09
November
Published in Hilal Urdu
Read 27 times
نومبر 2017
شمارہ:11 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ریاستِ پاکستان جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہے آج الحمدﷲ وہ اس پر نہ صرف کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے بلکہ پاکستان کے مجموعی حالات بھی انتہائی پُرامن ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کے دلوں سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خوف کے سائے چھٹ رہے ہیں اور وہ اعتماد اور حوصلے سے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ....Read full article
 
تحریر: محمودشام
امریکہ پاکستان سے اگر چہ کئی ہزار میل دور واقع ہے لیکن 2001سے یہ ہمارا پڑوسی بنا ہوا ہے۔ کون کابل میں آج کل ہے مقیم دیکھ ہمسائے یوں بدلتے ہیں عام طور پر کہا جاتاہے کہ ہمسائے نہیں بدلے جاسکتے مگر امریکہ ایسی طاقت ہے....Read full article
 
 alt=
تحریر : محمدعلی بیگ
ہندو قوم اپنے جدا گانہ تشخص کو بر قرار رکھنے کے لئے ہمہ وقت نہایت چوکس رہتی ہے۔ بھارت جو کہ ساری دنیا میں ہر وقت سیکولر نظریات کا ڈھنڈورا پیٹتا نظر آتا ہے اور خود کو جمہوریت اور مذہبی رواداری کا علمبر دار کہتا ہے لیکن اگر ہم بھارتی سیاست پر نظر دوڑائیں تو یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ یہ اوراس جیسے دیگر بھارتی دعوے کھوکھلے ، جعلی اور حقیقت کے منافی ہیں ....Read full article
 
تحریر: احسان اﷲ ٹیپو
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ پچھلے سولہ سال سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ 9/11 کے بعد کے حالات نے جس طرح اس خطے کو اپنے لپیٹ میں لیا آج بھی اس سے نکلنے کی تگ و دو ہو رہی ہے۔ فطری حسن، قدرتی وسائل اور زرعی پیداوار سے مالامال اس جنت عرضی کی پہچان دہشت گردی، خودکش حملے، ڈرون، القاعدہ....Read full article
 
حریر: فاروق اعظم
پاکستان کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوب مشرق میں بحیرہ عرب اور بھارت کی سرحد سے متصل سندھ کا ضلع بدین دکھائی دے گا، جس کے پڑوس میں ریگستانی ضلع تھرپارکر واقع ہے۔ وہی تھرپارکر جہاں کے صحرائو ں میں سب سے زیادہ قدر پانی کی ہے۔ مذکورہ اضلاع سے متصل سرحد کے اُس پار بھارتی ریاست گجرات شروع ہوتی ہے۔ گجرات کو اس لئے بھی.....Read full article
 
تحریر: میجر مظفراحمد
پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کی تقریبات کے تسلسل میں پاک فوج کے زیر انتظام مؤرخہ 21 اکتوبر 2017ء سے 31 اکتوبر 2017ء تک قومی موٹر ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
ریلی کے انعقاد کا مقصد جہاں دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان اور اُس کے عوام پُرامن ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں وہاںجذبۂ ملی یکجہتی و یگانگت کو اُبھارنا بھی شامل ہے....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل معظم اشفاق
سی ایم ایچ کوئٹہ کے ٹھنڈے آئی سی یو میں مشینوں سے بندھا میرا بیٹا جُمعہ بس سانس کے زیروبم سے ہی زندہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس کا زرد چہرہ اور بند آنکھیں مجھے اجنبی معلوم ہوتی ہیں ۔اس چہرے پر میرے لئے پہچان کے کوئی آثار نہیں۔ جب سے میں آیا ہوں، کتنی دفعہ پکارا ہے مگر اس نے ذرا سی دیر کے لئے بھی آنکھیں کھول کر مجھے نہیں دیکھا۔ بچپن ہی سے اس کی عادت تھی کہ جب میں کام کاج سے واپس.....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
بہت سال پہلے ہمارا ایک بیٹ مین بشیر ہوا کرتا تھا جو کہ سادگی میں اپنی مثال آپ تھا۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ہماری یونٹ ایک طویل جنگی مشق کے سلسلے میں کھاریاں کے قریب ایک علاقے میں موجود تھی۔ دوران ایکسرسائز ہم نے ویک اینڈ پر گھر جانے کا پروگرام بنایا۔ بشیر سے کہا گیا کہ ہمارے لئے بس کی ایک سیٹ کا بندوبست کرے۔ اس نے یہ سن کر دوڑ لگائی اور نگاہوں....Read full article
 
تحریر:سمیع اللہ سمیع
دنیامیں طاقت کی رسہ کشی درحقیقت وسائل کی کھینچاتانی سے مشروط رہی ہے۔ افغانستان وہ بدقسمت ملک ہے جس کی سرحدوں سے انیسویں صدی کے وسط سے تاحال سپرپاورزکی آنکھ مچولی جاری ہے۔فرق بس اتناپڑاہے کہ اب برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے جبکہ روس نسبتاًکمزورہونے کے باعث بیک فٹ پر لڑرہاہے۔بہت سے افغانی ....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
کمرے میں باوقار اور سنجیدہ ماحول طاری تھا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا اجلاس تھا۔ امریکی وزیر دفاع کمیٹی کے سامنے دنیا میں سکیورٹی کے حوالے سے پالیسی وضاحتیں دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک سینیٹر نے انہیں سوال کیا ''ون بیلٹ ون روڈ سٹریٹجی کے ذریعے چین مختلف برِاعظموں کے مابین زمینی اور سمندری روٹس کے پھیلائو کا خواہاں ہے....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
ہندوستان دراصل تنگ برہمن ذہنیت اور رسم و رواج کو ماننے والی حکمران اقلیت کا ملک ہے۔ یہ حکمران طبقہ اکثریتی ہندوآبادی کو اپنے سیاسی مقاصد اور مذہبی جنون کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ دوغلے چہرے والے اس ملک میں دوسرے تمام مذاہب کی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندوئوں اور سکھوں کا رہنا بھی اب ایک مسئلہ بن گیا ہے۔قتل و غارت گری کے خون آشام سائے تلے زندگی گزارنے والی اقلیتیں.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر حمیرا شہباز
دانشمندوں کی دانشوری پر غور و فکر بذات خود ایک دانشمندانہ عمل ہے۔ 9نومبر 2017 شاعر فردا علامہ محمد اقبال کا 140 واں یومِ ولادت ہے۔ اقبال کو شاعر فردا بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی بصیرت ، ان کی دور بینی، دور اندیشی ان کے کلام سے عیاں ہے اور شاید اس لئے بھی کہ ملک تو سالوں میں بن جاتے ہیں لیکن قومیں صدیوں میں تربیت پاتی ہیں ۔ 140 سال قبل پیدا ہونے والے.....Read full article
 
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی
شاعرِمشرق،حکیم الامت،مفکرِاسلام اور مصوّرِپاکستان علاّمہ محمد اقبال کے افکارپوری نسلِ انسانی کے لئے عموماََ،امت مسلمہ کے خصوصاََاور امت مسلمہ کے نوجوانوں کے لئے مزید خصوصیت کے ساتھ علم و دانش کا مخزن ہیں۔ان کا پیغام امن،ترقی ،خوشحالی،محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے۔ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ، سب سے زیادہ وابستہ تھیں۔وہ سمجھتے تھے کہ نوجوان نسل قوم.....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
ایک زمانہ تھا جب گلی محلوں میں جا بجا ویڈیو کیسٹس کی دکانیں ہوا کرتی تھیں، جس نوجوان کو نوکری نہ ملتی یا اس کی دبئی جانے کی کوشش بارآور نہ ہوتی، وہ ویڈیو کیسٹسکی دکا ن کھول لیتا اور سوچتا کہ اب یہیں اس کی ''دبئی'' لگ جائے گی۔انہی دکانوں سے وی سی آر بھی کرائے پر مل جایا کرتا ،ٹی وی بمع وی سی آر اور پانچ من پسند فلموںکا مکمل پیکج فقط سو روپے میں مل جاتا ۔یار .....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز
وطن کے وہ سپاہی جو اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھائے، سینہ تانے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں تاریخ اُن کے نام کبھی نہیں بھولتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لہو میں اسی جذبے کو پروان چڑھانے کی خاطر ان جانبازوں کے نام عقیدت اور فخر سے دہراتی ہے کیونکہ یہ نام صفحہ ٔ قرطاس پر بھی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
ڈپریشن جو کہ پوری دنیا میں 'مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے' کسی بھی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، اسے ہم عرفِ عام میں اداسی اور مایوسی بھی کہتے ہیں۔ ڈپریشن ایک پیچیدہ دماغی بیماری ہے جو انسان کو حیاتیاتی ، نفسیاتی اور سماجی طور پر متاثر کرتی ہے ۔ جب مایوسی اور اداسی کا غلبہ بہت دنوں تک رہے اور اس کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روزمرہ کے معمولات.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
اﷲ سبحانہ' تعالیٰ کی عطاکردہ روحانی کیفیات کے احوال پڑھ کر نہ صرف ایمان اور یقین مزید مضبوط ہوتا ہے بلکہ نظامِ قدرت کو بھی سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ایمان کے باوجود اکثر لوگوں کا یقین ''ڈھلمل'' یعنی ڈانواڈول ہی ہوتا ہے ورنہ اگلے جہان، روزِ حساب، قبر میں سوال جواب اور جزا سزا پر یقین کامل ہو تو انسان نہ جھوٹ بولے، نہ دھوکہ دے، نہ ملاوٹ کرے، نہ قتل و....Read full article

انٹرویو: قاسم علی
قوی خان پاکستان کے ان ورسٹائل فنکاروں میں شامل ہیں جن کی شخصیت کا جادوفنون لطیفہ کے چاروں شعبوں ریڈیو، تھیٹر ، ٹی وی اور فلم میں سر چڑھ کر بول رہا ہے انہیں فنی دنیا کا حصہ بنے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن وہ آج بھی کیرئیر کے آغاز جیسی لگن اور جذ بے کے ساتھ کام میں مصروف ہیں اور ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ قوی خان اپنی زندگی کو........Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس.....Read full article
 
تحریر: صائمہ بتول
لفظ سائبو رگ 1960 میں
Manfred Clynes
اور
Nathan S. Kline
نے دریافت کیا۔ یاد رہے کہ یہ لفظ اینڈ رائڈ، بائیو نک، بائیو میٹرک اور مافوق الفطرت اعضاء رکھنے والی مخلوق سے یکسر مختلف اور بہت ساری خصوصیات میں ملتا جلتا تاثر رکھتاہے۔ یہ ٹیکنالوجی تمام دودھ دینے والے جانور اور انسانوں میں ایسے اعضائ، جو ناکارہ ہو چکے ہوں مگر نقصان کے باوجود بحالی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ھمامیر
>یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کینیڈا ایک سرد ملک ہے جہاں زیادہ تر ٹھنڈ رہتی ہے لیکن یہاں کی خزاں ایک ایسا موسم ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہمارے خیال سے تو یہاں کی برف یہاں کی خصوصیت ہے۔ تاہم سیاح برفباری کے بجائے خزاں دیکھنے کینیڈا.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
صوفی غلام مصطفٰی تبسّم معروف اصطلاح میں قطعی صوفی نہ تھے مگر ان کی شخصیت سراپا صوفیانہ و درویشانہ تھی۔ مولانا چراغ حسن حسرت کی طرح رندِ بلانوش تو نہ تھے مگر مَے و مینا سے آشنائی ضرور تھی اور اس کا سبب وہ محفل آرائیاں تھیں کہ جن کے بغیر اُن کی شامیں مکمل نہ ہوتیں۔ صوفی غلام مصطفٰی تبسّم اس پائے کے عالم اور استاد تھے کہ حفیظ ہوشیار پوری تک انہیں جگت استاد کہا کرتے تھے.....Read full article
 
تحریر ۔ طاہرہ حبیب جالب
تعلیم'' یہ انسان میں شعور پیدا کرتی ہے اس کی بدولت ہی انسان اچھے بُرے کی تمیز کرسکتا ہے یعنی تعلیم ہی بنیادی مسائل کا حل ہے۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کررہا ہے۔ ظاہری طور پر پاکستان میں دو تعلیمی نظام ہیں۔ اُردو میڈیم جو سرکاری سکولوں یا گلی محلوں کے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے جس میں اُردو مضامین اور اسلامیات کو اہمیت دی جاتی ہے ان ....Read full article
 
تحریر: فرحین چودھری
خوبصورت منقش گملے میں لہراتا ننھا سا خوش نما پودا نوجوانوں کی خاص طور پر دلچسپی کامرکز بن گیا۔ اماں بی اور دادا ابو نے غور سے پودے کو چھو کر، سونگھ کر دیکھااگرچہ اس کے رنگ و نسل کے بارے میں شکوک کا اظہار بھی کیا تھا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اس کے چمکیلے پتے اور جھومر جیسے جھولتے ننھے ننھے پھول....Read full article
 
تحریر: عمران علی ملک
قدرت نے ارضِ وطن پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کی آب و ہوا اور سال بھر کے دوران رنگ بدلتے موسم ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی یہاںگرمی کی شدید لہر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آسمان سے سورج گرمی برساتا ہے تو زمین بھی تپش کی شدت سے آگ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ ایسے میں شمالی علاقہ جات ....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
1990 میںبحیثیت سٹیشن ڈائریکٹر میری پوسٹنگ سکردو ہوئی تو مجھے 5فروری کو وہاں پہنچنے کا حکم ملا۔ میں نے فوری طور پر سکردو کے لئے پی آئی اے سے اپنی ٹکٹ حاصل کر لی۔سکردو جانے سے پہلے ناردرن ایریاز بکنگ آفس سے ٹکٹ کی کنفرمیشن کرانی ضروری ہوتی ہے۔ یہ کام بھی ہو گیا۔ میں اپنے کالج کے ساتھی محمداختر کے پاس ٹھہر گیا۔ وہ مجھے ....Read full article
09
November

محمد اعظم خان

خوبصورت مقام سکردو میں پوسٹنگ اور خدمات کی انجام دہی کا احوال ریڈیو پاکستان کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر محمد اعظم خان کے قلم سے

1990 میںبحیثیت سٹیشن ڈائریکٹر میری پوسٹنگ سکردو ہوئی تو مجھے 5فروری کو وہاں پہنچنے کا حکم ملا۔ میں نے فوری طور پر سکردو کے لئے پی آئی اے سے اپنی ٹکٹ حاصل کر لی۔سکردو جانے سے پہلے ناردرن ایریاز بکنگ آفس سے ٹکٹ کی کنفرمیشن کرانی ضروری ہوتی ہے۔ یہ کام بھی ہو گیا۔ میں اپنے کالج کے ساتھی محمداختر کے پاس ٹھہر گیا۔ وہ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایئرپورٹ لائے۔ 5فروری سے لے کر 8فروری تک مسلسل 4روز پرواز منسوخ ہوتی رہی۔ اس کی وجہ سکردو کا موسم تھا۔ خدا خدا کر کے 9فروری کو فلائٹ روانہ ہوئی۔ ایئرپورٹ پر مجھ سے پہلے والے سٹیشن ڈائریکٹر محترم ضمیر صدیقی مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ 10فروری کو میں نے بحیثیت ڈائریکٹر چارج لیا۔ ضمیر صدیقی صاحب نے مجھے تمام سٹاف سے ملایا۔ مجھے وہاں کام کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ یہاں کے لوگ بہت ہی محنتی اور ایماندار ہیں۔ چوری چکاری کا دور دور تک خدشہ نہیں ۔ سکردو سٹیشن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ
Hard
ایریا ہونے کی وجہ سے آرمی آفیسرز سے بہت واسطہ رہتا ہے۔ میرے زمانے میں میجر افتخار کی بیگم ہمارے فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئر تھیں۔ نہایت عمدہ پروگرام کرتی تھیں۔ میری یہی کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ فوجی جوانوں کی فرمائش پوری کی جائے۔ کیونکہ اس وقت صرف ریڈیو سٹیشن سکردو ہی تفریح کا واحد ذریعہ تھا۔ ریڈیو سٹیشن کی خبروں کو بڑے شوق سے سنا جاتا تھا۔ آرمی سٹیشن کمانڈر مجھے اپنی خاص میٹنگ کے لئے ضرور بلاتے تھے۔ اور میں فوجی تقریبات میں بڑے شوق سے جاتا تھا ایک دفعہ میں نے میجر عاصم سے اپنی ایک خواہش کا ذکر کیا کہ مجھے سیاچن دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر کسی خاص کام سے سیاچن جا رہا تھا کہ مجھے میجر عاصم کا ٹیلی فون آیا کہ آپ کل صبح آٹھ بجے ہیلی پیڈ پہنچ جائیں۔ اس کا مکمل احوال ان شاء اﷲ اگلے مضمون میں بتائوں گا کہ اس قدر سخت سردی یعنی منفی 50ڈگری میں وہاں فوجی آفیسر اور جوان کیسے رہتے ہیں۔

mujyyadhasbzara.jpg

بہت دلیری اور ہمت کی بات ہے۔ یہ انہی کا کام ہے کہ دشمن کو پیش قدمی سے روکے ہوئے ہیں۔ میرے اپنے ایک عزیز کرنل محمود بھی اُن دنوں سکردو میں تعینات تھے۔ ان سے بھی کافی معلومات حاصل ہوتی رہتی تھیں۔ وہاں کے آرمی آفیسرز اور سول آفیسرز کا سلوک مجھے بہت اچھا لگا۔ اکثر کھانوں اور پارٹیوں میں ملاقات رہتی۔ شنگریلا جھیل اور صدپارہ جھیل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ خاص کر شنگریلا جہاں جہاز کے اندر ایک چھوٹا سا چند کمروں کا ہوٹل بنا ہوا ہے۔ شنگریلا جھیل کے اندر ہوٹل کا منظر بھی بہت اچھا ہے اور وہاں کھانا کھاتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آپ مچھلیوں کے ساتھ اس جگہ پر موجود ہیں۔ شنگریلا سے پہلے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا چڑیاگھر بھی ہے۔ سکردو میں دو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ بلتی اور نوربختی دونوں ہی بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ میں نے سکردو ریڈیو سٹیشن پر پروگراموں کے علاوہ دو کام ایسے کئے کہ وہاں کے لوگ مجھے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ایک ٹرانسمشن کا وقت تبدیل کیا کیونکہ مجھے میرے ڈرائیور محمد حسین اور دوسرے ملازم کہتے تھے کہ سر رات کو گیارہ بجے ریڈیو سٹیشن بند ہوتا ہے۔ ہمیں سٹاف کو چھوڑتے چھوڑتے رات کا ایک بج جاتا ہے۔ پھر گاڑی کو ریڈیو سٹیشن چھوڑنا ہوتا ہے۔ گھر پہنچنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ آپ براہ مہربانی ہیڈکوارٹر سے اجازت لے کر اس ٹرانسمشن کا وقت 4سے 11بجے کے بجائے 3سے 10بجے تک کرا دیں۔ میں نے اپنے سٹاف کی خاطر بڑی کوشش سے ہیڈکوارٹر سے اجازت لے کر ریڈیو کا پروگرام نشر کرنے کا وقت 3بجے سے 10بجے رات کروا دیا۔ اس سے میرے سٹاف میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسی طرح میری دلی خواہش تھی کہ ریڈیو سٹیشن کے احاطے میں مسجد ہو اس کے لئے ایک جگہ مقرر کی اور اس کی پہلی اینٹ اپنے ہاتھ سے رکھی۔ یہ اﷲ تعالیٰ نے مجھ سے دیگر کاموں کے علاوہ بہت اچھا کام کروایا۔ سٹیشن پر سردی کے موسم میں مجھے 40من لکڑی استعمال کرنے کی اجازت تھی جو کہ میں اپنے سٹاف خاص کر گارڈ، ڈرائیور اور پولیس سٹاف کو بانٹ دیتا تھا۔ صدپارہ جھیل کا میں نے تین چار دفعہ نظارہ کیا۔ میری سکردو پوسٹنگ سے پہلے میری والدہ مجھے اکثر کہتی ''بیٹا ٹھنڈی ہوا بادل کا سایہ'' میں کہتا امی جان آپ یہ کیا بات کرتی ہیں۔ وہ میری خدمت سے بہت خوش تھیں اور دعا کے طور پر بار بار کہتی ''ٹھنڈی ہوا بادل کا سایہ'' یہ بات مجھے سکردو جا کر سمجھ آئی کہ میری والدہ کے کہنے کا کیا مطلب تھا یعنی سکردو میں ٹھنڈی ہوا کا اور بادل کا سایہ ہمیشہ رہا۔ مختلف وادیوں میں بھی گئے۔ آئندہ ان شاء اﷲ سیاچن کا ذکر کروں گا کہ اتنی بلندی پر بھی ہماری پاکستانی افواج کیسے بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہاں دنیا کی سب سے اونچی پوسٹیں ہیں۔ پاکستانی بہادر فوج کیسے کیسے کام سرانجام دیتی ہے۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
(....جاری ہے)

 

علامہ ڈاکٹرمحمداقبال
کیااقبال کے اشعار نے بیدار ملت کو
کہ آزادی وطن کی آج ہے درکار ملت کو
اسی سے قوم نے قلب و نظر کی روشنی پائی
ہوئی بیدار سوئی قوم جس سے لے کے انگڑائی
ہوا بیدار جذبۂ خودی اشعار سے تیرے
ملی جو رہنمائی قوم کو افکار سے تیرے
تیرے فکر و تخیّل سے ملا احساسِ آزادی
تو غافل قوم کو منزل کی اس نے راہ دکھلا دی
رگ و جاں میں ہوئے بیدار اسرار جہانبانی
کہ ہے کردار کے اندر نہاں رمزِ مسلمانی
تیری بانگِ درا نے کردیا بیدار قوموں کو
غلامی میں ملا درسِ خودی نادار قوموں کو
رہائی قوم کو حاصل ہوئی جس دم غلامی سے
چمن گویا مہک اُٹھا بہارِ شادمانی سے
خودی کے درس نے اہلِ وطن کو دی توانائی
وطن کے گوشے گوشے سے صدائے مرحبا آئی
تیرے شاہیں نے جس دم رفعتِ پرواز سکھلادی
شعور و آگہی نے روشنی منزل کی دکھلا دی
لبِ دریا پہ اسرارِ جہاں کی جستجو کرنا
خضر کے ساتھ ملنا اور شب بھر گفتگو کرنا
یہ تُو نے پیش گوئی کی وطن آزاد ہونے کی
تصور میں تِرے تصویر تھی جو شاد ہونے کی
ہے ندرت بھی سخن میں قوتِ الہامِ کامل بھی
خودی کے ساتھ آزادی کا ہے پیغام شامل بھی
تدبّر نے تِرے پائی زمانے میں پذیرائی
تفکر نے تِرے عظمت کی شہرت دائمی پائی
رہے گا جنت الفردوس میں تیرا مقام آخر
فلک پر تااَبد روشن رہے گا تیرا نام آخر
مِلا اقبال کی عظمت کو بھی اقبال تابندہ
کہ دانشور رہا کرتے ہیں اسلم جاوداں زندہ
مظفر اسلم

*****

 
09
November

تحریر: محمد امجد چوہدری

طلباء و طلبات کو شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ رکھنے کی ضرورت

درسگاہیں اور علم گاہیں کسی معاشرے کو باشعور، منظم اور مہذب بنانے میں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ قوموں کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی میں ان کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ جامعہ کراچی کا شمار پاکستان کے ان اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں معمار قوم کا کردار ادا کیا اورآج بھی جدید تقاضوں کے مطابق نوجوانان وطن کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ بارہ سو ایکٹر رقبے پر مشتمل اس یونیورسٹی کا قیام1951ء میں عمل میں لایا گیا ۔صرف دو شعبوں سے تدریسی اور تحقیقی کام کا آغاز کرنے والی یہ جامعہ آج سائنس اور آرٹس کے53 مختلف شعبوں اور عالمی طرز کے20جدیدترین تحقیقاتی سنٹر ز اور انسٹی ٹیوٹس پر مشتمل ہے جہاں 24ہزار سے زائد طلباء و طالبات 800سے زائد قابل اساتذہ اوردرس و تدریس کے اڑھائی ہزارسٹاف کی زیرنگرانی اپنی علمی و تحقیقی پیاس بجھا رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تدریسی وتحقیقی معیار میں جامعہ کراچی کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔اس کے فارغ التحصیل طلباء قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔ جامعہ کراچی کی ترقی اور ارتقاء کے عمل میں اس کے دُوراندیش اساتذہ کی محنت و قابلیت اور انتظامیہ کی کوششوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ تعلیمی ادارے علم وعمل اور آگہی و شعور کے مرکز ہوتے ہیں، اسی لئے تو ملک دشمن عناصر کا اولین نشانہ بھی یہی ہوتے ہیں۔پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان کی ہر وہ شے جو ہمارے وقار، ترقی اورروشن مستقبل کی علامت سمجھی جاتی ہے، دہشت گردوں کے نشانے پر رہی۔ کراچی سے خیبر تک انہوں نے معصوم شہریوں اور سیکورٹی اداروں پر حملے کئے۔ تعلیمی ادارے خاص طور پر ان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ وہ نہ صرف انہیں نشانہ بنا رہے تھے بلکہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں بھی مصروف عمل تھے۔اسی بھنور میں جامعہ کراچی کو بھی دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں بھی شدت پسندی، بدامنی اور بے یقینی کے بیج بونے کی کوشش کی گئی تاہم طلباء و طالبات کی ہوشمندی، اساتذہ کی مستعدی، انتظامیہ کے تعاون اور سکیورٹی فورسز کی کڑی نگرانی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان (ستارہ امتیاز) یہاں کے بہت سے مسائل جن میں انتظامی اور مالی قابل ذکر ہیں، حل کرنے میں انتہائی اہم کردار اداکررہے ہیں۔وہ نباتات کے استاد ہیں اور یونیورسٹی کو سرسبزوشاداب اور پھلتا پھولتا دیکھنے کی متمنی ہیں۔ اسی لئے بعض معاملات خاص طور پر فنڈنگ اور مالی خسارے کے لحاظ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں مگر شدید مالی مسائل ہماری رہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی یونیورسٹی کو اتنی رقم دی جائے جتنی کہ ایک عام یونیورسٹی کو فراہم کی جاتی ہے تو پچیس سال میں انقلابی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں ترقی اور علوم میں تبدیلی و جدت آرہی ہے، ہم بھی اپنے ملک کو اس سے ہمکنار کر سکتے ہیں ۔یہ تبھی ممکن ہے جب ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا اثر کراچی یونیورسٹی پر بھی پڑتا ہے۔ جب ہمیں کھل کر بات کرنے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پروفیشنل بحث و مباحثے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پیشہ ورانہ مضامین میں تحقیق کرنے کے لئے مالی آزادی ہوگی، توہم پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور کامیاب بنانے میں بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس تناظر میں کراچی یونیورسٹی پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان پر سرمایہ کاری ہے۔ یونیورسٹی کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی پروفیسرڈاکٹر محمد اجمل خان نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ وہ اس حوالے سے رینجرزکے کردار کے معترف ہیں۔ان کا کہنا ہے کراچی یونیورسٹی آپریشن ردالفساد کا ایک
Main Component
ہے۔ یہاں جو چند لوگ فساد کرکے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان سے نجات ضروری ہے اور اس سلسلے میں رینجرز اپنا مؤثر کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ جامعہ کو سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مشکوک افراد پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ اس طرح ان تمام مجموعی کوششوں سے جامعہ کراچی کو شدت پسندی کا لیبل لگا کر اس کی ساکھ کو متاثر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ دہشت گرد عناصر ہماری کمزوریوں کی تاک میں ہیں۔ وہ پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے کا موقع ہرگز ضائع نہیں کرتے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے نوجوانوں کے شعور میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہے۔ پاک فوج دہشت گردوں سے براہ راست نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں بھی بہت سے اقدامات اٹھارہی ہے۔

jamiat.jpg

گزشتہ دنوں جنرل ہیڈکوارٹرز میں ''شدت پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کے کردار'' کے موضوع پر ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا جس میں پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو شکست دی جاچکی، شدت پسندی کو شکست دینے کے لئے ہمارے تعلیمی ادارے اور میڈیا معاشرے کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ ہم باہمی تعاون سے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے والی قوتوں کو شکست دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کا دورہ کیا اور طلباء سے خطاب بھی کیا۔ طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء منفی چیزوں پر دھیان نہ دیں اوروالدین کے خواب پورے کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں کہ سب لوگ دنیا کو میری نظر سے دیکھیں تو میں بنیاد پرست نہیں انتہا پسند کہلائوں گا۔ جب میں دوسروں کو اپنے نظریات ماننے پر مجبور کروں تو تشدد پسند یا دہشت گرد کہلائوں گا۔مجھے کسی کو ثابت نہیں کرنا کہ میں مسلم ہوں ، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، مسلمان ہونے کے لئے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں، عمل سے ثابت کریں۔اس طرح کے سیمینارزاور کانفرنسیں یقینا ہمارے نوجوانوں کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں کے بارے میں مؤثر طور پر باخبر اور باشعور رکھتی ہیں۔ بہرحال جامعہ کراچی علم کا ایک ایسا رواں چشمہ ہے جس نے پاکستان کی تعمیر سے استحکام تک ایک ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ یہ چشمہ اسی طرح رواں رہ کر ملک کی ترقی اور استحکام کو دوام بخشتا رہے گا۔

 
09
November

تحریر: عمران علی ملک

قدرت نے ارضِ وطن پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کی آب و ہوا اور سال بھر کے دوران رنگ بدلتے موسم ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی یہاںگرمی کی شدید لہر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آسمان سے سورج گرمی برساتا ہے تو زمین بھی تپش کی شدت سے آگ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ ایسے میں شمالی علاقہ جات کی سیاحت کا رجحان بڑھ جاتا ہے ۔ دہشت گردی کی لہر نے پورے ملک سے سیاحت کا سلسلہ تقریباً ختم کر دیا تھا لیکن پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں اور بیش بہا قربانیوں سے وطن عزیز ایک بار پھر سیاحت کے لئے محفوظ مقام بن چکا ہے۔ سیاحت کی بات ہو تو گلگت بلتستان کسی جنت سے کم نہیں۔ویسے تو بلتستان کا ہر علاقہ قدرتی مناظر میں اپنی مثال آپ ہے لیکن ان میں سکردو ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

skerdozamen.jpg
اسلام آباد سے سکرودو کے لئے فضائی سفر کی سہولت بھی موجود ہے۔ پی آئی اے کی پروازیں روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں لیکن موسم خراب ہونے کی صورت میں پروازیں منسوخ کر دی جاتی ہیں۔ اسلام آباد سے سکردو کا زمینی سفر قراقرم ہائی وے کے ذریعے ہوتا ہے ۔دہشت گردی کے دوران یہ سفر قدرے غیر محفوظ تھا مگر پاک فوج اور ایف سی کے زیر نگرانی یہ سفر قافلوں کی شکل میں جاری رہا۔ راستوں میں بھی جگہ جگہ ایف سی اہلکار ڈیوٹی دیتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سنگلاخ چٹانوں میں بنا کسی سائے کے ڈیوٹی دیتے اہلکار وں کر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وطنِ عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے یہ جوان کس قدر پُر عزم ہیں۔ پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں کی وجہ سے اب یہ سفر انتہائی محفوظ ہے ۔
جگلوٹ اور گلگت سے سکردو تک پہنچنے کے لئے واحد زمینی راستہ 167 کلومیٹر، گلگت ـسکردو روڈ ہے ۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ یہ دشوار گزار راستہ ہے مگر سکردو کے ڈرائیور نہایت مہارت سے ڈرائیونگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلگتـ سکردو روڈ میں ایک جانب فلک بوس پہاڑ ہیں تو دوسری جانب زمین کی تہوں میں دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے کبھی یہ راستہ منقطع بھی ہو جاتا ہے ۔ جس کو ایف ڈبلیو او کم سے کم وقت میں ٹرانسپورٹ کے لئے بحال کردیتی ہے۔


سکردو میں اپریل کے آخر میں بہار کا آغاز ہوتے ہی سیاحت کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ اپریل سے ستمبر تک سیاحت کا بھرپور موسم ہوتا ہے۔ سیاح سکردو کا رُخ کرتے ہیں۔ اکتوبر میں یہ حسین وادی سفید چادر اوڑھنا شروع کر دیتی ہے اور رفتہ رفتہ ہر طرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے ۔


سکردو شہر سے 50فٹ بلند پہاڑ پر واقع قلعہ کھرپوچو اپنے ڈیزائن اور محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس قلعے کی بناوٹ ایسی ہے کہ اس سے پورا سکردو شہر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔ نیز اس قلعے سے دریائے سندھ اور اس کے پیچھے بلند و بالا پہاڑ اتنہائی دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔


کھرپوچو کے عقب میں واقع گائوں ننگ سوق کو ''آرگینک ویلج'' کا نام دیا گیا ہے۔اس گائوں میں آج تک مصنوعی اشیاء سے پاک 100فیصد قدرتی اجناس استعمال کی جاتی ہیں ۔اس گائوں میں نہ تو سرکاری بجلی ہے اور نہ ہی کوئی سڑک موجود ہے۔گائوں تک پہنچنے کا واحد راستہ انتہائی دشوار گزار ہے جہاں سے پیدل گزرنا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں تھا مگر پاک فوج نے اب اس راستے کو قدرے آسان بنانے کے لئے لکڑی کے پُل بنا دئیے ہیں ۔
سکردو سے شگر جاتے ہوئے ایک نہایت ہی خوبصورت مقام سے گزرتے ہیں یہ ایک صحرا ہے جو کولڈ ڈیزرٹ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دریائے سندھ کے ساتھ کئی میلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس صحرا کے درمیان سے گزرتی سڑک اور پس منظر میں خوبصورت پہاڑ ایک دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔


وادیٔ شگراور شگر فورٹ
وادٔ شگر بلتستان کی ایک خوبصورت وادی ہے ۔یہ 170کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ جونہی اس وادی میں داخل ہوں یہاں ایک خاص قسم کی خوشبو آپ کا استقبال کرتی ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنے اس کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ وادٔ شگر سے دریائے شگر گزرتا ہے جو آگے جا کر دریائے سندھ میں ضم ہو جاتا ہے۔ اس وادی میںسب سے مشہور مقام شگر فورٹ اور شگر پیلس ہے۔ اس کو بلتی زبان میں ''پھونک کھر'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''چٹان پر محل'' یہ بلتستان کے فن تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے۔ آج کل یہاں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے اور پیلس کی عمارت کا کچھ حصہ ایک ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وادٔ شگر میں قائم مسجد امبوریک کا شمار بلتستان کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔ اس مسجد کی بنیاد سید امیر کبیر علی ہمدانی نے رکھی اور یہ آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔یونیسکو نے اس مسجد کو کلچرل ایوارڈ بھی دیا ہے ۔


شنگریلا جھیل
کچورہ گائوں میں موجود ہونے کی وجہ سے اس جھیل کا اصل نام کچورہ جھیل ہے۔ یہاں 1983میں قومی ایئر لائن کا ایک طیارہ گر گیا تھا جس کو کسی نے خرید کر ایک ریسٹورنٹ میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام شنگریلا رکھا۔ ''شنگری لا ''تبتی الفاظ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے ''زمین پر جنت''۔ جھیل کے کنارے یہ اپنی نوعیت کا منفرد ریسٹورنٹ ہے جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔ چاروں جانب پہاڑوں میں گھرے اس خوبصورت مقام پر جائے بغیر سکردو کی سیاحت مکمل نہیں سمجھی جا سکتی ۔


اپر کچورہ جھیل
یہ انتہائی شفاف پانی کی ایک وسیع و عریض جھیل ہے کچورہ۔ شنگریلا جھیل سے کئی گنا بڑی جھیل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی گہری بھی ہے ۔ اس کی گہرائی 280فٹ ہے۔ یہ انتہائی خوبصورت تفریحی مقام ہے ۔سر سبز درختوں میں گھرے کچے راستے ٹریکنگ کے شوقین حضرات کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ لیکن ناکافی سہولیات اور قدرے دشوار گزار راستے کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمدورفت کم ہوتی ہے۔
سکردو شہر سے 40کلومیٹر دور وادیء کھرمنگ میں منٹھوکھا آبشارواقع ہے ۔ اس کی اونچائی زمین سے 180فٹ ہے۔ دورونزدیک سے لوگ یہاں تفریح کے لئے آتے ہیں۔ آبشار سے اُڑتی پھوار ہوا میں شامل ہو کر انتہائی دلفریب نظارہ پیش کرتی ہے۔


منٹھال بُدھا راک
سکردو۔ سدپارہ روڈ پر سکردو سے 3کلومیٹر دور منٹھال گائوں میں واقع یہ گرینائٹ کا چٹان نما پتھر ہے جس کی اونچائی تقریباً50فٹ ہے ۔اس چٹان کے درمیان میں بُدھا کی ایک بڑی اور اطراف میں کئی چھوٹی تصاویر کندہ کی گئی ہیں۔


دیوسائی نیشنل پارک
دیوسائی (جنات کی سرزمین) استور اور سکردو کے درمیان دنیا کے دوسرے بڑے میدان ہیںجو سطح سمندر سے 13,497فٹ بلند ی پر واقع ہیں ۔ یہ میدان 3000مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ دیوسائی کو بلتی زبان میں ''غبیارسہ'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''گرمیوں کی جگہ''کیونکہ اس علاقے تک رسائی گرمیوں کے صرف 3مہینے ہی ممکن ہوتی ہے۔ دیوسائی کو 1993میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں برفانی چیتا، برائون ریچھ، مرموٹ، مارخور، ہڑیال اور باز کی کئی نسلیں پائی جاتی ہیں۔ سرسبز گھاس کی چادر اوڑھے ان میدانوں میں رنگا رنگ خوبصورت پھولوں ، اُڑتی تتلیوں ، خوشبوئوں اور بہتے پانیوں سے جو نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہاں آنے والوں کو ہمیشہ کے لئے اپنا اسیر کر لیتا ہے۔


سکردو پاکستان کے سیاحتی مقامات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں برف پوش پہاڑوں کو چھو کر گزرنے والی ہوا ئوں کا احساس ہی تن بدن میں تازگی پیدا کر دیتا ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنوں سے اُٹھنے والی ٹھنڈی پھوار سانسوں کو ایسی تازگی بخشتی ہے کہ روح تک ٹھنڈک محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہاں کی وادیوں میں ایک خاص خوشبو سے سانسیں بھی مہک جاتی ہیں اور انسان اُس خوشبو کو کبھی بھی بُھلا نہیں سکتا۔ یہاں سیب ، چیری، خوبانی ، آلوبخارہ، انجیراور بادام کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ سکردو کی خوبصورتی کی طرح یہاں کے لوگ بھی لالچ سے دور ، انتہائی خوش اخلاق اور پُر امن ہیں۔محنت کا رجحان بچوں اور بڑوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔ بچے بہت ملنسار اور تعلیم کے شوقین ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے کئی کئی میل کا سفر بھی پیدل کرتے ہیں۔سیاحت کے دلدادہ سکردو جانے کے بعد کبھی اس کے سحر سے نکل نہیں پائیں گے۔جیسا کہ ایک نغمے کے بول کچھ یوں ہیں 
ایک بار جو آئے …
دل یہاں رہ جائے …
جانا چاہے نہ پھر یہاں سے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
November

تحریر: فرحین چودھری

خوبصورت منقش گملے میں لہراتا ننھا سا خوش نما پودا نوجوانوں کی خاص طور پر دلچسپی کامرکز بن گیا۔ اماں بی اور دادا ابو نے غور سے پودے کو چھو کر، سونگھ کر دیکھااگرچہ اس کے رنگ و نسل کے بارے میں شکوک کا اظہار بھی کیا تھا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اس کے چمکیلے پتے اور جھومر جیسے جھولتے ننھے ننھے پھول اُنھیں بھی لبھا رہے تھے۔
''دادا ابو نرسری والا بتا رہا تھا یہ بیل بڑی تیزی سے پھیلتی ہے'' قندیل خاصی پُرجوش تھی۔
تبھی عامر نے مستقبل کی تصویر کشی شروع کر دی'' گھر کی دیواروں اور چھت پر جب یہ بہار دکھائے گی تو گزرنے والے مڑ مڑ کر دیکھیں گے۔
''ہوں'' دادا ابا نے عینک اُتار کر ہاتھ میں پکڑتے ہوئے ہنکارا بھرا۔ پھر اماں بی کی جانب متوجہ ہوئے۔
''کیوں بہو! ہے تو خوبصورت یہ بیل مگر باس دل کو نہیں بھا رہی۔۔۔تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔۔؟''
اماں بی نے سر سے سرکتے دوپٹے کو دوبارہ سلیقے سے سجاتے ہوئے سُسر اور بچوں کے درمیان ہمیشہ کی طرح پل کا کردار اداکرتے ہوئے صرف اتنا کہا۔
''اصل میں بچے گھر کی

Looks

میں کوئی تبدیلی لانا چاہتے تھے۔ دیواروں پر لگا سیمنٹ، پتھر، رنگ و روغن اچھا تو تھا مگر تقریباً سبھی گھر اس علاقے میں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ ایک ہی جیسے لگتے تھے۔ سو انہوں نے لان کو نئے سرے سے، نئے انداز سے، سنوارنے کا سوچا۔ ساتھ ہی دیواروں اور چھت پر خوبصورت بیلوں کو چڑھانے کا خیال بھی سوجھا۔''
قندیل اور عامر کو کئی نرسریاں چھاننے کے بعد ایک نرسری سے یہ بیل ملی تھی۔ جس کے پھول بھی خوبصورت تھے اور جو بقول نرسری والے کے بانس کی طرح راتوں رات بڑھتی تھی۔۔۔سو ماں کا بیان مکمل ہوتے ہی انھوں نے پھرتی سے گملا اُٹھایا اور لان میں پہنچ گئے۔
دادا ابا دھیرے دھیرے چلتے ہوئے برآمدے میں پڑے موڑھے پر بیٹھ گئے اور لگے حقّہ گڑگڑانے۔۔۔یہ ان کی پرانی عادت تھی کسی مسئلے کا سرا ہاتھ نہ آتا۔۔۔اندر سے پوری طرح''ہاں'' کی آواز سنائی نہ دیتی تو حقے کی گڑگڑاہٹ میں ذہن کے اُبال کو سمونے کی کوشش کرتے۔۔۔اندر کے الاؤ کا حقے کے دھوئیں سے کیا مقابلہ!۔
یہ کوشش ناکام ہونے پر ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے۔
بیل نے دیکھتے ہی دیکھتے اطراف کی دیواروں کو ڈھکنا شروع کر دیا۔ سبھی خوش تھے۔ سیمنٹ اور پتھروں کے کھردرے پن کی جگہ اب سبزے کے ساتھ لال نیلے سفید پھولوں نے لے لی تھی۔ گھر کی
Looks
میں واضح فرق محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔باقی تو سب ٹھیک تھا۔لیکن دادا ابو اور اماں کو بیل کے قریب سے کبھی کبھار ایک ہمک یا باس کا جھونکا سا آتا محسوس ہوتا۔ جو بقول بچوں کے ان کا وہم تھا۔۔البتہ اس بیل کی خوشبو بھی کوئی نہ تھی۔ مگر خوشنمائی اور چمکیلے پتوں کے ہوتے ہوئے خوشبو کا عنصر اتنا اہم نہ رہا تھا۔ ویسے بھی بدن پر مہکتے پرفیومز۔۔۔کمروں میں گھر میں ہر طرف
Airfreshner
کے ہوتے ہوئے پھولوں کی خوشبو کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ بیل مختلف دیواروں کا احاطہ کرتی ہوئی اب سامنے گیٹ کے ساتھ چھت کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔دُور سے یہ گھر۔۔باقی گھروں کی نسبت خاصا مختلف اور خوبصورت دکھائی دینے لگا تھا۔ بچے خوش تھے۔
خرابی اس دن پیدا ہوئی جس دن نماز پڑھتے ہوئے پٹ سے بیل کے پتوں سے ایک سیاہ سانپ نما کیڑا گرا اور اماں بی کے دوپٹے پر رینگنے لگا۔ گھبرا کر انھوں نے نمازتوڑ ڈالی۔ یہ اچھا شگون نہ تھا۔ کیڑے کو گھبرا کر جھٹکا تو وہ تیزی سے رینگتا ہوا پھر بیل میں جا چھپا۔
زندگی میں پہلی بار ان کی نماز میں خلل پڑا تھا۔ جس کا انھیں بے حد قلق تھا۔ دادا ابو نے بیل کو کھنگالنا شروع کیا تو عجیب و غریب انکشافات ہونے لگے۔
دُور سے خوشنما اور چمکیلے دکھائی دینے والے پتوں اور ملائم سفید نیلے پھولوں سے ڈھکی شاخوں پر سانپ نما کیڑے شاخوں کا حصہ بنے چمٹے ہوئے تھے۔ اُن کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی پھیل گئی۔ پوری بیل میں ان کیڑوں کی تعداد نہ جانے کتنی ہو گی۔ جب کہ یہ بیل پورے گھر کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ یہ خیال خاصا کراہت انگیز تھا۔ بلکہ شاخوں کی چمکتی تہوں میں ایک خاص قسم کی سڑاند بھی موجود تھی۔
دادا ابو نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ کہ بیل کو ہٹانا ضروری ہے۔ مالی سے بات بھی کر لی گئی۔ مگر قندیل اور عامر پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ نہیں دادا ابو! یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی بیل نے گھر کی خوبصورتی بنا دی ہے اور آپ اسے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اماں آپ سمجھائیں انھیں ۔۔۔؟ اماں بے چاری اس مرحلے پر عجیب اُلجھن کا شکار ہو گئی۔ کیوں کہ وہ خود زہریلے کیڑوں اور بدبُو سے خوفزدہ تھی۔ آنکھوں دیکھی مکھی کیسے نگل لیتیں۔ مگر اُن کے دلائل بے کار گئے۔
بچوں کا موقف تھا کہ ہر پودے میں کیڑے مکوڑے سبھی کچھ ہوتا ہے اور پھر یہ تو
Foreign plant
ہے۔ ہزاروں قسم کی
Allergies
کے باوجود لوگوں نے لگائے ہوئے ہیں۔ تب اماں بی نے بھی سوچا کہ بات تو ٹھیک ہے اپنے دیسی پودوں ، پھل دار درختوں اور جڑی بوٹیوں میں بھی کیڑے زہر سب کچھ ہوتا ہی ہے۔
دادا ابومُصر تھے کہ خود رَو جنگلی پودوں کی بات اور ہے۔ گھر میں نسبتاً محفوظ پھول پودے لگنے چاہئیں۔ ایک سرد جنگ کی سی کیفیت گھر بھر پر چھا گئی۔ یہاں تک کہ ایک دن عامر کو مالی نے بتایا کہ دیواروں کا سیمنٹ اور رنگ و روغن جگہ جگہ سے تیزی سے خراب ہو کر گر رہا ہے اور یہ ساری کارستانی اس بیل کی ہے جو اپنے خوش نما پتوں اور پھولوں کے جال تلے اپنے نوکیلے کانٹوں اور جڑوں سے سیمنٹ کو چاٹ رہی ہے۔
دادا ابو شد و مد کے ساتھ بیل کے مخالف ہو ئے، اماں بی خاموش تھیں کہ اب مسئلہ گھر کی دیواروں اور چھت کا تھا اور خاصا اہم تھا۔
دادا ابو نے اپنے طور پر چھان بین شروع کر دی پتہ چلا کہ یہ بیل دریا پار والی حویلی سے لائی گئی تھی۔ جہاں ایک لمبا چوڑا گھرانہ آباد ہے۔ ان کی خاصی جاگیر ہے اور مختلف علاقوں سے آ کر یہاں آباد ہو جانے والے ان گھرانوں نے آپس میں رشتے ناتے کر لئے اور ایک خاندان بنا کر اپنے علاقے میں دھاک بٹھا لی۔ ایسی بیلیں وہی تمام نرسریوں کو بھیجتے اور بیچتے ہیں۔ دادا ابو کو سخت غصہ آیا کہ کیسے شرپسند لوگ ہیں جو ایسی زہریلی اور دیواروں کو کھوکھلا کرنے والی بیلوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ ان کی گوشمالی کرنا چاہتے تھے۔ مگر مالی نے سمجھایا کہ بڑے خر دماغ لوگ ہیں کسی کی پروا نہیں کرتے۔ ان کا بس چلے تو پورے شہر کو اپنی حویلی میں ڈال لیں۔
اماں بی بھی خوفزدہ تھیں انھوں نے بھی اِدھر ُادھر سے سنا کہ دریا پار حویلی والے اپنے اور اپنی بیلوں کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ نہ جانے کس طرح اپنے متعلق شکوک ظاہر کرنے والوں کی انھیں خبر ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اس گھر کے افراد میں پھوٹ ڈال دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ آنگن نفرتوں سے بھرتے اور محبتوں سے خالی ہوتے چلے جاتے ہیں حتیٰ کہ سُونے ہو جاتے ہیں۔
قندیل اور عامر ان باتوںکو محض وہم سمجھ کر ٹالتے رہے۔ بلکہ انھوں نے مالی کی بھی سرزنش کر ڈالی کہ وہ اُلٹی سیدھی افواہوں سے گریز کرے۔
لیکن دھیرے دھیرے ان پر بھی کچھ چیزیں عیاں ہونے لگیں۔ گھر میں داخل ہوتے وقت کھانا کھاتے کوئی اہم کام کرتے وقت یا باہر نکلتے وقت کوئی نہ کوئی سیاہ کیڑا سرسراتا ہوا قریب سے گزر جاتا۔ دونوں کے چہروں کا رنگ بدلنے لگتا۔
بے تحاشہ پرفیوم اور
Airfreshner
کے باوجود بھی عجیب سی سڑاند کا کوئی جھونکا گھر میں بارہا آتا محسوس ہوتا وہ گھبرا جاتے۔ کوئی ملنے جلنے والا بیل کی خوش نمائی کو سراہتا تو وہ غور سے اس کی ناک کو دیکھنے لگتے کہ کہیں ناگوار باس کے باعث وہ سکڑ تو نہیں رہی۔
دھیرے دھیرے بیل نہ صرف گھر کی دیواروں اور چھت کو بلکہ ان کی سوچوں اور ذہنوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہر دم ان کے اعصاب پر سوار رہنے لگی۔
اماں بی کو اکثر کئی بار یوں لگتا جیسے بیل پر اُگی ہزاروں آنکھیں انھیں گھور رہی ہیں۔ بعض اوقات محسوس ہوتا کوئی ان کے قدموں کی چاپ بھی سن رہا ہے۔
وہ محتاط اندازسے دبے پاؤں چلنے لگیں۔ ان کی حرکات و سکنات میں قدرتی پن مفقود ہونے لگا۔ خوفزدہ انداز میں نپے تلے کام کرتے کرتے ان کے اعصاب چٹکنے لگے۔ اس احساس کی تشہیر بچوں کے سامنے بے فائدہ تھی۔ سسر سے ہلکا تذکرہ کیا تو وہ چونک گئے۔ ان کی اپنی ذہنی کیفیت بھی یہی تھی۔ بہو کو مزید ہراساں کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے طور پر چپکے چپکے بیل کے پتوں اور شاخوں کی تلاشی لینے لگے۔ جیسے واقعی وہاں کوئی ذی روح بیٹھا اُن کی نگرانی کر رہا ہو۔
اِدھر بیل تھی کہ سیلِ رواں کی طرح بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ گیٹ، دیواریں، چھت، صحن، دالان، گرل، کھڑکیاںسبھی پر وہ گھوم رہی تھی، سرسرا رہی تھی۔ اس کی چمکتی شاخیں فتح کے نشے میںمست گھر کے کونوں کھدروں پر یلغار کیے جا رہی تھیں۔ کچھ شاخیں چھت سے ہو کر عقبی صحن، برآمدے کے ستونوں اورروشن دان کے ذریعے اندرونی چھت پر بھی رینگ آئی تھیں۔
اب قندیل بھی دل سے چاہنے لگی تھی کہ بیل اُکھاڑ دی جائے مگر پورے گھر پر اس کا وجود یوں طاری ہو چکا تھا کہ اس کے بغیر اب گھر کا تصور عجیب سا لگتا تھا۔
اگر بیل اُکھاڑ دی گئی تو جا بجا کھرونچوں سے اُکھڑا سیمنٹ اور رنگ و روغن کتنا برا لگے گا۔ دوسری کوئی بیل بڑھنے میں جانے کتنی مدت لے۔ ہو سکتا ہے وہ بھی دیواروں اور چھتوں کو خراب کرے۔ کیڑے اور باس اس کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔
ڈھیروں تاویلیں، دلائل۔۔۔قافلہ در قافلہ ان کی سوچوں کو آباد کرتے اور گزر جاتے۔ کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ آخر کئی دوسرے گھروں میں بھی یہ بیل تھی۔ وہاں بھی تو ایسے مسائل ہوں گے۔ عامر سوچتا ''شاید ہم لوگ کچھ زیادہ وہمی اور
Security Conscious
ہو گئے ہیں؟''
مگر اماں بی اب بضد تھیں کہ اس بیل کے ساتھ ضرور کوئی نہ کوئی ناقابلِ قبول اور نقصان دہ بات جُڑی ہے۔
دادا ابو اِسے اُکھاڑ پھینکنے کی تیاریوں میں تھے، مگر اب مالی ٹال مٹول کر رہا تھا۔ زہریلے کیڑوں سے بھری کئی سو فٹ پر پھیلی بدبودار بیل کو اُکھاڑنے سے وہ خود ڈر رہا تھا۔ وہ یہ کام کسی اور سے کروانا چاہتا تھا مگر جو بھی آ کر بیل کے حجم اور اس کے کیڑوں کو دیکھتا، غائب ہو جاتا اور مڑ کر نہ آتا۔
رفتہ رفتہ اِن چاروں کو پریشانی لاحق ہونے لگی کہ جلد از جلد منڈھے چڑھ جانے والی اس بیل کو اب اُتارا کیسے جائے؟۔
پودوں کے کیڑوں کے کئی ماہرین کو بلایا گیا۔ کسی نے کہا کہ بیل کو جڑ سے کاٹ دیں۔ شاخیں پتے خود مر جائیں گے، مگر جڑ کو کون کاٹے۔ کیڑے مار سپرے کا بھی مشورہ ہوا، لیکن سارے کیڑے ایک دم کیوں کر مریں گے۔ ادھ موئے ہو کر بھاگیں گے تو گھر پر دھاوا بول دیں گے۔ الماریوں، بکسوں اور کونوں کھدروں میں جا چھپے تو کتنے دن مسئلہ رہے گا؟ کہاں کہاں ڈوھونڈیں گے انھیں۔ ویسے بھی پچھلے دنوں دادا ابو نے کچھ کیڑوں کو جب کچلا تھا تو برآمدے کے فرش پر ایسے بدنما دھبے پڑ گئے تھے کہ بار بار رگڑنے دھونے سے بھی وہ نشان مٹے نہیں بلکہ فرش کا وہ حصہ دھبوں کے باعث میلا میلا سا نظر آنے لگا تھا۔ محض ایک زہریلی بدبودار بیل کے باعث۔
وہ چاروں کبھی مل بیٹھ کر، کبھی الگ الگ اپنے اپنے طور پر دن رات اسی اُدھیڑ بُن میں تھے کہ کیا کریں اچانک عامر کو ایک انوکھاخیال سوجھا۔ اس نے نوک پلک سنوار کر اسے سب کے سامنے پیش کر دیا۔
پہلے پہل تو دادا ابو، اماں بی اور قندیل اسے دیوانے کا خواب سمجھے۔ ناقابلِ عمل۔۔۔مگر جوں جوں غور کرتے گئے ۔ توں توں گرہیں کھلتی گئیں۔
اگلے دن گھر کے باہر دادا ابو اور عامر کی نگرانی میں مٹی کے تیل کے کئی کنستر ایک جانب دھرے تھے اور دوسری جانب فائر بریگیڈ کا چوکس عملہ تیار کھڑا تھا۔ دور فاصلے پر کار میں بیٹھی ورد کرتی اماں بی سوچ رہی تھیں کہ اپنے ہاتھوں لگائی بدبودار بیلوں اور ان کے زہریلے کیڑوں کے خاتمے کے لئے اپنے ارد گرد آگ کبھی کبھار خود ہی لگانی پڑتی ہے۔

 
 
09
November

تحریر ۔ طاہرہ حبیب جالب

''تعلیم'' یہ انسان میں شعور پیدا کرتی ہے اس کی بدولت ہی انسان اچھے بُرے کی تمیز کرسکتا ہے یعنی تعلیم ہی بنیادی مسائل کا حل ہے۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کررہا ہے۔ ظاہری طور پر پاکستان میں دو تعلیمی نظام ہیں۔ اُردو میڈیم جو سرکاری سکولوں یا گلی محلوں کے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے جس میں اُردو مضامین اور اسلامیات کو اہمیت دی جاتی ہے ان سکولوں میں غریبوں کے بچے ہی پڑھتے ہیں اور طلباء کو رٹا سسٹم پر لگایا جاتا ہے۔ ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں میں سے بیشتر کے لئے انگریزی زبان ہمیشہ خوفناک جن یا آفت ہی رہتی ہے۔دوسری قسم انگلش میڈیم سکولوں کی ہے۔ان سکولوں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں ان میں صرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ایلیٹ کلاس کی اولادیں ہی پڑھ سکتی ہیں۔ غریب ان سکولز کے پاس سے صرف گزر ہی سکتے ہیں۔ سفید پوش طبقے کی جیب پر ان سکول کی فیسیں صرف بجلی گرانے اور صفایا کرنے کا ہی کام کرسکتی ہیں۔ ان سکولز میں اسلامی مضامین یا اُردو کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور اُردو ہمیشہ ان سکولز کے طلباء کے لئے مسئلہ بنی رہتی ہے۔ سکولوں کی ایک اور قسم بھی پاکستان میں رائج ہے وہ دینی مدارس ہیں۔مدارس کو نظام کے بجائے سب سسٹم کہنا زیادہ بہتر ہوگا جن میں اسلامی مضامین کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ انگلش، کمپیوٹر، سائنس اور سائنسی مضامین کو یکسر نظر انداز نہ سہی مگر توجہ کم ہی دی جاتی ہے۔یعنی دنیاوی علوم کو بھی شامل نصاب کرنا لازم ہوتا ہے اور جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ان مدارس کی آڑ میں شدت پسندی کو فروغ بھی دیا جاتا ہے۔

majodatleeminizam.jpg
یہ تین طبقاتی تعلیمی نظام ملک اور انسانیت کی کوئی خدمت نہیں کررہے بلکہ نوجوان نسل اور ملک کے مستقبل کے معماروں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں جس کی وجہ سے بیرون ملک ہمارے اداروں کی ڈگریوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور طلباء کو دوبارہ اپ گریڈیشن کی ضرورت پڑتی ہے۔


پاکستان میں نظام تعلیم کی زبوں حالی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے سب سے پہلی حکومتی لاپروائی، غیر حقیقی منصوبہ بندی اور ملک کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات ہیں۔ اُردو ، انگریزی میڈیم میں تقسیم بھی اس زمرے میں آتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ تمام اُردو میڈیم یا دوسرے الفاظ میں سرکاری اداروں میں تعلیم کا معیار بہت کم ہے اور تمام انگلش میڈیم یا پرائیویٹ اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ بڑے شہروں میں پرائیویٹ سکول اپنی کارکردگی بہترین دکھاتے پائے جائیں گے مگر ان سکولز کو چھوٹے شہروں میں دیکھا جائے تو اکثر کی حالت سرکاری سکول جیسی ہی ہوتی ہے۔ دراصل پاکستان میں سکول سسٹمز ایک کاروبار بن چکا ہے جس کے پاس کچھ پیسہ اکٹھا ہوا وہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کا سوچنے لگتا ہے ذرا سوچئے کہ جب کاروباری ذہنیت کے لوگ اس میدان کے کرتا دھرتا ہوں تو معیاری تعلیم کی توقع فضول ہے۔ دیہاتوں کے سکولوں کی زبوں حالی کا تو جواب ہی نہیں ہے بمشکل 20سے 25 بچے ایسے نکلتے ہوںگے جو پڑھائی جاری رکھ سکتے ہوں گے باقی بچے معاشی مجبوریوں کے تحت اسی عمر میں کھیتوں میں، یا پھر کسی نجی ادارے میں، کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ پرائمری سکولوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ آج بھی وہاں بچے ٹاٹ پر پڑھ رہے ہیں جیسا کہ آج سے 20 سال پہلے دیکھا جاسکتا تھا۔ اس وقت بھی بچے ماسٹر کے گھر کا سودا سلف لا رہے ہوتے تھے اور آج بھی یہ روایت قائم ہے۔ کل بھی بچے ماسٹرکے لئے مکھن ، لسی لاتے تھے اور آج بھی لارہے ہیں۔اس وقت بھی بچے سکول سے بھاگ کر کھیلنے کودنے کیلئے کھیتوں میں چلے جاتے تھے آج بھی وہی صورت حال ہے۔ دوران کلاس اُستاد سگریٹ نوشی سے بھی اجتناب نہیں کرتے اور اپنے لباس کی صفائی کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی کہ اُستاد ''رول ماڈل'' ہوا کرتے ہیں۔سرکاری سکولز میں بچوں کی یونیفارم اور ظاہری حالت پر توجہ نہیں دی جاتی۔ وہی نیلی شلوار قمیض یا سفید شرٹ، خاکی پینٹ۔
سکول انتظامیہ یونیفارم پر زور دے دیتی ہے مگر اکثر یونیفارم کی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ غیر استری شدہ لباس، بچوں کے ناخن، بال اور جوتوں کی صفائی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ زور دیا جاتا ہے تو صرف اس بات پر کہ سبق یاد کرو اور سبق بھی وہی جو کتاب میں لکھا ہے اگر ایک لفظ بھی ادھر سے اُدھر ہوگیا تو خاطر تواضع حاضر۔۔۔۔۔


اس کلچر کے زیر اثر ہم ایسے ذہنوں کی تربیت کررہے ہیں جو لکیر کے فقیر بنے رہتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی کام ہونا چاہئے یہی ان کی شخصیت اور کردار میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ بچے پڑھ لکھ تو جائیں گے مگر نظم و ضبط اور متوازن شخصیت کے بغیر ''پڑھے لکھے ان پڑھ'' بن جائیں گے۔ اس میں کسی حد تک اساتذہ کرام کی آمدنی کا بھی تعلق ہے جوکہ تنخواہوں کی صورت میں بہت کم ہے۔ اس وجہ سے وہ بچوں کو الگ سے ٹیوشن پڑھانے پر زور دیتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی بہت کم ہوتی ہے اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مجھ سے ٹیوشن پڑھو۔ آج کے دور میں الگ سے ٹیوشن پڑھانا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے بلکہ اس کام کے لئے باقاعدہ اکیڈیمیز تشکیل پاچکی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ آج کے دور میں تعلیمی ادارے منافع بخش کاروبار ہیں۔ ہم تعلیمی نظام کو ایک صورت میں بہتر بنا سکتے ہیں کہ حکومت اپنی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ کو سرِ فہرست رکھے۔ اس کے لئے نہ صرف مناسب بجٹ رکھا جائے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ بجٹ کا مناسب اور صحیح جگہ پر استعمال بھی کیا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بجٹ یعنی وسائل کے باوجود محکمہ تعلیم کے افسران اور ملازمین کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بہت سے سکولوں، کالجوں کی عمارتوں، کلاس رومز، فنی تربیت کی تجربہ گاہوں اور سپورٹس گرائونڈ کا بُرا حال ہوتا ہے۔ اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کا صحیح استعمال بھی یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔اگر استاد کی بنیادی ضرویات کو پورا کیا جائے گا تو وہ طلبہ کی تعلیمی ضرورتوں کا خیال رکھے گا۔ اسی طرح طالب علموں کی معیاری اور مفت تعلیم ہونی چاہئے۔ اس کے لئے نصاب میں بھی ردوبدل ضروری ہے۔


حکومت کو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔اگر ممکن ہو تو ایسے سکولوں کا اجراء کیا جائے جہاں طلباء اور طالبات کومیٹرک تک تعلیم مکمل طور پرمفت دی جائے۔ اس طرح غربت کا شکار عوام کو تعلیمی سہولتوں سے آراستہ کیا جاسکتا ہے ۔ اگر پرائمری تک مخلوط تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں تو کم از کم اداروں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ طلباء و طالبات کو تعلیمی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کو گروس نیشنل پروڈکٹ کا نمایاں حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ دیگر ممالک مثلاً بنگلہ دیش میں کم از کم گروس نیشنل پروڈکٹ کا 2.2% ، بھارت میں 3-3% اور نیپال میں 3-2% خرچ ہوتا ہے۔لہٰذا پاکستان کو بھی گروس نیشنل پروڈکٹ کا 4% تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا تاکہ تعلیمی مسائل حل ہوسکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
November

تحریر: مجاہد بریلوی

صوفی غلام مصطفٰی تبسّم معروف اصطلاح میں قطعی صوفی نہ تھے مگر ان کی شخصیت سراپا صوفیانہ و درویشانہ تھی۔ مولانا چراغ حسن حسرت کی طرح رندِ بلانوش تو نہ تھے مگر مَے و مینا سے آشنائی ضرور تھی اور اس کا سبب وہ محفل آرائیاں تھیں کہ جن کے بغیر اُن کی شامیں مکمل نہ ہوتیں۔ صوفی غلام مصطفٰی تبسّم اس پائے کے عالم اور استاد تھے کہ حفیظ ہوشیار پوری تک انہیں جگت استاد کہا کرتے تھے۔ بقول ممتاز نقاد مظفر علی سید محض لاہور اور امرتسر ہی نہیں پورے بر صغیر بلکہ چہار جہان میں ان کے شاگرد پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ سڑک پر دو قدم چلنا دوبھر ہو جاتا۔ہر کس و بے کس کے سلام کا مفصل جواب دینے رک جاتے تھے ''کیسے ہو؟ آج کل کہاں ہو؟ کیا کرتے ہو؟ گھر پر ضرور آنا''۔اور یہ بات صوفی صاحب صرف زبانی اور کلامی نہ کرتے۔ شاید ہی کوئی ایسا ہو جو یہ سن کر نہ آتا ہو بلکہ دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ''فلاں سیکریٹری یا جج صاحب کے پاس کاغذات رکے ہوئے ہیں آپ زحمت کریں تو عزت رہ جائے گی۔ سواری موجود ہے ابھی آدھے گھنٹے میں واپس آ جائیں گے''۔ اپنے وطن امرتسر کے کسی سائل کو تو وہ ٹال ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن دہلی سے علی گڑھ بلکہ کلکتے تک کے حاجت مندان کے لئے محترم تھے۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم مشرقی پنجاب کے مردم خیز شہر امرتسر میں 1899 میں پیدا ہوئے۔ بچپن اور جوانی امرتسر میں گزاری مگر زندگی بھر امرتسر سے نہیں نکل سکے۔ اردو اور فارسی کے گورنمنٹ کالج میں لیکچرار ہوئے اور پھر ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔( شاگردوں کی فوج ظفر موج کی… جب وہ 1948 سے 1954تک گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ اردو فارسی کی صدارت پر فائز رہے… ان سے خصوصی رغبت تھی) فیض صاحب بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔ اس سلسلے میں فیض صاحب کے بارے میں صوفی صاحب نے ایک بڑا دلچسپ واقعہ کہیں لکھا کہ گورنمنٹ کالج امرتسر میں امتحانات کے دوران جب وہ کلاس روم میں پہنچے تو ایک خوبرُو گھنے بالوں والا نوجوان، کبھی قلم سے ایک دو لائنیں لکھتا کبھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتا۔ صوفی صاحب نے قریب جا کر پوچھا ''بھئی کیا پریشانی ہے؟'' نوجوان فیض نے قمیض کی جیب سے سگریٹ کی ڈبیا اور ماچس نکال کر دکھائی۔ صوفی صاحب سمجھ گئے کہ سگریٹ کی شدید طلب قلم کی روانی میں رکاوٹ ہے۔ اجازت ملتے ہی فیض صاحب نے ادھر چند کش لئے نہیں کہ قلم رواں ہو گیا۔

sufisahab.jpg
فیض صاحب کی مے نوشی کے بھی بڑے چرچے ہم نے سنے ہیں مگر اصل میں وہ بلا کے سگریٹ نوش تھے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ سن لیں۔ اپنے انتقال سے کچھ ماہ پہلے کراچی میں بیگم مجید ملک کے گھر میں جہاں ان کا مستقل قیام رہتا پاس بیٹھے ایک بقراط نے سگریٹ نوشی کے نقصانات پر فیض صاحب کے سامنے تقریر شروع کر دی۔ یہی نہیں بلکہ جیب سے کیلکولیٹر نکال کر فرمانے لگے ''غالباََ آپ پچاس سال سے سگریٹ پی ہی رہے ہوں گے''۔ ایک لمبی 'ہوں' میں فیض صاحب نے جواب دیا۔ جس کا مطلب تھا 'جی ہاں'۔ اب موصوف فرماتے ہیں ''فیض صاحب آپ ایک دو پیکٹ تو ضرورپیتے ہوں گے۔ پچاس سال پہلے ایک سگریٹ کا پیکٹ آٹھ آنے کا ہوگا۔ چالیس سال پہلے ایک روپے کا۔ تیس سال پہلے 5 روپے کا۔ بیس سال پہلے 10روپے کا۔ اِن دنوں جو آپ سگریٹ پی رہے ہیں پچیس روپے کا تو ضرور ہوگا''۔ یہ کہہ کر ضرب جمع کر کے بتایاکہ آپ 18لاکھ 74ہزار6 سو42روپے کے سگریٹ پی چکے ہیں۔ بقراط صاحب فرمانے لگے ''اگر آج آپ کے پاس اتنی خطیر رقم ہوتی تو آپ اس کا کیا کرتے؟'' حسب معمول فیض صاحب نے ایک لمبی 'ہوں' کے ساتھ جواب دیا ''بھئی سگریٹ ہی پیتے۔


صوفی صاحب کے انتقال کے بعد فیض صاحب اکثر محفلوں میں کہا کرتے ''بھئی غزل کہتے ہوئے کبھی زبان اور عروض کا مسئلہ آجاتا تو ڈاکٹر تا ثیر رہے نہ صوفی صاحب اس لئے اکثر غزل مکمل ہونے کے بعد شرمندگی رہتی ہے۔ اگر ان اساتذہ کی نظر سے گزر جاتی تو اطمینان ہوتا''۔ جی ہاں 21ویں صدی کے عظیم شاعر کی نظر میں یہ مقام تھا استاذی صوفی غلام مصطفٰی تبسّم کا۔ جو لوگ صوفی صاحب کی شخصیت سے پوری طرح واقف نہیں تھے وہ انہیں بڑا رنگین مزاج آدمی سمجھتے جو نوجوانوں کو اپنی محفلوں میں بٹھا کر گمراہ کرنے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ پطرس بخاری سے منسوب یہ شعر اُن دنوں لاہور میں بڑا مشہور ہوا
رات کو رند صبح کو صوفی
یہ تبسّم عجیب انساں ہے


صوفی صاحب کو کھانے سے زیادہ کھلانے کا شوق تھا۔ خاص طور میں امرتسری کُلچہ اُن کی کمزوری تھا۔ امرتسر میں اپنی نوجوانی کے زمانے میں باقاعدہ اپنے ہاتھ سے کُلچے لگاتے۔ سہ پہر سے رات تک جو بھی مہمان آتا اس کی تواضع کشمیری چائے کے ساتھ امرتسری کُلچے سے ضرور ہوتی۔ ساتھ میں مربہ اور مکھن تو ضرور ہوتا۔ صوفی صاحب کی شخصیت کا جو سارا سراپا میں نے اب تک کھینچا ہے اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اُن کا سارا وقت محفل آرائیوں اور جگت بازی میں گزرتا تھا۔ خود صوفی صاحب ایک مستندشاعر تھے اور 1965 کی جنگ میں تو ان کا یہ عالم تھاکہ لاہور کے ریڈیو اسٹیشن پر آکر بیٹھ جاتے اور ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ سازینے ادھر دھن بنا ہی رہے ہوتے کہ مصرعے زبان پر آنا شروع ہو جاتے۔ صوفی صاحب کا یہ جنگی ترانہ''اے پتر ہٹاں تے نیں وکدے'' ''میریا ڈھول سپاہیا'' ''میرا ماہی چھیل چھبیلا،کرنیل نی جرنیل نی'' نے تو بڑی شہرت پائی۔ ہمارے فوجی جوان محاذِ جنگ پر خندقوں میں بیٹھے فرصت کے لمحوں میں اسے جھوم جھوم کر گنگنا رہے ہوتے اور پھر فریدہ خانم کی گائیکی نے تو صوفی صاحب کی اس غزل کو امر بنا دیا ۔
وہ مجھ سے ہوئے ہم کلا م اللہ اللہ
کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ


فیض صاحب بڑے شاعر تو تھے ہی مگر ایک تو راولپنڈی سازش کیس ، لینن پیس پرائز اورتیسرے اُن کی شخصیت کی محبوبیت نے بھی انہیں عالمی شہرت دی۔ ایک اور سبب ''کلاس'' کا بھی تھا کہ ہماری اشرافیہ نے بھی انہیں سنوارا بھی اور سنبھالا بھی۔ مگر صوفی صاحب ایک درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی درویشانہ بودوباش کے سبب افسوس اس طرح یاد نہیں کئے جاتے کہ جس کے وہ مستحق تھے۔


چراغِ زندگی ہو گا فروزاں، ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں، ہم نہیں ہوں گے
اگر ماضی منور تھا کبھی، تو ہم نہ تھے حاضر
جو مستقبل کبھی ہو گا درخشاں، ہم نہیں ہوں گے

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
November
Published in Hilal Urdu
Read 18 times
پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام دوسر ے بین الاقوامی ناٹیکل مقابلوں کا انعقاد
گزشتہ دنوں پاک بحریہ کے زیر اہتمام پاکستان نیول اکیڈمی میں دوسرے بین الاقوامی ناٹیکل مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ان تین روزہ مقابلوں میں چین، سری لنکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان نیول اکیڈمی اور پاکستا ن میرینز اکیڈمی کی چھ ٹیموں نے حصہ لیا۔ یہ ایونٹ نیول فزیکل ٹریننگ اینڈ سپورٹس کمپلیکس پی این ایس کارساز کی مختلف کیٹیگریزمیں منعقد ہونے والے تیراکی، لائف سیونگ ، کراچی بندرگاہ پر ہونے والے سی مین شپ اور کشتی رانی کے مقابلوں پر مشتمل تھا۔ چین کی نیول اکیڈمی کی ٹیم نے پورے ایونٹ کے دوران نہایت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اورچار گولڈ،دوسلوراور ایک برائونز میڈلز کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ سری لنکا کی ٹیم ایک گولڈ اور چار سلورمیڈلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ تقریب کے اختتام پرمہمانِ خصوصی کمانڈر کراچی رئیر ایڈمرل اطہر مختار نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں میں ٹرافیاں اور انعامات بھی تقسیم کئے۔

newspaknavykzer.jpg

09
November
Published in Hilal Urdu
Read 22 times
پاکستان رینجرز (سندھ) انٹر سیکٹر ہاکی چیمپیئن شپ
گزشتہ دنوںپاکستان رینجرز (سندھ) انٹر سیکٹر ہاکی چیمپیئن شپ کی اختتامی تقریب کا انعقادکے۔ ایچ۔ اے سٹیڈیم گلشن اقبال کراچی میں ہوا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈی جی رینجرز (سندھ )میجر جنرل محمد سعیدتھے۔ فائنل میچ سچل رینجرز اور قاسم رینجرز کی ٹیموں کے مابین کھیلا گیاجس میں سچل رینجرز کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی ۔ مہمانِ خصوصی نے میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں میں میڈلز اور ٹرافیاں تقسیم کیں اور کیش انعامات بھی دیئے۔

newspkrangersind.jpg 

ایف سی این اے کا سکردو میں فری میڈیکل کیمپ

گزشتہ دنوں ایف سی این اے کی جانب سے مچلو ہوشے ویلی ضلع گانچھے
Machlu Hushey Valley District Ghanche
سکردو میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مقامی لوگوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور ادویات فراہم کی گئی۔ اس کیمپ کے قیام کا مقصد ہیڈکوارٹرز ایف سی این اے کی جانب سے گلگت بلتستان کے دور افتادہ بسنے والے لوگوں کو اُن کے علاقے میں طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

newsfcna.jpg

08
November
Published in Hilal Urdu
Read 19 times
نوجوانوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے بچاؤ کے لئے آگہی مہم

رپورٹ: لیفٹیننٹ کرنل فا روق فیروز

نوnewnojwanoka.jpgجوان نسل کسی بھی معاشرے اور ملک کا قیمتی اثا ثہ ہوتی ہے۔پاکستانی نوجوان نسل بھی ملک کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔جس نے ملک کے وقار اور عزت کو دوام بخشنے کے لئے جو خدما ت انجام دی ہیں وہ انمٹ ہیں۔جن نو جوانو ں اور بچوں نے دنیا بھر میں پا کستان کانا م روشن کیا ہے ان کی ایک طویل فہرست ہے۔ بدقسمتی سے انتہا پسندی کی ایک لہر نے پوری دنیا کو طویل عرصے سے گھیر رکھا ہے۔اس نے بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پا کستا نی تعلیمی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔جس کی وجہ سے کچھ عرصہ سے ایسے کیسزمنظر عام پر آرہے ہیں کہ طلباء و طالبات دہشت گردوں سے تربیت لے کر ملک وقوم کے خلاف استعمال کئے جا رہے ہیں۔
اس تناظر میں چیف آ ف آرمی سٹا ف جنرل قمرجاوید باجوہ نے خصو صی اقدامات کا آغا ز کیا ہے تا کہ نو جوا ن نسل کو گمرا ہی سے بچا کر ان کو حقائق کی دنیا سے روشناس کرایا جا سکے ۔
کمانڈر 10 کور نے چیف آف آرمی سٹا ف کی ہدایا ت کی روشنی میں 10کو رکے تحت فو جی فا رمیشنز کو اپنے اپنے علاقے کے سکو لو ں اور کالجوں کے طلباء و طالبا ت کو فو جی مصروفیا ت سے آ گا ہ کرنے،انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ناسور سے بچنے کے لئے تعلیم اور تفریح کے ذرا ئع فراہم کر نے کے لئے خصوصی اقداما ت کی ہدایات دی ہیں۔


اسی سلسلے میں جنرل کما نڈنگ آ فیسر 12 ڈویژن میجر جنرل اظہر عبا س نے مظفر آباد میں آزاد جمو ں وکشمیریو نیورسٹی کا دورہ کیا۔ انہوں نے نو جوانو ں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کی صلا حیتو ں پر پو را یقین ہے۔ وہ خود پر بھروسہ رکھیں۔ جنرل کما نڈنگ آفیسر نے نو جوان طلباء و طالبا ت سے کہا کہ سوشل میڈیا پر بیانات سے محتاط رہیں۔پڑھے لکھے نو جوان داعش اور اس سے منسلک تنظیمو ں کا ہدف ہیں ۔
23 ڈویثر ن کے علاقہ ڈونگی میں طلباء و طا لبات کو 3 اے کے بریگیڈ کے زیر اہتمام لائٹ کما نڈوز بٹا لین نے عملی تر بیت کا مظا ہرہ پیش کیا۔جس میں بتا یا گیا کہ اگر آپ پر ناگہانی آفت آجاتی ہے تو ان حا لا ت میں آپ کیسے مقا بلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردو ں سے مقا بلہ کرنے کے لئے ان کے جذبے کو ابھارااور فوجی سر گر میوں کے با رے میںآگاہ کیا۔


حا ل ہی میں 66 بر یگیڈ کے افسران نے رنگڑا سکول کا دورہ کیا جس میں بچو ں کو بتا یا گیا کہ آپ پا کستان کے مستقبل کا سر مایہ ہیںاور دہشت گردی کا خوف ذہن میں نہ رکھیں ۔یہ دشمن ہما ری قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ہمیں اس بزدل دشمن کا مقابلہ کرنا ہے اوردشمن کو شکست دے کر ملک کو ترقی کی راہ پر گا مزن رکھنا ہے ۔


اسی حوالے سے4 اے کے بریگیڈ 649کی مجا ہد بٹا لین کے کمانڈنگ آفیسر نے بھمبر کے ڈگری کالج کا دورہ کیا۔جس میں انہوں نے طلباء و طالبات سے خطاب کیا اور آئے دن ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں بتایا۔انہوں نے کہا کہ ہماری نو جوان نسل با ہمت اور جرأت مند ہے اورہر آفت کا مقا بلہ کرنے کے لئے پر عزم ہے اور طلباء وطالبات کو یقین دلایا کہ پا ک فوج انہیں محفو ظ اور مستحکم پاکستان فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے اور پاک فو ج اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی بھر پور صلا حیت رکھتی ہے


بھمبر کے ہا ئیرسکینڈری سکول کے طلباء کو ہتھیاروں کا استعمال بتایا گیا اور ان کو فا ئر کرنا بھی سکھا یا گیا۔اس کے علاوہ ہتھیاروں کو کھولنے اور بند کرنے کے طریقے بھی بتا ئے گئے۔طلباء نے خود فا ئر کئے۔ تقریب کے اختتام پر طلباء کوفو جی سرگرمیوں کے بارے میں بتا یاگیا۔ اس کے علاوہ آئے دن ہونے والی دہشت گردی کے متعلق بتایا گیاکہ ان حالات میں محتاط رہیںکہ نو جوان ہی ان لو گو ں کا ہدف ہیں۔
علاوہ ازیںبریگیڈیر نیر نصیر نے شمالی علاقہ جات کے طلباء و طا لبا ت کی راہنمائی کے سلسلے میں خپلو پبلک سکول اور کا لج کا دورہ کیا ۔ جہا ں انھو ں نے طلباء و طا لبات سے خطاب کے دوران انہیںاپنے گردو پیش سے با خبر رہنے اور اپنی توانائیاں ملک و قو م کی خدمت کے لئے وقف کر نے پر زورد یا۔

08
November
Published in Hilal Urdu
Read 34 times
ینگ آفیسرز اسالٹ کورس کمپی ٹیشن 2017
گزشتہ دنوں بہاولپور کور ینگ آفیسرز اسالٹ کورس کمپیٹیشن 2017ء کا انعقادہوا۔ کمانڈر بہاولپور کور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن نے تقریب میں شرکت کی اور مقابلوں کا معائنہ کیا۔ کور کمانڈر نے مقابلے میںحصہ لینے والے ینگ آفیسرز کے تربیتی معیار کو سراہا اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ پیش کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newsyounoffivers.jpg

08
November
Published in Hilal Urdu
Read 19 times
انٹر فارمیشن پیرا میٹ کمپی ٹیشن ۔منگلاکور
گزشتہ دنوں کمانڈر منگلا کورلیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی نے موہری رینج کھاریاں پر ہونے والے انٹر فارمیشن پیرا میٹ کمپیٹیشن کے موقع پر موہری رینج کا دورہ کیا۔ ان فائرنگ مقابلوں میں منگلا کور کی تمام فارمیشنوں کے جوانوں نے شرکت کی۔ مقابلوں میں رائفل جی تھری،ایس ایم جی ، ایل ایم جی، اور سنائپر رائفل کا استعمال ہوا۔ کمانڈر منگلا کور نے جوانوں کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور مقابلے میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے ۔

newsinterformation.jpg

08
November
Published in Hilal Urdu
Read 17 times
کمانڈر گوجرانوالہ کور کا ظفروال میں تربیتی مشقوں کا معائنہ
گزشتہ دنوں کمانڈر گوجرانوالہ کورلیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق نے ظفروال میں جاری تربیتی مشقوں کا دورہ کیا۔ ٹریننگ ایریا میں پہنچنے پر کور کمانڈر کو مشقوں کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کے بارے میں بریف کیا گیا۔بعد ازاں زیر تربیت سپاہ نے متاثر کن مظاہروں کے ذریعے حاصل کردہ تربیت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔کور کمانڈر نے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز کے دفاع کے لئے جدید ،پیشہ ورانہ، روائتی اور غیر روائتی تربیت کا حصول بے حد اہمیت کا حامل ہے ۔ کور کمانڈر نے مشقوں کے انعقاد اور تربیت کے معیار کو بھی سراہا۔

newscomangujcoreabn.jpg 

کمانڈر کراچی کور کا حیدر آباد گیریژن کا دورہ

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے حیدرآباد گیریژن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گیریژن میں نئے قائم کردہ
Iqbal Sports Arena
کا افتتاح کیا۔ کور کمانڈر کو وہاں فراہم کردہ کھیلوں کی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ دریں اثناء کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے حیدر آباد گیریژن میں واقع
Desert Hawk Boys Hostel
کے دورے کے دوران اساتذہ اور طلباء سے ملاقات بھی کی۔

newscomangujcore1a.jpg 

08
November
Published in Hilal Urdu
Read 14 times
ایک دن پاک فوج کے ساتھ
گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد 'ایک دن پاک فوج کے ساتھ' پروگرام کے تحت نوجوان طلباء و طالبات کو عسکری سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور وطن عزیز کے ساتھ جذبۂ حب الوطنی کو اُجاگر کرنا تھا۔ اس دوران طلباء و طالبات نے جنگی سازوسامان دیکھا اور مختلف ہتھیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ طالب علموں نے عسکری زندگی اور جنگی سازوسامان میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔

newsaikdinpkfoj.jpg

08
November
Published in Hilal Urdu
Read 15 times
چیف آف نیول سٹاف کا جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے ایڈمرل ظفر محمود عباسی کو پاکستان نیوی کا نیا سربراہ تعینات ہونے پر مبارکباد دی۔ جنرل زبیر محمود حیات نے پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور
Maritime
سمندری سکیورٹی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ادا کئے گئے کردار کو بھی سراہا۔

newschefofnevalmeet.jpg

کمانڈر پشاور کورکا دورۂ شمالی و جنوبی وزیرستان ایجنسی اور ڈیرہ اسماعیل خان

گزشتہ دنوں کمانڈرپشاور کورلیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے جنوبی وزیرستان ایجنسی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔انہیں علاقے کی سکیورٹی کی صورتحال، باڈرپر باڑلگانے کے عمل، آپریشنل تیاریوں،بارڈرسکیورٹی کے لئے اضافی اقدامات اور علاقے میں ترقیاتی کاموں پر پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔کور کمانڈر نے اس موقع پر جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں ذوالقرنین شہید کے نام سے منسوب قلعہ اور تحصیل ہیڈکوارٹر مکین کا افتتاح کیا۔انہوں نے لدھا ہائی سکول کا بھی دورہ کیا۔دریں اثنا کور کمانڈر شمالی وزیرستان میں اگلے مورچوں پر تعینات جوانوں سے ملے اور ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا۔ کورکمانڈر نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہیڈکواٹر ایف سی سائوتھ کی نئی تعمیر ہونے والی عمارت کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔

newscomandpeshwarcore.jpg

08
November
Published in Hilal Urdu
Read 14 times

2017 پچیسویں میکانائزڈ ڈویژن انٹر یونٹ ایتھلیٹکس کمپیٹیشن

newstwntyfive.jpg

گزشتہ دنوں 25 میکانائزڈ ڈویژن انٹر یونٹ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2017 کا انعقاد ہوا۔ اختتامی تقریب کے مہمانانِ خصوصی جی او سی 25 میکانائزڈ ڈویژن میجر جنرل زاہد محمود اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور تھے۔ اس مقابلے میں 25 میکانائزڈ ڈویژن کی 22 ٹیموں نے حصہ لیا۔ 87 ایس پی میڈیم رجمنٹ آرٹلری مقابلے کی فاتح ٹیم قرار پائی۔ جبکہ 23 ایس اینڈ ٹی بٹالین دوسرے نمبر پر رہی۔ تقریب کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔
08
November
Published in Hilal Urdu
Read 22 times
کمانڈر لاہور کور کی کیپٹن محمد الحسنین شہید کے والدین سے تعزیت

گزشتہ دنوںکمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے ننکانہ صاحب میں کیپٹن محمد الحسنین شہید کے والدین سے تعزیت کی اور فاتحہ پڑھی۔اُنھوں نے شہید کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے قبر پر پھول بھی چڑھائے۔ اس مو قع پر شہید کے والدین کے علاوہ عزیز واقارب بھی موجود تھے۔

کیپٹن محمد الحسنین شہید گزشتہ دِنوں غیر ملکی باشندوں کے اغوا میں ملوث گروہ کی تلاش میں تھے کہ کرم ایجنسی کے قریب خرلاچی کے مقام پر دہشت گردوںکی جانب سے کئے گئے دھماکے میں جامِ شہادت نوش کر گئے ۔

کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا کہ دہشت گردی کی اِس جنگ میں فوج اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اُنھوں نے اِس عزم کو دُہرایا کہ فوج اور عوام مل کر شرپسندوں کواُن کے انجام تک پہنچا ئیں گے۔

newscomanderrwpcore.jpg 

انٹر سروسز سیلنگ چیمپیئن شپ2017
گزشتہ دنوںانٹر سروسز سیلنگ چیمپیئن شپ2017جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز کے زیرِ انتظام پاکستان نیوی اکیوٹک کلب ڈاک یارڈ میں منعقد ہوئی۔چیمپیئن شپ کے دوران انٹر پرائز کلاس ، 470کلاس ، لیزر ریڈئیل کلاس، لیزر سٹینڈرڈ کلاس ، آر ایس ایکس کلاس، مسٹرال کلاس اور ایل16-کلاس کے مقابلے منعقد ہوئے جن میں تینوںمسلح افواج کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاک بحریہ کی ٹیموں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سونے کے سات تمغے حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ پاک فضائیہ نے چاندی کے سات تمغوں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اختتامی تقریب کے موقع پر مہمانِ خصوصی کمانڈر کراچی ریئر ایڈمرل اطہر مختار نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newscomanderrwpcore1.jpg

08
November
Published in Hilal Urdu
Read 15 times
چیف آف آرمی سٹاف کی نائب صوبیدار محمد ندیم شہید کے اہلِ خانہ سے تعزیت
گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نائب صوبیدار محمد ندیم شہید کے اہلِ خانہ سے گائوں چاہ گانجا جہلم میں اُن کے گھر جا کر تعزیت کی۔ نائب صوبیدار محمد ندیم شہید 29 ستمبر کو رکھ چکڑی سیکٹر لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی کا نشانہ بنے۔ وہ بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے سول افراد کی مدد کررہے تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے اُن کی قبر پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہاکہ نائب صوبیدار ندیم شہید نے اپنی زندگی پاکستان کے لئے وقف کی اور اپنی جان کو بے گناہ شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے قربان کردی۔

newscoasnaibsub.jpg

08
November

(ماخوذ نقش فریادی)

آ کہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اُسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سُود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لُٹا دی ہم نے
تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گِنوائوں تو گِنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جُز ترے اور کو سمجھائوں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے، دکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مَصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے، رُخِ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بے کس جن کے
اشک آنکھوں میں بِلکتے ہُوئے سو جاتے ہیں
ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہُوئے منڈلاتے ہُوئے آتے ہیں

جب کبھی بِکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میںرہ رہ کے اُبلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
فیض احمد فیض

 
08
November

تحریر: ڈاکٹر ھمامیر

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کینیڈا ایک سرد ملک ہے جہاں زیادہ تر ٹھنڈ رہتی ہے لیکن یہاں کی خزاں ایک ایسا موسم ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہمارے خیال سے تو یہاں کی برف یہاں کی خصوصیت ہے۔ تاہم سیاح برفباری کے بجائے خزاں دیکھنے کینیڈا آتے ہیں۔


ہم تو ہمیشہ یہی کہتے آئے ہیں کہ خزاں ہمیں بہت پسند ہے، ہمارا تعلق اُسی طبقۂ فکر سے ہے جو موسمِ خزاں کو بہار پہ فوقیت دیتے ہیں، اس کے حسین رنگوں میں کھو جاتے ہیں اور اسے بہترین موسم گردانتے ہیں۔ تاہم اب ہم یہ اعتراف بھی کررہے ہیںکہ جب سورج کی تمازت کم ہو جائے ، آسماں ہمہ وقت سیاہ بادلوں سے ڈھکا رہے، سرمئی شاموں میںسرسراتی تیز ہوا سوکھے پتوں کو ہر سُو بکھیردے تو دل کبھی اداس بھی ہو ہی جاتا ہے۔ جانے یہ اثر موسم کی یک لخت تبدیلی کا ہے یا گھر سے دوری کا لیکن اتناضرور ہے کہ پردیس میں تنہائی کلیجے پر کٹار کی طرح لگتی ہے۔


ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں یہاں کینیڈا میں اچھے پُرخلوص دوست ملے۔ یہاں اکثر و بیشتر ادبی، ثقافتی محافل بھی منعقد ہوتی رہتی ہیں، ہمارا ٹی وی شو بھی کامیابی سے چل رہا ہے لیکن ان سب کے باوجود کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس چلے جائیں، اپنوں سے لاکھوں میل دور، سات سمندر پار، دیارِ غیر میں شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک اجنبی سرزمین پر ہیں، وطنِ عزیز کی یاد ہمہ وقت دل میں چٹکیاں لیتی رہتی ہے۔ کچھ بھی ہو اپنا وطن اپنا ہی ہوتاہے۔

newsdesmainperdais.jpg
موسم سرد ہونا شروع ہوا تو جہاں دیگر معمولات میں تبدیلی آئی وہیں کھانے پینے کے معاملات میں بھی فرق پڑنے لگا۔ مثلاً خشک میوہ جات، کافی اور چائے کا استعمال بڑھ گیا۔ ویسے تو یہاں لوگ سال کے بارہ مہینے کافی پیتے ہیں اور وہ بھی نہار منہ تاہم سردیوں میں کافی زیادہ پی جاتی ہے۔ ویک اینڈ پر دیسی ریستورانوں میں حلوہ پوری کے ساتھ پائے کا بھی ناشتہ ہوتا ہے۔ نہایت عمدہ پائے اور گرما گرم نان، واہ ! مزہ ہی آجاتا ہے۔ حلوہ پوری کا بھی جواب نہیں، بڑی بڑی پھولی پھولی کڑھائی سے نکلی پوری، چنے کا سالن جس کے اوپر ہری مرچیں اور ہرا دھنیا پڑا ہوتا ہے، آلو کی خشک ترکاری ساتھ میں سوجی کا حلوہ جس میں اصلی زردے کا رنگ شامل ہوتا ہے اور اصلی گھی میں بنا ہوتا ہے، دہی، کٹی پیاز اور اچار بھی ملتا ہے۔ اس مزیدار ناشتے کے ساتھ لسی پیجئے، نمکین یا میٹھی اور بعدازاں چائے۔ ہم تو حلوہ پوری کے بھی شوقین ہیں اور پائے کے بھی ۔ پائے میں نان چور کے کھاتے ہیں، پائے کے لوازمات یعنی باریک کٹی ادرک، ہرا دھنیا، پودینہ، ہری مرچیںاور لیموں وغیرہ 'کھانے کا' لطف دوبالاکردیتے ہیں۔


کینیڈا میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بازار کا کھانا ناقص نہیں ہوتا، یہاں ہوٹلوں میں حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے، سموسے، پکوڑے یا جلیبیاں گندی کڑھائی کے پرانے کالے تیل میں نہیں تلی جاتیں ، دوپٹہ رنگنے کے کلر کے بجائے مٹھائیوں میں اصل فوڈ کلر استعمال ہوتا ہے۔ تیل بھی معیاری ہے، کیونکہ دو نمبر یاتین نمبر چیزیں نہ بنتی ہیں نہ بکتی ہیں، نہ جانوروں کے سینگوں اور ہڈیوں سے جعلی تیل بنتا ہے نہ غیر قانونی کارخانے ہیں۔


کھانا پکانے کے لئے سب سے اہم چیز تیل یا گھی ہوتا ہے، کینیڈا میں دونوں عمدہ ملتے ہیں، پھر مصالحہ جات کی بات کریں تو لال مرچ پسی ہوئی واقعی لال مرچ ہی ہوتی ہے، پسی ہوئی اینٹیں نہیں، اسی طرح چائے کی پتی بھی چائے ہی ہوتی ہے چنے کے چھلکے نہیں۔ ویسے تو یہاں کھلی پتی کا رواج نہیں زیادہ تر ٹی بیگ ہی استعمال ہوتا ہے۔ ایک بات ہم فخریہ بتانا چاہتے ہیں کہ کینیڈا کی مارکیٹ میں پاکستانی مصالحوں، پاکستانی اچار اور پاکستانی چاول کے علاوہ پاکستانی چائے کی بھی بہت ڈیمانڈ ہے۔ پاکستانی چاول دیگر چاولوں کے مقابلے میں دویا تین گنا مہنگا ضرور ہے مگر معیاری ہونے کے باعث لوگ اسے فوقیت دیتے ہیں۔ باسمتی چاول کے لمبے دانے اور پکتے وقت ان سے اٹھتی مہک انہیں سب سے ممتاز کرتی ہے۔ پاکستانی مصالحے اور اچار بھی خوب بِکتے ہیں۔ عجیب بات ہے یہی اچار جب پاکستان میں کھائو تو ذائقہ الگ اور یہاں کھائو تو ذائقہ الگ۔ معلوم نہیںکوالٹی کنٹرول اس کی وجہ ہے یا کوئی اور بات، تاہم یہ تو طے ہے ہمارے کچن میں پاکستانی مصنوعات ہی اپنی بہار دکھاتی ہیں۔ کینیڈا میں گوشت اچھا تازہ ملتا ہے، حلال گوشت نسبتاً مہنگا ہوتا ہے۔ یہاں قصاب کی دکانوں میں گوشت نفیس انداز سے رکھا ہوتا ہے۔ ایک تو ٹرکوں پر کھلا گوشت لے جانے کاکوئی تصور نہیں پھر بکرے کے گوشت کے نام پر بکر ے کا ہی گوشت ملتا ہے، جانور کی بھی بڑی توقیر ہے۔ یہاں نس میں پانی ڈال کے وزن بھی کوئی نہیں بڑھاتا، نہ بیمار جانور کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ اسی لئے بیف، چکن یا مٹن اس کا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے۔ نہاری کے لئے جو گوشت ملتا ہے نہایت ملائم، ہم تو حیران ہی رہ گئے، کراچی میں نہاری کا گوشت ایسا ہوتا ہے کہ ہم تو خالی شوربہ ہی کھاتے تھے مگر یہاں صورت حال مختلف ہے، واقعی کھانے کا مزہ ہے۔ یہاں ہر چیز عمدہ اور معیاری، چاندی کا ورق جو کھیریا دیگر میٹھے پکوان پر لگاتے ہیں وہ بھی پنّی کے بجائے اصلی چاندی کا ملتا ہے، اسی طرح دودھ، دودھ تو اتنا خالص ہے کہ کیا کہیں، دنیا کا بہترین دودھ کینیڈا میں ملتا ہے۔ ان بیچاروں کو علم ہی نہیں کہ دودھ میں ٹیلکم پائوڈراور کیمیکل یا دیگر زہر ملا کے بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ گائے کو ہارمون کے انجیکشن لگا لگا کے زیادہ دودھ نکال سکتے ہیں، پھر یہ لوگ دودھ بھی گائے بھینسوں کا ہی بیچتے ہیں خود فیکٹری میں دودھ بنانے نہیں بیٹھ جاتے۔ اب یہاں گائے بھی تو سرسبز و شاداب کھلیانوں میں چارہ کھاتی ہے ہماری گائے کی طرح کچرے کے ڈھیر پر تو منہ نہیں مارتی۔
Cattle Farm
جا کے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مویشی کیسے شاہانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہمارے غریب مویشی تو سڑکوں پر آوارہ پھرتے ہیں، بڑی شاہراہوں پر جہاں ہیوی ٹریفک ہو، وہاں بھی ادھر اُدھر سے گائے بکریاں آجاتی ہیں۔ کینیڈا میں انسانی زندگی کی قدرومنزلت تو ہے ہی لیکن جس طر ح یہاں جانوروں، پھولوں، پودوں کی قدر ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ درخت کاٹنا سنگین جرم ہے یہاں۔ یہاں ٹمبر مافیا کا کوئی وجود نہیں۔ حالانکہ لکڑی درختوں سے ہی حاصل کی جاتی ہے، درخت کٹتے بھی ہیں لیکن سب قانون کے دائرے میں رہ کر ہوتا ہے، یعنی درختوں کی کٹائی کے لئے انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ ویسے یہ بھی خوب ہے کہ کینیڈا میں ہرکام کے لئے لائسنس یا اجازت نامہ لیناضروری ہے اور اجازت نامہ حاصل کرنے کے لئے اُس کام کی تربیت لینی ضروری ہے جس کے لئے لائسنس لیا جا رہا ہے۔ کسی میلے میں پکوڑے بیچنے ہیں تو اس کے لئے بھی یہی قانون لاگو ہوگا۔ میلے کا لفظ یوں استعمال کیا کہ سڑک پر چھابڑی یا ٹھیلا لگا کر کوئی بھی چیز فروخت نہیں کی جاسکتی۔ فٹ پاتھ پر ریڑھی والوںاور سڑک کنارے چھابڑی والوں کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئی ہیں۔ اینٹی انکروچمنٹ کا محکمہ غالباً یہاں نہیں ہوگا کیونکہ ضرورت ہی نہیں پڑتی یا ہوگا بھی تو ہر وقت فارغ ہی رہتا ہوگا۔ سنا ہے ہمارے یہاں بھی یہ محکمہ ہے اور سب سے زیادہ کمائی بھی اسی کی ہے۔


کینیڈا میں اکثر پاکستانی خواتین کیٹرنگ کا کام کرتی ہیں۔ یہ کام وہ گھر میں انجام دیتی ہیں۔ یعنی اگر آپ کو گھر پہ دعوت کرنی ہے اور بریانی، قورما، نان، نہاری یاکباب وغیرہ بنوانے ہیں تو فون پر آرڈر کرسکتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں بازار سے خریدیں تو مہنگی بھی ہوں گی اور وہ ذائقہ بھی نہ ہوگا جو گھر کا ہوتا ہے۔ چھوٹی موٹی دعوتوں کے لئے یہ انتظام بہتر ہے تاہم بڑی دعوتوں اور پارٹیوں کے لئے ہوٹل والے کیٹرنگ کرتے ہیں۔ دعوت کے علاوہ آپ اپنے لئے بھی کیٹرنگ کروا سکتے ہیں، مثلاً درجن بھر نان یا پراٹھے بنوالیں اور فریزر میں رکھ کے روزانہ ایک ایک نکال کر کھاتے جائیں۔ جو لوگ زیادہ مصروف ہوتے ہیں اور بالکل کوکنگ نہیں کرسکتے وہ ماہانہ پیسے دے کر روزانہ دو وقت کے کھانے کا پیکج لے سکتے ہیں۔ ہمیں تو لگتا ہے دنیا کا بہترین کھانا اپنا دیسی کھانا ہے، برگر اور پیزا سے اپنا گزارہ نہیں ہوتا۔جانے دنیا یہ فاسٹ فوڈ کو کیوں اتنا پسند کرتی ہے؟ خیر پسند اپنی اپنی۔ ہمیں تو ناشتے میں پراٹھے ہی پسند ہیں۔ ہمیں یہی فکر تھی کہ کینیڈا میں پراٹھوں کا کیا ہوگا، والدہ کے ہاتھ کے بنے پراٹھے ہماری کمزوری تھی، مگر الحمدﷲ ! یہاں کے آلو پراٹھے، گوبھی کے پراٹھے، پنیر کے پراٹھے، مولی کے پراٹھے، سادہ پراٹھے سبھی ملتے ہیں۔ ہم نے اپنے فریزر میں خوب پراٹھے بھر رکھے ہیں۔ جو ہم گرم کرکے کھاتے ہیں تاہم فریزر سے نکلے پراٹھوں میں وہ بات کہاں جو ماں کے ہاتھ کے گرم گرم تازہ لچھے دار پراٹھوں میں ہے۔


کھانے پینے کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہم نے کینیڈا آکر استعمال کرنی شروع کیں۔ مثلاً گڑ، شکر کی چائے، مصالحہ چائے، گھر کا دہی یعنی گھر میں دہی جمائی اور کھائی، پراٹھے کے ساتھ دہی اور اچار ایک ساتھ، نہاری کا گوشت (پہلے ہم صرف شوبہ کھاتے تھے) سبزی کی ترکاری میں اجوائن اور السی، بادام مکھن، سبزی منچورین اور اصلی شہد۔ ایسا نہیں کہ پاکستان میں یہ چیزیں میسر نہیں دراصل کراچی کی تیزرفتار زندگی میں کھانے کا اسٹائل ہی الگ ہے۔ہمیں تو اصلی شہد کی بہت خوشی ہے، ایک تو وہ شہد ہے جو اسٹورز سے ملتا ہے، وہ بھی اصلی ہوتا ہے مگر
Pasturized
ہوتاہے، ہم جو شہد استعمال کرتے ہیں وہ ایک ایسی خاص دکان سے لاتے ہیں جو شہد کے لئے مخصوص ہے، یہاں شہد کی مختلف ورائٹی ہے، یہ شہد مختلف پھولوں سے حاصل کیا ہوتا ہے اور ہر شیشی پر اس کے پھول کا نام لکھا ہوتاہے، چونکہ یہ
Pasturized
نہیں ہوتا یعنی کسی خاص درجہ حرارت پرگرم نہیں کیا جاتا لہٰذا ذرا مہنگا ہے مگر بے مثال ہے، یہ دکان
Bee Centre
کہلاتی ہے۔ یہاں پر ایسا شہد بھی ملتا ہے جسے براہِ راست چھتے سے نکالاہوتا ہے۔ اس شہد کو چھانا نہیں جاتا، یعنی اصلی کا بھی اصلی شہد، واہ ، واہ بھئی کیا کہنے!
شہد ایک تو صحت کے لئے بہت مفید ہے پھر اسلامی نقطۂ نگاہ سے بھی اس کی اہمیت مسلم ہے۔ گڑ اور شہد کھانے کے باعث اب چینی کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے، حیرت انگیز طور پر ہمارے کھانے پینے کا انداز تبدیل ہوگیا ہے۔ ہم سوچتے تھے کینیڈا میں ڈبل روٹی انڈے ملیں گے، مغربی انداز کے پھیکے کھانوں کے تصور سے ہماری جان نکلتی تھی مگر کمال یہ ہے کہ اب ہم مکمل دیسی اسٹائل کا کھانا کھا رہے ہیں، اتنا دیسی تو کراچی میں بھی نہ تھا جو یہاں ونکو ور میں ہے۔

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: صائمہ بتول

لفظ سائبو رگ 1960 میں
Manfred Clynes
اور
Nathan S. Kline
نے دریافت کیا۔ یاد رہے کہ یہ لفظ اینڈ رائڈ، بائیو نک، بائیو میٹرک اور مافوق الفطرت اعضاء رکھنے والی مخلوق سے یکسر مختلف اور بہت ساری خصوصیات میں ملتا جلتا تاثر رکھتاہے۔ یہ ٹیکنالوجی تمام دودھ دینے والے جانور اور انسانوں میں ایسے اعضائ، جو ناکارہ ہو چکے ہوں مگر نقصان کے باوجود بحالی کی تھوڑی گنجائش رکھتے ہوں،میں بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ڈی ایس ہیلسی سائبو رگ نے 1965میں ایک کردار سپرمین تخلیق کرکے انسانی زندگی میں ممکنات کے کئی دروازے کھول دیئے اور اس کردار کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ زندگی کے اندرونی اور بیرونی معاملات و احساسات کے درمیان ایک پُل موجود ہے جو دماغ اور
Matter
کے درمیان کارفرما ہو سکتا ہے۔ اسی خیال کو مختلف ذرائع سے پیش کیا گیا جس میں فلم ''سٹارٹریک'' اور ''سٹار وار'' کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سے قبل 1843 میں ایک کردار جو انتہائی طاقتور تھا، جو مشین اور انسان دونوں کا امتزاج تھا، متعارف ہوا اور وہی کردار آگے چل کر کیپٹن ''فیوچر'' کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ 1928 میں کیپٹن فیوچر ہر انسان کی خواہش بن گیا۔ اس کے علاوہ1944 میں سی ایل مور
(C.L. Moore)
کی کہانی نو وومن بورن
(No Woman Born)
ایسی رقاصہ کے بارے میں ہے جس کا جسم ایک حادثے میں جل کر خاکستر ہوگیا مگر دماغ سلامت رہا جسے بعد میں ایک مشینی جسم دے دیا گیا۔ یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پانچ دہائیوں کی مسلسل محنت اور عرق ریزی کے بعد یہ ٹیکنالوجی اب سائنس کی حیرت انگیز دنیا میں انسانی زندگی کی بقاء کی ضامن کے طور پر اُبھر رہی ہے۔ اور اب نیل ہربی سن اور ایملی بورگ اس صدی کے پہلے ''سائبورگ ہیومن'' کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔
تینتیس سالہ نیل ہربی سن
(Neil Harbisson)
27جولائی 1984 میں کاتلونیہ(سپین) میں پیدا ہوا۔ برطانیہ میں پلا بڑھا اور نیویارک امریکہ کا رہائشی ہے نیل ہربی سن پیدائشی
Colour Blind
تھا۔ وہ ہر چیز کو فقط مٹیالے رنگ میںہی دیکھ سکتا تھا جو کلر بلائنڈ کی انتہائی بڑی کیفیت ہے۔ نیل ہربی سن ایک سیماب صفات لڑکا ہے جو مختلف سکولوں میں آرٹ اور موسیقی کا علم حاصل کرتا رہا۔ گیارہ سال کی عمر میں اِسے اپنے سکول کی طرف سے ایک خصوصی رعایت دی گئی۔ جس میں اس کا تصویروں اور چیزوں میںرنگ بھرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ بس پھر کیا تھا لڑکے نے صرف کالے اور سفید رنگ کی مدد سے ایک عدد پیانو جوڑ لیا۔ یہ لڑکا عمرکے 29 برس کالے اور سفید رنگ کی دنیا تک محدود رہا اور کوئی رنگ دار لباس نہ پہن سکا۔19 سال کی عمرمیں انگلینڈ پڑھنے چلا گیا۔ جہاں اس نے موسیقی، سُر ، لَے، اس کی ساخت ، بناوٹ اورترکیب کا علم ڈارلنگٹن کالج سے حاصل کیا۔

cybert3ech.jpg
آوازوں کو سننے اور میوزک سے محبت کرنے والا یہ نوجوان جونہی کالے اور سفید دائروں سے نکلا اس نے آرٹ اور میوزک کی دنیا میں ٹیکنالوجی کی ایک اور شاخ کو باقاعدہ طور پر متعارف کرواتے ہوئے اپنی قومی شناخت اپنے پاسپورٹ پر ایک برقی اینٹینا کے ساتھ ہی کروائی۔ بظاہر یہ مشکل کام تھا کہ انسان کو دھاتی اعضاء سمیت انسان کے طورپر دیکھاجا سکے لیکن نیل بضد رہا اور بااعتماد بھی اور بالآخر برطانیہ کے نجی شعبے کو آمادہ کرنے میں کامیاب رہا کہ یہ برقی تار تمام آلات سمیت اس کی آنکھ اورحسیات کا حصہ ہیں۔ یہ سب کچھ کب اور کیسے ممکن ہوا؟ دراصل نیل ہربی سن کبھی بھی اپنے رنگوں سے عاری مزاج سے مطمئن اور خوش نہیں تھا۔ وہ اپنی اس بے تابی اور بے رنگی کی کیفیت کا اظہار کئی اچھے اور بڑے طریقوں سے کرتا رہا اور بچپن میں اپنی ماں سے سنی گئی قوسِ قزح کی کہانی سے تحریک لیتا رہا۔ اس کے علاوہ یورپ کی جدید اور ترقی یافتہ دنیا کے کئی ایک واقعات اور سائنسی تبدیلیاں اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔ جس کو نیل ہربی سن نے اپنے مختلف انٹرویوز اور تقاریر میں بیان کیا ہے۔ وہ اپنی اس قدرتی اور پیدائشی کمی کا مشکور ہے جس نے اسے رنگوں اور سروں کی امتزاجی دنیا سے متعارف کرا دیا۔ اس کے علاوہ وہ ایک اور ساتھی مون بیباس
(Moonbibas)
سے متاثر ہے جس کے بائیں بازو میں ایک دھاتی سنسر ڈال دیا گیا ہے جس سے اسے زلزلے کی آمد کا پتہ معلوم ہو جاتا ہے۔ حرکت ، سنسناہٹ اور جھنجھناہٹ نیل نے اپنی کارکردگی میں بھی نقل کی۔ اس کے علاوہ فرانسیسی خاتون
ORLAN
کی مثال بھی اس کے سامنے ہے ۔جو اپنی ظاہری شکل کو تقریباً 9 مرتبہ بدلوا چکی ہے۔ نیل ہر بی سن 2004میں بہت سارے ناکام تجربوں کے بعد اپنی کھوپڑی میںایک دھاتی برقی اور باقاعدہ حسیات والا چپ
(Chip)
ڈلوانے میں کامیاب ہو گیا۔ جس کا اینٹینا مکھی کی طرح اس کے سر کے سامنے والے حصے سے گزرتا ہوا ماتھے سے ذرا فاصلے پر آنکھوں کے سامنے رک جاتا ہے۔ جس کی مدد سے وہ رنگوں کو سونگھ اور سن کر شکل و صورت اور حرکات میںڈھال سکتا ہے۔ نیل ہربی سن اس تمام کارکردگی اور تجربات کی تفصیل سے گریز ہی کرتا ہے۔ اپریل 2017ء میںنیشنل جیو گرافک رسالے کے نمائندے ڈی۔ ٹی میکس
(D.T.MAX)
کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی وہ تفصیلات میں جانے سے گریزاں ہی دکھائی دیا۔ مگر اس سے ہرگز یہ تاثر نہیں ملتا کہ نیل ہربی سن انسانی زندگی میں تغیراتی حیاتیاتی اور ثقافتی حقیقت کا ایک سنگ میل بن کر سامنے نہیں آیا۔ ایک موسیقار جو سروں کا سوداگر ہے یقینا رنگوں اور قدرت کے کرشموں سے بھی ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ بارش کے بعد آسمان پر سات رنگی قوس قزح بھی اس پیغام کی ایک سطر ہے۔ یہ سب کچھ جب وائبریشن،بلوٹوتھ،سنسر، مائیکروچپ اور ابلاغیات و مواصلات میں ڈھلتے ہیں تو انسانی زندگی میں مادوں کی طاقت اور مدد سے تبدیلی ممکن ہے۔ اگر ہم 69سالہ رے کروز وبل جو ایک امریکی سائنسدان ہونے کے علاوہ گوگل کا اہم رکن اور او سی آر پہلی ریڈنگ مشین کا بانی ہے کو پڑھیں جو کہتا ہے کہ 1978 میں متعارف کروائی جانے والی
Kurzweil Technology
کی تحریک اور آئیڈیا فضائی سفر کے دوران ایک اندھے انسان سے گفتگو کے دوران ملا۔رے کروزویل کی کتاب ہاؤٹو ٹریٹ اے مائنڈ
(How to treat a mind)
جو 2012 میں شائع ہوئی میںسائبورگ ٹیکنالوجی کو عملی اور قابل استعمال بنانے میں کئی جامع اور قابل عمل پیرے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دی ایج آف سِپر چوئیل مشین
The Age Of Spiritual Machine 
بھی کچھ اس قسم کے اشارے کرتی ہے۔ ہربی سن کو برطانوی حکومت نے بھی پاسپورٹ پر اینٹینا سمیت دکھا کر اسے دنیاکی پہلی باقاعدہ برقی و انسانی مخلوق تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک مقصد بن چکا ہے جس کی نقل میں کئی مزید انسان اپنے اندر سائبورگ ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ اگر شہد کی مکھی اپنے ننھے منے اینٹینا کی مدد سے کئی میل دور سے سیدھی رس پر بیٹھ سکتی ہے تو حضرت انسان بھی اپنی عقل، سوچ، عمل، حسیات اور محسوسات سے کام لیتے ہوئے کائنات کو حیرت کدہ بناتا چلا جارہا ہے۔برقی آنکھ کے حوالے سے نیل ہربی سن کی کتاب 2014میں شائع ہو چکی ہے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور دو کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ اقساط کا خلاصہ
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیںاور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔
مجاہد جب سے اس مدرسہ میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔
بڑے مولانا صاحب کی ہدایات مدرسے میں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ پہلی بار جب مجاہد مولوی ثناء اللہ سے ملا تواسے کچھ اندازہ تو اس بات کا ہو گیا۔ان کے کمرے سے نکل کروہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔
صبا آرمی پبلک سکول میں ٹیچر ہے اور اس کا خاوند ارسلان ایک بنک میں نوکری کرتا ے۔ دونوں کے بیچ محبت بھری نوک جھونک جاری رہتی ہے۔

 

قسط چہارم

شکیل بھائی میں اس رات ویسے ہی کمرے سے نکلا۔نیند نہیں آرہی تھی مجھے۔ میں قسمت سے مولاناصاحب کے کمرے کے پیچھے کی طرف سے مڑکرآیا۔وہاں روشنی جل رہی تھی۔اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبورہوکرمیں نے اندرجھانکاتومجھے کچھ انجان لوگ نظرآئے۔بالکل انجانے جن کومیں نے کبھی دیکھابھی نہیں تھا۔ میں وہیں کھڑے ہوکران کی باتیں سنتارہااورجیسے جیسے میں سنتارہامجھے لگامیں زمین میں دھنستاجارہاہوں۔ وہاں کپڑے کاایک تھیلابھی پڑاہواتھا۔وہ لوگ کہیں پرکچھ دھماکہ کرنے کی بات کررہے تھے اورپیسوں کی کچھ بات کررہے تھے لیکن مولانا صاحب نہیں مان رہے تھے۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیاہورہاہے لیکن بس یہ سمجھ پایاکہ مولاناصاحب نہیں مان رہے۔بھلاوہ اللہ اوررسولۖکے غلام ہیں پیسے لے کرکیسے دھماکہ کرسکتے تھے لیکن یہ میری سوچ تھی جوبالکل غلط ثابت ہوئی جب میں نے دیکھاکہ مولانا صاحب کے سامنے و ہ تھیلا اوراس جیساایک اور تھیلا انڈیلاگیااوران دونوں تھیلوں میں سے نوٹوں کی گڈیاں نکلیں۔ مولانا صاحب کے چہرے پراس وقت ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جومیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے پیسوں کے عوض دھماکہ کرنے کامعاہدہ کرلیا۔ اب آپ بتائیں شکیل بھائی جب مجھے یہ پتاچل گیاہے کہ مجھے ہی نہیں مجھ جیسے ہزاروں لڑکوں کومذہب کے نام پردھوکہ دیاگیاہے اوردیاجارہاہے تومیں یہاں کیسے رہوں گا۔۔۔
جوتم نے کہاوہ سب میں جانتاہوں اوراگرتم اس کے علاوہ بھی کچھ جانتے ہوتومجھے بتادو۔وہ بدستوراب بھی مسکرارہے تھے۔
کیا؟؟؟؟؟؟؟؟ وہ چیخا
آپ یہ سب جانتے ہیں؟؟؟؟؟
ہاں۔۔۔ جواب مختصرتھا۔
اورآپ پھربھی یہاں ہیں؟؟؟؟؟ کیوں؟؟؟؟
کیونکہ تم بھی یہاں ہو۔۔۔
لیکن میں یہاں نہیں رہوں گا۔بھاگ جاؤں گایہاں سے۔وہ تقریباً چلّاتے ہوئے بولا ۔
یہ میں نے بھی سوچاتھالیکن صرف سوچ ہی پایاتھا۔کرنہیں پایامجاہد۔۔شکیل زمین پرنظریں جماتے ہوئے بولے۔
کیوں؟؟؟؟
زندگی میں کبھی کبھی سوچ اورعمل کے درمیان اتنافاصلہ آجاتاہے مجاہد،کہ سوچنا تو آپ کے بس میں رہ جاتاہے لیکن عمل کرنانہیں۔ میرے ساتھ بھی ایساہی ہوا۔ میں بھی صرف سوچ ہی پایا۔تمہارے ساتھ بھی ایساہی ہے تم بھی صرف سوچ ہی پا رہے ہو۔سوچ اورعمل کے بیچ کافاصلہ پاٹناتمہارے بس میں بھی نہیں ہے ۔ان کی مسکراہٹ اب ختم ہوچکی تھی۔
شکیل بھائی میں اگرغلط راستے پرچلاتھا، اوراب مجھے اندازہ بھی ہوگیاہے اور اب میں اس راستے کوترک کرناچاہ رہاہوں تویہ اتنامشکل کیوں ہے ۔ وہ کافی پریشان تھا۔
مشکل نہیں ہے بیٹاناممکن ہے ۔۔۔
لیکن کیوں؟؟؟
کیوں کہ کبھی کبھی غلط راستے پرچلتے چلتے ہم ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے صرف آگے جانے کاراستہ ملتاہے ۔پیچھے کاراستہ تووہاں کوئی ہوتاہی نہیں ہے اوروہ آگے کاراستہ مزیدغلطی اورتباہی کاہوتاہے۔ لیکن اس پرچلنابھی ہماری مجبوری ہوتی ہے ۔
وہ خاموش رہا۔
مجاہد بیٹاکبھی کبھی زندگی میں کی جانے والی ایک غلطی کی قیمت ہم ساری زندگی نہیں چکاپاتے۔ وہ غلطی ہماری زندگی تولے سکتی ہے لیکن سدھرنہیں سکتی اور اس غلطی کی قیمت کے آگے ہماری اپنی زندگی کی قیمت بہت کم ہوتی ہے ۔سمجھ لو کہ تم بھی اپنے حصے کی وہ غلطی کرچکے ہواورمیں بھی کرچکاہوں۔اب ہمارے پاس واپسی کاکوئی راستہ نہیں۔۔۔۔
آپ کیوں نہیں چلے جاتے یہاں سے شکیل بھائی۔آپ توبھاگ جائیں نا۔ ویسے بھی آپ کبھی ہفتے ڈیڑھ ہفتے میں ایک چکرلگاتے ہیں یہاں کا،تونہ آئیں یہاں۔ آپ کے لئے تو یہاں سے نکلنے کامسئلہ بھی نہیں ہے ۔اس نے اپنی طرف سے تجویزدی۔
اگریہ میرے لئے ممکن ہوتاتومیں کب کاایساکرچکاہوتا۔۔ وہ چائے کی چسکی بھرتے ہوئے بولے۔
آپ کے لئے ممکن کیوں نہیں ہے ؟؟؟
کیونکہ میں بھی اپنی وہ غلطی کرچکاہوں جس کے بعدواپسی کاکوئی راستہ نہیں بچتا۔۔
میں سمجھا نہیں۔ وہ واقعی بالکل نہیں سمجھا تھا۔بھلا ان کے لئے کیا مشکل تھا یہاں سے جانا۔
وہ کچھ دیرخاموشی سے چائے کے سپ پھرتے رہے اورپھرگویاہوئے ۔
مجاہدبیٹا تم کیاجانتے ہومیرے بارے میں؟؟
کچھ خاص نہیں۔
میری ایک بیٹی اوردوبیٹے ہیں۔بیوی اورماں باپ بھی زندہ ہیں۔بہنوں کی شادی ہوچکی ہے اورمیرے ماں باپ،بیوی اوراولاد باہرکے ملک میں رہ رہے ہیں۔ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں بہت آسائشوں والی زندگی۔ لیکن تب تک جب تک میں یہاں یہی کام کرتارہوں جوابھی کر رہاہوں۔مجھ پراورمیرے گھروالوں پرلمحہ لمحہ نظررکھی جاتی ہے ۔ ادھرمیں نے کوئی ایسی کوشش کی جوتم کہہ رہے ہویاان کی بات ماننے سے انکارکردیاتو میرے خاندان کانام ونشان مٹنے میں ایک سے دوسرے لمحے کی دیرنہیں لگے گی۔ میں جب یہاں آیاتھاتوتم سب کی طرح دین کی خدمت کے جذبے سے آیاتھااورمیں تب بھی ڈاکٹرتھااوریہی کام کرتاتھا جو اب کر رہا ہوں۔پھرایک دن مجھے بھی پتاچلاکہ میرے ساتھ دھوکہ ہورہاہے اورمجھے دین کی خدمت نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیاجارہاہے اورپھرمیں نے بالکل تمہاری طرح سوچا۔یہاں سے نکلنے کی ٹھان لی۔ لیکن مجھے فون ملاکردیاگیاجس میں میری سترہ سال کی بیٹی کواغوا کیاگیاتھا اور اس سے میری بات کروائی گئی۔
وہ چندلمحے چپ رہے ۔شایداپنی سوچوں کومجتمع کررہے تھے۔
اوراسی لمحے میری ہمت دم توڑ گئی اورمیں نے یہاں کے لوگوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔میں مجبورتھاکیاکرتا۔ میں توشایدیہاں سے بھاگ جاتالیکن اپنے ساتھ جڑے چھ لوگوں کی موت سہنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میںاوریہ ہمت تم میں بھی نہیں ہوگی۔ بیٹالوگ کہتے ہیں کہ مردکبھی بھی مجبور نہیں ہوتالیکن میں نہیں مانتا۔ مرد بھی مجبورہوتاہے ۔باقی کسی چیزیاکسی رشتے سے نہ بھی ہوتاہواپنی اولاد سے ضرور مجبورہوجاتاہے۔میں بھی اپنی بیٹی اوربیوی کی بے حرمتی اوراس کے بعد دردناک موت اوراپنے بیٹوں کی حسرت ناک موت اوراپنے ماں باپ کی آنکھوں کے دئیے نہیں بجھاسکتا۔اتنی ہمت نہیں تھی مجھ میں۔
وہ خاموش ہوگیا۔اس کمرے میں تھوڑی دیرگھمبیرخاموشی رہی۔ وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتاتھاکہ جس شکیل بھائی کووہ سب بہت خوش قسمت اورخوش باش سمجھتے تھے وہ بھی قسمت،حالات اورمجبوری کی ایسی بھٹی میں جل رہے ہیں جس سے نجات کی کوئی امیدنہیں ہے ۔ایک نہ ختم ہونے والی اندھیری رات ان کی زندگی کوبھی مکمل طورپرگھیرے ہوئے ہے ۔
بڑے مولاناصاحب نے مجھے کہا ہے کہ اگرمیں اگلے مشن میں ان کاساتھ دوں گا اور ان کاکام کر دوں گا تووہ مجھے اس کے بعدآزادکردیں گے بشرطیکہ میں قرآن پر حلف اُٹھاؤں کہ پوری زندگی یہ سارے رازاپنے سینے میں ہی رکھوں گا۔۔۔
انہوں نے گھورکراس کی طر ف د یکھا۔ایسے جیسے اچنبھے کی بات کی ہواُس نے۔
ایسے کہا انہوں نے ؟؟؟
ہاں ایسے ہی۔۔۔
پھرکیاجواب دیاتم نے ؟؟؟
میں نے وہی کہاکہ اب میں کسی بے گناہ کی جان نہیں لوں گا۔۔وہ اب بھی اپنی بات پر اٹکاہواتھا۔
تو کیاکروگے ؟؟؟
میں یہاں سے بھاگ جاؤں گا۔کچھ بھی کرلوں گااورچلاجاؤں گایہاں سے لیکن اب مولانا صاحب کی بات نہیں مانوں گا۔بہت جانیں لے لی ہیں میں نے ان کے لئے ۔
لیکن جاؤگے کہاں؟؟؟
یہاں سے بھاگ جاؤں گاتوکسی بڑے سرکاری آفیسر یا پھرکسی بڑے آدمی سے مل کریہاں کی ساری سچائی بتادوں گااوراپنے اوراپنے خاندان کے لئے پناہ بھی مانگ لوں گا۔
اورتمہیں لگتاہے کہ وہ لوگ تمہاری مدد کریں گے ؟؟؟
کیوں نہیں کریں گے ۔۔۔
وہ ایک دم سے قہقہہ لگاکرہنسے اوراتناہنسے کہ ان کی پلکیں بھیگ گئی ایسے جیسے اس نے کوئی بہت ہی اچھالطیفہ سنایاہو۔جب ہنستے ہنستے تھک گئے تو اس کی طرف غور سے دیکھنے لگے۔ وہ بھی کافی اچنبھے سے ان کی طرف دیکھتا رہا۔ ایسے قہقہے مارمارکرتووہ کبھی نہیں ہنسے تھے۔
بہت معصوم ہوتم مجاہداللہ۔۔۔ تم نے گھر، مدرسے اوریہاں کے لوگوں کے علاوہ دنیاکو دیکھا ہی نہیںہے۔تمہیں کیالگتاہے کہ مولاناصاحب اورہزاروں پرمشتمل ان کا گروہ جوکرتاہے وہ ان بڑے لوگوں سے چھپ کرکرتاہے ؟؟؟ ایسا نہیں ہے۔ اس ملک کے بہت سے بااثر افراد بھی اِن خطرناک لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ تمہارے مولانا صاحب کے پاس آنے سے پہلے اسی طرح کے کئی تھیلے ان کے ہاں بھی پہنچادئیے جاتے ہیں۔ وہ پہلے سے باخبرہوتے ہیں کہ آج فلاں جگہ دھماکہ ہوناہے یاآج فلاں چوک پرمعصوموں پرفائرنگ ہونی ہے۔ اس لئے کبھی سننے میں نہیں آیاکہ ایساکوئی بندہ مراہے اورہمارے نام کے مجاہدوں کوایسے بندوں کی نہیں بلکہ معصوموں کی موت کاحکم نامہ ملتاہے اورتم جانتے ہو مجاہد اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ فائدے میں وہ لوگ رہتے ہیں جومذہب کے نام پرسیاست کرتے ہیں، جو داڑھی رکھ کروہاں لوگوں کے لیڈر بنے ہوتے ہیں اوریہاں سے ان معصوموں کی موت کی قیمت وصول کرتے ہیں اورتم یہ مت سمجھو کہ یہ صرف مولاناصاحب ہیں جو یہ سب کررہے ہیں۔ ان کے پیچھے مختلف ممالک کے لوگ ہیں جوپیسے دے کران سے یہ کام کرواتے ہیں اورمولانا صاحب تم اورمجھ جیسے لوگوں سے مذہب کے نام پروہی کام کروالیتے ہیں جس کے لئے انہوں نے پیسوں کے تھیلے لئے ہوتے ہیںاورجس کام کے لئے ابھی تمہیں مولانا صاحب کہہ رہے ہیں تم جانتے ہواس میں کیاہوگا؟؟؟
کیا؟؟؟؟ وہ مزید انکشافات کا منتظرہوگیا۔
اس کام میں فوجی وردی استعمال ہوگی اورفوجی تمغے بھی اورنقلی فوجی وردی نہیں بلکہ بالکل اصلی وردی اورتم لوگ وردی پہن کریہ کام کروگے اورتم جانتے نہیں ہو مجاہد کہ وہ وردی کہاں سے آئے گی۔۔میں بتاتاہوں۔۔۔
وہ چندلمحے رُکے ۔۔۔۔
اس کام کے لئے پہلے سے لوگوں کوخریداجاتاہے اوراس دنیامیں آج سب کے ایمان کی ایک قیمت ہے اورجب مولاناصاحب کے بڑے وہ قیمت دے دیتے ہیں توکوئی بھی بک جاتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور کسی کی کم۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سچے ہوتے ہیں اور کسی قیمت پر ایمان نہیں بیچتے۔اللہ کے بعد ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ ملک چل رہا ہے ورنہ کب کا سب کچھ ختم ہوچکا ہوتا۔فوج ایسا ادارہ ہے جو مخلص ہے اس وطن کے ساتھ۔ لیکن اس پوری فوج کے اندر کوئی ایک آدھ ایسا آدمی ہو گا جس کی ایمان کی قیمت ہو گی۔وہ بھی اپنی قیمت وصول کر کے یہ وردی اور تمغے فراہم کر دے گا اوریہ فوجی وردی وہیں سے آئے گی۔جہاں تک میں جانتا ہوں سارے ہی فوجی چاہے وہ افسر ہو یا سپاہی وطن پرجان دینا اعزاز سمجھتے ہیںاور جان دیتے بھی ہیں لیکن مولانا صاحب اور ان کے نیٹ ورک کو اپنے کام کے لئے پورے ادارے میں ایک بھی بندہ مل جائے تو ان کا کام ہو جائے گا اور یہ لوگ ہرجگہ ایسے ہی ایک آدھ بندے کوتلاشتے ہیں۔
وہ سراسیمگی کی حالت میں انہیں دیکھتارہااوروہ انکشاف پرانکشاف کرتے رہے۔۔۔۔
مر تا وہی ہے مجاہد جوبے خبرہوتاہے ۔جو کسی بازارمیں سبزی بیچنے والاہوتاہے یاریڑھی پر سجائی چوڑیاں بیچنے والایا پھروہ خریدارجس کی بدقسمتی اسے اس وقت وہاں لے کرآئی تھی۔ جسے پہلے سے دھماکے کاوقت اورجگہ پتاہوتی ہے وہ وہاں کیوں آئے گا۔اب تم ہی مجھے بتادوکہ جودین راستے سے پتھرہٹانے پربخشش کی نوید دیتاہواورکسی یتیم کوکھاناکھلانے پرجنت کاحقدارٹھراتاہووہ بھلادھماکہ کرکے کئی معصوم بچوں کویتیم کردینے والے کوکیسے جنت دے سکتاہے اورمیراخیال ہے کہ تمہیں بھی یہ باتیں سمجھ آگئی ہیں لیکن اب وقت نہیں ہے ۔دیر توپہلے ہی ہو چکی ہے ۔تمہارے لئے اب بہتریہ ہے کہ تم ان کی اس پیشکش پرغور کرلوجوانہوں نے تمہیں دی ہے۔ کیونکہ تم بھی کسی اورچیزسے مجبور ہو نہ ہواپنی اولادسے ضرور مجبور ہو گے۔ تمہارابھی توایک بیٹاہے ناجوتم کوابھی پہچانتابھی نہیں ہے۔ جویہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا باپ کس مجبوری کی سلاخوں میں جکڑا ہواہے۔
آپ کیسی باتیں کررہے ہیں شکیل بھائی۔آپ کے کہنے کامطلب ہے کہ مولانا صاحب خون بہانے کے پیسے لیتے ہیں؟؟؟
ہاں میرایہی مطلب ہے ۔انہیں ہی کیاان کے گروہ کے سرغنوں میں سے کسی کو بھی نہ دین کی کوئی خدمت کرنی ہے اورنہ ہی انہیں دین سے کوئی لگاؤ ہے۔ اگر ایسا کچھ ہوتاتووہ کسی بے گناہ کی جان کاسوداکیوں کرتے ؟؟تمہیں شایدیادنہ ہو کہ آج سے پندرہ سال پہلے یہاں ایک مدرسے پربم پھینک دئیے گئے اور سیکڑوں معصوم بے گناہوں کی جان چلی گئی اورکہاگیاکہ وہاں اسلحہ تھا۔ وہاں واقعی اسلحہ تھا لیکن وہ کسی معصوم بچے نے نہیں رکھاتھا۔ان کوتوپتابھی نہیں تھاکہ وہاں اس طرح کی کوئی چیزتھی۔جنہوں نے حملہ کیاانہوں نے پہلے مولاناصاحب جیسے کسی بندے سے وہ رکھوایااورپھراسی کابہانابناکران معصوموں پربمباری کر دی۔
مولاناصاحب جیسے یا۔۔۔۔؟؟؟؟ اسنے معنی خیزلہجے میں پوچھا۔ مولانا صاحب نے ۔۔
مجاہدنے ایک لمبی سانس لی۔ شکیل کے انکشافات اس کے لئے قبول کرنا آسان نہیں تھے ۔
مجاہد اللہ مولانا صاحب کوجب وہاں کا کام دیاگیاتو وہ کچھ عرصہ وہاں پڑھانے لگے اورتم جانتے ہوکہ دل اوردماغ کواپنے قابومیں کرنے کے فن میں انہیں بہت مہارت حاصل ہے۔ سو انہوں نے یہی کیااورکچھ ہی عرصے میں جہاد میں استعمال ہونے والے اسلحے کی حفاظت کے نام پرکچھ اسلحہ وہاں منتقل کر دیا اور جب ان کا کام ختم ہوا تو اسی اسلحے کے نام پر مدرسے میں پڑھنے والے معصوموں پرایسی بمباری کردی گئی کہ اُن کے اعضاکابھی پتانہیں چل سکا اور ایسے ہی نوٹوں سے بھرے ہوئے تھیلے تب بھی انہوں نے لئے تھے اورمیں تب بھی جانتا تھا اوراب بھی جانتاہوں لیکن تب بھی کچھ نہیں کرسکتاتھااوراب بھی بے بس ہوں۔۔
وہ بالکل خاموش تھا۔ایسے جیسے سانپ سونگھ گیاہو۔
جانتے ہومجاہد میں نے ایک باریہ بھی سوچاکہ اپنے خاندان کی قربانی دے دوں گالیکن مزیدمعصوموں کاگنہگار نہیں بنوں گالیکن جانتے ہوتب کیاہوا؟؟
وہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتارہا۔۔
تب میں نے بہت رازداری سے کھوج لگایاکہ میں جاکرکس سے بات کروں اور کس سے مدد مانگوں۔ لیکن مجھے مکمل طورپر ناکامی ہوئی۔ہرشاخ پر الو بیٹھا تھا جس کے سامنے کسی کی جان کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔پھرمیں نے مذہبی لوگوں کا سراغ لگایاجووزیروں، مشیروں اور بڑے بڑے عہدوں پرہیں۔میں نے سوچا کہ یہ تووہ لوگ ہیں جواللہ اوررسولۖکے راستے اوراحکامات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہ لوگ میری کسی طرح سے مددکردیںگے لیکن یہاں پرتومیں بالکل ہی مایوس ہوگیا۔وہ لوگ اپنے ذاتی مسائل اور طاقت کے کھیل میں اتنے مصروف تھے کہ اس کو خداسمجھ بیٹھے تھے اوروہی سب کررہے تھے جویہاں پرمولاناصاحب کررہے ہیں۔ مذہب کی فکرنہ یہاں کسی کوہے اورنہ وہاں۔یہاں بھی مذہب کے سوداگراوروہاں بھی اسی کے نام پرلوگوں کی بے وقوفی۔ یہاں سے میں نے مایوس ہوکروہی راستہ دوبارہ پکڑلیاجس کو چھوڑنا چاہا تھا۔ اگر میں کچھ کرنہیں سکتاتھاتواپنے چھ پیاروں کواپنے ساتھ مرواکرمیں کیاحاصل کرلیتا؟؟
وہ اب بھی انہیں اسی طرح حیرت سے ٹک ٹک تکے جارہاتھا۔اس کے پاس پڑی چائے کی پیالی کب کی ٹھنڈی ہوچکی تھی۔
تومیں سمجھ جاؤں کہ میرے پاس واپسی کاکوئی راستہ نہیں ہے ۔اب ساری زندگی مجھے بے گناہوں کی جانیں ہی لینی ہیں۔۔اس کے لہجے میں ایک لٹا ہارا ہوا مسافر بول رہا تھا۔
لیکن تم نے توابھی کہاہے کہ مولاناصاحب نے تم سے کہاہے کہ اگرتم اگلاایک مشن ان کی مرضی سے کرلوتووہ تمہیں جانے دے سکتے ہیں۔۔۔
آپ کولگتاہے کہ وہ ایساکرسکتے ہیں؟؟ اس کی مسکراہٹ بہت تھکی ہوئی تھی، اگرانہوں نے کہاہے تووہ ضرورایساکرسکتے ہیں۔کیوںکہ کچھ بھی ہے ایک بات کی گواہی میں ضروردوں گاکہ مولاناصاحب جھوٹ نہیں بولتے ۔ وہ زبردستی بھی تم سے کوئی کام کروا سکتے ہیں اوروہ واقعی ایساکربھی سکتے ہیں۔ لیکن اگرانہوں نے تمہیں پیشکش کی ہے تو میرا خیال ہے کہ تم غورکرلواس پر۔۔پہلے اچھی طرح سے حالات کاجائزہ لے لو۔ہرزاویے سے ۔اس کے بعد فیصلہ کرنا۔۔
مجاہدوہاں بیٹھاسوچ رہاتھاکہ اس کے حالات توبالکل ہارون جیسے ہوگئے تھے۔ کسی نے اس سے کہاتھاکہ ’’ہارون جیسامت بننابیٹا۔‘‘
لیکن وہ ہارون جیساہی بن گیاتھا۔۔۔۔

جمیلہ اسے عالمِ دین ہی بناناچاہتی تھی سوان دونوں نے اسے سکول داخل کرنے سے پہلے قاری ادریس کے پاس بٹھاناچاہا۔۔۔رات کوانہوں نے یہی فیصلہ کیاکہ اسے قاری صاحب کے پاس بھیجناشروع کردیاجائے اورسکول میں جب داخلوں کاموسم آئے گاتواس باراسے داخل کر دیںگے لیکن ا س میں ابھی سات مہینے کاعرصہ رہتاتھا۔۔
اوراگلے دن تونہیں ہو سکاالبتہ اس سے اگلے دن فضل نے ٹھیکیدارسے جلدی چھٹی لے لی تھی اورگھرآکررحمت کوگھرکے قریب والی مسجدمیں لے گیاتھاجس کی امامت قاری ادریس کرتے تھے ۔ بہت ہی بردباراورعزت دارانسان تھے ۔ گاؤں کے لوگ ان کوقاری صاحب ہی بولتے تھے ۔فضل اوربچے اسی مسجدمیں نمازپڑھنے آتے تھے ۔
یہ اصل میں ایک چھوٹی سی مسجدتھی جس کونمازکے اوقات کے بعد مدرسے کے طورپر استعمال کیاجاتاتھا۔محلے کے اکثربچے قاری ادریس سے قرآن کاسبق پڑھنے آتے تھے اورقاری ادریس ایک بارصبح اورایک بارعصرمیں بچوں کوپڑھاتے تھے ۔جو بچے سکول جاتے تھے وہ عصرکی نمازکے بعدپڑھ لیتے تھے اورجوسکول نہیں جاتے وہ صبح پڑھ لیتے اس طرح سے مسجدکاصحن بھی تنگ نہ پڑتااورمحلے کے سارے بچے پڑھ بھی جاتے ۔
گاؤں کے لوگ قاری صاحب کی بہت عزت کرتے تھے ۔وہ تھے ہی اتنے اچھے ۔ہرکسی سے عزت سے ملتے تھے ۔کبھی فضول بات نہ کرتے ۔نہ کبھی کسی سے کچھ مانگتے تھے ۔ان کاتعلق اس گاؤں سے نہیں تھالیکن کسی کوپتہ نہیں تھاکہ ان کاخاندان کہاں ہے ۔وہ بس پچھلے چھ سال سے محلہ جھنگی کی مسجدمیں آبادتھے۔ گاؤں کے لوگوں نے کبھی ان کے منہ سے اپنے خاندان کے کسی فردکے بارے میں نہیں سنااگرکبھی کسی نے کوشش کی بھی توقاری صاحب ٹال دیتے ۔ خود داری ان میں بہت تھی۔بھوکارہ لیتے لیکن خودکسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے ۔گاؤں کے کچھ مالی طورپرمستحکم لوگوں نے آپس میں ان کے کھانے کابندوبست کررکھاتھا۔اب وہی لوگ ایک ایک دن کاکھاناقاری صاحب کوبھجواتے تھے ۔ قاری صاحب گاؤں کے بچوں کوبغیراجرت کے پڑھاتے تھے ۔ پڑھانے کی اجرت انہوں نے کبھی نہیں مانگی اگرکسی نے کبھی دینے کی کوشش کی بھی توقاری صاحب یہ کہہ کرمنع کردیتے کہ وہ یہ کام اللہ کی رضاکے لئے کر رہے ہیں اوراللہ کے لئے کئے جانے والے کام کی اجرت نہیں لی جاتی رہا کھانے اورکپڑوں کا معاملہ تووہ گاؤں میں کوئی نہ کوئی قاری صاحب کو دے ہی دیتا۔لیکن قاری صاحب کی عجیب بات تھی کہ وہ پورے سال میں دو سے زیادہ جوڑے قبول ہی نہیں کرتے تھے ۔جب ان کوسال میں دوجوڑے مل جاتے تھے توتیسراوہ اصرارپربھی نہیں لیتے تھے ۔
جب فضل، رحمت کی انگلی تھامے مسجدمیں داخل ہوا تو بچے سبق ختم کرکے اٹھ گئے تھے ۔جب کہ قاری صاحب ادھرہی صحن میں چادربچھاکربیٹھے تھے ۔
السلام علیکم قاری صاحب۔۔،فضلونے عقیدت سے سلام کیا۔
وعلیکم السلام فضل اللہ کیسے ہو؟آؤ بیٹھو۔۔ قاری صاحب نے بچھی ہوئی چادرکے ایک طرف فضل کے لئے جگہ خالی کی۔
کہواس وقت کیسے آناہوا۔۔۔؟
قاری صاحب یہ میراچھوٹابیٹاہے رحمت اللہ۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ آپ کی طرح بنے ۔دنیا اور آخرت میں واقعی ہمارے لئے رحمت بن جائے ۔۔۔فضل نے مدعابیان کیا۔
(جاری ہے……)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔
 
08
November

انٹرویو: قاسم علی

فن اور فنکار کا رشتہ وطن اور اس کی ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی ایک پہچان ہے۔ جس پر ہمیں فخر ہے۔ دوسروں کے نقل کرنے والے جلد ناکام ہو جائیں گے۔

قوی خان پاکستان کے ان ورسٹائل فنکاروں میں شامل ہیں جن کی شخصیت کا جادوفنون لطیفہ کے چاروں شعبوں ریڈیو، تھیٹر ، ٹی وی اور فلم میں سر چڑھ کر بول رہا ہے انہیں فنی دنیا کا حصہ بنے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن وہ آج بھی کیرئیر کے آغاز جیسی لگن اور جذ بے کے ساتھ کام میں مصروف ہیں اور ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ قوی خان اپنی زندگی کو '' جہد مسلسل '' قرار دیتے ہیں انہیں بدلتے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کا فن بخوبی آتا ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پی ٹی وی سے آن ائیر ہونے والے پہلے ڈرامے میں '' ہیرو'' کا کردار ادا کرنے کا اعزاز بھی قوی خان کو حاصل ہے۔ قوی صاحب اگرچہ انتہائی کم گو انسان ہیںلیکن ہلال کے قارئین کے لئے انہوں نے بے تکلف گفتگو کی اور اپنے نجی اور پیشہ ورانہ زندگی پر کھل کر بات کی جو پیش خدمت ہے ۔

mqavikhan.jpg
سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں ، بچپن کہاں گزرا ، تعلیم کہاں مکمل کی ؟
میری پیدائش 13 نومبر 1942کوشاہ جہاں پور انڈیا میں ہوئی، میرے والد محمد نقی خان محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور ان دنوں شاہ جہاں پور میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ بعد میں ہم پشاور منتقل ہوگئے جہاںگورنمنٹ ہائی سکول پشاوراور ایڈورڈ کالج سے میں نے تعلیم مکمل کی۔میں نے 7برس کی عمر میں ریڈیو پاکستان سے کام کا آغاز کردیا تھا اور تب سے لے کر آج تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمارا گھرپشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان کے بالکل قریب تھا۔ ہمارے محلے میںاُس زمانے کے ریڈیو پاکستان پشاور کے مشہورآرٹسٹ شیخ شریف کی رہائش بھی تھی جن کا پروگرام '' قہوہ خانہ'' سبھی بڑے شوق سے سنتے تھے ، ایک دن انہوں نے مجھے سکول سے واپس آتے گلی میں دیکھا تو بولے: بیٹا آپ ریڈیو پر بچوں کے پروگرام کا حصہ بنو گے، میں نے ڈرتے ڈرتے ہاں کہا، یوں میرا ریڈیو سے رشتہ قائم ہوا ، شیخ شریف کو لینے کے لئے ریڈیو کی جو گاڑی آتی میں بھی اسی میں آیا جاتا کرتا تھا۔ ابتدا میں جاکر میں بیٹھا رہتا تھا ، کام ہوتا دیکھا کرتا تھا اور پھر واپس آجایا کرتا تھا۔ پھر '' نانی اماں '' کے عنوان سے ہفتہ وار ایک پروگرام شروع ہوا جس میں ایک بوڑھی عورت اپنے نواسے ، نواسی کو کہانی سنایا کرتی تھی میں اس پروگرام کا حصہ بنا ۔ پھر کیا ہوا، گھوڑا کیوں گرگیا ، شہزادی نے تیر کیوں چلایا ، وہ کیسے مرگیا وغیرہ میرے ڈائیلاگ ہوا کرتے تھے۔ مجھے ایک پروگرام کا معاوضہ 5روپے ملتا تھا جسے لے کر میں گاڑی میں بیٹھتا تھا اور بھاگ کر گھر آجاتا تھا۔ اس زمانے میں مجھے پورے مہینے کا جیب خرچ ایک روپیہ ملتا تھا اور باقی 19روپے میں گھر دے دیتا تھا۔


سوال:ریڈیو سے ٹی وی تک کا سفر کیسے طے ہوا؟
الفاظ کے تلفظ ، ادائیگی ، زیر زبر کا فرق ، گفتگو کا قرینہ و سلیقہ میں نے ریڈیو پاکستان سے سیکھا اور کالج کی تعلیم کے دوران بھی ریڈیوپر کام کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا پھر میں 1961میں لاہور آگیا ۔ میں نے پانچ چھ برس بینک میں ملازمت بھی کی لیکن چونکہ میرے پاس ریڈیو پاکستان کا این او سی تھا تو میں نے ریڈیو لاہور پر کام کا سلسلہ جاری رکھا پھر میں نے الحمرا تھیٹر اور اوپن ائیر تھیٹر میں اداکاری کے جوہر دکھائے، رفتہ رفتہ مجھے فلم میں کام کرنے کا موقع بھی میسر آگیا 1964میں میری پہلی فلم '' رواج'' ریلیز ہوئی جسے دلجیت مرزا صاحب نے بنایا تھا ، '' رواج'' میں ولن کا کردار میں نے ادا کیا ساتھ ہی پروڈکشن میںدلجیت مرزا کو اسسٹ بھی کیا تھا جس سے مجھے فلم میکنگ کی باریکیوں کو سمجھنے میں کافی مدد ملی ، اسی دوران لاہور میںپاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہورہا تھا ، میں نے کام کے لئے فوری اپلائی کیا جلد ہی مجھے یہ پیغام ملا کہ پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پہلاکھیل ''نذرانہ'' آن ائیر جائے گا اس میں ہیرو کا کردار میں ادا کروں گا تو وہ میرے لئے تاریخ بن گئی جو اب تک ہے ۔ اس کھیل کو نجمہ فاروقی نے تحریر کیا تھا اور فضل کمال نے ڈائریکٹ کیا تھا، میرے ساتھ کنول حمید نے ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ پھر میں نے 1966 میں بینک کی جاب چھوڑ دی اور تمام تر توجہ فن اداکاری پر مرکوز کردی ، ریڈیو، ٹی وی ، تھیٹر اور فلم ہر میڈیم میں مجھے کام ملتا رہا اور میں نے اس سلسلے میں بریک نہ آنے دی۔ ایک زمانے میںمجھ پر فلم میکنگ کا جنون طاری ہوگیا جس کی تکمیل کے لئے میں نے بارہ فلمیں بھی بنائیںجو زیادہ اچھی نہیں گئیں اس ناکامی نے مجھے زندگی کے نشیب و فراز سے بخوبی آشنا کروایا لیکن اس سارے سفر میں ٹیلیویژن نے مجھے تھامے رکھا ، ہم دونوں نے ایک دوسرے کا دامن نہیں چھوڑا۔اب تک 54برس ہوگئے ہیں میں نان اسٹاپ ٹی وی پر کام کررہا ہوں اور ہر ہفتے میں کسی نہ کسی چینل پر ضرور آن ائیر ہوتا ہوں ۔ میں نے زندگی میں کوئی بزنس نہیں کیا ، کوئی پراپرٹی نہیں بنائی۔ اداکاری ہی میرا جنون رہا جس سے مجھے رزق کا سامان بھی مہیا ہوتا رہا۔ میں پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اوپر نہیں پہنچ گیا بلکہ میرا سفر تو جہد مسلسل کی عملی مثال ہے، پہلی کے بعد دوسری پھر تیسری سیڑھی مرحلہ وار عبور کیں۔


سوال: آپ بلاشبہ پاکستان میں فن اداکاری کے بانی فنکاروں میں شامل ہیں یہ بتائیے گاتھیٹر اور ریڈیو کا تجربہ ایک فنکار کی تکمیل کے لئے کتنا ضروری ہے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ریڈیو اور تھیٹر کی اہمیت بنیادی ستون سے کم نہیںہے اس کا تجربہ ہونے سے آپ کے کام میں و ہی پختگی آتی ہے جیسے ستونوں کے ساتھ عمارت مستحکم کھڑی رہتی ہے۔ آرٹسٹ کوعلم ہونا چاہئے کہ مکالمہ کہنے کے کیا اسرار ورموز ہیں ، تھیٹر ہال میں جو 600آدمی آپ کو لائیو دیکھ رہے ہیں ان کی ڈیمانڈ کیاہے اورٹی وی ناظرین کے سامنے کیسے آنا ہے۔ آوازکی پچ، باڈی لینگوئیج، کیمرہ ہینڈلنگ ، خود اعتمادی اور ہر میڈیم کاباہمی فرق، یہ سب علوم تجر بے سے ہی حاصل ہوتے ہیں اورسب سے بڑھ کر فنکار کا زمانے میںآنے والی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہونا بہت ضروری ہے ، جیسے کچھ سالوں بعد کیمرے بدل جاتے ہیں ، لائٹس بدل جاتی ہیں، لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آجاتی ہے ، لباس اور گفتگو کا انداز بدل جاتاہے، ویسے ہی آرٹسٹ کو وقت کے ساتھ ان تبدیلیوں کو اپنا لینا چاہئے ورنہ وہ زمانے کے ساتھ چل نہیں پائے گا۔ میرا یقین ہے کہ ریڈیو او ر تھیٹرکا تجربہ ہونے کی وجہ سے میں نے اتنے برس کام کرلیا ورنہ خامیاں اورکوتاہیاں تو مجھ میںبھی بہت ہیں اور مکمل تو صرف میرے مالک کی ذات ہے ۔


سوال: ہمارے ہاںاچھے ڈرامے بن تو رہے ہیں لیکن ماضی جیسے کلاسک کھیل اب کیوں نظر نہیں آتے ۔؟
اصل میں سارا سسٹم سپلائی اور ڈیمانڈ پر مبنی ہے۔ جنریشن تبدیل ہوچکی ہے اور آج کی آڈئینس کی ڈیمانڈ کچھ اور ہے اسی طرح کمرشلزم کے اثرات بھی ہیں۔ اب دیکھیں آج کے ڈرامے
Woman Dominated
ہیں ۔ میں ان دنوں جس کھیل کی ریکارڈنگ کر وا رہا ہوں وہ بھی ایسے موضوع کا احاطہ کرتاہے ، عورتوں کی کہانیاں ہیں اور ہماری خواتین ایسے کھیل بڑے شوق سے دیکھتی ہیں۔ ہوا جس طرف ہوپتنگ اسی طرف جاتی ہے اس لئے آج کل خواتین کے موضوعات کھیلوں میں حاوی نظر آتے ہیں ، انہی کو کمرشل ملتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ ہمارے ہر گھر میں ایک کہانی ہوتی ہے جنہیں روایات ، اقدار اور وقار کے ساتھ اصلاحی انداز میں سامنے لانا چاہئے تاکہ عوام کے دلوں میں تعمیری سوچ پروان چڑھے۔

mqavikhan1.jpg
سوال: غیر ملکی ڈراموں سے پاکستانی ڈراموں کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے؟
میں تو اس چیز کا قائل ہوں کہ باہر دیکھنے کے بجائے پہلے آپ اپنے آنگن کی اچھی طرح صفائی کر لیں، گھر سے گلی کارخ کریں اس کی دیکھ بھال کریں پھر سڑک کی صفائی ستھرائی بھی ہماری ذمہ داری ہے اس کے بعد آپ کسی اور جانب دیکھیں ابھی ہم اپنی دیوار سے آگے نکلے نہیں ہیں اپنے معیار کو مثالی بنایا نہیں ہے اور باہر کی ثقافتی یلغار کے آگے ڈھیر ہوگئے ہیںجو مناسب نہیںہے۔ فن اور فنکار کا رشتہ وطن اور اس کی ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ جس پر ہمیں فخر ہے۔ دوسروں کی نقل کرنے والے جلد ناکام ہو جائیں گے۔


سوال: ''اندھیرا اجالا'' کا شمار پاکستان کے مقبول ترین اور کلاسک کھیلوں میں ہوتا ہے اس میںکام کرنے کا فیصلہ آپ نے اپنے والد سے متاثر ہوکرکیا تھا؟
جی ہاں اور یہ یونیفارمز مجھے ویسے ہی بہت پسند ہیں، جب بھی آپ کسی پولیس آفیسر یا آرمی کے جوان سے ہاتھ ملائیں توآپ کو محسوس ہو گا کہ آپ نے کسی مضبوط ترین شخصیت سے ہاتھ ملایا ہے ، ان کے ہاتھ سے ہی ان کی محنت ، جدوجہد ، ان کے کام اور پیشے سے لگن کا پتہ چل جاتا ہے تو مجھے اللہ نے موقع دیا تو میں نے کوشش کی کہ اس کھیل کے ذریعے عوام کی تفریح کے ساتھ مثبت پیغامات دئیے جائیں اور بفضلِ اللہ بڑی کامیابی سے بھی ہمکنار ہوا، اس میں دکھائی جانے والی کہانیاں زیادہ تر سچی اور اصلی ہوتی تھیں پھر وہ بند اس لئے ہوا کہ ہمارے رائٹر بیمار ہوگئے تھے ساتھ میں وہ پی ایچ ڈی بھی کر رہے تھے لیکن ایسے ڈراموں کی ہمارے معاشرے کو اشد ضرورت ہے ، ان کو بند ہونا ہی نہیں چاہئے ۔اندھیرا اجالا کی کامیابی میں بنیادی کریڈٹ اسکرپٹ اور ڈائریکٹر کا ہے۔


سوال: آپ کے بچے کیا کر رہے ہیں ، انہوں نے ٹی وی یا فلم انڈسٹری کو کیرئیر کے طور پر کیوں نہیں اپنایا؟
میرے دو بیٹے(محمد عدنان قوی ، مہران قوی) اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں نے ابتدا میں ٹی وی پر کچھ کام کیا تھا جیسا اشفاق احمد کا کھیل تھا '' من چلے کا سودا'' ، لیکن میں نے محسوس کیا کہ بچوں کو پہلے اپنی تعلیم مکمل کرنی چاہئے چنانچہ ایک آئی ٹی کی طرف نکل گیا اور دوسرا ڈاکٹر بن گیا اس وقت دونوں کینیڈا میں مقیم ہیں ، دونوں بیٹیاں بھی شادی کے بعد بیرون ملک سیٹل ہیں میں نانا ، دادا بن چکا ہوں ، بچے مجھے ملنے آتے رہتے ہیں اور میں بھی اکثر ان کے پاس جاتا ہوں۔


سوال: شاعری سے لگاؤہے پسندیدہ شاعر کون ہے؟
جی بالکل مرزاغالب میرے پسندیدہ شاعرہیں۔اس کے علاوہ احمد فراز بھی مجھے پسند ہیں انکا تعلق ریڈیو پاکستان پشاور سے تھا وہ وہاں ڈیوٹی آفیسر تھے اور ان کے لکھے کھیل'' ساحل کی ریت'' میں کام بھی کیا تھا وہ مجھے بچپن سے بھی جانتے تھے بلکہ میں اسلام آباد کی ایک تقریب میںمدعو تھا وہاں میں ان کا شعر پڑھ رہا تھا کہ
''ہر ایک خواہش روتی رہتی ہے '' میںدوسرا مصرعہ بھول گیا مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ پیچھے کھڑے ہوئے ہیں ۔وہ پیچھے سے آئے مجھے گلے لگایا اور دوسرا مصرعہ خود پڑھا '' میرے اندر بارش ہوتی رہتی ہے''۔


سوال: موسیقی سے کتنالگاؤہے ، فیورٹ سنگر کون ہیں؟
مجھے سیمی کلاسیکل موسیقی سے لگاؤ ہے اور پرانے اساتذہ کو میں شوق سے سنتا ہوں، نصرت فتح علی خان ،فتح علی خان اور عصر حاضرکے گلوکاروں میں سے سجاد علی مجھے بہت پسند ہے اس کے گیتوں سے طبیعت خوش ہوجاتی ہے ۔


سوال: ہمارے ہاں فنکاروں کی سیکنڈ لائن کیوں نہیں بن پاتی اور ہماری فلم ڈرامے کے اثر سے باہر کیوں نہیں نکل رہی؟
اصل میں سیکنڈ لائن بنانے ہی نہیں دی جاتی ، یہاں پر اگر کسی کو مقام و مرتبہ ملتا ہے تو یہ بھی بہت مشکل سے ملتا ہے ، یہ شوبز فیلڈ ہی ایسی ہے ۔سینئرز بھی رہنمائی نہیں کرتے چنانچہ سٹارز تو چند ایک ہی بنتے ہیں باقی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی محنت رائیگاں چلی جاتی ہے ۔ فلم ڈرامے کے اثر سے رفتہ رفتہ نکلے گی ٹیکنالوجی کی ترقی نے پروڈکشن کا پورا نظام ہی بدل دیا ہے، اب نہ نیگیٹو رہا، نہ ڈویلپنگ ، پرنٹنگ کی مشینیں رہیں نہ پروجیکٹر والے پرانے سنیما رہے ، لوگ محنت کر رہے ہیں رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔


سوال : آپ کو کون کون سے اعزازار مل چکے ہیں ؟کوئی اور اعزاز حاصل کرنے کی تمنا باقی ہے؟
اعزاز تو مجھے سارے مل چکے ہیں ، ریڈیو،تھیٹر ، ٹی وی اور فلم ہر شعبے میں مجھے علیحدہ علیحدہ ایوارڈز دئیے گئے ہیں اور اب مجھے صرف ایک اعزاز چاہئے اور وہ ہے میرے مالک کی نظر کرم ، میری تمنا ہے کہ مالک کائنات مجھ سے راضی ہوجائیں۔


سوال: پاک فوج آج کل دہشت گردوں سے جنگ میں مصروف ہے ، ان کی قربانیوں کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
زندگی اور موت کا مالک تو رب کائنات ہے لیکن اگر غازی اور شہید کا مقام اور رتبہ پڑھ لیا جائے اور پڑھ کر سمجھ لیا جائے تو بلاشبہ ہر شخص غازی اور شہید بننے کو تیار ہوجائے اور ملک وقوم کے لئے اس سے بڑی خدمت یا قربانی ہو ہی نہیں سکتی کہ آپ اپنی سرزمین اور کروڑوں لوگوں کی حفاظت کے لئے بے لوث اپنی جان دے دیتے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کو دیکھتے ہی سلام پیش کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہماری سرحدوں کے علاوہ ہماری عزتوں ، اقدار اورمال و متاع کے محافظ بھی ہیں۔ یہ بہت عظیم لوگ ہیں۔ میں جب ان کو دیکھتا ہوں تو دیکھتا ہی رہ جاتا ہوں جذبات سے میری آنکھوں میںبے اختیار آنسو آجاتے ہیں۔
سرحدوں پر جو ہمارے بہادر اور غیور فرزندہماری حفاظت کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیںدر حقیقت وہ ہمارے سر کا تاج اور فخر ہیں ہر روز ہماری دعاؤ ں میں ان کا خصوصی ذکر رہتا ہے، ہمارے جذبات ، احساسات اور سب کچھ ان عظیم لوگوں کے لئے ہیں، ہماری سرحدوں ، عزتوں ، سبز ہلالی پرچم اور ملک و قوم کے محافظ سے بڑا شخص اس معاشرے میں کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ خاکی وردی زیب تن کئے یہ فرزند قوم کا قابل فخر سرمایہ ہیں اور جو شہادت کا رتبہ پالے ان کے لئے تو دین و دنیااور آخرت میں جنت کا مقام ہے سبحان اللہ ، سبحان اللہ اسی لئے میں نے کہا ہے کہ جو سمجھ جائے تووہ بھی اس مقام و مرتبے کو پانے کی خواہش رکھے۔ان بہادر فرزندوں کی عزت و تکریم کے لئے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں اور ساری قوم کے یہی جذبات ہیں۔ میں نے جوانی میں فوجی بھائیوں کے لئے سرحدوں پر جاکر بہت سے پروگرام کئے ہیں آج بھی اگر مجھے بلایا جائے تو میں ساری مصروفیت ترک کرکے فوراً پہنچ جاؤں گا، میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔ یہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔
میں نے ایک فلم'' پاسبان '' بنائی تھی جس میں دو شعر پاک فوج کی نذر کئے تھے۔
قسم ہے شہیدوں کے لہو کی
قسم زندگی کی، قسم آبرو کی
گھر اپنا کسی کو جلانے نہ دیں گے
وطن پر کوئی آنچ آنے نہ دیں گے
پاکستان زندہ باد ، افواج پاکستان پائندہ باد۔


سوال: رواں برس پاکستانی قوم نے اپنی آزادی کی سترہویں سالگرہ کا جشن منایا آپ بتائے کہ ہم اپنے ملک کے لئے کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرنا چاہئے؟
میرا خیال ہے کہ ہر باشعور آدمی کوگھر میں اپنی یہ عادت بنا لینی چاہئے کہ وہ ہر روز صبح اٹھ کر اپنے بچوں کو آزاد وطن کی اہمیت سے روشناس کروائے اس کو بتائے کہ کس طرح اس کے آباء واجداد نے پاک سرزمین کو حاصل کرنے کے لئے بے انتہا قربانیاں دیںاور کسی ایک موضوع پر چار لائنوں کا درس بچے کو لازمی دیا کرے۔ جیساکہ پاکستان کو حاصل کرنے میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار ، علامہ اقبال کا خواب آزادی وغیرہ اگر سارے لوگ ایسا سوچ لیں کہ ہم نے ایسا کرنا ہے تو اس قوم میں جذبہ حب الوطنی ، آزاد سرزمین کی اہمیت اور ترقی کی لگن اتنی ہوجائے گی کہ جب وہ شعور کی منزل تک پہنچے گا تو اس کو پاک وطن کی زمین کا ایک ایک انچ اپنی جان سے عزیز تر ہوگا، یہ مجھ سمیت تمام قوم بالخصوص والدین کا فرض ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داری لینا پڑے گی۔ صبح ناشتے کے وقت یہ کام ہونا چاہئے اور ٹی وی پر بھی حب الوطنی پر مبنی پروگرام آنے چاہئیں ۔تربیت کے حامل مختصر پروگراموں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا چاہئے جیسا پہلے پی ٹی وی پر ہوا کرتا تھا۔ میں آپ کو اپنے ایک پروگرام کا بتاتا ہوںجس کا دورانیہ صرف ایک منٹ ہوتا تھا جس میں میں بچوں کو نصیحت کیا کرتا تھا جیسے میں باغ کی سیر کر رہا ہوتا ہوں تو کوئی بچہ میرے پاس سے گزرتا ہے تو میں اس کو روک کر کہتا ہوں کہ بیٹا بڑوں کو سلام کرکے گزرا کرو۔السلام علیکم کہہ کرمیں آگے بڑھ جاتا ہوں اوروہ بچہ مجھے دیکھتا رہتا ہے اس کا اثراتنا ہوا تھا کہ کئی سال کے بعد میں ماڈل ٹاؤن پارک میں جا رہا تھا کہ میرے پاس سے ایک صاحب گزرے تو انہوںنے کہا السلام علیکم ، میں نے اسے دیکھا تو بولا سلام کرلیا کرتے ہیںقوی صاحب ، فوراً میرے ذہن میں اس بچے کی تصویر آئی تو میں نے آگے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا تو جوبات اچھی ہو دل پر اثر کرتی ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

ڈپریشن جو کہ پوری دنیا میں 'مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے' کسی بھی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، اسے ہم عرفِ عام میں اداسی اور مایوسی بھی کہتے ہیں۔ ڈپریشن ایک پیچیدہ دماغی بیماری ہے جو انسان کو حیاتیاتی ، نفسیاتی اور سماجی طور پر متاثر کرتی ہے ۔ جب مایوسی اور اداسی کا غلبہ بہت دنوں تک رہے اور اس کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روزمرہ کے معمولات اس سے متاثر ہونے لگیں اور متاثرہ شخص ایک خول میں بند ہو کررہ جائے تو اسے ڈپریشن کا نام دیا جاتا ہے ۔
بعض حالتوں میں ڈپریشن کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی ہے مگر مریض پر اس کے دورے اتنے شدید ہوتے ہیں کہ مستقل مایوسی اور اداسی کی کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ان کو علاج اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ۔


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں300 بلین سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں سالانہ تقریباََ8 لاکھ افراد ذہنی دبائو کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں جبکہ تقریباً 20 فیصد لوگ ڈپریشن کے باعث دیگر نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً34 فیصد آبادی ذہنی دبائو یا ڈپریشن کا شکار ہے ۔
ڈپریشن کی خاص علامات میں مستقل پریشانی، سستی، کمزوری، سردرد، تھکاوٹ، بے چینی اور نااُمیدی شامل ہیں۔ ڈپریشن کی بیماری کا علاج ہر فرد کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے ۔ بعض لوگوں کو اس مایوسی کی حالت میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو اپنے پیاروں کو اپنے جذبات اور احساسات سنا کراور ان سے مل کر طبیعت میں بہتری محسوس ہوتی ہے جبکہ کچھ افراد اپنے جذبات اور احساسات اپنے علاوہ کسی دوسرے فرد سے بیان نہیں کر سکتے اور اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر اس ڈپریشن کے شکنجے میں دھنستے چلے جاتے ہیں ۔

dipressionkmerzpe.jpg
ڈپریشن کی حالت میں عام طور پر سر میں درد اور بے چینی شروع ہو جاتی ہے ، معدے کی کارکردگی بھی بُری طرح متاثر ہوتی ہے ۔ وزن میں اچانک کمی آنے لگتی ہے اور مریض تیزی سے بڑھاپے کی طرف بڑھنے لگتا ہے ۔نیند کی کمی کے باعث مزاج میں چڑچڑا پن او رسستی پیدا ہونے لگتی ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں کمی بھی ڈپریشن کا باعث بنتی ہے ۔وزن میں کمی سے کچھ لوگ خوش نہیں ہوتے بلکہ وہ خود کو اداس اور سست محسوس کرنے لگتے ہیں اور کھانے سے رغبت ختم ہو جاتی ہے جس سے ان کا بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے اور پھر اس سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وزن میں کمی سے ڈپریشن اور مایوسی میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں ۔


ڈپریشن کے شکار افراد کی بھوک بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ ڈپریشن خوراک کی خواہش کو کنڑول کرنے والے ہارمونز پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ اس حالت میں بعض افراد ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں جبکہ کچھ افراد اپنی عام خوراک سے بھی کم کھاتے ہیں۔جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں اضافہ یا کمی ہونے لگتی ہے۔ اس کے علا وہ ڈپریشن کے مریضوں میں بہت زیادہ سونا یا بے خوابی، بہت جلد نیند کا ختم ہو جا نا بھی عام ہوتا ہے۔ایک طبی تحقیق کے مطابق مایوسی کے شکار افراد راتوں کو جاگتے رہتے ہیں اور وہ اپنے مسائل کو سوچتے رہتے ہیں۔


ذہنی دبائو یاڈپریشن کے باعث کچھ ہارمونز متاثرہ فرد کی جلد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ ڈپریشن کے دوران ان ہارمونز کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کے باعث اکثر مریضوں کو کیل، مہاسوں اور خارش وغیرہ شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سینے میں جلن، قبض، ہیضہ اور قے وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معدہ انسانی مزاج کی کیفیات کے مطابق ردعمل ظاہر کر تا ہے۔ مستقل اداسی بھی ڈپریشن کی ایک اہم علامت ہے اور ہر وقت اداس رہنے والے افراد میں خودکشی کے خیالات بھی ہر وقت آتے رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر اپنی جان لینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔


ڈپریشن درحقیقت ایک ذاتی نوعیت کا مرض ہے جس کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں وجوہات اور پھر علاج قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ڈپریشن اور مایوسی کی وجہ موروثی عوامل ہوتے ہیں یعنی موروثی طور پر جسمانی لحاظ سے کمزور اور نازک افراد نسبتاً زیادہ جلد قنوطیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص کے والدین کو ڈپریشن کا مرض ہے تو اس شخص میں اس مرض کی منتقلی کے امکانات دوسرے افراد کے مقابلے میں تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں کے گھروں اوردفتروں کی پریشانیاں بھی انسان کو ڈپریشن کا مریض بنادیتی ہیں اور پھر وہ ہائی بلڈپریشر، دل اور گردے کی مختلف بیماریاں اور کینسر جیسے عوارض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق ڈپریشن بعض اوقات سرطان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مسلسل ذہنی دبائو کے شکار افراد میں ٹیومرکا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور پھر کوئی بھی ذہنی صدمہ یا جسمانی نقصان سرطان کا باعث بن سکتا ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہری سبزیاں مثلاً پالک، مٹر، سلاد کے پتے کھانے سے ڈپریشن کے مرض میں پچاس فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ کھانا ایک اعتدال میں رہ کر کھائیں اور ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ ورزش اور جسمانی سرگرمی ضرور رکھنی چاہئے۔


ڈپریشن کی حالت میں متوازن غذا کھانا بے حد ضروری ہے۔ بازار کے چکنائی سے بھرپور، غیر معیاری کھانوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور کھانے میں تازہ پھلوں، سبزیوں کی سلاد اور فریش جوسز کا استعمال لازمی کرنا چاہئے اور کیفین اور الکوحل سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے ۔ ایک تحقیق کے مطابق ہری سبزیاں مثلاً پالک، مٹر، سلاد کے پتے کھانے سے ڈپریشن کے مرض میں پچاس فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ کھانا ایک اعتدال میں رہ کر کھائیں اور ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ ورزش اور جسمانی سرگرمی ضرور رکھنی چاہئے۔ روزانہ ورزش سے انسان کی جسمانی صحت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کا ذہن بھی فریش رہتا ہے۔ اگر مریض کو معلوم ہو کہ اسے کس وجہ سے ڈپریشن کا مسئلہ ہو رہا ہے تو اس وجہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور مایوسی سے دور رہنا چاہئے کیونکہ اگر مریض چاہے تو اپنے آپ کو اس ڈپریشن کی حالت سے بآسانی نکال سکتا ہے ۔ ڈپریشن کا علاج سائیکوتھراپی اور اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات
(Antidepressant drugs)
کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے۔ باتوں کے ذریعے (یعنی سائیکو تھراپی) علاج میں ڈپریشن کے مریضوں کو اپنے احساسات اور دل کی باتیں کسی اپنے دوست یا بااعتماد فرد کے ساتھ ڈسکس کرنے سے ڈپریشن میں کمی ہو سکتی ہے، جبکہ بعض حالات میں ماہر نفسیات سے مشورہ کرنا اور اس سے اپنے دل کی بات شیئر کرنا زیادہ آسان اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ سائیکو تھراپی کے ذریعے علاج میں وقت لگتا ہے اور بہت زیادہ شدید ڈپریشن کی کیفیت میں ڈاکٹر مریض کو مایوسی ختم کرنے والی ادویات بھی تجویز کرتے ہیں۔جس سے آہستہ آہستہ مریض خود میں بہتری محسوس کرنے لگتا ہے ، اس کی اداسی میں کمی آنے لگتی ہے اور زندگی جینے کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اور وہ اپنے حالات کا مقابلہ کر نے کی صلاحیت میں بہتری محسوس کر تا ہے ۔ ان ڈپریشن کش ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی ہوتے ہیں مگر ان میں اتنی شدت نہیں ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایس ایس آر آئی اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات کے استعمال سے ابتداء میں کچھ مریضوں کو قے اور بے چینی کی سی کیفیت شروع ہو جاتی ہے جبکہ ٹرائی سائیکلسٹ اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات استعمال کرنے والے مریضوں میں دوائی کے شروع دنوں میں منہ کی خشکی اور قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق ڈپریشن والی ادویات میں نیند لانے والے عنصر موجود ہوتے ہیں اور ان کو رات سونے سے پہلے کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔لہٰذا یہ دوائیں استعمال کرنے کے بعد ڈرائیونگ کرنے یا کوئی بھاری کام کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور علاج شروع ہونے کے بعد گاہے بگاہے اپنے ڈاکٹر کو معائنہ کرواتے رہنا چاہئے تاکہ وہ دوائیوں کے اثر کو دیکھتے ہوئے مرض کا اندازہ لگا سکے کہ اس دوا سے مریض کو افاقہ ہو رہا ہے یا اس کے مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


ڈپریشن کی حالت میں مریض کو ماحول اور حالات تبدیل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے کہ ہماری ہر اداسی اور غم کا علاج صرف اس کائنات کے مالک کے پاس ہے ۔ جو اپنے بندوں سے ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتاہے ۔ ڈپریشن جیسے موذی مرض سے بچنے کے لئے اپنی روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں لانے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ نیند کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ رات کو جلدی سونے اور صبح سویرے اٹھنے کی عادت اپنانی چاہئے ۔ اور نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کو معمول بنالیں ۔ اس کے ساتھ صبح کی سیر اور ہلکی پھلکی ورزش کو بھی اپنا معمول بنا لینا چاہئے اور اپنی اجتماعی صحت کابھی خیال رکھیں۔ لوگوں کی مدد کریں ۔ مستحق لوگوں کی مدد کرنے سے جو خوشی مل سکتی ہے، وہ دنیا کے کسی بھی خزانے سے زیادہ ہے ۔ اپنے آپ کو مختلف تفریحی سرگرمیوں میں شامل کریں کیونکہ ڈپریشن کا عفر یت زیادہ تر فارغ اوقات اور خالی دماغ پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ اس سے بچنے کے لئے اپنے دماغ کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں ۔ مختلف تخلیقی سرگرمیوں مثلاً تحریر یا تقریر کی عادت، پینٹنگ، کوکنگ، فلاور میکنگ، سوشل ورکنگ، باغبانی، درس وتدریس سے آہستہ آہستہ مریض خود کو حالت سکون اور اطمینان میں محسوس کرنے لگتا ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو خاندان کے ساتھ رہتے ہیں ان کی ذہنی اور جسمانی صحت ان لوگوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہوتی ہے جو کہ اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں ۔ایسے افراد جو ڈپریشن سے پہلے مایوسی اور اداسی کا شکار رہتے ہیں، ان میں چونکہ ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ، ان کے گھروالوں کو چاہئے کہ ایسے افراد کو اکیلا نہ چھوڑیں۔ اُن سے ان کی مشکلات اورپریشانیوں کے بارے میں بات کریں۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن کے شکار افراد کے ساتھ شفقت اور محبت کا برتائو کیا جانا چاہئے اور ان کے ساتھ سختی کرنے یا ان کی حالت کو نظر انداز کرنے سے ان کے مرض کو بڑھاوا ملتا ہے۔ ایسے مریضوں کو ہمدردی اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کی ایک ریسرچ کے مطابق ڈپریشن کے مریضوں کو گلے لگانے سے،ان سے ہمدردی کرنے سے ڈپریشن اور دماغی تنائو میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔مریض کو تسلی و تشفی دینی چاہئے اور ماحول اور حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کر نی چاہئے اور مرض کی شدت میں اضافہ ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ کیونکہ خدا نخواستہ اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

شہباز علی(لیڈنگ میرین)شہید کی داستانِ شجاعت ،لیفٹیننٹ عاصمہ نازکے قلم سے

وطن کے وہ سپاہی جو اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھائے، سینہ تانے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں تاریخ اُن کے نام کبھی نہیں بھولتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لہو میں اسی جذبے کو پروان چڑھانے کی خاطر ان جانبازوں کے نام عقیدت اور فخر سے دہراتی ہے کیونکہ یہ نام صفحہ ٔ قرطاس پر بھی اعزاز بن کرجگمگاتے ہیں۔


شہباز علی لیڈنگ میرین بھی پاکستان کی تاریخ کے ان ہی کرداروں میں سے ایک ہے جو وطن کی غیرت و ناموس کی خاطر جان قربان کر کے اپنے آباء کی تاریخ کو ہر بار نئے رنگ سے دُہراتے ہیں۔دسمبر2015 میں بسول ڈیم اورماڑہ کی سائٹ کا سروے کرنے والے صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی سکیورٹی کا فرض ادا کرنے کے لئے جس ٹیم کا انتخاب کیا گیا اس میں شہباز علی بھی شامل تھا۔شہبازایک ایسا فرض شناس اور پُر جوش سپاہی تھا جو ہمیشہ اپنے ساتھیوں میں نمایاں نظر آتا ،جس کی اپنے فرض سے لگن جداگانہ اور بے نظیر تھی۔ 30دسمبر 2015 کو سائٹ سروے کے لئے روانہ ہونے والی اس سکیورٹی ٹیم میں بھی شہباز علی اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں سب سے الگ اورممتاز دکھائی دیتا تھا، وہ فرض کی ادائیگی کے دوران معمولی سے معمولی چیزوں اور امکانات کوبھی نظر انداز کرنے کا قائل نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ ڈیوٹی کے لئے نکلتے ہوئے وہ اپنے کام سے متعلق ہر قسم کی تفصیلات حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ دسمبر2015 کی اس صبح بھی جب اسے سکیورٹی ٹیم کا انچارج مقرر کیا گیا تو نہ صرف یہ کہ اس نے اپنے روٹ کی مکمل تفصیلات حاصل کیں بلکہ راستے میں پیش آنے والی تمام ممکنہ صورتحال پر بھی غور کیا۔ شہر میں امن و امان کی صورتحال اس امر کی متقاضی تھی کہ ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما ہونے کی حکمتِ عملی تیار رکھی جائے یہی وجہ ہے کہ ٹیم کے دیگر ارکان کی طرح شہباز علی بھی مستعد تھا۔

 

joamanwofoladse.jpgاورماڑہ سے40 کلومیٹر کے فاصلے پر جب سروے ٹیم کوسٹل ہائی وے سے کچے راستے پر اتری تو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہباز علی نے اپنی گاڑی کو سب سے آگے رکھا اورکارواں میں شامل تمام گاڑیوں کو ایک مخصوص فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایات دیتے ہوئے آگے بڑھا۔اس حکمت عملی کا مقصدیہ تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں کم سے کم نقصان ہو اور کاروان میں شامل تمام افراد اور گاڑیاں محفوظ رہ سکیں۔ بسول ڈیم سائٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ وہی ہوا جس کا خدشہ شہباز علی کے ذہن میں سفر کے آغاز سے موجود تھا، چند شر پسند عناصر نے سروے ٹیم پر حملہ کر دیا اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔شہباز علی نے فوراً اپنی گاڑی کو اس طرح پوزیشن پر کیا کہ وہ نہ صرف شر پسندوں کو بھرپور جواب دے سکے بلکہ سروے ٹیم کو محفوظ رکھتے ہوئے سکیورٹی ٹیم میں شامل اپنے دیگر ساتھیوں کا تحفظ بھی یقینی بنا سکے۔ اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے شہباز علی نے شر پسندوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا اور انہیں اپنی جانب ہی متوجہ رکھا تاکہ کاروان میں شامل سرکاری اہلکار اور سکیورٹی ٹیم کے باقی ارکان متبادل راستوں سے بحفاظت نکل سکیں۔فائرنگ کے تبادلے کے دوران شہباز علی متعدد گولیوں کا شکار بناتاہم شدید زخمی ہونے کے باوجود اس کے عزم اور حوصلے میں کمی نہ آئی اور وہ مسلسل دیوار آہن بن کرشرپسندوں کے سامنے سینہ سپر رہا۔زخموں سے چُور شہباز علی کے جسم کے کئی حصوں سے خون بہہ رہا تھا مگر وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔اپنے ساتھیوں کے تحفظ کا جو بِیڑہ اس نے اٹھایا تھا۔ وہ اسے پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کے لئے پُر عزم تھا۔شہباز علی نے شرپسندوں کو اس وقت تک اپنی جانب متوجہ رکھا جب تک کاروان میں شامل دیگر تمام گاڑیاں محفوظ راستے پرگامزن نہ ہو گئیں۔ دہشت گردوںکو جونہی اپنی ناکامی کا ادراک ہوا انہوں نے دوسری گاڑیوں کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہا مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ شہباز علی کی جرأ ت اور بہادری نے اس کے دیگر تمام ساتھیوں اور سروے ٹیم کو بحفاظت خطرے سے دور کر دیاتھا اور اس طرح لیڈنگ میرین شہباز علی نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کے تحفظ کا عہد وفا کر دکھایا۔


19برس تک اپنے سینے کو حرمت وطن کا آہنی حصار ثابت کرنے والا شہباز علی بردبار،خاموش طبع مگر خوش اخلاق ساتھی اور اپنے کام کو اپنی ذات پر ترجیح دینے والا ایک ایسا جوان تھا جس کی زیادہ تر گفتگو کا محور افواج پاکستان کی جانب سے ملک کے تحفظ کے لئے دی جانے والی قربانیاں اور فرض شناسی کی عظیم داستانیں رقم کرنے والے وطن کے سپاہی رہتے تھے۔کرِیکس کے دشوار گزار علاقوں میں دفاع وطن کی ذمہ داری نبھانے کے دوران اس کے ساتھ وقت گزارنے والے ایف سی پی او محمد ملوک کے مطابق ایک جرأت مند سپاہی کی تمام خصوصیات کا حامل ہونے کے علاوہ شہباز علی اپنی خوش لباسی کے سبب بھی جانا جاتا تھا۔ اپنے گھر اور دوستوں سے کوسوں دور کریکس کی دلدلی زمینوں پربھی اوقات کار کے بعد وہ ہمیشہ اچھا لباس زیب تن کئے نظر آتا اورساتھیوں کے استفسار پر کہتا کہ انسان کے باطن کے ساتھ ساتھ اس کا ظاہر بھی بے عیب نظر آنا چاہئے۔


اپنے ظاہر و باطن کو بے عیب بنانے کی کوشش کرنے والا یہ جوان اپنے تمام فرائض بطریقِ احسن نبھاتا ہوا دنیا ئے فانی سے رخصت ہوا۔ اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کا یہ عمل شہباز علی کے عزم و ہمت کی وہ داستان سناتا ہے جو شاید دنیا کے کسی بھی داستان گو کے الفاظ کی محتاج نہیں۔ شہباز علی نے وراثت میں حوصلے ، جوانمردی اور اولوالعزمی کی وہ مثال چھوڑی ہے جو نہ صرف شہید کی اولاد کے سینے پر تمغہ بن کر سجے گی بلکہ پاک میرینز میں آنے والے ہر جوان اور افسر کے لئے بھی قابل تقلید رہے گی۔

میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا

abdul_hammed.jpg

میجر (ریٹائرڈ) عبدالحمید بٹ1973میں جب دشمن کی قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ہم وطنوں کے نام یہ اشعار لکھے جو نذرِ قارئین ہلال ہیں۔


میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا
خموشیِٔ دل صدا آرزو کی گہرائی
درِ قفس شبِ ہجراں سکوتِ تنہائی
ہر ایک کنج قفس میں تلاش کرتی ہے
مری نظر ترے رخسار و لب کی رعنائی
مہک اُٹھا ہے تری یاد سے قفس اے دوست
ہوائے صبحِ وطن جب بھی اس طرف آئی
میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا
سلام کہتے ہیں تم کو تمہارے شیدائی
ہزار بار مبارک ہو دوستوں کو حمید
ہمارے بعد وطن میں جو کوئی عید آئی

*****

 
08
November

تحریر: یاسر پیرزادہ

ایک زمانہ تھا جب گلی محلوں میں جا بجا ویڈیو کیسٹس کی دکانیں ہوا کرتی تھیں، جس نوجوان کو نوکری نہ ملتی یا اس کی دبئی جانے کی کوشش بارآور نہ ہوتی، وہ ویڈیو کیسٹسکی دکا ن کھول لیتا اور سوچتا کہ اب یہیں اس کی ''دبئی'' لگ جائے گی۔انہی دکانوں سے وی سی آر بھی کرائے پر مل جایا کرتا ،ٹی وی بمع وی سی آر اور پانچ من پسند فلموںکا مکمل پیکج فقط سو روپے میں مل جاتا ۔یار لوگ رات دس بجے سے صبح دس بجے تک وہ پانچ فلمیںیوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے جیسے ایف ایس سی کا پرچہ انہی فلموں میں سے بننا ہو۔ویڈیو گیمز کی بھرمار بھی اسی زمانے میں ہوئی۔ ان مشینوں میں ایک روپے کا ٹوکن ڈالا جاتا تھا ،بعض اوقات یہ ٹوکن ایک ایک گھنٹہ چل جاتا کیونکہ مجھ جیسے بچوں نے ان گیمز کو ہرانے کے ایسے ایسے فارمولے ایجاد کر رکھے تھے کہ با لآخر گیم ختم ہو جاتی اورہاتھ باندھ کر کہتی کہ مائی باپ! اب میری جان چھوڑیں اور کسی اور کو مجھ پر طبع آزمائی کا موقع دیں۔ان ویڈیو گیمز کے خلاف بعض اخبارات میں خاصا زہریلا پروپیگنڈا بھی شائع کیا جاتا اور نام نہاد تحقیق سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی کہ ان ویڈیو گیمز کا زیادہ استعمال کرنے والے بچے کند ذہن اور غبی ہوتے ہیں اوران کے سیکھنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے (ا ب خود کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد وہ باتیںٹھیک ہی تھیں)۔

 


اس زمانے کا سرکاری ٹی وی سہ پہر تین بجے ''بصیرت'' سے شروع ہوتا اوررات بارہ بجے ''فرمان الٰہی '' پر ختم ہوتا ۔ان دنوں اس سرکاری ٹی وی چینل کا ہرپروگرام ہی سپر ہٹ ہواکرتا بالکل ایسے جیسے کسی میرا تھن میں دوڑنے والا واحد شخص اوّل آجائے۔کارٹون اورالف لیلہ تو خیر بچوں میں مقبول تھے ،مگر پی ٹی وی کا اصل اثاثہ پرائم ٹائم کے دوران چلنے والے ڈرامے تھے جنہیں دیکھنے کے لئے سڑکیں ویران ہو جایا کرتی تھیں۔ان ڈراموں کے دوران اشتہارات چلوانے کے لئے کمپنیاں منہ مانگے دام دینے کو تیار ہوتیں کیونکہ ان کی مصنوعات کی تشہیر کے لئے دوسرا کوئی چینل ہی نہیں تھا۔راگ رنگ، خبرنامہ،نیلام گھر اور 1985کی غیر جماعتی اسمبلی کی کارروائی بھی پی ٹی وی کے ''شاہکار ''پروگراموں میں شامل تھے۔


اس زمانے میں سال بھر میں ڈیڑھ سو کے قریب فلمیں ریلیز ہو ا کرتی تھیں، لاہور اس فلم انڈسٹری کا مرکز تھا ،یہاں کے سٹوڈیوزکی رونقیں اپنے جوبن پر تھیں۔ یہ سلطان راہی کے عروج کا بھی دور تھاتاہم مجھے کویتا ،غلام محی الدین ،شان اورنیلی بطور اداکار پسند تھے۔نئی فلم جمعے کو ریلیز ہوتی اور اس کا پہلا شو دیکھنا ایک سعادت سمجھی جاتی ۔میں نے اس زمانے کی تقریباً ہر نئی فلم کا پہلا شو شبستان، میٹرو پول ،رتن ،گلستان ،محفل ،صنوبر اور پرنس جیسے تاریخی سنیما گھروں میں دیکھا ہے۔ان میں سے اب غالباً شبستان ، میٹروپول ا ور پرنس ہی بچے ہیں، باقی ٹھیکیداروں کو پیارے ہو چکے ہیں۔


اس زمانے کی بہترین تفریح کسی کزن کی شادی ہوا کرتی تھی۔ شادی سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے تمام رشتہ دار شادی والے گھر میں جمع ہو جاتے، رات گئے تک ڈھولکی بجائی جاتی ،صبح صادق تک گپ شپ چلتی، چھیڑ چھاڑ ہوتی، معاشقے پروا ن چڑھتے ،ایک آدھ نیا رشتہ بھی طے پا جاتا،اگلے دن صبح حلوہ پوریوں کا ناشتہ کیا جاتا، غرض شادی کے دن تک ایک پر لطف گہما گہمی رہتی۔ بارات کے موقع پر جب دلہن کو گھر لایا جاتا تو پھر سب کزن مل کر کسی فائیو سٹار ہوٹل میں آئس کریم کھانے جاتے ،واپس آ کر پھر محفل جمتی جس کا اختتام فجر کی اذان پر ہوتا۔اس زمانے کی شادی کی فلمیں بنانے کا بھی ایک مخصوص انداز ہوتا، دلہا دلہن کی تصویروں سے جب فلم شروع ہوتی تو عموماً بیک گرائونڈ میں ایک ہی گانا چلایا جاتا ''جدھر دیکھوں تیری تصویر نظر آتی ہے …''۔ولیمے کے بعد بھی قریبی رشتہ دار ایک آدھ دن تک شادی والے گھر میں رہتے ۔کچھ ایسا ہی ماحول مرگ کے موقع پر بھی ہوتا ۔قریبی رشتہ دار دسویں تک سوگ والے گھر میں رہتے اور پھر چالیسویں تک ہر جمعرات کو بھی اکٹھے ہوتے ۔


اس زمانے میں محبت کرنا بڑے جوکھم کا کام تھا،نہ موبائل فون نہ ایس ایم ایس، اوربیٹھے ہیں تصور جاناں کئے ہوئے…اور جاناں گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی تھی۔گھنٹوں گرمیوں کی دوپہر میں اس کے گھر کے باہر ٹہلتے رہو کہ شائد چھت پر کپڑے سکھانے ہی آ جائے مگر آخر میں اس کا کوئی مسٹنڈا بھائی موٹر سائیکل پر نکلتا اور یوں گھورتاہوا جاتا کہ روح فنا ہو جاتی ۔جتیندر ،متھن چکر وتی اور امیتابھ بچن چونکہ اس زمانے کا کریز تھے، اس لئے رومانس کے لئے بھی انہی ہیروز کی فلموں کے گانے کام آتے ،''دھوپ میں نکلا نہ کرو روپ کی رانی ''،''نینوں میں سپنا،سپنوں میں سجنا''،''اکھیوں ہی اکھیوںمیں تیری میری بات چلی''… اس زمانے میں نوجوانوں کے لبوں پرتھے۔
یہ 1980کی دہائی تھی ،یہ وہ زمانہ تھا جب ملک میں مارشل لا تھا ،اور اس وقت کے حکمران نے چونکہ ''اسلامی '' نظام نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا اس لئے کسی ٹی وی نیوز کاسٹر کو بغیر دوپٹے کے خبریں پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ مبادا کوئی غیرشرعی خبر منہ سے نکل جائے ۔حتی کہ ڈراموں میں بھی کسی اداکارہ کے سر سے دوپٹہ سرک جاتا تو سٹیشن منیجر کی یوں جواب طلبی کی جاتی گویا اس غریب نے اداکارہ کے سر سے دوپٹہ کھینچا ہو ۔میں ناسٹلجیا کا شکار ہوں اور نہ ہی میرا ارادہ اس دور کی سنہری یادوں کو گلیمرائز کر کے پیش کرنے کا ہے ۔مجھے اس بات کا ماتم کرنے کا بھی کوئی شوق نہیں کہ اس زمانے میں شادی اور مرگ کے موقع پر دوست رشتہ دار اکٹھے ہو کر ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شرکت کرتے تھے اور آج کل کے دور میں یہ مفقود ہو چکا ہے۔اس زمانے کی فلمیں ،گانے ،ڈرامے اتنے ہی اچھے اور برے تھے جتنے آج کل ہیں ۔مجھے اس فقرے سے ہی سخت چڑ ہے کہ ''ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوا کرتا تھا ''یا ''ہمارے زمانے کی اقدار آج سے بہتر تھیں ''۔ہر زمانے کا اپنا ایک نشہ اور رومانس ہوتا ہے اور رومانس چونکہ جوانی سے جڑا ہوتا ہے اسی لئے ہمیں رہ رہ کر اپنی جوانی کا زمانہ یاد آتا ہے اور اس کے ساتھ وابستہ ہر چیز ہمیں انمول لگتی ہے ۔


آج کا دور غالباً انسانی تاریخ کا انتہائی حیرت انگیز دور ہے ،اس دور کی اپنی اقدار ہیں اور اپنے ضابطے۔اس دور کا لائف سٹائل ،آسودگی کا معیار ،محبت کے اصول ،خوشی کا پیمانہ ،روایات کی پاسداری ،سب کچھ ہی نرالا ہے ۔آج کے دور کا نوجوان نہ صرف سوال کرتا ہے بلکہ اس کا تسلی بخش جواب بھی چاہتا ہے ،گھسے پٹے جوابات اور طفل تسلیوں سے اسے مطمئن نہیں کیا جا سکتا ۔یہ دور فرسودہ نظریات کو چیلنج کرنے کا دور ہے ،جس تیزی سے اس دور میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان کا ادراک شائد ہم میں سے کسی کو بھی نہیں ہو پا رہا ،یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے ماحو ل کو دیکھ کر کڑھتے ہیں ،سماجی اقدار کی پامالی پر دل گرفتہ رہتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ نام نہاد روایات کا احترام نہ کرنے والوں کو اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہئے ۔جو لوگ اب بھی تاریخ کے اس تیز ترین دور کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں گے ،یہ دور انہیں بے رحمی سے روندتا ہوا آگے نکل جائے گا اور وہ اسی بات پر ماتم کرتے رہ جائیںگے کہ ٹی وی پر فحاشی بہت بڑھ گئی ہے لہٰذا نیوز کاسٹر کو دوپٹہ اوڑھ کر خبریں پڑھنی چاہئیں۔دس برس بعد ہم ان میں سے کسی ایک بھی مسئلے پر بات نہیں کررہے ہوں گے جن مسائل کو آج ہم نے زندگی موت کا مسئلہ بنایا ہوا ہے ،صرف دس برس اور انتظار کرلیں۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی

شاعرِمشرق،حکیم الامت،مفکرِاسلام اور مصوّرِپاکستان علاّمہ محمد اقبال کے افکارپوری نسلِ انسانی کے لئے عموماََ،امت مسلمہ کے خصوصاََاور امت مسلمہ کے نوجوانوں کے لئے مزید خصوصیت کے ساتھ علم و دانش کا مخزن ہیں۔ان کا پیغام امن،ترقی ،خوشحالی،محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے۔ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ، سب سے زیادہ وابستہ تھیں۔وہ سمجھتے تھے کہ نوجوان نسل قوم کا مستقبل ہے،اگر یہ نسل تعلیم یافتہ،باصلاحیت ،مہذب اور روشن دماغ ہوگی توقوم کا مستقبل تابناک ہوگابصورتِ دیگر قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی۔گویا قوم کا مستقبل نسلِ نو کے ساتھ وابستہ ہے۔اس لئے وہ چاہتے تھے کہ یہ نسل آگے بڑھنے کے لئے دین و دنیا کے تمام علوم سے بہرہ مند ہو۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے آفاق تک رسائی حاصل کرے اور جو کام اس قوم کے بزرگوں کے ہاتھوں پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچے وہ اس قوم کے نوجوانوں کے ہاتھوں انجام پذیر ہوں۔جس طرح اقبال خود قوم کے نوجوانوں کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے ان کی آرزو تھی کہ اسی طرح نوجوانوں کے اندر بھی احساس اور قوم کا درد پیدا ہو۔اقبال کے دل سے ہمیشہ اس قسم کی دعائیں نکلتی تھیں:
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق میری نظر بخش دے
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
جہاں وہ جوانوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ انہی جیسے فکر واحساس کو دل و دماغ میں جگہ دیں گے وہاں وہ آنے والے حالات کی پیش بینی کرتے ہوئے ان علوم وفنون کے حصول اور قوم کے لئے ان کے استفادے کی صورت پیدا کریں گے جو بزرگوں کے دور میں سامنے نہیں آسکے۔اقبال چونکہ قوم کے سچے درد مندتھے اورحقیقی تڑپ رکھنے والے مفکر تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اس قوم کے نوجوانوں میں بھی یہی شعور اور احساس و فکر پیدا ہو۔ایک اور مقام پر دعائیہ الفاظ دیکھیے:
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال وپر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
اقبال نے مسلم نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی ہے۔وہ چاہتے تھے کہ جو خصوصیات اللہ نے شاہین میں پیدا کی ہیں وہ نوجوانوں میں بھی پیدا ہو جائیں۔شاہین بلند پرواز ہے عام پرندوں کی طرح نیچی پرواز اس کے شایانِ شان نہیں۔نوجوانوں میں بلند پروازی کی صفت پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مقاصد بلند ہوں،ان کی سوچ میں پستی نہ ہو۔شاہین کی آنکھ بہت دور تک دیکھ سکتی ہے،نوجوانوں میں اس صفت کا مطلب ہے کہ وہ دوراندیش ہوں۔آنے والے حالات کو پہلے سے بھانپ کر منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔شاہین کسی اور کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا یعنی وہ خود دار ہے۔اپنی محنت اور کوشش پر انحصار کرتا ہے۔گویا مسلم نوجوانوں میں خودداری کی صفت ہونی چاہئے۔وہ دوسروں کے بجائے اپنی ذات کی محنت اور کوشش پرانحصار کرنے والے بن کر اللہ سے مدد کی توقع رکھنے والے ہوں۔
شاہین آشیانہ بنا کر کسی ایک جگہ پابند رہنا پسند نہیں کرتا۔اقبال مسلم نوجوان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ کسی ایک جگہ بیٹھ کر ترقی اور عظمت کے خواب دیکھنے کے بجائے علوم و فنون کے حصول کے لئے پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی جانا پڑے،جانے سے گریزنہ کرے۔ترقی اوربہتری کے مواقع جہاں بھی نظر آئیں ان تک رسائی حاصل کرنے کی جدوجہد کرے۔
فقرواستغنا شاہین کی اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ہے۔وہ دوسرے پرندوں کی سرگرمیوںاور کھیل کود سے بے نیاز ہوتا ہے۔دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔مسلم نوجوانوں کی تربیت میں بھی یہی چیز شامل ہونی چاہئے۔
خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں غلامی میں
زرہ کوئی اگر محفوظ، رکھتی ہے، تو استغنا
شاہین کی صفات اگر کسی نوجوان میں جمع ہو جائیں تو اس کی شخصیت ایک خود دار اور خود شناس انسان کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔جس قوم میں ایسے نوجوان ہوں وہ ترقی کے راستوں پر انتہائی کامیابی سے گامزن ہوسکتی ہے۔اور بلا شبہ مصافِ زندگی صورتِ فولاد پیدا کر لیتی ہے۔اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دم ہے اگر تُو ، تو نہیں خطرۂ افتاد

خودی کا جو درس اقبال نے دیا ہے اسے نوجوانوں کی زندگی کا لازمی جزو بنا دینا چاہتے ہیں۔خودی اقبال کا وہ فلسفہ ہے جس کی ہزاروںتشریحات ہو چکی ہیں۔کتابیں اس فلسفے کی وضاحت سے بھری پڑی ہیں۔مگریہ فلاسفی ہنوز تشنۂ تفہیم ہے۔اس کی تشنگی کی وجہ یہ ہے کہ یہ فلسفہ زبانی توضیحات نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔اس ایک لفظی فلسفے ہی کی وجہ سے اقبال کو امامِ فلسفہ کا منصب حاصل ہے۔اقبال اپنے نوجوانوں کو اسی فلسفے پر عمل پیرا دیکھنے کے آرزو مند ہیں:
تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل، یہ سرِزندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان مغرب کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں۔اور اس مطالعے سے اپنی زندگیوں کو قابلِ تقلید بنائیں۔وہ مغربی تہذیب کی عارضی چکا چوند کو مسلم نوجوانوں کے لئے انتہائی نقصان دہ سمجھتے ہیںکیونکہ یہ ظاہری چمک دمک روحانی اقدار سے ہٹ کر صرف مادی ترقی کی طرف لے جاتی ہے،جبکہ اسلامی تہذیب اور ہمارے اسلاف کی تعلیمات ایک پائیدار روحانی ترقی اور انسانی بھلائی کے دروازے کھولتی ہیں:
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردُوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اُس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاجِ سرِ دارا
علامہ اقبال کو اس بات پر افسوس ہے کہ ہمارے آبأو اجداد کی لکھی ہوئی کتابیں یورپ میں نصاب کا حصہ ہیںمگر مسلم نوجوان اس سے استفادہ کرنے سے محروم ہیں۔وہ ہمارے اسلاف کی کتابوں سے، جو کہ علوم کے سرچشمے ہیں، سیراب ہو کر دنیا پر حکومت کر رہے ہیں اور ہم ان علوم کو کھو کر غیروں کے کاسہ لیس بن چکے ہیں۔یہ صورت حال اپنے فرائض سے غافل ہونے،تساہل پسندی اور دوسروں پہ انحصار کی عادت کے سبب پیدا ہوئی ہے جس کا نقصان ہماری آنے والی نسلوں کو بھی ہو سکتا ہے:
ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جو انوں کی تن آسانی
اقبال نے فرمایا کہ محنت اور کوشش کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔قرآن پاک اور حاملِ قرآن کی تعلیم یہی ہے انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش اور محنت کرتا ہے۔ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ رہنے سے مقاصد کا حصول ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر قسم کے وسائل سے مالامال کیا ہے مگر ان وسائل کو کام میں لانے کے لئے دانش و حکمت کے ساتھ جدوجہد اور سعیٔ پیہم کی ضرورت ہے۔
غافل مَنَشیں نہ وقتِ بازی ست
وقتِ ہنر است و کارسازی ست
یعنی یہ وقت نہ تو غفلت شعاری کا ہے اور نہ ہی کھیل کود کا،یہ وقت ہنرمندی کے مظاہرے اور کارسازی کا ہے۔گویا جو کام بگڑے ہوتے ہیں انہیں ہم اپنی ہنرمندی اور کارسازی کے جذبے سے درست کر سکتے ہیں۔مشکل سے مشکل کام محنت اور کوشش سے ہو سکتا ہے۔ایک نوجوان میں اگر جذبہ موجود ہے اور جذبے کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے تو ترقی کی منزل تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں۔جوانی کا زمانہ قوت اور جذبوں کی فراوانی کا زمانہ ہوتا ہے۔ان جذبوں اور قوتِ جسمانی کو کام میں لا کر ناممکن کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیں
آج ملک و قوم کو جو مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں سے کام لینا ہوگا۔اپنی قوت اور علم کو کام میں لانا ہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا نوجوان طبقہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے کافی حد تک باخبر ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت سے جنگ میں برابر کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاک فوج اور سلامتی کے دیگر اداروں میں ہمارے نوجوان ہی شامل ہیںجو اقبال کے شاہین بن کر قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے روزوشب مصروفِ عمل ہیں۔اقبال کو ایسے ہی نوجوانوں سے محبت ہے کیونکہ یہی ملک و قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔
آئیے دعا کریں کہ اللہ انہیں بھی سلامت رکھے اور ملک وقوم کے مستقبل کو بھی۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

مضمون نگار اُردو ادب و تحقیق کا ایک معروف نام ہیں وہ وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات دیتے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


بیادِ اقبال

رہتی تھی کوئی برقِ تپاں قلب و جگر میں
اک ہجر کہ رکھتا تھا اُسے شوقِ سفر میں

کیوں حشر اٹھاتا نہ جنوں اُس کا فلک پر
لاتا تھا ستاروں کی خبر ثانیہ بھر میں

دیوار ٹھہرتی کوئی کیا اُس کے مقابل
اک دشتِ ابد گیر کا سودا تھا جو سر میں

وا کر کے دلوں بیچ نئے دہر دریچے
کہتا تھا کہ مت قید رہو شام و سحر میں

دُھن تھی کہ زمانے کی نگاہوں میں بسا دے
کچھ خواب لئے پھرتا تھا وہ دیدۂ تر میں

اللہ نے کیا عشق عطا اُس کو کیا تھا
رہتا تھا ہر اک آن وہ آقا کی نظر میں

اُس جیسا کوئی صاحبِ اعجاز کہاں ہے
لے جائے جو احساس کو دنیائے دِگر میں

جوں جوں کہ گزرتا چلا جاتا ہے زمانہ
آتا چلا جاتا ہے جہاں اُس کے اثر میں

یارب ہنرِ شعر میں اقبال کے صدقے
رکھنا مرے لکھے ہوئے الفاظ کی شرمیں

jalil_aali.jpg
جلیل عالی

*****

*****

 
08
November

تحریر: ڈاکٹر حمیرا شہباز

دانشمندوں کی دانشوری پر غور و فکر بذات خود ایک دانشمندانہ عمل ہے۔ 9نومبر 2017 شاعر فردا علامہ محمد اقبال کا 140 واں یومِ ولادت ہے۔ اقبال کو شاعر فردا بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی بصیرت ، ان کی دور بینی، دور اندیشی ان کے کلام سے عیاں ہے اور شاید اس لئے بھی کہ ملک تو سالوں میں بن جاتے ہیں لیکن قومیں صدیوں میں تربیت پاتی ہیں ۔ 140 سال قبل پیدا ہونے والے اقبال کی وفات کو بھی 80برس ہونے کو ہیں۔ ہم اپنے حال کو دیکھ کر اقبال کی فکر فردا کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہمارا امروز اقبال کا وہی فردا ہے جس کے لئے وہ فکر مند تھے۔
امروز ہمان فردایست کہ دیروز نگرانش بود
حکیم الامت نے اپنی حکمت آمیز شاعری میں جہاں قوم کو لاحق جملہ امراض کی تشخیص کی ہے وہاں ان کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کا فلسفہ خودی خاص طور پر امت مسلمہ کو لاحق کئی مسائل کا حل ہے۔ بہت سی دقیق شرحیں فلسفہ خودی کو بیان کرتی ہیں اس کے باوجود بھی اس فلسفے کا فہم عام ہونا ابھی باقی ہے کیونکہ اقبال نے لفظ ''خودی''کے مروجہ لغوی معنی اور انگریزی متبادل لفظ
"ego"
یا
"self"
کے قدرے منفی تاثر کے برخلافت اس لفظ کو مثبت تاثیر بخشی ہے ۔ خودی کے اصطلاحی معنی علامہ اقبال کے جہانِ افکار میں بہت وسعت رکھتے ہیں۔ اگر ان تمام شرحوں اور لغوی اور اصطلاحی مفاہیم کا احاطہ کیا جائے تو لفظ خودی کی آسان تعبیر ''خود شناسی'' اور ''خود آگاہی''ہے، یعنی انسان اپنے وجود کی حیثیت، اپنی صلاحیتوں اور اپنی تخلیق کے مقاصد سے باخبر ہو، ان صلاحتیوں کو خالق کی امانت جان کر ان کے درست استعمال اور ان کی افزائش و تقویت کے لئے کوشاں رہے۔

khudikikahani.jpg
علامہ کے فارسی اور اردو کلام میں خودی کے جملہ پہلوئوں کا بیان ملتا ہے۔ انسان تو انسان اقبال نہایت ہنرمندانہ انداز میں جانوروں کی خود فراموشی میں بھی مضمر قباحتوں اور سنگین نتائج کی نشاندہی فرماتے ہیں۔ ایسی بہت سی تمثیلی حکایات نظر سے گزرتی ہیں جو جانوروں کی زبانی خودی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
بانگ درا کی معروف نظم ''ایک مکڑا اور مکھی'' کا پیغام کیا ہے؟ خودشناسی! ایک مکھی جس لمحے اپنی اصل، اپنی خصوصیات، اپنی شناخت اور فطرت سے بے بہرہ ہوتی ہے، جان سے جاتی ہے۔ ایک مکڑے کی خوشامد نے اس کو اس کی اصل حیثیت اور خوبیوں کے بجائے وہ اوصاف دکھائے جو اس کی شخصیت اور فطرت کے مساوی نہ تھے:
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی!
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
یہ حسن، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
نظم ''ہمدردی'' کا مرکزی کردار، ایک معمولی ، بظاہر چھوٹا ساکیڑا، جگنو، اپنی صلاحیت سے آگاہ ہے اور اس کو درست طور پر بروئے کار لانے کا ادراک بھی رکھتا ہے۔ اس خود آگاہی نے اس کو اتنی فراست اور توانائی بخشی ہے کہ وہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور کی بھی مدد کر سکتا ہے۔ شب کی تاریکی میں راہ گم کردہ بلبل کو رستہ دکھا سکتا ہے:
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
''بال جبریل'' کی ایک نظم ''شیر اور خچر'' میں اقبال قوی اوصاف کے مالک شیر اور ضعیف پیکر خچر کے مکالمے میں بیان فرماتے ہیں کہ کس طرح کمزور نفس لوگ حسن بیان کی کرشمہ سازی سے خود کو طاقتور اور اوصافِ حمیدہ کے حامل احباب سے نسبت کو ثابت کرکے حقیقت کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
شیر
ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ
کون ہیں تیرے اب و جد، کس قبیلے سے ہے تو؟
خچر
میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور
وہ صبا رفتار، شاہی اصطبل کی آبرو!
اقبال شاہین میں وہ اوصاف پاتے ہیں جو کہ فقر اسلامی کا خاصہ ہیں اور ایک مومن کی خودی کو استحکام بخشتے ہیں۔جس کو خود کی پہچان ہو، وہی خودداری جیسی اعلیٰ صفات کا مظہر ہو سکتا ہے۔نظم''پندباز بہ بچ خویش'' میں ایک باز اپنے بچے کو نصیحت کرتا ہے اور اس کو خودداری، غیرت مندی، بلند پروازی، خلوت پسندی، تیز نگاہی، سخت کوشی جیسی اعلیٰ صفات گِنواتا ہے :
تو دانی کہ بازاں زیک جوہرند
دل شیر دارند و مشت پرند
نکو شیوہ و پختہ تدبیر باش
جسور و غیور و کلاں گیر باش
یعنی : تو جانتا ہے تمام بازوں کی پیدائش ایک ہی جوہر سے ہوئی ہے، بظاہر مٹھی بھر پروں کا وجود ہیں ہم، لیکن شیروں کا سا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اس لئے ایک باز کو صرف اپنے اندر بازوں کی سی ہی خصلت کو فروغ دینا چاہئے۔ کیونکہ:
نصیب جہاں آنچہ خرمی است
ز سنگینی و محنت و پر دمی است
تہ چرخ گردندہ ای کوز پشت
بخور آنچہ گیری ز نرم و درشت
ز دست کسی طعمہ ای خود مگیر
نکو باش و پند نکویان پذیر
یعنی: دنیا میں جو بھی بھلائی حاصل ہوتی ہے وہ مسلسل اور انتہائی محنت سے حاصل ہوتی ہے، آسمان تلے اپنا رزق خود تلاش کر، کسی کے ہاتھ کا نوالہ نہ لے، نیک بن اور نیکو کاروں کی نصیحت پہ کان دھر۔
اقبال گوشہ نشینی اور معاملات جہاں سے کنارہ کشی کو منفی تصوف گردانتے ہیں۔ اسی لئے تو اقبال کی ایک نظم ''اگر خواہی اندر خطر زی'' میں جب ایک ہرن دوسرے ہرن کے سامنے، صیاد کے خطرے سے حرم میں جا بسنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو وہ اسے پر خطر زندگی کی افادیت سمجھاتا ہے:
رفیقش گفت ای یار خردمند
اگر خواہی حیات اندر خطر زی
خطر تاب و توان را امتحان است
عیار ممکنات جسم و جان است
یعنی: اس کے ساتھی(ہرن)نے کہا کہ اے سیانے، اگر زندگی کا خواہاں ہے تو خطروں میں جینا سیکھ۔ زندگی کی مشکلات ہی انسان کی مخفی طاقتوں اور صلاحیتوں کے لئے کسوٹی ثابت ہوتی ہیں اور کھرے کھوٹے کا فرق ظاہر کرتی ہیں۔
اگر کسی کو اپنی بقا اور سلامتی مطلوب ہے تواسے ایک لحظہ کے لئے بھی اپنی خودی کی حفاظت سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔کسی کی خودی اتنی ضعیف نہ ہو کہ وہ دشمن کی ہوس یا ضرورت کی بھینٹ چڑھ جائے۔
مثنوی اسرار خودی کی ایک حکایت میں اقبال بیان کرتے ہیں کہ جب ایک پیاسا پرندہ ہیرے کے ایک ٹکڑے کو پانی کا قطرہ سمجھ کر پینے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی چونچ ہیرے سے ٹکرا کر رہ جاتی ہے۔اور ہیرا اس کو باور کرواتا ہے کہ:
قطرہ ٔ آبی نیم ساقی نیم
من برأ دیگراں باقی نیم
یعنی: میں قطرہ آب یا کوئی ساقی نہیں ہوں، میں اس لئے زندہ نہیں کہ دوسرے مجھے ہڑپ کر جائیں۔
آخر کار وہ پیاسا پرندہ شبنم کے قطرے سے اپنی پیاس بجھاتا ہے اور نظم کے انجام میں اقبال پانی کے قطرے اور ہیرے کے ٹکڑے کی خاصیت کا فرق بیان کرتے ہوئے اسرار خودی فاش کرتے ہیں:
قطرہ سخت اندام و گوہر خو نبود
ریزہِ الماس بود و او نبود
غافل از حفظ خودی یک دم مشو
ریزہِ الماس شو شبنم مشو
پختہ فطرت صورت کہسار باش
حامل صد ابر دریا بار باش
نغمہ ئی پیدا کن از تارِ خودی
آشکارا سازِ اسرارِ خودی
یعنی: شبنم کا قطرہ نہ تو سخت اندام تھا اور نہ ہی ہیرے کی طرح سخت جان۔ اپنی خودی کی حفاظت سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہونا۔ ہیرے کا ٹکڑا بنو، نہ کہ شبنم کا قطرہ۔ پہاڑوں کی مانند پختہ فطرت بنو تاکہ سیکڑوں سیلابی بارشوں کی شدت کوبرداشت کر سکو، اپنی خودی کے تار سے ایسا نغمہ بنائو جس سے اسرارِ خودی سب پر آشکارہ ہو جائیں۔
مختلف حکایات میں علامہ اقبال منفرد انداز میں مختلف بے زبانوں کی زبانی اپنا فلسفہئِ خودی بیان کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن مثنوی اسرار خودی کی وہ حکایت بہت دلچسپ ہے جس میں ضعف خودی کے خطرناک نتائج کا بیان ہے، جب ایک پرسکون جنگل میں شیر اپنی فطرت کے عین مطابق بھیڑ بکریوں کو چیر پھاڑ کر اپنا پیٹ بھرنے لگتے ہیں اور باقی جانوروں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں تو آخر کار ایک چالاک بھیڑ خود کو مرسلِ یزداں بتاتی ہے اور اپنی تبلیغ میں ان شیروں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ:
توبہ از اعمال نامحمود کن
أ زیاں اندیش فکر سود کن
یعنی کہ وہ اپنی طاقت آزمائی کو ترک کردیں اور گھاٹے کا سودا کرنے کے بجائے اپنی بھلائی کی فکر کریں ۔
شیر ان کے جھانسے میں آ کر گوشت خوری سے توبہ کر لیتے ہیں اوراپنی خودی کھو بیٹھتے ہیں اوربھیڑبکریوں کی طرح گھاس کھانے پر مائل ہو جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ علف خوری سے ان کے دانت ضعیف اور خود بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ اقبال اس بے ہمتی سے پیدا ہونے والے امراض کچھ اس طرح گنواتے ہیں:
صد مرض پیدا شد از بی ہمتی
کوتہ دستی بیدلی دوں فطرتی
شیر بیدار از فسون میش خفت
انحطاط خویش را تہذیب گفت
یعنی: اس بے ہمتی سے کوتاہ دستی ، بے دلی اور پست فطرتی جیسے سیکڑوں مرض جنم لیتے ہیں۔ بیدار صفت شیر اس بھیڑ کی سحر آمیز باتوں میں آ جاتے ہیں اور اپنی پستی اور زوال کو تہذیب کا نام دیتے ہیں۔
انسان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنا اشرف مقام پہچانے ، دنیاوی فائدے کی خاطر نادان مکھی کی طرح کسی کی خوشامد کا شکار بننے کے بجائے اپنی حقیقت کو پہچانتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے کرے۔ غیروں کے دکھلائے کھوکھلے خوابوں اور سرابوں کے پیچھے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے، اپنے مقصد حیات اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقت پسندی سے جانچے اور اپنی بظاہر معمولی صلاحیت کو نکھار کر جگنو کی طرح دوسروں کے لئے بھی مشعل راہ بنے۔ خچر کی طرح اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو چھپانے اور دوسروں کے نام و نسب کا سہارا لینے کے بجائے خود میں شاہینوں کے سے اوصاف پیدا کرے اوراپنی بہتر شناخت بنائے جس کو ظاہر کرنے میں شرمندگی نہ ہو۔ خود میں الماس کے ٹکڑے کی سی کاٹ پیدا کرے جو مخالف کے لئے تر نوالا ثابت نہ ہو۔ کیونکہ انسان اگر نام نہاد افلاطونی تہذیب کے چکر میں پڑ کر اگر ضعف خودی کا شکار ہوا تو پھر یہ طے ہے کہ سستی، کاہلی ، کم ہمتی جیسی بیماریوں سے بچنا مشکل ہے جو زندگی کو مفلوج کردیتی ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ :
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مضمون نگارڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

اﷲ سبحانہ' تعالیٰ کی عطاکردہ روحانی کیفیات کے احوال پڑھ کر نہ صرف ایمان اور یقین مزید مضبوط ہوتا ہے بلکہ نظامِ قدرت کو بھی سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ایمان کے باوجود اکثر لوگوں کا یقین ''ڈھلمل'' یعنی ڈانواڈول ہی ہوتا ہے ورنہ اگلے جہان، روزِ حساب، قبر میں سوال جواب اور جزا سزا پر یقین کامل ہو تو انسان نہ جھوٹ بولے، نہ دھوکہ دے، نہ ملاوٹ کرے، نہ قتل و غارت کا مرتکب ہو، نہ شراب و زنا میں ملوث ہو، نہ حرام کھائے نہ قرب شاہی کے لئے اپنا ذہن وضمیر گروی رکھے۔ سوچا جائے تو روحانی تصرفات قدرت کا چھوٹا سا انعام ہوتی ہیں انسان کے اعمال اور عشقِ اِلٰہی و عشقِ رسولۖ کا۔ تو پھر اس سے بڑے انعام کا تصور کیجئے جو موت کے بعد کی دنیا میں عطا ہوگا؟ جب اس طرح کے تصدیق شدہ یعنی مستند حوالوں سے قدرت کے رازوں سے تھوڑا سا پردہ سرکتا ہے تو انسان پر ابدی زندگی کا راز فاش ہوتا ہے۔ ابدی زندگی صرف اُنہیں عطا ہوتی ہے جو دنیا سے پردہ کر جاتے ہیں ورنہ تو انسان اپنی تمام تر دولت، کروفر، شان و شوکت اور اقتدار کے ساتھ مٹی میں مل جاتا ہے۔ بقاء مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ مجھے زندگی میں ایک دو ایسے اولیاء کرام کی مجلس نصیب ہوئی ہے جن کی سچائی، حقانیت، فقر، عشق سند کی حیثیت رکھتے ہیں اورجن کا باطن ہمہ وقت منوّر رہتا تھا۔ ان فقیروں کو نہ تو اس دنیا سے رغبت تھی اور نہ ہی وہ خوفِ الٰہی کے مارے فالتو بات کرتے تھے۔ یہ میرا اُن سے محبت کا رشتہ تھا کہ وہ کبھی کبھار میرے کریدنے پر بعض مرحوم ہستیوں سے ملاقات کا تھوڑا سا ذکر کردیتے تھے ۔ اُنہیں حضور نبی کریمۖ کی زیارت بھی نصیب ہوئی تھی۔ شاید وہ سمجھتے تھے کہ مجھ جیسے دنیا دار کی تسکین اور دلداری کے لئے راز سے تھوڑا سا پردہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس لئے میں جب کبھی کسی نہایت قابلِ اعتماد، سرتاپا سچے اور عاشقِ الٰہی و رسول کی زبان سے روحانی احوال سنتا ہوں تو مجھے اُن پر یقین آجاتا ہے کیونکہ یہ نیک ہستیاں ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک اور صاف ہوتی ہیں اور اُنہیں دنیا اور دنیا داروں سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ یقین رکھئے تحقیق اور چھان پھٹک میری عادت ہے اور میں شعبدہ بازوں کی شعبدہ بازیوں سے ہرگز متاثر نہیں ہوتا۔


میں تو ایک دنیا دار انسان ہوں،مجھے نہ روحانیت کا علم ہے نہ تصوف کا لیکن میرا یقین کسی حد تک مستحکم ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وہ عظیم صحابی ہیں جنہیں ہجرت کے وقت مدینہ منورہ میں نبی کریم ۖ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ظاہر ہے کہ ایسا اعزازآسمانوں پر طے ہوتا ہے اور نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔ طویل عرصہ قبل مدینہ منوّرہ میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھرکی زیارت کا موقع بھی ملا جو پہلے مسجدِ نبوی سے چند گز کے فاصلے پر واقع تھا اور اب حرمِ نبوی کی توسیع کے بعد اس کا حصہ بن چکا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری استنبول میں دفن ہیں۔ چند برس قبل مجھے اُن کے مزار اور مزار سے ملحق ابوایوب انصاری مسجد میں حاضری کا موقع ملا۔ میری کیفیت محاورے کی زبان میں خرِ عیسیٰ والی تھی یعنی اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گدھا مکہ معظمہ سے بھی ہو آئے تو گدھا ہی رہے گا۔ چند روز قبل ابولامتیاز ع۔ س۔ مسلم کی کتاب ''ادب گاہ'' پڑھتے ہوئے ایک ایسے واقعے پر نظر پڑی کہ جی چاہا آپ سے شیئر کروں۔ محترم مسلم رجب مرحوم بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں، تحریکِ پاکستان اور قائدِاعظم کے شیدائی تھے اور معروف شخصیت بھی تھے۔ تقریباً96 سال زندگی گزارکر کوئی دو تین برس قبل دبئی میں اﷲ کو پیارے ہوئے۔ عابد و زاہد انسان تھے۔ لیکن بات ہے اپنے اپنے نصیب کی۔۔ اب آپ اُن سے حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر حاضری کا احوال پڑھئے اور عاشقانِ الٰہی و عاشقانِ رسولۖ کے مقامات اور ابدی زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ اگر یہ باتیں سمجھ آجائیں تو اپنے آپ پر نگاہ ڈالیں۔ وہ لکھتے ہیں: ''میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ نے حضورِاکرم ۖ کی یہ حدیث سُن رکھی تھی کہ 'میری اُمت کا جو پہلا لشکر قیصر کے شہر پر حملہ آور ہوگا، وہ مغفرت یافتہ ہے۔


ایوب انصاری اس وعدئہ مغفرت پر شوقِ شہادت میں عہدِ حضرتِ امیر معاویہ (48ہجری،668 عیسوی) میں قسطنطنیہ پر حملہ آور ہونے والے لشکر کے ساتھ شامل ہوگئے اور مرتبۂ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق اثنائے محاصرہ میں وفات پائی، لیکن چونکہ نیت شہادت کی تھی اس لئے وفات میں بھی مرتبۂ شہادت کی بابت کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ اس محاصرے میں شہر فتح نہ ہوسکا۔ حدیث مبارکہ کی روشنی میں آپ کی وصیت تھی کہ مجھے دشمن کے قریب ترین اور اسلامی لشکر کی آخری حدود میں دفن کیا جائے چنانچہ آپ فصیلِ شہر کے نیچے مدفون ہوئے۔


سلطان محمد فاتح کے دَور میں آپ کا مرقد ازسرِ نودریافت ہوا تو اُسے 1445ء میں 'مسجدِ ایوب انصاری'کی تعمیر کا اعزاز حاصل ہوا- بعد میں حسبِ ضرورت مسجد کی مرمت، تعمیرِ نو اور توسیع ہوتی رہی، آپ کے روضہ مبارک کی تعمیر بھی اُسی سال احاطۂ مسجد میں ہوئی۔ قبر کے تعویذ کے ارد گرد چاندی کی جالی نصب ہے۔


میں چاندی کی جالیوں کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔ اپنی پستیِ کردارپر منفعل… لیکن میری یہ پستی بھی اُس وقت بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت سے سرفراز تھی اور اُس پر جتنا بھی نازاں ہوتا کم تھا، لیکن مجھے کہاں ہوش تھا۔ میں اپنی پستی کے احساس پر غرقاب ہوتا جارہا تھا لیکن اُدھر وہ عظمت و شوکت، وہ شان جو مجھے کشاں کشاں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔ یہ بندۂ کمینہ آج میزبانِ سید المرسلین و شہِ لولاک کا مہمان تھا۔ آنکھوں میں ایک منظر متحرک ہوگیا- شرمندگی ایک طرف، میرا جی چاہا ان جالیوں کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں سمو لوں- یہ میرے سینے کی گہرائیوں میں اس طرح پیوست ہوجائیںکہ ان میں اور میرے دل میں کوئی فرق نہ رہے، آنکھوں سے چشمہ انفعال جاری تھا۔ سامنے دربارِ رسالتۖ تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ عالمِ نور میں جلوہ فگن، دعوتِ مجسم تھا۔ سرورِ کائنات، جناب رسالت مآب ،میرے آقا وماوا و ملجا ۖتخت پر تشریف فرما تھے اور حضرت ابوایوب انصاری اپنی انگلی تھمائے ایک بچے کی طرح مجھے پیشِ رحمت لے جارہے تھے۔


قرب میں قوسین سے نزدیک تر
اور جلوے ہیں کہ تاحدِ نظر


ایک سیہ اعمال اور عادی گنہ گار کی یہ خوش نصیبی، یہ بارشِ انوار ! سحابِ رحمت کی ٹھنڈی اور معطر پھوار نے مشامِ جاں کو سُرور سے بھر دیا۔ پھر یاد نہیں۔ نجانے کتنا وقت گزرا۔ آنکھیں کھلیں تو احساس ہوا کہ ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے اور میں گرد و پیش سے بے نیاز دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہوں اور اب لوگ حیرت سے تک رہے ہیں۔ جب طبیعت ذرا سنبھلی تو محافظ آہستہ آہستہ دبے پائوں مجھ تک آیا، اور کان میں کہا: 'وقت کا خیال نہ کریں اندرونی دروازہ کھول دیتا ہوں، جی چاہے تو مرقد تک چلے جائیں اور جب تک جی چاہے اندر ٹھہریں۔''
'یہ اﷲ کا فضل ہے، جسے چاہے عطا کرے، اور اﷲ بہت بڑے فضل والا ہے۔

،(سورة الحدید5:21)
کیا یہی وہ اَن چاہا موڑ یا سنگِ میل تھا؟ کیا یہی وہ حیات بخش لمحہ تھا، جو نئی زندگی کی بشارت ہوتا ہے؟ کیا میری طفلگی اور انگلی تھامنے کا استعارہ ایک نقطۂ آغاز تھا؟
'پس اﷲ جو ہے ، تو وہی ہے صاحبِ اختیار اور سب کام بنانے والا، اور وہی زندہ کرتا ہے مردے کو، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے
(سورة الشوریٰ :٤٢۔٩)
واپسی پر ٹیکسی ڈرائیورنے نجانے کس غیر معمولی جذبے کے تحت میرے غلیظ جوتے اٹھائے اور باہر نکل کر میرے پائوں کے سامنے رکھ دیئے۔ اُس نے نہ صرف کرایہ لینے سے انکار کردیا بلکہ اگلے روز بھی آنے پر اصرار کیا اور فی الواقع صبح سے آکر ہوٹل کے سامنے حاضر خدمت ہوگیا۔
اب صورت حال دوسری تھی، احساس تو بیدار تھا، لیکن شعور بدستور خواب میں تھا، یا شاید ایک لطیف مخموری کیفیت طاری تھی۔ بازار میں کچھ خریداری کے لئے رُک گئے، جس دکان پر جاتے ہیں، تو ''زبانِ یارِ من تُرکی و من تُرکی نمی دانم'' کے باوجود ہر شخص پوچھتا ہے:
''حاجی؟۔۔۔ پاکستانی؟۔۔۔ مبروک ! 
جب متعدد بار یہ صورت حال پیش آئی تو میں نے بیگم سے کہا ''مجھے تمہاری پیشانی پر کچھ نظر نہیں آتا، تمہیں میری پیشانی پر کچھ لکھا نظر آتا ہے جو اِن سب کو نظر آرہا ہے۔


اور میری طرف نظر میں پاکستانی سفارت خانے کا وہ اہل کار بھی گھوم گیا جو میری طرف دیکھ کر پاسپورٹ تھامے چپکے سے اندر چلا گیا تھا اور چند ثانیوں میں ترمیم کی مہر لگوا لایا تھا۔ ظاہر ہے بیگم کا جواب بھی نفی میں تھا۔ لیکن جو پیش آرہی تھی اُسے کون جھٹلاتا۔۔۔ اﷲ اکبر وﷲ الحمد۔


یہ آخری شب تھی بیگم کے ٹخنے میں30 سال قبل آپریشن کی وجہ سے مستقل تکلیف ہے اور ٹیڑھا پائوں پڑجائے توچلا نہیں جاتا ، استنبول کے پرانے اور دُرونِ لاہور جیسے بازاروں میں یہی دقت پیش آگئی اور ہوٹل پہنچتے پہنچتے ٹخنہ سوج کر کُپّاہوگیا۔ یہ رونے بیٹھ گئیں کہ اب میں اپنے پائوں سے طواف اور سعی کیسے کرسکوں گی(وہاں سے عمرے کے لئے جانا تھا) یہ تو جب تک ٹھیک ہونے سے رہا۔ دفعةً جیسے کوئی پردہ اٹھا گیا اور سارے واقعات تصویر کی طرح میری آنکھوں کے سامنے گئے۔ میںنے کہا :''خدا کی بندی، جو اس اہتمام کے ساتھ یہاں تک لایا ہے اور جس نے یہ یہ نشانیاں دکھلائی ہیں، اب اُس سے نااُمید ہوتی

ہو؟ دعا کرو۔۔۔ اور حقیقت ہے، کہ صبح تک درد سوجن کا نام ونشان تک نہ تھا۔''

(بحوالہ ادب گاہ۔صفات126-27)
یہ بات ہے اپنے اپنے نصیب کی۔ اپنے اپنے اعمال کی۔ جسے چاہے وہ عطا کرے لیکن یہ عطا یوں ہی نہیں ہوتی؟ اس کے لئے نصف شب جاگنا، اﷲ کے حضور پیش ہونا، گناہوں کی معافی طلب کر کے عبادات و مجاہدات میں مصروف رہنا پڑتا ہے۔ حدیث قدسی اس بات کو یوں بیان کرتی ہے کہ جب کوئی شخص نوافل اور عبادات کے ذریعے اﷲ پاک کا قرب حاصل کرلیتا ہے تو اﷲ پاک اس کا ہاتھ ، اس کی زبان اور آنکھ بن جاتے ہیں۔ جب انسان اپنے خالقِ حقیقی کی زبان بن جائے اور اُسی کی آنکھ سے دیکھے توکیا اُس پر روحانی دنیا کے پردے ہٹ نہیں جائیں گے؟ کیا وہ فرش و عرش کے راز سمجھ نہیں سکے گا؟ کیا اُس پر حقائق واضح نہیں ہو جائیں گے ؟اور اس کی زبان سے نکلے الفاظ پتھر پر لکیر نہیں ہوں گے؟ میںنے اپنی زندگی میں جو اولیاء کرام دیکھے، وہ اشاروں سے بات کرتے تھے، قدرت کے راز عیاں نہیں کرتے تھے لیکن اُن کے اشاروں سے کی گئی بات کچھ نہیں دنوں بعد مِن و عن صحیح ثابت ہوتی تھی، اُن کی نگاہ سے قلب صاف اور باطن منور ہوتا تھا، اُن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی تھی بلکہ مقدر بھی بدل دیتی تھی۔ یہ سلسلہ ہے اپنے اپنے تجربات کا۔ جنہیں زندگی میں کبھی کوئی ایسی ہستی نہیں ملی وہ تشکیک میں مبتلا رہیں گے۔ لیکن جنہیں یہ تجربہ ہو چکا ہے وہ اسے سمجھ جائیں گے۔ سمجھیں یا نہ لیکن اس پر غور کریں۔ میرا روحانی تجربات کے بعد اس پر یقین، ایمان کی مانند مضبوط ہے۔ میں ایسے واقعات بہ وزنِ کرامات کا عینی شاہد ہوں۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سیوہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

منزل ہے رُوبرو جو ہے سمتِ سفر درست
کیا غم ہے جو نہیں ہیںمرے بال و پر درست
کمزوریٔ بدن کی شکایت نہ ہو مجھے
رکھے خدائے پاک جو فکر و نظر درست
اس خوں کے لوتھڑے سے عبارت ہے زندگی
سب کچھ درست جان، رہے دل اگر درست
سمجھوں کہ آگیا ہے زمانے میں انقلاب
ہو جائیں گر غریب کے شام و سحر درست
انسانیت کے درد سے ہے جو بہرہ مند ہو
جذبہ وہی ہے راست وہی نغمہ گر درست
بھولے نہ جو شناخت کبھی گردوپیش کی
رکھتا ہے وہ خیال ہمیشہ اثر درست
جو اپنے خال و خد کو بگڑنے نہ دے کبھی
تائب میری نظر میں ہے بس وہ ہنر درست

h_taib.jpg


حفیظ تائب

*****

 
08
November

تحریر: صائمہ جبار

ہندوستان دراصل تنگ برہمن ذہنیت اور رسم و رواج کو ماننے والی حکمران اقلیت کا ملک ہے۔ یہ حکمران طبقہ اکثریتی ہندوآبادی کو اپنے سیاسی مقاصد اور مذہبی جنون کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ دوغلے چہرے والے اس ملک میں دوسرے تمام مذاہب کی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندوئوں اور سکھوں کا رہنا بھی اب ایک مسئلہ بن گیا ہے۔قتل و غارت گری کے خون آشام سائے تلے زندگی گزارنے والی اقلیتیں اب سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟


دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے دار بھارت کا اصل چہرہ بی جے پی جیسی انتہا پسند سیاسی پارٹی کے رہنما نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آتے ہی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔بی جے پی مسلمانوں سے نفرت کرنے والی ایک انتہا پسند پارٹی ہے جس نے آر ایس ایس
(Rashtriya Swayamsevak Sangh)
کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ آر ایس ایس ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں ملوث ایک مسلمان مخالف منشور رکھنے والی تنظیم ہے۔کہنے کو تو بھارت کے آئین میں 42 ویں ترمیم کے بعد بھارت ایک جمہوری ریاست اور سیکولر (لامذہب) اسٹیٹ ہے جس سے مراد ہے کہ بھارتی ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب کے لوگ وہاں آزادی سے رہ سکتے ہیں۔ لیکن انتہا پسند بی جے پی کے برسرِ اقتدار آتے ہی بھارت کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور اقلیتوں کے خلاف مظالم میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ اسلام بھارت کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور بھارت کی کل آبادی کا 14 فیصد سے زائد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن مودی کے اس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں بے انتہا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں
Food and Agriculture Organization (FAO)
اور
Organization for Economic Co-operation
and Development (OECD)
کی رپورٹ کے مطابق بھارت دنیا میں بڑے گوشت کو درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ لیکن منافقت کی انتہا یہ ہے کہ مقدس سمجھی جانے والی اس گائے کو پیسے کی خاطر تو مارا اور بیچا جا سکتا ہے لیکن مسلمانوں سے نفرت کے باعث انہیں بڑا گوشت کھانے کے شک پر بھی ہجوم کے ہاتھوں قتل کرنے کے واقعات میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے۔نہ صرف مسلمان بلکہ بھارت کی دوسری اقلیتیں بھی ہجوم کے ہاتھوں موت کا شکار ہو رہی ہیں۔پہلے تو ایسے بہت سے واقعات میڈیا پر رپورٹ ہی نہیں ہوتے تھے، پہلا اندوہناک واقعہ 2015 میں رپورٹ ہوا جب 52 سالہ محمد اخلاق اتر پردیش دادری میں ہندو انتہا پسند ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوا۔ ہجوم کو شک تھا کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا۔ حکومتی جماعت بی جے پی کی طرف سے اس کی کوئی مذمت نہیں کی گئی بلکہ خاموشی رہی۔ اس کے بعد تو اس طرح کے واقعات کی لائنیں لگ گئیں۔رواں سال مارچ سے مئی تک اس طرح کے سات واقعات ہوئے۔ فرسٹ پوسٹ کے آرٹیکل کے مطابق:
Cow slaughter row: Since 2010, 97% of beef-related violence took place after Modi govt came to power. Indias first data journalism initiative
نے ایک کانٹنٹ سروے کیا جس میں 2010 سے 2017 تک شدت پسندی کے واقعات میں بھارت میں 51 فیصد مسلمان نشانے پر تھے۔جن میں 97 فیصد واقعات نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ہوئے۔
بھارت میں اقلیتوں کو گھر واپسی کے نام سے ایک مہم چلا کر زبردستی ہندو بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس مہم کو شروع کرنے والا گروپ دھرما جگران سمیتی
(Dharma Jagran Samiti)
ہے جو کہ حکمران جماعت بی جے پی کی ایک ذیلی جماعت ہے۔

kiahundustan.jpg
اتر پردیش میں دھرما جگران سمیتی کے سربراہ راجیشور سنگھ کہتے ہیں کہ ہم 2021 تک بھارت کو پورا ہندو بنانا چاہتے ہیں اس لئے یا تو اقلیتیں ہندو بن جائیں یا بھارت چھوڑ دیں۔دوسری شدت پسند جماعتیں اس بات کو سپورٹ کرتی ہیں جو مسلمانوں کے لئے باعثِ تشویش ہے۔
بھارتی فلم انڈسٹری بالی وڈ نامور مسلمان اداکاروں سے بھری پڑی ہے۔ کچھ عرصہ قبل نامور اداکار ہدایتکار عامر خان نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر اظہار خیال کیا تھا۔ شاہ رخ خان نے بھی عامر خان کے بیان کو سراہا لیکن اس کے بعد انکو انتہا پسند ہندو سیاسی جماعت شیو سینا سے دھمکیاں بھی ملیں۔ شیو سینا کے رہنما کا کہنا تھا کہ عامر خان کو پاکستان چلے جانا چاہئے۔احتیاطاً دونوں کی سکیورٹی بڑھانا پڑی کیونکہ ان پر حملوں کے امکانات بہت زیادہ تھے۔


بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں یوگی ادھتیا ناتھ کا چیف منسٹربن جانا ریاست میں رہنے والی تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے باعثِ تشویش ہے۔ ادھتیا ناتھ ہندوتوا نظریے کا بہت بڑا ماننے والا ہے۔ اپنے سیاسی جلسوں میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے میں شہرت رکھتا ہے۔اسی انتہا پسند ہندو نظریے کے باعث بی جے پی نے ریاست اتر پردیش میں 14 سال بعد جیت حاصل کی اور اپنے اسی نظریے کی وجہ سے کسی اقلیت کو ٹکٹ نہیں دیا۔


2015 میں اسی ادھتیا یوگی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دل دہلا دینے والا بیان دیا کہ ہندوں کو چاہیئے کہ وہ مسلمان خواتین کی قبروں سے لاشیں نکال کر بے حرمتی کریں۔
جب 2016 میں بھارتی مسلمان اداکار شاہ رخ خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھارت میں عدم برداشت کی بات کی تو اس وقت انہیں بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت ادھتیا ناتھ نے شاہ رخ خان کو حافظ سعید کے ساتھ تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ شاہ رخ خان کی فلمیں اکثریت ہندو آبادی دیکھتی ہے اور اگر انہوں نے فلموں کا بائیکاٹ کر دیا تو شاہ رخ خان سڑک پر آجائیں گے۔


ادھتیا یوگی نے بر سرِ اقتدار آتے ہی بڑے گوشت پر پابندی عائد کر دی۔ مذبح خانوں پر کریک ڈائون کا آغاز ہو گیا۔ یوگی ادھتیا کھلم کھلا ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکہ میں مسلم پابندی کی طرف داری کرتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں اس نے واضح کہا کہ اگر ہمیں موقع ملا تو اپنے دیوی دیوتائوں کے مجسمے مسجدوں میں رکھیں گے۔ یوگی نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر ایک ہندو قتل ہوا تو ہم پولیس میں جانے کے بجائے اس کے بدلے میں 10 مسلمان قتل کریں گے۔ اور اگر انہوں نے ہماری ایک لڑکی لی تو ہم اس کے بدلے ان کی 100 لڑکیاں لیں گے۔ یہ بالکل وہی نظریہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے نریندر مودی نے 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا تھا۔
اگر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف یہی زہر بھرا جاتا رہا تو یوگی جیسا انسان اگلا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے جو کہ بھارت کی لبرل سوسائٹی کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔


مسلمانوں سے نفرت کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ یہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کے حق میں نہیں۔ پاکستانی کرکٹرز کے ممکنہ بھارتی دورے پر پہلے سے ہی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور آخرپاکستانی حکومت نے کرکٹ ٹیم کو بھارت جانے سے روک دیا اور اب پاکستان اور بھارت میں دو طرفہ کرکٹ میچ ختم ہو چکے ہیں۔کہتے ہیں کہ فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن پاکستانی فنکاروں، اداکاروں اور گلوکاروں کو بھی بھارت جانے پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیںاور تو اور اگر کوئی لبرل دانش ور اس انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے پاکستان کا ہمدرد ہونے کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بھارت میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے بارے میں مئی 2017کو جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے سیمینار میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کے کردار کے موضوع پر بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہا پسندی قومی سطح پر ابھر چکی ہے اور بھارت کے قومی چہرے کو مسخ کررہی ہے،آر ایس ایس کے انتہا پسند اور گائورکھشک ابھرتی ہوئی انتہا پسندی کا اظہار ہیں۔
اس صورتحال میں بین الاقوامی کمیونٹی ، علمائ،میڈیا اور سول سوسائٹی کوبھارت میں بڑھتی اس انتہا پسندی پر آواز اٹھانا ہو گی۔ کیونکہ بھارتی سیکولرازم تیزی سے شدت پسندی اور بنیاد پرستی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے اس خطے کو پہلے ہی داعش اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کا سامنا ہے۔ ایسے میں ہندو شدت پسندی کا ایک نیا خطرہ خطے میں امن و امان کے لئے خطرناک ہو گا۔دوسری شدت پسند تنظیموں کا تو کوئی مخصوص ملک نہیں لیکن یہ ہندو انتہا پسند تو بھارتی حکومت کے زیرِ سایہ ہیں اورنریندر مودی کے منظورِ نظر ہیں ۔ بھارتی سیاست میں ایک بڑے سٹیک ہولڈر ہیں جس سے بھارتی ریاست پر شدت پسند ہونے کا لیبل لگ رہا ہے۔

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

ریاستِ پاکستان جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہے آج الحمدﷲ وہ اس پر نہ صرف کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے بلکہ پاکستان کے مجموعی حالات بھی انتہائی پُرامن ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کے دلوں سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خوف کے سائے چھٹ رہے ہیں اور وہ اعتماد اور حوصلے سے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس کا ایک ثبوت پاکستان موٹر ریلی کا انعقاد ہے جو افواجِ پاکستان کے زیراہتمام منعقد ہوئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایات اور سرپرستی میں منعقد کی جانے والی اس ریلی میں ملک بھر سے لوگوں نے شرکت کی اور دنیا کو بتا دیا کہ پاکستانی نہ صرف خود پُرامن قوم ہیں بلکہ خطے میں دیرپاامن کے خواہاں بھی ہیں۔ پاکستان موٹر ریلی میں حصہ لینے والے لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ بلاشبہ یہ ریلی ملی یکجہتی اور قومی سطح پر اعتماد کی بحالی کا باعث بنی ہے۔


یہ ہماری قوم کے بیٹوں کی قربانیوں ہی کا ثمر ہے کہ پاکستان کا اصل اور خوبصورت چہرہ پھر سے دنیا کے سامنے اُبھرا ہے اور آج یہ قوم ''پاکستان موٹر ریلی'' جیسے میگاایونٹس منعقد کر کے بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ کس طرح سے پاکستان دہشت گردی پر قابو پا کر دنیا کو امن اور محبت کی خوشبو سے معطر کر رہا ہے۔ موٹر ریلی پاکستان کے مختلف علاقوں خنجراب، چترال، مظفر آباد، اسلام آباد، لاہور، ڈیرہ اسماعیل خان، رزمک (شمالی وزیرستان)، گومل زام ڈیم، کوئٹہ اور کراچی سمیت دیگر شہروں سے ہوتی ہوئی گوادر پہنچی۔ بلاشبہ اس ریلی نے پاکستان کے ایک پُرعزم اور پُرامن ملک ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ 31اکتوبر2017 کو گوادر میں ہونے والی اختتامی تقریب جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی شرکت کی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی پُرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم ہے اور تمام چیلنجز کے باوجود سربلند ہونا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب موٹر ریلی پُرامن پاکستان کے دعوے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خنجراب تا گوادر ہر پاکستانی امن و ترقی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی ترقی کو پاکستان کی ترقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی اقتصادی و معاشرتی ترقی کے لئے پاک فوج صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔


اسی طرح انٹر نیشنل کرکٹ بھی پاکستان میں واپس آ چکی ہے۔ دشمن ممالک نے سری لنکن ٹیم کے خلاف ایک حادثے کو بنیاد بنا کر کرکٹ کو پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہا لیکن وہ اس میں بھی ناکام رہا۔ الحمدﷲ پاکستانی قوم کو ایک اور محاذ پر بھی کامیابی ملی کہ افواج پاکستان کی ٹیم انگلینڈ میں ہونے والے مقابلوں کیمبرین پیٹرول(جنگی مشقوں) میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے سُرخرو ٹھہری ہے۔ پاکستان نے جس طرح سے کچھ سال قبل افغانستان میں اغوا ہونے والے ایک خاندان کو دہشت گردوں کے شکنجے سے چھڑوا کر اُنہیں واپس کینیڈا بھیجا ہے اس سے بھی افواج پاکستان اور اس کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کی جانب سے بین الاقوامی امن کے قیام میں سرانجام دی گئی خدمات کی عکاسی ہوتی ہے۔


پاکستانی قوم اور اس کی افواج عزم اور جانفشانی کی علامت ہیں کہ ان کی قربانیاں اور کامیابیاں اظہرمن الشمس ہیں۔ اب دنیا اس کانسپریسی تھیوری کو ماننے کے لئے چنداں تیار نہیں جس کی رو سے پاکستان کو دنیا کا امن پامال کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔ اب پاکستان اپنی کارکردگی کی بدولت اس مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنا مؤقف واضح کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ آج پاکستان کا شمار باوقار اور مضبوط اقوام میں ہوتا ہے جس کے لئے پاکستانی قوم اور اس کی افواج کی بے مثال کارکردگی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہماری عزت، وقار اور عظمت پاکستان ہی کے دم سے ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان پائندہ باد۔

08
November

تحریر: خالد محمود رسول

کمرے میں باوقار اور سنجیدہ ماحول طاری تھا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا اجلاس تھا۔ امریکی وزیر دفاع کمیٹی کے سامنے دنیا میں سکیورٹی کے حوالے سے پالیسی وضاحتیں دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک سینیٹر نے انہیں سوال کیا ''ون بیلٹ ون روڈ سٹریٹجی کے ذریعے چین مختلف برِاعظموں کے مابین زمینی اور سمندری روٹس کے پھیلائو کا خواہاں ہے۔۔۔ آپ افغانستان میں چین کا کیا رول دیکھتے ہیں، بالخصوص ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے۔


امریکی وزیر دفاع نے نپے تلے انداز میں جواب دیا۔ ''آج کی دنیا میں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کئی طرح کی بیلٹس اور کئی طرح کی روڈز کے ذریعے منسلک ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ایک ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں پر ون بیلٹ ون روڈ کو مسلط کرے۔'' اس وضاحت کے دوران انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کیونکہ اس منصوبے کا ایک حصہ متنازعہ علاقے سے گزرتا ہے ، اس لئے یہ منصوبہ اور بھی تشویشناک ہے۔ ان کا اشارہ واضح طور پر سی پیک کی اس تجارتی شاہراہ کی طرف تھا جو گلگت بلتستان سے گزر رہی ہے۔
بھارت کی چین کے منصوبے
Belt Road Initiative
پر ناخوشی ڈھکی چھپی نہیں لیکن سی پیک کے حوالے سے ہندوستان اس منصوبے کے روزِ اول سے ہی زیادہ چیں بہ چیں رہا ہے۔ ہر فورم پر ہندوستان نے اس منصوبے کی اس بناء پر مخالفت کی کہ سی پیک کی مرکزی شاہراہ بقول اس کے گلگت بلتستان کے متنازعہ علاقے سے گزرتی ہے ۔ پاکستان کا مؤقف بڑا واضح اور جاندار رہا ہے۔ مزید برآں چالیس سا ل قبل اسی علاقے سے شاہراہ قراقرم گزری لیکن بھارت نے اس بنیاد پر اس پر کبھی اعتراض نہیں اٹھایا لیکن سی پیک کے منصوبے کے پاکستانی معیشت پر انقلابی امکانات کے پیشِ نظر ہر فورم پر دہائی دینے میں مصروف ہے۔


بھارت کے اس مؤقف کو یوں تو دنیا میں کوئی پذیرائی نہیں ملی ہے تاہم اس نے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور امسال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جون میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں امریکہ نے ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے بھارت کے مؤقف کی تائید کے اشارے ملے ہیں۔

سی پیک کے آغاز سے ہی بھارت کو اس منصوبے پر اعتراض تھا۔ اصل اندرونی دکھ تو یہ تھا کہ پاکستان میں جہاں سال ہا سال سے ڈیڑھ دو ارب ڈالر سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی وہاں ایک ہی پروگرام کے تحت چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ لانچ ہو گیا۔ بلکہ اس میں بعد میں اضافہ ہو کر یہ ممکنہ سرمایہ کاری پچپن ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔ انرجی، انفراسٹرکچر، پورٹ، انڈسٹریل اسٹیٹس، ریلوے، پائپ لائینز اور فائبر آپٹک سمیت کئی اور شعبوں پر مبنی اس سرمایہ کاری کو پاکستان کی معیشت کے لئے گیم چینجر کہا گیا۔

امریکی وزیر دفاع کے اس بیان پر چین نے بجا طور پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ پاکستان نے بھی اپنے مؤقف کا واشگاف انداز میں اظہار کیا لیکن بھارتی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں امریکہ کی پالیسی میں بھارت کی طرف جھکائو پر شادیانے بجائے گئے۔ عالمی طاقتوں کی کھینچا تانی میں امریکہ کی اس 'بھارت نواز' پالیسی کے خطے پر بالعموم اور سی پیک پر بالخصوص دُور رَس اثرات ہو سکتے ہیں۔


سی پیک کے آغاز سے ہی بھارت کو اس منصوبے پر اعتراض تھا۔ اصل اندرونی دکھ تو یہ تھا کہ پاکستان میں جہاں سال ہا سال سے ڈیڑھ دو ارب ڈالر سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی وہاں ایک ہی پروگرام کے تحت چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ لانچ ہو گیا۔ بلکہ اس میں بعد میں اضافہ ہو کر یہ ممکنہ سرمایہ کاری پچپن ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔ انرجی، انفراسٹرکچر، پورٹ، انڈسٹریل اسٹیٹس، ریلوے، پائپ لائینز اور فائبر آپٹک سمیت کئی اور شعبوں پر مبنی اس سرمایہ کاری کو پاکستان کی معیشت کے لئے گیم چینجر کہا گیا۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کے قریب ترین دوست ملک چین کے ذریعے ہو رہی ہے ۔ سی پیک منصوبے کے تحت مرکزی تجارتی شاہراہ گلگت بلتستان سے گزرے گی۔ بھارت کو سی پیک منصوبے پر دشمنی 'نبھانے' کا اور کوئی سفارتی یا قانونی طریقہ نہ سوجھا تواس نکتے کو بنیاد بنا کر دنیا بھر میں اس منصوبے کی مخالفت شروع کر دی کہ یہ تجارتی شاہراہ گلگت بلتستان کے علاقے سے گزرتی ہے جو اس کی نظر میں متنازعہ ہے۔


دنیاکے ممالک اپنے اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں۔ چین کی معاشی طاقت اورآنے والے وقتوں میں چین کے ساتھ تجارت اور تعلقات سے جُڑے معاشی امکانات کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے تعلق کو مناسب جانا ۔ ان ممالک میں یورپ کے وہ ممالک بھی شامل ہیں جو امریکہ اور نیٹو کے اتحادی بھی ہیں۔ گزشتہ سال چین میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے سلسلے میں سربراہ کانفرنس میں پینتالیس سے زائد سربراہ شامل ہوئے۔ جنوبی ایشیا میں سے بھارت واحد ملک تھا جس نے عین آخری لمحے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
امریکی حکام کو بہرحال یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہئے کہ حقیقت میں
Disputed Territory

مقبوضہ کشمیر ہے نہ کہ آزادکشمیر یا گلگت بلتستان۔ زمین پر موجود حالات کے طائرنہ جائزے سے یہ بات مکمل واضح ہو جاتی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگوں نے اپنا فیصلہ پاکستان کے حق میں روزِاول سے دے دیا ہے۔ آزادکشمیر کے عوام پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ پاکستان کی سرحدوں کے دفاع میں ہمہ وقت پیش پیش رہتے ہیں چہ جائیکہ ہندوستانی افواج کے جو اپنی بربریت کے ذریعے ہمہ وقت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی کی تحریک کو کچلنے میںمصروف ہے۔ آزادکشمیر کے عوام اور پاکستانی افواج کے درمیان رشتہ 'قابض اور مظلوم' کا نہیں بلکہ 'دوست اور بھائی' کا ہے۔ پاکستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام ایک اِکائی کی صورت رکھتے ہیں۔ ایک ہی وجود کے مختلف اعضا ہیں۔ غرضیکہ تاریخی، ثقافتی اور زمینی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ
Disputed Territory
گلگت بلتستان نہیں بلکہ
Indian Occupied Kashmir
ہے جہاں
Plebiscite
ہونا باقی ہے۔ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کے حق میں اپنا فیصلہ 1947میں ہی دے دیا تھا اور آج وہ پاکستان کی شناخت ہیں۔
امریکہ نے اپنی نئی افغان پالیسی میں بھارت کے مجوزہ کردار کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے اور ساتھ ہی چین کو بھی پیغام دیا ہے کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی راہ میں اب امریکہ رکاوٹیں کھڑی کرنے پرکمر بستہ ہے۔ امریکہ عرصے سے چین کو گھیرے میں رکھنے اور محدود رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگرچین نے کمال مہارت سے عالمی سطح پر اپنے آپ کو ہر طرح کے قضیے سے بچائے رکھا، اپنی معیشت کے پھیلائو اور اور استحکام پر توجہ مرکوز رکھی لیکن اب ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے کثیر الملکی اور بین البرا عظمی پھیلائو پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔


امریکہ کی ورلڈ آرڈر لیڈرشپ کو مسلسل نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ''پہلے امریکہ'
(America First)
کے نعرے اور پالیسی کے ساتھ اقتدار سنبھالا تو عالمی بساط پر امریکہ کے قائدانہ رول اور پالیسیوں میں تبدیلی نظر آنا شروع ہو گئی۔ اپنے قریب ترین اتحادی یورپی یونین کے ساتھ ان کے نیٹو کی فنڈنگ کے حوالے سے اختلاف نے امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں وقتی سرد مہری پیدا کر دی ہے۔
چین کے ساتھ صدر ٹرمپ کے گزشتہ انتخابی بیانات کے پیشِ نظر ٹریڈ وار کا خدشہ تھا لیکن چین اور بعد ازاں وائٹ ہائوس میں مدبرانہ عناصر صدر ٹرمپ کو اس تجارتی جنگ کا نفع نقصان سمجھانے میں توکامیاب ہو گئے لیکن امریکہ اپنی دُور رَس علاقائی اور عالمی پالیسیوں کے تسلسل میں چین کی ابھرتی ہوئی معاشی اور سیاسی طاقت سے خائف ہے۔ اس پس منظر میں جنرل میٹیز کی جانب سے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر یہ بیان اس امر کی چغلی کھا رہا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں چین کو بدستور گھیرے رکھنے اور محدود کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔


امریکہ اس سے قبل پاکستان ایران گیس منصوبے کو روند چکا ہے۔ پاکستان میں گیس کے وسائل اس کی ضروریات سے کہیں کم ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوں کی کوتاہ بینی تھی کہ انہوں نے چند ہی سالوں میں گیس کے محدود وسائل کو کھاد، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی پیداوار میں کھلے دل سے استعمال کرتے ہوئے ملک کو گیس کی قلت سے ہمکنار کر دیا۔ ایران سے گیس کی درآمد ایک قدرتی متبادل تھا لیکن یہ متبادل امریکہ اور ایران کی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایران کی جانب سے پائپ لائن کی پاکستان سرحد تک تعمیر کے باوجود پاکستان امریکہ اور سلامتی کونسل کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے دبائو کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل نہ کر سکا۔ حالانکہ یورپ کے بیشتر ممالک اپنی انرجی ضروریات کے لئے گیس روس سے درآمد کرتے ہیں۔ روس سے تمام تر مخاصمت کے باوجود امریکہ نے کبھی یورپی اتحادی ممالک کو اس بات پر مجبور نہ کیا کہ وہ روس سے گیس نہ لیں لیکن پاکستان اپنے مخصوص سیاسی، علاقائی اور معاشی حالات کے ہاتھوں ایسا مجبور ہوا کہ پاک ایران منصوبے پر آزادانہ مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں رہا ۔

پاکستان کے ریاستی اداروں کے لئے یہ امر بہت اہم ہے کہ سی پیک منصوبہ کسی بھی صورت عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کا شکار نہ ہو۔ سفارتکاری اور باہمی تعلقات کو اس انداز میں نبھانے کی ضرورت ہے کہ سی پیک منصوبہ اور اس کی مرکزی گزرگاہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کے اثرات سے محفوظ رہے۔


اس دوران امریکہ کی نئی افغان پالیسی پر عمل درآمد کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ میڈیا میں یہ خبریں بہت دنوں سے گردش میں ہیں کہ پاکستان کو ایک سخت پیغام دیئے جانے کی تیاری ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کمیٹی نے بجا طور پر ایک دلیرانہ اور مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے۔ بہرحال پاکستان کا مؤقف اپنی جگہ مگرتاریخ کی گواہی یہی ہے کہ امریکہ اپنے دور رس سکیورٹی مفادات کے لئے روایتی اقدامات سے شائد ہی باز رہ سکے۔


پاکستان کے ریاستی اداروں کے لئے یہ امر بہت اہم ہے کہ سی پیک منصوبہ کسی بھی صورت عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کا شکار نہ ہو۔ سفارتکاری اور باہمی تعلقات کو اس انداز میں نبھانے کی ضرورت ہے کہ سی پیک منصوبہ اور اس کی مرکزی گزرگاہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کے اثرات سے محفوظ رہے۔ ہمیں اس منصوبے کو ایک اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بننے سے روکنے کے لئے بہترین سفارتکاری اور معاملہ فہمی کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے تاکہ سی پیک کو اپنے نشانے پر لینے کی دشمن کی نئی چال کامیاب نہ ہونے پائے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر:سمیع اللہ سمیع

دنیامیں طاقت کی رسہ کشی درحقیقت وسائل کی کھینچاتانی سے مشروط رہی ہے۔ افغانستان وہ بدقسمت ملک ہے جس کی سرحدوں سے انیسویں صدی کے وسط سے تاحال سپرپاورزکی آنکھ مچولی جاری ہے۔فرق بس اتناپڑاہے کہ اب برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے جبکہ روس نسبتاًکمزورہونے کے باعث بیک فٹ پر لڑرہاہے۔بہت سے افغانی پرامیدہیں کہ روسی وزیراعظم ولادی میرپیوٹن اورڈونلڈٹرمپ دوطرفہ تعلقات میں بہتری لائیں گے توافغانستان چکی کے پاٹوں میںمزید پسنے سے محفوظ رہ جائے گا۔1930کی، افغانی معدنی وسائل پر،جرمن رپورٹ سے اب تک کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 3ٹریلین ڈالرسے زائدکے معدنی وسائل موجودہیں ۔سی این بی سی اپنی ویب سائٹ پر لکھتاہے کہ افغان جنگ پر خرچ ہونے والے700 بلین ڈالراب امریکہ وہاں کے معدنی ذخائرسے حاصل کرے گا۔
United States Institute of Peace
کے مطابق افغانستان میں
Aynak
کے مقام پر
copper
کے ذخائرکی لاگت پچاس بلین ڈالرہے ۔سی این بی سی کے مطابق 1997میں افغان طالبان کاایک وفدیونین آئل کمپنی آف کیلی فورنیا
(UNOCAL)
سے گیس پائپ لائن کے دوبلین ڈالرکے منصوبے پر رضامند ہوا لیکن افغان طالبان چاہتے تھے کہ امریکہ انھیںسرکاری سطح پرتسلیم کرے، اسی بناپر یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔ افغانستان کی 80فیصدآبادی کاتعلق زراعت کے پیشہ سے ہے جبکہ وہ اپنی ضرورت کی 24پروڈکٹس پاکستان سے درآمدکرتاہے جن میں چاول، ادویات اوردوسری روزمرہ کی اشیاء شامل ہیں۔اس طرح افغانستان پاکستانی مال کا تیسرا بڑاخریدارہے اوراس کی بیرون ملک برآمدات بھی پاکستان کے ساتھ اس کے 2010کے معاہدے۔
APTTA
کے تحت ہوتی ہیں۔ 2014کے آخرمیں افغانستان کی کمرشل ٹرانزٹ پچھترہزارسے کم ہوکرپینتیس ہزارتک رہ گئی جوہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے جبکہ 2014کے آغاز پردوطرفہ تجارت کی شرح دوبلین ڈالرتھی۔اس کی خاص وجوہات ایرانی راستے کی آسانیاں، کرایہ اور کار گو اخراجات کی کمی اورڈالرکے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی کم مالیت ہیں۔
اس وقت امریکی پالیسی اورآئی ایس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے چین، ایران اورروس کومجبورکردیاہے کہ وہ افغانستان میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کریں ۔خطے کے ان تین ممالک کامؤقف ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن نہیں چاہتااوروہ اپنے آپ کوافغانستان کے لئے ناگزیر ثابت کرنے کی خاطربہت سے اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ جیساکہ سابق افغان صدرحامدکرزئی نے
Russian TV
کو انٹرویودیتے ہوئے کہاکہ یہ سوال قابل غورہے کہ امریکی سکیورٹی فورسز اورسی آئی اے کی موجودگی میں دہشت گردتنظیم دولت اسلامیہ کاافغانستان میں واردہونااوربتدریج قوت بڑھانا کیسے ممکن ہوا؟انھوں نے کہاکہ امریکہ توافغانستان میں قیامِ امن کے لئے آیا تھا لیکن اس کے آنے کے بعدعدم استحکام،معاشی ابتری اوردہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دوٹوک اندازمیں کہاکہ افغانیوں کو ہراساں کرنا، بمباری اور قتل وغارت سمیت جیلیں بھرناجیسے اقدامات اپنی اہمیت کھوبیٹھے ہیں۔ہمیں قیامِ امن کے لئے راہیں بھی پرامن ڈھونڈناہوں گی۔جب ان سے سوال کیاگیاکہ کیا امریکہ دولت اسلامیہ کوافغانستان میں اسلحہ فراہم کررہاہے ؟توانہوں نے بلاجھجک اس بات کااظہارکیاکہ میرے پاس لوگ آتے ہیں اوربتاتے ہیں کہ کیسے بے رنگ ہیلی کاپٹرروزانہ کی بنیادپراسلحہ لے کرآئی ایس کے مختلف ٹھکانوں تک پہنچاتے ہیں اورایساپورے افغانستان میں کیاجارہاہے۔اپنی بات کوجاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم پوچھیں کہ امریکہ کی موجودگی میں داعش کیسے پھیلی جبکہ وہ تو طالبان والقاعدہ کوختم کرنے آیاتھا۔انھوں نے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے مزیدکہاکہ افغانستان میں امریکی عملداری کاتویہ حال ہے کہ جب امریکی وزیردفاع جنرل میٹس افغانستان کی سرزمین پرقیام پذیر تھے تووہ کابل ائرپورٹ کوبھی محفوظ نہ بناسکے ۔ان کی یہ بات طالبان کی اس بات کی کسی حدتک تصدیق کرتی ہے کہ وہ آج بھی افغانستان کے آدھے حصے پر قابض ہیں۔انھوں نے پاکستان سے افغانستان کے تعلقات کوبہتربنانے کی اہمیت پربھی زوردیا۔

گزشتہ ماہ پشاورمیں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل عبدالوحیدپوہان نے کہاکہ کچھ طاقتیں پاکستان اورافغانستان کوایک دوسرے سے دوررکھناچاہتی ہیں۔پاکستان وافغانستان کے بہترتعلقات نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ حالیہ حالات کے لئے بھی ناگزیرہیں۔

گزشتہ ماہ پشاورمیں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل عبدالوحیدپوہان نے کہاکہ کچھ طاقتیں پاکستان اورافغانستان کوایک دوسرے سے دوررکھناچاہتی ہیں۔پاکستان وافغانستان کے بہترتعلقات نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ حالیہ حالات کے لئے بھی ناگزیرہیں۔انھوں نے اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ میں جتناعرصہ پشاورمیں رہا، مجھے محسوس ہی نہیں ہواکہ میں کسی دوسرے ملک میں آیاہواہوں ۔دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔افغان صدرسے جب بھی ملاقات ہوئی انھوں نے پاکستان کے ساتھ بہترتعلقات کی تلقین کی۔


افغان صدراشرف غنی نے اقتدارسنبھالتے ہی پاکستان سے بہترتعلقات کاعندیہ دیاتھالیکن پھررفتہ رفتہ سب کچھ سرد خانے کی نذرہوگیاجس میں آرمی پبلک سکول کاواقعہ ایک بڑامحرک تھا۔حالیہ بیجنگ کانفرنس میں افغان صدراشرف غنی نے اپنی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے پانچ سرکلز بیان کئے جس میں پاکستان کو پہلے اوربھارت کو چوتھے سرکل میں رکھاگیایہ پاکستان کے بارے میں افغانستان کی پالیسی کایوٹرن ہے جو کہ ایک خوش آئندقدم ہے۔اس میں دونوں ممالک کی سول وملٹری قیادت کے دوروں اورنیک نیتی کاعمل دخل ہے۔19 ستمبرکواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی اشرف غنی کایہی کہناتھاکہ وہ پاکستان سے بہترتعلقات کے خواہاں ہیں۔ اس سے اگلے روز، بدھ کوافغان سفیر عمرزخیلوال نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے ملاقات کی جس میں انھوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی بہتری کے لئے نہ صرف آرمی چیف کی کوششوں کوسراہابلکہ امیدظاہرکی کہ وہ دونوں ممالک کو قریب لانے میں مزیدکرداراداکریں گے۔اس دوران ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اورخطے میں سکیورٹی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔اس میٹنگ میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون پر بھی اطمینان کااظہارکیاگیا۔

pakafghantaluqmado.jpg
آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے پہلے دورہ افغانستان کے نہایت مثبت نتائج حاصل کئے ۔اس دورہ میں ان کے ساتھ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل نویدمختاربھی شامل تھے۔صدراشرف غنی کے ساتھ ون ٹوون ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی جس میںغلط فہمیوں کے ازالے اوردونوں ممالک میں امن واستحکام کوجاری رکھنے کے لئے مختلف سطح کے مذاکراتی عمل کو تواترکے ساتھ جاری رکھنے پربھی اتفاق کیاگیا۔آرمی چیف نے قیامِ امن کے لئے افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کی بھی پیشکش کی ۔پاک فوج کے ترجمان نے اس دورہ کے بعد کہاکہ اس ملاقات کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اس کے بعد کوئی منفی بیان سامنے نہیں آیا۔اس ملاقات کے بعدایک مثبت ماحول کی تعمیرمیں مددملی اورافغانستان اب سمجھ رہاہے کہ پاکستان اس کے لئے کتنا مثبت کرداراداکرسکتاہے۔


ڈونلڈٹرمپ کی21 اگست کی نئی افغان پالیسی کے مندرجات تووقت کے ساتھ ساتھ طشت ازبام ہوہی جائیں گے لیکن اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ ستمبر 2017 میں افغانستان کی سرزمین پر موجوددہشت گردوں کے ٹھکانوں پر 751 بم پھینکے گئے جوکہ 2012کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی تک امریکہ نے افغان طالبان کو محض مزاحمت کار قرار دیا ہواہے اورہمیں ڈومورکے چکرمیں الجھارکھاہے۔یہ وہی افغان پالیسی ہے جسے ستمبر میں سابق صدر حامدکرزئی نے افغانستان کے مسائل میں اضافے کاسبب قراردیاہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں افغانی صدراشرف غنی نے اس بات پراطمینان کااظہارکیاہے کہ صدرٹرمپ نے مزید ٹروپس بھیج کر انتہاپسندوں کویہ پیغام دیاہے کہ ان کے لئے بہترراستہ میدان جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کی میزہے۔یہ عجب اسرارہے کہ جب پاکستان،چین، امریکہ وافغانستان کے مابین جنوری 2016 میںفورنیشن پیس ٹاک شروع کی جاتی ہیں تو پانچویں سیشن میں کابل سے خبرلیک کی جاتی ہے کہ ملاعمرکراچی میں وفات پاچکے ہیں اورپاکستان نے اس لئے خبرکوعام نہیں کیا کہ طالبان پر اثرورسوخ میں کمی نہ آئے۔ پھراکیس مئی2016 میں ڈرون اٹیک کر کے طالبان رہنما ملااخترمنصور کو اگلی دنیا میں پہنچا دیا جاتاہے۔ دنیاپریہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ پاکستانی علاقے میں موجودتھے جبکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ ایران سے مذاکرات کرکے واپس جارہے تھے۔ اس وقت سے اب تک فورنیشن پیس ٹاک سردخانے کی نذر رہے۔ دوسری جانب پاکستانی سرزمین پر انٹیلی جینس شئیرنگ کے معاملے پرپاکستان نے کرم ایجنسی میں کارروائی کرتے ہوئے5 کینیڈین مغویوں کو بازیاب کرایاہے۔ دفترخارجہ کے ترجمان نفس زکریانے اس حوالے سے کہاہے کہ پاکستان سے زیادہ بہترکارروائی پاکستا ن کی سرزمین پر کوئی نہیں کر سکتا۔ امریکی وزیردفاع جیمزمیٹس اورامریکی صدرنے اس کارروائی کودونوں ممالک کے مابین ایک مثبت پیش رفت قراردیاہے۔ اس معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی انٹیلی جینس شئیرنگ پر کارروائی پاک فوج ہی کرے گی کہ اس میں دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے، مشترکہ آپریشن کی کوئی صورت قابلِ قبول نہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اعتمادکی فضاقائم کی جائے۔


اقوام متحدہ کے 72ویں اجلاس کے بعد ایشیا سوسائٹی فورم سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پاکستان کو قربانی کابکرانہ بنائے۔انھوں نے امریکہ کومتنبہ کیاکہ وہ پاکستان کوحقانی نیٹ ورک کے حوالے سے الزام دیناچھوڑدے، دو تین عشرے قبل یہی لوگ آپ کے
Darling
تھے ۔انھوں نے زوردیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کوآج امریکہ زمین پر بوجھ قراردے رہاہے ،یہی لوگ دوتین عشرے قبل وائٹ ہائوس کے چہیتے تھے ۔انھوں نے مزید کہاکہ امریکہ نے ماضی میں بھی ہمارے لئے مشکلات کھڑی کی ہیں اوراب بھی شدت پسندی میں اضافے کا موجب بن رہاہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے بھی کہاکہ دنیاکوچاہئے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے ضمن میں خدمات کوسراہے، اگر اسی طرح الزامات کاسلسلہ جاری رہاتو یہ خطے کے امن کے لئے سازگار ثابت نہ ہوگا۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان کوفوجی ضروریات کے لئے امریکہ پرزیادہ انحصارکی ضرورت نہیں ہے۔ اگرکسی کاایک راستہ بندکیاجائے تووہ لامحالہ دوسرا راستہ اختیارکرے گا۔


ضرورت اس امرکی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی تیسرے ملک کے منفی اثرات قبول نہ کرے ۔ بھارت جیساملک افغانستان کی سرزمین پر موجودہے ،ان کی اسمبلیوں میں لابنگ کررہاہے ،وہ کبھی نہیں چاہے گاکہ پاکستان وافغانستان کے تعلقات بحال ہوں اورجندال کے ذریعے لوہے کے بہترین ذخائربھارت کے ہاتھ لگیں ۔مختلف ذرائع اس بات کی تائید کررہے ہیںکہ لوہے کوبھارت تک پہنچانے کے لئے سجن جندال پاکستان سے واہگہ کازمینی راستہ مانگ رہاہے جسے قبول کرناپاکستان کے مفاد میں نہیں۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی تیسرے ملک کے منفی اثرات قبول نہ کرے ۔ بھارت جیساملک افغانستان کی سرزمین پر موجودہے ،ان کی اسمبلیوں میں لابنگ کررہاہے ،وہ کبھی نہیں چاہے گاکہ پاکستان وافغانستان کے تعلقات بحال ہوں اورجندال کے ذریعے لوہے کے بہترین ذخائربھارت کے ہاتھ لگیں ۔مختلف ذرائع اس بات کی تائید کررہے ہیںکہ لوہے کوبھارت تک پہنچانے کے لئے سجن جندال پاکستان سے واہگہ کازمینی راستہ مانگ رہاہے جسے قبول کرناپاکستان کے مفاد میں نہیں۔


چارفریقی مذاکرات کا آغازہوچکاہے۔اس دوران امریکہ کی جانب سے کرم ایجنسی کی مخالف سمت افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا میںڈرون حملوں کے بعد طالبان کی جانب سے کئے گئے حملوں میں صوبائی پولیس آفیسر سمیت افغانستان کو 72افراد کی قربانی دینا پڑی ۔پکتیامیں حالیہ دہشت گردی کی واردات پر آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہاکہ دہشت گردی سے لڑنے والے افغان ہمارے بہادر بھائی ہیں،خطے کے استحکام کے لئے ہم مل کرلڑیں گے اور دہشت گردوں کوشکست دیں گے ۔اس موقع پر آئی ایس پی آرکی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی کہ کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہواہے۔آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے بعد دونوں ممالک کی افواج کے تعاون اور باہمی اعتمادمیں اضافہ ہوا ہے۔ریزولیوٹ سپورٹ مشن
Resolute Support Missiom
کے تحت اطلاعات کابروقت تبادلہ کیاگیا۔ چار فریقی مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہاکہ ہم نے طالبان کو کوئی محبت کاپیغام نہیں بھیجا، ان مذاکرات کے دوران امریکہ کوڈرون حملوں سے اجتناب برتناچاہئے اورہم اکیلے طالبان کومیزتک نہیں لاسکتے، اس ضمن میں افغان حکومت کا بھی تعاون درکار ہے۔
چار فریقی مذاکرات کے بعد بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے نے اس بات کاعندیہ دے دیاہے کہ خطے کاکون ساملک افغانستان میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرناچاہتاہے اورکس طرح کی بزدلانہ حرکات کرکے پاکستان کے عزائم کو پست کرنے کی سعیِ ناکام میں مصروفِ عمل ہے۔


خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ اگر امریکہ نے ہوش کے ناخن نہ لئے اورجنگ کوجنگ سے ختم کرنے یااپنی طاقت کے زعم میں بھارت کوآگے لاکرخطے میں عدم توازن کی کوئی بھی کوشش کی تواس کے نتائج نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ اس خطے میں امریکہ کے مفادات کے لئے بھی بدتر ثابت ہوں گے۔آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے بعددونوں ممالک کے مابین بڑھتی قربتیں کسی تیسرے ملک کو ان کے درمیان دراڑیں ڈالنے سے روک رہی ہیں۔ افغان صدر نے بھی پاکستان کادورہ کرنا ہے جس کے پاک افغان تعلقات پر یقینا نہایت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان حالات کے تناظر میں قوی امید ہے کہ اس خطے کے عوام اپنے بہترمستقبل کے لئے کسی کادست نگررہنے کے بجائے آپس کے تعاون سے مسائل کاحل نکال لیں گے۔بصورت دیگراغیار ان کی معدنیات سمیت ان کاچین بھی چھین کے رہیں گے۔

مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

(قسط22)

سادگی
بہت سال پہلے ہمارا ایک بیٹ مین بشیر ہوا کرتا تھا جو کہ سادگی میں اپنی مثال آپ تھا۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ہماری یونٹ ایک طویل جنگی مشق کے سلسلے میں کھاریاں کے قریب ایک علاقے میں موجود تھی۔ دوران ایکسرسائز ہم نے ویک اینڈ پر گھر جانے کا پروگرام بنایا۔ بشیر سے کہا گیا کہ ہمارے لئے بس کی ایک سیٹ کا بندوبست کرے۔ اس نے یہ سن کر دوڑ لگائی اور نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ دو گھنٹے کے انتظار کے بعد ہانپتا کانپتا ایک طرف سے نمودار ہوا اور آتے ہی کہنے لگا کہ سر! کوئی بس والا بھی سیٹ دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے لڑائی جھگڑے کے بعد جا کر ملی ہے۔ ویک اینڈ پر عموماً رش کی وجہ سے ایسا ہوتا تھا جو کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ ہم نے اسے شاباش دی اور تیار ہونے کے لئے ٹینٹ میں چلے گئے۔ کچھ دیر بعد باہر نکلے تو ہماری نگاہ سامنے موجود سچ مچ کی "سیٹ" پر پڑی جس کے ساتھ بشیر کھڑا مسکرا رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ہم نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا۔
مت پوچھئے کہ اس روز گھر تک پہنچنے کے لئے ہمیں کتنا کٹھن سفر طے کرنا پڑا البتہ اس واقعے کے بعد ہم نے کسی سے بس کی سیٹ لانے کی فرمائش نہیں کی۔


بھول چوک
اچھی تربیت ہمیشہ سے پاک فوج کا طرہ امتیاز رہی ہے۔ زمانۂ امن میں معیاری ٹریننگ ہی فوج کی اولین ترجیح ہوتی ہے جس کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا۔ ہر فارمیشن کو سال میں دو مرتبہ جنگی مشقوں کے لئے لازمی طور پر فیلڈ ایریا میں نکلنا ہوتا ہے ۔ دو سال میں ایک بار فائرنگ رینج پر کیمپ بھی کیا جاتا ہے جس کے دوران بھاری ہتھیاروں یعنی توپوں اور ٹینکوں کے لائیو فائر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ ہر یونٹ کے لئے سخت امتحان کا موقع ہوتا ہے جس کے لئے بہت پہلے سے تیاریاں شروع کر دی جاتی ہیں۔ تمام لوگوں کی ریفریشر ٹریننگ کے ساتھ ساتھ توپوں کی صفائی اور گولوں کی ستھرائی کا بطور خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ یونٹ جب میدان میں پہنچے تو ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس ہو تاکہ کم وقت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ ٹریننگ کے بارے میں ایک ایس ایم صاحب نے ریٹائرمنٹ کے موقع پران خیالات کا اظہار کیا، صاحبو! میں نے فوج میں پینتیس سال زیرِتربیت رہ کر گزارے ہیں۔ در حقیقت ٹریننگ تو پہلے سال ہی کی تھی باقی کے چونتیس سال اسی کو دہراتے ہوئے گزرے ہیں۔


ایک ایسی ہی جنگی مشق کے لئے ہمیں اوکاڑہ سے خیر پور ٹامیوالی فائرنگ رینج پر پہنچنا اور دو ماہ کے لئے وہاں پر کیمپ کرنا تھا۔ یونٹ میں دو ماہ پہلے سے سخت تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔ جوں جوں وقت قریب آتا جا رہا تھا ان تیاریوں میں مزید سختی آتی چلی گئی۔ آخر خدا خدا کر کے وہ دن آن پہنچا جب یونٹ نے تمام رخت سفر باندھ کر اٹھارہ توپوں کے ہمراہ چھائونی سے کوچ کیا۔ کوئی دس گھنٹوں کے لگاتار سفر کے بعد جب ہمارا قافلہ منزل پر پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔ سامان اتارنے کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف خیموں کی چھوٹی سی بستی آباد ہو گئی۔ ایک مناسب جگہ پر لنگر کا سامان کھولا گیا اور کچھ ہی دیر میں گرما گرم کھانا تیار کر کے پیش کر دیا گیا۔ ایک بڑے سے ٹینٹ میں آفیسرز میس کا انتظام کیا گیا جہاں بیٹھ کر سب افسروں نے لالٹین کی روشنی میں کھانا تناول کیا۔ اگلے روز سے رینج پر پریکٹس فائر کا آغاز ہونا تھا اس لئے محفل جلد برخاست کر دی گئی اور سی او سمیت سب لوگوں نے شب باشی کے لئے اپنے اپنے خیموں کا رخ کیا۔


اگلی صبح کا آغاز کچھ ایسا اچھا نہ تھا۔ سی او میس میں تشریف لائے تو ان کے چہرے سے ناراضی عیاں تھی۔ چھوٹتے ہی ٹو آئی سی کی طرف رخ کر کے فرمانے لگے کہ ''میری تو تمام رات آنکھوں میں ہی کٹی ہے۔'' ٹو آئی سی بولے کہ ''سر ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں نے تو سب سے بہترین جگہ پر آپ کا ٹینٹ لگوایا تھا تاکہ آپ ٹھیک طرح سے آرام فرما سکیں۔'' سی او نے جواب دیا ''میجر صاحب! آپ اس بات پر یقینا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز کے مستحق ہیں کہ آپ نے میرے ٹینٹ کے لئے عین لنگر کے ہمسائے میں جگہ کا انتخاب کیا ۔ رات بھر بکریوں کی مَیں مَیں نے آسمان سر پر اٹھائے رکھا ، پو پھٹتے ہی مرغوں نے اذانیں دینا شروع کر دیں اور دن چڑھے لنگر پر خانساموں کی قوالی شروع ہو گئی۔ اب ایسے شاندار ماحول میں کوئی پلک بھی کیسے جھپک سکتا ہے۔

 
یہ قضیہ ابھی جاری ہی تھا کہ صوبیدار میجر صاحب ٹینٹ کا پردہ اٹھا کر ایک کونے سے نمودار ہوئے۔ سی او اپنی پریشانی بھول کر ان کی جانب متوجہ ہوئے۔ ''جی، ایس ایم صاحب ، کیا سب لوگ فائر کے لئے تیار ہیں؟'' جواب آیا ''سر! سب خیر خیریت ہے۔ وہ بس آپ کو بتانا تھا کہ ۔۔ کہ۔۔۔ہم گولے لانا بھول گئے ہیں۔'' یہ سن کر سی او نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ قریب تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک ہو جاتا کہ ٹو آئی سی اور دوسرے افسروں نے ان کو سہارا دے کر کرسی پر بٹھایا ۔ تھوڑی دیر بعد ان کی طبیعت بحال ہوئی تو انہوں نے فرداً فرداً ہم سب کی ''عزت افزائی'' کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی ساتھ اوکاڑہ کینٹ فون کر کے فوری طور پر دو ٹرک چلوائے گئے جو گولے لے کر شام تک خیر پور رینج پہنچے۔


اگلے دن کا آغاز صبح سویرے ایک عدد کالے بکرے کی قربانی سے کیا گیا جس کے بعد خطیب صاحب نے خصوصی دعا بھی فرمائی۔ فائر سے پہلے توپوں کو رینج ایریا سے سات کلومیٹر پیچھے ڈیپلائے کیا گیا۔ ٹارگٹ ایریا سے ڈھائی کلومیٹر پیچھے ایک اونچے ٹیلے پر آبزرویشن پوسٹ (او پی) بنائی گئی ۔ او پی سے گن پوزیشن کو وائرلیس سیٹ کے ذریعے ٹارگٹ کی پوزیشن اور دیگر معلومات پاس کرنے کے بعد فائرکے احکامات دیئے جانے تھے جس کے بعد گن پوزیشن افسر نے ڈیٹا نکال کر توپوں کا رخ ٹارگٹ کی جانب کرنا اور فائر کروانا تھا۔ سی او سمیت تمام افسران او پی پر جمع ہو گئے۔ فائر کا باقاعدہ آغاز ہوا تو ایک نئی مشکل نے آن لیا۔ ہمارے گولوں نے گویا ٹارگٹ کے قریب نہ پھٹنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ہزار جتن کر کے دیکھ لئے لیکن گولوں کا چلن وہی رہا۔ کافی دیر تک یہی سلسلہ جاری رہا تو فائر روک دیا گیا اور تمام افسران سی او کے ہمراہ گن پوزیشن پر پہنچ گئے۔ معاملے کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ توپوں کی سائٹس میں کچھ فنی خرابی تھی جس کے باعث گولے غلط ڈیٹا پر فائر ہو رہے تھے۔


سی او اور ٹو آئی سی کی جانب سے گن پوزیشن آفیسر کی ''عزت افزائی'' کا آغاز ہوا تو موصوف چہرے پر معصومیت طاری کر کے بولے ''سر! اب سمجھ میں آیا کہ فائر کے لئے صرف بکرے کی قربانی ہی کافی نہیں بلکہ سائٹس کو ٹیسٹ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔''


شالا مسافر کوئی نہ تھیوے
پوسٹنگ کے ضمن میں اللہ میاں نے ایم ایس برانچ کو خصوصی طور پر فری ہینڈ سے نواز رکھا ہے۔ ہم تو اپنے،اور بے شمار ساتھیوں کے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افسر کی پوسٹنگ کبھی بھی اس شہر میں نہیں آتی جس کے لئے دل و جان سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ افسر کو چارو ناچار اسی پوسٹنگ پر آمنّا و صدقنا کہنا ہوتا ہے جو اس کے اور فیملی سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ بقول غالب
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق


آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا؟
پوسٹنگ موصول ہوتے ہی پرانا سٹیشن اجنبی سا محسوس ہونے لگتا ہے اور'چل اڑ جا رے پنچھی' والی فیلنگ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ دریں اثنا چار کاموں کا فی الفور آغاز ہوجاتا ہے یعنی رونا دھونا، کلیئرنس، پیکنگ اور ٹرک کی تلاش۔ نئی پوسٹنگ پر بیگم کا رونا دھونا اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ رونے دھونے کی مقدار نئے سٹیشن کے میکے سے فاصلے سے، براہ راست اور سسرال سے فاصلے سے معکوس متناسب ہوا کرتی ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دیرتو زور و شور سے جاری رہتا ہے پھر دھیرے دھیرے بیمار کو 'بے وجہ قرار'آ ہی جاتا ہے۔ اس کی وجہ عموما نئے شہر میں موجود شاپنگ کی معلومات ہوتی ہیں جو لیڈیز کلب کے توسط سے بیگم تک پہنچتی ہیں۔
یہ بات بھی تجربے سے ثابت ہے کہ حکومت سے پیسہ وصول کرنا تو ناکوں چنے چبانے کے برابر ہے ہی لیکن سرکاری واجبات کی ادائیگی بھی جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ کلئیرنس کروانے کے لئے ایسے ایسے محکموں کے چکر لگانے پڑتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ جس دفتر کا آپ کو نام بھی معلوم نہیں ہوتا، پتہ چلتا ہے کہ آپ کی طرف ان کے بھی ہزار دو ہزار نکلتے ہیں۔ چلتے چلتے جوتیاں گھس جاتی ہیں لیکن گوہر مقصود ہاتھ نہیں آتا۔ جس دفتر میں بھی کلیئرنس فارم روانہ کیا جاتا ہے وہاں سے جواب ملتا ہے کہ ہم تو سب سے آخر میں دستخط کریں گے۔ یہ نکتہ ہماری سمجھ میں آج تک نہیں آیا کہ جب سب ہی آخر میں دستخط کریں گے تو پہلے کون کرے گا؟ جو افسران اس صحرا میں خود سے آبلہ پائی کرنے نکل پڑتے ہیں وہ ایک آدھ دن میں ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے توبہ توبہ کر اٹھتے ہیں اور یہ کام اپنے کسی سیانے حوالدار کو سونپ دیتے ہیں جو چند ''آزمودہ'' نسخے آزمانے کے بعد یہ مرحلہ طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس دوران افسر کی جیب خاطر خواہ حد تک ہلکی ہو چکی ہوتی ہے۔


سامان کی پیکنگ ایک انتہائی ٹیکنیکل قسم کا کام ہے اور ہم سے قسم لے لیجئے کہ یہ آئی ایس ایس بی پاس کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ سو سو طرح کے تجربات سے گزر کر ہی بندہ اس کام میں مہارت حاصل کرپاتا ہے۔ ہرپوسٹنگ پر سامان کے لئے نئی پیکنگ بنوانا پڑتی ہے کیونکہ پرانی پیکنگ دو سال کے عرصے میں سٹور میں پڑی پڑی یا تو گل سڑ جاتی ہے یا 'نادیدہ قوتوں' کے ہاتھ لگ کر غائب ہو جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے آرڈیننس والوں سے جان پہچان نکال کر پرانے کمبل بھی بہم پہنچائے جاتے ہیں اور کارپینٹر سے کریٹ بنوانے کا فریضہ بھی سر انجام دیا جاتا ہے۔ سامان کو لاکھ حفاظتی پردوں میں بھی پیک کر دیا جائے تب بھی اس کے بحفاظت منزل مقصود تک پہنچنے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ واقفانِ 'حال' شاہد ہیں کہ جہیز کی کسی چیز کو معمولی خراش بھی پہنچ جائے تو بیگمات کے لئے وہ صدمہ ابدی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان تمام خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیکنگ کے لئے خصوصی ٹیم کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے گھر کی چیزیں کمبلوں میں لپٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس گھر کو آپ نے دو تین سال تک ارمانوں سے سجایا ہوتا ہے اسے یوں ویران ہوتے دیکھ کر سینے پر سانپ لوٹتے ہیں لیکن بادل نخواستہ یہ عمل جاری رکھا جاتا ہے۔


سامان کی پرانے سٹیشن سے نئے سٹیشن تک ترسیل کے لئے مناسب سواری کا بندوبست کرنا بھی گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ یہ عمل لگ بھگ قربانی کا بکرا ڈھونڈنے جیسا ہی ہوتا ہے۔ ہر افسر کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی کم خرچ بالا نشین قسم کا ٹرک اس مقصد کے لئے حاصل ہو جائے چنانچہ تمام دوستوں یاروں اور دور و نزدیک کے جاننے والوں کو ٹرک والوں سے گفت و شنید کا ٹاسک دے دیا جاتا ہے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدی ۔ نئے شہر کا نام سنتے ہی ٹرک والے جس رقم کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اس سے بہترتو یہ لگتا ہے کہ بندہ تمام سامان فقیروں میں تقسیم کرکے خالی ہاتھ نئے ڈیوٹی سٹیشن پر پہنچ جائے اور وہاں جا کر پورے کا پورا سامان دوبارہ خرید لے۔ لیکن کیا کریں ایسا کرنا چاہتے ہوئے بھی ممکن نہیں ہوتا کیوں کہ اس سامان میں وافر حصہ بیگم کے جہیز کا ہوتا ہے جس سے جدائی انہیں کسی طور گوارا نہیں ہوتی۔ کافی ردو کد کے بعد بجٹ کے ڈیڑھ گنا حد میں ایک عدد ٹرک مہیا ہو ہی جاتا ہے۔ خدا خدا کر کے وہ دن آ جاتا ہے جب ٹرک گھر کے دروازے پر آن کھڑا ہوتا ہے۔ اب سامان کو ٹرک میں لوڈ کرنے کا آغاز ہوتا ہے جو کہ نہایت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ سامان کو ایک خاص ترتیب سے مرحلہ وار ٹرک میں لوڈ کرایا جاتا ہے۔ صوفے کی جگہ بنانے کی کوشش میں فریج سوار ہونے سے رہ جاتا ہے اور جہیز کی پیٹی کو ترجیح دیں تو ڈائننگ ٹیبل کو نیچے اتارنا پڑتا ہے۔ اس مرحلے پر بیگم ہمارے کتابوں والے ٹرنک کو سو سو صلواتیں سناتی ہیں اور اسے ٹرک بدر کروا کے ہی دم لیتی ہیں۔ تمام تر کوشش کے باوجود آخر میں بہت سا سامان بچ جاتا ہے جسے موقع پر ہی مستحقین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
بالآخر ٹرک روانہ ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے افسر بمع فیملی پرانے سٹیشن کو خدا حافظ ''کر کے'' اپنی ذاتی گاڑی میں نئے سٹیشن کے لئے روانہ ہوجاتا ہے۔ نئے سٹیشن پر پہنچ کر سامان کسی سٹور میں رکھوایا جاتا ہے۔ اگر گھر الاٹ ہونے میں کچھ دیر ہو تو تب تک کا وقت میس کے ایک کمرے والے گیسٹ روم میں گزارا جاتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی سٹیشن پر آپ کو چار بیڈ روم کا گھر مل جائے جبکہ دوسرے سٹیشن پر آپ دو کمروں کے فلیٹ میں ڈیرہ جمانے پر مجبور ہوں۔ ایسے میں ہر بار پردے اور قالین گھر کے سائز کے حساب سے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔ نئے گھر کو نئے سرے سے رنگ و روغن کروا کر بڑے چائو سے تیار کیا جاتا ہے۔ تمام اشیاء کی پیکنگ کھولی جاتی ہے۔ ٹوٹی ہوئی اشیاء پر آنسو بہائے جاتے ہیں اور بچ جانے والی چیزوں پر شکرانے کے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ گھر کو نئے شہر کی مناسبت سے خوب سجایا سنوارا جاتا ہے، فون، کیبل، بجلی، گیس کے کنکشن لگوائے جاتے ہیں اور بچوں کے داخلے کرائے جاتے ہیں۔ زندگی نئے سرے سے شروع ہوتی ہے، پرانے دوستوں کو بھلا کرنئے دوست بنائے جاتے ہیں اور نت نئی دلچسپیاں اختیار کی جاتی ہیں۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہتا ہے، دو سال گویا پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں اور پھر اچانک ایک دن بیٹھے بٹھائے۔۔۔۔۔۔ نئی پوسٹنگ آ جاتی ہے۔


ایسا کیوں ہوتا ہے؟
تنخواہ کچھوے کی رفتار سے رینگتی ہے جبکہ مہنگائی خرگوش کی ماننددوڑ لگاتی ہے۔ تنخواہ ملنے سے پہلے ہی بل موصول ہو جاتے ہیں۔ لنگر گپ ہمیشہ سچ نکلتی ہے۔ چھٹی کا وقت قریب آتے ہی آپ کا نام کسی کورس، کمپیٹیشن یا ایکسرسائز کے لئے سیلیکٹ ہو جاتا ہے۔کوئی گیٹ ٹو گیدر ہو تو مناسب کپڑوں کا انتخاب ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔جس شخص سے کام پڑے اس کا نمبر موبائل سے ڈیلیٹ ہو جاتا ہے۔ جو کاغذ برسوں سینت سینت کر رکھے جاتے ہیں ضرورت پڑنے پر چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھی نہیں مل پاتے۔گیسٹ روم کا پوچھنے پر ہمیشہ جواب ملتا ہے کہ اگلے چار ماہ تک سب گیسٹ روم بک ہیں جبکہ بغیر بکنگ کے پہنچنے پر پتہ چلتا ہے کہ سب کے سب خالی پڑے ہیں۔جس پراجیکٹ سے آپ جان چھڑانا چاہیں وہ آپ کو مل کر رہتا ہے اور جب آپ کو اس کی سمجھ آنے لگتی ہے تو وہ کسی اور کے حوالے کردیا جاتا ہے۔


عزیز از جان دوست بھی دوبارہ کسی سٹیشن پر اکٹھے نہیں ہو پاتے۔آپ جس یونٹ میں پوسٹ ہوں تمام کینٹ کی ذمہ داریاں اسے ہی سونپ دی جاتی ہیں۔ کسی اہم ترین وزٹ سے قبل بیٹ مین وردی پر ڈیو سائن الٹا ٹانک دیتا ہے۔ بریفنگ سے ذرا دیر پہلے کمپیوٹر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔بریفنگ ، وزٹ اور ٹیسٹ کے دوران وہی سوال پوچھے جاتے ہیں جن کے جواب آپ کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ہوتے۔جس دن آپ کا موڈ اچھا ہو اس روز باس کا موڈ نا خوشگوار ہو جاتا ہے۔ جس روز مرغی کھانے کو دل چاہے تو گھر میں ٹینڈے پکے ملتے ہیں ۔ جو اسائنمنٹ آپ اپنے تئیں سخت محنت سے تیار کرتے ہیں اس پر آپ کو جھاڑ پلا دی جاتی ہے جبکہ کئی بار واجبی سی کارروائی پر تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں۔ آپ بیگم کی برتھ ڈے، شادی کی سالگرہ کا دن اور بچوں کی کلاسز ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔ بیگم میکے جانے کا ارادہ کریں تو ٹرین میں سیٹ ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سب تو ہوتا ہے لیکن اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل معظم اشفاق

سی ایم ایچ کوئٹہ کے ٹھنڈے آئی سی یو میں مشینوں سے بندھا میرا بیٹا جُمعہ بس سانس کے زیروبم سے ہی زندہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس کا زرد چہرہ اور بند آنکھیں مجھے اجنبی معلوم ہوتی ہیں ۔اس چہرے پر میرے لئے پہچان کے کوئی آثار نہیں۔ جب سے میں آیا ہوں، کتنی دفعہ پکارا ہے مگر اس نے ذرا سی دیر کے لئے بھی آنکھیں کھول کر مجھے نہیں دیکھا۔ بچپن ہی سے اس کی عادت تھی کہ جب میں کام کاج سے واپس گھر لوٹتا تو وہ سونے کی اداکاری کرتا۔ جب میں اس کے پاس جاتا تو وہ قہقہہ لگا کر مجھ سے لپٹ جاتا۔ اس کی آنکھیں ہمیشہ مخصوص انداز سے بند ہوتیں جن میں کھلنے کی بے قراری نمایاں اور ہونٹوں پر معصوم مسکان ہوتی ، جو سوتے میں بھی اس سے جدا نہ ہوتی تھی ۔ آج بھی مجھے یوں ہی لگا کہ وہ حسب معمول سو نہیں رہا محض سونے کی اداکاری کر رہا ہے اور ابھی مجھے حیران کرنے کے لئے قہقہہ لگا کر ہنس دے گا۔ آج مگر اس کے چہرے پر سنجیدگی ہے، ایسی سنجیدگی جو بہت بڑا دھوکا سہہ کر چہرے پر در آتی ہے اور پھر لاکھ جتن کر لو جاتی ہی نہیں ۔


جمعہ میرے بچوں میں مجھے سب سے پیارا ہے۔ہم بلوچستان کے دور اُفتادہ ضلع کوہلو کے غریب لوگ ہیں ۔گزر اوقات کے لئے کوئی مناسب بندوبست نہیں بس جیسے تیسے گزارا ہو جاتا ہے ۔بچپن سے ہی جمعہ میرا خیال رکھتا۔میں تھک جاتا تو میرے پائوں دابتا اور کوشش کرتا کہ مشقت میںمیرا بوجھ بٹائے۔شروع سے ہی اس کو سپاہی بننے کا شوق تھا ۔ خوبصورت وردی میں ملبوس سپاہی جن کے چہروں پر ارادے کی چمک ہوتی، اس کے ہیرو تھے ۔بہت سال پہلے بلوچستان میں زلزلہ آیا پھر بعد میں سیلاب سے تباہ کاری ہوئی تو حکومت نے فوج کو مدد کے لئے طلب کیا۔اپنی ذاتی ضرورتوں سے بے نیاز سپاہیوں کو مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کرتے دیکھنا جمعہ ہی کے لئے نہیں بلکہ میرے لئے بھی ایک ولولہ انگیز تجربہ تھا۔ مجھے کچھ ٹھیک یاد تو نہیں مگر شاید وہی وقت ہو گا جب جمعہ نے پورے یقین کے ساتھ مسلح افواج کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کر لیا اور میں نے اس کے مرضی پر صاد کر دیا۔


ٹوں ٹوں ٹوں ںںںں ... مشین کی مسلسل ٹون نے ڈیوٹی پر موجود نرس کو ہراساں کر دیا اور جمعہ کا تشنج کے جھٹکے کھاتا بدن دیکھ کر میرے ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے اور آنسووں کا سیلاب میرے بوڑھے گالوں پر یوں رواں ہو گیا گویا اب رکے گا نہیں۔ خدا جانے بوڑھے باپ اپنے جوان بیٹوں کو مرتے دیکھنے کا حوصلہ کیونکر اور کہاں سے لاتے ہیں ۔۔۔مگر کہیں سے غیبی امداد مل ہی جاتی ہے۔ گو خمیدہ کندھے مزید جھک جاتے ہیں۔۔۔۔کندھوں کا تو نہیں مگر میں اپنے سینے کا ضرور بتا سکتا ہوں جو 23 اگست 2008 کے دن فخر سے تن گیا تھا۔ میرا پیارا بیٹا جمعہ اپنے مقصد میں کامیاب جوہو گیا تھا وہ ایف سی میں بطور سپاہی بھرتی ہو گیا تھا۔ ہمارے علاقے میں میری حیثیت کے آدمی کے لئے روزگار کے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔ مسلح افواج میں شامل ہو کر عزت کی نوکری کرنا میرے بیٹے کے لئے باعث صد افتخار تھااور رب تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں پر میں مطمئن اور اپنی قسمت پر نازاں ....اس کی ماں بیٹے کے بارے میں فکر مند ہوتی تو میں اسے دلاسہ دیتا۔ اس کی فکر بے جا نہیں تھی۔ بلوچستان میں جاری بدامنی کی لہر سے میں بھی پریشان تھا، آپ بے شک مجھے خود غرض کہیں لیکن مجھے یہ اطمینان تھا کہ بلوچ بلوچ کو ہرگز نقصان نہیںپہنچائے گا۔

 

mainkikehath.jpgڈاکٹر نے ڈرپ میں شاید کوئی سکون آور انجکشن دیا تھا کہ جمعہ کا تشنج کم ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نرس کو ہدایات دینے کے بعد واپس اپنے کیبن میں چلے گئے تھے۔ درد کی وہ لہر، جس نے تھوڑی دیر پہلے میرے جگر کے ٹکڑے کو بے حال کیا تھا ابھی بھی میرے دل کو گرفت میں لئے ہوئے تھی۔ غم سے کسی طور پر چھٹکارا ممکن نہیں.... غم سے ہم اس روز بھی بے حال تھے جس روز جمعہ اپنی یونٹ میں پہلی مرتبہ حاضری کے لئے گیا تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہماری آنکھوں کا نور اس طور پر ہمارے سامنے نہیں رہے گا جس کے ہم ابھی تک عادی تھے ۔مگر اس غم میں بیٹے کی عملی اور پیشہ ورانہ زندگی اختیار کرنے کی خوشی بھی شامل تھی۔


مسلح افواج کے بارے میں اگر کہیں کوئی غلط فہمی تھی بھی تو جمعہ کے ایف سی میں جانے کے بعد جاتی رہی۔ میرے لئے ہی نہیں پورے گائوں کے لئے جمعہ کی فراہم کردہ معلومات اپنے وطن کی سپا ہ کے لئے محبت میں اضافہ کرتی رہیں۔ خاران میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امداد کا کام ہو یا 2005کے زلزلے سے متاثرہ کشمیریوں کی تعمیرنویا پھر چمالنگ میں لونی اور مری قبائل کے برسوں پرانے جھگڑے کا تصفیہ جس سے علاقے میں ترقی اور اجتماعی بہبودی کا ایک خوشگوار سفر شروع ہوا۔ اس سلسلے میں سب سے قابل قدر کام جس سے غریب بلوچوں کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے،وہ بلوچ نوجوانوں کو فوج میں نوکریاں دینے کا ہے۔ جمعہ نے ہمیں شام کی محفلوں میں بتایا کہ فوج نے خصوصی طور پر بلوچ نوجوانوں کے لئے بھرتی کے معیار کو نرم کر دیا ہے۔ جس سے حوصلہ پا کر سیکڑوں نوجوان روزانہ فوج اور دوسرے متعلقہ اداروں میں بھرتی ہو رہے ہیں۔

 

بہر طور جب 19 جون 2010بروز ہفتہ کسی دشمنی کے بغیر دو موٹر سائیکل سوار نوجوان میرے جمعہ کو گولیوں کے فائر کر کے شدید زخمی کر گئے تو پہلی دفعہ یہ تلخ حقیقت مجھ پر واضح ہوئی کہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے حکومت سے نبرد آزمانام نہاد بلوچ قوم پرست تنظیموں کا بلوچ قوم پرستی سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ اگر بلوچ قوم کی بہبود ان تنظیموں کا مطمع نظر ہے تو پھر میرے بے گناہ بیٹے کے سینے میں گولی کیوں ماری گئی جو سرتاپا بلوچ تھا اور جو اپنی 23 برس کی مختصر زندگی میں بلوچستان سے باہر کبھی گیا بھی نہیں ۔میں سمجھ گیا جمعہ کے چہرے پر آج ایسی مہیب سنجیدگی کیوں در آئی تھی..... ایسی سنجیدگی جو بہت بڑا دھوکا سہہ کر چہرے پر در آتی ہے اور پھر لاکھ جتن کر لو جاتی ہی نہیں ۔۔۔بلوچ قوم پرستی کے نام پر میرے بیٹے کو اس کے بھائیوں نے چرکا جو لگا دیا تھا

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب کچھ ماہ پہلے، میں سارا دن موبائل فون پر اس سے رابطے کی کوشش کرتارہا تھا اور مسلسل کوئی جواب نہ پا کر میری پریشانی بڑھتی ہی جاتی تھی۔ جب شام کے وقت اس سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ وہ تمام دن بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے میں میڈیکل کیمپ میں مصروف رہا تھا جہاں موبائل فون کام نہیں کرتے تھے۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ اس کی کور ہر تیسرے ماہ دُور افتادہ مقامات پر غریب اور بیمار لوگوں کو ان کے علاقے میں جا کر طبی سہولیات مہیا کرتی ہے، غریبوں کا مفت علاج کرتی ہے۔ دوائیاں تقسیم کرتی ہے اور جنہیں پیچیدہ بیماریاں لاحق ہو ں انہیں رہنمائی مہیا کرتی ہے۔ سچ پوچھئے تو اپنے بیٹے کی ہمارے افلاس اور عسرت سے بھر پور معاشرے کے لئے خدمات نے جیسے مجھے ایک نئی جوانی عطا کر دی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ میرے بیٹے اور اس کے دوسرے ساتھیوں کی خدمات سے میرا علاقہ ، میرا صوبہ اور میرا ملک ترقی کی جانب سفر کرے گا۔ پھر اس سال فروری میں معلوم ہوا کہ جمعہ کی ڈیوٹی تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنے والی ٹیم کی حفاظت پر لگ گئی ہے۔ قومی اہمیت کے اس کام میں جمعہ کا حصہ لینا جس میں ہمارے علاقے اور عوام کے لئے خوشحالی کا وعدہ تھا۔ میرے لئے ایک اور روح پرور احساس تھا۔ بہت سوچا مگر اس کام کا بِیڑا اٹھانے والوں کی حفاظت کی ضرورت کیوں تھی اس کی کسی طور پر مجھے سمجھ نہ آ سکی ۔


بہر طور جب 19 جون 2010بروز ہفتہ کسی دشمنی کے بغیر دو موٹر سائیکل سوار نوجوان میرے جمعہ کو گولیوں کے فائر کر کے شدید زخمی کر گئے تو پہلی دفعہ یہ تلخ حقیقت مجھ پر واضح ہوئی کہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے حکومت سے نبرد آزمانام نہاد بلوچ قوم پرست تنظیموں کا بلوچ قوم پرستی سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ اگر بلوچ قوم کی بہبود ان تنظیموں کا مطمع نظر ہے تو پھر میرے بے گناہ بیٹے کے سینے میں گولی کیوں ماری گئی جو سرتاپا بلوچ تھا اور جو اپنی 23 برس کی مختصر زندگی میں بلوچستان سے باہر کبھی گیا بھی نہیں ۔میں سمجھ گیا جمعہ کے چہرے پر آج ایسی مہیب سنجیدگی کیوں در آئی تھی..... ایسی سنجیدگی جو بہت بڑا دھوکا سہہ کر چہرے پر در آتی ہے اور پھر لاکھ جتن کر لو جاتی ہی نہیں ۔۔۔بلوچ قوم پرستی کے نام پر میرے بیٹے کو اس کے بھائیوں نے چرکا جو لگا دیا تھا۔۔۔


ہسپتال کے ٹھنڈے ماحول میں مشینوں کی تاروں سے بندھا جمعہ کبھی جان نہ پایا کہ اسے زندگی کی بازی کس جرم کی پاداش میں ہارنا پڑی۔ وہ کون لوگ تھے جو اس کے اوپر چھپ کر حملہ کرتے ہوئے اس کی بلوچ شناخت کو بھول بیٹھے.... یا شاید بلوچ شناخت کی ان کی نگاہوں میں کوئی دقعت ہی نہیں .... جمعہ کو تو سمجھ نہیں آئی مگر میں ضرور سمجھ گیا ہوں کہ قوم پرست تنظیموں کا مقصد بلوچستان کی ترقی ہرگز نہیں بلکہ اپنے مقاصد کا حصول ہے اگر اس میں خود بلوچوں کی جان جاتی ہے تو ان کی بلا سے ۔۔۔ 26جون کی صبح جب ہم جمعہ کے سرد اور بے جان بدن کو تدفین کے لئے کوئٹہ سے کوہلو لے جا رہے ہیں تو ضبط کا بندھن باربار ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور مجھے خود کو باور کرانا پڑتا ہے کہ میرا بیٹا شہید ہوا ہے اور وہ یہیں ایمبولینس میں ہی میرے ساتھ موجود ہے۔ زندہ اور دکھوں سے بہت دور کہ یہی میرے رب کا فرمان ہے ۔ درد کی لہر آتی ہے تو دل کو چیر کے رکھ دیتی ہے مگر مجھے یاد کرنا پڑتا ہے کہ یہ درد مجھے میرے اپنوں نے دیا ہے کسی قصورکے بغیر۔۔۔


یہاں تک سوچ چکتا ہوں تو یہ خیال کر کے دل تھرا اٹھتا ہے کہ یہی رویہ میرے نام نہاد بلوچ قوم پرست بھائیوں نے کافی مدت سے غیربلوچوں کے ساتھ بھی اپنا رکھا ہے... غیر بلوچ جن کا ہماری محرومیوں میں کوئی قصور نہیں لیکن جن کا جینا ہم نے دوبھر کر رکھا ہے۔ وہ لوگ جو ہمارے معاشرے میں اب تک ہمارا حصہ بن کر جیئے ان کو ہم نے زک دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ان کا درد میں کبھی محسوس نہ کر پایا۔ ہمیشہ سوچتا کہ جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔ اس جنگ نے جب میرے بیٹے کی قیمت مجھ سے طلب کی تو معلوم ہوا کہ قوم پرستی کے نام پر وحشیانہ سرگرمیوں کا نشانہ بننے والوں پر کیا گزر جاتی ہے۔ آج میں محترمہ ناظمہ طالب، جن کا مبلغ قصور، بلوچ بچوں کو تمام دھمکیوں کے باوجود زیور تعلیم سے آراستہ کرتے رہنے کا عزم تھا، کے قتل سے ان کے گھر پر ٹوٹنے والی قیامت سے آگاہ ہو گیا ہوں....


میرا جمعہ اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر کے ہم سب کو ہمارے فرض سے آشنا کر گیا... میں نے اپنے بیٹے کی قربانی دے کر یہ سبق سیکھا ہے کہ میری دھرتی کا مجھ پرقرض ہے جو اسی طور ادا ہونا ہے ... مجھے اپنے ہم نفسوں کو بتانا ہے کہ نام نہاد قوم پرستی خود بے گناہوں کے خون سے لت پت ہو چکی ہے... ظلم اور سفاکیت کا نشانہ بلوچ ہوں یا غیر بلوچ یہ یکساں طور پر قابل مذمت بات ہے... میں نے یہ سبق بہت بڑی قیمت دے کر سیکھا ہے..... کہیں میرے دوسرے بلوچ بھائی بھی میری طرح اتنی بڑی قیمت دینے کا انتظارتو نہیںکررہے۔۔۔۔۔خدانخواستہ
فقط
ایک غمزدہ باپ

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

عظیم الشان پاکستان

تمام اقوامِ عالم میں ہے اِک پہچان پاکستان
بہت مضبوط پاکستان' عظیم الشان پاکستان
جو اِک اشارہ ہو تو رکھ دیں جاں ہتھیلی پر
صفایا کر دیں باطل کا یہ فرزندانِ پاکستان
اب اپنی قوم نے پھر سے نئے پیمان باندھے ہیں
سلامت تاقیامت باصفا مردانِ پاکستان
ترقی' امن' خوش حالی کی یہ تصویر بن جائے
وجہِ تعمیر ہوگا عزمِ عالی شان پاکستان
کہیں پہ حرب کے جوہر کہیں پہ ضرب کے چرچے
بغل جھانکے پھرا کرتے ہیں اب عددوانِ پاکستان
میرے شہروں کی رونق بس انہی کے دم سے ہے قائم
میرا اِ ک اِک سپاہی واری و قربان پاکستان
عزیر و راشد و لالک نبھائیں رسمِ شبیری
کہ خون پاک سے سینچا ہے چمنستانِ پاکستان
شہیدوں' غازیوں کا قرض میں کیسے چکا پائوں
میرے ہر گیت' ہر اک نظم کا عنوان پاکستان

عالیہ عاطف

*****

 
08
November

تحریر: میجر مظفراحمد

پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کی تقریبات کے تسلسل میں پاک فوج کے زیر انتظام مؤرخہ 21 اکتوبر 2017ء سے 31 اکتوبر 2017ء تک قومی موٹر ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
ریلی کے انعقاد کا مقصد جہاں دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان اور اُس کے عوام پُرامن ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں وہاںجذبۂ ملی یکجہتی و یگانگت کو اُبھارنا بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ایڈونچر سپورٹس، سیاحت اور ثقافتی ورثے کی ترویج کرتے ہوئے ملک کے حقیقی عکس کو روشناس کرانا اور ملک میں مختلف سپورٹس کلبوں کے مابین ربط اور ملک میں سپورٹس کلچر کو فروغ دینا شامل ہے۔


موٹر ریلی کا انعقاد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایات اور سرپرستی میں ہوا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی نگرانی میں موٹر ریلی کو حتمی شکل دی گئی۔ جبکہ ہیڈ آف ریلی سیکرٹریٹ میجر جنرل منظور احمد تھے۔ مزید برآں نمایاں کلبوں کے نمائندے عمران افتخار، اسد مروت، بابر خان، محسن اکرام، سردار حسن صادق اور نادر علی خان مگسی ریلی کا کلیدی حصہ تھے۔


ریلی خنجراب سے شروع ہوئی اور ملک کے تمام صوبوں سے گزر کر 3000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے گوادر پر اختتام پذیر ہوئی۔ موٹر ریلی پاکستان کے مختلف علاقوں خنجراب، چترال، مظفر آباد، اسلام آباد، لاہور، ڈیرہ اسماعیل خان، رزمک (شمالی وزیرستان)، گومل زام ڈیم، کوئٹہ اور کراچی سمیت دیگر شہروں سے ہوتی ہوئی گوادر پہنچی۔


ریلی میں 23 موٹر کلبوں سے منسلک 300 سے زائد جیپیں، 500 ہیوی موٹر بائیک اور 150 نایاب و حسین کاریں شامل تھیں۔
ریلی میں انتہائی ماہر جیپ ، کار اور موٹر سائیکل سواروں نے 3000 کلو میٹر تک کا فاصلہ انتہائی جانفشانی، محنت اور ہمت کے ساتھ گیارہ دنوں میںطے کیا۔ مزید برآں ریلی سے یکجہتی کرتے ہوئے اس کی گزر گاہوںکے نزدیکی علاقوں کے کار و موٹرسائیکل سواروں نے بھی شرکت کی۔ ہر مرحلے کے اختتام پر اسلام آباد، گومل زام ڈیم، مقبرہ قائداعظم اور گوادر میں نہایت دلفریب کار مظاہروں کا انعقاد کیا گیا اور ساتھ ہی منفرد ثقافتی شومنعقد کئے گئے اور محافل موسیقی بھی سجائی گئیں۔ جس میں شفقت امانت علی، عاطف اسلم اور سائرہ پیٹر جیسے ملک کے نامور اداکاروں اور گلوکاروں نے شرکت کی۔ریلی کے مراحل کے اختتام پر ملک کی اہم شخصیات نے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے موٹر سواروں میں انعامات تقسیم کئے۔ 31 اکتوبر 2017ء کو ریلی کے اختتام پر ایک پُروقار تقریب کے دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے اور حوصلہ افزائی کی۔

newspakarmykzerehtmam.jpg

 
08
November

تحریر: فاروق اعظم

9 نومبر 1947ء تا 9 نومبر 2017ء

پاکستان کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوب مشرق میں بحیرہ عرب اور بھارت کی سرحد سے متصل سندھ کا ضلع بدین دکھائی دے گا، جس کے پڑوس میں ریگستانی ضلع تھرپارکر واقع ہے۔ وہی تھرپارکر جہاں کے صحرائو ں میں سب سے زیادہ قدر پانی کی ہے۔ مذکورہ اضلاع سے متصل سرحد کے اُس پار بھارتی ریاست گجرات شروع ہوتی ہے۔ گجرات کو اس لئے بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کا تعلق اسی ریاست سے ہے۔ گزشتہ دہائی میں جب وہ یہاں کے وزیر اعلیٰ تھے تو باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں مسلم کش فسادات کرائے گئے تھے۔ گجرات کا ایک مثبت حوالہ یہ ہے کہ بانی ٔپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا آبائی تعلق گجرات ہی سے تھا۔ دوسری جانب بھارت کی تحریک آزادی کے ہیرو موہن داس کرم چند المعروف مہاتما گاندھی کا تعلق بھی اسی ریاست سے ہے۔

sakootjonagrah.jpg
ہمیں گجرات سے ایک اور نسبت بھی ہے، یہاں پاکستان سے الحاق یافتہ ایک مقبوضہ ریاست جوناگڑھ واقع ہے۔ جی ہاں! وہی جوناگڑھ جس کے نواب مہابت خانجی نے قانون آزادی ہند 1947ء کے تحت پاکستان سے الحاق کیا تھا۔ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے تمام تر قانونی پیچیدگیوں کو پرکھنے اور مسلسل گفت و شنید کے بعد 15 ستمبر کو الحاق جوناگڑھ کی دستاویز پر دستخط کرکے اسے باقاعدہ پاکستان میں شامل کیا۔ تاہم قریباً دو ماہ تک پاکستان کا حصہ رہنے والی ریاست جوناگڑھ پر 9 نومبر1947 کو شب خون مارا گیا، جس پر تاحال بھارت سرکار کا غیر قانونی قبضہ برقرار ہے۔


جوناگڑھ کا مسئلہ کیا ہے؟ اس پر بھارت نے قبضہ کیوں کیا اور اس کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ اس پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔ اجمال اس قضیے کی یہ ہے کہ ہندوستان پر جب برطانیہ کا یونین جیک لہراتا تھا، تب یہاں صوبوں کے علاوہ ساڑھے پانچ سو سے زائد دیسی یا شاہی ریاستیں قائم تھیں۔ ڈاکٹر سید جمیل الرحمن کی تالیف ''تخلیق پاکستان اور شاہی ریاستیں'' میں ان کی کل تعداد 562 مذکور ہے۔ تاہم پروفیسر عبدالعزیز اسماعیل مرکٹیا کی تحقیق ''تاریخ پاکستان کے گمشدہ اوراق'' میں دیسی ریاستوں کی تعداد 572 لکھی ہوئی ہے۔ خیر ہمیں حتمی تعداد سے کوئی سروکار نہیں۔ چوں کہ بیشتر ریاستیں بھارت سے متصل تھیں، اس لئے ان پر بھارت کا تسلط یقینی تھا۔ پاکستان سے ملحق ریاستیں انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔ جیسا کہ سندھ میں خیرپور، پنجاب میں بہاول پور، بلوچستان میں قلات، لسبیلہ، خاران، مکران، خیبر پختون خوا میں سوات، دیر، چترال۔ شاہی ریاستوں میں تین بڑی اور اہم ترین ریاستیں، جنہیں بھارت ہر قیمت پر خود سے منسلک کرنا چاہتا تھا، وہ ہے ریاست کشمیر، حیدر آباد دکن اور جوناگڑھ۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے، وہ بالکل واضح ہے اور ہر فرد اس سے واقف بھی، تاہم باقی دو ریاستوں سے اکثریت لاعلم ہے۔ ریاست حیدر آباد دکن پر آزادی کے وقت نظام میر عثمان علی کی حکمرانی تھی، انہوں نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم بھارت نے مسلسل مختلف حیلوں بہانوں سے ریاست میں مداخلت کی پالیسی جاری رکھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح 11 ستمبر 1948ء کو انتقال کرگئے، اس کے اگلے ہی روز بھارت نے حیدر آباد دکن پر چڑھائی کرکے قبضہ کرلیا۔ دوسری جانب ریاست جوناگڑھ جس کے نواب، مہابت خانجی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا، بھارت کو یہ کسی صورت برداشت نہیں تھا۔ چوں کہ یہ کاٹھیاواڑ کی سب سے بڑی ریاست تھی، جسے قدرت نے 150 میل طویل ساحل سے نوازا تھا، یہاں کی بندر گاہ ''ویراول'' کراچی سے 300 میل کے فاصلے پر ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان اور جوناگڑھ کا بحری رابطہ بھی ممکن تھا۔ بھارت کے لئے بڑی پریشانی یہ تھی کہ پاکستان سے الحاق کی صورت میں کاٹھیاواڑ کی دیگر مسلمان ریاستوں کے لئے جوناگڑھ مرکز کی حیثیت اختیار کرلے گا اور پاکستان اس ریاست کے ذریعے بھارت کے مذموم مقاصد کے سامنے رکاوٹ ثابت ہوگا۔ اس لئے وہ ہر صورت اس الحاق کو روکنا چاہتا تھا، جس پر نواب آف جوناگڑھ نے قیام پاکستان کے پہلے ہی روز 15 اگست کو دستخط کردیئے تھے۔ اقبال پاریکھ کی کتاب ''اجڑے دیار کی کہانی'' میں الحاق جوناگڑھ کے اعلان کے الفاظ کچھ اس طرح نقل کئے گئے ہیں


''گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت جوناگڑھ کے سامنے یہ پیچیدہ اور سنگین مسئلہ غور و خوض کا مرکز بنا ہوا تھا کہ ریاست کا الحاق بھارت سے کیا جائے یا پاکستان سے، حکومت نے اس مسئلے کے ہر پہلو پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ آخری فیصلہ کرتے وقت یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ ریاست کے عوام کی خوشحالی اور فلاح کس بات پر منحصر ہے اور ریاست کی انفرادیت اور سالمیت کس طرح برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ مسئلے کے ہر پہلو پر غور و فکر کرنے کے بعد ریاست نے فیصلہ کیاہے کہ پاکستان سے الحاق کرلیا جائے۔ چنانچہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ریاست جوناگڑھ پاکستان کے ساتھ ملحق ہوگئی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ رعایا اس فیصلے کا دل و جان سے خیر مقدم کرے گی''۔

sakootjonagrah1.jpg
ریاست کے اس فیصلے پر رعایا کی جانب سے مخالفت یا بلوے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ جوناگڑھ میں ہندوئوں کی آبادی 80 فیصد تھی، تاہم ان کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی۔ جوناگڑھ پر 200 سال سے بابی خاندان کی حکمرانی چلی آ رہی تھی، مہابت خانجی نویں نواب تھے۔ ان تمام ادوار میں ہندوئوں کو مکمل مذہبی، معاشرتی، معاشی و تعلیمی حقوق حاصل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رعایا، نواب اور ان کی حکومت کی دل و جان سے عزت کرتی تھی۔ تاہم بھارت نے جوناگڑھ پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے پہلے پہل فسادات کی کوشش کی، تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ ریاست کے عوام الحاق کے اس فیصلے پر رضامند نہیں ہیں۔ جب اس میں بھارت کو ناکامی ہوئی تو انہوں نے ایک شاطر شخص شامڑ داس گاندھی کو آگے بڑھایا۔ وہ گجراتی اخبار ''ماتر بھومی'' کے ایڈیٹر تھے۔ پاکستان اور قائد اعظم کی مخالفت ان کی پہچان بن گئی تھی۔ انہوں نے جوناگڑھیوں کو ورغلانے کی کوششیں شروع کیں اور بھارت کے آشیرباد سے 25 ستمبر کو ممبئی میں جوناگڑھ کی عارضی حکومت قائم کردی، جس کے سربراہ وہ خود بنے۔ انہوں نے عارضی حکومت کی فورس بھی بنائی، جس کے ذریعے جوناگڑھ کے قرب و جوار میں خوف و ہراس پھیلانا شروع کردیا گیا۔ رفتہ رفتہ بھارتی فوج نے بھی جوناگڑھ کا گھیرا مزید تنگ کردیا۔ کاٹھیاواڑ کی درجہ دوم کی ریاستیں جو تاحال جوناگڑھ کے ماتحت تھیں اور اس نسبت سے وہ بھی پاکستان کے ساتھ ملحق ہوگئی تھیں، جن میں مانگرول اور مانائودر قابل ذکر ہیں، ان ریاستوں پر بھارتی قبضے سے جوناگڑھ کے لئے خطرات مزید بڑھ گئے تھے۔ مانائودر پر 22 اکتوبر کو چڑھائی کی گئی، اسی طرح مانگرول پر یکم نومبر کو قبضہ کیا گیا۔ پاکستان اس وقت مسائل میں اس قدر گھرا ہوا تھا کہ ان ریاستوں کی عملی مدد کرنے سے معذور تھا۔ ان حالات میں بڑھتے خطرات کے پیش نظر نواب مہابت خانجی اور ان کے اہل خانہ کو اکتوبر کے آخری ہفتے میں کراچی منتقل کرنا پڑا۔ ریاست جوناگڑھ کے خلاف مسلسل سازشوں اور گھیرائو کی کوششوں کا درست اندازہ، ان ایام میں ریاست کی حکومت اور پاکستان کے درمیان کی گئی خط و کتابت سے لگایا جاسکتا ہے۔ جوناگڑھ کے آخری دیوان (وزیراعظم) سرشاہنواز بھٹو (ذوالفقار علی بھٹو کے والد) تھے۔ انہوں نے یہ عہدہ خان بہادر عبدالقادر محمد حسین کی علالت کے باعث مئی 1947ء میں سنبھالا تھا۔ جوناگڑھ سے نواب مہابت خانجی، سر شاہنواز بھٹو اور پاکستان سے قائد اعظم محمدعلی جناح، لیاقت علی خان کے درمیان ہونے والی خط و کتابت قائد اعظم اکیڈمی کے مرتب کردہ ''جناح پیپرز'' کی ساتویں جلد بعنوان ''ریاستوں کا الحاق'' میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جوناگڑھ کے مسئلے پر قائد اعظم اور لیاقت علی خان نے مائونٹ بیٹن اور جواہر لعل نہرو سے بھی خطوط کا تبادلہ کیا ہے۔ وہ تمام ریکارڈ ''جناح پیپرز'' میں محفوظ ہے۔ اسی طرح کے ایک خط میں قائد اعظم نے مائونٹ بیٹن کو جواباً لکھا تھا: ''ہندوستانی ریاستوں کا مقام واضح طور پر متعین کردیا گیا ہے اور اس بات کو تسلسل سے قبول کیا جاچکا ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے سقوط کے بعد ہر ہندوستانی ریاست آزاد اور خود مختار ہے اور یہ کہ وہ آزادانہ طور پر پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ شامل ہوسکتی ہے۔ اب اس معاملے میں آپ ایک نیا اصول وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ریاستوں کے آزادانہ انتخاب کو محدود کردیتا ہے۔''


آگے مزید لکھتے ہیں: ''آپ کے اس خیال سے ہم واقعی حیران رہ گئے جس میں مملکت پاکستان کو دھمکی دی گئی ہے کہ ''الحاق پر پاکستان کی اس طرح منظوری کو حکومت ہندوستان اپنی خود مختاری اور اپنے علاقے میں دخل اندازی تصور کرے گی اور دونوں مملکتوں کے درمیان جو دوستانہ تعلقات ہونے چاہئیں یہ عمل اس کے خلاف ہے۔'' مملکت ہندوستان کو جوناگڑھ پر حاکمیت کا کوئی حق نہیں پہنچتا چاہے وہ علاقائی ہو یا کچھ اور۔ ہم یہ سمجھنے سے قطعی طور پر قاصر ہیں کہ پاکستان سے جوناگڑھ کا الحاق ہندوستان کی خودمختاری پر کس طرح دخل انداز ہوسکتا ہے اور دونوں مملکتوں کے دوستانہ تعلقات سے کس طرح متصادم ہے۔''


جوناگڑھ پر پاکستان کا مؤقف اصولی اور غیر مبہم تھا، جس میں کسی قسم کا قانونی سقم نہیں تھا۔ تاہم بھارت اسے دخل اندازی سے تعبیر کرتا تھا اور جوناگڑھ میں ہندوئوں کی اکثریت کا واویلا کرکے پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق پر معترض تھا۔ دوسری جانب بھارت یہی اصول کشمیر کے مسئلے میں یکسر نظر انداز کر رہا ہے۔ حالاں کہ تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت ریاستوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ دونوں ڈومینیئن میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرسکتے ہیں، اس میں جغرافیائی حیثیت اور رعایا کی خواہشات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری تھا۔ کشمیر کے مہا راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق رعایا کی مرضی کے برخلاف کیا تھا۔ دوسری طرف جوناگڑھ کے نواب کے فیصلے پر رعایا نے اعتراضات نہیں اٹھائے۔ مقام حیرت یہ ہے کہ بھارت جوناگڑھ میں رائے شماری پر تو بضد رہا لیکن کشمیر میں سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت رائے شماری پر رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود تاحال اس کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔


جیسا کہ بالائی سطور میں لکھ چکا ہوں کہ بھارت کی شاطرانہ چالوں اور جوناگڑھ پر منڈلاتے خطرات کے بادل دیکھ کر ریاستی فیصلے کے تحت نواب آف جوناگڑھ اکتوبر کے آخر میں کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ اس کے دو ہفتے بعد ہی 9 نومبر1947 کو جوناگڑھ پر بھارت نے شب خون مارا۔ قبضے کے بعد جوناگڑھ اور کاٹھیاواڑ کی دیگر ریاستوں کے مسلمانوں کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا، اس کا احوال اقبال پاریکھ کی کتاب ''اجڑے دیار کی کہانی'' میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جوناگڑھ کے سرسبز و شاداب اور وسیع و عریض رقبے پر حکومت کرنے والے نواب مہابت خانجی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی کینٹ کے علاقے میں فاطمہ جناح روڈ کے ایک بنگلے کو اپنا مسکن بنائیں گے۔ وہ اپنی وفات نومبر 1960ء تک اسی بنگلے میں رہے، جسے ''جوناگڑھ ہائوس'' کا نام دیا گیا۔ یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ ''جوناگڑھ ہائوس'' جس سڑک پر واقع ہے، اس کے ابتدائی سرے پر آواری ٹاور کے سامنے ''قائداعظم ریذیڈنسی'' بھی ہے۔ نواب مہابت خانجی کا جنازہ یہیں سے نکلا اور اُنہیں طارق روڈ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد اپریل 1961ء میں ان کے صاحبزادے دلاور خانجی والیٔ جوناگڑھ تسلیم کئے گئے۔ ان کی تقریب دستار بندی ایوان صدر کراچی میں منعقد کی گئی تھی، جس میں صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان بھی شریک تھے۔ نواب دلاور خانجی بھی اپنے والد کی طرح جوناگڑھ اور وہاں سے پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجرین کے لئے فکر مند رہے۔ انہیں 1976ء میں گورنر سندھ بھی منتخب کیا گیا، وہ تین سال تک اس عہدے پر ذمے داریاں نبھاتے رہے۔ جولائی 1989ء میں نواب دلاور خانجی کے انتقال کے بعد اکتوبر1991ء میں ان کے صاحبزادے جہانگیر خان جی کو نواب منتخب کیا گیا، جو تاحال جوناگڑھ ہائوس میں مقیم ہیں۔ نواب جہانگیرخانجی بھی اپنے دادا اور والد کی طرح جوناگڑھ کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ راقم نے بذات خود ان کے بعض پروگرام کور کئے ہیں، وہ کراچی اور اندرون سندھ میں مقیم جوناگڑھیوں کے مسائل حل کرنے کو پہلی ترجیح دیتے ہیں۔ تین سال قبل نومبر 2014ء کی بات ہے، جوناگڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن نے جوناگڑھ ہائوس میں یوم سقوط جوناگڑھ پر نواب جہانگیر خانجی کی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ جس میں نواب صاحب نے دیگر باتوں کے علاوہ جوناگڑھ اور کشمیر پر بھی بات کی۔ تب راقم نے موقع پاکر نواب صاحب سے اس بابت سوال کیا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی عروج پر ہے اور جوناگڑھ پر کوئی بات کرنے والا نہیں؟ جس کے جواب میں نواب صاحب اپنے دھیمے لہجے میں شکوہ کناں تھے کہ کشمیر کی طرح جوناگڑھ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شامل نہیں رہا۔


جوناگڑھ کا مسئلہ پہلی مرتبہ 11 فروری 1948ء کو سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا تھا، جس میں پاکستان کی نمائندگی سر ظفر اللہ خان کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ جوناگڑھ کا مسئلہ اتنا ہی اہم ہے جتنا کشمیر۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں جوناگڑھ کا ذکر کشمیر کے ساتھ سلامتی کونسل میں ہوتا رہا، جس میں آزادانہ استصواب رائے پر زور دیا گیا۔ فروری 1971ء میں بھی جوناگڑھ کو کشمیر کے ساتھ منسلک کرکے سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا تھا۔ نواب محمد جہانگیر خانجی کا کہنا ہے کہ ریاست جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق کا قانون موجود ہے، جو ویانا کنونشن کے تحت الحاق کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ دستاویز الحاق ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جو ریاستوں کے درمیان تحریری شکل میں طے پایا اور جس کا تحفظ بین الاقوامی قانون کرتا ہے۔ جہانگیر خانجیکا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ جوناگڑھ کا مسئلہ اس وقت تک قانونی طور پر زندہ رہے گا جب تک الحاق کی یہ دستاویز محفوظ ہے۔ بجا طور پر نواب آف جوناگڑھ منفرد حیثیت کے حامل ہیں کہ وہ اپنی ریاست تو کھو چکے لیکن ان کی قانونی حیثیت بحیثیت نواب اب بھی موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت، جوناگڑھ کا مسئلہ ازسرنو اٹھاکر نواب صاحب کا شکوہ کب رفع کرتی ہے؟

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: احسان اﷲ ٹیپو

فاٹا سے تعلق رکھنے والے ممتاز صحافی احسان اﷲ ٹیپو محسود کی فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے ایک پُرمغز تحریر

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ پچھلے سولہ سال سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ 9/11 کے بعد کے حالات نے جس طرح اس خطے کو اپنے لپیٹ میں لیا آج بھی اس سے نکلنے کی تگ و دو ہو رہی ہے۔ فطری حسن، قدرتی وسائل اور زرعی پیداوار سے مالامال اس جنت عرضی کی پہچان دہشت گردی، خودکش حملے، ڈرون، القاعدہ اور طالبان بن گئے۔ صدیوں سے یہاں پہ مقیم مقامی قبائل غیر ملکی شرپسند عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن گئے۔ سیکڑوں کی تعداد میں قبائلی عمائدین کو قتل کیا گیا۔ مقامی اور غیرملکی دہشت گردوں کا ایسا گٹھ جوڑ بنا کہ اس سے نہ صرف ملکی بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ فاٹا کس طرح ان دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ان میں 9/11 کے فوراً بعد کے حالات کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔


پاکستان بننے سے لے کر آج تک قبائلی علاقے کو ریاست نے نظر انداز کیا جو تھوڑی بہت توجہ ملی وہ بھی اس کی مخصوص تزویراتی اہمیت اور حیثیت کی بنا پہ ملی۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ پورا خطہ بنیادی ترقی سے محروم ہو کر صرف عسکری مقاصد تک محدود رہ گیا۔ ایک مخصوص عسکری ذہنیت کو پروان چڑھایا گیا ۔ جس کا نتیجہ پورے فاٹا میں طالبانائیزیشن کی صورت میں نکلا جو کچھ تھوڑی بہت ترقی ہوئی تھی نہ صرف وہ تباہ ہوئی بلکہ بنیادی قبائلی معاشرتی اقدار بھی درہم برہم ہوئیں ۔ فاٹا کی تقریباً 80فیصدآبادی نقل مقانی پر مجبور ہوئی۔


اسی اثنا میں جہاں پاکستانی فوج ایک طرف فاٹا میں مقامی اور دنیا بھر سے آئے ہوئے عسکریت پسندوں سے نبرد آزما تھی تو دوسری طرف پوری قبائلی پٹی میں انتہائی جامع ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جس میں سڑکیں، تعلیمی ادارے، ہسپتال، بجلی اور آب پاشی کے منصوبے اور کھیل کے میدانوں کی تعمیر شامل تھی۔ ان منصوبوں میں بیشتر یا تو مکمل ہو چکے ہیں یا تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ علاقے کی سکیورٹی کی صورت حال میں بھی کافی حد تک بہتری آچکی ہے۔ ویران گائوں، تعلیمی ادارے، کھیل کے میدان پھر سے آباد ہونے لگے ۔ لیکن ان تمام اقدامات کو تقویت اس وقت ملے گی جب فاٹا کے عوام کو بھی باقی پاکستانیوں کی طرح ملکی آئین کے تابع کر دیا جائے گا۔ ان کے بھی بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس محرومی کی سب سے سنگین مثال تقریباً ایک صدی سے لاگو فرنٹیئر کرائم ریگولیشنز ہے۔


پاکستانی آئین سے الگ ، فاٹا کا نظم و نسق ایف سی آر سے چلایا جا رہا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی علاقے میں کسی کو قتل کرے تواس کو جرم نہیں ماناجاتا لیکن اگر کسی نے سرکار کے خلاف اپنے جائز حقوق کے لئے بھی احتجاج کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین جرم سمجھا جاتاہے۔ فاٹا میں عوام کے مجرم کو نہیں، سرکار کے مجرم کو سزا ملتی ہے۔ کسی ایک فرد کے جرم کی سزا صرف اس کے پورے خاندان کو ہی نہیں بلکہ پورے قبیلے کو دی جاتی ہے۔ جس میں قبیلے کے کسی بھی بالغ مرد کو غیرمعینہ مدت کے لئے پابند سلاسل کرنا، اس کی جائداد اور کاروبار کو ضبط کرنا وغیرہ شامل ہے۔


دوسری طرف فاٹا میں مقیم قبائلیوں کو پاکستانی عدالتوں تک رسائی کا حق نہیں ہے۔ فاٹا کے عوام وکیل، دلیل اور اپیل کے بنیادی انسانی حق سے بھی محروم ہیں۔ سرکار کسی کو جرم بتائے بغیر گرفتار کر سکتی ہے۔کئی سالوں تک جیل میں ڈال سکتی ہے، اور سرکار کے اس فیصلے کو مدعی کسی بھی عدالت میں چیلینج نہیں کر سکتا۔ ایف سی آر جیسے جاہلانہ اور غیر انسانی قانون کی پوری دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔
فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ باقی ماندہ پاکستان کے لئے تو ایوان میں قانون سازی کرسکتے ہیں لیکن فاٹا کے لئے نہیں۔ یعنی جتنے بھی بنیادی انسانی حقوق ہیں اور جن کے حصول کو یقینی بنانا ایک جدید تہذیب یافتہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے فاٹا کو پچھلی سات دہائیوں سے ان سے محروم رکھا گیا ہے۔


کچھ عرصہ قبل ایف سی آر کی کچھ شقوں کو تبدیل کیا گیا، لیکن یہ تبدیلی صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہی۔ گراونڈ پر ایف سی آر جوں کا توں موجود ہے۔ پچھلے دو تین سالوں سے قبائلیوں میں اس چیز کا شعور آگیا ہے کہ مکمل پاکستانی بننے کے لئے وہ کسی محنت سے دریغ نہیں کریں گے۔ سیاسی رہنما، قبائلی مشران، علمائے کرام، سول سوسائٹی، طلبائ، ریٹارڈ سول اور عسکری سرکاری ملازمین وغیرہ تقریباً ہر آئینی، سیاسی اور صحافتی فورم پہ پرامن طریقے سے اپنی آواز پہنچانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے بھی ایک اعلیٰ سطحی فاٹا ریفامرز کمیٹی نومبر 2015 میں قائم کی۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات اگست 2016 میں پیش کیں۔ جس میں فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ لیکن کچھ قبائلی عمائدین ، جن کی اب بھی قبائلی علاقے کی معاشرتی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حوالوں سے حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے، کی طرف سے شدید مخالفت سامنے آئی۔
فاٹا میں عوام کی طرف سے اس وقت تین طرح کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔


 خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم ہونا۔ 
 فاٹا کو ایک الگ صوبے کی حیثیت دینا۔ 
 موجودہ حیثیت کو قائم رکھتے ہوئے صرف آئینی اصلاحات کرنا۔ 


جو لوگ فاٹا کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے حق میں ہیں ان کے کئی دلائل ہیں جس میں سرفہرست یہ کہ فاٹا کا سرکاری انتظامی ڈھانچہ پہلے ہی سے خیبرپختونخوا میں قائم ہے جن میں گورنر ہائوس ، فاٹا سیکریٹریٹ، مختلف ایجنسیوں کے متعلقہ پولیٹیکل ایجنٹس کے صدر دفاتر وغیرہ شامل ہیں۔
دوسرا یہ کہ قبائلیوں کی اکثریت پہلے ہی سے فاٹا سے منسلک خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع میں مقیم ہے ، قبائل سے مراعات لے رہے ہیں اور قبائلیوں کی یہ کثیر تعداد غیر ارادی طور پر خود کو فاٹا سے زیادہ خیبرپختونخوا کا حصہ سمجھتے ہیں ۔


فاٹا الگ صوبے بننے کی صورت میں اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ خود اپنا ریونیو جنریٹ کر سکے اور بجٹ بنا سکے۔ اپنے پائوں پہ کھڑا ہونے کے لئے اس کو کافی وقت لگے گا اور معاشی معاملات کے لئے پھر سے اسے وفاق پہ انحصار کرنا پڑے گا۔
اکثریتی قبائلی عمائدین جو کہ الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں ان دلائل کو جوابی دلائل سے رد کرتے ہیں۔
الگ صوبہ بننے کی صورت میں فاٹا کے سینٹ میں ممبران سات سے بڑھ کر تئیس ہو جائیں گے اور انضمام کی صورت میں یہی سات رہیں گے وہ بھی اکثریتی خیبر پختونخوا کی سیٹوں میں گم ہو جائیں گے ۔کیونکہ سینٹ میں ہر صوبے کو برابر سیٹیں ملتی ہیں۔
الگ صوبے کی حیثیت سے فاٹا صوبہ کو
NFC
ایوارڈ سے تقریباً 120 ارب سالانہ ملیں گے انضمام کی صورت میں یہ رقم 70 ارب تک محدود ہو گی۔


الگ صوبے کی صورت میں فاٹا کے اندر بیشتر ملازمتیں مقامی لوگوں کو ملیں گی اپنا گورنر ہو گا اور وزیراعلیٰ بھی ۔ انضمام کی صورت میں غیر قبائلی علاقے کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے ۔ اس سے مزید محرومیاں پیدا ہوں گی۔
اب وہ لوگ جو سٹیٹسں کو قائم رکھنے کے حق میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ صرف آئینی اصلاحات اور علاقے کی ترقی پہ توجہ دی جائے اس مطالبے کی اکثریت روائتی قبائلی رسم و رواج پہ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔
ان کا یہ بھی اعتراض ہے کہ ہمیں اس عدالتی نظام میں جکڑا جا رہا ہے جہاں پر ایک عام مقدمے کو حل ہو نے میں دہائیاں لگتی ہے۔ جبکہ موجودہ جرگہ سسٹم سے بڑی بڑی لڑائیاں بھی مہینوں میں حل ہو جاتی ہیں۔
پٹوار سسٹم کے ذریعے قبائلی علاقے میں زمین کی تقسیم اگر شروع ہوئی تو قبیلوں کے مابین شدید لڑائیوں کا خدشہ ہے۔


میری نظر میں ان تمام مطالبات میں فوقیت اس کو ملنی چاہئے جس کی تائید اکثریتی قبائلی عوام کریں نہ کہ ماضی کی طرح اس پہ باہر سے کوئی مرضی مسلط کریں۔ طالبان نے بھی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی تھی جس کا نتیجہ تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا۔ موجودہ حالات میں قبائلی علاقے میں جن اقدامات کی اشد ضرورت ہے ان میں آئینی اصلاحات سمیت امن و امان کو برقرار رکھنا، معاشی استحکام لانا اور متاثرین کی بہترین آبادکاری کے لئے اقدامات کرنا ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر : محمدعلی بیگ

ہندو قوم اپنے جدا گانہ تشخص کو بر قرار رکھنے کے لئے ہمہ وقت نہایت چوکس رہتی ہے۔ بھارت جو کہ ساری دنیا میں ہر وقت سیکولر نظریات کا ڈھنڈورا پیٹتا نظر آتا ہے اور خود کو جمہوریت اور مذہبی رواداری کا علمبر دار کہتا ہے لیکن اگر ہم بھارتی سیاست پر نظر دوڑائیں تو یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ یہ اوراس جیسے دیگر بھارتی دعوے کھوکھلے ، جعلی اور حقیقت کے منافی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلم اور ہندو برِ صغیر میں کئی صدیوں سے آباد ہیں لیکن در حقیقت ہندو اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں سے جُدا ثابت کر نے کے لئے اور آخر کار مسلمانوں اور اسلام کو ہندومت میں ضم کر نے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔ رحیم اور رام کو ایک ثابت کرنے لئے ہندو پنڈتوں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا اور شُدھی اورسنگھاٹن کی تحریکیں چلائیں تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنا سکیں مگر ناکام رہے۔
قدرت نے حق اور باطل اور آگ اور پانی کے درمیان ایک دائمی کشمکش رکھی ہے۔ یہ دونوں مخالف قوتیں ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہی ہیں۔ یہی حالات تقسیم سے پہلے برِ صغیر پاک و ہند میں بھی موجود تھے اور آج بھی کئی صورتوں میں موجود ہیں۔ 1923میں ایک ہندوانتہا پسند ''ونیک دمودار سورکار'' نے ہندو مذہب کا ایک اور مگر منفرد انداز پیش کیا اور اس نظریہ کو اپنے ایک مضمون
"Essentials of Hindutva"
میں بیان کیا۔ اس نظریے نے نہ صرف یہ بات کی کہ ہندوستان صرف ہندوئوں کے لئے ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندو اپنے مذہب کی ہر لحاظ سے حفاظت کریں۔ یاد رہے کہ سورکار اُن دنوں ایک انگریز کے لندن میںقتل کے الزام میں قید تھا۔ اِسی طرح سورکار نے 1928میں اپنے ایک کتابچے جس کا نام
"Hindutva: Who is a Hindu?"
ہے کی صورت میں ایک اور نظریہ پیش کیا جس میں اُنھوں نے ہندو مذہب کے ماننے والوں کی ایک مفصل تعریف کر ڈالی اور اکھنڈ بھارت اور بھارت راشٹریہ کے تصورات پیش کئے۔ سورکار نے اس نظریے کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی جن میں قومیت، نسل پرستی اور ثقافت شامل ہیں۔ سورکار کے یہ نظریات محض تعصب پرمبنی اور ہندوئوں کی اصل سوچ کے عکاس تھے۔

hunditawakaphelta.jpg
بھارت میں موجود انتہا پسند ہندو ئوں نے خوب چابک دستی سے قومی ثقافت کے نام پر، اور اس کی آڑ میں، ہندو مذہب کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کو مسخ کر نے کا ایک گھنائونا دھندا شروع کر رکھا ہے۔ اس قومی ثقافت نامی سوچ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ حقیقتاً اور خالصتاً ونیک دمودار سورکار کے بڑے بھائی گنیش دمودار سورکار کے ایک مضمون "راشٹرا ممانزا "یعنی ایک ایسی فلاسفی اور نظریاتی اساس جن کی بنیا دیں قومیت (ہندومذہب)میں ہوں ۔ گنیش کے انھی نظریات کو ایک ہندو انتہا پسند
(M.S Golwalkar)
نے اپنی زہر آلود اور تعصبات سے بھری ہوئی کتاب
"We or Our Nationhood Defined (1939)"
میں مزید بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ دسمبر   2017میں انگریزی روزنامہ
Dawn
میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں ایک بھارتی وکیل اور محقق اے۔جی ۔ نورانی نے نہایت مفصل انداز میں ہندوتوا نظریے پر روشنی ڈالی ہے۔
راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ
(Rashtriya Swayamsevak Sang)
ہندوتوا نظریے کی علمبردار جماعت ہے اور اس کی بنیاد 27ستمبر 1925کو ایک شدت پسند ہندو کیشاوبلی رام ہجوار نے رکھی۔ کیا وجہ ہے کہ اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک انتہا پسند ہندو نتھو رام گودسے نے بھارت کے بانی موہن داس گاندھی کو 30جنوری 1948کو قتل کر دیا تھا؟ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ گاندھی نسبتاً حقیقت پسند انسان تھے اور پاکستان کو اس کا جائز حق دینا چاہتے تھے۔ لیکن اس قتل کی ایک وجہ گاندھی کے آستین کے سانپ تھے جن میں پنڈت جواہر لعل نہرو سب سے زیادہ اہم تھے۔ نہرو نے کمال ہوشیاری سے سردار ولب بھائی پٹیل جو کہ نہرو سے زیادہ سیاسی بصیرت رکھتے تھے ،کو دیوار کے ساتھ لگا کر گانگریس پارٹی کی کمان سنبھال لی۔ ایک بھارتی لکھاری رام چندرا گوہا نے اپنی کتاب
"Makers of Modern Asia (2014:125-126)"
میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سردار پٹیل اور پنڈت نہرو میں شدید اختلافات تھے لیکن شاید سردار پٹیل نے خاموشی میں ہی اپنی خیر جانی اور نہرو کو کانگریس کی کمان کرنے دی۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ جواہر لعل نہرو کی مغربی طرزِ تعلیم کے بعد ان کے والد نے انھیں ہندو مذہب کی خوب تعلیم دی اور ایک پنڈت بنا دیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو جوکہ پنڈ ت موتی لعل نہرو کے بیٹے تھے اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہندو پنڈت اپنے مذہب میں وہی مقام رکھتے ہیں جو کہ اسلام میں مولانا کو حا صل ہوتا ہے۔ بادی النظرمیں گاندھی کے قتل میں سب سے بڑا ہاتھ جواہر لعل نہرو کا تھا جن کو قتل کا سب سے زیادہ فائدہ بھی حاصل ہو ا تھا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ گاندھی کے قتل کے بعد جواہر لعل نہرو اوراُن کے بعد اُن کی بیٹی اندرا گاندھی اور پھر اندرا کے قتل کے بعد اُن کے بیٹے راجیو گاندھی کے 1991میں قتل تک انڈین نیشنل گانگریس پر نہرو خاندان بلا شرکتِ غیرے قابض رہا۔ آج بھی راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی اوراُن کے بیٹے راہول گاندھی گانگریس پارٹی پر مکمل طور پر قبضہ کئے ہو ئے ہیں۔ گاندھی جس کو ہندو اپنا باپ اور ایک دیوتا سمجھتے ہیں' کا ایک انتہا پسند ہندو کے ہاتھوں قتل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت میں حقیقت پسند ہندو بھی مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں ۔
آخر کیا وجہ تھی کہ 1971میں پاکستان کے خالصتاًاندرونی سیاسی مسئلہ کو بنیاد بنا کر بھارت نے پہلے مکتی باہنی کے دہشت گرد وں کو اسلحہ اور تربیت دی اور پھر مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعداُس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے یہ بیان دیا کہ'' آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیجِ بنگال میں ڈبو دیا ہے؟'' رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے اتنا بڑابھارت ، پاکستان سے اور خاص طور پر نظریہ پاکستان سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ بھارت کے تمام عقائد و نظریات کھو کھلے اور کھیل تماشے سے زیادہ کچھ بھی نہیں؟ یہاں پریہ بات پڑھنے والوں کے لئے نہایت دلچسپی کا باعث ہو گی کہ مکتی باہنی کومنظم کرنے،محبِ وطن پاکستانیوں کو چُن چُن کر شہید کرنے اور دہشت گردی کی تربیت دینے والے بھارتی آرمی کے میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ 1971کی شورش میں پیش پیش تھے لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ صرف چند سال بعد وہ نام نہاد جمہوری بھارت کی ہندو فوج کی گولیوںاور گولوں کا نشانہ بننے والے ہیں۔ میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ کو محض سِکھ ہونے ، اپنے حقوق کی خاطر آواز اُٹھانے اور جرنیل سنگھ بھنڈراںوالے کے ساتھی ہو نے کی پاداش میںجون 1984 میںبھارتی ریاستی دہشت گردی کے تحت
Operation Blue Star
کے دوران
Golden Temple
میںسیکڑوں ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ درندگی بھرا فوجی آپریشن پنڈت جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کے حکم پر کیا گیا اورانڈین آرمی کے ایک سکھ میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار کو اس کام پر لگایا گیا جس کا بنیا دی مقصد بھارتی پنجاب میں سکھوں کی طاقت کو کم کرنااور سکھ مذہب کی الگ شناخت کو مدہم کرنا اور کانگریسی ہندو طاقت کو بڑ ھا وا دینا تھا۔ گاندھی خاندان اور شیخ مجیب کے خاندان کااندوہناک انجا م دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قدرت کا انصاف ہو کر رہتا ہے۔
بھارت میں بسنے والے مسلمانوں ، سکھوں، عیسائیوں، ہندوئوںاور خاص طور پر نچلی ذات کے دَلت ہندوئوں کو اب یہ بات جان لینا چاہئے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک دہشت گرد اور نفرت انگیز گروہ ہے جو کہ سیاست کی آڑ میں اپنے انتہا پسند مذہبی عزائم کی تکمیل چاہتی ہے۔ یہ شدت پسند گروہ بھارت کو ایک بند گلی میں دھکیل رہا ہے اور اس کی پالیسیوں کا انجام صرف اور صرف معصوم بھارتی عوام کی تباہی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد کے ایک پروفیسرمحمد مجیب افضل کی کتاب
"Bharatiya Janata Party and the Indian Muslims (2014)"
بھارت میں موجود مسلمانوں کی حالت ِزار جاننے کے لئے ایک بہتر نسخہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی اورسَنگھ خاندان کے بارے میں بتاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی سیاست میں ہندوتوا نظریہ پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ بھارتیہ جنتا سَنگھ کب اور کیسے بھارتی جنتا پارٹی میں تبدیل ہوئی اور اٹل بہاری واجپائی کے
"Soft Hindutva"
اور نریندر مودی کے
"Hard Hindutva"
کے کیا بنیادی مقاصداور اغراض ہیں ۔ پرفیسرنجیب نے یہ بات ثابت کی ہے کہ بی جے پی دراصل سَنگھ خاندان کا سیاسی بازُو اور شاخ ہے۔
ہندوتوا نظریات کے ماننے والوں کے اندھے پن کا ثبوت تو یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف کسی قسم کی تنقید اور حتیٰ کہ متضاد رائے بھی برداشت کرنے کو تیا ر نہیں ہیں۔ اگست 2015میں بھارتی ریاست کر ناٹک کی یونیورسٹی کے ایک ہندو پروفیسر ایم۔ایم۔ کلبرگی کو صرف اس بات پر قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ اور بھارتی جنتا پارٹی سمیت تمام انتہا پسند ہندو جماعتوں پر بھارت کی شناخت بدلنے پر کئی بار تنقید کی تھی۔ نہایت شرم کا مقام تو یہ ہے کہ اُن کے قتل کے بعد ریاست مہارشٹرا میں انتہا پسندوں نے کھلے عام جشن منایا ۔
شاید یہ بات انہونی معلوم ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کو سب سے بڑا خطرہ پاکستان یا چین سے نہیں ہے بلکہ بھارت کی سالمیت اور شناخت کو اصل خطرہ انتہا پسند ہندوجماعتوںسے ہے جو کہ ہندو مذہب اوربذاتِ خود ہندوئوں کی سب سے بڑی دشمن ہیں ۔ ایک بھارتی افسانہ نگار اور لکھاری اننتھا مُرتھی
(Ananthamurthy)
کی کتاب
"Hindutva or Hind Swaraj (2016)"
کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ ہندو انتہا پسند تنظیمیں اب پوری طرح سے بھارت میں بر سرِ اقتدار آچکی ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی اِن تنظیموں کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔ اننتھا مرتھی ان بہت سے ادیبوں اور اہلِ سخن میں شامل تھے جنھوں نے یہ کہہ رکھا تھا کہ اگر نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے تو وہ بھارت کو چھوڑ کر کہیں اور سکونت اختیا ر کر لیں گے مگر اُن کی خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ مودی کے2014 میںوزیر اعظم بننے کے چند ماہ بعد وہ دنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر مغربی
Revisionist
ادیب مثلاً
Noam Choamsky،David Icke
اور
Michael Moore
جیسے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کچھ خفیہ خاندان جیسا کہ
Rockefeller
اور
Rothschild
خاندان دنیا پر پسِ پردہ رہ کر حکمرانی کر رہے ہیں لیکن جمہوری بھارت میں یہ نظریہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ موجودہ بھارتی حکومت میں موجود بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کی ایک خاصی تعداد سَنگھ پریوار (خاندان) سے تعلق رکھتی ہے۔ بھارتی نیوز تہلکہ کے صحافی برجیش سنگھ کے2014 کے آرٹیکل کے مطابق نئی دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک نے، جس کا نام
Vivekananda International Foundation
ہے۔ مودی حکومت کوبے شمار بیورو کریٹ فراہم کئے ہیں۔ ان افسران میں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دُووَل، ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائز راروند گپتا، مودی کے پرنسپل سیکریٹری نری پیندرا مشرا، ایڈیشنل پرنسپل سیکریٹری پ۔کے۔مشرااور دہلی کے گورنر انیل باجال کے نام اہم ہیں۔ ان دنوں اس ادارے کے سربراہ بھارتی آرمی کے سابق چیف جنرل نرمال چندر ہیں۔ اس سے پہلے ڈاکٹر اروند گپتا ایک نامور سیکورٹی اور سٹریٹیجک تھنک ٹینک
Institute for Defence Studies and Analysis (IDSA) 
کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ دونوں تھنک ٹینک سَنگھ پریوار کا حصہ ہیں۔

Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad
، آریا سماج،وشوا ہندو پریشد ، بجرنگ دل،شیو سینا،ابھیناو بھارت، راشٹرا سیوکا سمیتی،بھارتیہ کسان سَنگھ،مسلم راشٹریہ منچ،راشٹریہ سکھ سنگت،ہندو ویوک کندرا،سیوا بھارتی،ودیہ بھارتی،بھارتیہ جنتا پارٹی، سناتن سنستھا،
Vivekananda International Foundation

اور

Institute for Defence Studies and Analysis (IDSA)

وہ ادارے ہیں جو کہ راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ کے ساتھ منسلک اور زیرِ سایہ تقریباًپچاس سے زائد چھوٹے بڑے اداروں میں شامل ہیںاور ہندوتوا سوچ کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لئے کڑی تگ ودو کر رہے ہیں۔ یہ سَنگھ پریوار کا گھنا اور زہریلا درخت بھارتی جمہوریت پر ایک بد نما داغ اور اس کی خود ساختہ سیکولر شناخت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان اداروں کی بڑھتی ہوئی پُر تشدد کار روائیوں اور دہشت گردی کی وجہ سے ان کے شناختی زعفرانی رنگ پر انھیںعالمی طور پر
Saffron Terrorism
کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے۔ ہندوتوا نظریہ ایک طرف بھارت کی اساس کو آہستہ آہستہ ہلا رہا ہے تو دوسری طرف یہ اشوکا اور گاندھی کے ہندو مذہب کو ایک دہشت گرد اور تنگ نظر نسل پرست سوچ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس سوچ کا اصل نقصان بھارت کو ہوگا اور بیشتر صحیح سوچ رکھنے والے ہندو پروفیسروں اور ادیبوں کے بھارت چھوڑنے سے یہ نقصان نظر آ رہاہے۔ اگر یہ انتہا پسند ہندو مزید طاقت پکڑ گئے تو وہ دن دور نہیں جب بھارت خود بخود ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گایا پھر اس میں موجود مائو نواز جانباز ، ببر خالصہ انٹر نیشنل
،Naxalite-Marxist
سمیت بیس سے زائد علیحدگی پسند تحریکیں الگ الگ وطن کے حصول کے لئے بیرونی امداد طلب کرنے میں حق بجانب ہوں گی۔
بھارت جیسے ملک کے ساتھ دوستی اور امن ایک مشکل کام ہے لیکن دُشمنی مسئلے کا حل ہر گز نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت
"Prisoners of Geography"
ہیںاس لئے پاکستان کے اربابِ اختیا ر پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں نہایت احتیاط برتی جائے۔ جو قوم چانکیہ کوتلیہ کو اپنا سیاسی گرو مانتی ہو اس سے ہمہ وقت ہوشیار رہنا نہایت ضروری ہے۔ بھارتی انتہا پسند حکومت کبھی افغانستان کو پختونستان کا شوشہ چھوڑنے کا کہتی ہے تو کبھی
Durand Line
کو انٹر نیشنل بارڈر تسلیم نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے اور کبھی تحریکِ طالبان پاکستان کی شکل میں فساد اور وبال کا باعث بنتی ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی اور خاص طور پر سَنگھ پریوار( خاندان) سے حکومتِ پاکستان اور افواج پاکستان کا اندرونی دہشت گردی پر تیزی سے قابو،پاکستان میں بنائے گئے جدید ترین ایٹمی میزائل اور ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کے علاوہ علاقائی اہمیت اور عالمی اثر و رسوخ بر داشت نہیں ہو رہا اور
Economic Corridor China-Pakistan
جیسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے بلوچستان میں اپنے دہشت گردوں کو کلبھو شن یادیو کی شکل میں شورشیں بر پا کر نے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ گجرات کے نہتے مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک مقا صد میں کافی حد تک ناکام ہو چکا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس مایوسی پر شاید راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ یا کوئی انتہا پسند ہندو انفرادی حیثیت میں نریندر مودی کو ایک قربانی کا بکرابنا دے اورپھر اس کا سا را الزام 2002میں ہونے والے گودھرا ٹرین کو آگ لگانے کی طرز پر کسی گمنام بھارتی مسلمان پر لگا دیا جائے۔ یہ سَنگھ پریوار ہی تھا جس نے1984 میں اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں کے ہاتھوںقتل ہونے کے بعد صرف دہلی میںتین ہزار سے زائد سکھوں کا قتل عام کیا، دسمبر 1992 میںتاریخی بابری مسجد کو شہید کیا اور خود2007 میںسمجھوتا ایکسپریس کوپٹرول بم کے ذریعے آگ لگا کر ستر کے قریب پاکستانیوں کوزندہ جلا کر شہید کر دیا اورمنصوبے کے تحت الزام مسلمانوں پر لگا دیا۔
چاہے کوئی کتنا بھی جھٹلائے اور مسلمانوں کے خلاف شور مچائے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مطلق العنان اور سیاہ اور سفید کے مالک مُغلیہ سلطنت کے شہنشاہ اور اُن سے بھی پہلے سلاطینِ دہلی اگر چاہتے تو آج بھارت میں ایک بھی ہندو موجود نہ ہوتابلکہ اس مذہب کو صفحہء ہستی سے ہی مٹا دیا جاتا ۔ لیکن آج نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ نیپال، سری لنکا ، بنگلہ دیش، بھوٹان، فجی اور میانمار میںموجود ہندوئوں کی کثیر تعداد ایک تنگ نظر ہندو کو بھی یہ بات ماننے پر مجبور کر دیتی ہے کہ مسلمان قوم ہر گز تشدد اور انتہا پسند نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہی کبھی یہ درندگی کا راستہ اپنائے گی۔
شاید بہت سے قارئین اس بات سے اختلاف کریں مگر اس تمام تر بحث و مباحثہ کے بعد اختتامی الفاظ میں اس بات کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے کہ ہندو بھارت کی پاکستان دشمنی نوشتہء دیوار ہے ۔ لیکن جب پاکستان میں موجود چند بے ضمیر ،ملکی وعلاقائی اور عالمی معاملات سے بے خبر ،اپنی دھرتی کی محبت اور قدر و قیمت سے بے زار، کروڑوں مسلمانوں کے پاک خون سے نا آشنا ،اپنی تابندہ تاریخ سے لاعلم اورعاقبت نااندیش لوگ بھارت کی تمام تر پاکستان دشمنی کے باوجود سر حد پار جا کر خوشیا ں منانے اور ناچنے گانے کی آرزو کر تے ہیںتو ہر ایک محب وطن پاکستانی کا دل دکھتا ضرور ہے۔ پاکستانی نامور فنکارپاکستان کی
Soft Power
کو بڑھانے کی غرض سے بھارت ضرور جائیں مگر ان میں کلمہء حق کہنے کی جُرات بھی ہونی چاہئے۔ بھارتی شاعر سم پورن سنگھ المعروف گلزار بے شک دونوں ممالک میں امن اور دوستی کا خواب دیکھیں مگر شاید وہ بھی پروفیسر ایم ۔ایم۔ کلبرگی جیسے دیگر لوگوں کا حشر دیکھ کر جنونی اور درندہ صفت ہندو ئوں کے خلاف بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: محمودشام

امریکہ پاکستان سے اگر چہ کئی ہزار میل دور واقع ہے لیکن 2001سے یہ ہمارا پڑوسی بنا ہوا ہے۔
کون کابل میں آج کل ہے مقیم
دیکھ ہمسائے یوں بدلتے ہیں
عام طور پر کہا جاتاہے کہ ہمسائے نہیں بدلے جاسکتے مگر امریکہ ایسی طاقت ہے جو کہیں بھی اپنی فوجیں اتار کر آس پاس کے ملکوں کی ہمسایہ بن جاتی ہے۔17سال بڑی طویل مدت ہے۔ بچے جوان ہوجاتے ہیں۔


پاکستان کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم ہوئے 70سال ہورہے ہیں۔ 20اکتوبر1947کو ہم رشتہ سفارت میں بندھے تھے۔ آ ج تعلقات میں جو تلخیاں، عدم اعتماد اور کشیدگی ہے، وہ شروع سے چلی آرہی ہے۔ امریکہ کو پاکستان سے اور پاکستان کو امریکہ سے شکایتیں ہمیشہ رہی ہیں اور اتفاق یہ دیکھئے کہ پاکستان اور امریکہ ہمیشہ ایک دوسرے کی ضرورت رہے ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے لئے بہت کچھ کیا ہے، لیکن پاکستان کی
contributions
نسبتاً بہت زیادہ ہیں۔ اپنی سلامتی کی قیمت پر، اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر پاکستان نے امریکہ کی انتہائی اہم اور حساس شعبوں میں مدد کی ہے۔
صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کو امریکہ سے حسن سلوک پر بالآخر کتاب لکھنا پڑی۔ انگریزی میں
Masters Friends not
اُردو میں: جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
وزیر اعظم بھٹو نے کہا: سفید ہاتھی میرے خون کا پیاسا ہے۔ صدر جنرل ضیاء نے امریکی امداد کے بارے میںکہا: اونٹ کے منہ میں زیرہ۔
پھر بھی پاکستان اور امریکہ کسی نہ کسی طور ساتھ چلتے رہے لیکن پاکستان کے سوویت یونین کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ اس سے بھارت پورا فائدہ اٹھاتا رہا۔ سوویت یونین کے قریب ہوتا رہا۔ اس سے اقتصادی معاہدے بھی کئے گئے اور دفاعی معاہدے بھی ۔ بھارت کی ترقی میں سوویت یونین نے بنیادی کردار ادا کیا۔ صنعتی کارخانے ، دفاعی پیداوار، بھاری اسلحے کی فراوانی میں ماسکو دہلی کی بھرپور مدد کرتا رہا۔


پاکستان سرد جنگ میں بھی امریکہ کا اتحادی رہا ہے۔ بعد میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اب تک بھی امریکہ کا اتحادی ہے اور ہزاروں جانیں قربان کرچکا ہے۔
امریکہ اور چین کو قریب لانے بلکہ پہلا تعارف کروانے میں پاکستان کا مرکزی کردار ہے۔ 1971میں امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسینجر مری سے خفیہ طور پر بیجنگ پہنچے، پھر خفیہ طور پر اسلام آباد واپس آگئے۔ ان دنوں میں کہا گیا کہ وہ علیل ہوگئے ہیں اور مری میں مقیم ہیں۔ چین کے اس خفیہ دورے سے ہی امریکی صدر نکسن کے دورۂ چین کی راہ ہموار ہوئی ۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں ہونے والا یہ خفیہ دورہ اگر نہیں ہوتا تو امریکہ اور چین ایک دوسرے کے دشمن بنے رہتے۔ تاریخ کا یہ باب عالمی تعلقات اور بین الاقوامی امور میں،امن کے قیام میں۔ چین اور امریکہ دونوں کے شہریوں، تاجروںاور صنعتکاروں کے لئے فیصلہ کن رہا ہے۔

 

bharatamericataluq.jpgاکیسویں صدی کے پہلے سال میں امریکہ کے جڑواں ٹاورز پر دہشت گردی کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کہ دنیا بدل گئی ہے۔ اس عالمگیر تبدیلی میں بھی امریکہ دہشت گردوں کے خلاف کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا تھا اگر پاکستان اس سے تعاون نہ کرتا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف سے چند ماہ پہلے تو امریکی صدر بل کلنٹن کی برہمی کا یہ حال تھا کہ امریکی صدر نے ان کے ساتھ دورہ پاکستان کے دوران کوئی تصویر بھی نہیں کھنچوائی۔ انہوں نے بند اجلاسوں میں حصہ لیا اور پاکستان قوم سے خطاب کرکے چلے گئے۔ امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی تھیں لیکن جب نائن الیون کا واقعہ ہوا اور پاکستان نے بہت سوچ بچار کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو صدر پرویز مشرف
Man of the Moment
بن گئے۔ ان کا امریکہ میں جس طرح استقبال ہوا، انہیں جو اہمیت دی گئی وہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد پاکستان کے کسی سربراہ کو دی گئی۔ تاریخ بار بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ ایک خود غرض اور مطلب پرست ریاست ہے۔


عام طور پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستانی صدر امریکی وزیر خارجہ کی ایک فون کال پر ڈر گئے اور سب کچھ امریکہ کے حوالے کردیا۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اس سے بہت پہلے پاکستان سے اعلیٰ سطحی وفد افغانستان کے سربراہ ملا عمر سے جاکر ملے تھے اس وقت کے وزیر داخلہ جنرل معین الدین حیدر اس کی سربراہی کررہے تھے ۔ انہیں کہا گیا تھا کہ آپ اسامہ بن لادن کو افغانستان سے رخصت کردیں ورنہ خطّے کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ لیکن ملا عمر نے یہی کہا تھا کہ وہ ہماے مہمان ہیں۔افغان اپنے مہمانوں کو جانے کے لئے نہیں کہتے۔ طالبان حکومت کو سمجھانے کی پہلے سے کوششیں کی گئی تھیں۔ بعد میں پاکستان کے مفاد میں بھی یہی تھا کہ امریکہ سے تعاون کیا جائے ۔ پاکستان بھی دہشت گردی کے حق میں نہیں تھا۔ اس طرح اسلام کی بھی کوئی خدمت نہیں ہورہی تھی۔ اسلام امن و آشتی کا دین ہے۔ وہ بے گناہ انسانوں کی ہلاکت کی اجازت نہیں دیتا۔ اسامہ بن لادن اور ان کے دوسرے ہم خیال لوگوں کی اس روش سے امّت مسلمہ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔


یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اس وقت بھارت امریکہ کا اتحادی بننے کو تیار تھا۔ وہی امریکی بمبار راجستھان کے کسی ہوائی اڈے سے اڑتے، پاکستان پر بھی بمباری کرتے ہوئے جاتے۔ افغانستان میں تو بڑی آبادیاں نہیں ہیں، تورا بورا کی غاریں ہیں، پہاڑ ہیں۔ اس لئے وہاں انسانی ہلاکتیں اتنی بڑی تعداد میں نہیں ہوئیں جتنی دوسری صورت میں پاکستان میں ہوسکتی تھیں۔


پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے دوست ممالک سے بھی مشاورت کی۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہوںسے بھی، اخبارات کے مدیران اور مالکان سے بھی۔ انہیں حقیقی صورت حال بتائی گئی ۔ ایڈیٹرز کے ساتھ اس میٹنگ میں مَیں بھی تھا۔ مدیران میں سے صرف مجید نظامی مرحوم نے اس پالیسی سے اختلاف کیا تھا۔ باقی سب نے اسے پاکستان کے مفاد میں قرار دیا تھا۔ البتہ پورا زور دیا تھا کہ اس وقت امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں مصر کی طرح اپنے سارے قرضے معاف کروالینے چاہئیں۔


بہتر سفارت کاری اور کامیاب حکمرانی کے اصول یہ ہیں کہ ہر قوم کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ جب یہ قومیں ملتی ہیں ، مذاکرات کرتی ہیں تو اولین ترجیح ان مفادات کو حاصل ہوتی ہے جو دونوں قوموں کے یکساں ہوتے ہیں۔ جس طرح دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک سے ہیں، دونوں کو ایسی تنظیموں سے خطرہ ہے ، امریکہ اور پاکستان دونوں میں یہ وارداتیں ہوچکی ہیں، پاکستان میں ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں۔ پاکستانی فوج اور شہریوں نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں، ان یکساں مفادات پر دونوں ملک اشتراک کرتے ہیں اور ان مفادات کے حصول کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اس کے بعد وہ مفادات آتے ہیں جو یکساں نہیں ہوتے لیکن ان کا آپس میں ٹکرائو بھی نہیں ہوتا۔ ان پر دونوں کو کچھ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ تعلقات برقرار رہیں، اور کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔ لیکن جہاں دونوں کے مفادات آپس میں متصادم ہوں، ٹکرارہے ہوں، وہاں کسی ایک کو اپنے مفاد کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ باہمی مذاکرات میں دیکھا جاتا ہے کہ کون آسانی سے اپنے مفاد کو کچھ عرصے کے لئے مؤخر کرسکتا ہے۔
اب مشکل یہ ہے کہ امریکہ نے تو اپنے مفادات طے کر رکھے ہیں۔ وہ ان کی تکمیل کے لئے ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے اور یہ بھی کہ ان کا کوئی شہری کہیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہے ، اس کی جان کو خطرہ ہے تو وہ اس کی حفاظت کے لئے سفارتی دبائو بھی استعمال کرتا ہے، اپنے فوجی بھی اتار دیتا ہے، میزائل کے حملے بھی کردیتا ہے، غیر فوجی کنٹریکٹر بھی بھیج دیتا ہے ۔پاکستان نے اپنے قومی مفادات واضح طور پر طے نہیں کر رکھے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں میں قومی مفادات پر ہماری پوزیشن بدلتی رہی ہے۔


دو طرفہ تعلقات میں سب سے زیادہ اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ برابر کی حیثیت سے بات ہو۔ کوئی ملک کتنا بھی دولت مند ہے، کتنی بھی فوجی طاقت رکھتا ہے، آبادی زیادہ ہے۔ اب یہ ملک کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ برابر کی حیثیت سے مذاکرات کرسکتی ہے یا نہیں۔ اگر ملک کے انتظامی سربراہ، منتخب وزیر اعظم کے ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب ہوں گے تو یہ کمزور پڑجائے گا۔ برابری کی حیثیت سے مذاکرات نہیں کرسکے گا اور جو سربراہ صرف ملک کو بالاتر رکھتے ہیں، وہ ہمیشہ برابری کی سطح سے بات کرتے ہیں۔برابر کی پوزیشن اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کسی ملک میں اندرونی طور پر اتحاد ہو، اقتصادی اعتبار سے استحکام ہو، سارے شہریوں کو تعلیم، علاج معالجے ،ٹرانسپورٹ کی سہولتیں یکساں طور پر فراہم کی جارہی ہوں۔ صوبائیت، علاقائیت اور فرقہ واریت نہ ہو۔


اکیسویں صدی اطلاعات کی صدی ہے۔ کائنات سمٹ کر رہ گئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کردیئے ہیں۔ تجارت، صنعت اور معیشت ہر جگہ آئی ٹی استعمال ہورہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے ملک بھی معاشی طور پر بہت مضبوط ہیں۔ اس لئے وہ بڑی بڑی طاقتوں سے بھی دب کر بات نہیں کرتے۔


امریکہ نے پاکستان سے معاملات میں ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ جب بھی پاکستان پر نازک وقت آیا تو اس نے غیر جانبداری اختیار کرلی۔ 1965میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو امریکہ غیر جانبدار ہوگیا۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کو بھی اسلحے کی فراہمی روک دی۔ 1971میں جب مشرقی پاکستان میں بھارت کی مداخلت سے حالات خراب ہورہے تھے تو کہا جارہا تھا امریکہ اپنے ساتویں بحری بیڑے کے ذریعے پاکستان کی مدد کرے گا ۔ یہ ساتواں بحری بیڑہ نہیں پہنچا۔ بھارت نے کھلی جارحیت کے ذریعے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیا۔ سلامتی کونسل میں شور مچتا رہا۔ روس بھارت کی کھلی سفارتی اور فوجی مدد کرتا رہا۔ امریکہ نے اپنے اتحادی کا ساتھ نہیں دیا۔


امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ہمیشہ مخالفت کی۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر جن کو 1971میں پاکستان نے چین کے خفیہ دورے کی تاریخی سہولت فراہم کی، جس سے دُنیا میں ایک نیا سفارتی نظام قائم ہوا، انہی کسینجر صاحب نے 1972میں پاکستان کے وزیر اعظم کو دھمکی دی کہ اگر ایٹمی پروگرام بند نہ کیا تو تمہیں عبرتناک مثال بنادیا جائے گا اور اس پر امریکہ نے عمل بھی کیا۔جب 1998میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے مجبوراً ایٹمی دھماکے کئے تو اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان پر پریسلر ترمیم کی پابندیاں عائد کردی گئیں۔


آج کل اقتصادیات سیاسیات پر غلبہ اختیار کرگئی ہے۔ امریکہ بھارت سے جو اپنی پینگیں بڑھارہا ہے، اس کے لئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بھارت بڑی مارکیٹ ہے۔ جہاں ایک ارب کے قریب صارفین بستے ہیں۔ اس لئے امریکہ اور مغربی ممالک اس مارکیٹ کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔90کی دہائی سے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ بھارت کے بہت نزدیک ہوگیا ہے۔ پہلے اس نے روس سے محبت کے مزے لوٹے اب امریکہ سے عشق کے لطف اٹھارہا ہے۔

 

بہتر سفارت کاری اور کامیاب حکمرانی کے اصول یہ ہیں کہ ہر قوم کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ جب یہ قومیں ملتی ہیں ، مذاکرات کرتی ہیں تو اولین ترجیح ان مفادات کو حاصل ہوتی ہے جو دونوں قوموں کے یکساں ہوتے ہیں۔

بھارت پاکستان پر دہشت گرد جہادی تنظیموں کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے مغربی ممالک کو پاکستان کے خلاف اکساتا رہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔1948سے بھارت نے اس پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1948کی قرار دادوں میں استصواب رائے کی منظوری دی ہوئی ہے کہ کشمیری اپنی قسمت کا خود فیصلہ کریں۔ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کروہاں جعلی انتخابات کا ڈھونگ رچاتا رہتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کا اتحادی ہونے کے باوجود کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے کوئی سفارتی دبائو نہیں ڈالا۔ 2001 میں نائن الیون کے بعد امریکہ پاکستان کے نئے اشتراک کے وقت امریکہ سے کہا گیا تھا کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کے حل میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، امریکہ نے یہ وعدہ بھی کیا لیکن عملاً کچھ نہیں کیا۔


عالمی طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ ہے۔ یہاں کسی وقت بھی جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ کشمیری اپنی آزادی کے لئے خود جدو جہد اور جہاد کررہے ہیں۔ بھارت کی 7لاکھ فوج بھی ان کے جذبۂ حریت کو سرد نہیں کرسکی۔ امریکہ نے مسئلہ حل کروانے کے بجائے وہاں جہاد میں مصرف تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندی لگوانے کی سازش میں شرکت کی ہے۔ یوںتو صدر جارج بش، صدر اوباما، سب ہی پاکستان سے مزید اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اب جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے ان کی طرف سے یہ دبائو شدت اختیار کرگیا ہے ۔


امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے لئے بھی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ وہاں اعلیٰ تعلیم کے لئے جانے والے طلباء و طالبات کے ویزوں کے اجرا میں بھی رُکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس کی وجہ سے وہاں زیر تعلیم پاکستانی طالب علموں کی تعداد پہلے سے بہت کم ہوگئی ہے۔


ان دنوں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پھر کشیدگی اختیار کرچکے ہیں۔ کچھ تو پاکستان کے غیر مستحکم سیاسی اور اقتصادی حالات اس کی وجہ ہیں، دوسرے یہ کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک پاکستان کی فوج اور شہریوں کی ان قربانیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں جو 2001سے اب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں دی گئیں۔ پھر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان کے طول و عرض میں جو خوفناک وارداتیں کیں۔ ایک عرصے تک پاکستان کا ہر شہری خوف زدہ رہا، لیکن پاکستانی فوج کے آپریشن ضرب عضب، پھر آپریشن ردّالفساد میں تمام دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کی پُر عزم قیادت پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمان میں تسلسل سے یہ کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، کو اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔


اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے عوام یہ فیصلہ کریں کہ ایسے اتحادی کے ساتھ کیا اس عدم اعتماد کے رویے کے ساتھ آگے بڑھا جائے؟ امریکہ کی دہری پالیسیوں کا دبائو قبول کیا جائے؟ فیصلہ کن گھڑی آگئی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھل کر یہ مباحثہ ہونا چاہئے جس میں ماضی میں پاکستان کے نازک موڑوں پر امریکی پالیسیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں مسلسل 17سال سے پاکستان کی فوج، پولیس، نیم فوجی تنظیموں اور پاکستان کے شہریوں کی قربانیوں کو عالمی برادری کے سامنے لایا جائے۔ بھارت کی سازشوں، بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کی پاکستان میں کارروائیوں، کلبھوشن یادیو کے حوالے سے 'را' کی وارداتوں، افغانستان سے سرحد پار کرکے آنے والے افغان دہشت گردوں کی کارروائیوں کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے۔ اس حقیقت کو سمجھا جائے کہ پاکستان کو اب امریکہ کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی امریکہ کو ہماری ضرورت ہے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ پھر امریکہ سے آئندہ تعلقات کی شرائط طے کرے۔


پاکستان نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مسلسل کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی قیادتوں نے بھی پاکستانی فوج کی خدمات اور اقدامات کی بھرپور حمایت کی ہے۔
امریکی عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںسکیورٹی فنڈز کے نام پر انہوں نے ان 17سال میں جو امداد دی ہے، پاکستان کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوئے ہیں،اور یہ امداد ان جانی قربانیوں کا صلہ تو دے ہی نہیں سکتی۔


امریکی عوام کی طرح پاکستانی عوام بھی ایک پُر امن دُنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے شہری بھی ایک مستحکم معاشرے کے خواہاں ہیں۔ وہ بھی اپنے بیٹوں بیٹیوں ، پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں کے لئے پُر امن اور دہشت گردی سے پاک ماحول قائم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔
امریکہ کو ایک اچھا دوست اور سچا اتحادی بن کر دو طرفہ تعلقات کو قائم رکھنا چاہئے۔


پاکستان اگر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو امریکہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا تھا، اور امریکہ کو خطرات ہمیشہ لاحق رہتے۔ پاکستان امریکہ سے امداد کی بھیک نہیں مانگتا، بلکہ اس کی مارکیٹوں تک رسائی چاہتا ہے۔ پاکستان میں امن قائم ہورہا ہے تو صنعتیں بھی بحال ہوں گی، روزگار کی سہولتیں بھی ملیں گی۔ پاکستان کے طالب علموں کے لئے امریکہ میں ویزے کی آسانیاں دی جائیں۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں ، تربیتی اداروں، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس میں امریکہ کو اپنی امداد بڑھانی چاہئے، اب امریکہ کو مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔


پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قریبی دوست ہیں۔ پاکستان نے چین کی عالمی برادری میں رسائی کے لئے بنیادی کردار ادا کیا۔ اب چین اپنے مفادات کے تحت بھی، اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی ترقی کے لئے'' ایک پٹی۔ ایک سڑک'' کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں 55ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اصولاً تو یہ سرمایہ کاری امریکہ کو آج سے کئی عشرے پہلے کرنی چاہئے تھی۔ اب جب چین پاکستان اقتصادی راہداری پر کام شروع ہوچکا ہے تو امریکہ کو اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ اس میں شرکت کرکے اسے مزید مستحکم بنانا چاہئے۔ اپنے محبوب بھارت کو سمجھانا چاہئے کہ سی پیک کے راستے میں رُکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔ اس سے بالآخر بھارت کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔


پاکستان کو بھی اپنے مفادات کا ببانگ دہل اعلان کرنے اور اس کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی طرح بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ ہم اس جنگ میں بہت قربانیاں دے چکے، ہماری معیشت متاثر ہوئی ہے، ہماری معاشرت تباہ ہوئی ہے۔ امریکہ پر زور دیا جائے کہ وہ ہمارے آبی وسائل، معدنی وسائل کی برآمد اور تعمیر میں سرمایہ کاری کرے۔ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس کے قیام میں پیسہ لگائے۔ امریکہ اور یورپ کی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ کے مطابق کوٹہ دے۔ کشمیر میں استصواب رائے کا اہتمام کروائے۔


تعمیر و ترقی ہی نوجوانوں کو انتہا پسندی سے محفوظ کرسکتی ہے۔ امریکہ پر یہ زور بھی دیا جائے کہ ہمارے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ،داعش اور اس قسم کی تنظیمیں امریکہ اپنے خفیہ مقاصد کے لئے خود تخلیق کرتا ہے١ور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں جاگزیں یہ شکوک و شبہات اسی وقت دور ہوسکتے ہیں کہ امریکہ اپنی پالیسیوںکو مزید شفاف بنائے اور خطے کے اہم ملکوں کی رائے کو اہمیت دے۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی کا ملک ہے۔ اس کی تربیت کا اہتمام پاکستان کی اہم ترجیحات میں ہے۔ یقینا یہ نوجوان صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے لئے بھی کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں جہاں نوجوان آبادی بہت کم ہے۔ پاکستان کی نیک نیتی اور
True Potentials
سے امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ باہمی معاملہ فہمی اور باہمی اشتراک سے ہی اس خطّے میں اور پوری دُنیا میں امن قائم ہوگا۔

مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

دوستی کا دعویٰ ہے، دشمنوں سا لہجہ ہے
حد بھی پار کرتے ہو، روز وار کرتے ہو
سازشوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟
خون بھی بہاتے ہو، پیار بھی جتاتے ہو
کتنے گھر گرائے ہیں، کتنے ظلم ڈھائے ہیں
نفرتوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟
سیکڑوں جواں لاشے، ملک بھر میں ہیں بکھرے
دشمنوں سے جنگوں میں، کھوئی تھیں نہ یوں جانیں
وحشتوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟
مانگتے مدد بھی ہو، چاہتے رسد بھی ہو
دھونس بھی جماتے ہو، حکم بھی چلاتے ہو
دھمکیوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟
چَین اپنا غارت ہے، کیسی یہ شراکت ہے؟
دہر بھر میں رسوا بھی، طعنوں کا نشانہ بھی
تہمتوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟

*****

 

Follow Us On Twitter