12
March
مارچ 2018
شمارہ:03 جلد :55
تحریر: یوسف عالمگیرین
قوم رواں برس اٹھترواں یومِ پاکستان منا رہی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ منٹو پارک لاہور میں23 مارچ1940 میں منظور کی جانے والی ' قرار داد پاکستان' کے خواب کو فقط سات برس کی قلیل مدت میں تعبیر مل جائے گی۔ گویا یہ وہ قوم ہے جس نے قائدِاعظم محمدعلی جناح کی بے مثال قیادت میں شبانہ روز محنت کرتے ہوئے پاکستان کی صورت میں ایک آزاد مسلم ریاست کا حصول یقینی بنایا۔1947 میں وطنِ عزیز کے قیام سے....Read full article
 
تحریر: سمیع اللہ خان
پاک امریکہ تعلقات کی کڑیاں قیامِ پاکستان سے شروع ہوکر، سیٹو ، سینٹو معاہدوں پر امریکہ کی بے وفائی سے ہوتی ہوئی2017میں نازک موڑ پر آگئیں۔ اس سے قبل بی بی سی نے سال 2011 کو پاک امریکہ تعلقات کے لئے
disastrous year
کہا لیکن ہمارے تئیں سترہ کا اختتام اور 2018کا آغاز ان ستربرسوںمیں سب سے زیادہ نازک رہا۔دیکھنے کو تو یہ ''یوٹرن''ہی لگتاہے لیکن اس کی کڑیاں....Read full article
 
 alt=
تحریر: خرم عباس
کیا پاکستان کا تصورعالمی سطح پر بھی اتنا ہی بُرا ہے جتناپاکستان کے اندر سمجھا جاتا ہے؟اس کا جواب یقینا نفی میں ہے۔دراصل اس وقت پاکستان کے متعلق جو منفی موادبھارت اور مغرب، دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں، بدقسمتی سے پاکستانی عوام بھی ملک کو اسی تناظرمیں دیکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارااپنامنفی رویہ بھی ہماری نوجوان نسل، دانشور اور عام طبقے کے لوگوں میںاس مفروضے کومزیدفروغ....Read full article
 
تحریر: پروفیسر فتح محمد ملک
اقبال نے یہ خواب دیکھا تھا کہ اسلامیانِ ہند کی مجوزہ آزاد اور خود مختار مملکت میں اسلام کو عرب شہنشاہیت کی زنجیروں سے آزاد کردیا جائے گا، دُنیائے اسلام کا انجماد ٹوٹے گا اور یوںاسلام کی حرکی اور انقلابی روح بیدار اور سرگرمِ کار ہو سکے گی۔ ہم نے گزشتہ نصف صدی کے دوران عرب ملوکیت کی چھاپ سے اسلام کو پاک کرنے کے بجائے اس چھاپ کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ تو ہم ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میں ان مغربی مؤرخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہورِ پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میںوجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنمائوں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوئوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی مسلمان ہمیشہ.....Read full article
 
تحریر: پرویوش چوہدری ، ڈاکٹر شاہد محمود
مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی مشکلات سے بنٹنے اور مواقعے سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومتوں کو سبک رفتاری سے منصوبہ بندی کرنی ہو گی۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں حیران کر دینے والی ترقی جاری ہے۔ ....Read full article
 
تحریر: ازکیٰ کاظمی
خدا جہاں اولاد دے کر ماں باپ کو نوازتا ہے وہیں وہ اولاد کے ذریعے والدین کا امتحان بھی لیتا ہے۔ کہتے ہیں جو چیز یا رشتہ آپ کو کمزور کر دے بالآخر وہی آپ کی طاقت بن جاتا ہے۔ اولاد کی آزمائش اس دنیا کاسخت ترین امتحان ہے لیکن اگر وہی اولاد والدین کی سرفرازی کا باعث بنے تو مرتے دم تک والدین کا سر فخر سے بلند رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک جواںمرد اور پاک باز بیٹا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے.....Read full article
 
تحریر: محمد طیب انصاری
کثیرالثقافتی معاشروں
(Multicultural societies)
کے اندر کئی ثقافتی عناصر موجود ہوتے ہیں۔ جو کبھی معاشروں میں ٹکرائو ، کبھی تنوع اور کبھی ہم آہنگی کا باعث بنتے ہیں۔ جن سے لوکل ثقافت میں نئی نئی جہتیں پیدا ہوتی ہیں، نئے نئے رجحانات جنم لیتے ہیں۔ کچھ فرسودہ روایات کا خاتمہ کیا جاتا ہے اور ماڈرن خیالات اور نئی روایات ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں لوگ اپنے....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان
اگر یہ جاننا مقصود ہو کہ ملک کاجغرافیائی محلِ وقوع، اس کی اندرونی سیاست اور خارجہ تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے تو بحرِ ہند کے عین وسط میں واقع مالدیپ کو ایک تازہ مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے جزائر پر مشتمل آبادی (پانچ لاکھ سے کم) اور رقبہ( تقریباً تین سو مربع کلو میٹر) کے لحاظ سے مالدیپ اگرچہ ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے....Read full article
 
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی
انسانی زندگی کی تقویمِ ماہ وسال میں بعض ایام ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں طلوع ہونے والا سورج زمانی و مکانی تاریکیوں کو دور کرنے کے ساتھ انسانی بخت کے اندھیروں کو بھی اجالوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔1940ء کا 23 مارچ بھی ایسے ہی دنوں میں شامل ہے۔اس دن کا سورج بظاہر شام کو غروب ہو گیا مگر ملت اسلامیہ کو ایک صبحِ مسلسل عطا کر گیا،جو آزادی کی صبح تھی جو آج بھی قائم ہے اور ....Read full article
 
تحریر: فاروق اعظم
پاکستان کو قائم ہوئے 70برس بیت چکے، لیکن عمومی حلقوں میں یہ سوال اپنی جگہ اب بھی برقرار ہے کہ کیا واقعی ہندوستان کی تقسیم ناگزیر تھی؟ اگرچہ سوال ایک جملے پر مشتمل ہے، تاہم اس کا جواب مفصل بحث کا متقاضی ہے۔ تقسیمِ ہند کا مطالبہ 1940ء کی قراردادِ پاکستان کے موقع پر یکایک سامنے نہیں آیا تھا، بلکہ یہ آرزو کئی دہائیوں پر محیط اور متعدد پہلوئوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی۔ ہندوستان کی تقسیم .....Read full article
 
تحریر: سید بہادر علی سالک
بابائے قوم کی سالگرہ، برسی، یومِ پاکستان اور یومِ آزادی پوری قوم ستر سالوں سے روایتی جوش وجذبے سے مناتی آرہی ہے اور اُن کے کارناموں کا ذکربھی روایتی انداز میں کیا جاتا رہا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے عملی طور پر اُن کی تعلیمات اُن کے دئیے ہوئے زریں اُصول، ایمان، اتحاد اور تنظیم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوجوان نسل برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی .....Read full article
 
تحریر: شفق بھٹی
دورِ جدید میں بڑھتے ہوئے پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے ٹیکنالوجی کو جدید سے جدیدتر بنایا جا رہا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آرٹی فیشل انٹیلی جینس یعنی مصنوعی ذہانت نے انتہائی سنجیدہ موڑ لے لیا ہے۔ اگرچہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی ہے لیکن مستقبل میں بہت سے ایسے ناقابل یقین تکنیکی منصوبوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جو کہ تمام نوع بشر کو ایک نہایت حیرت انگیز دور .....Read full article
 
تحریر: محسن شاہد
مغربی ممالک کے اندر اٹھنے والے سیاسی نظریات، جن کو ہم
Populism
کہتے ہیں، نے ریاستی وجود پہ بڑے جامع سوالات اٹھادیئے ہیں۔ اقوامِ عالم میں موجودہ ریاستی تعریف عین مغربی نوعیت کی ہے اور عام عوام یا پھر
Political Science
کے طالب علم ریاست کے وجود اور شناخت کو بھی اُس مغربی علم کی بنیاد پر پرکھتے ہیں....Read full article

تحریر: ڈاکٹرحمیرا شہباز
''پاکستان انڈیا کا میچ تھا۔ آپ کو پتہ ہے یہ کرکٹ میچ جنگ سے کم نہیں ہوتا اور ہم جنگ جیت گئے۔ میں خوشی کے مارے گھر کی چھت پر چڑھ گیا۔ گھر کی خواتین خالہ کے ہاں میلاد پرگئی ہوئی تھیں۔ اسی وقت ہمارے کوئی عزیز جو بہت سالوں سے ہم سے ناراض تھے، ہمارے گھر آئے۔ انہوںنے مجھے چھت سے اُترآنے کو کہا لیکن میں نے ذرا دیر لگائی۔ پھر انہوںنے کہا 'اوئے نیچے آ، جیلانی شہید ہوگیا ہے۔ ........Read full article
 
تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ
جہلم سے راولپنڈی، اسلام آباد بذریعہ جی ٹی روڈ جائیں تو دینہ، پھر ڈومیلی آتا ہے۔ اس سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر سوہاوہ کا وہ شہر آتا ہے جہاں محلہ نئی آبادی ڈھیری وارڈ نمبر5 کے قبرستان میں 19 پنجاب رجمنٹ کا وہ مایہ ناز اور بہادر سپوت شہادت کا جام پیئے ، سبز ہلالی پرچم کا کفن اوڑھے ایک قبر میں ابدی نیند سو رہا ہے جسے آرمی والے اور اس کے گائوں والے نائیک طالب حسین کے نام سے جانتے ہیں۔.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر وقار احمد
کرئہ ارض پر پانی کی کل مقدار چودہ لاکھ 3 کے ایم ہے، جو کہ ایک بہت بڑی مقدار ہے، تاہم پانی کے اس عظیم ذخیرے کا 97.6 فیصد سمندر کی شکل میںہے، جو کہ ناقابل استعمال ہے۔ جبکہ صرف.....Read full article
 
تحریر : ڈاکٹر صدف اکبر
فاسٹ فوڈ ایک ایسا تیار کھانا ہوتا ہے جو ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ وغیرہ میں بہت جلدی تیار شدہ حالت میں پیش کیا جا سکے ۔ دیگر کھانوں کے مقابلے میںیہ خوراک عام طور پر کم غذائیت کی حامل مگر مہنگی ہوتی ہے۔ آج کل لوگوں ، بالخصوص نوجوان طبقے اور بچوں، میں فاسٹ فوڈ کھانے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا.....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی زیرِ نظر کتاب '' جنگ ستمبر کی یادیں'' ہماری افواج کا عظیم جذبۂ جہاد، فوج اور عوام میں اعتماد کے گہرے رشتے اور ناقابلِ فراموش واقعات پر محیط ہے۔ شاہینوںکے شہر سرگودھا سے دوارکا تک اور راجستھان سے معرکہ کھیم کرن تک دفاعِ وطن کے ایمان افروز لمحات کو جس خوبصورتی سے انہوںنے ہمارے لئے فردوسِ نظر کا سامان کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ جنگ جذبوں سے لڑی .....Read full article
 
تحریر: انوار ایوب راجہ
میرے سامنے برطانوی ہند کی فوج کے ان اسیر سپاہیوں کے متعدد خطوط موجود ہیں کہ جنہوں نے بعد میں آزادی پاکستان کی جنگ لڑی اور ان میں سے بیشتر کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا۔مجھے یاد ہے کارگل کی جنگ کے دنوں میں جب سرحد سے پرچم میں لپٹے عظیم بیٹے اپنی ماں کو غموں میں نڈھال چھوڑے مادرِ وطن پر قربان ہو کر واپس اپنے اپنے آبائی گھروں کو لوٹ رہے تھے تو .....Read full article
 
تحریر: خدیجہ محمود
کی کوریج کے دوران ہوا جہاں افواج پاکستان کے سپوت مختلف وردیوں میں گھوم رہے تھے۔ وہیں خاکی وردی میں سبز پگڑی باندھے ایک سردار سینے پر سبز ہلالی پرچم سجائے ساری دنیا کے سامنے فخر سے پاک فوج کی ترجمانی کر رہا تھا۔ جی یہ کیپٹن ہرچرن سنگھ تھا۔ چہرے پر دلیری اور بے خوفی، آنکھوں میں للکار اور پہلی ملاقات میں ہی ان کی کہی ہوئی یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے کہ ''بہن! ہر ادارے.....Read full article
 
تحریر: محمد کامران خان
زبان و ادب کی بہت سی ایسی مثالیں ہیں جنہیں ہم روز مرہ زندگی کی عمومی گفتگو میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔یہ ادبی کہاوتیں، کردار، مونو لاگ، ڈائیلاگ، تشبیہات، استعارے اور حوالے انسانی بیان کو نہ صرف رنگین بناتے ہیں بلکہ لفظوں میں چھپے معنی و پیغام کو مزید مؤثر انداز میں سننے والے تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔لیکن دور جدید میں زبان و ادب سے ہٹ کر کچھ ایسی اصطلاحات بھی عام ہو گئی ہیں....Read full article
12
March

تحریر: محمد کامران خان


زبان و ادب کی بہت سی ایسی مثالیں ہیں جنہیں ہم روز مرہ زندگی کی عمومی گفتگو میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔یہ ادبی کہاوتیں، کردار، مونو لاگ، ڈائیلاگ، تشبیہات، استعارے اور حوالے انسانی بیان کو نہ صرف رنگین بناتے ہیں بلکہ لفظوں میں چھپے معنی و پیغام کو مزید مؤثر انداز میں سننے والے تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔لیکن دور جدید میں زبان و ادب سے ہٹ کر کچھ ایسی اصطلاحات بھی عام ہو گئی ہیں جن کا استعمال روز مرہ زندگی میں کیا جائے تو پیغام ذو معنی ہو جاتا ہے بلکہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی اصطلاحات ملاحظہ کیجئے۔
ایجنڈا: انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کا کام بالواسطہ طور پر کرے گا تو وہ ایجنٹ کہلائے گا اور اسکا تفویض کردہ کام ایجنڈا کہلائے گا۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ہمارے ہاں یہ لفظ ایجنڈا بھی ایک الزام پر مبنی گالی بن گیا ہے۔ ذرا کسی نے کوئی تیکھی بات کی تو فوری الزام لگا دیا کہ آپ کسی کے ایجنڈے پر ہیں۔ کو ئی آپ کی رائے سے اختلاف کرے تو اس پر ایجنٹ ہونے کا الزام بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ اب تو یہ اصطلاح اتنی عام ہو گئی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر شخص ہی ایجنڈے پر ہے۔
نامعلوم افراد: عمومی طور پر کسی واقعے میں ملوث ملزمان یا اشخاص کا پتہ نہ چلے تو نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے اور یہ اصطلاح لغوی معنی میں ہی استعمال کی جاتی ہے۔لیکن اب اس کے اصطلاحی معنی بھی ہیں۔ یہ نامعلوم افراد معلوم ہو بھی جائیں تو بھی نا معلوم ہی رہتے ہیں۔ اب تو کوئی کسی کی پردہ پوشی چاہے تو یہ اصطلاح استعمال کرتا ہے تاکہ ملزمان کا نام نہ آئے۔ باقی یہ کہ ان نامعلوم افراد کی کوئی شناخت نہیں ہوتی اس لئے ان افراد کو معلوم کرنے کی کوشش عمومی طور پر بے سود ہی رہتی ہے۔ عافیت اسی میں ہے کہ آپ سے کوئی نا معلوم افراد کا پوچھے تو فوری کہہ دیں کہ آپ کو نہیں معلوم۔

kchnasamjy.jpg
ٹرائل: انگریزی لغت میں اس کا مطلب کسی عدالت میں ملزم کے خلاف ہونے والی مکمل کارروائی ہے۔ لیکن اب لغت سے ماورا ہو کر یہ لفظ بہت سی جگہ پر استعمال ہوتا ہے۔ کسی کے خلاف کوئی نا پسندیدہ خبر تواتر کے ساتھ چلے تو کہا جاتا ہے میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔عدالت ہو یا نہ ہو الزامات کے کٹہرے میں جو بھی آئے گا وہ اپنے خلاف ٹرائل کی شکایت کرے گا۔اصل میں تو یہ لفظ عدالت سے منسوب تھا لیکن اس کا استعمال اب ماورائے عدالت بھی ہو رہا ہے۔


قومی مفاد : قوم کے مفاد کو ہر امر میں مقدم رکھا جاتا ہے۔لیکن یہ اصطلاح اتنی مبہم ہے کہ فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ کیا چیز قومی مفاد میں ہے اور کیا چیز نہیں۔ بہت سے امور ایسے ہیں جن پر زباں بندی صرف اس لئے کی جاتی ہے کہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ قومی اور ملکی مفاد چونکہ عزیز تر ہے اس لئے بعض اوقات ذاتی مفاد کو بھی اس پر قربان کرنا پڑتا ہے۔یہاں تو ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کرپشن کا سکینڈل منظر عام پر آنے سے رکوانے کے لئے قومی مفاد کو ڈھال بنا لیا جاتا ہے۔


اینکائونٹر : یہ ضابطہ فوجداری کی بہت ہی خطرناک اصطلاح ہے۔عام طور پر اس کا مطلب پولیس مقابلہ لیا جاتا ہے یعنی پولیس کی زیر حراست کوئی ملزم یا مجرم بھاگنے کی کوشش کرے اور پولیس ملزم کے فرار کو نا ممکن بنانے کے لئے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے فرار ہونے والے کو مار دے تو یہ اینکائونٹر کہلائے گا۔ لیکن یہ اصطلاح بہت بدنام ہو چکی ہے۔ کسی بھی ملزم کو اس کے مجرم قرار دینے سے پہلے ہی اسے وادی عدم میں پہنچانا ہو تو اینکائونٹر کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اب تو پولیس اینکائونٹر کو دھمکی کے طور پر استعمال کرتی ہے۔اور پولیس میں ایسے افسران اور اہلکار موجود ہیں جنہیں اینکائونٹر اسپیشلسٹ کہا جاتا ہے۔ اینکائونٹر میں مارے جانے والے کا مقدمہ کسی کے خلاف نہیں چلتا کیونکہ مرنے والے پر الزام ہوتا ہے کہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی اسی لئے پولیس کی گولی کو جسٹیفائیڈ ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس قتل عمد کا دوسرا نام ماورائے عدالت قتل ہے۔


پیرا شوٹر : اس کا لغوی ترجمہ چھاتہ بردار ہے ویسے تو بلندی سے پیراشوٹ کی مدد سے زمین پر اترنے والے کو پیرا شوٹر کہتے ہیں لیکن یہ لفظ اب اس شخص کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو کسی پیشہ ورانہ فیلڈ میں ابتدائی درس و تربیت لئے بغیر وارد ہو جائے اور اپنی جگہ بھی بنا لے۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ پہلے سے موجود حقداروں کو ہٹا کر اپنی جگہ بنا لے تو اسے پیرا شوٹر کہا جاتا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جہاں عملی صحافیوں کی صفوں میں ایسے پیراشوٹر موجود ہیں جنہوں نے کبھی عملی صحافت نہیں کی لیکن صحافی ہونے کے دعوے دار ہیں۔


مافیا : اس لفظ کا اصل تو اٹلی اور امریکہ میں فعال جرائم پیشہ افراد کے گروہ سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے یہاں تو یہ نام اس قدر زبان زدِ عام ہے کہ جہاں بھی چار لوگوں کا منفی ایجنڈے پر گٹھ جوڑ ہو جائے اسے مافیا سے تعبیر کیا جا تا ہے۔ مافیا صرف چند افراد کا گروہ ہی نہیں بلکہ کوئی شعبہ کوئی ادارہ کوئی بھی پیشہ اس لیبل کا حقدار بن سکتا ہے۔ ہمارے عدالتی ریمارکس میں بھی حکمرانوں کے لئے سسیلین مافیا کا ٹائٹل استعمال کرنا ریکارڈ پر موجود ہے۔بہرحال عام زندگی میں بھی کوئی شخص یا ادارہ استحصال پر اتر آئے تو آپ اسے مافیا ڈیکلیئر کر سکتے ہیں۔


پراکسی : انگریزی کا لفظ ہے۔ اصطلاحاً اس کا مطلب ہے کہ کسی کی غیرموجودگی میں بالواسطہ طور پر اس کی جگہ موجود ہونا۔ اگر اس کے لئے اردو لغت سے معنی اخذ کئے جائیں تو لفظ 'پرایا' زیادہ موزوں نظر آتا ہے۔ ہم کسی اور کے مفاد کے لئے اس کی غیر موجودگی میں مصروف عمل ہوں تو یہ عمل پراکسی کہلائے گا۔ آپ کمرۂ جماعت میں کسی اور کی حاضری لگا دیں تو اسے پراکسی کہا جائے گا۔کسی اور کے مفاد میں چاہے جنگ ہی کیوں نہ ہو اسے پراکسی جنگ کہا جائے گا۔ یعنی کام بے شک پرایا ہو لیکن اس کام میں مفاد اپنا ہے تو پھر اس عمل کو مفاد پرستی کہنا اچھی بات نہیں کیونکہ لفظ 'پراکسی ' اس عمل کو تکریم دینے کے لئے کافی ہے۔
ان اصطلاحات کو ان کے لغوی معنی سے ماوراء ہو کر استعمال کرنا ایک فن ہے لیکن احتیاط لازم ہے۔ ایک نکتہ بھی محرم کو مجرم بنا دیتا ہے۔اس لئے کبھی غلطی سے یا عالمِ شوق میں دعا کی جگہ دغا لکھ بیٹھیں تو پھر یہی دعا کریں کہ 'کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی'۔

 

مضمون نگار ایک نجی ٹی ۔وی چینل سے وابستہ ہیں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام کے میزبان ہیں۔
 
12
March

تحریر: خدیجہ محمود

میجر ہرچرن سنگھ پاکستان آرمی کا پہلا سکھ کمیشنڈ آفیسر جس سے میرا پہلا تعارف

IDEAS 2014 Defence Expo

کی کوریج کے دوران ہوا جہاں افواج پاکستان کے سپوت مختلف وردیوں میں گھوم رہے تھے۔ وہیں خاکی وردی میں سبز پگڑی باندھے ایک سردار سینے پر سبز ہلالی پرچم سجائے ساری دنیا کے سامنے فخر سے پاک فوج کی ترجمانی کر رہا تھا۔ جی یہ کیپٹن ہرچرن سنگھ تھا۔ چہرے پر دلیری اور بے خوفی، آنکھوں میں للکار اور پہلی ملاقات میں ہی ان کی کہی ہوئی یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے کہ ''بہن! ہر ادارے میں نوکری ہوتی ہے۔ آرمی وہ ادارہ ہے جو ایک طرز زندگی، ایک لائف سٹائل کا نام ہے۔ یہ اس جذبے کا نام ہے جس میں ایک فوجی اپنی جان اس وطن عزیز پر نچھاور کرنے کا حلف لیتا ہے اور اس کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور میرے لئے یہ باعث فخر ہے کہ میں پاکستان آرمی کا پہلا سکھ آفیسر ہوں۔'' اپنے سردار بھائی کی اس ارض پاک سے اور اپنے ادارے سے محبت دیکھ کر دل سے دعا نکلی۔ ''جیئومیرے ویر''


اس دن کے بعد سے دوسروں کے لئے تو وہ کیپٹن یا میجر ہرچرن سنگھ تھا لیکن میرے لئے میرا ویر بن گیا۔ ملاقات تو کم رہی مگر گاہے بگاہے ٹیلی فون پر اس کی خیریت اور مصروفیت کے بارے میں خبر ملتی رہی پھر وہ دن آیا کہ جب مجھے میرے ویر کی شادی کا دعوت نامہ ملا۔
شادی میجر ہرچرن سنگھ ہمراہ ڈاکٹر امیکا کور مورخہ 3دسمبر 2017 بمقام گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال اور دعوت نامے کے آخر میں مدعو کرنے والی شخصیت کا نام دیکھ کر دل میں خوشی اور عزت کے جذبات میں مزید اضافہ ہو گیا کہ یہ میری پاک فوج ہی تو ہے جس نے اس ادارے کے ایک ایک فرد کو اکائی کی طرح رکھا ہوا ہے۔ جی وہ نام تھا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (موجودہ چیئرمین واپڈا) جن کے ساتھہرچرن سنگھ گوجرانوالہ کور میں

ADC

رہ چکے ہیں۔ بھائی کی شادی کا ارمان کس بہن کو نہیں ہوتا، بس اسی مان کے ساتھ رخت سفر باندھا اور اپنے شوہر جن کا تعلق بھی پاک فوج سے ہے، کے ساتھ کراچی سے اسلام آباد روانہ ہو گئی۔

shadimereveerki.jpg
3دسمبر کی صبح راولپنڈی سے حسن ابدال کا رخ کیا اور تقریباً گھنٹے بھرکی مسافت کے بعد گردوارہ پنجہ صاحب ،جو کہ سکھ مذہب کے پیروکاروں کا مقدس مقام ہے، پہنچے۔ گردوارے کے داخلی دروازے پر خوبصورت رنگوں کی پگڑیاں باندھے سردار بھائیوں کی ایک ٹولی نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ گردوارہ پنجہ صاحب کی بلنداورباوقار تاریخی عمارت کی رونقیں عروج پر تھیں۔ ابھی اندر پہنچے ہی تھے کہ سامنے ایک باوقار سردارنی نظر آئیں۔ انتہائی گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ ''میں ہرچرن سنگھ کی بڑی بہن ہوں۔'' پھر انہوں نے اشارے سے بتایا ۔ ''وہ رہا ہرچرن سنگھ۔'' ہم ہرچرن بھائی کے پاس پہنچے ،سرمئی، پینٹ کوٹ اور سرخ رنگ کی پگڑی پہنے ہاتھ میں تلوار تھامے، میرا بھائی کسی راجہ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ ''ہرچرن بھائی'' میں نے آواز دی۔ بھائی ایک دم پلٹے اور چہرے پر حیرانی اور خوشی لئے ہماری طرف بڑھے۔ میرے شوہر سے گلے ملے ۔ میرے سر پر ہاتھ رکھا اور میرے شوہر سے مخاطب ہوئے۔
Thank you very much sir for coming
میں نے بہت جوش سے خوشی کا اظہار کیا۔ ''دیکھیں بھائی ہم آ گئے ہیں۔'' ''آنا کیسے نہیں تھا۔ بھائی کی شادی جو تھی۔'' اسی مان سے جواب آیا۔
اسی دوران ایک آواز آئی۔ ''ہرچرن '' مڑ کر دیکھا تو جنرل مزمل اپنی فیملی اور باقی یونٹ افسران کے ساتھ نظر آئے اور بھائی کو زور سے گلے لگاکر مبارک باد اور دعائیں دیں۔ باقی افسران اور ان کی فیملیز سے بھی ملاقات ہوئی۔ شادی کی رسموں کا وقت ہونے والا تھا۔ ہم نے گردوارے کے اندر والے حصے جہاں شادی کی رسم ہونی تھی، وہاں کا رخ کیا۔ سنگ مرمر کی سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے وہ حصہ جہاں پانی بہہ رہا تھا اپنے پائوں دھوئے اور اندر داخل ہو گئے۔ گردوارے کا وہ حصہ جہاں عبادت ہوتی ہے، بغیر سر ڈھکے جانے کی ممانعت ہے جیسے ہی اندر داخل ہوئے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نظر آئے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ اتنے میں لاوان کی رسم کی تیاری شروع ہو گئی۔ (جیسے ہمارے ہاں نکاح ہوتا ہے) گرو گرنتھ صاحب کے مقدس کلام سے آغاز ہوا اور ہرچرن بھائی اور ساتھ ہی سرخ جوڑے میں ملبوس چادر میں مکمل چھپی ہوئی ان کی دلہنیا کی آمد ہوئی۔ سکھ مذہب کے مقدس کلام میں دولہا اور دلہن نے پھیرے لئے اور شادی کے مقدس بندھن میں بندھ گئے۔ مبارک سلامت کی صدائیں گونجیں، پھر اعلان ہوا کہ اب باہر'' گتکا'' کھیلا جائے گا۔ یہ سکھ مذہب کا ایک قدیم کھیل ہے جس میں تلوار بازی اور دیگر آلات حرب سے ایک خاص قسم کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔گردوارے کے اس حصے سے باہر نکلے تو گتکا پارٹی زنجیر والی تلواروں کو گھما رہی تھی اور ایک سردار بھائی للکار کر کھلاڑیوں کو دائرے میں بلا رہے تھے۔ باری باری خاص لباس میں ملبوس گتکے کے کھلاڑی آئے اور اپنے جوہر دکھائے۔ جیسے ہی گتگا ختم ہوا ایک سردار بھائی نے مائیک تھاما اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد ہرچرن بھائی کے تمام یونٹ آفیسرز آ گئے اور گردوارے کے دروبام نعروں سے گونج اٹھے۔ پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، 12بلوچ زندہ باد (ہرچرن بھائی کا تعلق 12بلوچ رجمنٹ سے ہے)۔ گردوارے کی فضا میں پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد کے یہ نعرے اس شدید سردی میں خون کو گرما گئے۔ بین المذاہب یکجہتی کا جو عظیم الشان منظر اس دن دیکھنے میں آیا وہ قابل ستائش تھا۔ پھر گروپ فوٹو کھینچے گئے۔سردار بھائیوں نے جنرل (ر)کیانی، جنرل (ر) علی قلی خان، کے ساتھ خوب تصویریں کھنچوائیں۔
پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی، جنرل (ر) علی قلی خان، کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل، لیفٹیننٹ جنرل جاوید بخاری،میجر جنرل اظہر عباس جی او سی 12 ڈیو ، پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) آصف سندھیلہ، میجر جنرل ظفر ڈی جی ایچ آر ڈی، میجر جنرل عابد ممتاز(ایس پی ڈی)، لیفٹیننٹ جنرل افضال ڈی جی ایف ڈبلیو او، اسفند یار بھنڈرا (ایم این اے) اور دیگر حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کے علاوہ چیئرمین اوقاف صدیق الفاروق یہ سب ہی میجر ہرچرن سنگھ کی نئی زندگی کی خوشیوں میں شریک تھے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے بھی نوبیاہتا جوڑے کے لئے دعائیں اور مبارکباد کے پیغام آئے۔
دوسری طرف لنگر کا انتظام تھا- لذیز طعام کے بعد دولہا دولہن کو نئی زندگی کی مبارک باد دی۔ تصاویر کھینچوائیں اور اس دعا کے ساتھ کہ اﷲ پاک میرے بھائی اور بھابھی کو بے پناہ خوشیاں عطا فرمائے،ان سے اجازت طلب کی اور واپسی کا سفر اختیار کیا۔

مضمون نگارمیڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بعد مدت اُسے دیکھا، لوگو

بعد مدت اُسے دیکھا لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا لوگو

خوش نہ تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پر لکھا تھا، لوگو

اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا، لوگو

اجبنی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کسی وقت میں اپنا، لوگو

دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا، لوگو

رات وہ دَرد میرے دل میں اُٹھا
صبح تک چَین نہ آیا، لوگو

پیاس صحرائوں کی پھر تیز ہوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا، لوگو
(پروین شاکر)

 

محبت پانے والا کبھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوتا کہ اسے ایک دن کے لئے مکمل محبت حاصل ہوئی ہے۔ محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے، روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا، جس روز محبت کا آفتاب طلوع نہ ہو، رات رہتی ہے، یہ دل اور جسم بڑے بیری ہیں، ایک دوسرے کے، جسم روندا جائے تو یہ دل کو بسنے نہیں دیتا، دل مٹھی بند رہے تو یہ جسم کی نگری تباہ کردیتا ہے۔
ان دونوں کو کبھی آزادی نصیب نہیں ہوتی۔
(بانوقدسیہ کے ناول ''راجہ گدھ'' سے اقتباس)

*****

 
12
March

تحریر: انوار ایوب راجہ


میرے سامنے برطانوی ہند کی فوج کے ان اسیر سپاہیوں کے متعدد خطوط موجود ہیں کہ جنہوں نے بعد میں آزادی پاکستان کی جنگ لڑی اور ان میں سے بیشتر کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا۔مجھے یاد ہے کارگل کی جنگ کے دنوں میں جب سرحد سے پرچم میں لپٹے عظیم بیٹے اپنی ماں کو غموں میں نڈھال چھوڑے مادرِ وطن پر قربان ہو کر واپس اپنے اپنے آبائی گھروں کو لوٹ رہے تھے تو ہر شہید کی قبر پر لہراتا سبز ہلالی پرچم ان عظیم بیٹوںکی قربانیوں کی تصدیق کر رہا تھا۔ آزدی ٔپاکستان سے آج تک جتنے بھی عظیم بیٹے اور بیٹیاں اس ملک کی حفاظت اور آزادی کی خاطر قربان ہوئے وہ سب کے سب پاکستانی تھے اور ایک حقیقت تھے کوئی سانحہ نہیں۔ آج جب میں ان عظیم سپاہیوں کی قبروں کو دیکھتا ہوں تو ایسے لگتا ہے وہ بھی مجھے دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں''میں زندہ ہوں۔''’

mainzindahun.jpg
کتنی مدت سے یہ بحث چل رہی ہے کہ پاکستان نہیں رہے گا یا پھر پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے آج تک دو قسم کی سازشوں نے پاکستان کے گرد اپنا شکنجہ مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ ایک سازش ہمیشہ سے اندرونی تھی اور ایک سازش بیرونی۔ اندرونی سازش نے جب بھی سر اٹھایا تو قوم نے اس کا مقابلہ کیا اور اس کا سرکچلا مگر جب بیرونی سازش نے اپنا اثر دکھایا تو پاکستان کے محافظوں نے اس کا دفاع ایسی بے نظیر قربانیوں سے کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔
آج پاکستان دنیا کے نقشے پر ہے اور ایک حقیقت ہے ، اس کے بے شمار دوست ہیں مگر کچھ دشمن بھی ہیں اور ان دشمنان پاکستان نے ایک نئے انداز کی فکری جنگ پاکستان پر مسلط کی ہے جس کا نشانہ نظریاتی سرحدیں نہیں آنے والی نسلیں ہیں ۔یہ دشمن پوشیدہ رہ کر بہت سی آوازوں میں زہر ملا کر نفرت کی زبان بول رہا ہے اور مایوسیاں پھیلا رہا ہے ۔ تاریخ کو مسنح کر کے پیش کیا جا رہا ہے اور یہ بتایاجا رہا ہے کہ برصغیر کی تقسیم ایک غلطی تھی اور پاکستان کا معرض وجود میں آنا کوئی حادثہ تھا۔پاکستان کے خلاف تمام سازشوں کے باوجود پاکستان ستر سال کا ہو گیا اور آج بھی اپنے دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے ۔
میں پچھلے کئی سالوں سے سفر میں ہوں اور پاکستان میرے ساتھ ساتھ اس سفر کا حصہ ہے ۔میں ایک برطانوی شہری ہوں مگر میری پیدائش کشمیر میں ہوئی اور مجھے اپنی بنیادوںپر فخرہے۔پاکستان بھی میرے وجود کا حصہ ہے اورجب بھی اگست کا مہینہ آتا ہے تو میرے کانوں میں آزادی کے ترانوں کی دھنیں بجنے لگتی ہیں۔ میرا مادر وطن کشمیر آج بھی آزادی کی نعمت سے محروم ہے مگر کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے اور اس میں کہیں کوئی مغالطہ نہیںہوناچاہئے کہ کشمیری پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے رضاکار محافظ ہیں اور اس پر انھیں فخر ہے۔
میں پچھلے سترہ سالوں سے پاکستان سے باہر ہوں اور ان تمام سالوں میں میں نے پاکستان میں رونما ہوتی تبدیلیوں کا اثر بیرون ملک آباد پاکستانیوں پر دیکھا ۔یہ وہ لوگ ہیں جو اصل پاکستان کو دل میں بسائے اس کی عظمت ، حرمت اور اہمیت کے نغمے گاتے ہیں ۔یہاں آباد کشمیریوں یا پاکستانیوں کا جذباتی لگاؤ ان کے والدین کے وطن کے ساتھ ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو یہ لوگ مدد میں سب سے آگے ہوتے ہیں ۔
پاکستان نے پچھلے دس سالوں میں خاص کرنائن الیون کے بعد جو حالات دیکھے وہ ایک کمزور ملک کے لئے برداشت کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہوتا ۔ہر بار جہاں جہاں پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا وہاں وہاں سے پاکستان مضبوط ہوااور جذبہ حبِّ پاکستان میں اضافہ ہوا ۔اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں ؟ کیا ستر سال سے قائم یہ ملک ایک حادثہ ہے ؟ کیایہاں کا نظام اور اقوام عالم میں اس کی موجودگی بس ایسے ہی ایک فریب نظر ہے ؟
ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں ہمیں تھوڑا تاریخ میں جانا ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ آج جو لوگ پاکستان کو ستر سال بعد بھی حادثہ، سانحہ یا ایک ناکام ریاست کہتے ہیں۔ ان کے عزائم کیا ہیں۔ پاکستان اور انڈیا ساتھ ساتھ معرض وجود میں آئے ، آزادی کے وقت انڈیا کے حصے میں وسائل سے بھرپور علاقے ، انڈسٹری، ہنرمند لوگ اور اہم تعلیمی ادارے آئے۔ تقسیمِ برصغیر کے وقت بہت سی زیادتیاں کی گئیں مگر پاکستان کو اللہ نے جذبے سے بھرپور اور ایمان کی طاقت سے لبریز کچھ دیوانے عطا کئے جن کی آنکھوں میں آزادی کے خواب تھے ۔یہ کون لوگ تھے کہ جنہوں نے آزادیٔ پاکستان کے فوراً بعد تحفظِ پاکستان کو ممکن بنایا ؟ پاکستان بنتے ہی سازشوں کے جال بننے والے اور پاکستان کو توڑنے والوں نے ہر محاذ کھولا ، زمینی محاذ کشمیر میں پہلے کھلا ، پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست تھی اور اس وقت انڈیا کی کوشش کشمیر میں گھس کر سارے علاقے کو قبضے میں لینے کی تھی ۔
یہ ایک بڑی ریاست کا ایک بہت چھوٹی ریاست پر حملہ نہیں تھابلکہ یہ ایک جارحانہ سوچ کا ایک قوم کی آزادی پر حملہ تھا ۔اس حملے کو روکنا اور کشمیر کو آزاد کروانا وہ پہلی عظیم فتح تھی جس کا غم آج تک انڈیا کو ہے اور آج تک یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک حادثہ تھا ۔کشمیر میں لڑی جانے والی جنگِ آزادی ہی وہ پہلا میدان تھا جہاں سے ہمیں ان لوگوں کا پتہ ملتا ہے جو آزادی کے محافظ اور''حقیقی دیدبان ''تھے اور جن کی نظروں میں پاکستان کی سالمیت کے خواب تھے ۔
آج سترسال بعد انڈیاکشمیریوںاور پاکستانیوں کے درمیان نفرت کا بیج بونے کے لئے ہر حربہ اپنا رہا ہے مگر اس کا ہر وار کشمیر سے پاکستان کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔ سیاست اور اہل سیاست کا سوچنے کا اپنا انداز ہے مگر عوام کے دلوںمیں آج بھی اس چراغ کی روشنی ہے جسے کشمیر پر ہونے والی جنگ میں کشمیریوں نے اپنے لہو سے جلایا اور آج تک روشن رکھا ۔آج پاک فوج میں بہت بڑی تعداد میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہر رینک کے افسران اور جوان موجود ہیں اور اس حقیقت کو کون بھول سکتا ہے کہ ان میں سے بہت بڑی تعداد ان افسران اور جوانوں کی ہے کہ جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑی۔29 اکتوبر 1947ء کو جب یہ معجزاتی فوج سری نگر سے صرف چند میل دور تھی تو دشمن کو پتہ تھا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک جنون تھا جو کہتا تھا ''آج سری نگر ، کل دلی ''۔
اس جنگ میں حصہ لینے والے وہ بہادر لوگ تھے جنہوں نے کشمیر کی آزادی کی جنگ کے ساتھ تکمیلِ پاکستان کی جنگ میں بھی حصہ لیا ۔یہ لوگ عام لوگ نہیں تھے ،یہ برطانوی ہند کی فوج سے لوٹنے والے وہ بہادر سپاہی تھے کہ جنہوں نے اپنی ہمت کا لوہا مصر کے صحرائوں سے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک منوایا تھا۔ یہ کسی حادثے کی وجہ سے دفاع وطن کے لئے گھر سے نہیں نکلے تھے ۔ان میں سے کچھ تو بہت دیر تک جاپان، افریقہ اور یورپ میں جنگی قیدی رہ چکے تھے مگر پھر بھی یہ پاکستان کے دفاع میں قائم ہونے والا وہ پہلا دستہ تھا جس نے گوریلا جنگ سے کشمیر کے پہاڑوں کو دشمن کا قبرستان بنایا۔ستر سال ایک قوم کے لئے کچھ نہیں ، دنیا کی تاریخ میں تحریکیں سالوں چلتی ہیں اور بہت کم ہوتی ہیں جنہیں کامیابی ملتی ہے ، ایسی ہی کامیابی اور عظمت ان لوگوں کا مقدر بنی جنہوں نے پاکستان کو حادثہ نہیں انعام جانا اور آج تک وہ اس انعام کی حفاظت کر رہے ہیں ۔
میرے سامنے برطانوی ہند کی فوج کے ان اسیر سپاہیوں کے متعدد خطوط موجود ہیں کہ جنہوں نے بعد میں آزادی پاکستان کی جنگ لڑی اور ان میں سے بیشتر کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا۔مجھے یاد ہے کارگل کی جنگ کے دنوں میں جب سرحد سے پرچم میں لپٹے عظیم بیٹے اپنی ماں کو غموں میں نڈھال چھوڑے مادرِ وطن پر قربان ہو کر واپس اپنے اپنے آبائی گھروں کو لوٹ رہے تھے تو ہر شہید کی قبر پر لہراتا سبز ہلالی پرچم ان عظیم بیٹوںکی قربانیوں کی تصدیق کر رہا تھا۔ آزدی ٔپاکستان سے آج تک جتنے بھی عظیم بیٹے اور بیٹیاں اس ملک کی حفاظت اور آزادی کی خاطر قربان ہوئے وہ سب کے سب پاکستانی تھے اور ایک حقیقت تھے کوئی سانحہ نہیں۔ آج جب میں ان عظیم سپاہیوں کی قبروں کو دیکھتا ہوں تو ایسے لگتا ہے وہ بھی مجھے دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں''میں زندہ ہوں۔''

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
March

تحریر: جبار مرزا

جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی زیرِ نظر کتاب '' جنگ ستمبر کی یادیں'' ہماری افواج کا عظیم جذبۂ جہاد، فوج اور عوام میں اعتماد کے گہرے رشتے اور ناقابلِ فراموش واقعات پر محیط ہے۔ شاہینوںکے شہر سرگودھا سے دوارکا تک اور راجستھان سے معرکہ کھیم کرن تک دفاعِ وطن کے ایمان افروز لمحات کو جس خوبصورتی سے انہوںنے ہمارے لئے فردوسِ نظر کا سامان کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ جنگ جذبوں سے لڑی جاتی ہے۔ جنگ ستمبر بھی شجاعت اور ایثار کا اَن مِٹ نقش تھا۔ جنگِ ستمبر کی یادیں دفاعِ وطن کی ایک روشن علامت اور حیات افروز ساعتوں کا قابلِ رشک مرقع ہے۔


جناب الطاف حسن قریشی جو گزشتہ 60 برسوں سے علم و نور بانٹ رہے ہیں اور اُردو ڈائجسٹ کی صورت جس قدر انہوں نے صحافت اور ادب کی آبیاری کی اس سے کہیں زیادہ انہوںنے دفاعِ وطن کے لئے اپنا قلم وقف کئے رکھا، وہ قلم کے جرنیل ہیں انہوںنے انتہائی حکمت سے اپنے قاری کو اگلے مورچوں میں پہنچا دیا ہے۔ جنگ ستمبر کی یادوں میں اُن کا مشاہدہ ہے، مطالعہ اور اس دَور کے غازیوں سے ملاقاتوں کا احوال بھی۔ جنگ ستمبر کے حوالے سے بہت لکھا گیا باوجود اس کے جس قدر وہ بڑا معرکہ تھا جسے معرکۂ حق وباطل کا نام دیا گیا ہے، جس میں بھارت نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے6 ستمبر1965 کی صبح پاکستان پرکئی اطراف سے حملہ کردیا تھا۔ وہ لاہور کے جمخانہ کلب میں اودھم مچانے کا خواب لے کے نکلا تھا مگراس کے ٹینک افواجِ پاکستان کا سامنا نہ کرسکے اور الٹے پائوں اپنی ہی فوج کو روندتے ہوئے لوٹ گئے۔ دریائے توی ان کے ڈوب مرنے کا مقام ثابت ہوا اور باٹا پور پہنچ کر انہیں لوہے کے چنے چبانے پڑ گئے۔ میجر جنرل سرفراز کو آج بھی لاہور کے شہری اپنا محسن مانتے ہیں۔ سرگودھا کے میجر شفقت بلوچ جن کا تعلق 12 بلوچ سے تھا، ہڈیارا کے مقا م پر لاہور کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن گئے تھے اور بھارتی فوج کے لئے ہیبت کی علامت بنے رہے۔ فیلڈمارشل ایوب خان ان کے سینے پر ستارئہ جرأت سجاتے ہوئے فخر سے آبدیدہ ہو گئے تھے۔
The Pakistan Army:War Of 1965
نامی کتاب جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور میں سرکاری طور سے میجر جنرل شوکت رضا سے لکھوائی تھی۔ بالکل ویسے ہی جیسے جنرل شیر علی خان نے میجر ابراہیم قریشی سے فرسٹ پنجاب رجمنٹ کی تاریخ لکھوائی تھی۔ یہ وہی میجر ابراہیم قریشی تھے جو1965 میں 17 پنجاب کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔ جن کی سفارش پر ان کے ایلفا کمپنی کمانڈر میجر عزیزبھٹی کو نشانِ حیدر ملا تھا۔ بعد میں ابراہیم قریشی بریگیڈیئر کے عہدے تک پہنچے۔ زیرِ نظر کتاب'' جنگِ ستمبرکی یادیں'' بھی ایک قریشی مورّخ کا شاہکار ہے۔ جناب الطاف حسن قریشی کی تیسری نسل ، ایقان حسن قریشی نے کمال تدبر اور حکمتِ عملی سے الطاف حسن قریشی کی یادوں کو سمیٹنا شروع کردیا ہے۔ ایسے بکھری پڑی کرنوں کو کتابی شکل میں دینا آنے والے زمانے اور عہدِ حاضر کے جوانوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑنے کا خوبصورت انداز ہے۔

jangesepkiyadain.jpg
'جنگِ ستمبر کی یادیں' محض17 دنوں کی روداد ہی نہیں بلکہ گزشتہ 70برسوں کی کہانی ہے، یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں بھارت کا ہرمذموم حربہ واضح دکھائی دے رہا ہے۔
جناب الطاف حسن قریشی لکھتے ہیں کہ '' جنگِ ستمبر کے محرکات مجھ پر برطانوی محقق
ALASTAIR LAMB
کی چشم کشا تصنیف
INCOMPLETE PARTITION:THE GENESIS OF KASHMIR DISPUTE 1947- 48
کے مطالعے سے منکشف ہوئے۔ مسٹر لیمب کی سال ہا سال تحقیق نے وہ بنیاد ہی منہدم کردی ہے جس پر سیکولر، جمہوری اور سوشلسٹ بھارت کے وزیرِ اعظم نہرو نے بدترین دغابازی کی عمارت کھڑی کی اور سری نگر میں فوجیں اتارنے کاخود ساختہ جواز تراشا۔ 'جنگِ ستمبر کی یادیں' میں جہاں ہماری عظیم فوج اپنے فرائض کی بجا آوری کرتی، شہادت سے سرفراز ہوتی اور غازیوں میں افتخار کی علامت بن کر اُبھری، وہاں جناب قریشی صاحب نے فنونِ لطیفہ کے احباب کا ذکر بھی تفصیل سے کیا ہے، اگر ملکہ ترنم نور جہاں میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں،کہتی سُنی گئی تو رئیس امروہوی نے بھی اپنی شاعری سے ''خطہ لاہور تیرے جاںنثاروں کو سلام'' پیش کیا۔


' جنگِ ستمبر کی یادیں ' میں اس دَور میں تخلیق ہونے والے ادب اور شاعری پر سیر حاصل بات کی گئی ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جناب الطاف حسن قریشی صاحب نے انتہائی دیانت سے جنگ کی اصل صورت حال کو لفظوں کا پیراہن دیا ہے۔ یادگار بحری سفر سے چھمب جوڑیاں کی صبحِ آزادی تک، پہلے دھماکے سے سیالکوٹ کے محاذ تک، جہاں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی تھی، قدم قدم اور لمحہ لمحہ رقم کیا ہے۔ انہوں نے شہری آبادی پر بھارت کی بمباری اور آدم بیزاری سے لے کر تصادم کے بنیادی محرکات تک قاری اور قوم کو باخبر کیا ہے۔ یہ بہت سے حوالوں سے یاد رکھی جانے والی کتاب ہے۔ یہ ایک ایسی تحریر ہے جسے پڑھنے کے بعد مجھ جیسا عام شہری بھی اپنی پیرانہ سالی کے باوجود بندوق اٹھاکے محاذ پر جانے کے لئے تیار ہو جائے جہاں ہماری جان و مال، عزت و آبرو کے محافظ مورچوں میں اترے ہوئے ہیں۔کس قدر اعزاز ہے وطن پر قربان ہونا اور وطن کے لئے ہی جینا۔ جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی زبان شستہ، لہجے میں مٹھاس اور قلم شیریں آمیزہے۔ وہ جنگ کی بات بھی محبت سے کرتے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں کہیں بھی انہوں نے اُکسایا نہیں، برانگیختہ نہیں کیا، مشتعل کرنا تو ان کا اسلوب ہی نہیں، وہ ہربات، ہر واقعہ بغیر بڑھائے چڑھائے، جیسا ہے ویسا ہی لکھ دیتے ہیں۔ ان کے قلم کی صداقت اٹھ کھڑا ہونے پر آمادہ کرتی ہے۔ 'جنگِ ستمبر کی یادیں' میں جس طرح ان دنوں قریشی صاحب کا قلم متحرک رہا، اسی طرح وہ خود بھی شاید سفر میں رہے۔ کئی اخبار نویسوں، کالم نگاروں، شاعروں اور اداریہ نویسوں کو ساتھ لئے قریہ قریہ، شہر شہر، گائوں گائوںبہ نفسِ نفیس جائزہ لینے پہنچے ہوں گے۔ وہ دیکھ کر لکھتے رہے انہوں نے کبھی بھی لکھ کر نہیں دیکھا۔ 6 ستمبر1965 کو راولپنڈی کے محلہ صادق آباد میں بھارت نے ایک بارات کے مہمانوں پر بم پھینکا تو وہ ہمارے دیرینہ اور محترم دوست جناب احمد ظفر کو ساتھ لے کر صادق آباد میں دکھائی دیتے ہیں۔ جناب الطاف حسن قریشی صاحب کا ایک اور اچھوتا انداز کہ وہ جب کسی شخصیت سے اس کے تاثرات لیتے ہیں تو پھر اُنہیں اپنے الفاظ میں یوںبیان کرتے ہیں کہ جیسے ایک ماہر وکیل عدالت میں خود کا صیغہ استعمال کرکے مؤکل کی زبان بن جاتا ہے۔ 6ستمبر1965 کو دن گیارہ بجے صدرِ پاکستان محمدایوب خان کے ریڈیو پاکستان سے قوم سے خطاب کے وہ الفاظ بھی محفوظ ہیں جس پر عوام نے بآوازِ بلند نعرئہ تکبیر لگایا تھا کہ ''پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دل کی دھڑکن میں لآاِلٰہ اِلا اﷲ ُمحمّدرسول اﷲ کی صدا گونج رہی ہے اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہ ہوجائیں۔''


23 ستمبر1965 کا احوال بھی ہے جب تین بجے ریڈیو پاکستان سے صدرِ پاکستان ایوب خان کی آواز گونجی، عوام اپنے محبوب صدر کی تقریر سننے کے لئے بیتاب تھے۔ ہر ریڈیو سیٹ کے اِردگِرد عوام کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے تھے لوگوں نے صدر کا یہ اعلان بڑے تحمل سے سنا کہ جنگ بندی کے احکامات صادر کردیئے گئے ہیں، لوگوں کے جذبات میں بے پناہ ہیجان برپا تھا اور مادرِ وطن کے ناموس کی خاطر وہ میدانِ کارزار کو سرخ کردینا چاہتے تھے لیکن قوم نے عالمی امن و سلامتی کے آگے سرجھکادیا۔ پھر صدرِ محترم کے یہ الفاظ گونجے: '' ہماری مسلح افواج نے اسلامی تاریخ میں اپنے خون سے ایک نیاباب لکھا ہے۔'' اور پھر یہ آواز آئی:''یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوا ہے۔ ہمیں کسی لمحے اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے، مجھے آپ کے جذبات کا پورا احساس ہے۔''


جس طرح جنگِ ستمبر میں لیفٹیننٹ کرنل مجیب الرحمن جو بعدمیں لیفٹیننٹ جنرل اور نئی روشنی سکول کے بانی بھی ہوئے، نے ریڈیو تراڑ کھل سے ''ڈھول کا پول'' پروگرام کرکے بھارتی عوام اور فوج کو نفسیاتی جنگ میں الجھائے رکھا، اسی طرح جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی زیرِ نظر کتاب 'جنگِ ستمبر کی یادیں' ستمبر1965 کا تاریخی اور نفسیاتی جائزہ ہے۔ نئی نسل میں اس کتاب کی ترسیل بہت ضروری ہے، یہ کتاب نشانِ منزل بھی ہے، ماضی، حال اور گزرے واقعات کا انسائیکلو پیڈیا بھی۔

مضمون نگار ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
March
ایک دن پاک فوج کے ساتھ
گزشتہ دنوں ملتان کے مختلف تعلیمی اداروں کے تقریباً 500 سے زائد طلبا اور اساتذہ نے ملتان گیریژن میں فوج کے جوانوں کے ساتھ ایک دن گزارا۔ اس دورے کا مقصد نوجوان طلبا کو عسکری سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔اس دوران طلباء نے جنگی حالات میں استعمال ہونے والے ہتھیاروںاور سازوسامان کو گہری دلچسپی سے دیکھا اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔طلبا پاک فوج کے تربیتی معیار سے بہت متاثر ہوئے اور امید ظاہر کی کہ پاک فوج کی طرف سے آئندہ بھی ایسی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا رہے گا ۔

newspakfojksathaikdin.jpg 

12
March
پاک فوج کے زیرِ انتظام 'تھر' میں واٹر سپلائی لائن منصوبے کا آغاز
رپورٹ : کیپٹن عبدالسمیع قائمخانی

newspakfojkzereehtmam.jpg

صحرائے تھر کے باسیوں کے لئے قحط سالی، تپتی دھوپ اور کچی جھونپڑیوں میں زندگی گزارنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کا مسئلہ صرف غربت نہیں 'پانی' بھی ہے۔ تھر میں ہزاروں لاکھوں کنویں کھود دینا اس مسئلے کا شاید حل نہ ہو، زیر زمین پانی زیادہ تر جگہوں پر کڑوا ہے، بارشیں نہ ہوں تو یہ کنویں خشک ہوجاتے ہیں، بارشیں ہوجائیں تو بھی ایک کنواں چار یا چھ ماہ میٹھا پانی دیتا ہے۔ تھر میں پانی کے مسئلے کا حل صرف نہروں اور واٹر سپلائی لائینوں کے ذریعے تھر کے گوٹھوں اور ڈھانیوں تک پانی مہیا کیا جانا ہے۔ تھر میں سانس لیتی زندگیوں کی پیاس بجھانے کے لئے پاکستان آرمی نے 2003 میں "واٹر سپلائی لائن" کا منصوبہ شروع کیا۔ ریتلے اور ناہموار علاقے میں واٹر سپلائی لائن کو بچھانا، نا موافق زمین پرپکے واٹر پوائنٹ بنانا، اور ہر واٹر پوائنٹ سے منسلک پمپنگ سٹیشن و مشینری کی دیکھ بھال اور عام راستوں سے بہت دور گوٹھوں تک پانی پہنچانا مشکل کام تھا۔ پاکستان آرمی کی پانچویں کور کی بہترین منصوبہ بندی سے اٹھارہ ڈویژن کے زیر کمان بدین اور چھور کینٹ کے افسروں اور جوانوں کی کور ہیڈ کوارٹرز کے منصوبے پر انتھک محنت سے واٹر سپلائی لائن کا یہ منصوبہ نہ صرف مکمل ہوا ہے بلکہ ہر سال اس میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ سپلائی لائن کی کل لمبائی 1252 کلومیٹر ہے۔ جس میں 128 واٹر پوائنٹس ہیں۔ اس منصوبہ سے یومیہ0.646 سے1.3 ملین پانی تھرکے باسیوں کو سپلائی کیا جاتا ہے جس سے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد افراداور بے شمار مویشی مستفید ہوتے ہیں جو تھر کی کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہیں۔

چھورسے پرچی جی ویری اور پھر کھوکھرا پار تک 499 کلومیٹر کی یہ سپلائی لائن سینکڑوں گوٹھوں اور دو لاکھ سے زائد افراد کو پانی مہیا کرتی ہے عمر کوٹ سے نملا525 کلومیٹر، چھاچھرو سے کانٹیو اور واڑی 160 کلومیٹر اور بدین سے سنی گنی اور رحیم کی بازار 21 کلومیٹر کی یہ سپلائی لائن لاکھوں تھر کے باسیوںمیں زندہ رہنے کی اُمید پیدا کرتی ہے۔ واٹر سپلائی لائن کے شروع میں موجود پوائنٹس پر آرمی کے جوان انتظامی امور سرانجام دیتے ہیں اور ہر واٹر پوائنٹ پر انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال، مشینوں اور جنریٹر کو چلانے کے لئے مقامی افراد کو ملازمت پر رکھا گیا ہے۔ فوجی جوان اور واٹر سپلائی لائن سے وابستہ دیگر افراد دن رات اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ منصوبہ پاک فوج کی انتھک کاوشوں اور مقامی آبادی کے جذبۂ خیرسگالی سے ہی ممکن ہوپایا ہے۔

 

12
March
بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات و اسناد

گزشتہ دنوںکوئٹہ کینٹ میں واقع بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے 13ویں کورس کی تقریبِ تقسیمِ انعامات و اسناد منعقد ہوئی۔ اس کورس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 221 طلبا و طالبات نے مختلف ٹریڈز میں فنی مہارت حاصل کی۔ تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، کمانڈنٹ ای ایم ای سنٹر ، پاک فوج اور سول گورنمنٹ کے اعلیٰ افسران اور طلبا نے شرکت کی۔
بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا قیام ہیڈکوارٹرز سدرن کمانڈ کے زیر نگرانی عمل میں لایا گیا۔ جس میں
NAVTEC
، سدرن کمانڈ، وفاقی و صوبائی حکومت اور ان کے علاوہ مختلف ادارے جن میں پاکستان پٹرولیم،
OGDCL
اور
SSGC
کی بھرپور معاونت حاصل رہی ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 8241 طلبا ،جن میں 2379 طالبات بھی شامل ہیں، اس ادارے سے استفادہ حاصل کر چکے ہیں۔
تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے بلوچستا ن کے نوجوانوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کرنے پر پاک فوج کے کردار کو سراہا ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے طلبا میں انعامات اور اسناد تقسیم کرکے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

newsbaclchistaninstitue.jpg

 

12
March
سومیانی فائرنگ رینج پر جے ایف سیونٹین تھنڈر سے میزائل فائرنگ کا مظاہرہ
گزشتہ دنوں جے ایف سیونٹین تھنڈر نے سومیانی فائرنگ رینج پر فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کو فائر کر کے کم رفتار سے پرواز کرنے والے مطلوبہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا مظاہرہ کیا۔ جے ایف سیونٹین تھنڈر نے

Beyond Visual Range

اور انفراریڈمیزائل فائر کر کے کم رفتار سے پرواز کرنے والے ہدف کو ٹھیک نشانہ لگا کر تباہ کیا۔پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔چین کی معاونت سے تیار کردہ اس جدید رینج میں ایسے آلات نصب کئے گئے ہیں جو جہاز اور جہاز سے فائر کئے گئے میزائل کی پرواز اور زاویے کو جانچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔یہ مظاہرہ مختلف رفتار سے پرواز کرنے والے اہداف کو ڈھونڈ کر تباہ کرنے میں پاک فضائیہ کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ائیر چیف نے کہا کہ ہم اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں یہ غیر معمولی سنگ میل حاصل کرنے کی طاقت عطا فرمائی۔ جے ایف سیونٹین تھنڈر طیاروں سے ان جدید ہتھیاروں کاکامیاب مظاہرہ اس طیارے کی ہمہ جہت صلاحیتوں کا مظہر ہے۔یہ بات قابل فخر ہے کہ پاک فضائیہ کے چھ لڑاکا سکواڈر ن پہلے ہی فخرِ پاکستان جے ایف سیونٹین تھنڈر طیاروں سے لیس کئے جا چکے ہیں جو ملکی دفاع میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے اس مظاہرے کو کامیاب بنانے پر پاک فضائیہ اور چین کے عملے کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ قبل ازیں ائیر وائس مارشل حسیب پراچہ ائیر آفیسر کمانڈنگ سدرن ائیر کمانڈ نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا۔ پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسران کے علاوہ سول اور دفاعی عہدیداران بھی اس تاریخی موقعے پر موجود تھے۔

newsjfsevententhander.jpg

12
March
کمانڈرملتان کور کا فیلڈ فائرنگ رینجز پر فوجی مشقوں کا معائنہ
گزشتہ دنوں کمانڈرملتا ن کور لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ ڈوگر نے مظفرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز پرفوجی مشقوں کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر جوانوں نے اپنی جنگی حکمت عملی اور صلاحیتوںکا مظاہرہ پیش کیا ۔ کمانڈر ملتان کور نے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت وتربیتی معیار کی تعریف کی اور جنگی حکمت عملی ومہارت کو سراہا۔

newscrdmultancore.jpg

12
March
فرنٹیئر کور کی لیڈی سولجرز کا پنجاب رینجرز کا دورہ
باہمی تعاون کے تبادلے کے سلسلے میںفرنٹیئر کور خیبرپختو نخوا کی لیڈی سولجرز کے30رکنی وفدنے پاکستان رینجرز(پنجاب) کا دورہ کیا۔جہاں انھیں لیڈی رینجرز کے فرائض اور ان کی انجام دہی کے طریقے کارکے بارے میںبتایاگیا۔دورے کے دوران وفدنے پنجاب رینجرزہیڈکوارٹرزمیںیاد گار ِشہداء پرحاضری دینے کے علاوہ پنجاب رینجرز ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ بھی کیا اور رینجرز ایگزیبیشن ڈرل اسکواڈ کی شاندارپریڈدیکھی۔مزید برآںلیڈی سولجرزنے لیڈی رینجرز کے ہمراہ نشانہ بازی کی مشقوں میں بھرپورحصہ لیااوراپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔وفدنے مشرقی سرحدپر اگلے مورچوں کا دورہ کیااورجوائنٹ چیک پوسٹ واہگہ پر پرچم اتارنے کی تقریب بھی دیکھی۔ فرنٹیئر کور کی لیڈی سولجرزکاکہنا تھاکہ ان کے دورے کا مقصد لیڈی رینجرز کے تجربے اورپیشہ ورانہ مہارت سے مستفیدہوناتھا جواس دورے سے کماحقہ حاصل ہوا۔

newsftcorelady.jpg

12
March
کمانڈر کراچی کور کا رینجرز پوسٹوں کا دورہ

گزشتہ دنوںکمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز( سندھ ) میجر جنرل محمد سعید کے ہمراہ رینجرز کی لکھیارو اور سویاتر پوسٹ کا دورہ کیا۔ دورہ کے دوران کور کمانڈر کو ریگستانی علاقوں میںرینجرز کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے پاکستان رینجرز کے افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی ملکی سرحدوں کی نگرانی کے امور میں پیشہ ورانہ استعداد اور جذبے کو بھی سراہا۔

newscdrkarachicoreposton.jpg 

ڈی ریڈیکلائزیشن سنٹر صباؤن میں الوداعی تقریب کا انعقاد

غیو راور جفا کش قبائل نے ہمیشہ ملک کی سر بلندی کیلئے قر بانیاں دی ہیں؛خیبر ایجنسی میں دہشتگردوں کو ختم کردیا گیا ۔دولت اور تجارت سے نہیںبلکہ تعلیم ہی کی مدد سے ہم اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ، خو دپر جبر کرکے بچوں کو تعلیم دلائیں۔ ان خیالات کا اظہار کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے خیبر ایجنسی باڑہ صباؤن 2 سے 126 افراد کی تربیت مکمل ہونے پر منعقدہ الوداعی تقریب سے کیا۔ ڈی۔ریڈیکلائزیشن سنٹر (ڈی آرسی)صباؤن2باڑہ میں مجموعی طور305افراد کی کونسلنگ جا ری ہے۔ اس موقع پر کمانڈر پشاور کور کے علاوہ آئی جی ایف سی نارتھ میجر جنر ل وسیم اشرف، پو لیٹیکل ایجنٹ خیبرایجنسی اور علا قائی مشران سمیت سول و فوجی افسران شامل تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کو ر کمانڈر نے مزید کہا کہ خیبر ایجنسی میں قیام امن اور فروغِ تعلیم کے اقدامات آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے ۔

newscdrkarachicoreposton1.jpg 

12
March
ایکس سروس مین سوسائٹی کے انتخابات

لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجدشعیب صدر، لیفٹیننٹ جنرل (ر)جاوید اسلم سینیئرنائب صدر منتخب

گزشتہ دنوںپاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے 59 ویں اجلاس میں متفقہ طور پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجدشعیب کو صدر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اسلم کو سینیئر نائب صدر جبکہ میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان کو نائب صدرمنتخب کیا گیا۔ اس موقع پرلیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض احمد چشتی سے سرپرستی جاری رکھنے کی درخواست کی گئی۔ اجلاس میں پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کے صاحبزادے عبداﷲ گل کو سوسائٹی کا لائف ٹائم ممبر بنانے کی قرارداد منظور کی گئی۔ قائم مقام صدر بریگیڈیئر (ر) عبدالرئوف نے الیکشن اجلاس اور کارروائی کی صدارت کی۔ اس موقع پر جے سی اوز نے کہاکہ بہت مہنگائی ہوگئی ہے، عام فوجی کی پنشن اتنی قلیل ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا۔ 18 سال سے زائد عمر کے بچوں کا علاج بھی فوجی فائونڈیشن نہیں کرتی، جب تک بچے زیر تعلیم ہوں ان کا علاج فوجی فائونڈیشن کرے۔ نومنتخب صدر نے کہاکہ وہ ملک بھر میں اپنی سوسائٹی کو فعال کریں گے اور ایکس سروس مین کے حل طلب معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، ون رینک ون پنشن ہونی چاہئے، نئے اور پرانے ریٹائر ہونے والوں کی پنشن برابر ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے اندر 35 لاکھ سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی ہیں جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر) جاوید اسلم نے کہاکہ ملک اندرونی طور پر انتشار کا شکار ہے اور بیرونی طور پر بھی ہمیں تنہا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم اگر ہم متحد ہوں تو کوئی بھی ہمارا بال بیکا نہیں کرسکے گا۔

newsxservices.jpg

مظفر گڑھ میں فری آئی اور جنرل میڈیکل کیمپ کا انعقاد
newsxservices1.jpgگزشتہ دنوں پاک فوج کے زیر انتظام ضلع مظفر گڑھ میںتین روزہ فری آئی اور جنرل میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔جس میں پاک آرمی کے ماہرڈاکٹروں کی ٹیموں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میںمریضوں کا مفت معائنہ کیا ۔ میڈیکل کیمپ کے دوران مریضوں کے علاج معالجے کے ساتھ آنکھوں، جلد، گائنی، بچوں اور دیگر موذی امراض کے فری ٹیسٹ کئے گئے اور 100 مریضوں کی آنکھوں کا مفت آپریشن کیا گیا۔اس میڈیکل کیمپ میں تقریباً 4500مریضوں کو مفت طبی سہولیات اور مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔ علاقہ مکینوں نے پاک آرمی کی طرف سے فری آئی اور جنرل میڈیکل کیمپ کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ پاک فوج کی طرف سے ایسے اقدامات کئے جاتے رہیں گے۔

 

12
March
مشق شاہین الجزیرہ کا انعقاد

گزشتہ دنوںکراچی اینکریج ایریا میں مشق شاہین الجزیرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشق میں پاک بحریہ اور رائل بحرین نیول فورسزنے حصہ لیا۔ مشق کے دوران بحرین نیول فورسز اور پی این سپیشل آپریشنز فورسز نے پی این ایس عالمگیرپرپی این سی کنگ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے مشترکہ
HVBSS
آپریشن اوردو فاسٹ بوٹس کے ذریعے
VBSS
آپریشنز کئے۔ اس مشق کے انعقاد سے پاکستان اور بحرین کی بحری افواج کے درمیان روابط مزید مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں افواج کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے میںبھی مدد ملی۔

newsaljazeramashk.jpg

12
March
چیئرمین یورپیئن یونین ملٹری کمیٹی کی چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات
گزشتہ دنوں چیئرمین یورپیئن یونین ملٹری کمیٹی جنرل General Mikhail Kostarakos نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جنرل ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں شخصیات نے علاقائی سکیورٹی کی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔ معزز مہمان نے پاک آرمی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقے میں قیام امن کے لئے جاری کاوشوں کی تعریف کی۔

newschyouripianyounion.jpg

بہاولپور کور میں رائیڈنگ گالا 2018 کا انعقاد
گزشتہ دنوں بہاولپورکور میں رائیڈنگ گالا2018ء کا انعقاد بہاولپور پولو اینڈ سیڈل کلب میں کیا گیا۔ اس رنگا رنگ تقریب کے انعقاد کا مقصد صحت مند تفریح کے ساتھ ساتھ رائیڈنگ کلب کے ممبران کی مہارتوں سے شائقین کو رُوشناس کرانا تھا۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈر بہاولپور کور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن تھے۔ تقریب میںسول و فوجی افسران کی فیمیلیز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newschyouripianyounion1.jpg

12
March

تحریر : ڈاکٹر صدف اکبر

فاسٹ فوڈ ایک ایسا تیار کھانا ہوتا ہے جو ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ وغیرہ میں بہت جلدی تیار شدہ حالت میں پیش کیا جا سکے ۔ دیگر کھانوں کے مقابلے میںیہ خوراک عام طور پر کم غذائیت کی حامل مگر مہنگی ہوتی ہے۔ آج کل لوگوں ، بالخصوص نوجوان طبقے اور بچوں، میں فاسٹ فوڈ کھانے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جا رہاہے۔
فاسٹ فوڈ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اسکا آغازاٹھارویں صدی میں امریکہ سے ہوا۔ ابتداء میں مختلف غیر معیاری قسم کے برگر وغیرہ دستیاب تھے مگر انیسویں صدی میں وائٹ کاسل نامی پہلی فوڈ چین بنی۔ اس کے بعد میکڈونلڈ برادرز نے 1948 ء میں اپنی فوڈ چین میکڈونلڈ کا آغاز کیا۔
فاسٹ فوڈ میں بہت زیادہ یا ضرورت سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیںجو مٹاپے کا باعث بنتی ہیں اور ان کی وجہ سے کو لیسٹرو ل میں اضافہ اور ہارمونز میں تبدیلی جیسے مختلف مسائل بھی پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بہت زیادہ فاسٹ فوڈ جن میں برگر اور پیزا بھی شامل ہیں ،کے استعمال سے ڈپریشن کا مسئلہ بھی ہو جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد میں ڈپریشن کی شرح دوسرے افراد کی بہ نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتی ہے۔


مختلف فاسٹ فوڈ یعنی برگر، پیزا وغیرہ انسانی جسم میں جلدی ہضم نہیں ہوتے، جس کے باعث فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد میں دل کے امراض زیادہ پائے جاتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ کھانوں میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو خون میں کولیسٹرول پیدا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہفتے میں چار سے پانچ یا اس سے زیادہ فاسٹ فوڈ استعمال کرنے والے افراد میںدل کی بیماری کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ فاسٹ فوڈ کی تیاری کے دوران ایسے کیمیائی اجزاء بھی شامل کئے جاتے ہیں جو صحت کے لئے نہایت ہی مضر اور خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ جو کھانے والوں کو کینسر، ذیابیطس اور قبض جیسی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔


تحقیق کے مطابق ایک سال کے دوران فاسٹ فوڈ کھانے والے لوگوں کے وزن اور سائز میں دوسرے افراد کی بہ نسبت اضافہ ہو جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ میں کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے جسم کو بہت زیادہ کیلوریز ملتی ہیں اور جسم پھولنے لگتا ہے اور انسان سست ہو جاتا ہے اور جسمانی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق فاسٹ فوڈ ہمارے دماغ کی بھوک لگنے کی حس کو متاثر کر تے ہیں۔

fastfoodsehat.jpg
ٹورنٹو یونیورسٹی کے ایک تحقیقی جریدے کے مطابق فاسٹ فوڈ کے لئے استعمال ہونے والے کھانوں میں ایک خاص قسم کا کیمیکل استعمال ہوتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہوتا ہے اور یہ کیمیکل انسانی خون میں آسانی سے منتقل ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا کرتا ہے۔
ایک اور عالمی رپورٹ کے مطابق زیادہ فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد میں دمہ اور الرجی کی بیماری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ پیزا چھوٹے بچوں کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے جسم اور دماغ دونوں نشوونما کے مراحل سے گزررہے ہوتے ہیں اور اس میں موجود نقصاندہ مادے ان کی بڑھتی ہوئی ذہنی نشوونما اور جسمانی صلاحیتوں کو روک دیتے ہیں اور ان کی صحت مندانہ نشوونما کو ٹھیک طریقے سے مکمل نہیں ہونے دیتے ہیں۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق جنک فوڈ کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد انتہائی مضر صحت اثرات کے شکار ہو سکتے ہیں۔
Phthalates
نامی کیمیکل جو ایک صنعتی کیمیکل ہے اور فوڈ پیکنگ مٹیریل اور فاسٹ فوڈ کی تیاری کے لئے دیگر اشیاء میںاستعمال کیا جاتا ہے جب فاسٹ فوڈ استعمال کرنے والے افرادکا طبی معائنہ کیا گیا توان میں
Phthalates
نامی کیمیکل کی سطح میں اضافہ پایا گیا۔ جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ کیمیکل دمہ ، چھاتی کے سرطان سمیت متعد امراض کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ جبکہ تحقیق کے مطابق انسانی جسم اس کیمیکل
Phthalates
کو ہضم بھی نہیں کرپاتا ہے۔ جس کی وجہ سے نظام ہاضمہ میں بھی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور یہ انسانی جسم میں ہارمونز کے نظام کو نقصان پہنچا کر مختلف امراض کا باعث بنتا ہے۔ بہت کم عمری یعنی دو سے تین سال کی عمر میں ایسے کھانے استعمال کرنے سے دمہ کا خطرہ انتالیس فیصد ہوتا ہے جبکہ چھ سے سات سال کی عمر میں فاسٹ فوڈ کھانے سے دمہ ہونے کے امکانات ستائیس فیصد تک ہو تے ہیں۔ جرمنی کی یونیورسٹی آف ہون کی ایک تحقیق کے مطابق فاسٹ فوڈ یعنی برگر، پیزا اور فرنچ فرائز وغیرہ کے استعمال کے بعد جسم کا مدافعتی نظام فاسٹ فوڈ کے ساتھ وہی کارروائی کرتا ہے جو وہ بیکٹریا کی وجہ سے ہونے والی انفیکشن سے نمٹنے کے لئے کرتا ہے۔ جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ انسانی جسم فاسٹ فوڈ کو دراصل مضر صحت بیکٹریا سمجھ کر اس کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور اس کی وجہ سے مدافعتی نظام کا حساس ہو جانا ، آنتوں کی سوزش ، جلن اور ذیابیطس سے متعلق مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔تحقیق کے مطابق اکثر فاسٹ فوڈ کھانے کے باعث جسمانی، دفاعی نظام کے خلیات وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر لیتے ہیں جس کے نتیجے میں سنگین مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ معدے کا سرطان، جسے
Peptic Ulcers
کہتے ہیں، بھی فاسٹ فوڈز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ مصالحہ دار، زیادہ مرچ مصالحوں والے کھا نے اور پیزا ، چپس اور زیادہ نمکیات اور مرچوں والے مختلف اسنیکس ذہنی تنائو اور السر کا باعث بن رہے ہیں۔یہ خون کے دبائو ، جگر کی کارکردگی اور خون کے خلیوں اور ان کی گردش پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ذہنی تنائو اور ہائپر ٹینشن کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔


انسانی معدے میں صحت کو بہتر رکھنے میں مدد فراہم کرنے والے بیکٹریا کی تقریباََ ساڑے تین ہزار مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔ کنگز کالج لندن کی ایک تحقیق کے مطابق صحت مند اور متوازن غذا کے استعمال کے بجائے ہر وقت فاسٹ فوڈ کا استعمال معدے میں موجود ان بیکٹریا کی ایک تہائی تعداد کو ختم کر دیتا ہے اور بیکٹریا کی تعداد میں عدم توازن کے نتیجے میں جسم میں موجود اہم معدنیات جذب نہیں ہو پاتے اور مختلف امراض جیسے ذیابیطس ، امراض قلب اور کینسر وغیر ہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ایک تحقیق کے مطابق زیادہ چربی اور مٹھاس والی غذائیں جگر اور معدے کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں اور ان فاسٹ فوڈز میںموجود چربی اور چینی کا زیادہ استعمال کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ میں ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد جوڑوں کے درد جیسے تکلیف دہ امراض کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گنٹھیا، جو کہ ہڈیوں کے جوڑوں کی بیماری ہے اوراس میں یورک ایسڈ کی زیادہ مقدار خون میں شامل ہو جاتی ہے جس سے جِلد سوجن کا شکار ہو جاتی ہے، سرخ گوشت ، سافٹ ڈرنکس ، فرنچ فرائز، چینی اور چربی والی اشیاء کا زیادہ استعمال اس مرض کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق سرخ گوشت کے قتلوں کا زیادہ استعمال دل کے امراض سے موت کے خطرے کو چوبیس فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ روزانہ سو گرام سے زیادہ گوشت کے استعمال سے مثانے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ سترہ سے انیس فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ چھاتی کے سرطان کے امکانات گیارہ فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ گوشت کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر پکانا ہے۔


فاسٹ فوڈ کلچر ہماری صحت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور اس سے بچائو کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں اس کے نقصانات کو اجاگر کیا جائے اور صحت بخش سادہ اور روایتی کھانوں خصوصاً گھر کے کھانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ خاص طورپر چھوٹے بچوں کو فاسٹ فوڈ سے دور رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ قدرتی کھانوں کی اہمیت اور ضرورت کو بتایا جائے اور گھروں کے لان میں سبزیاں اگانے کی روایت کو زندہ کیا جاناچاہئے۔ اور ا پنے روزمرہ کے کھانوں میں تازہ سبزیوں ، پھلوں ، دودھ اور مختلف غذائیت سے بھر پور اشیاء کا استعمال کریں۔ کیونکہ فاسٹ فوڈ کے استعمال کو ترک کئے بغیر مختلف بیماریوں سے تدارک اور ان کی روک تھام ممکن نہیں ہے۔

مضمون نگار دادا بھائی انسٹیٹوٹ آف ہا ئر ایجوکیشن میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات میں لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

jahanpanah_filler.jpg

*****

 
12
March

تحریر: ڈاکٹر وقار احمد

کرئہ ارض پر پانی کی کل مقدار چودہ لاکھ 3 کے ایم ہے، جو کہ ایک بہت بڑی مقدار ہے، تاہم پانی کے اس عظیم ذخیرے کا 97.6 فیصد سمندر کی شکل میںہے، جو کہ ناقابل استعمال ہے۔ جبکہ صرف 2.4 فیصد میٹھا پانی ہے، جس کا 87 فیصد برف کی صورت میں جما ہوا ہے جو زیادہ تر گلیشیرز کی شکل میں ہے۔ سردیوں میں ان کے حجم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور گرمیوں میںپگھل کر ان کا پانی دریائوں میں شامل ہوجاتا ہے۔گویا گلیشیئرز پانی کے اہم ذخیرے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے جاری موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر مختلف اداروں اور ماہرین کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ 2017 میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ ایک بار پھر اس وقت انٹارکٹیکا پر مرکوز ہوئی جب وہاں دو بہت بڑے گلیشیئرز جولائی اور ستمبر میں ٹوٹ کر قطب جنوبی کی برف سے الگ ہو گئے۔ واضح رہے کہ مئی تا ستمبر وہاں سردیوں کا موسم ہوتا ہے۔


پاکستان میں بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے۔ ان اثرات میں سیلاب، خشک سالی، قدرتی وسائل کا ضیاع اور گلیشیئرز کا پگھلنا شامل ہیں۔گویا آنے والا وقت پاکستان کے لئے شدید مشکلات لاسکتا ہے۔ ان میں ایک بڑا مسئلہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے پانی کی کمی ہوگا۔ پانی کی کمی کہاں اور کیسے ہوگی اس کو سمجھنے کے لئے ملک میں موجود گلیشیئرز کو سمجھنا ہوگا۔


ہندو کش، ہمالیہ اورقراقرم کے عظیم پہاڑی سلسلوں میں دنیا کے کئی بڑے گلیشیئرز موجود ہیں۔ انہیں "واٹر ٹاورز آف ایشیا" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ ہزاروں سال سے پورے خطے کو تازہ پانی فراہم کر رہے ہیں۔ ان سے افغانستان، پاکستان، چین، بھارت، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور برما منسلک ہیں، اس طرح تقریبا سوا ارب انسانوں کی زندگیوں کا دارومدار انہی گلیشیئرز پر ہے۔1951میں پاکستان میں پانی کی دستیابی 5650 m3 فی کس سالانہ تھی، جبکہ موجودہ دور میں کم ہوکر یہ صرف 800 m3 فی کس رہ گی ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باعث یہ بات انتہائی تشویشناک ہے۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو قطب شمالی سے اتنے فاصلے پر ہونے کے باوجود اتنے زیادہ گلیشیئرز کا ملک ہے، 2010 میں چھپنے والے مقالے ''گلیشیئرز آف پاکستان'' کے مطابق ملک کے شمالی علاقہ جات میں 15000 مربع کلومیٹر رقبے پر5000 چھوٹے بڑے گلیشیئرز موجود ہیں۔ ان میں سب سے بڑے گلیشیئرز میں سیاچن(76کلومیٹر)، ہسپار( 63کلومیٹر)، بیافو (67کلومیٹر) وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کی سب سے بلند ہائی وے بھی اسی علاقے میں ہے، جو کہ اسکولی (شگر) سے لے کر ہسپار (نگر) کے درمیان 100 کلومیٹر طویل ہائی وے ہے، یہ سطح سمندر سے 5128 میٹر کی بلندی پر ہے۔
تاہم ہمالیہ کے گلیشیئرز کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور انسانی نقل و حمل کی وجہ سے یہاں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے یہ پگھل رہے ہیں اور ان کا حجم کم ہو رہا ہے جبکہ قراقرم کے بارے میں متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں۔

glashierpaniki.jpg
2014 کے ایک سائنسی جریدے میں چھپنے والے آرٹیکل میں انجنیئر سید نسیم عباس گیلانی نے سیاچن، بلتورو اور بیافو گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلی کا تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق محض دس سال کے عرصے (1990-2000) میں اس خطے کا درجہ حرارتoC 1.78 بڑھ گیا ہے اور اس دوران سیاچن گلیشیر 11%، بلتورو 6% اور بیافو% 3.8 سکڑ گئے ہیں۔ یہاں یہ بات نہایت تشویشناک ہے کہ محض دس سال میں اگر یہ رفتار ہے تو آنے والے وقت میں یہ کتنی تیزی سے سکڑیں گے۔اس سلسلے میں کام تیزی سے ہو رہا ہے اور دنیا بھر میں گلیشیئرز اور خصوصاً اس خطے کے گلیشیئرز مرکزِتحقیق بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح دیگر کئی تحقیقی مقالے ملتے ہیں جن میں کچھ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور کچھ ان سے متضاد یعنی ان کے مستحکم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم ماہرینِ ماحولیات کے مطابق دشوار موسم کی وجہ سے صحیح تحقیق کرنا مشکل ہے اور سائنسدان خلا سے لی گئی تصویروں اور محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے متاثر ہونے میں دو عوامل شامل ہیں۔ ایک توعالمی سطح پر بڑھنے والی گرمی اور دوسرا گلیشیئرز سے متصل علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی انسانی نقل و حمل۔ اس تناظر میں اگر پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں جنگلات کا تیزی سے صفایا ہو رہا ہے۔جس سے علاقائی سطح پر گرمی بڑھتی ہے اور لینڈ سلائڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ سوشل اور پرنٹ میڈیا کے مطابق بگروٹ، دیامر اور گلگت ڈسٹرکٹ کے دیگر علاقوں میں جنگلات کی حالیہ کٹائی سے لینڈ سلائڈنگ کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے نہ صرف گلیشیئرز متاثر ہو رہے ہیں بلکہ نشیبی علاقوں میں سیلاب آنے جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔جس سے شاہراہیں، پل، کھیتی باڑی اور دیگر املاک کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے۔


ان عوامل کے علاوہ سیاچن گلیشیئر کے دونوں اطراف فوجی سرگرمیاں بھی گلیشیئرز کو متاثر کر رہی ہیں۔ 1984 میں بھارت کی جانب سے سیاچن پر پیش قدمی کے بعد سے دونوں ممالک کی فوجیں اس جگہ آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ اور اس طرح 13000-22000 فٹ کی اونچائی پر دنیا کا سب سے بلند محاذ جنگ بھی یہی جگہ ہے۔ 2003 میں ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود دونوں ملکوں کی فوجیں یہاں موجود ہیں تاہم اس کے زیادہ حصے پر بھارت کی فوج قابض ہے اور

BBC

کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت اب تک سردی کی وجہ سے تین سے پانچ ہزار فوجی گنوا چکا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کی بھاری نقل و حمل ان گلیشیئرز کو کس قدر متاثر کر رہی ہے۔
گلگت بلتستان
EPA
(محکمہ ماحولیات) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر خادم حسین گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجوہات یہاں کے بدلتے ہوئے انسانی عوامل کو بتاتے ہیں مثلاً سیاحت میں اضافہ، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد وغیرہ شامل ہے۔ گاڑیوں کے دھو ئیں سے کاربن سمیت مختلف گیسیں خارج ہوتی ہیں، جس سے علاقائی سطح پر گرمی بڑھ رہی ہے۔ کاربن جب برف پر جمتا ہے تو سورج کی گرمی تیزی سے جذب کرتا ہے اور پگھلنے کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔ گلیشیئرز کے قریبی علاقوں میں تعمیرات اب روایتی طرز کے بجائے کنکریٹ سے کی جارہی ہیں، جو کہ شمسی حدت کو جذب کرکے گرمی کا باعث بنتی ہے۔اس کے علاوہ برف کی براہ راست کٹائی اور گلگت کے بازاروں میں فروخت بھی ایک نقصان دہ عمل ہے، محکمہ ماحولیات کی ایک تحقیق کے مطابق سالانہ تقریبا 80,000 ٹن گلیشیئرز کی برف گلگت بلتستان کے بازاروں میں فروخت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ مقدار گلیشیئرز سے کاٹی گئی برف کا 20-25 فیصد ہوتی ہے باقی برف کٹائی اور ترسیل کے دوران ضائع ہو جاتی ہے۔


پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پانی ہماری معیشت کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اگر ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں کو انسانی نقل و حمل سے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچتا ہے تو یہ نہ صرف ہمارے لئے قومی نقصان کا باعث ہوگا بلکہ ہماری معیشت اور 20کروڑ افراد کی زندگیوں کو متاثر کرے گا۔ 2010-2011 کے سیلاب سے جو نقصانات ہوئے تھے وہ آنے والے ماحولیاتی نقصانات کی صرف ایک جھلک تھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت شمالی علاقہ جات کے قدرتی ماحول کو تحفظ دینے کے لئے اقدامات تیز کرے اور قومی اور بین الاقوامی ماہرین ماحولیات کی رائے سے ایک بھرپور پروگرام شروع کرے جو تمام ترقیاتی کام پائیدار ترقی
(sustainable development)
کے اصولوں کے تحت کریں۔

 

عزمِ پاکستان

آئو مل کر پاکستان کو پاکستان بنائیں
یہ ہے شان ہماری، ہم سب اس کی شان بڑھائیں

امن و محبت اور رواداری کی شمعیں لے کر
ساری دنیا کو اپنا روشن چہرہ دکھلائیں

رب پہ بھروسہ، خود پہ یقیں ہے، عزم ہے اپنا عالی
علم و عمل کی طاقت سے ہم آگے بڑھتے جائیں

سانجھی خوشیاں ، سانجھے غم ہیں اور سانجھا مستقبل ہے
روشن پاکستان کی خاطر ہم سب ایک ہو جائیں

قائم رہنے کی خاطر یہ دیس بنا ہے، اس کو
قائد اور اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنائیں

maj_ahmed_nawaz.jpg

احمد نواز

*****

 
12
March

سیدہ شاہدہ شاہ

نائیک طالب حسین شہید کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی اور اس کے تین بیٹے ہیں۔ سب سے چھوٹا بیٹا ارقم علی اپنے بابا سے بہت پیار کرتا ہے اب بھی اکثر ضد کرتا ہے کہ پاپا کو مس کال دیں وہ میرے ساتھ بات کیوں نہیں کرتے۔

جہلم سے راولپنڈی، اسلام آباد بذریعہ جی ٹی روڈ جائیں تو دینہ، پھر ڈومیلی آتا ہے۔ اس سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر سوہاوہ کا وہ شہر آتا ہے جہاں محلہ نئی آبادی ڈھیری وارڈ نمبر5 کے قبرستان میں 19 پنجاب رجمنٹ کا وہ مایہ ناز اور بہادر سپوت شہادت کا جام پیئے ، سبز ہلالی پرچم کا کفن اوڑھے ایک قبر میں ابدی نیند سو رہا ہے جسے آرمی والے اور اس کے گائوں والے نائیک طالب حسین کے نام سے جانتے ہیں۔ پہلے پہل اُسے اپنے محلے، اپنے بچپن کے ساتھی، اپنے عزیز و اقارب یا19 پنجاب رجمنٹ کے لوگ ہی جانتے تھے مگر شہادت کے رُتبے پر فائز ہوتے ہی اُسے اب پورا پاکستان جاننے لگا ہے اور سوہاوہ شہر کو اب نائیک طالب حسین شہید کی بدولت بھی لوگ برسوں یاد رکھیں گے۔

huyjowatenpey.jpg
نائیک طالب حسین19 اکتوبر 1983کو سوہاوہ میں پیدا ہوا۔ اُسے بچپن سے فوج میں جانے کابے حد شوق تھا۔ میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں میں پاس کیا اور کالج میں داخلہ لے لیا مگر عروسِ شہادت اُسے میدانِ شہادت میں بلا رہی تھی۔ چنانچہ اُس نے تعلیم ادھوری چھوڑدی اور فوج میں بھرتی ہونے کے لئے چلا گیا۔ تاہم کسی وجہ سے وہ مطلوبہ معیار پر پورانہ اُتر سکا۔ اس ناکامی سے وہ مایوس نہ ہوا بلکہ کچھ عرصہ توقف کرکے وہ اپنے کزن یاسر محمود کے ساتھ لاہور چلا گیااور دوبارہ آرمی جوائن کرنے کے لئے پھر سے امتحان دیا۔ جس میں طالب حسین پاس ہوگیا۔ مگر اس کا کزن یاسر محمود فیل ہوگیا۔ طالب حسین اپنی اس خوش قسمتی اور کامیابی پر پھولے نہ سمایا اور ٹریننگ کے لئے پنجاب سنٹرمردان چلا گیا۔


طالب حسین اپنے والدین کا اکلوتااور لاڈلا بیٹا تھاتاہم باوجود لاڈلے پن کے اُس میں کسی قسم کا بھی کوئی بگاڑ نہ تھا۔ انتہائی فرمانبردار اور نیک بچہ تھا۔ ٹریننگ کے بعد طالب حسین کی پوسٹنگ 19 پنجاب رجمنٹ میں ہوگئی۔ وقت گزرتا رہا اور طالب حسین نائیک کے عہدے تک جا پہنچا۔ اوراپنے اگلے عہدے یعنی حوالدار کے لئے بھی کوالیفائی کرلیا۔
یوں تو پاک آرمی کے تمام محاذ انتہائی مشکل سمجھے جاتے ہیں مگر دنیا کا سرد ترین سیاچن گلیشیئر کا محاذ وہ دشوار اور مشکل ترین محاذ سمجھا جاتا ہے جہاں موسم دشمن سے بھی زیادہ مہلک اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ہر لمحہ چلنے والی یخ بستہ ہوائوں کے جھکڑ انسانی اجسام کو چھید ڈالتے ہیں۔ اگر مخصوص قسم کا لباس نہ پہنا جائے تو برفانی ہوائیں جسم کے اس ننگے حصے کو یوں شدید نقصان پہنچاتی ہیں کہ مجبوراً جسم کا وہ حصہ کاٹ ڈالنا پڑتا ہے۔ دن کو سورج کی چمکتی ہوئی دھوپ اس گلیشیئر کو یوں چکا چوند کردیتی ہے کہ اگر مخصوص قسم کی گاگلز نہ پہنی جائیں تو برف پر پڑتی ہوئی سورج کی دھوپ سے آنکھوں کی بینائی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ طالب حسین نے اس سخت ترین اور سرد ترین محاذ پر تین سال گزارے۔ ہر فوجی کی طرح شہادت کا شوق اور وطن سے شدید محبت اس کا بھی طرئہ امتیاز تھی۔


سوات کے آپریشن کے بعد کشمورمیں بھی نائیک طالب حسین نے اپنے فرائض انتہائی تندہی سے انجام دیئے۔کشمور کے بعد یونٹ کی پوسٹنگ وانا (جنوبی وزیرستان) میں ہوگئی۔
'وانا'جانے سے پہلے نائیک طالب حسین ایک ماہ کی چھٹی پر آیا۔ اُس کے گھر والے اور دوست احباب بتاتے ہیں کہ جب وہ اس بار گھر آیا تو خاموش خاموش اور سنجیدہ سا تھا۔ البتہ شہادت کی باتیں پہلے سے زیادہ اُس کے لبوں پر تھیں۔ کچھ ہی دنوںبعد عید تھی۔ نائیک طالب حسین تمام گھر والوں کے ساتھ باہر گھومنے پھرنے اور سیرو تفریح کے لئے نکل گیا خوب گھومنے پھرنے کے بعد ایک ہوٹل میں کھانا کھایا اور ساتھ یہ کہا کہ میں آنے والی عید آپ کے ساتھ نہیں منائوں گا اس لئے میری طرف سے ایڈوانس عید مبارک اور یہ کھانا بھی اسی خوشی میں ہے۔

huyjowatenpey1.jpg
4اگست 2017 کو اس کی چھٹی ختم ہوگئی اور وہ واپس اپنی یونٹ میں چلاگیا اور اُن کی یونٹ ''وانا'' چلی گئی۔
یہ22اگست2017 کا دن تھا۔ آپریشن پر جانے سے پہلے اُس نے صبح سات بجے گھر فون کیا۔ سب سے فرداً فرداً بات کی پھر آپریشن پر جانے کے لئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھا۔ ہیلی کاپٹر کے ٹیک آف سے پہلے اُس نے سب دوستوں کو آخری میسج کیا۔ کہ ''گڈبائے آل فرینڈز'' اس کے بعد موبائل فون آف کردیا۔
آپریشن ایریا میں پہنچ کر نائیک طالب حسین سمیت دوسرے جانبازوں کو رسّے کی مدد سے آپریشن ایریا میں اُترنا تھا۔ سب سے پہلے نائیک طالب حسین کی باری تھی۔ جب ہیلی کاپٹر مطلوبہ بلندی پر آگیا تو نائیک طالب حسین نے دل ہی دل میں اﷲ کو یاد کیا اور کھلے ہوئے دروازے سے رسّے کی کی مدد سے نیچے اُترنا شروع کیا۔ ابھی وہ زمین سے چالیس فٹ اوپر ہی تھا کہ گھات میں بیٹھے ہوئے دہشت گردوں نے فائر کھول دیا اور تین گولیاں نائیک طالب حسین کے جسم میں پیوست ہوگئیں۔ پائلٹ صورتِ حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے ہیلی کاپٹر کو فوراً گولیوں کی رینج سے دُور اُوپر لے گیا۔ ساتھ ہی رسہ کھینچ کر طالب حسین کے زخمی جسم کو اُوپر ہیلی کاپٹر میں لے جایاگیا۔ تین گولیاں لگنے کے باوجود نائیک طالب حسین ہوش میں تھا اور اُس نے پانی مانگا۔ اپنے ہاتھ سے 'واٹربوتل' منہ سے لگائی اورپانی پی کر بوتل واپس کرتے ہوئے لمبے لمبے سانس لئے اور بچپن سے شہادت کے طلبگار نائیک طالب حسین نے 22 اگست 2017کے دن 3بج کر 10 منٹ پر اپنے فرض کی انجام دہی میں جامِ شہادت نوش کیا۔ نائیک طالب کی شہادت کے باوجود مشن کو
Abandon
نہیں کیا گیا اور نئی سمت سے دشمن پر حملہ کیاگیا اور بالآخر اس پہاڑی چوٹی کو دشمن سے خالی کرا یا گیا۔
شہید کی والدہ نے بتایا کہ طالب حسین کے والد محمد یعقوب کی بڑی خواہش تھی کہ اُن کا اکلوتا بیٹا فوج میںشامل ہو کر مادرِ وطن کی خدمت انجام دے۔طالب حسین کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی اور اس کے تین بیٹے ہیں۔ سب سے چھوٹا بیٹا ارقم علی اپنے بابا سے بہت پیار کرتا ہے اب بھی اکثر ضد کرتا ہے کہ پاپا کو مس کال دیں وہ میرے ساتھ بات کیوں نہیں کرتے۔
جس وطن کی دھرتی کے نائیک طالب حسین جیسے جانباز بیٹے ہوں اُسے دُنیا کی کوئی بھی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ کبھی بھی نہیں!!

 
 
12
March

تحریر: ڈاکٹرحمیرا شہباز

سپاہی راجہ غلام جیلانی

''پاکستان انڈیا کا میچ تھا۔ آپ کو پتہ ہے یہ کرکٹ میچ جنگ سے کم نہیں ہوتا اور ہم جنگ جیت گئے۔ میں خوشی کے مارے گھر کی چھت پر چڑھ گیا۔ گھر کی خواتین خالہ کے ہاں میلاد پرگئی ہوئی تھیں۔ اسی وقت ہمارے کوئی عزیز جو بہت سالوں سے ہم سے ناراض تھے، ہمارے گھر آئے۔ انہوںنے مجھے چھت سے اُترآنے کو کہا لیکن میں نے ذرا دیر لگائی۔ پھر انہوںنے کہا 'اوئے نیچے آ، جیلانی شہید ہوگیا ہے۔' پھر مجھے نہیں پتا کہ میں کیسے نیچے آیا۔ بھاگا سیدھا قبرستان کی طرف لیکن پھر خیال آیا کہ میں یہ کیا کررہا ہوں۔'' سپاہی غلام جیلانی شہید کے بھائی، غلام ربانی نے بتایا۔
یکم اگست کی صبح سپا ہی غلام جیلانی کے گھر والوں سے ملاقات طے پائی تھی۔ ہماری گاڑی کورال چوک سے روات کی جانب مڑ گئی۔ دوہری سڑک کی درمیانی پٹی پر نوجوان کشمیری شہید برہان وانی کی برسی کے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک چھوٹا سا پل پار کیا اور گاڑی بائیں جانب کورال پٹرول پمپ کی طرف مڑ گئی۔ پٹرول پمپ کے بائیں جانب سے جانے والی سڑک پر ہم بڑھتے رہے۔ دور مارگلہ کی پہاڑیاں بادلوں میں چھپن چھپائی کھیل رہی تھیں۔ بار بار شہید کے گھر والوں کا خیال آرہا تھا کہ جانے کون کون ہوگا وہاں؟ ملاقات کا رنگ کیا ہوگا؟

madrewatenka.jpg
راستہ بہت ہموار نہیں تھا اس لئے گاڑی کو ہوا سے باتیں کرنے کی کچھ خاص فرصت نہیں مل رہی تھی۔ افتاں وخیزاں راہگزر پر بڑے آرام سے اطراف کا تنقیدی جائزہ لیا جاسکتا تھا۔ خال خال کوئی انسان نظر آرہا تھا۔ اکا دکا کوئی گھر۔ کہیں چھوٹی چھوٹی آبادیاں۔ دن کے ساڑھے دس تو بج رہے تھے۔ بس راہ پڑتے چھوٹے بازاروںمیں کوئی کوئی دکان کھلی تھی۔ راستے میں ایک عمارت کی دیوار پر سپاہی غلام جیلانی شہیدکا بڑاسا پوسٹر لگا ہوا تھا جسے میں پورا نہیں پڑھ سکی۔ تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد ڈرائیور نے گاڑی الٹے ہاتھ کچے میں اتار لی۔ ایک خوبصورت سے گھر کے سامنے غلام جیلانی کے بھائی غلام ربانی نے ہمارا استقبال کیا۔ محراب نما داخلی راستے سے گزرکر ایک وسیع مہمان خانے میں مجھے بٹھایاگیا۔
کچھ ہی منٹ میں شہید کی والدہ، خالہ، بہن، بھتیجی، بھابھیاں، بھائی آگئے، خوب رونق لگ گئی۔ سب اپنے اپنے سے دکھائی دیئے اور اجنبیت تو کسی کی بھی آنکھوں سے نہیں جھلک رہی تھی۔


''میں اپنی بہن کے گھر پر تھی۔ پاس ہی اس کا گھر ہے۔ اس نے پیٹ درد کی شکایت کی تو اس کے لئے سفید پودینہ توڑنے نکل گئی۔ دور گھر کی چھت سے بیٹے نے آواز دی کہ اماں گھر آجا۔ واپس پہنچی تو ماں کے رونے کی آواز آرہی تھی۔ میںنے سوچا اتنی سی دیرمیں کیا ہوگیا۔ پتا چلا کہ جیلانی شہید ہوگیا ہے۔ اس کے ابو 'دیگر ویلے' کی نماز کی تیاری کررہے تھے۔ لوٹا پکڑے وضو کے لئے جارہے تھے۔ بس جیلانی کی شہادت کا سنتے گئے اور آج تیرہ سال ہونے کو ہیں، خاموش سے ہیں۔''سپاہی غلام جیلانی شہید کی والدہ نے خود ہی آہستہ آہستہ بات کا رخ میری آمد کے مقصد کی جانب موڑا۔


''تیرہ سال ہوگئے، ابھی کل کی بات لگتی ہے۔ وہ عاشورہ کے دودن کی چھٹی پر آیا تھا اور پھر پانچ چھ دن بعد اس کو ہمیشہ کے لئے لایا گیا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ کس فوجی اعزاز سے اس کا تابوت آیا۔ پورا گائوں اس پر پھول برسا رہا تھا۔ فوج نے سلامی پیش کی۔'' شہید کی ماں بتاتی رہیں۔
''بہت کم عمر تھا میرا بچہ۔ یہی کوئی اٹھارہ اُنیس برس کا۔ اس کو بہت شوق تھا فوج میں جانے کا۔ اس کا چاچا بھی فوجی ہے۔ بس زندگی کی بات ہے۔ اس نے کم عمری میں یہ رتبہ پانا تھا۔ ''وہ صبر کا پیکر بنی بتا رہی تھی۔


''میں نے غلام جیلانی کو بہت سمجھایا کہ ابھی تم پڑھائی کرو۔ فوج میں تو بعد میں بھی بھرتی ہو سکتے ہو۔ میںنے اپنے ساتھ اس کا بھی اصغرمال کالج، راولپنڈی میں داخلہ کروادیا۔ میں تو خاندانی مسائل کے سبب آگے نہ پڑھ سکا لیکن اس نے ایف اے کر لیا اور فوج میں بھرتی کا امتحان بھی بغیر بتائے دے دیا۔ فوج میں جانے سے کچھ دن پہلے ہی تو اس کا شناختی کارڈ بنا تھا۔ بہت چھوٹا تھا جی وہ۔'' غلام ربانی کے چہرے پر چھوٹے بھائی کے لئے شفقت اُمڈ رہی تھی، جیسے اس کا اب بھی چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلنے کو جی چاہ رہا ہو۔
''بس اﷲ کے خاص بندے کچھ الگ ہی ہوتے ہیں۔ وہ بہت معصوم، خوش مزاج اور سب سے الگ، بڑا ہی فرمانبردار تھا۔ اتنی پیاری باتیں کرتا تھا۔ ہم نے تو کہا تھا کہ چھوٹا ہے فوج میں ابھی نہ جائے، یہ نہ ہو کہ جی نہ لگے اور بھاگ آئے، ایسے ہی خاندان بھر میں بدنامی ہوگی۔ لیکن وہ تو ہم سب کی عزت بڑھا گیا۔'' غلام جیلانی کی خالہ، جو کہ اس کی چچی بھی تھیں، بتانے لگیں۔


غلام ربانی نے اعتراف کیا کہ پاک فوج نے کبھی اس کے بھائی کی قربانی کو فراموش نہیں کیا۔ ان کا فوج سے مسلسل رابطہ ہے، مختلف مواقع پر اُنہیں مدعو کیا جاتا ہے۔ اس نے چند اعزازی شیلڈز اور پاک فوج کے مختلف افسران کے خط دکھائے جو مختلف مواقع پر شہید کی والدہ کا حوصلہ بڑھانے ، ان کی قربانیوں اور ان کے بیٹے کی شہادت کی پاسداری میں لکھے گئے تھے۔ یہی ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ شہید کے بھائی نے بہت سرشاری سے کہا۔
ان میں سے چند خطوط کے اقتباسات:


''ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آپ کے بیٹے نے احساسِ ذمہ داری کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے ملک و قوم کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ میں بحیثیت بارہ پنجاب اور کرنل انچیف پنجا ب رجمنٹ آپ کے دُکھ میں برابر کا شریک ہوں۔''
(جنرل محمدعزیز خان ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی،
22 مارچ 2004 ئ
''گزشتہ دنوں آپ کے بیٹے سپاہی غلام جیلانی نے اپنے عسکری فرائض کی انجام دہی کے دوران عظیم قربانی دی اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ انا ﷲ وَانا الیہِ راجعون۔ شہید نے فرض کی ادائیگی میں جس جرأت اور بلند حوصلے کا مظاہرہ کیا، وہ پاک فوج اور میرے لئے انتہائی فخر اورسعادت کا باعث ہے۔ میں شہید کی فرض شناسی،دلیری اور ایثار کے جذبے کی قدر کرتا ہوں۔''
(جنرل محمدیوسف خان، وائس چیف آف آرمی سٹاف، مورخہ14 اپریل 2004)
''جہاں مجھے سپاہی غلام جیلانی جیسے ہر دل عزیز ساتھی اور ایک نہایت دلیر جوان کے بچھڑنے کا افسوس ہو رہا ہے، وہاں میں اس قابلِ بھروسہ اور ایک نیک انسان کا کمانڈنگ آفیسر ہونے کے ناتے انتہائی فخر محسوس کررہا ہوں۔ سپاہی غلام جیلانی نے جس انداز سے یونٹ میں زندگی گزاری، وہ ہرجوان کے لئے قابلِ مثال ہے۔ انہوںنے اپنی سروس کے دوران ہمیشہ اعلیٰ کردار اور بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا۔ ایسے عظیم انسان کی والدہ ہونے پر آپ کو یقینی طور پر فخر ہونا چاہئے۔''
(لیفٹیننٹ کرنل محمدانور مسعود ،12 پنجاب، 31 مارچ2004)
کمسن شہید محبت کرنے والا حساس دل اور مضبوط کردار کا حامل تھا۔ اس کی شہادت کے بعد فوج نے اس کا جوسامان واپس کیا اس میں ایک چھوٹی ڈائری بھی تھی۔ اشعار اور اقوالِ زرّیں کا انتخاب زندگی کی جانب اس کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس عمر کے نوجوانوں کی بیاض کم و بیش ایسی ہوتی ہیں لیکن اس کے کچھ شعروں کا انتخاب تو اس کی زندگی پر صادق آرہا تھا۔ شہید اپنی ڈائری میں لکھتا ہے:
میرا ہر لفظ تیری ہر بات سے اچھا ہوگا
میرا ہر دن تیری ہر رات سے اچھا ہوگا
دیکھ لینا اپنی ان بے وفا آنکھوں سے
میرا جنازہ تیری بارات سے اچھا ہوگا
یہ اشعار پڑھ کر اس کی والدہ کے الفاظ یاد آگئے کہ :'' پھر دنیا نے خود ہی دیکھا کس فوجی اعزاز سے اس کا تابوت آیا۔ پورا گائوں اس پر پھول برسا رہا تھا۔''
غلام جیلانی کے والد تیرہ برس سے جوان بیٹے کی جدائی کا صدمہ دل سے لگائے بیٹھے ہیں، ان کی آنکھ سے ایک قطرہ آنسو کا نہیں ٹپکا۔ کوئی بات کرے تو سرسری سا جواب دے دیتے ہیں۔ سارا دن نماز پڑھنے کے علاوہ کوئی مصروفیت نہیں۔ غلام جیلانی ڈائری میں ہی لکھتا ہے:
کسی کی جدائی سے کوئی مرتا نہیں
مگر جینے کے انداز بدل جاتے ہیں
شہادت سے دوماہ قبل اس کی ڈائری کے ایک صفحہ پر درج ہے:
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں
تیری بنیادوں میں ہے لاکھوں شہیدوں کا لہو
ہم تجھے گنج دو عالم سے گراں پاتے ہیں
شاید شہید کو منزل صاف دکھائی دے رہی تھی، اس لئے وہ لکھتا ہے:
''جب نہ ہوگا اس دنیامیں میری ہستی کا وجود
یادیں پھر تازہ ہوں گی اس میری تحریر سے''

مضمون نگار:ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


پاکستان آرمی
اسی سوہنے پُت پنجاب دے آں

نالے سندھی، بلوچی، پٹھان وی آں
اسی ہر میدان وچ گجاں گے

اسی پاکستان دی شان وی آں
اسی سوہنیاں جاناں وار دیئے

ایس پاک زمین دے ناں اُتوں
ساڈے سِر تے قرض شہیداں دا

سِر دے کے قرض اتاراں گے
ساڈے سِراں تے چھاں اے اﷲ دی

نیئں غیر اگے اسی جھکدے آں
اسی پاکستان دی شان وی آں

نالے گھبرو شیر جواں وی آں
جدوں رل کے نعرہ مار دے نے

ایس پاکستان دے شیر جواں
ساڈے دشمن تھر تھر کمب دے نے

اسیں ایس دھرتی دا مان وی آں
اسی سوہنے پُت پنجاب دے آں
نالے سندھی، بلوچی، پٹھان وی آں

آر آر سپاہی جی ڈی محمد زمان

*****

 
12
March

تحریر: محسن شاہد

مغربی ممالک کے اندر اٹھنے والے سیاسی نظریات، جن کو ہم
Populism
کہتے ہیں، نے ریاستی وجود پہ بڑے جامع سوالات اٹھادیئے ہیں۔ اقوامِ عالم میں موجودہ ریاستی تعریف عین مغربی نوعیت کی ہے اور عام عوام یا پھر
Political Science
کے طالب علم ریاست کے وجود اور شناخت کو بھی اُس مغربی علم کی بنیاد پر پرکھتے ہیں جو
Treaty of Westphalia
کے بعد شروع ہوا۔ اس 370 سالہ ریاستی علم کی تاریخ میں کئی ادوار گزرے جن میں مختلف سکالرز نے مختلف تعریفیں کیں اور اپنے نظریات کے ذریعے ریاست کے حوالے سے ایک عوامی بحث بھی کی۔ اس تمام تر علمی تاریخ کے اندر ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ۔ ریاست کو نہ صرف مضبوط کرنے کا درس دیا گیا بلکہ باقی تمام نظریات جن میں قومیت پرستی، مذہبیت اور جمہوریت شامل ہیں، کو ریاست کی مضبوطی کے لئے استعمال کیاگیا۔ ریاست کے اندر اور بین الریاستی نظام قائم کرنے کے لئے بھی ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ حتیٰ کہ ریاست کو زمین پر خدا کا سایہ قرار دیاگیا اور مذہبیت کے تحت لوگوں کو اس بات پر راضی کیا گیا کہ ریاست خدا کے نام پر نہ صرف لوگوں کی ذاتی زندگی میں داخل ہوسکتی ہے بلکہ ان کی زندگی اور موت کی مالک بھی ہے۔ ریاست نے اپنے قوانین کے تعین کے وقت جہاں بہت سے پرانے قوانین کی نفی کی وہیں اس نے ایسے قوانین کو قائم رکھا جن کے ذریعے بادشاہی نظام نے
Public Order
کو قائم رکھا ہوا تھا۔ بیسویں صدی میں خاص طور پر جنگِ عظیم دوم کے بعد کے حالات نے ریاست کو دوام بخشا۔ مابعد نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کا آغاز ہوا اور غیر مغربی معاشروں کے اندر ریاستی سوال شدت اختیار کرگیا۔ ایشیائی معاشروں میں بھی ریاستی وجود کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی اور اس وجود کی بنیاد کہیں مذہبی تھی تو کہیں سیاسی، کہیں عوامی تو کہیں شخصی۔ لیکن مقصد صرف اور صرف ریاستی حصول تھا۔ جہاں مقامی لوگ اپنے اختیارات کے خود مالک ہوں گے اور اپنے آپ کو ریاستی قوانین کے تابع بنائیں گے۔ اس میں نہ صرف عوامی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا بلکہ عوامی حقوق کو بھی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ ریاستی وجود نے بکھرتے معاشروں کو جلا بخشی اور امن و امان قائم کرنے کے لئے ریاست کو ایک مرکزی کردار دیاگیا۔ ریاستی ادارے ریاست کے نام پر امن و امان قائم رکھنے کے نہ صرف پابندتھے بلکہ عوامی امنگوں کے حصول کے لئے بھی ریاست کو ذمہ دار قرار دیاگیا۔ غیر مغربی معاشروں میںجمہوریت اور آمریت جیسے سیاسی نظریات کے ذریعے کئی تجربات ہوئے۔ جہاں جمہور پسند مشرقی قوموں نے ترقی کی وہیں آمر معاشروں نے بھی ترقی کی۔ ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ چاہے جمہوریت ہو یا آمریت ریاستوں کا معاشی اور معاشرتی نظام سرمایہ دارنظام رہا تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت اور آمریت ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے بلکہ دونوںنے ریاستی معاشی نظام میں سرمایہ داری کو ترجیح دی حالانکہ سرمایہ داری نظام میں ترقی کا فائدہ ایک ریاست کے اندر رہنے والے تمام افراد کو نہیں ہوا۔
اسی کشمکش میں مغربی ریاست اور جمہوری نظام تیزی سے ترقی کرگیا اور مشرقی جمہوری ریاستیں نہ صرف ترقی میں پیچھے رہ گئیں بلکہ جمہوری نظریات میں بھی ترقی پذیر رہیں۔ آفاقیت
(Globalization)
بین الاقوامیت نے تمام اقوام کو ایک ہی طرز کے سیاسی اور معاشی نظام میںاکٹھا کردیا۔ ترقی اور جدیدیت کے نظریات میں یکسوئی بین الاقوامی نوعیت کی ہے لیکن اس میںمغربی نظریات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بین الاقوامیت اور آفاقیت عین مغربی ہیں اور باقی تمام دُنیا اس بات پر متفق کی جاچکی ہے کہ جمہوریت اور سرمایہ داری نظام میں ہی اقوامِ عالم کی بقا ہے۔ حتی کہ بین الاقوامیت اور آفاقیت میں بھی ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ریاستی مرکزیت کا دارو مدار بھی عین اُن مغربی سیاسی نظریات پر ہے جو370سال پہلے شروع ہوئے۔ لیکن اکیسویں صدی کے آغاز نے ریاست کے سوال کو پیچیدہ کردیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مغربی ریاستی نظام میں اٹھنے والی وہ تحریکیں ہیں جنہوںنے ریاست کی مرکزیت کو چیلنج کرنا شروع کردیا ہے۔ ان نظریات کو ہم مابعد الریاستی نظریات یا
Post-state Ideologies
کہتے ہیں۔ مابعد الریاستی نظریات ریاست کے وجود کی نفی نہیں تو تنقید ضرور ہیں۔ حالانکہ ماضی میں بھی ریاستی طرزِ عمل پر تنقیدہوتی رہی ہے اور ریاست کے اندر طبقاتی تقسیم کو بنیاد بنا کر ریاستی نظام کو سرمایہ داری نظام کا آلہ کار کیا جاتا رہاہے ۔ خاص طور پر مارکسی نظریات نے ریاستی طرزِ عمل اور پیچیدگیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کو سوشلسٹ نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا لیکن ریاستی وجود کی نفی نہیں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ مغربی ریاستوں کا جامع سیاسی نظام تھا جس کی بدولت مغربی معاشروں نے نہ صرف ترقی کی بلکہ ریاستی بیانیے کو مضبوط بھی کیا۔ لیکن دَورِ حاضر میں عین انہی مغربی ریاستی باشندوںنے ریاستی وجود پر سوال اٹھادیا ہے۔ ریاست کیوں ضروری ہے ؟ کیا فرد ریاست کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے؟ ریاست کو معاشرے پر برتری کیوں ہے؟ ریاست کے بعد کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس وقت ریاستی وجود کے خلاف اٹھائے جارہے ہیں۔ مابعد الریاست کے ساتھ ساتھ ایک نیا سوال مابعدجمہوریت کا بھی ہے۔ مغربی معاشروں میںجمہوریت کے بعد کیا ہے؟ جیسے سوالات کا اٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوںنے ریاست اور جمہوریت کے
Status Quo
کو چیلنج کرنا شروع کردیاہے۔ ایسے سوالات اٹھنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ مغربی ریاست کی تکمیل ہو چکی ہے اور اب اس تکمیل کے بعد نظریات کی بات ہو رہی ہے۔
لیکن یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب غیر مغربی ریاستیں نہ صرف ریاستی تکمیل کے مراحل میں ہیں بلکہ ریاست کو مرکزی حیثیت دینے کا مرحلہ بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ جہاں مغربی ریاستیں مکمل ہو چکی ہیں وہاں غیر مغربی ریاستیں ابھی اس بات کو سمجھ پائی ہیں کہ ریاست کیوں ضروری ہے۔ اسی ضرورت کو سمجھ کر ہی ریاستی قوانین کی مضبوطی کی بات ہو رہی ہے۔ غیر مغربی معاشروں کے اندر اب تک انتشار کی کیفیت ہے اور ریاستی وجود کو ہی امن و امان کے لئے ضروری قرار دیا جارہا ہے۔
لیکن غیرمغربی (ایشیائی )معاشروںمیں ریاست کا وجود اب بھی ضروری ہے نہ ہی یہ اتنے
Mature
ہوئے ہیں کہ ریاستی وجود کی نفی کرسکیں اور نہ ہی کوئی ایسا سیاسی نظام زیرِ غور ہے جس کی بدولت
Order
قائم ہو سکے۔ ان معاشروں میں ریاست کی اب بھی اشد ضرورت ہے۔ گوکہ یہ گفتگو ابھی اپنے مقام تک نہیں پہنچی لیکن ریاستی وجود پر سوالیہ نشان مشرقی اقوام کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوسکتا ہے۔ مشرقی اقوام نے جب ریاست کو Order
کے لئے ضروری سمجھ لیا ہے تو اب ایک ایسا نظام قائم ہو چکاہے کہ جس میں یہ اقوام ترقی یافتہ مغربی اقوام کے مقابلے میں کھڑے ہونے کو تیار ہیں۔ ریاست ہی ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے اور افراد ریاستی قوانین کے تابع رہنا سیکھ چکے ہیں۔ اس نظریاتی اور ریاستی سوال کی کشمکش میں ریاستی وجود کے دوام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ خاص طور پر مشرقی معاشروں میں۔
مغربی دنیا میں ریاستی وجود پر سوالیہ نشان صرف علمی نوعیت کا نہیں بلکہ عین سیاسی ہے۔ علمی بحث اپنی جگہ موجود ضرورہے لیکن اس کے مقاصد سیاسی ہیں۔ ان سیاسی مقاصد میں
Intellectual Frustration
ہے جوعلمی دنیاکے اندر اٹھنے والے سیاسی مکالموں کی بدولت ہے۔ اگر ہم مکالموں کو تنقیدی نظر سے دیکھیں تو مسئلہ ریاستی وجود کا نہیں بلکہ ریاست کے اندر جمہوری اور غیر جمہوری طبقات کا ہے۔ مغرب میں جمہوریت پر تنقید ہو رہی ہے اور علمی بحث یہ ہے کہ ریاست کا وجود خطرے میں ہے کیونکہ جمہوریت اور ریاست لازم و ملزوم ہیں۔ اس قضیے کو بنیاد بنا کر
Populism
کو ریاستی وجود کی نفی قرار دیا جارہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مشرقی معاشروں کے سیاسی سکالرز کہاںکھڑے ہیں۔ اگر اس علمی بحث کو مغربی معاشروں میں سیاسی رنگ دے کر ریاستی وجود پر سوالات اُٹھ رہے ہیں توکیا مشرقی دنیا کے سکالرز کو بھی اس بحث میں کودنا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ کیونکہ مغربی ریاستیں مضبوط ہیں اور ریاستی وجود پر سوال سے ان ریاستوںکے وجود کو کوئی خطرہ نہیں۔ اگر خطرہ ہے تو صرف مشرقی دنیا کی ریاستوں کو جو نہ ہی اتنی مضبوط ہیں کہ ان سوالیہ نشانات کی نفی کرسکیں اور نہ ہی یہ معاشرے اتنے

Mature

ہیں کہ اس علمی بحث کے سیاسی محرکات کو سمجھ سکیں لہٰذا مشرقی سکالرز کا فرض بنتا ہے کہ ریاست کی مضبوطی اور اس کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اگر مابعد ریاست کی بحث مشرقی معاشروں میں چھڑ گئی اور اس کے سیاسی محرکات کو جامع انداز میں نہ سمجھا گیا تو مضبوط ہوتی مشرقی ریاستیں مزید کمزور ہوں گی اور ترقی کا سلسلہ رک جائے گا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مشرقی اقوام نے جب ریاست کو
Order
کے لئے ضروری سمجھ لیا ہے تو اب ایک ایسا نظام قائم ہو چکاہے کہ جس میں یہ اقوام ترقی یافتہ مغربی اقوام کے مقابلے میں کھڑے ہونے کو تیار ہیں۔ ریاست ہی ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے اور افراد ریاستی قوانین کے تابع رہنا سیکھ چکے ہیں۔ اس نظریاتی اور ریاستی سوال کی کشمکش میں ریاستی وجود کے دوام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ خاص طور پر مشرقی معاشروں میں۔

*****

 
12
March

تحریر: شفق بھٹی

دورِ جدید میں بڑھتے ہوئے پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے ٹیکنالوجی کو جدید سے جدیدتر بنایا جا رہا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آرٹی فیشل انٹیلی جینس یعنی مصنوعی ذہانت نے انتہائی سنجیدہ موڑ لے لیا ہے۔ اگرچہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی ہے لیکن مستقبل میں بہت سے ایسے ناقابل یقین تکنیکی منصوبوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جو کہ تمام نوع بشر کو ایک نہایت حیرت انگیز دور میں لے جائیں گے۔ جس کے بعد ایک ایسا مشینی دور شروع ہو جائے گا جس کا فی الوقت تصور بھی ہمیں چونکا دینے کے لئے کافی ہے۔

masnoizahanatka.jpg


گویا آرٹی فیشل انٹیلی جینس نے صنعتی، کاروباری، عسکری خواہ ہر میدان میں ایسی تیز رفتاری سے ترقی حاصل کی ہے کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ اس انٹیلی جینس کا معیار بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے تحت کمپیوٹر کو انسانی دماغ سے زیادہ تیز اور خود فیصلے لینے کے لئے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بہت جلد انسانوں کی جگہ دنیا کے ہر میدان میں کمپیوٹرائیزڈ مشینوں کا دور ہو گا۔


بدلتے وقت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جنگ و جدل کا پورا نظام تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں سے دنیابھر کی عسکری افواج نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے۔ وہ ہتھیار ابھی جن کا تصور بھی کیا جانا ممکن نہیں تھا وہ بھی دنیا میں نہ صرف متعارف کروائے گئے بلکہ بعض جنگ کے میدانوں میں بہت کامیابی سے استعمال میں بھی لائے گئے۔ ٹیکنالوجی کو عسکری اور جنگی میدان میں بہت اہم کردار حاصل ہے۔ جس کے تحت بنا پائلٹ کے ڈرون مسلسل نگرانی اور اہداف پر تیز حملوں کے لئے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ روبوٹس کو جنگی حالت میں دھماکہ خیز آلات کو ناکارہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ فی الحال مختلف ترقی یافتہ ممالک کی افواج مزید آرٹی فیشل انٹیلی جینس کی تحقیق اور تجربات کروانے کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈنگ کر رہے ہیں جس کا مقصد ایسے خود مختار روبوٹس کی پیداوار ہے جو جنگی میدان میں انسانی فوجیوں کی ضرورت کو گھٹا کر خود کٹھن حالات میں ملک و قوم کی بقا کے لئے کافی ہوں گے۔


فی الوقت جنگی دور کو بدلنے میں سب سے بڑا ہاتھ مصنوعی ذہانت سے پروگرام شدہ ان خودمختار قاتل روبوٹس کا ہے جو کہ اپنے ہدف کو خود ڈھونڈ کر تباہ کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عنقریب ان روبوٹس میں ایسی جدت لائی جا رہی ہے جس کے بعد یہ نہ صرف خود فیصلہ لینے کے لائق ہوں گے بلکہ ہوبہو اپنے ہی جیسے روبوٹس بنانے کے بھی قابل ہوں گے۔ اب ان خبروں میں کتنی صداقت ہے یہ گزرتے وقت کے ساتھ خود ہی منظر عام پر آ جائے گی۔ جبکہ فی الوقت ٹیکنالوجی کے ماہر بعض ترقی یافتہ ممالک کا کھلا دعویٰ ہے کہ وہ ایسے
Biorobots
تیار کر رہے ہیں جن میں آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے علاوہ بائیو لوجیکل خصوصیات بھی شامل ہوں گی۔
جس قدر تیزی سے مصنوعی ذہانتکی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں متعارف ہو رہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مستقبل قریب میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسی حیران کن تبدیلیاں کی جائیں گی جو کہ جنگ وجدل کا نظام بدل دیں گی۔ محققین کے مطابق مستقبل میں مختلف ممالک کی
National Security Policy
میں شامل نیوکلیائی ایرو سپیس، سائبرسپیس اور بائیو ٹیک کے منصوبوں میں آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے لئے انتہائی حیرت انگیز نمونے نمائش کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ انہی نمونوں کو کامیابی سے مکمل کرنے اور ان پر مزید تجربات اور تحقیقات کروانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر اتنی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس سے عسکری میدان میں خود مختار روبوٹس اور سافٹ ویئرز میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھا جائے گا۔ جبکہ بہت سے ماہرین کے مطابق مستقبل کے اس مشینی دور میں ان خود مختار روبوٹس کو انسانی فوجیوں کی جگہ جنگ کے میدان میں مخالف ممالک میں جاسوسی اور خوفناک تباہی مچانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ فی الحال یہ تکنیکی ترقی ان ترقی یافتہ ممالک کو بے پناہ فائدہ پہنچا رہی ہے جنہوں نے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ انہی ممالک میں امریکہ کی عسکری طاقت شامل ہے۔ جس نے اپنے خود مختار زمینی روبوٹس اور بنا پائلٹ کے ہوائی جہازوں کے ذریعے عراق اور افغانستان کی سڑکوں پر زیرزمین بچھے بمبوں کو نہ صرف کھوج کر ناکارہ بنایا بلکہ فوجیوں کے لئے زمینی راستوں کو ہر قسم کی بارودی سرنگوں سے بھی صاف کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ
Warton Aerodrome Lancashire, BAE Systems
نے ایک ایسے حیرت انگیز طیارے masnoizahanatka1.jpg
Taranis
کو لانچ کیا ہے جس کی تعمیری لاگت 140ملین یورو سے بھی زیادہ ہے۔

Taranis
ان چند روبوٹس میں سے ایک ہے جو مکمل طور پر خود مختار ہیں۔ اس طیارے کی خصوصیات ہیں کہ یہ دشمن کے علاقے میں گھس کر نہ صرف بمباری اور جاسوسی کر سکتا ہے بلکہ پائلٹ یا بِنا پائلٹ والے دشمنوں کے ہوائی جہازوں کے خلاف خود آسانی سے دفاع بھی کر سکتا ہے۔ یہ طیارہ اب تک کا بنایا گیا وہ واحد طیارہ ہے جس کو آپریٹ کرنے کے لئے کوئی بھی انسان درکار نہیں ہے۔

Boston Consulting Group
کے مطابق 2000سے 2015 کے درمیان

AI

سے لیس روبوٹس کی تکمیل اور تحقیق کے لئے بین الاقوامی سطح پر اخراجات 2.4 ارب ڈالر سے تین گنا بڑھ کر 7.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ اب سے 2025تک اس کی کل لاگت دو گنا ہو کر16.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اپنے ملک کی عسکری طاقت میں اضافے کے شوقین تین طاقتور ملک روس، چین اور امریکہ مصنوعی ذہانت کی اس خوفناک دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ان تینوں ممالک کے مطابق یہ ذہین مشینری مستقبل میں قومی سلامتی کے لئے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ جو کہ منفرد اور اعلیٰ درجے کی

AI

ٹیکنالوجی کا گھر مانا جاتا ہے اس کو ہر بار کی طرح چین نے اس معاملے میں بھی سخت مقابلہ دیا ہوا ہے۔ امریکہ اور چین کی ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی اس دوڑ میں روس کی رفتار ان دونوں ممالک سے کچھ دھیمی ہے۔ لیکن 2025تک روس کی جانب سے اپنے جنگی سامان میں 30 فی صد خودمختار روبوٹس کو شامل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جبکہ جولائی 2017میں چین کی طرف سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2030 تک اس کے آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے جدید ترین روبوٹس دنیا بھر میں حکومت کریں گے جن کی صنعتی طور پر ممکنہ لاگت 150ارب ڈالر تک ہو گی۔ فی الوقت چین دنیا کی تاریخ کا وہ واحد ملک ہے جس کو جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے کے لئے کسی بھی ملک سے مالی اور تکنیکی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ کے برعکس چین کو اپنے ملک کی کل آبادی کا نجی ڈیٹا اکٹھا کرنے میں اس کی عوام کی طرف سے کوئی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس لئے چین بآسانی اپنے 750ملین انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا اٹھا سکتا ہے۔ جس سے وہ اپنے ملک کے تقریباً ہر شہری کی نجی
IDs
تک رسائی حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ انسانی ڈیٹا کو اپنے سسٹم میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اسی ڈیٹا کے ذریعے چین نے
Facial Recognition
جیسی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ جس کو استعمال میں لاتے ہوئے اس نے اپنے بنائے ہوئے آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے روبوٹس میں چہروں کی شناخت آسانی سے کرنے کی صفت شامل کر دی ہے۔
دنیا کی ان تین سب سے بڑی عسکری طاقتوں کا ٹیکنالوجی پر مبنی یہ مقابلہ اس سے قبل ترقی یافتہ ممالک میں ہونے والے نیوکلیاتی مقابلوں سے قدرے مختلف ہے۔ کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی عسکری و تجارتی اور صنعتی ترقی میں بہت بڑی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے محققین کے مطابق آرٹی فیشل انٹیلی جینس کی وجہ سے ان طاقتور ممالک کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ Pricewaterhouse Coopers
نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 2030 تک عالمی
GDP
بڑھ کر 15.7کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گی جس میں تقریباً آدھا منافع چین کی جدید آرٹی فیشل انٹیلی جینس ٹیکنالوجی سے حاصل ہو گا۔
PWC
کا ایک اور اندازہ ہے کہ آنے والے تیرہ سالوں میں چین سمیت ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے دیگر ممالک کی کل

GDP

میں 7کھرب ڈالر تک کا منافع دیکھا جا سکتا ہے۔
جہاںیہ عالمی طاقتیں جلد از جلد اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا پر حکومت کرنے کے لئے دن رات ایک کر رہی ہیں وہیں ٹیکنالوجی کے بعض ماہرین کو خدشات ہیں کہ یہ روبوٹس مستقبل میں اتنے خودمختار ہو سکتے ہیں کہ انسانوں کو ان سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی کے پیش نظر امریکی سیکرٹری دفاع
Ash Carter
نے روبوٹس سے متعلق چند اصولوں سے تمام ممالک کے فوجی احکام کو آگاہ بھی کیا۔ ان اصولوں کے مطابق روبوٹس کو سختی سے اپنے خفیہ سسٹم کی ہیکنگ سے باز رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نیم خودمختار روبوٹس کو اپنا نیا ہدف خود سے چننے کی آزادی نہیں دی گئی۔ جبکہ انسانی نگرانی میں موجود یہ روبوٹس غیر انسانی اہداف جیسا کہ اپنی طرف سے آتے میزائل روبوٹس اور طیارے وغیرہ پر خود اپنی مرضی سے کبھی بھی نشانہ باندھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مکمل طور پر خود مختار روبوٹس کو ایک مقررہ حد سے زیادہ جارحانہ اور ذہین نہ بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ Carter
کے مطابق ان سب اصولوں کا مقصد انسانوں کو حال اور مستقبل میں روبوٹس اور خودمختار سسٹم سے زیادہ طاقتور اور ذہین رکھنا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
March

تحریر: سید بہادر علی سالک

برصغیر کے کروڑوں مسلمان اُن کے شیدائی تھے گلگت بلتستان کے مسلمانوں نے بھی مسلم قومیت کی بنیادپر ہی قائدِ اعظم کی پکار پر لبیک کہا تھا ہمیں پاکستان کو نعمت سمجھ کر اس کی قدر کرنی چاہئے

بابائے قوم کی سالگرہ، برسی، یومِ پاکستان اور یومِ آزادی پوری قوم ستر سالوں سے روایتی جوش وجذبے سے مناتی آرہی ہے اور اُن کے کارناموں کا ذکربھی روایتی انداز میں کیا جاتا رہا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے عملی طور پر اُن کی تعلیمات اُن کے دئیے ہوئے زریں اُصول، ایمان، اتحاد اور تنظیم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوجوان نسل برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی تحریک آزادی، اُن کی عظیم قربانیوں، شہداء کے خون، بابائے قوم کی ولولہ انگیز قیادت اور اُن کے عظیم قائدانہ کردار اور آج ہم جس آزادی اور سکھ کا سانس لے رہے ہیں اُس سے بخوبی آگاہ نہیں یہ نسل پاکستان کو صرف ایک ملک کے طور پر جانتی ہے۔ وہ اس کے قیام کے اصل مقاصد اوراغراض سے ناآشنا ہے۔یہ قوم کی بڑی بدقسمتی ہے۔ بابائے قوم پہلے تو کانگریس میں شامل ہوئے اور ایک قوم کے داعی بنے لیکن بہت جلد اُن پر ہندوئوں کی چالاکیوں اور سازشوں کا راز کھلا تو وہ کانگریس کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ دل برداشتہ ہوکر انگلستان چلے گئے لیکن مفکر اسلام، شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے انہیں مسلمانوں کا باصلاحیت لیڈر مانتے ہوئے واپس ہندوستان آکر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے اوربے سہارا مسلمانوں کی کشتی ساحل مرادپر پہنچانے کی استدعاکی کیونکہ کروڑوںمسلمان انگریزاورہندو دونوں کی چکی میں پس رہے تھے۔ انگریزوں اور ہندوئوں نے انڈین یونین سکیم تیارکی تھی۔ دوسری عالم گیر جنگ کے وقت مسلمان انتشار کا شکار تھے لیکن مسلمانوں نے اپنی قوت کو یکجا کرکے کانگریس کو 1917ء میں معاہدۂ لکھنئو پر مجبور کیا جس میں مسلمانوں کے حقوق تسلیم کئے گئے لیکن یہ معاہدہquidarmuslimquomiat.jpg تحریکِ خلافت میں ٹوٹ گیا اُس وقت گاندھی اس تحریک کی قیادت کررہے تھے اور کانگریس اس پوزیشن میں تھی کہ جو چاہے انگریزوں سے منوالے۔ مسلمان بے یارومددگار ہوچکے تھے یہ مسلمانوں کے لئے ایک تاریک دور تھا ایسے میں دوچیزوں نے ماحول کو یکسر تبدیل کردیا ۔ ایک قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال ، بے لوث اور باصلاحیت قیادت کیونکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت زیرک سیاست دان بھی تھے جو انگریزوں اور ہندوئوں کے منصوبوں اور شاطرانہ چالوں کو جانتے تھے ۔ دوسری چیز جغرافیہ تھی جس نے ماحول کو بدل دیا ۔ مسلمان یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ شمال مشرق اور شمال مغرب کا اکثریتی علاقہ اُ ن کا وطن ہے جہاں وہ صدیوں سے رہتے آ رہے ہیں۔ ضرورت صرف اتنی تھی کہ اس علاقے کو باقاعدہ ایک آزاد، الگ اور خود مختار مملکت قرار دیا جائے تاکہ ہندوئوں کی غلامی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات مل سکے۔ ان چیزوں کے تناظر میں بابائے قوم نے انگریزوں اور ہندوئوں کے چالاک اور شاطرانہ دماغوں، خصوصاً بھارتی سیاست دانوں کی منافقانہ پالیسیوں کا بھرپور طریقے سے سیاسی میدان میں مقابلہ کیا۔ اُنہوں نے پورے عزم، قوتِ ایمانی، اللہ تعالیٰ کی مدد اور کروڑوں مسلمانوں کی حمایت سے اکیلے آزادی کی جنگ لڑی اور فتح نے ان کے قدم چومے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے مسلمانوں کے درمیان کبھی اختلاف نہیں رہا۔ تحریک پاکستان کے حمایتی اور مخالفین دونوں اسلامی نظام کے داعی تھے لیکن اِن دونوں میں بنیادی فرق یہ تھا کہ مسلم لیگ ایک الگ وطن چاہتی تھی جہاں اسلامی نظام نافذہو لیکن مولانا ابوکلام آزاد اور جمعیت العلمائے ہند صرف زبانی طور پر اسلام کی خوبیاں بیان کرتے تھے اور ہندو ماحول کو اپنے ساتھ لئے ہوئے تھے۔ مولانا آزاد نے پاکستان بننے کے بعد برملا کہا کہ جب پاکستان ایک الگ ملک بن گیا ہے تو اب اس کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اس نئی مملکت کو طاقت ور بنائیں۔ مولانا آزاد جیسے بڑے عالم دین اور سیاست دان نے جو پاکستان کے قیام کے لئے جو بھرپور کردار ادا کرسکتے تھے، نہیں کیا۔ وہ ہندوستان میں ہی رہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی قیادت قائداعظم کی قسمت میں لکھ دی اور ایک ایسے خواب کو جو بہت مشکل اور صبرآزما تھا ایک حقیقت میں تبدیل کرکے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بہت سے جید علمائے کرام نے قائدِاعظم کی بھرپور حمایت کی جن میں علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے سچے عالم دین اور پاکستانی شامل ہیں ان حضرات کاشمال مغربی سرحدی صوبے(موجودہ کے پی کے) کے لوگوں کو پاکستان میں شامل کرنے میں تاریخی کردار ہے۔ انگریزوں سے آزادی حاصل کرکے ہم بھارت میں رہتے ہوئے مسلم قومیت کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہم مکمل طور پر اپنے دین کے مطابق زندگی گزارسکتے تھے لیکن بابائے قوم بھارتی ہندوئوں کی باتوں میں نہیں آئے اور الگ وطن پاکستان حاصل کرکے ہی دم لیا۔بے شک آج پاکستان دنیا میں نظریے کے نام پر قائم ہونے ولا واحد اسلامی ملک ہے جس کی مسلمان جتنی بھی قدر کریں کم ہے اور یہ اسلام کا عظیم قلعہ ہے۔ ہمیں اپنی نظریاتی اساس اور دو قومی نظریے کو مضبوط بنانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اسلامی ممالک میں پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ہم میں پاکستان کا وہ ولولہ، جذبہ، قومی وحدت ، یکجہتی اور سلامتی کے معاملات مفقود ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اگر یہ نظریہ مضبوط نہ رہا تو آنے والے سالوں میں اس مملکت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور قائدِاعظم کے دوقومی نظرئیے کے تحت قائم ہونے والی مملکت پاکستان کے وجود کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ آج ہم بھارت کے مسلم اکثریتی علاقوں اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کے حالات دیکھتے ہیںتو ہمارا کلیجہ پھٹ جاتا ہے کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم اور ریاستی دہشت گردی ، مذہبی انتہاپسندی کا بازار گرم ہے مگر اللہ تعالیٰ کی تائید وحمایت ہمارے ساتھ ہے۔ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ غیر فطری چیز ہے جو کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ قائد اعظم نے فرمایا تھاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ان شاء اللہ برہان وانی کی شہادت اور لاکھوں کشمیریوں کی شہادت ضرور رنگ لائے گی اور ''کشمیر بنے گا پاکستان'' کا نعرہ مکمل ہوگااورقائدِاعظم محمد علی جناح کی یہ بات کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے سچ ثابت ہوگی۔ آج پاکستان کے اندر بھی کچھ ناعاقبت اندیش سیاست دان اور نام نہاد دانشور بابائے قوم کو سیکولرقرار دیتے ہیں۔ اگر وہ سیکولر ہوتے تو ان کو پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی وہ متحدہ ہندوستان کے بڑے لیڈر بن سکتے تھے۔مختلف مواقع پر اُن کی تقریروں اور فرمووات کو ایسے لوگ غلط رنگ دیتے ہیں۔
بابائے قوم سے جب پاکستان میں نظام کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے برملا کہا تھا کہ یہاں وہی نظام ہوگا جو حضور خاتم النبیین ۖ نے مدینہ منورہ میں قائم کیا تھا جہاں ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے دین کے مطابق عبادت کی آزادی ہوگی کیونکہ دین اسلام میں کسی پر جبر نہیں ہے۔ پاکستان کے قومی پرچم میں سفید پٹی بھی اقلیتوں کی نمائندگی ظاہر کرتی ہے۔بدقسمتی سے آج ہم قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی کی اس ہرزہ سرائی کو بھی برداشت کرتے ہیں کہ فاٹا پاکستان کا حصّہ نہیں وہ آزاد ہیں اور اگر پاکستان (صوبہ کے پی کے) میں شامل کریں تو افغانستان ناراض ہوگا۔ کیا ہم افغانستان کے غلام ہیں۔اگر فاٹا پاکستان کا حصّہ نہیں تو قومی اسمبلی میں اور سینیٹ میں 1973ء کے آئین کے تحت نمائندگی کیوں دی ہوئی ہے؟ ایسے معاملات میں غداری کا مقدمہ بنتا ہے۔ کل کو کوئی شخص ڈیورنڈلائن کی بنیاد پر پشتو نستان کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب گلگت بلتستان والوں کو جو اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں مگر بعض معروضی حالات کی وجہ سے مکمل آئینی اختیار سے محروم ہیں۔ کسی حد تک موجودہ نظام سے شکایت ہے۔ یہاں کے لوگوں نے بابائے قوم کی آواز پر بغیر کسی شرط کے مسلم قومیت کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ صرف اس لئے کیا کیونکہ پاکستان کے نام پر اسلامی مملکت قائم ہوچکی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے بے سروسامانی کے عالم میں ڈوگروں کو ڈنڈوں اور پتھروں سے شکست دے کر آزادی حاصل کی اور اپنے علاقے کو پلیٹ میں سجا کر پاکستان کو پیش کیا تھا۔ یہ ان علاقوں کے عوام کی بے پناہ قربانیوں کا صدقہ ہو گا کہ وہ پاکستانی ریاست میں مکمل طور پر جذب کر لئے جائیں۔ مقدمہ کشمیر اور تاریخ کا جبر ایک چیلنج ہے۔ یقینا ہمیں اس کا کوئی ایسا حل ڈھونڈنا ہو گا کہ کشمیر کاز کو بھی نقصان نہ پہنچے اور گلگت و بلتستان کی عوامی امنگیں بھی بر آئیں۔ ٹیکسوں کے نفاذ کے لیے تو حکومت پاکستان بہت سرگرم اور بہت جلدی میں ہے لیکن آئینی طور پر گلگت بلتستان کو پاکستانی بنانے کے لئے تیار نہیں۔یہ سی پیک کو ناکام بنانے کی بین الاقوامی اور اندرونی ایجنٹوں کی یقینا سازش بھی ہوسکتی ہے۔
یقینا بابائے قوم کی روح قبر میں تڑپ رہی ہوگی کیونکہ پاکستان کا علاقہ ہونے اور پاکستانی ہونے کے باوجود فاٹا ( فاٹاآئینی طور پر پاکستان کا حصّہ ہے) اور گلگت بلتستان کے محب وطن لوگوں کی خواہشات کا خون کیا جارہا ہے۔ سیاست شائد ان لوگوں کے ہاتھوں مجبور ہے کیونکہ اس کے کچھ ووٹ ہیں اور پاکستان توڑنے کی دھمکی دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان کے عوام کو نظر انداز کیا جارہا ہے کیونکہ ہمارے بارے میں نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ ہی ہم پاکستانی حکمرانوں کو ووٹ دینے کی پوزیشن میں ہیں۔
ان کی غدارانہ باتیں کہ جب فاٹا کو ببانگ دہل افغانستان کا حصہ کہا گیا اور گلگت بلتستان کے عوام کی حب الوطنی میں لپٹی بے چینی کو ایک ترازو میں تولنا انصاف کا خون ہے۔ شائد کہ گلگت بلتستان کے عوامی اور سیاسی نمائندوں کو فرصت نہیں جو ان کاموں کی طرف توجہ دیں۔ اب ان علاقوں کے عوام کو توقع یا بھروسہ ہے تو صرف پاکستان کے اداروں اور خصوصی طورعدلیہ پر، کیونکہ عدلیہ جی بی کے بارے میں 28مئی 1999ء کو ایک تاریخی فیصلہ دے چکی ہے۔ ان علاقوں کے عوام کو گرین سگنل کا انتظا رہے کہ وہ کب ان علاقوں کو مکمل طور پر دوسرے صوبوں کے برابر دیکھیں گے۔ کشمیر کاز اور گلگت بلتستان کی عوامی خواہشات کا احترام آج کے

Statesmen
کے لئے ایک چیلنج ہے۔
پاکستان پائندہ باد۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


پکار
(آپریشن ردالفساد کی کامرانی پر)
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
سرفروش بیٹوں کو، صف شکن جوانوں کو
گونجتے ہوئے نکلے، شیر اب کچھاروں سے
موت منہ چھپاتی ہے، پاک شہسواروں سے
سینچتے لہو سے ہیں، وقت کو، زمانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
رکھ کے سر ہتھیلی پر، قرض کو نبھاتے ہیں
کودتے ہیں شعلوں میں، دیس کو بچاتے ہیں
زیرِپا، یہ رکھتے ہیں، ظلم کے جہانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
ناز ہر کسی کو ہے، اپنے جانثاروں پر
نعرہ زن دلیروں پر، آہنی حصاروں پر
قوم کا سلام آیا، عزم کی چٹانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
ہو رہی ہے سرکوبی، شرپسند عناصر کی
مژدہ کامرانی ہے، ضرب یہ عساکر کی
بے نشان کر دیں گے، سارے بدگُمانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
پروفیسر اکرم باجوہ


قائدِاعظم کی نگاہ میں علامہ اقبال کا مقام

*****

 
09
March

تحریر: فاروق اعظم

پاکستان کو قائم ہوئے 70برس بیت چکے، لیکن عمومی حلقوں میں یہ سوال اپنی جگہ اب بھی برقرار ہے کہ کیا واقعی ہندوستان کی تقسیم ناگزیر تھی؟ اگرچہ سوال ایک جملے پر مشتمل ہے، تاہم اس کا جواب مفصل بحث کا متقاضی ہے۔ تقسیمِ ہند کا مطالبہ 1940ء کی قراردادِ پاکستان کے موقع پر یکایک سامنے نہیں آیا تھا، بلکہ یہ آرزو کئی دہائیوں پر محیط اور متعدد پہلوئوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کیوں ضروری تھی؟ اس کے لئے تاریخی، سیاسی، سماجی اور مذہبی پہلوئوں کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔ سب سے پہلے تقسیمِ ہند کے تاریخی پہلو پر نظر ڈالتے ہیں۔
تاریخی پہلو:
ہندوستان میں نسلِ انسانی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان ابتدا ہی سے بت پرستوں کا گہوارہ رہا ہے۔ اگرچہ برصغیر میں اسلام کی کرنیں عہد رسالت میں ہی پہنچ گئی تھیں۔ تاہم باضابطہ طور پر ہندوستان میں مسلم معاشرے کا قیام اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور حکومت 92 ہجری میں محمد بن قاسم کے ہاتھوں ہوا۔ اس تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ دیبل پر حملے کے لئے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف ثقفی کیوں مجبور ہوئے تھے۔ کتبِ تاریخ میں بالتفصیل اس کا تذکرہ موجود ہے۔ محمد بن قاسم کی پیش قدمی سے ساحلِ سندھ سے ملتان اور کشمیر تک کا علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ بعد کے ادوار میں قریباََ تین سو برس تک عربوں نے سندھ پر حکومت کی۔ سلطان محمود غزنوی کے دورِ اقتدار میں 997ء سے 1030ء تک غزنی سے ہندوستان پر سترہ حملے کئے گئے۔ ان کے ہاتھوں 10kiataqseemehind.jpg22ء میں پنجاب، اسلامی حکومت کے ماتحت آیا اور لاہور، اسلامی تہذیب کا مرکز بن کر ابھرا۔


سلطان شہاب الدین غوری کا زمانہ دیکھا جائے تو 1192ء میں دہلی اور اجمیر کے ہندو حکمران پرتھوی راج شکست سے دوچار ہوئے۔ دوسری طرف قطب الدین ایبک نے گوالیار اور گجرات پر اسلام کا پرچم لہرایا۔ جبکہ بختیار خلجی نے بہار اور بنگال کو فتح کرکے اسلامی حکومت میں شامل کیا۔ شہاب الدین غوری کی وفات کے بعد 1206ء میں قطب الدین ایبک نے سلطنتِ دہلی کی بنیاد رکھی۔ 1526ء میں وسطی ایشیا کے مغل حکمران ظہیرالدین بابر نے سلطنت ِدہلی کی جگہ مغلیہ سلطنت قائم کی، جو 1857ء میں اختتام پذیر ہوئی۔


1857ء کے بعد برطانوی راج میں ہندوستانی مسلمانوں کی حالتِ زار قدیم سپین کے مسلمانوں سے مختلف نہیں تھی۔ تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوگا کہ جس سال محمد بن قاسم نے دیبل میں راجہ داہر کو قتل کیا تھا، عین اسی سال 92 ہجری میں اندلس پر مسلمانوں نے لشکر کشی کی۔ موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کے ہاتھوں اسلامی سلطنت کا حصہ بننے والا سپین، دمشق کے بعد آٹھ صدیوں تک اموی خلفاء کا مرکز رہا۔ آج سپین کی صورت حال کسی سے مخفی نہیں۔ سقوطِ اندلس ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی تاریخی سبق چھوڑ گیا تھا کہ اسلامی اقدار کی حفاظت اور مسلمانوں کے محفوظ مستقبل کی خاطر جدوجہد نہ کرنا دائمی غلامی کا طوق پہنا سکتا ہے۔


سیاسی پہلو:
تقسیمِ ہند کے تاریخی پہلو کی مزید وضاحت کے لئے برصغیر کے سیاسی منظر نامے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہند میں مسلم سلاطین کی آمد سے قبل ہندوستان کی سیاست کا کوئی مرکز و محور نہیں تھا۔ برصغیر کے منقسم شدہ ٹکڑوں پر ہندو مہاراجوں اور پنڈتوں کی حکومتیں اپنی اپنی جداگانہ شناخت رکھتی تھیں۔ مسلمانوں نے اس تفریق کو ختم کرکے یہاں مرکزی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ رفتہ رفتہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت زوال پذیر ہوئی اور انگریز جو تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے تھے، یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی پر آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کی لال قلعے تک محدود حکومت بھی قائم نہ رہ سکی۔ اب ہندوستان کے کاروبارِ حکومت اور ریاستی نظم و نسق کو چلانے کے لئے برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہند کا عہدہ تخلیق کیا اور ہندوستانی حکومت کو برطانوی پارلیمنٹ کے ماتحت کردیا۔ برطانیہ نے ہندوستان میں انتخابی نظام رائج کرکے جمہوری طرز سیاست کو فروغ دیا۔
1885ء میں کانگریس قائم کی گئی۔ جس کا دعویٰ بلا تفریق تمام ہندوستانیوں کی نمائندگی کا تھا، لیکن اس پر عملاََ ہندوئوں کا تسلط رہا۔ ان دنوں برصغیر میں مسلم زعماء نے کئی اصلاحی تحریکوں کا آغاز کر رکھا تھا۔ ہندوستانی مسلمان ابتدا میں جمہوری طرزِ سیاست سے کنارہ کش رہے، لیکن یہ ُدوری زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ مسلمان بہت جلد اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ کانگریس برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ چونکہ انگریز مسلمانوں کے سیاسی حریف تھے، یہی وجہ ہے کہ برطانوی حکومت کی ہمدردیاں ہندوئوں کے ساتھ تھیں۔ اس کے لئے لمبے چوڑے دلائل کی ضروت نہیں۔ تفصیل کے خواہش مند 1905ء کی تقسیم بنگال اور ہندوئوں کے ردعمل پر 1911ء میں اس کی منسوخی کا مطالعہ کریں، جو یہ سمجھنے میں آپ کی مدد کرے گی کہ ہندوستان میں نہ صرف مسلم بادشاہت کا خاتمہ ہندوئوں کی دلی آرزو تھی، بلکہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو محکوم بناکر رکھنا بھی ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔
ہندوستانیوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار کانگریس نے جب تقسیمِ بنگال کے ردعمل میں اپنی ہندوانہ ذہنیت کا برملا اظہار کیا تو مسلمانوں کو اپنی بقا اور محفوظ مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی بلکہ 1909ء کی منٹو مارلے اصلاحات کے ذریعے جداگانہ انتخاب کا حق بھی تسلیم کروایا۔ بعد میں 1916ء کے میثاقِ لکھنؤ کے تحت قائداعظم محمد علی جناح کی کوششوں سے کانگریس ،مسلم لیگ کے قریب ہوئی اور مسلمانوں کے لئے جداگانہ انتخاب کی بھی حمایت کی، لیکن یہ قربت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور رہتی بھی کیسے؟ جب ہندو یہ تہیہ کرچکے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ہر صورت پس منظر میں ہی رکھنا ہے۔ تحریک خلافت کے دوران بھی گاندھی جی اور کانگریس کا مکروہ چہرہ مزید واضح ہوگیا تھا۔ جبکہ رہی سہی کسر 1928ء میں نہرو رپورٹ نے پوری کردی۔ پنڈت موتی لعل نہرو نے مذکورہ رپورٹ میں اپنی روایتی منافقت کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف جداگانہ انتخاب کو مسترد کردیا تھا بلکہ ہندوستان کو درجہ مستعمرات (Dominion Status) قرار دینے کی خواہش کا اظہار کرکے ہندوستان کی کامل آزادی کی بھی نفی کردی۔ مولانا محمد علی جوہر نے نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے قبول کرنے کا مطلب ہندوئوں کی دائمی غلامی ہے۔ اگر اس رپورٹ کے مطابق اصلاحات نافذ کی گئیں تو ہندوئوں کا غلبہ یقینی ہوگا۔
بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہندو رہنمائوں کی جارحانہ طرز سیاست کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان سیاسی میدان میں دفاعی پوزیشن پر کھڑے تھے۔ ان حالات میں مفکر اسلام علامہ محمد اقبال نے اپنی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کی بدولت الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نہایت جامع اور مدلل خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اسلام ایک تمدنی قوت کی حیثیت سے زندہ رہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک مخصوص علاقے میں اس کی مرکزیت قائم ہو۔ اس لئے میں ہندوستان اور اسلام کے بہتر مفاد میں ایک مسلم ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہوں۔ (مکمل خطاب کے لئے دیکھئے آزاد بن حیدر کی کتاب ''آل انڈیا مسلم لیگ'' صفحہ 465 تا 486)
یہ پہلا موقع تھا کہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد میں اس مطالبے کو تقویت دینے کا اہم سبب 1937ء کی کانگریسی وزارتیں بنیں۔ کانگریس نے 37ء کے صوبائی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے دو سال کے قلیل عرصے میں ہی مسلمانانِ ہند پر ظاہر کردیا کہ اگر ہندوستان میں جینا ہے تو اپنی الگ شناخت ختم کرکے کانگریس میں ضم ہوجائیں۔ جسے مسلم لیگ نے سختی سے مسترد کرکے 23 مارچ 1940ء کو کانگریس پر واضح کردیا کہ ہندوستان میں ایک دوسرا فریق بھی ہے جسے مسلمان کہتے ہیں اور وہ کسی صورت بھی کانگریس کے پیچھے چلنے کو تیار نہیں ہے۔ 1945-46ء کے انتخابات بھی اسی بنیاد پر لڑے گئے، جس میں مسلم لیگ کا منشور یہ تھا کہ قیامِ پاکستان مسلمانانِ ہند کے قضیے کا واحد حل ہے۔ جبکہ کانگریس ہندوستان کی تقسیم کو گئو ماتا کے ٹکڑے کرنے کے مترادف سمجھتی تھی۔ لیکن مسلمان اپنے اس دعوے میں سچے ثابت ہوئے کہ ہندوستان کے مسلمان علیحدہ وطن چاہتے ہیں، کیونکہ یہ مسلم تشخص کی بقا کا ضامن ہے۔
سماجی پہلو:
برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے قبل ہندوستان عدم مرکزیت کا شکار تھا۔ ذات پات کی تقسیم نے ہندو معاشرے کو تاریکی میں دھکیل رکھا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے عہد میں ہندوئوں کے طرز معاشرت پر دوررس اثرات مرتب کئے۔ مغل دور میں اورنگزیب عالمگیر کے اقتدار تک سیاسی استحکام کے ساتھ ہندوستان کی معاشرتی کیفیت بھی حد درجہ بہتر تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ رنگ زائل ہوتا گیا، یہاں تک کہ مسلمان اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
برطانوی راج میں ہندوستان ایک طرف سیاسی بحران سے دوچار ہوا، تو دوسری جانب مسلمانوں اور ہندوئوں میں معاشرتی تنازعات کی خلیج وسیع ہونے لگی۔ ہندو نہ صرف مسلمانوں کی عبادات اور طرز زندگی پر معترض ہوئے، بلکہ شعائر اسلام کی بے ادبی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بنیادوں کو بھی ڈھانے لگے۔ آریہ سماج کی تحریک کے پیچھے یہی مقاصد کارفرما تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں ویدی معاشرے کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1937ء کی کانگریسی وزارتوں نے تمام تر توجہ مسلم تہذیب و تمدن کے انہدام پر ہی مرکوز کئے رکھی۔ واردھا اور ودیا مندر تعلیمی سکیمیں اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی تھیں۔ اگر مسلمان ان حالات میں علیحدہ وطن کا مطالبہ نہ کرتے تو ہندوستان میں مسلم قومیت کا نام و نشان بھی باقی نہ رہتا۔
مذہبی پہلو:
تقسیمِ ہند کے دیگر پہلوئوں کی طرح مذہبی پہلو بھی قیامِ پاکستان کے اسباب میں سے ایک ہے۔ ہندوستان میں برطانیہ کے نوے سالہ دور حکومت پر نظر ڈالی جائے تو ہر موڑ پر مسلمانوں کی نظریاتی پہچان خطرے میں گھری نظر آئے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان میں اب تک ابھرنے والے مذاہب اور ادیان اپنی اصل پہچان برقرار نہ رکھ سکے۔ 1500 قبل مسیح میں آریہ ہندوستان آئے۔ ان کے ہزار سالہ عہد میں مظاہرِ فطرت کی پوجا اپنے عروج پر تھی۔ 500 قبل مسیح میں برہمنوں نے بالادستی قائم کی اور ہندوستانی معاشرے کو چار طبقوں میں تقسیم کر ڈالا۔ ذات پات کی تقسیم کے خلاف مہاتما بدھ میدان میں آئے۔ ان کے ہمعصر مہاویر نے بھی عدم تشدد کا پرچار کیا۔ تاریخ میں ان دونوں کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ مہاتما سے بدھ مذہب نے تقویت حاصل کی، جبکہ مہاویر کی تعلیمات کو جین مت کا نام دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدھ اور جین مت ہندوستان میں اپنی انفرادیت کھو بیٹھے اور ہندو مت میں ضم ہوگئے۔
برصغیر کی مذہبی تحریکوں کو دیکھا جائے تو ہندوستانی معاشرے پر ''بھگتی تحریک'' کے اثرات بھی نمایاں نظر آئیں گے۔ اس تحریک کا زمانہ گیارہویں صدی سے سولہویں صدی عیسوی پر محیط ہے۔ بھگتی تحریک نے جنوبی و شمالی ہند کے علاوہ بنگال میں بھی سرگرم رہنمائوں کو جنم دیا۔ پنجاب کے ضلع ننکانہ میں بابا گرو نانک نے اس تحریک کے زیر اثر ہی اپنی تعلیمات کا پرچار کیا تھا۔ بھگتی تحریک کے تمام سلسلے وقت کے ساتھ ساتھ ماند پڑتے گئے، لیکن گرو نانک کی تحریک نے آگے چل کر ایک نئے مذہب سکھ مت کے لئے راہیں ہموار کیں۔ بھگتی تحریک کے اثرات کی بدولت ہی اکبر بادشاہ نے 1581ء میں ''دین الٰہی'' کا پرچار کیا تھا۔ لیکن مسلم صلحاء نے اسلام اور ہندو مت کے انضمام کی تمام کوششیں ناکام بنادیں۔
ہندوستان میں ابھرنے والی تمام اصلاحی و مذہبی تحریکیں وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑتی رہیں یا ہندو دھرم کا حصہ بنتی گئیں، لیکن اسلام واحد مذہب ہے جس کی شناخت ختم نہیں کی جاسکی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے معاشرتی زندگی میں کسی حد تک ہندو طرز معاشرت کے اثرات قبول کئے ہیں۔ لیکن اصولی طور پر اسلام کی تعلیمات اب بھی وہی ہیں جو آغاز میں تھیں۔ مسلمانوں کی اساسی پہچان کو ملیامیٹ کرنے کی خاطر برطانوی دور میں بھی ہندوئوں کی طرف سے تابڑ توڑ حملے کئے گئے۔ شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ہندومہاسبھا بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہ رہی۔ وہ برملا طور پر کہتے تھے کہ مسلمانوں کا ہندوستان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو بخوشی اپنی راہ لیں، ورنہ ہندوستان میں ہندو بن کرجِئیں۔ مسلمانوں کو قبول نہ کرنے کا یہ رویہ بھی تقسیمِ ہند کے نظریے کو تقویت دینے کا اہم سبب بنا ہے۔
خلاصہ کلام:
ہندوستان کی تاریخ اور حالات و واقعات کو پرکھا جائے تو یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوگا کہ مغلیہ سلطنت کے زوال اور 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔ ماسوائے اس کے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک پاکستان کے رہنما اس بات پر بضد تھے کہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ اور آزاد ریاست قائم کی جائے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ دو ایسی اقوام جن کا مذہب، طرز فکر، نظریات و افکار، سیاست و معاشرت، تہذیب و ثقافت، رہن سہن، طرزِ بُود و باش، الغرض ہر زاویے سے وہ ایک دوسرے سے جدا ہو، وہ ایک دوسرے میں مدغم کیسے ہوسکتے ہیں؟ یہ محض جذبات کا اظہار نہیں حقیقت ہے۔ جنگ آزادی کے بعد ہندوستان کی مختلف اقوام میں اتحاد کے بہت بڑے داعی سرسید احمد خان سمجھے جاتے ہیں، لیکن وہ بھی اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ ہندو اور مسلمان دل و جان سے کبھی بھی ایک نہیں ہوسکتے۔
اگر نظریہ پاکستان کا کھلے دل و دماغ سے بغور مطالعہ کیا جائے تو کسی ذی شعور سے پاکستان کی اہمیت و افادیت مخفی نہیں رہے گی۔ پاکستان کو محض چند حرفوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سوچ اور نظریہ سمجھا جائے۔ وہ نظریہ جس کی آبیاری ازل سے کی جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان معاشی یا سیاسی اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے وجود میں نہیں آیا، بلکہ اس کے قیام کا اہم مقصد برصغیر میں مسلم نشاة ثانیہ کے لئے محفوظ مرکز کی فراہمی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد کے ادوار میں پاکستان کو ایسی قیادتیں میسر آئیں، جنہوں نے ذاتی یا سیاسی اغراض کے لئے نظریہ پاکستان کو پس پشت ڈالا۔ حکمران طبقے سے سرزد کوتاہیوں، خامیوں اور سرکشیوں کا ذمہ دار ریاست کو قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان کو صحیح معنوں میں اس کی اصل اساس پر استوار کیا جائے، کیوں کہ یہ ملک بے لوث جدوجہد کی بدولت عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے وجود میں آیا ہے۔ علامہ اقبال نے درست کہا تھا:
جہاں میں اہل ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
٭…٭…٭

مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کررہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پیارے وطن
اس خون میں شامل پیار تیرا، اے وطن تیرے متوالے ہیں
تیری سرحدوں پہ پہرے ہیں، تیری عزت کے رکھوالے ہیں
یہ جان امانت تیری ہے، یہ خون بھی تیرا اپنا ہے
تیرا پرچم سدا لہراتا رہے، ہم تجھ پہ مٹنے والے ہیں

ہمیں قسم ہے ان اندھیروں کی، تیرے گائوں کی تیرے شہروں کی
اس سبز ہلالی پرچم کی، تیرے دریائوں تیری نہروں کی
اس جگ میں ہو گا مقام تیرا، اور دنیا میں اک نام تیرا
قائد کی روح گواہ ہو گی، تیری خوشحالی کی لہروں کی

کبھی ایسے دن بھی آئیں گے، ہم دنیا کو دکھلائیں گے
خوں جگر کا دے کر دنیا میں شان ہم تری بڑھائیں گے
تو بنا ہے قائم رہنے کو، قیامت تک قائم رہنا ہے
ہم آئے یہاں پر مٹنے کو، تیری عزت پہ مٹ جائیں گے

محمد الیاس

*****

 
09
March

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی

انسانی زندگی کی تقویمِ ماہ وسال میں بعض ایام ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں طلوع ہونے والا سورج زمانی و مکانی تاریکیوں کو دور کرنے کے ساتھ انسانی بخت کے اندھیروں کو بھی اجالوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔1940ء کا 23 مارچ بھی ایسے ہی دنوں میں شامل ہے۔اس دن کا سورج بظاہر شام کو غروب ہو گیا مگر ملت اسلامیہ کو ایک صبحِ مسلسل عطا کر گیا،جو آزادی کی صبح تھی جو آج بھی قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گی۔
تصو ر کی آنکھ سے ذرا وہ منظر دیکھیں جب لاہور میں اس دن کا سورج طلوع ہوا تھا۔وسیع وعریض منٹو پارک میںبرصغیر کے کونے کونے سے مسلمان آ کر جمع ہو رہے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد جن کی آنکھوں میں عزم و استقلال کی چمک تھی، پنڈال میں پہنچ چکے تھے۔تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی مگر خلقت تھی کہ امڈی چلی آ رہی تھی۔فضا تکبیر کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ہر شخص ایک عظیم ہستی کی تابناک پیشانی دیکھنے کو بیتاب تھا۔وہ ہستی جس کے دل کی دھڑکن کروڑوں عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کی ترجمان تھی۔جس کا عزم و حوصلہ چٹانوں کی طرح مضبوط اور پہاڑوں کی طرح بلند تھا۔جسے ہندو اور انگریز محمد علی جناح اور اسلامیانِ ہند قائداعظم کے نام سے پکارتے تھے۔آخر وہ عظیم ہستی جلسہ گاہ میں داخل ہوئی،سٹیج کی طرف بڑھی اور اپنے لئے مختص کرسی پر براجمان ہو گئی۔پنڈال فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا۔آج انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کے لئے یہاں جمع ہوا تھا۔سٹیج پر قائداعظم کے ہمراہ ہر علاقے سے آئے ہوئے مسلم رہنما موجود تھے،اور وہ سٹیج علامہ اقبال کے اس

youmepakistan.jpg

شعر سے مزیّن تھا:
جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے،اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
یہ اقبال ہی کا خواب تھا جس کی تعبیر کی طرف بڑھنے کے لئے یہ عظیم الشان جلسۂ عام منعقد ہو رہا تھا۔ قائد اعظم کی صدارت میں ہونے والے اس جلسے نے حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل کھینچ کر دو قومی نظریئے پر مہر ِتصدیق ثبت کر نی تھی،وہ دو قومی نظریہ جس کا اعلان 1930ء میں الٰہ آباد کے مسلم لیگی جلسے میں علامہ محمد اقبال نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا تھا۔انہوں نے واضح کردیا تھا :
''مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ اسلامی مملکت کا قیام کم از کم شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کی قسمت میں لکھا جا چکا ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے کلچر،روایات اور رسوم کے تحفظ اور فروغ کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کر سکیں۔انھیںاگریہ یقین دلایا جائے کہ پنجاب،سندھ،سرحدی صوبے اور بلوچستان کو ملا کر ایک الگ اسلامی ریاست قائم کر دی جائے گی تو میں حصولِ آزادی کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے آمادہ ہوں۔''
حضرت علامہ اقبال نے بظاہر 1930 ء میں اعلانِ آزادی کیا مگر وہ ہندوستانی مسلمانوں کے مرض کا علاج بہت پہلے تجویز کر چکے تھے۔1901ء میں ایک نجی مکان میں ہونے والے مسلمانوں کے ایک اجتماع میں انھوں نے مسلمانوں کے الگ وطن کی طرف اشارہ کیا۔اسی طرح 1903ء میں بھی انھوں نے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایک الگ قوم قرار دیتے ہوئے ان کے لئے الگ ملک کا ذکر کیا۔1907ء میں انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنا یہی پیغام خاص و عام تک پہنچانے کی کوشش کی ۔ان کی وہ نظم ان کی پہلی شعری تصنیف ''بانگِ درا'' میں مارچ 1907ء کے نام ہی سے درج ہے جس کے یہ دو شعر خصوصاً قابلِ ذکر ہیں:
سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مُورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہو گا
یہی وہ عزم تھا جو 1940ء تک پہنچتے پہنچتے ملت اسلامیہ کے ہر فرد میں منتقل ہو چکا تھا،اور اس میں خوش بختی کی بات یہ تھی کہ ملت اسلامیہ کو محمد علی جناح کی صورت میں قائداعظم میسر آ گیا تھا۔23 مارچ 1940ء کا دن قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں اسلامیانِ ہند کے عظیم الشان اتحاد کے رفیع الشان مظاہرے کا دن تھا۔قائدِاعظم کی صدارت میں اس جلسۂ عام میں برصغیر کے مسلمانوں کی منزل کا تعین ہونے جا رہا تھا۔آج یہ ہجوم ایک قوم کی شکل اختیار کر گیا تھا۔قائدِاعظم جو اعلان کرنے والے تھے وہ کروڑوں مسلمانوں کی آواز تھی۔گویاقائد کی آواز ہی سب کی آواز تھی۔جلسہ گاہ کی پوری فضا گوش بر آواز تھی۔بالآخر شیرِ بنگال مولوی اے کے فضل حق اٹھے اور اسلامیانِ بر صغیر کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا۔یہی وہ قرارداد تھی جسے قراردادِ پاکستان کا نام ملا۔قرارداد پڑھتے ہوئے جب مولوی فضل حق پاکستان کے مطالبے پر پہنچے تو مسلمانوں کو بلاشبہ یہ محسوس ہو گیا کہ انھیں جس منزل کی جستجو تھی وہ ان کے سامنے کھڑی ہے اور زبانِ حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یقین ِمحکم اور عملِ پیہم کے ہتھیار لے کراٹھو اور حاصل کر لو۔۔۔
مسلمانوں کو ایک نئی زندگی مل گئی۔قرارداد ان کی اُمنگوں،آرزوئوں، ارمانوں اور جستجو کا حاصل تھی۔قرارداد کی حمایت میں سب سے پہلی تقریر بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے اردو زبان میں کی۔ان کی تقریر نے پورے جلسے میں ایک نئی روح پھونک دی۔مولانا ظفر علی خان کے بعد مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے دیگر رہنمائوں نے قرارداد کی حمایت میں پُرجوش تقاریر کیں۔ سندھ سے سر عبداللہ ہارون،بلوچستان سے قاضی محمد عیسیٰ،سرحد سے سردار اورنگزیب خان،یو پی سے بیگم محمد علی جوہر اور چودھری خلیق الزمان،بہار سے نواب اسماعیل خان،مدراس سے عبدالحمید خان،سی پی سے سید عبدالرئوف اور بمبئی سے آئی آئی چندریگر نے قرارداد کی حمایت کی۔ہر تقریر میںبرصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکنوں کی ترجمانی موجود تھی۔قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوگئی۔ہر لمحہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے یادگار تھا،بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی آنکھوں میں فرطِ جذبات سے آنسو آ گئے۔اسی کیفیت میں انھوں نے بہادر یار جنگ کی موجودگی میں اپنے سیکرٹری مطلوب الحسن سید سے مخاطب ہو کر کہا:
''اقبال وفات پا چکے ہیں،اگر آج وہ موجود ہوتے تو بہت زیادہ خوش ہوتے کیونکہ ہم نے ان کی خواہش پوری کر دی ہے۔''
بلاشبہ 23مارچ کے دن شاعرِ مشرق کے خوابِ آزادی کو تعبیر آشنا کرنے کے لئے ایک نئے عزم اور ولولے سے جدوجہد کو آگے بڑھایا گیا۔حقیقت میں ان کے دئیے گئے خاکے میں رنگ بھر دیا گیا تھا۔یہی وہ دن تھاجس نے فکر کو عمل کا جامہ پہنایا،جذبوں کو مہمیز دی اور ولولوں کو زندگی بخشی۔

youmepakistan1.jpg

قراردادِ پاکستان سے قیامِ پاکستان تک کا عرصہ 7 سال پر محیط ہے مگر واقعات کے لحاظ سے یہ صدیوں پر بھاری ہے۔آزادی کا قافلہ رواں دواں تھا مگر اس کے راستے میں رکاوٹیں ہی رکاوٹیں تھیں۔انگریزوںاور ہندوئوں نے سازشوں کا جال بچھا دیا تھا۔یہ دونوں قوتیں مقصدِ واحد پر متحد تھیں کہ مسلمانوں کو حصولِ وطن کی منزل تک کسی صورت نہ پہنچنے دیا جائے۔ان سازشوں میں بعض اپنے بھی غیروں کی مدد کر رہے تھے۔قائداعظم اور دیگر قائدین کو بے شمار لالچ دئیے گئے۔رشوتیں پیش کی گئیںاور بے شمار دیگر حربے آزمائے گئے۔مگر تمام بدخواہوں کی ساری سازشوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور کاروانِ آزادی انتہائی قلیل مدت میں منزلِ مقصود پر پہنچ گیا۔23 مارچ منزلِ آزادی کا وہ سنگِ میل تھا جہاں سے منزل کی روشنی صاف دکھائی دے رہی تھی،جہاں دو قومی نظرئیے کا اثبات ہوا اور جہاں اسلامیانِ برصغیر کا تشخص ابھر کر سامنے آگیا۔یہ وہی مقام تھا جہاں اقبال کے افکار اور قائداعظم کے اقوال کی شان و شوکت اور عظمت کا احساس نہ صرف اجاگر ہوا بلکہ یہ افکار واقوال عمل کے سانچے میں ڈھلتے ہوئے دکھائی دیئے۔قائد اعظم کا یہ فرمان نئے اسلامی ملک کا منشور بن کر سامنے آیا:
''وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں ،وہ کون سی چٹان ہے جس پر اس ملت کی عمارت استوار ہے،وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے،وہ رشتہ،وہ چٹان اور وہ لنگر اللہ کی کتاب قرآن حکیم ہے۔مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ایک اللہ،ایک کتاب،ایک رسولۖ اور ایک امت''
اور یہی منشور مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال نے اپنے لفظوں میں اس طرح بیان فرمایا:
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیۖ،دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
گویا اتحاد میں زندگی ہے اور نفاق میں موت۔
یومِ پاکستان ہمیں ماضی کے مناظر میں لے جاتا ہے،تحریکِ پاکستان کی یادوں کو تازہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ منٹوپارک کس طرح اقبال پارک میں تبدیل ہوااور اقبال پارک میں کس وجہ سے ایک فلک بوس مینار ایستادہ ہے ۔یہ مینار غربت وافلاس کی پستیوں میںرہنے والوں اور غلامی کے اندھیروں میں بھٹکنے والوں کو ایک آزاد وطن دینے والے خدائے بزرگ وبرتر کے عزو جلال کا اعلان کر رہا ہے ۔یہ بلندمینارپیغام دیتا ہے کہ مقاصد اور عزائم کو بلند رکھیں ۔ یہ مینار ِ پاکستان ہمیں تلقین کرتا ہے کہ تحریک پاکستان کے جذبوںاورولولوں کو ماند نہ پڑنے دیں۔قیامِ پاکستان یقیناً ایک بڑا مرحلہ تھا مگر استحکامِ پاکستان اس سے بھی کڑا مرحلہ ہے۔پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے عساکرِ پاکستان کا کردار روشن ہے۔تاہم ان کے شانہ بشانہ ہر مکتبۂ فکر کے افراد کو اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی ،بقول اقبال:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

مضمون نگار اُردو ادب و تحقیق کا ایک معروف نام ہیں وہ وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسیری
ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند
قطرئہ نیساں ہے زندانِ صدف سے ارجمند
مشکِ ازفر چیز کیا ہے، اِک لہو کی بوند ہے
مُشک بن جاتی ہے ہو کر نافۂ آہو میں بند
ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قدرت مگر
کم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام و قفس سے بہرہ مند
''شہپرِزاغ و زغن در بندِ قید و صید نیست
ایں سعادت قسمتِ شہباز و شاہیں کردہ اند''
اقبال

*****

 
09
March

قوم رواں برس اٹھترواں یومِ پاکستان منا رہی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ منٹو پارک لاہور میں23 مارچ1940 میں منظور کی جانے والی ' قرار داد پاکستان' کے خواب کو فقط سات برس کی قلیل مدت میں تعبیر مل جائے گی۔ گویا یہ وہ قوم ہے جس نے قائدِاعظم محمدعلی جناح کی بے مثال قیادت میں شبانہ روز محنت کرتے ہوئے پاکستان کی صورت میں ایک آزاد مسلم ریاست کا حصول یقینی بنایا۔1947 میں وطنِ عزیز کے قیام سے لے کر آج تک اس قوم کو متعدد کٹھن اور پُرخار راہوں سے گزرنا پڑا۔ لیکن یہ قوم جس انداز سے ثابت قدم رہی وہ اسے دنیا کی دیگر اقوام میں ممتاز کرتا ہے۔ پاکستان کو آج بھی بیرونی و اندرونی محاذوں پر متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ جن کا قوم نے پُرعزم رہتے ہوئے مقابلہ کیا ہے اور آج یہ قوم شدت پسندی سمیت متعدد مسائل پر کافی حد تک قابو پاچکی ہے۔ ان کامیابیوں کے حصول کے لئے یقینا افواجِ پاکستان اور قوم نے بہت قربانیاں دی ہیں جن کا بین الاقوامی سطح پر اقرار کیا جانا ازحد ضروری ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں میونخ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کو باور کروایا کہ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کا کوئی منظم ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔ کیونکہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کردیئے گئے ہیں۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی آپریشن نہیں کررہا بلکہ سہولت کاروں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کی جارہی ہے۔


بلاشبہ فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک پر کاری ضرب لگائی گئی ہے لیکن دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑکر پھینکنے کے لئے آپریشن ردُّ الفساد جاری ہے۔ جس کے ذریعے کونوں کُھدروں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر ان کی بیخ کنی کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں امن و امان کی عمومی صورت حال بہتر ہو چکی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حاصل کردہ کامیابیوں کے باوجود پاکستان اور اُس کے دفاعی ادارے اُسی تن دہی کے ساتھ مشرقی ، مغربی ، اندرونی اور بیرونی ہر محاذ پر اپنے فرائض انجام دے کر ملک کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لئے کوشاں ہیں کہ امن اور ترقی صرف چند ایک کوششوں اور کامیابیوں کی بدولت حاصل نہیں ہوا کرتی بلکہ اس کے لئے قوموں کو ایک طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ الحمدﷲ آج پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جو ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کو سنوارنے کے لئے ذہنی، فکری اور نظریاتی بنیادوں کو اس انداز میں استوار کرنے کے خواہاں ہیں کہ پاکستان کا شمار بھی دنیا کی مضبوط ترین اقوام میں ہونے لگے گا۔پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور آج پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک ا ہم ملک ہے اس کی ایک ساکھ اور شناخت ہے۔ قراردادِ پاکستان اور پھر قیامِ پاکستان کے بعد کا سفر جاری ہے جو تکمیلِ پاکستان تک جاری رہے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم اپنی منزل سے قریب تر ہیں۔ اب ضرورت ثابت قدم، پُرعزم اور باحوصلہ رہنے کی ہے کہ انہی خوبیوں کی حامل اقوام سَر اٹھا کر چلنے کے ہنر سے آشنا ہوتی ہیںاور کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے۔


پاکستان ہمیشہ زندہ باد

09
March

تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان


اگر یہ جاننا مقصود ہو کہ ملک کاجغرافیائی محلِ وقوع، اس کی اندرونی سیاست اور خارجہ تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے تو بحرِ ہند کے عین وسط میں واقع مالدیپ کو ایک تازہ مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے جزائر پر مشتمل آبادی (پانچ لاکھ سے کم) اور رقبہ( تقریباً تین سو مربع کلو میٹر) کے لحاظ سے مالدیپ اگرچہ ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے تاہم اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کی بنا پر علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے نمایاں طور پر جیوسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے کیونکہ بحرِ ہند کی تجارتی شاہراہیں جن سے دنیا کا دو تہائی تیل مختلف ملکوں کو پہنچایا جاتا ہے مالدیپ کے بالکل قریب سے گزرتی ہیں۔ اس کے علاوہ چین، جاپان، آسٹریلیا اور یورپ کے درمیان تجارتی سامان لے جانے والے کنٹینرز کا بھی 50 فیصد حصہ ان ہی بحری شاہراہوں کو استعمال کرتا ہے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے بحرِ ہند کو قدیم ترین زمانے سے ہی غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ پندرھویں صدی میں یورپی اقوام کی آمد کے بعد بحرِ ہند کو عالمی سطح پر نہ صرف ایک عظیم تجارتی شاہراہ بلکہ یورپی نوآبادیاتی اقوام کے اہم دفاعی مفادات کے تحفظ میں بھی ایک اہم مقام حاصل رہا ہے۔1970-1980 کی دہائیوں میں بحرِ ہند امریکہ اور سابق سوویت یونین کے درمیان کشمکش کا مرکز تھا لیکن 1990 کی دہائی کے آغاز پر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بحرِ ہند کے خطے میں تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس دَور کی خصوصیات میں بحرِ ہند اور اس کے ارد گرد واقع ممالک جن میں مالدیپ بھی شامل ہے، کے ساتھ چین کے قریبی اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں اضافہ اور بحرِ ہند میں چینی بحریہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہیں۔ دو طرفہ بنیادوں پر چین اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تجارت ، maldeepkasyasi.jpgسرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے شعبوں میںتعاون سے گزشتہ تین دہائیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چین اِن ممالک میں تعمیر و ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لئے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے علاوہ اُن شعبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے جن کی ترقی سے یہ ممالک اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوسکیں مثلاً انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے ، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے علاوہ مالدیپ میں بھی چین کی سرمایہ کاری سے بنیادی انفراسٹرکچر کو ترقی دی جارہی ہے تاکہ معاشی ترقی کے پیہم عمل کے لئے ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم ہوسکے۔ لیکن بھارت کی طرف سے جنوبی ایشیا کے ان ممالک کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی روابط کو غلط رنگ دیا جارہا ہے۔ بھارت اور اس کے، مغربی دنیا میں، دوست ممالک کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط بڑھا کر چین، بحرِ ہند پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ یہ تعلقات خالصتاً دوطرفہ، باہمی مفاد اور مساوی بنیادوں پر قائم ہیں۔ مالدیپ کے بارے میں بھارت کی حساسیت اسی وجہ سے اور بھی زیادہ ہے کہ یہ ملک بھارت کے زیرِقبضہ لکا دیپ سے صرف 700 کلومیٹر دُور اور بھارت کے اپنے ساحل سے 1200 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بھارت، بحرِ ہند کو اپنی معیشت اور سلامتی کے لئے بہت اہم سمجھتا ہے کیونکہ اس کی بیرونی تجارت کا 90 فیصدسے زائد حصہ بحرِ ہند پر محیط ہے لیکن بھارت واحد ملک نہیں جس کے مفادات بحرِ ہند سے وابستہ ہیں۔ بحرِ ہند کے ارد گرد واقع ممالک کے علاوہ چین بھی اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا کیونکہ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور افریقی برِاعظم سے خام اشیاء بحرِ ہند ہی کے راستے آبنائے ملاکا سے گزر کر چین کے مشرقی ساحل پر واقع شنگھائی کی بندرگاہ پر پہنچتی ہیں۔ جب تک پاک چین اکنامک کاریڈور مکمل ہو کر پوری طرح فنکشنل نہیں ہوتا، تو انائی اور خام اشیاء کی درآمد کے لئے بحرِ ہند پر چین کا بھاری انحصار قائم رہے گا۔ جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک کے ساتھ دو طرفہ بنیادوں پر تعلقات کو فروغ دینے کے لئے چین کی کوشش اور بحرِ ہند میں چینی بحریہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہئے۔ بحرِ ہند کے جن ملکوں نے چین کے ساتھ قریبی تعلقات کو اپنے قومی مفاد کے لئے بہتر سمجھا ہے اُن میں مالدیپ بھی شامل ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں اس نے چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کئے تھے۔ پاکستان کے بعد جنوبی ایشیا میں مالدیپ دوسراملک ہے جس نے چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی بنیاد پر تعلقات قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ مالدیپ نے چین کے ون بیلٹ وَن روڈ کے منصوبے
(OBOR)
میں بھی شرکت کے لئے حامی بھرلی ہے۔ اس منصوبے کا ایک حصہ میری ٹائم سلک روڈ
(Maritime Silk Road)
ہے جو چین کو مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے یورپ کے ساتھ ملانے کے لئے بحرِ ہند سے گزرتا ہے۔ مالدیپ اسی روٹ کے کنارے پر واقع ہے۔ مالدیپ میں چین کی سرمایہ کاری سے ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور دو بڑے جزیروں کو ملانے والا ایک پُِل بھی تعمیر کیا جارہاہے۔ اول الذکر منصوبہ اس لئے اہم ہے کہ پہلے اس کا ٹھیکہ بھارت کو دیا گیا تھا لیکن چین نے چونکہ بہتر شرائط پر تعمیر کرنے کی پیش کش کی تھی اس لئے موجودہ صدر عبداﷲ یامین کی حکومت نے 50 کروڑ ڈالر کے اس منصوبے کو بھارت کے بجائے چین کے ہاتھوں تعمیر کرنے کے معاہدے پر دستخط کردیئے۔ بھارت کو صرف اس معاہدے کی منسوخی کا رنج نہیں بلکہ maldeepkasyasi1.jpgاگست 2017 کو جب چین کے تین بحری جہاز مالدیپ کی بندرگاہ مالے (Male) میں لنگر انداز ہوئے تو بھارت کے عسکری حلقوں کی طرف سے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ چین، بحرہند پر اپنی سیادت قائم کرنے کے لئے جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دے رہاہے۔ ان ممالک میں مالدیپ بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 6 فروری کو مالدیپ کے صدر عبداﷲیامین نے ملک کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لئے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا، تو اس پر تبصروں اور اعلانات میں بحرِ ہند میں جاری نام نہاد چین بھارت، مسابقت کا رنگ بھی جھلکنے لگا۔ حالانکہ یہ مالدیپ کا خالصتاً اندرونی مسئلہ تھا اور کسی ملک کو اس میں مداخلت کا حق نہیں پہنچتا۔ اس کے علاوہ چین نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ بحرِہند پرغلبہ حاصل کرنے کے لئے اُس کا بھارت کے ساتھ کوئی مقابلہ ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت بحرِ ہند پر کنٹرول کو اپنا حق سمجھتا ہے اور اس حق کے دفاع میں جغرافیائی اور تاریخی عوامل پیش کئے ہیں۔ بھارت کی موجودہ حکمران پارٹی بی جے پی کی علاقائی حکمتِ عملی میں تو بحرِ ہند کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور اس کے تحت بھارت نے نہ صرف بڑی طاقتوں سے اشتراک کے ذریعے اپنی بحری قوت اور صلاحیت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے بلکہ بحرِ ہند کے چھوٹے ممالک کے اندرونی معاملات میںمداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے بھی اشارات دیئے ہیں۔ مثلاً بی جے پی کے ایک سرکردہ رہنما مہندر سنگھ نے مالدیپ کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت کو مداخلت کی تلقین کی اور کہا کہ مالدیپ کے موجودہ بحران میںمداخلت کے ذریعے ''بھارت اپنے آپ کو ایک عالمی طاقت ثابت کرسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا (مالدیپ میں فوجی مداخلت) موقع ہے جسے بھارت کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔ مالدیپ میں مداخلت بھارت کے لئے اس لئے ضروری ہے کیونکہ جب تک کوئی ملک اپنے ہمسایہ ممالک پر غلبہ حاصل نہیں کرلیتا، اس وقت تک وہ عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے اپنا کردار ادا نہیں کرسکتا۔'' یہ سوچ کسی ایک لیڈر کی نہیں اور نہ ہی یہ عزائم موجودہ حکمران جماعت بی جے پی تک محدود ہیں بلکہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے نریندر مودی تک سبھی بھارتی لیڈر بھارت کے اِردگرد واقع جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک کو اپنا حلقۂ اثر سمجھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر ان کے نہ صرف خارجہ تعلقات بلکہ اندرونی سیاسی عمل کو بھی اپنی مرضی کی سمت میں چلانا اپنا استحقاق سمجھتے چلے آرہے ہیں۔ اس سوچ کے تحت 1950 میں بھارت نے نیپال میں رانا خاندان کی موروثی آمریت کے خلاف جمہوری جدوجہد میں مداخلت کی، 1971 میں پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے کے لئے مشرقی پاکستان میںمداخلت کی ،1987 میں تامل ٹائیگرز کی بغاوت کو کچلنے کے بہانے سری لنکا میں اپنی فوجیں اتاریں اور 1988 میں مالدیپ کی ایک فوجی بغاوت کوناکام بنانے کے لئے اپنے فوجی دستے بھیجے۔ مالدیپ کے موجودہ بحران کے موقع پر بھی بھارت کی طرف سے مداخلت کا امکان موجود تھا۔ کیونکہ کئی حلقوں کی طرف سے بھارت کو ایسا کرنے پر زور دیا جارہا تھا۔ بھارتی فوجی مداخلت کا مطالبہ کرنے والوں میں بی جے پی کے انتہا پسند حلقوں کے علاوہ سابق صدر محمدناشید بھی شامل ہیں۔ ان حلقوں کی طرف سے یقین دلایا جارہا تھا کہ اگر بھارت نے مالدیپ میں پہلے کی طرح فوجی مداخلت کی تو دوسرے ممالک اس کی مذمت کرنے کے بجائے اس کی حمایت کریں گے۔ کیونکہ 1988 میںجب بھارت نے مالدیپ میں اُس وقت کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کو کچلنے کے لئے اپنے فوجی دستے بھیجے تھے تو امریکہ اور برطانیہ نے اس اقدام کی حمایت کی تھی۔ لیکن 1988 اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے۔ اگر بھارت آج مالدیپ میں مداخلت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے خلاف بہت سی آوازیں اُٹھیں گی، بلکہ شدید قسم کا ردِ عمل بھی آسکتا ہے۔ اس قسم کے ردِ عمل کے امکان کو چین کے سرکاری میڈیا نے واضح طور پر ظاہر کیا ہے۔ چینی فوج کے اخبار ''گلوبل ٹائمز'' نے اپنے ایک اداریے میں خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے مالدیپ میں یکطرفہ فوجی مداخلت کی، تو چین اس کو روکنے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔'' مبصرین کے نزدیک بھارت نے اگر اس دفعہ مالدیپ میں1988 کے اقدام کو نہیں دہرایا تو اس کی سب سے بڑی وجہ چین کی طرف سے سخت ردِّعمل کا خطرہ تھا۔

مضمون نگار معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
March

تحریر: محمد طیب انصاری

کثیرالثقافتی معاشروں
(Multicultural societies)
کے اندر کئی ثقافتی عناصر موجود ہوتے ہیں۔ جو کبھی معاشروں میں ٹکرائو ، کبھی تنوع اور کبھی ہم آہنگی کا باعث بنتے ہیں۔ جن سے لوکل ثقافت میں نئی نئی جہتیں پیدا ہوتی ہیں، نئے نئے رجحانات جنم لیتے ہیں۔ کچھ فرسودہ روایات کا خاتمہ کیا جاتا ہے اور ماڈرن خیالات اور نئی روایات ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں لوگ اپنے تہذیبی رویوں میں لچک رکھتے ہیں۔ محبت، امن اور رواداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ کراس کلچر صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ لیکن ایسے معاشروں کو بہت سے چیلنجز کا بھی سامنا رہتا ہے۔ مثلاً اکثریتی ثقافت کا اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک کلچرل کونفلیکٹ

(Cultural conflict)

جیسی خرافات کو جنم دیتا ہے۔ روایتی طور پر کثیرالثقافتی معاشروں نے تین ماڈلوں کے درمیان انتخاب کیا ہے۔
Segregation. (1)
: یہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے جس میں مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی علاقے میں اپنی الگ الگ بستیاں بنا کر رہتے ہیں۔ وہ دوسرے قبیلے یا گروہ سے زیادہ تعلق نہیں رکھتے۔ نہ صرف شادیاں اور رسومات بلکہ نوکریوں اور پیشوں کے انتخاب میں بھی اپنی ذات یا گروہ تک ہی محدود رہتے ہیں۔
Assimilation (2)
: اس ماڈل میں اقلیتی ثقافت اکثریتی ثقافت کو اپنا لیتی ہے جبکہ اکثریتی ثقافت اس اقلیتی ثقافت کی چند خوبیاں اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ اس طرح ان دونوں کا ایک دوسرے کو قبول کرنا اس ماڈل کی بنیاد بنتا ہے۔
Integration (3)
: ایسے ماڈل میں اکثریتی معاشرہ ہمیشہ رواداری کا رویہ رکھتا ہے۔ اقلیتی ثقافت کو اپنے طور طریقے سے زندگی گزارنے کی اجازت ہوتی ہے، کچھ حد تک ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے اور ایک دوسرے کے ثقافتی اختلافات کا بھی احترام کیا جاتا ہے۔ برطانیہ کا شہر لندن اس کی ایک بہترین مثال ہے جو بہت زیادہ ثقافتی تنوع کو فروغ دیتا ہے۔
اگر پاکستان کی ثقافت اور تہذیب کا جائزہ لیا جائے تو ان ماڈلوں کا اطلاق کسی نہ کسی علاقے میں ضرور ہو رہا ہوتا ہے۔ پاکستان متنوع
(diverse)
ثقافت کا ملک ہے جس کی تہذیب تو صدیوں پرانی ہے لیکن یہ خطے میں ہونے والی جدید ثقافتی تبدیلیوں کو بھی اپناتا ہے۔ پاکستان کے چار صوبے ہیں۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کو بھی تقریباً صوبے کا درجہ ہی دے دیا گیا ہے۔ اس طرح حسین وادیوں کی نظیر آزاد کشمیر بھی پاکستان کی تہذیب و ثقافت میں اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔کسی بھی تہذیب کی ثقافت میں زبان اہم کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان مختلف زبانوں، علاقائی ثقافتوں اور نسلی گروہوں کا ایک مجموعہ ہے۔ جہاں تک دنیا کی قوموں میں علاقائی اختلافات کا تعلق ہے تو اس سے کوئی بھی ملک یا قوم مبرا نہیں ہے۔ خود ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں 188 زبانیں اور ساڑھے پانچ سو بولیاں بولی جاتی ہیں۔ اس کے پہلو میں روس کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک ہنگری میں مگیار قوم کے علاوہ ساڑھے چار لاکھ باشندے سلاوی، جرمن اور جپسی اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے پاکستان میں کئی بولیاں اور زبانیں ہونا بھی عین قدرتی بات ہے۔ڈاکٹر عطش درانی کے مطابق پاکستان میں76 یا اس سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں سے کئی ایک میں ابھی تک بھر پور تحریری یا ادبی صورت پیدا نہیں ہوئی اور بعض پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں بلکہ ان میں بہت سا ادب بھی تخلیق کیا جا چکا ہے۔

pakistaniskafat.jpg

سندھ میں سندھی زیادہ تر چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں جبکہ کراچی اور حیدر آباد میں سندھی، اردو، پنجابی، گجراتی اور پشتو بولی جاتی ہیں۔ کراچی میں اسماعیلی، پارسی، بوہری اور عیسائی اپنی اپنی مادری زبانوں کے علاوہ انگریزی اور اردو بولتے ہیں۔ خیبر پختونخوامیں لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی کے باوجود پشتو، دری اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پنجاب میں پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری اور ہندکو بولی جاتی ہیں البتہ اردو کو تدریسی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اردو ملک کے ان علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے جو قبائلی علاقہ جات کہلاتے ہیں۔ گلگت اور ہنزہ میں تقریباً 22 مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر اردو وہاں کی بھی تدریسی زبان ہے۔ حتیٰ کہ آزاد کشمیر میں کشمیری، ڈوگری اور پنجابی بولی جاتی ہیں مگر اردو یہاں بھی عام بول چال کی زبان ہے۔

زبان کا استعمال سیاسی و معاشرتی ہو یا بول چال میں ہر زبان کو نصاب اور تدریس میں آنے کا حق ہے۔ اردو کے ساتھ ساتھ پاکستانی علاقائی زبانوں کی تدریس بھی اس کی حقدار ہے۔ پاکستانی زبانوں پنجابی، سرائیکی، سندھی، پشتو، پوٹھوہاری، ہندکو، بلتی، شینا، پروشسکی، پہاڑی، دری، کوہستانی، کشمیری، گوجری، بلوچی اور براہوی وغیرہ کے تدریسی پہلو کو پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ کسی بھی تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے مقامی زبانوں کو محفوظ کرنا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ سندھی کے بعد اب پشتو اور کسی حد تک پنجابی عمومی تدریسی نصاب کا حصہ بنی ہیں۔ بلوچی، سرائیکی اور کشمیری کہیں کہیں خاص تدریس میں شامل ہیں۔

باقی علاقائی زبانوں کے سیکھنے اور سکھانے کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بہت سی علاقائی زبانیں صرف بول چال کا حصہ ہیں اور ان کا رسم الخط اور بنیادی گرامر کا کہیں وجود نہیں ملتا جو کہ ان کی بقاء کے لئے خطرناک ہے۔ علاقائی زبانوں کی ثقافت اس لئے بھی خطرے میں ہے کہ ہمارے دیہی علاقوں سے شہروں میں ہجرت کرنے والے لوگ زیادہ تر اردو اور انگریزی کا سہارا لیتے ہیں اور ان کی آنے والی نسلیں اپنی علاقائی زبان اور ثقافت کو نہیں سیکھ پاتیں۔ اس طرح ایک زبان موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قوم اور زبان کا جام و مینا جیسا ساتھ ہوتا ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ ایک انحطاط پذیر ہو تو دوسری منفی اثرات سے محفوظ رہ سکے کیونکہ زبان بھی دوسرے کوائف و مظاہر کی طرح اس قوم کے اخلاقی، معاشرتی، ثقافتی اور عرفانی انحطاط کی ترجمان ہوتی ہے۔

پاکستانی زبانوں میں عین الحق فرید کوٹی کے نزدیک ''پنجابی زبان دنیا کی قدیم ترین زبانوں سے تعلق رکھتی ہے اگرچہ زمانے کے ساتھ ساتھ متواتر بدلتے رہنے سے اس کی اولین صورت ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو چکی ہے۔ جس طرح کھنڈروں کی کھدائی کرتے وقت پرانے زمانے کی اشیاء مختلف تہوں میں دستیاب ہوتی ہیں جن سے ان اشیاء کی زمانے کے لحاظ سے درجہ بندی کی جاتی ہے اسی طرح زبان کی بھی مختلف تہیں ہوتی ہیں۔''

تاریخ کے لحاظ سے وادیٔ سندھ شروع ہی سے کثیر اللسانی علاقہ رہا ہے۔ آریائوںسے قبل دراوڑ قوم کے آنے سے، مقامی بولیوں پر بھی اثرات پڑے تھے۔ سندھی زبان کے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ تاریخ کے سفر میں سندھی بولی کی ہیئت میں بہت کم تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ سندھی زبان جو پہلے قدیم ناگری میں لکھی جاتی تھی بعد ازاں عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست سندھی زبان کے بڑے شعراء ہیں۔ شاہ لطیف کا مجموعۂ کلام 'رسالو' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سچل سرمست تالپور دور کے ممتاز ترین شاعر تھے۔ ان کی کافیاں اور غزلیں سندھ تہذیب کو بیان کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
شاعری کے بعد شاید موسیقی سندھ کا عظیم ترین ثقافتی ورثہ ہے۔ یہاں ہمیشہ موسیقی کے اچھے خاصے قابل موسیقار موجود رہے ہیں۔ مغل دور سے پہلے سندھ اپنے موسیقاروں اور گانے بجانے کے لئے مشہور تھا۔ ہندوستانی موسیقی کی طرح عام طور پر سندھی موسیقی کو بھی پیشہ ور ماہرین اور مشاقین کی اجارہ داری سے نقصان پہنچا ہے جنہوں نے اسے اپنے روایتی طریقوں سے اپنی گرفت میں رکھا ہے۔ شاہ لطیف کے رسالوں کی سب منظومات راگوں پر ترتیب دی گئی ہیں۔ یہ نظمیں راگوں اور راگنیوں پر گائی جاتی ہیں۔

ہمارے فنونِ لطیفہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ مقام حاصل کئے ہوئے ہیں۔ ادبی ورثے کے علاوہ موسیقی بھی ہمارا ثقافتی اور اہم ترین ورثہ ہے۔ کلاسیکی موسیقی میں استاد بڑے غلام علی خاں اور روشن آراء بیگم سے نزاکت علی خاں تک اور ٹھمری، دادرا اور غزل میں فریدہ خانم، اقبال بانو جیسی گلوکارائیں ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ غزل اور نغمے میں مہدی حسن صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ قوالی میں غلام فرید صابری اور پھر نصرت فتح علی خان نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ لوک موسیقی ہمارا ثقافتی اثاثہ ہے۔ عالم لوہار سے لے کر عارف لوہار اور عاشق جٹ سے غلام عباس جٹ تک کا سفر جو میلے ٹھیلوں سے شروع ہوتا ہے اور آج کنسرٹ پہ ختم ہوتا ہے۔ فلمی گیتوں کی بات ہو تو میڈم نور جہاں کا ذکر لازم ہو جاتا ہے۔ علاقائی گیتوں میں ماہی گیروں، کسانوں، شادی بیاہ، ماہیا، ڈھولا، ٹپے، سوہنی مہینوال، ہیررانجھا، سسی پنوں، مرزا صاحباں وغیرہ کو ہمارے لوک فنکاروں نے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔

مجسمہ سازی کی تاریخ تو کم از کم سات ہزار سال پرانی ہے۔
Dancing Girl
یا عظیم شخص جو موہن جو دڑو کی نشانیاں ہیں وہ بھی ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی ہیں۔ ٹھٹھہ کی مسجد دیکھیں یا مکلی اور چوکنڈی کا قبرستان، یہاں کے نقوش نقل کر کے ہمارے بہت سے ڈیزائنر کپڑے بناتے ہیں۔ بلوچستان میں مہر گڑھ کا علاقہ سات ہزار سال پرانا ہے۔ یہاں کی پہاڑیوں کو کھودا جائے تو اس میں سے نقش و نگار والے باریک مٹی کے ایسے ظروف برآمد ہوئے ہیں جیسے کل ہی بنائے ہوں۔ مجسمہ سازی نے اب ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے۔ وہ ہے سرامک ظروف سازی جو روغنی رنگوں میں تیار کی جاتی ہے۔ نئی طرز کی صراحیاں، تھالیاں اور دیگر ظروف بھٹی میں تیار کرنے کے بعد انہیں رنگ کیا جاتا ہے۔
پاکستانی آرٹ کا ذکر کرتے ہوئے ہم ''ٹرک آرٹ'' کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ یہ آرٹ کی ایک نئی قسم ہے جو پاکستانی فنکاروں نے متعارف کروائی ہے جو اب دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کے بیشتر ٹرک ، رکشہ اور وین ان پینٹنگز سے مزّین ہوتے ہیں۔ بیل بوٹے کے علاوہ اپنی پسندیدہ شخصیت کی تصویر بھی ٹرک کے پیچھے بنوائی جاتی ہے۔

پنجاب اور سندھ صوفیا کی سرزمین کہلاتی ہے جنہوں نے ہمیشہ محبت وبھائی چارے اور امن کا پیغام دیا ہے۔ ان کے مزارات، ان پر ہونے والی سالانہ تقریبات اور عرس پر سجنے والے میلے ٹھیلے اب ہماری ثقافت کا ایک جزو بن چکے ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں ان مزارات پر دہشت گردوں کے حملوں کی وجہ سے کچھ خوف کی فضا رہی ہے لیکن پاکستانی قوم نے ہمت نہیں ہاری اور ہماری افواج نے ضربِ عضب اور آپریشن ردالفساد سے خاطر خواہ امن بحال کر دیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ کچھ عرصے سے لوگوں میں خوف کی وجہ سے ان تقریبات کو ایک خاص سطح تک محدود کیا گیا تھا لیکن اب پھر سے میلے ٹھیلوں کا انتظام کیا جانے لگا ہے۔

پاکستان ایک کثیر الثقافتی معاشرہ تو ہے مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لباس کے معاملے میں آپ کو بہت زیادہ فرق نظر نہیں آئے گا۔ مرد حضرات پورے ملک میں شلوار قمیض پہنتے ہیں جو تقریباً ایک جیسی ہے ما سوائے بلوچی شلوار قمیض کے جو کہ اونچی قمیض اور کافی کھلی شلوار جس کو تقریباً چار سے پانچ میٹر کپڑا لگایا گیا ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کی پگڑی بھی کافی بڑی ہوتی ہے۔ لیکن عورتوں کے لباس ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف ہیئت رکھتے ہیں۔ مثلاً پنجاب اور سندھ میں دیہاتی عورت چادر اوڑھتی ہے مگر بلوچستان اور کے پی کے میں عورتیں افغانی برقع پہنتی ہیں۔ شہروں میںبھی بعض عورتیں برقع اوڑھتی ہیں۔ پشاور شہر میں شروع شروع میں عورتیں چادر کا استعمال کرتی تھیں مگر افغان مہاجرین اپنے ساتھ افغانی برقع بھی لے کر آئے جو اب تقریباً ہماری ثقافت میں شامل ہو چکا ہے۔

پاکستان کے میدانی علاقوں سے شمال کی جانب کوہ ہندوکش کے دامن میں ملک کے دلکش ترین علاقوں میں ایک علاقہ چترال ہے یہاں کے بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیاں آسمانوں کو چھوتی نظر آتی ہیں۔ اس کی وادیوں میں کیلاش کا آزاد قبیلہ بھی آباد ہے جو اپنی مخصوص ثقافت اور روایات کی وجہ سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ شمالی علاقوں کے لوگ مہمان نواز اور زندہ دل ہیں۔ پولو وہاں کا منفرد کھیل ہے جو کہ اب پوری دنیا میں مشہور و معروف ہو چکا ہے۔ انسانی زندگی گزارنے کے قدیم طور طریقے ابھی بھی موجود ہیں۔ اس علاقے کو چھپا ہوا خزانہ بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستا ن کا قومی جانور 'مارخور' بھی اسی علاقے میں پایا جاتا ہے جو انتہائی سخت حالات اور ماحول میں زندہ رہنے کا عادی ہے۔ پاکستان کا قومی درخت 'دیودار' بھی اسی علاقے میں پایا جاتا ہے۔ اس درخت کی عمر کافی لمبی ہوتی ہے۔ قومی پرندہ چکور اور قومی پھول چنبیلی بھی اسی علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ چکور اور چنبیلی اب ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

کیلاش کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں رہنے والے لوگوں نے اپنی تہذیب و ثقافت یہاں تک کہ اپنے لباس میں بھی دوہزار سال سے کوئی تبدیلی نہیں آنے دی۔ کیلاش کا مطلب ہے سیاہ کپڑے پہننے والے۔ سیاہ لمبی میکسی نما فراک رنگ برنگے ڈیزائنوں پر مبنی ہوتی ہے۔ گلے میں ڈھیر سارے ہار بھی لباس کا حصہ ہوتے ہیں۔کیلاش ثقافت اپنی بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے بلا شبہ اس قابل ہے کہ اس کا تحفظ کیا جائے۔ کیلاش ثقافت کے آثار تین ہزار سال پرانے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کیلاش کے لوگ سکندرِ اعظم کی فوج کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق ان کی نسل کا تعلق و سلسلہ سیام کے کمانڈر شلک شاہ سے ملتا ہے جو سکندرِاعظم کی فوج کا ایک کمانڈر تھا۔ مؤرخین کے مطابق سکندرِ اعظم نے چوتھی صدی قبل مسیح میں افغانستان اور اس علاقے کو فتح کیا۔ کیلاش میں بولی جانے والی زبان بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی ان کی تاریخ لیکن آج اس زبان کو بولنے والوں کی تعداد صرف 4 ہزار کے قریب ہے جو کبھی پچاس ہزار سے زائد لوگوں کی زبان تھی۔ اس زبان کو ابھی تک کوئی تحریری شکل نہیں دی گئی اس لئے اس ثقافت سے اس زبان کے ختم ہونے کا اندیشہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ وادیٔ کیلاش میں ہر سال کیلاش فیسٹول دنیا کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔

قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی قراردادِ مقاصد کی رو سے سب طبقوں، مذاہب، فرقوں اور ذاتوں کی تمیز کے بغیر عورت، مرد، امیر و غریب سب کو برابر کے حقوق دئیے گئے۔ پاکستان پہلا اسلامی ملک ہے جس میں دو مرتبہ ایک خاتون محترمہ بے نظیر بھٹو عوام اور پارلیمنٹ کی جانب سے متفقہ طور پر وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق بھی مسلمانوں کے مساوی ہی ہیں۔ سرکاری نوکری سے لے کر پرائیویٹ سیکٹر تک اقلیتوں کے نوجوان قابلیت کے لحاظ سے پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں۔

گلوبل ولیج کے اس دور میں دنیا کا کوئی بھی حصہ ثقافتی گلوبل اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ پاکستانی ثقافت میں انگریزی تو بہت پہلے سے شامل تھی لیکن دنیا کی دوسری بڑی زبانیں اور پکوان بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ہر شہر بلکہ ہر محلے میں افغانی روٹی نے مقبولیت حاصل کر رکھی ہے۔ شہروں میں عربی شوارما اور جاپانی 'سوشی' لوگ شوق سے طلب کرتے ہیں۔ چائنیز سوپ اور سویاں بھی کافی مقبول ہیں۔ ہماری تہذیب کا خاص پکوان سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ہمارا قیمے والا نان اب اٹلی کے پیزے کی شکل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس لئے جہاں ہماری لوک تہذیب یا لوکل تہذیب ہے وہیں ایک گلوبل تہذیب نے بھی جنم لیا ہے۔

کشور ناہید کے بقول۔ ''پاکستان کی تہذیب ہماری مٹی سے وابستہ ہے۔ جس میں کہیں ریت تو کہیں کنکر اور کہیں پانی کے ٹوبے کے ایک کنارے پر عورت پانی کا مٹکا بھر رہی ہے تو دوسرے کنارے پر بھینس پانی پی رہی ہے اور یہی پانی ہمیں بوتلوں میں بھر کر انگریزی طریقے سے پلا دیا جاتا ہے۔ یہی تہذیب کے اوراق ہیں۔ کہیں آپ کو املتاس، کہیں کچنار کی کلیاں اور موتیے کے پھول نظر آئیں گے۔ سوندھی مٹی پر جب برسات کے پانی کا چھینٹا پڑتا ہے، سب خوش ہو جاتے ہیں۔ یہی ہماری تہذیب اور یہی تمدن ہے۔''

مضمون نگار پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور ایک قومی ادارے کے ساتھ بطور پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

''جب''
جب شب کے شکستہ زینوں سے مہتاب اُبھرنے لگتا ہے
جب غم کے سرد اَلائو میں اُمیدیں بجھنے لگتی ہیں
جب دل کے شوریدہ سمندر میں آوازیں مرنے لگتی ہیں
جب موسم ہاتھ نہیں آتے، جب تتلی بات نہیں کرتی
جب زندہ رہنا اِک بے معنی کام دکھائی دیتا ہے
جب آنے والا ہر لمحہ ، دُشنام دکھائی دیتا ہے
جب یاد کے گہرے سنّاٹے میں چہرے گم ہو جاتے ہیں
جب درد سے بوجھل آنکھوں میں گرداب سے پڑنے لگتے ہیں
جب شمعیں گل ہو جاتی ہیں، جب خواب بکھرنے لگتے ہیں
اُس وقت اگر تم آجائو !
(امجد اسلام امجد)

*****

*****

 
09
March

تحریر: ازکیٰ کاظمی

کیپٹن نوید احمد شہید کے حوالے سے ایک تحریر

خدا جہاں اولاد دے کر ماں باپ کو نوازتا ہے وہیں وہ اولاد کے ذریعے والدین کا امتحان بھی لیتا ہے۔ کہتے ہیں جو چیز یا رشتہ آپ کو کمزور کر دے بالآخر وہی آپ کی طاقت بن جاتا ہے۔ اولاد کی آزمائش اس دنیا کاسخت ترین امتحان ہے لیکن اگر وہی اولاد والدین کی سرفرازی کا باعث بنے تو مرتے دم تک والدین کا سر فخر سے بلند رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک جواںمرد اور پاک باز بیٹا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے 11کلومیٹر کے فاصلے پر موجود 'داتہ' نامی گائوں میں پیدا ہوا۔ وزارت صحت و سیاحت میں نوکری پیشہ والد نے کبھی ایسا کوئی خواب آنکھوں میں نہ سجایا تھا کہ وہ بچوں میں سے کسی کو بھی عسکری زندگی کا حصہ بنائیں گے مگر کچھ خواب والدین نہیں بلکہ ان کی اولاد لے کر پیدا ہوتی ہے۔

moutkisheyhay.jpg


چار بہن بھائیوں میں دوسرا نمبر رکھنے والے نوید احمد بچپن سے نہ صرف والدین بلکہ اپنے اساتذہ کی بھی آنکھوں کا تارہ بنے رہے۔ تعلیمی میدان میں اعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہوئے جب 1988میں بی کام کا امتحان پاس کیا تو ان کے اندر کا چھپا ہوا وہ جانباز فوجی دل کے دریچے سے باہر نکلاجو بچپن میں چھپ چھپ کر کاکول اکیڈمی میں ہونے والی مشقیں دیکھتے ہوئے پیدا ہوا۔نوید احمد نے سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور اپنے شوق کی بدولت ہمیشہ اچھی کارکردگی دکھائی۔ پاک فوج جوائن کرنے کا شوق اس قدر تھا کہ دوبار ناکام ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور بالآخر تیسری مرتبہ کامیاب ہو گئے اور یہ جنون نوید کو پی ایم اے کاکول تک لے آیا اور اس طرح سے 103لانگ کورس سے پاس آئوٹ ہونے کے بعد نوید احمد کی زندگی کا ایک ایسا آغاز ہوا جہاں کا سفر کٹھن ضرور تھا مگر منزل قابلِ فخر تھی۔


نیک اولاد ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے لیکن جب اولاد نیک ہونے کے ساتھ ساتھ فرمانبردار بھی ہو تو ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ نوید کے والد سے گفتگو کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ وہ نوید کی یادوں کا ایک خزانہ سمیٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوید ایک سچا مسلمان تھا وہ فرقہ واریت سے دُور بھاگتا تھا۔ ہمیشہ کہتا تھا کہ فرقہ بازی سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ ہم مسلمان ہیں اور ہم پر فرض ہے کہ ہم خدا کے دین کا پرچار کریں نہ کہ فرقہ بازیوں میں پڑ کر دنیا کے لئے تماشا بنیں۔ نوید جب بھی چھٹی پر آتے تو اپنے والد کو اپنے ارادوں سے آگاہ کرتے کہ وہ وطن کے لئے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ جوش میں اکثر کہتے تھے کہ ابو موجودہ دور کے مسلمانوں کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ افرادی قوت وافر ہے۔ مادی اور معدنی وسائل کی کوئی کمی نہیں، کمی ہے تو صرف قوتِ ایمانی اور ہمت و استقلال کی، اتفاق کی اور جذبۂ جہاد کی۔ یہ تمام اوصاف ہم میں بھی آ سکتے ہیں اگر ہم اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور تفرقہ بازی کو پیچھے چھوڑ کر اپنی خوابیدہ غیرت کو جگا لیں۔


بہن بھائیوں سے ان کا رویہ بے حد دوستانہ تھا۔ نوید کے بھائی شفقت منیر نے بتایا کہ بچپن سے ہی ہم دونوں اکٹھے کھیلتے تھے۔ فٹ بال میں نویدبہترین کھلاڑی تھے۔ 1996 میں ہم نے پنجاب ڈویژن راولپنڈی کی طرف سے میچ کھیلا جس میں نوید نے بطور
moutkisheyhay1.jpg vice captain
حصہ لیا اور ہم وہ میچ جیتے۔ نوید کو پیراگلائیڈنگ کا بھی بہت شوق تھا اور اس نے خان پور ڈیم میں اس کی ٹریننگ بھی لی تھی۔ آرمی چیمپیئن شپ اور ایئرفورس چیمپیئن شپ میں حصہ لے کر بہت سے میڈل بھی جیتے۔ 4سالہ سروس میں کئی مرتبہ فٹ بال کے میچز جیتے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج اس کے نام پر ہمارے اس علاقے میں ایک اکیڈمی
(Capt Naveed Ahmed Shaheed Football
Academy)
بنائی گئی ہے جہاں بہت سے بچے یہ کھیل سیکھتے ہیں۔ بھائی نے بتایا کہ نویدمجھ سے ہر بات شیئر کرتا تھا چاہے وہ گھریلو مسائل ہوں یا پیشہ ورانہ۔ ہم دونوں کی شکلیں کافی ملتی تھیں۔ اکثر ایسا ہوتا کہ میری کہیں لڑائی ہوتی تو بدلے میں وہ لوگ نوید سے لڑنے کے لئے آ جاتے۔ بہن سے شرارتی اور پیار بھرا رشتہ تھا۔ ہمیشہ آنے سے پہلے فون پر بہن سے پسندیدہ کھانے کی فرمائش کرتے تھے۔ نوید کے بھائی نے بتایا کہ اکثر نوید بہن کو پیار میں ''خان'' کہہ کر بھی چھیڑتے تھے جس سے ان کے بیچ پیار بھری نوک جھوک جاری رہتی۔ والدہ کے لئے بہت فکرمند رہتا۔ اکثر کہتا تھا کہ میں زندہ رہوں یا نہ رہوں آپ کو کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ اب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ایساکیوں کہتا تھا کیونکہ اب جب ہم اپنی والدہ کو علاج کے لئے سی ایم ایچ لے کر جاتے ہیں تو وہاں کا سارا سٹاف ان کے آگے پیچھے ہوتا ہے۔


نوید کو شروع میں

SSG

جوائن کرنے کا بے حد شوق تھا اور اس کی ایس ایس جی کے لئے سلیکشن بھی ہوگئی تھی مگر کچھ میڈیکل پرابلمز کی وجہ سے نوید کو اپنا ارادہ بدلنا پڑا۔ 15ناردرن لائٹ انفینٹری میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کرنے کے بعد جلد ہی نوید کی پوسٹنگ 8ناردرن لائٹ انفینٹری میں ہو گئی اور آٹھ ماہ بعد آرمی ایوی ایشن میں بطور پائیلٹ منتخب ہو کر آرمی ایوی ایشن سکول پہنچ گیا۔ ٹریننگ کے دوران ہیلی کاپٹر سے جمپ لگاتے ہوئے اس کے بازو میں موچ آگئی لیکن اس نے اس کا ذکر کسی سے نہیں کیا کافی دن گزرنے کے بعد جب موچ بہتر ہو گئی تو اس نے والد صاحب کو بتایا۔
(BeII-412)
کا پائلٹ بننے کے بعد کیپٹن نوید کی پہلی تعیناتی 4ایوی ایشن سکواڈرن کوئٹہ میں ہوئی۔

moutkiasheyahay.jpg


نوید کی شادی کے دن جب تمام لوگ اس کے نکاح کی تیاریوں میں مصروف تھے تب نوید جماعت کے ساتھ نماز اد کرنے میں مصروف تھے کیونکہ ان کو نماز نہ پڑھنے پر بے حد غصہ آتا تھا۔ لہٰذا اپنی شادی پر بھی نوید نے پہلے نماز باجماعت ادا کی پھر اپنا نکاح پڑھوایا۔ نوید ایک بہت خیال رکھنے والے شوہر تھے۔ وہ ہمیشہ اپنی اہلیہ سے کہتے تھے کہ اگر تم نماز نہیں پڑھو گی تو اس سے بچوں پر بُرا اثر پڑے گا۔ان باتوں کا یہ اثر ہے کہ آج ان کی بیٹی بھی سر پر دوپٹہ رکھے جائے نماز کی طرف لپکتی نظر آتی ہے۔ اپنے فیصلوں پر انہیں بڑا مان تھا اور وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانا خوب جانتے تھے۔ جب 19جنوری 2008کو گھر سے روانہ ہوئے تو آنکھوں میں نمی تھی لیکن وہ اس کو اپنی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا رہے تھے۔ جانے کے بعد انہوں نے اہلیہ کو فون کیا اور کہا کہ اپنا اور نوال (جو اس وقت چند ماہ کی تھی) کا خیال رکھنا۔ شائد ان کو احساس ہو گیا تھا کہ ان کے پاس وقت کم ہے اس لئے وہ اپنے سے جڑے رشتوں کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ سراٹھا کر اور خم ٹھونک کر جینے کا ہنر صرف وہ لوگ جانتے ہیں جن کو اسدُاللّٰہی کے لئے دنیا میں بھیجا جاتا ہے یہ منتخب لوگ ہوتے ہیں اور پھر وہ دن بھی آیا جب وہ اپنا آخری مشن لے کر اڑے۔ 6فروری 2008 کو ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد کوہاٹ کے لئے محوِ پرواز ہوئے۔ ان کے ہیلی کاپٹر میں میجر جنرل جاوید سلطان، بریگیڈیئر محمد افضل چیمہ، بریگیڈیئر سعید احمد، لیفٹیننٹ کرنل پیرعمر فاروق، کیپٹن شہزاد اور کیپٹن محمد ہارون سوار تھے۔ صرف پانچ منٹ کے اندر اندر کنٹرول ٹاور نے ان کی آواز سنی۔ ہیلی کاپٹر کسی فنی خرابی کی وجہ سے قابو سے باہر ہو گیا ایک المناک حادثہ پیش آیا اور نوید اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کر گئے۔ یوں ہر میدان میں انعامات اور اعزازات حاصل کرنے والے نوید شہادت کا اعلیٰ ترین انعام لے کر جہانِ فانی سے نہایت تزک و احتشام کے ساتھ رخصت ہوئے۔


اولاد کا غم تو کوئی بھی انسان نہیں بانٹ سکتا لیکن جب اولاد والدین کے لئے باعث عزت ہو تو ماں باپ کی آنکھوں میں آنسو کم اور سکون زیادہ نظر آتا ہے۔ یہی سکون اور اطمینان ہمیں نوید کے والد کی آنکھوں میں بھی نظر آیا اور یہ سکون اور اطمینان کیوں نہ ہو پاک فوج نہ صرف اپنے ہر سپاہی کا خیال رکھتی ہے بلکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی لئے نوید کے خاندان والوں سے ملاقات کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ وہ پاک فوج کے جوانوں اور ان کی خدمات سے کس قدر خوش ہیں۔ نوید کے والدکا کہنا ہے کہ شہادت کے بعد جب نوید کی
Dead Body
اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچی تووہاں اس وقت سابق جنرل پرویز مشرف بھی موجود تھے، انہوں نے مجھے بے حد حوصلہ دیا اور بعد ازاں ان کی بیگم نے بھی گھر آ کر تعزیت کی جس ادارے کے افسر اتنے باکردار اور احساس کرنے والے ہوں ان کے جوان کیوں نہ باعث فخر ہوں۔ نوید نے مجھے اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی سُرخ رُو کر دیا ہے۔ شہادت کے بعد پاک فوج کی نوید کے خاندان کی کفالت اور رہنمائی سے ان کے اہل خانہ بے حد مطمئن اور مشکور نظر آتے ہیں۔ نوید کے والد نے نم آنکھوں سے بتایا کہ جتنی عزت مجھے ایک شہید کا باپ ہونے پر ملی ہے اس کا کوئی بدل نہیں۔ سی ایم ایچ علاج کے لئے جاتا ہوں تو وہاں پر موجود بریگیڈیئر بھی مجھے دیکھ کر احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ احترام مجھے میرے بیٹے کی شہادت نے دیا ہے۔
نظر اﷲ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دِیَت، اہلِ کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے، خوں جن کے حَرم سے بڑھ کر
(ضربِ کلیم)
علامہ اقبال

 
09
March

تحریر: پرویوش چوہدری ، ڈاکٹر شاہد محمود

مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی مشکلات سے بنٹنے اور مواقعے سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومتوں کو سبک رفتاری سے منصوبہ بندی کرنی ہو گی۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں حیران کر دینے والی ترقی جاری ہے۔ عسکری منصوبہ سازوں، حسا ب دانوں اور سائنسدانوں کے سوچنے کا انداز اور ان سے نتائج اخذ کرنے کا ایک مخصوص انداز ہوتاہے۔جس سے ہمیں جنگ و امن کی حالت میں فائدہ اٹھانے اورواقعات اور شخصیات کو سمجھنے کا تعین کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے جو مستقبل کی تاریخ کا تعین کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا سطر در سطر تعین نہیں کیا گیا بلکہ یہ مستقل طور پر سیکھنے کی صلاحیت مشکل طور پر ترقی پذیر ہے۔


ارسطو کہتے ہیں: ہم امن میں رہنے کے لئے جنگ برپا کرتے ہیں۔ نپولین بوناپاٹ نے کہا: جب دشمن غلطی کر رہا ہو تو اسے کبھی مت روکیں۔ مگر کیا ہماری سوچ کو بقراط سے رہنما ئی نہیں لینی چاہئے جس کی رائے میں صرف مر جانے والے جنگ کا خاتمہ دیکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور نظام حرب کا مستقبل:

pakistanaik.jpg
اس سال کے آغاز میں ''مصنوعی ذہانت اور نظام حرب کا مستقبل'' کے عنوان سے شائع کردہ مقالے نے فوجی، تجارتی اور صنعت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا جائزہ لیا ہے۔ جاری کردہ نظام کار کا تیزی سے بدلتے ہوے حالات کی بنا پر انسانی مداخلت کا جائزہ لینا ہے۔ خودمختار، نظام انسانی ادراک کو مکمل طور پر خارج نہیں کرتا اور شعبہ ابلاغ و معلومات، خودمختار نظام کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے جس کے لئے عالمی سطح پر کسی بھی دوسرے شعبے کے مقابلے میں زیادہ رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔ 2015ء میں ایلن مسک اور سٹیفن ہاکنگ نے کھلے خط کے ذریعے خود مختار کار ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی تھی۔ آخر کیوں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ مصنوعی ذہانت آنے والے وقت میں وہی ہیئت اختیار کرنے والی ہے، جو گزشتہ چند دہایئوں میں جوہری ہتھیاروں کو حاصل تھی یا یہ مکمل طور پر بے معنی خیال تصور ہوگی۔
مجازی حقیقت: ورچوئل حقیقت اور اضافی صلاحیت کا ایک ساتھ ترقی پانا کس طرح انسانی سکیورٹی کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے؟ گیمنگ کی صنعت اس منظر نامے میں حصہ ڈالے گی یا یہ صرف تفریحی مقاصد کے لئے ہی ہے؟ کیا 2045 تک سنگولیرٹی محض ایک مفروضہ ہے؟ اکیسوی صدی میں جنگ کے ادراک کا استعمال دنیا کے اس حصے تک کیسے پہنچا؟ یہ نئی حقیقت ملکوں کی طاقت کو خلا میں جوہری صلاحیت کے قیام کے لئے سرمایہ کاری تک لے جائے گی۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے خاص طور پر
deta analy sis
میں۔ مصنوعی ذہانت کو سطر بہ سطر پروگرام نہیں کرنا پڑتا۔ یہ مستقل طور پر ترقی پذیر رہتی ہے۔
حال ہی میں گوگل کی ڈیپ مائنڈ الگورتھم نے اٹاری کی 49 کھیلیں جیتنے کی صلاحیتیں ازخود سیکھیں۔ الگورتھم اب ہاتھ سے تحریر کی گئی زبان یا بنائے گئے نقوش تقریباً انسانوں کی طرح پڑھ لیتا ہے۔بلکہ کچھ کام تو اور بہتر کرتا ہے۔اب تقریباً 70 فیصد مالی لین دین اس کے ذریعے کئے جا رہے ہیں۔ کسی حد تک خبر کا تعین خودکاری سے وجود میں لایا جاتا ہے۔ یہ تحریر اور فلم کو بیان بھی کر لیتا ہے۔ اس کے بہت دوررس گہرے معاشی اثرات ہوئے ہیں۔ اگلے دس سے بیس سالوں میں آدھی ملازمتیں الگورتھم کے ذریعے انجام پائیں گی۔ مصنوعی ذہانت دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بڑی تبدیلی ہے۔ خود کار پیداوار اور خود بخود چلنے والی کاروں کا خودکار معاشرتی نظام اگلا قدم ہے۔ اس ترقی نے سماج کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جبکہ مواقع حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے خطرات بھی ہیں۔
جدید دفاعی تنظیمیں کم شدت کے تنازعات، نیٹ ورک سے وابستہ جنگی صلاحیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہیں خصوصی طور پر شہری حدود میں تاکہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کر سکیں۔ اس بہتر صلاحیت نیٹ ورک کو بغیر محدود صلاحیت کے ذاتی کمپیوٹرز بروئے کار نہیں لایا جا سکتا جس کے تحت دیگر نظام جڑے ہوں۔ اس نظام پر عمل درآمد کے ذریعے وسیع مواصلاتی نظام بنیادی حقیقت رکھتا ہے۔ ٹیکنالوجی اور جنگ کا اشتراک نقصان دہ اور تباہ کن ہے۔ تاریخی تناظر میں کس طرح جنگ کے اثرات تبدیل ہوئے ہیں۔


کمپیوٹر کے ذریعے فعال کیا گیا نظام کس الگورتھم کے ذریعے انسانوں کو مارنے پر قادر ہو؟ایک مستقبل کی مکروہ حقیقت ہے۔ اس کے جواب میں انسانی مصائب کو کم کرنے کے لئے بہت تھوڑا کام کیا گیا ہے۔ تحقیق و تخلیق کرنے سے یہ بات واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت بطور ہتھیار استعمال کئے جانے کا واضح امکان ہے جو کہ دنیا بھر میں مسلح افواج کا مستقبل ہے۔ اس عالمی حقیقت کا تجربہ حقیقی اوقات میں حاصل ہو گا۔


اگر ہم سوچیں کہ یہ تبدیلی شروع ہو چکی ہے تو اس تبدیلی کو تسلیم نہ کرنا ہمیں ہیجان اور مصیبت میں ڈال سکتا ہے۔ شاید یہی ہم چاہتے ہیں۔ اسی میں سکون ہے۔ جہالت نہ صرف ایک لعنت ہے بلکہ ذمہ داری سے فرار کا راستہ بھی ہے۔ اس کے باوجود وسیع ڈیٹا ہمارے فہم کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ ہماری سوچ کی اساس ہے۔ اس چیلنج کو مستقل بڑھانے میں متعین کے ذریعے علم اور مصنوعی ذہانت بنیاد ہے۔ جب ٹیکنالوجی ایک آدمی سے زیادہ حساس ہو جائے تو لوگ نظریاتی طور پر مواقع تلاش کرنے لگتے ہیں کہ وہ ترقی کے سفر میں ہم قدم ہیں یا نہیں۔ تخلیق کار کے لئے گنجائش کل وقت بھی بہت ہی کم ہے۔ انسانی دماغ چیزوں کی عکاسی اور تعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


صفِ اول کی شماریاتی کمپنی سٹاٹسٹا جس نے2008ء میں شماریات کے 400 ماہرین اور دس لاکھ رجسٹرڈ صارفین کے ساتھ کام شروع کیا، کہتی ہے کہ 2020ء تک اس کے صارفین کی تعداد 3 ارب یعنی دنیا کی کل آبادی کے ایک تہائی تک پہنچ جائے گی۔ امید کی جاتی ہے 2020 ء تک دنیا کی کل آبادی کا 72 فیصد حصہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر چکا ہو گا۔2017ئ میں فیس بک وہ پہلی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ہے جس پر ایک ارب سے زیادہ لوگوں نے رابطہ کیا۔ یہ تعداد اب 2 ارب سے بھی بڑھ چکی ہے اسی طرح یوٹیوب پر 1.5 ارب، انسٹا گرام پر سات کروڑ اور اسی طرح ٹویٹر پر صارفین کی تعداد 30 کروڑ 28 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ واٹس ایپ پر صارفین کی تعداد 1.2 ارب اورفیس بک میسنجر پر یہ تعداد1.2 ارب اوروی چیٹ پر یہ تعداد اٹھاسی کروڑ نوے لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ ان سماجی ویب سائٹوں پر مہیا کیا جانے والا ڈیٹا اپنی مثال آپ ہے۔ جتنا زیادہ ڈیٹا ہے اتنا ہی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہواہے۔ جس سے مصنوعی دماغ بہتری کی جانب گامزن نظرآتا ہے۔

pakistanaik1.jpg
ہر سال فراہم کئے جانے والے ڈیٹے کی مقدار دگنی ہو جاتی ہے۔ جلد ہی ہمارے ارد گرد ہونے والی تمام چیزیں شاید ہمارے لباس بھی انٹرنیٹ سے متصل ہو جائیں گے۔ اگلے دس سالوں میں اندازاً 150ارب نیٹ ورکوں کا شمار کرنے والے سنسر موجود ہوں گے۔ یعنی انسانی آبادی سے 20 گنا زیادہ۔ اس کے بعد ہر گھنٹے میں نیٹ ورک پر موجود ڈیٹے کی مقدار دگنی ہو جایا کرے گی۔ ہر چیز ذہین ہو جائے گی۔ جلد ہی ہمارے پاس نہ صرف سمارٹ فون ہوں گے بلکہ سمارٹ گھر، سمارٹ فیکٹریاں اور سمارٹ شہر بھی ہوں گے۔ ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ ترقی، سمارٹ ممالک اور سمارٹ دنیا کے قیام پر منتج ہو گی۔ عسکری اثاثوں اور کارروائیوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے ڈیٹے کا بہت بڑا ذخیرہ حاصل ہو گا۔ ستمبر گیارہ کے بعد سے ڈرون اور دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والا ڈیٹا 1600گناہ بڑھ چکا ہے۔ امریکی افواج کے پاس تقریباً اسی لاکھ کمپیوٹنگ آلات ہیں۔ ان آلات کی تعداد 2020ء تک دگنی ہو جائے گی۔ 2016میں جاری کردہ ڈیٹا اس سے قبل مہیا کل ڈیٹے کے برابر ہے۔ افواج کے لئے ڈیٹے کا تجربہ کرنا اور اس سے مستقبل کے امکانات کا تعین کرنا بنیادی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً ان افواج کے لئے جو دہشت گردی کے خلاف اور عوامی تحفظ کے لئے برسرپیکار ہیں۔ تاہم یہ اہم ہے کہ ڈیٹے کا حصول و تجربہ اور مستقبل کے امکانات ذاتی طور پر کئے جائیں تاکہ بیرونی غیر دوست عناصر سے بچا جا سکے۔ مقامی طور پر تجزیہ و ہدایت کی سہولت موجود ہونی چاہئے۔ مسائل کے حل کے لئے کل حقیقت الگوردھم پر عبور اور اس کے استعمال پر قدرت حاصل ہونا ہے۔ 1956کی
Dartmouth Conference
میں جان میکارتھی نے اسے مصنوعی ذہانت کا نام دیا۔ انٹرنیٹ سوسائٹی اسے انٹرنیٹ پر مبنی ٹیکنالوجی گردانتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک جدید چیز ہے۔ ہمارے لئے وہی چیز جدید ہے جو پاکستانی عوام کے لئے مفید ہے۔ اس کے سماجی اثرات کے لئے بھرپور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ امریکی افواج نے اس سے جڑی ہوئی ٹیکنالوجی کو جنگی حالات میں سپاہیوں اور دیگر ماہرین کی راہنمائی کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے خاص طور پر ڈیٹے کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔ مسلح افواج ہوائی جہازوں، گاڑیوں، ہتھیاروں کے نظام اور میدانی دستوں وغیرہ سے وابستہ مربوط نظام سے ڈیٹا حاصل کررہی ہے۔ حصول کے بعد یہ معلومات جاسوسی و نگرانی نظام کے سپرد کی جاتی ہیں جو کارروائی کرنے کے لئے اہم ترین ڈیٹا کا تعین کرتی ہے۔
فوج چند کمپنیوں کے اشتراک سے جامعات بنانے اور
IoT
کے ذریعے دریافت کیے گئے حل کو عام زندگی میں بروئے کار لانے کے لئے کام کر رہی ہے۔جیسے کہ لاک ہٹ مارٹن مشین کے ذریعے سیکھتے ہوئے خود کار فیصلہ سازی کے حصول پر کام کرتا ہے۔ یہ حکمت عملی مسلح افواج کو خفیہ معلومات کے حصول، خطرات کی نشان دہی اور فیصلہ سازی میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ترقی یافتہ افواج جامع جنگی حکمت عملی کی طرف جا رہی ہیں۔ امریکی فوج نے 48,000 میل لمبا معاصلار کا IoT(انٹرنیٹ)پر مبنی مربوط خفیہ نظام تیار کیا ہے، جو کہ میزائلوں کی حفاظت اور جنگی جھڑپوں کو مربوط بنانے میں معاون ہوگا۔ جنگ لڑنے کا یہ نظام فوج کے بلسٹک میزائلوں کو ایک مرقعی نقشے سے ملاتا ہے، جو دنیا بھر میں خطرات کے توڑ کے لئے استعمال ہو سکے گا۔ یہ سیکڑوں سینسروں، ریڈاروں اور مصنوعی سیاروں سے حاصل کردہ ڈیٹا کو میزائلوں کے دفاعی نظام کے لئے مشترکہ زبان میں مہیا کرتا ہے تا کہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
عام طور پر دفاعی افواج کی ہر شاخ کا رابطے اور دفتری ضروریات کا اپنا خصوصی نظام ہوتا ہے۔
Combat Cloud Infrastructure
پر منتقلی سے بے پنا ہ فائدہ ہو سکتا ہے جس کے ذریعے میدان جنگ میں معلومات اور اسباب کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت کے مطابق
(Combat Cloud Infrastructure)
کو مزید آگے منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے قومی ڈیٹا کے نظام کو درپیش مسائل سے نمٹنے میں معاونت ملے گی۔ دفاعی شعبے کے پاس اپنے بنیادی کام سے توجہ ہٹانے پر بہت زیادہ پیچیدہ کام لینے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ہمارے ان حالات کا اطلاق خاص طور پر ہماری علاقائی صورت حال پر ہوتا ہے جہاں مسلسل بد امنی کا سامنا ہے۔ خفیہ اور واضح طور پر ایک ذمہ دار نظام کی لئے ضروری ہے کہ نیٹ ورک سے وابستہ نظام اور نظام کی طرف ارتقا جاری رہے، جس سے پیچیدہ منصوبوں میں خطرات کا مقابلہ کیا جائے اور وہ کسی بھی شامل شدہ نظام سے بلند تر ہو۔
جدید دفاعی قوتیں جیسا کہ امریکی فوج نجی ٹھیکیداروں کے ذریعے نظام کو یکجا کرتی ہیں انہوں نے نظام کو چلانے کے لئے لیڈ سسٹم انٹی گریٹرز ایک فرم کو یہ ذمہ داری سونپی ہے جونظام کو ترقی دیتے اور جاری رکھتے ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کی فوج اس قدر وسیع منصوبے کی تشکیل کے لئے بنیادی صلاحیت نہیں رکھتی۔
پاکستان کے لئے پہلے پچاس سالوں میں جنگیں علاقائی نوعیت کی تھیں جبکہ اگلے بیس سالوں میں جنگیں دہشت گردی کے خلاف تھیں جنہیں ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام دیا جاتا رہا ہے۔ جنگی سختیاں جھیل کر اب فوج کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگلے سو سال کیسے ہو گے۔ اگر کہیں مضبو طی لانی ہے تو وہ سائیبر سپیس ہے، نیٹو نے 2016 میں سائیبر سپیس کو
Operational Domain
کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ مستقبل کے جھگڑوں کا اہم حصہ سائیبر سپیس میں ہو گا۔
RUSI Land Warfare Conference 2017
میں برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر مارک سیڈول کا کہنا تھا کہ بر، بحراور فضا کے علاوہ اب سائیبر سپیس اور ہیڈ سپیس بھی موجود ہیں۔
اگر ہیڈ سپیس شش جہتی کارروائی ہے تو سلامتی و حفاظت کے نظریات اس بحث میں کس طرح شامل ہوں گے اور کس طرح اصول و ضوابط قائم کریں گے۔
مصنوعی ذہانت چونکا دینے والے حکومتی چیلنج لا کھڑا کرتی ہے۔ سب سے زیادہ مشکل میں ڈالنے والا عمل روبوٹس میں مصنوعی ذہانت یا اے ائی ہے۔ تقریباً 56 ممالک میدان جنگ کے لئے روبوٹس تیار کر رہے ہیں۔
,Gates Musk
اور
Hawking
نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور فوجی روبوٹس کے لئے اچھی نگہداشت کا بندوبست کرنا ہو گا ورنہ ان کے ہاتھ سے نکل جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے جس سے انسان کے لئے تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔
بڑے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت پر مبنی افعال کے لئے ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافے کی ضرورت ہے جس کے لئے خاطر خواہ سرمایہ کاری درکار ہے۔ کمپیوٹر سے متعلقہ ضابطہ اخلاق بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ ایک ابھرتا ہو ا شعبہ ہے جس کے تحت مشین کو صحیح یا غلط انتخاب نہیں کرنابلکہ معاشرتی ضوابط کا احترام کرنا ہے۔ حکومتی کار گزار، فوجی حکمت عملی کے ماہر، تجارتی طبقہ اورمعاشرے کی نمائندہ تنظیموں نے مصنوعی ذہانت کے ان پہلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے فعال بنانے پر بھی غور کیا ہے۔
کسی دوسری تکنیکی ترقی کی طرح حکومت کو قومی قوت کی حامل اس نئی اتشر کا جائزہ بھی لینا چاہیے، تا کہ اس کے سیاسی وسماجی پہلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی کمزوریوں کو سمجھا جائے اور اخلاقی ضابطے کے ساتھ ساتھ قومی قیادت کو اجاگر کیا جاسکے۔
پاکستان کے لئے اس ٹیکنالوجی کے مندرجہ ذیل شعبوں کا احاطہ کیا جانا چاہیے
۔ وسیع ڈیٹا کے استعمال کے لئے ملک کس قدر تیار ہے۔
۔ ملک کا ائی او ٹی اور تجزیے کا نظام کس قدر دیرپا ہے۔
۔ ترقی کس قدر پہلے سے موجود معلومات کے ذخائر کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔
۔ علاقائی حریفوں کا خفیہ معلومات اکٹھی کرنے اور تجزیے کا نظام اور مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والی غیر روایتی اکائیاں کس قدر متحرک ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے فعال استعمال کے لئے مندرجہ ذیل تین اوصاف پر عمل درآمد ضروری ہے۔
۔ قیادت مصنوعی ذہانت کو فعال طریقے سے اپنا کر عمل درآمد کرے، اس سے وابستہ خطرات کی نشاندہی کرکے نگرانی کرے۔
۔ قیادت مصنوعی ذہانت کے دفاع و دیگر اہم سہولیات کے لئے فعال منصوبہ بندی کرے۔ بیرونی ماہرین کی خدمات حاصل کرے۔
۔ مصنوعی ذہانت کے فعال نظام کو چلانے اور اس کے روزمرہ استعمال کو کمیٹیوں اور ٹاسک فورس کے ذریعے جاری رکھنا۔


مصنوعی ذہانت روایتی صنعتوں میں رکاوٹ بننا شروع ہو چکی ہے۔ کبھی خوب ترقی کرنے والی بھارتی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت جس کا کل برآمد میں حصہ 15فیصد اور مالیت 100 ارب ڈالر ہے، اب ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کلاوڈ کمپیوٹنگ وسیع ڈیٹے کا تجزیہ اور روبوٹس کے ذریعے خودکاری کی پیدا کردہ طلب نے جنوبی امریکہ (63فیصد) برطانیہ (13فیصد) اور یورپین ممالک(11فیصد) میں کام کرنے والے سستے مزدوروں کی مانگ میں کمی کی ہے۔ اس شعبے میں نہایت اعلیٰ مہارت کے حامل کارکن درکار ہوتے ہیں جس کے لئے بھارت کو یا تو اپنے کارکنوں کو نئے سرِے سے مہارتیں سکھانا ہوں گی یا ان کی جگہ نئے کارکن مہیا کرنا ہوںگئے جو مصنوعی ذہانت اور وسیع ڈیٹا کے میدانوں میں کام کرنے کے لئے موزوں ہوں۔ یہ علاقائی نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے جہاں روائتی طور پر تنخواہ پر کام کرنے والے ملازمین کی ضرورت کم پڑتی جا رہی ہے۔
دفاعی شعبوں کو بھی اس قسم کے چیلنجز کا سامناہے جہاں نیٹ ورک سے وابستہ جنگ میں ایسے نظام کی ضرورت ہے، جو میدان جنگ میں مصنوعی ذہانت اور IoT کے ذریعے مواصلات اور ہم آہنگی کو بروئے کار لائے گا۔ حکومت کو ان صلاحیتوں پر انحصار کرنا ہو گا کیونکہ کارکردگی کے مقابلے پر بڑھتی ہوئی لاگت اور کم ہوتے ہوئے ذرائع کا سامناہے۔
DARPA (The Defense Advanced Research Projects Agency)
کی حکمت عملی کے شعبے نے ایک اچھوتی تدبیر اپناتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ لاکھوں سینسروں اور مشینوں سے مہیا کی جانے والی بے پناہ معلومات سے کس طرح سپاہی میدان جنگ میں حکمت عملی اور دیگر فیصلوں کو حتمی شکل دیں گے۔ زیادہ سے زیادہ حاصل ہونے والی معلومات کو کس طرح بھر پور آسان اور واضح طور پر استعمال کیا جائے۔


مشین کے ذریعے سیکھتے ہوئے دفاعی حکمت عملی کے حامل کمپیوٹر کیمرے پر مبنی پائلٹ منصوبہ پر کام جاری ہے۔ ٹیکنالوجی کو تنظیم سے چلاناکوئی نئی بات نہیں۔ بھاپ کے انجن سے لیکر تاروں کے ذریعے جانے والی مواصلات اور حال ہی میں آنے والی
Computer Modeling
،تک اہم ٹیکنالوجی کے مختلف ادوار کو اپنا چکے ہیں جبکہ اس شعبہ میں جدید رجحان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والے کمپیوٹر ہیں جنہیں انسانی مدد کی ضرورت نہ ہوجو کہ سمجھ کر خود فیصلہ کرنے کے قابل ہوں۔
مصنوعی ذہانت اور مشین کا ازخود سیکھنا وہ میدان ہیں جہاں پیش آنے والی مشکلات کا پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ترقی یافتہ ممالک اس سلسلے میں پہلے ہی کافی کام کر چکے ہیں۔ وائٹ ہائوس کے سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق پالیسی کے دفتر نے مشینوں کے از خود سیکھنے سے متعلق اندرونی پالیسی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ برطانوی پارلیمان نے روبوٹس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ قومی سلامتی کی حکمت عملی کے اظہار کا یہ ایک نیا طریقہ ہے۔
تو اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
انٹیلی جینس کا مطلب مسائل سے آگاہی، فیصلہ سازی کے اوقات کار متعین کرنا، منصوبہ بندی اور عمل درآمد ہے۔
حالانکہ یہ اپنی ترتیب میں وسیع ہے تاہم اگر عوامی ذمہ داریاں نبھانے اور لوگوں کا محاسبہ کرنے والے ادارے مصنوعی ذہانت کے فلسفے سے مستفید نہیں ہوںگے تویہ قومی استحکا م کو ایک خطرہ ہو گا۔ 1950کی دہائی میں شروع ہونے کے بعد مصنوعی ذہانت کا نظام اب صلاحیت رکھتے ہیں۔ وژن پر نقطۂ نظر رکھتے ہیں ، تقریر شناخت کر سکتے ہیں اور کسی حد تک منصوبہ بندی اور بحث بھی کر سکتے ہیں۔ غلطی کا امکان ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتا جا رہاہے۔ بہتری کی رفتار بہت تیز نہ سہی مگر کافی حقیقی ہے۔ مصنوعی ذہانت دو اہم شعبوں کا احاطہ کرتی ہے یعنی معلومات کی فراہمی اور نتائج اخذ کرنا۔ مرکزی سطح پر سیکھنا اور دلائل دینا۔
پاکستان میں اس کے سیاق و سباق کی علمیت بہت کمزور ہے اور یہ پالیسی سازوں، منصوبہ بندوں ، تعلیم دانوں اور ذمہ داری پہ مبنی فرائض نبھانے والوں کے لئے خوف ناک ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کے کچھ ہو نہیں رہا۔ کچھ ہو بھی رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کو شوق سے دیکھنے والا پاکستان پچھلے 15سالوں میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں ترقی کے لئے کیاکیا کرتا رہا ہے ، اس کے لئے گوگل سے استفادے کے رحجانت دیکھنے سے خاصی رہنمائی مل سکتی ہے۔کیونکہ 2004-5 میں یہ سب سے زیادہ ملاحظہ کی جانے والی سائٹ تھی جس میں گزشتہ سالوں کے دوران خاطر خواہ کمی آگئی ہے۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کے باوجود گوگل قدرے خاموش ہے تاہم ایک اور ویب سائٹ
(DotA) Defense of the Ancients
خاصی مقبول ہوئی ہے جس کی ابتدا
Realtime Staretgy
نامی ویڈیو گیم سے ہوئی۔ یہ اس مرکزی خیال کو جنم دیتا ہے کہ آخر ہماری مجموعی صلاحیت کیا ہے۔
گزشتہ بیس سالوں میں کیا تبدیل ہوا ہے۔ عالمی سطح پر ڈیٹا میں اضافے کے اثرات ڈیجیٹل، جسمانی اور حیاتیاتی دائرہ کار میں ہو رہے ہیں۔ جس سے عوامی سطح پر واقفیت ہے۔ اس وقت یہ سوال اس لئے پوچھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان نے اب دو میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے۔
الف: یہ سب کچھ کوئی اور پاکستان کے لئے کرے۔
ب: پاکستان اپنے طریقے سے یہ سب کچھ اپنے لئے خود کرے۔
دونوں صورتوں میں یہ ایک قومی سلامتی کا فیصلہ ہو گا۔ یہ ایک مختلف انتخاب ہے، لیکن اگر پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بہت منفرد بھی نہیں۔ ملک کو کمزوری سے بچنے کے لئے کا م کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بطور خود آگاہ معاشرہ در پیش ناکامی سے بچا جا سکے۔


پچانوے فیصد سے زیادہ مسلمان آبادی پر مبنی پاکستان میں چالیس فیصد پنجابی، پندرہ فیصد پٹھان، چودہ فیصد سندھی ، آٹھ فیصد سرائیکی اور تین فیصد بلوچ مقیم ہیں جو ساٹھ سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں، یہاں لسانی تعلیم ترقی ، بہتر کارکردگی اور بہتر ساخت کے لئے بہت ضروری ہے۔


مصنوعی ذہانت کے میدان میں یہ ایک حقیقی موقع ہے۔ ہر طرف ڈیٹا کثرت سے موجود ہے۔ ریاستی نظام کا اس موقع کی شناخت اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے روز گزشتہ کی طرح ہماری دسترس میں ہونا چاہیے۔ اور اس کام کے لئے ریاست کو تمام تر حمایت اکٹھی کرنی چاہیے جو تن تنہا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے کارگر ہونے کے لئے عوامی حمایت ضروری ہے
کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان کے لوگ اپنے روزمرہ کے مسائل آسانی سے حل کر لیں؟ جی ہاں یہ ممکن ہے۔ تو کیا مصنوعی ذہانت کا نظام پاکستان کے مسائل کے حل کی پیش بندی کرے؟ جی ہاں لیکن اس کے لئے انٹرنیٹ سے وابستہ ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونا آج کی ضرورت ہے۔


اگر آج ہمارے مصنوعی ذہانت کا ادراک مستقبل کی سوچ میں بہتری و اضافے کا باعث نہیں بن سکتی تو ہم اس سے فائدہ اٹھانے کے مقام سے بہت پیچھے ہیں۔
آج کا ذہین کارکن انسانی روپ میں نہیں پایا جاتا۔بلکہ وہ با حکومت انسان نما اجسام میں ہو سکتا ہے جو کسی بھی تکلیف کو اٹھانے سے مبرا ہوں۔ اگر ہم گوگل سرچ انجن اور مائیکرو سافٹ کے ذریعے ہماری کام کرنے کی صلاحیت میں اضافے کو پیمانہ بنا لیںتو ہم سوچ سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا نظام عوامی اسباب مہیا کرنے میں کس قدر مددگار ہو سکتا ہے۔


نفسیات اور انسانی رویئے کا گہرا ادراک جو دماغی نظام میں معلومات، ادراک ، فیصلہ سازی، سوچ اور تصورات جیسے بنیادی عوامل ہیں۔ نفسیات اور انسانی روئیے کا گہرا ادراک حاصل ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغی نظام میں معلومات سے فیصلہ سازی اورشعوری ادراک حاصل کرنا بنیادی جز ہیں۔ یہی مصنوعی ذہانت کے اہم اجزا بھی ہیں۔


مصنوعی ذہانت مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے لیکن قابل دید بات اس کاوہ فلسفہ ہو گا جو بیس کڑور لوگوں کے ملک کے مسائل کے لئے انسان دوست حل پیش کرے گا۔ اسی لئے جنگ اور امن میں مصنوعی ذہانت کو سمجھنے میں رحجانات پر وہ گفتگو اہم ہے جو استعاروں اور مثالوں کی تشریح کرے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے وسیع ڈیٹے کا حصول اور اشیا کو انٹرنیٹ کے ذریعے استعمال میں لانے کے شعبے میں ترقی ہو رہی ہے جن عوامی حلقوں میں اس کے پھیلائو پرکام ہو رہا ہے وہاں مصنوعی ذہانت سے فیصلہ سازی ایک دستور بن جائے گا۔


اس سوچ کو جو اب معلومات کی مدد سے فیصلہ سازی میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جو معلومات تک رسائی کو اہم سمجھتے ہیں، کیا انہیں اس وقت کا انتظار کرنا پڑے گا جب یہ حق انٹرنیٹ کے مہیا ڈیٹے پر مشتمل ہو جائے گا یعنی کھلے ڈیٹے تک رسائی کے حق تک۔ جب خیالات مرتب کیے جاتے ہیں۔ سوچ باہمی رابطے سے مخصوص سر گرمی بن جاتی ہے اس سرگرمی کو وجود میں لانے والے صلاحیت مشین کے سیکھنے کی صلا حیت سے وابستہ ہے۔ جو چیزوں کو جان کہ ان کی تشریح کرے گی۔ ذہین کارکن کے لئے ان معلومات کو حقیقتوں کے پیرائے میں بیان کرنا حقیقی چیلنج ہے۔ لہٰذا مصنوعی ذہانت کا اظہار سب کے لئے ایک اہم چیز ہے۔ اس صلا حیت کا زبان دانی پر عبور سے مدغم ہونا پاکستانی معاشرے کو دور دراز مستقبل میں چہل قدمی کرنے کی صلاحیت بخشتا ہے۔ ماضی و مستقبل کے تنقیدی جائزے پر مبنی استعاروں پر مبنی سماجی و ثقافتی جائزے پر مبنی متحرک سوچ۔ ایک اعلیٰ مقصد کے حصول میں گندھی ہوئی سوچ۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے گرد بنی گئی۔ تصوراتی قیام نامیاتی ہونا چاہیے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب پاکستان اور اس کے لوگوں سے متعلق معلومات آپس میں ضم ہوں تا کہ مشین کے ذریعے سکھائی گئی مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔


چنانچہ لوگوں کے خیالات و اسباب کے متعلق بہتر فیصلے کرنے سے فیصلہ سازی کے موجودہ نمونہ میں بہتری آسکتی ہے۔ نوجوان پاکستانیوں میں خواہشات اور حقیقت میں خلا کو پر کرنے سے بہتری آئے گی۔ کیا پاکستان محدود اور عمومی صلاحیت پر گزارہ کرے یا سپر مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھائے؟ یہ پاکستان کے لئے مصنوعی ذہانت کے انقلابی ارتکا کا نقطہ آغاز ہونا چاہئے۔
اس میں ایک انتباہ ہے۔ چین کا
Tiauxia
کا فلسفہ اپنے اندر ایک بیلٹ ایک سڑک کو سموئے ہوئے ہے جبکہ 2075 میں
PEW Research Centre
کی پیشگوئی کے مطابق اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہو گا۔ پاکستان کے اپنے فیصلے اور اقدامات ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کا فیصلہ کریں گے۔

(Big Data)
بڑے اعدادوشمار کا فلسفہ ہی اس دور بین اور متحرک نقطہ نظر کی رانمائی کرتا ہے۔ جبکہ اپنے وقت کے سب سے بڑے فلسفہ دان ابن خلدون نے معاشرے کے ارتقا کو بیان کیا اور اداروں کی افادیت کو معانی عطا کئے۔
کسی بھی شکل ہیئت میں سہی، مصنوعی ذہانت لوگوں کی ترقی کے لئے استعمال ہونی چاہئے نہ کہ ایسا ماحول پیدا کرنے میں جو صرف غیر یقینی کا سبب ہو۔ اگر پاکستان کو سنجیدگی سے کوئی مقام حاصل کرنا ہے تو وہ ایسے نقطہ نظر کی موجودگی میں نہیں ہو سکتا جو کہ خود عدم توازن کا شکارہے۔
قومی سلامتی کا تصور 2100 میں آج کے تصور سے نمایاں طور پر مختلف ہو گا۔ نبی ۖ نے فرماییا:''اﷲ مجھے چیزوں کی حتمی فطرت کا علم عطا فرما۔''
لہٰذا حتمی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے فلسفے کی ضرورت ہے؟ جبکہ پہلے تمام فلسفے اور منطق اس دکھی ماں کو سکون بخشنے میں نا کام رہے ہیں۔ اس کا مختصر جواب ہے، جی ہاں!

پریوش چوہدری ایک محققہ اور تھنک ٹینک ''آگہی'' کی بانی اور صدر ہیں۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ڈاکٹر شاہد محمود

AIمیں

PHD

انٹر یکٹو گروپ آف کمپنیز کے

اور چیئرمین ہیں۔ سی ای او

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
 
09
March

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میں ان مغربی مؤرخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہورِ پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میںوجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنمائوں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوئوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی مسلمان ہمیشہ ایک آزاد مسلم مملکت کے خواب دیکھتے رہے کیونکہ انہوں نے اس امر کا ادراک کر لیا تھا کہ متحارب اکثریت کے ہاتھوں ان کے دینی، ثقافتی اور سیاسی تشخص کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس غیر یقینی اور مبہم صورت حال کو قائداعظم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ''ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ بارہ صدیوں کی تاریخ ہم میں اتحاد پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس تمام عرصے میں ہندوستان، ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہوتا رہا ہے۔ اس وقت جو مصنوعی اتحاد نظر آتا ہے وہ محض برطانوی اقتدار کا نتیجہ ہے۔''


مسلمانوں میںایک علیحدہ وطن کی ضرورت کا احساس تدریجاً پیدا ہوا اور جوں جوں ان پر ہندوئوں کے عزائم اور ذہنیت کھلتی گئی اس میں شدت پیدا ہوتی گئی۔ اس طرح ہندوستان میں سرگرم سیاسی عوام نے انہیںاس منطقی نتیجہ پر پہنچایا۔ چنانچہ 1940کی ''قرارداد لاہور'' ان کی انہی اجتماعی خواہشات کا عملی اظہار تھا۔ ایک طرح سے یہ ان کے صدیوں پرانے خواب کی تعبیر تھی۔ اس لئے یہ قرارداد تاریکی میں بھٹکنے والے مسلمان عوام کے لئے روشنی کی کرن ثابت ہوئی اور پھر اسے ہماری تاریخ میںایک مینارہ نور کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس قرارداد نے مشکلات سے بھرپور ہماری جدوجہد آزادی کی راہوں کو روشن کر دیا۔ قرارداد لاہور (جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام دیا گیا) بڑی تیزی سے مسلمانوں میں مقبول ہو گئی اور مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے لئے طاقت کا سرچشمہ ثابت ہوئی ۔

qaradedepakistanka.jpg


مسلمان برصغیر میں ایک فاتح کی حیثیت سے آئے تھے لیکن اپنے پیشروئوں کی طرح نہ تو انہوں نے مقامی لوگوں کی تذلیل کی اور نہ ہی ان سے اچھوتوں کا سا سلوک کیا۔ وہ یہیں بس گئے۔ یہاں انہوں نے سلطنتیں قائم کیں اور اپنی نسلوں کو آباد کیا۔ وہ صدیوں ہندوستان پر حکومت کرتے رہے لیکن پرامن بقائے باہمی کے باوجود مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے دو مختلف اقوام رہیں۔ البیرونی نے صدیوں پہلے کہا تھا۔


''ہندو اورمسلمان ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں اور انہیں دُور سے بھی بآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔''
یہی وہ سیاق و سباق تھے جن کے حوالے سے قائداعظم نے علی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
''پاکستان اسی روز قائم ہو گیا جب پہلا ہندو مسلمان ہوا۔''
یہ برصغیر میں مسلم حکومت قائم ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے۔


مسلمانوں کو جب تک فوجی بالادستی حاصل رہی، ہندو انہیں برداشت کرتے رہے۔ لیکن جیسے ہی ان کی حکومت میں انحطاط پیدا ہوا ہندو، سکھوں، جاٹوں اور مرہٹوں سے مل کر ہندوستان میں مسلمانوںکو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تل گئے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریک اور ان کی طرف سے احمدشاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت کا اصل مقصد بھی مسلمانوں کو ان خطرات سے بچانا تھا جو ہندوستان کے افق پر منڈلا رہے تھے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریروں سے مترشح ہوتا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے دین اور قومی تشخص کو بچانے کے لئے اس علاقہ کے کسی نہ کسی حصے میں مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت اور اقتدار کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ملک اور حکومت کے خواب کی جڑیں ہماری تاریخ میں نہایت گہری تھیں لیکن ہندوستان پر برطانوی اقتدار نے سیاسی منظر ہی بدل دیا۔ لہٰذا مسلمانوں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ چنانچہ وہ مشترکہ دشمن یعنی برطانیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہندومسلم اتحاد کے بارے میں سوچنے لگے۔ سر سید پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے ہندومسلم اتحاد کے لئے کام کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہندو اور مسلمان ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں ہیں۔ ان میںسے کسی ایک کو بھی نقصان پہنچا تو دلہن کا حسن ماند پڑ جائے گا۔ لیکن جوں جوں ان پر ہندوئوں کے عزائم کھلے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ دونوں اقوام زیادہ عرصے تک اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ ایک دن انہیں الگ ہونا ہو گا اور یہ امر مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں ہو گا۔ انہوں نے ہندوستان میں برطانوی جمہوری اداروں کے قیام کی اسی لئے مخالفت کی کہ ان سے ہندو اکثریت کے اقتدار کو دوام حاصل ہو جائے گا۔ سرسید کے یہ الفاظ ان کے تاریخی

 

شعور اور فہم کا بہترین ثبوت ہیں۔
''یہ ممکن نہیں کہ ان میں سے ایک قوم حاکم رہے اور دوسری محکوم بن جائے۔''
قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز ہندو مسلم اتحاد کے ایک مخلص حامی کی حیثیت سے کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے 1906ء میں مسلم لیگ کے قیام اور مسلمانوں کے جداگانہ نیابت کے نتیجے سے محض اس لئے مخالفت کی کہ ان کے نزدیک مسلمانوں کے اس اقدام سے اتحاد کے تصور کی پیشرفت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ ہندومسلم اتحاد کے لئے ان کی پرجوش مساعی کے نتیجہ میں 1916ء کے مشہور لکھنئو پیکٹ پر دستخط ہوئے اور قائداعظم کو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کا خطاب ملا۔ اگلی دو دہائیوں میں انہوں نے اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے اور یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی جس پر معاہدہ لکھنئو میں اتفاق رائے ہوا تھا۔ دہلی کی مسلم تجاویز (1917ئ) کل جماعتی مسلم کانفرنس کی قرارداد (1929ئ) قائداعظم کے چودہ نکات گول میز کانفرنس میں پیش کی جانے والی شرائط (1930تا1933) اور کانگریسی رہنمائوں سے مذاکرات کا صرف ایک ہی مقصد اور مدعا تھا کہ مسلمانوں کے لئے ایسے تحفظات حاصل کئے جائیں کہ جن کے ذریعے ان کی جداگانہ دینی اور ثقافتی حیثیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروفیسر شریف المجاہد کے الفاظ ہیں:
''ان کا مطالبہ تھا۔۔۔ آئین وفاقی ہو جس کے تحت فاضل اختیارات صوبوں کے پاس ہوں۔ مرکزی اسمبلی اور کابینہ میں مسلمانوں کی نیابت کم از کم ایک تہائی ہو۔ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی مستقل اکثریت تسلیم کی جائے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ اور بلوچستان میں اصلاحات جاری کی جائیں۔ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر دیا جائے۔ مسلمانوں کے لئے جداگانہ نیابت کو اور فرقہ وارانہ امور میں دوہرے ووٹ کی شق کو برقرار رکھا جائے اور آئین میں وفاق میں شامل تمام اکائیوں کی رضامندی کے بغیر کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔''
''ان تمام مطالبات کے پس منظر میں یہ خواہش کار فرما تھی کہ ایک صحیح وفاقی آئین کے تحت جس میں تحفظ و حقوق کا مناسب اہتمام ہو، توازن قائم کرنے کے لئے چھ ہندو صوبوں کے مقابلے میں پانچ مسلم صوبے تشکیل دیئے جائیں۔ لیکن ان تمام مطالبات پر کانگرس کا رد عمل شرانگیز، غیرمنطقی بلکہ توہین آمیز تھا۔''


دریں اثنا قائداعظم کانگرسی رہنمائوں سے بتدریج مایوس ہوتے چلے گئے۔ اس مایوسی کا آغاز کانگرس کے اجلاس منعقدہ ناگپور (1920) سے ہوا تھا جس میں قائداعظم نے کانگرس کی طرف سے گاندھی کے زیراثر نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کے فیصلے کی نہایت جرأت مندی سے مخالفت کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب قائداعظم ناگپور سے روانہ ہوئے تو ان کی طبیعت میں تلخی اور غم و غصہ پیدا ہو چکا تھا۔ بعد ازاں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شدھی اور سنگھٹن تحریکوں سے شروع ہو کر گاندھی کی ستیہ گرہ، نہرو رپورٹ، کل جماعتی کلکتہ کنونشن اور سات صوبوں میں کانگرس راج کے واقعات نمودار ہوئے جن سے فرقہ وارانہ فسادات کو فروغ ملا اور لکھنئو پیکٹ کی پیدا کردہ دوستانہ فضا ختم ہو کر رہ گئی۔ ان واقعات نے مسلمانوں پر ہندوئوں کے اصل عزائم بے نقاب کر دیئے۔


برطانوی راج کے جانشین کی حیثیت سے چونکہ ہندوئوں نے ہندوستان میں ''ہندوراج'' قائم کرنے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا اس لئے دونوں قوموں کے درمیان اختلافات میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ قائداعظم نے نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بجا طور پر ''راستے الگ''
(Parting Ways)
ہونے کی دستاویز قرار دیا تھا۔ اسی طرح کانگرسی وزارتوں نے مسلمانوں میں یہ تکلیف دہ احساس پیدا کیا کہ اگر صوبوں میں کانگرسی راج کے تحت رونما ہونے والے واقعات ہندو قومی حکومت کی ایک تصویر ہیں تو پھر یقینا اس حکومت میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔ اس صورت حال کا حتمی تجزیہ انتہائی مایوس کن اور تکلیف دہ تھا اور اسی تجزیئے نے ہندی مسلمانوں کو مطالبہ پاکستان پر مجبور کیا۔


ہندی مسلمان ابھی جداگانہ ملک کے دھندلے خواب ہی دیکھ رہے تھے کہ علامہ اقبال نے 1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس الٰہ آبادسے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں ایک جداگانہ مملکت کا ایک واضح اور جامع تصور پیش کر دیا۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کا جو تصور پیش کیا وہ جغرافیائی اور نظریاتی عوامل پر مبنی تھا۔ انہوں نے فرمایا:


''میرے نزدیک پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کے صوبوں کو ایک واحد مملکت میں ضم کر دینا چاہئے۔ جسے برطانوی ایمپائریا اس سے باہر مکمل خودمختاری حاصل ہو۔ کیونکہ میرے نزدیک شمال مغربی ہندوستان میں آزاد مسلم ریاست کا قیام ہی شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے لئے واحد ذریعۂ نجات ہے۔''
اس ریاست کے نظریاتی جواز پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے کہا:


''مسلم مملکت کا میر ایہ مطالبہ ہندوئوں اور مسلمانوں دونوں کے لئے منفعت بخش ہو گا۔ ہندوستان کو اس سے حقیقی امن اور سلامتی مل جائے گی اور اسلام کو اس سے ایسا موقع میسر آ جائے گا کہ جس سے یہ اپنے قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے زندگی اور حرکت عطا کر سکے اور انہیں عصر حاضر کی روح کے قریب آنے کے قابل بنا سکے۔''
گویا علامہ اقبال نے پاکستان کی صورت میں ایک ایسی مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے حقیقی اسلامی سانچے میں ڈھالا اور عصر حاضر کی روح کے قریب لایا جائے گا۔


پاکستان کا تصور یکایک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اچانک آسمان سے اترا تھا بلکہ اس نظریئے نے بتدریج ارتقاء پایا۔ اکثریتی اور اقلیتی صوبوں کے مسلم رہنمائوں کے اتفاق رائے کے لئے اس پر تفصیلی بحثیں ہوئیں تاکہ اسے ہندی مسلمانوں کا اجتماعی، واحد اور آخری مطالبہ قرار دیا جا سکے۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938ء میں جو قرارداد منظور کی تھی وہ مسلم رہنمائوں کے اذہان کی ٹھیک ٹھیک اور صحیح صحیح عکاسی کرتی تھی کہ وہ کیا سوچتے تھے۔ قرارداد میں مسلمانوں کے ساتھ کانگرس کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا:
''اس فرقہ وارانہ ذہنیت اور مسلم کش پالیسی کے باعث اکثریتی قوم سے کسی نیکی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔''
قرارداد میں زور دیا گیا:


''مسلمانوں کا ہندوئوں سے جو اختلاف ہے اس کا اصل منبع دین، زبان، رسم الخط، ثقافت، معاشرتی قوانین اور زندگی کے بارے میں اندازِ فکر ہے۔''
پروفیسر خالد بن سعید کے الفاظ ہیں:


''اس قرارداد میں مسلم لیگ نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر مسلمانوں اور ہندوئوں کو دو مختلف اقوام قرار دیا تھا۔''
چنانچہ سندھ مسلم لیگ کانفرنس نے آل انڈیا مسلم لیگ سے سفارش کی وہ ایسی آئینی سکیم تیار کرے جس کے تحت مسلمانوں کو مکمل آزادی حاصل ہو جائے۔ چنانچہ سندھ مسلم لیگ کی 1938کی اس قرارداد کو 23مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور سمیت اس مسئلہ پر منظور کی جانے والی تمام قراردادوں پر سبقت اور فوقیت حاصل ہے۔
بہرحال 1939ء میں تقسیم ناگزیر نظر آتی تھی۔ اس وقت مسلم رہنمائوں کی اکثریت اس کی قائل ہو چکی تھی۔ ستمبر 1939ء میں قائداعظم نے وائسرائے سے دوران گفتگو فرمایا: ''وہ قائل ہو چکے ہیں کہ ہندوستان کے مسئلے کا حل اس کی تقسیم ہے۔'' آل انڈیامسلم ورکنگ کمیٹی نے اپنے مارچ 1939ء کے اجلاس میں قائداعظم کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی تاکہ علامہ اقبال، چودھری رحمت علی، ڈاکٹر عبداللطیف اور دوسرے لیڈروں کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز اور مسودوں کا جائزہ لیا جائے۔ شاہ نواز ممدوٹ کے علاوہ اس کمیٹی کے دوسرے دو ممبران عبداﷲ ہارون اور سکندر حیات نے بھی اپنی طرف سے تجاویز پیش کیں۔ لیگ کمیٹی نے ان تمام تجاویز اور منصوبوں پر تفصیل سے غور وخوض کیا جس کے بعد مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے مسلم لیگ کے لاہور اجلاس سے کچھ دیر پہلے ہونے والی میٹنگ میں ایک سکیم کی منظور دے دی جو 23مارچ 1940 کو منظور ہونے والی ''قراردادِ لاہور'' کی بنیاد بنی۔


قائداعظم نے اجلاسِ لاہور میں اپنی صدارتی تقریر میں ہندی مسلمانوں کی تاریخ کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے کہا:
''ہندواور مسلمان الگ الگ فلسفۂ مذہب رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے اور دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان میں باہمی شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ وہ دو الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ ان کا تصور حیات اور طرز حیات الگ الگ ہے۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تاریخوں سے وجدان اور ولولہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا رزمیہ ادب الگ ہے۔ ان کے مشاہیر الگ الگ ہیں اور ان کا تاریخی سرمایہ جدا جدا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور اسی طرح ان کی فتح اور شکست ایک دوسرے کے لئے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔
دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ سلطنت میں جمع کر دینا، جہاں ایک قوم عددی لحاظ سے اقلیت ہو اور دوسری اکثریت، نہ صرف باہمی مناقشت کو بڑھائے گا بلکہ بالآخر اس نظام کی بربادی کا باعث ہو گا جو ایسے ملک کی حکومت کے لئے وضع کیا جائے گا۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک مستقل قوم ہیں اور انہیں ان کا الگ وطن ان کا اپنا علاقہ اور اپنی حکومت ملنی چاہئے۔''
قراردادِ لاہور مولوی فضل الحق نے پیش کی اور 23مارچ 1940ء کو منظور کر لی گئی۔ اس میں ایسی آزادمسلم ریاست یا ریاستوں کا مطالبہ کیا گیا تھا جو ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں میں جغرافیائی لحاظ سے متصل ایسے علاقوں پر مشتمل ہوں جہاں مسلمان ہر اعتبار سے بہ تعداد آبادی اکثریت رکھتے ہوں۔ اس قرارداد میں ترمیم اس وقت کی گئی جب مسلم لیگ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اجلاس منعقدہ دہلی 1946ء میں واحد مسلم ریاست کا مطالبہ کیا۔ بہرحال قراردادِ لاہور نے اسلامیان ہند کو تصورات سے نکال کر ان کے سامنے ان کی منزل متعین صورت میں پیش کر دی جو ان کے گزشتہ نصف صدی کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ ابھی تک وہ تاریکی میں بھٹکتے رہے تھے لیکن اب انہیں غار کے دوسرے سرے پر روشنی کی کرن نظر آنے لگی تھی۔


مارچ 1940ء کے بعد ان کی تمام توانائیاں اس مینارۂ نور تک پہنچنے کے لئے وقف ہو گئیں اور انہوں نے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ گویا یہ ان کی زندگی میں ایک انقلاب آفریں دور کا نقطۂ آغاز تھا۔ ان کا یہ کاروانِ شوق اپنے قائد کی قیادت میں ''اتحاد، ایمان اور تنظیم'' کے جذبے سے سرشار اس طرح آگے بڑھا کہ بالآخر اپنے تصورات اور اپنے خوابوں کے جزیرے۔۔۔ پاکستان۔۔۔ تک پہنچ کر ہی دم لیا۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

''خیالی دنیا سے نکل آئیں اور اپنے دماغ ایسے پروگراموں کے لئے وقف کردیں جن سے زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے لوگوں کے حالات بہتر ہو سکیں، صرف اس ہی صورت میں ہم اتنے مضبوط اور طاقتور ہو سکیں گے جو ان مخالف اور ضرر رساں قوتوں کا مقابلہ کرسکیں جو ہمارے خلاف کام کررہی ہیں۔ ''
(قائدِاعظم کا طلبہ کے نام پیغام، 13 جنوری1941)

قائدِاعظم کی نگاہ میں علامہ اقبال کا مقام
''اقبال نے آپ کے سامنے ایک واضح اور صحیح راستہ رکھ دیا ہے جس سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوسکتا۔ وہ دورِ حاضر میں اسلام کے بہترین شارح تھے کیونکہ اس زمانے میں اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا۔ مجھے اس کا فخر حاصل ہے کہ آپ کی قیادت میں ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع مل چکا ہے۔ میں نے اس سے زیادہ وفادار رفیق اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا۔''
(ہفت روزہ حمایتِ اسلام، لاہور 6مارچ1941)

''آپ کی ریاست کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے نہایت تیزی سے تعمیر کریں۔ اتنا اچھاجتنا کہ ممکن ہے۔''(قائدِاعظم محمدعلی جناح)
٭٭٭٭
''اگرہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش اورخوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی۔''
(قائدِاعظم ۔خطبۂ صدارت دستو ر ساز اسمبلی1947)

*****

 
09
March

تحریر: پروفیسر فتح محمد ملک

اقبال نے یہ خواب دیکھا تھا کہ اسلامیانِ ہند کی مجوزہ آزاد اور خود مختار مملکت میں اسلام کو عرب شہنشاہیت کی زنجیروں سے آزاد کردیا جائے گا، دُنیائے اسلام کا انجماد ٹوٹے گا اور یوںاسلام کی حرکی اور انقلابی روح بیدار اور سرگرمِ کار ہو سکے گی۔ ہم نے گزشتہ نصف صدی کے دوران عرب ملوکیت کی چھاپ سے اسلام کو پاک کرنے کے بجائے اس چھاپ کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ تو ہم اُس حقیقی اسلام کی بازیافت کر پائے ہیں اور نہ ہی اسلام کے قانون، تعلیم اور کلچر کو تحریک دے کر اسلام کی حقیقی روح کو روحِ عصر سے ہم آہنگ کر پائے ہیں۔ ہماری اس غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وطنِ عزیز مذہبی جنون اور فرقہ وارانہ تشدد کی گرفت میں پڑا سسکتا ہے۔ اسلام کے بجائے مُلائیّت سے پھوٹنے والے اس جنون اور تشدد کا علاج فکرِ اقبال میں موجود ہے مگر المیہ یہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی ہماری قومی زندگی میں فکرِ اقبال سے انحراف کی صدی ہے۔ انحراف سے اثبات کی جانب ہمارا سفر سن 1930ء کے خطبہ الہٰ آباد سے شروع ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ ہماری سیاسی اور فکری تاریخ کی اس اہم ترین دستاویز ہی سے پاکستان کا تصور پھوٹا تھا۔


تاریخی پسِ منظر
ہرچند تصورِ پاکستان کی جڑیں اسلامی ہند کی تاریخ میں دُور، بہت دُور تک پھیلی ہوئی ہیںتاہم اگرہم اپنی آسانی کی خاطر کُل ہند مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ 1930ء سے صرف دس سال پہلے کی سیاسی اور تہذیبی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمارے لئے اقبال کے خطبۂ الہ آباد کے فوری محرکات کو سمجھنے میں آسانی بھی پیدا ہو جائے گی اور اس خطبے کے بے مثال قبولِ عام کا راز پانے میں بھی کوئی مشکل پیش نہ آئے گی۔ اقبال نے اپنے اس خطبے کے آغاز میں ایک ایسی بات کہہ رکھی ہے جس کی جانب اب تک توجہ نہیں دی گئی۔ انھوں نے کُل ہند مسلم لیگ کے کارپردازان کا شکریہ ادا کرتے وقت کہا تھا:۔


"To address this session of the All-India Muslim League you have selected a man who is not despaired of Islam as a living force for freeing the outlook of man from its geographical limitations, who believes that religion is a power of the utmost importance in the life of individuals as well as States, and finally who believes that Islam is itself a Destiny and will not suffer a destiny. Such a man cannot but look at matters from his own point of view." (P.165)

iqbalkakhutba.jpgاقبال کا یہ کہنا کہ وہ اسلام سے مایوس نہیں ہیں اپنے اندر یہ مفہوم بھی رکھتا ہے کہ ہندوستان میں باقی ماندہ مسلمان سیاستدان اسلام کے اجتماعی مقدر سے مایوس ہیں۔ یہ ایک تاریخی صداقت ہے۔ انگریز کے پروردہ موروثی سیاستدان تو انگریز ہی کی سنتے اور مانتے تھے اس لئے انھیں یہاں زیر بحث لانا کارِ لاحاصل ہے۔ میں یہاں صرف مذہبی سیاسی پارٹیوں اور علمائے دین کی اکثریت کی بات چھیڑوں گا۔ بیشتر مذہبی سیاسی جماعتیں تو کانگرس کی حلیف تھیں ہی مگر وہ جو کانگرس پر ہندو اجارہ دار سرمایہ داری سے خائف سوشلسٹ علماء تھے وہ بھی اسلام کے اجتماعی مسلک سے روگرداں ہو چکے تھے۔ اس کی ایک مثال مولانا عبیداللہ سندھی ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ہندوستانی منزل استنبول سے ریاستہائے متحدہ ہندوستان کا جو منشور شائع کیا تھا اُس کے ٹائٹل پر اقبال کے ترانۂ انقلاب میں سے ایک شعر بھی درج کیا تھا اور یہ اعلان بھی کہ اس منشور کا پان اسلامزم قسم کے کسی اتحادِ اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے ٹائٹل ہی پر یہ اعلان کرنا بھی ضروری سمجھا تھا کہ وہ اور اُن کی مجوزہ پارٹی کے اراکین انڈین نیشنل کانگرس کے دائرے میں رہ کر اپنے سیاسی عمل کو آگے بڑھائیں گے۔ پھر جب قراردادِ پاکستان کے صرف ایک سال بعد انھوں نے ''جمنا، نربدہ، سندھ ساگر پارٹی'' قائم کی تو اُس کے منشور میں بھی یہ اعلان کیا تھا کہ اُن کی جماعت صرف لسانی قومیت پر ایمان رکھتی ہے۔ چنانچہ ہر لسانی گروہ ایک الگ تہذیبی اور جغرافیائی وحدت ہوگا اور یہ درجنوں لسانی اور جغرافیائی وحدتیں مل کر ایک کُل ہند وفاق کی صورت اختیار کر لیں گی۔


ایک ایسے زمانے میں جب مسٹر اور مُلا ہر دو اسلام کے اجتماعی مقدرسے روگردانی کر چُکے تھے، اقبال کا یہ اعلان کہ ''اسلام اپنا مقدر آپ ہے اور وہ اسلام کے اس مقدر سے مایوس نہیں ہیں'' اسلامیانِ ہند کی تاریک زندگی میں روشنی کی ایک کرن ثابت ہوا۔ اسلامی ہند کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک اقبال کے خطبۂ الہ آباد کی پذیرائی کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم عبدالحمید علوی کے مضمون میں دیے گئے اس اقتباس پر غور کریں:


"The decade of twenties is regarded by the historians as pace-setter for the events which followed in the thirties and forties on the political scene in India. The decade began with the demonstration of unprecedented harmony in the Hindu-Muslim relations but as it unfolded itself the harmony was replaced by conflict and conflagration. Soon the two communities stood wide-apart never to unite again. The rise of Hindu extremism under the banner of Mahasabah and Arya Smaj had come to stay. It questioned the newly established tradition of separate electorate for Muslims and their right to live and flourish within the folds of Islamic culture. Worst still the Indian National Congress, threatened by the ever increasing popularity of Mahasabah among Hindu masses, was beginning to yield to the demands of extremist politics. By 1927 it had acquired many a stances of the Mahasabah, and a year later in the constitutional structure proposed by Pandit Moti Lal Nehru and adopted by Congress despite the strongest possible Muslim opposition, the views of Mahasabah about Muslim separatism were eminenty reflected. The Round Table Conference of 1930 was of no solace to Muslims either; it too echoed the Moti Lal formula which had practically denied safeguards to the Muslim minority in the future constitution of India."


یہاں اگر 1922ء میں بھڑک اُٹھنے والی مالا بار کے مسلمانوں کی بغاوت کا تذکرہ بھی کر دیا جائے تو تصویر بڑی حد تک مکمل ہو جائے گی۔ برطانوی پولیس نے مالا بار میں تحریکِ خلافت کے ایک رہنما اور اُس کی بیوی کو سرِ بازار کوڑے مار مار کر بے جان کر دیا۔ اس پر مالا بار کے مسلمان برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت پر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے تھانوں کو آگ لگا دی اور برطانوی افسر شاہی کو مار مار کر علاقے سے بھاگ اُٹھنے پر مجبور کر دیا۔ سلطنتِ برطانیہ کو اس علاقے میں اپنا اقتدار بحال کرنے میں ایک لمبے عرصے تک سر توڑ کوشش کرنا پڑی۔ جب انگریز اقتدار دوبارہ قائم ہو گیا تو ہندئووںنے ''مالا بار کی خونی داستان'' جیسے کتابچوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہندئووں پر تشدد کے جھوٹے واقعات بیان کر کے برطانوی حکومت کی خوشنودی حاصل کرنا چاہی۔ انڈین نیشنل کانگرس نے اپنے چند مسلمان اراکین پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی نے مسلمانوں کو ہندئووں کی جانب سے لگائے گئے الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا۔ کانگرس نے اس تحقیقاتی رپورٹ کو رد کر دیا اور یوں مالا بار سے مسلمانوں کو جلا وطن کر دینے کے برطانوی اقدامات کی تائید و حمایت کی پالیسی اپنائی۔ تقریباً سبھی مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ مالا بار کے مسلمانوں کی یہ بغاوت اور اس بغاوت کے ضمن میں اپنائی گئی کانگرسی پالیسی نے تحریکِ خلافت کے زمانے کے ہندو مسلم اتحادکوختم کر کے رکھ دیا تھا۔


اتحاد کے ختم ہونے کے بعد برطانوی حکومت کی مسلمان کش پالیسی کے باعث ہندوستان کے مسلمان انتہائی مایوسی اور فکری انتشار کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے تھے۔اُن کی سیاسی زندگی میں قیادت کا فقدان پیدا ہو گیا تھا۔ وہ ایک منتشر، بے یار و مددگار اور بے سمت ہجوم بن کر رہ گئے تھے۔ اُن کی ساری سیاسی جدوجہد غالب اورجارحیت پسندہندو اکثریت سے آئینی تحفظات کی بھیک مانگنے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ اس تیرہ و تار فضا میں جب سن انیس سو تیس کے خطبۂ الٰہ آباد میںاقبال کی خودی میں سرشار آواز گونجی کہ ہندوستان کے مسلمان اقلیت نہیں بلکہ ایک الگ قوم ہیں تو عوامی سطح پر تاریکیاں چھٹ سی گئیں۔


اقبال کا تصورِ پاکستان
پاکستان کا تصور اپنے قومی وجود سے محبت اور دوسروں کے قومی وجود کے احترام سے عبارت ہے۔ 1930ء کے خطبہ الٰہ آباد میں اقبال نے بڑے دو ٹوک انداز میں اس حقیقت کا انکشاف فرمایا تھاکہ برطانوی ہند ایک ملک نہیں بلکہ ایک برصغیر ہے۔ اس برصغیر کی جغرافیائی وحدت ایک سامراجی وحدت ہے جسے سلطنتِ برطانیہ کی سنگینوں کے زور پر اوپر سے مسلط کیا گیا ہے۔ برطانوی ہند ایک مُلک کا نام نہیں بلکہ کئی ممالک کے مجموعے کا نام ہے۔ ان میں سے ہر ملک میں ایک قوم آباد ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ا ب برطانوی حکومت اپنا بوریا بستر سمیٹ کر واپس انگلستان جا ئے اور ہندوستان کی تمام قوموں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنے اپنے ماضی اور اپنی اپنی تاریخی اور تہذیبی روایات کے مطابق آزادی اور خود مختاری کی فضا میں زندگی بسر کر سکیں۔ برصغیر کی ان متعدد اقوام میں سے ایک قوم ہم ہندی مسلمانوں کی بھی ہے۔ ہم ہندی مسلمان جدید معنوں میں ایک قوم ہیں اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنے لئے ایک الگ وطن کے قیام کا مطالبہ کریں۔اس موقع پر اقبال نے ہندوئوں کو یہ یقین دہانی کرانا ضروری سمجھا تھا کہ:۔


"Nor should the Hindus fear that the creation of autonomous Muslim States will means the introduction of a kind of religious rule in such States. The truth is that Islam is not a church. It is a State conceived as a contractual organism long before Rousseau ever thought of such a thing and animated by an ethical ideal which regards man not as an earth-rooted creature, defined by this or that portion of the earth, but as spiritual being understood in terms of a social mechanism and possessing rights and duties as a living in that mechanism."(P-172)
اسلام کے وسیع النظر ، صلح کل اور انسان دوست سیاسی و معاشرتی مسلک پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ:۔
"A community which is inspired by feelings of ill-will towards other communities is low and ignoble. I entertain the highest respect for the customs, laws, religious and social institutions of other communities. Nay, it is my duty according to the teaching of the Quran, even to defend their places of worship, if need be. Yet I love the communal group which is the source of my life and behaviour and which has formed me what I am by giving me its religion, its literature, its thought, its culture and thereby recreating its whole past as a living operative factor in my present consciousness." (P-169)


ایک سچا مسلمان آدمیت، احترامِ آدمی کے مسلک پر اس حد تک کاربند ہوتا ہے کہ وہ وقت آنے پر دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی حفاظت میں اپنی جان تک قربان کر دینے کو تیار رہتا ہے۔وہ ہر آن صفاتِ خداوندی کو اپنی ذات میں جذب کرنے میں کوشاں رہتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی ذات میںہر کسی پر،مذہب و ملّت کے اختلاف سے قطع نظر، صرف شفقت و محبت کی نظر ہی ڈالتا ہے:
بندۂ حق از خُدا گیرد طریق
مے شود بر کافر و مومن شفیق


ہر مذہب و ملت کے وابستگان کے اس احترام کے باوجود وہ اپنے دین، اپنی تاریخ اور اپنی تہذیب کے زندہ عناصر پر ہمیشہ ناز کرتا ہے۔اسلامیانِ ہند ان زندہ عناصر کو اپنی شخصیت میں فعال اور سرگرمِ کار رکھنے کی خاطر اپنی اکثریت کے علاقوں میںآزاد اور خود مختار ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ خطبہ الٰہ آباد کا غور سے مطالعہ کرنے والا کوئی بھی شخص اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قیامِ پاکستان کا مطالبہ نفرت کی بنیاد پر ہر گز نہیں بلکہ سراسر محبت کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔


علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں قیامِ پاکستان کو ہندوستان اور اسلام ہر دو کے لئے باعثِ خیر و برکت ٹھہرایا تھا۔ اُنھوں نے کہا تھاکہ پاکستان کے قیام سے ہندوستان میں اندرونی توازن اقتدار قائم ہوگا اور اس توازنِ اقتدار سے ہندوستان کے اندر امن قائم ہوگا اور ہندوستان کی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی۔ ساتھ ہی ساتھ اسلام کو یہ موقع نصیب ہوگا کہ وہ شہنشاہیت کی چھاپ سے خود کو پاک کر کے اپنی ابتدائی سادگی اور پاکیزگی کی بازیافت کر سکے۔ شہنشاہیت نے اسلامی قانون، اسلامی تعلیم اور اسلامی کلچر کو منجمد کر رکھا ہے۔ پاکستان اسلام کی ایک ایسی تجربہ گاہ بن سکے گا جہاں شہنشاہیت کے زیر اثر پیدا ہونے والا انجماد ٹوٹ جائے گا اور قانون، تعلیم اور کلچر کی دنیائیں حرکت و عمل سے آشنا ہوں گی۔ اس طرح پاکستان میں اسلام کی حقیقی روح کو از سرِ نو دریافت کر کے روحِ عصر کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا:


"I therefore demand the formation of a consolidated Muslim State in the best interest of India and Islam. For India it means security and peace resulting from an internal balance of power; for Islam an opportunity to rid iteself of the stamp that Arabian imperialism was forced to give it, to mobilize its law, its education, its culture, and to bring them into closer contact with its own original spirit and with the spirit of modern times."(P.173)


اقبال کا خواب یہ تھا کہ اسلامیانِ ہند کی مجوزہ آزاد اور خود مختار مملکت میں اسلام کو عرب شہنشاہیت کی زنجیروں سے آزاد کر دیا جائے گا، دُنیائے اسلام کا انجماد ٹوٹے گا اور یوں اسلام کی حرکی اور انقلابی روح بیدار اور سرگرمِ کار ہو سکے گی۔ اقبال نے تصورِ پاکستان پیش کرنے کے صرف ایک سال بعدکل ہند مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے وقت نوجوانوں کو مغرب کے استحصالی اقتصادی نظاموں کو رد کر دینے کا درس دیتے وقت قرآن کی حکمت کی جانب یوں متوجہ کیا تھا:


"The faith which you represent recognises the worth of the individual, and disciplines him to give away his all to the service of God and man. Its possibilities are not yet exhausted. It can still create a new world where the social rank of man is not determined by his caste or colour, or the amount of dividend he earns, but by the kind of life he lives; where the poor tax the rich, where human society is founded not on the equality of stomachs but on the equality of spirits, where an Untouchable can marry the daughter of a king, where private ownership is a trust and where capital cannot be allowed to accumulate so as to dominate the real producer of wealth. This superb idealism of your faith, hower, needs emancipation from the medieval fancies of theologians and legists."(P.213)


اپنی عہد آفریں شعری تخلیق ''جاوید نامہ'' میں بھی اقبال نے اشتراکیت اور سرمایہ داری ہر دو نظاموں کو ''یزداں ناشناس اور آدم فریب'' قرار دیتے ہوئے دنیائے انسانیت کو اسلام کی ابتدائی سادگی اور پاکیزگی کی جانب متوجہ کیا ہے۔ انہوں نے یہاں بھی اسلام کی حقیقی روح کو از سرِ نو دریافت کر کے اپنے زمانے کی روح سے ہم آہنگ کرنے کا درس دیا ہے۔ اگر ہم نے قیامِ پاکستان کے بعد، مُلائیّت کی بجائے اقبال کے تصورِ اسلام پر عمل کرنا شروع کر دیا ہوتا تو آج ہم مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں ہر گز نہ ہوتے۔ آج بھی اقبال ہم سے یہی چاہتے ہیں کہ ہم باہم برسرِ پیکار مذاہبِ فقہ کی بجائے حقیقی اسلام کی جانب رجوع کریں۔ اس کام کی ابتدا اُن تخیلات اوراحساسات کی زنجیریں توڑ کر ہی کی جا سکتی ہے جن میں ہمارے قدیم فقہا نے اسلام کو جکڑ بند کر کے منجمد کر دیا ہے۔ آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم اجتہاد کی راہ اپنا کر اس انجماد کو توڑ دیں تاکہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی ہر آن آگے بڑھتے ہوئے وقت کے ساتھ قدم ملا کے چل سکے۔


ہم نے گزشتہ نصف صدی کے دوران عرب ملوکیت کی چھاپ سے اسلام کو پاک کرنے کے بجائے اس چھاپ کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ تو ہم حقیقی اسلام کی بازیافت کر پائے ہیں اور نہ ہی اسلام کے قانون، تعلیم اور کلچر کو تحریک دے کر اسلام کی حقیقی روح کوروحِ عصر سے ہم آہنگ کر پائے ہیں۔ ہماری اس غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وطنِ عزیز مذہبی فرقہ واریت کے جنوں اور تشدد کی گرفت میں ہے۔ اسلام کے بجائے مُلائیّت سے پھوٹنے والے اس جنوں اور تشدد کا علاج فکرِ اقبال میں موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم فکرِ اقبال کو عملی جامہ پہنائیں تاکہ اسلام کی وسیع النظر اور انسان دوست روح ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کارفرما ہو سکے۔


تصورِ پاکستان: اسلام یا سیکولرازم؟
آج کل ہماری قومی زندگی میں اس سوال پر بحث کا بازار گرم ہے کہ کیا پاکستان کا تصور ایک اسلامی مملکت کا تصور تھا یا ایک سیکولر سٹیٹ کا؟یہ بحث مجھے اس اعتبار سے غیر ضروری معلوم ہوتی ہے کہ تصورِ پاکستان کے خالق علامہ محمد اقبال نے سن 1930کے خطبہ الٰہ آباد میں ہی اس سوال کا جواب پیش کر دیا تھا۔ علامہ اقبال نے حیرت انگیز پیش بینی کے ساتھ اپنے خطبے میں پہلے خود ہی یہ سوال اُٹھایا اور پھر اس کا مدلل جواب دے دیا تھا۔ اقبال کا کہنا یہ ہے کہ اُن کے زمانے کے مسلمان نوجوانوں نے سیکولرازم کا تصور یورپ سے مستعار لیا ہے۔ اسلام میں اس طرح کا کوئی تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔ اقبال کے نزدیک سیکولرازم کا تصور یورپ کے مخصوص تاریخی تجربات سے پھوٹا ہے۔
یورپ کی تاریخ کے ایک خاص دور میں پادریوں نے اپنے لئے خُدائی حقِ حکمرانی کا دعویٰ کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا اور یوں وہ بیک وقت پادری اور بادشاہ بن بیٹھے۔ اس نظام حکومت کو تھیوکریسی کا نام دیا گیا۔ اس نظام کے تحت حکمرانی کے خُدائی حق کے دعویدار پادریوں نے عوام پر ناقابلِ بیان مظالم ڈھائے اور عیسائیت کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس سنگین صورتِ حال کے خلاف مارٹن لوتھر نے اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک نے بتدریج زور پکڑا اور یوں پادریوں کے حقِ حکمرانی یعنی تھیوکریسی کو باطل ثابت کرتے ہوئے زندگی کو دو دائروں میں بانٹ کر رکھ دیا گیا۔ یہ دائرے سیکولر اور سیکرڈ یعنی مادی اور روحانی زندگی کے دو الگ الگ دائرے تھے۔ دُنیاوی زندگی کے سیکولر دائرے میں بادشاہوں کا حق حکمرانی تسلیم کیا گیا اور دینی زندگی کے دائرے کو کلیسا تک محدود کر کے پادری کی روحانی شہنشاہیت کو تسلیم کر لیا گیا۔ زندگی کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دینے کے اس عمل نے عیسائیت کو فقط رہبانیت تک محدود کر کے رکھ دیا۔


جب یورپ میں عیسائیت کو ایک خالصتاً راہبانہ نظام بنا کر رکھ دیا گیا تو ترکِ دُنیا کا وہ تصورپیدا ہوا جو بالآخر دین اور دُنیا، کلیسا اور ریاست اور مادی زندگی اور روحانی زندگی کودو الگ الگ اور باہم متصادم حصوں میں بانٹ دینے کا سبب بنا۔ اسلام میں اس طرح کی کسی ثنویت کا تصور موجود نہیں ۔ نہ ہی اسلامی تاریخ میں کبھی تھیوکریسی یعنی علماء کے خُدائی حق حکمرانی کا کوئی تصور موجود تھا۔ نتیجہ یہ کہ سیکولرازم کا تصور مسلمانوں میں پیدا ہی نہ ہو سکا۔ اگر خدانخواستہ مسلمانوں کی تاریخ میں تھیوکریسی قائم ہو گئی ہوتی تو پھر اُس کے خلاف ردعمل اور ردعمل کے نتیجے میں سیکولرازم کے پیدا ہونے کا امکان بھی ہو سکتا تھا۔ یورپ میں تھیوکریسی قائم ہوئی اس کے خلاف مارٹن لوتھر نے اصلاحِ دین کی تحریک چلائی اور اس تحریک کی کامیابی نے بالآخر عیسائی دُنیا میں مذہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کے فقط فرد کی نجی زندگی تک محدود کر دیا۔ اس کے برعکس اسلام ایک اجتماعی نظامِ حیات ہے۔ زندگی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے اور انسان کو اس مادی دُنیا میں زندہ رہ کر اور مادی سرگرمیوں میں مشغول رہ کر روحانی سربلندی کی راہ اپنانے کا درس دیا گیا ہے۔ اس بات پرروشنی ڈالتے ہوئے اقبال نے کہا ہے کہ:۔
"To Islam matter is spirit realising itself in space and time."
اور
"All that is secular is sacred in the roots of its being."
اقبال نے اپنے سامعین کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بحث کو فقط نظریاتی بحث نہ سمجھیں بلکہ اس کی عملی معنویت کو پیشِ نظر رکھیں کیونکہ سیکولرزم یا اسلام کے اس سوال کے درست جواب پر ہی برصغیر میں مسلمانوں کی منفرد تہذیبی ہستی کی بقا کا انحصار ہے!


علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد کے آغاز میں ہی یہ سوال اُٹھایا تھا کہ کیا مذہب ایک نجی معاملہ ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اسلام کو فقط ایک اخلاقی نظام کے طور پر تو باقی رکھیں مگر اس کے سیاسی نظام کو متحدہ ہندوستانی قومیت کی تعمیر کی خاطر ترک کر دیں؟ اقبال کے نزدیک یہ سوال برطانوی ہند میں مسلمانوں کے اقلیت میں ہونے کے پیش نظر اور بھی زیادہ سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یورپ میں عیسائیت کو ایک خانقاہی نظام کی صورت دے کر مادی زندگی کو روحانی زندگی سے الگ کر دیا گیا۔ وہاں نیکی کا مفہوم ترک عمل اور ترک دُنیا سے عبارت ہو کر رہ گیا۔ اس لئے اگر یورپ کے لوگ مذہب کو فرد کا نجی معاملہ قرار دے کر سیاسی و اقتصادی اور معاشرتی و تہذیبی نظاموں کو مذہب کے دائرہ کار سے باہر قرار دیتے ہیں تو یہ بات قابلِ فہم ہے مگر مسلمانوں میں اس طرح کی سوچ ناقابلِ فہم ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہاں دین اور دنیا دو الگ الگ اکائیاں نہیں ہیں بلکہ دین اور دنیا دونوں کا ایک ہی عالم ہے۔ اس لئے :
"The religious ideal of Islam, therfore, is organically related to the social order which it has created. The rejection of the one will eventually involve the rejection of the other. Therefore the construction of a polity on national lines, if it means a displacement of the Islamic principle of solidarity, is simply unthinkable to a Muslim. This is a matter which at the present moment directly concerns the Muslims of India."
یہاں اقبال نے دو باتیں بڑی وضاحت کے ساتھ کی ہیں۔ اوّل یہ کہ: اسلام کا اخلاقی مسلک، اسلام کے سیاسی مسلک کے ساتھ نامیاتی طور پر مربوط ہے یعنی اخلاقی اور سیاسی ہر دو آئیڈیلز یک جان اور یک قالب ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے ہر گز جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آج ہم متحدہ ہندوستانی قومیت کی تعمیر کی خاطر اسلام کے سیاسی مسلک کو چھوڑ دیں گے تو بالآخر ہمیں اسلام کا اخلاقی مسلک بھی چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔یہ گویا ترکِ اسلام کی راہ ہو گی۔دوم یہ کہ: ہندی مسلمان یہ راہ ہر گز نہ اپنائیں گے اس لئے ہندو مسلمان متحدہ قومیت کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوگا۔


اسلامی اخوت و مساوات کے تصورات نے کسی ایک فرد یا کسی ایک گروہ کو حکمرانی کا حق ہر گز نہیں دیا۔'حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آذری' ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا حقِ حکمرانی اپنے تمام بندوں کو یکساں طور پر منتقل کر رکھا ہے۔ یہ حق مسلمان معاشرے کا ہر فرد خود ہی استعمال کرتا ہے۔ یہاں علمائے کرام خود کو عامة المسلمین کی اجتماعی رائے کے سامنے پیش کرنے کا حق تو رکھتے ہیں مگر محض برگزیدہ عالمِ دین ہونے کی حیثیت سے انھیں خدا کی طرف سے حکمرانی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے یعنی جدید سیاسی اصطلاحات کی روشنی میں مسلمان معاشروں میں تھیوکریسی کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ سلطانیٔ جمہور کے یہ اسلامی تصورات جمہوری نظامِ سیاست کی تائید کرتے ہیں۔ برطانوی ہند میں مسلمان تعداد میں کم ہیں اور ہندو تعداد میں اُن سے کہیں زیادہ ہیں اس لئے اُن کی جداگانہ مسلمان شناخت کا قائم رہنا بے حد دُشوار ہو کر رہ گیا ہے۔ اس لئے اُن کے لئے الگ مملکت کا قیام ضروری ہو گیا ہے۔ عصرِ رواں میں یہ الگ مملکت صرف قوموں کے حق خود اختیاری کی بنیاد پر ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ اس لئے یہ ثابت کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ علامہ اقبال کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے فلسفیانہ استدلال کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک الگ قوم ثابت کر دکھایا۔
اقبال نے ہندی مسلمانوں کوجدید معنوں میںایک قوم قرار دیا۔ انھوں نے اپنے ہم عصر فرانسیسی مفکر ارنسٹ رینا ں کا حوالٰہ دیتے ہوئے روحانی ہم آہنگی کو قومیت کی تشکیل و تعمیر کی بنیاد ٹھہرایا۔ انھوں نے کہاکہ قدیم زمانے میں جب انسان ابھی تہذیب و شائستگی کے اوّلیں مراحل طے کرنے میں مصروف تھا جغرافیائی اور نسلی بنیادوں پر قومیں وجود میں آیا کرتی تھیں مگر آج قومیں اپنے روحانی تصورات کے اشتراک اور اپنے تصورِ کائنات کی یکسانیت کی بنیاد پر بنتی ہیں۔ آج کا انسان جغرافیائی اور نسلی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر روحانی یگانگت کو اپنی پہچان قرار دیتا ہے۔ ہندوستان میں اسلام نے مسلمانوں کو ایک الگ تہذیبی شناخت بخشی ہے اور اسی جداگانہ تہذیبی شناخت نے انھیں ایک الگ قوم بنا دیا ہے۔ اپنے استدلال پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ :


"The life of Islam as a cultural force in this country very largely depends on its centralisation in a specified territory. This centralisation of the most living portion of the Muslims of India, will eventually solve the problem of India as well as of Asia."


اقبال نے اس سنگین صورتِ حال کا حل ایک جداگانہ مسلمان قومیت کی بنیاد پر مسلمان اکثریت کے علاقوں میں جداگانہ مسلمان ریاستوں کے قیام کی صورت میں پیش کیا۔ 1930 میں اقبال نے اپنے اسی خطبہ الٰہ آباد میں بڑے اعتماد کے ساتھ یہ پیش گوئی کر دی تھی کہ برصغیر کے شمال مغرب میں ایک جداگانہ مسلمان مملکت کا قیام مقدر ہو چکا ہے۔ اقبال نے اسلامیانِ ہند کو اپنی تہذیب کی بقا اور ترقی کی خاطر ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرنے کا جو راستہ دکھایا تھا اسی کی ہی ایک شکل پاکستان اور بنگلہ دیش کی صورت میں آج موجود ہیں۔ پاکستان جس جداگانہ مسلمان قومیت کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا قیامِ پاکستان کے بعداُس نے قدرتی طور پر پاکستانی قومیت کا نام پایا۔
جداگانہ مسلمان قومیت اور اہلِ کتاب


علامہ اقبال نے خطبہ الٰہ آباد میں جداگانہ مسلمان قومیت پر ممکنہ اعتراضات کا اطمینان بخش جواب بھی دے رکھا ہے۔ اسلامیانِ ہند کو مخالفین کی جانب سے پھیلائے جانے والے فکری انتشار سے خبردار کرتے ہوئے اقبال خود ہی یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ جب ترکی اور ایران جیسے ممالک جغرافیائی قومیت کے تصور سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے تو پھر ہندی مسلما ن اس تصور سے کیوں خائف ہیں:۔


"Nor should the Muslim leaders and politicians allow themselves to be carried away by the subtle but placid arguments that Turkey and Iran and other Muslim countries are progressing on national, i.e., territorial lines. The Muslims of India are differently sistuated. The countries of Islam outside India are practically wholly Muslim in population. The minorities there belong, in the language of the Quran, "to the people of the Book". There are no social barriers between Muslims and the "people of the Book". A Jew or a Christian or a Zoroastrian does not pollute the food of a Muslim by touching it, and the law of Islam allows intermarriage with the "people of the Book". Indeed the first practical step that Islam took towards the realisation of a final combination of humanity was to call upon peoples possessing practically the same ethical ideal to come forward and combine."(P-190)


علامہ اقبال اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ ترکی اور ایران جیسے ممالک میں مسلمانوں کی دینی اور تہذیبی ہستی کے مٹ جانے کا کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے کیونکہ ان ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور یہاں کی اقلیتیں اہلِ کتاب پر مشتمل ہیں۔ ہندوستان کے برعکس ان ممالک میں مسلمانوں اور اہلِ کتاب کے درمیان معاشرتی دیواریں نہیں کھڑی کی گئیں۔ یہودی، عیسائی، زرتشتی اور مسلمان چھوت چھات کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ چنانچہ ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے کھانے کو چھو کر ناپاک نہیں کرتا بلکہ اسلام کے قوانین اہلِ کتاب کے درمیان شادی بیاہ تک کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ اس اعتبار سے ترکی اور ایران جیسے ممالک کی ساری آبادی عملاً مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اس کے برعکس

The Muslims of India are differently situated.

اقلیت میں ہونے کے باعث وہ اُس ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر ہیں جو انسانی عدم مساوات پر عقیدةً عمل پیرا ہے ۔ اس لئے اُن پر لازم آتا ہے کہ وہ ایک جداگانہ مسلمان قومیت کا تصور اپنا کر ایک الگ اور خود مختار قومی وطن حاصل کریں۔


اپنے استدلال کو قرآن حکیم کی روشنی میں آگے بڑھاتے ہوئے اقبال ہمیں اُس آیت کریمہ کی جانب متوجہ کرتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام اہلِ کتاب کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ اُس کلمہ یعنی توحید کی بنیاد پر متحد ہو جائیں جو اُن کے درمیان مشترک ہے۔ اہلِ کتاب کے اس اتحاد کو اقبال پوری انسانیت کے اتحاد کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہیں اور گہرے دکھ کے ساتھ کہتے ہیں کہ :
"The wars of Islam and Christianity, and later, European aggression in its various forms, could not allow the infinite meaning of this verse to work itself out in the world of Islam. To-day it is being gradually realised in the countries of Islam in the shape of what is called Muslim Nationalism."(P-190)


ماضی میں صلیبی جنگوں اور بعد ازاں اسلامی ممالک کے خلاف یورپ کی کثیر جہتی جارحیت کے باعث مسلمانوں اور اہلِ کتاب کے درمیان مشترک قومیت کا یہ تصور حقیقت کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ آج انسانی اتحاد کا یہ مرحلہ ٔ اول مسلمان ممالک میں مسلم قومیت کی شکل میں سامنے آنے لگا ہے۔ خطبہ الٰہ آباد کی روشنی میں غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہندو اور مسلمان تو اپنے باہم متصادم تصورِ کائنات کی بنیاد پر بے شک دو الگ الگ قومیں ہیں مگر مسلمان اور اہلِ کتاب ایک ہی قوم ہیں اور مسلمانوں اور اہلِ کتاب کا توحید کی بنیاد پر یہ اتحاد ایک وسیع تر انسانی اتحاد کا پہلا مرحلہ ہے۔


تصورِ پاکستان اور سرزمینِ پاکستان
اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں جہاں اپنے تصورِ پاکستان کے فکری اور نظریاتی پہلوئوں کو اُجاگر کیا ہے وہاں وہ تصورِ پاکستان کی جغرافیائی بنیاد کو بھی بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے لائے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اقبال وطن سے محبت کو جزوِ ایمان تسلیم کرنے کے باوجود اتحادِ انسانی کا بنیادی سیاسی اصول نہیں مانتے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی مصطفوی شناخت کو ہی اُن کی اصل شناخت قرار دیا ہے۔ آبروئے ما زنامِ مصطفی است اور اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے۔ بجا اوردرست مگر اس کے ساتھ ساتھ اقبال وطنی اشتراک کو اگر وہ روحانی یگانگت کے منافی نہ ہو تو بہت اہمیت دیتے ہیںاقبال نے اپنے اسی خطبۂ الٰہ آباد میں اُس خطۂ زمین کو جسے آج پاکستان کہا جاتا ہے ایک الگ جغرافیائی اور تہذیبی وحدت کا نام دیا ہے۔ وادیٔ سندھ کی جداگانہ شخصیت پر روشنی ڈالتے وقت اقبال فرماتے ہیںکہ:


"In point of life and civilization the Royal Commissioners find it more akin to Mesopotamia and Arabia than India. The Muslim geographer Mas'udi noticed this kinship long ago when he said: "Sind is a country nearer to the dominions of Islam." Sind has her back towards India and face towards Central Asia." (P-186)


یہ خطۂ زمین اپنی زندگی اور تہذیب کے اعتبار سے ہندوستان سے دور مگر بغداد اور دُنیائے عرب سے قریب ہے۔ اسی لئے مسلمان جغرافیہ دان مسعودی نے وادیٔ سندھ کو دُنیائے اسلام کا ایک حصہ بتایا تھا۔اقبال کا خیال یہ ہے کہ وادیٔ سندھ کا رُخ وسطِ ایشیا کی جانب ہے اور ہندوستان اس کے عقب میں واقع ہے۔ جب اقبال نے ایک آزاد اور خود مختار مسلمان مملکت کے قیام کو اس علاقے کا آخری مقدر قرار دیا تھا تو یہ جغرافیائی پسِ منظر بھی اُن کے ذہن میں موجود تھا۔
اقبال نے خطبہ الٰہ آباد میں برطانوی ہند کو ایک ملک کے بجائے ایک برصغیر قرار دیتے ہوئے اسے ایک چھوٹا سا ایشیا قرار دیا تھا اور اسی بنیاد پر کہا تھا کہ جمہوریت کا نظام یہاں اُس وقت تک نافذ نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس برصغیر کے مختلف ممالک کو الگ الگ اور خود مختار ریاستوں میں تقسیم نہیں کر دیا جاتا:


"India is Asia in miniature. Part of her people have cultural affinities with nations in the east and part with nations in the middle and west of Asia." (P-168)
چنانچہ انھوں نے لندن کی پہلی رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے نتائج کو بڑی جرأت کے ساتھ رد کرتے ہوئے انگلستان کے وزیراعظم کی ہٹ دھرمی کو درج ذیل الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا:


"Yet the Prime Minister of England apparently refuses to see that the problem of India is international and not national. Obviously he does not see that the model of British democracy cannot be of any use in a land of many nations."(P-188)


اقبال نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ برطانوی وزیراعظم جان بوجھ کر اس حقیقت کے اعتراف سے گریزاں ہیں کہ ہندوستان کا مسئلہ قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے۔ برطانوی جمہوریت کا ماڈل ہندوستان میں اس لئے کام نہیں دے سکتا کہ یہاں ایک نہیں بلکہ کئی قومیں آباد ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا دشوار نہیں کہ جسے عرف عام میں دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے ، وہ دراصل کثیر قومی نظریہ ہے۔ اسلامیانِ ہند نے تواقبال کے تصور کو اپنا کر قائداعظم کی قیادت میں اپنے لئے الگ قومی وطن حاصل کر لیا تھا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ برصغیر کی دوسری قومیں اپنی قومی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد میں کب کامیاب ہوتی ہیں؟


تصور اورتحریک
تصورِ پاکستان کو حقیقت میں بدلنے کی تحریک کی قیادت کے لئے علامہ اقبال کی نگاہیں گھوم پھر کر فقط ایک ہی شخص پر آ ٹھہرتی تھیں۔ یہ شخص تھے ہمارے قائداعظم محمد علی جناح۔ اقبال خود کو جن کا ایک ادنیٰ سپاہی قرار دینے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری تین برسوں کے دوران قائدِاعظم سے اُن کی فکری و سیاسی رفاقت بہت گہری ہو چلی تھی۔ایک طویل عرصے تک فکری تنہائی کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر علامہ اقبال فکری رفاقت کی نعمت سے فیض یاب ہوئے اور خوشی میں پُکار اُٹھے کہ:
گئے دِن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب میرے راز داں اور بھی ہیں


زندگی کے آخری دور میں قائداعظم اُن کے سب سے بڑے رازداں تھے جن سے وہ چپکے چپکے اسلامیانِ ہند کے مقدر پر راز و نیاز میںمشغول رہا کرتے تھے۔ اُس زمانے میں ہر دو بانیانِ پاکستان چونکہ ایک شہر میں نہیں رہتے تھے اس لئے بیشتر یہ گفتگو خط کتابت کی صورت میں ہوا کرتی تھی۔ دونوں نے آپس میں یہ طے کر رکھا تھا کہ اُن کی باہمی خط کتابت صیغۂ راز میں رہے گی۔ اس راز کو قائداعظم نے قرارِ داد پاکستان کے دو برس بعد 1942ء میں افشا کیا اور Letters of Iqbal to Jinnah کے عنوان سے اپنے نام اقبال کے چند خطوط شائع بھی کر دیئے۔ 28 مئی 1937ء کے خط میں علامہ اقبال انتخابات میں مسلم لیگ کی شکست کے اسباب کے بارے میں بھی بحث کرتے ہیں اور شکست کو فتح میں بدلنے کی راہ بھی دکھاتے ہیں:


"The League will have to finally decide whether it will remain a body representing the upper classes of Indian Muslims or Muslim masses who have so far, with good reason, taken no interest in it. Personally I believe that a political organisation which gives no promise of improving the lot of the average Muslim cannot attract our masses.
Under the new constitution the higher posts go to the sons of upper classes; the smaller ones go to the friends or relatives of the ministers. In other matters too our political institutions have never thought of improving the lot of Muslims generally. The problem of bread is becoming more and more acute. The Muslim has begun to feel that he has been going down and down during the last 200 years. Ordinarily he believes that his poverty is due to Hindu money-lending or capitalism. The perception that it is equally due to foreign rule has not yet fully come to him. But it is bound to come. The atheistic socialism of Jawarharlal is not likely to receive much response from the Muslims. The question therefore is: how is it possible to solve the problem of Muslim poverty? And the whole future of the League depends on the League's activity to solve this question. If the League can give no such promises I am sure the Muslim masses will remain indifferent to it as before. Happily there is a solution in the enforcement of the Law of Islam and its further development in the light of modern ideas. After a long and careful study of Islamic Law I have come to the conclusion that if this system of law is properly understood and applied, at last the right to subsistence is secured to everybody. But the enforcement and development of the Shariat of Islam is impossible in this country without a free Muslim state or states. This has been my honest conviction for many years and I still believe this to be the only way to solve the problem of bread for Muslims as well as to secure a peaceful India. If such a thing is impossible in India the only other alternative is a civil war which as a matter of fact has been going on for some time in the shape of Hindu-Muslim riots. I fear that in certain parts of the country, e.g. N.-W. India, Palestine may be repeated. Also the insertion of Jawaharlal's socialism into the body-politic of Hinduism is likely to cause much bloodshed among the Hindus themselves. The issue between social democracy and Brahmanism is not dissimilar to the one between Brahmanism and Buddhism. Whether the fate of socialism will be the same as the fate of Buddhism in India I can not say. But it is clear to my mind that if Hinduism accepts social democracy it must necessarily cease to be Hinduism. For Islam the acceptance of social democracy in some suitable form and consistent with the legal principles of Islam is not a revolution but a return to the original purity of Islam. The modern problems therefore are more easy to solve for the Muslims than for the Hindus. But as I have said above in order to make it possible for Muslim India to solve the problems it is necessary to redistribute the country and to provide one or more Muslim states with absolute majorities. Don't you think that the time for such a demand has already arrived?" (P.16-19)


اقبا ل نے اپنے اس خط میںلکھا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم لیگ یہ فیصلہ کرگزرے کہ وہ بدستور اونچے طبقے کے مسلمانوں ہی کی نمائندگی کرتی رہے گی یا مسلمان عوام کے مصائب و مشکلات کے حل کو بھی اپنے پروگرام کا مرکز و محور بنائے گی۔ اقبال نے دو ٹوک اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ اگر اب تک مسلمان عوام نے مسلم لیگ سے کوئی دلچسپی نہیں لی تو اس میںوہ حق بجانب ہیں جب تک مسلم لیگ غریب عوام کے روٹی روزگار کے مسائل کو اپنے سیاسی منشور کا حصہ نہیں بناتی تب تک وہ عوام میںبدستور نامقبول ہی رہے گی۔ اس سلسلے میں علامہ اقبال نے نئے آئین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس آئین کے تحت بلند مناصب تو بالادست طبقے کے وزیروں کے لئے مخصوص ہو کر رہ گئے ہیں اور کم بلند عہدوں پر وزیروں کے رشتہ داروں اور دوستوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب غریب مسلمانوں کے لئے روٹی کا مسئلہ روز برو سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس صورتِ حال سے فائدہ اُٹھا کر جواہر لال نہرو اپنی بے خدا سوشلزم کے فروغ کے خواب دیکھنے لگے ہیں۔ اُن کے یہ خواب خود ہندو معاشرہ مٹی میں ملا دے گا۔ اس بے خُدا سوشلزم کے مقابلے میں اسلام کا اقتصادی نظام زیادہ مؤثر اورمقبول ہو سکتا ہے۔ عہدِ حاضر کے معاشی نظریات کی روشنی میں اسلام کے معاشی نظام کی نئی تشکیل اور نفاذ سے غربت کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے مگر اس سلسلے میں قانون سازی کے لئے ایک الگ مسلمان قانون ساز اسمبلی کا وجود ضروری ہے اور یہ قانون ساز اسمبلی ایک آزاد اور خود مختار مسلمان ملک میں ہی وجود میں آ سکتی ہے۔


اپنے خط کے آخر میں اقبال بابائے قوم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کے خیال میںوہ وقت نہیں آ پہنچا جب ہم آزاد اور خود مختار مسلمان مملکت کا مطالبہ پیش کر دیں؟……تین سال سے بھی کم مدت میں بالآخر وہ وقت آن پہنچا جب اسلامیانِ ہند نے اقبال کے شہر لاہور میں یہ مطالبہ قراردادِ پاکستان کی صورت میں منظور کر ڈالا مگر افسوس کہ اقبال اُس وقت اِس دارِفانی کو خیر باد کہہ کر ہم سے دائماً رخصت ہو چکے تھے۔
٭٭٭
حواشی
١ دو اقتباسات کو چھوڑ کر باقی تمام تر اقتباسات سید عبدالواحد کی مرتبہ اور شیخ اشرف کی 1924ء میں لاہور سے شائع کردہ کتاب
Thoughts and
Reflections of Iqbal
سے لئے گئے ہیں۔
(٢)
Letters of Iqbal to Jinnah
شیخ محمد اشرف نے 1942ء میں لاہور سے شائع کی تھی۔ بابائے قوم کے نام علامہ اقبال کے خط کا اقتباس اسی کتاب سے لیا گیا ہے۔ کتاب کے Foreword
میں بابائے قوم حضرت محمد علی جناح نے اعتراف کیا ہے کہ :


"It was a great achievement for Muslim League that its lead came to be acknowledged by both the majority and minority provinces. Sir Muhammad Iqbal played a very conspicuous part, though at the time not revealed to public, in bringing about this consummation…I think these letters are of very great historical importance, particularly those which explain his views in clear and unambiguous terms on the political future of Muslim India. His views were substantially in consonance with my own and had finally led me to the same conclusions as a result of careful examination and study of the constitutional problems facing India, and found expression in due course in the united will of Muslim India as adumbrated in the Lahore resolution of the All-India Muslim League, popularly known as the "Pakistan Resolution", passed on 23rd March, 1940." (P.6-7).

 

٣ جناب عبدالحمید علوی کا مضمون اسلام آباد سے شائع ہونے والے رسالہ
Islamabad The Concept
کے اپریل اور مئی 1981ء کے شمارہ (صفحات 5تا 9) میں شائع ہوا تھا۔

مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ!
یک رنگی و آزادی اے ہمتِ مردانہ!
یا سنجر و طغرل کا آئینِ جہانگیری
یا مردِ قلندر کے اندازِ ملُوکانہ!
یا حیرت فارابی، یا تاب و تبِ رومی
یا فکرِ حکیمانہ، یا جذبِ کَلیمانہ!
یا عقل کی رُوباہی، یاعشقِ یداللّٰہی
یا حیلۂ افرنگی، یا حملۂ تُرکانہ!
یا شرعِ مسلمانی، یا دیر کی دربانی
یا نعرئہ مستانہ، کعبہ ہو کہ بتخانہ!
مِیری میں، فقیری میں، شاہی میں، غلامی میں
کچھ کام نہیں بنتا بے جرأتِ رندانہ!
اقبال


خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا
مقامِ رنگ و بُو کا راز پا جا
برنگِ بحرِ ساحل آشنا رہ!
کفِ ساحل سے دامن کھینچتا جا
(اقبال)

*****

 
09
March

تحریر: خرم عباس

مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ اکیسویں صدی میں غیرملکی حکمت عملی کے علاوہ معاشی سرگرمیاں، تارکین وطن بالخصوص معاشی وثقافتی اثرورسوخ کوترغیب دلانے والے عناصر ابھرکرسامنے آئے ہیں۔جن میں اعلیٰ تعلیم ایک اہم عنصر ہے۔

کیا پاکستان کا تصورعالمی سطح پر بھی اتنا ہی بُرا ہے جتناپاکستان کے اندر سمجھا جاتا ہے؟اس کا جواب یقینا نفی میں ہے۔دراصل اس وقت پاکستان کے متعلق جو منفی موادبھارت اور مغرب، دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں، بدقسمتی سے پاکستانی عوام بھی ملک کو اسی تناظرمیں دیکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارااپنامنفی رویہ بھی ہماری نوجوان نسل، دانشور اور عام طبقے کے لوگوں میںاس مفروضے کومزیدفروغ دے رہا ہے کہ اس وقت پاکستان کا دنیا میںمقام ایسا ہی ہے جیسا بھارت اور مغربی دنیا عالمی سطح پر پیش کررہے ہیں۔ جبکہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہمسایہ ملک بھارت اور مغرب کے منفی رویے کے باوجودپاکستان اس وقت اقوام متحدہ کے بیشتر ممبر ممالک، وسطی ایشیا، مشرقی ایشیا،مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ کی کئی ریاستوں بالخصوص برازیل کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے میں کافی حدتک کامیاب ہورہاہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا مضبوط حریف
Nuclear Suppliers Group (NSG)
کی ممبرشب حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ،دوسرا یہ کہ بھارت کی یہ درینہ خواہش کہ پاکستان کو دنیا میں تنہاکردیاجائے، اپنی بے پناہ سفارتی کوششوں کے باوجود بھی وہ اپنی اس خواہش کوپورا کرنے میں ناکام رہاہے۔
Shanghai Cooperation Organization (SCO)
میں مستقل شمولیت،
Economic Cooperation Organization (ECO)
کے دس میں سے آٹھ ممالک کے سربراہان کی اسلام آبادآمد، پاکستان کی عالمی برادری کے ساتھ تعلقات اور تعاون کی واضح مثالیں ہیں۔
دنیا کے مختلف بین الاقوامی حلقوں میں بھی پاکستان کوبہت مثبت اندازسے دیکھا جارہا ہے۔ صرف2017میںپاکستان کا ان حلقوںپر بہت سے کلیدی عہدوں پر کامیابیاں حاصل کرنا بھی پاکستان کے مثبت تصورکا منہ بولتاثبوت ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دوتہائی ووٹ بنا کر
United Nations Human Rights Council (UNHRC)
کی ممبرشب حاصل کرناان ہی کامیابیوں کی ایک کڑی ہے۔2017میں پاکستان World Health Organization (WHO)کا صدر منتخب ہوا تھا، جودنیا کے چونتیس ممتاز ممالک کے گروپ پر مشتمل ہے۔پاکستان نے چونتیس میں سے بائیس ووٹ حاصل کرکے ڈبلیو ایچ او کے
Executive Board
کی صدارت بھی حاصل کی۔قدرتی آفات کی روک تھام میں بھی پاکستان کے کردار کوبہت سراہاگیا اور پاکستان کو
Management Authority National Disaster (NDMA)
کی صدارت سونپی گئی،اور جناب لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات کو
United Nations Economic and Social Commission Asia and the Pacific (UNESCAP)
کے پانچویں اجلاس میں صدرمنتخب کیاگیا،جودنیا میں قدرتی آفات کے خطرات کوکم کرنے کی مجلس عامہ ہے۔
باہمی سطح پر بھی اس وقت پاکستان بہت سے اہم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرچکا ہے۔جن میں چین کے ساتھ سٹریٹیجک پارٹنرشپ ، ایران اور ترکی کے ساتھ خوشگوار تعلقات شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے
Central Asian Republics (CARs)
کے ساتھ تعاون کومزید مضبوط کیا ہے۔آذربائیجان کے ساتھ دفاعی تعاون
،TAPI
گیس پائپ لائن اور
(CASA 1000)
وغیرہ، پاکستان کی
CARs
کے ساتھ باہمی تعاون کی چند اہم مثالیں ہیں۔روس کے ساتھ تعلقات میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔افغان اتحادی حکومت کے حریفانہ رویے کے باوجود پاکستان افغانستان میںمثبت اندازسے کام کرنے کا خواہاں ہے۔عالمی برادری خاص طورپر امریکہ کی عوام اور فوجی سطح پر تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان کے تعاون کے بغیرافغانستان میں امن واستحکام ناممکن ہے۔پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات کے برعکس امریکہ اور مغربی دنیا کے اعلی سطح کے دانشور،دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں
EU Military Committee
کے صدر
General Mikhail Kostarakos
نے حال ہی میں پاکستان کے آرمی سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران پاکستان کی علاقائی امن واستحکام کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔
سیاسی حالات اور اندرونی خلفشارکے باوجودبھی امت مسلمہ میں پاکستان کو ایک اہم ملک تسلیم کیا جاتاہے۔ پاکستان کا تنازعہ فلسطین پر مضبوط مؤقف اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے اندرونی معاملات میں غیرجانبداری، حریف مسلم ممالک ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کے کردار کو دنیا قدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ سعودی حکومت اپنے فوجی ارتقاء کے عمل میںپاکستان کے، دہشت گردی کی جنگ اور ملک میں پھیلی انتہاپسندی کے مقابلے میں وسیع تجربے کی بنیاد پراپنے ساتھ فوجی اتحادکوایک خاص اہمیت دیتی ہے۔


مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ اکیسویں صدی میں غیرملکی حکمت عملی کے علاوہ معاشی سرگرمیاں، تارکین وطن بالخصوص معاشی وثقافتی اثرورسوخ کوترغیب دلانے والے عناصر ابھرکرسامنے آئے ہیں۔جن میں اعلیٰ تعلیم ایک اہم عنصر ہے۔ مختلف ممالک جونہ صرف غیرملکی طالب علموں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، بلکہ اپنے طالب علموں کو بہت سی اعلیٰ عالمی درسگاہوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں، تاکہ وہ اپنے لئے ایک سازگارماحول اوربرادری تشکیل دے سکیں۔ اس سلسلے کا ایک اور بنیادی عنصر معاشی سرگرمی ہے،جوبہت سے کاروباری منصوبوں کو فروغ دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس منظم دنیا میںان ہی بنیادوں کے ذریعے ان عناصر کوفروغ دیناانتہائی آسان اورمؤثرطریقہ ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں پچھلے پندرہ سالوں میں بہت نمایاں اقدام اٹھائے ہیں،اور شاید یہی اقدام مشرق وسطیٰ، مرکزی ایشیا اور مشرقی ایشیا میں پاکستان کے مثبت تصور کو برقرار رکھنے میں مدددے رہے ہیں۔
امن واستحکام کی حالیہ روش میں معاشی ترقی کے ذریعے نہ صرف پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کو مدعوکررہاہے بلکہ عالمی برادری کو بھی سی پیک میں شمولیت کی دعوت دے رہا ہے۔ اس حوالے سے ایران کے صدرجناب حسن روحانی نے 2016 میں سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش کی تھی۔اس کے علاوہ سی پیک منصوبے نے بہت سے ترقی یافتہ ممالک کوبھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔اس وقت بہت سی برطانوی، جرمن اور سوس کمپنیاں سی پیک منصوبوں کے اندر سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ظاہرکرچکی ہیں۔


تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان اپناصحیح مؤقف دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوششوں کو ترک کردے۔اپنا مثبت تصور، اپنے دوست ممالک کوزیادہ مضبوط اندازسے پیش کرنے کے لئے ابھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر پاکستان کو بہت سے اقدام اٹھانا باقی ہیں۔تاکہ اس وقت جو منفی پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے وہ ان دوست ممالک کی عوام اور ان کی آئندہ نسلوںکوپاکستان کے خلاف نہ کر سکے۔ دوسرا ہمارے لئے یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان کے مثبت تصورکی مہم کوہم اپنے آپ تک محدود نہ رکھیںاور نہ ہی صرف عوام میں بحث وتکرار یا کالج اور یونیورسٹیوں کے لیکچرز تک محدودرکھیں۔اس مہم کے لئے انسانی اور مالی وسائل کوبروئے کارلاتے ہوے ایک خاص حکمت عملی وضع کریں، تاکہ اس کام کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔اس حوالے سے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، جس کے ذریعے نہ صرف اس مہم کی اہمیت کومقامی سطح پر سمجھایاجاسکتاہے، بلکہ قومی روایات کوبھی فروغ دیا جاسکتاہے۔ریاستی سطح پر پاکستان کے دفترخارجہ کو ایک ''پبلک ڈپلومیسی ڈویژن''کی اشد ضرورت ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں پبلک ڈپلومیسی ڈویژن کی پاکستان کے دفترخارجہ میںنہ ہونے سے پاکستان کومنفی پروپیگنڈے کے تاثر کو زائل کرنے میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے دفترخارجہ کو مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں میں لیکچرسیریز کاآغاز کرناچاہئے، مختلف ممالک میں لیکچرز کے ذریعے آنے والی نسلوں کو پاکستان کے مؤقف سے متعلق آگاہی دلانے سے پاکستان مزید اپنے تصور کومثبت اور مستحکم کرسکتاہے۔


حکمت عملی ایک مسلسل عمل ہے۔ اورپاکستان کو اپنی اس حکمت عملی یعنی دنیا کے سامنے اپنا مثبت تصورپیش کرنے کی حکمت عملی کوآہستہ آہستہ لیکن مؤثرانداز میںجاری رکھناچاہئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
March

تحریر: سمیع اللہ خان

پاک۔ امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایک تجزیاتی رپورٹ

پاک امریکہ تعلقات کی کڑیاں قیامِ پاکستان سے شروع ہوکر، سیٹو ، سینٹو معاہدوں پر امریکہ کی بے وفائی سے ہوتی ہوئی2017میں نازک موڑ پر آگئیں۔ اس سے قبل بی بی سی نے سال 2011 کو پاک امریکہ تعلقات کے لئے
disastrous year
کہا لیکن ہمارے تئیں سترہ کا اختتام اور 2018کا آغاز ان ستربرسوںمیں سب سے زیادہ نازک رہا۔دیکھنے کو تو یہ ''یوٹرن''ہی لگتاہے لیکن اس کی کڑیاں بارک اوباماکے دوسرے دورکے اواخرمیں ملناشروع ہوچکی تھیں۔


ایک وہ وقت تھاجب امریکہ نے قطرمیں افغان طالبان کا دفتر کھلوایا، مذاکرات کے ڈول ڈالے گئے لیکن پھرنتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کہ جب بھی مذاکرات کی میزسجنے لگی تو کوئی ایساڈرون اٹیک ہوا کہ امن کی کلیاں بن کھلے ہی مرجھا گئیں۔ ملاعمرکی وفات کی اطلاع بھی ایسے ہی منظرنامے کی ایک کڑی تھی۔ حالات پر نظر رکھنے والے اسی وقت چوکناہوگئے تھے جب اسامہ بن لادن اور ملااخترمنصور کوپاکستان کے علاقے میں ہلاک کر دیا گیا۔ افغانستان کے امن واستحکام کے قیام کے حوالے سے ہونے والی
quadrilateral meetings
بھی سپرپاورکے دوہرے معیارکی وجہ سے بے یقینی کی کیفیت سے گزرتی رہیں۔ یہاں تک کہ اقوام ِ متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے بھی ''فرمادیا''۔۔۔کہ پاکستان کو' سیدھا'کرنے کے لئے ہمیں بھارت کی حمایت کرناہوگی۔آج سے دو برس قبل سٹیفن کوہن نے کہاکہ ہم جب بھی بھارت گئے توہمیں یہی سنناپڑاکہ اگر ہم سے کچھ کرواناہے توپاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کا کچھ کریںجبکہ حقیقت یہ ہے کہ اٹامک انرجی کابین الاقوامی ادارہ بارہانہ صرف یہ کہہ چکا ہے کہ پاکستان کا نیوکلیئرپروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے بلکہ وہ متعدد باراس بات کا ا ظہاربھی کر چکا ہے کہ پاکستان کانیوکلیئرپروگرام بھارت سے زیادہ محفوظ ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی خواہش تھی کہ انڈیا،جاپان اورآسٹریلیاکااتحادقائم کرکے چین کوسائوتھ ایشین سمندرمیں روک دے لیکن چین نے سائوتھ ایشین سمندرمیں
island
بنا لئے ،اس پالیسی کی ناکامی اورروس کی یوکرائن وشام میں ببانگ دہل پیش قدمی نے اسے شدیدجھٹکے پہنچائے۔پھراس کے ارادوں کی بھنک جنرل ڈیوڈپیٹریاس کے ان الفاظ میں بھی ملتی ہے، انھوں نے کہاتھاکہ ہم افغانستان میں محض جھنڈالگانے نہیں آئے۔۔۔۔۔۔۔۔ لفظ ''ڈومور'' کی گردان امریکہ شروع سے ہی دہراتاآیاہے بس لب ولہجہ،وقت کی رفتارکے ساتھ ساتھ کبھی نرم توکبھی گرم ہوتارہا۔یہ بگڑے ہوئے اندازایک ہی پالیسی کاتسلسل ہیں۔


صدرڈونلڈٹرمپ کوشایدچناہی اسی بنیادپرگیاتھاکہ وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کوجارحانہ اندازمیں چلائیں۔صدرڈونلڈٹرمپ کی صحت پرشبہ کرنے والوں کواپناچیک اپ کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ سب کچھ ایک پالیسی اورلائحہ عمل کے تحت کررہے ہیں۔وہ شگوفہ چھوڑنے سے قبل ممکنہ نتائج پرغورکرتے ہیں ، ان ہی کو پیش نظر رکھ کرکابینہ وافواج کے افراد کواپنے بیان سے قبل ہی اس کے ممکنہ نتائج سے پیداہونے والی صورتحال سے نمٹنے کاٹاسک دیتے ہیں اورپھرشگوفہ چھوڑ کرصبرووفاکے شکنجے میں مقیدممالک کا''حال''بڑے غورسے دیکھتے ہیں۔ان کایکم جنوری کاٹوئٹ کہ ''امریکہ نے پندرہ برس میں پاکستان کی 33 ارب ڈالرکی مددکرکے کم عقلی کاثبوت دیا۔پاکستان نے ہمیں سوائے جھوٹ اوردھوکے کے کچھ نہیں دیا۔وہ ہمارے رہنمائوں کو ناسمجھ سمجھتے رہے ہیں۔''یہ ٹوئٹ ان کی اگست میں دی گئی افغان پالیسی کاہی فالواَپ ہے۔پھران کے نائب صدرمائیک پنس بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑے سترہزارافرادکی قربانی دینے والے پاکستان کوہی للکاررہے ہیں۔صدرٹرمپ کے ٹوئٹ پرترکی کے صدررجب طیب اردگان نے تین جنوری بروز بدھ صدرممنون حسین کو کال کرکے یکجہتی کااظہارکیااورکہاکہ اس ٹوئٹ پر ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑاہے اوروہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوتسلیم کرتاہے۔اسی طرح چین نے بھی چندہی گھنٹوں بعد اپناردعمل دیتے ہوئے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی کاوشوں کوسراہا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ ژوانگ نے 2جنوری کوپریس کانفریس کے دوران ایک صحافی کے سوال کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوتسلیم کرناچاہئے۔انہوں نے اس بات پربھی اطمینان کا اظہار کیاکہ پاکستان خطے میں دوسرے ممالک کے ساتھ مل کرانسداددہشت گردی کے لئے ٹھوس اقدامات کررہاہے۔اسلام آبادمیں قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصرجنجوعہ نے چینی سفیریائوجنگ کوپاکستان میں خوش آمدید کہا اور پاک چین تعلقات سمیت صدرٹرمپ کے ٹویٹ پربھی تبادلہ خیال ہوا۔چینی سفیریائوجنگ نے کہاکہ چین ہرقسم کے حالات میں پاکستان کے ساتھ کھڑاہے۔اس ملاقات میں افغانستان کے پرامن حل سمیت جنوبی ایشیامیں قیامِ امن اوراستحکام کی پائیداری کی اہمیت پربھی زوردیاگیا۔گوکہ سی پیک پرپاکستان اورچین کے مابین ''یوآن'' میں تجارت کی بات چیت پہلے سے چل رہی تھی لیکن ٹوئٹ کے بارہ گھنٹوں بعد پاکستان کاسی پیک پر''یوآن'' میںدوطرفہ تجارت کرنے کافیصلہ یقینی طورپراہمیت کاحامل ہے۔اس سے پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیںلیکن پاکستان کوبہرطورایسے مشکل قدم دیدہ دلیری سے اُٹھانے ہیں۔ امریکہ ڈالرکی ٹرانزیکشنز اورکنورژن کے معاملے کو منجمد کر سکتا ہے ، لیکن ہم سے قبل ایران نے بھی ڈالرمیں تجارت نہ کرنے کامشکل لیکن اصولی فیصلہ کیااورسخت سے سخت حالات کامقابلہ تاحال کررہاہے۔


اس کے ساتھ ہی امریکہ نے پاکستان کومذہب کی ''واچ لسٹ''میں شامل کر دیا جس پرتبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ نے بڑی معنی خیزبات کی کہ بھارت جس میں گائے کاگوشت کھانے پرابنِ آدم بہیمانہ اندازمیں قتل ہوتے ہیں اس کوتوامریکہ نے ''واچ لسٹ ''میں شامل نہیں کیا۔یہی نہیں بلکہ امریکہ نے بھارت کوافغانستان میں اپناکرداراداکرنے کی بھی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔15 جنوری بروز اتواربھارت نے 6کشمیری جوانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ ماضی میں نیویارک ٹائمزنے ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ ''ہائوس انٹیلی جنس کمیٹی'' کے ایک ممبرایڈم بی شیف کی رائے بتائی تھی کہ امریکہ کی افغانستان میں بھارت کوکرداردینے کی دعوت پرپاکستان سے تعاون کی امید مزید کم ہوجائے گی۔کیایہ تلخ بیانات اسی سلسلے کی کڑی ہیں کہ امریکہ چاہ رہاہے کہ پاکستان امریکہ کے کندھے پررکھی بھارت کی بندوق سے زخم بھی کھالے اورتعاون بھی کرتا رہے؟ ؟ اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاہو نے130ماہرین کی ہمراہی میں بھارت کا تاریخی دورہ کیا۔ ان کاعلامیہ بتارہاہے کہ امریکہ ،اسرائیل اوربھارت اتحادخطے کوعدم توازن کی جانب گامزن کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔


گلگت بلتستان میں ٹیکس لگنے پر پرزوراحتجاجی مہم اورایران میں انڈوں کابھائوچڑھنے پر عوامی طوفان امڈنے کی کڑیاں زیادہ دورنہیں۔ ممکن ہے امریکہ سعودی عرب کے ذریعے بھی پاکستان پر پریشر بڑھانے کی کوشش کرے تاکہ اس کے ذریعے ایران کو تنہاکیاجائے ، جس سے ظاہرہے کہ پاکستان بھی ایران کی حمایت سے ہاتھ دھوبیٹھے گا۔افغانستان وبھارت پہلے ہی امریکہ کی گودمیں بیٹھے ہیں۔سالِ نوکے آغازسے اب تک ایل اوسی پربھارتی فائرنگ کے واقعات بھی اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ ان کی مجرمانہ فطرت کوکوئی ''شہ''دے رہاہے۔
امریکہ جانتاہے کہ پاکستان کے بغیروہ کسی بھی صورت افغانستان میں امن نہیں لاسکتالیکن کیاوہ صورت ِ حال کے بدلنے کامنتظرہے اورپھراس کے مقاصدمزیدیوٹرن لے لیں گے۔اگرایساہے توپھر جان میٹس کے وہ الفاظ پاکستان اوراس خطے کے لئے گہری سوچ کے متقاضی ہیں جن میں انہوں نے کہاتھاکہ'' جوطالبان اب کابل کی جانب رخ کرکے بیٹھے ہیں ،کل کوان کی بندوقوں کارُخ پاکستان کی جانب بھی ہوسکتاہے''۔۔کچھ عرصہ قبل سابق صدر اوباما کے دورِ حکومت میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے متعلقہ نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسربانٹ روبن نے کہاتھاکہ پینٹاگون کو افغانستان میں موجود امریکی افواج تک رسد پہنچانے کی خاطر پاکستانی سہارے کی ضرورت باقی رہے گی۔اسی طرح امریکہ کے 40ویں صدرریگن نے بھی کہاتھاکہ پاکستان اورامریکہ کے باہمی تعلقات میں پاکستان کوملحوظ خاطررکھناچاہئے۔حالیہ ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کارمشرف زیدی کہتے ہیں کہ یہ سب افغان پالیسی کی کڑی ہے۔


پروفیسربانٹ روبن کی بات کسی حدتک دل کولگتی ہے کہ بارہ جنوری کو آئی ایس پی آرکی ریلیزکے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈرجنرل جوزف ایل ووٹل اورایک امریکی سینیٹرنے پاکستانی فوج کے سربراہ جناب جنرل قمرجاوید باجوہ سے ٹیلی فونک رابطے میں کہاکہ امریکہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی یک طرفہ کارروائی کانہیں سوچ رہا۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہاکہ پاکستان کوچاہئے کہ ان افغان مہاجرین کیخلاف کارروائی کرے جوپاکستان کی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے کولیشن فنڈ کے متعلق امریکی فیصلے سے بھی جنرل قمرجاویدباجوہ کوآگاہ کیا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہاکہ پاکستان امریکن امدادکی بحالی کے لئے درخواست نہیں دے گا۔ تاہم اپنے ملک کے وسیع ترقومی مفادمیں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اس ضمن میں رد الفساد آپریشن کے تحت سبک رفتاری سے کاروائیاں جاری ہیں۔ آئی ایس پی آرکی ریلیزکے مطابق امریکن جنرل نے پاکستان کی جانب سے حالیہ اقدامات کی اہمیت کااعتراف کرتے ہوئے کہاکہ افغان مہاجرین کو پاکستان کی مہمان نوازی کامثبت استعمال کرناچاہئے۔اس رابطے کاطول وعرض ماپاجائے تو اتناتوضرورہے کہ امریکہ نے ڈپلومیٹک طرزِ گفتگو اپنا لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکن''پرنالہ''وہیں ہے جہاں صدرٹرمپ نے یکم جنوری کوفٹ کیاتھا۔


پندرہ جنوری کوامریکی قائم مقام معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز اسلام آباد پہنچیں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی ،جس میں انہوں نے افغانستان میں قیامِ امن کے لئے پاکستان سے انٹیلی جینس شئیرنگ کی پھرسے درخواست کی۔ اس ملاقات کے دوران امریکہ کی سکیورٹی کونسل کے سینیئرارکان اورپاکستان میں موجودامریکہ کے سفیرڈیوڈ ہیل بھی موجودتھے۔ ملاقات کے دوران ایلس ویلزنے انٹیلی جینس شیئرنگ اورخطے میں امن کے لئے پاکستان کی مثبت کوششوں کی توصیف کی جبکہ پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے اس بات پر زوردیاکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں احترام واعتمادکے ماحول کومزیدبہتربنائے جانے کی اشد ضرورت ہے اوراس کے ساتھ ساتھ پاک افغان سرحدی مینجمنٹ کی بہتری کے لئے مؤثر، مربوط اورجامع حکمت عملی کے قیام پربھی زوردیا گیا،انہوں نے بھارتی آرمی چیف کے غیرذمہ دارنہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے اس کے متعلق ایلس ویلزکومطلع کیااورایل اوسی پرمسلسل بھارتی فائرنگ سے ہونے والے جانی ومالی نقصان سمیت اس سے خطے کولاحق خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ملاقات کے دوران امریکن قائم مقام معاون وزیرخارجہ ایلس ویلزکے سامنے اس بات کووضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کااعتراف کرے،باہمی تعلق کواحترام کی بنیادپرقائم کرے، بجائے اس کے کہ دھونس ودھمکی دے، جس سے تعلقات میں بگاڑہی پیداہوں گے، یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان خطے میں اپنے حصے کاکام کررہاہے ،اب امریکہ کوچاہئے کہ اپنی ناکامیوں کاملبہ پاکستان کے سرڈالنے کے بجائے اپنے حصے کاکام کرے۔اس ملاقات کی اہم بات امریکی معاون وزیرخارجہ کی وہ درخواست ہے جس میں وہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی رہائش کے لئے مزیدوقت مانگ رہی ہیں جبکہ پاکستان نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کا بین الاقوامی دبائو قبول کرنے سے انکارکردیاہے کیونکہ بھارت کو امریکہ نے افغانستان میںجگہ دی اورپاکستان میں ''را'' اور''این ڈی ایس''مل کر افغان مہاجرین کوپاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔سابق پاکستانی وزیرخارجہ حناربانی کھرصاحبہ کابیان سامنے آیاکہ امریکہ پچھلے سترہ برس میں افغانستان میں اسلحے کے زورپرکچھ نہیں کرسکاتواب وہ تن تنہاکیاکرلے گا؟وہ بالکل ٹھیک کہتی ہیں کیونکہ 40ممالک سترہ برس میں افغانستان کے 43فیصدعلاقے کی ملکیت کادعویٰ بھی بمشکل کرتے ہیں لیکن اسے محض جدیداسلحے سے محروم طالبان کی کامیابی سمجھنے کے بجائے تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہوئے سی پیک کے تناظراورپھراس منصوبے کے تحت ون بیلٹ ون روڈ کے آئینے میں دیکھنے کی ہمت کرناہوگی ،جس کے تحت یہ روڈ افغانستان، یورشیا، ایران سے ہوتے ہوئے وسط ایشیاتک لے جاناطے پایاتھا۔بادی النظر میں اس منصوبے میں روس کی شمولیت امریکہ کونظرآرہی ہے جس کامطلب روس اور چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ودفاعی طاقت امریکہ کواس خطے میں بے دست و پا کرسکتی تھی یاکرسکتی ہے یاکرسکے گی۔یہی''یا''امریکہ کوافغانستان میں مزید انتہا پسندی اُبھارنے ، اوراُدھربیٹھ کرگریٹ گیم کھیلنے پراُکسارہی ہے۔


اچھی خبریہ ہے کہ ترکی میں اسلامی ممالک کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں شریک 56اسلامی ممالک نے متفقہ طورپر مقبوضہ کشمیرکی حمایت میں ایک قرارداد منظور کی ہے۔پاکستان کوچاہئے کہ جنوبی ایشیامیںامریکن چھتری تلے پنپتے اسرائیل بھارت اتحاد کے خوفناک مقاصدکودنیاکے اوربالخصوص عرب ممالک کے سامنے طشت ازبام کرکے ایک مؤثرومربوط تحریک کی بنیاد رکھے جوکہ بالآخر کشمیری عوام کے خون سے نہانے والے بھارت کوویسی ہی شرمندگی وخجالت کااحساس دلائے جیساآج کل سپرپاورکے ایوان اقتدارمیں ''القدس '' پرموجودہے،جس کی جھلک ان کی فرسٹریشن سے عیاں ہورہی ہے۔


امریکہ جوکہ پاکستان کونہ صرف 1965اور1971کی جنگ میں دھوکہ دے چکا ہے بلکہ فرانس کی جانب سے پاکستان میں پاورپلانٹ لگانے اوردفاعی ایٹمی صلاحیت پر پابندی لگانے کی کوششوں میں بھی اہم کردارسمیت ہمیشہ پاکستان کی عسکری امدادپرآری چلانے کافریضہ انجام دیتارہاہے۔ابھی حالیہ حالات میں 255ملین ڈالر کی عسکری امداد روک دی گئی۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ کراچی سے طورخم تک نیٹوکنٹینر،سمندری وہوائی حدودامریکہ کس قیمت پر استعمال کررہاہے؟۔ سلالہ چیک پوسٹ پرامریکی سفاکیت کے بعدپاکستان نے سات یاآٹھ ماہ کے لئے ان سہولیات سے ہاتھ کھینچا تھا تو امریکہ نے نادرن نیٹ ورک اوروس کے راستے کااستعمال کیاتھامگروہ مہنگاہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں امریکہ کے لئے قابلِ عمل بھی نہیں ہے۔ ستم بالائے ستم اب امریکہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو
disputed areas
قراردیتاہے کیونکہ ادھرسے سی پیک گزررہاہے اورممکن ہے وہ گلگت بلتستان میں حالات خراب کرکے سی پیک کے نقطہ آغازکوہی منجمدکرنے کی سعی ِناکام کرے۔سوہمیں اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنرکے ساتھ معاہدات وتعلقات کواحترام کی بنیادپرقائم کرنے کے لئے نہ صرف جرأت رندانہ اپناناہوگی بلکہ اس کے لئے مؤثرومربوط حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کی ازسرنوتعمیرکرتے ہوئے امریکی امدادکے کشکول کوحقیقت میں اورہمیشہ ہمیشہ کے لئے ٹکڑے ٹکڑے کرناہوگا۔تب ہی ہم اپنی
sovereignty
اورزمین کے تقدس کوبحال رکھ پائیں گے ورنہ ایبٹ آبادآپریشن ہماری روح کولگے زخموں پرنمک چھڑکتارہے گا۔ امریکہ کوبھی سمجھناچاہئے کہ وہ وقت گزرگیاجب اس نے دنیاکو بائی پولر سے یونی پولر میں بدلاتھااب تویہ دنیا ملٹی پولر ہوچکی ہے۔

مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

یومِ پاکستان


آج کے دن ہم نے آزادی کا جو پایا نشاں
ہے عیاں مینار کی عظمت سے اس کی داستاں
آج کے دن اِک نئی تاریخ کا آغاز ہے
اپنی منزل کا نظر آنے لگا ہم کو نشاں
نخلِ آزادی نے پائی آج کے دن سے نمو
خواب کی تعبیر پھر ہونے لگی ہم پر عیاں
پھر سے ہم دہرائیں گے اپنی روایاتِ عظیم
اور محنت سے بنائیں گے اسے رشکِ جِناں
تِیرگی مٹنے لگی حاصل ہوئی تابِندگی
ذرہ ذرہ تازگی سے ہو رہا ہے شادماں
ڈٹ گئے آ کر یہاں پر سب پرستارانِ دین
قافلہ در قافلہ اور کارواں در کارواں
جذبۂ ایمان تھا سب کے دلوں میں موجزن
پیکرِ عزم و ہُمم تھے ان کے میرِ کارواں
آج سے پامال ہوتا ہے طلسمِ سامری
نغمہء توحید سے معمور ہے یہ گلستاں
چھٹ چکے ہیں ظلم و استبداد کے بادلِ تمام
شمعِ آزادی ہے مشرق کے اُفق پر ضَوفشاں
آج خوشیوں کی گھٹا ہے چار سُو چھائی ہوئی
کہہ رہے ہیں سب در و دیوار اس کی داستاں
بول بالا ہے سدا اسلم یہاں اسلام کا
اور اس میں پھیل جانے کی ہے وسعت بیکراں


مظفر اسلم

*****

 

Follow Us On Twitter