کشمیریوں کو دبانے میں کامیاب ہو جائے گا مگر جن لوگوں کی تمام عمر ہی جہدسے عبارت ہو، انہیں اس قسم کے حربوں سے کیا فرق پڑتا ہے اور ویسے بھی اب کشمیریوں کے پاس کھونے کے لئے بچا ہی کیا ہے؟ جب ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے شہید کئے جا رہے ہوں، ان کی بہنوں کی عصمت دری کی جارہی ہو تو وہ کیونکر امن اور مذاکرات کی بات کریں۔ پھر طرفہ تماشا یہ کہ بھارتی دانشور اور پالیسی ساز ادارے اب تک یہ ہی نہیں جان پائے کہ وادی میں’’شدت پسندی‘‘ میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟


بھارت یہ سارے اقدام گزشتہ کچھ عرصہ سے ہونے والی پے درپے خفتوں کے ازالے کے طور پر کر رہا ہے کیونکہ اب کشمیر کا مسئلہ نہ صرف عالمی برادری میں انتہائی نمایاں طور پر اجاگر ہو رہا ہے بلکہ عالمی برادری میں بھارت روز بروز تنہا بھی ہوتا جا رہا ہے ۔ کچھ ہفتے قبل معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ ’’ٹوئٹر ‘‘پر دنیا کا نقشہ جاری کیا گیا تھا جس میں کشمیر کو چین اور جموں کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا تھا، اس پر بھارت نے شدید واویلا مچایا ، پھر گزشتہ برس اپریل میں عرب ٹی وی چینل ’’الجزیرہ ‘‘نے کشمیر کو نقشے میں چین اور پاکستان کا حصہ دکھایا تھا جس پر بھارت بہت سیخ پا ہوا اور الجزیرہ کی نشریات پانچ دن کے لئے بند کر دی ۔اس سے قبل ستمبر 2014ء میں چینی صدر کے دورۂ بھارت کے دوران بھی اسے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں خفت کا سامنا کرنا پڑا جب ریاست گجرات کی حکومت کی طرف سے احمد آباد میں ایک معاہدے پر دستخط کے وقت چینی صدر چی چن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک نقشہ تقسیم کیاگیا، جس میں اروناچل پردیش اور جموں کشمیر کو متنازع علاقے کے طور پر دکھایا کیا گیا تھا(اور حقیقت بھی یہی ہے) مگر اس پر بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا اور یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ حکومت اور وزیراعظم قوم سے معافی مانگیں۔ شاید بھارت یہ فراموش کر رہا ہے کہ اس نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کو ایک ’’متنازع علاقہ‘‘ تسلیم کر رکھا ہے۔اس آرٹیکل کی روسے جموں کشمیر کو دوسری ریاستوں کے مقابلے میں خصوصی درجہ دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ بھارتی قوانین کے بارے میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ یہ جموں کشمیر کی ریاست کے علاوہ پورے بھارت میں لاگو ہوں گے، جموں وکشمیر کا اپنا آئین ہے جس کے مطابق وہاں کی اسمبلی ریاست کشمیر کے لئے قانون بنانے کی مجا ز ومختار ہے۔ یہ آرٹیکل 370ہی ہے جس کے ذریعے کسی نہ کسی صورت میں، بھارت بھی کشمیر کی ایک جداگانہ حیثیت تسلیم کرتا ہے۔اگرچہ اس وقت بھارت میں یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ مذکورہ آرٹیکل بلا ضرورت ہے اور اسے بھارت کے آئین کا حصہ بنانے والوں نے دانشمندی سے کام نہیں لیا لہٰذا اسے ختم کردینا چاہئے اور اس حوالے سے بسا اوقات مختلف بھارتی عہدیداروں اور وزراء کے بیانات بھی سننے کو ملتے ہیں مگر کیا بھارت نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ آرٹیکل 370ختم کرنے کے مضمرات کیا ہیں، اس کو ختم کرنے کے بعد کیا ہو گا؟

kasmiryounkab1.jpg


بھارت کشمیر پر اپنا حق جتانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا مگر خود کشمیریوں کی جانب سے اسے ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال حال ہی میں کشمیر میں منعقد ہونے والا شہید خالد کرکٹ لیگ کا انعقاد ہے جس میں حصہ لینے والی اکثر ٹیموں کے نام مجاہدینِ آزادی کے نام پر رکھے گئے تھے۔


شہید خالد کرکٹ لیگ کا انعقاد جنوبی کشمیر کے علاقے ترال میں کیا گیا تھااور دو ماہ تک چلنے والے اس کرکٹ ٹورنامنٹ میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا تھا جن میں کم از کم 3ٹیمیں ایسی تھیں جنہوں نے اپنے نام حریت پسند کمانڈرز کے نام پر رکھے تھے جبکہ باقی ٹیموں کانام پاکستان سپر لیگ اور آئی پی ایل کی طرز پر رکھا گیا تھا۔ ایک ٹیم کا نام ’’حزب المجاہدین‘‘ کے شہید ایریا کمانڈر ’’برہان وانی‘‘ کے نام پر ’’برہان لائنز‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ برہان وانی مقامی ہیڈ ماسٹر کے بیٹے تھے جنہیں کرکٹ سے بہت شغف تھا مگر 2010ء میں انہوں نے گھر بار چھوڑ کر حزب میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ایک دوسری ٹیم کا نام برہان ہی کے شہید بھائی ’’خالد مظفر وانی‘‘ کے نام پر ’’خالد آرئنز‘‘رکھا گیا تھا۔اس ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم بھی یہی تھی اور ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی شہید خالد مظفر کے نام پر ہی کیا گیا تھاجو گزشتہ برس پلوامہ میں اس وقت شہید کر دئیے گئے جب وہ اپنے بھائی سے ملنے جا رہے تھے۔ایک اور ٹیم ’’عابد قلندرز‘‘ کا نام 2014 میں شہید ہونے والے حزب کمانڈر عابد خان کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کو خالد ظفر کے ایک دوست نے ان کی یاد میں منعقد کروایا تھا اور اس کے حوالے سے بھارت کی آنکھوں میں چبھنے والی باتیں یہ تھیں کہ ایک تو اس کی افتتاحی و اختتامی تقریبات میں ’’چیئرلیڈرز گرلز‘‘ کے بجائے آزادی کے نغمے نشر کیے گئے ، دوسری یہ کہ ہندواڑہ میں ہونے والی شہادتوں پر جب شٹرڈاؤن کی کال دی گئی تو ان دنوں میچز کا انعقاد بھی نہیں کروایا گیا۔اس طرح 22فروری سے شروع ہونے والا 31میچوں کا یہ ٹورنامنٹ جو اپریل کے دوسرے ہفتے میں ختم ہو جانا تھا، 24اپریل تک چلتا رہا۔


بھارتی و مقامی میڈیا جہاں اس سپورٹس ایونٹ میں بھی حزب المجاہدین کا سراغ تلاش کرتے رہے وہیں مغربی میڈیا اس بات کو لے کر پریشان دکھائی دیا کہ ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ سپورٹس ٹیموں کے نام بھی ’’حریت پسند کمانڈروں‘‘کے نام پر رکھے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ امر جہاں ایک طرف کشمیریوں کی جانب بھارت سے اظہار نفرت ہے وہیں پر باقی دنیا کو بھی ایک پیغام ہے کہ کشمیر کہاں پر اور کس کے ساتھ کھڑا ہے۔ ’’کشمیری میڈیا سروس‘‘ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ’’کرکٹ ٹیم کا نام حریت پسند کمانڈروں کے نام پر رکھنے کا یہ چلن ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری ان کو کس حد تک چاہتے ہیں‘‘ جبکہ بھارتی میڈیا گروپ ’’ون بھارت‘‘ نے اس حوالے تجزیہ کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ ’’یہ کشمیر کے لوگوں کی طرف سے جاری ’’سول نافرمانی‘‘ کی طرف ہی ایک اور اشارہ ہے‘‘۔ دیر آید درست آید، اب دنیا کو علم ہونے لگا ہے کہ بھارت نے کشمیر پر بزورِ بندوق اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ گزشتہ اڑسٹھ سال سے بھارت کشمیر پر ’’دراندازوں‘‘ کا جو الزام لگا رہا تھا، اب اس غبارے سے بھی ہوا نکل رہی ہے۔ کشمیری عوام کی جانب سے بھارتی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے افراد کے جنازوں میں بڑی تعداد میں شرکت کے بعد کرکٹ ٹیم کا نام شہیدوں کے نام پر رکھا جا نا، کشمیر کے حالات کی خوب غمازی کر رہا ہے مگر بھارت ہے کہ ابھی تک ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 546 times
More in this category: فہرست »

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter