13
June
Published in Hilal Urdu
Read 57 times
جون 2017
شمارہ:6 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ملکی دفاع کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہوا کرتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اگر کوئی ریاست دفاعی اعتبار سے کمزور ہو اور اس کی سپاہ اس قابل نہ ہو کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے تو پھر ایسی ریاست کی سالمیت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام نے معاشرت اور سماجی اعتبار سے ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی لائن کو بھی....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس کے باوجود بہتر نہیں ہوپارہے کہ دونوں ممالک کو نہ صرف ایک جیسے حالات خصوصاً دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ ان کے درمیان بہتر تعلقات علاقے اور خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ حال ہی میں جب لندن اجلاس کے تناظر میں طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے رابطے بحال ہونا شروع ہوگئے تو پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ایک....Read full article
 
 alt=
تحریر: حماس حمید چودھری
206 قبل مسیح میں ہان خاندان چین میں برسر اقتدار آیا۔ہان خاندان کی چار سو سالہ حکومت چین کی معاشی تاریخ میں سنہرے دور کے طور پر یاد کی جاتی ہے کیونکہ ہان خاندان نے تاریخ میں پہلی بار ایشیا کو افریقہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی مقاصد کے لئے براہ راست جوڑنے کا سوچا اور پھریہی سوچ بنیاد بنی شاہراہ ریشم کی۔ اس قدیم شاہراہ ریشم(سلک روڈ) کی....Read full article
 
تحریر: محمود شام
قلم کا قرطاس سے‘ذہن کا انگلیوں سے‘ سوچ کا تحریر سے رشتہ جوڑتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے‘ مگر ایسا انتشار‘ ایسی انارکی اور بے یقینی کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ اتنی تشویش محسوس کی تھی۔ہر جانے والا دن‘ ہر ڈوبنے والا سورج بہت سی اُمیدیں لے کر ڈوب جاتا ہے۔ آرزوئیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ اتنی شدت پسندی پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کی تھی۔ مذہبی ....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہونے والی امریکہ ،عرب اسلامی سربراہی کانفرنس اپنی نوعیت کے حوالے سے ایک منفردکانفرنس تھی، کانفرنس کے کیانتائج برآمد ہوں گے ،یہ آنے والاوقت بتائے گا۔ حیرت کی بات ہے امریکی صدر کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں نظر نہ آئیں ،انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کوفروغ دینے والے بھارت کودہشت گردی سے متاثرہ ملک قراردے دیا۔اس کانفرنس سے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں دانشوروں کا ایک ایسا منظم گروہ متحرک ہوگیا ہے جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے بارے میں شکوک و شبہات اور کنفیوژن پیدا کررہا ہے بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کررہا ہے۔ ان کے ایجنڈے کا ایک اہم نقطہ قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا ہے تاکہ پاکستان کی اسلامی ثقافت پر سیکولرازم کا غلاف چڑھایا جاسکے۔ ان حضرات کو قائداعظم کی سیکڑوں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
بھارت کا دفاعی بجٹ یکم فروری2017 کو پیش کیاگیا۔ اس سال 359,854کروڑ روپے وزارتِ دفاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجودبھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ سوال بدستور موجود تھا کہ کیا مختص کی گئی رقم ملک کی سکیورٹی کے لئے کافی ہے؟ دوسرے الفاظ میں اتنی بڑی رقم کے باوجود بھارت کی خود ساختہ دفاعی ضروریات مکمل نہیں ہورہی ہیں۔ حالانکہ اس سال دفاعی.....Read full article
 
تحریر : صبا زیب
رویے جب شدت اختیار کرنے لگ جائیں تو انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے بھی اعتدال اور میانہ روی کو زندگی کے ہر معاملے میں پسند کیا ہے۔ جب ہم اپنے رویوں میں شدت پسند ہوجاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہماری زندگی میں بے چینی آجاتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے بھی اس سے....Read full article
 
تحریر: میجر مظفراحمد
دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دینے والے ملک اور خطے میں امن کے خواہاں پاکستان کو اس کی مردم شماری کی مہم کے دوران 5مئی 2017 کو ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تناؤ دراصل کوئی نیا واقعہ نہیں تھا بلکہ پس منظر میں پاک افغان بارڈر تناؤ کی صورت میں پوشیدہ تلخ تاریخ کا شاخسانہ تھا۔ قومی فریضے کی انجام دہی کے لئے مردم شماری کے دوسرے....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
رات کا وقت فوجی کارروائیوں کے لئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے کیونکہ رات کی تاریکی میں دشمن کے خلاف سرپرائز حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر فوجی تربیت میں رات کے وقت آپریٹ کرنے پرخصوصی توجہ دی جاتی ہے اور عسکری مشقوں کے دوران بھی فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے لئے زیادہ تر رات کے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔آجکل تو ایک سے....Read full article
 
تحریر: خدیجہ محمود
جس طرح ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ اسی طرح میری نظر میں پاک فوج سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ سپاہی ہو یا جرنیل آسمانِ شجاعت کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس کے سینے پر کسی نہ کسی قربانی کا تمغہ سجا ہوا ہے اور وہ قربانی صرف دفاعِ وطن کے مقدس فریضہ کے دوران رتبۂ شہادت پر فائز ہونے کی ہی نہیں بلکہ خون کو جماتی ہوئی سیاچن گلیشیر جسے برف کا صحرا.....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
بھارت کا جنگی جنون اور خطے میں برتری کی شدید خواہش ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں بھارتی ایئر فورس کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پہلی بار اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے بارہ ہزار سے زائد افسروں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہیں کسی بھی وقت کسی بھی چیلنج کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اخبارات کو اس خط کی اطلاع پہنچی تو زیادہ تر ماہرین نے اسے.....Read full article
 
تحریر: عفت حسن رضوی
تحریر کو پڑھنے سے پہلے وہ قارئین جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے ذرا گوگل سرچ کریں "بیتھنی موٹا" ، اکیس سالہ امریکی ویب اسٹار جو وڈیو بلاگر ہے ، اس وقت یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد فالوئرز رکھتی ہے جو کسی بھی عالمی سیاسی لیڈر یا ہالی وڈ اسٹار سے زیادہ ہیں ، بیتھنی نہ کوئی اداکارہ ہے نہ کسی سیاسی شخصیت کی بیٹی اور نہ ہی کوئی علمی ادبی پس منظر۔ بیتھنی نے دوہزار نو میں جب وہ.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
میں آپ کو ذرا تھر یعنی سندھ کے اُس علاقے میں لئے چلتا ہوں جو غربت کے اعتبار سے سندھ کے 29 اضلا ع میں آخری نمبروں پرآتا ہے ۔ مگر یقین کیجئے کہ ہفتے بھر پہلے تھر جانا ہوا تو پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اور برسوں کا مطلب روایتی طور پر دہائیاں نہیں حقیقتاً دسمبر 2017 میں سندھ اینگروکول اینڈ پاور پروجیکٹ کے چیف ایگزیکٹیوشمس الدین احمد شیخ کے....Read full article

تحریر: یاسر پیرزادہ
کتنا اچھا ہو اگرآپ کی زندگی میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ ہو!آپ کی جنم پرچی سے لے کر ایم اے کی سند تک اور پنگھوڑے میں انگوٹھا چوسنے کی تصویر سے لے کر شادی میں دودھ پلائی کی تصویر تک ہر شے ایک پرفیکٹ طریقے سے........Read full article
 
26مئی 2017کو اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائداعظم یونیورسٹی میں مذہبی برداشت و ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس میں جید علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر متفقہ فتویٰ اور اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر ملک کے.....Read full article
 
تحریر: موناخان
ہمالیہ کے پہاڑوں کا دور تک پھیلتا ہوا سلسلہ۔۔ سفید ماؤنٹ ایورسٹ جس کو سر کرنے کے لئے ہزاروں کوہ پیما نیپال کا سفر کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا نیپالی نام ’ساگرما تھا‘ ہے۔ ارے نہیں ایسا مطلب بالکل بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ۔ ہم نیپال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ کھٹمنڈو اور لمبینی کی سڑکوں پر خوار ہونے گئے تھے۔ خواری بھی ایسی جس میں دل راضی تھا.....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر 1965 کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے میں 16ستمبر کو ریکارڈ ہونے والے ملی نغمے کی کہانی بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ دشمن کا یہی پراپیگنڈہ تھا کہ یہ نغمے پاکستان نے پہلے سے تیار کر رکھے تھے۔ مگر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ نغمے....Read full article
 
تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع
ماہِ رمضان درحقیقت رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہے ، اس میں خزاں کے پتوں کی طرح گناہ جھڑتے اور موسم بہار کی طرح خیر و بھلائی کی تازہ کونپلیں پھوٹتی ہیں ،مغفرت کی ہوائیں چلتی اور رحمت کی پھوار برستی ہے ، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا پھل جنت ہے ، یہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ، اس میں نوافل کا ثواب فرضوں جتنا.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرہما میر
وقت کا پہیہ تیزی سے گھومے جارہا ہے‘ دن ہفتوں میں‘ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ 24 گھنٹے اتنے جلدی کیسے گزر جاتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں تو لگتا تھا دن بہت لمبے ہوتے ہیں‘ صبح سکول جانا‘ دوپہر میں گھر واپس آکر ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانا‘ پھر ذرا آرام کرنا۔ سہہ پہر میں ٹیوشن پڑھنا....Read full article
13
June

تحریر: ڈاکٹرہما میر

وقت کا پہیہ تیزی سے گھومے جارہا ہے‘ دن ہفتوں میں‘ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ 24 گھنٹے اتنے جلدی کیسے گزر جاتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں تو لگتا تھا دن بہت لمبے ہوتے ہیں‘ صبح سکول جانا‘ دوپہر میں گھر واپس آکر ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانا‘ پھر ذرا آرام کرنا۔ سہہ پہر میں ٹیوشن پڑھنا‘ ہوم ورک کرنا‘ پھر شام میں گھر سے باہر جاکرکھیلنا‘ رات کا کھانا کھانا اور پھر مزے سے سو جانا۔ اس دوران گھومنا پھرنا اور رشتہ داروں کے گھر ملنے جانا بھی ہوتا تھا۔ سب کچھ کتنی جلدی بیت گیا۔ بچپن میں خواہش تھی کہ بس جلدی سے بڑے ہو جائیں‘ جلدی سے تعلیم کا سلسلہ مکمل ہو اور پھر زندگی میں بس آرام ہی آرام ہو۔


کیا خبر تھی کہ اصل زندگی تو وہی تھی‘ وہی بچپن کا سنہری دور تو سب سے خوبصورت تھا جب نہ کوئی فکر تھی نہ پریشانی‘ نہ غم ‘ نہ اداسی‘ نہ کوئی ذمہ داری ‘ نہ کوئی ٹینشن۔ یہ سب عارضے تو اس وقت لاحق ہوتے ہیں جب ہم اپنی عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں‘ صحیح معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجاتا ہے۔


ایسا عموماً سبھی کے ساتھ ہوتا ہے‘ مگرایک خاص طبقہ ایسا بھی ہے جن کے نہ یہ معمولات ہوتے ہیں نہ مسائل‘ یہ وہ اشرافیہ ہے جن کی گھٹی میں صرف مال بنانا ہوتا ہے۔ (میں نے مال کمانا نہیں بلکہ مال بنانا لکھا ہے) ایسے لوگوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں دوسروں کو حقیر فقیر سمجھنا اور خود کو شہزادہ سمجھنا ہوتا ہے۔ یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ انہیں ماں باپ کی وہ توجہ اور محبت نہیں ملتی جو ایک عام آدمی کے بچے کو ملتی ہے۔ لہٰذا ان کی محبت و توجہ کا مرکز صرف پیسہ ہوتا ہے۔ ان کی کردار سازی کی ذمہ داری کسی نے پوری نہیں کی ہوتی اس لئے یہ ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی کے مسائل میں اپنے کنبے کی پرورش کرنا‘ محنت سے روزی روٹی کمانا اور زندگی کی گاڑی کو آبرومندانہ طریقے سے کھینچنا ہوتا ہے۔


جب سے میں کینیڈا آئی ہوں میرے اندر یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ عوام کا کیا حق ہے اور اُنہیں اپنے جائز حقوق سے محروم رکھنا کتنا تکلیف دہ عمل ہے۔ جب میں دیکھتی ہوں کہ یہاں تعلیم و صحت سمیت لوگوں کو بہترین سہولیات حاصل ہیں تو مجھے اپنے سرکاری سکولز اور سرکاری ہسپتال یاد آنے لگتے ہیں‘ میں نے بطورِ ڈاکٹر وطنِ عزیز میں سرکاری ہسپتال میں کام کیا ہے اور مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ وہاں کیا حالتِ زار ہے۔ سکولوں کے حوالے سے بھی حقیقت سب پر عیاں ہے۔ بس جی کُڑھتا رہتا ہے۔ ابھی ہمارے ایک دوست کو عارضۂ قلب لاحق ہوا تو اُنہیں ڈاکٹروں نے بائی پاس آپریشن کا مشورہ دے ڈالا۔ انہوں نے یہاں ونکوور کے ایک مقامی ہسپتال میں اپناآپریشن کروایا۔ میں ان کی عیادت کے لئے ہسپتال گئی۔ ہسپتال کیا تھا کسی سیون سٹار ہوٹل جیسا شاندارماحول تھا۔ مریض کے آپریشن کو دو روز گزر چکے تھے مگر وہ نقاہت کے باعث زیادہ بات چیت نہیں کرپا رہے تھے‘ ان کی بیگم نے بتایا کہ آپریشن کے بعد پانچ چھ دن ہسپتال میں رکھتے ہیں پھر چھٹی مل جائے گی۔ اب گھر پر دو مہینے آرام کریں گے۔


کینیڈا کے ہسپتال میں سٹریچر بھی ہیں اور مناسب بستر بھی‘ لہٰذا مریضوں کو ٹھنڈے فرش پر لٹا کے مارنے کا بھی کوئی واقعہ درپیش نہیںآیا۔ ڈاکٹروں کی تنخواہ لاکھوں کروڑوں میں ہوتی ہے جس وجہ سے ڈاکٹر بڑے خوشحال ہیں۔ جب میں نے ڈاکٹری مکمل کی تو ایک ہسپتال میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے گئی‘ انہوں نے کہا چار ہزار وپے ماہانہ میں آپ کام شروع کردیجئے‘ میں نے بتلایا جناب اس سے دُگنی تنخواہ میں اپنے ڈرائیور کو دیتی ہوں‘ انہوں نے کہا تو کیا ہوا ہم اپنے چوکیدار کو 10 ہزارروپے ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں۔ آج اتنے برس بیت گئے مگر وہ کرب میں اب بھی محسوس کرتی ہوں کہ کس طرح عمرِ عزیز کے کئی قیمتی سال پڑھائی میں صرف کرکے اتنی محنت کرکے ڈاکٹر بنی اور پھر تنخواہ کے نام پر ایسی تذلیل ہوئی کہ انسان توبہ کرے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کو اپنا مشن سمجھنے والوں کی ایسی بے قدری کے باعث ہی قابل ڈاکٹر ملک سے باہر جاکر کما رہے ہیں کہ اپنے ہاں گارڈ یا ڈرائیور ان سے زیادہ خوشحال ہیں۔
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
June

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر 1965 کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے میں 16ستمبر کو ریکارڈ ہونے والے ملی نغمے کی کہانی بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ دشمن کا یہی پراپیگنڈہ تھا کہ یہ نغمے پاکستان نے پہلے سے تیار کر رکھے تھے۔ مگر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ نغمے روزانہ کی بنیاد پر حالات و واقعات کی مناسبت سے لکھے گئے اور پروڈیوس ہوئے ہیں تو دشمن بے حد شرمندہ ہوا۔۔۔ یہ سب کچھ پاکستانی قوم اور پاک فوج کے جذبہ حب الوطنی سے ممکن ہو سکا۔ ایک طرف پاکستانی فوج ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف عمل تھی تو دوسری طرف ریڈیوپاکستان لاہور اپنے ثقافتی محاذ پر دن رات نت نئے نغمے تخلیق کرنے میں مصروف تھا۔


جنگ ستمبر1965 کے دوران پوری قوم کا ایک ہی تبصرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ مختلف محاذوں سے جب ہمیں کامیابی کی اطلاعات ملنی شروع ہوئیں تو پھر میں نے حالات و واقعات سے متاثر ہو کر اس نغمے کا انتخاب کیا۔ ’’اُمید فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو‘‘ یہ نغمہ ہمیں کراچی سے محترم رئیس امروہوی سے موصول ہوا۔ اس نغمے میں فتح کی امید اور مصروف عمل رہنے کی تلقین ہے۔ اس کی کمپوزیشن بھی میں نے اور ملکہ ترنم نور جہاں نے مل کر بنائی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ مجھے دفتر کی جانب سے ایک جیپ اور ڈرائیور ملا ہوا تھا۔ جو مجھے صبح صبح گھر سے لیتا اور پھر میں گلبرگ میں میڈم نور جہاں کو لینے چلا جاتا۔ سارے دن میں نغمے کی تیاری ہوتی رہتی، میری یہی کوشش ہوتی کہ ملکہ ترنم نورجہاں کو پوری طرح مصروف رکھوں،کھانا میڈم نور جہاں کے گھر سے بھی آتا اور میرا نائب قاصد فضل بھی میرے گھر سے کھانا لاتا۔ ہم اکٹھے بیٹھ کر اپنے کمرے میں کھانا کھاتے اور پھر فوراً اسٹوڈیو ہی میں گانے کی ریہرسل کے لئے چلے جاتے۔ یہ عمل سارا دن جاری رہتا۔ کوشش ہوتی کہ وقت ضائع نہ جائے اور نغمہ ریکارڈ ہو جائے۔ یقین مانیں ان دنوں میرے ساتھ تمام سازندوں نے جو میری اس خاص ٹیم میں شامل تھے، میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سارا سارا دن ملی نغمے کی ریہرسل کرتے اور شام کے وقت ریکارڈنگ ہوتی۔ ریکارڈنگ میں بھی بہت وقت لگتا۔ کیونکہ میوزک
Balance
کرنے میں بہت محنت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ریکارڈ کے آلات بھی بڑے محدود تھے۔ بڑی مشکل سے میں میوزک کو ریکارڈ کر پاتا۔ پھر ہیڈفون لگا کر
Track
کے ساتھ میڈم کو گانے کے لئے کہتا۔ ریہرسل کے دوران تمام ریکارڈنگ کے لوازمات طے ہو جاتے یہی وجہ ہے کہ ملی نغمہ بہت اچھے طریقے سے ریکارڈ ہوتا۔ ریکارڈنگ کرنے کے بعد میڈم نورجہاں اور میں ریکارڈنگ کو دو تین مرتبہ سنتے اور جب تک تسلی نہ ہوتی ریکارڈنگ چلتی رہتی۔ یہ عمل کافی دیر تک چلتا۔ ریہرسل ایک ایسی چیز ہے جو کسی بھی نغمے کو کامیاب کرنے میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آج کل کے سنگر ریہرسل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ نغمے اچھے نہیں ہوتے۔ کسی بھی کام میں نیت، محنت اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے اور میڈم نور جہاں نے جس خلوص اور محنت سے یہ نغمے ریکارڈ کئے ہیں یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ میڈم نورجہاں کا سارا دن میرے ساتھ ریڈیو اسٹیشن پر رہنا ایک بہت بڑی بات تھی۔ انہوں نے بچوں اور گھر کی بھی پروا نہیں کی۔ میں نے اپنے بیوی بچوں کو سیالکوٹ بھیج دیا تھا۔ ان کو کہا کہ میرا کچھ پتہ نہیں، میں رات کو کب فارغ ہوتا ہوں۔ بعض اوقات مجھے ریڈیو اسٹیشن پر ہی سونا پڑ جاتا اور صبح سویرے گھر جا کر تیار ہو کر پھر ریڈیو اسٹیشن آتا اور میڈم نور جہاں کو لینے چلاجاتا۔ میڈم نورجہاں جیسی فنکارہ نے بھی میرے ساتھ بہت تعاون کیا یقین مانیں ان نغموں کی ریکارڈنگ کے دوران ہماری بہت انڈر سٹینڈنگ ہو گئی تھی مجھے کہتی تھیں اعظم بھیا تم تھکتے نہیں اور تم کس قدر جنون سے کام کرتے ہو۔ ان نغموں کی وجہ سے میڈم نورجہاں کا میرے گھر بھی آ نا جانا ہو گیا۔ وہ میرے بچوں کی شادیوں میں شامل ہوئیں۔ ایک دفعہ میرے گھر کا راستہ بھول گئیں تو معروف گلوکار مسعود رانا کو لے کر میرے گھر پہنچ گئیں۔ مجھے کہتیں کہ اعظم صاحب مجھے کسی چیز کی پروا نہیں، نہ پیسے کی نہ شہرت کی، میں تو کمرشل سنگر تھی ان ترانوں نے قوم میں میری عزت بڑھا دی ہے۔ میں یہی جواب دیتا کہ میڈم آپ تو خود ہی ملکہ ہیں فن موسیقی میں آپ کا کوئی جواب نہیں، میری اور آپ کی اس خدمت کو پوری قوم بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

 
13
June

تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع

ماہِ رمضان درحقیقت رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہے ، اس میں خزاں کے پتوں کی طرح گناہ جھڑتے اور موسم بہار کی طرح خیر و بھلائی کی تازہ کونپلیں پھوٹتی ہیں ،مغفرت کی ہوائیں چلتی اور رحمت کی پھوار برستی ہے ، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا پھل جنت ہے ، یہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ، اس میں نوافل کا ثواب فرضوں جتنا اور فرضوں کا ثواب ستر گنا بڑھادیا جاتا ہے، اس کا پہلا عشرہ رحمت کہلاتاہے ، دوسرا مغفرت کہلاتا ہے اور تیسرا جہنم کی آگ سے خلاصی کہلاتا ہے ۔
(صحیح ابن خزیمہ ، سنن بیہقی)
اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے اسی مبارک مہینہ میں نازل فرمائے ہیں ، چنانچہ قرآنِ مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ دُنیا پر تمام کا تمام اسی مہینہ میں نازل ہوا اور وہاں سے حسب موقع تھوڑا تھوڑا تیئس (23) سال کے عرصہ میں آنحضرت ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوا ۔ اس کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسی ماہ کی یکم یا تین تاریخ کو صحیفے عطاء کئے گئے ، حضرت داؤد علیہ السلام کو بارہ یا اٹھارہ رمضان میں ’’ زبور ‘‘ عطاء کی گئی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھ رمضان میں’’تورات‘‘ عطاء کی گئی ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بارہ یا تیرہ رمضان میں ’’انجیل‘‘ عطاء کی گئی ، اور حضور نبی پاک ﷺ کو چوبیس رمضان میں’’ قرآن مجید‘‘ جیسی مقدس کتاب عطاء کی گئی۔
(مسند احمد، معجم طبرانی)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہِ مبارک کو کلام الٰہی کے ساتھ ایک خاص قسم کی مناسبت حاصل ہے ، اسی وجہ سے قرآنِ پاک کی تلاوت کی کثرت اس مہینہ میں منقول ہے اور مشائخ کا معمول ہے۔ چنانچہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہرسال رمضان میں تمام قرآن شریف نبی کریم ﷺ کو سناتے تھے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺسے سنتے تھے ۔ علماء نے ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے قرآنِ پاک کے (مروّجہ) باہم دَور کرنے کے مستحب ہونے پر استدلال کیا ہے ۔
(فضائل رمضان بحذف و تغیر)
مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں اکسٹھ (61) قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے ، ایک دن کا ، ایک رات کا اور ایک تمام رمضان شریف میں تراویح کا۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں ساٹھ (60) قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے ، اس طرح کہ روزانہ دو قرآنِ مجید پڑھ لیتے تھے اور اس کے علاوہ عام دنوں میں روزانہ ایک قرآنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے ۔(فضائل قرآن)اس کے علاوہ روزانہ دس ، پندرہ پارے پڑھنا تو عام مشائخ کا معمول رہا ہے کہ رمضان نزولِ قرآن کی سالگرہ اور جشن عام کا مہینہ ہے۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے (تمام) دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے (تمام) دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔‘‘
(صحیح بخاری)
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ : ’’(رمضان کی آمد پر ) رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‘‘

(صحیح مسلم)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’ریّان‘‘ ہے ، اس دروازہ سے قیامت کے دن صرف روزہ دار لوگ داخل ہوں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام روزہ داروں کا نام لے کر بلایا جائے گا ، وہ اس دعوت پر کھڑے ہوں گے اور اُن کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا ، پس جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا، پھر اس دروازہ سے اس کے بعد کوئی داخل نہیں ہوسکے گا۔‘‘

(بخاری و مسلم)
‘‘ ایک روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسولِ پاک ﷺکا رنگ بدل جاتا، نماز میں اضافہ ہوجاتا ، دُعاء میں آہ و زاری بڑھ جاتی اور آپؐ کا رنگ سرخ ہوجاتا۔‘‘
(شعب الایمان للبیہقی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ سے پوچھا گیا کہ : ’’رمضان (کے روزہ) کے بعد کون سا روزہ افضل ہے ؟ ‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ رمضان کی تعظیم کی وجہ سے شعبان کا روزہ رکھنا افضل ہے ۔‘‘ پھر سوال کیا گیا کہ : ’’کون سا صدقہ افضل ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا کہ : ’’رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے۔‘‘
(جامع ترمذی)
حضرت اُم معقل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر (فضیلت رکھتا) ہے ۔
(جامع ترمذی)
ایک حدیث میں آتا ہے ، حضرت ابو ہریرہؓ نے حضورِ اکرم ﷺسے نقل کیا ہے کہ : ’’ میری اُمت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر عطاء کی گئی ہیں جو پہلی اُمتوں کو نہیں ملیں :
1۔ان کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے یہاں مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
2۔ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دُعا کرتی ہیں اور افطار تک کرتی رہتی ہیں۔
3۔جنت ہر روز اُن کے لئے آراستہ کی جاتی ہے ، پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ : ’’ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دُنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آجائیں ۔‘‘
4۔اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں اُن برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف اور دنوں میں پہنچ سکتے ہیں۔
5۔رمضان کی آخری رات میں ( تمام ) روزہ داروں کی مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ ’’شبِ مغفرت‘‘ ’’شبِ قدر‘‘ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ نہیں! بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے۔‘‘
(مسند احمد ، مسند بزار ، سنن بیہقی)
چونکہ رمضانُ المبارک کی راتوں میں ’’شبِ قدر‘‘ سب سے افضل رات ہے ، اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خیال فرمایا کہ اتنی بڑی فضیلت اسی رات کی ہوسکتی ہے ، مگر حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : ’’اس کے فضائل مستقل علیٰحدہ چیز ہیں ۔‘‘
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے ، اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور (جہنم کی) آگ سے چھٹکارا پانے کا سبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی طرح اس کو بھی ثواب ہوگا ، مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ’’ یارسول اللہ! ( ﷺ) ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’(اس سے پیٹ بھر کر کھلانا مراد نہیں ہے ) بلکہ یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ کسی کو ایک کھجور سے روزہ افطار کرادینے سے ، ایک گھونٹ لسی کا پلادینے سے بھی عطا فرمادیتے ہیں۔
( صحیح ابن خزیمہ)
ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورِ اقدس ﷺ نے رمضان المبارک کے قریب ارشاد فرمایا کہ : ’’رمضان کا مہینہ آگیا ہے جو بڑی برکت والا ہے ، حق تعالیٰ شانہ اس میں تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتے ہیں ، خطاؤں کو معاف فرماتے ہیں ، دُعاء کو قبول کرتے ہیں ، تمہارے ’’تنافس‘‘ (یعنی نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے) کو دیکھتے ہیں اور ملائکہ سے فخر کرتے ہیں ، پس تم اللہ تعالیٰ کو اپنی نیکی دکھلاؤ! ، بد نصیب ہے وہ شخص جو اس مہینہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔
(معجم طبرانی)
رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات ’’شبِ قدر‘‘ کہلاتی ہے جو بہت ہی خیر و برکت والی رات ہے ، قرآنِ پاک میں اس کو ہزار مہینوں سے افضل بتلایا گیا ہے ، ہزار مہینوں کے تراسی برس اور چار ماہ ہوتے ہیں ، خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے ۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : ’’شبِ قدر‘‘ اللہ تعالیٰ نے (صرف ) میری اُمت کو مرحمت فرمائی ہے ، پہلی اُمتوں کو نہیں ملی ۔‘‘
(دُرّمنثور)
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آنحضرت ﷺ عادت شریفہ اعتکاف کی ہمیشہ رہی ہے ، اس مہینے میں تمام مہینے کا اعتکاف فرمایا اور جس سال وصال ہوا ہے اس سال بیس روز کا اعتکاف فرمایا تھا ، لیکن اکثر عادت شریفہ چونکہ اخیر عشرہ ہی کے اعتکاف کی رہی ہے اس لئے علماء کے نزدیک’’سنت مؤکدہ‘‘ اعتکاف اخیر عشرہ ہی کا ہے ۔ اور چوں کہ اس اعتکاف کی بڑی غرض ’’شبِ قدر‘‘ کی تلاش ہے اس لئے حقیقت میں اعتکاف اس کے لئے بہت ہی مناسب ہے۔
(فضائل رمضان)
ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد وارد ہوا ہے کہ اعتکاف کرنے والا شخص گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اُس کے لئے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کہ کرنے والے کے لئے۔

(سنن ابن ماجہ)
مطلب یہ ہے کہ بہت سے نیک اعمال جیسے جنازہ میں شرکت ، مریض کی عیادت وغیرہ ایسے اُمور ہیں کہ اعتکاف میں بیٹھ جانے کی وجہ سے اعتکاف میں بیٹھنے والا شخص ان کو نہیں کرسکتا ، اس لئے اعتکاف کی وجہ سے جن عبادتوں سے وہ رُکا رہتا ہے اُن کا اجر بغیر کئے بھی اُسے ملتا رہتا ہے۔
(فضائل رمضان)
کتنے خوش قسمت اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مبارک مہینے کے ایک ایک لمحہ کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں ، اُن کے شب و روز میں خوف خدا سے آہوں اور سسکیوں کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے اور اُن کے اشک ہائے ندامت دل کی میل اور اُس کی کدورتوں کو بہاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بلاشبہ ماہِ رمضان ۔۔۔ روحانیت اور نیکیوں کا موسم بہار ہوتا ہے ، یہ مہینہ رحمت و مغفرت کی معطر ہواؤں سے مشک بار ہوتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
June
Published in Hilal Urdu
Read 56 times

newschattikahanmardam.jpg

12
June
Published in Hilal Urdu
Read 56 times

newscomanpeshcorecomna.jpg

12
June
Published in Hilal Urdu
Read 53 times
پاسنگ آؤٹ پریڈ آرمڈ کور سنٹر
گزشتہ دنوں آرمڈ کور سنٹر نوشہرہ میں ریکروٹوں کی تقریب حلف برداری اور پاسنگ آؤ ٹ پریڈ منعقد ہوئی ۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل چنگیز دل خان ڈائریکٹر جنرل آرمڈ کور تھے ۔ پریڈ گراؤنڈ پہنچنے کے بعد ریکروٹوں کے چاق و چوبند دستے نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی بعدازاں انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی میجر جنرل چنگیز دل خان نے کورس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ریکروٹوں میں انعامات بھی تقسیم کئے ۔

newspoutkorecent.jpg

فر نٹیئر کور خیبر پختونخواہ ریکروٹس پا سنگ آؤٹ پر یڈ
گزشتہ دنوں سکاؤٹس ٹر یننگ اکیڈ می وارسک میں فرنٹئیر کور کے 24 ویں بیچ کے ریکروٹس کی پا سنگ آؤٹ پریڈ ہو ئی ۔ اس تقریب کے مہما ن خصو صی وز یر داخلہ چو ہدر ی نثار علی خان تھے۔مہما ن خصو صی کا اکیڈ می پہنچنے پر آئی جی ایف سی (نارتھ )میجر جنر ل شا ہین مظہر محمود، آئی جی ایف سی (ساؤتھ) میجر جنر ل خالد جاوید اور کما نڈ نٹ سکا ؤٹس ٹر یننگ اکیڈ می کر نل رفیق احمدنے استقبال کیا۔ مہمان خصو صی نے پر یڈ کا معا ئنہ کیا اور جوانوں کی تربیت کے اعلیٰ معیار کو سراہا۔ تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے مہمان خصوصی وزیر داخلہ چو ہدری نثار علی خان نے پا س آؤٹ ہو نے والے ریکروٹس کو مبا رک پیش کی اور ملک و قوم کی دفاع کے لئے فر نٹئیر کور کے کر دار کی تعریف کی ۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے مختلف شعبوں میں اعلٰی کا ر کردگی دکھا نے والے کا میاب ریکروٹس میں انعاما ت بھی تقسیم کئے گئے۔

newspoutkorecent1.jpg

12
June

جید علماء کا فتویٰ

26مئی 2017کو اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائداعظم یونیورسٹی میں مذہبی برداشت و ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس میں جید علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر متفقہ فتویٰ اور اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر ملک کے معروف 31 علماء کرام و مشائخ عظام کے دستخط موجود ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفا ق المدارس پاکستان‘ وفاق المدارس العربیہ‘ رابطۃ المدارس پاکستان‘ پاکستان علماء کونسل اور دارالعلوم کراچی سمیت مختلف اداروں ‘ مسالک اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور مشائخ عظام نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کرتے ہوئے محاذ آرائی‘ فساد‘ دہشت گردی‘ شریعت کے نام پر طاقت کے استعمال کو حرام قرار دے دیا اور کہا کہ اسلام اوربرداشت کے نام پر قتل و دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں‘ دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کو کوتاہی کی بناپر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کرنا کسی صورت درست نہیں۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت‘ فوج یا دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں‘ ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم ہے‘ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال‘ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی‘ تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں حرام قطعی‘ شریعت کی روسے ممنوع اور بغاوت ہیں‘ ریاست کے ملک دشمن عناصر کو کچلنے کے لئے شروع کئے گئے آپریشنز ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء ومشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فتویٰ
یہ تحریر اس دہشت گردی اور خودکش حملوں سے متعلق ہے جن سے پاکستان اور اہل پاکستان سخت بے چین اور لہولہان ہو رہے ہیں اور جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہم متفقہ طور پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور مفتیان حضرات یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ

jayadulmaka.jpg
-1 اسلامی جمہوریہ پاکستان، آئینی و دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق قرارداد مقاصد سے ہوتا ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے استعمال کرنے کا حق ہے وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔


-2ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں یہ فکری سوچ جس جگہ بھی ہو، ہماری دشمن ہے اور اس کے خلاف فکری و انتظامی جدوجہد دینی تقاضا ہے۔
-3 ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک قومی و ملی جرم ہے۔ اس لئے ہم ریاستی اداروں کی جانب سے ایسی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کی درخواست کرتے ہیں۔
-4 پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب وفساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا ہے۔
-5 ہم پاکستان کے تمام مسلکوں اور مکاتب فکر کے نمائندہ علماء شرعی دلائل کی روشنی میں اتفاق رائے سے خود کش حملوں کو حرام قرار دیتے ہیں اور ہماری رائے میں خودکش حملے کرنے والے، کروانے والے اور ان حملوں کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون پاکستانی اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست پاکستان شرعی طور پر اس قانونی کارروائی کی مجاز ہے جو باغیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔
-6دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لئے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔
-7جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں، کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ ریاست سے بالاتر کسی گروہ کی ایسی کارروائی فساد اور بغاوت ہے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین اور واجب تعزیر جرم ہے۔
-8 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری، دستوری و آئینی میثاق کے پابند ہیں جس کی رو سے ان پر لازم قرار پاتا ہے کہ وہ بہرصورت حب الوطنی اور ملکی و قومی مفادات کا تحفظ پہلی ترجیح کے طور پر کریں اور اس پر کسی صورت آنچ نہ آنے دیں۔ ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کو کسی بھی عنوان سے نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی اور غدر قرار پاتی ہے جو دینی نقطہ نظر سے سنگین جرم اور لائق تعزیر ہے۔
-9 ریاست پاکستان میں امن و سکون قائم کرنے اور دشمنان پاکستان کے خلاف جو جدوجہد ضرب عضب اور رد الفساد کے نام سے شروع کی گئی ہے، ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔


متفقہ اعلامیہ
قرآن و سنت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ دستور کے تقاضوں کے عین مطابق پیغام پاکستان کے ذریعے درج ذیل اقدامات کا اعلامیہ پیش کیا جاتا ہے:
-1 پاکستان کا 1973کا دستور اسلامی اور جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان سماجی اور عمرانی معاہدہ ہے جس کی توثیق تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ نے متفقہ طور پر کی ہوئی ہے۔ اس لئے اس دستور کی بالادستی اور عمل درآمد کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا نیز ہر پاکستانی ریاستِ پاکستان کے ساتھ ہر صورت میں اپنی وفاداری کا وعدہ وفا کرے۔
-2 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی رو سے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت حاصل ہے۔ ان حقوق میں قانون و اخلاق عامہ کے تحت مساوات حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل ، اظہار خیال، عقیدہ ، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہے۔
-3 اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق سے ہوتا ہے: اﷲتبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
-4 پاکستان کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کے احکام کے نفاذ کی پرامن جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا دینی حق ہے۔ یہ حق دستور پاکستان کے تحت اسے حاصل ہے اور اس کی ملک میں کوئی ممانعت نہیں ہے جبکہ بہت سے ملی اور قومی مسائل کا سبب اﷲتعالیٰ سے کئے ہوئے عہد سے رو گردانی ہے۔ اس حوالے سے پیش رفت کرتے ہوئے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلنٹ بینچ کو مزید فعال بنایا جائے۔
-5 دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کوتاہی کی بنا پر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کسی صورت درست نہیں۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت، فوج یا دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو غیرمسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے اور ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم قرار پاتا ہے۔ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب وفساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، حرام قطعی ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت ہیں۔ یہ ریاست، ملک و قوم اور وطن کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ لہٰذا ریاست نے ان کو کچلنے کے لئے ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کے نام سے جو آپریشن شروع کر رکھے ہیں اور قومی اتفاق رائے سے جو لائحہ عمل تشکیل دیا ہے ان کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔
-6 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علما اور مشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور پوری قوم قومی بقاء کی اس جنگ میں افواج پاکستان اور پاکستان کے دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کرتی ہے۔
-7 تمام دینی مسالک کے نمائندہ علما نے شرعی دلائل کی روشنی میں قتل ناحق کے عنوان سے خودکش حملوں کے حرام قطعی ہونے کا جو فتویٰ جاری کیا تھا اس کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔ نیز لسانی، علاقائی، مذہبی اور مسلکی عصبیت کے نام پر جو مسلح گروہ ریاست کے خلاف مصروف عمل ہیں، یہ سب شریعت کے احکام کے منافی اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب ہیں، لہٰذا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں۔
-8 فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالف اور فساد فی الارض ہے نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک قومی اور ملی جرم ہے۔
-9 وطن عزیز میں قائم تمام درسگاہوں کا بنیادی مقصد تعلیم و تربیت ہے۔ ملک کی تمام سرکاری و نجی درسگاہوں کا کسی نوعیت کی عسکریت نفرت انگیزی انتہا پسندی اور شدت پسندی پر مبنی تعلیم یا تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ اس میں ملوث ہے تو اس کے خلاف ثبوت و شواہد کے ساتھ کارروائی کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
-10 انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی کے خلاف فکری جہاد اور انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ گزشتہ عشرے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہ منفی رجحان مختلف قسم کے تعلیمی اداروں میں پایا جاتا ہے۔ سو یہ فکر جہاں کہیں بھی ہو، ہماری دشمن ہے۔ یہ لوگ خواہ کسی بھی درسگاہ سے منسلک ہوں، کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
-11 ہرمکتبہ فکر اور مسلک کو مثبت انداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے اجازت ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص، مسلک یا ادارہ کے خلاف اہانت اور نفرت انگیزی، اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر کی اجازت نہیں۔
-12 صراحت، کنایہ، اشارہ، تعریض اور توریہ کے ذریعے کسی بھی صورت میں نبی کریم ﷺ انبیائے کرام و رُسل عظام علیہم السلام، امہات المومنین و اہل بیت اطہار، صحابہ کرام، شعائر اسلام کی اہانت کے حوالے سے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 295 کی تمام دفعات کو ریاستی اداروں کے ذریعہ لفظاً اور معناً نافذ کیا جائے اور اگر ان قوانین کا کہیں غلط استعمال ہوا ہے تو اس کے ازالے کی احسن تدبیر ضروری ہے، مگر قانون کو کسی صورت میں کوئی فرد یا گروہ اپنے ہاتھ میں لینے اور متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا مجاز نہیں۔
-13 عالم دین اور مفتی کا منصبی فریضہ ہے کہ صریح کفریہ کلمات کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی حکم بتائے۔ البتہ کسی کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ آیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، یہ عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔
-14 سرزمین پاک اﷲتعالیٰ کی مقدس امانت ہے۔ اس کا ایک ایک چپہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے فروغ، دہشت گرد ی کے گروہوں کی فکری و عملی تیاری، دہشت گردی کے لئے لوگوں کی بھرتی، دیگر ممالک میں دہشت گردی، مداخلت اور اس جیسے دوسرے ناپاک عزائم کے حصول کے لئے ہرگز استعمال نہ ہونے دی جائے۔
-15 مسلمانوں میں مسالک و مکاتب فکر قرون اولیٰ سے چلے آ رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ ان میں دلیل و استدلال کی بنیاد پر فقہی اور نظریاتی ابحاث ہمارے دینی اور اسلامی علمی سرمائے کا حصہ ہیں اور رہیں گی۔ لیکن یہ تعلیم و تحقیق کے موضوعات ہیں اور ان کا اصل مقام درس گاہیں ہیں۔ درس گاہوں میں اختلاف رائے کے اسلامی آداب (آداب مراعاۃ الخلاف) یعنی
(ethics of disagreement)
کو تمام سرکاری و نجی درسگاہوں کے نصاب میں شامل کرنا چاہئے۔
-16 اسلامی تعلیمات اور 1973 کے متفقہ دستور کے مطابق حکومت اور عوام کے حقوق و فرائض طے شدہ ہیں، جس طرح عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض درست اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق انجام دیں، اسی طرح ریاستی ادارے اور ان کے عہدیدا ر بھی اپنے فرائض اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ادا کرنے کے پابند ہیں۔
-17 اسلام کے اصولوں کے مطابق جمہوریت، حریت، مساوات، برداشت، رواداری، باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی پاکستانی معاشرے کی تشکیل جدید ضروری ہے تاکہ پرامن بقائے باہمی کے لئے فضا سازگار ہو۔
-18 احترام انسانیت ، اکرام مسلم نیز بزرگوں، عورتوں، بچوں، خواجہ سراؤں، معذوروں الغرض تمام محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اسلامی احکام کا نفاذ ضروری ہے۔ نیز پاکستانی معاشرے میں انسانی اقدار اور اخوت اسلامی پر مبنی اسلامی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
-19 پاکستان میں رہنے والے پابند آئین و قانون تمام غیرمسلم شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو پابند آئین و قانون مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ نیز یہ کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور ان کے تہواروں کے موقع پر اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
-20 اسلام خواتین کو احترام عطا کرتا ہے اور ان کے حقوق کی پاسداری کرتاہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں بھی عورتوں کے حقوق کی پاسداری کی تاکید فرمائی ہے نیز رسول اﷲ ﷺ کے دورسے اسلامی ریاست میں خواتین کی تعلیم وتربیت جاری رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کو حق رائے دہی‘ حصولِ تعلیم اور ملازمت کا حق حاصل ہے۔ خواتین کے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنا اور خواتین اساتذہ و طالبات پر حملے کرنا انسانی اقدار‘ اسلامی تعلیمات اور قانون کے منافی ہے۔ اسی طرح اسلامی تعلیمات کی رو سے غیرت کے نام پر قتل ‘ قرآن سے شادی‘ وٹہ سٹہ‘ ونی اور خواتین کے دیگر حقوق کی پامالی احکامِ شریعت میں سختی سے ممنوع ہے۔ حکومت قانونِ قصاص و تعزیر کے علاوہ دیگرحق تلفیوں کے بارے میں قانون سازی کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وراثت میں عورتوں کا حق یقینی بنائے۔
-21 لاؤڈ سپیکر کے ہر طرح کے غیر قانونی استعمال کی ہر صورت میں حوصلہ شکنی کی جائے اور متعلقہ قانون پر من و عن عمل کیا جائے اور منبر و محراب سے جاری ہونے والے نفرت انگیز خطابات کو ریکارڈ کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ نیز ٹیلیویژن چینلوں پر مذہبی موضوعات پر مناظرہ بازی کو قانوناً ممنوع اور قابلِ دست اندازی پولیس قرار دیا جائے۔
-22 الیکٹرانک میڈیا کے حقِ آزادی اظہار کو قانون کے دائرے میں لایا جائے اور اس کی حدود کا تعین کیا جائے اور ہر اس پروگرام پر پابندی لگائے جائے جو پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔
متفقہ اعلامیہ کے اہم نکات
-1۔ دستورپاکستان 1973 اسلامی جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان ایسا عمرانی معاہدہ ہے جس کو تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ کی حمایت حاصل ہے اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان میں قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہونا چاہئے اورنہ ہی اس دستور کی موجودگی میں کسی فرد یا گروہ کو ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف کسی قسم کی مسلح جدوجہد کا کوئی حق حاصل ہے۔
-2۔ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ‘ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی نیزلسانی‘ علاقائی‘ مذہبی‘ مسلکی اختلافات اور قومیت کے نام پر تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں احکامِ شریعت کے خلاف ہیں اور پاکستان کے دستور و قانون سے بغاوت ہیں۔ طاقت کے زور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالفت اور فسا د فی الارض ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور قانون کی روسے ایک قومی اور ملی جرم بھی ہے۔ دفاعِ پاکستان اور استحکام پاکستان کے لئے ایسی تخریبی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس لئے ان کے تدارک کے لئے بھرپور انتظامی‘ تعلیمی ‘ فکری اور دفاعی اقدامات لازم ہیں۔
-3۔ دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق پاکستانی معاشرے کی ایسی تشکیلِ جدید ضروری ہے جس کے ذریعے سے معاشرے میں منافرت ‘ تنگ نظری‘ عدم برداشت اور بہتان تراشی جیسے بڑھتے ہوئے رجحانات کا خاتمہ کیا جاسکے اور ایسا معاشرہ قائم ہو جس میں برداشت و رواداری‘ باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی حقوق و فرائض کا نظام قائم ہو۔

12
June

تحریر: موناخان

ہمالیہ کے پہاڑوں کا دور تک پھیلتا ہوا سلسلہ۔۔ سفید ماؤنٹ ایورسٹ جس کو سر کرنے کے لئے ہزاروں کوہ پیما نیپال کا سفر کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا نیپالی نام ’ساگرما تھا‘ ہے۔ ارے نہیں ایسا مطلب بالکل بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ۔ ہم نیپال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ کھٹمنڈو اور لمبینی کی سڑکوں پر خوار ہونے گئے تھے۔ خواری بھی ایسی جس میں دل راضی تھا اور تین بار قبول ہے بول چکا تھا۔ اسلام آباد میں جب نیپال جانے کا پلان بنا تو سوچا ڈائریکٹ فلائٹ ہو گی جلدی پہنچ جائیں گے چھ لوگوں کا قافلہ تھا جو نیپال جانے کے لئے تیار تھا۔۔ ٹکٹ ہاتھ میں آئے تو علم ہوا آٹھ گھنٹے مسقط میں قیام ہے ۔ سوچا آٹھ گھنٹے کیا کریں گے مسقط کے چھوٹے سے ائیرپورٹ پہ جو شروع ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بہرحال سفر شروع تو کرنا تھا۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے سوار ہوئے تو مسقط پہنچ کر ہی دم لیا۔ مسقط اترے تو پہلی دوڑ درمیان میں بنے انفارمیشن ڈیسک کی جانب لگائی۔ وہاں پہنچے تو ایک طویل لائن ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ جی ہاں یہ طویل لائن مفت کا انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تھی جو وائی فائی کا پاس ورڈ لے رہے تھے ۔ ہمارا تو چلو حق تھا آخر آٹھ گھنٹے کیسے گزارتے چھوٹے سے ائیرپورٹ پہ۔ مسقط سے کھٹمنڈو صبح سات بجے پہنچے۔ صبح کی روشنی میں لینڈنگ کو جہاز کی کھڑکی سے دیکھا۔ کھٹمنڈو ائیرپورٹ پر لینڈنگ مشکل لینڈنگز میں سے ہے۔کھٹمنڈو ایئرپورٹ جو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے بیچ قائم ہے پر لینڈنگ کے لئے پائلٹ کو کافی مہارت چاہئے ۔ خیر اللہ اللہ کر کے لینڈ ہوئے۔ ہماری ایمبیسی کے پروٹوکول والے ہمارے انتظار میں تھے کہ ہم پہنچیں اور وہ ہمارا آن آرائیول ویزہ لگوائیں ۔ آخر ہم ڈپلومیٹک کارسپونڈنٹ تھے ‘ اتنا تو حق تھا ہمارا۔ ائیر پورٹ سے ہی سم کارڈز اور انٹرنیٹ پیکج خریدا۔ یہ ہمارا نیپال کا پہلا دورہ تھا۔ ہر طرف پھینی پھینی(چپٹی ناک والی) شکلیں دیکھ کر کچھ دیر بعد شک ہوا کہ آئینہ دیکھ لیں کہیں ہم بھی ’پھینے‘ تو نہیں ہو گئے ۔ چین اور نیپال کی سرحد آپس میں ملتی ہے شائد اس لئے شکلیں اِدھر بھی ویسی ہی ہیں چین کے لوگوں جیسی‘ بس رنگت کا فرق ہے ۔ ہمالیہ کے برفیلے سفید پہاڑوں کا نیپال کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں ۔ رنگت کے لحاظ سے بھارت کے اثرات نیپال پہ زیادہ ہیں اور کیوں نہ ہوں ۔ نیپال اپنی سرحد کا زیادہ حصہ بھارت کیساتھ شئیر کرتا ہے۔ نیپال کی شمالی سرحد جہاں ماؤنٹ ایورسٹ ہے‘ چین سے منسلک ہے۔ جبکہ مشرقی‘ مغربی اور جنوبی سرحد بھارت سے ملتی ہے۔ نیپال کے 74 میں سے 24 اضلاع بھارت سے ملتے ہیں ۔ نیپال میں جا کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا انڈیا ہے۔ اگر مذاہب کی بات کی جائے تو نیپال میں80فیصد ہندو مذہب کے لوگ ہیں ۔ 10 فیصد بدھ مت کے ماننے والے ، چار فیصد مسلمان ، دو فیصد کرسچن جبکہ باقی دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں۔

chalonepalchalain.jpg

یہ ساری معلومات ہم وین ڈرائیور راجیش سے سنتے ہوئے ہوٹل پہنچے۔ یاک اینڈ یٹی نامی چائینیز ہوٹل میں کمرے لئے۔ ہوٹل تو بس ٹھیک تھا لیکن ایک بات کھٹمنڈو میں اترتے ہی محسوس ہوئی اور وہ ہے د ھول مٹی۔ کھٹمنڈو میں ہر دوسرے بندے نے منہ پر ڈسٹ ماسک پہنا ہوتا ہے۔ ہوٹل روم میں اتنی طویل مسافت کے بعدسستانا ضروری تھا۔ تین چار گھنٹے ریسٹ کر نے کے بعدکھٹمنڈو کی گلیوں میں نکل گئے۔ سوچا کہ نیپالی کھانے ہی ٹرائی کریں گے ۔ انڈیا کی طرح نیپال میں بھی سبزی بہت رغبت سے کھائی جاتی ہے۔ اور یہ بات ماننے والی ہے کہ میں نے ایسی مزیدار سبزی کبھی پاکستان میں بھی نہیں کھائی۔ میٹ میں گائے کا گوشت نیپال میں نہیں کھایا جاتا اور نہ گائے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ گائیں نیپال میں بھی مادر پدر آزاد پھر رہی ہوتی ہیں ۔ میٹ کے لئے نیپال میں وائلڈ بور کا گوشت استعمال کیا جاتا جو کہ ہمارے لئے قطعی حرام ہے۔ اس لئے سبزی کھانے میں ہی عافیت جانی۔ کھٹمنڈو چونکہ نیپال کا دارالحکومت ہے اس لئے مہنگائی بھی کافی ہے۔ مہنگا ہونے کی ایک وجہ یہاں پر سیاحوں کی بڑی تعداد ہے۔ نیپال میں اتنے نیپالی نظر نہیں آتے جتنے سیاح نظر آتے ہیں۔ دل میں حسرت سی اٹھی کہ کاش ہمارے ہاں بھی سیاح اس طرح گھومیں پھریں۔ دوسرے روز لمبینی کا رخ کیا اور وہاں ضروری کام نپٹائے۔ تیسرے روز تھامل بازار جو کہ کھٹمنڈو کا مشہور شاپنگ ایریا ہے‘ وہاں کا رخ کیا۔ بازار میں قابل ذکر ایک چیز دیکھی اور وہ یہ کہ نیپال میں خواتین دکانداروں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے اور وہ کمال اعتماد کیساتھ اپنی دکان چلا رہی ہوتی ہیں ۔ لیکن عوامی خوبصورتی یہاں بھی نظر نہیں آئی۔ اب یہ تو ماننا پڑے گا کہ خوبصورتی میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو خاصا نوازا ہے۔ تھامل بازار سے نیپال کی خاص سوغات سنگنگ باؤل یعنی میوزک والا کٹورہ خریدا۔ جس کو بجانے کے لئے خاص پریکٹس چاہئے ۔ یہ اتنی ساری باتیں اس لئے بتائی ہیں تاکہ جب آپ پہلی بار نیپال جائیں تو آپ کو یہ باتیں پہلے سے پتہ ہوں ۔ نیپال میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کا بھی ایک الگ ہی نظام ہے۔ سرکاری نمبر پلیٹ سفید رنگ کی ہوتی ہے اور سرخ ہندسے ہوتے ہیں۔ گرین نمبر پلیٹ کی گاڑی دیکھیں گے تو وہ سیاحوں کے لئے مختص ہے۔ نیلے رنگ کی نمبر پلیٹ ڈپلومیٹس کے لئے ہوتی ہے۔ سرخ رنگ کی نمبر پلیٹ عام شہری کے لئے ہے جبکہ کالے رنگ کی نمبر پلیٹ ٹیکسیوں کے لئے ہے۔ نیپال کے بزنس سے لے کر سیاسی اور حکومتی سطح پر تین اطراف سے لگنے والے ہمسائے بھارت کے بہت اثرات ہیں۔ نیپالی کرنسی کی ویلیو پاکستانی روپے سے ذرا زیادہ ہے۔ سیاحوں کی کثرت کی وجہ سے نیپال میں گھومنے پھرنے میں کوئی ڈر نہیں لگتا۔ لیکن جب آپ صحافی ہوں اور پاکستانی ہوں تو بہت سی ان دیکھی نظریں آپکے تعاقب میں ہوتی ہیں اور وہ نظریں نیپال کی سرحد کے تین اطراف سے لگنے والے ہمسائے کی ہوتی ہیں ۔ پہلے حصے میں نیپال کا تعارف گوش گزار کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مشن نیپال کی تفصیلات بتائی جائیں گی ۔
(...جاری ہے)

مضمون نگار ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ ڈپلومیٹک اینڈ ڈیفنس کارسپانڈنٹ منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June

تحریر: یاسر پیرزادہ

کتنا اچھا ہو اگرآپ کی زندگی میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ ہو!آپ کی جنم پرچی سے لے کر ایم اے کی سند تک اور پنگھوڑے میں انگوٹھا چوسنے کی تصویر سے لے کر شادی میں دودھ پلائی کی تصویر تک ہر شے ایک پرفیکٹ طریقے سے
organized
ہو ۔آپ کی سٹڈی میں کتابوں کی کیٹیلاگ ہو اور تمام کتابیں یوں نمبروں کے ساتھ ترتیب میں لگی ہوں جیسے لائبریری آف کانگریس ہو۔ آپ کی ذاتی فائلیں انڈیکس کے ساتھ الماری میں سجی ہوں اور ان میں موجود تمام کاغذ تاریخ کی ترتیب سے موجود ہوں تاکہ کوئی بھی کاغذ ڈھونڈنے میں تیس سیکنڈ سے زائد کا وقت نہ لگے ،یہی نہیں بلکہ یہ انڈیکس آپ کے کمپیوٹر میں بھی محفوظ ہو۔آپ کی فلموں اور پسندیدہ گانوں کی کلیکشن بھی اسی طرح مائیکرو سافٹ آفس کے کسی پروگرام میں محفوظ ہو اور ایک کلک پر آ پ اپنی مرضی کی فلم یا گانا ڈھونڈیں اور انجوائے کریں ۔آپ کی فیملی کی تصاویر،پاسپورٹ ،شناختی کارڈ ،بچوں کے رزلٹ کارڈ ،گھر کے بل ،مختلف اوقات میں خریدی گئیں اشیا کے گارنٹی کارڈز،کریڈٹ کارڈ بل ،بینک سٹیٹمنٹ،پرانے اخبارات کی فائل ،ٹیکس کے کاغذات ،کمپیوٹر کا ڈیٹا ۔۔۔غرض ہر شے یوں ترتیب میں ہو کہ اگر کوئی سرکاری اہلکار آپ سے پوچھ لے کہ سن 1933ء میں آپ کے نانا جان نے سرکاری ملازمت کی درخواست جمع کرواتے وقت جس اوتھ کمشنر سے تصدیق کروائی تھی اس کی باجی کا نام بتاؤ تو آپ فوراً اپنے لیپ ٹاپ میں جائیں ،نانا جان کا ’’پروفائل‘‘ کھولیں اور مطلوبہ انفارمیشن ڈھونڈ کر اس اہلکار کے منہ پر ماریں ۔کاش کہ ہماری زندگی اتنی پرفیکٹ ہو جائے !
ایک پرفیکٹ زندگی کی خواہش کرنے والا شخص پرفیکشنسٹ کہلائے گا ۔ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے مزاج اور استطاعت کے مطابق پرفیکشنسٹ ہے مگر یہ کام نہایت جوکھم کا ہے ۔دن کے چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے کام کرنا ،ان اٹھارہ میں سے دو گھنٹے جاگنگ کرنا، متوازن غذا کھانا‘ فیملی کو کوالٹی ٹائم دینا ،دفتر میں مثالی کارکردگی دکھانا ،دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ،روزانہ کسی کتاب کے پچاس صفحات کا مطالعہ کرنا ،فلم دیکھنا، اخبار پڑھنا ،دن میں تین دفعہ دانتوں میں برش کرنا،مہینے میں ایک دفعہ ڈاکٹر سے جنرل چیک اپ کروانا ،چھ مہینے بعد اپنے تمام ٹیسٹ کروانا،اپنے کتّے کو سیر کروانا، تھوڑا بہت ٹی وی دیکھنا ،عبادت کرنا، ہمسایوں سے میل جول رکھنا‘ نوکروں سے حسن سلوک کرنا اور ان تمام امور کی انجام دہی کے دوران ماتھے پر شکن نہ آنے دینا اور ہر کسی سے خوامخواہ خوش اخلاقی سے پیش آنا
perfectionism
کی معراج ہے ۔ یہی نہیں بلکہ گھر میں ہر چیز کو ایک پرفیکٹ اندازمیں اس کی جگہ رکھنا بھی پرفیکشنسٹ بندے کی مجبوری ہوتی ہے ۔لیکن کیا کرہ ارض پر ایسا کوئی پرفیکشنسٹ بندہ پایا جاتا ہے ؟

نہیں ۔ایسا کوئی شخص نہیں جو ہر کام کو اس قدر پرفیکٹ انداز میں کرنے کا اہل ہولیکن اس کے باوجود انسان میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ اس کا ہر کام پرفیکٹ طریقے سے ہو ۔ایسے ہی ایک مہربان نے آج سے تین سال قبل مجھے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں اس قدر
organized
ہیں کہ اگر سر درد کی گولی بھی خریدیں تو اس کا بل سنبھال کے رکھتے ہیں ،انہوں نے ہیلتھ کئیر کی ایک فائل بنائی ہوئی ہے جس میں وہ ایسے تمام بل لگادیتے ہیں ۔اس مر د مومن نے یہ بھی بتایا کہ اس نوع کی لگ بھگ پچاس فائلیں وہ
maintain
کرتے ہیں جنہیں ہر اتوار کو اپ ڈیٹ بھی کیا جاتا ہے ۔ظاہرہے یہ باتیں کسی بھی شخص کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھیں لہٰذااس دن کے بعد میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ اپنی زندگی میں ایسا ہی پرفیکٹ انقلاب لے کر آؤں گا ۔اس انقلاب کے اہداف میں وہ تمام امور شامل تھے جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے۔ الحمد اللہ، آج تین سال گزرنے کے بعد میں پورے اطمینان سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ان میں سے ایک بھی بات پر عمل نہیں کیا !
پرفیکشنسٹ انسان کے ساتھ سب سے بڑی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ چونکہ اس نے ہر کام پرفیکٹ انداز میں کرنے کا تہیہ کیا ہوتا ہے اس لئے وہ کوئی کام شروع ہی نہیں کر پاتا ۔کسی بھی کام کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ وہ کام شروع کریں ،جب کام شروع ہوگا تو ختم بھی ہوگا اور جب ختم ہو گا تو اس دوران اس کام کی فائن ٹیوننگ کی جائے گی اور اسے ممکنہ حد تک پرفیکٹ بنایا جائے گا ۔لیکن پرفیکشنسٹ انسان کام شروع کرنے سے پہلے ہی اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کام کو پرفیکٹ انداز میں کرنا کس قدر مشکل ہے چنانچہ وہ کام شروع ہی نہیں کر پاتا ۔اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے یہ سوچا ہو کہ گھر کی ہر چیز ایک ترتیب کے ساتھ اپنی جگہ آئیڈیل طریقے سے یوں موجود ہو کہ اگر آپ نیویارک میں بیٹھے ہوں اور کوئی آپ سے جنم پرچی مانگ لے تو آپ نے پہلے سے اسے سکین روا کے آن لائن رکھا ہو اور آپ وہیں دریائے ہڈسن کے کنارے بیٹھے بیٹھے اسے اپنے آئی فون کے ذریعے شئیر کردیں۔ یہ کرنا بالکل مشکل نہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ ہم اس پرفیکٹ ماڈل کو صرف سوچتے ہیں اس پرکام کوئی نہیں کرتے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں اگر کوئی پچھلے مہینے کا بجلی کا بل بھی مانگ لے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو قمیض کی جیب میں رہ گیا تھا جودھل کر استری بھی ہو چکی ہے،بجلی کا فیوز اڑ جائے تو لگانے کے لئے تار کا ٹکڑا نہیں ملتا ،شناختی کارڈ ایکسپائر ہو چکا ہے،ڈرائیونگ لائسنس بنوایا ہی نہیں ،پچھلے ماہ جو مائیکرو ویو اوون لیا تھا وہ خراب ہو گیا ہے مگر اس کا گارنٹی کارڈ نہیں مل رہا اور ایک بنک آپ کو ہر ماہ غلط کریڈٹ کارڈ بل بھجوا دیتا ہے مگر آپ بے بس ہیں کیونکہ آپ نے اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں رکھا !
ذاتی زندگی میں ہمارا یہ حال ضرور ہے مگر قومی معاملات میں ہم کوئی رعایت دینے کے عادی نہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ایک پرفیکٹ جمہوری نظام راتوں رات قائم ہو جائے جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں ۔
آمریتوں کودس دس بار ہ بارہ سال دینے کے بعد جب ہم بادل نخواستہ جمہوریت قبول کرتے ہیں تو فوراً
perfectionism
کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پانچ سال کی بچہ جمہوریت کسی گھبرو جوان کی مانند
behave
کرے ۔اور جب ایسا نہیں ہوتا تو ہم کسی جھگڑالو ساس کے انداز میں جمہوری نظام کو طعنے دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ہم ،جو اپنے گھر کی چار چیزیں ترتیب سے نہیں رکھ سکتے،چاہتے ہیں کہ انتخابی سسٹم اس قدر آئیڈیل ہو کہ سوائے چند خود ساختہ راست بازوں کے کوئی بھی اس کی چھاننی سے گزر نہ پائے ۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمارے پولنگ بوتھ بھی کسی فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے کی طرز پر بنائے جائیں ،الیکشن کمیشن کے پاس جادو کی چھڑی ہو جس سے وہ ہر امیدوار کا کچھا چٹھا ایک کلک پر کھول سکے اور جب الیکشن کے نتائج آئیں تو ایسی صالح قیادت سامنے آئے کہ قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہو جائے ۔کسی پرفیکشنسٹکی طرح ہم یہ سب چاہتے ضرور ہیں مگر اس کام کو شروع کرنے کے لئے گھر سے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کو تیار نہیں ۔ہم ’’دو نمبر‘‘ پرفیکشنسٹ ہیں !

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
June
Published in Hilal Urdu
Read 64 times
دروش چھاؤنی چترال میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب

گزشتہ دنوں چترال سکاؤٹس، دیر سکاؤٹس اور باجوڑ سکاؤٹس پر مشتمل فرنٹئیر کور کے نادرن سیکٹر کے نوجوانوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ دروش چھاؤنی ، چترال میں منعقد ہوئی۔ کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔

اس موقع پرجوانوں سے خطاب کر تے ہو ئے کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور نے ملک پر حملہ آور ہو کر اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی مزموم کوشش کی ہے ۔لیکن پاکستانی قوم اور پاک فوج نے پر عزم ہو کر اس ناسور کا مکمل طور پر صفایا کر دیا ۔ مہمانِ خصوصی نے جوانوں پر زور دیا کہ وہ کٹھن اور مشکل تربیت کے بعد پاک فوج کا حصّہ بننے جا رہے ہیں بلاشبہ قوم کو آپ پر فخر ہے۔

بعد ازاں اس موقع پر مہمان خصوصی نے کورس میں نمایاں کارگردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعامات تقسیم کیے ۔

newsderwishchaoni.jpg

کمانڈر پشاور کور کا دورہ کرم ایجنسی
گزشتہ دنوں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کرم ایجنسی کا دورہ کیاجہاں اُن کو علاقے میں جاری آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے آرمی پبلک سکول پاراچنار کا سنگِ بنیاد رکھا ، جس کا اعلان چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورہ پارا چنار کے موقع پر کیا تھا ۔ اس موقع پر کور کمانڈر نے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی اور قیام امن کے لیے اُن کی قربانیوں کی تعریف کی۔ کورکمانڈر نے اگلے مورچوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر تعینات فوجی جوانوں سے ملاقات اور ان کے جذبے کی تعریف کی۔

newsderwishchaoni1.jpg

12
June
Published in Hilal Urdu
Read 56 times
افغان نیشنل آرمی کی چمن بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ اور پاک فوج کی موثر جوابی کاروائی

گزشتہ دنوں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے سول ہسپتال میں چمن میں افغان بارڈر فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستان میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلیگ میٹنگ کا نتیجہ ضرور نکلے گا لیکن پاکستان کی سرزمین کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوسکتی ۔ جو کوئی پاکستان کے علاقہ میں آکر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کرے گا اس کا پہلا جواب یہی ہے جو کچھ روز قبل ہم نے ان کو دیا۔ جنرل عامر ریاض نے سول ہسپتال چمن میں مریضوں کی عیادت کی اور ان کو یقین دلایا کہ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ ہے اور ان کی ہر ممکن مددجاری رکھے گی۔

بعد ازاں کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل عامر ریاض نے چمن بارڈر پر موجود ڈیوٹی پر تعینات پاکستان آرمی اور ایف سی کے جوانوں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے ، ہمت ، عزم اور جواں مردی کو سراہا۔

nerwsafgahnnationchaman.jpg

12
June
Published in Hilal Urdu
Read 47 times
کمانڈر پشاور کور کا شمالی وزیرستان کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے میران شاہ، شمالی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا۔ ان کے دو روزہ دورے کے دوران انہیں علاقے میں سیکورٹی صورتحال اور پاک فوج کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کیا گیا، اس موقع پر وہ تعلیمی اور تربیتی اداروں میں بچوں سے ملے اور تعلیم کے فروغ پر مزید زور دیا۔

newsfirstshoting.jpg 

فرسٹ کراچی شوٹنگ چیمپئن شپ
گزشتہ دنوں کراچی گیریژن میں پہلی کراچی شوٹنگ چمپیئن شپ منعقد ہوئی، اس چمپیئن شپ میں پاکستان آرمی، نیوی، ایئر فورس، اے ایس ایف اور رینجرز نے حصہ لیا۔ کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا تقریب کے مہمان خصوصی تھے، پاکستان نیوی سب سے زیادہ پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہی۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔

newsfirstshoting1.jpg

12
June
Published in Hilal Urdu
Read 53 times
پاک بحریہ کے سربراہ کی چمن فائرنگ واقعہ کے زخمیوں کی عیادت

گذشتہ دنوں چمن میں پاک افغان سرحد کے قریب فائرنگ کا ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جب افغان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے سرحدکے قریب فرنٹیئر کانسٹیبلری ،سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور مردم شماری کی ٹیم کو نشانہ بنایا۔

newspakbehriachaman.jpg

فائرنگ کے واقعہ میں شہادتوں کے ساتھ سا تھ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے اس افسوسناک واقعہ کی سخت مزمت کی اور زخمیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لئے سی ایم ایچ کوئٹہ میں زیرِ علاج زخمیوں کی عیادت کی۔

 

اسپیشل سروس گروپ (نیوی)کے بیچ بی- 2016کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

گزشتہ دنوں پاک بحریہ کے اسپیشل سروس گروپ (نیوی ) کے بیچ بی - 2016 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ نیول اسپیشل آپریشنز ٹریننگ سینٹر میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈر کوسٹ رئیر ایڈمرل عبدالعلیم تھے ۔ پاس آؤٹ ہونے والے بیچ ،جس میں بحرین کوسٹ گارڈز کے پرسنیل بھی شامل تھے ،نے 33 ہفتے کی کٹھن تربیت کامیابی سے مکمل کی۔اس تربیت میں سوئمنگ، پیراٹروپنگ، کمبیٹ ڈائیونگ، اَنڈرواٹر آپریشنز، ، اسپیشل وارفئیر آپریشنز، لینڈ وارفئیر، اسپیشل فائر آرم ٹیکنیکس اور ایکسپلوزیو ہینڈلنگ جیسی مہارتیں شامل تھیں۔ مہمانِ خصوصی نے پریڈ کے معائنے کے بعد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جوانوں میں انعامات تقسیم کئے ۔

newspakbehriachaman1.jpg

12
June

تحریر: مجاہد بریلوی

میں آپ کو ذرا تھر یعنی سندھ کے اُس علاقے میں لئے چلتا ہوں جو غربت کے اعتبار سے سندھ کے 29 اضلا ع میں آخری نمبروں پرآتا ہے ۔ مگر یقین کیجئے کہ ہفتے بھر پہلے تھر جانا ہوا تو پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اور برسوں کا مطلب روایتی طور پر دہائیاں نہیں حقیقتاً دسمبر 2017 میں سندھ اینگروکول اینڈ پاور پروجیکٹ کے چیف ایگزیکٹیوشمس الدین احمد شیخ کے دعوے کے مطابق کوئلہ نکلنا شروع ہوگیا تو جون 2018 میں یہاں سے 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں جانا شروع ہوجائے گی۔

therkasafarj.jpg


بیس برس تو گزر ہی گئے مگر آج بھی یاد ہے کہ اسلام کوٹ کا کٹھن سفر ایک پرانی جیپ میں اس طرح طے کیا تھا کہ جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا کے جس کا جوڑ جوڑ نہ ہل گیا ہو۔ ادھر برسوں سے تھر میں کوئلے کے اربوں روپے کے خزانے کے ساری دنیا میں چرچے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ میں آنے والی ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اگلے سال اتنے ’’کروڑ ٹن کوئلہ‘‘ اور اُس سے اگلے سال اتنے ’’سو میگاواٹ بجلی‘‘ کی پیدوار شروع ہوجائے گی ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین اس بات کا برسوں سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’’تھر‘‘ اور اُس کے اطراف کا علاقہ کول یعنی کوئلے کا اتنا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے کہ اُسے دنیا کے دس بڑے ملکوں کی صف میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز میں اگر 187 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز ہیں تو اس میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز صرف تھر میں ہیں۔ مئی کے پہلے ہفتے میں ’’سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘‘ کے سربراہ شمس الدین احمد شیخ کی جانب سے دعوت ملی کہ ذرا تھر میں ایک دن ہمارے ساتھ گزاریں۔تو کانوں کو ہاتھ لگایا کہ عمر کے اس حصّے میں کراچی کی گرمی برداشت نہیں ہوتی آپ دنیا کے گرم ترین علاقے کے لق و دق صحرا میں اور وہ بھی اُس وقت جب سورج سوا نیزے پر ہوتا ہے اور گرمی کا پارہ 50 ڈگری کو چھو رہا ہوتا ہے‘ سارا دن گزارنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر شمس الدین احمد شیخ جس اصرار اور محبت سے بُلا کر ہمیں مستقبل کی نوید دے رہے تھے‘ اُس پر انکار ممکن نہ تھا۔ حالیہ برسوں میں وطنِ عزیز ہو یا وطن سے باہر ‘’’خواہشِ سفر‘‘ کا سودا سر میں ایسا سمایا ہے کہ ادھر کوئی دعوت ملتی نہیں ادُھر ’’بسترا‘‘ بندھنا شروع ہو جاتا ہے۔ جھوٹ کیوں بولوں ’’ کول یعنی کوئلے‘‘ میں ہاتھ سیاہ کرنے سے زیادہ ’’تھر‘‘ میں شام گزارنے کا خیال غالب تھا۔ سال بھر پہلے جب تھر کے لق ودق صحرا میں بڑی مشکل سے ایک کنویں کے ساتھ لگے درخت کی چھاؤں ملی تو شیخ صاحب نے ایک بینچ پر نقشہ جما کر دسمبر 2017 میں کوئلہ اورجون 2018 میں 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں دینے کاانکشاف اور اس کے لئے ’’اعداد و شمار‘‘ کا جو دفتر کھولا تو شیخ صاحب کے احترام میں سُن تولیا مگر یقین کرنے کو جی نہ چاہا۔ سات گھنٹے کا سفر طے کر کے اسلام کوٹ پہنچے اور پھر وہاں پروجیکٹ کے ایک رہائشی بلاک میں شام تو اُسی طرح گزاری کہ جو برسوں سے گزرتی ہے مگر اُس کی تفصیل میں خوفِ خلقِ خدا کے سبب نہیں جاؤں گا۔ کوئلہ نکالنے کے لئے سندھ حکومت نے پانچ بلاکس مختلف کمپنیوں کو دیئے تھے۔ سندھ اینگرو تھر پروجیکٹ کو بلاک 2 دیا گیا ہے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 2 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز ہیں جس سے 5 ہزار سالانہ میگاواٹ بجلی 50 سال تک فراہم ہوسکے گی۔

مجموعی طور پر پانچ میں سے یہ واحد بلاک ہے جس پر اتنی تیزی سے کام جاری ہے کہ شیخ صاحب کے دعوے کے مطابق ہم مرحلہ وار ٹارگٹس کے حوالے سے 4 ماہ آگے ہیں۔ شیخ صاحب نے اعتراف کیا کہ اگر سی پیک نہ آتا تو ہمارا پروجیکٹ اتنی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے نہ کر پاتا۔ ہماری درخواست پر وزیراعظم پاکستان نے خصوصی طور پر اس پر توجہ دی اور پھر غالباً پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی اقتصادی منصوبے کے حوالے سے یہ پہلا پروجیکٹ ہے جس کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں پہلی بار سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا کہ یہ ایک ’’قومی پروجیکٹ‘‘ ہے۔ شیخ صاحب نے سندھ تھر کول پروجیکٹ کے حوالے سے ہماری روایت کے بر خلاف سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ وعدے کے مطابق دس منٹ بعد شیخ صاحب کی ہمراہی میں‘ میں پتھریلی سڑکوں کے دائیں بائیں چینیوں اور تھّریوں کو 50 ڈگری ٹمپریچر میں جس طرح جتے دیکھا اُس پر اُن کی استقامت اور عظمت کو بے ساختہ سلام پیش کیا۔ سال بھر پہلے پروجیکٹ پر دس بارہ گاڑیاں‘ ٹریکٹر اور مشینیں اور اُن پر سو ڈیڑھ سو افراد سر گرم نظر آتے تھے۔ شیخ صاحب نے تھر کول پروجیکٹ کے عین قلب میں ایک انتہائی گہری کھائی کی طرف انگلی سے اشارا کرتے ہوئے بتایاکہ اگر مزید اتنی ہی گہرائی میں گئے تو کوئلے کی پہلی کھیپ اگلے سات ماہ بعد بیلٹ سے پلانٹ کو روانہ ہوگی۔گہرائی سے نکلی مٹی کو دیکھنے کے لئے مشکل سے بس دو تین منٹ گاڑی سے باہر گزرے کہ لگا ایک قیامت ٹوٹ رہی ہے۔ واپس لوٹا تو دوپہر کا آخری پہر تھا ۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز کا یہ پہلا پرائیوٹ‘پبلک پروجیکٹ اُن مخالفین کے لئے ایک جواب ہوگا جنہیں سندھ میں وڈیرہ شاہی‘ اداروں کی تباہی اور بچوں کی اموات ہی نظر آتی ہیں ۔۔۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June

تحریر: عفت حسن رضوی

تحریر کو پڑھنے سے پہلے وہ قارئین جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے ذرا گوگل سرچ کریں "بیتھنی موٹا" ، اکیس سالہ امریکی ویب اسٹار جو وڈیو بلاگر ہے ، اس وقت یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد فالوئرز رکھتی ہے جو کسی بھی عالمی سیاسی لیڈر یا ہالی وڈ اسٹار سے زیادہ ہیں ، بیتھنی نہ کوئی اداکارہ ہے نہ کسی سیاسی شخصیت کی بیٹی اور نہ ہی کوئی علمی ادبی پس منظر۔ بیتھنی نے دوہزار نو میں جب وہ صرف پندرہ سال کی تھی یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا اور اپنی روزمرہ کی وڈیوز موبائل سے بنا کر انٹرنیٹ پر لگانے لگی ، جلد ہی نو عمر لڑکے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد بیتھنی کی گرویدہ ہوگئی، اب حال یہ ہے کہ وہ ویب ریٹنگ میں امریکی پاپ گلوکارہ کیٹی پیری اور میڈونا سے کئی درجے اوپر ہے۔


بیتھنی جیسے کتنی ہی نو عمر لڑکے لڑکیاں ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنی شناخت ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگے ہیں ، یہ وہ خو ہے جو انہیں اپنے والدین ، خاندان اور اپنے معاشرے سے الگ اپنی پہچان بنانے کے لئے اکساتی ہے، یہ کوئی منفی جذبہ نہیں ، اپنا نام بنانے کی خاطر تو اللہ جانے سیانے لوگ کئی زمانوں سے کیا کیا جتن کر رہے ہیں۔ اب دور اور ہے ، اب ہاتھوں میں چمکیلے اسمارٹ فونز وہ آفت کے پرکالے ہیں جو انگلیوں کی پوروں سے کلک ہوتے ہی ان نوجوانوں کو ایک نئی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں۔


ہم جیسے عام سے لوگ اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ ایک تصویر فیس بک پر لگانے کے بعد ہماری جبلت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ دیکھیں کتنے لوگوں نے لائک کیا، کوئی اچھوتا کام کرکے اس کی تفصیل سوشل میڈیا پر ڈالتے ہی اشتیاق ہوتا ہے یہ جاننے کا کہ کتنے لوگوں نے میرا کارنامہ پسند کیا اورکس کو پسند نہیں آیا ۔

socialmediaper.jpg
حیدرآباد کی نورین لغاری ، اچھی خاصی زندگی اور ایم بی بی ایس کی پڑھائی چھوڑ کر ایک دہشت گرد گروپ سے جا ملی ، بغیر کسی کے زور زبردستی کے خود اپنے والدین‘ دوستوں اور اساتذہ کو دھوکا دے کر لاہور جا نکلی ، لاہور جا کر اس لڑکے علی طارق سے شادی کرلی جو شدت پسند تھا، نورین نے خود کو تیار کرلیا کہ وہ مسیحیوں کے اہم دن ایسٹر پر ، خود کو کسی چرچ میں دھماکے سے اڑا لے گی۔ یہ سب اپنی پہچان ، اپنی شناخت ڈھونڈنے کے سوا کیا ہے؟ نورین کو ایک دہشتگرد لڑکے کی باتوں میں اپنے لئے اہمیت نظر آئی ، حیدرآباد کے علاقے حسین آباد کے رہائشی ، سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالجبار لغاری کی بیٹی نورین کو اپنے بل بوتے پر حیدرآباد سے لاہور جانے میں ایڈونچر محسوس ہوا ، ایسا نہیں کہ نورین کو معلوم ہی نہیں تھا کہ علی طارق ایک شدت پسند لڑکا ہے ،جس کے منصوبوں میں معصوم افراد کا قتل عام شامل ہے ، بس نورین علی طارق کی شخصیت کے حصار میں تھی۔


میں یہ تحریر کسی عمومی رائے کے طور پر نہیں لکھ رہی ،2015 میں میرا امریکی ریاست کالوراڈو کے شہر ڈینور میں کافی عرصے تک قیام رہا، ڈینور میں میری دوستی فرینک اینیلو سے ہوئی ، فرینک کالوراڈو میں پراجیکٹ ورتھ مور نامی این جی او چلاتے ہیں جوکہ سیاسی پناہ حاصل کرنے والے مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کرتی ہے۔ فرینک سے ہی پتا چلا کہ 2014 میں ڈینور میں مقیم ایک سومالی پناہ گزین فیملی کی دو نو عمر بچیاں گھر سے ہائی اسکول گئیں‘ واپس نہ آئیں ، کچھ دیر بعد انہوں نے گھر والوں کو اطلاع دی کہ وہ شام میں جاری جنگ کے لئے دہشت گرد تنظیم داعش میں شامل ہونے جارہی ہیں۔ اگرچہ بروقت کارروائی کرکے ان کم سن لڑکیوں کو جرمنی سے پکڑ لیا گیا مگر یہ واقعہ ایک بڑے سوال کے طور پر ابھر کر سامنے آیا کہ آخر کیوں ان بچیوں کو پر سکون زندگی چھوڑ کر داعش میں شمولیت کا خیال سوجھا۔


اس حوالے سے ڈینور کی انٹیلی جنس سروسز نے جب کریدا تو معلوم ہوا کہ دونوں بہنیں سوشل میڈیا پر ایسے دوستوں کے ساتھ رابطے میں تھیں جو داعش کو کسی ایڈونچر رائیڈ کے طور پر پیش کرتے تھے ، انہیں کم عمری میں یورپین مسلمان لڑکوں سے شادی کا جھانسہ دیا گیا، فرینک اینیلو کی مدد سے میری ملاقات ان بچیوں کے والد سے ہوئی، اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا تھا، بچیوں کے والد علی فرح مجھے مسلمان اور پاکستانی جان کر خاصے خوش تھے ، کچھ بات ہوتی رہی پھر جب فرینک نے میرا تعارف پاکستانی صحافی کے طور پر کرایا تو علی فرح مکمل طور پر ناگواری کے ساتھ خاموش ہوگئے بس اتنا ہی بتا سکے کہ ایک سیاہ فام پناہ گزین لڑکی کے لئے انٹرنیٹ پر خوش شکل گورے یورپی مسلمان لڑکے کی داعش جوائن کرنے کی آفر کتنی اہمیت رکھتی ہوگی ، اندازہ خود لگا لیں۔


گزشتہ چند برسوں میں تقریبا ایک ہزار برٹش نیشنل شام اور عراق جاچکے ہیں جن میں بعض تو مسلمان بھی نہیں،اچھی خاصی تعداد کالجز اور ہائی اسکول طالبات کی ہے۔ پاکستان میں کسی پڑھی لکھی لڑکی کا گھر بار چھوڑ کر شدت پسند تنظیم میں شامل ہونا اگرچہ عمومی مسئلہ تو نہیں مگر نورین لغاری کامعاملہ ٹیسٹ کیس ہے۔ یہ واقعہ پہلا ہے مگر آخری نہیں۔
ایسی خبریں روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں کہ اسلام آباد کی لڑکی کو قصور کے لڑکے نے شادی کا جھانسہ دے کر قتل کردیا ، کراچی کے کسی امیر خاندان کی لڑکی کی لاش چک اٹھائیس جنوبی پنجاب کے ایک ہوٹل سے ملی، انٹرنیٹ کی دوستی جان کو پڑگئی سرگودھا کے لڑکے کو اٹک میں لوٹ لیا گیا۔ یہ فرضی نام سہی مگر ایسی خبریں ہم صحافیوں کی روزمرہ رپورٹنگ کا حصہ ہیں۔ کیا بعید ہے جو محض شادی کا جھانسہ تھا وہ کسی شدت پسند تنظیم میں شمولیت کا پیغام ہو۔
یہ کوئی زیب داستان نہیں،آج کل کی حقیقت ہے کہ نو عمر بچے بچیوں کو شیشے میں اتارنے کے لئے دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کو بہت فعال طریقے سے استعمال کررہی ہیں ، خوش شکل لڑکے لڑکیاں سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شئیر کرتے ہیں، یہاں مذہبی عقائد ڈسکس ہوتے ہیں ، نوجوان اپنی نفسیاتی الجھنوں پر بات کرتے ہیں ، رفتہ رفتہ صنف مخالف میں کوئی ایک ایسا ٹکر جاتا ہے جو محبت میں مذہبی عقائد کی آمیزش کرکے ایسا رومانوی پلان بناتا ہے جس کی انتہا کوئی بم دھماکہ اور معصوموں کا قتل عام ہوتا ہے۔


اس آنے والے طوفان کا صرف ایک بند ہے ، اس مرض کا علاج اگر کسی کے پاس ہے تو وہ ہیں والدین، ایڈونچرز کے اس سونامی میں والدین ہی اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر، سنبھل کر چلنا اور اپنی شناخت بنانا سکھا سکتے ہیں۔
دنیا کی طاقتور عسکری قوت امریکہ اوربرطانیہ کی فوجیں بھی کسی کے گھر میں گھس کر یہ نہیں جان سکتیں کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے والدین سے تعلقات کیسے ہیں، وہ کن سے ملتے ہیں ، کہاں جاتے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر جو گھنٹوں طویل نشستیں چلتی ہیں تو یہ کس سے بات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا سرویلنس کے ہزار ہا طریقے ایجاد ہو بھی جائیں تب بھی پوری دنیا میں موجود دو ارب ٹین ایجرز اور نوجوانوں پر مکمل طور پر نگاہ رکھنا ناممکن ہے۔
جس طرح بھوک لگنا فطری فعل ہے مگر اس کے لیئے کھانا کھانے کی ایک حد ہے ، جیسے بیماری کا علاج کرنا فطری ہے مگر اس کے لئے دوا لینے کی بھی اپنی حدود ہیں ایسے ہی ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات حاصل کرنے کی خُو اچھی اور فطری ہے، مگر اس کی بھی اب حدود و قیود واضح کرنا ہوں گی، جس یوٹیوب کی ویب سائٹ پر بچوں کی اے بی سی اور ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار کی نظم وڈیو کی شکل میں موجود ہے وہیں عمر کی حد ملحوظ خاطر رکھے بغیر جہادی ، شدت پسند اور عصبیت پسندوں کی پروپیگنڈہ وڈیوز ایک کلک کی دوری پر ہیں، حکومت چاہے تو اس سلسلے میں پالیسی لا سکتی ہے ،" ایج ریسٹرکشن " کی اصطلاح ایسی بھی کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ روزانہ رات کو آپ اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی کے ہاتھ سے موبائل چھین کر اس کی سیکورٹی اسکروٹنی کرکے واپس کردیں اور وہ ردعمل میں اپنی معمولی باتیں بھی آپ سے چھپا نہ سکے۔میرے خیال میں تو اب والدین کو اپنے نوجوان بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال پر طعن و تشنیع دینے کے بجائے ان کی فیملی لسٹ کے ساتھ ساتھ فرینڈ لسٹ میں بھی شامل ہونے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگار نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ بلاگر اور کالم نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June
Published in Hilal Urdu
Read 45 times
کمانڈر لاہور کور کا سینسس کنٹرول ہیڈ کوارٹر قصور کا دورہ
شتہ دنوں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے فوج اور سول انتظامیہ کی زیر نگرانی قصور شہر میں جاری مردم شماری مہم کا جائزہ لینے کے لئے سینس کنٹرول ہیڈکوارٹر قصور

Census

کا دورہ کیا۔ جہاں اُنھیں خانہ شماری اور مردم شماری کے حوالے سے اب تک کی مرحلہ وار پیش رفت کے بارے میں مفصل بریفینگ دی گئی۔ بعد ازاں کور کمانڈر ،قصور شہر کے مختلف وارڈز میں گئے اور مردم شماری ٹیموں اور شہریوں سے گفت و شنید کی اور مہم کے حوالے سے اُن کا نقطہ نظر اور ردِعمل معلوم کیا ۔ اُنھوں نے دوران مہم عام شہریوں کے تعاون کو بے حد سراہااور شکریہ ادا کیا۔ کور کمانڈر نے سول اور قومی اداروں کے باہمی اشتراک سے کامیابی سے جاری اس مہم اور اس میں حصہ لینے والی ٹیموں کی کار کردگی کی بھی تعریف کی۔

newsjune17commandcorecensus.jpg

کمانڈر کراچی کور کا کیڈٹ کالج گڈاپ کا دورہ

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے کیڈٹ کالج گڈاپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فیکلٹی ممبرز اور طلباء سے ملاقات کی اور کالج میں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طلباء کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں اپنے وطن عزیز کا نام روشن کریں گے۔

newsjune17commandcorecensus1.jpg

12
June
Published in Hilal Urdu
Read 46 times
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کوئٹہ گریژن کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ گریژن اور دیگر تنصیبات کا دورہ کیا۔ کوئٹہ پہنچنے پر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض اور آئی جی ٹی اینڈ ای لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کا دورہ کیا اور وہاں مختلف کورسز میں زیر تعلیم نوجوان افسروں سے تبادلہ خیال کیا ۔

آرمی چیف نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے طلباء سے سالانہ خطاب کیا۔اس موقع پر انہوں نے بیرونی اور اندرونی سیکیورٹی صورتحال اور فوج کی جواب حکمت عملی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ملک میں قیام امن کے لئے فوج کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج استحکام کے آپریشنز میں نہایت فعال کردار اد کر رہی ہے ۔بعد ازاں آرمی چیف نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا بھی دورہ کیااورچمن واقعہ میں زخمی ہونیوالوں کی عیادت کی ۔

newsurdujunecoasquetagar.jpg

12
June
Published in Hilal Urdu
Read 48 times
چیف آف آرمی اسٹاف کا لائن آ ف کنٹرول کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر نکیال سینٹر کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں موجودہ حالات سے مکمل آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے جوانوں کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بلند حوصلوں کو سراہا۔ بعد ازاں چیف آف آرمی اسٹاف بنوں آپریشن میں شہادت پانے والے لیفٹیننٹ خاور شہید کے گھر بھی گئے۔ انہوں نے شہید آفیسر اور اس کے خاندان کی وطن عزیز کے لئے اس عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر کمانڈر راولپنڈی کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا بھی ان کے ہمراہ تھے۔

newsurducoasvicitloc.jpg

ہیڈ کوارٹر سدرن کمانڈ کوئٹہ کینٹ میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس

گزشتہ دنوں ہیڈکوارٹر سدرن کمانڈ کوئٹہ میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض ،صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس سمیت دیگر سینئر فوجی اور سول حکام نے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا ء نے صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبے میں مربوط رسپانس کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جائے گا۔

newsurducoasvicitloc1.jpg

12
June
Published in Hilal Urdu
Read 46 times
چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دور

گزشتہ دنوں ، چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمودحیات نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر انہیں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جس میں انہیں پاک فضائیہ کے تنظیمی ڈھانچہ اور پیشہ ورانہ کردار سے آگاہ کیا گیا۔

بعد ازاں جنرل زبیرمحمودحیات نے ائیر چیف سے ان کے آفس میں ملاقات کی اور پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ ء خیال کیا ۔

newscharmantjointscome.jpg

ترک سفارتکار کا جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
گزشتہ دنوں ترکی کے سفارتکار

Sadik Babur Girgin

نے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دو طرفہ دفاعی اور سیکورٹی کے معاملات پر مزید تعاون کو بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔

newscharmantjointscome1.jpg

09
June

تحریر: خالد محمود رسول

بھارت کا جنگی جنون اور خطے میں برتری کی شدید خواہش ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں بھارتی ایئر فورس کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پہلی بار اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے بارہ ہزار سے زائد افسروں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہیں کسی بھی وقت کسی بھی چیلنج کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اخبارات کو اس خط کی اطلاع پہنچی تو زیادہ تر ماہرین نے اسے بھارتی سیکیورٹی کو درپیش مسائل کے پس منظر میں ایک سنگین اشارہ سمجھا۔ بھارت اس وقت کشمیر میں جاری مزاحمت اور تحریک آزادی کو دبانے کے لئے ہر حربہ آزما رہا ہے۔ مزاحمت کی شدت بھارتی افواج کی جارحیت سے شدید تر ہے جس پر بھارت کو ملک کے اندر اور ملک سے باہر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے مسلسل پاکستان کی سرحدوں اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کووطیرہ بنایا ہوا ہے تاکہ دنیا کی نظر کشمیر کے نہتے شہریوں پر توڑنے والے مظالم سے ہٹا سکے۔


ابھی اس غیر معمولی خط پر تبصرے جاری تھے کہ ایک اور خبر نے دفاعی حلقوں کی توجہ مبذول کرا لی۔ اسرائیل کے سرکاری ادارے اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز نے بھارتی نیوی کے لئے 630 ملین ڈالرز کے میزائیل ڈیفنس سسٹم اور دفاعی ساز و سامان کی فروخت کا معاہدہ کیا۔ یہ خریداری اپریل میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والے اسرائیل بھارت کے درمیان اب تک ہونے والے سب سے بڑے خریداری معاہدے کے تحت ہوئی۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل ٹیکنالوجی سے لیس دو ارب ڈالرز کے ہتھیار اور سازو سامان بھارتی نیوی کو فراہم کرے گا۔ اسرائیل کے دفاعی حلقوں میں اس معاہدے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اسرائیل کے اس اسلحہ ساز ادارے کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اسلحہ بیچنے کا معاہدہ تھا۔

bharatkajangijnoon.jpgبھارت آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ دنیا بھر میں انتہائی غریب افراد کی سب سے زیادہ تعداد بھارت میں ہے۔ اس تلخ حقیقت کے باوجود یہ بھی ایک سنگین حقیقت ہے کہ بھارت کا جنگی جنون اسے چین نہیں لینے دے رہا ۔ دفاعی اخراجات کے اعتبار سے اب بھارت دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ دنیا بھر کے نمایاں ممالک کے ملٹری اخراجات پر مبنی ایک حقائق نامہ یعنی
Fact Sheet
ترتیب د یتا ہے۔ اس ادارے کی 2016کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زائد ملٹری اخراجات امریکہ نے کئے یعنی 611 ارب ڈالر جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا3.3% تھا۔ دوسرے نمبر پر چین، تیسرے نمبر پر روس، چوتھے نمبر پرسعودی عرب اور پانچویں نمبر پر بھارت تھا۔ بھارت کے کل ملٹری اخراجات کا اندازہ 55.9 ارب ڈالر لگایا گیا جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 2.5 %تھا۔ اس کے برعکس پاکستان کے ملٹری اخراجات کا تخمینہ اس فیکٹ شیٹ کے مطابق فقط 9.9 ارب ڈالر لگایا گیا۔
بھارت کا بجٹ 2017-18 یکم فروری کو پیش کیا گیا۔ بھارت کے تمام دفاعی اداروں کے لئے بشمول پنشن اخراجات وزیر خزانہ ارون جیتلی نے 3,59,854 کروڑ بھارتی روپوں کا دفاعی بجٹ پیش کیا یعنی 53.3ارب ڈالر کے برابر۔ پنشن کے لئے مختص 85,740کروڑ بھارتی روپے کے بعد اس دفاعی بجٹ کا حجم 2,74,144کروڑ بھارتی روپے ہے یعنی چالیس ارب ڈالرز سے کچھ زائد۔ یہ بجٹ گزشتہ سال کے بجٹ سے 5.54% زیادہ ہے۔ اس بجٹ کے ساتھ ایک تین سالہ میڈیم ٹرم
Fiscal Policy Statement
بھی پیش کی گئی جس کے مطابق دفاع کے لئے مختص جاری اخراجات میں 2018-19میں آٹھ فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ 019-20 میں اسے مزید 11%بڑھایا جائے گا۔
دفاعی اخراجات اصل میں کتنے ہیں؟ اسے عام آدمی کی نظر سے چھپانے کے لئے گزشتہ سال سے بجٹ میں اسے پیش کرنے کا انداز بدل دیا گیا ہے ۔ سالہاسال سے بجٹ میں دفاعی اخراجات کی مختلف مدوں کے لئے ایک
Demand of Grant Format
رائج تھا۔ اس سال کے بجٹ میں گزشتہ سال کی طرح اس میں تبدیلی روا رکھی گئی جس کی وجہ سے دفاعی تحقیقی اداروں کو بھی اصل دفاعی اخراجات کا کھوج لگانے میں دقت پیش آئی۔
گزشتہ سال کے اخراجات کے گوشوارے بجٹ کے ساتھ پیش کئے گئے تو یہ حیران کن امر سامنے آیا کہ گزشتہ سال دفاع کے لئے مختص وسائل کا8.11% استعمال نہ کیا جا سکا یعنی 6,970کروڑ بھارتی روپے استعمال نہ کئے جانے کی صورت میں یہ رقم واپس حکومتی خزانے میں چلی گئی یعنی
Surrender
کر دی گئی۔
بھارتی دفاعی بجٹ کی مختلف افواج اور دفاعی اداروں میں تقسیم کچھ یوں ہے ؛ انڈین آرمی پر کل دفاعی بجٹ کا 57% خرچ ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا سب سے بڑا حصہ بھارتی ایئر فورس کے لئے مختص ہوتا ہے یعنی 22 % ۔ نیوی کے لئے چودہ فی صد، ڈیفنس ریسرچ ایند ڈیویلپمنٹ ادارے کے لئے چھ فی صد اور آرڈی نینس فیکٹریوں کے لئے ایک فی صد مختص کیا گیا۔ دفاعی صلاحیتوں کی اپ گریڈیشن کے لئے مختص بجٹ میں آرمی اور نیوی کے بجٹ میں فی صدی اضافہ نہیں کی گیا البتہ بھارتی ایئر فورس کو جدید بنانے کے لئے مختص بجٹ میں 12 % اضافہ کیا گیا۔ اس نمایاں اضافے کا مقصد بھارتی ایئر فورس کے لئے نئے رافیل جنگی طیارے، اپاچی اور چینوک ہیلی کاپٹرز کی مزید خریداری کو ممکن بنانا ہے۔


بھارت کی معیشت گزشتہ تین سالوں کے دوران عالمی معیشت میں مشکلات کے باوجود سات فی صد سالانہ کے لگ بھگ شرح نمو کے ساتھ بڑھتی رہی۔ اس سے قبل کئی سال تک مسلسل بھارت کی معیشت دس گیارہ فی صد سالانہ کی رفتار سے نمو پاتی رہی۔ اس وقت عالمی معیشت میں شرح افزائش میں اضافہ واجبی سا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دنیا کے اکثر ممالک میں فری مارکیٹ کے خلاف ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ یورپ میں پاپولر سیاست دان یورپی یونین اور آزادانہ عالمی تجارت سے اپنے ملکوں کے لئے مناسب
Protection
کے حامی ہیں۔ امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں بھی عالمی تجاری معاہدوں پر کڑی تنقید کی گئی۔ بلکہ نئے صدر نے پہلے سے تقریباٌ طے شدہ معاہدے ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ میں شمولیت سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں یورپ اور امریکہ کے درمیان زیرِ غور معاہدے ٹرانس انٹلانٹک ٹریڈ اینڈ ایویسٹمنٹ پارٹنرشپ کے مذاکرات بھی معطل کر دئیے ہیں۔ بھارتی معیشت برآمدات ، درآمدات اور سرمایہ کاری کے بھاری حجم کی وجہ سے عالمی معیشت کے ساتھ بہت مربوط ہے۔ بھارت کے ماہرین معیشت بھارت کی گزشتہ عشرے کی نسبت حالیہ تین فی صد کم شرح نمو پر اکثر تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے اندر غربت، کرپشن اور کم ہوتی ہوئی شرح نمو بھارتی معیشت کے لئے بہت بڑے چیلنجز ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کئے جا رہا ہے۔ بلکہ علاقائی برتری کے خبط میں مبتلا اکثر ماہرین اس بجٹ کو مزید بڑھانے کے لئے مشورے دیتے رہتے ہیں کہ بقول ان کے بھارت کی افواج کے موجودہ سازو سامان کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور بڑی طاقتوں کے ہم پلّہ بنانے کے لئے موجودہ بجٹ ناکافی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت نے تین سالہ پالیسی پیپر میں اگلے سال مزید آٹھ فی صد اور اس سے اگلے سال مزید گیارہ فی صد کا عندیہ ابھی سے ظاہر کر دیا ہے۔


بھارت کے جنگی جنون کا سب سے بڑا اور مسلسل نشانہ پاکستان ہے۔ پاکستان کی طویل سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود پاکستان پر دراندازی کے الزامات لگانے کا سلسلہ بھارت میں اپنی سکیورٹی کی ناکامی کے ہر نئے واقعے کے ساتھ پھر سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہو یا اڑی کیمپ پر حملہ، ابھی گولیوں کی تڑتڑاہت ختم نہیں ہوتی کہ بھارتی میڈیا کی انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور زبانیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک دبانے میں ناکامی اور وہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج کی موجودگی اور بربریت کے باوجود کشمیریوں کی حیران کن مزاحمت نے بھارتی انا اور برتری کے تفاخر کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ افغانستان میں پاکستان دشمنی پر مبنی کارروائیوں، پاکستان کی سرحدوں پر اور پاکستان کے اندر مکروہ خفیہ کارروائیوں کے سامنے پاکستان کی افواج نے کامیابی سے بند باندھ رکھا ہے۔ سی پیک منصوبے پر بھارت دنیا بھر میں واویلا مچا رہا ہے۔ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے والا بھارت اس وقت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا جب گزشتہ ماہ بیجنگ میں ون بیلٹ اینڈ ون روڈ منصوبے کے لئے کانفرنس میں انچاس سربراہان مملکت سمیت 130ممالک نے شرکت کی لیکن بھارت نے عین آخری وقت پر سی پیک پر اپنے اعتراض کو بہانہ بنا کر شرکت سے کنارہ کشی کر لی۔


بھارت کا جنگی جنون پاکستان کے خلاف ہمیشہ کی طرح مصروفِ عمل ہے لیکن اب سی پیک کے منصوبے کے بعد بھارت کا جنون نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ سرحدوں پر مسلسل گولہ باری اور پاکستان میں غیر اعلانیہ اور خفیہ کارروائیوں کا واحد ہدف پاکستان کو معاشی اور عسکری طور پر الجھانا اور کمزور کرنا ہے۔ پاکستان نے بجا طور پر اپنی دفاعی پیداوار میں مسلسل خود انحصاری پر توجہ دے کر اپنے دفاع کو مزید محفوظ اور مضبوط کرنے کا عمل کامیابی سے جاری رکھا ہے۔ بھارت کے حالیہ دفاعی بجٹ میں مزید اضافے ، نئے جنگی سازو سامان کی خریداری اور اپنے افسران کی ہمہ وقت تیار رہنے کی ہدایت ظاہر کر رہی ہے کہ بھارت کا جنگی جنون ٹھنڈا ہونے کی بجائے مسلسل بھڑک رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے ہمیشہ کی طرح چوکس اور دفاعی سازو سامان میں برتری یا کم از کم توازن رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہنے کی ضروت ہے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: علی جاوید نقوی

سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہونے والی امریکہ ،عرب اسلامی سربراہی کانفرنس اپنی نوعیت کے حوالے سے ایک منفردکانفرنس تھی، کانفرنس کے کیانتائج برآمد ہوں گے ،یہ آنے والاوقت بتائے گا۔ حیرت کی بات ہے امریکی صدر کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں نظر نہ آئیں ،انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کوفروغ دینے والے بھارت کودہشت گردی سے متاثرہ ملک قراردے دیا۔اس کانفرنس سے ہمیں ایک سبق ضرور ملا ہے کہ آنکھیں بند کرکے کسی پراعتماد کرنے کے کیانتائج ہوسکتے ہیں۔پاکستان عالم اسلام کی قیادت کی نہ صرف اہلیت رکھتاہے،بلکہ پاکستان ہی وہ واحداسلامی ملک ہے جس پرمشرق وسطی تنازعے کے تمام فریق اعتماد کرتے ہیں۔ہم اپنی غیرجانب دارانہ حیثیت برقراررکھتے ہوئے ،مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے مؤثرکردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کانفرنس کی صدارت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے کی ۔ تمام مسلم ممالک کادہشت گردی اوردہشت گردو ں کے خلاف مل کرجنگ لڑنا ایک سنہرا خواب ہے ۔کیا ہی اچھاہوتا اس’’عرب اسلامک امریکن سمٹ‘‘ میں دیگربرادر اسلامی ممالک کو بھی مدعوکرلیاجاتا ۔اس کانفرنس میں دعوت نامے کے باوجود ترکی کے صدررجب طیب اردگان نے شرکت نہیں کی ،ترکی کی نمائندگی ترک وزیرخارجہ نے کی۔


امریکہ ،عرب اسلامی کانفرنس کے اختتام پرجومشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’’ عالمی اورعلاقائی سطح پردہشت گردی،انتہاپسندی کی روک تھام اورامن واستحکام وترقی کے لئے عرب واسلامی ممالک اورامریکہ قریبی پارٹنرشپ قائم کریں گے۔ فریقین نے مشترکہ کارروائیوں اورتعلقات کی مضبوطی کے لئے تعاون بڑھانے اوراقدامات اٹھانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے پراتفاق کیا‘‘۔مشترکہ کارروائیوں کالفظ اپنے اندربہت سے معنی لئے ہوئے ہے۔ کیا ان مشترکہ کارروائیوں میں پاکستان شامل ہوگا؟ امریکہ اورخلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے درمیان دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لئے بھی ایک سمجھوتہ طے پایا ۔اس حوالے سے امریکہ اورچھ خلیجی ممالک کے حکام نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ۔ سربراہ اجلاس کے بعدصدرٹرمپ نے ریاض میں انتہاپسندی کے انسداد کے لئے قائم ہونے والے خصوصی انسٹی ٹیوٹ’گلوبل سنٹرفارکومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘‘ کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔یہ سنٹرانتہاپسندانہ نظریات سے لڑنے کے لئے حکمت عملی بنائے گا۔اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرزمیں مختلف ممالک سے بارہ نمائندے منتخب کئے جائیں گے۔


دہشت گردی اوردہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے مسلم ممالک کی مشترکہ فوج ایک اچھاآئیڈیاہے۔اس پرمزید کام کیاجاناچاہیے ۔اس اسلامی فوج کوپوری امت مسلمہ کی فوج بنانے کی ضرورت ہے۔امت مسلمہ کادشمن تویہ ہی چاہتا ہے کہ ہم فرقہ وارانہ اختلافات کاشکارہوجائیں۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی پاکستان کے لئے یقینی طورپرایک اعزاز ہے اورامید ہے جلد ایک پیشہ ور فوج تیارہوجائے گی،جوداعش اورالقاعدہ جیسی دہشت گردتنظیموں سے نمٹ سکے گی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اس کانفرنس میں موجود تھے۔

badaltyhalatmuslim.jpg
یہ پاکستان کے امتحان کابھی وقت ہے ،سعودی عرب اورایران دونوں پاکستان کے دوست ہیں۔دونوں ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیا۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ ان دونوں دوستوں کواہمیت دی اوربھائی سمجھا۔اب ہمارے ان دونوں دوستوں میں بعض امورخصوصاشام اوریمن کے معاملے پرسخت کشیدگی ہے۔پاکستان کی اسلامی ممالک کی اتحادی فوج میں شرکت پربرادرملک ایران کے تحفظات ہیں۔جبکہ ہم مشکل وقت میں سعودی عرب کوبھی تنہانہیں چھوڑسکتے۔اس کانفرنس میں ایران کانام لے کراسے تنہاکرنے کی باتوں نے پاکستان کوآزمائش میں ڈال دیا ہے۔بہترہوتااس کانفرنس سے پہلے پاکستان، سعودی عرب اورایران کواپنے اختلافات کم کرنے اوربات چیت کے ذریعے طے کرنے پرراضی کرلیتا۔جہاں تک طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کامعاملہ ہے تودنیا کے سامنے امریکہ کی مثال موجودہے جوآج تک افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکا۔


کانفرنس میں امریکی صدرنے جوکچھ کہا،ہماری طرف سے یہ پیغام ضرور جاناچاہئے تھاکہ ہماراامریکی پالیسیوں سے سوفیصد متفق ہوناضروری نہیں،خاص کر بھارت کی شان میں صدرٹرمپ نے جو فرمایاہے۔ سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیزنے اپنے خطاب میں اسلامی عسکری اتحاد کابھی ذکرکیااورکہا کہ یہ اتحاددہشت گردی کوشکست دینے کے لئے بنایاگیاہے۔ دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کااتحاد ایک اچھااقدام ہے لیکن اگراس اتحادمیں امریکہ بھی شامل ہوگاتوبہت سے سوالات اورغلط فہمیاں پیداہوں گی ۔ مشرق وسطی میں ہمارا کردار ایک ثالت کاہوناچاہیے فریق کانہیں۔داعش اورالقاعدہ جیسی تنظیمیں مسلم ممالک میں انتشار اورتباہی کاباعث بن رہی ہیں۔داعش نوجوانوں کوورغلاکراپنے منفی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔تاہم داعش اورعلاقے کی اسرائیل مخالف مزاحمتی تنظیموں میں فرق ہے۔
امریکی صدرٹرمپ جن کی کرسی صدارت خطرے میں ہے اوران کے مواخذے کی باتیں ہورہی ہیں۔ٹرمپ نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کا آغاز اسلام کے مرکزسعودی عرب سے کرکے اپنے مسلم دشمن ہونے کے الزام کو دھونے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس کے لئے انھیں زبانی جمع خرچ کے علاوہ بہت کچھ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ سعودی عرب کے بعد اسرائیل اورویٹی کن سٹی بھی گئے۔ان کا دیوارگریہ جانابھی متنازعہ عمل ہے ،عربوں کے اس علاقے پراسرائیل نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ڈونلڈٹرمپ نے اسرائیل کے دورے کے موقع پرکھل کرکہاکہ’’ اسرائیل سے محبت ہے اوراس کااحترام کرتے ہیں ،وہ اسرائیل کے ساتھ ہیں‘‘۔اگرٹرمپ اسرائیل کے ساتھ ہیں تووہ مسلم ممالک کے ساتھ کیسے ہیں؟بات اتنی سادہ نہیں ہے۔


ٹرمپ اپنے دورے سے یہ بھی ثابت کرناچاہ رہے تھے کہ وہ دنیاکے تین بڑے مذاہب مسیحیت،اسلام اوریہودیت کوساتھ لے کرچلناچاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ مذاہب کی جنگ توہرگز نہیں ہے۔دہشت گردوں کانشانہ تمام مذاہب اورفرقے ہیں۔مشرق وسطی سمیت دنیا بھرمیں جوقتل وغارت جاری ہے اس کی ایک وجہ امریکی پالیسیاں بھی ہیں۔امریکہ کوایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کاقیام جلدازجلد عمل میں آسکے اوراسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بندباندھا جائے ۔


ٹرمپ نے اس کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف تقریر کی ،انہوں نے ایران کی پالیسیوں پرتنقید کی اوراُسے تنہاکرنے کی بات کی ۔پاکستان ،امریکہ کے ساتھ مل کردہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہاہے،لیکن صدرٹرمپ نے ہماری قربانیوں کااعتراف نہ کیا،جس پرہماراشکوہ بنتاہے۔ سابق صدراوبامہ کے دور میں امریکہ اورسعودی عرب کے تعلقات سردمہری کاشکارتھے،جس کی وجہ سے مشرق وسطی امریکی ترجیحات میں نچلی سطح پرآگیاتھا۔اب ان تعلقات میں ایک نئی گرم جوشی آگئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اورخلیجی ممالک کی اس نئی فرینڈ شپ کے خطے پرکیااثرات ہوں گے۔بعض عرب دوستوں کے گوادرپورٹ کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں۔امریکہ اوربھارت بھی نہیں چاہتے کہ گوادرپورٹ کے راستے خطے میں چین کااثروروسوخ بڑھے۔


ٹرمپ ایک بزنس مین ہیں انہوں نے امریکی معیشت کومستحکم کرنے اورنوجوانوں کے لئے روزگارکے نئے مواقع پید اکرنے کے لئے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لئے سعودی عرب کاانتخاب کیا۔ وہ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالرکے معاہدے کرنے میں کامیاب رہے۔امریکی پالسیی سازوں کواندازہ تھاکہ یہ سعودی عرب کوامریکی اسلحہ بیچنے کابہترین موقع ہے۔سعودی عرب جوپہلے ہی معاشی دباؤ کاشکارہے، اربوں ڈالرکے اسلحے کی خریداری معیشت پرمزیدبوجھ ڈالے گی، جبکہ امریکی اسلحہ سازکمپنیوں کی چاروں انگلیاں گھی میں ہوں گی۔


سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدرٹرمپ کوسعودی عرب کے سب سے بڑے اعزازسے نوازا۔اب ظاہر ہے میڈل پہننے کے لئے میڈل دینے والے کے آگے سرجھکاناپڑتا ہے۔صدرٹرمپ پر بداعتمادی کایہ حال ہے کہ صدرٹرمپ کی اس تصویرپرامریکہ میں ہنگامہ کھڑاہوگیا۔چندسال پہلے امریکی صدراوبامہ نے بھی اسی طرح جھک کرمیڈل پہنا تھا،اس وقت ٹرمپ کی طرف سے اوبامہ کوشدید تنقید کانشانہ بنایاگیا۔اب ٹرمپ کواسی تنقید کاسامناکرناپڑا ہے۔


اہم سوال یہ ہے کہ کیاامریکی صدرٹرمپ کے دورے کے اثرات دیگرمسلم ممالک پرمرتب ہوں گے اورکیاصدرٹرمپ مسلم ممالک کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کریں گے؟ہمارا خیال ہے یہ سب زبانی جمع خرچ ہے ۔صدرٹرمپ کی مسلم ممالک کے حوالے سے پالیسی تبدیل نہیں ہوگی ۔مسلم دنیا کابھی صدرٹرمپ سے یہ امیدیں وابستہ کرلیناکہ وہ امت مسلمہ کے مفادات کاتحفظ کریں گے ایک لطیفہ ہی ہے۔امریکہ کی اپنی ترجیحات ہیں اوردیگرممالک کی اپنی ترجیحات اورمفادات ہیں ۔ہماری پالیسی ہے کہ ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ،اورنہ پاکستان کسی ملک کے اندرمہم جوئی کاارادہ رکھتاہے۔ کسی مسلح گروپ کے ذریعے کسی ملک کی حکومت کو ہٹانے کارحجان کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔اس پالیسی کے تحت پاکستان،شام میں صدربشارالاسد کی حکومت کوتسلیم کرتاہے اوریمن میں حوثی باغیوں کی مسلح جدوجہد کی مخالفت کرتاہے۔یوں اگردیکھاجائے توشام کے مسئلے پرپاکستان ،ایران کے قریب ہے جبکہ یمن کے معاملے پرپاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے۔پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے موجود ہیں۔پاکستان ان دفاعی معاہدوں پرعمل کرنے اورکسی غیرملکی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کی مدد کاپابند ہے،تحفظ حرمین شریفین بھی ہم سب کی ذمہ دار ی ہے۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ پاکستان کوکسی کے کہنے پرکسی تیسرے ملک میں مہم جوئی شروع کردینی چاہئے۔ہم اس وقت خود ایک مشکل صورتحال کاشکارہیں،دہشت گردوں کے خلاف ایک ایسی لڑائی لڑرہے ہیں۔جس میں ٹی ٹی پی اورداعش جیسی تنظیموں کوغیرملکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔یہ بھی واضح ہے کہ ملکوں کے تعلقات باہمی مفادات پرہوتے ہیں ناں کہ مذہب اورفرقے کی بنیادپر۔ امریکہ اورایران کے درمیان مخاصمت چالیس سال سے جاری ہے۔یہ ایران اورامریکہ کی مرضی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کس طرح رکھتے ہیں ۔ہم نے اب تک اپنادامن بچاکررکھا ہواہے۔ہمارے دشمن کی شروع سے کوشش ہے کہ پاکستان کوکسی طرح فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلاجائے۔لیکن پاکستان کے عوام نے مل کراس سازش کوناکام بنایاہے،سب کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں۔ہمیں کسی نئی سازش کاشکارہونے کی بجائے بھائی چارے اورامن کی فضا کوقائم رکھنا ہے۔پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں۔مختلف فرقوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں،جب کسی ایک بھائی کوتکلیف ہوتی ہے اس کادرد دوسرا بھی محسوس کرتاہے ۔ہمارامفاد یہ ہے کہ مسلم ممالک بھی فرقہ واریت کاشکارنہ ہوں۔


سفارتی امورکے بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ہمارے عرب دوستوں نے جلدبازی میں اپناوزن امریکی پلڑے میں ڈال کرگھاٹے کاسوداکیاہے۔انھیں امریکہ ،روس اورچین تینوں عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے چاہئیں۔اگراس کانفرنس میں روسی صدرپیوٹن بھی آجاتے توبہترہوتا۔سارے انڈے امریکہ کی باسکٹ میں ڈالنے کافیصلہ دانشمندانہ نہیں۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے علاوہ بحرین،کویت،قطر،متحدہ عرب امارات،اومان اورمصرکے سربراہان مملکت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دفترخارجہ کی کوششوں کے باوجود وزیراعظم نوازشریف اورڈونلڈٹرمپ کے درمیان ون ٹوون ملاقات نہ ہوسکی۔نائن الیون کے بعد پاکستان دہشت گردی کاسب سے زیادہ شکارہواہے۔اب تک ہزاروں لوگ اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرچکے ہیں۔پاکستانی معیشت کواربوں روپے کانقصان ہوا ہے لیکن امریکی صدرٹرمپ نے اپنی تقریرمیں پاکستان کی قربانیوں کاذکرنہیں کیا۔یہ بات طے ہے کہ مشرق وسطی میں اس وقت تک امن نہیں آسکتاجب تک تمام برادرممالک بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔سعودی عرب اورایران کے اختلافات اتنے سنگین نہیں کہ انھیں دورنہ کیاجاسکے ۔اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے مسائل کاحل کسی دوسرے سے لینے کی بجائے آپس میں بات چیت کا آغاز کریں۔ اس ضمن میں پاکستان ثالثی کاکرداراداکرسکتاہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

سرنگوں کبھی نہ ہوپرچم تیرا


زندگی تیرے نام ہے
شہادت مرا انعام ہے
میری عیدیں اور شبراتیں
اے وطن تیرا دوام ہے
تری عظمت و شان و شوکت
مرا سکھ چین آرام ہے
سرنگوں کبھی نہ ہوپرچم تیرا
اسلحہ مرا بے نیام ہے
ترے نظریے کے لئے
پینا شہادت کا جام ہے
تو رہے پائندہ و تابندا
فوج کا بس یہی کام ہے
دنیا میں تُو ہو سربلند‘ اس لئے
لیاقت حاضر صبح و شام ہے
بریگیڈیئرلیاقت محمود

*****

 
09
June

تحریر: حماس حمید چودھری

206 قبل مسیح میں ہان خاندان چین میں برسر اقتدار آیا۔ہان خاندان کی چار سو سالہ حکومت چین کی معاشی تاریخ میں سنہرے دور کے طور پر یاد کی جاتی ہے کیونکہ ہان خاندان نے تاریخ میں پہلی بار ایشیا کو افریقہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی مقاصد کے لئے براہ راست جوڑنے کا سوچا اور پھریہی سوچ بنیاد بنی شاہراہ ریشم کی۔ اس قدیم شاہراہ ریشم(سلک روڈ) کی کچھ جھلکیاں آج بھی گلگت شہرسے قراقرم روڈ کے ذریعے خنجراب بارڈر کی طرف جاتے ہوئے دریا کی دوسری جانب دیکھی جاسکتی ہیں۔قدیم زمانے میں شاہراہ ریشم مشرق میں جاپانی جزیروں تک اور مغرب میں بحیرہ روم تک پھیلی ہوئی تھی لیکن بعد میں مختلف وجوہات کے باعث یہ عظیم الشان تجارتی سلسلہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ ایشیا اور یورپ کو ایک سڑک کے ذریعے جوڑنے کاسنہری خواب تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو گیا۔


سیکڑوں سالوں بعد آج جب ہم نے اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم جمالئے ہیں تو ایک بار پھر سے ایشیا کو افریقہ اوریورپ سے ایک سڑک کے ذریعے جوڑنے کا خیال زبان زد عام ہے۔اس خیال کی باز گشت اس وقت سنائی دی جب ستمبر اور اکتوبر 2013ء میں ایشیا اور یورپ کی مختلف ریاستوں کے دورے کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے مَیری ٹائم سلک روڈ اور سلک روڈ اکنامک بیلٹ کا تصور پیش کیا گیا۔ اس خیال نے اس وقت حقیقت کا روپ دھارنا شروع کیا جب نومبر2014ء میں چینی حکومت نے سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان میں 46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا اس معاہدے پر دستخط 20 اپریل 2015ء کو چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کئے لیکن یہ صرف ابتداء تھی چین کے اس بین البر اعظمی منصوبے کی، جس نے ایشیا کو افریقہ اور یورپ سے براہِ راست جوڑنا تھا‘ 14اور15 مئی 2017ء کو چین نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو فروغ دینے کے لئے بیجنگ میں ایک بہت بڑے اجلاس کی میزبانی کی جس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے سربراہان بشمول روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوان اور مختلف نمائندوں نے علاوہ مختلف عالمی اداروں ‘ آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے سربراہان اور مندوبین نے بھی شرکت کی۔اس دو روزہ اجلاس کے دوران پاکستان اور چین نے تقریباً 500 ملین ڈالر کے بھاشا ڈیم، 333 ملین ڈالر کے گوادر ایئر پورٹ، حویلیاں ڈرائی پورٹ اور ریلوے ٹریک کے منصوبوں کے چھ اضافی معاہدوں پر دستخط کئے جس سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی مالیت اب تقریباً 75بلین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا بین الصوبائی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کے درجنوں ممالک کو براہ راست جوڑنے کے لئے چین سمندری اور زمینی راستوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کرنا چاہتا ہے جس پر تقریباً ایک کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔ چین 2014ء سے اب تک ون بیلٹ ون روڈ سے ملحقہ ممالک کے ساتھ تقریباً 400 ارب ڈالر کے منصوبے سائن کر چکا ہے اور 2017ء میں ہی مذکورہ منصوبوں کے لئے تقریباً 90 ارب ڈالر اپنے تین سرکاری بینکوں میں منتقل کر چکا ہے۔


چین کی ایک کھرب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری سے پاکستان اور سری لنکا میں بندرگاہوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں تیز رفتار ٹرینوں اور وسطی ایشیا سے گزرنے والی گیس پائپ لائنوں ، سنکیانگ سے گوادرکی گہرے پانی کی بندرگاہ تک57 ارب ڈالر کی لاگت کا زمینی راستہ، ایک ارب ڈالر کی لاگت سے سری لنکا کے شہر کولمبو میں ایک پورٹ سٹی کی تعمیر، سنکیانگ سے سنگاپور تک تین ہزار میل لمبی تیز رفتار ٹرین کی پٹری بچھانے کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے ساتھ بھی بیشتر منصوبوں پر عمل درآمد شامل ہے۔اس کے علاوہ چین کا ایگزم بینک افریقہ کے کئی ممالک میں ریلوے نیٹ ورک کے لئے بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

onebeltroadpak.jpg
امریکہ کی بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے امریکہ سے فاصلے پیدا ہو چکے ہیں۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور پاکستان کا قریبی دوست اور ہمسایہ ہے۔فوربز کے مطابق چین 2018ء تک معاشی میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون پر چلا جائے گا اور حالات بھی کچھ ایسے ہی دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ فوکس بزنس کے مطابق ایک امریکی اوسطاً 62ہزار ڈالر قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ دنیا کا مستقبل ہے اور یہ بین البراعظمی منصوبہ دنیا کو ایک نئی شکل اور ترتیب دے گا۔


مشہور کورین دانشورجے ہو چنگ کا کہنا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جب مکمل ہوگا تو تقریباً60 ممالک اس کا حصہ ہوں گے اور دنیا کی دو تہائی آبادی اس سے منسلک ہوگی جبکہ یہ عالمی جی ڈی پی کے 55فیصد اور عالمی توانائی کے75فیصد حصے پر مشتمل ہوگا۔ہانگ کانگ کے اخبار ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ انسانی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم منصوبہ ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا اب امریکہ کی امریکہ فرسٹ پالیسی سے تنگ آکر چین کی جانب جھکتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ چین کی پالیسیاں باہمی تعاون ، باہمی دلچسپی اور باہمی منافع پر مبنی ہیں۔چین ایشیائی سپر پاور بننے کے بعد اب عالمی سپر پاور بنتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ دوسری عالمی طاقتوں روس اور امریکہ کی جنگی پالیسیوں کی نسبت چین کی پرامن معاشی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے دنیا چین کی جانب دیکھ رہی ہے۔


اس عالمی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے اورواشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کا اشارہ بھارت کی جانب تھا کیونکہ بھارت نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کے بار ہا احتجاج کے باوجود چین نے بھارت کو اعتماد میں لئے بغیر پاکستان میں سی پیک کا آغاز کر دیا جوکہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ہی حصہ ہے ۔ حالانکہ حالیہ دنوں میں ہی بھارت میں چین کے سفیر لیو ژو ہیو نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں پاک چین اقتصادی راہداری پر وضاحت دی کہ سی پیک منصوبہ کسی لحاظ سے بھی بھارت کی ترقی کے خلاف نہیں اور وہ ون بیلٹ ون روڈ کے اس عظیم منصوبے میں بھارت کی شمولیت چاہتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی سفیر کے مذکورہ بیان پر پاکستانی حلقوں نے اعتراضات کئے تھے جس کے بعد چینی سفیر کو سی پیک کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے دیا گیا اپنا بیان واپس لینا پڑا۔


اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی کامیابی کا دارومدار پاک چین اقتصادی راہداری کی کامیابی سے منسلک ہے کیونکہ سی پیک ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے اور اس کی کامیابی کو چین دنیا کے سامنے بطور مثال پیش کرے گا۔جب بھی کسی بڑے منصوبے کا آغاز کرنا ہو تو اس سے پہلے ایک پائلٹ منصوبہ بنایا جاتا ہے جس کی کامیابی کی بنیاد پر بڑے منصوبے کا آغاز کیا جاتا ہے اس لحاظ سے دنیا کی نظریں سی پیک پر مرکوز ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں سات لاکھ نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں تو ون بیلٹ ون روڈ کی وجہ سے ستر لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا اور یہ باتیں ہمارے دشمنوں کو بھاتی نہیں ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا مقصد بھی سی پیک کو سبو تاژ کرنا تھا۔بارڈر کے اس پار بیٹھے دشمن اور ہماری صفوں میں موجود منافق کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان میں معاشی استحکام اور خوشحالی آئے جس کے لئے وہ کسی بھی اخلاقی حد سے گر جانے میں قباحت محسوس نہیں کرتے ۔


اس ساری صورتحال میں افواج پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل اور فیصلہ کن ہے کیونکہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی دہشتگردی کا شکار ہے جبکہ افواج پاکستان پچھلے سولہ سالوں سے حالت جنگ میں ہیں اگرچہ حالات بتدریج کامیابی کی جانب گامزن ہیں تاہم حکومت کی ناکام فلاحی پالیسیاں اور سیاسی عدم استحکام اس امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ دشمن کبھی جاسوس ایجنسیوں کے ذریعے بلوچستان کے معصوم لوگوں کو ورغلاتا ہے تو کبھی افغان بھائیوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بو تا ہے، کبھی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے گوادر منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی کراچی کے حالات خراب کرتا ہے۔بارڈر کے اس پار بیٹھا دشمن بد امنی اور دہشتگردی کو بنیاد بنا کر سی پیک منصوبے کو دنیا کی نظر میں ناکام دکھانا چاہتاہے لیکن اس کے ناپاک مقاصد کے حصول کی راہ میں افواج پاکستان سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہیں۔


ایک اور بات قابل غور ہے کہ چین او بی او آر سے منسلک ممالک کو آسان قرضوں کی صورت میں سرمایہ دے گا اور ایک وقت پر ان ممالک کو یہ قرضہ اتارنا ہوگا تو پاکستان کو چاہئے کہ مکمل پلاننگ کے ساتھ اس منصوبے کے ساتھ چلے تاکہ آج کا دوست کل کا آقا نہ بن جائے۔دوستی اپنی جگہ ہوتی ہے لیکن جہاں مفادات کی بات آجاتی ہے تو عقلمند سب سے پہلے اپنے مفادات محفوظ کرتا ہے اور پھر دوسروں کے ۔ اپنے دوست چین کی طرح ہمیں بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔


سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے اگر چین کا زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور پاکستان کا کم تو بھی یہ گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ اس وقت پاکستان کے عوام کی معاشی حالت بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ گیلپ کے مطابق پاکستان کی چالیس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے اور نو جوانوں میں بے روزگاری کی شرح روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔اس موقع پر ہمیں بحیثیت قوم مل کر سی پیک کو کامیاب بنا کر ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی جنگی بنیادوں پرانتہائی محتاط انداز میں راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کی زندگی


خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیان و حریر
نہنگِ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد
نہنگ مُردہ کو موجِ سراب بھی زنجیر

*****

 
09
June

ملکی دفاع کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہوا کرتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اگر کوئی ریاست دفاعی اعتبار سے کمزور ہو اور اس کی سپاہ اس قابل نہ ہو کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے تو پھر ایسی ریاست کی سالمیت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام نے معاشرت اور سماجی اعتبار سے ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی لائن کو بھی مضبوط خطوط پر استوار رکھا ہے۔ مضبوط دفاع اور ملکی سالمیت کو یقینی بنانے کے پیش نظر وطنِ عزیز پاکستان نے بھی بطورِریاست کبھی اس پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمارا دین بھی ہمیں اپنا دفاع مضبوط رکھنے اور خود کو تیار رکھنے کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ پاک کی آیت کا مفہوم ہے ۔


’’اور(مسلمانوں) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں اُن سے مقابلے کے لئے تیار کرو جن کے ذریعے تم اﷲ کے دشمن اور اپنے(موجودہ) دشمن پر ہیبت طاری کرسکو‘ اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے‘ (مگر) اﷲ اُنہیں جانتا ہے۔ ‘‘
(سورۃ الانفال آیت 60)
افواج پاکستان ’الحمدﷲ‘ پیشہ ورانہ اہلیت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں۔ ہماری بری‘ بحری اورفضائی افواج نے ہر ہر معرکے میں اپنی اہلیت اور قوت دونوں ثابت کی ہیں۔ ظاہر ہے ریاست کو اس امر کا ادراک ہے کہ ملکی سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا کس قدر اہم ہے۔ لہٰذا ہر سال دفاع کے لئے بجٹ مختص کیا جاتا ہے ۔ رواں برس بھی بجٹ2017-18 کے47کھرب اور 52 ارب کے وفاقی بجٹ میں سے928 ارب دفاعی بجٹ کے لئے مختص کئے گئے ہیں جو مجموعی بجٹ کا تقریباً16 فیصدبنتا ہے۔مختص کردہ بجٹ کا اگر پڑوسی ملک ہندوستان اور بعض دیگر بڑی طاقتوں سے موازنہ کیاجائے تو یہ نہایت قلیل ہے لیکن ریاست کی تینوں افواج اس مختص کردہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ اہلیت اور صلاحیتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی سعی کرتی ہیں بلکہ وقت پڑنے پر کسی بھی چیلنج سے نبرد آزما ہو کر ملکی دفاع کو یقینی بناتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما ہے جس میں بری‘ بحری اور فضائی افواج نے اپنی اپنی ذمہ داریاں اس انداز سے نبھائی ہیں کہ ایک دنیا ان کااعتراف کرتی ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی وطنِ عزیز کو خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے اور پاکستان دشمن عناصر ملک کے خلاف کارروائیاں کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن ہماری فورسز کی جانب سے نہ صرف ایسی کارروائیوں کا مؤثرجواب دیا جاتا ہے بلکہ ان عناصر کا پیچھا اُن کی کمین گاہوں تک کیا جاتاہے۔افواجِ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے نہ صرف کماحقہ‘ آگاہ ہیں بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت سے بھی مالامال ہیں اور وہ اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ صرف امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ترقی اور خوشحالی حاصل کی جاسکتی ہے۔بلاشبہ دیرپا امن کے حصول کے لئے پاکستان کو ایک طاقت ور اور مضبوط ریاست کے طور پر خود کو منوانا ہے جس کے لئے پاکستان کے عوام اور اس کی افواج مل کر کام کررہی ہیں کہ باہمی اتحاد و یگانگت ہی میں ریاست کا امن اور وقار پنہاں ہیں۔

09
June

تحریر: خدیجہ محمود

جس طرح ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ اسی طرح میری نظر میں پاک فوج سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ سپاہی ہو یا جرنیل آسمانِ شجاعت کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس کے سینے پر کسی نہ کسی قربانی کا تمغہ سجا ہوا ہے اور وہ قربانی صرف دفاعِ وطن کے مقدس فریضہ کے دوران رتبۂ شہادت پر فائز ہونے کی ہی نہیں بلکہ خون کو جماتی ہوئی سیاچن گلیشیر جسے برف کا صحرا کہیں تو مناسب ہوگا کی سردی میں توکبھی جھلسا دینے والی ریگستان کی گرمی میں اپنے تمام پیاروں سے دوری‘ دورانِ تربیت زخمی ہو کر یا کسی آپریشن میں جسم کے کسی حصے کی تاعمر معذوری کی صورت میں بھی شامل ہے اور پھر بھی وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ:’’ اے وطن! ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں‘‘
بظاہر یہ چمکتی ہوئی کلف زدہ بے شکن فوجی وردی ہے لیکن اپنے اندراَن گنت داستانیں سموئے ہوئے خاموشی کی زبان میں بہت کچھ سناتی ہے جو شاید صرف چند اہلِ دل ہی سمجھ پاتے ہیں۔
آج کا مضمون ان
Unsung Heroes
کوخراج تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کاوش ہے جو اس پاک وطن کے عشق میں چُور‘ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
زمانے میں ادا کرتے ہیں جب بھی رسمِ شبیری
تو نوکِ خنجرِ باطل پہ بھی سررقص کرتا ہے
اپنی اس تحریر میں میں چاہ کر بھی لفاظی نہیں کرپاؤں گی کیونکہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی جن کے سینوں میں دل کی جگہ پاکستان دھڑک رہا ہے‘ وہ کسی ستائش کی پروا کئے بغیر اس ملک کی خدمت کررہے ہیں۔ ان کا صرف ایک ہی جنون‘ ایک ہی عشق اور ایک ہی ایمان ہے ۔ جس کا نام پاکستان ہے۔

shukriayapakfoj.jpg
کچھ صحافی اور اینکر حضرات پرنٹ ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے مختلف میڈیم پر پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان سب سے مخاطب ہو کر یہ کہنے اور لکھنے کی جسارت کررہی ہوں کہ پاکستان میں ایک ہی تو ادارہ ہے جس کے نمائندگان نہایت یقین سے اس ملک کے شہریوں کو اعتماد دلاتے ہیں کہ ’’تم سکون کی نیندسو لو‘ پاک فوج جاگ رہی ہے۔‘‘


کچھ حب الوطنی کے دعوے داروں کا اعتراض ہے کہ ملک کے بجٹ کا 70فیصد حصہ پاک فوج پر خرچ ہوتا ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ ذرا غور سے اعداد و شمار کو دیکھیں۔ پالیسیوں پر نظردوڑائیں اور عینک کے دھندلائے شیشے صاف کریں تو صاف نظر آجائے گا کہ50 فیصدسے اوپر بجٹ تو قرض اتارنے کی مد میں صرف ہوتا ہے اور باقی تمام اخراجات کے بعد دفاعِ وطن پر ملک کا 17 فیصد سے بھی کم بجٹ تینوں افواج پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اگر اس دعوے پر کسی کوشبہ یا اعتراض ہے تو وہ کسی بھی سینئر تجزیہ کار صحافی یا اکانومسٹ جو اس مضمون میں کمال رکھتے ہیں اعداد و شمار کے حوالے سے تصدیق کرسکتے ہیں۔ ہمارے چند دانشور یہ بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ پاک فوج اپنے فرائض کی انجام دہی کی تنخواہ لیتی ہے تو سرکار پھر یہ بھی بتا دیں کہ آپ کے بازار میں خون کن داموں فروخت ہوتا ہے؟ سہاگنوں کی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی کیا قیمت ہے؟ وہ نو بیاہتا دلہن جس کے ہاتھوں کی مہندی بھی ابھی پھیکی نہیں ہوئی اور جس کی آنکھوں میں لمبی راتوں میں نیند کی جگہ انتظار جم گیا ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والا انتظار اس کی کیا بولی لگائیں گے آپ؟


ایک بوڑھی ماں جس کا جوان بیٹا اس دھرتی کی مٹی کو سیراب کرگیا اپنے لہو سے۔۔۔ اس کی خالی کوکھ کی قوتِ خرید کی جرأت کرسکتے ہیں آپ؟ وہ بچے جن کے باپ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ وہ اس آس میں دن گزارتے ہیں کہ نئے کپڑے ملیں گے۔ ان کو کپڑے ملتے ہیں لیکن باپ کے‘ وہ بھی لہو سے تر اور سبز ہلالی پرچم۔۔۔ اس ٹوٹی ہوئی آس کو آپ کتنے میں خریدسکتے ہیں؟
پوچھنے پر آؤں تو نہ جانے ان صاحبانِ علم و دانش سے کتنی چیزوں کے دام پوچھ سکتی ہوں لیکن جانے دیجئے صاحب آپ کی ان باتوں کے باوجود سلام ہے ان مٹی کے بندوں کی دیوانگی پر جو کسی نہ کسی آپریشن یا تربیتی مراحل میں ہونے والی ساری عمر کی معذوری کے باوجود بھی اپنے اندر سے جذبۂ حب الوطنی ختم نہ کرسکے۔

 

ایک بوڑھی ماں جس کا جوان بیٹا اس دھرتی کی مٹی کو سیراب کرگیا اپنے لہو سے۔۔۔ اس کی خالی کوکھ کی قوتِ خرید کی جرأت کرسکتے ہیں آپ؟ وہ بچے جن کے باپ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ وہ اس آس میں دن گزارتے ہیں کہ نئے کپڑے ملیں گے۔ ان کو کپڑے ملتے ہیں لیکن باپ کے‘ وہ بھی لہو سے تر اور سبز ہلالی پرچم۔۔۔ اس ٹوٹی ہوئی آس کو آپ کتنے میں خریدسکتے ہیں؟

گفتارکے ان غازیوں پر حیرانی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس مملکت خدا داد پاکستان کے ٹوٹنے کی بات کس منہ سے کرتے ہیں۔ اس کی برائیوں کو محدب عدسے سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور پھر ایک نہ ہونے والی ہولناک تباہی کی خوفناک عکاسی کرتے ہیں۔ جب زلزلہ آتا ہے‘ سیلاب آتا ہے یا کوئی اور مشکل وقت تواس کاسامنا پاک فوج کو کرنا پڑتا ہے اور یہ محبِ وطن کسی اخبار یا چینل پر دُکھ کا اظہارکرتے ہوئے اس ملک سے محبت کا ثبوت نہیں دیتے بلکہ ایمرجنسی میں فوری طور پر امدادی کارروائی کے لئے پہنچتے ہیں مخیر حضرات اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے ضرورت کا سامان ضرور فراہم کردیتے ہیں لیکن خطرناک مقامات پر پہنچاتا کون ہے؟ پاکستان اور افواج میں خامیاں نکالنے والوں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ان کے علم میں نہیں کہ برادر اسلامی ممالک کہ جن کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے اور وسائل کے انبار ہیں کیا وہ جدید آلاتِ حرب میں باقی دنیا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ اﷲ کے فضل وکرم سے ہر قسم کا جدید اسلحہ ٹینک‘ میزائل‘ جہاز ماشاء اﷲ نہ صرف پاکستان میں بنتے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ اسلحہ جات برآمد بھی کئے جاتے ہیں۔کیا ان کے کان اس نعرۂ تکبیر کی گونج سے محروم ہیں جو بھارت کے پرتھوی میزائل کے جواب پر غوری میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد پوری دنیا کو سنائی دیا تھا۔


1965 میں جب امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر دی تھی تو کیا پاکستان مفلوج ہوگیا تھا؟ بالکل نہیں۔ سپر پاور کا دعویٰ کرنے والا ملک روس جس نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی مدد کی آج وہ خود کئی ریاستوں میں بٹ چکا ہے‘ تقسیم ہو چکا ہے لیکن بفضلِ تعالیٰ پاکستان جو خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ وہ تھا‘ وہ ہے اور انشاء اﷲ قیامت تک رہے گا۔ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتی رہے گی‘ زندہ رکھے گی۔ غوری کے سامنے ہمیشہ پرتھوی شکست کھائے گا۔
پاکستان کا دفاع یقیناًناقابلِ تسخیر ہے۔ اب دشمن ہم پر براہِ راست وار نہیں کر پارہا لیکن معصوم عوام کے ذہنوں میں خوف پھیلانے کی مجرمانہ کوشش ضرور کررہا ہے اور نہ جانے کیوں کچھ لوگ کم علمی اور کچھ بددیانتی کی وجہ سے پروپیگنڈا کا حصہ بن جاتے ہیں اور جس کی ایک مثال یہ جعلی سکیورٹی الرٹس ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچائے جارہے ہوتے ہیں۔ اس بارے میں بھی عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاک فوج کا ادارہ آئی ایس پی آر کبھی بھی

WhatsApp
پر عوام کو ایسی خبریں نہیں دیتا۔ الحمدﷲ ! پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نپٹنا جانتی ہے اور ان ناعاقبت اندیش جو اس پروپیگنڈا کا حصہ بن رہے ہیں‘ ان سے دست بستہ التجا ہے کہ خدا را آنکھیں کھولیں کیونکہ اگر آپ اب بھی نہ جاگے تو
؂تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اس مضمون کو لکھنے کے دوران ہی مجھے میری پاک فوج کی دوہستیوں کے بارے میں خبر ملی کہ لیفٹیننٹ خاور اور کیپٹن جنید فضل جسم پر تازہ لہو کے چھینٹے لئے جنونِ عشق اور حدودِ عشق کی تمام منازل طے کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرکے حیاتِ جاودانی پاچکے ہیں۔
شہیدو! تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اگر میرے اس مضمون کو پڑھ کر دل پر مادرِ وطن کے ان جاں نثاروں کے لئے کسی ایک دھڑکن کی سلامی بھی محسوس کریں تو میں اس کو اپنی پاک فوج کے شہیدوں اور غازیوں سے عقیدت کا ثمر سمجھوں گی اور ایک بار پھر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے :
شکریہ ۔ پاک فوج

مصنفہ میڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:17

چاچا کمپس
رات کا وقت فوجی کارروائیوں کے لئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے کیونکہ رات کی تاریکی میں دشمن کے خلاف سرپرائز حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر فوجی تربیت میں رات کے وقت آپریٹ کرنے پرخصوصی توجہ دی جاتی ہے اور عسکری مشقوں کے دوران بھی فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے لئے زیادہ تر رات کے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔آجکل تو ایک سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے جی پی ایس اورگوگل میپ وغیرہ کی مدد لی جاتی ہے جنہیں ایک بچہ بھی بخوبی استعمال کر سکتا ہے لیکن گزرے وقتوں میں یہ معاملہ اتنا آسان نہیں تھا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے نقشے اور کمپاس کے ساتھ ساتھ ستاروں کی چالوں سے بھی مدد لی جاتی تھی۔ دن کے وقت تو ’’چاچا کمپس‘‘یعنی راہ چلتے سیانے بندوں سے پوچھ پاچھ کر بھی کام چلا لیا جاتا تھا لیکن رات کو صورتحال اکثر قابو سے باہر ہو جایا کرتی تھی ۔ عموماً ایسا ہوتا کہ فوجی قافلے ایسے بھٹکتے کہ ڈھونڈے سے بھی نہ ملتے اورصبح ہونے کے بعد احساس ہوتاکہ جس جگہ پہنچنا تھا اس سے بالکل 180 ڈگری الٹ سمت میں جا نکلے ہیں۔ ۔


ایک مرتبہ کچھ یوں ہوا کہ ہم صحرا میں جنگی مشقوں کے لئے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ ایک روز ہمیں تیرہ گاڑیوں کے ایک کانوائے کے ساتھ پندرہ کلومیٹر دور ایک کمپنی پوزیشن پر پہنچنے کا ٹاسک ملا۔ہم نے نقشے پر روٹ مارک کیا ، تمام گاڑیوں کی فٹنس چیک کی اور رات ہوتے ہی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔ صحرا میں پکی سڑکیں تو ہوتی نہیں بس گاڑیوں کے چلنے کی وجہ سے کچھ ٹریک بن جاتے ہیں۔ دوسری مشکل یہ ہوتی ہے کہ تمام علاقہ تقریباً ایک سا ہی ہوتا ہے۔ کوئی ایک بھی نشانی ایسی نہیں مل پاتی جس کے ریفرنس سے اپنی پوزیشن معلوم کی جاسکے۔ کچھ دور چلنے کے بعد ہم اسی مشکل کا شکار ہوئے۔ نقشے کی مدد سے اپنی پوزیشن معلوم کرنا چاہی تو کامیابی نہ ہوئی۔بہرحال اندازے سے سفر جار ی رکھا۔


سفر شروع کئے ہوئے پانچ گھنٹے سے زائدگزر چکے تھے اور اب تک ہمیں اپنی منزل پرپہنچ جاناچاہئے تھا لیکن دور دور تک منزل کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ وائرلیس پر کال کر کے ہم نے اپنی خیریت کی اطلاع دی اور اپنے کھو جانے کے بارے میں بھی آگاہ کر دیا۔ہمیں موومنٹ روک دینے کا حکم دیاگیا اور ہماری تلاش میں ٹیمیں روانہ کی گئیں جو کچھ دیر بعد تھک ہار کر واپس آ گئیں۔ہم نے خود بھی بہتیری بھاگ دوڑ کی لیکن راہ راست پرواپس آنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بالآخر مجبور ہو کر ہمیں اپنے کانوائے کے ہمراہ وہ شب تاروں کی چھاؤں میں بسر کرناپڑی۔
صبح اٹھ کر فضا میں لنگر کے تازہ کھانوں کی مہک محسوس ہوئی تو پتہ چلا کہ ہم نے جس کمپنی میں پہنچناتھا وہ ٹیلے کے عین دوسری جانب خیمہ زن تھی۔


پنوں پاگل
یہ ان دنوں کا ذکرہے جب آتش جوان تھا اور بحیثیت کیپٹن آرٹلری سکول نوشہرہ میں عسکری خدمات سرانجام دے رہا تھا۔دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ اچانک ہماری پرسکون زندگی کو پنوں عاقل پوسٹنگ کی صورت میں ایک بھونچال کا سامناکرنا پڑا ۔ لوگوں سے طرح طرح کی باتیں سننے کو ملیں ۔ کسی نے کہا کہ وہاں سال کے گیارہ مہینے سخت گرمی پڑتی ہے اور دسمبر کے مہینے میں ذرا سی کم۔ کوئی بولا کہ پنوں عاقل پہنچ کر اور واپسی پر، دونوں مرتبہ رونا آتا ہے۔ ہم بھی یہ باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑاتے رہے۔ بالآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمیں نوشہرہ کو الوداع کہہ کر پنوں عاقل کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ہم نے سامان ٹرک پر روانہ کیا اور خود اپنی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے فیملی کے ہمراہ پنوں عاقل پہنچ گئے۔ اگست کا مہینہ تھا، رات ہو چکی تھی اور ہم تمام دن ڈرائیونگ کر نے کے بعد تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے۔ غسل کے لئے واش روم کا رخ کیا۔ ٹونٹی کھولی تو اس سے کھولتا ہوا بھاپ نما پانی برآمد ہوا۔غلطی سے پانی کی حدت کا اندازہ لگانے کے لئے ہم نے ایک ڈونگا اپنے ہاتھ پر انڈیل لیا جس کے فورا بعد ہماری آنکھوں سے آنسو اور حلق سے ایک فلک شگاف چیخ برآمد ہوئی ۔ اسطرح بزرگوں کی کہی ہوئی بات کا پہلا حصہ درست ثابت ہوگیا جو پنوں عاقل پہنچ کر رونے سے متعلق تھا۔

 

panoopagal.jpgہم نے سوچا کہ سارا دن تیز دھوپ پڑتی رہی ہے تھوڑی دیر میں گرم پانی بہہ جائے گا اور نسبتاً ٹھنڈا پانی آنا شروع ہو جائے گا جو نہانے کے لئے موزوں ہو گا۔اسی امیدمیں انتظار کرنا شروع کیا لیکن پانی کی تپش میں کمی واقع ہونا تھی نہ ہوئی۔ آدھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد ہم غسل کا ارادہ ترک کر نے پر مجبور ہو گئے۔ گیسٹ روم کے انچارج حوالدار کو بلا کر اسے اپنی داستانِ غم سنائی تو وہ بولا ’’سر! اچھا ہوا آپ نے مجھے بلا لیا اگر آپ پوری ٹینکی بھی خالی کردیتے تو بھی ٹونٹی سے کھولتا ہوا پانی ہی باہر آتا۔ اس کا واحدحل یہ ہے کہ نہانے سے پہلے پانی کی بالٹی میں برف ڈال کر اسے ٹھنڈا کیا جائے۔‘‘


چند دن گیسٹ روم میں رہنے کے بعد ہم نے گھر الاٹ کروانے کے لئے سنجیدگی اختیار کی۔ڈ ی کیو سے رابطہ کیا تو بولے کہ پنوں عاقل میں گھروں کے بارے میں فکرمند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہ واحد کینٹ ہے جہاں پر گھر وافر تعداد میں موجود ہیں ۔ چونکہ افسر کم اور گھر زیادہ ہوتے ہیں اس لئے ہر نئے آنے والے افسر کو تین چار گھروں میں سے ایک کے انتخاب کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ سن کر ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ حسبِ روایت ہمیں بھی چار گھروں میں سے ایک گھر منتخب کرنے کا آپشن دیا گیا۔ ہم نے شام ہوتے ہی فیملی کے ہمراہ گھروں کی ریکی سٹارٹ کی اور چاروں گھروں میں سے جو ایک ہمیں زیادہ بہتر محسوس ہوا‘ اگلے دن اس میں شفٹ ہوگئے۔ کچھ عرصے کے بعد سننے میں آیا کہ ہر نئے افسر کو یہ چاروں گھر ضرور آفر کئے جاتے ہیں ۔مشہور تھا کہ ان گھروں میں بھوت پریت کا بسیرا ہے۔ وہاں رہتے ہوئے ہمارا سانپوں سے تو اکثر آمنا سامنا ہوجایا کرتا لیکن بھوتوں سے ملاقات کی حسرت ہی رہی۔ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصے تک باقی تین گھر بھی آباد ہو گئے۔ اب یار لوگوں نے ان گھروں کو تو بھوتوں سے کلئیر قرار دے دیا البتہ بھوتوں کو خالی ہونے والے دیگر گھروں میں شفٹ کردیا۔


ان دنوں ہمارا برخوردار عظیم صرف تین سال کاتھا اور اپنی توتلی زبان میں پنوں عاقل کو پنوں پاگل کہا کرتاتھا جسے سن کر سب یونٹ افسر بہت محظوظ ہوتے تھے۔موسم کی سختیوں اور دوسری مشکلات کے باوجود کچھ ہی دنوں میں پنوں عاقل میں ہمارا دل لگ گیا۔بیگم نے بھی وقت گزاری کے لئے لیڈیز کلب جوائن کر لیا اورٹی ایف ڈبلیو سی میں بھی باقاعدہ حاضری دینا شروع کر دی۔ پنوں عاقل میں ڈیڑھ سال گزار کر ہم پروموٹ بھی ہوگئے۔
اب دل میں نئی پوسٹنگ کے ارمان جنم لینے لگے۔ ایک روز دوپہر کو یونہی دل لگی سوجھی اور بیٹھے بٹھائے ایم ایس برانچ میں فون کر دیا۔ خوش قسمتی سے متعلقہ افسر سے بات ہوگئی۔ ان سے اپنی پوسٹنگ کے بارے میں دریافت کیا۔ کہنے لگے کہ سکردو میں ایک پوسٹ خالی ہے، لیکن ہم وہاں آپ کو پوسٹ نہیں کر سکتے کیونکہ آپ پہلے ہی سیاچین میں کافی وقت گزارچکے ہیں۔ البتہ اگر آپ کو ایک مرتبہ پھر وہاں جانے میں دلچسپی ہے تو اپنے سی او سے ایک سرٹیفیکیٹ سائن کروا کر ہمیں فیکس کر دیں۔ ہم نے فوراً سے پہلے سی او سے سرٹیفیکیٹ سائن کروا کرایم ایس برانچ میں فیکس کر دیا اور آدھے گھنٹے کے بعد جوابی فیکس کے ذریعے ہمیں سکردو کی پوسٹنگ موصول ہو گئی۔ایم ایس برانچ سے اتنی پھرتی کی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی تھی اس لئے آج تک ہم اس بات کو معجزے کے خانے میں ہی شمار کرتے ہیں۔


شام کو گھر پہنچ کر یہ خوش خبری بیگم کے گوش گزار کی تو گھر میں بجائے خوشی کے الٹا کہرا م مچ گیا۔ بیگم نے جھٹ سے ہمیں اپنی خوشیوں کا قاتل قرار دے دیا۔ ان کی دانست میں ان کے جمے جمائے آشیانے پر ایم ایس برانچ نے نہیں بلکہ ہم نے کلہاڑیاں چلائی تھیں۔ان دنوں اتفاق سے والد صاحب بھی ہمارے پاس مقیم تھے۔ انہوں نے کوئی پندرہ بیس سال قبل دوستوں کے ہمراہ اپنی ذاتی جیپ پر شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ فرمایا تھا۔ اپنی معلومات و مشاہدات کی روشنی میں انہوں نے سکردو کو ایک انتہائی ہیبت ناک جگہ ثابت کیا اور حسب روایت ہمیں انتہائی سخت سست قرار دیا۔ہر چند کہ ہم نے لاکھ صفائیاں پیش کیں کہ سکردو ایک فیملی سٹیشن ہے اور وہاں پہنچ کراور کچھ ہو نہ ہو لیکن پنوں عاقل کی گرمی سے ضرور نجات مل جائے گی لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی۔ غرض وہ رات بیگم نے روتے ہوئے بسر کی اور ہم رات بھر ان کے آنسو پونچھنے کا نیک کام سر انجام دیتے رہے۔
سکردو جا کر ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا یہ تو ایک علیحدہ موضوع ہے البتہ اپنے تجربے کی روشنی میں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ پنوں عاقل جاتے ہوئے تو رونا لازم ہے البتہ وہاں سے واپسی پر رونا اس صورت میں آتا ہے اگر آپ کی پوسٹنگ سکردو ہو جائے۔


خوبیاں خامیاں
فوج میں قدم رنجہ فرمانے کے لئے ہر افسر کو آئی ایس ایس بی کے گیٹ سے گزرنا لازمی ہے۔آئی ایس ایس بی میں کیا کچھ دیکھا اور پرکھا جاتا ہے اس کے بارے میں تو واقفانِ حال ہی کچھ بہتر بتا سکتے ہیں۔ ہم تو صرف اتنا کہیں گے کہ اس گورکھ دھندے کی سمجھ نہ تو سیلیکٹ ہونے والوں کو آتی ہے اور نہ ہی ریجیکٹ ہونے والوں کو۔ ہر امیدوار کو آئی ایس ایس بی کے لئے دو مواقع دیئے جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک امیدوار جو کہ پہلی دفعہ میں ریجیکٹ ہو جاتا ہے دوسری بار سیلیکٹ ہو کر گوہر مراد حاصل کر لیتا ہے۔ ہمارے ایک کورس میٹ بھی اسی زمرے میں شامل تھے۔ وہ پہلی کوشش میں سیلیکٹ ہونے میں ناکام رہے تھے لیکن دوسری بار ان کی کوئی ادا آئی ایس ایس بی والوں کو ایسی بھائی کہ انہیں کامیابی کاپروانہ عطا کر کے سیدھا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول روانہ کر دیا گیا۔


موصوف ایک دن موڈمیں تھے کہ موقع غنیمت جان کر ہم نے ان سے آئی ایس ایس بی کی سیلیکشن پر روشنی ڈالنے کی درخواست کی۔ یہ سن کر انہوں نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ،سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور گویا ہوئے ’’آپ تو جانتے ہیں کہ آئی ایس ایس بی میں امیدواروں کو اپنی پانچ خوبیاں اور خامیاں لکھنے کے لئے کہا جاتا ہے۔خوبیاں تو ہر کوئی بڑھا چڑھا کر بیان کر دیتا ہے لیکن خامیوں تک پہنچ کر فہم اورقلم دونوں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔ پہلی مرتبہ جب ہم آئی ایس ایس بی گئے تو مذکورہ کالم میں اپنی تمام خامیاں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایس ایس بی والوں نے ہمیں ناٹ ریکمینڈ کر کے گھر کی راہ دکھا دی۔(ہم معذرت چاہتے ہیں کہ ان کی بیان کی گئی خامیوں کو احاطہ تحریر میں لانا بوجہ خوف فساد خلق ہمارے لئے ممکن نہیں۔) دوسری بار چونکہ ہم تمام کشتیاں جلا کر آئی ایس ایس بی پہنچے تھے لہٰذا غلطی کی گنجائش بالکل بھی نہیں تھی۔ چنانچہ اس بار ہم نے پانچ خامیاں کچھ اس طرح تحریر کیں۔ ’’غلط کام ہوتا دیکھ کر شدیدغصہ آ جاتا ہے، کتاب لیٹ کر پڑھتا ہوں، سائیکل تیز چلاتا ہوں، گانے اونچی آواز میں سنتا ہوں۔۔۔ اور۔۔۔۔ کبھی کبھار عصر کی سنتیں چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ اب آپ ہی بتائیں کہ اس مومنانہ جواب کے بعد کون کافر ہوگا جو انہیں سیلیکٹ نہ کرتا۔
جاری ہے۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
June

تحریر: میجر مظفراحمد

(قربانیوں کا گراف بلندی کی جانب گامزن، پاک فوج کا ایک اور سپاہی اور گیارہ سول جانفروش شہید اورچالیس افراد زخمی )

دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دینے والے ملک اور خطے میں امن کے خواہاں پاکستان کو اس کی مردم شماری کی مہم کے دوران 5مئی 2017 کو ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تناؤ دراصل کوئی نیا واقعہ نہیں تھا بلکہ پس منظر میں پاک افغان بارڈر تناؤ کی صورت میں پوشیدہ تلخ تاریخ کا شاخسانہ تھا۔ قومی فریضے کی انجام دہی کے لئے مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں 87اضلاع میں گنتی کی مہم جا ری تھی۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداﷲ کے سرحدی علاقہ چمن کی کِلّی لقمان اور کِلّی جہانگیر، جہاں پاکستانی بلوچ اور پشتون آبادیاں مقیم ہیں، ان علاقوں میں مردم شماری کے لئے تیاریاں شروع ہوئیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور فوج کے اعلیٰ حکام نے افغان حکام کو قبل ازوقت مطلع کیا تو جواباً ان دیہات کے شرپسند عناصرنے واویلا شروع کر دیا اور افغان حکام نے بلاتصدیق ان دو دیہاتوں کو افغان حدود کے اندر قرار دیتے ہوئے انہیں متنازعہ بنا دیا۔ مزید برآں افغان اقدامات صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ 30اپریل 2017کے بعد سے افغان بارڈر پولیس نے باقاعدہ رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کر دیں۔ بالآخر 5مئی 2017کو افغان بارڈر پولیس نے کِلّی جہانگیر میں مردم شماری پر تعینات فرنٹیئر کور کے 57ونگ کے جوانوں اور سول شمارکنندگان کی ٹیم پر بہیمانہ فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 23بلوچ رجمنٹ کی امدادی فورس کا ایک جوان اورگیارہ سول افراد شہید اور چالیس افراد (فرنٹیئر کور اور سول) زخمی ہو گئے۔

afwajepakka.jpg افواج پاکستان کو مجبوراً جوابی کارروائی کرناپڑی۔ اس جوابی کارروائی سے افغان بارڈر پولیس کے کئی افراد مارے گئے اور اس کی 3-4چوکیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ نتیجتاً باب دوستی بھی ہر طرح کی آمدورفت کے لئے بند کر دیا گیا۔ افغان بارڈر پولیس کے نقصان پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے برملا افسوس کا اظہار کیا اور افغان حکام کی ہٹ دھرمی کے باوجود انہیں علاقائی حدود کی وضاحت کے لئے اور ملکیتی تصدیق کے لئے سروے کا مشورہ بھی دیا۔

اسی دوران میں کِلّی جہانگیر کے ایک سربراہ حاجی جہانگیر اچکزئی کا بیان سامنے آیا جس کے مطابق انہوں نے کِلّی جہانگیر کے پاکستان کے ساتھ شروع سے ملحقہ ہونے کی تصدیق کی۔


موجودہ علاقائی کشیدگی اور تناؤ کی صورت حال میں بھارت کے کردار کو کسی طور پر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغان بھارت گٹھ جوڑ اور پاکستا ن کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے اقدامات دراصل بین الاقوامی قوتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونے چاہئیں، جن سے تاحال وہ غافل نظر آتے ہیں۔


لازوال قربانیاں
مردم شماری کے انعقاد میں ہمارے سپاہیوں اور سول انتظامیہ کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ شہید ہونے والوں میں پاک فوج کی 23بلوچ رجمنٹ کے سپاہی حسن علی کے جام شہادت نوش کرنے کا احوال درج ذیل ہے۔

sipahihasanali.jpg
سپاہی حسن علی (شہید) 8مارچ 1996 کو تحصیل کلرسیداں کے گاؤں کلربدھال میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم کلرسیداں سے حاصل کی۔انہیں اوائل عمری سے ہی سپاہ گری کے شعبہ سے رغبت تھی اور یہی دلچسپی انہیں فوج میں ملازمت کی طرف کھینچ لائی۔ ایبٹ آباد کے بلوچ رجمنٹل سینٹر میں ابتدائی عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد25اکتوبر 2016 کو چمن کے مقام پر 23بلوچ رجمنٹ میں تعینات ہوئے۔ آپ شروع سے ہی بہت مستعد، چوکس اور ذہین تھے۔بلوچ رجمنٹل سنٹر میں تربیت کے دوران بہت نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں بلوچ رجمنٹ سینٹر انٹر کمپنی
PACES
اور 100میٹر ، 400میٹر ایتھلیٹکٹس مقابلوں میں سلور میڈل قابل ذکر ہیں۔
یونٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد بہت محنت سے کام کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں۔ جنوری 2017 کے 41 ڈویژن کے انٹر یونٹ
PACES
مقابلوں میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ لورالائی میں حالیہ مردم شماری2017 میں حصہ لیا۔


ذاتی مشاغل میں انہیں تصویر کشی کا بہت شوق تھا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ گھل مل کر رہتے تھے اور دوسروں کے ساتھ ہمدردانہ رویے کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔پاک افغان سرحدی تناؤ کے موقع پر مردم شماری کی ڈیوٹی کے دوران آپ یونٹ کی ذخیرہ کمپنی کا حصہ تھے۔ 5مئی 2017کو جب اطلاع موصول ہوئی کہ مردم شماری پر تعینات فرنٹیئر کور کے جوان اورسول شمارکنندگان کی ٹیم افغان بارڈر پولیس کی فائرنگ کی زد میں آگئی ہے تو ان کی کمپنی کو میجر عیس ولی کے زیر کمان کِلّی جہانگیر میں بطور امداد ، کمک کی ڈیوٹی انجام دینے کا حکم ملا۔ تقریباً آٹھ بج کر پندرہ منٹ کا وقت تھا، حالات بہت کشیدہ ہو چکے تھے، افغان بارڈر پولیس کے فائر سے کئی سول پاکستانی شہید اورزخمی ہو چکے تھے۔ سپاہی حسن علی کی کمپنی کی کِلّی جہانگیر میں پیش قدمی جاری تھی۔ آگے بڑھتے ہوئے ایک پلاٹون کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پلاٹون کمانڈر کی ہدایت پر ایک اونچی پوزیشن سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سپاہی حسن علی متاثرہ پلاٹون کو غلافی فائر دینے لگے۔ اسی اثنا میں ایک راکٹ ان کی عارضی دفاعی پوزیشن کے سامنے آ کر پھٹ گیا جس سے ان کی چھاتی پر گہرے زخم آ گئے۔ زخموں کے باوجود یہ جرأت مند سپاہی تندہی کے ساتھ غلافی فائر دیتا رہا اور متاثرہ پلاٹون کو افغان فائر کے اثر سے باہر نکالا۔ بہت زیادہ خون رسنے کی وجہ سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی اور بالآخر مردم شماری کی مہم کی کامیابی اور ملکی سالمیت کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے کا ایک اور باب رقم ہو گیا۔ان کے لواحقین میں والدین، چھ بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں جنہیں ان کی شہادت پر فخر ہے۔


جب تک ہمارے وطن اور فوج میں سپاہی حسن علی شاہ جیسے بہادر ، جوانمرد، ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کرنے والے جوان موجود ہیں اس وقت تک کوئی بھی ہمارے ملک کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔

تم روشن چہروں والے ہو

 

اس دیس کی اِک پہچان ہو تم
وردی میں مُلک کی شان ہو تم
گھر چھوڑے اپنے کس کے لئے
سب ناتے توڑے کس کے لئے
کیا جذبہ ہے کہ لڑنے چلے
ہاں وطن کی خاطر مرنے چلے
قسمت کے دھنی متوالے ہو
تم روشن چہروں والے ہو
گر لوٹ آؤ تو غازی ہو
شہدائے حق جو نہ آؤ


کیپٹن محمد ارحم طارق

*****

 
09
June

تحریر : صبا زیب

رویے جب شدت اختیار کرنے لگ جائیں تو انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے بھی اعتدال اور میانہ روی کو زندگی کے ہر معاملے میں پسند کیا ہے۔ جب ہم اپنے رویوں میں شدت پسند ہوجاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہماری زندگی میں بے چینی آجاتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے بھی اس سے متاثرہوتے ہیں‘ کیونکہ انتہا پسندی انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف بڑھتی ہے اور افراد سے معاشرے میں پھیلتی ہے اور اس طرح معاشرہ بدامنی کی طرف بڑھتا ہے۔

 

youthrejectexter.jpgآج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انتہا پسندی کو تیزی سے فروغ حاصل ہو رہا ہے کیونکہ انتہا پسند تعلیم اور جدید علوم میں عام لوگوں سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں وہ بھی اس جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہے ہیں اور خاص طور پر نوجوانوں کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اس انتہا پسندی کے خاتمے کے لئیے جہاں ہماری پاک فوج انتہاپسندوں اور دہشت گردوں سے لڑائی لڑ رہی ہے وہاں اس نے نوجوانوں‘ خاص طور پر طالب علموں‘ کو ان دہشت گردوں سے بچانے کے لئے انہیں آگاہی دینے کا عزم بھی کررکھا ہے۔ اسی سلسلے میں18 مئی2017 کو پاک فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے ’’انتہا پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کا کردار ‘‘
(Role Of Youth in Rejecting Extremism)
کے موضوع پر ایک سیمینار جی ایچ کیوکے آڈیٹوریم میں منعقد کیا جس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی ۔ ان کے علاوہ ملک کی تقریباً ایک سو سے زائد یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ز نے بھی شرکت کی۔

youthrejectexter1.jpg 

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد‘ سابق آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل‘ غازی صلاح الدین‘ ڈاکٹر فرخ سلیم‘ اور پروفیسر احمدرفیق اختر نے بطورِ سپیکر اس سیمینار میں شرکت کی۔ جبکہ نوجوان طالب علموں کی نمائندگی حریم ظفر نے کی جن کا تعلق پشاوریونیورسٹی سے ہے۔سیمینار کاآغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے معاشرے سے انتہا پسندی کو ختم کریں۔ان کا کہنا تھا کہ داعش نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی ہے اور اپنی تنظیم کے لئے نوجوان نسل کو ہدف بنا رہی ہے۔ نوجوانوں کو دہشت گردی سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا آپریشن رد الفساد کا مقصد ملک میں کئے گئے تمام آپریشنز کے مقاصد کا حصول اور ملک میں امن و استحکام قائم کرنا ہے۔ اس آپریشن کا ایک مقصد معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس شدت پسندی کا نشانہ بننے سے بچائیں۔ دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ ہماری کامیابیاں نوجوانوں کی مرہونِ منت ہیں وردی میں ملبوس پاکستانیوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں میں سے90 فیصد نوجوان سپاہیوں اورینگ افسران کی ہیں آخر میں انہوں نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ سپیکرز اور مہمانوں کے درمیان بات چیت سود مند ثابت ہوگی۔
سیمینار کے پہلے سپیکر سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل تھے انہوں نے
Threat and Fault-lines
پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی پاکستان میں ایک اہم سیکیورٹی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے محرکات میں اندرونی اور بیرونی دونوں عناصر شامل ہیں۔ اندرونی عناصر میں پاکستان میں موجود مذہبی اور جہادی تنظیمیں‘ جبکہ بیرونی عناصر میں غیرملکی ایجنسیز‘ جن میں ’’را‘‘ اور این ڈی ایس ہیں شامل ہیں۔ انتہا پسندی کے بڑھنے کی وجہ انہوں نے ملک کے اداروں کی ناکامی کو قرار دیا انہوں نے خاص طور پر محکمہ پولیس کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نورین لغاری‘ مشال خان اور لال مسجد کے واقعات کی مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے کہا انتہاپسندی سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے آئین اور نصاب میں کچھ ترامیم کرنی چاہئیں۔ ایچ ای سی کو چاہئے کہ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی سے متعلق مضامین کو بھی شامل کیا جائے۔

youthrejectexter2.jpg
ڈاکٹر سڈل کے بعد حریم ظفر‘ جو طالب علموں کی نمائندگی کر رہی تھیں‘ نے کہا کہ ہمارے دشمن اس وقت نہ ہندو ہیں نہ عیسائی اور نہ مسلمان بلکہ ہمارا دشمن انتہاپسند ہے‘ اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر کے اس کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سب سے زیادہ خطرہ نوجوان طالب علموں کو ہے۔ دہشت گردی کے اس عفریت سے نوجوان طالب علموں کو بچانے کے لئے تعلیم‘ والدین‘ میڈیا اور خود نوجوان اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حریم نے کہا کہ آج کے نوجوان کو آرٹ کی طرف لے کر آنا بہت ضروری ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری میں یہ شامل ہے کہ وہ انتہاپسندی کو سختی سے مسترد کریں۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے
Role of Economy in Forging Extremisn ک
ے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی ایک تعریف یہ بھی ہے :’’ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے شہریوں کے خلاف تشدد کا غیرقانونی استعمال ‘‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک درخت ہے اور درخت کی جڑیں ہوتی ہیں لہٰذا دہشت گردی کی بھی جڑیں ہیں جیسے درخت کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں ویسے ہی دہشت گردی کی بھی ہیں۔ دہشت گردی کی شاخوں میں معاشرتی ناانصافیاں اور سیاسی ناانصافیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت عرصے کی ریسرچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مذہب سے براہِ راست تعلق نہیں۔ کبھی کبھار یہ وجہ بن سکتاہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو مذہب کو گہرائی سے جانتا ہے دہشت گردی کو نہیں اپناتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم صرف دہشت گردی کی شاخوں کو نہ کاٹیں بلکہ ان کی جڑوں کو بھی ختم کریں۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کے بعد میڈیا سے متعلق بات کرتے ہوئے ممتاز رائٹر اور صحافی غازی صلاح الدین نے کہا پرانا میڈیا نئے میڈیا میں تبدیل ہو رہا ہے اور نئے میڈیا میں سوشل میڈیا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے میڈیا میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے ہمارے میڈیا کو دانشور لوگوں کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں
Academia
کی ضرورت ہے۔ میڈیا پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ یہ ایسی خبریں زیادہ چلاتا ہے جس کے اثرات منفی ہوتے ہیں۔میڈیا دکھاتا ہے لیکن جب اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا تو مسائل بڑھنے لگ جاتے ہیں۔ انوسٹی گیٹورپوٹنگ ختم ہوتی جارہی ہے۔ یونیورسٹیوں میں اخبارات نہیں ملتے کوئی کتابوں کی دکان نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا سب سے پہلاکام
rational debate
کروانا ہے ۔ ہم نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی یہ لڑائی سب سے پہلے دماغوں میں لڑنی ہے۔


ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے سیمینار میں
Extremism-Role of Faculties/Instituitions
کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ پہلے ہماری یونیورسٹیوں کے نام ٹاپ رینکنگ میں نہیںآتے تھے لیکن اب آتے ہیں۔ ذمہ داری کا آغاز گھر سے شروع ہوتا ہے ‘پھر سکول آتا ہے ‘ پھر کالج آتا ہے اور پھر یونیورسٹی۔ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ ہم نے اپنی دیواریں مضبوط کرنی ہیں ہمیں ان دیواروں کی بنیادیں رکھنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خود غرضی‘ لالچ اور غصے کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ ایچ ای سی یونیورسٹیوں کے طالب علموں کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ طالب علموں کو نہ صرف نصابی بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھیں۔ سب ڈیپارٹمنٹس کو اکٹھا کرنا ہے‘ سیمینار منعقد کروانے ہیں اور اس کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو اکٹھا کرکے انہیں ملک کے مختلف علاقوں کی سیر کروانی ہے اور بتانا ہے کہ ہمارا ملک کتنا خوبصورت ہے۔


پروفیسر احمدرفیق اختر نے ڈاکٹر مختار کے بعد مذہب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر استاد اور شاگرد کے درمیان رابطہ نہ رہے تو دہشت گردی اور انتہا پسندی فروغ پاتی ہے۔ ایک لمبے عرصے سے ہمارے مدرسوں کے تعلیمی نظام میں تبدیلی نہیں آئی چند الفاظ جاننے والا اپنے آپ کو مفکر ماننے لگتا ہے اور دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے ۔ کسی دوسرے کی کہی ہوئی بات کی نفی کردیتا ہے۔ آج تک کسی سائنس دان نے اپنے سے پہلے والے سائنس دان کو کبھی مسترد نہیں کیا۔


ان سب سپیکرز کی تقریر کے بعد مہمانوں نے سپیکرز سے سوالات کئے۔ یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کراچی کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سوال کیا۔ جس کا جواب انہوں نے اُسی وقت کھڑے ہو کر دیا۔

youthrejectexter3.jpg
سوال و جواب کے سیشن کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے سے نوجوانوں کا استحصال ہو رہاہے۔ نوجوان نسل ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہے لیکن بے چہرہ اور بے نام قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو مسلسل گمراہ کر رہی ہیں۔ ضرورت ہے کہ نوجوانوں کو بامقصد زندگی میں مصروف کیا جائے‘ دہشت گردوں کو شکست دینے کے بعد ان کے بیانیے کو بھی شکست دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا سکیورٹی خدشات کم کرنے ہی سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا‘ فوج اکیلے کچھ نہیں کرسکتی‘ سب کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی‘ دہشت گردی کی وجوہات ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو پوری دنیا نے سراہا ہے‘ پاکستان کی فوج دنیا کی بہادر ترین فوج ہے جس نے دہشت گردوں کے خلاف انتہائی منفرد جنگ لڑی ہے‘ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ہمارا روشن مستقبل ہے اورہم اپنے مستقبل کو دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دیں گے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہم ہے‘ نوجوان نسل کو صحیح راہ پر گامزن کرنا ہوگا‘ شدت پسندی کسی نظریے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مائنڈسیٹ ہے جو عدم برداشت پیدا کرتا ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا انتہائی غلط اور افسوسناک ہے‘ دہشت گردی کی بڑی وجہ ناانصافی اور عدمِ برداشت ہے‘ والدین‘ اساتذہ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے نوجوانوں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھیں گے‘ ریاست کی رٹ کو مکمل طور پر بحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی کا 50 فیصد سے زائدحصہ25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اورہمارے ملک کا مستقبل ان ہی نوجوان کے ہاتھوں میں ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں‘ آج سے 10 سال بعد یا تو ہم پھل کاٹ رہے ہوں گے یا پھر یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح ہمارے نوجوان شدت پسندی کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ آرمی چیف نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں پراکسی وار میں ہندوستانی قیادت کا ملوث ہوناکوئی راز نہیں اور اب بلوچستان میں بھی ان کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے انتہا پسندی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں‘ انتہاپسندی کو اب معمول کی بات سمجھ لیا گیا ہے۔ نفرت بھارت کے مرکزی دھارے میں آچکی ہے اور بھارت کا قومی چہرہ مسخ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اور اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔ جنرل قمر جاوید جاجوہ نے مزید کہا کہ آپریشن ردالفساد نئے دور کا آغاز ہے اور سکیورٹی خطرات ختم کرکے ترقی کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک بہادر‘ پیشہ ور‘ محب وطن فوج کی قیادت کرنے کا اعزاز بخشا ہے جس پر مجھے فخر ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں معاشرے کے تمام طبقات‘ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کوخراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دہشت گردوں کے خاتمے میں تسلسل کے ساتھ ہماری مدد کی۔ آج ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اہم ترین مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہم بتدریج دہشت گردی کے خلاف بڑے آپریشنز سے ٹارگٹڈ آپریشنز کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ آپریشن رد الفساد کے ساتھ ساتھ ہمیں نیشنل ایکشن پلان میں ایسے طریقِ کار کو بھی اپنانا ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کے اسباب کو بھی حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے پروگرام کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اجتماعی حل تلاش کرنا ہے‘ جس سے ہم سب متاثر ہو رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ‘نوجوان نسل بھی اس سے متاثر ہے‘پوری قوم اور ان نوجوانوں کے والدین کو چاہئے کہ انہیں نہ صرف تعلیم یافتہ بنائیں بلکہ ایک متوازن شخصیت ‘ تعمیری شہری اور مستقبل کالیڈر بھی بنائیں۔ نوجوان اپنی ذہانت ‘ مہارت اور لیاقت سے پاکستان کے لئے حیران کن کارنامے انجام دے سکتے ہیں جس طرح سے پاکستان محفوظ ہو رہا ہے ‘ یہ ضروری ہے کہ ہم ذہین نوجوانوں کو ملک میں محفوظ بنائیں کیونکہ پاکستان کو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ان کی ضرورت ہے۔


اس کے ساتھ ہی چیف آف آرمی سٹاف نے اپنا خطاب ختم کیا ۔ خطاب کے بعد قومی ترانے کی دھن بجائی گئی جس کے احترام میں ہال میں موجود سب لوگ کھڑے ہوگئے ۔ قومی ترانے کے بعد مہمانوں کو پُرتکلف لنچ کروایا گیااور یوں اس اہم تقریب کا اختتام ہوا۔

 
09
June

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

بھارت کا دفاعی بجٹ یکم فروری2017 کو پیش کیاگیا۔ اس سال 359,854کروڑ روپے وزارتِ دفاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجودبھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ سوال بدستور موجود تھا کہ کیا مختص کی گئی رقم ملک کی سکیورٹی کے لئے کافی ہے؟ دوسرے الفاظ میں اتنی بڑی رقم کے باوجود بھارت کی خود ساختہ دفاعی ضروریات مکمل نہیں ہورہی ہیں۔ حالانکہ اس سال دفاعی بجٹ میں 2.74ٹریلین روپے بڑھائے گئے ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔2016-17 میں یہ رقم2.49ٹریلین روپییعنی تقریباً12.78 فیصد کی شرح سے جو کہ تقریباً21.47 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔ اس طرح سے یہ لگا تار دوسرے سال دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ بقول بھارتی وزیرِ خزانہ ترقی اورجدیدیت کی کوشش ہے جس کی وجہ سے ہتھیاروں کی خریداری کے لئے زیادہ رقم درکار ہوگی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیرمالیات نے موجودہ بجٹ کو غریبوں کا بجٹ بھی قرار دیا ہے۔


بھارت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا خریدار ہے۔ بھارت کا دفاعی خرچہ تقریباً100 گنا بڑھ چکا ہے۔ اگر اس کے پچھلے دس سالوں کے دفاعی بجٹوں کا بھی موازنہ کیا جائے تو اس وقت بھارتی ہتھیاروں کی خریداری دنیا کی ٹوٹل ہتھیاروں کی خریداری کا 14فیصد ہے۔ بھارت اس وقت سب سے زیادہ ہتھیار روس سے خریدتا ہے‘ اس کے بعد امریکہ اورپھر اسرائیل سے جبکہ
IHS Jane
‘ جو کہ ایک مشہور بین الاقوامی جرنل ہے‘ کے ڈیٹا کے مطابق بھارت امریکہ کا اس کے ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے جس کا ٹوٹل حجم 1.9 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جب کہ 2013 تک بھارت امریکہ خرید و فروخت صرف سات فیصدتک پہنچ سکی تھی۔ یعنی پچھلے چار سال میں بھارتی دفاعی خریداری حد سے زیادہ بڑھی ہے۔

 

bharatkadfaibudg.jpgسی این این کی طرف سے کئے گئے ایک سروے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی میں کئے جانے والے زیادہ تر سروے دو انتہاؤں پر مرکوز رہے۔ جو ایک دوسرے سے بالکل مخالف تھے۔ یعنی کچھ نے تو بھارت کے بارے میں ڈیٹا دکھایا جو خلائی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اس میں بہت آگے جانے کا خواہش مندبھی ہے جہاں بلین ڈالرز انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے سروے میں اس بھارت کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد‘ تقریباً 92ملین افراد‘ اپنی زندگی کی گاڑی معمولی اور انتہائی کم اُجرت مزدوری پر چلا رہے ہیں۔ یہ سروے بھوک اور افلاس ‘ پانی کی کمی ‘ صحت اور تعلیم کی ضروریات کے فقدان کی نشاندہی کررہے ہیں۔ جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد انتہائی کسمپرسی سے زندگی کی گاڑی چلا رہے ہیں اور یہی بھارت کی اصل تصویر ہے۔


بھارتی میڈیا اور خاص کر بھارتی فلمیں زیادہ تر ایک ایسے بھارت کی خوبصورت تصویر دکھاتے ہیں جس میں خوشحالی‘سکون اور ایک آئیڈیل سوسائٹی نظر آتی ہے لیکن حقیقت اس ڈرامائی تصویر کے بالکل برعکس اورانتہائی بھیانک ہے۔
سی این این کے ایک سروے سے شروع کرتے ہیں۔ اس سروے نے 300 ملین گھریلو افراد سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق تقریباً73 فیصد افراد کا تعلق کسی گاؤں یا دیہات سے تھا۔ ان میں سے صرف2.5 فیصد کے پاس چار پہیوں کی سواری موجود تھی اور دس فیصد سے کم افراد باقاعدہ نوکری پیشہ تھے جن کو ہر مہینے تنخواہ کی یقین دہانی ہوتی ہے۔ اس سروے کے مطابق دیہی علاقوں کے اعداد و شمار نہ صرف بدترین تھے بلکہ ان افراد کی تعلیمی قابلیت انتہائی کم تھی۔ تقریباً 35.7 فیصد مکمل طور پر ناخواندہ تھے اور اس کے مطابق یہ قطعاً حیرت انگیز نہیں ہے کہ بھارت کی بیشتر آبادی انتہائی غریب ہے۔
World Bank
کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں تقریباً 58 فیصد آبادی 3.10ڈالر کی کم آمدنی پر گزارہ کررہی ہے۔ یعنی تقریباً آدھی سے زیادہ آبادی صرف300 روپے کی آمدن پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے اور اگر اس وقت اس دفاعی بجٹ کا خیال آجائے کہ وہ359,854 کروڑ روپے ہے تو حکومت کا جنگی جنون واضح ہوجاتا ہے۔ صرف یہی نہیں یو این کی مزدوروں کی تنظیم آئی ایل او کی رپورٹ میں واضح بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں بے روز گاری کا گراف مستقل بڑھ رہا ہے ۔ یہ سال 2016 میں17.7 ملین تھا 2019 میں بڑھ کر17.8 ملیناور 2018 میں18 ملین ہوجائے گا۔ یعنی 2017-18 میں بیروزگاری کی شرح 3.4 فیصد تک ہو جائے گی۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے گراف سے عام آدمی کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


ایک طرف بھارت کے دفاعی بجٹ میں ہر سال بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور دوسری طرف
(World Toilet Day)
کے موقع پر عالمی بنک نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی آبادی والے ملک میں60.4 فیصد افراد کو صاف‘ محفوظ اور ذاتی بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں ہے ۔ بھارت کی سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ نے بھی اس سہولت کے شدید فقدان کی بارہا نشاندہی کی ہے لیکن بدقسمت قوم کے چالاک حکمران نے ملک کے عوام کو ان کی انتہائی انسانی ضرورت کو پس پشت ڈال کرملک کو ایک نہ ختم ہونے والی ہوسناک دوڑ میں شامل کردیا ہے۔ نومبر 2015 میں مشہور بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ تک کہا کہ اگربھارت کے وہ744 ملین افراد جو بیت الخلا میں جانے کے لئے انتظار کرتے ہیں‘ ایک قطار بنالیں تو یہ قطار زمین سے چاند تک طویل ہو گی۔ غربت اور افلاس کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات کی عدم فراہمی اور پھر اس کے ساتھ ایک انتہائی عظیم الشان فوجی بجٹ بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔


بھارت میں پیدائش کے وقت بچوں کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے۔ طبی سہولیات شہروں اور قصبوں تک محدود ہیں لیکن گاؤں دیہات میں ان کا شدید فقدان ہے۔ بلکہ زچہ و بچہ کی اموات کی بڑی وجہ غیر معیاری پانی اور صابن اور غیر صحت بخش فضا ہے۔ حالانکہ پیدائش کے لئے استعمال ہونے والے اوزار نہ صرف کم قیمت بلکہ سادہ بھی ہوتے ہیں مگر غیرتربیت یافتہ نرسوں اور مڈوائف یا ان کی مسلسل غیر موجودگی کی وجہ سے بھارت میں زچہ بچہ کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔


صحت کی سہولیات کا شدید بحران ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پانچ سال سے کم عمر 14000 بچے ہیضہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہیضہ عام طور پر غیر معیاری اور گندے پانی کی وجہ سے ایک وبائی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ماضی میں بھی بھارت کے بڑے دیہی علاقوں میں ہیضے نے ہزاروں بچوں کی جانیں لے لی تھیں۔ بھارت میں بہنے والے دریا گنگا‘ جمنا کا پانی انتہائی کثیف اورآلودہ ہو چکا ہے لیکن بھارتی حکومت ان مسائل سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے اور سی این این ہی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر ہزاربچوں میں سے38 بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے ہی اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 763.4 ملین افراد کو پینے کا صاف پانی میسرنہیں ہے جو کہ پنجاب‘ ہریانہ اور اترکھنڈ کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں دانشوروں کا ایک ایسا منظم گروہ متحرک ہوگیا ہے جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے بارے میں شکوک و شبہات اور کنفیوژن پیدا کررہا ہے بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کررہا ہے۔ ان کے ایجنڈے کا ایک اہم نقطہ قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا ہے تاکہ پاکستان کی اسلامی ثقافت پر سیکولرازم کا غلاف چڑھایا جاسکے۔ ان حضرات کو قائداعظم کی سیکڑوں تقاریر میں سے صرف ایک تقریر پسند ہے جو انہوں نے گیارہ اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد کی۔ حالانکہ اس تقریر میں بھی اسلامی رواداری، انسانی مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کا ذکر ہے جو میثاق مدینہ کی روح کے عین مطابق ہیں لیکن مذہب بیزار دانشوروں نے اسے سیکولرازم کا منشور قرار دے دیا ہے۔ یہ ایک طویل تقریر تھی جس میں سیاسی، انتظامی اور معاشرتی زندگی کے مختلف شعبوں کا ذکر کیا گیا تھا لیکن اس گروہ کو اس میں صرف چار فقرے پسند ہیں جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر اچھالتے رہتے ہیں اور مسلسل لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان فقروں میں اقلیتوں کے لئے جس برابری، شہری حقوق اور مذہبی آزادی کا تصور ملتا ہے اس کی خلافت راشدہ اور خاص طور حضرت عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور میں سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن دین بیزار گروہ انہیں اسلامی ورثے کا حصہ قرار دینے کے بجائے اپنی سیکولرازم کی اساس قرار دیتا ہے۔ مقصد پاکستان کو اسلام سے آزاد کرا کے سیکولر ریاست بنانا ہے کیونکہ اسلام ان کی مادر پدر آزادی کے راستے میں دیوار چین بنا ہوا ہے۔ اب تو یہ گروہ اس قدر مضبوط اور بولڈ ہوگیا ہے کہ ڈھٹائی سے پاکستان میں شراب نوشی اور عصمت فروشی کا مطالبہ کرنے لگا ہے۔ اس مطالبے کی ایک شکل انگریزوں کے دور کی رنگین یادوں کا رومانوی انداز میں تذکرہ کرنا، دوسرا دبئی جیسے برادر ملک میں ایسی آزادیوں کا حسین نقشہ پیش کرنا اور تیسرا مغربی ممالک کی ترقی کو تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے بجائے ان آزادیوں کا مرہون منت ثابت کرنا ہے۔

tarekkkomasah.jpg

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صدر ضیا الحق کی اسلامائزیشن یعنی اسلام کی سختی کے خلاف ردعمل ہے جب کہ صاحبان نظر اسے بیرونی ایجنڈے کا حصہ سمجھتے ہیں جس کا مقصد اسلامی قدروں کو مٹا کر اور سیکولرازم کے لئے راہ ہموار کرکے اکھنڈ بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔ اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ دانشوروں اور لکھاریوں کا یہ گروہ بھارت سے خفیہ تعلقات اور این جی اوز کے بہانے بیرونی امداد کی شہرت رکھتا ہے جس کی آج تک صحیح معنوں میں تحقیق و تفتیش نہیں کی گئی۔ ہماری کمزوری اور بدقسمتی سے ایسے دانشور میڈیا میں ایک طاقت ور لابی بن چکے ہیں اور تعلیمی اداروں میں گفتگو اور لیکچروں کے ذریعے نوجوانوں نسل کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔اصل بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور ہماری نوجوان نسل کو یہ علم ہی نہیں کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا، تحریک پاکستان کے پسِ پردہ کیا عوامل اور محرکات کارفرما تھے، ہمارے بزرگوں، قائدین اور قائداعظم کا تصور پاکستان کیا تھا۔ اسلام بیزار گروہ نے ایک منظم تحریک کے ذریعے یہ تاثر پیدا کردیا ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دور میں پڑھائی جانے والی تاریخ اور مطالعہ پاکستان کی درسی کتب میں تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات بے بنیاد اور خبث باطن کا اظہار ہے۔ مطالعہ پاکستان کا مقصد محض طلبہ کو پاکستان سے متعارف کرانا تھا۔ یہ لازمی مضمون محض تعارفی کتاب تھی اور اس میں تفصیل نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاکر روشن خیالی کی آڑ میں ایک محاذ بنادیاگیاجس نے مسلسل پروپیگنڈہ جاری رکھا چنانچہ نصاب سے وہ سارا لوازمہ نکال دیا گیا جس کا تعلق پاکستان کی نظریاتی بنیاد، ہندوؤں کے طرزِ عمل اور مطالبۂ پاکستان سے تھا۔


یہ گروہ وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتا رہتا ہے۔ ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ قائداعظم نے ترانہ پاکستان ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا اور اسے چودہ اور پندرہ اگست کی نصف شب آزادی کا اعلان ہوتے ہی ریڈیو پاکستان سے سنایا اور بجایا گیا۔ مقصد قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا اور نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنا ہے۔ افسوس کہ اس جھوٹ کی اتنے تواتر سے تشہیر کی گئی ہے کہ بہت سے سادہ لوح پاکستانی اسے بلا تحقیق تسلیم کرنے لگے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک صاحب اس موضوع پر ایم فل کا مقالہ لکھ کر اور کامیاب ہوکر اپنی کتاب بھی چھپواچکے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم کا جگن ناتھ آزاد سے ترانۂ پاکستان لکھوانا اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ بے بنیاد دعوے اور جھوٹ کو پھیلانے میں انگریزی اخبارات اورکم علم اینکروں نے کلیدی کردا ر ادا کیا ہے۔ اورایک انتہائی پرانا اورمعتبراخبار اس بارے میں مضامین چھاپتا رہا ہے جس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے کہ اس اخبار کی بنیاد بانئ پاکستان نے رکھی تھی۔ ان عالم فاضل مدیران نے جھوٹ چھاپنے سے قبل تحقیق کی ذرا بھی زحمت گوارانہ کی اور اس طرح گمراہ کرنے والوں کے ہاتھ میں کھلونا بن گئے۔


اس مضمون کا مقصد اس جھوٹ کا پردہ چاک کرنا اور سچ کو سامنے لانا ہے۔ میں نے اس افسانے کی تہہ در تہہ تحقیق کی ہے اور دوڑ دھوپ کے ساتھ ساتھ اسے اپنا وقت دیا ہے اور خون جگر پلایاہے۔میں اس وقت کھلے ذہن کے ساتھ سچ کی تلاش کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔

 

یہ گروہ وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتا رہتا ہے۔ ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ قائداعظم نے ترانہ پاکستان ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا اور اسے چودہ اور پندرہ اگست کی نصف شب آزادی کا اعلان ہوتے ہی ریڈیو پاکستان سے سنایا اور بجایا گیا۔ مقصد قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا اور نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنا ہے۔

کچھ عرصہ قبل بھی میڈیا(پرنٹ اور الیکٹرانک) پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 9 اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلا کر پاکستان کا ترانہ لکھنے کو کہا۔ انھوں نے پانچ دنوں میں ترانہ لکھ دیاجو قائداعظم کی منظوری کے بعد آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا اور پھر یہ ترانہ 18ماہ تک پاکستان میں بجتا رہا۔ جب 23فروری1949کو حکومت پاکستان نے قومی ترانے کے لئے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کردیا گیا۔ اس انکشاف کے بعد مجھے بہت سے طلبہ اور بزرگ شہریوں کے فون آئے جو حقیقت حال جاننا چاہتے تھے۔ لیکن میرا جواب یہی تھا کہ بظاہر یہ بات قرینِ قیاس نہیں ہے لیکن میں تحقیق کے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے ان سکالروں سے رابطے کئے جنھوں نے قائداعظمؒ پر تحقیق کرنے اور لکھنے میں عمر گزار دی ہے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ یہ محض شوشہ اور بالکل بے بنیاد اور ناقابل یقین دعویٰ ہے۔ لیکن میں ان کی بات بلاتحقیق ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ قائداعظم اور جگن ناتھ آزاد کے حوالے سے یہ دعوے کرنے والے حضرات نے انٹرنیٹ پر کئی ’’بلاگز‘‘ میں اپنا نقطۂ نظر اور من پسند معلومات فیڈ کرکے محفوظ کردی تھیں تاکہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کو کنفیوز کیا جاسکے۔ ان ساری معلومات کی بنیاد کوئی ٹھوس تحقیق نہیں تھی بلکہ سنی سنائی یا پھر جگن ناتھ آزاد کے صاحبزادے چندرآزاد کے انکشافات تھے جن کی حمایت میں چندر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔


سچ کی تلاش میں میں جن حقائق تک پہنچا ان کا ذکر بعد میں کروں گا پہلے تمہید کے طور پر جگن نات آازاد کے بارے میں چند سطور لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔جگن ناتھ آزاد معروف شاعر تلوک چند کا بیٹا تھا، وہ 1918 ء میں عیسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوا۔ اس نے 1937ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور 1944ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی کیا۔ مختصر سا عرصہ ’’ادبی دنیا‘‘ سے منسلک رہنے کے بعد اس نے لاہور میں ’’جئے ہند‘‘ نامی اخبار میں نوکری کر لی۔ قیام پاکستان کے بعد ستمبر میں بھارت ہجرت کر گیا۔ اکتوبر میں ایک بار لاہور آیا لیکن فرقہ وارانہ فسادات کے خوف سے مستقل طور پر بھارت چلا گیا۔
Wikipedia
اور
All Things Pakistan
کے بلاگز میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ قائداعظم نے اپنے دوست جگن ناتھ آزاد کو 9اگست کو بلا کر پاکستان کا ترانہ لکھنے کے لئے پانچ دن دئیے۔ قائداعظم نے اسے فوراً منظور کیا اور یہ ترانہ اعلان آزادی کے بعد ریڈیو پاکستان پر چلایا گیا۔ چندر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت پاکستان نے جگن کو 1979میں صدارتی اقبال میڈل عطا کیا۔


میرا پہلا ردعمل کہ ’’یہ بات قرین قیاس نہیں ہے‘‘،کیوں تھا؟ہر بڑے شخص کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ایک تصویر ہوتی ہے اور جو بات اس تصویر کے چوکھٹے میں فٹ نہ آئے انسان اسے بغیر ثبوت کے ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ قائداعظم سرتاپا قانونی اور آئینی شخصیت تھے۔ اس لئے یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ قائداعظم کسی کو ترانہ لکھنے کے لئے کہیں اور پھر کابینہ، حکومت یا ماہرین کی رائے لئے بغیر اسے خود ہی آمرانہ انداز میں منظور کرلیں۔ جبکہ ان کا اردو، فارسی زبان اور اردو شاعری سے واجبی سا تعلق تھا۔ میرے لئے دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کا معتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا، ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی یا سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29سال کے غیر معروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار جئے ہند کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

 

دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کا معتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا، ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی یا سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29سال کے غیر معروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار جئے ہند کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو محض تخیلاتی باتیں ہیں۔ مجھے تحقیق کے تقاضے پورے کرنے اور سچ کا کھوج لگانے کے لئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔ ذہنی جستجو نے رہنمائی کی اور کہا قائداعظم کوئی عام شہری نہیں تھے جن سے جو چاہے دستک دے کر ملاقات کر لے۔ وہ مسلمانانِ ہند و پاکستان کے قائداعظم اور جولائی 47ء سے پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کا کہیں نہ کہیں ریکارڈ موجود ہوگا۔ سچ کی تلاش کے اس سفر میں مجھے 1989ء میں چھپی ہوئی پروفیسر احمد سعید کی ایک کتاب مل گئی۔ جس کا نام ہے۔
"Visitors of the Quaid-e-Azam"
۔ احمد سعید نے بڑی محنت سے قائداعظم کے ملاقاتیوں کی تفصیل جمع کی ہے۔ جو 25اپریل1948ء تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں قائداعظم کے ملاقاتیوں میں جگن ناتھ آزاد کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے مصنف سید انصار ناصری نے بھی قائداعظم کی کراچی آمد 7 اگست شام سے لے کر 15اگست تک کی مصروفیات کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں بھی آزاد کا ذکر کہیں نہیں۔دل نے کہا جب 7اگست 1947کو قائداعظم بطور گورنر جنرل دلی سے کراچی آئے تو ان کے ساتھ ان کے اے ڈی سی بھی تھے۔ اے ڈی سی ہی ملاقاتوں کا سارااہتمام کرتا اور اہم ترین عینی شاہد ہوتاہے اور صرف وہی اس سچائی کی تلاش پر مہر ثبت کرسکتا ہے۔ جب قائداعظم کراچی اترے تو عطا ربانی بطور اے ڈی سی ان کے ساتھ تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس وقت وہ زندہ تھے لیکن ان تک رسائی ایک کٹھن کام تھا۔ خاصی جدوجہد کے بعد میں بذریعہ نظامی صاحب ان تک پہنچا۔ جناب عطا ربانی صاحب کاجچا تلا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نامی شخص نہ کبھی قائداعظم سے ملا اور نہ ہی میں نے کبھی قائداعظم سے اس کا نام سنا۔ اب اس کے بعد اس بحث کا دروازہ بند ہوجانا چاہئے کہ جگن ناتھ آزاد کو قائداعظم نے بلایا۔ اگست 1947 میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کے سبب جگن ناتھ آزاد لاہور میں مسلمان دوستوں کے ہاں پناہ لیتے پھر رہے تھے اور ان کوجان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں ان کی کراچی میں قائداعظم سے ملاقات کا تصور بھی محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود جگن ناتھ آزاد نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا حالانکہ وہ پاکستان میں کئی دفعہ آئے حتیٰ کہ وہ علامہ اقبال کی صد سالہ کانفرنس کی تقریبات میں بھی مدعو تھے۔ جہاں انہوں نے مقالات بھی پیش کئے جو اس حوالے سے چھپنے والی کتاب میں شامل ہیں۔ عادل انجم نے جگن ناتھ آزاد کے ترانے کا شوشہ چھوڑا تھا۔ انھوں نے چندر آزاد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جگن ناتھ آزاد کو 1979میں صدارتی اقبال ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے صدارتی ایوارڈ کی ساری فہرست دیکھی ہے اس میں آزاد کانام نہیں ہے۔ پھر میں کابینہ ڈویژن پہنچا اور قومی ایوارڈ یافتگان کا ریکارڈ کھنگالا۔ اس میں بھی آزاد کا نام نہیں ہے۔’ وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آجائے‘۔


اب آئیے اس بحث کے دوسرے حصے کی طرف۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز گواہ ہیں کہ جگن ناتھ آزاد کا کوئی ترانہ یا ملی نغمہ یا کلام 1949 تک ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں ہوا۔ 14اور 15اگست کے درمیانی شب جب آزادی کے اعلان کے ساتھ پہلی بار ریڈیو پاکستان کی صدا گونجی تو اس کے بعد احمد ندیم قاسمی کا یہ ملی نغمہ نشر ہوا:
’پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو‘


ان دنوں قاسمی صاحب ریڈیو میں سکرپٹ رائٹر تھے۔ 15 اگست کو پہلا ملی نغمہ مولانا ظفر علی خان کا نشر ہوا جس کا مصرعہ تھا 
توحید کے ترانے کی تانیں اڑانے والے


میں نے یہیں تک اکتفا نہیں کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ میں نے 14اگست سے لے کر اواخر اگست تک کے اخبارات دیکھے۔ جگن ناتھ آزاد کا نام کسی پروگرام میں بھی نہیں ہے۔ سچ کی تلاش میں، ریڈیو پاکستان کے آرکائیو سے ہوتے ہوئے ریڈیو کے سینئر ریٹائرڈ لوگوں تک پہنچا۔ ان میں خالد شیرازی بھی تھے جنہوں نے 14اگست سے 21اگست1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انھوں نے سختی سے جگن ناتھ کے حوالے سے اس دعویٰ کی نفی کی۔ پھر انھوں نے ریڈیو پاکستان کا رسالہ آہنگ ملاحظہ کروایاجس میں سارے پروگراموں کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں۔ یہ رسالہ 1948سے باقاعدگی سے چھپنا شروع ہوا۔


18 ماہ تک آزاد کے ترانے بجنے کی خبر دینے والے براہِ کرم ریڈیو پاکستان اکادمی کی لائبریری میں موجود آہنگ کی جلدیں دیکھ لیں اور اپنے موقف سے تائب ہوجائیں۔ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ اگر آزاد کا ترانہ ہمارا قومی ترانہ تھا اور وہ 1949 ء تک نشر ہوتا رہا تو پھر اس کا کسی پاکستانی کتاب، کسی سرکاری ریکارڈ میں بھی ذکر کیوں نہیں ہے اور اس کے سننے والے کہاں چلے گئے؟اگر جگن ناتھ آزاد نے قائداعظم کے کہنے پر ترانہ لکھا تھا تو انھوں نے اس منفرد اعزاز کا کبھی ذکر کیوں نہ کیا۔ جگن ناتھ نے اپنی کتاب’’آنکھیں ترستیاں ہیں ‘‘ 1982 میں ضمناً یہ ذکر کیا ہے کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا اس کا ذکر موجود نہیں۔ اگر قائداعظم کے فرمان پر لکھاتو وہ یقیناًاس کا ذکر کرتا۔ آزاد کے والد تلوک چند نے نعتیں لکھیں۔ جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کے لئے ملی نغمہ لکھا جو ہوسکتا ہے کسی وقت ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا ہو لیکن یہ بات طے ہے جگن ناتھ آزاد کبھی قائداعظم سے ملے، نہ انھوں نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا اور نہ ہی ان کا قومی ترانہ 18ماہ تک نشر ہوتا رہایا قومی تقریبات میں بجتا رہا۔


قائداعظم بانئ پاکستان اور ہمارے عظیم محسن ہیں۔ ان کے احترام کا تقاضا ہے کہ بلاتحقیق اور بغیر ٹھوس شواہد ان سے کوئی بات منسوب نہ کی جائے اور انھیں سیکولر ثابت کرنے کے جنون میں نہ تو غلط بیانی کا گناہ کیا جائے اور نہ ہی تاریخ کو مسخ کیا جائے۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسرارِ پیدا


اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
ناچیز جہانِ مہ و پرویں ترے آگے
وہ عالمِ مجبور ہے، تو عالمِ آزاد
موجوں کی تپش کیا ہے؟ فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے وہ دولت ہے خداداد
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُردَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ افتاد

 

سلطان ٹیپو کی وصیت


تُو رہ نوردِ شوق ہے؟ منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تندو تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں
محفل گداز! گرمئ محفل نہ کر قبول
صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
علامہ اقبال

*****

 
09
June

تحریر: محمود شام

قلم کا قرطاس سے‘ذہن کا انگلیوں سے‘ سوچ کا تحریر سے رشتہ جوڑتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے‘ مگر ایسا انتشار‘ ایسی انارکی اور بے یقینی کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ اتنی تشویش محسوس کی تھی۔ہر جانے والا دن‘ ہر ڈوبنے والا سورج بہت سی اُمیدیں لے کر ڈوب جاتا ہے۔ آرزوئیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ اتنی شدت پسندی پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کی تھی۔ مذہبی انتہا پسندی بھی عروج پر ہے۔ سیاسی وفاداریوں میں بھی انتہائی شدت ہے بلکہ ایک جنون ہے۔ سیاسی لیڈروں کی پالیسیاں غلط ہوں یا درست‘ ان کے کارکن اور عہدیدار ان کی ہر بات پر آمَنَّا و صَدَّقْنَا کہتے ہیں۔ لیڈر دن کو رات کہے تو یہ بھی لازم ہے کہ دن کو رات مانیں۔ اپنے ذہن کا استعمال ممنوع ہے۔ اسی لئے معاشرے میں ہر طرف ایک افراتفری کی کیفیت نظر آرہی ہے۔ نفسا نفسی بھی ہے۔ اکثریت کی زندگی بہت کٹھن ہوگئی ہے۔

bilkhasooskarachi.jpg
ایک طرف تو یہ عدم استحکام ہے۔ کوئی قوم کو ایک سمت میں لے جانے والا نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے قومی مفادات اور قومی روڈ میپ کا تعین نہیں کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جب سرحدوں کے اس پار سے بھی دھمکیاں ملنے لگیں تو دل یہ سوچنے اور ذہن اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہورہا ہے۔ ہم نے جب سے دوسروں کی لڑائیاں لڑنا شروع کی ہیں ‘ جب سے دوسروں کے مفادات کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے‘ جب سے بڑی طاقتوں کے آلۂ کار بننے شروع ہوئے ہیں‘ ہماری سرحدیں مخدوش ہونے لگی ہیں۔ ہمارے شہروں میں شدت پسندی کا غلبہ ہونے لگا ہے۔ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ امن کا دین ہے۔ انسانوں کے درمیان محبت پیدا کرتا ہے۔ ہمارے رسول اکرمﷺ ؐ کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر اتارا ہے۔اسلام کو صوفیائے کرام اور اولیائے عظام نے پیار اور محبت سے دنیا میں پھیلایا۔ اب بھی غیر مسلم پیارے نبیﷺ کے اسوۂ حسنہ اور اچھے مسلمانوں کے کردار کو دیکھ کر اسلام قبول کررہے ہیں۔ لیکن اس مملکت خداد میں مسلمان مسلمان کو جس طرح ہلاک کرنے لگے تھے اور مذہب کا نام استعمال کرکے دوسروں کو تہ تیغ کیا جارہا تھا اس سے بہت زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

 

فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔

یہ فرقہ پرستی مسلک دشمنی اور اپنے عقیدے کو دوسرے پر مسلط کرنے کا سلسلہ بتدریج ہوا ہے‘ اچانک نہیں ہوا۔ اسے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ مختلف مقتدر حلقوں کی طرف سے اس کی سرپرستی بھی کی گئی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے نوجوان اکثریت کی جس نعمت سے نوازا تھا‘ اس کو ہم نے اپنے غلط رویوں ‘ پالیسیوں اور صحیح قیادت نہ ہونے کی بدولت اپنے لیے ایک زحمت بنالیا۔ نوجوان بلا شبہ ایک طاقت ہیں‘ توانائی ہیں‘ ایک دریا ہیں جس میں طغیانی آئی ہوتی ہے۔ اگر اس کے کنارے پختہ نہ بنائے جائیں‘ دریاؤں میں سے ریت نہ نکالی جائے‘ پانی کے لئے گنجائش نہ بڑھائی جائے تو وہ کناروں سے بغاوت کردیتے ہیں‘ چھلک جاتے ہیں‘ آس پاس تباہی مچادیتے ہیں۔ اگر ان کی سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کی جائے ‘ بند باندھے جائیں‘ نہریں نکالی جائیں تو وہ زمین کو زرخیز بنادیتے ہیں۔ نوجوانوں کے ذہن بھی بپھرے ہوئے دریاؤں کی مانند ہیں۔ جہاں ناانصافی بڑھ جائے‘ نفرتوں کے سلسلے ختم نہ ہوں‘ انسانیت کی قدر نہ ہو۔ میرٹ پرروزگار نہ ملے‘ وہاں پھر یہ دریا کناروں سے اچھلنے لگتے ہیں۔ ہر معاشرے میں مقامی طور پر بھی ایسے مافیاز موجود ہوتے ہیں جنہیں دشمن ایجنسیوں کی حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ ان نوجوانوں کو اپنے حلقۂ عاطفت میں لے لیتے ہیں۔ یہ نوجوان کسی ایسی پناہ یا سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کچھ تنظیمیں انہیں نسلی بنیادوں پر گمراہ کرتی ہیں۔ کچھ زبان کا استحصال کرکے انہیں بغاوت پر اُکساتی ہیں۔ جب سے دنیا میں مختلف واقعات کو بہانہ بناکر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جارحیت شروع ہوئی ہے‘ مغرب نے کبھی جمہوریت کے قیام کا عذر تراش کر‘ کبھی شدت پسندی کا الزام لگاکر مختلف اسلامی ملکوں میں فساد برپا کئے ہیں۔ بعض مسلم حکمران مغربی جارح قوتوں کے گماشتے بن گئے۔ مسلم ممالک میں زیادہ تر شہری آزادیاں نہیں ہیں۔ آج کا پڑھا لکھا مسلم نوجوان اپنے حکمرانوں سے خوش نہیں ہوتا۔ وہ بغاوت کرنے کے لیے سڑک پر آتا ہے تو اسے پابہ زنجیر کردیا جاتا ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں تو نصف صدی سے ظلم و ستم ڈھائے جارہے تھے۔ اکثر مسلمان حکمران ہر جبر و تشدد خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔بہت سی تنظیموں نے مسلم نوجوانوں کے ان باغیانہ رُجحانات سے فائدہ اٹھایا اور انہیں شدت پسندی کا راستہ دکھایا۔ بے بس اور بے کس نوجوانوں کو ہتھیار دے کر طاقت ور ہونے کا احساس دلایا اور کہا گیا کہ یہ راستہ جنت کا راستہ ہے۔

 

نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ھیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔

یہ سارے ملے جلے رُجحانات چاہے وہ لسانی حوالے سے شدت پکڑ رہے تھے یا نسلی اعتبار سے یا پھر فرقہ وارانہ وابستگی کے حوالے سے‘ انہوں نے پُر امن شہروں کو تشدد اور ہلاکت خیزیوں کا مرکز بنادیا۔ کراچی میں لسانی حوالہ لاشیں گراتا رہا۔ بلوچستان میں نسلی شناخت۔ کے پی کے‘ فاٹا‘ جنوبی پنجاب میں مذہبی شدت پسندی۔ پھر فوج اور قوم نے مل کر ان ساری شدتوں‘ عصبیتوں کے خاتمے کا پروگرام بنایا ۔ پارلیمنٹ نے بھی اس عزم کی توثیق کی۔ ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔ فاٹا میں اور دوسرے علاقوں میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے فوجی کارروائی سے ختم کئے گئے۔ اس کے لئے فاٹا کے ہزاروں رہائشیوں کواپنے ہی گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ کیمپوں میں زندگی گزارنی پڑی۔ ان قابل فخر پاکستانیوں نے یہ قربانی صرف اسی لئے دی کہ پاکستان پُر امن ہوجائے۔ انسانی خون بہنا بند ہوجائے۔ مسلمان مسلمان کو‘ پاکستانی پاکستانی کو ہلاک نہ کرے۔ ہمارے نوجوان دشمنوں اور غیروں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں۔
اب موجودہ سپہ سالار‘ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں اور بالخصوص کراچی میں ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا۔


ضرب عضب کے ساتھ ساتھ آپریشن ردّالفساد شروع کردیا گیا ہے۔ میں کراچی میں رہتا ہوں۔ میں نے 90کے عشرے میں ایسے دن بھی دیکھے ہیں جب چند گھنٹوں میں ہی پچاس ساٹھ سے زیادہ لاشیں گرادی جاتی تھیں۔ ہم نے حکیم محمد سعید شہید جیسے سچے پاکستانی بھی انہی وحشیانہ وارداتوں میں کھوئے۔ کتنے ہی ڈاکٹر شہید کئے گئے۔ سیاسی شخصیتوں کی جانیں لے لی گئیں۔ بعض تنظیموں نے ایک دوسرے کے کارکن بیدردی سے مارے۔ ہم تو خیر رہتے ہی کراچی میں تھے۔ لیکن ان وارداتوں اور خونریزی کے باعث دوسرے ملکوں سے سرمایہ کاروں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا۔ خاص طور پر کراچی میں کاروباری میٹنگ کرنے سے منع کرتے تھے۔ زیادہ تر دوبئی میں ملنے کو ترجیح دیتے تھے۔
پاک فوج کی طرف سے پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں اور منتخب حکومت سے مشاورت کے بعد کراچی آپریشن نے بہت کامیابیاں حاصل کیں۔ کیونکہ اس میں کراچی کے شہریوں‘ تاجروں ‘ صنعتکاروں‘ دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں‘ علمائے حق اور سیاسی کارکنوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ رینجرز سے مکمل تعاون کیا گیا۔ اس میں رینجرز کو بھی قربانیاں دینا پڑیں۔ مگر رفتہ رفتہ کراچی کی رونقیں بحال ہونے لگیں۔ شہریوں کے دل سے خوف رفتہ رفتہ جاتا رہا ‘اب ساحل پر پھر وہی ہجوم دکھائی دینے لگے ہیں۔ سیمینارز‘ کنسرٹس کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے۔ کتاب میلے منعقد ہورہے ہیں۔ یونیورسٹیوں‘ کالجوں اورسکولوں میں پھر سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔


کراچی ابھی تک 1960 اور 1970 والا تو واپس نہیں آیا ہے لیکن بڑی حد تک شہریوں کا اعتماد واپس آگیا ہے۔ کارخانوں میں ساری شفٹیں کام کررہی ہیں۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں خریداروں کے ہجوم نظر آتے ہیں۔ مگر بہتر حکمرانی کا خواب اب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ صوبائی حکومتیں اپنے لئے تو خود مختاری مانگتی ہیں۔ لیکن بلدیاتی اداروں کی خود مختاری سلب کرلیتی ہیں۔ کراچی میں امن تو بحال ہوگیا ہے‘ لیکن بلدیاتی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنارہی ہے۔ کچرا اٹھانے کا بندوبست نہیں ہورہا ہے۔ شہر کی ساری سڑکیں کھدی پڑی ہیں۔ ٹریفک ہر وقت جام رہتا ہے۔ صبح ہو‘ دوپہر یاشام بڑی بڑی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑتی نہیں‘ رینگنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ کوئی تدبر یا حسن انتظام نہیں ہے۔
شہریوں کا ذہنی سکون برباد ہورہا ہے۔ یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ پاک فوج کے آپریشن۔ رینجرز کی مسلسل کاوشوں سے قائم ہونے والا امن خراب حکمرانی‘ شہریوں کی پریشانی‘ پبلک پرائیویٹ سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث پھر بد امنی میں نہ بدل جائے۔


فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔


اسی طرح ملک بھر میں ضرب عضب پھر ردّالفساد کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بھی متعلقہ صوبائی حکومتیں ہی مستحکم اور دیرپا کرسکتی ہیں۔ ’ردّالفساد‘ کی اصطلاح بہت وسیع معانی رکھتی ہے۔ مذہبی حوالے سے بھی اور انتظامی نکتہ نظر سے بھی۔ جسے بہت سے شدت پسند اپنے نقطۂ نظر سے جہاد کہتے ہیں‘ جنت کا راستہ خیال کرتے ہیں‘ وہ علمائے حق کے نزدیک فساد ہے۔ اسکا ردّ بہت ضروری ہے۔ اس ردّالفساد کے ذریعے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے اور بلوچستان سب جگہ ہی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ بہت سے مقامات پر پہلے سے کارروائی کرکے بڑی مقدار میں گولہ بارود‘ ہتھیار پکڑ کے ان دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے مشکوک افراد پکڑے جاچکے ہیں‘ ان کے خلاف مقدمات تیار کرکے عدالتوں میں پیش کئے جارہے ہیں۔ ان آپریشنوں کی کامیابی کی شہادت اس امر سے مل سکتی ہے کہ اب پہلے کی طرح بم دھماکوں کی وارداتیں نہیں ہورہیں۔ پبلک مقامات‘ مساجد‘ بازار اور حساس تنصیبات اب محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔ پارلیمنٹ کی قرارداد اور سیاسی فوجی قیادت نے ملک کر حکمتِ عملی مرتب کی جسے نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا گیا اس میں سے فوری نوعیت کی کارروائی تو ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی ہورہی ہیں۔ سزائے موت پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔


لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان تمام عوامل اور اسباب کا بھی خاتمہ کیا جائے جن کی وجہ سے فساد برپا ہوتا ہے‘ جن محرومیوں سے مجبور ہوکر نوجوان لسانی‘ نسلی اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کا آلۂ کار بنتے ہیں۔خاص طور پر بے روزگار نوجوان کو ماہانہ معقول تنخواہ بھی دی جاتی ہے اور اس کے اہل خانہ کی مالی مدد بھی کی جاتی ہے۔


پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق قریباً 12کروڑ افراد 15سے 25سال تک کی عمر کے ہیں۔ یہ قدرت کا بہت بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے‘ یہ ہماری طاقت ہیں‘ توانائی ہیں۔ لیکن مقامی حکومتوں کی بے اختیاری‘ صوبائی حکومتوں کی غیر ذمہ داری اور سیاسی قیادت کی لا پروائی سے یہ قیمتی اثاثہ بوجھ بن رہا ہے۔ ہمارے کونسلروں‘ میئروں‘ چیئرمینوں کی ذمہ داری ہے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کا قومی فریضہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں نوجوانوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ ان کی معاشی کیفیت سے آگاہی حاصل کریں۔ان نوجوانوں کو اگر مناسب تعلیم ملے اور موزوں تربیت تو وہ پاکستان کو حقیقت میں ایشیا کا ٹائیگر بناسکتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سیاسی قیادتوں کی ذمہ داری ہے۔ پھرہماری غریب اکثریت کو قدم قدم با اثر افراد کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جاگیردار اپنے علاقے میں سکول نہیں کھلنے دیتے۔ ہر صوبے کے دیہی علاقوں میں کئی ہزار اسکول بند پڑے ہیں۔ عمارتیں ہیں مگر وہاں کچھ اور ہورہا ہے۔ اسکول ہیں‘ طالب علم ہیں مگر ٹیچر نہیں ہیں۔ پولیس‘ مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے کی مرضی سے تعینات ہوتی ہے۔ اس لئے وہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے ایم این اے‘ ایم پی اے کا حکم مانتی ہے جس سے نا انصافی جنم لیتی ہے۔ اکثریت کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے ۔ قانون کا نفاذ یکساں نہیں ہوگا۔نا انصافیوں ‘ زیادتیوں اور ظلم کے شکار خاندان ہی پھر شدت پسندوں کا ہتھیار بنتے ہیں اور جب اس کے ساتھ مذہب کا سہارا مل جائے تو یہ اشتراک خطرناک ہوجاتا ہے۔جہالت اور جذباتیت بڑا خطرناک گٹھ جوڑ ہے۔ ملک میں جہالت بھی بہت ہے اور جذباتیت بھی۔ تعلیم ہی انسان کو دلیل کا استعمال سکھاتی ہے۔ برداشت پیدا کرتی ہے۔تحمل کا درس دیتی ہے۔ پاکستانی قوم مزاجاً جذباتی ہے۔ اس لئے وہ آسانی سے چند خود غرض سیاستدانوں اور مذہبی سوداگروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے۔ شایدحکمران طبقے کا ایک حصہ یہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ یہ قوم پڑھے لکھے ۔ کیونکہ اگر یہ پڑھ لکھ گئی تو ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
پاکستان میں کسی بھی بھائی بہن بزرگ سے پوچھا جائے تو وہ فوج کے اس عزم کی مکمل تائید کرتا ہے کہ ملک میں اور بالخصوص کراچی میں امن ہر قیمت پر۔ امن کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ پُر سکون ماحول بھی سرمایہ کاری اور نئی صنعتوں کے لئے سازگار ہوتا ہے۔ فوج نے اپنا یہ عزم بڑی حد تک پایۂ تکمیل کو پہنچادیا ہے۔ آج 2017 کے نصف میں 2015-2016 اور اس سے پہلے کے پُر آشوب برسوں کی نسبت حالات بہت زیادہ پُر امن اور پُر سکون ہیں۔ لیکن اگر ان عوامل اور محرّکات کے خاتمے کے لیے کوششیں نہ کی گئیں جن کے باعث 90-80 کے عشروں اور اکیسویں صدی کے اوائل میں شدت پسندی اور افراتفری اور انتشار پیدا ہوا‘ جسے بڑی قربانیاں دے کر پاک فوج‘ رینجرز اور پولیس نے بحال کیا ہے۔ جس کے لئے ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ پولیس والے بھی شہید ہوئے ہیں۔ اور عام شہریوں‘ بچوں‘ بزرگوں۔ ماؤں بہنوں کا خون بھی بہا ہے تو یہ خونریزی دوبارہ بھی شروع ہوسکتی ہے۔ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نصاب کا جائزہ لینا ہوگا۔ مساجد اور مدارس کے خطبات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ میڈیا پر بھی نظر رکھنا ہوگی‘ وہاں کوئی تربیت ہے نہ نصب العین‘ وہ مجرموں اور دہشت گردوں کو ہیرو اور شاندار انسان بناکر پیش کرتے ہیں۔ ان کو بہت زیادہ با اثر دکھاتے ہیں۔


نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ہیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹھہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔
ہر ادارے کو اس قومی جہاد میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم ہر قیمت پر قائم کئے گئے امن سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔ ملک میں استحکام پیداکرسکیں گے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
June

افغان امور کے ماہر‘ ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کی تحریر

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس کے باوجود بہتر نہیں ہوپارہے کہ دونوں ممالک کو نہ صرف ایک جیسے حالات خصوصاً دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ ان کے درمیان بہتر تعلقات علاقے اور خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ حال ہی میں جب لندن اجلاس کے تناظر میں طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے رابطے بحال ہونا شروع ہوگئے تو پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ایک طرف نہ صرف سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کابل بھیجا بلکہ اعلیٰ ترین سطح کے عسکری وفود بھی کابل گئے جہاں انہوں نے اعلیٰ حکومتی عہدے داران‘سیاستدانوں اور حکمرانوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے اس پڑوسی اور برادر ملک کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پارلیمانی وفد میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شامل تھے جن میں تین کا تعلق پشتون قوم پرست جماعتوں سے تھا‘ تاہم اس دورے کے بھی وہ نتائج سامنے نہیں آئے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ وفد میں شامل قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ کے مطابق دورے کے اختتام پر طے پایا تھا کہ افغان حکومت نیک خواہشات اور خیرمقدمی کلمات پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کرے گی تاہم افغان حکومت نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ وفد کے بعض ارکان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ان کی تقریباً پانچ گھنٹے پر مشتمل طویل نشست ہوئی جس کے دوران انہوں نے متعدد بار سخت لہجہ اور رویہ بھی اپنایا تاہم وفد کے ارکان ان کو مسلسل یہ یقین دہانی کراتے رہے کہ ماضی کی شکایات کے بجائے موجود حالات اور مستقبل کے چیلنجز کے تناظر میں آگے بڑھا جائے۔ ان ارکان کے مطابق سینٹ کے چیئرمین نے تو میزبانی کے آداب کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملاقات کے دوران سخت رویہ اپنایا اور یکطرفہ الزامات لگائے‘ تاہم پاکستانی وفد نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ مثبت اور دوستانہ طرزِ عمل اپنائیں۔ وفد نے حکومت پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر اشرف غنی اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کو دورہ پاکستان کی الگ الگ دعوتیں بھی دیں اور وزیر اعظم کا خصوصی پیغام بھی سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے افغان صدر کو پہنچایا۔ حامدکرزئی نے خلافِ توقع یہ دعوت قبول کرلی اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں گے تاہم ابھی وفد کی واپسی ہوئی ہی تھی کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک بیان میں مؤقف اپنایا کہ وہ پاکستان کا دورہ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک پاکستان‘ ان کے بقول‘ بعض ان افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا وعدہ پورا نہیں کرتا جو کہ افغان حکومت ایک فہرست کی صورت میں دے چکی ہے۔ حالانکہ ایسی ہی ایک فہرست پاکستان بھی افغان حکومت کو دے چکا ہے۔ جناب اشرف غنی کے اس غیرلچک دار رویے اور مشروط طرزِ عمل نے اعلٰی سطحی پاکستانی وفد کے دورۂ کابل کی امیدوں اور نتائج پرپانی پھیر دیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا جانے لگا کہ افغان حکمران شاید مصالحت یا مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اسی دوران جب افغانستان کے نمائندہ صحافیوں کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو دوسروں کے علاوہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا جس کے دوران انہوں نے دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں کئی گھنٹوں تک افغان صحافیوں کی شکایات اور تجاویز کو بڑے غور سے سنا اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے افغانستان کے امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس نشست کے علاوہ ایسے ہی جذبات کا اظہار مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی کیا تھا۔ یہ طرزِعمل اس کوشش کا ایک اظہار تھا جس کے ذریعے افغان حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور میڈیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان بہت سے تحفظات اور خدشات کے باوجود اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔


ابھی اس تمام پیشرفت پر تبصرے اور تجزیئے جاری تھے کہ چمن بارڈر پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں جبکہ اسی شام افغان فورسز نے طورخم بارڈرپر بھی حملے کئے۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں متعدد شہریوں کے علاوہ فورسز کے کئی اہلکار جاں بحق ہوگئے اور پاکستان کو ایک بار پھر چمن بارڈر بند کرنے کا اقدام اٹھانا پڑا۔ افغان حکام خصوصاً قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اس نازک ایشو پر ایک ذمہ دار عہدیدار کے رویے کے برعکس ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مصالحت اور متوقع مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر معدوم ہوگئے۔ تصادم کے بارے میں دونوں ممالک کے الگ الگ بیانات اور الزامات پر بحث کئے بغیر اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اپنی فورسز کے علاوہ عوام کو مشتعل کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہ ایک حکومتی عہدیدار کے بجائے ایک ایسے راہنما دکھائی دیئے جو کہ جلتی آگ پر مٹی کا تیل ڈالنے کا ماہر ہو۔ افغان حکام نے اس موقع پر حد بندی یا سرحدی حدود کا ایشو بھی اٹھایا جو کہ مزید تلخی کا سبب بن گیا اور معاملات بگڑتے رہے۔ اس تمام معاملے کے دوران افغان میڈیا نے بھی ایشوز کو مزید بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یوں یکطرفہ طور پر کشیدگی کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ دو مطالبات پھر سے دہرائے گئے ۔ ایک تو یہ کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور بعض دیگر کے خلاف مزید کارروائیاں کرے اور دوسرا یہ کہ لسٹ میں شامل ان 90 افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا اقدام اٹھاجائے جو کہ بقول افغان حکومت کے پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں اس کے جواب میں پاکستان کا موقف یہ رہا کہ مطلوب افراد پاکستان کے بجائے افغانستان میں ہیں‘ اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور یہ کہ اگر ایسے افراد یہاں پائے گئے جو کہ افغانستان پر حملوں میں ملوث ہیں تو کارروائی سے قطعاً گریز نہیں کیا جائے گا۔ ایک اور مسئلے کو بھی شدت کے ساتھ میڈیا اور عوامی حلقوں کی سطح پر اٹھایا گیا اور وہ یہ تھا کہ ڈیورنڈ لائن کے سٹیٹس پر بحث کا آغاز کیا گیا۔ شعوری طور پر کوشش کی گئی کہ اس معاملے پر افغانستان کے علاوہ پاکستان کے بعض قوم پرست حلقوں کو بھی اشتعال دلایاجائے۔ اس طرزِ عمل نے مسئلے کو اور بھی خراب کرکے رکھ دیا کیونکہ پاکستان بارڈر مینجمنٹ کے معاملے پر افغان حکام کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرچکا تھا اور اس ضمن میں عملی اقدامات بھی کئے جاچکے ہیں۔


دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان کا یہ طرزِ عمل اپنا ایک مضبوط پس منظر رکھتا ہے اور اس کے متعدد اسباب اور عوامل ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اب بھی ایک سے زائدلابیاں اس کوشش میں ہیں کہ دونوں ممالک کو قریب نہ آنے دیا جائے بلکہ کشیدگی کوبھی ہوا دی جائے اور اس کے لئے مختلف قسم کے الزامات اور اقدامات کے ذریعے راستہ بھی ہموار کیا جائے۔ ان ماہرین کے مطابق ان لابیوں یا حلقوں کو بھارت کے علاوہ بعض دیگر ممالک کی سرپرستی بھی حاصل ہے جو کہ افغانستان کے راستے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تعلقات کشیدہ رہیں۔ اس قسم کے لوگ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہیں بلکہ ان کا میڈیا میں بھی بہت اثر و رسوخ ہے اور میڈیا کے بعض اداروں کو اسی مقصد کے لئے باقاعدہ سپانسر بھی کیا جاتا ہے۔

 

افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔

حال ہی میں کابل کادورہ کرنے والے ممتاز صحافی ہارون الرشید نے اس ضمن میں رابطے پر بتایا کہ کابل میں انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ‘ حنیف اتمراور حامدکرزئی سمیت دیگر اعلی عہدیداران سے بات چیت کی ۔اکثریت کا خیال تھا کہ افغانستان کے خراب حالات کی ذمہ داری محض پاکستان پرہی عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ ان کو بتایا گیا کہ جب بھی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوتا ہے یا پاکستان افغان طالبان کو میز پر بٹھانے کی کوشش کرتا ہے‘ ایوانِ صدر یا ایسے دوسرے کسی دفتر سے کوئی ایسا بیان جان بوجھ کر جاری کردیا جاتا ہے جو کہ اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ہارون الرشید کے مطابق اس تاثر میں افغان میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے اور اس کے ذریعے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ہی خرابی کا سبب ہے۔ اس پراپیگنڈے کو بھارت کے علاوہ ایران اور امریکہ کی آشیربادبھی حاصل ہے تاہم پاکستان کے سفارتی حلقے اس کو کاؤنٹر کرنے میں بوجوہ ناکام دکھائی دیتے ہیں اور یوں 80 فیصد لوگ پاکستان کے خلاف ہوگئے ہیں۔
سینئر تجزیہ نگار اور اینکر حسن خان کے مطابق ان کے دورۂ کابل کے دوران معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف افغان حکمرانوں اور عوام کی نفرت میں پہلے کے مقابلے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اور چمن تصادم کو نہ صرف بہت زیادہ اچھالا گیا بلکہ ڈیورنڈ لائن(انٹرنیشنل بارڈر) کو متنازعہ بنانے کی مسلسل کوشش بھی کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں حسن خان کا کہنا تھا کہ اس بار انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ اور حامدکرزئی کو پاکستان کے بارے میں کافی بہتر اور مثبت پایااوردونوں لیڈروں نے ملاقاتوں کے دوران اس بات کو تسلیم بھی کیا کہ ہر خرابی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا رویہ شاید درست نہیں ہے بلکہ بعض دیگر عوامل بھی بدامنی اور عدمِ استحکام کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق حامد کرزئی پاکستان کے بارے میں مثبت بات کررہے تھے اور ان کی توپوں کا رخ امریکہ کی جانب تھا۔


دونوں سینئرصحافیوں کے مطابق بدامنی اور عدمِ استحکام کی ایک بڑی وجہ افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی کوششیں ہونی چاہئیں کہ بحالی تعلقات کی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ تلخی یا کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان کے مخالف ممالک کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ افغانستان یا اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں۔


سنٹرل ایشیا کے دروازے پر واقع افغانستان کے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں کئے گئے طالبان حملے میں 150 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے جس کے بعد افغانستان کی سکیورٹی سے متعلق سوالات شدت سے سراٹھانے لگے تو ان کے وزیرِ دفاع اور آرمی چیف نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیئے جو کہ افغان صدر اشرف غنی نے قبول بھی کئے۔ افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جو کہ اس جانب واضح اشارہ ہے کہ طالبان کی نہ صرف یہ کہ قوت بڑھتی جارہی ہے بلکہ ان کی کارروائیاں جنوبی اور مشرقی افغانستان یا پشتون بیلٹ تک محدود نہیں رہی ہیں۔ اس سے قبل قندوز میں طالبان نے جہاں ایک طرف چار بار کامیاب حملے کئے وہاں انہوں نے کئی روز تک صوبائی دارالحکومت کو اپنے قبضے میں بھی لئے رکھا۔ جبکہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور یہاں پر اب بھی حملے اور جوابی حملے جاری ہیں۔ یہ تینوں صوبے اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کو سنٹرل ایشیا اور ایران کے گیٹ ویز کے پس منظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ مزار شریف‘ بلخ‘ قندوز اور پنج شیر کو نہ صرف انتہائی جغرافیائی اہمیت حاصل ہے ‘بلکہ افغانستان کی 50 فیصد سے زائد بیورو کریسی کا تعلق بھی ان ہی صوبوں سے رہا ہے اور اکثر نان پشتون لیڈروں کے نہ صرف یہ آبائی علاقے ہیں بلکہ یہ ان کی قوت کے مراکز بھی ہیں۔ روس کے ساتھ جنگ کے علاوہ نائن الیون اور اس سے قبل طالبان کے داخلے جیسے اہم ادوار کے دوران بھی مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقے جنگوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ علاقے تعلیم‘ سہولیات اور ترقی کے حوالے سے دوسرے صوبوں سے کافی آگے ہیں۔ شمالی افغانستان کے لیڈروں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ان علاقوں کو جنگوں اور حملوں سے دور رکھا جائے اور سال2015 کے وسط تک وہ اس کام میں کامیاب بھی رہے تاہم 2016 کے دوران طالبان اور ان کے اتحادیوں نے ان علاقوں کا نہ صرف رخ کیا بلکہ یہاں پر خوفناک حملے بھی کرائے اور حالیہ حملے اسی سلسلے کی کڑی ہیں اس بار فرق یہ سامنے آیا ہے کہ طالبان نے علاقے کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں بغیر کسی مزاحمت کے گھس کر 150 سے زائد افراد کو زندگی سے محروم کردیا۔ حملہ آوروں نے کئی گھنٹوں تک چھاؤنی کے اندر رہ کر فورسز سے مقابلہ کیا اور یہ مقابلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آخری حملہ آور زندہ رہا۔افغان طالبان کے ہاتھوں‘ مساجد‘ مزارات اور تعلیمی اداروں کو اس نوعیت کے حملوں کا نشانہ بنانے کی روایت بہت کم رہی ہے تاہم اس بار انہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے والوں کو بطورِ خاص ٹارگٹ کیا اور اس سے قبل بھی بعض ایسے حملے مشاہدے میں آئے ہیں جن سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرح اب وہاں بھی ماضی کی روایات کے برعکس کوئی بھی طبقہ حملوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔


افغانستان کے علاوہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں نہ صرف یہ کہ اس حملے کی شدید مذمت کی گئی بلکہ دو اعلیٰ ترین ریاستی ذمہ داران کے استعفوں کا عوامی سطح پر خیرمقدم بھی کیاگیا تاہم کابل کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ استعفے افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ اور شمال کے طاقتور کمانڈر رشید دوستم کے کہنے پر اور دباؤ پر دیئے گئے ہیں۔ مزار شریف کو جغرافیائی اور دفاعی ماہرین پورے خطے کا جغرافیائی مرکز سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے کچھ فاصلے پر ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں واقع ہیں جبکہ یہ کابل‘ ہرات اور قندوز کو آپس میں ملانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سال2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ میں 60 فیصد تک تاجک جبکہ 15 فیصد اُزبک رہ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ترکمان اور پشتون دس دس فیصد کے تناسب سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ رواں برس کے دوران دونوں سنٹرل ایشین سٹیٹس نے مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقوں کے لئے بڑے اہم منصوبے منظور کئے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس بیلٹ کو جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں غیر معمولی توجہ اور ترقی دی جارہی ہے۔ حالیہ حملے نے اس تمام عمل کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور عالمی میڈیا کے بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں حملوں کی تعداد میں اضافہ ایک عالمی اور علاقائی گیم کا حصہ ہے اور اس گیم کو بیرونی طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ کابل میں قائم کولیشن گورنمنٹ کی وزارتوں کی عجیب و غریب تقسیم‘ ان کے درمیان کوآرڈینیشن کے فقدان اور شمال کو شیئرز سے زیادہ حکومتی عہدے دینے کے فارمولے جیسے اقدامات کو بھی افغان اداروں اور فورسز کی ناکامی کے اسباب میں شامل کیا جارہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے کہ اس قسم کے حملوں کی آڑ میں امریکہ یا بعض دیگر طاقتیں افغانستان کو پھر سے میدانِ جنگ بنانے تو نہیں آرہی ہیں؟ ننگر ہار پر عین ماسکوکانفرنس کے دوران مدر آف آل بم گرانے کا امریکی اقدام اور کانفرنس میں امریکہ کی شرکت سے انکار کے علاوہ بعض دیگر اقدامات اور بیانات کو بھی اسی تناطر میں دیکھا جارہا ہے۔ بظاہر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ افغانستان کے تقریباً تمام صوبوں یا علاقوں تک پھیلایاگیا ہے اور پانچ سرحدیں ایسی ہیں جہاں طالبان نہ صرف یہ کہ پہنچ چکے ہیں بلکہ وہ اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا رہے ہیں اور کامیاب حملے بھی کررہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے بعد اب ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہوگئی ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو اس کے اثرات بعض دیگر سنٹرل ایشین سٹیٹس کے علاوہ روس پر بھی پڑیں گے۔


یہ حالات ایک ایسے افغانستان کا منظر نامہ پیش کررہے ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ سول وار کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے بلکہ یہ یقینی خطرہ بھی موجود ہے کہ شاید امریکہ اپنی فورسز اور ان کے اختیارات میں مزید اضافہ کرے اور اس کے نتیجے میں دوسری عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے میدان میں اُترآئیں۔ دوسری طرف داعش کا پھیلاؤ اور پاکستان‘ افغانستان کی نئی نسل میں مقبولیت کی اطلاعات بھی پریشان کن ہیں۔ حملوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ان ریاستوں کے علاوہ عالمی طاقتیں کیا حکمت عملی طے کرتی ہیں‘ مستقبل کے منظر نامے اور صورتحال کا انحصار اسی پر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ضرب عضب کے جوان


دیکھو مرے وطن کے جوانوں کو اِک نظر
سینہ ہے یا فولاد یا پھر شیر کے جگر
باطل ٹھہر نہ پائے کبھی ان کے سامنے
لڑتے ہیں کیسے جم کے ماؤں کے یہ پسر
سایہ ہو میری فوج پہ ربِّ جلیل کا
ہوتی رہے یہ کامراں، تا عمر، تاحشر
کیسے ہوں یہ صفات بیاں اِن کی اے حکیمؔ
ہیبت ہے بس عدو کے لئے ان کی اک نظر

حکیم شہزاد

*****

 

Follow Us On Twitter