14
March
Published in Hilal Urdu
Read 67 times
مارچ 2017
شمارہ:3 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قوم رواں برس ستترواں یوم پاکستان ان حالات میں منا رہی ہے کہ جب اسے اپنے حوصلے اور بھی بلند رکھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن گھناؤنی سازشوں اور دہشت گردی کے ذریعے اس وطن کی سالمیت کے درپے ہے۔ 23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں جب قرارداد پاکستان پاس ہوئی تب پاکستان صرف ایک خواب تھا لیکن ٹھیک 7برس بعد برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
پاک فوج نے ملک بھرسے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ شروع کردیاہے،اوریہ کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن کااعلان ہوا توملک بھرمیں اس کاخیرمقدم کیاگیا۔عوام کے تمام طبقات کی خواہش اورمطالبہ تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کوکسی خاص علاقے تک محدود نہ رکھاجائے، دہشت گرد جہاں اورجس علاقے میں بھی چھپے ہوں انھیں نشانہ بنایا جائے ....Read full article
 
تحریر: سمیع اللہ خان
دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
سات قبائلی ایجنسیوں پر مشتمل پاکستان کے سرحدی علاقے یعنی فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور مختلف ادوار میں اس مقصد کے لئے حکومت کی جانب سے تبدیلیاں یا اصلاحات لانے کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل محض اعلانات تک محدود رہا اور کسی بھی حکومت نے عملاً ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس اہم ترین جغرافیائی یونٹ کو....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں اور چیختی بلبلاتی بچیوں سے.....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
دہشت گردی کی نئی لہر نے عوام کو شدید رنج و غم میں مبتلا کردیاہے۔گزشتہ دنوں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ایک سو بائیس سے زائد افراد شہید ہوئے اور تین سو کے قریب زخمی ہوئے۔ فروری میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے ان واقعات نے عوام کو نشانہ بنایاہے۔ضرب عضب کی کامیابی کے بعد عوام اپنے روزمرہ زندگی کے معمولات کو سر انجام دے رہے تھے کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میں اُن مغربی مورخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہور پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میں وجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنماؤں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوؤں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی....Read full article
 
تحریر:محمود شام
یہ آسمان چومنے کے لئے بے تاب مینار پاکستان ہم سے کچھ کہہ رہا ہے۔
اس کے گرد پھیلا ہوا سبزہ زار۔ ہمیں کہانیاں سنانے کے لئے بے چین ہے۔
کبھی دوڑتی بھاگتی۔ زر کی طلب میں گزرتی ساعتوں سے چند لمحات نکال کر اس کے سائے میں آکر بیٹھیں اور دل کے کان لگاکر سنیں کہ یہ زبان حال سے کیا کہہ....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
نظریہ قوموں کی فکری اساس ہے۔ نظریہ اس جذبے کو جلا بخشتا ہے جس کی بنیاد پر ہجوم میں سے قوم بنتی ہے اور پھر اسی جذبے کی آبیاری کرتے ہوئے قوم اپنی سرحدوں کا تعین کرتی ہے۔ لہٰذا نظریے سے جڑے رہنا ہی ملک و قوم کی بقا کی ضمانت ہے۔ کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جذبہ سرد پڑنے لگتا ہے۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ زندگی کے جھمیلوں سے لڑتے ہوئے وہ اپنے تمام جذبات کو....Read full article
 
تحریر: خورشیدندیم
>یہ تاریخی واقعہ ہے کہ انسان اجتماعی صورت میں رہتے ہیں۔ ابنِ آدم کی معلوم تاریخ اسی کی تائید کرتی ہے۔ سماج کا نام ذہن میں آتے ہی اجتماعیت کا تصور سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اجتماعیت کیسے وجود میں آئی؟َ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل عارف محمود
کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین شہید اور موت میں شناسائی بہت پہلے قائم ہو چکی تھی، بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر آفیسر 2013 میں کوئٹہ پولیس لائن میں جنازے کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ جنازے پہ جاتے ہوئے اچانک سید مبین کی ماں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور وہ جنازہ چھوڑ ....Read full article
 
تحریر: شوکت نثار سلیمی
یہ 6جون 1989کی ایک سعید گھڑی تھی جب میری گود میں تم نے آنکھ کھولی۔ یوں لگا تھا جیسے چاند میرے آنگن میں اتر آیا ہو۔ خوشبو، روشنی ہماری رگ و پے میں سرائت کر گئی۔ زندگی کی کرنیں جگمگا اٹھیں۔ تال، رقص اور سرور کی کئی شمعیں ضوفشاں ہو گئیں۔ بربط زندگی کی لے پر نغمے پھوٹنے لگے۔ روش روش بہار تھی۔ زندگی اتنی .....Read full article

انٹرویو: صبا زیب
کسی بھی ملک یا علاقے کی ثقافت کو جاننے کے لئے وہاں کے لوگوں کا رہن سہن، زبان اور طور طریقے دیکھنے پڑتے ہیں۔ ملک کی پہچان ثقافت ہوتی ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے اسے فخر کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی ثقافت کا پرچار دنیا کے ہر کونے میں عزت اور وقار کے ساتھ کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب........Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز
دنیا میں امن و آشتی کے فروغ اور اقوام عالم کے مابین تعاون اور اعتماد بڑھانے کے لئے پاک بحریہ نے2007 میں ’’امن‘‘ کے نام سے جن کثیرالملکی بحری مشقوں کا سلسلہ شروع کیاتھا’امن17‘ اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔ 2007 کے بعد سے پاک بحریہ ہر دو سال بعدامن مشقوں کا انعقاد کرتی رہی ہے اس برس....Read full article
 
تحریر: میجر مظفر احمد
حوالدار (ر) تاج مسیح مارچ 1939کو ضلع بہاولپورکی تحصیل حاصل پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مارٹن پرائمری سکول کرسچین کالونی حاصل پور میں حاصل کی۔ وہ پست قد مگر نہایت ہی چاق چوبند اور پھرتیلے تھے۔ بچپن سے ہی کھیلوں سے رغبت تھی اور سپورٹس میں نام کمانا چاہتے تھے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انہوں نے ہاکی کے کھیل کو چنا اور اُس ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
اگست 2012 میں جب ہم نے مجاہد آرٹلری کی ایک مایہ ناز فیلڈ یونٹ کی کمانڈ سنبھالی تو وہ کشمیر جنت نظیر کے حسین پہاڑوں پر ڈیپلائے تھی۔ ہمارا ہیڈکوارٹر ایک الگ تھلگ جگہ پر واقع تھا۔ نہایت دلکش لینڈ سکیپ پر مشتمل وادی کے بیچوں بیچ واقع ہمارا میس بھی اپنی مثال آپ تھا۔ فیملی کا جھنجھٹ بھی....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
فی زمانہ زندگی گزارنے کا ایک پرفیکٹ ماڈل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس ماڈل کے تحت آپ کسی اربن مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوں( اس ضمن میں آپ کو کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیدائش کے بعد شروع ہو گا) اپنے والدین کے خرچے پر کھیلیں کودیں، سکول جائیں، بہت اچھے نمبروں میں میٹرک یا او لیول کا امتحان پاس کریں، کالج میں داخلہ لیں، ابا سے حسب توفیق گاڑی یا موٹر سائیکل....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آج ہم تیسرے نغمے کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ نغمہ 10ستمبر 1965کو ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستانی افواج اپنے جنگی محاذ پر دشمن کو تاریخ ساز شکست دینے کے لئے کوشاں تھیں۔ ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے کچھ فوجی جوان زخمی ہو کر لاہور سی ایم ایچ میں داخل ہوئے ہیں۔ میں،میڈم نورجہاں .....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
لاہور، پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن تاریخی، علمی، ادبی، سیاسی، فکری اور ثقافتی حوالے سے اسے پاکستان کا دِل کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے آباد اس شہر کی تاریخ پُراسرار بھی ہے اور سحرانگیز بھی۔ مؤرخ اسے ڈیڑھ ہزار سال قدیم شہر قرار دیتے ہیں۔ لیکن ماہرینِ آثارِقدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ.....Read full article
 
تحریر : محمد امجد چودھری
وہ چشم تصور میں سرحدوں پر ڈٹے، دشمن سے برسرپیکار پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب قسم کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ ارشد جبار کو فخر ہے کہ دفاع وطن پر قربان ہونے والے افواج پاکستان کے بہت سے شہداء اور غازیوں کی وردی ان کے ہاتھوں سے سلی تھی۔ بہت سوں نے ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والی یونیفارم زیب تن کی ہوگی جس کی صورت میں وہ خود کو ان....Read full article
14
March

اعظم معراج

اے وطنِ عزیز کے محروم و بے شناخت بیٹو!
اپنے سماج سے بیگانو!
دھرتی سے اپنی نسبت سے لاعلم دھرتی واسیو!
اس ارضِ پاک کو بنانے
سنوارنے ... سجانے
اور بچانے میں اپنے اجداد کے کردار سے بے بہرہ معصومو!
اپنے آبا کی سرزمین پر اجنبیوں کی طرح رہتے اور
نفرت انگیز سماجی رویوں کے وار سہتے
اپنے روشنی کے میناروں کو
اپنی محرومیوں کے اندھیروں میں ... گم کرتے خاک نشینو!
خود رحمی، احساس کمتری و برتری کی
چکی کے پاٹوں میں پسے ہوئے راندہ درگاہ
ہم وطنو
ہزاروں لوگ
تمہاری ان محرومیوں کا نوحہ کہتے ... اور سینہ کوبی کرتے ہیں
تمہاری ان کمزوریوں اور پستیوں کو بیچتے ہیں
بے شک اس ظلمت شب میں
امید کے دیے جلانے والے
تمہیں دھرتی سے نسبت بتانے والے
اور یہ منترہ
تمہیں رٹانے والے
کہ تم وارث ہو اس سر زمیں کے
اور اس ارضِ پاک کو
اپنے خون پسینے سے سینچنے والے وطن کے معماروں
اور روشنی کے میناروں سے
تمہارا ناتا جوڑنے والے
شہدائے وطن کے پاک لہو کے رنگ سے
تمہاری بے رنگ روحوں میں
رنگ بھرتے مرد قلندر
بہت سے صبح نو کی نوید سنانے والے ہوں گے
یاد رکھنا
ان بہت سوں میں سے ایک میں بھی ہوں
لیکن اگر
کبھی لمبی اندھیری رات کے سیاہ گھپ
اندھیروں سے گھبرا کر یہ دیوانے
صرف چند بھی رہ گئے تو
ان چند میں ایک میں بھی ضرور ہوں گا
پھر اگر
امید سحر میں ان میں سے صرف ایک بچا
تو وہ
یقیناًمیں ہی ہوں گا
لیکن اگر
گھنے پیڑوں کے جھنڈ میں سے
سورج کوچھوتے درختوں پر
امیدِحیاتِ نو میں نغمہ مرگ گاتے ہوئے
ققنسوں کے مہک دار شاخوں سے بنے گھونسلوں میں سے
سنہری ٹھنڈی ہوتی ہوئی آگ میں سے
کئی نوجوان
سورج کی طرح چمکتے
قرمزی سنہرے ققنس
اپنی ہزاروں سال کی پستیوں، ذلتوں اور
محرومیوں کے بھاری بوجھ
اپنے توانا سنہری پروں سے جھٹکتے ہوئے
اپنی چونچوں میں
اپنی قابلِ فخر شناخت کے علم دبائے
امیدوں کی روشن شمعیں دلوں میں جلائے
عزم و حوصلے اور امنگیں
جن کے سینوں میں موجزن ہوں
جن کی نظر
روشنی کے میناروں سے اٹھتی ہوئی
دور آسمانوں پر ہو
اور
وہ دن کے اجالوں میں
سورج کی طرف
لمبی اڑانیں بھریں
تو سمجھ لینا
جن مہک دار گھونسلوں سے
جوان ققنس اڑتے ہیں
ان گھونسلوں میں
میرے بدن کی راکھ تھی

 
14
March

تحریر: یاسرپیرزادہ

فی زمانہ زندگی گزارنے کا ایک پرفیکٹ ماڈل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس ماڈل کے تحت آپ کسی اربن مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوں( اس ضمن میں آپ کو کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیدائش کے بعد شروع ہو گا) اپنے والدین کے خرچے پر کھیلیں کودیں، سکول جائیں، بہت اچھے نمبروں میں میٹرک یا او لیول کا امتحان پاس کریں، کالج میں داخلہ لیں، ابا سے حسب توفیق گاڑی یا موٹر سائیکل کی فرمائش کریں، گریجویشن کریں، جتنے نمبر آئیں اس حساب سے انجینئرنگ، میڈیکل یا ایم بی اے وغیرہ میں داخلہ لیں یا پھر سی ایس ایس کی تیاری کریں، کینیڈا آسٹریلیا، یو کے یا امریکہ میں پڑھنے کے لئے پر تولیں، تعلیم مکمل کریں، ملازمت تلاش کریں یا ابا کی فیکٹری سنبھال لیں، شادی کروائیں (اپنی)، بچے پیدا کریں اور پھر ان بچوں کو اسی ماڈل کے تحت بڑا کریں، ان کے سکول کالج کے فیسوں کی ٹینشن لیں، ان کے لئے ملازمت کا بندوبست کریں،ان کی شادیاں کریں۔۔۔۔ اور باقی زندگی خدا کی یاد میں بسر کر دیں


اس ماڈل میں بظاہر کوئی خرابی نہیں سوائے اس کے کہ ایک روز جب آپ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر کے دالان میں آرام کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہوں گے تو یہ گزری ہوئی زندگی ایک فلم کی طرح آپ کی آنکھوں کے سامنے چلے گی۔ اس وقت آپ کو یوں نہیں لگنا چاہئے کہ آپ نے زندگی میں بس جھک ہی ماری! ہر امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے سکول کی کلاس کے پچاس بچوں میں سے وہ نہ ہوں جن کا نام ہی استاد کو یاد نہیں رہتا، جسے کبھی سزا ہی نہ ملی ہو، جس کے سوالات سے ٹیچرز گھبراتے نہ ہوں، جو صرف پڑھائی میں ہی اے گریڈ نہ لیتا ہو بلکہ ہاکی میں سینٹر فارورڈ بھی کھیلتا ہو، جس نے کالج میں کبھی کوئی کلاس ’’بنک‘‘ نہ کی ہو جو اپنے دوستوں کی پراکسی لگانے سے گھبراتا ہو، جس نے کینٹین پر بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گپیں نہ لگائی ہوں، جس نے ہاسٹل کے کمرے میں صبح چار بجے تک تاش نہ کھیلی ہو، جسے کالج میں عشق نہ ہوا ہو، جس کا یونیورسٹی میں کوئی جھگڑا نہ ہوا ہو، جس نے اپنی کلاس فیلو کوخط نہ لکھا ہو، جس نے فرسٹ ایئر میں سگریٹ نہ پیا ہو، جسے دوستوں کے ساتھ لاہور سے مری جانے کی اجازت نہ ملی ہو، جس نے ’’ڈیٹ‘‘ پر جانے کے لئے دوست سے موٹر سائیکل نہ مانگی ہو۔۔۔

 

zindagiguzarny.jpgعجیب بات یہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں یہ یادیں انمول ہیں مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے، یہ باتیں ہماری زندگی سے آؤٹ ہوتی چلی جاتی ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہو پاتا، جن دوستوں کے ساتھ گھنٹوں ہم بے تکی باتیں کیا کرتے تھے وہ دوست چھوٹ جاتے ہیں، کچھ ملک سے باہرسیٹل ہو جاتے ہیں ،کچھ شہر چھوڑ جاتے ہیں، کچھ کو زندگی کی دھوپ جھلسا دیتی ہے اور کسی کی دوٹکے کی نوکری جان نہیں چھوڑتی، کچھ دوست رابطے میں رہتے ہیں مگر رسمی انداز میں، کچھ کو ہم رابطہ نہیں کرتے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی کی دوڑ میں ہم ان سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ گویا جن باتوں کو ہم اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں، ان باتوں کو زندگی کی دوڑ دھوپ کے نام پر خود ہی اپنی زندگیوں سے نکال باہر کرتے ہیں اور پھر کافی کا مگ ہاتھ میں لے کر یاد کرتے ہیں کہ ہائے وہ بھی کیا دور تھا، لڑکیوں کا حال تو اور بھی عجیب ہے۔ سکول کالج کے زمانے میں جن سہیلیوں کی ایک دوسرے میں جان ہوتی ہے، شادی کے بعد برسوں ان میں ملاقات ہی نہیں ہو پاتی۔ آج وہ مہ جبیں چار بچوں بمعہ ایک ہونق قسم کے خاوند کے ساتھ ملتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی نے اس کے اور اس نے زندگی کے ساتھ کیا سلوک کیا


لیکن ہم بھی کیا کریں جب سائیکل ملتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کب وہ دن آئے گا جب اپنی موٹر سائیکل کو کک لگا کر سٹارٹ کریں گے۔ جب موٹر سائیکل ملتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کیا وہ دن بھی آئے جب اپنی گاڑی ہو گی۔ جسے جب چاہیں گے سٹارٹ کرکے کہیں بھی لے جائیں گے۔ جب پانچویں جماعت میں تھے تو حسرت بھری نگاہوں سے سینئر سیکشن کو دیکھا کرتے تھے کہ کب ہمارا یونیفارم بھی ان بڑے بچوں جیسا ہو گا۔ جب سینئر سیکشن میں پہنچتے تو میٹرک کے امتحان کی ٹینشن جینے نہیں دیتی تھی۔کیونکہ فلموں میں دیکھا کرتے تھے کہ ہیروفقط دو تین کتابیں لے کر سارا وقت کینٹین میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ مستیاں کرتا ہے اور کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی اس پر فدا ہوتی ہے۔ کالج پہنچے تو پتا چلا کہ ایف ایس سی کرنے والوں کے لئے کالج میں بھی سکول جیسا ماحول ہے۔ پھر بی اے کے لئے دن گننے شروع کئے کہ بی اے میں یقیناًایسی پڑھائی ہو گی، جس کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا، بی اے میں پہنچے تو احساس ہوا کہ اصل موج تو یونیورسٹی میں ہے جہاں لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں یونیورسٹی میں سوچتے تھے کہ کب یہاں سے نکلیں گے اور اچھی سی نوکری کریں گے۔ اپنے پیسے کمائیں گے۔ جب نوکری ملی تو سوچا کب امیگریشن ملے گی اور اس ملک سے جان چھوٹے گی اور جب امیگریشن ملی تو سوچتے ہیں کہ کیوں نہ فیس بک پر ایک گروپ بنا کر اپنے سکول کالج کے دوستوں سے رابطہ کر کے پرانی سنہری یادوں کو تازہ کیا جائے۔


اپنی زندگی کو پرفیکٹ بنانے کے چکر میں کہیں ہم اسے

imperfect

تو نہیں بنا دیتے؟ شاید ہاں اور شاید نہیں۔ نہیں اس لئے کیونکہ باعزت طریقے سے زندہ رہنے کے لئے اچھا تعلیمی ریکارڈ، آگے بڑھنے کی لگن، ڈسپلن، اچھی ملازمت، کاروبار، ازدواجی زندگی سب ضروری ہے مگر زندگی اس سے بڑھ کر بھی کچھ مانگتی ہے۔ کروڑوں لوگ امتحانات میں اچھے گریڈ لیتے ہیں، کروڑوں لوگ دنیا میں بزنس کرتے ہیں، مگر زندگی صرف ملازمت کرنے یا کاروبار کرنے کا نام نہیں۔ زندگی صرف سولہ جماعتیں پاس کر کے نوکری ڈھونڈ کر شادی کرنے کا نام نہیں، زندگی یقیناًاس سے بڑھ کر کچھ مانگتی ہے۔ سو زندگی میں کوئی ایک ایسا کام ہمیں کر جانا چاہئے کہ جب زندگی کی فلم ریوائنڈ کر کے دیکھیں تو یہ نہ سوچیں کہ کاش میں نے کالج میں اس لڑکی سے اظہار محبت کر دیا ہوتا جو مجھے پسندتھی۔ کاش میں محکمہ جنگلات میں ملازمت کرنے کی بجائے وائلڈ لائف فوٹو گرافر بن جاتا، کاش میں اتنی دولت کمانے کے ساتھ ساتھ کوئی دو چار فلاحی ادارے بھی بنا دیتا، کاش مجھ میں سچ کہنے کی جرأت ہوتی اور میں دوٹکے کے ذاتی مفاد کی خاطر کسی کے سامنے نہ جھک جاتا۔ کاش میں اتنی پھیکی اور بے مزہ زندگی نہ گزارتا!

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

فوجی وردیاں تیار کرنے کے ماہر ارشد جبار سے محمد امجد چودھری کی گفتگو

وہ چشم تصور میں سرحدوں پر ڈٹے، دشمن سے برسرپیکار پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب قسم کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ ارشد جبار کو فخر ہے کہ دفاع وطن پر قربان ہونے والے افواج پاکستان کے بہت سے شہداء اور غازیوں کی وردی ان کے ہاتھوں سے سلی تھی۔ بہت سوں نے ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والی یونیفارم زیب تن کی ہوگی جس کی صورت میں وہ خود کو ان کے درمیان محسوس کرتے ہیں۔ یقیناان کے لئے یہ بات ایک اعزاز سے کم نہیں کیونکہ فوجی وردی کسی بھی سپاہی کے لئے ایک خاص معنی رکھتی ہے ۔ یہ نظم و ضبط اور ذمہ داریوں کا ایک ایسا سانچا ہے جس میں ایک سپاہی کو تربیت اور آزمائش کی بھٹی میں سے گزر کر خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ اس کی چمک دمک ایک سپاہی کے وطن کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھنے کے عزم کی عکاسی کررہی ہوتی ہے۔ اس پر سجے میڈلز اس کی جرات و بہادری ، قربانی اور خطرات سے ٹکرانے کی داستان سنا رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ قوم کی یکجہتی، عزت و وقار اور آزادی کی علامت ہے۔ ارشد جبار کو اس کے تقدس کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ایک خاص جذبے اور شوق سے اس کی تیاری کے فرض کو انتہائی سلیقے سے انجام دیتے ہیں۔

 

arshadjabarseguf.jpgارشد جبار نے جب آنکھ کھولی تو ان کے والد عبدالجبار کو یہ پیشہ اختیار کئے ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا۔ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل 1945ء میں راولپنڈی میں کشمیر روڈ پر ایک دکان کے باہر چھوٹے سے کام سے آغاز کیا۔ وہ اپنے کام میں مہارت سے جلد ہی اپنے گاہکوں میں مقبول ہو گئے۔ 1947ء میں ایک دکان کرائے پر حاصل کی۔ معروف بیوروکریٹ، ادیب اور دانشور قدرت اللہ شہاب اور ان کے بھائی اس دکان کے مالکان تھے۔ارشد جبار نے اپنی یادوں کو کریدتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دکان کا کرایہ دوسو روپے تھا اور ان کے والد دونوں بھائیوں کوسو سو روپے کے دو علیحدہ چیک کی صورت میں ادائیگی کرتے تھے۔1983ء میں ان کے والد نے یہ دکان خرید لی۔


ارشد جبار بارہ جماعتیں پاس ہیں۔ انہوں نے میٹرک پبلک سکول ایبٹ آباد سے کیا۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ انہوں نے جو کام شروع کیا ہے اسے مزید بہتر طریقے سے آگے بڑھائیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ارشد جبار کو اسی شعبے میں جدید مہارت کے لئے برطانیہ بجھوایا۔ 1972ء میں انہوں نے انگلینڈ ٹیلر اینڈ کٹر اکیڈمی ویلز سے ڈپلومہ حاصل کیا۔ 1973ء میں وطن واپسی پر انہوں نے اپنے والد کے کام کو مزید مہارت اور جدت سے کرنا شروع کیا اور خاص طور پر فوجی یونیفارم کی تیاری کے حوالے سے خوب نام کمایا۔ افواج پاکستان کی بہت سی اہم شخصیات نے ان کے ہاتھوں سے تیارہونے والی وردی زیب تن کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت سے افسر سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان سے یونیفارم تیار کروانے آئے جو آج جنرل کے رینک تک پہنچ چکے ہیں اور طویل عرصے سے انہی کی تیار کردہ یونیفارم پہن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کامیابی میں مہارت اور جدت کے علاوہ اخلاص، وقت کی پابندی اور وعدے کی پاسداری نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ان اصولوں کو کسی بھی شعبے اور کاروبار کی کامیابی قراردیا ہے کیونکہ گاہک کا اعتماد اسی سے بڑھتا ہے اوروہ طویل عرصے تک آپ کی خدمات سے استفادہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ نسلوں تک یہ تعلق چلتا ہے۔ بعض افراد کی تو تیسری نسل ان سے لباس تیار کروا رہی ہے۔


ارشد جبار کو وردی کے تمام لوازمات اور اقسام کا بخوبی علم ہے۔ انہیں رجمنٹل لوگوز، انسگنیاز، میڈلز، ٹائٹلز اور دیگر اشیاء میں کبھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ارشد جبار کو اپنے کام اور ہنر پر فخر ہے۔ ان کے تیارکردہ لباس کو گاہک زیب تن کر کے جب اطمینان کا اظہار کرتا ہے تو یہی ان کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا اس سے مجھے اپنے کام میں ایک عجیب سرشاری محسوس ہوتی ہے۔ میں اور بھی زیادہ محنت اور لگن سے کام کرنا شروع کردیتا ہوں۔ ان کی مہارت کے دلدادہ افراد کی ایک طویل فہرست ہے۔ ایک سپاہی سے لے کر جنرل تک اور ایک عام آدمی سے لے کر ممتاز سیاستدان ، بیوروکریٹ، کاروباری شخصیات ان میں شامل ہیں۔ ارشد جبار کے ایک بھائی خرم جبار اور بیٹا جنید جبار بھی اُن کے ساتھ اُن کے والد کی مہارت اور فن کی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جس کا آغاز 1945میں اُن کے والد نے کیا۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

لاہور، پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن تاریخی، علمی، ادبی، سیاسی، فکری اور ثقافتی حوالے سے اسے پاکستان کا دِل کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے آباد اس شہر کی تاریخ پُراسرار بھی ہے اور سحرانگیز بھی۔ مؤرخ اسے ڈیڑھ ہزار سال قدیم شہر قرار دیتے ہیں۔ لیکن ماہرینِ آثارِقدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ ’ہڑپائی‘ شہر ہے۔ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے زمانے کا شہر۔ اس حوالے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ دریاکے اس طرف جہاں یہ شہر آج آباد ہے، قدرتی اور انسانی آفات کے سبب یہ شہر کئی مرتبہ اجڑا اور آباد ہوا۔ پنجاب بھر میں ماہرینِ آثارِقدیمہ نے ہڑپائی بستیوں کے جو آثار دریافت کئے ہیں، اس میں چند آثار دریائے راوی کے دوسرے کنارے سے بھی ملے ہیں جوکہ اسی بستی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ماہرین آثارِقدیمہ کے دعووں کو تسلیم کیا جائے تو لاہور برصغیر کا وہ واحد شہر ہے جسے موہنجوداڑو دَور کا زندہ وآباد شہر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔


لاہور صدیوں سے اُن واقعات کو اپنے سینے میں دفن کئے بیٹھا ہے جس نے اس شہر ہی نہیں بلکہ خطے کی تاریخ پر انمٹ اثرات مرتب کئے۔ اسی لئے اس شہرِاسرار کو اس خطے کا علمی وفکری، ادبی وسیاسی ، ثقافتی وسماجی گہوارہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ہم لاہور کی گزشتہ چند صدیوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بڑے دلچسپ حقائق بے نقاب ہوتے ہیں۔ مغل شہنشاہ ہمایوں، چودہ سال ہندوستان کے تخت وتاج سے محروم رہا اور اسے اس دوران جلاوطن ہونا پڑا۔ 1554ء میں ہمایوں نے لاہور کو درحقیقت دوبارہ فتح کیا۔ وہی لاہور جسے شیرشاہ سوری اور اس کا بیٹا خاک میں ملا دینا چاہتے تھے۔ جب ہمایوں کی آمد لاہور ہوئی تو لاہور کے باسیوں نے پورے شہر میں چراغاں کرکے اُس کا استقبال کیا۔ ہمایوں کے انتقال کے بعد 1556ء میں اکبر اعظم کی تخت نشینی کے دوران لاہور اپنے دورِعروج میں داخل ہوا۔ اس دوران لاہور برصغیر کی طلسماتی بستی بن گیا۔ اسی لئے اکبر 1584ء سے 1598ء تک لاہور میں مقیم رہا۔ یورپی سیاح اس دوران لاہور کی شان وشوکت دیکھنے آتے تھے۔ متعدد یورپی سیاحوں سمیت ابوالفضل نے بھی اس شہر کے اس طلسماتی عہد کو سپردِقلم کیا۔

 

sherlahorekishan.jpgمغل دَورِحکمرانی میں اس شہر نے برصغیر سے لے کر وسطی ایشیا تک اپنے سیاسی وفکری اثرات مرتب کئے۔ اسی دَور میں دریائے راوی میں بحری جہازوں سے سندھ اورپھر بحیرۂ عرب تک تجارتی راستہ قائم تھا۔ عہدِ جہانگیری میں لاہور کی سیاسی، فکری اور ادبی زندگی کو مزید طاقت ملی۔رنجیت سنگھ کے زمانے میں لاہور کو اگر تلاش کیا جائے تو مزید دلچسپ حقائق اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس کے دَور میں فوجی تربیت کے لئے یورپ سے فوجی انسٹرکٹر یہاں آئے۔ اسی لئے اُس کے دربار میں پنجابی اور فارسی کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی رائج تھی۔ 1821ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر ولیم مور کروفٹ نے جب رنجیت سنگھ کے لاہور کو دیکھا تو ورطۂ حیرت میں ڈوب گیا کہ اس پنجابی حکمران نے فوج کے نظم ونسق کو کس جدید انداز میں جدید تقاضوں کے مطابق قائم کررکھا ہے۔


لاہوریوں کی انگریز سامراج کے خلاف پہلی بغاوت بھی اس شہر کی تاریخ کا جھومر ہے۔ 1849ء میں چیلیاں والا (گجرات) میں برطانوی سامراج نے برصغیر میں کالونائزیشن کی تکمیل کے لئے آخری جنگ لڑی جس میں پنجاب کے سپوتوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ بدقسمت پنجابی سپاہی، انگریز افواج کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔ اس کے بعد انگریزوں نے اس طلسماتی بستی (لاہور) میں قیام کے انتظامات شروع کر دئیے اور مسیحی عبادت کے لئے بھی کوششیں شروع کردیں۔ اس کے لئے یہاں پر موجود مقبرہ انارکلی کو انگریزوں نے جون 1851ء میں ’’سینٹ جیمز چرچ‘‘ قرار دے دیا اور عمارت کے گرد خاردار تار لگا دئیے۔ جب لاہوریوں کو انارکلی کے مقبرے کو گرجاگھر میں بدلنے کی خبر ملی تو اہلیانِ لاہور اس (گرجاگھر قرار دی گئی) عمارت کی طرف چڑھ دوڑے۔ اس دوران برطانوی سامراج کے مسلح اہلکاروں نے نہتے شہریوں پر بے دریغ گولیاں برسائیں جس سے متعدد لاہوری شہید ہوگئے۔ اس کے بعد 1857ء کی جنگِ آزادی میں بھی لاہور چھاؤنی میں موجود دیسی جوانوں نے علمِ بغاوت بلند کیا۔ اس شہر کے لوگوں نے جو تحریکیں برپا کیں وہ اپنی جگہ، لیکن اس شہر کے باسیوں نے کئی ایسے واقعات بھی دیکھے کہ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ہاتھیوں، گھوڑوں، اونٹوں اور دیگر جانوروں سے چلنے والی سواریاں تو یہاں عام تھیں۔ لیکن 1862ء میں لاہوریوں نے پہلا سٹیم انجن جب راوی کنارے اترتے دیکھا تو اُن کے لئے یہ’ سیاہ جن‘ ایک عجوبہ تھا۔ (انڈس سٹیم فلوٹیلا کمپنی اسے کراچی کی بندرگاہ سے دریائی راستے سے لاہور لائی تھی۔) سٹیم انجن راوی کنارے اتارنے کے بعد لاہور ریلوے سٹیشن پہنچایا جانا بھی حیران کن منظر تھا۔ ایک سو دو بیل اور دو ہاتھی اس انجن کو لاہور ریلوے سٹیشن تک کھینچ کر لائے۔ سٹیم انجن کا راوی کنارے اترنا، پھر چوبرجی سے ہوتے ہوئے ریلوے سٹیشن تک جانا، اس موقع پر شہر میں میلے جیسی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔


اسی شہرِ لاہور میں پیسہ اخبار اور زمیندار اخبار جیسے اخباروں کے اجراء نے برصغیر بھر میں دھوم مچا دی اور صحافت کے شعبے میں ناقابل فراموش نام بھی پیدا کئے۔ ان اخبارات سمیت دیگر اخبارات نے ہی تحریکِ آزادی کے چراغ جلائے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران یہاں پر بغاوت برپا تھی۔ پنجاب بھر سے لوگ جنگ عظیم، جنگ بلقان میں برطانوی سامراج کی چیرہ دستیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کررہے تھے۔ عبیداللہ سندھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کابل منتقل ہو چکے تھے جن میں لاتعداد نوجوان شامل تھے۔ ان باغیوں میں مسلمان، ہندو اور سکھ سب ہی لوگ شامل تھے۔ وہاں جلاوطن حکومت بھی قائم کی گئی۔ آزادی کے یہ متوالے اس وقت روس، افغانستان، جرمنی اور سلطنت عثمانیہ کے ساتھ رابطوں میں تھے۔ میرے مطالعے میں اس دَور کی ایسی سرکاری دستاویزات آئی ہیں جن میں لاہور میں انٹیلی جینس والوں کو خاص ہدایت نامہ جاری کیا گیا کہ اُن سیاسی، سماجی، ادبی اور متحرک لوگوں پر نظر رکھیں جو کابل میں موجود آزادی پسندوں، باغیوں کے ساتھ یا پھر روس، جرمنی، افغانستان اور سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جن لوگوں پر نظر رکھے جانے کی ہدایت کی گئی، اُن میں علامہ محمد اقبالؒ بھی شامل تھے کہ وہ ایسی محفلوں میں شامل ہوتے تھے جو برطانیہ سے آزادی چاہتے تھے اور محمد اقبالؒ ان محفلوں میں باغیانہ شاعری کرکے بغاوت پر آمادہ کرتے تھے۔ اسی لئے برطانوی سامراج نے 1919ء میں رولٹ ایکٹ پاس کیا۔ اس کا نام تھا
The Anarchical and Revolutionary Crimes Act 1919

اس ایکٹ کے تحت، برٹش سرکار نے اختیارحاصل کیاکہ آزادی، انقلاب اور برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو بغیر مقدمہ چلائے گرفتار کیا جاسکے۔ اس سیاہ قانون کے خلاف لاہور کے شہریوں نے شدید احتجاج شروع کیا تو 13اپریل 1919ء کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر مائیکل ایڈوائر نے لاہور میں مارشل لاء نافذ کرکے احتجاج کرنے والوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد لاہور اور امرتسر احتجاجی مظاہروں کا گڑھ بن گئے۔ اس دوران لاہور کی سڑکیں خون سے سرخ ہوگئیں کہ یہ لاہوریئے آزادی چاہتے تھے۔ انہی مظاہروں کے سلسلے میں جلیانوالہ باغ کا سانحہ برپا ہوا جس میں 380نہتے پُرامن آزادی پسندوں کو برٹش راج نے موت کی نیند سلا دیا۔


لاہور متعدد علمی، فکری، ادبی اور سیاسی تحریکوں کا مرکز اور نقطۂ آغاز بننے کا اعزاز بھی رکھتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی تعلیمی آبیاری تو مختلف سکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہوئی۔ مگر یہ لاہور شہر ہے جس نے اس فلسفی اور شاعر کو شاعرِ مشرق اور مفکر پاکستان جیسی معراج پر پہنچایا کہ لاہور میں ان کی فکر، شاعری اور سیاسی سوچ پروان چڑھی اور اسی شہر سے اُن کی دھاک پورے ہندوستان میں پھیلی۔ 6جنوری 1923ء کو مقبرہ جہانگیر پر ایک گارڈن پارٹی میں گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میکلیگن کی صدارت میں علامہ اقبالؒ کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی جہاں انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس تقریب میں چھے سو سے زائد معززینِ شہر شریک ہوئے جن میں رنجیت سنگھ کی پوتی (بمبا سدر لینڈ) اور سر فضل حسین بھی شامل تھے۔


قراردادِ لاہور جس نے مسلمانانِ برصغیر کے مقدر کا فیصلہ کیا، اسی شہرِ لاہور میں پیش ہوئی۔ 22سے 24مارچ تک منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانانِ برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہوا۔ لاہور شہر میں پیش ہونے والی اس قرارداد نے برصغیر میں ایک نئی ریاست کے وجود کی بنیاد رکھی۔ لیکن ایک اور بڑی حقیقت ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوچکی ہے کہ اسی شہر لاہور میں آل انڈیا کانگریس نے ایک اجلاس میں تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ 31دسمبر 1929ء کو راوی کنارے آل انڈیا کانگریس نے مرحلہ وار آزادی کے مطالبات کی بجائے مکمل آزادی کے لئے ایک اعلامیہ جاری کیا جسے ’’پورنا سوراج‘‘ یعنی مکمل آزادی قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے ہوم رُول، ڈومینین رُول جیسے مطالبات کئے جاتے تھے۔ اسی شہرِ اسرار میں کانگریس نے برطانوی سامراج سے مکمل آزادی کا عہد کرکے یہ ثابت کیا کہ جو فیصلے لاہور میں کئے جائیں، وہی سیاسی مقدر ہوتے ہیں۔ 31دسمبر 1929ء نئے سال کے آغاز کے وقت نہرو نے دریائے راوی کنارے نصف شب تین رنگوں کے جھنڈے کشائی کرکے اس تحریک کی بنیاد رکھی جس نے آزادئ ہند اور بعد میں آزادئ پاک وہند کے راستے متعین کئے۔


لاہور نے 20فروری 1974ء کو اسلامی تاریخ میں ایک ایسا نظارہ کیا کہ جہاں عالمِ اسلام کے چالیس سے زائد حکمران اور لیڈر اکٹھے ہوئے۔ اسلامی کانفرنس کے اس اجلاس میں آزادئ فلسطین کے سرکردہ رہنما یاسر عرفات اور اُن کی تنظیم پی ایل او کو آزادئ فلسطین اور فلسطین کی نمائندہ تنظیم قرار دیا گیا اور یاسرعرفات کو پہلی مرتبہ بحیثیت سربراہِ حکومت کے پروٹوکول کے تحت ریسیو کیا گیا۔ اس وقت پی ایل او کو اسرائیل اور اس کی ہمنوا عالمی طاقتیں دہشت گرد قرار دیتی تھیں۔ اسی کے نتیجے میں، اقوامِ متحدہ میں یاسر عرفات کو خطاب کی دعوت دی گئی جہاں سے تحریک آزادئ فلسطین ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اس تاریخ ساز فیصلے کی بنیاد لاہور میں ہی رکھی گئی۔


لاہور نے اپنے ہاں دنیا کے نامور سپوتوں کو جنم بھی دیا اور اپنی جھولی میں ان نامور سپوتوں کی پرورش بھی کی۔ اس شہر کے پانچ سپوتوں کے سینے پر دنیا کا سب سے بڑا عالمی اعزاز نوبل پرائز بھی سجا۔ ان پانچ سپوتوں نے اس بستی میں پرورش پائی اور اپنے شعبے میں کامیابی کا آغاز کیا۔ رڈیارڈ کپلنگ، سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر اور نامور ادیب کو اپنے مشہورِعالم ناول
Kim
پر 1907ء میں نوبل انعام ملا۔ وہ ایک عرصہ لاہور میں مقیم رہے اور لاہور میوزیم کے سامنے رکھی توپ آج تک
Kim
سے منسوب ہے۔آرتھر کومپٹن، جنہیں 1927ء میں کیمسٹری میں ایک نئی شاخ
Magnetochemistry
کی بنیاد رکھنے پر نوبل انعام ملا، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے وابستہ رہے۔ ہرگوبند کھرانہ جنہیں 1968ء میں جینیات میں نوبل انعام ملا، برٹش دَور میں لاہور میں پیدا ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی۔ ڈاکٹر عبدالسلام جنہیں 1979ء میں فزکس ہی میں نوبل انعام سے نوازا گیا، پیدا تو جھنگ میں ہوئے لیکن انہوں نے اسی شہر لاہور میں اپنے علمی اور تحقیقی کاموں کو پروان چڑھایا اور گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہیں پڑھاتے بھی رہے۔ 1983ء میں فزکس میں نوبل انعام پانے والے سبھرامنائن چندرشیکھر بھی یہیں پیدا ہوئے، ان کے والد ریلوے ورکشاپ مغل پورہ میں انجینئر تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور یہیں پڑھاتے بھی رہے۔ لاہور اپنے کئی حوالوں سے جس قدر تاریخ ساز شہر ثابت ہوا ہے، اس کی مثال برصغیر کے کسی دوسرے شہر میں نہیں ملتی۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آج ہم تیسرے نغمے کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ نغمہ 10ستمبر 1965کو ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستانی افواج اپنے جنگی محاذ پر دشمن کو تاریخ ساز شکست دینے کے لئے کوشاں تھیں۔ ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے کچھ فوجی جوان زخمی ہو کر لاہور سی ایم ایچ میں داخل ہوئے ہیں۔ میں،میڈم نورجہاں اور میوزک کمپوزر حسن لطیف فوری طور پر پھول لے کر ان زخمی جوانوں کو ملنے سی ایم ایچ گئے۔ میڈم نورجہاں اور میں نے ان تمام جوانوں کی عیادت کی، پھول پیش کئے۔ میڈم نورجہاں نے وہاں پر ایک اور ملی نغمہ گا کر سنایا تاکہ ان زخمی جوانوں کی ہمت افزائی ہو سکے۔ ایک جوان ایسا تھا جس کی بم لگنے سے ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں دوبارہ محاذ پر جانا چاہتا ہوں۔ میری زندگی اس قوم کی امانت ہے۔ اپنے ملک اور قوم کے لئے جان کی قربانی دینے کے لئے ہم سب ہر وقت تیار ہیں۔ ہم نے دشمن کو کسی صورت آگے نہیں بڑھنے دینا۔ واپس ریڈیو سٹیشن آ کر میں نے صوفی تبسم کو اس واقعے کے متعلق بتایا اور گزارش کی کہ ان جذبات کے لحاظ سے کوئی خوبصورت ترانہ ہونا چاہئے۔ صوفی تبسم نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ استھائی لکھ دی۔


اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
کیہہ لبھ نی ایں وچ بازار کڑے


اس استھائی کو لے کر میں پوری ٹیم کے ساتھ اسٹوڈیو نمبر2چلا گیا۔ اور اس کی دھن راگنی بھیرویں میں موزوں کی۔ راگ بھیرویں تمام کومل سروں کا مجموعہ ہے اور اس کا تاثر دوسرے راگ راگنیوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس شہرہ آفاق نغمے کی بنیادی دھن میں نے ترتیب دی اور اس کے انترے میڈم نورجہاں اور ماسٹر مھنوں نے مل کر بنائے۔ نہایت عمدہ دھن بن گئی۔ تمام دن میں یہ شہرہ آفاق نغمہ لکھا گیا۔ کمپوز ہوا اور شام کے وقت اس کی ریکاڈنگ مکمل ہوئی۔ میڈم نورجہاں نے اس کے بولوں کے مطابق ایسے دل گداز انداز میں اس کو گایا کہ یہ نغمہ امر ہو گیا۔ یقین مانیں جب یہ نغمہ ریکارڈ ہونے کے بعد میں نے میڈم نورجہاں اور صوفی تبسم سے سنا تو ہم سب کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں۔ کہ کس کمال کا نغمہ تخلیق ہوا ہے۔ حالات اور جنگی محاذ کے منظر کو بیان کرنے میں اس نغمے کے ہر بول اور دھن نے دلوں پر بہت مثبت اثر کیا۔ یہ نغمہ نشر ہونے کے بعد ہمیں متعدد ٹیلیفون موصول ہوئے کہ آپ نے کیسا خوبصورت نغمہ پروڈیوس کیا ہے۔ یہ سب ہماری ٹیم کی مشترکہ کوشش تھی کہ ریکارڈنگ کے درمیان صوفی تبسم ہمارے پاس رہے۔ ایک استھائی اور انترہ مکمل ہونے کے بعد نغمے کی شکل نکل آئی۔ ہم نے اس کی تیاری میں کافی وقت لیا۔ جوں جوں صوفی صاحب انترے لکھ کر دیتے ہم ان کو بڑے اچھے انداز میں شامل کرتے جاتے۔ ایک استھائی اور تین انترے تھے۔ ان انتروں کے ہر بول میں وقت کی صورت حال اور ہمارے جوانوں کا جذبہ نمایاں تھا۔ یعنی موت سے نہ ڈرنا اور جذبہ شہادت سے سرشاری، ان بہادر جوانوں کا طرہ امتیاز تھا جیسا کہ اس انترے میں نمایاں ہے۔


ایہہ شیر بہادر غازی نیں۔ ایہہ کسے کولوں وی ہردے نئیں
ایہناں دشمناں کولوں کیہہ ڈرنا۔ ایہہ موت کولوں وی ڈر دے نئیں
ایہہ اپنے دیس دی عزت توں جان اپنی دیندے وار کڑے

دھن بھاگ نے اوہناں مانواں دے جناں مانواں دے ایہہ جائے نئیں
دھن بھاگ نیں بہن بھرانواں دے جناں گودیاں ویر کھڈائے نئیں
ایہہ مان نیں ماناں والیاں دے۔ نئیں ایس دی تینوں کار کڑے

ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے کی لبھ نی ایں وچ بزار کڑے
ایہہ دین اے میرے داتا دی ۔ ناں ایویں ٹکراں مار کڑے

ایہہ پتر وکاؤ چیز نہیں، مل دے کے جھولی پائیے نی
ایہہ ایناں سستا مال نئیں۔ کتوں جا کے منگ لیایئے نی
ایہہ سودا نقد وی نئیں وگدا تو لبھدی پھریں اُدھار کڑے
ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے کی لبھ نی ایں وچہ بزار کڑے


اس نغمے میں شیربہادر جوانوں کے ذکرکے ساتھ ان ماؤں اور بہنوں کا بھی ذکر ہے جن کی گود میں انہوں نے پرورش پائی، یہ شیرجوان ان ماؤں کا مان ہیں۔ صوفی تبسم صاحب نے کمال مہارت سے ترانہ لکھا اور ہم نے اپنی پوری پوری صلاحیت کے ساتھ اس کی دھن بنائی اور میڈم نے بولوں کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمہ گایا۔


میرے اپنے خیال میں میرے تمام پروڈیوس کئے ہوئے نغموں میں یہ سب سے اعلیٰ نغمہ ہے۔ باقی تمام نغمے بھی وقت کی مناسبت سے اچھے ہیں مگر اس نغمے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اسی نغمے کی ریکارڈنگ کے دوران میڈم نورجہاں کے گھر سے ظل ہما کا ٹیلیفون آتا کہ اماں ہوائی حملے کا اعلان ہو رہا ہے۔ فوراً گھر آ جائیں۔ مگر میڈم اور میرا یہی کہنا ہوتا تھا کہ موت جہاں بھی آنی ہے اس کا ایک وقت مقرر ہے‘ ہم اپنا آج کا کام نہیں چھوڑ سکتے۔ باقی زیادہ تر لوگ باہر گراؤنڈ میں کھودی ہوئی خندق میں چلے جاتے اور ہم سب کو آنے کا کہتے۔ مگر میرا اپنی ریکارڈنگ ٹیم کو یہی کہنا تھا کہ ہم میں سے کوئی نہیں جائے گا۔ ریکارڈنگ چلتی رہے گی ہم اپنے کام میں مگن پوری توجہ کے ساتھ ریکارڈنگ کرتے رہتے۔ صوفی صاحب کا یہ مصرعہ ہماری بہت ہمت افزائی کرتا۔


ایہہ شیربہادر غازی نیں ایہہ کسے کولوں وی نیں ہردے نئیں
ایناں دشمناں کولوں کِیہہ ڈرنا ایہہ موت کولوں وی ڈر دے نئیں


پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی خبریں بھی ملتیں مگر ان کی ثابت قدمی اور فتح کے پیغام بھی خبروں میں ملتے رہتے۔ اسی مناسب سے ہم اگلا نغمہ صوفی صاحب سے لکھواتے اور اس کی دھن بنا کر ریکارڈ کرتے اور فوری طور پر نشر کر دیتے۔ ہمیں ہمارے سٹیشن ڈائریکٹر (مرحوم) شمس الدین بٹ کا یہی حکم تھا۔ اﷲ پاک کے فضل و کرم سے کسی دن کوئی ناغہ نہیں کیا۔ ہر روز نیا نغمہ لکھوانا یا منتخب کرنا اور اس کو ریکارڈ کر کے نشر کرنا میری ڈیوٹی میں شامل تھا۔ میں نے دن رات محنت کر کے اس کام کو پوری ذمہ داری سے نبھایا۔ اس کے لئے مجھے کیا کچھ کرنا پڑتا یہ میرا اﷲ ہی جانتا ہے۔


مجھے بہت مشکلات پیش آئیں مگر میں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ اور پوری قوت اور جذبہ ایمانی سے اپنے کام کو پورا کیا۔ میڈم نورجہاں مجھے کہتیں کہ اعظم میاں تم کس قدر محنتی انسان ہو تھکتے نہیں۔ یہ سب اﷲ پاک کی مجھ پر مہربانی تھی کہ میں نے اپنی قوم اور ملک کے لئے انتھک محنت اور کوشش کی یہی وجہ تھی کہ اﷲپاک نے مجھے اپنے کام میں کامیابی عطا فرمائی۔
(جاری ہے)

ڈاکٹر نثار ترابی

اپنے مان اپنے پاکستان کے نام
(۲۳؍ مارچ کے تناظر میں)

سورج چمکے بن کر تیری گلیوں کا بنجارا
تیرا جوگی ہو کر نکلے ‘ شام کا پہلا تارا
تو ہے مان ہمارا
تیری شامیں خوشبو تھامیں ‘ نس نس جوت جگائیں
تیرے نام پہ قریہ قریہ پھیل گیا‘ اجیارا
تو ہے مان ہمارا
تیری دُھن میں رنگ جمائیں ‘ چار سُروں کے پالے
تیری موج میں گاتا جائے ‘ تیرا راوی دھارا
تو ہے مان ہمارا
کیوں نہ تیری آن ہمیں ہو ‘ اپنی جان سے پیاری
ہم نے ڈوب کے دریا دریا تیرا نقش ابھارا
تو ہے مان ہمارا
تیرے خواب سجا کے پلکیں ‘ قوس قزح شرمائیں
تیری مٹی کو چومے تو جگنو بن جائے تارا
تو ہے مان ہمارا
تو آنکھوں میں ٹھہرا سپنا ‘ تجھ پہ نازاں جیون اپنا
تو ہی ناؤ ‘ تو ہی دریا ‘ تو ہی آس کنارا
تو ہے مان ہمارا

*****

 
14
March

تحریر: میجر مظفر احمد

حوالدار (ر) تاج مسیح مارچ 1939کو ضلع بہاولپورکی تحصیل حاصل پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مارٹن پرائمری سکول کرسچین کالونی حاصل پور میں حاصل کی۔ وہ پست قد مگر نہایت ہی چاق چوبند اور پھرتیلے تھے۔ بچپن سے ہی کھیلوں سے رغبت تھی اور سپورٹس میں نام کمانا چاہتے تھے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انہوں نے ہاکی کے کھیل کو چنا اور اُس میں مہارت حاصل کرنا شروع کی۔ انہی اوصاف کی وجہ سے انہوں نے اوائل عمری میں ضلع بہاولپور کی ہاکی ٹیم میں اپنی جگہ بنالی اور ٹیم کے ہر دلعزیز کھلاڑی بن گئے۔
جب انہوں نے جوانی میں قدم رکھا تو پاک فوج میں بطور سینٹری ورکر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں 15جنوری 1957کو پاکستان آرمی کی 3پٹھان رجمنٹ کا حصہ بن گئے (جو بعد میں12ایف ایف رجمنٹ کہلائی)۔

 

22فرنٹیر فورس رجمنٹ جانباز بٹالین جب مشرقی پاکستان جیسور میں تعینات تھی توان کی پوسٹنگ مئی 1970کو اس میں کر دی گئی۔ یونٹ نے جلد ہی ان کی اسپورٹس کی صلاحیتوں کو جانچ لیا اور بھرپور مواقع فراہم کرنا شروع کر دئیے۔ انہوں نے یونٹ کے اعتماد پر پورا اُترتے ہوئے نہ صرف کھیل کو ترجیح دی بلکہ بطور سینٹری ورکر اور دفاعِ وطن کے لئے بحیثیت سپاہی بھی پیش پیش رہے۔ ان جیسے بہادر اور فرض شناسوں کی وجہ سے ہی 22فرنٹئیر فورس رجمنٹ اپنے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سمین جان بابر کی سربراہی میں مکتی باہنیوں کی بغاوت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہی۔مزید برآں جب انڈین لڑاکا طیارے، ٹینک،آرٹلری اور راکٹ بارش کی طرح برس رہے تھے، تب بھی حوالدار تاج مسیح یونٹ کے ساتھ دشمن کے خلاف محاذ پر برسرپیکار رہے۔ یہاں یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ 8دسمبر ( یونٹ بیٹل ڈے) کو جانباز بٹالین نے بینا پول - جگرگاچا روڈ پر

Y

جنکشن جے مقام پر دشمن کی پیش قدمی کو نہ صرف روکا بلکہ اُس کے ٹینکوں اور توپ خانے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مزید برآں 16دسمبر 1971کو دشمن کے آگے ہتھیار نہ ڈالے اور18دسمبر1971کو ہتھیار ناکارہ بنا کر کھلنا دریا میں بہانے کے بعد حکومتی احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے جنگی قیدی بن گئے۔
تذکرہ کتاب
"The Warden of Marches"
(لیفٹیننٹ جنرل (ر) عتیق الرحمن)
حوالدار تاج مسیح مسلسل دو سال تک آگرہ کی جیل میں دشمن کے مظالم اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد 1973کے آخر میں رہا ہو ئے۔

khamoshspihai.jpg
1974میں جانباز بٹالین کی تنظیم نو کے موقع پر وہ دوبارہ ملتان کینٹ میں یونٹ کا حصہ بنے اور یونٹ کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں نئی روح ڈالنی شروع کی۔ انہوں نے 1975میں شب وروز محنت کرتے ہوئے 17ڈویژن کھاریاں کے حصہ کے طور پر یونٹ کو کھیلوں میں رنر اپ کی ٹرافی دلوائی ۔ انہوں نے صحیح معنوں میں مختلف اسٹیشنوں پر یونٹ کے پرچم کو کھیلوں میں بالعموم اور ہاکی میں بالخصوص سرنگوں نہ ہونے دیا۔
ان کی سروس سا ل 1976میں اختتام پذیر ہوئی۔ ان کی خداداد صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اپریل1977میں جانباز بٹالین نے ان کو بحیثیت ہاکی کوچ منتخب کر لیا۔ 19سال تک کوچنگ کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے انہوں نے یونٹ کے عَلم کوکسی بھی ڈویژن میں نیچے نہ آنے دیا ۔انہی خدمات کو سراہتے ہوئے سال 2003کے14ڈویژن اوکاڑہ کے ہاکی مقابلوں کے موقع پر اُس وقت کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل احتشام ضمیر جعفری نے ان کو انعام سے نوازا اور تعریف کی۔


یہ یونٹ کے ساتھ ان کی لگن تھی کہ اپنی بگڑتی ہوئی صحت اور لیفٹیننٹ کرنل ملک محمد انور اقبال سی او جانباز بٹالین کے آرام کے مشورے کے باوجود انہوں نے2004-2006تک آپریشن المیزان میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں یونٹ کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔ ان کی موجودگی سروکئی، وانا، جنڈولا، ٹل، شیوہ اور سپین وام جیسی پر خطر جگہوں پر بھی یونٹ کے جوانوں کے لئے حوصلے کی بلندی کا باعث تھی۔ عمر زیادہ ہونے کے باوجود بھی وہ 2007-2009 تک آپریشن راہِ راست میں یونٹ کے ساتھ ساتھ رہے ۔
سال2010 میں جب ان کی صحت انتہائی خراب ہو گئی اور ان کا جسم بیماری سے لاغر ہو گیا تو یونٹ نے ان کو دوبارہ گھر میں آرام کرنے کا مشورہ دیااور ان کی خدمات کے صلے میں یونٹ نے ان کے بیٹے جمیل مسیح کو بطو ر سینٹری ورکر بھرتی کر لیا۔


اس عظیم، جرأت مند اور محب وطن خاموش سپاہی کا انتقال 20دسمبر 2016 کو ہواانہیں کرسچن کالونی قبرستان حاصل پور میں سپردخاک کر دیا گیا۔حوالدار تاج مسیح کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور پاکستان کے تمام بیٹوں نے بلاامتیاز مذہب، رنگ، نسل اور زبان کے اس کی خدمت اور حفاظت کرنی ہے۔

 
14
March

انٹرویو: صبا زیب

کسی بھی ملک یا علاقے کی ثقافت کو جاننے کے لئے وہاں کے لوگوں کا رہن سہن، زبان اور طور طریقے دیکھنے پڑتے ہیں۔ ملک کی پہچان ثقافت ہوتی ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے اسے فخر کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی ثقافت کا پرچار دنیا کے ہر کونے میں عزت اور وقار کے ساتھ کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب اور ثقافت کو دنیا میں زندہ رکھا۔ یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ثقافت میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے اور یہ تبدیلی اسے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ جب بات ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کی ثقافت کی کریں تو یہ کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہو گا کہ یہاں کی ثقافت اپنے اندر ایک جہاں کو سموئے ہوئے ہے ۔ اس کی وسعت اور زرخیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں 70سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان میں سے کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جو پوری دنیا میں کہیں اور نہیں بولی جاتیں۔ اپنی اس ثقافت کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے ہمارے ملک کے بہت سے لوگ اور ادارے کام کر رہے ہیں انہی میں ایک معتبرنام فوزیہ سعید کا ہے جو آج کل لوک ورثہ میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کام کر رہی ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم نے ان سے ثقافت کے حوالے سے کچھ سوالات کئے ہیں جو یقیناًدلچسپی کا باعث ہوں گے۔
سوال: آپ ثقافت یا کلچر کو کیسے ڈیفائن کریں گی؟
جواب: ثقافت یا کلچر کے دو حصے ہیں۔
Tangible
اور
Intangible Intangible
ثقافت کا وہ حصہ ہے جسے ہم چھو نہیں سکتے۔ مثلاً زبان، رسم و رواج، رہن سہن وغیرہ اور
Tangible
میں لباس شامل ہے جسے ہم چھو سکتے ہیں تو بنیادی طور پر کلچر میں یہی چیزیں شامل ہیں۔

hamryhanapnykachar.jpg
سوال: پاکستانی کلچر کی تعریف کیسے کریں گی؟
جواب: میں یہی کہوں گی کہ صدیوں سے اس دھرتی‘ اس سرزمین پرجو مختلف تہذیبیں آتی رہی ہیں اور مختلف مذاہب آتے رہے ہیں ان کا
Composite
کلچر ہے میں یہ کبھی نہیں کہوں گی کہ ہمارا کلچر 1947میں آیا۔ اس سے پہلے بھی جو اس دھرتی پر آیا سب ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔ اس میں انڈس ویلی ہے گندھارا ہے۔ جو اس سرزمین پر ہوا ہم اس سب کو اون کرتے ہیں کیونکہ اس سب کی جھلک ہمارے کلچر میں ہے۔ ہم پاکستانی ہیں۔ اس سرزمین کا جو ماضی ہے اس سب کے ساتھ ہم پاکستانی ہیں۔ اکثر ہم اپنے کلچر کو صرف عرب مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت محدود تعریف ہے جو کچھ یہاں ہوا وہ سب ہمارے کلچر پر اثرانداز ہوا اور وہ سب ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔
سوال: ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں دیہات زیادہ ہیں۔ ہمارا کلچر بھی دیہی ہے۔ اگر ہم ماڈرن کلچر، جو صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی سے تشکیل پا رہا ہے، کی بات کریں تو آپ اس کے ہمارے دیہی کلچر پر کیااثرات دیکھتی ہیں؟
جواب: بہت زیادہ فرق پڑتا ہے جو بھی آپ کی ویلیوز ہیں وہ تبدیل ہوتی ہیں۔ جب لوگ دیہاتوں سے شہروں کی طرف آتے ہیں تو اس میں اکنامک فیکٹر زیادہ ہوتا ہے اس وقت لوگوں کو لگتا ہے کہ جب تک ہم اچھی اردو نہیں بولیں گے یا اچھی انگریزی نہیں بولیں گے ہمیں اچھی نوکری نہیں ملے گی تب ہم اپنے کلچر سے
Disassociate
کرتے ہیں۔ اپنی زبان سے
Disassociate
کرتے ہیں لباس سے کرتے ہیں اور پھر جب ہمیں ایسی جگہ نوکری ملتی ہے تو وہاں کا ماحول ہمارے کلچر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس وقت اگر ہم انگریزی کو کسی اور کے لہجے میں بولیں گے تو لوگ ہم پر ہنسیں گے تب ہمارے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم انگریزی سمجھیں، بولیں اس طرح ہماری ترجیحات میں انگریزی سب سے پہلے ہے۔ پھر اردو۔۔۔ اور وہ بھی ایک خاص لہجے والی اور پھر ایک لمبے گیپ کے بعد علاقائی زبانوں کی باری آتی ہے۔ ایک زمانہ تھا، ہمارے ہاں شہروں میں بھی بڑے آرام سے کڑھائیاں، سلائیاں ہوتی تھیں۔ سکول کی چھٹیوں میں بچیاں بڑے آرام سے سلائیاں کڑھائیاں کرتی تھیں۔ تحائف بھی اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے دیئے جاتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ ہوا کہ جب آپ نے بازار سے خرید کر کوئی چیز تحفہ دی تو اس کی قدر زیادہ کی جانے لگی بہ نسبت اس کے جو گھر میں ہاتھ سے بنا کر دی جاتی ۔ جیسے پہلے ہم
Potato
پینٹگ سے کارڈز گھروں میں بناتے تھے پھر ان کی قدر بازار کے کارڈز نے ختم کر دی۔ اسی طرح ہمارا کلچر تبدیل ہوتا گیا۔ یہاں یہ بات بہت افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ ہمارے ہاں اپنے کلچر کوبرا کہنا ہی ایک کلچر بن گیا ہے۔ ہم اپنے کلچر کو عزت کے ساتھ اپناتے ہی نہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کلچر کے ساتھ ہماری عزت کم ہو جائے گی۔ جدت پسندی کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ آپ اپنے کلچر کو پیچھے چھوڑ دیں۔
سوال: پاکستانی کلچر کو فروغ دینے کے لئے ہم ماڈرن ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گی کہ کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ بات کبھی نہیں سوچنی چاہئے کہ کلچر جامد ہے۔ مثال کے طورپر آپ اپنے ذہن میں لے کر آئیں کہ ایک بڑے پیڑ کے نیچے ایک چرواہا بانسری بجا رہا ہے۔ اب اس تصویر میں رومانس بہت ہے لیکن فوک کلچر یہ بھی ہے کہ بھرے بازار میں لوگ ہیں اور کسی گھر کی اوپر والی منزل سے ٹوکری نیچے لٹکائی جاتی ہے اور اس میں سامان ڈالا جاتا ہے یہ بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے، یہ حقیقت ہے کہ ہمارا کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے گیت تبدیل ہوتے ہیں۔ ہمارے ہیروز تبدیل ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے کلچر اپنی ثقافت کو تبدیل کرنا ہے۔ اسے ترجیح دینا ہے، جب چیزوں کے بارے میں آگاہی بڑھتی ہے توہم کچھ چیزوں کو اپنے کلچر سے نکال دیتے ہیں۔ اسے میں
Pruning
کا عمل کہتی ہوں۔ جیسے پودوں اور درختوں کی بہتر نشوونما کے لئے ان کی کانٹ چھانٹ ضروری ہوتی ہے اسی طرح اپنے کلچر میں سے بری چیزیں نکالنا اس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ اپنے کلچر کو ہم نے ایسے ہی گروم کرنا ہے۔ ہمیں ایسی چیزوں کو نکالنا ہے جو ہمارے لئے ٹھیک نہیں جو ہمیں کہتی ہیں کہ اس بات پر ماں کو مار دو۔ بہن کو مار دو وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ بدعتیں اور جڑی بوٹیاں ہیں جن کو نکالنا بالکل جائز ہے۔ مجھے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوک ورثہ کاروکاری کو پروموٹ کرنے کے لئے کیا کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے لیکن ہم اسے آگے لے کر نہیں جا سکتے۔ ہماری ہیومن رائٹس کی اتنی معلومات ہو گئی ہیں۔ جس سے ہمیں یہ پتا چل گیا ہے کہ
Discrimination
کیا ہے تو اب ہم ان آلات سے اپنے کلچر کی
Pruning
کرتے ہیں ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے جب آگاہی بڑھتی ہے تو ان Measures
کے مطابق آپ اپنے کلچر کو ٹھیک کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ
Collective
Wisdom سے ہوتا ہے ۔ میرا تعلیم حاصل کرنا مجھے نہیں روکتاکہ میں اپنی ثقافت پر عمل نہ کروں۔ میں ایک پی ایچ ڈی پاکستانی خاتون ہوں اور میں اپنی روایات سے پیار کرتی ہوں۔ بہت سے ینگ لوگوں کولگتا ہے کہ ثقافت کو اپنانا قدامت پسندی ہے اور ان کو لگتا ہے کہ اگر ماڈرن ہونا ہے تو ثقافت کو چھوڑنا ہے لیکن میں کہتی ہوں کہ ثقافت کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے اس کو کھڑکی سے باہر نہیں پھینکنا چاہئے۔ مثال میں دیتی ہوں لباس کی، ایک زمانہ تھا جب ہمارے ہاں غرارے اور شرارے چلتے تھے۔ بہت وزنی زیورات پہنے جاتے تھے لیکن وقت بدلتا گیا۔ اب عورتیں ملازمت کرتی ہیں وہ غرارے شرارے نہیں پہنتیں لیکن ہماری شلوارقمیض میں اتنی گنجائش تھی کہ اس میںآرام سے کام کر سکتے ہیں۔ اپنی ثقافت کو
Transform
کر لیں گے تو یہ ہمیں
Modernization
میں مدد کرے گی۔ دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ جیسے ماضی میں جاپان میں کیمونوز پہنے جاتے تھے لیکن یہ ایسا لباس تھا جو ان کے کام میں مشکل پیدا کرتا تھا۔ اس لباس میں تبدیلی لانے کے بجائے انہوں نے اسے استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا۔ آہستہ آہستہ وہ بہت کم نظر آنے لگا۔ اب آپ جاپان میں بھی وہی یورپی اور امریکن لباس دیکھتے ہیں۔ جب آپ اپنے کلچر کو
Modify
نہیں کریں گے تو پھر ایک بالکل الگ چیز آپ کے معاشرے میں نظرآنے لگے گی۔ اس سے نقصان بہت ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عورتوں کے لباس میں کافی تبدیلی نظر آتی ہے لیکن مردوں کے لباس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور بالکل نئی چیز یعنی وہی مغربی لباس نظر آتا ہے کیونکہ مردوں نے اپنے لباس میں تبدیلی نہیں کی۔

 

hamryhanapnykachar1.jpgسوال: پاکستانی کلچر کے سٹرانگ پوائنٹس کیا ہیں؟
جواب: اگرلوگ اسے اپنا لیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے کلچر میں سب سے مضبوط چیز رشتے ہیں اور پھر جو یہ گروپ
Orientation
ہے یہ مجھے بہت پسند ہے۔ ہم بچپن سے ہی لفظ’ ہم‘ استعمال کرتے ہیں ہم لوگ ’ہم‘ کر کے سوچتے ہیں۔ میں جب لوک ورثہ کی بات کرتی ہوں تو ہم کر کے سوچتی ہوں۔ اپنی فیملی کی بات کرتی ہوں تو ہم کر کے سوچتی ہوں جبکہ بہت سے مغربی ممالک ایسے ہیں جنہیں ہم کر کے سوچنے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ وہ ’میں‘ سے شروع ہوتے ہیں اور ’میں‘ پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ جبکہ ہم لوگ گروپ کی بقاء کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اپنوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکیں۔ اگر ہم اپنے کلچر کا مغربی کلچر سے موازنہ کر کے دیکھیں تو اس میں جو چیز بالکل فرق نظر آئے گی وہ یہی ہے یعنی رشتوں کو نبھانا۔
سوال: آپ نے کہا کہ کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ آپ ہمیں بتائیں کہ ہمیں اپنے کلچر کو کن لائنز پر
Evolve
کرنا چاہئے؟
جواب: سب سے پہلے تو یہ کہ ہمیں اپنے کلچر کی عزت کرنی چاہئے۔ کلچر کو ہم نے ایک ہوّا بنا دیا ہے جتنی بھی بری چیزیں ہیں وہ ہم نے کلچر کے نام لگا دی ہیں اور اچھی چیزیں
Modernization
کے نام کر دی ہیں۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم اپنے کلچر کی مثبت چیزوں کو سامنے لے کر آئیں اور اس کی عزت بڑھائیں۔ عزت کے ساتھ اس میں تبدیلی لے کر آئیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ تبدیلی لانا مشکل ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر پیار اور محبت سے یہ سب کیا جائے تو کچھ بھی مشکل نہیں۔ بہت سی ایسی چیزیں ہمارے کلچر کا حصہ بن چکی ہیں جن کا پہلے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جیسے جیسے آگاہی بڑھتی ہے مہذب معاشرے ویسے ویسے پروان چڑھتے ہیں۔ ہمارے کلچر کے مستقبل کی سمت بھی یہی ہو گی۔ نئی رِیت، نئے رواج ایسے ہی جنم لیتے ہیں جیسے پہلے زمانے میں عورتیں کنویں پر اکٹھی ہوتی تھیں اور آپس میں باتیں شیئر کرتی تھیں وہی کچھ اب فیس بک پر ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جو
Hangout
گروپ بنتے ہیں یہ ویسے ہی ہیں جو کنویں پر ہوتے تھے۔
سوال: ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی بہت عام ہوگئی ہے اپنے معاشرے کو پرامن بنانے کے لئے کلچر کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
جواب: کلچر بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ کلچر لوگوں کے دلوں تک پہنچتاہے۔ جیسے بلھے شاہ، یا بابا فرید کی کافی ہو تو وہ سیدھی دل پر اثر کرتی ہے۔ کلچر میں بہت طاقت ہے یہ دلوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے۔ برصغیر میں اسلام تلوار کے زور پر نہیں آیا تھا بلکہ ان صوفیائے کرام نے پیار اور محبت کا درس دے کر اسلام کو پھیلایا۔ ہم ان جیسے عقلمند نہیں ہیں ہم انہی سے سیکھ سکتے ہیں کہ تبدیلی کیسے لانی ہے۔ اس کے علاوہ تخلیقی اظہار اور ابلاغ
(Creative Expression)
بہت ضروری ہے۔ یہ عسکریت پسند اس سے دور بھاگتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کی اینٹی بائیوٹک ہے یا یوں کہیں کہ ان کی ویکسین ہے میرے خیال سے جوبندہ ساز اٹھاتا ہے وہ ہتھیار نہیں اٹھا سکتا۔ جو
Creative
آدمی ہے وہ جان نہیں لے سکتا۔ یہ بم دھماکے کرنے کے لئے دلوں کو سخت کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے معاشرے میں تخلیقی عمل کو بڑھا کر اسے امن پسند بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی تخلیقی کو دوبارہ حاصل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں کوئی کمیونٹی ایسی نہیں جن کی اپنی زبان نہ ہو، موسیقی نہ ہو، رقص نہ ہو۔ اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ یہ چیزیں نیچرل ہیں تخلیقیہمارے ڈی این اے میں ہے اگر ہم اسے دبائیں گے تو پھر جنگلی جانور ہی بنیں گے اور اگر اسے ابھاریں گے تو انسانیت کی طرف آئیں گے۔
سوال: اکثر انڈین دانشور کہتے ہیں کہ ہمارا کلچر ایک ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ گنگا،جمنا اور دریائے سندھ کی تہذیبوں میں بہت فرق ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
جواب: گئے وقتوں میں کہ ساؤتھ ایشیئن ممالک میں بہت سی چیزیں ایک جیسی ضرور تھیں۔ تاہم اب سب کی اپنی اپنی شناخت ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارا منفی امیج بن ساگیا ہے جبکہ پاکستان کا نام سنتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیں کیونکہ ہم نے دنیا کو اپنا کلچر بندوق والا زیادہ بتایا ہے اور باقی چیزوں پر ہم نے پابندی لگا رکھی ہے۔ ہم میں
Similarities
ہیں لیکن ہم بہت منفردبھی ہیں اپنی اس انفرادیت کو ہم نے ابھی تک استعمال نہیں کیا نہ کبھی ہم نے فخر کے ساتھ اپنی کسی ثقافت کو اپنایا۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ انڈیا ہماری انڈس ویلی کو بھی اپنا کہہ رہا ہے دنیا میں لوگ انڈس ویلی کو پاکستان کے بجائے انڈیا کی وجہ سے پہچان رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم کبھی فخر سے بتاتے ہی نہیں کہ ہم اس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں یہاں تک کہ مہر گڑھ کو نہیں پوچھتے۔ ہمارے نصاب میں وہ شامل ہی نہیں، نہ ہمارے بچوں کو اس کے بارے میں کچھ پتا ہے۔ جب آپ اپنی چیز کی رکھوالی نہیں کرتے تو پھر اسے لوگ ہتھیا لیتے۔ اب انڈیا اور پاکستان کی عورتوں کے مسائل ایک جیسے ہیں لیکن دنیا میں انڈیا کی عورتوں کو بہادر مانا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کی عورت کو مظلوم تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنا
image
ہی ایسا بنایا ہے ۔
سوال: پاکستان کی ثقافت دنیا کی باقی ثقافتوں سے کیسے منفردہے؟
جواب: ہماری ثقافت بہت زرخیز ہے ہماری 70زبانوں میں سے 25 کے قریب ایسی زبانیں ہیں جن میں باقاعدہ ادب موجود ہے۔ اب جیسے میں کہتی ہوں کہ مجھے اپنی ثقافت میں رشتے بہت پسند ہیں۔ رشتے اور بھی بہت جگہوں پر اہم ہیں لیکن ہمارے ہاں ایک الگ انداز ہے۔ جیسے آپ ماں کے رشتے کو لے لیں کہ آپ بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن ماؤں کے ساتھ وابستگی ویسی ہی رہتی ہے۔ یہ بہت منفرد چیز ہے۔ پھر ہمارا میوزک ہے، قوالی ہے، ہماری تربیت ہے۔ ہمارے گلگت بلتستان میں یاک پولو کھیلی جاتی ہے جو اور کہیں نہیں کھیلی جاتی۔
سوال: لوک ورثہ ہمارے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کیا کر رہا ہے؟
جواب: مجھے یہاں آئے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں ہم نے اپنی ترجیحات سیٹ کیں۔ ہماری پہلی ترجیح نوجوان نسل اور بچے ہیں ہم نے انہیں اپنی ثقافت سے روشناس کروانا ہے۔ دوسری ترجیح یہ کہ پہلے
Documentation
اور
Publications
پر زیادہ زور دیا گیا مگر
Dissemination
پرکم زور دیا۔ اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ جو بھی ہم کام کریں گے اس کی پراڈکٹ بنا کر معاشرے میں پھیلانی ہے۔ میڈیا کے ذریعے اسے آگے لے کر جائیں گے تاکہ وہ ہمارے بچوں کے کام آئے اور آنے والی نسل اپنی شناخت زیادہ بہتر طریقے سے کر سکے۔ اس کے علاوہ اب ہم ہر سال سمر کیمپ لگاتے ہیں جس کی
Theme
کوئی بھی قومی یا علاقائی زبان ہوتی ہے۔ پہلے سال ہم نے بلوچی زبان کی
Theme
استعمال کی جس میں بچوں کو بلوچی زبان میں ایک گیت بھی سکھایا گیا۔ اس سمر کیمپ میں ہر قسم کا
Fun
اور
Games
بھی ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ’رباب‘ پر بہت کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ ہماری ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں خیبرپختوخواہ کے لوگوں سے کہتی ہوں کہ تم لوگ چاہے جتنے مرضی ماڈرن ہو جاؤ لیکن رباب بجانا نہ چھوڑنا کیونکہ یہ ہمارے کلچر کا نشان ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دہشت گردی کو توڑتا ہے۔ اس کے بجانے سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے ہم نے لوک ورثہ میں رباب بجانے کا مقابلہ کروایا اور اس مقابلے میں جیتنے والوں میں ایک رکشہ ڈرائیور تھا اور ایک پھل فروش۔
ہم نے لوک ورثہ میں چھوٹے بچوں کاٹیلنٹ ہنٹ کروایا جو بہت کامیاب رہا۔ لوک ورثہ اپنے ہیروز کو پروموٹ کر نے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حبیب جالب، احمد فراز، جون ایلیا ان کے بارے میں ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں۔ پھر ہم
"Dying Instruments"
پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انڈس ویلی کی تہذیب میں ایک ساز ہوتا تھا۔
Brindio
اس کو ہم بنوا رہے ہیں۔ لوک ورثہ میں اب میلوں کا انعقاد بہت زیادہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں میل ملاپ بڑھ رہا ہے۔
سوال: متوازن معاشرے کے لئے مرد اور عورت کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
جواب: اس کے لئے میں یہی کہوں گی کہ ہمیں رِیت اور رواج کوآہستہ آہستہ
Modify
کرنا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں سے عورتوں کے ایسے رول تلاش کرنے ہیں جن میں عورت مضبوط رہی ہو۔ اس میں میں ایک مثال ہیر کی دوں گی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک بہت بہادر خاتون تھی اور اپنے سارے فیصلے خود کرتی تھی۔ وارث شاہ نے ہیر لکھی۔ ہیر کے مزار میں رانجھے کی قبر بھی ہے۔ لیکن لوگ اسے ہیر کا مزار ہی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ میں ایک مومل کا کردار تھا جسے زیادہ تر لوگ صرف ایک طوائف کے طور پر جانتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایک بہت بہادر عورت تھی اس نے اپنے باپ کا بدلہ لیا تھا۔ اس لئے میں کہتی ہوں کہ ہم نے معاشرے میں توازن اپنی ہی جڑوں سے لے کر آنا ہے۔
سوال: آپ کو اپنا مقام حاصل کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: میری کہانی بھی عام عورتوں کی طرح ہے۔ ابتدا میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر میں پابندیاں بھی تھیں۔ پہلی بار جب میں ٹیلی ویژن پر آئی تو اس وقت میں کالج میں پڑھتی تھی۔ اس وقت میری دادی گھر پر ٹیلی ویژن لگانے ہی نہیں دیتی تھیں کہ اگر دادا نے دیکھ لیا تو بہت برا ہو گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آئی۔ مجھے لگتا ہے کہ پیار اور محبت سے اگر ان رشتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے تو سب کام آسان ہو جاتے ہیں آپ کے والدین بھی آپ کے ساتھ ساتھ
Grow
کرتے ہیں۔ میری اپروچ یہ ہے جو کہ میں ہر بچی کو بتاتی ہوں کہ اپنے لئے
Elbow-room
بنائیں۔ اس میں کسی بھی اصول کو توڑا نہیں جاتا بلکہ آہستہ آہستہ اپنے لئے جگہ بنائی جاتی ہے۔

hamryhanapnykachar2.jpg

 
13
March

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

(پاک نیوی)

Together For Peace

 

دنیا میں امن و آشتی کے فروغ اور اقوام عالم کے مابین تعاون اور اعتماد بڑھانے کے لئے پاک بحریہ نے2007 میں ’’امن‘‘ کے نام سے جن کثیرالملکی بحری مشقوں کا سلسلہ شروع کیاتھا’امن17‘ اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔ 2007 کے بعد سے پاک بحریہ ہر دو سال بعدامن مشقوں کا انعقاد کرتی رہی ہے اس برس’امن17‘ میں 37ممالک کی بحری افواج کے نمائندوں اور بحری اثاثوں کی شرکت جہاں پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال کی عکاس ہے وہاں میری ٹائم سیکٹر میں امن کے قیام کے لئے پاک بحریہ کی طرف سے کی جانے والی جہد مسلسل کا ثمر بھی ہے۔ امن2017 کی بحری مشقوں کا انعقاد اور بین الاقوامی بحری افواج کی شرکت بھی اسی اعتماد کا مظہر ہے۔
Together for Peace
کے اصولِ عمل کے ساتھ ان مشقوں کا مقصد یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے دنیا کے مسائل کے بہتر اور قابل عمل حل تلاش کئے جا سکتے ہیں۔
یہ مشقیں ہاربر اور سی فیز
(Harbour & Sea Phase)
پر مشتمل ہوتی ہیں ہاربر فیز کا مقصد باہمی دلچسپی کے امور اور نئے خیالات پر غور و فکر ہے جبکہ سی فیز میں مختلف آپریشنز مشترکہ طور پر کئے جاتے ہیں۔امن مشقیں نہ صرف مختلف ممالک کی بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث ہیں بلکہ باہمی اعتماد میں بہتری کا سبب بھی ہیں۔ ان مشقوں میں شریک تمام ممالک نئے تجربات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اور اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید نکھارتے ہیں۔
یہ مشقیں صرف آپریشنل نوعیت کے معاملات پر مشتمل نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد ایک ایسا ماحول پروان چڑھانا ہے جہاں اقوام عالم کے مابین اعتمادکی فضا قائم ہو۔اسی لئے امن میں شریک ممالک کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں آگہی بھی ان مشقوں کا ایک اہم حصہ ہے۔امن مشقوں کے دوران ہونے والاثقافتی شو شریک ممالک کی ثقافت اور تہذیب کی عکاسی کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کو باہمی اخوت اور محبت کا درس بھی دیتا ہے۔ جس کی بدولت انسانی ہمدردی اور محبت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔امن مشقوں میں شریک بحری افواج کے نمائندے مختلف ممالک کی ثقافت کے رنگ دیکھ کر نہ صرف ان ممالک کے ساتھ ایک نئی وابستگی محسوس کرتے ہیں بلکہ دنیا میں امن کے سفیر کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔


امن مشقیں جہاں اقوام عالم کے مابین روابط کو فروغ دیتی ہیں وہیں پاکستان کے بارے میں دیگر ممالک کا تصور تبدیل کرنے میں بھی نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔اقوام عالم میں پاکستان کا ایک امن پسند تصور پیش کرنے میں ان مشقوں کا اہم کردار ہے۔’امن 17‘ میں37 ممالک کے نمائندوں کی شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان پراقوام عالم کونہ صرف اعتماد ہے بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر امن کے فروغ کے لئے کام کرنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔
’امن 2017‘ کی کامیابی صرف پاک بحریہ یا شرکت کرنے والی بحری افواج کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی خواہشِ امن کی کامیابی ہے۔ ایسی جنگوں کے اہتمام کا آغاز ہے جو میدان کشت وخوں سے باہر برتری کے فیصلے کریں،جہاں مقصدخون بہانا نہیں بلکہ صرف اور صرف تقویتِ امن کا حصول ہو ۔

pneewsamanmask.jpg

 
13
March

تحریر: شوکت نثار سلیمی

کیپٹن اسامہ شہید کے حوالے سے ان کے والدِ محترم شوکت نثار سلیمی کے قلم سے ہلال کے لئے ایک خصوصی تحریر

یہ 6جون 1989کی ایک سعید گھڑی تھی جب میری گود میں تم نے آنکھ کھولی۔ یوں لگا تھا جیسے چاند میرے آنگن میں اتر آیا ہو۔ خوشبو، روشنی ہماری رگ و پے میں سرائت کر گئی۔ زندگی کی کرنیں جگمگا اٹھیں۔ تال، رقص اور سرور کی کئی شمعیں ضوفشاں ہو گئیں۔ بربط زندگی کی لے پر نغمے پھوٹنے لگے۔ روش روش بہار تھی۔ زندگی اتنی مسحور لگنے لگی تھی جیسے مسرت و شادمانی کی اوک سے خوشبوؤں کا رس پی رہی ہو۔

 

merashahedbeta1.jpgکاروان حیات اپنے جلو میں کتنی ہی گردشوں کے ساتھ رواں دواں تھا کہ 15دسمبر 2015 کو ہوا کے ایک ہی جھونکے سے امیدوں کے چراغ گل ہو گئے۔ میرے چٹکی چٹکی تمام خواب سراب بن گئے۔ عروس وقت نے کالی قبا پہن لی۔ اجل کا یہ پیغام آ گیا کہ ہم نے تمہارا جواں سال اکلوتا بیٹا اسامہ تم سے چھین لیا ہے۔ اب تم اکیلے بیٹھ کر یادوں کے پرنوچتے رہنا۔ دل پر لگے کاری زخم کی تمازت میں چپ چاپ سلگتے رہنا۔ صبح کو رو رو کر شام کیا کرنا اور اپنی آرزوؤں کو کفن پہنا کر پیوندِ خاک کر دینا۔ اسامہ بن نثار میرا لخت جگر، اپنی ماں کا نور نظر اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی، خاندان کے ہر فرد کی آنکھ کا تارا تھا۔ قدرت نے اسے بے پناہ ذہانت، زبان کی حلاوت اور ہاتھ کی فیاضی سے نوازا تھا۔ تعلیم کا آغاز ڈویژنل پبلک سکول فیصل آباد سے کیا۔ چہارم تک سی ڈی اے ماڈل سکول اسلام آباد کا طالب علم رہا۔ پانچویں جماعت انتہائی نمایاں پوزیشن کے ساتھ لاسال ہائی سکول فیصل آباد سے پاس کی۔ چھٹی سے ایف ایس سی تک اسلام آباد کالج فار بوائز F-8/4 اسلام آباد میں تعلیمی کیئرئر کی شاندار کامیابیاں سمیٹیں۔ اعلیٰ تعلیمی مدارج اور گولڈ میڈل حاصل کئے۔ 2007 میں بہت ہی اعلیٰ پوزیشن میں میڈیکل مضامین کے ساتھ ایف ایس سی کیا اور آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں ایم بی بی ایس کے بتیسویں کورس میں بطور ملٹری کیڈٹ داخلہ لیا۔ کالج کی قاسم کمپنی کا یہ مکیں اپنی تحریروں، تقریروں اور نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں سے ہر جگہ تموج پیدا کرتا رہا۔


سینئر کمپنی انڈر آفیسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ 20اپریل 2013 کو کاکول اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد بطور کیپٹن ڈاکٹر میڈیکل کور جوائن کی اور اڑھائی سال کے مختصر ترین پیشہ ورانہ عرصے میں اپنی یادوں کے انمٹ نقوش چھوڑ کر 15دسمبر 2015کو ڈیوٹی کے دوران دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ سیاچن کے بلتورو سیکٹر میں شہادت کے بلند مرتبے پر سرفراز ہو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

 

میرے شہید! تمہاری تُربت پر جا کر عہد کرنا ہے کہ وطن کا جو تصور تمہارے ذہن میں تھا اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہ دھرتی اب تک تقریباً ہزاروں شہیدوں کا لہو جذب کر چکی ہے۔ ہمیں یہ پیماں باندھنا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ساتھیوں کے روکنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ سامنے موت باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ آگے ہی بڑھتے رہنے کے عزم پر کاربند رہے تاکہ وطن کا پرچم سرنگوں نہ ہو۔ ہمیں بھی اس پرچم کو بلند رکھنا ہے۔


میرے شام! تم ہمیشہ چہکتے رہتے تھے۔ لیکن ستمبر 2015کے آخری ہفتے سیاچن جانے کے آرڈر موصول ہوئے۔ حج کی غرض سے سعودی عرب کے قیام کے دوران ہماری عدم موجودگی میں ہی تم نے اپنے دوستوں سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ مجھے شہادت بلا رہی ہے اور اپنے دوستوں کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ سرجری پارٹ ون کے پیپر نہیں دے سکوں گا کیونکہ میری تیاری کہیں اور کی ہے۔ بیٹے تم نے ہمیں خبر تک نہ ہونے دی کہ تم نے اگلے سفر کی تیاری کر لی ہے۔
تمہاری روحانی آرزوؤں کا مجھے کچھ کچھ اندازہ تھا جو اس وقت یقین میں بدل گیا جب میں نے باتوں باتوں میں ازراہ مذاق آپ سے کہا بیٹا اسامہ! اگر اﷲ سے پیار کرنا ہے تو پہلے عشق مجازی کا روگ بھی پال کر دیکھ لینا چاہئے جس کے جواب میں آپ نے کہا، پاپا جی! جب اﷲ سے ہی پیار کرنا ہے تو دنیا کو بیچ میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ براہ راست کیوں نہ کیا جائے۔ تمہارے چہرے پر اس سے پہلے ایسی سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ دراصل تم اپنے اﷲ سے سودا کر چکے تھے اور میں کورے ذہن کا خاکی انسان تمہاری شہادت کی تڑپ کو جان ہی نہ پایا۔ تم اپنی تمناؤں میں مولانا رومی اور اقبال ؔ کے فلسفہ فنا فی اﷲ کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے جن کے بے پناہ مطالعے نے تمہاری روح کو بالیدگی عطاکردی تھی۔


تمہاری سہرہ بندی یا سالگرہ ہوتی تو گھر کی منڈیروں پر دیئے جلاتا۔ خوشبوؤں کا چھڑکاؤ کرتا خوشیوں کی لَے اور تال پر تمہارا استقبال کرتا آنکھوں میں امیدیں جاگ اٹھتیں۔ لیکن اب تو تمہاری برسی آتی ہے اسے کس طرح سے مناؤں جس گھر میں تمہارے قہقہے بکھرتے تھے اب وہاں اداسی ڈیرے جمائے رہتی ہے۔ ہم دونوں رات ہوتے ہی دروازوں کی کنڈیاں چڑھا کر اپنی اپنی تنہائیوں میں کھو جاتے ہیں۔ تمہارے متعلق لکھنے لگتا ہوں ہوں تو پور پور جل اٹھتی ہے۔ تمہارا رابطہ نمبر بند ہو گیا، اس نمبر کو ملاتا ہوں تو کوئی جواب نہیں آتا۔ کلیجہ شق ہے۔ گریۂ شب کون دیکھے، نالۂ شب گیر کو کون دیکھے۔ چہرے پر آنکھیں نہیں دو دہکتے انگارے ہیں جو زخموں کی صورت تمہاری راہ تکتی ہیں ۔ چشم خوں بستہ سے لہو ٹپکتا ہے۔ آنسوؤں کا سیلِ رواں مجھے شرمسار کرتا ہے۔ ضبط غم کے سارے بندھن آپ ہی آپ ٹوٹ جاتے ہیں لوگ حوصلہ دینے آتے ہیں تو غم اور بڑھا جاتے ہیں۔ ٹیس ایسے اُٹھتی ہے کہ دیوارِ جاں ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہے۔ بیٹے ! تمہارے سوا میرا رازدان تھا بھی کون، کس کو پکاروں؟ ایسی دیوارِ خستہ ہوں جو کسی بھی وقت گرا چاہتی ہے۔ بہار جاں فزا ہے۔ جس زندگی کو مہمیز دیتی تھی وہ اب اک بے زبان باندی کی طرح ہے۔ شکن آلود وقت کی پیشانی کی جھریاں بہت گہری ہو چکیں اور آئینوں کے عکس یوں دھند لا گئے ہیں کہ ہم اپنی ہی صورت نہیں پہچان پاتے۔


شہید بیٹے! رات ڈھل چکی، پو پھٹنے والی ہے۔ ابھی تمہاری تُربت پہ جا کر پھول رکھنے ہیں۔ یہ پھول تمہارا سہرا باندھتے وقت اس گھر کی دہلیز پر رکھنے تھے جو تنکا تنکا جوڑ کر تمہاری آرزوؤں کے مطابق تعمیر کیا تھا۔ عمر بھر کی جمع پونجی سے تمہارے لئے جو آشیاں بنایا تھا وہاں رہنا تمہارے نصیب میں نہ تھا۔ اب وہاں میں اور تمہاری ماں ہیں اور سلگتی یادوں کے بے پناہ ہجوم اور تنہائیوں کے عفریت۔


میرے شہید! تمہاری تُربت پر جا کر عہد کرنا ہے کہ وطن کا جو تصور تمہارے ذہن میں تھا اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہ دھرتی اب تک ہزاروں شہیدوں کا لہو جذب کر چکی ہے۔ ہمیں یہ پیماں باندھنا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ساتھیوں کے روکنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ سامنے موت باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ آگے ہی بڑھتے رہنے کے عزم پر کاربند رہے تاکہ وطن کا پرچم سرنگوں نہ ہو۔ ہمیں بھی اس پرچم کو بلند رکھنا ہے۔
میرے شہید بیٹے! آپ کے ساتھ ساتھ اور بھی کتنی ہی ماؤں کے جگر گوشے، جوانِ رعنا، مہوشوں کے سہاگ، بہنوں کے بھائی اور نازک اندام بچوں کے باپ اپنی جوانی اس مٹی کی نذر کر چکے ہیں۔ دشمن عددی برتری کے زعم میں مبتلا ہے اور خبث باطن کی حیلہ گری ہمارا راستہ روکے کھڑی ہے۔ لیکن اسے خبر ہونی چاہئے کہ پاکستان کی بہادر اور جری افواج کا ہر سربکف جوان اور افسر، سرفروشی کی داستانیں رقم کر نے کو ہمہ وقت تیار ہے۔ تاکہ وطن عزیز کے گل رنگ سویروں پر کبھی تاریکی کے سائے نہ پڑیں۔


اسامہ بیٹے! آپ نے جس ایثار، جرأت، فرض شناسی اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، آپ کو ایسا ہی کرناچاہئے تھا۔ آپ اس سفر میں اکیلے نہیں افواج پاکستان کا ہر فرد شہادت کے ایسے ہی جذبے سے سرشار ہے۔

 
13
March
13
March

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل عارف محمود

( ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹا ئرڈ سید احمد مبین شہید)

کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین شہید اور موت میں شناسائی بہت پہلے قائم ہو چکی تھی، بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر آفیسر 2013 میں کوئٹہ پولیس لائن میں جنازے کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ جنازے پہ جاتے ہوئے اچانک سید مبین کی ماں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور وہ جنازہ چھوڑ کر اپنی ماں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے واپس آگئے تھے ، اس دھماکے میں ان کے قریبی ساتھی ڈپٹی انسپکٹر جنرل فیاض احمد سنبل نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ انھیں اب موت کا کچھ خوف نہ تھا،ابھی دوہفتے قبل انھوں نے اپنی سماجی رابطے کی سائیٹ فَیس بک پر ایک نظم میں دشمنانِ امن و انصاف کو یہ دعوتِ عام دی تھی کہ وہ تو حق کی راہ سے ہٹنے والے نہیں ،جو لوگ محض اس جرم پرا ن کی جان کے در پے ہیں وہ بے شک اپنا وار آزما ڈالیں۔

mujymaffkerdj.jpgزندہ رہا تو کرتا رہوں گا، ہمیشہ پیار!
میں صاف کہہ رہا ہوں، مجھے مار دیجیے
( شہید کی فَیس بک۔23 جنوری2017)
اس دن بھی وہ پیارکا عَلَم لئے لاہور کی مال روڈ کو عوام کے لئے کھلوانے چلے تھے،


’’میں خود جا کر لوگوں سے بات کرتا ہوں کہ وہ مال روڈ کو عوام کے لئے کھول دیں‘‘ یہ تھے وہ الفاظ جو انھوں نے مقتل میں جانے سے پیشتر ادا کئے تھے۔ لوگوں سے بات چیت کے دوران انھیں اپنے ایک خیر خواہ ڈی آئی جی نے فون پر بہت اصرار کیا تھا کہ وہ مظاہرے کی جگہ سے چلے جائیں،کیوں کہ انہیں واضح الفاظ میں دہشت گردوں کی طرف سے حملے کی دھمکیاں بھی موصول ہو چکی تھیں لیکن ان کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ موت کی دھمکیوں کی ذرا بھی پروا نہ کرتے تھے بلکہ ہر حساس اور اہم آپریشن کی قیادت رضاکارانہ طور پر خود کرتے، جعلی ادویہ سے متعلق احتجاجی مظاہرے میں بھی وہ از خود لوگوں کو منتشر کرنے چلے آئے تھے، جبکہ یہ ان کی ذمہ داری بھی نہ تھی۔ سید احمد مبین کی والدہ بتاتی ہیں 


شہادت کے دن میرا بیٹاصبح گھر سے روانہ ہوتے ہوئے کہنے لگا: ’’ امی آج مجھے تھکاوٹ ہو رہی ہے، بس یہ کام نبٹا کر آتا ہوں پھر آرام کروں گا۔‘‘ میں نے کہا: ’’بیٹا اگر تھکے ہو تو مت جاؤ، تمھارا جانا ضروری تو نہیں۔‘‘ کہنے لگا ’’بس یہ کام کر کے آرام کروں گا۔‘‘ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ ابدی آرام کی بات کر رہا تھا۔


دہشت گرد شکاری کتوں کی طرح سید احمد مبین کی تاک میں رہتے تھے، اس دن بھی چار دہشت گردوں نے فیصل چوک مال روڈ لاہور کا رخ کیا تو ان کا ہدف دیگر معصوم جانوں کے علاوہ سید مبین خصوصی طور پر تھے، احتجاج کے مظاہرین کی حفاظت پر مامور ایس ایچ او عابد بیگ نے بعد میں انکشاف کیا کہ اس نے جب مشکوک افراد کو مقامِ احتجاج کی طرف بڑھتے دیکھا تو رکنے کا اشارہ کیا جس پرایک مشکوک شخص خار دار تاریں پھلانگ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا اور مظاہرین میں شامل ہو گیا جبکہ تین بھاگ گئے۔ یہی 22 سالہ نوجوان دراصل خود کش بمبار تھا جو مظاہرین کے جھرمٹ میں گھرے ہوئے سید احمد مبین کے بالکل قریب جا پہنچا تھا۔وہ اپنی فطری بردباری اور انسان دوستی کے ہاتھوں مجبور مسلسل لوگوں کو سمجھا رہے تھے بلکہ ایک عینی شاہد کے مطابق یوں سمجھیے کہ لوگوں کی منت سماجت کر رہے تھے ،

mujymaffkerdj1.jpg
’’آپ نیک لوگ ہیں ، میں تو گناہگار آدمی ہوں۔۔۔‘‘
ڈپٹی انسپکٹر جنرل کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین کو اکثر اپنی مٹی کی محبت میں ایسے ایسے قرض بھی چکانے پڑے جو کبھی واجب بھی نہیں تھے۔ان کا ایمان تھا کہ احترام انسانیت میں اٹھایا ہوا ہر قدم عبادت ہے ۔ اس عبادت کے لئے وہ ہمہ وقت رضا کارانہ طور پر پیش پیش ہوتے،وہ بے گناہ انسانوں کے قتل پہ بہت کڑھتے تھے،وہ اعلان کر چکے تھے کہ میں اپنے دین اور وطن کے تحفظ میں اپنی صدا بلند کرتے کرتے جہان فانی سے کوچ کر جاؤں گا۔
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ہو کا شور
میں آخری صدا ہوں،مجھے مار دیجیے ۔!
( شہید کی فَیس بک سے)


اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور امن و محبت کا یہ راہی اپنے قریبی ساتھی زاہد گوندل ایس ایس پی آپریشنز، دیگر چار اہل کاروں اور سات مظاہرین سمیت را ہیِ ملک عدم ہوا۔ پاکستان کے دل اور زندہ دلان لاہور کے شہر میں قیا مت صغریٰ بپا ہو چکی تھی، اب کی بار قضا نے سید مبین کو مہلت نہ دی تھی، بس ان کی صدا ئے امن گونج رہی تھی۔
بارود کا نہیں میرا مسلک درود ہے
میں خیر مانگتا ہوں، مجھے مار دیجیے!
( شہید کی فَیس بک۔23 جنوری2017)


ہُو کا شور سچ مچ ناچنے لگا تھا، امن و محبت کے پھول بانٹنے والا اور لوگوں کی خوشیوں کا داعی ،سیکڑوں گھروں کا رازدار کفیل، ماں کا واحد سہارا اور تین بیٹیوں کا بابل،شہید خاندانوں کا ہمراز و غمخواراور اپنی سپاہ کا سگے باپ جیسا سایہءِ عاطفت، بیوی کا کبھی نہ لڑنے والا دوست اور پیا رکرنے والا سرتاج اور ننھے لخت جگر محمد طہٰ فرید کا ہر دلعزیز بابا اب شہادت کا جام پی کر خاموش ہو گیا تھا۔


شہادت کی خبر نشر ہوتے ہی سید احمد مبین شہید کے کورس میٹوں اور ساتھی آفیسرز کا تانتا بندھ گیا تھا، سبھی ماں کے گرد جمع تھے۔ سید احمد مبین کے والد گرامی اور ان کی والدہ کے رفیق حیات ڈاکٹر کرار حسین 15 سال پہلے داغ مفارقت دے چکے تھے لیکن مبین نے اپنی ماں کو ایک پل بھی احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ تنہا ہو گئی ہیں،یہاں تک کہ وہ خود کو بیوہ ہی نہیں سمجھتی تھیں۔اب اکلوتے بیٹے کی شہادت ان کے لئے ناقابل برداشت صدمہ ہونا چاہئے تھا ، اُس لخت جگر کی شہادت جو اُن کا مونس و غم خوار ہی نہیں زندگی کے نشیب و فراز اور مسائل کا واحد امرت دھارا تھا۔ ان کے قریبی دوست اور جے سی بی کے کورس میٹ لیفٹیننٹ کرنل افتخار نے ہمت کر کے ماں سے بیٹے کے کھو جانے کی بات کی تو صبر و استقامت کی دیوی بولیں:’’ کیا ہو ا میرا ایک مبین وطن کے کام آگیا، اللہ نے اتنے سارے مبین، میری قوم کے بیٹے مجھے عطا کر دیے ہیں اورمجھے شہید کی ماں ہونے کا اعزاز بخشا ہے۔الحمد للہ!‘‘
شہید کی اکلوتی بڑی بہن سیدہ ثروت قسیم اور مبین کا ساتھ ایک بہن بھائی سے زیادہ دوستوں جیسا تھا۔ بچپن، لڑکپن اور نوجوانی سے لے کر اتنی بڑی ذمہ داریوں تک سبھی مراحل پر احمد مبین اپنی بہن کی مشاورت کو خاص اہمیت دیتے تھے۔ ’’بھائی کے ساتھ تو میری اتنی یادیں ہیں کے بتانے لگوں تو ہفتوں میں بھی ختم نہ ہوں، مبین کہنے کو تو میرا بھائی تھا لیکن وہ میرا بچپن کا دوست اور ابا جان کی رحلت کے بعد تو بابل بھی وہی تھا۔‘‘


تعزیت کرنے والوں میں عیسائی اور ہندومذاہب کے لوگ بھی موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ ڈی آی جی سید احمد مبین ان کے لئے ایک مہربان اور مددگارشخصیت تھے جو ان کی کمیونٹی کے مسائل بھی حل کرتے اور ذاتی معاملات میں بھی مدد کرتے تھے،وہ صرف مسلمانوں کے نہیں تمام ہم وطن شہریوں کے ہمدرد و غمگسار تھے۔ یہ سید احمدمبین کے والدڈاکٹر کرار حسین کی اعلیٰ تربیت کا کمال تھا کہ سید احمد مبین ایک سعادت مند بیٹے، مخلص بھائی، بہترین شوہر، شفیق باپ اورانتہائی بردبار آفیسر ثابت ہو ئے تھے، ان کا معمول تھا کہ وہ گھر پہنچتے ہی ایک گھنٹہ اپنے ننھے شہزادے کے ساتھ کھیلتے، بیٹیوں کو پیار کرتے اور پھر بچوں کے ساتھ مل کر اپنے ننھے ننھے پیارے پیارے رنگ برنگے پرندوں کی دیکھ بھال کرتے۔ شاعری کے دلدادہ تھے۔فطرت نے مبین کی شخصیت میں ایک خاص جاذبیت اور انسیت پیدا کر دی تھی۔ وہ اپنی اہلیہ سیدہ آمنہ سے کبھی الجھتے نہ تھے، بلکہ اگر کوئی دوسرا دوست اپنے اہل خانہ سے درشت لہجے میں ہمکلام ہوتا تو اسے سمجھاتے اور خاندانوں کو جوڑنے کاکام کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ کو جہاں اپنے سرتاج کی قربانی پر نازہے وہیں ان کا دل اتنے بڑے خلا کو برداشت کرتے کرتے ڈوب سا جاتا ہے، ان کی تو ساری دنیا ہی سید احمد مبین تھے۔ سیدہ آمنہ کہتی ہیں: ’’جو شخص غیروں کے لئے مجسمہ شفقت ومہربانی اور غموں کا مداویٰ ہو اس کا برتاؤ اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ کیسا ہو گا!‘‘


سید مبین کو اپنے متعلقین میں اعتدال رکھنے میں خاص کمال حاصل تھا۔ماں کا مقام،خوشدامن کا وقار، بہن کا پیار،بیوی کا استحقاق،لخت جگر کا لاڈ اور دختران نیک اختر کے ناز نخرے سبھی کی فکر کرتے اور سبھی کے حقوق بدرجہ اتم پورے کرتے تھے۔ اللہ نے انھیں تین بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا تھا۔ بڑی بیٹی حبہ مبین آج ایم بی بی ایس کر رہی ہے جبکہ چھوٹی دونوں عبیرہ مبین اور دعا مبین بنیادی تعلیم کے مراحل طے کر رہی ہیں۔ سیدہ آمنہ بتاتی ہیں : ’’جب اللہ نے یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں عطا کیں تو میرے چہرے پر ملال کی پرچھائیاں پڑھ کرمبین نے فوراً مجھے حوصلہ دیا اور کہنے لگے کہ اللہ نے ہمیں جنت کی سند عطا کی ہے، اللہ کا شکر ادا کرو اور خوب خوشیاں مناؤ۔‘‘


کوئی ساتھی ان سے مشورہ چاہتا یا کسی قسم کی مدد کی درخواست کرتا تو اسے اپنے پاس بلاتے، گھر پر آنے اور قیام کرنے کی دعوت دیتے، اس کا مسئلہ حل کرتے، اگر مالی معاونت مانگے تو بلا تردد اس کی ضرورت پوری کرتے۔ اپنے ساتھی شہید ڈی آئی جی فیاض سنبل کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے اور ان کی ضرورتوں کا بدرجہ اتم خیال رکھتے ۔ ایک بار ایک کانسٹیبل نے انھیں بتایا کہ اس کے بیٹے کے دل میں سوراخ ہے اور بیرون ملک علاج کے لئے 20 لاکھ روپے درکار ہیں تو آپ نے اسے کہا کہ بسم اللہ کرو ، اللہ مدد کرے گا۔چنانچہ آپ کی کوشش سے بچے کا علاج بخیر و خوبی ہو گیا اور جب وہ کانسٹیبل سید احمد مبین کا شکریہ ادا کرنے لگا تو بولے ، ’’ اس رقم کا تعلق نہ تو پولیس فنڈ سے ہے اور نہ کسی ناجائز ذرائع سے اور نہ ہی میں نے جیب سے خرچ کیا ہے یہ تو اﷲ کی مدد سے میرے ایسے مخیر دوستوں نے مہیا کی تھی جو تمھیں جانتے بھی نہیں تم بس ان کے لئے دُعا کر دو۔‘‘ اسی طرح ایک کورس میٹ کے بیٹے کو جب بیرون ملک سنگاپور میں علاج کے لئے رقم کی ضرورت پڑی تو سب سے بڑا حصہ سید احمد مبین نے ڈالااور منتظم کو سختی سے منع کیا کہ کسی کو پتا بھی نہ چلے۔ اپنی فوجی یونٹ 42 بلوچ ’الحاوی‘ بٹالین کے لئے ان کے دل میں خاص مقام تھا۔ الحاوی کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل جمیل نے بتایا کہ ڈی آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین اپنی یونٹ کو کبھی نہیں بھولتے تھے اور سولجر سے لے کر سویلین کنٹریکٹر ز تک سب کو پوری توجہ اور عزت دیتے تھے۔ صوبیدار میجر رخسار بتاتے ہیں کہ جب بھی کوئی کیپٹن مبین کو ٹیلیفون کرتا تو لازمی جواب دیتے اور اگر فوراً فون نہ اٹھا سکیں تو جوابی فون کرتے اور ساتھ معذرت بھی کرتے۔ یونٹ میں ان کے ابتدائی ایام کا ذکر کرتے ہوئے صوبیدار میجر رخسار صاحب کہتے ہیں:’’مجھے کیپٹن مبین صاحب کو ہتھیاروں کی تربیت دینے کی ذمہ داری ملی تو کیپٹن مبین آفیسر ہونے کے باوجود ایک شاگرد کی طرح زمین پر دری بچھا کر میرے سامنے بیٹھ جاتے اور استاد جیسا احترام دیتے تھے۔‘‘ یونٹ کے سبھی آفیسرز اور سولجرز ان پر جان چھڑکتے تھے، جب شہادت کی خبر پہنچی تو ’الحاوی‘ کی اعزازی گارڈ کا دستہ ایک گھنٹے میں شہید کے اعزاز میں پہنچ چکا تھا۔

mujymaffkerdj2.jpgسید احمد مبین نے اسلامیہ ہائی سکول میکانگے روڈ کوئٹہ سے میٹرک کرنے کے بعد 1988 میں جے سی بی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ شروع میں وہ کافی کمزور لیکن ہنس مکھ کیڈٹ تھے۔ بریگیڈیئر ارشد سیال ان کے جے سی بی کے پلاٹون میٹ ہیں، وہ بتاتے ہیں: ’’ہم مبین کو اس کی نازکی پر چھیڑتے تھے، وہ بظاہر ہنس دیتا لیکن اس کی خودی کا کمال تب نظر آیا کہ جب پی ایم اے میں پہنچتے ہی مبین نے ایک نیا رخ اختیار کیا، جیسے اچانک کوئی نئی روح اس کے اندر عود کر آئی ہو،وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑھنے لگا تھا بلکہ جسمانی کھیلوں اور مشقوں میں بھی سب کو مات کرنے لگا تھا ۔ لیکن اپنے ساتھیوں کی طرف اس کا رویہ مثالی تھا، اکثر ان کی جگہ بڑی سے بڑی قربانی پیش کر دیتا، ایک بار اپنی پلاٹون کے ایس جی سی ( سینیئر جنٹلمین کیڈٹ) کے طور پر پوری پلاٹون کی غلطی کو اپنے سر لے لیا اور سزا کے طور پر رات بھر گورکھا حالت میں رہنا پڑا ، ایک اور موقع پر جب سینیئرز کے رگڑے سے کمر پر گہرے زخم خراب ہو گئے اور ڈاکٹر نے جاننا چاہا کہ زخم کیسے ہوئے تھے تو ڈٹ گیا اور سزا دینے والے کیڈٹس کے نام نہ بتائے ۔‘‘


سینئر ٹرم میں سید احمد مبین سی ایس ایم (کمپنی سارجنٹ میجر) بن گئے، ان کے ایک اور کورس میٹ میجر ارمغان نعیم نے بتایا کہ ’’جب ہم جونیئر ٹرم میں تھے تو اکثر مبین بھاگتا ہوا آتا اور کہتا ، ’’ اوئے بھاگو ! سی ایس ایم آ رہا ہے‘‘ اور پھر ایسا غائب ہوتا کہ سی ایس ایم کبھی ڈھونڈ نہ پاتا۔ جب خود سی ایس ایم بنا تو کوئی اس سے بچ نہ سکتا تھا۔‘‘


سید احمد مبین نے 17ِ اپریل1992 بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ پاک فوج کی مایہ ناز ’الحاوی‘ بٹالین ، بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور پھر یکے بعد دیگرے اپنے تربیتی کورسوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرتے گئے۔ کپتانی کے ستارے سجانے کے بعد 1995 میں سیدہ آمنہ بخاری کے ساتھ رشتہء ازدواج میں منسلک ہوئے۔ اسی دوران آپ کے انٹیلی جنس کورس کی وجہ سے آپ کو پاکستان رینجرز سندھ میں شر پسند عناصر کے خلاف فیلڈ سکیورٹی کی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ یہ دراصل آپ کی بنیاد تھی جس میں آپ نے انتہائی کامیابی سے سکیورٹی کے فرائض ادا کرتے ہوئے اعلیٰ تجربہ حاصل کیا۔ یہاں آپ کے کوڈ نام کیپٹن کاکڑ کی دھاک بیٹھ گئی تھی،۔ اس دوران آپ کو گولیاں بھی لگیں اور شدید زخمی ہوئے لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، آپ کے آپریشنز جاری رہے ۔ اگلے ہی سال آپ سول سروس کمیشن کا معیار پورا کرتے ہوئے سول سروس اکیڈمی چلے گئے اور پھر پاکستان پولیس میں اے ایس پی کے طور پر لاہور میں تعینات ہو گئے۔ آپ کی اگلی اہم تعیناتی کوئٹہ میں تھی جہاں بطور پولیس آفیسر اغوا برائے تاوان کے متعدد کیس حل کئے۔ در اصل بلوچستان کی سرزمین کا یہ سپوت وطن عزیز کی محبت کا استعارہ بن چکا تھا،سید مبین اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی معمول کے ایک دن میں 18 گھنٹے تک ادا کرتے۔ بعض اوقات تو تین تین دن تک مسلسل آپریشنز میں گزر جاتے اور چھٹی کے دن بھی کام کر رہے ہوتے۔ آپ نے کوئٹہ پولیس کو مایوسی کے اندھیروں اور خوف کی اتھاہ گہرائیوں سے نکالا، ان کی تربیت نو کی، ہر جگہ خود قیادت کرتے ہوئے ان کے اندر سے موت کا ڈر دور کیا ، انھیں ہمت و جرأت عطا کی اور مورال بلند کیا، اپنے زخمی سپاہیوں کے ساتھ پوری پوری رات بِتا دیتے، المختصریہ ان کی غیر معمولی قیادت کا اعجاز تھا کہ کوئٹہ پولیس صرف چھ ماہ کے عرصے میں نہ صرف اپنے پاؤں پہ کھڑی ہو گئی بلکہ علیحدگی پسندوں اور فرقہ واریت پھیلانے والوں حتیٰ کہ دہشت گردوں کے خلاف فوج کی مدد کے بغیر آپریشنز کرنے کے قابل ہو گئی ۔ ان کے قریبی ساتھی بریگیڈئیر فیصل نصیر جو ایک طویل دورانیے تک ان کے ہمراہ آپریشنز کرتے رہے اور ابتدائی طور پر بھی ان کے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کورس میٹ ہیں ایک ملاقات میں بتاتے ہیں ۔


’’سید مبین زیدی دہشت گردوں کے خلاف ایک ہزار سے زائد آپریشنز میں اپنی سپاہ کی قیادت کر چکے تھے،جن میں سے سب سے زیادہ آپریشنز ان کی جنم بھومی بلوچستان میں ہوئے تھے،2012 میں پشتون آباد (بلوچستان ) میں شرپسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی دھاک بٹھانے کے بعد کوئٹہ شہر میں مبین (شہید )نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی تھی۔ کوئی رات ایسی نہ تھی جب سید مبین ہمارے ساتھ پوری رات بنفس نفیس باہر نہ ہوں۔ 2013 کے قومی انتخابات کو ممکن بنانے میں مبین (شہید) نے اپنی سپاہ کے ہمراہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت کوئٹہ اور نواحی علاقوں میں انتخابات کا انعقاد جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا،ہماری خفیہ اطلاعات کے مطابق مشرقی بائی پاس کوئٹہ اور نواح میں دہشت گرد پرامن رہائشی علاقوں میں سرطان کی طرح سرایت کر چکے تھے، آئے دن چھوٹے موٹے دھماکے معمول بن چکا تھا،سید مبین شہید نے میرے دست راست کے طور چار ہزار سپاہ کے ہمراہ چار کلومیٹر تک گھر گھر تلاشی لیتے ہوئے پورے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرایا، اگرچہ اس وقت انھیں راکٹ حملوں کی واضح اطلاعات بھی مل چکی تھیں لیکن وہ عوام اور انتخابی عملے کی حفاظت کے لئے دن رات خود موجود رہتے حتیٰ کہ انتخابات بخیر و خوبی انجام پائے اور اگلا پورا سال کوئٹہ کا امن مثالی رہا۔ سید مبین فرائض کو ذاتی ذمہ داری سمجھ کر نبھاتے تھے،ایک بار ہمارے کچھ لوگ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنس گئے تو مبین ذاتی طور پر رات کے تین بجے میرے ہمراہ ان لوگوں کو چھڑا کر لائے۔‘‘


کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے قیام میں آپ کی خدمات لاجواب تھیں۔ اس ادارے کو پنجاب اور بلوچستان میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور فعال بنانے کے لئے سید مبین شہید نے ترکی اور امریکہ سے جا کر تربیت حاصل کی اور اس ادارے میں جدید ترین اصلاحات نافذ کر کے انھیں عملی جامہ پہنایا۔ کوئٹہ کے بعد آپ کو پنجاب میں کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔ آپ وزیراعلیٰ پنجاب کے مانیٹرنگ سیل کے بھی انچارج رہے اور پھر تا وقت شہادت ٹریفک پولیس میں ڈی آئی جی کے طور پر فرائض ادا کر رہے تھے۔


ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین زیدی شہید کی نماز جنازہ میں ملک کی اعلیٰ ترین قیادت ، فوج اور پولیس کے سپاہ سالاروں اور ملک بھر کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی اور24 گھنٹے کے اندر اندر خود کش بمبار کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا۔ دہشت گردوں کے اس گروہ کا تعلق افغانستان سے تھا جبکہ ان کا گرفتار شدہ سہولت کار انوارالحق باجوڑ کا رہنے والا تھا۔ پاک فوج اور پولیس نے نہ صرف ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف ’آپریشن رد الفساد‘کے نام سے بھر پور آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے بلکہ افغانستان حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ملک میں پناہ گزیں دہشت گردوں کی سر کوبی کی جائے۔ پاک فوج کے حالیہ آپریشن کو ’آپریشن ردالفساد‘ کا نام دیا گیا ہے۔

 
13
March
Published in Hilal Urdu
Read 45 times

newsshudakinamazjanaza.jpg

13
March
Published in Hilal Urdu
Read 36 times

newsshamliwazirmainreli.jpg

13
March
Published in Hilal Urdu
Read 52 times

newsfrontiercorekharan.jpg

13
March
Published in Hilal Urdu
Read 42 times

newsvirtualuniktulba.jpg

13
March
Published in Hilal Urdu
Read 37 times

newscomankarachicore.jpg

13
March

تحریر: جویریہ صدیق

دہشت گردی کی نئی لہر نے عوام کو شدید رنج و غم میں مبتلا کردیاہے۔گزشتہ دنوں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ایک سو بائیس سے زائد افراد شہید ہوئے اور تین سو کے قریب زخمی ہوئے۔ فروری میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے ان واقعات نے عوام کو نشانہ بنایاہے۔ضرب عضب کی کامیابی کے بعد عوام اپنے روزمرہ زندگی کے معمولات کو سر انجام دے رہے تھے کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لاہور میں اعلان کے بعد یک دم دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آگئی۔ ان واقعات کے بعد عوام کی نظریں پاک فوج کی طرف مرکوز ہوگئیں کہ کس طرح مسلح افواج انہیں دہشت گردی کے اس نئے عذاب سے بچائیں گی۔


حالیہ دہشت گردی کے فوری بعد طورخم بارڈر کو سیل کردیا گیاجس کا عوام نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر خیر مقدم کیا۔جن گروپس نے حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ان میں تحریک طالبان، جماعت الاحرار، داعش اور الافامی گروپ شامل ہیں اور یہ گروپ افغانستان سے آپریٹ کئے جارہے ہیں۔ طورخم بارڈر سیل کرنے کے بعد افغان سفارت خانے سے منسلک آفیشلز کو جی ایچ کیو راولپنڈی طلب کرکے انہیں 76 مطلوب دہشت گردوں کی فہرست دی گئی جو افغانستان میں چھپے بیٹھے ہیں۔17 فروری کو پاکستان نے افغانستان میں کنڑ اور ننگرہار میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی‘ جماعت الاحرار کے تربیتی کیمپ تباہ کئے جس میں متعدد دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔


پاکستانی عوام کی تکلیف اور بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے 22فروری کوچیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک بھر میں آپریشن ’رد الفساد‘ کا اعلان اور آغاز کر دیا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان آرمی، نیوی ،فضائیہ،رینجرز،پولیس، سول آرمڈ فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس آپریشن کا حصہ ہوں گی۔ اس آپریشن کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، ملک سے ناجائز اسلحے کا خاتمہ، باڈر سکیورٹی مینجمنٹ اور انسداد دہشت گردی ہے۔ پنجاب میں رینجرز کا آپریشن بھی ’رد الفساد‘ کا حصہ ہے۔


آپریشن ’رد الفساد‘ سے پہلے بھی پاکستان آرمی مختلف آپریشنزبھرپور کامیابی سے سرانجام دے چکی ہے‘جس میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں آپریشن المیزان، جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میںآپریشن راہ راست اور راہ نجات، جنرل راحیل شریف کے دور میں ’ضرب عضب‘ شامل ہیں۔ ان آپریشنز کے دوران وانا‘ سوات اور وزیرستان سے دشمن کی کمین گاہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ان علاقوں میں ریاستی رٹ قائم کی گئی اور ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد شروع ہوا۔آپریشن رد الفساد میں پورے ملک کے ساتھ ساتھ پنجاب کے ان علاقوں کو فوکس کیا جائے گا جن کے حوالے سے بہت عرصے سے آواز بلند کی جارہی تھی کہ ان علاقوں میں بہت سے دہشت گرد اور ان کے سہولت کار مقیم ہیں۔ کراچی میں سندھ رینجرز کی طرح آپریشن پنجاب رینجرز کرے گی جس سے صوبے بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ ہوسکے گا۔


آپریشن رد الفساد کا نام بہت معنی خیز ہے۔قرآن پاک میں لفظ ’’تفسدوا‘‘ استعمال ہوا ہے جوکہ فساد سے اخذ کیا ہے۔فساد کرنے والوں کو ’’المفسدون‘‘ کہا گیا ہے۔
سورۃ البقرہ کی آیت نمبر گیارہ اور بارہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
اورجب ان سے کہا جاتاہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔’’ سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں‘‘۔
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 33 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔


ترجمہ:۔ وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیئے جائیں یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔


ان آیات مبارکہ کی روشنی میں دہشت گردوں اور خوارجیوں کے خلاف آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا ہے۔ پاکستان فوج اور رینجرز کے جوان ملک بھر میں سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے افغان اور ازبک باشندوں سمیت 30 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پنجاب میں لیہ،کروڑ اور راولپنڈی میں آپریشن کے دوران جماعت الاحرار کے سہولت کاروں،افغان باشندوں سمیت 600 افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔4 دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔اس دوران بہت سے موبائل سیٹ، ٹیلی فونز، جہادی لٹریچر اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیاہے۔اس کے ساتھ پنجاب پولیس بھی مشکوک افراد کے کوائف کی بائیو میٹرک تصدیق کررہی ہے۔پشاور‘ مرادن‘ صوابی اور ہنگو سے بھی ’’جہادی ‘‘مٹیریل اور اسلحہ برآمد کیا گیاہے۔ پشاور سے 80، مردان سے 27، چارسدہ سے 20 اور صوابی سے بھی 4مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا۔بلوچستان میں رد الفساد کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے لورالائی میں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کی۔پاکستان آرمی اور پاکستان رینجرز نے ایم ون اور ایم ٹو موٹروے پر مشترکہ چیک پوسٹیں بھی قائم کردی ہیں۔


تاہم فوج اور رینجرز کے آپریشن کے ثمرات تب ہی عوام تک پہنچ سکتے ہیں جب ساتھ ساتھ فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ’ فساد فی الارض‘ کرنے والوں کو سزا دیئے جانا بہت ضروری ہے۔اگر ہمارے ملک کا ایک جوان اپنی جان پر کھیلتے ہوئے ایک دہشت گرد کو پکڑتا ہے تو اس دہشت گرد کو فوری طور پر سزا ملنی چاہئے۔اس کے ساتھ ان افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جائے جو ان دہشت گردوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ایسے لٹریچر اور سوشل میڈیا پر موجود مواد کو تلف کرناہوگا جوکہ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ہو۔


آپریشن رد الفساد کے اعلان کے بعد ہی سوشل میڈیا پر ایک فیک سرکلر کے ذریعے سے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خوا میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ شاید پشتونوں کے خلاف امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔اس طرح کے زہریلے پروپیگنڈے اور افواہوں کے لئے بھی آپریشن رد الفساد کی ضرورت ہے ایک ایسے سوشل میڈیا کی بھی ضرورت ہے جو وطن مخالف پروپیگنڈے کا سدِباب کرے۔ سوشل میڈیا پر نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ اب جنگیں صرف میدان میں ہی نہیں‘ سوشل میڈیا پر بھی لڑی جارہی ہیں۔ اس لئے اب یہ نہایت ضروری ہے کہ صرف زمین پر نہیں بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی جنگ لڑی جائے ،پاکستان کی بقا کی جنگ۔


اس کے ساتھ ساتھ معاشی دہشت گردی کے لئے بھی آپریشن رد الفساد کی ضرورت ہے۔ہنڈی ’حوالہ‘ منی لانڈرنگ سے پیسے دہشت گردوں کو بھیجے جاتے ہیں۔ دہشت گردوں کی معاشی طور پر کمر توڑنے کے لئے ان کے پیسوں کی سپلائی ختم کرنا ہو گی۔ ان افراد سے بھی بازپرس ہونی چاہئے جو اب تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہونے دے رہے تھے۔ان لوگوں سے بھی چھان بین کرنی چاہئے جو رینجرز آپریشن کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے جن کی وجہ سے حالیہ دہشت گردی کی لہر میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔


سی پیک اور گوادر بندرگاہ کو دشمنوں سے بچائے رکھنے کے لئے بھی زمینی قوت کے ساتھ سفارتی اور سوشل میڈیا کی قوت کی اشد ضرورت ہے۔ہم ہر جنگ اسلحے کے زور پر نہیں لڑ سکتے۔ دنیا بھر سے ممالک سی پیک میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں جو وطن دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا اس لئے وطن عزیز کے خلاف مختلف سازشیں کی جارہی ہیں۔جس میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ کل بھوشن بھارت کے خلاف ہمارے پاس سب سے بڑا ثبوت ہے۔لیکن اب تک کی خاموشی سمجھ سے باہر کہ اس معاملے کو عالمی سطح پر کیوں نہیں اٹھایا جارہا۔ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے بھارت ہے جو افغانستان میں داعش کو سپورٹ کررہا ہے نہ جانے ہماری سفارت کاری گونگی کیوں ہوکر رہ گئی ہے۔


رد الفساد کی ضرورت مدارس اور این جی اوز میں بھی ہے اس چیز پر کڑی نظر رکھی جائے کہیں کوئی وطن دشمنی تو نہیں کی جارہی۔ہمارے بچے مدارس میں خودساختہ ’’جہادی‘‘ لٹریچر تو نہیں پڑھ رہے، انہیں جدید تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسی طرح این جی اوز پر مکمل اکاونٹیبیلیٹی ہونی چاہئے کہ وہ فنڈنگ کا پیسہ کہیں پاکستان کے خلاف تو نہیں استعمال کررہے۔


ایک اور اہم سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کیا دہشتگرد صرف طورخم باڈر سے ہی آرہے ہیں یا وہ پہلے سے پاکستان میں اپنے سہولت کاروں کی کمین گاہوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔اگر ایسا ہے تو سب سے پہلے ان سہولت کاروں کو پکڑا جانا چاہئے۔ ان کی وابستگی کسی بھی سیاسی پارٹی‘ تنظیم ‘ گروہ ‘ فرقے یا صوبے سے ہو بنا کسی تفریق کے کارروائی کریں۔ملک کے اندر بیٹھے دہشتگردوں کا خاتمہ سب سے پہلے ضروری ہے۔اس آپریشن میں وقفہ نہیں آنا چاہئے کسی بھی دہشتگرد کو بھاگنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔افغانستان کے ساتھ سرحد پر چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا دی جائے اور کسی کو بنا کاغذات کے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔افغان مہاجرین کو باعزت طور پر ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔اسی طرح ہم ملک میں فسادیوں کے خلاف رد الفساد کرسکتے ہیں۔

جویریہ صدیق ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ ہے

@javerias

نغمہ

خاکی وردی پہنے جوان
دیکھ کے جذبے سب حیران
یہ ہیں اللہ کی بُرہان
اِن سے قائم پاکستان
پربت، رائی اِن کو لگے ہے
دریا خود قدموں میں گِرے ہے
دھاک ہے اِن کی ہیبت واللہ
دشمن ڈر کے دَبتا چلے ہے
ہر اک اِن میں سیفِ خدا ہے
اِن کا نہ کوئی وار ٹلے ہے
جیت کے آئیں ہر میدان
اِن سے قائم پاکستان
برق و تَلاطُم میں یہ پلے ہیں
موت کے آگے جا کے ڈٹے ہیں
بڑھتے ہیں تو برق سے بڑھ کر
جھپٹیں تو شاہین لگے ہیں
جگمگ جگمگ تارے ہیں یہ
سینوں پر جو تمغے سجے ہیں
یہ ہیں غازی شیر جوان
اِن سے قائم پاکستان
وقت کٹھن جب آن پڑا ہے
ہر اک آگے بڑھ کے کھڑا ہے
تان کے سینہ ،جگر فولادی
ہر طوفان سے ڈٹ کے لڑا ہے
دشمن میں کہُرام مچا کر
تیغوں میں بھی آگے بڑھا ہے
ملک و قوم کا یہ ہے مان
اِن سے قائم پاکستان


awais_khalid.jpg
(شاعر : اویسؔ خالد)
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

*****

 
13
March

قوم رواں برس ستترواں یوم پاکستان ان حالات میں منا رہی ہے کہ جب اسے اپنے حوصلے اور بھی بلند رکھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن گھناؤنی سازشوں اور دہشت گردی کے ذریعے اس وطن کی سالمیت کے درپے ہے۔ 23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں جب قرارداد پاکستان پاس ہوئی تب پاکستان صرف ایک خواب تھا لیکن ٹھیک 7برس بعد برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک حسین تعبیر مل چکی تھی جو اس امر کی علامت ہے کہ جب کسی قوم کے جذبے جواں ہوں تو وہ ضرور کامیاب ٹھہرتی ہے۔ اس وقت قوم کے سامنے قیام پاکستان کی منزل تھی آج اس منزل کی تکمیل اور حفاظت ہے۔ قوم نے قربانیاں دے کر وطن عزیز حاصل کیا اور اب قربانیاں دے کر اس عظیم تحفہ خداوندی کی حفاظت بھی کر رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد جس ثابت قدمی سے پاکستانی قوم اور اس کی افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپریشن راہ راست، آپریشن راہ نجات اور پھر جون 2014میں شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب نے جس طرح سے دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کو کمزور بنانے میں کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے۔

 

ظاہر ہے دہشت گرد اکیلے نہیں ہیں۔ان کے مذموم عزائم کے لئے انہیں بعض دشمن ممالک کی سرپرستی حاصل ہے۔ اُنہیں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے فنڈنگ کی جاتی ہے۔ دشمن سے پاکستانی قوم اور اس کی افواج کی کامیابیاں اور ملک میں قائم ہوتا امن نہیں دیکھا جاتا لہٰذا وہ اس تاک میں رہتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے پاکستانی قوم کے حوصلوں کو لرزاں کر دے اور افواج پاکستان کے قیام امن کے دعوؤں کو سبوتاژ کر کے قوم کی رواں دواں زندگی کو تکلیف دہ بنا دے۔ قوم کو ان سازشوں سے کماحقہ‘ آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان سازشوں کو اپنے غیرمتزلزل حوصلوں کے ساتھ ناکام بھی بنانا ہے۔


قوم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کس طرح ایک دشمن ملک ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی ہم کروا رہے ہیں۔ ایسے معاملات میں بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ کوئی ملک دوسرے ملک میں کیونکر دہشت گردی کروا سکتا ہے۔ لاہور اور سیہون شریف ایسے ناقابل برداشت سانحات دشمن کے اس مائنڈ سیٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ مقامی عناصر دشمنوں کا آلہ کار نہ بنیں اور اپنی ہی سرزمین کی تباہی کے لئے سہولت کار کے طور پر استعمال نہ ہوں۔ عام لوگ اپنے آس پاس مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد پر نظر رکھیں اور یقین ہونے پر سکیورٹی حکام کو مطلع کریں۔


سکیورٹی فورسز اور ریاست اس وقت تک دم نہیں لیں گی جب تک اس ملک میں بسنے والے ایک ایک فردکی حفاظت کو یقینی نہیں بنادیا جاتا۔ اسی ضرورت کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ شروع کیا ہے جس کے تحت افواج، رینجر ز اور سول سکیورٹی ادارے ملک بھر میں کومبنگ آپریشن کر کے فسادیوں اور شرپسندوں کو نشان عبرت بنانے کے لئے سرگرداں ہیں تاکہ یہ پاک سرزمین پھر سے خوبصورتیوں اور روشنیوں کی ایسی علامت بن سکے جس کی قوم ترقی کر کے دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑی ہو سکے۔ اس کے لئے قوم کو اپنے اعصاب مضبوط رکھتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑے رہنا ہو گا کہ قوم جتنی مضبوطی اور حوصلے کا مظاہرہ کرے گی اس کی افواج اور سکیورٹی سے متعلق ادارے اتنی ہی تندہی اور جذبے کے ساتھ ملک دشمنوں کا قلع قمع کر سکیں گے۔

13
March

تحریر: مجاہد بریلوی

مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں sehwansharif.jpgاور چیختی بلبلاتی بچیوں سے لہو لہان ہو گئی۔ ابتدائی خبریں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اشارہ نہیں دے رہی تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمیوں نے دم توڑنا شروع کیا تو رات کے آخری پہر میں یہ تعداد 88کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ایک پروفیشنل صحافی کے ناتے، اور اس سے زیادہ افسردگی اور غم زدگی نے ایسا بے سکون اور بے چین کیا ہوا تھا کہ رات ہی کو سیہون جانے کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ایک تو کراچی سے حیدرآباد اور پھر سیہون تک اُدھڑی ہوئی سڑکیں اور اُن پر دیو قامت ٹرکوں اور ٹرالروں کا ایسا ہجوم تھا کہ سیہون پہنچتے پہنچتے دوپہر کا ایک بج گیا۔ سیہون شریف کا سارا بازار بند تھا اور مقامی آبادی سہمے ہوئے چہروں سے لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے ارد گرد سر جھکائے آنسو بہاتے نظر آئی۔ مگر جیسے ہی کیمرہ اُنکے سامنے آیا ڈرے سہمے سوگ میں ڈوبے لوگوں کی زبانیں دہشت گردوں کے خلاف آگ اُگلنے لگیں۔ میڈیا کی دی ایس این جی گاڑیاں اور مائیک بھی بس بریکنگ خبریں چلا رہے تھے۔ یہ اپیل نہیں کر رہے تھے کہ ڈاکٹر آئیں، خون دیں، ایمبولینسیں پہنچیں۔ ’’سائیں‘‘ ہم برباد ہو گئے، گھر اُجڑ گئے۔ چہار جانب سے یہی صدائیں آ رہی تھیں۔ مزار شریف کے اندر داخل ہوا تو مائیک کے سامنے زبان گنگ ہو گئی۔ خونی اعضاء کے لوتھڑے، اجرکیں، چادریں، جوتے اور چپلیں خون آلود۔۔۔ بتایا گیا کہ سکیورٹی کے اداروں نے سختی سے کہا ہے کہ کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو حتیٰ کہ فرش پر بُو دیتے خون کے دھبے بھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا کہ سرکٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ سخت سکیورٹی سے لگا کہ وزیر اعظم لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری بھی دیں گے۔ مگر گھنٹے بھر بعد معلوم ہوا کہ انٹیلی جنس نے اجازت نہیں دی۔


وزیر اعظم کی مزار شریف نہ آنے کی تصدیق ہوئی تو گھنٹوں سے انتظار کرتے زائرین کے لئے دروازے کھول دئیے گئے۔ ٹھیک اُسی وقت یعنی 24 گھنٹے پہلے 6 بج کر58 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھمال ڈالنے والوں کو خون میں نہلا دیا تھا۔ لعل شہباز کے عقیدت مند وجدمیں آکر اُسی وسیع وعریض احاطے میں دھمال ڈال رہے تھے۔ سخی شہباز قلندر۔۔۔ دما دم مست قلندر۔۔۔ یہ پیغام تھا دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کو جو ایک دہائی سے تعلیمی اداروں، بازاروں، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خودکش حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ’’اپنی شریعت‘‘ کی دہشت سے پوری قوم کو موت کی نیند سلا دیں گے۔ لعل شہباز قلندر کا مزار ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں عام دنوں میں تین چار ہزار اور جمعرات اور جمعے کو آٹھ دس ہزار زائرین محض اندورن سندھ ہی نہیں،سارے ملک سے آتے ہیں جو 88 زائرین شہید ہوئے اُن میں صرف 13کا تعلق سیہون شریف سے تھا۔ 35کا تعلق سندھ کے دیگر شہروں سے جبکہ باقی 40کا تعلق جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے تھا۔ خودکش حملوں میں ساڑھے تین سو زخمیوں میں سے بھی بیشتر کا تعلق سندھ سے باہر کے شہروں سے تھا اور یہ بات بھی اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہو کر موت کی نیند سونے والوں میں چار افراد کا تعلق ہندو اقلیت سے تھا۔ لعل شہباز قلندر کے مزار کے بیرونی احاطے سے نکل کر جب اندورنی دروازے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لعل شہباز قلندر کے مزار شریف پر کوئی آنچ آئی نہ ہی چھت پر لگے جہازی سائز فانوس کا کوئی شیشہ ٹوٹا۔ اتنے بڑے سانحے کے محض 20گھنٹے بعد سارا ماحول تبدیل ہوچکا تھا۔ خوف و دہشت کی جگہ دھمال ڈالتے زائرین کے تمتماتے چہرے اور سخی شہباز قلندر کی سر شاری میں ڈوبے زائرین کی دل دوز صدائیں۔ یہاں میں اپنے قبیلے یعنی میڈیا کے دوستوں سے یہ شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ اپنی ہر بریکنگ خبر میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کی تو ایک ایک بات پر لعنت ملامت کر رہے تھے مگر خود کش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کے بارے میں مصالحانہ اور عاجزانہ حد تک رویہ معذرت خواہانہ تھا اور یہ محض اس سانحہ کی بات نہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں ہونے والے 450 خودکش حملوں کے بعد
TALIBAN APOLOGIST
کایہی رویہ کم وبیش دیکھنے میں آیا۔ اب سے سال بھر پہلے تک تو یہ حال تھا کہ نام نہاد طالبان اور القاعدہ کے ترجمانوں کے باقاعدہ لائیو انٹرویوز گھنٹوں چلتے تھے جن میں وہ ہماری حکومتوں اور عوام کو درس دیتے کہ وہ اُن کی دہشت کی شریعت کے آگے سر خم کرلیں۔ میڈیا کا
TALIBAN APOLOGIST
حلقہ گو ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ایک حد تک حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنے لگا ہے مگر ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری قوم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہوچکے ہیں کہ یہ خود کش حملہ آور مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تو پھر ’’میڈیا‘‘ کے سرخیلوں کو بھی اپنی سوچ کو
Revisit
کرنا چاہئے کہ کم از کم دہشت گردی کے سوداگروں پر میڈیا اور قوم کو ایک آواز ہوناچاہئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

تحریر: سمیع اللہ خان

دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے کاثبوت بھی ہے۔ 2015-16 کے دوران ضرب عضب سے دہشت گردی میں 70فیصدکمی واقع ہوئی۔ اس سے قبل 2007اور 2009 میں سوات آپریشن اور 2011-12میں جنوبی وزیرستان آپریشن کے ذریعے بھی ان کی سرکوبی کی گئی۔ محدودوسائل‘ ازلی دشمن کی موجودگی‘ معاشی ناہمواریوں سمیت عالمی استعمارکی آنکھ میں کھٹکتے سی پیک منصوبے پردجالی قوتوں کے ناپاک عزائم سمیت ہرمشکل پر پاکستان کی بہادر افواج نے خوش اسلوبی سے قابو پایااوردیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں امن کی بحالی نظر آنے لگی۔ مگرہرسوپھیلی امن کی خوشبوانسانیت کے دشمنوں کونہ بھائی اورانہوں نے چیئرنگ کراسنگ لاہور‘کوئٹہ ‘مہمندایجنسی ‘ پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان آواران‘ چارسدہ اور سیہون شریف جیسے مقامات کو اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھا کر معصوم جانوں کے لہوسے ایسی ہولی کھیلی کہ انسانیت خون کے آنسورونے لگی۔ 5 دنوں میں ہونے والے ان 8واقعات میں سوسے زائد پاکستانی شہید ہوئے مگر پاکستانی باہمت ہیں۔ وہ جوابی وار بھی کریں گے اور جیت کر بھی دکھائیں گے۔
ٹونی موریسن امریکن ناول نگارہیں۔ ان کے ناول
Beloved
میں ایک کردار بے بی سگزکاہے جوسفید چمڑی والے جابروں کے خلاف اپنے ہم نسل کالوں کو اس بات پراکساتی ہے کہ وہ ان کے ظلم کا مسکراکرجواب دیں ۔ان کامسکرانا درحقیقت غاصبوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہوتاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دھماکے کے دوسرے روز شہباز قلندرکے عقیدت مندوں کادھمال
laughter as a resistance
ہے ۔جواس بات کابین ثبوت ہے کہ اس قوم کا مورال بلند ہے۔ گیارہویں صدی کا قلندرخود ہی فرماگیا


تو آں قتل کہ از بہر تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِخنجرِخوں خوارمی رقصم
(تم وہ قاتل ہو کہ محض تماشارچانے کو میراخون بہاتے ہو اورمیں وہ بسمل ہوں کہ خنجرِ خوں خوار تلے بے نیازی سے رقص کرتاہوں)

 

dehshatgerdikinai.jpgدہشت گردی کی اس نئی لہرکے تانے بانے جوڑنے کے لئے اگر واقعات کی کڑیاں ملائی جائیں توحقیقت کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ ان بہیمانہ کارروائیوں کے پیچھے کون سے بے حس ہاتھ کارفرماہیں۔ اتوارکوکراچی میں میڈیاکارکن کی شہادت کے بعد تیرہ فروری کو مال روڈ پر دھماکہ کیا گیا۔ اسی دن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ذریعے دوپولیس اہلکاروں کی شہادت اوراس کے کچھ ہی دیربعد بھمبرسیکٹرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ سے تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ دشمن کس قدرمنظم انداز میں پاکستان کے جسم کوایذاء پہنچارہاہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی مداخلت کے جوثبوت امریکہ اور اقوام متحدہ کو دیئے گئے تھے‘ ان پرتاحال کوئی تسلی بخش ایکشن نہیں لیا گیا جس کامطلب بھارت سمجھ گیا ہے ۔


مقبوضہ کشمیرمیں جاری اندرونی عوامی تحریک سے دلبرداشتہ بھارتی آرمی چیف کا بے بسی سے اسے اندرونی شورش تسلیم کرنا‘ پاک چائنا اکنامک کاریڈورہرحال میں سبوتاژکرنے کے بھارتی ممبران اسمبلی کے تابڑتوڑ بیانات‘ اپنے طفیلی ممالک سے پاکستان کے خلاف زہراگلوانے کی حالیہ بھارتی پالیسی یہ سب ثابت کررہے ہیں کہ دشمن فائنل راؤنڈکھیلناچاہتاہے۔ اس کے تمام ترارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی تمام تر کوششیں فزوں ترکرناہوں گی۔ پولیس‘ سی ٹی ڈی‘ سپیشل فورس اور نیکٹاکو ازسرنوتشکیل دینا ہو گا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکوریٹنگ کے چکرسے نکل کرعوام کو آگاہی دیناہوگی۔


لاہورسانحہ میں ڈی آئی جی مبین احمداورایس ایس پی زاہد گوندل سمیت پندرہ افراد شہید ہوئے۔ان افسران کی شجاعت اوربہادری نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔پنجاب حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان کا نیٹ ورک تلاش کیابلکہ سہولت کار انوارالحق کوبھی گرفتارکرلیاجس کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جبکہ حملہ آور کا تعلق افغانستان کے علاقہ کنٹر سے ہے ۔ اسی طرح پشاورکے حیات آباد کے حملہ آور کی ملافضل اللہ کے ساتھ تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔ جمعرات کوسیہون شریف میں لعل شہباز قلند رکے دربار پر خود کش حملے میں 88 افراد کی شہادت ہوئی اور343زخمی ہوئے۔دھماکے میں مسلمانوں سمیت 3 ہندو بھی چل بسے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی صوفی درگاہیں ہر مذہب کے پیروکاروں کوروحانی تسکین پہنچاتی ہیں اور یہ بھی کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتاوہ بغیرکسی تمیزکے حملہ کرتے ہیں۔ اس قدر شدید نقصان کاازالہ توممکن نہیں لیکن اس سانحۂ عظیم نے قوم کے حوصلے مزید بلند کر دیئے ہیں اوروہ فوری اوربے رحم کارروائی کے متمنی دکھائی دے رہے ہیں ۔


پاکستان میں زیادہ تردہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور انڈس ہائی وے کااستعمال کرتے ہوئے دوسرے علاقوں تک پہنچتے ہیں ۔یہی انڈس ہائی وے اندرون سندھ سے گزرتی ہے ۔
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا ایک دھڑا جماعت الاحرارملوث ہے جوکہ ببانگ دہل اپنی مذموم کارروائیوں کا اعتراف کررہاہے ۔اس کی لیڈرشپ افغانستان میں موجودہے ۔اسے پاکستان میں لشکرجھنگوی کی اعانت حاصل ہے اور کچھ حصہ داعش سے بھی مددلیتاہے جبکہ دوسری جانب اس کی کڑیاں تحریک طالبان افغانستان تک بھی جاتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ داعش کاپھیلتاہوانیٹ ورک الاحرارکی دیدہ دلیری اور ہمسایہ ملک کی ریشہ دوانی ہمیں اس بات پر مجبورکررہی ہے کہ ہم افغانستان کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوارکریں اوراس کے ساتھ ساتھ عالمی استعمارکی شطرنج کی بازی اوردورُخے پن سے بھی خبرداررہیں۔ لیکن ہمیں ایک قومی بیانیہ اپنانے کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔راقم گزشتہ برس کے دوران مختلف مقامات پر دینی وعصری علوم کی درسگاہوں کے طلباء سے دہشت گردی کے موضوع پر گفتگو کرتا رہا ہے۔ ان میں سے بیشترایسے تھے جو ٹی ٹی پی کو تو غلط قراردے رہے تھے لیکن شام‘ عراق اوردیگرمسلم ممالک میں متحرک عسکری گروہوں کودبے لفظوں میں حق بجانب قرار دے رہے تھے۔ان کے ذہنوں سے ابہام دورکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ریاست کی حفاظت کرنی ہے یامسلم امہ کی ؟مسلم امہ کی حفاظت سرحدوں کی محتاج نہیں اوریہی وہ بیانیہ ہے جس کی بنیاد پر نجی عسکری گروہ معاشی‘ اخلاقی وافرادی قوت حاصل کرتے ہیں ۔جب تک ہم اس بیانیے کامتبادل قومی بیانیہ دین میں تلاش نہیں کرلیتے ان گروہوں کوشعوری و لاشعوری مدد ملتی رہے گی۔ دوسرے، پاکستان میں کچھ مسلم ممالک فرقہ واریت کی بنیاد پر اپنی اپنی پراکسی وارلڑ رہے ہیں ۔ اس کاسدباب مذہبی لٹریچر کی کڑی نگرانی اور مدارس کا ایک نصاب بنا کر کی جاسکتی ہے۔ہمیں سخت ایکشن لیتے ہوئے فقہ کی کتابوں میں سے کسی بھی مذہبی گروہ کی اکابرہستیوں کے خلاف نازیباالفاظ کو کتاب بدر کرنا ہو گا۔ مساجدمیں سرکاری خطیب ومؤذن کی تقرری سمیت تعلیمی اداروں میں ایسی فضا قائم کرنا ازحدضروری ہے جس سے انتہاپسندی کے ناسورکوپنپنے کی جگہ نہ ملے۔


پاکستان آرمی چیف قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ ہم خون کے ایک ایک قطرے کاحساب لیں گے ۔انہوں نے افغانستان میں موجودریزولیوٹ سپورٹ مشن
(Resolute Support Mission)
کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن کوپاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کاکہناہے کہ افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیومیں طلب کرکے ان 76دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جو پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ انھیں واضح اور دوٹوک اندازمیں کہا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں وگرنہ پاکستان خود کارروائی کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں مجرموں کے باہمی تبادلے پرمستقل قانون سازی کی جائے تاکہ اس عفریت کے پنپنے کے تمام راستے ہمیشہ کے لئے مسدودکئے جاسکیں۔


افغانستان کی اسمبلی ہم آواز ہوکرپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے۔ یہ صرف سابق صدرحامدکرزئی اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ کی ہی پالیسی نہیں بلکہ اس میں بھارت کی ایک عشرے کی چانکیانہ پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ پاکستان 2004کے بعد افغانستان کی تمام تر پالیسی امریکہ پر چھوڑ کربے نیازہوگیامگربھارت نے اپنااثرورسوخ بڑھاناشروع کردیا۔ویزہ پالیسی میں نرمی کی افغان طالب علموں کو اپنی جامعات میں جگہ دینے کے ساتھ ساتھ افغان کابینہ کے اخراجات برداشت کرنے کا بِیڑا بھی اٹھایااوراس طرح پاکستان مخالف کابینہ اورپالیسی کی تشکیل میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا۔


جبکہ دوسری جانب پاکستان کی مسلسل پکارکے باوجود افغانستان نے ٹی ٹی پی کے گروہوں کے خلاف ایکشن نہیں لیاکیونکہ وہ چانکیانہ دلدل میں دھنستے جارہے تھے اورپاکستان بھی طالبان اورافغان حکومت کے درمیان متوازن پالیسی پر کاربند رہنے پرمجبورتھا۔پاکستان اورافغانستان کے مابین 124برس پہلے کی کھینچی گئی ڈیورنڈلائن پربارڈرسیفٹی مینجمنٹ کے نام سے پابندیوں نے دوریوں میں مزید اضافہ کیا لیکن پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہ تھا کیونکہ افغان حکومت مسلسل بے نیازی برت رہی تھی۔ 2014میں بھی پاکستان نے افغانستان کو کمیونیکیشن ٹاورزکی معلومات شیئرکرنے کی درخواست کی لیکن اس پر بھی تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ افغانستان اس ضمن میں ہاتھ بڑھائے تاکہ دونوں ممالک میں امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ ہردوممالک کاامن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ افغان مہاجرین کی نقل وحمل کی کڑی نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس میں موجود را کے ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔

 

اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔


عالمی منظرنامے پرنظردوڑائی جائے تو ماضی قریب میں افغانستان اورپاکستان سمیت اس خطے میں بلیک واٹرنامی امریکن تنظیم کے ہزاروں کارکن امریکن مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گئے۔اس تنظیم کے مالک ایرک پرنس جسے جیرمی سکاہل جیسے لکھاری جنونی عیسائی کہتے ہیں اس وقت ڈونلڈٹرمپ کابینہ کی تشکیل میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔ ان کی بہن وزیرتعلیم جیسااہم عہدہ پر فائز ہیں۔اس سارے منظرنامے میں جہاں امریکہ میں سچ اورجھوٹ کے درمیان لکیرواضح ہوتی جارہی ہے وہیں ٹرمپ کی داعش کے خلاف شام اورعراق میں کارروائیاں اسے افغانستان اور پاکستان کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔ اس باراستعماری قوتیں پاکستان کے محروم وپسماندہ طبقات کواپناآلہ کاربناتے ہوئے لسانی وعلاقائی تعصبات سے بھی افرادی قوت حاصل کرسکتی ہیں۔ ہمیں ہرحال میں نیکٹاکوفعال کرناہوگا۔وزیراعظم کو اس کے باقاعدگی سے اجلاس بلاکرکارکردگی کوبہتربنانے کے لئے مثبت جامع اور دیرپالائحہ عمل تشکیل دیناہوگا۔


اگر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تو سندھ وپنجاب سمیت پورے ملک میں اس کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے ۔ کوئی ایسا دن نہیں جب اس نے کارروائی نہ کی ہو۔ مرکزی حکومت نے صوبائی سطح پرسویلین کاؤنٹر ٹیررازم فورس بنائی ہے جو آٹھ ہزارنفوس پرمشتمل ہے۔سی ٹی ڈی نے بروزجمعہ پنجاب کے شہرسرگودھامیں دودہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔ اسی طرح کراچی میں دہشت گردوں کوپکڑ کربڑی مقدارمیں اسلحہ برآمدکیا۔ ہفتہ کے روزلیہ میں الاحرارگروپ کے پانچ دہشت گردوں کوہلاک کرکے اسلحہ برآمدکیاگیا۔


اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔ فوجی عدالتوں کو ایکسٹینشن دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں ججز کے لئے سکیورٹی کا انتظام اوراس سسٹم میں مزید بہتری کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اپناناہوگی تاکہ آنے والی حکومتوں کو ان عارضی عدالتوں کے سہارے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
فاٹاکوکے پی کے میں ضم کئے بغیرچارہ نہیں ۔ہم کب تک 27ہزارمربع کلومیٹرکے اس علاقے کو انگریز حکومت کی طرح چلائیں گے جس کی ایک کروڑ قبائلی آبادی پاکستان سے والہانہ محبت کرتی ہے ۔ہمیں فاٹامیں عصری علوم کو اس قدرعام کرناہوگاکہ دنیاکی رائے اس کے متعلق بدل جائے اورکوئی بش، کوئی مائیکل ہیڈن (سابق ڈائریکٹرسی آئی اے)یامائیک مولن اس خطے کے متعلق ہرزہ سرائی نہ کرسکے۔


جمعے کے روز پاکستان نے افغانستان میں پہلی کارروائی کرتے ہوئے مہمند اور خیبرایجنسی کے دوسری طرف بنائے گئے الاحرارگروپ کے تربیتی مرکزسمیت چار کیمپوں کو نشانہ بنایاجس میں متعدد دہشت گردمارے گئے۔جماعت الاحرارکے ڈپٹی کمانڈرعادل باچہ کے کیمپ پربھی ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔ اندرون ملک کارروائی کرتے ہوئے سوسے زائد دہشت گردوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی طرح ہفتے کے روز کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے خودکش بمباروں کے تربیت کار رحمان باباسمیت بیس کے قریب دہشت گردافغانستان کی سرحدمیں ہلاک کردیئے۔ افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر ابرارحسین کو طلب کرکے کنٹراورننگرہارمیں ہونے والے حملے پر تشویش کااظہارکیاجسے پاکستانی سفیرابرارحسین نے مستردکرتے ہوئے پاکستانی موقف کومدلل اندازمیں پیش کیا کہ کس طرح علاقائی مفاد کی خاطرایک شرپسند ملک پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال کررہاہے۔افغان نائب وزیرخارجہ نے پاکستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے طورخم اورچمن سے پاک افغان سرحدکھولنے کے ساتھ ساتھ150 افغان باشندوں کی رہائی کامطالبہ بھی کیا۔ یاد رہے ہفتے کی رات کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے 330 مشتبہ افراد کوگرفتارکیاتھا جن میں غیرملکی بھی شامل ہیں ۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی


نیٹوکے ترجمان نے پاک افغان کشیدگی پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اس کے مناسب حل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔امریکی دفترخارجہ کے قائم مقام ترجمان مارک ٹونرنے بھی دہشت گردی سے ہونے والے پاکستانی نقصانات پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔


آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی ۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں افواج اور ملک کی عوام مل کر لڑاکرتے ہیں اورجس ملک کی عوام میں غیورباہمت اوردادشجاعت دینے والے افراد، سپاہی اور افسرموجود ہوں وہ کبھی بھی دہشت گردوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکتی۔ دہشت گردی کی حالیہ لہران بچے کچھے دہشت گردوں کی موت ثابت ہورہی ہے جو اپنی بلوں میں گھسے ہوئے تھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
13
March

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:14

پکے راگ
اگست 2012 میں جب ہم نے مجاہد آرٹلری کی ایک مایہ ناز فیلڈ یونٹ کی کمانڈ سنبھالی تو وہ کشمیر جنت نظیر کے حسین پہاڑوں پر ڈیپلائے تھی۔ ہمارا ہیڈکوارٹر ایک الگ تھلگ جگہ پر واقع تھا۔ نہایت دلکش لینڈ سکیپ پر مشتمل وادی کے بیچوں بیچ واقع ہمارا میس بھی اپنی مثال آپ تھا۔ فیملی کا جھنجھٹ بھی نہ تھا کہ دو ہفتے کے بعد ویک اینڈ پر دو دن کے لئے گھر کا رخ کرنے کی اجازت ملا کرتی تھی۔ غرض قدرت کی عنایات کی کمی نہ تھی لیکن مسئلہ فقط یہ تھا کہ ان سب نعمتوں سے استفادہ کیسے کیا جائے۔ شمشیر و سناں پر کافی وقت صرف کر نے کے باوجود بھی ہمارے پاس بہت سا فارغ وقت بچ جاتا تھا جسے ہم نے حسبِ قاعدہ طاؤس و رباب میں صرف کرنے کا فیصلہ کیا۔


پہلے قدم کے طور پر شام کو تمام افسروں پر میس میں حاضری لازم قرار دے دی گئی ۔ میس میں کسی قسم کی فائل یا موبائل فون لانا بھی سختی سے منع قرار پایا تاکہ یکسوئی کا ماحول پیدا کیا جاسکے۔ لارج سکرین ایل سی ڈی میس میں پہلے ہی سے موجود تھی جسے انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک کر کے اس پر من پسند نغمے چلائے جانے کی سہولت بہم پہنچائی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ ایک کنگ سائز کی لکڑ ی کی سکرین بھی بنوائی گئی جس پر سفید پینٹ کر کے باہر لان میں نصب کر دیا گیا۔ شام کے وقت پروجیکٹر کی مدد سے اس سکرین پر بھی پرانے گیت اور غزلیں چلائی جانے لگیں۔ غرض چند ہی دنوں میں میس میں پکے راگوں اور پرانی فلموں کا دور دورہ ہوگیا۔

targittargitmarch17.jpg
ہمارے ہردلعزیز ٹو آئی سی کو بھی موسیقی سے خصوصی شغف تھا اور یہ تمام کارروائی انہی کی سرکردگی میں ہوا کرتی۔شمشیر و سناں اور طاؤس و رباب کا یہ حسین امتزاج کچھ اس طرح سے رنگ لایا کہ اچانک یونٹ نے فارمیشن میں پے درپے مقابلے جیتنا شروع کر دئے۔ چند ماہ بعد ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یونٹ بریگیڈ سے لے کر کور تک تمام مقابلوں میں فاتح قرار پائی۔ باقی یونٹوں کے افسران ہماری یونٹ کی شاندار اور چھپر پھاڑ قسم کی کامیابیوں پر رشک کرتے اور اس کے پیچھے چھپے راز سے پردہ اٹھانے کی کھوج میں مبتلا رہتے۔ ہم بھی انہیں مزید پریشان کرنے کے لئے کہہ دیا کرتے کہ قدرت کی یہ خاص عنایت پکے راگوں کی بدولت ہے جسے وہ بظاہر سچ سمجھ لیتے۔


اس علاقے میں دو ایک مقامی گلوکار بھی پائے جاتے تھے جن کو خاص خاص مواقع پر میس میں لائیو پرفارم کرنے کے لئے بلایا جاتا تھا۔ ایک دن ایسے ہی ایک خاص موقعے پر ہم نے پورے بریگیڈ کے افسروں اور فیمیلیز کو کمانڈر کے ہمراہ کھانے پر مدعو کیا۔جس مقامی گلوکار کو پرفارم کرنے کی دعوت دی گئی اس نے عین وقت پر طبیعت کی خرابی کے باعث آنے سے معذرت کرلی البتہ طبلہ نواز کو بھجوا دیا۔فنکشن شروع ہونے والا تھا اور ہمارے پاس کوئی آپشن باقی نہیں بچا تھا۔ مشکل کو بھانپتے ہوئے ہمارے ٹو آئی سی نے ایک دوسرے بیٹری کمانڈر کے ساتھ مل کر یہ مہم سر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ مہمان خصوصی تشریف لائے تو ہم نے انہیں آگاہ کردیا کہ گلوکاری کا مظاہرہ ہمارے اپنے گلوکار کریں گے۔


ٹو آئی سی نے جب ’’یاد پیا کی آئے‘‘کی تان اٹھائی تو ایک نرالا سماں بندھ گیا اور استاد بڑے غلام علی خان کی یاد تازہ ہو گئی۔انہوں نے دو عدد ٹھمریاں گا کر بریک لی تو دوسرے میجر صاحب نے مہدی حسن اور غلام علی کی غزلیں گا کر داد سمیٹنا شروع کردی۔رات گئے تک غزلوں ، ٹھمریوں اور دادروں کا سلسلہ جاری رہا۔ آخر میں طبلہ نواز ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور بولا’’حضور ہم جدی پشتی خان صاحب لوگ ہیں لیکن آپ جیسی تانیں تو ہمارے دادا پردادا بھی نہیں لگا سکتے۔‘‘ ہماری کمانڈ کے دوران بے شمار شیلڈز ، ٹرافیاں اور انعامات یونٹ کے نام ہوئے جن پر ہم آج بھی فخر کرتے ہیں لیکن ایک صاحبِ فن کی جانب سے یہ منفردخراجِ تحسین بھی بہت بڑے اعزاز کی بات ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ہاں مگر سچائی اور فن کا معیار اپنا اپنا


مشین کا دل
بچپن میں بڑے بوڑھوں سے سنا تھا کہ کسی کا دل دکھانا بہت بری بات ہے۔ یہاں تک تو ہم مانتے ہیں کہ اس ’’کسی‘‘ میں انسانوں کے ساتھ ساتھ بے زبان جانوروں کا بھی شمار کیا جاتا تھا لیکن یہ یاد نہیں پڑتا کہ کسی مشین کا دل دکھانے کے بارے میں کبھی کسی بزرگ نے ہمارے سامنے بھولے سے بھی کچھ ارشاد فرمایا ہو۔ ہم بہرحال خود ایک ایسی ہی صورتحال کا شکار ہوئے جس میں ہم نے ایک مشین کا دل دکھایا اور اس کے فوری نتائج بھگتنا پڑے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کے پاس ایک عدد سوزوکی موٹر سائیکل تھی جو انہوں نے ہماری پیدائش سے بھی پہلے خریدی تھی۔ سن 2003 میں یہ موٹر سائیکل اپنی عمر کی تیس بہاریں دیکھ چکی تھی اور اس لحاظ سے اسے بزرگ موٹر سائیکلوں کی کیٹیگری میں شامل ہوئے بھی ایک عرصہ بیت چکا تھا۔ والد صاحب کی اس موٹر سائیکل سے محبت اور اپنائیت دیدنی تھیں اور وہ اسے جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔


ہمارا معاملہ البتہ ذرا سا مختلف تھا۔ زمانہ طالب علمی کے دوران جب ہم اس موٹر سائیکل پر بیٹھ کر دوستوں کے گھر جاتے تو وہ آواز سن کر دودھ والے برتن اٹھا کر باہر آ جاتے۔ اب بھلا اس میں ہمارا کیا قصور کہ ہماری موٹر سائیکل کی آواز ان موٹر سائیکلوں سے ملتی جلتی تھی جو ان دنوں زیادہ تر گوالوں کے زیرِ استعمال ہوا کرتی تھیں۔جب اس طرح کے واقعات کثرت سے وقوع پذیر ہونے لگے تو ہم نے عوام الناس کومزید شبہے میں ڈالنے کے بجائے موٹر سائیکل کی سواری سے کنارہ کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔البتہ والد صاحب سے ہم نے کئی مرتبہ اصرار کیا کہ آپ نئی موٹر سائیکل خرید لیں، جس کا جواب ان کی طرف سے یہ آتا کہ ’’برخوردار! میری موٹر سائیکل جاپان اسمبلڈ ہے اور اس میں اصلی جاپانی پرزے لگے ہوئے ہیں۔ اس کا آج کل کی پاکستان اسمبلڈ موٹر سائیکلوں سے بھلا کیا مقابلہ۔‘‘ ان کی اس دلیل کے سامنے ہم اور موٹر سائیکل بنانے والے ادارے دونوں یکساں طور پر بے بس تھے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اس ’’عفیفہ‘‘ کے اصلی جاپانی پرزوں میں سے شاید ہی کوئی اپنی اصل صورت میں باقی بچا ہو۔


ہمارے شہر میں ان دنوں ایک پرانا مستری ہوا کرتا تھا جو اس قسم کی موٹرسائیکلوں کی مرمت کیا کرتا تھا۔ ہماری موٹر سائیکل سال میں سے چھ مہینے اس مکینک کے زیرِ علاج رہ کر گزارتی۔ والد صاحب اس مستری پر اعتماد تو بہت کرتے تھے لیکن مرمت کا کام ہمیشہ اپنے سامنے بیٹھ کر ہی کرواتے۔ دراصل ان کو یہ خوف لاحق تھا کہ مستری موٹر سائیکل کے اصلی پرزے نکال کر ان کی جگہ نقلی پرزے فٹ نہ کر دے۔ اس موٹر سائیکل کو والد صاحب نے کبھی تالا لگوانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ دن ہو یا رات اس کو چوروں سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔بالفرض محال اگر کوئی چور اسے اٹھانے کی غلطی کر بھی لیتا تو ہاتھ جوڑ کر واپس کرجاتا۔ ٹریفک کے سپاہی بھی اس کو دور سے ہی سلیوٹ کرنے کے بعد راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ کبھی کبھار والد صاحب اپنی موٹر سائیکل کا ایک اور فائدہ بھی گنوایا کرتے تھے ،وہ یہ کہ سن رسیدگی کے باعث اس کی سالانہ ٹوکن فیس بھی معاف ہو چکی تھی جبکہ ظاہر ہے کہ یہ شاندار سہولت بھی نئی موٹر سائیکلوں کو ہرگز حاصل نہیں تھی۔


2002 کے اوائل میں ہماری پوسٹنگ سکول آف آرٹلری میں ہوگئی۔ ہم نے قبلہ والد صاحب سے گزارش کی کہ ہمارے ساتھ رہ کر خدمت کا موقع دیا جائے۔ وہ پہلے تومصروفیات کا بہانہ بنا کر ٹالتے رہے لیکن پھر اس شرط پر رضامند ہوئے کہ پہلے ان کی عزیز از جان موٹرسائیکل کوبھی نوشہرہ منتقل کیا جائے۔ ہم نے ریلوے والوں کے تعاون سے ان کی یہ خواہش پوری کی تبھی والد صاحب نے نوشہرہ آنے کی ہامی بھری۔ موٹر سائیکل نوشہرہ تو پہنچ گئی لیکن یہاں پر اسے شدید اکیلے پن کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ نہ تو وہاں اس قبیل کی کوئی اور موٹرسائیکل موجود تھی اور نہ ہی اس کے دکھ درد جاننے والا کوئی مستری۔ سن رسیدگی کے باعث اس میں اور مسائل تو پیدا ہوئے ہی تھے ایک مرضِ شدید نے نوشہرہ پہنچ کر اسے آن لیا۔ وہ یہ کہ موٹر سائیکل کے انجن سے قطرہ قطرہ انجن آئل ٹپکنا شروع ہو گیا۔ ہم نے والد صاحب کے ساتھ مل کر بہتیری کوشش کی لیکن کسی بھی طرح اس کا علاج ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ موٹر سائیکل کو استعمال کے بعد عموماً گھر کے باہر برآمدے میں کھڑا کیا جاتا تھا۔ کچھ ہی دنوں میں برآمدے کی سطح انجن آئل کے داغوں سے بھر گئی۔ بیگم صاحبہ کو اس پر شکایت پیدا ہونا قدرتی امر تھا لیکن حفظِ مراتب کی وجہ سے اس بات کا اظہار کھلے عام نہیں کیا جا سکتا تھا چنانچہ دل ہی دل میں بھڑاس نکال لیا کرتی تھیں شاید


ان دنوں ایک عدد سیکنڈ ہینڈ سوزوکی مہران ہمارے زیر استعمال ہوا کرتی تھی۔ بیگم کا اصرار تھا کہ ان کو بھی ڈرائیونگ سکھائی جائے تاکہ وہ بچوں کو سکول سے لانے‘ لے جانے اور دیگر روزمرہ کے امور ہماری غیر موجودگی میں سہولت کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔ ہم نے جان چھڑانے کی ازحد کوشش کی لیکن بیگم کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہی بنی اور ایک دن ہم انہیں ڈرائیونگ سکھانے کے لئے اے ایس سی سکول کے ڈرائیونگ ٹریک پر لے جانے کے لئے راضی ہو ہی گئے۔ گھر سے قدم باہر نکالا تو برآمدے میں کھڑی موٹر سائیکل پر نظر پڑی جس سے انجن آئل رس رس کر فرش پر بہہ رہا تھا۔ بیگم کو موقع ہاتھ آ گیا اور انہوں نے چلتے چلتے موٹر سائیکل کو سخت سست سنانا شروع کردی۔ ہم نے انہیں چپ کروایا اور گاڑی میں بٹھا کر ڈرائیونگ ٹریک کی راہ لی۔ ڈرائیونگ ٹریک شہر کے مضافات میں پتھریلے علاقے کو صاف کر کے بنایا گیا تھا۔ ہم نے بیگم کو سٹیئرنگ ، کلچ، گئیر ، ایکسیلیٹر اور بریک وغیرہ کے بارے میں کچھ دیر سمجھانے کے بعد گاڑی ان کے حوالے کر دی۔ انہوں نے ہماری ہدایات کے مطابق آہستہ آہستہ چلاتے ہوئے ٹریک کے دو چکر مکمل کئے۔ تیسرے چکر میں نہ جانے کیوں گھبرا کر انہوں نے ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا جس کے باعث گاڑی نے رفتار پکڑ لی۔ جس کے نتیجے میں سٹیئرنگ بھی قابو میں نہ رہ سکا اور گاڑی آناً فاناً ٹریک سے اتر کر سائیڈ پر موجود بڑے بڑے پتھروں پر چڑھ کر رک گئی۔


ہم نے وہاں موجود گارڈ کی مدد سے گاڑی کو دھکا لگا کر پتھروں سے نیچے اتارااور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی۔ گاڑی کو بظاہر تو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا لیکن اتنا شدید دھچکا کھانے کی وجہ سے اس کی چال ڈھال میں فرق ضرور آ گیا تھا۔ ہم نے وہاں سے سیدھا ایک ورکشاپ کا رخ کیا۔ معائنے کے بعد انکشاف ہوا کہ باقی سب تو ٹھیک تھا لیکن غیر معمولی رگڑ کھانے کے باعث گاڑی کے انجن آئل والے کنٹینر میں معمولی سا کریک پڑ گیا تھا جس سے انجن آئل قطرہ قطرہ رِسنا شروع ہو چکا تھا۔ مستری نے بہرحال تین گھنٹے اس کی مرمت میں صرف کرنے کے بعد ہمیں تسلی دی۔ ہم واپس گھر پہنچے اور گاڑی کو گیراج میں کھڑا کر دیا۔


صبح آفس جانے کے لئے گاڑی میں بیٹھنے لگے تو یہ دیکھ کر ہم نے سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا کہ گیراج کا فرش انجن آئل کے نشانات سے بھر چکا تھا۔ اس کے بعد ہم نے دور نزدیک کے مستریوں سے اس گاڑی کا بہتیرا علاج کروایا لیکن وہ مرض دور ہونا تھا، نہ ہوا۔ اس بات سے ہمیں یقین ہو گیا کہ ہو نہ ہو ہماری موٹرسائیکل ولایت کے درجے پر فائز ہو چکی تھی جس کا ذرا سا دل دکھانے کی اتنی بڑی سزا ہمیں بھگتنا پڑی۔
اس کے بعدسے ہم نے موٹر سائیکلوں سمیت جملہ اقسام کی مشینوں کا دل دکھانے سے توبہ کر لی۔ اس نیک فیصلے میں ہماری بیگم بھی ہم سے پوری طرح متفق تھیں۔


بیچلر سی او
یہ ان دنوں کی بات ہے جب لوگ سیر و تفریح اور شاپنگ کے لئے پشاور کا رخ کیا کرتے تھے۔ پی ایم اے میں جب ہماری پوسٹنگ اناؤنس کی گئی تو ساتھ ہی سٹیشن پشاور کینٹ بتایا گیا۔ یار لوگوں نے پشاور کی دلکشی کے قصے خوب مزے لے لے کر سنائے اور ہمارے شوق کو اور مہمیز کیا۔ لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ خلیل خان جب فاختہ اڑانے کے لئے پشاور پہنچے تو ہاتھوں کے طوطے فی الفور اڑ گئے۔ یہ جان کر ہمارے بن کھِلے ارمانوں پر منوں اوس پڑ گئی کہ ہمارے سی او بیچلر ہیں۔ فورسڈ بیچلر نہیں بلکہ سچ مچ کے، اصلی والے بیچلر۔ ان کے پاس پروفیشن کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا۔ ہم صبح سے لے کر شام تک یونٹ میں ان سے عزت افزائی کروانے کے بعد کمرے کا رخ کرتے تو احتیاط کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے کہ ساتھ والا کمرہ ان کا تھا۔ کھانا کھانے کے لئے میس کا رخ کرتے تو وہاں پر بھی ان کی پرہیبت شکل نظر آتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے اپنی سروس کا زیادہ تر حصہ انٹیلی جنس میں گزارا ہوا تھا اور ہر بات کی ٹوہ لگانا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ آرٹلری کا یہ کریلا جاسوسی کی نیم چڑھ کر حد درجہ کڑوا ہو چکا تھا۔


عام طور پر ان کو یہ خدشہ لاحق رہا کرتا تھاکہ افسران ان کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ عنایات صرف افسروں کے لئے خاص نہ تھیں بلکہ سارا زمانہ ان کے قدموں میں تھا کیا جے سی او، کیا این سی او اور کیا سپاہی کوئی بھی ان کی مہربانیوں سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ان کی کوشش ہوتی کہ لوگوں کو ہر وقت ڈرا سہما کر رکھا جائے اور اس قسم کا نظام تشکیل دیا جائے کہ ان کو پل پل کی خبر ملتی رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کوئی بھی طریقہ روا رکھنے کے قائل تھے۔


ایک مرتبہ ہم میس کے ٹی وی روم میں بیٹھے کھانا لگنے کا انتظار کر رہے تھے۔ یکایک ایک ویٹر نے چپکے سے آکر کان میں بولا کہ آپ کو سائیڈ روم میں کیپٹن جمیل اور لیفٹیننٹ کبیر یاد کر رہے ہیں۔ یہ دونوں افسران ہم سے دو ڈھائی سال سینئر تھے اور ان کا تعلق ایک دوسری یونٹ سے تھا۔ہم پہلے تو شش و پنج میں پڑ گئے کہ ان کو ہم سے آخرکیا کام آن پڑا ہے جو ہمیں تخلیے میں طلب کیا جا رہا ہے۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے سائیڈ روم میں پہنچے تو دیکھا کہ دونوں افسران ایک صوفے پر براجمان ہیں۔ ہم نے سلام کیا تو سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد لیفٹیننٹ کبیر نے پوچھا کہ سنا ہے کہ آج کل آپ کے سی او آپ پر بہت ظلم رو ا رکھے ہوئے ہیں۔ کیپٹن جمیل بھی ساتھ میں گویا ہوئے کہ آپ لوگ تو بہت سختی جھیل رہے ہیں۔ ایسے سی او کے ساتھ کام کرنا تو انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔ ہم کچھ دیر تو سنتے رہے پھر بولے ’’سر آپ لوگ ہوتے کون ہیں میرے سی او کے خلاف کوئی بات کرنے والے۔ ان جیسا قابل اور محنتی افسر روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہے۔ ہم انہیں دل و جان سے پیار کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات سننا ہمیں ہرگزگوارا نہیں۔معاف کیجئے گا !آپ لوگ مجھ سے بہت سینئر ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سینئر آفیسر کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس طرح سے بات کرنا اخلاقی اور قانونی تقاضوں کے عین منافی ہے اور اگر میں ان کو اس بارے میں مطلع کر دوں تو آپ دونوں کے خلاف سخت ایکشن بھی لیا جا سکتا ہے۔‘‘


ان دونوں افسران کو ہم سے اس قسم کی حق گوئی و بیباکی کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو ہم سے سی او کی برائیاں سننا چاہ رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ بالکل الٹ نکلا۔ بہرحال ہم تو اپنے سی او کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد سکون سے ڈائننگ روم میں پہنچ گئے۔ کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ سی او کا بیٹ مین پیغام لے کر پہنچ گیا کہ ہمیں یاد فرمایا جا رہا ہے۔ ہم سی او کے کمرے میں پہنچے تو انہوں نے کھڑے ہو کر ہمارا استقبال کیا۔ ہمارے لئے چائے منگوائی گئی اور جاتے ہوئے پندرہ دن کی چھٹی بھی عنائت فرمائی۔ بات دراصل یہ تھی کہ جب ہمارا انٹرویو لیا جا رہا تھا تو موصوف بنفسِ نفیس پردے کے پیچھے چھپ کر ساری باتیں سن رہے تھے اور انہوں نے خود ہی ان دونوں افسروں کو اس واہیات کام کے لئے تیار کیا تھا۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ وہ ساری برائیاں جو ہم ان کی پیٹھ پیچھے کیا کرتے تھے، وہ اپنے کانوں سے سن سکیں۔ لیکن ہمارے منہ سے برائی کے بجائے اپنی اس قدر تعریف سننے کے بعد ہمارے بارے میں ان کا موقف یکسر تبدیل ہو گیا۔ اب ان کو پوری یونٹ میں ہم سے زیادہ لائق افسر کوئی اور نظر نہیں آتا تھا۔


(اب آپ سے کیا چھپائیں کہ ویٹر نے ہمیں پیغام دیتے ہوئے کان میں یہ بھی کہہ دیا تھا’’سر! سی او صاحب پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ آپ بات چیت کرتے ہوئے احتیاط کیجئے گا۔)

...جاری ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
13
March

تحریر: خورشیدندیم

یہ تاریخی واقعہ ہے کہ انسان اجتماعی صورت میں رہتے ہیں۔ ابنِ آدم کی معلوم تاریخ اسی کی تائید کرتی ہے۔ سماج کا نام ذہن میں آتے ہی اجتماعیت کا تصور سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اجتماعیت کیسے وجود میں آئی؟َ


انسانی تاریخ کا مطالعہ ایک دوسری حقیقت کی نشان دہی بھی کرتا ہے۔ جیسے جیسے انسانی سماج ارتقاء کے مراحل سے گزرتا گیا، انسانوں کے ایک سے زیادہ اجتماع پیدا ہوئے۔وقت آگے بڑھاتوانسانوں کے کئی گروہ بن گئے اور یہ ایک دوسرے سے متصادم بھی ہوئے۔ ہمیں ایک خطۂ زمین میں لوگوں کے کئی گروہ ملتے ہیں جو ایک طرف ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور دوسری طرف مخالف۔ گروہ سے گروہ برسر پیکار ہے اور یہ بات بھی ہمارے مشاہدے اور تجربے میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا قدرِ مشترک ہے جو انسانوں کو ایک گروہ کی شکل دیتی ہے اور انہیں کسی دوسرے گروہ سے ممتاز کرتی ہے؟


عمرانیات اور سیاسیات میں یہ سوال صدیوں سے زیر بحث ہے۔ عمرانیات کے ماہرین نے جب قدیم انسانی سماج کا مطالعہ کیا تو اس کے اسباب تلاش کیے کہ لوگ کیسے ایک گروہ کی صورت میں منظم ہوئے، قدیم قبائلی معاشرت کیسے وجود میں آئی۔ ارسطو جیسے لوگوں نے انسان کو سماجی حیوان قرار دے کر ، اجتماعیت کی خواہش کو انسان کا فطری وصف قرار دیا۔ اہل علم کے نزدیک یہ ضروریات ہیں یا بقا کی جبلت ہے جس نے انسان کو انسان کے قریب کیا۔ اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ اجتماعیت کی صورتیں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ قبیلے سے ایک جدید قومی ریاست تک، اس تبدیلی اور ارتقاء کے مختلف مدارج، مراحل اور صورتیں ہیں۔ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ اس اجتماعیت نے اگر انسانوں کو کسی مشترکہ مفاد کی خاطر جمع کیا ہے تو انسانوں کے مختلف گروہوں کے مفادات میں پیدا ہونے والے تصادم نے انسانوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ دو عالمی جنگیں ایک طرف کروڑوں افراد کے لئے موت کا پیغام لے کر آئیں اور دوسری طرف بعض اقوام نے اس پر فتح کے جشن بھی منائے۔

 

جغرافیے کی طرح مذہب بھی تاریخ میں اجتماعیت کی ایک اہم اساس رہا ہے۔ دور جدید میں پاکستان اسی اجتماعی اساس پر قائم ہوا۔ ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں، ایک خود مختار سیاسی اجتماعیت کی خواہش، جس کی بنیاد مذہب پر تھی، ایک اجتماعی شناخت کی بنیاد بن گئی۔ چنانچہ علاقائی عصبیتوں پر اس بڑی عصبیت نے غلبہ پا لیا۔

اس باب میں تو دوسری رائے نہیں کہ اجتماعیت امر واقعہ ہے، لیکن یہ وجود میں کیسے آتی ہے؟ اس کا کوئی واضح جواب ابھی تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ابن خلدون نے عصبیت کو اجتماعیت کی اساس قرار دیا لیکن یہ عصبیت کیسے وجود میں آتی ہے، اس کا کوئی جواب ان کے پاس بھی نہیں تھا۔ اس سے پہلے یونانیوں نے انسانی نسل کو اجتماعیت کی اساس مانا۔ ’ نیشن کا تصور یونانی لفظ نیشو سے وجود میں آیا، جس کے لغوی معنی، پیدا ہونا ہے۔ ان کے ہاں نسل اور جائے پیدائش کا اشتراک اجتماعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ فرانسیسی مفکر رینان کو اس سے اتفاق نہیں۔ وہ زبان یا نسل کو ’ نیشن ‘ یا اجتماعیت کی بنیاد نہیں سمجھتا۔ اس کے نزدیک جو امر لوگوں کے اجتماع کو ایک ’ نیشن ‘ بناتا ہے وہ یہ ہے کہ ماضی میں کچھ لوگوں نے متحد ہو کر کسی عظیم مقصد کو حاصل کیا ہو اور مستقبل میں وہ اس کا ارادہ رکھتے ہوں۔ سپینگلر بھی مادی اساسات کے مقابلے میں روحانی اساس کو اجتماعیت کی مضبوط تر بنیاد قرار دیتا ہے۔


اہل علم کے یہ نظریات اگر پیش نظر رہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسانوں کے مابین کئی طرح کی اقدار مشترک ہوتی ہیں۔ ان میں رنگ ، نسل، جائے پیدائش اور مذہب شامل ہیں۔ یہ بعض تاریخی عوامل اور واقعات ہیں جو کسی ایک قدر کو ایک مضبوط بندھن کی صورت دے دیتے ہیں۔ یہ بندھن انسانوں کے ایک گروہ کو جمع کر دیتا ہے اور وہ ان کی دوسری مشترکہ اقدار پر غالب آ جاتا ہے۔ یوں وہ اس مشترکہ قدر کو اپنی اجتماعی شناخت کے طور پر قبول کر لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کا کوئی دو ٹوک جواب موجود نہیں، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ایسا ہوتا ہے اور یوں لوگ منظم ہو جاتے ہیں۔

 

انسانی تاریخ میں ایک مذہب کو ماننے والے ،اس سے پہلے بھی ایک اکائی کی صورت میں منظم رہے ہیں۔ اسلام بھی اسی اجتماعیت کو تسلیم کرتا اور اس اجتماعیت کو ملت قرار دیتا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا ہے کہ ملت ایک روحانی وحدت ہے یا سیاسی وحدت؟ عملاً تو یہ ایک روحانی وحدت ہے۔ مسلمان عرب کا ہو یا عجم کا، ایک ملت کا رکن ہے۔ اسی طرح مسیحی کہیں بھی رہتا ہو، دوسرے مسیحی کے ساتھ مل کر ایک ملت بناتا ہے۔ سیاسی وحدت ایک الگ عمل ہے جو حالات کے تابع ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ’ قومی ریاست‘ کا جو تصور ابھرا، اس میں ’وطن‘ کو اجتماعیت کی اساس کے طور پر قبول کر لیاگیا۔ دنیا بھر میں اس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور ایک دوسرے کے قریب بھی۔ بعض علاقوں میں زمین اور نسل، دونوں عصبیتیں مل گئیں جس نے ایک زیادہ مضبوط بندھن کو جنم دیا۔ وقت نے ارتقاء کے مراحل طے کئے اور لوگوں نے مختلف اسباب سے نقل مکانی اختیار کی تو جدید ریاست میں ’ شہریت ‘ کا تصور پیدا ہوا۔ ریاست کے عناصر ترکیبی میں جغرافیے کے علاوہ ایک عمرانی معاہدے کو بنیادی حیثیت حاصل ہو گئی۔ یہ کہا گیا کہ جو ایک ریاست کے جغرافیے اور اجتماعی مفاد کے ساتھ وفادار ہے اور عمرانی معاہدے کو قبول کرتا ہے ، وہ ریاست کا شہری ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ اس نے کہاں جنم لیا، اس کا رنگ کیا ہے، اس کا تعلق کس مذہب سے ہے اور اس کے آباء واجداد کون تھے۔ جدید ریاست اسی تصور پر کھڑی ہے۔


جغرافیے کی طرح مذہب بھی تاریخ میں اجتماعیت کی ایک اہم اساس رہا ہے۔ دور جدید میں پاکستان اسی اجتماعی اساس پر قائم ہوا۔ ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں، ایک خود مختار سیاسی اجتماعیت کی خواہش، جس کی بنیاد مذہب پر تھی، ایک اجتماعی شناخت کی بنیاد بن گئی۔ چنانچہ علاقائی عصبیتوں پر اس بڑی عصبیت نے غلبہ پا لیا، جس کا اظہار تحریک پاکستان کی صورت میں ہوا۔ برصغیر ، جو مروجہ معنوں میں کوئی ’ قومی ریاست‘ نہیں تھا، اس میں ’ مسلم شناخت‘ نے ایک عصبیت کی صورت اختیار کر لی۔ اب یو پی سے بنگال اور سندھ سے خیبر تک، جو اس شناخت سے وابستہ تھا، اس نے ایک خود مختار سیاسی اکائی کو بطور اجتماعی شناخت قبول کر لیا۔ اس اکائی کا نام ’ پاکستان‘ ہے۔

 

آج انسان کے لئے اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس حد تک اجتماعی شناخت کے اس عمل کو سمجھتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ ممالک کے مابین تصادم کی ایک وجہ مفادات کا تضاد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی اجتماعی شناخت کو ماننے سے انکار کر دیا جائے،

انسانی تاریخ میں ایک مذہب کو ماننے والے ،اس سے پہلے بھی ایک اکائی کی صورت میں منظم رہے ہیں۔ اسلام بھی اسی اجتماعیت کو تسلیم کرتا اور اس اجتماعیت کو ملت قرار دیتا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا ہے کہ ملت ایک روحانی وحدت ہے یا سیاسی وحدت؟ عملاً تو یہ ایک روحانی وحدت ہے۔ مسلمان عرب کا ہو یا عجم کا، ایک ملت کا رکن ہے۔ اسی طرح مسیحی کہیں بھی رہتا ہو، دوسرے مسیحی کے ساتھ مل کر ایک ملت بناتا ہے۔ سیاسی وحدت ایک الگ عمل ہے جو حالات کے تابع ہے۔ پاکستان اس کی ایک مثال ہے۔ برصغیر کے غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی مرضی سے پاکستان کا انتخاب کیا۔ یوں وہ مسلمانوں کے ساتھ اس سیاسی شناخت میں شریک ہو گئے جس کا نام پاکستان ہے۔ جس طرح نسل اور جغرافیہ کہیں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور کہیں الگ ہو جاتے ہیں، اسی طرح جغرافیہ اور مذہب کہیں ساتھ ساتھ ہیں جیسے سعودی عرب میں اورکہیں الگ ہیں جیسے انڈونیشیا اور پاکستان میں۔ یہ فطری بات ہے کہ جہاں ایک مذہب کے ماننے والوں کا غلبہ ہو گا، وہاں اسی مذہب کا تہذیبی رنگ نمایاں ہو گا۔ تاہم یہ سیاسی وحدت کو متاثر نہیں کرے گا۔، جس کی بنیاد شہریوں کے مفادات کا یکساں اعتراف اور احترام ہے۔
آج دنیا میں اجتماعی عصبیت کی کئی بنیادیں ہیں۔ خطہ زمین ہے جیسے یورپ کے لوگ خود کو ایک شناخت دیتے ہیں۔ خطہ زمین اور نسل ہے جیسے کشمیر کے لوگ ایک قوم ہیں۔ مذہب ہے، جیسے پاکستان۔ ایک عمرانی معاہدہ ہے جیسے امریکہ۔ اس کے ساتھ آج بین الاقوامی عصبیت کا تصور بھی سامنے آرہا ہے جسے عالمگیریت کا ایک منظقی نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔


آج انسان کے لئے اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس حد تک اجتماعی شناخت کے اس عمل کو سمجھتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ ممالک کے مابین تصادم کی ایک وجہ مفادات کا تضاد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی اجتماعی شناخت کو ماننے سے انکار کر دیا جائے، جیسے کشمیر میں ہو رہا ہے۔ پہلی وجہ کو معاہدوں کے ذریعے ایک نظم کا پابند کر دیا جاتا ہے تاکہ تصادم کی صورت پیدا نہ ہو۔ دوسری وجہ خاتمے کے لئے جدوجہد کی جاتی ہے جیسے کشمیر کی تحریک آزادی ہے۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اگر مان لیا جائے تو جنوبی ایشیا میں امن آ سکتا ہے۔ کشمیر میں اس اجتماعیت سے انکار دراصل سماجی عمل سے متصادم ہے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ جب کوئی اجتماعی عصبیت وجود میں آ جائے تو اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ بصورت دیگر تاریخ کے جبر سے جنگ کا نتیجہ بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

تحریر: ملیحہ خادم

نظریہ قوموں کی فکری اساس ہے۔ نظریہ اس جذبے کو جلا بخشتا ہے جس کی بنیاد پر ہجوم میں سے قوم بنتی ہے اور پھر اسی جذبے کی آبیاری کرتے ہوئے قوم اپنی سرحدوں کا تعین کرتی ہے۔ لہٰذا نظریے سے جڑے رہنا ہی ملک و قوم کی بقا کی ضمانت ہے۔ کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جذبہ سرد پڑنے لگتا ہے۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ زندگی کے جھمیلوں سے لڑتے ہوئے وہ اپنے تمام جذبات کو روزمرہ زندگی سے ہم آہنگ کرلیتا ہے۔ یہی معاملہ قوموں کے ساتھ ہے یعنی جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے اور ایک نسل کی جگہ دوسری نسل لیتی جاتی ہے تو وہ جذبہ اور نظریہ جس نے انہیں یکجا کیا ہوتا ہے، وہ یا تو ماند پڑنے لگتا ہے یا کسی مقدس چیز کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر صرف اہم دنوں پر ہی اس کی زیارت اور تجدید کرلی جاتی ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن ہمیشہ نظریات پر شکوک و شبہات کی گرد چڑھادیتے ہیں۔ اور ایک بار یہ گرد جم جائے تو اسے ہٹانے کی قیمت قوموں کو اپنی آزادی اور خون سے چکانی پڑتی ہے کیونکہ اگر بنیاد ہی ہل جائے تو عمارت زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ اس لئے تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن اقوام نے اپنے نظریات کی جڑیں کھوکھلی کرلیں انہیں سنبھلنے کا موقع مشکل سے ہی ملا یا یوں کہہ لیں کہ نظریات کے دفاع کے لئے جان دی اور لی جاتی ہے کیونکہ اگر نظریہ دم توڑ جائے تو ولولہ اور امنگ بھی باقی نہ رہے اور ان دو چیزوں کے بغیر قوم میں زندگی کی رمق باقی رہنا بھی مشکل ہے ۔


پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے نے رکھی اور دو قومی نظریے کی وجہ برصغیر میں ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور معاندانہ رویہ بنا۔ یہ دو قومی نظریہ ہی تھا جس نے پہلے قرارداد پاکستان کی شکل اختیار کی اورپھر پاکستان کو ناگزیر قرار دیا۔ بد قسمتی سے ہمارے اپنے نادان دوست اس نظریے کو متنازعہ بنا کر دانا دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے رہتے ہیں۔ دو قومی نظریہ کہتا ہے ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جن کا مذہب، تہذیب، معاشرت سب الگ الگ ہے۔ آج ہمارے اپنے بہت سے وہ پاکستانی جن کی رسائی قومی اور بین الاقوامی فورمز اور میڈیا تک ہے، ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی تہذیب اور معاشرت ایک جیسی ہے۔ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کبھی کوئی فنکار بالی وڈ میں کام ملنے کی آس میں یہ پرچار کرتا ہوا پایا جاتا ہے تو کبھی کوئی صحافی یا دانش ور کسی انڈین کا مہمان یا میزبان بنتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے کلچرکو ایک ہی بنادیتا ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہے کہ دو قومی نظریئے کی آڑ میں کوئی گروہ پاکستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے لوگوں کو مذہبی تعصب کا نشانہ نہ بنا سکے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں بسنے والے تمام شہری بغیر کسی مذہبی، لسانی یا زبان کی تخصیص کے برابر کے شہری ہیں۔

پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے نے رکھی اور دو قومی نظریے کی وجہ برصغیر میں ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور معاندانہ رویہ بنا۔ یہ دو قومی نظریہ ہی تھا جس نے پہلے قرارداد پاکستان کی شکل اختیار کی اورپھر پاکستان کو ناگزیر قرار دیا۔ بد قسمتی سے ہمارے اپنے نادان دوست اس نظریے کو متنازعہ بنا کر دانا دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے رہتے ہیں۔

اس سوچ نے نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا شروع کیا ہوا ہے۔ ہم کتابوں سے دور ہوچکے ہیں اور چونکہ مطالعہ اور تحقیق متروک کرچکے ہیں لہٰذا جو بھی غلط سلط معلومات ہم تک پہنچائی جاتی ہیں ہم یا تواسے صحیح مان لیتے ہیں یا پھر الجھ جاتے ہیں۔ اذہان میں پلتی اور بڑھتی سوچ کی اس الجھن کا فائدہ بھارت خوب اٹھاتا ہے اور اپنی ثقافتی یلغار کے سہارے غیر محسوس طریقے سے مزید زہریلی تبلیغ کا عمل جاری رکھتا ہے۔ حالات اب یہاں تک آ پہنچے ہیں کہ کچھ فنکار بھارت مخالف کوئی بھی پروجیکٹ کرنے سے گھبراتے ہیں کہ مبادا انہیں انڈیا میں کام ملنا بند نہ ہوجائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے کے بعد بالی وڈ نے پاکستانی فنکاروں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکال پھینکا حالانکہ ’’بیچارے‘‘ ہمارے فنکار، بھارت کے آگے بچھ بچھ کر صفائیاں بھی دیتے رہتے ہیں لیکن بند دروازے اب تک نہیں کھل پائے۔


درحقیقت چار جنگوں کے تجربے نے بھارت کو سکھادیا ہے کہ پاکستان کو روایتی جنگ میں ہرانا آسان نہیں ہے اس لئے اب اس نے چومکھی لڑائی شروع کررکھی ہے۔ وہ ایک طرف جغرافیائی سرحدوں پر جارحیت کررہا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک میں دہشت گردی کرکے معصوم لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ ماننے کی بات ہے کہ اس کھیل میں میں ہماری اپنی کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں لیکن زیادہ بڑے پیمانے پر افغانستان بھارت کی لاٹھی بنا ہوا ہے جو تیس سال تک پاکستانیوں کی جانب سے کی گئی میزبانی کا قرض یوں پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اتار رہا ہے۔ لیکن اس سب سے زیادہ خطرناک وہ جنگ ہے جو انڈیا نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف چھیڑ رکھی ہے اور ہماری اپنی صفوں میں موجود لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ طریقے سے اس جنگ کو ایندھن فراہم کررہے ہیں۔ مودی سرکار بالادستی اور طاقت کی خواہش میں حقائق اور تاریخ کو مسخ کرکے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے ایسے عزائم کو چھپانے کا تردد بھی بھارت کی طرف سے نہیں کیا جاتا بلکہ ہر اس چیز کی پشت پناہی کی جاتی ہے جو پاکستان کے مثبت تاثر اور نظریات پر ضرب لگائے۔ طارق فتح جیسے پاکستان بدر کئے گئے خود ساختہ دانشور کی سرکاری سرپرستی اور ریاستی حمایت اس کی واضح مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس مقصد کے لئے خوب سرمایہ کاری کی ہے اور جن پر کی ہے وہ قتا فوقتا اپنی کمائی حلال بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ الزام نہیں ہے بلکہ بہت سے لوگوں کے قول و فعل چیخ چیخ کر خود کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔

 

درحقیقت چار جنگوں کے تجربے نے بھارت کو سکھادیا ہے کہ پاکستان کو روایتی جنگ میں ہرانا آسان نہیں ہے اس لئے اب اس نے چومکھی لڑائی شروع کررکھی ہے۔ وہ ایک طرف جغرافیائی سرحدوں پر جارحیت کررہا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک میں دہشت گردی کرکے معصوم لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ ماننے کی بات ہے کہ اس کھیل میں میں ہماری اپنی کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں۔

صدرمشرف دور کے آخری سالوں سے جس گروہ نے سول سوسائٹی کا لقب اپنایا ہے، اُس میں سے بعض عناصر نے بد قسمتی سے ان دوہی چیزوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ ان میں سے پہلے نمبر پر ہمارے عسکری ادارے ہیں اوردوسرے نمبر پر قیام پاکستان کی بنیاد اور عوامل ہیں۔ بظاہر ہمسایوں سے دوستی کا خواہاں یہ گروہ بھارت نوازی میں اس حد تک آگے چلا گیا ہے کہ انڈیا کی پاکستان دشمنی کی تاریخ ہی مسخ کرنا شروع کردی ہے۔ سول سوسائٹی اور لبرل طبقہ ہونے کے دعویدار کچھ لوگ جانتے بوجھتے ہر اس بات پر’ درست ہے‘ کا ٹھپہ لگارہے ہیں جو انڈیا کے حق میں جائے۔


اس گٹھ جوڑ نے منظم طریقے سے نظریہ پاکستان اور ریاست پاکستان کے خدوخال پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ اس نے پاک بھارت جنگوں کی وجوہات اور نتائج کو چیلنج کردیا ہے۔ اس نے تقسیم کے وقت ہونے والے قتل عام کی ذمہ داری قیام پاکستان پر ڈال دی ہے۔ اس نے پاکستان میں جاری دہشت گردی سے بھارت کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔ ان کی اس جزوی کامیابی کے پیچھے جدید مواصلاتی اوزاراور انگریزی زبان کا دخل ہے کیونکہ اب دنیا انہی دو چیزوں پر کھڑی ہے اور پاکستان دنیا سے الگ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے ان دو چیزوں کے سہارے اپنا متبادل نظریہ بمع بیانیہ اندرون اور بیرون ملک بیچنا شروع کردیا ہے۔ اندرون ملک تو نظریات کی پیروی کرنے والوں کی بھی تقسیم در تقسیم ترقی پسند اوررجعت پسند میں، کردی گئی۔ لہٰذا ان کے نووارد نظریات کا خریدار ’’پڑھالکھا‘‘ بن جاتا ہے اور جو اصل نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے ان سے اختلاف کرے وہ سازشی تھیوری کا پرستار قرار دے دیا جاتا ہے۔

 

آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے بیانیے میں خلا پیدا ہوچکا ہے اس لئے درسی کتابوں سے باہر گردش کرتے تمام سوالات کے جواب مبہم ہوتے جارہے ہیں۔ ۔اس کی سب سے بڑی وجہ اس سوچ کے حامل لوگوں کی انگریزی ذرائع معلومات اور سوشل میڈیا پر قلیل تعداد میں موجودگی ہے۔

پاکستان کی آج کی شہری نوجوان نسل پڑھی لکھی ہے۔ وہ ابلاغ اور روابط کے تمام تر ذرائع تک پہنچ رکھتی ہے، آئندہ نسل اوربھی زیادہ باشعور ہوگی۔ انہیں مطمئن کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ یہ معلومات اور علم کو ایک کلِک سے حاصل کرلیتے ہیں۔ ہر چیز کو جزئیات سمیت جاننا ان کا حق ہے لیکن ایک نظریاتی ملک ہونے کے باوجود ہم اپنے بنیادی نظریے کی تعریف اور اس کی توثیق نئی نسل تک منتقل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ نوجوانوں کی اردو کے بجائے انگریزی اور کتب کے بجائے انٹرنیٹ پر انحصار ہے۔ طالبعلم درس گاہوں میں یہ سب پڑھتا تو ہے لیکن صرف مطالعہ پاکستان کا پرچہ پاس کرنے کے لئے۔ اس کے بعد وہ اپنی معلومات کے لئے انٹر نیٹ پرانحصار کرتا ہے اور وہاں پر پایا جانے والا بیشتر مواد پڑھائے گئے حقائق اور تاریخی واقعات کی ضد ہوتا ہے۔


آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے بیانیے میں خلا پیدا ہوچکا ہے اس لئے درسی کتابوں سے باہر گردش کرتے تمام سوالات کے جواب مبہم ہوتے جارہے ہیں۔ ۔اس کی سب سے بڑی وجہ اس سوچ کے حامل لوگوں کی انگریزی ذرائع معلومات اور سوشل میڈیا پر قلیل تعداد میں موجودگی ہے۔ اگر اب بھی ہم نے ثقیل توجیہات کوسینے سے لگائے رکھا اور دور جدید کے طریقوں سے پراپیگنڈے کا جواب دینا نہیں سیکھا تو بہت مشکل ہوجائے گی کیونکہ یہ ہی نوجوان کل والدین، استاد، سیاست دان، سول سرونٹ وغیرہ بنیں گے، مگرجب ان کی اپنی معلومات میں ہی جھول ہوگا تو وہ بھارت کے ساتھ اور دنیا کے سامنے مختلف مسائل پر پاکستان کا دیرینہ موقف کیسے پیش کریں گے۔ وہ اپنی تاریخ کے مقدمے کا دفاع کیسے اور کیوں کر کر پائیں گے اور نئی پود کو کیا سکھائیں گے۔


مکالمہ اور اختلاف معاشرے کی صحت کے لئے ضروری ہے لیکن صرف اس وقت تک جب وہ سرخ لکیر کے پار جاکر ملک و قوم کی وحدت کی اکائی کو نقصان نہ پہنچائے اور اگر کوئی فریق بار بار حد فاضل سے آگے جارہا ہے تو پھر سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایسا کسی خاص مقصد کے تحت یا کسی کے اشارے پر کررہا ہے اور اس صورتحال میں دوسرے فریق کو بھی مقابلے کے لئے اپنی تمام چھوٹی بڑی خامیوں پر قابو پاکر میدان میں اترنا چاہئے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

یومِ پاکستان مبارک

 

اے صبحِ یومِ وطن تیری دلکشی کو سلام
جنابِ بابائے قائدؒ کی آگہی کو سلام
یہ خوابِ حضرتِ اقبالؒ کیسا رنگ لایا
الگ وطن کی فضاؤں کی روشنی کا سلام
بہت کٹھن تھا سفر رب نے کر دیا آسان
جو زخم زخم ہوئے ان کی بے بسی کو سلام
یہ دیس کلمۂ حق کی صدا سے پایا ہے
عجب کمالِ حقیقت کی بندگی کو سلام
مرے وطن تِرا پرچم سدا بلند رہے
تری وفا کے تقاضوں کی تازگی کو سلام
خدا کرے کہ یہ یومِ وطن مبارک ہو
پیامِ امن و اخوت کی چاشنی کو سلام
مرے لہو سے بقائے وطن ہو گر راشد
تو ایسی موت کو اور ایسی زندگی کو سلام

راشد منہاس

*****

 
13
March

تحریر:محمود شام

یہ آسمان چومنے کے لئے بے تاب مینار پاکستان ہم سے کچھ کہہ رہا ہے۔
اس کے گرد پھیلا ہوا سبزہ زار۔ ہمیں کہانیاں سنانے کے لئے بے چین ہے۔
کبھی دوڑتی بھاگتی۔ زر کی طلب میں گزرتی ساعتوں سے چند لمحات نکال کر اس کے سائے میں آکر بیٹھیں اور دل کے کان لگاکر سنیں کہ یہ زبان حال سے کیا کہہ رہا ہے۔
میں تو اس سے اس وقت محو کلام ہوا تھا۔ جب یہ ابھی زیر تعمیر تھا۔ میں اس کی طرح جوان تھا۔ میرے عزائم بہت بلند تھے۔ آفاق تسخیر کرنے کی آرزو بھی رکھتا تھا اور توانائی بھی۔ میں اس کی سیڑھیاں چڑھ کر اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تھا ۔ میں یاد کررہا ہوں کہ 361کے قریب زینے تھے۔ میں اپنے آپ پر فخر بھی کرتا ہوں کہ میں نے مینار پاکستان بنتے دیکھا۔ مزار قائد کے مختلف مراحلِ تعمیر بھی میری نگاہوں سے گزرتے رہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ۔ سپریم کورٹ میری نظروں کے سامنے بنے۔


خوش قسمت بھی خیال کرتا ہوں کہ میں اپنے وطن کا ہم عمر ہوں۔ بلکہ پانچ سال بڑا ہوں۔ میں نے اس وطن کو معرض وجود میں آتے دیکھا۔ میں انبالے سے اپنے والدین اور ایک بھائی کے ہمراہ ایک مال گاڑی کے ذریعے لاہور پہنچا تھا۔ مال گاڑی کے اس ڈبّے کی چھت نہیں تھی ۔دھوپ بہت تیز تھی۔ آس پاس سے بلوائیوں کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ یہ سفر اندھیرے سے روشنی کی جانب تھا۔ غلامی سے آزادی کی طرف اس لئے مجھے یہ سفر کبھی نہیں بھولتا۔


خون کی گردشوں میں شامل تھا
یہ وطن دھڑکنوں میں شامل تھا
بستے گھر چھوڑ۔ چل پڑے تھے سب
اک جنوں ولولوں میں شامل تھا
جسم پہ زخم پھول لگتے تھے
درد بھی لذتوں میں شامل تھا
جب سفر تھا سفر کا حاصل بھی
راستہ منزلوں میں شامل تھا
نقش ہجرت ہیں جن کی تصویریں
میں بھی ان قافلوں میں شامل تھا
اک نیا ملک تھا خیالوں میں
عزمِ نَو بازوؤں میں شامل تھا
مال گاڑی کا وہ کھُلا ڈبہ
ان دنوں جنتوں میں شامل تھا
ماں کی آغوش اس کا حصہ تھی
باپ کی شفقتوں میں شامل تھا
اس کی تعبیر ڈھونڈتے ہیں سبھی
خواب جو رَت جگوں میں شامل تھا


مجھ جیسے بے شُمار بچے، میرے والدین جیسے لاکھوں ماں باپ ان قافلوں میں شامل تھے۔ جن کی تصویریں اخبارات میں 23مارچ اور 14اگست کو شائع ہوتی ہیں۔ جن کی فلمیں ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں۔
1940 میں ہم نے ایک عزم کیا۔ برصغیر، جسے اب جنوبی ایشیا کہتے ہیں کے گوشے گوشے سے لاہور کے اس منٹو پارک میں سارے مسلمان رہنما جمع ہوئے تھے۔ قیادت قائد اعظم محمد علی جناح کی تھی۔ بے لوث، اصولوں کی پرستار، ایک پائی کرپشن کی بھی سوچ نہیں تھی۔ بنگال بھی یہاں موجود تھا یوپی بھی، دہلی بھی، پنجاب، سرحد اور سندھ سب کا ایک نعرہ تھا، ایک عزم مصمم، ایک خواب، آج کل کی اصطلاح میں ایک روڈ میپ۔
کلکتے سے لے کر پشاور تک۔ دہلی سے لے کر دالبندین تک۔ راس کماری سے لے کر کراچی تک۔ ڈھاکے سے لے کر چٹا گانگ تک نوجوان ایک ہی نعرہ بلند کرتے ہوئے نکلتے تھے۔


بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں گے پاکستان


قیادت سچی تھی۔ کسی کے دل میں کھوٹ نہیں تھا۔ اس لئے 7سال میں اس خواب کو تعبیر مل گئی۔ خیال حقیقت بن گیا۔ اس وقت بھی نوجوان پیش پیش تھے۔ کسی تحریک میں نوجوان خون شامل نہ ہو تو وہ اپنی منزل نہیں پاسکتی۔ قائد اعظم نے جو روڈ میپ دیا۔ سب اس پر قدم بڑھاتے رہے۔ 23مارچ 1940کو قرارداد لاہور، منظور ہوئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں میں الگ ملک بنانے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ اور ہم 7سال میں قائد اعظم کی قیادت میں وہ منزل حاصل بھی کرلیتے ہیں۔ دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج 77سال بعد یہ مملکت اسلامی دُنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔
ہم آزاد ہیں۔ ہماری مملکت آزاد اور خود مختار ہے۔ بہت سے مشکل مراحل ہم طے کر آئے ہیں۔ بہت سے المیے بھی رونما ہوئے۔ بہت سے طوفان بھی ہم نے جھیلے۔ ہمارا اکثریتی حصہ، ہمارا ایک بازو، بھی اپنوں کی سازشوں، دشمنوں کی یلغار سے الگ ہوچکا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان آج بھی ایک عزم مصمم رکھتے ہیں۔ آج اگردیکھا جائے تو 1940کی نسبت حالات کہیں زیادہ سازگار، موسم کہیں زیادہ خوشگوار ہے۔ نوجوان جذبۂ تعمیر سے کہیں زیادہ سرشار، البتہ قیادت کے بحران سے دوچار۔ مگر نوجوان اپنی قیادت کے لئے خود تیار۔


اس وقت پاکستان دفاعی حوالے سے ناقابل تسخیر ہے۔ ہماری جغرافیائی حیثیت بے نظیر ہے۔ ساری دُنیا یہ کہتی ہے کہ اقتصادی طور پر یہ ایک مثالی یونٹ ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے بے حساب معدنی دولت سے نوازا ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن سب رہنما اور راہرو پاکستان کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ سب کا خواب یہی ہے۔ مستحکم، طاقت ور پاکستان۔


یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت بھی ہے اور مسلح افواج کی قیادتوں کی مستقل مزاجی، بلند عزمی اور اصولوں کی پاسداری کہ ہماری تینوں افواج، برّی، بحریہ اور فضائیہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی دفاعی قوت کے ہم پلہ ہیں۔ ہمارے پاس جدید ترین ہتھیار بھی ہیں اور جدید ترین عسکری تربیت بھی۔ ان دنوں ہم اسلحے اور فوجی تربیت کے لئے پہلے کی طرح کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ اپنی دفاعی پیداوار کے حامل ہو چکے ہیں۔ خود انحصاری کی منزل گر نہیںآئی تو دور بھی نہیں۔ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں دشمن کے عزائم اب بھی جارحانہ ہیں۔ مشرقی سرحد کے ساتھ اب مغربی سرحد پر بھی ریشہ دوانیاں بڑھ گئی ہیں۔ لیکن ہماری دفاعی قوت اتنی منظم اور مستحکم ہے کہ دشمن کو کسی دخل اندازی کی ہمت نہیں ہوسکتی ہے۔ ساری بڑی طاقتوں سے ہمارے دفاعی تعلقات بھی بہت خوشگوار ہیں۔


1979کی افغان پالیسی کی بدولت ہمارے لئے مشکلات پیدا ہوئیں۔ ہمارے معاشرے میں کلاشنکوف اور ہیروئن کا زہر پھیلا۔ مگر 2001میں نائن الیون کے بعد مملکت اور مسلح افواج نے جو پالیسیاں اختیار کیں اور دہشت گردی کے خلاف جس منظّم انداز میں مزاحمت کی ہے اس کا اعتراف ساری بڑی طاقتوں نے کیا ہے۔
پوری قوم مسلح افواج پر فخر کرتی ہے اور اسے عسکری قیادت پر ہمیشہ ایک اعتماد اور بھروسہ رہتا ہے۔


دفاعی اعتبار سے ہم کسی تشویش میں مبتلا نہیں ہیں۔ اس لئے اب ہماری ساری توجہ اور توانائی پاکستان کو اقتصادی، تہذیبی،تمدنی، علمی، صنعتی حوالے سے مستحکم اور منظّم بنانے کی طرف مبذول اور مرکوز ہوسکتی ہے۔ ہم 1940کی طرح پھر اسی مینار پاکستان کے سائے میں جمع ہوکر ایک نیا روڈ میپ تشکیل دے سکتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں پاکستان کو جہاں ہونا چاہئے وہاں لے جانے کے لئے۔ قیام پاکستان سے استحکام پاکستان کی طرف سفر تیزی سے جاری کرنا ہے۔ درمیان میں کئی غفلتیں ہوچکیں۔ بہت سے سال ضائع ہوچکے ۔ ہم دُنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن یہ خلا پُر کرنا یہ پسماندگی دُور کرنا مشکل نہیں ہے۔
اکیسویں صدی علم کی صدی ہے۔ معلومات، اطلاعات، تیز ترین رابطوں کی۔ ٹیکنالوجی ہمیں ان بحرانوں سے نکلنے میں ہماری مدد کرسکتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ہم خود تجربے کرنے کے بجائے ان کے تجربوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ بے شُمار رول ماڈل ہمارے سامنے ہیں۔ مسلمان ملکوں میں انڈونیشیا، ملائشیا، ترکی اور ڈیڑھ دو گھنٹے کے فاصلے پر دوبئی، کویت، بحرین اور مسلمانوں کا مقدس ترین ملک، سعودی عرب، اور غیر مسلم ملکوں میں ہمارا سب سے قریبی دوست چین، جو ہمارے دو سال بعد آزاد ہوا لیکن آج دُنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوّت بن گیا ہے۔ جس سے سارے بڑے ملک خوف زدہ ہیں۔ ان سب سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
میں تو یوں بھی کہتا ہوں کہ ہم تحریک پاکستان نئے سرے سے چلائیں۔ وہ تحریک قیام پاکستان تھی۔ یہ ہوگی تحریک استحکام پاکستان۔


اللہ تعالیٰ کی ہم پر سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ آج کا پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ دُنیا کے بیشتر ممالک ہم پر رشک کرتے ہیں کہ ہماری قریباً 62فی صد آبادی نوجوان ہے۔ یعنی 15 سے 25سال کی عمر کے درمیان۔ ماہرین کے مطابق 12کروڑ پاکستانی نوجوان ہیں۔ اس عمر میں توانائی بھرپور ہوتی ہے۔ دست و بازو میں بجلیاں۔ ذہنوں میں آفاق کی تسخیر کے عزائم، انہیں جدید ترین ٹیکنالوجی سے بھی مکمل آگاہی ہے۔ وہ انٹرنیٹ پر دیکھتے رہتے ہیں کہ دوسرے ملکوں نے ترقی کیسے کی۔ وہاں کے نوجوان کیا خواب دیکھتے ہیں۔ جہاں خواب دیکھنے، تمنّائیں کرنے، اُمنگوں سے سرشار، جذبوں سے لیس 12کروڑ ہوں اسے ترقی کرنے اور استحکام کی منزل تک پہنچنے سے کون روک سکتا ہے۔ یہ عمر ہوتی ہی خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کی ہے۔ ایک طرف خیال کی طاقت دوسری طرف جسمانی طاقت۔


موسم اچھا، پانی وافر، مٹی بھی زرخیز
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان


قائد اعظم کے افکار ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہیں۔ اقبال کے اشعار گرمئ عشق پیدا کرنے کے لئے دستیاب ہیں۔ ہم نبی آخر الزماںؐ کی اُمت میں سے ہیں۔ اس سر زمین پر اولیاء اللہ کی رُوحانی برکتیں۔ قدم قدم پر ہیں۔ داتا گنج بخشؒ ، فرید شکر گنجؒ ، شاہ لطیفؒ ، خواجہ فریدؒ ، بلھے شاہؒ ، شہباز قلندرؒ ، سلطان باہوؒ ، بری امامؒ ، عبداللہ شاہ غازیؒ کے کلام کا فیض جاری ہے ۔


ہمیں ایک روڈ میپ درکار تھا، پاک چین اقتصادی راہداری نے بڑی حد تک نشاندہی کردی ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں، کالج، دینی مدارس، یہ طے کریں کہ ان کے ہاں سے فارغ التحصیل پاکستانی وہ اہلیت حاصل کرکے نکلیں جس کی پاکستانی معاشرے کو ضرورت ہے۔ پاکستان میں کیا کیا پیدا ہوتا ہے، وہ ہماری ضرورت پوری کررہا ہے یا ہمیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔ پاکستان کو صنعتی شعبے میں کیا کیا تیار کرنا چاہئے جو نہ صرف ہماری اپنی ضرویات پوری کرے بلکہ برآمد بھی ہوسکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لئے کس قسم کے ہُنر مند چاہئیں۔ جن علوم کے اطلاق کی مانگ ہے کیا وہ علوم ہماری درسگاہوں میں پڑھائے جارہے ہیں۔ کیا وہ ٹیکنیکل تربیت دی جارہی ہے۔
ہمارے المیوں نے اوربعض خود غرض، بد عنوان اور ناجائز کمائی کے خواہشمند لیڈروں نے ملک کے نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی ہے۔ انہیں احساس کمتری میں مبتلا کیا ہے۔ وہ بعض اوقات خودکشی جیسے اقدامات کی طرف مائل ہوجاتا ہے یا منشیات کا عادی بن جاتا ہے یا پھر اُسے مسلّح مذہبی اور علیحدگی پسند تنظیمیں اپنا آلۂ کار بنالیتی ہیں۔ اسے اس خبط میں مبتلا کردیا جاتا ہے کہ جنت جانے کا راستا ہمارے مسلک پر یقین نہ کرنے والوں کو ہلاک کرنے میں ہے۔ دشمن ممالک کی خُفیہ ایجنسیاں بھی ہمارے نوجوانوں کو اپنا ایجنٹ بنالیتی ہیں۔


اجتماعی طور پر ایک جامع منصوبہ بندی نہ ہونے اور متعلقہ ذمہ دار قومی اداروں کی کوتاہی کے سبب یہ بہت بڑی قوت بھرپور انداز میں قوم کے استحکام کے لئے استعمال نہیں ہوپارہی ہے۔ بہت سا حصہ ضائع ہورہا ہے۔
ایک روڈ میپ نہیں ہے۔ یہ 12کروڑ پاکستانی صاف شفاف میٹھے پانی کا دریا ہیں۔ جس میں طغیانی بھی آئی ہوئی ہے۔ جس سے بجلی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ بنجر زمین بھی سیراب ہوسکتی ہے۔ لیکن ہم نے اس بڑے دریا پر ضرورت کے مطابق بڑے ڈیم بھی نہیں بنائے ہیں۔ اس دریا کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا اہتمام بھی نہیں کیا ہے۔ اس لئے سیلابی ریلوں کی طرح یہ پانی ضائع بھی ہورہا ہے۔ تباہی بھی مچارہا ہے۔ بستیوں کو تاراج بھی کررہا ہے۔
اس دریا کو قابو میں لانے کے لئے ضرورت ہے ’’ایک نوجوان پالیسی ‘‘ تشکیل دیں۔ سب کے تعاون سے۔ ساری یونیورسٹیوں’ سرکاری اور پرائیویٹ‘ سے مشاورت کی جائے، دینی مدارس بھی اپنی تجاویز دیں، ماہرین تعلیم سے بھی مشورے کئے جائیں۔


کارپوریٹ سیکٹر اور یونیورسٹیاں مل کر ایک ٹاسک فورس تشکیل دے سکتے ہیں جو ملک کی اقتصادی، عمرانی، سماجی، علمی، تہذیبی صورتِ حال، بدلتے رُجحانات کا مسلسل جائزہ لیتی رہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی خبریں، مباحثے، ٹاک شوز نوجوانوں کے ذہنوں کو کس طرح متاثر کررہے ہیں۔ ہماری منزل کیا ہونی چاہئے اور اس منزل کے حصول کے لئے کون سے راستے اختیار کئے جائیں۔
قرار دادِ پاکستان کے 77سال بعد پاکستان کو جہاں ہونا چاہئے تھا، معیشت میں، تعلیم میں، صحت میں، زراعت میں اور ٹیکنالوجی میں آیا کہ وہاں ہے یا نہیں؟ کتنے سال پیچھے ہیں؟ اس تاخیر کو کیسے دور کیا جائے؟


پاکستان کی سر زمین کے پاس وسائل بھی ہیں، حساس حیثیت بھی ۔ اگر قیادت کا بحران ہے تو یونیورسٹیاں اوردرس گاہیں قیادت کرسکتی ہیں۔ قدرتی اور انسانی وسائل دونوں کی طاقت پاکستان کو بڑی اقتصادی، تہذیبی اور علمی قوت بناسکتی ہے۔
23مارچ ہم سے یہی تقاضا کررہی ہے۔ قائد اعظم، شیر بنگال مولوی فضل حق اور دیگر اکابرین کی روحیں ہماری طرف دیکھ رہی ہیں۔ 20لاکھ سے زیادہ شہدائے پاکستان ہمیں آواز دے رہے ہیں۔ نشانِ حیدر پانے والے، سرحدوں کی حفاظت میں اپنی جانیں نثار کرنے والے فوجی افسر اور جوان، سب آج کے نوجوان کے لئے اللہ تعالیٰ سے اقبال کی زبان میں کہہ رہے ہیں


جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کردے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلوں کو مرکز مہرو وفا کر
حریمِ کبریا سے آشنا کر
جسے نان جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر
۔۔۔۔۔۔
77سال پہلے نعرہ تھا
بٹ کے رہے گا ہندوستان
بن کے رہے گا پاکستان
اب یہ نعرہ ہونا چاہئے۔
مستحکم اور طاقت ور
بن کے رہے گا پاکستان

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
13
March

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میں اُن مغربی مورخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہور پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میں وجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنماؤں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوؤں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی مسلمان ہمیشہ ایک آزاد مسلم مملکت کے خواب دیکھتے رہے۔ کیونکہ انہوں نے اس امر کا ادراک کر لیا تھا کہ متحارب اکثریت کے ہاتھوں ان کے دینی، ثقافتی اور سیاسی تشخص کو زبردست خطرات لاحق ہیں۔ اس غیریقینی اور مبہم صورت حال کو قائداعظم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ بارہ صدیوں کی تاریخ ہم میں اتحاد پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس تمام عرصے میں ہندوستان، ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہوتا رہا ہے۔ اس وقت جو مصنوعی اتحاد نظر آتا ہے وہ محض برطانوی اقتدار کا نتیجہ ہے۔‘‘


مسلمانوں میں ایک علیحدہ وطن کی ضرورت کا احساس تدریجاً پیدا ہوا اور جوں جوں ان پر ہندوؤں کے عزائم اور ذہنیت کھلتی گئی‘ اس میں شدت پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس طرح ہندوستان میں سرگرم سیاسی عوام نے انہیں اس منطقی نتیجہ پر پہنچایا ہے۔ چنانچہ 1940کی قرارداد لاہور ان کی انہی اجتماعی خواہشات کا عملی اظہار تھا۔ ایک طرح سے یہ ان کے صدیوں پرانے خواب کی تعبیر تھی اس لئے یہ قرارداد تاریکی میں بھٹکنے والے مسلمان عوام کے لئے روشنی کی کرن ثابت ہوئی اور پھر اسے ہماری تاریخ میں ایک مینارۂ نور کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس قرارداد نے مشکلات سے بھرپور ہماری جہدِ آزادی کی راہوں کو روشن کر دیا۔ قرارداد لاہور (جسے بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا) بڑی تیزی سے مسلمانوں میں مقبول ہو گئی او رمسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے لئے طاقت کا سرچشمہ ثابت ہوئی۔
مسلمان برصغیر میں ایک فاتح کی حیثیت سے آئے تھے لیکن اپنے پیشروؤں کی طرح نہ تو انہوں نے مقامی لوگوں کی تذلیل کی اور نہ ہی ان سے اچھوتوں کا سا سلوک کیا۔ وہ یہیں بس گئے۔ یہاں انہوں نے سلطنتیں قائم کیں اور اپنی نسلوں کو آباد کیا۔ وہ صدیوں ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔ لیکن پُرامن بقائے باہمی کے باوجود مسلمان ہندو ہر لحاظ سے دومختلف اقوام رہیں۔ البیرونی نے صدیوں پہلے کہا تھا۔ ’’ہندواور مسلمان ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں اور انہیں دور سے بھی بآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔‘‘


یہی وہ سیاق و سباق تھے جس کے حوالے سے قائداعظم نے علی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’پاکستان اسی روز قائم ہو گیا جب پہلا ہندو مسلمان ہوا۔‘‘
یہ برصغیر میں مسلم حکومت قائم ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے۔


مسلمانوں کو جب تک فوجی بالادستی حاصل رہی‘ ہندو انہیں برداشت کرتے رہے۔ لیکن جیسے ہی ان کی حکومت میں انحطاط پیدا ہوا وہ سکھوں، جاٹوں اور مرہٹوں سے مل کر ہندوستان میں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تل گئے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریک اور ان کی طرف سے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت کا اصل مقصد بھی مسلمانوں کو ان خطرات سے بچانا تھا جو ہندوستان کے افق پر منڈلا رہے تھے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریروں سے مترشح ہوتا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے دین اور قومی تشخص کو بچانے کے لئے اس علاقہ کے کسی نہ کسی حصے میں مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت اور اقتدار کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ملک اور حکومت کے خواب کی جڑیں ہماری تاریخ میں نہایت گہری تھیں۔ لیکن ہندوستان پر برطانوی اقتدار کے تسلط نے سیاسی منظر ہی بدل دیا لہٰذا مسلمانوں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ چنانچہ وہ مشترکہ دشمن یعنی برطانیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں سوچنے لگے۔ سرسید پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے ہندومسلم اتحاد کے لئے کام کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہندو اور مسلمان ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچا تو دلہن کا حسن ماند پڑ جائے گا۔


لیکن جوں جوں ان پر ہندوؤں کے عزائم کھلے‘ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ دونوں اقوام زیادہ عرصے تک اکٹھی نہیں رہ سکتیں‘ ایک دن انہیں الگ ہونا ہو گا اور یہ امر مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں ہو گا۔ انہوں نے ہندوستان میں برطانوی جمہوری اداروں کے قیام کی اسی لئے مخالفت کی کہ ان سے ہندو اکثریت کے اقتدار کو دوام حاصل ہو جائے گا۔ سرسید کے یہ الفاظ ان کے تاریخی شعور اور فہم کا بہترین ثبوت ہیں۔
’’یہ ممکن نہیں کہ ان میں ایک قوم حاکم رہے اور دوسری محکوم بن جائے۔‘‘


قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز ہندو مسلم اتحاد کے ایک مخلص حامی کی حیثیت سے کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے 1906 میں مسلم لیگ کے قیام اور مسلمانوں کے جداگانہ نیابت کے فیصلہ کی محض اس لئے مخالفت کی کہ ان کے نزدیک مسلمانوں کے اس اقدام سے اتحاد کے تصور کی پیش رفت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ ہندومسلم اتحاد کے لئے ان کی پرجوش مساعی کے نتیجہ میں 1916کے مشہور لکھنو پیکٹ پر دستخط ہوئے اور قائداعظم کو ہندومسلم اتحاد کے سفیر کا خطاب ملا۔ اگلی دو دہائیوں میں انہوں نے اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے اور یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی جس پر معاہدہ لکھنو میں اتفاق رائے ہوا تھا۔ دہلی کی مسلم تجاویز (1917) کل جماعتی مسلم کانفرنس کی قرارداد (1929) جناح کے چودہ نکات (1929) گول میز کانفرنس میں پیش کی جانے والی شرائط (1930-1933) اور کانگرسی رہنماؤں سے مذاکرات کا صرف ایک ہی مقصد اور مدعا تھا کہ مسلمانوں کے لئے ایسے تحفظات حاصل کئے جائیں کہ جن کے ذریعے ان کی جداگانہ دینی اور ثقافتی حیثیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروفیسر شریف المجاہد کے الفاظ میں


’’ان کا مطالبہ تھا۔۔۔۔ آئین وفاقی ہو جس کے تحت فاضل اختیارات صوبوں کے پاس ہوں۔ مرکزی اسمبلی اور کابینہ میں مسلمانوں کی نیابت کم از کم ایک تہائی ہو۔ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی مستقل اکثریت تسلیم کی جائے۔ شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان میں اصلاحات جاری کی جائیں۔ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر دیا جائے۔ مسلمانوں کے لئے جداگانہ نیابت کو اور فرقہ ورانہ امور میں دوہرے ووٹ کی شق کو برقرار رکھا جائے اور آئین میں وفاق میں شامل تمام اکائیوں کی رضامندی کے بغیر کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔‘‘


’’ان تمام مطالبات کے پس منظر میں یہ خواہش کارفرما تھی کہ ایک صحیح وفاقی آئین کے تحت جس میں تحفظ و حقوق کا مناسب اہتمام ہو‘ تو ازن قائم کرنے کے لئے چھ ہندو صوبوں کے مقابلے میں پانچ مسلم صوبے تشکیل دیئے جائیں۔ لیکن ان تمام مطالبات پر کانگریس کا ردعمل شرانگیز‘ غیرمنطقی بلکہ توہین آمیز تھا۔‘‘


دریں اثنا قائداعظم کانگریسی رہنماؤں سے بتدریج مایوس ہوتے چلے گئے۔ اس مایوسی کا آغاز کانگرس کے اجلاس منعقدہ ناگپور 1920 سے ہوا تھا جس میں قائداعظم نے کانگرس کی طرف سے گاندھی کے زیراثر نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کے فیصلے کی نہایت جرأت مندی سے مخالفت کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب قائداعظم ناگپور سے روانہ ہوئے تو ان کی طبیعت میں تلخی اور غم و غصہ پیدا ہو چکا تھا۔ بعد ازاں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شدھی اور سنگھٹن تحریکوں سے شروع ہو کر گاندھی کی ستیہ گرہ، نہرو رپورٹ،کل جماعتی کلکتہ کنونشن اور سات صوبوں میں کانگریس راج کے واقعات نمودار ہوئے‘ جن سے فرقہ ورانہ فسادات کو فروغ ملا اور لکھنو پیکٹ کی پیدا کردہ دوستانہ فضا ختم ہو کر رہ گئی۔ ان واقعات نے مسلمانوں پر ہندوؤں کے اصل عزائم بے نقاب کر دیئے۔


برطانوی راج کے جانشین کی حیثیت سے چونکہ ہندوؤں نے ’’ہندوراج‘‘ قائم کرنے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا اس لئے دونوں قوموں کے درمیان اختلافات میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ قائداعظم نے نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بجاطور پر ’’راستے الگ‘‘ ہونے کی دستاویز قرار دیا تھا۔ اسی طرح کانگریسی وزارتوں نے مسلمانوں میں یہ تکلیف دہ احساس پیدا کیا کہ اگر صوبوں میں کانگریسی راج کے تحت رونما ہونے والے واقعات ہندو قومی حکومت کی ایک تصویر ہیں تو پھر یقیناًاس حکومت میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔ اس صورت حال کا حتمی تجزیہ انتہائی مایوس کن اور تکلیف دہ تھا اور اسی تجزیے نے ہندی مسلمانوں کو مطالبۂ پاکستان پر مجبور کیا۔
ہندی مسلمان ابھی جداگانہ ملک کے دھندلے دھندلے خواب ہی دیکھ رہے تھے کہ علامہ اقبال نے 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس الہ آباد سے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبے میں ایک جداگانہ مملکت کا ایک واضح اور جامع تصور پیش کر دیا۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کا جو تصور پیش کیا وہ جغرافیائی اور نظریاتی عوامل پر مبنی تھا۔ انہوں نے فرمایا۔
’’میرے نزدیک پنجاب، شمالی مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کے صوبوں کو ایک واحد مملکت میں ضم کر دینا چاہئے جسے برطانوی ایمپائریا اس سے باہر مکمل خود مختاری حاصل ہو۔ کیونکہ میرے نزدیک شمال مغربی ہندوستان میں آزاد مسلم ریاست کا قیام ہی شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے لئے واحد ذریعہ نجات ہے۔‘‘
اس ریاست کے نظریاتی جواز پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے کہا


’’مسلم مملکت کا میرا یہ مطالبہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے منفعت بخش ہو گا۔ ہندوستان کو اس سے حقیقی امن اور سلامتی مل جائے گی اور اسلام کو اس سے ایسا موقع میسر آ جائے گا کہ جس سے یہ اپنے قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے زندگی اور حرکت عطا کر سکے اور انہیں عصرِ حاضر کی روح کے قریب آنے کے قابل بنا سکے۔‘‘


گویا علامہ اقبال نے پاکستان کی صورت میں ایک ایسی مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے حقیقی اسلامی سانچے میں ڈھالا اور عصر حاضر کی روح کے قریب لایا جائے گا۔
پاکستان کا تصور یکایک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اچانک آسمان سے اترا تھابلکہ اس نظریئے نے بتدریج ارتقا پایا۔ اکثریتی اور اقلیتی صوبوں کے مسلم رہنماؤں کے اتفاق رائے کے لئے اس پر تفصیلی بحثیں ہوئیں تاکہ اسے ہندی مسلمانوں کا اجتماعی واحد اور آخری مطالبہ قرار دیا جا سکے۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938میں جو قرارداد منظور کی تھی وہ مسلم رہنماؤں کے اذہان کی ٹھیک ٹھیک اور صحیح عکاسی کرتی تھی کہ وہ کیا سوچتے تھے قرارداد میں مسلمانوں کے ساتھ کانگرس کی زیادتیوں اور نانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا۔


’’اس کی فرقہ ورانہ ذہنیت اور مسلم کش پالیسی کے باعث اکثریتی قوم سے کسی نیکی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘
قرارداد میں زور دیا گیا:
’’مسلمانوں کے ہندوؤں سے جو اختلاف ہے‘ اس کا اصل منبع دین، زبان، رسم الخط، ثقافت، معاشرتی قوانین اور زندگی کے بارے میں اندازِ فکر ہے۔‘‘
پروفیسر خالد بن سعید کے الفاظ میں:
’’اس قرارداد میں مسلم لیگ نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں کو دو مختلف اقوام قرار دیا تھا۔‘‘
چنانچہ سندھ مسلم لیگ کانفرنس نے آل انڈیا مسلم لیگ سے سفارش کی کہ وہ ایسی آئینی سکیم تیار کرے جس کے تحت مسلمانوں کو مکمل آزادی حاصل ہو جائے۔ چنانچہ سندھ مسلم لیگ کی 1938 کی اس قرارداد کو 23مارچ 1940 کی قرارداد لاہور سمیت اس مسئلہ پر منظور کی جانے والی تمام قراردادوں پر سبقت اور فوقیت حاصل ہے۔


بہرحال 1939 میں تقسیم ناگزیر نظر آتی تھی۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کی اکثریت اس کی قائل ہو چکی تھی۔ ستمبر 1939میں قائداعظم نے وائسرائے سے دوران گفتگو فرمایا۔’’ وہ قائل ہوچکے ہیں کہ ہندوستان کے مسئلہ کا حل اس کی تقسیم ہے۔ ‘‘آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے اپنے مارچ 1939 کے اجلاس میں قائداعظم کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی‘ تاکہ علامہ اقبال، چودھری رحمت علی، ڈاکٹر سید عبداللطیف اور دوسرے لیڈروں کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز اور مسودوں کا جائزہ لیا جائے۔ شاہ نواز ممدوٹ کے علاوہ اس کمیٹی کے دوسرے دو ممبران عبداﷲ ہارون اور سکندر حیات نے بھی اپنی طرف سے تجاویز پیش کیں۔ لیگ کمیٹی نے ان تمام تجاویز اور منصوبوں پر تفصیل سے غوروخوض کیا جس کے بعد مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے مسلم لیگ کے لاہور اجلاس سے کچھ دیر پہلے ہونے والی میٹنگ میں ایک سکیم کی منظور دے دی جو 23مارچ 1940 کو منظور ہونے والی ’’قرارداد لاہور‘‘ کی بنیاد رکھے۔
قائداعظم نے اجلاس لاہور میں اپنی صدارتی تقریر میں ہندی مسلمانوں کی تاریخ کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے کہا


’’ہندو اور مسلمان الگ الگ فلسفۂ مذہب رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے اور دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان میں باہمی شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ وہ دو الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ ان کا تصور حیات اور طرز حیات الگ الگ ہے۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تاریخوں سے وجدان اور ولولہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا رزمیہ ادب الگ ہے۔ ان کے مشاہیر الگ الگ ہیں اور ان کا تاریخی سرمایہ جدا جدا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور اسی طرح ان کی فتح اور شکست ایک دوسرے کے لئے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔


دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ سلطنت میں جمع کر دینا جہاں ایک قوم عددی لحاظ سے اقلیت ہو اور دوسری اکثریت ہو، نہ صرف باہمی مناقشت کو بڑھائے گا بلکہ بالآخر اس نظام کی بربادی کا باعث ہو گا جو ایسے ملک کی حکومت کے لئے وضع کیا جائے گا۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک مستقل قوم ہیں اور انہیں ان کا الگ وطن، ان کا اپنا علاقہ، اور اپنی حکومت ملنی چاہئے۔‘‘


قراردادِ لاہور مولوی فضل الحق نے پیش کی اور 23مارچ 1940 کو منظور کر لی گئی۔ اس میں ایسی آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کا مطالبہ کیا گیاتھا جو ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں میں جغرافیائی لحاظ سے متصل ایسے علاقوں پر مشتمل ہوں جہاں مسلمان ہر اعتبار سے بہ تعداد آبادی اکثریت رکھتے ہوں۔ اس قرار داد میں ترمیم اس وقت کی گئی جب مسلم لیگ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اجلاس منعقدہ دہلی 1946 میں واحد مسلم ریاست کا مطالبہ کیا۔ بہرحال قرارداد لاہور نے اسلامیان ہند کو تصورات سے نکال کر ان کے سامنے ان کی منزل متعین صورت میں پیش کر دی جو ان کے گزشتہ نصف صدی کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ ابھی تک وہ تاریکی میں بھٹکتے رہے تھے لیکن اب انہیں غار کے دوسرے سرے پر روشنی کی کرن نظر آنے لگی تھی۔


مارچ 1940کے بعد ان کی تمام توانائیاں اس مینارۂ نُور تک پہنچنے کے لئے وقف ہو گئیں اور انہوں نے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا۔ گویا یہ ان کی زندگی میں ایک انقلاب آفریں دَور کا نقطۂ آغاز تھا۔ ان کا یہ کاروانِ شوق اپنے قائد کی قیادت میں ’’اتحاد، ایمان اور تنظیم‘‘ کے جذبہ سے سرشار اس طرح آگے بڑھا کہ بالآخر اپنے تصورات اور اپنے خوابوں کے جزیرے۔۔۔ پاکستان تک پہنچ کر ہی دم لیا۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

تحریر: عقیل یوسف زئی

سات قبائلی ایجنسیوں پر مشتمل پاکستان کے سرحدی علاقے یعنی فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور مختلف ادوار میں اس مقصد کے لئے حکومت کی جانب سے تبدیلیاں یا اصلاحات لانے کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل محض اعلانات تک محدود رہا اور کسی بھی حکومت نے عملاً ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس اہم ترین جغرافیائی یونٹ کو مین سٹریم پالیٹکس یا سسٹم کا حصہ بنایا جائے اور غالباً اسی غفلت یا رویّے کا نتیجہ ہے کہ فاٹا ماضی میں نہ صرف یہ کہ انتہاپسندوں کا مرکز بنا رہا بلکہ یہاں کے لاکھوں عوام بنیادی انسانی حقوق اور ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم رہے۔ برٹش راج نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بعض دیگر نوآبادیات کی طرح فاٹا کو بھی اس مقصد کے لئے بفر زون کے طور پر تخلیق کیا کہ اس سرحدی پٹی کو برٹش انڈیا یعنی ہندوستان اور روس (سوویت یونین) کے درمیان حدِ فاصل کے طور پر استعمال میں لایا جائے اور اس مقصد کے لئے اس علاقے میں خصوصی یا کالونین قوانین بنائے گئے۔ قبائل پر ایسے قوانین اور ضابطے لاگو کئے گئے جن کی آج بھی مہذب دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ 1947 سے قبل متحدہ ہندوستان میں بھی درجنوں ایسے علاقے تھے جہاں اس نوعیت کے قوانین موجود تھے۔ تاہم آزادی کے بعد ایسے علاقوں کو نئی ریاستوں کے مروجہ قوانین کے اندر لایا گیا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے علاقوں جیسے حقوق اور وسائل دیئے گئے۔ بدقسمتی سے فاٹا کو ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں یا اصلاحات سے بوجوہ محروم رکھا گیا اور یہ علاقے تا حال کالونین سسٹم کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے بعض حکمرانوں نے بھی جمہوریت پسند ہونے کے باوجود جمہوری ادوار میں بھی یہاں کے عوام کو کالونین سسٹم سے نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ حالت تو یہ رہی کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر نے اپنے دورِ اقتدار میں فاٹا میں بعض ایسے علاقے بھی شامل کرائے جو کہ ان کی حکومت سے قبل خیبر پختونخوا (صوبہ سرحد) کا حصہ تھے۔ ان کے دورِحکومت تک فاٹامیں ایجنسیوں کی تعداد چار یا پانچ تھی۔ انہوں نے یہ تعداد چھ یا سات کردی مگر اس کی کوئی خاص وجہ بتانے سے گریزکیا اور ایسا کرنے سے قبل متعلقہ علاقوں کے عوام سے ان کی رائے معلوم کرنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ متعدد اہم لیڈروں نے بھی فاٹا کو مین سٹریم میں لانے کی کوشش تو درکنار ان علاقوں میں موجود کالونین قوانین کو آزادی کے باوجود دوسرے علاقوں تک توسیع دینے یا پھیلانے کا رویہ اختیارنہیں کیا اور بعض ایجنسیاں70 کی دہائی میں قائم کی گئیں۔ بعض ماہرین کے مطابق جناب بھٹو نے یہ اقدامات افغانستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اٹھائے تھے۔ فاٹا کے عوام کا یہ کہہ کر جذباتی استحصال کیا جاتا رہا کہ وہ آزاد اور غیور قبائل ہیں یا یہ کہ وہ پاکستانی سرحدوں کے بے تنخواہ سپاہی یا محافظ ہیں۔ مگر ان کے بنیادی حقوق یا ضروریات کا کسی بھی حکومت نے کوئی خیال نہیں رکھا اور ان کی انسانی حقوق کی عملاً حالت یہ رہی کہ وہ 90 کی دہائی تک بالغ رائے دہی کی بنیاد پر الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے حق سے بھی محروم تھے اور یہ حق بھی کسی جمہوری حکومت یا حکمران کی بجائے مرحوم سردار فاروق احمدخان نے نگران وزیرِاعظم کے طور پر ان کو دیا۔ سال1988 کے بعد جمہوری حکومتیں تسلسل کے ساتھ آتی رہیں اور ان حکومتوں کی پارلیمانی ضروریات یعنی تشکیل میں فاٹا کے آزاد ممبران اسمبلی کا ہر دور میں بنیادی کردار رہا۔ تاہم افسوسناک بات یہ رہی کہ ان حکومتوں یا پارلیمانی قوتوں نے نومنتخب قبائلی ارکان کو دوسرے آئینی حقوق کے علاوہ اس حق سے بھی محروم رکھا کہ وہ فاٹا کے لئے کی جانے والی قانون سازی میں حصہ لیں۔ یہ غالباً دنیا کا وہ واحد علاقہ رہا جس کے نمائندے اپنے ہی علاقے یا عوام کے لئے قانون سازی میں حصہ لینے سے محروم تھے اور یہ سلسلہ تا دمِ تحریرکسی تبدیلی کے بغیر جاری ہے۔ ان کے ساتھ دوسرا مذاق یہ ہوتا رہا کہ ان کو مروجہ پارلیمانی سسٹم یا سیٹ اپ کے ذریعے چلانے کے بجائے براہِ راست صدرِ مملکت کے بعض صوابدیدی اختیارات میں دیا گیا اور کسی بھی اہم فیصلے سے قبل فاٹا کے نمائندوں‘ اسمبلی یا عوام سے ان کی رائے لینے کی ضرورت ہی ختم کردی گئی۔ فاٹا کو 70 یا 80کی دہائی میں ایک پالیسی کے تحت ان گروپوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی گئی جو کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے قائم کئے گئے تھے تاہم اس وقت غالباً حکمرانوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کرنے سے فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہوگا اور بعد میں80 کی دہائی میں کرم ایجنسی اور بعض دیگر علاقوں میں بعض ممالک کی پراکسی وارز کے جس سلسلے کا آغاز ہوا اس کے اثرات اور نتائج پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔ کرم ایجنسی میں فرقہ واریت کی ایسی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد کے ادوار میں پورے ملک تک اپنی شاخیں پھیلائیں اور اس علاقے کے فرقہ ورانہ اثرات نے دوسرے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ ڈیورنڈ لائن کے نام نہاد تنازعے کی بنیاد پر فاٹا میں افغانستان کی مبینہ مداخلت کا سلسلہ بھی کسی وقفے کے بغیر جاری رہا اور کئی دہائیوں تک حالت یہ رہی کہ افغانستان کی حکومت سے قبائل کی نہ صرف وزارت قائم رہی بلکہ یہاں کے عوام کے لئے مختلف شعبوں میں کوٹہ سسٹم بھی رکھا جاتا رہا۔ اس طریقہ کار کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی نوعیت کی عجیب وغریب انتظامی حیثیت کی پیچیدگیوں کا شکار رہا اور جب افغان جہاد کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو اس علاقے کو فرنٹ ایریا کی اہمیت حاصل ہو گئی۔

 

1947 سے قبل متحدہ ہندوستان میں بھی درجنوں ایسے علاقے تھے جہاں اس نوعیت کے قوانین موجود تھے۔ تاہم آزادی کے بعد ایسے علاقوں کو نئی ریاستوں کے مروجہ قوانین کے اندر لایا گیا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے علاقوں جیسے حقوق اور وسائل دیئے گئے۔ بدقسمتی سے فاٹا کو ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں یا اصلاحات سے بوجوہ محروم رکھا گیا اور یہ علاقے تا حال کالونین سسٹم کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔

90 کی دہائی میں جب قبائل کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تو آج کی اصلاحات کی طرح اس وقت بھی ’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی عناصر نے شور مچایا کہ قبائل جمہوری نظام سے نابلد ہیں اس لئے یہ تجربہ ناکام ثابت ہوگا۔ تاہم 1997 کے الیکشن میں ریکارڈ امیدوار میدان میں نکل آئے اور تنقید کاروں کے دعوے اس وقت غلط ثابت ہوئے جب باجوڑ ایجنسی کے ایک حلقے میں نہ صرف یہ کہ پورے ملک کی سطح پر ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے بلکہ متعدد قبائلی علاقوں میں خواتین نے بھی ووٹ پول کئے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کامیاب تجربے کے بعد فاٹا میں اصلاحات کے لئے عملی اقدامات کئے جاتے مگر بوجوہ ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاٹا کی تقریباً تمام ایجنسیاں بعد کے حالات کے باعث انتہا پسندی کے مراکز میں تبدیل ہوگئیں اور یہاں کے عوام کو جو محدود حقوق حاصل تھے وہ ان سے بھی محروم ہوگئے۔ سال 2001 کے بعد پھر سے ضرورت اس بات کی تھی کہ نئے حالات اور تقاضوں کے تناظر میں فاٹا کو مین سٹریم پالیٹکس اور سسٹم کا حصہ بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے اور یہاں سے کالونین قوانین اور ظالمانہ رواجوں کا خاتمہ کیا جاتا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ انگریز کے ایف سی آر قوانین کو فوراً ختم کیا جاتا اور اس اہم جغرافیائی علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے حقوق پیکیجز کا اعلان کیا جاتا۔ مگر ایسا کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی اور جب سرحدی تبدیلیوں کے تناظر میں پاک فوج کو پہلی بار فاٹا میں تعینات کیا گیا تو علم ہوا کہ یہاں کا انفراسٹرکچر تباہ حال‘ انتہائی فرسودہ اور ناقابلِ برداشت حالات سے دوچار ہے اور یہ علاقہ (فاٹا) زندگی اور سہولیات کی دوڑ میں ملک کے دیگر علاقوں سے بہت پیچھے ہے۔ سال 2003 میں اقوامِ متحدہ کے ایک ادارے نے فاٹا کو دنیا کا پسماندہ ترین علاقہ قرار دیا اور جب عالمی اداروں نے اس کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے فنڈز دینے شروع کئے تو کرپٹ ترین پولیٹیکل انتظامیہ کے وارے نیارے ہوگئے اور ایک وقت میں حالت یہ رہی کہ پشاور کے گورنر ہاؤس میں پولیٹیکل ایجنٹ اور دیگر افسران کی تعیناتی کے لئے کروڑوں کی باقاعدہ بولیاں لگنی شروع ہوگئیں۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور یہ شرمناک حقیقت سب کو معلوم ہے کہ کسی بھی پولیٹیکل ایجنٹ کی تعیناتی کے لئے تین سے دس کروڑ تک کی بولی لگائی جاتی ہے۔ نائن الیون کے بعد جو امداد آتی رہی وہ متعلقہ حکام کے لئے ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کی گئی اور اس کاروبار میں پشاور اسلام آباد کے متعلقہ افسران‘ قبائلی مالکان اور منتخب نمائندے پولیٹیکل انتظامیہ کے شراکت دار بنے۔ فاٹا کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ کی جاتی رہی کہ اس کو این ایف سی ایوارڈ اور دیگر فورمز کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ انتظامی اور اقتصادی طور پر اسے کوٹہ سسٹم کی طرز پر چلایا جاتا رہا۔2001 کے بعد گزشتہ چند برسوں تک اتنی بڑی آبادی کو نو سے بیس ارب روپے کے انتہائی قلیل بجٹ پر ٹرخایا جاتا رہا اور اس میں بھی آدھا بجٹ کرپٹ انتظامیہ کے اکاؤنٹس میں چلاجاتا تھا۔ ایف سی آر اور ایسے دیگر قوانین کے ذریعے قدم قدم پر عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رہا۔ عدالتی نظام کی حالت اتنی شرمناک رہی کہ اگر کسی باشندے نے کسی فیصلے کے خلاف اپیل کرنا ہوتی تو اسے بھی اس اتھارٹی (پولیٹیکل ایجنٹ) کے پاس جانا پڑتا تھا جس نے اسے سزا سنائی ہوتی ہے۔ عدالتی نظام نہ ہونے کے باعث لاکھوں عوام پولیٹیکل انتظامیہ کے رحم و کرم پر رہے اوراجتماعی ذمہ داری کے انتہائی فرسودہ نظام کے باعث ہر روز سیکڑوں لوگ جبرو ستم کا نشانہ بنتے گئے۔ ترقی کی حالت کیا رہی اس کا اندازہ محض اس ایک مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ 70 لاکھ سے زائد کی آبادی کے اتنے وسیع وعریض علاقے میں آج ایک بھی یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ فاٹا کی سب سے ترقی یافتہ ایجنسی یعنی خیبر ایجنسی کی حالت یہ ہے کہ فروری 2017تک یہاں کے ہسپتالوں میں ایک میں بھی سٹی سکین مشین موجود نہیں تھی۔ یوں پورے فاٹا میں ایک بھی کالج موجود نہیں ہے اور65 فیصد علاقے بجلی جیسی سہولت سے محروم ہیں۔ فوج نے علاقے میں لاتعداد منصوبے شروع کئے ہیں جن میں متعدد بڑے طبی یونٹس‘ سڑکیں اور کیڈٹ کالجز شامل ہیں مگر سول حکومتوں کی کارکردگی انتہائی مجرمانہ رہی اور حالت یہ رہی کہ حال ہی میں پاکستان سے واپس جانے والے یو این ڈی پی کے ایک کنٹری ڈائریکٹر نے اقوامِ متحدہ کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ فاٹا اکیسویں صدی میں بھی دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں میں سرِ فہرست ہے اور یہاں کے عوام افریقہ کے بعد پسماندہ ممالک سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ سال2013 کے الیکشن میں فاٹا کے بعض امیدواروں نے عوام کے مسلسل اصرار پر فاٹا میں وسیع اصلاحات کے ایجنڈے پر حصہ لیا تو عوام نے ان کو بھاری مینڈیٹ سے اسمبلیوں میں بھیجا۔ اسی دوران سال 2014 کے دوران جب نیشنل ایکشن پلان کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کے نکات میں تقریباً تین ایسے نکات تھے جن میں کہا گیا کہ فاٹا سے انتہا پسندی اور پسماندگی ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے اور اسے مین سٹریم کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس عزم کو عوام اور اکثر سیاسی قوتوں کی آشیرباد حاصل رہی۔ تاہم بدقسمتی سے سول حکومت نے اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی اور آپریشن سے لے کر ٹی ڈی پیز اور بحالی کے کاموں تک سب معاملات فوج کے کندھوں پر ڈالے رکھے۔ ممبران اسمبلی نے اس رویے کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مخاطب کیا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا اصرار بڑھتا گیا تو حکومت نے اصلاحات کے لئے ایک پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی جس نے تین ماہ تک فاٹا کی تمام ایجنسیوں کے دورے کرکے عوام‘ منتخب نمائندوں اور صاحب الرائے حلقوں سے ان کی رائے اور تجاویز معلوم کیں اور جب حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی تو اس کا خلاصہ یہ تھا کہ فاٹا میں وسیع تر بنیادی اصلاحات نہ صرف یہاں کے جنگ زدہ عوام بلکہ پاکستان کے امن‘ استحکام اور خوشحالی کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ انتظامی تبدیلی کے بارے میں تین آپریشنز تجویز کئے گئے جن میں الگ صوبے کا قیام اورصوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں تقریباً75فیصد رائے صوبے میں فاٹا شمولیت کے حق میں سامنے آئی اور اس رائے کو اکثریتی عوامی نمائندوں کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہوئی جن میں پیپلزپارٹی‘ تحریکِ انصاف‘ جماعت اسلامی‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ قومی وطن پارٹی‘ نیشنل پارٹی اور متعدد دیگر شامل ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب فاٹا کے ممبران نے ادغام اور دیگر اصلاحات کے لئے کمیٹی کی سفارشات اور عوامی مطالبات کے تناظر میں ایک بل اسمبلی میں پیش کیا اور اس کو تائید حاصل ہوئی تو دوچھوٹی جماعتوں نے بوجوہ اس کی مخالفت شروع کی جس کے باعث حکومت ابہام کا شکار ہوئی اور اپنی دو اتحادی جماعتوں کے دباؤپر مصلحت یا تاخیر کا شکار ہوگئی۔ اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی سے دو قراردادوں کے ذریعے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے کا حصہ بنایا جائے۔ جو اس جانب اشارہ تھا کہ صوبے کے عوام بھی اپنے قبائلی بھائیوں کو گلے لگانے کے لئے تیار بلکہ بے تاب ہیں۔ نئے تقاضوں اور حالات کے تناظر میں جس قومی اتفاقِ رائے کا قیام سامنے آیا ہے اس کو پاکستان کی مقتدر قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہے کیونکہ ان کو حالات کا بخوبی ادراک ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ فاٹا کو پُرامن‘ خوشحال اور محفوظ بنایا جائے تاہم بعض نام نہاد سیاسی قوتوں کے رویے نے معاملے کو متنازعہ بنادیا ہے جس پر قبائلی عوام کا شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق کے لئے پھر سے جدوجہد کرنے نکل آئے ہیں۔

انتظامی تبدیلی کے بارے میں تین آپریشنز تجویز کئے گئے جن میں الگ صوبے کا قیام اورصوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں تقریباً75فیصد رائے صوبے میں فاٹا شمولیت کے حق میں سامنے آئی اور اس رائے کو اکثریتی عوامی نمائندوں کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہوئی

سیاسی مبصرین کا متفقہ خیال اور رائے ہے کہ مزید تاخیر یا بہانوں کے بجائے اکثریتی رائے اور مخصوص حالات کا احترام اور ادراک کرتے ہوئے فاٹا کو اندھیروں‘ فرسودہ قوانین‘ کولونین گورننس اور پسماندگی سے نکالنے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور یہاں کے عوام کو وہ حقوق دیئے جائیں جو کہ پشاور‘ لاہور‘ کراچی اور کوئٹہ کے عوام کو حاصل ہیں۔ جو اقلیتی حلقے ریفرنڈم یا الگ صوبے کا مطالبہ پیش کررہے ہیں۔ ان کے مطالبے کا نہ تو کوئی سیاسی جواز ہے اور نہ ہی ان کی تجاویز کو سیاسی یا عوامی تائید حاصل ہے۔ ان کا مقصد فاٹا کے ایک بہتر مستقبل کو پھر سے سوالیہ نشان بنانا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ حسبِ معمول وارزون بنا رہے اور یہاں کے بے بس ‘ فرسودہ قوانین‘ کرپٹ انتظامیہ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے رحم و کرم پر ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اصلاحات اتفاقِ رائے کی بجائے کثرت رائے کے فارمولے کے تحت عمل میں لائی جائیں اور ایک ایسے فاٹا کی بنیاد رکھی جائے جہاں امن و خوشحالی اور استحکام آئے۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش کرتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

تحریر: علی جاوید نقوی

پاک فوج نے ملک بھرسے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن ردالفساد شروع کردیاہے،اوریہ کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن کااعلان ہوا توملک بھرمیں اس کاخیرمقدم کیاگیا۔عوام کے تمام طبقات کی خواہش اورمطالبہ تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کوکسی خاص علاقے تک محدود نہ رکھاجائے، دہشت گرد جہاں اورجس علاقے میں بھی چھپے ہوں انھیں نشانہ بنایا جائے۔ اب نہ صرف دہشت گردوں کاخاتمہ کیاجائے گا،بلکہ ان کے سہولت کاروں اورغیرقانونی اسلحے کاکام کرنے والوں کوبھی پکڑاجائے گا۔پاکستان کے بیس کروڑ عوام کی نگاہیں فوج پرلگی ہیں اورانھیں یقین ہے اس آپریشن کے بعد امن وامان کی صورتحال میں مزید بہتری آجائے گی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اورسکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اورعزم وہمت کی مثالیں قائم کی ہیں،ان قربانیوں کوپوری دنیا نے سراہا ہے۔عوام کے حوصلے بھی بلند ہیں اور وہ ہرمحاذپرفوج کے ساتھ کھڑے نظرآئے ہیں۔

 

urduoptradufsad.jpgدہشت گردوں کے خلاف اب تک مرحلہ وار کئی کامیاب آپریشن ہوچکے ہیں،یہ آپریشن سوات ،باجوڑ ایجنسی،شمالی اورجنوبی وزیرستان،خیبرایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں کئے گئے ،ضرب عضب کے نتیجے میں کافی بہتری آئی، لیکن نیشنل ایکشن پلان پرسست روی سے عمل ہونے کے باعث بہت سے پہلو باقی رہ گئے۔دہشت گردوں کومکمل شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے چاروں عناصر،مقننہ،عدلیہ، فوج اورمیڈیاایک پیج پرہوں۔قوم ان سب کی پشت پرہو ۔دہشت گردی کے خلاف سب کی سوچ ایک جیسی ہو۔اگرکسی بھی ادارے کاکوئی شخص کسی قسم کی کوتاہی کاذمہ دار ہوتواسے بھی سزادی جائے۔ اگرہم سوفیصد نتائج چاہتے ہیں تو سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ باقی اداروں کوبھی متحرک ہوناہوگا۔خوش قسمتی سے اس وقت پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے ریاست کے تمام عناصر کی سوچ ایک ہے کہ ان دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا جائے اور ایک بے رحم آپریشن کیا جائے، جو دہشت گردوں کی نسلیں اور ان کے سرپرست بھی یاد رکھیں۔ماضی میں ہماری کمزوریوں کا فائدہ ہمارے دشمنوں نے اٹھایا،اب ہمیں اس کاموقع نہیں دیناچاہئے۔دوسری طرف ہمیں دشمن کی کمزوریوں سے بھی فائدہ اٹھا نے کی ضرورت ہے اب اس جنگ کوخود دشمن کے ملک میں دھکیل دینا چاہئے، بعض اوقات اینٹ کاجواب پتھرسے دیناضروری ہوجاتاہے۔ ہم سب اس بات کوبھی بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گرداپنی شکلیں اورطریقہ کاربدل چکے ہیں۔یہ چاہے کسی شکل اورروپ میں ہوں ان کاسدباب ضروری ہے۔ ایک اہم پہلو دہشت گردی کے لئے آنے والا پیسہ ہے۔دہشت گردوں کے مالی وسائل پرضرب لگانابھی ضروری ہے۔ غیرقانونی طریقوں سے پاکستان آنے والے پیسوں کے علاوہ کرپشن ،جرائم اوراسمگلنگ کاپیسہ بھی دہشت گردی میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس پرکنٹرول کرنابھی بہت ضروری ہے۔ غیرقانونی پیسے کی آمد بند ہو جائے تودہشت گردوں کودستیاب وسائل بھی ختم ہوجائیں گے۔غیرقانونی پیسے کے بغیرمنظم دہشت گردی ممکن نہیں۔بہت سے کیسز میں جرائم پیشہ افراد دہشت گردوں کے ساتھی اورسہولت کاربنے ہیں ،وہ بھاری معاوضے کے عوض کچھ بھی کرنے کوتیارہوتے ہیں ۔اُنھیں اس سے غرض نہیں کہ ان دھماکوں سے ملک کو کتنا نقصان ہورہاہے،کتنے بچے یتیم ہو رہے ہیں، اورکتنے سہاگ اجڑ رہے ہیں۔


اس ساری صورتحال میں میڈیا کوبھی دیگراداروں کی طرح اپنا رول متعین کرنا ہو گا،دہشت گرداوران کے سہولت کار کسی ہمدردی کے مستحق نہیں۔بعض اوقات ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے چکرمیں صحافتی اخلاقیات اور اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جاتاہے۔یہ رویہ درست نہیں۔ کارکن صحافی تنظیمیں اورمیڈیا مالکان کواپنے رول کافیصلہ خودکرناہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔ ہم سب کوایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اپنی ذمہ داروں کااحساس کرناہوگا،تب ہی کامیابی ممکن ہے۔


عوامی رائے یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بے رحم آپریشن ہونا چاہئے، اگرفوجی عدالتیں مدت ختم ہونے کے فورًا بعد بحال کردی جاتیں اور دہشت گردوں کوسزائے مو ت دینے کاسلسلہ جاری رہتا توشایدانھیں دوبارہ سر اٹھانے کاموقع نہ ملتا،لیکن بدقسمتی سے بعض حلقوں کی طرف سے نہ صرف سستی کا مظاہرہ کیا گیا بلکہ فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دے کرانہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اورہمدردوں کوبھی سخت سزائیں دی جاسکیں ۔دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے نئی قانون سازی اوربعض قوانین میں تبدیلی ناگزیر ہے۔


پاکستان کے قبائلی عوام اوران کے نمائندے ایک عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔پاکستان کے موجودہ قوانین کادائرہ قبائلی علاقوں تک بڑھا دیا جائے ۔لاہور اورکراچی میں جرائم کی جوسزا ہے ،قبائلی علاقوں میں بھی وہی ہو۔بعض سیاسی جماعتیں اس حوالے سے مصلحتوں کاشکارنظرآتی ہیں۔ دنیا بھرمیں جوممالک دہشت گردی کاشکارہوئے ،وہاں سکیورٹی فورسز کااستعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی وسماجی حوالوں سے بھی اصلاحات لائی گئیں ،قانون سازی بھی کی گئی ۔زندگی کے ہرشعبے نے اس پہلو پرتوجہ دی پھرکہیں جاکردہشت گردی پرقابوپایا گیا۔ ہمارے یہاں بدقسمتی یہ رہی ہے کہ سکیورٹی فورسز سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کوختم کرنے کے ساتھ ساتھ باقی سیاسی وسماجی معاملات کوبھی ٹھیک کریں۔جبکہ ایک مربوط نیشنل ایکشن پلان اوراختیارات کے بغیر ایساممکن ہی نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیاہے کہ چندعلاقوں میں آپریشن شروع کیاگیاتوبچ جانے والے دہشت گرد دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے۔اسے روکنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ پنجاب کے بعض علاقوں کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہاں دہشت گردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں ہیں۔پنجاب میں رینجرز کوآپریشن کے اختیارات ملنے کے بعد امید ہے کہ دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی یہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کردی جائیں گی۔دہشت گرد ملک بھرمیں غیرقانونی طورپرمقیم افغان مہاجرین کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ایسے مہاجرین کوواپس افغانستان بھجوا دیناچاہئے جو پاکستانیوں کی مہمان نوازی کاصلہ دہشت گردی کی شکل میں دے رہے ہیں۔دہشت گردی کی موجودہ لہرکے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،ٹھوس معلومات اورشواہد کے بعد پاک فوج نے دہشت گردوں کے بعض ٹھکانے مکمل طورپرتباہ کردئیے ہیں،لیکن سازشوں کے اس کھیل کے جلد ختم ہونے کی توقع نہیں ۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کوہرجگہ نشانہ بنایاجائے۔

لشکرجھنگوی ،مجلس الاحرار اورٹی ٹی پی کی ڈوریں ،افغانستان اوربھارت سے ہلائی جارہی ہیں۔

دہشت گرد تنظیموں کی سرپرست اعلی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ ہے۔

اس بات کوبھی ذہن میں رکھناچاہیے کہ دشمن ،افغان فورسز کو پاکستان کے خلاف الجھاناچاہتاہے۔

دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ انھیں فنڈنگ کرنے والوں کوبھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی فوج اپنی مہارت اورصلاحیتوں کے باعث دنیا کی بہترینا فواج میں شامل ہے۔

پاکستان کے 20کروڑ عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔

ماضی کی طرح پاکستان کا مستقبل بھی روشن ہے۔

افغانستان اورخطے میں امن قائم رکھنے کے لئے چین، پاکستان،افغانستان اورتاجکستان کے درمیان ایک فوجی معاہدہ اورالائنس موجود ہے ۔اس کاایک اہم اجلاس گزشتہ سال اگست میں ہواتھا،جس میں یہ فیصلہ کیاگیا تھا کہ چاروں ممالک خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کرکام کریں گے۔چین میں ہونے والے اجلاس میں چاروں ممالک کے آرمی چیف موجودتھے۔افغان آرمی چیف نے یقین دلایا تھا کہ وہ دیگرممالک سے تعاون کریں گے۔ تاہم افغان فوج اور حکومت پربھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے باعث اس بات کاخدشہ محسوس کیا جارہاتھا کہ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مؤثراقدامات نہیں کرے گا۔اب بھی اس بات کاامکان زیادہ ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے کیمپ ختم کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کاسلسلہ جاری رکھے ،یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ افغان فوج، بھارتی خفیہ ایجنسی کی کسی چال کاشکارہوجائے اورپاکستان کے خلاف ہی جارحیت کربیٹھے۔یہ خطرہ بہرحال موجودہے۔ہمیں چین کے تعاون سے افغانستان کواس بات کے لئے رضامند کرنا ہو گاکہ وہ الزام تراشی اورکسی دوردراز ملک کے مفادات کاتحفظ کرنے کے بجائے اپنے عوام کے مفادات کودیکھے۔ افغان حکومت کے منفی رویے کاخمیازہ افغان عوام کوبھگتناپڑ ے گا۔افغانستان میں لشکر جھنگوی،ٹی ٹی پی اورجماعت الاحرارکے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ان سب دہشت گردوں کی سرپرست اعلی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ ہے۔افغان حکومت کی غیرسنجیدگی کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے ایک فہرست افغانستان کے حوالے کی توجواب میں افغان حکومت نے اپنی ایک فہرست کابل میں موجود پاکستانی سفارت کارکوپکڑا دی۔


پاکستان کے دشمن پاکستان کی اقتصادی ترقی اورکامیابیوں سے پریشان ہیں۔چین اورپاکستان کے درمیان شروع ہونے والا اقتصادی راہداری منصوبہ، سی پیک ایک گیم چینجرمنصوبہ ہے۔ بعض دشمنوں کاخیال تھا کہ پاکستان اپنے مسائل اورمشکلات پرقابونہیں پاسکے گا ،لیکن معاملہ بالکل الٹ نکلا ،پاکستان نے نہ صرف درپیش چیلنجزکا مقابلہ کیابلکہ خودکومضبوط بھی کیا۔سی پیک منصوبے نے پاکستان کے لئے ترقی کے دروازے کھول دئیے ہیں،جس سے بھارت کی نیندیں اڑگئی ہیں ۔


آپریشن ردالفساد اورپہلے کیے جانے والے آپریشنزمیں ایک بڑا اوربنیادی فرق یہ ہے کہ پہلے تمام آپریشنزٹارگٹڈ آپریشن تھے اورخاص علاقوں تک محدودرہے لیکن ردالفسادملک بھرمیں چھپے ہوئے فسادیوں کے خلاف ہے ۔سیاسی جماعتوں ،رہنماؤں اوردانشوروں اورادیبوں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام نے بھی آپریشن ردالفساد کی حمایت کی ہے ،تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام اس بات پرمتفق ہیں کہ دہشت گردی کرنے والے اورانھیں سہولتیں فراہم کرنے والے یادہشت گردوں کی کسی طرح بھی حمایت کرنے والے فسادفی الارض کے مرتکب ہورہے ہیں، تمام مکاتب فکرکے جید علمائے کرام نے نہ صرف فسادیوں کے خلاف فتوی دیا ہے بلکہ سکیورٹی فورسزکے شانہ بشانہ ان دہشت گردوں سے لڑنے کابھی اعلان کیاہے۔


بائیس فروری کولاہورمیں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔ اس اجلاس میں پنجاب کے تمام کورکمانڈرزاورڈی جی رینجرزبھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات اور دہشت گردی کے چھپے ہوئے خطرے کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے کے علاوہ اب تک کی کارروائیوں میں حاصل ہونی والی کامیابیوں کو مستحکم اور سرحدوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ پاک فضائیہ، بحریہ، سول آرمڈ فورسز اور دیگر سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔پنجاب رینجرز کی طرف سے وسیع البنیاد سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے آپریشن بھی کئے جائیں گے۔ ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے علاوہ سرحدوں کی مؤثر نگرانی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آپریشن ’ردالفساد‘ کے تحت ملک بھر کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا۔ گولہ و بارود پر کنٹرول بھی کیا جائے گا۔اگران تمام نکات اورفیصلوں پرغورکیاجائے تویہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔


دہشت گردوں اورجرائم پیشہ افراد کے خلاف اب تک جتنے آپریشن کیے گئے ہیں اکثر کامیاب ہوئے ہیں۔اگرصرف کراچی آپریشن کاہی تنقیدی جائزہ لیں تویہ آپریشن بھی اپنے اہداف میں کامیاب رہا۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں بھی کمی آئی ہے اورکراچی کی رونقیں بھی لوٹ آئی ہیں۔ جوبازارخوف کے باعث سرشام بندہوجاتے تھے اب وہاں رات گئے تک لوگوں کی چہل پہل رہتی ہے۔ گزشتہ سال 2016 میں 2015 کے مقابلے میں ٹارگٹ کلنگ میں 72فیصد کمی آئی۔ انسپکٹرجنرل سندھ پولیس کی جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ فورسز کے کامیاب آپریشن کے باعث کراچی میں امن وامان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہترہے۔نہ صرف ٹارگٹ کلنگ بلکہ بھتہ خوری ،ڈکیتی اورقتل کے واقعات بھی بہت کم ہوگئے ہیں۔اسی طرح سوات ،شمالی وجنوبی وزیرستان،باجوڑ اورقبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد حالات بہتر ہورہے ہیں ،اگران اعداد وشمار کودیکھا جائے توصورتحال بہت حوصلہ افزأ ہے۔جہاں تک دہشت گردی کی موجودہ لہر کاتعلق ہے یہ ختم ہوتے دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی آخری کوشش ہے ۔ فسادیوں کے خلاف جاری آپریشن ردالفساد سے امید ہے کہ ان کاجلد خاتمہ ہوجائے گا۔قوم پورے جذبے کے ساتھ فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کامستقبل پاکستان کے ماضی کی طرح روشن ہے۔

اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter