19
September
Published in Hilal Urdu
Read 7 times
ستمبر 2017
شمارہ:9 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قوم رواں برس یومِ دفاع اُسی جوش و خروش سے منا رہی ہے جس کے ساتھ اس نے باون سال قبل عددی اعتبار سے ایک بڑے دشمن کو شکستِ فاش دی تھی۔ ستمبر 65ء کی جنگ کے بعد ہی سے دشمن کو اس امر کا ادراک ہوا کہ وہ اس بہادر قوم اور اس کی جری افواج کو روائتی انداز سے کبھی شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ تب ہی سے دشمن نے اس عظیم مملکتِ خداداد کے خلاف سازشوں کے جال بُننا شروع کر دیئے۔ سانحۂ مشرقی پاکستان اُنہی سازشوں کا شاخسانہ تھا۔ دشمن ....Read full article
 
تحریر: فاروق اعظم
1965ء کی جنگ کو نصف صدی بیت چکی، تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی اُس پہلی باقاعدہ جنگ پر بحث و تمحیص کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہوا۔ پچاس سال کا عرصہ کسی ملک یا قوم کے لئے کم نہیں ہوتا۔ کامیاب وہ ہیں جو ماضی سے سیکھیں، حال کو سنواریں اور مستقبل کو روشن تر کریں۔ 65ء کے بعد یہ 52واں ماہِ ستمبر ہے، اس کے باوجود ہندوستانیوں نے یہ بحث شروع کردی ہے کہ جنگ 65ء میں ....Read full article
 
 alt=
تحریر: جاوید حفیظ
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے فورٹ مائر ورجینیا میں افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اہم پالیسی بیان دیا ہے۔ بیان کا ایک حصہ پاکستان کے لئے مختص ہے۔ بیان میں افغانستان کے لئے آئندہ عسکری پالیسی کے خدوخال بیان کئے گئے ہیں اور شاید اسی وجہ سے امریکی صدر نے اپنی تقریر کے لئے ملٹری بیس کا انتخاب کیا۔ صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے حامی رہے ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ امریکی عوام اس جنگ ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں
کستان کے دفا ع اور ترقی کے لئے ایک طاقت ور بحریہ کی ضرورت جس شخصیت نے سب سے پہلے محسوس کی وہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ اس وقت پاکستان دو حصوں مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل تھا۔ یہ دونوں حصے اپنی جغرافیائی وقو ع پذیری کی وجہ سے بالترتیب خلیج بنگال اور بحیرہ عرب میں بحری سر گرمیوں پر نظر رکھنے کی پوزیشن میں تھے۔ دفاعی حکمتِ عملی اور تجارتی سر گرمیوں کے حوالے سے خلیج بنگال او ربحیرہ عرب....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدرمحمود
کبھی غور کیا آپ نے کہ انسان محض گوشت پوست اور ہڈیوں کا نام نہیں، بلکہ ’انسان‘ جذبے کا نام ہے ۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا راز انسانی جذبہ ہے۔ بقول مولانا رومی تم جو ہو وہ تمہاری سوچ ہے باقی سب گوشت پوست ہے۔ مطلب یہ کہ انسان کو اس کی سوچ، عمل اورجذبے سے محروم کردیا جائے تو باقی صرف گوشت اور ہڈیا ں بچتی ہیں۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو محافظِ ملک و قوم بناتا اورجہاد کی منزل کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ جذبہ ہی ہے.....Read full article
 
تحریر: الطاف حسن قریشی
کیا خوب تھے وہ دن جن کی یادیں آج بھی دلوں کو نئے جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دیتی ہیں۔
یہ باون برس پہلے کی بات ہے، میں اپنے دوستوں کی دعوت پر 5 ستمبر 1965ء کی سہ پہر ساہیوال روانہ ہوا۔ اِرادہ ایک دو روز ٹھہرنے کا تھا۔ ایک ہی دن پہلے میں مقبوضہ کشمیر میں واقع چھمب جوڑیاں کے محاذ سے لوٹا تھا جہاں پاکستان کی فوجیں اکھنور کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔....Read full article
 
تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی
پاکستان اور بھارت کے مابین ستمبر 1965 کی جنگ تاریخ کے صفحات میں رقم ہوکر آئندہ نسلوں کے لئے ایک ناقابلِ تردید گواہی ہے کہ جنگوں میں فتح گولہ بارود، عددی برتری یا عسکری قوت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ دشمن کو فنا کرنے کا عزم، مادرِوطن کے دفاع پہ مرمٹنے کا حوصلہ، موت پر موت بن کر ٹوٹنے کا جذبہ جنگوں میں فتح یا شکست کا فیصلہ کرتے ہیں، اور انہی جذبوں سے سرشار پاک فوج کے نڈر، بہادر اور جری جوانوں نے اس جنگ میں اپنے سے.....Read full article
 
تحریر: وثیق شیخ
جنگ ستمبر1965کے دوران جرأت و بہادری کے ایسے ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملے کہ ان پر انسانی عقل حیران ہے۔ سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دشمن نے 400 سے زائد ٹینکوں سے حملہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں کسی بھی جگہ ٹینکوں سے لڑی جانے والی یہ سب سے بڑی جنگ تھی۔ قلیل تعداد اور اسلحہ کم ہونے کے باوجود پاک فوج کے بہادر اس جاں نثاری سے لڑے کہ دنیا کی عسکری تاریخ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
گئے وقتوں میں پشاور کے آرٹلری میس میں ہمہ وقت پندرہ سے بیس بیچلر آفیسرز کا ڈیرہ رہا کرتا تھا۔ ایک کمرے میں عموماً تین سے چار افسروں کا پڑاؤ ہوتا تھا۔ ایک غیر تحریری معاہدے کی رو سے میس میں موجود ہر شے عوام کی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی تھی۔ ذاتی سامان کی پھبتی صرف نیکر بنیان تک ہی محدود تھی بلکہ اکثر صورتوں میں توانہیں بھی روم میٹس....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
>ستمبر1965 کی جنگ کراماتی اور کرشماتی جنگ تھی۔
خاکی وردی والے خاک و خون ہو کر شہادت سے سرفراز ہوگئے مگر وطنِ عزیز کی سالمیت پر آنچ نہ آنے دی۔
چونڈہ میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی لڑائی لڑی گئی، 5ستمبر 1965 کی آدھی رات کے وقت بھارتی فوج بین الاقوامی سرحد پر آکر رُک تو گئی تھی مگر اُس کے ڈویژنل افسروں نے اپنے ماتحتوں پر انکشاف....Read full article
 
سروے : ازکٰی کاظمی
1965 کی جنگ نہ صرف ہمارے بزرگوں بلکہ ہماری نوجوان نسل کے دلوں پر آج بھی پاک فوج کی محبت اور جانثاری کا نقش قائم کئے ہوئے ہے۔ 6ستمبر 1965کی جنگ کے حوالے سے نوجوان نسل کے تاثرات جاننے کے لئے ہم نے ایک سروے کیا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے خیالات جانے جو ہلال کے قارئین کے لئے شائع کر رہے.....Read full article
 
تحریر:لیفٹیننٹ عاصمہ
ایک جانب آگ کے پھیلتے اور بلند ہوتے شعلے تھے تو دوسری طرف گولیوں کی بوچھاڑ،اسلحے بارود کی بو اور آگ کا دھواں کسی کے بھی حواس گم کرنے کے لئے کافی تھے لیکن جاوید احمدکے لئے ان میں سے کچھ بھی اہم نہ تھا،یہ سب چیزیں ان کی راہ نہیں روک سکتی تھیں۔۔۔آگ کے شعلوں سے تو ان کا 26 برس پرانا تعلق تھا اور بارود کی بو انہیں صرف یہ یاد دلاتی تھی کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں نہ صرف ان کے عزیز وطن کی حرمت کو للکارا ہے.....Read full article
 
تحریر: غزالہ یاسمین
6 ستمبرہماری قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس میں افواج پاکستان اور قوم کی جرات و بہادری کی ایسی داستانیں رقم ہیں جن سے آج بھی ہم اپنے ولولوں اور جذبوں کو روح تازہ بخشتے ہیں۔ یقیناًاس روزہم نے ثابت کردیا کہ پاکستان کوئی ترنوالہ نہیں اورقوم اپنی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔ ہرسال انہی ولولوں کی روشنی میں دفاع وطن کا اعادہ کرتی ہے۔ اس سال پوری.....Read full article
 
تحریر: عفت حسن رضوی
یہ 19جولائی تھی،خیبرایجنسی کی راجگال وادی میں فجر کی سپیدی نمودار ہونے کو تھی، سپاہی ایک مشکل معرکے کے لئے تیار تھے، نماز فجر پڑھی گئی،سب ہی نے آپریشن میں کامیابی کی دعا مانگی، مگر ایک نوجوان نے ہاتھ بلند کئے اور آنکھیں موندے اپنے رب سے کامیابی کے ساتھ شہادت مانگنے لگا۔ یہ سپیشل سروسز گروپ، سیون کمانڈو بٹالین (ببرم )کا کمانڈو....Read full article

تحریر: ڈاکٹر ہما میر
قیامِ پاکستان کو پورے ستّر سال ہوگئے، الحمدﷲ اس طویل عرصے میں مادرِ وطن نے مشکلات کے باجود ترقی کا سفر جاری رکھا۔ ان 70 برسوں میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، کئی جنگیں ہم پر مسلط کی گئیں، مگر بفضلِ خدا ہم ہر مصیبت سے نہایت ہمت سے نبرد آزما ہوئے، پوری قوم آزمائش کی ہرگھڑی میں متحد ہو کر امتحان........Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
اس نے بس میں بیٹھے ہوئے مسافروں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی، ہر چہرہ سپاٹ اور جذبات سے عاری تھا، کچھ لوگ کھڑے تھے، بیٹھے ہوئے مسافروں کی نسبت ان کے چہروں پر بیزاری زیادہ نمایاں تھی۔’’جانور کہیں کے‘‘ اس نے دل میں کہا اور بیٹھنے کے لئے جگہ تلاش کرنے لگا مگر کوئی سیٹ خالی نہیں تھی، مایوس ہو کر اس نے اپنے ساتھ....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا....Read full article
19
September

تحریر: یاسر پیرزادہ

اس نے بس میں بیٹھے ہوئے مسافروں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی، ہر چہرہ سپاٹ اور جذبات سے عاری تھا، کچھ لوگ کھڑے تھے، بیٹھے ہوئے مسافروں کی نسبت ان کے چہروں پر بیزاری زیادہ نمایاں تھی۔’’جانور کہیں کے‘‘ اس نے دل میں کہا اور بیٹھنے کے لئے جگہ تلاش کرنے لگا مگر کوئی سیٹ خالی نہیں تھی، مایوس ہو کر اس نے اپنے ساتھ کھڑے ہوئے ’’جانور‘‘ کی طرح بس سے لٹکی ہوئی چرمی گرفت کو مضبوطی سے تھام لیا، اس کی منزل دور تھی اور یوں کھڑے رہنے سے اسے کوفت ہو رہی تھی، ویسے بھی ساتھ والا کچھ زیادہ ہی جانور تھا، بے حد غلیظ حلیئے میں تھا، نہ جانے کب سے نہیں نہایا تھا، منہ سے بھبھکے اُٹھ رہے تھے، سر کے بالوں کی کھچڑی سی بنی ہوئی تھی اور زرد آنکھیں کسی بیماری کا پتہ دے رہی تھیں۔ اچانک بس ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی، وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور ’جانور‘ کے اوپر گِر گیا۔ ’جانور‘ نے اُسے گھور کر دیکھا اور اپنا بھاری بھر کم ہاتھ اس کے منہ پر جڑ دیا، وہ بیچارہ دو قدم پیچھے جا گرا، دوسرے مسافروں نے ایک لمحے کے لئے یہ منظر دلچسپی سے دیکھا مگر ساتھ ہی ان کے چہروں پر دوبارہ ازلی بیزاری طاری ہوئی۔ اس نے سوچا کاش اس کے پاس تیز دھار والا کوئی خنجر ہوتا تو وہ اس ’جانور‘ کا پیٹ چاک کر دیتا، بڑی مشکل سے اس نے اپنے جذبات کو قابو میں کیا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ ’جانور‘ اس کے چہرے سے اس کے جذبات کا اندازہ لگائے کیونکہ ایسی صورت میں یقیناً ’جانور‘ اسے ایک آدھ ہاتھ مزید جڑ دیتا جسے برداشت کرنے کی اب اس میں ہمت نہیں تھی ۔ ’جانور‘ بہت لحیم و شحیم تھا لہٰذا اس نے پرے رہنے میں ہی عافیت جانی۔

janwar.jpg
تھوڑی دیر بعد اس کی منزل آگئی، بس سے اُترتے ہوئے اس نے سُکھ کا سانس لیا، اپنے کپڑوں کی سلوٹیں درست کیں، بالوں میں ہاتھ پھیر کر انہیں سنوارنے کی کوشش کی اور سانس ٹھیک کرنے کے بعد سامنے واقع دفتر میں داخل ہوگیا۔ دفتر میں خاصی بھیڑ تھی، لوگ عجیب سی نفسا نفسی کے عالم میں ادھر ادھر پھر رہے تھے، یوں لگ رہا جیسے انہیں خود بھی پتہ نہ ہو کہ انہوں نے کس طرف جاناہے، ان کے چہروں پر بھی ویسی ہی بیزاری اور کسی حد تک نحوست طاری تھی، ان کی آنکھیں باہر کو اُبل رہی تھیں اور بعض کے منہ سے تو جھاگ بھی نکل رہی تھی، جب وہ بولتے تو یوں لگتا جیسے غُرّا رہے ہوں۔’’جانور سب کے سب! ‘‘ اس نے دل میں کہا۔ متعلقہ کھڑکی پر پہنچ کر اس نے بڑی لجاجت سے پوچھا ’’سر! میں نے اپنا بل‘‘ درست کروانا ہے یہ کون کریں گے؟ ‘‘کھڑکی کے پیچھے بیٹھے نوجوان نے ہاتھ سے سیڑھیوں کی جانب اشارہ کردیا اور پھر اپنے موبائل فون کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اس نے دوبارہ پوچھا ’’سر! اُوپر کون صاحب ہیں جو یہ کام کریں گے؟‘‘ اس مرتبہ نوجوان نے بُرا سامنہ بناتے ہوئے کہا ’’اوپر جا کر کسی سے پوچھ لینا!‘‘ اوپری منزل پر بھی رش لگاہوا تھا، جس بابو نے اس کا کام کرنا تھا اس کے اردگرد لوگ مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہے تھے، بڑی مشکل سے وہ ’’جانوروں‘‘ کی بھیڑ چیرتا ہوا اس تک پہنچا اور اپنا بل اس کے آگے کردیا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ بابو نے شعلہ اگلتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’سر، یہ میرا بل ہے، اس ماہ بہت زیادہ یونٹ ڈال دیئے گئے ہیں، میٹر ریڈنگ تو آج بھی یہاں تک نہیں پہنچی جتنی پندرہ دن پہلے اس بل میں درج کی گئی ہے، پلیز اسے ٹھیک کردیں!‘‘ بابو نے بل اس کے منہ پر مارا اور بولا’’دیکھ نہیں رہے پہلے سے کتنے لوگ لائن میں لگے ہیں، ویسے بھی اب دفتر کا وقت ختم ہونے والا ہے۔، تم کل آنا!‘‘ اس نے جواب میں کچھ کہنے کی کوشش مگر قطار میں کھڑے ’’جانوروں‘‘ نے یوں پیچھے دھکیلا کہ وہ بمشکل گرتے گرتے بچا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں باقی لوگوں نے اس کی یہ درگت بنتے تو نہیں دیکھی، پرے کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی ایک خاتون اس کی حالت دیکھ کر ہنس رہی تھی، اسے لگا جیسے بیچ بازار میں کسی نے اس کے کپڑے اُتار دیئے ہوں۔ ’’کاش میرے پاس کوئی مشین گن ہوتی،‘‘ اس نے دل میں سوچا،’’تو میں ابھی ان جانوروں کا قتلِ عام کردیتا‘‘
سورج غروب ہونے میں ابھی کافی وقت تھا، وہ چاہتا تو اپنے ایک دو کام نمٹا سکتا تھا مگر اس نے ارادہ بدل دیا ’’مجھے مزید ان جانوروں کے منہ نہیں لگنا چاہئے!‘‘ اس نے سوچا۔ گھر واپسی کا سفر بھی بس میں طے ہو، وہی منحوس صورت لوگ، بیزار چہرے، جانوروں جیسی شکلیں۔ اچانک اس کی نگاہ بس میں لگے چھوٹے سے آئینے پر پڑی، اس کے چہرے کا عکس آئینے میں نظر آرہا تھا یکدم وہ گھبرا گیا اسے لگا جیسے وہ بھی انہی ’’جانوروں‘‘ جیسا ایک ’جانور‘ ہے، اسے اپنی شکل پر بھی وہی وحشت، ویسی ہی جنونیت اور ویسی ہی نحوست نظر آئی، اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا گویا یقین کررہا ہو کہ یہ اسی کا چہرہ ہے جو آئینے میں نظر آرہا ہے، یقیناً یہ اُسی کا چہرہ تھا’’تو کیا میں بھی اسی طرح کا ایک جانور ہوٖں؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا ’’نہیں، یہ میرا وہم ہے، میں ان کی طرح نہیں ہوسکتا۔‘‘ یہی سوچتے ہوئے اس کی منزل آگئی، اس نے اردگرد کھڑے ’’جانوروں‘‘ کو دھکیلتے ہوئے اپنا راستہ بنایاا ور بس سے اُتر گیا۔


بس سٹاپ سے گھر تک کا راستہ چند منٹ سے زیادہ کا نہیں تھا، ایک جگہ رُک کر اس نے کھوکھے سے چائے پی اور سگریٹ کی ڈبی خریدی، سگریٹ سلگاتے ہوئے یکدم اسے خیال آیا، اس نے تیز تیز قدموں سے چلنا شروع کردیا، اپنے گھر سے ذرا پہلے دو گلیاں چھوڑ کر ایک چھوٹے سے گھر کے دروازے پر وہ رُک گیا، ادھر اُدھر دیکھا گلی میں کوئی نہیں تھا، اس نے گھڑی پر نظر ڈالی’’ابھی بہت وقت ہے‘‘ اس نے سوچا اور دروازے پر لگی گھنٹی بجا دی۔ ایک نو عمر لڑکی نے ’’کون ہے؟‘‘ کہتے ہوئے دروازہ کھولا ، اسے دیکھتے ہی گھبرا سی گئی’’ابا گھر پر نہیں ہیں، آپ شام کو آئیں‘‘ کہہ کر اس نے دوازہ بندکرنا چاہا مگر اتنی دیر میں وہ دروازہ کو دھکیل کر اندر داخل ہوچکا تھا، قریب تھا کہ لڑکی کی چیخ نکل جاتی اس نے لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، کچھ دیر وہ بے بس مچھلی کی طرح تڑپتی رہی پھر بے دم ہوگئی، اس نے خوفزدہ ہو کر ہاتھ اس کے منہ سے ہٹا دیا، لڑکی بے ہوش ہو چکی تھی، اس نے افراتفری کے عالم میں لڑکی کو وہیں چھوڑ ا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آیا، گلی اب بھی سنسان تھی، اس نے سُکھ کا سانس لیا اور فوراً دوسری گلی میں مُڑ گیا۔


مغرب کا وقت تھا، لوگ مسجد سے نماز اداکرکے نکل رہے تھے، وہ بھی انہی میں شامل ہوگیا، اچانک کہیں سے شور بلند ہوا ’’پکڑو، پکڑو۔۔۔ جانے نہ پائے۔۔۔ چورچور۔۔۔ ڈاکووو۔۔۔ پکڑو، پکڑو‘‘ اس کی سانس خشک ہوگئی، اسے لگا کہ اس کا ہارٹ فیل ہو جائے گا، لیکن پھر اس کی جان میں جان آئی ، لوگ کسی اور کے پیچھے تھے، یہ پچیس چھبیس سال کا ایک نوجوان تھا، لوگوں نے اسے بری طرح دبوچ رکھا تھا ’’ یہ میرا موبائل چھین کر بھاگ رہا تھا‘‘ کسی نے مجمعے میں سے کہا۔ ’’ہاں، میں اسے پہچانتا ہوں،کل میری دکان پر بھی اس نے ڈکیتی کی تھی۔‘‘ ایک اور شخص بولا، ’’مارو خبیث کو‘‘ ایک آواز آئی۔ پھر کیا تھا، لوگوں نے اس نوجوان کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ مارنے والوں میں وہ بھی شامل ہوگیا، اس نے نوجوان کی آنکھ پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کی آنکھ خون سے سرخ ہوگئی، کسی نے اس کے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا دیا، اس نے نوجوان کو الٹا لٹکایا اور اس کی کمر پر ڈنڈے برسانے شروع کردیئے، نوجوان کی چیخیں پہلے بلند ہوئیں اس کے بعد معدوم ہوتی چلی گئیں۔ آخری چیخ سننے کے بعد اس نے ڈنڈا پرے پھینکا اور ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے بڑبڑایا’’جانور کہیں کا!‘‘

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
19
September

تحریر: حفصہ ریحان

پاکستان میں دہشت گردی کے پس منظر میں لکھا گیا ناول

گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے کیونکہ وہ گھر گیاہی نہیں ہوتا۔
پانچ سالہ شہیر فون پراپنے والدسے ناراضگی کا اظہارکرتاہے کہ وہ ان سے ملنے نہیں آتے۔ وہ جواب میں اپنے معصوم بیٹے کے گلے شکوے ختم کرنے کے لئے وہ بہت جلدآنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ دراصل شہیر کے والد میجر شاہنواز آرمی میں ہیں اور اُن کی ڈیوٹی ان دنوں افغان بارڈر پر ہے۔
نوسالہ عمران بھی اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔
مدرسے میں بجنے والی گھنٹی کی آواز مجاہد کو سوچوں کی دنیاسے نکال کرحقیقت کی دنیا میں لے آتی ہے۔وہ دنیا جہاں انتہائی درجے کی تلخی ہے۔۔۔۔۔۔!

سفیرعلی کواللہ نے چاراولادیں دی تھیں۔ سب سے بڑی صبیحہ، اس کے چارسال بعدوجیہہ پھردو سال بعدہاشم اوراس کے ڈیڑھ سال بعدملیحہ۔
شیرعلی کواللہ نے دوبیٹوں سے نوازاتھا۔بڑاصارم اورساڑھے چارسال بعدریحان۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں مزیداولادنہیں دی۔
شیرعلی کی شادی کے چارسال بعددونوں بھائیوں نے رقم جمع کی اورمشترکہ طورپرشہر پشاورمیں گھر کے لئے ایک پلاٹ لیااورا س پر اچھاساگھربنالیا۔ نیچے والے پورشن میں شیرعلی اپنے بیوی بچوں سمیت رہنے لگااوراوپروالاپورشن کرائے پرچڑھادیاگیا۔
سفیرعلی باہررہتے ہوئے بھی اپنے بھائی اوروطن سے اتنی ہی محبت کرتاتھا۔ ہرسال دوسال بعدوہ اپنے بیوی بچوں سمیت مہینہ ڈیڑھ مہینہ پاکستان گزارنے آتا۔ اس عرصے میں یہ گھر خوشیوں کاگہوارہ ہوتا۔ سارے بچے بھی بہت خوش ہوتے اوربھائی توآپس میں اتنے خوش ہوتے جیسے مدتوں بعدمل رہے ہوں۔
شادی کے تقریباًپندرہ سال بعدجب صارم ابھی چودہ سال کاتھااورنویں جماعت میں پڑھ رہاتھا، ایک دن باپ کے دفترسے اس کے گھرپرفون آیاکہ شیرعلی کودل کادورہ پڑگیاہے اور انہیں ہسپتال لے جایا گیاہے۔وہ اپنی ماں کولے کر بھاگا بھاگا ہسپتال پہنچا۔ اس کے باپ کے دوست بھی وہاں موجود تھے۔اس کا باپ آئی سی یو میں تھا۔ وارڈ کے باہر وہ اور اس کی ماں روروکراللہ سے شیرعلی کی صحت کی دعائیں مانگتے رہے اوراندرڈاکٹراپنی کوششیں کرتے رہے لیکن فرشتہ اللہ کی طرف سے کچھ اورذمہ داری لے کرآیاتھا۔
اورپھرچارگھنٹے کے طویل اورجان لیواانتظارکے بعدانہیں وہ خبرسنادی گئی جس کوسننے کے لئے نہ کان تیارتھے اورنہ ہی روح راضی تھی۔
شیرعلی کی تدفین پرسفیراورغزالہ اپنے چاروں بچوں سمیت آئے تھے۔ ڈیڑھ مہینہ یہاں رہے اورپھرچلے گئے۔حیدراورغزالہ کادل بالکل نہیں کررہاتھازبیدہ اوردوبچوں کوچھوڑ کرجائیں لیکن وہاں کاروبارکامسئلہ تھاسوانہیں جاناہی پڑا۔لیکن انہیں تھوڑاسااطمینان صارم کی طرف سے تھاکہ اس چودہ سالہ بچے نے جس طرح اپنے آپ کومضبوط بناکراپنی ماں کے حوصلوں کوبڑھایاتھاوہ باعثِ اطمینان تھا۔
آپ نے بلایا؟؟ وجیہہ ریلنگ کے پاس آ کرآہستہ آوازمیں بولی۔ اس کی آواز صارم کو سوچوں کی دنیا سے واپس کھینچ لائی۔
وہ کچھ دیروجیہہ کی طرف دیکھتارہا۔۔ہمیشہ سنجیدگی کی دبیزچادراوڑھے کیپٹن صارم شیرعلی کے چہرے پرمسکراہٹوں ہی کے بسیرے تھے آج۔۔۔۔
’’ہاں بلایا توتھا۔۔۔۔لیکن تم نے آنے میں اتنی دیرکردی کہ میں نے ایک باراپنی گزشتہ زندگی کوچھان ماراہے اوربھول گیاہوں کہ تم سے کیاکہناتھا۔وہ اس کی طرف دیکھتے مسکرارہاتھا۔ وہ سمٹ گئی۔ بھلاصارم بھی کبھی ایسے مسکراسکتاہے۔ وہ سوچتی رہی لیکن کچھ بولی نہیں۔
’’وجیہہ تم مجھ سے اتنی دوردورکیوں رہتی ہو؟؟‘‘
وجیہہ نے ایک لمحے کوحیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔یہ کیساسوال تھا۔؟؟
’’ میرامطلب ہے کہ ریحان کے ساتھ تمہاری اچھی دوستی ہے لیکن مجھ سے تم ہمیشہ اکھڑی اکھڑی رہتی ہو۔۔‘‘ اس نے اپنی بات کی وضاحت دی۔
’’ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔‘‘ وہ بدستورنیچے دیکھتی رہی۔
’’ یہ نکاح واقعی تمہاری مرضی سے ہواہے نا؟؟؟‘‘
وہ ایک بارپھراس کی طرف حیرانی سے دیکھنے لگی۔یہ بھی کچھ عجیب ساسوال تھا۔وہ خاموش رہی۔
’’ وجیہہ مجھے امی نے کہاتھاکہ تم سے رشتے کے بارے میں رضامندی لی گئی ہے اورتمہیں کوئی اعترض نہیں ہے لیکن میں ایک بارخودتم سے پوچھناچاہتاتھا۔وہ اس لئے اول تومیرااور تمہاراسامنا کم ہی ہواہے اورجب ہوابھی ہے توکبھی تم نے سلام سے آگے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔جب ہم سب گھروالے ایک ساتھ بیٹھے ہوتے تھے تب بھی تم اکثرمجھے اگنور کررہی ہوتی تھی۔اکثرمیری طرف سے رخ موڑکربیٹھ جاتی۔ایسی ہی باتوں کے بعدمجھے لگاکہ تم شایدمجھے پسندنہیں کرتی۔ میں تمھیں پسندکرتاتھااورکرتاہوں۔ تب سے کرتاہوں جب ہم چھوٹے تھے اورتم لوگ تایا، تائی کے ساتھ یہاں چھٹیوں میں آیاکرتے تھے۔تمھیں یادہے نا! جب ابواورتایاگاؤں جاتے تھے توتم بہت رویاکرتی تھی اورتب میں تمہیں قریبی پارک میں اپنی سائیکل پرلے جایاکرتاتھااورتمہیں وہاں جھولے دیاکرتاتھا۔ میری پسندیدگی تب کی ہے لیکن جب سے تم لوگ یہاں آئے ہو تمہارے رویّے سے مجھے لگتارہاکہ تم مجھے کچھ خاص پسند نہیں کرتی۔جب امی نے مجھے تمہاری رضامندی کے بارے میں بتایاتومجھے لگاتم سے پوچھے بغیرتایا، تائی نے ہاں کردی ہوگی اس لئے میں نے امی سے ضدکی کہ میں تم سے ملناچاہتاہوں اورخود ایک بار پوچھنا چاہتا ہوں تم سے لیکن تایانے ایسی کسی بات سے منع کردیاتھامجھے۔وہ کہہ رہے تھے کہ سب کچھ تمہاری رضامندی سے ہورہاہے اورویسے بھی اس بات کایقین تومجھے اس لئے بھی تھاکہ تایاتم لوگوں سے اتناپیارکرتے ہیں وہ زبردستی تونہیں کریں گے تمہارے ساتھ لیکن پھربھی مجھے لگ رہاتھاکہ تم مجھے پسندنہیں کرتی تو۔۔۔۔‘‘
’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھ سے مرضی پوچھی گئی تھی۔‘‘ وجیہہ نے اس کی بات کاٹ کرکہا۔
’’ اورتمہاری رضاسے ہواہمارانکاح؟؟‘‘
’’ جی۔۔‘‘یک لفظی جواب آیا۔ صارم کے چہرے پرمسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔ اس نے ایک گہری سانس لی جیسے اس کے دل سے کوئی بوجھ ہٹ گیاہو۔ مسکراتا تووہ اکثرتھااور اس کی مسکراہٹ ہمیشہ اچھی بھی لگتی تھی لیکن آج مسکان کے ساتھ خوشی بھی جھلک رہی تھی۔
’’ پھرمیرے ساتھ ایسارویہ کیوں رکھتی تھی کہ مجھے لگتارہاکہ میں تمہیں ناپسند ہوں؟؟‘‘
’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے بس آپ ہروقت سنجیدہ سے رہتے تھے اورباتیں بھی اتنی کم کرتے ہیں کہ میں آپ سے کیسے بات کرتی۔ریحان توبہت باتیں کرتاہے بچپن سے ہی اس لئے اس کے ساتھ کافی دوستی ہے۔‘‘ اس نے اپنے رویے کی وضاحت دی جوصارم کوپریشان کررہاتھا۔
’’ باتیں کم کرتاہوں تواس کایہ مطلب تونہیں کہ مجھے اگنورہی کردیاجائے اوریاپھر میں کسی کوپسندنہیں کرسکتا۔ ‘‘
’’پسند؟؟؟؟ ‘‘وہ حیران ہوئی
’’ہاں پسند۔۔۔بلکہ صرف پسند نہیں شدید پسند یاپھر۔۔۔‘‘وہ مسکرایا۔۔
’’ آپ نے کبھی بتایانہیں۔‘‘ وجیہہ حیران ہورہی تھی۔
’’ صرف تمہیں نہیں بتایا۔امی جانتی تھیں اورانہوں نے تایا،تائی کوبھی بتایاتھا۔ ریحان بھی اکثرتمہارے حوالے سے تنگ کرتاتھامجھے۔ اورتایاسے توامی نے تب بات کی تھی جب تم لوگ یہاں شفٹ بھی نہیں ہوئے تھے۔ لیکن وہ بات کچھ زیادہ اہم بات نہیں تھی۔امی جانتی تھیں کہ میں تمہیں پسندکرتاہوں لیکن میں نے انہیں منع کیاتھاکہ کسی سے اس حوالے سے بات نہ کریں۔ اگرتایاسے بات کرنی بھی ہے تووہ یہی کردیں کہ جب تمہاری شادی کے لئے سوچاجائے اوراگرتم تایا،تائی کی مرضی سے کرنا چاہوتومیرے حوالے سے بھی سوچاجائے۔ایسامیں نے اس لئے کہا تھاکہ اگرتم کسی کوپسندکروتوپھرمیرے رشتے کوچھوڑکرتمہاری مرضی کو دیکھا جائے۔ وجیہہ میں تمہیں پسندکرتاہوں اورجب بھی گزشتہ زندگی میں اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچاتوصرف تمہارے حوالے سے سوچالیکن اس کایہ مطلب نہیں تھاکہ تم پرمجھے مسلط کردیا جائے۔ تمہاری خوشی زیادہ اہم تھی۔۔۔‘‘ ہمیشہ اپنی زندگی میں مگن رہنے والاصارم شیرعلی آج برملا اپنی پسند کا اظہار کر رہا تھا اور وہ دل کے کانوں سے سن رہی تھی۔وہ مردتھاتوبرملاکہہ رہا تھا وہ تولڑکی تھی کیسے بتاتی کہ اس کے احترازاورگریز کی وجہ صارم کے لئے اس کی پسندیدگی تھی۔ سنجیدگی کے خول میں لپٹاصارم کب اس کے دل میں اترگیاتھااسے پتابھی نہیں چلا تھا۔ اس نے توکبھی زیادہ باتیں بھی نہیں کی تھیں اس سے۔اورپھروہ اس کی طرف سے صرف’منہ‘ موڑکربیٹھتی تھی ’کان‘ تواس کی آوازپرہی ہوتے تھے اوراس کی پسنداتنی پرانی نہیں تھی جتنی صارم کی تھی۔ دوسال پہلے ہی سفیر علی اپناکاروباروہاں سے ختم کرکے پاکستان واپس آگئے تھے اوراسی گھرمیں اوپروالے پورشن میں رہنے لگے تھے۔ صبیحہ کی شادی توانہوں نے پہلے ہی اپنے دوست کے بیٹے سے کر دی تھی۔
*******
’’اَبو۔۔۔۔۔
اَمی۔۔۔۔۔
نعمان۔۔۔۔
شالو۔۔۔۔۔
اس کی چیخ وپکارپرباورچی خانے میں مصروف شاہدہ اوردونوں بچے نعمان اورشائلہ، بھاگتے ہوئے برآمدے میں آئے۔وہ سب جانتے تھے کہ آج اس کا آٹھویں کے اِمتحان کانتیجہ آناتھا۔
’’کیاہوابیٹانتیجہ کیساآیا؟؟‘‘ ماں نے جلدی سے پوچھا۔
جواب میں اس نے کچھ کہنے کے بجائے بھاگ کرماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
اورشاہدہ سمجھ گئی کہ اس کافیصل آج پھراسے سُرخرو کر گیاہے۔اس کی آنکھوں میں پانی کے قطرے جھلملانے لگے جِسے اس نے روکنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ خوشی کے آنسو ہی توتھے۔
وہ ایساہی تھا۔ہرخوشی کے موقعے پرکچھ کہے بغیربھاگ کرماں کے گلے میں بانہیں ڈال لیتا تھا۔آج بھی اس نے یہی کیا۔ماں سمجھ گئی تھی۔
’’بھیااب بتابھی دیں کہ رزلٹ کیساآیاآپ کا؟؟؟‘‘
ننھی شائلہ نے معصوم آواز میں پوچھا۔
’’ارے شالوتمہارابھیافرسٹ آیاہے۔۔‘‘ فیصل نے اسے اٹھاکرگول گول گھماتے ہوئے کہا۔
’’لوجی۔تواس میں کونسی نئی بات ہے؟؟ آپ توروزہی فرسٹ آتے ہیں۔‘‘نعمان منہ بناتے ہوئے بولا۔
’’لیکن امی! بھیاتوفرسٹ آئے ہیں پھرآپ روکیوں رہی ہیں؟‘‘ ننھی شائلہ حیران ہوئی تھی کیوں کہ آج تک اس نے کسی کوفرسٹ آنے پرروتے ہوئے نہیں دیکھاتھا۔
’’ا چھاتم دونوں جاؤاندر۔کھیلوجاکے۔‘‘ فیصل نے ان دونوں کواندربھیج دیا کیونکہ اس کے یاشاہدہ دونوں میں سے کسی کے پاس ان کے سوالوں کاجواب نہیں تھا۔ کیونکہ سات سالہ نعمان اور پانچ سالہ شائلہ خوشی کے آنسونہیں جانتے تھے۔
’’شائلہ مجھے لگتاہے کہ بھیانے ہم سے جھوٹ بولاکہ وہ فرسٹ آئے ہیں اگر وہ فرسٹ آتے توامی کیاایسے روتیں؟؟‘‘سات سالہ نعمان نے جیمزبانڈ فلموں کے ہیروکی طرح گول گول آنکھیں اِدھرادھر گھماتے ہوئے مشکوکانہ اندازمیں کہا۔
’’ہاں مجھے بھی لگتا ہے کہ بھیافیل ہوگئے ہیں اِسی لئے امی رورہی تھیں‘‘۔۔ شائلہ اپنی سمجھ کے مطابق دورکی کوڑی لائی تھی۔
’’بس پھرتومزاآئے گا۔آج ابوآکربھیاکوبھی پیٹیں گے۔۔۔ جیسے مجھے روزمارتے ہیں۔‘‘نعمان خوش ہوتے ہوئے بولا۔
’’لیکن تم توسکول نہیں جاتے نا!اِس لئے تمہیں مارپڑتی ہے ابوسے۔ بھیاتو روزسکول جاتے ہیں۔‘‘
شائلہ کواپنے بھیاکے بارے میں نعمان کی بات بری لگی تھی اوراحتجاجاًاس نے کھیلنابندکر دیا تھااس کے ساتھ۔
اورچھوٹانعمان اِس بات پردِل ہی دِل میں خوش تھاکہ بھیابھی آج ابوسے مارکھائے گا۔
********
’’مجاہداللہ۔۔۔۔۔۔۔
مجاہد۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
حمزہ نے اسے ہلایا۔وہ جواتنی دیرسے سوچوں میں مگن تھاایک دم سے جاگ اُٹھا۔
’’آں!!۔۔۔ہاں کیاہوا؟؟؟ ‘‘
’’مجھے توکچھ نہیں ہوالیکن تمہیں ضرورکچھ بڑاہوگیاہے۔اتنی دیرسے ناشتہ تمہارے سامنے پڑا ہے اورپڑے پڑے ٹھنڈابھی ہوگیاہے اورتم ہوکہ پتانہیں کہاں گم ہو۔۔۔۔‘‘
’’ نہیں کچھ نہیں۔۔میں کرتاہوں ناشتہ۔۔۔اوروہ ناشتہ کرنے لگا۔‘‘
’’مجاہد۔۔۔۔۔‘‘ اس نے آہستہ سے اسے پکارا۔وہ سراٹھاکراس کی طرف دیکھنے لگا
’’ تم ٹھیک ہو؟؟؟‘‘
’’ ہاں میں ٹھیک ہوں۔بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’ اچھاٹھیک ہے۔‘‘
حمزہ کمرے سے باہرنکل گیااوروہ ناشتہ کرتے ہوئے ایک بارپھرسوچنے لگا۔
حمزہ کے منہ سے نکلنے والانام 146146مجاہد145145 اس کی دماغ میں تیرکی طرح لگاتھا۔۔۔

’’ظفرکے ابا!‘‘رات سونے کے لئے لیٹتے ہوئے جمیلہ نے فضل سے کہا۔
’’ہوں۔۔۔۔۔‘‘
’’بچے کانام کیارکھیں گے ؟؟؟‘‘
’’جوتمہاری مرضی ہو۔‘‘مختصرساجواب آیا۔
’’لیکن پہلے بچوں کے نام توتم نے رکھے ہیں۔‘‘
’’توٹھیک ہے اس بچے کانام تم رکھ لو۔ویسے کچھ سوچاہے تم نے ؟؟؟‘‘ وہ الٹااسی سے پوچھ بیٹھا تھا۔
’’ ظفرکے ابا۔مجھے تورحمت اللہ نام بہت پسندہے۔‘‘
’’ھم م م م۔۔۔۔۔۔ اچھاہے۔‘‘ فضل کاجواب ایک بارپھرمختصرساتھا۔
’’ ہم نے اللہ سے بیٹی کی دعاکی تھی کہ وہ ہمیں بیٹی دے دے ،اپنی رحمت دے دے ہمیں لیکن اللہ نے ہمیں اگربیٹادے دیاہے توہمیں اس کاشکراداکرنا چاہئے۔‘‘
’’ہاں ظاہر ہے۔۔۔ بڑاشکرہے اس ذات کا۔‘‘
’’اب اللہ، ان شاء اللہ اسی بچے کوہمارے لئے رحمت بنائے گا۔‘‘
’’ان شاء اللہ۔۔۔۔۔‘‘ایک بارپھرمختصرجواب تھا۔
’’ بچے بھی توبہت خوش ہیں چھوٹے کودیکھ کر۔‘‘جمیلہ کااشارہ ان دونوں کے باقی چاربچوں کی طرف تھاجواس وقت دوسرے کمرے میں سورہے تھے۔
’’بس ٹھیک ہے ہمارے بیٹے کانام رحمت اللہ ہے۔۔‘‘جمیلہ نے مسرت سے بچے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ ٹھیک ہے۔‘‘فضل نے بھی تائیدکی۔۔۔
اوریوں اس کانام رحمت اللہ رکھ دیاگیا۔۔
********
تمھارا نام کیاہے ؟؟؟؟؟
سیف اللہ ۔۔۔۔۔۔ اور تمھارا؟؟؟؟؟؟
مجاہداللہ۔۔۔۔
کب سے ہویہاں پر؟؟؟؟؟ اس نے پھر پوچھا۔۔
پچھلے دومہینے سے ۔ وہ مختصرسے جواب دیتا رہا۔
اچھا۔دراصل مجھے بھی تمھارے ساتھ اسی کمرے میں رہناہے ۔منتظم نے مجھے اسی کمرے کا کہا ہے ۔
تو ٹھیک ہے نا۔رکھو اپنا سامان اورجب چارپائی آجائے تولے لینا۔وہ تو بہت غصے میں لگ رہا تھاپتا نہیں کیوں۔
اورکتنے لوگ ہیں اس کمرے میں؟؟؟؟ اس نے پھر پوچھا۔
تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھم م م م۔۔تو مطلب چار لوگوں کے ساتھ رہناپڑے گا۔خیر کوئی بات نہیں کچھ نہ کچھ ہوہی جائے گا۔اس نے اپنے ساتھ ہی سرگوشی کی۔
مجھ سے کچھ کہا؟؟؟؟؟ سیف اللہ نے سراٹھا کرپوچھا۔وہ ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔
نہیں نہیں۔۔کچھ بھی نہیں کہا۔میں تمھارے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں جب تک میری چارپائی نہیں آجاتی۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
سیف اللہ نے کچھ کہنے کے بجائے اپنے پھیلے ہوئے پیرسکیڑ لئے ۔اس کا مطلب تھا کہ اسے بیٹھنے کی اجازت مل گئی ۔
وہ کچھ کہے بغیرچارپائی پر پائینتی کی طرف بیٹھ گیااورانتظار کرنے لگا کہ کب منتظم آکراسے چارپائی لانے کے لئے بلاتا ہے ۔اسے کہا گیاتھا کہ اس کے لئے چارپائی کا انتظام کیاجارہاہے اور کچھ ہی دیر میں اسے اطلاع کر دی جائے گی۔پھروہ آکرچارپائی اپنے کمرے میں لے جائے ۔اسے سب سے پہلاسبق یہ دیا گیا کہ یہاں پراسے اپنے سارے کام خودکرنے پڑیں گے ۔وہ کسی سے کوئی مدد نہیں مانگے گا۔
وہ جہاں سے آیا تھا یہی سب اس نے وہاں بھی سیکھا تھا اوراب تک اسے جن قوائد و قوانین کے بارے میں بتایا گیا وہ اس کے لئے نئے نہیں تھے ۔اپنے سارے کام وہ پہلے ہی سے خود کرنے کا قائل تھا۔اورکسی بھی کام کے لئے سہارا لینے کابھی وہ قائل نہیں تھا۔وہ اُنیس سال کاجوان لڑکا تھا۔ اپنے آپ کوخوب اچھی طرح سنبھال سکتا تھا۔صحت کے لحاظ سے بھی وہ ایک بھرپورجوان تھا۔
اس کے انتظارکاعرصہ زیادہ طویل ثابت نہ ہوا۔تقریباً دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ منتظم نے آکراسے بتایاکہ وہ اپنے لئے چارپائی لے آئے ۔ان دس منٹ کے اندراندر وہ سارے کمرے کا ایک بھرپورجائزہ لے چکاتھااورفیصلہ کرچکا تھا کہ اسے اپنی چارپائی کہاں رکھنی ہے ۔وہ اٹھ کر منتظم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا جواسے عمارت کے پیچھے سے گھماتا ہوا ایک بڑے اورخالی کمرے میں لے آیا۔ وہاں پرکچھ چارپائیاں پڑی تھیں۔
ان میں سے ایک لے جاؤ اپنے کمرے میں۔ منتظم نے کہا۔
وہ چپ چاپ آگے بڑھا اور ایک چارپائی کو سیدھا کرکے اٹھایا اوراپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گیا۔۔
کھانے کے وقت آجانااورسکون سے رہنااپنے کمرے میں۔کوئی جھگڑا نہیں ہوناچاہئے اور یہ بھی یاد رکھو کہ بڑے مولانا صاحب آپس میں لڑائی جھگڑے کوسخت ناپسند کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
نا ول ’دام لہو‘ کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میں زمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
19
September

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

kanadammainpakfesty.jpgقیامِ پاکستان کو پورے ستّر سال ہوگئے، الحمدﷲ اس طویل عرصے میں مادرِ وطن نے مشکلات کے باجود ترقی کا سفر جاری رکھا۔ ان 70 برسوں میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، کئی جنگیں ہم پر مسلط کی گئیں، مگر بفضلِ خدا ہم ہر مصیبت سے نہایت ہمت سے نبرد آزما ہوئے، پوری قوم آزمائش کی ہرگھڑی میں متحد ہو کر امتحان میں کامران ہوئی۔ افواجِ پاکستان کی بے مثال قربانیوں اور محبِ وطن پاکستانیوں کی قابلِ قدر کاوشوں سے وطنِ عزیز اب ترقی و کامرانی کی ایسی راہ پر گامزن ہے کہ ان شاء اﷲ آنے والے برسوں میں پاکستان کا شمار ترقی پذیر کے بجائے ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔
وطن سے محبت یوں تو ہر پاکستانی کے دل میں ہوتی ہے مگر وہ پاکستانی جو دیارِ غیر میں ہوں ، جو مادرِ وطن سے دور ہوں، اُن کو اپنے ملک کی یاد زیادہ آتی ہے، خاص طورپر قومی نوعیت کے حامل اہم تہواروں ۔۔۔پر، یومِ پاکستان پر، یومِ آزادی پر اور یومِ دفاع پر۔ پاکستان کی محبت دل میں یوں موجزن ہوتی ہے کہ بس بیان سے باہرہے ۔


ان ایام میں پاکستان میں تو سبھی خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں مگر ملک سے باہر رہنے والوں کو شدت سے اپنے پاکستانی ہونے، وطن سے محبت ہونے اور وطن سے دور ہونے کا احساس ہوتا ہے۔
ہر سال کی طرح امسال بھی 14اگست یعنی یومِ آزادی پاکستان ونکوورمیں نہایت جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس حوالے سے کئی تقریبات ہوئیں جن میں سرفہرست پاکستان فیسٹول اور ونکوور میں پاکستان کے قونصل جنرل محمدطارق کی رہائش گاہ پر ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب تھی۔اس روز موسم اچھا تھا، دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ویسے کینیڈا میں یہ بات بھی خوب ہے کہ جب دھوپ نکلی ہو تو کہتے ہیں موسم اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں بادل چھائے ہوں، یعنی مطلع ابرآلودہو، تو کہتے ہیں موسم اچھا ہے۔ ہم اپنے ٹی وی شو ’دل اپنا پاکستان‘ کی ٹیم کے ہمراہ وقتِ مقررہ سے پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔ دراصل تقریب کا دورانیہ کم ہوتا ہے لہٰذا اکثر لوگ وقت سے پہلے پہنچتے ہیں۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد صدرِ پاکستان اور وزیرِاعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ یہ پیغامات انگریزی میں تھے اور تقریب کی کارروائی بھی گزشتہ سال کی طرح انگریزی میں ہی ہوئی۔ پیغامات کے بعد قونصل جنرل کی تقریر ہوئی اور کینیڈا میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سلمیٰ جان نے بھی خطاب کیا۔ اس کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا جس کے دوران پرچم کشائی ہوئی ۔ اس موقع پر کیک بھی کاٹا گیا اور مہمانوں کی تواضع پر تکلف طعام سے کی گئی۔


اب ذرا کچھ پاکستان کے فیسٹیول کی بات ہوجائے۔ بہت ہی شاندار طریقے سے پاکستان فیسیٹول ونکوور کے ڈاؤن ٹاؤن جیک پول پلازہ پر منایا گیا۔ ایک تو بہت ہی حسین لوکیشن یعنی پہاڑ، سمندر، چمکتی ہوئی بلندو بالا عمارات اورپھر علاقہ انتہائی بارونق، پورے ونکوور کے سیاحوں کا مرکز ، واٹرفرنٹ، پاکستان فیسٹیول کے دلچسپ سیگمنٹ ، لوگوں کی چہل پہل نے ایساماحوال بنا دیا کہ بس کیا کہنے، سمجھئے واقعی مزا آگیا۔
طرح طرح کے عمدہ پاکستانی کھانوں کے اسٹال، پاکستانی ملبوسات اور دستکاری کے اسٹال، بچوں کے کھیلنے کے لئے احاطہ، پاکستانی پرچم کے رنگ کے لباس پہنے مرد و خواتین، اسٹیج پر بچوں کی پرفامنس، فیشن شو اور موسیقی نے وہ مسحور کن اور یادگار سماں باندھا کہ اس فیسٹیول کی سنہری یاد ہمیشہ ذہن و دل میں تازہ رہے گی۔ فیسٹیول کی کامیابی پوری پاکستانی کمیونٹی کی کامیابی ہے، جس خوبی سے پاکستانی فن و ثقافت کو پاکستان فیسٹیول کے ذریعے اُجاگر کیا گیا وہ قابلِ ستائش ہے۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد

مضمون نگار مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 11 times
صحرائی نباتات کے بیج کا فضائی بکھیر
newssehrainibatat.jpg

بہاولپور سے 30 کلومیٹر مشرق میں پاکستان کا انتہائی خوبصورت صحرا واقع ہے۔ اِس کا رقبہ سندھ کے تھر کو چھوتا ہوا بھارت کے علاقے تک پھیلا ہوا ہے اور صحرائے چولستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔
چولستان اپنی رنگارنگ ثقافت اور طرح طرح کی جنگلی حیات کے باعث بہت دلکش مناظر پیش کرتا ہے۔ اِن سب مناظر کا دارومدار وہاں کی نباتات پر ہے۔


دو دہائیاں پہلے خشک سالی، مویشیوں کے چرنے اور انسانی سرگرمیوں نے چولستان کی نباتات میں بے پناہ کمی کردی تھی جو یہاں بسنے والی جنگلی حیات کے لئے نقصان کا باعث بن رہی تھی۔
ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان قدرتی وسائل کے تحفظ کا مستند ادارہ ہے۔ اِس ادارے نے مسکن اور جنگلی حیات کو زوال سے بچانے کے لئے ایک انوکھا منصوبہ تیار کیا۔ انہوں نے پاکستان آرمی کو بحالی مسکن کے لئے اپنے ساتھ شامل کرکے صحرائی نباتات کے بیج بذریعہ ہوائی جہاز فضا سے بکھیرنے کا منصوبہ شروع کیا۔ 2017ء میں اِس غیرمعمولی کام کو کرتے ہوئے پورے 20 سال ہوگئے ہیں اور اِن بیس سالوں میں 2,100 کلوگرام بیج بکھیرے جاچکے ہیں۔ یوں صحرائے چولستان میں مسکن کی حالت پہلے کی نسبت کہیں بہتر ہوچکی ہے۔


ہر سال بیج کے فضائی بکھیر کے بعد مسکن کی حالت کا وسیع جائزہ لیا جاتا ہے۔ تسلی بخش نتائج کی بنا پر یہ کام متواتر جاری ہے۔
بحالی مسکن طویل اور صبرآزما کام ہے جو ابھی اختتام کو نہیں پہنچا۔ ہمیں اُمید ہے کہ پاکستان آرمی کے مسلسل تعاون سے ہوبارہ فاؤنڈیشن اِس قومی فریضہ کو مثالی حالت کے حصول تک جاری رکھے گی۔
رپورٹ:لیفٹیننٹ کرنل اَرنسٹ شمس
(ریٹائرڈ)

19
September
Published in Hilal Urdu
Read 7 times
کور کمانڈر پشاور کا دورہ شمالی وزیرستان ایجنسی
newscorecomandepseshawar.jpgگزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے شمالی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سربن کئی ماڈل گاؤں کا افتتاح کیا۔سربن کئی ماڈل گاؤں پہنچنے پر قبائلی عمائدین نے کورکمانڈر کا استقبال کیا۔ پاکستان آرمی کی طرف سے ماڈل گاؤں بنانے پر قبائلی عمائدین نے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔ اس ماڈل گاؤں میں قبائلی بھائیوں کے لئے جرگہ ہال، مسجد ، نوجوانوں کے کھیلنے کے لئے فٹ بال گراؤنڈ، کرکٹ گراؤنڈ اور قبائلی طرز کے گھر بنائے گئے ہیں، اس موقع پر جنرل آفسیر کمانڈنگ میجر جنرل حسن اظہر حیات بھی کورکمانڈر کے ہمراہ تھے۔
 
رینجرز اور پولیس کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشن

newscorecomandepseshawar1.jpg

پاکستان رینجرز، پنجاب پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے خفیہ اطلاعات کی روشنی میں اٹک، ڈیرہ غازی خان اور لاہور میں آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں اور 20افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار کئے گئے افراد سے بھاری مقدار میں غیرقانونی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کا تعلق کالعدم جماعت تحریک طالبان سے ہے۔ برآمد کیا جانے والا اسلحہ پنجاب کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا۔
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 12 times
چائنا فرینڈ شپ سینٹر اسلام آباد میں پہلے بین الاقوامی سی پیک لاجسٹکس فورم کا انعقاد

گزشتہ دنوں این ایل سی کے زیرِ اہتمام پاک چائنا فرینڈ شپ سینٹر اسلام آباد میں پہلے بین الاقوامی سی پیک لاجسٹکس فورم کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاکستان اور چین سے تعلق رکھنے والی معروف لاجسٹکس کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز، فریٹ فارورڈرز، شپنگ، چیمبرز آف کامرس، صنعت، تاجر برادری، مالیاتی اداروں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں،اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، تھنک ٹینک، میڈیا اور دیگر شعبوں کے نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
فورم میں سی پیک تجارتی امکانات، بار برداری اور سرحدپار نقل و حرکت اور پاکستان اور چین کی لاجسٹکس صنعتوں کے مابین تعاون کا جائزہ لیاگیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے اجراء کی صورت میں علاقائی تجارت کے حجم میں متوقع اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مطلوبہ پالیسی سازی کی نشاندہی بھی کی گئی تاکہ اس اہم قومی منصوبے کے لئے مال برداری کا جدید اور پائیدار نظام وضع کیاجاسکے۔

newschinafrendshipcenter.jpg
فورم کے مہمانِ خصوصی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ تھے۔ فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج پاکستان کی تقدیر بدلنے والے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو مکمل تحفظ مہیا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے ہمارے عزم پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے جسے پاک فوج فول پروف سکیورٹی فراہم کرے گی۔ آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک منصوبے کو ہر صورت میں کامیاب بنایا جائے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ چین کا ون بیلٹ ون روڈ وژن پوری دنیا کے لئے ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ہمیں اپنے قوانین بہتر بنانا ہوں گے۔ منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لئے تمام قومی اداروں کے مابین مربوط تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ2030 تک پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا کامیاب حصول میرا خواب ہے۔ ہمیں چین کے ساتھ اپنے مثالی تعلقات پر فخر ہے جو پُرامن بقائے باہمی کے اصول، مشترکہ مفادات اور عالمی و علاقائی امور پر یکساں مؤقف پر مبنی ہیں۔پاکستان اور چین ہر گھڑی اور ہر آزمائش میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات اب ہر شعبہ ہائے زندگی کا احاطہ کئے ہوئے ہیں جس کی جھلک دونوں ریاستوں کے کاروباری طبقات اور عوامی رابطوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہمیں برادر ملک تصور کیاجاتا ہے۔


آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک، پُرامن اور خوشحال خطے کی ہماری کوششوں کا واضح ثبوت ہے۔ تقسیمی مسابقت کے بجائے خطے کے ممالک کو باہمی شرکت داری پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ مجموعی خوشحالی اور پُرامن و روشن مستقبل کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔ انہوں نے سی پیک لاجسٹکس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ این ایل سی کو مستقبل میں بھی ایسے بامقصد فورمز کا انعقاد کرتے رہنا چاہئے ۔ بعد ازاں جنرل قمر جاویدباجوہ نے فورم میں چین اور پاکستان کی معروف لاجسٹکس کمپنیوں کی طرف سے لگائے گئے اسٹالوں کا معائنہ بھی کیا۔


قبل ازیں فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل مشتاق احمد فیصل نے فورم کے اغراض و مقاصداور این ایل سی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ فورم کے انعقاد کا مقصد چین اور پاکستان کے اسٹیک ہولڈرز کو ایک ایسے پلیٹ فارم پراکٹھا کرنا ہے جہاں وہ باہمی تعاون اور مشاورت سے مستقبل کے لئے قابلِ عمل حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔ انہوں نے سی پیک منصوبے کے لاجسٹکس کے شعبے میں مواقع اورچیلنجز کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ این ایل سی، سی پیک لاجسٹکس میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔


تجارتی امکانات کے موضوع پرنسٹ سکول آف سائنسز اینڈ ہیومنیٹیز کے پرنسپل اور ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان، این آر ڈی سی چائنا کی مس شنگ بنگ اور دیگر ماہرین نے بھی اظہار خیال کیا۔
فورم میں شریک ماہرین کی متفقہ رائے یہی تھی کہ سی پیک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ایسی بامقصد نشستوں کا اہتمام لازمی ہے۔ اس سلسلے میں این ایل سی کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہئے۔ فورم میں لاجسٹکس کے نظام میں موجود مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لئے پیش کی گئی ماہرین کی تجاویز حکومت کے لئے قابلِ عمل پالیسیاں وضع کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔

(رپورٹ: سید مشتاق احمد)

19
September
Published in Hilal Urdu
Read 10 times
چھٹی آرمی پیسیز چیمپئن شپ

newschattiarmypaces.jpg

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اوکاڑہ کینٹ کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے چھٹی آرمی پیسیز چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب میں کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ اس مقابلے میں دس ٹیموں کے کل 258 کھلاڑیوں نے چیمپئن شپ کے مختلف مقابلوں میں حصہ لیا ۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس اور کھیل کے معیار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سپاہی کے لئے جسمانی طور پر چاق چوبند ہونے کا اُس کی جنگی صلاحیتوں سے گہرا تعلق ہے۔ راولپنڈی کور اس چھٹی پیسیز چیمپئن شپ کی فاتح قرار پائی جبکہ کراچی کور نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔سپاہی ظہیر شاہ مقابلے میں بہترین کھلاڑی قرار پائے جبکہ سپاہی نصیر اﷲ نے چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور کمانڈر بہاولپور کور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن بھی تقریب میں موجود تھے۔
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 11 times
مصیبت کی گھڑی میں عوام کے سنگ

افواج پاکستان کی کراچی میں امدادی سرگرمیاں

پاک فوج اور پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں نے کراچی سے بارش کے پانی کے اخراج کے لئے اپنی بھرپور خدمات انجام دیں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں پاک فوج کے جوانوں نے عوام اور سول انتظامیہ کی مددکی اور شہر کے 18 زیر آب علاقوں سے پانی نکالا۔

newskarchiflood.jpg

19
September
Published in Hilal Urdu
Read 9 times
قومی مہم برائے مینگرووزاُگاؤ کا آغاز
newsqoumimuhimmangr.jpgگزشتہ دنوں پاک بحریہ نے ’’ پاک بحریہ مینگرووز اُگاؤ مہم 2017‘‘ کا آغاز کیا۔ اس مہم کے دوران صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں دس لاکھ سے زائد مینگرووز کے پودے لگائیں جائیں گے۔ اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا
گیا۔ مہمانِ خصوصی پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے مینگرووز کا پودا لگا کرمہم کا آغاز کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے کہا کہ مینگرووزکے جنگلات میں کمی نہ صرف ہمارے ساحلی علاقوں کے حیاتیاتی ماحول کوبلکہ ساحلی مکینوں کے ذریعۂ معاش کو بھی متاثر کرتی ہے۔ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے مزید کہا کہ اس طرح کی مہمات نہ صرف مینگرووز کے جنگلات میں اضافے کا باعث ہوں گی بلکہ عوام الناس میں ان جنگلات کے بارے میں آگاہی کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گی۔ مینگرووز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے اعلان کیا کہ اس مہم کا نام بدل کر ’’قومی مہم برائے مینگرووزاُگاؤ ‘‘رکھ دیا گیا ہے۔
بحریہ ماڈل سکول یونس آباد کے پرائمری اور بوائز سیکشن کا افتتاح
newsqoumimuhimmangr1.jpg پاک بحریہ کی کاوشوں کے نتیجے میں حال ہی میں بحریہ ماڈل سکول یونس آباد کے پرائمری سیکشن اور بوائز ونگ کی تکمیل ہوئی جس کا افتتاح وزیرِ اعلی سندھ سیّد مراد علی شاہ نے کیا۔ کمانڈر کراچی رئیر ایڈمرل اطہر مختار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ بحریہ ماڈل سکول یونس آبادکے قیام کا مقصد پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیار ی تعلیم مہیا کرنا ہے ۔ یہ تعلیمی شعبے میں حکومت سندھ کے تعاون سے پاک بحریہ کی ایک اہم کاوش ہے۔ بحریہ ماڈل سکول یونس آباد میں سائنساور کمپیوٹرکی جدید لیبارٹریزقائم کی گئی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سند ھ نے کہا کہ یونس آباد جیسے علاقوں میں معیاری تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی کے باعث والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے تھے۔ بحریہ ماڈل سکول جیسے تعلیمی اداروں کے قیام میں پاک بحریہ کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ کمانڈر کراچی رئیر ایڈمرل اطہر مختار نے پاک بحریہ کی نگرانی میں بحریہ ماڈل سکول یونس آباد کی تعمیر میں تعاون پر حکومت سندھ کا شکریہ ادا کیا ۔
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 9 times
ملٹری کالج جہلم کے کیڈٹس کا دورہ آرمی ہائی آیلٹیچیوڈ سکول رٹو

newsmilitrycoljehlum.jpgملٹری کالج جہلم کاشمار پاکستان آرمی کی سب سے پرانی اور ممتاز تعلیمی درسگاہوں میں ہوتا ہے۔ 1925ء سے قائم اس درسگاہ میں طلباء کی کردار سازی کے لئے تعلیم کے علاوہ ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ہر سال موسم گرما کی تعطیلات کے دوران
(Hiking Club)
کے ممبر کیڈٹس شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کا دورہ کرتے ہیں۔
امسال ہائیکنگ کلب کے طلباء نے آرمی ہائی آیلٹیچیوڈ سکول رٹو
(Army High Altitude School Rattu)
کا دورہ کیا۔ ملٹری کالج جہلم کے کیڈٹس نے یہاں پر ماؤنٹین وارفیئر کی اہم جزئیات جیسے
Crevasse Crossing
اور
Seat Repelling
کی عملی تربیت حاصل کی۔ علاوہ ازیں طلباء نے مشہور دیوسائی کے میدان اور ہنزہ کے تاریخی قلعہ بلتت اور عطا آباد جھیل کا بھی دورہ کیا اور علاقے سے متعلق مفید معلومات حاصل کیں۔
(رپورٹ: میجر حسان جاوید)

19
September

تحریر:لیفٹیننٹ عاصمہ

(پاکستان نیوی)

ایک جانب آگ کے پھیلتے اور بلند ہوتے شعلے تھے تو دوسری طرف گولیوں کی بوچھاڑ،اسلحے بارود کی بو اور آگ کا دھواں کسی کے بھی حواس گم کرنے کے لئے کافی تھے لیکن جاوید احمدکے لئے ان میں سے کچھ بھی اہم نہ تھا،یہ سب چیزیں ان کی راہ نہیں روک سکتی تھیں۔۔۔آگ کے شعلوں سے تو ان کا 26 برس پرانا تعلق تھا اور بارود کی بو انہیں صرف یہ یاد دلاتی تھی کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں نہ صرف ان کے عزیز وطن کی حرمت کو للکارا ہے بلکہ ان کے چند ساتھیوں کی سانسیں بھی چھین لی ہیں۔۔دشمن کی نفرت اور وطن سے محبت انہیں اپنے کام سے پیچھے نہ ہٹنے دیتی تھی،وہ دشمن کو یہ باور کروانا چاہتے تھے کہ وہ کچھ بھی کر لے اس وطن کے متوالوں سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔اس مٹی کی محبت میں مخمور اس کا ہر بیٹا اس کا سپاہی بن کر اپنے خون کے آخری قطرے اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس دیس کی حفاظت کرے گا۔ 27 نومبر 1984 کو پاک بحریہ میں شمولیت اختیار کرنے والے جاوید احمد 26 برس تک پاک بحریہ میں خدمات انجام دینے کے بعد پی این ایس رضا میں متعین تھے جب 22 مئی2011 کو دہشت گردوں نے پی این ایس مہران پر شب خون مارنے کی کوشش کی۔اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے جاوید احمد لیڈنگ فائر مین بلا تاخیر اپنی ٹیم کو تیار کر کے اس کی قیادت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچے اور اپنے فرائض کی ادائیگی انتہائی دلیری سے ادا کی۔ وہ بنا کسی خوف کے آگے بڑھتے رہے اور اپنی ٹیم کے قائد ہونے کے ناتے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بھی بڑھاتے رہے۔۔ان کے الفاظ اور جذبات میں اس قدر طاقت تھی کہ ان کے ساتھی ان کی ہر صدا پر لبیک کہتے ہوئے موت کے خوف سے بے نیاز آگے بڑھتے گئے اور دشمن کی لگائی ہوئی آگ پر اپنے عزم سے قابو پاتے رہے۔

dhartikabahdar.jpg
وطن کی محبت سے سرشار جاوید احمد لیڈنگ فائر مین گولیوں کی بوچھاڑ کے باوجود اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور قوم کے قیمتی اثاثہ جات کی حفاظت کے لئے ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔اس کڑے وقت میں انہیں نہ اپنی جان کی پروا تھی نہ دہشت گردوں کا خوف ۔۔فکر تھی تو صرف یہ کہ ملک و قوم کے قیمتی اثاثوں کو نقصان نہ پہنچے کیونکہ ان اثاثوں کی بقاء ہی قوم کی بقاء کی ضمانت تھی۔دہشت گردوں کی جانب سے اندھا دھند گولیاں برسائے جانے کے باعث جاوید احمد شدید زخمی ہو گئے لیکن پھر بھی انہوں نے پیش قدمی جاری رکھی۔۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جب وہ گرے تو دوبارہ اٹھ نہ سکے ۔ان کا جسم چھلنی ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود ان کا جذبہ اور ہمت جوان تھے۔ وطن عزیز کے دفاع کی لگن ابھی بھی پوری آب و تاب سے زندہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کے لئے ہدایات دیتے رہے۔ان کی زبان پر صرف یہی الفاظ تھے کہ ’’یا اللہ مجھے ہمت عطا کر کہ میں اپنا مشن پورا کر سکوں۔‘‘ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاوید احمد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے لیکن بلا شبہ ان کے عزم اور حوصلے نے ان کے ساتھیوں میں وہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے لڑتے رہے یہاں تک کہ حملہ آور اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور پاک بحریہ کے قیمتی اثاثے محفوظ رہے۔


جاوید احمد کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک دیندار اور اللہ کی مخلوق سے محبت کرنے والے انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار شخص تھے ۔وہ حقیقی معنوں میں ایک لیڈر تھے اور ہمیشہ اپنی ٹیم کے لئے جرأت و بہادری کا عملی نمونہ بنے رہے۔ جن دنوں دہشت گردوں نے یہ بزدلانہ حملہ کیا آپ کی ترقی ہونے والی تھی لیکن قسمت نے آپ کو ایک ایسے رتبے پر فائز کر دیا جو ہر شخص کا نصیب نہیں بنتا اور جہاں تک پہنچنے کی صرف آرزو ہی دلوں میں رہ جاتی ہے۔
جاوید احمد لیڈنگ فائر مین کو ان کی شجاعت و بہادری کے اعتراف میں ستارہ شجاعت سے نوازا گیا ۔

 
19
September

تحریر: غزالہ یاسمین

6 ستمبرہماری قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس میں افواج پاکستان اور قوم کی جرات و بہادری کی ایسی داستانیں رقم ہیں جن سے آج بھی ہم اپنے ولولوں اور جذبوں کو روح تازہ بخشتے ہیں۔ یقیناًاس روزہم نے ثابت کردیا کہ پاکستان کوئی ترنوالہ نہیں اورقوم اپنی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔ ہرسال انہی ولولوں کی روشنی میں دفاع وطن کا اعادہ کرتی ہے۔ اس سال پوری قوم نے ’’ دفاع وطن بقائے وطن ‘‘کے عزم کے ساتھ یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا۔سچ بھی یہی ہے کہ جب جب زندہ قومیں اپنے دفاع کے عزم کو دہراتی ہیں، یاد کرتی ہیں تو اسی میں اس قوم کی بقا کا راز پوشیدہ ہوتا ہے۔قوم نے ملک بھر میں مختلف تقریبات میں روایتی جذبے سے اپنا یہ عزم دہرایا۔ اس سلسلے میں جنرل ہیڈ کوارٹر زراولپنڈی میں منعقد ہونے والی تقریب نقطہ عروج تھی جس نے وطن کے کونے کونے کو’’ دفاع وطن بقائے وطن‘‘ کے لازوال جذبے سے سرشار کردیا۔ تقریب میں شہدا ء اور غازیوں کو بھرپور انداز میں سلام عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کارناموں کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ردالفساد سے جو ’’نوید نو‘‘ پیدا ہوئی اس کی اہمیت اور کامیابیوں کو بیان کیا گیا۔شہداء کی شہادت اوران کے اہل خانہ اور لواحقین کے جذبات کے اظہار پر ہر آنکھ پُرنم تھی۔


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ان کے خطاب نے حاضرین اور پوری قوم کے جذبوں کوجلا بخش دی۔ انہوں نے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم شہدا ء اور ان کے لواحقین کی احسان مندہے۔ ان کے پیاروں کی قربانیوں کی بدولت آج ہم اس مقام پر ہیں جہاں وطن پر چھائے اندھیرے چھٹ رہے ہیں۔اور ایک روشن مستقبل کی کرنیں نمودار ہور ہی ہیں۔شہداء کا خون ہم پر قرض ہے ۔ میں غازیوں کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اپنے جسموں پر تو گہرے زخم کھائے مگر وطن کو توانارکھا۔ یوں آج کا دن تجدید عہد اور تجدید وفا کا بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری قومی زندگی بے شک مشکلات کا شکار سہی مگر دفاع وطن ہمار ا قومی امتیاز ہے ۔جب تک ہمارے بزرگوں کا حوصلہ اور ہمارے جوانوں کی جرات برقرار ہے پاکستان کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔اس جذبے کا تعلق صرف جنگ سے ہی نہیں بلکہ قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بہت کر لیا ۔اب دنیا ’’ڈو مور‘‘ کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسلط جنگ کو ہم منطقی انجام تک پہنچائیں گئے۔عالمی طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دا ر ہمیں نہ ٹھہرائیں ۔ ہم امریکہ سے برابری کے تعلقات چاہتے ہیں ،امداد نہیں اور افغان جنگ ہم پاکستان میں نہیں لڑ سکتے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاد صرف ریاست کا حق ہے ۔بھٹکے ہوئے لوگ جہاد نہیں فساد کر رہے ۔انہوں نے کہا کہ قوم کا ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہے ۔فوج قوم کی حمایت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اپنے ملک کو امن گہوارہ بنا کر دم لیں گئے۔ کیوں کہ آج کا نوجوان ہمار ا حقیقی سرمایہ ہے ۔ہم آنے والی نسلوں کو دہشت گردی سے پاک پاکستان دینا چاہتے ہیں۔


پاک چین دوستی کے حوالے سے چیف آف آرمی سٹاف کا کہنا تھا کہ سی پیک پاک چین دوستی کا مظہر ہے اور خطے کا سرمایہ اور امن کی ضمانت ہے ۔ اس کو مکمل کرنا ایک قومی فریضہ ہے اور افواج پاکستان اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کیا جس نے دہشت گردوں کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب کر کے قومی یکجہتی میں کلیدی کردار اد ا کیا ہے ۔کشمیر کے حوالے سے واضع موقف کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر پاک و ہند کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکے عوام پچھلی کئی دہائیوں سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔اور ہم ان کی اس جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔


جنرل قمر جاوید باجوہ کے خطاب میں بہت سے پیغامات موجود تھے جنہوں نے قوم کو ہمت اور جرات بخشنے کے ساتھ ساتھ اطمینان بھی بخشا کہ افواج پاکستان ملک کو درپیش ہر خطے سے آگاہ اور ان سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیتوں سے لیس ہیں۔ اس موقع پر قومی نغموں نے بھی حاضرین کے لہو کو گرمائے رکھا اور وہ اس شاندار تقریب کے اعلیٰ معیار، ترتیب اور انتظامات کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔


تقریب میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکا اللہ ، چیف آف ائر سٹاف ائر چیف مارشل سہیل امان ،سابق آرمی چیفس جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف ، جنرل (ریٹائرڈ) اشفا ق پرویز کیانی کے علاوہ سیاسی قیادت جن میں اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق، وزیر دفاع خرم دستگیر ، وزیر خارجہ خواجہ آصف ، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق ، وزیر داخلہ احسن اقبال ، وزیر ماحولیات مشاہد اللہ خان، وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور مختلف ممالک کے سفیروں اور دفاعی اتاشیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔آخر میں تقریب میں شامل تمام افراد نے یاد گارشہداء پر پھول نچھاور کرتے ہوئے دفاع وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔

youmedifaewaten.jpg

 
19
September

تحریر: عفت حسن رضوی

آپریشن خیبر فور کے شہید جواں سال سپاہی عبدالجبار کی دلیری کی داستاں

یہ 19جولائی تھی،خیبرایجنسی کی راجگال وادی میں فجر کی سپیدی نمودار ہونے کو تھی، سپاہی ایک مشکل معرکے کے لئے تیار تھے، نماز فجر پڑھی گئی،سب ہی نے آپریشن میں کامیابی کی دعا مانگی، مگر ایک نوجوان نے ہاتھ بلند کئے اور آنکھیں موندے اپنے رب سے کامیابی کے ساتھ شہادت مانگنے لگا۔ یہ سپیشل سروسز گروپ، سیون کمانڈو بٹالین (ببرم )کا کمانڈو عبدالجبار تھا۔
دن گزرا اور وہ رات بھی آگئی جس کا 23 سالہ عبدالجبار کو بڑی شدت سے انتطار تھا، بارہ جوانوں پر مشتمل ٹیم کو وادی راجگال میں ایک پہاڑ کی بلندی پر موجود دہشت گردوں کی کمین گاہ پر آپریشن کا ٹاسک ملا، ان جانبازوں کے لئے سب سے پہلا چیلنج اس چوٹی کا دشوار گزار گھنا جنگل تھا، رات اڑھائی بجے یہ جوان بلندی پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانے کے عین سامنے موجود تھے، دائیں جانب کی فرنٹ پوزیشن پر عبدالجبار اور سپاہی دانش موجود تھے، دہشت گردوں سے لڑائی کا آغاز ہوا تو انہوں نے پہلے ہی وار میں چھ ملک دشمن مار ڈالے، گولیوں کی گونج وادی راجگال کے سناٹے میں پلٹ کر سنائی دے رہی تھی، رات کا اندھیرا اپنے پَر پھیلائے ہوئے تھا، روشنی کا واحد ذریعہ سیاہ آسمان پر چمکتے چاند کی چاندنی تھی۔ ایسے میں عبدالجبار کی نظر دو بزدل دہشت گرد وں پر پڑی جو پہاڑ کی چوٹی کی جانب بھاگ رہے تھے، یہ فیصلہ کن لمحہ تھا، عبدالجبار بھی مردانہ وار پیچھے بھاگا، ساتھی دانش سپاہی عبدالجبار کا شانہ پکڑ کر چلایا ’’یار اوپر سے مزید فائر آسکتا ہے ان کے پیچھے نہ جاؤ‘‘ مگر عبدالجبار نے شانہ چھڑایا اور جیسے کسی قہر کی طرح دہشت گردوں پر ٹوٹ پڑا، ساتویں دہشت گرد کو واصل جہنم کیا تو ایس ایس جی کے جوانوں کی زبانی مشہور ’’دھوکے کا پھندہ‘‘ یعنی زیر زمین چھپی آئی ای ڈی پر عبدالجبار کا پاؤں پڑ گیااور یہ جوان ایک زوردار دھماکے میں زخمی ہوگیا۔

sirmainnainkesifight.jpg
عبدالجبار کے حوصلے کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اس کے ساتھی حیران تھے کہزخمی عبدالجبار کے چہرے پر تکلیف کی رمق تک نہ تھی۔ زخمی عبدالجبار کی مدد کے لئے ہیلی کاپٹر بروقت پہنچا مگر ہیلی کاپٹر اس ناہموار دشوار گزار پہاڑی پر لینڈ کہاں کرتا، چیڑ کے گھنے جنگل میں ائیر لفٹ کرنا بھی ممکن نہ تھا، راستے ساتھ نہیں دے رہے تھے اور زخم تھے کہ تکلیف بڑھتی ہی جارہی تھی، اپنا دھیان ہٹانے کے لئے عبدالجبار ہر تھوڑی دیر بعد ساتھیوں سے یہی سوال کرتا ’’یار میری فائٹ میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی؟‘‘ عبدالجبار زخموں سے چور تھا۔ اپنے سی او کو دیکھتے ہی پوچھنے لگا ’’سر میں نے کیسی فائٹ کی ہے ؟‘‘ سی او نے قریب آکر عبدالجبار کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا تو نے وہ کام کردیا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔


عبدالجبار نے جس کامیابی اور شہادت کی دعا نمازِ فجر میں مانگی تھی وہ قبول ہوگئی تھی۔یہ اس جری جوان کی ہمت کا ثمر تھا کہ دہشت گردوں کی کمین گاہ، اب پاک فوج کے قبضے میں تھی، علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کرالیا گیا تھا اور پہاڑ کی چوٹی پر سبز ہلالی پرچم جھوم جھوم کر پیام امن سنا رہا تھا۔


20 جولائی کو خبر ملی کہ سپیشل سروسز گروپس اور فوجی جوانوں کے دستوں کی کامیابیاں رنگ لارہی ہیں، وادی راجگال میں جاری آپریشن خیبر فور میں نوے اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ خالی کرالیا گیا ہے، آئی ایس پی آر کی جانب سے دی جانے والی خبر میں اس کامیابی کے پیچھے چھپا ایک نام بھی درج تھا، شہید کمانڈو عبدالجبار۔۔۔۔۔


معلوم کرنے پر جب یہ علم ہوا کہ شہید کا تعلق گوجر خان سے ہے، تو میں نے اسلام آباد سے فوری قصد سفر کیا، شہید کے والد سے فون پر راستے پوچھتی رہی اور آخر کار ان کے آبائی علاقے میں پہنچ گئی۔ عبدالجبار کی شہادت کو ابھی چار روز گزرے تھے، پورے علاقے کی فضا بظاہر سوگوار تھی مگر جس کسی سے بھی عبدالجبار کی شہادت کا تذکرہ ہوتا، جواب میں جیسے کسی چٹان کی طرح سپاٹ،سخت مگر پرعزم بات سننے کو ملتی، شہید کے والد جو خود بھی 2002 میں بطور نائیک ریٹائر ہوئے تھے، اُن سے میں نے بکھری ہوئی یادوں کو سمیٹنے کا کہا۔ یہ فوجی لوگ ہیں انہیں کہاں ہماری طرح فر فر زبان اور قلم چلانا آتا ہے، شہید عبدالجبار کے والد دھیمی آواز میں بولے ’’فوج میں میرے والد سپاہی رہے، میں خود بیس سال وطن کی خاطر سینہ سپر رہا،مگر شہادت صرف میرے بیٹے کے حصے میں آئی۔ لگتا ہے میرے والد کی محنت وصول ہوگئی، وہ سخت ٹریننگ کے بعد میدان حرب میں نیا نیا وارد ہوا تھا، اس کی منزل وطن کے لئے جان وارنا تھی، اسے شہادت مطلوب تھی سو مل گئی۔‘‘

نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کار سپانڈنٹ عفت حسن رضوی، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔

@IffatHasanRizvi

 
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 7 times
ایف سی بلوچستان پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد

سپاہی محمد قاسم شہید کے والدِ محترم تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے

newsfcpakpoutprade.jpg

گزشتہ دنوں ایف سی بلوچستان کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی سپاہی محمد قاسم شہید کے والد عبدالظہیر تھے جن کا تعلق قلعہ سیف اﷲ بلوچستان سے ہے۔ سپاہی قاسم 6 جنوری 2017ء کو شہید ہوئے۔
فر نٹیئر کور خیبر پختونخوا میں پا سنگ آؤٹ پریڈ

newsfcpakpoutprade1.jpg

گزشتہ دنوں ہیڈکوارٹراورکزئی سکاؤٹس کلایہ میں فرنٹیئر کور کے 24 ویں بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہو ئی۔ اس دوران کل 493ریکروٹس پاس آؤٹ ہوئے۔ ڈی آئی جی فرنٹیئر کور بریگیڈئیرمحمدیوسف مجوکہ، تقریب کے مہما ن خصو صی تھے۔اس موقع پر اعلیٰ فوجی اور سول حکام ، قبا ئلی مشران اورپاس آؤٹ ہونے والے ریکروٹس کے والدین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ مہمان خصو صی نے پر یڈ کا معا ئنہ کیا اورتقریب سے خطاب کرتیہوئے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹیئر کورکے کردار کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پرمہمانِ خصوصی نے تربیت کے دوران مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعاما ت بھی تقسیم کئے۔
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 7 times
newstaqrebatyoumediffapak.jpg
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 7 times
چیف آف آرمی سٹاف کا کوروبرانچ کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں کوروبرانچ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں ’کورو‘ کے حوالے سے ایک مفصل بریفنگ دی گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کوروو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

newscoasatcorobaranch.jpg

کورو پاکستان آرمی آفیسرز کا ایک طرح سے نادرہ سنٹر ہے۔یہ ایک ایسا ڈیٹا سنٹرہے جو کسی بھی آفیسر کا کمیشن سے لے کر اس کے اس دارفانی سے رخصت ہونے تک کا ڈیٹا اور اس کی زندگی میں آنے والی تمام تبدیلیوں کو اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ جی ایچ کیو میں جہاں پاکستان آرمی کے لاتعداد شعبہ جات ہیں، وہاں اگرچہ اس شعبے کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں ہے مگر آرمی آفیسر کی زندگی اور سروس جوں جوں آگے بڑھتی ہے ویسے ہی کورو کی اہمیت نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہے اور پھر رخصتی یعنی ریٹائرمنٹ پر الوداع ’’کورو‘‘ نے کہنا ہوتا ہے۔ اس لئے اس وقت تمام ترجیحات میں سب سے نمایاں کورو ڈیٹا کا صحیح ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ ہر آرمی آفیسر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنا، اپنی زوجہ، اپنے بچوں اور اپنے والدین کا صحیح ڈیٹا فراہم کرے اور اگر یہ ڈیٹا صحیح نہ ہو تو ریٹائرمنٹ کے دنوں میں اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اکثر ریٹائرڈآفیسرز کوکورو کی اہمیت کا اندازہ دیر سے ہوتا ہے اورپوسٹ ریٹائرمنٹ پر جب ان کا ڈیٹا درست نہ ہو رہا ہو تو ظاہر ہے اُنہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے بہت سارے واجبات رک جاتے ہیں۔ ان کے بچوں کے داخلے نہیں ہو پاتے۔ وہ آرمی سیٹس پر بچوں کو اپلائی نہیں کروا سکتے وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے جو آفیسرز اپنی سروس کے دوران اپنا ڈیٹا اپ ڈیٹ رکھتے ہیں وہ اپنی ریٹائرمنٹ پر بھی اس پریشانی سے بچے رہتے ہیں۔
کورو کا قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان آرمی میں ہوا۔ یعنی 14 اگست 1947۔ 1958میں کورو ایڈجوٹنٹ جنرل برانچ کا ایک ذیلی شعبہ تھا اور پھر 1998میں جب
AG Branch
کا دائرہ کار بڑھا تو اسے
PP & A Dte
یعنی پے، پنشن اور اکاؤنٹ ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بنا دیا گیا۔ کورو کے نمایاں کاموں میں پاکستان آرمی آفیسرز، جس میں نرسنگ آفیسرز بھی شامل ہوتیں ہیں، کا ڈیٹا ریکارڈ نہ صرف اپ ڈیٹ رکھنا ہے بلکہ ان کے پے اور الاؤنسز میں ردوبدل، ترقی، تبادلے کا اندراج، شادی کا اور اس کے بعد بچوں کا اندراج اور پھر ریٹائرمنٹ پر پنشن کی ادائیگی اور ماہانہ پنشن کی بروقت ادائیگی بھی کورو کے اہم کام ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سروس اور ریٹائرمنٹ والے آرمی آفیسرز کے ریکارڈ کا اپ ڈیٹ ہونا ہر آفیسر کا پے اینڈ پنشن کا صحیح ریکارڈ، سروس میڈلز، سروس کے دوران نمایاں کارکردگی پر ملنے والی مراعات، آرمی آفیسرز کے خاندان میں اضافہ اور اموات کی تصدیق کورو ہی کرتا ہے۔ اس لئے آرمی کے باقی شعبہ جات  کورو   سے آرمی آفیسرز کے متعلق ڈیٹا کی تصدیق کرواتے رہتے ہیں۔

(رپورٹ: اشتیاق احمد)


کورو ہیلپ ڈیسک
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
0336-7353542 (For text msg only

19
September
Published in Hilal Urdu
Read 7 times
چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ لائن آف کنٹرول

newscoasatloc.jpg

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے14 اگست کو کمانڈر 10 کو ر لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کے ہمراہ لائن آف کنٹرول پر سبز کوٹ سیکٹر کا دورہ کیا۔اس موقع پر انہیں لائن آف کنٹرول کی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے لائن آف کنٹرول پر موجود سپاہ کے حوصلے کی تعریف کی اور انہیں دشمن کے مقابل جمے رہنے پر خراج تحسین پیش کیا ۔

شندورپولو فیسٹیول 2017

newsshandoorfest.jpg

گزشتہ دنوں تین روزہ شندورپولو فیسٹیول کا انعقاد چترال کے دور افتادہ علاقے شندور میں کیا گیا۔ شندور پولوکافائنل میچ چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے درمیان ہوا۔سنسنی خیز مقابلے کے بعد چترال کی ٹیم نے گلگت بلتستان کی ٹیم کوشکست دے کر فائنل جیتا۔فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی کمانڈرپشاورکور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ تھے۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ لوک میلے کا انعقاد جہاں پولو کے کھیل کو فروغ دیتاہے وہیں ہمیں یک جاہو کر دلوں کے درمیان کدورتوں کو دور کرنے کا موقع بھی دیتا ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے ۔
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 8 times
بلوچستان میں تقریباتِ یومِ آزادی

newsbalchismaintaqreebat.jpg

ماہِ اگست پاکستا ن کی آزادی کی بناء پر ایک منفردحیثیت کا حامل ہے۔ ملک کے طول و عرض میں اس ماہ کی مناسبت سے تقریبات کا آغاز ہوجاتا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں بھی اس ماہ کے ابتداء سے ہی بلوچستان سپورٹس فیسٹیول 2017ء کا آغاز ہوگیا تھا۔ جس میں ہاکی، فٹبال و دیگر کھیلوں کے تمام ایونٹس میں صوبہ بھر سے نوجوان کھلاڑی لڑکوں اور لڑکیوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔

14 اگست کی صبح بلوچستان کی عوام کا جوش اور ولولہ اپنے عروج پر تھا۔ بلوچستان کے ہر قصبے اور ہر شہر میں لوگ جوق در جوق سڑکوں پر سبز ہلالی پرچم لئے پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار رہے تھے۔ عوام کا اس طرح کی محبت کا اظہار اپنی فورسز پر اعتماد اور جذبۂ حب الوطنی قابلِ دید تھا۔ ہر طرف پاکستان زندہ باد اور سبز ہلالی پرچموں اور ملی نغموں نے ایک سحر طاری کر رکھا تھا۔

اسی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بگٹی سٹیڈیم میں عسکری اورسول انتظامیہ کی جانب سے یوم آزادی کے حوالے سے بلوچستان ایکسلینس ایوارڈ کی ایک شانداراورپروقار تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں بلوچستان میں سماجی خدمات ، فنون لطیفہ،تعلیم، صحت اور کھیلوں کے شعبہ جات میں بلوچستان کے نمایاں اورمنفرد مقام پانے والے افرادکوایوارڈزسے نوازاگیا۔ تقریب میں کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامرریاض اوروزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری سمیت وزراء اورعوام کی بہت بڑی تعدادنے شرکت کی۔چاروں صوبوں ،کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی طائفوں کے علاوہ برادرملک ترکی کے طائفے نے تقریب میں ایک سماں باندھ دیا اورشرکاء سے خوب داد وصول کی۔

(رپورٹ: فہیم خان)

19
September
Published in Hilal Urdu
Read 6 times
فاٹا اور خیبرایجنسی میں جشن آزادی کی تقریبات

newsfataaurkhyber.jpg

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح قبائلی علاقہ جات میں بھی جشن آزادی روائتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ خیبر ایجنسی کی تینوں تحصیلوں لنڈی کوتل، جمرود اور تحصیل باڑہ میں جشن آزادی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ طورخم بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب کے بعد افغان اور پاکستان بارڈر فورسز کے درمیان تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔خیبر ایجنسی میں 14 اگست کو مختلف مقامات پر آتش بازی اور میوزک کے پروگرام منعقد ہوئے۔ جشن آزادی کی تقریبات قبائلی علاقوں باجوڑ ایجنسی، مہمند ایجنسی، کرم ایجنسی ، اورکزئی ایجنسی، وزیرستان، اور خیبر ایجنسی میں بھی انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئیں۔جشن آزادی کی تقریبات میں پولیٹیکل انتظامیہ کے علاوہ قبائلی مشران اور نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

علاوہ ازیں خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں سب سے بڑا جشن آزادی سپورٹس میلہ منعقد ہوا۔ جس میں کرکٹ ،والی بال، رسہ کشی، ہائی جمپ، لانگ جمپ، پی ٹی شو، 1500 اور 100 میٹر کی ریس، تقریری اور ملی نغموں کے مقابلے بھی شامل تھے ۔ مقامی عوام کی کثیرتعداد نے ان تقریبات میں شرکت کی۔

(رپورٹ: تکبیر آفریدی )
19
September
Published in Hilal Urdu
Read 5 times
جے سی پی واہگہ پر جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا جھنڈا لہرانے کی تقریب

newsjcpwahagaper.jpg

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 70 ویں یوم آزادی کے موقع پر واہگہ کی مشترکہ چیک پوسٹ پر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا جھنڈا لہرایا۔ اس موقع پر انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وطن پہلے ہم بعد میں ہیں، ہم پر شہیدوں کے خون کا قرض ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہر پاکستانی

lیہ جھنڈا جس کو ہم نے آج بلند کیا ہے یہ ہماری ترقی اور بلندی کی علامت ہے

2پاکستان کے دشمن جو مشرق میں ہیں یا مغرب میں وہ میری یہ بات جان لیں کہ ان کے بارود اور گولیاں ختم ہوجائیں گی لیکن ہمارے جوانوں کی چھاتیاں ختم نہیں ہوں گی۔

3جس ملک کا قیام 27 رمضان کی بابرکت شب کو ہوا ہو اُس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا

(چیف آف آرمی سٹاف)

ردالفساد کا سپاہی ہے، ہم پائیدار امن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، قوم کے عزم کو کوئی خطرہ متزلزل نہیں کرسکتا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قانون اور آئین کی بالادستی اہم ہے۔ جس ملک کا قیام 27 رمضان کی بابرکت شب کو ہوا ہو اُس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ پاکستان کے تمام سکیورٹی ادارے آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کے سامنے ہم سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔ پاکستان کے دشمن جو مشرق میں ہیں یا مغرب میں وہ میری یہ بات جان لیں کہ ان کے بارود اور گولیاں ختم ہوجائیں گی لیکن ہمارے جوانوں کی چھاتیاں ختم نہیں ہوں گی‘ جب تک یہ قوم وہ جانثار پیدا کرتی رہے گی جو ملک کی آن پر قربان ہونے کے لئے ہر وقت تیار ہیں اس ملک پر کوئی آنچ نہیں آسکتی۔ آرمی چیف نے کہاکہ یہ جھنڈا جس کو ہم نے آج بلند کیا ہے یہ ہماری ترقی اور بلندی کی علامت ہے اور جس طرح 400 فٹ کی اونچائی پر یہ پرچم لہرایا گیا اسی طرح پاکستان ترقی کرے گا۔

 

اس تقریب میں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی‘ ڈی جی رینجرز میجر جنرل اظہر نوید خان، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے علاوہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ سول اور ملٹری افسران‘ قومی ہیروز اور ملک سے آئے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ جے سی پی واہگہ پر لہرائے جانے والے جنوبی ایشیا کے اس بلند ترین جھنڈے کی تیاری کا ٹھیکہ مصر کی ایک مشہور انجینئرنگ کمپنی کو دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا سنگِ بنیاد 31 مارچ کو ڈائریکٹر جنرل پنجاب رینجرز نے رکھا۔جبکہ متعلقہ کمپنی نے 8 اگست 2017 تک اپنا کام مکمل کرلیا۔ جھنڈے کے پول کی اونچائی 400 فٹ ہے۔ جھنڈے کی چوڑائی 120 فٹ جبکہ لمبائی 80 فٹ ہے۔ اس تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سول اور ملٹری افسران‘ قومی ہیروز اور ملک سے آئے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newsjcpwahagaper1.jpg

19
September
Published in Hilal Urdu
Read 5 times
پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ نے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے انٹرن شپ پروگرام میں شامل نوجوان طالب علموں سے خطاب کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے طلباء و طالبات کو انٹرن شپ مکمل ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ اﷲ نے پاکستان کو ذہین اور متحرک نوجوانوں سے نوازا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہے۔

وہ ملک کو امن و خوشحالی کے نئے دور کی طرف لے جائیں گے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ وہ خود پر بھروسہ رکھیں۔ میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر عمل کریں اور کامیابی کے لئے کسی بھی شارٹ کٹ کی طرف نہ جائیں۔

چیف آف آرمی سٹاف نے طلباء و طالبات کو یقین دلایا کہ پاک فوج انہیں محفوظ اور مستحکم پاکستان فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ پاک فوج اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ تشدد اور دہشت گردی سے ملک کو نجات دلانے میں پاک فوج نے عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم قیام امن کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنا حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ’’ہر پاکستانی آپریشن ردالفساد کا سپاہی ہے۔‘‘ چیف آف آرمی سٹاف نے نوجوان طلباء و طالبات کو کہا کہ سوشل میڈیا پر معاندانہ بیانیوں سے چوکس رہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان داعش اور اس سے منسلک تنظیموں کا ہدف ہیں۔ ان سے محتاط رہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ آپ کی کامیابی اور ترقی کا انحصار تین چیزوں پر ہے۔ اﷲ پر ایمان، والدین کا احترام اور سخت محنت پر انحصار ہی درحقیقت کامیابی کی کنجی ہے۔

یاد رہے کہ انٹرن شپ پروگرام 2017کا انعقاد 11جولائی سے 17اگست تک کیا گیا تھا۔ جس میں ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں کے طالب علم شامل تھے۔

newspakkamustkbilnojwan.jpg

19
September
Published in Hilal Urdu
Read 6 times

hamkoishahdatbholynai.jpg

18
September

سروے : ازکٰی کاظمی

1965 کی جنگ نہ صرف ہمارے بزرگوں بلکہ ہماری نوجوان نسل کے دلوں پر آج بھی پاک فوج کی محبت اور جانثاری کا نقش قائم کئے ہوئے ہے۔ 6ستمبر 1965کی جنگ کے حوالے سے نوجوان نسل کے تاثرات جاننے کے لئے ہم نے ایک سروے کیا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے خیالات جانے جو ہلال کے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔

عدنان احمد

(ڈاکٹر)

adnanahmeddr.jpg

 

1965کی جنگ ہمیں دفاع وطن کی بہترین مثال پیش کرتی ہے اور ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے کہ اگر خدا پر یقین پختہ ہو تو کامیابی ضرور آپ کے قدم چومتی ہے۔
 

القاء بتول

(استاد)

alqqabatool.jpg

 

1965کی جنگ ہماری قومی تاریخ کا ایک بہت ہی یادگار واقعہ ہے۔ اس دن کو یاد کرنے سے مجھے ہمارے عظیم ہیرو میجر عزیز بھٹی، میجر شفقت بلوچ، ایم ایم عالم اور سرفراز رفیقی جیسے مجاہد جو کہ ہمارے آئیڈیل بن چکے ہیں شدت سے یاد آتے ہیں اور لہو کو ایمان کی طاقت سے گرما دیتے ہیں۔
 

معِز ملک

(طالب علم)

mahizmalik.jpgاس دن لاہور جم خانہ میں شام کو جیت کے جشن کا خواب دیکھنے والوں کو ہماری ایک بٹالین نے نو گھنٹے ’’بی آر بی‘‘ نہر پر روکے رکھا اور پوری قوم اپنی بہادر فوج کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ قوم اور فوج ایک ناقابل شکست جذبہ ایمانی سے سرشار ہو گئی۔
 

یوسف مرزا

(صحافی)

yousafmirza.jpg1965کی جنگ نہ صرف ہمیں ملک و قوم کے لئے جان کی دینے اہمیت سے آشنا کرتی ہے بلکہ ہمارے دلوں میں ایمان اور خدا پر یقین کو مزید پختہ کرتی ہے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ملک وقوم کی خاطر اپنا گھربار اور جان بھی قربان کرنا پڑے تو پیچھے نہ ہٹیں کیونکہ یہی اصل اثاثہ ہے۔
 

شافع عباس

(طالب علم)

shafah.jpgمیرے وطن کے لئے میری جاں بھی حاضر ہے۔ 1965 کی جنگ مجھے وطن عزیز کے ان شہیدوں اور غازیوں کی یاد دلاتی ہے جنہوں نے ہمارے لئے اپنی زندگی قربان کردی اور ہماری زندگیوں میں خوشبو بکھیر دی۔
 

علی حمزہ

(استاد)

alihamza.jpg1965 کی جنگ مجھے میجر عزیز بھٹی جیسے جانباز اور دلیر آفیسر کی یاد دلاتی ہے۔ میجر عزیز بھٹی کی کہانی محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے جو ہمیں دشمن کو للکارنے کی جرأت عطا کرتا ہے۔ نشان حیدر پانے والے اس جری سپوت کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور ہمارے خون میں ولولہ پیدا کرتی رہے گی۔
 

عاکف رفیق

(طالب علم)

akifrafiq.jpg6ستمبر کی جنگ میں عوام نے جو کردار ادا کیا اور جس طرح اپنے گھروں سے باہرنکل کر انہوں نے ملک و قوم کی حفاظت کی ،ایسا جذبہ آج کے ہرنوجوان میں ہونا چاہئے تب ہی وقت پڑنے پر یہ اپنا کردار بخوبی ادا کر سکیں گے۔
 

احمد عامر

(بینکار)

ahmedamir.jpgمیرا سر فخر سے اور بھی بلند ہو جاتا ہے جب میں 6ستمبر کے دن کو یاد کرتا ہوں۔ دشمن کے ناپاک ارادوں کو پست ہوتے ہوئے سوچنے سے جو فرحت محسوس ہوتی ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔
 
 
18
September

تحریر: فاروق اعظم

جنگِ پینسٹھ ہماری ملی تاریخ میں صرف دفاع ہی نہیں فتح بھی ہے

1965ء کی جنگ کو نصف صدی بیت چکی، تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی اُس پہلی باقاعدہ جنگ پر بحث و تمحیص کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہوا۔ پچاس سال کا عرصہ کسی ملک یا قوم کے لئے کم نہیں ہوتا۔ کامیاب وہ ہیں جو ماضی سے سیکھیں، حال کو سنواریں اور مستقبل کو روشن تر کریں۔ 65ء کے بعد یہ 52واں ماہِ ستمبر ہے، اس کے باوجود ہندوستانیوں نے یہ بحث شروع کردی ہے کہ جنگ 65ء میں جارح اور فاتح کون تھا؟ دو برس قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنگِ پینسٹھ کے پچاس سال مکمل ہونے پر جشنِ فتح منانے کا اعلان کیا تھا، جس سے جھوٹ پر مبنی بحث چھیڑی گئی۔ جنگِ 65ء کے تناظر میں عموماََ دو نکات زیر بحث رہتے ہیں کہ:
۱ ۔ جنگ شروع کس نے کی تھی یا جارحیت کا مرتکب ملک کون سا تھا؟
۲ ۔ جنگ میں شکست کسے ہوئی تھی یا فاتح ملک کون سا تھا؟
ممکن ہے کہ یہ کہہ دیا جائے کہ اس بحث میں اب پڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ جنگ کو گزرے 52 برس ہوچکے ہیں۔ اب کسی ملک کو جارح قرار دینے سے اس کا کیا بگڑے گا؟ یا پھر فاتح کہلوانے کا فائدہ کیا ہوگا؟ جب کہ پاکستان اور بھارت کی فوجیں 1966ء کے معاہدۂ تاشقند کے تحت جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جاچکی ہیں۔ بظاہر یہ ایک لایعنی بحث ہے، لیکن بعض طبقے اس کی آڑ میں حسب ذیل نکات اٹھاتے ہیں:
1۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں حقائق مسخ کرکے غلط تاریخ شامل کی گئی ہے۔
۲۔ محمد بن قاسم کی فتح سندھ سے اب تک جنگوں میں مسلم سپہ کی بہادری کی خودساختہ داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔
۳۔ پاکستان نے ہمیشہ جارحیت کی ہے اور شکست اس کا مقدر بنی ہے۔
۴ ۔ پاک فوج بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرنے کے باوجود کبھی ملک کا دفاع نہیں کرسکی۔
۵ ۔ کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں نہیں ہیں۔ 1965ء میں کشمیریوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں پاکستان ناکام رہا۔
ان حالات میں اس بحث کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ براہ راست نسلِ نو کے ناپختہ ذہنوں پر حملہ ہے۔ اگر اس پروپیگنڈے اور پھیلائی گئی الجھنوں کا سدِ باب نہ کیا گیا تو حقائق مسخ ہوکر ذہنی انتشار کی خلیج کو مزید وسیع کر سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے حالات و واقعات کو درست پیرائے میں بیان کیا جائے، تاکہ مغالطے رفع ہوکر حقائق منظر عام پر آسکیں۔ لہٰذا اول اس پہلو کو زیر بحث لاتے ہیں کہ 65ء میں جنگ کا آغاز کس نے اور کیوں کیا تھا؟

pakbharatjang.jpg
پاکستان کو جنگ چھیڑنے کا ذمے دار ٹھہرانے والے عموماََ ’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔ پاکستان کو جارح سمجھنے والوں کا مؤقف ہے کہ جنگِ پینسٹھ کا آغاز چھ ستمبر کی رات لاہور پر حملے کے بجائے اگست سے کیا جائے، جب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج سمیت مجاہدین کو گوریلا کارروائیوں کے لئے داخل کیا تھا۔ جس کی وجہ سے کشمیر میں حالات خراب ہوئے اور بدلے میں بھارت نے لاہور پر حملہ کردیا۔ ہماری رائے میں جنگِ پینسٹھ کا آغاز اگست سے بھی قبل ماہِ اپریل میں ہی ہوگیا تھا، جب بھارت نے رن آف کچھ کے پاکستانی علاقے پر حملہ کرکے اپنی فوجیں داخل کردی تھیں۔ واضح رہے کہ رن آف کچھ صوبہ سندھ میں بھارتی ریاست گجرات کی سرحد سے متصل نگر پارکر سے بحیرہ عرب کی جانب متنازع پٹی سر کریک تک کا نمکین دلدلی علاقہ ہے۔ سرکریک کے غیر آباد خطہ زمین پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدوں کا باقاعدہ تعین نہیں کیا گیا تھا۔ ساڑھے تین ہزار مربع میل پر مشتمل عظیم رن کچھ کا بڑا حصہ گجرات میں ہے۔ بھارت نے اس کے شمالی حصے پر بھی دعویٰ کر رکھا تھا، لیکن چھڈ بیٹ کی چوکی سے یہ پاکستان کے زیر نگرانی تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس خطے پر پہلے بھی فروری 1956ء میں جھڑپیں ہوچکی تھیں۔ تاہم پھر دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے سرحدوں کے تعین کے لئے آمادہ ہوگئے تھے۔


بھارت نے اپریل 1965ء میں ایک بار پھر رن آف کچھ کے پاکستانی علاقے کو طاقت کے بل بوتے پر ہتھیانے کا منصوبہ بنایا۔ جس کے لئے بھارتی فوج نے 5 اپریل کی رات پاک رینجرز کی چوکیوں پر حملہ کردیا۔ اسے معمولی سرحدی چھیڑ چھاڑ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا، کیوں کہ بھارتی فوج کے ڈپٹی کمانڈر انچیف میجر جنرل کمارامنگلم خود وہاں موجود تھے، جب کہ بھارتی وزیرداخلہ بھی اگلی فوجی چوکیوں کا دورہ کر رہے تھے۔ سر پر منڈلاتے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ کو ضروری فوجی اقدامات کی اجازت دی۔ جس پر پاک آرمی کے آٹھویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل ٹکا خان کو رن آف کچھ کے مقبوضہ علاقوں سے بھارتی فوج کو پسپا کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ انہوں نے برگیڈ یر افتخار خان جنجوعہ کو رن آف کچھ بھیجا اور تیار کئے گئے فوجی دستوں کو آگے بڑھایا۔ بالآخر بھرپور فوجی کارروائی کے بعد پاک آرمی نے 27 اپریل 1965ء تک بھارت سے اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کرالئے۔ رن آف کچھ میں شرمناک شکست بھارت کے لئے ناقابل برداشت تھی۔ جس پر وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’بھارت اب اپنی مرضی کا محاذ کھولے گا‘‘۔ معرکہ رن کچھ کی مزید تفصیل کے لئے 1965ء میں پاک بھارت جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی خالد محمود کی کتاب ’’رن کچھ سے چونڈہ تک‘‘ ملاحظہ کریں۔


اب آتے ہیں ریاست جموں کشمیر کی جانب، جہاں 1965ء میں بننے والی صورت حال کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ جموں کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے متنازع خطہ ہے۔ 1948ء میں سلامتی کونسل نے پاک بھارت کے مابین جنگ کی کیفیت کے باعث فریقین کو پابند کیا تھا کہ فوری جنگ بندی کی جائے۔ کشمیر سے فوجوں کو نکالا جائے۔ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے۔ ان میں سے پہلا نکتہ بھارت کے مفاد میں تھا، چنانچہ جنگ روک دی گئی۔ تاہم باقی دو نکات اُس وقت تسلیم کرنے کے باوجود بھارت ان پر عمل درآمد سے تاحال انکاری ہے اور اب کشمیر کو اٹوٹ انگ بھی قرار دے رہا ہے۔ یہ خیال رہے کہ بھارتی آئین میں ریاست جموں کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی حیثیت اب بھی حاصل ہے۔ اس کے باوجود بھی بھارت نے 1963ء میں کشمیر کو انڈین یونین میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں دسمبر 1964ء میں دفعہ 356-357کو کشمیر پر لاگو کرتے ہوئے قانون سازی اور انتظامی اختیارات بھی سنبھال لئے تھے، جسے کشمیری کسی صورت قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ دوسری جانب بھارت نے کشمیریوں کو مزید محدود کرنے کے لئے جنگ بندی لائن کے آر پار آباد لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر بھی پابندی لگادی تھی، حالانکہ سیز فائر لائن کوئی باقاعدہ سرحد نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر بڑھتی پابندیوں اور متشدانہ رویے نے وہاں کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو انقلابی کونسل کی تشکیل پر مجبور کیا، جس نے آگے چل کر پرزور تحریک کی شکل اختیار کی۔ کشمیریوں کی یہ جدوجہد حق خود ارادیت کے حصول کی خاطر جاری تحریک ہی کا حصہ تھی۔ لیکن بھارت نے اسے پاکستان کی جانب سے مداخلت قرار دے کر کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کردیں۔ بھارت کے اس الزام پر صدر پاکستان ایوب خان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے جس کا ہم پہلے وعدہ کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ ہم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد میں ان کی حمایت کریں گے‘‘۔


پاکستان اور کشمیری عوام اپنے عمل اور مؤقف میں حق بجانب تھے، لیکن بھارت کو رن آف کچھ کی شکست کا داغ مٹانے کے لئے کسی نئے محاذ کا انتخاب کرنا تھا، جس کی وہ پہلے ہی دھمکی دے چکا تھا۔ اس کے لئے اول کشمیر میں جنگ چھیڑ دی گئی اور آزاد کشمیر کی طرف پیش قدمی کی گئی۔ بعد میں باقاعدہ بین الاقوامی سرحد عبور کرکے لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کیا گیا۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کیا پاکستان سے مجاہدین نے مقبوضہ کشمیر کا رخ نہیں کیا تھا، جس کی مدد پاک فوج کر رہی تھی؟ اس بات سے قطعاََ انکار نہیں کہ جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن ہم اسے جارحیت کا رنگ نہیں دے سکتے۔ اول کشمیر ایک متناع ریاست ہے، جس میں سیز فائر لائن بین الاقوامی بارڈر کا درجہ نہیں رکھتی۔ دونوں اطراف کے کشمیری آمدورفت اور آزادانہ نقل و حرکت کا حق رکھتے ہیں۔ دوم پاکستان مسئلہ کشمیر کا فریق ہے، وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ان کی حمایت کا پابند ہے۔ اگر پاکستان کشمیریوں کی حمایت نہ کرے تو مجرم کہلائے گا۔ سوم کشمیریوں کا اپنی آزادی کی خاطر جدوجہد کرنا دہشت گردی نہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور بھی انہیں اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کا بھرپور حق دیتا ہے۔ اگر بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے بزور قوت محروم نہ رکھتا تو یہ حالات ہرگز پیش نہ آتے۔ 65ء میں بھارت کو بے گناہ ماننے کا مطلب، کشمیر کو متنازع خطہ تسلیم کرنے کے برعکس اُسے بھارت کی باقاعدہ ریاست ماننے کے مترادف ہے۔


یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کی چار طرح کی سرحدیں لگتی ہیں۔ ایک کشمیر کی جنگ بندی لائن (جسے 1972ء کے معاہدہ شملہ کے تحت لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا)۔ اس کے دونوں اطراف کا علاقہ متنازع ہے، یہاں تک کہ کشمیری استصوابِ رائے کے ذریعے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ نہ کرلیں۔ نمبر دو ورکنگ باؤنڈری، جیسا کہ جموں اور سیالکوٹ کے درمیان ہے۔ یعنی ایک طرف سیالکوٹ تسلیم شدہ علاقہ ہے، دوسری جانب جموں تاحال متنازع ہے۔ تیسرا انٹرنیشنل بارڈر ہے، جو پنجاب سے سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ 1984 کی بھارتی جارحیت کے بعد ہندوستان اور پاکستان کی افواج شمالی علاقہ جات کے سیاچن گلیشیئر سیکٹر میں غیر متعین شدہ مگر اصولی طور پر پاکستانی علاقے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں جس کا لائن آف ایکچو ئیل کانٹیکٹ
LAC,(Line of Actual Contact)
کہتے ہیں۔ بین الاقوامی سرحد کی یہ قسم سراسر بھارتی جارحیت کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ پاک بھارت کے درمیان ایل او سی پر محدود سطح کی جھڑپیں اب بھی جاری رہتی ہیں۔ بڑے گولے بھی داغے جاتے ہیں، لیکن اسے باقاعدہ طبلِ جنگ نہیں کہا جاتا۔ ہاں انٹرنیشنل بارڈر پر یہ کیفیت معمولی قرار نہیں دی جاسکتی۔ ستمبر 1965ء میں بین الاقوامی سرحد عبور کرنے کی جسارت بھارت نے کی تھی۔ 6 ستمبر کو فیلڈ مارشل ایوب خان کا ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ ’’بھارت نے کسی رسمی اعلان جنگ کے بغیر اپنی روایتی بزدلی اور عیاری سے کام لیتے ہوئے اپنی فوج کو پاکستان کی مقدس سرزمین میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو دندان شکن جواب دیں اور بھارتی سامراجیت کو کچل کر رکھ دیں‘‘۔ جنگ پینسٹھ میں بھارت نے مرضی کے محاذ کھولتے ہوئے کس طرح لاہور سے سیالکوٹ، چونڈہ، کھیم کرن اور راجستھان سیکٹر تک جنگ کو وسعت دی تھی، اس کی تفصیل محمد الیاس عادل کی کتاب ’’تاریخ پاکستان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔


اب دوسرے نکتے کو زیر بحث لاتے ہیں، بھارت کو فاتح قرار دینے والے ان کے نقصانات کم اور مفتوحہ رقبہ زیادہ ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری جانب شکست خوردہ کہنے والے نقصانات زیادہ اور مفتوحہ رقبے کی کمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق 23 ستمبر 1965ء کی صبح تین بجے جب فائر بندی ہوئی تو اس وقت دونوں ملکوں کی افواج کے زیر قبضہ علاقوں کی تفصیل کچھ اس طرح تھی۔ اکھنور سیکٹر میں 340 مربع میل بھارتی علاقہ پاکستانی فوج کے قبضے میں آیا۔ لاہورسیالکوٹ میں ایک مربع میل، کھیم کرن سیکٹر میں 36 مربع میل، سلیمانکی میں 40 مربع میل، راجستھان سیکٹر میں 1200 مربع میل بھارتی علاقے پر پاک فوج نے قبضہ کیا۔ اس طرح کل 1617 مربع میل بھارتی علاقے پر پاکستانی فوج سترہ روزہ جنگ میں قابض ہوئی۔ اس کے برعکس بھارتی فوج کارگل میں 10مربع میل، ٹٹوال میں 2 مربع میل، اڑی پونچھ میں 170 مربع میل، سیالکوٹ 140 مربع میل، لاہور سیکٹر میں 100 مربع میل اور راجستھان سیکٹر میں 24 مربع میل پاکستانی علاقے پر قابض ہوئی۔اس طرح بھارتی فوج نے کل 446 مربع میل پاکستانی علاقے پر قبضہ کیا۔ اس کے برخلاف بھارت کو فاتح قرار دینے والے اُن کی افواج کے زیر قبضہ رقبے کو 1800 مربع کلو میٹر اور پاکستان کے زیر قبضہ رقبہ کو 550 مربع کلو میٹر بیان کرتے ہیں۔ یہی تضادات افواج کے جانی نقصان، جنگی طیاروں اور ٹینکوں کی تباہی میں بھی نظر آتے ہیں۔ اس پر ایک تحقیقی تجزیہ جان فریکر نے پیش کیا ہے۔ وہ برطانوی میگزین ’’ایروپلین‘‘ کے ملٹری ایڈیٹر تھے۔ پاک بھارت جنگ کے تین سال بعد 1968ء میں وہ دوسری بار پاکستان آئے۔ ان کے دورے کا مقصد جنگِ پینسٹھ میں بالخصوص فضائیہ کے کردار پر ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ مرتب کرنا تھی۔ جان فریکر کی کتاب ’’جنگِ پاکستان 1965ء کا فضائی معرکہ‘‘ جامعہ کراچی میں پاکستان اسٹڈی سینٹر کی لائبریری میں موجود ہے۔ کتاب کے آخری باب ’’دعویٰ اور جوابِ دعویٰ‘‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1965ء کی جنگ کی گرما گرمی میں دونوں نے دشمن کے سو سے زائد طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ لیکن چونکہ یہ ایک بالکل غیر یقینی بات ہے۔ پھر بھی اس جنگ میں دونوں طرف ہونے والے نقصان کا صحیح تخمینہ اب بھی بڑی حد تک سامنے نہیں آیا۔ ہندوستان کے معاملے میں یہ بات زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ پاکستان نے جنگ سے متعلق اپنا ریکارڈ اور عملے کو غیر جانبدار معائنے کے لئے پیش کردیا اور اپنے نقصانات کی تفصیل شائع کرنے کے لئے تیار ہے۔ ایک مختصر فضائی فوج ہونے کی حیثیت سے پاکستان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے وسیع نقصانات کو آسانی سے پوشیدہ رکھ سکے‘‘۔ آگے چل کر انہوں نے اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے اور پاکستان اور بھارت کی پیش کردہ رپورٹوں کا جائزہ لیا ہے۔


اعداد و شمار کی اس بحث میں پڑنے کے بجائے ہمیں جنگ کے مقاصد اور اہداف پر غور کرنا ہوگا۔ اس تناظر میں شکست و فتح کا بہتر نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ جنگِ پینسٹھ میں بھارت کا کشمیر میں مقابلے کے بجائے انٹرنیشنل بارڈر کی طرف لپکنا اور لاہور پر قبضے کی کوشش کے دو مقاصد تھے۔ اول کشمیر میں ابھرنے والی تحریک کا خاتمہ اور دوم مغربی پاکستان پر قبضہ۔ چونکہ کشمیر پر دونوں ممالک کی افواج میں گھمسان کا رن پڑچکا تھا۔ ان حالات میں اگر بھارت دوسرے محاذِ جنگ کھول کر پاکستان کو نہ الجھاتا تو کشمیرپر قبضہ کھنا بھارت کے لئے انتہائی مشکل ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت نے نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ پر بھی پر حملہ کیا۔ جہاں تک کشمیر میں چھڑنے والی جنگ کی بات ہے تو وقتی طور پر اس کا رخ موڑنے میں بھارت کامیاب تو ہوا، لیکن تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکام رہا۔ کشمیریوں کی حقِ آزادی کی خاطر ابھرنے والی تحریک اب بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر مضبوط بھی ہے۔ دوسری جانب لاہور جم خانہ میں جشنِ فتح منانے کا خواب دیکھنے والی فوج ہزیمت لئے واپس پلٹنے پر مجبور ہوئی۔ جنگِ پینسٹھ میں پاک فوج کی کامیابی یہی تھی کہ وہ نا صرف کم وسائل اور بغیر کسی پیشگی تیاری کے باوجود اپنے سے بڑی فوج کا راستہ روکنے میں کامیاب رہی۔ بلکہ ہندوستان کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ بھی کیااور بھارتی فوج کو بھاری جانی ومالی نقصان بھی پہنچایا۔ اس بنا پر جنگِ پینسٹھ ہماری ملی تاریخ میں صرف کامیاب دفاع ہی نہیں ایک شاندار فتح بھی ہے۔

مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شہید کی بیوہ کے تاثرات

مرے شہید کا ماتم نہ یوں کرو کہ شہید
نظر سے ہوتا ہے اوجھل پہ مر نہیں سکتا
یہ سچ ہے میری اداسی خرید کر کوئی
مری نظر میں ستارے تو بھر نہیں سکتا
مری پہاڑ سی ویراں اُداس راتوں میں
نئی سحر کا اُجالا تو کر نہیں سکتا
حیات سادہ کے بے رنگ ہاتھ میں کوئی
حنائی رنگ کی سُرخی تو بھر نہیں سکتا
خموش گھر کے اکیلے اداس آنگن میں
مرے سہاگ کا مہتاب اُبھر نہیں سکتا
مگر میں خوش ہوں کہ میرا سہاگ کام آیا
مرے وطن کا محافظ وطن کے کام آیا
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس نے جاں دے کر
جوان بہنوں کے ناموس کی حفاظت کی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس نے خوں دے کر
سہاگنوں کے سہاگوں کی آبرو رکھ لی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کی ہمت نے
مرے وطن کو نئی ایک زندگی بخشی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کی ر گ رک میں
خلوص و جوشِ شہادت کی آگ روشن تھی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کے چہرے پر
خودی کا رنگ تھا دل میں وطن کی عزت تھی
اسی شہید کا خوں میری مانگ میں بھردو
مجھے وطن کی محبت سے سُرخرو کردو

رشیدہ سلیم سیمیں

*****

 
18
September

قوم رواں برس یومِ دفاع اُسی جوش و خروش سے منا رہی ہے جس کے ساتھ اس نے باون سال قبل عددی اعتبار سے ایک بڑے دشمن کو شکستِ فاش دی تھی۔ ستمبر 65ء کی جنگ کے بعد ہی سے دشمن کو اس امر کا ادراک ہوا کہ وہ اس بہادر قوم اور اس کی جری افواج کو روائتی انداز سے کبھی شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ تب ہی سے دشمن نے اس عظیم مملکتِ خداداد کے خلاف سازشوں کے جال بُننا شروع کر دیئے۔ سانحۂ مشرقی پاکستان اُنہی سازشوں کا شاخسانہ تھا۔ دشمن آج بھی پاکستان کی بنیادوں کو (خدانخواستہ) اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ کبھی کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرتا ہے تو کبھی اپنے ’گماشتوں‘ کے ذریعے پاکستان کے دیگر علاقوں میں مداخلت کر کے پاکستان کو انتشار کا شکار بنانا چاہتا ہے۔ جس میں اسے نہ صرف ماضی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ مستقبل میں بھی اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔ کیونکہ پاکستانی قوم اب دشمن کی درپردہ سازشوں سے کماحقہ‘ آگاہ ہو چکی ہے اور اُن کا مؤثر توڑ کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔


یوم دفاع پاکستان دشمن کو یہ باور کراتا ہے کہ آج کا پاکستان ایٹمی قوت کا حامل ایک طاقت ور اسلامی ملک ہے جس نے 16سال سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا بھر کے دیگر ممالک سے زیادہ کامیابیاں سمیٹی ہیں اور 70 ہزاسے زائد پاکستانیوں کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد بھی اس قوم کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ قوم اپنے وطن اور اپنے نظریئے کی حفاظت کے لئے بے دریغی سے لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ پاکستانی قوم کا یہی عزم اسے دنیا بھر کی دیگر اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ پاکستان اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی جانب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ دن دُور نہیں جب یہ ملک خود کو درپیش چیلنجز پر قابو پا کر حتمی کامیابی حاصل کر لے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے حال ہی میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ’’ پاک فوج اُنہیں محفوظ اور مستحکم پاکستان فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ پاک فوج اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ تشدد اور دہشت گردی سے ملک کو نجات دلانے میں پاک فوج نے عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم قیامِ امن کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔‘‘


گویا قوم باہمی یگانگت اور اتحاد کو یقینی بنا کر ہی درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔بانیء پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے 13اپریل 1948کو نوشہرہ میں افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’جماعت کی حمیت و عزت کا دامن کبھی نہ چھوڑیئے۔ یعنی اپنی رجمنٹ پر فخر پوری کور پر فخر اور اپنے ملک پاکستان پر فخر اور اس کے لئے سچی لگن۔۔۔ پاکستان آپ کے بَل پر قائم ہے اور آپ پر ملک کے محافظوں کی حیثیت سے پورا اعتماد رکھتا ہے۔ اس اعتماد کے لائق بنیئے۔ یہ فوج آپ کے آباء و اجدادہی کی دلیری اور تندہی کی بدولت پروان چڑھی اور نیک نام ہوئی ہے۔ عزم کیجئے کہ آپ اس کے قابل فخر فرزند بنیں گے۔‘‘


بلاشبہ افواج پاکستان نے آج تک اپنے وطن کی سرحدوں کی جس انداز سے حفاظت کی ہے اور وقت پڑنے پر سردھڑ کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ اس پر قوم کو اپنے ان فرزندوں پر بجا طور پر فخر ہے۔آج پاکستان امن کے حصول میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور اب ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستان مکمل طور پر خوشحالی اور امن کی تصویر بن کر اُبھرے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک کوئی ملک دفاعی اعتبار سے مضبوط ملک نہیں بنتا تب تک وہاں امن اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی قوم اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ دفاع وطن ہی بقائے وطن کی ضمانت ہے۔ ہماری افواج انہی سطور پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جدید ترین جنگی اور پیشہ ورانہ خطوط پر تیاری کو اپنا مطمع نظر بنائے ہوئے ہیں تاکہ دشمن ہماری سرحدوں کی جانب کبھی میلی نگاہ نہ اٹھا سکے۔
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

18
September

تحریر: جبار مرزا

ستمبر1965 کی جنگ کراماتی اور کرشماتی جنگ تھی۔
خاکی وردی والے خاک و خون ہو کر شہادت سے سرفراز ہوگئے مگر وطنِ عزیز کی سالمیت پر آنچ نہ آنے دی۔
چونڈہ میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی لڑائی لڑی گئی، 5ستمبر 1965 کی آدھی رات کے وقت بھارتی فوج بین الاقوامی سرحد پر آکر رُک تو گئی تھی مگر اُس کے ڈویژنل افسروں نے اپنے ماتحتوں پر انکشاف کیا تھا کہ ہمیں ’’یہاں رُکنا نہیں ہے بلکہ صف بندی کرکے آگے بڑھنا ہے، لاہور تک میدان صاف ہے، فوج کو دوپہر کا کھانا لاہور میں کھلایا جائے گا اور شام کو جنرل چوہدری فاتح افسروں کے اعزاز میں لاہور جم خانہ کلب میں محفلِ ناؤ نوش برپا کریں گے۔‘‘


بھارتیوں کے اس خواب کا انکشاف، بھارتی15 ڈویژن کا کمانڈر میجر جنرل نرنجن پرشاد جب اپنی جیپ چھوڑ کر بھاگا تو جیپ سے ملنے والی نرنجن پرشاد کی ڈائری سے ہو جو پاکستان کے پاس محفوظ ہے ۔ اس ڈائری میں لاہور پر قبضے کی تمام تفصیلات موجود ہیں، اس ڈائری میں پاکستان کے تمام کمانڈروں کے نام اور ان کی دفاعی پوزیشنوں کے بارے میں بالکل درست معلومات درج تھیں۔ بھارتیوں کو سقوطِ لاہور کا یقین بے وجہ نہ تھا ۔اس جنگ میں بھارت نے اپنی پوری فوجی قوت میدان میں جھونک دی تھی۔

napakiradonki.jpg
بھارت نے وہ اسلحہ جو اس نے امریکہ سے چین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے لیا تھا، وہ سارے کا سارا 1965 کی جنگ میں پاکستان کے خلاف پھونک دیا تھا، بھارت نے بہت بڑی منصوبہ بندی سے پاکستان پر حملہ کیا تھا، بھارتی فوج کی صف بندی کے ساتھ ہی دہلی میں فتح کے جشن کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔ غیر ملکی اخباری نمائندوں کو لاہور پر قبضے کی پیشگی اطلاع بھی دے دی گئی تھی۔ بی بی سی نے تو لاہور پر قبضے کی خبر نشر بھی کردی تھی۔ اخبارات کے ضمیمے دھڑا دھڑ چھپنے اور فروخت ہونے لگ گئے تھے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ارکان تہذیب و اخلاق کی روایات کو پامال کرکے بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ لاہور کے لئے اشون کمار کو ایڈمنسٹریٹر بھی نامزد کردیا گیا تھا۔ لاہور ریڈیو سٹیشن سے فتح کا اعلان کرنے لئے ریہرسل بھی کرلی گئی تھی۔ منصوبہ سازوں نے اکھنور کے علاقے میں ڈویژن اور ایک بکتر بند رجمنٹ دسواں پہاڑی ڈویژن، انیسواں اور پچیسواں پیدل ڈویژن اور بیس لانسر ٹینک رجمنٹ پر جمع کر رکھی تھیں۔ سیالکوٹ اور چونڈہ کی سرحد پر تین ڈویژن پیدل فوج یعنی چھبیسواں پیدل ڈویژن، چھٹا پہاڑی ڈویژن اور چودھواں پیدل ڈویژن اِن کے علاوہ پورا بکتر بند ڈویژن اور ٹینکوں کی دو رجمنٹیں اور دوسری رجمنٹس پوزیشن لے چکی تھیں۔


لاہور کے محاذ پر پندرھواں اور ساتواں پیدل ڈویژن حرکت میں آچکا تھا۔ پچاس میل تک وسیع محاذ پر نگاہ دوڑائیں تو دور تک بھارتی فوج بہت بڑے حملے اور فیصلہ کن وار کے لئے تیار تھی۔ اسی طرح قصور کے مقابل میں اگر چوتھا پہاڑی ڈویژن صف آرا تھا تو راجستھان میں گیارھواں پیدل ڈویژن حملے کے لئے وارم اپ ہو چکا تھا۔ یوں پھر پلان کے مطابق 5اور 6 ستمبر کی رات واہگہ کی طرف سے لاہور پر قبضہ،7 ستمبر کو قصور کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوج نے واہگہ کی طرف سے پیش قدمی کرتی فوج سے جرنیلی سڑک پر آ ملنا تھا۔ بھارت کا خیال تھا کہ لاہور پر شب خون سے پاکستانی عوام کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور افراتفری پھیل جائے گی۔ ادھر سیالکوٹ کی طرف سے بڑھتی ہوئی فوج گوجرانوالہ اور وزیرآباد کے درمیان کسی مقام پر لاہور کی طرف پیش قدمی کرنے والی فوج سے جاملے گی۔ شیخ چلی کی طرح بھارت نے خیال ہی خیال میں اپنے منصوبے پر کامیابی حاصل کرلی تھی اور اب تصوراتی طور سے فتح کا جشن منانے کا سوچ رہا تھا کہ مورکھ کو کافی تاخیر سے خیال آیا کہ اہلِ پاکستان کی قوتِ ایمانی اور افواج پاکستان کے جذبۂ جہاد اور آرزوئے شہادت کے سامنے تو ہمارا سب کچھ پانی کابلبلہ ہے اور ایسا ہی ہوا ’’ٹاپ آف دا نیوز‘‘ واشنگٹن کے نامہ نگار کے مطابق بھارتی فوج کی پہلی رجمنٹ جب پاکستانیوں کے مقابلے پر آئی تو لڑی نہیں بلکہ منہ پھیر کربھاگ نکلی اپنا اسلحہ، رسد اور ذاتی سامان تک چھوڑ کر بھاگ گئی۔ جہاں تک لاہور پر حملے کا تعلق تھا تو لاہور میں داخلے کے لئے باٹاپور کے پل پر قبضہ ضروری تھا۔ واہگہ سے باٹا پور تک معمولی مزاحمت کے بعد معمولی اس لئے کہ رینجرز کے علاوہ صرف ایک سکرین پلاٹون وہاں متعین تھی جس کی قیادت میجر عارف جان کررہے تھے، جنہوں نے بھارت کی عسکری اور عددی برتری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مشین گن خود سنبھال لی، میجر عارف جان نے واہگہ سیکٹر کے پہلے شہید کا اعزاز پاکر بھارت کے خواب کو چکنا چور کردیا کہ اگر ایک پلاٹون جس کا ہر جوان آخری گولی تک لڑاا ور شہید ہوتا گیا مگر پیچھے نہیں ہٹا تو جب پورے ایک ڈویژن فوج سے واسطہ پڑے گا تو پھر کیاہوگا۔

جنگ ستمبر محض سترہ دنوں کی روداد نہیں بلکہ کئی نسلوں تک اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اس جنگ میں جہاں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی اور پاک فضائیہ نے شجاعت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی، وہاں حکومتِ پاکستان نے بہت سے جری جوانوں ، غازیوں اور شہیدوں کو خصوصی تمغے دے کر ان کے ایثار کا اعتراف کیا تھا


پچاس میل لمبے اس محاذ کو قائم کرنے کا بھارتی منصوبہ محض یہ تھا کہ پاکستانی افواج پر مختلف سمتوں سے حملہ کیا جائے ، حالانکہ اتنے بڑے محاذ پر پاکستانی ڈویژن کمانڈر میجر جنرل محمد سرفراز خان کے پاس صرف سات بٹالین فوج تھی۔ اس کے باوجود بھارتی مورکھوں کی صفوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی، یہی وجہ تھی کہ بھارتی فوجیں باٹا پور کے پُل کے اس پار آکر رُک گئی تھیں، البتہ وقفے وقفے سے بھارتی توپ خانہ زبردست گولہ باری کررہا تھا اور پاکستانی فوج نے بڑے تحمل سے وہ گولہ باری برداشت کی۔ پاکستان کی برداشت بھارتیوں کو اور بھی پریشان کئے جارہی تھی۔ ٹینکوں کی رجمنٹ اور پیدل فوج جو کافی دیر سے باٹا پور پل پار کرنے کے لئے پر تول رہی تھی، جب بھارت کا پہلا ٹینک آگے بڑھا تو اُسے بڑی آسانی سے پاکستانی فوج نے تباہ کردیا۔ پھر 6 اور7 ستمبر کی درمیانی رات دس بجے یعنی بھارتی جارحیت کے دوسرے روز بھارت نے پورے بریگیڈ کے ساتھ حملہ کیا مگر پاکستانی جاں نثاروں نے وہ حملہ بھی ناکام بنا دیا۔ دونوں فوجوں کے درمیان فاصلہ بہت کم تھاشاید 100 گز بھی نہیں تھا آمنے سامنے ایک دوسرے کی حرکت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے میں باٹاپور کا پُل اڑانا بہت ضروری تھا بھارتی فوج کی اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ سے یہ کام بہت مشکل تھا مگر اس کٹھن کام کو انجام دینے کے لئے پاکستان آرمی انجینئرنگ کور کے میجر آفتاب احمدملک نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ رات کی تاریکی میں میجر آفتاب چند دیگر جاں نثاروں کو لے کر باٹا پور پل کو اُڑانے کی غرض سے ضرور ی بارود اور مائنز لے کر ہدف پر پہنچ گئے اس دوران بھارتیوں نے آفتاب ملک کو دیکھ لیا تھا اور گولہ باری میں شدت پیدا کردی تھی مگر پاکستان کی جوابی فائرنگ کے سامنے بھارتیوں کی پیش نہ چلی۔ میجر آفتاب ملک کا راستہ روکنے کے لئے تین ٹینک آگے بڑھے جنہیں پاکستانی فوج نے تباہ کردیا، بہت سارے گولہ بارود کی چمک کی وجہ سے آفتاب ملک اور ان کے ساتھی دکھائی تو دیئے مگر وہ سارے کے سارے پل کے ستونوں کے پیچھے چھپ کر مطلوبہ جگہ پر بارود بھرکے واپس آئے اور آکر جب نیگیٹو اور پازیٹو تاریں جوڑیں توپُل بھک سے اُڑ گیا۔ اس کے بعد سترہ دن کی جنگ میں بھارت ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکا، اس عرصے میں پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتیوں کے اوسان خطا کئے رکھے، ادھر، سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی۔ مگر بریگیڈیئر امجد، عبدالعلی ملک اور لیفٹیننٹ کرنل نثار احمد خان نے اپنے جوانوں اور فضائیہ کی مدد سے ان کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا، پاکستانی فوجی جوان جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں تلے لیٹ گئے اور دشمن کی پیش قدمی روک دی یوں بھارت تمام ترکوششوں کے باجود چونڈہ شہر میں داخل نہ ہو سکا ۔


جنگ ستمبر محض سترہ دنوں کی روداد نہیں بلکہ کئی نسلوں تک اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اس جنگ میں جہاں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی اور پاک فضائیہ نے شجاعت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی، وہاں حکومتِ پاکستان نے بہت سے جری جوانوں ، غازیوں اور شہیدوں کو خصوصی تمغے دے کر ان کے ایثار کا اعتراف کیا تھا، فوج کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر جنگ ستمبر میں میجر راجہ عزیز بھٹی کو ملا تھا۔ اس سے پہلے کیپٹن سرور اور میجر طفیل کو نشانِ حیدر مل چکے تھے۔


1965کی پاک بھارت جنگ میں لاہور کے محاذ پر 17 پنجاب کے الفا کمپنی کمانڈر میجر عزیزبھٹی شہید کو جو نشانِ حیدر ملا تھا، اس کی سفارش ان کے یونٹ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم قریشی نے کی تھی۔ ابراہیم قریشی جن کا تعلق راولپنڈی شہر سے تھا، وہ بعد میں بریگیڈئیر ہوئے، کئی ملکوں میں پاکستان کے سفیر رہے، وزارتِ خارجہ کے عہدے پر بھی فائزرہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل کرانے میں سفارتی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مددبھی کی۔ ابراہیم قریشی کا شمار ہمارے ان لوگوں میں ہوتا تھا جن سے ہمارا عقیدت کا تعلق رہا ہے، ابرہیم قریشی اسلام آباد میں مدفون ہیں۔ان کی گفتگو ہمیشہ جذبوں سے بھری ہوتی تھی۔ اور وہ بہت شفقت اور عقیدت سے میجر عزیز بھٹی شہید کی بہادری کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔


وہ اکثر کہتے کہ وطن کی خدمت کا جذبہ میجر عزیزبھٹی میں بدرجۂ اتم موجود تھا۔ وہ بہت دلیر اور نڈر آفیسر تھے جو اگلی صفوں میں رہتے ہوئے دشمن پر وار کرنے پر یقین رکھتے جس کا ثبوت اُن کے جنگ ستمبر کے کارناموں سے ملتا ہے۔
باٹا پور کا پل اڑانے والے میجر آفتاب ملک بھی اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ وہ فوج سے بطور کرنل ریٹائر ہوئے تھے، کرنل آفتاب ملک کو باٹا پور کا پُل اُڑانے پر ستارۂ جرأت ملا تھا، آپ نے1957 میں
Persian Pipeline
نامی کتاب بھی لکھی تھی۔ حکومتِ پاکستان سے ایڈیشنل سیکرٹری ریٹائر ہوئے اور پاکستان زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ 1991 میں جب پاکستان بیت المال کا قیام عمل میں آیا تو کرنل آفتاب ملک اس کے بانی سیکرٹری تھے، کرنل صاحب سعودی حکومت کے مشیر بھی رہے، بلوچستان حکومت کے سیکرٹری مواصلات بھی رہے، کرنل آفتاب ملک 1929میں ملک احمددین کے ہاں پیدا ہوئے اور 27 فروری1999 کو لندن میں وفات پائی اور3 مارچ1999 کو اسلام آباد میں تدفین ہوئی۔ اُن سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ اکثر اپنی یادوں پر مبنی جنگی واقعات سنایا کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ 1965 کی جنگ میں باٹا پور پُل کو اڑانا عسکری اور جنگی اعتبار سے بہت اہم تھا اور ہمارے جوانوں نے یہ کارنامہ دشمن کی شدید ترین مزاحمت اور فائرنگ کے دوران کیا کیونکہ مؤثر دفاع کے لئے اس کام کا کرنا ضروری تھا اور الحمدﷲ ہم اس میں کامیاب رہے۔ کیا باکمال لوگ تھے جو زندگی کی آخری سانس تک ’زندہ‘ رہے، بلکہ ایسے لوگ تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، تاریخ ایسے لوگوں کو مرنے ہی نہیں دیتی جو وطن، ملت اور دینِ اسلام کے لئے جیتے ہیںیا جان دے دیتے ہیں۔

مضمون نگار: ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
September

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط نمبر20

سر جی میں جاواں
گئے وقتوں میں پشاور کے آرٹلری میس میں ہمہ وقت پندرہ سے بیس بیچلر آفیسرز کا ڈیرہ رہا کرتا تھا۔ ایک کمرے میں عموماً تین سے چار افسروں کا پڑاؤ ہوتا تھا۔ ایک غیر تحریری معاہدے کی رو سے میس میں موجود ہر شے عوام کی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی تھی۔ ذاتی سامان کی پھبتی صرف نیکر بنیان تک ہی محدود تھی بلکہ اکثر صورتوں میں توانہیں بھی روم میٹس کی دست برد سے بچانا ناممکن ہو جاتا تھا۔ ہمارے ایک سینیئر کیپٹن جاوید ایک الگ ہی طبیعت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ موصوف کو کسی چیز کی ضرورت آن پڑتی تو پہلے روم میٹ سے مانگتے پھر پاس پڑوس کے تمام کمروں میں بیٹ مین کو دوڑاتے، اس کے بعد خود ایک چکر لگا کر دستِ سوال دراز کرتے اور جب گوہر مقصود کہیں سے ہاتھ نہ آتا تو چاروناچار اپنا ٹرنک کھولتے اور اس میں سے مطلوبہ آئیٹم برآمد کرتے ہوئے فرماتے ’’آج کل کے افسر کس قدر بے مروت ہو گئے ہیں ،معمولی سی چیز بھی دوسروں سے شئیر نہیں کرتے۔‘‘

targitsirgmainjawan.jpg
ایک مرتبہ ہمیں معلوم ہوا کہ موصوف وی سی آر خرید لائے ہیں۔ سب لوگ ان کے کمرے میں جمع ہوگئے اور فلم دکھانے کی فرمائش کی۔ انہوں نے فلم دیکھنے کی اجازت تو دے دی لیکن ہمیں وی سی آر کے نزدیک نہیں پھٹکنے دیا۔ اس زمانے میں ٹی وی اور وی سی آر بغیر ریموٹ کے ہوا کرتے تھے اور ان پر لگے بٹنوں کو ہاتھ سے پریس کرنا پڑتا تھا۔ چند دنوں بعد کیپٹن جاوید کو اچانک چھٹی جانا پڑا۔ وی سی آر کو ساتھ لے جانا ممکن نہ تھا چنانچہ جاتے ہوئے تاکید کر گئے کہ خبردارکوئی ان کے وی سی آر کو ہاتھ نہ لگائے۔ ہم ہمیشہ سے اپنے سینیئرز کے حد سے زیادہ فرمانبردار واقع ہوئے ہیں تاہم نئے نویلے وی سی آر سے دُور رہنا ہمیں صبر کے پل صراط کو بند آنکھوں عبور کرنے کے مترادف دکھائی دے رہا تھا۔ سینیئر کا حکم ایک طرف اور وارفتگئ شوق دوسری جانب،گویا ’’ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘ والا معاملہ درپیش تھا۔اس گھمبیر مسئلے کے حل کے لئے لیفٹین پارٹی کی ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی۔کافی بحث و مباحثہ کے بعد لیفٹیننٹ شوکت (جو کہ ماموں کے نام سے مشہور و معروف تھے) کی اس تجویز پر اتفاق رائے ہوا کہ وی سی آر کو چلانے کے لئے ہاتھوں کے بجائے پاؤں کا مناسب استعمال کیا جائے گا۔


ویک اینڈ کی آمد آمد تھی۔حسبِ پروگرام ویک اینڈ نائٹ پر بیچلر پارٹی ایک کمرے میں جمع ہوئی۔یہ ایک ہال نما مستطیل کمرہ تھا جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا چینج روم متصل تھا۔ بڑے کمرے اور چینج روم کے درمیان ریلنگ لگا کر ایک پردہ ٹانگ دیا گیا تھا۔فلم چلانے سے پہلے کمرے کی تمام روشنیاں گل کر کے سینما کا ماحول پیدا کیا گیا۔ اس کے بعد ہم سب انہماک سے فلم دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔ بارہ بجے کے قریب فلم ختم ہوئی تو ایک افسر نے اٹھ کر لائٹس آن کیں۔ اچانک چینج روم کا پردہ تھوڑا سا سرکا ، بیٹ مین حمید نے ایک کونے سے سر باہر نکالا اور منمناتی ہوئی آواز میں بولا’’سر جی! میں جاواں۔‘‘ ہوا کچھ یوں تھا کہ حمید ہمارے آنے سے پہلے چینج روم میں بوٹ پالش کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک ہم سب کمرے میں براجمان ہوگئے اور لائٹس بجھاکر فلم دیکھنا شروع کر دی۔ اس طرح حمید کے باہر نکلنے کا راستہ مسدود ہو گیا اور اس نے وہیں دبک کر انتظار کرنے میں عافیت جانی۔ حمید کی بات کے جواب میں خاموشی کا ایک مختصر وقفہ آیا جسے ماموں شوکت کی غصے بھری آواز نے توڑا ’’ٹھہر جا کم بخت،ابھی دوسری فلم لگانے لگے ہیں وہ بھی دیکھ کر جانا۔‘‘


تنخواہِ گمشدہ
فوج کی تنخواہ تھوڑی سہی لیکن اس میں برکت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جب ہم کیڈٹ بن کرنئے نئے فوج کو پیارے ہوئے تو چند سو روپے ماہوار کے وظیفے پر گزارہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری آتی چلی گئی اور ہمارا لائف سٹائل بھی بہتر ہوتا چلا گیا۔ تاہم یہ بات قدرے خوشی اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ نہ تو کبھی کسی قسم کی تنگی کا احساس دامن گیر ہوا اور نہ ہی کبھی قرض لینے کی نوبت آئی۔ شادی سے پہلے افسر تنخواہ بینک سے نکلوا کر میس حوالدار کے حوالے کر تا ہے اور شادی کے بعد بیگم کے۔ دونوں صورتوں میں افسر کا کام صرف تنخواہ کے چیک پر دستخط کرنا ہوتا ہے جو وہ برضا و رغبت کر دیتا ہے۔ تنخواہ کے ساتھ ہی لمبے چوڑے بل بھی موصول ہوجاتے ہیں جن کو چکانے کے بعدجو چند آنے پائیاں بچ رہتی ہیں ان کا حساب کتاب کر نے کے لئے جتنا وقت اور مہارت درکار ہوتی ہے اس کا افسروں کے ہاں شدید فقدان ہوتا ہے، لہٰذا اس بھاری پتھر کو چومنے سے گریز ہی کیا جاتا ہے۔ تنخواہ جاری و ساری رہے تو گلشن کا کاروبار ایک لگے بندھے معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے لیکن اگر کسی بنا پر اس میں کوئی رخنہ آ جائے تو گویا قیامت ہی ٹوٹ پڑتی ہے۔ ایسے میں افسر کا وہی حال ہوتا ہے جو 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد مرزا غالب کا ’’موئے فرنگیوں‘‘ کی جانب سے پینشن روکے جانے پر ہوا تھا۔


یہ مارچ 2001 کا ذکر ہے۔ ہم ان دنوں کپتان تھے اور سکول آف آرٹلری نوشہرہ میں عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ ہمیں سکول آف آرٹلری میں پوسٹ ہوئے کوئی دو ماہ کا عرصہ ہو چلا تھا۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ ایک دن تنخواہ کا چیک کیش کرانے بینک پہنچے تو انکشاف ہوا کہ تنخواہ اکاؤنٹ میں کریڈٹ نہیں ہوئی۔ ہمارے پاس سی ایم اے کی کنفرمیشن سلپ موجود تھی جو بینک مینجر کو دکھائی گئی لیکن انہوں نے ریکارڈ چیک کرنے کے بعد بتایا کہ انہیں چیک موصول نہیں ہوا۔ ہم نے اگلے دن چھٹی لے کرکنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس( سی ایم اے) پشاور کا رخ کیا۔ انہوں نے اپنے ریکارڈ کی پڑتال کر کے بتایا کہ ان کی جانب سے مذکورہ چیک بینک کو دو ہفتے قبل ارسال کر دیا گیا تھا۔ نوشہرہ پہنچ کر پھر بینک مینجر کے روبرو پیش ہوئے اور انہیں سی ایم اے کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سنی ان سنی کر دی اور اصرار کیا کہ چیک موصول ہوئے بغیر رقم ہمارے اکاؤنٹ میں کریڈٹ نہیں کی جا سکتی۔ اگلے دن پھر پشاور پہنچے اور سی ایم اے والوں سے اس مسئلے کا حل دریافت کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آپ نیشنل بینک سے نان پیمنٹ سرٹیفکیٹ لکھوا لائیں۔ ہم نوشہرہ پہنچے اور بینک مینیجر سے مذکورہ سرٹیفکیٹ لے کر اگلے ہی روز سی ایم اے والوں کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضرت اکاؤنٹنٹ نے فرمایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہم کیس بنا کر اپنے ہیڈ آفس کو راولپنڈی بھجوا رہے ہیں اور وہاں سے جو جواب موصول ہو گا اس سے آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔ چند دن بعد ہیڈ آفس کا جواب موصول ہو گیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ تین ماہ بعد سٹیٹ بینک سے فائنل سٹیٹمنٹ موصول ہوگی تب نیا چیک ایشو کیا جائے گا۔ ہم نے دن گننے شروع کر دئے۔ خدا خدا کر کے تین ماہ گزر گئے لیکن نیا چیک جاری نہ ہوا۔ ہمارے بار بار پوچھنے پر یہی بتایا جاتا کہ ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔ آخر پانچ ماہ گزرنے کے بعد ہمارا پیمانہ صبر لبریز ہو ہی گیا اور ہم نے ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو ایک عدد ذاتی خط ارسال کر دیا جس میں یہ تمام روداد من و عن بیان کی گئی تھی۔
اس خط کے جواب میں اکاؤنٹنٹ جنرل نے ہمیں فوراً نیا چیک ایشو کرنے کے احکامات جاری فرمائے اور ماتحت عملے کی اس بات پر سخت جواب طلبی فرمائی کہ اصولاً افسر کی رپورٹ پر نیا چیک تین دن کے اندر ایشو ہو جانا چاہئے تھا جو کہ پانچ مہینے بعد بھی کیوں نہ کیا گیا۔ہمیں تو فی الوقت اپنی تنخواہ کے چیک سے غرض تھی جو کہ تاخیر سے ہی سہی لیکن پوری ضرور ہو گئی تاہم کچھ دنوں بعد یونہی رولز کی ایک کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو براہ راست خط لکھنے کی ممانعت ہے۔ یہ پڑھ کر خدا کا شکر ادا کیا کہ ہم اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل دونوں ہی اس رول سے واقف نہ تھے ورنہ ہماری تنخواہ کا چیک گمشدہ ہی رہتا اور ہم اس کی تلاش میں آج بھی دربدر بھٹک رہے ہوتے۔


فدا کی بددعا
اگست 2006 کا ذکر ہے۔ ہم سکردو کے بیچوں بیچ واقع ہیڈکوارٹر آرٹلری ایف سی این اے میں بحیثیت جی ٹو عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ اس موسم میں سکردو جنت نظیر کا منظر پیش کرتا ہے۔ سرسبز پہاڑ، شفاف جھرنے اور معطر ہوائیں مل کر ایک سماں باندھ دیتی ہیں۔ ایسے میں ایک دن کمانڈر کو یونٹوں کے درمیان فائرنگ مقابلہ کروانے کا شوق چُرایا۔ دس دن بعد کی تاریخ طے ہوئی اور ہمیں مقابلے کا جج تعینات کر دیا گیا۔ ایک سہانی صبح کو تمام ٹیمیں بھرپور تیاری کے ساتھ فائرنگ رینج پر موجود تھیں۔ مقابلے میں کل سات ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں، ہر ٹیم دس جوانوں پر مشتمل تھی جس کی سربراہی ایک افسر کے ذمہ تھی۔ ٹیم کے دس ممبران نے سو میٹر کے فاصلے سے اپنے اپنے ٹارگٹ پر پانچ راؤنڈ فائر کرنا تھے۔ ٹارگٹ اینڈ پر موجود عملے نے ہر ٹارگٹ پر ہٹ کی گئی گولیوں کی تعداد گن کر ہمیں پاس کرنا تھی جو کہ ایک بڑے بورڈ پر ان کے نام کے آگے لکھی جانی تھی۔سب ٹیموں کے فائر کرنے کے بعد ان کی ٹارگٹ کو ہٹ کی گئی گولیوں کی تعداد جمع کرکے پوزیشنز کا فیصلہ ہونا تھا۔ مقابلے کی اہمیت کے پیش نظر تمام یونٹوں کے کمانڈنگ افسران بھی دیگر افسروں کے ہمراہ اپنی ٹیموں کی کارکردگی ملاحظہ کرنے کے لئے بنفسِ نفیس وہاں موجود تھے۔


میجر فدا کا شمار ہمارے بہت اچھے سینئرز میں ہوتا تھا۔ وہ بھی اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے اس مقابلے میں حصہ لے رہے تھے۔ ان کی ٹیم نے سب سے پہلے فائر کیا اور ٹارگٹ اینڈ کی جانب سے رزلٹ ہمیں لکھوا دیا گیا۔ اس رزلٹ کے مطابق میجر فدا کی کوئی ایک بھی گولی ٹارگٹ کو چھونے میں ناکام رہی تھی۔ ہم نے رزلٹ جوں کا توں بورڈ پر لکھوا دیا۔ میجر فدا کے نام کے سامنے بڑا سا انڈہ دیکھ کر ان کے کمانڈنگ افسر کے تیور آسمان کو لگ گئے۔ وہ تواپنی ٹیم کی جیت کی اُمید لگائے بیٹھے تھے جس پر اس شاندار رزلٹ نے سرے سے پانی پھیر دیا تھا۔میجر فدا معصوم صورت بنائے ہمارے پاس تشریف لائے اور نظر ثانی کی درخواست دائر کی۔ لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ہم بحیثیت ایمپائر عدل و انصاف کا علم بلند کر چکے تھے۔ہمارے مسلسل انکار پر انہوں نے فرمایا کہ میجر صاحب آپ ہمیشہ تو اس اپائنٹمنٹ پر نہیں رہیں گے، خدا کرے کہ آپ میری جگہ پوسٹ ہوجائیں۔ ایسا ہونا بادی النظر میں ناممکن نظر آتا تھا کیونکہ ہم سٹاف کورس کے لئے سیلیکٹ ہو چکے تھے جس کے لئے ہمیں اوائل دسمبر میں کوئٹہ رپورٹ کرنا تھی۔


حالات نے اچانک پلٹا کھایا اور ایک دن ایچ کیو کی جانب سے خط موصول ہوا کہ سٹاف کورس دسمبرکے بجائے اگلے جون میں شروع ہو گا۔ یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ ایم ایس برانچ نے فی الفور ہمیں اگلے نو ماہ کے لئے فارورڈ یونٹ میں پوسٹ کر دیا۔ یوں چند روز بعد ہم سکردو سے اٹھ کر میجر فدا سے سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ان کی گن پوزیشن کا چارج لے رہے تھے۔ اگلے نو ماہ ہم دن رات برف میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے اور سوچتے رہے کہ میجر فدا نے ایسا کون سا چلہ کیا ہوگا جس کی بدولت انہیں یہ ولایت حاصل ہوئی۔
(.........جاری ہے)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
18
September

تحریر: وثیق شیخ

جنگ ستمبر1965کے دوران جرأت و بہادری کے ایسے ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملے کہ ان پر انسانی عقل حیران ہے۔ سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دشمن نے 400 سے زائد ٹینکوں سے حملہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں کسی بھی جگہ ٹینکوں سے لڑی جانے والی یہ سب سے بڑی جنگ تھی۔ قلیل تعداد اور اسلحہ کم ہونے کے باوجود پاک فوج کے بہادر اس جاں نثاری سے لڑے کہ دنیا کی عسکری تاریخ اش اش کر اٹھی۔

اسی معرکے کے حوالے سے وثیق شیخ نے ان بزرگ شخصیات سے رابطہ کیا اور ان کے آنکھوں دیکھے احوال کو قلمبند کیا جنہوں نے 1965 میں چونڈہ کی جنگ کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا تھا۔

 

سعید بٹ
1944میں چونڈہ میں پیدا ہوئے۔ 1965میں ان کی عمر 21سال تھی۔ سعید صاحب اس وقت واپڈا میں ملازم تھے اور منڈی بہاؤالدین میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ دوران ڈیوٹی ان کو اطلاع ملی m_saeed_butt.jpgکہ بھارتی فوج نے چونڈہ پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ فوراً ہنگامی چھٹی لے کر چونڈہ پہنچے تاکہ اپنے خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کر سکیں۔ جنگ ستمبر کا احوال بیان کرتے ہوئے سعید بٹ 73 سال کی عمر میں بھی جذباتی ہو گئے اور اس طرح واقعات بیان کرنے لگے جیسے آج بھی وہ منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہو۔ انہوں نے چونڈہ آتے ہی محلے کے نوجوانوں کا ایک گروپ تشکیل دیا اور افواج پاکستان کو اپنی خدمات پیش کیں۔ رضاکارانہ طور پر ان کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ پہرہ دیں۔ 11ستمبر کو جب پھلورہ اور گڈگور کے درمیان شدید جنگ جاری تھی افواج پاکستان نے چونڈہ کو خالی کرنے کا حکم دیا تاکہ شہری آبادی کو جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔ بہت اصرار کے بعد لوگوں کو آمادہ کیا گیا کہ وہ شہری آبادی کو فوری خالی کر دیں۔ اسی دوران بھارتی فوج نے الہڑ اسٹیشن پر قبضہ کر لیا اور یہ خبر پھیلا دی کہ چونڈہ پر قبضہ ہو گیا ہے لیکن افواج پاکستان اور پاکستانی عوام اس بھارتی پروپیگنڈے کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے بھارتی ٹینکوں کا راستہ روک کر ڈٹے رہے ۔ سعید بٹ نے بھارتی فوج کو للکارتے ہوئے کہا کہ آج بھی اس کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے وہ بالکل تیار ہیں۔ 73سالہ بزرگ کا جذبہ دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دل سے بے اختیار یہ صدا نکلی ۔
؂ مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا
میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا


لال دین رحمانی
laldeenrehmani.jpg83سالہ لال دین رحمانی بھی 1965 کی جنگ میں قومی جذبے سے سرشار رضاکارانہ طور پر چونڈہ کے گردونواح پر نظر رکھنے کے لئے تعینات تھے۔ جنگ کے واقعات کا بڑی گرم جوشی سے تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری ڈیوٹی چونڈہ کے ساتھ گاؤں کالے وال پر نظر رکھنا تھی۔ بھارتی فوج کو پاکستانی فوج پھلورہ کے پاس روکے ہوئے تھی۔ بھارت نے 400ٹینکوں اور ایک بہت بڑی پیدل فوج کے ساتھ حملہ کیا لیکن اتنی بڑی قوت کے باوجود بھارتی سورما مٹھی بھر پاکستانی فوج کے سامنے بے بس نظر آ رہے تھے۔ لال دین اور ان کے ساتھی ایک کماد (گنے) کے کھیت میں چھپ کر دشمن پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک جیپ کی آواز آئی۔ وہ چوکنے ہو گئے۔ بھارتی فوج کی ایک ریکی ٹیم اسی کماد کے کھیت کے پاس آ کر رک گئی۔ جیپ میں ایک سکھ حوالدار اور دو ہندو فوجی مشین گن نصب کئے اپنی فوج سے کافی دور آ نکلے تھے۔ وہ کھیت کے اتنے قریب تھے کہ ان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ سکھ افسر پنجابی میں اپنے ساتھیوں سے مخاطب تھا۔ ’’اوئے رام پال واپس چلتے ہیں بہت دور نکل آئے ہیں کہیں پاکستانی فوج کے گھیرے میں نہ آ جائیں۔‘‘ اس کی آواز سے ہی گھبراہٹ کا پتہ چل رہا تھا۔
’’جی سر ٹھیک ہے۔‘‘ گھیرے میں آئے دشمن کو یوں ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر لال دین نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کیا اور فائر کھول دیا۔ تینوں بھارتی فوجی موقع پر ہی جہنم واصل ہو گئے۔ یہ واقعہ سناتے ہوئے بوڑھے لال دین نے وہی نعرہ تکبیر دوبارہ بلند کیا اور ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔ میں سوچنے لگا کہ اگر یہ جذبۂ ایمانی موجود نہ ہوتا تو کیا پاکستانی فوج اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کو شکست دے سکتی تھی۔


رحمت اﷲ بٹ
rehmat_ullahbutt.jpg82سالہ رحمت اﷲ بٹ اس عمر میں بھی چاق چوبندہیں۔ وہ جنگ ستمبر کا آنکھوں دیکھا حال پورے جذبۂ حب الوطنی سے بیان کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ وہ رضاکار ٹولی کے ساتھ چونڈہ کے باہر ریلوے لائن کی حفاظت پر مامور تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ٹینکوں کے گولے ہمارے دائیں بائیں گر رہے تھے۔ آنکھوں کے آگے تا حد نظر گرد اور دھوئیں کے بادل چھائے تھے۔ دشمن پوری قوت سے حملہ کر رہا تھا۔ نڈر اور بے باک پاک فوج ایک ایک انچ کا دفاع کر رہی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ دشمن ریلوئے لائن عبور کر لے گامگر پاک فوج کے جری سپوتوں کی بھرپور جوابی کارروائی کی بدولت دشمن چونڈہ سے آگے نہ بڑھ سکا اور آج بھی چونڈہ کا مقام دشمن فوج کے لئے ندامت اور ہزیمت کے طور پر جاناجاتا ہے۔

 

 

 


دو انمول واقعات

 

فوجی جوانوں کے لئے مائی برکتے کی بنائی گئی روٹیاں

مائی برکتے کی داستان قصبہ چونڈہ کے باسی یاد رکھے ہوئے ہیں۔ مائی بالکل اکیلی تھی۔ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ 1965کی جنگ شروع ہوئی تو گاؤں کے تمام خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ مائی نے جانے سے انکار کر دیا۔ مائی نے ایک تندور لگایا ہوا تھا جہاں وہ روٹیاں لگا کر اپنی گزر بسر کرتی تھی۔ جنگ کے دوران مائی سارا وقت روٹیاں لگاتی رہتی اور اپنے آپ سے باتیں کرتی رہتی۔ ابھی میرے فوجی جوان آئیں گے، بھوکے ہوں گے، یہاں کون ہے ان کے لئے کھانا پکانے والا، میں ہوں نا ان کی ماں ان کے لئے اپنے ہاتھوں سے کھانا بناؤں گی۔ میرے بیٹوں کو بھوک لگی ہو گی۔ روٹیاں لگا کر وہ بڑی سی چنگیر میں رکھتی اور سامنے سڑک پر کھڑی ہو جاتی جہاں سے فوجی جوان گزرتے تھے۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے ان کو رکنے کا اشارہ کرتی اور کھانے کی دعوت دیتی ۔ فوجی جوان مائی کا دل رکھنے کے لئے ایک ایک روٹی اٹھا لیتے اور تبرک کے طور پر مائی کے سامنے نوالہ توڑ کر منہ میں ڈال لیتے اور آنکھوں میں آنسو لئے دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑنے کے لئے محاذ جنگ کی طرف روانہ ہو جاتے کون جانے کتنی ماؤں نے اپنے بیٹوں کے لئے اﷲ سے کتنی دعائیں مانگی ہوں گی۔ اسی لئے تو دشمن اتنی طاقت رکھنے کے باوجود ریلوے لائن عبور نہ کر سکا۔


دوکاندار کی رقم

جنگ کے وقت چونڈہ میں ایک چھوٹا سا بازار تھا اسی بازار میں ایک سٹور تھا۔ بشیر جنرل سٹور۔ جنگ میں جب فوج نے شہریوں کو قصبہ خالی کرنے کا کہا تو لوگ اپنی دوکانیں اور گھربار چھوڑ کر چلے گئے۔ جلدی میں کوئی سامان اٹھانے کا موقع نہ مل سکا۔ گھروں اور دوکانوں میں تمام قیمتی سامان بھی جوں کا توں موجود تھا۔ 14روزہ جنگ کے بعد جب لوگ اپنے گھروں میں واپس آئے تو بہت سی دوکانوں اور گھروں سے سامان غائب تھا۔ پاک فوج پوری طرح چوکس تھی۔ لیکن پھر بھی کچھ موقع پرست ہاتھ مارنے میں کامیاب ہو گئے۔ بشیر رندھاوا بھی جب دوکان پر واپس آئے تو دوکان کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے۔ سامان تو اتنا چوری نہ ہوا تھا البتہ نقدی غائب تھی۔ زندگی کا نظام دوبارہ شروع ہو گیا۔ لوگ جنگ کے نقصانات سے بے پروا اپنے اپنے کاروبار میں مگن ہو گئے۔ ابھی جنگ بند ہوئے چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک دن پاک فوج کی ایک جیپ آ کر بشیر جنرل سٹور پر رکی۔ جیپ سے دو فوجی جوان نیچے اترے اور بشیر کو پوچھا یہ دوکان آپ کی ہے۔ انہوں نے بتایا جی میری ہی ہے۔ فوجی جوان نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک لفافہ بشیر صاحب کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ اپنی رقم گن لیں ایک دن ہم گشت پر تھے اور کچھ لوگ آپ کی دکان لوٹ رہے تھے، ہمیں دیکھ کر وہ بھاگ گئے۔ یہ رقم اٹھانے کا ان کو موقع نہ مل سکا۔ ہم یہ رقم اپنے ساتھ لے گئے اور کمانڈر صاحب کے پاس جمع کرا دی۔ اپنی امانت وصول کر لیں اور ہمیں رسید بنا دیں۔ بشیر رندھاوا اب اس دنیا میں موجود نہیں لیکن ان کا بیٹا اپنے والد سے سنی ہوئی داستان سناتے ہوئے آج بھی آب دیدہ ہو جاتا ہے۔

 
18
September

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

سابق سیکرٹری جنرل اور وزیرِ مملکت وزارتِ خارجہ۔ پاکستان

پاکستان اور بھارت کے مابین ستمبر 1965 کی جنگ تاریخ کے صفحات میں رقم ہوکر آئندہ نسلوں کے لئے ایک ناقابلِ تردید گواہی ہے کہ جنگوں میں فتح گولہ بارود، عددی برتری یا عسکری قوت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ دشمن کو فنا کرنے کا عزم، مادرِوطن کے دفاع پہ مرمٹنے کا حوصلہ، موت پر موت بن کر ٹوٹنے کا جذبہ جنگوں میں فتح یا شکست کا فیصلہ کرتے ہیں، اور انہی جذبوں سے سرشار پاک فوج کے نڈر، بہادر اور جری جوانوں نے اس جنگ میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے دانت یوں کھٹے کئے کہ حملہ آور دشمن اور اس کے اتحادی بھی اعتراف ناکامی پہ مجبور ہوئے ۔ جنگ ستمبر1965آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن ماضی کی باعثِ تقلید اور قابل فخر ایسی مثال ہے جو ہر جوان کو زندگی کے ہر دور میں ارضِ وطن کے دفاع کے لئے کسی بھی حدتک جانے کا حوصلہ فراہم کرتی رہے گی۔ پاکستانی قوم نے اس جنگ میں دلیری ، شجاعت، ایثار، خلوص اور قربانی کے وہ کارنامے انجام دیئے جوکہ تاریخ میں سنہری حروف سے رقم کئے جانے کے قابل ہیں۔ کہیں تودورانِ جنگ قوم کی بیٹیاں اپنا زیور تک دان کرتی نظر آئیں تو کہیں ستر سالہ بزرگ خواتین محاذ جنگ پر دشمن سے برسر پیکار پاک فوج کے جوانوں تک روٹیاں پہنچانے پہ بضد دکھائی دیں۔نوجوان مصر تھے کہ وہ اگلے مورچوں پر پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن فوجیوں کو رگیدنے میں حصہ شامل کریں ، توانا و ناتواں بزرگ ہسپتالوں میں خون کے عطیات دینے کے لئے ایک دوسرے پہ سبقت لے جانے کے لئے کوشاں تھے۔ پاک فوج کے جوان دفاع وطن میں خون کا آخری قطرہ نچھاور کرنے پر ہی نہیں بلکہ دشمن کے آخری سپاہی کا سر کچلنے کے لئے بے قرار تھے اور عوام نے بھی ان جوانوں کے حوصلے بڑھانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ دشمن کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ کوتاہ اندیشی میں اس نے ایسی قوم کو للکارا ہے کہ جو دفاع وطن میں جان دینے اور جان لینے ، دونوں فنون میں یکتا ہے۔ جبھی تو کسی محاذ پر دشمن اپنے مردہ و مجروح فوجی چھوڑ کر بھاگا تو کہیں اپنے ٹینک و توپیں، کسی مقام پر دشمن کے فضائی طیاروں کا ملبہ بکھرا تو کہیں دشمن فوجیوں کے وجود ۔ طاقت کے نشے میں چور بدمست ہاتھی کی طرح بھارتی افواج نے ارضِ وطن کی جانب پیش قدمی کی، ایک بار نہیں بلکہ کئی بار، ایک مقام پر نہیں بلکہ یکے بعد دیگر ے درجنوں مقاما ت پر ، مگر ہر بار، ہر مقام پر عبرتناک شکست اس کا مقدر بنی ۔ نصرت و کامیابی نے پاک افواج کے قدم چومے ۔ کروڑوں پاکستانیوں کی دعائیں، مدد الٰہی اور پاک جوانوں کی بلندہمتی اور شجاعت اس فتح کے بنیادی اسباب تھے۔


ارض وطن کا دفاع محفوظ ،مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اس کا ادراک تو دشمن کو6ستمبر 1965ء کی رات ہی ہوگیا تھا کہ جب اس نے بنا کسی پیشگی انتباہ
((Warning)
کے پاکستان پر دھاوابولامگر اس کے جواب میں اسے منہ کی کھانا پڑی۔ کہاں جو پروگرام تھا صبح کا ناشتہ لاہور جم خانہ میں کرنے کا اور کہاں برکی ہڈیارہ، واہگہ اور بھسین سیکٹر جارح بھارتی فوج کے لئے مرگھٹ میں بدل چکے تھے جہاں لاہور کو سرکرنے کی خواہش لے کر آنے والے بھارتی فوجیوں کو جان کے لالے پڑے تھے اور مقابلے میں تعداد میں نہایت قلیل اور کسی بھی اضافی جنگی بندوبست کے بنا پاک فوج کے سجیلے جوان قہر قدرت بنے ہوئے تھے۔چھ ستمبر کی رات میجر عزیز بھٹی کی قیادت میں موجود پاک فوج کے چند سپاہیوں نے دشمن کے بڑے اور بھرپور حملے کو بڑی پامردی سے روکا ، دشمن نے لاکھ جتن کئے مگر یہ مٹھی بھر جوان پہاڑ جیسے حوصلوں کے ساتھ بھارتی فوج کی راہ میں دیوار بنے رہے، یہاں تک کہ شہادت کا جام نوش کیا مگر پایۂ عزم میں کوئی لغزش نہ آئی۔اس دوران پاکستان کی دفاعی کمک کو بھی سرحد تک پہنچنے کا موقع مل گیا اوردشمن کا بی آر بی نہر کو عبور کرنے کا خواب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خواب ہی رہا۔ یہ ایسا کارنامہ تھا کہ قوم نے میجر عزیز بھٹی کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز یعنی نشانِ حیدر سے نوازا۔بھارتی میڈیا محاذ جنگ کے حالات سے بے خبر بڑی ڈھٹائی سے لاہور پہ قبضے کی خبریں نشر کررہا تھا ۔ ان خبروں کے ساتھ لاہور کی ایک بس کی تصویر جاری کی گئی تھی جو کہ سرحد پر گئی ہوئی تھی ۔ اس بس کی تصویر کو بنیاد بناکر بھارتی وزیردفاع یشونت راؤ چوہان اور جنرل جویا نتو ناتھ بھی لاہور فتح کرنے کی خوش فہمی میں مبتلا میڈیا کے سامنے احساس برتری کے نقارے بجاتے رہے مگر بھارتی بڑوں پہ بھی حقیقت اس وقت آشکار ا ہوئی جب حملہ آور بریگیڈز کی خبر گیری کے واسطے ڈویژن کمانڈ کے جنرل نے اگلے مورچوں کا رخ کیا تو معلوم پڑا کہ لاہور فتح تو درکنار یہاں تو جانی و عسکری نقصان کا اندازہ کرنا مشکل ہورہا ہے۔

madrewatanksh.jpg
یہاں سے منہ کی کھانے کے بعد بھارت نے یکے بعد دیگر ے کئی محاذ کھولے مگر ہر جگہ ناکامی و ہزیمت کا مزا چکھا ۔ بھارتی جرنیلوں نے منصوبہ بنایا کہ کسی ایسی سرحد سے بڑی عسکری قوت کے ساتھ حملہ کیا جائے کہ جہاں پاک فوج کی افرادی قوت کم ہو اور زیادہ مزاحمت کا سامنا کئے بغیر کسی طرح شہری علاقوں تک رسائی حاصل کرلی جائے۔ اس مقصد کے لئے دشمن نے سیالکوٹ کے محاذ پر جو پہلے سے بھی گرم تھا ، سیکڑوں ٹینکوں سے بڑا اور بھرپور حملہ کیا۔ سات اور آٹھ ستمبر کی درمیانی شب رات بارہ بجے کے قریب بھارتی فوج کے چودھویں انفینٹری ڈویژن نے باجرہ گڑھی سے سیالکوٹ کے گاؤں پر دھاوا بولا۔ بھارتی جرنیلوں نے منصوبے کے تحت تین اطراف سے بیک وقت حملہ کیا جس میں ایک چونڈ ہ کے مشرق میں نخنال سیکٹر ،دوسرا چاروہ سیکٹر اور تیسرا باجڑہ گڑھی ۔بھارتی فوج نے چاروہ ، گڈگور اور پھلوارہ سے گزر کر چونڈہ کی جانب پیش قدمی کی مگر پاک فوج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دشمن کوروکے رکھا۔ بھارتی فوج کا منصوبہ تھا کہ وہ کسی طرح جی ٹی روڈ اور ریلوے لائن پہ قبضہ کرکے لاہور اور راولپنڈی کے مابین تعلق کو کاٹ دے تاہم وطن عزیز کے عظیم و شجاع سپوتوں نے دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملادیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدیہ ٹینکوں کا سب سے بڑا حملہ تھا جو کہ چونڈہ میں بھارتی فوج نے کیا تھا ۔ دشمن نے سیکڑوں ٹینکوں اور ہزاروں سپاہیوں کے ہمراہ چونڈہ فتح کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ۔ دوران جنگ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ قلیل تعداد میں موجود اینٹی ٹینک شکن توپیں سیکڑوں ٹینکوں کی پیش قدمی روکنے میں ناکام پڑنے لگیں تو پاک فوج کے جوانوں نے ہاتھوں میں اور سینوں پر بم باندھ کے ٹینکوں کی جانب پیش قدمی کی ۔ ان چلتے پھرتے ٹینک شکن مجاہدوں نے میدانِ کارزار کو ٹینکوں کا قبرستان بنادیااور 600 ٹینکوں کے اس حملے میں بھی بھارتی فوج احساسِ شکست سے تلملاتی رہی۔


ستمبر1965ء کی جنگ میں بھارتی فوج نے صرف زمینی جنگ میں ہی ہزیمت نہیں اٹھائی بلکہ آب و باد بھی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ڈبونے میں پاکستان کے حامی و مددگاربنے۔ دنیا کی جنگی تاریخ کا ایک منفرد کارنامہ پاکستان کے غازی مجاہد پائلٹ ایم ایم عالم نے اپنے نام کیا اور ریکارڈ وقت میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیاروں کو زمین بوس کرڈالا ، عقاب صفت اس غازی ہوا باز نے دشمن کے کل نو طیارے مارگرائے۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا ۔ شاہین صفت ہوا بازوں نے اس جنگ میں دشمن کے ایک سو سے زائد طیارے تباہ کئے ۔ جن میں سے بیشتر تو ایسے تھے کہ جنہیں اڑنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ دوسری جانب پاکستان کے سمندری پانیوں کی نگہبان پاک بحریہ نے بھی اس جنگ میں بری و فضائی افواج کے شانہ بشانہ پیشہ ورانہ مہارت کے وہ جوہر دکھائے کہ بھارتی بحریہ تمام تر وسائل کے باوجود بے دست و پا ہوکر رہ گئی۔ پاک بحریہ نے تاریخی سومنات مند ر کے قریب واقع دوارکاکی بندرگاہ پر بھرپور کارروائی کرکے اسے ناکارہ کردیا۔ پاک بحریہ کی توپوں نے نہ صرف تین بھارتی طیارے مارگرائے بلکہ بھارت کے ایک جنگی بحری جہاز کو ڈبو کر بھارتی غرور کے تمام بل نکال دیئے۔ دوسری جانب پاک فوج نے کھیم کرن پر قبضہ کرلینے کے بعد بڑے بھارتی علاقے پر پاکستانی پرچم لہرا دیا، جبکہ بھارت نے راجستھان میں پیش قدمی کا ارادہ کیا تو پاک فوج اور حر مجاہدوں نے بھارتی راجستھان میں بہت بڑے علاقے پر قبضہ کرلیااور اس صحرائی علاقے کو بھارتی فوج کے لئے نوگوایریا میں تبدیل کردیا۔ اس محاذپر سیکڑوں مربع میل علاقہ پاکستان کے قبضے میں آیا۔ جنگ ستمبر میں پاکستان ، پاکستان کی عسکری قوت اور پاکستانی قوم کے بارے میں بھارت اور اس کے حلیفوں کے تمام تر اندازے غلط ثابت ہوئے اور نہ صرف اسے ناقابلِ یقین مزاحمت سے دوچار ہونا پڑا بلکہ ایک ایسی شکست بھارتی فوج کا مقدر بنی جو کہ کسی طور ان کے وہم و گمان میں نہ تھی۔

ستمبر1965ء کی جنگ میں بھارتی فوج نے صرف زمینی جنگ میں ہی ہزیمت نہیں اٹھائی بلکہ آب و باد بھی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ڈبونے میں پاکستان کے حامی و مددگاربنے۔ دنیا کی جنگی تاریخ کا ایک منفرد کارنامہ پاکستان کے غازی مجاہد پائلٹ ایم ایم عالم نے اپنے نام کیا اور ریکارڈ وقت میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیاروں کو زمین بوس کرڈالا ، عقاب صفت اس غازی ہوا باز نے دشمن کے کل نو طیارے مارگرائے۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا ۔


6ستمبر سے 22ستمبر 1965تک کی اس 17روزہ جنگ کے حالات و واقعات آج بھی پڑھنے اور سننے والوں کو ورطۂ حیرت میں ڈالتے ہیں،کہ کیسے طاقت اور عددی برتری کے احساس میں مبتلا کئی گنا بڑے دشمن نے پوری تیاری و قوت کے ساتھ ایک ایسے ملک پہ غیرعلانیہ حملہ کیا کہ جو نہ صر ف عددی و عسکری اعتبار سے کئی گنا کم تھا بلکہ جنگ کے لئے کسی طور بھی تیار نہ تھا، مگر اس کے باوجود اس نے حملہ آوروں کا غرور خاک میں ملادیا۔ اس جنگ میں وطن عزیز پاکستان کے حقیقی دوست و دشمن بھی کھل کر واضح ہوئے۔امریکہ کہ جس کے ساتھ دفاعی تعاون کا باقاعدہ معاہدہ تھا اور پاکستان سیٹو ، سینٹو میں شامل تھا ۔ اس کے باوجود اس جنگ میں امریکہ نے پاکستان کا کوئی ساتھ نہیں دیا، یہاں تک کہ دفاعی پرزہ جات تک بھی نہیں دیئے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اپنی سلامتی کی دفاعی جنگ میں بھارت سے برسر پیکار تھا تو اس وقت امریکہ نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرکے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا، کیونکہ بھارت کے ساتھ تو اس وقت امریکہ کا دفاعی تعاون کی مد میں یا دفاعی سازوسامان کی خرید و فروخت سے متعلق بظاہر کوئی معاہد ہ تھا ہی نہیں، چنانچہ معاہدوں کے تناظر میں امریکہ نے اگر تعاون کرنا بھی تھا تو وہ فقط پاکستان کے ساتھ کرنا تھا، تاہم عین جنگ کے دوران امریکہ نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان کا اعتماد کھودیا۔ میرے نزدیک ستمبر1965 ء میں بھارت نے پاکستان پہ جو حملہ کیااسے امریکہ کی غیرعلانیہ تائید حاصل تھی اور بھارت کو معلوم تھا کہ اگر اس نے پاکستان پہ ایک بڑی جنگ مسلط کی تو امریکہ اس جنگ میں پاکستان کی کوئی مدد و حمایت نہیں کرے گا۔ قبل ازیں 1965ء کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ اورگجرات کے سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئی تھیں جنہیں عالمی ثالثی میں حل کرلیا گیا تھا۔ مارچ 65ء میں ہی صدر ایوب مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی دعوت پر قاہرہ گئے ۔ جہاں چین کے وزیراعظم چواین لائی اور انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو بھی موجود تھے۔ اس ملاقات پر امریکی صدر جانسن اس قدر برہم ہوئے کہ انہوں نے پاکستانی امداد کے لئے پیرس میں ہونے والی کنسورشیم میٹنگ منسوخ کردی۔ جس کے پاکستان پر منفی اثرات بھی مرتب ہوئے جبکہ اگست 65ء میں ہی پاک بھارت کشیدگی کا محاذ کشمیر میں گرم ہوچکا تھا اور متنازعہ علاقوں میں دونوں ممالک کے مابین باقاعدہ جھڑپیں جاری تھیں۔ اس دوران بھارت نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان نے ایک منصوبے کے تحت ہزاروں مسلح لوگ کشمیر میں داخل کئے ہیں اور شاستری نے کہا کہ اس کا جواب دینے کے لئے وقت اور جگہ کا تعین وہ خود کریں گے۔


ہندوستان نے وقت اور جگہ کا تعین 6ستمبر1965ء رات گئے بین الاقوامی سرحد پر لاہور اور سیالکوٹ سیکٹر میں بھرپور اور غیرعلانیہ حملہ کرکے کیا۔ صدر ایوب نے پاکستانی قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے کہ جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہ ہوجائیں۔ ہندوستانی حکمران نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے کس قوم کو للکار ا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے قومی و علاقائی گلوکاروں نے جنگی ترانوں و نغموں سے قوم کے دلوں میں جرأت، حوصلے ، ایثار و قربانی کی نئی روح پھُونک دی۔ راقم اس وقت لاہور سول سروس اکیڈمی میں تعینات تھا اور اسی دن ایک رزمیہ نظم ’’یہ جنگ ہے عوام کی ، عوام کی یہ جنگ ہے‘‘ لکھی ، جو کہ ریڈیو پاکستان پہ بھی نشر ہوئی اور ماہنامہ ہلال دسمبر2016ء کے شمارے میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ستمبر65ء کی جنگ نے پاکستانی قوم کا بطور قوم دنیا میں تشخص اجاگر اور وقار بلند کیا۔ اس موقع پر کامیاب سفارتکاری کے باعث پاکستان کے دوست ممالک نے بھی کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔ ابھی پاک بھارت جنگ جاری تھی کہ 17ستمبر کو چین نے سکم کے مقبوضہ علاقے میں نئی بھارتی حلقہ بندیوں کو مسمار کرنے کا الٹی میٹم دے دیاجس نے بھارتی غرور کے پھولے غبارے سے ساری ہوا نکال دی۔ علاوہ ازیں چین نے پاکستان کی ہر ممکنہ مدد کی اور اشیائے ضروریہ سمیت اپنے اسلحہ خانوں کے منہ کھول دیئے۔ دوسری جانب برادر اسلامی ملک ایران نے بھی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور پاکستانی طیاروں کو اپنے ائیرپورٹ اور فضا استعمال کرنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ فیول و دیگر سامان فراہم کیا۔ اسی طرح انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو نے پاکستان کی مدد کے لئے اپنا بحری بیڑا بھجوایا۔ بعینہٖ ترکی اور ایران نے وافرمقدار میں اسلحہ بھی فراہم کیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت افغانستان کے ظاہر شا ہ نے پاکستان کے ساتھ اختلافات کے باوجود یقین دلایا کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔اس جنگ میں پاکستان کے لئے چین اور دیگر ہمسایہ ممالک کے بڑھتے تعاون سے مغربی قوتیں بھی پریشان ہوگئیں اور امریکہ جو کہ اپنا اعتماد بری طرح کھوچکا تھا۔ اس نے روس کو آگے کیا۔ 20ستمبر کو سلامتی کونسل نے دلالی کرتے ہوئے ایک قرارداد کے ذریعے دونوں ملکوں کو جنگ سے روک دیا۔تاشقند کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان وہ معروف معاہدہ طے پایا، جسے معاہدہ تاشقند کا نام دیا گیا۔ جنگ بندی کے معاہدے کی بھی ہندوستان بارہا خلاف ورزی کرچکا ہے۔معاہدہ تاشقند میں طے پایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفتوعہ علاقے واپس کریں گے۔1949ء کی کشمیر کی لائن آف سیز فائر بحال ہوگی۔ سلامتی کونسل3ماہ کے اندر اندر مسئلہ کشمیر کو حل کرے گی۔ذوالفقار علی بھٹو جو کہ اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے ، انہوں نے تاشقند معاہدے کی مخالفت کی تھی ، جس بناء پر انہیں وزارت خارجہ سے علیحدہ کردیا گیا تھااور انہوں نے اپنے آزاد سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنی تحریروں اور تقریروں میں معاہدہ تاشقند کے رازوں کی بات کرتے رہے مگر اپنی حیات میں انہوں نے وہ راز افشاء نہ کئے ۔ اس جنگ نے پاکستان کے دیرپا اور بااعتماد دوستوں کا بھی تعین کیا۔ چین کہ جس نے سب سے زیادہ معاونت کی اس کے ساتھ دوستی کی مثال سمندر سے گہری ، شہد سے میٹھی اور ہمالیہ سے بلند قرار پاتی ہے۔ ایران و ترکی کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون و بھائی چارے کو فروغ ملا اور ترقی کی شاہراہ پرمل کر چلنے کے فیصلے ہوئے ۔ جنگ ستمبر65ء کونصف صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، تاہم پاکستان کی تاریخ، بالخصوص عسکری تاریخ، سنہرے حروف سے رقم شدہ باب کی حیثیت ، اہمیت اور افادیت کی حامل ہے۔ اس جنگ نے ہی اقوامِ عالم پہ بالعموم اور دشمن پہ بالخصوص یہ واضح کیا کہ وطنِ عزیز پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے کوئی بھی بیرونی جارحیت بے سود ہے، لہٰذا اسے اندرونی عدم استحکام ، انتشار کا شکار کرکے کمزور کیا جائے۔ بادی النظر دیکھا جائے تو جنگ 65ء آج بھی جاری ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کا سلامتی کا مشیر اجیت دوال
(Ajit Doval)
پاکستان کے خلاف خطرناک منصوبہ بندی کرچکے ہیں اور افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تخریب کاری کررہے ہیں۔ جارح دشمن آج بھی غیر علانیہ طور پر پاکستان پر حملہ آور ہے، فرق محض اتنا ہے کہ پہلے وہ جغرافیائی سرحدوں سے حملہ آور تھا ۔ آج وہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور ثقافتی سرحدوں سے حملہ آور ہے۔آج میدان کارزار محض چونڈہ، کھیم کرن، برکی، راجستھان وغیر ہ ہی نہیں بلکہ ان میں فاٹا، گلگت بلتستان،بلوچستان کا بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ ستمبر 65ء کے میجر عزیز بھٹی، میجر جنرل ابرار حسین، بریگیڈیئر عبدالعلی ملک، لیفٹیننٹ کرنل نثار حسین کی طرح آج میجر جنرل ثناء اللہ، لیفٹیننٹ کرنل محمد توصیف میجر علی سلمان اور کیپٹن یاسر علی آج بھی دشمن سے محاذِ جنگ پر برسرِ پیکار ہیں، ارض وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔تاہم اس جنگ کو مکمل طور پر جیتنے کے لئے بھی ستمبر65ء کی جنگ والے قومی جذبے، ولولے اور ایثار و قربانی کی ضرورت ہے۔ جنگ ستمبر اہلِ دنیا کو یہ بتلانے کے لئے کافی ہے کہ ارض وطن پرجب کوئی مشکل وقت آیا تو اس کے دلیر ، شجاع اور غیور سپوت دفاع مقدس کے واسطے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، اس کی تائید ستمبر 65ء کی جنگ اورکامیاب’’ ضرب عضب‘‘ اور پورے عزم سے جاری و ساری ’’ردالفساد‘‘ کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کے چہروں پہ پھیلی مُسکان بھی کرتی ہے۔
شہدائے پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد

 

 
18
September

تحریر: الطاف حسن قریشی

کیا خوب تھے وہ دن جن کی یادیں آج بھی دلوں کو نئے جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دیتی ہیں۔
یہ باون برس پہلے کی بات ہے، میں اپنے دوستوں کی دعوت پر 5 ستمبر 1965ء کی سہ پہر ساہیوال روانہ ہوا۔ اِرادہ ایک دو روز ٹھہرنے کا تھا۔ ایک ہی دن پہلے میں مقبوضہ کشمیر میں واقع چھمب جوڑیاں کے محاذ سے لوٹا تھا جہاں پاکستان کی فوجیں اکھنور کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔ اس آپریشن ’گرینڈ سلام‘ کا بنیادی مقصد بھارتی افواج پر دباؤ بڑھانا اور اُن کی پیش قدمی کو روکنا تھا جنہوں نے آزاد کشمیر کے بعض سٹریٹجک علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مظفر آباد کو بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ ساہیوال پہنچنے کے بعد میں نے آل انڈیا ریڈیو سے بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کا یہ اعلان سنا کہ ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے۔ میری چھٹی حس نے اِس اعلان میں چھپا ہوا خطرہ محسوس کیا، چنانچہ میں نے صبح سویرے لاہور واپس جانے کا ارادہ کر لیا۔ میں ریڈیو سے صبح کی خبریں نہیں سن سکا تھا۔ لاہور کے گردونواح میں ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے میں آیا کہ لوگ اپنا سامان سروں پر اُٹھائے ریلوے اسٹیشن کی طرف چلے آرہے ہیں۔ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی اِس نقل و حرکت پر مجھے بڑی حیرت کے ساتھ ایک انجانا سا خوف محسوس ہونے لگا۔ میں کوئی نو بجے کے قریب اپنی رہائش گاہ سمن آباد پہنچا جس میں ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ کا دفتر بھی تھا۔ ابھی دفتر میں داخل ہی ہوا تھا کہ بہت خوفناک دھماکہ ہوا جس سے پوری عمارت لرز اُٹھی۔ یوں لگا جسے قریب ہی بم پھٹا ہو۔ صورتِ حال کا اندازہ لگانے کے لئے میں نے ریڈیو کا سوئچ آن کیا۔ صدر محمد ایوب خاں انگریزی میں قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بزدل دشمن نے لاہور کی جانب سے حملہ کر دیا ہے اور ہم نے اپنی افواج کو اُسے سبق سکھانے کا حکم دے دیا ہے۔

sixsepdifaewatan.jpg
یہ تقریر انگریزی میں تھی،اِس لئے لوگوں کے سر سے گزر گئی اورکوئی نمایاں ردِعمل ظاہر نہیں ہوا۔ بیس منٹ بعد مجھے اُردو ڈائجسٹ کے ایک قاری کا ٹیلی فون آیا جو لاہور میں ایئر فورس کے ساتھ منسلک تھے۔ انہوں نے بتایاکہ یہ دھماکہ ہمارے طیاروں کے ساؤنڈ بیریئر عبور کرنے پر ہوا ہے جو دشمن فوج کی بی آر بی نہر کی طرف پیش قدمی روکنے کے لئے فضا میں بلند ہوئے ہیں اور ٹھیک ٹھیک نشانے لگا رہے ہیں۔ محلے کے لوگ ہمارے دفتر میں جمع ہو گئے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ صدرِ مملکت کو اُردو میں خطاب کرنا اور قومی جذبوں کو اُبھارنا چاہئے تھا۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ریڈیو پاکستان سے اعلان ہوا کہ فیلڈ مارشل ایوب خاں پندرہ منٹ بعد اپنے ہم وطنوں سے خطاب کرنے والے ہیں اور پھر ریڈیو پر صدرِ مملکت کی آواز بلند ہوئی


’’میرے عزیز ہم وطنو! السلام علیکم! دس کروڑ پاکستانیوں کے امتحان کا وقت آن پہنچا ہے۔ آج صبح سویرے دشمن نے لاہور کی جانب سے حملہ کیا ہے اور بھارتی ہوائی بیڑے نے وزیرآباد ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مسافر گاڑی کو بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے دس کروڑ عوام کے دل کی دھڑکنوں میں لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ کی صدا گونج رہی ہے۔ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں خاموش نہ ہو جائیں۔ بھارت کے حکمران شاید یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ہمارے دلوں میں ایمان اور یقین محکم ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہم سچائی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم اتحاد اور عزم کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی مسلح فوجوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع عطا کیا ہے جن کا جذبۂ فداکاری اور آہنی عزم طرۂ امتیاز رہا ہے۔ ہمیں یقیناًان تمام ممالک کی ہمدردی اور حمایت حاصل ہو گی جو امن اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں نے شروع دن سے پاکستان کی آزاد مملکت کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور اٹھارہ برس سے پاکستان کے خلاف جنگی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے، وہ ہمیں ضرور کامیابی بخشے گا۔ ہم وطنو! آگے بڑھو، اﷲ تمہارا حامی و ناصر ہو!‘


تقریر ختم ہوتے ہی حاضرین نے پوری قوت سے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہی نعرے آس پاس کے محلوں سے بھی سنائی دینے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں لوگ ہماری عمارت کے گرد اکھٹے ہو گئے جن کے چہرے جذبۂ جہاد سے دمک رہے تھے۔ پھر مختلف شہروں سے ٹیلی فون کالز کا ایک تانتا سا بندھ گیاجن میں قومی آزادی کے تحفظ کا عظیم جذبہ کارفرما تھا۔ صدر ایوب خاں کی تقریر نے قوم کے اندر تازہ رُوح پھونک دی تھی جسے کامل یقین تھا کہ ہماری افواج اسلامی تاریخ کے اُن عظیم اور لافانی مجاہدوں کی روایات تازہ کریں گی جنہوں نے باطل کو سرنگوں کر دیا تھا اور اپنی جانوں پر کھیل کر حق کی شہادت دی تھی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اتحاد اور یک جہتی کے ایسے مناظر ہماری تاریخ میں گلزارِ کہکشاں کی طرح وجود میں آتے گئے جو آنے والی نسلوں کو روشنی، خوشبو اور تازگی فراہم کرتے رہیں گے۔ صدر ایوب خاں کے یہ الفاظ کہ کروڑوں دلوں میں لاالہ الا ﷲ کی صدائیں گونج رہی ہیں ، اُن گہرے زخموں کے لئے مرہم ثابت ہوئے جو ایک سال پہلے صدارتی انتخاب میں ہمارے سیاسی وجود کو لگے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے فیلڈ مارشل ایوب خاں کے مدِ مقابل مادرِ ملت فاطمہ جناح کو کھڑا کر دیا تھا اور سخت معرکہ پیش آیا تھا۔ پورے مشرقی پاکستان اور کراچی میں قائد اعظم کی ہمشیرہ کا فقید المثال استقبال ہوا، مگر دھاندلی سے انہیں شکست ہوئی۔ اس پر کراچی میں خونریز فسادت پھوٹ پڑے اور پورے ملک میں سیاسی فضا سخت کشیدہ تھی، لیکن صدر ایوب خاں کی نشری تقریر نے دلوں اور ذہنوں کی دنیا یکسر بدل ڈالی تھی۔ اتحاد اور اعتماد کے چشمے اُبلنے لگے تھے۔ تمام سیاسی قائدین فیلڈ مارشل کی دعوت پر اُن کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو گئے اور اپنی قوم کو پوری طرح متحد رہنے اور فوج کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے پر اُبھارتے رہے۔ چشمِ زدن میں شاعر، فن کار اور گلو کار میدان میں اُتر آئے اور فوجی ترانے اور ملی نغمے روح اور قلب کو گرمانے اور تڑپانے لگے۔


فیلڈ مارشل ایوب خاں نے افواجِ پاکستان کو دشمن سے نبردآزما ہونے کا حکم دے دیا تھا، مگر وہ ایک سخت آزمائش سے دوچار تھیں۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی جاری رکھتے ہوئے صوبہ سندھ کے جنوب مغرب میں واقع ایک غیر آباد علاقے رَن کچھ میں مارچ 1965ء کے اوائل میں اپنی فوجیں اُتار دی تھیں اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا جہاں پاکستان کی کسٹم پوسٹ واقع تھی۔ پاکستان کا 8 ڈویژن جس کے جی او سی میجر جنرل ٹکا خاں تھے، اس نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اسے جارحیت کا مزہ بھی چکھایا۔ معاملہ جب پوری جنگ کی طرف بڑھنے لگا، تو برطانوی وزیر اعظم ہیرلڈ ولسن کی مداخلت سے دونوں ملکوں نے سیز فائر کے معاہدے پر 30 جون کو دستخط کئے۔ اس کی شق 2 میں درج تھا کہ دونوں طرف کی فوجیں سات روز کے اندر واپس چلی جائیں گی اور ان کی جگہ پولیس یکم جنوری 1965ء کی پوزیشنوں پر پٹرولنگ کرے گی۔ اس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی افواج دفاعی پوزیشنوں سے بھی بہت پیچھے چلی گئی تھیں، بارودی سرنگیں بھی ہٹا لی گئی تھیں جبکہ اگلی پوزیشنوں کے قریب صرف رینجرز ، پولیس یا کہیں کہیں فوجی یونٹس تعینات تھے۔ 10 ڈویژن جسے لاہور کے دفاع کی ذمے داری سونپی گئی تھی، ان کے جی او سی میجر جنرل سرفراز نے 31اگست کی صبح کھاریاں کی دفاعی کانفرنس میں شرکت کی اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا سے دفاعی پوزیشنیں سنبھالنے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی اجازت چاہی جس کا جواب نفی میں دیا گیا کہ ہم بھارت کو مشتعل ہونے کا کوئی موقع دینا نہیں چاہتے۔

 

فوج اور عوام کے مابین گہری محبتوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ جب فوجی قافلے حرکت میں آتے تو عوام اُن پر پھولوں کی بارش کرتے اور اُن کی راہ میں آنکھیں بچھاتے تھے۔ خون دینے کے لئے جوانوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ لوگ دیگوں اور ضروریاتِ زندگی کی اشیا کے ساتھ اگلی پوزیشنوں تک پہنچنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے۔

بھارت نے 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی رات لاہور پر واہگہ اور قصور کی جانب سے کوئی وارننگ دئیے بغیر حملہ کر دیا اور دو روز بعد سیالکوٹ کی طرف بھی پیش قدمی شروع کر دی۔ آل انڈیا ریڈیو اور بی بی سی نے یہ افواہ بھی نشر کر دی کہ لاہور پر بھارت کا قبضہ ہو گیا ہے۔ ان تمام نامساعد حالات کے باجود فارورڈ ایریا میں تعینات شیر دل یونٹس نے دشمن کو اس وقت تک آگے بڑھنے نہیں دیا جب تک افواج نے اپنی پوزیشنیں سنبھال نہیں لی تھیں۔اعلیٰ افسر اپنے جوانوں سے آگے بڑھ کر دشمن پر وار کرتے اور اس کے وار سہتے رہے ۔ ابتدائی اڑتالیس گھنٹے قیامت کے تھے۔ پاکستان کو عددی اعتبار سے اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن کا سامنا تھا، مگر جذبۂ شہادت سے سرشار اور قوتِ ایمانی سے لیس ہماری فوج دشمن کے ٹینکوں، توپ خانوں اور طیاروں سے گولوں کی مسلسل بارش کے باوجود فولاد کی دیوار ثابت ہوئی۔ اس نے دشمن کی فوجوں کو بی آر بی نہر عبور نہیں کرنے دی اور بھارتی جرنیلوں کا جم خانہ میں جشنِ فتح منانے کا خواب انتہائی ڈراؤنے خواب میں تبدیل کر دیا تھا۔تمام محاذوں پر ہمارے افسر اور جوان اس قدر بہادری اور بے جگری سے لڑے کہ بیسویں صدی میں شجاعت و عظمت کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ میجر عزیز بھٹی نے لاہور کے محاذ پر محدود ٹروپس کے ساتھ انتہائی مشکل حالات میں کئی دنوں تک دشمن کو انگیج رکھا اور وہ آخرِ کار وطن کی سا لمیت اور عظمت پر قربان ہو گئے جس پر انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ اسی محاذ پر لیفٹیننٹ کرنل تجمل حسین ملک، میجر شفقت بلوچ اور پارسی لیفٹیننٹ کرنل گولا والا بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیتے رہے۔ قصور پر دشمن کا حملہ پسپا کرتے ہوئے میجر جنرل عبدالحمید کی قیادت میں ہماری فوجیں بھارت کے شہر کھیم کرن پر قابض ہو گئیں جہاں سے امرتسر کو سڑک جاتی تھی۔ سیالکوٹ پر دشمن کی پانچ ڈویژن فوج حملہ آور ہوئی تھی۔ میجر جنرل ابرار حسین، میجر جنرل ٹکا خاں، بریگیڈئیر عبدالعلی ملک اور بریگیڈئیر اے کے نیازی اپنی بے مثال قیادت کے جوہر دکھاتے رہے۔ چونڈہ، جہاں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی، وہ دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔ اِسی طرح اسکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے سرگودھا بیس پر ایک منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے گرا کر فضا پر پاکستان کی بالادستی قائم کر دی تھی۔ سندھ کے جنوب میں بریگیڈئیر کے ایم اظہر کی قیادت میں ہماری فوج بھارت کے ریلوے اسٹیشن ’مونا باؤ‘ تک پہنچ گئی تھی۔ ہماری بحریہ نے بھارت کی تاریخی بندرگاہ ’دوارکا‘ تباہ کر کے اس کی بحری طاقت پر کاری ضرب لگائی تھی۔


میں ان خوش نصیب صحافیوں میں غالباً آخری زندہ صحافی ہوں جسے جنگِ ستمبر کے تمام محاذوں پر جانے اور اعلیٰ فوجی کمان کے علاوہ اَن گنت فوجیوں اور شہریوں سے ملنے کا موقع ملا۔ فوج اور عوام کے مابین گہری محبتوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ جب فوجی قافلے حرکت میں آتے تو عوام اُن پر پھولوں کی بارش کرتے اور اُن کی راہ میں آنکھیں بچھاتے تھے۔ خون دینے کے لئے جوانوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ لوگ دیگوں اور ضروریاتِ زندگی کی اشیا کے ساتھ اگلی پوزیشنوں تک پہنچنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے۔ مہدی حسن اور میڈم نور جہاں کی مترنم آوازوں میں ملی نغمے فوج کے اندر وطن کے لئے قربان ہونے کے جذبے اُبھارتے اور ایک سرشاری پیدا کرتے رہے۔ آج اُسی فضا کو پیدا کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت پھر سر پر کھڑا ہے اور امریکہ بھی افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ ہم پر ڈالنا چاہتا ہے۔ خوش قسمتی سے عالمی دہشت گردی کے خلاف نبردآزما رہنے کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح پُرعزم ہے اور اس نے بہت سا کٹھن سفر طے بھی کر لیا ہے۔اب داخلی استحکام کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے جس میں مکالمے اور دلیل کی قوت سے خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ آج حکومت، فوج اور عوام ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر قومی سلامتی اور ملکی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھ سکتے اور ہر آنے والی آزمائش کو عظیم امکانات میں تبدیل کرنے کا تاریخ ساز کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔

مضمون نگار کا شمار ملک کے سینیئر اور نامور صحافیوں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک قومی اخبار میں ’صورتحال‘ کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
September

تحریر: ڈاکٹر صفدرمحمود

کبھی غور کیا آپ نے کہ انسان محض گوشت پوست اور ہڈیوں کا نام نہیں، بلکہ ’انسان‘ جذبے کا نام ہے ۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا راز انسانی جذبہ ہے۔ بقول مولانا رومی تم جو ہو وہ تمہاری سوچ ہے باقی سب گوشت پوست ہے۔ مطلب یہ کہ انسان کو اس کی سوچ، عمل اورجذبے سے محروم کردیا جائے تو باقی صرف گوشت اور ہڈیا ں بچتی ہیں۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو محافظِ ملک و قوم بناتا اورجہاد کی منزل کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو بے خوف اور اس قدر بہادر بناتا ہے کہ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا اور مسکراتے ہوئے موت کو سینے سے لگالیتا ہے۔ ورنہ زندگی کس کو پیاری اور عزیز نہیں۔ زندگی نبیوں اور پیغمبروں کو بھی پیاری تھی اور ہر انسان کو پیاری ہوتی ہے۔ آپ نے وہ واقعہ پڑھا ہوگا کہ حضرت ادریس علیہ السلام موت کے خوف سے آسمانوں پر چلے گئے تھے جہاں حضرت عزرائیلؑ نے اُن کی روح قبض کی۔ مطلب یہ کہ زندگی اﷲ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جو ہر جاندار کو عزیز اور پیاری ہوتی ہے اور انسان موت کے تصور سے ہی خوفزدہ ہو جاتا ہے لیکن جذبہ ایک ایسا محرک ہے جو انسان کو موت کے خوف سے بے نیاز کردیتا ہے اور شہادت ایک ایسا مقام ہے جسے پانے کی آرزو انسان کو دنیا کی محبت سے آزاد کرکے سرمقتل لے جاتی ہے۔ شہادت دراصل موت نہیں بلکہ حیاتِ جاودانی ہے، ہمیشہ کی زندگی اور ابدی حیات۔ شہید ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے لیکن قرآن مجید کے مطابق وہ زندہ ہے اور اﷲ پاک کے ہاں کھاتاپیتا ہے۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے لیکن اگر انسان کو موت کے بعد زندگی مل جائے تووہ رحمتِ خداوندی کا ایسا تحفہ اور انعام ہے جس کے مقام کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔
انسانی تاریخ اور اپنی قومی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کو انسان سے محض جذبہ ممتاز کرتاہے۔ دیکھنے میں سبھی انسان ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اُن میں سے معدودے چند تاریخ کا حصہ بن کر لوحِ جہاں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جبکہ دوسرے موت کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتے ہیں اور زمانہ انہیںیوں بھُلا دیتا ہے جیسے وہ کبھی دنیا میں تھے ہی نہیں۔ قائدِاعظم میرکارواں بنے اور پاکستان کی تحریک کی قیادت سنبھالی تو اُن کے ساتھ سیکڑوں سیاسی لیڈران ، لاکھوں سیاسی کارکنان اوراپنے دور کے ممتاز لوگ شامل تھے لیکن آج تاریخ میں قائدِاعظم کا مقام اُن تمام سے نہایت بلند اور ابدی نوعیت کا ہے جبکہ دوسروں کا نام صرف مانوس ہے، کچھ کے نام بھی مانوس نہیں رہے اور وقت کی گرد تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ یہ جذبہ ہی تھا، کردار ہی تھا، ایثار اور بے پایاں جدو جہد ہی تھی جس نے محمدعلی جناح کو قائدِاعظم بنایا، پھر بانیِ پاکستان اور بابائے قوم کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز کیا۔ یہ جذبہ ہی تھا جو بیماری اور جسمانی کمزوری کے باوجود قائدِاعظم سے روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرواتا، ہندوستان کے طول و عرض میں دورے کرواتا اور بیک وقت دو محاذوں، کانگریس اور انگریز کے خلاف برسرِپیکار رکھتا تھا۔

 

انسانی تاریخ اور اپنی قومی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کو انسان سے محض جذبہ ممتاز کرتاہے۔ دیکھنے میں سبھی انسان ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اُن میں سے معدودے چند تاریخ کا حصہ بن کر لوحِ جہاں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جبکہ دوسرے موت کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتے ہیں اور زمانہ انہیںیوں بھُلا دیتا ہے جیسے وہ کبھی دنیا میں تھے ہی نہیں۔

قائد یا لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ہجوم سے نعرے لگواتا اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے جذباتی تقریریں اور جھوٹے وعدے کرتا ہے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو صحیح معنوں میں قوم کی راہنمائی کرتا، قوم کا اندھا اعتماد حاصل کرتا اور قوم کو جذبے کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ قائد وہ ہوتا ہے جو قوم کو متحد اور منظم کرتا ہے اوراپنے ساتھیوں کو جذبے سے محرک کرتا ہے۔ قائدِاعظم کوئی ایک سال پاکستان کے گورنر جنرل رہے۔ اس ایک سال میں انہوں نے سادہ طرزِ حکومت، قومی وسائل کے ایماندارانہ استعمال ، قومی خزانے کے تقدس اور قانون کی حکمرانی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو خلافتِ راشدہ کے دور کی یاد دلاتی ہیں۔ گورنر جنرل ہاؤس کے اخراجات پر کڑی نظر رکھی اور اپنے علاج تک کے لئے بیرون ملک جانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے غریب ملک کا خزانہ اس خرچ کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ راتوں کو اُٹھ کر خود بتیاں بجھانا اور خزانے کی ایک ایک پائی کا خیال رکھنا قائداعظم کے جذبے، جذبۂ خدمت و ایثار۔ جذبۂ حب الوطنی کے منفرد مظاہر تھے۔ بچت اور اصراف سے گریز کی بہترین، اور موجودہ دور میں عنقامثال محترمہ فاطمہ جناح کا کراچی کی بیکری کو فون تھا جو گورنر جنرل ہاؤس میں ناشتے کا سامان فراہم کرتی تھی۔ محترمہ نے بیکری مالکان کو فون کیا اور کہا کہ آپ جو ڈبل روٹی سپلائی کرتے ہیں، ہم اس کے بمشکل دو تین سلائس کھاتے ہیں اور باقی ضائع ہو جاتی ہے۔ آپ گورنر ہاؤس کو اس سے چھوٹی ڈبل روٹی بھجوایا کریں۔ بیکری مالکان نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس سے چھوٹا سانچا ہی نہیں ہے۔ آپ کو سب سے چھوٹی ڈبل روٹی بھجوائی جاتی ہے۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ہدایت پر بیکری مالک نے چھوٹا سانچا تیار کروایا اور پہلے سے بہت چھوٹی ڈبل روٹی بھجوانی شروع کردی۔ ایسا کیوں تھا؟ چند سلائس ضائع جانے سے گورنر جنرل ہاؤس کو کیافرق پڑتا تھا؟ دراصل یہ جذبہ تھا جس نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو معمولی اصراف ، معمولی ضیاع سے بچنے پر مجبور کیا۔


لیڈر جذبوں کا رول ماڈل ہوتا ہے اور وہ اپنے ارد گرد موجود ساتھیوں کو بھی اُسی جذبے سے سرشار کرتا ہے۔ جو سیاسی راہنما، قومی لیڈر ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ بلاشبہ لیڈر نہیں، قائدنہیں بلکہ ہجوم کا مداری اور وقتی سیاسی لہر کا قائد ہوتا ہے۔ لیڈر ایک ایسی شمع ہوتی ہے جو تاریکی میں اُمید، حوصلوں اور جذبوں کی روشنی پھیلاتی اور اپنے ساتھیوں کو ننھے منے چراغ بنا دیتی ہے جو لیڈر اپنے ساتھیوں کی صلاحیتں اُجاگر نہیں کرسکتا، اُنہیں چراغ راہ نہیں بنا سکتا اور ان میں جذبہ روح نہیں پھونک سکتا وہ بہرحال لیڈر نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ لیڈر کو اس کا قائدانہ جذبہ اور قائدانہ کردار باقی لیڈروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ہماری قومی زندگی میں اس کی بہترین مثال قائدِاعظم کے دستِ راست اور قریبی رفیق نواب زادہ لیاقت علی خان کی ہے جو چار سال تک پاکستان کے وزیرِاعظم رہے اور اس دوران قائدِاعظم کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ قائداعظم نے اپنی زندگی بھر کی کمائی اور جمع پونجی انتقال سے پہلے قوم میں تقسیم کردی۔ لیاقت علی خان نواب ابن نواب تھے، ہزاروں ایکڑوں کے مالک اور محلات میں رہنے والے تھے۔ انگلستان اعلیٰ تعلیم کے لئے گئے تو اپنا باورچی اور خادم ساتھ لے کر گئے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم بنے تو سادہ طرزِ زندگی کی مثال بن گئے۔ اُس دور میں چینی راشن کارڈ پر ملتی تھی۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ وزیرِاعظم ہاؤس بھی کارڈ کا مرہون منت ہو۔ لیاقت علی خان کا وزیرِاعظم ہاؤس راشن کارڈ کے مطابق چینی لیتا تھا۔ عام طور پر چینی کا یہ کوٹہ مہینے کے پہلے بیس اکیس دنوں میں ختم ہوجاتا تھا۔ بقایا نودس دن وزیرِاعظم، ان کا خاندان اور مہمان پھیکی چائے پیتے تھے۔ اس کے پیچھے جذبہ کیا تھا؟ جذبہ شہری برابری اور قانون کی حکمرانی تھا کہ ملک کا قانون اور سسٹم سب کے لئے ایک طرح لاگو ہوگا۔ ایثار اور قربانی کا یہ عالم کہ نوابزادہ لیاقت علی خان شہید ہوئے تو محترمہ رعنا لیاقت علی اور بچوں کے لئے سرچھپانے کی جگہ بھی نہیں تھی کیونکہ لیاقت علی خان نے وزیراعظم ہونے کے باوجود نہ پاکستان میں گھر الاٹ کروایا تھا اور نہ ہی زرعی زمین۔ شہید کے بینک بیلنس چند روپے اور چند ایک کپڑوں کے جوڑے تھے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کہا کرتے تھے جب تک ہر پاکستانی کو چھت نہیں مل جاتی اور ہر مہاجر آباد نہیں ہوجاتا، وزیراعظم کو گھر الاٹ کروانے اور زرعی زمین کا کلیم داخل کرنے کا ہرگز حق نہیں۔ دراصل یہ خلافتِ راشدہ کے سنہری دور کا ماڈل تھا جس کی قائدِاعظم اور قائدِ ملت نے اتباع کرنے کی کوششیں کیں۔ وہ زندہ رہتے تو اس طرزِ حکومت کی بنیادیں مضبوط کرجاتے لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور


ع   اِک دھوپ تھی جوساتھ گئی آفتاب کے


مثالیں تو اَن گنت، لیکن مقصودیہ ہے کہ جذبہ انسان کو انسان سے ممیز کرتاہے، ممتاز کرتا اورعظمت کی بلندیوں پر بٹھاتا ہے ورنہ اولادِ آدم تو بظاہر ایک ہی جیسی ہے، ایک ہی طرح کی ساخت رکھتی اور ایک ہی جیسی نظر آتی ہے۔ اور پھر لیڈر سے مراد صرف سیاسی لیڈر نہیں۔ مختلف شعبوں کے سربراہ، اداروں کے ہیڈز
(HEADS)
، فوج، ایئرفورس، نیوی کے سربراہ وغیرہ سبھی اپنے اپنے دائرہ کار میں لیڈر ہوتے ہیں اور ان اصولوں کا اطلاق اُن سب پر ہوتا ہے۔ لیڈر شپ کا اول اصول یہ ہے کہ آپ اپنے کردار، کارکردگی اور شخصیت سے اپنے ساتھیوں کو کس طرح اور کتنامتاثر کرتے ہیں، آپ میں رول ماڈل بننے کی صلاحیت ہے یا نہیں؟ محض کرسی انسان کو لیڈر نہیں بناتی، انسانی خوبیاں، شخصیت، کردار اور قائدانہ صلاحیتیں لیڈر بناتی ہیں اور ان تمام خوبیوں کے پسِ پردہ محرک جذبہ ہوتاہے۔ اس لئے قیادت کے لئے جذبے کو بنیادی حیثیت دیتا ہوں۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
September

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں

کستان کے دفا ع اور ترقی کے لئے ایک طاقت ور بحریہ کی ضرورت جس شخصیت نے سب سے پہلے محسوس کی وہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ اس وقت پاکستان دو حصوں مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل تھا۔ یہ دونوں حصے اپنی جغرافیائی وقو ع پذیری کی وجہ سے بالترتیب خلیج بنگال اور بحیرہ عرب میں بحری سر گرمیوں پر نظر رکھنے کی پوزیشن میں تھے۔ دفاعی حکمتِ عملی اور تجارتی سر گرمیوں کے حوالے سے خلیج بنگال او ربحیرہ عرب ،بحرِ ہندکے سب سے اہم حصے ہیں اسی لئے ان کو بالترتیب بحرِہند کا مشرقی بازو اور مغربی بازو کہا جاتاہے۔ بحرِہند کی تاریخ میں ان دونوں بازوؤں نے نہایت اہم سیاسی اور دفاعی کردار ادا کیاہے۔ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھانپ لیا تھا کہ آنے والے دنوں میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا سمندر بحرِہند ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے فروغ اور بڑی طاقتوں کی دفاعی اور سیاسی حکمتِ عملی میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔ اس لئے انہوں نے پاکستان کے لئے ایک طاقت ور بحریہ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔خود پاکستان کے دفاع اور اس کی معاشی ترقی کے لئے بھی ایک طاقت و ر بحریہ کی موجودگی اشد ضروری تھی کیونکہ 1971سے قبل مشرقی اور مغربی پاکستان میں رابطہ ایک مضبوط بحریہ کے ذریعے ہی قائم رکھا جا سکتاتھا۔ اس کے علاوہ ملک کی 90فیصد تجارت چونکہ سمندر کے ذریعہ باہر کی دنیا سے تھی اس لئے ایک کمرشل نیوی بھی در کار تھی جس کی حفاظت ایک طاقت ور بحریہ ہی کر سکتی ہے۔ چنانچہ ایک مضبوط بحریہ مستقبل کے پاکستان کے لئے خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود پاک بحریہ نے قائد اعظم کے وژن کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اگر آج ہم جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا اور سب سے بڑھ کر بحرِہند کے علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں کے وسیع تناظر میں پاک بحریہ کی اہمیت اور اس کے کردار کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاک بحریہ اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی بنا پر خطے کے تمام ممالک سے خراجِ تحسین وصول کر رہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاک بحریہ ،بحیرہ عرب اور اس کے اردگرد واقع سمندری علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ یہ علاقے خلیج فارس، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ احمر سے ملحقہ ہونے کی وجہ سے دنیا کے اہم ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج فارس کے توانائی کے ذرائع یعنی تیل اور گیس ہیں جن کی دنیا بھر خصوصاً چین اور بھارت میں مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ ان ممالک کے اپنے توانائی کے ذرائع ان کی اقتصادی ترقی کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ وسطی ایشیا کے معدنی اور قدرتی ذرائع تک پہنچنے کے لئے بھی راستہ خلیج فارس اور ایران کے ذریعے جاتا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں خانہ جنگی، امریکہ کی مداخلت اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے بھی بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے علاقے نمایاں اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

 

pakbehriaaurwlaqaaman.jpg

اس وقت ان علاقوں میں نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ، فرانس اور چین کے بھی بحری اڈے قائم ہیں۔ امریکہ نے ان سمندروں میں بھاری بحری قوت مجتمع کر رکھی ہے جس میں طیارہ بردارجہاز، تباہ کن جہاز، فریگیٹ، آبدوزوں اور دیگر جہازوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس علاقے میں اپنے اڈوں اور بحری بیڑوں کے ذریعے افغانستان، عراق اور شام میں جاری جنگوں میں براہ راست حصہ لیتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر سے اس خطے کی حکمت عملی یعنی سٹریٹیجی میں انقلابی تبدیلی آنے کی توقع ہے۔ کیونکہ اس راہداری کا جنوبی ٹرمینل گوادر بلوچستان سے جڑے بحیرہ عرب کے ساحل پر ہے۔ کاریڈور کی تعمیر سے بحرِ ہند خصوصاً اس کے شمالی مغربی حصے یعنی بحیرہ عرب، خلیج عدن اور ہارن آف افریقہ کے علاقوں میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں زبرست اضافے کی توقع ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ اس خطے سے باہر کئی ملکوں کے لئے بھی متعدد چیلنج ابھر رہے ہیں ان چیلنجز میں بحری دہشت گردی،بحری قزاقی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ بحرِہند میں امن اور سلامتی صرف ان ملکوں کے لئے اہم نہیں ہے جن کے ساحلوں سے ان کا پانی ٹکراتا ہے بلکہ دنیاکے بیشتر ممالک جن میں سے بعض کے ساحل بحر ہند سے ہزاروں میل دور ہیں، کے لئے بھی اس سمندر کی نمایاں اہمیت ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بحرِ ہند، مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کی ایک بہت بڑی شاہراہ ہے۔ ایک انداز ے کے مطابق بحرِہند کی آبی شاہراہوں سے ہر سال تقریباً ایک لاکھ بحری جہاز تیل، مائع گیس اور دیگر تجارتی اشیاء لے کر گزرتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری اور چین کے منصوبے میری ٹائم سلک روڈ کی تعمیر سے ان اشیاء سے لدے جہازوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ان آبی شاہراہ کی حفاظت کا مسئلہ بھی نمایاں حیثیت اختیار کر جائے گا۔ سکیورٹی کے ان مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے بحرِہند کے اردگرد واقع ممالک نے دیگر ایسے ممالک جن کے بحرہند سے اہم دفاعی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں، کے ساتھ گزشتہ چند برسوں سے اجتماعی تعاون اور سلامتی کی بنیاد پر کئی فورمز قائم کر رکھے ہیں۔ پاکستان بحریہ ان فورمز کی رکن ہے اوران فورمز سے جو بھی سرگرمیاں ہوتی ہیں پاکستان بحریہ ان میں بھر پور حصہ لیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود پاکستان کا ساحل تقریباً ایک ہزار کلومیٹرسے زائد طویل ہے جو سر کریک سے شروع ہو کر خلیج فارس کے دہانے پر ختم ہوتا ہے۔ پاکستان کے اس جغرافیائی محلِ وقوع کی بناء پر پاک بحریہ کا اس علاقے میں پیدا ہونے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار،مستعد اور ضروری وسائل سے لیس ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم گزشتہ 70سال کے عرصہ کے دوران پاک بحریہ کا ایک جدیداور طاقتور قوت کے طور پرا رتقاء کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاک بحریہ نے محدود وسائل کے باوجود خاطر خواہ کا میابی حاصل کی ہے۔ پاک بحریہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ہر قسم کے بحری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اور علاقے کے دیگر ممالک کی بحری افواج سے مل کر اپنی اسی صلاحیت کا بھر پور اور کامیاب مظاہرہ بھی کیا ہے۔ اس وقت پاک بحریہ میں جدید ترین فریگیٹ اور تباہ کن جہازوں کے علاوہ سُر عت سے حملہ کرنے والے جہاز، بارودی سرنگیں صاف کرنے والے اور تربیت اور متفرق آپریشنز انجام دینے والے جہاز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جہازوں کو امداد فراہم کرنے اور دشمن کے جہازوں کا سراغ لگانے کے لئے پاک بحریہ کا ایک نیول ایئر آرم بھی ہے جس میں جدیدترین میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹر اور بغیر پائلٹ کے اُڑنے والے جہاز
(UAV)
شامل ہیں۔ زیرِ آب کارروائیوں کے لئے پاک بحریہ کے پاس آبدوزوں کا ایک بیٹرہ بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ا سپیشل آپریشنز فورسز، سمندر میں اسپیشل آپریشنز کے لئے تربیت یافتہ کمانڈوز، ساحل پر واقع پاک بحریہ کی تنصیبات کی حفاظت کے لئے دفاعی نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس سے پاک بحریہ ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔پاک بحریہ نے گزشتہ تقریباً 47 برسوں کے دوران اپنے بیڑے میں نئے جہازوں اور آبدوزوں کو شامل کر کے نمایاں تقویت حاصل کی ہے کیونکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان نے خلیج اور جزیرہ نما عرب کے مسلم ممالک کے ساتھ معاشی، تجارتی اور دفاعی تعلقات وسیع کرنے کی طر ف خصوصی توجہ مبذول کرنا شروع کر دی تھی۔

 

پاک بحریہ گزشتہ 70برس کے ایک لمبے سفر کے بعد اب ایک ایسے مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو چکی ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے ملک کا دفاع کرنے کے قابل ہے، بلکہ بحرِہند کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی، بحری تجارتی رہداریوں کے تحفظ اور بحری دہشت گردی اوربحری قزاقی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جہاں پاکستان نے ’’سیٹو‘‘
(SEATO)
کو خیر باد کہہ دیا تھا وہاں ’’سینٹو‘‘
(CENTO)
کی رکنیت نہ صرف بحال رکھی بلکہ اس دفاعی معاہدے کے رکن ممالک یعنی ترکی، ایران، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ پاکستان نے بحیرہ عرب میں مشترکہ بحری مشقوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ 1973-74کی عرب اسرائیل جنگ اور اسی دوران ویت نام سے امریکی افواج کے انخلا کے نتیجے میں خلیج فارس، مشرق وسطیٰ اور بحیرہ عرب میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنی بحری اور فضائی قوت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ ان حالات میں پاکستان کو بھی اپنی بحری قوت میں اضافہ اور اِسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی ضرورت کے تحت پاک بحریہ کی طاقت اور حجم میں اضافہ در اصل 1974 کے بعد شروع ہوا۔ چین سے حاصل کی جانے والی میزائل کشتیوں کی شکل میں پاک بحریہ کو ایک مؤثرہتھیار حاصل ہوا۔ 1990کی دہائی میں پاک بحریہ نے طاقت ور ہتھیاروں کی پیداوار اور جہاز سازی کے شعبے میں ایک خود کفیل فورس کا درجہ حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی تھی۔ پاکستان نیوی ڈاک یارڈمیں آگسٹا 90- بی آبدوز کی تیاری اور کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں بڑے اور درمیانے درجے کے جنگی جہاز، تیزرفتار میزائل بوٹس اور جنگی آئل ٹینکر کی پاکستانی انجینئرز کے ہاتھوں تیاری پاکستان بحریہ کی ترقی اور خود کفالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سائز کے اعتبار سے پاک بحریہ ایک بڑی فورس نہیں ہے اور اس کا امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور چین کی بحری افواج سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا تا ہم بحرِہند میں میری ٹائم سکیورٹی کے شعبے میں ان ممالک کی بحری افواج سے تعاون کر کے پاک بحریہ نے بہت مفید تجربات حاصل کئے ہیں اور یہ سلسلہ 2004سے جاری ہے جب پاکستان نے کمبائنڈ ٹاسک فورس 150میں شمولیت اختیار کر کے دیگر ملکوں کے ساتھ بحرِہند میں بحری دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سر گرمیوں کا قلع قمع کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بعد میں2009میں پاکستان بحریہ نے کمبائنڈ ٹاسک فور س151 میں شرکت اختیار کر کے خلیج عدن اور صومالیہ کے قریب سمندر میں بحری قزاقی کے خاتمہ کے لئے بھی قابل قدر کردار ادا کیا۔ 2007سے پاکستان بحریہ نے ’’امن‘‘ کے نام سے ہر دوسرے سال منعقد کی جانے والی بحری مشق کے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے جس میں عالمی بحری افواج کی ایک کثیر تعداد اپنے اثاثوں کے ساتھ شرکت کرتی ہے۔ان کا مقصد بھی اجتماعی کوششوں کے ذریعے علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔’ انڈین اوشین نیول سمپوزیم
‘(Indian Ocean Naval Symposium)
میں شرکت کے ذریعے پاک بحریہ نے نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو تسلیم کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یہ سمپوزیم دس ملکوں یعنی آسٹریلیا، بنگلہ دیش، فرانس، بھارت، ایران، عمان، پاکستان، سنگاپور، تھائی لینڈ اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ہے۔پاک بحریہ انڈین اوشن نیول سمپوزیم ورکنگ گروپ کی مختلف سر گرمیوں کی دو دفعہ میزبانی کر چکی ہے اس کے ہر اجلاس میں رکن ممالک اپنے بحری تجزیے، مسائل اور چیلنجز کے تناظرمیں انتہائی ضروری اور اہم معلومات کا تبادلہ کر تے ہیں۔
پاک بحریہ گزشتہ 70برس کے ایک لمبے سفر کے بعد اب ایک ایسے مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو چکی ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے ملک کا دفاع کرنے کے قابل ہے، بلکہ بحرِہند کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی، بحری تجارتی رہداریوں کے تحفظ اور بحری دہشت گردی اوربحری قزاقی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
September

تحریر: جاوید حفیظ

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے فورٹ مائر ورجینیا میں افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اہم پالیسی بیان دیا ہے۔ بیان کا ایک حصہ پاکستان کے لئے مختص ہے۔ بیان میں افغانستان کے لئے آئندہ عسکری پالیسی کے خدوخال بیان کئے گئے ہیں اور شاید اسی وجہ سے امریکی صدر نے اپنی تقریر کے لئے ملٹری بیس کا انتخاب کیا۔ صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے حامی رہے ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ امریکی عوام اس جنگ سے بیزار ہو چکے ہیں اور امریکی صدر کی تقریر میں اس بات کا واضح اعتراف ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ افغانستان میں2001 اور عراق میں 2003 میں فوجیں اتارتے وقت امریکہ نے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے علاوہ جواہداف مقرر کئے تھے اُن میں جمہوریت کی نشوونما، انسانی حقوق کا تحفظ، آزادئ رائے اور حقوق نسواں جیسے مقاصد شامل تھے۔ بادی النظر میں یہ اہداف اعلیٰ و ارفع تھے لیکن ہر معاشرے میں ہروقت اجنبی اقدار اور اداروں کا اجراء ممکن نہیں ہوتا۔ جمہوریت کے پودے کی اچھی نشوونما کے لئے زرخیز مٹی، مناسب نمی اور موافق موسم درکار ہوتا ہے۔ جمہوری اقدار کسی سرجری کے ذریعے یکدم سیاسی جسم میں داخل نہیں ہو سکتیں۔ صدر ٹرمپ نے اب برملا کہا ہے کہ دنیا کے ممالک کو امریکی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کا ہدف اب ترک کرنا ہوگا۔


امریکی صدر نے افغانستان میں اب جو تین اہداف مقرر کئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ پہلا اور اہم ترین ہدف افغانستان سے امریکی فوجیوں کی باعزت واپسی اور مسائل کا دیر پا حل ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول امریکی فوجی جو جنگ میں زندگیاں قربان کرتے ہیں عسکری فتح کا پلان اُن کا حق ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ علانیہ اور جلدی میں فوج کا انخلاء مزید مسائل کو جنم دیتا ہے اور جلد بازی میں افواج کی واپسی ایک قسم کا خلا پیدا کردیتی ہے جسے داعش اور القاعدہ جیسی دہشت پسند تنظیمیں پُر کرتی ہیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ نائن الیون سے پہلے اسے داعش نے پُر کیا اور امریکہ کی کاوشوں کا پھل دہشت گردوں کے حصے میں آیا۔ اب ہم عراق والی غلطی افغانستان میں نہیں دہرائیں گے۔ تیسرا اورپاکستان کے لئے اہم نکتہ صدر ٹرمپ کا یہ قول ہے کہ بیس کالعدم تنظیمیں اب بھی افغانستان اور پاکستان میں فعال ہیں اور یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں دہشت گرد تنظیموں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ افرا تفری ، مار دھاڑ، اور دہشت گردی کے نمائندوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے۔ صورتِ حال (امریکہ کے لئے) زیادہ گھمبیر اس لئے بھی ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان کے مابین کشیدگی ہے جو جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یہ مشکل اور پیچیدہ صورت حال ورثے میں ملی ہے لیکن ان مشکل مسائل کو حل کیا جائے گا۔ افغانستان اور پاکستان میں موجود ان پناہ گاہوں کا خاتمہ ہمارا تیسرا ہدف ہے اور اس بات کو یقینی بناناہے کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ کیونکہ یہ ہتھیار ہمارے بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں۔ اب ملٹری آپریشن بغیر اعلان کے کئے جائیں گے۔ فیصلے روز مرہ کی بنیاد پر اور زمینی حقائق کو دیکھ کر کئے جائیں گے۔ دشمنوں کو ہمارے منصوبوں کی خبر نہیں ہوگی، ہم حملوں کا اعلان نہیں کریں گے لیکن حملہ ضرور کریں گے۔ امریکی طاقت کے تینوں ستون یعنی ملٹری، اقتصادی اور سفارتی طاقت بیک وقت استعمال ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ افغانستان میں طالبان کے چند دھڑوں کے ساتھ کوئی سیاسی حل نکل آئے لیکن یہ کب ہوگا، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا افغان عوام کا حق ہے ہم (امریکہ) کسی قسم کا حل ڈکٹیٹ نہیں کریں گے اور نہ ہی ہم افغان لوگوں کے طرزِ زندگی کا تعین کریں گے۔


یہ اہداف بیان کرنے کے بعد صدرٹرمپ پاکستان سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ ہم وہاں دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہوں کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ تنظیمیں خطے کے لئے اور دیگر ممالک کے لئے خطرہ ہیں۔ ہم پاکستان کی ماضی کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں، پاکستان کو ہمارے (امریکہ کے) ساتھ افغانستان میں پارٹنر بننے کا فائدہ ہوگا۔ اسے مجرموں اور دہشت گردوں کی دوستی سے کافی نقصان ہوگا۔ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دے رہے ہیں اور عین اُسی وقت وہ اُن دہشت گردوں کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہے جن سے ہم لڑ رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان تہذیب، نظم اور امن کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کو آشکار کرے۔


پاکستان کے بارے میں استعمال کئے گئے الفاظ خاصے تند و تلخ ہیں۔ جبکہ انڈیا پر تعریف کے پھول نچھاور کئے گئے ہیں۔ اُسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور امریکہ کا اسٹریٹجک حلیف کہا گیا ہے۔ انڈیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کی تعمیرِ نو میں زیادہ حصہ ڈالے کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ امریکہ افغان ڈرامہ میں انڈیا کو مین رول دینا چاہتا ہے لیکن ایک چیز واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان کے علاوہ چین اور روس اس رول کو پسند نہیں کریں گے۔ گویا بدلتے ہوئے علاقائی حالات چین اور روس کو پاکستان کے قریب تر لا رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے طالبان کے خلاف ایکشن نہ لیا تو پابندیاں لگ سکتی ہیں اور پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کا درجہ بھی ختم ہوسکتا ہے۔ ٹلرسن نے اس بات کی تشریح نہیں کی کہ پاکستان پر لگائی جانے والی مجوزہ پابندیوں کی نوعیت کیا ہوگی۔ یعنی وہ عسکری ہوں گی یا اقتصادی۔


پاکستان کا حکومتی ردِ عمل دو ٹوک ہے۔ ضربِ عضب اور ردالفساد کی وجہ سے پاکستان سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے یہ جنگ اپنی بقا کے لئے لڑی ہے، کسی عالمی قوت کی خوشنودی کے لئے نہیں۔ قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف اس طویل جنگ میں پاکستان کی قربانیاں سب ملکوں سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کو امریکہ کا اعتماد چاہئے امداد نہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی نئی پالیسی کے بارے میں پاکستان میں اتفاقِ رائے نظر آرہا ہے اور یہ خوش آئند بات ہے۔


صدر ٹرمپ کی تقریر پر سب سے بھرپور ردِ عمل چین کی طرف سے آیا ہے۔ سب سے پہلے چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صفِ اول میں کھڑا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں اور پھر سینئر ترین چینی سفارت کار یانگ جی چی نے امریکن وزیرِخارجہ ٹلرسن کو فون کرکے کہا کہ ہمیں پاکستان کے اہم کردار کی قدر کرنی چاہئے جو وہ افغانستان میں اداکررہا ہے۔ ہمیں پاکستان کی آزادی اور اقتدار اعلیٰ کو بھی نظر میں رکھنا چاہئے اور اس کے سکیورٹی خدشات کو بھی۔ یہاں چین نے بین السطور یہ کہا کہ کسی اور ملک کو افغانستان میں لانے سے پاکستان کی سکیورٹی کو خدشات لاحق ہوں گے۔

پاکستانی حکام نے بجا طور پر واضح کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی جاسکتی اور یہ عزم بھی دہرایا ہے کہ ہماری جانب سے کسی ہمسایہ ملک میں دراندازی نہیں ہوگی اب چونکہ امریکی افواج غیر معینہ مدت کے لئے افغانستان میں رہیں گی لہٰذا ہمیں یہ ڈیمانڈ بار بار کرنی چاہئے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو پاکستانی خون بہانے سے سختی سے روکا جائے کہ دسمبر 2014 میں ہمارے بچوں کے قاتل ابھی تک وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔


افغانستان کے لئے صدر پیوٹن کے نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں امن مذاکرات میں پاکستان کلیدی کردارکا حامل ہے۔ پاکستان پر پریشر ڈالنے سے پورا خطہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور اس سے افغانستان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکہ کے کئی تھنک ٹینک اور کالم نگار صدر ٹرمپ کی مجوزہ پالیسی کے حامی نظر نہیں آتے۔ ولسن سنٹر کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ پاکستان پر امریکی دباؤ کے مثبت نتائج کے بارے میں خیالات بر محل نہیں۔ آپ پاکستان کو دھمکیاں دے لیں یا لالچ، اس کی پالسیی میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایک انڈین نژاد صحافی نے مشہور برطانوی اخبار گارڈین میں لکھا ہے کہ ٹرمپ نے افغانستان میں چین کی پوزیشن کو مضبوط کردیا ہے۔


آج کے افغانستان کو سمجھنے کے لئے چند بنیادی فیکٹرز کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ ہمارے افغان بھائی غیور لوگ ہیں۔ وہ اپنے وطنِ عزیز میں غیر ملکی افواج کو برداشت نہیں کرتے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں جنگ جاری رہے گی۔ پشتون اور تاجک افغانستان کی دو بڑی لسانی اکائیاں ہیں۔ پشتونوں کی تعداد تاجک سے یقینی طور پر زیادہ ہے۔ ان دونوں میں مسابقت بعض دفعہ مخاصمت یعنی دشمنی کا روپ دھار لیتی ہے۔ باہر سے حملہ ہو تو یہ دونوں اکٹھے مل کر لڑتے ہیں اور جب حملہ آور چلا جائے تو باہم برسرِ پیکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن بطورِ ریاست افغانستان کی موجودہ شکل کے دونوں پُرزور حامی ہیں۔ ملک کے دور دراز حصوں پر کابل کی رٹ ہمیشہ کمزور رہی ہے۔ ایک امریکی اندازے کے مطابق اس وقت ملک کا چالیس فیصد ایریا طالبان کے زیرِ اثر ہے۔ پاکستان نے بارہا بارڈر کنٹرول کو مؤثر کرنے کی بات کی ہے لیکن کابل سے مثبت جواب نہیں ملا۔ ان حالات میں پاکستان کو الزام دینا کہ وہاں سے دہشت گرد آتے ہیں، صریحاً زیادتی ہے۔
امریکہ کے وزیرِ دفاع جنرل ریٹائرڈ جیمز ماٹس کاکہنا ہے کہ امریکہ نے یہ جنگ سولہ سال نہیں لڑی بلکہ یک سالہ جنگ سولہ مرتبہ لڑی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جنگ کی حکمت عملی غلط تھی اہداف اور پلاننگ طویل مدت کے نہیں تھے ہمیشہ جلدی میں ہدف تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ افغانستان کی دلدل سے نکلا جاسکے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ طالبان اکثر کہتے تھے گھڑیاں امریکیوں کے پاس ہیں لیکن وقت ہمارے ساتھ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اب امریکہ افغانستان سے جانے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دے گا۔


صدر ٹرمپ کی تقریر سُن کر مجھے یوں لگا جیسے یہ 2008 سے2014 کے درمیان لکھی گئی ہو۔ اُس وقت سوات کے علاوہ کچھ قبائلی علاقوں پر بھی طالبان کا کنٹرول تھا۔ مگر پاک فوج نے بے مثال قربانیاں دے کر ملک کے چپے چپے پر حکومتی رٹ بحال کی ہے۔ کوئی دوماہ قبل جب سینیٹر جان مکین پاکستان آئے تھے تو اُنہیں قبائلی علاقے دکھائے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کی تقریر سے مجھے یہ بھی محسوس ہوا جیسے اُسے تحریر کرنے سے قبل ہمارے ہمسایہ ملک سے پوچھا گیا ہو کہ کیا کہنا چاہئے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر دہشت گردوں کے ممکنہ قبضے کی بات بھی بے وقت کی راگنی ہے جسے ہمارا ہمسایہ ملک مسلسل الاپتا رہتا ہے۔ اس بات کا امکان نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے کیونکہ پاکستان کے مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے سبھی معترف ہیں اور جنگی جنون کے حوالے سے پاکستان میں صورت حال مختلف ہے۔ مکمل امن پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لئے ازبس ضروری ہے اور افغانستان میں حصولِ امن کے بغیر پاکستان میں مکمل امن نہیں آسکتا۔ اسی وجہ سے پاکستان نے ہمیشہ افغان امن کوششوں کی حمائت کی ہے۔


پاکستانی حکام نے بجا طور پر واضح کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی جاسکتی اور یہ عزم بھی دہرایا ہے کہ ہماری جانب سے کسی ہمسایہ ملک میں دراندازی نہیں ہوگی اب چونکہ امریکی افواج غیر معینہ مدت کے لئے افغانستان میں رہیں گی لہٰذا ہمیں یہ ڈیمانڈ بار بار کرنی چاہئے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو پاکستانی خون بہانے سے سختی سے روکا جائے کہ دسمبر 2014 میں ہمارے بچوں کے قاتل ابھی تک وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور اگر انڈیا کا رول افغانستان میں بڑھتا ہے تو ایسے قاتلوں کو مزید شہ ملے گی۔ کچھ اورکلبھوشن یادیو پاکستان بھیجے جائیں گے۔


خوش آئند بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی تقریر نے ہم پاکستانیوں کو متحدہ کیا ہے۔ انٹرنیشنل تنہائی سے نکالاہے۔ پاکستان کے پاس تین آپشن تھے یا تو امریکہ کی بات اٰمنّا وصدقنا کہتا اور پہلے کی طرح امریکی جنگ کا پھر سے حصہ بن جاتا مگر یہ ممکن نہ تھا کیونکہ امریکہ کی تازہ ترین پالیسی غلط مفروضوں پر قائم کی گئی ہے۔ طالبان کے پاس افغانستان کا چالیس فیصد علاقہ ہے تو انہیں پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کی کیا ضرورت ہے اور اگر طالبان کے کچھ خاندان پُرامن طور پر پاکستان میں رہ رہے ہیں تو وہ افغان مہاجرین کا حصہ ہیں، جنہیں واپس بھیجنے کی پاکستان عرصے سے کوشش کررہا ہے۔ پاکستان کے پاس دوسرا آپشن امریکہ سے قطع تعلقی کا تھا لیکن یہ بھی صائب فیصلہ نہ ہوتا۔ پاک امریکہ تعلقات بے حد اہم ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر آگے چلنا ہے یہ وقت جذباتیت کا نہیں۔ درمیانہ راستہ جو پاکستان نے اختیار کیا ہے۔ وہی بہترین راستہ ہے۔


ہمارا کیس مضبوط ہے لیکن اُسے باہر سُنا نہیں جارہا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان شاندار طریقے سے لڑا ہے۔ ہمارے نقصانات امریکی امداد سے کہیں زیادہ ہیں۔ جو کام نیٹو کی ڈیڑھ لاکھ افواج نہیں کرسکیں وہ بارہ ہزار کیسے کرسکیں گی۔ امریکی فورسز کو سپلائی کا مختصر ترین راستہ پاکستان کا ہے۔ امن مذاکرات کے لئے طالبان کو راضی کرنے کی کوشش میں بھی پاکستان مؤثر ہو سکتا ہے اور یہی بات چین اور روس نے امریکہ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
افغان مسئلے کی جڑیں افغانستان میں ہیں لہٰذا یہ جنگ وہیں لڑی جانی چاہئے۔ کابل حکومت کی رٹ ملک کے اکثر حصوں سے غائب ہے بوجوہ افغان نیشنل آرمی کمزور ہے۔ امریکہ کی بے تحاشا مالی امداد اور انڈیا کی ٹریننگ اسے مضبوط فوج نہیں بنا سکی۔ افغان ڈیموگرافک حقائق کے برعکس فوج کے اکثر افسران اقلیتی لسانی گروپس سے تعلق رکھتے ہیں، بھگوڑوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔


مزید چار ہزار سپیشل فورسز سے تعلق رکھنے والے امریکی فوجی جلد افغانستان پہنچ جائیں گے۔ اس طرح ٹوٹل تعداد بارہ ہزار ہو جائے گی۔ امریکی فیلڈ کمانڈروں کو وسیع تراختیارت دیئے جارہے ہیں۔ مگر وہ کام جو لاکھ سے زائد فوج نہ کرسکی۔ کیا وہ ہدف یعنی مکمل فتح صرف بارہ ہزار سپاہی حاصل کر پائیں گے؟ میرے خیال میں امریکہ کا اصل ہدف فتح نہیں بلکہ شکست سے بچنا ہے۔ دوسرا ہدف افغانستان میں داعش کے داخلے کو روکنا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظر رکھنا بھی امریکی پروگرام میں شامل ہے۔ آج اگر امریکہ افغانستان سے مکمل انخلاء کرلے تو کابل کی حکومت شائد زیادہ دن نہ چل سکے۔ اسی طرح افغان نیشنل آرمی مزید کمزور ہو جائے گی۔ یہ جو صدر ٹرمپ نے وضاحت کی ہے کہ اوول آفس میں پہنچ کر انہیں نئی حقیقتوں کا سامنا تھا، درست بات ہے اور اس لئے انہیں یوٹرن لینا پڑا۔


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کے حصول، اعلیٰ تعلیم اور تجارت کے لحاظ سے امریکہ پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔ واشنگٹن کے مالیاتی اداروں بشمول ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف میں بھی سپر پاور کا اثرورسوخ واضح ہے یورپین ممالک سے قریبی تعلق بھی امریکی قد کاٹھ میں اضافہ کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں امریکہ کی پوزیشن سینیئر پارٹنر والی ہے۔ میرا مشاہدہ کہتا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روسی اور ایرانی اکانومی کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ اگر چہ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکہ اب بھی پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دیتا ہے معروضی طور پر غلط ہے لیکن اگر بفرضِِ محال امریکہ پاکستان کو
State Sponsor Of Terrorism
یعنی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست ڈیکلیئر کردیتا ہے تو پاکستان کا نقصان زیادہ ہوگا امریکہ کا کم۔
تو کیا پاکستان امریکہ کی نئی پالیسی پر من و عن عمل شروع کردے؟ ایسا کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ صدر ٹرمپ کی تقریر میں لگائے گئے چند الزامات موجودہ زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ اگر یہ واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا کیس دنیا کے ممالک سنیں تو ہمیں وکالت کا آرٹ سیکھنا ہوگا۔ اچھے پڑھے لکھے لوگوں کو وکالت کے لئے بھیجنا ہوگا۔ گزشتہ سال جن ممبران نیشنل اسمبلی کو ہم نے مختلف ممالک میں بھیجا تھا، اُن میں کئی ہماری وکالت کے اہل ہی نہ تھے کچھ دوسرے تیاری کرکے نہیں گئے تھے یہ پیسے اور وقت کا ضیاع تھا۔


ہمیں امریکن کانگریس اور تھنک ٹینکس میں مسلسل کام کی ضرورت ہے۔ پہلے اپنا کیس محنت سے تیار کیا جائے پھر یہ طے کیا جائے کہ کس نے کیا کہنا ہے۔ امریکہ سے کہا جائے کہ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے میں ہماری مدد کرے کہ یہ کام امریکی مفاد میں بھی ہے۔ غیر ملکی صحافیوں اور سیاسی لیڈروں کو فاٹا کے مختلف حصے دکھائے جائیں۔ مغربی میڈیا میں پاکستانی آواز کی رسائی ہونی چاہئے اور اس کام کے لئے ہمیں محنت کرنا ہوگی۔ انفارمیشن منسٹری میں جان ڈالنا ہوگی۔ وزارتِ خارجہ پر بہت بڑی ذمہ داری آگئی ہے اور اسے ریٹائرڈ فارن سیکرٹری اور امریکہ میں پاکستان کے سفراء کو کنسلٹ کرتے رہنا چاہئے، ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ صدور اور اشخاص آتے جاتے رہے ہیں مگر ملک اور ان کے ادارے دائمی ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ آج ہیں کل نہیں ہوں گے مگر امریکی میڈیا اور کانگریس اپنی جگہ پر ہوں گے۔ امریکہ کوسمجھنا اور اس کے ساتھ کام کرنا فی الوقت مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ یاد رہے کہ سفارت کاری قومی مفادات کے حصول کا ذریعہ ہے اور اگر سپر پاور کے ساتھ ہمارے تعلقات میں زیادہ اورلمبا بگاڑ آیا تو نقصان ہمارا بھی ہوگا۔ لہٰذا قومی عزت اور وقار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے قومی مفادات کے حصول کے لئے اگر سنجیدہ پلاننگ ہوگی تو محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔

مضمون نگار مختلف ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter