25
April
Published in Hilal Urdu
Read 119 times
اپریل 2017
شمارہ:4 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
وطنِ عزیز میں امن کی بحالی کے لئے افواجِ پاکستان اور قوم باہم مل کر دہشت گردی کے جس عفریت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما تھیں‘ الحمدﷲ اس میں کافی حد تک کامیابی مل چکی ہے اوراُس کے ثمرات کا اندازہ امن عامہ کی عمومی صورتحال اور عوام کے دمکتے چہروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ الحمدﷲعوام الناس دہشت گردی کے خوف سے نکل چکے ہیں ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں
دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص....Read full article
 
 alt=
تحریر: طاہرہ جالب
کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر....Read full article
 
تحریر: جاوید حفیظ
مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت.....Read full article
 
تحریر: غزالہ یاسمین
23مارچ ہماری قومی تاریخ میں غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا پیمان باندھ کر اس کے حصول کی باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اس عہد کو تاریخ....Read full article
 
تحریر: فرح حسین
23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
کوئی بھی فوجی یا ریاستی اہلکار اپنی جان اس لئے قربان نہیں کرتا کہ اسے جان قربان کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ بلکہ وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر دشمنوں کے خلاف لڑتا ہے کہ اگر ملک کی حفاظت کے لئے جان بھی دینی پڑی تو پروا نہیں۔ یہ جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنے کا کیا طریقہ ہے اور کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ یہی جذبہ تمام سکیورٹی اداروں کے ہر اہلکار میں موجزن رہے۔....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
وہ ایک خوبصورت صبح تھی۔ شفاف‘ روشن دن30جولائی، میری اٹھارویں سالگرہ تھی۔ میں اور میرا بھائی گھر پر اپنے والدین کے منتظر تھے۔ میں بہت خوش اور پرجوش تھی۔سینیلا بول رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسکراہٹ اتر اتر کر اس کے ہونٹوں تک بکھر رہی تھی۔ اس کی ہوا میں کہیں تیر تی ہوئی نظر شاید ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کے خوابوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔.....Read full article
 
تحریر: طاہر محمود
23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج.....Read full article
 
تحریر: طاہر محمود
بوسنیا کے ایک جنگی ترانے کا ترجمہ
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں میں نے جانا ہے
اس خاموشی میں صرف اک صدا ابھرتی ہے
اﷲ اکبر
سردیوں کی ایک لمبی رات.....Read full article
 
تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ
جہلم شہر سے رانجھا میرا نامی گاؤں کی طرف جائیں تو چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلال ٹاؤن آتا ہے۔ اسی بلال ٹاؤن میں محلہ شاہ پور ہے۔ جہاں مادر وطن کا وہ جانباز (شہید) پیدا ہوا اور اسی قبرستان میں پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ دفن ہوا۔....Read full article

انٹرویو : او یس حفیظ
عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس........Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرہمامیر
سرکس میں تماشا نہیں لگاتا۔ یہ بات کیوں اور کیسے مشہور ہوئی معلوم نہیں لیکن مجھے ان بھیڑیوں کا خیال ضرور آیا جنہیں ایک کینیڈین جوڑا بڑی محبت سے ایسے پال رہا ہے جیسے وہاں کتے یا بلی پلتی ہے۔ ونکوور کے شمال مشرق میں پہاڑوں کے دامن میں 1.25 ایکڑ کے وسیع رقبے پر....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر وقار احمد
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان توانائی کے مستقل اور شدید بحران کا شکار رہا ہے اور اس کے حل کے لئے مختلف تجاویز، منصوبے اور حکومتی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سلسلے کو اگر ہم ملک کی تیزرفتار ترقی اور خصوصاً سی پیک جیسے بڑے منصوبوں سے جوڑیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور حقیقی اور پائیدار ترقی کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔یہ بہت نازک وقت ہے جب پاکستان....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان کے ساتھ بطورِ آرٹلری آبزرور موجود تھے۔ یہاں دن رات تیر کر دریا پار کرنے کی پریکٹس کی جاتی تھی۔ ستم بالائے ستم ....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی....Read full article
25
April


بوسنیا کے ایک جنگی ترانے کا ترجمہ
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں میں نے جانا ہے
اس خاموشی میں صرف اک صدا ابھرتی ہے
اﷲ اکبر
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں ‘ میں نے جانا ہے
میرے بزرگوں کی دھرتی آج مدد کو پکارتی ہے
میری ماں
اگر میں نہ لوٹ سکا
تو میرے انتظار میں گھڑیاں نہ ضائع کرنا
تیری پلکوں سے ایک آنسو
خامشی سے ڈھلک جائے
اور پھر فاتحہ مجھے الوداع کہے
یہ میری قربانیوں کا ثمر ہوگا
میری ماں
میں دیکھ سکتا ہوں
کہ اذاں کی صدا کے پروں کی سواری
مجھے جنت کے دروازے کو لے جارہی ہے
اور وہاں

میرے شہر سے آنے والی رمضان کی خوشبوئیں
مجھے خوش آمدید کہہ رہی ہیں
میری ماں
میں نے جانا ہے
کہ میری دھرتی مجھے پکارتی ہے
مگر تجھے اِک عہد کرنا ہوگا
کہ تومیری بہنوں کے آنچل کی لاج رکھے گی
اور میں
قبر کی اتھاہ گہرائیوں سے دیکھنا چاہوں گا
کہ میری بہنیں
بوسنیا کے غازیوں کو جنم دے رہی ہیں
میری ماں! الوداع
میری بہنو ! الوداع
میرے بوسنیا! الوداع
میں نے جانا ہے
کہ جنت کی صدائیں مجھے پکارتی ہیں
اﷲ اکبر، اﷲ اکبر
(ترجمہ :طاہر محمود۔ فروری 1995)

*****

14
April

23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج سے محبت جسم سے روح تک کے سارے سفر کا احاطہ کرتی ہے۔ فوجی کے دل و دماغ میںیہ دونوں جذبے یوں گڈ مڈ ہوتے ہیں کہ ان کی علیحدہ علیحدہ شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ ملک اور فوج ، فوج اور ملک بس یہ دو شناختیں مل کر ایک ہو جاتی ہیں اور فوجی کی اپنی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ بس صرف جذبہ زندہ رہ جاتا ہے۔
انسان محبت کرتا ہے کہ زندہ رہ جائے اور زندگی حسین ہو جائے۔ فوجی محبت کرتا ہے کہ زندگی قربان کر دے اور محبوب تا قیامت زندہ رہ جائے۔ ایسی محبت کی مثالیں کہاں ملیں گی کہ جسم کو توانا رکھاجاتا ہے کہ قربانی کے ثمر رائیگاں نہ جائیں۔ قربانی کرنے والا اپنے لہو کا خراج صرف کامیابی چاہتا ہے اپنے ملک کی کامیابی۔ اور اگرکامیابی ممکن نظر نہ آتی ہو اور موت کا سامنا ہو تو وہ خوشی خوشی موت کو گلے لگاتا ہے۔ اسے اپنی جدوجہد پر فخر ہوتا ہے کہ
Honour
اور
Pride
کے عَلم اس کی موت تک بلند تھے۔
یہ جذبے، یہ لوگ، یہ جسم، یہ آنکھیں یہ حوصلے سب 23مارچ کی پریڈمیں زندہ شکل میں ہوتے ہیں۔ مگر وقت پڑنے پر یہ ملک کے لئے اپنی آخری قربانی سے بھی چنداں دور نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر آنکھیں ہر لمحہ نم نہ ہوں تو اور کیا ہو۔ فوجی کب روتا ہے۔ شاید بہت کم، ہاں مگر وطن سے محبت کے جذبے ضرور اس کی آنکھوں کو ہمیشہ نم کرتے ہیں۔
(طاہر محمود)

11
April

معروف اداکارہ اور یومِ پاکستان پریڈ کی کمنٹیٹر فرح حسین کی وطن سے محبت میں لبریز ایک تحریر

23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے وہ شاید اپنا وجود یا اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے۔ جس کو دیکھو وہ انسانیت کا، سرحد کے غیر اہم ہونے کا اور دوستی کا گیت گاتا نظر آتا ہے۔ ان باتوں سے کسی ذی عقل انسان کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن سوال صرف ایک ہے کس قیمت پر اور یہی نقطہ اختلاف ہے۔


23مارچ کی سب سے بڑی مصروفیت صبح سے ہی پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی پریڈ ہوتی تھی۔ ایک جوش و خروش اور ولولہ پیدا ہوتا تھا مارچ پاسٹ اور سلیوٹ کرتے ہوئے فوجیوں کو دیکھ کر ایک احساس تفاخر پیدا ہوتا تھا اور احساس ہوتا تھا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔


اس پریڈ کے انعقاد کا سلسلہ موقوف ہو گیا اور 23مارچ کا دن بھی بہت سے چھٹی والے دنوں میں سے ایک ہو گیا۔ یہ چھٹی کیوں ہے؟ اس دن کی اہمیت کیا ہے؟ کیسے ہم نے اس ولولہ اس جذبہ کو زندہ رکھنا ہے جو ہمارے اسلاف کی میراث اور ہمارے تشخص کی بنیاد ہے؟ نہ تو کاروباری سکولز کے پاس اس کے لئے وقت اور نہ ہی مختلف لبرل و آزادئ اظہار کے قائل ٹی وی چینلز کے ہاں اس کی ضرورت۔ ہمارے ہاں وطن دوستی کے جذبات اور اظہار کو ایک خاص انداز سے دیکھا جاتا ہے اور وطن مخالف نظریات کی تشہیر کو آزادی رائے واظہار مانا جاتا ہے۔ جس نے ہمارے بچوں کے ذہنوں میں اپنی شناخت کے اعتبار سے بہت سے ایسے سوال پیدا کر دیئے ہیں جو درست نہیں ہیں۔


آج بچے وہ ملی جذبہ محسوس نہیں کر پاتے جو ہمارے بچپن کا خاصہ تھا۔ کیونکہ آج بچوں کو صرف یہ پتہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر ایک کرپٹ ہے۔ ہر کام رشوت سے ہوتا ہے اور ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ جس نے ایک خاص طرح کے احساس کمتری کو جنم دیا ہے اور جذبہ سرشاری کو ختم کر دیا ہے اور جس ملک کے جوان اپنے پرچم، اپنے ملک پر فخر کرنے کا جذبہ کھونے لگیں اس ملک کو پھر بیرونی دشمنوں سے نہیں اندرونی خلفشار سے زیادہ خطرہ رہتا ہے۔مارچ 2015میں دس سال کے تعطل کے بعد 23مارچ کو پریڈ کے دوبارہ انعقاد نے اس دن کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا اوراب ہر سال منعقدہونے والی یہ پریڈ صرف افواج پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے تجدید عہد کا دن ہے۔


کمنٹری بوتھ میں بیٹھ کر افواج پاکستان کے جوانوں کو ’’اپنی قوت اپنی جان جاگ رہا ہے پاکستان‘‘ اور ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘ پر مارچ پاسٹ کرتے دیکھا۔ اس تقریب کا حصہ بننا میرے لئے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ قوم کی نظریاتی اساس اور وحدت کا احساس اجاگر کرنا بھی اہم ہے۔ یہ شیرجوان جو کھلے قرآن کے سامنے ہاتھ اٹھا کر وطن کی حرمت اور دفاع کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کا عہد کرتے ہیں انہیں دیکھ کر میرے دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے۔


’’میریا شیر جواناں تینوں رب دیاں رکھاں۔‘‘
میں کیوں نہ اپنی قوم کے ان بیٹوں پرفخر کروں کہ یہ وہ جوان ہیں جو دفاعِ وطن کے لئے جان کی بازی لگادینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پریڈ کی کمنٹری کا ایک ایک لفظ ادا کرتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں اپنے مجاہدوں کے شانہ بشانہ اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہوں۔ پریڈ کے وہ لمحے مجھے میرے ہونے کا یقین دلارہے تھے۔ میری آنکھوں میں فخر کے آنسوتھے اور لفظوں میں بلا کی جرأت اور شجاعت تھی۔ یقیناًپریڈ کے یہ لمحات میری زندگی کے انمول خزانوں میں سے ایک تھے کہ مجھے یوں لگا کہ آج میں بھی اپنے وطن اور اپنی قوم کے لئے کوئی ایسا کام کررہی ہوں جس پر میں باقی زندگی میں فخر کرتی رہوں۔

 
11
April

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی سنجیدہ اخبار کی نمائندہ کتاب کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہتی ہیں۔ فی زمانہ ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا کے اینکروں کاجو ’’حال احوال‘‘ ہے اور جس میں خود میں بھی شامل ہوں۔ اُس میں کہاں کتاب پڑھنا کہاں لکھنا۔۔ زبانیں اتنی بدزبان بلکہ بد لگام ہو چکی ہیں۔ اور جو بازاری زبان میں بک بھی رہی ہیں تو کسے فرصت اور ضرورت کہ کتاب خریدے اور پڑھے۔یہ ساری تمہید باندھنے کا سبب یہ ہے کہ خیرسے عزت سادات رہ گئی یعنی ہم نے ماضی حال میں جن کتابوں کے اوراق اُلٹے اُن پر جو سیر حاصل گفتگو ہوئی اُسے اگلے دن پرنٹ کی صورت میں

دیکھ کر خوشی ہوئی کہ
شہر میں اعتبار ہے اپنا
مہ کدے میں ادھار ہے اپنا

پہلا سوال تو یہی ہوا کہ ان دنوں کون سی کتاب زیرِ مطالعہ ہے؟ اب ادھر ہماری یہ عادت ہوگئی ہے کہ دن بھر کی مشقت کے بعد رات کے دوسرے پہر میں میز پر دھری کتابوں کو ٹٹولنا شروع کرتے ہیں۔ اور ذہنی کیفیت سے ہم آہنگ کتاب اُٹھا کر کوشش ہوتی ہے کہ اُسے اختتام تک پہنچایا جائے مگر یہ ذرا کم ہی ہوتاہے۔ مگر اپنی عزیز دوست اور انتہائی پڑھی لکھی ادیبہ اور شاعرہ ’’فہمیدہ ریاض‘‘کی حال ہی میں آکسفورڈ سے شائع ہونے والی کتاب ’’تم کبیر‘‘کے چند اوراق اُلٹنے کے بعد ہی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور یوں پھر کسی دوسری کتاب کی طرف ہاتھ نہیں جاتا ہے۔ ’’تم کبیر‘‘ فہمیدہ ریاض کی وہ طویل نظم ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے نام لکھی ہے۔ جو 2010 میں امریکہ میں ایک تالاب میں ڈوب گیا تھا۔ کسی ماں کا بیس اکیس سال کا جوان بیٹا اُس سے اچانک چھن جائے تو جس کرب و آلام سے وہ گزرتی ہوگی اُس کا بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے اُس کا بیان ممکن نہیں۔ میں خود اس تجربے سے گزرا ہوں۔ بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو میری والدہ محترمہ کو ایک طویل چُپ لگ گئی تھی۔ مگر فہمیدہ کی شاعرانہ عظمت اورتخلیقی صلاحیت دیکھیں کہ انہوں نے اس ’ذاتی‘غم کو ایک بڑی یادگاری تخلیق میں ڈھال دیا۔

 

kitabedostan.jpgدوسرا سوال ہوا ایسی کون سی کتاب ہے جسے آپ ختم نہیں کر پاتے؟ میں نے انتہائی تفصیل سے بتایا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی ذاتی زندگی پر ممتاز اسکالر خالد نظیر صوفی نے دو جلدوں میں ایک کتاب مرتب کی ہے ’’اقبال درونِ خانہ‘‘ جس میں کوئی سو مضامین ہوں گے اُن کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے۔ بعض انتہائی دلچسپ اور بعض بس ذرا سر سری۔ سو یہ کتاب مہینے بعد بھی ختم نہیں ہورہی۔ تیسرا سوال بھی بڑا دلچسپ تھا کہ وہ کون سی دو تین کتابیں ہیں جو آپ بار بارپڑھنا چاہتے ہیں؟ میرا جواب تھا فیض احمد فیض کا مجموعہ کلام ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ اور دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کی ’’آخرشب کے ہمسفر‘‘۔۔پوچھا گیا۔ ۔کیوں؟ اختصارسے لکھ رہا ہوں کہ ایک تو فیض صاحب کی شاعری ہمارے کام بہت آتی ہے۔ قلم گھستے ہوئے جب الفاظ غریب ہونے لگتے ہیں تو فیض صاحب کا ایک مصرعہ یا شعر ساری بات بڑی خوبصورتی سے سمیٹ دیتا ہے۔ دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کا ناول ’’آخر شب کے ہمسفر‘‘ ہے۔ ویسے تو قرۃالعین حیدر کا سب سے بڑا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہے اور جسے بلا شبہ اردو کا بھی سب سے بڑا ناول سمجھا جاتا ہے مگر ’’ آخر شب کے ہمسفر‘‘ برصغیر پاک وہند کی اشتراکی تحریک کے بارے میں ہے جس کا بڑا المناک انجام ہوا اور جسے عینی آپا نے اپنے منفرد اسٹائل میں اس خوبصورتی سے لکھا ہے کہ یہ ناول ہوتے ہوئے بھی ایک عظیم سیاسی تاریخ کا نوحہ بن گیا ہے۔یوں گزشتہ آٹھ دس برسوں میں کوئی بیس پچیس بار تو اس کو پڑھ ہی چکا ہوں۔ سوال ہوا آئندہ کس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ ہے؟بے ساختہ نام آیا
"Debriefing The President" by John Nixon
صدام حسین کے بارے میں یہ کتاب مشرق وسطیٰ کی حالیہ سیاسی ہنگامہ خیزی کو سمجھنے کے لئے بڑی اہم ہے۔ سابق صدر کو جب انتہائی ناگفتہ حالت میں پکڑا گیا اور اُن تصاویر کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جس میں شیو بڑھا۔۔ بوڑھا ہوتا ‘تھکا ہارا صدام حسین دکھایا گیا۔تو اُس وقت مسلم دنیا کا ردعمل مختلف تھا وہ بھول چکی تھی کہ خود صدام حسین نے اپنی قوم پر کیا مظالم ڈھائے تھے۔ جون نے اپنی کتاب میں صدام حسین کی ڈی بریفنگ کا ذکر بڑے متاثر کُن انداز میں کیا ہے۔ جون لکھتا ہے میرے ساتھ ایک اور امریکی اہلکار بھی تھا۔ صدام نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا۔ پہلے آپ اپنا تعارف کرائیں کہ آپ کون ہیں اس پر انتہائی درشت لہجے میں امریکی اہلکار نے جواب دیا ہم یہاں تمہارے سوالوں کا جواب دینے نہیں آئے ہیں جو کچھ ہم پوچھ رہے ہیں اُس کا جواب دو۔ تم ہماری قیدمیں ہو اور تمہارا مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس پر صدام حسین کا جواب تھا کہ میں ایک ملک کا صدر ہوں اگر تمہارے ملک امریکہ کے صدر کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا تو تمہارے ملک کے عوام کا کیا ردِعمل ہوتا۔ صدام نے امریکوں کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ تم ’’عرب اور خاص طور پر عراقی‘‘ سائیکی نہیں سمجھتے۔ اب تم مشرق وسطیٰ میں پھنس چکے ہو تم یہاں سے آسانی سے نہیں نکل سکتے۔ یقیناً یہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ افسوس کہ میں اسے ختم نہیں کر پارہا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ ایک انگریزی اخبار کی نمائندہ نے کتابوں کے حوالے سے گفتگو کیا کی آپ اپنے مطالعے کا رُعب جمانے لگے ۔یقین کیجئے جس مشقت میں سارا دن گزرتا ہے اس کے بعد سب سے زیادہ افسوس رات کے آخری پہر میںیہ ہوتا ہے کہ سارے مہینے میں درجن بھر کتابیں خریدیں یا تبصرے کے لئے ملیں مگر مشکل سے دو تین مکمل‘ دو تین ادھوری اور بقیہ کا تو ایک ورق بھی نہیں اُلٹ سکا۔ مگر ایک بات یقیناً خوش آئند ہے کہ حالیہ برسوں میں نہ صرف وطنِ عزیز میں اردو، انگریزی اور مادری زبانوں میں کتابوں کی اشاعت میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے بلکہ لٹریری فیسٹول اور جو کتاب میلے ہورہے ہیں اُس سے اطمینان ہوتا ہے کہ وہ جو اپنی خوف و دہشت اور کلاشنکوفوں سے اپنی شریعت کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کروڑوں عوام کو ازمنہِ وسطیٰ کے دور میں دھکیلنا چاہتے تھے۔ جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں اسکولوں کو نذرِ آتش کیا تھا انہیں اس جراّت مند قوم نے شکست دے دی ہے۔ یوں بھی کلاشنکوف کا سب سے مؤثر جواب کتاب ہی ہو سکتی ہے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ذرا نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو کتنا اونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی اس پر سے گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ بعض لوگ آسمان سے گرتے ہیں تو کھجور میں اٹک جاتے ہیں، وہیں بیٹھے کھجوریں کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن کھجوریں بھی تو کہیں کہیں ہوتی ہیں، ہر جگہ نہیں ہوتیں۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں آسمان اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔ غالبؔ نام کا شاعر جو دو سو سال پہلے ہوا ہے، ایک جگہ کسی سے کہتا ہے۔
؂ کیا آسمان کے برابر نہیں ہوں میں؟
جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اونچی ہوتی گئیں، آسمان ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر اٹھتا گیا۔ اب نہ چیزوں کی قیمتیں نیچے آئیں نہ آسمان نیچے اترا۔
ایک زمانے میں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے پھر ہماشما جانے لگے۔ جو خود نہیں جا سکتے تھے ان کا دماغ چلا جاتا تھا۔ یہ نیچے دماغ کے بغیر ہی کام چلا لیتے تھے۔ بڑی حد تک اب بھی یہی صورت حال ہے۔
پیارے بچو! راہ چلتے میں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے تاکہ ٹھوکر نہ لگے۔ جو زمین کی طرف دیکھ کر چلتا ہے اسے ٹھو کر نہیں لگتی۔
(ابن انشاء کی تصنیف ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ سے انتخاب)

*****

 
11
April

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے‘ ریہرسل ہوئی اور پھر ریکارڈ ہونے کے بعد فوری طور پر نشر ہوئے۔ آج کے اس نغمے ’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ میں نے صوفی صاحب سے گزارش کی کہ قصور بارڈر پر بھی لڑائی ہو رہی ہے اور ملکہ ترنم نورجہاں قصور کی رہنے والی ہیں۔ اس لئے قصور پر بھی نغمہ ہونا چاہئے جس پر صوفی صاحب نے کافی سوچ بچار کے ساتھ مجھے یہ استھائی لکھ کر دی۔


’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘
میں یہ استھائی لے کر اپنی ریکارڈنگ ٹیم کے پاس اسٹوڈیو نمبر2میں چلا گیا اور یہ استھائی ملکہ ترنم نورجہاں کو دی۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے بولوں کی مناسبت سے اس کو راگ دیس میں موزوں کیا۔ تھوڑی ریہرسل کے بعد میڈم نورجہاں نے کہا کہ اعظم صاحب اس کے انترے لائیں۔ چنانچہ میں پھر صوفی صاحب کے پاس اپنے کمرے میں گیا۔ محترم صوفی تبسم میرے کمرے میں ہی بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت وہ اقبال کا ایک شعر اور اس کی تشریح میں مصروف عمل تھے میں نے بڑے ادب سے معافی مانگی کہ صوفی صاحب آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔ میری مجبوری ہے کہ آج بھی ایک نیا نغمہ ریکارڈ کرنا ہے۔ اس نغمے کی استھائی تو آپ نے دے دی ہے۔ اب تین انترے چاہئیں۔ صوفی صاحب نے از راہ کرم کچھ دیر سوچنے کے بعد انترے عطا فرما دیئے۔ ان دنوں صوفی صاحب کی آمد بھی کمال تھی۔ حالات اور وقت کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمے لکھ کر دیتے۔ میڈم نورجہاں اس خاص نغمے کو پڑھ کر بہت خوش ہوئیں کیونکہ یہ نغمہ ان کے شہر پر لکھا گیا تھا۔ سارے دن میں نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور رات کو ریکارڈ ہوا۔ اپنے پڑھنے والوں کو بتا دوں کہ نغمے کی بنیادی دھن
Melody
کہلاتی ہے۔ اور جو باقی
Orchestra
ہوتا ہے اس کو
Harmony
کہتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کو جب ترتیب سے اکٹھا کرتے ہیں تو تب نغمہ تخلیق پاتا ہے۔ باقی رہ گئی ریکارڈنگ تو اس کے لئے بھی بہت علم اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا م کے لئے میں نے بطور میوزک پروڈیوسر بہت محنت اور کوشش کی ہے۔ ہر کوئی ریکارڈنگ نہیں کر سکتا اور پھر اتنی بڑی آرٹسٹ کی ریکارڈنگ۔ میری ریکارڈنگ کو میڈم نورجہاں اتنا پسند کرتی تھیں کہ میرے بغیر ریکارڈنگ نہیں کراتی تھیں۔ ہمیشہ کہتی اعظم بھیا، ریکارڈنگ پر آپ خود بیٹھیں۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ تمام نغموں کی ریکارڈنگ کوالٹی کتنی عمدہ ہے حالانکہ اس وقت ریکارڈنگ کے آلات اتنے جدید نہیں تھے۔ میں صرف تین مائیکروفون استعمال کرتا تھا۔ بیلنس کرنے میں مجھے کافی وقت لگتا تھا تاکہ بہترین ریکارڈنگ ہو جائے۔ ستمبر65 کی جنگ کے دوران پروڈیوسر، میوزیشنز، گلوکار سب کے درمیان ایسی انڈر سٹینڈنگ پہلے یا بعد میں کبھی بھی دیکھنے میں نہیںآئی جتنی ان سترہ دنوں میں دیکھنے کو ملی۔ بھارتیوں کا خیال تھا کہ ہم نے یہ ملی نغمے جنگ سے پہلے ریکارڈ کئے ہیں لیکن جب جنگ کا اختتام ہوا تو یہ حقیقت ان پر کھلی اور ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ ملی نغمے جنگ کے دوران ہی ریکارڈ ہوئے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کو صبح میں اپنی جیپ پر لے کر آتا۔ وہ سارا سارا دن میرے پاس ریکارڈنگ کے لئے موجود رہتیں بعض اوقات جب باہر خطرے کا سائرن ہوتا تو میڈم نورجہاں اسٹوڈیو میں ہی اپنی ٹیم کے ساتھ موجود رہتیں۔ میڈیم نورجہاں کہتی کہ اعظم صاحب اگر موت اسٹوڈیو میں لکھی ہے تو کوئی بات نہیں ہم اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑ سکتے۔ جنگ ستمبر کے دوران پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے۔ ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ فضائی حملوں کے دوران پور لاہور بلیک آؤٹ میں ڈوب جاتا تو لاہورئیے اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر ’’فائٹ‘‘ دیکھتے۔ اور اپنے پائلٹوں کو باقاعدہ داد دیتے۔ انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا کہ وہ حملوں کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ فائٹ کا نظارہ میں نے ایک مرتبہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح آگے بھارتی طیارے اور ان کے پیچھے ہمارے جہاز ہوتے۔ لوگ سڑکوں پر دشمنوں کے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لئے بلند نعرے لگاتے۔ عوام کے جذبات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہر شہری کا رخ بارڈر کی طرف ہوتا۔ ان میں سے کوئی ہاکی اور کلہاڑی اٹھائے تو کوئی اپنے فوجی بھائیوں کے لئے کھانے اور دیگر اشیاء لے کر بارڈر کی طرف جا رہا ہوتا۔ یہ کیسا جذبہ تھا ہمارے ملی نغمے ہتھیار کا کام کر رہے تھے۔ ہمارے فوجی جوان ان کو سن کر بہادر ی اور دلیری سے لڑتے،یقیناًفوج اور عوام کا ساتھ بہت کام آتاہے۔

 
11
April

تحریر: صائمہ جبار

بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں کی گئی۔
بھارتی فلم سنسر بورڈ نے اسی لئے فلم کے پروڈیوسر کو اس ڈیکلیئریشن کو ہٹانے کا آرڈر دیا ہے جس میں کہا گیا کہ فلم حقائق پر مبنی ہے۔
Censor Board Of Film Certification (CBFC)
کے مطابق فلم ساز کو ایک ڈیکلیئریشن دکھا نا پڑے گا جس میں لکھا جائے کہ فلم کچھ افسانوی ہے اور کچھ حقائق پر مبنی۔ یہ خبر بھارتی اخباروں دکن کرونیکل اور ڈیلی نیوز انیلیسزمیں شائع کی گئی ہے۔
اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان کو اس وقت بہت سے چیلنجز در پیش ہیں۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی اہمیت بھی پاکستان کے لئے گیم چینجر کی سی ہے۔خطے کے سٹریٹجک حالات کا تقاضا ہے کہ سی پیک کی نہ صرف زمینی بلکہ بحری سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔


دشمن کی سازشوں اورپروپیگنڈے کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب صحیح اور حقیقی معنوں میں ماضی کے متعلق معلومات نہ صرف نوجوان نسل بلکہ ہر عمر کے افراد اورطبقے تک پہنچیں گی۔ پاکستان پر کی گئی سرجیکل سٹرائیکس کا جھوٹا دعوی اس کی ایک مثال ہے۔ جس پر نہ صرف بھارت میں ایک بڑے طبقے اوردنیا نے بلکہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی کمیشن نے بھی یقین نہیں کیا اور مشکوک قرار دیا۔مودی حکومت کو اپنے ہی لبرل طبقے نے اس جھوٹ پر مذاق کا نشانہ بنایا۔


قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاک بحریہ دشمن کی ہر سازش کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کر تی آئی ہے۔ اس کی ایک روشن مثال 1965اور 1971میں پاک بھارت جنگوں میں پاک بحریہ کا کردار رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ایک بڑا حصہ رہا ہے۔ کوئی بھی فورم ہو بھارت اپنی سازشوں سے باز نہیں آتا۔

pnsghazib.jpgدرحقیقت آبدوز ’غازی‘ پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جس نے بھارت کے ساتھ لڑی گئی 1965ور1971کی جنگوں میں حصہ لیا۔پاکستان نیوی نے خود سے کئی گناہ بڑی بھارتی نیوی کے سامنے سخت مذاحمت کی اور بھر پور دفاع کیا۔ بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے پانیوں تک پھیلی ہوئی سمندری حدود کی حفاظت پاک بحریہ کی ذمہ داری رہی ہے اور ان دونوں جنگوں کے دوران پاک بحریہ کے یونٹس گہرے پانیوں تک گئے تا کہ تجارتی آمدورفت بحفاظت جاری رہ سکے۔اس دوران پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہرنہیں آنے دیا۔یہ پی این ایس غازی آبدوز ہی تھی جس کے باعث دشمن 1965 میں اپنے بحری فلیٹ کو باہر نہ نکال سکا۔ پی این ایس غازی پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جسے امریکہ سے لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 1945 سے 1963تک یہ امریکی نیوی کا حصہ رہی ۔چار ستمبر 1964 کو یہ آبدوز کراچی کے نیول ڈاک یارڈپہنچی اور پاک نیوی میں پہلی تیز رفتار آبدوز بنی۔ اس کا نام غازی 1964میں رکھا گیا اس کا پرانا نام
USS Diablo (SS-479)
تھا۔
1965 کی جنگ میں غازی کا کردار
اعلانِ جنگ کے فوری بعد بحری یونٹس کو اپنے اپنے اہداف کی جانب روانہ کیا گیا۔ دفاع کے ساتھ ساتھ پٹرولنگ شروع ہوئی۔بھارت کے تجارتی جہاز ’’سرسوتی‘‘اور دوسرے کئی جہازپاکستان میں کراچی بندر گاہ پر زیرِ حراست رہے۔ سات ستمبر کامیابی کا دن تھا۔ اس روز پی این ایس غازی سمیت پاک بحریہ کا بیڑا بھارت کے ساحلی علاقے دوارکاپر حملے کے لئے روانہ ہوا۔کیونکہ اس مقام پر نصب کیا گیا ریڈار پاک فضائیہ کے راستے میں رکاوٹ تھا۔پاک بحریہ کے فلیٹ نے 20منٹ میں دوارکا کو تباہ کر دیا۔بعد میں بھارت نے اپنے جہاز تلوار کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کو بھیجا لیکن وہ پی این ایس غازی کے خوف سے کہیں اور نکل گیا۔


جنگ میں بہترین کارکردگی کی وجہ سے پی این ایس غازی کے عملے نے 10ایوارڈ حاصل کئے جن میں دو ستارۂ جرأت بھی شامل ہیں۔
1971 کی جنگ میں غازی کا کردار
14نومبر 1971 کمانڈرظفر محمد خان اپنی سربراہی میں 93بہادر جوانوں کو لے کر پی این ایس غازی میں کراچی بندرگاہ سے ایک بے حد مشکل مشن پر روانہ ہوئے۔ آبدوز غازی کو مشن دیا گیا تھا کہ مغربی بھارت کے دفاعی سمندروں سے گزرتے ہوئے اپنی بیس سے 3000میل دور خلیج بنگال کے شمال میں جائے۔ اس علاقے کی صورتحال بے حد کشیدہ تھی۔جس کے باعث آبدوز غازی کو ہدایات دی گئی تھیں کہ ریڈیو پر مکمل خاموشی رکھی جائے اور صرف رات کے وقت ہی بیٹریاں وغیرہ چارج کی جائیں۔جو مشکل مشن غازی کو دیا گیا تھا وہ بھارتی نیوی بیس وشاکاپتنام میں نقل و حرکت روکنے کے لئے بندرگاہ کے آس پاس پانی میں بارودی سرنگیں بچھانے کا تھا۔


غازی آبدوز نے بہت مہارت سے یہ کام شروع کیا اور بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں۔لیکن قیاس ہے کہ یہ آبدوز بد قسمتی سے اپنی ہی بچھائی ہوئی ایک بارودی سرنگ کی زد میں آ کر ڈوب گئی۔دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ بندرگاہ بھی کانپ اٹھی۔ یہ علاقہ بھارتی حدود میں تھا لیکن بہت دیر تک بھارت کو پتا نہیں چل سکا کہ ہوا کیا ہے؟ تاہم ایک بھارتی مچھیرے نے پانی میں پی این ایس ’غازی‘ کے عملے میں لائف جیکٹس دیکھی جس کے بعد بھارت نے غازی کو تباہ کرنے کا دعوی کر دیا ۔ یہی نہیں بلکہ کچھ بھارتی افسروں نے تو اس بات پر تمغے بھی وصول کئے۔


غازی کے ساتھ رونما ہونے والا واقعہ تین اور چار دسمبر کی درمیانی شب پیش آیا جبکہ بھارت نے اس کو تباہ کرنے کا دعویٰ نو تاریخ کو کیا۔ اگر بھارت نے غازی کو تباہ کیا تھا تو اسے اتنے دن تک پتا کیوں نہیں چلا ۔اور اگر پتا تھا تو اتنے دن تک اس کو چھپا کر کیوں رکھا؟


بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی دعوے جھوٹے تھے۔ بھارتی وائس ایڈمرل میہیر رائے نے حال ہی میں اپنی ایک شائع کردہ کتاب میں کہا کہ غازی آبدوزپہلے وشکاپتنام بندرگاہ سے کافی دور تعینات تھی اور غالباً دو یا تین دسمبر 1971کو بارودی سرنگیں بچھانے آئی تھی اور قریب ہی دو تین سرنگیں بچھا چکی تھی اور ایک بارودی سرنگ سے تباہ ہو گئی تھی۔ ایڈمرل میہیر رائے نے یہ بھی لکھا کہ پانی میں بارودی سرنگیں ایک لائن کے پیٹرن میں 150میٹر کے فاصلے اور 30میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی تھیں جس کی تصدیق آبدوز ریسکیو ویسل نیسٹارکے پانی کے نیچے موجود ٹی وی سے کی گئی۔ ان کے مطابق سونار ٹرانسمیشن اور اس کے شور کو جانچتے ہوئے پاکستانی آبدوزاس علاقے سے نکل کر محفوظ گہرے پانیوں میں جا چکی تھی۔اور آدھی رات کے قریب جب پیٹرولنگ کشتیاں واپس بندرگاہ لوٹ گئیں تو غازی آبدوز پھر سے بارودی سرنگیں بچھانے کا کام مکمل کرنے نکل پڑی تاکہ بھارت کے مشرقی فلیٹ کو وشاکا پتنام کی پورٹ پر محدود کرنے کی اسائینمنٹ مکمل کی جائے۔اس مشن کو مکمل کرنے کی بے چینی میں اپنے ہی پہلے سے بچھائی ہوئی سرنگ والے ٹریک میں غلطی سے مڑ گئی۔جس کی وجہ شائدساحل پرمون سون کے موسم کے بعد چلنے والی تیز ہواؤں سے اُٹھنے والی تندوتیز لہریں تھیں۔


دشمن کی اپنی گواہی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غازی اس وقت تباہ ہوئی جب وہ اس بات کو یقینی بنا رہی تھی کہ بھارت کے مشرقی بیڑے کو بند کرنے کے لئے بارودی سرنگوں کوبچھانے کا کام ٹھیک طور پر ہو رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی جنگ میں تباہ ہونے والی یہ پہلی آبدوز تھی۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین کی درخواست کے باوجود بھارتی حکومت غازی کے ڈوبے ہوئے حصوں کو سمندر سے نکالنے پر راضی نہ ہوئی۔2010میں بھارت کی مشرقی کمانڈ نے 1971کی جنگ کا سارا ریکارڈ ضائع کر دیا ۔ غازی کی تباہی کا ریکارڈ بھی اسی میں شامل تھا۔
1971 میں بھارتی فوج کی مشرقی کمانڈ کے چیف آف سٹاف جے ایف آر جیکب نے مئی2010 میں ایک آرٹیکل

THE TRUTH BEHIND THE NAVY'S 'SINKING' oF GHAZI "
میں واضح کیا کہ غازی آبدوز ایک حادثے کا شکار ہوئی،اور بھارتی نیوی کا اس کے ڈوبنے سے کوئی تعلق نہیں۔اسی لئے تمام ریکارڈ ختم کر دیا گیا۔
پاکستانی انگریزی اخبار میں محمد عادل ملکی نے
"warriors of the waves''
کے نام سے لکھے ایک آرٹیکل میں بتایا کہ انہوں نے غازی کے ڈوبنے کے حوالے سے ایک ایسے تجربہ کار عملے کے فرد سے رابطہ کیا جس نے غازی میں کام کیا تھا جب وہ امریکہ میں یو ایس ایس ڈائیبلو کے نام سے ہوا کرتی تھی۔مصنف ایک آزادانہ رائے لینا چاہتا تھا۔ مصنف کے مطابق جب ڈوبے ہوئے ملبے کی تصاویر اور خاکوں کا مشاہدہ کیا گیا تو اس بات کاپتا چلا کہ
forward torpedo room
میں ہونے والے ایک دھماکے کی وجہ سے آبدوز تباہ ہوئی۔یہی رائے ایک بھارتی صحافی سندیپ یونیتھین کی تھی جو کہ ملٹری اور سٹریٹیجک تجزیوں کا ماہر ہے۔اس بات کا یقین اس ویڈیو سے بھی ہوتا ہے جو غوطہ خوروں نے بنائی تھی۔


غازی کے ڈوبنے کے کچھ روز بعد بھارتی غوطہ خوروں نے اس میں سے قیمتی اور اہم معلومات حاصل کرلیں۔ان میں سے چند اشیا آج بھی بھارتی وار ٹائم میوزیم میں سجائی گئی ہیں۔
آج 1971کو 45 برس گزر چکے ہیں اور بھارت نے غازی کے ڈوبنے کا کریڈٹ لینے کے لئے ایک جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی فلم بنائی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے بھارت کو اس کا ہوش کیوں نہیں آیا؟ اتنے برس گزرنے کے بعد اچانک اس موضوع پر فلم بنانے کا خیال کیوں آ گیا؟بھارتی حکومت اور نیوی اپنے جھوٹے مؤقف کو فروغ دینے کے لئے بالی وڈ کا استعمال کرنے سے کبھی بھی دریغ نہیں کر تا۔مگر جھوٹ اور حقائق کو توڑ مروڑ کرپشن کرنے کی بھارتی روش کا نقصان سب سے زیادہ بھارت کے غریب عوام کو ہے جو خود تو غربت کی چکی میں ہمیشہ پسے ہوئے ہیں مگر اس نام نہاد پروپیگنڈے کی وجہ سے کبھی بھی بھارتی نیتاؤں اور نام نہاد سورماؤں کے جھوٹے دعوؤں اور جھوٹے خوابوں کے چنگل سے خود کوآزاد نہ کراسکے۔

 

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
April

انٹرویو : او یس حفیظ

خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتاہے ‘ جسے وقت پر نہ اُتارا جائے تو زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے

عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس ‘ شاعر اور کامیاب منتظم بھی ہیں۔ ویسے تو آپ کی جائے پیدائش امرتسر ہے اور اس نسبت سے آپ ’’امبر سریے‘‘ ہیں مگر آپ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی نے مکمل لاہورئیے کو دیکھنا ہے تو آپ کو دیکھ لے کیونکہ ذات اور شخصیت کے اعتبار سے آپ پر اندرون لاہورئیے کا گمان ہوتا ہے۔ آپ ’’کھلے ڈُلے‘‘ مزاج کے آدمی ہیں اور اپنے منفرد شگفتہ اندازِ گفتگو سے محفل کو کشتِ زعفران بنانے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہلال کے لئے آپ کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔


سوال: اپنے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: میں یکم فروری 1943کو امرتسر کے ایک کشمیری علمی گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے سے پہلے کئی بیٹیاں تھیں اس وجہ سے میں بہت لاڈلا تھا، اتنا لاڈلا کہ میرا نک نیم ’’شہزادہ‘‘160پڑ گیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ میں نے اپنی ابتدائی زندگی شہزادوں ہی کی طرح بسر کی۔ میرے والد مولانا بہاء الحق قاسمی مشہور عالم دین تھے جو قیامِ پاکستان کے وقت امرتسر سے ہجرت کر کے وزیرآباد آگئے اور یہاں پر سکول ٹیچر مقرر ہو گئے۔

interattraullhaq.jpgمیری زندگی کے دس سال وزیر آباد کے بکریانوالہ کوچہ میر چونیاں میں گزرے اور پھر باقی زندگی لاہور میں۔ اس باقی زندگی میں دو سال امریکا کے شہر سینٹ لوئیس میں بطور فوڈ اینڈ بیوریجزمنیجر، دوسال اوسلو (ناروے) میں بطور سفیر اور تین مہینے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں بطور سفیر اپنی خدمات انجام دیں۔ لاہور تقریباً 25سال ماڈل ٹاؤن میں گزارے۔ کچھ عرصہ اچھرہ کے ونڈسر پارک میں ایک کرائے کے مکان میں رہا۔ تقریباً 25سال ہی اقبال ٹاؤن میں اپنے تعمیر کردہ گھر میں ہنسی خوشی بسر کئے اور اب تقریباً پندرہ برس سے ڈیفنس کے ای ایم ای سیکٹر میں رہائش پذیر ہوں۔ وزیر آباد کے ایم پی پرائمری اسکول غلہ منڈی سے پانچ جماعتوں کے بعد چھٹی جماعت میں گورو کوٹھا کے ہائی سکول میں داخلہ لیا اور اس کے بعد ہم لاہور شفٹ ہوگئے۔ میٹرک ماڈل ہائی سکول ماڈل ٹاؤن سے کیا۔ بی اے، ایم اے او کالج لاہور سے کیا جبکہ ایم اے (اردو ادب) پنجاب یونیورسٹی اوریئنٹل کالج سے کیا۔ 35سال نوائے وقت سے منسلک رہا اور اس کے ساتھ ساتھ ایم اے او کالج میں لیکچرار شپ بھی کی۔ اب ایک طویل عرصے سے جنگ میں کالم لکھ رہا ہوں اس تمام عرصے میں پوری دنیا میں بسلسلہ تقریبات شرکت کے لئے جاتا رہا ہوں۔ آٹھ سال الحمراء آرٹس کونسل میں بطور چیئرمین اپنی خدمات انجام دی ہیں اور اب گزشتہ ایک برس سے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی ) کا چیئرمین ہوں۔


سوال: اپنے بچپن اور فیملی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، چھ بہنیں اور دو بھائی۔ والد اور والدہ کو ملا کر ہم دس افراد تھے۔ بڑے بھائی اور دو بہنیں وفات پا چکی ہیں۔ میں فرسٹ ائیر میں تھا جب میری والدہ کا انتقال ہوا اور والد کا انتقال 1987میں ہوا تھا۔ میری والدہ کافی بیمار رہتی تھیں انہوں نے کئی سال علالت میں گزارے اور ابا جی کا ہاتھ کافی بھاری تھا (مسکراتے ہوئے) وہ چونکہ استاد تھے اس لئے ڈنڈا بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن میں بہت لاڈلا تھا، اس لئے میری تمام تر نالائقیوں کے باوجود انہیں مجھ سے بہت محبت تھی۔ ذرا سی بیماری کی صورت میں وہ مجھے اپنے کندھوں پر بٹھا کر ہسپتالوں کے چکر لگاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میرے پاؤں پر پھوڑا نکل آیا تو انہوں نے مجھے زمین پر پاؤں نہیں رکھنے دیا لیکن اپنی والدہ کا سوچ کر آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے میری نالائقی کے دن تو بہت دیکھے لیکن عین جوانی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے ہمیشہ یہ پشیمانی رہی کہ وہ مجھے ترقی کرتا دیکھنے کے لئے اس دنیا میں موجود نہ تھیں۔


سوال: آپ کا والد کے ساتھ دہرا رشتہ تھا، محبت کا بھی اور ڈانٹ ڈپٹ کا بھی؟
جواب : ان کی ڈانٹ میں بھی پیار تھا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی ڈانٹ نے ہی مجھے صحیح راستہ دکھایا، ان کی محبت کے منظر آج بھی میری آنکھوں سے نہیں ہٹتے، میرے والد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ انہوں نے زندگی سادگی سے گزاری اور ہمیں بھی سادگی کا درس دیا۔ وہ ہمیں اپنی اور اپنے خاندان کی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے قصے سناتے تھے، پرانی تاریخ سے ایسے ایسے واقعات ڈھونڈ کر لاتے جن سے ہم میں انسانیت بیدار ہو، ہم اچھی اقدار کو اپنائیں۔ وہ ایک قدآور عالم دین اور پرجوش خطیب تھے۔ جب وہ وزیر آباد میں سکول ٹیچر تھے توجامعہ اشرفیہ کے بانی مفتی محمد حسن نے جو کہ میرے والد کے استاد بھی تھے اور دادا کے شاگرد بھی، انہوں نے میرے والد سے کہا کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی جامع مسجد میں آپ کی ضرورت ہے، آپ یہاں آ جائیں۔ چنانچہ میرے والد صاحب نے پیشکش قبول کر لی اور ہم لاہور ماڈل ٹاؤن میں آ کر آباد ہو گئے اور میرے والد ماڈل ٹاؤن مسجد میں خطیب مقرر ہو گئے۔ یہیں ماڈل ٹاؤن میں ایک واقعہ بھی پیش آیا، ہوا یوں کہ میرے والد نے مسجد میں کچھ سخت خطبات دیئے، جس پر چند لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ آپ بس نماز پڑھا دیا کریں باقی کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے والد نے ان سے کہا کہ ’’میں صبح ناشتے میں چائے کا ایک کپ اور رس لیتا ہوں، دوپہر کو بھی روکھی سوکھی کھاتا ہوں، رات کو دال چاول کھا کر سو جاتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور جس دن میری ضروریات میں اضافہ ہو جائے گا اس دن میں آپ کی بات پر غور ضرور کروں گا‘‘۔ ابا جی کی باتوں کا لوگوں پر بہت اثر ہوا،نتیجتاً مسجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ ابا جی کی ایک ذاتی لائبریری تھی جس میں ہر مذہب اور ہر مسلک کی کتابیں تھیں اور یہیں سے مجھے کتابوں کا شوق بھی ہوا، میں نے وہ ساری کتابیں پڑھیں جس کے بعد خدا نے ذہن کشادہ کر دیا۔ ابا جی کی خودداری اور عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ کچھ سال قبل ماڈل ٹاؤن کے قبرستان کی تحقیق کرنے کے لئے ایک محقق بھیجے گئے۔ انہوں نے قبرستان کی تاریخ کا جائزہ لیا، پرانی دستاویزات کو کھنگالا، وہاں انہیں بہت سے دیگر کاغذات کے ہمراہ میرے اباجی کا ایک خط بھی ملا۔ لکھا تھا ’’آپ مجھے جو تنخواہ دیتے ہیں وہ میری ضروریات سے بہت زیادہ ہے براہِ کرم اس میں تخفیف کر دی جائے‘‘۔ انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہو گی، اندازہ لگا لیجئے وہ اس پر بھی خوش تھے اور اسے بھی زیادہ تصور کرتے تھے۔ آج کے مادہ پرست دور میں انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے مگر نیت نہیں بھرتی۔ دل بھر جاتا ہے مگر اکاؤنٹ نہیں بھرتے اور اسی پیسہ کمانے کی دوڑ نے ملک میں بدعنوانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔


سوال: ادبی سفر کا آغاز کب اور کہاں سے کیا، پہلا شعر کب کہا، کہاں شائع ہوا؟
جواب: ادب کی طرف رحجان تو شروع سے ہی تھا، پہلی کوشش سکول کے زمانے میں ہی کی تھی، پہلا شعر کب کہا یہ تو یاد نہیں لیکن ادبی زندگی کا آغاز ساتویں یا آٹھویں جماعت سے ہو گیا تھا، جب اسکندر مرزا کے دور میں ہونے والی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے پس منظر میں میرے اندر چھپے ہوئے مزاح نگار نے انگڑائی لی اور میں نے ’’ہلال پاکستان‘‘ کے ایڈیٹر کے نام ایک شگفتہ سا مراسلہ بھیج دیا جو من و عن چھپ گیا۔ اس سے بہت حوصلہ ملا۔ پہلی باقاعدہ نثری تحریرغالباً 1959ء میں مولانا کوثر نیازی کے اخبار روزنامہ شہاب میں شائع ہوئی تھی اور پھر ہم کسی شہاب ثاقب کی طرح ان کے صفحات پر ٹوٹ پڑے۔ میں اس وقت سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا جب شہاب کے صفحات پر میرا کالم ’’کچھ یوں ہی سہی‘‘ کے عنوان سے چھپنا شروع ہو گیا تھا۔


سوال: شاعری میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں، اپنی تحریروں میں کبھی اصلاح لی؟
جواب: ہر گز نہیں کیونکہ میں مانتا ہوں کہ شاعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ میں نے شاعری میں کبھی کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی، کسی سے آج تک اصلاح نہیں لی۔ مجھے یہ بھی علم نہیں کہ شعری اوزان اور تقطیع وغیرہ کیا ہیں لیکن ان سب کے باوجود میں نے بہت کم بے وزن شعر کہا ہے۔


سوال: کیا چیز لکھنے کی جانب راغب کرتی ہے؟
جواب: خیال، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتا ہے، جسے وقت پر نہ اتارا جائے تو یہ زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے۔ جب میرے ذہن میں کوئی اچھا آئیڈیا آتا ہے، میں فوراً اسے نوٹ کر لیتا ہوں اور اس پر لکھنے لگ جاتا ہوں۔ میرے لئے سب سے زیادہ مشکل کام فرمائشی لکھنا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی میرے پاس آ کر کہتا ہے کہ فلاں موضوع یا فلاں چیز پر آپ کو لکھنا چاہئے لیکن میرے سے نہیں لکھا جاتا اور اس کے برعکس کبھی کبھی کوئی پوری چیزکوئی غزل،کالم، تحریر وغیرہ خود بخود نازل ہو جاتی ہے۔


سوال: آپ شاعر بھی ہیں، ادیب بھی ہیں، ڈرامہ رائٹر بھی ہیں، کالم نگاری بھی کرتے ہیں اور سفارت کاری بھی کر چکے ہیں۔ خود کو کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟
جواب: بنیادی طور پر میں صرف ایک طنز و مزاح نگار ہوں۔ میرے ہر کام‘ خواہ وہ کالم ہوں، خاکے ہوں، ڈرامے ہوں یا کچھ اور، ان میں آپ کو طنز و مزاح ہی نظر آئے گا۔ شگفتہ تحریریں میرا جنون ہیں، میں لکھتا بھی شگفتہ ہوں، پڑھتا بھی شگفتہ ہوں باتوں میں بھی شگفتگی ہی ملے گی البتہ میری تحریروں کی شگفتگی کے نیچے اداسی بھی چھپی ہوتی ہے اور اس میں طنز بھی ہوتا ہے۔


سوال: سکول کے زمانے میں ذہین طالب علم تھے یا بس نارمل تھے؟
جواب: میں اصل میں انتہائی نالائق طالب علم تھا، (نہایت پرجوش لہجے میں) میٹرک میں بڑی مشکل سے پاس ہوا، سیکنڈ ڈویژن آئی تھی، ایف اے میں تھرڈ ڈویژن تھی، بی اے میں سپلی آ گئی تھی، جب ایم اے میں تھا تو اردو کے ایک پرچے میں فیل ہو گیا تھا مگر پھر دوبارہ امتحان دے کر کلیئر کیا۔
سنا ہے کہ سعادت حسن منٹو بھی اردو میں فیل ہو گئے تھے۔ اپنے شعبے کا ماسٹر اپنے ہی شعبے کے امتحانات میں ناکام ضرور ہوتا ہے۔ سجاد باقر رضوی ہمارے استاد تھے۔ ایک روز انہیں پتہ نہیں کیا سوجھی انہوں نے ایم اے اردو کے لئے فیس جمع کرا دی۔ پھر وہ اُسی پرچے میں فیل ہو گئے جو وہ ہمیں پڑھاتے تھے۔


سوال: اس سے تو یہ مطلب ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں خامیاں موجود ہیں جو بچوں کی ذہانت کا پتا چلانے میں ناکام رہتا ہے؟
جواب: میں خود بھی استاد رہا ہوں، مجھے علم ہے کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ نوجوانوں کی تعلیمی صلاحیتوں کے یکسر الٹ ہے۔ ہمیں اب اس سسٹم کو ختم کر دینا چاہئے۔ اب معروضی سسٹم وقت کا تقاضا ہے۔ اس میں طالب علم کو وسیع معلومات حاصل کرنا پڑتی ہیں، اس کا دماغ تیز ہوتا ہے، کسی بھی نکتے کے ہر پہلو پر غور کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔


سوال: آج تو آپ پر اردو میں مقالے لکھے جا رہے ہوں گے؟
جواب: جی بالکل، کم از کم 8 طالب علم میری شخصیت، کالم نگاری اور دوسرے کئی پہلوؤں پر ایم فل کا تھیسز لکھ کر ڈگری لے چکے ہیں، کئی تو پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں۔


سوال: آپ خود ادیب ہیں، آپ کے بھائی (ضیاء الحق قاسمی) مشہور مزاحیہ شاعر تھے،آپ کا بیٹا بھی رائٹر ہے، کیا ادب آپ کے خون میں شامل ہے؟
جواب: بالکل، میں یہی سمجھتا ہوں کہ ادب ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔ میری تین پھپھیاں (پھوپھیاں) تھیں اور تینوں کشمیری زبان کی شاعرہ تھیں۔ ادب تو ہمارا ورثہ ہے۔ اس سے محبت ہمارے خون میں شامل ہے۔ ایک ہزار سال سے ہمارا خاندان ادب کی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ’’تاریخ اقوام کشمیر‘‘ ایک مستند ترین دستاویز قسم کی کتاب ہے جس میں بہت سے دوسرے صاحبان ادب کے ساتھ میرے جد امجد سے لے کر والد تک سب کا ذکر محفوظ ہے۔ مجھ پر آ کر یہ سلسلہ اس حد تک بدلا ہے کہ اب مذہبی اور معاشرتی سنجیدگی میں مزاح نگاری کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔ میرا بڑا بیٹا یاسر (پیرزادہ) بھی لکھتا ہے، دوسرا بیٹا علی قاسمی بھی رائٹر ہے۔


سوال: کیا ہمارا موجودہ ادب یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اپنی افادیت برقرار رکھ سکے؟
جواب: میرے خیال میں یہ ایک مشکل سوال ہے اور فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ میں یہ مانتا ہوں کہ کچھ ادب وقتی بھی ہوتا ہے جسے فی زمانہ پر تو بہت پذیرائی ملتی ہے مگر وہ جب وقت کے دھارے میں آتا ہے تو اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال میرزا ادیب کے خطوط کی ہے جسے اُس زمانے میں تو بہت شہرت ملی مگر آج ان کا اتنا ذکر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنے دور میں بہت نظر انداز ہوتے ہیں جیسے نظیر اکبر آبادی مگر بعد میں نقادوں نے ان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جیسے ان سے بڑا کوئی شاعر ہی پیدا نہ ہوا ہو لیکن آج پھر ان کی شاعری پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ گلہ کرتے بھی پائے جاتے ہیں کہ ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے حالانکہ یہ فیصلہ عوام کرتے ہیں اور اچھا ادب کبھی بھی نظر انداز نہیں ہو سکتا۔


سوال: موجودہ شاعروں، ادیبوں میں آپ کو کون پسند ہے؟
جواب: میرے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر تو علامہ اقبالؒ ہیں جن سے مجھے عشق ہے۔ پھر سنجیدہ شاعری میں منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض اور جون ایلیا پسند ہیں۔ مزاحیہ شاعری میں دلاور فگار، ضمیر جعفری، انور مسعود اور اکبر الٰہ آبادی پسند ہیں۔ مزاح نگاروں میں سب سے زیادہ تو مشتاق احمد یوسفی صاحب پسند ہیں، خدا ان کی عمر دراز کرے لیکن وہ آج کل لکھ نہیں رہے اور قرۃ العین حیدر بھی پسند ہیں۔


سوال: عالمی ادیبوں میں کون پسند ہے، کسے پڑھتے ہیں؟
جواب: میں زیادہ تر مزاح ہی پڑھتا ہوں۔ عالمی ادیبوں میں ٹی ایس ایلیٹ اور مارک ٹوئن پسند ہیں۔بالخصوص مارک ٹوئن کا وہ جملہ بے حد پسند ہے کہ ’’بچپن میں ہم اتنے غریب تھے کہ ایک کتا بھی نہیں خرید سکتے تھے، رات کو جب کوئی آہٹ ہوتی تھی تو ہم سب گھر والوں کو باری باری بھونکنا پڑتا تھا‘‘۔


سوال: ہمارے ہاں کتاب اور مطالعے کی روایت کم کیوں ہو گئی ہے؟
جواب: میں اس بیان کو سرے سے ہی رد کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں کتاب نہیں بکتی یا اس کی روایت کم ہو گئی ہے۔ اس طرح کی باتیں صرف وہ لوگ یا وہ شاعر کرتے ہیں جن کی اپنی کتابیں نہیں بکتیں۔ ہمارے ملک میں اتنے زیادہ ’’بک فیئرز‘‘ اور کتاب میلے ہوتے ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں اور ہر کتاب میلے میں کروڑوں کی کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔


سوال: کیاہمارا موجودہ ادب ہمارے منفی سماجی رویوں کی اصلاح کر رہا ہے؟
جواب: ادب ہمیشہ ’’اِن ڈائریکٹ‘‘ بات کرتا ہے، یہ کبھی بھی ڈائریکٹ بات نہیں کرتا۔ یہ
’between the lines‘‘
بات کرتا ہے اور دنیا کا کوئی ادب ایسا نہیں ملے گا جس میں کوئی نہ کوئی پیغام نہ چُھپا ہو۔ دنیا میں جتنے انقلاب آئے ان کے پیچھے بہت بڑا ہاتھ ادب کا بھی ہے البتہ ادب کے اصلاح کرنے کا طریقہ ہومیو پیتھک ہے۔


سوال: حال ہی میں عدلیہ کی جانب سے اردو کو دفتری زبان بنانے اور مقابلے کے امتحان اردو میں لینے کے فیصلے سامنے آئے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے ادب کی ترویج و ترقی پر بھی کوئی اثر ہو گا؟
جواب: ہمارے ادیب تو اردو میں ہی لکھتے ہیں، وہ انگریزی میں تو لکھتے نہیں کہ اس فیصلے سے کوئی فرق پڑے لیکن میں دل و جان سے اس فیصلے کی تائید کرتا ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ محض انگریزی کی وجہ سے بہت سے قابل افراد روند دئیے جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر نہایت نالائق لوگ اوپر آ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی صرف انگریزی ہی اچھی ہوتی ہے اور پتا انہیں ’’ککھ‘‘ نہیں ہوتا۔


سوال: باقاعدہ کالم نگاری کب شروع کی؟
جواب: کالم نگاری تو شہاب کے زمانے میں ہی شروع ہو گئی تھی، بعد میں نوائے وقت جوائن کر لیا، وہاں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ سنڈے میگزین میں فیچر بھی لکھتا تھا، ہر مہینے باقاعدگی سے اس کام کے 323 روپے ملتے تھے۔


سوال: آپ کے فکاہیہ کالم کو آپ کے والد صاحبہ کی تائید حاصل تھی؟
جواب: ویسے تو میرے والد میرے کالم کو ’’خرافات‘‘ کہتے تھے لیکن پڑھتے بھی ضرور تھے۔ ایک دفعہ جب میں امریکا میں تھا تو میں نے ایک کالم لکھا جس میں مَیں نے لکھاکہ ’’ہماری ہاں جنسی گھٹن بہت زیادہ ہو گئی ہے جس کا مظاہرہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر عام دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ جانوروں کی عصمت بھی محفوظ نہیں رہی‘‘۔ جب یہ کالم چھپا تو میرے والد میرے سے ناراض ہو گئے، وہ فوراً مجید نظامی مرحوم کے پاس گئے کہ آپ نے یہ کالم شائع ہی کیوں کیا، انہوں نے سمجھایا کہ میں نے ایک نوجوان کے خیالات سمجھ کر اسے چھاپ دیا ہے، اس کے بعد انہوں نے مجھے خط لکھا کہ فوری طور پر اپنے ان خیالات سے توبہ کرو۔ آخر کو میں بھی انہی کا بیٹا تھا، میں نے انہیں 26صفحوں پر مشتمل خط لکھا جس میں ان کی لائبریری میں موجود کتابوں سے بے شمار حوالے دئیے اور اپنے موقف کا اعادہ کیا، جس پر وہ مان گئے۔ جہاں تک بات تائید کی ہے تو مجھ سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب کالموں میں دس پندرہ دن کا ناغہ ہو جاتا تو مجھے بلا کر پوچھتے ’’یار تیری وہ خرافات ان دنوں نہیں چھپ رہیں‘‘ میں سمجھ جاتا کہ انہیں میرا کالم پسند ہے لیکن حوصلہ افزائی کا انداز دوسروں سے مختلف ہے۔


سوال: کالم نگاری کے حوالے سے کوئی دلچسپ واقعہ جو آپ سنانا چاہیں؟
جواب: ویسے تو بے شمار واقعات ہیں لیکن میں آپ کو اپنے ’’لمبریٹا‘‘ سکوٹر کا واقعہ سناتا ہوں جو میں نے 70sمیں قسطوں پر لیا تھا، مگر قسطیں پوری ہونے سے پہلے ہی یہ سکوٹر چوری ہو گیا۔ اس پر میں نے ’’محترم چور صاحب‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھ دیا۔ یہ کالم اتنا مقبول ہوا کہ پاکستان کے ہر بڑے کالم نگار نے اس پر کالم لکھا۔ ابنِ انشاء نے لکھا، احمد ندیم قاسمی نے لکھا، انتظار حسین نے لکھا۔ اس زمانے میں مساوات اخبار میں سہیل ظفر نے بھی اس پر کالم لکھا۔ چور گھبرا گیا کہ ’’میں نے کس قوم کو للکارا ہے‘‘ اور وہ میرا سکوٹر واپس کر گیا۔ جس پر میں نے بعد میں ایک اور کالم لکھا ’’چور صاحب آپ کا شکریہ!‘‘۔ اس کالم میں مَیں نے لکھا کہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے سکوٹر واپس کر دیا، میں نے تو ابھی اس کی قسطیں بھی پوری نہیں دی تھیں لیکن میں پریشان ہوں کہ آپ نے کس کا کالم پڑھ کر سکوٹر واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ’’مساوات‘‘ میں سہیل ظفر کا کالم پڑھ کر اسے پارٹی کا حکم سمجھا اور سکوٹر واپس کر دیا۔ وہ زمانہ اتنا رواداری کا تھا کہ کسی نے بھی اسے مائنڈ نہیں کیا بلکہ جب سہیل ظفر مجھے ملے تو ہم ہنس ہنس کر دہرے ہو گئے۔


سوال: امریکا کیوں جانا ہوا تھا؟
جواب: اگر صحیح پوچھیں تو آوارہ گردی کرنے گیا تھا۔ اس زمانے کے میرے سارے دوست امریکا چلے گئے تھے میں اکیلا ہی تھا جو اس ’’جوگا‘‘ نہیں تھا کہ ٹکٹ بھی خرید سکتا۔ نوائے وقت کی سب ایڈیٹری کے دوران میں نے ایک ففٹی سی سی موٹرسائیکل خرید لی تھی۔ اس سواری کو موٹرسائیکل میں نے خود قرار دیا ہے ورنہ اسے ’’پھٹپھٹی‘‘ کہا جاتا تھا۔ میں نے پندرہ سو روپے میں یہ بائیک فروخت کی۔ کچھ پیسے والد محترم سے اور کچھ بھائی جان ضیاء الحق قاسمی سے لئے اورپیدل ہی یورپ کے لئے روانہ ہو گیا۔ پیدل ان معنوں میں کہ جہاز کی بجائے بسوں، ٹرینوں، ٹرکوں اور لفٹ وغیرہ لے کر لکسمبرگ تک پہنچا اور وہاں سے ایک جہاز کی سستی ترین ٹکٹ لی اور امریکا جا اترا۔ لاہور سے نیویارک پہنچنے پر میرے چھ ہزار روپے یعنی چھ سو ڈالر خرچ ہوئے۔ اس زمانے میں ایک ڈالر دس روپے کا تھا۔

interattaulhaq1.jpg
پردیس میں جاتے ہی روٹی، کپڑا اور مکان کی ضرورت پڑتی ہے۔ قریب ہی ایک ہسپتال میں بلڈ ٹیکنیشن کی سیٹ خالی تھی، میں وہاں انٹرویو کے لئے چلا گیا۔ ڈاکٹر نے پوچھا نام کیا ہے، میں نے نام بتایا، پھر اس نے پوچھا کتنے پڑھے لکھے ہو۔ میں نے کہا، ایم اے اردو لٹریچر۔ اس نے کہا کل سے نوکری جوائن کر لو۔ (زوردار قہقہہ) مجھے امریکی نظام صحت پر آج بھی ہنسی آتی ہے۔ایمبولینسیں، حادثات یا فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو ایمرجنسی میں وہاں لایا کرتی تھیں اور میں انہیں خون لگاتا تھا۔ انتہائی نازک کام تھا لیکن اللہ نے مجھےُ سرخرو کیا۔ شاید ابا جی کی دعائیں تھیں جنہوں نے مجھے محفوظ رکھا۔ کچھ عرصہ بعد ایک ہوٹل جوائن کر لیا۔ پھر امریکہ میں بڑے ہوٹل میں فوڈ اینڈ بیوریجز منیجر کی نوکری مل گئی۔


مگر امریکہ میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ میری عدم موجودگی میں میرے والد (والدہ تو پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں)کو کچھ ہوگیا تو میں کیسے خود کو معاف کروں گا۔ پھر یہ سوچ بھی بے چین کرتی تھی کہ اگر مجھے خود کو کچھ ہو گیا تو یہاں گوروں کے قبرستان میں دفن ہونا پڑے گا جبکہ میں تو اپنے ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں دفن ہونا چاہتا تھا جہاں درود و سلام کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ پھر ایک سوچ یہ بھی تھی کہ میں امریکا میں شادی کرتا ہوں تو ممکن ہے کل کو میری نسل میں سے کسی کا نام ’’پیرزادہ پیٹر قاسمی‘‘ ہو اور ہمارے خاندان کی ایک ہزار سالہ دینی پس منظر کی تاریخ کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے۔ حالانکہ ہمارے خاندان کے شاگردوں میں ماضی بعید میں حضرت مجدد الف ثانیؒ اور ماضی قریب کی تاریخ میں امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور بانی جامعہ اشرفیہ مفتی محمد حسنؒ کے علاوہ سیکڑوں علما و مشائخ کا نام شامل ہے۔ چنانچہ دو سال امریکا میں رہنے کے بعد میں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ وہاں میں نے جو کمایا تھا وہ وہیں سیر و سیاحت پر خرچ کر دیا تھا۔ دوستوں نے کافی سمجھایا لیکن میں نے ایک نہیں سنی اور واپسی کا رخت سفر باندھ لیا۔ واپسی کے لئے بھی میں نے مشکل راستہ چنا اور امریکا سے بائی ایئر یورپ اور یورپ سے بائی روڈ پاکستان کے لئے روانہ ہو ا۔ ملکوں ملکوں گھومتے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے میں یورپین ملکوں سے ہوتا ہوا ترکی اور ترکی سے ایران پہنچا جس کے سرحدی قصبے سے ٹرین کے ذریعے میں کوئٹہ اور پھر کوئٹہ سے لاہور پہنچا۔ میں نے گھر والوں کو سرپرائز دینے کا سوچا تھا۔ اس وقت شام کا وقت تھا جب میں نے اپنے گھر کی بیل پر انگلی رکھی اور تھوڑی دیر بعد میرے اباجی نے دروازہ کھولا۔ انہوں نے مجھے اچانک اپنے سامنے پایا تو خوشی سے ان کا چہرہ دمک اٹھا۔اس وقت ابا جی کے چہرے پر جو خوشی اور مسکراہٹ تھی، وہ مجھے آج بھی نہیں بھولی۔


سوال: کالج میں پڑھانے کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
جواب: مجھے دلی طور پر تو شروع سے ٹیچنگ سے لگاؤ تھا کیونکہ نوجوان ذہنوں کو پروان چڑھانے میں جو سکون اور مسرت ہے وہ میں نے کسی اور کام میں نہیں محسوس کی۔ بچوں کی ذہنی تربیت کرنا بنیادی فرائض کا حصہ سمجھتا ہوں۔ جب مجھے ٹیچنگ کی پیشکش ہوئی تو میں نے اپنے ایک دوست سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیکچرر شپ اور کالم نگاری کے اوقات الگ الگ ہیں، دونوں میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یوں میں بیک وقت کالم نگار اور لیکچرر بن گیا۔ میں تو خود بھی یہی چاہتا تھا چنانچہ ہم آہنگی اور یکسانیت کے باعث دونوں ملازمتیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔


سوال: پہلی کتاب کب منظر عام پر آئی۔
جواب: روزنِ دیوار کے نام سے میرے کالموں کا پہلا مجموعہ غالباً 1972-73میں منظر عام پر آیا تھا۔ میں نے کبھی اپنے کالموں کی کتاب میں وقتی نوعیت کے کالم شامل نہیں کئے۔ چراغ حسن حسرت اگرچہ واقعتا بہت بڑا نام ہے۔ میں نے بہت شوق سے ان کے انتخاب کی کتاب خریدی مگر مجھ سے پڑھی نہیں گئی کیونکہ تمام حوالے اور واقعات پرانے زمانے کے تھے۔ میں ان کے طنز کے پیچھے چھپے ہوئے واقعے کو سمجھ ہی نہ سکا۔ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے میں نے ہمیشہ اپنے کالموں کی کتاب میں تخلیقی نوعیت کے کالم شامل کئے ہیں۔ اب تک میری کوئی ڈیڑھ درجن کتابیں آ چکی ہیں، جن میں طنز و مزاح کی کتابیں بھی ہیں اور سفرنامے بھی۔


سوال: ڈرامہ نگاری کی طرف کیسے آئے۔
جواب: اتفاق سے۔ (مسکراتے ہوئے) اور یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ میں نے زندگی میں کوئی کام پلاننگ سے نہیں کیا۔ لوگ پوچھتے ہیں آپ کو ٹی وی کے لئے لکھنے میں کون کون سی مشکلات پیش آئیں مگر میرے ساتھ یہ معاملہ بالکل نہیں تھا۔ میں کالم لکھتا تھا جب میرے ایک دوست نے ٹی وی کے لئے ڈرامہ لکھنے کو کہا میں نے انکار کر دیا اورکہا کہ میں ڈرامہ نگار نہیں ہوں۔ وہ ہمیشہ ڈٹے رہتے، بار بار اصرار کرتے کہ ایک بار ڈرامہ لکھ کر تو دیکھیں۔ پھر مجھے کہا گیا کہ آپ کے کالموں میں ڈائیلاگ اور ڈرامہ موجود ہوتا ہے۔ ان کے اصرار پر میں نے پہلا ڈرامہ علی بابا چالیس چور لکھا۔ ویسے تو یہ بچوں کا ڈرامہ تھا لیکن بڑے بھی اسے بڑے شوق سے دیکھتے تھے، اس کے بعد میں نے ایک ڈرامہ ’’اپنے پرائے‘‘ لکھا مگر اس کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا کیونکہ اس وقت حکومت کی جانب سے پی ٹی وی پر خاصی سختی کی گئی تھی، ضیاء جالندھری اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے، ایک روز انہوں نے لاہور اور کراچی کا دورہ کیا۔ لاہور سٹیشن سے میرا ڈرامہ چل رہا تھا اورکراچی میں انور مقصود کے ڈرامے ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ انہوں نے میرے ڈرامے کے ایک کردار اور آنگن ٹیڑھا میں سلیم ناصر کے کردار پر اعتراض کیا کہ آپ قوم کو بدتمیزی سکھا رہے ہیں۔ خوب ’’کھچائی‘‘ کے بعد انہوں نے دونوں کرداروں کو نکالنے کا حکم دیا۔ لاہور سٹیشن والوں نے فوری طور پر مان لیا اور ڈرامے پر قینچی پھیر دی مگر کراچی سٹیشن نے دلیری دکھائی، اور چونکہ، چنانچہ سے کام لیتے ہوئے قطع برید کرنے کے بجائے ڈرامے کو اپنے حساب سے آن ایئر کیا۔ ’’اپنے پرائے‘‘ کے بعد میں نے نہ لکھنے کی ٹھان لی لیکن پھر مجھے لکھنا پڑ گیا۔ پھر خواجہ اینڈ سنز لکھا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ ڈالے، اس کے بعد میں نے شب دیگ لکھا جس کے کرداروں ’’کاکا منا‘‘ اور ’’انکل کیوں‘‘ کو بہت شہرت ملی، ایک اور ڈرامے کے کردار پروفیسر اللہ دتا اداس کو بھی لوگوں نے بہت پسند کیا۔ پھر ’’حویلی‘‘ لکھا، ’’شیدا ٹلی‘‘ لکھا، کچھ اور ڈرامے اور لانگ پلے لکھے، اس کے بعد دو ڈرامے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے بھی لکھے۔ میرے سارے ڈرامے سفید پوش طبقے کی نمائندگی کرتے تھے، میں نے کبھی ڈراموں میں بڑی کوٹھیاں، لمبی گاڑیاں نہیں دکھائیں بلکہ میں تو اس طرح کے گلیمر کو میڈیا کی دہشت گردی سمجھتا ہوں۔


سوال: سفارت کاری کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ جہاں بھی جاؤں، جو بھی کروں کچھ ایسا کروں کہ پتا لگے کچھ تبدیلی آئی ہے، ناروے میں میرے ہوتے ہوئے سفارت خانے کے دروازے ہر پاکستانی کے لئے کھلے تھے اور لوگ بلا جھجک میرے پاس آیا کرتے تھے بلکہ ایک بار تو یہ افواہ اڑی کہ سفیر صاحب ’’گرون لینڈ‘‘ میں جو کہ اوسلو کا نواحی علاقہ ہے اور پاکستانیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں۔ ناروے میں سفیر کو صدر جتنا درجہ حاصل ہوتا ہے اور یہ بات ملک کے وقار کے خلاف سمجھی گئی۔ پہلے پہل تو میں خاموش رہا مگر جب بات زیادہ بڑھ گئی تو ایک دن جمعے کو میں شہر کی سب سے بڑی مسجد میں چلا گیا اور وہاں جا کر اپنا آبائی کام کیا یعنی خطبہ دیا۔ میں نے کہا کہ جب سے میں اوسلو آیا ہوں، تب سے کوئی نہ کوئی سیکنڈل سننے کو ملتا ہے، اب کی بار میرا سیکنڈل سامنے آیا ہے کہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ کھانا کھاتے پایا گیا ہوں۔ میں یہاں کوئی صفائی دینے نہیں آیا بلکہ یہ بتانے آیا ہوں کہ میری ساری زندگی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزری ہے، میری زندگی کا یہ حصہ بھی انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزرے گا اور جب میں پاکستان واپس چلا جاؤں گا تو انہی لوگوں کے پاس جاؤں گا اور میری دعا ہے کہ جب میں مروں تو جاگیرداروں اور وڈیروں کے ساتھ اٹھائے جانے کی بجائے انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ اٹھایا جاؤں۔ میں آج بھی اکثر پیدل اندرون لاہور میں چلا جاتا ہوں تاکہ مجھے میرا ماضی نہ بھولے۔ ناروے کی سفارت کاری کے دوران پوری پاکستانی کمیونٹی ہر کام کے لئے میرے ساتھ کھڑی تھی، آج جب مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے پاکستانی ناروے میں کتنے منظم اور کتنے متحد ہیں۔ وہ اپنے ملک سے کس قدر محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ یہاں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔


سوال: آپ آٹھ سال تک الحمراء آرٹس کونسل کے چیئر مین رہے، وہاں ایسا کیا کام کیا جسے آپ اپنا امتیازی کام کہہ سکیں؟
جواب: وہاں تو بہت سارے کام کئے لیکن اگر کام کا ذکر کرنا مقصود ہو تو میں دو بڑے کام گنواؤں گا۔ اول تو میں نے انٹرنیشنل لٹریری فیسٹیولز کروائے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، دوسرا یہ کہ میں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں ایوارڈز شروع کروائے۔ اس کے علاوہ میں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کام شروع کیا اور پہلے ایک اشتہار شائع کیا کہ 35سال کی عمر تک کے افراد اپنا کلام بھیجیں۔ پورے پاکستان سے نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا، ہم نے ان میں سے اچھے شاعروں کا انتخاب کیا، انہیں لاہور بلوایا، ان کا مشاعرہ کروایا، ان کو معاوضہ دیا، ان کے لئے ورکشاپس کروائیں جس میں انہیں شعری اصناف کے بارے میں تعلیم دی گئی، پھر ان کے منتخب کلام کو ان کی تصویر اور مختصر سوانح پر مشتمل خاکے کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کیا گیا جسے ’’ذرا نم ہو‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن جس کام کی مجھے ذاتی خوشی ہے وہ یہ کہ مجھے چونکہ اقبالؒ سے عشق ہے، اس لئے میں نے الحمراء میں اقبال کا مجسمہ بنوا کر نصب کروایا۔ پہلے پہل اس کی بے پناہ مخالفت دیکھنے میں آئی مگر آج لوگ وہاں جا کر سیلفیاں لے رہے ہوتے ہیں۔


سوال: اب پی ٹی وی کے لئے آپ کیا کام کرنا چاہ رہے ہیں؟
جواب: پی ٹی وی میں میری ساری توجہ پروگرامنگ پر ہے۔ میرے نزدیک پی ٹی وی کا سب سے پلس پوائنٹ ’’ناسٹلجیا‘‘ ہے چنانچہ ایک تو ہم نے پرانے کلاسیک ڈرامے شروع کئے ہیں لیکن جو اس سے بڑا کام میں نے کیا اور جس کا میں نے آتے اعلان کیا تھا وہ یہ تھا کہ میرا وَن پوائنٹ ایجنڈا ’’اِن ہاؤس‘‘ پروڈکشن ہے۔ میرے سے پہلے 26سٹوڈیو ویران پڑے تھے، ملازم بے کار تھے، پی ٹی وی میں الو بولا کرتے تھے، سارا کام باہر سے لے کر چلا رہے تھے، میں نے سارے سٹوڈیو کھلوائے اور اِن ہاؤس پروڈکشن شروع کی۔ اب جو سہ ماہی آن ائیر ہے اس میں سارے پروگرام ہمارے اپنے چل رہے ہیں۔


سوال: موجودہ حالات میں آپ پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: میں تو بے پناہ پُر امید شخص ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ زندگی میں مجھے جو کچھ ملا ہے، صرف اس لئے ملا ہے کہ نہ تو میں کبھی اداس ہوا ہوں اور نہ کبھی مایوس ہوا ہوں۔ اور اب تو میں اپنی آنکھوں سے پاکستان کو ترقی کرتا دیکھ رہا ہوں۔ آپ دیکھئے کہ آزادی کے وقت ہمارے پاس کیا تھا اور آج ہم کہاں ہیں، غریب سے غریب شخص کے حالات میں بھی کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ ایک وقت تھا ہم لوگوں کے پاس جوتے نہیں ہوتے تھے، سڑکیں نہیں تھیں، ہسپتال نہیں تھے، آج آپ عالمی سروے رپورٹیں اٹھا کر دیکھ لیں وہ یہ کہتی ہیں کہ اگر یہ تسلسل جاری رہا تو 2025میں پاکستانی معیشت یورپی ممالک کے مدمقابل کھڑی ہو گی۔ اگر جمہوری تسلسل برقرار رہا اور تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے رہے تو یہ ملک بہت ترقی کرے گا۔


سوال: ابھی حال ہی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات دیکھنے کو ملے، پنجاب اسمبلی کے باہر خود کش حملہ ہوا، سندھ میں لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر حملہ ہوا، آپ اس نئی لہر کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ ہمارے کچھ طالع آزماؤں کے بوئے ہوئے بیج ہیں، ماضی میں جان بوجھ کر مذہبی منافرت کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔ اگرچہ اس میں غیرملکی طاقتوں اور پڑوسی ملک کی سازشیں بھی شریک ہیں لیکن استعمال ہمارے اپنے لوگ ہو رہے ہیں۔ اب بھی کچھ ایسے فکری مراکز موجود ہیں جہاں مذہب کی غلط تشریحات سے نوجوانوں کے کچے ذہنوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں ہمارے ہی خلاف استعمال کیا جاتا ہے مگر ہمارے ریاستی اداروں بالخصوص فوج نے جس قدر قربانیاں دی ہیں اس سے حالات بہت پُر امید ہیں۔


سوال: اپنا کون سا شعر سب سے زیادہ پسند ہے؟
جواب: اپنے شعروں میں مجھے ایک شعر بہت پسند ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری ساری زندگی کا نچوڑ یہ شعر ہے، میں نے اپنی پوری زندگی اس شعر کے مطابق گزاری ہے۔
اک صدا دے کے میں لوٹ آیا عطاؔ
اس نے اندر سے جب یہ کہا، کون ہے؟
(پنجابی میں) نہیں تے ناں سہی،

(زوردار قہقہہ)


سوال: آپ کا پسندیدہ لیڈر کون سا ہے؟
جواب: یقیناًمیرے پسندیدہ لیڈر قائداعظم محمد علی جناح ہی ہیں جن کے پاس ایک ویژن تھا، ایک لگن تھی، لیکن اگر موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو آپ کے پاس بہت محدود آپشن ہے۔ کچھ جماعتیں لسانیت کی بنیاد پر چل رہی ہیں، کچھ مذہب کا نعرہ لگا رہی ہیں، کچھ قومیت کے پردے میں چھپی ہوئی ہیں، میں ان سب لوگوں کے ساتھ تو چل نہیں سکتا۔ ہمارے کچھ اچھے اور ٹیلنٹڈ سیاستدان بھی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہیں جس وجہ سے آپ کی آپشن بہت محدود ہو جاتی ہے اور میری سیاسی وابستگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔


سوال: ماشاء اللہ آپ ایک ہمہ جہت اور بہت کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، اپنی زندگی کی روشنی میں نوجوانوں کو کیا پیغام دیں گے؟
جواب: میں ہمیشہ ایک ہی پیغام دیا کرتا ہوں کہ اپنے وسائل میں خوش رہیں، اگرچہ دولت ایک بڑا وسیلہ ہے مگر اس کی غیر موجودگی میں بھی خوش رہنے کی ہزار ہا چیزیں ہیں، آپ کے پاس آنکھیں ہیں، ہاتھ، پیر ہیں، عقل ہے، سوچ ہے، فکر ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس پر اکتفا کر کے بیٹھ جائیں بلکہ زیادہ کے لئے کوشش کرتے رہیں لیکن کسی خواہش کے غلام نہ بنیں جب آپ خواہشوں کی غلامی پر اتر آئے تو پھر آپ گھٹیا سے گھٹیا کام بھی کریں گے۔


سوال: فوجی بھائیوں اور ہلال کے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: فوجی بھائی جس طرح ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
ایک دعائیہ غزل
خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہئے
اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہئے
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم
جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئے
خواہشوں کو خوب صورت شکل دینے کے لئے
خواہشوں کی قید سے آزاد سے ہونا چاہئے
ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے
عرض کرتے عمر گزری ہے عطاؔ صاحب جہاں
آج اُس محفل میں کچھ ارشاد ہونا چاہئے

 
11
April

تحریر: ڈاکٹر وقار احمد

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان توانائی کے مستقل اور شدید بحران کا شکار رہا ہے اور اس کے حل کے لئے مختلف تجاویز، منصوبے اور حکومتی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سلسلے کو اگر ہم ملک کی تیزرفتار ترقی اور خصوصاً سی پیک جیسے بڑے منصوبوں سے جوڑیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور حقیقی اور پائیدار ترقی کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔یہ بہت نازک وقت ہے جب پاکستان اپنے پڑوسی ممالک سے نہ صرف اقتصادی بلکہ تکنیکی اور دفاعی اعتبار سے بھی ایک بھرپور مقابلے میں شامل ہے۔اس تناظر کو اگر گلوبل وارمنگ کے عمل اور موسمیاتی تبدیلی سے جوڑدیں تو ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارے وسائل کیا ہیں اور ہمیں ان میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے اور یہ اس فیصلے کا انتہائی اہم وقت ہے۔


اگر ہم اپنے ملک کا موازنہ دیگر ممالک سے کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہم بہت کم توانائی استعمال کر رہے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ ہمارا معیار زندگی ہے۔توانائی اگر بجلی کی صورت میں ہو تو اس کا شمار یونٹس میں کیا جاتا ہے۔ایک کلو واٹ بجلی اگر ہم ایک گھنٹے تک خرچ کریں تو یہ ایک یونٹ کہلاتا ہے۔دنیا بھر میں اوسطاً بجلی کا استعمال 2700 یونٹ سالانہ ہے جبکہ پاکستان میں اس میں یہ شرح صرف 450 یونٹ سالانہ ہے۔تاہم واضح رہے کہ پاکستان کی یہ اوسط دیہی اور شہری آبادیوں کو ملا کر ہے اور صرف شہروں کو دیکھا جائے تو یہ شرح کہیں زیادہ ہوگی۔اس صورتحال میں جہاں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ہمیں اور بہت ترقی کرنی ہے، وہیں ایک اور بات ثابت ہوتی ہے کہ ہم ایک سادہ طرزِ زندگی والی قوم ہیں، ہم بہت کم وسائل کا ضیاع کرتے ہیں اور اس طرح اپنے ماحول کو کسی حد تک تحفظ دیتے آئے ہیں۔


پائیدار ترtwaaikabuhran.jpgقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے معیارِزندگی کو بہتر نہ کریں بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اپنی ترقی کو ماحول سے ہم آہنگ کیا جائے اور آنے والی نسلوں کے لئے قدرتی وسائل بچا کر رکھے جائیں اور ان کے لئے ایک سازگار ماحول چھوڑا جائے۔لہٰذا دنیا بھر میں صنعتی ترقی اور بالخصوص توانائی کے شعبے سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کئی بین الاقوامی اور عالمی معاہدوں‘ جیسا کہ1997 میں جاپان میں ہونے والے کیوٹو پروٹوکول سے لے کر 2015 میں پیرس معاہدے تک کئی بار اقوام عالم اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے عملی اقدامات تیز تر کئے جائیں۔ چنانچہ پیرس معاہدہ میں گلوبل وارمنگ کو زیادہ سے زیادہ 2 درجے سینٹی گریڈ پر روکنے کے لئے اقوام عالم کو کاربن اخراج کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اب اس کام کے لئے بڑے منصوبے بنا رہے ہیں۔


پیرس معاہدے کے تحت ہر ملک اپنی کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو کم کرنے کے لئے قومی اہداف مقرر کرے جس کو

(Nationally Determined Contribution (NDC)

کہا جاتا ہے اور اس کے لئے قومی سطح کے منصوبوں کو عمل میں لانا پڑا ہے۔لہٰذا پاکستان نے بھی اپنا این ڈی سی کا معاہدہ جمع کروادیا ہے اور اس کے تحت ہمیں 2030 کے اہداف میں کاربن کے اخراج کو20 فیصد کم کرنا ہوگا۔
ہمارے شمالی علاقوں میں پن بجلی کے لئے جو قدرتی مواقع موجود ہیں وہ کسی بھی ترقی پسند قوم کے لئے ایک خواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی طرح توانائی کے متبادل ذرائع جیسے ہوا اور شمسی توانائی وغیرہ اور روایتی ذرائع مثلاً کوئلہ اور گیس وغیرہ کا نہ صرف اقتصادی موازنہ ضروری ہے بلکہ ان کے دُور رَس ماحولیات اور صحت پر پڑنے والے اثرات کا تجزیہ بھی نہایت اہم ہے اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دنیا کے دیگر ممالک اس وقت کس سمت میں جارہے ہیں اور سائنسی بنیادوں پر کیا چیز ہمارے لئے بہترین ثابت ہوگی۔ جب تک ہم تمام صورت حال کا جائزہ نہیں لے لیتے ہمیں یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ ہم کس ذریعے کو اختیار کرتے ہوئے ترقی کریں۔


اس وقت پاکستان میں توانائی کی کل ضرورت تقریباً 22000 میگاواٹ ہے جبکہ اس کی پیداوار سترہ سے اٹھارہ ہزار میگاواٹ ہے۔اس طرح 4000 سے 5000 میگاواٹ کی کمی ہے چنانچہ ہمیں نہ صرف سستے بلکہ ماحول دوست اور مستقبل میں فائدہ مند ذرائع کو کام میں لانا ہوگا۔بجلی دو طریقوں سے بن سکتی ہے، ایک تو جنریٹر چلانے سے جس کے لئے ٹربائن کو گھومنا پڑتا ہے۔دوسرا شمسی توانائی کے ذریعے، ٹربائن گھومنے والا ذریعہ کئی طریقوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً پانی سے، بھاپ یا ہوا کے زور پر اس کو گھما سکتے ہیں۔ ہوا، شمسی توانائی اور کچھ نئے ذرائع کو متبادل ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔تو آئیے ان ذرائع کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔


پن بجلی
توانائی کا سب سے سستا ذریعہ
hydropower
یعنی پن بجلی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس پر اتنی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس کے ماحولیاتی اثرات بھی دیگر روایتی ذرائع کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں۔پن بجلی کے منصوبے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن میں ڈیم
(Reservoir)
بنایا جاتا ہے۔ اس کے ابتدائی اخراجات اور قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ قیمت وصول ہو جاتی ہے۔دوسرا سٹریمنگ ہائیڈرو پاور ہے جس میں ڈیم بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بجلی، ندی یا دریا کے بہاؤ کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔اس کے چھوٹے چھوٹے بہت سے جنریٹرز لگ سکتے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان کو چھوٹے ندی نالوں پر بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ ایک درمیانہ جنریٹر ایک ہزار سے زائد گھروں کو بجلی فراہم کر سکتا ہے اور یہ ماحول پر کوئی منفی اثرات بھی نہیں ڈالتے ہیں۔


2003 میں بھارت نے ایک بڑا منصوبہ بنایا جس میں پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے 162 ذیلی منصوبوں کو منظور کیا گیا۔اگر ہم پاکستان کے شمالی علاقوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے پن بجلی کے لئے نہایت موزوں ہیں اور ان کے بہتے دریاؤں میں پانی کا قدرتی طور پر تیز بہاؤ اور دریا کی ڈھلان ہمیں بڑے ڈیم بنائے بغیر، چھوٹے ڈیمز اور اسٹریمنگ ہائیڈرو پاور سے اتنی بجلی پیدا کر کے دے سکتے ہیں جو ملکی ضرورت سے تین گنا زیادہ ہوگی۔چنانچہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں 65000 میگاواٹ بجلی کے منصوبے بن سکتے ہیں۔مثال کے طور پر صرف تین منصوبے بونجی ہائڈرو پاور پروجیکٹ جس سے 7500 میگاواٹ اور دیامر،بھاشا ڈیم جس سے 4500 میگاواٹ پیدا ہوسکتے ہیں اور داسو ڈیم بھی 4500 میگاواٹ پیدا کر سکتا ہے۔ان میں چند منصوبے سی پیک سے بھی جڑے ہیں۔دیگر چھوٹے بڑے منصوبوں کے ذریعے موجودہ اور مستقبل کی ملکی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔


پن بجلی میں چونکہ ایندھن استعمال نہیں ہوتا، اس لئے اس کے ماحولیاتی اثرات کوئلے اور تیل کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور ان سے ہمالیہ اور قراقرم کے پگھلتے ہوئے گلیشئیرز کو بھی بچایا جا سکے گا کیونکہ یہ پہاڑوں پر موسم سازگار بنانے میں مدد دیتے ہیں۔تاہم ڈیم سازی کے عمل سے سمندروں میں مٹی کی ترسیل رکتی ہے اور پہاڑوں کا خاصا رقبہ زیرآب آجاتا ہے جس سے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔


واپڈا کو ڈیمز سے اس وقت سات ہزار میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔جو کہ 2014 میں 1.5 روپے فی یونٹ پڑتی تھی اور داسو ڈیم جیسے منصوبے 50 پیسے فی یونٹ کی قیمت پر بجلی مہیا کریں گے۔یہی بجلی اگر اسٹریمنگ ہائیڈرو پاور سے بنائی جائے تو اس کی قیمت تقریبا 10 سے30 پیسے فی یونٹ پڑے گی۔جبکہ 31 دسمبر 2016 کو واپڈا کی پریس ریلیز کے مطابق مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمتیں کچھ یوں رہیں، پن بجلی 2.15، گیس 9.07، فرنس آئل 11.05، ہائی اسپیڈ ڈیزل 17.96، کوئلہ 12.08، نیوکلیئر 6.87، سولر 17، ہوا سے بجلی 16.63 روپے فی یونٹ۔ لہٰذا عوام کو اس وقت اوسط قیمت ساڑھے گیارہ (11.50) روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی ترسیل کی جارہی ہے اگر پن بجلی کا تناسب بڑھا دیا جائے تو یہ مزید سستی ہو سکتی ہے۔


ہوا سے بجلی
ہوا سے بجلی بنانے کا عمل اس وقت دنیا بھر میں کافی مقبول ہو رہا ہے اور کئی یورپی ممالک ہوا کو استعمال کر رہے ہیں۔اس وقت ملک میں جو بڑے منصوبے چل رہے ہیں وہ گھارو اور جھمپیر پر ہیں۔ہوا کی اس راہداری میں ہوا کی رفتار نہایت تیز ہے اور یہاں کل پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس وقت ملک میں صرف 590میگاواٹ بجلی ہوا سے بن رہی ہے۔ہوا جو کہ مفت حاصل ہوتی ہے، اس سے بجلی بنانے کو ایک ماحول دوست عمل سمجھا جاتا ہے تاہم ہوا کے زور پر ٹربائن یا جنریٹر چلانے کے لئے جو ٹیکنالوجی درکار ہے وہ اس وقت خاصی مہنگی ہے اور اس کے بھی ماحول پر کچھ نہ کچھ منفی اثرات ہوتے ہیں۔مثلاً شور وغیرہ‘ اور یہ سردیوں میں آنے والے پرندوں کے لئے بھی مضر ہوسکتے ہیں۔اس وقت موجودہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یہ ذریعہ مہنگا ہے اور وہاں زیادہ قابل استعمال ہے جہاں دیگر ماحول دوست ذرائع موجود نہ ہوں۔


شمسی توانائی
شمسی توانائی پر بھی دنیا بھر میں بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی سامنے آرہی ہے جو پہلے سے سستی بھی ہے اور دیرپا بھی۔اس کو ماحول دوست اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں بغیر کسی ایندھن کے محض سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔پاکستان چونکہ سب ٹروپیکل ممالک میں آتا ہے، لہٰذا ہمیں دھوپ کئی گھنٹے خاصی شدت کے ساتھ ملتی ہے۔ لہٰذا شمسی توانائی کے مواقع ہمارے ہاں خوب ہیں۔اس وقت بازاروں میں ہر سائز کی چھوٹی بڑی سولر پلیٹیں دستیاب ہیں۔ان کی اوسط 25 سال تک گارنٹی ہوتی ہے۔ تاہم بظاہر مفت نظر آنے والی شمسی توانائی چونکہ صرف دن میں بجلی مہیا کر سکتی ہے، اس لئے رات میں بجلی حاصل کرنے کے لئے اس کو ذخیرہ کرنا پڑتا ہے (جو کہ ایک مہنگا کام ہے) یا پھر رات کو دیگر ذرائع سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔مثال کے طور پر اس وقت ملک میں قائد اعظم پاور پلانٹ اور بہاولپور جیسے بڑے منصوبے کام کر رہے ہیں۔یہ پلانٹ صرف 100 میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے اور اس وقت موجود ذرائع میں سب سے مہنگا ہے۔یہ ذریعہ صرف اس جگہ کارآمد ہے جہاں بجلی کی قومی ترسیل (نیشنل گرڈ) نہ ہو یا بجلی کا کوئی اور متبادل نہ ہو مثلاً دُور دراز کے گاؤں دیہات وغیرہ میں چھوٹے پیمانے پر بجلی کے استعمال کے لئے یہ موزوں ہے۔لیکن یہ بات واضح رہے کہ آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ توانائی کا یہ وسیلہ سب سے کارآمد ہوگا۔


تھرمل پاور
اس وقت پاکستان میں ملکی پیداوار کا ایک بڑا حصہ تھرمل پاور پر منحصر ہے، اب تک ہم گیس یا تیل سے ہی بجلی بناتے آئے ہیں۔جبکہ کوئلے کا استعمال قومی پیداوار کا صرف ایک فیصد رہا ہے۔ کوئلہ کا استعمال انسانی تاریخ میں نیا نہیں۔ اس کا شمار حیاتیاتی ایندھن میں ہوتا ہے اور اس کو ڈرٹی فیول کے نام سے جانا جاتا ہے۔لہذا دنیا بھر میں تھرمل پاور کو عموماً اور کول پاور کو خصوصاً بتدریج ترک کیا جارہا ہے۔خود امریکا، چین اور ترقی یافتہ یورپی ممالک اپنے ملک میں اس سے پیدا ہونے والی آلودگی سے پریشان ہیں۔یہ بات صحیح ہے کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ توانائی تھرمل پاور اور خصوصاً کوئلے سے حاصل کی جارہی ہے۔لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس سے ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کی قیمت بہت زیادہ ہے اور دنیا بھر میں اب اِسے ترک کرنے کے لئے کھربوں ڈالر کے منصوبے عمل میں لائے جا رہے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور ماحول کی تباہی کو روکنا ہے۔جیساکہ امریکہ میں 2015 میں ایک بڑا منصوبہ ’’کلین پاور پلان‘‘ کا صدر اباما نے نے خود اعلان کیا، جس میں کول پاور پلانٹس سے کاربن اور آلودگی کے اخراج کو کم کیا جارہا ہے۔اسی طرح گزشتہ تین سالوں سے چین اپنے کوئلے کے استعمال کو کم سے کم تر کرتا جارہا ہے۔کوئلے سے ہونے والی آلودگی ماحول کوبے حد نقصان پہنچاتی ہے۔


اس وقت پاکستان میں سی پیک کے تحت فوری دس منصوبے
Early Harvest Energy Projects
کے نام سے شروع کئے گئے ہیں جو 2018 تک دس ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کریں گے۔اس کے علاوہ کئی منصوبے اور ہیں۔ ان میں بیشتر منصوبے کول پاور کے ہیں جن میں کئی پلانٹ بیرون ملک سے کوئلہ درآمد کریں گے اور کچھ تھر کا کوئلہ استعمال کریں گے۔تمام پاور پلانٹس چین سے درآمد کئے جا رہے ہیں۔ان میں آلودگی‘ جیسے کہ بیشتر گیسیں اور خطرناک دھاتیں مثلاً مرکری (پارہ) اور سیسہ جو ذہنی معذوری اور دیگر خطرناک امراض کا باعث بنتے ہیں، کو روکنے کا کوئی خاص تدارک نہیں ہے۔


دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس وقت جہاں بھی کول پاور پلانٹس استعمال ہورہے ہیں وہاں سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی متعارف کرائی جاچکی ہے اور کئی ممالک میں اس کو مزید جدید بناکر الٹرا سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے جس سے نہ صرف خطرناک گیسوں بلکہ خطرناک دھاتوں کا اخراج بھی کم کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے اور اس سے بجلی کی قیمت بڑھ جائے گی۔ لہٰذا پاکستان میں نئے لگنے والے کول پاور پلانٹس میں سے صرف چند ہی اس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے اور اس سے بجلی کی قیمت 12 روپے فی یونٹ سے بھی بڑھ جائے گی۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں
Minamata Convention
پر دستخط کئے ہیں، جس کے
Annex D
کے مطابق حکومت اس بات کی پابند ہے کہ ملک میں کوئلے کے ذریعے مرکری کی آلودگی کو روکنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرے گی۔
اب اس ضمن میں دیکھنا یہ ہوگا کہ ہماری دیرپا ترقی کے لئے کون سے ذرائع ہمارے لئے مفید ہیں؟ کیا ہمارے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں جو ماحول دوست بھی ہوں اور سستے بھی؟ کیا ہم اپنی عوام کو بہتر ماحول اور ایک بلند معیار زندگی، معاشی کامیابی کے ساتھ دے سکتے ہیں؟ توانائی کے بغیر ترقی ناممکن ہے، لہٰذا حکومت کو ایسی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس میں توانائی کے وہ ذرائع استعمال کئے جائیں جو لوگوں کی صحت کو نقصان نہ پہنچائیں، کم قیمت ہوں، کاربن کا اخراج بھی نہ کریں اور سی پیک جیسے عظیم منصوبوں کے ذریعہ لمبے عرصے تک ملک اور قوم کی بقا اور خوشحالی کا باعث بنے۔


پاکستان اگر اپنی قومی توانائی کا صرف ۱یک فیصد کوئلہ سے پیدا کر رہا ہے تو یہ نہایت خوشی کی بات ہے، جس سمت میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جانا چاہ رہے ہیں ہم پہلے ہی وہاں موجود ہیں ہمیں پیچھے جانے کے بجائے اکیسویں صدی کی اس دوڑ میں آگے کی طرف جانا چاہئے۔ایسے منصوبوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جو مہنگے بھی ہوں اور ماحول کے لئے نقصان دہ بھی۔اس صورتحال میں اگر حکومت پن بجلی پر توجہ دے اور اس کے نظام ترسیل پر رقم خرچ کرے، ساتھ ہی شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کے شعبے میں تحقیق کو تیز کرے، تو کوئی بعید نہیں کہ ہم توانائی میں ناصرف خودکفیل ہوجائیں گے بلکہ اپنی ترقی کے خواب بھی پورے کر سکیں گے۔

ڈاکٹر وقار احمد ایک ماہر ماحولیات ہیں اور جامعہ کراچی میں اپنی خدمات تدریس و تحقیق کی صورت میں انجام دے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ایڈہاک

ہیں مسلسل اشک آنکھوں میں‘ ہنسی ایڈہاک پر
غم ملے ہیں مستقل ہم کو‘ خوشی ایڈہاک پر
اور آجائے گا کوئی جیب جب خالی ہوئی
چل رہی ہے اُن سے اپنی دوستی ایڈہاک پر
مستقل شے کیا ملے دُنیائے فانی میں ہمیں
دوستو! ہم کو ملی ہے زندگی ایڈہاک پر
حادثوں کی بارشیں ہوتی ہیں متواتر جلالؔ
ہم اگر کر لیں ذرا سی دل لگی ایڈہاک پر

ڈاکٹرسیدقاسم جلالؔ

*****

 
10
April

تحریر: ڈاکٹرہمامیر

سرکس میں تماشا نہیں لگاتا۔ یہ بات کیوں اور کیسے مشہور ہوئی معلوم نہیں لیکن مجھے ان بھیڑیوں کا خیال ضرور آیا جنہیں ایک کینیڈین جوڑا بڑی محبت سے ایسے پال رہا ہے جیسے وہاں کتے یا بلی پلتی ہے۔ ونکوور کے شمال مشرق میں پہاڑوں کے دامن میں 1.25 ایکڑ کے وسیع رقبے پر
Casey & Shelley
نامی میاں بیوی نے بھیڑیوں کو بڑے ناز سے پالا ہے۔ لوگ ہرن پالتے ہیں، بھیڑ ، بکری، گائے، دنبے، بیل، اونٹ، گھوڑے، گدھے، مور، پرندے، کتا، بلی پالتے ہیں۔ جانے یہ بھیڑئیے پالنے کا خیال کیونکر آیا اور یہ کیا ایک نئی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ یعنی بھیڑیے سے متعلق جتنی باتیں یا کہاوتیں مشہور ہیں، ان کے حساب سے تو بھیڑیا ایسا درندہ ہے جس کے بارے میں کبھی پہلے نہیں سنا کہ اسے پالا جائے۔ لوگ سانپ جیسے موذی کو پال لیتے ہیں مگر زہر نکال کے۔ یہ بھیڑیا پالنا آخر کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ سب میری سمجھ سے تو باہر ہے تاہم میں آپ کو ان پالتو بھیڑیوں کے tazahawabaharki.jpgبارے میں بتاتی ہوں جو
Casey
اور
Shelley
نے پالے ہیں۔ یہ تعداد میں کل 7ہیں۔ ان میں سے ایک مادہ ہے جس کا نام مایا ہے۔ وہ سب سے بڑی ہے اس کی عمر 17برس ہے
Wiley
نامی بھیڑیا خوب تندرست و توانا ہے۔ اس کی عمر14برس ہے اور وزن 110پاؤنڈ ہے۔
Aspen
نامی بھیڑیا ہے جو سب سے پہلے پلا تھا۔
Aspen
چھوٹا سا بچہ تھا جب اسے لایا گیا تھا۔ ان کے علاوہ
Dave
اور
Flora
بھی ہیں۔ یہ سب بھیڑئیے مل جل کر رہتے ہیں۔ ان کے مالک
Shelley
اور
Casey
نے باقاعدہ وولف سینٹر بنایا ہے جہاںیہ سات بھیڑیے خوب گھومتے پھرتے عیش کرتے ہیں۔
Shelley
اور
Casey
مختلف سکولوں میں جا کر بھیڑیوں کے حق میں تقاریر کرتے ہیں۔ بچوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ ان کے وولف سینٹر کا دورہ کریں تاکہ بھیڑیوں کے حوالے سے ان کے ذہن تبدیل ہو سکیں۔ یہ دونوں میاں بیوی بھیڑیوں کی پبلسٹی میں آگے آگے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ بھیڑیوں سے خوف کھانے یا ان کو برا سمجھنے کے بجائے ان سے محبت کریں، ان کو گھروں میں پالیں اور بھیڑیوں کو درندہ سمجھنے کے بجائے پالتو جانور سمجھیں۔


چلیں اب ختم کریں یہ بھیڑیوں کی باتیں بہت ہو گئیں۔ ذرا سیاسی درجہ حرات پر بات ہو جائے۔ اس بار موسم سرما میں عالمی سیاست گرم رہی۔ نئے قوانین، نئے اصول، نئی باتیں سامنے آئیں۔ دنیا کے دیگر مسلمان ممالک میں بسنے والوں کی ہمدردی اور اظہار یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالنے والے کسی اشارے کے منتظر رہے اور نئی پالیسیوں پر ان کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کہیں کوئی صدا سنائی نہ دی۔ بس اتنا ضرور ہوا کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی بین الاقوامی مقبولیت میں ضرور اضافہ ہوا۔ ٹروڈو بہت باصلاحیت نوجوان وزیراعظم ہیں۔ وہ تمام مذاہب اور مسالک کا احترام کرتے ہیں۔ غیرملکی تارکین وطن اور مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کے حق میں بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح مسلمانوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا اور جس طرح تارکین وطن کو گلے لگایا، لوگ ان کے مداح ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر انہیں سراہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ٹرکوں کے پیچھے ان کے پورٹریٹ نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل سابق صدر ایوب خان کی تصاویر ہمیں ٹرک کے پیچھے نظر آتی تھیں۔ جسٹن ٹروڈو کے والد بھی سیاستدان تھے، وہ بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ کمال بات ہے کہ یہ خاندان نہایت ایماندار اور محنتی ہے۔ ان پر ایک پائی کی بھی کرپشن کا الزام نہیں۔ یہ ایسے وی آئی پی ہیں جو اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں۔ ان کے چہرے پر کوئی رعونت یا فرعونیت نہیں۔ ٹروڈو کا مسکراتا چہرہ، ان کے مثبت بیانات، عملی اقدامات، اختلافات و اقدار کا لحاظ ان کو ایک آئیڈیل سیاستدان کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ جسٹن ٹروڈو کی اہلیہ نہایت حسین وجمیل خاتون ہیں۔ یہ سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ ذاتی جیپ سے شاپنگ کرتی ہیں۔ ٹروڈو کے بچے ابھی پڑھ رہے ہیں اور کسی سیاسی کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ بچے کسی کی تقرری، ٹرانسفر، یا کسی قسم کی دیگر ذمہ داریوں سے مبرا ہیں۔ نیز ان کو یہ بھی نہیں باور کرایا گیا کہ ان کے باپ کے بعد اقتدار انہی کا حق ہے۔کینیڈا کی دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ یہ سب جمہوری روایات کے امین ہیں اور جمہوریت کے مفہوم سے نہ صرف آشنا ہیں بلکہ اپنے طرز عمل سے ثابت بھی کرتے ہیں۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April
Published in Hilal Urdu
Read 535 times

newsarmireslingchanp.jpg

10
April
Published in Hilal Urdu
Read 519 times

newsfrontiercorekpk.jpg

10
April
Published in Hilal Urdu
Read 508 times

newcomderkarachipoono.jpg

10
April
Published in Hilal Urdu
Read 509 times

newscomdrepeshwarloi.jpg

10
April
Published in Hilal Urdu
Read 512 times

newsyoumepakkhawaly.jpg

10
April
Published in Hilal Urdu
Read 495 times

newsnavalheq.jpg

10
April

تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ

جہلم شہر سے رانجھا میرا نامی گاؤں کی طرف جائیں تو چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلال ٹاؤن آتا ہے۔ اسی بلال ٹاؤن میں محلہ شاہ پور ہے۔ جہاں مادر وطن کا وہ جانباز (شہید) پیدا ہوا اور اسی قبرستان میں پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ دفن ہوا۔


سپاہی وقاص احمد 20جولائی 1989کو جہلم میں پیدا ہوا۔ اس کے والد افتخار احمد حکمت کا کام کرتے ہیں اور حکیم کے طور پر مشہور ہیں۔چھ بہن بھائیوں میں وقاص احمد کا تیسرا نمبر ہے۔ بچپن سے ہی وقاص احمد وقت کا انتہائی پابند تھا اور اپنی اسی خوبی کی وجہ سے سارے گھر والے وقاص احمد کو چھوٹی عمر میں ہی فوجی کہنے لگے تھے۔وقاص احمد انتہائی نرم دل اور رحمدل تھا۔ اپنے تو کیا وہ کسی غیر کو بھی معمولی سی بھی تکلیف میں دیکھتا تو تڑپ اٹھتا اور حتی الامکان اپنی بساط سے بھی بڑھ کر اس کے کام آنے کی کوشش کرتا۔ وقاص احمد کے خاندان میں کوئی بھی فوجی نہ تھا۔ مگر اس کی امی کی بڑی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پاک فوج کا حصہ بنے۔ چنانچہ میٹرک کرنے کے بعد وقاص احمد ریکروٹنگ آفس گیا اور آرمی میں بھرتی ہو گیا۔ یقیناًاﷲتعالیٰ نے اسے شہادت کے لئے چن لیا تھا۔ اس لئے بغیرکسی معمولی سی بھی رکاوٹ کے وہ پنجاب رجمنٹ میں بھرتی ہو گیا۔ ضروری عسکری ٹریننگ کے بعد اس کی ٹرانسفر 55پنجاب رجمنٹ میں ہو گئی۔ اپنے حسن اخلاق اور اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت وہ جلد ہی 55پنجاب رجمنٹ کے سپاہی سے لے کر کمانڈنگ آفیسر تک ہرایک کی آنکھ کا تارا بن گیا۔

 

sipahiwaqashusain.jpgانہی دنوں ارض وطن پر دہشت گردی کا خون آشام آسیب نجانے کہاں سے در آیا۔ روازنہ سیکڑوں ہزاروں لوگوں کو دوچار انسانی قالب میں چھپے ہوئے درندے خودکش جیکٹس اور طرح طرح کے خوف ناک آتشیں ہتھیاروں سے خون میں نہلانے لگے۔ مسجد یں، امام بارگاہیں، چرچ غرضیکہ کوئی بھی عبادت گاہ محفوظ نہ رہی۔ پررونق مقامات، تفریحی گاہوں اور پرہجوم مقامات پرخوف کے سائے منڈلانے لگے۔ لوگ سکولوں، کالجوں اور کھیل کے میدانوں میں بچوں کو بھیجنے سے ڈرنے لگے۔ اس پرہو اور خوف سے بھرپور فضا کا طلسم توڑنے کے لئے پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے انتہائی دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اور ان خون آشام درندوں کو نکیل ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ پوری فوج اپنے سپہ سالار کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان موت کے ہر کاروں کے خلاف سینہ سپر ہو گئی۔ آرمی نے بلاامتیاز دہشت گردوں کو پوری قوت سے کچلنا شروع کر دیا۔ ملک بھر میں جہاں جہاں ان دہشت گرد درندوں کی کمین گاہیں تھیں انہیں ان کمین گاہوں سے ایک چوہے کی طرح بلوں سے نکال کر تباہ وبرباد کرنا شروع کر دیا۔ وقاص احمد کو 55پنجاب رجمنٹ سمیت دہشت گردوں کے مستقر جنوبی وزیرستان بھیج دیا گیا اور وانا میں آپریشن شروع کر دیا گیا۔


یہ غالباً وقاص کی شہادت سے ایک دن پہلے کی بات ہے کہ اس نے سارے گھروالوں سے خوب جی بھر کر باتیں کیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم انشاء اﷲ دو ماہ بعد واپس آ جائیں گے۔ مگر خدا نے اسے اپنی راہ میں شہادت کے عہدے پر فائز کرنے کے لئے چن لیا تھا۔ یہ بارہ جولائی 2013 دو رمضان المبارک اور جمعہ کا دن تھا۔ دشمن کی گھات کی وجہ سے کمیونیکیشن کا سلسلہ اچانک منقطع ہو گیا۔ عسکری زندگی میں اور خاص کر میدان جنگ میں کمیونیکیشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ وقاص احمد کے تین ساتھی رابطہ بحال کرنے کے لئے اپنی جگہ سے نکلے۔ سپاہی وقاص احمد نے انہیں دیکھا تو وہ بھی ساتھ ہو لیا۔ حالانکہ یہ اس کی ڈیوٹی نہیں تھی۔ فوج میں ہر کام کے لئے مخصوص افراد ہوتے ہیں۔ ساتھیوں نے اسے منع بھی کیا۔ مگر شہادت اسے اپنی بانہوں میں بھرنے کے لئے اسے جائے شہادت پربلا رہی تھی۔ چنانچہ وہ ضد کر کے ساتھ چلا گیا۔ کچھ دور انہیں وہ پول (کھمبا)نظر آ گیا۔ جہاں سے ٹیلی فون تار ٹوٹ کر لٹک رہی تھی۔ جس کی وجہ سے کمیونیکیشن بریک ہو گیا تھا۔فوجی حکمت عملی کے مطابق ایک ساتھی ان سے دور چلا گیا۔ تاکہ دشمنوں کی طرف سے فائرنگ کی صورت میں
Cover
فائر دے سکے۔ دو ساتھی کھمبے سے تھوڑی دُور پوزیشن لے کر بیٹھ گئے۔ جبکہ وقاص احمد کھمبے پر چڑھ کر تاریں جوڑنے لگا۔ تاریں جوڑنے کے بعد وہ نیچے اترنے ہی لگا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ قریب ہی گھات لگائے دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔ کھمبے سے ہی وقاص نے دیکھا کہ اس کے تینوں ساتھی خاک و خون میں نہا چکے تھے۔ وقاص احمد کے دل میں رائی برابر بھی خوف نہ تھا۔ اس نے تیزی سے کھمبے سے چھلانگ لگائی اور دشمن پر فائر شروع کر دیا۔ وقاص کی جوابی فائرنگ سے دہشت گردوں کی فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ تب وقاص نے اپنے قریبی دونوں ساتھیوں کو جو کہ شہید ہو چکے تھے اپنے کندھوں پر لاد کر کیمپ کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر ابھی دو قدم بھی نہ اٹھا پایا تھا کہ آتش و آہن کا ایک برسٹ آیا اور اکتالیس گولیاں اس کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔ اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گیا۔ ایک گولی اس کے موبائل فون پر بھی لگی یوں وہ اپنے گھر سے دور ارض وطن پر اپنی جوانی کی سوغات لوٹا کر امر ہو گیا۔ شہادت کے تین ماہ بعد اﷲتعالیٰ نے اسے بیٹے سے نوازا جس کا نام حیدر وقاص رکھا گیا جو اب ،جنوری 2017میں، تین سال کا ہو گیا ہے۔ راہ حق میں جانیں لٹا دینا بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ مگر جن ماؤں کے جوان کڑیل بیٹے یوں چپ چاپ دنیا والوں سے ناتا توڑ کر راہ حق کے مسافر بن جائیں اور اس پار ستاروں اور کہکشاؤں کے دیس جا بسیں، ان ماؤں کی آنکھوں کے سوتے کبھی بھی خشک نہیں ہوتے۔ سپاہی وقاص احمد شہید ہو کر زندہ جاوید ہو گیا۔ جس چارپائی پر وقاص احمد سویا کرتا تھا اس کی ماں اس کی طرف دیکھ کر آج بھی روتی رہتی ہے۔ وہ موٹر سائیکل جو وقاص سواری کے لئے استعمال کرتا تھا۔ وہ آج بھی کمرے میں کھڑی اپنے مالک کی آمد کی منتظر ہے۔ کاش کوئی اسے بتائے کہ سپاہی وقاص احمد تو دنیاوی رشتوں سے بے نیاز ستاروں اور کہکشاؤں کے دیس کا وہ باسی بن چکا ہے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیںآیا کرتا۔ وہ وطن کی حرمت پر قربان ہو گیا۔ وہ وطن کا نام باقی رکھنے کے لئے خود تو مٹ گیا مگر اس کے پائے استقامت میں ایک لمحے کے لئے بھی لغزش نہیں آئی۔ وہ جا چکا ہے مگر ارض وطن کے ہر نقش میں اس کا پَرتو ہے۔ یقیناًسب سے بڑی قربانی خاک وطن میں ہنستے کھیلتے اپنا لہو سینچنا ہے۔ جب تک ہمارے بہادر سپاہی اپنے لہو سے یہ آبیاری کرتے رہیں گے ارض وطن پر یوں ہی پھول کھلتے رہیں گے۔

 
10
April

وطنِ عزیز میں امن کی بحالی کے لئے افواجِ پاکستان اور قوم باہم مل کر دہشت گردی کے جس عفریت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما تھیں‘ الحمدﷲ اس میں کافی حد تک کامیابی مل چکی ہے اوراُس کے ثمرات کا اندازہ امن عامہ کی عمومی صورتحال اور عوام کے دمکتے چہروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ الحمدﷲعوام الناس دہشت گردی کے خوف سے نکل چکے ہیں اور وہ دہشت گردی کے ہونے والے اِکا دُکا واقعات سے نمٹنے کے لئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ افواجِ پاکستان نے جس انداز ہے دہشت گردی کے جن پر قابو پایاہے اس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔


اب باقی ماندہ فسادیوں اور سہولت کاروں کے خلاف’ آپریشن رد الفساد‘ کامیابی سے جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس سرزمین سے فسادکی مکمل بیخ کنی نہیں ہوجاتی۔ عوام کے حوصلے کس قدر بلند اور جذبے کس طور جواں ہیں ‘اس کا اندازہ حالیہ یومِ پاکستان پریڈ سے لگایا جاسکتا ہے۔ رواں برس پریڈ کی خاصیت یہ تھی کہ برادر ممالک چین اور سعودی عرب کے فوجی دستے اور برادر ملک ترکی کے مہتر بینڈ نے شریک ہو کر پاکستان اور پاکستانیوں کا مان بڑھایا۔ دریں اثناء شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سمیت ملک بھر میں پاکستان ڈے منایا گیا جس میں بچوں ‘ بوڑھوں اور جوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ لوگوں کے چہرے تمکنت اور خوشی سے دمکتے دکھائی دیئے جو یہ پیغام دے رہے تھے کہ پاکستان تاریک راہوں سے نکل آیا ہے اور اب ایک روشن اور تابناک مستقبل پاکستان اور اس کے باسیوں کا مقدر ہے۔ عوام کو صرف اس حدتک ذمہ دارہونے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کرنے اور اپنے حصے کی شمع جلانے میں بخل سے کام نہ لیں کیونکہ پاکستان صرف اسی صورت میں ترقی کرسکتا ہے جب تمام ادارے اپنے اپنے حصے کاکام اس انداز سے کریں کہ جس سے ملک میں ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہو۔


زندہ قومیں اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتیں اور اپنے حوصلے پست نہیں ہونے دیتیں کہ اُمید ہی میں روشن و تابناک مستقبل کے راز پنہاں ہوا کرتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم رواداری اور باہمی یگانگت کو یقینی بنانا ہوگا۔ بانئ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے 11 ستمبر1947 کو دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا ’’ پاکستان کی عظیم ریاست کو اگر ہم آسودہ ‘ خوشحال اور ثروت مند بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام کی فلاح پر تمام تر توجہ مرکوز کرنی پڑے گی اور ان میں بھی عام لوگوں بالخصو ص نادار آبادی کی فلاح مقدم ہے۔ اگر آپ نے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے‘ ناگواریوں کو دفن کرکے باہم تعاون سے کام کیا تو آپ کی کامیابی یقینی ہے اگر آپ نے ماضی کی روش بدل دی اورآپس میں مل جل کر اس جذبہ کے ساتھ کام کیا کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ و ہ کسی بھی فرقے سے ہو‘ خواہ ماضی میںآپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کچھ بھی رہی ہو‘ اس کا رنگ ذات یا مسلک خواہ کچھ بھی ہو‘ وہ شخص اول آخر اس ریاست کا شہری ہے اور اس کے حقوق‘ مراعات اور فرائض برابرکے ہیں‘ تو یاد رکھئے کہ آپ کی ترقی کی کوئی حد وانتہا نہ ہوگی۔‘‘


الغرض قوم اور اداروں کو پوری تندہی کے ساتھ اپنی خدمات کو اس اُمید سے یقینی بنانا ہے کہ آنے والے وقتوں میں وطنِ عزیز پاکستان دنیا کے بہترین اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکے۔

10
April

تحریر: جاوید حفیظ

مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں منافع کماتی ہیں۔ نئے کارخانے لگتے ہیں۔ سڑکیں بنتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور انشورنس کا بزنس فروغ پاتا ہے۔ تجارتی روابط ٹورازم کو ترقی دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ تجارت ملکوں کے مابین امن اور خطے میں استحکام لاتی ہے۔ کیونکہ اقتصادی تعاون کے بین الاقوامی فروغ کے لئے امن اور استحکام اہم شرط ہے۔


علاقائی اقتصادی تعاون سے وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملتی ہے مثلاً پاکستان ٹیکسٹائل اور چاول برآمد کرتا ہے اور ہمسایہ ملک ایران یہ دونوں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ایران اگر یہ دونوں چیزیں کسی دورکے ملک سے منگوانے کے بجائے پاکستان سے خریدے تو اسے سستی بھی پڑیں گی کیونکہ ٹرانسپورٹ کرنے میں لاگت کم آئے گی۔ اسی طرح ایران تیل اور گیس برآمد کرتا ہے جبکہ اس کے ہمسایہ ممالک ترکی اور پاکستان کی انرجی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں ان تین ملکوں کے باہمی تعاون سے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے 1964 میں آر سی ڈی
(Regional Cooperation For Development)
بنائی گئی۔ اس تنظیم کا مقصد تینوں ملکوں کے مابین تجارت کا فروغ اور شاہراہ کے ذریعے سفر کو آسان بنانا تھا۔ یہی وہ شاہراہ تھی جو پاکستان کو یورپ سے منسلک کر سکتی تھی۔ ایران میں 1979 میں انقلاب آیا تو آر سی ڈی غیرفعال ہو گئی۔ 1985میں تینوں ممالک نے اسے نئے نام یعنی ای سی او
(Economic Cooperation Organisation)
کے ذریعے دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1992 میں افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے چھ ممالک اس تنظیم میں شامل ہو گئے۔ بیسیویں صدی نے علاقائی تعاون کا عروج دیکھا ہے اور بہت سے ممالک باہمی اشتراک سے مستفید ہوئے۔ اس تعاون کی سب سے بڑی مثال یورپی یونین ہے۔ تعاون اور اتحاد کی اس شکل میں سرمایہ اور لیبر آزادانہ ایک ملک سے دوسرے ممبر ملک جا سکتے ہیں۔ مثلاً فرانس کا شہری جرمنی، یونان، ہالینڈ کسی بھی ملک میں نہ صرف جاب کر سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں سے تھکے ہوئے یورپ کے لئے یہ بہت خوشگوار تجربہ تھا۔ اسی طرح کا ایک اور کامیاب تجربہ ایشیا میں آسیان کی صورت میں سامنے آیا۔ یہاں علاقائی تعاون سے سنگاپور، ملائشیا اور دیگر ممبر ممالک کو بہت فائدہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے معیار زندگی بہتر ہوا۔ ان ممالک نے نہ صرف باہمی تجارت کو خاصی حد تک بڑھایا بلکہ تعلیم صحت اور ریسرچ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کی معاونت کی، بالآخر خارجہ پالیسی کے امور میں بھی تعاون دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف یورپ کے کئی ممالک مشترکہ ویزہ پالیسی کا حصہ ہیں اور ایک کامن کرنسی یعنی یورو معرض وجود میں آئی۔ ان دو کامیاب علاقائی تنظیموں کے علاوہ چند ایسی مثالیں بھی مشاہدے میں آئیں جن میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور ان میں ایک تنظیم سارک بھی ہے۔

ecoaurpakistan.jpg
اس بات کا تعین بھی ضروری ہے کہ سارک ناکام تنظیم کیوں ہے۔ کسی بھی علاقائی تعاون تنظیم کی کامیابی کے لئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ ممبر ممالک کی سوچ اور مقاصد میں ہم آہنگی ہو۔ صاف ظاہر ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے ہدف مختلف ہیں۔ مثلاً انڈیا ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جو اس کا تابع فرمان ہو۔ مگر انڈیا اپنا یہ ہدف حاصل نہیں کر سکا اور 1998 کے ایٹمی تجربوں کے بعد تو پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ لیکن اس بات کا کیا علاج ہے کہ انڈیا نے اپنا برتری اور رعب جمانے کا ہدف ترک نہیں کیا۔ پھر انڈیا اور پاکستان کے مابین کئی حل طلب مسائل ہیں جن میں کشمیر سرفہرست ہے۔ ای سی او ممالک کے درمیان ایسے جھگڑے نہیں لہٰذا اس تنظیم کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔معیشت کا تنوع اور ایک دوسرے پر انحصار علاقائی تعاون کی کامیابی کی دوسری شرط ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں ٹیکسٹائل گڈز برآمد کرتے ہیں بین الاقوامی منڈی میں دونوں میں مقابلے کی فضا رہتی ہے۔ اسی طرح انڈیا، پاکستان اور سری لنکا تینوں چاول برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین باسمتی چاول برآمد کرنے کے سلسلے میں سخت مسابقت رہتی ہے۔ ای سی او کے ممبر ممالک میں ایسی کوئی مشکل نظر نہیںآتی۔ پاکستان اور ترکی بہت ساری ایسی چیزیں بناتے ہیں جن کی سنٹرل ایشیا میں کھپت ہے۔ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے اور ہمیں گرمیوں میں تاجکستان سے بجلی مل سکتی ہے۔ ایک منصوبہ جسے کاساایک ہزار
(CASA-1000)
کا نام دیا گیا ہے پر دستخط ہو چکے ہیں۔


عام طور پر کہا جاتا ہے کہ علاقائی تعاون اور تجارت کے فروغ کے لئے مذہبی اور کلچرل ہم آہنگی اور یکسانیت لازمی شرط نہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ترکی مسلمانوں کا ملک ہے۔ پوری کوشش کے باوجود ترکی ابھی تک یورپی یونین کی ممبر شب حاصل نہیں کر سکا۔ سارک ممالک کے لوگ تین چار مذاہب کے پیروکار ہیں۔ جن میں ہندو مت، اسلام، بدھ مت اور عیسائیت نمایاں ہیں۔ ان کے برعکس ای سی او ممبر ممالک میں ہر جگہ مسلمان اکثریت میں ہیں اور اس وجہ سے ای سی او کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔


ای سی او نے اب تک کیا اہداف حاصل کئے ہیں۔ اس تنظیم کا ریکارڈ کیسا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ریکارڈ دیکھنے کے بعد میں ای سی او کو نیم کامیاب تنظیم کہوں گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اس تنظیم کا مستقبل روشن ہے۔ ای سی او ممالک نے 2005ء میں سرکردہ اشخاص کا ایک پینل بنایا تھا تاکہ مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جائے۔ اس پینل کا کہنا تھا کہ اگر کسٹم ڈیوٹی کم کی جائے اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا ازالہ کیا جائے تو ای سی او ممبرز اپنی باہمی تجارت کو ٹوٹل ٹریڈ کے بیس فیصد تک لے جا سکتے ہیں۔ 2015 گزر گیا لیکن باہمی تجارت آٹھ فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ آئیے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تنظیم اپنے مکمل اہداف حاصل کرنے سے کیوں قاصر رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو افغانستان کی غیرمستحکم صورت حال نظر آتی ہے جو تاحال قائم ہے۔ دوسری بڑی وجہ ایران پر ایٹمی پروگرام کی وجہ سے لگنے والی عالمی اقتصادی پابندیاں تھیں تیسری وجہ یہ ہے کہ سنٹرل ایشیا کے کئی ممالک اپنے انفراسٹرکچر کی وجہ سے روس کی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔ ای سی او کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ان ملکوں کو روس کی معیشت اور تجارت سے دور کیا جائے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر گیس پائپ لائنز بن جائیں اور ممبر ممالک کا ایران پاکستان اور ترکی کے ساتھ زمینی سفر آرام دہ ہو جائے تو سنٹرل ایشین ممالک کو بہت فائدہ ہو گا۔ راقم الحروف جب دو شنبے میں سفیر تھا تو اس بات کا این ایچ اے کی مدد سے تعین کر لیا گیا تھا کہ اسلام آباد سے براستہ پشاور جلال آباد کابل تاجکستان کا سفر آسانی سے دس گھنٹے میں ممکن ہے۔ دو شنبے سے بائی روڈ ماسکو جانے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہے۔ اور اب آتے ہیں یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی ای سی او سمٹ کانفرنس کی جانب۔ فروری کے مہینے میں پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر دیکھنے میں آئی۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ای سی او سمٹ کانفرنس کو سبوتاژ کر دے گا لیکن دشمن اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کانفرنس میں چھ صدور ایک وزیراعظم اور دو نائب وزیراعظم آئے۔ ایران کے صدر حسن روحانی اور ترکی کے صدر طیب رجب اردوان
(Recep Tayyip Erdogan)
نمایاں رہے۔ یہ پاکستانی سفارت کاری کی واضح کامیابی تھی۔ اس سے پاکستان کی علاقائی اہمیت کا پھر سے اقرار ہوا ہے۔ انڈیا کا یہ دعویٰ کہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں تنہا ہے۔ غلط ثابت ہوا۔
اسلام آباد کی سربراہ میٹنگ کا شعار تھا۔
(Connecting for regional prosperity)
یعنی خطے میں خوشحالی لانے کے لئے ممبر ممالک کو جوڑا جائے، قریب تر لایا جائے۔ فارن سیکرٹری اعزازچوہدری نے اس کی وضاحت یوں کی کہ سڑکوں کے ذریعے سفر کو آرام دہ اور کم خرچ بنایا جائے تاکہ ممبر ممالک کے لوگ آسانی سے سارے خطے میں آ جا سکیں اور اس کے علاوہ مال بردار ٹرک اور ٹرالر بڑی تعداد میں روزانہ بارڈر کراس کریں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب سڑکوں کی حالت بہت اچھی ہو، ریلوے کا نظام فعال ہو، اور مال کی ٹرانسپورٹ کم قیمت ہو۔ سڑکوں اور ریلوے کے علاوہ پائپ لائن انرجی کی ٹرانسپورٹ کا آسان اور کم خرچ ذریعہ ہے۔ تیل کی نقل و حرکت کا یہ طریقہ ٹینکرز کے مقابلے میں آسان بھی ہے۔


اسلام آباد کی سربراہ کانفرنس میں وژن 2025ء کو ممبر ممالک نے اتفاق رائے سے پاس کیا۔ یہ مستقبل قریب کا روڈ میپ ہے۔ اس روڈ میپ کا ایک اہم نکتہ اگلے پانچ سال میں ممبر ممالک کے مابین تجارت کو دوگنا کرنے کا عزم ہے۔ اس کامیاب کانفرنس نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی پاکستان کو دنیا میں یا ہمارے خطے میں تنہا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ چین کے نائب وزیرخارجہ نے ہمارے وزیراعظم کی دعوت پر کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کی۔ کانفرنس کے اعلامیے میں سی پیک کا باقاعدہ ذکر ہے اور اس بات کا اقرار بھی ہے کہ یہ منصوبہ تمام خطے کی اقتصادی ترقی کو مہمیز کرے گا۔


دراصل سی پیک کا مقصد بھی ٹرانسپورٹ کو آسان بنانے کے لئے خنجراب سے گوادر تک سڑکیں اور اقتصادی ترقی کے پروجیکٹ بنانا ہے۔ تیل کی درآمد کے لئے چین تک پائپ لائن بچھانا ہے۔ پاکستان کی انرجی کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سی پیک کے منصوبے کی وجہ سے پاکستان میں بیس لاکھ یعنی دو ملین نئے جاب نکلیں گے۔ ای سی او کے ممبر ممالک بڑی آسانی سے سی پیک کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گوادر اور خنجراب کے راستے درآمد اور برآمد کر سکتے ہیں۔ ایران کی اقتصادی پابندیاں اٹھنے سے ای سی او تعاون بڑھے گا۔ تمام ممبر ممالک کو کوشش کرنی چاہئے کہ افغانستان میں امن جلد آئے۔ افغانستان میں امن اور استحکام پورے خطے میں خوشحالی لائے گا۔ دوسری طرف روس نے یوریشین اکنامک یونین اور سی پیک کولنک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ آج کے زمانے میں اقتصادی ترقی اور تجارت کا فروغ بہت اہم ہیں اور علاقائی تعاون ان دونوں اہداف کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ای سی او کی تنظیم نے ہمیں یہ اہداف پورے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

مضمون نگار، متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔

عظیم الشان پاکستان

 

اقوامِ عالم میں ہے اِک پہچان پاکستان
بہت مضبوط پاکستان‘ عظیم الشان پاکستان
جو اِک اشارہ ہو تو رکھ دیں جاں ہتھیلی پر
صفایا کر دیں باطل کا یہ فرزندانِ پاکستان
میری اس قوم نے پھر سے نئے پیمان باندھے ہیں
سلامت تاقیامت باصفا مردانِ پاکستان
میرے شہروں کی رونق بس انہی کے دم سے ہے قائم
میرا اِ ک اِک سپاہی واری و قربان پاکستان
شہیدوں‘ غازیوں کا قرض میں کیسے چکا پاؤں
میرے ہر گیت‘ ہر اک نظم کا عنوان پاکستان

عالیہ عاطف

*****

 
10
April

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں

دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص وقفے کے بعد باقاعدہ طور پر مردمِ شماری کی جاتی ہے۔ اس کے لئے حکومت میں ایک الگ شعبہ ہوتا ہے جس کا کام نہ صرف مردم شماری کے لئے مطلوبہ انتظامات کرنا بلکہ مردم شماری سے حاصل اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی تجزیئے کی بنیاد پر حکومت مکمل ترقی اور قوم کی فلاح و بہبود کی خاطر طویل المیعاد بنیادوں پر پالیسیاں متعین کرتی ہے۔ پاکستان میں آزادی کے فوراً بعد1950میں مردم شماری کے لئے ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا تھا۔ ابتداء میں یہ شعبہ مرکزی وزارتِ داخلہ کا حصہ تھا اور اسی کے تحت پاکستان میں1951 میں ملک کی پہلی مردم شماری کا اہتمام کیاگیا تھا۔ لیکن متحدہ ہندوستان کے وہ علاقے جو اب پاکستان کا حصہ ہیں‘ میں پہلی مردم شماری 1881 میں منعقد ہوئی تھی۔1951 میں پہلی مردم شماری کے بعددوسری مردم شماری1962 میں ہوئی۔ تیسری مردم شماری1971 میں ہونی چاہئے تھی لیکن مشرقی پاکستان کے سیاسی بحران اور بھارت کے ساتھ جنگ کی وجہ سے1972 میں مردم شماری کا انعقاد کیا گیا۔ چوتھی مردم شماری اپنے دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد یعنی 1981 میں ہوئی لیکن اس سے اگلی یعنی پانچویں مردم شماری1991 کے بجائے 1998 (سات سال کی تاخیرسے) کرائی گئی۔ اس تاخیر کی وجہ بھی ملک کے بعد غیر معمولی سیاسی حالات اور خاص طور پر افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی مداخلت اور اس مداخلت کے خلاف افغان تحریک مزاحمت کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان میں آمد تھی۔ ان مہاجرین کی غالب اکثریت کا تعلق پشتون نسل سے تھا۔ اس لئے وہ پاکستان کی پشتون آبادی میں اس طرح گھل مل گئے کہ اُنہیں مردم شماری کے دوران علٰیحدہ شمار کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا لیکن چونکہ مردم شماری کو زیادہ دیر تک مؤخر نہیں کیا جاسکتا تھا‘ اس لئے1998 میں پاکستان کی پانچویں مردم شماری کا انعقاد ہوا۔ یہ مردم شماری ملک کی متنازعہ ترین مردم شماری تھی۔ کیونکہ پاکستان کے بعض علاقوں خصوصاً بلوچستان کے بعض حصوں میں مردم شماری کے عملے کو کام کرنے سے روک دیاگیا تھا۔ اس کی بھی بڑی وجہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں آباد افغان مہاجرین کی موجودگی تھی جو پاکستان میں اپنے طویل قیام کے دوران نہ صرف جائیداد ‘ روزگار اور کاروبار کے مالک بن چکے تھے‘ بلکہ متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے اُنہوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ بھی حاصل کر لئے تھے۔ بلوچستان کی بلوچ آبادی کو خدشہ تھا کہ ان افغان مہاجرین کو پاکستان کے شہری شمار کرکے صوبے میں پشتون آبادی کو زیادہ ظاہر کرکے بلوچ آبادی کو اقلیت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ بلوچستان میں غیربلوچ پاکستانی باشندوں مثلاً پنجابی اور کراچی سے اُردو بولنے والے لوگوں کی آباد کاری کی وجہ سے صوبے کی بلوچ آبادی میں پہلے ہی بہت تشویش پائی جاتی تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کے قیام کی وجہ سے بلوچ آبادی میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی تھی۔ کیونکہ بلوچیوں کو ڈر تھا کہ اگر ان افغان مہاجرین کو پشتون آبادی کا حصہ ظاہر کیا گیا تو صوبے میںآباد دو بڑے لسانی گروپوں یعنی پشتون اور بلوچوں کے درمیان آبادی کا توازن اول الذکر گروپ کے حق میں چلا جائے گا۔

mardamshumarihamara.jpg
کسی بھی ملک میں جہاں وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی اداروں میں نمائندگی اور وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ اہمیت آبادی کو حاصل ہو‘ وہاںآبادی میں کمی بیشی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے۔ اس کے دو صوبوں یعنی سندھ اور بلوچستان دو دو لسانی گروپوں یعنی بالترتیب سندھی اور اُردو زبان بولنے والے اور پشتو اور بلوچی بولنے والے علاقوں میں منقسم ہیں۔ سندھ میں یہ تقسیم دیہی اور شہری علاقوں میں تقسیم کی صورت پائی جاتی ہے جہاں بالترتیب سندھی اور اُردو بولنے والوں کی اکثریتی آبادی قیام پذیر ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت(آرٹیکل (3)51 ملک کی قومی اسمبلی کی نشستیں‘ صوبوں‘ فاٹا اور اسلام آباد کی کیپیٹل ٹیرٹری
(Capital Territory)
کے درمیان آخری مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر الاٹ کی جاتی ہیں۔ اس لئے ہر دس برس بعد قومی اسمبلی میں نہ صرف صوبوں بلکہ فاٹا اور اسلام آباد کے لئے بھی مختص نشستوں میں رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ آبادی کو انتخابات کے ذریعے صرف قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لئے بنیاد کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ صوبوں اور وفاق کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں بھی آبادی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی محکموں میں صوبوں کے لئے مختص کوٹے میں سرکاری ملازمتوں کو بھی آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس لئے ہر صوبہ اور وفاقی یونٹ اپنی اپنی آبادی کے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور مردم شماری کے موقع پر اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ صرف قومی اسمبلی میں مختص ان کی نشستوں میں اضافہ ہوسکے بلکہ وفاقی فنڈز کی تقسیم اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹے میں اُنہیں زیادہ سے زیادہ حصہ مل سکے۔1998 میں سات سال کی تاخیر کے بعد مردم شماری کے پیچھے بھی یہی محرکات کار فرما تھے۔ ان میں افغان مہاجرین کا مسئلہ سب سے نمایاں تھا لیکن 1998 کے بعد دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد2008 کے بجائے2017 میں چھٹی مردم شماری کے انعقاد میں تاخیر کی وجوہات میں وہ حالات بھی شامل تھے جن کا9/11 کے بعد خصوصاً افغانستان پر امریکی فضائی حملوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے تعلق تھا۔ اس دوران دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں خاندان خصوصاً پاکستان کے شمال میں واقع قبائلی علاقوں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اگرچہ بے گھر ہونے والے ان افراد کی اکثریت اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکی ہے لیکن بحالی اور آباد کاری کا عمل نامکمل ہونے کی وجہ سے ان بے گھر افراد کی خاصی تعداد ابھی تک اپنے گھروں سے دور رہائش پذیر ہے اور اس وجہ سے اُنہیں موجودہ مردم شماری میں شمار کرنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ اس طرح بلوچستان میں بھی امن و امان کی خراب صورت حال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شرپسندوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے بھی بعض بلوچ علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ان حالات کی وجہ سے بعض سیاسی جماعتوں نے موجودہ مردم شماری کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری سے پہلے افغان مہاجرین کو واپس اپنے گھروں کوبھیجا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعدادو شمار متنازعہ رہیں گے۔


پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی اگرچہ ایک بڑی تعداد نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہروں‘ قصبوں یا آباد علاقوں میں پناہ لی لیکن ان میں بیشتر نے ملک کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز کراچی کا رُخ کیا تھا۔ کراچی میں پشتون نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پہلے ہی ایک خاصی بڑی تعداد موجود ہے۔ قبائلی علاقوں سے مزید پشتون افراد کی آمد پر ایم کیو ایم نے احتجاج کیا اورمطالبہ کیاکہ یا تو کراچی میں بے گھر ہونے والے اِن پشتونوں کی آمد پر پابندی عائد کی جائے یا ان کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں اضافے کی بنیاد پر شہری علاقوں کے لئے مختص فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔ صاف ظاہر تھا کہ ایم کیو ایم ایک انسانی مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی تھی لیکن ایم کیو ایم کی سیاست صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ موجودہ مردم شماری کے اعلان کے بعد جب عملے نے اپنے کام کا آغاز کیا تو ایم کیوایم نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صوبے میں شہری آبادی کے مقابلے میں دیہی آبادی کو زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ نہ صرف صوبہ سندھ کے حصے میں وصول ہونے والے فنڈز کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں کو ملے بلکہ دیہی علاقوں میں ملازمتوں کے کوٹے 60 سے40 فیصد کو برقرار رکھا جاسکے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں ہر لسانی گروپ کوشش کررہا ہے کہ اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاسکے تاکہ سیاسی قوت‘ اختیارات اور قومی آمدنی میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیا جاسکے۔ حالانکہ یہ ایک خالصتاً انتظامی عمل ہے جس میں پیشہ ورانہ مہارت کے مالک اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ لوگ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔


ان حالات میں مردم شماری کے عمل کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پاک فوج سے مدد لی گئی۔ چونکہ پاکستان آرمی کی ایک بڑی تعداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغربی سرحدوں پر تعینات تھی اور مشرقی بارڈر پر بھارت کے غیرذمہ دار اور جارحانہ رویے کی وجہ سے بھی حالات غیر معمولی صورت حال کی متقاضی ہیں اس لئے مردم شماری میں فرائض کی انجام دہی کے لئے فوجی جوانوں کو فارغ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ موجودہ مردم شماری میں تاخیر کی وجوہات میں پاک فوج کے جوانوں کی عدم دستیابی بھی شامل تھی۔ تاہم جب سپریم کورٹ نے اگلے یعنی 2018 کے انتخابات سے قبل ہر حال میں مردم شماری کا حکم دیا تو موجود حکومت کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مردم شماری کا عمل فی الفور شروع کردے۔ یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہے اور دو مراحل میں اگلے دو ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اسے تحفظ فراہم کرنے اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے پاک فوج کے دو لاکھ سپاہی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ پروگرام کے مطابق ہر شمار کنندہ کے ساتھ فوج کا ایک سپاہی ہوگا۔ اس سے نہ صرف شمار کنندگان کو تحفظ حاصل ہوگا بلکہ فوج کی شراکت سے موجودہ مردم شماری کے پورے عمل پر قوم کے ہر طبقے اور ملک کے ہر حصے کا اعتماد بحال ہوگا۔ مردم شماری کا عمل شروع ہونے کے چند دن کے اندر مردم شماری کے عملے پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ایسے مزید واقعات کا خدشہ موجود ہے اور اس کے پیش نظر مردم شماری کے عمل میں فوج کی شرکت اور معاونت کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مردم شماری کے دوران شمار کنندگان کے ہمراہ فوجی جوانوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج قومی اہمیت کے ہر عمل پر سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ ملک کی خدمت کے لئے تیار ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:15

آئی ایم نان سوئمر
جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان کے ساتھ بطورِ آرٹلری آبزرور موجود تھے۔ یہاں دن رات تیر کر دریا پار کرنے کی پریکٹس کی جاتی تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ نان سوئمر حضرات کو خصوصی طور پر تختہ مشق بنایاجاتا تھا۔ دن یونہی گزر رہے تھے کہ ایک دن اچانک پتہ چلا کہ بریگیڈ کمانڈر مشقوں کا جائزہ لینے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔

targitapril17.jpg
یہ سننا تھا کہ پریکٹس کو گویا پر لگ گئے۔ سی او نے چن چن کر اچھے سوئمر علیحدہ کئے ۔ ان سب کو پہلے ہلے میں دریا عبور کر کے دوسرے کنارے پر موجود فرضی دشمن سے دو بدو جنگ کر نا تھی۔مقررہ روز بریگیڈ کمانڈر تشریف لائے۔ انہیں نقشوں اور چارٹ کی مدد سے اس مشق کی غرض و غایت سمجھائی گئی۔ عملی مظاہرے کا وقت ہوا تو کمپنی نے ایک جگہ اکٹھا ہونا شروع کیا۔ کمپنی کمانڈر نے ایک ولولہ انگیز تقریر کرکے اپنے جوانوں کا لہو گرمایا اور ان کو بلاخوف و خطر آتشِ نمرود میں کود پڑنے کی تلقین کی۔ کمانڈر سمیت سب نے تالیاں بجا کر داد دی۔ جوانوں کا مورال آسمان کو چھو رہا تھا۔ سب لوگ بھاگ کر کنارے پر پہنچے اور دریا میں چھلانگیں لگا دیں۔ چشمِ زدن میں سب دریا کے پار تھے اور وہاں پر دشمن پر حملہ کر کے دادِ تحسین وصول کر رہے تھے۔
اچانک بریگیڈ کمانڈر کی نظر کمپنی کمانڈر پر پڑی جو کہ ابھی تک اسی کنارے پر موجود تھے۔ کمانڈر نے حیران ہو کر پوچھا’’میجر اسلم! آپ ابھی تک ادھر ہی کیوں موجود ہیں‘‘جواب آیا ’’سر ، آئی ایم نان سوئمر‘‘۔ اس کے بعد چراغوں میں تیل اور روشنی دونوں غائب ہو گئے۔ہوا یوں تھا کہ میجر صاحب ایک روز قبل ہی چھٹیاں گزار کر واپس پہنچے تھے اور پریکٹس میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ سی او نے سمجھا کہ وہ سوئمر ہیں اس لئے ان کو کمپنی کی کمانڈ سونپ دی گئی تھی۔
اس کے بعد پورا مہینہ میجر صاحب نے نیکر پہن کر دریا میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے گزارا۔


گدھوں کا کاروبار
12 اکتوبر 1999 کی شام کو ہم یونٹ کے ہمراہ جہلم کے ایکسرسائز ایریا میں مقیم تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ فوج نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھال لی ہے۔ ایکسرسائز کے اختتام کا اعلان ہوگیا اور ہمیں فی الفور ہری پور پہنچنے کا حکم ملا۔ ہری پور پہنچ کر دو تین دن معاملات پر کنٹرول حاصل کرنے میں گزر گئے۔ کچھ دنوں بعد صورتحال معمول پر آگئی اور یونٹ نے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے کر سرکاری محکموں کی کارکردگی کی براہ راست نگرانی شروع کر دی۔ سول حکومت اور پولیس کے اہلکار بھی ہمارے ساتھ اس ڈیوٹی میں شریک تھے۔مسائل کا ایک انبار تھا، جبکہ وسائل وہی نہ ہونے کے برابر۔دوسری جانب عوام کی توقعات کو ہ ہمالیہ سے بھی بلند ہو چکی تھیں ۔ ان کے نزدیک ہر معاملے کا آسان حل یہی تھا کہ اسے فوج کے روبرو پیش کر دیا جائے۔ چنانچہ ہمارے دفاتر کے باہر ہر وقت ان گنت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ ہم نے اپنے قیام کے دوران بھرپور کوشش کی کہ الجھے ہوئے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جائیں۔اس سلسلے میں ہمیں مقامی انتظامیہ، علاقہ معززین اور عوام کا بھرپور تعاون بھی حاصل رہا۔

targitapril17one.jpg
یہ روٹین یوں تو بے حد تھکا دینے والی تھی لیکن بسا اوقات اس میں سے بھی ایسے ایسے شگوفے کھلتے ہوتے کہ ہم ہنستے ہنستے چکرا کر گرجاتے۔ ایک دن ایک پچاس پچپن سالہ خاتون تشریف لائیں اور شکایت کی کہ میں جب گلی سے گزرتی ہوں تو چار افراد مجھے چھیڑتے ہیں۔ آپ انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ہم نے بی بی سے تفصیل پوچھنے کے بعد انسپکٹر بشیر کو طلب کیا اور اسے فی الفور ان چاروں افراد کو ہمارے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ بشیر اپنے ساتھ پانچ سپاہی بھی لے کر گیا اور تھوڑی دیر میں ان چاروں کو لے کر ہمارے روبرو حاضر ہوگیا۔ ہم نے غور سے دیکھا تو چاروں کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان نکلیں۔ ایک بابا تو چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھا اور اس کو چارپائی پر ڈال کر لایا گیا تھا۔ ہم نے سمجھا کہ بشیر کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر غلط بندوں کو پکڑ کر لے آیا ہے لیکن بی بی نے بھی ملزموں کو شناخت کر لیا تو شک کی گنجائش باقی نہ رہی۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ ان بابوں نے اس بی بی کو کہیں بیس تیس سال پہلے چھیڑا تھا جس کا حساب وہ آج چکانا چاہتی تھی۔ مقدمہ دلچسپ تھا اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا فیصلہ کیا جائے۔ بہرحال کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے یونٹ کے خطیب صاحب کو بلایا اور چاروں بابوں کو اس حکم کے ساتھ ان کے حوالے کیا کہ ان سے دعائے قنوت سن کر چھوڑ دیا جائے۔خود سننے کی جسارت اس لئے نہیں کی کہ ہمیں خود بھی اچھی طرح سے نہیں آتی تھی۔
ایک روز ہمیں ایک شخص کے خلاف شکایت موصول ہوئی کہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ہم نے فوراً اس علاقے کے ایس ایچ او کو طلب کیا اور مذکورہ شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ایس ایچ او کہنے لگا ’’سر اس شخص کو گرفتار کرنا خطرے سے خالی نہیں وہ انتہائی بااثر آدمی ہے‘‘۔
ہم نے غصے سے پوچھا ’’آخر یہ بااثر آدمی کیا کاروبار کرتا ہے۔‘‘ جواب ملا ’’سر وہ گدھوں کا کاروبار کرتا ہے۔‘‘


بیچلر سی او
یہ ان دنوں کی بات ہے جب لوگ سیر و تفریح اور شاپنگ کے لئے پشاور کا رخ کیا کرتے تھے۔ پی ایم اے میں جب ہماری پوسٹنگ اناؤنس کی گئی تو ساتھ ہی سٹیشن پشاور کینٹ بتایا گیا۔ یار لوگوں نے پشاور کی دلکشی کے قصے خوب مزے لے لے کر سنائے اور ہمارے شوق کو اور مہمیز کیا۔ لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ خلیل خان جب فاختہ اڑانے کے لئے پشاور پہنچے تو ہاتھوں کے طوطے فی الفور اڑ گئے۔ یہ جان کر ہمارے بن کھِلے ارمانوں پر منوں اوس پڑ گئی کہ ہمارے سی او بیچلر ہیں۔ فورسڈ بیچلر نہیں بلکہ سچ مچ کے، اصلی والے بیچلر۔ ان کے پاس پروفیشن کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا۔ ہم صبح سے لے کر شام تک یونٹ میں ان سے عزت افزائی کروانے کے بعد کمرے کا رخ کرتے تو احتیاط کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے کہ ساتھ والا کمرہ ان کا تھا۔ کھانا کھانے کے لئے میس کا رخ کرتے تو وہاں پر بھی ان کی پرہیبت شکل نظر آتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے اپنی سروس کا زیادہ تر حصہ انٹیلی جنس میں گزارا ہوا تھا اور ہر بات کی ٹوہ لگانا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ آرٹلری کا یہ کریلا جاسوسی کی نیم چڑھ کر حد درجہ کڑوا ہو چکا تھا۔

targitapril17two.jpg
عام طور پر ان کو یہ خدشہ لاحق رہا کرتا تھاکہ افسران ان کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ عنایات صرف افسروں کے لئے خاص نہ تھیں بلکہ سارا زمانہ ان کے قدموں میں تھا کیا جے سی او، کیا این سی او اور کیا سپاہی کوئی بھی ان کی مہربانیوں سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ان کی کوشش ہوتی کہ لوگوں کو ہر وقت ڈرا سہما کر رکھا جائے اور اس قسم کا نظام تشکیل دیا جائے کہ ان کو پل پل کی خبر ملتی رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کوئی بھی طریقہ روا رکھنے کے قائل تھے۔


ایک مرتبہ ہم میس کے ٹی وی روم میں بیٹھے کھانا لگنے کا انتظار کر رہے تھے۔ یکایک ایک ویٹر نے چپکے سے آکر کان میں بولا کہ آپ کو سائیڈ روم میں کیپٹن جمیل اور لیفٹیننٹ کبیر یاد کر رہے ہیں۔ یہ دونوں افسران ہم سے دو ڈھائی سال سینئر تھے اور ان کا تعلق ایک دوسری یونٹ سے تھا۔ہم پہلے تو شش و پنج میں پڑ گئے کہ ان کو ہم سے آخرکیا کام آن پڑا ہے جو ہمیں تخلیے میں طلب کیا جا رہا ہے۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے سائیڈ روم میں پہنچے تو دیکھا کہ دونوں افسران ایک صوفے پر براجمان ہیں۔ ہم نے سلام کیا تو سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد لیفٹیننٹ کبیر نے پوچھا کہ سنا ہے کہ آج کل آپ کے سی او آپ پر بہت ظلم رو ا رکھے ہوئے ہیں۔ کیپٹن جمیل بھی ساتھ میں گویا ہوئے کہ آپ لوگ تو بہت سختی جھیل رہے ہیں۔ ایسے سی او کے ساتھ کام کرنا تو انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔ ہم کچھ دیر تو سنتے رہے پھر بولے ’’سر آپ لوگ ہوتے کون ہیں میرے سی او کے خلاف کوئی بات کرنے والے۔ ان جیسا قابل اور محنتی افسر روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہے۔ ہم انہیں دل و جان سے پیار کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات سننا ہمیں ہرگزگوارا نہیں۔معاف کیجئے گا !آپ لوگ مجھ سے بہت سینئر ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سینئر آفیسر کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس طرح سے بات کرنا اخلاقی اور قانونی تقاضوں کے عین منافی ہے اور اگر میں ان کو اس بارے میں مطلع کر دوں تو آپ دونوں کے خلاف سخت ایکشن بھی لیا جا سکتا ہے۔‘‘


ان دونوں افسران کو ہم سے اس قسم کی حق گوئی و بیباکی کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو ہم سے سی او کی برائیاں سننا چاہ رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ بالکل الٹ نکلا۔ بہرحال ہم تو اپنے سی او کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد سکون سے ڈائننگ روم میں پہنچ گئے۔ کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ سی او کا بیٹ مین پیغام لے کر پہنچ گیا کہ ہمیں یاد فرمایا جا رہا ہے۔ ہم سی او کے کمرے میں پہنچے تو انہوں نے کھڑے ہو کر ہمارا استقبال کیا۔ ہمارے لئے چائے منگوائی گئی اور جاتے ہوئے پندرہ دن کی چھٹی بھی عنائت فرمائی۔ بات دراصل یہ تھی کہ جب ہمارا انٹرویو لیا جا رہا تھا تو موصوف بنفسِ نفیس پردے کے پیچھے چھپ کر ساری باتیں سن رہے تھے اور انہوں نے خود ہی ان دونوں افسروں کو اس واہیات کام کے لئے تیار کیا تھا۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ وہ ساری برائیاں جو ہم ان کی پیٹھ پیچھے کیا کرتے تھے، وہ اپنے کانوں سے سن سکیں۔ لیکن ہمارے منہ سے برائی کے بجائے اپنی اس قدر تعریف سننے کے بعد ہمارے بارے میں ان کا موقف یکسر تبدیل ہو گیا۔ اب ان کو پوری یونٹ میں ہم سے زیادہ لائق افسر کوئی اور نظر نہیں آتا تھا۔


(اب آپ سے کیا چھپائیں کہ ویٹر نے ہمیں پیغام دیتے ہوئے کان میں یہ بھی کہہ دیا تھا’’سر! سی او صاحب پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ آپ بات چیت کرتے ہوئے احتیاط کیجئے گا۔)

...جاری ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
April

تحریر: حمیرا شہباز


وہ ایک خوبصورت صبح تھی۔ شفاف‘ روشن دن30جولائی، میری اٹھارویں سالگرہ تھی۔ میں اور میرا بھائی گھر پر اپنے والدین کے منتظر تھے۔ میں بہت خوش اور پرجوش تھی۔سینیلا بول رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسکراہٹ اتر اتر کر اس کے ہونٹوں تک بکھر رہی تھی۔ اس کی ہوا میں کہیں تیر تی ہوئی نظر شاید ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کے خوابوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔ پھر یکدم اس کا چہرہ سرخ تر ہوگیا۔ یہ سرخی غیر معمولی تھی، اب گویا اس کی آنکھیں خون آلود ہو رہی تھیں اور ان کی سرخی چھلک چھلک کر گالوں تک اتر آئی تھی۔میں نے سوچا تھا آج تو ضرور میں گھر سے باہر جا سکوں گی لیکن کسی کو میری سالگرہ یاد نہیں تھی شاید اس لئے کہ 15 مئی سے بوسنیا میں اعلان جنگ جو ہوچکا تھا۔سینیلا میرے برابر بیٹھی بول رہی تھی۔
سبز چائے اور کھجور کے بسکٹوں کے ساتھ ہم دونوں نئے سال کی پہلی شام منانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں سینیلا کو سولہ سال سے جانتی ہوں یہ الگ بات ہے کہ چوبیس گھنٹے قبل میں اس سے پہلی بار ملی تھی اور آج ہم دونوں بیٹھے ایک دوسرے کو کھوج رہے تھے۔ وہ سراپا زباں تھی اور میں ہمہ تن گوش۔


سال 1992 میں، میں توزلا کے گرامر سکول کے آخری سال میں تھی۔ اس دن جب جنگ چھڑی تو ہم سکول میں تھے۔ کلاس میں طلبا کی تعداد غیر معمولی طور پر کم تھی۔ بہت سے بچوں کے والدین ،جو کہ سرب اور کروشیائی تھے جانتے تھے کہ یوگوسلاویائی فوج شہر پر قبضہ کرنا چاہے گی، وہ راتوں رات کسی کو بتائے بنا شہر چھوڑ چکے تھے‘ میرے والدین کو اندازہ نہ تھا اور انہوں نے مجھے خبردار کئے بنا سکول بھیج دیا۔ ہمارے گھر کے نیچے ایک تہ خانہ تھا۔سکول سے گھر پہنچی تو اس دن سے ہم زیر زمین چلے گئے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر دنیا کتنی بدل چکی ہے۔ میں خود کو یقین نہیں دلا پا رہی تھی میری اٹھارویں سالگرہ کا دن یوں گزرے گا۔ امی ابو اس روز بھی خالی ہاتھوں اور لبریز آنکھوں کے ساتھ لوٹے۔ پورے اڑھائی ماہ... وہ سپاٹ لہجے میں کہتے کہتے رک گئی۔ اب وہ میری نمناک آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔اس نے گہرا سانس لے کر پھر سے کہا۔ میں پورے اڑھائی ماہ اس تہ خانے میں رہی۔ میں اور میرا بھائی مختلف میوزک سن کر اور گیمزکھیل کر اپنا وقت گزارتے۔ اس نے میرا نام لے کر بڑی سادگی سے کہا: میں نے ابھی تک جنگ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔

 

میں جو اس بوسینیائی مترجم کی زبانی پاکستانی فوج کی کارکردگی کے جواب میں شکریے کے طویل کلمات، بلکہ باقاعدہ قصیدہ خوانی کی منتظر تھی اس کی اس کاوش نے مجھ پر واضح کردیا کہ پاک فوج بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ سینیلا سوچ رہی تھی اور اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا:ہم شاید پاکستانی فوج سے بہتر خدا سے کچھ اور نہیں مانگ سکتے تھے۔

سینیلا نے بہت کچھ بتایا، ان لفظوں کی شدت مجھ میں باقی رہ گئی ہے۔ کیسے اس کے ماں باپ یوگوسلاویائی فوج کی بمباری کے باوجود روز کام پر جاتے تھے اور کیسے وہ ہر روز اس امید پر سو جاتی کہ کل وہ ضرور سورج سے نظر ملا سکے گی۔اس نے بتایا کہ اگست کے آخر تک طے پا چکا تھا کہ سکول بند رہیں گے۔اس کا مطلب تھا کہ گھر بیٹھ کر اسے جنگ بندی کا انتظار کرنا تھا یا باہر نکل کر موت کا سامنا کیونکہ رہائشی علاقے شدید حملے کی زد میں تھے۔


مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔ گھر کا بچا کھچا راشن بھی ختم ہو رہا تھا۔ میں سخت مایوسی کا شکار تھی۔ پھر میرے ہاتھ ایک کتاب لگی، جس کا عنوان تھا:
'In Pursuit of Happiness'
۔ آخر کب تک گھر بیٹھے کچھ ہونے کا انتظار کیا جائے۔ پھر ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے یہ خانہ زندانی قبول نہیں۔ میں کب تک یوں اپنے ہی گھر میں قیدی بنی رہوں گی۔ مجھے اپنے لئے کام ڈھونڈنا ہو گا۔اس کتاب نے میری بہت مدد کی۔ میں نے اپنی تمام تر ہمت کو یکجا کیا اور جنگ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سینیلا کا جوش اب تک اس کے وجود میں زندہ تھا۔
میری ایک سہیلی اور میرے ایک ہم جماعت نے مجھ سے علاقے کے ایک ہسپتال میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے پوچھا۔ بہت سا طبی عملہ شہر چھوڑ کر جا چکا تھا جبکہ فوجی اور سول زخمیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ گولہ باری میں مارے جانے کے قوی امکان کے باوجود میں نے ہسپتال میں زخمیوں کی امداد کا فیصلہ کر لیا۔ وہاں چھ ماہ تک میں نے زخمیوں کی نگہداشت کا کام کیا لیکن مارچ 1993 میں یہ کام چھوڑ دیا۔ میں بہت جذباتی ہوں۔شاید اب میں مزید درد کی داستانیں اور خون کے منظر برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے تو اس کے چھ ماہ تک یہ کام کرنے پر بھی حیرت تھی۔

pakfojaurbosniya.jpg
لیکن میں اپنے ملک اپنے لوگوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں ایک مہاجر کیمپ میں چلی گئی۔یواین ایچ سی آر کی گاڑیاں سرب مہاجرین کو بھر بھر کر توزلا کیمہاجر کیمپوں میں لا رہی تھیں۔ ہمارے ملک میں مختلف ممالک کی امداد آرہی تھی لیکن امدادی عملے کی کارکردگی میں سب سے بڑا مسئلہ زبان کا تھا۔ وہ ہمارے مسائل کو دیکھ تو پا رہے تھے لیکن جان نہیں پا رہے تھے۔ میں اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ان کی معاونت کرتی رہی اور پھر میں نے وہ انگریزی زبان سیکھنا شروع کردی جس کو زمانہ طالب علمی میں میں غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کرتی آرہی تھی۔ وہ نہایت شکستہ انگریزی میں کہے چلی جارہی تھی۔


حکومت نے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے جنگ کے حالات میں اپنی تعلیم کو پھر سے جاری کرنے کا سوچا۔ میں ریاضی میں بہت ماہر تھی۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے حصول کی غرض سے میں نے ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ بہت سخت سردیوں کے دن تھے، خستہ حال عمارت اور ٹوٹی چھتوں والی کلاس میں بنا چھتری کے بارش عذاب سے کم نہیں لگتی۔ میں بنا جرابوں ،ٹوپی اور دستانوں کے ٹھٹھرتی رہتی لیکن باقاعدگی سے کلاس میں حاضر ہوتی۔میرے جوتے پھٹ چکے تھے۔۔۔ اس نے جملہ مکمل نہیں کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مجھے معلوم ہے وہ نئے جوتے کیوں نہ لے سکی یا اس کو اپنی بیچارگی کا اظہار کرنا اچھا نہیں لگا۔


لیکن ایک دن میرا انجینئر بننے کا خواب منفی پندرہ ڈگری تک سرد پڑگیا۔ میں امتحان دے رہی تھی کہ میری ہاتھوں کی رگوں میں خون یخ ہوگیا۔ میں لکھ نہیں پا رہی تھی۔ میری انگلیاں الفاظ کی بناوٹ میں قلم کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھیں۔ میں نے اپنے ہاتھ آپس میں رگڑنے چاہئے لیکن بے سود۔ موسم کی سردمہری اور جنگ کی سختی نے میرے وجود سے تمام حرارت نچوڑ لی تھی۔میں نے خود سے سوال کیا کہ آخر میں یہ کیا کر رہی ہوں؟ سردی تو گزر ہی جانی ہے لیکن جنگ ؟؟ جنگ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں! سینیلا کے لفظوں میں چھپی سفاک سردی میرے اندر بھی سرایت کر رہی تھی۔


اقوام متحدہ کی طرف سے مترجمین کی کچھ اسامیوں کا اعلان ہوا۔ میرے لئے اس وقت وہ نوکری حاصل کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ میں نے کتابوں کی مدد سے خود انگریزی زبان سیکھی اور امتحان بھی پاس کرلیا۔ وہ نظریں زمین پہ گاڑھے سوچ بھی رہی تھی اور مسکرا بھی رہی تھی کہ کیسے کیسے وہ حالات سے مقابلہ کرتی چلی گئی۔ اس نے بتایا: اس وقت میری نوکری بہت معنی رکھتی تھی۔ میں اپنے گھر میں میں اکیلی کمانے والے تھی۔ امی، ابو اور بھائی کی فعالیت جنگ سے بہت متاثر ہوئی۔ مجھے اقوام متحدہ کی ملازمت سے جو پیسے ملتے ہم اس سے اپنی ضرورت کے علاوہ محلے بھر کی ضرورتوں کو ممکنہ حد تک پورا کرتے۔


پاکستانی فوج بھی تو بوسنیا میں امن مشن پر آئی تھی؟ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا۔ " 1994میں پہلی بار میں نے اقوام متحدہ کی باقاعدہ مترجم کی حیثیت سے پاکستانی فوج کے ساتھ کام شروع کیا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ میں نے سکول میں پڑھتے ہوئے انڈیا کانام سن رکھا تھا کیونکہ یوگوسلاویہ کے لیڈر مارشل ٹیٹو کے نہرو کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، لیکن میں پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔میں چاہتی تو ڈچ یا سویڈش فوج کا انتخاب کر سکتی تھی لیکن میں نے پاکستانی فوج کو چنا کیونکہ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ پاکستانی مسلمان ہوتے ہیں۔ بوسنیا کے مسلمانوں کی بقا کا مسئلہ تھا اس لئے مسلمان فوج کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ مجھے مناسب لگا"۔اس فیصلے کا اطمینان اس کے لہجے سے جھلک رہا تھا۔
پاک فوج کی امن مشنز میں کارکردگی کوئی پوشیدہ امر نہیں لیکن میں خود ،سینیلا کے منہ سے سننا چاہتی تھی جو کہ خود بھی جنگ سے متاثر تھی کہ آخر اس کا پاک فوج کے لئے مترجم کے فرائض انجام دینا کیسا رہا؟


مجھ سمیت دیگر مترجم خواتین کے لئے پاکستانی فوج کے ساتھ کام کرنا آسان نہ تھا۔ بہت سے کلچرل شاک سہنے پڑے۔ ہمارے لئے بہت عجیب تھا کہ پاکستانی مرد لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملاتے، ان کی طرف دیکھتے نہیں، بلکہ ان کو باقاعدہ نظر انداز کرتے ہیں اوروہ مردوں کے مقابلے میں خواتین سے مختلف رویہ رکھتے ہیں۔ مثلا ہیڈکوارٹرز میں رات کو جس مترجم کی ڈیوٹی ہوتی وہ اکثر کامن روم یا ٹی وی روم میں فوجیوں کے ساتھ بیٹھتی تھی۔ گپ شپ لگانا، کوئی گیم کھیلنا یا ٹی وی دیکھنا معمول تھا۔ لیکن جب ہم خواتین ٹی وی روم میں داخل ہوتیں تو تمام پاکستانی فوجی اٹھ کر چلے جاتے تھے۔ شروع شروع میں یہ رویہ ہمیں مضحکہ خیر بلکہ ہتک آمیز بھی لگتا تھا۔ کئی مترجمین نے تو ہیڈکوارٹر میں اس امتیازی سلوک کی شکایت بھی کی۔ میں اس کی بات سن کر مسکرا رہی تھی۔


پھر آہستہ آہستہ ہم اس صورت حال کے عادی ہو گئے اورہم نے جان لیا کہ یہ رویہ ان کی ثقافتی اقدار کا حصہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم نے مل کر کام کرنا تھا اور ہم دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی، پاکستانی فوج نے ہماری ہر ممکن مدد کی۔ اپنے فرائض منصبی سے بڑھ کر۔ انہوں نے جنگی زخمیوں کے لئے ہسپتال بنایا اور بہت سے بوسنیا ئی لوگوں کوروزگار کے مواقع فراہم کئے۔ بعد میں ان ’ڈیزرٹ ہاکس‘(18پنجاب رجمنٹ) کی کوششوں سے پاکستان میں میری والدہ کا علاج بھی عمل میں آیا۔ اس اوپن ہارٹ سرجری کے بعد سے میری امی کے سینے میں پاکستانی دل دھڑکتا رہا۔وہ بہت ممنون تھیں۔


اور وہ پاکستانی بٹالین کی یادگار کا کیا معاملہ تھا؟ میں نے سنی سنائی بات کی تصدیق چاہی۔ہاں !بوسنیا میں پاک فوج کی بٹالین 17 پنجاب ،نے اپنے مشن کے دوران1996 میں ایک یادگار بھی بنائی تھی جو کہ بہادر فوج کی کارکردگی اور ان کے بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کی علامت تھی۔ یہ یادگار توزلا شہر کے بیچوں بیچ ایک پارک میں نصب تھی۔کچھ سال قبل میرا خیال ہے 2011 میں شاید ایک دن میر ے والد نے بوسنیا سے مجھے ہالینڈ فون کر کے بتایا کہ موجودہ ناظمین شہر نے اس یادگار کو وہاں سے ہٹا دیا ہے۔ اور اب وہاں وہ بوسنیا کی ہزاروں سال پرانی بادشاہت کی یاد میں ایک رائل تھیم پارک بنانے جا رہے ہیں جو کہ ہمارے شاہانہ ماضی کی یادگار ہو گا۔یہ امر میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا کہ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ہزاروں سال پرانی حقیقت کو زندہ کرنے کے لئے ہم چند سال پرانی حقیقت کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ سینیلا سخت نالاں دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے مجھ سے استفسار کیا:انسان اتنا زود فراموش کیسے ہو سکتا ہے؟ بلکہ احسان فراموش؟ ہم اتنی جلد اپنوں کے دیئے گئے زخموں اور غیروں کے مرہم کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ اس بادشاہت نے ہمیں کیا دیا؟ جب ہم خاک و خون میں ڈوبے تھے تو کیا یہ بادشاہت ہمارے کام آئی ؟نہیں! وہ میری طرف دیکھے بنا بات کر رہی تھی جیسے اپنی قوم کی احسان فراموشی پر مجھ سے نظر نہ ملا پا رہی ہو۔


یہ بات میرے لئے ناقابل برداشت تھی۔ میں نے پاکستانی فوج کی تین یونٹوں کے ساتھ بطور مترجم کام کیا تھا۔ میرا اس یادگار سے جذباتی لگاؤ تھا۔ میں نے فیس بک پر تحریک چلائی ، ہم خیال لوگوں کو یکجا کیا تاکہ اس یادگار کو بحال کیا جائے۔ خودچھٹی لے کر بوسنیا گئی اور آخر کار انتظامیہ کو قائل کیا جس کے نتیجے میں اس یادگار کو توزلا شہر میں ایک اور پارک میں نمایاں جگہ پرپھر سے نصب کردیا گیاجو کہ آج بھی افواج پاکستان کی بوسنیا کے مسلمانوں کی مشکل وقت میں ساتھ نبھانے کی یادگار ہے۔


میں جو اس بوسینیائی مترجم کی زبانی پاکستانی فوج کی کارکردگی کے جواب میں شکریے کے طویل کلمات، بلکہ باقاعدہ قصیدہ خوانی کی منتظر تھی اس کی اس کاوش نے مجھ پر واضح کردیا کہ پاک فوج بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ سینیلا سوچ رہی تھی اور اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا:ہم شاید پاکستانی فوج سے بہتر خدا سے کچھ اور نہیں مانگ سکتے تھے۔ اب سینیلابوسنیا کی ایک مترجم ،میرے لئے پاکستان کی ترجمان بھی ہے۔

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

تحریر: یاسرپیرزادہ

کوئی بھی فوجی یا ریاستی اہلکار اپنی جان اس لئے قربان نہیں کرتا کہ اسے جان قربان کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ بلکہ وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر دشمنوں کے خلاف لڑتا ہے کہ اگر ملک کی حفاظت کے لئے جان بھی دینی پڑی تو پروا نہیں۔ یہ جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنے کا کیا طریقہ ہے اور کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ یہی جذبہ تمام سکیورٹی اداروں کے ہر اہلکار میں موجزن رہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی برس ہو گئے ہمیں دہشت گردی کی جنگ لڑتے ہوئے مگر آج تک ہم کوئی جامع اور مربوط پروگرام نہیں بنا سکے جس کے تحت جنگ میں شہید ہونے والوں کے خاندان کی کفالت کی جا سکے (لفظ ’’کفالت‘‘ یہاں کس قدر بے معنی لگ رہا ہے)۔ فوج میں تو شہدا کے لئے ایسے کوئی پروگرام موجودہیں مگر پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار اگر دہشت گردوں سے نبردآزماہوتے ہوئے جام شہادت نوش کر جائیں تو ان کے خاندان کو فقط چند لاکھ روپے معاوضہ ملتا ہے۔ اس معاوضے کو بڑھانے کی سمری حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی ہے جس میں شہید کے خاندان کے لئے کم از کم معاوضہ پندرہ لاکھ روپے تجویز کیا گیا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیے کہ اس سے پہلے کیا معاوضہ ہو گا۔ کیا ہم معاوضے سے بہتر کوئی لفظ تلاش کر سکتے ہیں۔ کیا جنگیں اس قسم کے ’’معاوضوں‘‘ سے جیتی جاتی ہیں۔


جنگ صرف ٹی وی پر جنگی ترانے چلانے کا نام نہیں۔ یقیناًان جنگی ترانوں کی اپنی افادیت ہوتی ہے اور شہداء کی یاد میں چلنے والے ترانے اور پروگرام جنگ میں فوجیوں کا لہو گرمائے رکھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ سیاسی قیادت اورفوجی کمانڈروں کا محاذ جنگ پر جا کر جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں یقین دلانا کہ یہ قوم ان کی قربانیوں کی دل و جان سے قدر کرتی ہے، از حد ضروری ہے۔ تاہم یہ کافی نہیں۔ ایک لمحے کو فوج، پولیس، لیویز، ایف سی یا خاصہ دار فورس کے اس جوان کے بارے میں سوچئے جس نے اپنی جان صرف اس لئے قربان کر دی تاکہ آپ اور میں اس ملک میں محفوظ رہ سکیں لیکن اگر وہ محاذ جنگ یا اپنی فراض کی ادائیگی کے دوران یہ سوچنے لگے کہ اس کے بعد اس کے بیوی بچوں کا کیا بنے گا، کیا اس کی بیٹیاں دوسروں کی محتاج ہو جائیں گی، کیا گھر بار چلانے کے لئے اس کی پردہ دار بیوی کو دربدر ہونا پڑے گا، کیااس کے بچوں کی تعلیم مکمل ہو جائے گی، کیا اس کے والدین کا علاج جاری رہ سکے گا۔۔۔ تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس کا مورال کیسا ہو گا۔۔۔ دہشت گردی کی یہ خونی جنگ ہزاروں بچوں کویتیم کر چکی ہے، عورتوں سے ان کے سر کا تاج چھین چکی ہے، بہنوں سے ان کے ہیرے جیسے بھائی لے چکی ہے اور ماؤں سے ان کے جگر کے ٹکڑے لے کر کھا چکی ہے۔ بے شک یہ قیمتی جانیں واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ کوئی ایسا جادو نہیں جو پھول سے معصوم بچوں کے ذہنوں سے باپ کی یاد بھلا کر ان کا دل بہلاسکے مگر ایک ایساکام ہم ضرور کر سکتے ہیں جو بطور قوم نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ اس سے ہمارے جوانوں کے حوصلے بھی بلند رہیں گے اور یہ جنگ بھی جیتی جا سکے گی اور وہ کام ہے شہدا کے لئے جنت کی تعمیر۔ ایک جنت تو وہ ہے جس کا ہمارے رب نے شہیدوں سے وعدہ کیا ہے اور ایک جنت وہ ہو جو ہم ان شہدا کے بچوں کے لئے اسی دنیا میں تعمیر کر دیں۔


جنت کا استعارہ یہاں استعمال کیا گیا ہے۔ اصل میں اس سے مراد وہ مکمل پیکج ہے جو شہید کے خاندان کو دیا جانا چاہئے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی مثال لیتے ہیں فرض کریں کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران یہاں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی تعداد پانچ سو تھی۔ اگر ان پانچ سو شہداء پر دو کروڑ روپے فی کس بھی خرچ کیا جائے تو کل رقم دس ارب روپے بنتی ہے۔ یعنی سال کے فقط دو ارب ذرا سوچئے کہ ان روپوں سے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو حکومت ایک علاقے میں زمین مختص کر سکتی ہے۔ جہاں صرف شہداء کے خاندانوں کے گھر ہوں اسے ڈی ایچ اے کی طرز پر تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت صرف زمین دے تو دو چار مخیر کاروباری شخصیات ہی شہداء کے لئے یہ ہاؤسنگ سکیم ڈیویلپ کر سکتی ہیں۔ اس ہاؤسنگ سوسائٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور یہاں خود کارپاور پلانٹ سمیت وہ تمام سہولیات موجود ہوں جو کسی بھی مہنگی ترین سوسائٹی میں ہوتی ہیں۔ اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کروڑ روپے سے شاندار گھر تعمیر کیا جائے جو ہر شہید کی فیملی کو الاٹ کیا جائے۔ شہید کے بچوں کے لئے یہ سہولت موجود ہو کہ اگر وہ مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں بھی پڑھنا چاہیں تو اس ضمن میں کوئی مالی رکاوٹ حائل نہ ہو، پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی طرز پر ایک فنڈ ان بچوں کی تعلیم کے لئے بآسانی بنایا جا سکتا ہے۔ جو بچے نوکری کے قابل ہوں، انہیں نوکری دی جائے یا باقی ماندہ ایک کروڑ روپے کی سرمایا کاری کی سہولت فراہم کی جائے جس سے ان کا ماہانہ خرچہ بغیر ذہنی تناؤ کے پورا ہوتا رہے۔ اسی ہاؤسنگ سکیم میں ایک جدید ترین ہسپتال ہو جہاں شہدا کے لواحقین کا مکمل علاج معالجہ مفت ہو، انہیں خصوصی کارڈ جاری کئے جائیں جو انہیں مختلف مراعات کے حصول میں مدد دیں جیسے کہ ہوائی اڈے پر وی آئی پی لاؤنج کی سہولت، ریل یا جہاز کے ٹکٹ میں ترجیحی سلوک اور رعایت، سرکاری تقریبات میں شمولیت وغیرہ یہ تمام کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے شہداء کے لئے زمین پر جنت بنا دی یا اس کی شہادت کا قرض چکا دیا کیونکہ اصل جنت تو وہی ہے جو خدا نے اس کے لئے تیار کی ہے۔ اور جہاں وہ امر ہو چکا تاہم ان اقدامات سے کم از کم اس تاثر کی نفی ہو گی کہ ہماری قوم بالکل بانجھ ہو چکی ہے۔


دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی درست تعداد کا مجھے علم نہیں پورے ملک میں یہ تعداد یقیناًہزاروں میں ہو گی اور ان اقدامات کے لئے اربوں روپے درکار ہو گے لیکن ان اربوں روپوں کا حصول دو طریقوں سے ممکن ہے۔ ایک اگر حکومت اسے بھی میٹرو کی طرح ایک میگاپراجیکٹ سمجھے تو اربوں روپوں کا بجٹ منٹوں میں مختص ہو سکتا ہے۔ دوسرے اندرون و بیرون ملک لاتعداد ایسے پاکستانی ہیں جنہیں اگر اس بات کا یقین ہو کہ ان کا پیسہ شفاف انداز میں صرف شہداء کے خاندانوں پر خرچ کیا جائے گا تو وہ اس کارخیر کو ہفتوں میں نہیں تو مہینوں میں نمٹا دیں گے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت زمین الاٹ کرنے اور سالانہ بجٹ مختص کرنے کے بعد اس منصوبے سے علیحدہ ہو جائے اور اس کے انتظام وانصرام دس ایسے افراد کے سپرد کر دیا جائے جن کی نہ صرف دیانت اور اہلیت شک و شبے سے بالاتر ہو بلکہ وہ اس کام کو سرانجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کی آبادی ماشاء اﷲاٹھارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اٹھارہ کروڑ سے دس افراد تو ضرور ایسے نکل آئیں گے جو اب تک سوشل میڈیا کی لعن طعن سے محفوظ ہوں گے۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ

خودی کے سوز سے روشن ہیں اُمتوں کے چراغ

یہ ایک بات کہ آدم ہے صاحبِ مقصود

ہزار گونہ فروغ و ہزار گونہ فراغ

(اقبالؔ )

*****

 
10
April

تحریر: غزالہ یاسمین

23مارچ ہماری قومی تاریخ میں غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا پیمان باندھ کر اس کے حصول کی باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اس عہد کو تاریخ نے ’’قرارداد پاکستان‘‘ کا نام دیا اور تحریک پاکستان کا یہ نقطہ عروج کہلایا۔اسی مناسبت سے یہ دن ہر سال پاکستان کی قومی خوشیوں کا بھی نقطہ عروج ہوتا ہے۔ خاص طور پر جہاں برّی، بحری اور فضائی افواج کی مشترکہ پریڈ قومی جذبوں اور ولولوں کو جلا بخشتی ہے وہیں ہمارے اس عہد کی تجدید بھی کرتی ہے کہ ہم وطن عزیز کی آزادی، وقار اور حرمت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس سال یوم پاکستان کی تقریب اس لئے بھی یادگار تھی کہ اس میں ہماری افواج کے شانہ بشانہ ہمارے دوست ممالک، سعودی عرب اورعوامی جمہوریہ چین، کے فوجی دستوں نے بھی حصہ لیا اور قومی فضائیں قدیم ترک ملٹری بینڈ کی خوبصورت دھنوں سے مہک اٹھی تھیں۔جیوے جیوے پاکستان کی دھن بکھیر کر نہ صرف انہوں نے پاکستان سے اپنی دوستی کا اظہار کیا بلکہ ہمارے جذبوں کو بھی مہمیز لگا دی۔


اس مرتبہ یہ دن اس عہد کی تجدید کے طور پر بھی منایا گیا کہ پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کو ہر صورت میں شکست دینا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ نے اس موقع پر پاکستان کو فسادیوں سے پاک کرنے کے عہد کی تجدید کے طور پر ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ کا جو سلوگن دیا اس کی جھلکیاں مسلح افواج کی شاندار پریڈ ، شاہینوں کی بلند پرواز، ملک بھر میں قومی نغموں کی گونج اور سبز ہلالی پرچموں کی بہار میں نمایاں طور پر نظر آئیں۔ مگر سب سے زیادہ اس نعرے کا رنگ اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں کے پریڈ ایونیو میں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں نظر آیا۔ جس کا آنکھوں دیکھا حال ہم اپنے قارئین سے بیان کرتے ہیں۔

23marchparade2017one.jpg
راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں جو گزشتہ تین سال سے پریڈایونیو ہے وہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ پریڈ گراؤنڈ میں سب سے پہلے تینوں مسلح افواج کے سربراہان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وائس چیف آف ایئر سٹاف اسد لودھی جوچیف آف ائر سٹاف ایئر چیف مارشل سہیل امان کی فلائی پاسٹ کی کمانڈ کرنے کی وجہ سے سٹیج پر ان کی نمائندگی کررہے تھے اور نیول چیف ایڈمرل محمد ذکاء اﷲ سلامی کے چبوترے پر موجود تھے۔ اس کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور وزیردفاع خواجہ محمد آصف پریڈ وینیو میں پہنچے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کی آمد پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ صدر مملکت ممنون حسین جو پریڈ کے مہمان خصوصی تھے، ان کی آمد کا اعلان بگل بجا کر کیا گیا۔ وہ پریذیڈنٹ باڈی گارڈز کے جلو میں روایتی بگھی میں سوار ہو کرتقریب میں پہنچے تووزیراعظم اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔


پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر عامر حسین نواز نے صدر مملکت کو پریڈ میں شامل پنجاب رجمنٹ، فرنٹیئرفورس ، ناردرن لائٹ، انفنٹری، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، مجاہد فورس، فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا، پاکستان رینجرز پنجاب، پاکستان پولیس، ٹرائی سروسز لیڈیز آفیسرز، آرمڈ فورسز نرسنگ آفیسرز، بوائز سکاؤٹس، گرلز گائیڈز اورسپیشل سروسز گروپ کے دستوں کا معائنہ کرایا۔


پریڈ کے معائنے کے بعدپاک فضائیہ کا فلائی پاسٹ شروع ہوا جس کی قیادت ایئر چیف مارشل سہیل امان کررہے تھے۔ ایئر چیف ایف 16 طیارے میں سوار سلامی کے چبوترے پرسے گزرے تو طیارے کی گھن گرج نے ایک سماں باندھ دیا۔ ایف 16،جے ایف تھنڈر طیاروں کے شاندار پاسٹ نے حاضرین کا لہو گرما دیا۔ حاضرین نے زبردست مظاہرے پر دل کھول کر داد دی۔ کچھ دیر کے بعد ایئر چیف مارشل سہیل امان بھی سلامی کے چبوترے پر پہنچ تو پریڈ گراؤنڈ تالیوں سے گونج اٹھا۔اس کے بعد صدر پاکستان ممنون حسین نے پریڈ سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کا دفاع مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے۔ ہم تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ امن دوستی اور بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ بھارت کے غیرذمہ دارانہ طرز عمل لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ صدر پاکستان نے مزید کہا کہ پاکستان چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس جنگ میں ہماری افواج اور سکیورٹی اداروں نے کمال بہادری کے ساتھ کام کیا۔ ہمارے ان شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستان پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔ انہو نے واضح کیا کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد ردالفساد کے تحت کارروائیاں بچے کھچے دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔

صدرِ مملکت کے خطاب کے بعد مسلح افواج کے دستے باوقار انداز سے سلامی کی چبوترے کی طرف بڑھے۔ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے دستے نے بھی اپنے مخصوص انداز میں پریڈ کرتے ہوئے چبوترے پر موجود مہمانِ خصوصی کو سلامی دی۔ اس کے بعد آرمڈ کور کا دستہ جو الخالد ٹینک اور الضرار ٹینکوں پر مشتمل تھا، سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا۔ اس کے بعد بکتر بند (اے پی سیز) آرٹلری، آرمی ایئر ڈیفنس ‘ میزائل اور ٹریکنگ ریڈار سسٹم سے لیس ایف ایم90 کور آف انجینئرنگ‘ کور آف سگنلز کے دستوں نے بھی صدر ممنون حسین کو سلامی دی۔ پریڈ میں پاکستان کے جدید ترین نصر میزائل سسٹم، بغیر پائلٹ طیارے شہپر اور براق سمیت دفاعی سامانِ حرب کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔


اس پریڈ کی سب سے خاص بات سعودی عرب اور چین کے مسلح افواج کے دستوں کی پریڈ تھی۔ جنہوں نے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ چینی فوجی دستہ جب سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا تو حاضرین نے پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ترکی فوجی بینڈ نے ’’دل دل پاکستان‘‘اور ’’جیوے جیوے پاکستان ‘‘ دھن بجا کرپاکستان سے اپنی دوستی کا دم بھرا۔


آرمی اور بحریہ ایوی ایشن کے کوبرا۔ ایم ٹی17- پیونک ہیلی کاپٹروں پر مشتمل دستوں نے تین سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شاندار فضائی مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔ شیردل ٹیم، جے ایف 17تھنڈر اور ایف- 16 طیاروں کے فلائی پاسٹ نے فضا میں خوبصورت رنگ بکھیرے اور طیاروں کو آواز سے دوگنی اور کم رفتار سے دائروں میں گھومتے‘ اُلٹی پروازوں‘ ورٹیکل رول بناتے اور تھنڈر ٹرن سمیت مختلف مظاہرے کرکے حاضرین کو ورطۂ حیرت میں ڈالے رکھا۔ کمانڈوز کا 10 ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال کا مظاہرہ بھی شاندار تھا۔ تینوں مسلح افواج کے پیرا شوٹرز میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ کی قیادت میںیکے بعد دیگرے سلامی کے چبوترے کے سامنے اُترے تو صدرِ مملکت نے فرداً فرداً تمام پیرا شوٹرز سے مصافحہ کیا۔


پاکستانی ثقافت کے سب رنگ بھی پریڈ کا نمایاں حصہ تھے جنہوں نے لوگوں سے خوب داد وصول کی۔ کشمیر فلوٹ میں لوک فنکاروں نے کشمیری لباس پہن رکھا تھا۔ بلوچستان کا فلوٹ بلوچیوں کی روایتی تہذیب کی عکاسی کرتا ہوا جب سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا تو بلوچی لوک فنکار اپنے صوبے کی ثقافت کو اجاگر کررہے تھے۔ اس کے علاوہ سندھ‘ پنجاب‘ گلگت بلتستان کے فلوٹس نے بھی اپنے اپنے علاقوں کی ثقافت کو بہت خوبصورتی سے اُجاگر کیا۔
پریڈ کے اختتام پر مختلف سکولوں کے بچوں نے راحت فتح علی خان کے ساتھ قومی و ملی نغمہ ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ پیش کیا اور حاضرین کے جوش و جذبے میں اضافہ کیا اور اپنی موجودگی کا احساس دلایا کہ پاکستان کی نئی نسل بھی اپنے بڑوں کی طرح اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔یوں جوش اور جذبے کا عزم دل میں لئے وفاقی وزراء، پارلیمنٹ کے ارکان‘غیر ملکی مندوبین ‘ سفیروں اور ہائی کمشنروں کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے پریڈ میں شرکت کی۔وفاقی دارالحکومت میں اس ولولہ انگیز پریڈ کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں میں متعدد تقریبات کا انعقاد ہوا۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے خصوصی پروگرام اور ایڈیشنز کا اہتمام کیا۔ جس میں تحریک پاکستان اور جدو جہدِ پاکستان کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ہیروز کو شاندار انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

23marchparade2017two.jpg

 
10
April

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرلی ہے۔ خاص کر موجودہ بنگلہ دیشی حکومت گزشتہ تمام حکمرانوں پر بازی لے گئی ہے۔


مارچ کے پہلے ہفتے میں حکومت بنگلہ دیش نے پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پیش کی جو بلا مخالفت منظور ہوگئی۔ اس قرارداد میں25 مارچ کا دن ’’یومِ نسل کشی‘‘ کے طور پر منانے کی منظوری دی گئی۔یہ دن 25 مارچ 1971 کے دن کی یاد میں منایا جائے گا جب بقول حکومتِ بنگلہ دیش افواجِ پاکستان نے آپریشن سرچ لائٹ کے تحت بنگالیوں کا قتل عام کیا اور بلاامتیاز بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔


25مارچ کو افواجِ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی حقیقت کیا ہے۔ بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے لگایا گیا یہ الزام کہ تین لاکھ نہتے بنگالیوں کا قتل عام کیا گیا۔ کیا واقعی یہ حقیقت ہے یا فسانہ۔۔۔ ان سب سوالات کے جوابات کے لئے بہتر ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ اور غیر جذباتی تحقیق کی جائے اور پوری دیانتداری سے گزرے ہوئے حالات کا جائزہ لیا جائے۔

Genocide
یا نسل کشی کا مطلب ایک منظم سازش کے تحت کسی گروہ یا قوم کی پوری نسل کو ختم کردیناہے۔ اس گروہ کی بنیاد نسلی یا مذہبی ہو سکتی ہے۔ جن کو بے دریغ اور بلاتفریق صرف ایک خاص گروہ سے تعلق کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اُتار دیاجائے تاکہ اس گروہ کا خاتمہ ہو سکے۔ 90 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد سربیا اور کروشیا نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ بنگلہ دیش میں یہ خیال 1990 کی دہائی کے بعد زیادہ شدو مد سے اُبھرا۔


اب جبکہ تین لاکھ بنگالیوں کے نام نہاد قتل عام کی یاد میںیومِ نسل کشی منانے کا اعلان کیاگیا ہے بذاتِ خود ناقابلِ یقین ہے۔ یہ تین لاکھ کی تعداد کا حوالہ بنگلہ دیش کے سابق صدر مجیب الرحمن کے ڈیوڈفراسٹ کو دیئے گئے انٹر ویو میں استعمال کیا گیا تھا جو آج کے بنگلہ دیش میں آسمانی صحیفے کے طور پر بار ہا استعمال کیا جاتا ہے۔ روزنامہ ہندو نے بھی حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ تعداد 26,000 ہے۔ کلکتہ سے تعلق رکھنے والی شرمیلا بوس
نے اپنی کتاب
Dead Reckoning:Memories Of 1971
میں تیکنیکی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ یک طرفہ تصویر ہے۔ کیونکہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ اس طرح ہوا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں کہاں گئیں۔ انہوں نے تین لاکھ کی تعداد کو ایک جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں کسی سطح پر ثابت نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی سرکاری رپورٹ میں اس تعداد کا حوالہ یا ثبوت موجود ہے۔ خاص کر ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے کے بارے میں شدید تحفظات موجود ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا سے بھی اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹر سجاد حسین جو کہ ڈھاکہ یونیورسٹی اور راج شاہی یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر تھے انہوں نے اپنی یادداشتیں
The Wastes of Time
کے نام سے شائع کرائی ہیں۔ انہوں نے یہ واضح نشاندہی کی ہے کہ اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی میں تاریکی اور سائے کا راج تھا۔ اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ اگر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو معاملات، خاص کر بنگالی طلبہ کا جنون اور نفرت بہت واضح طور پر سمجھ آتے ہیں۔ بنگالی عوام کا قتلِ عام اور ملک میں انتشار کی اس پوری کہانی میں بھارت کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ بھارت کا پوری تحریک میں انتہائی اہم اور فعال رول تھا۔ اس بات کا اعادہ مختلف بھارتی لیڈران نے عوام اور ذرائع ابلاغ کے سامنے کیا ہے، جس میں مرار جی ڈیسائی‘ راہول گاندھی‘ بنگلہ دیش کے سابق سپیکر شوکت علی اور بھارتی ڈی جی ایف آئی میجر جنرل زیڈ اے خان شامل ہیں، کہ بھارت کا بنگلہ دیش تحریک میں مدد کرنے کا مقصد پاکستان توڑنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ شدید انتشار پھیلانا- عوامی رائے کو پاکستان مخالف کرنے کے لئے آسان ہدف نہتے عوام ہی بنے کیونکہ جب عوام کے جان و مال کو خطرہ ہوگا تب ہی نفرت کی آگ زیادہ بھڑکے گی اور مخالفت زیادہ پھیلے گی۔ اس انتشار کی ذمہ داری، جیسا کہ اس معاملے میں ہوا اگر پاکستان پر ڈال دی جائے تو ایسی نفرت اور انتشار پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔


ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔ پاکستان کو توڑنا بھارت کا اولین ہدف رہا ہے۔ کیا آج کے بنگالی اسکالر کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا اس ہدف کی تکمیل میں بھارت نے ہر ممکن حربے استعمال نہ کئے ہوں گے چاہے اس کے لئے کتنے ہی بنگالیوں کو قتل کرنا پڑا ہو یا عورتوں کی بے حرمتی کرنی پڑی ہو۔


مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں مکتی باہنی کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مکتی باہنی کی فوجی تربیت اور اسلحہ کہاں سے آیا۔ یہی نہیں مکتی باہنی کی صورت میں ایک بہت بڑی تعداد میں بھارتی فوجی لڑائی میں شامل تھے۔ مکتی باہنی وہ دہشت گرد تنظیم تھی جس نے عوام کا بے دریغ قتل عام اور لوٹ مار کی۔ خاص کر دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں میں اور دور دراز علاقوں میں جہاں وہ بے یارومددگار تھے۔ کئی شہری علاقوں میں نہتے بنگالیوں کو پاک فوج نے بچایا۔ ڈھاکہ گزٹ کے اگست‘ دسمبر1971 کاReview کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 76,000 کی تعداد میں بنگالی مرد اور عورتوں کو مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے کارکنوں نے موت کے گھاٹ اتارا ( منیراحمد
‘(Bangla Desh Myth Exploded
سب سے اہم بات جس کی نشاندہی شرمیلابوس نے بھی کی ہے کہ مرنے والوں کی زیادہ تعداد بہاریوں یا غیر بنگالیوں کی تھی جو یقیناًپاکستان فوج کا نشانہ نہیں بنے تھے۔ بقول بنگلہ دیشی حکام کے پاک فوج بنگالیوں کا قتل عام کررہی تھی تو کیا اس تین لاکھ کی تعداد میں زیادہ تر بہاریوں یا غیر بنگالوں کی ہے جو کہ بلاشبہ مکتی باہنی کے تعصب کا شکار ہوئے۔


ایک اور اہم نکتہ جو بارہا اٹھایا جاتا ہے۔ وہ نہتے اور غیر تربیت یافتہ ہونے کا ہے۔ مکتی باہنی کے افراد نہ ہی نہتے اور نہ ہی غیر تربیت یافتہ تھے بلکہ وہ ببانگِ دہل اور مسلح جدو جہد کررہے تھے۔ آج بھی 1971 کی یادداشتوں میں مکتی باہنی کے رضاکاروں کی تربیت اور مسلح کرتے ہوئے تصاویر موجود ہیں۔ جس سے اس تنظیم کی ساخت اور مقاصد کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ اس بات کا اعادہ مجیب الرحمن نے اپنی 9 جنوری1972کی تقریر میں کیا تھا۔ انہوں نے مکتی باہنی کے چھاپہ ماروں سے ہتھیار پھینکنے کی اپیل کی مگر اس یقین دہانی کے ساتھ کہ دشمنوں کا صفایا کرنے کی ذمہ داری باضابطہ فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔ ایک طرف تو بنگلہ دیش ایک مغالطے میں تین لاکھ افراد کے قتل کی ذمہ داری پاک فوج پر ڈال رہی ہے لیکن ان لاتعداد غیر بنگالی‘ پاکستان سے محبت کرنے والے افراد اور ان کے خاندانوں کا جس طرح قتل عام کیا گیا ان کے خون کا حساب کون دے گا جو تعصب کی بھینٹ چڑھ گئے اور جن کی قربانیوں کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ جیسا کہ مجیب الرحمن کی 9 جنوری کی تقریر سے واضح ہے کہ ملکی سطح پر باضابطہ دہشت گردی کا اعلان اور حکم دے دیا گیا تھا۔


اس تعصب اور نفرت کی آگ صرف شہروں اور سویلین علاقوں تک محدود نہ تھی بلکہ بنگالی فوجیوں نے اپنے ساتھی غیر بنگالی فوجیوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا۔ جن کی تعداد بھی تاریخ کے صفحات سے غائب کردی گئی یا وہ بھی پاک فوج کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔


اس تمام معاملے کی ایک غیر جانبدارانہ ریسرچ کی ضرورت ہے لیکن ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے47 سالوں میں بنگلہ دیش میں یہ معاملہ قوم پرستی پر مبنی دیومالائی بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان اور اس کی حمایت میں بات کرنا ایک جرم بنا دیا گیا ہے۔ خاص کر جب حال ہی میں پاکستان سے محبت کے جرم میں سیاسی لیڈران کو تختہ دار تک پر چڑھا دیا گیا۔ جب کہ ان کا جرم بھی ثابت نہ ہو سکا تھا۔ آج بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ کی حکومت ایک جمہوری آمریت کی مثال ہے۔ وہاں حکومت مخالف بڑی سیاسی جماعتیں خاص کر بی این پی اور جماعت اسلامی جن مقدمات میں الجھی ہوئی ہیں اُن میں سے زیادہ تر کا تعلق1971 کے واقعات سے ہے ایسے وقت میں یہ جماعتیں اپنی بقا کی جدو جہد میں ہیں اور خود کو زیادہ محب وطن ثابت کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی دہشت گردی کی فضا قائم ہو‘ پاکستان پر جمع کی ہوئی قرار داد کی مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کے باوجود 350 کے ایوان میں 56 اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔


موجودہ حکومت پاکستان مخالفت پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہے پاکستان مخالف اقدامات کرکے بھارت سے زیادہ تعلقات بڑھائے جارہے ہیں۔ تاکہ نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی فوائد بھی حاصل کئے جاسکیں۔ یہ ایک الگ عنوان ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات آگے جاکر کن کن مسائل اور پیچیدگیوں کا شکار ہونے جارہے ہیں۔بلکہ فی الوقت شیخ حسینہ اپنے آئندہ ماہ اپریل میں شروع ہونے والے دورے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


بھارت اور بنگلہ دیش کا ایک مشترکہ مقصد یقیناًنہ صرف پاکستان کو دنیا بھر کے سامنے ایک
rogue
ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے بلکہ ساتھ ہی پاک فوج کو ناتجربہ کار اور غیر پیشہ ورانہ ادارہ ثابت کرنا بھی ہے۔
موجودہ بنگلہ دیشی حکومت نفرت کا ایک ایسا جال بُن رہی ہیں جس میں آہستہ آہستہ پوری قوم پھنستی جارہی ہے۔ یہ قوم پرستی جس کی بنیاد پر اُنہوں نے پاکستان سے علیحدگی کی اسی طرح کی نفرت ہی کے بل بوتے پر پروان چڑھتی ہے۔ متعصب قوم پرستی کی ایک صاف مثال جرمن قوم اور ہٹلر کی ہے۔ جو اپنے تعصب اور قوم پرستی میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ یہ قوم پرستی دوسری قوموں سے برتری اور انتقام کی صورت اختیار کرگئی کہ جرمن کو تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ حسینہ کا طرزِ حکومت اور ان کی بنگالی قوم پرستی اور نفرت اس ملک و قوم کو کہیں اس نہج پر نہ لے جائے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ بچے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے

*****

ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔

*****

 
10
April

تحریر: عقیل یوسف زئی

ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کے حالیہ دورۂ وزیرستان کے بعد ہلال کے لئے خصوصی تحریر

شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر واقع یہ ایجنسی طویل عرصے تک نہ صرف ریکارڈ درون حملوں بلکہ غیرملکی جنگجوؤں اور جہادی تنظیموں کی آماجگاہ بنی رہی۔ اسی ایجنسی کو اس حوالے سے بھی بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے کہ اس کے آخری سرے پر غلام خان نامی وہ کراسنگ پوائنٹ یا سرحد موجود ہے جس کے ذریعے افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک آسانی کے ساتھ پہنچا جا سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کا ہیڈکوارٹر میران شاں بنوں سے محض 61کلومیٹر جبکہ غلام خان 79کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ غلام خان سے کچھ فاصلے پر خوست صوبہ واقع ہے۔ میران شاہ سے کابل 277، دوشنبہ 860 جبکہ تاشقند 1414کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان کا یہ عالمی روٹ پاکستان‘ بلکہ پورے برصغیر اور وسط ایشیا کے لئے سب سے مناسب اور قریب ترین راستہ ہے۔ 2001کے بعد جب افغانستان میں ایک پیچیدہ اور علاقائی جنگ کا آغاز کیا گیاتو جنوبی اور شمالی وزیرستان پر مشتمل یہ اہم جغرافیائی پٹی اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔ پاکستانی طالبان کے علاوہ عرب‘ ازبک‘ چیچن اور تاجک جنگجو تنظیموں نے اس پورے علاقے کو یرغمال بنا کر رکھ دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے لاکھوں قبائلی باشندوں ان کے مشران‘ تعلیم یافتہ حلقوں اور تاجروں کو دوطرفہ حملوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف ڈرون حملوں کے ذریعے یہاں کے باشندوں کو بدترین عدم تحفظ اور خوف سے دو چار ہونا پڑا۔ اگر یہ کہا جائے کہ شمالی وزیرستان اپنے لوگوں کے لئے کئی برسوں تک نوگوایریا بنا رہا تو غلط نہیں ہو گا۔ ایک وقت میں یہ علاقہ فقیر آف ایپی کی جدوجہد اور مزاحمت کے باعث برطانیہ اور اس کے مخالف کیمپ کے لئے جتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا‘ نائن الیون کے بعد ویسی ہی صورتحال پھر سے بنی رہی۔ اور شمالی وزیرستان اپنوں کے علاوہ غیروں کی سازشی سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز بنا رہا۔ 10تحصیلوں پر مشتمل اس ایجنسی کے اہم مراکز یا علاقوں میں میران شاہ کے علاوہ میر علی‘ رزمک‘ شوال‘دتہ خیل اور غلام خان شامل ہیں۔ یہ ایک پرخطر پہاڑی خطہ مگر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جبکہ یہاں رہنے والے قبیلے نہ صرف صدیوں پر محیط تاریخ رکھتے ہیں بلکہ ان کو خطے کی سیاست اور معیشت کے علاوہ ثقافت کے فروغ میں ہر دور میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ 2002 کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل اصرار کرتے رہے کہ اس ایجنسی میں بھرپور آپریشن کرایا جائے تاہم اس کا آغاز 2014میں کیا گیا۔ جو کہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ اس پر عالمی اطمینان کی شرح بھی تسلی بخش رہی اور اب یہ علاقہ ریاستی رٹ میں لایا جا چکا ہے۔ جون 2014 کو شروع کئے گئے آپریشن کے نتیجے میں 10لاکھ کے لگ بھگ لوگ بنوں‘ ڈی آئی خان‘ کوہاٹ اور پشاور سمیت دیگر علاقوں میں نقل مکانی کر گئے۔ فورسز نے مرحلہ وار مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جہاں پر موجود مضبوط دہشت گرد ٹھکانے تباہ کئے گئے۔ نوگوایریاز کو ریاستی رٹ میں لایا گیا اور ان علاقوں میں مستقل طور پر فورسز تعینات کی گئیں جہاں سے طالبان لشکروں کی دو طرفہ آمدورفت اور سرگرمیاں ممکن تھیں۔ عوام نے حکومت اور فورسزکا ساتھ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ امن اور ریاستی رٹ کی خواہش میں نہ صرف یہ کہ جان و مال دے کے بے مثال قربانیاں دیں بلکہ ڈھائی سال تک مہاجرت کے مصائب بھی خندہ پیشانی سے برداشت کئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تقریباًتمام علاقے میں ریاستی رٹ بحال کی جا چکی ہے۔ لیویز نہ صرف پوری صلاحیت کے ساتھ فوج کی معاونت کر رہی ہیں بلکہ تمام سرکاری ادارے بھی تیزی کے ساتھ فعال ہونے لگے ہیں۔ آپریشن سے قبل سول اداروں کا علاقے میں وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا تھا ۔ 80فیصد علاقے پر لشکروں یا جہادی تنظیموں کا قبضہ اور غلبہ تھا بلکہ سرکاری دفاتر اور اہلکار جان بچانے کے لئے بنوں میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔ آپریشن کے بعد سرکاری اداروں کی بحالی پر توجہ دی گئی اور ویران دفاتر پھر سے بحال ہونے لگے۔ اگرچہ اب بھی حکومت کوسہولیات کی فراہمی اور اداروں کی بھرپور معاونت میں کئی مشکلات اور دشواریوں کے علاوہ فنڈز اور وسائل کی کمی جیسے حالات کا سامنا ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ ریاستی ادارے کی واپسی کے علاوہ زندگی کی رونقیں تیزی کے ساتھ بحال ہوتی نظر آ رہی ہیں اور تعمیر نو کا کام بھی جاری ہے۔ سرکاری سرپرستی میں‘ فوجی حکام کی معاونت کے ساتھ‘ بحالی اور تعمیر کا کام سست ہی سہی مگر کافی حد تک اطمینان بخش قرار دیا جا رہا ہے۔

puramanaurbehter.jpg
23مارچ کی تقریبات کے سلسلے میں میران شاہ کے یونس خان سپورٹس کمپلیکس میں ایک شاندار پریڈ کے علاوہ کھیلوں اور ثقافتی پروگرامز کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ فوجی حکام‘ اہلکاروں کے علاوہ تقریباً 20ہزار مقامی لوگ‘ طلباء اور نوجوان شریک ہوئے۔ اس تقریب میں دوسروں کے علاوہ جنرل آفیسرز کمانڈنگ میجر جنرل اظہر حیات اور پولیٹیکل ایجنٹ کامران آفریدی بطور خاص شریک ہوئے۔ جنرل اظہر حیات نے اس موقع پر کہا کہ وہ امن کے قیام میں فورسز کے کردار کے علاوہ عوام کی معاونت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںٖ جن کے عزم اور کوششوں سے نہ صرف علاقے سے دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہوابلکہ متاثرین کی واپسی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے جرگوں، جنازوں اور سرکاری تنصیبات کے علاوہ تعلیمی مراکز اور ہسپتالوں کو بھی نہیں بخشا۔ تاہم اب ان کو پھر سے یہاں گھسنے نہیں دیا جائے گا اور اس خطے کو امن اور ترقی سے ہمکنار کرکے مثالی اور پرامن علاقہ بنایا جائے گا۔ بعد ازاں صحافیوں سے تفصیلی بات چیت میں پی اے کامران آفریدی نے ان فیصلوں کی تفصیلات بتائیں جو کہ حکومت نے علاقے کی ترقی کے لئے شروع کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکری حکام کی معاونت اور مشاورت سے عوام کے تحفظ اور علاقے کی ترقی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ماضی کے حالات و واقعات کی تلافی کی جا سکے۔


جی او سی میجر جنرل اظہر حیات اور پی اے کامران آفریدی نے صحافیوں کے ساتھ اپنی خصوصی نشستوں کے دورران بتایا کہ افغانستان جانے والے وزیرستانی باشندوں کی واپسی کے لئے بہت جلد ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا تاکہ ان کو باعزت طریقے سے ان کے علاقوں میں واپس لا کر بسایا جائے۔ ان کے بقول تقریباً 90فیصدآئی ڈی پیز واپس آ چکے ہیں۔ اب ان کی بحالی اور علاقے کی تعمیر نو پر توجہ دی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے کو تیز کرنے کے لئے اسلام آباد اور پشاور کے اعلیٰ حکام اور اداروں کو زیادہ سے زیادہ وسائل کی فراہمی پر قائل کیا جائے تاکہ عملی اقدامات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ برسوں تک حالات کے جبر کا شکار ہونے والے لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں بلکہ ان کو یہ باورکرایا جائے کہ حکومت امن کے قیام اور سہولیات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے۔ دونوں اعلیٰ حکام نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے لوگوں کے اقتصادی مسائل حل کرنے اور غلام خان سرحد کو دوبارہ کھولنے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ اس روٹ کو پھر سے فعال بنایا جائے اور اس کے ذریعے مقامی آبادی کو کاروبار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ دونوں اعلیٰ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ جن لوگوں کے گھر، مارکیٹیں اور دکانیں متاثر ہو ئیں ان کی از سر نو تعمیر کا کام شروع ہے اور حکومت اس سلسلے میں نقصانات کے ازالے کے لئے قابل ذکر اور اطمینان بخش اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوشش کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان کے ٹی ڈی پیز کو مردم شماری کے دوران وزیرستان ہی کے شہری قرار دینے کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ایک فارمولے کے پلان کے ذریعے یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے شہری حقوق اور وسائل کا حصہ دار بننے کا راستہ ہموار کر کے انہیں ہر قسم کے وسائل اور حقوق سے مستفید کیا جائے۔ ان کے مطابق سول اور عسکری ادارے باہمی مشاورت کے ذریعے جہاں ایک طرف علاقے کے امن اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لئے یکسو ہو کر کام کر رہے ہیں وہاں تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں میں بھی مشاورت سے کام لیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ وزیرستان کے انتظامی ڈھانچے کے علاوہ یہاں کی معاشرت اور معیشت کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔


قبل ازیں مقامی عمائدین، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امن کے قیام پر مکمل اعتماد اور اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں اور کاموں کو مستقل امن کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کی شکایات اور ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے شمالی وزیرستان کے لئے جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے اور جن لوگوں کے گھروں، مارکیٹوں اور کاروبار کو نقصان پہنچا ہے اس کی فوری تلافی کی جائے ان کے مطابق وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ شدت پسند یا ان کے حامی پھر سے ادھر کا رخ کریں کیونکہ یہ لوگ انسانیت، پاکستانیت اور قبائل کے دشمن رہے ہیں اور ان کے منفی عزائم نے اس خطے کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو وہ حقوق اور وسائل دیئے جائیں جو کہ پاکستان کے دوسرے شہریوں اور علاقوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے 23مارچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے پروگرامز ہوتے رہیں گے تاکہ اس جنگ زدہ وزیرستان کے باسیوں کو خوشی اور تفریح کے مواقع ملتے رہیں اور ایسے پروگرامز کے ذریعے عوام اور ریاستی اداروں کو یکجا ہونے کا موقع بھی ملتا رہے ۔


قدرتی وسائل میں قبائل برابر کے حصہ دار
فاٹا اور وزیرستان کی تاریخ میں غالباً پہلی دفعہ یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ قدرتی وسائل یا معدنیات جن علاقوں میں دریافت ہوں گے وہاں کے مقامی باشندوں یا عوام کو نہ صرف ایک مناسب رائلٹی دی جائے گی بلکہ ترجیحی بنیادوں پر ان کو ملازمتیں بھی دی جائیں گی۔ اس سلسلے میں شمالی وزیرستان کے متعلقہ حکام نے گزشتہ دنوں تحصیل بویہ کے علاقے محمد خیل میں دریافت کے گئے قیمتی معدنیات (کاپر) کی آمدن میں سے مقامی قبائل یا لوگوں میں 18فیصد کی رائلٹی کے چیک تقسیم کئے۔ حکام کے مطابق معدنیات اور دیگر قدرتی ذخائر جس بھی علاقے میں دریافت ہوں گے‘ وہاں کے عوام کو 18فیصد کے حساب سے رائلٹی دی جائے گی اور لیزنگ کمپنیوں کو باقاعدہ اس فیصلے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک فارمولے کے تحت یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جس علاقے میں معدنیات کا کوئی مرکز دریافت ہو گا وہاں کے عوام کو ملازمتیں دی جائیں گی اور لیبر اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی ان کو دی جائیں گی تاکہ اس طریقے سے مقامی آبادی کو نہ صرف پروڈکشن میں حصہ دار بنایا جائے بلکہ ان کو روزگار اور ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔ حکام کے مطابق وزیرستان میں کرومائیٹ ، کاپر‘ کوئلے، تیل،جپسم اور متعدد دیگر قدرتی معدنیات کے لامحدود وسائل، ذخائر موجود ہیں اور ان ذخائر کی لیزنگ کا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ دیگان نامی علاقے میں بھی رائلٹی کی مد میں گزشتہ دنوں لوگوں میں چیک تقسیم کئے گئے۔


شمالی وزیرستان میں 60ہزارسکیورٹی اہلکار متعین
اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوج اور پیراملٹری فورسز کی بڑی تعداد متعین کی گئی ہے جبکہ اہم علاقوں کے پہاڑوں پر درجنوں مورچے بھی بنائے گئے ہیں تاکہ علاقے اور یہاں کے عوام کو محفوظ بنایا جائے۔ حکام کے مطابق اس وقت اس اہم ایجنسی میں تقریباً 60ہزار سکیورٹی اہلکار موجود ہیں جن میں 35000 لیویز بھی شامل ہیں۔ لیویز‘ فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ سڑکوں اور چوٹیوں پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ان کی فعالیت اور کارکردگی کو عوام کے علاوہ فوجی حکام بھی سراہتے آ رہے ہیں۔


آپریشن ضرب عضب کے باقاعدہ آغاز سے قبل شمالی وزیرستان سے غلام خان کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے افغانستان والے ہزاروں خاندانوں کی پاکستان واپسی کا دوبارہ آغاز اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران متوقع ہے اس مقصد کے لئے اعلیٰ سول اور فوجی حکام کے درمیان ایک باقاعدہ شیڈول کے لئے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ اعلیٰ فوجی اور سول حکام نے گزشتہ روز میران شاہ میں غیررسمی بات چیت کے دوران بتایا کہ افغانستان جانے والے متاثرین کی واپسی میں تاخیر اس لئے ہوئی کہ ایک تو ان کی غیرمعمولی چیکنگ لازمی تھی جس کے لئے غیرمعمولی وقت درکار تھالہٰذا واپسی دو تین مراحل میں مکمل ہوئی ان مراحل کے دوران لوگوں کے درمیان تعداد کم رہی جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں مسلسل حملوں کی وجہ سے سرحد سیل کی گئی اور متاثرین کی بحالی میں بعض انتظامی رکاوٹیں حائل رہیں تاہم توقع کی جانی چاہئے کہ متاثرین کی واپسی کا سلسلہ پھر سے شروع ہو سکے گا اور اب کی بار کوشش کی جائے گی کہ تمام لوگ واپس آ جائیں ۔متعلقہ حکام نے استفسار پر بتایا کہ آپریشن سے قبل یا اس کے دور ان شمالی وزیرستان سے تقریباً 12000 خاندان غلام خان کے راستے افغانستان کے سرحدی صوبے خوست منتقل ہو گئے تھے۔ آپریشن کی تکمیل اور ٹی ڈی پیز کی واپسی کے اعلان کے بعد دو تین مراحل کے دوران تقریباً 1800سے زائدخاندان اپنے علاقوں میں واپس آ گئے۔ تاہم 9000 کے قریب خاندان اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔ حکام کے مطابق اگر ملک میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ نہیں چل پڑتا اور حالات نارمل رہتے تو اب تک ان خاندانوں کو واپس لایا جا چکا ہوتا۔ اگر چہ غیرمعمولی صورت حال کے باعث یہ سلسلہ تاخیر کا شکار ہوا تاہم اب ان کی واپسی کے لئے ایک اور فیز کا آغاز ہونے والا ہے جس کے دوران ان کی واپسی اور بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ غلام خان کے کراسنگ پوائنٹ کو دوبارہ کھولنے کے آپشن اور امکان کا بھی اعلیٰ سطحی جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ہزاروں افراد کا روزگار اور کاروبار اس روٹ سے وابستہ ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ایک مربوط طریقہ کار کے مطابق دونوں جانب کی عام آمدورفت کے علاوہ تجارت کا سلسلہ بھی جلد بحال ہو سکے۔


بنوں اور بعض دیگر علاقوں میں آباد ٹی ڈی پیز کی مکمل واپسی کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ٹی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کا سلسلہ جاری ہے تاہم دوسری طرف مقامی عمائدین صحافیوں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے باوجود ٹی ڈی پیز کی واپسی سست روی کا شکار ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں گھر مسمار کئے جا چکے ہیں اور گھروں کی تعمیر کے لئے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس میں چند خامیاں بھی ہیں۔ ان کے مطابق اب بھی تقریباً 40فیصد ٹی ڈی پیز واپسی کے منتظر ہیں جو واپس آ گئے ہیں ان میں سے کچھ یا تو رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں یا عارضی بنیادوں پر خیمے لگا کر حکومتی امداد کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق ابھی حکومتی کارندوں کے مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاک فوج نے اپنا رول ادا کردیا ہے۔ اب باقی اداروں پر منحصر ہے کہ وہ روایتی سست روی اور بیوروکریٹک ڈیلے کی وجہ سے حاصل شدہ کامیابیوں کے ثمر حاصل کریں‘ نہ کہ اپنے عمل سے اُن کے حُسن کو گہنا دیں۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش ک رتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

’’اے مری سَر زمیں !‘‘
کس قدر پُرکشش‘ کس قدر دلنشیں‘ یہ بہاریں تری‘ یہ نظارے ترے
تُو ہے کتنی حسیں‘ اے مری سَرزمیں‘ کوہ و صحرا تلک کتنے پیارے ترے
تُوہے ماں کی طرح مُونس و مہرباں‘ تجھ سے آباد و شاداں ہمارا جہاں
تُو نسیمِ سحر از کراں تا کراں‘ تُجھ میں اُڑتے پھریں ہم غبارے ترے
تُجھ سے جب بھی کبھی دُور جانا پڑا‘ دل جدائی میں تیری تڑپتا رہا
ہم سراپا وفا‘ بندگانِ صفا‘ تُوہے دریا تو ہم ہیں کنارے ترے
تجھ کومیلی نظر سے جو دیکھے کوئی‘ تُجھ سے دَست و گریباں جو ہو مُدعی
اُس سے ہو جائے اپنی لڑائی کھلی‘ ہم ہیں شمشیر کے تیز دھارے ترے
تیری بنیاد دینِ مبیں پر پڑی‘ تو عطائے خدا‘ تو دعائے نبیﷺ
فکرِ اقبالؒ ‘ و قائدؒ کے صدقے ملی‘ تیرا اصغر پرےؔ جائے وارے ترے
خواجہ محمداصغر پرے

*****

 
10
April

تحریر: طاہرہ جالب

کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں۔ خوراک، زراعت، صنعتی ترقی اور افرادی قوت کیا ہے ؟ غرضیکہ ہر شعبے کی تنظیم و تشکیل کے لئے دیگر عوامل کے علاوہ مردم شماری پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے ملک کا مستقبل یقینی اورمحفوظ ہو جاتا ہے۔ ملک کی ترقی و تعمیر کا انحصار بھی مردم شماری پر ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک سیاسی ، سماجی ، معاشرتی اور معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ اپنے اندر بسنے والوں کی تعداد ، تعلیم، سماجی حیثیت اور معاشی کیفیت کے بارے میں بنیادی معلومات نہ رکھتا ہو۔ درست اعداد و شمار حاصل کرنے کے بعد حکومت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین پلاننگ کرتی ہے۔ مثلاً تعلیم کے شعبے میں تعلیمی پلاننگ جس سے معلوم ہو گا کہ کتنے افراد خواندہ ہیں اور کتنے ناخواندہ، کتنے مرد تعلیم یافتہ ہیں، کتنی خواتین تعلیم یافتہ ہیں اورکتنے افراد زیر تعلیم ہیں۔ جو سہولیات تعلیمی اداروں میں میسر ہیں اس کے اعداد و شمار سے الگ معلومات ملیں گی۔ مردم شماری کے ذریعے ہنر اور فنی مہارتوں کے بارے میں رحجان کا اندازہ لگا کر ملک میں ایسی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے جن کے لئے مستقبل میں افرادی قوت دستیاب ہو سکے۔ ذرائع آمد و رفت کے منصوبے بنانے کے لئے حکومت انہی اعداد و شمار کو استعمال کرتی ہے تاکہ ضرورت کے مطابق نقل و حمل کی ترقی کا پروگرام ترتیب دے کر معاشی اور معاشرتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔


اس کے علاوہ شرح افزائش کا اندازہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر زرعی پیداوار کی طلب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور غذائی قلت اور گرانی کو دور کیا جا سکتاہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی مردم شماری کے صحیح اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے جو منصوبہ بندی کی جاتی ہے مردم شماری اس کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔

 

milkaragybehna.jpgاگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے دو ہجری میں مدینہ شہر میں مردم شماری کرائی گئی۔ عہدِ رسالتؐ میں وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام قائم کیا گیا جس کے تحت صاحبِ حیثیت افراد سے خیرات و صدقہ لے کر معاشرے کے ضرورت مند افراد میں منصفانہ طور پر تقسیم کئے گئے۔ اس کے بعد 15 ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ نے باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ قبلِ مسیح رومن سلطنت نے فوجی اور سیاسی مقاصد اور جائیداد کی رجسٹریشن کے لئے پہلی مرتبہ رومن تہذیب میں باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ پھر باب الایران ، مصر ، چین اور جنوبی امریکہ میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مردم شماری کروائی گئی۔ مسلم ممالک میں شہر کوفہ میں بھی مردم شماری کے شواہد ملتے ہیں۔ جرمنی میں چودھویں صدی عیسوی میں بہت منظم طریقے سے مردم شماری کروائے جانے کا ریکارڈ ملتا ہے۔ پندرھویں صدی عیسوی میں سپین میں باقاعدہ مردم شماری کی گئی۔ کینیڈا ، امریکہ اور سویڈن اس مردم شماری کے مؤجد ہیں جو آج کل ہوتی ہے۔ مردم شماری ہر دس سال بعد لازمی قرار دی گئی ہے۔


19 سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں چھٹی مردم شماری ہو رہی ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے بعد 2008 میں یہ عمل ضروری تھا۔ مگر اب تک یہ مسئلہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گیند کی طرح اچھالا جاتا رہا ہے۔ آخر کار سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہو چکا ہے جوملک کی معیشت کو بہتر طور پر چلانے کے لئے ممد و معاون ثابت ہو گا۔ ملک بھر میں 15مارچ 2017 سے شروع ہونے والی مردم شماری 2 مراحل میں مکمل ہو گی۔ چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 63اضلاع پہلے مرحلے میں 15 مارچ سے 13اپریل تک خانہ اور مردم شماری ہو گی۔ باقی 88 اضلاع اور علاقوں میں مردم شماری دوسرے مرحلے میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


19 سال بعد ہونے والی مردم شماری پر اعتراضات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان ایک دوسرے کی نسبت زیادہ کی جنگ ہے تو بلوچستان میں افغان مہاجرین کو شمار کرنے پر بھی اعتراضات موجود ہیں۔ گویا چھٹی مردم شماری کا انعقاد پھر ایک مرتبہ چند شبہات کے ماحول میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس امر میں دو لاکھ فوجی اور ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب سول ملازمین کی شمولیت کافی حد تک شفافیت لائے گی۔ اس بار مردوں اور عورتوں کے علاوہ خواجہ سراؤں کو بھی گنا جائے گا۔ اگر اس بار مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا تو نہ صرف منصوبہ بندی کرنا آسان ہو گی بلکہ صوبوں اور اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم بھی درست اور منصفانہ ہو گی۔
موجودہ مردم شماری کا فیصلہ اوراس کی
Execution
ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے مگر اس تمام کوشش میں پاک آرمی کے رول کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ موجودہ حالات میں پاک فوج کو بہت سے محاذوں پر بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں روایتی اور غیر روایتی دونوں شامل ہیں۔ ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد کا آغاز کردیاگیا ہے جس کے اہداف یقینی طور پر ایک بھرپور عمل کے متقاضی ہیں۔ موجودہ آپریشن صر ف پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں فسادیوں کے تمام نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو لائن آف کنٹرول پر جارحانہ رویوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ یہ ہماری افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ قابلیت ہی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی’’ سرجیکل سٹرائیک‘‘ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہی رہا۔ مگر ہمیں یہ دشمن کے عزائم کی خبر ضرور دیتا ہے کہ اگر بس چلے تو دشمن کوئی بھی کارروائی کرنے سے باز نہیں رہے گا۔ ان تمام کمٹمنٹس کے ساتھ جو پاکستان دشمنوں کی پیدا کردہ ہیں۔ پاک فوج کی ایک نہایت مناسب تعداد ہمیشہ اپنی ٹریننگ میں بھی مصروف عمل رہتی ہے۔ غرضیکہ ان حالات میں دو لاکھ فوج کو سپیئر کرنا دراصل ان کی ایک اضافی ذمہ داری بن جاتا ہے جس کو اٹھانے کے لئے پاک فوج کی ہائی کمان سے لے کر ایک سپاہی تک سب نے خیر مقدم کیا ہے۔


موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی مردم شماری کے بارے میں مشترکہ پریس کانفرنس جس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں‘ ایک قومی یکجہتی اور سول ملٹری تعلقات میں مثالی ہم آہنگی کی غماز بھی تھی۔ میجر جنرل آصف غفور نے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مردم شماری کی افادیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پاک آرمی اور عوام کے درمیان ایک لازوال رشتہ ہے۔ اس مردم شماری کے دوران پاک فوج کے جوان ہر گھر کے دروازے تک آئیں گے۔ اس عمل کے دوران بے شک
Data Collection
بھی ہوگی مگر یہ پاک فوج کی طرف سے اپنی عوام کے لئے ایک جذبہ خیرسگالی کا پیغام بھی ہوگا۔ اب جب کہ مردم شماری کی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے جو کامیابی سے جاری ہے، تو ہمیں اطمینان رکھنا چاہئے کہ حکومت اور افواج کی یہ کاوش ضرورآنے والے دنوں میں پاکستان کی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter