11
January
Published in Hilal Urdu
Read 45 times
جنوری 2018
شمارہ:01 جلد :55
تحریر: یوسف عالمگیرین
وطن سے محبت کے انداز منفردہوا کرتے ہیں۔ مختلف طبقات اور عوام اپنی دھرتی کے ساتھ اپنے اپنے انداز سے جُڑے ہوئے ہوتے ہیں اور ملکی ترقی و وقار کے لئے سرگرم عمل رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ افواجِ پاکستان ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتی ہیں تو عوام اُن کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے ان کے حوصلے بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح جب عوام اور ملک کو اندرونی محاذ پر افواج....Read full article
 
تحریر: جاوید حفیظ
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ افغانستان میں مکمل امن سے وہاں سپر پاور کے عسکری وجود کا جواز ختم ہو جائے گالہٰذا اصل ہدف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تھوڑی بہت بدامنی بھی چلتی رہے مگر غیرملکی افواج کا جانی نقصان نہ ہو۔ بظاہر یہ دونوں متضاد ہدف لگتے ہیں تو پھر افغانستان میں سپر پاور لمبے عرصے تک کیوں رہنا چاہتی ہے۔ بظاہر....Read full article
 
 alt=
تحریر: ڈاکٹرشائستہ تبسّم
امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو، جہاں بیت المقدس واقع ہے، اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا اور امریکی سفارت خانہ کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کا بھی اعلان کردیا۔ اس اعلان نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اسرائیل کے سوا شائد ہی کوئی ملک ہو جس نے امریکی صدر اور انتظامیہ کے اس فیصلے کی مخالفت یا مذمت نہ کی ہو۔ یہ فیصلہ نہ ہی کوئی انجانے میں کی گئی غلطی ہے اور نہ ہی جلد بازی کا ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان
کسی ملک کی خارجہ پالیسی پر اُس ملک کے اندرونی حالات کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ بلکہ خارجہ پالیسی دراصل اس ملک کے داخلی حالات کا عکس ہوتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جغرافیائی محلِ وقوع یا بیرونی سٹریٹجک ماحول بھی ملکوں کے اندرونی سیاسی حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
کچھ سوالات بظاہر جتنے سادہ اور آسان ہوتے ہیں ان کے جواب اتنے ہی پیچیدہ اور مشکل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کا معاشی مستقبل کیا ہے ؟ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ۔ اس موضوع پر سوچتے ہوئے ہمیں یہ مشہور مقولہ بہت یاد آیا۔ کسی رجائیت پسند سے پوچھیں تو وہ اگر مگر کے لوازمات کے ساتھ تان امید پر توڑے گا، ہاں اگر کسی بیزار اور یاسیت پسند سے پوچھ بیٹھیں .....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
اب تک گئو رکھشکوں کے حملوں کے جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز ایسے نکتے سے کیاجاتا ہے جس سے ملزموں کے بچ نکلنے کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔کسی مسلمان کے قتل کو جنونی ہندوئوں کی کارستانی قرار دینے کے بجائے اسے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ....Read full article
 
تحریر: حسینہ معین
میری زندگی کے راستے میں بے شمار موڑ آتے رہے ہیں۔ اچانک ہی راستہ بدل جاتا ہے۔ منظر تبدیل ہوتا ہے۔ کبھی کچھ بہت اچھا لگتا ہے۔ کبھی دل بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے اچانک مردان سے ایک فون کال آئی۔ وائس پرنسپل مردان گرلز کیڈٹ کالج سے شمع جاوید بول رہی تھیں۔ انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو مجھے یاد آ گیا کہ ہم تین چار سال پہلے ان سے مل چکے تھے۔ جب وہ.....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
میں ساڑھے تین ہزار سال قبل مصر میں پیدا ہوا۔میں فرعون تھا۔میں ایک عظیم الشان سلطنت کا شہنشاہ تھا ، ہزاروں کنیزیں اور غلام میرے تصرف میں تھے، میرے منہ سے نکلا ہوا ہر حرف خدائی حکم سمجھا جاتا تھا۔ میرے سپہ سالار،فوج کے جوان،امور مملکت کے نگران،وزیر،مشیر،درباری،سرکاری اہلکار سب نے میری ذاتی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا تھا۔میرے ایک اشارے پر لوگوں....Read full article
 
تحریر: عزخ
ارے یہ تو شہیدوں کے نا م ہیں جن کے لہو سے آزادی کے دیپ روشن ہیں۔ شمار کرنا شروع کئے تو تعداد 4570 سے تجاوز کر گئی ،ابھی مزید جگہ خالی ہے اور سلسلہ وصل ووفاہنوز جاری۔ جس قوم میں قطار در قطار خون کا نذرانہ پیش کرنے والے موجود ہوں وہ کیوں کر ایک ہجوم رہ سکتی ہے۔ یقینا یہ اعلانِ آمدِ بہارالرجال ہے اس مقدس و محترم....Read full article
 
تحریر: انور شمیم
مملکتِ خداداد پاکستان کا قیام ہمارے آباء واجداد کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ اسی تسلسل میں استحکام وطن کے لئے ہمارے جانباز ہمیشہ اپنا آج قوم کے کل کے لئے قربان کرتے چلے آئے ہیں۔ دشمن چاہے کھل کر سامنے آئے یا دہشت گردی کے پردے میں چھپ کر وار کرے، افواج پاکستان کے جری جوانوں نے ہر محاذ پر سیسہ پلائی دیوار بن کر اس کے مذموم عزائم کو ہمیشہ ناکام بنایا ہے۔ ....Read full article
 
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر معین الدین
ایک ناتواں کمزور اور لاغر بوڑھا 52سال کی قید بامشقت دشمن کے ملک میں گزار کر واپس اپنے ہیڈکوارٹر آتا ہے، وہاں موجود فوجی افسر کو فولادی استقلال کے ساتھ سلیوٹ کرتا ہے۔ اس کی کٹی ہوئی زبان کچھ کہنے سے قاصر ہوتی ہے۔ مگر عقابی چمک دار آنکھیں کہتی ہیں کہ سپاہی مقبول حسین اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہے سر! سپاہی مقبول حسین ایک گمشدہ قوم کا سپاہی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان.....Read full article
 
تحریر: ازکیٰ کاظمی
''ماں میں نے وہاں پرخون کا انگوٹھا لگایا ہوا ہے'' میں جب بھی اسے مزیدگھر رُکنے کو کہتی وہ ہمیشہ یہی کہا کرتا، کیپٹن جنید شہیدکی والدہ کی آنکھوں میں آنسو جبکہ چہرے پر ضبط کی طمانیت تھی ۔ وہ بات کرتے کرتے باربار اپنی آنکھوں کو جھپکتیں کہ کہیں ضبط نہ ٹوٹ جائے۔ تبھی مجھے یہ محسوس ہوا کہ وطن سے محبت کا جذبہ کسی طبیب یا مفکر کے مشوروں یا مصلحتوں سے نہیں بلکہ مائوں کے شِیر.....Read full article
 
تحریر: محمد امجد چوہدری
سیالکوٹ کینٹ میں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور بحالی میں پیش پیش ایسا ادارہ جس کے طالب علموں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار اور پرچم بلند کیا

انسان ہونا سب سے بڑی نعمت ہے اور جو جسمانی و ذہنی لحاظ سے نارمل ہے اسے اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہونا چاہئے۔ ہمارے اردگرد ایسے انسان بھی بستے ہیں جو ''عام'' نہیں ہوتے.....Read full article

 
رپورٹ: میجر صبور احمد
پاک آرمی میوزیم راولپنڈی اپنی شانداروجاذبِ نظر عمارت کے ساتھ جنر ل ہیڈ کوارٹرزکے قریب واقع ہے۔ یہ ہمار ے قیمتی عسکری ورثے اورتاریخ کا عکاس ہے۔ اس کا قیام 1961میں عمل میں لایا گیا جس کا بنیادی مقصد پاک فوج کے عسکری ورثے کا تحفظ کرنا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ میوزیم کو منظم تاریخی ترتیب میں پیش کیاجائے تا کہ یہ سیاحوں کے لئے مزید....Read full article

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
صاحبو! ہم تو لگی لپٹی رکھے بنا کہے دیتے ہیں کہ دنیا کا لذیذ ترین کھانابھی لنگر کے پکوان کے سامنے پانی بھرتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کوئی مرغ مسلم سے مزیّن کھانا ہو گا۔ نہیں حضور ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ یہ تو بسا اوقات تندوری روٹی کے ساتھ تڑکے والی دال پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔ لنگر کی اس دال کا مزہ فوجی کو ایسا اسیر کر کے چھوڑتا ہے کہ پھر اسے چاہتے ہوئے بھی ........Read full article
 
تحریر: افتخارمجاز
قیام پاکستان کا مقصد محض ایک الگ تھلگ خطہ ارض کا حصول نہیں تھا بلکہ ایسی نظریاتی مملکت کو وجود میں لانا تھا جہاں کے رہنے والے نہ صرف اپنے عقائد و نظریات اور مذہب کے مطابق اپنی ترقی و خوشحالی کے خواب دیکھ سکیں بلکہ ان خوابوں کی عملی تعبیر بھی پائیں۔ یہی وہ نصب العین تھا جس کے لئے قوم نے لاکھوں جانوں اور لاتعداد عصمتوں کی قربانیاں دی تھیں مگر ہماری بدقسمتی کہ قیام پاکستان.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
اچھی اور صحت مند زندگی صرف اچھا کھانے پینے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں اچھی اور مثبت دماغی صحت، ایک صحت مند شخصیت اور ایک صحت مند طرز زندگی بھی شامل ہے جس میں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے مختلف بیماریوں سے تحفظ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں صفائی، متوازن خوراک، طرز زندگی، .....Read full article
 
تحریر: انوار ایوب راجہ
''کرامت حسین کو یونیورسٹی میں سب کیری کہتے تھے اور وہ ان چند ایک نوجوانوں میں سے تھا جو آئی ڈینٹٹی کرائسس کا شکار تھے۔ کرامت عرف کیری اچھا طالب علم تھا مگر بہت کچے ذہن کا تھا۔ وہ اپنی برطانوی شناخت، اپنی پاکستانی شناخت اور اپنے مذہبی عقائد کے درمیان ایک سینڈویچ تھا اور یہی اس کا المیہ تھا۔'' ولی بھائی خاموش ہوئے تو میں نے پوچھا ''اس کیری کا ہم سے کیا تعلق ؟....Read full article
 
تحریر: مونا خان
ترکی استنبول کے مختصر دورے میں ہم نے بہت سی چیزیں نوٹس کیں گو کہ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت ۔۔۔ لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ دیکھ ہی لیا ہم نے بھی۔ اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی غیر معمولی اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جانے کی تیاری کی تو ہم نے بھی بوریا بستر باندھ لیا کہ بھیا ہم بھی ساتھ جائیں گے کہ آخر دیکھیں تو مسلم امہ ٹرمپ پر کیسے دبائو ڈالے گی۔لیکن ٹرمپ بھی نا۔ مجال ہے....Read full article
11
January
11
January

تحریر: مونا خان

ترکی استنبول کے مختصر دورے میں ہم نے بہت سی چیزیں نوٹس کیں گو کہ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت ۔۔۔ لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ دیکھ ہی لیا ہم نے بھی۔ اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی غیر معمولی اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جانے کی تیاری کی تو ہم نے بھی بوریا بستر باندھ لیا کہ بھیا ہم بھی ساتھ جائیں گے کہ آخر دیکھیں تو مسلم امہ ٹرمپ پر کیسے دبائو ڈالے گی۔لیکن ٹرمپ بھی نا۔ مجال ہے جو اس کے کان پر جوں بھی رینگی ہو مسلم امہ کے اعلامیے کی جس میں اس پر مشترکہ لعن طعن کی گئی۔ قصہ مختصر یہ کہ اجتماعی دعا میں اثر ہوتا ہے اس لئے اجلاس میں امریکہ کے لئے مشترکہ بدعائیں کی گئیں۔ اب دیکھیں یہ بدعائیں کب رنگ لاتی ہیں ۔ یہ تو تھا احوال اس مقصد کا جس کے لئے استنبول کا ہنگامی دورہ کرنا پڑا۔
پہلے دن تو بس گھوم پھر کر استنبول کا نظارہ کیا۔ سِم لی جو کہ بغیر پاسپورٹ دکھائے ہی مِل گئی۔ سِم ڈیٹا ایکٹو ہوا تو جان میں جان آئی۔ سوچا اب گوگل میپ کی مدد سے اِدھر ادھر آوارہ گردی کر سکوں گی۔

timesquarekia.jpg
استنبول اتنا مہنگا شہر بالکل نہیں ہے۔ایک لاکھ میں چار پانچ دن کا دورہ، ہوٹل کا قیام اور شاپنگ آرام سے کر سکتے ہیں۔ شاپنگ کی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ ترکی میں استعمال ہونے والی کرنسی کو 'لیرا' کہتے ہیں۔ ایک لیرا پاکستان کے اٹھائیس روپے کے برابر ہے۔ شام کو ہم نے اپنا بیک پیک اٹھایا اور تکسیم سکوائر چلے گئے۔ میرا ہوٹل تکسیم سکوائر کے بالکل ساتھ تھا اس لئے میرے لئے ایسا ہی تھا کہ باہر نکلوں اور سامنے تکسیم سکوائر۔!!!


اب تک جتنے ملکوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے ترکی واحد جگہ ہے جہاں پاکستانی پاسپورٹ دِکھانے پر سامنے والا آپ سے محبت سے پیش آتا ہے۔ ترکی کا شہر استنبول حسین تو ہے ہی لیکن ترکی کی ہر لڑکی بیتر، حُورم اور لڑکے بہلول اور سلطان ہیں۔


حسین لوگ ہیں اور خوش اخلاق بھی۔ خاص طور پہ پاکستانیوں سے بہت پیار کرتے ہیں ۔ بس انہیں انگریزی نہیں آتی اور ہمیں ترکی زبان نہیں آتی اس لئے یہ رشتہ نہیں ہو سکتا۔ رشتہ کرنے کے لئے ترک زبان سیکھنی پڑے گی یا ان کو اردو یا انگریزی سیکھنی پڑے گی۔ دورے کے دوران بہت سے ہینڈسم ترک متوجہ ہوئے لیکن ہم نے اس لئے توجہ نہیں دی کہ اب ترک زبان کون سیکھے ۔ اس لئے متوجہ ہونے والوں کی نظروں سے بس محظوظ ہوتی رہی۔ انگریزوں اور ترک لوگوں میں بظاہر کوئی خاص فرق نہیں ۔ ویسے ہی ماڈرن لوگ۔


ونڈو شاپنگ اور گھومنے پھرنے کے لئے تکسیم سکوائر حسین جگہ ہے۔ شاپنگ بہت اچھی اور مناسب ہے۔ کپڑوں کی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ تکسیم سکوائر میں ایک مقام پر سٹیج بنا کرمیوزک سسٹم نصب کیا گیا ہے جہاں روز شام کو کنسرٹ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تکسیم سکوائر کی روشنیوں سے مزّین گلیوں میں بھی بے تحاشا رش نظر آتا ہے ۔ لندن کی طرح استنبول میں بھی فٹ پاتھ ریسٹورنٹس کا رواج ہے۔ جہاں آپ بیٹھ کر چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھتے ہوئے کافی انجوائے کر سکتے ہیں ۔ ۔


تکسیم سکوائر کی روشن گلیوں میں لمبی واک کرتے ہوئے ٹائم سکوائر کی واک یاد آگئی لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ تکسیم سکوائر صاف ستھرا جبکہ ٹائم سکوائر پر واک کرتے ہوئے آپ کو اپنی ناک کو ڈھانپنا پڑتا ہے تاکہ بدبو کے بھبھکوں سے بچ سکیں لیکن رش کا عالم دونوں جگہوں پر ایک جیسا ہے۔


ترکی کھانے بھی بہت اچھے اور منفرد ہیں۔ ترکی کے سیخ کباب بہت مشہور ہیں ۔ شوارما چکن بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔ ترکی کے کھانوں میں سفید اُبلے ہوئے چاول وافر مقدار میں نظر آتے ہیں جو کہ چکن یا پھر سیخ کبابوں کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ اگر آپ کو بارگیننگ کی عادت ہے تو ترکی میں بارگین کر کے قیمت کم کروائی جا سکتی ہے خاص طور پہ یہ کہہ کر کہ میں پاکستان سے ہوں اوراتنی دُور صرف اس خوبصورت جگہ کو دیکھنے آیا ہوں۔ تو بس اس کے بعد سامنے والے کا مہمانانہ رویہ شروع ہو جائے گا۔ وقت کم تھا اور استنبول کے ساحل پہ تصویر بنوانا بھی بہت ضروری تھا۔ آخر فیس بک کو کیا منہ دکھاتی کہ کوئی ڈھنگ کی تصویر بھی نہ بنا پائی۔ بس پھر جو بھلا آدمی ہمیں ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا۔ اس کی منتیں ترلے کئے کہ دیکھو بھائی! ساحل تک لے چلو وہاں فوٹو بنوائے بِنا ہم نہیں جائیں گے واپس۔ بیچارہ ہماری بسورتی شکل دیکھ کر ساحل پہ رکنے کے لئے تیار ہو گیا۔ ادھر اتر کر ابھی دو قدم ہی چلی تھی کہ ایک بوڑھی گوری اپنے دو عدد پالتو کتوں کے ساتھ نظر آئی اور وہ کتے تو ہمیں دیکھ کر ایسے لپکے جیسے ہمارا ہی انتظار کر رہے تھے۔ میں تو گاڑی کے پاس ہی رک گئی۔ عجیب کشمکش کا عالم تھا تصویر بھی ضروری تھی لیکن چودہ ٹیکے لگوانے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ اتنے میں ایک سکیورٹی والا آیا اور ہمیں آگے جانے کو کہا اور خود ہمارے اور ان کتوں کے بیچ دیوار بن گیا۔ لیکن ہم پھر بھی گاڑی سے زیادہ دور نہیں گئے۔ اتنی دور کہ پیچھے سمندر کا پانی نظر آ جائے اور حملہ ہونے کی صورت میں جھٹ گاڑی تک بھی پہنچا جا سکے۔ یہ مرحلہ مکمل ہوا تو کچھ سکون آیا۔


ترکی میں بلیو مسجد بہت مشہور ہے اور وہاں دور دور سے لوگ جمعہ پڑھنے آتے ہیں۔ ترکی کی سب سے اچھی بات مجھے یہ لگی کہ ہم پاکستانیوں کی طرح ہر بات کو مذہب کی عینک سے نہیں دیکھتے اورنہ ہی وہاں ملا ازم کو فروغ حاصل ہے۔ ہر ایک کا اللہ سے اپنا رابطہ۔کوئی کسی کے دین پر انگلی نہیں اٹھاتا۔ اس لئے وہ ہم سے کہیں آگے ہیں اور بحیثیت قوم یہ بات بہت اہم ہے۔ ہم تو ذات پات، فرقوں میں بٹے ہیں جبکہ ترک عوام صرف ایک قوم ہیں۔ اللہ ہمیں بھی ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

مونا خان ایک نجی نیوز چینل سے منسلک ہیں۔ فارن افیئرز اور ڈیفنس کارسپونڈنٹ ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
January

تحریر: انوار ایوب راجہ

''کرامت حسین کو یونیورسٹی میں سب کیری کہتے تھے اور وہ ان چند ایک نوجوانوں میں سے تھا جو آئی ڈینٹٹی کرائسس کا شکار تھے۔ کرامت عرف کیری اچھا طالب علم تھا مگر بہت کچے ذہن کا تھا۔ وہ اپنی برطانوی شناخت، اپنی پاکستانی شناخت اور اپنے مذہبی عقائد کے درمیان ایک سینڈویچ تھا اور یہی اس کا المیہ تھا۔'' ولی بھائی خاموش ہوئے تو میں نے پوچھا ''اس کیری کا ہم سے کیا تعلق ؟ ہم تو آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا دنیا میں ہونے والی جنگیں ہماری ہیں ؟''


'' میں تمھارے سوال کی طرف آ رہا ہوں۔'' ولی بھائی نے بات جاری رکھی ''کرامت کی کہانی سن لو تمہیں اپنا محاذ چننے میں آسانی ہو گی۔'' میں نے معذرت کی اور میں موسیٰ ، شین اور شیری کے ساتھ خاموشی سے بیٹھ گیا اور کرامت کی کہانی سننے لگا۔


ولی بھائی بولے ''ایک روز کرامت یونیورسٹی میں کچھ نوجوانوں کو ملا جو تبلیغ کر رہے تھے۔ انہوں نے جعلی فقیری کا جال بچھایا ہوا تھا اور جو کوئی بھی ان کے جال میں پھنستا وہ اسے اپنے پیر صاحب کا پتہ دیتے۔ یہاں کوئی تصوف والی بات نہیں تھی، بس مرد بھرتی ہو رہے تھے۔ کرامت بھی بھرتی ہو گیا۔ اس نے پیر صاحب کا پتہ لیا اور ایک شام ان کے آستانے پر حاضر ہوا۔برطانیہ میں اس قدر شاندار پیر خانہ دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا اور ایک دو ملاقاتوں میں وہ بھرتی ہونے کے ساتھ ساتھ پیر کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے لگ گیا۔ آغاز میں کرامت کا کام پیر کے جلسوں میں مہمانوں کی دیکھ بھال کرنا تھا، پھر آہستہ آہستہ جب کرامت قابل یقین مریدوں کی فہرست میں آیا تو اس کی، بقول خلیفہ جیمز کے، تربیت کی گئی۔ پیر کے خلیفے ماڈرن تھے اور ان کے نام ہیری، جیمز، جمی اور ٹیری تھے کیونکہ جب وہ پیر کے مرید بنے تو ان کی اپنی پہچان ہارون سے ہیری، جمشید سے جیمز ، جمال سے جمی اور طارق سے ٹیری ہو چکی تھی اور پیر اس پر خوش تھا کیونکہ یہ اس کی مارکیٹنگ کے لیے بہت سود مند نام تھے۔''
''ہارون سے ہیری ، جمشید سے جیمز، جمال سے جمی اور طارق سے ٹیری؟ کتنی عجیب بات لگتی ہے۔ یہ پیر صاحب کوئی مافیا تھے ؟ موسیٰ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔


''مافیا نہیں آشرم ، ایک آماجگاہ جہاں سے پریشان حال لوگ خیر خریدنے آتے تھے، جہاں تھوڑی سے کوشش سے بہت سے دکھی لوگوں کے راز کریدے جاتے اور بدلے میں انہیں مزید غم اور تکالیف کے تعویذ پلائے جاتے۔ خیر اس میں لوگوں کا بھی قصور ہے، جب آپ کا ایمان کمزور ہو، توکّل ا ﷲ کی ذات کے بجائے گدیوں سے جڑ جائے تو نتیجہ ہمیشہ خوف ناک ہوتا ہے، جیسے کرامت کا ہوا۔'' ولی بھائی نے وضاحت کی۔
''کیا یہ پیر کوئی اَن پڑھ شخص تھا یا اس کے پاس کوئی جن تھا، یا یہ کالا جادو کرتا تھا ؟'' شین نے پوچھا۔


''نہیں وہ ایک اکائونٹنٹ تھا بلکہ ڈاکٹر، آپ اسے ایک بیرسٹر بھی کہہ سکتے ہیں، کبھی کبھی تو لگتا تھا یہ کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہے، ایک مکمل پیکیج، ایک بہروپیا بھی ہم کہہ سکتے ہیں، مگر مکمل بہروپیا اور اس کے بہروپ میں یہ سب لوگ چھپے تھے۔ آپ اس سے جس موضوع پر بات کریں اس کے پاس جواب ہوتا تھا۔'' ولی بھائی نے شین کے سوال کا جواب دیا اور بات جاری رکھی۔ ''مگر یہ کمال اس کا نہیں تھا، یہ کمال تھا خلیفوں کا جو ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے اور اکثر رات کو سنوکر کھیلتے ہوئے پیر صاحب کو حالات حاضرہ سناتے۔ پیر صاحب کے دو گھر تھے، ایک گھر جہاں صرف مرید اور عوام پیر صاحب سے ملنے آتے اور ایک گھر پیر صاحب کے آرام کے لئے تھا۔ پیر صاحب کی کوئی تین یا چار بیگمات تھیں اور سب کے لئے الگ الگ دن تھے۔ ان سب کے اپنے اپنے گھر تھے اور اپنی اپنی باری پر، یہ خواتین جنھیں مائی صاحبہ کہا جاتا، تشریف لاتیں اور پیر صاحب کے ساتھ وقت گزارتیں مگر رات کو پیر صاحب اپنے خلیفوں کے ساتھ سنوکرضرور کھیلتے اور یہیں انہیں حالات حاضرہ سے آگاہی حاصل ہوتی۔ پیر صاحب کا کمال یہ تھا کہ ان کی یادداشت بہت اچھی تھی اور یہی ان کی طاقت تھی۔ پیر صاحب نماز روزہ بھی حساب کا کرتے بس کہتے کہ انسان کو اپنے من میں رب ڈھونڈنا چاہئے اور بہت سے نوجوان اپنے من کی تلاش میں قرآن سے رجوع کرنے کے بجائے پیر کے در سے انوارات کی تلاش کرنے لگے۔ خیر کرامت آہستہ آہستہ پیر کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ پیر ان سب کو اپنی آنکھوں کا تارا بناتا جن کی سلیٹ خالی ہوتی کیونکہ خالی سلیٹوں پہ عبارتیں مرضی کی لکھی جاسکتی ہیں، مگر جب سلیٹ پر کچھ سیدھی ترچھی لکیریں ہوں اور بہت بار کچھ نہ کچھ لکھا گیا ہو تو اپنی مرضی کی عبارت لکھنے کے لئے جگہ ڈھونڈنی پڑتی ہے اور اگر جگہ نہ ملے تو مایوسی کے ساتھ ساتھ لکھنے والی کی صلاحیتوں کو پرکھنے والے سامنے آ جاتے ہیں اور یہ وہ خوف تھا جس سے پیر ہر بار دوچار رہتا اس لئے خاص مریدو ں میں صرف وہی شامل تھے جن کی سلیٹوں پر پیر نے خود عبارت لکھی تھی، وہ پیر کے روبو ٹ تھے، جہاں چاہا بھجوا دیا، جسے چاہا سڑک پہ رسوا کروا دیا اور جب دل کیا ان روبو ٹوں کی بیٹریاں نکالیں اور انہیں مستقبل کے لئے سنبھال کر رکھ لیا۔ جیسے ماڈلز اور سیاستدانوں میں مقابلہ ہوتا ہے جیسے دو پہلوان آپس میں لڑتے ہیں ویسے ہی پیری مریدی کی دنیا کا کاروبار چلتا ہے، پیر پیر کا ویری ہوتا ہے اور جب دلیل سے یہ لوگ بات سمجھا نہیں پاتے تو ان کے روبوٹ کام آتے ہیں۔''
''ویری انٹرسٹنگ ولی بھائی، پھر کیا ہوا ؟ شیری نے پوچھا۔''


''کچھ نہیں ہوا بس ایک روبو ٹ تیار ہو گیا، جس کی سلیٹ پر جو عبارت لکھی تھی اس نے اس کے ذہن اور سوچوں پر قبضہ کر لیا اور کرامت اٹھارہ انیس سال کی عمر میں پیر کا جانثار مرید ہو گیا۔'' ولی بھائی نے کیٹل کا بٹن دبایا اور ہاتھ کے اشارے سے سب کو اپنا اپنا کپ لانے کو کہا اور خود چائے بناتے ہوئے بولے ''ایک روز کرامت کسی سڑک پر اپنے پیر کے لئے مرید بھرتی کر رہا تھا، اس روز کرامت کا چاچا سلیم جو ایک دوکان میں ڈلیوری کا کام کرتا تھا کچھ دیر آرام کے لئے اپنے ٹرک میں آ کر لیٹ گیا۔ اسے کسی مانوس سی آواز نے جگایا، اس نے ایک مدت بعد کرامت کو دیکھا تو اس کی آنکھیں جیسے پھٹ کر باہر آ گئیں۔ اس نے دیکھا کہ ہمیشہ خوش لباس رہنے والا کیری عجیب حُلیے میں تھا۔ اس نے بال بڑھا لئے تھے اور اس کا حلیہ ایسا تھا کہ اس سے خوف آتا تھا۔ سلیم ٹرک سے نکلا، اس نے کرامت کو بازو سے پکڑا اور سیدھا اپنے بھائی یعنی نیک محمد کے گھر پہنچا اور اس نے کرامت سے سختی سے پوچھا کہ وہ کن کاموںمیں پڑ گیا ہے۔ کرامت نے اپنے چا چا کو غصے سے دیکھا اور بولا 'چا چا مجھے نہ سمجھا! کیا اچھا ہے اور کیا نہیں، میں بالغ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ میرا انتخاب اچھا ہی ہو گا، یہ دنیا دھوکا ہے اور میں نے، تو نے اور میرے باپ نے بس اپنا وقت برباد کیا ہے۔ چلو میں تمہیں دکھاتا ہوں اصل دنیا کیا ہے چلو میرے پیر کے گھر میں تم سب کو جنت دلوانے کی گارنٹی دیتا ہوں، نیک محمد صوفے پر لیٹا ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا،لگتا تھا وہ پہلے ہی کشتیاں جلا چکا تھا۔


''دیکھ کرامتے پتہ نہیں تجھے کون سا بخار ہوا ہے جو تو ایسی جھلی باتیں کر رہا ہے۔ بیوقوفا! یہ لمبی لمبی کاروں والے پیر نہیں ڈھونگی ہیں۔ یہ اللہ کے چور ہیں، یہ ایمان بھی لوٹتے ہیں اور مال بھی، کون سا ولی ورلڈ ٹور کرتا ہے، اللہ کے کس فقیر نے کبھی دنیا کی خواہش کی ہے، کیا یہ سب کچھ سیرت کے منافی نہیں جو یہ ڈھونگی لوگ کرتے ہیں، یاد رکھ بیٹا عامل اور فقیر میں فرق ہے۔'' سلیم نے کرامت کو سمجھا نے کی کوشش کی۔


کرامت بھڑک اٹھا اور بولا، ''چچا میں اندھا نہیں ہوں مجھے لگتا ہے تمھاری روحانی تربیت نہیں ہو پائی اس لئے تم ایسے کہہ رہے ہو، ور نہ کیا تمہیں سب کچھ نظر نہیں آ رہا۔ مرشد کی کرامتیں کیا کسی سے پوشیدہ ہیں؟ وہ میرا دوست ظفر حاجی صاحب کا بیٹا، وہ سید ہیں۔ ظفر ایک نیک لڑکا ہے، کہتا تھا ہمیں کسی کے در سے کیا ملے گا ہم تو خود سید ہیں اور پھر جب اس پر پولیس کیس بنا تویہ میرے مرشد کا کمال ہے کہ تحقیقات کرنے والے ہی اندھے ہو گئے۔ کسی پولیس، تھانے، کورٹ کو اس کے خلاف کچھ نہ ملا بلکہ خلیفہ ٹیری نے پیر صاحب کے کہنے پر شہر کا سب سے بڑا وکیل بھی کیا اور آج ظفر کی سب مرادیں اسی آستانے سے پوری ہوتی ہیں۔ پچھلے ماہ ماسی بلقیس کی بیٹی کی شادی بھی مرشد کی نظر کرم کی بدولت ہوئی۔ حمید کی بیوی کو ڈاکٹروں نے بانجھ قرار دیا اور پھر وہ بھی مرشد تک پہنچا تجھے پتہ ہے اس کے گھر پچھلے ہفتے ہی بیٹا ہوا ہے، یہ میرے مرشد کے تعویذ کا کمال ہے۔ کیا یہ کافی نہیں کہ شہر کے امیر ترین لوگ مرشد کے آستانے سے جڑے ہیں۔ مرشد کا ایک اشارہ ان سب کے لئے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ مرشد ورلڈ ٹور پر جاتے ہیں تو مقصد سیر و سیاحت نہیں ترویج دین ہوتا ہے۔ مرشد کا خطاب ٹی وی پہ چلتا ہے، مرشد تین چار زبانیں بولتے ہیں، کیا یہ فقیری کی سند نہیں کہ ہزاروں مریدوں کا ظاہر باطن روشن ہو گیا ہے۔ یا خدایا تیرا کتنا کرم ہے کہ مجھے میرا مرشد مل گیا۔''


سلیم نے کرامت کو انگلی کے اشارے سے خاموش کروایا اور بولا ''بکواس نہ کر کرامتے، تو میرے ہاتھوں میں پلا ہے، تیرے کان میں میں نے بانگ دی تھی، مجھے نہ سمجھا بیٹا فقیری کیا ہوتی ہے، یہ سب تیرے باپ کا قصور ہے، نیک محمد تم کچھ کیوں نہیں بولتے ؟ نیک محمد تم بھول گئے اصل فقیر، اصل ولی کون ہوتا ہے ؟اور ہاں اولاد، رزق اور اسباب کی امید صرف اﷲکے در سے ہونی چاہئے، کچھ بول نیک محمد ۔۔۔''
نیک محمد نے ہاتھ کے اشارے سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا جبکہ کرامت نے اپنے باپ کی لاچاری کو اپنے مرشد کا کمال بتایا اور بولا۔ ''ایک روز بابا بھی مرشد کے خلاف بولا تھا آج دیکھ لو کیسی چپ لگی ہے۔ چچا اب مرشد کے خلاف کچھ نہ کہنا یہ نہ ہو تیری بھی زبان بند ہو جائے۔ میرے مرشد نے پانچ سال ٹوٹی ہوئی قبر میں چلا کاٹا ہے، وہ قبرستان جاتا ہے تو مردے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ مرشد کے خلیفے کہتے ہیں کہ مرشد کا دیدار ہو جائے تو حج کا ثواب ہوتا ہے اور اگر مرشد کسی کا ہاتھ پکڑ لیں تو سمجھیں رب نے خود اس شخص پر کرم کیا ہے۔۔۔۔''


جیسے ہی کرامت نے یہ کہا سلیم نے با آواز بلند استغفار پڑھی اور کرامت کو پیٹنا شروع کر دیا، کرامت لہولہان ہو گیا مگر اپنے پیر کے حق میں بولتا رہا اور سلیم استغفار پڑھتے پڑھتے زار و قطار رونے لگ گیا اور بولا۔ ''او ظالم تو یہ کیا کہہ رہا ہے، کہاں مکہ مدینہ اور کہاں یہ تیرا ڈھونگی پیر جس کی قوت عملیات کی بدولت ہے یہ دنیا کا طالب کسی کو معرفت اور حقیقت کی روشنی سے منور کیسے کر سکتا ہے ؟ ا ﷲ تجھے ہدایت دے ورنہ موت دے دے، تو وہاں پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہے۔''


کرامت نیک محمد کے قابو میں پہلے ہی نہیں تھا اور اسے اس کے واپس لوٹنے کی امید بھی نہیں تھی۔ آج سلیم نے کرامت کی جو درگت بنائی اس کے بعد کرامت کی طرف سے کسی بھی قسم کے ردعمل کی امید کی جا سکتی تھی مگر رو بو ٹ کیا کر سکتا ہے۔ اس رات کرامت گھر سے بھاگ گیا اور اپنے پیر کے آستانے پر جا پہنچا۔ اس نے خلیفہ جیمز کو ساری داستان سنائی۔ خلیفہ کرامت کو پیر کے پاس لے گیا۔ پیر نے کرامت کو گلے لگایا اور مشورہ دیا کہ اسے اپنے چچا اور باپ کے خلاف پولیس کو شکایت کرنی چاہئے۔ کرامت نے پیر کے مشورے کو حکم کا درجہ دیا اور خلیفہ جیمز کے ساتھ پولیس اسٹیشن جا پہنچا۔ پولیس اسٹیشن پہنچنے تک کرامت کا غصہ کم ہو چکا تھا اور بار بار وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے پیر نے اسے اس کے والد اور چچا کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروانے کو کیوں کہا ؟ کرامت نے رپورٹ درج کروائی اور واپس آستانے پر آ گیا۔ دوسرے دن اسے لگا کہ اسے اپنے باپ اور چچا کے خلاف شکایت واپس لے لینی چاہئے لہٰذا وہ واپس پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور اس نے شکایت واپس لے لی۔


ولی بھائی اٹھے اور ایک بار پھر سے کیٹل میں پانی ڈالنے لگے تو موسیٰ بولا ''کہانی ختم ؟ میں ابھی بھی کنفیوز ہوں، اس ساری کہانی میں ہم سب کہاں فٹ ہوتے ہیں اور سوال عالمی جنگوں کا تھا اس میں کیری کی کہانی، اس کے گھریلو معاملات اور اس کی پیر پرستی کا کیا تعلق ہے ؟'' ولی بھائی بولے، ''تعلق ہے موسیٰ اور کس نے کہا کہانی ختم ہو گئی ہے، ابھی تو کہانی کا آغازہوا ہے۔''


ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا جب کرامت نے شکایت واپس لی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، پولیس اس کے چچا اور والد کو آٹھ گھنٹے تک حوالات میں بند رکھنے کے بعد ان کا انٹرویو لے چکی تھی مگر جب کرامت نے اپنا بیان واپس لے لیا تو پولیس کے پاس ان دونوں کو حوالات میں بند رکھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ کرامت نے واپس گھر جانے کا سوچا مگر اسے اس کے والد کی طرف سے پیغام موصول ہوا جس میں اس نے کرامت کو اپنے گھر میںواپس قبول نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ اب کرامت کا ایک ہی ٹھکانہ تھا اور وہ پیر کا آستانہ تھا۔ کرامت ان دنوں بے روزگار تھا اور پیر کے آستانے پر بھی کچھ دنوں تک سر چھپانے کے علاوہ اس کا نہ کوئی دوست تھا اور نہ ہی کوئی رشتہ دار جو اس کی مدد کرتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عرب سپرنگ کا آغاز ہوا۔


''آپ کا مطلب ہے تیونس سے اُٹھنے والی تحریک جس نے پوری عرب دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا ؟'' شین نے پوچھا۔
''ہاں ہاں! میں اسی تحریک کی بات کر رہا ہوں، دیکھو دنیا میں نظام کیسے بدلتے ہیں، تیونس میں عرب بہار شروع ہوئی اور اس کا آغاز ایک شخصی قربانی سے ہوا۔ 26 سالہ محمد بوزیزی کو ایک پولیس والے نے تذلیل کا نشانہ بنایا وہ ایک پھل فروش تھا مگر غیرت والا تھا۔ اس غیرت مند نے اس تذلیل کے ساتھ زندہ رہنے کے بجائے خود کو ایک سرکاری عمارت کے سامنے احتجاج میں آگ لگا لی اور اس آگ کے شعلوں میں پورا مشرقِ وسطیٰ اور عرب دنیا جھلس کر رہ گئی۔ تیونس، مصر، لیبیا، شام، یمن کے ساتھ ساتھ عراق اور دیگر ملکوں میں وہ تبدیلیاں آئیں کہ عرب دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔پہلے یہ تحریک تھی مگر پھر یہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی نرسری بن گئی۔''
''وہ کیسے؟'' شیری نے پوچھا ۔


''جہاں بادشاہت ہوتی ہے، جہاں حکمران ظالم ہوتے ہیں، جہاں عوام یا جمہور کو تذلیل کا سامنا ہوتا ہے، جہاں کچھ لوگ ریاست کے تمام وسائل پر قابض ہوتے ہیں اور جہاں نا انصافی اور مطلق العنانیت ریاست کا مزاج ہوتا ہے وہاں ایسے ہی انقلاب ابھرتے ہیں اور اپنے انجام پر دہشت گرد تحریکوں کا روپ اپنا لیتے ہیں۔ بس شام اور عراق ایسے دو ممالک ہیں جہاں دنیا کے پاور بروکرز نے شدت پسندی کے کاروبار کو ایک کارپوریٹ کی شکل دے دی اور ان بروکرز کے ایجنٹوں نے یورپ میں ریکروٹمنٹ کا کام شروع کر دیا۔ ان کا نشانہ ایسے پس منظر رکھنے والے نوجوان مرد اور عورتیں تھیں جو آئی ڈینٹٹی کرائسس کا شکار اور گمراہ تھے۔ یورپ میں ایک المیہ یہ ہے کہ کچے ذہنوں کو ماہر اور چرب زبان انتہا پسند نفرت کا بُت بنا دیتے ہیں اور یہ تب سے ہو رہا ہے کہ جب سے ہالی وڈ نے ویتنام کی ہاری ہوئی جنگ کو افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کا لحاف اوڑھانے کی کوشش میں بہت سے جان ریمبو اور راکی بلبو پیدا کئے۔ '' ولی بھائی نے بات جاری رکھی ''کچھ روز اپنے پیر کے آستانے پر رہنے کے بعد کرامت کو احساس ہوا کہ وہ اب پیر کی آنکھ کا تارا نہیں رہا، کوئی پیر ہو یا سیاستدان، مفت کوئی کسی کو کچھ نہیں دیتا اور خاص کر جب کسی کو روٹی، چھت اور تحفظ دینا پڑ جائے تو عقیدت بوجھ بن جاتی ہے اور پھر کون کسی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ خلیفے پیر کے لئے مرید گھیر گھیر کر لاتے اور مرید پیر کا بینک بیلنس تھے۔ پیر کی سب سے بڑی کمائی ان کارو باری لوگوں سے ہوتی تھی جو ایک دوسرے پر تعویذ کرواتے یا کسی نہ کسی اسکینڈل کو سلجھانے میں مدد لیتے۔ ان امیر لوگوں کی دو زندگیاں تھیں اور ان کی بیگمات کا بھی یہی حال تھا۔ بس کچھ ہی دنوں میں کرامت پر بہت سے راز کھل گئے اسے پیر اور خلیفوں کی ذاتی زندگیوں کو جب قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو اس نے یہاں سے بھی راہِ فرار اختیار کی اور پھر سے ایک نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑا.......۔''


جیسے ہی شام میں انتہا پسندی عروج پر پہنچی تو انتہا پسند تنظیموں نے یورپ میں اپنی بھرتی کا عمل تیز کر دیا مگر بھرتی کا طریقہ بدل دیا۔ اب بھرتی کرنے والے باریش مرد نہیں بلکہ خوبرو حسینائیں تھیں جنہوں نے مایوس اور پہلے سے باغی ذہنیت رکھنے والے نوجوانوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسایا اور جہاد کے لئے عراق اور شام لے گئیں۔ یہ ماڈرن ریکروٹمنٹ کا طریقہ کارپوریٹ شدت پسندی کا ایک نیا ہتھیار تھا جو کچھ عرصے کے لئے بہت کارگر ثابت ہوا اور مختلف راستوں سے یہ نوجوان ایک ایسی جنگ کا حصہ بننے شام اورعراق پہنچے جس کا خاتمہ خیر پر نہیں ہوناتھا ۔اس جنگ میں ہمیں پتہ ہے کہ 400,000 شام کے شہری لقمۂ اجل بنے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، اسی طرح عراق میں مرنے والے شہریوں کی تعداد 260,000 سے زیادہ ہے۔ ان میں غیر ملکی جنگجو کتنے تھے اس کا شائد کبھی کسی کو مکمل علم نہ ہو سکے۔ یورپ کی حکومتوں کے لئے یہ جنگجو ایک بہت بڑا چیلنج ہیں، اب تو یورپ کی بہت سی حکومتیں اس بات کو مان چکی ہیں کہ ان کے اپنے نظام میں کہیں نہ کہیں کوئی شگاف ہے یا خرابی کہ وہ ان نوجوانوں کو سمجھنے میں ناکام ہوئے۔


کرامت جب پیر کے آستانے سے مایوس باہر کی دنیا میں اپنے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے نکلا تو اس کی ملاقات سیمی سے ہوئی، سیمی کا اصل نام کسی کو بھی معلوم نہیں، مختلف شہروں اور علاقوںمیں یہ مختلف ناموں سے جانی جاتی تھی۔ سیمی کرامت کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی اور اسے لگا کہ اسے ایک سچا دوست مل گیا۔ کچھ ہی ملاقاتوں میں سیمی نے کرامت کو اپنی زلفوں کا اسیر کر لیا۔ وہ اکثر ایک پارک میں ملتے اور یہاں کچھ فاصلے پر دو مرد ان پر نظر رکھتے۔یہ کارپوریٹ بغیر چیک اینڈ بیلینس کے نہیں چل سکتی تھی اور یہاں بھی جب سیمی یا کوئی بھی خاتون نئے شکار کی تلاش میں نکلتی تو ان کی نگرانی کی جاتی۔ کارپوریٹ کا جال اب دنیا میں پھیل رہا ہے، ایشیا سے افریقہ اور یورپ سے امریکہ تک جہاں جہاں ممکن ہے کارپوریٹ اپنے کام میں لگی ہے۔ اس کے مقاصد اور اہداف دونوں ہی غیر انسانی اور غیر جمہوری ہیں۔


ایک روز سیمی نے کرامت کی ملاقات جیزی سے کروائی، لمبے قد اور مضبوط جسم والا جیزی کارپوریٹ کا دوسرے درجے کا ریکروٹمنٹ اہلکار تھا۔ سیمی کا کام زمین ہموار کرنا تھا جبکہ جیزی کا کام اس ہموار زمین میں نفرت کے بیج بونا تھا۔ سیمی نے اپنا کام کر دیا تھا اب جیزی کو زیادہ وقت نہ لگا اور اس نے کرامت کو ایک عالمی جنگ میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ اس نے دن رات اس پر کام کیا، اس کے ذہن سے سوچ اور جسم سے روح نکال کر نفرت کا ٹائم بم فٹ کر دیا۔ افسوس کرامت انتہا پسندی کا ٹائم بم بن گیا جس نے کبھی نہ کبھی پھٹنا تھا ، ولی بھائی خاموش ہوگئے۔


شین اٹھی اور ولی بھائی کے پاس آ گئی، اسے ولی بھائی کی آنکھوں میں آنسو نظر آئے اور وہ بولی ''سر! آپ آبدیدہ ہو گئے، کیا کرامت آپ کا کوئی رشتہ دار تھا؟''
''ہاں یہ ساری امت بلکہ یہ ساری انسانیت میری رشتہ دار ہے، کسی کو حق نہیں کہ میرے رب کی انسانیت کے خلاف کوئی منصوبہ بنائے، کسی کو اختیار نہیں کہ کسی کا بھی قتل کرے، یہ میرا نہیں، میرے رب کا حکم ہے، ایک انسان کا قاتل پوری انسانیت کا قاتل ہے اور کارپوریٹ والے اگر کسی کو بھی گمراہ کر کے کسی بھی انسان کا قتل دین امن کے نام پر کرتے ہیں تو آنکھ نہیں روح بھی تڑپ اٹھتی ہے۔'' ولی بھائی نے جواب دیا۔
''کرامت کا کیا ہوا سر؟'' موسیٰ نے پوچھا۔


''کچھ نہیں، وہ کچھ ہی دنوں میں ترکی کے راستے سے شام پہنچا، کارپوریٹ نے اس کا تمام خرچ اٹھایا اور اس کو باقاعدہ تربیت دی گئی، اس کو ہتھیار استعمال کرنا سکھائے، اس کے ہاتھ خون میں ایسے رنگے کہ قتل اس کا مشغلہ بن گیا اور وہ کارپوریٹ کی میڈیا کمپین کا حصہ بھی بنا۔ کارپوریٹ کی ہر ویڈیو میں کرامت اور کچھ اور انگریزی، جرمن، اسپینش اور فرینچ بولنے والے نوجوان ہتھیار لہراتے اوروں کو کارپوریٹ کا حصہ بننے کی دعوت دیتے۔ یہی کارپوریٹ کا ہدف تھا اور ان کے کاروبار کی حکمت عملی مگر کرامت اور اس جیسے نوجوان اس امر سے ناواقف تھے کہ ان سب کا متبادل مارکیٹ میں موجود تھا۔ لہٰذا جب کبھی کوئی کارپوریٹ کے لئے بوجھ بنتا تو اسے مار دیا جاتا یا اس کا حتمی استعمال کیا جاتا اور خرچ کی ہوئی رقم سود سمیت واپس لے لی جاتی ''ولی بھائی تھوڑے خاموش ہوئے تو شیری نے پوچھا ۔''کرامت زندہ ہے ؟ اور سیمی کا کیا ہوا؟''


''ہاں کرامت زندہ ہے اور پچھلے ہفتے اس کے ماں باپ کو مطلع کیا گیا ہے کہ کارپوریٹ نے اسے اب اپنا قیدی بنا لیا ہے اور کبھی وہ اسے انسانی شیلڈ کے طوراستعمال کرتے ہیں اور کبھی اس کی رہائی کے لئے اس کے آبائی ملک سے تاوان طلب کرتے ہیں جبکہ سیمی آج بھی کسی نئے شکار کی تلاش میں مصروف ہو گی........یہ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے، یہ ہم سب کی جنگ ہے، اس جنگ کی بھٹی کا ایندھن ہمارے بچے ہیں اور ان کے تحفظ کے لئے ہمیں لڑنا ہے، اپنی اپنی سرحد کے دفاع کے لئے لڑنا ہے، ہمیں ہتھیار سے نہیںعلم کے ذریعے اپنے دین اور دنیا کے دشمنوں سے لڑنا ہے اور اپنے بچوں کو تنہا نہیں چھوڑنا ورنہ کوئی جعلی عامل یا کوئی انتہا پسند انہیں اپنے عزائم کے لئے استعمال کرے گا اور ہم آہستہ آہستہ سب کھو دیں گے۔'' ولی بھائی اٹھے اور کمرے سے باہر چلے گئے اور مجھے میری جنگ کا محاذ دکھا گئے ۔
(وضاحت : اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں ،کرداروں اور کرداروں کے ناموں کا کسی شخص یا اشخاص سے مماثلت رکھنا محض اتفاق ہو گا )

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
January
Published in Hilal Urdu
Read 35 times
جاگنگ گالہ
جسمانی تندرستی انسانی زندگی کے لئے انتہائی قدروقیمت کی حامل ہے۔ اسی پہلوکو مد نظر رکھتے ہوئے کمانڈر10 کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کی ہدایات پر چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں صحت مند کھیلوں کی سر گرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے رائزنگ سن سپورٹس کمپلیکس میں جاگنگ گالہ کا انعقاد کیا گیا۔ جاگنگ گالہ میں رائزنگ سن سپورٹس کمپلیکس کے ممبران، آرمی آفیسرز اور چکلالہ گریژن کے رہایشیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ گالہ کا مقصد تمام شرکاء کو اپنی معمول کی مصروفیات سے نکال کر اپنی صلاحیتوں اور فٹنس کوبرقرار رکھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ گالہ میں شرکت کے لئے بچوں کے ساتھ ساتھ ہرعمر کے خواہش مند حضرات نے دوڑ میں رجسٹریشن کروائی۔ اس گالہ میں تقریباً430 افراد بشمول 150 بچوں نے مختلف مقابلوں میں شرکت کی۔ گالہ کا اختتام بیگم اور کمانڈر10 کور کی موجودگی میں 5 کلومیٹر کی میراتھن ریس اور1.5 کلومیٹرواک کے بعد رنگارنگ تقریب تقسیم انعامات کے ساتھ ہوا۔

newsjoginggala.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 36 times
فرسٹ آرمرڈ ڈیوانٹر یونٹ اتھلیٹکس چیمپیئن شپ
گزشتہ دنوں فرسٹ آر مرڈ ڈیو انٹر یونٹ اتھلیٹکس چیمپیئن شپ برائے سال 2017/18 ملتان گریژن میں منعقد ہوئی ۔ چیمپیئن شپ میں کل 12ٹیموں نے حصہ لیا۔فرسٹ آرمرڈ ڈیو کی ایس اینڈ ٹی 21 بٹالین نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے چیمپیئن ٹرافی جیت لی۔بریگیڈئیر فیاض فاروق نے جیتنے والی ٹیم میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newsfirstarmed.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 32 times
پاک بہارت بارڈر پر بلند پرچم کی تنصیب
گزشتہ دنوں پاک انڈیا بارڈر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ایک اور پاکستانی بلند پرچم کے نصب کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈر ملتان کور لیفٹیننٹ جنرل عبداﷲ ڈوگر نے 200 فٹ بلند نصب پرچم کو قومی و ملی جوش و جذبے کے ساتھ لہرایا۔ تقریب میں ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل اظہر نوید حیات خان اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

newspakbharatborder.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 29 times
منگلاکور میں اسالٹ کورس مقابلے
گزشتہ دنوںمنگلا کور اسالٹ کورس مقابلے 2017ء کا اِنعقاد کیا گیا۔ جس میں منگلا کور کی تمام ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس مقابلے میں تمام یونٹس نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارتوں کا مظاہرہ کیا۔ کمانڈر منگلا کور لیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر جیتنے والی یونٹوں اورمقابلے میں موجود بہترین آفیسرز، جے سی اواور سولجرز کو انعامات سے نوازا گیا۔ پہلے گروپ میں اول پوزیشن 14 سندھ رجمنٹ جبکہ دوسری پوزیشن 10 فرنٹیئر فورس رجمنٹ نے حاصل کی۔ دوسرے گروپ میں پہلی پوزیشن 7 لانسر جبکہ 165 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری دوسری پوزیشن کی حقدار ٹھہری۔ مجموعی طور پر بہترین آفیسر 7لانسر کے سیکنڈ لیفٹیننٹ صیاد ٹھہرے جبکہ بہترین جے سی او 18 سندھ رجمنٹ کے نائب صوبیدار منور حسین کو قرار دیا گیا۔بہترین این سی او 19 سندھ رجمنٹ کے نائیک غلام مصطفی اور بہترین جوان 14سندھ رجمنٹ کے سپاہی امین فہیم قرار پائے۔ انفرادی طور پر اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں میڈل تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ عمرہ پیکیج کا بھی اعلان کیا گیا۔

newsmanglacoreasalt.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 36 times
چیف آف آرمی سٹاف کی قبائلی جرگوں سے ملاقات
گزشتہ دنوں قبائلی عمائدین اور جوانوں کے جرگوں نے آئی ایس پی آر میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ سے الگ الگ ملاقاتیںکیں۔ جرگے نے فاٹا میں قیامِ امن، معاشرتی اور معاشی ترقی کے لئے پاک فوج کی قربانیوں کو سراہا اور فاٹا کو قومی دھارے میں لانے اور مستقبل کے لائحہ عمل کے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے قبائلی عمائدین اور جوانوں کے اُس عزم کو سراہا جس کا اظہار انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ساتھ کیا۔ انہوں نے فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے اُن کے مؤقف کو اہم قرار دیا۔ چیف آف آرمی سٹاف

neascoasmeettoqabaili.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 22 times
کمانڈر کراچی کور کا آرمی ماڈل سکول سیہون کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے سیہون میں قائم آرمی ماڈل سکول کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اُنہیں سکول میں فراہم کی جانے والی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے سکول کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور بچوں سے ملاقات کی۔ کور کمانڈر نے اساتذہ اور والدین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اچھے اور روشن مستقبل کے لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی بہتر تربیت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ کے لئے اساتذہ کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

newscdrkarachicorea.jpg

کمانڈر لاہور کورکا سپیشل چلڈرن سکول کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے انٹرنیشنل ڈِس ایبلٹی ڈے کے موقع پر سپیشل چلڈرن سکول آف ہیڈکوارٹرز پاکستان رینجرزکا دورہ کیا۔ سکول کی تقریب میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر سکول کے بچوں نے مختلف سیگمنٹس پیش کئے۔ کور کمانڈر نے اُن کی کاوشوں کو سراہا اور بچوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newscdrkarachicorea1.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 21 times
بلوچستان ویمن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ
گزشتہ دنوںبلوچستان ویمن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کی پروقار اختتامی تقریب بولان کرکٹ سٹیڈیم کوئٹہ میں منعقدہوئی۔تقریب کی مہمانِ خصوصی سینیٹر محترمہ روبینہ عرفان تھیں۔ اختتامی تقریب کے موقع پر یونیورسٹی آف بلوچستان اور سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے مابین سنسنی خیز فائنل کھیلاگیا۔ جس میں یونیورسٹی آف بلوچستان کی ٹیم فاتح رہی ۔ اس موقع پر خطاب میں مہمان خصوصی نے بلوچستان میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں پاکستان آرمی کے کردار کو سراہا اور بلوچستان کی خواتین کھلاڑیوں کے جوش وجذبہ کی تعریف کی۔مزید برآں تقریب میں یونیورسٹی آف بلوچستان کی فاتح ٹیم کو ٹورنامنٹ کی چیمپیئنز ٹرافی دی گئی اور ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔

newsbalochwoment20.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 20 times
بلوچ ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

گزشتہ دنوں بلوچ ریکروٹس کے آٹھویں بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب کوئٹہ ای ایم ای سینٹر میں منعقد ہوئی۔ تقر یب میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی ،صوبائی وزرا ،اعلیٰ سول وفوجی افسران اور مختلف سکولوں اور جامعات کے طلباء وطالبات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہایہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ بلوچستان کے نوجوان پاک فوج میں شامل ہو کر اس ملک اور سر زمین کے تحفظ کے لئے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر ہمارے دشمنوں کے ایما پر بدامنی پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جسے ناکام بنانے کے لئے ہمیں اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں کمبیٹ ڈرل کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ پاکستان ایئر فورس کے
F-7
جیٹ طیاروں کے ساتھ ساتھ پاکستان آرمی ایوی ایشن کے مشاق طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے بھی سلامی پیش کی۔یاد رہے کہ پاک فوج کے زیر اہتمام580 بلوچ جوان تربیت حاصل کر کے پاک فوج کا حصہ بنے ہیں جبکہ اس سے قبل 13200 بلوچ ریکروٹس اب تک پاک فوج میں شامل ہو چکے ہیں 600 بلوچ آفیسرز بھی پاک فوج میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں جبکہ232 کیڈٹس پی ایم اے کاکول میں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور پاک فوج کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی اداروں میں25000 بلوچ طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں دوران تربیت نمایاں کارکردگی دکھانے والے ریکروٹس کو اعزازی انعامات سے بھی نوازا گیا۔

newsbalochrecrots.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 21 times
پاکستان گالف فیڈریشن کے نئے صدر کا تقرر
گزشتہ دنوں جرار راولپنڈی گیریژن میں پاکستان گالف فیڈریشن کے نئے صدر کا انتخاب کیا گیا۔ پی جی ایف کے نئے صدر کا انتخاب سالانہ جنرل میٹنگ کے موقع پر کیا گیا۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد ہلال حسین کمانڈر آرمی سٹرٹیجک فورسز کمانڈ (کرنل کمانڈنٹ رجمنٹ آف آرٹلری) نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ظہیر السلام سے پاکستان گالف فیڈریشن کے نئے صدر کے عہدے کا چارج لیا۔ جبکہ بریگیڈیئر (ر) نیئر افضال نائب صدر منتخب ہوئے اور بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد خان کو سیکرٹری مقرر کیا گیا۔

newspfg.jpg

ملتان گیریژن میں آرمی جوڈو چیمپیئن شپ
گزشتہ دنوںملتان گریژن میںچارروزہ آرمی جوڈو چیمپیئن شپ منعقد ہوئی۔ اس چیمپیئن شپ کے مہمان خصوصی کمانڈر ملتان کور لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ ڈوگر تھے۔چیمپیئن شپ میں ملتان کور کی ٹیم نے 22 پوائنٹس لے کر چیمپیئن ٹرافی جیت لی جبکہ منگلا کور کی ٹیم نے 9پوائنٹس سے دوسری اور سدرن کمانڈ نے6 پوائنٹس سے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔

newspfg1.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 18 times
زندہ دل رجمنٹ کے کرنل آف دی بٹالین کی تعیناتی
گزشتہ دنوں آزادکشمیر رجمنٹل سنٹر میں پانچویں کرنل آف دی بٹالین کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔ انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیویشن (کرنل کمانڈنٹ آزادکشمیر رجمنٹ) لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں بریگیڈیئر محمد یوسف مجوکہ کو 10 آزادکشمیر رجمنٹ کے پانچویں کرنل آف دی بٹالین کے اعزازی رینک پہنائے گئے۔ تقریب میں انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلویشن کے علاوہ بریگیڈیئر سہیل ناصر خان، کمانڈنٹ آزادکشمیر رجمنٹل سنٹر زندہ دل پلٹن کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ آفیسرز، سردار صاحبان اور جوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

newszinddilregcolcmdt.jpg

یومِ والدین کیڈٹ کالج اسپین کئی
گذشتہ دنوں کیڈٹ کا لج اسپین کئی میں یوم والدین کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخواہ انجئیراقبال ظفر جھگڑا تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔تقریب میں بڑی تعداد میں قبائلی عمائدین اور بچوں کے والدین نے شرکت کی۔ کیڈ ٹ کالج پہنچنے پر مہمانِ خصوصی کو کیڈٹس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اور مہمانِ خصوصی نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کی عوام کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر نا حکومت کی اولین تر جیح ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپریشن ضربِ عضب اورافواج پاکستان اور قبائلی عوام کی بے پناہ قربانیوں کی بدولت فاٹا میں امن بحال ہوا۔ اس موقع پر کیڈٹ نے پی ٹی شو، جمناسٹک اور کراٹے کا بہترین مظاہرہ کیا۔ آخر میں گورنر خیبرپختنخواہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے۔ کیڈٹ کالج اسپین کئی پہنچنے پر قائم مقام جنرل آفیسر کمانڈنگ بر یگیڈئیر عرفان اور پرنسپل کرنل سید وسیم الحق نے مہمانِ خصوصی کا استقبال کیا۔

newszinddilregcolcmdt1.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 23 times
چیف آف آرمی سٹاف کی سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمُعیدشہید کے اہلِ خانہ سے تعزیت
گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے اکیس سالہ سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمُعید شہید کے اہلِ خانہ سے لاہور میں واقع اُن کے گھر میں تعزیت کی۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ مُعید نارتھ وزیرستان ایجنسی میں شہید ہوئے۔ اس موقع پرچیف آف آرمی سٹاف نے اہلِ خانہ کے بلند عزم اور وطن کے بیٹے کی عظیم شہادت کو سراہا۔

newscoasvisittoabdulmoeed.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 20 times
پی این ایس راہ نَوَرد اورپی این ایس دہشت کا دورئہ ایران

newspnsraheno.jpg

پاک بحریہ کے جہازوں پی این ایس راہ نَوَرد اورپی این ایس دہشت نے حال ہی میں ایران کی بندرگاہ بندر عباس کا دورہ کیا۔ بندر گاہ پہنچنے پر ایران کی حکومت اور ایرانی بحریہ نے جہازوں کا پرتپاک استقبال کیا ۔ دسویں پٹرول کرافٹ اسکواڈرن کے کمانڈر، کیپٹن خالد پرویز نے مشن کمانڈر کی حیثیت سے پاک بحریہ ٹاسک گروپ کی کمانڈ کی۔اس دورے کا مقصد خطے میں امن و سکیورٹی کو فروغ دینا ، میری ٹائم اشتراکیت میں اضافہ اور خطے کی دوست بحری افواج کے مابین باہمی تعاون کے نئے شعبہ جات کوتلاش کرنا تھا۔


اس دورے کے دوران پاک بحریہ کے وفد نے باہمی دلچسپی کے اُمور پر ایران کی بحری و عسکری قیادت سے کئی اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران کی بحریہ کے کمانڈر فرسٹ نیول زون، کموڈور حسین آزاد، کمانڈر سرفیس فورس
(Surface Force)
کیپٹن مصطفی تاجدینی، ہارموزگان صوبے کے گورنر جناب فریدون اور ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنی کے نمائندے آیت اللہ غلام علی نعیم آبادی سے ملاقاتیں شامل تھیں۔

 

پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس سیف کا تھائی لینڈ کا دورہ
پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس سیف نے حال ہی میں پٹایا (تھائی لینڈ) کا دورہ کیا اور رائل تھائی نیوی کی طرف سے منعقدہ آسیان کی پچاسویں سالگرہ اور انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں شرکت کی۔ ریئر ایڈمرل ذکا ء الرحمن ،فلیگ آفیسر سی ٹریننگ نے آسیان کی پچاسویں سالگرہ اور انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کی نمائندگی کی۔پٹایا میں قیام کے دوران فلیگ آفیسر سی ٹریننگ نے رائل تھائی نیوی کے سینیئر نیول عہدیداران اور دیگر شخصیات سے ملاقاتیں کیں جن میں رائل تھائی نیوی کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف ایڈمرل لیوچی روڈٹ ، تھائی لینڈ کے وزیر ِدفاع جنرل پروت وانگسو وان اور ملائیشیاء کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل تان سری احمد قمرالزمان بن حاجی احمد بدرالدین شامل تھے۔ان ملاقاتوں کے دوران فلیگ آفیسر سی ٹریننگ نے آسیان کی پچاسویں سالگرہ پر تھائی حکومتی عہدیداران کو مبارکباد پیش کی اور تھائی لینڈ کی عوام بالخصوص رائل تھائی نیوی کے لئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔

newspnsraheno1.jpg 

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 23 times
کمانڈر 10 کور کی آرمی پبلک سکولز اور ایف جی سکولز کی تقریبات میں شرکت
گزشتہ دنوں10 کور کے زیر انتظام سکو لوں اور کا لجوں میں تقریبات کا انعقادکیا گیا۔کما نڈ ر10 کو ر لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا ان تقریبا ت کے مہمانِ خصو صی تھے ۔سب سے پہلی تقریب ویسٹریج آرمی پبلک سکو ل میں ہو ئی۔ اس موقع پر کمانڈر 10 کور نے نئے بلاک کا افتتا ح کیا اور مختلف کلا سز کا دورہ بھی کیا۔ کما نڈر10 کور نے سالانہ انعامی تقریب کے موقع پر اعلیٰ کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات کو انعامات سے نوازا۔اسی سلسلے میں کمانڈر 10کورلیفٹیننٹ جنرل ندیم رضانے آرمی پبلک سکول چکلالہ گیریژن کے طلباء و طالبات کو سالانہ انعامی تقریب کے موقع پر انعامات سے نوازا۔ ایک تقریب ایف جی سر سید پبلک سکو ل میںبھی منعقد ہوئی۔کور کمانڈر نے تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیا مزید برآں بچوں اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں کمانڈر 10کورنے بچوں کو جسمانی اور غیرتعلیمی مثبت سر گرمیوں کو زندگی کا حصہ بنانے پر بھی زور دیا۔

newscdr10core.jpg

10
January
Published in Hilal Urdu
Read 21 times
چیف آف ایئر سٹاف کی ایئریونیورسٹی میں ایئرٹیک کانفرنس میں شرکت

newscasairtech.jpgگزشتہ دنوں چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل سہیل امان نے ایئریونیورسٹی کے زیراہتمام ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور اپنی نوعیت کے منفرد چار روزہ ٹیکنالوجی مقابلوںکے موقع پرایئرٹیک کانفرنس سے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان آئندہ دو برسوں کے دوران خلا میں اپنا مشن بھیجے گا۔ مہمانِ خصوصی ایئر چیف مارشل سہیل امان نے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے مابین قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ پاکستانی طلباء و طالبات دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ پاکستان دوست ملک چین کے تعاون سے کامیابی سے نیکسٹ جنریشن طیارہ سازی میں مصروف ہے، ایئرچیف نے اس توقع کا اظہار کیا کہ عنقریب چین کے اشتراک سے پاکستان اپنا سٹلائیٹ مشن بھیجنے کے بھی قابل ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سالانہ بنیادوں پر 16سے 20
JF-17
طیارے بنارہا ہے جو
F-16
جہازوں سے کارکردگی میں کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی ایئر وائس مارشل (ر) فائز امیر نے بھی طلباء و طالبات سے خطاب کیا۔ایئرٹیک کانفرنس میں شرکت کے لئے طلباء و طالبات سمیت مختلف شعبہ زندگی کے ماہرین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

 

 

آرٹلری سنٹر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب
گزشتہ دنوں آرٹلری سنٹر اٹک میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں میڈلز تقسیم کئے۔تقریب میں بلوچستان کے ضلع مستونگ سے تعلق رکھنے والے غلام نبی کو بہترین کارکردگی پر کمانڈنٹ میڈل سے بھی نوازا گیا۔

newscasairtech1.jpg 

10
January

تحریر: افتخارمجاز

قیام پاکستان کا مقصد محض ایک الگ تھلگ خطہ ارض کا حصول نہیں تھا بلکہ ایسی نظریاتی مملکت کو وجود میں لانا تھا جہاں کے رہنے والے نہ صرف اپنے عقائد و نظریات اور مذہب کے مطابق اپنی ترقی و خوشحالی کے خواب دیکھ سکیں بلکہ ان خوابوں کی عملی تعبیر بھی پائیں۔ یہی وہ نصب العین تھا جس کے لئے قوم نے لاکھوں جانوں اور لاتعداد عصمتوں کی قربانیاں دی تھیں مگر ہماری بدقسمتی کہ قیام پاکستان کے بعد اس پاک سرزمین پر خود غرضی نفسانفسی اور لوٹ گھسوٹ کا ایسا سلسلہ شروع ہو گیا کہ برائی برائی نہ رہی۔ نیک و بد، خیروشر، آدم و ابلیس، حق وباطل اور حلال و حرام کی تمیز ختم ہو گئی۔ یہ صورت حال کسی حساس محب وطن ذی شعوراور دردمند دل رکھنے والے پاکستانی کے لئے قابلِ قبول تھی نہ ہے اور نہ وہ اسے نظرانداز کر سکتا ہے۔ ایک زیادہ حساس، کھرے اور جذبہ ملک و ملت سے سرشار پاکستانی پر اس صورت حال کے باعث کیا کیا گزر جاتی ہے، اس کا اندازہ آپ کو اس واقعے سے ضرور ہو جائے گا جو پاکستان ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے میرے ساتھ پیش آیا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔


یہ غالباً نومبر 1982 کی بات ہے میں راولپنڈی اسلام آبادسنٹر سے تبدیل ہو کر نیا نیا لاہور ٹی وی سنٹر پر تعینات ہوا تھا۔ انہی دنوں مجھے نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر رشید چوہدری (اب مرحوم) کے زیراہتمام چلنے والے ذہنی طور پر معذور افراد کی بحالی کے ادارے ''فائونٹین ہائوس'' لاہور کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اپنے اس فرض کی بجاآوری کے دوران مجھے تین چار روز تک مسلسل پاگل اور ذہنی طور پر نیم بیمار و پسماندہ افراد کے ساتھ بہت سا وقت گزارنے اور انہیں قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ اس موقع پر کچھ تلخ مگر دل ہلا دینے اور ضمیر کو جگا دینے والے واقعات بھی دیکھنے کو ملے اور بعض ذہنی بیمار و پاگل افراد کی ہوش مندانہ گفتگو بھی سننے کا اتفاق ہوا۔
فائونٹین ہائوس میں تین چار روزہ شوٹنگ کے دوران میں نے اکثر ممبران (یہاں مریضوں کو ممبر کہا جاتا ہے) کو اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے دیکھا اور ان کی بے معنی و لایعنی گفتگو سنی لیکن اس سارے عرصے کے دوران اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے والوں کے مابین صرف ایک رکن ایسا تھا جسے میں نے مسلسل گم صم سنجیدہ اور نارمل
Behave
کرتے ہوئے پایا۔ میں نے نوٹ کیا کہ ہماری شوٹنگ کے دوران وہ کیمرے کے سامنے آنے سے مسلسل گریز کرتا رہا۔ بلکہ اس دوران وہ اس کوشش میں رہا کہ اس کا چہرہ فلم اور کیمرے کی زد میں نہ آئے۔ جبکہ باقی ممبران کا طرز عمل بالکل مختلف تھا وہ آگے بڑھ بڑھ کر اپنی تصویریں اور فلم بنواتے اور ذہنی مریض ہوتے ہوئے بھی مسلسل کیمرے کے سامنے ہی رہنے کی کوشش کرتے۔ یہاں اپنی دستاویزی فلم بنانے کے دوران روز اول سے ہی یہ گم صم اور چپ چاپ رہنے والا سنجیدہ شخص مجھے سب سے مختلف لگا اور میرے قلب و ذہن پر سوار ہو گیا کہ آخر یہ ممبر سب سے منفرد کیوں ہے؟ فائونٹین ہائوس میں زیرعلاج ان مریضوں کو بطور علاج سیروتفریح کے لئے بھی لے جایا جاتا ہے۔ چنانچہ ہماری شوٹنگ کے دوران اس
Sequence
کی فلمنگ کے لئے انہیں ایک روز باغِ جناح لاہور لے جایا گیا۔ یہاں بھی جب ہم شوٹنگ کر رہے تو تو تقریباً سب ممبران بے معنی اچھل کود اور الٹی سیدھی حرکتیں کرتے رہے مگر واحد شخص جو آرام کے ساتھ الگ تھلگ چپ چاپ بیٹھا فلک کج رفتار کی جانب معنی خیز مسکراہٹ سے دیکھے جا رہا تھا، وہی تھا جو پہلے روز ہی سے اپنے اسی سنجیدہ انداز کی بنا پر میری چشم حیرت میں ٹھہر چکا تھا۔ یہاں میں اسے چپ چاپ اور اکیلا پا کر اس کی جانب بڑھا اور وہ مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر احتراماً کھڑا ہو گیا۔


''آئیے'' میں نے کہا۔ ''آپ کی بھی تھوڑی سی فلم بنائیں۔'' اس نے پوچھا ''یہ فلم کہاںچلے گی؟''پیشتر اس کے کہ میں اُس کے سوال کا جواب دیتا، میرے کیمرہ مین نے کہا ''پاکستان……'' ابھی میرا کیمرہ مین پاکستان کہہ کر ساتھ ٹیلی ویژن کے الفاظ بھی نہیں کہہ پایا تھا کہ متذکرہ ممبر جسے میں کئی دن سے مسلسل خاموش اور سنجیدہ دیکھ رہا تھا نے پاکستان کا نام لے کر گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اگرچہ میں نے فوری طور پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سمجھایا کہ مادرِوطن کو گالی نہیں دینی چاہئے۔تاہم جب وہ ذرا ٹھنڈا ہوا تو میں نے زیادہ سنجیدگی اور تحمل سے ایک مرتبہ پھر اسی موضوع کو چھیڑا کہ اسے وطن کی اہمیت اور مقام و مرتبہ بتا کر سمجھانا شروع کیا کہ یہ وطن تو ہماری ماں کی طرح مقدس اور قابل احترام ہے۔ اسے ہم نے لاتعداد قربانیاں اور بے شمار مائوں بہنوں کی عزتیں قربان کر کے حاصل کیا ہے۔ لہٰذا اسے گالیاں نہیں دینی چاہئیں۔'' وہ میری یہ جذباتی اور روائتی گفتگو معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ چپ چاپ سنتا رہا پھر یکدم اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ قہرآلود نظروں کے ساتھ اس نے غصے سے اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے میری طرف دیکھا اور یوں گویا ہوا۔ ''یقینا یہ جدوجہد اور قربانیاں قیام پاکستان کے لئے تھیں۔ مگر مجھے بتائیں کہ وہ پاکستان ہے کہاں، جس کے لئے اتنی ڈھیر ساری قربانیاں دی گئی تھیں اور بے شمار عصمتیں قربان کر دی گئیں تھیں؟ کیا یہ کہیں گمان بھی تھا کہ نئے خطہ ارض میں جہاں ہم آزاد ہوں گے کوئی ہمارا استحصال کر سکے گا۔ کسی کی حق تلفی ہو گی۔ ہر شخص بلاامتیاز انصاف حاصل کر سکے گا ہم آزاد بھی ہوں گے اور خودمختار بھی'' مجھے ہمہ تن گوش دیکھ کر اس کے لہجے میں ٹھہرائو اور گفتگو میں زیادہ سنجیدگی در آئی۔ اُس نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ''ہم کہتے ہیں یہ وطن قربانیوں اور جدوجہد سے بنا ہے اور آج جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ سب قربانیاں رائیگاں گئیں۔'' میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ''برادر عزیز! مجھے آپ سے اختلاف ہے۔'' میں نے بہت ہی ملائمت اور نرم لہجے میں کہا، بھائی اگر ایسے ہی ہے تو یہ قصور پاکستان کا نہیں……میرا فقرہ مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے میری بات کاٹ دی اور بولا ''آپ اختلاف کریں یہ آپ کا حق ہے بلکہ میں تو آپ سے یہ کہوں گا کہ مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ نہ بھولئے گا کہ آپ ایک پاگل اور ذہنی طور پر پسماندہ و معذور شخص سے محو گفتگو ہیں۔'' وہ زور دے کر گویا ہوا۔ برادرم !'' اگر میری باتیں آپ کو بری لگیں تو انہیں پاگل کی گفتگو سمجھ کر نظر انداز کر دیں۔ ''اس کا یہ جملہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں تقریباً سکتے میں آ گیا۔ تاہم اس کے متوجہ کرنے پر میں اس کیفیت سے باہر نکلا۔ وہ کہنے لگا، ''آپ دیکھ نہیں رہے کہ یہاں اکثریت لوٹ مار میںلگی ہوئی ہے اور اگر کوئی اس دوڑ میں شریک نہ ہو تو اس کا حال مجھ جیسا ہو جاتا ہے، اسے پاگل خانے داخل کرا دیا جاتا ہے۔'' میں نے چونک کر کہا۔ ''میں آپ کی بات نہیں سمجھ سکا؟'' اُس نے گفتگو تسلسل سے جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ''جب تک مجھے پاگل قرار دے کر مینٹل ہسپتال میں داخل نہیں کرا دیا گیا تھا میں بھی لاکھوں حساس اور آپ جیسے درد مند پاکستانیوں کی طرح پاکستان کے حوالے سے بڑی جذباتی سوچ رکھتا تھا۔ مگر جب میں اپنے معاشرے خصوصاً اپنے گھر والوں کے لئے اپنی اسی حب الوطنی اور پاکستان سے وابستہ بے حد جذباتی سوچ کی وجہ سے ناقابل برداشت ہو گیا تو انہوں نے مجھے پاگل قرار دے کر مینٹل ہسپتال میں داخل کرا دیا۔ یوں میں اب باقاعدہ ڈکلیئرڈ اور
Bonafied
رجسٹرڈ پاگل ہوں۔ گویا میں اگر پاگل کے اعزاز سے بہرہ مند ہوں تو یہ اعزاز مجھے پاکستان کی محبت ہی میں ملا ہے۔ میں پاکستان کی محبت ہی میں پاگل ہوا ہوں۔''
اُس نے ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے کہا۔ کوئی پندرہ برس پہلے کی بات ہے کہ میں ایک بہت ایماندار، دیانت دار، راست گو اور بے باک سچا محب وطن، جذباتی پاکستانی نوجوان تھا۔ معاشرے میں موجود بدعنوانیاں، بے ایمانیاں، بدعہدیاں، جھوٹ، فراڈ اور سب سے بڑھ کر منفی انداز نظر رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی مجھے چین نہیں لینے دیتی تھی۔میں اس صورت حال پر کڑھتا، لڑتا، احتجاج کرتا کیونکہ حصول پاکستان کی جدوجہد کے دوران بتایا گیا تھا کہ جب ہم آزاد ہوں گے تو ہمارے اپنے وطن میں یہ سب منفی رویے اور برائیاں نہیں ہوں گی۔ وہاں انصاف بھی ہو گا اور دیانت بھی ہو گی۔ مگر مروج قدریں اور صورت حال میرے لئے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھیں۔ میری ہر صبح کا آغاز ہی اس صورت حال پر میرے احتجاج سے ہوتا۔ اُن دنوں میں ایک سرکاری ادارے میں ذمہ دار پوسٹ پر تعینات تھا۔ صبح اٹھ کر سب سے پہلے میں بازار سے دودھ لینے جاتا تو دودھ فروش سے ہر روز جھگڑا ہوتا سبب یہ ہوتا کہ دودھ فروش پانی ملا ملاوٹ شدہ دودھ دیتا۔ میں احتجاج کرتا کہ بھلے میاں! جب تم نے دودھ کا ایک ریٹ مقرر کر رکھاہے، دعویٰ بھی خالص دودھ بیچنے کا کرتے ہو تو پھر پورے پیسے لے کر خالص کے بجائے پانی والادودھ کیوں دیتے ہو۔ المیہ یہ تھا کہ ہر روز میں اکیلا ہی احتجاج کرتا۔ چنانچہ وہ بدتمیزی پر اتر آتا مگر کوئی اسے نہ روکتا نہ ٹوکتا۔ سب مجھے ہی صبر اور برداشت خصوصاً ٹھنڈا رہنے کی تلقین کرتے۔ سبھی غلط کام کرنے والے ہی کی طرف داری اور حمایت کرتے۔ جبکہ وہ خود بھی اس کی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہوتے بہرطور اس صورت حال میں جلتا بھنتا اورکڑھتا گھر آتا اور ناشتہ زہرمار کر کے تیار ہو کر دفتر کے لئے روانہ ہو جاتا۔ یہاں میرا جھگڑا بس کنڈیکٹر سے ہوتا۔ جو ٹکٹ کے پورے پیسے لینے کے باوجود اکثر مسافروں کو ٹکٹ جاری نہ کرتا۔ چنانچہ میں حسب عادت یہاں بھی احتجاج کرتا۔ مگر ستم یہ کہ یہاںبھی ساتھی مسافر میرے ہمنوا ہونے کے بجائے عام طور پر اسی کا ساتھ دیتے اور کہتے چلو یار جانے دو بے چارہ غریب آدمی ہے۔ حالانکہ وہ اپنے اس کام کے عوض محکمے سے تنخواہ وصول کرتا تھا۔ مگر وہ اسی ادارے کی جڑیں کاٹنے میں مصروف نظر آتا تھا جو اس کے اور اس کے اہل خانہ کے رزق کا باعث تھا۔ چنانچہ جب میں اسے دیانت داری سے فرائض ادا کرنے کی تلقین کرتا تو لوگ یعنی ساتھی مسافر مجھے اس فعل سے روکتے ٹوکتے اور میری دیانتداری کا تمسخر اڑاتے۔یوں میں بھی غصے میں آ جاتا اور ناخوشگوار صورت حال پیدا ہو جاتی بعض اوقات باقاعدہ لڑائی، جھگڑا اور مار کٹائی کی صورت بھی پیدا ہو جاتی اور ہمیشہ مجھے ہی سرنڈر کرنے پر مجبور کیا جاتا۔ بہرطور اس دلدل میں لتھڑنے کے بعد جب میں اپنے دفتر میں داخل ہوتا تو یہاں بھی مجھے ایک ایسی ہی دنیا سے واسطہ پڑتا جو اُن خوابوں کی تعبیر نہیں تھی جن کی خاطر ہم نے یہ الگ تھلگ خطہ ارض یعنی پاک سرزمین حاصل کی تھی۔قصہ مختصر میرے دفتر میں جب سائل اپنے کام کی غرض سے میرے پاس آتے تو میں ان کے کام نمٹانے کو اپنا اولین فرض سمجھتے ہوئے دفتری اوقات کار کے بعد بھی اپنے ضمیر کی آواز پر دیر تک بیٹھ کر کام کرتا تو میرے رفقاء کو میرا یہ رویہ برا لگتا۔ وہ مجھے سائلوں سے فیس اور نذرانہ وصول کئے بغیر انہیں فارغ نہ کرنے کے مشورے دیتے۔ گویا بدعنوانیوں اور بے ایمانیوں کے حصار میں مجھے جکڑنے کے لئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے۔ مگر جب میں یہاں بھی قابو میں نہ آتا اور اس رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا تو افسرانِ بالا سے میری شکایات لگا کر مجھے تنگ ا ور پریشان کیا جاتا حتیٰ کہ دو مرتبہ میری جواب طلبی تک کرا دی گئی۔ چنانچہ یہاں بھی میرا جھگڑا ہوتا رہتا۔ تاہم میں اپنے ضمیر کے مطابق ہر جگہ دیانتداری کے لئے سرگرم عمل رہا اور جہاں بھی کوئی ناانصافی یا بددیانتی دیکھتا سراپا احتجاج بن جاتا۔ کیونکہ میرے نزدیک پاکستان کا قیام اس خطے کے رہنے والوں کے لئے دارالامان اور دارالرحمت کے طور پر حاصل کیا گیا تھا۔ میرے اس طرز عمل کی وجہ سے رفتہ رفتہ گھر میں میری مشکلات بڑھنے لگیں۔ افسوس یہ کہ ہر شخص مجھے ہی اپنا رویہ اور طریقہ کار تبدیل کرنے پر مجبور کرتا کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ میں نیکی، دیانت اور انصاف کے راستے پر چل رہا ہوں اور یہ درست ہے اور ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو قیام پاکستان کی اس حقیقی منزل کی طرف جاتا ہے۔ جو ظلم، استحصال، ناانصافیوں، بداعمالیوں اور بدعنوانیوں سے بہت دور ہے۔ بہرطور قصہ مختصر جب گھر میں میری شکایات کی تعداد بڑھنے لگی تو میں جو پہلے معاشرے کے لئے ناقابلِ قبول تھا۔ اب گھر والوں کے لئے بھی ناقابلِ برداشت ہو گیا تو لوگوں کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد انہوں نے اس مسئلہ کا فوری حل بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ مستقل حل ڈھونڈ لیا تو غلط نہ ہو گا چنانچہ ایک روز ایک ہسپتال کی انتظامیہ کو کچھ دے دلا کر انہوں نے مجھے پاگل خانے جسے مہذب زبان میں مینٹل ہسپتال کہتے ہیں، میں داخل کرا دیا۔ پہلے چند سال میں وہاں پاگل خانہ میں رہا، اب کچھ برسوں سے یہاں مڈوے ہائوس فائونٹین ہائوس میں ہوں۔آپ یقین کریں کہ جب مجھے پاگل ڈکلیئر کر کے مینٹل ہسپتال میں داخل کرایا گیا اس وقت میں واقعتا پاگل نہیں تھا لیکن اب میں پاگلوں کے ساتھ اتنے برس گزارنے کے بعد حقیقتاً پاگل ہو چکا ہوں۔ آپ بتائیں مجھے پاگل کس نے کیا۔ کیا پاکستان کی محبت مجھے لے نہیں ڈوبی؟ کیا میں پاکستان اور اہل پاکستان کے ہاتھوں لٹ نہیں چکا؟

 

آپ نے احساس دلایا تو میرے اندر سے یہ آواز اٹھی کہ اولاد میں سے اگر کچھ بچے ماں کی خواہشوں کی تکمیل نہیں کر رہے تو فرمانبردار بچوں کو نافرمان بچوں کے رویہ کی گالی ماں کو تو نہیں دینی چاہئے۔ بلکہ انہیں تو ماں کی اور بھی زیادہ خدمت اور فرمانبرداری کرنی چاہئے تاکہ ایک تو نافرمانوں کے رویہ اور عدم توجہ کی بھی تلافی ہو اور دوسرے ممکن ہے کہ اچھے بچوں کا رویہ اور طرز عمل دیکھ کرنا فرمان خود یا ان کی آئندہ نسل اپنا طرز عمل بدل لے اور اچھے اور مثبت رویے کا اظہار شروع کر دے۔

وہ دلیل اور دکھ کے ساتھ بات کر رہا تھا اور مجھے اس کی باتوں میں ترشی نہیں کڑواہٹ محسوس ہو رہی تھی کہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ فرض کرو اگر اپنی ماں اچھی نہ ہو تو کیا ہم الزبتھ ٹیلر کو اپنی ماں کہہ اور بنا سکتے ہیں۔ وطن تو ماں کا ہی ایک دوسرا روپ ہے۔ دلیل سے بات کرنے والا وہ پاگل اس لمحے مجھے تھوڑا سا لاجواب نظر آیا۔ تاہم اس کی آنکھوں میں اختلاف کے ڈورے اب بھی دیکھے جا سکتے تھے۔ اگلے کچھ دنوں میں، میںفائوٹین ہائوس میں اپنی شوٹنگ مکمل کر کے دیگر مصروفیات میں لگ گیا۔اس کے کچھ عرصے بعد مجھے فائونٹین ہائوس ہی میں یوم پاکستان کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ مجھے یہ دیکھ کر شدید حیرت اور خوشی ہوئی کہ وہ جو کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کا نام سننا تک گوارا نہ کرتا تھا، سینے پر پاکستان کا بیج آویزاں کئے بار بار پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوا رہا تھا۔ اس کے طرز عمل میں ایسی تبدیلی سے مجھے ایک عجیب سا سرور اور شادمانی کا تاثر ملا۔ تقریب ختم ہوئی تو میں آگے بڑھ کر اس سے ملا۔ اس نے فوراً مجھے پہچان لیا اور بولا۔ ''الزبتھ ٹیلر وی تے کسے دی ماں وے نا، تے ماں کدے بھیڑی نہیں ہوندی'' (الزبتھ ٹیلر بھی تو کسی کی ماں ہے اور ماں کبھی بری نہیں ہوتی) اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ''آپ نے احساس دلایا تو میرے اندر سے یہ آواز اٹھی کہ اولاد میں سے اگر کچھ بچے ماں کی خواہشوں کی تکمیل نہیں کر رہے تو فرمانبردار بچوں کو نافرمان بچوں کے رویہ کی گالی ماں کو تو نہیں دینی چاہئے۔ بلکہ انہیں تو ماں کی اور بھی زیادہ خدمت اور فرمانبرداری کرنی چاہئے تاکہ ایک تو نافرمانوں کے رویہ اور عدم توجہ کی بھی تلافی ہو اور دوسرے ممکن ہے کہ اچھے بچوں کا رویہ اور طرز عمل دیکھ کرنا فرمان خود یا ان کی آئندہ نسل اپنا طرز عمل بدل لے اور اچھے اور مثبت رویے کا اظہار شروع کر دے۔''


وہ کہنے لگا۔'' سر میں پاگل ہوں نا! ڈکلیئرڈ پاگل، اس لئے اگر آپ کو میری باتیں اچھی نہ لگیں تو نظر انداز کر دیں۔'' وہ بظاہر تو پاگل تھا کہ اسے ڈاکٹری سرٹیفکیٹ میں یہ اعزز مل چکا تھا۔ مگر اس کی باتوں میں بلا کی سنجیدگی اور ذہانت تھی۔ کہنے لگا برسوں پہلے جب کبھی میں نارمل لوگوں میں رہتا تھا تو میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اگر کوئی نماز پڑھنے نہیں آتا تو موذن کا یہ کام نہیں کہ وہ اذان دینا چھوڑ دے۔ آپ نے فائونٹین ہائوس میں مجھ سے ہونے والی گفتگو کو ایک پاگل کی گفتگو سمجھ کر نظر انداز کر دیا ہوتا تو شاید آج کی تقریب میں پاکستان زندہ باد کے نعرے اتنے جوش و خروش سے سنائی نہ دیتے۔ آپ یقین کریں یہاں بظاہر سب پاگل ہیں مگر آپ کی دی ہوئی روشنی میں میں نے انہیں پاکستان کی جو اصل تصویر دکھائی ہے اس کی بنا پر اب یہ آپ سے زیادہ اور پہلے سے بہتر پاکستانی ہیں۔ میرے ساتھ آواز ملا کر دیکھ لیجئے چنانچہ ہم دونوں نے باآواز بلند کہا ''پاکستان'' ادھر سے پرجوش جواب آیا، ''زندہ باد''


قارئین محترم! سطور بالا کا مرکزی کردار اب بھی گاہے بگاہے مجھے ملتا رہتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ اگر خدا نے مجھے موقع اور وسائل دیئے تو میں آنے والے وقت میں ایک ایسی دستاویزی فلم بنائوں گا جسے دیکھ کر آئندہ نسلوں میں سے ہر بچہ اس فلاحی اور استحصال سے پاک معاشرے کا اہم کردار ہو گا۔ جس کی نوید بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر قائدین نے قیام پاکستان کے وقت دی تھی۔ ان شاء اﷲ ہم اس کو ویسا ہی پاکستان بنا کر دم لیں گے۔

 

دُکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
بے طرح حالِ دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
ایک تُو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
قاصدا! ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
اے خدا دردِ دل ہے بخششِ دوست
آب و دانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
اب تو اپنا بھی اس گلی میں فراز
آنا جان نہیں کہ تجھ سے کہیں

ahmed_faraz.jpg
فراز

*****

 
10
January

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط 24

لنگر گپ
صاحبو! ہم تو لگی لپٹی رکھے بنا کہے دیتے ہیں کہ دنیا کا لذیذ ترین کھانابھی لنگر کے پکوان کے سامنے پانی بھرتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کوئی مرغ مسلم سے مزیّن کھانا ہو گا۔ نہیں حضور ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ یہ تو بسا اوقات تندوری روٹی کے ساتھ تڑکے والی دال پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔ لنگر کی اس دال کا مزہ فوجی کو ایسا اسیر کر کے چھوڑتا ہے کہ پھر اسے چاہتے ہوئے بھی رہائی کی طلب نہیں ہوتی۔لنگر کا یہ سادہ سا کھانا فوجی جوان کے لئے من و سلویٰ کی مانند ہے جس کا ذائقہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نہیں بھول پاتا ۔ لیکن لنگر کے کھانے کا مزہ جس چیز سے دوبالا ہو تا ہے وہ ہے لنگر گپ،جس کا منبع عموماً کلرک، ڈرائیور، آپریٹرز، اردلی اور بیٹ مین حضرات ہوا کرتے ہیں۔ ذوق خدائی کے حامل یہ 'پراسرار بندے' جب غازی بن کر لنگر کا رُخ کرتے ہیں تو ایک بات کی چار بنا کر اڑاتے ہیں جو بے پر کی ہوتے ہوئے بھی چشم زدن میں پورے گیریژن میں گھوم جاتی ہے۔ اس لنگر گپ میں دیگر محمود و ایاز اپنی اپنی خواہشات، اندازوں اور پیشگوئیوں کا تڑکا لگا کر اسے مزید مسالے دار بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔ کہنے کو تو ان خبروں میں سچائی برائے نام ہی ہوتی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ ان میں سے اکثر بعد میں درست بھی ثابت ہو جایا کرتی ہیں۔ لنگر گپ زیادہ تر تنخواہ کی بڑھوتری، سی او کی پوسٹنگ، یونٹ کی فیلڈ ایریا میں روانگی اور اسی طرح کے دیگر معاملات سے متعلق ہوتی ہے۔ ابتدا میں تو ہم جب بھی کوئی ایسی لنگر گپ سنتے تھے جو کہ ہم تک ہمارے بیٹ مین کے توسط سے پہنچتی تھی تو اس پر یقین کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے تھے لیکن جب ایک دو مرتبہ ہماری اپنی پوسٹنگ کی خبر ہمیں لنگر گپ کے ذریعے ملی تو اس کی افادیت تسلیم کرتے ہی بنی۔


ایک مرتبہ ہماری یونٹ کو پنوں عاقل کینٹ میں پانچ سال گزر گئے تو نئے سٹیشن کے بارے میں لنگر گپ پھیلنا شروع ہو گئی ۔اردلی خبر لایا، ''سر! سنا ہے یونٹ لاہور جا رہی ہے۔''یہ سن کر چشمِ تصور لاہور کی رنگینیوں سے جگمگانے ہی لگی تھی کہ اچانک ویٹرنے کان میں سرگوشی کی، ''سر!پکی بات ہے،یونٹ کا اگلا سٹیشن سیالکوٹ ہوگا۔'' ابھی سیالکوٹ کی دلچسپیوں کے بارے میں سوچنا شروع ہی کیا تھا کہ ڈرائیور بولا ''سر!آپ کو پتہ ہے کہ یونٹ جہلم کے لئے سیلیکٹ ہو گئی ہے، سوچا چلواچھا ہے جہلم پنڈی کے قریب ہے ،آنا جانا رہے گا۔''گھر پہنچے تو بیگم صاحبہ چھوٹتے ہی بولیں ''آپ کو تو کسی بات کی خبر تک نہیں ہوتی۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ یونٹ بہاولپور جارہی ہے۔'' ''ٹھیک ہے بھئی سسرال کے اور قریب ہو جائیں گے'' ہم نے ہنستے ہوئے بات ٹال دی۔دن یونہی گزرتے رہے اورآخر کار جب جی ایچ کیو کی جانب سے لیٹر یونٹ میں موصول ہوا تو یہ دیکھ کر سب کے طوطے اڑ گئے کہ اگلے دو سال کے لئے یونٹ کا پڑائو سیاچن میں ہو گا۔


مالٹے اور سالگرہ
maltyarsalgira.jpgیہ ان دنوں کا قصہ ہے جب آتش صحیح معنوں میں جوان یعنی لفٹین ہوا کرتاتھا۔ ہماری یونٹ پشاور کینٹ میں تعینات تھی اورمال روڈ پر واقع عالیشان آرٹلری میس لفٹینوں کا مسکن تھا۔ میس میں یوں تو دنیا کی ہر نعمت مترقبہ و غیر مترقبہ میسر تھی تاہم کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے ہوٹلنگ کا سہارا بھی لیا جاتا تھا۔لگی بندھی روٹین سے تنگ آکر ان دنوں لفٹین پارٹی نے ایک اوروتیرہ اختیار کر لیا تھا۔ ہم لوگ صبح پی ٹی کے بعد ناشتے کے لئے شادی شدہ افسران کے ہاں جا دھمکتے اوربھابیوں کی ذرا سی خوشامد کر کے گھر کے پکے ہوئے گرما گرم کھانوں سے لطف اندوز ہوا کرتے۔ہمارے ٹو آئی سی میجر ارشد تواکثر اصرار کر کے ہمیں ساتھ لے جاتے اور انواع و اقسام کے کھانوں سے تواضع فرماتے۔


ایک دن ہم سب کو ایک روزہ ریکی کے لئے فیلڈ میں جانا تھا۔ علی الصبح تیار ہو کر میجر ارشد کے گھرپہنچے اور ناشتے سے لطف اندوز ہونے کے بعد جیپ میں فیلڈ ایریا کا رخ کیا۔ شہر سے باہر نکلے تو میجر ارشد فرمانے لگے کہ دور جو سفید بُتّی نظر آ رہی ہے وہاں پہنچنا ہے۔ہم نے بغور دیکھا تو وہ گائے معلوم ہوئی۔اختلاف رائے کا معاملہ تھا لہٰذا شرط لگائی گئی۔ قریب پہنچنے پر وہ گائے ہی نکلی اور ہم شرط جیت گئے۔چنانچہ فورا گاڑی روک کر ریڑھی سے پانچ درجن مالٹے خریدے گئے ۔ مالٹوں پر ہاتھ صاف کرتے کرتے جب ہم مطلوبہ جگہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ کمانڈر وہاں پہلے سے موجود ہیں۔سب نے مالٹے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہی سلیوٹ کیا۔ یہ دیکھ کر کمانڈرکا غصہ عود آیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ کچھ فرماتے لفٹینوں کے سرخیل ماموں شوکت گویا ہوئے کہ سر! آج لیفٹیننٹ ضیا کی سالگرہ ہے اور ہم نے سوچا کہ فیلڈ ایریا میں اور کچھ نہیں تو مالٹے کھا کرہی منا لی جائے۔ یہ سن کر کمانڈر پسیج گئے اور بولے اچھا اگر یہ بات ہے تو چلو پھرکچھ ہلا گلا ہو ہی جائے ۔ ہم سے ایک بڑے سے مالٹے پر چھری پھروائی گئی اوراس کی قاشیں تمام حاضرین میں تقسیم کی گئیں۔کمانڈر سمیت سب لوگوں نے بڑے اہتمام سے ہمیں سالگرہ کی مبارکباد دی اور یوں یہ انوکھی سالگرہ کی تقریب اختتام کو پہنچی۔ اس کے بعد ہم جب بھی سالگرہ منانے کا سوچتے ہیں تو نہ جانے کیوں دھیان کیک کے بجائے مالٹوں کی طرف چلا جاتا ہے۔


نیا لفٹین یونٹ میں
نئے لفٹین کی یونٹ میں پہلی بار آمد اس کے لئے زندگی کا ایک یادگار موقع ہوتا ہے۔ اس موقع کو مزید یادگار بنانے کے لئے یونٹ کی لفٹین پارٹی بہت پہلے سے کمر کس لیتی ہے۔مختلف اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں کہ آنے والے لفٹین کا خیر مقدم کرنے کے لئے کس قسم کے طریقے اختیار کئے جائیں۔سبھی افسر اپنے کیرئیر کی شروعات میں ان مراحل سے گزرتے ہیں۔ان دنوں ہمارے سی او بیچلر ہوا کرتے تھے اور میس میں ہمارے ساتھ ہی مقیم تھے۔ ہر نئے آنے والے افسر کے بیٹ مین کا کردار بھی وہی نبھایا کرتے تھے اور اس سے ایک موٹی رقم اینٹھنے میں بھی کامیاب ہو جاتے تھے جس سے بعد میں یونٹ افسروں کی پارٹی کی جاتی تھی۔میجر ندیم موٹے چشمے اور سٹیتھوسکوپ لگا کر ڈاکٹر کا رول پلے کرتے تھے اور نئے آنے والے لفٹین کا اچھی طرح سے چیک اَپ کرنا ان کا کام ہوتا تھا۔ٹو آئی سی کو سیکنڈ لفٹین کا کردار دیا جاتا جو کہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے ابھی تک پروموٹ نہیں ہو پایا جبکہ اس کے کورس میٹس بریگیڈئیر بن چکے ہیں ۔ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے باقی افسروں کو بھی مختلف ذمہ داریا ں تفویض کی جاتی تھیں۔یہ سب کچھ اتنے عمدہ اور نیچرل طریقے سے کیا جاتا تھا کہ کسی کو شک تک نہیں ہوتا تھا۔


یہ1996کے اواخر کا ذکر ہے ۔سیکنڈ لیفٹیننٹ امجد نے پی ایم اے سے پاس آئوٹ ہونے کے بعد ہماری یونٹ میں رپورٹ کرنا تھی۔ یونٹ پچھلے ایک ماہ سے ایکسرسائز ایریا میں موجودتھی۔ہماری سروس ان دنوں لگ بھگ ایک سال ہو چکی تھی ۔ لفٹین پارٹی کا فیلڈ میس میں اجلاس منعقد ہوا اور امجد کو ریسیو کرنے کا پلان ڈسکس کیا گیا۔ سب نے اپنی اپنی رائے دی ۔ ہم اپنی باری پر گویا ہوئے کہ پرانا طریقہ کار فیلڈ ایریا کے ماحول سے مناسبت نہیں رکھتا لہٰذا کچھ نیا پلان بنانا ہو گا۔ جو بولے وہی کنڈا کھولے کے مصداق ہمیں ہی سکیم بنانے کا ٹاسک دیا گیا۔ ہم نے ایک نہائت اچھوتا پلان تشکیل دیا اور ٹو آئی سی سے اس کی منظوری بھی حاصل کر لی۔ وقت مقررہ پر امجد نے پنوں عاقل کینٹ میں رپورٹ کی جہاں پہلے ہی سے ایک عدد جیپ اسے لینے کے لئے موجود تھی۔ نئے لفٹین صاحب کو اگلے دن کینٹ سے ایکسرسائز ایریا میں پہنچنا تھا۔کوئی بارہ بجے کے قریب وہ یونٹ میں پہنچے اور ہم نے انہیں ریسیو کرکے ٹینٹ کا راستہ دکھایا۔رات کا کھانا ہم دونوں نے ٹینٹ میں ہی تناول کیا۔ اس کے بعد ہم نے امجد کو بتایا سی او کے حکم کے مطابق اس کی تعیناتی پاپا بیٹری میں کر دی گئی ہے جو پانچ کلومیٹر دور ڈیپلائے ہے اور اسے میرے ہمراہ ابھی وہاں چلنا ہو گا۔امجد تو تیا ر ہی بیٹھا تھا، ہم نے جیپ تیار کروائی جس میں ہم سیکنڈ سیٹ پر بیٹھے تھے پچھلی سیٹوں پر امجد کو دو سپاہیوں اور سامان کے ہمراہ ایڈجسٹ کر لیا گیا۔


سردیوں کی راتیں اور گھٹاٹوپ اندھیرے میں ہماری جیپ آہستہ آہستہ سفر کرتی ہوئی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔اچانک ایک جانب سے فائر کی آواز سنائی دی۔ ڈرائیور نے فوراً بریک لگائی۔ سپاہیوں نے پوزیشن لے کر جنگل کی طرف دوڑنا شروع کیا اورچشم زدن میں نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔یکایک ایک جانب سے سر پر بڑے بڑے پگڑ باندھے ہوئے پانچ ہٹے کٹے افراد نمودار ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں دونالی بندوقیں پکڑی ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک فرد نے پاٹ دار آواز میں اپنا نام سولنگی ڈاکو بتایا اور ہینڈز اپ کرنے کا حکم دیا۔ ہم نے تھوڑی بہت مزاحمت کرنے کی کوشش کی تاہم اتنے آدمیوں کے آگے بس چلنا ممکن نہ تھا۔ اس کے بعد ہمارے لئے ہینڈز اپ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ کچھ ہی دیر بعدڈاکو ہمیں محاصرے میں لے کر جنگل کی جانب رواں دواں تھے۔کافی دیر چلنے کے بعد ہم ایک کھنڈر نما گھر میں پہنچے۔ ایک کمرے میں لالٹین کی روشنی میں ہمیں بٹھا کر تفتیش کا آغاز کیا گیا۔ ڈاکوئوں کے سردار نے کچھ دیر ہم سے اردو میں سوال جواب کرنے کے بعد حکم دیا کہ ہمیں کمرے میں بند کردیا جائے اور باقی معاملہ صبح دیکھا جائے گا۔


ڈاکوئوں کے جاتے ہی ہم نے امجد کو ان کی سفاکی کے بارے میں بتایا کہ کچھ ہی عرصہ پہلے کچھ افسران اسی طرح ان کے ہاتھ لگے تھے جن کا آج تک سراغ نہیں مل سکا۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد ہم نے امجد کی توجہ کھڑکی کی جانب دلائی جو کہ ڈاکو بند کرنا بھول گئے تھے۔ ہم دونوں نے باہمی مشورے کے بعد اس کھڑکی سے فرار کا فیصلہ کیا۔جیسے ہی تھوڑا وقت گزرا ہم کھڑکی کے راستے کمرے سے باہر نکل آئے۔باہر گھپ اندھیرا تھا۔ ہم نے قطبی ستارے سے سمت کا تعین کیا اور آہستہ آہستہ رینگنا شروع کر دیا۔تقریباً پندرہ منٹ رینگنے کے بعد ہم ڈاکوئوں کے ڈیرے سے کافی دُور نکل آئے اور اس کے بعد پیدل سفر کا آغاز ہوا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں جیپ کو چھوڑا تھا لیکن وہاں پر کوئی بندہ یا پرندہ موجود نہیں تھا۔ بہرحال راستے پر واپس چلنا شروع کیا اور لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد ہم واپس یونٹ ہیڈکوارٹر میں موجود تھے۔ ہمیں فوراً ایڈجوٹنٹ کیپٹن سلیم کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی گاڑی اور سپاہی بدستور لاپتہ ہیں۔ آپ دونوں کی اس بدترین لاپروائی کے نتیجے میں یونٹ کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔سی او سخت غصے میں ہیں اور انہوں نے اس بارے میں کمانڈر کو بھی آگاہ کر دیا ہے جنہوں نے فی الفور آپ لوگوں کے کورٹ مارشل کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔


ہم واپس ٹینٹ میں آئے ۔وہ رات امجد پر بہت بھاری تھی۔اس نے ہم سے روہانسی آواز میں اس مشکل سے نجات کا حل پوچھا۔ ہم نے اچھے سینیئر کی طرح اسے تسلی دی کہ جان بچنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ نوکری تو آنی جانی چیز ہے۔اُمید ہے کہ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا۔وہ رات امجد نے مصلے پر گزاری اور ہمیں بھی اس کا ساتھ دینا پڑا۔ صبح نو بجے ہمیں سی او کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایڈجوٹنٹ نے فردِ جرم پڑ ھ کر سنائی جس میں سرکاری امور کی انجام دہی میں سنگین غفلت برتنے جیسے جرائم درج تھے۔ سی او نے رعب دار آواز میں پوچھا ''آپ لوگ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں؟۔'' ہم تو چپ رہے لیکن امجد نے روہانسا ہو کرکہا ''سر! میرا تو یونٹ میں پہلا دن تھا اور مجھے تو کسی بات کا پتہ نہیں تھا لہٰذا میری سزا میں کمی کی جائے۔'' سی او نے سزا سنانا شروع کی ۔ ''یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دونوں لفٹین یقینا ایک سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی سزا سات سال قید بامشقت اور نوکری سے برخواستگی ہے۔''یہ سن کر ہم نے امجد کی جانب دیکھا جوکہ چکرا کر گرنے ہی والا تھا کہ سی او کی آوازایک بار پھر سنائی دی ''لیکن ان کی سروس اور تجربہ کو دیکھتے ہوئے انہیں ایک موقع دیا جانا ضروری ہے لہٰذا میں اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے۔۔۔ انہیں تمام افسروں کو ایک اچھا سا ڈنرکروانے کا حکم دیتا ہوں اور سیکنڈ لیفٹیننٹ امجد کو یونٹ میں خوش آمدید کہتا ہوں۔'' یہ سنتے ہی لفٹین پارٹی ٹینٹ کا پردہ اٹھا کر سی او کے آفس میں داخل ہوئی اور ساتھ ہی ویٹر نذیر بھی چائے اور مٹھائی کے ہمراہ وارد ہو گیا۔ سی او سمیت سب افسروں نے گلے مل کر امجد کو مبارکباد دی جو اس نے پرنم آنکھوں اورشدید حیرت کے ساتھ قبول کی کیونکہ مبارکباد دینے والوں میں 'سولنگی ڈاکو' اور اس کے ساتھی بھی شامل تھے۔

......جاری ہے
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
January

تحریر: ڈاکٹر صد ف اکبر

اچھی اور صحت مند زندگی صرف اچھا کھانے پینے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں اچھی اور مثبت دماغی صحت، ایک صحت مند شخصیت اور ایک صحت مند طرز زندگی بھی شامل ہے جس میں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے مختلف بیماریوں سے تحفظ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں صفائی، متوازن خوراک، طرز زندگی، ماحولیاتی عوامل اور معاشی حالات شامل ہیں۔


تندرست دماغ اور تندرست دل ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ جن غذائوں، مشروبات اور طرز زندگی سے دماغ کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں انہی سے دل کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دل اور دماغ کو تندرست اور فعال رکھنے کے لئے خون میں موجود شوگر اور کولیسٹرول کی مقدار میں توازن رکھنا اشد ضروری ہے۔ اپنی دماغی اور جسمانی حالت میں ہونے والی ہر تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے بلڈ پریشر، شوگر لیول اور کولیسٹرول وغیرہ کے بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہئے۔


مشی گن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جسمانی صحت اور تندرستی کا تعلق ہمارے روزمرہ کے طرز زندگی سے ہوتا ہے جسے ہم بہتر بنا کر جسمانی صحت کے ساتھ دل اور دماغ کو بھی مختلف عوارض سے بچا سکتے ہیں۔

sehatmanzindagi.jpg
برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق صحت مند زندگی گزارنے والے افراد میں تشدد پسند ی کا رجحان کم ہوجاتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی دماغی کار کردگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختص کئے ہوئے مقاصد کو بھی حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔


صحت مندطرز زندگی کے لئے صحت مند اور متوازن خوراک کے استعمال کی آگاہی ہونی چاہئے کہ جو خوراک ہم کھا رہے ہیں وہ ہماری صحت کے لئے کس حد تک فائدہ مند ہے۔ ایک صحت مند زندگی کے لئے اپنی روزمرہ کی خوراک میں گوشت کا ایک محدود استعمال کرنا چاہئے۔ ایک تحقیق کے مطابق جن ممالک میں لوگ ایک مخصوص مقدار میں سرخ گوشت استعمال کرتے ہیں، وہاں کے لوگ زیادہ لمبی زندگی جیتے ہیں۔ سرخ گوشت بلڈ پریشر کو بڑھانے اور کینسر جیسی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے لہٰذا سرخ گوشت کے زیادہ استعمال کے بجائے سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کو یقینی بنا نا چاہئے اور شوخ رنگ کے کھانوں کو ترجیح دینی چاہئے۔ وہ پھل اور سبزیاں جو شوخ اور گہرے رنگ کی ہوتی ہیں ان میں
Antioxidant
وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو جسم سے فری ریڈ یکلز کو دور کرتا ہے جو ہمارے خلیات کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اپنے کھانوں میں مختلف رنگوں کے کھانوں کا استعمال رکھیں جن میں سفید (کیلے، مشروم)، پیلے (پائن ایپل، آم)، اورنج (کینو، پپیتا)، لال (سیب، اسٹرابیری، ٹماٹر)، گرین (امرود، کھیرا، سلادپتے )، نیلے (بلیک بیریز، بینگن) وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے میں اومیگا فیٹی ایسڈ کا استعمال دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کے لئے بھی بہترین قرار دیا گیا ہے۔ ہمارا جسم اومیگا فیٹی ایسڈ کی پیداوار نہیں کرتا جس کی وجہ سے خوراک میں اومیگا فیٹی ایسڈ سے بھر پور کھانوں کا استعمال اس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ ان میں مچھلی اور اخروٹ بہترین ماخذ ہیں۔
خوراک میں نمک کی بہت زیادہ مقدار ہائی بلڈپریشر کے خطرے کو بڑھادیتی ہے لہٰذا صحت مند زندگی کے لئے اپنی خوراک میں سوڈیم یعنی نمک کی مقدار محدود رکھنی چاہئے اور دن کے مختلف اوقات میں مختصر وقفوں میں کھانے کو معمول بنا نا چاہئے۔ اس وقت کھائیں جب بھوک محسوس ہو اور تھوڑی سی بھوک چھوڑ کر کھانے سے ہاتھ اٹھالیں۔ یہ لازم نہیں ہے کہ ہر انسان کے کھانے کے اوقات ایک جیسے ہوں لہٰذا اپنے جسم کی سنتے ہوئے اس کی ضرورت کے مطابق خوراک فراہم کریں اور جذباتی خوراک سے پرہیز کریں۔ جذباتی خوراک وہ ہوتی ہے جو ہماری اصل بھوک نہیں ہوتی اور ہم اس وقت کھاتے ہیں جب ڈپریشن یا پھر خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جذباتی کھانوں سے جسم کبھی خوشی یا دکھ محسوس نہیں کرتے مگر بے وقت کھانے پینے سے ہمارے جسم پر اس کے منفی اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ پانی کا زیادہ استعمال بھی ایک صحت مندجسم اور زندگی کے لئے بے حد ضروری ہے، پانی چونکہ ہمارے جسم سے براستہ پیشاب، پسینہ اور سانس لینے کے عمل سے مسلسل خارج ہو رہا ہوتا ہے تو ہمیں اس کی مقدار کو جسم میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پانی کے زیادہ استعمال سے وزن کی کمی میں بھی معاونت ہوتی ہے۔ پانی کی کتنی مقدار ہمارے جسم کے لئے ضروری ہے، اس کا انحصار ہماری جسمانی سرگرمیوں اور ہمارے وزن پر ہوتا ہے۔ عمومی طور پر روزانہ 8-10 گلاس پانی لازمی پینا چاہئے۔

ایک صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے رات کی بھرپور اور پرسکون نیند بے حد اہمیت کی حامل ہے کیونکہ نیند کے دوران ہارمونز کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے جو اضافی کیلوریز کو جلانے میں مدد گارثابت ہوتی ہے۔ مگر نامکمل نیند کی وجہ سے بھوک لگانے والے ہارمونز کی سطح بڑھ جاتی ہے جس کے باعث ہم غلط قسم کی خوراک اور جنک فوڈز سے اپنے وزن میں اضافہ کرلیتے ہیں۔


دل اور دماغ کو بھرپور انداز میں صحت مند رکھنے کے لئے متوازن خوراک، اور صحت بخش غذائوں کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمیاں یعنی چہل قدمی، سائیکلنگ اور ورزش بھی بہت ضروری ہے جس سے جسمانی صحت، فٹنس اور مزاج پر براہ راست اثر پڑتا ہے، بلڈ پریشر نارمل حالت میں اور وزن بھی متوازن رہتا ہے۔ یہ بیماریاں دنیا میں سب سے زیادہ دل کی بیماریوں کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ موت کا سبب بھی بنتی ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ہلکی پھلکی ورزش انسانی صحت میں غیر معمولی اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ قبل از وقت موت کا خدشہ بھی ایک تہائی کم کر دیتی ہے۔ ایک سائنسی جریدے
The American Journal of Clinical Nutrition
میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تازہ ہوا اور ورزش، تنائو میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جبکہ دن کے اوقات میں دھوپ میں بیٹھنے یا چہل قدمی کرنے سے جسم میں وٹامن ڈی بنتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی اوسٹیو پوروسس کے ساتھ ساتھ پھیپھٹرے کے کینسر اور خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ صحت مندطرز زندگی کے اصولوں میں سے ایک کھلی اور تازہ ہوا میں گہری سانس لینا بھی ہے کیونکہ تازہ اور صاف ہوا میں سانس لینے سے سانس کی مختلف بیماریوں مثلاً دمہ، برونکائٹس اور سینے میں درد جیسے امراض کے خطرات کم ہوتے ہیں اور تازہ ہوا میں لمبی اور گہری سانس لینے سے دل کو مناسب مقدار میں آکسیجن مل رہی ہوتی ہے جس سے خون کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے باعث آنکھوں اور دماغ تک خون کی فراہمی درست طریقے سے ہوتی ہے۔ جبکہ گہری سانس لینے سے مدافعتی نظام بھی درست رہتا ہے جس کی وجہ سے ہم مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔

اپنی زندگی میں حرکت کو بڑھاناچاہئے اور نزدیکی مقامات پرآنے جانے کے لئے گاڑی کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دینی چاہئے۔ اسی طرح لفٹ کے استعمال کے بجائے سیڑھیوں سے آناجانا کریں اور بہت دیرتک ٹیلیویژن کے آگے بیٹھے رہنے کے بجائے چہل قدمی یا کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے جو کہ دماغ کی زرخیزی کے لئے سود مند ثابت ہوتا ہے۔


ایک صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے رات کی بھرپور اور پرسکون نیند بے حد اہمیت کی حامل ہے کیونکہ نیند کے دوران ہارمونز کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے جو اضافی کیلوریز کو جلانے میں مدد گارثابت ہوتی ہے۔ مگر نامکمل نیند کی وجہ سے بھوک لگانے والے ہارمونز کی سطح بڑھ جاتی ہے جس کے باعث ہم غلط قسم کی خوراک اور جنک فوڈز سے اپنے وزن میں اضافہ کرلیتے ہیں۔ ایک مکمل تقریباََ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور ہائپرٹینشن جیسی بیماریوں کے امکانات کو بھی کم کرتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق آدھی رات سے پہلے سونے کے لئے لیٹ جانا چاہئے کیونکہ رات کے وقت ہارمونز کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے۔


اپنی زندگی میں حرکت کو بڑھاناچاہئے اور نزدیکی مقامات پرآنے جانے کے لئے گاڑی کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دینی چاہئے۔ اسی طرح لفٹ کے استعمال کے بجائے سیڑھیوں سے آناجانا کریں اور بہت دیرتک ٹیلیویژن کے آگے بیٹھے رہنے کے بجائے چہل قدمی یا کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے جو کہ دماغ کی زرخیزی کے لئے سود مند ثابت ہوتا ہے۔
صحت مند طرز زندگی کو اپنانے کے لئے خود کو مختلف بیماریوں اور حادثات سے بچانے کا احسا س بھی موجود ہونا چاہئے کہ کس طرح ہم ویکسینیشن کے ذریعے، سیٹ بیلٹ باندھ کر یا احتیاط سے کسی بڑے حادثے سے بچ سکتے ہیں اس کے علاوہ ہر مہینے باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ کروانا چاہئے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص پر علاج کیا جاسکے۔


ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیشہ منفی رویوں کے حامل لوگوں اور سوچوں سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنے اردگرد اور اپنے اندر کی شخصیت کو مثبت انداز میں اُجاگر کرنا چاہئے۔ صحت مند طرز زندگی اپنا کر ہم زیست کا ہر لمحہ بھرپور اور مثبت طرز سے گزار سکتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

کھانے کے بعد مجھے یونہی خیال آیا کہ شیطان اور حکومت آپا دیر سے غائب ہیں۔ تلاش کرنے پر دیکھتا ہوں کہ دونوں فوارے کے پاس بیٹھے ہیں اور رومان انگیز گفتگو ہو رہی ہے۔ میں چھپ کر سُننے لگا۔
شیطان بولے: ''سچ مچ تم بہت پیاری معلوم ہو رہی ہو۔''
حکومت آپا نے کہا : ''سچ مچ میرے پاس اس وقت روپے نہیں ہیں، ورنہ ضرور قرض دے دیتی۔''
شیطان بولے: ''یقینا چند مہینوں میں تمہاری رنگت نکھر آئی ہے۔ جب تم جون میں آئیں، تو تمہاری جون بدلی ہوئی تھی۔''
''یقینا میرے پاس روپے نہیں ہیں''
''روپے کون مانگتا ہے تم سے؟ بھلا ایسی رومان پَرور فضا میںجہاں باغ کا ایک تنہا گوشہ ہو، فوارہ چل رہا ہو، چاندنی چھٹکی ہوئی ہو اور تم سامنے ہو، وہاں روپوں کا کیسے خیال آسکتا ہے۔ وہاںتو ایک معصوم سی آرزو دل میں کروٹ لینے لگتی ہے۔''
سچ مچ؟ حکومت آپا شرما گئیں۔
''ہاں سچ مچ''
''بھلا اس وقت آپ کو کس چیز کی آرزو ہے؟''
''کلو رو فارم کی۔ '' شیطان بولے۔

شفیق الرحمن کی کتاب '' حماقتیں'' سے اقتباس۔

*****

 
10
January

تحریر: محمد امجد چوہدری

آرمی سپیشل چلڈرن سکول اینڈ کالج

سیالکوٹ کینٹ میں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور بحالی میں پیش پیش ایسا ادارہ جس کے طالب علموں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار اور پرچم بلند کیا

انسان ہونا سب سے بڑی نعمت ہے اور جو جسمانی و ذہنی لحاظ سے نارمل ہے اسے اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہونا چاہئے۔ ہمارے اردگرد ایسے انسان بھی بستے ہیں جو ''عام'' نہیں ہوتے۔ انہیں قدرت کچھ ہٹ کر پیدا کرتی ہے یا پھر اوائل زندگی میں ہی کوئی حادثہ انہیں عام لوگوں سے ''الگ'' کر دیتا ہے۔ انہیں قدرت آزمائش کے لئے چن لیتی ہے۔ یہ خصوصی افراد ہماری خصوصی توجہ اور برتائو کے مرہون ہوتے ہیں۔ تاہم عمومی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ معاشرے میں انہیں قدم قدم پر عدم مساوات ، بے حسی، منفی سوچ اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں تعلیم، صحت، عزتِ نفس، روزگار، معیار زندگی، سماجی تحفظ،سیاسی و سماجی سرگرمیوں، ثقافتی زندگی اور فرصت کے لمحات پُر لطف طریقے سے گزارنے کی سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جوں جوں وقت کا پہیہ آگے بڑھتا ہے، ان کی مشکلات اور مصیبتوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دوسروں کی تو خیر، بعض اوقات انہیں اپنوں کی توجہ بھی میسر نہیں ہوتی۔ بے حسی کے اس عالم اور خود غرضی کی اس دنیا میں کچھ افراد اور ادارے ایسے بھی ہیں جو اِن ''خصوصی'' افراد کے لئے امید کی کرن اور ان کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کا ذریعہ ہیں، وہ عمر بھر معذوری کا اسیر ہونے کے بجائے انہیں متحرک، باوقار اور مفید زندگی گزارنے کا سلیقہ اور ہنر سکھاتے ہیں۔

littleangelhome.jpg
سیالکوٹ کینٹ میں پاک فوج کے زیر انتظام آرمی سپیشل چلڈرن سکول اینڈ کالج (لٹل اینجلز ہوم) ایسا ہی ایک ادارہ ہے جو گزشتہ سترہ سال سے ذہنی و جسمانی طور پر معذور بچوں اور ان کے والدین کے لئے امید کا چراغ بنا ہوا ہے۔ 2001ء میں صرف چار طلباء سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے ''لٹل اینجلز ہوم'' میں اس وقت تقریباً ڈیڑھ سو خصوصی بچے تعلیم و تربیت اور خصوصی مہارتوں سے آراستہ ہورہے ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک 1300 سے زائد خصوصی بچے یہاں سے امید، اعتماد اورمختلف شعبہ ہائے زندگی میں پیشہ ورانہ مہارتوں سے مزیّن ہو کر معاشرے کے کارآمد اور مفید شہری بن چکے ہیں۔ خاص طور پر کھیل کے میدان میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی ہمت اور عزم سے کسی معذوری کو آڑے نہیں آنے دیا۔ وہ مختلف کھیلوں کے قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں فتح کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں۔ نومبر 2017ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی 17 ویں پنجاب سپیشل اولمپکس گیمز میں سونے کے 38، چاندی کے 23 اور کانسی کے 13 میڈلز کے ساتھ مجموعی طور پر پہلی پوزیشن ''لٹل اینجلز ہوم'' کی تازہ کامیابی ہے۔ اس سے قبل بھی 2015ء میں وہ یہ اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ لاہور، کراچی، بہاولپور ، پشاور، سیالکوٹ میں منعقد ہونے والے مختلف مقابلوں میں آرمی سپیشل چلڈرن سکول کے طلباء اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ لاس اینجلس امریکہ میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل سپیشل اولمپکس 2015ء میں 50 میٹر بیک سٹروک سوئمنگ اور 50 میٹر فری اسٹائل میں بالترتیب گولڈ اور سلور میڈل حاصل کرکے دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے والی اقصیٰ جنجوعہ کا تعلق بھی اسی ادارے سے ہے۔ یہیں سے اس نے تیراکی کے جواہر اور دائو پیچ سیکھے اور ثابت کیا کہ خصوصی بچے کسی سے کم نہیں ہوتے۔ اگر انہیں حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ سازگار ماحول فراہم کردیا جائے تو وہ کسی بھی میدان میں کامیابیوں کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔


''لٹل اینجلز ہوم'' کی پرنسپل محترمہ ثوبیہ عدنان 2012ء سے اس ادارے سے وابستہ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر سپیچ تھراپسٹ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے۔ جسمانی و ذہنی طور پر معذور افراد کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی خاص خوبی سے نوازا ہوتا ہے جسے ہم تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دفعہ اس ''خوبی یا صلاحیت'' کی شناخت ہوجائے تو پھر اسے نکھارنا، سنوارنا مشکل نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ سپورٹس ایک ایسا شعبہ ہے جسے تمام بچے بلا امتیاز صنف بہت پسند کرتے ہیں۔ ہمارے سکول کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہاں نہ صرف سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے بلکہ یہاں کے ٹیچرز اور سٹاف خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں میں بھی باقاعدہ قابلیت کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ادارے کے بچے کھیلوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں۔ وہ اپنی کمزوریوں کو فراموش کرکے نئے خیالات اور منزلوں سے روشناس ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لئے نہ صرف تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں بلکہ عملی طور پر حصہ لینے کے لئے اِن ڈور اور آئوٹ ڈور سرگرمیاں مسلسل جاری رہتی ہیں۔ فوٹو گرافی، پینٹنگز اور دوسری تعمیری اور تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں میں بھرپور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے عملی زندگی میں قدم رکھنے کے طریقے سیکھتے ہیں۔

littleangelhome1.jpg
خصوصی بچے جہاں والدین کی آزمائش ہوتے ہیں وہیں اس شعبے کے اساتذہ کے لیے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ایسے پھول ہیں کہ پیار، توجہ اور ہمدردی کے جذبات سے کھل اٹھتے ہیں۔ ذرا سی بے توجہی انہیں مرجھا دیتی ہے۔ یہ نازک صورتحال والدین اور اساتذہ کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتی۔ ''لٹل اینجلز ہوم'' کے اساتذہ اور سٹاف اس سلسلے میں انتہائی حساس ہیں۔ انہیں اپنے شعبے میں مہارت کے ساتھ ساتھ خصوصی بچوں سے برتائو، حسن اخلاق اور ان کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوتا ہے۔ وہ بچے کی معذوری یا کمزوری کے مطابق مختلف حکمت عملیاں ترتیب دے کر انہیں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی تربیت دیتے ہیں۔ وہ ان کی قدم قدم پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر سازگار، ہمدردانہ، حوصلہ افزاء ماحول میں ان کے اعتماد میں بے حد اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کی صلاحیتیں اجاگر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔چونکہ ہر بچے کی معذوری مختلف نوعیت کی ہوتی ہے اور اس کے اپنے مختلف تقاضے ہوتے ہیں اس لئے اساتذہ کے لئے ہر بچے پر انفرادی توجہ دینا از حد ضروری ہے۔


''لٹل اینجلز ہوم'' میں اس وقت 147 بچے زیر تربیت ہیں جن میں گونگے بہرے، نابینا، ذہنی و جسمانی معذور شامل ہیں۔ ہر بچے کی معذوری کے لحاظ سے ماہر اساتذہ اور سٹاف موجود ہے جو انہیں کمزوری پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ان میں چھپی قدرتی صلاحیتوں کو جاننے اورانہیں سکھانے پر توجہ مرکوز کئے رکھتے ہیں۔والدین اور اساتذہ کی مسلسل کوشش اور توجہ ہی کامیابی کا زینہ ہیں۔ پرنسپل ثوبیہ عدنان اس حوالے سے بتاتی ہیں کہ ''لٹل اینجلز ہوم'' مختلف شعبوں میں ماہر اساتذہ کے ساتھ ساتھ متعلقہ تجربہ کار سٹاف اور سہولیات سے مزین ہے یہی وجہ ہے کہ خصوصی بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے ضمن میں ہماری کامیابیاں نمایاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کامیابی کا ایک راز یہ بھی کہ ہم اپنے اساتذہ اور سٹاف کے لئے تجدیدی ورکشاپس کا بھی انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ جن میں وہ جدید مہارتوں اور نت نئے طریقوں سے لیس ہو کر بہتر طور پر خصوصی بچوں کی نگہداشت اور ذہنی نشوونما میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ جدید سہولیات اور آلات کا استعمال بھی اہم ہے۔ دنیا میں خصوصی بچوں کی ضروریات کے مطابق بہت سے جدید آلات منظر عام پر آرہے ہیں جن کے استعمال سے بہت سے بچے نارمل زندگی بسر کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ بس ضرورت مسلسل توجہ اور سازگار ماحول کی فراہمی کی ہے۔ اس سلسلے میں پاک فوج کے 8 ڈویژن کی ترجیحات واضح اور نمایاں رہی ہیں۔ انہوں نے اس ادارے کی ضروریات اور تقاضوں کو ہمیشہ اہمیت دی ہے یہی وجہ ہے کہ اساتذہ اور سٹاف مکمل اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔


''لٹل اینجلز ہوم''، کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کے علاوہ خصوصی بچوں کے لئے مختلف تاریخی مقامات کی سیر اور سوشل تقریبات کا اہتمام بھی کرتا رہتا ہے تاکہ وہ عام سماجی ماحول میں رہنے کا ہنر سیکھ سکیں۔ اس حوالے سے محترمہ ثوبیہ عدنان نے بتایا کہ بچوں کو مستقبل میں پیش آنے والی ممکنہ مشکلات اورمختلف حالات سے نبردآزماہونے کے لئے ایسی سرگرمیاں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ ہم اس میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ آج بہت سے خصوصی بچے معذوری کے باوجود عام سماجی زندگی بسر کررہے ہیں۔ وہ مختلف حالات کابآسانی مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ متعدد بچے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر عملی شعبوں میں باقاعدہ کام کررہے ہیں۔ سیالکوٹ چونکہ ایک صنعتی شہر ہے، یہاں کے بچے مقامی ہنر بھی سیکھ رہے ہیں۔ خصوصی بچے ان میں کافی دلچسپی لیتے ہیں۔ دستکاری کے ذریعے نہ صرف ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ وہ معاشرے کے کارآمد افراد بھی بنتے ہیں۔


عالمی فلاحی ادارہ ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچاس لاکھ سے زائد معذور افرادموجود ہیں۔ ان اعدادوشمار کے تناظر میں ''لٹل اینجلزہوم'' جیسے اداروں کی اشد ضرورت ہے۔ آرمی سپیشل چلڈرن سکول اینڈ کالج کو بھی اسی تناظر میں وسعت دینے کے منصوبے پر عمل جاری ہے تاکہ مزید خصوصی بچے یہاں موجود سہولیات سے مستفیدہوسکیں۔ اس سلسلے میں 32 کنال پر محیط ایک جدید ترین عمارت تعمیر کی جارہی ہے جس پر 64 ملین روپے لاگت آئے گی۔ خصوصی بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے 8 ڈویژن کے یہ اقدامات قابل تحسین اور قابل تقلید ہیں۔ خصوصی افراد کو ہماری خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہیں معاشرے میں مساوی سلوک اور یکساں سہولیات فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری میں شامل ہے۔اگر کوئی معاشرہ اس حوالے سے بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ بھی ''معذور'' ہی کہلاتا ہے کیونکہ بے حسی سب سے بڑی معذوری ہے۔

 
10
January

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر معین الدین

ایک ناتواں کمزور اور لاغر بوڑھا 52سال کی قید بامشقت دشمن کے ملک میں گزار کر واپس اپنے ہیڈکوارٹر آتا ہے، وہاں موجود فوجی افسر کو فولادی استقلال کے ساتھ سلیوٹ کرتا ہے۔ اس کی کٹی ہوئی زبان کچھ کہنے سے قاصر ہوتی ہے۔ مگر عقابی چمک دار آنکھیں کہتی ہیں کہ سپاہی مقبول حسین اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہے سر! سپاہی مقبول حسین ایک گمشدہ قوم کا سپاہی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں سندھی، مہاجر، پنجابی، بنگالی اور بلوچ جیسی نسلیں آباد نہ تھیں صرف اور صرف پاکستانی قوم بستی تھی۔ اس ملک کا نام دنیا میں روشن تھا۔ پاکستان تعلیم، صنعت، زراعت میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ ملک کی بیورکریسی میں تعلیم یافتہ نوجوان جو پبلک کمیشن کا کڑا امتحان پاس کر سکتے تھے، موجود تھے۔ سفارش، اقرباء پروری، لسانیت اور رشوت ستانی میں کم لوگ مبتلا تھے مگر یہ بھی شرمائے شرمائے اور سہمے سہمے سے رہتے تھے کہ کسی محلہ دار کو رشتہ دار کو اور عام لوگوں کی اس کی بھنک نہ پڑ جائے۔ لوگ عزت کے لئے مرتے تھے، پیسے کو ہاتھ کا میل سمجھتے تھے۔ شرمساروں کے لئے چلو بھر پانی کافی ہوتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور پاکستانیوں کی عزت سمندر پار بھی کی جاتی تھی۔ پاکستان یورپ کے اکثر ممالک سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔ جرمنی جیسا ملک تک پاکستانی امداد کا شکر گزار تھا۔

gumshudahero.jpg


کشمیر کی آزادی کے لئے پاکستان کشمیریوں کی بھرپور مدد کرنے کی پوزیشن میں تھا اور کر بھی رہا تھا۔ ایسے میں نام نہاد اقوام متحدہ کی مسلسل کوتاہیوں، نظر انداز کرنے اور کشمیریوں پر ظلم کے خلاف لائن آف کنٹرول پر جنگ چھڑ گئی۔ اس موقع پر پاکستان کے چند عیار دوستوں نے پاکستان کو یقین دلایا کہ جنگ صرف متنازعہ علاقے تک محدود رہے گی اور انڈیا بین الاقوامی سرحد ہر گز پار نہ کرے گا اور بدقسمتی سے ہم نے یقین بھی کر لیا۔ پاکستان نے پیش قدمی شروع کی، دریائے توی ایک جھٹکے میں پار ہو گیا۔ چھمب جوڑیاں فتح ہوا اور پٹھان کوٹ پر قبضہ ہوا ہی چاہتا تھا کہ 5گنا بڑے دشمن نے جب اپنی دال کشمیر میں نہ گلتی دیکھی تو لاہور پر اچانک حملہ کر دیا۔ انہیں اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ شام کو انہوں نے لاہورپر قبضے کی فتح کا جشن لاہور جم خانہ میں شراب پی کر منانے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ دشمن کی ایک جیپ بی آر بی نہر کو کراس کر کے شالامار باغ تک پہنچ گئی کہ اﷲتعالیٰ نے پاکستان کی مدد کی۔ اس جیپ کے افسر نے سوچا کہ ہمیں کہیں بھی پاکستانی فوج کی حرکت نظر نہیں آئی کہیں یہ اس کی چال نہ ہو اور وہ ہم کو گھیر کر مارنا چاہتا ہو۔ لہٰذا انڈین فوج کو بی آر بی نہر کراس نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ بس اس دوران پاکستانی فوج کشمیر کے محاذ سے وہاں پہنچ گئی اور شام کو لاہور جم خانہ میں فتح کا جشن منانے والے 17روز تک بی آر بی نہر کا پانی پیتے رہے اور دھول چاٹتے رہے۔ بی آر بی نہر پاکستان کا اسٹالن گراڈ بن گئی جہاں سے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی افواج کی شکست کا آغاز ہوا تھا۔ ایسے ہی بی آر بی سے دشمن کی شکست کا آغاز ہوا۔


پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔ لاہور کے باسی ہاتھوں میں ڈنڈے لئے سرحدوں کی طرف نکل پڑے۔ بڑی مشکل سے ان کو واپس کیا گیا کہ ان کی فوج دشمن کے لئے کافی ہے۔ سیالکوٹ کے محاذ پر دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی۔ جس میں 450انڈین ٹینک کا مقابلہ 150پاکستانی ٹینکوں نے کیا۔ نوجوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھے اور ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے اور چونڈہ کے میدان کو دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔ ہوائی فوج نے دشمن کے ہوائی اڈوں اور بحری فوج نے دوارکا کے قلعہ کو قبرستان میں تبدیل کر دیا۔ نوجوان جوق در جوق فوج میں شامل ہونے لگے۔ بیٹیوں نے اپنا تمام زیور اور جہیز دفاعی فنڈز کو دے دیا اور بچوں نے اپنا جیب خرچ۔ پیر صاحب پگاڑا کے بہادر ''حر'' ہاتھ میں بیلچہ لے کر فوج کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ شاعروں نے ایسی شاعری کی اور گُلو کاروں نے ایسی گُلوکاری کی جو امر ہو گئی اور آج تک ایسی شاعری اور گلوکاری پھر نہ سنی گئی۔ ہماری فوج کے افسران نے سپاہیوں کے ساتھ اگلے مورچوں پر جام شہادت نوش کیا۔ آج بی آر بی نہر کے کنارے کنارے میلوں تک شہیدوں کے مزارات اس کی گواہی دیتے ہیں کہ جنگیں اسلحے کی بنیاد پر نہیں شہادت کے جذبے سے لڑی جاتی ہیں۔ ہماری فتح یہ کیا کم تھی کہ ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیئے تھے اور اس کو منہ کی کھانے پر مجبور کر دیا تھا۔


سپاہی مقبول حسین بھی اسی دور کا سپاہی تھا جو دشمن کے ہتھے چڑھ گیا۔ بزدل دشمن نے اس کی زندگی موت سے بدتر کر دی۔ تمام اخلاقی اور جنگی قوانین کو نظر انداز کر کے اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے اور اپنی جھوٹی تسکین کے لئے اس کی زبان سے پاکستان مخالف نعرہ لگوانے کی ناکام کوشش کی مگر یہ مردآہن اقبال کا سپاہی تھا، زبان کٹوا لی مگر اپنی زبان کو پاکستان کی مخالفت میں استعمال نہ کیا۔


جب ظلم کی انتہا ہو گئی تو بادل نخواستہ اس کو پاکستان بھجوا دیا گیا۔ پاکستان کا ہیرو گمشدہ قوم کا ہیرو اور بہادر سپوت جس کو عیار اور بزدل دشمن نے غیرقانونی طور پر 52سال جنگی قیدی بنائے رکھا، واپس آ گیا۔ فوج کا بندہ تھا فوج نے اس کو ستارۂ جرأت سے نوازا۔ مگر وہ جس دور میں واپس آیا وہ تو کوئی نئی دنیا ہے۔ لہٰذا کسی اخبار کے اولین صفحہ پر اس کی تصویر کو جگہ نہ ملی۔ نہ اس کی زندگی پر کسی نے لکھا نہ شاعری کی نہ کسی گلوکار نے کوئی نغمہ گایا نہ کسی ٹی وی پروگرام کی زینت بنایا گیا۔ نہ کسی ٹاک شوز کا حصہ ہوا نہ رمضان کے کسی پروگرام میں وہ بلایا گیا۔ کیونکہ وہ تو صرف ایک سپاہی ہے اور اپنے وطن کی عزت اور محبت میں مر مٹنے والے ایسے انسان سے کسی ٹی وی کی ریٹنگ کہاں بڑھ سکتی ہے۔ کسی نے اس کی خاموش زبان مگر باتیں کرتی آنکھوں کا تعارف نہیں کروایا۔ کوئی اور ملک ہوتا تو ہفتوں اس کے تذکرے ہوتے۔ اس کی جرأت بہادری کے قصے بچے بچے کی زبان پر آتے، اس پر ڈرامے بنتے، فلم بنتی، دشمن کے ظلم کے چرچے ہوتے۔ عیار دشمن کے بزدلانہ رویے سے دنیا کو رُوشناس کروایا جاتا۔ پوچھا جاتا کس قانون کے تحت جنگی قیدی کی زبان کاٹی گئی، اور 52سال تک قید رکھا گیا۔ ظالموں سے حساب مانگا جاتا۔ مگر افسوس صد افسوس یہ ہو نہ سکا۔ سپاہی مقبول حسین اس گمشدہ دور کا انسان ہے کہ جب ایک بیٹے نے فوج کی نوکری چھو ڑ کر تجارت کی ٹھانی اور اپنے باپ کے منصب سے فائدہ اٹھایا تو قوم یہ برداشت نہ کر پائی اور اٹھ کھڑی ہوئی اور وہ باپ جس نے جب اپنے بارے میں عوام کو گالی دیتے سنا تو اس کی غیرت نے صدارت کی کرسی پر بیٹھنا گوارا نہ کیا اور الگ ہو گیا۔ آج کے دور سے اس گمشدہ دور کا موازنہ ناممکن ہے۔ آج وہ قوم کہیں گم ہو چکی ہے اب تو صرف لسانیت، ناانصافی، بے شرمی، ظلم، رشوت ستانی اور جھوٹ کا راج ہے۔ آج کے دور میں غیرت آنی جانی چیز ہے۔ سپاہی مقبول حسین ایک غلط دور میں آ گیا۔ میں ڈرتا ہوں کہیں اس کی آنکھیں یہ سوال نہ کر لیں کہ کیا اس نے اور ہزاروں شہیدوں نے یہ قربانی آج کے دورکے پاکستان اور ان بکھرے تنکوں کے لئے دی تھی۔


لیکن ذرا توقف کیجئے۔ فضا گھمبیر ہے مگر مکمل تاریک نہیں۔ دیکھئے تو سپاہی مقبول کے قبیلے کے لوگ اب بھی اپنے جنوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وطن کی محبت سے سرشار ہیں۔ سرکٹانے کو کل بھی تیار تھے اور آج بھی جوشِ جنوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔پاکستان کی محبت میں پاک افواج کے افسراور جوان آج بھی شہادت درشہادت کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کشمیر کا محاذ ہو ، بین الاقوامی سرحد ہو یا اندرونی صفوں میں پوشیدہ دہشت گرد۔ پاک افواج کے بہادر افسران اور جوان تمام محاذوں پر چومُکھی لڑائی نہایت کامیابی سے لڑ رہے ہیں۔ یہ سرفروش پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے ضامن ہیں۔ پوری پاکستانی قوم بھی اپنی افواج کے ساتھ ہے۔ ذرا غور سے دیکھئے تو مایوسی، بے جاتنقید، انتشار اور نفاق کے بیج بونا چند لوگوں کا ایجنڈا ہے۔ کچھ کو تو بیرونی عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے اورکچھ بزعمِ خود انصاف اور امن کے علمبردار بن بیٹھے ہیں۔ ان نادان دوستوں کو دنیا میں اسلحہ کے ڈھیر لگانے والے ممالک، دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنے والی افواج، فلسطین اور کشمیر کے بے بس عوام اور دنیا میں کروڑوں انسانوں کا معاشی استحصال نظر نہیں آتا۔ نظر جا کر ٹھہرتی ہے تو صرف اور صرف پاکستانی افواج اور انٹیلی جنس کے اداروں پر کہ اُن پر تنقید صاحبِ علم ہونے کی سند جو ٹھہری۔


سپاہی مقبول کی گمشدہ قوم آج بھی پوری توانائی اور طاقت سے موجود ہے۔ وطن کی محبت سے آج بھی سرشار ہے۔ اُسے اپنی پاک افواج پر آج بھی ناز ہے۔ بس دیکھنے والی آنکھ چاہئے۔ ایک عرفان چاہئے۔ یقین اور ایمان کی دولت چاہئے کہ بقول قائداعظم ''دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو پاکستان کو مٹا سکے۔''

پروفیسر ڈاکٹر معین الدین احمد عرصہ دراز سے تعلیم اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ 7کتابوں کے مصنف اور تقریباً 200تحقیقی پرچے بین الاقوامی اور قومی سائنسی جرنلز میں چھپوا چکے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی میں فارن پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
 
10
January

تحریر: یاسر پیرزادہ

میں ساڑھے تین ہزار سال قبل مصر میں پیدا ہوا۔میں فرعون تھا۔میں ایک عظیم الشان سلطنت کا شہنشاہ تھا ، ہزاروں کنیزیں اور غلام میرے تصرف میں تھے، میرے منہ سے نکلا ہوا ہر حرف خدائی حکم سمجھا جاتا تھا۔ میرے سپہ سالار،فوج کے جوان،امور مملکت کے نگران،وزیر،مشیر،درباری،سرکاری اہلکار سب نے میری ذاتی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا تھا۔میرے ایک اشارے پر لوگوں کی زندگی اور موت کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔مجھے میرے کاہن نے بتایا تھا کہ فرعون مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتے ہیں اور پھر ویسے ہی بادشاہ بن کر دنیا میں واپس آتے ہیں۔اسی لئے میں نے اپنے لئے اہرام تعمیر کروائے،ان میں سونے چاندی کے زیورات رکھوائے،ضرورت کی تمام اشیاء محفوظ کیں اور حکم دیا کہ مرنے کے بعد مجھے حنوط کرکے اہرام میں لٹا دیا جائے اور میرے ساتھ تمام غلاموں اور کنیزوں کو بھی اہرام میں ہی دفن کر دیا جائے تاکہ دوبارہ زندہ ہونے پر مجھے کسی قسم کی پرابلم نہ ہو۔میں مصر پر پچیس برس حکومت کرنے کے بعد فوت ہو گیا۔


میں ایک غلام ہوں، دو ہزار برس قبل سلطنت روم کے ایک چھوٹے سے شہر میں پیدا ہوا۔میرا باپ بھی ایک غلام تھا۔ میں نے اپنے باپ کو ہمیشہ مالک کے حکم کی بجاآوری کرتے دیکھا اور جلد ہی یہ بات سیکھ لی کہ ایک اچھا غلام وہی ہوتا ہے جو اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرے۔ ہمارے شہر میں غلاموں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں،جہاں امراء بولیاں لگا کر ہمیں خریدا کرتے تھے، ان میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ بچے کم قیمت پر بکتے جبکہ جوان عورتوں اور مردوں کی اچھی بولی لگتی۔ خریدار ''مال'' کو اچھی طرح پرکھتا اور پوری تسلی کے بعد اس کی قیمت ادا کرتا۔ ہمارے شہر میں یہ کاروبار بہت عروج پر تھا اور شائد اسی لئے بادشاہ نے ہماری فروخت پر ایک ٹیکس بھی عائد کر دیا تھا۔ میں ایک تنومند جوان تھا،چوڑا چکلہ سینہ،کسرتی جسم اور نکلتا ہوا قد۔ ہر کسی کی خواہش ہوتی کہ مجھے میرے مالک سے منہ مانگے داموں خرید لے مگر میرا مالک کبھی اس پر راضی نہ ہوتا۔ پھر یوں ہوا کہ جولیس سیزر نے ہمارے علاقے پر چڑھائی کی اور تمام غلاموں کو قبضے میں لینے کے بعد بیچ دیا۔ ان 53,000غلامو ں کے ساتھ میں بھی شامل تھا۔ میرا نیا مالک مجھے پا کر بہت خوش ہوا،مگر وہ ایک نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا۔ وہ صبح شام مجھ سے کام کرواتا اور جس روز مجھے کام کے دوران اونگھ بھی آجاتی اس دن مجھے سو کوڑے مارے جاتے۔ لیکن میں نے کبھی چوں بھی نہیں کی کیونکہ میرے باپ نے مجھے مالک کی تابعداری کے علاوہ کچھ سکھایا ہی نہیں تھا۔ میں نے مرتے دم تک اپنے مالک کی خدمت کی اور جب میں بالکل بوڑھا ہو گیا تو میرے مالک نے مجھے اونے پونے داموں فروخت کردیا۔ وہ سخت سردی کے دن تھے اور میرے بدن پر ایک چیتھڑا بھی نہیں تھا۔ میں اس بڑھاپے میں سردی برداشت نہ کر سکا اور اپنے نئے مالک کی چوکھٹ پر جان کی بازی ہار گیا۔

mainkonhu.jpgمیں سقراط ہوں،مجھ پر مقدمہ چلایا جا چکا ہے،مجھے موت کا حکم نامہ مل چکا ہے۔ میرے دوست،شاگرد بہت آزردہ ہیں،ان کے خیال میں مجھے مرنا نہیں چاہئے،زہر کا پیالہ پینے کے بجائے مجھے جیل سے نکل بھاگنا چاہئے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر ایک فلاسفرموت سے ڈر کر بھاگ گیا تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ سچا فلسفی ہر گز نہیں تھا۔ ویسے بھی ایتھنز سے نکلنے کے بعد اگر میں کہیں دوسری جگہ گیا تو وہاں کے حکمران بھی میرے افکار کو قبول کرنے کے بجائے ایتھنز کی اشرافیہ کی طرح میرے خلاف ہو جائیں گے اور پھر میں کسی صورت بھی وہ معاہدۂ عمرانی توڑنے کے حق میں نہیں ہوں جس کے تحت میں نے اس ملک کے قوانین کے تابع رہنا قبول کیا۔ جیل سے فرار کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوگا کہ میں اس معاہدۂ عمرانی کی خلاف ورزی کروں جو کہ ہر طرح سے ایک غیر اصولی فعل ہوگا۔ آخر کار جیل کے داروغہ نے مجھے زہر کا پیالہ تھمادیا جسے میں نے سکون کے ساتھ پیا۔ پھر مجھے چلنے کے لئے کہا گیا حتیٰ کہ میری ٹانگیں بے حس ہو گئیں اور میں گر پڑا۔ داروغہ نے میرے پیروں کو ٹٹول کر دیکھا،ان میں کوئی جان نہیں تھی۔ دھیرے دھیرے زہر میرے دل میں سرایت کر گیا،میں مر چکا تھا۔


میرا نام آئیکو ہے،میری عمر تین سال ہے،میں ہیرو شیما میں پیدا ہوا۔ میرے ماں باپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں پورے جاپان میں مجھ سے زیادہ خوبصورت بچہ اور کوئی نہیں ہے۔ جب بھی وہ مجھے بہلانے کے لئے مختلف قسم کی حرکتیں کرتے،مجھے ہنسی آ جاتی اور میری کلکاریاں دیکھ کر وہ دیوانے ہو جاتے۔ میری بڑی بہن بھی مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اور گھنٹوں مجھے اپنے ساتھ گڈے گڑیوں کے کھیل کھلاتی ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میر ے ماں باپ اور بہن کے لئے پوری کائنات میں مجھ سے زیادہ قیمتی چیز اور کوئی نہیں لیکن6اگست 1945کو پیر کی صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر جب میں اپنے گھر میں کھیل رہا تھا، میری بڑی بہن سو رہی تھی اور میری ماں گھر کا کام کر رہی تھی کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اورہمارے شہر کے لاکھوں لوگ مر گئے جو زندہ بچے وہ مُردوں سے بد تر ٹھہرے۔ اس روز میرے ماں باپ کی کل کائنات اجڑ گئی،میں بھی مر گیا۔


میں ایک خلاباز ہوں اور امریکی ادارے ناسا میں کام کرتا ہوں۔ میری نوکری ایک ''ڈریم جاب '' ہے کیونکہ خلابازی میرا جنون تھا اور یہی اب میری نوکری بھی ہے۔ میراطرز زندگی شاہانہ ہے جس کا خواب ہر امریکی نوجوان دیکھتا ہے۔ اس ویک اینڈ پر میں ایک نائٹ کلب سے واپس آ رہا تھا، رات خاصی ہو چکی تھی اور میں نے شراب بھی پی رکھی تھی۔ نشے میں موڑ کاٹتے وقت اچانک سامنے ایک ٹرک آ گیا، میں نے کار کو موڑنے کی کوشش کی مگر دیر ہو چکی تھی۔ ٹرک کی رفتار بہت زیادہ تھی (غالباً اس کے ڈرائیور نے بھی پی رکھی تھی )، اس نے بریک لگانے کی بھی زحمت نہیں کی اور میری گاڑی کو روندتا ہوا نکل گیا۔ چند منٹ بعد ایک چنگھاڑتی ہوئی ایمبولنس آئی اور مجھے اٹھا کر ہسپتال لے گئی،کئی گھنٹے تک میرا آپریشن جاری رہا، مجھے بچانے کی بے حد کوشش کی گئی مگر میں جانبر نہ ہو سکا۔ واشنگٹن میں میری بیوی کو اطلاع دے گئی کہ میں مر چکا ہوں۔ میری موت کے سوگ میں اگلے روز ناسا میں ایک منٹ تک خاموشی رہی۔


میں کون ہوں ؟ میںلاکھوں برس سے پیدا ہوتا آ رہا ہوں اور مرتا چلا جا رہا ہوں۔ میں کب تک یونہی پیدا ہوتا رہوں گا اور کب تک مرتا رہوں گا ؟میں وہ ہوں جس نے تاریخ میں لاکھوں لوگوں کا قتل کیا یا میں ان لاکھوں لوگوں میں سے ہوں جو قتل ہوئے ؟ میں ظالموں میں سے ہوں یا مظلوموں میں سے ؟ میں سفاک فوجیوں کا سپہ سالار ہوں یا بے گناہ بچوں میں شامل ہوں ؟میں ایک بے بس لاچار اور مجبور غلام ہوں یا ایک عیاش امریکی ؟میں مذہب اور قومیت کے نام پر لوگوں کی گردنیں مارنے والوں میں سے ہوں یا ان میں سے جنہوں نے اپنے نظرئیے کی خاطر جان گنوائی؟آخر میں کون ہوں ؟شائد میں ہٹلر بھی ہوں اور مدر ٹریسا بھی،آئن سٹائن بھی ہوں اور چنگیز خان بھی،میکاولی بھی ہوں اور مہاتما بدھ بھی،یزید بھی ہوں اور حسین کا پیروکار بھی،سینٹ آگسٹائن بھی ہوں نطشے بھی …یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گا مگر شائد میں کبھی نہیں جان پائوں گا کہ میں آخر کون ہوں؟

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بلھا! کیہہ جاناں میں کون؟
بلھا! کیہہ جاناں میں کون؟
نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دی ریت آں
نہ میں پاکاں وچ، پلیت آں
نہ میں موسیٰ، نہ فرعون
بلھا! کیہہ جاناں میں کون؟
نہ میں وچ پلیتی پاکی
نہ وچ شادی، نہ غمناکی
نہ میں آبی، نہ میں خاکی
نہ میں آتش، نہ میں پون
بلھا! کیہہ جاناں میں کون؟
نہ میں بھیت مذہب دا پایا
نہ میں آدم حوا جایا
نہ کچھ اپنا نام دھرایا
نہ وچ بیھن، نہ وچ بھون
بلھا! کیہہ جاناں میں کون؟
اول آخر آپ نوں جاناں
نہ کوئی دوجا ہور پچھاناں
میتھوں ہورن نہ کوئی سیاناں
بلھا! شوہ کھڑا ہے کون؟
بلھا! کیہہ جاناں میں کون؟

بلھے شاہ

*****

 
10
January

تحریر: خالد محمود رسول

کچھ سوالات بظاہر جتنے سادہ اور آسان ہوتے ہیں ان کے جواب اتنے ہی پیچیدہ اور مشکل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کا معاشی مستقبل کیا ہے ؟ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ۔ اس موضوع پر سوچتے ہوئے ہمیں یہ مشہور مقولہ بہت یاد آیا۔ کسی رجائیت پسند سے پوچھیں تو وہ اگر مگر کے لوازمات کے ساتھ تان امید پر توڑے گا، ہاں اگر کسی بیزار اور یاسیت پسند سے پوچھ بیٹھیں تو وہ اگر مگر کے تکلف کے بغیر آپ کو بتانے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گا کہ صبح گیا یا شام گیا والا معاملہ ہے۔


ہمیں خواہ مخواہ کی رجائیت سے لگائو ہے نہ نِری مایوسی سے دل بستگی ہے، ہمیں حقیقت کے دامن سے تعلق ہی میں عافیت سمجھ میں آتی ہے۔ زندگی کی دھوپ چھائوں اور دنیا کے بیشتر ممالک کو تین دہائیاں قریب سے دیکھنے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بہت سے معاملات نہ تو سراسر بلیک ہوتے ہیں نہ وائیٹ۔ حقیقت کہیں درمیان میں دھندلے گرے ایریا میں ہوتی ہے۔ پاکستان کا معاشی مستقبل کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب بھی امکانات اور چیلنجز کے گرے ایریا میں ہے۔ قدم درست سمت میں اٹھے تو امکانات پر پڑی دھند چھٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، اگر ڈگمگاتے قدم نہ سنبھلے تو چیلنجز کی دھند مزید گہری ہو سکتی ہے۔


آج کی معیشت کا ایک محتاط جائزہ لیں تو کچھ رجحانات مثبت ہیں اور کچھ منفی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مثبت اشاریوں میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ نو سالوں کے بعد پہلی بار گزشتہ سال شرح نمو پانچ فی صد سالانہ سے زائد رہی۔ رواں مالی سال میں ہدف چھ فی صد سے زائد رکھا گیا ہے لیکن گئے گزرے حالات میں بھی آئی ایم یف کے ماہرین تک اس سال کی شرح نمو کا تخمینہ گزشتہ سال سے زائد یعنی 5.7%تک لگا رہے ہیں۔ افراطِ زر کی شرح گزشتہ سال چار فی صد سے کچھ زائد تھی، اس سال بھی قدرے زیادہ لیکن کنٹرول میں متوقع ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں بھی گزشتہ سال کی نسبت بہتری ہے، جو توقع سے کم ہے لیکن مثبت سمت میں ضرور ہے۔ مالیاتی خسارہ 2013میں جی ڈی پی کا 8.8% تھا جو گزشتہ سال کم ہو کر 4.6%رہا۔
معیشت کا مجموعی حجم تین سو ارب ڈالر کے لگ بھگ پہنچ گیا ہے جو سال 2000میں 180ارب ڈالر تھا۔ قوت خرید کے پیمانے یعنی
Purchasing Power Parity
پر دیکھیں تو معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ فی کس آمدنی گزشتہ سال 1333ڈالر سے بڑھ کر اس سال 1629 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب جو 2013میں گر کر 8.7%ہو گیا تھا سال 2016-17 میں بڑھ کر 10.7% ہو گیا ( یہ الگ تلخ حقیقت ہے کہ یہ شرح خطے میں کم ترین تناسب میں سے ہے )۔
معیشت کے نمایاں منفی اور پریشان کن رجحانات کی فہرست بھی قابلِ غور ہے۔ پاکستان کی برآمدات میں معکوس ترقی ہو رہی ہے۔ سال 2013میں پاکستان کی کل برآمدات چوبیس ارب ڈالر تھیں جو سال 2016-17میں کم ہو کر بیس ارب ڈالر تک رہ گئیں۔ اس دوران میں درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال ریکارڈ درآمدات ہوئیں اور یوں یہ حجم باون ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ برآمدات اور درآمدات کا تباہ کن تفاوت جسے تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے، بڑھ کر بتیس ارب ڈالر ہو گیا یعنی تجارتی خسارہ کل برآمدات سے بھی زیادہ رہا۔ اس خطرناک رجحان نے زرِمبادلہ کے ذخائرپر مستقل دبائو رکھا۔

 

pakkamahashimustakbil.jpgپاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر اپنی بلند ترین سطح یعنی بائیس ارب ڈالر سے کم ہو کر بمشکل انیس ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ ان ذخائر میں ڈیٹ مارکیٹ سے حال میں حاصل کی گئی رقوم بھی شامل ہیں۔ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں بھی کمی کا رجحان ہے۔ یوں مسلسل بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے، معمول کی ادائیگیوں اور سکڑتی ہوئی ترسیلات زر کی وجہ سے زرِ مبادلہ پر دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسی دبائو کی وجہ سے حال ہی میں روپے اور ڈالر کی شرح میں چار فی صد تک کمی ہوئی ہے۔ آنے والے سالوں میں پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا اور درآمدات کی حوصلہ شکنی نہ ہوئی تو زرِمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی کی وجہ سے پاکستان کو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جانے کی مجبوری کا سامنا ہو گا۔


ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب خطرناک حد تک کم ہے۔ ماضی میں کی گئی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ ٹیکس نظام میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آسکی۔ بلیک اکانومی کا حجم بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ کچھ ماہرین بلیک اکانومی کو مجموعی اکانومی کے حجم کا ساٹھ فی صد سے بھی زائد بتاتے ہیں۔ معاشی ناہمواری اور علاقائی تفاوت بھی وقت کے ساتھ بڑھا ہے۔ آبادی کے نئے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ آبادی کا حجم توقع سے کہیں زیادہ نکلا۔ ہر سال چالیس لاکھ سے زائد افراد ملازمت کی حد کو پہنچتے ہیں لیکن روزگار کے امکانات اس رفتار سے نہیں بڑھ رہے۔


ملک میں کاروبار کرنا کس قدر آسان ہے، اس اشاریے کو جانچنے کے لئے ورلڈ بنک ہر سال ممبر ممالک کا ایک سروے کرتا ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان کاروبار کی آسانی کے اعتبار سے 190ممالک میں 144 ویں نمبر پر ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں کاروباری مسابقت کی سکت کیا ہے اور اس پیمانے پر پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟
Global Competitiveness Index 2017-18
کے مطابق پاکستان 137 ممالک میں 115 ویں نمبر پر ہے۔ عالمی ادارے اور ماہرین معیشت اداروں میں اصلاحات پر زور دیتے آئے ہیں لیکن مختلف ادوار کی حکومتوں کا اصلاحات کا ریکارڈ مایوس کن ہی رہا۔ پبلک سیکٹر کارپوریشنز اس کی ایک واضح مثال ہیں جن میں سالہا سال سے سیکڑوں ارب روپے کا خسارہ ہو جاتا ہے لیکن اس خسارے کو روکنے کی سبیل نظر نہیں آتی، حالانکہ اس خسارے کا جی ڈی پی پر سالانہ ڈیڑھ سے دو فی صدصرف ہو جاتا ہے ۔


الغرض معیشت میں کچھ مثبت رجحانات ہیں تو کئی خطرناک منفی رجحانات بھی موجود ہیں۔ معیشت میں بہتری لانے کے لئے مثبت رجحانات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے اور منفی رجحانات کو مثبت سمت میں لوٹانا ضروری ہے۔ جن مثبت رجحانات کو جاری رکھنے اور مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ان میںمعیشت کی سالانہ شرح نمو ہے۔ چین اور بھارت میں سالانہ شرح نمو آنے والے سالوں میںچھ سے سات فی صد کے درمیان متوقع ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کے حالیہ اعداوشمار کے مطابق آسیان5
(ASEAN5)
میں بھی سالانہ شرح نمو چھ کے لگ بھگ متوقع ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان اگر چھ فی صد سے زائد سالانہ شرح نمو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے تو پاکستان کی معیشت علاقے کی دیگر معیشتوں کے ہمقدم رہے گی ورنہ پیچھے رہ جائے گی۔


سالانہ شرح نمو چھ فی صد سے زائد کرنے کے لئے معیشت کے ان تمام عوامل پر توجہ اور ان میں نتیجہ خیز تبدیلی لانے کی ضرورت ہو گی جن کا ذکر اوپر کیاگیا ہے۔ ملکی معیشت میں زراعت کا اہم کردار ہے۔ زراعت میں فصلوں اور لائیو اسٹاک دونوں کے لئے الگ الگ ہنگامی پروگرام ترتیب دینے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جس سے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں دنیا کے عمومی معیار کے مطابق اضافہ حاصل کیا جائے۔ لائیو اسٹاک میں نمایاں مقام ہونے کے باوجود پاکستان کی لائیو اسٹاک برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پیداوار کے طریقوں اور فوڈ سیفٹی کے عالمی معیارات سے ہم بہت پیچھے ہیں۔ دنیا کے ساتھ اس واضح فرق کو پورا کرکے زراعت کی کایا پلٹی جا سکتی ہے۔


پاکستان کی اکانومی میں صنعت کا حصہ ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گیا ہے۔ صنعت کا بنیادی ڈھانچہ عمومی اعتبار سے
low technology
پر استوار ہے۔ اکانومی آف سکیل کے اعتبار سے دیکھیں تو معیشت کے زیادہ تر شعبے دنیا کی رینکنگ میں کہیں آخری نمبروں پر پائے جاتے ہیں۔ عالمی تجارتی سمجھوتوں اور ورلڈ ٹرید آرگنائزیشن کے قیام کے بعد ہمارے ہاں درآمدی ٹیرف غیر ضروری عجلت میں بہت کم کئے گئے جس کی وجہ سے صنعت کے زیادہ تر شعبے اپنے آپ کو ان تبدیلیوں کے لئے بروقت تیار نہ کر سکے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ آسان امپورٹ اور پر کشش کم درآمدی ٹیرف کی وجہ سے گزشتہ بیس بائیس سالوں کے دوران مقامی مارکیٹوں میں غیر ملکی سامان کی بہتات ہو گئی ۔ دوسری طرف انڈسٹری پر دستاویزی انتظام میں آنے اور مختلف النوع ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ درآمدات کی یلغار نے نہایت منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ دو سال قبل لاہور کی ایک یونیورسٹی میں ایک کانفرنس میں اعدادوشمار کی مدد سے ایک معاشی ماہر نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان میں اب معکوس صنعتی ترقی ہے یعنی
De-industrialization
۔پاکستان میں صنعتی اداروں کی تعداد میں سمال اور میڈیم انڈسٹری کا حصہ سمیڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق 97% سے بھی زائد ہے لیکن اس کے باوجود قومی پیداوار میں سمال اور میڈیم انڈسٹری کا حصہ زیادہ نمایاں نہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان میں انڈسٹری کے ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جس سے بڑی انڈسٹری کے ساتھ ساتھ درمیانی اور چھوٹی انڈسٹری میں بہتر اور برتر ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جائے۔ پیداوار کے اعتبار سے
value added
مصنوعات تیار کی جائیں۔ انڈسٹری کے لئے عالمی معیار کے ہنر مند افراد کی تعلیم اور تربیت کے لئے تعلیمی نظام کو ڈگری بانٹنے والے زیاں کار رجحان سے بدل کر ٹیکنالوجی اور سائنسی میدان کا شہسوار بنائے بغیر چارہ نہیں۔ زراعت اور صنعت کو جدید اور بہتر ٹیکنالوجی پر ترتیب دینے سے لامحالہ سروسز سیکٹر خود بخود نئے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ ہو سکے گا۔
فری ٹریڈ ایگریمنٹ
Free Trade Agreement
یعنی نئے عالمی تجارتی نظام کا خاصہ ہیں۔ سیکڑوں ایف ٹی ایز ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں رجسٹرڈ ہیں لیکن ان میں سے چند درجن نہایت کامیاب ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان کا آزادانہ تجارت کے معاہدوں کا تجربہ قطعاً سود مند نہیں رہا۔ ا س میں ناتجربہ کاری کا بھی دخل ہے اور کچھ نامناسب ترجیحات کا بھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان معاہدوں کی بدولت پاکستان کی مارکیٹوں میں غیر ملکی سامان کی بھرمار ہے جبکہ ملکی انڈسٹری گوناگوں مسائل کی وجہ سے نمو پانے سے قا صر دکھائی دے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادانہ تجارت کے معاہدوں کا از سرِ نو جا ئزہ لیا جائے اور ان میں موجود خامیوں کو درست کرکے انہیں فریقین کے لئے برابری کے امکانات کے قابل بنا یا جائے۔
پاکستان کی معیشت میں موجود مثبت رجحانات کی بناء پر دنیا کی معروف مالیاتی فرم
Pricewaterhouse Coopers
نے 2017 میں اپنی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کو 2050 میں دنیا کی 16 ویں بڑی معیشت بن سکنے کی پیشگوئی کی۔ اس طرح بلوم برگ نے بھی پاکستان کی معیشت میںحوصلہ افزا رائے کا اظہار کیا ۔ سی پیک کی ذریعے ساٹھ ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری نے پاکستان کی معیشت کے وسط مدتی اور طویل مدتی امکانات کو بہت سہارا دیا ہے۔بجلی، انفراسٹرکچر منصوبوں، پورٹس اور انڈسٹریل پارکس کے ذریعے پاکستانی معیشت پر گہرے اور سود مند اثرات ہونے کی توقع ہے۔ اس جائزے کا حاصل یہ کہ ویلیو ایڈڈ برآمدات میں اضافے، درآمدات کی کچھ حد تک حوصلہ شکنی، ٹیکس جی ڈی پی تناسب بڑھانے، معیشت میں دستاویزی انتظام کے فروغ ، کرپشن کی حوصلہ شکنی سمیت ایسے اقدامات سے پاکستان کی معیشت دنیا میں ایک مضبوط اور فروغ پذیر معیشت بن کر ابھرنے کے تمام امکانات رکھتی ہے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی 

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
January

تحریر: ڈاکٹرشائستہ تبسّم

امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو، جہاں بیت المقدس واقع ہے، اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا اور امریکی سفارت خانہ کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کا بھی اعلان کردیا۔ اس اعلان نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اسرائیل کے سوا شائد ہی کوئی ملک ہو جس نے امریکی صدر اور انتظامیہ کے اس فیصلے کی مخالفت یا مذمت نہ کی ہو۔ یہ فیصلہ نہ ہی کوئی انجانے میں کی گئی غلطی ہے اور نہ ہی جلد بازی کا کوئی نتیجہ، بلکہ انتہائی سوچا سمجھا اور پوری تیاری کے بعد کیا جانے والا فیصلہ ہے۔ موجودہ امریکی صدر نے اپنی الیکشن مہم کے دوران اس طرف واضح اشارہ کیا تھا لیکن اس وقت انتخابی پنڈتوں نے اس مسئلہ کو زیادہ اہمیت نہ دی تھی اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کر دکھائے گا جو اس کے پیش رو نہ کرسکے اور وہ حقیقت میں کر گزرا۔
بیت المقدس اس وقت دنیا کی سیاست کا اہم علاقہ اور موضوع ہے۔ اور اگر یہ بھی کہا جائے کہ افرادکی سب سے بڑی تعداد کا مذہبی مرکز ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اسلام، یہودیت اور عیسائی مذاہب کے افراد اس علاقے کو مقدس مانتے ہیں۔ مسلمان اس کو قبلہ اول، عیسائی اس جگہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور باقی زندگی اسی علاقے میں بسر کرنے کی وجہ سے اور یہودی اپنے پیغمبران اور تبرکات کی وابستگی کی وجہ سے بیت المقدس کو مقدس ترین مقام گردانتے ہیں۔ لہٰذا عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی رسومات بھی اسی شہر سے وابستہ ہیں۔

baitulmaqdas.jpg
1948 میں اسرائیل کا قیام ایک غیرقانونی طریقے سے عمل میں لایاگیا کیونکہ ایک باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے تحت فلسطینی باشندوں کوان کے وطن سے بے دخل کرکے یہاں دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر بسایاگیا۔ اسرائیل کو مقدس سرزمین پر بحیثیت ریاست قائم کرنے والا برطانیہ بذریعہ
Balfour Declaration
اور قیام کے صرف گیارہ منٹ بعد تسلیم کرنے والا امریکہ تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ تقریباً پوری مغربی دُنیانے اسرائیل کے قیام کی حمایت کی تھی ۔ اسرائیل بحیثیت مملکت تسلیم کرلیاگیا لیکن مظلوم فلسطینیوں نے جدوجہد جاری رکھی اور اسرائیل کے قیام سے اب تک چار جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر جنگ کے بعد اسرائیل کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے اور فلسطین سکڑتا چلا گیا۔1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے بیت المقدس پر مکمل قبضہ کرلیاتھا، حالانکہ اس سے قبل مشرقی حصہ اُردن کے پاس تھا۔ یہی نہیں شام کا گولان کی پہاڑیوں سے معرکہ سینائی اور اردن کا مغرب اُردن کے قبضے سے نکل گیا۔ یہ علاقے بعد میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ 1978 اور دوسرے معاہدوں سے ان عرب ممالک کو واپس مل گئے لیکن اسرائیل نے بیت المقدس اپنے قبضے میں رکھا۔حالانکہ متعدد ممالک نے کبھی بھی اسرائیل کے قبضے کو قانونی طور پر تسلیم نہ کیاتھا۔
اقوامِ عالم نے اقوامِ متحدہ میں کئی قرار دادیں پاس کرائیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہے۔ مثلاً قرارداد 21)181نومبر(1947، جنرل اسمبلی11)194دسمبر(1948 اور9)303دسمبر(1949،سلامتی کونسل 21)252مئی(1968 اور جنرل اسمبلی28) 32/5 اکتوبر (1977 اس کے ساتھ سلامتی کونسل قرارداد 20)453جولائی (1979 اور465 (یکم مارچ(1980 اور 30)476جون(1980 بہت اہم ہیں جن کے مطابق اسرائیِل ایک قابض ملک ہے جس نے ارضِ فلسطین پر فوجی قبضہ کیا ہے اور بین الاقوامی قانون کا ایک مستند اصول یہ بھی کہتا ہے کہ قابض طاقت کسی بھی صورت میں معزول حکومت کا نظام خود مختاری نہیں بدل سکتی۔ اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قرار داد478 اہم ہے جس میں یہ واضح کہا گیا تھا کہ اسرائیلی اقدامات مشرقِ وسطیٰ کے امن میں ایک شدید رکاوٹ ہیں اور ممبر ممالک اپنے سفارتی مشن کو یروشلم سے واپس بلا لیں۔ یہاں امریکہ اسرائیل کے تعلقات کی ایک اور حقیقت یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگی کہ 1972 سے2011 کے درمیان امریکہنے39مرتبہ اسرائیل کو بچانے کے لئے سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کیا ہے۔


جہاں تک یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا سوال ہے امریکن انتظامیہ نے1995 میں ایک ایکٹ (قانون) منظور کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اور ساتھ ہی امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی کی منظوری بھی دی تھی لیکن مختلف امریکی صدور اس فیصلے پرعملدرآمد نہ کرسکے۔ بلکہ امریکہ، اسرائیل فلسطین امن مذاکراتی عمل میں پیش پیش رہا اور کچھ مراحل پر اس کی طرف سے ضمانت داراور غیر جانبدار فریق کا تاثر بھی دیا گیا۔ اس سارے عمل سے کسی صورت یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ تمام امریکی صدور اور تمام امن مذاکرات صرف ایک ظاہری عمل تھا جن کی حقیقت میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ دوئم امن مذاکرات میں مجموعی طور پر تقریباً تمام معاملات میں کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو رہی تھی سوائے بیت المقدس کے مستقبل پرجس کا معاہدہ نہیں ہو پا رہا تھا کیونکہ فلسطین اور اسرائیل دونوں ہی بیت المقدس کو اپنے حصے میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ حالانکہ مختلف منصوبوں میں اس بندش کو حل کرنے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں مثلاً فہد منصوبہ(شاہ فہد سے منسوب) قابلِ ذکر ہے۔ جس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت یروشلم ہو اور 1967 میں قبضہ ہونے والے علاقوں کی بازیابی کے ساتھ مشروط کیاگیا تھا۔ غرض تمام تجاویز اور امن منصوبوں کی تکمیل اور کامیابی کا دار و مدار یروشلم اور بیت المقدس سے منسلک تھا۔ ایسے میں امریکی صدر کے اعلان نے نہ صرف پوری دنیا میں تہلکہ مچادیا بلکہ مسلم امہ کو اذیت میںبھی مبتلا کردیا ہے۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کے کیا مقاصد ہیں؟ کیا واقعی یہ فیصلہ جلدبازی میں کیاگیا یا امریکی انتظامیہ بالکل امید نہیں کررہی تھی کہ اس کا کیا ردِ عمل آئے گا؟
امریکی صدرکا یہ اعلان انتہائی حساب کتاب کے بعد اور ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اس سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہوں۔ امریکہ اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے۔ یہ اس کاسپرپاور و جودہی ہے جس کے بَل پر صرف امریکہ ہی نے جاپان پردوبار ایٹم بم گرایا۔ مختلف ممالک کے پاس ایٹم بم موجود ہیں لیکن استعمال صرف امریکہ نے کیا۔ یہ طاقت کا غرور ہی ہے کہ ایک ایسے مسئلے پر جو پہلے 70 سالوں سے بندشوں کا شکار تھا ، امریکہ نے اعلان کردیا اور اپنی واضح پالیسی بنا دی۔ امریکی مندوب نے سلامتی کونسل میں14 مخالف ووٹ ڈالے جانے پر جو بیان دیا وہ امریکی غرور کی واضح دلیل ہے۔ انہوںنے کہا یہ امریکہ کی بے عزتی ہے جس کو بھولا نہیں جائے گا۔ شاید اسی لئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ ایساکام ہے جو پہلے کوئی نہ کرسکا۔


اس فیصلے کے اندرونی اور سیاسی عوامل بھی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے خاندان میں یہودیوں کی بھرمار ہے۔ خاص کر ان کا داماد ایک متعصب یہودی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہودیوں نے امریکہ کے معاشی، دفاعی اور سیاسی معاملات کو بہت حد تک قابو کیا ہوا ہے۔ یہودی سرمایہ کار اس وقت امیر ترین اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک ہیں۔ دفاعی معاملات بھی اس سے مختلف نہیں ہیں اور یہی سرمایہ کاری سیاسی دھارے کا تعین بھی کرتی ہے۔ امریکہ نے 1984 سے آج تک اسرائیل کو 127.4 بلین ڈالر کی فوجی امداد دی ہے۔ امریکہ ہی کی مدد سے اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کی ایک فوجی قوت بن گیا ہے۔ یہودی لابی امریکی سیاست میں ایک انتہائی اہم کردار رکھتی ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی بنیاد، قدامت پسندلوگ تھے خاص کرانجیل مسیحی جو کہ مذہبی اور جذباتی طور پر اسرائیل سے وابستہ ہیں۔ یہاں یہ خاص امر ہے کہ ایسے لوگ سیاسی پارٹی سے بالاتر مذہبی طور پر سوچتے ہیں۔ یعنی اگر دیکھا جائے تو اس وقت امریکیوں کی بڑی تعداد ٹرمپ کے فیصلے پر خوش ہے۔


ناخوش تو صرف مسلم ممالک کے افراد ہیں۔ تقریباً تمام مسلم ممالک میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی پالیسیوں کی مذمت کی۔ ترکی نے بھی
OIC
کا ہنگامی اجلاس استنبول میں طلب کیا، جس میں مذمتی قرار دادیں منظور کی گئیں۔
وقت کے لحاظ سے یہ اعلان اس وقت آیا ہے جب تقریباً تمام مشرقِ وسطیٰ شدید بحران میں ہے۔کوئی بھی عرب ملک عسکری طور پر اور اندرونی خلفشار کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف لڑنے یا کسی قسم کا اتحاد بنانے کے قابل نہیں ہے۔ عراق پر امریکہ قابض ہے۔ شام میں خانہ جنگی جاری ہے۔ مصرمیں امریکہ نوازجنرل سیسی کی حکومت ہے۔ لیبیا کی حالت بھی شام سے مختلف نہیں ہے۔ لبنان میںموجودہ حزب اﷲ نے اسرائیل کو مزاحمت دے رکھی ہے لیکن ساتھ ہی حزب اﷲ شام میں ایک شیعہ طاقت کے طور پر حکومت، مخالف گروہوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے جبکہ حماس ایک منظم گروپ ہونے کے باوجود مصر کی سخت پالیسیوں اور سعودی عرب کی طرف سے امداد کی بندش کی وجہ سے شاید اسرائیل کے لئے اتنی مشکلات نہ پیدا کرسکے۔ اس سارے پس منظر کے ساتھ اگر دیکھا جائے تو امریکی فیصلہ اسرائیل کے حق میں جاتا ہے۔ اسرائیل کے لئے اتنا اچھا موقع نہیں ہو سکتا جب اس کے تمام پڑوسی (عرب) ممالک اندرونی مسائل میں گھرے ہونے کی وجہ سے اجتماعی لائحہ عمل نہ بنا سکیں۔


امریکہ کے اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات پر پڑیں گے بلکہ مسلم دنیا پر بھی نظر آئیں گے۔ ایک لمبے عرصے کے بعد سلامتی کونسل میں امریکہ تنہا نظر آیا جب انتہائی قریبی اتحادی برطانیہ، فرانس اور جاپان نے امریکہ کے خلاف ووٹ دیا جس کوامریکہ نے اپنی بے عزتی جانا۔ یہ معاملات اتنی آسانی سے حل نہیں ہوں گے۔ ممکن ہے اس کی دونوں طرف سے کچھ قیمت ادا کرنی پڑے۔ ایک پیغام تو واضح ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ اس حمایت کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
دنیا میں جاری آزادی کی تحریکیں اور خاص کر فلسطین کی آزادی کی تحریک کو یقینا دوام ملے گا لیکن اسرائیل بھی مزید سختی سے انہیں کچلنے کی کوشش کرے گا اور جب بھی اسرائیل بیت المقدس کے مسلم کنٹرولڈ حصے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے گا مزید خون بہے گا۔ جس کے لئے فلسطین کے لوگ یقینا تیار ہوں گے لیکن دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک کو بھی اس مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالنا چاہئے۔ شاید اسی خون خرابے اور جدو جہد سے فلسطین میںآزاد ریاست کی کرن پھوٹ نکلے۔


سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ جو کہ اس وقت ایک بڑی طاقت ہے اور ایک جمہوری ملک بلکہ جمہوریت کا چیمپیئن ہے، وہ اگر مظلوم اقوام، خاص کر فلسطینی عوام اس خاص کیس میں اور کشمیری بھی، ان پہ ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھائے گا بلکہ آواز دبانے والا ہوگا تو اس کے اتحادی یا غیر اتحادی جہاں پر ایسی تحریکیں اٹھ رہی ہیں، وہ بھی امریکہ کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آواز ہے یہ ایک دنیا کی اکثریتی اقوام کی آواز ہے کہ امریکہ کا فیصلہ غلط ہے۔ اسے نظر انداز کرنا کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں۔ چاہے وہ امریکہ جیسی سُپر پاور ہی کیوںنہ ہو۔ اس امریکی فیصلے کے اثرات اندرونی طور پر زیادہ مہلک ہو سکتے ہیں۔ امریکہ تنہائی کی طرف جارہا ہے۔ جیسا کہ 18 دسمبر کی سلامتی کونسل کی قرار داد سے واضح ہے کہ14 مخالف ووٹ امریکہ اپنی خود مختاری پر ضرب گردان رہا ہے۔بعدازاں جنرل اسمبلی میں قرارداد پر ووٹنگ نے امریکہ کے اس اقدام کی بین الاقوامی برادری کی جانب سے مخالفت پر مہر ثبت کردی ہے۔ چہ جائیکہ امریکہ اپنے اقدام پر نظر ثانی کرتا، وہ دھمکیوں پر اُترآیا۔ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے تقریباً دنیا کے تمام ممالک کو دھمکی دینے کا اچھوتا کام شاید امریکہ یا صدر ٹرمپ ہی کرسکتے ہیں۔ اس طرز کی جارحانہ پالیسز اور سیاست دنیا کی تاریخ میں نئی نہیں ہے، مگر ہر بار ایسے اقدامات دُنیا کی تباہی کا باعث ہی بنے ہیں۔ لہٰذا بیت المقدس صرف مذہب اسلام کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی امن سے بھی جُڑا ہوا ہے۔ دنیا کے تماممالک کو امریکہ کے اس طرزِ عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا اور مناسب اقدام اٹھانے ہوں گے تاکہ دنیا کو اکیسویں صدی میں کسی بڑی جنگ کی تباہی سے بچایا جاسکے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
January

وطن سے محبت کے انداز منفردہوا کرتے ہیں۔ مختلف طبقات اور عوام اپنی دھرتی کے ساتھ اپنے اپنے انداز سے جُڑے ہوئے ہوتے ہیں اور ملکی ترقی و وقار کے لئے سرگرم عمل رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ افواجِ پاکستان ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتی ہیں تو عوام اُن کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے ان کے حوصلے بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح جب عوام اور ملک کو اندرونی محاذ پر افواج کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی کے منصوبوں اور امنِ عامہ کی بحالی کی ضرورتوں کو بھی کما حقہ' پورا کرتی ہیں۔ یہی اتحاد اور مضبوطی ہماری قوم اور دھرتی کا خاصہ ہے اور آج ہم وہ مضبوط قوم ہیں جو دہشت گردی کے عفریت سمیت دیگر چیلنجز پر کافی حد تک قابو پا چکی ہے اور سراٹھا کر 2018 کی صبحِ نو کا استقبال کر رہی ہے۔ بلاشبہ اس کے لئے پوری قوم اور اس کی افواج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور آج یہ قوم دیکھ رہی ہے کہ ملک میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے اور الحمدﷲ آج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ گزشتہ دنوں فاٹا سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کے جرگوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے ان کے عزم کو سراہا جس کا اظہار انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کا مربوط ساتھ دے کر کیا۔ انہوں نے فاٹا کے بہادر قبائل کی پائیدار امن اور استحکام کے لئے پیش کی گئی قربانیوں کو سراہا۔ اسی طرح چند روز قبل کوئٹہ میں منعقدہ ایک سیمینار کے موقع پر انہوں نے کہا کہ مستقبل کا بلوچستان قومی ترقی کا انجن ثابت ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں آرمی چیف نے خوشحالی بلوچستان کے پروگرام کا خاکہ پیش کیا جس کا مقصد بلوچستان میں سماجی و معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔


بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947کو دستور ساز اسمبلی میں اپنے خطاب میں واضح انداز میں کہا تھا۔ ''پاکستان کی عظیم ریاست کو اگر ہم آسودہ، خوشحال اور ثروت مند بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام کی فلاح پر تمام تر توجہ مرکوز کرنی پڑے گی اور ان میں بھی عام لوگوں، بالخصوص نادار آبادی، کی فلاح مقدم ہے۔ اگر آپ نے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے اور ناگواریوں کو دفن کر کے باہم تعاون سے کام کیا تو آپ کی کامیابی یقینی ہے۔ اگر آپ نے ماضی کی روش بدل دی اور آپس میں مل جل کر اس جذبہ کے ساتھ کام کیا کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ کسی بھی فرقہ سے ہو، خواہ ماضی میں آپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کچھ بھی رہی ہو، اس کا رنگ، ذات یا مسلک خواہ کچھ بھی ہو، وہ شخص اول و آخر اس ریاست کا شہری ہے اور اس کے حقوق، مراعات اور فرائض برابر ہیں، تو یاد رکھئے کہ آپ کی ترقی کی کوئی حدوانتہاء نہ ہو گی۔''


یقینا کوئی بھی مملکت اُس وقت تک عظیم مملکت نہیں بن سکتی جب تک اس کا ایک ایک فرد اور ہر ہر ادارہ اپنا بھرپور اور مؤثر کردار ادا نہیں کرتا۔ تمام طبقات کو اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے پاکستان کی ترقی میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اُسی تندہی سے حصہ لیتے رہنا ہے کہ یہ پاکستان ہمارا پاکستان ہے اور اسے خوشحال اور مضبوط بنانے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔

09
January

رپورٹ: میجر صبور احمد

پاک آرمی میوزیم راولپنڈی اپنی شانداروجاذبِ نظر عمارت کے ساتھ جنر ل ہیڈ کوارٹرزکے قریب واقع ہے۔ یہ ہمار ے قیمتی عسکری ورثے اورتاریخ کا عکاس ہے۔ اس کا قیام 1961میں عمل میں لایا گیا جس کا بنیادی مقصد پاک فوج کے عسکری ورثے کا تحفظ کرنا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ میوزیم کو منظم تاریخی ترتیب میں پیش کیاجائے تا کہ یہ سیاحوں کے لئے مزید دلچسپی،کشش اور معلومات کا باعث بن سکے۔ چنانچہ 2009میں کوارٹر ماسٹر جنرل نے پاکستان آرمی میوزیم کی تعمیر ِ نو کی ذمہ داری آرمی ہیرٹیج فائونڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر پاک آرمی میوزیم کو سونپی تاکہ میوزیم کوتخیلاتی انداز میں جدیدخطوط پر استوار کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ملکی شہرت کے حامل ماہر ِ تعمیرات، اندرونی تزئین وآرائش کے ماہرین اور مواصلاتی ماہرین پرمشتمل ایک تجربہ کارٹیم کی خدما ت حاصل کی گئیں۔ میوزیم کا باقاعدہ افتتاح 26 نومبر2013میں کیا گیا۔
میوزیم میںاگست 1947سے لے کراب تک کی پاک فوج کی تاریخ کو
Artistic beauty and subtlety
پیش کیاگیا ہے۔ یہ 14گیلریوں پر مشتمل ہے۔ جس میں پاک فوج کی جامع تاریخ اور قربانیوں کو پیش کیا گیا ہے۔ میوزیم زیریں منزل، بالائی منزل،اندرونی برآمدوں اور بیرونی نمائش پر مشتمل ہے۔

pakarmymuseum.jpg
داخلی دروازے پر صوبیدار خدا داد کا مجسمہ اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ ایستادہ ہے ۔وہ جنوبی ایشیا کے پہلے مسلمان سپاہی تھے جنہیں جنگ عظیم اوّل میں حیرت انگیز بہادری کے جوہر دکھانے پر وکٹوریہ کراس سے نوازا گیا۔ جبکہ میوزیم کے باہر تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے استعمال شدہ فوجی گاڑیاں اور ٹینک نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں۔ ان میں پاک آرمی کے زیر استعمال اولین ٹینک سے لے کر آج تک کے ٹینک شامل ہیں۔جس میں فیرٹ سکائوٹ کار ، ایم۔ 4 اسٹیورٹ ،ایم فوراے۔1شرمن اور ایم۔ 8 4ٹینکوں کے علاوہ فیلڈ اور اینٹی ایئرکرافٹ گنیں ، ہوٹرز، ایئر کرافٹ،انجینئرنگ کا سازوسامان اور جیپیں موجود ہیں۔ ان میں سے چند ایک چیزیں دورانِ جنگ قبضے میں لی گئیں۔


زیریںمنزل سات گیلریوں پر مشتمل ہے جو پاک فوج کی بے مثال قربانیوںاور بہادری کے لازول کارناموں کو تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے جامیعت کے ساتھ پیش کرتی ہے۔زیریں منزل ٹائم لائن سے شروع ہوتی ہے جو پاکستان کی مختصر تاریخ ،دورِ حکومت ،سربراہ مملکت، وزرائے اعظم اورکمانڈر ان چیفس/چیف آف دی آرمی سٹاف کے کلیدی کارناموں پر روشنی ڈالتی ہے۔ پہلی تین گیلریاں 1948، 1965 اور 1971کی جنگوںکے تمام اہم واقعات کو نقشوں، ہتھیاروں اور مجسموں کی مدد سے دل نشین انداز میںپیش کرتی ہیں۔


کمانڈ پوسٹ میں گو لوں کی گھن گرج اور سیاچن گلئشیرکے روح پرور مناظرسیاحوں کے حوصلوں کو تازگی بخشتے ہیں۔ نشانِ حیدر گیلری کا منظر ، بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز، نشانِ حیدر پانے والوں کی تصاویر،تعریفی اسناد ، شہدا ء کے ذاتی سامان کے پرنور منظر کی بدولت دیکھنے والوں کے حوصلوں کو تقویت بخشتاہے۔اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ کی گیلری آتی ہے جہاں دہشت گردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑنے کے دوران دی جانے والی پاک فوج کی قربانیاں دیکھنے والوں پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ گیلری پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی جرأت وبہادری کو جنگی نقشوں ، تصاویر اور گراف سے اُجاگر کرتی ہے۔ میوزیم کا برآمدہ منتخب پینٹنگز، پورٹریٹس، تصاویر ، مجسموں،نوادرات ، رجمنٹوں کے پرانے علم ونشان اور کمپیوٹر سکرینیں سیاحوں کی راہنمائی کرتے ہیں۔اسی طرح پتھر کے دور سے لے کر موجودہ دور تک ہتھیاروں کا ارتقاء ،پاک فوج کا قومی تعمیر وہنگامی حالات میں کرداراور اقوام متحدہ کے امن مشن جامع انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔

pakarmymuseum1.jpg
بالائی منزل بھی سات گیلریوں پر مشتمل ہے جو کہ مختلف کورز، رجمنٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں(پیراملٹری فورسز) کی تاریخ،پرچموں، ہتھیاروں، نوادرات ،شہداء کی تصاویر،اور نامور جنگی ہیروز کے بارے میں معلومات کے لئے کلی طور پر مختص کی گئی ہے۔اسی طرح بالائی منزل پر قائم آرکائیو یعنی تحقیقی کمرہ محققین کو درست عسکری تاریخ سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
مختلف سطح کے وفود اور معززین پاک آرمی میوزیم راولپنڈی کے دورے پر آتے ہیں۔ ان میں بیرونی عسکری وفودو معززین، سفارت کا ر، مسلح افواج کے افراد اور ان کے اہل خانہ، فوجی و سرکاری اداروں کے وفود، سکولوں،کالجوںاوریونیورسٹیوں کے طلبائ، معلمین اور عوام الناس شامل ہیں۔


میوزیم منگل کے علاوہ ہفتے کے باقی تمام دن صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک کھلا رہتا ہے۔ پاک آرمی میوزیم لال کرتی سی ایس ڈی کے قریب واقع ہے۔ سیاح اپنی گاڑیاں سی ایس ڈی میں پارک کرتے ہیں جہاں قریب میں آرمی میوزیم کا داخلی دروازہ ہے۔ سویلین حضرات اپنا قومی شناختی کارڈ دکھانے کے بعد میوزیم کی سیر کرسکتے ہیں جبکہ آرمڈ فورسز سے منسلک تمام افراد اپنے سروس کارڈ دکھانے کے بعد میوزیم کی سیر کرسکتے ہیں۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے دورے کے لئے تعلیمی ادارے کا سربراہ اجازت نامے کا خط لکھتا ہے جس میں طلباء کی تعداد، دن اور وقت کا ذکر ہوتا ہے۔ میوزیم انتظامیہ خط میں مذکور دن اور وقت کے مطابق اجازت نامے سے متعلقہ ادارے کو آگاہ کردیتی ہے اور مقررہ تاریخ کو طلبہ کو گائیڈز کی مدد سے سیر کروائی جاتی ہے۔


اس کے علاوہ یہاں خاص طور پر متعددفنون لطیفہ کی نمائشوں ،انٹر سکول اور کالجوں کی پینٹنگ مقابلوں کاباقاعدگی سے اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ طلباء میں تخلیق کے ساتھ ساتھ جذبہ حب الوطنی کو بھی بیدار کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر یہ میوزیم ہر عمر کے افراد کے لئے قابل دید سیاحتی مقام ہے جو سیاحوں کو پاک فوج کے شاندار کارناموں و کردار پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی عسکری تاریخ اور ورثے کو مختصر ،جامع اور درست انداز میں پیش کرتا ہے۔

 
09
January

تحریر: ازکیٰ کاظمی

''ماں میں نے وہاں پرخون کا انگوٹھا لگایا ہوا ہے'' میں جب بھی اسے مزیدگھر رُکنے کو کہتی وہ ہمیشہ یہی کہا کرتا، کیپٹن جنید شہیدکی والدہ کی آنکھوں میں آنسو جبکہ چہرے پر ضبط کی طمانیت تھی ۔ وہ بات کرتے کرتے باربار اپنی آنکھوں کو جھپکتیں کہ کہیں ضبط نہ ٹوٹ جائے۔ تبھی مجھے یہ محسوس ہوا کہ وطن سے محبت کا جذبہ کسی طبیب یا مفکر کے مشوروں یا مصلحتوں سے نہیں بلکہ مائوں کے شِیر میںگھل کر سینوں میں اترتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو باپ اپنے بچوں کو کہانیوں میں اور ماں لوریوں میں سناتی ہے۔ کیپٹن جنید( شہید) جو ماں باپ کی آنکھوں کا تارا اور ان کی امیدوں کا واحد سہارا تھا۔ ایک ایسا جوان جو ملک کی سالمیت کے لئے اپنے والدین کی محبت کو بھول کر دل و جان سے اپنی جان وطن کی محبت میں لٹا گیا اور گھر لوٹا تواس شان سے اس سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہواکہ جس پرچم میں لپٹنا صرف قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔

wojokhakmainso.jpg
جب اُس کالونی ،جہاں کیپٹن جنید( شہید )کے والدین رہائش پذیر ہیں، میں داخل ہوئے تو جلد ہی احساس ہوا کہ یہاںتو ان لوگوں کو سب جانتے ہیں حالانکہ اُنہیں اس کالونی میں آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ ہم نے ایک راہگیر سے ان کے گھرکا راستہ پوچھا تو وہ ہمارے ساتھ ہی ان کے گھر تک چلا آیا۔ کیپٹن جنید شہید کے گھر میں اب ان کے والد، والدہ ، ایک بہن اور ایک چھوٹا بھائی جو ذہنی طور پر معذور ہے، رہتے ہیں۔ سب نے ہمیں نہایت عزت اور احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ کسی شہید کے گھر جانے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کس طرح سے بات شروع کروں۔ جنید کی والدہ نے خود ہی جنید کے بارے میں بتانا شروع کیا کہ کیپٹن جنید 21ستمبر 1993کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم فضائیہ کے سکول سے حاصل کی۔ بہتر کارکردگی کی وجہ سے ہمیشہ تمام اساتذہ کا منظور نظررہا۔ ہر طرح کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا چاہے وہ تلاوتِ قرآن ہو یا تقریری مقابلہ۔ تعلیمی قابلیت کو برقرار رکھتے ہوئے غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہا۔ بچپن سے ہی ہاکی، فٹ بال اور سنوکر کا بے حد شوقین تھا۔ جنید کوماں کے ہاتھ کی بریانی بے حد پسند تھی،جب بھی چھٹی پر آتا تو کھانے میں یہی ایک فرمائش کرتا اور بدلے میں ماں جب گھر پر مزید رُکنے کی خواہش کا اظہار کرتی تو یہ کہہ دیتا کہ''ماں میں نے وہاں پر خون کا انگوٹھا لگایا ہوا ہے۔''


باتوں کے دوران جنید شہید کی بہن اریج حفیظ نے بتایا کہ ان دونوں میں بہت دوستی تھی۔ وہ بچپن سے اکٹھے پڑھتے اور کھیلتے تھے۔ اریج جو کہ

F.Sc
کر چکی ہے اور میڈیکل میں ایڈمشن کی تیاری کررہی ہے، بھائی کے بے حد قریب تھی۔ جنید کا بھی ہربھائی کی طرح یہی خواب تھا کہ وہ اپنی بہن کو ڈاکٹر بنائے، اس سلسلے میں اُس نے اپنی بہن کا ساتھ دیا۔ اریج نے جنید کے بارے میں مزید بتایا کہ بھائی بچپن سے ہی ہنس مکھ اور شرارتی تھے۔ میرے ساتھ ہاکی کھیلتے تھے۔ آرمی جوائن کرنے کا شوق جنید کو اپنے تعلیمی دور سے ہی تھا لہٰذا بہتر کارکردگی اور لائق سٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے اپنے وائس wojokhakmainso1.jpgپرنسپل کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے جنید نے پاک فوج میںجانے کا ارادہ کیا اور پہلی ہی دفعہ آئی ایس ایس بی کا امتحان پاس کر لیا اور آغاز کیا اس سفر کا جو ہر انسان کو نصیب نہیں ہوتا۔
جنید نے پی ایم اے کاکول میں
TOP-10
میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھا اور کراس بیلٹ حاصل کی۔ پہلے پہل جنید کی والدہ جنید کے فوج میں جانے کے فیصلے پر متذبذب تھیں لیکن جب بیٹے جنید جیسے ہوں تو مائیں خود ہی فخر کرنے لگتی ہیں۔ پاس آئوٹ ہونے کے بعد جنید شہید کی پہلی پوسٹنگ 20 پنجاب رجمنٹ میں ہوئی اور وہ بہاولپور چلے گئے۔ جہاں انہوں نے کھیلوں کے مقابلوں میں اپنی یونٹ کے لئے پہلی ٹرافی جیتی۔ فوج میں بھرتی ہونے کے ساتھ ہی ہر ماں باپ کی طرح جنید کے والدین نے بھی اس کے سرپر شادی کا سہرا سجانے کا خواب دیکھا لیکن قدرت کوکچھ اور ہی منظور تھا۔ کیونکہ جنید کو کمانڈوبننے اور ایس ایس جی میں جانے کا بے حد شوق تھا چنانچہ دوسری پوسٹنگ کشمیر میں جب آئی تو جنید نے یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ ایس ایس جی میں جانے کے لئے
Selection Test
میں شامل1800افسروں اور جوانوں میں سے پہلے چار میں اس کا نام آیا۔ ایس ایس جی جوائن کرنے کے بعد جنید نے آپریشن ردالفساد اور ضربِ عضب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
پاک آرمی کے کامیاب آپریشنز کے بعد باجوڑ ایجنسی سمیت فاٹا کے باقی علاقوں سے بھی شرپسندوں اور دہشت گردوں کو بھاگتے ہی بنی۔ امریکی اتحاد اور افغان افواج، پاک افغان بین الاقوامی بارڈر کی دوسری جانب اِن دہشت گردوں کو بوجوہ روکنے اور ختم کرنے میں ناکام رہیں اور ان دہشت گردوں نے افغانستان کی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے بنا لئے جہاں سے وہ وقتاً فوقتاً پاکستانی علاقوں پر حملہ آور ہوتے تھے۔ ان حالات میں کیپٹن جنید کی کمپنی کو افغان سرحد سے ملحقہ چند پہاڑی چوٹیوں کوکلیئر کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔


اپنے کمانڈنگ آفیسر کی جانب سے یہ ٹاسک ملنے کے بعد کیپٹن جنید نے اپنی کمپنی کے جونیئر کمیشنڈ آفیسرز اور نان کمیشنڈ آفسیرز کو اکٹھا کیا اور ایک منجھے ہوئے جنگجو لیڈر کی طرح بہت باریک بینی اور ٹھنڈے دماغ سے حملے کی پلاننگ کی۔ تمام جزئیات سے فارغ ہونے کے بعد یہ نوجوان آفیسر جب اپنے جوانوں سے خطاب کے لئے کھڑا ہوا تو اس کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ اس کا لہجہ فولادی تھا اور آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ وہ اپنے جوانوں کو زندگی اور موت کے معرکے کے لئے تیار کر رہا تھا۔ مشن پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنا تھا اور کیپٹن جنید کے لئے یہ ایک مقدس فریضہ تھا۔ ہر فوجی کے لئے پاکستان کی عزت و ناموس اور حفاظت سے بڑھ کر کوئی فریضہ نہیں ہوتا سو جنید اور اس کے ساتھیوں نے بھی جان پر کھیل کر دشمن کو شکست دینے کی ٹھانی۔


کیپٹن جنید اور اس کے ساتھیوں نے مختلف ٹولیوں میں پہاڑی کی چوٹی کی جانب اپنا ایڈوانس شروع کیا۔ افغان علاقے سے آئے ہوئے شرپسند پہاڑ کی چوٹی پر موجود تھے۔ جب پاک فوج کے جوان فائر کی زد میں آ گئے تو دہشت گردوں نے پوری شدت سے فائر کھول دیا۔ جنید نے فوری طور پر اپنے ساتھیوں کو ڈیپلائے کیا۔ صورت حال کا جائزہ لیا اور پھر فائر اور موو کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کا فائر شدید اور مؤثر تھا۔ بے شک یہ پاک فوج کے جوانوں کا یہی حوصلہ ہے کہ وہ گولیوں کی بارش میں بھی آگے بڑھتے ہیں۔ اسی دوران کیپٹن جنید نے اپنی سپاہ کا مورال بلند کرنے کے لئے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ آج اس کی آواز میں ایک نئی طرح کا جوش و ولولہ تھا۔ جب کیپٹن جنید اور ان کے ساتھی دشمن سے چند گز کے فاصلے پر رہ گئے تو اچانک ایک گولی ہوا میں تیرتی ہوئی آئی اور جنید کے جسم کے آر پار ہو گئی۔ وہ شدید زخمی ہو گیا مگر حوصلہ نہیں ہارا۔ جوانوں کی ہمت اپنے لیڈر کے زخمی ہونے پر کم نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک نئے جوش سے آگے بڑھتے گئے اور کئی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ بہت جلد پہاڑ کی چوٹی پاک فوج کے قبضے میں تھی۔ دشمن کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا۔ کیپٹن جنید کا مشن مکمل ہو چکا تھا۔ اب اس غازی کے جانے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔ دشمن کے ساتھ دوبدو مقابلے میںوہ زخمی ہو کر شہادت کے منصب پر فائز ہو گیا جو بچپن سے اس کی خواہش تھی۔ شہادت افضل لوگوں کا مقدر ہوتی ہے۔ شہادت کی موت جنید کا مقدر تھی۔ موت نے اسے چن لیا تھا۔ سو جنید نے اپنی جان، جانِ آفریں کو سپرد کی مگر اس تفاخر کے ساتھ کہ وہ اپنا مشن مکمل کر چکا تھا۔ پاکستان کا بیٹا وطن کی ناموس پر قربان ہو گیا اور آئندہ آنے والوں کے لئے مثال چھوڑ گیا۔ بہن کا پیار، ماں کی وفا اور والد کی شفقت کچھ بھی جنید کی اپنے پرچم سے محبت کے آڑے نہ آسکی۔ والدین کا اکلوتا سہارا جب سبز پرچم میں لپٹا گھر آیا تو گھر والوں کی آنکھوں میں آنسوئوں کے ساتھ ماتھے پر ایک غرور بھی تھا جو اس احساس کی علامت ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے اس فرض سے آشنا تھے اور اس کے ہر قدم پر اس کے ساتھ تھے۔
جس ارض پاک پر مائیں ایسے جوان پیدا کرتی ہیں اس کا مقدر تابندہ ہی ہوتاہے۔
ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام
روح ہے جس کی دم پرواز سر تاپانظر

 
09
January

تحریر: انور شمیم

حوالدار شیر دراز خان شہید کے حوالے سے ان کے بھائی انور شمیم کی خصوصی تحریر


مملکتِ خداداد پاکستان کا قیام ہمارے آباء واجداد کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ اسی تسلسل میں استحکام وطن کے لئے ہمارے جانباز ہمیشہ اپنا آج قوم کے کل کے لئے قربان کرتے چلے آئے ہیں۔ دشمن چاہے کھل کر سامنے آئے یا دہشت گردی کے پردے میں چھپ کر وار کرے، افواج پاکستان کے جری جوانوں نے ہر محاذ پر سیسہ پلائی دیوار بن کر اس کے مذموم عزائم کو ہمیشہ ناکام بنایا ہے۔ وطن عزیز کی سلامتی کے لئے قوم کے ان بہادر سپوتوں نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کیں اور اپنے جیتے جی وطن کی حرمت پر آنچ تک نہ آنے دی۔ آج کل اسی جذبے کے حامل، شوقِ شہادت سے سرشار ہمارے بہادر جوان قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے میں مصروف ہیں۔
قوم کے اِن نڈر سپوتوں میں شامل ایک عظیم نام حوالدار شیر دراز خان شہید کا بھی ہے جنہوں نے وادٔ شوال کے مشکل ترین محاذ پر یکم دسمبر 2017کو جام شہادت نوش کر کے اپنی خاندانی روایت کی پاسداری کی۔ حوالدار شیردراز خان (شہید) کا خاندان شہادت کی تابندہ روایت کا امین ہے۔ اس سے قبل ان کے دو بھائی اور دو بھانجے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان کے بھائی سپاہی محمد خورشید خان طوفان نومبر 1994 میں 2 ونگ مہمند رائفلز کی جانب سے سوات میں شدت پسندوں کے خلاف مہم میں حصہ لیتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ ان کے دوسرے بھائی نائب صوبیدار عمردراز خان شہید کا تعلق مہمند رائفلز کے 3 ونگ سے تھا۔ وہ اکتوبر 2012 میں محمد خوزئی مومن پوسٹ پر دہشت گردوں کے خلاف بے جگری سے لڑتے ہوئے شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔ ان کے ایک بھانجے، سپاہی حضرت علی(12 فرنٹئیر فورس رجمنٹ) اور دوسرے بھانجے، سپاہی لال مرجان (14فرنٹئیر فورس رجمنٹ )نے 2012 میں وادٔ شوال میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں یکے بعد دیگرے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس سے قبل ان کے دو اور کزن بھی پاک فوج کی جانب سے مختلف معرکوں میں شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کر چکے ہیں۔

khandanshudaka.jpg
شہداء کی اس درخشندہ روایت کے امین، حوالدار شیر دراز خان نے ضلع کرک کے گائوں غرکلے کے ایک معزز گھرانے میں20 جنوری 1979 کو آنکھ کھولی۔ ان کے والد ملک محمد علی خان برسوں سے بحیثیت نمبردار اور کسان کونسلر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ حوالدار شیر دراز خان8بھائیوں اور5بہنوں میں پانچویں نمبر پر تھے۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول میٹھا خیل سے حاصل کی اور اس کے بعد شوق شہادت انہیں پاکستان آرمی میں کھینچ لایا۔ انہوں نے 10 فروری 1998 کو پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور فرنٹئیر فورس سینٹرایبٹ آباد میں بنیادی عسکری تربیت کی تکمیل کے بعد 14فرنٹئیر فورس رجمنٹ (نو بارہ بٹالین) میں مستقل طور پر تعینات کئے گئے۔


حوالدار شیردراز خان شہید نے انیس سالوں پر محیط عسکری کیرئیر کے دوران ہر میدان میں مثالی کارکردگی کے جھنڈے گاڑ کر اپنے افسروں اور جوانوں کے دل جیتے۔ یونٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد وہ مختلف تربیتی مقابلوں میں نہایت دلچسپی سے شریک ہوا کرتے تھے ۔ وہ ابتدا ہی سے یونٹ کی نشانہ باز ٹیم کا مستقل حصہ تھے اور فائرنگ کے سالانہ مقابلوں میں یونٹ کے لئے ٹرافی کا حصول ہمیشہ ان کا مطمع نظر ہوا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ یونٹ کی کبڈی، ہینڈ بال اور کشتی کی ٹیموں میں بھی وقتاً فوقتاً اعلیٰ کارکردگی کے جوہر دکھاkhandanshudaka1.jpg کر تمغوں اور انعامات کے حقدار ٹھہرتے رہے ۔ اپنے تابناک کیرئیر کے دوران انہوں نے تمام تربیتی امتحانات بھی امتیازی حیثیت میں پاس کئے۔ ان کی اسی بہترین کارکردگی کے پیش نظر انہیں دس سال کی قلیل سروس میں حوالدار کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ انہوں نے انتہائی جانفشانی سے فرائض سرانجام دے کر خود کو اس منصب کا اہل ثابت کیا اور ہمیشہ اپنے افسران کے اعتماد پر پورا اترے۔ حوالدار شیردراز خان شہید نے 2014 میں یونٹ کے ہمراہ اقوام متحدہ کے امن مشن لائبیریا میں بھی خدمات سرانجام دیں جہاں ان کی کارکردگی کو بے حد سراہا گیا۔


حوالدار شیردراز خان دہشت گردی کے معاملے میں شروع ہی سے انتہائی حساس واقع ہوئے تھے۔وہ جب بھی کسی شدت پسندانہ کارروائی کے بارے میں سنتے تو ان کا خون کھول اٹھتا تھا۔ وہ دہشت گردی کو فساد فی الارض اور معاشرے کے ناسور سے تشبیہہ دیتے اور اپنے رفقائے کار کو ہمیشہ اس کے خلاف ثابت قدم رہنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ ان کی یونٹ شوال آپریشن کے لئے منتخب ہوئی تو وہ بخوشی اس کے ہراول دستے کا حصہ بنے۔ دو سال کے عرصے میں انہوں نے اپنے رفقاء کے شانہ بشانہ دس ہزار فٹ بلند برفانی چوٹیوں کو دہشت گردوں کے چنگل سے وا گزار کروانے کے لئے خون پسینہ ایک کردیا اور فقید المثال کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور اس دوران یونٹ میں ان کی فرض شناسی، بے خوفی اور ایثار و قربانی ایک ضرب المثل کی سی حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔


حال ہی میں ان کی یونٹ شمالی وزیرستان میں اپنا مشن کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد واپسی کے مراحل سے گزر رہی تھی۔ حوالدار شیردراز خان حسب معمول افغان سرحد پر واقع اگلے مورچوں میں عسکری فرائض سرانجام دے رہے تھے کہ یکم دسمبر 2017 کو سوا بارہ بجے کے قریب دشمن کا ایک مسلح جتھا ان کی پوسٹ پر حملہ آور ہوا۔ ان کی جانب سے دشمن کی کارروائی کا دلیرانہ انداز میں جواب دیا گیا اور کچھ ہی دیر میں اسے پسپائی پر مجبور کر دیا گیا تاہم فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک گولہ ان کے بالکل نزدیک آ کر پھٹا جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ پہنچایا گیا لیکن انہوں نے راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ افواج پاکستان کا یہ تابندہ ستارہ 12 ربیع الاول کو جمعة المبارک کی مبارک گھڑی میں شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوا۔ بقول شاعر ''یہ رتبہء بلند ملا جس کو مل گیا'' انہیں 2 دسمبر 2017 کوغرکلے گائوں میں واقع ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں افواج پاکستان سے تعلق رکھنے والے بے شمار حاضر سروس اور ریٹائرڈ افراد کے ہمراہ اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت فرما کر شہید کی پاک روح کو جنت الفردوس کی طرف الوداع کیا۔


حوالدار شیردراز خان شہید تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کے شفیق باپ تھے۔ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ ان کے بچے انہی کی مانند فوج میں شامل ہو کر ملک کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔ حوالدار شیر دراز خان شہید کے اہل خانہ کو ان کی شہادت پر فخر ہے اور ان کا عزم ہے کہ وہ ہر قیمت پر ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیں گے۔


بلاشبہ آج ہماری آزادی حوالدار شیردراز خان شہید اور ان جیسے ہزاروں مخلص اور بے لوث شہداء ہی کی مرہون منت ہے جو اپنا آج ہمارے کل کے لئے قربان کر کے آئندہ نسلوں کے محفوظ اور تابناک مستقبل کے ضامن ٹھہرے ہیں۔ دفاع وطن کی خاطر ہر خطرے کا بے دھڑک سامنا کرنے والے یہ بے لوث مجاہد بلا شبہ پاک فوج کا سرمایہ اور جرأتوں کے تابندہ نشان ہیں۔ حوالدار شیردراز خان شہید اور ان کے ساتھیوں نے اپنے پاکیزہ لہو سے جو مقدس شمع روشن کی ہے اس کی روشنی تا ابد افواج پاکستان کے جوانوں کے لئے نشان منزل کا کام دیتی رہے گی۔
صلہ شہید کیا ہے، تب و تاب جاودانہ۔


 

 
09
January

تحریر: عزخ


ارے یہ تو شہیدوں کے نا م ہیں جن کے لہو سے آزادی کے دیپ روشن ہیں۔ شمار کرنا شروع کئے تو تعداد 4570 سے تجاوز کر گئی ،ابھی مزید جگہ خالی ہے اور سلسلہ وصل ووفاہنوز جاری۔ جس قوم میں قطار در قطار خون کا نذرانہ پیش کرنے والے موجود ہوں وہ کیوں کر ایک ہجوم رہ سکتی ہے۔ یقینا یہ اعلانِ آمدِ بہارالرجال ہے اس مقدس و محترم ''قطارالرجال'' کو''قحط الرجال'' ہرگز نہیںکہا جاسکتا۔ دل کی گہرائی میں آواز گونجی، یہ تعداد تو صرف خیبرپختونخوا اور فاٹا کے شہداء کی ہے بقیہ ملک کا شمار کریں تو اندراج دگنا ہوگا۔ پاکستانی قوم کی تعمیر میں خشت کی جگہ ہڈیوں اور گارے کے بجائے گاڑھے لہوکا استعمال ہوا ہے اور یہ تعمیر سیسہ پلائی دیوار سے زیادہ مضبوط و پائیدار ہے۔ وہ پائیداری جس کا ضامن مینار پاکستان کی بنیاد میں موجود چاند تارے کا نشان ہے۔ وہ چاند تارا جو پاکستان کے عَلم کی زینت ہے۔ وہ عَلم جو شہداء کی اِس یادگار پر لہرا رہاہے۔

''اس بر عظیم میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا ہے وہ مینار قرارداد پاکستان ہے، یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں مگر ان کے درمیان یہ ذرا سی مسافت جس میں سکھوں کا گردوارہ اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ہیں تین صدیوں پر محیط ہے۔ میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان تین گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا،مسجد کے مینارنے جھک کرمیرے کان میں راز کی بات کہہ دی، جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں، جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے، ملک کے بجائے مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو، اورجب مسلمانوںکوموت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہوجائے، تو صدیاں یوں ہی گم ہو جاتی ہیں۔''
جناب مختار مسعود کی مشہور کتاب ''آواز دوست'' سے مندرجہ بالا اقتباس میںنے پہلی دفعہ حکیم سعید کے شائع کردہ بچوں کے لئے معیاری رسالے''ہمدرد نونہال'' میں پڑھا۔میں اس وقت شائد تیسری یا چوتھی جماعت کا طالبعلم تھا، الفاظ قلب و ذہن کی قبا پر ترتیب سے پروئے ہوئے نگینوں کی آب وتاب لئے آج تک نقش ہیں۔پھرایک روز میری آنکھ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں کھلی اورخود کو لائبریری میں موجود کتاب ''آواز دوست'' ہاتھ میں لئے پایا۔بعد ازاں اُن کی دیگر دوتصانیف ''سفر نصیب'' اور''لوح ایام'' پڑھیںاوربالآخر 1994ء میں مختار مسعود صاحب محترم کی خدمت میں باریابی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ لگ بھگ 75 سالہ چھریرے بد ن اور ر وشن چہرے کے ساتھ ُان کی توانا ،پُرحکمت اور قرینے سے کی گئی گفتگو کا ہر ایک لفظ آج بھی تازہ ہے۔ قیام پاکستان کی تحریک کا اپنے علی گڑھ یونیورسٹی میں واقع مکان سے اور بعد میںاسی جامعہ میںطالب علمی کے زمانے میں، قریبی مشاہد ہ کرنے والے اس نوجوان کا ولولہ ابھی تک صحت مند، توانا اور تابندہ تھا۔تاہم پاکستان بننے کے بعد قوم کی تشکیل کے مراحل میں ملنے والے دھچکوں، صدموںاور حوادث نے ان کے تجزئیے کو قدرے ضعیف اور خدشات میں مبتلا کر دیاتھا ۔ مختار مسعودصاحب کی رگوں میں موجزن کشمیری آبائی خون کو تکمیل پاکستان کے لئے منتظر، اپنی امید کی ممکنہ شکست اورخدشات کی ریخت کو یقین کے ستون سے سہارہ دئیے حالات کی طاری کردہ مایوسی کے بند سے نبردآزما پایا۔ مختار مسعود کی تحریریں در اصل دَہائیوں کی دُہائیاں دیتی گواہی اور ان کی بتدریج تصنیفات مستقبل کے اندیشیوں سے پُر ہیں۔ رخصت سے قبل جب ہمت کرکے نشاندہی کی تو ڈوبتے سورج کے ساتھ بزرگ مصنف نے یُوں گہری سانس کھینچی کہ کر ب کی سلوٹوں نے چاند پیشانی کو گہنادیا۔انتہائی تکلف سے گویا ہوئے، ''یہی وجہ ہے کہ اب میں ملاقات، میل جول سے کنارہ کش ہو گیا ہوں۔'' دکھ اور درد کے تازیانے تھے جو میری روح پر برس پڑے ۔دانا بزرگ کی بقیہ گفتگو قحط الرجال کا نوحہ تھی۔ گو کہ روایتاًاور مصلحتا ًہمار ی ملاقات کا اختتام نویدِ سحر کی ندا اور خیر کی دعا پر ہوا مگر خدشات کے جس آسیب نے اُس دن گھیرا، آنے والے وقت میں وہی آسیب 'دہشت گردی' کے بھیانک عفریت کی شکل میں نمودار ہوا جو آن کی آن میں پوری قوم کو اس طرح نگلنے کے لئے بے تاب تھا کہ ملک کی بنیادوں تک میں دراڑیں پڑ گئیں اور ملت کی چُولیںہلتے واضح طور محسوس ہونے لگیں ۔بدعنوانی کا عام چلن، تعلیم کی کمی، اخلاقی گراوٹ،صحت، افلاس اور بڑھتی آبادی جیسے دیگر مسائل ''دہشت گردی'' کے عفریت دیوکے آگے بونے دکھائی دینے لگے۔

goshbrawaz.jpg
چار دہائیوں کے سفر نصیب کے بعد، جن میںدس سے زائد سال دہشت گردی کے خلاف لوح ایام کی ڈھال لئے ڈھلے، میرا کاروانِ متاع بالآخر پشاور آن ٹھہرا۔ اب تک بال ورِیش سفید اور خدشات سیاہ تر ہوچلے تھے۔ حیدرآباد سے شروع ہونے والے حیات کے ِاس سفر نے کچھ ایسی تھکاوٹ طاری کی کہ فرصتِ دل کے چند لمحات میسر ہونے کی شدت سے طلب ہوئی تاکہ آوازدوست برگوش سماعت ہو سکے ۔ ''آواز دوست'' جوکبھی ایک نوجوان سی ایس پی افسر مختارمسعود نے سنی اورپھراپنے ''سفر نصیب''کو ''لوح ایام'' پر کندہ کیا۔ وہ آواز دوست جس کو'' پرِکاہ'' اور''پارئہ سنگ''سے منسوب کرنے بعد وہ خود اپریل 2017 میں خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔اِدھر پشاور،جوکبھی پھولوں کے شہر کے طور پر مشہور رہا ہے، کی امروز بوجھل فضا میںایک نونہالِ مکتب جب آواز دوست کا منتظر و مشتاق تھا توعیاں ہوا کہ دہشت گردی سے نبردآزمائی نے جہاں اس کے تن اور ذہن کو بوجھل کردیاہے وہیں بُوجھِ سماعت بھی شل ہو چکی ہے۔ پشاور منجمدلمحات کے ساتھ اب دو سال گزرنے کے بعد بھی، اسی17 دسمبر2014 ( سانحہ آرمی پبلک سکول کے ایک دن بعد) کی سی خون آشام سوگواریت میں سانسیں بھر رہاہے۔ گویا سانحے کے بعد اگلے دن کا سورج ابھی تک نہیں چڑھا، کرنوں نے برسنا بند کر دیا اور وقت گویا تھم سا گیا ہے۔نہ جانے یہ راہِ فرار تھی یا تازہ ہوا کے کسی جھونکے کی اشد ضرورت کہ پشاورچھاونی میں واقع GRCکی عجیب سی سرسبز کشش نے گھیر لیا۔ ہر روز شام کو جہاںچہل قد می اور ورزش کرتے نہ معلوم ایساکیا تھا جو حصار کی مانند دل و دماغ کو گھیرے رکھتا۔ پھر دھیرے دھیرے یہ اسرار خیال کے پردے پر نمودار اور رمُوزکے نقش سوچ پر نمایاں ہوتے چلے گئے۔چھائونی کے عین وسط میں
Complex) GRC (Garrison Recreational
دراصل، کرکٹ کے میدان، اسکواش کورٹ، لائبریری، گیسٹ روم،کافی کارنر، سوئمنگ پول اور کمیونٹی ہال پر مشتمل ہے۔ شمال کی سمت فورٹ روڈ پر واقع اس کے پائیں دروازے سے داخل ہوں تونظربے اختیار ایک کشادہ پویلین پر پڑتی ہے ۔ نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کا یہ خوبصورت پویلین سرخ کھپریلی چھت، سفید دیواروں، دروازوں اورکھڑکیوں کا مر قع ہے، جن کے چوخانے دارشفاف شیشوں سے اندر اور با ہر دو طرفہ نظارہ کیا جاسکتاہے۔ کھڑکیاں جو ہمارے ہاں مروج جدید طرز تعمیر میںاب جسامت اور تعداد میں گھٹتی جا رہی ہیں، دراصل جہاں کسی عمارت میں حبس کے رَد اور ہوا کے دخُول کی نظیر ہیںوہیں یہ کھڑکیاںکشادگی اور لا محدود امکانِ نظر کو وا کرنے کا بھی موجب ہیں۔جبھی تو کمپیوٹر کے ُاس سائنسدان نے نوتخلیق شدہ آپریٹنگ سسٹم کے لئے دَر یا ِدیوار کے بجائے کھڑکی
(window)
کے نام کا انتخاب کیا۔ اب اسے بد قسمتی ہی کہئے کہ معمارِجدید کی تعمیرنو میں کھڑکیاں تعداد میں کم،ان کی جسامت پست و کوتاہ اور تنفس مصنوعی ذرائع پر منحصر ہوچکا ہے۔


پویلین کاچبوترہ اپنے سامنے واقع گھاس کے میدان سے پانچ قدمچے بلند ہے۔ دالان میں رکھی کرسیوں پر درازہوکر میدان کے عرض پر نگاہ دوڑائی جائے تو پورے
GRC
کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔دالان کی عین پشت پرواقع لائبریری میں کتابوں کا ضخیم ذخیرہ ہے ،وہ کتابیں جو اب تک آباء کی میراث ہی ہیں، ترتیب و سلیقے سے الماریوں میں سجی ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ قرطاسِ علم کا ایک انبار ہے جوبے نقط کمر پر لدا ہے، روشنائی کا ایک سمندر ہے جو موجزن ہے مگر قلم ہاتھ میں لئے کنارے پر موجودطالب علم کی پیاس ہنوز تشنہ ہے۔ لائبریری کے دروازے سے لوگوں کی آمدورفت تلاشِ علم اوردریافت و طلب کی جستجوکا پتہ دے رہی ہے۔ اسمارٹ فو ن کے اس دور میں بھی جبکہ ہر شخص ایک مفصل لائبریری اپنے ہاتھ یا جیب میں لئے پھر رہا ہے، کتاب کی ورق گردانی کے لئے سیڑھیاں چڑھتے لوگ بالخصوص نونہالانِ وطن میرے کان میں اذانِ خوش گماں کی ندِا ہیں، قحط الرجال اور حبس آلودگی میں گویا بارش کے چند قطر ے ہوں۔ مگر یہ تو چند بوندوں کا سراب ہے اور مصیبت کا صحرا کہیں زیادہ بنجر اور دقت طلب۔ جس قحط الرجال کامختارمسعود جیسا دانا درویش نوحہ گرہے اس کی تباہ کاریاں چار ُسو اور ہر دانگ پھیلی ہوئی ہیں۔ آواز دوست کے انتساب میں موصوف کا ''پرکاہ''(اپنی والدہ مرحومہ کی قبر پر اگنے والی گھاس کی پہلی پتی) اوراس ''پارئہ سنگ''(جو ان کے والد کی لحد پر نصب ہے )کا انتخاب ہر گز اتفاقی نہیںبلکہ مصنف کی دور اندیشی اور مستقبل بینی کا غماز ہے جو ایک طرف سنگ ِلوحِ مزار پر کندہ سفاک تحریر کابیان ہے تو دوسری طرف نوزائیدہ گھاس کی پتی (پرکاہ) کی صورت آمد بہار کا اعلان۔ بہار و مزار کے درمیان ہچکولے کھاتی ڈولتی نائو کی مانند سوچ میں پیچاںمیری نظربائیں جانب مزین ''پار ئہ سنگ'' جو اس لائبریری کا سنگ بنیاد ہے، پر پڑتی ہے۔ لگ بھگ 5x4x4 فٹ ، ایک بھاری چٹانی پتھر کو مہارت سے سجا کر رکھا گیا جس کے درمیان ایک سپاٹ کی گئی تختی پر حسب روایت سینئر کمانڈ افسر کا نام اور تاریخِ تزئین آویزاں ہے۔ پارئہ سنگ صرف لوح مزار کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ لوح تعمیر'سنگ بنیاد' نام کی تختی اور سنگِ راہ کے طور پر بھی نصب کیا جاتاہے۔ گمان میں غلطاں اس متحیر طالب علم کا خیال ''سنگ وخشت''سے تحریر کردہ عبارت ''مینار پاکستان'' تک جا پہنچا۔ وہ مینارجو عظیم وفراز بھی ہے اور قحط الرجال کی نوحہ گری سے پہلے مختار مسعود کی آواز دوست کا اوّل مضمونِ دل گداز بھی،اور میں کہ عالمِ حیف میںغوطہ زن کہ صاحبِ کتاب نے مینارِ پاکستان پر مضمون مختصر اور قحطِ الرجال کا گریہ طویل کیا۔
1979 میں والد صاحب ہمیں حیدرآباد سے لاہور گھمانے لے کر آئے تو حسبِ روایت پہلے داتادربار پر حاضری دی، پھر پیدل ہی سرکلر روڈ سے بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان جا پہنچے۔پہلی دو جگہوں پر حاصل تجربہ وکیف کا ذکر پھرکسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں فی الوقت مینار پاکستان کے اس سحر اورسُرور کا تذکرہ ضروری ہے جو امروز حواس پرطاری ہے۔پتھر پر کندہ قرارداد لاہور کا متن تو پانچویں جماعت کے اس شاگرد کے سیاسی شعور سے کہیں افزوں تر تھا مگر قائداعظم کی کر سی کے پائے استقلال کا تخیل ضرور اس نونہال ذہن میں بہت صاف اور گہراتھا۔ معمار نصیرالدین مُراد نے مینار کی بنیاد چاند ستارے پررکھی اور اس پر دس پنکھڑیوں کا پھول خوب صورتی سے سجا یاہوا تھا۔ جب والد صاحب ہمیں ساتھ لئے مینار کی بالائی منزل کی طرف رواں دواں ہوئے تو شاید د لجمعی کی خاطر یا پھربرائے نصیحت تعمیر، ہمیں معمار کی نصب کردہ سیڑھیوں کی تعداد گننے پر مامور کیا۔ گول زینے پربچوںکے قدم بلندی کی طرف اٹھے اور 255 قدمچے گنے گئے۔ بالائی منزل پر پہنچ کر فاتحانہ اور واشگاف تعداد بتائی گئی تب بلندی سے نیچے دیکھتے ہوئے والد نے بچوں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا کہ عروج کی تدبیر کے فوری بعد لاحق اندیشہء زوال سے آگاہی اور بچنے کی ترکیب میسر ہو۔ 34سال قبل مینار کی بلندی سے پورے لاہور کا منظر اسی قدر صاف تھا جتنا آج لائبریری کے دالان سے
GRC
کاشفاف نظارہ۔ میں نے کر سی پر پہلو بدلا اور چشم تصور میں 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک میں صدر نشین قائداعظم کی وسیع النظری کو محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ قائد کی بصیرت افروز بینائی نے یقینا اپنی اسی کرسی سے زیرِتخلیق پاکستا ن کے طول وعرض،نشیب وفراز کا اندازہ کیاہوگا۔ سامنے موجو د لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتاجم ِغفیر قحط سالی کی تین صدیاں ختم ہونے کا عندیہ دے رہاتھا۔ ہجوم سے قوم کی تشکیل کے سفر کی سمت اب متعین تھی اور صرف7سات سال کی دُوری پر۔


میں واپس پشاور پلٹ آتا ہوں ،سامنے میدان کے بیضوی کناروں پر محیط راہ گزر پر لوگ چہل قدمی کر رہے ہیں، کچھ دوڑنے میں مشغول ہیں۔زیادہ تر مسلح افواج کے افسر یا ان کے اہل خانہ ہیں یعنی وہ لوگ جو ہجوم میں سے چنیدہ و منتخب ہیں۔ قوم کی تعمیر میں جن کا کردار مرکزی ہے۔ 450 میٹر محیط یہ مسافت منٹوں میں طے کر کے وہ دوبارہ میرے سامنے سے گزرتے ہیں ۔چکر پے چکر لگائے جارہے ہیں مگرطالبعلم کی وجدان ِ نظر میںتو منزل کا نشان اب تک عنقا ہے۔ بے منزل چکر نہ جانے کب تک قوم کو گرداب میںگرفتار رکھیں گے۔ ایک چکر پھر ایک اور چکر، پھر ایک کے بعد ایک اورچکر، ایک چکرپر چکر۔پارک کے گرد بنائی گئی راہ گزر پرطے کردہ مسافت کی خاطر سنگِ نشان بھی نصب ہیں۔ 100 میٹر، 200 میٹر، 300میٹر اور 400 میٹر۔مگر میری نونہال نظر قوم کے لئے منسوب و مخصوص اس ہمدرد سنگ میل کے لئے متجسس ہے جو نشان راہ یا پھر سنگِ نشانِ منزل ہو۔ قرار داد پاکستان کے بلند و ارفع مقاصد تک پہنچنے کے لئے کسی سنگِ آگہی کی ضرورت ہے،لہٰذا نظر مناسب پارئہ سنگ کی تلاش میں اٹھی تو دارلخلافہ پر جاٹھہری۔ شکرپڑیاں پر نو تعمیر شدہ ''نشانِ پاکستان
(Pakistan Monument)
'' ابھر آیا، مگرنہیں نہیں ۔کنول کے پھول کا یہ نشان اتنا متاثر کن تو نہیں کہ نظردم بھرنے سے زیادہ ٹھہرسکے۔کم از کم میرے لئے توبالکل نہیں۔ آن کی آن میں ملک کے عروس البلاد میں قائداعظم کا مقبرہ ہویدا ہوا کہ عظیم و پُرشکوہ بھی ہے اور خوبصورت تعمیر کا شاہکاربھی۔معمار یحییٰ مرچنٹ نے مزار کی آفاقیت مدِنظر رکھتے ہوئے اہرام مصر کے تکون کو قدرے مربع انداز کیا اورنو زائیدہ قوم کے اپنے اَمرقائد سے عشق کی نمائندگی کی خاطر تاج محل سے گنبد مستعارلے کر سرِ مزار سجا دیا۔ مگر میناروں کے بغیر شاید خوابِ تعمیرابھی اُدھورا اور اس کی تعبیر امروز نا آسودہ دکھائی دی۔ یاد آیا کہ بلندوبالا مینار تو فیصل مسجد کے بھی ہیں جو سرسبز مارگلہ کی بلندی کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سبزہ دار پہاڑیوں کے بیچ مر مریں پار ئہ سنگ سے ایک دفعہ نظر متوجہ تو ضرور ہوئی، مگر نوکدار وسط، ایں چہ است، عبث کہ نظر پلٹ آئی۔ مینارِ پاکستان کے بعد قابل ذکر قومی تعمیراتی نشان تو بس یہی ہیں ۔ سفر بوجھل اور خیال کا چکر بے مقصدو لا حاصل معلوم ہونے لگا تو دھیان سمٹا اور دوبارہ اسلامیہ کالج کے شہر پشاور لَوٹ آیا۔


طبیعت متلون اور نگاہ پیاسی پلٹی ہی تھی کہ یکبارگی، سنگ و خشت سے گل ورنگ پھوٹتے محسوس ہوئے۔ بھٹکتی،متلاشی اور متجسس نگاہ کا رخ پویلین کے دائیں جانب ہو ا اور وہ سیاہ سیلٹی پتھر کی دیواروں پر ٹھہر گئی۔ یہ پارہ ہائے سنگ جو ایک اونچے چبوترے پر نصب ہیں ،نگاہ جن سے ٹکرا کر پلٹنے کی تاب نہ لاپائی اور وہیں جم کر رہ گئی۔ میں بے اختیار پویلین سے اٹھ کر ان سنگ پاروں کی جانب کشاں کشاں کھنچتا چلا گیا ۔ یہ سنگ پارے قوم کی منزل کی تلاش کی راہ میں جان نچھاور کرنے والے شہداء کی یادگار کے طور پر ایک چبوترے پر نصب کئے گئے ہیں جن کے سامنے درئہ خیبر کے مشہور دروازے کی شبیہہ بھی تعمیر کی گئی ہے۔ وہ درّہ جہاں سے حملہ آور لشکر ہمیشہ ہم پر چڑھائی کرتے آئے ہیں اوردرّے کے ِاس طرف قربان سروں کے مینار بنائے جاتے رہے ہیں۔ شبیہہ درہ خیبر سے گزر کر سنگ پاروں کے چورس میناروں تک پہنچنے کے لئے سات سیڑھیاں چڑھنا تھیں۔ میں بلند ہوتے ہر قد م کو ایک نشانِ منزل سے منسوب کرتا جا رہا تھا جبکہ نظربدستور سنگ پاروں پرمرتکز تھی۔ پہلی سیڑھی ایمان اور دوسری اتحادسے منسوب کی ہی تھی کہ قدموں میںارتعاش محسوس ہوا۔ تیسری سیڑھی پر تنظیم کا سہارا لیا۔ یہاں تک پہنچ کر قد م باقاعدہ لڑکھڑائے، پیاس لگی اور بینائی سُوکھنے لگی۔العطشں!قحط الرجال کے خدشے نے آن دبوچا۔ چوتھی سیڑھی عزم کو مستحکم کر نے کے نام چڑھی۔ اب سامنے کندہ تحریر لکیروں کی صورت واضح ہونے لگی، چنانچہ پانچویں سیڑھی قربانی کے نام کی، چھٹی دُعائے استسقا یعنی ابرِرحمت کی دعا کے ساتھ۔ وہ بارش جو سبزہ و خوش حالی کی نویدلئے برستی ہو۔ یکایک زور سے بادل کڑکا اورآخری قدمچہ آن پہنچا۔ پھر ساتواں قدم امید بہار میںجو اٹھا تو بلند ہوتا چلا گیا۔ دُور سے سنہری آب لئے چمکتی لکیریںقریب آنے پرترتیب وار تحریر کی صورت کچھ یوں نمایاں ہونے لگیں گویا سلسلہ وار اوپر سے نازل ہوئی ہوں۔یکے از اسمائے غفیر، ایک کے بعد ایک، تواتر۔ ارے یہ تو شہیدوں کے نا م ہیں جن کے لہو سے آزادی کے دیپ روشن ہیں۔ شمار کرنا شروع کئے تو تعداد 4570 سے تجاوز کر گئی ،ابھی مزید جگہ خالی ہے اور سلسلہ وصل ووفاہنوز جاری۔ جس قوم میں قطار در قطار خون کا نذرانہ پیش کرنے والے موجود ہوں وہ کیوں کر ایک ہجوم رہ سکتی ہے۔ یقینا یہ اعلانِ آمدِ بہارالرجال ہے اس مقدس و محترم ''قطارالرجال'' کو''قحط الرجال'' ہرگز نہیںکہا جاسکتا۔ دل کی گہرائی میں آواز گونجی، یہ تعداد تو صرف خیبرپختونخوا اور فاٹا کے شہداء کی ہے بقیہ ملک کا شمار کریں تو اندراج دگنا ہوگا۔ پاکستانی قوم کی تعمیر میں خشت کی جگہ ہڈیوں اور گارے کے بجائے گاڑھے لہوکا استعمال ہوا ہے اور یہ تعمیر سیسہ پلائی دیوار سے زیادہ مضبوط و پائیدار ہے۔ وہ پائیداری جس کا ضامن مینار پاکستان کی بنیاد میں موجود چاند تارے کا نشان ہے۔ وہ چاند تارا جو پاکستان کے عَلم کی زینت ہے۔ وہ عَلم جو شہداء کی اِس یادگار پر لہرا رہاہے۔


متحیر نگاہ کچھ یوں خیرہ ہوئی کہ اسمائے شہداء سے ہٹتی ہی نہ تھی۔ فاتحہ کیوں پڑھتا کہ یہ تو زندوں کے نام ہیں۔ رزق ملنے کا جن سے الٰہی وعدہ ہے۔ پتھر کااس سے بہتر استعمال اور کیا ہوسکتا ہے۔ آج کی مصنوعی ذہانت ،کمپیوٹر، پلاسٹک، برق ْوبھاپ اور دھات کے زمانوں سے ہزار ہا سال پہلے انسان نے ''پتھر کا استعمال'' سیکھا۔ اسی دور میں پتھروں اور سروں کے مینار تخلیق ہوناشروع ہوئے اورشاید خیبر پارسے لشکر کشی کا سلسلہ اور دھرتی سے قربانیوں کا رشتہ بھی اسی دور سے وابستۂ سلاسل ہے ۔ قربانی کی داستان درہ خیبر کی گھا ٹیوں سے شروع اور سرخ لہو سے رقم ہوئی ہے۔ ترقی کے باوجود پتھر سے یہ جینیاتی رشتہ اب بھی درازو مستحکم ہے کہ انسان سنگ سے صنم تراشی اورجہانِ نو تخلیق کرتا آیاہے۔ بلندوبالا عمارات، عریض شہر، دریائوںپرپشتے، رہنمائوںکے مجسمے،بادشاہی مقبرے، سنگ بنیاد و تکمیل جن پر خوبصورت و مشہور نام ہوتے ہیں، بنگلوں اور شاندار مکانات کے باہراسمِ ملوکیت کی تختیاں اورجب ملکیت کے دعویدار وہی جسم لحد میں منتقل ہوتے ہیںتو اسی قسم کے ایک پتھر کولحد کی لوح قبر او ر تعویذ قبرکے صورت اوڑھے زیر خا ک جا سوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان تمام پتھروں میں سب سے حسین استعمال کون سا ہے۔ جو اب سامنے اِیستادہ تھا۔ شہدائے وطن کو اپنے بطن پر نقش کئے ہوئے۔ یہ پارئہ سنگ بہت جمیل و وجیہہ ہے ۔ یاد گارِ شہداء میں نصب ہونے سے پتھر بدرجہا محترم ہو جاتاہے۔ کوئی ہے جو مجھے بتلائے کہ کیا پتھر کا اس سے زیادہ حسین،دائمی استعمال بھی ممکن ہے۔ نظر اور خیال یکجا ہوئے تو قلب پر سکوت طاری ہوا اورگمان سے ہیبت رفع ہوئی۔ ان نام وروں میں سے ہر ایک کی اپنی دنیاوی زندگی ہو گی ۔ پتہ و خاندان، ولدیت ونسب، اہل و اعیال ۔ خواہش اور امنگ لئے ان دلیر دل سپاہیوں کے لئے مگر ان کا عزم اور جذبۂ قربانی مقدم ہوا۔ موت تو برحق ہے لیکن ان شجیع و تواناتن اجسام نے موت کو ورطۂ حیرت میں ڈبویا اور سکتے کو شکست دی اور اب وہ خود جنت کے باغوں میں سکون ورہیں۔ یہ وہ تن آور درخت تھے جنہوں نے اس قوم کو اپنی قربانی سے زندگی کا ثمر اورحیات کا ایندھن فراہم کیا۔ درخت جو زندگی کا نشان ہے، ایک سفر اور عزم مسلسل ہے۔ پرِکاہ سے تناور تن بننے کا عمل انسانی سعی وترقی کے فلسفے سے منطبق ہے۔


اچانک سایہ اور خوشبو کا جھونکا محسوس ہوا اور ہوا کے ساتھ پتوں کی سرسراہٹ نے مجھے چونکا کر اپنی جانب متوجہ کیا۔ راہ گزر کے کنارے قطار سے لگے درختوں کی شاخیں گویا مسکراتے ہوئے جھولا جھول رہی تھیں۔ یادگار شہد اء کے قریب ہی ''دیودار'' کا پیڑ اپنا سایہ اور سبز ہ یوں تقسیم کر رہاتھا،گویا گنگنا رہا ہو۔ دیودار ہمارا قومی درخت ہے ۔ یوں تو پورے
GRC
میں انواع واقسام کے پیڑ لگے ہیں جن میں برگد، بکائن، شیشم ، چیڑ،جامن ،سفیدہ ،سرو، پڑتل و دیگر آرائشی نباتات شامل ہیں مگر دیودار کا یہ پیڑ اس جگہ، یادگار شہداء کی تعمیر سے عرصہ قبل لگایا گیاتھا۔ کیا لگانے والے ذہن کو فہم اور ادراک تھا کہ آنے والے وقت میں اپنے خون سے قوم کی آبیاری کرنے والے شہداء کی یادگار کو صبح وشام اپنی جھولتی ، لہراتی اور گنگناتی شاخوں سے سلامی دینے قومی درخت ہر وقت تیار موجود ہو۔ اس میدان کے مغربی حصے میں تنومند اور قد آور برگدو پیپل کے بہت سار ے د رختوں کی قطار بھی اپنی تمام تر شوکت لئے نمایاں ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جہاں میں نے گزشتہ ا یک سال کے دوران کئی شہداء کے جنازے کی نماز ادا کی۔ جی ہا ں پچھلے کئی سالوں سے یہ میدان جناز گاہ کے طور پر بھی اپنا دامن وا کئے ہوئے ہے۔ شہداء کے جنازوں کے لئے جس تزک و احترام کی ضرورت ہے غالباًوہ ان گھنے اور برگزیدہ برگد کے درختوں کے سائے سے زیادہ کسی اوربہترصورت میسر نہیں۔ یوں یہ میدان ایک عجیب سی مساوات فراہم کرتا ہے۔ ایک ہی جگہ، جہاں قوم کے حال پر قربان ہونے والوں کا جنازہ پڑھا جاتاہے، وہیں تھوڑی دیر بعد عین اسی جگہ قوم کا مستقبل جسمانی تربیت کرتا نظر آتاہے۔ کم سن ونوعمر نونہال بچے غیر مسلح مقابلے کی تیاری یہیں کرتے ہیں۔ ان میں بہت سے کچھ دنوں بعد فوج کا حصہ بنیں گے۔ یہ ابھی نوخیز و ناتواں ہیں۔ کچی کلیاں اور َان پھوٹے شگوفے ہیں جن کے جسم بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوا ہی چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بچے اور بچیاںقوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں یہ اس ملت کا ''سفرِنصیب'' ہیں۔ شاید ان کی قیمت کا احساس وطن فروش اور ملک دشمنوں کو بھی ہے۔ تبھی تو مسلح دہشت گردوں نے ان نازک پتیوں کو مسلنے کے لئے پشاور''اے پی ایس'' کا انتخاب کیا۔قلم سے لیس نہتے بچوں پریوں تفنگ وتیر برسائے کہ لہو کی بارش نے سورج کی کرنوں کو بھی جلا کر بھسم کردیا ۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ قحط الرجال سے کہیں کاری نقصان اس قوم نے قہر الرجال کے سبب اٹھایا۔ یہ قہار کبھی دہشت کی تلوار کے وار کرتے حملہ آور ہوئے تو انہی میں وہ قاہرانِ قلم بھی شامل ہیں جنہوں نے ظالم لشکروں کی تزک سنہری الفاظ سے قلمبند کی یا اپنے عملداری اختیارات کاناجائز استعمال۔ تلوار سے گردنیں رگیدنے اور قلم سے ارضِ وطن کا سینہ چھیدنے والے دونوں ہی ''قہرالرجال'' کا باعث ہیں جو ''قحط الرجال'' سے کہیں زیادہ کاری ثابت ہوا۔

تاریخ گواہی دیتی ہے کہ قحط الرجال سے کہیں کاری نقصان اس قوم نے قہر الرجال کے سبب اٹھایا۔ یہ قہار کبھی دہشت کی تلوار کے وار کرتے حملہ آور ہوئے تو انہی میں وہ قاہرانِ قلم بھی شامل ہیں جنہوں نے ظالم لشکروں کی تزک سنہری الفاظ سے قلمبند کی یا اپنے عملداری اختیارات کاناجائز استعمال۔ تلوار سے گردنیں رگیدنے اور قلم سے ارضِ وطن کا سینہ چھیدنے والے دونوں ہی ''قہرالرجال'' کا باعث ہیں جو ''قحط الرجال'' سے کہیں زیادہ کاری

جی آر سی کے سر سبز گھاس والے میدان میں کھیلتے کودتے یہ بچے قوم کے لئے اگنے والی نئی امید ہیں۔ میں عالم تخیل میں مختار مسعود کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ جن کی''آواز دوست''پارئہ سنگ کے ساتھ پرِکاہ سے بھی منسوب ہے۔ پرِکاہ، یعنی چٹیل جگہ اگنے والی گھاس کی پہلی پتی۔ پار ۂ سنگ تو مجھے مل گیا تھا جس پر قریب پانچ ہزار شہداء کے اسماء کندہ ہوچکے ہیں۔ اب پرِکاہ بھی نظر میں واضح ہے۔ بچوں کی صورت میںاُ گتی یہ پرِکاہ عنقریب قومی درخت ''دیودار'' میں تبدیل ہو جائے گی۔پَوپھٹ چکی اور خزاںکی رخصت امرہے۔ یوں بہار کی خبر اور نویدِسحر ہے۔ جہاں بہارو سحر کی نوید وخبر ہو، قحط کا وہاںکیا کام؟ جہاں لو گ ہزار ہا جانوں کی قربانیوں کی خاطر قطار بنائے کھڑے ہوںاور مستقبل پرِکاہ کی کاشت سے مُزّین ہو، قحط کا وہا ں کیاکام؟۔ قریب ہے کہ لوح ایام پر سفرنصیب اب سنہرے حروف میںمُقّدر ہوگا۔ ہر چھاونی ہر شہر کے چوک میں شہداء کی یادگاریں حروف آغاز ہیں، متن جن کا عوام کے معصوم و قیمتی لہو سے تحریر ہے۔ وہ مقدس لہُو، جس کی چھینٹیں اس ارضِ وطن کی گلیوں، بازاروں، درس گاہوں، دفاتروعدالتوں، عبادت گاہوں، غرض یہ کہ چپے چپے کی آبیاری کر چکی ہیں۔ یقینا یہ لہُو رائیگاں نہیں۔خشک سالی کے گزشتہ تمام سال اس لہُونے ترکیۓ رکھے۔ شام کے سائے پھیلنے لگے تو منظر نے سرگوشی کی، اندیشہ ہزار درست! مگر قحط الرجا ل ختم، خوش حالی کا دور شروع ہوچکا۔ مجھے لگا عالم ارواح میں مختار صاحب نے یہ بات سن لی اور شاید ہمدرد نونہال کے مدیر حکیم سعید نے بھی۔ دونوں بزرگ حکیم و دانا مسکرا د ئیے اور ہمہ تن گوش و نظر مسرور ہیںکہ قحط الرجال ٹل چلا اور رس نچوڑنے کا وقت قریب آگیا۔ رہا قہر الرجال، توہر دو درویش نے اس کی خاطر قلم کی قرارداد تجویز کی ۔ پاکستان کا نصیب ،قرار داد کاوہ متن جومِینارِ پاکستان کے تناور ستون پر نصب پارئہ سنگ رقم پر تحریر کیا گیا،اب مقدرہے۔پروئے ہوئے نگینوں کی آب و تاب لئے منقش، دل آویز ،برحق وبرجستہ۔۔۔۔۔ پا ک نصب العین۔

ارضِ وطن کے لئے
اِک نظم لکھیں
اے ارضِ وطن، ہم تیرے لئے اک نظم لکھیں
تِتلی کے پَروں سے رنگ چُنیں
اُن سازوں سے آہنگ چُنیں
جو رُوح میں بجتے رہتے ہیں
اور خواب بُنیں اُن پُھولوں کے
جو تیری مہک سے وابستہ
ہر آنکھ میں سجتے رہتے ہیں
ہر عکس ہو جس میں لاثانی
ہم ایسا اِک ارژنگ چُنیں
تِتلی کے پَروں سے رنگ چُنیں
اور نظم لکھیں
وہ نظم کہ جس کے حرفوں جیسے حرف کسی ابجد میں نہیں
وہ رنگ اُتاریں لفظوں میں جو قوسِ قزح کی زد میں نہیں
اور جس کی ہر اک سطر میں خوشبو ایسے لہریں لیتی ہو
جو وہم و گماں کی حد میں نہیں
اور جب یہ سب اَنہونی باتیں، اَن دیکھی، اَن چُھوئی چیزیں
اِک دُوجے میں مِل جائیں تو نظم بنے
اے ارضِ وطن وہ نظم بنے جو اپنی بُنت میں کامل ہو
جو تیرے رُوپ کے شایاں ہو اور میرے ہُنر کا حاصل ہو
اے ارضِ اماں۔۔۔ اے ارضِ وطن
تُو شاد رہے آباد رہے
مَیں تیرا تھا، مَیں تیرا ہوں
بس اتنا تجھ کو یاد رہے!
اِس کشتِ ہُنر میں جو کچھ ہے
کب میرا ہے!
سب تجھ سے ہے، سب تیرا ہے
یہ حرف و سخن، یہ لوح و قلم
سب اُڑتی دُھول مُسافت کی
سب جوگی والا پھیرا ہے
سب تجھ سے ہے، سب تیرا ہے
سب تیرا ہے
امجد اسلام امجد

*****

 
09
January

تحریر: حسینہ معین


ممتاز ادیب، ڈرامہ نویس محترمہ حسینہ معین کی مردان گرلز کیڈٹ کالج کے حوالے سے ایک خصوصی تحریر

میری زندگی کے راستے میں بے شمار موڑ آتے رہے ہیں۔ اچانک ہی راستہ بدل جاتا ہے۔ منظر تبدیل ہوتا ہے۔ کبھی کچھ بہت اچھا لگتا ہے۔ کبھی دل بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے اچانک مردان سے ایک فون کال آئی۔ وائس پرنسپل مردان گرلز کیڈٹ کالج سے شمع جاوید بول رہی تھیں۔ انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو مجھے یاد آ گیا کہ ہم تین چار سال پہلے ان سے مل چکے تھے۔ جب وہ رسالپور کالج گھوڑاگلی میں جونیئر سکول کی پرنسپل تھیں اور ہم لوگ ڈرامے کی شوٹنگ کے لئے گئے تھے۔ شمع اب گرلز کیڈٹ کالج مردان کی وائس پرنسپل ہیں۔ انہوں نے بریگیڈیئر جاوید سے بات کروائی جو وہاں پرنسپل ہیں۔ بریگیڈیئر جاوید نے مجھے گرلز کیڈٹ کالج میں مدعو کیا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ بچیوں کو بہادر، خود اعتماد، ذہین اور جسمانی طور پر بہت مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں جس کے لئے آپ کے ڈرامے ہمیں یاد ہیں۔ یہ ڈرامے ہمارے کالج کی کیڈٹس نے بھی دیکھے ہیں اور اب وہ آپ کے ساتھ ایک شام منانا چاہتی ہیں۔ انہیں مایوس مت کیجئے گا۔ میں انہیں مایوس کیسے کر سکتی تھی۔ میں نے فوراً ہامی بھر لی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ہماری فوج میں ہماری بچیوں کا بھی ایک باقاعدہ دستہ تیار ہو رہا ہے جو ملک اور قوم کی حفاظت اپنے اپنے طور پر کریں گی۔

khawabookitabeer.jpg
ویسے تو ملک کے بہت سے خوبصورت مقامات دیکھ چکی ہوں لیکن پہلے کبھی مردان نہیں گئی تھی۔ پاکستانی افواج کے توسط سے بھی کئی جگہ گئی ہوں۔ تبھی سے اپنی افواج کی محبت دل میں چراغ کی طرح روشن ہے اور میرا خیال ہے کہ اس ملک کے ہر باہوش انسان کو ان سے محبت ہو گی جو ہمارے لئے سختیاں جھیلتے ہیں۔ بیرونی دشمنوں اور اندرونی غداروں سے نپٹتے رہتے ہیں۔ ہرروز کی خبروں میں کبھی سرحدوں پر کبھی ملک کے اندر ملک پر اپنی جان نچھاور کرتے رہتے ہیں۔ ان کے گھر والوں کے دل سے پوچھئے جن کی دنیا میں اندھیرا ہو جاتا ہے۔ پھر بھی وہ ماں باپ اپنے دوسرے بیٹے کو ملک کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔ مگر اب کچھ باشعور لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر بیٹے ملک کی حفاظت کر سکتے ہیں تو بیٹیاں بھی کر سکتی ہیں۔ اس ملک کی بیٹیاں بزدل نہیں مگر انہیں مواقع نہیں ملتے۔


ہمارا استقبال اسلام آباد ایئرپورٹ پر وائس پرنسپل شمع جاوید نے کیا۔ مردان تک کا راستہ بڑا خوبصورت ہے۔ راستے میں مسز شمع مجھے ان 71بچیوں کے بارے میں بتاتی رہیں جو کیڈٹ کالج کا پہلا بیچ ہے۔ میں حیران تھی کہ ان علاقوں میں تو لوگ بچیوں کو سکول کالج بھیجنے سے گھبراتے ہیں کُجاکہ کیڈٹ کالج، ملٹری ٹریننگ۔ مگر مسز شمع نے بتایا کہ ماں باپ خود آ کر بڑے شوق سے ان بچیوں کو داخل کروا کے گئے ہیں۔ کئی سو لڑکیاں آئی تھیں جن میں سے 71طالبات کا انتخاب کیا گیا۔ کوئی سفارش نہیں کوئی قرابت نہیں۔ کاش ملک بھر میں یہ طریقہ رائج ہو جائے تو کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی۔


ہم کوئی تین گھنٹے کا سفر کر کے مردان گرلز کیڈٹ کالج میں داخل ہوئے۔ پورچ میں گاڑی رکی تو پرنسپل بریگیڈیئر جاوید اپنے پورے عملے کے ساتھ استقبال کے لئے موجود تھے۔ کچھ کیڈٹ بچیاں فل یونیفارم میں پھول پیش کرنے آگے بڑھیں۔ اس لمحے میں نے محسوس کیا کہ مجھے میرے خوابوں کی تعبیر مل گئی۔ میں نے یہی خواب دیکھے تھے کہ اس ملک کی لڑکیوں کو ان کے وجود کی گواہی مل جائے۔ یہ مان لیا جائے کہ وہ کمزور نہیں، بہت مضبوط ہوتی ہیں۔ ان میں بے انتہا قوت برداشت ہوتی ہے اور اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ سب کچھ کر سکتی ہیں۔ ایک ہاتھ میں قلم اور کتاب سنبھال سکتی ہیں تو دوسرے ہاتھ میں بندوق بھی اٹھا سکتی ہیں۔ دشمن سے نپٹنے کے لئے دونوں بازوئوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستانی افواج نے اس بات پر یقین کرتے ہوئے بچیوں کو اپنے حلقے میں لے لیا۔ پرنسپل بریگیڈیئر جاوید مجھے ساتھ لے کر کالج کے اندر گئے۔ پہلے ہم آفس میں گئے۔ اساتذہ سے ملاقات کی۔ جوش اور جذبے سے بھرپور خواتین اور حضرات تھے۔ چائے بہت سے لوازمات کے ساتھ پیش کی گئی۔ یہ سن کر تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی کہ بچیاں 12سے 14سال کی عمر کی ہیں اور اس حساب سے انہیں مختلف کلاسز میں رکھا گیا ہے۔

ویسے تو ملک کے بہت سے خوبصورت مقامات دیکھ چکی ہوں لیکن پہلے کبھی مردان نہیں گئی تھی۔ پاکستانی افواج کے توسط سے بھی کئی جگہ گئی ہوں۔ تبھی سے اپنی افواج کی محبت دل میں چراغ کی طرح روشن ہے اور میرا خیال ہے کہ اس ملک کے ہر باہوش انسان کو ان سے محبت ہو گی جو ہمارے لئے سختیاں جھیلتے ہیں۔ بیرونی دشمنوں اور اندرونی غداروں سے نپٹتے رہتے ہیں۔ ہرروز کی خبروں میں کبھی سرحدوں پر کبھی ملک کے اندر ملک پر اپنی جان نچھاور کرتے رہتے ہیں۔

چائے کے بعد پرنسپل اور وائس پرنسپل مجھے مختلف کلاسز دکھانے کے لئے لے گئے۔ بریگیڈیئر جاوید نے کو ریڈور میں ہی چلتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ٹیچنگ اسٹاف بہترین ہے۔ مختلف مضامین پڑھانے کے لئے ٹیچرز کا انتخاب بے حد محنت سے کیا گیا ہے۔ مضامین کے ساتھ ساتھ انہیں مذہبی تعلیم اور تربیت بھی دی جاتی ہے۔


ہم انہیں جدید ترین ٹیکنالوجی پڑھا رہے ہیں۔ آپ ہماری لیبارٹریز دیکھئے ان میں جدید ترین آلات مہیا کئے گئے ہیں۔ بچیوں کو تعلیم ڈائیلاگ کی صورت میں دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم مختلف موضوعات کے لئے گیسٹ اسپیکرز بھی بلاتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبات کو

Excursions

پر بھی لے جاتے ہیں۔ باقاعدگی سے ایجوکیشنل ٹرپس ہوتے ہیں۔ہم کلاسز کے اندر گئے جہاں ٹیچرز پڑھا رہی تھیں۔ سوال و جواب ہو رہے ہیں۔ ہم داخل ہوتے تو بچیاں سلیوٹ کرتیں، پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتیں۔ کچھ دیر ہم کلاس روم کی پشت کی طرف کھڑے ہو کر جائزہ لیتے رہے۔ ہر کلاس روم میں پشت کی طرف دو کرسیاں دیوار کے ساتھ رکھی تھیں جہاں میرا خیال ہے کہ وقتاً فوقتاً پرنسپل یا وائس پرنسپل جائزہ لینے کو رُکتے ہوں گے۔
کلاسز دیکھنے کے بعد ہم بچیوں کے ہاسٹل میں گئے۔ کمرے بے حد اچھے لگ رہے تھے۔ فرنیچرگو کہ سادگی سے بنایا گیا تھا۔ لیکن ساخت اور رنگوں کی آمیزش سے کمرے بہت نفیس لگ رہے تھے۔ ہرکمرے میں چار بچیوں کے رہنے کا انتظام تھا۔ بیڈ اوپر نیچے دو بچیوں کے لئے بنائے گئے تھے۔ ہر بچی کے لئے ایک الماری اور ایک ڈیسک کتابوں کے لئے۔ پرنسپل صاحب نے بتایا کہ یہ سب اس مقصد کے تحت تیار کئے گئے ہیں کہ جب بچیاں کلاسز اور ٹریننگ سے فارغ ہو کر واپس آئیں تو انہیں ذہنی سکون اور خوشی محسوس ہو۔ میرا خیال ہے کہ بچیاں خود ہی صبح بیڈ بنا کر ناشتے کے لئے نکلتی ہوں گی۔


اس کے بعد شمع مجھے ہاسٹل کی عمارت کے پیچھے بنے ہوئے وائس پرنسپل اور پرنسپل کے گھروں کی طرف لے گئیں۔ مجھے پرنسپل صاحب کے گھر کے گیسٹ روم میں ٹھہرایا گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے لئے ہم نے پرنسپل آفس میں بیٹھ کر میڈیا سے آئے ہوئے حضرات کو انٹرویو دیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ اس کیڈٹ کالج کو دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے۔ چالیس سال سے یہی کوشش کرتی آئی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بھی آزادی سے سانس لینے کا موقع ملے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کے حساب سے جو بننا چاہتی ہیں، بنیں۔ ان کے راستے میں زبردستی کی رکاوٹوں کو ہٹا دیا جائے۔ انہیں حوصلہ مند بنایا جائے تاکہ وہ نہ صرف خود اپنی حفاظت کر سکیں بلکہ اگر ملک پر کوئی پریشانی آئے تو وہ بھی آگے بڑھ کر اس کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ میرے خواب تھے اور آج مجھے لگ رہا ہے کہ خدا نے میری سن لی ہے۔ یہ پہلا بیچ ہے۔ کل دوسرا آئے گا پھر تیسرا۔ قوم کو کتنا سہارا ملے گا۔ انٹرویو دینے کے بعد مجھے پرنسپل صاحب کی بیگم اپنے گھر لے گئی۔میرا کمرہ مجھے دکھایا جو بے حد خوبصورتی سے سجا ہوا تھا۔ بیگم جاوید بے حد مہمان نواز ہیں اور ان کی تینوں بیٹیاں بلکہ ایک بھانجی بھی بہت پیار کرنے والی ہیں۔ بیٹیوں نے شام کے لئے میرے کپڑے استری کر کے لٹکا دیئے۔ پھر مجھے آرام کرنے کو کہہ کر چلی گئیں۔ میں جو زندگی میںمشکل سے ہی صبح چار بجے اٹھتی ہوں گی۔ آج مجھے اٹھنا پڑا تھا کیونکہ فلائٹ 7بجے کی تھی۔ 6بجے ایئرپورٹ پہنچنا تھا اور ایئرپورٹ تک کا راستہ بھی 45منٹ کا تھا۔ ان لوگوں کو محسوس ہو رہا ہو گا کہ میں چلتے چلتے ہی سو جائوں گی۔ اس لئے مسز جاوید مجھے آرام کرنے کا کہہ کر چلی گئی اور میں لیٹتے ہی سو گئی۔ دو گھنٹے بعد ایک بچی نے آ کر جگایا۔ جلدی جلدی تیار ہوئی حالانکہ آڈیٹوریم کی عمارت سامنے ہی تھی لیکن مجھے گاڑی میں لے جایا گیا۔ جہاں کیڈٹس نے باقاعدہ پھول پیش کر کے استقبال کیا۔ پرنسپل ، وائس پرنسپل سب موجود تھے۔ ہم سب آڈیٹوریم میں داخل ہوئے۔ درمیانی راستے سے چلتے ہوئے اسٹیج کے سامنے پہنچے۔ اسٹیج پر تین کرسیاں رکھی گئی تھیں۔پشت پر لکھا ہوا تھا۔ ''حسینہ معین کے ساتھ ایک شام''


میں اسٹیج پر گئی۔ درمیانی کرسی پر مجھے بٹھایا گیا۔ انٹرویو لینے کے لئے دو گرل کیڈٹس اوپر آئیں۔ سلیوٹ کیا اور میرے دائیں بائیں بیٹھ گئیں۔ کیڈٹ مریم میرے دائیں جانب تھیں اور کیڈٹ عرورا شکیل بائیں جانب تھیں۔ تعارفی تقریر پرنسپل اور وائس پرنسپل نے کی۔ ایک کیڈٹ نے پھول پیش کئے، اس کے بعد انٹرویو شروع ہوا۔اس سے پہلے ایک ٹیچر نے میرا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان بچیوں نے آپ کے ڈرامے دیکھ لئے ہیں اور یہ بچیاں آپ کے ڈراموں کی لڑکیوں کی طرح بننا چاہتی ہیں۔ تالیوں کی گونج میں نے اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے میرا مان رکھ لیا۔ جو میں چاہتی تھی، آج میں وہ سامنے دیکھ رہی ہوں۔ یونیفارم میں ملبوس چمکتے چہروں اور چمکتی آنکھوں والی بچیاں جو اتنے وقار سے چلتی ہوئی میرے پاس آتیں سلیوٹ کرتیں پھر بیٹھ کر سوال کرتیں۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ بارہ چودہ سال کی بچیاں ہیں ۔سوال جواب کا سیشن ایک گھنٹے کا تھا۔
میری خواہش ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز کے اینکر پرسن اس طرح کے سنجیدہ اور معلوماتی سوالات کیا کریں۔ اس کے بعد میری تقریر تھی۔ خوش بھی تھی، جذباتی بھی ہو رہی تھی۔ اس لئے بہت کچھ کہہ دیا۔ بلکہ جو پیغام آج تک ڈراموں میں دیتی رہی ہوں آج ان بچیوں کو دے دیا اور مجھے یقین ہے کہ یہ بچیاں ثابت کریں گی کہ عورت کمزور نہیں ہوتی، کمزور بنائی جاتی ہے۔ تالیوں کی گونج میں یہ شام اختتام کو پہنچی۔


اس کے بعد ڈنر کا اہتمام تھا۔ بچیاں اپنے ڈنرکے لئے چلی گئیں، ہم لوگ اس میز پر آ گئے جہاں پرنسپل، وائس پرنسپل، اسٹاف ممبر اور میں ان کے ہمراہ موجود تھی۔ مزے دار کھانا تھا۔ کھانے کے دوران پرنسپل نے بتایا کہ کیڈٹس آپ سے آٹوگراف لینا چاہ رہی ہیں۔ ہنسنے لگے کہ چونکہ یہاں موبائل رکھنا منع ہے اس لئے وہ سیلفی تو نہیں لے سکتیں۔ انہوں نے فوٹو گرافر سے کہہ کر میرے ساتھ کچھ تصویریں بنوا لی تھیں۔ اب وہ کل صبح کے سیشن میں آپ سے آٹو گراف لیں گی۔ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ اس طرح تو میں ذاتی طور پر ان مستقبل کے نگہبانوں سے مل سکوں گی۔ بات چیت کر سکوں گی۔


کھانے کے بعد ہم اپنے کمرے میں آ گئے۔ یہاں ہمارا سیشن بریگیڈیئر جاوید کی بیٹیوں کے ساتھ تھا۔ شمع بھی آ گئیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں کی زندگی کیسی ہے۔ یہ جگہ بالکل الگ ہے جیسے سمندر میں کوئی جزیرہ۔ بچیاں ہوسٹل کی زندگی سے اداس تو نہیں ہو جاتیں۔ انہوں نے بتایا کہ شروع میں چند دن تو شائد اجنبی جگہ کا اثر ہوا ہو گا، مگر اب تو سب بہت خوش رہتی ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہات سے آئی ہیں مگر اب آپس میں اتنی گھل مل گئی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کوئی کراچی کی بچی ہے تو کوئی لاہور کی۔ کوئی بلوچستان کے کسی شہر کی تو کوئی پشاور کی۔ ہر علاقے کی بچیاں ہیںـ چلیں کہیں تو اتفاق ہوا۔ ایک جگہ تو ایسی ہے جہاں یہ نہیں کہا جاتا کہ ہم یہ ہیں اور تم وہ ہو۔ حال کی تربیت ہو گی، مستقبل میں سارا نفاق دور ہو جائے گا۔


اس رات میں بہت جلدی سو گئی۔ صبح جب ناشتے کی میز پر پہنچی تو شائد مسز جاوید نے برنچ کا انتظام کیا تھا۔ بے شمار چیزیں بنائی ہوئی تھیں۔ اگرچہ ہم ہیں تو دیسی مگر ناشتہ ہمیشہ انگریزی کرتے ہیں۔ اس لئے ہم نے آملیٹ اور ٹوسٹ لینا چاہے۔ بریگیڈیئر صاحب نے کہا یہ نہیں ہو گا آپ پراٹھے تو کھا کر دیکھیں اور تھوڑے پائے بھی چکھیں۔ میں نے پراٹھے اور آملیٹ کا ناشتہ کیا۔ ان لوگوں کا دل رکھنے کو پائے بھی چکھے اور جو کچھ سامنے تھاکوشش کی کہ سب کو تھوڑا تھوڑا موقع دوں۔ کیا مزے دار ناشتہ تھا۔ ناشتے کے بعد پرنسپل صاحب، بیگم جاوید اور شمع مجھے لے کر پھر کالج کی بلڈنگ میں اپنے آفس میں آ گئے۔ کوریڈورمیں کیڈٹس لائن سے کھڑی تھیں۔ میں نے پوچھا بچیاں اس طرح کیوں کھڑی ہیں پتہ چلا کہ آٹوگراف لینا ہے۔

khawabookitabeer1.jpg
71بچیوں کو آٹو گراف دینا اور وہ بھی تفصیل سے بڑا کام تھا۔ ایک گھنٹہ لگ گیا۔ ساتھ ساتھ پرنسپل صاحب اس ادارے کے بارے میں بتاتے جا رہے تھے۔ یہ گرلز کیڈٹ کالج اپنی طرز کا منفرد ادارہ ہے۔ جو مردان میں قائم کیا گیا ہے۔ بہت شاندار منصوبہ ہے جو آنے والے وقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت پرنسپل میں ان بچیوں کو مستقبل کے پاکستان کو سنبھالنے والی لیڈرز بنانا چاہتا ہوں۔ ہماری کوشش ہے کہ ان کی زندگی کو آنے والے وقت کے مطابق تشکیل کریں۔ یہ اکیسویں صدی کے بچے ہیں۔ یہ ملک و قوم اور وہ پاکستان بنائیں گی جو قائداعظم کا تصور تھا۔ علامہ اقبال کا خواب تھا۔ یہی بچیاں اس ملک کو اتنا مضبوط اور کامیاب بنائیں گی کہ اس کا شمار دنیا کے بہترین ممالک میں ہو گا۔ اس لئے ہم انہیں ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کی تربیت دے رہے ہیں ۔ اسپورٹس ہمارے یہاں لازمی ہے۔ ہر بچی کو کھیلوں میں حصہ لینا ہوتا ہے۔ ہمیں ان کی کردارسازی کرنا ہے۔ شخصیت کو نکھارنا ہے۔ اساتذہ انہیں ہر وقت گائیڈ کرتے رہتے ہیں۔ چاہے یہ کلاس میں ہوں، گرائونڈ میں ہوں یا ہوسٹل میں۔ کیسی مضبوط دیوار تعمیر ہو رہی ہے ہمارے ملک میں۔ آٹوگراف سے فارغ ہو کر میں بچیوں سے ملی۔ رخصت کی اجازت لی، بچیاں اسی طرح لائن میں واپس چلی گئیں۔ پرنسپل صاحب نے وزیٹرز بک میرے سامنے رکھ دی۔ میں بہت جذباتی ہو رہی تھی۔ کیا کچھ لکھا پتہ نہیں۔
اب مجھے واپس جانا تھا۔ ایک دو دن اپنی بھانجی کے پاس راولپنڈی میں رہنا تھا۔ وائس پرنسپل شمع مصر تھیں کہ وہ مجھے وہاں تک چھوڑ کر آئیں گی۔ میں نے بہت کہا کہ اتنا تکلف کیوں کر رہی ہیں۔ واپسی پر آپ کو اکیلے آنا ہو گا مگر وہ نہیں مانیں۔ سب سے رخصت ہو کر میں گاڑی میں شمع کے ساتھ بیٹھ گئی۔ سوچ رہی تھی کہ کاش کسی نے ہمارے زمانے میں ایسا سوچا ہوتا تو ہم بھی بریگیڈیئر وغیرہ ہوتے۔ جب ہزاروں خواتین پتھر کی دیوار بن کر کھڑی ہوتیں تو کسی کی مجال تھی کہ اس ملک پر بری نظر ڈالے ؟یا اندرونی خلفشار کیسے ممکن ہوتا! کیونکہ عورت امن چاہتی ہے، خوشحالی، سکون اور پیار چاہتی ہے۔


چلتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ اس جگہ کو، یہاں کے لوگوں کو، پرنسپل صاحب، وائس پرنسپل، بچیوں کو کبھی نہیں بھول سکوں گی۔ شائد میں نے کوئی نیک کام کیاتھا جو مجھے یہ موقع ملا۔
راستے میں شمع نے اس علاقے کی مشہور مٹھائی خرید کر مجھے تحفے میں دی۔ مردان سے تو نکل آئے مگر اسلام آباد کے دھرنے کا ہمیں پتہ نہیں تھا۔ ہم بری طرح پھنس گئے۔ کبھی اس راستے پر کبھی دوسرے راستے پر۔ سارا ڈسپلن کیڈٹ کالج کے گیٹ پر چھوڑ آئے تھے۔ پورے سات گھنٹے میں بحریہ ٹائون پہنچے۔ تھکن سے برا حال تھا حالانکہ راستے بھر مَیں اور شمع مزیدار باتیں کرتے ہوئے آئے تھے۔بھانجی کے گھر پر میں نے شمع کو چائے کے لئے روک لیا۔ ڈرائیور بھی تھک گیا ہو گا۔ سب نے چائے پی، کچھ کھایا۔ اس کے بعد میں نے شمع کو رخصت کیا۔ مگر ان دو دنوں کی یادیں آج بھی میری آنکھوں میں چراغوں کی طرح روشن ہیں۔

مضمون نگار: کی ممتاز ڈرامہ نگار ہیں۔ آپ نے ٹی وی اور ریڈیو کے لئے بہت سے کھیل لکھے جن میں سے بعض نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔
 
09
January

تحریر: عبد الستار اعوان


اب تک گئو رکھشکوں کے حملوں کے جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز ایسے نکتے سے کیاجاتا ہے جس سے ملزموں کے بچ نکلنے کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔کسی مسلمان کے قتل کو جنونی ہندوئوں کی کارستانی قرار دینے کے بجائے اسے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کا نام دیاجاتا ہے اور ظاہر ہے ہجوم کے نام پر اس طرح کی کارروائی سے کسی کو بھی سزا دلانے میں مدد نہیں مل سکتی ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس ریاستی آشیر باد سے قاتل صاف بچ نکلتے ہیں ۔

بین الاقومی شہرت یافتہ ہندوستانی صحافی اور ادیب خوشونت سنگھ کی کتاب 'دی اینڈ آف انڈیا
(The End of India)
کو ہندوستان میں متنازعہ قرار دیاجاچکاہے کیونکہ انہوں نے اس کتاب میںہندوستانی حکمرانوں ،اداروں اور جنونی ہندوئوں کی تنگ نظری ، تعصب اورپُرتشدد رویوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ انہوںنے بی جے پی کے متعلق لکھا کہ یہ اپنی ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ اپنا فسطائی ایجنڈ ا چھپانے کے لئے جمہوریت کو استعمال کر تی ہے اور اس کے راہنمائوں کے ہاتھ انسانی خون سے آلود ہ ہیں۔خوشونت سنگھ نے ان خیالات کا اظہار بہت عرصہ پہلے کیا تھا اورآج ان کے اس نظریے کی تصدیق ایک بار پھر ہو رہی ہے کہ ہندوستان کی معروف سیاسی جماعت کانگریس کے راہنما راہول گاندھی نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کے سامنے ہندوستانی حکمرانوں کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ 12ستمبر2017ء کو یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور نریندر مودی انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں ،ہندوستان میں 'گئو رکھشا'کے نام پر مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں مودی حکومت کی سرپرستی میں کہیں دلتوں کو مارا پیٹا جاتا ہے تو کہیں مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، یہ مودی حکومت کی طرف سے ہندوستان میں نئی چیز ہے جس سے ملک مسلسل خطرات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نفرت اورگروہ بندی کی سیاست میں لاکھوں لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب ہندوستان میں ان کا کوئی مستقبل نہیں۔


اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں پرجن مختلف حیلے بہانوں سے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان میں ایک اہم ترین 'گئو رکھشا'کاایشو ہے جس کی وجہ سے ہندوستانی مسلمان طویل عرصے سے خوف ،تشدد اور دہشت کی فضا میں زندگی بسر کرنے پر مجبورہیں ۔'گئورکھشا 'کے نام پر مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کا اندازہ صرف اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کانگریس کے راہول گاندھی بھی اس پر خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے ۔' گئو رکھشا' کے نام پر ہندوستان میں جس انداز سے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اس کا تصورہی لرزا دیتا ہے ۔ ہندی زبان میں ''گئو''گائے کو کہتے ہیں اور ''رکھشا''کے معنی ہیں تحفظ 'یعنی گائے کا 'تحفظ' ہے ۔ ہندو عقیدے کے مطابق کرشن جی''خدا کا اوتار ''گائے چراتے اور پالتے تھے لہٰذا ہندو گائے کو مقدس مان کر اس کی حفاظت کرتے ہیںاور اسے ذبح کرنے سے روکتے ہیں۔ہندوستان کی تمام ریاستوں میں گئو رکھشا جیسی متشدد مہم جار ی ہے اور مسلمانوں پر ہونے والے یہ مظالم ہندوستانی میڈیا میں بھی جگہ نہیں لے پاتے کیونکہ انہیں حکومت سے جڑے اپنے کاروباری مفادات زیادہ عزیز ہیں۔
گزشتہ چند ماہ سے گئو رکھشا مہم میں تیزی آئی ہے، تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں اورہندوستانی مسلمانوں میں شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو ا ہے ۔ گئو رکھشا کے حوالے سے ایک ہندوستانی صحافی نے بتایا کہ یہ مظالم کسی مخصوص خطے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں سالہاسال جاری رہتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک سیکڑوں مسلمان ان واقعات میں شہید یا زخمی ہو چکے ہیں لیکن ریاستی اداروں نے ہندو انتہاپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ بجرنگ دَل، وشوا ہندو پریشد،ا ر ایس ایس اور اسی طرح کی دیگر انتہا پسند تنظیمیں ان واقعات میںملوث ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ان واقعات میں کمی بھی آجاتی ہے لیکن کچھ وقفے سے یہ پورا سال ہی جاری رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں تقریبا ً دو درجن کے قریب ایسے واقعات رونماہو چکے ہیں،ایک تازہ واقعے میں دو نوجوانوںکو گائو کشی کے الزام میں ہندوشرپسندوں نے اس وقت حملہ کر کے قتل کر ڈالاجب وہ گائے کی کھال اتار رہے تھے 'بعد میں پتہ چلا کہ مقتولین نے گائے کو ذبح نہیں کیا تھا بلکہ مردہ گائے کی کھال اتار رہے تھے اور وہ بے گناہ تھے۔


گزشتہ دنوں ہندوستانی شہر اورنگ آباد میں اس ظلم کے خلاف ہزار وں مسلمان سڑکوں پر آگئے جن کی قیادت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اوررکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کر رہے تھے ۔ میڈیا کے مطابق اس احتجاج میں پچاس ہزار سے زائد افراد شامل تھے جنہوں نے گائو رکھشا مہم کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔اس موقع پر اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ آئے روز گئو رکھشا کا ڈھونگ رچا کر مسلمانوںکو قتل کیا جاتا ہے اور ان واقعات کی ویڈیو ز گھر گھر پہنچتی ہیں لیکن نریندرمودی پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گئو رکھشا کے نام پر جتنی بھی شدت پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں ان کے خلاف مودی عملی اقدامات نہیں اٹھاتے۔ دوسری جانب مہاراشٹرا ،جھاڑکھنڈ، ہریانہ میںگائے ذبح کرنے کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے ہیں تو اس سے مودی اور ان کی حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر کسی کی ماں قتل ہوتی ہے تو اسے ایک سال کی بھی سزا نہیں ہوتی لیکن اگر کہیں گائے ذبح ہو جاتی ہے تو اس پر سات سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی بین الاقوامی میڈیا میں بہت زیادہ رپورٹنگ ہورہی ہے اورا س طرح ہم دنیا کوکوئی اچھا پیغام نہیں دے رہے ۔

hindustanmainmuslim1.jpg


روزنامہ نئی دنیا ہندوستان کا مؤقر قومی جریدہ ہے ، اس نے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا کہ ہر سال عید الاضحی کے موقع پر ملک بھر میں یہ اعلانات ہوتے ہیں کہ مسلمان عید احتیاط کے ساتھ منائیں اور گائے کی قربانی سے پرہیز کریں۔ذبیحہ کے حوالے سے سب سے زیادہ وہ ریاستیں متاثر ہیں جن میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ دوسری طرف اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے وزرات کا منصب سنبھالتے ہی مسلمانوں پر مختلف قسم کی قد غنیں لگانا شروع کر رکھی ہیں۔ہندوستان میں درجن بھر ریاستیں ایسی ہیں جہاں گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی ہے اور سخت قوانین بنائے گئے ہیں،ان میں ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ ، اترکھنڈ ، اتر پردیش، راجھستان ، گجرات ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اور مقبوضہ جموں و کشمیر وغیرہ سرفہرست ہیںجبکہ آٹھ کے قریب ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر جزوی پابندی ہے ۔ گئو رکھشکوں کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے پیش نظر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت
(AIMMM)
نے علامیہ جاری کیا ہے کہ جن علاقوں میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے وہاں مسلمان گائے ذبح نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے لئے مسائل پید ا ہو ں گے اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں لیکن دوسری جانب حالت یہ ہے کہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ گائے کی قربانی اور ذبیحہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں بلکہ کسی بھی جانور کے گوشت کو گائے کا گوشت ثابت کر کے بھی مسلمانوں کو پھنسایا جاسکتا ہے اور ایسے لاتعداد و اقعات رونما ہو چکے ہیں۔ بعض ریاستوں میں جانور وں کی خریدو فروخت کے حوالے سے بھی مسلمان ریاستی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ بالخصوص عید کے دنوں میں جانوروں کی خریدو فروخت کے معاملے میں مسلمانوں پر زیادہ پابندیاں لگا دی جاتی ہیںاور انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مختلف پا بندیوں کاسامنا رہتا ہے۔


ہندوستانی حکمرانوں اور اداروں کی ہٹ دھرمی دیکھئے کہ جب مسلمان گائے ذبیحہ پر پابند ی کے قانون پر پوری طرح عمل کرتے ہیںتو پھر بھی انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیاجاتا ۔ جیسا کہ حال ہی میں عیدالاضحی کے موقع پر ہندوستانی ریاست جھاڑ کھنڈ سے خبر آئی کہ انتظامیہ نے پچاس کے قریب ایسے اونٹ اپنے قبضے میں لے لئے جو مقامی مسلمان قربانی کی غرض سے لائے تھے ۔ایسے واقعات کے بعد مسلمانوں میں غم وغصہ اور اشتعال پھیلنافطری امر ہے ۔ اسی طرح لکھنؤ میں بھی مقامی حکومت نے فیصلہ کیا کہ گائے اور اونٹ کی قربانی بھی نہیں کر نے دی جائے گی اور سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی گئی کہ اونٹ کی خریدو فروخت کرنے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے ،ممبئی میں بھی اعلان کیا گیا کہ حکومتی اجازت نامے کے بغیر کسی بھی جانور کو ذبح نہیں کیا جا سکتا ، اگر کوئی مسلمان بکرے اور دبنے کو بھی ذبح کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے مقامی انتظامیہ سے این او سی لینا ہوگا ۔


اس ضمن میں معروف ہندوستانی صحافی غضنفر علی خاں کہتے ہیں کہ نریندر مودی نے گزشتہ دنوں تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی ، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ گئو رکھشا کے نام پر ہونے والے مظالم کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ریاستی حکومتوں کا اختیاری مسئلہ ہے ، یعنی انہوں نے مرکزی حکومت کو اس ضمن میں کلی طور پر بری الذمہ قرار دیا ہے ۔ مودی کا یہ کہناکہ گئو رکھشکوں کی زیادتیوں پر قابو پانا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی مرکزی حکومت کو ان واقعات کے لئے ذمہ دار قرار نہیں دیتے۔ یہ صحیح ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ریاستوں کا مسئلہ ہے لیکن حیرت ا س پربھی ہے کہ یہ واقعات ایسی ریاستوں میں ہو رہے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ دوسرے لفظوں میں مودی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گئو رکھشکوں کے خلاف اگر ریاستیں کارروائی نہیں کرتیں تو اس کی ذمہ داری ان پر ہرگزعائد نہیں ہوگی۔ اس موقع پر مودی نے یہ بھی کہا کہ ''گائو ہندو دھرم میں ایک مقدس چیز ہے'' تو کیااس سے وہ مسلمانوںکو کوئی واضح پیغام دینا چاہتے ہیں اور وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی گائے کو اسی طرح مقدس سمجھیں ...؟مودی کی یہ بات دراصل ان کے دل کی بات ہے اور ایسا کہہ کر وہ قتل و غارت گری اور متشدد عناصر کی کھلے لفظوں میں حمایت کر رہے ہیں ۔ گئو رکھشکوں کو اپنی من مانی کرنے کے لئے واضح پیغام دینے کے بجائے مودی نے مصلحت سے کام لیا اور ان کی ساری گفتگو کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ وہ گئو رکھشکوں کے لئے انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔


پاکستان کے ایک مؤقرقومی جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں عدم برداشت کے بڑھتے واقعات اور گئو رکھشا کے نام پر بے قصو ر و معصوم مسلمانوں کے قتل کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مودی حکومت نے گئو رکھشکوں کے بھیس میں موجود دہشت گردوں کومسلمانوں کو قتل کرنے کا لائسنس دے رکھا ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کسی بھی واقعے کے بعد مجرموں کے خلاف کارروائی اور حفاظتی اقدامات کے بجائے حکومت اور بی جے پی کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات جاری کئے جاتے ہیں تاکہ شرپسندعناصر کی حوصلہ افزائی ہو ۔ دستور اور قانون کی آڑ میں آر ایس ایس نے پورے ہندوستان میں اپنے کارندوں کا جال بچھا دیا ہے جہاں
Self Defence
کے نام پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے ۔ اب تک گئو رکھشکوں کے حملوں کے جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز ایسے نکتے سے کیاجاتا ہے جس سے ملزموں کے بچ نکلنے کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔کسی مسلمان کے قتل کو جنونی ہندوئوں کی کارستانی قرار دینے کے بجائے اسے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کا نام دیاجاتا ہے اور ظاہر ہے ہجوم کے نام پر اس طرح کی کارروائی سے کسی کو بھی سزا دلانے میں مدد نہیں مل سکتی ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس ریاستی آشیر باد سے قاتل صاف بچ نکلتے ہیں ۔
کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ہندوستان دنیا بھر میں یہ واویلا کرتا ہے کہ وہ ایک سیکولر ریاست ہے لیکن اس ملک میں بی جے پی جیسی جماعتیںانتہائی متعصبانہ انداز سے مذہب کی سیاست کررہی ہیں اور آر ایس ایس ، وشوا ہندو پریشد اور شیو سینا جیسے متشدد گروہ اور مسلح جتھے اس''سیکولر سٹیٹ''کا سب سے بڑا تعارف ہیں۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت
درباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے
آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پر جو بشارت
تمہیدِ مسَّرت ہے کہ طُولِ شبِ غم ہے
جس دھجّی کو گلیوں میں لئے پھرتے ہیں طفلاں
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا عَلم ہے
جس نور سے ہے شہر کی دیوار دَرخشاں
یہ خونِ شہیداں ہے کہ زرخانۂ جم ہے
حلقہ کئے بیٹھے رہو اِک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے

faiz_ahmed.jpg

فیض احمد فیض۔ غُبارِ ایام

*****

 
09
January

تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان

کسی ملک کی خارجہ پالیسی پر اُس ملک کے اندرونی حالات کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ بلکہ خارجہ پالیسی دراصل اس ملک کے داخلی حالات کا عکس ہوتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جغرافیائی محلِ وقوع یا بیرونی سٹریٹجک ماحول بھی ملکوں کے اندرونی سیاسی حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔


نیپال ہمالیائی سلسلے کے ساتھ ساتھ متعدد وادیوں، بے شمار آبشاروں، ہزاروں ندیوں اور بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں پر مشتمل ایسا ہی ایک ملک ہے۔ اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دُنیا کی دو بڑی طاقتوں یعنی چین اور بھارت کے درمیان ایک سینڈوچ کی مانند واقع ہے۔ چین کی جانب ہمالیہ کے بلند و بالا سلسلے اور دُشوار گزار گھاٹیاں ہیں جو تمام سال برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ صرف جنوب میں بھارت کے ساتھ 800 کلو میٹر لمبی سرحد کے ساتھ ساتھ ہموار زمین ہے۔ ہمالیہ پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے چین کے ساتھ آمدورفت اور تجارت بہت محدود ہے۔ اس لئے نیپال کی دو تہائی سے زائد درآمدی تجارت بھارت کے راستے ہوتی ہے۔ اب تک بھارت نے نیپال کی اس مجبوری کا خوب فائدہ اٹھایا ہے اور نہ صرف داخلی سیاست بلکہ نیپال کی خارجہ پالسیی کو بھی کنٹرول کرتا رہا ہے۔ چین کے ساتھ مسابقت کی بناء پر بھارت نیپال کو اپنے حلقۂ اثر میں رکھنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے بھارت نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے ساتھ بھی نیپال کے قریبی تعلقات کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں نیپال کی اندرونی سیاست میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں اب بھارت کے لئے نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ذریعے اس کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس نوع کی ایک اہم تبدیلی نیپال کے حال ہی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ ان انتخابات میں بھارت کی حامی سیاسی جماعت یعنی نیپالی کانگرس کو شکست ہوئی اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یو۔ ایم۔ ایل) اور مائوسٹ کمیونسٹ پارٹی کے اتحاد کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ نیپال کی آئندہ حکومت ان ہی دوپارٹیوں اور ان کے اتحادیوں پر مشتمل ایک مخلوط حکومت ہوگی۔بیشتر مبصرین کی رائے ہے کہ ان انتخابات کے نتائج نے ثابت کردیا ہے کہ نیپال کے عوام آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کے تحت تمام ہمسایہ ملکوں، بشمول چین اور پاکستان، کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں اور انہوںنے نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ذریعے نیپال کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرنے کی بھارتی پالیسی کو مسترد کردیا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکرکرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ نیپال کی 80 فیصد سے زائد آبادی ہندو ہے اور بھارت کے بعد نیپال واحد ہندوریاست ہے۔ نیپال صرف اپنی تجارت اور روزمرہ ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے لئے ہی بھارت پر انحصار نہیںکرتا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان نہایت گہرے ثقافتی، لسانی بلکہ خونی رشتے قائم ہیں۔ نیپالی طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد بھارتی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہے اور نیپال کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت دورِ ابتلاء میں بھارت کی مہمان نوازی کا لطف اُٹھا چکی ہے۔ خودکمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے قیام کا اعلان1949 میں کلکتہ کے مقام پر کیاگیا تھا۔ کیونکہ اُن دنوں نیپال میں سیاسی سرگرمیوں پرپابندی تھی۔ اسی طرح1960 میں جب سابق شاہ مہندرا نے پارلیمانی جمہوریت کی بساط لپیٹ کر نیپال میں آمرانہ راج قائم کیا تھا، تو نیپالی سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں اور کارکنوں نے ملک سے بھاگ کر بھارت ہی میں پناہ لی تھی۔ لیکن اس کے باوجود نیپال کے عوام بھارت کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور چین اور پاکستان کو اپنا مخلص دوست سمجھتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ نیپال کے درمیان انحصار اور بالادستی کا رشتہ ہے اور مختلف مواقع پر اسی تعلق کو نیپال پر دبائو ڈالنے کے لئے بھارت نے جس طرح استعمال کیا ہے، اُس کی وجہ سے ہم مذہب اور ثقافتی طور پر انتہائی قریب ہونے کے باوجود ، نیپالی عوام بھارت سے کھنچے کھنچے رہتے ہیں اس کی طرف سے دوستی اور تعاون کے ہاتھ کو پلٹ کر نہیں دیکھتے لیکن چین، جسے بھارت ایشیا میں اپنا حریف سمجھتا ہے، کے ساتھ نہ صرف تجارتی بلکہ دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

nepalkibharti.jpg
نیپال کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کو ملک کے جمہوری سفر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ نیپال میں سیاسی استحکام کے دور کا آغاز ہوگا اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ کے دوران نیپال سخت انتشار اور سیاسی عدمِ استحکام کا شکار رہا ہے۔ 1996 سے2006 تک نیپال میں مائو پرست باغیوں کی طرف سے لڑی جانے والی گوریلا جنگ جاری رہی۔ اس جنگ میں نہ صرف ہزاروں نیپالیوں کی جانیں ضائع ہوگئیں بلکہ ملک کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ یعنی سیاحت کا شعبہ بھی بہت بُری طرح متاثر ہوا۔ اس سے نیپال میں غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا۔ نیپال میں بادشاہت ختم کرکے ایک وفاقی پارلیمانی نظام رائج کیاگیا۔ سیاسی عدمِ استحکام اور حکومت کی بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے نیپال کے اندرونی مسائل خصوصاً معاشی مشکلات میں کئی گنااضافہ ہوچکا ہے۔ اس لئے موجودہ انتخابات، جنہیں نیپال میں ایک مستحکم حکومت اور جمہوری استحکام کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے، کے بعد اُمید کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت نیپال کو ایک مستحکم انتظامیہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی اور اس کے لئے نیپال کو ہمسایہ ملک کی طرف سے امداد اور تعاون کی ضرورت ہوگی۔


ویسے تو نیپال ، بھارت سمیت خطے کے تمام ممالک کی جانب سے امداد اور تعاون کا خواہش مند ہوگا۔ لیکن توقع کی جارہی ہے کہ اس مقصد کے لئے نیپال کی نئی حکومت چین اور پاکستان کی طرف خصوصی طور پر رجوع کرے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین نیپال کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعاون پر مبنی روابط کو فروغ دینے کے لئے متعدد اقدامات کر رہا ہے۔ چین اور نیپال میں سڑک کے ذریعے پہلے ہی رابطہ قائم ہے۔ اب یہ دونوں ممالک ریل کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہورہے ہیں۔ چین کی مالی امداد سے نیپال میں دوسرا بڑا ہوائی اڈہ تعمیر ہو رہا ہے۔ 2015 میں جب بھارت کے ساتھ ملنے والی سرحد سے منسلک ترائی کے علاقے میں رہنے والے ''مادھیسی'' باشندوں نے نیپال کے لئے وفاقی سیٹ اپ پر اپنے تحفْظات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کر رکھی تھی، اور بھارت نے اسے بہانہ بنا کر نیپال کو روزمرہ ضروریات ِ زندگی، جن میں تیل بھی شامل تھا، کی سپلائی روک دی تھی تو چین نے اس موقعے پر آگے بڑھ کر نیپال کو ہزاروں لیٹر پٹرول اور ڈیزل فراہم کیا تھا۔ نیپال نے ایندھن کی سپلائی میں بھارت کی ہمیشہ ہمیشہ کی محتاجی ختم کرنے کے لئے اکتوبر2015 میں چین کے ساتھ پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کے لئے ایک دوطرفہ معاہدے پر بھی دستخط کئے ہیں۔ اسی طرح نیپال اپنے ہاں چین کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے اس کے وَن بیلٹ وَن روڈ منصوبے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کرچکا ہے۔ جبکہ بھارت نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ نیپال جنوبی ایشیا کی تنظیم برائے علاقائی تعاون ''سارک'' کا بھی رُکن ہے۔ اس تنظیم کے تحت سماجی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں جتنے بھی منصوبے شروع کئے گئے ہیں، نیپال اُن میں برابر کا شریک ہے۔ لیکن باہمی تجارت اور علاقائی تعاون برائے ترقی کی سُست رفتاری کی وجہ سے ''سارک'' کے دیگر رُکن ممالک کی طرح نیپال بھی خطے سے باہر علاقائی تعاون کی تنظیموں اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ مثلاً نیپال کو شنگھائی تعاون تنظیم میں ایسوسی ایٹ رُکن ملک کی حیثیت حاصل ہے جبکہ پاکستان اور بھارت نے حال ہی میں مستقل اراکین کی حیثیت سے شنگھائی تعاون تنظیممیں شمولیت اختیار کی ہے۔ گزشتہ 70برس کی بھارت اور نیپال کے تعلقات کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کٹھمنڈو کی طرف سے ایک آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کی کوشش کو بھارت نے نہ صرف ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے، بلکہ دہلی کی ہر حکومت نے اس سے باز رکھنے کی کوشش تھی کی ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے2014میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جن ممالک کا سب سے پہلے دورہ کیا، اُن میں نیپال بھی شامل ہے۔ وزیراعظم کے علاوہ بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج بھی متعدد بار نیپال کا دورہ کر چکی ہیں۔ ان سب ملاقاتوں کا مقصد بھارت اور نیپال کے دوطرفہ خصوصاً سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ چونکہ غربت اور پس ماندگی پر قابو پانے کے لئے نیپال کو اپنے وسائل خصوصاً ہائیڈروالیکٹرک صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے، اس لئے اُس نے ہر جانب بشمول بھارت سے بھی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے دوروں کے دوران ہی بھارت اور نیپال کے درمیان سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لئے متعدد معاہدات پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔ لیکن ''مادھیسی'' باشندوں کی حمایت میں بھارت نے جس طرح نیپال میں آئین سازی کے عمل میں مداخلت کی کوشش کی اُس سے دونوں ملکوں میں پہلے موجود شکوک و شبہات کی جڑیں مزیدگہری ہوئیں، بلکہ ایک نئی کشیدگی نے جنم لیا۔ کیونکہ ترائی کے علاقے میں شورش کا بہانہ بنا کر بھارت نے نیپال کو ضروری اشیاء کی فراہمی روک دی تھی۔ حالیہ انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیپال کی نئی حکومت ملک کو بھارت کی اس دائمی محتاجی سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

مضمون نگار معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
January

تحریر: جاوید حفیظ


ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ افغانستان میں مکمل امن سے وہاں سپر پاور کے عسکری وجود کا جواز ختم ہو جائے گالہٰذا اصل ہدف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تھوڑی بہت بدامنی بھی چلتی رہے مگر غیرملکی افواج کا جانی نقصان نہ ہو۔ بظاہر یہ دونوں متضاد ہدف لگتے ہیں تو پھر افغانستان میں سپر پاور لمبے عرصے تک کیوں رہنا چاہتی ہے۔ بظاہر جو اب یہ ہے کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کا یکدم انخلاء وہاں طاقت کی رسہ کشی اور سول وار کو جنم دے سکتا ہے۔ مگر اصل ہدف سی پیک کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے ایٹمی پروگرام اور اثاثوں پر کڑی نظر بھی ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیردفاع جیمز میٹس نے دسمبر کے آغاز میں پاکستان کا دورہ کیا اور اہم شخصیات سے ملے۔ اس اہم دورے پر تبصرہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ سیاق و سباق کو سمجھا جائے۔ قارئین کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اگست 2017کی تقریر یقینا یاد ہو گی جس میں من جملہ دیگر امور کے اصل تخاطب پاکستان سے تھا اور صریحاً ہم پر الزام تھا کہ اربوں ڈالرز وصول کرنے کے باوجود ہم مغربی سرحد کے آس پاس ایسے نان سٹیٹ ایکٹرز کو پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں جو افغانستان جا کر امریکی فوجیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس تقریر میں امریکی صدر نے پاکستان کو وارننگ بھی دی تھی کہ اپنی پالیسی درست کرے ورنہ امریکہ اپنی پالیسی بدلنے میں حق بجانب ہو گا۔

amrikipolicy.jpg
آپ کو یاد ہو گا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوجیں نکالنے کے عزم کا برملا اظہار کیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وائٹ ہائوس میں آنے کے بعد انہیں یوٹرن کیوں لینا پڑا اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ افغانستان کے حالات میں مزید بگاڑ آ رہا تھا۔ ملک کا تقریباً نصف حصہ طالبان کے زیراثر آ چکا تھا۔ افغان نیشنل آرمی اور دیگر سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے بڑھ رہے تھے۔ امریکن ملٹری کے انخلاء کے بعد عین ممکن تھا کہ اشرف غنی حکومت دھڑام سے گر جاتی اور ویسے بھی ایک سپر پاور کے لئے کوئی بھی قابل ذکر ہدف حاصل کئے بغیر اس طویل ترین جنگ سے پسپائی بڑی ندامت والی بات ہوتی لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان میں امریکن فوج کی تعداد قدرے بڑھا دی جائے اور دوست ممالک سے بھی فوجی بھیجنے کی اپیل کی جائے۔ تقریر کا ایک نقطہ یہ بھی تھا کہ اب فوجی انخلاء کے لئے کسی ٹائم لائن کا اعلان نہیں ہو گا اور فیلڈ کمانڈرز کو بروقت اور فوری فیصلہ کرنے اور ایکشن لینے کا اختیار دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کی اس اہم تقریر کے بعد پاکستان پر دبائو بڑھنا قدرتی امر تھا۔


گزشتہ دو تین ماہ میں امریکہ کی جانب سے کئی اہم شخصیات نے پاکستان کے دورے کئے ہیں۔ ان کے خیال میں افغانستان میں امریکہ کے اہداف حاصل نہ کر سکنے کی بڑی وجہ پاکستان کی نیم دلانہ مدد ہے مگر امریکی لیڈر شپ کا یہ تجزیہ حقائق کے برعکس ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ضرب عضب کی کامیابی کے بعد مغربی سرحد کے قریب نان سٹیٹ ایکٹرز کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اب پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ مناسب نہیں لگتا۔


صدر ٹرمپ کی تقریر پر پاکستانی لیڈر شپ کا ری ایکشن ظاہر ہے ناراضگی والا تھا۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنا مؤقف سمجھانے کے لئے سفارت کار بھیجنے کا عندیہ دیا تو پاکستان نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ فی الحال آنے کی زحمت نہ کریں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہمیں آپ کے اعتماد کی ضرورت ہے مالی امداد کی نہیں۔


امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اپنی سیمابی شخصیت کے لئے مشہور ہیں۔ کبھی بھی یقین سے ان کے اگلے قدم کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح سے جنرل جیمز میٹس اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جب انہیں وزیردفاع لگایا تو بہت سے لوگوں نے اس بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ میں انہیں کئی عجیب قسم کے القاب دیئے گئے ہیں جو انٹرنیٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ 2003میں عراق پر حملے کے وقت جنرل میٹس نے امریکی فوجیوں کو حکم دیا تھا کہ بظاہر نرم خوئی کا مظاہرہ کریں۔ پروفیشنل سولجر کی طرح کام کریں اور جو بھی عراقی ملے اسے مار دیں۔ یہ ایک غیرمعمولی اور عجیب قسم کی کمانڈ تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ محفوظ پناہ گاہ کی تعریف کیا ہے۔ پاکستان میں اب بھی دوملین کے قریب افغان مہاجرین ہیں، کیا ان کے گھر یا کیمپ محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ اگر فرض کریں ایسا ہے تو پاکستان تو کئی سالوں سے مہاجرین کی باعزت واپسی کے لئے کوشاں ہے لیکن افغانستان میں بدامنی یا انٹرنیشنل کمیونٹی کی عدم دلچسپی آڑے آتی رہی ہیں۔ یہ عمل کئی مرتبہ شروع ہوا ہے مگر پھر رک جاتا ہے، یا سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اسی طرح سے بارڈر کنٹرول کا مسئلہ ہے۔ پاکستان عرصے سے کوشاں ہے کہ بارڈرز پر خاردار تاریں لگا کر آنے جانے کے راستوں کو محدود کر دیا جائے۔ روزانہ ہزاروں لوگ اس بارڈر کو کراس کرتے ہیں۔ اگر سب کے ڈاکومنٹ چیک کئے جائیں اور آنے جانے کے لئے ویزہ لازمی ہو تو دہشت گرد آسانی سے بارڈر کراس نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان کی اس بارڈر فینسنگ کی تجویز پر مزاحمت ہمیشہ کابل کی طرف سے آئی۔ امریکہ اور نیٹو ممالک نے بھی اس تجویز میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ بارڈر کنٹرول کے بغیر دونوں جانب سکیورٹی خدشات رہیں گے۔ پاکستان نے اب یہ کام خود شروع کر دیا ہے۔ مگر ڈھائی ہزار کلومیٹر پر دھاتی باڑ لگانا یا خندقیں بنانا ایک طویل کام ہے۔
اِس حقیقت سے کون صرفِ نظر کر سکتا ہے کہ جب افغانستان کا نصف حصہ طالبان کے زیراثر ہے تو انہیں پاکستان میں پناہ گاہوں کی کیا ضرورت ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی عددی قوت دو تین ہزار سے زائد نہیں۔ وہ لوگ اب پاکستان میں نہیں ہیں تو ساڑھے تین لاکھ افراد پر مشتمل افغان آرمی اور دس ہزار غیرملکی افواج اُن پر غلبہ کیوں نہیں پا سکتے۔

amrikipolicy1.jpg
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ افغانستان میں مکمل امن سے وہاں سپر پاور کے عسکری وجود کا جواز ختم ہو جائے گالہٰذا اصل ہدف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تھوڑی بہت بدامنی بھی چلتی رہے مگر غیرملکی افواج کا جانی نقصان نہ ہو۔ بظاہر یہ دونوں متضاد ہدف لگتے ہیں تو پھر افغانستان میں سپر پاور لمبے عرصے تک کیوں رہنا چاہتی ہے۔ بظاہر جو اب یہ ہے کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کا یکدم انخلاء وہاں طاقت کی رسہ کشی اور سول وار کو جنم دے سکتا ہے۔ مگر اصل ہدف

CPEC

کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے ایٹمی پروگرام اور اثاثوں پر کڑی نظر بھی ہو سکتا ہے۔ سی پیک پر امریکہ اور انڈیا دونوں کے تحفظات ہیں۔ ان کے نزدیک یہ اقتصادی سے زیادہ سکیورٹی منصوبہ ہے۔ انڈیا نے کہہ دیا ہے کہ وہ افغانستان میں فوج نہیں بھیجے گا۔ انڈیا بخوبی واقف ہے کہ کوئی بھی غیرملکی فوج کبھی بھی افغانستان کو لمبے عرصے کے لئے کنٹرول نہیں کر سکی لہٰذا انڈیا کا رول اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے ذریعے خیرسگالی پیدا کرنا اور پھر اس افغان خیرسگالی کو پاکستان کے اندر اپنے مذموم عزائم کے لئے استعمال کرتا رہے گا۔

 

امریکہ کی نئی سکیورٹی سٹریٹجی کا حال ہی میں اعلان ہوا ہے اور یہ بڑی حد تک صدر ٹرمپ کی سوچ کی عکاس ہے۔ ''امریکافرسٹ'' اس پالیسی کا موٹو ہے۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ قوت کے ذریعے امن قائم ہو سکتا ہے۔ اس پالیسی میں انڈیا کا رول اہم ہے۔ انڈیا کے علاوہ جاپان اور آسٹریلیا نیلے سمندروں میں امریکہ کے مرکزی حلیف ہوں گے۔ یعنی چین کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ اس سے سی پیک کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ اس پالیسی میں پاکستان سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا گیا ہے کہ نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کارروائی کرے۔


پاکستان 1950کی دہائی سے امریکہ کا قریبی حلیف رہا ہے۔ ہمارے ہاں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ امریکہ اپنا کام نکلوا کے نظریں پھیر لیتا ہے جیسا کہ سوویت افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد ہوا۔ یہ بات درست ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں اتارچڑھائو آتے رہے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے گلے شکوے رہتے ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے کے لئے اہم ہیں۔ پاکستانی برآمدات کے لئے امریکہ سرفہرست ہے۔ آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے مدد درکار ہو تو وہاں بھی امریکہ کا اثر رسوخ ہے۔ بہت بڑی پاکستانی کمیونٹی امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔


امریکی تعلیمی ادارے اور ریسرچ اب بھی دنیا میں ٹاپ پر ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمایاں پوزیشن ہے۔ امریکہ اور یورپ کا تعاون دونوں کا قد کاٹھ بڑھاتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں موجود امریکی فوجی دستوں کے لئے مختصر ترین سپلائی روٹ پاکستان ہی ہے۔ افغانستان میں امن کی تلاش میں بھی پاکستان کا رول رہے گا اور ہمیں مدد کے لئے پھر کہا جائے گا۔


پاکستان اور امریکہ کے درمیان شکوک و شبہات کی خلیج موجود ہے۔ دونوں طرف سے کوشش ہونی چاہئے کہ یہ خلیج وسیع تر نہ ہونے پائے۔ امریکہ سے پچھلے دنوں دو تین اہم بیان آئے ہیں۔ وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ہمارے لئے بہت اہم ہے مگر میں پاکستان کے ساتھ بات چیت انجوائے نہیں کرتا۔ ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ نان سٹیٹ ایکٹرز پاکستان کے کسی قطعہ اراضی پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ ایسا آج کے حالات میں ممکن ہی نہیں جب تک نان سٹیٹ ایکٹرز کو سپرپاور کی پوری مدد حاصل نہ ہو۔ میری نظر میں یہ بیان پاکستان کے لئے بالواسطہ وارننگ ہے اور صدرٹرمپ کی اگست والی تقریر کا تسلسل ہے۔


امریکی وزیردفاع نے پاکستان میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں میں ''ڈومور'' کا مطالبہ ضرور ہوا ہو گا۔ یہ قطعاً ضروری نہیں کہ پاکستان امریکہ کے الزامات سر جھکا کر تسلیم کر لے۔ ہمیں اپنے خدشات انڈیا کے رول کے حوالے سے بیان کرنا چاہئیں اور اس وزٹ میں ایسا ضرور ہوا ہو گا۔ اگر انڈین انٹیلی جنس کا تخریبی رول پاکستان میں افغانستان کے راستے جاری رہتا ہے تو سی پیک سکیورٹی پراجیکٹ بن سکتا ہے۔ دونوں ممالک کو کھل کر بات کرنا ہو گی دوطرفہ تعلقات میں بہتری دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter