15
December
دسمبر 2017
شمارہ:12 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو درپیش خطرات سے آگاہ ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے اعلیٰ معیار کی تربیت اور آپریشنل تیاریوں سے غافل نہیں رہ سکتے۔ آرمی چیف نے بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کوختم نہیں کر سکتی۔ چیف آف آرمی سٹاف کا....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے نومبر کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان حکومتی سطح پر اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت کے دورے اکثر ہوتے رہتے ہیں لیکن جنرل باجوہ کا یہ دورہ تین وجوہات کی بناء پر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تو یہ کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطوں میں سیاسی حالات تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں....Read full article
 
 alt=
تحریر: عقیل یوسف زئی
افغانستان کے مشرقی شہر اور صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پچھلے دنوں پاکستانی قونصلیٹ کے اسسٹنٹ نیئر اقبال رانا کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے چھ گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ اس سے قبل اسی شہر سے پاکستانی سفارتی عملے کے ایک اور اہلکار کو اغوأ کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں افغان اداروں نے کئی روز کی کوششوں کے نتیجے....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
اقوام کے سامنے بعض اوقات ایسا بھی وقت آتا ہے جب زندگی ان کی ہر دل عزیز چیز کی قربانی مانگ لیتی ہے۔پاک فوج کا تو ہر سپاہی اپنی زندگی اس ملک کو سونپ کر آگے آتا ہے لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کے ننھے سپاہی جوکہ قلم دوات کے ساتھ مستقبل کے خواب سجائے درس گاہ میں تعلیم حاصل کررہے ہوں گے، قوم کے لئے قربانی کا کٹھن مرحلہ ان کے سامنے....Read full article
 
تحریر: یا سر پیر زادہ
ایک عام مسلمان اپنی روز مرہ زندگی میں قرآن کی تلاوت کتنی مرتبہ کرتا ہے ؟ ظاہر ہے اس بات کا اعداد و شمار پر مبنی کوئی حتمی جواب تو نہیں دیا جا سکتا مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایسے مسلمانوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی جو پورے اہتمام کے ساتھ ہر روز قرآن کے ایک رکوع کی تلاوت کرتے ہوں گے ، اس سے بھی کم وہ لوگ ہوں گے جو اردو ترجمے کے ساتھ روزانہ قرآن پڑھتے ہوں گے .....Read full article
 
تحریر : میجر عابد مسعود
انسان کے بچپن کا دور اس کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ ماں باپ کے بعد جو ہستی انسان کی شخصیت کی تراش خراش کرتی ہے اور اسے کامیابی یا ناکامی کے سانچے میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ استاد ہے۔ استاد ایک جوہری کی مانند ہے جو پتھر میں چھپے ہیرے کی تراش خراش کرتا ہے۔ اگر ہم عظیم لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو دریافت کرنے ....Read full article
 
تحریر: بریگیڈیئر فیصل مسعود ریٹائرڈ
پاکستان آرمی میں 32سالہ کمیشنڈ سروس کے دوران مجھے بھی اپنے بیشتر ساتھیوں کی طرح پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف تقریباً دو عشروں پر محیط جنگ کا حصہ بننے اور عزم و یقین سے آراستہ لازوال قربانیوںکے ان گنت ناقابل فراموش واقعات کو قریب سے دیکھنے.....Read full article
 
تحریر: صبا زیب
ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا نام سنتے ہی ویلز کا یخ بستہ موسم، سنگلاخ پہاڑ اور دنیا کے سخت جان فوجی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ انہی فوجیوں میں پاکستانی فوج کے جوان بھی شامل ہیں جو ملک کے اندر تو دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہیں ہی۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک سے باہربھی بین الاقوامی سطح پر دنیا کی بڑی فوجوں کے ساتھ مقابلے میں اپنی ہمت اور دلیری کا سکہ بٹھا....Read full article
 
تحریر : پروفیسر ارشاد حسین شاہ
اس وقت افواج پاکستان ملک کی سلامتی اور بقاء امن کے لئے دہشت گردی اورشدت پسندی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ پاکستانی افواج کے جوان اور افسران جتنی بہادری، دلیری، ولولے، حب الوطنی، حکمت عملی اور کامیابی سے نامساعد حالات میں دشمنان پاکستان کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کی تاریخ میں مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ ہمارے پاس ہمارے جوانوں اور افسران کی ان گنت مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے دشمن کے خلاف....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل میربازخان
سر کچھ ہی دنوں کی ہی بات ہے آپ بھی موجیں کریں گے بس ایک دفعہ آپ کرنیل بن جائیں۔'' سپاہی اقرار کے ان الفاظ کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے، تو دل ٹھنڈی آہیں بھرنا شروع کرتا ہے اور خیالات ماضی کے دریچوں کو کریدنا شروع کر دیتے ہیں جب ایسے ہی الفاظ عسکری زندگی کے ہر موڑ پر سننے کو ملتے....Read full article
 
تحریر: فرخنداقبال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایشیا کے پانچ ممالک(جاپان، چین، جنوبی کوریا، ویت نام اور فلپائن) پر مشتمل 12روزہ طویل دورہ کیا،جس کے دو بڑے مقاصد تھے:(1)شمالی کوریا کے ایٹمی بحران پر قابو پانا(2)خطّے میں امریکی تجارت کا توازن درست کرنا۔لیکن اس دورے کا جائزہ لیتے وقت بہت سے دیگر نکتے بھی ذہن میں آتے ہیں،جن پر ذیل میں مختصراً.....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
پاکستان کو دو لخت ہوئے 46برس بیت گئے۔ وہ بیسویں صدی کا اکہترواں سال تھا اور آج ہم اکیسویں صدی کے سترھویں سال کو وداع کر رہے ہیں۔ علم الاعداد کی روشنی میں اکہتر اور سترہ دونوں کا سنگل عدد آٹھ بنتا ہے۔ گویا تاریخ کا نہیں یہ اقلیدس کا کھیل ہے۔ ہندسوں کی شکست ہے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ چھیالیس برس بیت گئے مگر وہی دن کی گردش وہی رات کی، نہ تب غور ہوا.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
گزشتہ سات دہائیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا تصور پاکستان کیا تھا اور اگر وہ زندہ رہتے تو پاکستان کا آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی نقشہ کن خطوط پر استوار ہوتا۔ جہاں تک قائداعظم کے تصور پاکستان کا تعلق ہے ان نکات پر تقریباً سارے دانشور، لکھاری اور محقق متفق ہیں کہ وہ پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں قانون کی حکمرانی، آئین کی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہمامیر
جب تک ہم یورپ نہیں گئے تھے، بلکہ یوں کہئے جب تک ہم اٹلی کے شہر وینس نہیں گئے تھے ہمیں اندازہ نہیںتھا کہ فلموں میں اور حقیقی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اکثر فلمی گانوں میں وینس میں کشتی میں ہیرو ، ہیروئن بیٹھے رومانوی گیت گا رہے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ وینس کا شہر پانی میں گھرا ہوا ہے، یہاں عمارتیں، ہوٹل سب پانی کے اوپر ہیں اور گاڑیوں کے بجائے لوگ کشتی میں سفر کرتے ہیں....Read full article

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
پوسٹنگ کے ضمن میں اللہ میاں نے ایم ایس برانچ کو خصوصی طور پر فری ہینڈ سے نواز رکھا ہے۔ ہم تو اپنے اور بیشمار ساتھیوں کے تجر بے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افسر کی پوسٹنگ کبھی بھی اس شہر میں نہیں آتی جس کے لئے دل و جان سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ افسر کو چارو ناچار اسی پوسٹنگ پر آمنا و صدّقنا کہنا ہوتا ہے جو اس کے اور فیملی سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ بقول غالب پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے........Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرحمیرا شہباز
یہ کیسے پیغامات اور تصاویر ہیں میرے موبائل میں؟؟؟ دورانِ سفر اپنے موبائل کی گیلری کو جنبشِ انگشت سے ٹٹولتے ہوئے میں نے سوچا۔ ایران کو تسلیت کے یہ پیغام کس نے بھیجے ہیں؟ کیا ہوا ہے ایران کو؟ ان دو دن پرانے پیغامات کی کھوج میں میں نے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کے گروپس کی دو روز پرانی گفتگو کو تیزی سے دیکھا۔اوہ!!! ایران میں زلزلہ! اور وہ بھی کرمانشاہ میں۔ مزید پیغامات پڑھتی گئی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
انسانی جسم ایک ایسی مشین کی مانند ہے جس کی بہتر کارکردگی کے لئے اس کا حرکت میں رہنا بے حد ضروری ہے۔ غیر فعال طرززندگی گزارنے والے افراد مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں تقریباً 150 منٹ کے لئے اعتدال کے ساتھ جسمانی ورزش کرنی چاہئے۔ ورزش کا بنیادی مقصد چاق چوبندرہنا اور ذہنی تنائو.....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔.....Read full article
 
تحریر: صائمہ بتول
سائبر کرائم یا کمپیوٹر کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پورے نیٹ ورک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، جس میںملزم، مدعی، مجرم اور ہدف بھی کمپیوٹر ہوتا ہے۔ سائبر کرائم ایسے مجرمانہ فعل کے ارتکاب کو کہا جاتا ہے جس کا ہدف فردِ واحد، ایک تنظیم، گروپ، کمپنی اور ملک ہو سکتا ہے جسے باقاعدہ طے شدہ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بناکر ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی.....Read full article
 
تحریر: اسلم کمال
جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں، وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فنون لطیفہ بھی جنگوں کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ زندہ قوموں کے زندہ دل اور بہادر لوگ جنگوں کے دوران فنون لطیفہ کے ذریعے اپنے جذبوں کا اظہار.....Read full article
 
تحریر: محمد طارق علی
غلامی سے چھٹکارا پا کر آزادی کا نعرہ لگانے کی پاداش میں بوسنیا کے مسلمانوں کو جو قیمت چکانا پڑی، اس کی تفصیلات اتنی شرم ناک اور غم ناک ہیں کہ انسانیت اسے ابھی بھول نہیں پائی۔ بوسنیا کو آزاد ہوئے پچیس برس بیت چکے لیکن آج کا بوسنیائی ادب اس خوں چکاں آزادی کی دردناک چیخیں اور لہو رنگ خراشیں ابھی تک سنبھالے ہوئے ....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
منفرد لہجے اور من موہنی شخصیت کے رومانوی شاعر منیر نیازی کا ذکر کرنے کے لئے مجھے خاصا پیچھے جانا پڑے گا۔ پچاس کی دہائی میں فراق، جوش، فیض اور جگر کے بعد جو نئی نمائندہ شاعروں کی فصل سامنے آئی اُن میں حبیب جالب، منیر نیازی، احمد فراز، احمد مشتاق، مصطفیٰ زیدی، ناصر کاظمی، ظہیر کاشمیری اور پھر ذرا بعد میں ظفر اقبال، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور افتخار عارف تک آتے آتے....Read full article
15
December

yaromerayar.jpg

لیفٹیننٹ ارسلان ستی شہید کے والد خالقِ حقیقی سے جاملے
دکھ کی کوئی زبان ہوتی تو دُکھ بھی رو دیتا۔ واقعہ ہی عجیب ہے، سانحہ بھی عظیم ہے۔ خدا کی عظمت، مصلحت اور محبت کے سوا کوئی توجیہہ بھی نہیں ہے۔ بیٹے کی وطن سے محبت۔باپ کی بیٹے سے محبت۔ لیفٹیننٹ ارسلان شہید، اپنے والد کا اکلوتا بیٹا 23ستمبر 2017 کو وادیٔ راجگال میں ملک دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان نثار کرگیا۔ وطن کی مٹی میں دفن ہوگیا۔ بوڑھے باپ نے جوان بیٹے کی پرچم میں لپٹی لاش مسکراتے ہوئے وصول کی۔ غم میں ڈوبی یہ مسکراہٹ شہید کی عظمت کے احترام میں تھی۔ کہ شہید مٹی سے آنسو مٹانے کے لئے جانیں قربان کرتے ہیں تو پھر رونا کیسا! روح کے گہرے گھائو کہاں مٹتے ہیں۔ دل کی لگی تو جان لے کے چین لیتی ہے۔ سنو دل جیت گیا، محبت جیت گئی۔ ٹھیک 67دنوں کے بعد بوڑھا باپ دل کے ہاتھوں جان ہار کر اپنے بیٹے ارسلان کے ساتھ قبر میں جا سویا۔محبت،مٹی اور خون یکجاں ہو گئے۔

سب لے گیا وہ آنکھ کا پانی
ہر آنسو اب یاد وہ آئے
وہ مجھ میں سیدھا چلتا تھا
اب چلتا ہوں کمر جھکائے
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس بات کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
جس مٹی کے ساتھ وہ کھیلا
اس مٹی کو دے آیا ہوں
قرض چکا کر خون سے اپنے
سارے خواب بچا لایا وہ
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس باپ کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
جن کے ایسے بیٹے ہوں وہ کر کے سر اونچا چلتے ہیں
پھول ضروری تھے کچھ جانے
تب جا کے گلشن کھلتے ہیں
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس باپ کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
اویارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،

12
December

تحریر: مجاہد بریلوی

منفرد لہجے اور من موہنی شخصیت کے رومانوی شاعر منیر نیازی کا ذکر کرنے کے لئے مجھے خاصا پیچھے جانا پڑے گا۔ پچاس کی دہائی میں فراق، جوش، فیض اور جگر کے بعد جو نئی نمائندہ شاعروں کی فصل سامنے آئی اُن میں حبیب جالب، منیر نیازی، احمد فراز، احمد مشتاق، مصطفیٰ زیدی، ناصر کاظمی، ظہیر کاشمیری اور پھر ذرا بعد میں ظفر اقبال، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور افتخار عارف تک آتے آتے معذرت کے ساتھ چند اہم نام ذہن پر زور ڈالنے پر بھی یاد نہیں آ رہے۔ ان تمام محترم و مکرم شعراء میں ہمارا زیادہ تعلق شاعرِ عوام حبیب جالب سے تھا اور اُس کا اولین سبب نظریاتی تھا مگر بعد میں اُس پر ذاتی تعلق اس حد تک غالب آگیا کہ جو اُن کی زندگی کے آخری دنوں تک رہا۔ آشنائی تو خیر احمد فراز اور منیر نیازی سے بھی تھی مگر جیسا کہ پہلے کہا اس میں اتنی قربت اور گرمجوشی نہ تھی۔ ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ جب 1981 میں پریس کلب کے پہلے جوائنٹ سیکریٹری اور اگلے تین سال سیکریٹری رہے تو سال میں کم از کم دو' تین مشاعرے ضرور کروانے ہوتے۔ اب ایک ''جالب صاحب'' سے تو مشاعرہ ہو نہیں سکتا تھا۔ غالباً مارچ 1981 کے لگ بھگ کی بات ہو گی، جالب صاحب جیل میں تھے۔ باقی شعراء کو تو راضی کر لیا مگر منیر نیازی نے لاہور کے کافی ہائوس میں کھڑے ہو کر اپنے غصیلے لہجے میں کہا ''اوئے تو تو ''جالب'' کے علاوہ کسی کو شاعر نہیں مانتا، اب میرے بغیر کراچی میں مشاعرہ کر کے دکھا''۔ ساتھ میں کھڑے ہمارے دوست شاعر یوسف کامران ہماری مدد کو آئے اور سمجھانے کے انداز میں منیر نیازی سے کہا ''یہ لاہور اور کافی ہائوس کی روایت نہیں۔۔ ابھی یہ نوجوان ہے کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ کی عظمت کا اسیر ہو جائے گا''۔ اس پر منیر نیازی کے سُرخ تپتے چہرے پر روایتی مسکراہٹ بکھرنے لگی۔ گلے لگایا اور یوسف کامران کی ڈیوٹی لگائی کہ ''شامیں ایہنوں نال بٹھانا اے''۔ منیر نیازی کراچی آئے۔ مشاعرے سے پہلے جو پریس کلب کے کمیٹی روم میں محفل جمی تو پھر جنہیں منیر نیازی کی محفلوں میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ ''اُن کے سامنے کسی اور کا چراغ نہیں جلتا''۔ منیر نیازی جاہ و جمال کا خوبصورت پیکر تھے۔ ہما شما تو کیا مرزا غالب کو بھی شاعر نہیں مانتے تھے۔ ٹیلی وژن کے ایک انٹرویو میں منیر احمد شیخ نے منیر نیازی سے کہا کہ ''منّو بھائی کا کہنا ہے کہ اگر منیر نیازی کے سامنے مرزا غالب کی شاعری کی بھی تعریف کر دی جائے تو وہ بُرا مانتے ہیں''۔ منیر نیازی نے فرمایا ''وہ صحیح کہتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو خبیث روحوں سے بچانے کے لئے اپنی ذات کے گرد خود پسندی کی فصیلیں کھڑی کر رکھی ہیں''۔ منّو بھائی منیر نیازی کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ ایک روز بڑی سنجیدگی سے منیر نیازی نے پوچھا ''یہ بات کس حد تک درست ہے کہ پاکستان کا خواب علامہّ اقبال نے دیکھا تھا؟'' عرض کیا کہ ''میں نے بھی یہی سُنا ہے''۔ کہنے لگے ''اگر یہ صحیح ہے تو کل سے اس ملک کا سارا نظام مجھے سنبھالنا پڑے گا کیونکہ ایک شاعر کے خواب کو کوئی دوسرا شاعر ہی پورا کر سکتا ہے''۔ جن شعرائِ کرام سے ہمارا قریبی تعلق اور شب و روز کی تفصیلی صحبتیں رہیں اُن میں بیشتر کو دیکھا کہ عمر کے پچاس کے پیٹے تک قابلِ برداشت ہوتے مگر ساٹھ یعنی سٹھیانے کی عمر کو پہنچنے کے بعد اُن کے ساتھ وضع داری کے باوجود ایک گھنٹہ گزارنا مشکل ہو جاتا۔ جہاں تک منیر نیازی کا تعلق تھا کہ جنہیں اُن کے قریبی احباب ''خان صاحب'' کہتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بزلہ سنج اور گریس فُل ہوتے گئے۔ بلکہ اُن کی شاعری کا سفر بھی آگے بڑھتا گیا۔ فیض صاحب جب لینن پیس پرائز لے کر واپس لوٹے تو لاہور کے ادیبوں، شاعروں کی ایک بڑی تعداد اُن کے استقبال کے لئے ریلوے اسٹیشن پر موجود تھی جن میں منیر نیازی بھی تھے۔ اُن کے ایک قریبی رفیق اطہر ندیم نے ان کے بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قدرے افسوس سے کہا ''خان صاحب! آپ کے تقریباً سارے بال سفید ہو گئے ہیں''۔ جس پر خان صاحب نے اپنے کرارے لہجے میں کہا کہ ''ہاں کچھ خواتین کا خیال ہے کہ میں پہلے سے زیادہ گریس فُل ہو گیا ہوں''۔ مگر چند دن بعد ہی یہی سوال پاک ٹی ہائوس کے باہر کسی اور شخص نے کیا تو خان صاحب تقریباً برس پڑے اور کہا ''تم مجھے ایک نا پُختہ، لااُبالی لڑکے کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہو؟ تم مجھ میں میچورٹی نہیں دیکھنا چاہتے؟'' سوال کرنے والا سہم کر رہ گیا۔ منیر نیازی کی ذاتی باتوں کے حوالے سے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جسے بیان کرتے ہوئے میں اُن کی شاعری کو تو پیچھے ہی چھوڑ آیا۔ ہئے ہئے کیا غزل۔۔ کیا نظم۔۔
میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عمر میری تھی مگر اُس کو بسر اُس نے کیا
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اُس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا
khansab.jpgچاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو
منیر نیازی محفلوں کے نہیں مشاعروں کے شاعر تھے۔ اپنے اشعار سُناتے ہوئے ایک عجیب وارفتگی اُن پر چھا جاتی۔ خان صاحب کی ایک خامی جو بعد میں خوبی بن گئی کہ اُنہیں اشعار خود یاد نہیں رہتے یا پھر وہ شعر بھولنے کی عادت اُن کا ایک ایسا تُرپ کا پتہ بن گئی کہ جس سے وہ مشاعرہ لوٹ لیتے۔ اب اِدھر منیر نیازی اُٹھ کر ایک خاص ادا سے مائیک کے سامنے آئے۔۔ خاموشی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔۔ فرمائشی آوازیں لگ رہی ہیں اور خان صاحب ہیں کہ توڑ توڑ کر ایک ایک مصرعہ پڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر اِس نظم کے بغیر تو اُنہیں اُٹھنے ہی نہیں دیا جاتا کہ جسے منیر نیازی نہیں سامعین کورس کی صورت میں پڑھا کرتے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کیا نظم ہے اُس پر منیر نیازی کا ایک ایک مصرعہ کے ایک ایک لفظ کو اٹک اٹک کر پڑھنا:۔
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو
اُسے آواز دینی ہو، اُسے واپس بُلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اُس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ، اُس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

مرزا غالب سے لے کر منیر نیازی تک، ساری زندگی اُن کا سب سے بڑا مسئلہ روزی روزگار ہی رہا۔ مرزا کو انگریز سرکار سے وظیفہ تو ملتا تھا مگر اس کے لئے کیسے کیسے انہوں نے مصائب اُٹھائے۔ ایک بار جب یہ وظیفہ مہینوں بند رہا تو اس کے لئے کلکتہ میں مہینوں پڑے رہے۔ اپنی وظیفہ خواری پر مرزا نے کیا مضمون باندھا ہے۔
غالب وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
منیر نیازی نے بھی کبھی کوئی باقاعدہ نوکری نہیں کی۔ واحد ذریعہِ آمدنی مشاعرے ہی تھے۔ پاکستانی فلموں کا یہ اچھا دور تھا۔ قتیل شفائی، حبیب جالب، احمد راہی اور منیر نیازی کی نظمیں، غزلیں معقول معاوضے میں لی جاتیں جس سے بہرحال وقتی طور پر انہیں خوشحالی میسر آتی۔ فلم شہید کا گیت
اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
تو آج بھی مقبولِ عام گیت ہے۔ چلتے چلتے منیر نیازی کی سادگی اور معصومیت کا ایک واقعہ سُن لیں۔ 60 کی دہائی میں نیا نیا ٹی وی آیا تھا۔ اُن دنوں خاص طور پر لاہور میں انڈین ٹی وی ''دور درشن'' بڑے شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک دن ہمارے بھولے بھالے منیر نیازی نے دوستوں کو شام کو دعوت دی کہ آج پنجابی کی مشہور شاعرہ، پنجابی شعراء پر ایک پروگرام کر رہی ہیں۔ منیر نیازی بہرحال اردو کے ساتھ پنجابی کے بھی مستند شاعر تھے۔ شام کو صحن میں چھڑکائو ہوا۔ میز پر ٹی وی سیٹ رکھا گیا ساتھ میں دیگر لوازمات کا بھی اہتمام تھا۔ امرتا پریتم پنجابی کی بڑی شاعرہ تو تھیں ہی مگر خوبصورتی میں بھی کم نہ تھیں۔ بلھّے شاہ سے پروگرام شروع ہوا۔ منیر نیازی ساتھ بیٹھے دوستوں سے کہنے لگے ''کیا خوبصورت شاعرہ ہے''۔ بلھّے شاہ کے بعد وارث شاہ کا ذکر آیا حتیٰ کہ اُستاد دامن اور احمد راہی تک کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ امرتا جی نے کہا ''یوں تو اور بھی پنجابی کے پاکستان میں قابلِ ذکر شاعر ہیں مگر پروگرام میں اتنا وقت نہیں کہ اُن کا ذکر کیا جائے''۔ اس پر خان صاحب نے انتہائی غصے سے گلاس دیوار پر مارتے ہوئے کہا ''اوئے کتنی بد صورت عورت ہے''۔
خان صاحب آپ جیسے شاعر جب اسّی کی پیڑھی میں بھی جائیں تو لگتا یہی ہے کہ ''آپ جلدی چلے گئے'' کہ آپ کے بعد ''آپ جیسا'' کوئی دوسرا نہ آیا اور شاید آئے گا بھی نہیں کہ شاعر تو ہیں مگر اُن کے نام تو انگلیوں پر ہی آتے ہیں۔ میر، غالب، اقبال، فیض، فراق، جوش، جالب اور منیر نیازی۔

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ککھ چوریہ کہانی ہم سب کی ہے

attaulhaq.jpg

گزشتہ روز ہم دونوں دوست آوارہ گردی کے موڈ میں تھے۔ سارا دن بلامقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے رہے۔ میرا یہ دوست مال و منال، شہرت اور معاشرے میں اعلیٰ مقام کے باوجود ابھی تک عوامی مزاج کا حامل ہے چنانچہ آوارہ گردی کے لئے ہم نے لکشمی چوک میں جا کر چانپیں کھائیں، کشمیری چائے پی اور پھر گاڑی ایک طرف پارک کرکے پیدل چل پڑے۔ اس روز ہمیں پیدل چلنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ شاید اس لئے کہ بہت عرصے بعد اس کا موقع ملا تھا۔ لکشمی چوک میں بے پناہ رونق تھی۔ مالشئے، تماش بین، کھابہ گیر، فقیر، نشئی، بے فکرے ہر قسم کے لوگ ریکارڈنگ کے شور شرابے میں اپنے اپنے دھیان میں مگن تھے۔ میں اورمیرا دوست مالٹوں کی ایک ریڑھی کے پاس رک گئے۔
کیا خیال ہے مالٹے نہ کھائے جائیں؟
نیکی اور پوچھ پوچھ میں نے کہا اور پھر ہم دونوںں مالٹوں پر پل پڑے۔ ریڑھی والا مالٹے چھیل چھیل کر اور کاٹ کاٹ کر پلیٹ میں رکھتا چلاجاتا تھا اور ہم کھاتے چلے جاتے تھے۔ ہم اس روز عجیب طرح کی جنونی کیفیت میں مبتلا تھے بالآخر ہم نے ہاتھ کھینچ لئے۔ میں مالٹے گنتا جارہا تھا ہم نے بیس مالٹے کھائے تھے!
میرے دوست نے ریڑھی والے سے پوچھا: کتنے پیسے؟
ریڑھی والے نے کہا: کتنے مالٹے بنے؟
میرے دوست نے ایک لمحے کے توقف کے بعد جواب دیا: بارہ
ریڑھی والے کے چہرے پرشک کی ایک لکیر سی پھیلی لیکن اس نے بغیر کسی تکرار کے بارہ مالٹوں کے پیسے وصول کئے اوراپنی ریڑھی پر بچھی بوری کے نیچے رکھ دیئے۔
میں نے اپنے دوست کی طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھا مگر اس نے آنکھیں جھکادیں۔ ہم دونوں خاموشی سے کار تک آئے۔ رستے میں ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی۔ بس دونوں ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے رہے!
یہ میرے دوست کی کہانی ہے۔ یہ میری کہانی ہے۔ یہ آپ سب کی کہانی ہے اورشاید ہر بشر کی کہانی ہے کبھی وہ لکھ کی چوری نہیں کرتا اور کبھی ککھ کی چوری پر راغب ہوجاتا ہے۔ انسان کو اپنی پارسائی پر غرور نہیں کرناچاہئے بلکہ ہر لمحہ شیطان الرجیم کے حملوں سے پناہ مانگتے رہنا چاہئے۔۔
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
(عطا الحق قاسمی کی ایک تحریر سے اقتباس)

*****

 
12
December

تحریر: محمد طارق علی

غلامی سے چھٹکارا پا کر آزادی کا نعرہ لگانے کی پاداش میں بوسنیا کے مسلمانوں کو جو قیمت چکانا پڑی، اس کی تفصیلات اتنی شرم ناک اور غم ناک ہیں کہ انسانیت اسے ابھی بھول نہیں پائی۔ بوسنیا کو آزاد ہوئے پچیس برس بیت چکے لیکن آج کا بوسنیائی ادب اس خوں چکاں آزادی کی دردناک چیخیں اور لہو رنگ خراشیں ابھی تک سنبھالے ہوئے ہے۔
بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام قریباً چار سال (1992-95)جاری رہا۔ خون کی ندیاں بہہ گئیں، عصمتیں لُٹیں، گھربار جلے لیکن وہ اپنے نعرۂ آزادی پر ڈٹے رہے۔ اس خوں ریز دور سے اکیس برس قبل ایک شاعر ''میک دِزدار'' ،جسے آج کے بوسنیا کا ''قومی شاعر'' ہونے کا اعزاز حاصل ہے، نے اپنے غلام وطن کی آزادی کے گیت گائے تھے، اسے اپنے وطن اور ہم وطنوں سے بے حد پیار تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ (بوسنیائی) بھی ایک زندہ قوم کی طرح سر اٹھا کر جیئیں۔


میک دِزدار نے اپنی درد بداماں شاعری مادر وطن کی آزادی سے کوئی تقریباً اکیس برس پہلے کی تھی۔ وہ حساس تھا، وطن کی آزادی اس کے قلب و روح کا حصہ تھی۔ وہ خاموش قوم کی لُٹی عزت کو دیکھتا اور گہرا درد دل میں چھپائے پھرتا رہتا لیکن پھر آخر ایک دن گرمٔ جذبات اس کے قلم سے ٹپک پڑی۔ وہ جانتا تھا کہ دن ضرور بدلیں گے۔ اس نے وطن کی ہوائوں کے بدلتے رخ کو محسوس کر لیا تھا اور اس کی سرسراہٹوں میں اسے آزادی کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں سنائی دینے لگی تھی۔ لیکن آزادی کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا، اس کے لئے وہ چاہتا تھا کہ پہلے اس کی خوابیدہ قوم غفلت چھوڑے اور اس کی کرب بھری پکار کو سنے۔ اس کی شہرہ آفاق تصنیف
STONE SLEEPERS
پتھروں میں سوئی آوازیں سب سے پہلے 1966 میں شائع ہوئی۔ بعدمیں نظر ثانی کر کے اس نے اس میں کافی تبدیلیاں کیں لیکن پھر اس کی عمر نے وفا نہ کی اور وہ1971میں چل بسا۔ نظرثانی شدہ کتاب اس کی وفات کے دو سال بعد یعنی 1973 میں مُنَصَّۂ شہود پر آئی۔ کچھ عرصہ بعد اسی ایڈیشن کاا سی عنوان سے انگریزی میں ترجمہ شائع ہوا۔ اس ترجمے کو ڈاکٹر محمد حامد نے ''پتھروں میں سوئی آوازیں'' کے عنوان سے اردو زبان کے قالب میں بہت خوبصورتی سے ڈھالا۔ وہ خود بھی ایک عمدہ شاعر ہیں اور ادبی جرائد میں اُن کی نگارشات چھپتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میک دزدار کی اثر انگیز شاعری کا ترجمہ کرتے ہوئے مجھے اکثر یوں محسوس ہوا کہ گویا میں خود یہ اشعار لکھ رہا ہوں۔ ان کی مذکورہ کتاب نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد نے شائع کی ہے۔

patronmainsoiawazain.jpg
میک دزدار نے پُرسوز شعروں میں بین السطور جو پیغام چھپا رکھا تھا قوم نے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اسے پا لیا۔ اس کا پیغام تھاکہ آزاد وطن سے بڑی نعمت اور کچھ نہیں۔ ملک چاہے غریب ہو یا کم زرخیز، قوم کے لئے بہرحال باعث فخر ہوتاہے۔


بوسنیا کی سرزمین انہی دنوں پاکستانیوں کے دلوں میں بھی آ سمائی تھی جب وہاں کے مسلمان اپنی آزادی کی جنگ میں دشمنوں سے نبرد آزما تھے اور پورا بوسنیا آگ اور خون میں لت پت تھا۔ دشمن قوتیں اُنہیں اُن کے پیدائشی حق سے محروم کرنے پر تُلی ہوئی تھیں۔ یہ جنگ بڑی شدید تھی۔ مسلمان تقریباً نہتے اور غیرتربیت یافتہ تھے لیکن شمعِ آزادی کی لَو اُن کے دِلوں میں کسی طرح بھی کم نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کسی سرزمین کو سمجھنا ہو تو پہلے وہاںکے باسیوں اور اُن سے بھی زیادہ وہاں کے مفکروں اور لکھاریوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے کہ یہ اپنی قوم کے شعور و دانش اور تہذیب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ کسی قوم میں آزادی کا جذبہ اہلِ قلم ہی ابھارتے ہیں اور جب ہم نے بوسنیائی لوگوں کے دامنِ علم و دانش کو دیکھا تو وہ خالی ہر گز نہ تھا۔ میک دزدار ایسا دانش مند شاعر جو بعد میں ان کا قومی شاعر کہلایا، اُن کے ہاں موجود تھا۔ اس نے ہلکے ہلکے ملال بھرے انداز میں شاعری کی، جو کچھ کہا بین السطور کہا تاکہ لوگ اسے پڑھ کر تفکر کریں۔ پھر قلب میں بسا کر خود آگاہی حاصل کریں کہ آزادی کی روشنی کی تلاش اسی طرح ممکن ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اپنی پہچان کے بغیر بوسنیائی مسلم قوم حصول آزادی کے لئے خون کے دریا سے گزر کر منزل تک جا نہیں پائے گی۔


بے شک میک دزدار کے ترسیدہ تر سیدہ سے مصرعوں میں آنے والے وقت کی تصویریںدھندلی ہیں لیکن اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قومی شاعری تفصیلی مستقبل نامہ نہیں ہوتی۔ اس کی شاعری ایسی شاعری تھی جو ایک دردمند دل سے نکل کر قوم کے دھڑکتے دل میں جا سمائی تھی۔ اس کا پیغام واضح تھا ،دل نشیں تھا اور اَنمٹ تھا۔ اس نے سرگوشی کے سے انداز میں یوں کہا تھا۔


''شہ سوارو ں کا سردار بن کے
شمالی پہاڑوں سے نیچے اتر کے
مرے شہر کو ایسے تاراج کر کے
کہو گے کہ مَیں نے اُسے
ڈھیر ملبے کا کرکے
سبھی بدعقیدہ سے لوگوں کا سر توڑ ڈالا ہے
تمہیں جان کر سخت حیرت سی ہو گی
کہ مَیں شہر میں سر اُٹھا کر
ابھی پھر رہا ہوں
تم مرے گھر کو مسمار کر دو
یہ گر جائے گا
اور تم گالیاں دو گے
اور یہ کہو گے کہ میں اس گھروندے کے ہر شخص کو مار ڈالوں گا
پھر بھی میں اس سرزمین پر
وہی خواب تکتا رہوں گا
تم میرے سارے چشموں کو زہریلا کر دو گے
اور تم ہنسو گے
کہ تم نے مجھے موت کے گھاٹ اتارا
مرے انگور کے باغ کو چاہے جڑ سے اکھاڑو
کہ میں نرم سایوں سے محروم ہو جائوں
اور قحط سالی ہمارے گھروں پر مسلط ہو
چاہے جیسے بھی ہو
میں حقائق کا اظہار کرتا رہوں گا
تمھیں کیا خبر باغباں اور گلشن کا
رشتہ ہے کیا؟''
صاف ظاہر ہے کہ میک دزدار نے ''باغ'' اور ''گلشن'' کے الفاظ کااستعمال استعاروں کے طور پر کیا ہے۔ یقینا اس نے یہ اشعار قوم کے رُو بہ رُو ہو کر دشمن سے مخاطب ہو کر کہے۔ آگے چل کر اُس نے قدرے کھل کر دشمن کو للکارا اور کہا کہ میں کم زور سہی پھر بھی مجھے مٹانا آسان نہیں۔ لفظ ''مَیں''کے ذریعے اُس نے پوری قوم کو گواہ بنا کر اپنے ایک مصمم ارادے کا اظہار کیا۔
''مجھے اس سرزمین پر بہت کم ٹھہرنا ہے
پھر بھی مجھے ختم کرنا کچھ آساں نہیں ہے
پَر یاد رکھنا کہ میں
دار پر بھی یوں مسکرائوں گا
جیسے کہ میں بزم ِ یاراں میں ہوں
آہنی عزم کے ساتھ میں
دار کو چومتا
موت کی وادیوں میں اتر جائوں گا
مرا جسم تو ایک لمحے کا گھر تھا
اس پہ قبضہ تمھارا ہوا ہے
مگر جسم تو بندی خانہ تھا
تمہیں کیا بتائوں کہ
تمہیں میرے تیروں کی
ڈھالوں کی، شمشیروں کی
کچھ خبر ہی نہیں
تمھیں کب یہ معلوم ہے
کہ یہ فولاد میرا بہت تیز ہے
مجھے یہ خبر ہے کہ اک روز تم آئو گے
تم نے اپنی صلیبوں کے آگے قسم کھائی ہے آگ سے ایسے کھیلو گے کہ
میرا نشاں تک نہ باقی رہے گا
چلو آ رہو
مَیں تمہاری غارت گری اور مصائب
کو سہنے کو تیار ہوں۔''


قومی شاعری میں کسی بھی غلام قوم کی آزادی کا کوئی لگا بندھا ضابطہ کار تو نہیں ہوتا لیکن جذبات میں گھلے ملے الفاظ میک دزدار کے قلم سے نکلتے اور قوم کے دل کو گرماتے رہے۔ وہ کبھی غافل نہ بیٹھا۔ نابغہ شخص تھا، الفاظ اور خیالات کی فراوانی تھی۔ وہ وقتاً فوقتاًقوم کو جھنجھوڑتا او ربتاتا کہ وقت کم ہے اور کام زیادہ۔ اس نے جہاں بوسنیا کے اُجڑے ماضی کے ساتھ ساتھ موت کے رقص کا ذکر کیا، وہیں وطن کے گیت اور ترانے بھی پیش کئے لیکن دھیمے انداز میں اس لئے کہ جن دنوں وہ سر ہتھیلی پر رکھ کر اپنی سلگتی شاعری کو کاغذ پر بکھیر کر خوابیدہ مسلم قوم کو جگانے کی کوشش کر رہا تھا، انہی دنوں کمیونسٹ یوگوسلاویہ اپنی وفاقی ریاستوں بشمول بوسنیا اچھی خاصی آب و تاب کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود تھا۔ میک دزدار نہیں چاہتا تھا کہ اس کی طلبِ آزادی والی شاعری کی گونج حکومتی ایوانوں تک جا پہنچے۔


میک دزدار کا اصل نام محمد علی ہے۔ وہ 1917میں پیدا ہوا۔ یوں اس نے اپنا بچپن، لڑکپن پہلی جنگ عظیم اور اس کے مابعد اثرات کے زیرسایہ گزارا۔ جب یورپ میں دوسری جنگ عظیم (1939-45) لڑی گئی تو وہ اس وقت ایک باشعور نوجوان تھا۔ وہ قلم کی طاقت کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے فاشسٹوں کے خلاف لکھنا شروع کیا لیکن میک دزدار کا فرضی نام اپنا کر۔ بوسنیائی زبان میں ''میک '' کا لفظی مطلب ''پوست کا پھول'' ہے جسے اس ملک میں زمین ، نیند اور موت کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا فرضی نام ''زمین'' یعنی وطن سے اس کے دلی لگائو اور آزادی یا موت کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دنوں عظیم جنگوں کے ہول ناک اثرات کو پوری دنیا نے عمومی اور یورپ نے خصوصی طور پر محسوس کیا۔ خود محمدعلی کے وطن بوسنیا کو نئے نئے ناموں، جغرافیائی حد بندیوں اور ان کے منفی اثرات سے گزرنا پڑا۔ بوسنیائی مسلمانوں کی آزادی اور قومی شناخت کچل کر رکھ دی گئی تھی۔ بوسنیا کی جغرافیائی تبدیلیوں اور اس کے سماجی ڈھانچے میں ردوبدل اور توڑ پھوڑ میں وہاں کے مسلمانوں کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ انہوں نے بہرحال اس آشوب کے ساتھ جینے کا قرینہ سیکھ لیا تھا۔ اُن کے ہاں لیڈر شپ کا فقدان تھا اور وہ ایسے خوابوں کے تعاقب میں نہ تھے جن کی کوئی تعبیر نہ ہو۔


محمد علی خاموشی سے اپنے وطن کے حالات کا پیش منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ قوم کی عزلت کا ملال اور درد دل میں چھپائے پھرتا تھا۔ اس نے شعروں میں حال کی عکاسی کی اورلٹی ہوئی عظمت کے گیت بھی گائے لیکن زیادہ نہیں اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ ماضی جیسا بھی تھا گزر گیا۔ ہمیں صرف حال یعنی آج کو سامنے رکھنا ہے۔ اس کے کلام میں مذہب کا بھی کہیں کہیں ہلکا سا ذکر ملتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتا تھا مذہب تو اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ مسئلہ صرف قوم کی بقا کا ہے۔ سو غیرملکی استعمار نے بوسنیا کی فضائوں میں جو درد و کرب بو دیا تھا، اس نے اپنے قلم سے اسی کی نشان دہی کی۔ لیکن اس نے اپنے مسلم اہلِ وطن سے یہ نہیں کہا کہ تم نے کب اٹھنا اور کب دشمن سے دست وگریباں ہونا ہے۔ ہاں بین السطور یہ ضرور کہا کہ ذلّت کی زندگی سے موت بہتر ہے۔ تاکہ قوم کے دل میں تبدیلی کا خیال نمو پائے اور وہ خواب غفلت سے جاگے۔


محمد علی کے شعروں میں درد بھری پکار تھی۔ بعض اوقات ایسا لگتا تھا کہ وہ خود کلامی میں مصروف ہے اور کبھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ تن تنہا کسی مرتفع زمین پر کھڑا اپنی سوز بھری آواز میں کوئی حزنیہ گیت الاپ رہا ہے۔ کبھی کبھی اس کا عارفانہ انداز کچھ یوں بتاتا ہے کہ جیسے وہ دنیا سے بے گانہ کوئی صوفی یا مفکر ہے۔ یا بہت درد مند مصلح ہے جو اپنی سوئی ہوئی قوم کو جگانے اور آنے والے وقت سے باخبر کرنا چاہتا ہے۔ ایک بار اس نے بہت تیّقن سے کہا


''وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بابت سوچیں
موجیں طوفان کی بڑھتی چلی آ رہی ہیں
آئیں اس سے پہلے کہ ہم بہہ جائیں ان میں
وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بات سوچیں
آندھیاں پھر اچانک بڑھیں گی
وقت کے تند شعلے نگل جائیں گے
وقت ہے، آئیں ہم وقت میں جا رہیں
وقت تھوڑا سا ہے
یہ ہمیشہ نہ ہو گا
وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بات سوچیں۔''
آزادی کا بُلاوا محمد علی یا میک دزدار کے نزدیک ہر جسمانی آسائش سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا آج پُرآشوب ضرور ہے۔ تاہم اس کی آرزو تو غیرمغلوب ہے۔ آج کی اذیت میںکل کی خوشی کا پیغام چھپا ہے۔ اگر آج انسان حالات کے جبر کے باعث نیچے گرا ہے تو کوئی بات نہیں۔ وہ اسے حوصلہ دیتا اور نوید سناتا ہے کہ اے انسان تو عظیم ہے اور یہ عظمت خود تیرے اندر چھپی ہوئی ہے۔
روشنی کے فقط تین مینار ہیں
انسانِ کامل ہے، سورج ہے اور چاند ہے
جو کہ قوت ہیں
اس دور تک پھیلی دنیا کی
آئیں سبھی جان لیں
بادشاہت بہشتوں کی خود اپنے اندر ہے۔''
اس کے نزدیک سب لوگ پاک ہیں۔ ان کی روحیں پاک ہیں پھر وہ چشم باطن سے کچھ دیکھتا اور انہیں خبردار کرتا ہے۔
''آہوئوں کی قطاریں
گئی رات کے اس سمے میں
نہ جانے کہاں جا رہی ہیں
انہیں یہ خبر ہے
کہ صیاد جنگل میں ہے
اس کے ترکش میں وہ تیر ہیں
جو کہ آہو کے خوں کے لئے سخت بے تاب ہیں
اور ہرنیاں اپنے بچوں کو پھر دیکھنے کی طلب
اپنی آنکھوں میں ڈھانپے ہوئے
اس جہاں سے گزر جائیں گی۔''
وہ پاک (مسلم) لوگوں کو آنے والے وقت کے لئے خود کو تیار رہنے کو بھی کہتا ہے۔
''تمھیں کچھ عذابوں کے تشدد سے
اور دار کے رشتوں سے گزرنا پڑے گا
زندگی کو دکھ اور درد کی بھینٹ
چڑھنے نہ دینا
اپنی ساری زرہیں اور بکتر لئے
وحشتوں کو فنا کر دو تلوار سے
موت کو موت کے گھاٹ اتار دو
وقت نزدیک ہے
آئو بینائیوں کو نئی تاب دیں
ساحلوں اور پہاڑوں پہ
سب دیدبان اور محافظ کھڑے ہوں
ہر اک سمت تکتے ہوں
آئیں کہ ہم اپنے اندر بھی جھانکیں
وقت نزدیک ہے
وقت نزدیک ہے۔''


پھر ایک دن آیا کہ محمدعلی یا میک دزدار اپنی قوم کو جگاتے جگاتے خودابدی نیند، سو گیا۔ وہ 1971 میں اس دنیائے فانی سے وہاں چلا گیا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ لیکن بہرحال آزادی کی خوش خبری والا پرتیقن پیغام وہ قوم کے نام چھوڑ گیا تھا اور ٹھیک اکیس سال بعد اس کا جاگتی آنکھوں دیکھا خواب اس وقت پورا ہوا جب کمیونسٹ نظام والا ملک یوگوسلاویہ (قائم شدہ 1945) صدرمارشل ٹیٹو کے مرنے کے بعد زیادہ دیرٹھہر نہ سکا اور اپنے قیام 1945 کے سینتالیس سال بعد 1992 میں ٹوٹ گیا۔ اس کی وفاقی ریاستیں یکے بعد دیگرے آزاد ہو گئیں ۔ یکم مارچ 1992 کو بوسنیا کے مسلمانوںنے بھی آزادی کا اعلان کر دیا۔
لیکن معاملہ ذرا پیچیدہ تھا۔ بوسنیا میں 43 فی صد مسلمان، 33فیصد سرب، 17فیصد کروٹس اور 7فیصد دیگر اقوام کے لوگ تھے۔ سربوں کی خواہش تھی کہ بوسنیا سربیا کا حصہ بنے جبکہ بوسنیا میںکروٹس بھی بطور ایک طاقتور گروپ موجود تھا۔ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک خوں ریز محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ دشمن قوتوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ بوسنیائی مسلمان اصلاً ترک ہیں لہٰذا انکی نسل کشی ضروری ہے۔ ویسے بھی یورپی یونین، نیٹو اور امریکہ کی مداخلت کے بعد ایک معاہدے ''ڈیشن کارڈ'' کے تحت جنگ روک دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں ستر فی صد سے زائد لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔ اس وقت تک یہ ملک بالکل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ ایک آزاد اسلامی مملکت (بوسنیا) کے قیام میں پاکستان بھی بوسنیائی عوام کی امداد میں پیش پیش رہا اور یو این او کے پروگرام کے تحت پاکستانی فوجی دستے وہاں گئے اور امن کی بحالی میں خاطر خواہ کردار ادا کیا۔ آج کل دونوں ملکوں کے مابین نہایت خوش گوار تعلقات ہیں۔ مذکورہ ترجمہ شدہ کتاب اسی دوستی کی ایک خوبصورت مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔


کتاب میں ایک جگہ محمد اسلم رائو نے لکھا ہے کہ ''کہا جاتا ہے کہ میک دزدار (یامحمدعلی) علامہ اقبال کے خیالات سے بہت متاثر تھے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اردو کے قالب میں ڈھلے محمدعلی کے اشعار پڑھیں تو کئی مقامات پر یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم اقبال کے اشعار کو ذرا مختلف انداز میں پڑھ رہے ہیں۔ ان میں وہی 'عزت نفس، خودی، آزادی کی تڑپ اور قوت ایمانی کا جذبہ نظر آتا ہے' جو محکوم قوموں کو متحرک بناتا اور ان میں جذبۂِ حریت جگاتا ہے۔ دونوں شاعروں نے اپنے اپنے زمانوں میں دو قومی نظریے کے تحت متاثر کن شاعری کی اور اپنے اپنے وطن میں 'قومی شاعر' کا درجہ حاصل کیا۔''

مضمون گار مختلف اخبارات اور جرائد کے لئے لکھتے ہیں۔
 
12
December

تحریر: اسلم کمال

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں، وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فنون لطیفہ بھی جنگوں کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ زندہ قوموں کے زندہ دل اور بہادر لوگ جنگوں کے دوران فنون لطیفہ کے ذریعے اپنے جذبوں کا اظہار کرتے ہیں۔


1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران صورت حال کچھ ایسی تھی کہ ہماری بہادر افواج سرحدوں پر دشمن سے مصروف پیکار تھی تو سرحدوں کے اندر شاعر، موسیقار اور گلوکار خوبصورت رزمیہ نغمے تخلیق کر کے قوم کا لہو گرما رہے تھے۔ اس دوران کیا کیا کچھ تخلیق ہوا، آیئے اس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے۔

 

6 ستمبر 1965ء کی صبح بھارت نے لاہور کے برکی ہڈیارہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر جارحیت کا مجرمانہ ارتکاب کیا۔ اس کے باوجود کہ یہ حملہ بلا جواز اور اچانک تھااور دشمن ارض پاک میں داخل بھی ہوگیا۔ لیکن پاکستان کی شیر دل فوج نے اپنی بے مثل بہادری اور جانثاری سے نہ صرف اُس کی پیش قدمی روک دی بلکہ اُسے الٹے پائوں پسپا ہوکر اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کردیا۔ صبح گیارہ بجے کے قریب ریڈیو اور ٹی وی پر صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خاں نے رات کے اندھیرے میں در آنے والے بزدل دشمن کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کرتے ہوئے ایک بے مثال تقریر میں اس جارح ہمسایہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا: بھارت کے جنگی نیتا نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ لاہور کے زندہ دل اور بہادر شہریو! عیار دشمن نے اس جنگی آزمائش کے لئے سب سے پہلے تمہارا انتخاب کیا ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ مستقبل کا مورخ تمہیں ان الفاظ میں یاد کرے گا کہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے دشمن کو اپنی بے مثال شجاعت سے وہ سبق دیا جس کو اس کی نسلیں بھی فراموش نہ کرسکیں گی۔ پاکستان کی بہادر افواج اور غیور اہل وطن ! کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کی توپوں کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردو۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان پائندہ باد!


قارئین ! یہ ایک حقیقت ہے کہ ولولہ انگیزی اور جرأت مندی کے باب میں صدر پاکستان کی اس تقریر نے فی الواقعہ آدھی جنگ جیت لی تھی۔ اس تقریر نے پاکستانی قوم کو ایک سیسہ پلائی دیوار بنا دیا۔ ہر ایک شعبہ زندگی میں فرض شناسی اور حب الوطنی کی لہر دوڑ گئی۔ پورے سترہ دنوں اور اور سترہ راتوں کی اس جنگ کے دوران نہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھیں اور نہ ذخیرہ اندوزی ہوئی بلکہ جرائم میں حیرت انگیز کمی واقع ہوگئی۔
صدر ایوب کی، اعلانِ جنگ پر مبنی، تقریر کے ایک ایک لفظ نے سب سے پہلے شعبہ شعروشاعری میں ایک ایسی رجزیہ اور رزمیہ روح پھونک دی کہ ادباء و شعراء اخبارات کے دفاتر ، ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنوں کا رخ کرنے اور بلا معاوضہ اپنی شاعرانہ اور ادیبانہ خدمات پیش کرنے لگے۔ کراچی سے اگلے ہی روز رئیس امروہوی کا لکھا ہوا جانثارانِ لاہور کے لئے شاندار خراج کا ترانہ پاکستان کے طول و عرض میں گونجنے لگا


خطہء لاہور تیرے جانثاروں کو سلام
ارضِ شالا مار راوی کے کناروں کو سلام
لاہور جمخانہ میں شراب پینے کا ارمان لے کر حملہ آور ہونے والے بھارتی جنرل چوہدری اور اس کے فوجی بی آر بی کے بہت اُدھر جب اپنے ہی خون میں نہا رہے تھے اور ٹینکوں کا ایک ٹڈی دل لے کر سیالکوٹ کو روند ڈالنے کے مکروہ عزائم والے جب چونڈہ کے میدان میں عبرت کا نشان بن رہے تھے۔ اس وقت صحافی، دانشور اور شاعر صفدر میر تانگے پر لائوڈ اسپیکر لگا کر مال روڈ پر پاک ٹی ہائوس سے بھاٹی دروازے تک اور بھاٹی دروازے سے پاک ٹی ہائوس تک چکر پہ چکر لگاتے ہوئے اپنی رجزیہ نظمیں ''لاہور سربلند ہے لاہور زندہ باد '' اور ''سیالکوٹ تو زندہ رہے گا '' سنا سنا کر لاہوریوں اور سیالکوٹیوں کے بے مثال صبرو استقلال کو خراجِ عقیدت پیش کررہے تھے۔


راقم (اسلم کمال) 7 ستمبر کی صبح شملہ پہاڑی کے قریب ریڈیو پاکستان لاہور کے سامنے ایمپرس روڈ پر سیر کررہا تھا۔ ریڈیو اور ٹرانسسٹروں پر شکیل احمد کی ولولہ انگیز آواز میں جنگی خبریں نشر ہورہی تھیں کہ ہمارے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن ملک کے اندر گھس کر اس کے ہوائی اڈوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے۔ یہ سن کر راقم پر ایک کیفیت طاری ہوگئی اور 7 ستمبر کی اس صبح 8 بجے اس کے اندر ایک شاعر پیدا ہوگیا۔ اس نے پہلی نظم لکھی

funoonlatifaper.jpg

ایک شاعر تھا میں اک مصور تھا میں
اک تخیل زدہ مضطرب نوجوان تھا جِسے
اپنے خوابوں کی پریوں سے فرصت نہ تھی
جس کے پوروں پہ تھا سایہء برگِ گل
جس کے ہونٹوں پہ تھے پرفشاں کچھ سجل گیت عذرائوں سلمائوں کے
جس کی آنکھوں میں تھا سر مئی چمپئی وادیوں کا فسوں
آج میں بھی نہیں وہ تخیل زدہ
آج ہاتھوں میں بندوق سر پہ کفن
آج ہونٹوں پہ اللہ اکبر کے بول
جنگ ستمبر کی فتح کا جشن مختلف مکتبہ فکر اور شعبوں سے تعلق رکھنے والوںنے اپنے اپنے انداز میں منایا۔ اس کااحوال ذیل میں دیکھئے 


شاعری
صوفی غلام مصطفےٰ تبسم ، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، مشیر کاظمی، طفیل ہوشیاری، قیوم نظر، کلیم عثمانی ، مظفر وارثی ، سیف زلفی، مسرور انور ، سیف الدین سیف، صہبا اختر، محمود شام، تاجدار عادل ، جمیل الدین عالی، ناصر کاظمی، حمائت علی شاعر، الغرض تمام پاکستانی زبانوں کے شاعروں اور ادیبوں نے پاکستان کے دشمن سے دلی نفرت اور پاکستان کے ذرے ذرے سے قلبی محبت اور عقیدت کا اظہار جس جذبے اور جوش سے کیا۔ وہ پاکستانی شعر و ادب کا ایک ناقابل فراموش باب ہے یہی نہیں بلکہ اس جنگ نے پاکستانی فنونِ لطیفہ اور ان سے ماخوذ جن فنون پر گہرے اثرات مرتب کیے وہ بالا ختصار مندرجہ ذیل ہیں۔


موسیقی
1965ء کی جنگ نے پاکستانی ادب میں خاص طور پر شاعری میں جنگی ترانوں اور نغمات کی صورت میں جس رزمیہ اور رجزیہ آہنگ کا اضافہ کیا اُس نے سب سے پہلے پاکستانی موسیقاروں کے سامنے حب الوطنی کا ایک ایسا منظر پھیلا دیا کہ ملی ترانوں اور نغموں کی دھنوں میں، رجزیہ پکار اور رزمیہ للکار سے مملو سُروں کے امتزاج و ایزاد سے ہماری روائتی موسیقی خودبخود ایک پاکستانی موڑ مڑ گئی۔ نثار بزمی، سہیل رانا ، خلیل احمد، خادم حسین، بابا چشتی ، رشید عطرے ، سلیم اقبال، ایم اشرف ، فیروز نظامی ، پروفیسر اسرار جیسے اساتذہ کی ان دھنوں کو ہمارے گلوکاروں نے جس سوزو گداز اور ایقان و ایمان سے گایا اُس کی تاثیر نے قریہ قریہ، بستی بستی، شہر شہر، ہر محاذ پر اس ناگہانی جنگ کا رخ مورچہ مورچہ پاکستان کی فتح مبین کی جانب موڑ دیا۔ یہ ہمارے شعراء کے الفاظ تھے، جو ہمارے موسیقاروں کی دھنوں میں ڈھل کر ہمارے گُلوکاروں کی آواز بن کر سترہ دن اور سترہ راتوں کی اس جنگ میں بری، بحری اور فضائی پاک فوج کے صف شکن اور جان بکف مجاہدوں کے شانہ بشانہ دشمن کے لشکروں کی صفیں الٹتے رہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں ، مہدی حسن، نسیم بیگم، عنایت حسین بھٹی ، احمد رشدی، عالم لوہار، تاج ملتانی، شہناز بیگم، حبیب ولی محمد، علّن فقیر، مسعود رانا، منیر حسین، سلیم رضا، شوکت علی اور غلام علی کی آوازوں کا ایسا لشکر نعرہ زن تھا جس کے آگے خندق خندق اور مورچہ مورچہ ہمارے حق میں اس جنگ کی ہوا ہوگئی تھی۔


اس جنگ میں ملکہ ترنم نور جہاں کا یہ جملہ ہر ایک پاکستانی کے دل پر وطن سے محبت کا ان مٹ نقش بن کر ثبت ہوگیا۔ وہ جب ایک جنگی ترانہ ریکارڈ کروا رہی تھیں تو فضائی حملے کا سائرن بجنے پر ان سے درخواست کی گئی کہ وہ بھی خندق میں پناہ لے لیں۔ ملکہ ترنم نے جواب میں دو ٹوک کہا؛ میں خندق میں پناہ لینے کی بجائے وطن کا گیت گاتے ہوئے مرنا پسند کروں گی۔ اسی جنگ کا یہ بھی ایک کرشمہ ہی تھا کہ پروفیسر اسرار کی دھن پر ملکہ ترنم جیسی شہرہ آفاق گائیکہ ایک بالکل گمنام گلوکار محمد صدیق کے ساتھ منیر نیازی کا کلام گانے پر بخوشی راضی ہوگئیں


اے وطن اے عالمِ اسلام کی تابندگی تجھ پر سلام
اس جہاں کی تیرگی میں اے نظر کی روشنی تجھ پر سلام
صحافت
روزناموں سے لے کر ہفتہ وار ، سہ ماہی اور ماہوار رسائل و جرائد تک سب نے اس جنگ میں اپنا بھرپور قومی کردار ادا کیا۔ فنون، نقوش اور اوراق نے جنگ نمبر نکالے۔ اردو ڈائجسٹ ، سیارہ ڈائجسٹ اور حکایت ڈائجسٹ نے خاص طور پر اس جنگ کی تفصیلات کو پاکستانی قوم کی تاریخ میں ایک امانت کی طرح محفوظ کردیا۔
فلم
1965ء کی جنگ پر ''قسم اُس وقت کی'' کے نام سے پاک فضائیہ کے پس منظر میں ایک فلم بنی۔ جس میں ہیرو کا کردار طارق عزیز نے اور مختصر سا ہیروئن کا کردار شبنم نے ادا کیا۔ سکرپٹ غالباً پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے تیار کیا اور نغمات فیض احمد فیض نے لکھے۔


ٹی وی ڈرامہ
شہدائے وطن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مختلف ڈرامے بھی تشکیل دیئے گئے اور یہ ڈرامے صرف 65ء کے شہداء کے نہیں بلکہ 1948، 1971اور معرکۂ کارگل کے شہداء کے بھی ہیں۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جنگوں میں وطن کے جو سپوت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اُن کے اثرات معاشرے کے لئے فخر اور اعتماد کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔


1۔ کیپٹن سرور شہیدنشان حیدر سرور شہید کا کردار اداکار سلیم ناصر نے ادا کیا۔
2۔ میجر طفیل شہید نشان حیدر میجر طفیل کا کردار اسٹیج ایکٹر ظلِ سبحان نے ادا کیا
3۔ میجر عزیز بھٹی شہیدنشان حیدر میجر عزیز بھٹی شہید کا کردار ایک غیر اداکار ناصر شیرازی نے ادا کیا۔
4۔ راشد منہاس نشان حیدر اس میں ہیروئن کا کردار ٹی وی اداکارہ مرینہ خان نے ادا کیا
5۔ لالک جا ن نشان حیدر


مزاحمتی صداکاری
ریڈیو پاکستان لاہورکے نصیر انور کا پروگرام ''مہاشے'' اشفاق احمد کا ''تلقین شاہ'' نظام دین کا پنجابی پروگرام اور اعجاز بٹالوی کی رزمیہ ڈائری کے صداکاروں نے فنِ صدا کاری میں رجزیہ اور رزمیہ لب و لہجہ متعارف کروایا۔


فنِ تعمیر
رن کچھ سے لے کر چھمب جوڑیاں تک پاکستانی سرحد کی حرمت و عظمت پر اپنی جانیں قربان کرنے والے پاک سرزمین کے بیٹوں کے جنگی کارناموں کی یادگاریں جنگی محاذ بننے والے علاقوں میں جا بجا تعمیر ہوکر اہل وطن کی سلامتی کی ضمانت اور وطن عزیز کی حرمت و عظمت کا نشان بن گئیں۔
1965ء کی اس جنگ کے نشانِ حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی کی شہادت گاہ کی یادگار بی آر بی نہر کے کنارے تعمیر کی گئی۔ اس یادگار کا سنگ بنیاد میجر راجہ عزیز بھٹی کے والد گرامی کے ہاتھوں سے رکھوایا گیا اور اس تقریب کی رواں کمنٹری اس وقت لاہور کے کمشنر مختار مسعود (مصنف آوازِ دوست) کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا جس یادگار کا سنگ بنیاد آج ایک بوڑھے باپ کے دو ہاتھ رکھ رہے ہیں۔ یہ یادگار قیامت تک ایک بیٹے کی بہادرانہ سعادت مندی کی کہانی سنایا کرے گی ۔ انہی کمشنر لاہو رجناب مختار مسعود کی خصوصی دلچسپی کے طفیل لاہور کے ریگل چوک میں 1965ء کی اس جنگ کے شہداء کی یاد میں ''مسجدِ شہدائ'' تعمیر ہوئی۔ اس مسجد کا پورے ڈیزائن پر محیط گول گنبد شہید سپاہی کا ہیلمٹ ہے اور اسکا مخروطی مینار اس کی بندوق کی سنگین ہے۔ اس مینار کی بنیاد میں پاکستانی سِکّے اور نقوش کا لاہور نمبر محفوظ کیا گیا ہے۔ جب یہ مسجد زیر تعمیر تھی اس کے ڈیزائن گنبد اور مینار کی شکل و صورت پر کچھ کچھ لے دے بھی ہوئی تھی ۔ مگر بالآخر یہی تعمیراتی اجتہاد مستقبل کے پاکستانی طرزِ تعمیر کے ابتدائی خدوخال اجاگر کرگیا۔


علم و ادب
سترہ دنوں اور سترہ راتوں کی اس جنگ کے کچھ ماہ بعد پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، مدیروں اور صحافیوں کا ملک گیروفد لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں کی اعلیٰ فوجی کمان کی دعوت پر اپنی بہادر افواج کے ساتھ اظہارِ اعترافِ شجاعت کے لئے گیا تاکہ وطن عزیز کے اہل علم و دانش کا یہ طبقہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے کہ اس وطن کے چپے چپے کا دفاع کس جاں نثاری سے کیا گیا۔ اس وفد میں محمد طفیل مدیر نقوش، جمیل الدین عالی، قتیل شفائی، الطاف حسن قریشی، عبدالقادر حسن، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، ابن انشا، سید قاسم محمود، حبیب کیفوی، بانو قدسیہ، رفعت خواجہ، سائرہ ہاشمی، شیخ رؤف، ڈاکٹر رشید انور، بشیر منذر، حفیظ تائب اور جلیل عالی جیسی شخصیات شامل تھیں۔ برکی ہڈیارہ سیکٹر میں بی آر بی نہر کے کنارے ایک گمنام سپاہی کی قبر کی طرف اشارہ کرکے غازی جنرل سرفراز نے بڑے جذباتی انداز میں بتایا کہ اس مجاہد نے اپنے فرائض اس جانفشانی سے ادا کئے کہ دشمن کی گولیوں کی بوچھاڑ میں اُس کے تن پر پاک فوج کی وردی اور بوٹوں کے چند چیتھڑوں کے سوا کچھ نہ بچا تھا۔ اُس کی یونٹ اور اس کی رجمنٹ بلکہ اس کا نام کیا تھا اس کا بھی کوئی نشان نہ مل سکا۔ اس لئے اس کی قبر کو گمنام سپاہی کی قبر کا نام دیا گیا ہے لیکن میں جب بھی ادھر سے گزرا ہوں جنرل صاحب نے بتایا میرے کانوں نے باقاعدہ اس کے سلیوٹ کرنے کی آواز سنی ہے۔ دراصل وہ مجھے سلیوٹ نہیں کرتا بلکہ بآواز بلند اپنا نام ''ابنِ پاکستان'' بتاتا ہے۔


پاک فوج کے غازیوں کے اعزاز میں شالا مار باغ لاہور میں ایک تقریب ہوئی۔ اس کی نظامت کے فرائض مشہور وکیل ادیب اور دانشور اعجاز بٹالوی مرحوم نے ادا کئے۔ اس تقریب کے مہمانِ اعلیٰ کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ سے ایک غیر ملکی نامہ نگار نے پوچھا کہ جنرل صاحب بھارت کے ساتھ آپ کا باڈر اتنا طویل ہے۔ اس پر دشمن نے کبھی رن آف کچھ، کبھی فاضلکا، کبھی قصور، کبھی لاہور اورکبھی سیالکوٹ پر حملہ کرکے آپ کو پریشان تو خوب کیا ہوگا۔ جنرل موسیٰ نے جواب میں کہا پریشان تو دشمن ہوا کہ اس نے جہاں جہاں بھی سر اٹھایا ہمیں وہاں سر کچلنے کے لئے موجود پایا۔


اسی طرح''نشان حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی'' جیسی اعلیٰ کتاب اصغر علی نے لکھی اور پاکستانی اردو ادب میں مزاحمتی نثر کی بنیاد رکھ دی۔


فنِ خطاطی
بھارت نے 6 ستمبر کی صبح حملہ کیا اور صدر پاکستان نے جواب میں اعلان جنگ کرتے ہوئے اہلِ وطن کو کہا کہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کی توپوں کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردو۔ راقم (اسلم کمال) نے اُسی رات اپنی رہائش کو پوری طرح بلیک آئوٹ کرکے یہ عہد کیا کہ پاک وطن کا سپاہی جب تک میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دے گا میں ہر رات اپنے کینوس پر اُس کے اعترافِ شجاعت میں دادِ تخلیق دوں گا۔ پہلی رات راقم نے کینوس پر کلمہ طیبہ کی آئل پینٹ میں مصورانہ خطاطی کی جو بعد میں ایک تخلیقی تحریک بن گئی۔


فنِ مصوری
اس جنگ کی باقی راتوں میں ہر رات ایک پینٹنگ کی۔ ان 17 پینٹنگز کی نمائش خاص طور پر غیر ملکی نامہ نگاروں کے لئے الحمرا آرٹس کونسل لاہور میںہوئی۔ بعد میں ان کی نمائش پاکستان نیشنل سینٹر الفلاح لاہور میں ہوئی اور ان میں سے کچھ پینٹنگز مشہور ادبی رسالہ نقوش نے اپنے جنگ نمبر میں شامل کیں۔ اس طرح یہ مصوری مزاحمتی مصوری میں بدل گئی۔


جنگی مصوری
شعبہ فنون لطیفہ یعنی فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی جو اب کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن بن چکا ہے۔ اس کی بانی چیئر پرسن مسز اینا مولکا احمد نے جنگ بندی کے فوراً بعد باٹا پور میں بی آر بی کے جی ٹی روڈ پر پل کے قریب گھاس سے لدی ہوئی ایک بیل گاڑی کو ماڈل بنا کر اس کے پیچھے چھپ کر عرفِ عام میں ''رانی توپ ''کی جو نقل و حرکت کی کہانی زبانِ زدِ عام ہوئی تھی اس کو پینٹ کیا۔


مشہور پورٹریٹ پینٹر سعید اختر نے ائیر مارشل نور خاں کا فائٹر پائیلٹ کے لباس میں پورٹریٹ بنایا۔ محمودا لحسن رومی، منان عزمی، خالد لطیف، ظہیر احمد جنجوعہ، جاوید بٹ اور استاد سلیم حسین شریف کو آئی ایس پی آر لاہور نے جنگی فوٹو گراف فراہم کئے جن کو ان مصوروں نے پینٹنگز میں ڈھالا اور الحمرا آرٹس کونسل میں ایک شاندار نمائش ہوئی۔ پاک فضائیہ کے ونگ کمانڈر حسینی اور بہت سارے چینی مصوروں نے اعلیٰ فنی مہارت کے ساتھ پاک فضائیہ کے ایف۔ 86 سیبر اور ایف۔ 104 سٹارفائٹر کو پاک آسمانوں کی نگہبانی کرتے اور بری اور بحری افواج کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے دکھایا۔ خاص طور پر لاہور کے بسنت کی پتنگوں سے بھرئے ہوئے آسمان پر سکواڈرن لیڈر شربت علی چنگیزی کو بھارتی فضائیہ کے بھگوڑے ہنٹر طیاروں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرتے جس طرح چینی مصوروں نے دکھایا۔ وہ قابل صد تحسین تھا۔ یہیں سے دراصل آہستہ آہستہ رفعت پذیر ہوتی ہوئی پاکستان اور چین کے مابین آج کی ہمالیہ جیسی بلند دوستی کی ثقافتی سطح پر بنیاد پڑ گئی تھی۔

سلامتی
یہ اتنے سارے بونے
سروںکی فصل پہ کھڑے
ہمالیہ کی بلندیوں پہ کیوں نظریں جمائے ہیں
یہ کیوں بے خبر ہیں؟
کہ بلندی ،اعلیٰ ظرفی اور جرأت کی متقاضی ہے
یہ بے سمت آوازیں تو صرف اک شور ہے
اور اب کہ گیدڑ بھی دھاڑنے لگ پڑے ہیں
مگر اے ہمالیہ کی گود میں پلنے والے
میرے وطن کے غیور بیٹو!
جب تمہارے گھروں کو بھیڑیئے خوں سے نہلا دیں
تو اُس وقت سے ،بہت پہلے، تم آگے بڑھنا
کہ
کڑے وقتوں میں، دشمنوں کی صف پر حملہ کرنا
جارحیت نہیں، سلامتی ہے

*****

 
12
December

تحریر: ڈاکٹرحمیرا شہباز

تسلیت کرمانشاہ!!! تسلیت ایران
یہ کیسے پیغامات اور تصاویر ہیں میرے موبائل میں؟؟؟ دورانِ سفر اپنے موبائل کی گیلری کو جنبشِ انگشت سے ٹٹولتے ہوئے میں نے سوچا۔ ایران کو تسلیت کے یہ پیغام کس نے بھیجے ہیں؟ کیا ہوا ہے ایران کو؟ ان دو دن پرانے پیغامات کی کھوج میں میں نے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کے گروپس کی دو روز پرانی گفتگو کو تیزی سے دیکھا۔اوہ!!! ایران میں زلزلہ! اور وہ بھی کرمانشاہ میں۔ مزید پیغامات پڑھتی گئی اور جانتی گئی کہ ایران اور عراق کی مشترک سرحد کے شہر اس زلزلے کی زد میں آگئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق


''12 نومبر کو ایران اور عراق کے سرحدی علاقے میں آنے والے سات اعشاریہ تین شدت کے شدید زلزلے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان عراق کی سرحد سے متصل ایرانی صوبے کرمانشاہ میں ہوا۔ ایک ایرانی امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے70 ہزار افراد کو فوری طور پر امداد اور پناہ گاہوں کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ائیر فورس کا سی 130 طیارہ خیمے، غذائی اور طبی امدادی سامان لے کر تہران پہنچا گیا ہے۔ ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر آصف درانی نے امدادی سامان ہلال احمر ایران کے سربراہ کے حوالے کیا۔ اس موقع پرسربراہ ہلال احمر ایران کا کہنا تھا کہ پاکستان امداد فراہم کرنے والا سب سے پہلا ملک ہے۔''(ہفتہ 18نومبر 2017)
صدر محترم اور جناب وزیر اعظم پاکستان نے ایرانی صدر عزت مآب حسن روحانی کو زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر تسلیت کا پیغام بھجوایا کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستانی قوم ان کے دکھ درد میں شریک ہے۔

eranizalzalaar.jpg
پاکستان کی ایران سے وابستگی مستقل بنیادوں پر ہے۔ دونوں ممالک مثالی ہمسائے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی ایسی کوئی مثال تلاش کی جا سکے جہاں دو ہمسایہ ممالک میں اتنی ثقافتی، لسانی، تاریخی، مذہبی اور ادبی مماثلت پائی جاتی ہو۔ سیاسی سطح پر دیکھا جائے تو اسلامی جمہوریہ ایران، اقوام عالم میں پہلا ملک تھا جس نے 14اگست 1947کو قیام اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سب سے پہلے رسمی طور پر تسلیم کیا تھا۔ شہنشاہ ایران پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت تھے۔ ان کوپاکستان کے استحکام کی اہمیت کا پورا ادراک تھا لہٰذا ایران نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا تاکہ جنوبی ایشیا عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ان باہمی روابط میں اور بھی پختگی آئی ہے۔ موجودہ دور میں بھی ایران کے پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں جس کا اظہار ایران کے موجودہ صدر عزت مآب حسن روحانی نے مارچ 2016 میں اپنے دورہ پاکستان میں بھی کیا ۔


پاکستان اور ایران کے تجارتی روابط بھی روز افزوں ہیں۔ تہران میں ایران اور پاکستان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 20 ویں اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان توانائی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں کثیرالجہتی تعلقات قائم ہیں اور پاکستان ان تعلقات کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ زاہدان اور کوئٹہ کے درمیان مال گاڑی کے ذریعے ایران، پاکستان کو سیمنٹ، تارکول، سلفر اور تیل برآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان چاول اور خام سلفر ایران کو برآمد کرتا ہے۔ اسلام آباد میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے ایران اور پاکستان میں پورٹ اور شپنگ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی چابہار اور پاکستان کی گوادر بندرگاہ ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ حلیف اور معاون بندرگاہیں ہیں۔
ایران اور پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ اسلامی دنیا کے اہم ممالک ہونے کے ناتے اپنے مضبوط رشتوں سے عالمی امن کے لئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس سلسلے میں پاکستان کی کاوشیں بھی نمایاں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور افغان مسئلے پرامریکہ سے کشیدہ تعلقات کے پیشِ نظر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے دورہ ایران کو بہت اہمیت حاصل ہے جو کہ کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کا پہلا رسمی دورۂ ایران تھا۔
ایران اور پاکستان کے عوام کی یکانگت او رمحبت کا اہم ستون ثقافتی روابط ہیں۔ مولانارومی کی مثنوی معنوی، دیوان حافظ ، گلستان و بوستان سعدی پاکستانیوں کے لئے اجنبی نگارشات نہیں اور ایرانیوں کے لئے بھی علامہ اقبال فقط مصور پاکستان ہی نہیں بلکہ انقلابِ اسلامی ایران کی پیش بینی کرنے والے شاعر فردا بھی ہیں۔ایرانی علامہ اقبال کے ان اشعار کو اقبال کی پیش گوئی قرار دیتے ہیں


چون چراغ لالہ سوزم در خیابان شما
ای جوانان عجم جان من و جان شما
میرسد مردی کہ زنجیر غلامان بشکند
دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما


ہمارے خطے میں دینِ اسلام کا فروغ فارسی گو صوفیائے کرام کا مرہون منت ہے۔ فارسی سیکڑوں سال تک برصغیر کی سرکاری زبان رہی ہے۔ ہمارے بیش بہا دینی، علمی اور ادبی ذخائر اس امر کی غمازی کرتے ہیں۔ خود علامہ اقبال کے شاعرانہ کلام کا کثیر حصہ فارسی زبان میں ہے اس لئے کہ محض ایک صدی قبل بھی فارسی زبان اس خطے میں رائج تھی۔ آج بھی ہمارے گھروں میں قرآن کریم کے ساتھ دیگر معتبر دینی اور اخلاقی کتب کی ردیف میں کشف المحجوب اور مثنوی معنوی جیسی معرکة الآرا کتب کا مقام تسلیم شدہ ہے۔


پاکستان میں فارسی زبان و ادب کی تدریس کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مستقل شعبے کی حیثیت رکھتی ہے۔ تہران یونیورسٹی میں بھی شعبۂ اردو کارفرما ہے۔ دونوں ممالک میں علمی و ادبی کانفرنسوں کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ چند روز قبل ہی پاکستان ایجوکیشن کمیشن اور اسلام آباد میں ایران کے قونصل خانہ کے باہمی تعاون سے فارسی زبان اور ادب کے شعبہ میں قابل قدر علمی و ادبی نگارشات کو اقبال اور سعدی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ نومبر2017 کے آغاز ہی میں پاکستان کے ہم مرز ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان کے شہر زاہدان کی سیستان بلوچستان یونیورسٹی میں علامہ اقبال کے 140ویں یوم ولادت کی مناسبت سے شایانِ شان بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا اتفاق ہوا، جس نے مجھے یہ یقین بخشا کہ شائد کبھی ایران پاکستان کے روابط کی کوئی اور وجہ باقی رہے نہ رہے، علامہ اقبال کی شاعری یقینا اس ربط باہمی کی دائمی وجہ رہے گی ۔


میں نے مختلف علمی مسافتوں میں ایران کے جس بھی شہر کا سفر کیا، وہ اصفہان نصف جہان ہو یا گیلانِ مازندران، زاہدان کی مانوس بلوچ فضا ہو یا بجنوردِ خراسان ، جو احترام ، استقبال ، پذیرائی اور اپنائیت ایرانی زمین میں پاکستانیوں کوحاصل ہے، وہ بے مثال ہے۔ اسی لئے ایران کے عوامی معاملات پر دھیان رہتا ہے۔ کرمانشاہ کے حالیہ زلزلے نے تو ہمیں یہاں بھی ہلا دیا۔ ا بھی دو ماہ قبل تو میں کرمانشاہ گئی تھی۔
گزشتہ سال گیلان کی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اعلان کردیا گیا تھا کہ اگلے برس انجمن ترویج فارسی کی کانفرنس کرمانشاہ میں منعقد ہوگی۔ وہیں پر کانفرنس کے شرکا میں سے ایک کرمانشاہی مہمان نے بتایا کہ اس کا شہر کتنا خوبصورت ہے، کئی دیدنی تاریخی مقامات ہیں وہاں۔ لیکن پھر بھی میرا کوئی ارادہ نہیں تھا اگلی کانفرنس میں شرکت کا ۔ یہ تو پتا نہیں کس نے میرے کان میں ڈال دیا کہ کوہ بیستوں ہے وہاں۔
بیستوں!!! شیریں فرہاد والا بیستوں ؟ میں نے تصدیق چاہی تو پتا چلا کہ ہاں وہی والا۔ اب شیریں کی خواہش اور فرہاد کی کوشش کو دیکھنا تو بنتا تھا۔


4 ستمبر کی شام کو میں اور کئی دیگر شرکائے کانفرنس ، ہماری میزبان رازی یونیورسٹی کی تہران کے علاقے شہر آرا میں موجود مہمان سرا میں پہنچ گئے تھے۔5ستمبر 2017کو کانفرنس کے مختلف ممالک اور شہروں سے آئے شرکا کو لئے بس2بج کر 30 منٹ پر کرمانشاہ کے لئے روانہ ہوئی تھی۔ تمام سفر صحرا میں سے تھا۔ بلند خشک پہاڑ اور وسیع ریگزار، خدا کی بزرگی کا نشاں تھے۔ ایک لا متناہی ساحل یا خشک ریتلا سمندر جس میں کہیں کہیں پانی کے جزیروں کا گمان باقی تھا۔ جگہ جگہ زمین کے سینے میں گڑے درشت اور سنگلاخ نشتر نما پہاڑوں سے دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ایک بڑا سا کینوس ہو جس پر فطرت نے نوک قلم سے دلکش خطاطی میں اس خطے کی قدیم تہذیب کا سفر رقم کیا ہو۔ ہر پہاڑ کو دیکھ کر سوچتی کہ بیستوں جانے کیسا ہو گا؟


وہی اک حسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں
یہ شیریں بھی ہے گویا، بیستوں بھی کوہکن بھی ہے
رات کوئی گیارہ بجے کے قریب ہم رازی یونیورسٹی کے ڈائننگ ہال کے آگے اترے۔ فرہادانِ شیریںِ صفت ہمارے پرتپاک استقبال کو منتظر تھے۔ لگتا تھا
زینتِ محفل ہیں فرہادانِ شیریں عطا
اس محل میں ہے رواں ہونے کو جوئے شیِر آج


رات میں بھی یونیورسٹی کے گرداگرد کھڑے پہاڑوں پر پورا دھیان تھا ہمارا۔ میں نے اور ایک دن پہلے بننے والی افغانستانی اسکالر سہیلی نے ہر پہاڑ کا تنقیدی جائزہ شروع کر دیا۔ شاید یہ بیستوں ہے! نہیں وہ والا ہو گا! ہر پر شکوہ کوہ کی رنگت اور بلندی میں ہم شیریں کا حسن اور فرہاد کا عزم تلاش کرتے رہے۔ اگلا پورا دن کانفرنس کی کارروائی میں گزرا۔ اپنی کم علمی سے شرمندہ کسی سے پوچھ بھی نہ سکے کہ ان میں سے شیریں فرہاد والا پہاڑ کون سا ہے؟ وہ تو ایک ایرانی نے ہمیں اس دھوکے سے نکالا او ریہ کہہ کر ان سارے پہاڑوں کو رائی برابر کردیا کہ یہاں نظر آنے والا کوئی بھی پہاڑ بیستوں نہیں۔ کانفرنس پروگرام میں سیروسیاحت والا کالم بھی اتنا واضح نہ تھا کہ ہم کہاں کی سیر کو جائیں گے۔ پہلے روز طاق بستان دکھایا گیا۔ دوسرے روز کو ہ بیستوں کا وعدہ تھا۔


اگلے روز شام میں ، مغرب سے تھوڑی ہی دیر پہلے ہم کرمانشاہ شہر سے کوئی تیس کلومیٹر دور کوہ بیستوں کے سامنے کھڑے تھے۔ انتہائی ظالم پہاڑ تھا۔ سخت، سیاہ، بنجر، بلند۔ دیومالائی پہاڑوں کی طرح تکونی شکل نہ تھی اس کی، بلکہ خود ہی دیو نما تھا۔ دل ٹوٹ گیا اس کو دیکھ کر اور احساس ہوا کہ واقعی کمال ہوگا اس کو تراشنا اور جوئے شیر لانا۔ شیریں نے بھی کیا امتحان لیا تھا عشق کا؟ ! اگر فرہاد شیریں کی موت کی جھوٹی خبر سن کر خود کو بھی تیشہ سے مار نہ ڈالتا تو اس پہاڑ کو تراشتے تراشتے ضرور ختم ہو جاتا۔اقبال نے اس کہسار کو دیکھا ہوتا تو ان کو یہ شعر کہنے میں کچھ تامل ضرور ہوتا


تیشہ اگر بہ سنگ زد ایں چہ مقام گفتگوست
عشق بہ دوش می کشد این ہمہ کہسار را


ہم تو میزبانوں سے ویسے ہی نالاں تھے کہ جس کے لئے اتنی دورآئے وہاں ہمیں وہ دن ڈھلے کیوں لائے ۔ اس پہاڑ میں ایک گہرا شگاف تھا۔ ہم نے میزبانوں سے پوچھا کہ کیا یہاں سے دودھ کی نہر کھودی گئی تھی؟ اردگرد شیریں کا محل بھی ڈھونڈنا چاہا۔ لیکن نداند۔ البتہ بیستوں پر ہخا منشی دور کا کتبہ کندہ تھا جس کا شمار دنیا کے چند قدیم ترین کتبوں میں ہوتا ہے۔
کوہ بیستوں پہنچنے میں دیر اس لئے ہوئی کہ اس سے قبل کرمانشاہ شہر سے کوئی گھنٹا بھر کی مسافت پر ہمارے میزبان ہمیں ''مرصاد'' نامی مقام پر لے گئے۔ یہ علاقہ ایران عراق کا سرحدی علاقہ تھا۔ مرصاد کے ایک میوزیم میں ایران عراق جنگ کی تاریخ پیش کی گئی تھی۔ نزدیک ہی اسلام آباد غربی صوبہ کرمانشاہ کا ایک سرحدی شہر تھا۔ یہ وہی علاقے ہیں جو چند روز قبل شدید زلزلے کی زد میں آگئے تھے۔ زلزلے کی خبر سن کر میں نے کانفرنس سیکریٹری ڈاکٹر بیگ زادہ کو تسلیت کا پیغام بھیجا۔ ان کا جواب آیا


''سلام خانم۔کرمانشاہ کا یہ زلزلہ جان و مال ہار دینے کی تاریخ کو دہرا رہا ہے، پہلے جنگ میں اور اب زلزلے میں۔ اسلام آباد کے ہسپتال جو ابھی کچھ عرصہ قبل جنگ کے زخمیوں سے بھرے ہوئے تھے، اب زلزلے کے زخمیوں سے پر ہیں۔آپ کی ہمدردی کا بہت شکریہ!''


اور پھر مزید لکھ بھیجا
''ابھی تک جنگ کے زخم بھرے نہ تھے۔ اس جنگ کی یاد اب بھی میرے شہر کے لوگوں کو بے چین کر دیتی ہے۔ اے میرے شیریں شہر!ہاں اے میرے بچپن کی یاد! آج رات زمیں نے کس بہانے سے پھر سے تیرے دل کو توڑا ہے؟ کہ تیرے فرزندوں پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا ہے۔ شیریں ! مجھے معاف کرنا۔ آج کی شب ہزار بار تیری یاد میں مروں گا اور تیرے قصر شیریں میں عزاداری کروں گا۔''
یقینا دوہری مصیبت نے کرمانشاہیوں کے حوصلوں کو مزید آزمایا ہوگا۔ مگر مجھے یقینِ کامل ہے کہ فرہاد کے ہم سخن یہ لوگ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں سے بھی بلندتر حوصلے کے مالک ہیں۔ پاکستان کے لوگوںکے دل ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں۔ زلزلوں کی شدت ہو یا دشمنوں کی چالوں کی حدت، دونوں ملکوں کی دوستی لازوال ہے اور رہے گی۔

مضمون نگار:ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
December
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا سر کریک کا دورہ

گزشتہ دنوں 9ممبران قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے سرکریک اور پی این ایس قاسم کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران کمانڈر کوسٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سر کریک کے دورے کے دوران کمپنی ہیڈکوارٹرز شاہ بندر میںکمیٹی ممبران کو سر کریک کے متنازعہ علاقے پر بریفنگ دی گئی اور پاک میرینز کی جانب سے سرکریک کے دفاع کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔بعد ازاں قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو سرحدی مورچوں کا دورہ کروایا گیا اور وہاں نصب آلات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے ممبران نے کریکس کے علاقے میں پاک بحریہ کے اگلے مورچوں پر تعینات آفیسرزاور سی پی اوز/سیلرز سے ملاقات کی اور ان کے حوصلے، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ کمیٹی ممبران نے پی این ایس قاسم کے دورے کے دوران وہاں دی جانے والی تربیتی سہولیات کا جائزہ بھی لیااور ٹریننگ کے اعلیٰ معیار کی تعریف کی۔

newsqomiasmably.jpg 

ہینڈ بال چیمپیئن شپ کا انعقاد

گزشتہ دنوں فرسٹ آرمرڈ ڈیو،انٹر یونٹ ہینڈ بال چیمپیئن شپ 2017 ملتان گیریژن میں منعقد ہوئی ۔ چیمپیئن شپ میں کل16ٹیموں نے حصہ لیا ۔ فرسٹ آرمرڈ ڈیو کی یونٹ 313انجینئر بٹالین نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیمپیئن ٹرافی جیت لی۔اس موقع پر بریگیڈیئر فیاض فاروق نے فاتح ٹیم کے کپتان میجر عبدالستار راجہ کو چیمپیئن ٹرافی دی جبکہ فرسٹ آرمرڈ ڈیوکی یونٹ 140ایس پی نے دوسری پوزیشن حاصل کی ۔

newsqomiasmably1.jpg 

11
December
کمانڈر لاہور کور کا سالانہ جنگی مشقوں کا معائنہ

گزشتہ دنوں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے جہلم کے قر یب ٹلہ ر ینجز کا د ور ہ کیا اور فیلڈ فا ئر کا عملی مظا ہر ہ د یکھا ۔موسم سرما کی یہ سا لا نہ جنگی مشقیں ہر سا ل حقیقت سے قر یب تر ما حو ل میں منعقد کی جا تی ہیں جن کا مقصد فوجی جو انو ں کی عسکر ی استعد اد کا ر میں مز ید بہتر ی لانا ہے ۔ مشقو ں کے د ورا ن اُنھو ں نے انفنٹری ، آرمرڈ اور توپ خا نے کے فا ئر کا مظاہرہ د یکھا اور بھا ر ی ہتھیاروں سے اہداف پر مؤ ثر اور د ر ست نشا نے لگا نے پر د اد د ی ۔اس موقع پر انہوں نے جوانوں کے بلند جذبے اور پیشہ ور انہ مہا ر ت کو سر اہا۔

newsaikdinpkfojksath1.jpg 

11
December
ایک دن پاک فوج کے ساتھ
گزشتہ دنوں 'ایک دن پاک فوج کے ساتھ' پروگرام کے تحت مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں کے 200 سے زائد طلباء و طالبات نے پنوں عاقل کینٹ کا دورہ کیا۔ طلباء و طالبات نے گیریژن کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔ اسی سلسلے میں پاک فوج کے نیشنل سکیورٹی میں کردار کے حوالے سے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں ایک سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں جنرل کمانڈنگ آفیسر پنوں عاقل ڈویژن میجر جنرل ظفر اﷲ خان نے طلباء و طالبات سے خطاب کیا۔

newsaikdinpkfojksath.jpg 

11
December
فرنٹیئر سکاو ٔٹس کیڈٹ کا لج ورسک میں یومِ والدین کی تقریب
گزشتہ دنوں فرنٹیئر سکائوٹس کیڈٹ کالج ورسک میںیو مِ والدین کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ تھے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہکیڈٹس ہمارا قیمتی اثاثہ اور روشن مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہماری نوجوان نسل انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم و فنون میں مہارت سے آراستہ ہو۔ انہوں نے ادارے کی تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی سراہااور طلبا ء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے حصول کے بعد ملک و قوم کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ تقر یب کے اختتام پر کور کمانڈ ر نے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوںمیں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں ٹرافیاںاور میڈلز بھی تقسیم کئے ۔

newsfrontierscouts.jpg

کمانڈر کراچی کور کا ائیر ڈیفنس بریگیڈملیر گیریژن کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کورلیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزانے ائیر ڈیفنس بریگیڈ ملیر گیریژن کا دورہ کیااور بریگیڈ کے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اُنہیں بریگیڈ کی پیشہ ورانہ تربیتی سرگرمیوں اور انتظامی معاملات پر بریفنگ دی گئی۔

newsfrontierscouts1.jpg

11
December
آرمی ایوی ایشن تربیتی فضائی کورس کی تقریب

گزشتہ دنوں آرمی ایوی ایشن سکول گوجرانوالہ چھائونی میںآرمی ایوی ایشن کے بنیادی تربیتی فضائی کورس

P-58

کی تکمیل پر تقریب منعقد ہوئی جس میں کمانڈر گوجرانوالہ کور لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ کمانڈر گوجرانوالہ کور لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق نے تربیت مکمل کرنے والے پائلٹس کو انفرادی طور پر ایوی ایشن کے خصوصی نشان سے نوازا۔ اس موقع پر انہوں نے بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران کو ٹرافیاں بھی دیں ۔

مہمانِ خصوصی نے خطاب کرتے ہوئے آرمی ایوی ایشن سکول کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ تقریب میں آرمی ایوی ایشن کے آفیسرز کے علاوہ گوجرانوالہ گیریژن کے آفیسرز وفیملیز اور تربیت مکمل کرنے والے آفیسرز کے عزیزواقارب نے بھی شرکت کی۔

newsarmyaviation.jpg

ڈی جی رینجرز ڈسٹرکٹ ہاکی لیگ کی اختتامی تقریب
گزشتہ دنوں پاکستان رینجرز (سندھ) کی جانب سے کے ایچ اے ا سٹیڈیم گلشن اقبال میں ڈی جی رینجرز ڈسٹرکٹ ہاکی لیگ کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈی جی رینجرز (سندھ ) میجر جنرل محمد سعیدتھے۔ فائنل میچ ڈی جی رینجرز الیون اورڈسٹرکٹ ویسٹ کی ٹیموں کے مابین کھیلا گیاجس میں رینجرز الیون کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔ مہمانِ خصوصی نے میچ کے اختتام پر فاتح ٹیم کو ٹرافی کے ساتھ 5لاکھ روپے جبکہ رنر اَپ ٹیم کو ٹرافی کے ساتھ 3لاکھ روپے ، بیسٹ اسکورر اور بیسٹ گول کیپر کو پچاس ،پچاس ہزار روپے کے انعامات سے نوازا جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں بھی میڈلز تقسیم کئے گئے۔

newsarmyaviation1.jpg

11
December
کمانڈر پشاور کور کا دورۂ باجوڑ ایجنسی
گزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے باجوڑ ایجنسی کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ آئی جی ایف سی (این) میجر جنرل وسیم اشرف نے ایجنسی میں امن وامان کی مجموعی صورتحال پر انہیں بریفنگ دی۔ کور کمانڈر نے سخت مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود دفاعِ وطن میں مصروف ٹروپس کے عزم و حوصلے کو سراہا۔ ٹروپس سے خطاب کے دوران انہوں نے ٹروپس کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

newscomanpeshwarbajor.jpg

فرنٹیئر کور کے زیرِ اہتمام کمبیٹ لیڈی سولجرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ
گزشتہ دنوں فرنٹیئر کور کے زیرِ اہتمام لیڈی سولجرز کے دوسرے بیچ کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ بیگم انسپکٹر جنرل فرنٹئیر کور، کے پی (نارتھ) تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں۔ پاسنگ آئوٹ پریڈ کا انعقاد ''سکائوٹس ٹریننگ اکیڈمی۔ وارسک'' میں کیا گیا۔ لیڈی سولجرز کے دوسرے بیچ سے کل تیس ''کمبیٹ لیڈی سولجرز'' نے تربیتی کامیابی کے بعد پاسنگ آئوٹ پریڈ میں حصہ لیا۔ مہمانِ خصوصی بیگم انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کورکے پی (نارتھ) نے لیڈی سولجر جمیلہ کو مجموعی طور پر بہترین کارکردگی پر انسپکٹر جنرل فرنٹئیر کور کی اعزازی شمشیر سے بھی نوازا۔ تقریب میں فوجی و سول عہدیداران اور لیڈی سولجرز کے عزیز و اقارب کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مجموعی طور پر تربیت کے معیار کو سراہا۔

newscomanpeshwarbajor1.jpg 

11
December
مجاہد فورس کے اولین کرنل کمانڈنٹ کی تعیناتی
گزشتہ دنوں مجاہد فورس سنٹر بھمبر میں پہلے کرنل کمانڈنٹ آف مجاہد فورس کی تعیناتی کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کمانڈر راولپنڈی کور، لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کو پہلا کرنل کمانڈنٹ آف مجاہد فورس مقرر کیا۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بعدازاں چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے خطاب میںمجاہد فورس کی، خصوصاً لائن آف کنٹرول کے حوالے سے، کارکردگی اور قربانیوں کو سراہا۔ قبل ازیں چیف آف آرمی سٹاف نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی بھی کی۔

newsmujahidforcekaw.jpg 

ملٹری پولیس کور کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

گزشتہ دنوں ڈیرہ اسماعیل خان سنٹر میں ملٹری پولیس کورکی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل پرسونل سروسز
(Personnel Services)
اور پرووسٹ مارشل
(Provost Marshal)
میجرجنرل نادر خان تھے۔ اس موقع پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملٹری پولیس پاک فوج میںنظم و ضبط کی نگران ہے اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نعرے ''انصباط'' کے مطابق نظم و ضبط کو قائم رکھیں۔
مہمانِ خصوصی نے پریڈ کا معائنہ کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newsmujahidforcekaw1.jpg

11
December
کمانڈرملتان کور کا مظفرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز پر فوجی مشقوں کا معائنہ
گزشتہ دنوں کمانڈر ملتان کور لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ ڈوگر نے مظفرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز پرفوجی مشقوں کا معائنہ کیا ۔ مشقوں میں آرمڈ فورسز ،آرٹلری ،بکتربند، ائیر ڈیفنس اور انفینٹری بٹالین کے دستوںنے حصہ لیا ۔ جوانوں نے اپنی جنگی مہارتوں اور صلاحیتوںکا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیموپیش کیا ۔ کمانڈر ملتان کور نے جوانوں کی پیشہ ورانہ اہلیت وتربیتی معیار کی تعریف کی اور ان کی جنگی مہارت کو سراہا۔

newscomndermultancoreka.jpg

11
December
مزارِ اقبال پر اعزازی گارڈ کے فرائض سنبھالے جانے کی تقریب

گزشتہ دنوں شاعر مشرق حکیم الامت علا مہ محمد اقبال کے یو مِ و لاد ت کے سلسلے میں مز ار پر ایک پروقار تقر یب منعقد ہو ئی ۔ کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے مز ار اقبال پر پھو لو ں کی چا د ر چڑ ھا ئی اور اُ ن کے ایصا لِ ثو اب کے لئے فا تحہ پڑ ھی ۔

اس مو قع پر پا کستا ن نیو ی کے ایک چا ق چو بند د ستے نے پا کستا ن رینجرز پنجاب سے اعزازی گا ر ڈ کے فر ائض سنبھا لے اور سلا می پیش کی۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز (پنجاب) میجر جنرل اظہر نو یدحیات خان، گیریژن کمانڈر لاہور میجر جنرل محمد عامر اور اسٹیشن کمانڈرنیوی کموڈور ساجد محمودشہزادنے بھی مزار پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔

newsmizareiqbaler.jpg

باجوڑایجنسی کے طلباء کا ہیڈکوارٹرز ایف سی اور قلعہ بالاہسار کا دورہ
گزشتہ دنوں فرنٹیئر کور کے پی، کے زیر اہتمام باجوڑ ایجنسی کے طلباء نے تاریخی قلعہ بالاہسار اور ہیڈکوارٹرز ایف سی کے پی پشاور کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد طلباء کو تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ معلومات فراہم کرنا اور دورِ جدید کے تعلیمی نظام سے آگاہ کرنا تھا۔ اس دوران طلباء نے قلعہ بالاہسار میوزیم کا بھی دورہ کیا اور گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے تاریخی ورثے اور ثقافت کی حفاظت کے لئے فرنٹیئر کور کے پی، کی قربانیوں کو بھی سراہا۔

newsmizareiqbaler1.jpg

11
December
پاک فضائیہ کے جے ایف سیونٹین تھنڈر کا دُبئی ائیر شو میں شاندار فضائی مظاہرہ

گزشتہ دنوں شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد کی موجودگی میں 16ویں دُبئی ائیر شو کی افتتاحی تقریب کا انعقادہوا۔ تقریب میں پاک فضائیہ کے جے ایف سیونٹین تھنڈر نے اپنی فضائی کارکردگی سے مسحور کن فضائی مظاہرہ پیش کیا اور غیر معمولی کرتب دکھائے، جن میں مسل کلائیمب تھنڈر ٹرنز، سلو سپیڈ پرفارمنس اینڈ انورٹڈ فلائیٹ
(muscle climb, thunder turns, slow speed performance and inverted flight)
شامل ہیں ۔ پاک فضائیہ نے اپنی کارکردگی سے تماشائیوں پر سحر طاری کر دیا۔ مظاہرے کے بعد جب طیارہ واپس آیا تو پُرجوش شائقین نے تالیاں بجا کر داد دی۔ تقریب میں تمام ہتھیاروں سے لیس جے ایف سیونٹین طیارہ زمین پر شائقین کے لئے مرکز نگاہ بنا رہا۔ جے ایف سیونٹین تھنڈر کے علاوہ جدید ترین تربیتی طیارہ سُپر مشاق بھی پانچ روز جاری رہنے والے اس ائیر شو میں نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔ ائیر مارشل احمر شہزاد،چیئرمین پاکستان ائیروناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے بھی اس افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔

newspafairshoweighty.jpg

11
December
گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،شہید میجرمحمد اسحاق کے لاہور میں واقع ان کے گھر گئے اور وہاں ان کے خاندان سے ملاقات کی اورشہید کے ایصال و ثواب کیلئے فاتحہ پڑھی۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ ہمارے افسران اور جوانوں کی وطن کے دفاع کیلئے عظیم قربانیوں سے ہمارا قومی عزم مضبوط ہوا ہے جو دہشت گردوں کی بزدلانہ کاروائیوں سے کمزور نہیں ہوسکتا۔جنہیں ہر قیمت پر شکست دی جائے گی۔

newsmajmishaq.jpg

11
December
الائیڈ آفیسرز سٹاف کورس کالج کوئٹہ کیشرکاء کا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا دورہ
آف میڈیکل سائنسز کا دورہ کیا۔ ان میں سعودی عرب،بنگلہ دیش، برازیل، ایران، اُردن، ملائیشیائ، عمان، فلسطین، سری لنکا، برطانیہ، آسٹریلیا ،بوسنیا،چین، مصر اور دیگر ممالک کے شرکاء شامل تھے۔ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارباب عبدالودود نے غیر ملکی مہمانوں کو خو ش آمدید کہا اور بتایا کہ کمز کالج اپنے طلباء کومعیاری تعلیم مہیا کررہا ہے جو کسی بھی اچھے میڈیکل کالج کا خاصا ہے ۔ کمز نہ صرف پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے غیر ملکی طلبہ کو بھی یہاں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بعدازاں وائس پرنسپل کمانڈر بریگیڈیئر سید ندیم الحق نے الائیڈ آفیسرز کو بریفنگ دی۔اس موقع پر طلباء و طالبات نے ثقافتی پروگرام پیش کیا۔ الائیڈ آفیسرز اور ان کی فیملیز میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔

newsaliedofficestaf.jpg

فرسٹ آرمرڈ ڈیوانٹر یونٹ باکسنگ چیمپیئن شپ
گزشتہ دنوں ملتان گیریژن میں فرسٹ آرمرڈ ڈیوانٹر یونٹ باکسنگ چیمپیئن شپ منعقد ہوئی ۔ چیمپیئن شپ میں کل10یونٹوں کے 80کھلاڑیوں نے دس مختلف ویٹ کیٹگری میں حصہ لیا ۔ فرسٹ آرمرڈ ڈیو کی 21 ایس اینڈ ٹی بٹالیننے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے چیمپیئن ٹرافی جیت لی۔ تقریب کے اختتام پربریگیڈ ئیر فیاض فاروق نے پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں میں انعامات تقسیم کئے ۔

newsaliedofficestaf1.jpg

08
December
جنرل زبیر محمود حیات رجمنٹ آف آرٹلری کے کرنل انچیف مقرر
گزشتہ دنوں آرٹلری سنٹر اٹک میں تھرڈ کرنل اِنچیف آف رجمنٹ آف آرٹلری کی تقریب منعقد ہوئی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کو اِس موقع پر تھرڈ کرنل اِن چیف آف رجمنٹ آف آرٹلری کے رینک لگائے گئے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ آرٹلری کور کی فلاح اور استحکام کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس تقریب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل میاں ہلال حسین کو بھی کرنل کمانڈنٹ کے رینک لگائے گئے۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کے علاوہ جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newscjstoarterly.jpg

کرنل کمانڈنٹ آف ملٹری پولیس کور کی تقریب
گزشتہ دنوں ملٹری پولیس ٹریننگ سنٹر ڈیرہ اسماعیل خان میں کرنل کمانڈنٹ کی تقریب منعقد ہوئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر ایڈجوٹینٹ جنرل آف پاکستان آرمی کو کرنل کمانڈنٹ آف ملٹری پولیس کے رینک لگائے۔

newscjstoarterly1.jpg

08
December

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

شالا مسافر کوئی نہ تھیوے
پوسٹنگ کے ضمن میں اللہ میاں نے ایم ایس برانچ کو خصوصی طور پر فری ہینڈ سے نواز رکھا ہے۔ ہم تو اپنے اور بیشمار ساتھیوں کے تجر بے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افسر کی پوسٹنگ کبھی بھی اس شہر میں نہیں آتی جس کے لئے دل و جان سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ افسر کو چارو ناچار اسی پوسٹنگ پر آمنا و صدّقنا کہنا ہوتا ہے جو اس کے اور فیملی سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ بقول غالب پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق۔۔۔ آدمی ہمارا کوئی دم تحریر بھی تھا؟۔ پوسٹنگ موصول ہوتے ہی پرانا سٹیشن اجنبی سا محسوس ہونے لگتا ہے اور ''چل اڑ جا رے پنچھی'' والی فیلنگ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ دریں اثنا چار کاموں کا فی الفور آغاز ہوجاتا ہے یعنی رونا دھونا، کلئیرنس ،پیکنگ اور ٹرک کی تلاش۔ نئی پوسٹنگ پر بیگم کا رونا دھونا اپنی جگہ ایک مصمم حقیقت ہے۔ رونے دھونے کی مقدار نئے سٹیشن کے میکے سے فاصلے سے براہ راست اور سسرال سے فاصلے سے معکوس متناسب ہوا کرتی ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دیرتو زور و شور سے جاری رہتا ہے پھر دھیرے دھیرے بیمار کو'بے وجہ قرار' آ ہی جاتا ہے۔ اس کی وجہ عموماً نئے شہر میں موجود شاپنگ کی معلومات ہوتی ہیں جو لیڈیز کلب کے توسط سے بیگم تک پہنچتی ہیں۔
یہ بات بھی تجربے سے ثابت ہے کہ حکومت سے پیسہ وصول کرنا تو ناکوں چنے چبانے کے برابر ہے ہی لیکن سرکاری واجبات کی ادائیگی بھی جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ کلئیرنس کروانے کے لئے ایسے ایسے محکموں کے چکر لگانے پڑتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ جس دفتر کا آپ کو نام بھی معلوم نہیں ہوتا، پتہ چلتا ہے کہ آپ کی طرف ان کے بھی ہزار دو ہزار نکلتے ہیں۔ چلتے چلتے جوتیاں گھس جاتی ہیں لیکن گوہر مقصود ہاتھ نہیں آتا۔ جس دفتر میں بھی کلئیرنس فارم روانہ کیا جاتا ہے وہاں سے جواب ملتا ہے کہ ہم تو سب سے آخر میں دستخط کریں گے۔ یہ نکتہ ہماری سمجھ میں آج تک نہیں آیا کہ جب سب ہی آخر میں دستخط کریں گے تو پہلے کون کرے گا؟ جو افسران اس صحرا میں خود سے آبلہ پائی کرنے نکل پڑتے ہیں وہ ایک آدھ دن میں ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے توبہ توبہ کر اٹھتے ہیں اور یہ کام اپنے کسی 'سیانے' حوالدار کو سونپ دیتے ہیں جو چند 'آزمودہ' نسخے آزمانے کے بعد یہ مرحلہ طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس دوران افسر کی جیب خاطر خواہ حد تک ہلکی ہو چکی ہوتی ہے۔
سامان کی پیکنگ ایک انتہائی ٹیکنیکل قسم کا کام ہے اور ہم سے قسم لے لیجئے کہ یہ آئی ایس ایس بی پاس کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ سو سو طرح کے تجربات سے گزر کر ہی بندہ اس کام میں مہارت حاصل کرپاتا ہے۔ ہرپوسٹنگ پر سامان کے لئے نئی پیکنگ بنوانا پڑتی ہے کیونکہ پرانی پیکنگ دو سال کے عرصے میں سٹور میں پڑی پڑی یا تو گل سڑ جاتی ہے یا'نادیدہ قوتوں' کے ہاتھ لگ کر غائب ہو جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے آرڈیننس والوں سے جان پہچان نکال کر پرانے کمبل بھی بہم پہنچائے جاتے ہیں اور کارپینٹر سے کریٹ بنوانے کا فریضہ بھی سر انجام دیا جاتا ہے۔ سامان کو لاکھ حفاظتی پردوں میں بھی پیک کر دیا جائے تب بھی اس کے بحفاظت منزل مقصود تک پہنچنے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ واقفان حال شاہد ہیں کہ جہیز کی کسی چیز کو معمولی خراش بھی پہنچ جائے تو بیگمات کے لئے وہ صدمہ ابدی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان تمام خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیکنگ کے لئے خصوصی ٹیم کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے گھر کی چیزیں کمبلوں میں لپٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس گھر کو آپ نے دو تین سال تک ارمانوں سے سجایا ہوتا ہے اسے یوں ویران ہوتے دیکھ کر سینے پر سانپ لوٹتے ہیں لیکن بادل نخواستہ یہ عمل جاری رکھا جاتا ہے۔


سامان کی پرانے سٹیشن سے نئے سٹیشن تک ترسیل کے لئے مناسب سواری کا بندوبست کرنا بھی گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ یہ عمل لگ بھگ قربانی کا بکرا ڈھونڈنے جیسا ہی ہوتا ہے۔ افسر کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی کم خرچ بالا نشین قسم کا ٹرک اس مقصد کے لئے حاصل ہو جائے چنانچہ تمام دوستوں یاروں اور دور نزدیک کے جاننے والوں کو ٹرک والوں سے گفت و شنید کا ٹاسک دے دیا جاتا ہے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد ۔ نئے شہر کا نام سنتے ہی ٹرک والے جس رقم کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اس سے بہترتو یہ لگتا ہے کہ بندہ تمام سامان فقیروں میں تقسیم کر کے خالی ہاتھ نئے ڈیوٹی سٹیشن پر پہنچ جائے اور وہاں جا کر پورے کا پورا سامان دوبارہ خرید لے۔ لیکن کیا کریں ایسا چاہتے ہوئے بھی ممکن نہیں ہوتا کیوں کہ اس سامان میں وافر حصہ بیگم کے جہیز کا ہوتا ہے جس سے جدائی انہیں کسی طور گوارا نہیں ہوتی۔ کافی ردو کد کے بعد بجٹ کے ڈیڑھ گنا حد میں ایک عدد ٹرک مہیا ہو ہی جاتا ہے۔ خدا خدا کر کے وہ دن بھی آ ہی جاتا ہے جب ٹرک گھر کے دروازے پر آن موجود ہوتا ہے۔ اب سامان کو ٹرک میں لوڈ کرنے کا آغاز ہوتا ہے جو کہ نہایت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ سامان کو ایک خاص ترتیب سے مرحلہ وار ٹرک میں لوڈ کرایا جاتا ہے۔ صوفے کی جگہ بنانے کی کوشش میں فرج سوار ہونے سے رہ جاتا ہے اور جہیز کی پیٹی کو ترجیح دیں تو ڈائئنگ ٹیبل کو نیچے اتارنا پڑتا ہے۔ اس مرحلے پر بیگم ہمارے کتابوں والے ٹرنک کو سو سو صلواتیں سناتی ہیں اور اسے ٹرک بدر کروا کے ہی دم لیتی ہیں۔ تمام تر کوشش کے باوجود آخر میں بہت سا سامان بچ جاتا ہے جسے موقع پر ہی مستحقین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
بالآخر ٹرک روانہ ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے افسر بمع فیملی پرانے سٹیشن کو خدا حافظ کر کے اپنی ذاتی گاڑی میں نئے سٹیشن کے لئے روانہ ہوجاتا ہے۔ نئے سٹیشن پر پہنچ کر سامان کسی سٹور میں رکھوایا جاتا ہے۔ اگر گھر الاٹ ہونے میں کچھ دیر ہو تو تب تک کا وقت میس کے ایک کمرے والے گیسٹ روم میں گزارا جاتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی سٹیشن پر آپ کو چار بیڈ روم کا گھر مل جائے جبکہ دوسرے سٹیشن پر آپ دو کمروں کے فلیٹ میں ڈیرہ جمانے پر مجبور ہوں۔ ایسے میں ہر بار پردے اور قالین گھر کے سائز کے حساب سے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔ نئے گھر کو نئے سرے سے رنگ و روغن کروا کر بڑے چائو سے تیار کیا جاتا ہے۔ تمام اشیاء کی پیکنگ کھولی جاتی ہے۔ ٹوٹی ہوئی اشیاء پر آنسو بہائے جاتے ہیں اور بچ جانے والی چیزوں پر شکرانے کے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ گھر کو نئے شہر کی مناسبت سے خوب سجایا سنوارا جاتا ہے، فون، کیبل، بجلی، گیس کے کنکشن لگوائے جاتے ہیں اور بچوں کے داخلے کرائے جاتے ہیں۔ زندگی نئے سرے سے شروع ہوتی ہے، پرانے دوستوں کو بھلا کرنئے دوست بنائے جاتے ہیں اور نت نئی دلچسپیاں اختیار کی جاتی ہیں۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہتا ہے، دو سال گویا پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں اور پھر اچانک ایک دن بیٹھے بٹھائے۔۔۔۔۔۔ نئی پوسٹنگ آ جاتی ہے۔


ہینڈنگ ٹیکنگ
فوج میں ایک بار داخلہ ہی اپنی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد اپنی مرضی چلانے کا موقع شاذو نادر ہی مل پاتا ہے۔ پوسٹنگ ، ٹرانسفر ایک معمول کی بات ہوتی ہے جس میں سٹیشن اور وقت کا انتخاب افسر کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ ہر پوسٹنگ اور ٹرانسفر سے ایک چیزلازماً جڑی ہوتی ہے اور وہ ہے جانے والے کا نئے آنے والے کو چارج سونپنا جسے عرف عام میں ہینڈنگ ٹیکنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس دو الفاظ کے مجموعے میں کتنے حشر پوشیدہ ہیں وہ تو واقفانِ حال ہی بہتر جانتے ہیں۔ہینڈنگ ٹیکنگ انفرادی بھی ہوتی ہے اورپوری یونٹ کی بھی۔اب دو تین سال کی پوسٹنگ کے دوران ایک سٹیشن پر رہتے ہوئے بہت سی چیزیں ایشو کروائی جاتی ہیں جن کو مکمل چلتی حالت میں نئے آنے والے فرد یا یونٹ کے حوالے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہینڈنگ ٹیکنگ میں چارج پر موجود تمام منقولہ و غیر منقولہ اشیاء کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔اگر کوئی چیز ناموجود ہو یا اس کا کوئی کل پرزہ ڈھیلا ہو تو جان نہیں چھٹتی بلکہ اکثر اوقات بات اوپر تک پہنچ جاتی ہے چنانچہ اس تمام عمل کے دوران عزت سادات دائو پر لگی رہتی ہے۔دینے والے چیزیں پوری کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ لینے والے بھلی چنگی چیزوں میں نقص نکال کر ایک طرف رکھتے چلے جاتے ہیں۔ خیر یہ سلسلہ کچھ دیر جاری رہ کر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے اور کچھ لو کچھ دو کے اصول کو اپنا کر درمیانہ راستہ نکال ہی لیا جاتا ہے۔
سیاچن میں ہم ایک مرتبہ پوسٹ پر پہنچے تو ہمیں وہاں پہلے سے موجود کیپٹن امین کے ساتھ ہینڈنگ ٹیکنگ کرنا پڑی۔ کیپٹن امین اگلی صبح ہمیں اگلو سے باہر لے گئے اور فرمانے لگے کہ اس پوسٹ پر صرف اگلو ہی برف سے باہر ہے باقی ہر چیز برف کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ میں تمہیں جگہوں کی نشاندہی کر دیتا ہوں اگر تم چاہو تو کھود کر نکال لو اور گن کر اپنی تسلی کر لو۔اب بھلا 19 ہزار فٹ کی بلندی پر کون ہو گا جو برف کھود کر راشن کے تھیلے دریافت کرے اور کولمبس ثانی کہلائے۔چنانچہ ہم نے اچھے فرمانبردار جونئیر کی طرح سر تسلیم خم کر دیا کیوں کہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا اور یوں عسکری تاریخ کی یہ مختصر ترین ہینڈنگ ٹیکنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ پوسٹ پر ہم نے تین مہینے جوں توں کر کے گزارے اورادھر ادھر کھود کھود کر ضرورت کے مطابق راشن دریافت کرتے رہے۔ ہوتا کچھ یوں کہ جہاں دال برآمد کرنے کے لئے کھدائی کرتے وہاں پکی پکائی سبزی کے ڈبے ہمارا منہ چڑاتے نظر آتے اور جس جگہ کیپٹن امین نے گھی کے ڈبوں کا بتایا تھا وہاں سے انرجائل کے ڈبے نکل آتے۔ خیریونہی کرتے کراتے ہمارا وقت مکمل ہوا اور ہماری ریلیف کے طور پر کیپٹن ارسلان تشریف لے آئے۔ ہم نے بھی پرانے طریقے کے مطابق ان کو راشن وغیرہ کی نشاندہی کی اور ہنستے کھیلتے پوسٹ کو خداحافظ کہا۔ ہماری کیپٹن ارسلان سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی کہ ان سے پوچھتے کہ برف کے اس موئن جوداڑو سے انہوں نے مزید کیا کچھ برآمد کیا۔

جاری ہے۔۔۔۔

 
08
December

تحریر: ڈاکٹر ہمامیر

جب تک ہم یورپ نہیں گئے تھے، بلکہ یوں کہئے جب تک ہم اٹلی کے شہر وینس نہیں گئے تھے ہمیں اندازہ نہیںتھا کہ فلموں میں اور حقیقی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اکثر فلمی گانوں میں وینس میں کشتی میں ہیرو ، ہیروئن بیٹھے رومانوی گیت گا رہے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ وینس کا شہر پانی میں گھرا ہوا ہے، یہاں عمارتیں، ہوٹل سب پانی کے اوپر ہیں اور گاڑیوں کے بجائے لوگ کشتی میں سفر کرتے ہیں۔ وینس118 جزیروں پر مشتمل شہر ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے بذریعہ پل ایک دوسرے سے جڑے ہیں اور ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔ہمیں بہت شوق تھا کہ وینس کی خوبصورتی دیکھیں، وہاں کی مشہور کشتی گنڈولا
(Gondola)
میں بیٹھیں، جس میں بیٹھ کر ہیروئن لہر ا لہرا کے گیت گاتی ہے۔2013 میں ہم پہلی بار یورپ کے دورے پر گئے اور بطور خاص وینس گئے جہاں دھوپ، گرمی اور حبس نے چودہ طبق روشن کردیئے، مگر ہم نے ہنسی خوشی یہ گرمی برداشت کی کہ گنڈولا میں بیٹھیں گے تو مزا آجائے گا۔ مگر صاحبو ! ہوا یوں کہ مہنگا ٹکٹ خرید کر جب اس گنڈولا میں بیٹھے تو ناخدا نے سختی سے تنبیہہ کی کہ کوئی کھڑا نہ ہو، سب آرام سے بیٹھ جائیں۔ ہم نے کئی بار کوشش کی کہ کم از کم ایک آدھ تصویر ذرا کھڑے ہوکر بنالیں مگر ہر بار ہمیں بٹھا دیاگیا۔ سارے موڈکا ستیاناس ہوگیا، ایک تو گرمی، پسینہ اوپر سے مہنگا ٹکٹ، پھر ہلنے جلنے پر پابندی۔ جانے فلموں میں کیسے شوٹنگ ہوتی ہوگی۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف رہا ہمارا سفرِوینس!!! یہ وینس کا ذکر ہم یوں کررہے ہیں کہ کینیڈاآنے سے قبل ہمیں سردیاں اور برفباری بہت اچھی لگتی تھی۔ کراچی میں تو بالکل ٹھنڈ نہیں پڑتی لہٰذا برفباری پسند ہونا قدرتی بات ہے۔ ایک تو فلموں کا ہمارے دل و دماغ پر بہت اثر ہوتا ہے، فلموں میں ہیرو، ہیروئن برف میں گانے گاتے ہیں، ہیرو تو خیر خوب گرم کپڑے مثلاً اوور کوٹ، مفلر، اونی دستانے وغیرہ پہنے ہوتا ہے، جبکہ ظالم ہدایتکار نے ہیروئن کو شیفون کی ساڑھی پہنا رکھی ہوتی ہے۔ وہ غریب برف میں ایسے آرام سے گھومتی ہے جیسے چاندنی رات میں ساحلِ سمندر پر چہل قدمی کررہی ہو۔
Snow man
بنانا، برف کے گولے ایک دوسرے پر اُچھالنا، برف میں لڑھکنا، یہ سب فلموں میں ہی اچھا لگتا ہے، جب سے ہم نے کینیڈا میں ڈیرہ ڈالا ہے برف اور سردی کے نام سے ہی دانت بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔

desdeskisair.jpg
ایک تو مصیبت یہ ہے کہ یہاں کی شہری حکومت، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت سب اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں لہٰذا نہ بارش کا پانی کہیں کھڑا ہوتا ہے نہ برف کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں۔
Heating System
بھی عمدہ ہوتا ہے، کمبخت بجلی بھی نہیں جاتی لہٰذا کوئی بہانہ نہیں چلتا اور دفتر ٹائم پہ ہی پہنچنا پڑتاہے۔ ٹرانسپورٹ والے بھی آرام سے ڈیوٹی کرتے ہیں، پہیہ جام یا ہڑتال بھی نہیں ہوتی، کچھ بھی ہوجائے،بندے کو ڈیوٹی پر ٹائم پہ ہی پہنچنا ہوتا ہے چاہے آندھی ہو یا طوفان، کاروبارِحیات چلتا رہتا ہے۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوجاتی ہیں، سورج صبح 8 بجے نکلتا ہے اور بادلوں میں ڈھکا رہتا ہے۔ ہمیں تو اب اس برفباری سے وحشت سی ہونے لگی ہے۔ کہیں بھی جانا ہو تو پہلے گھر کے باہر سے اور گاڑی پر سے برف صاف کرو۔ پھر گاڑی سٹارٹ کرکے پانچ دس منٹ کے لئے چھوڑ دو، جب انجن گرم ہو جائے پھر ہیٹر آن کرکے منزل مقصود پہ روانہ ہوجائو۔ بھلے ساری مشقت میں اپنی قلفی جم جائے لیکن کرنا یہی پڑتا ہے۔ پاکستان میں تو الگ ہی لائف اسٹائل ہوتا ہے، گاڑی صاف کرنا، چمکانا، آپ کو منزلِ مقصود پہ پہنچانا، یہ سب کام ڈرائیور کرلیتا ہے، گھر کی صفائی ستھرائی یا دیگر امور کے لئے بھی ملازمین بآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔ کینیڈا میں مشکل یہ ہے کہ سارا کام خود کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کوئی مالی، ماسی، چوکیدار یا ڈرائیور نہیں ہوتا۔ یہاں تو ٹوائلٹ بھی خود صاف کرنا ہوتا ہے۔ کھانا پکانا، گھر کی صفائی، لان کی دیکھ بھال، ملازمت، ہر وقت لگتا ہے کہ بس کام، کام اورکام۔ اسی باعث یہاں کے لوگ فارغ الذہن نہیں ہوتے اس لئے شیطان کا گھر نہیں بنتا۔ یہاں کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ دیکھے کہ فلاں نے کیا پہنا ہے، فلاں کے یہاں کیا پکا ، فلاں کی ساس بہو سے جھگڑ تو نہیں رہی؟ فلاں کیا کررہا ہے۔ کسی کو کسی کی پروا ہے نہ ٹوہ، ہر کوئی اپنے آپ میں مگن ہے۔ یہ مجبوری ہے کیونکہ یہاں وہ سسٹم تو نہیں کہ ایک کمائے دس کھائیں۔ اگر ایک گھر میں دس افراد ہیں تو دس کے دس کوکمانا ہوگا۔ سٹوڈنٹس بھی کام کرتے ہیں کیونکہ ہائی سکول تک تو تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے اور مفت ہے مگر یونیورسٹی کے لئے فیس دینی ہوتی ہے۔


یہاں کینیڈا میں والدین اپنے بچے کی یونیورسٹی کی فیس ادا نہیں کرتے لہٰذا بچے کو خود کما کے اپنے اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں۔ مقامی بچے بہت حیرت کرتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ دیسی والدین بچوں کی کفالت کرتے ہیں۔ پاکستان میںساری زندگی والدین بچوں کو پالتے ہیں جبکہ یہاں بچہ اٹھارہ برس کا ہوا اور اس نے الگ ٹھکانہ کرلیا۔ یہ آزادی عجیب ہے، بچہ سمجھتا ہے میں بڑا ہوگیا لہٰذا اب میں آزاد ہوں، اب کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی پابندی نہیں۔ اس قسم کی آزادی کے نتائج وہ نکلتے ہیں جو مشرقی اور اسلامی اقدار کے منافی ہیں۔ اکثر ہم یہ سوچتے ہیں کہ مشرق اور مغرب میں بہت فرق ہے، ہمیں اپنا پن اور مروّت بالکل نظر نہیں آتی۔ بس ایک مشینی زندگی ہے اور وہ بھی صرف اپنے لئے۔ جب ہم نئے نئے آئے تھے تو ایک مرتبہ بس میں کہیں جارہے تھے۔ وہاں ہم نے ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا جو بہت خوبصورت اور نوعمر تھی۔ اس نے اپنا ایک چوتھائی سر گنجاکر رکھا تھا اور باقی سر کے بالوں کو گہرا نیلا اور سبز رنگا تھا۔ اُس لڑکی نے جو ہمیں اپنی طرف بغور دیکھتے ہوئے دیکھا تو بھڑک گئی۔ اس نے وہ مغلظات بکیں کہ توبہ توبہ۔ ہم شرمندہ ہو کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
اب ایک اور واقعہ، یہ بھی بس میں پیش آیا۔ گرمیوں کے دن تھے، ہم رات کے وقت گھر واپس جارہے تھے۔ ہمیںبس کی عقبی حصے میں سیٹ خالی نظر آئی تو وہیں جاکر بیٹھ گئے۔ ہمارے سامنے ایک نوجوان سیاہ فام لڑکی بیٹھی تھی جس کے ہاتھ میں موبائل، کان میں ہیڈ فون اور پشت پہ بیک پیک تھا۔ وہ حلیے سے یقیناً کوئی طالبہ لگ رہی تھی۔ اس نے فون پر باتیں کرتے کرتے دھڑ سے اپنے پائوں ہماری جانب بڑھائے اور ساتھ والی نشست پر رکھ دیئے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ اُس کے جوتے بالکل ہماری سائیڈ پر تھے۔ ہم دنگ رہ گئے، پاکستان میں کوئی جاہل بھی ہوگا تو کبھی دوسرے کے منہ کے آگے جوتے کرکے نہیں بیٹھے گا۔ یہاں تعلیمی اداروں میں جو علم سکھایا جارہا ہے وہ اپنی جگہ لیکن اگر کسی نے یہ بھی نہ سیکھا کہ ادب، لحاظ، تمیز کس چڑیا کانام ہے تو کیا فائدہ ایسی ڈگریوں کا۔ ہم سے یہ بدتمیزی برداشت نہ ہوئی اور ہم نے اُس کو پیر ہٹانے کے لئے کہا، اُس لڑکی نے سُنی اَن سُنی کردی، مجبوراً ہمیںنشست تبدیل کرنی پڑی۔ یہ واقعات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین جان سکیں کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کتنی ضروری ہے۔ تربیت کا جو معیار ہمارے یہاں ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ اکثر ہمارے (پاکستانی فیملیز کے) بچے بھی بڑوں کو سلام نہیں کرتے۔ اگر آپ بچے کے دوست ہیں تو بچہ آپ کو ہیلو کہے گا، اگر آپ بچے کے والد یاوالدہ کے دوست ہیں توسلام کرنا تو دُور کی بات، بچہ آپ کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر پاکستانی اور مسلمان خاندان اپنے بچوں کی پرورش بہت عمدہ انداز سے کررہے ہیں۔ بچوں کو بنیادی ادب آداب کے علاوہ مذہب کی تعلیم بھی دے رہے ہیں۔ وطنِ عزیز میں بچے کو سنبھالنے والے بہت عزیز رشتہ دار ہوتے ہیں جبکہ کینیڈا میں ڈے کیئر سینٹرز اس ذمہ داری کو نبھارہے ہیں۔ چونکہ ماں جاب کرتی ہے اور باپ (اگر ساتھ ہو تو) بھی جاب کرتا ہے لہٰذا بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ڈے کیئرسینٹر ہی موزوں ہے۔ بیشتر پاکستانی اس منفعت بخش کاروبار سے منسلک ہیں۔
اب ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آگیا ہے کہ کیوں بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی اپنے بچوں کی شادیاں پاکستان میں ہی کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ یہاں کی نوجوان نسل مکمل گمراہی میں ڈوبی ہوئی ہے لیکن ایک بنیادی فرق جو نمایاں ہے وہ سوچ کا ہے۔ کینیڈا میں پلنے بڑھنے والے نوجوان شخص آزادی، فکری آزادی، دو ٹوک بات کرنے، اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں بزرگ اپنی مرضی بچوں یا نوجوانوں پر ہرگز مسلط نہیں کرسکتے۔ پاکستان میں ہر معاملے میں بزرگوں یا والدین کا فیصلہ ہی چلتا ہے کہ بچہ کیا پڑھے گا، کیا بنے گا، کہاں اور کس سے شادی کرے گا۔ جبکہ یہاں یہ رواج نہیں۔ کینیڈا میں بسنے والے زندگی تو یہاں بسر کررہے ہیں، مگر وہ لوگ جو عرصۂ دراز سے یہاں مقیم ہیں وہ ذہنی طور پر پاکستان کی ہی تہذیب و روایات کا پاس کر رہے ہیں، ایسے میں جب اُن کی اولاد مختلف سوچ کی حامی ہو تو دو تہذیبوں، دو افکار اور دو نسلوں کا ٹکرائو ہونا فطری سی بات ہے۔

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہُوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تُو

مری مثال کہ اک نخلِ خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخِ چمن کا طائر تُو

میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تُو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تُو

فضا اُداس ہے رُت مضمحل ہے میں چپ ہُوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تُو

فراز تُو نے اُسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تُو

ahmed_faraz.jpg
احمدفراز

*****

 
08
December

تحریر: صائمہ بتول

سائبر کرائم یا کمپیوٹر کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پورے نیٹ ورک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، جس میںملزم، مدعی، مجرم اور ہدف بھی کمپیوٹر ہوتا ہے۔ سائبر کرائم ایسے مجرمانہ فعل کے ارتکاب کو کہا جاتا ہے جس کا ہدف فردِ واحد، ایک تنظیم، گروپ، کمپنی اور ملک ہو سکتا ہے جسے باقاعدہ طے شدہ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بناکر ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی طور پر بالواسطہ یا بلاواسطہ یا دونوں طرح سے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ سائبر کرائم کے وار سے کسی ملک کے حفاظتی اقدامات پر یا کسی قوم کی ثقافت پر وار کیا جاتا ہے۔ یا کسی بھی مذہب پر قدغن لگائی جاسکتی ہے۔ اس میں جدیدہتھیار ٹیلی کمیونیکیشن، نیٹ ورک، انٹر نیٹ، موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ، چیٹ روم،بلوٹوتھ، ایس ایم ایس، ایم ایم ایس، واٹس ایپ، ای میل، لنکڈان، انسٹا گرام اور سیٹلائٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اعلیٰ سطح کے جرائم میں ہیکنگ (دراندازی، توڑ پھوڑ) بڑے پیمانے پر غیر اخلاقی و غیر قانونی نگرانی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی،بچوںسے متعلقہ برہنگی جنسی جرائم، انسانوں کی تجارت، ممالک کی سائبر سرحدوں پر سائبراٹیک کے علاوہ کئی اور جرائم بھی شامل ہیں۔ ذاتی معلومات اور شخصی آزادی بھی اسی مد میں آتے ہیں۔ سائبر کرائم میں مجرم کوئی ایک حکومت بھی ہوسکتی ہے اور کئی کیسوں میں واحد شخص بھی اس کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ جاسوسی اور مالیاتی چوری یا ڈاکے کے علاوہ سرحدوں پر مشکوک سرگرمیاں سائبر وار فیرکہلاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سائبرکرائم کے ذریعے دنیا بھر میں سالانہ445 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ 2016 میں مائیکرو سافٹ کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے فراڈ پر1.5 بلین ڈالر کا نقصان ہوا جو آن لائن دھوکہ دہی میں آتا ہے۔ایک تحقیقاتی ٹیم کے مطابق سائبر کرائم روز بروز بڑھے گا اور2019 تک یہ مجموعی نقصان 2.1 ٹریلین ڈالر تک جاسکتا ہے۔ تاریخ کا بدترین ہیکنگ کمپیوٹر کرائم1970 سے1973 کے دورانیے میں نیویارک کے یونین ڈائم سیونگ بینک میں ہوا جس میں کئی سو اکائونٹس کو نشانہ بنا کر 1.5 ملین ڈالر اڑا لئے گئے۔1983 میں 19 سالہ طالب علم نے اپنے ذاتی کمپیوٹر کی مدد سے ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے کمپیوٹر سسٹم کو باقاعدہ ناکارہ بنا کر دنیا بھر سے اس کا رابطہ توڑ دیا تھا۔ اسی طرح2010 میں اسپین کے ایک تفتیشی افسر نے دو ساتھیوں سے مل کر دنیا بھر کے تقریباً 13ملین کمپیوٹرز کو وائرس سے تباہ کردیا۔ یاد رہے کہ دنیا کا پہلا وائرس(آئی بی ایم کی رپورٹ کے مطابق) 1986 میں لاہور پاکستان کے رہائشی فاروق علوی برادران نے برین کے نام سے بنایا جو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ بہر حال ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم کی درجہ بندی میں چند اور اضافے ہوئے جن کی تفصیل یہ ہے:

newcybercrime.jpg
سائبرٹیررازم، سائبر ایکسٹورشن، سائبر وار فیئر ؤ، کمپیوٹر بطور ٹارگٹ، کمپیوٹربطورٹول ، ای ہراسمنٹ اور ڈرگ ٹریفکنگ۔ یہ سلسلہ جاری ہے جس میں ذہنی، اعصابی، جذباتی اورروحانی طور پر بے راہ روی اور بیماری لاحق کردینے والا تحریری، تصویری اور صوتی آواز والا مواد شامل ہوتا ہے۔ رواں سال مئی 2017 میں 74 ممالک پر شدید نوعیت کا سائبر اٹیک ہوا جس کو
' 'Wanna Cry
'رونے کی خواہش'کانام دیا گیا۔ کمپیوٹر سے وابستہ مثبت اور منفی رجحانات کے ساتھ ساتھ فوائد و نقصانات کا حساب بھی ضروری ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک میں اس جرم کا تدارک، قانون سازی، ہنر، تعلیم و تربیت اور استعمال کا مفید طریقہ اور ادراک بھی ضروری ہے تاہم دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سائبر کرائم سے ہونے والے نقصان، مجرمانہ حرکات، نقل و حمل اور جرائم کی نشاندہی اور استغاثہ ابھی تک ایک مسئلہ ہی ہے جو یقینا بھرپور حل کا منتظر ہے۔ جین لوپ رچٹ
(Jean-Loup Richet)
کمپنی جو سائبر کرائم کے تدارک پر کام کررہی ہے، کے مطابق تکنیکی مہارت، سمجھ بوجھ اور پیچیدہ قسم کی فنی رسائی سائبر کرائم کو مزید مہلک اور گھمبیر ہونے سے روک سکتی ہے۔ ہیکنگ یعنی توڑ پھوڑ اور دراندازی وقت کے ساتھ ساتھ اتنی پیچیدہ اور خطرناک نہیں رہی جتنی ماضی قریب میں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ہیکرز اور اس شعبے سے متعلقہ مختلف لوگوں نے مختلف طریقوں سے واقفیت اورآگاہی سمیت ہوشیار اور چوکنا رہنے کی راہیں ہموارکرلی ہیں جس میں پرنٹ میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک کو استعمال میں لایاگیا۔ اس کے علاوہ کلائوڈ کمپیوٹنگ استعمال کرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے وہ ایک نجی مخصوص سرور کے ساتھ سرور مینجمنٹ نیٹ ورک کنفگریشن سمیت کمپیوٹر کے ماہرین، انٹرنیٹ فروش اور صارفین کا علم بھی رکھتے ہوں۔ کمپیوٹر کو استعمال کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ بہتر، محفوظ اور نسبتاً آسان کمپیوٹنگ کو فروغ دیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک ای میل کا حجم معلوم ہو تو سافٹ ویئر کا حجم ناپاجاسکتا ہے۔ کلائوڈکمپیوٹنگ بھی سائبر کرائم کے حملے سے بچائو کا ایک موثر طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی احتیاط مثلاً بروٹ فورسنگ اور الگورتھم یعنی علمِ ترکیب کے استعمال کے بغیر بھی حفاظتی بند یعنی پاس ورڈ کو تبدیل کرنے سے بھی وائرس یا کسی تخریبی حملے سے بچا جاسکتا ہے۔ اب جدید تفتیش میںکمپیوٹر گواہی، شہادت یا شواہد کے طور پر استعمال ہوتا ہے اورخصوصاً ڈیجیٹل فرانزک کے شعبے میں تو یقینا تفتیش کا سارا دارو مدار کمپیوٹر ہی پر ہوتا ہے۔ کمپیوٹر اگر براہِ راست مجرمانہ نقل و حرکت میں نہ شامل ہو پھر بھی ممکنہ حد تک کمپیوٹر یا فون سے مجرم یاجرم کا پتہ لگانا آسان ہو سکتا ہے۔ اسی لئے بہت سارے ممالک میں انٹرنیٹ کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ خاص وقت تک صارفین سے متعلقہ ضروری کوائف حاصل کرکے اُن کو باقاعدہ ریکارڈ کے طور پر محفوظ رکھیں تاکہ قانونی پہلوئوں اورموشگافیوں میں مدد مل سکے مثال کے طور پر سارے یورپی ممالک میں کم ازکم بارہ مہینے تمام ای میل کی آمد ورفت کا حساب رکھنا ضروری ہے۔


جس طرح سائبر کرائم کے انداز وقوع مختلف اور بے شمار ہیں اسی طرح تفتیش کے طریقے اور معیار بھی جُدا جُدا ہیں مگر سب سے زیادہ آئی پی ایڈریس (انٹرنیشنل پروٹوکول) مشہور اور نسبتاً مؤثر ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر تفتیشی ماہراسی لئے معیار کے ذریعے مقدمے کو حل کرے۔ بعض اوقات بڑے بڑے ہائی ٹیک جرائم میں بہت لوٹیک طریقے اپنائے جاتے ہیں جن کے ذریعے تفتیشی ماہرین جدید دنیا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔ دنیا بھر میں سائبر کرائم کو مزیدقابلِ رسا، لائقِ سمجھ اورقابلِ حل بنانے کے لئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں جس میں ایک چھوٹے سے چھوٹے علاقے سے لے کر بین الاقوامی امدادی اور مشاورتی ادارے سرگرمِ عمل ہیں۔ قانونی استحصال اور کم تعلیم کی وجہ سے مجرموں کا بہترین ہدف تیسری دنیا کے کم یا غیر ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ فلپائن میں سائبر کرائم کا قانون بہت ہی کمزور اور ناقابلِ عمل ہونے کے برابر ہے۔ اسی لئے سائبر کریمنل نہ صرف بین الاقوامی سرحدوں سے اسے نشانہ بنانے میں ناقابلِ شناخت رہتے ہیں بلکہ قانون کے شکنجوں میں بھی نہیں آتے اور اگر پکڑے جائیں تو ناقص قوانین کی وجہ سے قانونی استغاثہ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اسی تناظر میں امریکہ نے سائبر قوانین بنانے میں پہل کی پھر بھی ایف بی آئی کو بین الاقوامی مجرموں سے نبرد آزما ہونے میں مشکل پیش آئی۔ جس کی مثال دو روسی ہیکرز کی گرفتاری کا مشہور کیس ہے جس میں ایف بی آئی کو ایک جعلی کمپنی بنانی پڑی جو سیٹلائٹ کے ذریعے دوسری کئی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتی ہو۔ بڑی تگ و دو کے بعد دونوں روسی مجرموں کو واشنگٹن میں کام کی دعوت دی گئی۔ کافی دلچسپ اور جاذب دعوت سے مستفید ہونے کی نیت سے آنے والے دونوں مجرموں کو انٹرویو کے بعد دفتر کی عمارت کے باہر ہی دھر لیا گیا۔ مگر دوسری جانب کمزور، ناپختہ اور ادھورے قوانین جرائم کے راستے مزید ہموار کرتے ہیں۔ جس طرح میںنے عرض کی کہ پیش گوئی ہے کہ آنے والے سالوں میں کمپیوٹر کا استعمال زیادہ ہوگا اسی طرح متعلقہ جرائم اور سزائوں کا حلقۂ کار بھی وسیع ہوتا جائے گا۔ سائبر کرائم کے زمرے میں بغیر اجازت کے کمپیوٹر کے استعمال سے لے کر کمپیوٹر ٹیمپرنگ
(Tempring)
بھیشامل ہے۔ اسی طرح سزا بھی جرم کی نوعیت کے حساب سے ہے۔ کلاس اے سے لے کر کلاس 'سی' تک مختلف نوعیت کے واقعات شامل ہیں جن کی سزا معمولی حوالات سے بھاری فائن اور 15 سال کی جیل تک ممکن ہے۔ بعض مستند ہیکرز مخبری کرنے والے اداروں کے باقاعدہ ملازم ہیں جو اندر کے بھیدی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ممکنہ طریقہ بھی قانون سازی ہی ہے۔ سزا یافتہ مجرموں کو جیل سے رہائی کے بعد بھی کمپیوٹر خریدنے اور اس پر کام کرنے پر پابندی ہونی چاہئے اور یہ پابندی باقاعدہ عدالت کی طرف سے عائد کی جائے۔


جس طرح روزمرہ کی زندگی میںٹیکنالوجی کا استعمال ترقی کی گاڑی کا پہیہ بن چکا ہے اسی قدر سائبر کرائم کے اندیشے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ خصوصاً بینک اکائونٹ کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کے صارفین ہی اس کا ہدف نہیں بلکہ بڑے بڑے پاور پلانٹ، ایٹمی ہتھیاروں کے گودام، چھائونیاں، حساس ادارے، ہوٹل، دفاتر، خریدو فروخت کی منڈیاں، بڑے بڑے مال اور شہر کے شہر اور ملک کے ملک اس کا ہدف ہوسکتے ہیں۔ اس لئے نہایت ضروری ہے کہ اس موضوع (سائبر کرائم) کے بارے میں آگہی، تعلیم و تربیت، ہوشیار، اور چوکنا رہنے کی تدابیر کی جائیں، مؤثر قوانین بنائے جائیں، عدالت اور وکلاء مختص کئے جائیں تاکہ شہروں اور تعلیمی اداروں میں اس کے فوائد و نقصانات باور کروائے جائیں۔ شکایات کا ازالہ کیا جائے مجرموں کو سزا دی جائے۔ ایف بی آئی کے شکایات کے شعبہ میں2014 میں269,422 شکایات کا اندراج ہوا جس کا مجموعی نقصان073،422، 800ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ سال بھر میں1.5 ملین سائبر حملے ہوئے جس میں4000 مجرمانہ حملے روزانہ،170 حملے فی گھنٹہ اور3 حملے فی منٹ کی رفتار سے ہیں ۔ یہ حملے پر لگائے دنیا بھر کو نقصان پہنچانے کے لئے اڑ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کوئی شخص کہیں بھی اور کسی وجہ سے بھی اس'عفریت' کا نشانہ بن سکتا ہے زیادہ تر 'آن لائن' رہنے والے لوگوں کے لئے اس کی سمجھ بوجھ بہت ضروری ہے۔


پاکستان میں سائبر کرائم بل پاس ہو چکا ہے اور ایف بی آئی پچھلے 15 سال سے ملک کی بیشتر جگہوں پر کام کررہی ہے۔ اس سلسلے میں جدیدیت، سہولت اور ماہرین سمیت ججوں اور وکلاء کی مہارت میں بھی اضافہ ایک انتہائی ضروری امر ہے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

sbatool This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
December

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ اقساط کا خلاصہ
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔


صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیں اور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔


صبا آرمی پبلک سکول میں ٹیچر ہے اور اس کا خاوند ارسلان ایک بنک میں نوکری کرتا ہے۔ دونوں کے بیچ محبت بھری نوک جھونک جاری رہتی ہے۔
مجاہد ایک مدرسے میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔بڑے مولانا صاحب کی ہدایات مدرسے میں کتنی اہمیت رکھتی ہیں،اس کا اندازہ اسے مولوی ثناء اﷲ سے ملنے پر ہوگیا تھا۔وہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔لیکن جلد ہی مجاہد کو بڑے مولانا صاحب کی حقیقت کا علم ہوگیا کہ وہ دین کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا سودا کرتے ہیں۔ اس بات کا ذکر وہ مدرسے میں موجود شکیل بھائی سے کرتا ہے جو اسے اپنی کہانی سنا کر چُپ رہنے کا مشورہ دیتا ہے ۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ یہاں ایسا کوئی نہیں جو اس کی مدد کرے ہر کوئی پیسے کے لئے کام کرتا ہے۔ 

جب فضل، رحمت کی انگلی تھامے مسجدمیں داخل ہوا تو بچے سبق ختم کرکے اٹھ چکے تھے۔ جب کہ قاری صاحب ادھرہی صحن میں چادربچھاکربیٹھے ہوئے تھے۔
''السلام علیکم قاری صاحب۔''فضلونے عقیدت سے سلام کیا۔
'' وعلیکم السلام فضل اللہ کیسے ہو۔آؤ بیٹھو۔'' قاری صاحب نے بچھی ہوئی چادرکے ایک طرف فضل کے لئے جگہ خالی کی۔
''کہواس وقت کیسے آناہوا۔۔۔''
'' قاری صاحب یہ میراچھوٹابیٹاہے رحمت اللہ۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ آپ کی طرح بنے۔ دنیا اور آخرت میں واقعی ہمارے لئے رحمت بن جائے۔۔۔'' فضل نے مدعابیان کیا۔
قا ری ادریس کے چہرے پرایک سایہ ساآکرگزر گیا۔چند لمحوں کے لئے انہوں نے آنکھیں موندھ لی لیں، جیسے کوئی تکلیف پہنچی ہوان کو۔۔۔ یاجیسے مراقبے میں چلے گئے ہوں، لیکن جلد ہی انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔
''فضل اللہ،اللہ اس بچے کوتمہارے اورخاندان کے لئے واقعی رحمت بنا دے لیکن میری طرح نہ بنائے۔'' فضلوکے کانوں میں قاری صاحب کی دکھ بھری آوازگونجی۔ وہ یکدم چونک گیا تھا۔
'' کیاہواقاری صاحب؟؟ میں نے کچھ غلط کہاکیا؟''
''نہیں نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔'' قاری صاحب کواندازاہوگیاتھا کہ فضل بری طرح چونکاہے اورکچھ کھوجناچاہتاہے۔اس لئے جلدی سے انہوں نے موضوع بدل دیا۔
''ا چھاٹھیک ہے فضل اللہ! تم جب چاہوبچے کوبھیج سکتے ہواورچاہوتوآج شام سے ہی۔'' قاری صاحب مسکرائے تھے۔ جیسے وہ ہمیشہ مسکراتے تھے۔ ان کی مسکراہٹ پرفرشتوں کاگمان ہوتا تھا۔
''اچھاٹھیک ہے قاری صاحب۔میں اس کوبھیج دوں گاآج یاکل میں۔ اب چلتاہوں۔اللہ حافظ!''
''اللہ حافظ۔'' قاری صاحب آہستہ سے بولے۔
وہ دونوں باپ بیٹاگھرآگئے تھے۔ لیکن فضلوکے دل میں پھانس سی چبھ گئی تھی۔ باربارقاری صاحب کاچہرہ نظروں کے سامنے آرہاتھا۔ جانے ایسی کیا بات تھی جس سے قاری صاحب کو اتنی تکلیف پہنچی تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات بھی فضلوکویادتھے لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔
لیکن بات زیادہ دیرتک اس کے ذہن میں نہ رہ سکی۔ شام تک وہ بھول ہی گیا۔ اس غریب کی زندگی میں تومسائل کے اوربھی انبارتھے ایسے میں وہ قاری ادریس کے دکھ کوکتنی دیریادرکھ پاتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رحمت اللہ نے قاری ادریس سے سبق پڑھناشروع کردیاتھا۔وہ روزصبح بھی جاتاتھااورشام کو بھی۔ قاری ادریس نے ایک بارکوشش کی کہ فضل رحمت اللہ کوسکول بھی بھیج دیا کرے۔ لیکن اس نے ایک ہی رٹ لگارکھی تھی۔ ''فضل تم اس بچے کوسکول بھی بھیج دیاکرو۔اوررہی پڑھانے کی بات تووہ میں شام کوباقی بچوں کے ساتھ پڑھادیاکروں گا۔شام کوبھی توبچے آتے ہیں نا۔'' اس دن قاری صاحب نے جمعے کی نمازاورخطبے کے بعد فضل کوبٹھاکرکہا۔ ''ارے نہیں قاری صاحب! میں غریب آدمی ہوں۔ میرے بچوں نے کون ساپڑھ کرافسربن جاناہے۔ جومیرے باقی بچے پڑھ رہے ہیں اس سے توبہترہے کہ کوئی نہ ہی پڑھے۔'' فضل کے لہجے میں د کھ تھالیکن سچائی تھی۔
'' کیامطلب؟؟؟''
'' اب دیکھیں ناقاری صاحب۔میرے بیٹے امان اللہ نے دس جماعتیں پڑھ لیں۔ اس سے آگے میری اوقات نہیں تھی۔آج وہ بھی مزدوری کررہاہے۔ اس کے بعدجوبچے پڑھ رہے ہیں ان کوبھی دس جماعتوں سے زیاہ پڑھانے کی ہمت نہیں ہے میری۔ دس جماعتیں پڑھ کروہ کیاکرلیںگے قاری صاحب؟؟؟ اورمیں اس کوبھی داخل کرا دو ں گالیکن ظفرنے پتاکیاہے ابھی داخل ہونے میں سات مہینے رہتے ہیں۔''
'' اچھا ٹھیک ہے لیکن وقت پر داخل کرا دینا اسے۔ایسانہ ہوکہ رہ جائے۔۔''
''جی قاری صاحب داخل کرا دوں گا۔'' اور وہ دونوں باپ بیٹا وہاں سے اٹھ کرآگئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ صبح کی نماز پڑھ کرسیرکے لئے اس میدان میں آگیاجہاں وہ روز آیا کرتا تھا لیکن آج اس کی ہمت گھومنے پھرنے کی نہیں تھی۔وہ جاکرکھلی فضامیں بیٹھ گیا۔ وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھالیکن آج کل ماضی خودہی اس کے پیچھے پڑاہواتھا۔یہاں بھی نہ چاہتے ہوئے ماضی نے ایک بارپھراس کے دماغ میں جھانکا۔
'' مجاہد جلدی آجانا،آج ناشتے کے بعددرس ہوگا۔''حیدرنے اسے نکلتے ہوئے یاددلایا۔
'' کون سادرس؟؟؟؟'' اس نے مڑکرپوچھا:
''جوہرجمعہ کو ہوتاہے اورجس میں ہم لوگ مدرسے کے نئے آنے والوں بچوں کواسلام کی تعلیمات دیتے ہیں؟؟؟''
'' لیکن میں کیسے دے سکتاہوں؟؟؟'' اس نے سرگوشی کی۔
'' جیسے ہرہفتے دیتے ہو۔ بس جلدی آجانا۔''حیدر نے دوبار ہ تنبیہہ کی۔
'' اچھا!''اوروہ نکل گیا۔
ا وراب اس وسیع میدان میں کھلے آسمان تلے، وہ سوچنے لگاکہ اس نے کس سے اورکہاں پر اسلامی تعلیمات لی تھیں؟؟؟اورکیا وہ اس قابل ہے کہ وہ کسی کوتعلیمات دے سکے؟ماضی ایک بارپھراپنی پوری شدت سے حملہ آورہوا۔۔

اب وہ صبح شام قاری ادریس کے پاس جایاکرتا۔ وہ بچہ تھا۔ قاری صاحب کوفکرتھی کہ پانچ سال کابچہ صبح شام کایادکروایاہواسبق یادنہیں رکھ پائے گا۔۔اس کاحل انھوں نے یہ نکالا کہ صبح اس کو باقی ترجمہ پڑھنے والے بچوں کے ساتھ بٹھاتے اورشام کواس کوسبق یاد کرواتے۔ ۔ قاری صاحب چاہتے تھے کہ ترجمہ بے شک وہ یادنہ کرے لیکن چلواسی بہانے کچھ سیکھ ہی جائے گا۔
''اے پروردگار!
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مددمانگتے ہیں،ہم کوسیدھے راستے پرچلا۔ ان لوگوں کے راستے پرجن پرتواپنافضل وکرم کرتارہا۔نہ کہ ان کے راستے پرجن پرتوغصے ہوتارہا۔ اورنہ گمراہوں کے راستے پر۔''
( الفاتحہ 3ـ7 )
''اے اللہ ہم پررحم کر۔ہمیں بخش دے۔ ہم پراپناکرم کر۔ ہم اس قابل نہیں ہیں۔ لیکن تیرافضل بے انتہاہے۔ ہم کم ظرف ہیں لیکن تیراظرف بہت بڑاہے۔ ہمیں ہمارے اعمال کے مطابق نہ دے، کیونکہ ہمارے اعمال تُو صرف عذاب کے قابل ہیں۔ لیکن اپنے رسولۖ کے صدقے ہمیں بخش دے۔ ہمیں قومِ عادکے انجام سے بچا لے۔ ہمیں قومِ ثمودبننے سے بچالے، ہماراحال قومِ لوط جیسانہ کر۔ ہمیں ایسے کاموں سے بچالے کہ ہماراانجام قومِ شعیب جیسا ہو۔ ہمارے اعمال کونہ دیکھ۔اپنی بادشاہی کے صدقے ہمیں آگ سے بچالے۔ اے میرے مالِک تیرے غصے کی تاب نہیں ہے ہم میں۔ہم پراپنی رحمت کی چادرڈال دے۔ وہ رحمت جس کا سایہ ہم پرہمیشہ رہے۔ ہم سب کوصراطِ مستقیم پر چلا۔ اس راستے پرجس پرتیرے برگزیدہ بندے چلے۔ وہ بندے جوتجھ سے محبت کرتے تھے۔ اور وہ بندے جن سے تومحبت کرتاہے اوروہ راستہ جوتیراراستہ ہے۔ وہ راستہ جس پر تیرانبیۖ چلا,جس پرصحابہ کرام چلے۔ یا اللہ! ہمارے بچوں کونیکی کی توفیق دے،ان کواچھا انسان بنادے۔ ان کواچھا مسلمان بنادے۔ یامیرے رب ہماری دعا قبول فرما۔۔
آمین ثم آمین۔۔۔۔۔۔''
سب نے بآوازِ بلند کہا۔
آج جمعے کا دن تھا۔ محلے کے سارے مردجمعہ پڑھنے آئے تھے۔ یہ قاری ادریس کے الفاظ تھے۔ جمعے کی نمازکے بعددعاکی تھی انھوں نے۔ ہمیشہ جمعے کی نمازکے بعدوہ دعاکرتے تھے۔ اور ہمیشہ یہی دعامانگتے تھے۔
'' قاری صاحب! صراطِ مستقیم کیاہے ؟؟''
قاری ادریس نے چونک کرعزیز کی طرف دیکھا۔ جوسوالیہ نظروں سے ان ہی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
یہ عصرکاوقت تھا۔سارے بچے قاری صاحب سے قرآن کاسبق پڑھنے آئے تھے۔ رحمت اللہ بھی باقی بچوں کے بیچ میں بیٹھ کرسبق یادکررہاتھا۔ وہ بھی رک کرقاری صاحب کے جواب کا انتظارکرنے لگا۔
''عزیزبیٹاصراطِ مستقیم کامطلب ہے سیدھاراستہ۔''
'' لیکن قاری صاحب سیدھے راستے کامطلب کیاہے ؟؟''
ا س تیرہ سال کے بچے کی طرف سے پھرسوال آیا۔ وہ بھی آج جمعے کی نمازمیں موجودتھا۔ اور قاری صاحب کاپوراخطبہ اوردعاسن چکاتھا۔
'' دیکھوبیٹا! تمہارے گھرکی طرف ایک راستہ جاتاہے۔ تم یہاں سے نکل کراسی راستے پرچلوگے توسیدھااپنے گھرپہنچوگے۔ لیکن اگراس راستے کوچھوڑدوگے تواپنے گھرکا راستہ نہیں پاسکو گے۔ بلکہ کہیں اورہی نکل جاؤگے۔ یہی حال صراطِ مستقیم کا بھی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جواللہ کوپسندہے اورجس پرچلنے کاہم مسلمانوں کو حکم دیاگیاہے۔ جس پراللہ کے رسولۖ اوربرگزیدہ بزرگ چلے ہیںاوراسی راستے پرچل کرہم اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔اب اگرہم ا س راستے کو چھوڑ دیں گے توجس طرح تم اپنے گھرنہیں پہنچ سکتے بالکل اسی طرح ہم اللہ کوخوش نہیں کر سکتے۔''
قاری صاحب نے بچوں کی سمجھ کے مطابق بہت آسان الفاظ میں جواب دیاتھا۔
'' توقاری صاحب ہم اس راستے پر نہیں چلتے کیا؟؟''
یہ سوال ارشاد کی طرف سے آیا تھا جوقاری صاحب کے بالکل پیچھے بیٹھاہواتھا۔
'' بیٹاکوشش توہم سب ہی کرتے ہیں۔لیکن اس کوشش میں اکثراوقات ہمیں ناکامی ہوجاتی ہے اورہم اللہ کے راستے کوچھوڑ دیتے ہیں۔''
'' ناکامی کیوں ہوتی ہے قاری صاحب؟؟''
''بیٹاصراطِ مستقیم پرچلنا اتناآسان نہیں ہے۔ اس راستے پرچلتے ہوئے انسان کے سامنے بہت مشکلات آتی ہیں۔وہ مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے۔ پھر اگروہ ان مشکلات سے صبرکے ساتھ گزرجائے اوراپنے رب کی رضا پر چلے تووہ اللہ کے نزدیک کامیاب کہلاتا ہے۔ لیکن ایسا بہت کم لوگ ہی کرپاتے ہیں۔ ہم جیسے کمزورایمان کے لوگ تومشکلات کے آغازپرہی ہمت ہار جاتے ہیں۔ پھر اللہ ہمیں آزمانابھی چھوڑدیتا ہے۔ رہی آپ کی بات کہ ہم ناکام کیوں ہوتے ہیں تو بیٹااس کاجواب یہ ہے کہ ہمارے اندرصدق اورمضبوطی نہیں ہوتی ورنہ ایساہوہی نہیں سکتاکہ کوئی مسلمان صراطِ مستقیم پرچلناچاہے اوراللہ اس کی مددنہ کرے۔ بس بیٹاارادے کی مضبوطی درکار ہوتی ہے۔ ''
''قاری صاحب ہم لوگ چھٹی کرلیں؟؟ ''کونے سے آوازآئی۔
''ہاں بیٹاچلوچھٹی کرلو۔ شام ہونے والی ہے۔'' اورسب بچوں نے سیپارے بندکرکے گھروں کی راہ لی۔
پانچ سالہ رحمت اللہ ساراراستہ یہ سوچتارہاکہ آخرصراطِ مستقیم پرکیسے چلاجاتا ہے ؟اور اگرکوئی چلتاہے تواللہ اسے آزماتاکیوں ہے ؟؟ اس کی معصوم سی سمجھ میں قاری ادریس کی باتیں نہیں آئی تھیں۔ لیکن اسے قاری ادریس کاساراخطبہ یادتھا۔ جیسے ہربچے کے سامنے دہرائے گئے الفاظ اسے یادہوجاتے تھے۔یا پھرشایداس لئے کہ وہ اس کی زندگی کاسب سے پہلے سناجانے والاخطبہ تھا۔ لیکن اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آیاتھا۔ وہ نہیں سمجھ پایاتھا کہ قومِ عادکون تھے۔ قومِ ثمود کا کیا قصور اور کیا اِنجام تھااوریہ کہ قاری صاحب نے قومِ لوط جیسانہ بننے کی دعاکیوں مانگی تھی۔بس پورے خطبے اورآج قاری صاحب کے درس میں اس کواتنی سی سمجھ آئی تھی کہ اللہ کے نبیۖ اورصحابہ ضرورکوئی بہت اچھے لوگ ہوں گے جو قاری صاحب نے ان جیسابننے کی دعاکی۔ یہ سوچتے سوچتے وہ گھرپہنچ چکاتھااورپھر وہ بچوں کے ساتھ کھیل کود میں لگ گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
'' طوبیٰ! آج جلدی سے ہوم ورک کرلو۔ پاپا آئیں گے تو گھومنے جائیں گے۔'' یہ عمران تھا۔
''بھائی کہاں جائیں گے ؟؟'' طوبیٰ حیران ہوئی۔
''پتہ نہیں۔ بس کہیں بھی چلیں گے۔ لیکن خوب مزے کریں گے۔'' وہ کافی خوش لگ رہا تھا۔
''لیکن پاپا نے تو کچھ بھی نہیں کہا بھائی۔''
'' ارے پاپا نے تم سے کچھ نہیں کہا لیکن انھوں نے مجھ سے کہا تھا نا۔''
''پاپا نے نہیں تم نے پاپا سے کہا ہوگا۔۔ورنہ پھر پاپا کل ضرور بتاتے ماما کو۔'' وہ بھی طوبیٰ تھی سید خاور حسین شاہ کی بیٹی۔ اپنے بھائی کی فطرت کو وہ بھی اچھی طرح جانتی تھی۔
'' ہاں میں نے پاپا سے کہا تھا اور وہ مان بھی گئے تھے۔''
''تو ماننا تو تھا نا۔ پاپا تمہاری بات ٹالتے ہی کب ہیں۔''
'' اچھا چلو اب جلو مت۔ جلدی سے ہوم ورک ختم کرو پھر پاپا آجائیں گے۔ ''
''رکو میں ماما کو بتا کے آتی ہوں۔''
'' ارے نہیں۔ پہلے ہوم ورک تو ختم کر لو۔ پھر بتا دینا۔ابھی اٹھ کرجاؤ گی تو ماما غصہ کریں گی۔''
''اچھا چلو ٹھیک ہے۔ میں جلدی جلدی کام ختم کرتی ہوں۔''وہ بھی طوبیٰ تھی۔اپنے بھائی کی کچھ نہ کچھ فطرت تو اس نے بھی لی تھی۔ عمی جتنی شوقین نہ سہی لیکن گھومنے پھرنے کاشوق اسے بھی تھا۔ اپنے بھائی کی زبانی اس پروگرام کا سن کراسے پہلے توحیرت ہوئی تھی لیکن اس کے بعد خوشی کی بھی ایک لہراس کے اندر اٹھ گئی تھی۔ وہ ماں کو خبر دینے سے زیادہ اس لئے ماں کے پاس بھاگنا چاہ رہی تھی کہ اس خبر کی سچائی جانچ سکے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمی نے اسے بیوقوف بنایا ہو۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج پھر جمعے کا دن تھا۔ قاری صاحب چاہتے تھے کہ محلہ جھنگی کے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایک درس کا اہتمام کیا جائے۔ جس میں گائوں کے غریب اور اَن پڑ ھ لوگوں کو اسلام کے بنیادی عقائد سے روشناس کروایا جائے۔ آج اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔ عصر کی نماز کے بعد آج محلے کے مرد مسجد میں جمع تھے۔ قاری صاحب نے بولنا شروع کیا۔
''شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوستو! آج ہم ارکانِ اسلام کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے۔ ''
''تو دوستو! سب سے پہلے آتی ہے توحید۔ ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ دل سے گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے سوا کسی کی پرستش یا عبادت نہیں کرنی چاہئے۔ یا پھر یوں کہ اس کی ذات کی صفت ہی واحد ہے۔ اب اگر کوئی ذات میں یا صفات میں شریک مانا جائے تو یہ شرک ہوگا۔ لیکن یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ صفات میں شرک کا تو سیدھا مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ غفور ہے رحیم ہے۔ سمیع ہے بصیر ہے۔ قہار ہے اور جبار ہے۔ تو اگر ہم کسی اور کو چاہے وہ انسان ہو یاحیوان۔ اگرہم اس میں یہی صفات تصور کریں گے تو ہم مشرک ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ آتی ہے۔ اس کے بعد آتا ہے۔ ذات میں شرک۔ اب اس میں ہم لوگ بہت غلطی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا رب نہیں مانا تو ہم اچھے مسلمان ہیں۔ ہم نے کسی دیوتا یا دیوی سے دعا نہیں کی تو ہم نیک ہیں۔ ہم نے کسی جانور کو اپنا خدا نہیں مانا تو ہم مشرک نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی نہ کسی موڑ پر ہم سب ہی شرک کرتے ہیں۔ہم اس کی ذات میں بھی شریک ٹھہراتے ہیں اورصفات میں بھی۔ دانستہ تو نہیں لیکن نادانستہ ہم دل کھول کر شرک کرتے ہیں۔ ہم دولت کو خدا مانتے ہیں۔ رشتوں سے وہ اُمیدیں لگائے رکھتے ہیں جن کوپورا کرنا صرف ہمارے رب کا خاصا ہے۔ انسانوں سے مانگتے ہیں۔ اپنی ضرورتوں کے لئے انسانوں کے آگے جھکتے ہیں۔ کیا ہوا اگر ہم بتوں کے آگے نہیں جھکتے تو۔۔ انسانوں کے آگے تو ہم جھکتے ہیں۔ اور پھر اُمیدیں پورا نہ ہونے پر گلہ اسی رب سے کرتے ہیں۔ یہ کھلا شرک نہیں تو کیا ہے ؟؟؟ اور رب فرماتا ہے۔' 'اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے۔اس کے سوا سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جس کو وہ معاف کرنا چاہئے۔ تو جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔''
(النسا:611)
اس کے بعد ہم آتے ہیں نماز پر۔ جو اسلام کا دوسرا رکن ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔
''صبر اورنماز کے ذریعے (اللہ تعالیٰ سے) مدد طلب کرو۔ یہ(نماز) بہت بھاری ہوتی ہے سوائے ان کے جواللہ سے ڈرنے والے ہیں۔''
(البقرہ: 45)
ہمارے نبیۖ کا ارشاد ہے کہ
''جو بھی بندہ مومن اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کے بدلے ایک گناہ مٹاتا ہے۔ اور اس کے درجے بلند کرتا ہے۔ پس زیادہ سجدے کیا کرو۔''
''ہم مسلمان دن میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں۔ پانچ بار اللہ کے دربار میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔اس سے راضی ہونے کی التجا کرتے ہیں۔ لیکن گناہ سے کنارہ نہیں کرتے۔ عجیب بات ہے نا۔ غور فرمایئے کہ ہم معافی تو مانگتے ہیں لیکن کنارہ کبھی نہیں کرتے۔ ہم جھوٹ بول لیتے ہیں۔غیبت کر لیتے ہیں۔ ملاوٹ کر لیتے ہیں۔ اور اس کے بعد اللہ کے دربار میں کھڑے ہو کر معافی مانگتے ہیں۔ تو ایسے میں ہمیں معافی کیسے ملے گی۔ اگرہم حقیقتاً معافی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا پڑے گا۔''
(.....جاری ہے)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
December

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

انسانی جسم ایک ایسی مشین کی مانند ہے جس کی بہتر کارکردگی کے لئے اس کا حرکت میں رہنا بے حد ضروری ہے۔ غیر فعال طرززندگی گزارنے والے افراد مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں تقریباً 150 منٹ کے لئے اعتدال کے ساتھ جسمانی ورزش کرنی چاہئے۔ ورزش کا بنیادی مقصد چاق چوبندرہنا اور ذہنی تنائو میں کمی ہے۔


پیدل چلنے اور متوازن قسم کی ورزش سے انسان بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق ورزش نہ کرنے والے افراد کی بہ نسبت ورزش کرنے یا پیدل چلنے والے افراد بلڈپریشر اور شوگر کے مرض کا شکار کم ہوتے ہیں جبکہ جسمانی ورزش وزن میں بھی کمی کا باعث ہوتی ہے۔جو افراد ورزش نہیں کرتے وہ جلد تھک جاتے ہیں۔ ان کے جسم کا گوشت نرم ہو جاتا ہے اور اعصاب کمزور پڑجاتے ہیں۔ پیٹ بڑھ جاتا ہے اور معمولی کام اور محنت کرنے سے بھی سانس پھولنے لگتا ہے۔ کھانا بھی ٹھیک طریقے سے ہضم نہیں ہوتا۔جس کی وجہ سے خون میں کمی بھی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش کے معمول کو نہ اپنا نے کی وجہ سے بلند فشارِ خون، مُٹاپا، جوڑوں کا درد، دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی، بے خوابی، بدہضمی وغیرہ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ تمام مسائل اور بیماریاں بظاہر الگ الگ نظر آتی ہیں مگر یہ سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔جن میں فشار خون کا دل کی بے قاعدہ حرکت سے، جوڑوں کے درد کا مٹاپے سے، اور بدہضمی کا تعلق بے خوابی سے ہے جو ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جو افراد ایک ہفتے میں دس کلو میٹر تک پیدل چلتے ہیں،ان کا ذہن تروتازہ اور یاداشت برقرار رہتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجنگ
(National Institute of Aging)
کی ایک تحقیق کے مطابق پیدل چلنے والے افراد کے دماغ بھی صحت مند رہتے ہیں جبکہ پیدل نہ چلنے والے یا سست افراد کے دماغ جلدی کمزور پڑجاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق باقاعدگی سے ورزش اور جسمانی سرگرمیاں خون میں شوگر کو درست سطح پر رکھنے کے لئے بھی کارآمدہیں۔ ورزش نہ صرف دل اور خون کی نالیوں کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور مُٹاپے سے بچاتی ہے بلکہ پٹھوں، جوڑوں اور ہڈیوں کی صحت کے لئے بھی بے حد ضروری ہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے 'ٹائپ 2' ذیابیطیس کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش میں اضافے کے سبب
HbA1c
یعنی طویل عرصے کی بلڈ شوگر کی ویلیو بھی کم ہوسکتی ہے۔مسلسل جسمانی سرگرمیوں اور ورزش سے بلڈ پریشر کو بھی کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور خون کی چکنائی کا صحت بخش توازن قائم رہتاہے اور انسولین کو استعمال کرنے کے لئے جسم کی صلاحیت بہتر ہوجاتی ہے۔

 

warzishkinsani.jpgسڈنی یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جوا فراد پش اپ اور سِٹ اپ جیسی ورزش کو اپنے روزمرہ معمول میں شامل کرتے ہیں ان میں کینسر سے موت کا خطرہ 31 فیصد جبکہ کسی بھی مرض سے قبل ازوقت موت کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی تنظیم نیشنل سلِیپ فائونڈیشن
(National Sleep Foundation)
کے ایک جائزے کے مطابق ورزش نیند کے لئے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے اور جو افراد بھرپور ورزش کرتے ہیں ان کی نیند کا معیار بہترین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی سرگرمی یا ورزش جسم کے درجہ حرارت، نظام انہضام اور دل کی دھڑکنوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔


مختلف تحقیقات کے مطابق باقاعدگی سے ورزش، زکام اور فلو کے امکانات کو بھی کم کرتی ہے، کیونکہ ورزش سے انسانی جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور جسمانی سرگرمی پیدا کرنے والے ہارمونز کو رٹیسول اور ایڈرینالین کو اپنی حدود میں برقرار رکھتی ہے، جس سے مدافعتی نظام کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی سرگرمیوں اور ورزش سے نظر کی کمزوری کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ ورزش اور بہترقوت سماعت کابھی ایک گہرا تعلق ہے جس میں مختلف تحقیقات کے مطابق اچھی صحت کے حامل افراد میں سماعت کی خرابی کا مسئلہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں سے کان کے اندرونی حصوں میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے جو قوت سماعت کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس کے علاوہ ورزش سے ذیابیطس اور دل کے امراض میں بھی خاطرخواہ کمی واقع ہوتی ہے جو قوت سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مناسب اور متوازن ورزش سے غیرارادی طورپر پیشاب نکلنے کے مسئلے پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق
Nocturia
، جس میں پیشاب کی حاجت رات بھر رہتی ہے، کی حالت ورزش کرنے سے کم ہو جاتی ہے۔


ورزش سے جسم میں ایک خاص لچک پیدا ہوتی ہے جو جسم کو زیادہ فعال، متحرک اور طاقتور بناتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش شریانوں میں خون کی صفائی کے ساتھ ساتھ بلارکاوٹ روانی، دل اور پھیپھڑوں کی صحت بخش کارکردگی، ہڈیوں کی مضبوطی اور نظام ہضم کی فعالیت اور جسمانی نشو و نما میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ورزش ہر عمر کے افراد کے لئے موزوں ہے مگر ورزش ہمیشہ جسم کی قوت برداشت کے مطابق کرنی چاہئے جو جسم پر بارنہ بنے۔ کیونکہ اس سے دل اور پھیپھڑوں پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ادھیڑ عمر اور بڑی عمر کے افراد کے لئے بہترین ورزش پیدل چلنا، باغبانی اور سائیکل چلانا ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے وہ افراد جو مُٹاپے کاشکار ہوتے ہیں وہ اگر باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں تو ان پر مُٹاپے کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں اور وہ افراد ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی بیماریوں سے محفو ظ رہ سکتے ہیں۔ مُٹاپے کے حامل افراد اگر ورزش کے ساتھ ساتھ اپنی خوراک پر بھی توجہ دیں تو مزید بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کی وائلڈلائف ٹرسٹ اور
University of Essex
کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ورزش اور چہل قدمی کے لئے کسی سرسبز مقام (جہاں پر ہر یا لی، گھاس، پیڑ اور پودے موجود ہوں) کا انتخاب کریں تو ان کے جسم اور دماغ پر اس کے بے حد مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کیونکہ کسی سرسبز مقام پر ورزش شروع کرتے ہی موڈخوشگوار ہو جاتاہے۔ نفسیاتی طور پر انسان خود کو زیادہ پر اعتماد اور فعال محسوس کرنے لگتا ہے جو دماغی صحت کے لئے ایک اچھی کیفیت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سرسبز مقامات پر موجود درختوں، پودوں اور گھاس سے دن کے اوقات میں تازہ آکسیجن کا اخراج ہوتا ہے جو سانس لینے کے راستے انسانی خون میں جذب ہو کر تمام اعضاء میں، جن میں دماغ بھی شامل ہے، آکسیجن کی فراہمی کو بہتر بناتی ہے جس کے جسمانی اور ذہنی طور پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


کچھ افراد کو گھر سے باہر چہل قدمی یا ورزش کی سہولت میسر نہیں ہوتی ہے یا ان کے گھر کے قریب چہل قدمی کے لئے کوئی جگہ میسر نہیں ہوتی وہ افراد اپنے گھروں میں رہتے ہوئے بھی کسی نہ کسی کھلی جگہ پر چہل قدمی کر سکتے ہیں۔اپنے گھر کے صحن ، چھت یا پھر اپنے بیڈ روم میں بھی با آسانی واک کی جا سکتی ہے۔ گھر میں اگر سیٹرھیاں موجود ہیں تو سیٹرھیاں چڑھنا اور اترنا بھی ایک بہت اچھی اور آسان جسمانی ورزش یا سرگرمی ہے جس سے وزن میں نمایا ں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔


ایک اور ورزش جو ہم گھر میں اپنے بیڈ روم میں بھی با آسانی کر سکتے ہیں کہ فرش پر لیٹ کر ٹانگوں کو سائیکل کی طرح چلایا جائے یا پھر شام کے اوقات میں بچوں کے ساتھ گھر کے باغ یا صحن میں مختلف جسمانی کھیل کود کرنے سے بھی صحت میں تندرستی آتی ہے اور جسم فعال رہتا ہے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

باورچی کو کہا گیا تھا کہ وہ ننھے کا خیال رکھے۔ چنانچہ وہ ہر دس پندرہ منٹ کے بعد باورچی خانے کی کھڑکی سے سر نکال کر ننھے کی طرف دیکھے بغیر چلاتا تھا۔ ''ننھے یوں مت کرو'' ''خبردار ننھے جو یہ کیا تو!''
پھر یکایک ننھے کے رونے کی آواز آئی۔ ہم بھاگے بھاگے پہنچے۔ ننھے کو چوٹ کیونکر لگی؟'' ہم نے باورچی سے پوچھا۔
''وہ سامنے سیڑھیاں دیکھیں آپ نے؟''
''ہاں''
''بس وہ ننھے نے نہیں دیکھیں''
(شفیق الرحمن کی کتاب ''حماقتیں ''سے اقتباس)

*****

 
08
December

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو درپیش خطرات سے آگاہ ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے اعلیٰ معیار کی تربیت اور آپریشنل تیاریوں سے غافل نہیں رہ سکتے۔ آرمی چیف نے بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کوختم نہیں کر سکتی۔ چیف آف آرمی سٹاف کا اس امر سے متعلق اعادہ ہماری قوم اور مسلح افواج کے اُس عزم اور حوصلے کی عکاسی کرتا ہے جو وہ پاکستان کے دفاع اور قائداعظم کے وژن اور نظریئے کے مطابق اس مملکت خداداد کی تکمیل اور استحکام سے متعلق رکھتی ہیں۔ اسی جذبے کے پیش نظر ہماری قوم اور اُس کی افواج اپنے سپوت اس وطن پر نچھاورکرنے میں کسی تذبذب کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہو چکی ہے لیکن شدت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ ملک بھر میں جاری آپریشن ردالفساد کے ذریعے فسادیوں کو تلاش کر کے اُنہیں کیفرکردار تک پہنچانا اُن میں سے ایک بھرپور اور مؤثر کاوش ہے۔


حال ہی میں پاکستان کے ایک بہادر سپوت میجر اسحاق کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک سرچ آپریشن کے دوران فسادیوں کو جہنم واصل کرنے کی تگ و دو میں کامیابی کے عوض اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ میجر اسحاق کے لواحقین نے اُن کی شہادت کو اپنے خاندان کے لئے باعثِ فخر قرار دیا۔ جہاں فوج نے اس سانحے میں اپنا ایک آفیسر کھویا یقینا وہاں اُس آفیسر کے خاندان نے اپنا جگر گوشہ کھو دیا۔ یوں قوم اور افواج کا دکھ سانجھا ہے۔
بلاشبہ وطن کے لئے دی گئی ایک ایک سپوت کی قربانی قوم کے عزم اور نظریئے کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح سے قوم کو وطن کی سالمیت اپنی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہے۔اسی بناء پر بانی ٔ پاکستان نے کہا تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جو قوم صرف چند سالوں کی جدوجہد کے بعد اپنے لئے ایک الگ وطن حاصل کر سکتی ہے وہ اس کی حفاظت یقینی بنانے کی اہلیت بھی رکھتی ہے اور یہی بانی ٔ پاکستان کی افواج پاکستان کے لئے تلقین بھی تھی۔ 23جنوری 1948 کو کراچی میں افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ''ہم اقوام متحدہ کے منشور میں شامل اصولوں کی بھرپور تائید کرتے ہیں لیکن اپنے دفاع کے تقاضوں سے غافل رہنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ تنظیم اقوام متحدہ کتنی ہی طاقت ور ہو جائے لیکن اپنے ملک کے دفاع کی اصل ذمہ داری ہمیں پر رہے گی اور پاکستان کو ہر اُفتاد اور خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے خودمستعد رہنا ہو گا۔ اس ناقص دنیا میں یہی ہوتا آیا ہے کہ کمزور اور دفاع سے محروم قومیں دوسروں کو جارحیت کی ترغیب دیتی ہیں۔ لہٰذا جو قومیں سمجھتی ہیں کہ ہم کمزور ہیں، وہ ہم پر حملہ اور مشق ستم کر سکتی ہیں، اُن کے لئے یہ وجۂ تحریص ہی ختم کر دی جائے اور اس وجۂ تحریص کا خاتمہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب ہم اپنے آپ کو اتنا طاقت ور بنا لیں کہ کسی کو ہمارے خلاف جارحیت کی مجال ہی نہ رہے۔''


یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے ہمیشہ قائداعظم کے ان خیالات و تصورات پر لبیک کہا اور اپنے ملک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے بڑے سے بڑے دشمن کے سامنے ڈٹ جانے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہیں۔ آج آئے روز قوم کے بیٹے اپنی جانیں قربان کر کے اپنے قائد کے پاکستان کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کے نظریئے کی آبیاری کر رہے ہیں اور آج الحمدﷲ یہ قوم ہر جارحیت اور چیلنج کا منہ توڑ جواب دینے کی استعداد سے مالامال ہے۔ پاکستان ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے کے لئے منصۂ شہود پر اُبھرا ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ ان شاء اﷲ!

08
December

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

گزشتہ سات دہائیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا تصور پاکستان کیا تھا اور اگر وہ زندہ رہتے تو پاکستان کا آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی نقشہ کن خطوط پر استوار ہوتا۔ جہاں تک قائداعظم کے تصور پاکستان کا تعلق ہے ان نکات پر تقریباً سارے دانشور، لکھاری اور محقق متفق ہیں کہ وہ پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی ، انسانی مساوات اور سماجی و معاشی انصاف کا بول بالا ہو۔ قائداعظم جاگیرداری نظام کا خاتمہ چاہتے تھے اور انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ انہیں ایسا پاکستان نہیں چاہئے جو جاگیرداروں کی جاگیر ہو بلکہ وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جو عوام کی ملکیت ہو، مطلب یہ کہ جہاںعوام کی حاکمیت ہو نہ کہ جاگیرادروں کی۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جہاں تک قانون کی حکمرانی، انسانی برابری ،سماجی اور معاشی انصاف کا تعلق ہے دراصل یہ سب اسلامی نظام کے درخشاں اصول ہیں جن کی نبی کریمۖ کے دور سے لے کر خلافت راشدہ کے دور تک بے شمار مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ سیکولر حضرات انہیں سیکولر ازم قرار دیتے ہیں جبکہ ہم انہیں اسلام کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں۔ گویا ان نکات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ذرا رک کر پہلے اتنا سا فیصلہ کر لیجئے کہ کیا ہم نے قائداعظم کے بتائے ہوئے اُن اصولوں کو اپنایا اور عمل کیا جن پر کوئی اختلاف رائے نہیں؟ قائداعظم نے 11اگست 1947کی اپنی تقریر میں زور دے کر کرپشن، سفارش، اسمگلنگ، اقرباء پروری اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کا وعدہ کیا اور واضح کیا کہ وہ پاکستان میں ان خرابیوں کو برداشت نہیں کریںگے۔کیا ہم نے ان موذی امراض پر قابو پا لیا ہے؟ کیا ان بیماریوں کے کینسر نے گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے باطنی وجود کو چاٹ چاٹ کر کمزور نہیں کر دیا؟ میری بات یاد رکھئے کہ کسی بھی قوم یا ملک کو باطنی طور پر مضبوط کرنے کے لئے عوام کو ملکی ڈھانچے میں احساس شرکت دینا ضروری ہوتا ہے اور احساس شرکت اس وقت پروان چڑھتا ہے جب معاشرے میں انسانی مساوات اور سماجی و معاشی انصاف کا راج ہو۔ کرپشن، سفارش اور اقرباء پروری کا خاتمہ ہو چکا ہو اور ہر شخص کو جینے کے برابر مواقع مہیاہوں کیونکہ جہاں کرپشن، سفارش اور اقرباء پروری سکہ رائج الوقت ہوں وہاں عوام کا وہ طبقہ مستقل طور پر احساس محرومی کا شکار ہو کر ریاست سے بدظن ہو جاتا ہے جو سفارش، اثر ورسوخ اور سماجی و معاشی انصاف سے محروم ہو۔ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔ یہی قائداعظم کا خواب تھا اور یہی اصول اسلامی نظام کی بنیاد ہیں۔ اسی لئے قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 101 مرتبہ اور قیام پاکستان کے بعد چودہ بار یہ وضاحت کی کہ پاکستان کے آئین اور ریاستی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ بھی کر دیا کہ آئین کیسا ہو گا؟ اس کا فیصلہ منتخب دستور ساز اسمبلی اور عوام کریں گے۔ یہ بیان ایک طرح سے اُن کے جمہوری طرز فکر کی غمازی کرتا ہے۔ جب فیصلہ عوام کو کرنا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھئے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان بھی سیکولر ذہن کے مالک تھے۔ انگریز کی فوجی زندگی کے حوالے سے ان کی زندگی سیکولرازم کے مطابق پروان چڑھی تھی وہ مطلق العنان بھی تھے اور ریاستی طاقت بھی ان کے پاس تھی لیکن جب انہوں نے اپنے تشکیل کردہ آئین میں پاکستان کو صرف جمہوری قرار دیا تو اتنا دبائو پڑا کہ طوعاً و کرہاً پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینا پڑا۔ یہ عوامی امنگوں کی ترجمانی تھی ورنہ پاکستانی عوام نے کبھی بھی مذہبی جماعتوں کو اقتدارنہیں سونپا اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ دراصل تھیوکریسی کا اسلام میں تصور ہی موجود نہیں اسی لئے قائداعظم بھی بار بار وضاحت کرتے رہے کہ پاکستان ہر گز ملائیت کی حامل مذہبی ریاست نہیں ہو گی۔ کچھ سیکولر حضرات کا کہنا ہے کہ اگر قائداعظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کرتے تو جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی طاقتیں ان کی مخالفت نہ کرتیں۔ یہ دلیل انتہائی سطحی ہے کیونکہ مولانا مودودی کی تحریریں گواہ ہیں کہ انہیں اعتراض اس بات پر تھا کہ مسلم لیگ اور قائداعظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن مسلم لیگی قیادت اسلام نافذ نہیں کر سکے گی۔ مولانا اشرف علی تھانوی جیسی ملک گیر مذہبی روحانی شخصیت نے کھل کر قائداعظم کا ساتھ دیا۔ رہی جمعیت علماء ہند تو وہ سرے سے ہی وطنیت اور تصور پاکستان کی مخالف تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد ان کے ممتاز رہنما مولانا حسین احمد مدنی نے پاکستان کے حوالے سے واضح طور پر کہا تھا کہ مسجد کی جگہ پر تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو پھر اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی ۔ گویا انہوں نے پاکستان کو مسجد سے تشبیہہ دی تھی۔ کچھ عرصہ قبل ایک معزز سابق جج نے فرمایا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کی حمایت سے بنا اور یہ کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔

 

mazibmanimbais.jpgسوال یہ ہے کہ کیا 1945-46کے انتخابات میں مسلم اقلیتی صوبوں اور مسلمان عوام نے سیکولر پاکستان کے لئے ووٹ دیئے تھے؟ اگر سیکولر پاکستان کے لئے ہی اتنی قربانیاں دینی تھیں تو پھر سیکولر ہندوستان میں کیا تکلیف تھی؟ نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور حج کرنے پر تو سیکولر ہندوستان میں بھی کوئی پابندی نہیں تھی۔ مسلم اقلیتی صوبے ہوں یا ہندوستان کے مسلمان۔ انہوں نے اس لئے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی تھی کہ قائداعظم کے وعدے کے مطابق پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جانی تھی۔ اسے ایک اسلامی جمہوری فلاحی مملکت ہونا تھا نہ کہ مذہبی ریاست۔ اس حوالے سے سیکولر دانشوروں کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے کبھی اسلامی ریاست کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ سوال یہ ہے کہ اُن کے منہ سے کبھی سیکولر کا لفظ بھی تو نہیں نکلا۔ دوم آپ یہ تو انکار نہیں کر سکتے کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے پہلے بار بار کہا کہ پاکستان کی ریاست کے ڈھانچے کی بنیاد اسلام پر استوار کی جائے گی۔ بھلا اس میں اور اسلامی ریاست میں کیا فرق ہے؟ ویسے عرض ہے کہ قائداعظم نے فروری 1948کو بھی وضاحت کی کہ'' میرے ذہن میں ہمیشہ ایک اصول رہا ہے وہ اصول ہے جمہوریت کا۔ میرا ایمان ہے کہ ہماری کامیابی اور نجات کا راز نبی کریمۖ کے دیئے گئے اصولوں کی پیروی میں ہے۔ آئیے! ہم اسلامی آئیڈیلز اور اصولوں کی بنیاد پرجمہوریت کی عمارت تعمیر کریں۔'' گویا قائداعظم نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ وہ ایسی جمہوریت کے حامی ہیں جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہو۔ انہیں اصولوں کے مطابق قائداعظم نے ان گنت بار اقلیتوں کو برابر کے حقوق کی یقین دہانی کرائی اور بار بار وضاحت کی کہ اسلام نے جو فراخدلانہ سلوک اقلیتوں سے کیا ہے اس کی مثال دوسرے مذاہب میں نہیں ملتی۔


قائداعظم پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے کہ جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہو لیکن وہ ہرگز مذہبی ریاست نہ ہو کیونکہ مذہبی ریاست شہریوں پر مذہب نافذ کرتی ہے جبکہ اسلامی ریاست میں لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق آزادانہ زندگی گزارتے ہیں اور بحیثیت شہری سب کوبرابر کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ سیکولر حضرات اسے سیکولر ازم کہتے ہیں جبکہ ہم اسے اسلامی نظام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بقول ڈاکٹر حمید اﷲ (پیرس والے) میثاق مدینہ میں مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیئے گئے تھے۔ یہی بات جب قائداعظم نے 11اگست 1947 کو کہی تو سیکولر حضرات نے اُن کی سیکڑوں دوسری تقاریر کو پس پشت ڈال کر اُن پر سیکولر ازم کا ٹھپہ لگا دیا جو دراصل اُن کی اپنی خواہش ہے نہ کہ قائداعظم کی منشائ!!


1956 کا دستور بنانے والی دستورساز اسمبلی کے اراکین کی اکثریت 1945-46کے انتخابات میں منتخب ہو کر آئی تھی۔ 1973کے آئین کے بنیادی اصول پالیسی کے رہنما اصول وغیرہ تقریباً وہی ہیں جو 1956کے آئین کے تھے۔ گویا اگر قائداعظم بھی زندہ ہوتے تو تقریباً اسی قسم کا دستور بننا تھا۔ اس دستور کے مطابق پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اسے سیکولر حضرات صرف جمہوریہ نہیں بنا سکتے۔ اس دستور میں قانون کی حکمرانی، انسانی مساوات، مذہبی آزادی، سماجی و معاشی انصاف، تمام شہریوں کے لئے یکساں مواقع اور مسلمانانِ پاکستان کی زندگیوں کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کی ضمانت دی گئی ہے۔ انہی اصولوں کا ذکر قائداعظم زندگی بھر کرتے رہے۔ لیکن سیکولر حضرات انہیں سیکولر کہہ کر اپنا پلہ بھاری کرتے ہیں۔ جبکہ انہی اصولوں پر بننے والا دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور کہلاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا ہم نے ان اصولوں کو عملی جامہ پہنایا ہے؟ افسوس! ہم عمل کی طرف تو آتے نہیں اور کتابی بحثوں میں الجھے رہتے ہیں۔ فرق صاف ظاہر ہے قائداعظم زندہ ہوتے تو ان پر عمل بھی کرواتے جبکہ ان کے جانشین عام طور پر قول و فعل کے تضاد کا شکار رہے۔


اگر آپ ذرا سا غور کریں تو آپ کو احساس ہو گا کہ قائداعظم پر سیکولر ازم کا بہتان لگانے والے تین قسم کے حضرات ہیں۔ اول وہ لوگ جو دین سے بیگانہ ہیں۔ دو م وہ جو دین سے بدظن ہیں اور سوم وہ جو دین سے برگشتہ ہیں۔ اس گروہ کا قائد ان کا وہ پسندیدہ مورخ ہے جو ببانگ دہل ٹیلی ویژن پر کہتا رہتا ہے کہ ہمیں قرآن و حدیث سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان قرآن سے بالاتر ہو کر سوچ سکتا ہے؟ اس کے فرمودات سن کر مجھے یوں لگا جیسے وہ شخص اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ قائداعظم کی ذاتی زندگی پر اسلام کی چھاپ نظر نہیں آتی اس لئے وہ سیکولر نظام کے حامی تھے۔ ظاہر ہے کہ قائداعظم کوئی مولوی یا صوفی منش انسان نہیں تھے۔ نہ ہی وہ کوئی مذہبی شخصیت تھے لیکن وہ عقیدے کے حوالے سے ایک پکے سچے مسلمان تھے۔ ان کی سچائی، حق گوئی اور دیانت کی گواہی اُن کے شدید ترین مخالف بھی دیتے تھے۔ نبی کریمۖ کا اسم گرامی دنیا کے عظیم ترین قانون دینے والی شخصیات میں پڑھ کر لنکنز اِن میں داخلہ،مسلم وقف الاولاد بل
(Muslim Wakf- al- Aulad Bill)
محترمہ رتی سے شادی کرنے سے قبل اُسے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد صدیقی کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام کروانا اور اپنی اکلوتی بیٹی دینا سے غیرمسلمان نوجوان سے شادی کے باعث لاتعلق ہو جانا ایسے اقدامات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے باطن میں ایک مسلمان بستا تھا۔ یاد رہے کہ مولانا نذیر صدیقی مرحوم مولانا شاہ احمد نورانی کے تایا تھے۔ ایک لکھاری نے دعویٰ کیا کہ قائداعظم کبھی کسی مذہبی تقریب میں نہیں گئے۔ یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ انگلستان سے واپس آ کر بمبئی میں انہوں نے جس پہلے جلسے میں شرکت کی وہ عید میلاد النبیۖ کا جلسہ تھا جس میں راجہ صاحب محمود آباد نے سیرت نبویۖ پر ایمان افروز تقریر کی، نعتیں پڑھی گئیں اور حضورۖ کی خدمت میں ہدیہ عقیدت پیش کیا گیا۔ گورنر جنرل بننے کے بعد اور وفات سے آٹھ ماہ قبل بھی انہوں نے عیدمیلاد النبیۖ کے موقع پر 25جنوری 1948کو کراچی لاء بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا اور پاکستان میں شریعت کی بنیاد پر قانون سازی کا اعلان کیا۔ کیا قائداعظم کو سستی شہرت یا ووٹوں کی ضرورت تھی کہ وہ اسلامی جمہوریت، شریعت کے نفاذ یا پاکستان کے آئین کی اسلامی اصولوں پر بنیاد کا اعلان کر رہے تھے اور بار بار کر رہے تھے۔ ان کی صداقت، اصول پرستی اور سچائی مسلمہ حقیقتیں ہیں۔ اسی لئے میں محسوس کرتا ہوں کہ جو دانشور قائداعظم پر سیکولر ازم کا بہتان لگاتے ہیں وہ خود تضاد بیانی کا شکار ہیں کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ قائداعظم ایک سچے کھرے انسان تھے۔ وہ ہر گز منافق نہیں تھے۔ لیکن یہ تسلیم کرنے کے باوجود ان کی نیت پر شبہ کرتے ہیں اور ان کے الفاظ پہ اعتبار نہیں کرتے۔ قائداعظم نے آزادی سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد ایک سو بار سے زیادہ یہ کہا کہ پاکستان کے نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی ہم نے جمہوریت تیرہ سو برس پہلے سیکھ لی تھی ہماری تعلیمات اور قوانین کا منبع قرآن مجید اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام دوسرے مذاہب کی مانند مذہبی عبادات کا مجموعہ نہیں۔ اگر آپ قائداعظم کی تقریریں پڑھیں تو آپ کو ان میں مسلسل ان باتوں کی تکرار ملتی ہے اس لئے جب ہمارے سیکولر حضرات قائداعظم کے تصور پاکستان پر سیکولر ازم کا بہتان لگاتے ہیں تو گویا تضاد بیانی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ وہ قائداعظم کو سچا اور کھرا انسان بھی مانتے ہیں اور ان کے اعلانات کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔دراصل مذہب سے خوفزدہ یہ حضرات قائداعظم کے سیدھے سادے الفاظ سے اپنا من پسند مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اُن کی اِن کاوشوں کا شاہکار 11اگست 1947کی تقریر ہے۔ اول تو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا قائداعظم نے زندگی بھر ایک ہی تقریر کی؟ آپ حضرات اُن کی سیکڑوں تقریروں کو کیوں درخوراعتنا نہیں سمجھتے؟ گورنر جنرل کا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے 14اگست 1948 کو اسمبلی میں جو تقریر کی آپ اسے کیوں توجہ کے قابل نہیں سمجھتے۔ اس لئے کہ اس تقریر میں قائداعظم نے حضور نبی کریمۖ کو اپنا رول ماڈل اور نمونہ یا اسوہ حسنہ قرار دیا اور یہی وہ بات ہے جو ان آزاد خیال اور مذہب بیزار لوگوں کو پسند نہیں۔ 11اگست کو قائداعظم نے فقط یہ کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور یہ بات میثاقِ مدینہ کا حصہ ہے۔ دوم انہوں نے کہا کہ تمام شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ یعنی کسی پر مذہبی جبر کیا جائے گا نہ مذہب تھوپا جائے گا۔ تو اس میں سیکولر ازم کہاں سے آ گیا۔ کیونکہ یہ اسلامی نظام کے بنیادی اصول ہیں۔ جب قائداعظم ''ہماری جمہوریت کی بنیاد اسلام پر ہو گی'' کی تکرار کرتے تھے تو اس میں اُس شخصی آزادی کا تصور موجود ہے جس کی ضمانت جمہوریت دیتی ہے۔ جب وہ قانون کی حکمرانی انسانی مساوات، سماجی و معاشی انصاف اور عدل کی بات کرتے تھے، جاگیرداری، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، اقرباء پروری اور سفارش کے خاتمے کا وعدہ کرتے تھے تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ یہ ہمارے دین اور مذہب کے سنہری اصول ہیں۔ جبکہ سیکولر حضرات انہیں سیکولر ازم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ انہیں ہر اچھی چیز سیکولر ازم میں اور ہر خطرہ مذہب میں نظر آتا ہے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہمارا مذہب انتہا پسندوں، فرقہ واریت کے علمبرداروں اور مذہبی سوداگروں کی جولان گاہ بن گیا ہے۔ جبکہ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ انتہاپسندی اور فرقہ واریت مذہب نہیں بلکہ سیاست کا شاخسانہ ہے۔ ورنہ مذہب تو ان تمام عوامل کی نفی کرتا ہے۔


تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم نے مسلمانان پاک و ہند سے اسلامی جمہوری ریاست کے قیام کا مینڈیٹ لیا تھا اور اسی منشور پر 1945-46کے انتخابات جیتے تھے۔ اسلام ہی کے نام پر مسلمانوں نے اَن گنت قربانیاں دی تھیں اور عالمی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی تھی۔ قائداعظم جیسا دیانت دار لیڈر اس مینڈیٹ سے کبھی بھی انحراف نہیں کر سکتا تھا۔ وہ مؤرخین جن کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے اسلام کا نعرہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے لگایا اور دراصل قائداعظم پر بہتان لگاتے ہیں اور اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ اگر قائداعظم ایسا نہیں چاہتے تھے تو پھر قیام پاکستان کے بعد انہوں نے بارہ ماہ کی زندگی میں چودہ بار اسلام کو پاکستان کے نظام کی بنیاد کیوں قرار دیا؟ قیام پاکستان کے بعد زندگی کے آخری سال میں انہیں ایسی کون سی مجبوری تھی کہ انہوںنے شریعت کے نفاذ کا وعدہ کیا؟ ہمارے سیکولر دانشور شوشے چھوڑتے رہتے ہیں اور کنفیوژن پھیلاتے رہتے ہیں۔یہ حضرات قرار دادِمقاصد سے نہایت الرجک ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مذہبی انتہاپسندی پیدا ہوئی ہے۔ پھر وہ اس صدمے سے بھی نڈھال ہیں کہ قراردادِ مقاصد سے ڈر کر وفاقی ہندو وزیر منڈل ہندوستان بھاگ گیا تھا۔ ان کو قراردادِ مقاصد اس لئے ناپسند ہے کہ یہ اﷲتعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کا اعلان کرکے یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلام، قرآن اور سنت سے اخذ کردہ اصولوں کے مطابق گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ اگرچہ اس قرارداد میں اقلیتوں کو مذہبی و شہری حقوق کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ لیکن کیا کیجئے کہ سیکولر دانشوروں کو اسلام سے خوف آتا ہے اور وہ اس افسانے پر آنسو بہاتے ہیں کہ اس قرارداد کی وجہ سے منڈل ہندوستان چلا گیا۔ اس دور میں دونوں ملکوں کے شہریوں کو آنے جانے اور پسند کے مطابق سکونت اختیار کرنے کی آزادی تھی اس لئے منڈل اپنے پسندیدہ معاشرے میں چلا گیا جو اس کا حق تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ یہ قرارداد وزیراعظم لیاقت علی خان نے 7مارچ 1949 کو پیش کی جب منڈل وفاقی کابینہ میں وزیر تھے۔اگر انہیں اعتراض تھا تو وہ استعفیٰ دے دیتے لیکن وہ ستمبر 1950 تک وفاقی کابینہ کے رکن رہے؟ ان حضرات کو اس شق سے خوف آتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلامی تقاضوں، قرآن اور سنت کے مطابق گزارنے کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں گے لیکن اس سے فرار کیسے ممکن ہے کیونکہ پاکستان کے مسلم عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے یہ شق 1956 کے آئین میں بھی موجود تھی اور 1973کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہے۔ بلکہ ایک قدم آگے جا کر موجودہ آئین کے پالیسی کے اصول نمبر ایک میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ مسلمانان پاکستان کی زندگیوں کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ ان دانشوروںکی یہ تحقیق بھی لاجواب ہے کہ قرارداد مقاصد نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو جنم دیا ہے جبکہ اس وقت ہندوستان میں اکیس مذہبی انتہاپسند تنظیمیں ہندوازم کے احیاء اور مسلمانوں کو ہندومت میں واپس لانے کے لئے سرگرم ہیں۔


امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو سب سے بڑا خطرہ مذہبی انتہاپسندی سے ہے۔ کیا ہندوستانی پارلیمنٹ نے قرارداد مقاصد پاس کی ہے؟ دانشوروں کے اسی گروہ نے یہ شوشہ بھی چھوڑا ہے کہ قائداعظم نے جگن ناتھ آزاد سے پاکستان کا ترانہ لکھوایا ۔ میں نے تحقیق سے ثابت کیا کہ یہ اس دہائی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ قائداعظم نہ ہی جگن ناتھ آزاد کو جانتے تھے نہ انہوں نے نہ کبھی اس سے ملے اور نہ اس سے ترانہ لکھوایا ۔


کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نہ میرا ذاتی مسئلہ ہے نہ میرا کوئی ایجنڈا ہے لیکن قائداعظم کے احترام کا تقاضا ہے کہ اُن کے نظریات کو مسخ نہ کیا جائے اور جو بات انہوں نے سیکڑوں بار کہی اس پر اپنی خواہشات کا خول نہ چڑھایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اسی منشور پر عوامی حمایت حاصل کی اور حصول پاکستان کی جنگ لڑی۔ لیکن دین سے خوف زدہ طبقہ قائداعظم کے نام پر سیکولر پاکستان کا نعرہ لگا کر اپنی خواہشات کے گھوڑے دوڑا رہا ہے اور بابائے قوم پر بہتان لگا رہا ہے۔ اﷲ انہیں ہدایت دے۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سیوہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
December

تحریر: جبار مرزا

پاکستان کو دو لخت ہوئے 46برس بیت گئے۔ وہ بیسویں صدی کا اکہترواں سال تھا اور آج ہم اکیسویں صدی کے سترھویں سال کو وداع کر رہے ہیں۔ علم الاعداد کی روشنی میں اکہتر اور سترہ دونوں کا سنگل عدد آٹھ بنتا ہے۔ گویا تاریخ کا نہیں یہ اقلیدس کا کھیل ہے۔ ہندسوں کی شکست ہے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ چھیالیس برس بیت گئے مگر وہی دن کی گردش وہی رات کی، نہ تب غور ہوا اور نہ آج توجہ فرمائی جا رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں 1971 کے حوالے سے اگر فوجی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو مارچ 1971 سے دسمبر1971 تک ہماری افواج لگاتار 8ماہ تک سرکش اور باغی عناصر اور مکار دشمن بھارت کی روزافزوں جنگی کارروائیوں کے خلاف نبردآزما رہیں۔ اس سارے عرصے میں انہیں بالکل بھی سستانے کا موقع نہ ملا۔ سرحد پر ہر جگہ اُن پر حملے جاری رہے۔ اندرونِ ملک تخریب کاری کا نشانہ بنتے رہے۔ کہیں سے کوئی مدد نہیں پہنچ پائی۔ چھٹیاں بند تھیں۔ بیوی، بچے ،ماں، باپ، بہن، بھائی اور دیگر عزیز واقارب ہزاروں میل دور بیٹھے ان کے لئے صرف سلامتی کی دعائیں ہی کرتے رہ گئے۔ رسد کا سلسلہ اطمینان بخش نہ تھا ہر طرف (بلکہ وہاں کی حکومت کے ہر شعبے میں) دشمن کے جاسوس چھپے بیٹھے تھے۔ عدم تحفظ کا یہ عالم تھا کہ محصور ہونے کا احساس دامن گیر رہنے لگا تھا۔ فوجیوں کی جسمانی حالت ابتر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا ذہنی دبائو بھی بڑھتا چلا گیا تھا۔ دنیا کی بڑی بڑی جنگوں میں بھی شاید کسی فوج کو اس قسم کے حالات کا سامنا نہ ہوا ہو گا جس طرح کے ناسازگار ماحول اور ناموافق حالات میں افواج پاکستان کو اپنے سے تعداد میں کئی گنا زیادہ اور جنگی طاقت سے لیس مشرقی پاکستان میں بھارت سے پنجہ آزمائی کے وقت ہوا۔ پانیوں پر سوویت یونین کا قبضہ تھا فضائی راستے میں بھارت گھات لگائے بیٹھا تھا۔ مشرقی پاکستان کے ہر شعبۂ زندگی میں فوجی تربیت یافتہ مکتی باہنی موجود تھے۔ ساڑھے پانچ لاکھ بھارتی فوج اور ڈیڑھ لاکھ مکتی باہنی گوریلوں کے مقابلے میں 34ہزار پاکستانی فوج تھی۔ جن میں پیشہ ورانہ فوجیوں کو نکال کر خالص لڑاکا فوجی محض 24ہزار تھے۔ اس سے پہلے جولائی 1970 میں مشرقی پاکستان میں زبردست سیلاب آئے پھر 12-13 نومبر کو ایسا ہولناک طوفان آیا اور مشرقی پاکستان کے ساحلی علاقوں پر اس قدر تباہی ہوئی کہ کم و بیش دو لاکھ افراد ہلاک ہو گئے ایسے میں افواج پاکستان نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر دن رات امدادی کارروائیاں کیں۔ اس کے باجود بنگالی سیاستدانوں اور بھارتی میڈیا نے پاکستانی فوجیوں کے خلاف نازیبا پروپیگنڈا جاری رکھا۔ 7دسمبر 1970کو عام انتخابات ہوئے۔ پی پی پی نے مغربی پاکستان کی 138نشستوں میں سے 81 پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے 162نشستوں میں سے 160 پر کامیابی سمیٹی۔ یہاں یہ بات واضح ہو کہ الیکشن میں یہ کامیابی عوامی لیگ اور اس کے مسلح غنڈوں کی ہر طرح کی دھونس، دھاندلی اور تشدد کی بھی مرہونِ منت تھی۔ یوں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پی پی پی بڑی سیاسی پارٹیاں بن کر ابھریں۔ مگر اُن دونوں جماعتوں نے قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر مفاہمت کے بجائے ٹکرائو کا راستہ اپنایا اور یوں سیاسی طور سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی راہ ہموار ہونے میں مشکل درپیش نہ ہوئی۔ بھارت اس سارے منظر نامے کی گھات میں تھا۔ اس کی پروپیگنڈا مہم جوئوں نے ہر طرح کی مخالفت کو ہوا دینے کے سارے حربے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بھارتی فوجیوں نے پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہن کر بنگالی خواتین کوہراساں کرکے اور اغواء کرکے افواج پاکستان کے خلاف نفرت آمیز ماحول بنانے کا گھنائونا کھیل کھیلا۔ دشمن ملک سے بھلائی کی توقع تو نہیں ہو سکتی مگر المیہ یہ تھا کہ سیاسی بصیرت کے دعویداروں کو بھی متوقع اقتدار کی دھند میں کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔


اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو قائداعظم محمد علی جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے بعد ہماری ملکی سیاست بہت تیزی سے زوال پذیر ہوئی۔ ملک پر سیاسی گرفت کمزور پڑی تو ایک خطرناک خلاء پیدا ہو گیا، اور 1953 سے 1958 کے درمیان 6برسوں میں 7وزیراعظم تبدیل ہوئے جو محلاتی سازشوں کے ذریعے بدلے جاتے رہے۔ وہ اسمبلی جو خود عوام کا اعتماد کھو چکی تھی وہ فوراً نئے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیتی چلی جا رہی تھی الغرض پاکستان کا سیاسی میدان کبھی بھی جمہوری اعتبار سے قابلِ رشک نہیں رہا۔


بہرطور عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی قیادت کے عدم اخلاص کے سبب حالات کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے میں ناکامی نے شیخ مجیب کی شاطرانہ چالوں کو اور بھی مبہم کر دیا تھا اور یوں پاکستان دولخت ہو گیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کا المیہ کوئی ناگہانی حادثہ نہ تھا۔ دسمبر 1971 میں جس غارت گری نے اور خانہ بربادی نے ملک کو دو ٹکڑے کیا وہ دراصل ان غلطیوں اورعاقبت نااندیشیوں کا نقطہئِ عروج تھا جن کا آغاز لیاقت علی خان کی شہادت کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ جنرل کے ایم عارف نے اپنی یادداشتوں ''ورکنگ وِد ضیائ'' میں ایک جگہ اس قسم کے جذبات کا اظہار افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یحییٰ حکومت کے خاتمے اور بھٹو حکومت کے آغاز سے بھی مارشل لاء ختم نہ ہوا بلکہ ایک جمہوریت کا دعویدار سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گیا اور جب بھٹو کا دور ختم ہوا تو تمام سیاسی اور جمہوری پارٹیاں مارشل لاء کے ساتھ کھڑی تھیں۔ کے ایم عارف نے یہ بھی لکھا کہ 1970کے انتخابات پر اس کا کوئی مخالف بھی انگلی نہ اٹھا سکا اور 1977کے انتخابات کو پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے قبول نہ کیا۔ سیاسی اور جمہوری دور کی ناپائیداری کی اس سے واضح مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔


گزشتہ ستر برسوں میں جوبے یقینی چلی آرہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ قیادت کا فقدان تھا۔ ہم آج بھی ناپائیداری کے دور سے گزر رہے ہیں۔ جو یقینا کسی بھی قوم او رملک کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ لہٰذا آج اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ تمام ادارے اپنے اپنے تئیں خود کو مضبوط کریں اور شفافیت کے ساتھ اپنے معاملات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ بلاشبہ وہی قومیں بین الاقوامی سطح پر باوقار اقوام کی صف میں کھڑی ہونے کی اہل قرار پاتی ہیں جو اپنے ماضی سے سیکھتی ہیں اور مستقبل کی راہیں انصاف، دیانتداری اور صادق جذبوں کے ساتھ سنوارتی ہیں۔ لہٰذا پاکستانی قوم کو ماضی کے غم میں ڈوبے رہنے کے بجائے ملک کے بہترین مستقبل کے لئے شب و روز محنت اور مسلسل جدوجہد کرنا ہو گی۔ تب ہی جا کر ہم دہشت گردوں کے عفریت کی طرح دیگر مشکلات اور چیلنجز پر قابو پانے کے قابل ہو پائیں گے۔ حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا:


کیوں زیاں کار بنوں، سودِ فراموش رہوں
فکرِفردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بلبل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا! میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں؟

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں پر
(سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں لکھی گئی۔)
پچھتائے ہیں سر کا بوجھ گرا کر بھی
حیراں ہیں آنکھیں دیوار ہٹا کر بھی
لوگوں کے گھیرائو سے ڈر کر بھاگے تھے
کانپ گئے ہیں اپنے سامنے آ کر بھی
انگلی تھام کے چلنا بھی منظور نہ تھا
کھو گئے بھیڑ میں آگے آگے جا کر بھی
اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں پر
گونگے ہو گئے شہر کے سارے ہاکر بھی
عالی سب انصاف ترازو ٹوٹ چکے
کیا پائو گے اب زنجیر ہلا کر بھی


جلیل عالی

*****

 
08
December

تحریر: فرخنداقبال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایشیا کے پانچ ممالک(جاپان، چین، جنوبی کوریا، ویت نام اور فلپائن) پر مشتمل 12روزہ طویل دورہ کیا،جس کے دو بڑے مقاصد تھے:(1)شمالی کوریا کے ایٹمی بحران پر قابو پانا(2)خطّے میں امریکی تجارت کا توازن درست کرنا۔لیکن اس دورے کا جائزہ لیتے وقت بہت سے دیگر نکتے بھی ذہن میں آتے ہیں،جن پر ذیل میں مختصراً بحث کی گئی ہے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سیاسی نظام چلانے میں چین کی شراکتی حیثیت باضابطہ طور پر تسلیم کرلی ہے

اپنی صدارتی مہم کے دوران چین پر کرنسی کا ہیر پھیر کرنے اور امریکی معیشت کو تباہ کرنے کے الزامات لگانے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورے میں چین اور اس کے صدر شی جن پنگ کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔ انھوں نے بیجنگ میں کاروباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ''میں چین پر الزام عائد نہیں کروں گا۔ کون کسی ملک پر اپنے شہریوں کے فائدے کے لئے دوسرے ملک سے نفع اٹھانے میں کامیابی حاصل کرنے پر کوئی الزام عائد کرسکتا ہے؟ میں چین کو بڑا کریڈٹ دوں گا۔''شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل میں چین سے مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ''میں آپ کے صدر کے بارے میں ایک چیز جانتا ہوں ،وہ یہ ہے کہ اگر وہ اس معاملے پر محنت سے کام کریں تو یہ بحران حل ہوجائے گا،اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔''انھوں نے شی جن پنگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''آپ ایک بہت خاص شخص ہیں۔''مستحکم معیشت، ایک پٹّی ایک شاہراہ اورایشیائی ترقیاتی انفراسٹرکچر بینک جیسی کئی کامیاب پالیسیوں کے ساتھ عالمی سیاست میں تیزی سے جگہ بنانے والا چین افغانستان اور مشرق وسطی میں راہنما کردار (مذاکرات اور جنگ بندی سرگرمیاں) ادا کرنے کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل میں مرکزی کردار ادا کرنے کی اہلےّت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابھرتے ہوئے چین سے مقابلے کے لئے اپنے پیش رو باراک اوبامہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صدر ٹرمپ بھی اس سے مدد مانگ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین اس مطالبے کا مثبت جواب دے گا؟دیکھا جائے تو چین 1950-53کے جزیرہ نما جنگ

trupdoraasia.jpg
(Peninsular War)
سے لے کر آج تک شمالی کوریا کا قریبی دوست رہا ہے۔ اس جنگ میں اس نے شمالی کوریا کے دفاع کے لئے اپنی فوجیں باقاعدہ طور پر میدان میں اتاری تھیں۔ جنگ کے بعد بھی چین نے اس کے تینوںرہنمائوں
Kim II Sung (1948-94)، Kim Jong-il (1994-2011)
اور
Kim Jong-un
2011سے تاحال سے ہر طرح کا سیاسی، سفارتی اور اقتصادی تعاون کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت 6.86بلین ڈالر سے زائد مالےّت کی سالانہ تجارت ہورہی ہے جس میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔2017کے پہلے نصف میں 2.6بلین ڈالرکی دوطرفہ تجارت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے اس عرصے کی نسبت 10فیصد زیادہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ چین شمالی کوریا پر بہت اثرورسوخ رکھتا ہے اور وہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک سکتا ہے لیکن اس بارے میں چین کی اپنی حدود اور الگ سوچ ہے۔ شمالی کوریا جنوبی کوریا کا دشمن ہے جس کے ساتھ چین کے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے۔چین کو جنوبی کوریا اور امریکہ کی سالانہ مشترکہ بڑی فوجی مشقوں پر شدید تشویش ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل کے لئے چین پر زور ڈالتے ہیں تو چین جواب دیتا ہے کہ اس عمل کا آغاز تب ہی ہوگا جب امریکہ اور جنوبی کوریا یہ مشترکہ فوجی مشقیں روک دیں، جس کے لئے امریکہ تیار نہیں ہے۔ ایک ایٹمی شمالی کوریا، چین اور اس کے دشمن ملک جنوبی کوریا کے درمیان ایک بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے اور جتنی اس کی طاقت بڑھتی ہے اتناہی یہ جنوبی کوریا کو چین کی سرحدوں سے دور رکھ سکتا ہے جہاں بڑی تعداد میں امریکی فوج موجود ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کا مرکز چین سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس ملک میں کسی بھی قسم کا انتشار چین کے لئے فوری خطرہ ہے اور اس کی پہلی اور آخری کوشش اس کی حکومت کو مستحکم رکھنا ہے اور وہ کم جونگ پر بہت زیادہ دبائو ڈال کر اسے مکمل طور پر تنہا نہیں کرنا چاہتا۔امریکہ کے ساتھ مخالفت میں لیبیا کے معمر قذافی اور عراق کے صدام حسین کی حکومتوں کے گرنے کے اثرات سے کون واقف نہیں ہے۔ شمالی کوریا میں اس قسم کی صورتحال سے شدید انتشار اور ایٹمی ہتھیاروں کا چین کے دشمن ہاتھوں میں جانے کا بہت امکان ہوگا ۔اور چین یہ بھی جانتا ہے کہ امریکہ ایٹمی طاقت کے حامل ملک شمالی کوریا پر حملے کی جرأت نہیں کرے گا ،کہ اس صورت میں اس کے اتحادی جنوبی کوریا، جاپان اور گوام میں امریکی فوجی تنصیبات کے علاوہ امریکی سرزمین بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائلوں کے نشانے پر آسکتے ہیں۔ ان سب فیکٹرز کو دیکھتے ہوئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ چین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کا زیادہ مثبت جواب دے سکتا ہے۔


ٹرمپ کی چین اور خطّے کے دیگر ممالک کے ساتھ امریکی تجارت متوازن کرنے کی کوشش او ر یہاں امریکہ کی اسٹریٹجک حیثیت 
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورے کے اختتام پر کہا کہ اس دورے کے نتیجے میں 300بلین ڈالر کی امریکی مصنوعات فروخت ہورہی ہیں ،اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حجم میںبہت جلد چار گنا اضافہ ہوجائے گااور یہ معاہدے ایک ٹریلین ڈالر سے بھی بڑھ جائیں گے۔دیکھا جائے تو اس وقت امریکہ کو چین کے ساتھ تجارت میں تقریباً 347بلین ڈالر ، جاپان کے ساتھ 69بلین ڈالراور جنوبی کوریا کے ساتھ 27.7بلین ڈالر خسارہ ہورہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے 250بلین ڈالر کے اقتصادی معاہدے کئے لیکن اقتصادی ماہرین سمجھتے ہیںکہ ان معاہدوں سے امریکہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ بلکہ ان میں سے کچھ تجزیہ کاران معاہدوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے اور اسٹریٹجک معاملات سے توجہ ہٹانے کی ایک چینی چال بھی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ نے اپنے دورے میںجاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبے
(Shinzo Abe)
کو بتایا کہ ''اگر جاپان امریکہ سے اسلحہ خریدتا ہے تو وہ شمالی کوریا کے میزائلوں سے بھی محفوظ ہوجائے گا اور مجھے بھی خوش کردے گا۔''جس پر شنزو ایبے نے رضامندی کا اظہار کیا۔ اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی روز جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایشیا بحرالکاہل خطّے کے 11ممالک کے ساتھ امریکی معاہدے

Trans-Pacific Partnership

سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت ہی امریکہ نے دوطر فہ انداز کے اقتصادی تعلقات کا آغاز کرلیا تھا لیکن اس کے ساتھ سب سے بڑا خدشہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ اس معاہدے سے نکلنے کے بعد ا س خطّے میں اس کے اسٹریٹجک مقاصد متاثر ہوسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ باراک اوبامہ دور کے اس معاہدے کا بڑا مقصد چین کے گرد حصار باندھناتھا۔ لیکن اب امریکہ نے جب دو طرفہ انداز کی تجارت اختیار کرلی ہے تو اس کے ساتھ اس کی یہاں خارجہ پالیسی بھی بڑی حد تک دوطرفہ ہوگئی ہے۔ جو کہ خطّے میں تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت چین کے لئے ایک سرپرائز کامیابی ہے۔ اس فیصلے سے چین کو خطّے کی قیادت سنبھالنے کا زبردست موقع ملا ہے۔ وہ اس وقت ون بیلٹ ون روڈ ، ایشیائی ترقیاتی انفراسٹرکچر بینک اور اس قسم کے دیگر علاقائی اور عالمگیر پالیسیوں کے تحت اپنی طاقت
integrated
انداز سے بڑھا رہا ہے۔


ٹرمپ کا دورہ اورشمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر جنوبی کوریا اور جاپان کی پریشانی
شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے خطّے میں سب سے زیادہ پریشانی جنوبی کوریا اور جاپان کو ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر اگرچہ ان دونوں ممالک میں ان کی خوب آئو بھگت ہوئی اور شمالی کوریا کے بارے میں مسلسل بیانات بھی دئیے گئے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 12روزہ طویل اس دورے میں ان کے خدشات ختم یا کم کرنے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کچھ کیا گیا؟ کیا ان دونوں ممالک کے رہنما ٹرمپ کے دورے کے بعد شمالی کوریا کے خطرے میں کوئی کمی محسوس کر رہے ہیں ؟ ایسے کوئی آثار یا اشارے کم از کم ابھی تک ان کے رہنمائوں مون جائے ان اور شنزو ایبے کے بیانات میں سامنے نہیں آئے ہیں۔ اگرچہ چینی صدر شی جن پنگ نے اپنا ایک خصوصی نمائندہ شمالی کوریا بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ۔میڈیا میں یہ خبر آنے کے بعد یہ تبصرے شروع ہوگئے کہ چین نے یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کے بعد اٹھایا ہے اور وہ اب سنجیدگی سے شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے تنازعے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی
Xinhua
نے فوری طور پر اس سلسلے میں وضاحت جاری کردی اور کہا کہ چینی صدر کے نمائندے کے دورے کا مقصد برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کے حالیہ اجلاس پر گفت و شنید کرنا ہے ، اور اس کا شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سلسلے میں اگلے چند ماہ نہایت اہم ہیں جس میں یہ واضح ہوجائے گا کہ جنوبی کوریا اور جاپان کا شمالی کوریا کے خطرے کے سدباب کے لئے امریکہ پر اعتماد کا گراف کیا ہے؟
جارج بش کا دورہ۔۔ٹرمپ کا دورہ۔۔26برسوں میں بہت کچھ بدل گیا۔


ایشیا کابالکل اسی قسم کا ایک طویل دورہ 1991-92میں سابق امریکی صدر جارج بش سینئرنے کیا تھا ،جس کا مقصد سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی واحد سپر پاور کی حیثےّت کا پیغام دینا اور اس کی قیادت میں ایک نئے عالمی نظام کا خاکہ کھینچنا تھا۔ اب جب 26سال بعد ایک امریکی صدر نے اس خطّے کو ایک طویل دورے کے لئے چنا تو اس خطّے میں ایک نئی سپر پاور (چین) پنپ رہی ہے اور یہ صدر
Protectionist
قسم کے خیالات رکھتے ہیں۔ جن کی عالمی حیثیت یہ ہے کہ وہ جب بھی اپنے سب سے بڑے حریف شمالی کوریا کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے تو وہ جواباً پہلے سے بڑے اور خطرناک ایٹمی ہتھیار کا تجربہ کرتا ہے۔ اور اس صدر کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ شمالی کوریا کو رام کرنے کے لئے چین کی منّت کریں۔ اس وقت کئی دیگر ممالک بھی امریکہ کو کھلم کھلا طور پر چیلنج کر رہے ہیں۔ آج سے 26برس پہلے اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

 

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
December

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل میربازخان

''سر کچھ ہی دنوں کی ہی بات ہے آپ بھی موجیں کریںگے بس ایک دفعہ آپ کرنیل بن جائیں۔'' سپاہی اقرار کے ان الفاظ کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے، تو دل ٹھنڈی آہیں بھرنا شروع کرتا ہے اور خیالات ماضی کے دریچوں کو کریدنا شروع کر دیتے ہیں جب ایسے ہی الفاظ عسکری زندگی کے ہر موڑ پر سننے کو ملتے تھے۔
سر! بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اور پھرفقط سترہ برس بعد وہ ''کچھ ہی'' دن گزر گئے اور ہماری' موجیں' شروع ہو گئیں جب کمانڈ لینے کے پہلے دن ہی جنرل صاحب نے ایک ماٹھی پریزینٹیشن دینے پر جھاڑ پلادی اور پھر 'موجوں' کا نہ ختم ہونے والا ایک ایسا طویل سلسلہ شروع ہوا جو 21اکتوبر 2000، پی ایم اے سے پاسنگ آئوٹ والے دن سے لے کر آج تک ہماری عسکری زندگی کا خاصہ رہا۔ ان 'موجوں' کا سلسلہ تو تب ہی شروع ہو گیا تھا جب پلٹن میں پہلے دن کی فا لِن پر لیفٹیننٹ عثمان طاہر نے کمپنی سے الگ کھڑے رہنے پر ''عزت افزائی'' کی تھی اور کیپٹن نعمان الدین حیدر نے'سر آئی تھنک' کہنے پر ہماری سوچنے سمجھنے کی 'غیراخلاقی' جسارت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کوارٹر گارڈ کے سیل میں قید کر دیا تھا۔ پھر ہمیں کمپنی لائنز میں جوانوں کے ساتھ ابتدائی عسکری تربیت کے لئے بھیجا گیا تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم پی ایم اے سے آفیسر پاس آئوٹ ہو کر پاک فوج کی ایک مایہ ناز پلٹن میں کوارٹر گارڈ کا حصہ بنیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ سی کمپنی کی آٹھ نمبر پلاٹون میں بیتے وہ تیس دن ہماری پیشہ ورانہ زندگی کے یادگار ترین دنوں میں سے تھے جس کے دوران سپاہی ناصر، اقرار، شمعون بہادر اور حوالدار لطیف جیسے سادہ لوح اور مخلص انسانوں کی صحبت ملی۔ ایسے ہی ایک موقعے پر جب رات کے تین بجے حکم ملا کہ نئے لیفٹین صاحبان نے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کہیں جانا ہے تو سپاہی اقرار نے وہ تاریخی الفاظ صادر کئے تھے۔۔۔۔۔
''کیا مصیبت ہے !!!!! چلو سر کوئی بات نہیں ۔۔۔ بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔''

colsabkimojain.jpg


وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ ہم کرنیل صاحب کی 'موجوں' کا تصور لئے افسری کے موڈ میں آ گئے۔ کندھے بھاری ہوئے تو ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا اور پلٹن کے ابتدائی ایام میں دی گئی تربیت کی بدولت ہر اس پوسٹ پر تعینات ہوئے جو ہمیں کرنیل صاحب کی 'موجوں' کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔ سٹاف کالج کی اپر فوائر کے تابڑ توڑ حملوں سے ہم بچ کر نکلے تو آسماں سے گرا اور کھجور میں اٹکا کے مصداق بالتوروگلیشئر کو 'حفظ'کرکے 'مسرور' ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بہرکیف 'موجوں' کے حصول کی خاطر قراقرم کے سُرور سے نکل کر پہلے مارگلہ کی آغوش میں نمل اور پھر سلطنت عمان کے صحرائوں کے سحر میں کھو گئے۔ سلطنت عمان سے واپسی پر ابھی وادیٔ ہنزہ کے دلفریب مناظر دیکھ ہی رہے تھے کہ کرنیل صاحب کا پروانہ آگیا کہ خدائی رینج پر رپورٹ کرکے ایکسرسائز کی تیاری شروع کریں۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ پی آئی اے کا خیال ترک کرکے شاہراہ قراقرم پر رختِ سفر باندھ لیا۔ پھر کہیں سے آواز آئی چلو کوئی بات نہیں ایک ہی سال کی تو بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سال گزر گیا اور وہ دن آہی گیا۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب کے فوراً بعد ہماری 'موجیں' شروع ہوگئیں۔ سب سٹینڈرڈ پریزنٹیشن کا ذکر پہلے ہوچکا، جیسے ہی بڑے گھر سے دفتر پہنچا تو ایس ایم صاحب نے دفتر میں داخل ہو کر پہلے سب اچھا سنا دیا


''سر راجن پور میں ڈیزل اور راشن ختم ہو گیا ہے لیکن مسئلے کی بات نہیں شام کا کھانا بن جائے گا۔
رکھ عربی پر صوبیدار امجد صاحب کو بخار ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں ہم نے
replacement
بھجوا دی ہے۔
سپاہی تنویر اور عبدالرحمن چھٹی سے واپس ابھی تک نہیں آئے، پرسوں حاضری تھی۔
سپاہی کلرک چھوٹے خان کی کل چھٹی سے حاضری تھی ابھی تک رابطہ نہیں ہو رہا، موبائل بھی بند ہے۔
کمانڈر صاحب کا آج ایم بی ایم کا وزٹ پلان ہے ۔ صوبیدار خیر بہادر صاحب تو ایڈمٹ ہیں کسی اور جے سی او کو بھیجنا پڑے گا۔
کل پے ڈےہے لیکن پچھلے سی او صاحب سے تنخواہ کا چیک سائن کرانا ہوگا کیونکہ ابھی تک اکاؤنٹ ان کے نام پر ہے۔
بینڈ پلاٹون کے لئے جو نئے بندے آپ نے چنے تھے، وہ انکاری ہیں۔
باقی سب اچھا ہے سر !''
ابھی ایس ایم صاحب کا سب اچھا ختم ہوا ہی تھا کہ کیپٹن بلال (ایڈجوٹنٹ) داخل ہوئے اور یوں گویا ہوئے:
''سر
!there is a minor issue
ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے سی سی آر میں ایک ڈیوٹی آفیسر نے جانا تھا نہیں گیا، بریگیڈ نے
explanation

مانگی ہے۔
کور کے مقابلوں میں سی ٹی ٹی ایس اور ایس پی ایس ٹیم کی غیر معیاری کارکردگی پر ڈیو ہیڈکوارٹر کمنٹس مانگ رہا ہے۔
سر! آپ نے چار اگست سے سات اگست تک ریکی پر جانا ہے۔ نو سے گیارہ اگست پفرز کانفرنس ہے۔
14 اگست کو آزادی فنکشن ہے اس کی ذمہ داری ہماری ہے۔ پرسوں کمانڈر کو اس پر بریفنگ دینی ہے اور سکیورٹی بھی ہماری ہے۔
ہم نے فائرنگ کے لئے جو دوبارہ اجازت مانگی تھی، اس پر ڈیو کمنٹس مانگ رہا ہے۔
چار بندوں نے کوارٹر کا عرصہ بڑھانے کی درخواست دی ہے۔ دینے میں مسئلہ کوئی نہیں لیکن پندرہ بندے ویٹنگ لسٹ پر بھی ہیں۔
رکھ عربی سے گارڈ واپس آنی تھی، اس کا عرصہ بڑھ گیا ہے اور اگلا مہینہ بھی ہماری گارڈ وہیں پر رہے گی۔''
اتنے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے اور بی ایم صاحب کی دوستانہ مگربارعب آواز گونجتی ہے۔ ''سر! ٹیک اوور کر لیا مبارک ہو۔ اچھا سر کمانڈر کہہ رہے ہیں کہ جیلوں کی سکیورٹی کے بارے میں جو
presentation
ڈیو میں دینی تھی کل کمانڈر سے آپ ڈسکس کریںگے۔''
اسی اثنا میں ہیڈ کلرک صاحب وارد ہوتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں:
سر! آڈٹ ٹیم آرہی ہے، میں نے ان سے بات کر لی ہے معاملہ ٹھیک رہے گا۔ (پندرہ دن بعد پتہ چلا کہ اٹھانوے پرانے پوائنٹس کے ساتھ سینتالیس نئے پوائنٹس بھی لکھ لئے ہیں۔)
سر! بریگیڈ میں راجن پور کے بارے میں جو کمنٹس بھیجنے تھے اس کا پانچواں ریمائنڈر آگیا ہے اور بھی چھ سات ریمائنڈر ہیں۔
کل دس بجے آپ نے کمانڈر صاحب کو سٹڈی پیریئڈ کے بارے میں بریف کرنا ہے۔ پرسوں کور میں ایک آئی ایچ ڈی ہے جس میں آپ سنڈیکیٹ ممبر ہیں۔
آج دو بجے گل حسن ہال میں حفظ و قرأت کا مقابلہ ہے آپ نے بھی جانا ہے۔
ہمارے پاس تین اے کیٹیگری کلرک تھے ان میں سے دو کی پوسٹنگ آگئی ہے۔،،


کسی نہ کسی طرح کچھ کام نمٹا کر جیسے ہی گھر پہنچا، بچوں نے خواہش ظاہر کردی کہ باہر جانا ہے ۔ اسی اثنا میں بیگم نے نوید سنا دی کہ اے سی کام نہیں کر رہا، کل سے صفائی والا گھر پر نہیں آیا، واش روم کا شاور کام نہیں کر رہا، کوکنگ رینج کیا تبدیل ہو سکتا ہے؟ آج مہینے کا سامان بھی لانا ہے۔ بچوں کے سکول میں کوئی فنکشن ہے اس کے لئے نئے کپڑے لانے ہیں۔ اچھا آج شام گیم مس نہیں کرسکتے؟ میں نے لیڈیز کلب جانا ہے وہاں ہماری ریہرسل ہے۔


کچھ لمحوں بعد احساس ہوا کہ موبائل کی گھنٹی کافی دیر سے بج رہی ہے۔ کمانڈر اور بی ایم کے نمبروں سے مس کالز کی تعداد دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ کمانڈر کے بجائے ہم نے پہلے بی ایم کو فون کیا تاکہ پہلے حالات کی نزاکت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ پتہ چلا کہ ٹی وی پر راجن پور کے بارے میں کوئی خبر چل رہی تھی ۔ کسی نہ کسی طرح کینال ریسٹ ہائوس راجن پور کے باسیوں کو جگا کر حالات و واقعات کا پتہ لگوایا اور کمانڈر کو رپورٹ دی۔ حسب معمول کمانڈر صاحب ہم سے کچھ زیادہ ہی باخبر تھے، بہر حال انہوں نے کمپنی کمانڈر کو ذرا آنکھیں کھول کر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فون بند کیا۔ دن کو قیلولہ کرنے کی خواہش تو برسوں سے تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ احساس پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ شاید یہ سہولتیں صرف ''الفا، برائو،چارلی''اور ''سنہرے دن''کے فوجیوں کو نصیب تھیں۔ گیم کے بعد ہم نے کمانڈر کے لئے بنائی گئی پریزینٹیشن دیکھنے کی ٹھانی تو پتہ چلا کہ ایڈجوٹنٹ صاحب نے ابھی اس پر کام ہی شروع نہیں کیا اور وہ بھی اس کام کے لئے رات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم نے بھی ان کو جھاڑ پلا کر اپنی نئی کمانڈ کا احساس دلایا کہ اب ایسے نہیں چلے گا۔ ہر کام وقت پر تیار ہونا چاہئے۔ ایڈجوٹنٹ صاحب دفتر سے نکلے اور اپنے دفتر میں دوسرے لیفٹین صاحبان سے ملکر ہماری ''اچھائیاں'' کرنا شروع ہوگئے۔ ''ابھی نیا نیا پروموٹ ہوا ہے اس کو پتہ تب چلے گا جب ایک ہی دن میں تین تین بریفنگ تیار کرنی پڑیں گی۔'' ستم ظریفی یہ کہ ہم اس وقت ان کے دفتر کے سامنے سے گزر رہے تھے، ہم نے عزت اسی میں جانی کہ برداشت کیا جائے، اس لئے بات نہ سننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ گھر پہنچنے سے پہلے ہی ایڈجوٹنٹ صاحب نے موبائل پر رات کے روٹ مارچ کی نوید سنادی۔ ''کاکولیات'' کے مصنف کے مداح تو ہم پہلے سے تھے، دل توبہت چاہا کہ ہسپتال جا کر کسی غیرمرئی مرض سے مستفید ہوں مگر نئی نئی کمانڈ کا ولولہ آڑے آگیا اور پورا روٹ مارچ کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ روٹ مارچ کے راستے پر ہم نے غور کیا اور نقشے کے اسرارورموز میں سے ہم نے بار بار کوئی شارٹ کٹ ڈھونڈنے کی بے سود کوشش تو ضرور کی مگر نقشے پر کسی کولمبس کے ہاتھ سے مارک ہوا، بارہ کلومیٹرکا راستہ زمین پر لگ بھگ اٹھارہ کلومیٹر کے برابر نکلا۔ خدا خدا کرکے واپس پہنچے اور معمول کے مطابق حلوے اور پکوڑوں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا گیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے مرغان سحر کے بیدار ہونے کا وقت ہوا چاہتا تھا مگر ٹیلیفون کالوں کا تانتا پھر بھی بندھا رہا۔ آخری کال تقریباً صبح پانچ بجے آئی کہ سر صبح جو پارٹی خانیوال جا رہی ہے ڈیو سے اس کی
(move sanction)
ابھی تک نہیں پہنچی۔ کچھ پتہ نہیں چلا کب ہم بستر پر پہنچے اور کب آنکھ لگی، ہوش اس وقت آیا جب موبائل پر صبح کا الارم بج رہا تھا اور اس کے ٹیون میں دور کہیں سے وہی سریلی آواز سنائی دے رہی تھی:
''بس سر!آپ ایک دفعہ کرنیل بن جائیں پھر آپ کی 'موجیں ہی موجیں' ہیں۔''

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
December

تحریر : پروفیسر ارشاد حسین شاہ

میجرواصف حسین شاہ شہیدستارہ بسالت کے حوالے سے ان کے والد محترم پروفیسر ارشاد حسین شاہ کی خصوصی تحریر

 

اس وقت افواج پاکستان ملک کی سلامتی اور بقاء امن کے لئے دہشت گردی اورشدت پسندی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ پاکستانی افواج کے جوان اور افسران جتنی بہادری، دلیری، ولولے، حب الوطنی، حکمت عملی اور کامیابی سے نامساعد حالات میں دشمنان پاکستان کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کی تاریخ میں مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ ہمارے پاس ہمارے جوانوں اور افسران کی ان گنت مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے دشمن کے خلاف لڑائی کے دوران، یہ جانتے ہوئے کہ ابھی کچھ دیر بعد ہم اس دنیا فانی میں نہیں ہوں گے، انتہائی جانفشانی اور دلیری کا مظاہرہ کیا اور شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے انہوں نے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی اس ملک کی آبیاری کے لئے بہا دیا۔ ایسے لوگ اللہ کی طرف سے چنے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ زندہ و تابندہ ہو تے ہیں۔ میجر واصف حسین شاہ نے اسی جذبے کے تحت ملک کی سلامتی اور فرائض منصبی کو پورا کرنے اور اسلام کی سربلندی کے لئے دتہ خیل وزیر ستان میں 15نومبر 2014ء کو تقریباً 400تخریب کاروں کے ساتھ مقابلے میں جام شہادت نوش فرمایا۔

 

pakkbetty.jpgمیجر واصف حسین شاہ شہید 2مئی 1981ء کو تربیلہ ڈیم کے پی کے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایف ایس سی کا امتحان اچھے نمبروں کے ساتھ ایف جی کالج منگلا کینٹ سے پاس کیا۔ وہ ایک اچھے مقرر، خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ہر دل عزیز انسان تھے۔ ان کا منگلا کینٹ میں والدین کے ساتھ رہائش کی وجہ سے فوج کے ساتھ کافی لگائو تھا۔ ایف ایس سی کے فوراً بعد تمام متعلقہ امتحانات پاس کر کے 106پی ایم اے لانگ کورس جوائن کیا۔ پی ایم اے کاکول میں ٹریننگ کے دوران اپنی خداداد صلاحیتوںکا بہترین مظاہرہ کرتے رہے۔وہ 2002 میں پی ایم اے کاکول سے پاس آئوٹ ہوئے۔ انہوں نے باغ پیر کنٹھی، گوجرنوالہ، بالاکوٹ، سکردو اور سوات میں ڈیوٹی سرانجام دی۔ سوات میں آپریشن راہ نجات میں بڑی بہادری سے ملک و قوم کا دفاع کیا۔ سوات سے کامیابی کے ساتھ فرائض انجام دینے کے بعد غازی بن کر لوٹے۔


میجر واصف حسین شاہ شہید بچپن ہی سے بڑے ملنسار، خوش اخلاق اور مدبر انسان تھے۔ انہیں کبھی غصہ میں نہیں دیکھا گیا۔ اُن کے چہرے پر ہر وقت ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہوتی تھی اور یہ مسکراہٹ ہم نے ان کے چہرے پر تابوت میں بھی دیکھی۔


انہیں کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اپنے والد کی چشمہ میانوالی پوسٹنگ کے دوران پاکستان اٹامک انرجی سکول میں زیر تعلیم تھے۔ تب انہوں مقامی آفیسرز کے بچوں کے ساتھ مل کر ایک کرکٹ ٹیم بنائی۔ جب وہ پاکستان اٹامک انرجی سکول میں تیسری جماعت کے طالب علم تھے تو اس وقت سکول میں دوڑ کے مقابلہ میں ان کی دوسری پوزیشن آئی۔ اُنہیں زندگی کی پہلی ٹرافی ملی جو آج بھی محفوظ ہے۔


میجر واصف کے والد صا حب کی منگلا تبدیلی پر انہیں ایف جی پبلک سکول منگلا کینٹ داخل کروایا گیا۔ اس سکول میں وہ تقاریر اور نعت خوانی میں حصہ لیتے رہے۔ منگلا کینٹ میں رہائش کی وجہ سے پاکستان آرمی کے ساتھ واپڈا کے آفیسرز کا کافی میل جول تھا۔ یہ پاکستان آرمی کا تعاون تھا کہ وہ واپڈا کے تمام آفیسرز کو جو منگلا کینٹ برال کالونی میں رہتے تھے ہر وہ سہولت میسر کرتے تھے جو کہ وہ اپنے سویلین آفیسرز کو مہیا کرتے تھے۔ اس طرح منگلا کینٹ میں رہائش پذیر آرمی اور واپڈا کے آفیسرز ایک فیملی کی طرح تھے۔ میجر واصف شاہ نے ایف جی کالج منگلا کینٹ میں تعلیم کے دوران ہی تن سازی، ویٹ لفٹنگ، تیراکی اور گھڑ سواری میں مہارت حاصل کر لی تھی جو کہ ان کو عملی زندگی میں بھی کام آئی۔ان کی پی ایم اے کاکول میں ٹریننگ کے دوران جسمانی طاقت، ذہانت اور برداشت کی کافی مثالیں ہیںجن میں سے دو کا ذکر کریں گے۔


فیلڈ میں یرموک ایکسرسائز کے دوران ضروری سامان کے علاوہ پی ایم اے کاکول سے اُنہوں نے ایل ایم جی اٹھائی۔ یہ ایل ایم جی پوری ایکسرسائز کے دوران اٹھائے رکھی اور پانچویں دن پی ایم اے کاکول میں جمع کرا دی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ جب سب کیڈٹس یرموک سے پی ایم اے واپس آئے تو فطرتی طور پر سب میں تھکاوٹ، کمزوری اور لاغر پن تھا۔ اس دوران پلاٹون کمانڈر نے کہا کہ کیا آپ سب کیڈٹس میں سے کسی میں دم خم ہے کہ وہ پش اپس نکال سکے تو میجر واصف شاہ رضاکارانہ طور پر پش اپس کے لیے تیار ہو گئے اور کوئی پچاس پش اپس نکالیں۔ میجر واصف شاہ کی اس طاقت، برداشت اور حوصلہ کو دیکھ کر سب دھنگ رہ گئے۔
میجر واصف حسین شاہ نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے کانگو میں ایک سال خدمات انجام دیں۔ وہاں پر ان کی بہت سی خصوصیات کی وجہ سے ان کو
King of Mwanga
کہا جاتا تھا۔ موانگا میں انہوں نے ایک مسجد بھی تعمیر کروائی۔ واپسی پر ان کی
Attachment
کوئی دوسال کے لئے
Azad Kashmir Regmental Center
مانسر کیمپ میں ہوئی۔ مگر تقریباً آٹھ ماہ بعد یہاں سے ان کو ا پریشن ضرب عضب میں حصہ لینے کے لئے شمالی وزیرستان بھیج دیا گیا۔ میجر واصف حسین شاہ نے شمالی وزیر ستان میں بہت سے آپریشنز کی کمانڈ کی اور کامیابی سے انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے بہت کم نفری اور اسلحے کے ساتھ مشکل، بلندترین اور دفاعی اعتبار سے بہت اہم اور دہشت گردوں کی اہم پناہ گاہ زرم سر اور سپیر اغر پر قبضہ جما کر 3چوکیاں قائم کر دیں۔ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک درہ تھا جس کو تخریب کار افغانستان آنے جانے اور اسلحہ کی رسدکے لئے استعمال کرتے تھے۔ یہ علاقہ بہت عرصے سے ملک دشمن عناصر کے قبضے میں تھا اور یہاں سے تخریب کار دتہ خیل پر راکٹ پھینکتے تھے اور افواج پاکستان پر حملہ کرتے تھے۔ اس قبضے کی وجہ سے ان کوفاتح زرم سر اور سپیراغر کہتے ہیں۔ میجر واصف حسین شاہ
Bravo Company
کی کمانڈ کر رہے تھے کہ 15نومبر2014 شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے تقریباً چار سو تربیت یافتہ، منظم اورجدید اسلحے سے لیس تخریب کاروں نے پوسٹ نمبر 3پر حملہ کردیا۔ میجرواصف حسین شاہ نے دفاعی اعتبار سے اپناہیڈکوارٹر پوسٹ 2پر بنایا تھا۔ان کو اطلاع ملی کہ پوسٹ 3پر حملہ ہو گیا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ میں ان کو سبق سکھائو ںگا۔ اور پوسٹ 2سے بمعہ چار سپاہیوں کے وہ برق رفتاری سے پوسٹ 3پر پہنچے اور فرنٹ لائن پر پوزیشن سنبھا ل کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ چونکہ چاروں اطراف سے دشمن کا فائر آرہا تھا جس کی وجہ سے کچھ جوان زخمی ہوئے، تاہم میجر واصف حسین شاہ نے تخریب کاروں کو پیچھے دھکیل دیا اسی مقابلے کے دوران ان کو دو گولیاں بائیں کندھے اور ہنسلی کی ہڈی پر لگیں مگر پھر بھی انہوںنے اس کی پروا نہ کی اور بڑی بہادری سے تخریب کاروں کا مقابلہ کرتے رہے۔ انہیں نفری کی کمی، اسلحے کی قلت، بروقت کمک نہ پہنچنے اور دشمن کے بارے میں فوجی اعتبار سے متعلقہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔میجر واصف کی فرنٹ لائن پر موجودگی سے جوانوں کے مورال میں اضافہ ہوا۔ شام تقریباً سات بجے میجرواصف حسین شاہ کے بنکر کو ملک دشمن عناصر نے تین اطراف سے گھیر لیا۔ ان حالات میں بھی میجر واصف حسین شاہ پورے جذبۂ ایمانی، شجاعت اور حوصلے سے لڑے۔ اسی دوران نزدیک سے آر پی جی کا فائر کیا گیا اس کے ٹکڑے میجر واصف کے اوپروالے جبڑے کو چیرتے ہوئے گردن سے نکل گئے جو ان کی شہادت کا سبب بنے۔ان کے ساتھ ہی نائیک جاویداختر، سپاہی محمد نواز،سپاہی نذیر احمداور سپاہی ایاز نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ میجر واصف کی شہادت کے بعد صوبیدار جہانگیر احمد بڑی بہادری سے لڑے اور دشمن کے ساتھ دست بدست لڑائی میں شہید ہوگئے۔ میجر واصف حسین شاہ کو غیرمعمولی جرأت اور شجاعت کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی اور ملک سے بے پناہ محبت اور ایک مثالی، نڈر اور باہمت کمانڈرہونے کے سبب ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔ میجر واصف حسین شاہ شہید کی نمازجنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ پشاور سٹیڈیم پشاور میں اداکی گئی جس میں اس وقت کے کور کمانڈر پشاور، لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور گورنر صوبہ خیبرپختونخوا نے بھی شرکت کی۔ میجر واصف شہید کی دوسری نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے شیخ آباد مانسہرہ میں ادا کی گئی۔ جس میں علاقے کی عوام کے علاوہ اعلیٰ سول و فوجی افسران اور اہلکاران نے بھی شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد پاک فوج کی بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے شہیدکو سلامی دی اور اانہیں قومی و فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
December

تحریر: صبا زیب


برطانیہ میں منعقد ہ بین الاقوامی کیمبرین پیٹرول میں پاکستان آرمی نے چار مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کیا۔ رواں برس گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کے ساتھ ایک ملاقات

 

ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا نام سنتے ہی ویلز کا یخ بستہ موسم، سنگلاخ پہاڑ اور دنیا کے سخت جان فوجی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ انہی فوجیوں میں پاکستانی فوج کے جوان بھی شامل ہیں جو ملک کے اندر تو دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہیں ہی۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک سے باہربھی بین الاقوامی سطح پر دنیا کی بڑی فوجوں کے ساتھ مقابلے میں اپنی ہمت اور دلیری کا سکہ بٹھا رہے ہیں۔ مسلسل تیسری بار ایکسرسائزکیمبرین پیڑول میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پاکستانی فوجی عام فوجی تو نہیں ہو سکتے کیونکہ اس ایکسرسائز میں ایک ہزار سے زائد برطانیہ کے فوجی اور 28بین الاقوامی فوجی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔برطانوی فوج کی 160بریگیڈ ہر سال اس مقابلے کومنعقد کرواتی ہے۔
ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا ایونٹ اپنے انداز کا ایک منفرد اور دنیا کا سب سے بڑا فوجی ایونٹ ہے۔ یہ ایک
Long Range
پیٹرول مشق ہے جس کا دورانیہ 48گھنٹے ہوتا ہے۔ اس میں تقریباً 50میل تک کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس میں حصہ لینے والوں میں
Navigation
کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ جسمانی برداشت کو بھی جانچا جاتا ہے۔ اس
Patrol
کا آغازبرطانوی فوج نے 1960میں کیا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان نے 2005 سے اس میں حصہ لینا شروع کیا اور اب تک گیارہ بار اس
Patrol
میں حصہ لے چکا ہے۔

jbjazbayhun_jawan.jpg
پاکستانی فوج کی 59پنجاب رجمنٹ نے کیمبرین پیٹرول میں دوسری بار حصہ لیا اور دونوں بار گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے لئے ٹیم کے انتخاب کا معیار یہ ہے کہ پہلے پاکستان میں مختلف ٹیموں کے مابین لوکل سطح پر مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں جنہیں پاس کرنے کے بعد آرمی کی سطح پر ایک مقابلہ رکھا جاتا ہے جو ٹیم اس مقابلے میں جیتتی ہے وہ کیمبرین پیٹرول میں حصہ لیتی ہے۔ انگلینڈ جانے سے پہلے اس ٹیم کی ٹریننگ ایسے علاقوں میں کی جاتی ہے جو ویلز کے علاقے سے ملتے جلتے ہوں تاکہ وہاں جا کر ٹیم موسم کی سختی کو برداشت کر سکے۔ ایکسرسائز کیمبرین پیٹرول میں 59 پنجاب رجمنٹ کی گیارہ رکنی ٹیم نے حصہ لیا۔ جن میں میجر جواد جمیل، کیپٹن محمدعثمان افضل، لیفٹیننٹ عبدالرحیم، حوالدار بابر عدیل، حوالدار غلام مصطفی، نائیک محمدآصف، لانس نائیک قیصر عباس، لانس نائیک ناصر علی، لانس نائیک محمداشفاق، سپاہی وقاص احمد اورسپاہی محمدنذیر شامل ہیں۔ اس ٹیم کی ٹریننگ جونیئر لیڈرز اکیڈمی شنکیاری میں کی گئی۔ میجر جواد جو کہ اس ٹیم کے انتظامی انچارج تھے، نے بتایا کہ ہم مقابلہ شروع ہونے سے تقریباً 10-15 دن پہلے وہاں چلے جاتے ہیں۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم ویلز کے موسم کے عادی ہو جاتے ہیں۔ پھر مشترکہ ٹریننگ شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ ایسے ہتھیار استعمال کرنا ہوتے ہیں جو ہمارے لئے نئے ہوتے ہیں کیونکہ مقابلے میں ہتھیار ہمیں
U. K. Army
کے استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ کچھ
Drills
بھی ہمیں ان کے ساتھ کرنی ہوتی ہیں۔ ان سے کچھ سیکھتے اور
Adopt
کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی ٹیم
U. K.
جاتی ہے تو اس کی میزبانی کوئی برطانوی رجمنٹ کرتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کی میزبانی پچھلے تین سالوں سے 32انجینئرز کر رہی ہے۔


ٹیم کپتان ،کیپٹن محمد عثمان افضل نے بتایا کہ ان کے لئے ویلز میں سب سے بڑا چیلنج وہاں کا شدید سرد موسم تھا۔ اس لئے وہاں کچھ بھی آسان نہیں تھا۔ کچھ اہداف ایسے تھے کہ جن تک پہنچنے کے لئے پانی سے بھی گزرنا پڑتا تھا بلکہ وہاں جگہ جگہ پانی تھا۔ راستوں میں پانی اتنا تھا کہ پائوں پورے کا پورا اندر دھنس جاتا اور چاریا پانچ کلومیٹر چلنے کے بعد جرابیں تبدیل کرنی پڑتی تھیں۔ وہاں اچانک بارش شروع ہو جاتی یا اچانک دھوپ نکل آتی۔ موسم کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔کیپٹن عثمان کا کہنا تھا کہ شائد ہی کوئی ایسا ملک ہو جس نے مسلسل تین بار
Cambrian Patrol
میں گولڈ میڈل جیتا ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان آرمی کتنی پروفیشنل ہے۔
Cambrian Patrol
میں جب
Task
دیا جاتا ہے تو بہترین نتائج حاصل کرنے کے لئے ایک ماڈل بنایا جاتا ہے۔ اس ماڈل کو دیکھ کر ہی ٹیم کیپٹن اپنے ساتھیوں کو احکامات دیتا ہے۔ ہمارا اس بار بنایا گیا ماڈل بھی بہت پسند کیا گیا اور اسے بیسٹ ماڈل کہا گیا۔
کیپٹن عثمان نے بتایا کہ ہر ٹیم میں 8افراد حصہ لیتے ہیں جبکہ 2افراد ایسے ہوتے ہیں جو ایمرجنسی کی صورت میں ٹیم میں شامل کئے جاتے ہیں۔ کچھ ٹیمیں دس بارہ گھنٹوں میں ہی
disqualify
ہو جاتی ہیں بہت لوگ زخمی ہو جاتے ہیں اگر ایک ٹیم میں دو سے زیادہ لوگ زخمی ہو جائیں تو وہ ٹیم مقابلے سے نکل جاتی ہے۔ ہر سال نئی چیزیں شامل کی جاتی ہیں اس کے لئے ہم ایک
Broad Training
کرتے ہیں۔ جس میں ہم زیادہ سے زیادہ چیزیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مستقبل میں نئی ٹیم کے گولڈ میڈل لینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میجر جواد نے کہا کہ
Cambrian Patrol
پر جانے والی ٹیم کو چاہئے کہ وہ اپنی ٹریننگ کو بہت اچھی طرح پورا کریں اور جونیئر لیڈرز اکیڈمی جو کہ اس ٹریننگ کی ذمہ دار ہے کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ تجربہ کار اور کوالیفائیڈ سٹاف کے ساتھ ساتھ پہلے سے جیتی ہوئی ٹیموں کو بھی اس ٹریننگ کا حصہ بنائیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ وسائل کو بروئے کار لانا چاہئے کیونکہ اس
Patrol
میں صرف جسمانی فٹنس ہی نہیں بلکہ ذہنی تندرستی اور استعداد بھی دکھانی ہوتی ہے۔ کیپٹن عثمان کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ ہماری اکیڈمی کا ٹریننگ لیول بہت اچھا ہے۔ اسے ایسے ہی کام کرنا چاہئے اور ساتھ ساتھ تجربہ کار لوگوں کو بھی لازمی شامل کرنا چاہئے۔ ٹیم کو بھی چاہئے کہ پوری ایمانداری کے ساتھ ٹریننگ حاصل کرے اور ملک و قوم کے لئے فخر کا باعث بنیں۔

sipwaqas.jpg
سپاہی وقاص احمد
ہمارے لئے یہ بہت ہی فخر کی بات تھی کہ ہماری یونٹ دوسری بار اس مقابلے کے لئے جا رہی تھی اور جب ہم نے دوسری بار بھی گولڈ میڈل حاصل کر لیا تو یہ فخر دوگنا بڑھ گیا کہ یہ نہ صرف ہماری یونٹ بلکہ ہمارے ملک کے لئے بھی اعزاز تھا۔

naikmasif.jpg
نائیک محمد آصف
ہمارے لئے یہ اس لئے بھی قابل فخر ہے کہ ہم نے نہ صرف اس سال گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ پچھلے سال کے گولڈ میڈل کا دفاع بھی کیا اور اس کے لئے ہم اﷲتعالیٰ کے جتنے بھی شکرگزار ہوں کم ہے۔

naiknabar.jpg

حوالدار بابر عدیل
2005سے ہم اس
Cambrian Patrol
میں حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک پاک فوج کے جوان چار مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ اس میں ہماری محنت کے ساتھ ساتھ قوم کی دعائوں کا حصہ بھی ہے۔ خاص طور پر انگلینڈ میں مقیم پاکستانیوں نے ہمارے لئے بہت دعائیں کیں۔

 
08
December

تحریر: بریگیڈیئر فیصل مسعود ریٹائرڈ


لیفٹیننٹ ارسلان عالم شہید کی شہادت جہاں ہم سب کے لئے بحیثیت پاکستانی باعثِ فخر ہے وہیں اس نوخیز خوبصورت نوجوان افسر کی بے وقت رخصت پر قوم بجا طورپر دل گرفتہ بھی ہے۔


پاکستان آرمی میں 32سالہ کمیشنڈ سروس کے دوران مجھے بھی اپنے بیشتر ساتھیوں کی طرح پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف تقریباً دو عشروں پر محیط جنگ کا حصہ بننے اور عزم و یقین سے آراستہ لازوال قربانیوںکے ان گنت ناقابل فراموش واقعات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔


اکتوبر2001میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد کسی یونٹ کی کمان خالی نہ ہونے کی وجہ سے مجھے عارضی طور پر اے ایس سی سکول تعینات کر دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان دو اطراف سے روائتی و غیرروائتی جنگ کے مہیب سایوں میں گھر چکا تھا۔ مشرق میںہمارا روائتی دشمن جنگی سازوسامان کی برتری کے زعم میں مبتلا، حیلوں بہانوں سے مسلسل ہم پر دبائو بڑھا رہا تھا جبکہ دوسری طرف مغرب میں دہشت و وحشت کا آسیب پَر پھیلائے ابھر رہا تھا۔ افغانستان میں امریکی بمباری عروج پر تھی اور طالبان کی حکومت تہہ و بالا ہو چکی تھی۔


2002 کے وسط میں پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی آڑ میں بھارت نے اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر تعینات کر دیا۔ بحیثیت ایک پاکستانی مشرقی سرحد پر منڈلانے والے خطرات کے بارے میں ہم میں سے کسی کے ذہن میں کسی قسم کا کوئی شائبہ یا ابہام نہیں تھا۔ مغرب کی طرف صورت حال تاہم مختلف تھی۔ دوست اور دشمن کی پہچان میں بے یقینی کی کیفیت کو مخصوص عناصر اپنے منفی پراپیگنڈے سے مزید دھندلا رہے تھے۔ وطن اور اسلام کے نام پر مر مٹنے والی سادہ لوح قوم کے اخلاص سے گھنائونا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔

lettayabsearslantk.jpg
میں نے اکتوبر2002میں یونٹ کی کمان سنبھالی تو ہم مشرقی سرحد پر تعینات تھے۔ مارچ کے اوائل میں صدر پاکستان نے اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے کی اجازت دینے سے انکار کا اعلان کیاجسے اقوام عالم میںفوری پذیرائی ملی۔ بھارت کے لئے اب پاکستان پر مزید دبائو بڑھانا ممکن نہ رہا تھا۔ تاہم بھاری بھر کم جنگی مشین جسے وہ مہینوں کی مشقت سے پاکستان کی سرحد پر کھینچ تان کر لایا تھا، اس کی یکسر واپسی کا اعلان بھارتی قیادت کے لئے فوری ممکن نہ تھا۔ آخر اپنے سادہ لوح عوام کے کروڑوں روپے کے اخراجات اور مہینوں پر محیط مہم جوئی کا مناسب جواز پیش کرنا آسان نہ تھا۔
نومبر 2002کے اوائل میںبالآخر دونوں ملکوں نے اپنی اپنی افواج کی چھائونیوں میں واپسی کا دو طرفہ فیصلہ کیا اور یوں وہ یونٹ جس کی کمان سنبھالے مجھے محض دو ماہ کا عرصہ ہوا تھا، زمانہ امن کے مقام کوہاٹ پہنچ گئی۔ کوہاٹ واپسی پر ایک عام تاثر تھا کہ جنگ کے بادل چھٹ چکے ہیں۔


ہماری مشرقی سرحد پر تعیناتی کے دوران افغانستان میں امریکی حملے کے بعد طالبان کی حکومت تتر بتر ہو چکی تھی۔ بیشتر افغان عسکریت پسند اور ان کے اتحادی پاکستان سے ملحقہ اور پاکستان کے اندر قبائلی علاقہ جات میں روپوش ہو چکے تھے۔ اگرچہ فضا میںتنائو تھا لیکن روپوش عسکریت پسندوں اور بالخصوص قبائلی عوام اور پاک افواج اور ایف سی میںبہرحال ٹکرائو کی بظاہر کوئی کیفیت نہیں تھی۔ قبائلی علاقہ جات میں آمدورفت بغیر کسی روک ٹوک یا سنجیدہ حفاظتی اقدامات کے جاری تھی۔ کسی چھاپہ مار کارروائی یا بارودی سرنگوں سے حملوں کے طریقہ کار کے مطابق میں اپنے ذمہ داری کے علاقوں بشمول کرم ایجنسی شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے دور دراز علاقوں سے واقفیت حاصل کرنے کے سفرپر نکل پڑا۔


گو کہ قبائلی علاقہ جات میں پرتشدد واقعات کا ابھی آغاز نہیں ہوا تھا تاہم پاک فوج کی قبائلی علاقہ جات میں تاریخ میں پہلی بار تعیناتی سے دہشت گردوں اور افواج پاکستان کے درمیان ایک واضح لکیر نظر آنے لگی تھی۔فضا خوف سے آلودہ اور باہمی شکوک و شبہات سے بوجھل ہو چکی تھی۔


تین جیپوں پر مشتمل ہمارا قافلہ کرم ایجنسی کے آغاز میں ہی واقع ٹل چھائونی سے گزرتے ہوئے رات گئے صدر مقام پاراچنار پہنچا۔ شب بسری کے بعد صبح کوہ سفید المعروف تورا بورا پہاڑ کو عقب میں رکھ کر ہم نے چند تصاویر بنائیں اور شمالی وزیرستان کے لئے روانہ ہوئے۔ میران شاہ میں رات گزارنے کے بعد ہم وانا کے لئے روانہ ہوئے۔ جس کے لئے ہم نے مرکزی شاہراہ کے بجائے میران شاہ، میر علی، رزمک، لدھا، مکین اور کانی گرم کا اندرونی راستہ اختیار کیا۔ ویران اور گہری گھاٹیوں سے گزرتے ہوئے ایک بار بھی احساس نہ ہوا کہ کچھ عرصے بعد یہ علاقہ خاک و خون اوروحشت و خوف کے اندھیرے میںاس طرح غرق ہوگا کہ ہر ذی روح جو اس کی خاک آلود ہوا میں سانس لے گا، اپنی روح و جاں پر گہرے گھائولے کر نکلے گا۔


اگلے چند ماہ قبائلی علاقوں میں موت کا سکوت تھا جیسے ہولناک طوفان کے آنے سے پہلے کی پراسرار خاموشی۔ آزادفضائوں میں دشمن زہر گھول چکا تھا۔ لاوا پک چکا تھا، بس پھٹنے کو تھا۔ فی الوقت دونوں اطراف ایک دوسرے پر کھلم کھلا حملہ کرنے سے گریزاں لیکن دل رنجش سے پھٹنے کو تھے۔


صدیوں سے انسان کے اندر چھپے شکاری اور اپنے دفاع کی جبلیات ہوش و حواس پر غالب آتی جا رہی تھیں۔ پاکستان کا قبائلی علاقہ ایک بارود کا ڈھیر تھا بس چنگاری کامنتظر۔ غالباً فروری 2003 کے دوران وانا کے اعظم بازار میں دن دھاڑے پاک فوج کے ایک جوان کو سینے میںگولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ پاک فوج نے زخم کھا کر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ فروری میں ہی یونٹ کو حکم ملا کہ حالات میں کشیدگی بڑھنے کے پیش نظر وانا میں سپلائی پوائنٹس قائم کئے جائیں۔ میں نے اپنے نوجوان افسروں میں سے لیفٹیننٹ طیب کا انتخاب کیا۔ اتوار کے روز لیفٹیننٹ طیب نے تمام تر تیاری کے بعد مجھے گھر پر فون کیا اور روانگی کی اجازت طلب کی۔ میں نے طیب سے کہا کہ اگر وہ ویک اینڈ گھر گزارنا چاہتا ہو تو کل علی الصبح روانہ ہو جائے۔ لیفٹیننٹ طیب کا جواب آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ ''نہیں سر! میں آج ہی جانا چاہتا ہوں۔'' طیب کی شادی کو محض ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا تھا اور اس کی ایک پیاری سی چھ ماہ کی بیٹی تھی۔


طیب نے سات آٹھ گھنٹوں کے سفر کے بعد صوبہ پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کی سرحد پر واقع شہر ٹانک میںقیام کیا۔ اگلی صبح ایک کانوائے، جس میں انجینئرز کی بھاری گاڑیاں اور سست رفتار مشینری بھی شامل ہو چکی تھی، کو لے کر لیفٹیننٹ طیب عازم سفرہوا۔ رات کا کھانا کھا کر طیب نے مجھے فون کال کی جو میری اس کے ساتھ آخری گفتگو تھی۔ میں نے اس کو تاکید کی کہ وانا پہنچتے ہی سب سے پہلے مجھے اطلاع کرے۔


شام کے قریب طیب کی شہادت کی اطلاع مل گئی۔ وانا سے 30میل کے فاصلے پر سروکئی کے مقام پر دہشت گردوں کے اچانک حملے میںطیب اور متعدد جوان جام شہادت نوش کر گئے۔ طیب کا جسد خاکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ کوہاٹ لایا گیا۔ میں پہنچا تو طیب خون آلود خاکی وردی میں ابدی نیند سو رہا تھا۔ نوجوان شہید کی گردن پر گولی کا کاری وار نمایاں تھا۔ ٹھوڑی پر سفید پٹی اور گردن اور گال کے بیچ کا حصہ خون آلود تھا۔ دہشت گردی کی سیاہ طویل رات کا آغاز ہو چکا تھا بے چہرہ دشمن نے آنے والے سالوں میں اسلام کے نام پر نہ صرف اسلامی روایات بلکہ مروجہ عالمی جنگی اصولوں کی وہ دھجیاں اڑائیں کہ انسانیت کانپ کر رہ گئی۔


سوشل میڈیا پر لیفٹیننٹ ارسلان عالم ستی کی تصاویر کو ہر پاکستانی کی طرح میں نے بھی فخر و ملال کے ملے جلے احساسات کے ساتھ دیکھا۔ شام گئے کسی نے تابوت میں بند نوجوان و نوخیز شہید کا چہرہ اپ لوڈ کیا تو بے اختیار مجھے لیفٹیننٹ طیب یاد آ گیا۔ وہی سکون، وہی معصومیت اور وہی خون آلود گردن۔ طیب کی بیٹی آج پندرہ سال کی ہے۔ ارسلان عالم 22سال کا تھا۔ خون کا ایک خراج ہے جو پاکستان ادا کر رہا ہے۔ لہو میں لپٹی عزم و استقلال کی داستان ہے۔


31اگست 2017 کوفوجی وردی میں اپنا آخری دن گزارنے کے بعد جب میں جی ایچ کیو سے نکل رہا تھا تو دل و دماغ میں یادوں کا ایک طوفان برپا تھا۔ آنکھوں کے کونوں میں آنسو تھے کہ گرنے کو بے تاب تھے۔ آج 23ستمبر کے دن جبکہ پاک فوج سے میرا تعلق محض رسمی رہ گیا ہے، ارسلان کی شہادت نے گہرے گھائو کھرچ ڈالے ہیں۔ آنسوئوں کا ایک سیل رواں ہے۔ اب جبکہ میں وقت کے دھندلکے میں کھونے جا رہا ہوں۔ اپریل 2018میں میرا بیٹا پاکستان ملٹری اکیڈمی سے انشاء اﷲ پاس آئوٹ ہو کر پاک فوج کی صفوں میں شامل ہو گا۔ لیفٹیننٹ ارسلان عالم ستی وقت شہادت ایک چھوٹی سی پوسٹ کی کمان کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ روشنیوں اور رنگوں میں بسے پاک وطن کے آبادوشاداب شہروں اور قصبوں سے میلوں دور، چھوٹی سی پوسٹ پر گرنے والاشہید کا مقدس خون ہم پر قرض ہے۔ دُوراُفتاد سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ یہ چھوٹی سی پوسٹ کبھی خالی نہیں ہو گی۔ سبز ہلالی پرچم لہراتا رہے گا۔

اے وطن تیرے لئے !

aywatentereliay.jpg
(میجر اسحاق شہید کی گود میں بیٹھی اُن کی ننھی مُنی گڑیا جیسی بیٹی کی تصویر دیکھ کر لکھی گئی)

میرے پاس
بس
تمہی تھے 'بابا'
میں نے تم کو ہار دیا
اے وطن دیکھ لے !
تجھ پہ
اپنا سب کچھ
وار دیا!
اپنا گہنا تجھ کو
دے کر
خود کو یوں
'گہنا' دیا
کہ…!
میرے درد سے
تیری عظمت
ارفع و اعلیٰ ہے
میرے جسم کا
اِک اِک 'لُوں'


تیرا ہی
رکھوالا ہے
کہ میں ہوں
اس مٹی کی بیٹی
اور بابا بھی تھے
اس مٹی کے بیٹے
وہ
اب بھی تو
''ہیں''
اس مٹی میں ہی!
اس مٹی کی ہے
شان بڑی
اس سے میری
پہچان بڑھی
ہوں اب بھی تیرے ساتھ وطن
ہے جتنی مری بساط وطن
یوسف عالمگیرین
23نومبر2017

*****

 
08
December

تحریر : میجر عابد مسعود


ممتاز استاد، محقق اور صاحبِ طرز شخصیت پروفیسر سعید راشد مرحوم کے حوالے سیمیجر عابد مسعودکی ایک تحریر

 

انسان کے بچپن کا دور اس کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ ماں باپ کے بعد جو ہستی انسان کی شخصیت کی تراش خراش کرتی ہے اور اسے کامیابی یا ناکامی کے سانچے میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ استاد ہے۔ استاد ایک جوہری کی مانند ہے جو پتھر میں چھپے ہیرے کی تراش خراش کرتا ہے۔ اگر ہم عظیم لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور جلا بخشنے میں ان کے کسی استاد کا ہاتھ تھا۔


سکندر اعظم کو ارسطو کی شاگردی نصیب ہوئی۔ اپنے شہرہ آفاق استاد کے بارے میں سکندر نے کہا تھا کہ میرے استاد کا درجہ میرے باپ سے بہت بڑھ کر ہے۔ باپ تو مجھے آسمان سے زمین پر لایا تھا لیکن میرے استاد نے مجھے زمین سے علم و آگہی کے آسمان تک پہنچایا ہے۔


اسی طرح ایک واقعہ ہے کہ عباسی خلیفہ مامون الرشید جب بچہ تھا تو اس کے استاد نے کسی بات پر ناراض ہو کر اس کو دو تین تھپڑ جڑ دیئے۔ مامون رونے لگا اتنی دیر میں سلطنت کا وزیر اعظم وہاں آگیا۔ مامون نے آنسو پونچھے اور ایسے ظاہر کیا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بعد میں استاد نے پوچھا کہ شہزادے میں ڈر رہا تھا کہ آپ شکایت لگائیںگے۔ تو مامون بولا: استاد محترم!'' آپ نے مجھے میری اصلاح کے لئے مارا میں آپ کا ادب نہیں کروں گا تو علم کیسے حاصل ہوگا۔'' تاریخ گواہ ہے کہ اچھے استاد پارس کی طرح ہوتے ہیں کہ جن کو جو چیز بھی چھوئے وہ سونا بن جاتی ہے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل، اس کی ترقی کا دارومدار اس کے استادوں اور مدارس پر ہوتا ہے۔
ایک ایسے ہی استادپروفیسر سعید راشد تھے جنھوں نے ہزاروں طالب علموں کی زندگی بدلی۔ سعید راشد 1927 میں بریلی میں پیدا ہوئے ۔ اُن کے نانا عظمت اللہ صدیقی فجر کی نماز پڑھا کر واپس آئے تو نانی نے کہا مبارک ہو۔ اللہ نے نواسہ دیا ہے۔ نا نا نے الحمداللہ کہا۔ نومولود کے کان میں اذان دی۔ ہاتھ اٹھا کر دعا دی ''یااللہ ! اس بچے کو سعید بنانا''۔

qoumkmehmar.jpg


ان کے خاندان میں علم و فضل کے علاوہ مذہب سے خصوصی لگا ئو تھا۔ سورۂ رحمن کثرت سے پڑھی جاتی تھی۔ طہارت و پاکیزگی کا یہ حال تھا کہ مائیں اپنے بچوں کو وضو کرکے دودھ پلاتی تھیں اور دودھ پلاتے وقت سورہ رحمن کا دم کرتی جاتی تھیں۔
تھوڑے سے بڑے ہوئے تو نانا کو اکثر یہ کہتے سنا کہ میرا یہ بیٹا سعید بنے گا۔ گویا ایک ننھے ذہن کا
self image
بنایا جا رہا تھا کہ اس نے بڑے ہو کر اچھے اور نیک کام کرنے ہیں۔
تعلیم کی ابتداء اس زمانے کے دستور کے مطابق قاعدہ بغدادی، ناظرہ قرآن اور اخلاقیات کی کتاب راہ نجات کی تدریس سے کی۔ بریلی اس زمانے میں سیاسی سرگرمیوں اور تحریک آزادی کا ایک اہم مرکز تھا۔چناچہ طالب علم سعید راشد کو قائداعظم، عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ظفر علی خان، جواہر لال نہرو اور گاندھی کی تقاریر سننے اور انھیں دیکھنے کا موقع ملا۔


سعید راشد نے 1949 میںایم اے اردو کیا اور پھر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ٹیچر ٹریننگ کالج میں داخلے لیا۔ یہاں ان کو ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر ہادی حسن، خواجہ غلام الدین، پروفیسر رشید احمد صدیقی جیسے مشہور اساتذہ سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ یہ سب لوگ علم و فن کا سمندر تھے۔ امریکہ میں ڈاکٹریٹ کے لئے اسکالر شپ ملنے کا قوی امکان تھا مگر ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنے ہونہار شاگرد سے کہا ''تمہاری منزل امریکہ نہیں پاکستان ہے اور دیکھو سول سروس کی چمک دمک کا شکار نہ ہوجانا، پاکستان کو افسروں سے زیادہ ٹیچروں کی ضرورت ہوگی۔ قومیں سکولوں میں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ خدا نے تمہیں ٹیچر پیدا کیا ہے اورتمھاری منزل کلاس روم ہے''۔
سعید راشد نے اپنے عظیم اُستادکی بات کو پلّے باندھ لیا۔ پاکستان ہجرت کی اور 11جون 1950 کو اس پاک سر زمین پر قدم رکھا۔ مختلف جگہوں پر ٹیچنگ کے لئے اپلائی کیا۔ 21 اگست کو ملٹری کالج جہلم کے لئے انٹر ویو ہوا اور 22 اگست 1950 کو اس ادرے سے منسلک ہوگئے۔
اپنے نئے وطن کی تعمیر کا جو جذبہ وہ لے کر آئے تھے، اسی کو مشعل راہ بنا کر اگلے 38 سال اپنے ملک کے مستقبل کی کردار سازی کرتے رہے۔ آپ کا نصب العین انگریزی ناول
Good bye Mr Chips
کا یہ مشہور جملہ تھا کہ
''It is so important to be influencing them who are going to grow up and matter to the world.''
ملٹری کالج جہلم میں ایک استاد ہونے کے علاوہ وہ ہائوس ماسٹر بھی تھے اور اس حیثیت سے انہوں نے طالب علموں کے والدین کی طرح ان کی نشوونما پر توجہ دی۔ ان کامشن تھا کہ ہر طالب علم کو انفرادی طور پر اس کی اہمیت اور صلاحیتوں کا احساس دلایا جائے اور متقبل کے قائدانہ کردار کے لئے تیار کیا جائے۔
From discovery to development
کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہر طالب علم کی حوصلہ افزائی کی جاتی کہ زیادہ سے زیادہ سرگرمیوں میں حصہ لے اور اپنے آپ کو خوب سے خوب تر بنائے۔ ہائوس کی لائبریری ہر وقت کھلی رہتی۔ جس کا جی چاہے جو کتاب پڑھے یا ساتھ لے جائے کہیں نوٹ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح ایک ٹک شاپ تھی جہاں بچے خود چیزیں اٹھاتے اور قیمت رکھ دیتے۔
انہوں نے تخلیقی صلاحیتوںکو اجاگر کرنے کے لئے بک ریویو، مضمون نویسی، جنرل نالج اور پبلک اسپیکنگ پر خاص توجہ دی۔ انہوں نے کالج میگزین کی ادارت بھی کی۔ اس کے علاوہ ڈرامے لکھے اور پروڈیوس کئے۔
سعید راشد کے شاگردوں میں14 شہید، 1 نشان حیدر، 25 ستارہ جرأت اور 20 اعزازِ شمشیر
(Sword of Honour)
حاصل کرنے والے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد میں جنرل کے عہدے تک پہنچنے والے شامل ہیں۔آپ کی جوہر شناس نظر تھی کہ کئی ایسے طالب علم جن کے لئے آپ نے اعلیٰ عہدوں کی پیش گوئی کی اور وہ اسی طرح پوری ہوئی۔
اپنے دور کے 38 سال سعید راشد نے ایک مثالی زندگی گزاری، کبھی اپنی کلاس یا ذمہ داری سے لیٹ نہیں ہوئے۔ کبھی شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا، کبھی

Improper

لباس نہیں پہنا۔ ان کا لباس ہمیشہ سفید پینٹ شرٹ ہوتا جو دودھ کی طرح صاف ہوتا۔ کلاس میں ہر طالب علم سے اتنی عزت و احترام سے بات کرتے کہ وہ اپنے آپ کو کوئی

VIP

سمجھتا۔ کسی کی اصلاح کرنی ہوتی تو عمدہ طریقے سے بتاتے۔ ان کی توجہ شخصیت سازی پر ہوتی اور ہر طالب علم کا انفرادی طور پر جائزہ لیتے۔ اکثر نصیحت کرتے ''زندگی کا حاصل زندگی کی طوالت میں نہیں ہے بلکہ اس کے عرض
width
میں ہے۔''
1988 میں کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 2سال میں ملٹری کالج کی تاریخ لکھی۔ 1990-1994 اے پی ایس جہلم، منگلا کینٹ کے پرنسپل رہے۔ انہوں نے 1999 میںراولپنڈی میں وفات پائی لیکن اپنے طالب علموں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ ہمیں ایسے ہی بے لوث اساتذہ کی آج بھی ضرورت ہے جو اپنے کردار سے ایک اچھے انسان کا نمونہ پیش کریں تاکہ اُن کی تقلید کرکے طالب علم اپنی زندگیاں سنوار سکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
December

تحریر: یا سر پیر زادہ


ایک عام مسلمان اپنی روز مرہ زندگی میں قرآن کی تلاوت کتنی مرتبہ کرتا ہے ؟ ظاہر ہے اس بات کا اعداد و شمار پر مبنی کوئی حتمی جواب تو نہیں دیا جا سکتا مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایسے مسلمانوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی جو پورے اہتمام کے ساتھ ہر روز قرآن کے ایک رکوع کی تلاوت کرتے ہوں گے ، اس سے بھی کم وہ لوگ ہوں گے جو اردو ترجمے کے ساتھ روزانہ قرآن پڑھتے ہوں گے ،اور ان لوگوں کی تعداد تو شائد بہت ہی تھوڑی ہو جو قرآن کی کچھ آیات بمع تفسیر باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے ہوں گے ، اور وہ خوش نصیب تو یقینا آٹے میں نمک کے برابر ہوں گے جو یہ سب کام کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی آیات پر نہ صرف غور کرتے ہوں گے بلکہ ان سے رہنمائی بھی حاصل کرتے ہوں گے۔بظاہر یہ آخری کام مشکل لگتا ہے مگر خود قرا ن کے الفاظ میں یہ ایسا مشکل بھی نہیں،'' ہم نے اسے (قرآن کو) سوچنے سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے ، تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے''!(مفہوم)۔افسوس کہ قرآن کی اس دعوت کے باوجود ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہیں جو خود اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ خود قرآن نے اس ضمن میں ہمیں سوچنے سمجھنے کا ایک فریم ورک دیا ہے مگر ہم میں سے شائدہی کبھی کسی نے اس پر غور کیا ہو۔ یہ فریم ورک کیا ہے ؟ یہ سوچنے سمجھنے کا وہ طریقہ ہے جو قرآن نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے۔ جو ں جوں میں نے اس پر غور کیا، میں ورطۂ حیرت میں ڈوبتا گیا۔ اس سے پہلے کبھی قرآن کے یہ معنی مجھ پر آشکار نہیں ہوئے تھے ،شائد اسی لئے قرآن کا مطلب ''بار بار پڑھی جانے والی کتاب'' ہے کہ ہم اسے بار بار پڑھیں اور ہر مرتبہ نئے انداز سے فیض یاب ہوں۔ اب ذرا اس سوچنے سمجھنے کے فریم ورک پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔


سوچ کا پہلا اصول قرآن نے یہ بتایا ہے کہ جن چیزوں کا ہمیں علم نہ ہو ان کے بارے سنی سنائی باتیں پھیلانا درست نہیں، حوالہ ہے سورہ بنی اسرائیل، آیات نمبر :36''کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔یقیناآنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہوگی۔''مولانا مودودی نے اس آیت کی تشریح یوں کی ہے کہ لوگ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہم و گمان کے بجائے ''علم'' کی پیروی کریں۔اگر ہم اس ایک آیت پر عمل کرنا شروع کر دیں تو حیرت انگیز نتائج نکلیں گے۔مثلاً آئے روز ہم مختلف مکاتب فکر کے مولوی حضرات کی باتیں سنتے ہیں ، ان میں سے بیشتر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی غرض سے قرآن و حدیث اور مختلف تاریخی کتب کا حوالہ بھی دیتے ہیں ، کیا ہم میں سے کبھی کسی نے یہ کوشش کی کہ جس قرآنی آیت یا حدیث کا حوالہ دیا جا رہا ہے ذرا زحمت کرکے اسے خود نکال کر پڑھ لیں ؟ میں تو اکثر یہ کام کرتا ہوں اور کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جو حوالہ دیا گیا ہوتا ہے وہ غلط پیرائے میں سیاق و سباق سے ہٹ کر دیا گیا ہوتا ہے اور اس کامفہوم اس بات سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو کوئی 'عالم' ہمیں بتا رہا ہوتا ہے۔یہ کام کرنا کوئی ایسا مشکل نہیں کیونکہ اب تو قرآن و حدیث کے ایسے سافٹ وئیر دستیاب ہیں جن کی مدد سے آن واحد میں آ پ متعلقہ آیات اور احادیث کا نہ صرف اصل متن بلکہ ترجمہ اور تشریح بھی پڑھ سکتے ہیں ، ایک سافٹ وئیر ہے
Easy Quran and Hadees
جو انٹرنیٹ پر مفت میسر ہے جس کی مدد سے آپ یہ کا م بآسانی کر سکتے ہیں ، اس سافٹ وئیر میں آپ کوئی بھی لفظ ڈالیں ، مثلازکوٰة تو یہ آ پ کو زکوٰةسے متعلق تمام آیات ، احادیث بمع ترجمہ و تفسیر پیش کر دے گا ، گویا بنیادی ماخذ آ پ کے سامنے ہے۔ اب کسی سنی سنائی بات پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں اور یہی قرآن کا حکم ہے۔


قرآن نے سوچنے کا دوسرا اصول ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان کو جذبات سے نہیں بلکہ عقل سے سوچنا چاہئے ، حوالہ سورہ الفرقان ، آیات نمبر:73-72 ''(اور رحمان کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ جنہیں اگر ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔'' یہ خوبصورت آیات ہیں مگر شائد ہی آ پ نے کسی عالم دین کو ٹی وی پر اس کی تشریح بیان کرتے سنا ہو۔ اس آیت میں خدا اپنے بندوں کی نشانی یہ بیان کر رہا ہے کہ اگر انہیں خدائی احکامات بھی سنائے جاتے ہیں تو وہ ان پر اندھے اور بہرے بن کر عمل کرنے میں نہیں جت جاتے، گویا غور کرتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرتے ہیں ،یعنی اللہ ہمیں یہ تلقین کر رہا ہے کہ مذہب کے معاملات میں بھی عقلی استدلال سے کام لیا جائے نہ کہ لوگوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں راغب کیا جائے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ جب انسان جذبات کے تابع ہو کر سوچتا ہے تو بہت سارے حقائق اسے نظر آنا بند ہو جاتے ہیں ، اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے ، وہ سچائی سے دور ہو جاتا ہے اور یوں اسے حقیقت کا ادراک نہیں ہو پاتا اور یہی وہ المیہ ہے جس کا ہم شکار ہیں۔


سوچنے کا تیسرا اصول جو قرآن سے ہم اخذ کر سکتے ہیں وہ تخلیقی سوچ کو روایتی سوچ پر ترجیح دینا ہے ، سورہ احزاب کی آیت نمبر66-67اور68 میں اللہ فرماتا ہے ''جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کر دیئے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ 'کاش ہم نے اللہ اور رسول ۖکی اطاعت کی ہوتی۔'اور کہیں گے 'اے رب، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بے راہ کر دیا۔اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔''اس کے بعد سورۂ سبا کی آیت نمبر46 میں اللہ فرماتا ہے: ''اے نبی ۖ ان سے کہو کہ 'میں تمہیں بس ایک نصیحت کرتا ہوں ،اﷲ کے لئے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑائواور سوچو ، تمہارے صاحب (مراد رسول اللہ ۖ) میں آخر کون سی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے۔''گویا سورہ احزاب میں خدا نے روایتی انداز میں سوچنے والے ان لوگوں کو، جنہوں نے اپنے ذہنوں کو محض اس لئے بند کر لیا تھا کہ ان میں اپنے سرداروں سے اختلاف کرنے کی جرأت نہیں تھی ، کا انجام بیان فرمایا ہے کہ جب آگ سے ان کے چہرے الٹ پلٹ کئے جائیں گے تو وہ اس وقت یہ تاویل دیں گے ، جبکہ دوسری طرف سورہ سبا میں اللہ تخلیقی سوچ کو ابھارنے کا حکم دے رہا ہے کہ ہمیں اپنا دماغ لڑانا چاہئے اور سوچنا چاہئے ، کیا
out of box thinking
اسی کو نہیں کہتے؟
آ ج جن اقوام نے قرآن کے بیان کردہ یہ آفاقی اصول اپنا رکھے ہیں وہ ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور مسلمان جن پر اللہ نے اپنی یہ کتاب نازل کی، ان زریں اصولوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں ، دنیا میں تو ہم رسوا ہو ہی رہے ہیں ، آخرت میں خدا ہم پر رحم کرے، آمین۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ولادتِ رسولِ عربیۖ

دربدر پھرتے تھے لوگ مارے مارے
ویرانوں میں پھر کر دن تھے گزارے
نہ تھا زندگی میں دستور کوئی
مغرور کوئی تو مجبور کوئی
کھالیتے وہ مل جاتا جہاں تک
تہذیب کا نہ تھا نام و نشاں تک
پیدائش پہ بیٹیاں تھے وہ مار دیتے
آپس میں لڑتے زندگیاں گزار دیتے
گناہوں کی چھائی تھی ہر سو خماری
بت پرستی، خود پرستی، ہر سو بیماری
قدرت کو اُن پہ تھا رحم آیا
اِک بندۂ خدا ان میں تشریف لایا
سادگی بھی تھی صفائی و سچائی بھی تھی
انسانیت کے لئے مسیحائی بھی تھی
صادق و امیں کہہ کر سب نے پکارا
یتیموں کے مولا بے کسوں کے سہارا
اس صورت سا کوئی نہ دنیا میںآیا
دیکھا جس نے چاہت سے کلمہ سنایا
وہ لوگ سب کے امام بن گئے
محمدۖ کی غلامی سے حکمران بن گئے
اسی تعلیم کی ہے سب کو ضرورت
ترقی ہے جس میں اور امن کی صورت

الیاس

*****

 
08
December

تحریر: جویریہ صدیق


اے پی ایس پشاورکے شہداء کی یاد میں لکھی جانے والی ایک تحریر

 

اقوام کے سامنے بعض اوقات ایسا بھی وقت آتا ہے جب زندگی ان کی ہر دل عزیز چیز کی قربانی مانگ لیتی ہے۔پاک فوج کا تو ہر سپاہی اپنی زندگی اس ملک کو سونپ کر آگے آتا ہے لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کے ننھے سپاہی جوکہ قلم دوات کے ساتھ مستقبل کے خواب سجائے درس گاہ میں تعلیم حاصل کررہے ہوں گے، قوم کے لئے قربانی کا کٹھن مرحلہ ان کے سامنے آجائے گا۔


کتنے غازی بچے کہتے رہے اگر ہمارے پاس بھی ہتھیار ہوتے تو ہم ایک بھی ملعون دہشت گرد کو سکول سے زندہ واپس نہ جانے دیتے اس وطن عزیز پر جان بھی نچھاور۔خیر و شر کی جنگ میں قسمت بھی کیا موڑ لائی جس نے ہم سے ہمارے پیارے بچوں اور ان کے اساتذہ کی قربانی مانگی۔1971کی جنگ کے بعد یہ دوسرا بڑا سانحہ تھا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور سفاک دہشت گردوں کو اپنے ہاتھوں سے کیفر کردار تک پہنچانے کی طالب تھی۔

 

manzlonkasafar.jpgسانحہ آرمی پبلک سکول ورسک روڈ پشاور میں 122طالب علموں، 22 اساتذہ بشمول کالج سٹاف نے جام شہادت نوش کیا۔لائنس نائیک محمد الطاف اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھے۔ قریب سے گزر رہے تھے، انہوں نے بھی گولیوں کی آوازیں سن کر اپنے طور پر بچوں کو بچانے کا کام شروع کیا اور دہشتگردوں کی فائرنگ کا شکار ہوکر شہید ہوگئے۔


ان معصوم طالب علموں اور ان کے اساتذہ کی قربانی صدق خلیل اور صبر حسین کی عظیم روایت کا احیا ہے۔سولہ دسمبر ایک قیامت تھی جو ہم سب پر گزری۔ مائوں کی گودیں اجڑ گئیں، باپ کے کندھے جھک گئے اور بہت سے لال ماں اور والد کی شفقت سے محروم ہوگئے تو کچھ کے شریک حیات ابدی نیند سوگئے۔پھولوں کے شہر نے پھولوں کے اتنے جنازے دیکھے کہ ایسا لگ رہا تھا کہ اس رات کی کوئی صبح نہیں ۔


سب نگاہیں اس پاک وطن کی پاک فوج پر مرکوز تھیں۔ ہر دل میں بدلے کی آگ تھی، ہر شخص معصوموں کے لئے تڑپ رہا تھا۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرکے رہیں گے ۔انہوں نے اے پی ایس حملے کو پاکستان کے دل پرحملہ قرار دیا۔جنرل راحیل شریف نے کہا یہ حملہ پاک فوج کے جونئیر دستے پر حملہ ہے ۔اس وقت پاکستان کے ہر فوجی نے مشرقی اور مغربی باڈر سے لے کر گوادر کے ساحل سے سیاچین کے پہاڑوں پر ڈیوٹی کرتے ہوئے یہ قسم کھائی کہ خون کا آخری قطرہ بھی بہا دیں گے لیکن اپنے بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ان کے خون کا بدلہ لیں گے ۔
اس سانحے کے بعد لگ رہا تھا کہ پاکستانی بچے کبھی سکول جا ہی نہیں سکیں گے۔ ہر طرف خوف ہراس تھا لیکن 12 جنوری کو جب آرمی پبلک سکول کو دوبارہ کھولا گیا تو سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ استقبال کے لئے سپہ سالار خود کھڑا تھا۔ پاکستان کی فوج نے شہداء کے لواحقین کی دلجوئی اور غازیوں کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ان اقدامات نے پاکستانیوں کو خوف سے نکلنے میں مدد دی اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس بحال ہوگئی۔


جون 2014 سے جاری آپریشن ضرب عضب میں مزید تیزی لائی گئی اور ارادہ مزید پختہ کیا گیا کہ جب تک شمالی وزیرستان اور پاک افغان سرحد کو محفوظ نہیں بنالیا جاتا چین کی سانس نہیں لیں گے۔فوجی یونٹوں اور خود جنرل راحیل شریف نے اے پی ایس سانحے کے شہداء کی تصاویر اپنے سامنے آویزاں کر رکھی تھیں جنہیں دیکھ کر ہر روز اسی عہد کی تجدید کی جاتی کہ ایک ایک دہشت گرد کو جہنم واصل کرنا ہے۔اس سانحے نے ملک میں انقلاب برپاکردیا۔

سولہ دسمبر لہو سے فتح کے چراغ روشن کرنے کا دن ہے۔یہ ایک قیامت تھی جو ہم پر بیت گئی لیکن اس دن قربانی شجاعت اور صبر کی ایسی داستان لکھی گئی جس کی تاریخ نہیں ملتی۔اس دن نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد کیا۔ ملک میں امن و امان قائم کرنا صرف حکومت اور فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم سب کو مل کر حصہ ڈالنا ہوگا۔

2001 سے 2009 تک جنوبی وزیرستان،سوات میں امن قائم کرنے کے لئے آپریشن کے گئے تھے لیکن آپریشن ضرب عضب میں صرف دو برس کی قلیل مدت میں شمالی وزیرستان میں حکومتی عملداری قائم کی گئی اور عارضی طور پر بے دخل افراد کو گھر بھیجنے کا کام شروع ہوا۔یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔ جوانوں نے دشمن اور اس کی بچھائی گئی بارودی سرنگوںکے علاوہ زمینی اور موسمی مشکلات کی موجودگی کے باوجود مشن جاری رکھا۔ 500 سے زائد فوجیوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور ڈھائی ہزار سے زائد زخمی ہوئے لیکن آپریشن جاری رہا۔


شمالی وزیرستان کے علاقے میں تاریخ کی مشکل ترین جنگ لڑ کر حکومتی رٹ قائم کی گئی۔وادی شوال جسے دہشت گردوں کی آخری آماجگاہ کہا جاتا تھا وہاں تحریک طالبان پاکستان، سجناں گروپ اور فضل اللہ گروپ متحرک تھے۔پاک فوج نے کارروائی کا آغازمشکل ترین چوٹی آسمان پنگا سے کیا اور ڈابر، کنڈغر، مانہ، انزرکس، مگروٹی،گربز کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔جنرل راحیل شریف نے خود اگلے مورچوں پر جاکر جوانوں کا حوصلہ بلند کیا۔
منفی دس درجہ حرارت اور تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر حق و باطل کی جنگ لڑی گئی اور حق کی فتح ہوئی ۔جو علاقے کبھی تاج برطانیہ میں بھی فتح نہیں ہو سکے، آج وہاں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے ۔
حضرت محمدۖ کی تلوار مبارک کے نام پر شروع ہونے والے آپریشن نے سپاہیوں میں وہ جذبہ ایمانی بھر دیا کہ وہ اپنے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو توڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور حق کی فتح ہوگئی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں جنگ لڑتے ہوئے فوجیوں نے کہا کہ پیچھے جاکر ہم وطنوں کو بتائیں کہ ہم نے اے پی ایس کا بدلہ لے لیا۔یہ کہتے ہوئے ان کی اواز فرطِ جذبات سے بھر سی آئی اور میڈیا کے نمائندوں کی انکھیں بھی پرنم ہوگئیں۔

 

اچھے اور بُرے دہشت گرد کی تفریق ختم کرنا ہوگی۔چندہ دینے سے پہلے دیکھ لیں کہ کہیں ہم دہشت گردوں کو گولی تو نہیں خرید کر دے رہے۔ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ پاکستانیوں کو شکست نہیں دے سکتے، جس ملک کے بچے ان کے استاتذہ اتنی بڑی قربانی کی داستان رقم کرچکے ہوں، اسی قربانی کی بنیاد پر ہم اپنی ازادی اور خود مختاری کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ہم تمام معصوم شہداء کے قرض دار ہیں۔

فوجی کمان میں تبدیلی کے بعد جب جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور آرمی چیف حلف اٹھایا تو انہوں نے بھی اس عہد کی تجدید کی کہ اے پی ایس کے شہداء کا خون مجھ پر قرض ہے۔انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ جنرل راحیل شریف کی طرح ان کے دفتر میں بھی اے پی ایس کے شہید بچوں کی تصاویر موجود ہیں۔ میں گاہے بگاہے ان تصاویر کو دیکھتا رہتا ہوں تاکہ میرا عزم کبھی متزلزل نا ہو۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے 22 فروری 2017 کوآپریشن رد الفساد کا اعلان کیا اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی نئی حکمتِ عملی بنائی۔جنرل باجوہ نے کہا ہر پاکستانی رد الفساد کا سپاہی ہے اور ہمیں مل کر فسادیوں سے ملک پاک کرنا ہوگا۔


حقائق نے یہ ثابت کردیا تھا کہ اے پی ایس حملہ آور افغانستان سے آئے تھے اور ان کو ملا فضل اللہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔لشکرِ جھنگوی،مجلس الاحرار، ٹی ٹی پی، الافامی گروپ اور بلوچ لبریشن آرمی کی ڈوریں بھارت اور افغانستان سے ہلائی جارہی تھیں۔ان کے سہولت کار ملک میں بیٹھے ہوئے تھے اور چھپ کر بزدلانہ کارروائیاں کررہے تھے۔


رد الفساد کے تحت ملک بھر میں چھپے ہوئے فسادیوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں ۔دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن ہوئے جس کے بعد امن و امان کی صورتحال میں واضح فرق آگیا ۔آپریشن ردالفساد کی وجہ سے قتل، ڈکیتی، اغوا، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ستر فیصد کمی آچکی ہے اور پاکستان نے اپنے عظیم دوست چین کے ساتھ تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے سی پیک کا آغاز کردیا ۔
فوج نے اپنے نئے جنگی ڈاکٹرین میں عوام کو بھی اپنے ساتھ آپریشن کا حصہ بنا لیا۔ انہیں اپیل کی کہ انہیں اپنی آنکھیں اور کان کھلا رکھنے ہیں اور اپنے اردگرد کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوج کو دینی ہے۔16 جولائی 2017 کو آپریشن خیبرفور کا آغاز کیا گیا ۔خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں بڑا آپریشن ہوا اور سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔پاک فوج نے آپریشن رد الفساد کے دوسرے مرحلے میں افغانستان کے ساتھ بارڈر کو بھی سیل کرنے کے کام کا آغاز کیا۔ پہلے مرحلے میں باجوڑ، مہمند ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں باڑ لگائی گئی ہے۔چمن بارڈر پر قلعے قائم کئے گئے ہیں۔ اب تک بارڈر پر بیالیس کلومیٹر پر باڑ لگانے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اور 750 قلعے بنائے جارہے ہیں اوران میں سے کئی قلعے مکمل ہوگئے ہیں ۔


سولہ دسمبر لہو سے فتح کے چراغ روشن کرنے کا دن ہے۔یہ ایک قیامت تھی جو ہم پر بیت گئی لیکن اس دن قربانی شجاعت اور صبر کی ایسی داستان لکھی گئی جس کی تاریخ نہیں ملتی۔اس دن نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد کیا۔ ملک میں امن و امان قائم کرنا صرف حکومت اور فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم سب کو مل کر حصہ ڈالنا ہوگا۔ اچھے اور بُرے دہشت گرد کی تفریق ختم کرنا ہوگی۔چندہ دینے سے پہلے دیکھ لیں کہ کہیں ہم دہشت گردوں کو گولی تو نہیں خرید کر دے رہے۔ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ پاکستانیوں کو شکست نہیں دے سکتے، جس ملک کے بچے ان کے استاتذہ اتنی بڑی قربانی کی داستان رقم کرچکے ہوں، اسی قربانی کی بنیاد پر ہم اپنی ازادی اور خود مختاری کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ہم تمام معصوم شہداء کے قرض دار ہیں۔ اے پی ایس کے تمام شہداء اور ان کے لواحقین زندہ باد پاکستان پایندہ باد۔

مضمون نگار: ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب 'سانحہ آرمی پبلک سکول' شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

twitter@Javerias

 
08
December

تحریر: عقیل یوسف زئی


افغانستان کے مشرقی شہر اور صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پچھلے دنوں پاکستانی قونصلیٹ کے اسسٹنٹ نیئر اقبال رانا کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے چھ گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ اس سے قبل اسی شہر سے پاکستانی سفارتی عملے کے ایک اور اہلکار کو اغوأ کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں افغان اداروں نے کئی روز کی کوششوں کے نتیجے میں باز یاب کرایا تھا۔ جبکہ گزشتہ 17 برسوں کے دوران افغانستان میں نہ صرف ایسے کئی واقعات ہوتے رہے ہیں بلکہ کئی بار پاکستانی، دیگر ممالک کے سفارتخانوںکے اہلکاروں اور قونصلیٹس کو حملوں کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق نیئر اقبال رانا اور بعض دیگر کو دھمکیاں دی جارہی تھیں اور یہ صورت حال متعلقہ افغان حکام کے نوٹس میں لائی جا چکی تھی۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمرسمیت متعدد دیگر اعلیٰ شخصیات نے اس واقعے پر جہاں ایک طرف پاکستانی حکومت سے رابطہ کر کے اظہارِ افسوس کیا ہے وہاں افغان صدر نے واقعے کی تحقیقات کا بذاتِ خود حکم دے کر ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کی ہدایات جاری کی ہیں۔ واقعے کے دوسرے روز حنیف اتمر نے قومی سلامتی کے پاکستانی مشیر ناصر خان جنجوعہ سے رابطہ کرکے اس واقعے پر افسوس ظاہر کیا اور یقین دلایا کہ مجرموں کی گرفتاری کے علاوہ سفارتکاروں کے مکمل تحفظ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ دوسری طرف اشرف غنی نے وزیرِاعظم شاہدخاقان عباسی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ہر ممکن تعاون کے علاوہ واقعے پر اظہارِ افسوس کرنے میں کوئی تاخیر نہیںکی جو کہ بدلتے حالات کے تناظر میں ایک خوش آئند اقدام اور طرزِ عمل ہے۔


قبل ازیں افغان حکام نے مقتول کی نعش کو پورے احترام، عزت اور پروٹوکول کے ساتھ طورخم بارڈر پر پہنچایا جہاں نعش ایف سی حکام کے حوالے کردی گئی۔ ان کی نعش اور تابوت پر پھولوں کے گلدستے چڑھائے گئے تھے اور اسے پاکستانی پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔

 

خطے کا امن دونوں ممالک کی دوستی اور اعتماد سازی کے ساتھ مشروط ہے۔ بدلتے حالات میں بعض قوتیں کوشش کریں گی کہ کشیدگی اور تصادم کی فضا کو فروغ دیا جائے۔ تاہم دونوں ممالک کو ٹھنڈے دل سے ایک دوسرے کی بعض مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے معاملات کو آگے لے کر جانا ہوگا۔

امر واقعہ تو یہ ہے کہ جس اہتمام کے ساتھ افغان حکام اور فورسز نے سفارتکار کے تابوت کو طورخم پہنچایا اور جو انتظامات کئے گئے، ہمارے ہاں اس نوعیت کے کوئی انتظامات نہیں تھے۔ غالباً یہ وہ واحد نعش تھی جس کو افغان فورسز نے اتنی عزت، دکھ اور اہتمام کے ساتھ پاکستانی اہلکاروں کے سپرد کیا جس سے ثابت یہ ہو رہا تھا کہ سانحے پر اعلیٰ ترین افغان شخصیات، اداروں اور حکام بھی رنجیدہ ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو ایک سال کی دوری، لاتعلقی اور کشیدگی کے بعد پھر سے قریب لانے کی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہورہی تھیں اور جنرل قمرجاوید باجوہ کے یکم اکتوبر کے دورئہ کابل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنی شروع ہوگئی تھی۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہے کہ جنرل باجوہ کے کامیاب دورے کے بعد نادیدہ قوتوں نے مسلسل کوشش کی کہ بداعتمادی اور کشیدگی پیدا کرنے کے لئے کابل اور دوسرے شہروں پر حملے تیز کئے جائیں اور افغان صدر اشرف غنی کے متوقع دورئہ اسلام آباد کا راستہ روکاجائے۔ جنرل باجوہ کے دورئہ کابل کے بعد کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا تھا اور دونوں ممالک قریب آرہے تھے کہ کابل سمیت دوسرے شہروں کو بدترین حملوں کا نشانہ بنانے کی مہم چل نکلی جو کہ ایک باقاعدہ پلاننگ کا حصہ تھی۔ جنرل باجوہ یکم اکتوبر کو کابل گئے تو اس کے بعد ایک مہینے کے دوران افغانستان کے تقریباً 15صوبوں پر طالبان، داعش اور دیگر نے تقریباً 21بڑے حملے کئے جن میںگیارہ خود کش حملے بھی شامل ہیں۔ صرف کابل کو ایک ماہ کے اندر 6 حملوں کانشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں 16 افسران اور فورسز کے 123 اہلکاروں سمیت300 لوگ مارے گئے۔ کابل کے 6 حملوں میں سے 4 ہائی پروفائل سکیورٹی زون میں کرائے گئے جہاں اہم دفاتر کے علاوہ متعدد سفارتخانے بھی موجود ہیں۔ اس صورت حال کا واحد مقصد یہ تھا کہ ان حملوں کی آڑ اور دبائو میں بہتر ہوتے تعلقات کا راستہ پھر سے روکا جائے اور ماضی کی طرح مجوزہ مفاہمتی اور مشترکہ کارروائیوں کے آپشن کا راستہ مسدود کیا جائے۔ وقتی طور پر حملہ آور یا اُن کے منصوبہ ساز اس کوشش میں کامیاب بھی ہوگئے کیونکہ افغان صدر کا دورئہ اسلام آباد تعطل کا شکار ہوا اور ان پر دبائو میں حسبِ سابق اضافہ ہونے لگا۔ اسی دوران پشاور آئے ہوئے افغان ڈپٹی گورنر محمدنبی احمدی لاپتہ ہوگئے اور کہا گیا کہ ان کو مسلح افراد نے ڈبگری گارڈن سے اٹھایا ہے۔ تادمِ تحریر ان کا سراغ نہیں ملا ہے۔ اس سے قبل اسی شہر میں بعض دیگر کے علاوہ ماضی قریب میں ایک افغان قونصل جنرل اور ایرانی قونصل جنرل کو بھی اغوا ء کیا گیا تھا جبکہ بعض اہم لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ان واقعات کو محض اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس قسم کے واقعات ایک مستقل اور مسلسل پالیسی کا نتیجہ ہیں اور اس کا مقصد بدگمانیوں اور فاصلوں میں اضافہ کرنا ہے اس لئے یہ کہنا کہ ایسے واقعات کو اتفاق، حادثہ یا حکومتی اداروں کا نتیجہ قرار دیا جائے، زمینی حقائق کے تناظر میں درست اپروچ نہیں ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ جب بھی دونوں پڑوسی ممالک قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے واقعات کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں حکومتیں ایسے واقعات اور معاملات پر سخت ردِ عمل اورجذباتی بیانات کے بجائے ٹھنڈے دل سے ان ہاتھوں کا سراغ لگائیں جو کہ مسلسل پالیسی کے ذریعے ایسے واقعات کی آڑ میں کشیدگی کا راستہ ہموار کرتے آئے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ افغان حکمران ماضی کے مقابلے میں حملوں یا دیگر واقعات کے بعد پاکستان پر روایتی الزامات لگانے سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور پاکستان کا رویہ بھی مثبت ہے تاہم ایسے واقعات ہوتے رہیں گے کیونکہ مفاہمتی عمل اور ریاستوں کے درمیان قربت دہشت گردوں کے علاوہ بعض ان عالمی اور علاقائی قوتوں کے لئے بھی قابلِ قبول اور سود مند نہیں ہے جو کہ افغانستان اور پاکستان کو قریب آنے نہیں دے رہے ہیں اور ان کے مفادات کشیدگی اور بداعتمادی سے جڑے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو حالیہ واقعے کے ذریعے دیوار سے لگانے کی کامیاب سازش کی گئی ہے کیونکہ اس بات کا اعتراف جناب اشرف غنی خود کر چکے ہیں کہ سفارتکاروں کو سکیورٹی فراہم کرنا ان کی ریاستی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں پاکستان کو ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے افغانستان کی مجبوریوں اور کمزوریوں کو مدِ نظر رکھ کر اس قسم کی سازشوں کو ٹھنڈے دل اور بہتر طرزِ عمل کے ساتھ ڈیل کرنا ہوگا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ افغان ڈپٹی گورنر کا اغواء اور پاکستانی سفارت کار کے قتل کے محرکات ذاتی یا مجرمانہ پسِ منظررکھتے ہوں۔ ایسے میں لازمی ہے کہ حملہ آوروں کے مقاصد کو سامنے رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے اور اعتماد سازی کو سبوتاژ کرنے والی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔

jalalabadmain.jpg
یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ بعض افغان حکام کی بداحتیاطی بھی بدمزگی کی وجہ بنتی رہی ہے، مثلاً اعلیٰ افغان حکام کی پشاوراور دیگر شہروں سے گمشدگی اور بعض ذمہ داران کی غیر قانونی سرگرمیوں نے افغانستان اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کو پھر سے مشکوک اور تلخ بنایا ہے جس پر پاکستانی ادارے بھی تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ برس اسلام آباد میں صوبہ کنڑ کے گورنر لاپتہ ہوگئے تھے جن کی بازیابی کے لئے کئی روز کارروائیاں ہوتی رہیں اور تلخی بڑھتی گئی۔ چند روز قبل پشاور میں افغانستان کے نئے قونصل جنرل معین مرستیال کے پرسنل سیکرٹری اور سابق ٹریڈ کمشنر میرویس یوسفزئی نے پشاور کے علاقے شیخ کلی میں چند دیگر افراد کے ہمراہ رحمان اﷲ ولد رحمان الدین پر حملہ کرکے فائرنگ کی جس کو دو گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوگیا۔ ان کی رپورٹ پر پشاور پولیس نے میر ویس کو گرفتار کرلیا۔ اس تنازعے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ موصوف نے چند برس قبل پشاور میں افغان سفارتی عملے کا رُکن ہوتے ہوئے غیرقانونی طور پر جائیداد خریدی اور اس کے بعد کاغذات کے معاملہ پر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ اسی عرصے کے دوران انکشاف ہوا کہ موصوف نے نہ صرف افغان تاجروں سے بھاری رشوت لی بلکہ سٹاف کی تنخواہوں میں غبن بھی کیا۔ مسلسل شکایات کے بعد گزشتہ برس سابق قونصلر ڈاکٹر عبداﷲ پویان نے ان کو برطرف کردیا اور تلخی اتنی بڑھی کہ ان پر افغان قونصلیٹ میں داخلے پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی اور ایک بار ان کو قونصلیٹ کی حدود سے گارڈز کے ذریعے باہر نکلوایا گیا۔ نئے قونصل جنرل معین مرستیال نے چند ہفتے بعد چارج سنبھالا تو میرویس یوسفزئی کو انہوں نے تمام سابقہ شکایات اور کارروائیوں کے باوجود اپنا پرسنل سیکرٹری مقرر کیا۔ اس دوران شکایات آئیں کہ وہ بعض دیگر کارندوں کے ذریعے ویزے جاری کرنے پر 10 سے 20ہزار تک کی رشوت لینے میں ملوث ہے اور بعض مشکوک لوگوں کو ویزے جاری کررہا ہے جس پر متعدد انکوائریاں بھی ہوئیں۔ یہ سکینڈل زیرِ بحث تھا کہ اس نے جائیداد کے تنازعے پر ایک شخص پر فائرنگ کا انتہائی اقدام بھی اٹھایا۔ ابھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تھا کہ دیگری گارڈز سے صوبہ کنڑ کے ڈپٹی گورنر نبی احمدی لاپتہ ہوگئے جو کہ نجی دورے پر علاج کی غرض سے پشاور آئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ افغان سفارتی عملہ بھی اُن کی آمد سے لاعلم دکھائی دیا۔ اس سے کئی برس قبل حیات آباد پشاور سے بداحتیاطی کے باعث افغان قونصلر جنرل خرامی بھی اٹھائے گئے تھے جن کی بازیابی کے لئے کروڑوں کی ادائیگی کی گئی تھی۔ تاہم حالیہ واقعات نے صورتحال کو اور بھی گمبھیر بنادیا ہے۔


سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کو یہ علم ہے کہ بعض نادیدہ قوتیں اور تیسرے ہاتھ جیسے عوامل نہیں چاہتے کہ بحالی تعلقات کی کوششوں کو کامیاب ہونے دیا جائے تو ایسے میں فریقین احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے؟ یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے تناظر میں خصوصی اقدامات کیوں نہیںکئے جاتے اور مزید بدگمانیوں کا راستہ کیوں نہیں روکا جاتا۔ خیبر ایجنسی کے وہ 17 لوگ تاحال لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو افغانستان میں رکھاگیا ہے۔ حال ہی میں جب افغان سرزمین سے آئے بعض دہشت گردوں نے باجوڑ کی ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور کیپٹن سمیت متعدد افراد کو نشانہ بنایا تو وہ متعدد زخمی پھر آسانی سے واپس افغانستان چلے گئے جن کو جوابی کارروائی میں پاک فوج نے نشانہ بنایا تھا۔اس واقعے کی اطلاع دوسری سائیڈ کو دی گئی مگر وہاں سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔ اس کے برعکس افغان تجزیہ کار مسلسل الزام لگارہے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے بعض سرحدی صوبوں پر گولہ باری کی جاتی رہی ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ عام آبادی کو نہیں بلکہ ان مبینہ ٹھکانوںکو کبھی کبھار نشانہ بناتے ہیں جہاں پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گرد چھپے ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل بھی بات چیت کے ذریعے نکالنا لازمی ہے تاکہ ان عناصر کے پروپیگنڈے کا راستہ روکا جاسکے جو ایسے اقدامات یا کارروائیوں کی آڑ میں بدگمانی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔


اس ضمن میں سابق سفارتکار رستم شاہ مہمند نے رابطے پر بتایا کہ بعض افسوسناک واقعات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی کی کوششیں رک جائیں۔ ان کے مطابق افغانستان نہ صرف حالتِ جنگ میں ہے بلکہ جاری جنگ کے کھلاڑیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ کوششوں کا راستہ مختلف سازشیں کرکے روکا جائے گااور بعض ایسے واقعات کا راستہ ہموار کیا جائے گاجن سے تلخیاں بڑھیںگی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور ساتھ میں صلح اور امن کی ریاستی کوششیں بھی جاری رکھنی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتکار کی ہلاکت میں حکومت ملوث نہیں ہوسکتی۔


سینیئر تجزیہ کار طاہر خان نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ خطے کا امن دونوں ممالک کی دوستی اور اعتماد سازی کے ساتھ مشروط ہے۔ بدلتے حالات میں بعض قوتیں کوشش کریں گی کہ کشیدگی اور تصادم کی فضا کو فروغ دیا جائے۔ تاہم دونوں ممالک کو ٹھنڈے دل سے ایک دوسرے کی بعض مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے معاملات کو آگے لے کر جانا ہوگا۔ ان کے مطابق ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کی اشد ضرورت ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ ماضی کے برعکس اس بار الزامات کے بجائے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور اعلیٰ حکام دوطرفہ طور پر بعض واقعات کے بعد ایک دوسرے کو اعتماد میں لینے بھی لگے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
December

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے نومبر کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان حکومتی سطح پر اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت کے دورے اکثر ہوتے رہتے ہیں لیکن جنرل باجوہ کا یہ دورہ تین وجوہات کی بناء پر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تو یہ کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطوں میں سیاسی حالات تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں۔'' داعش'' یا ''اسلامی خلافت'' جس کی افواج تین سال قبل عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قابض تھیں، عسکری لحاظ سے شکست کھا کر تتر بِتّر ہو رہی ہیں اور اس کے جنگجو اردگرد کے اسلامی ملکوں جن میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں، میں پناہ لے رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس خطے کی سلامتی کے لئے ایک نیا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ ایران کے ساتھ تقریباً900 کلومیٹر لمبی سرحد اور آبنائے ہرُمز کے دہانے پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان خلیج فارس کی دفاعی حکمتِ عملی کا ایک اہم پارٹنر ہے۔ خلیج فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے پاکستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خصوصاً ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی پاکستان کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ دونوں پاکستان کے دوست ممالک ہیں۔ ان حالات کی روشنی میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ حکومتی سطح پر تبادلۂ خیال اور صلاح مشورہ ضروری ہے۔


جنرل باجوہ کا دورئہ ایران جس دوسری وجہ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے وہ یہ کہ حال ہی میں افغانستان نے بھارت سے درآمدات کے لئے ایران کی بندر گاہ چابہار کا استعمال شروع کیا ہے۔ اس کے تحت افغانستان کے لئے بھارتی گندم کی پہلی کھیپ حال ہی میں ایران کے راستے افغانستان پہنچی ہے۔ اس سے قبل افغانستان کی درآمدات بھارت سے کراچی کے راستے آتی تھیں۔ چابہار گوادر سے صرف72 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر میں بھارت ایران کو مالی امداد فراہم کررہا ہے۔

 

pakirantaluuk.jpgاس بندر گاہ کے راستے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کا اجراء صرف معاشی مضمرات کا حامل نہیں بلکہ سیاسی اور دفاعی لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور ایران دوبرادر اسلامی ممالک ہیں۔ دونوں کے باہمی تعلقات ماضی میں بھی خوشگوار رہے ہیں اور اب بھی جذبۂ خیرسگالی، باہمی احترام اور تعاون کی سپرٹ سے مزّین ہیں۔ اس لئے یہ ایک بالکل قدرتی بات ہے کہ دونوں میں سے کسی کے لئے بھی اگر کوئی مسئلہ تشویش کا باعث ہو تو اُس پر بات چیت اور تبادلۂ خیال ہونا چاہئے۔ تیسرے، باوجود اس کے کہ دونوں ملکوں میں حکومتی اور عوامی سطح پر خوشگوار تعلقات قائم ہیں، پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر سکیورٹی کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردوں، خصوصاً پاک طالبان اور ''داعش'' کے جنگجوئوں، کی موجودگی اور اُن کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان ملاقات کا سلسلہ لازمی ہے۔ جنرل باجوہ کے دورئہ ایران کا ایک اہم مقصد پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد کی سکیورٹی کو اور بھی یقینی بنانا ہے تاکہ دہشت گرد، تخریب کار اور جرائم پیشہ افراد جن میں غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے لوگ، اسلحہ، منشیات اور انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث لوگ شامل ہیں، اس سرحد کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔ بلوچستان میں فوج اور ایف سی کی نگرانی میں دونوں ملکوں کی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان میں پاکستان کی طرف سرحد کے ساتھ ساتھ گہری خندق اور چیک پوسٹوں کا قیام بھی شامل ہے۔ پاکستان نے ایران سے بھی سرحد کی دوسری طرف سے اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے، جس طرح پاک۔ افغان بارڈر کی سکیورٹی کے لئے پاکستان نے اپنی طرف اہم اور مؤثر اقدامات کئے ہیں، اسی طرح پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ دہشت گرد پاک، ایران سرحد کو اپنی مذموم سرگرمیوں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لئے پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت نے دوطرفہ بنیادوں پر باہمی روابط کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر اور مضبوط بنانا صرف اسی لئے ضروری نہیں کہ سرحدکے اُس پار سے دہشت گرد پاکستانی صوبہ بلوچستان میں داخل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرسکتے ہیں بلکہ طویل سرحد کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میںجرائم پیشہ افراد کی غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سرگرمیوں میں انسانی سمگلنگ، منشیات اور سب سے نمایاں غیر قانونی طور پر پاکستان سے ایران جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ان میں سے بہت سے سرحد پر دھر لئے جاتے ہیں اس کے باوجود ان غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو چوری چھپے پاکستان سے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق ایران نے 2015 میں ایسے 26,000 افراد کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا جبکہ اُس سے ایک سال قبل ایسے افراد کی تعداد 5218 تھی۔ اس طرح ایران سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں ممالک کی حکومتیں اس صورت حال سے پریشان ہیں کیونکہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے ان افراد میں سمگلر اور جرائم پیشہ افراد کے علاوہ دہشت گرد بھی ہوسکتے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ایک افسر کلبھوشن یادیو کی مثال ہمارے سامنے ہے جسے ایران سے بلوچستان میں خفیہ طور پر داخل ہوتے وقت پاکستانی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ سرحد کے آر پار غیر قانونی افراد کی نقل و حرکت کو روکنے اور مؤثر بارڈر کے لئے جو اقدامات کئے جارہے ہیں اُن میں دونوں ممالک کا تعاون شامل ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان اور ایران دونوں اِن اقدامات کی افادیت اور اہمیت پر متفق ہیں۔ اس کا اظہار دونوں جانب سے جنرل باجوہ کے دورئہ ایران کے موقع پر کیا گیا تھا۔

 

باوجود اس کے کہ دونوں ملکوں میں حکومتی اور عوامی سطح پر خوشگوار تعلقات قائم ہیں، پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر سکیورٹی کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردوں، خصوصاً پاک طالبان اور ''داعش'' کے جنگجوئوں، کی موجودگی اور اُن کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان ملاقات کا سلسلہ لازمی ہے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات اتنے گہرے، ہمہ گیر، دیرینہ اور مضبوط ہیں کہ انہیں محض بارڈر سکیورٹی تک محدود نہیں رکھا گیا ۔ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ملک نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لئے اس جغرافیائی حقیقت سے آگے بھی بہت کچھ ہیں۔ ماضی میں جب ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت پیش آئی، تو دونوں میں سے کسی نے بخل سے کام نہیں لیا۔ 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پاکستانی معیشت خصوصاً برآمدات پر سخت دبائو پڑا تو ایران نے پاکستانی برآمدت کے لئے اپنی منڈیوں کے دروازے کھول دیئے تھے اور صرف تین سال کے عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حُجم میںگیارہ گنا اضافہ ہوگیا تھا۔ اسی طرح 1979کے اسلامی انقلاب اور اس کے ساتھ ہی عراق کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں جب ایرانی بھائی مشکلات کا شکار ہوئے تو پاکستان نے اپنے وسائل کے مطابق ایران کو اشیائے خورو نوش، اناج اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی جاری رکھی۔ پاکستان اور ایران دو آزاد اور خود مختار علیحدہ ممالک ہیں اوران میںسے ہر ایک کی علاقائی اور عالمی پالیسی اُس کے قومی مفادات کے تابع ہے لیکن دونوں نے ایسا کرتے وقت کسی کے بنیادی مفاد کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی۔ اسی سلسلے میں ایران کی طرف سے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت ایک نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح پاکستان نے یمن میں اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کسی ایسے اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتا جس کی وجہ سے ہمسایہ اسلامی ملکوں کے مفاد پر زد پڑتی ہو۔ حکومتی سطح پر پاکستان اور ایران میں ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی اور محبت کی کوئی کمی نہیں۔ تاہم ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے پاک ایران دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں کمی واقع ہوگئی تھی۔ لیکن دوسال قبل ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ایٹمی سمجھوتے کے بعد ایران کے خلاف پابندیاں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے ممالک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسیع کررہے ہیں۔ کیونکہ ایران تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کا مالک ہے۔ پاکستان نے بھی اس سمت پیش رفت کی ہے۔ مارچ 2016 میں پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ تجارت خرم دستگیر نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو آئندہ پانچ برسوں میں ایک بلین ڈالر سے بڑھا کر 5بلین ڈالر کی سطح تک لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُسی برس ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اُن کے دورے کے دوران اس مقصد کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت
MOU
پر بھی دستخط کئے گئے تھے۔ دوطرفہ تجارت میں فروغ کے علاوہ پاکستان اور ایران نے حال ہی میں عوامی سطح پر روابط میں اضافہ کرنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ ان میں دونوںملکوں کے درمیان مزید دو کراسنگ پوائنٹس کا قیام ہے۔ یہ کراسنگ پوائنٹس گید اور مند پاکستان میں اورایمدان اور پشین سرحد کی دوسری طرف ایران میں ہیں۔ ان کراسنگ پوائنٹس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بھی بڑھے گی اور لوگوں کی آمد و رفت میں بھی اضافہ ہوگا۔ سفری سہولتوں کو مزید آسان اور سستا بنانے کے لئے پاکستان اور ایران نے ایک فیری سروس شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت اورآمدو رفت کا سب سے قدیم راستہ تفتان سے گزرتا ہے۔ اس کو وسیع کیا گیا ہے اور اسے نئی سہولتوں سے مزّین کیا گیا ہے۔ اس پر ایک شاندار گیٹ تعمیر کیا گیاہے جس کا افتتاح دسمبر2016 میں کیا گیا تھا۔ اسی تناظر میںآرمی چیف جنرل باجوہ کے دورے کو خصوصی اہمیت حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ اس سے ان سہولتوں کو مستحکم کرنے اور مزید وسعت دینے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter