02
February

’’گزشتہ دنوں بلوچستان میں زلزلہ کے نتیجہ میں جس انسانی المیے نے جنم لیا ہے حکومت بلوچستان اس سے نمٹنے کے لئے پوری طرح کوشاں ہے، تاہم یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاک فوج، ایف سی ، سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کی متحدہ کاوشوں کے نتیجے میں زلزلے سے متاثر ہونے والوں کو بروقت فوری امداد فراہم کی گئی اور ان کی مکمل بحالی اور آبادکاری کے لئے بھی مشترکہ کوششیں جاری ہیں، اس میں شبہ نہیں کہ پاک فوج اور سکیورٹی کے اداروں نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جس تیزی اور تندہی سے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے وہ قابل قدر ہے۔ پاک فوج اور فرنٹیئر کور کا امدادی کاموں میں مدد فراہم کرنا اور متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لیے کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت بھی آواران اور دیگر متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 2400  فوجی حصہ لے رہے ہیں جبکہ پاک بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے آواران میں متاثرین میں خوراک پہنچائی ہے، اس کے علاوہ آواران میں ایک میڈیکل ٹیم ادویات کے ساتھ موجود ہے جبکہ فوج کی طرف سے متاثرین کو 90 خیمے ، 1212 خوراک کے پیکٹ اور 3900 پانی کی بوتلیں فراہم کی جا چکی ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج اور اس کے اداروں نے بلوچستان کے عوام کا جس طرح ساتھ دیا ہے اسے  فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مشترکہ کاوشوں کے ذریعہ اپنے تمام مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔‘‘

نوٹ: وزیراعلیٰ بلوچستان کے بیان میں دئیے گئے اعداد و شمار زلزلے کے بعد ابتدائی ریسکیو اور ریلیف کاوش کو ظاہر کرتے ہیں۔ اکتوبر کے شروع تک پاک آرمی کے 14  ہیلی کاپٹروں اور پی اے ایف کے دو  C-130  طیاروں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا جن کے ذریعے 962  ٹن راشن متاثرین میں تقسیم کیا گیا اور 370  ٹن سے زیادہ امدادی سامان جس میں خیمے‘ کمبل پانی کی بوتلیں اور اشیائے خوردونوش شامل ہیں متاثرہ علاقوں میں پہنچائی گئیں۔ دو ہزار سے زائد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

02
February

دلدار پرویز بھٹی کو اس جہاں فانی سے رخصت ہوئے اٹھارہ برس ہوگئے ہیں دنیا کی بے ثباتی تو اپنی جگہ مسلم ہے لیکن اس طرح سے کوئی شخص لوگوں کو ہنساتے اور ان کا دل لبھاتے ہوئے رخصت ہو جائے گا‘ کسی نے نہیں سوچا تھا‘ دلدار پریز بھٹی 30 اکتوبر 1994 کو اس وقت خالق حقیقی سے جاملے جب وہ شوکت میموریل ہسپتال کی تعمیر کے سلسلے میں چندہ جمع کرنے امریکہ گئے ہوئے تھے۔

دلدار بھٹی ممتاز کمپیئر‘ ماہر تعلیم‘ کالم نگار اور فنکار ہی نہیں عظیم المرتبت انسان بھی تھے جو دوسروں کو تکلیف میں مبتلا دیکھتے تو تڑپ اٹھتے اور ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ مجھے دلدار پرویز بھٹی کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ کئی بیواؤں کے گھروں کے چولہے ان کی دی ہوئی امداد سے جلتے تھے۔ وہ نادار لوگوں کی مدد کرنے اور یتیم بچیوں کی شادی کروانے میں ہمیشہ معاونت کرتے رہے اور اپنی امارت کا یہ عالم تھا کہ رحلت کے وقت ان کے بینک اکاؤنٹ میں صرف دس ہزار روپے تھے۔

لاہور میں ایک شاعر کی بیٹی کی شادی کے موقع پر مختلف شاعر اور ادیب حضرات مدعو تھے۔ کسی ادیب نے دلدار بھٹی کی عدم موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دلدار کو آج تو آنا چاہیے تھا‘ اس پر لڑکی کا باپ چپ نہ رہ سکا اس نے کہا: دلدار خود تو نہیں آیا لیکن میں نے آپ لوگوں کی آؤ بھگت کے لئے گوشت کی جو دیگیں پکوا رکھی ہیں‘ وہ دلدار کے پیسوں سے تیار ہوئی ہیں۔

دلدار بھٹی جو بظاہر انتہائی تیز طرار دکھائی دیتے تھے‘ اندر سے اتنے ہی سادہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دلدار کا ایک دوست ان کا پلاٹ بیچ کر تقریباً دو لاکھ روپے ہضم کر گیا۔ دراصل وہ خود اتنے صاف آدمی تھے کہ انہیں کبھی دوسروں پر شک ہوتا ہی نہیں تھا۔ میں اور توفیق بٹ (معروف کالم نگار)اکثر چھٹی والے دن دلداربھٹی کے ہاں چلے جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ہم گئے تو انہوں نے مختلف چیزیں میز پر سجانا شروع کردیں۔ جب سب چیزیں رکھ چکے تو کہنے لگے آؤ بھئی ناشتہ کرلیں۔ ہم نے کہا ’’جی ہم تو ناشتہ کرکے آئے ہیں‘‘ تو کہنے لگے ’’میں گھنٹے دا قوالی کرن‘ ڈیاں ساں‘ تسیں اس ویلے کیوں نئیں بولے‘‘۔(میں گھنٹے سے جو آپ کے لئے میز پر کھانے سجا رہا ہوں تو کیوں نہیں بتایا) دلدار کے چاہنے والے انہیں کبھی نہ بھلا پائیں گے۔ میں نے عطاء الحق قاسمی‘ امجد اسلام امجد‘ ڈاکٹر اجمل نیازی‘ عطاء اﷲ عیسیٰ خیلوی‘ شوکت علی‘ طارق فاروق‘ حسین شاد اور دیگر احباب کو دلدار کے لئے دھاڑیں مار کر روتے ہوئے دیکھا۔ صاحب کتاب شاعر جناب انجم یوسفی مرحوم نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے میں نے یہ شعر دلدار کے غم میں لکھا۔

کِرچی کِرچی ہوگیا انجم اب کیا ہونا باقی ہے

آنکھیں مجھ سے پوچھ رہی ہیں کتنا رونا باقی ہے

دلدار بھٹی کی بزلہ سنجی سے بھلا کون واقف نہیں۔ ایک مرتبہ ان کے ٹی وی پروگرام ’’پنجند‘‘ میں کسی آدمی نے سوال کا جواب دے کر گھی کا ڈبہ جیت لیا۔ اتفاق سے اس آدمی کے سر پر بال بالکل نہیں تھے‘ دلدار نے اسے دیکھتے ہی کہا ’’ایہہ لیو گھیو دا ڈبہ کڈا وڈاچیر کڈ کے آئے او تُسیں‘‘

(یہ لیں گھی کا ڈبہ آپ کتنی بڑی مانگ نکال کر آئے ہوئے ہیں)

دلدار اپنے دوستوں کا ادب کی حد تک احترام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ہم لوگ جناب عطاء الحق قاسمی کے گھر بیٹھے ہوئے تھے۔ عطاء الحق قاسمی نے دلدار بھٹی کے کسی کالم کی تعریف کی تو دلدار نے اٹھ کر ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ آپ میرے کالم کی تعریف کررہے ہیں تو وہ واقعتاً اچھا ہوگا۔ دلدار پرویز بھٹی کی تمام عمر لوگوں کی خدمت کرتے گزر گئی۔ انہوں نے ایک مرتبہ خود بتایا کہ مجھے جو پیسے آتے ہیں‘ میں نے جمع کرنے شروع کردئیے تاکہ کوئی مکان وغیرہ خریدا جاسکے لیکن کچھ عرصے بعد مجھے پیسے آنے ہی بند ہوگئے۔ تب مجھ پر عیاں ہوا کہ اﷲ مجھے نہیں بلکہ میرے ذریعے لوگوں کو دیتا ہے۔ لہٰذا میراان پیسوں پر کوئی حق نہیں۔ میں نے دوبارہ اسی طرح دوسروں کی مالی مدد شروع کردی اور مجھے بھی پہلے کی طرح فنکشن ملنے لگے۔ دلدار بھٹی کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے اپنی مرحومہ بہن کی بیٹی اور بیٹے کو اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ بھانجی کی شادی انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کردی تھی۔ دلدار بھٹی کی زندگی محبتوں اور قربانیوں کا مرقع تھی۔ ان کی یاد آج بھی دلوں میں ایک تازہ خوشبو کی مانند بکھرتی اور نکھرتی محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فقیر محمد فقیرؔ (پنجابی زبان کے ممتاز شاعر اور اداکار سہیل احمد (عزیزی) کے نانا)نے شاید دلدار جیسے لوگوں کے لئے ہی کہا تھا۔

لوکاں دے نال رکھ فقیرا ایسا بھین کھلون

کول ہوویں تے ہسن سارے نہ ہوویں تے رون

02
February

یہ میرے لڑکپن کی بات ہے ،میں اپنے والدین کے ساتھ ان کے کسی ملنے والوں کے ہاں گیا ہوا تھا ۔بڑوں کے درمیان امریکہ اور روس پر گفتگو ہو رہی تھی اور میں بے تحاشا بور ہورہا تھا ۔اس گھر میں نہ توکوئی میراہم عمر تھا اور نہ ہی دلچسپی کا کوئی سامان ،اچانک میری نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے ایک ناول پر پڑی اورمیں نے حسب عادت وقت گزاری کے لئے اسے پڑھنا شروع کردیا ۔جوں جوں میں اس ناول کے صفحے پلٹتا گیا توں توں میری دلچسپی میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر ایک گھنٹے کے اندر میں نے وہ پورا ناول گھول کے پی لیا۔ابن صفی سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔

ابن صفی سے اگلا تعارف والد محترم نے کروایا۔ان کے علم میں تھا کہ میں گھٹیا قسم کے جاسوسی ناول پڑھتا ہوں اور اگر اسی تواتر کے ساتھ پڑھتا رہا‘ تو ایک دن نالائق قسم کا جاسوس بن جاؤں گا یا پھر خود کش بمبار کیونکہ ان ناولوں میں ’’مذہبی جاسوسی‘‘ کا تڑکا لگا ہوتا تھا۔سو ابن صفی کا دوسرا ناول مجھے والد صاحب نے لاکر دیا‘ جسے مجھ سے پہلے وہ خود پڑھنے بیٹھ گئے اور جیسا کہ مجھے اندیشہ تھا ،ختم کر کے ہی دم لیا۔بعد ازاں میں نے ایک عدد لائبریری دریافت کی جہاں سے اس نوع کے ناول اور رسالے بآسانی کرائے پر پڑھنے کے لئے مل جاتے تھے۔ چنانچہ میں نے ایک دن میں چار چار ناول پڑھنے شروع کئے اور لگ بھگ اڑھائی تین مہینوں میں ابن صفی کی عمران سیریز اور جاسوسی دنیا ختم کر ڈالیں۔یہی نہیں بلکہ اس کے بعد دوبارہ ہر ناول کرائے پر لیا گیا اور نئے سرے سے پڑھتا چلا گیا ۔چند مہینوں بعد اس لائبریری کی ایک نئی ’’برانچ ‘‘کھل گئی ،مجھے شبہ ہے کہ وہ برانچ میرے کرائے کے پیسوں سے ہی کھولی گئی ہوگی ۔آج میری اپنی چھوٹی سی لائبریری میں ابن صفی کے تمام ناولوں کا سیٹ موجود ہے جسے میں نہ جانے کتنی بار پڑھ چکا ہوں۔ ہر بار یوں لگتا ہے جیسے پہلی مرتبہ پڑھ رہا ہوں۔ آپ مجھے ’’حافظ ‘‘ ابن صفی بھی کہہ سکتے ہیں۔

ابن صفی کی تحریر کی بنیادی خوبصورتی اس کی کردار نگاری ہے ،وہ دوسطروں میں کردار کا خلاصہ نکال کر رکھ دیتے ہیں ۔ان کاسب سے مقبول کردار علی عمران ہے‘ جو بظاہر احمق نظر آتا ہے مگر حقیقتاً اس کے کئی روپ ہیں ۔ علی عمران کا کردار دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ناول میں اس کردار کے چند ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو قاری کے لئے نئے ہوتے ہیں۔اس کردار کا تفصیلی احاطہ خود ابن صفی نے اپنے ایک شاہکار ناول ’’ڈاکٹر دعا گو‘‘ میں کیا اوربتایا کہ کیوں علی عمران کی شخصیت اس قدر غیر متوازن ہے، اس کی اپنے باپ سے کیوں نہیں بنی ،وہ ہر بات کو ہنسی میں کیوں اڑا دیتا ہے،اسے کرمنالوجی میں دلچسپی کیسے پیدا ہوئی اور وہ لندن سے یورپیئن سٹائل کا قلندر بن کر کیسے لوٹا!

ابن صفی کا دوسرا بڑا کردار کرنل فریدی ہے ۔ابن صفی کو عمران سے زیادہ فریدی سے پیار تھاکیونکہ جو رکھ رکھاؤ،خاندانی وقار،رعب و دبدبہ ،امارت ،طاقت اور شخصیت فریدی کے حصے میں آئی ،عمران ایک لحاظ سے اس سے محروم رہا ۔ قارئین نے اس ’’جانبداری‘‘ کا عملی مظاہرہ ان کے ناول ’’زمین کے بادل‘‘ میں دیکھا جس میں یہ دونوں کردار پہلی اور آخری بار یکجا ہوئے ۔ناول کے اختتام پر عمران کسی زہریلی گیس کے زیر اثر ناکارہ ہو جاتا ہے جبکہ فریدی سانس روکے رکھتا ہے اور پھر بالآخر تن تنہا آٹھ آدمیوں کو زیر کر کے اپنے ساتھیوں کو دشمن سے صاف بچا لے جاتا ہے ۔ اس موقع پر عمران کی بے بسی قارئین کو ایک آنکھ نہیں بھائی اور انہوں نے ابن صفی کو لا تعداد خطوط لکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا‘ جس کے جواب میں موصوف نے توبہ کر لی کہ آئندہ ان دونوں کرداروں کو اکٹھا کر کے کسی کی مٹی پلید نہیں کریں گے۔

اسی ناول کے پیش لفظ میں ابنِ صفی نے بتایا کہ ان کے تمام ناول اور کردار ان کے اپنے ہیں۔ سوائے پہلے ناول ’’دلیر مجرم ‘‘ کے جسے اور بھی کئی مغربی مصنفین نے اپنے اپنے انداز میں لکھا۔ تاہم فریدی اور حمید ابن صفی کے اپنے کردار تھے،صرف پلاٹ باہر سے لیاگیا تھا۔ابن صفی کی کل پانچ کہانیوں کے پلاٹ اورتین کرداروں کے علاوہ کوئی ایک کردار یا ناول ایسا نہیں جو اوریجنل نہ ہو۔ عمران سیریز کے تمام ناول اور کردار بے داغ ہیں اور ان میں کسی قسم کی کوئی ملاوٹ نہیں ۔ سنگ ہی ،تھریسیا، جوزف،جولیانا فٹنر واٹر،کیپٹن حمید،انور ،رشیدہ، استاد نرالے عالم، روشی ، سر سلطان، ظفر الملک،جیمسن، تنویر، سپرٹنڈنٹ فیاض اور میرا پسندیدہ قاسم چند ایسے لا زوال کردار ہیں جو ابن صفی کی تخلیقی جادوگری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کے ناولوں کے وہ کردار بھی قاری کی یاد داشت سے چپک کر رہ جاتے ہیں‘جو کسی ایک ناول میں ہی جلوہ گر ہوئے‘ جیسے فراگ ،علامہ دہشتناک، ہمبک دی گریٹ،ایڈلاوا،بوغا،الفروزے اور خمیسو۔ یہ فہرست مزید طویل بھی ہو سکتی تھی کیونکہ ابن صفی اگر کسی راہ چلتے بندے کا بھی ذکر کرتے جس کا کام دو صفحوں کے بعد ختم ہو جاتا تو اس کی کردار نگاری بھی ایسے کرتے کہ بندہ اش اش کر اٹھتا۔

ابن صفی کے ناول پڑھتے وقت ایک اور بات جو قاری کو مبہوت کر دیتی ہے وہ ان کی منظر نگاری ہے ۔برازیل اور اٹلی کے ساحلوں اور افریقہ کے جنگلوں کا ذکر وہ یوں کرتے ہیں جیسے سالہا سال وہاں رہ چکے ہوں۔ مقامی لوگوں کی بولیوں ،ان کے رہن سہن ،بودو باش اوررسم و رواج کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ قاری خود کو اسی مقام پر تصور کرکے گم ہو جاتا ہے ۔ اور سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ابن صفی نے ہندوستان سے پاکستان آنے کے بعد افریقہ اور یورپ تو کجا کبھی پاکستان سے باہر قدم تک نہیں رکھا۔ یہ تمام محیر العقول کہانیاں انہوں نے اپنے چھوٹے سے گھر کے کمرے میں ایک چارپائی پر بیٹھ کر تخلیق کیں ۔واضح رہے کہ جس زمانے میں یہ کہانیاں لکھی گئیں وہ انٹر نیٹ تو کیا فون کا دور بھی نہیں تھا۔ اب تو ایک بچہ بھی انٹر نیٹ پر سرچ کر کے معلوم کر لیتا ہے کہ افریقہ میں کتنی قسموں کے سانپ پائے جاتے ہیں!

ابن صفی کی ایک اور خصوصیت ان کی مزاح نگاری ہے ،جس اعلیٰ پائے کا مزاح ہمیں ان کے ہاں ملتا ہے وہ کسی بھی جید ،مستند اور باقاعدہ قسم کے مزاح نگار سے کمتر درجے کا نہیں۔ ان کے کردار قاری کو بے ساختہ قہقہہ لگانے پر مجبور کر دیتے ہیں اور یہی فن مزاح نگاری کی معراج ہے۔ اس مختصر سے کالم میں ابن صفی کے فن کا احاطہ کرناتو ممکن نہیں اس لئے میں صرف ان کے ایک دو جملے یہاں نقل کر دیتا ہوں۔’’بوغا ‘‘ سیریز میں ایک جگہ لکھتے ہیں :’’ڈیڈی ہمیں بالآخر آدمی مل گیا!۔۔۔‘ لڑکی نے خوش ہو کر کہا !’’بڑی دلچسپ اطلاع ہے !‘‘ ڈیڈی نے کتاب سے نظر ہٹائے بغیر کہا !’’حالانکہ مجھے سالہا سال سے تلاش تھی لیکن ایک بھی نہ مل سکا!‘‘اسی طرح ان کا ایک جملہ ہے ’’ عمل اور رد عمل کا نام زندگی ہے ۔منطقی جواز تو بعد میں تلاش کیا جاتا ہے ۔‘‘یہ چاولوں کی دیگ کے دو دانے بھی نہیں۔

میں کوئی نقاد نہیں جو ادب میں ابن صفی کے مقام کا تعین کر سکوں تاہم میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ابن صفی کے مقام کا تعین کسی نقاد کے بس کا کام بھی نہیں۔ بقول ابن صفی ’’میری کتابیں لائبریریوں میں نہیں بلکہ بستر کے تکئے کے نیچے پائی جاتی ہیں ۔‘‘ ابن صفی کو محض ایک جاسوسی ناول نگارکا لیبل لگا کر نظر انداز کردینا اس کہنہ مشق ادیب کے ساتھ ’’ادبی دہشت گردی ‘‘ہے۔ ہمیں اس دہشت گردی کا نوٹس لینا چاہئے۔

(ممتاز کالم نگار یاسر پیرزادہ کے قلم سے ایک منفرد تحریر)

02
February

جب یہ خبر ملی کہ جواں سالہ محمد قاسم نے کنپٹی پر گولی مار کر اپنی زندگی کا چراغ بجھاڈالا تو دل پر عجب اداسی اور پژمردگی کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور ذہن تھا کہ اس سانحے کو تسلیم کرنے سے عاری تھا لیکن ہونی کو بھلا کون ٹال سکتا ہے اور نہ ہی اپنی ذہنی اختراع اور سوچوں کے بل بوتے پر تلخ حقائق سے آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں ۔ میں اس سوچ میں ڈوب گیا کہ آخر اس نوجوان پر ایسی کون سی افتاد آن پڑی تھی کہ اس نے زندگی سے چھٹکارا پانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ محمد قاسم مجھے جب بھی ملا جامع مسجد میں نماز کے اوقات میں ملا،یہ ہنستا مسکراتا نیک طینت بچہ اس کچی عمر میں صوم و صلوۃ کا پابند رہنے لگا۔ میں اس کی اس خوش بختی پر حیران بھی ہوتا تھا، شاید یہی وجہ تھی کہ میرا ذہن اسی ایک نکتے پر بدستور اڑا رہا اور اس نوجوان کی خود کشی کا معمہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور چند روز بعد ہی میں نے اس کے قریبی دوستوں سے اس بات کا کھوج لگا نا چاہا کہ آخر کیا وجہ تھی یہ خوبصورت ، خوب سیرت نوجوان اپنی جان پر کھیل کر خود اپنے آپ پر بھی بہت بڑا ظلم کر گیا اور پیچھے رہ جانے والوں کو بھی رنج اور ملال کی بھٹی میں جھونک گیا ۔ افسوس ! کہ جو بات محمد قاسم کی موت کا سبب بنی وہ سب کچھ بیان کرنے کا یارانہیں، ہمت ہی نہیں پڑرہی کہ اس کی موت کے پس پردہ محرکات پر کچھ لکھا جائے ،بس اتنا عرض کرتے چلیں کہ وہ نوجوان دن رات موبائل فون پر کسی اجنبی ماہ جبیں سے غلطاں و پیچاں رہتا تھا ، پھر رفتہ رفتہ وہ عشق مجازی میں ایسا گم ہوا کہ اس کی خوشیاں دکھ درد کی نذر ہو گئیں ، وہ کھویا کھویا سا رہنے لگا، اس کے گھر والے قطعاً کوئی رسک لینے کے موڈ میں نہیں تھے جب کہ یہ بچہ بدستور اپنی ضد پر اڑا رہااور پھر۔۔۔۔ اس کاخوف ناک رزلٹ ہم سب کے سامنے تھا ، قاسم کے والدین اور بھائی بہنوں کے بین کی آوازیں تھیں کہ دل چیرے دے رہی تھیں اور اس کی ماں کی حالت تو دیکھی ہی نہیں جا رہی تھی اور مجھے رہ رہ کر خالد احمد کا یہ شعر یاد آرہا تھا کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے

اسی لئے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے قارئین! ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو لاتعداد ایسی مثالیں ملیں گی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موبائل فون اس قوم اور بالخصوص یہاں کے نوجوانوں کے لئے کسی لاعلاج مرض کی ہئیت اختیار کر چکا ہے ۔ کیا بچے‘ کیاجوان سب ہی اسی موبائل فوبیا میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں ، ناپسندیدہ سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور سچ پوچھئے تو اس چھوٹے سے ’’پرزے‘‘نے معاشرے میں بگاڑ ڈالنے کی ایک نئی طرح ڈال دی ہے اورپاکستان ایسے ترقی پذیر ملک میں جہاں اس سے بے شمار فوائد حاصل ہو رہے ہیں وہیں اس کے ذریعے سے عریانی ، فحاشی اوردیگر بے پناہ معاشرتی مسائل اور الجھنیں بھی جنم لے رہی ہیں ، ایک وقت تھا کہ گھرمیں گراؤنڈ فون ہوا کرتا تھا‘جو ایک باکس میں بند ہوتا اور اس پر ہر وقت تالا پڑا رہتا تھا اور وہ بھی محض گھر کے سربراہ کی دسترس میں ہوتا لیکن اب نوبت بایں جا رسید کہ گھر کے ہر فرد کے پاس اپنا الگ سیل فون ہے اور کوئی بھی کسی دوسرے کویا گھر کے بڑے کو جواب دینے کا روادار نہیں ، گھر کا ہر فرد ہی خود مختار ہے،وہ چاہے اس کا منفی استعمال کرے یا مثبت ، دراصل بگاڑ بھی یہیں سے پنپ رہا ہے اور رہی سہی کسر ان سیلولر کمپنیوں کے سستے ترین پیکجز نے پوری کردی ہے ۔یہ حقیقت ہے اور عالمی ماہرین کی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہو چکی کہ اگر ایک طرف موبائل فون اور سیلولر سروسز نے ہمارے لئے آسانیاں پید ا کر دیں ہیں تو دوسری جانب اس نے خطرناک ترین مسائل بھی کھڑے کر دیئے ہیں اور اس سے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک ہی متاثر ہو رہے ہیں ، اگر شہری آبادیوں میں موبائل فون اور اس کے ٹاورز خطرناک شعاعیں خارج کر کے انسان و حیوانات کو نقصانات پہنچا رہے ہیں تو کئی کئی گھنٹوں پر محیط کال پیکیجز اور میسیجز نے بھی حضرت انسان اور بالخصوص نوجوان نسل کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ، عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق موبائل فون کے نقصانات میں کینسر ، ذہنی ڈپریشن اور دیگر موذی امراض شامل ہیں اورعالمی سائنس دان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ لوگوں کو بہت کم سیل فون استعمال کرنا چاہئے اور حکومتوں کو اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقداما ت کرنے چاہئیں ،فن لینڈ کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیق میں یہ بات ثابت کی کہ موبائل فون انسانی سوچ ، فکر، ارتقاء اور دماغ میں بہت سی منفی تبدیلیاں لاتاہے ، اسی طرح سویڈن کے ایک ماہر نفسیات نے موبائل فون کے بہت سے مضمرات سے دنیا کو آگاہ کیا ہے جن میں سر فہرست ذہنی ڈپریشن اور اعصابی کھچاؤ وغیرہ شامل ہے ، فن لینڈ ہی کے ایک میگزین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ مسلسل تیس منٹ سے زائد موبائل فون کا استعمال انسانی صحت اور ذہنی توازن کے لئے از حد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، سعودی عرب کی کنگ سعودیونیورسٹی کی ایک ریسرچ میں کہا گیا کہ جو لوگ موبائل فون زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں سردرد، ٹینشن اور ہر وقت تھکاو ٹ کی سی کیفیت رہتی ہے اور وہ مختلف نفسیاتی الجھنوں اور مشکلات میں گھر ے رہتے ہیں۔ برطانیہ کے ایک پروفیسر لاواری‘ جو عالمی سطح پر موبائل فون کے متعلق تحقیقی پروگرامز کے ماہر ہیں کہتے ہیں اس کی برقی مقناطیسی لہروں سے مختلف قسم کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور موبائل فون کا زیادہ استعمال کرنے والوں کی نسبت دوسرے لوگ زیادہ پرسکون وپر بہار زندگی گزاررہے ہوتے ہیں۔ معروف سائنس دان سرولیم نے اسی ضمن میں بتایا کہ موبائل فون بچوں کے لئے تو زہر قاتل ہے، اس کی تابکاری سے بچوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں اورموبائل فون ٹاورز کی تابکاری شعاعیں خطرناک قسم کی بیماریوں کا باعث بن رہی ہیں ، ٹاورز کے ذریعے پھیلنے والی برقی لہریں ایک تسلسل کے ساتھ انسانی جسم کے خلیوں کو اپنا نشانہ اور ہدف بناتی ہیں جس سے ہمارے خلیوں اور اعضاء کے جنکشن پوائنٹس سمیت ہمارا سارا دماغی نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ معروف تحقیق دان ڈاکٹر کارلو نے تحقیق کی ہے کہ برین ٹیومر کے خاص قسم کے امکانات ان ٹاورز کی قریبی آبادی میں زیادہ پائے جاتے ہیں، ان کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جس طرف کے کان کے ساتھ فون زیادہ استعمال کیا جاتا ہے برین ٹیومر بھی اسی میں زیادہ پایا جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ کم ازکم پاکستان میں لوگ جس انداز سے’’ موبائل فوبیا‘‘ میں مبتلا ہو کر مختلف مسائل کی دلدل میں دھنس چکے ہیں انہیں مدنظر رکھتے ہوئے ان حضرات کی تحقیقات پر ایک نظر ڈالیں تو یہ سو فیصد درست قرار دی جا سکتی ہیں۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ وطن عزیز میں موبائل فون کے اس بے دریغ استعمال ، ٹاورز سے جنم لینے والی بے شمار بیماریوں اور بالخصوص نوجوان نسل جس طرح سے کئی کئی گھنٹوں پر محیط کال پیکیجزمیں گھر کربے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے اور معاشرے میں بگاڑ کی ایک نئی جہت جنم لے رہی ہے اس طرح کے مضمرات کے متعلق کہیں بھی، کسی بھی سطح پر کوئی حکومتی یا غیر حکومتی ادارہ ، شہری سماجی تنظیمیں، این جی اوز شعوری مہم چلاتی نظر نہیں آتیں۔ جہاں تک پاکستانی حکمرانوں کی بات ہے تو ان سے ہمیں کوئی گلہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان کے کرنے کے اور بھی بہت سے کام ہیں تا ہم کم ازکم انسانی حقوق اور دیگر شہری فلاحی تنظیموں کو موبائل فون کے ان مضمرات اور نوجوان نسل کو اس کے بے دریغ استعمال اور خطرناک نتائج سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے سکول و کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی بہتر انداز سے ورک کیا جا سکتا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی بھرپور مہم چلائی جا سکتی ہے ، وگرنہ موبائل فون کی جس وبا میں نسل نو گھر چکی ہے اور فحاشی و عریانی کی جس راہ پر چل نکلی ہے اس کی بربادی کے آثار بالکل واضح طور دکھائی دے رہے ہیں اورصرف کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے یقینی طور پر ایسے خطرات سے نہیں نمٹا جا سکے گا۔

02
February

سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر نئی دریافت اور ایجاد انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ HAARP ایسی ہی ایک حیرت انگیز ایجاد ہے۔HAARP دراصل

HIGH FREQUENCY OF ACTIVE AORORAL RESEARCH PROGRAMME.

کا مخفف ہے۔ یہ ادارہ امریکی سائنس دانوں نے 1960 میں قائم کیا تھا جس کا مقصد کسی مخصوص علاقے میں مصنوعی طریقہ سے بارش‘ طوفان‘ سیلاب یا زلزلہ لانے کی صلاحیت کا حصول تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مشیر کیپٹن ہاورڈ ٹی نے کہا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع ایسے ذرائع اور طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے جن کے ذریعے زمین و آسمان میں ہونے والی تبدیلیوں کو استعمال میں لا کر موسموں پر اثر انداز ہوا جاسکے۔ اگست 1987 میں ایک یہودی سائنس دان برنارڈ جے ایس لنڈ نے ایک ایسا آلہ رجسٹرڈ کرایا جو زمین کے آیونی یا مقناطیسی میدان میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس آلے کو ایک کمپنی APTI (ایسٹ لنڈ آرکو پاور ٹیکنالوجیز انکارپوریٹڈ ) نے اپنے نام سے پیٹنٹ کرایا۔ اس خوفناک ہتھیار کے ذریعے کرہ ارض کے تمام ذرائع مواصلات کو جام کیا جاسکتا ہے۔

ایک اور سائنس دان نکولا ٹیسلے نے 1988 میں بجلی کی ترسیل کا ایک ایسا نظام ایجاد کیا جس کی رو سے 60 ہرٹز فی سیکنڈ کے حساب سے بجلی کو زمین میں پھیلایا جائے تو اس سے پیدا ہونے والی ریڈیائی لہریں کرہ ارض کی فضا اور موسم کو لازماً متغیر کردیں گی۔ ہسٹری چینل پر HAARP کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ’’یہ منضبط توانائی ایک ایسی خوفناک ٹیکنالوجی ہے جس سے آئینو سفیئر کو گرم کرکے موسموں کو جنگی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ شہروں کی تباہی بذریعہ سیلاب یا دشمن کی آگے بڑھتی ہوئی فوج کو ہوائی طوفان برپا کرکے روکا جاسکتا ہے۔ اگر ایسی کوئی برقی لہر کسی شہر کے اوپر سے گزاری جائے تو شہر بھر کی تمام برقی اشیاء اور آلات پلک جھپکتے تباہ ہوجائیں گے۔‘‘

آئینو سفیئر زمین کے گرد ایک حفاظتی تہہ یا خول ہوتا ہے۔ یہ زمین کے اوپر 70 کلومیٹر سے شروع ہوتی ہے 300 میٹر تک بہت دبیز اور کثیف ہوتی ہے اور پھرکم ہوتی ہوئی 800 کلومیٹر کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ یہ تہہ فری الیکٹرونز اور آیونز پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک معروف سائنس دان ڈاکٹر نکولس بُچ نے HAARP کے بارے میں کہا ہے کہ ’’شعاعی (لیزر) ٹیکنالوجی کے ذریعے انتہائی طاقتور لہروں کو آئینو سفیئر پر مرکوز کرکے گرم کیا جاتا ہے جس سے آئینو سفیئر کا متعلقہ حصہ اوپر اُٹھ جاتا ہے۔ پھر مقناطیسی لہریں زمین پر منعکس کی جاتی ہیں جو ہر جاندار اور بے جان اشیاء میں گھس جاتی ہیں۔‘‘ فرانس کے ایک سابق آرمی آفیسر کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ نے 1980 کی دہائی میں ریڈیائی لہروں کو استعمال کرکے آفات ارضی و سماوی برپا کردینے والی صلاحیت حاصل کرلی تھی۔

قریباً 15 برس قبل اوٹاوہ یونیورسٹی کے پروفیسر مچل چووسکی نے بتایا تھا کہ ’’HAARP اس قدر خطرناک ٹیکنالوجی ہے کہ اس سے زمین کے اپنے مقناطیسی میدان سے 60 ہزار گنا زائد مقناطسی ہیجان برپا کیا جاسکتا ہے۔‘‘ کوئی چیز اپنی اصل میں غلط یا صحیح نہیں ہوتی صرف اس کا استعمال اسے انسانیت نواز یا آدم کش بنا دیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر کامل دسترس حاصل کرکے طوفانوں اور سیلابوں کو روکا بھی جاسکتا ہے اور بے آب و گیاہ ریگستانوں کو گل و گلزار میں تبدیل کرکے وسیع پیمانے پر انسانیت کی خدمت بھی ممکن ہے۔ وطن عزیز میں ایسے ذہین فطین اور محب انسانیت افراد کی کمی ہر گز نہیں ہے جو اس میدان میں نئی منزلوں تک رسائی حاصل کرنے کی کامیاب سعی کرسکتے ہیں۔

02
February

جب خونِ شہادت سے نکھرتا ہے سپاہی

تب قوم کی تقدیر بدلتا ہے سپاہی

سرحد کا محافظ ہے جیالا ہے جری ہے

مرنے کو بقا اپنی سمجھتا ہے سپاہی

میدان میں ہے بازؤے حیدرؓ کا مقلد

باطل ہو مقابل تو بپھرتا ہے سپاہی

تابندگی ملتِ بیضا ہے اسی سے

جب خاک کی پوشاک پہنتا ہے سپاہی

ہے اس کی توانائی بس اِک نعرۂ تکبیر

دشمن کی صفیں چیر کے چلتا ہے سپاہی

اقبال کے شاہیں کی طرح اس کی شجاعت

جا جا کے پلٹتا ہے جھپٹتا ہے سپاہی

فرمودۂ اقبالؒ نظر میں ہے‘ کرامت

’’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘

کرامت بخاری

02
February

زندگی میں انسان کو بے شمار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو ناکامیوں سے گھبراتے نہیں بلکہ ان سے سبق سیکھتے ہیں اور اپنی غلطیوں اور خامیوں کی روشنی میں آگے بڑھنے کے لئے مسلسل جدوجہد میں لگے رہتے ہیں اور منزل مراد تک پہنچ کر ہی دم لیتے ہیں۔ کیونکہ زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ جو ہمت ہار جاتے ہیں اور دل چھوڑ بیٹھتے ہیں‘ وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کامیابی کا زینہ ناکامیوں کے ڈنڈوں سے مل کر تیار ہوتا ہے۔ جو ناکامیوں سے خوفزدہ رہتا ہے وہ کچھ سیکھ نہیں سکتا اگر کچھ حاصل کرنا ہے تو اس کے لئے خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ کسی نے بجا کہا ہے کہ اگر آپ کی زندگی ناکامیوں سے پاک ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خطرات میں کودنے کی جرأت سے عاری ہیں۔ ہم عظیم آدمیوں کے کامیابی و ناکامی کے بارے میں سیکڑوں اقوال نقل کر سکتے ہیں۔ جن سب کا مقصد زندگی میں کامیابی کی حقیقی اہمیت کو سمجھنا ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کامیابی اور ناکامی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ناکامی کوئی چیز نہیں لیکن اس کے اندر سے کامیابی باہر آ جاتی ہے۔ جب ہم کسی چیز کے حصول میں ناکام رہیں تو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ عام طور پر ہم صرف اپنی کامیابیوں کو یاد رکھتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ہماری ایک فیصد کامیابی 99 فی صد ناکام جدوجہد پر مبنی ہوتی ہے۔ جب پتھر کو آخری ضرب سے توڑا جاتا ہے تو اس کایہ مطلب نہیں ہوتا کہ پہلے لگائی جانے والی ضربیں رائیگاں چلی گئی ہیں۔ خامیوں کا احساس ہی کامیابی کی کنجی ہے گویا ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

کامیابی اور ناکامی کی اصطلاح انسانی تاریخ میں کئی مقامات پر استعمال ہوئی ہے۔ اس کی ایک روشن مثال تسخیر قمر کا 13 واں اپالومشن ہے جس کا مختصر احوال یوں ہے کہ جب خلائی تسخیر کے لئے فضا میں خلائی جہاز چھوڑا گیا تو اس میں تین خلا نورد جم لوول‘ فریڈ ہنز اور جیک سویگرٹ سوار تھے۔ 11اپریل کو چاند کے مدار کے گرد چکر کاٹتے ہوئے خلائی جہاز میں کچھ الیکٹرانک خرابی پیدا ہو گئی جس سے خلانوردوں کو جان کے لالے پڑ گئے۔ پھر ہوسٹن (امریکہ) کے زمینی مشن اور جہاز کے عملہ کی مشترکہ کاوشوں سے یہ خلائی مشن 17اپریل کو جنوبی بحرالکاہل میں بحفاظت اتر گیا۔اس مشن کو کامیاب ناکامی کا نام دیا گیا۔کیونکہ یہ اپنے ابتدائی مشن میں ناکام ہوا اور حقیقتاً کوئی مشن حاصل نہ کر سکا۔ لیکن اپالو 13مشن کے کمانڈر لوول نے تقریباً چار دہائیوں بعد رائٹر ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو میں اس مشن کو سراہا اور اسے ایک بڑی آفت سے نکالنے کی لوگوں کی صلاحیت پر اسے ایک کامیاب ریکوری قرار دیا۔ تاریخ انسانی اور ہماری روزمرہ زندگی سے اس تصور کی وضاحت کے لئے کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ عظیم سیاح کرسٹوفر کو لمبس انڈیا کی دریافت میں ناکام رہا۔ لیکن اس نے امریکہ دریافت کر لیا۔ یہ بھی ایک کامیاب ناکامی تھی۔ جب ابراہام لنکن نے اپنے ایک خط میں بیٹے کے استاد کو لکھا کہ میرے بیٹے کو یہ سکھاؤ کہ امتحان میں نقل مارنے کی نسبت فیل ہونا زیادہ بہتر ہے تو وہ کامیاب ناکامی کی بات کر رہا تھا۔

ہم منطقی طور پر کامیاب ناکامی کی چار مختلف اصطلاحات میں وضاحت کر سکتے ہیں جو یہ ہیں۔ کامیابی و کامرانی‘ کامیاب ناکامی‘ ناکام ناکامی اور ناکام شدہ ناکامی۔ ان اصطلاحات پر تھوڑا سا غور کریں تو بات پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کامیاب کامرانی کی خوبصورت مثال فتح مکہ ہے حضور پاکﷺ نے فاتح مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ عاجزی اور فروتنی کے ساتھ سر جھکائے مکہ میں داخل ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی اٹھی ہوئی نگاہوں سے شکست خوردہ قوم کا وقار مجروح ہو جائے۔ اس فتح کو بآسانی ’’کامیاب کامرانی‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ظالم بادشاہوں کی بظاہر کئی ایک فتوحات ہیں جن میں انہوں نے مفتوح قوم پر بے شمار مظالم ڈھائے ان کی جائیدادیں سلب کر لیں۔ ان کے بیوی بچوں کو غلام بنا لیااور ہر وہ ستم کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ اس طرح کی فتوحات میں انہوں نے ملکوں پر قبضے تو ضرور کئے مگر دلوں کو مسخر نہ کر سکے۔ اس طرح کی فتوحات ناکام کامیابیاں یا ناکام فتوحات کہلائیں۔ ناکام شدہ ناکامیاں وہ ہوتی ہیں جب لوگ اپنی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں کرتے اور وہی غلطیاں بار بار کرتے چلے جاتے ہیں جو پہلے کر چکے ہوتے ہیں۔ یہ حقیقی ناکامیاں ہوتی ہیں جو ناکام شدہ ناکامیاں کہلاتی ہیں۔ ناکامیوں کا ہر گز کوئی وجود نہیں ہے ۔ تھامس اے ایڈیسن اپنی ناکامی پر یہ کہا کرتا تھا کہ میں ناکام نہیں ہوا بلکہ میں نے ایسے ہزار طریقے دریافت کر لئے ہیں جو بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔جب ہم تن آسانیوں کے دائرے سے باہر نکل کر کام کرتے ہیں تو ہم اکثر غلطیاں کر جاتے ہیں اور یہ نئی چیزیں سیکھنے کا صحیح طریقہ ہے۔ اگر ہم ہر کام میں کامیاب ہوتے چلے جائیں تو دراصل ہم ناکام ہو رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے رہے کیونکہ جو کوئی بھی ناکامیوں سے ڈرتا ہے۔ وہ سیکھ نہیں سکتا کامیابی خطرات مول لینے میں مضمر ہے۔ اگر آپ کی زندگی ناکامیوں سے پاک ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ رسک نہیں لے رہے۔

کامیابی اور ناکامی ایک ہی سکے کے دَو رُخ ہیں۔ ناکامی کچھ بھی نہیں مگر کامیابی اسی سے پھوٹتی ہے۔ ہمیں ناامید ہونے کی ضرورت نہیں جب ہم مقاصد کو حاصل نہ کر سکیں تو ہم عام طور پر صرف اپنی کامیابیوں کو یاد رکھتے ہیں مگر اس بات کو نہیں پہنچانتے کہ ہماری ایک فیصد کامیابی کے پیچھے 99 فیصد ناکامیوں کا ہاتھ ہے۔ جب پتھر آخری ضرب سے ٹوٹتا ہے تو اس کا یہ کا مطلب یہ نہیں کہ باقی ضربیں بیکار تھیں۔

ناکامی انسانی ترقی کی ایک ایسی اہم سرگرمی ہے۔ جس کو یو ایس اے کی یونیورسٹیوں کے اداروں نے ایک مخصوص مضمون قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر پین سٹیٹ یونیورسٹی نے انجینئرنگ کے طالب علموں کو فیلیئر 101 کورس کی پیشکش کی ہے۔ اس کورس کے لئے طلباء کو تجربات کے لئے خطرات مول لینے پڑیں گے۔ وہ فرضی طور پر ایسے کاموں میں حصہ لیں گے جو ان کی صلاحیتوں سے بڑھ کر ہوں گے اور وہ غلطی کے خوف سے آزاد ہوں گے۔ وہ بجائے اس کو غلطی تصور کرنے کے اس کو ایک موقع تصور کریں گے جو انہیں سیکھنے‘ تخلیق کرنے اور نئی راہیں ایجاد کرنے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ ان کی بہتر کارکردگی کا معیار ان کی غلطیوں کی تعداد پر منحصر ہے۔

امریکی مصنف‘ کالم نگار‘ ایڈیٹر‘ تاجر اور ٹی وی پروڈیوسر مائیکل شاون میلون کہتے ہیں۔ ہر ناکامی انسان کے لئے سبق کی حیثیت رکھتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اس سے کچھ سیکھنا چاہے اس لئے ہمیں ناکامیوں کو برا بھلا کہنے کی بجائے ان کی تعریف کرنی چاہئے۔ چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے

اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

02
February

ریاستی قتل و غارت ‘دہشت گردی‘ ظلم و زیادتی‘ دھونس دھاندلی اور طاقت کے بل بوتے پر خوف وہراس کے جزوقتی انتظامی ماحول بناکر کوئی غاصب وجابر حکمران اگر یہ کہتا پھرے کہ یہ فساد بلاوجہ ہے۔ امن کی فضا ہونی چاہئے یہ باتیں آسانی سے انسانی عقل میں نہیں سما سکتیں۔ امن صرف حکیمانہ تدبیروں کے اختیار کرنے سے روبہ عمل آتا ہے۔ حکیمانہ تدبیریں مدبر قائدین اختیار کرتے ہیں جو حقیقتِ واقعہ کو تسلیم کرنے کے ساتھ افہام و تفہیم کی راہ پر خلوص دِل سے‘ نیک نیتی سے چلنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہوں۔

جنوبی ایشیا میں بھارت سے یہ امیّد رکھنا کہ وہ حکیمانہ تدبیریں اختیار کر ے گا یہ امر تو درکنار وہ تو حقیقتِ واقعہ کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ اُس نے گزشتہ 66 برسوں سے سرزمینِ کشمیر میں جبراً اپنی فوجیں اُتار رکھی ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سے کشمیری مسلمان اپنے قومی تشخص اور مذہبی شناخت کی بقاء اور تحفظ کی خاطر اپنی قیمتی جانیں پیش کرتے چلے آ رہے ہیں اور آج تک اُن کے پیاروں کی بیش بہا قیمتی جانوں کے نذرانوں کے پیش کرنے کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ وادیِ کشمیر کو لہو رنگ کرنے کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ بھارت نے اپنے زیر کنٹرول کشمیری علاقے پر اپنی فوجی طاقت و قوت کے بل بوتے پر قتل و غارت گری ، ریاستی دہشت گردی اور ظلم و زیادتی کے جس ظالمانہ نظام کو قائم کیا ہواہے، کشمیر پر اپنے اُس جارحانہ اور غاصبانہ قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے اُس کا یہ عذر دنیا کے کسی بھی امن پسند طبقے کے نزدیک پسندیدہ قرار نہیں پاتا کہ کشمیر کا مسئلہ بڑا کٹھن‘ مشکل دِیرینہ مسئلہ ہے۔ پاکستان کو کشمیر کے مسئلہ کا کوئی آسان سا حل تجویز کرنا چاہئے۔ مگر حقیقتِ واقعہ کے اِس واضح رخ پر بھارت اپنی ماضی کی فاش غلطیوں کی تلافی کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہا بلکہ مسلسل فرار کی راہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ پاکستان نے ایک بار نہیں کئی بار یہ تجویز پیش کی کہ کشمیر کو ’ڈی میلٹرائز‘ کیا جائے۔ یعنی وہاں سے افواج نکال لی جائیں۔ اگر مقبوضہ وادی سے بھارتی قابض افواج واپس چلی جائیں تو یہ مسئلہ 90 فیصد اپنے حل کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ آزاد کشمیر کی تحریک میں آج تک کشمیریوں کے یہی نعرے دیکھے اور پڑھے گئے ہیں کہ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کشمیر پاکستان کا حصہ کیوں بنے گا وہ اِس لئے کہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنے دورۂ کشمیر کے موقع پر یہ تاریخی جملہ ادا فرمایا تھا ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘۔

یاد رکھیں تقسیمِ ہند کے فوراً بعد پاکستان اور بھارت کے مابین جو پہلی جنگی جھڑپ ہوئی ‘ وہ صرف کشمیر کے مسئلہ پر ہوئی تھی اگر اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو جنگ بندی کی دہائی دیتے ہوئے 1948ء میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں نہ پہنچتے تو یقین کیجئے پاکستان کے فوجی دستے سری نگر پر پاکستانی سبز ہلالی پرچم لگانے والے تھے کہ یکدم یہ جنگ روک دی گئی اور بھارت کو ’’اسٹے آرڈر‘‘ مل گیا۔ اِس موقع پر پنڈت جواہر لعل نہرو نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو یہ یقین دلایا تھا ’’کشمیر میں جونہی حالات پُرامن ہونگے وہاں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کا انتظام کرنے میں بھارت اپنی ذمہ داری نبھائے گا پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہو گی‘‘ آج تک اِس قرارداد عمل در آمد نہیں ہوسکا کیوں نہیں ہوا اِس کی ذمہ دار خود اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے لئے کشمیر کو’شہ رگ‘ کی اصطلاح میں جن وجوہ کی بنا پر قرار دیا تھا اُن میں تین بڑی وجوہات اہم ہیں، پہلی وجہ یہ کہ کشمیر کا جغرافیائی محل وقوع اور کشمیر کی اُونچائی سے نیچے کی جانب اُترنے والے تمام راستے‘ چاہے وہ پگڈنڈیاں کیوں نہ ہوں ،وہ صدیوں سے پاکستانی سرزمین کی جانب ہی اترتے آئے ہیں دوسری وجہ یہ ہے صدیوں سے اہل کشمیر کی جتنی بھی قریبی واسطہ داریوں یا خونی رشتہ داریوں کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں وہ جہاں کہیں بھی بستی ہوں، وہ نسلیںآج بھی پاکستانی حصوں میں آباد ہیں تیسری وجہ یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے پلان میں یہ بات شامل تھی کہ ہند کی تمام ریاستوں کے راجے مہاراجے اِس انتظام کے پابند ہونگے کہ اُن کی ریاستوں میں آبادی کے تناسب میں اگر مسلمانوں کی اکثریت ہے تو وہ ریاستیں پاکستان میں شامل ہونگی اوّل تو کشمیر میں واضح اکثریت مسلمانوں کی تھی دوئم یہ کہ کشمیر کا جغرافیائی محل وقوع پاکستان کے ساتھ ملحق کل بھی تھا اور آج تک ہے جیسے کوئی زمینی جغرافیہ آپس میں بغل گیر ہوتا ہے۔

بھارت نے کشمیر پر اپنا پنجہِ استبداد ہی نہیں گاڑا ہوا ہے اُس نے گزشتہ 20-25 برسوں میں مقبوضہ وادی سے آنے والے ہر بڑے دریا پر اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں آبی توانائی کے میگا منصوبے تعمیر کرلئے ہیں۔ دنیا کے سامنے ایسے ٹھوس حقائق ا ور موثر د لائل پیش کرکے پاکستانی قائدین کشمیر کے ایشو کو دوبارہ سے تازہ کرسکتے ہیں۔ دنیا کو باخبر کیا جائے کہ بھارت نے نہ صرف کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے ‘کشمیر سے آنے والے دریاؤں کے تیز رفتار پانی کے بہاؤ پر مختلف میگا سائز کے آبی توانائی پراجیکٹس کی غیر قانونی وغیر اخلاقی تعمیرات مکمل کر لی گئی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی سیاسی بصیرت کو سلام، جنہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا گویاجب تک کشمیر جیسے ’کور ایشو‘ پر پاک بھارت بامقصد مذاکرات نہیں ہوں گے اُس وقت تک جنوبی ایشیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

02
February

’’ عفت۔۔۔ ‘‘ جاتے جاتے مڑ کر ، رک کر اس نے میری آنکھوں میں جھانکا، ’’ میں تمہیں بہت مس کروں گا! ‘‘ میں نے اپنی نظر جھکا لی، اس بات پر اپنی آنکھوں میں امڈ کر آنے والے آنسو میں اسے دکھانا نہ چاہتی تھی، نہ ہی میرے منہ سے کوئی لفظ ادا ہوا، ’’تم مجھے یاد کرو گی؟ ‘‘ میں نے اپنے دل میں گہری کسک محسوس کی۔

’’ یاد تو انہیں کیا جاتا ہے جنہیں بھول جائیں۔۔۔ ‘‘ میں نے پوری ہمت کر کے ایک فقرہ کہا، میں اس کے ساتھ ایک خوبصورت بات کی یاد۔۔۔ زاد راہ کے طور پر بھیجنا چاہتی تھی، میری اس بات پر وہ اَش اَش کر اٹھا اور دل کھول کر داد دی۔ ’’ میری طرف دیکھو۔۔۔ ‘‘ مگر جانے اس روز اس کے چہرے پر کیا تھا کہ مجھ سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا بھی نہ جا رہا تھا۔ ’’ واپسی کب ہے؟ ‘‘ میں نے بات بدلنے کو سوال کیا۔

’’ فوجی کی بیوی ہو کر بھی ایسا سوال کرتی ہو۔۔۔ ‘‘ اس نے ہنس کر کہا، ’’ اگلے لمحے کی خبر کسے جانم! ‘‘ وہ اپنے وجود کی خوشبو میرے گرد شال کی طرح لپٹی ہوئی چھوڑ کر چلا گیا۔ میری اور اس کی شادی کو صرف ایک ماہ ہوا تھا، اس کی ایک ماہ کی چھٹی ختم ہوئی اور وہ اپنا فرض نبھانے کو اپنی یونٹ میں لوٹ گیا۔ کہیں پڑھا ہوا فقرہ اسے تو میں نے کہا تھا مگر اس کے جاتے ہی مجھے احساس ہوا کہ میں اسے کس طرح یاد کروں، پہلے کسی لمحے اس کی یاد بھولے تو سہی!!!

سال بھر پہلے ہی اس کی ترقی ہوئی اور وہ کپتان بنا تواس کی امی نے چٹ منگنی کی اور سال کے بعد ہی ہماری شادی ہو گئی۔ مجھے زندگی اتنی خوب صورت پہلے کب لگی تھی جیسی اب اطہر کے ساتھ ہو گئی تھی۔ امی جان ہماری نظریں اتارتی نہ تھکتی تھیں، عید سے دن اور شب برات کی سی راتیں۔۔۔ ایک ماہ کا عرصہ پَر لگا کر گزر گیا تھا، وہ میرے ہاتھوں میں اپنے محبت کے خزانے تھما کر گیا تھا، ٹیلی فون ، نہ خط نہ تار۔۔۔ جانے کیسی جگہ پر تھا کہ آج کل کے ترقی یافتہ دور میں بھی ایسی سہولیات میسر نہ تھیں۔۔۔ اسی لئے تو ملک کے یہ علاقے مشکل ترین محاذ جنگ کہلاتے ہیں۔

امی جان مجھے دیکھ دیکھ کر گہری سانس لیتیں اور آنسوؤں کی تسبیح رولتیں، میں انہیں دلاسہ دیتی کہ وہ خیریت سے ہوں گے اور چند ماہ کی تو بات ہے اس کی یونٹ اپنا دو سال کا عرصہ پورا کر کے لوٹنے والی ہے۔ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کی محبت انہیں سکون سے سونے بھی نہ دیتی، نیند کی دوائیں بھی اثر نہ کرتیں ۔ ہفتے بھر کے بعد کال آتی، مختصر سی اور جلدی جلدی بات کرتے ہوئے آواز بھی صاف نہ ہوتی، آدھی بات سمجھ میں آتی اور آدھی کا خود ہی قیافہ لگا لیتے، اس مختصر کال میں سے بھی آدھا وقت میرا ہوتا اور آدھا امی جان کا، کئی آدھی ادھوری باتیں بعد میں یاد آتیں مگر دل کو تسلی تھی کہ وہ جلد ہی لوٹ کر آنے والا ہے۔

’’ میرے سی او کہہ رہے تھے کہ نئی نئی شادی ہوئی ہے چند دن کے لئے گھر سے ہو آؤ مگر میں نے انکار کر دیا! ‘‘ اس نے مجھے بتایا۔ ’ ’ مگر کیوں ؟ ‘‘ بے تابئ دل کے ہاتھوں منہ سے فوراً نکل گیا۔ ’’ میں نے ان سے کہا کہ میری بیوی تو مجھے مس ہی نہیں کرتی! ‘‘ اس نے ہنس کر کہا۔ ’’ جھوٹ کیوں بولا۔۔۔ ‘‘ میں نے فورا کہا۔ ’’ اچھا۔۔۔ واقعی؟ ‘‘ وہ پھر ہنسا، ’’ واقعی مس کرتی ہو۔۔۔ ایک بار کہو تو! ‘‘ وہ زور سے ہنسا تھا، اس روز امی جان سو رہی تھیں اس لئے سارا وقت میرا تھا، ’’ کہو ناکہ سیاں کو دیکھن کو نیناں ترسن ہیں ‘‘

میں سیکڑوں میل دور سے اس آواز کو سن کر بھی شرما گئی تھی۔ اس کا پگلا من کیسی خواہش کرتا تھا، ایک مشرقی بیوی کب منہ سے ایسی بات کہتی ہے، ’’ اچھا، تم آؤ گے تو بتاؤں گی! ‘‘ میں نے کہہ کر کال بند کی تھی اور کتنی ہی دیر تک اس کے الفاظ کانوں میں گونجتے رہے اور میں ایک انجانی دھن پر گنگنانے لگی، ’’نیناں ترسن ہیں! ‘‘

’’ چھن ‘‘ کی زور دار آواز سے میری آنکھ کھل گئی، میں ہڑبڑا کر اٹھی تو میرا ہاتھ لگنے سے میری سائیڈ ٹیبل پر دھرا الارم کلاک بھی گرا اور ایک اور چھناکے کی آواز خاموش فضا میں گونجی،’’ یااللہ کیا ہو رہا ہے۔ ‘‘ ربر بینڈ میں بال سمیٹ کر میں اٹھی اور باہر نکلی تو امی جان لاؤنج میں سے ٹوٹے ہوئے گلاس کی کرچیاں اٹھا رہی تھیں، کہیں وہ اپنا ہاتھ زخمی نہ کر لیں ، ’’ رہنے دی امی جان میں سمیٹ لیتی ہوں، آپ مجھ سے کہتیں! ‘‘ میں نے ان سے کہا۔ ’’ تم سو رہی تھیں بیٹا، میں نے تمہیں جگانا مناسب نہ سمجھا!‘‘ انہوں نے نرمی سے کہا ’’تم بھی کہاں سوتی ہو رات رات بھر، دیر تک تمہارے کمرے کی بتی جلتی رہتی ہے!‘‘

’’ وہ تو امی جان مجھے دیر تک پڑھتے رہنے کی عادت ہے اس لئے کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی ہوں! ‘‘ میں نے گویا صفائی دی۔ ’’ تمہیں پڑھنے کا شوق ہے تواپنی پڑھائی جاری رکھو بیٹا! ‘‘ وہ صوفے پر بیٹھ گئیں، میں نے ٹوٹے ہوئے گلاس کی کرچیاں سمیٹیں، ہاتھ منہ دھو کر ان کا اور اپنا ناشتہ بنایا اور ان کے پاس لاؤنج میں آ گئی۔

’’ اطہر کی یونٹ واپس آنے والی ہے امی جان، جانے کہاں تبادلہ ہو، میں کس طرح پڑھائی شروع کر دوں، بیچ میں ادھوری چھوڑ کر جانا ہو گا!‘‘ ’’ وہ تو ہے‘‘ انہوں نے ناشتہ کیا اور میں نے برتن سمیٹے، سنک پر دھرے برتنوں کو اٹھایا کہ انہیں خشک کر کے الماریوں میں رکھوں تو ایک اور چھناکا ہوا، میں دیر تک برتنوں کی کرچیوں کے اس ڈھیر کو دیکھتی رہی‘امی جان کیا سوچیں گی کہ میں کس دھیان میں تھی، وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی کہ وہ وہیںآ گئیں، ’’ کیا ہوا بیٹا؟ ‘‘ شرمندگی کے احساس سے میرے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا البتہ آنکھیں لبریز ہو گئیں۔ ’’ اس میں رونے کی کیا بات ہے بیٹا! ‘‘ انہوں نے میرا کندھا تھپکا،’’ چلو اپنے ہاتھ پاؤں بچا کر یہ سب سمیٹ لو۔ اللہ مالک ہے، یہ تو سب چھوٹے چھوٹے نقصانات ہیں!‘‘

’’ آج ہو کیا رہا ہے صبح سے امی جان؟ ‘‘ میری آواز بھرا گئی تھی، میری رگوں میں خون کی جگہ بے چینی گردش کر رہی تھی۔ ’’ چھوٹے چھوٹے نقصانات بسا اوقات بڑے نقصان سے بچاتے ہیں اور کبھی اللہ تعالی ہمیں ان کے ذریعے کسی بڑے نقصان کے لئے تیار کر رہا ہوتا ہے! ‘‘ انہوں نے کہا تو میں شرمندگی کے احساس کے ساتھ برتنوں کی کرچیاں سمیٹنے لگی۔اسی روز شام کو کھانا بناتے ہوئے میرے دوپٹے کے سرے نے آگ پکڑ لی اور جو اس وقت امی جان پانی پینے کووہاں نہ آتیں تو جب تک مجھے تپش محسوس ہوتی تب تک جانے آگ کہاں تک پہنچ جاتی: انہوں نے کھینچ کر میرے جلتے دوپٹے کو مجھ سے الگ کر کے سنک کی طرف پھینکا، تھوڑے سے بالوں کے سرے جل گئے تھے تو ان کے جلنے کی بو پھیل گئی۔ میں وحشت سے آنکھیں پھاڑے سب دیکھ رہی تھی، انہوں نے مجھے پکڑ کر کرسی پر بٹھایا اور ایک گلاس میں جوس انڈیل کر مجھے پکڑایا، ’’تم ٹھیک تو ہو نا بیٹا؟ ‘‘ ’’ جی امی جان ‘‘ میں نے سکون کی سانس لی کہ اللہ نے مجھے ایک اور نقصان سے بچا لیا تھا، کیا ہو رہا تھا، کسی بڑے نقصان سے بچت یا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ؟

کھانا کھاتے ہوئے ہم ٹیلی وژن پر خبریں سنتے یا کوئی اور پروگرام دیکھتے ہوتے تو ساتھ ساتھ اس پر تبصرہ بھی کرتے جاتے تھے۔ خبروں کے چینل پر ’’ بریکنگ نیوز‘‘ چل رہی تھی، ’’ سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ، سات سیکیورٹی اہل کار لا پتا اور تین کی شہادت ‘‘ کھانا کھاتے کھاتے ہاتھ رک گیا، شہیدوں کے نام بتائے جا رہے تھے، ہم دونوں کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں، ’’ جانے کن ماؤں کے لال ہوں گے؟ ‘‘ امی جان نے کہا۔ چینل اچانک بند ہو گیا، میں نے ریموٹ کنٹرول اٹھایا، شاید کیبل والے کی بجلی بند ہو گئی ہو مگر اگلا چینل ٹھیک تھا، اس پر موسیقی کا پروگرام چل رہا تھا، اس سے اگلے پر ایک فیشن شو، کسی پر ایوارڈ کی تقریب میں ناچ گانا، کسی پر کوئی ڈرامہ، کسی پر مقابلہء رقص!

’’ یہ سب پاکستانی چینل ہیں؟ ‘‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا، ’’ کسی چینل نے اتنے بڑے سانحے پر موسیقی بند نہیں کی؟ ‘‘ میں کہے بغیر نہ رہ سکی۔ ’’ ہمارا میڈیا تو بے حس ہو چکا ہے بیٹا، کسی سانحے پر کوئی سوگوار نہیں ہوتا، وہ وقت لدگئے کہ جب گاؤں میں کسی کی موت ہوتی تھی تو پورے گاؤں میں چولہا نہیں جلتا تھا‘‘امی جان نے کہا۔

’’جب ایسی بے حسی ہو چکی ہو امی جان تو ہمارے پیاروں کی قربانیوں کا کیا حاصل؟‘‘ میں نے دل میں آنے والے سوال کو زبان دی، ’’ کیا یہ معاشرہ اس قابل ہے کہ ان کی خاطر کوئی قربانی دے، کیا ماؤں کو اب بھی اپنے لال پال پوس کر ان کی حفاظت کی خاطر ‘‘ میری آواز بھرا گئی۔ ’’ اپنے لال تو ہم مادر وطن کو دیتے ہیں بیٹا، لوگو ں کی بے حسی کو دیکھا جائے تو یہ دھرتی بانجھ ہو جائے، کوئی اس کا بیٹا نہ رہے، یہ تو اس ماں کی محبت ہے کہ ہمارے بیٹے اس کی محبت میں پروانوں کی طرح نثار ہوتے ہیں!‘‘

’’ درست کہتی ہیں آپ مگر آپ سمجھتی ہیں کہ کسی کو احساس ہے ان پیاروں کے جانے کا جنہوں نے مادر وطن کی محبت میں سرشار، اس کی حفاظت کی قسم کھائی اور اس کی حفاظت کی خاطر محبت کی آخری حد بھی پار کر لی، اس پر نثار ہو کر اس کی آغوش میں جا سوئے۔ ان کی اپنی مائیں کھوکھلی ہوگئی ہیں ، ان کے پیارے انہیں زندہ بھی سمجھتے ہیں مگر انہیں دیکھ نہیں سکتے، شکر ادا کرتے ہیں کہ شہادت کا رتبہ ان کے کسی پیارے کو ملا، ایسی ہمت، ایسا حوصلہ ہر ماں میں نہیں ہوتا امی جان! آپ میں ہے ، شاید مجھ میں نہ ہو ‘‘ ہم دیر تک اس بحث میں مصروف رہے اور کھانے کے بعد برتن وغیرہ سمیٹ کر میں اپنے کمرے میں آگئی۔

رات کا کون سا پہر تھا جب اتنی سردی کے باوجود میرا سارا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا تھا۔میں گھبرا کر اٹھی اور سوچنے لگی کہ کیا ہوا ہے۔ پھر میں لاؤنج میں آ گئی اور ٹیلی ویژ ن چلا دیا، رات والی بریکنگ نیوز بار بار دکھائی جا رہی تھیں، فلاں نے حادثے کی مذمت کی ہے، فلاں نے یہ کہا ہے، دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیں گے، پوری قوم اس سانحے پر ملول ہے‘ میں نے یونہی چینل بدلا یہ دیکھنے کے لئے کہ قوم کتنی ملول ہے تو قوم صرف خبروں کے چینل کی حد تک ملول تھی باقی سب جوں کا توں چل رہا تھا، دل دکھ سے بھر گیا۔ اسی صوفے پر، اسی طرح بیٹھے بیٹھے، ٹیلی وژن چل رہا تھا اور میں نیند کی وادی میں اتر گئی، پہاڑ کی ایک چوٹی پر کھڑے اطہر کو دیکھ کر انہیں ہاتھ ہلایا، آنکھ کھلی تو اندازہ ہوا کہ خواب تھا۔ ابھی ناشتہ بھی نہ کیا تھا کہ کال آگئی جس کا میں نے کبھی نہ چاہا تھا ۔

کل والے حادثے کا ایک لاپتا شہید۔۔۔ کیپٹن اطہر بھی تھا۔ سب شہداء کا اعلان کیا جا رہا تھا، میں سکتے کے ساتھ سن رہی تھی، امی جان میرے عقب میں کھڑی تھیں، مجھے تصورمیں پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے کیپٹن اطہر کی آخری جھلک نظر آئی، ہم دونوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ چاہے امی جان نے کل ہونے والے اوپر تلے کے چھوٹے چھوٹے حادثات کے بعد صدقہ بھی دے دیا تھا مگر اللہ تعالی ہمیں اس بڑے نقصان کے لئے تیار کر رہا تھا۔ زندگی اللہ کی ایسی نعمت ہے کہ جسے دیتے ہی وہ اسے واپس لینے کی تاریخ بھی مقرر کر دیتا ہے اور کسی جاندار کو موت سے مفر نہیں، ہم سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، کسی نے بیماری سے مرنا ہے، کسی نے کسی حادثے سے اور موت کے ذائقوں میں بہترین ذائقہ شہادت کی موت کا ہے۔ ہمیں یقین تو ہے، فخر بھی ہے، اپنے سامنے میت پڑے دیکھ کر، اسے مادرِ وطن کی آغوش میں اترتا ہو ا دیکھ کرہمیںیقین ہے کہ وہ زندہ ہے، یہی ہمارا ایمان ہے اور یہی اللہ کا ہم سے وعدہ ہے۔

مجھے اور امی جان کو بڑی بڑی شخصیات نے تعزیتی پیغامات بھی بھیجے اور یقین بھی دلایا کہ ملک و قوم ہمارے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور سب کو اس عظیم قربانی کا احساس ہے۔ میں نے پھر کسی امید کے تحت ٹیلی وژن آن کیا، یہ دیکھنے کو کہ اس سانحے پر کتنی آنکھیں نم ہوئیں، ہمارا دکھ کون کون بٹا رہا ہے مگر میرا دل اندر تک ٹوٹ گیا جب میں نے دیکھا کہ گانے والے گا رہے تھے، ناچنے والے ناچ رہے تھے اور نمائش لگانے والے اپنی اپنی نمائش لگائے ہوئے تھے ’’ تم نے مادر وطن کی محبت میں سرشار ہو کر اپنی جان کا نذرانہ ان بے حس لوگوں کی خاطر دیا ہے ، کیپٹن اطہر اور اس جیسے ہزاروںیہ تو اس قابل ہی نہیں ہیں، مگر تم اس قابل ضرور ہو میرے پیارو کہ میں اپنی جھجک میں جو کچھ تمہیں کہہ نہ سکی، وہ آج کہہ دوں ۔۔۔ ’’تمہیں دیکھن کو نیناں ترسن ہیں میرے پیارے!‘‘

02
February

ڈاکٹر ثمر مبارک مند کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔پاکستان کے لئے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ آپ بیک وقت پاکستان کے لئے مبارک اور ثمر مند ثابت ہوئے ہیں۔ آپ کا شمار پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ آپ نے پاکستان کواسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت بنانے کے لئے بھی ناقابل فراموش کام کیا اور چاغی میں ایٹمی دھماکے کرنے والی ٹیم کی قیادت کی۔ بعد ازاں آپ پاکستان کے کئی ممتاز ایٹمی سائنسی و تکنیکی اداروں اور شعبوں کے سربراہ رہے ۔آپ کے عمل و کردار میں صرف قومی سوچ اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی رچی بسی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے تمام خیالات اور آراء میں صر ف پاکستانیت کو مرکزیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان ایٹمی قوت تو بن گیا ہے۔ مگر لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران کی وجہ سے مشکلات کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔ لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران کی بدولت پاکستان کی معیشت اور دیگر شعبے زوال کا شکار ہیں۔ ملک وقوم کو اس صورتحال سے نکالنے کے لئے بھی ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے قدم بڑھایا اور حکومت کو تجویز دی کہ فرنس آئل کی جگہ کوئلے سے پاور پلانٹ چلائے جائیں ۔آپ کی اس تجویز کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور حکومت وقت نے آپ پر بھرپوراعتماد کرتے ہوئے انہیں تھرکول کی سربراہی و نگرانی کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔ امید ہے کہ پاکستان جلد ہی آپ کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اس مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ ہم نے اپنے قارئین کی اس سچے اور پکے پاکستانی سے ملاقات کرانے کا سوچا۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے ہلال کی ٹیم کوخوش آمدید کہا ۔

ہلال: بچپن کے دوستوں کا ذکر کیجئے اور کچھ یادیں قارئین سے شیئر کیجئے تاکہ ہماری نئی نسل اپنے آئیڈیل کی چھوٹی اور معصوم شرارتوں، باتوں سے آگاہ ہو سکے؟

ڈاکٹر ثمر مبارک:بچپن تو سہانا ہوتا ہے، اسے یاد کرتے ہوئے یادوں کا ایک سمندر امڈ پڑتا ہے۔ میں 17ستمبر 1942ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوا۔ میں نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہ علمی لحاظ سے ایک معتبر گھرانہ تھا۔ والدین اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ انہوں نے ایسی پرورش کی کہ بچپن ہی سے اصولوں پر زندگی استوار ہوگئی۔ منزل کا تعین بھی انہوں نے بچپن میں کردیا تھا۔ ان کی دی گئی تربیت ہی میرے لئے مشعل راہ بن کرمجھے کامیابیوں کی منزلوں سے ہمکنار کر گئی۔ انہوں نے سچائی اور حب الوطنی کا درس دیا۔ میرے بچپن کا ایک واقعہ ہے‘ میرے گھر کے پاس ایک گھرزیر تعمیر تھا۔ میں اپنے محلے کے دوستوں کے ساتھ وہاں پڑی ریت میں کھیلنے لگا۔ ہم ریت میں لت پت ہوگئے تھے۔ میرے کپڑے حتیٰ کہ جیب بھی ریت سے بھر گئی۔ اس حالت میں گھر پہنچا تو والدہ نے پوچھا نیکر کی جیب میں کیا ہے، میں سر جھکائے کھڑا رہا تو انہوں نے خود ٹٹولنا شروع کردیا۔ والدہ نے جب میری نیکر کی جیب میں ریت دیکھی تو ڈانٹنا شروع کردیا کہ تم کسی کی ریت کیوں لے آئے۔ وہ اتنی اصول پسند خاتون تھیں کہ انہوں نے میری جیب میں بھری ریت نکال کر مجھے کہا کہ اسے وہیں پھینک کر آؤ کیونکہ یہ ریت ہماری نہیں ہے۔ میں اپنی والدہ کا حکم بجا لایا۔ اس چھوٹے سے واقعے نے میری زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔

ہلال:کیا سائنس دان بننا بچپن کی خواہش تھی یا پھر نو عمری میں کسی اور شعبے میں جانے کا شوق رکھتے تھے؟

ڈاکٹر ثمر مبارک: جب میں نے میٹرک میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی تو میرے والد نے مجھے شاباش دیتے ہوئے اسی وقت میری منزل کا تعین کردیا تھا۔ انہوں نے نتیجہ سنتے ہی مجھے تھپکی دیتے ہوئے کہا سائنسدان بنو گے۔ میرا شوق اور خواہش بھی یہی تھی۔ میں بڑا ہو کر اپنے ملک کے دفاع کے لئے بم، میزائل، جہاز بنانا چاہتا تھا۔ ان کی اس بات سے میں بہت خوش ہوا۔

ہلال:اساتذہ اور تعلیمی ادارے جنہوں نے آپ کی شخصیت کو بنیادیں فراہم کیں ان کے بارے میں آپ کچھ باتیں تازہ کیجئے ؟

ڈاکٹر ثمر مبارک: جب والد صاحب نے یہ بات دل میں ڈال دی کہ تم نے سائنسدان ہی بننا ہے تو میں اسی جذبے کو لے کر گورنمنٹ کالج لاہور میں پہنچ گیا۔ یہاں جن اساتذہ نے میری تربیت کی ان میں چند مشہور اساتذہ جیسے ڈاکٹر سراج الدین، صوفی تبسم، پروفیسر تاج محمد اقبال اور پروفیسر طاہر حسین شامل تھے۔ جنہوں نے میرے شوق کی رہنمائی کی اور مجھے ہر وہ کام کرنے کی اجازت دی جسے کرنے کی میرے دل میں خواہش موجود تھی۔ انہوں نے سائنس کے شعبے میں میری رہنمائی اورحوصلہ افزائی جاری رکھی۔ جب میں پی ایچ ڈی کے لئے آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچا تو وہاں مجھے دنیا کے بہترین اساتذہ ملے‘ جن کی رہنمائی اور نگرانی میں مَیں نے اپنی ریسرچ کو مکمل کیا اور سکالر شپ حاصل کی۔

ہلال:پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ارتقائی سفر کے بارے میں کچھ روشنی ڈالیں ؟

ڈاکٹر ثمر مبارک : جب میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کرکے پاکستان آیا تو ا س وقت ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان اٹامک انرجی اور ایٹمی پلانٹ جیسے ادارے قائم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اٹامک انرجی کے اداروں کو شروع کرنے کا پروگرام بنایا تو میں نے اپنی خدمات گورنمنٹ کو دینے کی پیش کش کی۔ اس وقت گورنمنٹ کے ایٹمی پروگرام کا موٹو ’’ایٹم امن کے لئے‘‘تھا۔ اس طرح پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ارتقائی سفر شروع ہوا۔ اس وقت ڈاکٹر عبدالسلام سب سے نمایاں سائنس دان تھے‘ جنہوں نے ارتقائی سفر میں اپنا حصہ ڈالا۔ ہم آہستہ آہستہ اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے لے کرجاتے رہے۔ اس قافلے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور میں آگے تھے اور ہماری ٹیم نے اپنے ایٹمی پروگرام کے لئے دن رات ایک کردیا۔ یہاں ایک بات میں بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع ہوا ہے۔ جتنی بھی حکومتیں آئیں چاہے وہ فوجی ہوں یا سیاسی‘ کسی نے بھی ایٹمی پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ نہ معاشی لحاظ سے اور نہ کسی اور وجہ سے۔ ہر حکومت نے اس پروگرام کی باقاعدگی سے فنڈنگ جاری رکھی۔ جس کی وجہ سے یہ پروگرام چلتا رہااور آج الحمدللہ پاکستان کے دفاع کی ضمانت ہے۔

1974ء میں جب بھٹو صاحب برسراقتدار تھے تو انہوں نے اس پروگرام میں زبردست دلچسپی لی۔مئی 1998ء میں ہم اپنے ایٹمی پلانٹ پر کام کر رہے تھے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کی اطلاع موصول ہوئی۔ ہمارے لئے بھی ایٹمی دھماکے کرنے کا یہ بہترین موقع تھا اور ہم اس کے لئے تیار بھی تھے۔ میں نے وزیر اعظم نواز شریف سے کہا کہ اب ہمیں بھی اپنے ایٹمی پروگرام کو مضبوط کرتے ہوئے دھماکہ کر دینا چاہئے۔ وزیر اعظم نے فوراََ ہاں میں جواب دیا اور بولے ’’ ڈاکٹر ثمر مبارک مند‘‘ آپ بسم اللہ کریں باقی دنیا کو میں دیکھ لو ں گا۔‘‘

20 مئی 1998ء کو ہمارے سائنس دانوں کی ایک ٹیم بلوچستان کے شہر چاغی روانہ ہوئی۔ ہم نے تمام کام مکمل کر کے گرین سگنل دیا اور 28 مئی کو ہم دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گئے۔ جس وقت ہم نے دھماکہ کیا تو میں 32 سیکنڈ تک چاغی پہاڑ کو دیکھتا رہا۔ میں اور میری پوری ٹیم اس تاریخی کارنامے پر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ بلکہ سارا وطن اس پر خوش تھا کہ پاکستان نے اپنے سائنس دانوں کی مدد سے ایک کامیاب دھماکہ کر دیا۔ جہاں پاکستان کا بچہ بچہ خوش تھا وہاں دنیا حیران تھی کہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے سائنس دانوں نے کس خوبی اور مہارت سے ایٹمی دھماکے کئے ہیں۔ یہ بات دنیا کے لئے ’’غیر معمولی ‘‘ بات تھی کہ پاکستان جیسا ملک بھی ایٹمی ممالک کی صف میں آ گیا ہے۔

ہلال:آپ نے میزائل پروگرام کا ارادہ کب کیا۔ اس پر کچھ روشنی ڈالیں؟

ڈاکٹر ثمر مبارک:ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد ہم نے میزائل پروگرام کے لئے کام شروع کر دیا۔ اس کے لئے ہمیں ایک ٹیم کی ضرورت تھی۔ میں نے پاکستان سے باہرٹیلنٹ کی تلا ش کے لئے مختلف ممالک، جن میں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا شامل ہیں، کا دورہ کیا۔ ان ممالک میں موجود پاکستانی طالب علموں کو جب اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بتایا تو انہوں نے خوشی سے اپنی خدمات پاکستان کے لئے وقف کردیں۔ حالانکہ وہ وہاں کافی بڑی تنخواہ پر کام کر رہے تھے مگرانہوں نے پاکستان کے دفاع کی خاطر تمام مراعات کو ٹھکرا دیا۔ اس جذبے کو دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ پاکستان کی نوجوان نسل محب وطن ہے اور جب بھی اس مٹی کو ان کی ضرورت ہوئی انھوں نے لبیک ہی کہا۔یوں ہماری ٹیم جس نے میزائل پروگرام چند لوگوں سے شروع کیا تھا آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اس ٹیم نے ایٹمی ٹیکنالوجی اور میزائل پروگرام کے لئے دن رات کام کیااور ہم نے شاہین اور غوری میزائل سے لے کرکروزمیزائل تک بنا ڈالے ہیں۔ دنیا حیران ہے کہ پاکستانی سائنس دانوں نے یہ کام بغیر کسی غیر ملکی کی مدد سے کیسے کر لیا۔ آج میں اور میری ٹیم نے کہوٹہ پلانٹ، اٹامک انرجی اور نیس کام جیسے اور کتنے ہی اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے جس کے لئے ہم نے سخت محنت کی۔ آج یہ تمام ادارے کامیابی سے اپنے ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے کامیاب ایٹمی سفر کی داستان سناتے سناتے ان کی آنکھوں میں ایک روشنی امڈ آئی جو اس بات کا اظہار کررہی تھی کہ انہوں نے وطن کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور اب وہ اس حوالے سے مطمئن ہیں ۔

ہلال:پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات کی حفاظت کے حوالے سے دنیا بھر میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔ آپ ان مفروضوں کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے ؟ ڈاکٹر ثمر مبارک:پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات کے تحفظ کے حوالے سے دنیا بھر میں جو پروپیگنڈا جاری ہے۔یہ سب دنیاکے مفروضے ہیں اور ان میں کوئی حقیقت اور صداقت نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا تحفظ اور سیکورٹی انتہائی مضبوط ہے ۔ دنیا کے کچھ ممالک ایسا پروپیگنڈا صرف اپنے طور پر ہی کر رہے ہیں پاکستان سے کسی نے آج تک براہِ راست بات نہیں کی۔ ہلال:2008ء میں آپ صحت سے متعلقہ ایک بہت بڑے امتحان سے گزرے۔ کچھ بتانا پسند کریں گے؟

ڈاکٹر ثمر مبارک:زندگی کامیابی سے اپنے سفر پر رواں دواں تھی اچانک اللہ تعالیٰ نے صحت سے متعلقہ گہرے امتحان میں ڈال دیا‘ جس سے مجھے ہر حالت میں گزرنا پڑا‘ مگر مجھے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوئی اور دل میں پاکستان کے لئے کچھ اور کر گزرنے کا عزم تھا پھرمیری نیت بھی ٹھیک تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے نیتوں کا پھل دیتے ہوئے اس امتحان میں سرخروکیا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو بہتر معلوم تھا کہ میں نے اس بندے سے کیا کیا کام اور لینے ہیں۔ اس کڑے امتحان میں فیملی کے ساتھ ساتھ ہزاروں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کی دعائیں بھی شامل تھیں۔

ہلال:کیا تھر کول پراجیکٹ بجلی اور توانائی کے بحران پر قابو پا لے گا؟

ڈاکٹر ثمر مبارک: 2009 ء میں مجھے تھرکول پروجیکٹ کا سربراہ بنا دیا گیا۔ حکومت نے یہ قدم ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے اٹھایا تھا۔ شاید حکومت کومیری صلاحیتوں پر کلی اعتمادتھا اور وہ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکال لینا چاہتے تھے۔ بے شک یہ پروجیکٹ پاکستان کی سب سے بڑی امید ہے جس سے نہ صرف ہم توانائی بحران پر قابو پا لیں گے بلکہ اپنے ملک کی معیشت کو بھی مضبوط کر لیں گئے۔ تھرکول UCG پروجیکٹ کا میں نے اور میری ٹیم نے بڑی باریک بینی سے جائز ہ لیا اور زیرزمین کیمیائی عمل کی حرکیات ‘توانائی کی منتقلی یا گیس کے بہاؤ کے بہت سے ماڈلز تھرکول کے اندر موجودتھے جو ایسے کسی بھی پروجیکٹ کے لئے انتہائی لازمی ہوتے ہیں ۔تاکہ مختلف تغیرات کے دوران زیر زمین کوئلے کے گیس میں تبدیلی کے عمل کو سائنسی بنیادوں پر جانچا جا سکے۔

ہلال:ہمارے قارئین کو تھر کول پروجیکٹ کی کچھ تفصیل بتائیں؟

ڈاکٹر ثمر مبارک:تھر میں 75 ارب ٹن کوئلہ موجود ہے ۔جسے مختلف بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔جس کے ایک بلاک میں 1.4 ارب ٹن کوئلہ موجود ہے ۔جس سے 10 ہزارمیگاواٹ بجلی تیس سال تک فراہم کی جاسکتی ہے۔ آپ خود اندازہ کریں کہ جہاں 75 ارب ٹن کوئلہ موجود ہو تو ہم اگلے آٹھ سو سال تک یہاں سے بجلی اور گیس پیدا کر سکتے ہیں۔ میں اور میری ٹیم جن میں انجینئر اور ٹیکنیشن شامل ہیں انھوں نے شب و روز محنت کر کے پروجیکیٹ کے ابتدائی کام کو مکمل کر لیا ہے۔پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے اور تھر جیسے تپتے صحرا ؤں میں مہینوں اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر اس پروجیکٹ کو کامیابی سے ہمکنار کر کے قوم کو گرانقدر تحفہ دیا ہے۔ انشاء اللہ اس سال کے آخر تک تھرکول سے تجرباتی طور پر ایک سو میگاواٹ بجلی پیدا ہونی شروع ہو جائے گی ۔ تھر کے کوئلے سے بغیر ماحولیاتی آلودگی کے پاکستان 50 ہزار میگاواٹ بجلی کافی عرصے تک کے لئے پیدا کر سکتا ہے ۔

ہلال: تھر کول پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں کیا آپ کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ڈاکٹر ثمر مبارک:بدقسمتی سے اس منصوبے کو بھی سیاست کی نظر کرنے کے لئے مختلف قوتیں حرکت میں آ چکی ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے برعکس تھرکول پراجیکٹ جب سے شروع ہوا ہے اس میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ کبھی فنڈ مہیا نہیں کئے جاتے تو کبھی فنڈ میں کمی کردی جاتی ہے۔ ورلڈ بینک نے اس سلسلے میں جو قرض دینے کی پیش کش کی تھی وہ واپس لے لی ہے۔ دوسری طر ف امریکی مخالفت سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت توانائی کی کمی کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہتی ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ ماہرین سے بات کرے پروفیشنل لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم پہ بھروسہ کیا جائے تو ہم تھر کول کو ایک کامیاب منصوبہ بنا کر اور جاری و سار ی رکھ کر دنیا کو ایک بار پھر حیران کر دیں گے۔ اس سے پاکستان میں نہ صرف توانائی کا بحران حل ہو گا بلکہ معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ چند روز کے بعد اس پراجیکٹ کے لئے 10 فیصد رقم جاری کردی جائے گی ۔ جیسے ہی فنڈز دستیاب ہوں گے ہم بجلی کی پیداوار شروع کردیں گے اور اس منصوبے پر جاری پروپیگنڈا اور اعتراضات خودبخود دم توڑ جائیں گے اور ایسا اس سال کے آخر میں انشاء اللہ شروع ہو جائے گا۔

ہلال:ریکوڈک کے بارے میں کچھ بتائیں؟

ڈاکٹر ثمر مبارک:پاکستان کا شمار دنیا کے ان خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے بہت سی دیگر نعمتوں کے ساتھ ساتھ بے تحاشا معدنیات اور دیگر قدرتی ذخائر سے مالامال کررکھا ہے۔ اس وقت بلوچستان میں چاغی کے ایک گاؤں ریکوڈک کے پاس تانبے اور سونے کے ایسے وسیع ذخائر ملے ہیں جن کے تخمینے لامحدود ہیں۔ یہ انتہائی اہم بات ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے بلوچستان میں معدنی دولت ملنے کے آثار موجود تھے۔ جب پاکستان قائم ہوا تو بلوچستان میں جیولوجیکل سروے ہوا۔یہ 1950ء کی بات ہے۔ اس سلسلے میں جی ایس پی کا محکمہ قائم ہوا اور اس کا صدر دفتر کوئٹہ میں بنایا گیا۔ اس کی بنیاد ہندوستان کے ماہر ارضیات ڈاکٹر ہنری کروک شینک نے رکھی۔ بلوچستان میںً تمام دھاتی اور غیردھاتی معدنیات(Minerals) کی تلاش، نقشہ بندی اور تحقیقات کاسارا کا سارا کریڈٹ جی ایس پی(GSP) کو جاتا ہے۔ بلوچستان میں بہت سی معدنیات ہیں جن میں ایلومینیم (Aluminum) اور تانبے (Copper) کے بڑے ذخائر ہیں۔ اس کے علاوہ چاندی، پلاٹینیم، چونے کا پتھر بھی وافر مقدار میں موجود ہے‘ بلوچستان میں معدنی وسائل کی تحقیقات اور تلاش پر ہمیشہ دوسرے ممالک کی نظریں رہی ہیں اور وہ کسی نہ کسی طرح ان وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ اورکینیڈا کی کمپنیوں نے بلوچستان میں تانبے اور چاندی کی تلاش کے لئے 18 سال تک تحقیقات کیں اور بہت پیسہ بھی لگایا۔ جب یہ ذخائر نکل آئے تو وہ گوادر کے راستے اپنے ملک لے جانے کے لئے پر تولنے لگے ۔ اس وقت کی حکومت نے مجھے ان کمپنیوں کی فزیبیلٹی رپورٹ پڑھنے کو دی تواس سے اندازہ ہواکہ پاکستان سے دھوکا کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس کیس کو انٹرنیشنل عدالت میں لے جائیں اور اس کی سربراہی مجھے سونپ دی۔ میں نے اس رپورٹ کے ایک ایک لفظ کو حفظ کیا اور اپنی (Lawyers) ٹیم کو بریف کیا اور سخت محنت کی اور اللہ کی مدد سے اس کیس کا فیصلہ پاکستان کے حق میں کرا لیا۔حکومت نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مجھے ریکوڈک پروجیکٹ کا سربراہ مقرر کر دیا ۔میں نے دن را ت اپنی ٹیم کے ساتھ کام کر کے اس کا ابتدائی کام مکمل کر لیا ہے۔ پچھلی صوبائی حکومت نے اس پروجیکٹ کے لئے اگلے تین سال کی رقم بھی ادا کر دی ہے۔ انشاء اللہ اگلے سال سے ہم اس منصوبے پر کام شروع کر کے جلد ہی تانبے اور سونے کو ریفائن کرنے کے قابل ہوجائیں گے اور دو بلین ڈالرسالانہ کما لیں گے۔وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ آخر کو ہم نے ایٹمی ٹیکنالوجی کو بھی کامیابی سے حاصل کیا اور ایٹمی طاقت بن گے۔ جرمنی اور جاپان دوسری جنگ عظیم کی خاک سے اٹھ کر کہاں سے کہاں پہنچے گئے۔ چین کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اسی جذبے سے ہمیں بھی کام کرنا ہو گا۔ ورنہ سامراجی طاقتیں اپنا ایجنڈا ہم پر مسلط کرتی رہیں گی ۔کاش ہم اپنا محاسبہ کر کے خود اپنی اصلاح کر لیں اور بے لوث کام کر کے ایک زندہ قوم بن جائیں۔ آج اگر ہم نے یہ نہیں کیا تو کل بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

ہلال:ازدواجی زندگی کا خوشگوار سفر کب اور کیسے شروع کیا؟

ڈاکٹر ثمر مبارک:جیسے میں نے پہلے بتایا ہے کہ میں نے ایک پڑھی لکھی فیملی میں آنکھ کھولی اور زندگی کے تمام فیصلے میرے والدین ہی نے کئے ۔شادی جیسا اہم فیصلہ بھی میرے والدین ہی کا تھا۔ میں نے ایک فرمانبردار بیٹے کی طرح ان کی رضا میں اپنی بھلائی چاہی ۔میں جب Ph.D کر چکا تو والدہ نے سوچا اب اس گھر میں بہو آ جانی چاہئے۔ میں ان کی گفتگو کو خاموشی سے سنتا رہا اور اچانک ٹی وی پرایم ایس سی کے رزلٹ کی خبر چلی اور گولڈ میڈلسٹ کے بارے میں بتایا جانے لگا۔جن سٹوڈنٹ نے مختلف قوانین اور مختلف کالجز سے گولڈ میڈل حاصل کیا ان کی تصویریں اور ان کے نام بھی ٹی وی پہ آنے شروع ہو گئے۔ میری والدہ اچانک بولیں ’’مجھے بہو مل گئی‘‘والد صاحب حیران ہو کر والدہ سے سوال کر بیٹھے ’’بہو‘‘ اور میں ٹیبل سے مسکراتا ہوا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ جب صبح ہو ئی تو گھر میں ایک ہنگامہ سا تھا۔ والدین لاہور جانے کا پروگرام کر رہے تھے۔ میں آفس چلا گیا۔ تو امی کا فون آیا کہ میں نے تمہارے لئے لڑکی تلاش کر لی ہے۔ ہوا کچھ اس طرح کہ والدین سیدھا گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے اور پرنسپل سے کہا کہ آپ کی جس لڑکی نے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے اس کا ایڈریس دے دیں۔ ایڈریس حاصل کرنے کے بعد والدین اس لڑکی کے گھر چلے گئے اور اپنا مقصد بیان کیا۔ لڑکی کے والدین نے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے میرے والدین کو ہاں کر دی اور اس طرح میں ایک سے دو ہو گیا۔ تب سے اب تک کامیاب زندگی کا سفر جاری و ساری ہے۔ زندگی میں کوئی بھی مشکل آئی تو ہم دونوں نے مل کر اسے حل کیا۔

ہلال:کچھ فیملی کے بارے میں ہمیں بتائیں؟

ڈاکٹر ثمر مبارک:میرے 3 بیٹے او ر2 بیٹیاں ہیں ۔ تینوں بیٹوں نے ای ایم ای کالج سے انجینئرنگ کی ہے اور دونوں بیٹیاں بھی ایم ایس سی کر کے شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں۔میری بیگم کا تعلق بھی شعبہ تعلیم سے تھا۔ میرے تینوں بیٹے Ph.D ہیں ایک بڑا بیٹا (نیس کام) میں ہے اور باقی دونوں بیٹے بیرونِ ملک ہوتے ہیں۔ والدین تعلیم یافتہ ہوں تو اولاد بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلتی ہے۔اس لئے میری خواہش ہے کہ پاکستان کے نوجوان بھی اپنے والدین کا کہا مانیں اور جو وہ (والدین) چاہتے ہیں اُسے اپنے لئے بہترین سمجھیں۔

 

Page 1 of 4

Follow Us On Twitter