13
February
Published in Hilal Urdu
Read 25 times
فروری 2017
شمارہ:2 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے آفیسرز اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا عادہ کیا کہ پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے تجربات نے ہمیں جنگی لحاظ سے مزید سخت بنا دیا ہے۔ یہ صلاحیت ہماری آپریشنل تیاری کے سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ پاک فوج کے جوان دنیا کی تمام....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا ....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
جنگی جنون میں مبتلا بھارت، جس کا دفاعی بجٹ 52 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے بلکہ خطے میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے ایک طرف تو 2008 سے 2015 تک اس نے ہتھیار خریدنے کے لئے 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے جبکہ دوسری طرف اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود پر بہت کم خرچ کررہا ہے۔ بدانتظامی اور بے ایمانی اس قدر عروج پر ہے کہ بھارت کے فوجی بھوک، افلاس....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
سوئٹزرلینڈ کے سرمائی تفریحی مقام ڈیووس میں باہر منفی درجہ ء حرارت کے ہوتے ہوئے بھی ورلڈ اکنامک فورم میں ہونے والی زیادہ تر باتوں کی گرمی کا یہ عالم تھا کہ پسینہ چھوٹ جائے۔ اس بار اجلاس کا بنیادی خیال تھا،
Responsive and Responsible Leadership
گزشتہ سال کے بنیادی خیال چوتھے صنعتی انقلاب کا لبِ لباب یہ تھا....Read full article
 
تحریر: حماس حمید چوہدری
کہتے ہیں کہ مسئلہ چاہے کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو اس کا حل مذاکرات کی میز پرہی نکلتا ہے۔پچھلے کچھ سالوں سے اہلِ علم اور سیاسی دانشور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جس پختگی کا ذکر کر رہے تھے اس کا عملی مظاہرہ 27 دسمبر2016ء کو روس کے دارالحکومت ماسکو کی یخ بستہ فضاؤں میں منعقد کئے گئے پاکستان ،چین اور روس کے مشترکہ اجلاس میں نظر آیا۔اس اجلاس کا ایجنڈا.....Read full article
 
تحریر : محمد علی بیگ
شام کی روز بروز بدلتی صورت حال ایک عالمی مسئلہ ہے جو کہ شاید عظیم طاقتوں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ اگر ہم اس غور طلب معاملے پر ایک تنقیدی نظر دوڑائیں تو اس کی جڑیں عرب دنیا میں اٹھنے والے
Spring Revolution
سے ملتی ہیں۔ اس انقلاب نے جہاں عرب دنیامیں کئی دہائیوں سے بیٹھے حکمرانوں کو چلتا کیا وہیں پر یہ شام میں ایک خونریز .....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
گزشتہ دنوں عالمی میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کو اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 10 کلو میٹر تک طویل سفرکرنا پڑا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے پیسے نہ ہونے کے باعث اسے ایمبو لنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ریاست اڑیسہ کے علاقے کالا ہانڈی کا رہائشی دہارا ماجھی ٹی بی کی بیماری کے باعث بیوی کو سرکاری ہسپتال لے کر گیا ....Read full article
 
تحریر: مستنصر کلاسرا
1974میں بھارتی ایٹمی تجربے نے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔ یہ تجربہ اس خطے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور پھراس کی مسلسل بڑھوتری کی پہلی کڑی ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جس نے ایک غیرایٹمی خطے کو ایٹمی دوڑ میں شامل کر دیا۔ بھارت کے اس اقدام نے اقوام....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
سمندر کے ذریعے بڑی تعداد میں نقل و حمل نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضائی نقل و حمل سے تقریباً 163گنا سستی بھی ہے۔ 90 فیصد بین البراعظمی سامان کی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ تقریباً 15ملین کنٹینرز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ کنٹینرز سا لانہ 200ملین سے زائد مرتبہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 38ہزار سے زائد تجارتی جہاز سمندری....Read full article
 
تحریر: حجاب حبیب جالب
تاریخ انسانی جس میں بے شمار المناک واقعات دیکھنے میں آئے ہیں‘ ان میں مسئلہ کشمیر نمایاں اہمیت کا حامل ہے جو کہ روزِ اول سے ظلم وتشدد کی مثال ہے ویسے کہنے کو توہم آزاد ہیں اور ہر سال 14 اگست کو آزادی کا جشن جوش و خروش سے مناتے ہیں لیکن اپنی ان خوشیوں میں ان مظلوم و محکوم لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو ابھی تک ظلم اور جبر کی زنجیروں میں....Read full article
 
تحریر: محمد منیر،پروفیسر اویس خالد
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کی داستان نہ صرف دل دہلا دینے والی ہے بلکہ اقوام عالم کے بنائے گئے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے۔ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد وخواتین غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت سے بچ نہیں سکا۔ بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ اسکے تصور سے ہی....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
فرخ مرزا شہید کو جب لحد میں اُتارا گیا تو وہ پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا‘ اس کی زندگی کا مقصد اور آخری آرزو یہی تھی۔ عجیب وجدانی نوجوان تھا‘ شہادت سے چند دن پہلے سارے بہن بھائیوں‘ عزیز و اقرباء سے ملنے شہروں‘ شہروں اُن کے گھروں کو گیا۔
.....Read full article

تحریر: فرحان نثار
اُس نے جس کھیل کا انتخاب کیا تھا اس کا مستقبل پاکستان میں نہیں تھا۔وہ جس علاقے سے تعلق رکھتی تھی وہاں لڑکیوں کا میدان میں جا کر کھیلنا تو کجا اُن کے لئے گھر سے باہر نکلنا بھی آسان نہ تھا۔وہ لڑکی تھی، صنف نازک تھی مگر اس نے ایسے کھیل کا انتخاب کیا تھا........Read full article
 
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
ونکوور کو پورے کینیڈا میں موسم کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتدل خیال کیا جاتا ہے مگر صاحبو ! اس بار تو اس شہرِ عزیز میں ایسی برف پڑی کہ الامان و الحفیظ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ایسی برف باری نہیں ہوئی جیسی امسال ہوئی ہے۔ اگرچہ نومبر میں پہاڑوں پر برف پڑ جاتی ہے مگر وادی میں دسمبر....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اس بار۔۔۔یہ لیجئیے ابھی ایئر پورٹ سے نکلتے ہی خُنک خوشگوار ہوا کا پہلا ہی جھونکا لگا نہیں کہ ’’بار‘‘ زبان پر آگیا۔۔۔ ’’ بار ‘‘کے حوالے سے یہ بھی سنتے چلیں کہ کلکتہ میں ایک صاحبِ ذوق نے ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
سکول آف آرٹلری سے کورس کر کے واپس یونٹ میں پہنچے تو ہمیں گن پوزیشن آفیسر تعینات کیا گیا۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی یونٹ تین مہینے کے لئے موسم سرما کی جنگی مشقوں کے لئے پشاور سے نوشہرہ کے علاقے میں جا کر ڈیپلائے....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
یہ واقعہ بنکاک میں پیش آیا۔ میں وکٹری مانیومنٹ جانے کے لئے مطلوبہ ویگن تلاش کر رہا تھا۔ اجنبی زبان کی وجہ سے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کون سی ویگن کس روٹ کی ہے۔ ویگن کنڈکٹر تھائی زبان میں آوازیں لگا کر مسافروں کو متوجہ کر رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے یہاں ....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
6ستمبر 1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں دوسرے نغمے ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل.....Read full article
 
تحریر: ملک فداء الرحمن
میں نے پورے بلوچستان میں سڑکوں ڈیموں،محکمہ صحت اور پھر سب سے بڑھ کر محکمہ تعلیم کے نظام کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے پر زیادہ توجہ دی۔ میں تعلیمی نظام میں فرنٹیئر کور بلوچستان (ایف سی) کے سکولوں کا دورہ ضرور کرتا ہوں کیونکہ تعلیم اور صحت ایف سی کا کام نہیں تھا لیکن.....Read full article
 
تحریر : زینب مہ نور
شمالی وزیرستان فاٹا کی انتہائی اہم ایجنسی ہے۔ یہ علاقہ وزیراور داوڑ قبائل کا مسکن ہے۔ افغانستان کے صوبے خوست کے ساتھ ملحقہ اس ایجنسی کی برطانوی راج سے لے کر آج تک خاصی اہمیت رہی ہے....Read full article
13
February

ممتاز صحافی ملک فداء الرحمن کے حالیہ دورہ بلوچستان کے دوران مشاہدات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر

میں نے پورے بلوچستان میں سڑکوں ڈیموں،محکمہ صحت اور پھر سب سے بڑھ کر محکمہ تعلیم کے نظام کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے پر زیادہ توجہ دی۔ میں تعلیمی نظام میں فرنٹیئر کور بلوچستان (ایف سی) کے سکولوں کا دورہ ضرور کرتا ہوں کیونکہ تعلیم اور صحت ایف سی کا کام نہیں تھا لیکنaikbloochfrari.jpg انہوں نے بلوچستان کے عوام کے لئے سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ تعلیم اور صحت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ جگہ جگہ خوبصورت ڈسپنسریاں قائم کیں جہاں سے تمام سویلین اور ان کے بیوی بچوں کو مفت دوائی دی جاتی ہے۔ ہر وقت ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود ہوتا ہے۔ ان ڈسپنسریوں میں مکمل چیک اپ اور صفائی کا پورا انتظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی نے ہائیر سیکنڈری سکول بھی قائم کیے ہیں۔ میں نے ایف سی سکول سوئی کا دورہ کیا ۔ یہ سکول مڈل تک ہے۔ اس کے پرنسپل سعید احمد صاحب اور وائس پرنسپل عائشہ رانا ہیں۔ سکول کی صفائی اور نظم و ضبط بلاشبہ لاہوراور اسلام آباد کے کسی بھی معیاری سکول سے کم نہیں تھا۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں چونکہ حالات بہت ہی خراب تھے فراری جگہ جگہ وارداتیں کرتے اور ڈاکے مارتے پھر رہے تھے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ پھر اس علاقے کو جان بوجھ کر تعلیم سے بھی دور رکھا گیا تھا۔ مجھے بہت سے لوگوں نے بتایا ہے کہ ایف سی بلاتفریق بلوچستان میں ہر بچے کو تعلیم دے رہی ہے۔ ایف سی ان لوگوں کے بچوں کو بھی پڑھا رہی ہے جن کے والدین دن رات ایف سی کے افسروں اور جوانوں پر راکٹ اور گولیاں برسا رہے ہیں۔ یہ ایسی بات تھی کہ جس پر یقین کرنا ذرا مشکل تھا۔ میں نے ایف سی سکول کے پرنسپل سے پوچھا کہ آپ کے سکول میں فراریوں کے بھی بچے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کافی زیادہ ہیں۔ بہر حال وہ تقریباً 20بچوں کو لے کر آ گئے جو سکول کے خوبصورت یونیفارم میں تھے جو ان کوسکول کی طرف سے مفت مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیس نام کی کوئی چیز نہیں۔ ان کو کتابوں سمیت ہر چیز مفت مہیا کی گئی تھی۔ سکول کے بچوں سے گفتگو کا آغاز ہوا تو جس سے پوچھوں کہ آپ کا باپ کیا کرتا ہے وہی کہتا کہ میرا باپ مزدوری کرتا ہے۔ کیا مزدوری کرتا ہے اس کا انہیں بھی علم نہیں تھا۔ ان بچوں سے جب مستقبل کا پوچھا جائے تو زیادہ تر کا ایک ہی جواب تھا کہ میں تعلیم سے فارغ ہو کر استاد بنوں گا اور اپنے علاقے کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے تیار کروں گا۔ مجھے ان کا یہ جذبہ اچھا لگا اور ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے اس جذبے کو دیکھ کر مجھے وہ بچے بہت پیارے لگنے لگے اور ان کے اساتذہ کو بھی داد دینی پڑی جنہوں نے بچوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور ان کی ذہنی صلاحیت کو اجاگر کیا ۔ لیکن اسی دوران مجھے ایک تیسری کلاس کے بچے محمد ارشد ولد رند علی کا جواب سن کر بہت حیرانی ہوئی جب میں نے محمدارشد سے پوچھا کہ تم تعلیم سے فارغ ہو کر کیا بنو گے تو اس نے فوراً کہا میں ایف سی بنوں گا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ میں ایف سی میں افسر بنوں گا۔

 

aikblochfrarri.jpg صرف اتنا کہا کہ میں ایف سی بنوں گا۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ یہ ایک فراری کا بیٹا ہے اس کے باوجود میں نے پوچھا کہ ایف سی کو تو دہشت گردوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ ارشد نے دو ٹوک جواب دیا میں بھی لڑوں گا۔ میرا اگلا سوال یہ تھا کہ اگر دوسری طرف سے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر تمھارا دوسرا بھائی آ کر ایف سی کے ساتھ لڑنے لگا تو پھر کیا کرو گے۔ اس کا جواب پھر ذرا شدت میں تھا کہ میں اس کو مار دوں گا۔ میں نے پھر سوال کیا کہ اگر دوسری طرف تمھارا باپ شدت پسندوں کے ساتھ مل کر ایف سی پر حملہ کرے تو پھر تمھارا کیا ردعمل ہوگا۔ اس کا پھر وہی جواب تھا کہ میں اس کو بھی گولی مار دوں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بچے کے چہرے پر سرخی کچھ زیادہ ہی دکھائی دینے لگی۔ میں نے کہا کہ آپ کو بھائی اورباپ کی طرف گولی چلاتے ہوئے کچھ خیال نہیں آ ئے گا تو ا س نے کہا پاکستان میرا ملک ہے میری ماں ہے۔ بلوچستان میری ماں ہے، یہاں کی مٹی میری ماں ہے۔ جو بھی میرے ملک میری ماں کی شہرت کو نقصان پہنچائے گامیں اسے گولی مار دوں گا۔ان تمام باتوں کے دوران اس بچے کی آنکھیں، چہرے کی سرخی اور غصے سے کاپنتے ہوئے ہونٹ جن جذبات کا اظہار کر رہے تھے ان کو شاید میں ساری زندگی نہ بھلا سکوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ بچہ کس ٹیچر کے پاس پڑھتا ہے تو پتہ چلا کہ اس کی ٹیچر سکول کی وائس پرنسپل محترمہ عائشہ رانا ہیں۔ جنہوں نے اس قدر مہارت اور محنت سے ایسے بچوں کی تربیت کی ہے۔ میں نے عائشہ رانا کی کلاس میں جا کر بچوں کی اس شاندار طریقے سے کوچنگ کرنے پر اُنہیں مبارک دی۔ پرنسپل سعید احمدبھی اس موقع پر ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے ان کی بھی حوصلہ افزائی کی اور گزارش کی کہ مجھے محمد ارشد کی تصویر چاہئے۔ میں اس کے جذبات سے 20کروڑ عوام کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو بلوچستان میں آنے والی نئی تبدیلی سے ابھی تک آگاہ نہیں۔ محمد ارشد کا والد رند علی پٹ فیڈر نہر کی آر ڈی 238پر وارداتیں کرتا تھا اور اس نے عوام اور سرکاری املاک کو بہت نقصان پہنچایا۔ اب جب اس نے دیکھا کہ میرے بچوں کی اس طرح تربیت کی جار ہی ہے کہ میرا خاندان اور میرے علاقے کا آنے والا مستقبل بہت روشن ہوگا تو وہ رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے باقی بچے بھی پڑھ رہے ہیں۔ بلوچستان میں میں نے یہ عجیب نظام دیکھا کہ جس فورس کا کام امن و امان بحال رکھنا ہے وہ امن و امان کے ساتھ تعلیم کا بیڑا بھی اٹھائے ہوئے ہے اور جن کا کام تعلیم دینا تھا وہ تعلیم کے محکمے میں بھرتی تو ہوئے ہیں لیکن کچھ گھر بیٹھے ہوئے ہیں اورکچھ بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہیں اور صرف تنخواہ لے رہے ہیں۔ بلوچستان کے ناگفتہ بہ تعلیمی نظام کو ایف سی نے بہت مضبوط سہارا دیا ہے اور آنے والا ہر دن بہتری کی طرف جا رہا ہے۔ محمد ارشد کے والد کا نام رند علی قبیلہ بگٹی اور قوم بجلانی ہے۔ اس کے مطابق ہمارے گھر میں ہر وقت ایف سی کی تعریفیں ہوتی رہتی ہیں اس لئے میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں بھی بڑ اہو کر ایف سی کی طرح ملک و قوم کی خدمت کروں گا۔

 
13
February

تحریر : زینب مہ نور

شمالی وزیرستان فاٹا کی انتہائی اہم ایجنسی ہے۔ یہ علاقہ وزیراور داوڑ قبائل کا مسکن ہے۔ افغانستان کے صوبے خوست کے ساتھ ملحقہ اس ایجنسی کی برطانوی راج سے لے کر آج تک خاصی اہمیت رہی ہے۔

shamilwaziertan.jpgافغانستان سے ملحقہ علاقہ ہونے کی وجہ سے شمالی وزیرستان افغانستان میں دہائیوں سے جاری خانہ جنگی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ دہشت گردوں کی خاصی بڑی تعداد افغانستان سے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوتی چلی گئی اور یوں سال 2014 تک ایجنسی دہشت گردوں کا محفوظ گڑھ بن چکی تھی۔ پاک فوج نے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کا مصمم ارادہ کیا۔ جون 2014 میں ایک بھرپور کارروائی کی جسے آپریشن ضربِ عضب کا نام دیاگیا ۔ پاک فوج کی انتھک اور بے پناہ قربانیوں کی بدولت آج شمالی وزیرستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ عارضی طور پر منتقل ہونے والی مقامی آبادی اپنے گھروں کو واپس جاچکی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی اور مقامی آبادی کی واپسی کے بعد شمالی وزیرستان میں خصوصاً اور ملک میں عمومی طور پر دیرپاامن کے قیام کے لئے کئی منصوبوں پر کام شروع کیا گیا۔ ان منصوبوں میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور پاک فوج، مقامی انتظامیہ اور فاٹا سیکریٹریٹ کے تعاون سے، اس علاقے میں بہتری لانے میں مصروفِ عمل ہے۔
شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جاری کاوشوں کا تذکرہ کرنے سے قبل قارئین کی آگاہی کے لئے کچھ اعداد و شمار کا بتانا ضروری ہے۔1998 کی مردم شماری کے مطابق شمالی وزیرستان کی کل آبادی 361,246 تھی اور ایک اندازے کے مطابق طلباء و طالبات کی تعداد86233 تھی جن میں لگ بھگ50000 طلباء اور باقی تعداد طالبات کی تھی۔ ایک سروے کے مطابق ایجنسی میں کم و بیش 896 تعلیمی ادارے ہیں جن میں سے604 پرائمری سکول ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعلیمی ادارے ہونے کے باوجود شرح خواندگی 25 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزیدبرآں خواتین کی شرح خواندگی5 فیصد سے بھی کم ہے جسے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ماضی میں سرزد کوتاہیوں کو مدِ نظر رکھ کر پاک فوج نے عملی طور پر تعلیم کو ہر بچے تک پہنچانے کا بِیڑہ اٹھایا اور دن رات اپنے مشن کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہے۔
سال 2016 کے دوران بے شمار ایسے اقدامات اٹھائے گئے جن سے نہ صرف مقامی بچوں اور نوجوانوں میں حصولِ علم کا شوق پیدا ہوا بلکہ معاشرے میں بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کرنے کا رُجحان بھی پیداہونے لگا ہے۔اب صبح کے وقت ایجنسی کے گلی محلوں میں بچوں کی کثیر تعداد سکولوں کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ وہ سڑکیں اور گلیاں جہاں دہشت کا راج ہوتا تھا آج وہاں بچے کتابیں اٹھائے نظر آتے ہیں۔ یہ درحقیقت تبدیلی کی وہ کرن ہے جس کی روشنی سے آنے والے چند سالوں میں شمالی وزیرستان کا چپہ چپہ روشن ہوگا۔ پاک فوج بلاشبہ اپنی اس کاوش پر تعریف کی مستحق ہے۔
پاک فوج کی حالیہ کوششوں سے تعلیمی سرگرمیوں میں لوگوں کی دلچسپی میں روز بروز اضافہ نظر آرہا ہے۔ کئی سالوں سے بند تعلیمی ادارے دوبارہ کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ طلباء کے لئے قائم ڈگری کالج میر علی اور میران شاہ میں بھی تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ، فاٹا سیکریٹریٹ اور عوام الناس آگے بڑھ کر تعلیم کے فروغ کے لئے پاک فوج کا ساتھ دیں۔ پاک فوج نے امن کی بحالی کے ساتھ ساتھ شمالی وزیرستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے جو کام کئے ہیں ان میں چیدہ چیدہ درج ذیل ہیں:۔


پاک فوج کی جانب سے معیاری سکولوں کی تعمیر فرنیچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی۔ *
پہلے سے موجود سکولوں کی حالت کو بہتر کرنے کے لئے ضروری اقدامات۔ *
بچوں میں مفت کتابیں اور سٹیشنری کی تقسیم۔ *
بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائئ*
سکولوں کے مابین کھیلوں کے مقابلے اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کا انعقاد۔ *
تعلیمی سروے کا اجراء تاکہ پتا لگایا جاسکے کہ کتنے بچے سکول نہیں جاتے اور انہیں سکولوں میں داخل کروانے کے عملی اقدامات۔ *
تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ایک بھرپورمہم کا آغاز۔ *
پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی اور انہیں تحفظ کی فراہمی تاکہ وہ تعلیمی معیار اور شرح خواندگی میں بہتری لانے کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹا سکیں۔
پاک فوج کی اولین ترجیح چونکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اور پھر امن کا اجرا ہیں‘ اور اس نے تعلیم کی بحالی کے لئے جو اقدامات اٹھائے ‘ وہ اضافی ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ تمام ذمہ داران جیسے صوبائی حکومت‘ فاٹا سیکریٹریٹ ‘ پولیٹیکل ایجنٹ‘ اساتذہ‘ طلباء اور عوام سب کی سطح پر اپنا اپنا رول ادا کیا جائے۔ ذیل میں چند تجاویز دی جارہی ہیں جن پر عمل درآمد سے یقینی طور پر شمالی وزیرستان میں تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔
تمام اساتذہ صاحبان کا فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پر واپس آکر باقاعدگی سے تعلیمی مہم میں اپنا حصہ ڈالنا۔ اس ضمن میں محکمہ تعلیم اور مقامی آبادی کو بھی اپنا کردارادا کرنا چاہئے تاکہ بند تعلیمی ادارے جلد از جلد اپنا کام شروع کرسکیں۔
لیڈی ٹیچر ز کو تحفظ، قیام اور ٹرانسپورٹ مہیا کرنا۔ *
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور مانیٹرنگ کے عملے کایکسوئی کے ساتھ اپنا فرض نبھانا تاکہ اساتذہ کی باقاعدگی سے حاضری کو یقینی بنایا جاسکے۔ *
اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے علاقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھرتی۔ *
خواتین کی تعلیم کی بہتری کے لئے ایجنسی میں کم از کم دوڈگری کالجز کی تعمیر۔*
ایجنسی کے طلباء کے بہتر مشاہدات اورنئی چیزیں سیکھنے کے لئے پاکستان کے دیگر شہروں کے مطالعاتی دورے ۔ *
ضرب عضب کے اس سفر میں پاک فوج کی انتھک کوششوں اور بے پناہ قربانیوں کی بدولت شمالی وزیرستان آج ایک پُرامن علاقہ بن چکا ہے۔وہاں کے ہر گاؤں اور بستی میں طالب علم تعلیم حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب اس علاقے کے ذہین طلباء پاکستان کے دیگر شہروں کے بچوں اور نوجوانوں کی طرح اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہوں گے۔

 
13
February

تحریر: محمد اعظم خان

6ستمبر 1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں دوسرے نغمے ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ پہلا نغمہ ’’میریا ڈھول سپاہیا‘‘ نشر ہونے کے دوسرے روز مرحوم ایوب رومانی (جو کہ ڈپٹی کنٹرولر تھے) میرے پاس آئے اور کہنے لگے اعظم میاں سپاہی کی بات کی ہے تو اب کرنیل جرنیل کی بات بھی ہونی چاہئے۔ کیونکہ دشمن سے لڑائی میں ساری
Planning
آفیسرز کی ہوتی ہے۔ وہی سپاہیوں کو جنگ کی صورت حال کے مطابق لڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ میں نے محترم صوفی تبسم سے عرض کیا کہ مجھے اس عنوان پر ترانہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کچھ دیر سوچنے کے بعد یہ استھائی مجھے لکھ کر دی۔ ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی۔‘‘ میں اپنے منتخب کارندوں یعنی صادق علی مانڈو (کلارنیٹ نواز) خادم حسین (بانسری نواز) سردار حسین ہاشمی اور سردار لطیف(وائلن نواز) محمد علی مھنُّوں (ہارمونیم) فیض فرید (سرود) پرویز مہدی (سرمنڈل) حامد حسین (ستار) صابرحسین (طبلہ) رحمت خان (ڈھولک) کو لے کر فوراً سٹوڈیو نمبر2میں اس نغمے کی دھن بنانے کے لئے چلا گیا۔ ستمبر 65کی جنگ کے دوران اﷲ کی مہربانی اور فضل و کرم سے میری اور میڈم نورجہاں کی نغمے کی دھن بناتے وقت بہت ’آمد‘ ہوتی تھی۔ بہت جلدی اس کی دھن میڈم نورجہاں نے خود بنائی ۔ پورے دن باقی نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور شام کو ریکارڈ کیا گیا۔ تمام نغموں کی ریکارڈنگ میں نے خود کی کیونکہ مجھے میوزک کی مکمل سُوجھ بُوجھ ہونے کی وجہ سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ آواز اور سازوں کو کس Level پر رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نغموں کی ریکارڈنگ (جو میں نے خود کی) کا رزلٹ بہت اچھا تھا۔ میں نے ریکارڈنگ کی تربیت اپنے شوق اور ذوق کی وجہ سے کراچی ٹریننگ سکول سے حاصل کی ۔ مجھے ریکارڈنگ کا اتنا شوق تھا کہ کئی کئی گھنٹے میں

ریکارڈنگ کے دوران جب کبھی ہوائی حملے کا اعلان ہوتا تو ریڈیو کا اکثر عملہ باہر گراؤنڈ میں کھودی گئی خندق میں چلا جاتا۔ میڈم کے گھر سے ٹیلیفون آتا اور ان کی بیٹی ظلِ ہما کہتی کہ اماں فوراً گھر آ جاؤ، بڑا خطرہ ہے۔ میڈم کا یہی جواب ہوتا کہ ہم اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے اگر موت آنی ہے تو یہیں ریکارڈنگ کرتے کرتے مر جائیں گے مگر اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے۔

Balance
کرنے کی مشق کرتا تھا۔ ریکارڈنگ ایک بہت بڑا فن ہے۔ اس کے لئے موسیقی کے اسرارورموز جاننے ضروری ہیں۔ میں ریڈیو میں آنے سے پہلے موسیقی کے پروگراموں میں ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے باقاعدہ حصہ لیتا تھا۔ بعد میں جب پروڈیوسر منتخب ہوا تو اپنی تمام توانائیاں موسیقی کے پروگراموں میں صرف کیں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈم نورجہاں میرے بغیر ریکارڈنگ نہیں کرواتی تھی ہمیشہ کہتی اعظم صاحب ریکارڈنگ آپ خود کریں، حالانکہ اس وقت ریکارڈنگ کے آلات بہت محدود تھے مگر محنت اور لگن کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میوزیشن حضرات صبح صبح ریڈیو سٹیشن پہنچ جاتے اور رات تک ریکارڈنگ میں مصروف رہتے۔ یقین مانیں ان دنوں مجھے کبھی کسی میوزیشن نے تنگ نہیں کیا۔ یہ ہم سب کا قومی جذبہ تھا جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی‘‘ کی دھن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے میڈم نورجہاں نے خود بنائی۔ انتروں میں ماسٹر محمد علی مھنُّوں اور میری کوشش شامل تھی۔ اس نغمے کی دھن بناتے وقت میڈم نورجہاں گانے کے ساتھ ساتھ تالی بجاتی تھی اور بہت اچھے موڈ میں تھی۔ نغمے کی ریکارڈنگ شام کو مکمل ہوئی۔ مجھے اسٹیشن ڈائریکٹر (مرحوم) شمس الدین بٹ کا حکم تھا کہ نغمے کو فوری طور پر خصوصی اناؤنسمنٹ کے ساتھ تسلسل سے نشر کیا جائے تاکہ اس کی آواز ہماری بہادر اور نڈر افواج تک پہنچے۔ نغمہ نشر ہونے کے بعد ہمیں بے شمار ٹیلیفون موصول ہوتے اور ہمارے نغمے کی تعریف کی جاتی۔ میرا یہ معمول تھا کہ میں ہر صبح ملکہ ترنم کو ان کے گھر سے ایک جیپ میں لاتا تھا یہ جیپ مجھے دفتر کی طرف سے مہیا کی گئی تھی جو میرے زیراستعمال ہوتی شا م یا رات کو جب بھی نغمہ ریکارڈ ہو جاتا میں فوراً ملکہ نورجہاں کو اسی جیپ میں گھر چھوڑ آتا۔ مجھے بعض اوقات یہ تمام کام انجام دیتے دیر ہو جاتی تو میں ریڈیو سٹیشن پر ہی سوجاتا۔ صبح صبح گھر سے ہو کر پھر میڈم نورجہاں کو لینے گلبرگ ان کے گھر چلا جاتا۔ دوپہر کے وقت کھانا میڈم نورجہاں کے گھر سے آتا اور میرا کھانا میرا چپڑاسی میرے گھر سے لاتا۔ یہ ہم مل کر اکٹھے کھاتے۔ ملکہ ترنم کے گھر سے جو روٹیاں آتیں نہایت باریک اور چھوٹے سائز کی ہوتیں۔ جن کو ہم پنجابی زبان میں ’’پھلکے‘‘ کہتے ہیں۔ میڈم کو یہ بہت پسند تھے۔ مرغی کے سالن میں چھوٹے وزن کی مرغی ہوتی۔ ریکارڈنگ کے دوران جب کبھی ہوائی حملے کا اعلان ہوتا تو ریڈیو کا اکثر عملہ باہر گراؤنڈ میں کھودی گئی خندق میں چلا جاتا۔ میڈم کے گھر سے ٹیلیفون آتا اور ان کی بیٹی ظلِ ہما کہتی کہ اماں فوراً گھر آ جاؤ، بڑا خطرہ ہے۔ میڈم کا یہی جواب ہوتا کہ ہم اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے اگر موت آنی ہے تو یہیں ریکارڈنگ کرتے کرتے مر جائیں گے مگر اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے۔ میری تمام ریکارڈنگ ٹیم کا یہی جذبہ تھا ہم اپنے کام میں مگن رہتے۔ یہی وہ جذبہ ہے کہ ہم بروقت اتنے اچھے ملی نغمے ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

 

 

عمر کا سفر

کچھ ایسی شان سے رخصت ہوئے ہو دُنیا سے
فلک کے تارے تمہارے سفر پہ نازاں ہیں
’’شہیدسر‘‘ بھی نصیبوں پہ ناز کرتی ہے
ہوائیں اور بگولے بھی محوِرقصاں ہیں
تمہارے قدموں نے ریزہ کیا چٹانوں کو
پہاڑ و سنگ تمہارے عزم سے لرزاں ہیں
لہو سے برگِ وطن اس طرح سے سینچا ہے
کہ اس کی کونپلیں بھی زندہ و جاویداں ہیں
بہت ہی اعلیٰ رفاقت تمہارا حق ٹھہری
ملائکہ عروجِ آدمی پہ حیراں ہیں
مقام بعدِ ازاں نبییّن و صدیقین
کہ صالحین بھی اس معرفت کو ترساں ہیں
اچھوتا بابِ شجاعت کیا رقم تم نے
زمین زادے تری جرأتوں پہ نازاں ہیں
ایئر کموڈور آصف شہزاد

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نظم کے خالق شہید لیفٹیننٹ عمرشہزاد کے والد محترم ہیں۔

عمر شہزاد پشاورکے قریب فضائی حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔

*****

 
13
February
13
February
Published in Hilal Urdu
Read 27 times

newsgojrangalf.jpg

13
February

تحریر: یاسر پیرزادہ

یہ واقعہ بنکاک میں پیش آیا۔ میں وکٹری مانیومنٹ جانے کے لئے مطلوبہ ویگن تلاش کر رہا تھا۔ اجنبی زبان کی وجہ سے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کون سی ویگن کس روٹ کی ہے۔ ویگن کنڈکٹر تھائی زبان میں آوازیں لگا کر مسافروں کو متوجہ کر رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے یہاں ’’لوہاری گیٹ‘‘ کی آوازیں لگائی جاتی ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ ایک ویگن کو بھرنے کے بعد کنڈکٹر اس میں سوار نہیں ہوتا تھا بلکہ ڈرائیور سے اس کام کی اجرت لینے کے بعد اگلی ویگن کو بھرنے میں جُت جاتا۔ جب مجھے خوار ہوتے کافی دیر ہو گئی اور میں نے مایوس ہو کر ڈبل ڈیکر برگر کھانے کا فیصلہ کر لیا تو عین اسی لمحے کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر بلایا۔ مڑ کر دیکھا تو ایک معنک لڑکی انگریزی میں مخاطب تھی۔
I think you want to go to Victory Monument?
میں نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔
Follow me
اس نے جواب دیا اور یہ کہہ کر ایک ویگن میں سوار ہو گئی۔ میں نے اس کی تقلید کی۔ ویگن چل پڑی تو کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ مسافروں نے چند روپے ڈرائیور کے ساتھ رکھے ایک ڈبے میں ڈال دیئے ہیں۔ میں نے لڑکی سے اس کا مطلب پوچھا تو و ہ بولی۔ یہاں سے وکٹری مانیو منٹ کا کرایہ بیس بھات ہے۔ سب لوگوں نے اپنا کرایہ اکٹھا کر کے ڈرائیور کے باکس میں ڈال دیا ہے۔ یہ ویگن اب صرف اپنی منزل پر جا کر ہی رکے گی۔ یہ سن کر میں نے ایک خالصتاً پاکستانی سوال کیا۔ فرض کرو اگر کوئی شخص کرایہ نہ دے تو ڈرائیور کو کیسے پتہ چلے گا۔ تمہاری ویگنوں میں تو کنڈکٹر بھی نہیں ہوتا؟ یہ سوال سن کر اس لڑکی کے چہرے پر عجیب تاثرات ابھرے۔ اس نے شدید حیرت سے کہا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کرایہ نہ دے۔ مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔ اس کا رد عمل دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ میں نے کوئی آؤٹ آف کورس سوال پوچھ لیا ہے۔ اپنے سوال پر میں نے معذرت کی جو فوراً خوشدلی سے قبول کر لی گئی۔

defvalnegative.jpgبطور پاکستانی ہماری سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم کسی بات کوفیس ویلیو پر تسلیم نہیں کرتے بلکہ کوئی بھی بات سننے کے بعد ہمارا پہلا ردعمل منفی ہوتا ہے۔ اس رویے کو میں
Default Value Negative
کہتا ہوں۔ مثال کے طور پر دیگر ممالک میں ویگن کا کرایہ ایمانداری سے ادا کرنا عام سی بات ہے مگر ایک پاکستانی کی ڈیفالٹ ویلیو یہ ہو گی کہ اگر کرایہ ادا نہ کیا جائے تو کیا میں پکڑا جا سکوں گا؟ میٹرو اگر کسی مہذب ملک میں بنائی جائے تو وہاں آہنی جنگلوں کے بیچ ایک علیحدہ سڑک بنانے کی بجائے میٹرو بس کے لئے فقط ایک سرخ لکیر کھینچ کر راستہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنے ہاں جنگلے بھی ایسے لگائے گئے کہ ان کو اکھاڑ کرلے جانا ممکن نہ ہو۔ کیونکہ ہمیں علم تھا کہ ہمارے ذہن میں سب سے پہلے یہ منفی سوچ آئے گی کہ کیسے ان جنگلوں کو توڑ کر بیچ میں سے شارٹ کٹ نکالا جائے۔ اسی طرح روزمرہ گفتگو میں کاروباری معاملات میں دفتری امور نمٹاتے ہوئے سیاسی بحث کرتے ہوئے ملکی مسائل پر رائے دیتے ہوئے حتی کہ راہ چلتے سوداسلف خریدتے ہوئے بھی ہمارے دماغ کی سوئی منفی طرز عمل پر ہی اٹکی رہتی ہے۔ مثلاً پھل خریدتے وقت پہلا منفی خیال یہ آئے گا کہ دکاندار گلے ہوئے پھل ڈال دے گا دوسرا یہ کہ کم تولے گا اور تیسرا خیال یہ آئے گا کہ نرخ زیادہ لگائے گا اور چونکہ یہ تینوں باتیں کبھی کبھار درست بھی نکل آتی ہیں۔ اس لئے ہماری ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو پر قائم رہتی ہے۔ روز مرہ زندگی میں ایک دوسرے سے ملتے ہوئے بھی ہم اسی منفی رویے کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں کسی کے ساتھ کاروبار شروع کرنے سے پہلے ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ دوسری پارٹی یقیناًہم سے فراڈ کرے گی ۔ سرکاری دفتر میں داخل ہونے سے پہلے ہم یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ یہاں کوئی جائز کام پیسے لگائے بغیر نہیں ہو گا اور میڈیکل سٹور سے دوا خریدتے وقت ہم شک میں ہی مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں دوا جعلی نہ ہو۔ اس کے برعکس مہذب دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو عموماً ایماندار اور سچا سمجھتے ہیں تاوقتیکہ کوئی بے ایمان یا جھوٹا ثابت نہ ہو جائے۔ جبکہ ہمارے ہاں ہر شخص کو جھوٹا دغاباز سمجھا جاتا ہے تاوقتیکہ وہ فوت نہ ہو جائے۔ مرنے والے کی ہم برائی نہیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں جن لوگوں کو جرائم میں گرفتار کیا جاتا ہے زیادہ تر کیسوں میں وہ اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ نہیں کہتے کہ انہوں نے سرے سے جرم کا ارتکاب ہی نہیں کیا بلکہ وہ ان عوامل کی بنیاد پر اپنے جرم کی سنگینی گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں جن سے مجبور ہو کر جرم کیا گیا۔ دوسری طرف ہمارے ہاں اگر کسی شخص کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جائے اور اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہو تو اس کا وکیل سب سے پہلے مشورہ یہ دیتا ہے کہ تم نے اعتراف جرم نہیں کرنا۔ باقی میں سنبھال لوں گا۔افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ وکیل یہ منفی مشورہ کیوں دیتا ہے۔ بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ اس کا مشورہ مجرم کو سزا سے بچا لیتا ہے۔


ہماری اس ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کے عوام کے ساتھ سچ بولا ہی نہیں گیا۔ اسی لئے لوگ اب کسی بات کو فیس ویلیو پر ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ اس ملک کا نام نہاد دانشور طبقہ بھی ایسی ہی منفی سوچ رکھتا ہے کہ ان کی دانشوری امریکہ کو لتاڑنے سے شروع ہوتی ہے اور وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے ان نوم چومسکیوں نے تاریخ کے ہر مرحلے پر جو بیانیہ اس قوم کو دیا اس کی مرحلہ وار دھجیاں اڑ چکی ہیں لیکن مجال ہے کہ ان کی ڈھٹائی میں فرق آیا ہو۔ آج بھی اس کی ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو ہے۔ یقین نہیں آتا تو ان کی گفتگو سن لیں اس فقرے سے شروع ہوتی ہے جو کروا رہا ہے۔ ’’امریکہ کروا رہا ہے‘‘ اور یہیں ختم ہو جاتی ہے۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

لاہور کا جغرافیہ

حدود اربعہ

کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن طلباء کی سہولت کے لئے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے ا ور روز بروز واقع تر ہو رہاہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہو گا جس کا دارالخلافہ پنجاب ہو گا یوں سمجھئے کہ لاہو ر کا ایک جسم ہے جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہو رہا ہے۔ لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔

(پطرس بخاری)

*****

 
13
February
Published in Hilal Urdu
Read 22 times

newscadecolamara.jpg

13
February
Published in Hilal Urdu
Read 40 times

newslahorecorepases.jpg

13
February
Published in Hilal Urdu
Read 35 times

newsmiltrycolsui.jpg

13
February
Published in Hilal Urdu
Read 25 times

newspakfojhameshat.jpg

13
February

والدہ محترمہ بریگیڈیئر حسین عباس شہید

ایک ماں کے قلم سے جس کے دو بیٹوں نے پاک فوج کی وردی زیب تن کی۔ ان میں سے ایک بریگیڈیئر حسین عباس شہید نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں عملی طور پر حصہ لیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

 

brighussainabbas.jpg وہ قرار جان ہیں۔ جو نظر سے میری نہاں ہو گئے میرے ایسے فرزند کہاں کھو گئے

میرے ساتھ تھے۔ میری بات بھی اُن کے کانوں سے جو ٹکراتی تھی۔
دلداری و دلبری کے پیکرصبح و شام ہوتے تھے ساتھ وہ۔ اپنے سر تسلیم و رضا میں جھکاتے تھے۔
جو کھلا دیا، وہی کھا لیا۔
جو پہنا دیا، وہی پہن لیا۔
اک کا نام اَحسن شِیَم یعنی محسن۔
اور دوسرا جمیل شِیَم یعنی حسین غریب سا۔
وہ سکول کو بھی تو جاتے تھے۔ کچھ لکھ کے کچھ پڑھ کے گھر کو واپس بھی لوٹ آتے تھے۔
وہ سکول بھی اسی شہر میں تھا۔
اور اب بھی ہے۔ اب حفاظتوں کے حصار میں اُس کے راستے ہیں بدل گئے۔
اسی درس گاہ سے اپنی اپنی باری آنے پر وہ ملٹری کالج جہلم میں چلے گئے۔
وہ عالمگیرین بلیزر پہنتے تھے۔ اسی ادارے کی ٹائی بھی لگاتے تھے۔ کیا خوب وہ چھب دکھلاتے تھے۔
اور اپنی کمر کو بیلٹ سے وہ کس کے دن کا آغاز کرتے تھے۔ جس کے آہنی سرے پر کالج کا نشان ہوتا ہے۔
کیا خوب دن تھے ہمارے وہ۔ دُوریاں اور مسافتیں، کبھی کبھار ملنے کی راحتیں!
زندہ باد ملٹری کالج جہلم!
آج بھی راستوں میں جب لب سڑک یہ کالج آتا ہے، دل دھڑک جاتا ہے۔
کیسے کیسے سپوت اس نے دیئے۔
بشر کے بچے کو آدمیت کی قبا پہنا کر کیسے انسان میں ڈھال دیتا ہے، ملٹری کالج جہلم۔
کچے پکے سے ذہن لے کریہاں ہر سال بہت سے بچے آتے ہیں اور جب وہ پاس آؤٹ ہونے کے بعدنکلتے ہیں آدمیت کا نشان اک جانِ وفا برائے ملک و قوم بن کے ملت میں کھو جاتے ہیں۔
درسگاہ سرائے عالمگیر! ترے بیٹے نشان حیدر تک بھی یہاں سے پہنچے ہیں۔ یہیں تھا میجر اکرم شہیدبھی کہیں، یہیں ناحق سے ان کو لڑنے کا نور تو نے دیا۔ اُن کو مرنے کا بھی شعور دیا۔ حق پہ رہتے ہوئے۔
خون سے اپنے ان مہ رُخوں نے تیرے ،اپنی ملت کو وہ سرور دیا۔ اب بھی زندہ ہے ان کا پاکستان سب کا پاکستان درسگاہ سرائے عالمگیر! تیرے آنگن میں نور کی فصلیں اک فضیلت کے ساتھ پکتی ہیں۔
پرچم ستارہ و ہلال اٹھا کے آگے چلتی ہیں۔
میرے بھی نونہال محسن و حسین تیرے خرمن سے نور چنتے رہے۔ اک جھلک بن کے آرمی میڈیکل کالج میں گیا۔
دوسرا ملٹری اکیڈمی کاکول میں ہی جا پہنچا۔۔۔۔ پھر! اس کے بعد کہنے کو کچھ نہیں ہے میرے پاس
بندے تھے رب کے وہیں پہ لوٹ گئے۔
اپنے ذوق حیات پہ لکھ کر
ہم تو تیرے ہیں اے وطن کی زمیں!
تجھ کو چاہتے ہیں، تجھی پر مرتے ہیں،
کوئی بھی مرض جان لیوا ہو۔ تیری عظمت کو لے کے سوئیں گے
واہ، واہ، آنسو
جاگ کر یہ کہیں گے۔
’’اے اﷲ! پرچم پاکستان سربلند تا ابد زندہ و تابندہ رہے!
کوئی بھی فرض جو ہو میرے سپرد۔ میں اُسے دل سے پیار کرتا ہوں!
اے وطن تیرے لئے زندہ تھا۔
جان! تجھ پر نثار کرتا ہوں!
ایسے بیٹوں پہ صرف مائیں کیوں، تربیت گاہیں کیوں نہ ناز کریں!
جو مصیبت میں صبر سے لیں کام اور مدد مانگیں کے خدا ہی سے وہ!
وادی تیراہ میں اک بیابان بے ضمیری و تنگ نظری سے دوبدو لڑتے ہوئے قائم اک آخری نماز کریں۔
در شہوار حسین

 
13
February
Published in Hilal Urdu
Read 18 times

newsrecrutspassingout.jpg

13
February
13
February

تحریر: حبیب جالب

یہ شعلہ نہ دب جائے یہ آگ نہ سو جائے
پھر سامنے منزل ہے ایسا نہ ہو کھو جائے
ہے وقت یہی یارو ہونا ہے جو ہو جائے
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم
اس وادی پر خوں سے اٹھے گا دھواں کب تک
محکومئ گلشن پہ روئے گا سماں کب تک
محروم نوا ہو گی غنچوں کی زباں کب تک
ہر پھول ہے فریادی آنکھوں میں لئے شبنم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم
ویت نام و فلسطین ہو انگولہ کہ ہو کانگو
انساں کی آنکھوں سے گرتے ہوں جہاں آنسو
اے شام ستم ہو جا توڑیں گے ترا جادو
دیکھا نہیں جاتا اب مظلوم کا یہ عالم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم
اٹھے ہوئے نگاہوں میں تم سوز یقین لے کر
امریکہ کی بندوقیں ہو جائیں گی خاکستر
پروردۂ واشنگٹن جائیں گے کہاں بچ کر
ان جنگ پرستوں سے ہے سارا جہاں برہم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم

 
10
February
Published in Hilal Urdu
Read 16 times

newscoasdorakarachi.jpg

10
February
Published in Hilal Urdu
Read 30 times

newsarmyfiringmugab.jpg

10
February

تحریر: مجاہد بریلوی

اس بار۔۔۔یہ لیجئیے ابھی ایئر پورٹ سے نکلتے ہی خُنک خوشگوار ہوا کا پہلا ہی جھونکا لگا نہیں کہ ’’بار‘‘ زبان پر آگیا۔۔۔ ’’ بار ‘‘کے حوالے سے یہ بھی سنتے چلیں کہ کلکتہ میں ایک صاحبِ ذوق نے اُس مقام پر جہاں مرزا غالب نے چند روز قیام کیا تھا۔ ’’غالب بار‘‘ کے نام سے ایک بادہ خانہ کھولا ہے اور استقبالیہ پر مرزا غالب کا یہ مصرعہ ثبت کیا ہے ۔۔
’’ہمیں کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا‘‘


مرزا غالب کے ساتھ نہ جانے کیوں شاعرِ عوام حبیب جالب یاد آگئے کہ ہمارے لندن میں نصف صدی سے مقیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے جالب صاحب کے قیامِ لندن کے دوران اُن کی طرح طرح کی فرمائشوں سے تنگ آ کر اپنے ایک دوست شیر شاہ قریشی کے حوالے کر دیا کہ جن کی ساؤتھ ویسٹ لندن میں شاپ تھی۔ ہمار ے عوامی شاعر نے جن کی ساری زندگی ’’دیسی ٹیکنالوجی ‘‘کے سنگ گزری تھی۔۔۔ الماری میں دھری سیکڑوں بادہ صحرائیوں کو حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا ’’سمجھ نہیں آرہا کس کی گردن پکڑوں‘‘۔ سو جالب صاحب ہر دوسرے تیسرے دن شیر شاہ قریشی کی ’’گردن‘‘ پکڑنے پہنچ جاتے۔ شیر شاہ قریشی واقعی شیر کا دل گردہ رکھتے تھے بلکہ ’اللہ انہیں حیاتی دے‘ رکھتے ہیں۔ جالب صاحب کی فرمائشیں پوری کرتے ایک دن شیر شاہ قریشی کہنے لگے: ’’ جالب صاحب ہم آپ کی خدمت اتنے دنوں سے کررہے ہیں اور تاحیات کرتے رہیں گے لیکن ہماری درخواست پرایک شعر ہماری دکان پر بھی لکھ دیں۔ جالب صاحب نے اُسی وقت قلم پکڑا اور شیر شاہ قریشی کے بادہ خانے کے داخلی دروازے کے ماتھے پر یہ شعر لکھ دیا

 

چلے گی اور چلے گی دکانِ بادہ فروش
مکان بِک کے بِکے گی دکانِ بادہ فروش

 

یہ لیجئے جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے ’’بھٹکنے‘‘ کی عادت پختہ ہوتی جا رہی ہے۔ جس طرح کی کراچی میں شب وروز ہنگامہ آرائی برپا رہتی ہے۔۔ اُس میں کراچی چھوڑنا مشکل بلکہ ناممکن لگ رہا تھا مگر لندن میں میرے مستقل میزبان مشتاق لاشاری نے جب زور دے کر یہ مژدہ بھی سنایا کہ مرحوم معراج محمد خان کے لئے لندن میں ہونے والے ریفرنس میں اُستادانِ محترم بیرسٹر صبغت اللہ قادری اور ایمبیسڈر واجد شمس الحسن بھی خواہش رکھتے ہیں کہ میری آمد یقینی ہو۔۔۔ یہ تو خیر پہلے سے ہی طے تھاکہ ائیر پورٹ سے سیدھے بی بی سی کلب جانا ہے جہاں دوستوں نے ہماری پہلی شام کا اہتمام کیا ہوا ہے۔بی بی سی مشہورِ زمانہ بش ہاوس میں ہوتا تھا ۔کیا بات تھی اُس پرانے طرز کی امارت کی۔ بی بی سی کی نئی جائے پناہ دیکھ کر کیسے نابغہ روز گار سینئر صحافی یاد آگئے ۔محمد غیور ،اطہر علی،وقار احمد ،رضا علی عابدی اور آصف جیلانی۔۔


وہ جن کے دم سے تیری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تیری بزمِ خیال سے بھی گئے


جہاں بی بی سی کلب میں داخل ہوتے ہی سینئر جرنلسٹ اطہر کاظمی نے کھُلی بانہوں سے استقبال کیا وہیں واجد بھائی یعنی سابقہ ہائی کمشنر لندن واجد شمس الحسن کو دیکھ کر زیادہ خوشی ہوئی۔۔۔ کہ اِدھر اُن کی صحت کے بارے میں تشویشناک خبریں مل رہی تھیں۔ واجد بھائی کی صحت مندی کا اندازہ ہم اُن کی جملے بازی سے لگاتے ہیں۔ کہ اُن کی شخصیت کا یہ سب سے بڑا خاصہ ہے۔۔۔چھوٹتے ہی کہنے لگے۔۔ کیابھائیوں کے ’’کراچی۔۔ لندن ‘‘ تعلق کا سُراغ لگانے آئے ہو؟ اب یہ تو برسوں پہلے طے ہو ہی چکا تھا کہ واجد بھائی سمیت سارے سینئرز کے آگے محض سر جھکا کر سُنا جاتا ہے بولا نہیں جاتا۔۔۔ کیسے یقین دلاتا کہ کراچی کے بھائیوں کے شوروغوغا سے بھاگ کر آیا ہوں ‘‘۔منفرد لہجے کے شاعر ن م راشد کی زبان میں یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ


زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
اے میری ہم رقص مجھ کو تھام لے


ایک زماzraphilondonse.jpgنے میں اور یہ بات‘اسی بلکہ نوے کی دہائی کی تھی کہ ہم تیسری دنیا کے پسماندہ لوگ اپنے گھر بار کو چھوڑ کر اس خواہش کے ساتھ لندن آتے تھے کہ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی کسی کلب کا رُخ کریں گے اور کسی اپسرا کو ایسا گھیریں گے کہ ٹھکانہ بھی مل جائے اور کھانا پینا بھی۔ہم توخیر سے اُس زمانے میں لندن کیا۔۔۔ پاس پلّے سے سکھر نہیں جاسکتے تھے مگر سنتے تھے کہ کئی دوستوں نے مرادیں پائیں اور ٹھاٹ سے مزے کر رہے ہیں۔ یہ لیجئے ہر خط میں اپنے بھٹکنے کا ذکر کرتا ہوں لیکن اب یہ عادت اتنی پُختہ ہوگئی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی در آتی ہے۔ بش ہاؤس کے باہر شام نے اترنا شروع کردیا ہے۔ پیر مِغاں بیرسٹر صبغت اللہ قادری آواز لگارہے ہیں کہ وقتِ جذبات وخرابات کا وقت آپہنچا ہے اب مزید بے ادبی نہیں ہوسکتی ۔۔ہائے ہائے شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی یاد آگئے۔۔۔


ادب کر اُس خراباتی کا جس کو جوش کہتے ہیں
کہ یہ اپنی صدی کا حافظ و خیام ہے ساقی


مرحوم معراج محمد خان کے لئے تقریب ۔۔۔ایک کمیونٹی ہال میں ہوئی جسے بڑی محنت سے پاکستانیوں نے اپنے سرمایہ سے بنایا ہے جبکہ ہندوستانیوں نے ایک نہیں کئی کمیونٹی سینٹرزبنائے ہوئے ہیں انہیں اُن کی حکومت کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہوتی ہے ۔ پاکستانی کمیونٹی سینٹر لندن کے حساب سے خاصے وسیع رقبے پر پھیلا ہواہے۔ ایک خوبصورت مسجد اور پھر پارکنگ اور ساتھ میں ہال جہاں سو لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام ہے۔ شکر ہے کہ بھٹو کے جا نشین اور آخری وقت میں ایک انقلابی تنظیم قومی محاذ کے سربراہ کا انتقال تو گوشہِ گمنامی میں ہوا مگر بعد مرنے کے ہماری قومی روایت کے مطابق ان کے بڑے تعزیتی جلسے ہورہے ہیں۔ ابھی لندن میں تیسرا دن گزراہے بیشتر وقت پرہیز گاریوں میں ہی گزرا اور یہ لیجئے کراچی سے بلاوا آرہا ہے کہ پا۔۔۔نا۔۔۔ لیجئیے یہ میں کیا بے سمت نکل پڑا یوں بھی خطوں میں سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ اس کے لئے کیا اسکرینیں کم ہیں؟ سو بستر لپیٹنا شروع کردیاہے ۔چلتے چلتے یہ بتاتا چلوں لندن میں پارکوں، پبوں اور فٹ پاتھوں کی سیر کے بعد سب سے دلچسپ مشغلہ
tabolide
ہوتے ہیں معروف معنوں میں انہیں چیتھڑا بھی کہہ سکتے ہیں جو ہر ٹیوب اسٹیشن کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں دھرا ہوتا ہے اور یہ بالکل مفت ملتا ہے اس لئیے منٹوں میں اُٹھ جاتا ہے ۔۔۔ ایسی ایسی رنگین تصویریں اور چیختے چلاتے اسکینڈل ہوتے ہیں کہ انسان دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔یہ
tabolides
صرف بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں انکشافات کرتے ہیں۔ جی تو چاہ رہا ہے کہ ایک آدھ بطور نمونہ مع رنگین تصویر آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئیے پیش کر دوں مگر خوفِ خلقِ خدا اور مدیرِ اعلیٰ کے احترام میں گریز کرتے ہوئے اجازت کا طالب ہوں۔

 

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

ونکوور کو پورے کینیڈا میں موسم کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتدل خیال کیا جاتا ہے مگر صاحبو ! اس بار تو اس شہرِ عزیز میں ایسی برف پڑی کہ الامان و الحفیظ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ایسی برف باری نہیں ہوئی جیسی امسال ہوئی ہے۔ اگرچہ نومبر میں پہاڑوں پر برف پڑ جاتی ہے مگر وادی میں دسمبر‘ جنوری میں معمولی
Frost
آتی ہے۔ اس برس ونکوور میں زبردست برفباری ہو رہی ہے اور درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے گر گیا ہے۔ ٹورنٹو، مانٹریال وغیرہ میں تو کئی کئی فٹ برف پڑنا معمول ہے مگر ونکوور میں ایسی برفباری غیر معمولی بات ہے۔
میں نے برف باری پہلے کئی بار دیکھی ہے، ایک مرتبہ بلوچستان کے علاقے کان مہترزئی میں برف کے طوفان میں پھنس بھی چکے ہیں مگر کینیڈا کی برفباری ذرا مختلف ہے۔


ذرا پہلے کان مہترزئی کا احوال لکھوں۔ قصہ یوں ہے کہ کئی برس پہلے میں کوئٹہ مرکز سے پی ٹی وی کا تاریخی ڈراما سیریل ’پالے شاہ‘ کرنے کوئٹہ گئی تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا، ویسے تو کراچی میں سردی نہیں پڑتی پر جب کوئٹہ سے سرد ہوائیں چلتی ہیں تو کراچی میں ذرا خنکی بڑھ جاتی ہے۔ ڈرامے میں میرے ساتھ جمال شاہ اور سکینہ سموں بھی تھے۔ ہماری شوٹنگ نومبر، دسمبر اور جنوری میں ہوئی۔ وہیں کوئٹہ میں ہی میں نے پہلی بار برفباری دیکھی ورنہ اس سے پہلے صرف تصاویرمیں یا فلموں میں ہی دیکھتے تھے۔ کوئٹہ کے مضافات ہنّہ اور اُڑک میں زیادہ برف پڑتی ہے۔ میرے لئے برفباری دیکھنا شاندار تجربہ تھا۔ میرے ہمراہ میری فیملی بھی کوئٹہ گئی تھی۔ شوٹنگ کے بعد ہم خوب گھوما پھراکر تے تھے۔ اُس زمانے میں کوئٹہ کے بازاروں میں روسی سامان نہایت سستے داموں ملا کرتا تھا۔ ایرانی قالین اور کمبل بھی خوب ہوتے تھے۔شاپنگ کا بہت مزہ تھا۔ باتوں باتوں میں جانے کہاں نکل گئی‘ کان مہترزئی کے بارے میں لکھنا تھا مجھے۔۔۔۔۔۔ہوا یوں کہ شوٹنگ کے لئے ہماری ٹیم کو کوئٹہ سے ژوب جانا پڑا۔ بائی روڈ آٹھ گھنٹے کا سفر ہے۔ جنوری کا مہینہ تھا، خوب ٹھنڈی پڑ رہی تھی، ہمارا قافلہ کئی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ ساراراستہ خوبصورت پہاڑ اور نظارے دیکھتے ہم ژوب پہنچے۔ وہاں کچھ دن قیام کیا‘ ریکارڈنگ مکمل کرکے ہم واپس کوئٹہ کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارے کارواں میں آٹھ یا نوگاڑیاں تھیں، دو پی ٹی وی کی وین تھیں، باقی ڈبل کیبن تھیں، ہمارے ڈرائیور نے کہا موسم سخت ہے، ہم راستے میں کہیں نہیں رکیں گے، اگر رُکے تو ڈیزل جم جائے گا۔ ہم سب روانہ ہوئے، کان مہتر زئی پہنچے تو برف کے طوفان نے آن گھیرا، گاڑی برف میں پھنس گئی، میں نے دیکھا، اطراف میں کئی گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ ڈرائیور نے کہاکہ آپ سب دعا کریں بخیر و خوبی یہاں سے نکل جائیں۔ اﷲ نے کرم نے کیا اور ہم بحفاظت کوئٹہ پہنچ گئے۔ اس زمانے میں موبائل فون نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں اپنے ساتھیوں کی خبر نہیں تھی۔ وہ تو اگلے دن ہمیں معلوم ہوا کہ قافلے کی گاڑیاں برف کے طوفان میں پھنس گئیں اور صرف ہماری گاڑی کوئٹہ پہنچی ہے۔ تین دن ہماری ٹیم کرب میں رہی۔ پتہ چلا کہ ڈائریکٹر نے سورج غروب ہونے کا شاٹ لینے کے لئے گاڑی رکوائی، شاٹ کیا ملتا گاڑی بند ہو گئی اور پھر سٹارٹ نہیں ہوئی۔ سردی سے حالت بری ہوئی، گاڑی کی سیٹیں نکال کر جلائیں کہ کچھ گرمی ملے موت سامنے کھڑی تھی، خدا نے کرم کیا کہ کچھ لوگ مل گئے جو انہیں مسلم باغ لے گئے، وہاں ٹھہرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ تین دن کی اذیت کے بعد ٹیم کوئٹہ پہنچی۔ اس دن معلوم ہوا کہ برف کے طوفان میں پھنس جانے کے سبب کئی اموات ہوئیں۔ الحمدﷲ ہمارے ڈرامے کی ٹیم بحفاظت کوئٹہ واپس پہنچ گئی۔

barfkafizindagi.jpgاب کینیڈا کی برفباری کا حال سنئے۔یہاں بہت زیادہ برف پڑتی ہے۔ کان مہترزئی جیسی برف پڑنا یہاں عام بات ہے۔ مگر یہاں برفباری معمولاتِ زندگی متاثرنہیں کرتی۔ سخت ترین موسم میں بھی لوگ گھروں سے نکلتے ہیں۔ کام پہ جاتے ہیں، کاروبارِ زندگی رواں دواں رہتا ہے۔ میں نے مانٹریال، ٹورنٹو کی برفباری دیکھی ہے، سردی ہڈیوں میں گھُستی محسوس ہوتی ہے مگر یہاں کے لوگ اس کے عادی ہیں۔ ایک مرتبہ میں ایک شو کے سلسلے میں ایڈمنٹن گئی تھی، اتنی برف تھی کہ ہوٹل کے کمرے سے نکل کے لابی تک جانا محال تھا۔ لگتا تھا ہیٹر کام نہیں کررہا، سردی سے قلفی جم رہی تھی۔ شاید اس وقت موسم کی شدت کا احساس یوں زیادہ ہوا کہ کینیڈا وزٹ پر گئی تھی، اب چونکہ وہاں رہائش ہے، لہٰذا سردی کی عادت ہوگئی ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود بہت کوفت ہوتی ہے جب گھر کے سامنے برف صاف کرنی پڑتی ہے، جب گاڑی پہ جمی برف ہٹا کے برفباری میں ڈرائیو کرنا پڑتا ہے، اس وقت کراچی کی سردیاں یاد آتی ہیں جب دسمبر جنوری میں بھی پنکھے اور ایئرکنڈیشنر چالو ہوتے ہیں۔


برف میں مخصوص جوتے پہنے جاتے ہیں، کانوں اور سرکو ڈھانپنا لازمی ہوتا ہے۔ بچے تو برف میں خوب انجوائے کرتے ہیں۔ میں اس موسم میں شام کو اکثر قریبی کافی شاپ میں جا کے بیٹھ جاتی ہوں۔ یہاں انواع و اقسام کی کافی اور چائے دستیاب ہیں۔
Apple Cinnamon tea, Earl grey tea, Peppermint tea, Chai tea, English breakfast tea Orange Pekoe tea, Green tea, Mint tea, Camomile tea
اور دیگر اقسام کی چائے ہوتی ہے مگر اپنی دیسی اسٹائل کی چائے نہیں ملتی۔ کڑک چائے کا مزا توپاکستان میں ہی ہے۔ کینیڈا میں کچھ دیسی ریسٹورنٹ ہیں وہاں البتہ ہمارے
Taste
کی چائے ملتی ہے۔ میں جس کافی شاپ میں جاتی ہوں وہ بین الاقوامی سطح پہ معروف ہے۔ یہاں بہت ساری کافی شاپس کی مشہور
Chains
ہیں۔ لوگ زیاہ تر کافی پیتے ہیں، چائے کم لوگ پیتے ہیں۔ کافی شاپ میں نوجوان ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے گپ شپ کرتے رہتے ہیں۔ ضعیف العمر حضرات بھی یہاں آتے ہیں۔ پولیس والے، فائر بریگیڈ کا عملہ اور پیرا میڈیکس کے عملہ کو چائے کافی مفت ملتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کھڑکی کے ساتھ لگی میز کرسی پر بیٹھوں، باہر نظارہ بھی ہوتا ہے اور اچھا لگتا ہے۔ سکول کالج کے سٹوڈنٹس کو دیکھ کر فیشن کا پتہ چلتا ہے کہ آج کل کیا"in" ہے۔ لڑکیوں کا حالیہ فیشن یہ ہے کہ بال رنگے جائیں، سب سے زیادہ جو کلر بالوں کے رنگنے کے لئے مقبول ہے۔ وہ فیروزی اور کاسنی ہے۔


ہمارے ملک میں سنہرے، بھورے اورکالے رنگ سے بالوں کو رنگا جاتا ہے، مغرب میں سنہرے اور سرخ بال تو عام تھے ہی مگر فیروزی اور کاسنی ذرا مختلف فیشن ہے، مگر یہاں عام ہے۔ لڑکیاں میک اپ بھی کرتی ہیں اور جیولری کی بھی دلدادہ ہیں، یہ تو خیر عالمی سٹائل ہے، دنیا کی ہر لڑکی کو زیب و زینت پسند ہے۔ مگر جو فیشن اب لڑکوں نے کینیڈا میں اپنایا ہوا ہے،وہ ہمارے یہاں سے بالکل مختلف ہے۔ نوجوان لڑکے ہاتھوں پر بریسلیٹ، گلے میں چین اور کانوں میں ٹاپس تو پہلے ہی پہنتے تھے مگر اب جدیدفیشن یہ ہے کہ ناک چھدوائی جائے۔ ناک کی لونگ لڑکوں کا محبوب زیور ہے۔ مختلف ڈیزائن اور سائز کی ناک کی بالیاں لڑکے پہنتے ہیں۔ ہمارے کلچر میں مرد کے لئے یہ گالی ہے مگر وہاں فیشن ہے۔ کانوں میں چھوٹی بالی تو میں نے پاکستان کے لڑکوں کو بھی پہنے دیکھا ہے مگر کینیڈا میں لڑکے ایک بڑی سی بالی جس کا سائز چونّی یا اٹھنی کے برابر ہوتا ہے، وہ کان کی لو میں ایسے پیوست کراتے ہیں کہ کان میں بڑا سا سوراخ ہو جاتا ہے۔ بھنوئیں، ہونٹ، ہونٹ کا اوپری حصہ، یہاں تک کہ زبان تک چھدوانے کا رواج ہے۔


یہاں جس کی مرضی جیسا فیشن کرے، جیسا چاہے لباس زیبِ تن کرے، نہ کوئی کسی پہ جملہ کستا ہے نہ ہوٹنگ کرتا ہے۔ ’لڑکیوں کو چھیڑنا‘ یہ کیا بلا ہے، کسی کو نہیں معلوم، یہاں خواتین بہت محفوظ ہیں، رات کو سنسان سڑک پہ اکیلی لڑکی آرام سے سفر کرسکتی ہے، اسے کوئی خطرہ نہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتی ہے، کوئی انہیں نہیں گھورتا۔ اسکائی ٹرین رات ایک بجے تک چلتی ہے، اکثر خواتین رات کو کام سے واپس ٹرین پہ ہی آتی ہیں مگر کوئی انہیں ہراساں نہیں کرتا۔ کینیڈا میں قانون سخت ہے اور سب کے لئے یکساں ہے، اس لئے جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عوام کی جان و مال محفوظ ہے، پینے کا صاف پانی ہر خاص و عام کو دستیاب ہے، نلوں میں جھیلوں سے صاف پانی آتا ہے جو صحت کے لئے نہایت موزوں ہے، تعلیم سب کے لئے مفت ہے، طبی سہولیات، دیگر سہولیات بھی عوام کو ملتی ہیں۔


دکانیں یہاں صبح سویرے ہی کھل جاتی ہیں، دوپہر ایک بجے کے بعد دکان کھولنے کا یہاں کوئی تصور موجود نہیں۔ ہر چیز پہ بارکوڈ یا اس کی قیمت درج ہوتی ہے اور ’’بارگیننگ‘‘ یعنی قیمت کم کرانے کا کوئی سلسلہ یہاں نہیں۔ کافی شاپس عموماً 24 گھنٹے کھلی رہتی ہیں۔ میں بھی کبھی رات گئے فرنچ ونیلا پینے جاتی ہوں۔
French Vanilla
کافی کی ایک مقبول قسم ہے، زیادہ تر لڑکیاں یہی پیتی ہیں۔ یہ ہاٹ چاکلیٹ اور کافی کا مرکب ہوتا ہے۔ کافی شاپ میں میں نے بعض عجیب و غریب چیزیں بھی دیکھیں، مثلاً لوگ گرین ٹی میں دودھ ڈال کے پیتے ہیں، اکثر لوگ گرم چائے یا کافی میں برف کے چند ٹکڑے یہ کہہ کے ڈال لیتے ہیں کہ گرم مشروب پینے سے منہ جل جاتا ہے کو لڈ کافی کم لوگ پیتے ہیں، گرم کافی میں ہی برف ڈالنا پسند کرتے ہیں۔


کافی شاپ میں ایک کونے پر آتشدان ہے جہاں آرام دہ صوفے پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے وہاں لکھا ہے کہ صوفوں پہ سونا منع ہے اور زیادہ دیر بیٹھنے سے احتراز کریں تاکہ دوسروں کو بھی وہاں بیٹھنے کا موقع ملے۔ لیکن میں نے وہاں صوفوں پہ بعض افراد کو دو دو گھنٹے سوتے دیکھا۔میں نے کاوئنٹر پر موجود لڑکی سے پوچھا کہ آپ ان حضرات کو اٹھاتی کیوں نہیں؟ وہ مسکرا کے بولی ’’ہم کسٹمر سے غیرمہذب رویہ نہیں اپنا سکتے۔‘‘ میرے دل میں کئی بار آیا کہ خود ہی جاکے کہوں کہ اٹھو، اب میں صوفے پہ بیٹھوں گی مگر پھر یہ سوچ کے خیال جھٹک دیا کہ جب باقی لوگوں کو اعتراض نہیں تو مجھے کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔


صوفوں پر سونے والے زیادہ تر معمر افراد ہی ہوتے ہیں اور لوگ ان کی عمر کی وجہ سے احتراماً انہیں نہیں اٹھاتے۔ کافی شاپ وقت گزاری کے لئے بہترین جگہ ہے۔ لوگ گھنٹوں یہاں صَرف کرتے ہیں، لیپ ٹاپ پہ کام کرنا ہو، نوٹس بنانے ہوں، موبائل پر دوستوں سے بات کرنی ہو، احباب سے گپ شپ کرنی ہو، کافی شاپ آئیڈیل ہے۔ سب لوگ اپنا بِل خود ادا کرتے ہیں، کوئی کسی دوسرے کی کافی کا بل نہیں دیتا۔ یہاں دوستوں کا بل دینے کا رواج نہیں۔ آپ کتنے ہی گہرے دوست کیوں نہ ہوں، اپنا بل خود دیں۔ کافی شاپ میں انٹرنیٹ فری ہوتا ہے۔ ویسے یہاں مال میں، ریسٹورنٹ میں، کافی شاپ یا فاسٹ فوڈ ریستوران میں انٹرنیٹ فری ہوتا ہے۔
فری پر یاد آیا
Buy One, Get One Free
آج کل عروج پہ ہے، نیوایئر کی وجہ سے ہر جگہ سیل ہے، پھر ویلنٹائن ڈے بھی زیادہ دور نہیں۔ ویلنٹائن ڈے فروری میں آتا ہے اور اس کی سیل جنوری میں لگ جاتی ہے۔ سیل لگی ہو تو سمجھ میں نہیں آتا کیا خریدیں کیا چھوڑیں۔ ڈالر خرچ کرنا آسان ہے‘ کمانا مشکل ہے۔ دیارِ غیر میں بسنے والے جانتے ہیں کہ روزی روٹی کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں، اگرچہ پاکستان میں بھی کمانے کی فکر سب کو ہوتی ہے مگر ایک خاص ذہنی بے فکری بھی ہوتی ہے، پاکستان میں سب اپنے ہوتے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں کوئی کسی کا نہیں۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

کینیڈا میں قانون سخت ہے اور سب کے لئے یکساں ہے، اس لئے جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عوام کی جان و مال محفوظ ہے، پینے کا صاف پانی ہر خاص و عام کو دستیاب ہے، نلوں میں جھیلوں سے صاف پانی آتا ہے جو صحت کے لئے نہایت موزوں ہے، تعلیم سب کے لئے مفت ہے، طبی سہولیات، دیگر سہولیات بھی عوام کو ملتی ہیں۔

*****

ڈالر خرچ کرنا آسان ہے‘ کمانا مشکل ہے۔ دیارِ غیر میں بسنے والے جانتے ہیں کہ روزی روٹی کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں، اگرچہ پاکستان میں بھی کمانے کی فکر سب کو ہوتی ہے مگر ایک خاص ذہنی بے فکری بھی ہوتی ہے، پاکستان میں سب اپنے ہوتے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں کوئی کسی کا نہیں۔

*****

 
10
February

تحریر: فرحان نثار

اُس نے جس کھیل کا انتخاب کیا تھا اس کا مستقبل پاکستان میں نہیں تھا۔وہ جس علاقے سے تعلق رکھتی تھی وہاں لڑکیوں کا میدان میں جا کر کھیلنا تو کجا اُن کے لئے گھر سے باہر نکلنا بھی آسان نہ تھا۔وہ لڑکی تھی، صنف نازک تھی مگر اس نے ایسے کھیل کا انتخاب کیا تھا جسے ’’طاقت‘‘ کا کھیل کہا جاتا ہے جو مردوں کے لئے بھی اتنا آسان نہیں مگر لڑکی ہونے کے باوجود پورے جوش و خروش کے ساتھ اس میں حصہ لیا اور ’’مردانہ وار‘‘ اپنی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا مقابلہ بھی کیا۔وہ پاکستان میں بہت سی لڑکیوں کے لئے مشعل راہ تھی جسے کھیلتا ہوا دیکھ کر بہت سے والدین نے اپنی بیٹیوں کو کھیلوں کے میدان میں اترنے کا موقع دیا۔ایک گیند اور گول پوسٹ پر نشانہ ...یہ اُس کی زندگی کا مقصد تھا کیونکہ اس کا انداز جارحانہ تھا اور وہ دفاع پر کاربندنہیں ہوسکتی تھی ۔وہ ہر لمحہ فٹ بال کو گول پوسٹ میں پھینکنا چاہتی تھی مگر موت اُس کا نشانہ لے چکی تھی۔موت کے فرشتے کو پنالٹی کک ملی اور اس نے شاہلائلہ بلوچ کی زندگی کو گول پوسٹ میں ڈال دیاجو 16اکتوبر کو محض 20سال کی عمر میں کراچی کے رہائشی علاقے میں کار کے حادثے میں اپنی جان کی بازی ہار گئی۔


شاہلائلہ بلوچ کا تعلق کھیلوں سے محبت کرنے والی فیملی سے تھا جس کی والدہ روبینہ عرفان نہ صرف سینیٹر ہیں بلکہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ویمن ونگ کی چیئرپرسن بھی ہیں جبکہ شاہلائلہ کی ایک بہن سہیلہ زرین انٹرنیشنل کھلاڑی اور دوسری بہن راحیلہ زرمین قومی ٹیم کی مینجر ہیں۔کوئٹہ میں پیدا ہونے والی شاہلائلہ نے محض سات برس کی عمر میں فیفا کی کم ترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ پاکستان کی قومی چمپئن ٹیم بلوچستان یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والی شاہلائلہ نے 2009، 2011 اور 2013 میں پاکستان کی بہترین ویمن فٹبالر کا اعزاز اپنے نام کیا۔ میراڈوناجیسے کھلاڑی کو اپنا آئیڈیل بناکر فٹبال کھیلنا شروع کرنے والی شاہلائلہ کا پسندیدہ کھلاڑی لائل میسی تھا۔شاہلائلہ کو اگر حقیقی پیشہ ورانہ کھلاڑی کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کیونکہ پاکستان میں ویمنز فٹبال کا مستقبل تاریک دیکھنے کے باوجود شاہلائلہ پرعزم تھی کہ پاکستان کو اس میدان میں بہتر مقام دلوائے گی کیونکہ اس کا مقصد فٹبال کھیل کر اپنا شوق پورا کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا خواب عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند کرنا تھا اور اگر زندگی یہ موقع دیتی تو شاہلائلہ اپنا یہ خواب بھی پورا کرسکتی تھی کیونکہ یہ کھیل اس کا جنون تھا،اس کی محبت تھی مگر موت نے زندگی کے میدان میں اسے ’’آف سائیڈ‘‘قرار دے دیا۔

 

shahlalablch.jpgاسٹرائیکر شاہلائلہ بلوچ کا تعلق فٹبال سے وابستہ خاندان سے تھااور اکثر اوقات یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایسے پس منظر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی صلاحیت دب کر رہ جاتی ہے کیونکہ ان کھلاڑیوں کی قومی ٹیم تک آمد کو ہمیشہ خاندانی پس منظر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور ان کی اچھی کارکردگی کو اتنا سراہا نہیں جاتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ شاہلائلہ نے بھی انہی مسائل کے ساتھ پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا اور اس لئے ان پر یہ الزام بھی عائد کیاجاتا تھا کہ وہ اپنی والدہ (فٹبال فیڈریشن کی سربراہ)اور بہن(ٹیم مینجر)کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں لیکن شاہلائلہ نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا کہ والدہ اور بہن کے اہم عہدوں پر فائز ہونے کی وجہ سے انہیں متعدد مرتبہ تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود اس بات کا اثر ان کے کھیل پر نہیں پڑتا بلکہ جب وہ میدان میں اترتی ہیں تو ان کا مقصد محض اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر شاہلائلہ کے مختصر سے کیرئیر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بارہا ثابت ہوئی کہ شاہلائلہ کی موجودگی پاکستانی فٹبال ٹیم کے لئے نہایت سودمند ثابت ہوئی ہے۔ 2014ء کی ساف
(South Asian Football Federation)
ویمنز چمپئن شپ میں بھوٹان کے خلاف مقابلہ شاہلائلہ کا پاکستان کے لئے آخری مقابلہ تھا جس میں 4-1کی فتح میں ایک گول کرکے شاہلائلہ نے اپنا حصہ بھی ڈالا۔اس کے علاوہ پاکستان کی طرف سے بیرون ملک ہیٹ ٹرک اسکور کرنے والی پہلی خاتون فٹبالر کا اعزاز بھی شاہلائلہ بلوچ کو حاصل ہواجس نے مالدیپ کے سن کلب کے لئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مالدیپ میں کلب فٹبال کھیلنے والی شاہلائلہ کا خواب مشہور زمانہ فٹبال کلب بارسلونا کی ویمنز ٹیم کی نمائندگی تھا لیکن وقت سے کون کہے یار ذراآہستہ!


فٹبال کے جوتے اور جرسیاں جمع کرنے والی شاہلائلہ کی پہلی محبت فٹبال کا کھیل ہی تھا ۔سب سے بڑی خوشی بھی شاہلائلہ کے لئے فٹبال کھیلنا ہی تھا جو ڈربلنگ اور ہیڈنگ کے ذریعے مخالف کھلاڑیوں کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا کرتی تھی۔کبھی بھی ہمت نہ ہارنے والی لڑکی کے لئے کار کا حادثہ جان لیوا ثابت ہوا جس نے پلک جھپکتے ہی شاہلائلہ کو آخری سفر پر روانہ کردیا ۔شاہلائلہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ویمنز فٹبال کا سفر بھی عالمی سطح پر شروع ہوا تھاجو یقیناًشاہلائلہ کی ناگہانی موت کے بعد رکے گا نہیں بلکہ جاری رہے گا مگر زندگی سے بھرپور فٹبالر شاہلائلہ بلوچ کی موت سے پیدا ہونے والا خلاء پاکستان میں فٹبال کے میدانوں میں ایک عجب سی اُداسی چھوڑ گیا ہے۔ممکن ہے کہ شاہلائلہ بلوچ نے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت زیادہ دن فٹبال کے میدانوں میں نہ گزارے ہوں مگر سات نمبر کی جرسی پہننے والی اسٹرائیکر ایسا راستہ تراش گئی ہے جو آنے والے عرصے میں نہ صرف اسپورٹس بلکہ ہر شعبے میں اُن پاکستانی لڑکیوں کے لئے منزل کا نشاں ثابت ہوگا۔

 
10
February

تحریر: مستنصر کلاسرا

1974میں بھارتی ایٹمی تجربے نے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔ یہ تجربہ اس خطے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور پھراس کی مسلسل بڑھوتری کی پہلی کڑی ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جس نے ایک غیرایٹمی خطے کو ایٹمی دوڑ میں شامل کر دیا۔ بھارت کے اس اقدام نے اقوام عالم کو ایک ایسا ادارہ بنانے پر مجبور کر دیا جو مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی کاروبار کی شناخت اور پرامن مقاصد کے نام پر پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کو دور کر سکے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام عالم ایک ادارہ بنانے میں کامیاب ہوئیں جسے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا نام دیا گیا۔


نیوکلیئرسپلائرز گروپ کے رکن ممالک میں امریکہ، جاپان، چین، برطانیہ، ترکی اور کینیڈا سمیت کم و بیش 48ممالک شامل ہیں۔ سال 2016-17 کے لئے این ایس جی کی صدارت ریپبلک آف کوریا کے پاس ہے۔ اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے چنداصول و ضوابط بنائے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
i۔ ایٹمی مواد ترسیل کرنے کی مکمل صلاحیت۔
ii۔ این ایس جی کی طرف سے دی گئی تمام ہدایات پر پابندی اور ان پر من و عن عمل کرنا۔
iii۔ ایک یا ایک سے زیادہ نیوکلیئرنان پرولیفریشن معاہدوں کا پابند ہونا۔
iv۔ مقامی برآمدات کے کنڑول سسٹم کی مکمل پاسداری این ایس جی کی مکمل ہدایات کے مطابق کرنا۔
v۔ مہلک ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور ان کی ترسیل کی مشینری کی بیرونی منتقلی کو روکنے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرنا۔
یہ وہ چند بنیادی اصول و ضوابط ہیں جن کے تحت کوئی ملک اس گروپ کا رکن بن سکتا ہے۔ اب اگر کوئی ملک ان ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش کرے گا تو یہ ان ممالک کے ساتھ ناانصافی ہو گی جو ان ضوابط پر عمل کرنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہوئے اور دوسرا اس گروپ کی اپنی شفافیت پر سوال اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔
نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کے لئے بہت ہی سادہ سے اصول و ضوابط وضع کئے گئے ہیں جن پر کوئی بھی ملک پورا ترنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش نے ایک عجیب سازشی فضا پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر 2008 میں بھارت کو دی گئی چند خاص رعایات کے بعد تو یہ صورتحال اور مسموم ہوتی جا رہی ہے۔ دیگر اسباب کے علاوہ سب سے اہم اور بڑی وجہ مغرب میں موجود کاروباری لابی ہے جو کہ مستقبل قریب میں بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ دوسری وجہ رعایات دینے کی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسا کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ کا سب سے بڑا مقصد ایٹمی ٹیکنالوجی کی ترسیل ان ممالک میں روکنا ہے جو یا تو پہلے سے اسے استعمال کر رہے ہیں یا پھر بین الاقوامی ایٹمی تحفظ کے ادارے کے قوانین کے مطابق عمل نہیں کر رہے جن میں بھارت بھی شامل ہے۔ بھارت میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کا ایٹمی مواد یا ری ایکٹر ابھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے۔


نئے بدلتے حالات اور عالمی برتری کی دوڑ میں امریکہ اور بھارت ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ اس بات پر کسی کو شک نہیں کہ امریکہ اور بھارت سول نیوکلیئرڈیل کے بعد اب ایک دوسرے کے سٹریٹجیک پارٹنرز ہیں۔ نیوکلیئرسپلائرز گروپ میں شمولیت کے حوالے سے بھی بھارت کو امریکی پشت پناہی اور حمایت حاصل تھی۔ ایک اور بات جو یہاں قابل ذکر ہے کہ اگرچہ 11اور 12نومبر 2016کو این ایس جی کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی تھی اور مختلف ممالک کی رائے کو اگر مدنظر رکھیں تو بھی بھارت کی مخالفت میں بہت سے ممالک تھے جن میں خاص طور پر آئرلینڈ، چین اور آسٹریا نے بھارت کے خلاف اپناموقف بدلنے سے انکار کیا اور اصول و ضوابط پر اترنے والے تمام ممالک کو اس میں شامل کرنے پر زور دیا۔ یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ نومبر 2016میں این ایس جی کی میٹنگ سے پہلے تک اگر بھارت این ایس جیمیں شمولیت کے لئے بڑے ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس نے دوبارہ سے اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست کیوں دے دی؟ شاید وہ اس لئے کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کی اپنی خواہش زندہ رکھ سکے۔ بالکل اسی طرح اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل ہونے کی اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔


نیوکلیئرسپلائرزگروپ کے تناظر میں بھارت اور امریکہ کی جانب سے یہ تاثر بھی عام کرنے کی کوشش کی گئی کہ چین نے پاکستان کو این ایس جی میں شمولیت پر اُکسایا اور پاکستان تو جیسے نیوکلیئرگروپ میں شامل ہونا ہی نہیں چاہتا تھا۔ یہ تاثر پروپیگنڈے پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے تو بھارت کی اس گروپ میں شمولیت سے پہلے ہی 2004میں
Export Control Act
پر عمل شروع کر دیا تھا۔ ایک اور تاثر جو پاکستان کے خلاف دیا گیا کہ پاکستان نے صرف بھارت کو دیکھتے ہوئے این ایس جی میں شمولیت کی درخواست دی یہ بھی سراسرجھوٹ کا ایک پلندا اور من گھڑت بات تھی کیونکہ این ایس جیمیں شمولیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کو بتایا گیا کہ کوئی بھی
Non-NPT
ملک اس گروپ میں شامل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن جب بھارت کو امریکہ کی طرف سے مئی میں اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے درخواست دینے کا کہا گیا تو پاکستان نے 6دنوں کے اندر اندر 300صفحات پر مشتمل ایک مکمل دستاویز بنا کر اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست دی۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ پاکستان نے اپنا ہوم ورک پہلے سے کیا ہوا تھا۔ ظاہر ہے بھارت اگر
Non-NPT
ہوتے ہوئے اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے درخواست دے سکتا ہے جس کا اپنا نیوکلیئرپروگرام بھی بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق محفوظ نہیں سمجھا جاتا تو پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تو دنیا محفوظ اور موثر ہونے کا اعتراف بھی کرتی ہے تو پھر پاکستان یا دیگر ایسی اہلیت کے ممالک اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیوں نہیں کر سکتے۔ یہ تو اب بین لاقوامی کمیونٹی کو سوچنا ہو گا کہ چند ممالک کے ساتھ برتی گئی ناانصافی دنیا میں عدم توازن بڑھائے گی اور دنیا میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گی۔

نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کے لئے بہت ہی سادہ سے اصول و ضوابط وضع کئے گئے ہیں جن پر کوئی بھی ملک پورا ترنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش نے ایک عجیب سازشی فضا پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر 2008 میں بھارت کو دی گئی چند خاص رعایات کے بعد تو یہ صورتحال اور مسموم ہوتی جا رہی ہے

*****

نومبر 2016میں این ایس جی کی میٹنگ سے پہلے تک اگر بھارت این ایس جیمیں شمولیت کے لئے بڑے ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس نے دوبارہ سے اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست کیوں دے دی؟ شاید وہ اس لئے کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کی اپنی خواہش زندہ رکھ سکے۔ بالکل اسی طرح اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل ہونے کی اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔

*****

 
10
February

تحریر : محمد علی بیگ

شام کی روز بروز بدلتی صورت حال ایک عالمی مسئلہ ہے جو کہ شاید عظیم طاقتوں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ اگر ہم اس غور طلب معاملے پر ایک تنقیدی نظر دوڑائیں تو اس کی جڑیں عرب دنیا میں اٹھنے والے
Spring Revolution
سے ملتی ہیں۔ اس انقلاب نے جہاں عرب دنیامیں کئی دہائیوں سے بیٹھے حکمرانوں کو چلتا کیا وہیں پر یہ شام میں ایک خونریز جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 2011 کے شروع میں حقوق اور جمہوری نظام کے حق میں نکالے جانے والے جلوس اور ریلیاں اب ایک منظم اور باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہیں جو کہ اقوام متحدہ کے کردار اور فعال ہونے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ بہت سے محقق اور تبصرہ نگار یہ خیال کرتے ہیں کہ بشارالاسد کے خلاف نکالے جانے والے غم و غصے میں امریکہ کا کردار کلیدی ہے۔


روسی صدر پیوٹن کا یہ فیصلہ کہ وہ ہر قیمت پر بشارالاسداور اس کی حکومت کا دفاع کریں گے نے شام کو جنگِ کوریا اور ویت نام جیسا بنا دیا ہے۔ مگر یہ بات قابلِ دید ہے کہ پیوٹن کا یہ فیصلہ ایک عمل نہیں بلکہ شام کے لئے امریکی خارجہ پالیسی کا ردِ عمل ہے۔ یہ روسی صدر کا ایک مصمم اور غیر متزلزل ارادہ ہے کہ مغربی ممالک کی تمام تر مخالفت کے باوجود وہ شامی صدر کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اپنی تمام تر کو ششوں کے با وجودروس کے حمایت یافتہ بشا ر الاسد شام کے صرف پچیس فیصدحصے پر کنٹرول برقرار رکھ سکے ہیں۔ شامی صدر کو روس کے علاوہ ایران، عراق اور حزب اللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
1991میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ خیال کیا جانے لگا تھاکہ اب امریکہ ایک تن تنہا سپر پاور بن گیا ہے اور حتیٰ کہ ایک امریکی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر
Francis Fukuyama
نے اپنی مشہور کتاب
The End of History
بھی لکھ ڈالی اورشاید یہ خیال ظاہر کیا کہ اب امریکی طاقت کی بدولت جنگ ہونا نہایت مشکل اور ناممکن ہے۔ اس کتاب کے جواب میں ایک اور امریکی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر
Samuel Huntington
نے اپنی کتاب
The Clash of Civilizations
پیش کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ ہونے والی جنگیں نسل اور تہذیب کی بنیا د پر لڑی جائیں گی۔ مگر شام کے گھمبیر حالات اور روسی صدر پیوٹن کے عزم نے ان دونوں حضرات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری تو کچھ عرصہ پہلے تک بات چیت کی ناکامی کی صورت میں اپنے
Plan-B
کو بھی پیش کر چکے ہیں جس کے تحت امریکہ نے شام کی خود مختار ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا خاکہ پیش کیا۔ یہ بات حیران کن ہے کہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب
Sergey Lavrov
سے کئی ملاقاتیں کیں جن کی بنیا دی وجہ شاید شام میں امریکی آپریشنل اور سٹریٹجک کمزوریاں ہیں۔
یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ سیز فائر کے بعد17ستمبر 2016کو امریکہ نے شامی افواج پر دیر الزور کے مقام پر ایک شدید فضائی حملہ کیا جس میں تقریباً62شامی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس حملے نے نہ صرف شامی فوج کو نقصان پہنچایا بلکہ داعش کے جنگجوؤ ں کے لئے راستہ بھی ہموار کیا۔ یہ کیا ماجراہے کہ اگر ہم اُس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے2009-13کے بیانات کو دیکھیں تو وہ صاف طور پر یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ ہم جنگجوؤں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بشارالاسد کے بے رحمانہ اور مطلق العنان نظامِ حکومت کے خلاف لڑ سکیں۔
Wiki-Leaks
کے جولیان آسانج نے بھی ہیلری کلنٹن کے دوہرے معیار کا پردہ چاک کردیااور وہ تمام خفیہ دستاویزات عام کر دیں جن میں داعش کو اسلحے کی فراہمی اور تربیت سے متعلق معلوما ت تھیں۔ چند روسی اور عالمی ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بدنامِ زمانہ گوانتاناموبے جیل سے بیشتر قیدیوں کو خفیہ طور پر رہا کر کے داعش اور النصرہ فرنٹ میں شامل کیا گیااور اب وہی امریکی تربیت یافتہ جنگجو شام میں فساد کا باعث بن رہے ہیں۔
شاید یہ ایک حقیقت ہے کہ شام کے معاملے سے پہلے بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عالمی نظام
Unipolar
ہے یعنی اس نظام میں صرف ایک سُپر پاور (امریکہ) موجود تھا۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادکے برعکس اور اجازت کے بغیر 2003میں عراق پر حملہ کیا ۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ امریکہ ایک بار پھر شام میں عراق والی مثال دہرائے گا اور بشار الاسد کو صدام حسین کی طرح تختہ دار پر لٹکائے گا۔ تاہم امریکہ ایسا کرنے سے بوجوہ باز رہا۔
جولائی 2016میں ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت‘ روس اور ترکی کو بہت قریب لے آئی ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2015میں ترک فضائیہ نے روسی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا تھا جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں شدید تناؤ تھا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے نیٹو اور امریکہ کا ہاتھ تھا۔ کیو نکہ اُس وقت روسی فضائیہ امریکہ نواز باغیوں پر کاری ضرب لگانے میں مصروف تھی۔ اب پیوٹن اور طیب اوردگان ایک سمت جا رہے ہیں جس کا بنیا دی مقصد داعش اور امریکہ نواز کُرد باغیوں کا خاتمہ ہے جو کہ ترکی میں بیشتر بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ ایک امریکی صحافی
David Swanson
نے فروری 2016میں اپنے آرٹیکل میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شام میں سیزفائر امن کے لئے نہیں بلکہ دونوں اطراف اس کو اپنے اپنے حامی متحارب گروپوں کو اسلحہ اور دیگر چیزیں فراہم کر نے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔
اگر ہم شام میں ہونے والے تمام قتل و غارت گری سے قطعِ نظر اس معاملے کو عالمی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو ہم یہ بات ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ صورتِ حال صدر پیوٹن کی ایک عظیم سیاسی ،سفارتی اور فوجی فتح ہے۔ روسی افواج شام میں اپنے تمام جدید ترین اسلحے کو استعمال کر رہی ہیں اور اس کی آپریشنل استعدادِ کار کو پرکھ رہی ہیں۔ روسی فوج نے اپنے نہایت جدید ایئر ڈیفنس سسٹم S-400اور ایس - 300کوشام میں آپریشنل کر کے امریکی اور اتحادی فوجوں کی فضائی مہم کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس مسئلے کی بدولت امریکہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے
Tomahawk
کروز میزائل استعمال کرے گا لیکن روسی ایئر ڈیفنس سسٹم ان کروز میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس سے ایک طرف اگر روسی آپریشنل اور سٹریٹجک برتری نظر آئے گی تو دوسری طرف امریکی فوج کی حقیقی طاقت کی قلعی کُھل جائے گی۔ روسی سسٹم نے حقیقتاًشام میں امریکی فضائی افواج کونا قابلِ استعمال کردیا ہے۔
حَلب
(Aleppo)
کی حالیہ لڑائی میں ایک دلچسپ واقعہ دیکھنے میں آیا جب امریکہ نواز شامی باغیوں نے ایک امریکی ساختہ
BGM-71 TOW
اینٹی ٹینک میزائل سے روسی ساختہ جدید ترین ٹی - 90ٹینک کو نشانہ بنایا۔ ایک طرف تو اس واقعہ سے یہ بات بالکل صاف دکھائی دیتی ہے کہ شام کی لڑائی متحارب گروہوں کی نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے درمیان ہے ۔ دوسری طرف اس واقعے سے ایک حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ جدید ترین امریکی اینٹی ٹینک میزائل اپنی پوری ٹیکنالوجی اور قابلیت کے باوجودروسی ٹی - 90ٹینک کو تباہ کرنے میں ناکام رہا اور ٹینک کا عملہ محفوظ رہا۔ اس واقعے نے امریکی میزائل اور اسلحہ سازکمپنی
Raytheon
کو ایک نئی کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ روس اپنے جدیدترین ایس یو - 34 اور ایس یو - 35 طیاروں کو بھی شام میں استعمال کر رہا ہے۔ روس اب تک تقریباً پانچ سو ملین ڈالرشام کی جنگ پر خرچ کر چکا ہے اور لتا قیہ اور طرطوس میں قائم کئے جانے والے بحری اور فضائی فوجی اڈے شاید اس خرچ کے علاوہ ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ روسی افواج کی مشرقِ وسطیٰ میں تمام تر سرگرمیاں ا مریکی سینٹرل کمانڈکے لئے شدید دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔ روس نے2014میں
Crimea
کے واقعے کے بعدعالمی سیاسی پنڈتوں کی پیش گوئیوں کے بر عکس ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دکھائی ہے کہ وہ ایک موثر عالمی طاقت ہے ۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام کی لڑائی رُوس کے جدید ترین اسلحے کے لئے ایک شو روم کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اس کے ہتھیاروں کی برآمدات ریکارڈ 56بلین ڈالر کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہم ایک نیو کولڈ وارکے دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہیں اور ایک دوسرے کواور شاید پوری دنیا کو داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں سے مسلسل ڈرانے میں مصروف ہیں۔ در حقیقت داعش اور القاعدہ جیسے نان اسٹیٹ ایکٹرز ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہیں اور بجائے ان گروپوں کو ختم کرنے کے، ان کی آڑ میں اپنے مفادات کاتحفظ کیا جا رہا ہے ۔ آج بھی
Realpolitik ،Thucydides
اور
Machiavelli
کے اصول عالمی سیاست پر چھائے ہوئے ہیںیعنی اپنی پالیسی کو حالات کے مطابق شکل دینا اور پھر ان حالات سے فائدہ اٹھانا۔
شام کی تمام تر صورت حال مجموعی طور پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ثابت ہو رہی ہے۔ بھارت، جو کہ روس کا خود ساختہ اور تاریخی دوست ہونے کا بھی دعویدار ہے، نے بھی شام پر روسی مؤقف کی کھل کر حمایت نہیں کی جیساکہ روس نے1971کی جنگ میں بھارت کی نہ صرف کھل کر حمایت کی بلکہ امریکی بحری بیڑے کو مشرقی پاکستا ن کی فوجی امداد سے مکمل طور پر باز رکھا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی جس کی بنیاد ہمیشہ سے
Hedging
کے اصول پر منحصر رہی ہے اب شاید اسے مہنگی پڑ رہی ہے اور اس کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہو ئی قربتیں روس اور پاکستان کو قریب لارہی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ شام میں عالمی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کا اصل فائدہ روس ، چین اور ترکی کو ہو رہا ہے۔ تاہم اس کشمکش میں پاکستان، چین اور روس کے مزید قریب آ گیا ہے۔ حال ہی میں بھارت میں ہونی والی
BRICS
کانفرس میں وزیراعظم نریندر مودی کو ایک بڑا دھچکا لگا جب روس اور چین نے پاکستان پردہشت گردی کے بھارتی بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا۔ یہ تمام واقعا ت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی برادری نے داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن ضربِ عضب کے کردار کو سراہا ہے اور امن کے لئے اس کی نیک نیت کوششوں کی بھر پور حمایت کی ہے۔
یہ رائے قائم کر نا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کم از کم مزید سات سے آٹھ سال جاری رہے گی۔ کیونکہ اس جنگ میں شامل کوئی بھی فریق عارضی جنگ بندی کے لئے بھی تیا ر نہیں ہے۔ یہ رائے تمام فریقین کے نزدیک ایک حقیقت ہے کہ جنگ بندی یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیاں درحقیقت اُن کے دشمنوں کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس تمام حالت کو
Clausewitz
کے نظریہ
Fog of War
کی مدد سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جس کے مطابق جنگ افراد ، قوموں اور لیڈروں کے سوچنے اور سمجھنے پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ دُھند نما دُھواں نظر کی حد کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی بد اعتمادی اور غیر یقینی کی کیفیت کو بھی جنم دیتا ہے اور یہ کیفیت فیصلہ سازی کے عمل کو بہت حد تک متا ثر کرتی ہے۔اگر ہم ایک نظر رُوسی اور امریکی (مغربی )میڈیا پر ڈالیں تو ان دونوں کی آپس کی چپقلش اس بات سے ثابت ہو جاتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف زہر اُگلنے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتے ہیں۔ امریکی تمام حالات کا ذمہ روس اور روسی تمام تر ملبہ امریکہ اور مغربی طاقتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان سب باتوں کو سننے اور پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر حقیقت کیا ہے۔
امریکہ دنیا میں جمہوریت کے پھیلاؤ اوراظہارِ رائے کی آزادی کا خواہشمند ہے اور امریکی نظریہ ء
Manifest Destiny
شاید امریکی حکومت کو اس قدر عزیز ہے کہ وہ اس کی خاطر قوموں کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے سے گریز نہیں کرتی۔ برطانوی اور امریکی افواج نے اِسی خواہش پر پہلے صدام حسین کے پُرامن عراق کا بیڑہ غرق کیا اور پھر معمر قذافی کے خوشحال لیبیا کو آگ اور خون میں نہلا دیا۔ لیبیا اور عراق میں لگنے والی آگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ صدر پیوٹن کے متعلق نیو یارک ٹائمزکے ایک صحافی Steven Lee Myers
نے ایک کتاب
The New Tsar
لکھ ڈالی۔ جس میں انھوں نے صدر پیوٹن کو ایک نیا ’’زار‘‘ قرار دیا اور یہ کہا کہ وہ روس کی عالمی طاقت کو بڑھانے کے لئے تشدد کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ امریکہ یا روس دونوں شام کے اندرونی مسئلے کو ایک علاقائی جنگ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن شاید اصل ذمہ دار امریکہ ہے جس نے شام پر عراق کی طرح کا یَک طرفہ حملہ کرنے کا عندیہ 2011میں دے دیا تھا۔ یہ بات بھی امریکی اور مغربی ممالک کی سازشوں کا پردہ چاک کرتی ہے کہ شام کے خالصتاً سیاسی مسئلے کو سُنی اور شیعہ کے درمیان فساد بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور اب اس لڑائی میں سعودی عرب اور ایران آمنے سامنے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے عالمِ اسلام کی طا قت مکمل طور پر منقسم ہو چکی ہے۔
ایک امریکی ماہر سیا سیات
John Mearsheimer
نے 2004میں اپنے آر ٹیکل
Why China's Rise will not be Peaceful
میں یہ کہا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت جارحانہ عزائم کے لئے ہے۔ لیکن اس آرٹیکل کے بارہ سال گزرنے کے باوجود چین نے کسی مقام پر بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کی اور حتیٰ کہ امریکہ اور جاپان کے ساتھ بھی تجارت کا راستہ اختیار کیا۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ چین اس معاملے میں اپنا کر دار ادا کرے۔ روس اور امریکہ دونوں بلکہ پوری دنیا چین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اورتمام اقوامِ عالم یہ بات ذہن نشین کر چکی ہیں کہ اب چین کو عالمی سیا ست میں اس کا مقام دینا پڑے گا۔ چین شام میں امن فوج کی سر براہی کرے اور قیامِ امن کے فوری بعد ملک میں عالمی برادری کے مبصرین کی نگرانی میں آزاد اور شفاف الیکشن کرائے جائیں تا کہ شامی عوام اپنے حکمرانوں کا انتخاب خود کر سکیں۔ روس اور امریکہ چاہے کتنے ہی مذاکرات کر لیں مگر شاید مزید پانچ سال بھی شام کے مسئلے کا حل نہ ڈھونڈ پائیں گے۔ شاید یہ بات بہت سے لوگ
Utopian
اور نا قابلِ عمل خیال تصور کریں۔ مگر تقریباً چھ سال کی خانہ جنگی ، پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کی ہلاکت ، اربوں ڈالر کے انفراسٹرکچرکی تباہی اور لاکھوں انسانوں کی ہجرت اور سب سے بڑی بات کہ سپر طاقتوں اور علاقائی طاقتوں کی باہمی چپقلش کا یہ واحد حل ہے۔

مضمون نگار نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ایم فل کر رہے ہیں۔

(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)

 
10
February

تحریر: حماس حمید چوہدری

کہتے ہیں کہ مسئلہ چاہے کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو اس کا حل مذاکرات کی میز پرہی نکلتا ہے۔پچھلے کچھ سالوں سے اہلِ علم اور سیاسی دانشور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جس پختگی کا ذکر کر رہے تھے اس کا عملی مظاہرہ 27 دسمبر2016ء کو روس کے دارالحکومت ماسکو کی یخ بستہ فضاؤں میں منعقد کئے گئے پاکستان ،چین اور روس کے مشترکہ اجلاس میں نظر آیا۔اس اجلاس کا ایجنڈا دو اہم نکات پر مشتمل تھا، ایک تو افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا اور دوسرا پاک چین اقتصادی راہداری میں روس کی شمولیت کے لئے راہ ہموار کرنا۔


واشنگٹن اور نئی دہلی کی بڑھتی قربتیں دیکھ کر ماسکونے سفارتی سرگرمیوں کا رخ اسلام آباد کی جانب موڑ دیا ہے اور پاکستان نے بھی سفارتی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قدرتی طور پر پاکستان خطے میں چین کا سب سے بڑا اور اہم اتحادی ہے جبکہ روس چین کے ساتھ ا سٹریٹجک شراکت داری بڑھانے کا خواہش مند ہے جس کے لئے اسے پاکستان کا تعاون درکار ہے ۔اسی سلسلے میں پاکستان ، روس اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا آغاز ہوا اور دو خفیہ مذاکراتی مرحلوں کے بعد ستائیس دسمبر کوماسکو میں اسی مذاکراتی کڑی کے تیسرے مرحلے کا ایک کانفرنس کے ذریعے انعقاد کیا گیا جس میں خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر افغانستان کے اندر قیام امن کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا ۔ سہ ملکی گروپ میں افغانستان کی شمولیت کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا جبکہ ایران بھی جلد اس منصوبے کا حصہ ہو گا تاہم بھارت کو اس اتحاد میں شامل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ دریں اثناء روسی میڈیا کے مطابق پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری (اب امریکہ میں پاکستانی سفیر)کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو چاہئے کہ مفاہمت کے حصول کی خاطر طالبان کے ساتھ پرامن مذاکرات کے حوالے سے عوام میں قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

maskoconfer.jpgتینوں ممالک اس حقیقت کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ خطے کی ترقی کا دارومدار افغانستان میں امن سے مشروط ہے جبکہ افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر پاکستان سمیت خطے کے دیگر تمام ممالک کو تشویش لاحق ہے ۔ماسکو کانفرنس میں داعش جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے اور مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔کانفرنس کے بعد پاکستان کا یہ موقف بھی سامنے آیا کہ امریکہ افغانستان میں امن قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اس لئے پاکستان اب خطے کے دیگر ممالک کے تعاون سے افغانستان میں سیا سی استحکام اور امن لانے کی بھرپورکوشش کرے گا جبکہ کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کی نمائندہ ماریہ زخارووا کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پر امن مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لئے بعض پابندیوں میں لچک اور نرمی دکھانے کی بھی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں وہ اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


سفارت کاری کا ایک اصول ہے کہ اس ہاتھ دو اور اس ہاتھ لو اور پاکستان انتہائی محتاط انداز میں اس اصول پر عمل پیرا ہے۔ افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان اور روس کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئی تھیں اور ماضی میں بھارت روس کا اتحادی اور اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار رہا تھا لیکن پچھلے کچھ عرصے کے دوران بھارت اور امریکہ کی نزدیکیاں بڑھنے سے روس کو خطے میں نئے دوستوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے پاکستان بہترین آپشن ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ چین کی مدد سے تعمیر ہونے والی اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ کے ذریعے گرم پانیوں تک براہ راست رسائی ہے۔ اقتصادی راہداری بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لئے ہر روز نت نئے منصوبے بنانے میں مصروف ہے اور ان حالات میں روس کو اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ روس بھی اقتصادی راہداری کے روٹس اور منصوبوں کی حفاظت کرے گا اور اس کے علاوہ پاکستان میں روسی سرمایہ کاری بھی بڑھے گی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو روسی منڈیوں تک براہ راست رسائی بھی ملے گی۔


ماسکو کانفرنس کے ایجنڈے کا دوسرا اہم نکتہ پاک چین اقتصادی راہداری میں روس کی شمولیت کے لئے راہ ہموار کرنا ہے جس کے تحت پاکستان نے روس کو گوادر بندرگاہ کے استعمال کی اجازت دیدی ہے ۔پاکستان اور روس کی قربت اس وقت ہی بڑھنا شروع ہو گئی تھی جب بھارت کے بارہا منع کرنے کی درخواست کے باوجود روس نے مشترکہ فوجی مشقوں کے لئے اپنے فوجی پاکستان بھیجے تھے۔ پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی تعاون اس وقت بڑھانے کا موقع ملا جب روس نے 2014ء میں پاکستان کے لئے دفاعی سازو سامان خریدنے کی پابندی کو نرم کیا۔یہ وہ وقت تھا جب بھارت امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بڑھانے میں مصروف تھا اوراسی وجہ سے روس اور بھارت میں فاصلے پیدا ہوئے جبکہ اس خلا کو پاکستان نے انتہائی احتیاط کے ساتھ پُر کیا جس سے پاک چین اور روس کے سہ ملکی اتحاد کی راہ ہموارہوئی ہے ۔


پاکستان ، چین اور روس تین ملکی اتحاد میں چین اقتصادی لحاظ سے مضبوط ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان اور روس دونوں کے لئے اہم اکنامک ڈرائیور ثابت ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان خطے میں اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے اس لئے چین اور روس دونوں اپنی اقتصادی پالیسیوں کی تکمیل کے لئے پاکستان کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعاون کو بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔کئی دہائیوں کے تعطل کے بعد دونوں ملک اپنے تعلقات کو استوار کرنے جا رہے ہیں ۔پاکستان پر امریکی دباؤ کم کرنے کے لئے ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ پچھلے پندرہ ماہ کے دوران پاکستان کے کئی اعلیٰ سول و فوجی افسران باہمی تعلقات کی مضبوطی کے لئے ماسکو کا دورہ کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں ہی پاکستان اور روس کے درمیان چار ایم آئی۔35 جنگی ہیلی کاپٹروں کی پاکستان کو فروخت کا معاہدہ طے پایا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ امریکہ کی بھارت نواز پالیسیو ں نے پاکستان کو امریکہ کا متبادل ڈھونڈنے پر مجبور کیا ہے۔اسی طرح روس جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا حامل ملک ہے جو کہ پاکستان اور چین دونوں کے لئے مغربی دفاعی سازو سامان کا متبادل بھی ہو سکتا ہے جبکہ روس ایک عرصے سے خلیجی ریاستوں کے گرم پانیوں تک رسائی کا خواہشمند رہا ہے جس کے لئے اسے افغانستان میں جنگ بھی لڑنا پڑی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا اورآج پاکستان نے روس کواقتصادی راہداری میں شمولیت کی دعوت دے کر خود اسے گرم پانیوں تک رسائی کا موقع فراہم کیا ہے جسے روس کسی قیمت پر بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔


موجودہ صورتحال میں دونوں ملکوں میں پر امن دیرپا تعلقات خطے میں امن اور استحکام کا باعث بنیں گے اور ماسکو کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی جب بات آتی ہے تو دوستی اور دشمنی جیسا کوئی لفظ وجود نہیں رکھتا بلکہ سارا مفادات کا کھیل ہوتاہے اور پاکستان کو بھی یہ بات سمجھ آچکی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی دیکھ کر یہ بات صاف معلوم ہو رہی ہے کہ پاکستان کو اب ملکی مفاد سے غرض ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی ریاست کسی بھی ملک سے ہاتھ ملانے کے لئے تیار ہے اور ہونا بھی اسی طرح چاہئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
February

تحریر: خالد محمود رسول

سوئٹزرلینڈ کے سرمائی تفریحی مقام ڈیووس میں باہر منفی درجہ ء حرارت کے ہوتے ہوئے بھی ورلڈ اکنامک فورم میں ہونے والی زیادہ تر باتوں کی گرمی کا یہ عالم تھا کہ پسینہ چھوٹ جائے۔ اس بار اجلاس کا بنیادی خیال تھا،
Responsive and Responsible Leadership
گزشتہ سال کے بنیادی خیال چوتھے صنعتی انقلاب کا لبِ لباب یہ تھا کہ ٹیکنالوجی نے جو انقلاب برپا کیا ہے اس نے لیبر، وسائل اور مارکیٹ سسٹم میں ایسی بنیادی اور کچھ ان چاہی تبدیلیاں برپا کر دی ہیں کہ اب معاشرے اور نظام کی ترتیبِ نو کی ضرورت ہے۔ اس بار کا مرکزی خیال اسی سوچ کا اگلا قدم تھا کہ موجودہ معاشی نظام نے امیر اور غریب کے درمیان فرق کو خوفناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس پر غور کیا جائے اور اس معاشی عدم مساوات اور اقتصادی نا ہمواری کو قابو میں لایا جائے ورنہ محروم طبقات کی بے چینی اور غصہ اس گلوبلائزیشن اور جمہوریت کے نظام کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔


ورلڈ اکنامک فورم کا یہ 47 واں اجلاس تھا۔ 1971 میں پروفیسر کلوس شواب نے اس فورم کی بنیاد ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر رکھی۔ ابتداءً اُس ادارے کا مقصد ایک یورپین مینجمنٹ فورم کا قیام تھا جہاں ان موضوعات پر گفتگو ہو کہ کس طرح یورپی فرمز اپنے سے برتر اور بہتر امریکی اندازِ نظامت اپنا سکیں۔ ستر کی دہائی کے بعد عالمی معاشی نظام میں اس قدر تواتر کے ساتھ ٹیکنالوجی اورتجارت میں تبدیلیاں آئی ہیں کہ نقشہ بدلتا چلا گیا۔ کہاں یہ کہ مغرب سرمایہ دارانہ نظام کی برکتوں اور فیوض پر دنیا بھر کو لیکچر دیتے نہیں تھکتا تھا اور کہاں یہ وقت کہ دنیا کی سب سے بڑی سوشلسٹ حکومت چین کے سربراہ اہلِ مغرب کو عالمی تجارت کے فضائل اور عالمی تجارتی چپقلش سے گریز کے مشورے دے رہے تھے۔ چین کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی علی بابا کے سربراہ جیک ماء کا اصرار تھا کہ امریکہ کو اپنے ہاں جاب لاسز کا الزام دوسروں پر لگانے کی بجائے اپنی اداؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنی کمپنی اور دنیا کی سب سے بڑی آن لائن کمپنی امازون کا موازنہ کیا کہ کس طرح وہ کمپنی ہر چیز پر ملکیت قائم کرنے کے بزنس ماڈل پر عمل پیرا ہے جبکہ ان کی کمپنی اپنے کاروباری تعلق داروں کی مدد سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتی ہے۔


اس ورلڈ اکنامک فورم میں ایک سالانہ رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ اس رپورٹ میں پانچ ایسے نمایاں خدشات کی نشاندہی کی گئی جن سے عالمی معاشی نظام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اول: بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات۔ دوم: گلوبلائزیشن اور ٹیکنالوجی کے اس نئے ماحول میں بنیادی سماجی تبدیلیوں کی ضرورت۔ سوم: ٹیکنالوجی کے انقلاب سے رائج روایتی نظام میں ان چاہے رخنوں کا سد باب ۔ چہارم: عالمی سطح پر تجارتی مڈبھیڑکی بجائے باہمی تعاون کا فروغ اور پنجم: ماحولیاتی تبدیلیوں سے ممکنہ خطرات ۔


بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات اور عوامی بے چینی کی یوں تو کئی جہتیں ہیں لیکن اس کی ایک جہت ‘دہشت گردی‘ نے دنیا کو گزشتہ کئی دہائیوں سے پریشان کر رکھا ہے ۔ دہشت گردی نے پوری دنیا کے عالمی اور سیاسی نظام کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ایک سیشن
Terrorism in Digital Age
میں پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف بھی خصوصی طور پر مدعو کئے گئے۔ انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے اپنے تلخ تجربات کا ذکر کیا اور دہشت گردی کی سرکوبی میں حائل مشکلات اور کامیابیوں کا ذکر کیا۔ مسلسل دہشت گردی سے ہزاروں جانیں گئیں لیکن آرمی پبلک سکول پر ہونے والے وحشیانہ حملے نے قوم کو متحد کر دیا، یوں ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کی بیخ کنی کی جنگ شروع کی گئی۔ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ دہشت گردی کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں جن میں سے ایک پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد ہے جس کی مکمل نگرانی مشکل ہے۔ سرحد کے دونوں طرف موجود دہشت گرد اس مشکل کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کے خلاف جب کارروائی ہوتی ہے تو وہ سرحدپار پناہ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے دونوں ممالک اور دیگر ممالک کے مابین بہتر انٹیلی جنس شیئر نگ کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کی اس مسلسل جدو جہد نے پاکستان اور خطے کو پُر امن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کی ایک دنیا اب معترف ہے۔


ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں عالمی سطح پر ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا ذکر نمایا ں رہا۔ گزشتہ سال برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا
it Brex
کے ذریعے فیصلہ کیا تو اس فیصلے کے دور رس اثرات محسوس کئے گئے۔ یورپ میں انتہا پسند دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں اچانک اضافے نے یورپی یونین کے وجود کے لئے خطرہ کھڑا کر دیا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی اس سیاست میں بارڈرز کو ایک بار پھر کنٹرول میں لانا ایک بنیادی نعرہ ہے۔ مزید یہ کہ بڑھتی ہوئی امیگریشن سے مقامی لوگوں کے لئے ملازمتوں کے کم ہوتے مواقع کو بنیاد بنا کر امیگریشن کے خلاف ایک رد عمل پیدا ہو رہا ہے۔ امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بار ڈر کنٹرول اور امیگریشن کو ایک بنیادی نعرہ بنایا۔ ان کی کامیابی میں مڈل کلاس میں پائی جانے والی بے روزگاری کے خلاف عوامی رد عمل کے ساتھ ساتھ گلوبلائزیشن کے خلاف جذبات کا بھی دخل رہا۔ اپنی حلف برداری پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی تقریر میں
America First
کو اپنا بنیادی طرز نظامت بنا کر دنیا کو متوحش کر دیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی جس مارکیٹ اکونومی اور گلوبلائزیشن کے کئی دہائیوں سے چیمپئن رہے اب اسی مارکیٹ اکونومی اور گلوبلائزیشن کے خلاف ان کے ہاں پیدا ہونے والے ردعمل نے عالمی نظام کے خوشہ چینوں کو اندیشوں میں مبتلا کر دیا ہے۔
ان ہی خدشات کو چین کے صدر زی جن پنگ نے اپنی ایک گھنٹے کی طویل اور مرکزی تقریر میں موضوع بنایا۔ ان کے خیال میں ٹریڈ وار یعنی تجارتی جنگ کسی ایک فریق کے حق میں نہیں۔ امریکہ میں نئے امریکی صدر کی جانب سے عالمی معاہدوں میں سے تازہ ترین معاہدے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ سے مکمل دستبرداری ،
NAFTA
، میکسیکو اور چین کے ساتھ تجارتی تعلقات پر نظرثانی کے اصرارنے عالمی تجارتی نظام کو ایک نئی بے یقینی سے روشناس کر دیا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم بنیادی طور پر دنیا کی امیر ترین کمپنیوں، عالمی اداروں، حکومتی نمائندوں اور اکیڈیمک شخصیات کا اجتماع ہوتا ہے جہاں یہ باہمی دلچسپی کے امور پر سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد دنیا بھر کی نمایاں کمپنیاں، جی 20ممالک کے سرکردہ سیاسی اور پالیسی سازوں سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے آنے والے عالمی اقتصادی اور تجارتی امور پر ایک دوسرے کی سنتے ہیں، میل ملاقات کے ذریعے کاروبار اور تعاون کی نئی راہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم بھی اس فورم میں شریک ہوئے اور اس اجتماع میں اہم ملاقاتیں کیں۔
ظاہر ہے ایسے ماحول اور شرکاء کے ہوتے ہوئے غربت اور معاشی ناہمواری کا ذکر شوق سے نہیں ہوتا۔ اس خدشے کی بناء پر ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے عالمی تجارت اور مارکیٹ اکونومی کے موجودہ توازن کو نقصان پہنچنے کا واہمہ اب ایسا اندیشہ بنتا جا رہا ہے جس سے آنکھیں چرانا زیادہ دیر ممکن نہیں رہا۔ گزشتہ کچھ سالوں سے ایک معروف این جی او
Oxfam
کے فورم کے سالانہ اجلاس پر دنیا میں دولت کے ارتکاز پر ایک سالانہ رپورٹ جاری کرتی ہے۔ ہر سال کی طرح اس رپورٹ کے مندرجات بھی چونکا دینے والے تھے ۔ اس عالمی تجارتی اور اقتصادی نظام کا کیا دھرا ہے کہ عالمی سطح پر ترقی اور خوشحالی کے باوجود ارتکاز دولت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ دنیا کے صرف آٹھ اشخاص کے پاس دنیا کی اقتصادی اعتبار سے نچلی نصف آبادی یعنی 3.6 ارب کے برابر دولت ہے۔ رپورٹ کو بجا طور پر ننانوے فی صد کی رپورٹ کہا گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اس تانے بانے میں انتہائی امیر اشخاص اور کمپنیاں امیر اور غریب کے فرق کو یوں بڑھاؤ دے رہے ہیں کہ یہ ٹیکس بچانے کے سو حیلے بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ لیبر کی اُجرتیں کم سے کم رکھنے کی ان کی کوششیں کامیاب ہیں۔ اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے یہ سیاسی نظام اور پالیسی سازی پر ایک منظم انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس رپورٹ کے اپنے جائزے کے مطابق ہر گزرتے سال یہ معاشی ناہمواری اور تفاوت بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یہ تفاوت اب ان حدوں کو پہنچ رہا ہے جہاں یہ موجودہ عالمی اقتصادی اور سیاسی نظام کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ بس یہی ایک مجبوری اور اندیشہ ہے جس کی وجہ سے ان امیر ترین لوگوں کو طوعاً کرہاً غربت کی بات بھی کرنا پڑ جاتی ہے لیکن اب تک کا مشاہدہ یہی ہے کہ یہ تذکرہ نشستند گفتند برخاستند تک ہی محدود ہے۔


دو سال قبل اسی فورم نے ایک نئے انڈکس کی بنیاد ڈالی جس میں دنیا کے ممالک کی اس بناء پر رینکنگ کی کو شش کی گئی کہ ان کے ہاں اقتصادی نمو اور ترقی کس قدر ہمہ گیر تھی۔ اس انڈکس کا نام
Inclusive Development Index
رکھا گیا۔ اس انڈکس سے ایک خوش گوار حیرت یہ سامنے آئی کہ پاکستان کی رینکنگ خطے میں قدرے بہتر سامنے آئی۔ 79 ممالک کے اس انڈکس کے مطابق چین پندرہویں، بنگلہ دیش 36 ویں، پاکستان 52 ویں اور بھارت 60 ویں نمبر پر جانچا گیا۔
اس اکنامک فورم میں جن خدشات کا بار بار ذکر رہا ، ملکوں اور عالمی اداروں کو ان خدشات کا سامنا کرنا پڑے گا ورنہ یورپ اور امریکہ سے اٹھنے والی حالیہ سیاسی لہر اپنے اپنے تعصبات اور تنگ نظری کے ساتھ نہ جانے کہاں کہاں اور کن کن ممالک میں ابھر کر سامنے آئے۔ پاکستان کے لئے بھی ضروری ہے کہ سی پیک کی سرمایہ کاری اور دیگر پالیسی اقدامات سے اقتصادی نظام میں بہتر اور مسلسل شرح نمو اور ایسی ہمہ گیر معاشی ترقی کی بنیاد ڈالے جہاں ترقی کے ثمرات زیادہ سے زیادہ آبادی تک کچھ یوں پہنچیں کہ علاقائی تفاوت اور معاشی ناہمواری میں کمی آ سکے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے آفیسرز اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا عادہ کیا کہ پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے تجربات نے ہمیں جنگی لحاظ سے مزید سخت بنا دیا ہے۔ یہ صلاحیت ہماری آپریشنل تیاری کے سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ پاک فوج کے جوان دنیا کی تمام افواج میں سب سے بہترین سپاہی ہیں۔ مجھے اس بہادر اور پیشہ ورانہ فوج کے سربراہ ہونے پر فخر ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کے آفیسرز اور جوان باہم مل کر اپنی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔ افواج پاکستان دنیا کی شاید وہ واحد فوج ہے جس میں افسروں کی شہادت کی اوسط قابلِ مثال ہے۔ ہر9 جوانوں کے ساتھ ایک افسر شہادت کے منصب پر فائز ہوتا ہے جو اس امر کا غماز ہے کہ فوج کے افسران نہ صرف اپنے سولجرز کی رہنمائی کرتے ہیں بلکہ فرنٹ پر رہتے ہوئے دشمن کا مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ اس میں وطن کے یہ سپاہی اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں لیکن ملک کے سبزہلالی پرچم کو سرفراز اور باوقار کر جاتے ہیں۔ فیض نے انہی لوگوں کے لئے کہا تھا۔


جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں


بلاشبہ سپاہ گری ایک باوقار پیشہ ہے اور سپاہی ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ اور عظیم ہیں وہ مائیں جو ایسے فرزند جنتی ہیں جو وقت پڑنے پر اپنی مادر وطن پر مر مٹتے ہیں۔ اس قوم کی مائیں اور باپ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اُن کے سپوت میدان جنگ میں بہادری سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افواج کسی جذبے اور نظریے کے لئے لڑتی ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ افواج زمانہ امن میں بھی جنگ کے لئے خود کو تیار رکھیں۔ آپریشن ضرب عضب میں افواج پاکستان نے جس طرح سے کامیابی حاصل کی وہ اس امر کی عکاس ہے کہ زمانہ امن میں ہماری افواج کس قدر کٹھن اور جاں گسل عسکری تربیت سے گزرتی ہیں۔


آج الحمدﷲ ضرب عضب کے ثمرات قوم کے سامنے ہیں اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات برائے نام رہ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود قوم اور اداروں کو اپنے اپنے حصے کا کام اس انداز سے کرنا ہے کہ قوم آئندہ بھی دہشت گردی اور تخریب کاری ایسے خطرات سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود بھی تربیت اور پیشہ ورانہ فرائض سے غافل نہیں ہیں بلکہ اُس کے سولجرز، چاہے وہ مغربی سرحدوں پر تعینات ہوں یا مشرقی سرحدوں پر،سیاچن کی یخ بستہ وادیوں میں فرائض ادا کر رہے ہوں یا تپتے ہوئے ریگستانوں میں ان کی فرض شناسی اور عزم و استقلال میں کبھی لغزش نہیں آتی۔ قوم کوفخر ہونا چاہئے کہ اس کی فوج کے افسر اور جوان پیشہ ورانہ اعتبار سے بے مثال ہیں جو وقت پڑنے پر اپنے دنیاوی رشتوں ناتوں اور اپنے پیاروں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وطن پر قربان ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔اﷲ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

10
February

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا۔ مرکزی خیال یہی تھا کہ محفوظ اور مستحکم افغانستان ہی اس تمام خطے کی ترقی اور خوش حالی کا ضامن ہو گا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو کہ استنبول سلسلہ بھی کہلاتا ہے کل چودہ ممالک شامل ہیں۔ تمام اہم علاقائی ممالک اس کے ممبر ہیں جبکہ 17معاون ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ بارہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بطور معاون موجود ہیں۔ یہ تنظیم تین بنیادی مسائل یا معاملات جو کہ سیاسی مشاورت‘ اعتماد سازی کے اقدامات اور علاقائی تنظیموں سے تعاون ہیں،کی طرف مرکوز ہے۔
ماضی میں کچھ اس سے ملتی جلتی ایک کانفرنس
European Conference on Security & Cooperation
جو کہ یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کے نام سے جولائی 1973 میں شروع کی گئی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں ایسی کانفرنس کا انعقاد ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں مشہور زمانہ ہیلسنکی معاہدے پر اگست 1975 میں دستخط ہوئے۔ اسی کانفرنس نے آگے جا کر یورپی تنظیم برائے سکیورٹی اور تعاون کا روپ دھار لیا۔
OSCE
اس وقت دنیا کی سب سے بڑی علاقائی سکیورٹی کی تنظیم بن چکی ہے۔ جس کے 57ممالک ممبر ہیں۔ ہارٹ آف آیشیا کانفرنس شروع کرنے کے پیچھے ممکن ہے
OSCE
کاَ کامیاب انعقاد پیش نظر ہو۔ اس وقت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی ’6سال کے عرصے میں‘ 6کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ استنبول، کابل، الماتی، (قازقستان)،بیجنگ اور اسلام آباد جبکہ آخری یعنی چھٹی کانفرنس امرتسر میں 5دسمبر کو منعقد ہوئی۔


چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پہلے پاک بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔ 2016 کے وسط میں کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں تحریک آزادی میں مزید شدت اس وقت آئی۔ جب برہان مظفر وانی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ بھارت اپنی تمام تر ریاستی زور اور طاقت کے باوجود کشمیریوں کی حق خودارادی کی تحریک کو دبا نہ سکا۔ بھارت نے بڑھتی ہوئی تحریک کو پاکستان حمایتی قرار دیتے ہوئے سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا اور دو سطح پر پالیسی بنائی۔ پہلی سطح پر دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ پاکستان کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی تحریک آزادی کی مالی اور فوجی معاونت کر رہا ہے اور ساتھ ہی تمام تر ریاستی اور فوجی قوت اور ظلم و تشدد سے کشمیریوں کی تحریک کچلنے کی کوشش کی جانے لگی اور دوسری سطح پرلگاتار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارت کی جانب سے تقریباً 250سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان میں پہلے سے طے شدہ سارک سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے حلیف ممالک افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اس بائیکاٹ میں شامل کر لیا۔ نتیجتاً پاکستان نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی۔ اس پس منظر میں پاکستانی حکومت کے سامنے یہ سوال کھڑا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے یا بھارت کی طرح اس کا بائیکاٹ کرے۔ لیکن پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے کانفرنس ملتوی نہ ہونی تھی کیونکہ اس میں 13دوسرے ممالک بھی شامل تھے۔


حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح غیرذمہ دارانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ پاک بھارت کشیدگی مذاکرات سے ختم ہو گی نہ کہ ایک دوسرے سے بات چیت بالکل ختم کر دینے سے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مفادات ہیں اور امرتسر کانفرنس کا مقصد افغانستان اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرنا تھی۔ تیسرے یہ کہ اس وقت بھارت کی پالیسی پاکستان کو خطے میں اور دنیا بھر سے الگ تھلگ کرنا ہے تو اس کا بہترین توڑ یہی ہے کہ پاکستان اس کانفرنس میں شرکت بھی کرے اور اپنا حصہ بھی ڈالے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت سے تمام معاملات پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ میں یہ فورم
CAREC (Central Asian Regional Economic Cooperation)
کی بھی حمایت کرتا ہے اور
HOA
کے ممبر
CAREC
کے ممبر بھی ہیں لہٰذا کانفرنس میں شرکت کرنے سے
CAREC
میں بھی شمولیت مزید فعال ہو گی۔
چنانچہ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر محترم سرتاج عزیز امرتسر پہنچے۔ ان کا پرتپاک استقبال پاکستانی ہائی کمشنر نے کیا۔ تاہم سرتاج عزیز کو آدھ گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ بھارتی حکومت کی سردمہری پاکستانی مندوب کے پہنچتے ہی نظر آنے لگی۔


کانفرنس کا موضوع افغانستان تھا خاص کر اس میں موجود دہشت گردی سے نمٹنا تھا۔ پاکستان افغانستان تعلقات اس کانفرنس میں زبردست پلٹا کھا گئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں دہشت گردی کا سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ان کے مطابق ہمیں سرحد پار پاکستان سے ہونی والی دہشت گردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے 50کروڑ ڈالر کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے چاہئے کہ وہ رقم پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے خرچ کرے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر اب بھی دہشت گردی کو پناہ دے رہے ہیں۔ طالبان نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو ایک ماہ بھی نہ چل پاتے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کر رہا ہے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک ایشیائی یابین الاقوامی تنظیم ان دہشت گرد کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھے جو پاکستان کی شہ پر کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا کہ افیون کی کاشت پاکستان افغانستان ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہی ہو رہی ہے لہٰذا اس میں بھی پاکستان ہی ملوث ہے ۔حالانکہ افیون کی کاشتکاری مکمل طور پر افغانستان میں ہو رہی ہے۔


اشرف غنی کا ایسے وقت میں پاکستان پر الزامات دراصل ان کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے ہے۔ اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت اپنی کمزور اور ناکام پالیسیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھی ہے۔ لیکن بھارت اور اشرف غنی یہ بھول گئے ہیں کہ ان کی حکومت کا دائرہ کار کابل یا اس سے ملحقہ کچھ تھوڑے سے علاقے پر رہ گیا ہے۔ جب وہ افیون کی کاشت پر اپنی بے بسی بتا رہے تھے تو دراصل وہ یہ بھی بتا گئے کہ ان علاقوں پر ان کا کنٹرول ہی نہیں ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے تقریباً 2ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور اس سے خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اس کے حمایت یافتہ اشرف غنی محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندوستان امریکہ سے بھی فائدہ لے رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان دفاعی معاہدہ دراصل اس بڑھتی ہوئی دوستی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔


پاکستان کے نمائندے سرتاج عزیز نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ الزامات کا کھیل ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ الزامات کی بجائے ٹھوس اور مضبوط اقدامات ہی علاقائی تنازعات ختم کر سکتے ہیں اور یہ کہ پاکستان نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ پاکستان اس خطے میں اور خاص کر افغانستان میں امن لانے کے لئے مخلص ہے۔ سرتاج عزیز کی تقریر میں تشنگی باقی رہی۔ اگر وہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کو ریاستی دہشت گردی یعنی بھارتی مظالم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ نشاندہی کر دیتے تو کچھ مذائقہ نہ تھا۔ پھر جب بات افغانستان ہی کی ہو رہی تھی تو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں ہونے والے کئی ہولناک دہشت گردی کے واقعات جس میں سینکڑوں بے گناہ اپنی جان سے گئے، خاص کر آرمی پبلک سکول کا واقعہ ان کو یاد دلانے سے دنیا کے ممالک اور لوگ کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتے۔بہرحال روسی نمائندے نے سرتاج عزیز کی تقریر کی تعریف کی اسے انتہائی تعمیری اور دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان پر الزامات اور تنقید کو ناپسند کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ پاکستان کو کئی دوست ممالک خاص کر ایران، ترکی ملائشیا وغیرہ کی طرف سے کسی قسم کی تعریف یا پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر کسی تبصرہ کا انتظارہی رہا۔


بھارتی سرد مہری اور رویے سے دل برداشتہ سرتاج عزیز فوراً ہی وطن واپس پہنچنے اور اسی رات کو پریس کانفرنس میں بھارتی غیر سفارتی اور انتہائی ہتک آمیز رویے کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کو معلومات دیں ان سب باتوں کے باوجود حکومت پاکستان اس کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلہ کو صحیح گردانتے ہوئے کانفرنس کو کامیاب قرار دیتی رہی۔
کانفرنس کے آخری اعلامیے کا ایک حصہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں بالخصوص افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں مبینہ دہشت گرد گروپوں کا نام لیا گیا ہے اور ان کی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں داعش، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، لشکر طیبہ، جیش محمد، جمعیت الاحرار اور حزب اﷲ شامل ہیں۔ ان میں سے کتنی تنظیمیں پاکستان میں بنائی گئیں۔ جبکہ کئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکسان کو ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں اس پورے خطے میں ہونے والی دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے اور افغانستان صرف ایک مظلوم تماشائی بن گیا ہے۔ جس کی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال میں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر تنظیمیں امریکہ کی تخلیق کردہ ہیں۔ جن کو افغانستان میں مختلف ادوار میں یا مختلف علاقوں کی ضرورت کے پیش نظر تخلیق کیا گیا ور بعد میں غیرفعال کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اب پاکستان کو (الزام ڈال کر) اس میں شامل کر دیا گیا۔


مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بھی دنیا اور خاص کر مہاجرین کے ملک افغانستان کو شکرگزار اور پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے نہ کہ تنقید کا نشانہ بنائے۔
بھارتی ابلاغ عامہ نے بھی پاکستان کی شمولیت کو سراہنے کی بجائے اس پر کڑی تنقید کی بلکہ پاکستان کے ساتھ غیرسفارتی رویے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی ناکامی کہا۔ سوال یہ ہے کہ سرتاج عزیز کی جگہ اگر پاکستانی سفیر اس کانفرنس میں شرکت کرتے تو کیا اس وقت بھارت کا اور افغانستان کا رویہ مختلف ہوتا۔ یقیناًنہیں تو پھر بھارت سے معاملات اتنے آگے بڑھانے سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کے لئے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وہی بین الاقوامی برادری ہے جس کی رائے کشمیریوں کے اوپر ڈھائے گئے بھارتی مظالم بھی نہ بدل سکے۔ پچھلے چھ مہینے سے جس طرح کشمیری عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے جب یہ مظالم بھارت کے متعلق ان کی رائے نہ بدل سکے تو پاکستان کی

HOA

کانفرنس میں شمولیت کیا بدل سکے گی۔ بین الاقوامی برادری کی سردمہری اور کشمیر کو اہمیت نہ دینا دراصل بھارت کے بارے میں ایک قائم شدہ رائے ہے جو ہندوستان کی تمام پر تشدد کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اشرف غنی کی حکومت حقیقی طور پر ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ جس کا دائرہ کار کابل تک ہی محدود ہے۔ اشرف غنی کا کانفرنس میں بیان ’بھارت کی شہ پر اور امریکہ کی رضامندی سے‘ ہی ممکن تھا کیونکہ وہ بہت جلدی اپنے موقف تبدیل کر لیتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے وہ پاکستان کو ایک برادر ملک سمجھ رہے تھے۔


کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔


پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ بھارت اور افغانستان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اچھے تعلقات صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے

*****

کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔

*****

 
10
February

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:13

 

بجلی کے تار اور ایمنگ سرکل
سکول آف آرٹلری سے کورس کر کے واپس یونٹ میں پہنچے تو ہمیں گن پوزیشن آفیسر تعینات کیا گیا۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی یونٹ تین مہینے کے لئے موسم سرما کی جنگی مشقوں کے لئے پشاور سے نوشہرہ کے علاقے میں جا کر ڈیپلائے ہو گئی۔ ہماری ذمہ داری چھ عدد توپوں (گنز) کو تازہ ترین جنگی صورتحال کے مطابق دیئے گئے علاقے میں ڈیپلائے کرانا اور ان سے مطلوبہ ہدف پر کارگر فائر گرانا تھا۔ بات بہرحال اتنی سادہ نہیں تھی جتنی بیان کی گئی ہے۔ لب تک جام آنے میں بہت سی لغزشیں حائل ہوتی تھیں ۔ گنز کو ٹرکوں کے پیچھے باندھ کر دشوار گزار راستوں سے گزارا جاتا تھا اور چیونٹی کی چال چلتے ہوئے یہ قافلہ نئی جگہ پہنچتا۔ ان دنوں آج کل کی طرح جی پی ایس میسر نہیں ہوا کرتے تھے لہٰذا کسی جگہ تک رہنمائی کے لئے نقشوں اور کمپاس کی مدد لی جاتی تھی ۔ جب جملہ ذرائع فیل ہو جاتے تو تان’’چاچا کمپاس‘‘ پر آ کر ٹوٹتی ،یعنی کہ مقامی لوگوں سے راستہ پوچھ کر کام چلا لیا جاتا۔ رات کے وقت تو ایسا کرنا بھی ممکن نہ تھا اس لئے مشکل دو چند ہو جاتی۔ اکثررات کو ایسا ہوتا کہ منزل پر پہنچ کر جب گاڑیوں کی گنتی کی جاتی تو اپنی دو تین گاڑیاں لاپتا ہوتیں اور کسی اور یونٹ کی تین چارگاڑیاں بھٹک کر ہمارے کانوائے کا حصہ بن چکی ہوتیں۔


جوں توں کر کے نئی جگہ پر پہنچنے کے بعد گھپ اندھیرے میں گنوں کو گھما پھرا کر درست پلیٹ فارم پر لاکھڑا کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اس کے بعد گنوں کی ریکارڈنگ کا مرحلہ آتا تھا۔ جی پی او اپنا ایمنگ سرکل لے کر کسی اونچی جگہ پر ڈیرہ جما لیتا جہاں سے تمام گنیں دکھائی دے رہی ہوتیں۔ ایمنگ سرکل ایک کمپاس نما آلہ ہوتا ہے جس کو تین ٹانگوں پر ایستادہ کیا جاتاہے۔اس سے تمام گنوں کے اینگل پڑھے جاتے اور ان کو باری باری پاس کئے جاتے۔ گن کے اوپر بنی ہوئی ٹیلی سکوپ کو پاس کئے گئے اینگل پر سیٹ کر کے بیرل کو سیدھا کیا جاتا تو اس کا رخ دشمن کی جانب مطلوبہ سمت میں ہو جاتا۔ کوئی ایک بھی گن یہ عمل مکمل کر چکتی تو گن پوزیشن فائر کے لئے تیار سمجھی جاتی۔ لائیو فائر البتہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ فائر کے احکامات اور ڈرل پوری کرنے پرہی اکتفا کیا جاتا۔


ایک ایسی ہی ڈیپلائمنٹ کے دوران ہم ایک پیچیدہ صورتحال کا شکار ہوئے۔ ڈیپلائمنٹ کے لئے مطلوبہ جگہ پہنچ کر معلوم ہوا کہ گن پوزیشن کے اوپر اور اطراف میں بجلی کی ہائی ٹینشن وائرز گزر رہی تھیں۔ہم نے دیکھ بھال کر گنز کو تاروں سے دور ایسی جگہ پر ڈیپلائے کیا جہاں گنوں سے نکلنے والے گولے تاروں سے نہ ٹکرائیں۔اب مشکل یہ تھی کہ ایمنگ سرکل کو لے کر کہاں جائیں ۔ جہاں بھی جاتے وہاں پر ہائی ٹینشن وائرز موجود تھیں۔ جیسا کہ بتا چکے ہیں کہ ایمنگ سرکل میں بھی کمپاس ہوتا ہے جو بجلی کی تاروں سے بننے والے میگنیٹک فیلڈ سے متاثر ہوتا ہے اس لئے اصولاً ایمنگ سرکل کو تاروں سے مناسب فاصلے پر لگانا چاہئے جو وہاں پر دستیاب نہ تھا۔ اسی مشکل میں تھے کہ ہمیں سکول آف آرٹلری میں پڑھا ہوا ایک سبق یاد آ گیا۔ ایک کلاس کے دوران ہمیں ایمنگ سرکل کا استعمال پڑھایا جا رہا تھا تو ہم نے انسٹرکٹر سے یہ سوال پوچھا کہ اگر ایمنگ سرکل لگانے کے لئے مناسب جگہ میسر نہ ہو تو کیا کیا جائے جس کا جواب انہوں نے یہ دیا تھا کہ ایسی صورتحال میں ایمنگ سرکل کو تاروں کے نیچے لگا دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ہم نے ایمنگ سرکل اٹھایا اورعین تاروں کے نیچے لے جا کر رکھ دیا۔
قسمت کی خرابی دیکھئے کہ عین اسی لمحے کمانڈر آرٹلری ہماری گن پوزیشن پر نمودار ہوگئے ۔ کمانڈر پرانے گنر تھے، ایمنگ سرکل کو عین تاروں کے نیچے کھڑا دیکھ کر ان کی گنری کے خرمن پر زوردار بجلی کڑکی اور ایک ایسی آگ پھیلی جسے بجھانے کے لئے شاید سیکڑوں فائر بریگیڈ بھی ناکافی ہوتے۔ انہوں نے اگلے پندرہ منٹ ہماری شاندار عزت افزائی فرمائی اور آخر میں وہاں سے تیس کلومیٹر دور ایک جگہ پر جا کر گنز دوبارہ ڈیپلائے کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ ہم فی الفور گنز کو لے کر نئی جگہ کی جانب روانہ ہو گئے۔ دو گھنٹے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد مطلوبہ جگہ پر پہنچے ۔شومئی قسمت یہاں پر بھی کچھ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بار ہم نے گنز تو عین تاروں کے نیچے لگا دیں لیکن ایمنگ سرکل کو تاروں سے سو میٹر دور ہی رکھا۔ کمانڈر نے دوبارہ انسپکشن کی اور اس بار ہم پاس ہوگئے۔ نجانے کیوں دونوں مرتبہ کمانڈر کی تمام تر توجہ گنوں کی بجائے ایمنگ سرکل کی جانب ہی تھی۔


سوٹے ، کلہاڑے اور ریڈار
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب ہم کیپٹن ہوا کرتے تھے اورسکول آف آرٹلری میں بحیثیت جی تھری عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔ ایک د ن ٹی بار میں بیٹھے تھے کہ کیپٹن امجد وارد ہوئے۔ موصوف لوکیٹنگ کورس کے ساتھ انسٹرکٹر تھے۔ ٹی بریک کے بعد انہوں نے ہم سے اصرار کیا کہ ان کے ساتھ لیکچر ہال چلا جائے جہاں لوکیٹنگ کورس کے سٹوڈنٹس کی انسٹرکشنل پریکٹس ہوناتھی۔ اس دوران تمام سٹوڈنٹس پہلے سے دیئے گئے موضوع پر تیاری کر کے لیکچر دیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس اس دن کوئی خاص کام نہیں تھا اس لئے ان کے ہمراہ لیکچر ہال چلے گئے۔ پہلا لیکچر ایک حوالدار نے دینا تھا اور موضوع تھا۔ ’’آرٹلری میں ریڈار کا استعمال۔‘‘ حوالدار سٹیج پر پہنچا اور اجازت لے کر لیکچر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ’’پرانے زمانوں میں جنگ سوٹوں (ڈنڈوں) سے لڑی جاتی تھی۔ پھر زمانے نے ترقی کی تو سوٹوں کی جگہ کلہاڑوں نے لے لی۔ کچھ عرصے بعد زمانے اور سائنس دونوں نے ترقی کی اور ریڈار آ گئے۔ آج ہم ریڈار کے بارے میں پڑھیں گے۔‘‘ اس بے نظیر تعارف کے بعد مزید کچھ کہنے سننے کی ضرورت باقی نہ رہی تھی ۔ ہم نے کیپٹن امجد سے اجازت طلب کی اور باہر نکل کر ’’زاروقطار‘‘ ہنسنے لگے۔ ’’رونا‘‘ ہمیں تب آیا جب چند دنوں کے بعد کورس کی اختتامی تقریب ہوئی اور وہی حوالدار پوزیشن ہولڈرز کی صف میں شامل کھڑا نظر آیا۔


علامہ اقبال، فلائٹ اور محکمہ موسمیات
بٹ صاحب سکردو کی چھوٹی سی دنیا کا ایک بڑا کردار تھے۔ ہم سن 2006 میں بطور جی ٹو آئی پوسٹ ہو کر سکردو پہنچے تو ان سے ہمارا تعارف ہوا۔ موصوف لاہور کے رہنے والے تھے اور محکمہ موسمیات کے سکردو آفس میں بطورِ انچارج خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ ان کا دفتر اور رہائش تو ائیرپورٹ کے پاس تھی جو کہ شہر سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا لیکن اکثر اوقات وہ شہر میں ہی گھومتے پائے جاتے۔ انتہائی زندہ دل انسان تھے۔ہمارے پاس بھی گپ شپ کے لئے تشریف لاتے اور وقتاً فوقتاً ہمیں بھی اپنے ہاں مدعو کر لیا کرتے۔ بٹ صاحب کا ویسے تو معاشرے میں کوئی خاص کردار نہیں تھا لیکن ایک معاملے میں بہرحال ان کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی اور وہ تھا فلائٹ آپریشن۔ ان کی اجازت کے بغیر سکردو میں کوئی جہاز پر نہیں مار سکتا تھا۔ جہاز کو پنڈی سے روانہ کرنے سے پہلے بٹ صاحب سے موسم کے بارے میں باقاعدہ کلئیرنس لی جاتی تھی۔ اگر بٹ صاحب ذرا سا بھی سر نفی میں ہلا دیں تو فلائٹ آپریٹ ہونا ناممکن ہو جاتا تھا۔


سکردو کے لوگوں اور فلائٹ کا آپس میں زندگی موت کا رشتہ ہے۔ سارا دن فلائٹ ہی موضوع بحث بنی رہتی ہے۔ چاہے کسی نے فلائٹ پر جانا ہو یا نہ جانا ہو لیکن وہ دوسرے سے ملتے ہی پہلا سوال یہی کرتا ہے کہ فلائٹ آپریٹ ہوئی یا نہیں؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ روزمرہ کی اکثر اشیا جیسے اخبارات،ڈاک، سبزیاں وغیرہ راولپنڈی سے جہاز میں ہی سکردو پہنچتی ہیں۔ موسم کی خرابی کے باعث ایسا بھی ہوتا ہے کہ فلائٹ ہفتوں تک آنے کا نام نہیں لیتی ۔ یہ بات تو ماننے والی ہے کہ موسم کی خرابی کے باعث جہاز راولپنڈی سے ہی نہ اڑے لیکن کئی بار ہم نے ایسا بھی دیکھا کہ جہاز راستے سے واپس چلا گیا یا سکردو ائرپورٹ تک پہنچا ضرور لیکن لینڈ اس نے واپس راولپنڈی پہنچ کر ہی کیا۔ اتنی غیر یقینی صورتحال شاید ہی دنیا میں کہیں اور پائی جاتی ہوگی۔غالباً اسی لئے سکردو ائرپورٹ کے ویٹنگ لانج میں علامہ اقبال کی بڑی سی تصویر آویزاں ہے۔ لاؤنج میں بیٹھا ہر مسافر علامہ اقبال کی مانند سر ہتھیلی پر ٹکائے سوچ رہا ہوتا ہے کہ فلائٹ آئے گی یا نہیں۔


ایک دن ہم فارغ تھے تو گھومتے گھماتے بٹ صاحب کے دفتر جا پہنچے۔بٹ صاحب سے درخواست کی کہ اپنے ادارے اور اس کی کارکردگی کے بارے میں کچھ بتائیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے میں کل تیس افراد ملازم ہیں جن میں سے ایک دو کے علاوہ باقی سب مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ لینے کے لئے نمودار ہوتے ہیں۔موسم کی پیشگوئی کرنے کے لئے درکار آلات کا ان کے پاس وجود تک نہ تھا چنانچہ بریفنگ وہیں پر ختم ہو گئی۔ ہم نے بٹ صاحب سے کہا ’’باقی سب تو ٹھیک ہے آپ کے کندھوں پر بہرحال ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ

فلائٹ آپریٹ ہونے کے لئے موسم کا اندازہ کیسے لگاتے ہیں؟‘‘۔
بٹ صاحب بولے’’بادشاہو !یہ کون سا مشکل کام ہے ۔ ہم علی الصبح بیدار ہوتے ہی کھڑکی کا پردہ اٹھا کر باہر دیکھتے ہیں ، اگر بادل نظر آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ آج فلائٹ آپریٹ نہیں ہو سکتی۔‘‘


آدھا حج
24اپریل2015کی ایک سہانی صبح ہم اپنی فیملی کے ہمراہ لاہور ائیرپورٹ کے حج ٹرمینل کی تلاش میں اِدھر ادھر بھٹک رہے تھے۔ حج شروع ہونے میں تو ابھی چھ ماہ باقی تھے لیکن ہمیں حج ٹرمینل پہنچنے کے لئے جو وقت دیا گیا تھا اس کے ختم ہونے میں فقط آدھ گھنٹہ باقی رہ گیا تھا۔ ہماری اس بھاگ دوڑ کا مقصد برونڈی پہنچنے کے لئے عسکری ایوی ایشن کی چارٹرڈ فلائٹ کا حصول تھا۔اس فلائٹ نے ہمیں 256 دوسرے مسافروں کے ہمراہ سیدھاافریقی ملک برونڈی پہنچانا تھا، جہاں پہنچ کر ہم کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کا حصہ بننے والے تھے۔مذکورہ فلائٹ پہلے ہی سے چار روز تاخیر کا شکار ہو چکی تھی۔ راستہ پوچھتے پچھاتے ہم حج ٹرمینل تک پہنچے ،فیملی کو الوداع کہا اور سفر کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔


ٹرمینل پر صرف ہماری سپیشل فلائٹ کے پاک فوج سے تعلق رکھنے والے مسافر حضرات موجود تھے ۔ ہم نے کانٹر پر پہنچ کر تمام دستاویزات کا اندراج کروایا اور لاؤنج میں پہنچ گئے۔ لاؤنج میں ایک بڑا سا بینر آویزاں تھا جس پر جلی حروف میں درج تھا"اللہ تعالیٰ آپ کے حج کو قبول و مبرور فرمائے (آمین) نیک شگون کے لئے باری باری اس بینر کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں اتروائی گئیں۔ امیگریشن پروسیس مکمل ہونے کے بعد ہمیں گاڑیوں میں بٹھا کر مین ٹرمینل تک لے جایا گیا۔ سامان پہلے ہی جہاز میں لوڈ کر دیا گیا تھا۔ایک بجے کے قریب سب لوگ جہاز میں سوار ہوئے اور جہاز کے اڑنے کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔ جہاز اور اس کے عملے کا تعلق اردن سے تھا جسے عسکری ایوی ایشن کے توسط سے ہمارے لئے چارٹر کیا گیا تھا۔
ہماری نشست بریگیڈئر اختر کے ساتھ تھی۔ موصوف میڈیکل کور کے ایک منجھے ہوئے افسر تھے اور چند روزہ دورے پر کانگو تشریف لے جا رہے تھے،جس کا بنیادی مقصد وہاں پر موجود طبی سہولیات کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ مرتب کرنا تھا۔ ان کی شخصیت ویسے بھی کم متاثر کن نہ تھی لیکن نئی وردی، رے بین کی عینک اور ربڑ سول کے خاکی بوٹوں نے اسے مزید چار چاند لگا دئے تھے۔ ان حالات میں جہاز کے عملے کا ان سے مرعوب ہونا فطری امر تھا۔ غلطی انہیں یہ لگی کہ شاید بریگیڈئر صاحب کانگو میں نئے کمانڈر پوسٹ ہو کر جا رہے ہیں اس لئے ان کے پروٹوکول میں خصوصی اضافہ کرتے ہوئے ایک عدد ائرہوسٹس کو ان کی خدمت کے لئے مخصوص کر دیا گیا ۔ ہم چونکہ ان کے ساتھ والی سیٹ پر براجمان تھے اس لئے اس نظرِ عنایت کا تھوڑا بہت عکس ہم پر بھی پڑنا شروع ہو گیا۔


جہاز میں سوار ہو کر ہم سمجھ بیٹھے تھے کہ غالباً عشق کے تمام امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کر لئے ہیں لیکن جب جہاز نے آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد بھی اڑنے کا نام تک نہ لیا تو شک گزرا کہ ہو نہ ہو کسی پرچے میں نمبر ضرور کم آئے ہیں۔ ائر ہوسٹسوں نے تیز تیز ادھر ادھر آنا جانا شروع کیا تو ہم ذرا سے پریشان ہوئے۔ کچھ دیر بعد انہوں نے یونیفارم کی اوپر والی جیکٹیں
upper jackets
اتار کر ہاتھ والے پنکھے جھلنا شروع کئے تو حالات تقریباً قابو سے باہر ہوتے نظر آئے۔ صورتحال اس وقت واضح ہوئی جب جہاز کا کپتان بریگیڈئر اختر کے پاس بنفسِ نفیس تشریف لایااور کہنے لگا کہ موجودہ درجہ حرارت معمول سے بہت زیادہ ہے جس کے باعث اس وقت جہاز کا موجودہ وزن کے ساتھ ٹیک آف کرنا ممکن نہیں لہٰذا آپ لوگوں کو رات بارہ بجے تک انتظار کی زحمت اٹھانا ہو گی۔


ہم نے تجویز پیش کی کہ کچھ دیر کے لئے ائر ہوسٹسوں کو منظر عام سے غائب کر کے درجہ حرارت میں مطلوبہ کمی لائی جا سکتی ہے لیکن ہماری تجویز کو یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ مسئلہ جہاز کے اندرونی کے بجائے بیرونی درجہ حرارت کا تھا۔ ظاہر ہے کہ قدرت کے کاموں میں ہم جیسے ناچیز بھلا کیا دخل دے سکتے تھے اس لئے ان کی بات مان کر اگلے گیارہ گھنٹوں کے لئے پھر سے حج ٹرمینل کے وحشت ناک ماحول میں مقید ہو گئے۔ گیارہ گھنٹے بھوکے پیاسے ایک بینچ پر گزارنے کے بعد رات کے بارہ بجے ہم دوبارہ جہاز میں سوار ہوئے اور دس گھنٹوں کی فلائٹ کے بعد ہمارے جہاز نے برونڈی کے بوجمبور
ا (Bujumbura)
انٹرنیشنل ائرپورٹ پر لینڈ کیا۔
حج ٹرمینل میں اتنا وقت گزارنے کے بعدہم پورے نہیں تو آدھے حج کے ثواب کے حقدار تو ہو ہی چکے تھے۔
(جاری ہے)

(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)

نذرِ وطن

 

دنیا میں سدا زینتِ گلزار رہیں گے
کانٹوں کی سیاست سے خبردار رہیں گے
اے ارضِ وطن تیری حفاظت کے لئے
بیدار تھے‘ بیدار ہیں‘ بیدار رہیں گے
جان اپنی فدا کرنے کو ناموسِ وطن پر
تیار تھے، تیار ہیں، تیار رہیں گے
تو میری اُمیدوں کا مرکز اے میری دھرتی
ہم تیری جلالت کے پرستار رہیں گے
جینا تیری خاطر ہے تو مرنا تیری خاطر
اس عشق سے سرشار ہیں، سرشار رہیں گے

شاکر شمیم

*****

 
10
February

تحریر: جبار مرزا

فرخ مرزا شہید کو جب لحد میں اُتارا گیا تو وہ پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا‘ اس کی زندگی کا مقصد اور آخری آرزو یہی تھی۔ عجیب وجدانی نوجوان تھا‘ شہادت سے چند دن پہلے سارے بہن بھائیوں‘ عزیز و اقرباء سے ملنے شہروں‘ شہروں اُن کے گھروں کو گیا۔
لاہور میں چھوٹے بھائی کے دوستوں نے پوچھا، ’’آپ نے فوجی زندگی کا انتخاب کیوں کیا؟‘‘ فرخ مرزا نے جواب دیا،’’میں اعزاز کے ساتھ فوجی پرچم میں لپٹا ہوا دنیا سے جانا چاہتا ہوں۔‘‘ تمنائیں کس قدر بر آتی ہیں، ہم اور آپ اس خدائی بھید کو کیا جانیں۔26 دسمبر1995کو واہ کینٹ کا لالہ زار بقۂ نور بنا ہوا تھا۔ ہر گھر روشن تھا، ہر سر فخر سے بلند تھا، واہ اور گردو پیش کی بستیوں کے مقیم سخت سردی میں جوق در جوق فرخ شہید کو خراجِ تحسین پیش کرنے پہنچے ہوئے تھے۔ لالہ رُخ کے مرکزی قبرستان میں جب مٹی کی امانت پورے فوجی اعزاز کے ساتھ مٹی کے حوالے کی گئی تو علاقہ عنبر و عود میں ڈوب گیا۔ گارڈ آف آنر،چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے بھجوائے گئے پھول، 12 سندھ بٹالین اور بٹالین کمانڈر کی طرف سے پھولوں کی چادریں، پی ایم اے کاکول کے پھول، چیئرمین واہ فیکٹر ی کا اظہارِ عقیدت، بہاولپور کے

GOC

کے پھول، کیڈٹ کالج حسن ابدال کے پھول، دوست احباب، خاندان، گھر اور اہلِ علاقہ کے پھول الغرض! فرخ مرزا شہید کی لحد خوشبوؤں میں ڈوب گئی یہ وہی خوشبو تھی، جس کی آرزو فرخ مرزا نے کی تھی یہ اسی خواب کی تعبیر تھی جو شہید نے وردی پہنتے وقت دیکھا تھا۔


فرخ مرزا ابھی فوج کے ابتدائی عہدوں پر تھا مگر تدفین کے اگلے روز اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ، شہید کی تربت کو سلیوٹ پیش کرنے لالہ رخ پہنچے ہوئے تھے، ماحول میں ہرُ سو پھول ہی پھول پھیلے ہوئے تھے۔ یہ وہی اعزاز تھا، وہی پھول اور خوشبو تھی جس کی تمنا لے کر فرخ نے دفاعِ وطن کے راستے کا انتخاب کیا تھا۔ وہ فوج میں لیفٹین تھا، کپتانی کی وردی سل کے آچکی تھی مگر فرخ مرزا نے شہادت کا کفن پہن لیا، بھلا اس سے خوبصورت پیراہن اور کیا ہوسکتا تھا۔ جس طرح ہیرو بنائے نہیں جاتے وہ پیدائشی ہیرو ہوتے ہیں، بعض خاندان اور گھرانے بھی ایسے ہوتے ہیں جہاں سے شہیدوں اور غازیوں کا انتخاب ہوتا رہتاہے۔

 

phirkisimusafir.jpgفرخ شہید کا گھرانہ علاقے میں’’کپتاناں والا خاندان‘‘ کے نام سے جاناجاتا ہے۔ شہید کے دادا فضل حسین مرزا فوج میں تھے دوسری جنگِ عظیم میں اعلیٰ سپہ گری کی بنا پر دینہ ضلع جہلم کے قصبے ٹاہلیاں والا میں انعام میں اُن کو زمین ملی تھی۔ فرخ شہید کے والد محمد خلیل مرزا جن کی وفات 18جون 2004 میں ہوئی وہ بھی افواجِ پاکستان کے ادارے پاک فضائیہ میں تھے‘ خلیل مرزا کے چچا اور بڑے بھائی محمدرفیق مرزا بھی فوج میں تھے اور کپتان تھے۔
فرخ مرزا شہید کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ اُن کے خاندان کی ہر شاخ میں حافظ قرآن موجود ہیں فرخ بھی اپنے گھریلو ماحول سے خاصا متاثر تھا باجماعت نماز کے لئے مسجد جانا‘ باقاعدگی سے روزے رکھنا بلکہ دوستوں کے ساتھ سحری میں لوگوں کو جگانا بھی معمول اور نعتیں پڑھنا پسندیدہ عمل تھا۔ روحانیت اس خانوادے کی شناخت ہے ۔ فرخ مرزا کو گھر میں سبھی چھوٹے بڑے ٹیپو کہا کرتے تھے۔ اتفاق دیکھئے کہ 87 لانگ کورس میں کمشن کے بعد پی ایم اے کاکول میں جو کمپنی ملی اس کا نام بھی ٹیپو ہی تھا۔16 اپریل1993 کو گریجویشن کی تکمیل ہوئی، پاسنگ آؤٹ پریڈ میں فرخ مرزا کے والد محمدخلیل مرزا اور والدہ نسیم اختر دونوں گئے ہوئے تھے۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر پہلی تقرری فرخ مرزا کی انفنٹری کی سندھ رجمنٹ کی بارہ بٹالین میں ہوئی جواُن دنوں خیبرپختون خوا کے علاقے ’ٹل‘ میں تھی۔ فرخ مرزا تین بھائی اور سات بہنیں ہیں۔


ان کی والدہ کا خاندان تجارت پیشہ تھا، فرخ مرزا کے پڑنانا نے افغانستان سے کشمیر ہجرت کی تھی وہ آئے تو کاروباری سلسلے میں تھے مگر پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے اور قیامِ پاکستان سے تھوڑا پہلے اس خاندان نے جہلم کو اپنا مسکن بنایا فرخ مرزا کے نانا مرزا علم دین 105 برس کی عمر میں جہلم میں بقیدِ حیات ہیں۔ ان دنوں اس خاندان کا قیام واہ فیکٹری کے نمبر20 ایریا میں تھا۔ فرخ مرزا کی ولادت سے علاقے میں شاد کامی پھیل گئی گردوپیش کے لوگوں میں لڈو بانٹے گئے۔ فرخ مرزا اوئل عمری سے ہی چاق چوبند، ہوشیار، چست، صحت مند، خوبصورت اور انوکھا تھا۔


فرخ مرزا کسی بات پر پریشان یا مایوس کبھی نہیں ہوتا البتہ جب پہلی مرتبہ یعنی پہلے سال فوج میں کمیشن نہ ملا تو وہ پریشان ہوا اور کافی دنوں بعد نارمل ہوا اور شدت سے اگلے سال کی سلیکشن کا انتظار کرنے لگ گیا۔یوں پھر اگلے سال کمیشن کے لئے منتخب ہو کر کاکول چلا گیا۔ فرخ مرزا جب پہلی بار مورچے میں اترا تو اس وقت وہ پونے تین سال کا تھا اور شہادت کے وقت پونے ستائیس سال کا تھا درمیان کے برسوں میں ابتدائی تعلیم ایف جی گرلز ہائی سکول نمبر2 واہ کینٹ سے، میٹرک ایف جی بوائز ماڈل ہائی سکول واہ کینٹ اور فیڈرل بورڈ سے جبکہ ایف ایس سی حسن ابدال کیڈٹ کالج راولپنڈی بورڈ سے کی۔ فرخ مرزا پونے تین سال کی عمر میں مورچے میں تب اترے جب 1971 کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تھی۔ ایک رات خطرے کا سائرن بجنے پر گھر میں بنائے گئے مورچے میں گھر کے سارے افراد اترے تو فرخ مرزا اپنے سے ساڑھے تین سال بڑی بہن ثمینہ مرزا کی گود میں تھے۔ اسی اثنا میں بھارتی طیارے نے بم گرایا۔ بظاہر وہ پاکستان کی اسلحہ فیکٹری واہ کا نشانہ لینے کی غرض سے آیا تھا۔ مگر اس کا نشانہ خطا گیا۔ اور وہ بم واہ اور حسن ابدال کے درمیان کھلی زمین میں گرا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ بھارت کے اس طیارے کو راولپنڈی چکلالہ کے قریب گرا دیا گیا تھا۔ اسی روز بھارت کے ایک طیارے نے لاہور کے محلہ مصری شاہ پر بم گرائے تھے جس سے 8شہری شہید اور 28زخمی ہوئے تھے۔ انسانی آبادیوں پر بم گرانا بھارت کی اخلاقی پستی کی غماز اور بین الاقوامی ضابطوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل فرخ مرزا کی بڑی بہن ثمینہ مرزا کی کتاب ’پرچم میں لپٹا بھائی‘ میں پڑھنے کو ملے گی جو زیرطبع ہے۔


فرخ مرزا نے اپنی شہادت سے ایک دن پہلے ثمینہ مرزا کے خواب میں آ کر انہیں ایک لفافہ دیا۔ بہن نے پوچھا اس میں کیا ہے۔ فرخ نے کہا تمہارا کینیڈا کا ٹکٹ۔ اور تم؟ بہن نے پھر پوچھا ‘فرخ نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں اوپر جا رہا ہوں اور پھر بہاولپور میں فوجی مشقوں سے واپسی پر 25دسمبر 1995 بروز پیر مطابق 2شعبان1416 ہجری زیرزمین گولہ
(Un exploded bomb)
پھٹنے سے 5فوجی افسر شہید ہوئے جن میں ایک فرخ مرزا بھی تھے۔ فرخ مرزا کی بڑی بہن جو عمروں میں بہت کم فرق ہونے کی وجہ سے ہمیشہ فرخ مرزا کے ساتھ ساتھ ہی رہی جنہیں اسلام آباد کے تعلیمی ادارے پروفیسر ثمینہ فرخ مرزا کے نام سے جانتے ہیں اور پاکستان کے ادبی علمی اور سماجی حلقے ثمینہ تبسم کے نام سے شناسا ہیں جو تین کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ شاعرہ، ادیبہ پروفیسر ثمینہ تبسم نے بتایا کہ ماؤں کے سوچنے کا انداز گھر کے دیگر لوگوں سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ ایک روز امی کہہ رہی تھیں کہ سب بچے آباد ہیں گھر بار والے اور بچوں والے ہیں مگر میرا ٹیپو تو ایسے ہی چلا گیا۔ تو میں نے کہا کہ امی ہم سب نے مر جانا ہے فنا ہو جانا ہے۔ مگر ٹیپو شہید ہے، وہ زندہ ہے۔ اسے جب قبر میں اتارا تو پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا وہ جب شہید ہوا تو وردی میں تھا۔ اماں! ٹیپو نے وردی پہنتے وقت اس ملک کے دفاع کی قسم کھائی تھی جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا شہید زندہ ہوتا ہے ماں۔ یہ تو اﷲ کا وعدہ ہے کہ ہم اگر ٹیپو کو بھول بھی جائیں تو تاریخ اسے یاد رکھے گی۔ اس لئے کہ وہ زندہ ہے۔ وہ مقیم ہے، ہم مسافر ہیں۔ ہمارا قیام، شہرت اور دنیا سب عارضی ہے۔ وہ ہمیشہ رہے گا جب تک کائنات ہے وہ زندہ ہے۔


ثمینہ تبسم جب فرخ مرزا کے حوالے سے بتا رہی تھیں تو ان کے لفظوں میں تمکنت تھی، حوصلہ ، جذبہ اور اظہار میں دبدبہ تھا لیکن وہ اس بات پر حیران تھیں کہ ہمارے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں کینیڈا پہنچ جاؤں گی۔ پھر بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ میں شہید بھائی کا دیا ہوا پردیس کاٹ رہی ہوں۔ ڈھیروں باتیں ہیں جو میں اس سے کیا کرتی تھی۔ اب وہ ساری باتیں میں اس سے کتاب میں کروں گی۔ ممتاز مصنفہ اور شاعرہ محترمہ تسنیم کوثر نے شائد کسی ایسے لمحے کے لئے ہی کہا تھا کہ


کھولنا جب کبھی گزرے ہوئے لمحوں کے کواڑ
صبح ارمان بھری، شام سہانی لکھنا
پہلے رکھ دینا چراغوں کو سرِ راہ گزر
پھر کسی بچھڑے مسافر کی کہانی لکھنا

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

تحریر: محمد منیر،پروفیسر اویس خالد

مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کی داستان نہ صرف دل دہلا دینے والی ہے بلکہ اقوام عالم کے بنائے گئے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے۔ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد وخواتین غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت سے بچ نہیں سکا۔ بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ اسکے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسانیت شرمانے لگتی ہے۔ جوانوں کو اغوا کر کے لاپتا کر دیا جاتا ہے اور بعد ازاں بے دردی سے مسخ شدہ لاشیں توہین آمیز انداز میں پھینک دی جاتی ہیں جو بھارت کی فرعونیت اور چنگیزیت کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہیں۔ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر حوا کی بیٹی کی حرمت و تقدس کو پامال کیا جاتا ہے۔ ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنا بھارتی فوج اور بھارتی پولیس کا مشغلہ بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کی شاید ہی ایسی کوئی اور نظیر کہیں ملتی ہو۔


حال ہی میں جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بھارت کے ایک معروف لکھاری رام پنیانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارتی حکومت کو اپنی جارحیت ترک کر کے یہ سوچنا چاہئے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔ جمہوریت کے سب سے بڑے دعویدار اور خود ساختہ علمبردار اور انسانی حقوق کی اہمیت پر مصنوعی راگ الاپنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کشمیری عوام کو ان کے حق خود ارادیت، آزادی رائے اور بنیادی حقوق کی فراہمی سے محروم کرنا اور بالجبر اپنا تسلط قائم کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ جواہرلال نہرو نے ایک مرتبہ ایک تقریر میں کہا تھا۔ ’’لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے سے بڑھ کر اور کیا اہم ہو سکتا ہے۔‘‘


یونیورسل پریاؤک ریویو کے ورکنگ گروپ کے تحت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے تیرھویں اجلاس میں جو کہ 21مئی 2012تا یکم جون 2012 جاری رہا واضح کیا گیا کہ انڈیا میں بھارتی ریاستوں اڑیسہ، مدھیہ پردیش، گجرات اور ہماچل پردیش میں مذہبی بنیادوں پر اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا نہ صرف استحصال کیا جاتا ہے بلکہ مختلف مواقع پر انسانیت سوز تشدد کے ذریعے انسانی حقوق کے ضابطوں کی دھجیاں اُڑا دی جاتی ہیں۔ مذہبی آزادی کے موضوع پر پیش کی گئی اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹ میں بھی واشگاف الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے لئے زمین تنگ ہے اور مذہبی اقلیتوں پر تشدد روا رکھا جاتا ہے۔

 

kasmirmain_insani.jpgایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق کئی سالوں سے جموں و کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل ایکٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مختلف مقدمات میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس لئے اس کالے قانون کا فوری طور پر خاتمہ ضروری ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت بھارت کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر استثنیٰ حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث بھارتی اہلکاروں کا احتساب ممکن نہیں۔


یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے اقوام عالم میں بھارت کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس بات کا اظہار جینوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کے ایک اجلاس منعقدہ ستمبر 2015میں آزاد جموں و کشمیر کے رہنماؤں نے کیا۔ سید مفتی نقشبندی جو
APHC
کے سینئر رہنما ہیں اور آزادکشمیر کے امجد یوسف خان نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے بنائی گئی پالیسیاں بالکل غیرانسانی ہیں جو انہیں کسی صورت قبول نہیں ہیں۔ یہی قوانین معصوم نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ماورائے عدالت قتل، اغوا اور عصمت دری جیسے گھناؤنے کھیل کھیلنے کے لئے بھارت کو جواز مہیا کرتے ہیں۔ کشمیری عوام جو کہ ایک طویل عرصے سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پرامن احتجاج کے ذریعے دنیا کو بھارتی جارحیت اور اپنی آزادی کے حصول کی تگ و دو سے آگاہ کر رہے ہیں، وہ کسی صورت بھی اپنے حقِ آزادی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔


بے گناہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت کا ناروا سلوک اب کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہا۔ جمہوری حقوق کی پیپلز یونین کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں موجود کشمیری مسلمان ظلم و جبر اور عدم تحفظ کا شکار ہیں اور وہاں کی مقامی پولیس اوچھے ہتھکنڈوں سے انہیں ہراساں کرتی ہے۔ بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے اور رہائی کے عوض بھاری رقوم کا بطور رشوت تقاضا کیا جاتا ہے۔ بھارتی پولیس نے افضل گرو کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا اور بھارت کے شدت پسند حلقوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اسے پھانسی دے دی جو سراسر عدالتی قوانین اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھی۔


9/11 کے بعد بھارت نے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم میں مزید اضافہ کر دیا اور اُن کی تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کے لئے بھونڈی کوششیں کیں۔ 9/11کی آڑ میں بھارت کے ہاتھ کشمیری مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کا ایک سنہری موقع مل گیا اور کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے کے لئے جھوٹا اور منفی پروپیگنڈا کیا جانے لگا تاکہ اقوام عالم کی آنکھوں میں د ھول جھونک کر ان کے دلوں میں کشمیر کے حوالے سے پیدا ہونے والی ہمدردی کو ختم کیا جا سکے لیکن آج دنیا جان چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی کے حصول کی جدوجہد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ کشمیری عوام تو ایک عرصے سے اپنے حقوق کی آزادی کے لئے بھارت کی انتہاپسندی، جارحیت اور استعماریت کے آگے ڈٹے ہوئے ہیں۔


دوسری طرف بھارتی مظالم کی فہرست کچھ یوں ہے کہ جنوری 1989تا دسمبر 2016 مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد افراد کو شہید کیا گیا۔ 7073افراد کو بھارتی فوج اور پولیس نے حبس بے جا میں رکھ کر جھوٹی تفتیش کرتے ہوئے شہید کر دیا۔ 137,469افراد کو جھوٹے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کر کے ہراساں کیا گیا۔ 107,043افراد کو بے گھر کیا گیا۔ 107591بچے بھارتی مظالم کی وجہ سے یتیم ہوئے۔ 22826خواتین کے سہاگ اُجڑے۔ 10,717 خواتین پر جنسی تشدد کیا گیا اور انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی افواج سے انسانیت کی تذلیل کے لئے
PSA، TADA
اور
AFSP
جیسے کالے قوانین بنا رکھے ہیں۔ 8جنوری 2016کو بھارتی فوج نے ایک ہونہار کشمیری نوجوان برہان سلیم وانی کو شہید کر دیا جو کہ سوشل میڈیا پر بھارتی جارحیت کے خلاف ایک بھرپور اور موثر مہم چلا رہا تھا جس کے ذریعے بہت سے مقامی جوان تحریک آزادی میں نئے ولولے اور جذبے کے ساتھ شامل ہوئے۔ وانی کی شہادت نے تحریک میں ایک نئی سوچ پھونک دی۔ اب تحریک شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی پھیل گئی۔ اس سے پہلے 2008اور 2010

میں اٹھنے والی تحریکیں صرف شہروں تک محدود تھیں مگر موجودہ لہر نہ صرف پوری شدت سے جاری ہے بلکہ پوری وادی میں پھیلتی جا رہی ہے۔
بھارت انسانیت سوز جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کشمیری مسلمانوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور ایسے مظالم توڑ رہا ہے کہ جن کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اس کی ایک مثال پیلٹ گن کا استعمال ہے جو 2010 کے بعد 9جولائی 2016 کو دوبارہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونا شروع ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق 2ملین سے زائد پیلٹز
(Pellets)
استعمال ہوئی ہیں۔ جن سے 7000 سے زائد کشمیری بری طرح زخمی ہوئے اور بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان میں مختلف کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔
کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے لیکن اسے مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے ہماری حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ہرانٹرنیشنل فورم پر نہایت مضبوطی سے اپنا موقف پیش کریں اور انسانی حقوق کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ایسا عالمی دباؤ تخلیق کریں جس سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔ ہمیں چاہئے کہ بہترین اور موثر پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز تشدد کی طرف عالمی توجہ مبذول کروانے کے لئے بھی مناسب حکمت عملی وضع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی یکجہتی کا ایسا پیغام دیتے رہنا چاہئے جس سے ان کے پائے استقامت کو مزید تقویت ملے اور حوصلہ افزائی کے اس تاثر سے ان کی تحریک آزادی میں جب ضرورت ہو نئی روح پھونکی جا سکے۔ بیرون ملک رہنے والے کشمیری مسلمانوں کی طرف سے بھی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا قابل ستائش ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ تنازعہ کشمیر پر اقوام عالم کی توجہ اس وقت تک مبذول کرواتے رہنا چاہئے جب تک کشمیریوں کو آزادی مل نہیں جاتی جو ان کا بنیادی حق ہے۔


آج چونکہ میڈیا کا دور ہے لہٰذا سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی ایسی مناسب حکمت عملی مرتب کی جانی چاہئے جس سے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی آواز کو پوری دنیا میں پھیلایا جا سکے اور بھارت کا اصلی مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔ کشمیری مسلمان انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں مگر بھارتی بدنیتی کی وجہ سے ابھی تک انہیں ان مذاکرات کا باضابطہ حصہ نہیں بنایا گیا۔ ویسے بھی بھارت اپنے کمزور موقف کی وجہ سے ہمیشہ مذاکرات سے بھاگتا رہا ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کو ترک کر کے کشمیری عوام کو ان کی مرضی کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے دے جس کی اجازت انہیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی قراردادیں بھی دیتی ہیں۔

محمد منیر

IRRI

میں ریسرچ فیلو کے طورپر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اویس خالد ایک پرائیویٹ کالج میں اُردو کے استاد ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

تُو تُو میں میں

 

یوں تو ادیبوں، شاعروں کو اپنے بارے میں کچھ لکھنے کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ جب ان کا دل چاہے کہ ان کے بارے میں کچھ کہا جائے وہ محفل سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں اور وہاں بیٹھے ادیب شاعر ان کی چاہت پوری کر دیتے ہیں۔ سو محمد یونس بٹ کے بارے میں کہہ کر میں آپ ہی کا کام کر رہا ہوں دیکھنے میں ایسا کہ ادیب شاعر اسے محمد یونس بٹ کا بیٹا سمجھ کر شفقت سے پیش آتے ہیں۔ قد اتنا کہ اسے ہر دوسرا شخص خود سے بڑا نظر آتا ہے۔ کھڑا ہوا لگتا ہے بیٹھا ہوا ہے۔ چلتا یوں ہے کہ جیسے کشمیر فتح کرنے جا رہا ہو۔

برتھ کے حساب سے اپنی پیدائش کے ایک سال بعد پیدا ہوا اور اس سے کئی سال پہلے اس کا نام رکھا جا چکا تھا۔ بچپن میں صحت ایسی تھی کہ والدہ اسے سکول لے کر جاتی تو محلے والے سمجھتے ہسپتال لے کر جا رہی ہے۔ گوجرانوالہ کی روایت کے مطابق ورزش کے لئے اکھاڑے گیا تو استاد پہلوان نے دیکھ کر کہا تمہاری ورزش کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ روزانہ دو کُشتیاں دیکھ لیا کرو۔ بچپن ہی سے ڈاکٹر بننے کی صلاحیتیں تھی یعنی ہینڈرائٹنگ شروع ہی سے خراب تھی۔ اردو پنجابی میں بہت کچھ لکھا جس سے ادب کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اسے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ اس کی ہینڈرائٹنگ بہتر ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب شناخت پریڈ سے اقتباس

*****

 
10
February

تحریر: حجاب حبیب جالب

مشہور عوامی انقلابی شاعر حبیب جالب کی دختر سعید حجاب حبیب جالب کی کشمیر ی حریت پسندی اور مسئلہ کشمیر پر ایک خصوصی تحریر

تاریخ انسانی جس میں بے شمار المناک واقعات دیکھنے میں آئے ہیں‘ ان میں مسئلہ کشمیر نمایاں اہمیت کا حامل ہے جو کہ روزِ اول سے ظلم وتشدد کی مثال ہے ویسے کہنے کو توہم آزاد ہیں اور ہر سال 14 اگست کو آزادی کا جشن جوش و خروش سے مناتے ہیں لیکن اپنی ان خوشیوں میں ان مظلوم و محکوم لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو ابھی تک ظلم اور جبر کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور یہ بے گناہ لوگ ایسے گناہوں کی سزاکاٹ رہے ہیں جو انہوں نے کئے ہی نہیں۔ ہم آزاد ہیں مگر ہمارے کشمیری بھائی ابھی تک آزادی کی نعمت سے محروم ہیں۔ آزاد دنیا کی آزادی کا کیا فائدہ جو مظلوم اور مجبور لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہ لاسکے۔ اسے اختیار کا کیا فائدہ جو ساری سامراجی طاقتوں کو منہ توڑ جواب نہ دے پائے۔ آئے روز نہتے کشمیریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کے واقعات منظرِ عام پر آتے رہتے ہیں۔ ہم یہ واقعات دیکھ اور سن کر محض خبروں کی طرح بھول جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی ہر سطح پر کشمیر جیسے سنجیدہ مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے بجائے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ کوئی مرے یا جیئے عالمی ضمیر کو اس سے کیا غرض ہے۔ ہماری کشمیر پالیسی بھی اس حد تک کمزور دکھائی دی کہ جب بھارتی قیادت کی جانب سے یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ ’’کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے‘‘ تو اس کاموثر جواب عالمی سطح پر نہیں دیا گیا۔


تقسیمِ ہند کے وقت ہی کشمیر کا فیصلہ ہو جانا چاہئے تھا مگر بعد میںآنے والی حکومتوں نے اس پر مناسب توجہ نہیں دی اور ان کی غلط پالیسیز کی وجہ سے اب تک یہ مسئلہ حل طلب ہے اور شاید اس وقت کشمیریوں کی قربانیاں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ اب اس کا حل ناگزیر ہوچکا ہے۔ اکثر ہم یہ ہی دعاکرتے ہیں کہ ہر دن ہمارے لئے خوشیوں کی نوید لائے اور ہر رات شبِ برات جیسی ہو۔ لیکن ہمارا احساس اس وقت کیوں مفقود ہوجاتا ہے کہ جب ہم جانتے ہیں کہ کشمیریوں کا ہر دن خون کی لالی لے کر طلوع ہوتا ہے اور رات سیاہی لاتی ہے۔ہم اپنی اولاد کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہیں کہ اُن کی اولاد ہزاروں سال جیئے‘ ترقی کی راہوں پر گامزن رہے مگر یہاں تو ظلم کی انتہا دیکھئے کہ نوزائیدہ بچوں سے بھی کشمیری ہونے کا تاوان لیا جاتا ہے اور کشمیری ماؤں کے جذبات و خواہشات کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ جوان بٹیوں کے سرسہرا سجنے کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں ان کے سرتن سے جدا کرکے اُنہیں کفن کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ دل خون کے آنسو رو کر رہ جاتا ہے۔


حق خود ارادیت مانگنا میرا نہیں خیال کہ کوئی جرم ہے یا کوئی کبیرہ گناہ ہے کہ جس کی پاداش میں آپ کو موت دی جائے۔ پابندِ سلال کیا جائے حتیٰ کہ آپ کو اپنے مذہبی فرائض سرانجام دینے سے روک دیا جائے۔ آپ پر طویل ترین کرفیو نافذ ہو اور بے دریغ پیلیٹ گن کا استعمال آپ کو زندہ درگور کردے۔ ایسے میں جالب کا شعر عکاس ہے کہ:
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ اکثر اوقات لیڈران بجائے کشمیر پر اپنی پالیسی مضبوط کرنے کے ذاتی مفادات کو مزید تقویت پہنچانے میں جٹے رہتے ہیں۔ وہ ہاتھ جس پر لاکھوں بے بسی و مظلوم کشمیریوں کا خون ہے‘ بہت گرم جوشی سے تھامے جاتے ہیں بلکہ خوش آمدید کے ترانے بھی گائے جاتے ہیں۔


ہر سال کی طرح امسال بھی یومِ کشمیر جوش و جذبے سے منایا جائے گا‘ کئی ریلیاں نکلیں گی‘ کئی قرار دادیں پیش ہوں گی مگر نتیجہ وہی۔
مختلف ٹی وی چینلز پر اینکر پرسنز مختلف سیاسی وسماجی شخصیات سے اُن کی رائے جانیں گے‘ دل کھول کر اپنے دُکھ و جذبات کا اظہار کریں گے مگر اگلے دن وہی اینکرز کسی اور ’’ہاٹ ٹاپک‘‘ پر ایک الگ ہی راگ الاپتے نظر آئیں گے۔


مغربی دنیا ہمیں اکثر طعنے دیتی ہے کہ ہمارے ہاں ہیومن رائٹس‘ وومن رائٹس اور بہت سارے رائٹس کا اکثر خیال نہیں رکھا جاتا۔ ہماری کچھ کمیاں اور کوتاہیاں اپنی جگہ‘ مگر یہ کہنا کہ تمام مغربی دنیا بشمول اقوامِ متحدہ کو کشمیر کے لاکھوں بے گناہوں پر ہونے والے ظلم و ستم دکھائی نہیں دیتے۔ بوڑھے‘ جوان‘ بچے اور خواتین ‘ غرضیکہ کون ہے جو کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ظلم و ستم سے بچا ہوا ہے۔ عورتوں کی عصمت دری کے اکثر واقعات میڈیا میں آتے ہیں مگر مجال ہے کہ کسی مغربی لیڈر کے منہ سے ایک لفظ بھی نکلا ہو۔ کیا عالمی ضمیر کوصرف ہندوستان کی بہت بڑی اکنامک مارکیٹ ہی نظر آتی ہے ۔ آزادی اور برابری کے اس دور میں بھی کشمیری عوام اپنے حقِ خود ارادیت کے لئے مصروفِ جدوجہد نظر آتے ہیں۔ یہ جدوجہد ان کا بنیادی حق ہے۔ مگر ان پر اس حق کے حصول کے تمام پُرامن راستے بند کردیئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ مظاہرے کرنے والے نوجوانوں اور بچوں پر بھارتی فوجیوں نے ظلم و تشدد کا ایک طریقہ دریافت کرلیا ہے۔ یہ ہے پیلیٹ گن سے اندھا کرنے کی پالیسی۔ ظلم کے یہ طریقے تو شاید ہلاکو اور چنگیز خان نے بھی استعمال نہیں کئے ہوں گے جو دشمن کو ایک وار سے ہی مٹا ڈالتے تھے نہ کہ اس کو معذوری اور مجبوری کی زندگی گزارنے کے لئے چھوڑ دیتے ہوں جب زندگی موت سے بدتر ہو جائے۔ یہ ظلم‘ یہ جبر‘ یہ درندگی آج عالمی ضمیر کے لئے ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جلد یا بدیر بہرحال اُسے جواب دینا پڑے گا۔


پاکستان کے عوام کی محبت اپنے مسلمان بھائیوں ‘ بہنوں اورمعصوم بچوں کے ساتھ ہمیشہ ہی قائم رہے گی اور یہ دعا ہمیشہ میرے دل سے نکلتی ہے کہ جہاں جہاں بھی مظلوم و لاچار ظلم سہہ رہا ہے خواہ وہ کشمیر ہو یا شام ہو‘ برما ہو یا فلسطین‘ میرا پروردِ گار ان کے حال پر رحم فرمائے اور اُن کو آزادی کی نہ ڈھلنے والی صبح دکھائے۔
مگر یہاں ایک ذمہ داری عالمی برادری اور پاکستانی حکام پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیرکا مسئلہ حل کروائیں کیونکہ اس کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کی ’آشا‘ نامکمل رہے گی۔
ظلم رہے اور امن ہو!
کیا ممکن ہے‘ تم ہی کہو !

 
10
February

تحریر: محمد اعظم خان

سمندر کے ذریعے بڑی تعداد میں نقل و حمل نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضائی نقل و حمل سے تقریباً 163گنا سستی بھی ہے۔ 90 فیصد بین البراعظمی سامان کی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ تقریباً 15ملین کنٹینرز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ کنٹینرز سا لانہ 200ملین سے زائد مرتبہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 38ہزار سے زائد تجارتی جہاز سمندری راستوں کے ذریعے 4500سے زائدبین الاقوامی بندرگاہوں کے درمیان ایک عالمگیر رابطے کا باعث بنتے ہیں۔
68.56ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا بحرہند دنیامیں تیسرا بڑا بحر ہے جو زمین کی سطح کے تقریباً 20فی صد حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔47ممالک کے ساحلوں اور کئی جزیروں کا مسکن بحر ہند جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے بہت اہم ہے۔

behrhindmainmut.jpgبحر ہندمیں سالانہ تقریباً ایک لاکھ جہاز ایک وسیع علاقے کا سفر کرتے ہیں اور یہ بحر دنیا میں‘ وزن کے اعتبار سے‘ سامان کی بڑی مقدار میں نقل و حرکت کا بحر مانا جاتا ہے۔ یہ بحر دنیا کے طویل سفر کرنے والے مال بردار جہازوں کی نقل و حمل کے لئے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً نصف بحری آمدو رفت اور پیٹرولیم مصنوعات کی80 فیصد سے زائد نقل و حمل اسی بحر کے ذریعے ہوتی ہے۔ دنیا کے تیل کا 65فیصد حصہ اور گیس کے 35فیصد ذخائر بحر ہند کے ساحلی ممالک میں واقع ہیں۔ کئی ممالک کی تجارتی آمدو رفت اسی بحرکے ذریعے ہوتی ہے۔ امریکہ ، فرانس اور جاپان، خلیج سے توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں ۔ مشرق سے مغرب کابحری تجارتی راستہ جو عین شمالی بحرِ ہند سے گزرتا ہے، دنیا کا اہم ترین تجارتی راستہ ہے اور ہزاروں جہاز ہر وقت اس پر رواں رہتے ہیں ۔
اکیسویں صدی اپنے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے بے مثال مواقع لائی ہے لیکن یہ مواقع سیاسی اور معاشی بد نظمی اور عدم استحکام جیسے خطرات سے دوچار ہیں ۔ دنیا کی قومی معیشتوں کے حوالے سے ان میں سے 80کی دہائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ، توانائی اور صنعتی خام مال کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔نتیجہ یہ کہ اس صورت حال نے بین الاقوامی تجارت کو بہت تیزی کے ساتھ بحری تجارتی راستوں کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، بحری قزاقی، سمندری وسائل کے استحصال،معاشی نظام میں بگاڑ اورعالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کے پس منظر میں عالمی سکیورٹی، اقتصادیات اور ماحول کو لاحق مختلف النوع خطرات میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے،جس کے لئے مشترکہ اورزیرک سوچ کی ضرورت ہے۔ بحری تجارت میں ہر ملک شامل ہے اور اس کی حفاظت تمام شراکت داروں کی مربوط حکمت عملی کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔


سا ل2007سے پاک بحریہ کی جانب سے منعقد ہ امن مشقیں اور انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس مغربی بحرہند میں میری ٹائم سکیورٹی کو بہتر بنانے کی جانب ایک غیر معمولی قد م ہے۔ ’’امن‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی انگریزی میں
’’Peace‘‘
کے ہیں۔اس مشق کا سلوگن ’’ امن کے لئے متحد
، Together for Peace‘‘
ہے جو اس مشق کی بنیاد بنا۔2007 سے منعقدہ ہرمشق میں عالمی بحری افواج اور مندوبین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔مشق امن 2007میں عالمی بحری افواج کے14 جہازوں، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی 2ٹیموں اور 21ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ سال 2009میں منعقدہ دوسری امن مشق میں14جہازوں، 2 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسزکی9ٹیموں اور 27ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ مارچ2011میں منعقد ہونے والی تیسری امن مشق میں 11 جہازوں، 3 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی اور میرینز کی 3 ٹیموں اور 28ممالک کے43مندوبین نے شرکت کی۔ امن مشقوں کے سلسلے کی چوتھی مشق امن 2013میں 12جہازوں ،2ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی6ٹیموں اور29ممالک کے 36 مندوبین نے شرکت کی۔
امن مشقوں کے انعقادکامقصد معلومات کے تبادلے اور باہمی دلچسپی کے اُمور بشمول میری ٹائم سکیورٹی کے مسائل ،دہشت گردی کے خاتمے اور انسانیت کی مدد جیسے آپریشنزپر یکساں سوچ کوفروغ دینا ہے۔ مشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فضا،سمندر اور زیر سمندر خطرات سے نبردآزمائی کے لئے مشترکہ مہارتوں کے فروغ اور مختلف مشقوں کے ذریعے سپیشل آپریشنز فورسز کی مہارتوں میں اضافے کا حصول بھی ان مشقوں کے انعقاد کے مقاصد میں شامل ہے۔


امن مشقوں کا انعقاد پاکستان نیوی کا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ کثیر مقاصد کے حصول کی حامل یہ مشقیں خطے میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی بحری افواج کے ساتھ پاک بحریہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہیں ۔ امن مشقوں کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی قوت کے طور پرپاک بحریہ کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اتحادی ممالک کا پاک بحریہ پر اعتماد بھی بڑھا ہے۔مشق امن 2017کا انعقاد اس اعتمادمیں مزید اضافے کا باعث ہوگا ۔مشق امن 2017 میں 35ممالک سے زائد جہاز، ایئرکرافٹ، ہیلی کاپٹرز، سپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو نا کا رہ بنانے والی ٹیمیں، میرینز پر مشتمل ٹیمیں اور مندوبین شرکت کریں گے۔ مشق امن 2017 میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں پر عالمی برادری کے اعتماد و یقین اور مستقبل میں پاکستان اور پاک بحریہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
10
February

تحریر: عبد الستار اعوان

گزشتہ دنوں عالمی میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کو اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 10 کلو میٹر تک طویل سفرکرنا پڑا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے پیسے نہ ہونے کے باعث اسے ایمبو لنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ریاست اڑیسہ کے علاقے کالا ہانڈی کا رہائشی دہارا ماجھی ٹی بی کی بیماری کے باعث بیوی کو سرکاری ہسپتال لے کر گیا جہاں ایک ہفتہ زیر علاج رہنے کے بعد وہ چل بسی، دہارا ماجھی نے ہسپتال انتظامیہ سے بیوی کی لاش گاؤں تک منتقل کرنے کے لئے ایمبولنس فراہم کرنے کی درخواست کی جسے رقم نہ ہونے کے باعث مسترد کردیاگیا۔انتظامیہ کی جانب سے ایمبولنس فراہم نہ کئے جانے پر دھارا ماجھی نے بیوی کی لاش کو ایک چادر میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور60 کلومیٹر دوراپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔ تقریباً دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہاں کی مقامی انتظامیہ نے مذکورہ شخص کی مدد کرتے ہوئے اسے ایمبولینس فراہم کی۔اس دلخراش واقعے کی ویڈیو اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد پور ی دنیا میں بھارتی حکمرانوں پر شدید تنقید کی گئی ۔انہی دنوں ایک اور خبر آئی کہ بھارت میں ایک خاتون کھلاڑی نے غربت کے باعث خود کشی کرلی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط میں پوجا کا کہنا تھا کہ وہ غربت اور ہاسٹل کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر رہی ہے۔ پوجا نے اپنی خود کشی کی وجہ کالج کے ایک پروفیسر کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے مجھے ہاسٹل میں کمرہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ روز اپنے گھر سے کالج آیا کرو۔ پوجا نے لکھا کہ وہ اتنازیادہ کرایہ برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے والد ایک غریب سبزی فروش ہیں۔ بیس سالہ ہینڈ بال کھلاڑی پوجا پٹیالہ کے گورنمنٹ خالصہ کالج میں زیر تعلیم تھی اور اس کا شمار قومی سطح کے کھلاڑیوں میں ہوتاتھا۔

modikbarat.jpgقارئین ! ایسے الم ناک اوردلخراش واقعات اس ریاست میں آئے روز پیش آتے ہیں جو ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں بے تحاشااضافہ کرتی ہے اور دن رات اس پر جدید اسلحے کی خریداری کا بھوت سوار رہتا ہے ۔ جس وقت میں یہ خبریں پڑ ھ رہا تھا میرے ذہن میں اچانک مودی جی کا ایک بیان گردش کرنے لگا ،ایک موقع پر انہوں نے کہاتھا کہ:’’ پاکستان کو بھارت سے سیکھنا چاہئے کہ غربت اور پسماندگی سے کیسے نبرد آزماہوا جا تا ہے ‘‘۔ ایک عام آدمی مودی جی کا یہ بیان سن کر حیرت زدہ رہ جاتاہے اوروہ سوچتاہے کہ شاید انہیں اپنے ملک میں پھیلی غربت اورا فلاس کا علم نہیں یاپھر جان بوجھ کر حقائق سے آنکھیں چرانا ان کی عادت سی بن گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں بھی غربت پائی جاتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے زیادہ بھارت میں لوگ خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے زیادہ غربت بھارت میں ہے ۔ایک مؤقر انگریزی جریدے نے غربت سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا جہاں غریب طبقے کی آمدنی میں قدرے اضافہ ہورہا ہے جبکہ بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا جہاں اس طبقے کی آمدنی اوسط سے بھی کم رفتار سے بڑھ رہی ہے ۔ جریدے کاکہنا ہے کہ اکیس فیصد بھارتی شہری عالمی بینک کے مقرر کردہ خطِ غربت، یومیہ 1.9 امریکی ڈالر فی کس آمدنی پر، یا اس سے نیچے، زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شرح صرف آٹھ فیصد ہے۔


ایک اور جائزے کے مطابق 26کے قریب غریب ترین افریقی ممالک میں سب سے زیادہ غریب ملک بھارت کو قرار دیا گیا ۔ اوکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو
(Oxford Poverty and Human Development Initiative)
نے اپنی ایک رپورٹ میں غربت کے حوالے سے بھارت کو پسماندہ ریاست دکھا یا ہے ۔ غربت کی پیمائش کے لئے مرتب کی گئی اس رپورٹ میں صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی تک رسائی اور بجلی کی دستیابی جیسے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت ایک پسماندہ ملک ہے۔ آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انِشی اے ٹیو کی ڈائریکٹر سبینا الکائرے
(Sahina ALKirey)

کہتی ہیں کہ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی غریب براعظم افریقہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ جب ہم افریقہ کے 26 غریب ترین ملکوں سے بھارت کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں بھی لوگ اتنے ہی زیادہ غریب اور محرومی کا شکار ہیں جتنا کہ افریقہ میں ‘بلکہ بھارت میں غربت کی شدت افریقی ممالک سے کہیں زیادہ ہے اور یہ پہلو بہت چونکادینے والا اور توجہ طلب ہے۔
جدید اسلحے ، مذہبی تنگ نظری اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کی دوڑمیں شامل بھارت جیسے ملک میں پسماندگی، مفلسی اور غربت کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب بھارتی شہر اورنگزیب آباد اور مہاراشٹروغیرہ میں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث مخیر حضرات کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت غریب افراد کے لئے ’’روٹی بینک‘‘ کھلنے لگے ہیں جہاں سے غریبوں کو مفت روٹی ملتی ہے۔ایسا اس لئے ہے کہ ریاست اپنے ا ن شہریوں کی بنیاد ی ترین ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔
ایک بھارتی جریدے نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام
UNDP
(یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام ) کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ عا لمی اداروں نے انسانی ترقی کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور غربت کے حوالے سے اعداد و شمار بھارتی حکومت کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ یو این ڈی پی کے مطابق بھارتی ریاستوں گجرات، یوپی، مغربی بنگال اور آسام کے دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔بھارت میں اقوام متحدہ کے اس ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر نے بھارت کے قومی ادارہ برائے دیہی ترقیات کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوں تو بھارت مجموعی طور پر غربت میں کمی کے اپنے ہدف کو پورا کرنے میں لگا ہے لیکن دیہی علاقوں میں غربت و افلاس کئی شکلوں میں نظر آتا ہے، کاشتکاری کے شعبے میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور دیہی لوگوں کے لئے روزگار و معاشی ترقی کے مواقع توقع کے مطابق بہتر نہیں ہورہے۔


انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے مسلمانوں سے متعلق متعصبانہ اور شدت پسندانہ رویوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں تک مذہبی بنیادوں پر غربت کا سوال ہے تو بھارت میں مسلمانوں میں یہ شرح سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت کی یہ شرح آسام، اتر پردیش، مغربی بنگال اور گجرات کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2015ء میں بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن نے بھی د عویٰ کیا تھا کہ ملک میں غریبوں کی modikbarat1.jpgتعداد میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے لیکن شہری علاقوں میں تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں بدستور غربت بڑھ رہی ہے۔سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئی تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں مسلمان آبادی سب سے زیادہ غریب ، پسماندہ اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے ۔ نوبل انعام یافتہ اور معروف معاشی دانشور امرت سین نے نئی دہلی میں منعقد ایک پروگرام جو حکومت کی طرف سے غربا کو نقد رقم تقسیم کرنے کے منصوبے پر تھا‘کے موقع پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے دینے کی یہ سکیمیں غریبوں کو غذا فراہم کرنے کے حق میں کبھی بہتر نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس پالیسی مرتب نہ کی جائے ۔
یونی سیف
(United Nations International Children's Emergency Fund)
بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والا ایک معروف عالمی ادارہ ہے ۔ اس نے
``Children in Urban World``
کے عنوان سے جاری کر دہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے غریب بچوں کی حالت دیہی علاقوں کے بچوں سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔ یونی سیف نے بھارت کے بڑے شہروں میں نہایت غریب افراد پر مشتمل تقریباً پچاس ہزار گندی بستیوں کے متعلق اپنے سروے میں بتایا کہ ان بستیوں میں ہر تین میں سے ایک شخص یا توگندے نالے یا پھر ریلوے لائن کے پاس رہتا ہے جبکہ ان گندی بستیوں اور ان کے آس پاس رہنے والے بچوں کی حالت گاؤں کے بچوں سے بھی بہت بری ہے اور ان بچوں کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر گندی بستیاں ریاست مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور گجرات میں ہیں۔بھارت میں بڑھتی غربت اور غریب بچوں کی حالتِ زار پر توجہ دلاتے ہوئے ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسزکے سربراہ ڈاکٹر پرسو رام کا کہنا ہے کہ بھارت میں غربت کے سبب کم عمر بچوں کی اموات زیادہ ہوتی ہیں ۔ڈاکٹر پرسو رام کے مطابق بھارت میں تیزی سے پھیلتی ہوئی غربت سے سب سے زیادہ دلت اور مسلمانوں کے بچے متاثر ہورہے ہیں۔


قارئین ! مندرجہ بالا سطور میں ہم نے مستند عالمی اور بھارتی اداروں اور ماہرین کی چند ہوشربا رپورٹس اور تازہ خبروں کی روشنی میں نریندر مودی کے بھارت میں غربت،افلاس ، تنگدستی، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی اور پسماندگی کا ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے، ہمارے خیال سے ان اداروں کی رپورٹس اور جائزوں کویکسر مسترد کرنا قرین انصاف نہیں ہوگا ۔ ان رپورٹس کی بابت جب پڑوسی ملک کے چند صحافیوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پھیلی غربت اورمفلسی کے حوالے سے انہیں کافی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس عنوان پرابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پور ی ریاست میں پسماندگی کی صورتحال اس سے بھی بری ہے،بالخصوص دیہات اور دو ر دراز کے علاقوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں۔یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ یہ حالت ایک ایسے ملک کی ہے جس کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مضبوط ترین جمہوری ، فوجی، معاشی اور اقتصادی ریاست ہے اور اگر کسی ملک نے غربت اور پسماندگی سے نبرد آزماہونا ہے تو وہ بھارت کو رول ماڈل قرار دیتے ہوئے اور اس سے کچھ سیکھ کر ان چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے ۔


بہر کیف پڑوسی ملک کی مودی سرکار اوراس کے ساتھیوں کو چاہئے کہ اپنے بھاری بھر کم فوجی بجٹ اور دہشت گرد ہندو تنظیموں کو نوازنے کے لئے مختص رقم میں سے کچھ حصہ غریبوں کی روٹی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بھی نکالیں۔اپنے ملک سے دہشت گرد اور تنگ نظر ہندو تنظیموں کو ختم کرکے صحت ، روزگار اور تعلیم کے معاملات پرتوجہ دینے کے ساتھ ساتھ نفرت آمیز رویوں کا خاتمہ کرکے اقلیتوں اور غریبوں کو جینے کا حق دیجئے وگرنہ زمینی حقائق یہ بتارہے ہیں کہ اگر تختِ دلی نے ان اہم بنیادی انسانی مسائل کی جانب توجہ نہ دی تو اس کی یہ مجرمانہ غفلت اس کے گلے کاپھندا بن جائے گی اور حکمرانوں کے انسانیت دشمن اور مسلم، عیسائی ، سکھ دشمن اقدامات آخر ایک دن بھارتی وجود کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ یوں اس ریاست کے لئے اپنی بقاکی جنگ لڑنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
February

تحریر: جویریہ صدیق

جنگی جنون میں مبتلا بھارت، جس کا دفاعی بجٹ 52 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے بلکہ خطے میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے ایک طرف تو 2008 سے 2015 تک اس نے ہتھیار خریدنے کے لئے 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے جبکہ دوسری طرف اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود پر بہت کم خرچ کررہا ہے۔ بدانتظامی اور بے ایمانی اس قدر عروج پر ہے کہ بھارت کے فوجی بھوک، افلاس، تنگ دستی اور نامساعد حالات کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہوگئے ہیں ۔


بھارتی فوج اپنی حکومت اور اعلیٰ حکام کے ناروا رویے کے باعث بددلی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ مشکل حالات اور کم سہولیات میں ڈیوٹی بھارتی فوجیوں کے حوصلے پست کررہی ہے اور وہ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں ۔جس وقت میں یہ سطور رقم کررہی تھی اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب 10 بھارتی فوج برفانی تودے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے تھے۔کشمیر بھارتی فوجیوں کا قبرستان ثابت ہورہاہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فوجی آزادی کے متوالوں کی وجہ سے مزید خوف کا شکار ہیں ۔


دہلی سرکار کے جنگی جنون اور پاکستان سے دشمنی پر سیاست چمکانے میں قربانی کا بکرا صرف بھارتی فوجی بنتے ہیں ۔جنہیں ناکافی تربیت اور کم ساز و سامان کے ساتھ بارڈر اور مختلف آپریشنز میں بھیج دیا جاتا ہے اور جہاں انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اکثر اوقات دہلی سرکار خود بھی ڈرامے کرکے اپنی ہی فوج پر حملے کرواتی ہے خود اپنے فوجی مار کر الزام پاکستان پر دھر دیتی ہے ۔یہ طریقہ واردات بھی بھارتی فوجیوں کو بزدل بنا رہا ہے۔

bamuqablaba.jpgکم سہولتوں اور ناقص اسلحہ و ناکافی ساز و سامان کے باعث بھارتی فوجی نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں ۔خالی پیٹ جب وہ محاذوں پر ڈیوٹی سے اکتا جاتے ہیں تو چھٹی کی درخواست کرتے ہیں لیکن چھٹی نہیں ملتی ۔یہ وجہ بھارتی فوجیوں کو مزید چڑچڑا بنارہی ہے۔12 جنوری 2017 کو مشرقی بہار میں ایک سینئر اہلکار نے چھٹی نہ ملنے پر اپنے چار سینئر افسران پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ چاروں افسران اس واقعے میں جانبر نہیں ہوسکے۔یہ تمام سکیورٹی اہلکار سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس سے تعلق رکھتے تھے ۔اس بھارتی فورس کا کام اٹیمی تنصیبات اور ائیر پورٹ کی سکیورٹی ہے۔اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارتی اٹیمی تنصیبات کی سکیورٹی کیسے ہاتھوں میں ہے ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ فروری 2014 میں بھی ایک بھارتی فوجی نے سری نگر میں قائم ملٹری کیمپ میں اپنے 5 ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خود کشی کر لی تھی ۔وجہ یہی تھی کہ سینئر نے چھٹی دینے سے انکار کیا ۔فوجی لمبی ڈیوٹی، کم خوارک، سخت سردی اورنا مناسب رہائش کی وجہ سے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا اور جب اس نے دیکھا کہ چھٹی تو نہیں مل رہی تو اس نے موت کو گلے لگایا لیکن اس سے پہلے اپنے پانچ ساتھیوں کو بدلے کی آگ کی نذر کر دیا ۔


لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے دوران بھی بھارت کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔لیکن عیار و مکار دہلی سرکار اپنے فوجیوں کی لاشیں چھپا لیتی ہے اور ان کے لواحقین کو مجبور کرتی ہے کہ چپ چاپ ان کا انتم سنسکار کردو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو ۔یہ رویہ بھی بھارتی فوجیوں میں بددلی پھیلا رہا ہے ۔کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے لئے جان دینے والوں کو رات کی تاریکی میں آگ دی جاتی ہے اور ان کے گھر والے مہینوں مرنے والوں کی پینشن کے لئے دھکے کھاتے ہیں تو بھارتی فوجیوں کی لڑنے کی ہمت مزید شکستہ ہو جاتی ہے۔2 نومبر 2016 کو سابق بھارتی فوجی رام کشن گریوال نے پینشن کے معاملات حل نہ ہونے پر خودکشی کرلی تھی ۔


مقبوضہ کشمیر میں2014سے 2016تک 125 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جن میں سے18 اوڑی حملے میں مارے گئے تھے۔بھارت کے اپنے ہمسایوں پر حملے اور ریاستوں پر قابض رہنے کے لئے جنونیت نے اس کے اپنے فوجیوں کی کمر توڑ دی ہے۔جنگ میں مرنے والوں سے زیادہ تعداد خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی ہے ۔2009 سے 2014تک 597بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔2015میں 69فوجیوں نے خود کو موت کی نیند سلا لیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد پاگل پن کا شکار ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں ڈیوٹی دینے والے تقریبا 375 کے قریب بھارتی فوجی پاگل پن کا شکار ہو چکے ہیں اوران کا علاج نفسیاتی طبی مراکز میں جاری ہے۔


بھارتی فوج اور سرکار کی رہی سہی عزت کا جنازہ اس ویڈیو نے نکال دیا جس میں ایک بھارتی فوجی جوان تیج بہادر نے عام سپاہیوں کو ملنے والی سہولیات کا پول کھول دیا۔کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو سپاہی نے ویڈیو فیس بک پر ڈال دی اور ویڈیو وائرل ہوگئی ۔ویڈیو میں سپاہی جلی ہوئی روٹیاں اور پانی والی دال دکھا رہا ہے۔اس ویڈیو میں تیج نے کہا میں بی ایس ایف کی 29 بٹالین کا جوان ہوں یاد رہے یہ وہ بٹالین ہے جوکہ جموں و کشمیر میں فرائض انجام دیتی ہے۔


وہ کہتا ہے ہم برف، ٹھنڈ، طوفان میں روز گیارہ گھنٹے کی ڈیوٹی دیتے ہیں ۔تیج کہتاہے کہ نہ میڈیا ہماری صورتحال دکھاتا ہے نہ کوئی منسٹر ان کی بات سنتا ہے۔وہ کہتا ہے ہمارے حالات بہت خراب ہیں، ہمارے ساتھ بہت نا انصافی ہورہی ہے۔ہمیں اکثر بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے۔اکثر صبح ڈیوٹی بھی خالی پیٹ دینا پڑتی ہے۔ہمیں ناشتے میں ایک جلا ہوا پراٹھا ملتا ہے وہ بھی صرف چائے کے ساتھ۔ دوپہر میں صرف ہلدی، نمک والی دال ملتی ہے اور روٹیاں بھی جلی ہوئی ہوتی ہیں ۔


اس نے اپنے سینئرز کے بارے میں کہا کہ وہ چیزیں بیچ دیتے ہیں اسی وجہ سے اشیاء ان تک نہیں پہنچتی ۔اس نے سوال کیا ایسی خوارک کھا کر کیا دس گیارہ گھنٹے ڈیوٹی کی جاسکتی ہے؟تیج نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا شاید اس ویڈیو کے بنانے کے بعد وہ غائب کردیا جائے کیونکہ اعلیٰ افسران کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ باقی تین ویڈیوز میں اس نے پانی میں بنی دال دکھائی، جلی ہوئی روٹیاں دکھائیں۔ دہلی سرکار کی یہ ویڈیو دیکھ کر نیندیں اڑ گئیں۔کہاں 51 ارب ڈالر کا بجٹ اور کہاں بھوک سے بلبلاتے فوجی۔بی ایس ایف حکام یہ ویڈیو دیکھ کرسیخ پا ہوگئے اورالٹااس جوان کے خلاف انکوائری کاحکم دے دیا۔اس کے کیرئیر پر سوال اٹھا دیئے کہ اسکا کردار شروع سے ٹھیک نہیں، وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور اسے شراب کی بھی لت ہے‘ اس کی بہت عرصہ کونسلنگ بھی کی گئی ہے ۔


تیج نے میڈیا پر آکر کہا اگر بھارتی فوجی جوانوں کا خیال رکھا جاتا تو وہ ایسی ویڈیو کیوں پوسٹ کرتا۔اس نے کہا یہ مجھ پر الزام ہے کہ میرا کردار ٹھیک نہیں۔ یہ سب الزام تراشی میرے خلاف سچ کو سامنے لانے پر کی جارہی ہے۔تیج بہادر یادیو کی بیوی شرمیلا یادیو نے بھی کہا روٹی مانگنا کوئی جرم تو نہیں ۔جو سچائی ہے وہی ان کے شوہر سامنے لائے ۔شرمیلا نے مزید بتایا تیج کو سچ بولنے کی سزا ملی ہے۔ اس کو پلمبر بنا کر دوسری یونٹ میں بھیج دیا گیا ہے اور اس کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔ باڈر پر بیٹھے فوجی اب بھی بھوکے بیٹھے ہیں ۔
بی ایس ایف کے جوان کے بعد سی آر پی ایف کے جوان جیت سنگھ نے بھی اپنی ویڈیو بنا کراَپ لوڈ کردی اور اپنی تنخواہ اور مراعات میں اضافے اور چھٹی کا مطالبہ کرڈالا۔سلسلہ یہاں نہیں رکا بھارتی فوجی لانس نائیک یگیا پرتاب سنگھ نے بھی ویڈیو اپ لوڈ کردی جس میں اس نے کہا میں ایک سپاہی ہوں لیکن ہم سے افسروں کے گھر کے کام کروائے جاتے ہیں، ہم ان کے جوتے صاف کرتے ہیں ، ان کے کتوں کو سنبھالتے ہیں‘ ان کے گھروں میں ملازموں کی طرح کام کرتے ہیں۔


اس طرح کے ایک اور واقعے میں 29 ستمبر 2016 کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی چندو لال اپنے کمانڈر کے رویے سے نالاں ہوکر سرحد پار کرکے پاکستانی فوج کے پاس پہنچ گیا۔وہ اتنا بددل تھا کہ اپنے ملک واپس جانے کو تیار نہیں تھا۔تاہم پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت چندو کو بہت سے تحائف کے ساتھ واہگہ کے راستے واپس بھارت بھیج دیا ۔16 دسمبر2016 کو خاتون فوجی انیتا کماری نے مقبوضہ کشمیر میں خود کو گولی مار کر ہلاک کر ڈالا تھا۔اس طرح کے سیکڑوں واقعات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوجی بھارتی سرکار کے جنگی جنون اور رویے سے اکتا گئے ہیں ۔


بھارتی سرکار اپنے جنگی جنون کی آگ میں اپنے فوجیوں کو جھونک رہی ہے۔فوجی چھٹی اور سہولیات نہ ملنے کے باعث مایوس ہوگئے ہیں نہ ان کی زندہ ہوتے ہوئے عزت ہے نہ ہی مر کر عزت و تکریم۔بھارتی فوج قطعی طور پر بھی جنگ کے لئے تیار نہیں ہے۔بھارتی سرکار کے جنگی جنون نے بھارتی فوجیوں کو چڑچڑا اور نفسیاتی مریض بناکررکھ دیاہے۔ بھارت کی تینوں فورسز میں کوآرڈینیشن بہت کم ہے اسلحے کی دیکھ بھال بھی مناسب طریقے سے نہیں ہو رہی۔ بھارتی فوج میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ وزارت دفاع اور فوج میں خلیج حائل ہے جس کے باعث فوج کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ بھارتی فوجی خالی پیٹ اسلحہ اٹھا کر جنگ لڑنے سے قاصر ہیں ۔


اس کے برعکس پاکستان میں حالات بالکل مختلف ہیں ۔پاکستانی فوج انتظامی امور بہترین طریقے سے چلا رہی ہے اور پاک فوج کے سپاہیوں اور افسران کو بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔گزشتہ تین برس میں پاکستانی فوج نے بدترین دشمن اور سخت موسم کا مقابلہ کرتے ہوئے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت باقی علاقوں میں حکومتی رٹ قائم کی۔ اس دوران ان کے حوصلے بلند رہے اور کوئی بھی ایسا نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس میں سپاہیوں کو انتظامی طور پر کسی مشکل سے واسطہ پڑا ہو۔ الحمدللہ پاکستانی فوج میں خود کشی کی شرح زیرو فیصد ہے۔ محاذوں پر موجود پاکستانی سپاہیوں اور افسران کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔پاکستانی دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے جہاں بھارت 51 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے تو وہیں پاکستان6سے 8 ارب ڈالر اپنے دفاع پر خرچ کررہا ہے جوکہ ملکی بجٹ کا صرف 16سے 18فیصد ہوتا۔پاکستان کی پانچ لاکھ پر مشتمل فوج کو ہر طرح کی ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔پاک فوج کے افسران ہمیشہ اپنے جوانوں کے انتظام و انصرام کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ انتہائی ناگزیر حالات کے علاوہ پاک فوج ہمیشہ اپنے فوجیوں کے کھانے، چھٹی اور آرام کا خاطرخواہ انتظام کرتی ہے اور اونچے مورال اور بہترین ڈسپلن کو پہلی ترجیح دیتی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل حالات پڑنے پر پاکستانی فوجی اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اور کئی کئی ماہ اپنے گھر والوں سے دُور رہنے کے باوجود اپنے حوصلے و عزم کو بلند رکھتا ہے۔ پاک فوج کے افسر اور سپاہی کا پکا یقین ہے کہ پاک فوج زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اس کے خاندان اور گھر والوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑے گی۔ سیاچن گلیشیئر، کشمیر کے پہاڑ، تھر کے ریگستان، فاٹا اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ اور میدان ہوں، پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ ان کا مطمع نظر ذاتی یا دنیاوی منفعت نہیں ہے بلکہ پاکستان کا دفاع اور سلامتی باقی تمام فیکٹرز پر مقدم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی کے سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ نے پاکستان فوج کو دنیا کی بہترین فوج سے تعبیر کیا ہے۔


پاکستانی فوجی جس وقت محاذ پر ہوتے ہیں انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ ان کے بیوی بچے پیچھے کس حال میں ہوں گے ۔فوجیوں کے خاندانوں کے لئے بہترین تعلیمی، طبی اور رہائشی سہولیات موجود ہیں ۔افسران یا سپاہیوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاتی ۔اگر دوران جنگ کوئی فوجی، چاہے وہ سپاہی ہو یا افسر، شہید ہو جائے تو آرمی چیف اور کور کمانڈر خود اس کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔ شہید ہونے والے فوجی کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا جاتا ہے۔ تدفین اور جنازے کے اخراجات بھی آرمی کے ذمہ ہوتے ہیں ۔ان کے لواحقین کی مکمل داد رسی کی جاتی ہے۔شہید کے خاندان کو پینشن ملتی ہے، انشورنس کی رقم، بچوں کے لئے الاؤنس،بارہ ماہ کی سیلری، پلاٹ، زرعی اراضی، بیوہ اور بچوں کے لئے مفت طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔یہ چیزیں اس قربانی کا نعم البدل بالکل نہیں جوکہ ایک فوجی اپنی جان کو وطنِ عزیز پر قربان کرکے دیتا ہے تاہم یہ سہولیات اس کے خاندان کی گزر بسر میں آسانی پیدا کر دیتی ہیں۔اسی طرح اگر کوئی بھی فوجی زخمی ہوکر لوٹتا ہے تو اس کا علاج معالجہ آرمی کے ذمے ہے۔اگر وہ اپنی صحت یابی کے بعد فیلڈ میں نہیں جاسکتا تو اس کو آرمی کے دیگر محکموں میں پوسٹ کردیا جاتا ہے ۔اس کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔


پاکستان کے عوام اپنی فوج سے بہت محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔پاکستانی فوجی اپنے ملک اور عوام سے پیار کرتے ہیں۔ اس کے دفاع کے لئے ہر ممکن قربانیاں دیتے ہیں ۔افسران اور سپاہیوں کے مابین اخوت کا رشتہ مثالی ہے۔ جب وہ اپنے ساتھ اپنے سینئرز کو شانہ بشانہ جنگ لڑتے دیکھتے ہیں تو یہ ان کے جذبے اور ہمت کو دیتا ہے۔جب سپاہی اپنے سینئرز کو وہ کھانا کھاتا دیکھتے ہیں جو وہ خود کھاتے ہیں اور اپنی طرح کا رہن سہن تو یہ طبقاتی فرق کو مکمل طور پر ختم کردیتا ہے یہی بھائی چارہ پاک فوج کا اتحاد قائم رکھتا ہے۔بھارت جتنے بھی ہتھیار خرید لے لیکن اس کے فوجی اپنے اندر وہ جذبہ نہیں پیدا کرسکتے جو اسلام کے سپاہیوں، پاک فوج، میں موجود ہے ۔


کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

جویریہ صدیق ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

twitter@ Javerias

پاکستانی سپاہی دنیا کا بہترین سپاہی ہے۔

maj_gen_asif_ghafoor_new.jpg

میجر جنرل آصف غفور

افواجِ پاکستان میں ملازمت محض نوکری نہیں ہے بلکہ یہ ایک جذبہ ہے۔ یہ ایک طرز زندگی ہے۔ ہمارا ساتھ اوپر کی سطح سے لے کر بٹالین اور کمپنی کی سطح تک جاتا ہے۔ سال میں کوئی افسر اور جوان کتنی چھٹی جاتا ہے؟ ہم سال میں گیارہ ماہ تو اکٹھے رہتے ہیں۔ سو ہم سب آپس میں جڑی ہوئی ایک مربوط فیملی کی طرح سے ہیں۔ ہماری کمانڈ اور سپاہی کا رشتہ فوجی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والوں سے بھی ہے۔ ہم اپنے سولجرز کے بچوں کی شادیوں اور خوشی غمی میں ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اکٹھا کام کرتے ہیں۔ پاک فوج میں افسر اور سپاہی کا رشتہ سگے رشتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم ایک بہت ہی مضبوط اور منظم فوج ہیں اور جب ایک فوج مربوط ہوتی ہے تب ہی وہ کامیاب اور لمبی جنگ لڑ سکتی ہے۔جہاں تک سولجر کی ویلفیئر کا تعلق ہے تو افسر کی یہ ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ اپنے سپاہی کا خیال رکھے۔ اگر سپاہی کو اپنے افسر سے محبت نہیں ہے تو اس کے اندر اپنے ملک کے لئے جان دینے کا جذبہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور باہمی محبت ہمارے جذبے، عزم اور حوصلے کا بنیادی حصہ ہے۔ ہمارا سپاہی دنیا کا بہترین سپاہی ہے۔

 

Follow Us On Twitter