09
August
Published in Hilal Urdu
Read 22 times
اگست 2017
شمارہ:8 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
14اگست1947کو معرض وجود میں آنے والے وطنِ عزیز پاکستان کو اپنے قیام کے آغاز ہی سے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس نوزائیدہ ریاست نے ہندوستان کی اَن گنت سازشوں کا سامنا کیا۔ لیکن پھر بھی اپنا سفر اعتماد اور وقار کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ پاکستان ایک نظریے اور مقصد کے پیش نظر قائم ہوا جہاں برِصغیر کے مسلمان مذہبی، سیاسی، معاشی و سماجی اعتبار سے....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان
گزشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے بھوٹان سے ملنے والی سرحد پر چین اور بھارت کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ وجہ تنازعہ سطح مرتفع پر مشتمل ایک چھوٹا سا علاقہ ڈوکلم
(Doklam Plateau)
ہے۔ جہاں بھارت، بھوٹان اور چین کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ اصل معاملہ بھوٹان اور چین کے درمیان ہے بھوٹان کا کہناہے کہ یہ علاقہ اُس کا حصہ ہے۔ جبکہ چین کامضبوط دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ زمانہ قدیم ....Read full article
 
 alt=
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
بحیرۂ روم سے بحیرۂ عرب تک پھیلا جس طرح مشرقِ وسطیٰ آج عالمی سیاست کا محور ہے، اگر ہم تاریخ میں جھانک کر دیکھیں تو یہی خطۂ ارض پچھلے تین ہزار برسوں سے زائد عرصے سے ایشیا، افریقہ اور یورپ کی تہذیب و تمدن اور سیاست کا مرکزومحور رہا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے یہیں سے جنم لیا۔ سمیری اور مصری تہذیب، یونانی تہذیب جسے آرکیالوجسٹ، یوریِشین تہذیب کہتے ہیں، انہی خطوں کے قریب....Read full article
 
تحریر: جبارمرزا
پاکستان قائم ہوئے پورے ستر برس بیت گئے۔ البتہ موجودہ 14اگست پاکستان کی تاریخ کا اکہترواں ہے۔ پہلا 14اگست 1947کا تھا جس روز پاکستان قائم ہوا تھا۔ 14اور 15اگست کی درمیانی رات برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک حصہ پاکستان کہلایا اور دوسرا ہندوستان۔ 14اور 15اگست 1947 کی درمیانی رات بارہ بجے پہلے انگریزی میں جناب ظہور آذر نے اور پھر اردو میں جناب مصطفی علی ہمدانی نے ریڈیو....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ حربی صلاحیتوں پر قوم کوہمیشہ نازرہا ہے ۔ محافظانِ وطن کی کامیابیوں ، کامرانیوں اور جرأتوں پر مبنی داستانوں کو قلمبند کرنا آسان نہیں ، بلاشبہ اس قوم کے ایک ایک فرد کے دل میں پاک فوج کی جو محبتیں بسی ہیں، ان کے پیچھے عزم و ہمت اور قربانیوں کی طویل داستانیں ہیں۔ سیلاب اور زلزلہ متاثرین کی بحالی ہو یا سیاچن سے لے کر وزیرستان ، بلوچستان اور ملک کے چپے چپے پر.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں قیام پاکستان کے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالی تھی اور لکھا تھا کہ14-15 اگست کی نصف شب جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہ قدر کی مبارک رات تھی۔ جسے ہم لیلتہ القدر کہتے ہیں۔ 15 اگست 1947ء کو جب پاکستانی قوم نے اپنا پہلا یوم آزادی منایا تو اس روز ستائیسویں رمضان اور جمعتہ الوداع کا دن تھا۔ گویا ساری نیک ساعتیں اس روز یکجا ہوگئی تھیں۔....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
مذہب انسان کی زندگی کا وہ حساس پہلو ہے جس پروہ شاذ ونادر ہی کوئی سمجھوتہ کرتاہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مذہب سے انسان کی دلی یا جذباتی وابستگی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اچھے یا بُرے معنوں میں مذہب کے نام پر آسانی سے جذبات سے کھیلا جاسکتا ہے۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے جو انسانی جبلت کے نرم خو یا متشدد پہلو کوابھارتا ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی اجازت نہیں اور نہ ہی ناحق خون بہانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے لیکن پھربھی اس کے اندر موجود.....Read full article
 
تحریر: فتح محمد ملک
آج جب نظریاتی استقامت کو انتہا پسندی کا نام دیا جاتا ہے تو مجھے "ہندوستان ٹائمز" کا وہ خراجِ تحسین یاد آتا ہے جو اس مؤقر روزنامہ نے قائداعظم کو پیش کیا تھا۔ بابائے قوم کی رحلت پر ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے لکھا تھا کہ اُن میں ایسی قوتِ ارادی تھی جو اُن کی راہ میں حائل ٹھوس حقائق کو توڑ پھوڑ کر خوابوں کو جیتے جاگتے حقائق میں منتقل کر سکتی تھی۔....Read full article
 
سروے: زین سرفراز
نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ قوموں پر جب بھی کبھی آزمائش کا دور آتا ہے تو نوجوان نسل اس آزمائش سے نکلنے کے لئے اپنا کردار ادا کر تی ہے۔ تحریکِ آزادئ پاکستان میں بھی نوجوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی نوجوانوں کے دل میں وطنِ عزیز کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا جذبہ موجزن ہے۔ ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) کی کارگل کے محاذ پر شاندار کارکردگی سے سب بخوبی واقف ہیں۔ معرکہ کارگل سے پہلے این ایل آئی کی بٹالینز صرف شمالی علاقہ جات میں عسکری خدمات سر انجام دیا کرتی تھیں۔ بعد ازاں انہیں ریگولر رجمنٹ کا درجہ دے دیا گیااور یوں ان کی خدمات کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہو گیا۔ این ایل آئی یونٹس نے موقع ملتے ہی دوسرے محاذوں پر بھی اپنی جنگی صلاحیتوں کا بخوبی لوہا منوایا....Read full article
 
تحریر: سمیع اﷲ سمیع
سرحدیں دل کی ہوں یا دنیا کی، کبھی ایک سی نہیں رہتیں ۔ پیہم تبدیلی ہی زندگی کی دلیل ہے۔ لفظ تقسیم برا بھی ہے اوراپنے تئیں اچھا بھی ہے۔کانگریسی صدراورسابق بھارتی وزیرداخلہ سردارپٹیل واشگاف الفاظ میں اقرارکرتے تھے کہ اگر دوبھائیوں کے مابین جھگڑا ختم نہ ہورہاہوتو تقسیم یقینی ہوتی ہے اوریہ فطری عمل ہے۔درحقیقت بروقت اورمبنی برانصاف تقسیم ہی کدورتوں کوروکتی ہے لیکن افسوس کہ ماؤنٹ بیٹن کی.....Read full article
 
تحریر: کیپٹن بلال نیازی
اور تم کیا جانو یہ کون لوگ ہیں؟جن کے قدموں کی دھمک سے پہاڑ تھرتھراتے ہیں۔جنہوں نے انسانی لباس پہن رکھاہے مگرجن کی پیشانیوں پرآسمان تحریریں لکھ رہا ہے۔ یہ کون راہرو ہیں جن کے قدم کبھی تھکتے نہیں؟یہ فاتح کون ہیں جنہوں نے بھوک اور پیاس کو یرغمال بنا رکھا ہے؟ جن کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں اچکنے کے لئے فرشتے تیار ہیں۔ایسے جذبے سے سر شار کچھ ایسی ہی داستان حوالدار ظہور احمد.....Read full article
 
اس دنیا میں اربوں لوگ ہیں اور اس میں سے ہر شخص کی کوئی نہ کوئی پسندیدہ شخصیت ہے۔ میری پسندیدہ شخصیت میرے بابا میجر اکبر شہید ہیں۔ وہ اس ملک کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کے لئے جان قربان کر دی۔ مجھے ان کے .....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
آرٹس کونسل کراچی میں تو ایک دن میں کئی ایسے پروگرام ہوتے ہیں اور ان میں شرکت کرکے یا نظامت کرکے بہت اچھا لگتا ہے۔ گزشتہ دنوں ونکوور میں دو ایسی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن سے اپنے دیس کی یاد تازہ ہوگئی۔....Read full article

تحریر: کوکب علی
’’ یوکرائن کی چمکدار زمین۔۔۔ تم ہمیشہ دمکتی رہو۔۔۔متحد اور شبنم کے قطروں کی طرح تابناک رہو۔یہاں تک کہ سورج تمہیں ماند نہ کر دے۔۔۔۔
ہم زمین پر حکومت کریں گے اور اس کو ترقی کی منازل تک پہنچائیں گے۔۔۔
ہم نے اپنی روح تک اس زمین کی آزادی کے لئے قربان کی۔۔ جذبہ اور محنت ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ........Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965 کی جنگ کے دوران مجھے ہر روز ایک نیاملی نغمہ پروڈیوس کرنے کا حکم تھا اور میری یہی کوشش ہوتی کہ کوئی دن خالی نہ جائے ۔یہ میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھی کہ نور جہاں جیسی بڑی فنکارہ کی ریڈیو پاکستان میں موجودگی سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ روزانہ ایک نئے نغمے کا انتخاب بھی بڑا مشکل کام ہوتا۔ 13 ستمبر1965 کو میرے پاس فائل میں موصول ہونے والے بے شمار نغمے تھے مگر....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
کدھرکھوئے ہومجاہد؟؟ حیدر نے پیچھے سے آکرپوچھا۔
ادھرہی توبیٹھاہواہوں۔ اس نے مڑے بغیرجواب دیا۔
گھرمیں سب کیسے تھے ؟؟؟
گھر؟؟؟؟ اس نے حیرانی سے حیدرکی طرف دیکھا۔
ہاں یارگھر۔تم گھر گئے تھے نا!آج پانچ دن بعد ہی توآئے ہو۔حیدرمسکراتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں گھر گیاتھامیں۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے بولا۔
تو وہی پوچھ رہا ہوں ناکہ گھرمیں سب کیسے ہیں؟؟....Read full article
09
August

تحریر: محمداعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اُس وقت کے پروڈیوسر ریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

ستمبر1965 کی جنگ کے دوران مجھے ہر روز ایک نیاملی نغمہ پروڈیوس کرنے کا حکم تھا اور میری یہی کوشش ہوتی کہ کوئی دن خالی نہ جائے ۔یہ میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھی کہ نور جہاں جیسی بڑی فنکارہ کی ریڈیو پاکستان میں موجودگی سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ روزانہ ایک نئے نغمے کا انتخاب بھی بڑا مشکل کام ہوتا۔ 13 ستمبر1965 کو میرے پاس فائل میں موصول ہونے والے بے شمار نغمے تھے مگر مجھے کوئی پسند نہیں آرہا تھا۔ میری یہی کوشش ہوتی کہ اپنے محترم استاد صوفی تبسم صاحب سے گزارش کروں کہ ہمیں نیا نغمہ عطا فرمادیں۔ 13ستمبر کو صوفی تبسم ناسازی طبیعت کی وجہ سے دفتر نہیں آئے۔ میرے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا کہ آج کون سا نغمہ ریکارڈ کرایا جائے۔ میں نے نماز پڑھ کر اﷲ پاک سے دعا کی کہ میرے مولامیری مدد فرما۔ اﷲ پاک نے میری دعا قبول کرلی اور میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ علامہ محمداقبال کی مشہور نظم’’ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن‘‘ کو ریکارڈ کیا جائے کیونکہ اس میں مومن مسلمان کی چارصفات کو اجاگر کیا گیا ہے اور پاک فوج کے اکثر جوان ان تمام صفات پر پورے اُترتے ہیں۔ جن کا یہی کہنا ہے کہ اُن کی زندگی ‘مال‘ جان غرض ہر چیز اس قوم پر قربان ہے جب میں نے علامہ اقبال کی یہ نظم میڈم نورجہاں کو دی تو اُنہوں نے فوراً اس کی استھائی بنانا شروع کردی میں نے اس میں اُن کی مدد کی اور کرتے کرتے اس کی خوبصورت استھائی بن گئی پھر محمدعلی مھنوں نے انترے بنانے میں ہماری مدد کی اورہم سب کی کوشش سے شام تک یہ ملی نغمہ مکمل ہوگیا پھر اس کی کمپوزیشن میں اس کے انٹرول اور
Opening
موزوں کی گئی اس تمام صورت حال سے میڈم نور جہاں بہت خوش ہوئیں اور اس نغمے کو بڑی مہارت اور خوبی سے گایا۔ اس کی کمپوزیشن میں میرا اور میڈم نور جہاں کا کچھ اختلاف ہوا ۔ استھائی کو چھوڑنے پر بات ہوتی رہی میرا خیال تھا کہ استھائی کو مکمل کہہ کر چھوڑنا چاہئے مگر میڈم نور جہاں اس کو صرف ’ہر لحظہ ہے مومن کی‘ پر چھوڑنے پر مصر تھیں۔ مجھے یہ کہتیں کہ یہاں چھوڑنا اس کی د ھن کے مطابق ہے اور اچھا لگتا ہے میں اتنی بڑی فنکارہ کے اصرار پر رضامند ہوگیا جب رات کو یہ نغمہ مکمل ہوگیا تو سننے کے بعد بہت اچھا لگا۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں ہر نغمے کے انتخاب سے لے کر ریکارڈنگ مکمل ہونے تک بہت سی مشکلات پیش آتیں مگر میں1965کی جنگ کے تناظر اور اپنی قومی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ہر چیز کو برداشت کرتارہا‘کئی بار کمپوزیشن میں بحث مباحثہ ہوتا میڈم نور جہاں کا کمپوزیشن میں بہت عمل دخل ہوتا‘ اُن کی عظمت اور فنی مہارت کا کمال تھا کہ ہر نغمے کو سنوارنے میں دل سے پوری پوری کوشش کرتیں اور بطورِ پروڈیوسر مجھے ہر چیز کا خیال رکھنا تھا۔ میوزک چونکہ میرا بہت مضبوط
Subject
ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرے اُس وقت کے سٹیشن ڈائریکٹر مرحوم شمس الدین بٹ صاحب نے میرا انتخاب کیا اس وقت سٹیشن پر20 کے قریب پروڈیوسر تھے میرا انتخاب میرے لئے بہت عزت کی بات بھی تھی اور بہت بڑی آزمائش بھی۔ اﷲپاک نے مجھے آزمائش میں سرخرو کیا۔میری کوشش ہوتی کہ میری قوم اور سٹیشن نے مجھ پر جو اعتماد کیا میں اسے بہر صورت پورا کروں۔ ہاں اب بات تھوڑی سی کمپوزیشن پر ہوجائے۔ استھائی میڈم نور جہاں نے بنائی جبکہ اس کے انترے میں نے کمپوز کئے اور کوشش کی کہ ان تمام عناصر یعنی قہاری و غفاری و قدسی و جبروت مسلمان کی یہ چار صفات یعنی غلبہ حاصل کرنا‘بخشنے والا‘ بڑا پاک صاف اور جاہ و جلال یہ وہ صفات ہیں جو علامہ اقبال کی نظر میں اصل مسلمان کی صفات ہیں اس کی تشریح کرنے میں گانے میں پورا پورا اہتمام کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ میڈم نور جہاں استھائی چھوڑنے کے بعد یہ مصرعہ دہراتیں۔ ہر لحظہ ہے مومن کی اور اس کے بعدانٹرول ختم ہونے کے بعد انترا اٹھاتیں اس طرح یہ تمام کمپوزیشن مکمل ہوئی۔ اس قومی نغمے کو فوری طور پرتسلسل کے ساتھ رات کو نشر کیاگیا اور ہمیں اس کا بہت عمدہ رسپانس ملا صبح کے وقت جب صوفی تبسم صاحب دفتر آئے تو مجھے شاباش دی کہ اعظم تم نے کمال کردیا ہے۔ میں کل طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے نہیں آسکا اور تم نے یہ نغمہ ریکارڈ کرکے بہت عمدہ کام کیا ہے۔ صوفی تبسم صاحب کی داد سے میرا حوصلہ مزید بلند ہوگیا اور پھر ہم نے اگلے نغمے کی تیاری شروع کردی۔ یہ نغمہ رئیس امروہوی کا لکھا ہوا تھا۔ ’’امیدِ فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو‘‘ اس نغمے کے بول سے ہمیں حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ میں اپنی پوری ریکارڈنگ ٹیم کے ساتھ ’’امیدِ فتح رکھو اور علم اُٹھائے چلو‘‘ نغمے کی ریکارڈنگ میں مصروف ہوگیااس کی مکمل تفصیل اِنْ شاء اﷲ آئندہ۔۔۔!

افواج پاکستان کا سپاہی

 

ہیں قوم کے محافظ افواج کے سپاہی
اور شان ہیں وطن کی دیتا ہے دل گواہی
حرمت کے پاسباں ہیں یہ فوج کے جیالے
اپنے وطن کا روشن ہیں نام کرنے والے
دشمن کا بھی وطن پر پڑنے دیا نہ سایہ
ہر بار دشمنوں نے آ کر یہ آزمایا
ہر آن ہیں وطن کو آباد کرنے والے
اجڑے ہوئے دلوں کو ہیں شاد کرنے والے
امن و امان قائم رکھتے ہیں یہ وطن میں
فصلِ بہار گویا اِن سے ہی ہے چمن میں
توحید کی بھی دولت ایمان ہے دلوں میں
اور جذبۂ شہادت شامل ہے ولولوں میں
ڈرتے نہیں کسی سے اﷲ سے ڈرنے والے
اسلام کے مجاہد ہیں فوج کے جیالے
دل کی دعا ہے اسلمؔ یہ ملک شادماں ہو
دائم خدا کی رحمت کا سر پہ سائباں ہو


مظفر اسلم

*****

 
09
August

تحریر: حفصہ ریحان

(قسط اوّل)

سوات آپریشن اور طالبان کے سوات پر قبضے کے پس منظر میں لکھا گیا ناول۔

کدھرکھوئے ہومجاہد؟؟ حیدر نے پیچھے سے آکرپوچھا۔
ادھرہی توبیٹھاہواہوں۔ اس نے مڑے بغیرجواب دیا۔
گھرمیں سب کیسے تھے ؟؟؟
گھر؟؟؟؟ اس نے حیرانی سے حیدرکی طرف دیکھا۔
ہاں یارگھر۔تم گھر گئے تھے نا!آج پانچ دن بعد ہی توآئے ہو۔حیدرمسکراتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں گھر گیاتھامیں۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے بولا۔
تو وہی پوچھ رہا ہوں ناکہ گھرمیں سب کیسے ہیں؟؟
سب ٹھیک تھے۔۔ہاں ہاں سب ٹھیک تھے۔۔وہ ٹھنڈے موسم میں بھی ماتھے سے پسینہ ہٹاتے ہوئے بولا۔
تمہیں کیاہواہے مجاہد؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟؟
میں؟؟؟ نہیں۔۔میں۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔وہ بہت مشکل سے بولا۔
تم بتائے بغیرچلے گئے تھے اور وہ بھی رات کو۔۔گھرمیں خیریت تھی نا؟؟؟ حیدرکو بھی اس کارویہ پریشان کر رہاتھا۔اس لئے وہ اِدھراُدھرکے سوالات پوچھتا رہا۔
ہاں میں کہہ رہا ہوں ناکہ سب خیریت تھی۔۔ بس میں ویسے ہی گیاتھا۔ اسے تھوڑا سا غصہ آیا۔
اب تم جاؤیہاں سے۔۔میں تھوڑی دیرمیں آجاؤں گا۔
لیکن کیوں یار؟؟ تم بھی چلونامیرے ساتھ۔۔ناشتے کاوقت بھی ہونے والاہے۔۔ حیدر سمجھ گیاتھاکہ وہ کسی وجہ سے پریشان ہے۔لیکن وہ بتانہیں رہاتھا۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔بس تم جاؤ۔میں ناشتے کے لئے آجاؤں گا۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ حیدر اس کی پریشانی کے بارے میں اس سے کچھ پوچھے۔
اچھاٹھیک ہے۔حیدرجانے کے لئے اُٹھ گیا۔لیکن وہ جان چکاتھاکہ کوئی نہ کوئی پریشانی ضرورہے۔
لیکن یہ بات مجاہد کے لئے اطمینان کاباعث ضرورتھی۔حیدرناراض ہی سہی لیکن وہاں سے اُٹھ گیاتھا۔
اس تاحدنگاہ پھیلے ہوئے میدان کے اس کونے میں وہی ایک بڑاساپتھر پڑاتھاجس پراس وقت و ہ بیٹھاہواتھا۔ یہ جگہ اس کی پسندیدہ جگہوں میں سے ایک تھی۔ لیکن آج وہ پانچ دن بعدیہاں آکربیٹھاتھا اورسب کی نظرمیں وہ پانچ دن اپنے گھر گزارکرآیاتھاپر یہ صرف وہی جانتاتھاکہ وہ پانچ دن کہاں گزارکرآیاہے لیکن ایک قفل تھاجو اس کی زبان پرلگادیاگیاتھا۔ بہت بے بس کردیاگیاتھا اسے۔ بے بسی کی ایسی سلاخیں تھی جس کے پارایک تباہی تھی۔ہولناک تباہی۔ اس کے اپنے خاندان کے گیارہ افرادکی تباہی۔۔۔
اس نے گھبراکرآنکھیں بندکرلیں۔ذہن میں یادوں کے دریچے وا ہوئے۔۔۔
***************************************************
وہ آج جلدی گھر پہنچناچاہتاتھا۔لیکن جتنی جلدی وہ جاناچاہ رہاتھااتنی ہی اسے دیرہوگئی تھی۔ وہ مزدورتھا اورمزدوراپنے فیصلے خودکہاں کرتاہے۔اس کی قسمت تومالک کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
وہ گھرپہنچ چکاتھااورجانتاتھاکہ جمیلہ اسی کاانتظارکررہی ہوگی۔کیونکہ اِس گھرکاچولہافضل کی کمائی سے ہی چلتاتھااورجس دن اسے کام نہ ملتااس دن جمیلہ بی بی کے لئے گھرکاچولہاجلانا مشکل ہوجاتاتھا۔

damelahoo.jpg
ظفرکے ابا!!رات کوجب وہ لوگ سونے کے لئے لیٹے تواس نے جمیلہ کی آوازسنی۔
کیا ہوا؟
میرادل کرتاہے کہ اس باراللہ ہمیں بھی ایک بیٹی دے دے۔چاربیٹوں کے بعداب میرابہت دل کرتا ہے کہ ہماری بھی ایک بیٹی ہو۔اس کے لہجے میں ایک خواہش تھی۔
میرا بھی۔فضل آہستہ سے بولا۔
چاربیٹوں کے بعداس بارجمیلہ کے امیدسے ہونے پرفضل بھی کہیں دل کے کسی کونے میں بیٹی کی خواہش جگابیٹھاتھا لیکن اس نے جمیلہ سے اظہارنہیں کیاتھاپرآج جمیلہ نے اس کے دل کی بات کہہ دی تھی۔
اللہ نے چاہاتواس بارہمیں ضروربیٹی دے گا۔۔ جمیلہ نے اپنی خواہش کوالفاظ کاروپ دیا۔
اوراگربیٹی نہ ہوئی تو؟؟؟ فضل نے بغیر کسی وجہ کے پوچھ لیا۔
تومجھے اللہ کے کاموں میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔میں کون ہوتی ہوں اللہ کے کام کے بارے میں بولنے والی۔اللہ جس کوجوچاہتاہے عطاکرتاہے۔۔وہ روانی سے بولی۔
اوروہ عورت ایک بارپھراسے حیران کرگئی تھی۔وہ عورت اکثرہی اس کوحیران کردیاکرتی تھی۔عورت ہی توتھی وہ ۔۔۔اورعورت ہمیشہ حیران ہی کرتی ہے۔
ان دونوں کاساتھ تقریباً پندرہ سال کاتھا۔یہ نہیں تھاکہ وہ دونوں کوئی بہت ہی زیادہ خوشگوار زندگی گزاررہے تھے لیکن اپنی زندگی سے ناخوش بھی نہیں تھے اورویسے بھی خوشی کاتعلق دولت سے کہاں ہوتاہے۔ایک یہی توچیزہے جس میں غریب امیرسے زیادہ امیرہے۔
پندرہ سال کے عرصے میں اللہ نے ان دونوں کوچاربچے دئیے تھے اور اتفاق یاخوش قسمتی یاپھر بدقسمتی سے وہ دونوں ابھی تک اللہ کی رحمت سے محروم تھے اگرچہ نعمت سے اللہ نے ان کو خوب نوازاتھااور اس بارامیدسے ہونے پر جہاں جمیلہ بی بی کے دل میں بیٹی کی خواہش جاگ اٹھی تھی وہاں فضل بھی چپکے چپکے یہی دعاکررہاتھا۔۔۔
*************
پاپاآپ کب آئیں گے ؟؟مجھے آپ کی بہت یادآرہی ہے۔وہ معصوم بچہ فون پر اپنے باپ سے پوچھ رہا تھا۔
بیٹاپاپااتنی جلدی تونہیں آسکتے۔ابھی ڈیڑھ مہینے پہلے ہی توپاپامل کرآئے ہیں آپ سے۔ وہ اسے بہلاتے ہوئے بولے۔
لیکن پاپامیں آپ کومِس کرتاہوں۔وہ معصوم لہجے میں بولا۔
یہ تواچھی بات ہے کہ میرے بیٹے کوپاپایادآرہے ہیں۔وہ ہنوز اسے بہلاتے رہے۔
توپھرآپ آتے کیوں نہیں؟؟
آؤں گابیٹا بہت جلد آؤں گااورآ کربہت سارے دن اپنے بیٹے کے ساتھ گزاروں گا۔اب خوش؟؟
نہیں پاپایہ توآپ ہربارفون پرکہتے ہیں لیکن آتے نہیں ہیں آپ۔وہ انہیں پچھلے وعدے یاددلارہاتھا جووہ ہرباراس سے کرکے ہی اسے بہلاپاتے تھے۔
نہیں بیٹااب مجھے جیسے ہی چھٹی ملے گی پاپاآپ کے پاس آجائیں گے اور بہت سارے دن بھی گزاریں گے۔
پرومس پاپا؟؟
ہاں بیٹاپکاپرومس۔۔
اوکے پاپا۔ یہ لیں نانوویٹ کررہی ہیں ان سے با ت کر لیں اورماماکچن میں ہیں میں پھر ان سے آپ کی بات کرواتا ہوں۔۔۔
****************
ظفرکے ابا! میں نے ایک بات سوچی ہے۔
کیا؟
اگراس بارہمیں اللہ نے بیٹادیاتو میں نے اس کوقاری اِدریس کی طرح بناناہے۔
کیا مطلب؟وہ حیران ہوا۔
مطلب یہی ناکہ میں نے اس کوقاری اِدریس کے پاس بِٹھاناہے، وہ قاری بنے گا،عالِم بنے گا،دین کی باتیں بتائے گااوردین پھیلائے گا،کیاپتہ اللہ ہمیں ایسے ہی بخش دے۔
لیکن اس دن توتم کہہ رہی تھی کہ اللہ ہمیں بیٹی دے دے۔
چاہتی تومیں یہی ہوں لیکن اللہ کے کاموں میں کس کودخل ہے۔ کیاپتاوہ بیٹا ہی دے دے۔
ہاں یہ توہے ۔۔۔۔۔۔ خیریہ تواللہ کی مرضی ہے وہ جس کوچاہتاہے بیٹی دیتاہے اورجس کوچاہے بیٹا۔جوہماری قسمت میں ہوگاہمیں دے دے گا، چلواب سو جاؤ مجھے صبح کام پربھی جاناہے۔فضل لیٹتے ہوئے بولا۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔وہ بھی لیٹ گئی۔
******************
مدرسے میں ناشتے کی گھنٹی بج گئی جواسے سوچوں کی دنیا سے کھینچ کراذیت بھری حقیقی دنیامیں لے آئی۔کتنی تلخ ہوتی ہیں ماضی کی یادیں۔۔۔
قاری ادریس جیسابناؤں گی، دین پھیلائے گا۔۔۔اس کے ذہن میں الفاظ گونجتے رہے جوکسی دن ماں نے اسے یہ ساری باتیں سنائی تھیں۔۔۔ اس کے چہرے پرایک اذیت بھری مسکراہٹ دوڑگئی۔۔۔
************************************** 
فضل اورجمیلہ بی بی کے چاربیٹے تھے۔ سب سے بڑا ظفرگیارہ برس کا،اس کے بعد امان اللہ ساڑھے آٹھ برس کا،پھرچھ برس کاوحید علی اور پھرتین برس کااصغرعلی۔۔
ہرغریب کی طرح فضل کاخاندان بھی اس کی آمدنی سے بڑھ کرتھا۔ وہ غریب تھا، مزدور تھا،شاید اِسی لئے۔۔۔۔۔۔ اورغریب لوگ بچے سوچ سمجھ کرکہاں پیداکرتے ہیں۔
ظفرنے گیارہ برس کی عمرسے کام پرجاناشروع کردیا۔ گھرمیں بڑھتے ہوئے اِخراجات نے اسے سکول کو چھٹی جماعت میں خیربادکہہ کرمزدوری کرنے پرمجبورکر دیاتھا۔ وہ بہت حساس اور فرمانبرداربچہ تھااِسی لئے باپ کی پریشانی اور گھر میں تنگی کوسمجھ گیا تھااور ایک گیارہ سال کے بچے کی سمجھ کی مطابق اس نے یہی فیصلہ کیاکہ وہ سکول چھوڑکرکام کرناشروع کردے۔
وہ گیارہ برس کابچہ بہت سمجھدارتھا۔ اپنے گھرمیں پھیلی غربت نے اسے اپنی عمرسے زیادہ سمجھ اورسنجیدگی دے دی تھی اورغربت ہی تواِنسان کوعقل اورسمجھ دیتی ہے ورنہ بنگلوں میں رہنے اورویڈیوگیمزکھیلنے والے بچے ’سمجھ‘ کوکیاسمجھ سکیں۔
*************
پاپاآپ کل جلدی گھرآجائیں۔عمران باپ سے فرمائش کرنے لگا۔
کیوں جی؟ کوئی خاص بات؟ وہ اس اچانک فرمائش پر حیران ہوئے۔
بس ویسے ہی۔
لیکن پتہ توچلے کہ جلدی کی فرمائش کیوں کی جارہی ہے؟
پاپامیں نے اورطوبیٰ نے پلان بنایاہے کہ ہم سب کل گھومنے جائیں گے آپ کے ساتھ۔ وہ اپنے پلان میں طوبیٰ کانام شامل کرتے ہوئے بولا۔
لیکن یہ پلان بناکب اورکِس کِس نے بنایا؟؟؟
پاپامیں نے اورطوبیٰ نے۔۔
او رطوبیٰ کب اِتنی بڑی ہوگئی کہ وہ پلان بنانے لگی؟؟؟ وہ جانتے تھے کہ اس پلان میں طوبیٰ شامل نہیں تھی۔طوبیٰ کوتووہ پلان بناکربتاتاتھااوروہ خوش ہوجاتی تھی۔۔
ارے پاپا وہ توبہت بڑی ہوگئی ہے، مجھ سے بھی زیادہ بڑی، یہ پلان اسی کاہے۔
چلیں طوبیٰ سے ابھی پوچھ لیتے ہیں۔وہ جا ن بو جھ کرتنگ کررہے تھے حالانکہ جانتے تھے کہ گھومنے پھرنے کاشوق عمران سے زیادہ کسی کونہیں ہے۔
نہیں پاپا۔۔اس سے مت پوچھیں۔
کیوں؟؟؟
پاپاوہ جھوٹ بولتی ہے۔
ہاہاہا۔۔اچھاچلوبیٹانہیں پوچھتے ، جیسی تم لوگوں کی مرضی۔۔
تو آپ کل جلدی آئیں گے ؟؟؟ اس کی آنکھوں میں خوشی تھی۔
کوشِش کروں گابیٹا۔۔
کوشِش نہیں ناپاپاآپ نے ضرورآناہے۔
اورنہ آسکاتو؟؟
توپھرمیں آپ سے ناراض ہوجاؤں گا۔
تم یا طوبیٰ؟؟؟؟انہوں نے مسکراتے ہوئے حیرت سے پوچھا
پاپاہم دونوں۔۔۔
لیکن یہ پلان توطوبیٰ کاہے نا !!!تو ناراض بھی اسے ہی ہوناچاہئے۔وہ اسے پھنساتے ہوئے بولے۔
پاپا! میں آپ سے ناراض ہوں۔وہ ان کے تنگ کرنے پرمنہ بناتے ہوئے بولا۔
ہاہاہا۔۔اچھااچھانہیں تنگ کرتا۔آجاؤں گاکل جلدی اِنشاء اللہ۔۔
یاہووووووووو۔۔۔۔تھینک یوپاپا۔۔ میں ابھی جاکرطوبیٰ اور ماما کو بتاتا ہوں۔ وہ خوشی سے چلاتے ہوئے بھاگا
اچھاسنوتو۔۔۔۔۔۔انہوں نے پیچھے سے بلایا
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ جاچکاتھا۔
گھومنے پھرنے کی خبرسن کروہ کہاں رکنے والاتھا۔
**********
تائی وجیہہ سے بات کرنی ہے مجھے۔آپ کی اجازت چاہتاہوں؟؟ وہ سرجھکائے دھیمی آوازمیں بولا۔
لیکن بیٹاابھی تھکے نہیں ہوتم لوگ؟؟ نصرت چچی حیرانی سے مسکرائی۔
نہیں امی اب تورومی بھیانہیں تھک سکتے۔۔ ملیحہ نے باورچی خانے کے اندرسے آوازلگائی۔ وہ بڑے اباکے لئے چائے بنارہی تھی۔
تائی زیرلب مسکراتے ہوئے وجیہہ کوبلانے چلی گئی جوابھی تھوڑی ہی دیرپہلے دلہن کے ان بھاری بھرکم کپڑوں سے جان چھڑاکرلیٹ گئی تھی۔
صارم صحن میں جاکرمیزکے گردپڑی کرسی پربیٹھ گیا۔
سراج علی کے دوبیٹے اورایک بیٹی تھی۔بڑاسفیرعلی، اس سے چھوٹی فاخرہ اورسب سے چھوٹاشیرعلی۔سراج علی کوباپ کی طرف سے ترکے میں کچھ زمیں ملی تھی جس پر کھیتی کرکے وہ اپنااوربچوں کاپیٹ پالتے تھے لیکن پھرایک دن ان کی اچانک وفات کے بعداس خاندان پرمعاش کے لحاظ سے کافی مشکل وقت پڑا۔ سفیراس وقت بارہویں جماعت کاطالبعلم تھا۔ اس وقت کے حالات میں اس نے اپنی ماں کے مشورے سے ملک سے باہرجاکرقسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔شیرعلی کوآگے پڑھانااس کاخواب تھااورابھی فاخرہ کی شادی بھی کرنی تھی۔ اپنے باپ کے ایک واقف کارکے ذریعے ایک ایجنٹ سے بات کی اورکچھ زمین بیچ کرویزاحاصل کرلیا۔محنتی تووہ تھا ہی۔وہاں جاکرمحنت کی توگھرکے حالات بھی سدھرنے لگے۔ شیرعلی کی پڑھائی بھی چلتی رہی اورفاخرہ کاجہیزبھی جمع ہوتارہا۔ آخروہ وقت بھی آگیاجب شیرعلی نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی اوراچھی نوکری بھی حاصل کرلی اورپھرجب فاخرہ بھی عزت سے اپنے گھرسدھارگئی توفضیلت بیگم کوسفیرکی دلہن بھی گھرلانے کی فکرہوئی۔وہ ابھی شادی کرنانہیں چاہتاتھالیکن ماں کی ضدکے سامنے اس کی چل نہ سکی اورغزالہ اس کی زندگی میں شامل ہوگئی۔شادی کے دومہینے بعدوہ قطراپنے کام پرواپس چلے گئے۔غزالہ ایک بہت اچھی بہو ثابت ہوئی تھی۔ اپنی ساس کواس نے کبھی شکایت کاموقع نہیں دیاتھا لیکن یہ قسمت ہی کی بات تھی کہ اس شادی کے ڈیڑھ سال بعدہی فضیلت بیگم کوبھی اللہ نے اپنے پاس بلالیا۔ غزالہ کی گودمیں اس وقت چھ ماہ کی بچی صبیحہ موجودتھی۔ماں کی تدفین پرآیا توسداکے دردمندسفیرکو اپنے چھوٹے بھائی شیرعلی کی فکرہوئی کیوں کہ اس بار وہ غزالہ اوربچی کواپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ کافی صلاح مشورے کے بعد فیصلہ یہ ہواکہ شیرعلی کی شادی غزالہ کی چھوٹی بہن زبیدہ سے کردی جائے۔ شیرعلی نے تواپنے سارے فیصلے پہلے ہی اپنے باپ جیسے بڑے بھائی کے ہاتھ میں تھمادیئے تھے اوریوں زبیدہ شیرعلی کی زندگی میں شامل ہوگئی۔
(.....جاری ہے)

نا ول ’دام لہو‘ کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔اور کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میں زمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
August

تحریر: کوکب علی

’’ یوکرائن کی چمکدار زمین۔۔۔ تم ہمیشہ دمکتی رہو۔۔۔متحد اور شبنم کے قطروں کی طرح تابناک رہو۔یہاں تک کہ سورج تمہیں ماند نہ کر دے۔۔۔۔
ہم زمین پر حکومت کریں گے اور اس کو ترقی کی منازل تک پہنچائیں گے۔۔۔
ہم نے اپنی روح تک اس زمین کی آزادی کے لئے قربان کی۔۔ جذبہ اور محنت ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ،
ہمارے لباس سے بہتا خون۔۔قوم کے خوشحال لوگوں کو مزید سر بلند کرے گا
اور ہمارے وطن کی ندیاں اور جھرنے بھی آنے والوں کو ہماری کہانیاں سنائیں گے۔ ‘‘

shabnamkitarah.jpg
یوکرائن کے قومی ترانے کے یہ خوبصورت الفاظ اپنے وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور یوکرائنی قوم کے جذبوں کی آماجگاہ بھی۔۔
ماہِ اگست اپنے اندر ایک خوبصورت کشش رکھتا ہے۔ جیسے14 اگست 1947 سے وابستہ دلی جذبات اُس وقت خصوصی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، جب وقت اور زمانوں سے ادھر چشمِ تصور میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے۔۔۔اور اپنی مٹی کی خوشبو، زمین ، موسم ، تہذیب ، تمدن ، تہوار ،، دیارِ غیر میں بھی اپنی محبتوں کے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔۔۔ اسی طرح 24 اگست یوکرائن کی آزادی کا دن ہے۔۔۔جو یہاں کے رہنے والوں کی دلی محبتوں سے عبارت ہے۔۔


ملکی تاریخ میں آزادی کا دن وہ تاریخ ساز دن ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کو زندگی امر کر جاتا ہے اور آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے اس وطن سے محبت اور وفاداری کے امین رہتے ہیں -
ہر سال جیسے 14 اگست پاکستان میں سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے ،کیونکہ یہ دن لا زوال قربانیوں کا مظہر ہے اور انسانی تاریخ کی جدو جہد کا ایک روشن باب بھی۔ اسی طرح یوکرائن میں بھی اگست کا مہینہ اس ملک کے لوگوں کے لئے آزادی کا پروانہ لے کر آ یا اور24 اگست 1991 کو خطۂ ارض پر یوکرائن ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اُجاگر ہوا لہٰذا اس دن کو نہایت جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔۔24 اگست1991 یوکرائن کی تاریخ کا خوبصورت دن خیال کیا جاتا ہے جب یوکرائنی قوم کو آزادی کی نوید سنائی گئی۔۔اور اگلے ہی برس1992 میں ایک آزاد ملک کی حیثیت سے پاکستان اور یوکرائن کے سفارتی تعلقات استوار ہوئے۔۔۔۔اس دن کی مناسبت سے پورے یوکرائن میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔۔
یوکرائن کے دارالحکومت
Kiev
میں فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جاتاہے رضا کار فوجی دستے
March of the Unconquered
پیش کرتے ہیں جو ان لوگوں کی یاد میں پیش کی جاتی ہے جو آزادی کی راہ میں مارے گئے۔۔ اور ان تمام لوگوں کو
Heavenly Hundred
کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نیلے اور پیلے رنگ پر مشتمل یوکرائن کا جھنڈا تھامے مختلف شہروں میں مارچ کیا جاتا ہے۔وطن سے محبت کے گیت گائے جاتے ہیں۔۔ٹیلی ویژن سٹیشن سے نشریات پیش کی جاتی ہیں ، کنسرٹس کئے جاتے ہیں ،نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے ،آتش بازی کے مظاہرے پیش کئے جاتے ہیں اور فری مارکیٹس کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پورا دن اسی طرح پُررونق اور پُر مسرت طریقے سے گزارہ جاتا ہے۔۔مگر سچ تو یہ ہے کہ سرزمین کوئی بھی ہو مٹی کے قرض وہاں کے رہنے والوں پر واجب ہوا کرتے ہیں۔۔۔

مضمون نگار مختلف اخبارات و رسائل کے لئے لکھتی ہیں۔۔ آپ ان دنوں یوکرائن میں مقیم ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
August

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

وطنِ عزیز میںیوں تو روزانہ ہی ادبی، علمی اور ثقافتی محافل منعقد ہوتی ہیں مگر جب کینیڈا جیسے ملک میں اور وہ بھی ونکوور میں جہاں پاکستانی نسبتاً کم تعداد میں ہیں، ایسی کوئی تقریب ہو تو لوگ بصد شوق شرکت کرتے ہیں۔


آرٹس کونسل کراچی میں تو ایک دن میں کئی ایسے پروگرام ہوتے ہیں اور ان میں شرکت کرکے یا نظامت کرکے بہت اچھا لگتا ہے۔ گزشتہ دنوں ونکوور میں دو ایسی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن سے اپنے دیس کی یاد تازہ ہوگئی۔


کینیڈا میں عموماً کوئی بھی پروگرام، چاہے وہ چاند رات کا ہو، عید کا ہو، پکنک کا ہو، میوزک کا ہو، کوئی بھی ہو صرف ویک اینڈپر ہی ہوتا ہے۔ لوگ صرف ویک اینڈ پر ہی پروگراموں میں شرکت کرسکتے ہیں۔ یہاں گزشتہ دنوں ایسی اعلیٰ معیارکی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن کا لطف تادیر قائم رہے گا۔


ایک تقریب پاکستان کی دونامور شخصیات انور مسعود اور امجد اسلام امجد کے اعزاز میں تھی اور دوسری اردو غزل کے سب سے بڑے شاعر مرزا غالب کے حوالے سے تھی۔
ہم آپ کو دونوں تقاریب کا احوال سنائیں گے۔ پہلے انور مسعود اور امجد اسلام امجد کے بارے میں کچھ تحریر کرنا چاہیں گے۔-


انور مسعود اُردو اور پنجابی کے مشہور شاعر ہیں۔ وہ بہت لطیف انداز میں مزاحیہ شاعری کرتے ہیں۔35 برس تک وہ مختلف درسگاہوں میں فارسی پڑھاتے رہے۔ فارسی کے علاوہ وہ اُردو، انگریزی اور پنجابی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری بہت عمدہ اور سنانے کا انداز بھی خوب ہے۔ عموماً مزاحیہ مشاعرے ان ہی کی زیرِصدارت منعقد ہوتے ہیں۔
امجداسلام امجد کے بارے میں ہم کیا لکھیں، انہیں تو دنیا جانتی ہے، گیت نگار، ڈرامانگار، شاعر، دانشور، غرض امجداسلام امجد دنیائے ادب کا چمکتا ستارہ ہیں۔ ان کی خدمات کے صلے میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیاہے۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے کئی مرتبہ بہترین ڈراما رائیٹر کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ ان کے مقبول ڈراموں میں وارث، سمندر، دہلیز، رات، اپنے لوگ، وقت اور دیگرadbimahafil.jpg بے شمار ڈرامے شامل ہیں۔


اشفاق احمدمرحوم کا تحریرہ کردہ، ایک محبت سو فسانے، کا ٹائٹل سانگ’جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے، جو امجد پرویز کی آواز میں ریکارڈ ہوا، اس کے خالق امجداسلام امجد ہی ہیں۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول اور عالمی اردو کانفرنس کے سلسلے میں انور مسعود اور امجداسلام امجد ہر سال کراچی تشریف لاتے ہیں جہاں ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ اس بار اُن کی آمد کی اطلاع ونکوور میں ملی تو بہت خوشی ہوئی۔ ان دونوں حضرات کے اعزاز میں منعقد اس شام کی خاص بات فنڈریزنگ تھی جو ایک ایسے ادارے کے لئے تھی جس کا مقصد مستحق بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا۔ اس تقریب میں شرکت کے لئے ٹکٹ مہنگا رکھا گیا تھا۔ ویسے یہ کینیڈا کا رواج ہے کہ ہر پروگرام پر ٹکٹ ہوتا ہے۔ ہم تو آرٹس کونسل میں جو پروگرام کرتے ہیں وہ فری ہوتے ہیں۔ ان میں ٹکٹ کا کوئی تصورنہیں حتیٰ کہ میوزک کنسرٹ چاہے راحت فتح علی خان کا ہو، سجاد علی کا ہو یا علی حیدر کا، سب ممبران کے لئے مفت ہوتا ہے۔ یہ تو یہاں کینیڈا میں آکے احساس ہوا کہ ٹکٹ کیا بری بلا ہے۔


آپ شاید یقین نہیں کریں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات گھر میں بھی جو دوستوں کی مل بیٹھنے کی تقریب ہوتی ہے اس میں بھی ٹکٹ رکھا جاتا ہے ہم تو اس ٹکٹ سے عاجز آچکے ہیں، لہٰذا کوشش کرتے ہیں ہمیں بھی عادت پڑ جائے۔ ویسے اگر احباب نے مل کر کھانے کاپروگرام بنایا ہے تو یاد رکھئے اس کا مطلب دعوت نہیں بلکہ پاٹ لک

(Potluck)

ہے یعنی آپ اپنے ہمراہ کوئی کھانے کی چیز ساتھ لے کر جائیں۔ یہ سب اس مغربی کلچر کا حصہ ہے جس میں آپ کسی کو خلوص سے گھر پہ دعوت میں مدعو بھی نہیں کرتے، ویسے یہ تو ہمیں پہلے ہی علم تھا کہ اگر دوست باہر کھانا کھانے جائیںیا کافی پیش کریں تو دونوں اپنا اپنا بل خود دیں گے لیکن گھر پہ بھی کسی کو بلا کر ٹکٹ ، یہ ناقابلِ فہم ہے۔


ہم نے کوشش کی ہے کہ اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ یہ خود غرضی کی مہمانداری ختم ہو۔ ارے یہ ہم بات کرتے کرتے کہاں سے کہاں نکل گئے، انور مسعود اور امجد اسلام امجد پہ بات ہو رہی تھی۔ دونوں حضرات کے اعزاز میں منعقدہ پروگرام نہایت کامیاب ثابت ہوا۔ انور مسعود نے اپنی مشہور نظمیں، کوفتے اور بنیان سُنا کر محفل لوٹ لی۔ امجد اسلام امجد نے پہلے موجودہ دور کے ڈرامے اور ماضی کے ڈراموں پر روشنی ڈالی پھر اپنی غزلیں اور نظمیں سنائیں۔
پلکوں کی دہلیز پہ چمکا ایک ستارا تھا
ساحل کی اس بھیڑ میں جانے کون ہمارا تھا
کہساروں کی گونج کی صورت میں پھیل گیا ہے وہ
میں نے اپنے آپ میں چھپ کر جسے پکارا تھا
سر سے گزرتی ہر اِک موج کو ایسے دیکھتے ہیں
جیسے اس گرداب فنا میں یہی سہارا تھا
ترکِ وفا کے بعد ملا تو جب معلوم ہوا
اس میں کتنے رنگ تھے اس کے، کون ہمارا تھا
یہ کیسی آواز ہے جس کی زندہ گونج ہوں میں
صبح ازل میں کس نے امجد مجھے پکارا تھا
اب کچھ ذکر مرزا غالب کے حوالے سے ہونے والے پروگرام کا جس کا عنوان تھا ’’کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور‘‘ اس پروگرام کے تین حصے تھے، پہلے حصے میں غالب کی زندگی اور شاعری پہ گفتگو ہوئی، دوسرے میں غالب کی غزلیں گائی گئیں اور تیسرے حصے میں مشاعرہ تھا۔


یہ بات تو سبھی مانتے ہیں کہ اُردو شاعری کی آبرو غزل ہے اور غزل کے سرتاج غالب ہیں۔ مرزا اسدا ﷲ خان غالب پہلے اسد تخلص کیا کرتے تھے، اس زمانے میں اسد نامی ایک اور شاعر بھی تھے، لوگوں نے مشورہ دیا کہ چونکہ اس وقت غالب نو عمر تھے کہ ان کا ہر اچھا شعر دوسرے اسدؔ سے منسوب ہوجائے گا، لہٰذا یوں مرزا اسداﷲ خان، غالب بن گئے۔ غالب کی شاعری جتنی عظیم ہے ان کی ذاتی زندگی اتنی ہی دکھوں، مشکلات اور تکلیفوں سے عبارت ہے، ان کے یہاں سات بیٹے ہوئے جو پیدائش کے بعد وفات پاگئے۔


معاشی تکالیف بھی اٹھانا پڑیں، قرض کے بوجھ تلے دبے رہے۔ مگر حیرت انگیز طور ان کی شاعری میں نہ تلخی ہے نہ دکھ نہ اداسی، عجیب سرشاری اور مستی ہے ان کے کلام میں۔ اگر چہ وہ میر تقی میرؔ کے مداح تھے مگر میرؔ کی طرح المیہ شاعری نہیں کرتے تھے۔ غالبؔ کی ذاتی زندگی ان کی شاعری میں ہے لیکن تکالیف کا ذکر غالب نے کیا بھی ہے تو بہت منفرد انداز میں مثلاً:
رنج سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
یا پھر یہ شعر ملاحظہ فرمائیں
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
اسی غزل کا ایک اور مصرعہ ہے۔
قیدِ حیات و بند غم اصل میں دنوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
اب ان اشعار میں دکھ ، تکالیف، رونا اور آرامِ زندگی کا بیان تو ہے مگر اس طرح نہیں جیسے میر تقی میرؔ کے یہاں ہمیں ملتا ہے۔ غالب تو خود ہی کہتے ہیں۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
غالب وہ واحد شاعر ہیں جو خود اپنے اوپر بھی طنز کیا کرتے تھے۔ اب غالب کی شاعری کیاکیا کچھ ہے ہم کیسے بیان کریں؟ ان کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔
مرزا غالب پر پاکستان میں کئی ڈرامے بھی بنے۔ ایک مرتبہ انور مقصود نے غالبؔ پر خصوصی کھیل لکھا جس کا نام تھا ’’افسوس حاصل کا‘‘ اس ڈرامے میں ہمیں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ اس ڈرامے کی خاص بات یہ تھی کہ غالب پر تھا مگر اس میں خود غالب نہ تھے۔ اس کی کاسٹ میں ہمارے علاوہ معین اختر، طلعت حسین، لطیف کپاڈیا، شہزاد رضا بھی شامل تھے۔


اس ڈرامے کے کچھ اداکار اب اس دنیا میں نہیں۔ بلکہ لطیف کپاڈیا تو اسی ڈرامے کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کر گئے تھے۔ شوٹنگ کے دوران ان کی طبیعت خراب ہوئی انہیں ٹی وی اسٹیشن کے مقابل واقع ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔


خیر غالب پر جتنے بھی ڈرامے بنے ان میں سبحانی با یونس بطورِ غالب سب سے زیادہ جس ڈرامے میں جچے۔ اس کا نام تھا ’’مرزا غالب بند روڈ پر‘‘
مرزا غالب پر ہونے والے پروگرام میں جہاں غالبؔ کی غزلیں گائی گئیں اور ان کی شاعری پہ گفتگو ہوئی وہیں غالبؔ کی نثرنگاری پہ بھی بات ہوئی اور خطوطِ غالبؔ پڑھ کے سنائے گئے۔ غالبؔ کے بارے میں کیا کہیں، شاعری بھی بے مثال اور نثر بھی لاجواب، بے شک غالب جیسا کوئی نہیں۔


ہمارے جیسے ادبی ذوق رکھنے والے لوگوں کے لئے یہ دونوں تقاریب جن کا تذکرہ ہم نے رقم کیا۔ بہت تقویت اور طمانیت کا باعث ہیں۔ دیارِ غیر میں جب اُردو شاعری اور اُردو ادب پر بات ہو تو دل کھِل اٹھتاہے۔

مضمون نگار مشہور ادا کارہ، کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
August
Published in Hilal Urdu
Read 23 times
کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکی کانووکیشن تقریب

newsqutainsti.jpgگزشتہ دنوں کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی کانووکیشن تقریب منعقد ہوئی۔ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ مہمانِ خصوصی نے طالب علموں اور فیکلٹی سٹاف کو کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پہلے کانووکیشن پر مبارکباد پیش کی۔ تقریب میں 97 گریجویٹ طلباء و طالبات شامل تھے۔ مہمان خصوصی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طالب علموں میں انعامات تقسیم کئے اور گریجویٹ طالب علموں میں اسناد تقسیم کیں۔ مس خولہ شانزا چھ گولڈ میڈلز کے ساتھ بہترین طالبہ قرار پائیں جبکہ شمسہ مبین نے سرجری میں، عائشہ سیف نے گائینا کالوجی میں، صدف سعید نے میڈسن میں اور نیلم ناز نے ای این ٹی میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ابوبکر نے شعبۂ چشم اور عاطف خان نے کمیونٹی میڈیسن میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ تقریب میں سرجن جنرل پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل آصف سُکھیرا، وائس چانسلر آف بلوچستان یونیورسٹی، اعلیٰ سول اور فوجی افسران کے علاوہ طلباء و طالبات کے والدین نے بھی شرکت کی۔

قبل ازیں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے اس موقع پر گریجویٹ طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حفظان صحت کے نظام کے محافظ ہیں اور انہیں معاشرے کو صحت مند رکھنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے طلباء و طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کی پورے جذبے سے خدمت کریں۔

 

سی ایم ایچ راولپنڈی میں کاکلیر امپلانٹ کا آغاز
سی ایم ایچ راولپنڈی میں کا کلیر امپلانٹ

(Cochlear Implant)

کا آغاز ہوگیا ہے۔ میجر جنرل زاہد حمید کمانڈنٹ سی ایم ایچ نے ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر اس پروگرام کا آغاز کیا۔ اس سلسلے کے پہلے کاکلیر امپلانٹ کا کامیاب آپریشن حوالدار وسیم کا کیا گیا۔ جو عسکری خدمات کے دوران قوت سماعت سے مکمل محروم ہوگئے تھے۔ کاکلیر امپلانٹ ایک ایسا مصنوعی کان ہے جو آپریشن کے ذریعے قوت سماعت سے محروم افراد کے کان میں نصب کیا جاتا ہے۔ پاک فوج کی جانب سے یہ اقدام زخمی جوانوں کو مصنوعی اعضاء کی فراہمی اور اُن کی بحالی صحت کے حوالے سے ایک بڑا سنگ میل ہے۔

newsqutainsti1.jpg

09
August
Published in Hilal Urdu
Read 21 times
کمانڈر کراچی کورکاملیر گیریژن میں پولیس ٹریننگ کا معائنہ

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزانے ملیر گیریژن میں پاکستان آرمی کے زیرِ نگرانی پولیس ٹریننگ کا معائنہ کیا۔ اس موقعے پر پولیس ریکروٹس نے عملی مشقوں کا مظاہرہ کیا۔ کورکمانڈر نے تربیتی سرگرمیوں اور دستیاب سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے پولیس ریکروٹس کی دوران تربیت محنت اور لگن کو بھی سراہا۔

کور کمانڈر نے اپنے خطاب میں پاکستان رینجرز سندھ اور پولیس کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہر کا امن ان اداروں کی بہترکارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اورجنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل زاہد محمود بھی دورے کے دوران ان کے ہمراہ تھے۔

newskarachicore_ka.jpg

09
August
Published in Hilal Urdu
Read 23 times
آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں انٹرن شپ کرنے والے طلباء و طالبات کا دورۂ ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا
ملک کے مختلف تعلیمی اداروں کے دو سو سے زائد طلباء و طالبات جو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ میں انٹرن شپ کررہے ہیں نے گزشتہ دنوں ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کا دورہ کیا۔ طلباء و طالبات نے ایچ آئی ٹی کی دفاعی تیاریوں کی صلاحیتوں کو دیکھ کر نہایت جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا لیفٹیننٹ جنرل نعیم اشرف نے طلباء کے وفد سے ملاقات کی اور ادارے کی دفاعی خود انحصاری کے کردار پر روشنی ڈالی۔ دورے کے دوران طلباء نے دفاعی اشیاء میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اورانہوں نے دفاعی صلاحیتوں سے متعلق سوالات بھی پوچھے۔ طلباء نے ادارے کو اُبھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔

newsisprstudentvsitto.jpg

09
August
Published in Hilal Urdu
Read 24 times
کمانڈر پشاور کور کا خیبر ایجنسی اور کرم ایجنسی کا دورہ
کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کور کمانڈر کو کرم اور خیبر ایجنسی میں سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کور کمانڈر نے ان علاقوں میں تعینات فوجی جوانوں سے ملاقاتیں بھی کیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ان کی تیاریوں اور بلند حوصلوں کی تعریف کی۔ اس موقع پر آئی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل شاہین مظہر محمود بھی کور کمانڈر کے ہمراہ تھے۔

newscomanpeshcorekhaj.jpg

پاک فوج کے ساتھ ایک دن
گزشتہ دنوںیونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے طلباء و طا لبا ت نے فوجی جوانوں کے ساتھ لا ہو ر گیریژ ن میں ایک مصروف دِن گزارا۔ اِس موقع پر اُنہیں پا ک فو ج کے پیشہ و ار انہ اُ مو ر سے متعلق بر یفینگ دی گئی۔ اِس ایک رو زہ پروگرام کا مقصد طلبا ء وطا لبا ت میں سکیورٹی سے متعلق آ گا ہی ، خو د اعتما دی اور جذبہِ حب الو طنی کو مزید اُ جا گر کرنے کے ساتھ ساتھ پا ک فوج کی دفاعی ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کر نا تھا ۔بعدازاں طلباء و طالبات کو پاک فوج کے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اورمستعدی سے متعلق ایک عملی مظا ہر ہ د کھا یا گیا۔ اس مو قع پر طلباء کا جوش وجذ بہ دیدنی تھا۔انھوں نے اس ایک رو ز ہ پروگر ام میں گہر ی د لچسپی لی اور پا ک فو ج کی پیشہ وا را نہ صلاحیت اور بُلند جذبے کی بے حد تعریف کی۔

newscomangujcore1.jpg

09
August
Published in Hilal Urdu
Read 25 times

newscomangujcore.jpg

09
August
Published in Hilal Urdu
Read 19 times

newsbhawalposcore.jpg

09
August
Published in Hilal Urdu
Read 15 times
پاک بحریہ کے سربراہ کا پاکستانی کرکٹ ٹیم کو خراجِ تحسین

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی2017ء کی تاریخی جیت پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے پاک بحریہ نے کھلاڑیوں کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ ضیافت کے میزبان پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ تھے۔

پاک بحریہ کے سربراہ نے ٹورنامنٹ بالخصوص فائنل میچ کے دوران کھلاڑیوں کے ٹیم ورک اور جذبے کو سراہا ۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی طرح پاک بحریہ بھی اپنی کرکٹ ٹیم پر فخر کرتی ہے۔ نیول چیف نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے سابق اہلکار فخر زمان پر خاص طور پرناز ہے جو سات سال تک پاکستان نیوی کی کرکٹ ٹیم کا حصہ رہے اور پورے ٹورنامنٹ کے دوران متاثر کن کارکردگی کی بدولت نہ صرف پاکستان کی بلکہ پاک بحریہ کی بھی پہچان بن گئے۔نیول چیف نے پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمدکی اعلیٰ کارکردگی کو بھی سراہا ۔ اس موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈ مرل محمد ذکاء اللہ نے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں میڈلز بھی تقسیم کئے۔

newscnstopakcrick.jpg

پاک بحریہ کے سربراہ کا ساحلی علاقوں کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے بلوچستان کے ساحلی علاقوں جیوانی، گوادر، پسنی اوراورماڑا کا دورہ کیا اور وہاں تعینات پاک بحریہ کے دستوں سے ملاقاتیں کیں۔

ایڈمرل ذکا ء اللہ نے وطن عزیز کی بحری سرحدوں کے تحفظ کے حوالے سے آفیسرز اور سی پی اوز/سیلرز کے پیشہ ورانہ کردار اور جذبے کو سراہا ،بعد ازاں چیف آف دی نیول سٹاف نے پی این ایس شمشیر اور پی این ایس محافظ کے دورے کے دوران آفیسرز اور سی پی اوز/سیلرز سے ملاقاتیں کیں اور ملکی سمندری حدود کے دفاع کے لئے ان کے عزم اور جذبے کو سرا ہتے ہوئے آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

newscnstopakcrick1.jpg

09
August
Published in Hilal Urdu
Read 16 times
چیف آف آرمی سٹاف کا دورہ کوئٹہ گیریژن

’’بلوچستان پر میری بھرپور توجہ ہے اور دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی خوشحالی اہم مقصد ہے‘‘۔ چیف آف آرمی سٹاف

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر انہیں ہیڈکوارٹرز سدرن کمانڈ اور ہیڈکوارٹرز ایف سی بلوچستان میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلاً بریفنگ دی گئی۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات اور فرقہ ورانہ حملوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ دہشت گرد شکست خُوردگی کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں

(LEAs)

اور آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے ایف سی‘ پولیس‘ پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ فراریوں کے ہتھیار ڈالنے میں اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس موقعے پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان پر میری بھرپور توجہ ہے اور دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی خوشحالی اہم مقصد ہے۔ بعدازاں چیف آف آرمی سٹاف پاک فوج کے جوانوں اور افسران سے ملے اور اُن کے بلند حوصلوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستانی عوام کی فوج ہیں اور ان کی مکمل حمایت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔

newscoasquestagarission.jpg

09
August

(حسان اکبر جماعت سوئم کے طالب علم ہیں وہ جب دو سال کے تھے تو اُن کے والد محترم میجر اکبر جام شہادت نوش کر گئے۔ ’’میری پسندیدہ شخصیت‘‘ کے عنوان سے حسان اکبرکی ایک تحریر جس میں وہ اپنے ابو جان کو یاد کرتے ہیں، قارئین ہلال کے لئے پیش خدمت ہے۔)

اس دنیا میں اربوں لوگ ہیں اور اس میں سے ہر شخص کی کوئی نہ کوئی پسندیدہ شخصیت ہے۔ میری پسندیدہ شخصیت میرے بابا میجر اکبر شہید ہیں۔ وہ اس ملک کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کے لئے جان قربان کر دی۔ مجھے ان کے بارے meripasandedashak.jpgمیں کچھ بہت زیادہ یاد نہیں کیونکہ جب میں دو سال کا تھا تو میرے بابا شہید ہو گئے۔ مگر ان کا ایک دھندلا خاکہ میر ے ذہن میں محفوظ ہے۔ میرے بابا کا قد لمبا تھا سمارٹ اور خوبصورت تھے۔ ان کے چہرے پر داڑھی بہت اچھی لگتی تھی۔ میرے بابا نفیس انسان تھے۔ وہ کم گو تھے۔ وہ سادہ غذا کھاتے اور سادہ لباس پہنتے تھے۔ وہ پکے نمازی تھے۔ وہ قرآن پاک کی تلاوت روزانہ کرتے تھے۔ وہ بہت بہادر مومن سپاہی تھے۔ وہ بہت اچھے کھلاڑی تھے اور والی بال بہت شوق سے کھیلتے تھے۔ وہ ایک بہادر آفیسر تھے جو اسلام کے دشمنوں سے نہیں ڈرتے تھے۔ میرے بابا نے دس جون 2008کو اس پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے صلے میں انہیں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ مجھے اپنے بابا پر فخر ہے۔ میں بھی اپنے بابا کی طرح بہادر آرمی آفیسر بننا چاہتا ہوں۔ انہی کی طرح مومن بننا چاہتا ہوں۔انہی کی طرح شہادت پانا چاہتاہوں۔ کیونکہ شہید کبھی نہیں مرتے وہ زندہ ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے ’’اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔‘‘
09
August

تحریر: کیپٹن بلال نیازی

آپریشن المیزان سوات کے دوران متعدد قیمتی جانیں بچانے والے ایک نڈر غازی حوالدار ظہور احمد تمغۂ بسالت کی داستانِ شجاعت

اور تم کیا جانو یہ کون لوگ ہیں؟جن کے قدموں کی دھمک سے پہاڑ تھرتھراتے ہیں۔جنہوں نے انسانی لباس پہن رکھاہے مگرجن کی پیشانیوں پرآسمان تحریریں لکھ رہا ہے۔ یہ کون راہرو ہیں جن کے قدم کبھی تھکتے نہیں؟یہ فاتح کون ہیں جنہوں نے بھوک اور پیاس کو یرغمال بنا رکھا ہے؟ جن کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں اچکنے کے لئے فرشتے تیار ہیں۔ایسے جذبے سے سر شار کچھ ایسی ہی داستان حوالدار ظہور احمد کی ہے۔

farzshanasi.jpg
حوالدار ظہور احمد پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے نو احی گاؤں چک نمبر 50/2 ایل میں 24جولائی1983کو ایک راجپوت گھرانے میں محمد بشیر کے ہاں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ ظہور ا حمد کوبچپن سے ہی پاک وطن کی مٹی سے محبت اور پا ک فوج سے لگاؤ تھا۔ بچپن سے ہی فوجی وردی میں ملبوس پُر وقار جوان اُسے بہت ہی منفرد اور جاذب نظر لگتے تھے۔ اس کا یہی شوق 17جون2002کو اسے ریکروٹمنٹ آفس لاہور لے آیا۔ ظہور احمد نے ابتدائی تربیت آرمی ائیر ڈیفنس سنٹرملیر کینٹ سے حا صل کی اور پوسٹ ہو کر ائیر ڈیفنس کی مایہ ناز یونٹ 96 میڈیم ائیر ڈیفنس رجمنٹ میں پہنچ گیا۔


حوالدار ظہور احمد ایک نڈر سولجر ہونے کے ساتھ سا تھ ایک اچھا سپورٹس مین بھی ہے۔ باکسنگ ہو یا اتھلیٹکس، کبڈی کا میدان ہو یاکوئی بھی مقابلہ ،حوالدار ظہور احمد کے سامنے کھڑا farzshanas1i.jpgہونا ایک چیلنج ہوتا ہے۔ ٹر یننگ کے لحاظ سے ظہور احمد جیسے باہمت اور پُر جوش جوان کم کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔


جب96 میڈیم ائیر دیفنس آ پریشن المیزان پر جانے کے لئے سخت ٹر یننگ کے مراحل سے گزر رہی تھی تو اس دوران حوالدار ظہور احمد نے بھی بڑے جذبے اور لگن کے ساتھ ا س ٹر یننگ میں بڑھ چٹرھ کر حصہ لیا تاکہ جب مادرِ وطن کو کوئی خطرہ درپیش ہو تووہ اس کی بھرپور حفا ظت کر سکے۔


یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب حوالدار ظہور احمد اپنی یونٹ کے ساتھ آ پر یشن المیزان سوات میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ وہ 30اپریل 2014کو پانچ جوانوں کے ساتھ معمول کی گشت پر تھے۔ گشت کے دوران انہوں نے چار باغ کے علاقے سے گزرتے ہوئے ایک ڈبل سٹوری کلینک میں سے عورتوں اور بچوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنیں۔ خطرے کو بھانپتے ہو ئے حوالدار ظہور احمد نے تین سپاہیوں کو عمارت کے باہر پو ز یشن سنبھالنے کو کہا اور خود سوار عمر حنیف کے ساتھ تیزی سے عمارت میں داخل ہوا ، اندر داخل ہوتے ہی حوالدار ظہور احمد نے دیکھا کہ اندرایک خود کش حملہ آور موجود ہے ۔ جس نے عورتوں اور بچوں کو آدھے گھنٹے سے یرغمال بنا یا ہوا ہے۔ حملہ آور کا ٹارگٹ وی ڈی سی ممبر ڈاکٹر فاروق تھے۔ جو کہ اپنے کلینک میں موجو د تھے اورحملہ آور سے دست و گریباں تھے۔ حوالدار ظہور احمد صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنی جان کی پروا کئے بغیر سوار عمر حنیف کے ساتھ مل کر خود کش حملہ آور پر جھپٹے اور خود کش حملہ آور پر قا بو پاتے ہوئے وہا ں موجود عورتوں اور بچوں کومحفوظ راستے سے نکا لنے کے عمل کو بخوبی انجام دیا۔ یرغمال افراد کے محفوظ مقام پر پہنچتے ہی حوالدا ر ظہور نے سیٹرھیوں سے چھلانگ لگاکر آڑلی۔ جس کے چند لمحوں بعد ہی خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑا لیا۔


حوالدار ظہور کی موقع شناسی اور بے باک قیادت اور جرأت مندانہ عمل سے بہت سی قیمتی جانیں بچ گئیں۔ حوالدار ظہور احمد کی ثابت قدمی اور پامردی نے خود کش بمبار کے نا پاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔ اس جرأت و بہادری اور شاندار کارکردگی کی بناپر 96 میڈیم ائیر ڈیفنس رجمنٹ کے اس بہادر سپوت حوالدار ظہور احمد کو حکو مت پا کستان کی جانب سے23 مارچ 2016کو ستارۂ بسالت سے نوازا گیا ۔یہ نڈر غازی آج بھی اسی جوش و ولولے کے ساتھ اپنی یونٹ میں خدمات سر انجام دے رہا ہے اور یونٹ میں موجود تمام جوانوں کے لئے ہمت ، بہادری اور بلند مورال کی جیتی جاگتی تصویر اور عملی نمونہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
August

تحریر: سمیع اﷲ سمیع

سرحدیں دل کی ہوں یا دنیا کی، کبھی ایک سی نہیں رہتیں ۔ پیہم تبدیلی ہی زندگی کی دلیل ہے۔ لفظ تقسیم برا بھی ہے اوراپنے تئیں اچھا بھی ہے۔کانگریسی صدراورسابق بھارتی وزیرداخلہ سردارپٹیل واشگاف الفاظ میں اقرارکرتے تھے کہ اگر دوبھائیوں کے مابین جھگڑا ختم نہ ہورہاہوتو تقسیم یقینی ہوتی ہے اوریہ فطری عمل ہے۔درحقیقت بروقت اورمبنی برانصاف تقسیم ہی کدورتوں کوروکتی ہے لیکن افسوس کہ ماؤنٹ بیٹن کی سرکردگی میں ریڈکلف ایوارڈ کھلی بددیانتی کی ایک پُرسوز تصویر ہے جس کی سزا آج بھی آسام،انبالہ اورجالندھر کے مسلمان بھگت رہے ہیں۔ بھارت اس بدبختانہ اندازِتقسیم پرخوش تھا، اس لئے اس کے رہنمانے ماؤنٹ بیٹن کو خراج تحسین پیش کیا وگرنہ قائداعظم کے الفاظ تھے کہ انہوں نے کٹا پھٹا پاکستان بھی قبول کیا کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔گزشتہ ماہ جناب عبدالستاراعوان نے ہلال ہی کے صفحات پر جب آسام میں مسلمانوں کی حالتِ زار تحریرکی تو بلاشبہ کیبنٹ مشن پلان کی کیٹیگری ’’بی‘‘میں آسام وبنگال کی ایک ہی گروپ میں شمولیت کی برطانوی رائے یادآگئی۔جسے کانگریس جیسی ’’قومیت ‘‘کاپرچارکرنے والی تنظیم نے اس لئے ردکردیاکہ اس سے اس علاقے میں ہندوؤں کے اثرورسوخ میں کمی ہوگی ۔حالانکہ وقت نے ثابت کیاہے کہ محمد علی جناح کاموقف درست تھا۔


برصغیرکی تقسیم کی بنیادیں جہاں انگریز کی ہندونوازپالیسی میں ملتی ہیں وہیں اس کو کانگریس کی متعصب پالیسی بھی اساس عطاکرتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ محمدعلی جناح نے صلح واتحادکی آخری کوشش بھی کردیکھی لیکن کانگریس کی طرف سے مسلسل تعصب کااظہارانہیں اس بات پرقائل کرگیاکہ وہ مسلم مفادات کاتحفظ ایک علیحدہ مملکت کے طورپرہی کرسکتے ہیں ۔آئیے جنگِ عظیم دوم سے پہلے کے کانگریسی رویے پرنظرڈالتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ مسلم لیگ کی بنیادایک مسلم مملکت کی خواہش پرنہیں بلکہ مسلمانوں کے تحفظات پررکھی گئی ۔تحریک خلافت میں کانگریس کی بے وفائی ،لکھنوپیکٹ 1916کوپسِ پشت ڈالنااوردیگر متعصبانہ رویے بالآخر محمد علی جناح کو اس مقام پر لے آئے کہ ’’دسمبر1920میں کانگریس کے ناگپورکے اجلاس میں محمد علی جناح نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرلی‘‘۔ 1935کے گورنمنٹ آف انڈیاایکٹ کے تحت صوبائی خودمختاری تودی گئی لیکن گورنروں کویہ خصوصی اختیارات دیئے گئے کہ وہ ایمرجنسی کانفاذکرسکتے ہیں اوراس کے بعد اختیارات پر مکمل قبضے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا۔لیکن آزادئ ہند میں یہ قانون بھی ایک اہم پیش رفت سے کم نہ تھا۔اس کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات میں کانگریس کو ہندوستان کے بڑے صوبوں میں مکمل اکثریت ملی ،چارصوبوں میں وہ اکیلی سب سے بڑی پارٹی تھی جبکہ پنجاب اورسندھ میں اس کادامن نہیں بھرا۔ان انتخابات نے اقلیتوں کے متعلق کانگریس کے کھلم کھلا دعوؤں کوبے لباس کردیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب
India Wins Freedom
کے صفحہ نمبرستائیس پررقم طراز ہیں کہ’’مجھے رنج کے ساتھ یہ اعتراف کرناہے کہ بہار اور بمبئی،دونوں میں کانگریس اپنی قومیت کے امتحان میں پوری طرح سرخرو نہیں ہو سکی۔‘‘
مولانا رقم طراز ہیں کہ ’’کانگریس کافروغ ایک قومی تنظیم کے طورپرہوا تھا اور اسے یہ موقع فراہم کیا گیا تھا کہ مختلف فرقوں کے لوگوں کی قیادت کرسکے۔ چنانچہ ممبئی میں مسٹرنریمان مقامی کانگریس کے مسلمہ لیڈرتھے۔جب صوبائی حکومت کی تشکیل کاسوال اُٹھا،تو عام توقع یہ تھی کہ اپنے مرتبے اورریکارڈ کی بناپرمسٹرنریمان سے قیادت سنبھالنے کوکہاجائے گا۔اس کابہرنوع،یہ مطلب ہوتاکہ کانگریس پارٹی کے اراکین میں اگرچہ ہندوؤں کی اکثریت ہے لیکن ایک پارسی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ سردارپٹیل اوران کے ساتھی اس صورت حال کوقبول نہیں کر سکے اورانہوں نے سوچاکہ اس اعزازسے کانگریس کے ہندو حمائتیوں کو محروم کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔چنانچہ مسٹربی جی کھیرسامنے لائے گئے اورانہیں بمبئی میں کانگریس اسمبلی پارٹی کالیڈرمنتخب کیاگیا۔‘‘

(صفحہ 27,28انڈیاونز فریڈم)
دکھ اس بات کاہے کہ نریمان جو کہ ایک قابل لیڈرتھے انہوں نے جب صدرکانگریس کو ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پرمطلع کرنا چاہا توکشمیریوں کے قاتل جواہرلعل نہرو نے ان کی دادرسی کرنے کے بجائے سب کے سامنے ڈانٹ دیا۔اس کے بعد تفتیشی کمیٹی بنائی گئی جسے اس طرح ترتیب دیاگیاکہ سردارپٹیل بے گناہ ثابت ہوئے بالکل اسی طرح جس طرح آج احمدآباد، گجرات اورآسام کے قاتل بالآخربے گناہ ثابت ہورہے ہیں ۔وقت بدلاہے لیکن متعصب برہمن کی سوچ اورچال نہیں بدلی۔


اسی طرح بہارمیں بھی کانگریس کے مرکزی سطح کے مسلم رہنماسے ان کا حق چھین کرہندورہنما کودیاگیا۔ڈاکٹرسیدمحمودنہ صرف صوبہ بہارکے سب سے بڑے لیڈر تھے بلکہ آل انڈیاکانگریس کمیٹی میں جنرل سیکرٹری کے عہدے پربھی فائز تھے۔ مولانارقم طراز ہیں’’ڈاکٹرسیدمحمود کوصوبے کے اندربھی ایک حیثیت حاصل تھی اور باہربھی۔ کانگریس کو جب مکمل اکثریت حاصل ہوئی تو یہ سمجھ لیا گیا کہ صوبائی خودمختاری کے تحت ڈاکٹرسیدمحمود کولیڈرچن لیاجائے

 

گااوربہارکاوزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا۔ اس کے برعکس ہوا یہ کہ شری کرشن سنہا اورانوگرہ نارائن سنہا، جو مرکزی اسمبلی کے اراکین تھے ،انہیں بہارواپس بلالیاگیااوروزارت اعلیٰ کے لئے تیار کیا جانے لگا۔۔۔ڈاکٹرراجندر پرساد نے بہارمیں وہی کردار ادا کیا جو سردار پٹیل نے بمبئی میں کیاتھا۔‘‘ان دوواقعات پر ہم خود تبصرہ کرنے کے بجائے بہتر ہو گا کہ مولاناکے اسی صفحہ اُنتیس پرموجود الفاظ من وعن تحریر کردیں، بقول مولانا ابوالکلام آزاد صاحب ’’ان دوواقعات نے اس زمانے میں ایک بدمزگی پیداکی۔ پیچھے مُڑکر دیکھتا ہوں تو یہ محسوس کئے بغیرنہیں رہ سکتاکہ کانگریس جن مقاصد کی دعوے دارتھی ان پر عمل پیرانہیں ہو سکی۔‘‘اسی طرح بنگال میں کانگریسی رہنما مسٹرداس نے مسلمانوں کے لئے ریزروسیٹس (مخصوص کوٹے) کی کوشش کی کیونکہ وہاں مسلم تعدادمیں زیادہ ہونے کے باوجود سرکاری ملازمتوں سے محروم تھے اورتجارت پر بھی ہندوؤں کاقبضہ تھا لیکن ان کے انتقال کے بعد کانگریس نے تعصب پسند ی کاثبوت دیتے ہوئے ان کے احکامات کو رد کردیا۔اس مقام پر ایک سادہ لوح انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ جس تنظیم میں اس کے مرکزی وصوبائی رہنماؤں کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیا جائے،جہاں لیڈرکی وفات پر پالیسیاں یوٹرن لے لیں وہاں عام آدمی کی کیا اوقات رہ جاتی ہے۔


اب ہم ان حالات کی جانب آتے ہیں، جنھوں نے حکومتِ برطانیہ کو مجبورکیا کہ وہ ہندوستان کی آزادی اورمسلم لیگ کا تقسیمِ ہندکافارمولا قبول کریں۔
جاپان پر ایٹم بم گرانے کے بعدامریکہ اپنے آپ کو دنیا کاٹھیکیدارسمجھنے لگا اور اپنے بے بنیادظلم کے لئے بے ڈھنگے دلائل کی بھرمارکردی لیکن غیرجانب دار تجزیہ نگاروں نے جہاں پہلے جرمنی کے ’’زہریلی گیس‘‘کے استعمال کی مخالفت کی تھی وہیں امریکہ کی اس بہیمانہ کارروائی کو بھی رد کیا۔خود امریکی عوام نے اسے مسترد کر دیاکیونکہ وہ جانتے تھے کہ جاپان توپہلے ہی آبرومندانہ شکست کی درخواست دے چکا ہے گوکہ وہ کسی مجبوری کی بناپرواپس لے لی گئی لیکن اس سے جاپان کے پیچھے ہٹتے قدم صاف دکھائی دینے لگے تھے ۔2ستمبر 1961کو اکانومسٹ اخبارنے لکھاکہ’’ایٹم بم کے استعمال کو امریکیوں نے مسترد کر دیا۔‘‘روس کوجرمنی کے خلاف استعمال کرنے والے اب مشرقی یورپ میں اس کے بڑھتے ہوئے اقدام سے خوفزدہ تھے اورایٹم بم کے نشے میں بدمست ہوئے جارہے تھے کہ روسی اخبار نے ان کے دعووں کو چیلنج کردیا۔جناب زاہد چودھری اپنی کتاب ’’پاکستان کیسے بنا؟‘‘جلداول میں روسی جریدے نیوٹائمز کی ستمبر1945کی اشاعت کا حوالہ دیتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ’’امریکی پریس کے اس تاثر کو رد کر دیا گیا کہ امریکہ نے ایٹم بم کے استعمال کی دھمکی سے پوری دنیاپرغلبہ پا لیا ہے۔ جریدے نے انتباہ کیاکہ بہت جلد دوسری اقوام بھی اتنی ہی قوت کا ہتھیارایجاد کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔‘‘

(صفحہ 43جلداول ’ پاکستان کیسے بنا؟‘ )
امریکی اتنے بدمست ہوئے کہ امریکی سفیرنے یہاں تک کہہ دیاکہ اگرروس بات نہ مانے تو ایٹم بم سے اُڑادیاجائے۔

(نیویارک ٹائمز24مارچ 1946)
محکوم طبقوں کی جانب سے پہلے پہل چین کے ماؤزے تنگ نے محکوم اقوام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ ’’ایٹمی قوت سے خوف نہ کھاؤ‘‘

(دی ٹائمز 25ستمبر1946)
اسی طرح سامراج کے ایک پٹھوسیاسی رہنما نے ویت نام میں خودکشی کرکے عوام کے جذبۂ حریت کواُبھارا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی خواہش تھی کہ برطانیہ کوچ کرجائے ،اسی طرح ایران کی تیل کی دولت پر بھی امریکہ خودہاتھ صاف کرناچاہتاتھا۔برطانیہ جو جنگِ عظیم دوم کی وجہ سے معاشی ابتری کاشکارتھا، روزبروز اس کی معیشت کمزورہوتی جارہی تھی ۔ڈیڑھ کروڑ مربع میل پر پھیلے برصغیرکے چالیس کروڑعوام اب اسے ویسے بھی نہیں بھاتے تھے کہ جنگ میں برصغیرکی دولت خرچ ہونے کی وجہ سے اب یہ برطانیہ کے لئے سفید ہاتھی کاسادرجہ رکھتاتھا، ادھرامریکہ بھی روزبروزہندوستان کی آزادی کے لئے دباؤ بڑھارہاتھا۔زاہد چوہدری لکھتے ہیں کہ جنگ کے دوران برطانیہ کے پینتالیس لاکھ میں سے بیس لاکھ مکانات مکمل تباہ ہوگئے۔املاک کے نقصان کا تخمینہ آٹھ ارب اسی کروڑ ڈالرلگایاگیا۔16 جولائی 1945ء کو رجسٹرشدہ بے روزگارمردوں کی تعداداکہترہزارآٹھ سوسولہ تھی۔16جولائی کوبے روزگار عورتوں کی تعدادچالیس ہزارانیس تھی۔ہندوستان کے وائسرائے لارڈویول نے بائیس لاکھ پچاس ہزارٹن گندم کامطالبہ کیاتھا۔جسے پوراکرنے کے لئے امریکہ اورآسٹریلیاسے گندم درآمدکرناپڑی۔22 فروری 1947ء کو برطانوی وزارتِ محنت ونیشنل سروس کے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق بے روزگارافراد کی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔مارچ 1947ء میں خسارے کی توقع پینتیس کروڑ پونڈ تھی جسے پوراکرنے کے لئے پھرامریکہ سے قرض کی بھیک مانگی گئی۔


ایسے حالات میں جب جولائی 1945کے انتخابات ہوئے تو برطانوی پبلک نے ’’امراء‘‘کی جماعت کہلوانے والی کنزرویٹوپارٹی کے بجائے ’’لیبرپارٹی‘‘ کو منتخب کیا۔جب چھبیس جولائی کونتائج کااعلان کیاگیاتو لیبرپارٹی 412نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ کنزرویٹو213 نشستیں لے کردوسرے اورلبرل بارہ نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبرپررہی۔لیبرپارٹی کی جیت میں جہاں بے روزگاری ومہنگائی کے نعروں نے اہم کرداراداکیاوہیں ’’عظیم برطانیہ‘‘کی سلطنت میں سورج غروب کرنے کے لئے اس کی پالیسی کوسراہاگیاتاکہ مفلوک الحال برطانیہ وسیع سلطنت کے بوجھ سے چھٹکاراپاسکے۔


بارہ مئی 1946 کے نیویارک ٹائمز کے بقول مشرق وسطیٰ اورہندوستان کی آزادی میں یہ رکاوٹ تھی کہ یہاں سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے سائے برطانیہ کو مجبورکررہے تھے کہ ان علاقوں پراپناقبضہ برقراررکھے۔یہی وہ دورہے جہاں سے روس اورامریکہ کی چپقلش کاآغازہوتاہے۔کیونکہ جنگ سے زخمی عوام کا جھکاؤ کارل مارکس کے پیش کردہ نظریات کی جانب بڑھناایک فطری امرتھا۔اسی اثناء میں کانگریس نے اپنی تنظیم سے کمیونسٹ افرادکونکال کربرطانوی حمایت حاصل کرلی۔


جون 1945 میں شملہ میں جوکانفرنس ہوئی اس میں لارڈ ویول کی پیش کردہ تجاویزکے مطابق یہ طے پایاکہ نئی ایگزیکٹوکونسل میں پانچ ہندو،پانچ مسلم،ایک اچھوت اورایک سکھ کونمائندگی دی جائے گی۔اس ضمن میں مسلم لیگ کامطالبہ تھاکہ مسلمانوں کونامزدکرنے کااختیارمسلم لیگ کوہوناچاہئے لیکن کانگریس اپنی مکاری کے تحت یہ چاہتی تھی کہ مسلمان ارکان نامزدکرکے وہ مسلمانوں کی لیگ کی جانب جھکاؤ کی پالیسی کارخ موڑلیں گے مگرجناح جیسے مضبوط اورنڈرشخص نے ان کی اس خواہش کوعملی جامہ نہ پہننے دیا۔ ویول کاارادہ یہ تھاکہ ان پانچ کے چناؤ میں یونینسٹ اورکانگریس کو بھی شامل کیاجائے ،ظاہرہے اس طرح مسلم لیگ کی نمائندگی محدود ہوجاتی ۔کانگریس نے اپنے نامزدممبران کی جوفہرست لارڈویول کی جانب بھیجی اس کی بنیادپر30 مارچ 1946 کے نیویارک ٹائمزکے مطابق لارڈویول نے کہاکہ’’مسلم لیگ حق بجانب تھی، کونسل میں کانگریس کوغلبہ حاصل ہوجاتا‘‘۔14 جولائی کو بحث وتمحیص کے بعدبالآخریہ کانفرنس بھی اپنی اہمیت کھوبیٹھی۔گاندھی جی نے کہاکہ مسلم لیگ اورکانگریس کے مابین کبھی بھی تصفیہ نہ ہو سکے گا۔مولاناآزاد اورگاندھی کی خواہش تھی کہ لیگ کونظراندازکرکے برطانیہ کوآگے بڑھ جاناچاہئے لیکن برطانیہ کے لئے جناح جیسے آہنی بشر سے ٹکرلینا اتنا آسان نہ تھا۔


شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد اگست 1945 میں دہلی میں گورنروں کااجلاس ہوا۔جس میں نئی ایگزیکٹوکونسل کے لئے مرکزی اسمبلی کے انتخابات 1945کے اواخراورصوبائی اسمبلیوں کے 1946کے شروع میں منعقد کروا دیئے گئے۔گورنرپنجاب گلانسی انتخابات کی آخرتک، اس لئے مخالف کرتے رہے کہ انہیں علم تھاکہ پنجاب میں یونینسٹ اورکانگریس ہارجائیں گی۔بقول ویول اگرچہ دونوں جماعتیں 1946 کے انتخابات میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ تھیں لیکن کانگریس اس بار اتنی پرجوش نہیں تھی‘‘(بحوالہ : پاکستان کیسے بنا؟ مصنف:زاہد چودھری )
وزیرہند پیتھک لارنس،
Pethick Lawrence
ویول اورکانگریس انتخابات کواس لئے بھی ملتوی کرنا چاہتے تھے کہ کسی طرح پنجاب کے اضلاع جالندھر اورانبالہ میں مسلمانوں کوخوف دلا کرمسلم لیگ کے خلاف کیاجاسکے ۔لیکن برطانوی کابینہ نے ویول کو20 اگست کو تاربھیجااور21اگست کوویول نے انتخابات کااعلان کردیاجس میں سوائے کے پی، کے موجودہ پاکستان میں مسلم لیگ اپنالوہامنوانے میں کامیاب ہوگئی۔
کیبنٹ مشن23 مارچ 1946 کو ہندوستان پہنچاجس میں سرسٹیفرڈکرپس
(Stafford Cripps)
بھی شامل تھے۔سولہ مئی کو کیبنٹ مشن نے اپنی اسکیم شائع کی۔ جس کے تحت دفاع،بیرونی معاملات،اورذرائع رسل ورسائل مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی تجویزپیش کی گئی۔کیبنٹ مشن نے ہندوستان کو تین حصوں میں تقسیم کیا، اے،بی اورسی۔ ایسا اقلیتوں کے تحفظات دورکرنے کے لئے کیاگیا۔سیکشن بی میں پنجاب ،سندھ،شمالی مغربی سرحدی صوبہ(اب کے پی) اوربرطانوی بلوچستان کو شامل کیاگیا۔سیکشن ’’سی‘‘میں بنگال اورآسام شامل ہوئے، ایسا اس لئے کیا گیا کہ یہاں مسلم اقلیت کوتحفظ دینامقصودتھا،اس طرح سے یہاں مسلمان اکثریت میں آجاتے۔ اس میں مسلم اکثریتی صوبوں کو خودمختاری کی ضمانت دی گئی تھی اوراگرکوئی حصہ چاہتاتوبعدمیں الگ ہو سکتا تھا۔ مسلم لیگ نے اسے منظور کر لیا لیکن کانگریس اپنی ضدپراڑی رہی کہ آسام کو الگ کیاجائے ۔


کیبنٹ مشن پلان کی منظوری میں مولانا ابوالکلام آزادکے بقول ان کی محنت شاقہ شامل تھی۔لیکن کانگریس کے صدرکی تبدیلی نے صورت حال بدل دی۔ مولانا آٹھ سال صدررہنے کے بعد مستعفٰی ہوئے اورپھرجواہرلعل نہروکوصدرمنتخب کر لیا گیا۔ 6 جولائی کو کانگریس نے کیبنٹ مشن پلان کو منظورکیا تو سرسٹیفرڈ کرپس
(Stafford Cripps)
اور پیتھک لارنس نے مولانا کو مبارک باددی لیکن یہ ساری صورتحال کانگریس کی باگ ڈورایک ہندوصدرکے ہاتھ میں آنے سے یکسربدل گئی۔ 10جولائی کو یعنی مشن کومنظورکرنے کے فقط چاردن بعد بمبئی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے جواہرلعل نہروسے جب یہ سوال کیاگیا کہ ’’کیا اے۔ آئی۔ سی۔ سی کے ذریعہ قراردادکے منظورکرلئے جانے کے ساتھ کانگریس نے پلان کو،بشمول انٹیرم حکومت کی تشکیل کے ،جوں کا توں قبول کرلیاہے۔جواب میں نہرونے کہاکہ دستورسازاسمبلی میں کانگریس یوں شامل ہو گی کہ ’’سمجھوتوں سے یکسرآزادہوگی اوروہ تمام حالات جو رونما ہوسکتے ہیں، ان کا سامنا اپنی مرضی کے مطابق کرے گی‘‘

(صفحہ 204آزادی ء ہندمولاناآزاد۔)
اسی موقع پر ایک اورسوال کے جواب میں کانگریسی ذہنیت کھل کرسامنے آگئی جب صحافیوں نے پوچھاکہ کیاکیبنٹ مشن پلان میں بعدمیں کوئی تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے تو نہروصاحب نے جواب دیاکہ ’’کانگریس اپنے آپ کو آزاد سمجھتی ہے اس کے نزدیک جو مناسب ترین صورت ہوا اسی کے مطابق کیبنٹ مشن پلان کو تبدیل کردے یااس میں ترمیم کر دے۔‘‘اس کارد عمل لازمی تھالہٰذامسلم لیگ نے 27 جولائی کے اجلاس میں تین دن کی کارروائی کے بعد مشن کومسترد کیا اور پاکستان کے حصول کے لئے ڈائریکٹ ایکشن پراترآنے کافیصلہ کیا۔


ڈائریکٹ ایکشن کے نتیجے میں متعصب ہندوانتقامی کارروائی پراترآئے اور کلکتہ سمیت ملک بھرمیں قتل وغارت ہوئی ۔اس ضمن میں مولاناآزادلکھتے ہیں ’’یہ ہندوستانی تاریخ کے بد ترین المیوں میں سے ایک تھا اورمجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہناپڑرہاہے کہ ان واقعات کی ذمہ داری کا ایک بڑاحصہ جواہرلعل نہروکے سرجاتاہے ۔ان کے اس بدبختانہ بیان نے کہ کانگریس کیبنٹ مشن پلان میں ترمیم کے لئے آزا د ہو گی سیاسی اورفرقہ وارانہ سمجھوتے کے پورے سوال کوپھرسے کھول دیا۔‘‘یہ وہ واقعات ہیں جو اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ برصغیرکی تقسیم قائداعظم محمد علی جناح نے ناگریز طورپرکی ۔لکھنؤ پیکٹ سے لے کرشملہ کانفرنس اورکیبنٹ مشن پلان تک کسی بھی موڑ پر کانگریس نے مسلمانوں کے مفادات کوزک پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیااوراس ضمن میں دوسری اقلیتوں کوبھی معاف نہ کیا۔


متحدہ ہندوستان کی ترجمان کانگریس پاکستان کے نظریے سے اس قدر خائف تھی کہ اس نے پاکستان بننے سے پہلے اسے توڑنے کے لئے اپنی کوششوں کا آغاز کردیا۔دوسری جانب جب خان عبدالغفارخان نے پاکستان بنتے دیکھا تو انتہائی مضمحل ہوئے ،انہیں اپنے اقتدارکاسورج غروب ہوتا نظر آیا۔کانگریس نظریں پھیرچکی تھی کہ اب خدائی خدمتگاراس کے کسی کام کے نہ تھے کیونکہ مسلم اکثریت کی وجہ سے شمال مغربی سرحدی صوبے کا پاکستان میں شامل ہونایقینی تھا لیکن صدافسوس کہ برصغیرمیں دو ریاستوں کی مخالف کانگریس نے ’’پختونستان‘‘کی قراردادمنظورکی تاکہ سرحدکے پٹھانوں کے دلوں میں لسانی تعصب ڈال کر انہیں پنجابیوں کے تسلط کا خوف دلایاجائے۔ یہ لسانی تعصب وہی جماعت ابھاررہی تھی جوہندوستان کو ایک اکائی کہاکرتی تھی لیکن برطانوی حکومت نے یہ لغو قرار داد رد کر دی اوراستصوب رائے سے کانگریس نے منہ کی کھائی۔خان عبدالغفار خان تو پہلے ہی بائیکاٹ کرچکے تھے کہ انہیں اپنی شکست کایقین تھا۔


اب آخرمیں ہم گاندھی جی کے عدم تشددکے نظریے پربات کریں کیونکہ بہت سے لبرلز اس کاآج بھی پرچارکرتے نظرآتے ہیں۔آزادلکھتے ہیں ’’سبھاش بوس کی بہت سی سرگرمیوں کوگاندھی ناپسندکرتے تھے‘‘۔برلن میں رہ کرجب سبھاش بوس نے نازی جرمنی کی جنگی کارروائیوں کاساتھ دیاتواس ضمن میں آزاد لکھتے ہیں’’گاندھی جی کی بہت سی باتوں نے مجھے یقین دلایاکہ وہ‘ہندوستان سے بھاگ نکلنے میں سبھاش بوس نے جس ہمت اورسوجھ بوجھ کامظاہرہ کیاہے اسے تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں۔‘‘۔بعد میں جب سبھاش کی موت پر گاندھی صاحب نے ان کی والدہ سے اظہارافسوس کرتے ہوئے سبھاش کو خراجِ عقیدت پیش کیاتو سرسٹیفرڈکرپس
(Stafford Cripps)
نے مولاناآزاد سے اس بات پر شکوہ کیاکہ گاندھی کانظریہ عدم تشدد ہے اورسبھاش نے کھلم کھلامحوری طاقتوں کاساتھ دیاہے پھر خراجِ عقیدت پیش کرنااپنے ہی بیانات سے روگردانی کے مترادف ہے۔
دوسری طرف نظردوڑائی جاتے تو گاندھی جی کے مرن بھرت کے باوجود سردارپٹیل جومنقسم ہندوستان کے وزیرداخلہ تھے، مسلمانوں کے قتل عام پرتوجہ نہیں دے رہے تھے اوراس ضمن میں انھوں نے گاندھی جی سے سخت رویہ بھی اختیار کیا۔ گاندھی کوجب قتل کیاگیاتو ہندوستان میں کھلم کھلامٹھائیاں بھی بانٹی گئیں جو اس بات کا بین ثبوت تھیں کہ گاندھی صاحب کا جورہاسہا نظریہ عدم تشددتھا،ہندو عوام اس سے بھی نالاں تھے جوکہ تقسیم کی تائید ہے۔مندرجہ بالاحقائق ثابت کرتے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہرموڑپر امن ومصالحت کی راہ اپناتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کی آواز بلند کی لیکن یہ کانگریس ہی تھی جس نے ان کی راہ میں روڑے اٹکائے اوربالآخربرطانوی حکومت نے قائداعظم کے الگ ریاست کے مطالبے کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔

مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
August

14اگست1947کو معرض وجود میں آنے والے وطنِ عزیز پاکستان کو اپنے قیام کے آغاز ہی سے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس نوزائیدہ ریاست نے ہندوستان کی اَن گنت سازشوں کا سامنا کیا۔ لیکن پھر بھی اپنا سفر اعتماد اور وقار کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ پاکستان ایک نظریے اور مقصد کے پیش نظر قائم ہوا جہاں برِصغیر کے مسلمان مذہبی، سیاسی، معاشی و سماجی اعتبار سے قانون و آئین کے تحت اپنی زندگی آزادانہ طور پر بسرکر سکیں۔ پاکستان آزاد ہوا تو اس کے پاس وسائل کی کمی تھی پھر بھی پاکستانی قوم نے ثابت قدم رہتے ہوئے دشمن کی جانب سے مسلط کردہ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر یہ ثابت کیا کہ یہ قوم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے۔


پاکستان ایٹمی قوت کا حامل اسلامی دنیا کا ایک بڑا ملک ہے۔پاکستان میں ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور ریاست کے سبھی ستون اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان الحمدﷲ بہتری کی جانب گامزن ہے۔ قوم کو ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا ہوا، قوم اور اس کی افواج نے سینہ سپر ہو کر نہ صرف اس کا مقابلہ کیا بلکہ آج قوم یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہے۔ اب بھی دشمن دہشت گردی کے اکادکا واقعات کے ذریعے قوم کے حوصلے پست کرنے کی سعی کرتا ہے لیکن افواج جس طرح سے آپریشن رد الفساد کے ذریعے باقی ماندہ دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو ٹھکانے لگانے کے لئے سرگرم ہیں، اس سے ملک دشمن عناصر یقیناًمزید کمزور ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپریشن خیبر۔ فور کا پہلا مرحلہ کامیابی سے ہمکنار ہو چکا ہے اور اب یہ آپریشن اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس پاک سرزمین پر اگر ایک بھی دہشت گرد ہو گا تو افواجِ پاکستان اور قوم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک اس کا خاتمہ نہ کر لیں۔


بلاشبہ جستجو ، لگن، اولوالعزمی اور اپنے اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کے لئے کام کرنے والی اقوام ہی باوقارانداز میں جینے کا حق رکھتی ہیں۔ بانئ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناحؒ نے اپریل 1948 کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔’’مملکت کا فرض پہلے ہے اور اپنے صوبے، اپنے ضلعے اور قصبے اور اپنے گاؤں کا فرض بعد میں آتا ہے۔ یاد رکھیئے ہم ایک ایسی مملکت کی تعمیر کر رہے ہیں جو پوری اسلامی دُنیا کی تقدیر بدل دینے میں اہم کردار ادا کرنے والی ہے۔ اس لئے ہمیں وسیع تر اور بلند تر بصیرت کی ضرورت ہے۔ ایسی بصیرت جو صوبائیت، قوم پرستی اور نسل پرستی کی حدود سے ماوراء ہے۔ ہم سب میں حُب الوطنی کا ایسا شدید اور قومی جذبہ پیدا ہونا چاہئے جو ہم سب کو ایک متحد اور مضبوط قوم کے رشتہ میں جکڑ دے۔‘‘ آج ضرورت ہے کہ قوم ازسرنو بانئ پاکستان کے فرمودات کا مطالعہ کرے اور ان پر من و عن عمل پیرا ہو کر مادروطن کے مستقبل کو مزید روشن اور مستحکم بنائے۔

09
August

تحریر: فتح محمد ملک

آج جب نظریاتی استقامت کو انتہا پسندی کا نام دیا جاتا ہے تو مجھے "ہندوستان ٹائمز" کا وہ خراجِ تحسین یاد آتا ہے جو اس مؤقر روزنامہ نے قائداعظم کو پیش کیا تھا۔ بابائے قوم کی رحلت پر ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے لکھا تھا کہ اُن میں ایسی قوتِ ارادی تھی جو اُن کی راہ میں حائل ٹھوس حقائق کو توڑ پھوڑ کر خوابوں کو جیتے جاگتے حقائق میں منتقل کر سکتی تھی۔ آج جب مانگے تانگے کی دانش ہمیں یہ سمجھانے میں مصروف ہے کہ ’’چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘ تو مجھے اقبال یاد آتے ہیں جنہیں اس حقیقت کا عرفان حاصل تھا کہ ہوا کا کچھ بھروسہ نہیں یہ کمبخت تو کسی وقت بھی اپنا رُخ بدل سکتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے خیال کی قوت سے زمینی حقائق
(Ground Realities)
کو بدل کر رکھ دینے پر قادر تھے:
ہوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں اندازِ خُسروانہ
اقبال کا تصورِ پاکستان ہوا کی تندی و تیزی کے مقابلے میں صراطِ مستقیم پر استقامت کی بہترین مثال ہے۔ 1930 کے خطبۂ الٰہ آباد کے اختتامی پیراگراف میں اقبال نے اسلامیانِ ہند کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اسلام سے اٹوٹ وابستگی قائم رکھیں۔ اس راہ کی مشکلات کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہ مشکلات بظاہر جتنی سنگین نظر آتی ہیں واقعتا اُتنی سنگین نہیں ہیں۔ یہ مشکلات بہت جلد آسان ہو جائیں گی۔ لندن کی دوسری گول میز کانفرنس کے دوران جب انھوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات سے یہ جان لیا کہ مسلمان مندوبین نے قومی شاہراہ کو چھوڑ کر ہوا کے راستے پہ سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا ہے تو وہ احتجاجاً کانفرنس سے بائیکاٹ کر گئے تھے۔ 1930 کے خطبۂ الٰہ آباد میں وہ متحدہ ہندوستانی فیڈریشن کے تصور کو رد کر کے جداگانہ خود مختار مسلمان مملکتوں کا تصور پیش کر چکے تھے۔ گول میز کانفرنس میں وہ اپنے اسی تصور پر قائم رہے۔ دیگر مسلمان مندوبین حکومتِ برطانیہ کے دباؤ میں آ کر نہ صرف اقبال کے تصور پاکستان سے گریزاں رہے بلکہ متحدہ ہندوستانی فیڈریشن کے اندر رہتے ہوئے مسلمان اقلیت کے لئے حقوق اور تحفظات پر سودے بازی میں مصروف رہے۔ اقبال نے دباؤ میں آ کر جداگانہ مسلمان قومیت کی آئیڈیالوجی ترک کرنے کے بجائے کانفرنس کا بائیکاٹ مناسب جانا۔ اُس وقت اقبال تنہا ہو کر رہ گئے تھے۔ جب میں اُن کی اس کڑی تنہائی کا خیال کرتا ہوں تو مجھے اُنہی کا یہ شعر یا دآتا ہے:
درمیانِ کار زارِ کُفر و دیں
جانِ من تنہا چو زین العابدینؓ
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنے اِس فکری جہاد میں کربلا کا نقشہ ہمیشہ اقبال کے سامنے رہا۔ اپنی صورتِ حال کو وہ حضرت زین العابدینؓ کی صورتِ حال کے مماثل سمجھتے رہے۔ کانفرنس کے بائیکاٹ کے فوراً بعد کی شاعری کا مطالعہ کریں تو کُھلتا ہے کہ انہیں اپنے خیال کی طاقت اور اپنے ایمان کی صداقت کے سوا اگر اور کسی پر بھروسہ تھا تو وہ فقط اللہ کی ذات تھی۔ چنانچہ وہ تڑپ تڑپ کر اپنے اس ’’ساقی‘‘ کو پکارتے رہے:
شرابِ کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا
مجھے عشق کے پر لگا کر اُڑا
مری خاک جگنو بنا کر اُڑا
خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر
(ساقی نامہ)
انہوں نے اپنے تجربات سے یہ راز پا لیا تھا کہ اُن کے زمانے کے بزرگوں کی عقل غلام ہے۔ وہ اعتماد کے لائق نہیں ہیں۔ چنانچہ جب سر عبداللہ ہارون نے یہ جاننے کے لئے خط لکھا کہ دوسری گول میز کانفرنس کے بائیکاٹ کے بعد اب وہ صورتِ حال کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں تو انہوں نے اڑھائی فقروں کے خط میں جواب دیا کہ تازہ تجربات نے اُنہیں یہ شعور بخشا ہے کہ وہ سیاستدانوں پر اعتماد نہ کریں۔ انہیں سیاسی صورتِ حال کے بارے میں جو کچھ کہنا ہے وہ چند ماہ بعد لاہور میں منعقد ہونے والی کل ہند مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں اپنے خطبۂ صدارت میں کہہ دیں گے۔ اقبال کے 1932 کے اس خطبۂ لاہور کا مرکزی خیال ہی یہ ہے کہ "جوانوں کو پیروں کا استاد کر"۔ اب انہوں نے بزرگ نسل سے مایوس ہو کر نوجوانوں پر اعتماد کی ٹھانی۔ ’’ساقی نامہ‘‘ میں وہ اپنے اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ اُن کا سارا سوز و ساز نوجوانوں کے دلوں میں منتقل کر دے:
مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں
مِرے دِل کی پوشیدہ بے تابیاں
مرے نالۂ نیم شب کا نیاز
مری خلوت و انجمن کا گداز
امنگیں مری آرزوئیں مری
اُمیدیں مری جستجوئیں مری
مری فطرت آئینۂ روزگار
غزالانِ افکار کا مرغزار
مرا دل، مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات
یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر
مرے قافلے میں لُٹا دے اسے
لُٹا دے، ٹھکانے لگا دے اسے!
زمینی حقائق سے مغلوب ہو کر اپنی آئیڈیالوجی سے دستبرداری کا طرزِ عمل اپنانے والوں کو میں درجِ بالا اشعار میں سے فقط اس شعر پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہوں:
مرا دل، مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات
یہ دل کیا ہے؟ کربلا کا میدان ہے جس میں گھمسان کا رن پڑ رہا ہے۔ یقین کے مقابلے میں گمانوں کے لشکر ہتھیار پھینکتے چلے جا رہے ہیں۔ اقبال نے زمینی حقائق کی اہمیت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ ان حقائق کو خاطر میں لاتے رہے ہیں مگر اس شعور کے ساتھ کہ ’’ایام کا مَرکَب نہیں رَا کِب ہے قلندر!‘‘۔ ہمیں بھی انہوں نے یہی طرزِ عمل اپنانے کا مشورہ دیا ہے:
ہو کوہ و بیاباں سے ہم آغوش وَ لیکن
ہاتھوں سے ترے دامنِ افلاک نہ چھوٹے!
اقبال نے1932کے خطبۂ لاہور میں بزرگ نسل کی بجائے نوجوانوں کو یوں پکارا تھا:
"Let the fire of youth mingle with the fire of faith in order to enhance the glow of life and to create a new world of actions for our future generations."
تاریخ شاہد ہے کہ نوجوانوں نے شباب کی آگ کو ایمان کی آگ میں یوں حل کیا کہ وہ واقعتا پیروں کے استاد بن گئے۔ اقبال نے اسی خطبۂ لاہور میں بزرگ نسل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ اس نسل کی کم نظری اور کوتاہ اندیشی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ موجودہ مشکلات کو ناقابلِ عبور سمجھ کر حالات سے بزدلانہ سمجھوتہ کرنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ اقبال کو اس نسل میں فقط ایک ہی شخصیت نظر آتی ہے جس کی عقل غلامی سے آزاد ہے اور وہ ہے قائداعظم کی ذاتِ والا صفات۔ چنانچہ اقبال ذاتی راز و نیاز میں بھی اور خفیہ خط کتابت میں بھی انہیں مسلمان قوم کی قیادت کا منصب سنبھالنے پر تیار کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں:
مایوس نہ ہو اِن سے اے رہبرِ فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
جب قائداعظم بالآخر ہندی مسلمانوں کی قیادت کا فریضہ ادا کرنے پر آمادہ ہو کر لندن کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیتے ہیں تو اقبال کی سیاسی اور فکری تنہائی ٹوٹنے لگتی ہے۔ ’’گئے دِن کہ تنہا تھا میں انجمن میں/یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں‘‘۔ اب اقبال قائداعظم کے ایک ’’ادنیٰ سپاہی‘‘ کا کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔ قائداعظم جان لیتے ہیں کہ اس سپاہی کے جلَو میں نوجوانوں کی فوج ظفر موج دادِ شجاعت دینے کو تیار ہے۔ وہ اسی فوج سے کام لیتے ہیں اور ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کے لفظوں میں زمینی حقائق کو توڑ پھوڑ کر اقبال کے خواب کو پاکستان کی حقیقت بنا دیتے ہیں۔

مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پاکستان ! زندہ باد

سر پہ جو اپنے سایہ کُناں سائبان ہے
اﷲ کی عطا‘ پاک وطن کا نشان ہے!
اس ملکِ خداداد سے اپنی شناخت ہے
ستر برس سے ہم سبھوں کا اس پہ مان ہے
کرتے ہیں سرحدوں کی حفاظت جو صبح وشام
اُن غازیوں‘ شہیدوں کی واہ کیا ہی شان ہے!
جس ملک کی اساس ہی کلمے پہ ہو پڑی
اسلام کے اصولوں سے ہی ان کی جان ہے
اﷲکی نعمتوں کا شمار کس سے ہو سکے
نعمت وہ کون سی ہے جو نہ ہم کو دان ہے!
ہم سب کا حق ہے ایک سا‘ اس ملک پاک پر
فرمان ہے قائد کا‘ تو کیا این و آن ہے؟
ہیں اہلِ وطن سب ہی محبِ وطن پرےؔ
اس میں جو شک کرے‘ وہ بدگمان ہے
خواجہ محمداصغر پرےؔ

*****

 
09
August

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

بحیرۂ روم سے بحیرۂ عرب تک پھیلا جس طرح مشرقِ وسطیٰ آج عالمی سیاست کا محور ہے، اگر ہم تاریخ میں جھانک کر دیکھیں تو یہی خطۂ ارض پچھلے تین ہزار برسوں سے زائد عرصے سے ایشیا، افریقہ اور یورپ کی تہذیب و تمدن اور سیاست کا مرکزومحور رہا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے یہیں سے جنم لیا۔ سمیری اور مصری تہذیب، یونانی تہذیب جسے آرکیالوجسٹ، یوریِشین تہذیب کہتے ہیں، انہی خطوں کے قریب پلی بڑھیں۔ دنیا کے تین بڑے اور اہم مذاہب، یہودیت، مسیحیت اور اسلام نے یہیں جنم لیا۔ انسانی تاریخ کی دو بڑی تہذیبیں جو آج بھی اپنی قدیم شکل میں موجود ہیں، مشرق وسطیٰ ہی سے تعلق رکھتی ہیں، یعنی عربی اور فارسی تہذیبیں۔ مشرقِ وسطیٰ تاریخ وسیاحت کا دلچسپ ترین موضوع ہے۔ رومن ایمپائر کا مشرقی خطہ درحقیقت مشرق وسطیٰ ہی تھا۔ یورپی تہذیب میں رومن ایمپائر دنیا کی بڑی طاقت کہلاتی ہے۔ مشرقی رومن ایمپائر کا دارالحکومت استنبول اس کا دل تھا، جو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کا ایک قدیم شہر ہے۔ ظہورِ اسلام کے بعد، فارس اور رومن بازنطینی تہذیب کی جگہ عربوں نے مسلمان ہوکرمشرق میں تہذیبی ترقی میں اپنی بالادستی قائم کرلی۔ عرب وعجم تصادم مشرقِ وسطیٰ کا ہزاروں سال پرانا تصادم ہے، جو اسلام کے ظہورسے پہلے، بعد از اسلام اور آج بھی اپنی نئی شکل میں موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پر عرب تہذیب کی چھاپ اسلام کے ظہور کے بعد گہری ہوگئی، یعنی
Arabnization
۔ عرب تہذیب اور زبان وثقافت نے مشرقِ وسطیٰ کو مکمل طور پر عرب کردیا۔ اس کے اثرات عرب صحارا اور جبل طارق کو عبور کرکے یورپ تک جا پہنچے۔ سپین میں مسلم تہذیب اِسی عرب تہذیب کا ایک اور اضافہ تھا۔ مسلم سپین نے دنیا کی تاریخ وتہذیب پر انمٹ اثرات چھوڑے۔ وقت آنے پر سپین سے مسلمانوں کا دَور ختم ہوگیا لیکن مسلم سپین انسانی تاریخ پر انمٹ اثرات چھوڑ گیا۔ مسلم سپین پر عربوں کے اسلامی دَور نے جو اثرات مرتب کئے، آج کا سارا مغرب اسی کا مرہون منت ہے۔ مسلم سپین نے تمام مدفون یونانی علوم کے ساتھ دنیا بھر کے علوم کو ترجمہ کرکے زندہ کردیا۔ مسلم سپین کا زوال تو ہوگیا لیکن یہ تاریخِ انسانی میں ایک شان دار اضافہ کرگیا۔

 

mashrikwusta.jpg یورپ ومغرب کی ترقی کا دروازہ ہی مسلم سپین ہے جس نے یونانی، ہندی اور عالمی علوم کو تراجم کے ذریعے زندہ کردیا۔ اور اپنے ہاں لوگوں کو فکر وخیال کی آزادی دی۔ یہودی تاریخ میں یہودی مسلم سپین کو اپنے لئے

Glorious Period
قرار دیتے ہیں کہ مسلم سپین نے یہودیوں کو علمی، فکری اور تحقیقی حوالے سے پھلنے پھولنے کے مواقع دئیے۔ مسلم سپین نے سماجی علوم میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ یورپ میں کلیسا کی سیاست سے علیحدگی مسلم سپین کے دانشوروں کی مرہون منت ہے جس نے یورپ اور مغرب کی کایا پلٹ دی، یعنی مسیحیت کی سیاست سے علیحدگی۔ یہ فکری تحریک سپین سے اٹلی میں داخل ہوئی۔ کلیسا اور پادری کو سیاست سے علیحدہ کردیاگیا۔ پھر یہ تحریک پھیلتی چلی گئی۔ فرانس کا انقلاب اور بعد میں یورپ میں سائنس کی ترقی اور صنعتی انقلاب اسی سماجی وفکری تحریک کے مرہون منت ہیں۔ یورپ سے جڑا مشرقِ وسطیٰ ہزاروں سالوں سے اس پر نظر اور نہ نظر آنے والے اثرات تسلسل سے چھوڑ رہا ہے۔
تہذیبوں کے عروج وزوال کی تاریخ پڑھیں تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اگر ایک خطے سے تہذیب ختم ہوتی ہے تو اس کی جگہ کوئی نئی تہذیب لے لیتی ہے۔ یورپ کے بطن سے جنم لینے والی تہذیب وطاقت بازنطینی سلطنت، جس کا دل قسطنطنیہ (استنبول) تھا، جب ختم ہوئی تو اناطولیہ میں پھیلے سلجوقی ترکوں سے جنم لینے والی ترک قوم نے اس کی جگہ لے۔ یہ سلجوقی ترک، وسطی ایشیا سے خانہ بدوشوں اور گڈریوں کی حیثیت سے مشرقِ وسطیٰ آئے۔ پہلے عربوں کے سپاہی بنے، پھر ترک ولائتیں قائم کیں اور پھر دنیا کی عظیم ترین سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تین براعظموں ،ایشیا، افریقہ اور یورپ تک سلطنتِ عثمانیہ پھیل گئی اور بازنطینی سلطنت کی جگہ لے لی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، جو صدیوں سے عرب وفارس میں تقسیم تھا، کے اندر ترک تہذیب نے صرف جنم ہی نہیں لیا، بلکہ دنیا کی عظیم الشان سلطنت قائم کرلی۔ تقریباً چار صدیوں تک سلطنت عثمانیہ نے جو ترکوں کی تہذیب تھی، عرب، افریقی، ایشیائی اور کچھ یورپی خطوں پر اپنا اقتدار قائم کئے رکھا۔ البتہ ایرانی یا فارسی خطوں پر اقتدار قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔


یورپ میں سائنسی اور صنعتی دَور نے مغربی تہذیب کو نئے مرحلے میں داخل کیا۔ کولونیئل ازم کے ذریعے یورپی طاقتیں دنیا بھر میں اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ایشیا، افریقہ، امریکہ، آسٹریلیا اور لاطینی امریکہ
Colonized
ہوگیا اور اسی کے ساتھ مغربی تہذیب نے سائنس اور ٹیکنالوجی سے دنیا پر بالادستی کا آغاز کردیا۔ آج کی دنیا اس مغرب کے زیر اثر ہے جس کے پاس ٹیکنالوجی ہے۔ ٹیکنالوجی کی طاقت نے اُن کو معاشی، اقتصادی اور عسکری بالادستی کے مواقع فراہم کردئیے۔ امریکہ، لاطینی امریکہ اور آسٹریلیا یورپی تہذیب کے سیٹلائٹس ہیں۔ آج کی دنیا مغرب کی دنیا ہے۔ اس مغربی دنیا نے سرمایہ داری کو جنم دیا جس نے کولونیئل ازم اور بعد میں عالمی سرمایہ داری اور پھر سپرپاور کو جنم دیا۔ مغربی تہذیب جو سرمایہ داری اور عالمی بالادستی پر گامزن تھی، اس کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب 1917ء میں ایشیا اور یورپ کی ملی جلی تہذیب روس نے لینن کی قیادت میں بالشویک انقلاب برپا کرکے مغرب کی سرمایہ داری اور سپر پاور کے تصور کو چیلنج کردیا۔ عالمی سرمایہ داری کے سرخیلوں کے لئے یہ خطرے کی گھنٹی تھی۔ محنت کشوں کی حکومت قائم ہوئی۔ یورپ اور مغرب کی سرمایہ داری چیلنج ہوئی۔ روس جس کے صدیوں سے یورپ کے ساتھ سیاسی وعسکری تصادم تھے، ایک اشتراکی اور نئے فلسفۂ معیشت و حکمرانی سے ابھرا۔ کمیونسٹ روس، اشتراکی روس نے جہاں عالمی سرمایہ داری اور سرمایہ دارانہ تہذیب وحکمرانی کو چیلنج کیا، وہیں یورپی تہذیب و طاقت کے سرخیل امریکہ کی عالمی بالادستی کو چیلنج کردیا۔ سرمایہ داری کے بطن سے جنم لینے والی عالمی طاقت کا مقابلہ کرتے ہوئے محنت کشوں کے فلسفے پر بننے والی ریاست
USSR
نے عالمی سامراج کی عالمی بالادستی کو مشکلات میں ڈال دیا۔ بعد میں اسی فلسفے کے تحت چین میں ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی قیادت میں کمیونسٹ چین کا ظہور ہوا اور یوں دنیا دو حصوں میں بٹ گئی۔ عالمی سرمایہ دار دنیا ، اس کے اتحادی اور مرہون منت خطے وحکمران اور سوشلسٹ دنیا۔ یہیں سے سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ سرد جنگ نے دنیا میں عالمی سرمایہ داری اور عالمی سامراج کے عالمی حکمرانی ایجنڈے کو ناکوں چنے چبوا دئیے، جس کی قیادت سابق سوویت یونین اور عوامی جمہوریہ چین کررہے تھے۔


1917ء میں روس میں انقلاب برپا ہوا۔اسی دوران جنگ عظیم اوّل نے دنیا بھر میں تبدیلیوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تقریباً چار صدیوں سے قائم عثمانی سلطنت اس جنگ عظیم اوّل میں بکھر گئی۔ عالمی سرمایہ دار سرخیل اب دنیا کی انرجی پر قابض ہونے کی منصوبہ بندی کے لئے سرگرم ہوئے اور انہوں نے برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی طاقتوں کے تعاون سے
New Middle East
کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا۔ جنگ عظیم اوّل نے مغربی سرمایہ دار اور سامراجی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ میں در آنے کے شان دار مواقع فراہم کردئیے اور مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم اور نئی ریاستوں کی تخلیق کا آغاز ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں متعدد مصنوعی ریاستیں قائم کی گئیں، جن پربعد میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جابر حکمران بٹھا دئیے گئے اور اسی کے ساتھ خطے میں ایک مذہبی ریاست کے قیام کے منصوبے پر عمل شروع کردیا گیا۔ دنیا بھر میں پھیلے صدیوں سے بکھرے یہودی جو مختلف تہذیبوں کا حصہ بن چکے تھے، یوکرائن، پولینڈ، روس، یورپ اور جگہ جگہ سے ان یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک یہودی مذہبی ریاست اسرائیل قائم کر دی گئی۔ سیکولر مغرب کا تضاد دیکھیں کہ اپنے ہاں غیرمذہبی ریاست وسیاست کا پرچار کرنے والوں نے مذہب کے نام پر ایک مصنوعی ریاست کا ظہور اپنے زورِ بازو سے قائم کردیا۔ ایک امریکی صدر نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں مغربی تہذیب کا دروازہ قرار دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس منصوبہ بندی کی تکمیل ہوئی جو مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم کی بنیاد پر کی گئی۔ مغرب اور عالمی سرمایہ داری کے مشرقِ وسطیٰ میں منصوبوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج وہ تحریکیں تھیں جو سوئل ازم اور نیشنل ازم کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں ابھر رہی تھیں۔ دنیا میں دو طاقتوں متحدہ ریاست ہائے امریکہ اور
USSR
(سابق سوویت یونین) کے مابین تصادم نے ان تحریکوں کو جِلا بخشی۔ مصر میں جمال عبد الناصر اس تحریک کے لیڈر بن کر ابھرے اور یوں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں عالمی سرمایہ داری، سامراجی اور اسرائیلی حکمت عملیوں کو چیلنج کردیا۔ اس سوشلسٹ اور نیشنلسٹ تحریک نے ایک وقت میں لبنان، مصر، شام، عراق سے الجزائر تک کواپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان خطوں میں اس فلسفے پر یقین رکھنے والوں نے انقلاب برپا کردئیے، یہ لوگ امریکہ، یورپ اور سامراج کے ساتھ ساتھ اسرائیل جیسی مصنوعی ریاست کی بالادستی کے خلاف تھے۔ اس تحریک میں جمال عبدالناصر کے علاوہ بن بیلا، معمر قذافی، یاسر عرفات، حافظ الاسد نمایاں تھے۔

 

ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔تبدیلی ہمیشہ کسی سماج، تہذیب اور قوم میں اپنے اندر سے آتی ہے۔جنگ و جدل ،مذہبی دہشت گردی میں گھرے مشرقِ وسطیٰ کے اندر مذہبی سیاست اور تنگ نظر قوم پرستی کے خلاف ہم نئی ترقی پسند عوامی تحریکوں کو مسترد نہیں کر سکتے جو عرب خطوں اور سارے مشرقِ وسطیٰ کو سامراجی ایجنڈے کے خلاف بیدار کرسکتی ہیں

دیوارِ برلن کے گرنے، مشرقی یورپ میں سوشلسٹ نظام کے منہدم ہونے اور سوویت یونین کے تحلیل ہونے نے یقیناًدنیا بھر کو متاثر کیا۔ دنیا یونی پولر ورلڈ میں بدل گئی۔ امریکہ، دنیا کی واحد سپر پاور اور مغرب کے سارے ملک اس کے اتحادی بن گئے۔ اس نے جہاں عالمی معیشت کو اپنے شکنجوں میں لینا شروع کردیا، وہیں عالمی عسکری بالادستی کا آغاز بھی کردیا۔ اس تبدیلی کے سب سے زیادہ اور براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ پر پڑے۔عراق کے خلاف پہلی خلیجی جنگ، افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی یلغار اور پھر عراق پر دوسری جنگ مسلط کی گئی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ حیران کن حالات سے دوچار ہوا۔ ذرا غور کریں، عراق، شام اور لیبیا جیسی ریاستوں کو کھوکھلا کردیا گیا اور سارے خطے میں مذہبی دہشت گردی کے بیج بو دئیے گئے۔ مذہبی دہشت گردی کو امریکی پالیسی سازوں نے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اب یہ دہشت گردی یمن تک اور سعودی عرب کی سرحدوں تک پھیلا دی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ترکی کی سرحدوں کے اندر اور ساتھ ساتھ بھی۔


مشرقِ وسطیٰ تین بڑی زبانوں ،عربی، فارسی اور ترک زبان بولنے والے سترہ ممالک پر مشتمل ہے۔عربوں کے علاوہ ایران اور ترکی مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک میں شمار ہوتے ہیں ۔2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر کے کوشش کی کہ لبنانی ریاست کی چولیں ہلا دی جائیں ۔لیکن اسرائیل کو ایک طرح کی فوجی شکست ہوئی جس کا اعتراف اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے کیا۔2006ء کی اسرائیلی شکست کے بعد سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے پہلی مرتبہ ایک اصطلاح استعمال کی،
"New Middle East"
۔ذرا 1990ء کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کے منظر نامے پر غور کریں تو ایک نیا مشرقِ وسطیٰ ہمارے سامنے ہے جو مستقبل کی جھلک ہے۔کھوکھلا، بکھرا، فرقوں میں بٹا عراق،لیبیا،شام اور خطے بھر میں پھیلے پُراسرار مذہبی دہشت گرد۔راقم کی تحقیق کے مطابق، امریکی منصوبہ بندی کے تحت مشرقِ وسطیٰ کو دوبنیادوں پر تقسیم کئے جانے کا کھیل جاری ہے۔ریاستوں اور قوموں کو فرقوں میں تقسیم کیا جائے اور دہشت گردی کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک مستقل ہتھیار کے طور پر پنپنے کے مواقع فراہم کئے جائیں،جو مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل
Destabilize
رکھے۔خانہ جنگیوں کے جواز اور مواقع جاری رکھے جائیں۔ شام ،عراق اور لیبیا اس مشرقِ وسطیٰ کی ایک جھلک ہیں۔اور اب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو باہمی تصادم میں جھونکنا ایک بڑی حکمت عملی ہے، یعنی عرب ریاستوں کے مابین بڑے تصادم کے امکانات پیدا کرنا۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ کی دو غیر عرب طاقتوں، ایران اور ترکی کو بھی جھونکنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ آج جس قدر کمزور ہے، شاید ہی پچھلی صدی میں اس قدر کمزور رہا ہو۔ بکھرا، تقسیم شدہ مشرقِ وسطیٰ، جنگ وجدل کا میدان، فساد و جنگوں کا مرکز اور اس میں نسلی ولسانی آمیزش بھی کی جائے گی، کُردوں کے حقوق کے نام پر، کہ ایسے مشرقِ وسطیٰ کا منصوبہ حتمی کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور ترک ریاست کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس منظر نامے میں روس اور چین کا سامراج مخالف کردار نہایت اہم ہے۔ کیونکہ امریکہ کے سامراجی ایجنڈے کے نشانہ چین اور روس ہیں اور دونوں اس کے خلاف متحد ہیں۔ خصوصاً روسی فیڈریشن کا کردار۔ اس لئے اگر توڑ پھوڑ، خانہ جنگی اور مذہبی دہشت گردی پھیلتی ہے تو اس کا اگلا نشانہ یورپ نہیں روس اور اس کی اتحادی کاکیشیائی اور وسطی ایشیائی ریاستیں ہیں۔ روسی صدر ولا دی میرپیوٹن بار بار کہتے ہیں کہ خطے میں پھیلتی دہشت گردی کا نشانہ روس ہے۔ اس لئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام کے تنازعے اور خانہ جنگی میں روس نے جہاں سلامتی کونسل میں بار بار ویٹو کیا، وہیں وہ باقاعدہ طور پر دمشق میں قائم بشارالاسد کا اتحادی اور شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پیدا کردہ دہشت گردوں کا مخالف اور ان کے خلاف جنگ میں شامل بھی ہے۔سلامتی کونسل میں ویٹو سے لے کر تنازعے کے حل تک، عوامی جمہوریہ چین، روس کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی پر اس کا اتحادی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ تین ہزار سال سے مختلف ادوار اور تہذیبوں میں اسی طرح محور رہا ہے جس طرح آج کی عالمی سیاست میں۔ موجودہ تقسیم ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں سرد جنگ کے بعد روس نے پہلی مرتبہ امریکی پالیسیوں کو براہِ راست رَد کیا جس نے مغربی دنیا کے مشرقِ وسطیٰ کے پلان کو ڈسٹرب کیاہے۔لیکن ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔تبدیلی ہمیشہ کسی سماج، تہذیب اور قوم میں اپنے اندر سے آتی ہے۔جنگ و جدل ،مذہبی دہشت گردی میں گھرے مشرقِ وسطیٰ کے اندر مذہبی سیاست اور تنگ نظر قوم پرستی کے خلاف ہم نئی ترقی پسند عوامی تحریکوں کو مسترد نہیں کر سکتے جو عرب خطوں اور سارے مشرقِ وسطیٰ کو سامراجی ایجنڈے کے خلاف بیدار کرسکتی ہیں۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
August

سروے: زین سرفراز

نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ قوموں پر جب بھی کبھی آزمائش کا دور آتا ہے تو نوجوان نسل اس آزمائش سے نکلنے کے لئے اپنا کردار ادا کر تی ہے۔ تحریکِ آزادئ پاکستان میں بھی نوجوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی نوجوانوں کے دل میں وطنِ عزیز کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا جذبہ موجزن ہے۔ اسی سلسلے میں ’ہلال‘نے ایک سروے کیا تاکہ ملکی ترقی اور استحکام کے حوالے سے نوجوانوں کے خیالات معلوم کئے جا سکیں۔ اس سلسلے میں جو خیالات ہم تک پہنچے ہیں وہ ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

ذیشان ممتاز۔

(این ڈی یو اسلام آباد)

zeeshanndu.jpgپاکستان14اگست 1947کو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ اس ملک کے قیام کا مقصد اسلامی شعائر اور اقدار کی پاسداری ہے۔ پاکستان کو عظیم تر بنانے کے لئے سب سے پہلے اپنی مذہبی و ملی اقدار کی پاسداری ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مخلص قیادت اور قانون کی عملداری بنیادی جزو ہیں۔ ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے علاوہ تعلیم کو عام کرنا اور اعلیٰ تعلیم تک آسان رسائی ترقی کی بنیادی شاہراہ ہے۔
 

رانا اطہر۔

(قائداعظم یونیورسٹی)

ranaatharquid.jpgپاکستان کو عظیم بنانے کے لئے ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا۔ ملک کی ترقی کے لئے قوم کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم اداروں کے استحکام کی بات کرتے ہیں لیکن اداروں کو مستحکم کرنے کے لئے عوام کی سوچ میں بیداری لانا ضروری ہے جو کہ اداروں کے معمار ہیں۔ انسانی شعور میں بدلاؤ کے لئے علم و ادب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 

عدیل خان۔

(ہزارہ یونیورسٹی)

addelkhanhazara.jpgپاکستان ہمیں بہت سی قربانیوں کے بعد ملا ہے اس کی حفاظت ہمارا اولین فریضہ ہے۔ اس ملک کا سب سے اہم اثاثہ نوجوان ہیں جنہوں نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ملک کی بہتری کے لئے ہر شخص کو اپنے حصے کی ذمہ داری پوری ایمان داری سے ادا کرنی ہو گی۔ ہمیں اپنے ملک میں مثبت سوچ بیدار کرنی ہو گی۔ ہر شخص کو، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، اپنا کام پوری ایمان داری سے کرنا ہو گا۔
 

محمد یٰسین۔

(گجرات یونیورسٹی)

myaseengujrat.jpgپاکستان کو عظیم تر بنانے کے لئے پاکستان کے لوگوں کو قانون کا پاسدار ہونا پڑے گا۔ اس قانون کو معاشرے میں ہر فرد پر یکساں لاگو کیا جائے اور ہر انسان کو یکساں اہمیت دی جائے۔ تو پھر ہر انسان ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھے گا اور پاکستان خودبخود عظیم تر بن جائے گا۔ ہر فرد کو چاہئے کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ کیونکہ قانون ملکی ترقی کے لئے بنایا جاتا ہے۔ ہر کسی پر قانون لاگو ہو گا تو سب کچھ خوب سے خوب تر اور عظیم سے عظیم تر ہوتا چلا جائے گا۔
 

محمد سعد۔

(ایئر یونیورسٹی)

msaad.jpgاگر ہم سب اپنا اپنا کام ایمانداری کے ساتھ کریں تو ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے کلچر کو بھی فروغ دینا چاہئے۔
 

حافظ ساجد نذیر۔

(یونیورسٹی آف سرگودھا)

hafizsajid.jpgجب حکومت کرپشن سے پاک دیانتدار اور اﷲ سے ڈرنے والی ہو گی تو ملک میں نوکریاں میرٹ پر ملیں گی انصاف کا بول بالا ہو گا ہر آدمی کو انصاف ملے گا۔ ہر آدمی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا تبھی ہم ملک کو عظیم بنا سکیں گے۔ کسی بھی ملک کو عظیم تر بنانے کے لئے مخلص قیادت کا ہونا بہت ضروری ہے اور جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی نعمتیں ہیں ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو ملک خود ہی عظیم تر بن جائے گا۔
 

کشمالہ رئیس۔

(علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی)

kasmalaraees.jpgپاکستان کوعظیم تر بنانے کے لئے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ اگر ہم خود میں نظم و ضبط اور قانون کی پاسداری پیدا کرلیں اور قوم کا ہر فرد اپنی جگہ کام ٹھیک سے شروع کردے اور محنت کو اپنا شعار بنا لے، تو وہ دن دور نہیں جب قوم میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوگی جو مثبت سوچ کے حامل ہوں گے۔ اور ایسے ہی لوگ قوموں کو ترقی سے ہمکنار کرتے ہیں۔
 

ردا مشتاق۔

(فاؤ نڈیشن یونیورسٹی)

ridamushtaq.jpgپاکستان14اگست 1947 کو بڑی جدو جہد کے بعد وجود میں آیا۔اس وطن کے حصول میں ہمارے بڑوں کی بہت سی قربانیاں ہیں جنہیں ہم بھلا نہیں سکتے۔ پاکستان کو بہتر بنانے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے تعلیمی اداروں کو بہتر بناناہوگا۔ کیونکہ ’پڑھے گا پاکستان تبھی بڑھے گا پاکستان۔‘ پڑھنے سے ہی انسان میں اچھے اوربُرے کی تمیز اُجاگر ہوتی ہے۔ اس کے اندر شعور آتا ہے اور وہ عوام کے دُکھ درد کو سمجھ سکتا ہے۔پھر وہ ایک اچھااورایماندار لیڈر بن کر ملک کو بخوبی چلا سکتا ہے۔
 

فرح علی۔

(نمل یونیورسٹی)

farahali.jpgپاکستان ایک ایسا عظیم ملک ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن صدافسوس یہاں پر رہنے والے لوگوں کو اس کی قدر نہیں۔ اگر ہم اس ملک کی قدرکریں اور اپنے وسائل کا صحیح استعمال کریں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی کرنے سے روک نہیں سکتی۔ اگر یہاں پر رہنے والا ہر فرد اپنی ذمہ داری کماحقہ‘ نبھائے، ہر شخص دوسروں کا حق مارنے کے بجائے دوسروں کی مدد کرے، ہر فرد غلط کے خلاف ہو اور سچ کا ساتھ دے اور وقت کی قدر جانے تو ہمیں کامیاب قوم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
 

سعدیہ خان۔

(پنجاب یونیورسٹی)

sadiakhan.jpgپاکستان اﷲ کا دیا ہوا ایک تحفہ ہے جو قدرتی دولت سے مالا مال ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی اور ہمیں چاہئے کہ اس کو مزید کامیاب بنانے کے لئے ایمانداری اور محنت سے کام کریں۔ ہر ادارے کو اپنے طور پر کرپشن کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اس کے لئے ہمیں ذاتی طور پر بھرپور محنت کرنا ہوگی۔ جس قوم میں خود اعتمادی آ جاتی ہے وہ قوم ترقی بھی کرتی ہے۔ ہمیں قوم کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ تاکہ عوام ، حکومت اور ادارے مل کر کام کریں اور سب کا مقصد ایک ہی ہو کہ ہمیں اپنے ملک کو عظیم تر بنانا ہے ۔
 

شارزہ شکیل۔

(انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی)

sharza.jpgپاکستان میری زمین، میرا وطن، میری چھاؤں اور میرا سکون ہے۔ہم سب نے اسے عظیم بنانے کے لئے مل کر کوشش کرنی ہے۔ہمارے اداروں اور افراد کو چاہئے کہ اپنے فرائض ایمانداری اور تندہی سے سرانجام دیں۔ پاکستان میں لیڈر شپ بلڈنگ کی ٹریننگ میں نوجوانوں کو دلچسپی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ابتدائی کچھ سالوں کے بعد ہی سے لیڈر شپ کے فقدان کا سامنا رہا ہے ۔ لیڈر شپ کی ٹریننگ وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معیشت کی پالیسیوں پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
 

دھرتی یہ پاکستان کی ہے
غور سے دیکھو دُنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
شان ہے اس کی سورۂ رحماں
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
ہیرے اس میں، موتی اس میں
لعل، یاقوت، مرجان کی ہے
غور سے دیکھو دنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
چشمے اس کے نغمے گاتے
جھرنے اس کے گیت سُناتے
پنجاب، خیبر، مہران و مکران
کشمیر و بلتستان کی ہے
غور سے دیکھو دنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
نہ سمجھو مجبور و کاہل
ہم تو ہیں تقلید کے قابل
مُٹھی بھر ہیں پھر بھی غالب
شان میرے ایمان کی ہے
غور سے دیکھو دُنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
مٹی اس کی سونا اُگلتی
صبحیں چمکتی شامیں دمکتی
گیہوں، چاول، کپاس کی فصلیں
محنت میرے کسان کی ہے
غور سے دیکھو دُنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
میجر زاہداسلام آرٹلری

*****

 
08
August

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط نمبر 19

سائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس
ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) کی کارگل کے محاذ پر شاندار کارکردگی سے سب بخوبی واقف ہیں۔ معرکہ کارگل سے پہلے این ایل آئی کی بٹالینز صرف شمالی علاقہ جات میں عسکری خدمات سر انجام دیا کرتی تھیں۔ بعد ازاں انہیں ریگولر رجمنٹ کا درجہ دے دیا گیااور یوں ان کی خدمات کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہو گیا۔ این ایل آئی یونٹس نے موقع ملتے ہی دوسرے محاذوں پر بھی اپنی جنگی صلاحیتوں کا بخوبی لوہا منوایا۔ این ایل آئی کے جوان لوہے کے پھیپھڑوں کے مالک ہوتے ہیں اور ہزاروں فٹ بلند چوٹیاں چٹکی بجاتے سر کر لیتے ہیں لہٰذا میدانی علاقوں میں بھاگنا، دوڑنا ان کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ تاہم میدانی علاقوں میں تعیناتی کے بعد ان کا تعارف چند ایسی چیزوں سے ہواجو کہ شمالی علاقوں میں نہیں پائی جاتیں۔ ان میں سر فہرست سائیکل تھی اور یہ ایک ایسا جن تھا جس پر قابو پاناجوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔


ایک مرتبہ کھاریاں کینٹ میں ایک بریگیڈ کمانڈر جیپ میں سوار این ایل آئی یونٹ کے سامنے سے گزر رہے تھے کہ اچانک دوسری جانب سے فوجی وردی میں ملبوس ایک سائیکل سوار نمودار ہوا۔ جیسے ہی جیپ سائیکل کے قریب پہنچی تو سائیکل سوار نے دونوں ہاتھ چھوڑ کر بریگیڈ کمانڈر کو سیلوٹ کیا۔ سیلوٹ تو ٹھیک ہو گیا لیکن سائیکل بے قابو ہو کر جیپ سے جا ٹکرائی اور سائیکل سوار بے ہوش ہو گیا۔ اسے ہوش میں لایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ این ایل آئی کی ایک یونٹ میں حوالدار ہے اور سڑک پر سائیکل چلانا سیکھ رہا ہے۔اس کے بعد آرڈر جاری ہوا کہ این ایل آئی کے جوان تا حکم ثانی سائیکل نہیں چلائیں گے۔ پہلے ان کے لئے ٹرانسپورٹ بٹالین میں چار ہفتے کا ایک سائیکل ڈرائیونگ کورس چلایا جائے گا ، اس کے بعد ایک بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو کہ ٹیسٹ لینے کے بعد انہیں ڈرائیونگ لائسنس جاری کرے گا اور یوں وہ سائیکل چلانے کے اہل قرار پائیں گے۔اس حکم پر عمل درآمد کیا گیا اور ایک ماہ تک سائیکل چلانے کی بخوبی مشق کروانے کے بعد جوانوں کو ٹیسٹ لے کر لائسنس جاری کر دیئے گئے۔


کچھ عرصے کے بعد بریگیڈ کمانڈر اسی سڑک سے گزر رہے تھے کہ وہی حوالدار سامنے سے نمودار ہوا اور دوبارہ ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اس مرتبہ حوالدار سے بازپرس کا سوال بالکل نہ تھا کیونکہ اس کے پاس سائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔ جو ہوا سو ہوا بہرحال کمانڈر نے آئندہ کے لئے اس سڑک سے گزرنا چھوڑ دیا اور یوں دنیا سائیکل اور جیپ کی ٹکر کی ہیٹ ٹرک دیکھنے سے محروم رہ گئی۔


ایک کپ چائے
فوج میں کھانے اور بے عزتی کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔ خصوصاً بے عزتی کی تو مقدار اور دورانئے کا بھی تعین نہیں کیا جا سکتا۔ فوج میں کامیاب زندگی گزارنے کے لئے کافی حد تک بے عزتی پروف ہونا لازمی ہے۔ہمارے ایک سینیئر کہا کرتے تھے کہ بے عزتی کے دوران یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ آپ کی نہیں بلکہ آپ کے ساتھ والے شخص کی ہو رہی ہے۔ ایک صوبیدار میجر صاحب کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آن پہنچا تو ان کے اعزازمیں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تمام افسروں نے باری باری ان کی خدمات کو سراہا اور مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ آخر میں صوبیدار میجر صاحب کو اظہار خیال کرنے کی دعوت دی گئی تو وہ یوں گویا ہوئے ’’عزیزو! آج مجھے جوتھوڑی بہت عزت دی جا رہی ہے اس کے حصول کے لئے میں نے مسلسل تیس سال بے عزتی برداشت کی ہے۔‘‘


یہ 1996 کے اوائل کا ذکر ہے۔ ہماری یونٹ ان دنوں نوشہرہ کی سنگلاخ وادیوں میں ایک طویل جنگی مشق میں مصروف تھی۔ چل سو چل کا عالم تھا۔ دن میں دو تین مرتبہ ایک جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ ڈیپلائمنٹ تو گویامعمول کی بات تھی۔ ان دنوں جی پی ایس وغیرہ کا تو تصور بھی محال تھا۔ خالم خولی نقشہ دیکھ کر ہی کام چلایا جاتا تھا۔ ایسے میں دیئے گئے وقت میں صحیح جگہ تک پہنچنا ایک مشکل ترین کام ہوا کرتا تھا۔آرٹلری یونٹ میں ڈیپلائمنٹ کروانا ٹو آئی سی کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ ایک روز ہم ٹو آئی سی کے ہمراہ یونٹ کا کانوائے لے کر ایک نئی منزل کی جانب گامزن تھے۔ نقشہ ٹو آئی سی کے ہاتھ میں تھا اور وہ اپنی گاڑی میں ہم سب کو لیڈکر رہے تھے۔ دیا گیا وقت گزرنے کے باوجود منزل کا نام و نشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ کافی دیر بھٹکنے کے بعد ٹو آئی سی نے تھک ہار کر ایک جگہ یونٹ کو ڈیپلائے کروانے کا حکم صادرکر دیا۔ ابھی سامان کھلنے بھی نہ پایا تھا کہ کمانڈر سر پر پہنچ گئے۔ انہوں نے نقشہ دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیا کیونکہ یونٹ مطلوبہ جگہ سے ابھی بھی آٹھ کلومیٹر کے فاصلے تھی۔ اس کے بعد بے عزتی کا ایک طویل دور چلا جس میں ہم سب کو نااہلی کے کوہ ہمالیہ سے تشبیہہ دینے کے ساتھ ساتھ فوج میں ہماری سیلیکشن اور ٹریننگ پر سوال اُٹھائے گئے تھے۔ آخر میں کمانڈر نے کڑکتی ہوئی آواز میں حکم دیا کہ آپ سب فوراً سے پہلے یہاں سے روانہ ہو جائیں اور مطلوبہ جگہ پہنچ کر مجھے رپورٹ کریں۔ اس کے بعد خاموشی کا ایک مختصر وقفہ آیا اور پھر ٹوآئی سی کی باریک سی آواز سنائی دی’’سر! پہلے ایک ایک کپ چائے نہ ہو جائے‘‘ اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ اس مرتبہ کمانڈر کی جانب سے جو شاندار عزت افزائی فرمائی گئی اس کی تفصیل بیان کرنے کی نہ تو ہمارے اندر ہمت ہے اور نہ ہی آپ سننے کی تاب لا سکیں گے۔


شکوہ شکایت
بیگم کو ہم سے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ ہم گھریلو معاملات میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لیتے۔ کچھ ایسی ہی شکایت ہمارے افسران بالا کو بھی رہی کہ ان کی نظر میں یونٹ کے معاملات میں ہماری دلچسپی کا معیار ہرگز وہ نہیں تھا جو کہ انہیں درکار تھا۔ اب آپ ہی بتائیں کہ انسان ایک وقت میں بھلا کتنے معاملات پر فوکس کر سکتا ہے۔ہماری سمجھ اور تجربے کے مطابق باس اور بیگم دونوں کو بیک وقت راضی کرنا تو مشکل ہے تاہم ایک وقت میں کسی ایک کو خوش کر نے کی کوشش ضرورکی جا سکتی ہے۔


یہ اکتوبر 1998 کا ذکر ہے ہم ان دنوں شادی اور سیاچن دونوں کے بندھن میں یکے بعد دیگرے گرفتار ہوئے تھے۔ پوسٹ پر میجر امجد ہمارے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ موصوف پیدل فوج کے ایک قابل افسر تھے اور ہم سے کافی سینیئر بھی تھے۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ ہم نئے شادی شدہ افسر وں کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں تو ہمیں خانگی مشوروں سے نوازنا اپنا فرض عین قرار دے دیا۔ اس کام کے لئے ان کے پاس وقت اور ہمارے پاس اشتیاق کی فراوانی تھی۔ میجر امجد کے تجربات کا نچوڑ یہ تھا کہ فوجی افسر کی گھریلو زندگی خوشگوار ہونا چاہئے تاکہ وہ پروفیشنل معاملات پر پوری توجہ دے سکے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہر قیمت پربیگم کو خوش رکھا جائے۔ اگرچہ یہ بات ہم نے پہلے بھی کہیں سے سن رکھی تھی لیکن ایک تجربہ کار سینیئر کے مشورے نے تو گویا اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ ہم نے سوچا کہ اس بار چھٹی گئے تو ضروراچھا شوہر بن کر دکھائیں گے۔ پوسٹ پر ہمارا عرصہ پورا ہوا اور بیس دن کی چھٹی گزارنے کے لئے عازم سفر ہوئے۔ دورانِ سفر ہم نے خود کو اس چیز کے لئے تیار کیا کہ بیگم کی ہر بات پر سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔


گھر پہنچ کر ہم نے جیسا سوچا تھا ویسا ہی کیا۔ صبح اٹھ کر فجر کی نماز پڑھی، ناشتہ ٹھیک ٹائم پر کیا، شاپنگ پر انہیں بغیر کہے لے جانے کے لئے تیار ہو گئے، کھانا بالکل روکھا پھیکا تھا لیکن ہم نے تعریفوں کے پل باندھ دیئے، کپڑے جوتے بدل کر تمام چیزیں اپنی جگہ پر خود سے رکھیں، ہر بات پر ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ یہ دیکھ دیکھ کر بیگم حیران ہوتی رہیں اور پوچھتی رہیں کہ آپ کو آخر ہو کیا گیا ہے۔ چار دن اسی طرح سے گزرے تو آنکھوں میں آنسو بھر کر کہنے لگیں کہ مجھے آپ کے تبدیل ہونے کی بے انتہا خوشی ہے لیکن یقین مانیں آپ اس طرح بالکل بھی اچھے نہیں لگ رہے۔ آپ ایسا کریں کہ سب کچھ بھول کر پہلے کی طرح بن جائیں۔ یہ بات سن کر ہم حیرت سے ان کی طرف تکنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔


اس کے بعد سے یہ عالم ہے کہ ہم چھٹی پر ہوں تو بارہ بجے سے پہلے بستر سے منہ باہر نہیں نکالتے اور ناشتہ اس وقت کرتے ہیں جب بیگم چیخ چیخ کر ہلکان ہو جاتی ہیں، شاپنگ پر لے جانے کے لئے تب راضی ہوتے ہیں جب بات علیحدگی سے دو چار قدم ہی پیچھے رہ جاتی ہے، کھانے میں جی بھر کے نقص نکالتے ہیں، کپڑے جوتے پورے گھر میں پھیلادیتے ہیں، ہر بات میں بیگم سے اختلاف کرتے ہیں۔ اس سب کے جواب میں بیگم سے جلی کٹی بھی سنتے ہیں۔ کبھی کبھار تنگ آ کر بیگم افسوس بھی کرتی ہیں کہ مجھ سے کتنی بڑی غلطی ہوئی جو میں نے آپ کے بدلے ہوئے رویے کی قدر نہیں کی۔ میجر امجد تو دوبارہ ہمیں ملے نہیں کہ ان سے پوچھتے لیکن ہو سکے تو آپ ہی مشورہ دیں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔

جاری ہے۔۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
August

تحریر: جبارمرزا

پاکستان قائم ہوئے پورے ستر برس بیت گئے۔ البتہ موجودہ 14اگست پاکستان کی تاریخ کا اکہترواں ہے۔ پہلا 14اگست 1947کا تھا جس روز پاکستان قائم ہوا تھا۔ 14اور 15اگست کی درمیانی رات برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک حصہ پاکستان کہلایا اور دوسرا ہندوستان۔ 14اور 15اگست 1947 کی درمیانی رات بارہ بجے پہلے انگریزی میں جناب ظہور آذر نے اور پھر اردو میں جناب مصطفی علی ہمدانی نے ریڈیو پاکستان سے قیام پاکستان کا اعلان کر کے برعظیم کے مسلمانوں کو آزاد فضا میں سانس لینے کی نوید دی تھی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد سنتو خان کی آواز میں جو پہلی قوالی پیش کی گئی تھی وہ علامہ اقبال کے کلام پر مشتمل تھی۔


زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گئے
اسی صبح آزادی کے پروگرام میں گلوکارہ منور سلطانہ نے مولانا ظفرعلی خان کا نغمہ گایا تھا۔
توحید کے ترانے کی تانیں اڑائے جا


ریڈیو پاکستان لاہور کی نشریات کے بعد اسی لمحے ریڈیو پاکستان پشاور سے پہلی اناؤنسمنٹ اردو میں آفتاب احمد بسمل نے کی۔ اس کے فوراً بعد پشتو میں وہی اعلان عبداﷲ جان مغموم نے کیا۔ اس روز پاکستان کے حصے میں آنے والے تینوں ریڈیو سٹیشن لاہور، پشاور اور ڈھاکہ نے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔ پشاور ریڈیو نے احمد ندیم قاسمی کا گیت اور سجاد سرور نیازی کی دھن میں ملی نغمہ پیش کیا کہ
پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو
اس سے پہلے رات گیارہ بجے ریڈیو پاکستان پشاور سے آل انڈیا ریڈیو کی نشریات کے اختتام کا اعلان جناب یونس سیٹھی نے کیا تھا جو بعد میں جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں وزارت اطلاعات میں طویل عرصے تک پرنسپل انفارمیشن آفیسر رہے تھے۔


قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقے میں صرف تین ریڈیو اسٹیشن تھے۔ ریڈیو پاکستان لاہور ریڈیو پاکستان پشاور اور ریڈیو پاکستان ڈھاکہ، 14اور 15اگست 1947کی درمیانی رات ڈھاکہ ریڈیو اسٹیشن سے بھی پہلے انگریزی میں کلیم اﷲ نے اور پھر بنگالی زبان میں قیام پاکستان کی خوشخبری سنائی گئی تھی۔
کراچی میں چونکہ ریڈیو اسٹیشن نہیں تھا لہٰذا ہنگامی طور پر ایک خیمے میں ریڈیو اسٹیشن قائم کر کے قومی رابطے پر قائداعظم کا پیغام قوم کے نام نشر کیا گیا تھا۔ جس میں اپنے پہلے خطاب میں عظیم قائد محمدعلی جناح نے فرمایا تھا کہ
’’بے پایاں مسرت و احساس کے جذبات کے ساتھ میں آپ کو تہنیت کا پیغام دیتا ہوں۔ 15اگست آزاد اور خود مختار پاکستان کا دن ہے۔ یہ مسلم قوم کی منزل مقصود کی علامت ہے۔ جس نے پچھلے چند برسوں میں اپنے وطن کے حصول کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔


اس عظیم لمحے میں مجھے وہ بہادر یاد آتے ہیں جنہوں نے ہمارے مقصد کی خاطر دادِ شجاعت دی۔ پاکستان اُن کا ممنون رہے گا اور جو اب موجود نہیں ہیں ان کی یاد کو عزیز جانے گا۔ نئی مملکت کی تخلیق کی وجہ سے پاکستان کے شہریوں پر زبردست ذمہ داری آن پڑی ہے۔ انہیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ایک قوم جو بہت سے عناصر پر مشتمل ہے۔ کس طرح امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہے اور ذات پات اور عقیدے کی تمیز کے بغیر سارے شہریوں کی بہتری کے لئے کام کر سکتی ہے۔


امن اندرون ملک اور امن بیرون ملک ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ ہم پرامن رہنا چاہتے ہیں اور اپنے نزدیکی ہمسائیوں اور ساری دنیا سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیں اور امن عالم اور اس کی خوشحالی کے لئے اپنا پورا کردار ادا کریں گے۔ مسلمانان ہند نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک متحد قوم ہیں۔ ان کا مقصد انصاف پر مبنی اور درست ہے۔ جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آیئے۔ آج ہم عاجزی سے خدائے بزرگ و برتر کا ’اس کی نوازشات کے لئے‘ شُکر ادا کریں اور دعا کریں کہ وہ ہمیں خود کو اس کا اہل ثابت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آج کا دن ہماری قومی تاریخ میں ایک سخت مرحلے کی تکمیل کی علامت ہے اور یہ ایک نئے اور مقدس عہد کا آغاز بھی ہونا چاہئے۔ آیئے ہم اپنے قومی و عملی افکار کے ذریعہ یہ بات اقلیتوں کو ذہن نشین کرا دیں کہ جب تک وہ پاکستان کے وفادار شہریوں کی حیثیت سے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے انہیں کسی چیز سے خوفزدہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔


ہماری سرحدوں پر آباد حریت پسند قبائل اور اپنی سرحدوں سے پار مملکتوں کو ہم پیغام تہنیت بھیجتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ان کے رتبے کا احترام کرے گا اور امن برقرار رکھنے کے ضمن میں اُن کی طرف دوستانہ تعاون کا ہاتھ بڑھائے گا۔ ہماری اس سے زیادہ کوئی خواہش نہیں ہم خود بھی آبرومندانہ طریقے سے زندہ رہیں اور دوسروں کو بھی عزت مندانہ طور پر زندہ رہنے دیں۔


آج جمعۃ الوداع ہے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ، مسرت و انبساط کا دن۔ ہم سب کے لئے اور اس وسیع و عریض برعظیم اور دنیا کے ہر گوشے میں جہاں کہیں بھی مسلمان ہوں تمام مساجد میں ہزاروں کے اجتماعات رب جلیل کے حضور بڑی عجز و انکساری سے سجدہ ریز ہو جائیں اور اس کی نوازش پیہم اور فیاضی کا شکریہ ادا کریں اور پاکستان کو ایک عظیم ملک اور خود کو اس کے شایان شان شہری بنانے کے کام میں اس قادر مطلق کی ہدایت اور اعانت طلب کریں۔
اے میرے ہم وطنو! آخر میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان بیش بہا مسائل کی سرزمین ہے۔ لیکن اس کو ایک مسلم قوم کے شایان شان ملک بنانے کے لئے ہمیں اپنی تمام توانائیوں کی ضرورت ہو گی۔ مجھے پورا اعتماد ہے کہ یہ سب کی طرف سے اور فروانی کے ساتھ ملیں گی۔ پاکستان زندہ باد۔‘‘


بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا قوم کے نام قیام پاکستان کے موقع پر یہ پہلا خطاب جسے عظیم مسلم لیگی راہنما جناب آزاد بن حیدر نے اپنی تصنیف ’’تاریخ آل انڈیا مسلم لیگ سرسید سے قائداعظم تک‘‘ میں نقل کیا ہے۔ خطاب کے آخری حصے میں ہمارے عظیم قائد اعظم نے قوم کو مخاطب کر کے خاص طور سے یاددہانی کرائی کہ ’’اے میرے ہم وطنو!! پاکستان بیش بہا وسائل کی سرزمین ہے لیکن اس کو ایک مسلم قوم کے شایان شان ملک بنانے کے لئے ہمیں اپنی تمام توانائیوں کی ضرورت ہو گی۔‘‘


پھر ایک سال بعد پاکستان کے قیام کی پہلی سالگرہ کے موقع پر قائداعظم محمد علی جناح نے قوم کے نام جو پیغام دیا تھا وہ بہت ہی حوصلہ افزاء تھا۔ ہمارے عظیم قائد، قوم، فوج اور سیاسی قیادت کے کام سے انتہائی مطمئن تھے۔ قائداعظم کا وہ پیغام ریڈیو پاکستان کراچی سے نشر کیا گیا تھا۔ اس روز کراچی ریڈیو سٹیشن کی باقاعدہ اور نئی بلڈنگ کا افتتاح بھی ہوا تھا۔ قائداعظم نے قوم کے نام وہ پیغام کوئٹہ میں ریکارڈ کرایا تھا۔ جہاں وہ ایک دن پہلے ہی زیارت سے پہنچے تھے۔ پاکستان کا ایک سال مکمل ہونے پر قائداعظم بہت خوش تھے۔ اپنے ذاتی معالج کرنل الہٰی کے منع کرنے کے باوجود قائداعظم نے قیام پاکستان کی سالگرہ والے دن حلوہ پوری کھائی تھی۔ کرنل الہٰی سے بھی کہا تھا کہ قائداعظم کی خواہش ہے کہ وہ سوجی کا حلوہ کھائیں۔ ڈاکٹر نے کہا نہیں۔ فاطمہ جناح بولیں بہت تھوڑا سا کھائیں گے۔ ڈاکٹر نے اجازت دے دی۔ فاطمہ جناح نے پھر کہا وہ پوری بھی کھانا چاہتے ہیں۔محترمہ فاطمہ جناح نے کرنل الہٰی نے کہا اس کی تو کسی صورت اجازت نہیں ہے۔‘‘ لیکن جب کرنل الہٰی کی قائداعظم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ انہوں نے حلوہ کھایا ہے کرنل نے کہا پوری بھی کھائی؟ قائداعظم خاموش رہے اور مسکرا دیئے۔ اس پر ڈاکٹر کو تشویش ہوئی، انہوں نے فوری قائداعظم کا بی پی دیکھا، نبض دیکھی نارمل پا کر خاموش ہو گئے۔ قائداعظم کو پاکستان کی پہلی سالگرہ کی اہمیت کا اس قدر خیال تھا کہ زیارت میں زیادہ بلندی کی وجہ سے جب ان کی سانس پھولنے لگی پاؤں پر سوجن آ گئی تو اس روز 12اگست شام کا وقت تھا۔ کرنل الہٰی نے قائداعظم کو کوئٹہ شفٹ ہونے کا مشورہ دیا تو قائداعظم نے کہا کب روانہ ہوا جائے۔ ڈاکٹر نے کہا ایک دو دن بعد پرسوں جائیں گے۔ قائدعظم نے کہا پرسوں پاکستان کے قیام کی سالگرہ ہے۔ اس روز میں سفر نہیں کروں گا۔ لہٰذا کل 13اگست کو چلتے ہیں۔ یوں وہ اگلے روز کوئٹہ پہنچ گئے۔ قائداعظم کا قوم کے نام پہلی سالگرہ کا خطاب آخری خطاب ثابت ہوا۔ جسے 1976 میں قائداعظم کے صد سالہ یوم ولادت کے موقع پر ماہنامہ ماہ نو نے قائداعظم نمبر میں نقل کیا تھا۔ جس میں قائداعظم نے فرمایا:


’’اہلِ پاکستان!!
آج ہم آزادی کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں۔ ایک سال ہوا اہل پاکستان کو کامل اختیارات سونپے گئے تھے اور موجودہ ترمیم شدہ دستور کے تحت حکومت پاکستان نے ملکی معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔ ہم نے سال بھر کے حوادث کا مقابلہ ہمت، عزم اور تدبر سے کیا ہے اور دشمن کے حملوں کا جن کا ذکر اس سے پہلے بار بار کیا جا چکا ہے۔ خصوصاً مسلمانوں کو بہ حیثیت قوم کے ختم کر دینے کے پہلے سے طے کئے ہوئے پروگرام کی روک تھام اور ملکی تعمیر کا اصل کام کر کے ایک حیرت ناک کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ہمارے تعمیری اور اصلاحی کام کا نتیجہ ہمارے بہترین دوستوں کی توقعات سے بھی بڑھ چڑھ کر نکلا۔ میں آپ سب کو وزیراعظم کی قیادت میں اپنے وزراء کو دستور ساز اسمبلی اور مجالس قانون ساز کے ارکان کو مختلف انتظامی محکموں کے افسروں اور دفاعی فوجوں کے ارکان کو ان کارناموں پر جو انہوں نے اس تھوڑے سے عرصے میں انجام دیئے ہیں مبارک باد دیتا ہوں اور میں اہل پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے ہماری ہر کوشش میں ہمارا ساتھ دیا اور صبر و تحمل کا ثبوت دیا۔ جو ہم نے پہلے سال کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کی۔


لیکن یہی کافی نہیں۔ یاد رکھئے کہ پاکستان کا قیام دنیا کی تاریخ میں ایک بے نظیر واقعہ ہے۔ یہ دنیا کی عظیم ترین اسلامی ریاستوں میں سے ہے اور جوں جوں وقت گزرتا جائے گا۔ مملکت پاکستان سال بہ سال اپنے عظیم الشان فرائض انجام دیتی رہے گی۔ بشرطیکہ ہم ایمانداری، تن دہی اور بے غرضی سے اس کی خدمت کرتے رہیں ۔ مجھے اپنے عوام پر پورا پورا اعتماد ہے کہ وہ ہر صورت حال سے اسی طرح عہدہ برآ ہوں گے۔ جو ہماری گزشتہ اسلامی تاریخ کی شان و شوکت اور روایات کے شایان شان ہو گا۔


ان لاکھوں مہاجرین کی داستان جنہیں ہماری سرحد کے اس پار اپنے گھروں کو چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لینی پڑی۔ سب کو معلوم ہے یہ المناک حادثہ اس وقت پیش آیا کہ ابھی ہماری نئی مملکت کو اپنے پاؤں جمانے کا مشکل سے وقت ملا تھا اور فی الواقعہ اس کی لپیٹ میں بہت سے وہ لوگ بھی آ گئے جنہیں سرکاری ملازموں کی حیثیت سے خود حکومت کی انتظامی مشینری کو قائم کرنا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ اپنے ان بے گھر اور ستم رسیدہ بھائیوں کے لئے جو کچھ کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کیا جا سکا۔ ان میں سے بہت سے لوگ ابھی تک بہت سی مشکلات سے دوچار ہیں۔ محض یہ واقعہ کہ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اپنے نئے گھروں میں ایک نئی مسرور زندگی کی امید کے ساتھ آباد کر دی گئی ہے۔ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ اگر اہل پاکستان اخوت کے اس جذبہ کا اظہار نہ کرتے جو انہوں نے کیا۔


پاکستان کے وجود میں آتے ہی دیگر ذرائع سے اس کا گلا گھونٹنے کی تدبیروں میں ناکام ہو کر ہمارے دشمنوں کو یہ آس تھی کہ ان کا دلی منشاء اقتصادی چالبازیوں سے پورا ہو جائے گا۔ ان تمام دلائل سے کام لے کر ’جن کی تہہ میں محض عداوت اور کینہ پروری کام کر رہی تھی‘ انہوں نے یہ پیش گوئی کی کہ پاکستان کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ لیکن یہ جھوٹے نجومی اپنی چالوں میں ناکام رہے۔ ہمارے پہلے بجٹ میں بحث ہوئی اور توازن تجارت ہمارے حق میں ہے۔ اس کے ساتھ اقتصادی میدان میں بھی ہم نے ہمہ گیر اور مسلسل ترقی کی ہے۔ کسی مملکت کی تاریخ میں ایک سال کا عرصہ اس کے کارناموں کا جائزہ لینے اور اس کے مستقبل کا اندازہ لگانے کے لئے بہت مختصر ہے لیکن جس طرح ہم نے زبردست مشکلات پر قابو پایا ہے اور گزشتہ بارہ مہینوں میں جو ٹھوس ترقی کی ہے۔ اس کی بنا پر ہم یہ امید کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارا مستقبل شاندار ہو گا۔ جہاں تک مرکزی حکومت کا تعلق ہے ہمیں انتظامی معاملات بالکل نئے سرے سے شروع کرنے پڑے مغربی پنجاب میں یہ صورت حال پیش آئی کہ پاکستان قائم ہوتے ہی وہاں کا نظام حکومت تقریباً درہم برہم ہونے والا تھا۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ ہم نے ان تمام امور کا جو ہماری یکجہتی کے لئے خطرہ بنے ہوئے تھے کامیابی سے مقابلہ کیا اور وقت کے بعض بڑے بڑے مسائل کے بارے میں حکومت پاکستان نے نہ صرف اپنا عزم بالجزم ظاہر کیا بلکہ اس امر کا بھی ثبوت دیا کہ وہ ان مختلف عالمگیر مسائل سے بھی کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہو سکتی ہے۔ جو وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے رہتے ہیں۔


قدرت نے آپ کو سب کچھ بخشا ہے۔ آپ کے وسائل لامحدود ہیں۔ آپ ملک کی بنیاد پر جلد سے جلد اور بہتر سے بہتر عمارت تعمیر کریں لہٰذا بڑھتے چلے جایئے۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد۔‘‘
بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا قوم کے نام آخری پیغام ہمارے لئے سوچ اور فکر کے کئی دَر وا کر گیا ہے۔ قائداعظم نے محض ایک سال کی کارکردگی میں جس اطمینان کا اظہار کیا تھا کیا ستر سال بعد ہم اسی قسم کی امید اور اطمینان کا اظہار کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟
قیام پاکستان کے فوری بعد تو ہمیں ہجرت، مسافرت اور اقتصادی مسائل کا سامنا تھا۔ باوجود اس کے کہ قائداعظم نے تمام محکموں کی کارکردگی کو سراہا تھا۔ ان کے عدم سدھار جانے کے بعد وہ جذبہ اور خراج تحسین پیش کرنے کا ولولہ کیوں دکھائی نہیں دیتا؟


پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور قائداعظم کے دست راست خان لیاقت علی خان بھارت کے ضلع کرنال کے نواب اور جاگیردار تھے۔ وہ ایک روز جو سوٹ پہنتے تھے اسے دوبارہ نہیں پہنتے تھے۔ لیکن تقسیم ہند کے بعد وہ سب کچھ چھوڑ کے پاکستان آ گئے اور یہاں آ کر کسی قسم کا کوئی کلیم بھی داخل نہ کرایا۔ پاکستان میں ان کی کوئی زمین مکان نہیں تھا۔ شہادت کے وقت ان کا اکاؤنٹ بھی خالی تھا۔ بیگم رعنالیاقت علی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کا مہینے کا چینی کا ایک کوٹہ مقرر تھا اور مہینے کے آخری دنوں میں وزیراعظم میں اُن کی بیگم، بچے اور مہمان پھیکی چائے پیا کرتے تھے۔ گویا لیاقت علی خان قیام پاکستان کے بعد نواب نہ رہے۔ وزیراعظم ہو گئے۔ کیا گزشتہ 6سات دہائیوں میں اقتدار کے ایوانوں میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے؟


اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان خطے میں ایک اہم ملک کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتا ہے، عالم اسلام کا سب سے مؤثر ملک ہے، ایٹمی قوت ہے، جو ایک منفرد اعزاز ہے۔ دنیا کی بہترین فوج ہے اس کے پاس، قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ لیکن قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد قیادت کے بحران کا شکار کیوں ہے؟ عدم برداشت اور بے اطمینانی ماحول میں سرایت کیوں کر گئی ہے؟ قومی سطح کے ادارے ویران کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ اخلاقی قدریں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ شائستگی دم بخود دکھائی دیتی ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا کلچر رواج پاتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کے لہجوں میں ترشی آ گئی ہے۔ بے روزگاری کا عفریت بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کے کئی شہروں کے پینے والے پانی میں انسانی فضلے کی شکایات ملی ہیں۔ تین چار ہزار افراد کے لئے صرف ایک ڈاکٹر میسر ہے۔ ہسپتالوں کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ ریاست کے کئی اہم ستون دیمک خوردہ دکھائی دے رہے ہیں۔ قیام پاکستان کا دن محض پرچم کشائی اور صدارتی ایوارڈ کے اعلانات تک محدود ہو گیا ہے۔ 14اگست کے کچھ تقاضے ہیں یہ تجدید عہد کا دن ہے۔ قائداعظم کا پہلا اور آخری دونوں خطاب اگر غور سے پڑھیں تو عزم و ہمت اور ولولہ تازہ کے کئی اشارے اس میں پنہاں ہیں۔ سوچ اور فکر میں وسعت لانی ہو گی۔ آئندہ انتخابات کی بجائے آنے والی نسلوں کو فکر کی ضرورت ہے۔ قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد اپنی 394روزہ زندگی میں تقریباً سارے اہم اداروں کی بنیاد رکھ دی تھی۔ مگر ان کے بعد 840مہینوں میں بھی ترقی اور کارکردگی کا وہ معیار دکھائی نہیں دیتا جس کا اظہار بانیء پاکستان نے ایک سالہ کارکردگی پر کیا تھا۔ 14اگست ہم سے اسی کارکردگی کا متقاضی ہے جو قائداعظم کے پیش نظر تھی۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
August

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں قیام پاکستان کے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالی تھی اور لکھا تھا کہ14-15 اگست کی نصف شب جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہ قدر کی مبارک رات تھی۔ جسے ہم لیلتہ القدر کہتے ہیں۔ 15 اگست 1947ء کو جب پاکستانی قوم نے اپنا پہلا یوم آزادی منایا تو اس روز ستائیسویں رمضان اور جمعتہ الوداع کا دن تھا۔ گویا ساری نیک ساعتیں اس روز یکجا ہوگئی تھیں۔ آپ نے سورۃ القدر میں پڑھا ہوگا کہ لیلۃ القدر کے موقع پر فرشتے آسمانوں سے اترآتے ہیں اور مطلع فجر تک سلام بھیجتے ہیں۔ اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ بھی نچلے عرش پر تشریف فرماہوتے ہیں۔ اسی مبارک رات جب آسمان سے اﷲپاک کی بے انتہا ، ان گنت اور بے شمار نعمتیں برس رہی تھیں تو رات کے بارہ بجے ، قیام پاکستان کا اعلان ہوا تھا۔ بے شک قیام پاکستان اﷲ پاک کی عطا تھی اور پاکستانی قوم کے لئے لاتعداد نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی۔ لیکن یہ بات یاد رکھئے کہ جب اﷲ پاک کی جانب سے نعمت عطا ہوتی ہے تو اس کے ساتھ آزمائش ، امتحان اور تقاضے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ تقاضے پورے نہ کئے جائیں تو پھر سزا کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید پر تدبر کیجئے ۔ بنی اسرائیل اور دیگرکئی قوموں کو نایاب نعمتیں عطا ہوئیں۔ آسمانوں سے من و سلویٰ بھی اتارا جاتا رہا لیکن جب ان قوموں نے ان نعمتوں کے تقاضے پورے نہ کئے تو انھیں سزائیں بھی ملیں۔ پاکستان عطائے الٰہی ہے ۔ اسے ایک اسلامی، فلاحی ریاست بنانا مقصود تھا۔ حکومتی نظام کی حد تک جمہوریت ہمیں ورثے میں ملی تھی ۔ کیونکہ جمہوری نظام بلکہ پارلیمانی جمہوری نظام برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان میں متعارف کرایا تھا۔ عوام کی کسی حد تک سیاسی تربیت بھی ہوچکی تھی لیکن پاکستانی جمہوریت کی بنیاد اسلامی اصولوں پر جب کہ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد سیکولر اصولوں پر رکھی جانی تھی۔ یعنی پا کستان کو ایک اسلامی جمہوری ریاست جب کہ ہندوستان کو سیکولر ریاست بننا تھا۔ افسوس کہ پاکستان صحیح معنوں میں نہ اسلامی ریاست بن سکا اور نہ ہی جمہوری ریاست۔ اسی صورت حال کا نتیجہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور پاکستان کے دو لخت ہونے کی صورت میں نکلا۔ یاد رکھیں اگر پاکستان اپنی روح کے مطابق صحیح معنوں میں اسلامی جمہوری ریاست ہوتا تو ایک صوبے کی علیحدگی کی کبھی نوبت ہی نہ آتی۔

tsaawarpakkhwabyah.jpg
اگست کے حوالے سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ پاکستان کا تصور کیا تھا؟ قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کس قسم کا تصور پاکستان قوم کے سامنے پیش کیا؟ ان کے ذہن میں پاکستا ن کے نظام کا نقشہ کیا تھا؟ انھوں نے کس تصور پاکستان کے لئے عوام سے ووٹ لے کر نہ صرف انگریزوں کو تقسیم پر مجبور کردیا بلکہ مسلم لیگ کی نمائندہ حیثیت پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی تھی؟ 1945-46کے انتخابات میں مسلم لیگ کی فقید المثال کامیابی کے بعد خود کانگرس کے لئے ’’تقسیم‘‘ کے علاوہ کوئی چارہ یا آپشن باقی نہ بچا تھا۔اس پس منظر میں یہ حقیقت ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں رہنی چاہئے کہ اول تو قیام پاکستان ایک جمہوری و سیاسی عمل کا ’’پھل‘‘ یا منطقی انجام تھا اور دوم یہ کہ مطالبہ پاکستان کے مقدر کا فیصلہ خود ہندوستان کے مسلمانوں نے 1945-46کے انتخابات میں مسلم لیگ کو 75فی صد ووٹ دے کرکیا تھا۔انگریزوں نے آخری لمحے تک کوشش کی کہ ہندوستان متحد رہے ، انھوں نے پورے ہندوستان پر قبضہ کیا تھا اور وہ پورا ہندوستان ہی کانگرس کو لوٹا دینا چاہتے تھے۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ قدرت کا فیصلہ تھا کہ ہندوستان تقسیم ہو اور قدر کی مبارک رات کو آسمانوں سے برستی رحمتوں کے درمیان پاکستان قائم ہو۔ برطانوی پارلیمنٹ میں وزیرا عظم نے جون 1948ء میں ہندوستان کو آزادی دینے کا عندیہ دیا تھا لیکن قدرت کا فیصلہ تھا کہ پاکستان 14-15 اگست کی نصف شب معرض وجود میں آئے۔ میں تحریک پاکستان کو جس قدر گہری نگاہ سے پڑھتا ہوں اسی قدر مجھے حالات کے ایک مخصوص سانچے میں ڈھلنے میں قدرت کا ہاتھ نمایاں ہوتا نظر آتا ہے۔ ہم ظاہر اور الفاظ کے غلام دنیا دار لوگ ہیں۔ ہم ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ ظاہری عوامل کے ساتھ ساتھ ایک اہم فیکٹر قدرت اور مقدر کا بھی ہے۔ یہ بات جہاں قوموں کے بارے میں سچ ہے وہاں انسانوں کے بارے میں بھی اٹل حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسانوں کی مانندقوموں کا بھی مقدر ہوتا ہے۔ چونکہ ہم ہر شے کو ظاہری نظروں سے پرکھتے ہیں ا س لئے ہمیں قدرت کا فیکٹر نظر نہیں آتا۔ اس لئے اکثر اوقات ہمارے اخذ کردہ نتائج غلط ثابت ہوتے ہیں۔


اگست کے حوالے سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ وہ تصور پاکستان کیا تھا جس کے لئے عوام نے ووٹ دئیے، قربانیاں دیں، صعوبتیں برداشت کیں اور جسے قائداعظم نے مسلمانوں کے سامنے پیش کیا۔ وہ کیا خواب تھا جس کی تعبیر کے لئے عالمی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی اور مسلمان گھر بار لٹا کر، بزرگوں کی قبروں کو چھوڑ کر اور ان گنت جانوں کی قربانیاں دے کر دیوانہ وار پاکستان چلے آئے۔ اس تصور کو سمجھنے کے لئے ہمیں قائداعظم کی شخصیت اور ان کی تقاریر، ان کے پیغامات اور وعدوں،پر نظر ڈالنی ہوگی۔


قائداعظم کی شخصیت اور ان کے مزاج کو ذہن میں رکھ کر ان کی تقاریر پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے محبت ، اسلام کی بقا اور عظمت، اسوہء حسنہ، اپنے ضمیر اور اﷲ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی جیسے احساسات و تصورات ان کے ذہن پر نقش تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریریں ان الفاظ اور ترکیبات کے ذکرسے بھری پڑی ہیں۔


بدقسمتی سے قائداعظم کی شخصیت کے اس پہلو کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اس لئے میں قائداعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ 1939ء میں کی گئی تقریرکے چند فقرے نمونے کے طور پر پیش کررہا ہوں۔ انھیں پڑھیے اور ان الفاظ کے باطن میں جھانکئے تو آپ کو اصل جناح کا سراغ ملے گا۔ وہ جناح جو بظاہر انگریزی بولتا، مغربی لباس پہنتا او رمغربی طور طریقوں پر عمل کرتا تھا، لیکن باطنی طور پرکیا تھا۔ قائداعظم کے الفاظ تھے:


’’مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ دولت ، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔ میں آپ کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل ، ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے مدافعت اسلام کا حق ادا کردیا۔ جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں عَلم اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔ ‘‘


یوم حساب، خدا کے حضور سرخروئی کا خیال، مسلمانوں اور اسلام کی سربلندی کا علم بلند کئے ہوئے مرنے کی آرزو اور رضائے الٰہی کی تمنا صرف اور صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو سچا مسلمان ہو اور جس کا باطن خوف خداکے نور سے منور ہو۔ غور کیجئے کہ جب قائداعظم نے یہ تقریرکی اس وقت ان کی عمر تقریباً 53 سال تھی اور ان کی شہرت اوج ثریا پر تھی۔


قائداعظم کو زندگی بھر اقلیتوں کے مسئلے سے واسطہ رہا اور وہ اس سے نمٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت تھے اور اس اقلیت کے سب بڑے رہنما محمد علی جناح تھے۔ چنانچہ متحدہ ہندوستان کا خواب ٹوٹنے کے بعد جس کا نقطہ عروج 1928ء کی نہرو رپورٹ کو قرار دیا جاسکتا ہے کیوں کہ قائداعظم نے اسے پارٹنگ آف دی ویز یعنی راستوں کی علیحدگی قرار دیا تھا۔ قائداعظم پہلے پہل مسلمان اقلیت کے حقوق اور بعد ازاں مسلمان قوم کے حقوق کے لئے اس وقت تک مسلسل لڑتے رہے، جدو جہد کرتے رہے جب تک قیام پاکستان کے امکانات واضح نہیں ہوگئے۔ مسلمان اقلیت سے مسلمان قوم کے سفر میں1940ء کی قرارداد لاہور یا قراردادپاکستان ایک طرح سے اہم ترین سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے بعد قائداعظم کا مؤقف یہ رہا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ہر تعریف ، معیار اور تصور کے مطابق ایک قوم ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قومیت کی اہم ترین بنیاد مذہب تھی۔ اسی طرح جب قیام پاکستان کا مرحلہ قریب آیا تو قائداعظم کے لئے سب سے اہم سوال اور مسئلہ پھر اقلیتوں کا تھا۔ کیونکہ پاکستان میں بھی کئی مذہبی اقلیتیں آباد تھیں اور ادھر ہندوستان میں بھی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں ہی کی تھی جس کے تحفظ کے لئے قائداعظم پریشان رہتے تھے۔ چنانچہ قیام پاکستان سے چند ماہ قبل اور چند ماہ بعد تک ان سے بارہا اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے رہے جس کی وہ بار بار وضاحت کرتے رہے۔ اس دور میں قائداعظم نے جو تقاریر کیں یا بیانات دئیے ان کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ان کا مطالعہ اس مسئلے کے تناظر میں کرنا چاہئے۔


اس ضمن میں قائد اعظم کے ذہن اور فکر کو سمجھنے کے لئے ان کی اس پریس کانفرنس کا حوالہ دینا ضروری ہے جو انھوں نے پاکستان کا گورنر جنرل نامزد ہونے کے بعد 14 جولائی 1947 ء کو نئی دہلی میں کی۔ اقلیتوں کے ضمن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا........
’’ میں اب تک بار بار جو کچھ کہتا رہا ہوں اس پر قائم ہوں۔ ہر اقلیت کو تحفظ دیا جائے گا۔ ان کی مذہبی رسومات میں دخل نہیں دیا جائے گا اور ان کے مذہب، اعتقاد، جان و مال اور کلچر کی پوری حفاظت کی جائے گی۔ وہ ہر لحاظ سے پاکستان کے برابر کے شہری ہوں گے۔‘‘


قائد اعظم نے مزید کہا، ’’آپ مجھ سے ایک فضول سوال پوچھ رہے ہیں۔ گویا میں اب تک جو کچھ کہتا رہا ہوں وہ رائیگاں گیا ہے۔ آپ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا۔ ہم نے جمہوریت 1300 سال قبل سیکھ لی تھی۔‘‘


سوال یہ ہے کہ 1300 سال قبل مسلمانوں نے کون سی جمہوریت سیکھی تھی؟ کیا وہ سیکولر جمہوریت تھی یا اسلامی جمہوریت؟ ان دونوں تصورات میں ایک واضح فرق ہے جسے ذہن میں رکھنا چاہئے۔ مغربی جمہوریت کے مطابق مذہب اور سیاست ایک دوسرے سے بالکل الگ اور لا تعلق ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کا انفرادی معاملہ سمجھا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اس لئے اس کی سیاست بھی اسلامی اصولوں کے تابع ہے۔


اس بحث کی ایک اہم کڑی قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر ہے جو انہوں نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا صدر منتخب ہونے پر اسمبلی میں کی۔ یہی وہ تقریر ہے جس کی توضیح یا تشریح کر کے کچھ حضرات یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ قائد اعظم پاکستان کے لئے سیکولر جمہوری نظام چاہتے تھے۔ جبکہ دوسرا مکتبہ فکر اس توضیح سے اس بنیاد پر اختلاف کرتا ہے کہ اول تو قائد اعظم کی تقریر سے ہر گز یہ مفہوم نہیں نکلتا اور دوم یہ تاثر غیر منطقی ہے کیونکہ قائد اعظم جیسے لیڈر کی ایک تقریر کو ان کی دوسری لاتعداد تقریروں یا بیانات سے ،جو انھوں نے اس سے قبل یا بعد ازاں دئیے ،الگ یا علیحدہ کر کے صحیح نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔


سوال یہ ہے کہ قائد اعظم نے 11 اگست کی تقریر میں کیا کہا جو اس قدر بحث و نزاع کا سبب بن گیا۔ دراصل انھوں نے اس تقریر میں ان بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جو اس وقت پاکستان کو درپیش تھے اور ان کے ساتھ ساتھ بابائے قوم (فادر آف دی نیشن) ہونے کے ناتے کچھ نصیحتیں بھی کیں۔ اس تقریر کا مکمل ادراک حاصل کرنے کے لئے پوری تقریر کو اس کے سیاق و سباق اور پس منظر میں پڑھنا ضروری ہے۔ قائد اعظم نے کہا کہ..........


’’ہم آپ کی مدد سے اس اسمبلی کو مثالی بنائیں گے۔ اس اسمبلی نے بیک وقت دستور سازی اور قانون سازی کے فرائض سرانجام دینے ہیں جس کے سبب ہم پر نہایت اہم ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ حکومت کا پہلا فرض امن عامہ قائم کرنا ہے تاکہ شہریوں کی جائیداد اور مذہبی اعتقادات کی حفاظت کی جا سکے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رشوت اور کرپشن ہے۔ اس اسمبلی کو اس زہر کے خاتمے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے ہیں۔ ایک اور لعنت بلیک مارکیٹنگ یعنی چور بازاری ہے جس کا تدراک آپ کو کرنا ہے۔ اسی طرح ہمیں اقربا پروری اور ظلم و زیادتی کو بھی کچلنا ہے۔ مجھے علم ہے کہ کچھ لوگوں نے بنگال اور پنجاب کی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا۔ میرے نزدیک اس مسئلے کا اور کوئی حل نہیں تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کرنا ہے؟


اگر ہم پاکستان کو خوشحال اور عظیم ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہمہ وقت عوام کی خوشحالی اور بہتری پر توجہ دینا ہو گی۔ اگر آپ ماضی کی تلخیوں کو دفن کر کے، رنگ و نسل اور عقیدے کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر، تعاون اور برابری کی فضا میں کام کریں گے تو آپ کی ترقی کی کوئی انتہا نہیں ہو گی۔ اگر ہم اس جذبے کے ساتھ کام کریں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثریت اور اقلیت، مسلمان اور ہندو کے درمیان تضادات ختم ہو جائیں گے کیونکہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان میں بھی پٹھان، پنجابی، شیعہ، سنی وغیرہ ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں میں برہمن، وشنا، ویش، کھتری، بنگالی و مدراسی ہیں۔ یہی تقسیم ہندوستان کی آزادی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ آپ آزاد ہیں مندر میں پوجا کریں یا مسجد میں عبادت کریں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات یا عقیدے سے تعلق ہے اس سے حکومت کو سروکار نہیں۔ کسی زمانے میں انگلستان کے حالات نہایت خراب تھے۔ اور اب وہاں رومن کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ فرقوں کے درمیان اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور وہ اپنے ملک کے یکساں شہری ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے سامنے یہی آئیڈیل رکھیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرق مٹ جائے گا۔ مذہب کے حوالے سے نہیں کیونکہ ہر شخص کا اپنا مذہب ہوتا ہے بلکہ سیاسی حوالے سے کیونکہ سبھی ایک ریاست کے شہری ہوں گے۔‘‘
11اگست کی تقریر کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ قائداعظم نے یہ تقریر فی البدیہہ کی تھی۔ اسے ضبط تحریر میں لایا گیا تھا اور نہ ہی اس کے لئے تیاری کی گئی تھی۔ خود قائداعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’میں فی الحال کوئی سوچا سمجھا بیان نہیں دے سکتا ۔ میں چند ایک ایسی باتیں کہوں گا جو میرے ذہن میں آئیں گی۔‘‘ اس سے ظاہر ہے یہ کوئی پالیسی بیان نہیں تھا نہ ہی غورو خوض کے بعد لکھی ہوئی کوئی تقریر تھی۔


اس تقریر کا بنیادی نقطہ تمام شہریوں کے لئے مساوی حقوق تھے، جس پر اس سے قبل قائداعظم متعدد بارروشنی ڈال چکے تھے۔ وہ وقتاً فوقتاً اقلیتوں کے مساوی حقوق کے ضمن میں میثاق مدینہ کی مثال دیتے رہے تھے اور وہ اس سلسلے میں ہمیشہ میثاق مدینہ سے ہی رہنمائی اور فکری روشنی حاصل کرتے تھے۔ بقول پروفیسر شریف المجاہد مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے برابر حقوق کے ضمن میں ان کے سامنے ایک متبرک مثال موجود تھی کیونکہ میثاق مدینہ (622-23ء) میں ،جسے دنیا کے پہلے تحریری آئین کی حیثیت حاصل ہے، ڈاکٹر حمیداللہ کے بقول تمام شہریوں کو ان کے مذہب سے قطع نظر برابر کے حقوق دئیے گئے تھے۔ موجودہ دور میں مذہب سے بالا تر ہو کر سب شہریوں کو برابری کا درجہ دینا ایک سیکولر اصول سمجھا جاتا ہے لیکن آج سے طویل عرصہ قبل حضور نبی کریم ﷺ نے اسے میثاق مدینہ کا حصہ بنا کر اسلامی اقدار کا جزو بنادیا تھا۔


قائداعظم نے ہمیشہ تھیوکریسی کی مخالفت کی کیونکہ اسلام میں تھیوکریسی کا تصور موجود نہیں۔ علامہ اقبال تو جمہوریت کو اسلامی اصولوں اور فریم ورک کے قریب پاتے ہیں اور اجتہاد کا اختیار بھی منتخب نمائندوں یعنی پارلیمنٹ کے سپرد کرتے ہیں۔


حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم پاکستان کو ایک ماڈرن اسلامی جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے اور ان کے نزدیک اسلامی اور جمہوری اصولوں میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائداعظم کی تقاریر کا مطالعہ کریں تو یہ راز کھلتا ہے کہ قائداعظم نے اپنی تقریروں میں کبھی بھی لفظ سیکولرازم استعمال نہیں کیا جبکہ اسلام ان کی تقریروں اور تحریروں کا محور نظر آتا ہے۔


اس تقریر کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا نفس مضمون اور مدعا اقلیتوں کو احساس تحفظ اور بحیثیت شہری برابری کا پیغام دینا تھا اور قوم کو اتحاد کی تلقین کرنا تھا جس میں پاکستان کی ترقی کا راز مضمر ہے کیونکہ ہندوستان میں یہ پروپیگنڈہ جاری تھا کہ پاکستان ایک مذہبی ریاست ہوگی جہاں اقلیتوں کو غلام بنا کر رکھا جائے گا۔ اس تقریر میں قائد اعظم نے رومن کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ فرقوں کا ذکر کیا جو کہ عیسائیت کے دو فرقے ہیں۔ وہ اسلام اور ہندومت کی مانند دو مختلف مذاہب نہیں۔ اس تقریر سے قبل اور بعد ازاں بھی قائد اعظم اقلیتوں کو یقین دہانیاں کراتے رہے اور بار بار یہ کہتے رہے کہ رواداری
(Tolerance)
اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ چنانچہ قائداعظم نے 14 اگست 1947 ء کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے بھی اپنے اسی نقطہ نظر کو دہرایا۔ ماؤنٹ بیٹن نے اقلیتوں کے حوالہ سے مغل بادشاہ اکبر کی فراخ دلی کا ذکر کیا تھا جس کے جواب میں قائد اعظم نے کہا کہ، ’’اکبر بادشاہ نے جس فراخ دلی کا مظاہرہ کیا وہ ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ اس کا آغاز 1300 برس پہلے ہوگیا تھا جب ہمارے نبی کریمؐ نے فتح کے بعد نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر یہودیوں اور عیسائیوں سے فراخدلانہ سلوک کیا اور ان کے عقائد کا احترام کیا۔ مسلمانوں کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔‘‘ یہاں بھی انہوں نے میثاق مدینہ کا حوالہ دیا اور حضور نبی کریمؐ کو اپنا رہنما اور رول ماڈل قرار دیا۔


قائد اعظم کی تقاریر کو پڑھیں تو ان میں مسلسل ایک اسلامی جمہوری ریاست کا تصور ملتا ہے۔
نومبر 1945میں قائداعظم نے پشاور میں کہا...........


’’آپ نے سپاسنامے میں مجھ سے پوچھا ہے کہ پاکستان میں کون سا قانون ہوگا۔ مجھے آپ کے سوال پر سخت افسوس ہے ۔ مسلمانوں کا ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک کتاب ہے ۔ یہی مسلمانوں کا قانون ہے اور بس۔ پاکستان کا قانون اسلام کی بنیاد ہوگااور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا۔ ‘‘
14فروری 1947کو شاہی دربار سبی بلوچستان میں تقریر کرتے ہوئے کہا:’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوۂحسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبراسلامﷺ نے دیا ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیاد صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں ۔ ‘‘
30اکتوبر1947کو لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’اگر ہم قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں تو بالآخر فتح ہماری ہوگی۔ میرا آپ تمام لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں ۔‘‘


25جنوری 1948کو عید میلادالنبیؐ کے موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے استقبالئے میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے وکلا کے سامنے ان حضرات کو بے نقاب کیا جو ان کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلارہے تھے۔ اس وقت قائداعظم پاکستان کے گورنر جنرل بھی تھے ۔ اس لئے ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ’’پالیسی بیان‘‘ کی حیثیت رکھتا تھا۔ قائداعظم کے ان الفاظ پر غور کیجئے اور ان الفاظ کے آئینے میں ان چہروں کو تلاش کیجئے جنھیں قائداعظم نے شرارتی اور منافق کہا۔ قائداعظم نے کہا:’’میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکاجو جان بوجھ کر شرارت کررہے ہیں اوریہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی۔ ہماری زندگی پر آج بھی اسلامی اصولوں کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے۔ جس طرح 1300سال پہلے ہوتا تھا۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے اس لئے کسی کو بھی خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ‘‘


پھر فروری 1948میں قائداعظم نے ا مریکی عوام کے نام ایک ریڈیو پیغام میں یہ واضح الفاظ کہہ کر نہ صرف ہر قسم کے شکوک و شبہات کی دھند صاف کردی بلکہ اس بحث کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سمیٹ دیا۔ قائداعظم نے فرمایا:’’پاکستان ایک پریمیئر
(Premier)
اسلامی ریاست ہوگی ۔ .....پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی دستور بنانا ہے ۔ مجھے علم نہیں کہ اس کی حتمی شکل و صورت کیا ہوگی؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری قسم کا ہوگا جسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔ اسلام کے اصول آج بھی عملی زندگی پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح 1300برس قبل ہوتے تھے۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے ۔ ہم ان شاندار روایات کے امین اور وارث ہیں اور دستور سازی میں انھی سے رہنمائی حاصل کی جائے گی۔ بہرحال پاکستان ایک تھیوکریٹ(مذہبی) ریاست نہیں ہوگی۔ پاکستان پریمیئر اسلامک سٹیٹ ہوگی۔‘‘


قائداعظم مسلسل یہ کہتے رہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ سیرت النبیؐہمارے لئے اعلیٰ نمونہ ہے ، جمہوریت ، مساوات اور انصاف ہم نے اسلام سے سیکھا ہے اور اسلام نے جمہوریت کی بنیاد 1300برس قبل رکھ دی تھی۔ اس لئے ہمارے لئے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور یہ کہ ہمارے نبی کریمؐ نے یہودیوں اور عیسائیوں سے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا تھا ہم اس پر عمل کریں گے ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں رکھی جائے گی وہ سازشی اور منافق ہیں اور آخر میں یہ کہہ کر تمام شکوک و شبہات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی کہ پاکستا ن کا آئین جمہوری ہوگا اور اس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ گویا جہاں تک نظام حکومت کا تعلق ہے قائداعظم کا تصور پاکستان پوری طرح واضح ہے اور وہ یہ کہ قائداعظم ایک ماڈرن جمہوری پاکستان چاہتے تھے اور اگر وہ زندہ ہوتے تو ہمارا آئین یقیناًانھیں بنیادوں پر تشکیل دیا جاتا۔ قائداعظم کی تقاریر کا مطالعہ کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی داخلی صورتحال کے حوالے سے وہ صوبائیت کے مسئلے سے بہت پریشان تھے۔ پشاور سے لے کر ڈھاکہ ، چٹاگانگ تک ہر جلسہ عام اور خطاب میں انھوں نے عوام کو صوبائیت کے بارے میں وارننگ دی اور نصیحت کی کہ وہ صوبائیت کے زہر کو نکال باہر پھینکیں۔ ماضی پر نگاہ ڈالیں تو بابائے قوم کے ویژن، بصیرت اور دوربینی کی داد دینی پڑتی ہے کہ بالآخر صوبائیت نے 1971میں پاکستان کو دو لخت کردیا اور آج بھی کئی دہائیوں کے بعد بھی پاکستان کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ صوبائیت کا ہے ۔


قائداعظم نے اپنی تقاریر میں سماجی انصاف اور مساوات پر بہت زور دیا جو ان کے تصور پاکستان کا ناگزیر حصہ ہے ۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان میں سماجی اور معاشی انصاف ہو ، تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں، پاکستانی معاشرہ رشوت خوری، بلیک مارکیٹنگ، اقربا پروری، فرقہ واریت سے بالکل پاک ہو۔ وہ فیوڈل ازم اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ چاہتے تھے۔ اس حوالے سے انھوں نے کئی مواقع پر واضح کیا کہ وہ جاگیرداروں اور وڈیروں کے لئے نہیں بلکہ عام مسلمانوں کے لئے پاکستان حاصل کر رہے ہیں۔ وہ فوج اور بیوروکریسی کو بہرحال سیاست سے دوررکھنا چاہتے تھے اور کبھی یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ پاکستان میں فوج حاکم ہوگی یا بیوروکریسی سیاست میں ملوث ہوگی، لیکن ہماری بدقسمتی کہ قائداعظم پاکستان بننے کے تقریباً ایک برس بعد انتقال کرگئے اور ان کے جانشین قائدعظم کے خواب کو شرمندہ ء تعبیر نہ کرسکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بااثر زمیندار، وڈیرے اور سول و ملٹری بیوروکریسی اقتدار پر قابض ہوگئی۔ نتیجے کے طورپر غریب عوام جن کے لئے قائداعظم نے پاکستان حاصل کیا تھا ظلم و ستم، بے انصافی، غربت اور محرومی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ ان پر مایوسی اور بے حسی کی کیفیت طاری ہے اور انھیں دور دور تک اس گٹھ جوڑ کے شکنجے سے رہائی کی صورت نظر نہیں آتی۔


اگرچہ ہم قائداعظم کے تصور پاکستان سے بہت دور ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ قوم کے ذہن میں قائداعظم کے ویژن کو تازہ رکھنا ضروری ہے تاکہ ہمیں یہ احساس رہے کہ ہماری قومی منزل کیا ہے اور ہمیں اسے بہرحال ایک دن حاصل کرناہے۔ منزل دور سہی، منزل کا شعور اور احساس تو زندہ ہے ۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کا رازداں ہو جا۔۔۔!

تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجمان ہو جا
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انسان کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جا
غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغِ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا
خود میں ڈوب جا غافل! یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
مصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا
گزرجا بن کے سیلِ تند رَو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا
علامہ محمداقبال

*****

 
08
August

تحریر: ملیحہ خادم

مذہب انسان کی زندگی کا وہ حساس پہلو ہے جس پروہ شاذ ونادر ہی کوئی سمجھوتہ کرتاہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مذہب سے انسان کی دلی یا جذباتی وابستگی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اچھے یا بُرے معنوں میں مذہب کے نام پر آسانی سے جذبات سے کھیلا جاسکتا ہے۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے جو انسانی جبلت کے نرم خو یا متشدد پہلو کوابھارتا ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی اجازت نہیں اور نہ ہی ناحق خون بہانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے لیکن پھربھی اس کے اندر موجود فالٹ لائنز اصل تعلیمات کو زلزلے کی طرح ہلا کرنت نئی تشریحات یا توجیہات سامنے لے آتی ہیں اسی لئے تقریباً ہر مذہب کی تاریخ میں کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں بے جا تشدد اور جاہلانہ رسوم ورواج کا دور دورہ رہا ہے ۔ ایسے معاملات میں غلطی ادیان کی نہیں ہوتی بلکہ عقائد کی توڑمروڑکرکی جانے والی تشریح اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔


اسلام کے ساتھ بھی یہ ہی ہورہا ہے۔ صدیوں سے جو فقہی یا مسلکی اختلافات اسلام کے دائرے میں گھوم رہے تھے، وہ اب اپنے مدارسے نکل کر باہر آگئے ہیں اور ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں جو انہیں اپنی مرضی کی اشکال میں ڈھالتے رہتے ہیں لہٰذا اسلام کے نام لیوا آج پوری دنیا میں اپنی شناخت کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ موجودہ دور میں مسلمان اور دہشت گردی آپس میں یوں گڈمڈ ہو رہے ہیں کہ کسی کو دین اسلام کی صحیح تعلیمات سمجھاتے ہوئے صبح سے شام ہو جائے لیکن رات کو دنیا کے جس کونے میں دہشت گردی کی کارروائی ہوتی ہے اُس کاذمہ دار بدقسمتی سے مسلمان ہی نکلتا ہے۔ اس کے بعد الفاظ زبان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر مسلمان مزید مشکوک ہوجاتے ہیں ۔

پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی میں مذہب کا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ ملک دشمن دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں نے اس ذہانت اور مکاری سے اسلام کا نام اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے استعمال کیا کہ عام آدمی صحیح اور غلط کی تمیز کرنے میں ہی الجھن کا شکار ہوگیا۔ ہم نے بلا تفریق مذہب اور مسلک کے ایک ایک دن میں کئی کئی سو لاشیں اٹھائیں لیکن پھر بھی کتنے ہی سادہ لوح پاکستانی اسلام کے نام پر کھیلے جانے والے اس مکروہ کھیل کو سمجھ نہ سکے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی میں مذہب کا ہی استعمال کیا گیا ہے۔ ملک دشمن دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں نے اس ذہانت اور مکاری سے اسلام کا نام اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے استعمال کیا کہ عام آدمی صحیح اور غلط کی تمیز کرنے میں ہی الجھن کا شکار ہوگیا۔ ہم نے بلا تفریق مذہب اور مسلک کے ایک ایک دن میں کئی کئی سو لاشیں اٹھائیں لیکن پھر بھی کتنے ہی سادہ لوح پاکستانی اسلام کے نام پر کھیلے جانے والے اس مکروہ کھیل کو سمجھ نہ سکے۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے زمانے میں ہی پاک فوج نے دشمن کی اس چال کو سمجھتے ہوئے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں آپریشن شروع کردیئے تھے تاہم اس گھمبیر نظریاتی جنگ میں ہر قدم پھونک کر رکھنا پڑرہا تھا کیونکہ دشمن کے ظاہری حلیے نے بہت سے معصوم ذہنوں کو کشمکش میں مبتلا کردیا تھا ۔ یادش بخیر اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ انسانی خول میں چھپے ان حیوانوں سے لڑتے ہوئے جب فوج کے جوان شہید ہوتے تو کئی لوگ دانستہ یا نا دانستہ یہ سوال کھڑا کردیتے کہ اپنے ہی بھٹکے ہوئے مسلمان بھائیوں سے لڑنے والے ان فوجیوں کو شہید کہنا یا ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے بھی یا نہیں؟
یہ وہ مقام تھا کہ جب دنیا پاکستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا چکی تھی۔ بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیز ’’را‘‘ اور
’’NDS‘‘
انتہائی کامیابی سے پاکستانیوں کے دل و دماغ کو مسلمان اورکافر، شیعہ اور سنی کی تقسیم سے دوچار کررہی تھیں لیکن چونکہ ناکامی کا لفظ ہماری مسلح افواج کے لئے بنا ہی نہیں ہے اس لئے آپریشن ضرب عضب نے سرحد پار سے ہدایت اور حمایت یافتہ اس نام نہاد مذہبی ڈرامے کے اصل غلیظ کرداروں کا پردہ چاک کردیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کتنے قلیل عرصے میں محدود وسائل کے ساتھ لڑی جانے والی اس جنگ نے پاک آرمی کے سینے پر شہیدوں اور غازیوں کے خون سے مزین فتح کے تمغے سجانے شروع کردیئے۔


خدا کے فضل سے اب وطن عزیز سے دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ مساجد سے لے کر چرچ اور تعلیمی اداروں سے لے کر تفریح گاہوں تک پھیلی ہزاروں شہادتوں نے کافی حد تک شکوک ختم کر دیئے ہیں لیکن ابھی بھی ہم ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں، اب بھی کچھ ضمیر فروش فرقہ اور مذہب کی جمع تفریق میں مصروف ہیں۔ ذی عقل خوب جانتے ہیں کہ جو آگ باہر سے لگائی جاتی ہے، اسے ایندھن اندر سے بھی ملتا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے کے منافقانہ رویے تشدد اور انتہاپسندی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتے رہتے ہیں۔ ہم جذباتی لوگ ہیں جو بغیر سوچے سمجھے وقتی ابال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مردان یونیورسٹی کا طالبعلم مشعال اس کی تازہ مثال ہے جو چند لوگوں کے اکسائے ہوئے جوشیلے اور جذباتی ہجوم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایسے کتنے ہی واقعات ہماری معاشرتی زندگی کی بدصورتی دنیا کے سامنے عیاں کرتے رہتے ہیں اور ہم حیلے بہانوں سے ایسی حرکتوں کی تاویلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کو بھی بڑے اہتمام سے مذہبی منافرت پھیلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کے عقائد میں غیر ضروری عیوب بھی اپنا فرض سمجھ کر تلاش کرتے ہیں۔


لیکن اب ہمیں سب اچھا ہے کی گردان چھوڑ کر اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرکے اپنے کل کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہمیں معاشرے میں ایک دوسرے کے عقیدے، فرقے اور نظریے کے لئے گنجائش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں کے آئینی اور عائلی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ ہمارے یہاں توہین مذہب کو لوگ ذاتی بغض اورانا کی تسکین کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ مذہب سے وابستگی کو ہم بسا اوقات انتہا پرلے جاکر اپنے نظریات اور عقائد دوسرے پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں سماجی چیک اینڈ بیلنس کا نظام، قانون کی عملداری کے ذریعے مؤثر بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی نفرت انگیزانتہا پسندانہ تقریر اور تحریر کو فروغ نہ دے سکے۔


تحمل، برداشت اور رواداری وہ واحد کنجی ہے جو ہمیں دائمی امن کے راستے پر لے جائے گی۔ ہمارے علماء اور دانش ور حضرات کو لفّاظی کے بجائے حقیقی معنوں میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا نیز فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر ہونے والے شرانگیز اجتماعات کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی، تب ہی پُر امن پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا کیونکہ یاد رکھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ موجودہ امن پاک آرمی کی بے مثال کارکردگی کا مرہونِ منت ہے لیکن فوج ہروقت گلیوں اور چوراہوں کی حفاظت کے لئے کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے گلی کوچوں کی حفاظت کا ذمہ خود بھی لینا ہوگا تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہوسکے۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا بصورت دیگر اُجرتی قاتل مذہب کا نقاب چڑھا کر کبھی مسلم اکثریت کی مساجد اور امام بارگاہوں میں خون بہائیں گے تو کبھی اقلیتوں کی خوشیوں پر نقب زنی کرتے رہیں گے۔

مضمون نگار:ملیحہ خادم فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

*****

 
08
August

تحریر: عبد الستار اعوان

افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ حربی صلاحیتوں پر قوم کوہمیشہ نازرہا ہے ۔ محافظانِ وطن کی کامیابیوں ، کامرانیوں اور جرأتوں پر مبنی داستانوں کو قلمبند کرنا آسان نہیں ، بلاشبہ اس قوم کے ایک ایک فرد کے دل میں پاک فوج کی جو محبتیں بسی ہیں، ان کے پیچھے عزم و ہمت اور قربانیوں کی طویل داستانیں ہیں۔ سیلاب اور زلزلہ متاثرین کی بحالی ہو یا سیاچن سے لے کر وزیرستان ، بلوچستان اور ملک کے چپے چپے پر دہشت گردوں کے خلا ف نبردآزماہونے کا معاملہ ‘ ہمارے جری سپاہی کبھی پیچھے نہیں رہے اور ہماری افواج سے وابستہ ہر ایک مردِ مجاہد نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دھرتی کے دفاع و سلامتی کے لئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ۔ افواج پاکستان کی انہی قربانیوں کی بدولت ہی قوم ان پر فخر کرتی ہے ۔


نائن الیون کے بعد جس وقت دشمن طاقتوں نے ہمیں اندرونی طور پر کھوکھلاکر کے ہماری سلامتی کو چیلنج کیا یہ تو ہمارے بہادر سپاہی ہی تھے جو دشمن کی راہ میں سدِ سکندر ی بن گئے ، انہوں نے دشمن کا یہ چیلنج قبول کیا اور صرف اللہ پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے اور اپنی فطری بہادری کو کام میں لاتے ہوئے دہشت گردی کے ناسور کو تقریباًجڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ وطن عزیز کو بھارت اور چند دوسرے ملکوں نے ایک تھکا دینے والی جنگ میں الجھانے کی پوری پوری منصوبہ بندی کی تھی لیکن آفریں ہے دھرتی کے محافظوں پر کہ انہوں نے دشمن کے عزائم کوناکام کر دیا اور کھوکھرا پار سے لے کر لائن آف کنٹرول تک اور وزیرستان و بلوچستان سے لے کر اس ملک کے ایک ایک چپے تک کی حفاظت کا حق ادا کر دیا ۔

optkhyberfour4.jpg
ضرب عضب کی کامیابی کے بعد دہشت گردوں نے افغانستان میں پناہ لے لی۔ طالبان کے علاوہ آئی ایس آئی ایس کے دہشت گرد بھی اس علاقے میں نمودار ہوئے بلکہ افغانستان میں انہوں نے مضبوط اڈے قائم کر لئے۔
دہشت گردوں کا بیس کیمپ چونکہ افغانستان ہے اور سرحد پار سے ہی دہشتگرد ہمارے مختلف شہروں میں داخل ہو کر معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں ، لہٰذا ضروری تھاکہ پاک افغان سرحد پر کڑی نظر رکھی جائے، بارڈر ایریا پر دہشت گردی کے مراکز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور افغانستان سے پاکستان آنے والے خفیہ راستوں اور پہاڑی دروں پراپنی گرفت مضبوط کی جائے ‘چنانچہ حال ہی میں پاک فوج کی جانب سے خیبر ایجنسی کے بلندوبالا پہاڑوں اور دشوار گزار وادیوں میں ’آپریشن خیبر فور‘ کے نام سے شروع کیا جانے والا فیصلہ کن آپریشن اسی سلسلے کی ایک اہم ترین کڑی ہے ۔ اس کارروائی میں افواج پاک کے تمام گروپس اوردستے بشمول ایس ایس جی حصہ لے رہے ہیں ۔ 16جولائی2017ء سے جاری یہ آپریشن تیزی سے کامیابی کی جانب بڑھ رہاہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق درجنوں دہشت گرد ہلاک جبکہ دو جوان عبد الجبار اورمحمدیاسر شہادت کا رتبہ حاصل کر چکے ہیں۔سپیشل سروسز گروپ کی بھرپور معاونت سے ہمارے جوانوں نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے انہیں بھاری نقصان پہنچایا اور 90مربع کلومیٹرکا علاقہ کلیئر کروالیا ہے ، آپریشن کے دوران بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں، درجنوں ٹھکانے تباہ کئے گئے اور ہمارے محافظوں نے بھاگتے دشمن کاتعاقب کرتے ہوئے اس پر کاری ضرب لگائی ہے۔


آپریشن خیبر فور کے دوران وادی راجگال میں ہمارے جری محافظوں نے خطرناک اور دشوار ترین دروں، غاروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں گھس کر دشمن کو انجام تک پہنچایا اور اس وادی کو کلیئر کیا ۔ راجگال خیبر ایجنسی کا سب سے دشوار گزار علاقہ ہے ،اس سے ملحقہ پہاڑی علاقے گھنے جنگلات اوردشوار گزارراستوں پر مشتمل ہیں۔یہاں سپن کئی چوٹی پر موجود دو اہم ترین سپرائی اور ستار کلے نامی درے بھی دہشت گردوں سے خالی کروا لئے گئے ہیں ان دروں کو دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخلے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ سپن کئی چوٹی پر قبضہ رکھنے کے لئے دہشت گردوں نے سخت مزاحمت کی لیکن ایس ایس جی کے فولاد صفت کمانڈوزنے انہیں پسپا ہونے پر مجبورکردیا۔ علاقہ بھر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو توپخانوں ، ہیلی کاپٹروں اور پیدل فوجی دستوں نے نشانہ بنایااور انہیں نشان عبرت بنا دیا ۔ بارہ ہزار فٹ اونچی چوٹی بریخ محمد کنڈیارو کاکنٹرول سنبھال کر چیک پوسٹ قائم کر کے سبزہلالی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔فوجی ترجمان کے مطابق یہ بلند ترین چوٹی علاقے پر نظر رکھنے کے لئے استعمال کی جارہی تھی اور اب اس پر فوجی قبضے سے پورے علاقے میں دہشت گردوں پر نظر رکھنا ممکن ہو گیا ہے ۔ عسکری ماہرین اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔


جس وقت یہ سطور قلمبند کی جار ہی ہیں’آپریشن خیبر فور ‘نہایت سرعت کے ساتھ کامیابی کی جانب گامزن ہے اور دہشت گردوں پر یہ سرزمین تنگ ہو رہی ہے۔ہمارے سربکف مجاہدین کی اس تازہ ترین حربی کارروائی سے امید باندھی جا سکتی ہے کہ اس سے دہشت گرد وں کایقینی طور پر مزید صفایا ہوگااور ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور کے یہ الفاظ بہت جلد حقیقت کا روپ دھاریں گے کہ’’ باہمت پاکستان کو کوئی نہیں ہرا سکتا اور اس دھرتی کے چپے چپے پر امن قائم ہوگا۔‘‘

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کا لم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
August

تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان

بھارتی ہٹ دھرمی اور اشتعال انگیز عسکری پالیسی کی ایک نئی مثال

گزشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے بھوٹان سے ملنے والی سرحد پر چین اور بھارت کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ وجہ تنازعہ سطح مرتفع پر مشتمل ایک چھوٹا سا علاقہ ڈوکلم
(Doklam Plateau)
ہے۔ جہاں بھارت، بھوٹان اور چین کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ اصل معاملہ بھوٹان اور چین کے درمیان ہے بھوٹان کا کہناہے کہ یہ علاقہ اُس کا حصہ ہے۔ جبکہ چین کامضبوط دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ زمانہ قدیم سے اُس کا حصہ رہا ہے۔ نہ صرف جغرافیائی بلکہ تاریخی،لسانی ،ثقافتی اور نسلی اعتبار سے یہ علاقہ چین کے صوبے تبت سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔15جون کو چین کی ایک تعمیراتی ٹیم اس علاقے میں داخل ہوئی اور اس نے ایک سڑک کی تعمیر شروع کردی۔ ابتداء میں اس پر اعتراض بھوٹان کی طرف سے کیا گیا لیکن پیشتر اس کے کہ چین اور بھوٹان بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالتے‘ بھارت نے اپنے ایک فوجی دستے کو اس علاقے میں داخل کرکے چینیوں کو کام سے روک دیا۔ چین کی طرف سے بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ اورجارحانہ اقدام کو نہ صرف چینی سرحد کی خلاف ورزی اور مداخلت قرار دے کر اس کی سخت مذمت کی گئی، بلکہ بھارتی فوجی دستے کی فوری واپسی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ چین کا مؤقف یہ ہے کہ یہ مسئلہ اُس کے اور بھوٹان کے درمیان ہے۔ بھارت کا اس سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ بھارت کی طرف سے اس علاقے کی ملکیت کاکبھی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ اس لئے بھارت کی طرف سے جو کچھ کیا گیا ہے وہ ایک صریح اشتعال انگیزی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت نے اپنے اقدام کے جواز میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ 1949 کے معاہدے (جسے بھوٹان کے مطالبے پر 2007 میں نئے سرے سے تشکیل دیا گیا تھا) کے تحت بھارت بھوٹان کے دفاع اور سلامتی کا ذمہ دار ہے۔ اس لئے بھارت کو اس علاقے میں چینی فوج کو روکنے کا حق حاصل ہے۔ چین کے مطالبے پر اپنی فوجیں پیچھے ہٹانے کے بجائے،بھارت نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ’ سٹیٹس کو
(Status Quo)
‘ بحال کرنے کے لئے اپنی فوج15 جون سے پہلے کی پوزیشینوں پر واپس لے جائے۔
بھارت اور چین کے درمیان تقریباً3500 کلومیٹر لمبی سرحد کا تنازعہ کافی پرانا ہے۔ اس کی وجہ سے1962 میں دونوں ملکوں کے دمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔ سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے لئے چین اور بھارت نے ایک مشترکہ میکانزم cheenbharatserhad.jpgبھی قائم کر رکھا ہے۔ جس کے تحت وزراء کی سطح پر باہمی مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن سرحدی تنازعے پر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی کیونکہ بھارت چین پر اقصائے چن
(Aksai Chin)
پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ چین کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے شامل مشرق میں واقع ریاست اروناچل پردیش دراصل چین کا علاقہ ہے اور بھارت نے اس پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔ باقی سرحد کی بھی چونکہ حتمی نشاندہی نہیں کی گئی اس لئے کبھی چینی اور کبھی بھارتی فوجی جوان متنازعہ علاقوں میں گھس آتے ہیں۔ اس قسم کی دراندازیوں کو روکنے اورکسی ناخوشگوار واقعے یا تصادم کی روک تھام کے لئے1988سے دونوں ملکوں کے درمیان جوں کی تُوں صورتِ حال برقرار رکھتے ہوئے سرحد کے ساتھ ساتھ امن اور استحکام کو قائم رکھنے کے لئے مفاہمت اور سمجھوتہ چلا آرہا ہے۔ اس کے باوجود ہمالیہ کے بلند و بالا دشوار گزار اور برف سے ڈھکے ہوئے چھوٹے علاقوں سے گزرتی ہوئی چین اور بھارت کی طویل سرحد کی نوعیت ایسی ہے کہ دراندازیوں کے اِکا دُکا واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات سنگین صورتِ حال بھی پیدا ہو جاتی ہے اور دونوں اپنی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیتے ہیں تاہم بھارت نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کا سہارا لیا ہے اور اسے چین کی مخالف قوتوں سے کیش کرانے کی کوشش کی ہے۔ اسی قسم کے سنگین واقعات 2013،2014 اور2015 میں رونما ہو چکے ہیں لیکن ڈپلومیسی اور دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کی مداخلت سے صورت حال کو خطرناک حد تک بگڑنے سے روک دیا جاتا ہے لیکن ڈوکلم سطح مرتفع کا مسئلہ ایک مختلف ،پیچیدہ اور خطرناک مسئلہ ہے۔ مبصرین کے نزدیک اگر آئندہ دوتین ماہ میں اس بحران کو دور نہ کیا گیاتو ہمالیہ کی گود میں 1962 سے کہیں زیادہ تباہ کن نتائج کا حامل تصادم وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ اسی لئے کہ اس میں بھارت اور چین کے علاوہ بھوٹان بھی ملوث ہے اور نیپال بھی اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ چین نے جس ردِ عمل کا اظہار کیا ہے‘ وہ بالکل اصولی ہے۔ بھارت پرنہ صرف سرحد پار فوجیں بھیجنے کا الزام ہے بلکہ اس اقدام کو چین نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور چین کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے لئے ایک چیلنج قرار دیا ہے۔ چین نے اس بحران کو ڈپلومیسی اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ جب تک بھارت کی فوجوں کو واپس نہیں بلایا جاتا ، چین کسی قسم کے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔ چین کا مؤقف تو سیدھا سادہ اور واضح ہے کہ اس علاقے سے بھارت کا توکوئی تعلق ہی نہیں، اس مسئلے کو تو چین اور بھوٹان دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں لیکن یہ علاقہ بھارت کے لئے دفاعی اور سیاسی نقطۂ نظر سے دووجوہات کی بناء پر سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ ایک یہ کہ ڈوکلم سطح مرتفع کا علاقہ بھارت اور اس کی شمال مشرقی ریاستوں کے درمیان واحد تنگ راستے‘ جسے مرغی کی گردن
(Chicken's neck)
سے تشبیہہ دی جاتی ہے‘ کے بالکل نزدیک واقع ہے یہاں چین کی موجودگی اور خصوصاً سڑک کی تعمیر سے بھارت کے اس راستے کو مستقل خطرہ لاحق رہے گا اور دونوں ملکوں میں کسی تصادم کی صورت میں چین بڑی آسانی سے بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں (اروناچل پردیش ، آسام،منی پور، میگالیا،میزورام، سکم اور تریپورہ) کو باقی ملک سے الگ کرسکتا ہے۔ بھارت کے لئے یہ ریاستیں بڑی سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہیں۔ بھارت کی فضائیہ نے یہاں نارتھ اور ایسٹ کمانڈ قائم کررکھی ہے۔ جسے کسی وقت بھی چین کے خلاف حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔ بھارت کی یہ ریاستیں چونکہ برما (میانمار) سے ملحقہ ہیں، اس لئے بھارت نے جنوب مشرق اور خصوصاً ہند چینی ممالک کے ساتھ قریبی تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر جو حکمتِ عملی ایکٹ ایسٹ
(Act East)
اپنا رکھی ہے، اُس پر عمل درآمد اور کامیابی میں ان ریاستوں کا کلیدی کردار ہے۔ لیکن بھارت کے لئے تشویش اور خطرے کی اصل اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس بحران کے دوران چین نے نہ صرف بھوٹان کے ساتھ بھارت کے خصوصی تعلقات بلکہ بھارت میں سکم کے انضمام کو بھی چیلنج کردیا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا رُکن ہونے کی حیثیت سے بھوٹان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور بھارت کو اس کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں مداخلت یا اس کے علاقے میں فوج بھیجنے کا کوئی حق حاصل نہیں ۔سطح مرتفع ڈوکلم میں چین کا سامنا کرنے کے لئے اپنے فوجی دستے بھیج کر بھارت دراصل بھوٹان پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے جو گزشتہ تقریباً پانچ برس سے بھوٹان کے بارے میں بھارت کے متکبرانہ رویہ کی وجہ سے ڈھیلی پڑتی آرہی ہے جب ہندوستان برطانوی سلطنت کا حصہ تھا، تو بھوٹان کو ایک تولیتی علاقے
(Protectorate)
کی حیثیت حاصل تھی۔ آزادی کے بعد بھارت کو بھوٹان پر یہ اختیارات ورثے میں ملے جنہیں1949 میں ایک معاہدے کے تحت باقاعدہ تحریری شکل دے دی گئی۔ اسی معاہدے کی شق نمبر2 کے تحت بھوٹان خارجہ تعلقات میں بھارت کی رہنمائی
Guidance
کا پابند تھا۔ 2007 میں بھوٹان کے اصرار پر اس معاہدے کی شِق نمبر2 میں ترمیم کرکے ’’خارجہ پالیسی کے معاملے میں بھارت کی رہنمائی‘‘ کے الفاظ حذف کرکے ’’قومی مفادات سے متعلقہ امور پر باہمی تعاون‘‘ کو شامل کرلیا گیا۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس شق کے تحت اپنی فوجوں کو بھوٹان کے علاقے میں داخل کیا ہے۔ لیکن بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ حال ہی میں وزیرِاعظم نریندر مودی کے دورۂ امریکہ کے اختتام پر جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے میں علاقائی اور عالمی مسائل پر بھارت اور امریکہ کے مؤقف میں جس طرح یکسانیت کا اظہار کیا گیا ہے اور اسی سے قبل مودی حکومت نے چینی احتجاج کے باوجود دلائی لاما کو متنازعہ ریاست ارونا چل پردیش کا دورہ کرنے کی اجازت دی ہے اس سے چین کی طرف سے کسی ردِ عمل کا آنا ناگزیر تھا۔ جنوب مشرقی بحرِ ہند میں امریکہ ا ور جاپان کے ساتھ بحری مشقوں میں حصہ لینے کے لئے بھارت کی رضامندی بھی چین کے خلاف ایک اقدام ہے۔ چین کی طرف سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کے داخلے کی مخالفت نے بھی دونوں ملکوں میں کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ اس وقت پر اگرچہ چین اور بھارت کے تین چار سو کے قریب مسلح فوجی جوان ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں لیکن معاملے کے طول پکڑنے پر دونوں طرف سے فوجی قوت میں فوری طور پر اضافہ کیا جاسکتاہے۔ تاہم بیشتر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ صورتِ حال کشیدہ اور خطرناک ہونے کے باوجود کسی بڑے تصادم یا جنگ کا امکان نہیں کیونکہ دونوں فریق اس بات سے آگاہ ہیں کہ اس سے بڑی تباہی ہوگی اور گزشتہ ایک آدھ دہائیوں میں چین اور بھارت نے دوطرفہ بنیادوں پر تجارت، معیشت، اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں جو تعلقات قائم کئے ہیں وہ ختم ہو جائیں گے۔ دونوں میں سے کوئی فریق بھی یہ صورت حال نہیں چاہتا۔ تاہم بھارت چین کے خلاف اِس طرح کی اشتعال انگیزی کرکے اپنے نئے دوست امریکہ کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس طرح کی وقتی اور موقع پرستانہ خارجہ اور دفاعی پالیسی علاقائی امن کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دنیا کے دیگر بڑے ممالک کو آگے آنا ہوگا اور بھارت کو اس امن دشمن رویے سے روکنا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter