09
October
اکتوبر 2017
شمارہ:10 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قومیں اپنی بقاء کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دیتی ہیں۔ کسی قوم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی نو جوان نسل اپنی سرزمین اور اپنے نظریے کے ساتھ کس طرح سے جڑی ہوئی ہے اور وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کس قدر پرعزم ہے۔ الحمدﷲ پاکستانی قوم اور اس کے نوجوان اپنی دھرتی کی حفاظت اس سرشاری سے کرتے ہیں کہ اٹھارہ اٹھارہ، بائیس بائیس سال کے نوجوان اپنا ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
ایک ایسی دنیا میں جہاں تشدد، جنگ و دشمنی کا ماحول ہو ایسے میں دو ممالک جو نظریاتی لحاظ سے یکسر مختلف ہوںلیکن ان کی دوستی دنیا بھر کے لئے ایک مثال ہو وہ پاک چین دوستی ہے۔ پاکستان اور چین نہایت قریبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی تعلقات کی بنا پر دنیا بھر میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات پچھلی سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس تعلق کی جڑیں نہایت گہری اور پائیدار ہیں جو کہ یقیناً دونوں....Read full article
 
 alt=
تحریر: عقیل یوسف زئی
مقبول عام تجزیوں اور زمینی حقائق کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باوجود اس کے بہتر ہوتے جارہے ہیںمگر امریکہ اور بعض دیگر ممالک کی کوشش ہے کہ ان پڑوسی اور ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ممالک کو کسی بھی جواز کی آڑ میں مزید بداعتمادی اورتصادم کی راہ پر ڈال دیا جائے۔ کراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر پائی جانے والی بدگمانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ معاملات اس انداز سے بہتر نہیں ہو ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں
شمالی کوریا کی طرف سے 3ستمبر کو ہائیڈروجن بم اور اس سے قبل اوائل اگست میں بیلسٹک میزائل کے تجربات کے خلاف رد عمل کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کے خلاف بھاری اقتصادی پابندیوں کے حق میں قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے تحت شمالی کوریا کو تیل اور گیس کی فراہمی اور اس کی ٹیکسٹائل برآمدات پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ ان سے کہیں....Read full article
 
تحریر: حماس حمید چودھری
جرمنی کے شہر ' ہیمبرگ' میں جی ۔20 ممالک کا بارہواں سربراہی اجلاس رواں سال جولائی میں منعقد ہوا جس کی جرمنی نے پہلی بار میزبانی کی۔ اس وقت جی۔ٹونٹی گروپ کے 20 ممالک جبکہ یورپی یونین بحیثیت ادارہ بیسواں رکن ہے۔ اس کے علاوہ چند ممالک جن میں نیدرلینڈز ، اسپین، سنگاپور وغیرہ شامل ہیں، ان کو بھی باقاعدہ مدعو کیا جاتا ہے۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان کے ساتھ ساتھ وزراء.....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
بے گناہ روہنگیامسلمانوں کاخون آخررنگ لے آیا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے جنرل کونسل اجلاس میں روہنگیامسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم کی بازگشت سنی گئی۔دنیا دیرسے جاگی، اگرعالمی برادری ابتدا میں ہی میانمار حکومت پردباؤ ڈالتی توبہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ تاہم اب بھی کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میانمارکی سرکاری فورسزدوبارہ روہنگیا مسلمانوں کاقتل....Read full article
 
تحریر: یا سر پیر زادہ
>مہاتما بدھ نے پیڑ تلے بیٹھے بیٹھے جھڑتے پتوں سے مٹھی بھری اور آنند کو دیکھا۔'' اے آنند کیا سارے پتے میری مٹھی میں آگئے ہیں ؟''
آنند جھجکا۔پھر بولا، تتھا گت، یہ رت پت جھڑ کی ہے۔ پتے جنگل میں اتنے جھڑے ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہو سکتی۔.....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
12 پنجاب کے شہدا ء کی فہرست میرے ہاتھ میں تھی ۔ ان سب سے نسبت کا ایک مشترکہ پہلو تو تھا ہی لیکن جب اس فہرست پر تفصیلی نظر دوڑائی تو نگاہِ انتخاب برگزید ئہ الٰہی ،شہید حق نواز کے نام کے آگے لکھے اس کے گھر کے پتے پر جا ٹھہری، ''تحصیل میاں چنوں!''مجھے اپنی بے خبری پر افسوس ہوا کہ یہ شہید تو میرا گرائیں ہے ۔میرا فخر ہے دوسرے....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
گیٹ ٹو گَیدر
گیٹ ٹو گَیدر یعنی میل ملاقات فوجی زندگی کا خاصہ ہے۔ سیاچن کی برف پوش چوٹیاں ہوں، کوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑ ہوں، چولستان اور تھر کا صحرا ہو یا پنجاب کے میدانی علاقے، فوجی چاہے کہیں بھی ہوں مل بیٹھنے کا بہانہ ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔اس کی نوعیت اور لیول ضرور مختلف ہو سکتے ہیں مثلا یونٹ افسروں....Read full article
 
تحریر: رابعہ رحمن
میجر جمال اپنی فطرت میں ایک انوکھے اور دبنگ انسان تھے، میجر جمال شیران بلوچ11نومبر1986 کو تربت میں میر شیران کے ہاں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم تربت کے کیچ گرامر سکول سے حاصل کی اور ریذیڈیشنل کالج تربت سے ہی فارغ التحصیل ہوئے۔ میجر جمال کے والد میر شیران مسقط آرمی سے ریٹائر ہوئے تھے۔ جسم میں ایک فوجی افسر کا خون دوڑ رہاتھا اور میر شیران کی خواہش بھی تھی کہ....Read full article
 
انٹرویو : صبا زیب
جن کے حوصلے چٹان ہوں انہیں دنیا کی کوئی طاقت اپنے عزائم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ مشکلات ان سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ تو ہو سکتی ہیں مگر انہیں منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتیں۔
ثمرخان بھی پاکستان کا ایک ایسا ہی چمکتا ستارہ ہے جو دیر کے علاقے سے طلوع ہوا اور نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔ مختلف چوٹیوں کو اپنی.....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے....Read full article

تحریر: صائمہ بتول
اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کے لفظی معنی ایسی مشین کے ہیں جو انسانی دماغ کے قریب قریب سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ سمارٹ فون، ٹیبلٹ اور جدیدکمپیوٹر میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر ہے۔ اینڈ رائیڈ، ہارڈویئر کو زیادہ تیز، بہتر اور سمجھداری سے چلنے میں مدد دیتا ہے۔ جس کی مدد سے ہم خبریں، علم اورتفریح حاصل کرسکتے ہیں۔ موسیقی سنتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، نقشے ........Read full article
 
تحریر: مستنصر کلاسرا
مردان کی یونیورسٹی میں ہونے والا واقعہ کسی دل دہلادینے والی داستان سے کم نہیں۔ چند لوگوں نے ایک شخص پر الزام لگایا پھر فیصلہ سنایا اور پھر اُس کی سنگینی کا اندازہ کئے بغیر اس پر عمل بھی کر ڈالا۔ کسی بھی مہذب معاشرے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ ایک روایت بنتی جارہی ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
مچھرپوری دنیا میں سب سے چھوٹے مگر سب سے زہریلے اور جان لیوا جانداروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کی پوری دنیا میں تقریباً3,500 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہر سال تقریباََ ایک ملین سے زیادہ لوگ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مچھر سے پھیلنے.....Read full article
 
تحریر:ڈاکٹر ہمامیر
آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہو گا کہ فلاں خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جنگل کی آگ ہم نے اب تک صرف محاوروں میں یا کبھی کبھار خبروں میں ہی سنی تھی مگر دراصل جنگل کی آگ کیا ہوتی ہے، یہ ہمیں کینیڈا آ کر پتہ چلا۔....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
دنیا بھر میں پھیلے جپسی ہمیشہ ہی میرے سفروں میں خاص دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔ یورپ سے امریکہ تک یہ ہمیں ہرجگہ ملتے ہیں۔ خصوصاً یورپ میں ان کا وجود الگ سے دکھائی دیتا ہے کہ یورپی سیاست، ثقافت، موسیقی، ادب اور دیگر فنونِ لطیفہ پر اُن کے اثرات ہر دَور میں دیکھے گئے ہیں۔یورپ میں انہیں عام طور پر رومانی'' کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ لیکن ہر علاقے، خطے اور ملک میں اُن....Read full article
 
تحریر: محمد سعید گِل
ہر مصنف اور شاعر اپنی سوچ کے مطابق اپنے تحریری موضوع کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے بھی اپنی تحریر کے لئے افواجِ پاکستان کے موضوع کا انتخاب کیا۔ مجھے شروع سے ہی پاکستان کی مسلح افواج سے والہانہ محبت ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ سیلاب کی بپھری ہوئی لہریں ہوں، کراچی کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہو، سرحدوں کے کشیدہ حالات ہوں یا قدرتی آفات ہوں، پاک فوج ہر قسم کے....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
شاعر انقلاب و رومان فیض احمد فیض نے جیل کے دنوں میں لکھا اپنا مجموعہ کلام ''زندان نامہ'' ایلس فیض کو دیتے ہوئے کہا ذرا ''مولانا'' کو دکھا دینا زبان و بیان کی کوئی غلطی نہ رہ جائے۔فیض صاحب خود اپنی شاعری کے حوالے سے اُس وقت تک بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکے تھے مگر اُن کی عظمت اور انکساری کا عالم دیکھیں کہ اپنے کلام پر نظر ثانی کے لئے مولانا کو بھجوا رہے ہیں۔....Read full article
09
October

تحریر: مجاہد بریلوی

شاعر انقلاب و رومان فیض احمد فیض نے جیل کے دنوں میں لکھا اپنا مجموعہ کلام ''زندان نامہ'' ایلس فیض کو دیتے ہوئے کہا ذرا ''مولانا'' کو دکھا دینا زبان و بیان کی کوئی غلطی نہ رہ جائے۔فیض صاحب خود اپنی شاعری کے حوالے سے اُس وقت تک بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکے تھے مگر اُن کی عظمت اور انکساری کا عالم دیکھیں کہ اپنے کلام پر نظر ثانی کے لئے مولانا کو بھجوا رہے ہیں۔ یہ مولانا کون تھے؟ آج کا ہمارا آزاد پاپولر میڈیا نہ اُن کے نام سے واقف ہو گا اور نہ ہی اُن کے گراںمایہ صحافتی کام سے۔ ''مولانا'' کے نام سے شہرت رکھنے والے چراغ حسن حسرت کے بارے میں آغا شورش کاشمیری کا کہنا ہے ''سیرت بھی لکھی' افسانے بھی تحریر کئے۔۔ شاعری کے ہر کوچے سے آشنا رہے۔۔ غزل ہو یا نظم، طنز کریں یا پیروڈی، نعت لکھیں یا منقبت۔۔ قلم اُن کا موتی بکھیرتا تھا''۔ چراغ حسن حسرت نے ابتدائی صحافت کا آغاز مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال سے کیا۔ وہاں سے انہیں بابا ئے صحافت مولانا ظفر علی خان لے اُڑے۔ پھر میاں افتخار الدین کے پروگریسو پیپر کے اخبار امروز کی ایڈیٹری کی۔یہاں سے نوکری چھوڑی تو ریڈیو میں گئے اور وہاں بھی اپنی دھاک جمائی اور ''کالم نویسی'' تو خیر اُن کا خاص میدان تھا ہی۔ چراغ حسن حسرت کے نام کے ساتھ مولانا کا لاحقہ کب لگا۔۔ کیسے لگا۔۔ کیوں لگا؟ یہ ایک الگ تحقیق کا موضوع ہے کہ چراغ حسن حسرت میں معروف معنوں میں ''مولانا یا مولوی'' والی کوئی خصوصیت نہیں تھی۔ محض ''رند'' نہیں رندِ بلا نوش تھے۔ موسیقی سے شغف تھا اور اس کے لئے باقاعدہ جا کر گانا سُنتے۔چراغ حسن حسرت میں انا کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اُردو، عربی، فارسی اور سنسکرت کا بے پناہ علم اور دسترس تھی۔ صحافت اُن کے گھر کی باندی ہی نہیں تھی بلکہ ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دنوں میں جب جرمنی کے خلاف کمیونسٹ روس بھی جنگ میں شامل ہو گیا تو انڈین کمیونسٹوں نے بھی اسے قومی جنگ قرار دے دیا۔ اور تو اور جب فیض صاحب جیسے شاعر نے بھی کرنل کی وردی پہن لی تو چراغ حسن حسرت بھی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے میں بھرتی ہو گئے۔ سنگاپور جا کر ایک جنگی جریدہ نکالا۔ جنگ ختم ہوئی تو واپس پھر صحافت میں آگئے۔ قیامِ پاکستان کے وقت جب امروز نکلا تو اُس کی ایڈیٹری کے لئے خود فیض صاحب نے جو ایڈیٹر انچیف تھے، انہیں بلا کر ایڈیٹر بنایا۔ مولانا کا زیادہ وقت دفتر میں گزرتا یا پھر چائے خانوں میں محفلیں جماتے۔ بڑی بڑی ملازمتیں ملیں مگر اپنی انا کی خاطر ہاتھ جھاڑے اور دفتر کی سیڑھیاں اُتر گئے۔ میاں افتخار الدین پر وگریسو پیپرز کے مالک تو تھے ہی مگر پنجاب کے ایک بڑے جاگیردار اور سیاستدان بھی تھے۔ آغا شورش کاشمیری مولانا پر اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔ میاں افتخار الدین سے کوئی بات ایسی سرزد ہوگئی جو ان کی منشا کے خلاف ہوتی تو اس پر بگڑ جاتے، اب انہی کے دفتر میں بیٹھ کر انہی کے خلاف تبصرہ ہو رہا ہے۔ ترکیبیں وضع کی جا رہی ہیں، فقرے گھڑے جا رہے ہیں۔ طنزیں چلی آرہی ہیں۔ یار لوگ اس وقت تو سنتے اور سردھنتے لیکن پھر میاں صاحب تک پہنچا آتے۔ میاں افتخار صاحب دل میں گرہ باندھ لیتے۔ حسرت صاحب دل کا غبار نکال کے صاف ہو جاتے۔ میاں افتخارالدین کے ہاں معافی کا خانہ ہی نہیں تھا۔ اسی اثناء میں میاں افتخار الدین کی زبان سے نکل گیا: ''حسرت صاحب آپ مذہبی اردو لکھتے ہیں''۔ حسرت صاحب تاڑ گئے کہ انہیں یہ پٹی پڑھائی گئی ہے اور کس نے پڑھائی۔ بھڑک کر بولے ''میاں صاحب ! یہ مذہبی اردو کیا ہوتی ہے؟ معلوم ہوتا ہے آپ سے کسی مذہبی سکھ نے روایت کی ہے''۔ سگریٹ کا ایک لمبا کش کھینچتے ہوئے کہا ''معاف کیجئے میاں صاحب! زبان ہرایرے غیرے بیچ کلیان کے بس کا روگ نہیں۔ آپ نے اردو میں کتنی کتابیں پڑھی ہیں؟ اسکول کالج میں تو آپ انگریزی پڑھتے رہے''۔ پھر ایک لمبا سا کش اور پھر وہی کچو کے '' اجی میاں صاحب ! یہ لڑکے حقے کی نَے ہیں۔ آپ کے منہ لگے ہوئے ہیں۔ آپ کو فرصت کہاں کہ امروز پڑھیں۔ جو کچھ آپ کے کان میں ڈال دیا آپ نے 'آویزہ' بنالیا۔ انہیں تو اپنے نام کے ہجے تک نہیں آتے۔۔ رہ گئے معنی تو وہ انہیں کیا معلوم؟ ان کے ابا جان بھی نہیں جانتے۔ بھلا ان سے اپنے ہی نام کے معنی پوچھئے بتادیں تو میں اپنی زبان گدی سے نکلوادوں گا۔ غضب کرتے ہیں میاں صاحب! آپ لسانیات پر بھی سیاسیات کی طرح بلا سوچے سمجھے طبع آزمائی فرما رہے ہیں؟'' اب میاں افتخار الدین جان چھڑا رہے ہیں اور چھوٹتی نہیں۔ خیر وہاں سے اٹھ کر حسرت صاحب اپنے دفتر میں آبیٹھے ۔ چپڑاسی سے کہا حافظ یوسف کو بلاؤ۔ حافظ صاحب آگئے۔ ''سنا آپ نے؟ میاں صاحب کیا فرماتے ہیں؟'' سگریٹ کا ایک لمبا کش لگایا، سرد آہ کھینچی، مونچھوں کو تاؤ دیا، قصہ بیان کیا، قلم کو میز پر رکھا، سلپیں اٹھا کر پرے پھینک دیں۔ ''اجی چھوڑئیے۔ ناقدروں کے پاس کیا رکھا ہے؟ میاں افتخار الدین تو دولت کا حادثہ ہیں۔ ان سے شالا مار کے آموں کی فصل کا حال پوچھئے ۔ یہ کیا جانیں کہ زبان کیا ہے؟ ادب کسے کہتے ہیں؟ شعر کس باغ کی مولی ہے؟'' پورا دفتر سن رہا ہے اور یہ تمام باتیں بہر حال میاں صاحب تک پہنچ جاتی ہیں۔ ''حافظ جی! آج حرف و حکایت نہیں ہوں گے۔ محرم علی سے کہہ دو طبیعت منغض ہوگئی ہے۔ میاں صاحب کی صورت دیکھنے کے بعد قلم میں شگفتگی کیوں کر رہ سکتی ہے؟''
دفتر سے اٹھ کر کافی ہاؤس میں محفل لگی ہوئی ہے اور ذکر وہی میاں افتخار الدین کا ہو رہا ہے۔ امروز اخبار سے فارغ ہوئے تو کراچی میں ذوالفقار علی بخاری نے ریڈیو میں بُلا لیا۔ ذوالفقار علی بخاری کے بڑے بھائی احمد شاہ بخاری پطرس تھے۔ پطرس بخاری کیا تھے اُن کے لئے خود ایک الگ کالم باندھنا پڑے گا۔ اُستاد، ادیب، براڈکاسٹر اور اس پائے کے اسکالر کہ بعد میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب بنے۔ یہاں سے ریٹائر ہوئے تو یو این کے سیکریٹری ڈاک ہیمر شولڈ نے اپنا مشیر بنا لیا۔ بخاری برادران کا تقسیمِ ہند سے پہلے آل انڈیا ریڈیو میں طوطی بولتا تھا۔ بلکہ یار لوگوں نے بڑے بخاری یعنی پطرس بخاری اور چھوٹے بخاری یعنی ذوالفقار علی بخاری کے حوالے سے
BBC
یعنی بخاری برادران کارپوریشن رکھا ہوا تھا۔اب ''مولانا'' کا ریڈیو کے دفتر میں اُٹھنے بیٹھنے، بولنے لکھنے کا ایک علیحدہ انداز اور مزاج۔ بھلے ریڈیو کے سربراہ ذوالفقار علی بخاری ہوں مگر مولانا کہاں خاطر میں لاتے۔ بخاری صاحب ہر سال ماہِ محرم میں مرثیہ ریکارڈ کرواتے اور بعد میں سارا عملہ باجماعت سُنتا اور داد کے ڈونگرے برساتا۔ اب بخاری صاحب کی خواہش کہ ''مولانا'' بھی اُن کی مرثیہ گوئی پر کچھ فرمائیں۔ مولانا نے ایک لمبی ہوں کے ساتھ میر انیس کی ''مرثیہ خوانی'' سے گفتگو شروع کی تو بخاری صاحب تک آتے آتے یہ تک کہہ بیٹھے کہ ''مولانا! یہ مرثیہ گوئی ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے پہلے امام بارگاہوں کے پھیرے شب و روز لگانے ہوتے ہیں۔۔منبر پر ایک سلیقے سے نشست و برخاست ہوتی ہے۔۔ ایک ماحول ہوتا ہے۔۔ ایک فضا ہوتی ہے۔۔'' اب بخاری صاحب پہلو بدل رہے ہیں۔ ارد گرد اُن کے ماتحت ایک ایک کر کے کمرے سے نکل رہے ہیں۔ بخاری صاحب اُس وقت تو مولانا کی گفتگو سن کر نکل گئے مگر چند ہی دن میں مولانا کا یہاں سے بھی دانہ پانی اُٹھ گیا۔ واپس لاہور پلٹے تو روزی روزگار نے نڈھال کر دیا۔ پھر بڑے بیٹے کا غم اور بیماریوں نے بھی پکڑ لیا۔ اگر مستقل شاہانہ نوکری نہ ہو تو پھر مے نوشی کی لت بھی قبل از وقت موت کی دہلیز پر پہنچا دیتی ہے۔ مجاز لکھنوی اور اختر شیرانی کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا۔ مولانا چراغ حسن حسرت پر جب قلم اُٹھایا تھا تو مجھے احساس تھا کہ ''مولانا'' جیسی شخصیت کا ایک مضمون میں ''احاطہ'' نہیں کھینچا جا سکتا کہ خود اُن سے منسوب لطائف ایک پوری کتاب کا تقاضہ کرتے ہیں۔ چلتے چلتے مولانا کا ایک لطیفہ سُن لیں۔ ''مولانا کافی ہائوس میں بیٹھے تھے۔ ایک سیٹ کافی کا آرڈر دیا۔ گھنٹہ گزر گیا ویٹر نہیں آیا۔ کافی ہائوس کا مالک پاس سے گزرا تو شکایت کی۔ مالک نے پوچھا کس کو آرڈر دیا تھا؟ وہ کالے بالوں والے کو؟ مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا جب آرڈر دیا تھا تو بال کالے ہی تھے مگر اب تو سفید ہو چکے ہونگے''۔ یہ لیجیئے میں مولانا کی شاعری کو تو بھول ہی گیا
باغوں میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو ہم تم کو نہیں بھولے
ساون کا مہینہ ہے
ساجن سے جدا رہ کر جینا کوئی جینا ہے
مولانا نے جس صنف پہ لکھا، جیسا کہ ابتداء میں بھی میں نے کہا تھا… کہ نثر ہو کہ نظم، کالم نویسی ہو کہ خاکہ نگاری۔۔ اُسے کمال تک پہنچایا۔ افسوس کہ مولانا جیسے نابغہِ روزگار ہماری آج کی صحافت کے نصاب سے ہی اُٹھ گئے ہیں۔ اور یوں بھی ہماری آج کی صحافت کو مولانا جیسے صحافیوں کی ضرورت بھی نہیں۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
October

تحریر: محمد سعید گِل

ہر مصنف اور شاعر اپنی سوچ کے مطابق اپنے تحریری موضوع کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے بھی اپنی تحریر کے لئے افواجِ پاکستان کے موضوع کا انتخاب کیا۔ مجھے شروع سے ہی پاکستان کی مسلح افواج سے والہانہ محبت ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ سیلاب کی بپھری ہوئی لہریں ہوں، کراچی کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہو، سرحدوں کے کشیدہ حالات ہوں یا قدرتی آفات ہوں، پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔

 

دوسرے اداروں کی ذمہ داریاں بھی فوج پر ڈالی گئیں جنہیں پاک فوج نے بڑے احسن طریقے سے نبھایا اور اپنی ساکھ کو بحال رکھتے ہوئے پاکستانی قوم کا اعتماد حاصل کیا۔ پاک فوج نے وطن عزیز کے دفاع اور پاک پرچم کی سربلندی کے لئے بے شمار قربانیاں دیں۔ بڑے بڑے بہادر اور خوبصورت جوان وطن عزیز کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہو کر ملک و ملت پر بہت بڑا احسان کر گئے۔ شہید ہونے والا صرف اپنی جان قربان نہیں کرتا بلکہ اپنے خاندان کو بھی قربان کر جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی زندگی کے ساتھ کئی زندگیاں جڑی ہوتی ہیں ۔ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائی اور بیوی بچوں کا سہارا ہوتا ہے۔ اس طرح اس کی جان کے ساتھ جڑی ہوئی باقی جانیں اور زندگیاں بھی چلی جاتی ہیں۔

یہ سب کچھ سامنے رکھتے ہوئے میں نے پاک فوج کی خدمات اور قربانیوں کو اردو شاعری میں لکھنا شروع کیا۔ جسے لکھتے لکھتے کئی سال گزر گئے۔ افواج پاکستان پر ''پاسبان وطن'' کے نام سے کتاب لکھی۔ لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے چھپوا نہ سکا۔ میں ایک گارمنٹس فیکٹری کے سٹور میں ملازمت کرتا تھا۔ چند ماہ قبل بوجہ علالت میرے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا اور مجبوراً مجھے استعفیٰ دینا پڑا اور فارغ بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس دوران کتاب کو ترتیب دیا جائے۔ لیکن کتاب چھپوانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ میرے پاس ایک موٹر سائیکل تھی جو میں نے فروخت کر دی۔ لیکن موٹر سائیکل فروخت کر کے بھی اتنے پیسے نہ ہوئے کہ کتاب چھپوا سکوں۔ کچھ پیسے ادھار لئے اور اﷲ کی رحمت سے کتاب چھپوانے میں کامیاب ہو گیا۔ میری نظم'اے وطن'پاک فوج کے لئے میری محبت کی عکاس ہے

اے وطن
اے وطن مِلا جب بھی اِشارہ تیرا
میری افواج بن گئیں سہارا تیرا
تجھ پہ رُستم زماں کتنے قرباں ہوئے
کتنی جانوں نے صدقہ اُتارا تیرا
خون اپنے سے تیرا چمن سینچ کر
گوشہ گوشہ انہوں نے سنوارا تیرا
اِن کی قربانیوں سے جہاں میں سدا
یونہی روشن رہے گا ستارہ تیرا
میری مائوں نے تجھ پہ پسر وار کر
کیسے پورا کیا ہے خسارہ تیرا
اِن کی محنت مشقت سے ہی ایک دِن
لوٹ آئے گا سب کچھ دوبارہ تیرا
تیرا پرچم زمانے میں لہرائیں گے
ساری دُنیا میں گونجے گا نعرہ تیرا

*****

 
09
October

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

دنیا بھر میں پھیلے جپسی ہمیشہ ہی میرے سفروں میں خاص دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔ یورپ سے امریکہ تک یہ ہمیں ہرجگہ ملتے ہیں۔ خصوصاً یورپ میں ان کا وجود الگ سے دکھائی دیتا ہے کہ یورپی سیاست، ثقافت، موسیقی، ادب اور دیگر فنونِ لطیفہ پر اُن کے اثرات ہر دَور میں دیکھے گئے ہیں۔یورپ میں انہیں عام طور پر ''رومانی'' کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ لیکن ہر علاقے، خطے اور ملک میں اُن کے مختلف نام ہیں، جیسے ترکی میں چنگنے، سپین میں گیٹانو، اٹلی میں زنگارو، فرانس میں گیٹانو کے علاوہ زگیز اور منائوچز کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد نام ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق، دنیا میں ان کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے۔ اسّی فیصد جپسی یورپی ممالک میں اور باقی امریکہ ولاطینی امریکہ میں رہتے ہیں۔ میں نے ان کو ایران، ترکی، فرانس، سپین، بلغاریہ، بوسنیا، بلجیم، جرمنی، امریکہ، جہاں بھی میں گیا، وہاں پایا۔ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے۔ محققین ان کے بارے میں اب تقریباً طے کرچکے ہیں کہ یہ پنجاب، راجستھان اور سندھ کے علاقوں سے نقل مکانی کرکے دنیا بھر میں پھیل گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوکش دنیا بھر میں عسکری تاریخ میں برصغیر کی ایک دیوار ہے جس نے برصغیر کے لئے ایک عظیم الشان حفاظتی فصیل کا کردار ادا کیا۔ بلندوبالا اورخطرناک چوٹیوں،نامعلوم وادیوںاور برف پوش پہاڑوں نے بڑے بڑے حملہ آوروں کے برصغیر میں قدم رکھنے میں رکاوٹ کا کردار ادا کیا۔ سکندراعظم ہی وہ معروف فاتح ہے جو ہندوکش پار کرکے سرزمین ہندوسندھ میں داخل ہوا، مگر دیکھیں یہ فاتحِ عالم جو اناطولیہ، مصری وایرانی تہذیبوں کو روندتا ہوا، ہندوکش پار کرکے دریائے جہلم کے کناروں پر پہنچا تو اسے مہاراجہ پورس نے عملاً شکست سے دوچار کردیا۔ برصغیر تاریخی طور پر خودکفیل اور خوش حال خطہ رہا ہے، اسی لئے یہاں کی کسی تہذیب ودور میں کسی قوم نے ہندوکش پار کرکے دوسری قوم یا تہذیب کو زیر کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ لیکن میری تلاش کی حس ایک دلچسپ نکتے پر پہنچی ہے کہ ہمارے ہاں سے جنہوں نے ہندوکش پارکیا، وہ اپنے ہاتھوں میں تلواروں، نیزوں اور انسان کش ہتھیاروں کے بجائے بانسری، ڈفلی، ڈھول اور پُرسوز گیتوں کی لے اور سُر لے کر مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور پھر ساری دنیا میں پھیل گئے۔ دنیا میں ہر جگہ اُن کی پہچان گیت گانے اور رقص کرنے کے حوالے سے ہے۔ اپنے خطے اور سرزمین سے نکلے ان کو صدیاں بیت گئیں، لیکن آج بھی اُن کا حلیہ، رہن سہن، گیت، رقص اور روایات میں سرزمین وادیٔ سندھ کی چھاپ نمایاں ہے۔


جپسی جو ہندوکش پار کرکے گئے، وہ تو دنیا کے ادب، تحقیق اور دیگر موضوعات میں نمایاں مقام پا گئے لیکن وہ جو یہاں رہ گئے، ہمارے ادب، سیاست اور دیگر سماجی علوم میں اُن کا ذکر تک نہیں۔ آج بھی ہمارے ہاں ان جپسیوں کے پیچھے رہ جانے والے قبائل لاہور اور دیگر جدید بستیوں میں کہیں کہیں نظر آتے ہیں اور ہم انہیں دھتکار کر کمتر انسان تصور کرتے ہیں۔ اگر انتھروپولوجی کے حوالے سے تحقیق کی جائے تو ہمارے ملک کے خانہ بدوش اور دیگر نام نہاد نیچ ذات خصوصاً مصلّی حقیقتاً
Sons and Daughters of the Soil
ہیں۔ وہ یہاں ہزاروں سال سے رہتے اور بستے آئے ہیں۔ اور اگر تحقیق کو مزید پھیلا دیا جائے تو ان کی جڑیں، وادیٔ سندھ کی عظیم الشان تہذیب کے باسیوں سے جا ملتی ہیں۔ جپسیوں میں میری دلچسپی نے چند سروں تک پہنچنے میں میری مدد کی۔ میرے نزدیک دو سوال اٹھے کہ یہ کس دور میں اور کیوں وادیٔ سندھ کو چھوڑ کر چلے جانے پر مجبو رہوئے۔ ستلج دریا ایک وقت میں دریائے سندھ سے زیادہ بھرپور دریا تھا۔ قدرتی تغیرات نے اس طویل ترین دریا کو وقت کے ساتھ بدل دیا اور خشکی کی طرف گامزن کردیا۔ وادیٔ سندھ جو پنجاب، سندھ اور راجستھان تک پھیلی ہوئی تھی، اس کی کسی بڑی خشک سالی نے ان مقامی خانہ بدوشوں کو بدیس نقل مکانی پر مجبور کردیا۔ ان کی نقل مکانی کی تاریخوں پر تحقیق کی مختلف آراء ہیں۔ مگر میں جس رائے کو زیادہ مستند مانتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جپسیوں کو سرزمین سندھ وہند چھوڑے تقریباً ایک ہزار سال ہوا ہے اور یہ ہزار سال سے کئی صدیوں تک نقل مکانی کرتے رہے۔ کوہِ ہندوکش پار کرکے افغانستان وایران پہنچے اور پھر وہاں سے ان کے سفرِ مسلسل کے دو روٹس تھے۔ ایران سے کچھ اناطولیہ (ترکی) کی طرف گامزن ہوئے اور دوسرے عرب خطوں، عراق، اردن اور مصر۔ ترکی پہنچنے والوں نے باسفورس کو عبور کیا اور مشرقی یورپ سے اوپر لتھوینیا تک پھیل گئے۔ جو مصر پہنچے، اُن کا ایک دوسرا رستہ تھا دنیا میں پھیلنے کا۔ انہوں نے مصر سے صحارا کے صحرائوں کے سفر کیے اور پھر جبل الطارق عبور کرکے سپین میں داخل ہوئے۔ دونوں طرف سے یورپ میں داخل ہونے والے خانہ بدوشوں نے اپنی نقل مکانی کی متضاد اور من گھڑت داستانیں تراشیں۔
Survivors
کا ہمیشہ یہی رویہ ہوتا ہے۔
Gypsies
کا لفظ درحقیقت
Egypt
سے نکلا ہے۔ اور اسی طرح رومانی کا لفظ بھی… یورپ میں داخل ہونے والے خانہ بدوشوں نے اپنی نقل مکانی، دفاع اور زندہ رہنے کے لئے دلچسپ کہانیاں تراشیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ سرزمین سندھ سے نقل مکانی کرنے والے ان جپسیوں نے مختلف ادوار میں اپنی روایات، موسیقی، گیت اور رقص کی روایات کے ساتھ ساتھ جن خطوں کے سفر کئے اُن علاقوںکی روایات کو تو اپنے اندر جذب کیا، لیکن اپنے بنیادی حلیے، رہن سہن کو کبھی بھی مکمل طور پر نہیں بدلا۔


قرطبہ میں اپنی جہاں گردی کے دوران ایک شام میں بحیثیت سیاح ایک ایسے ریستوران میں گیا جو خانہ بدوش چلاتے تھے۔ گیٹانو گھر کے اندر ریستوران تھا اور وہاں گیٹانو کا مشہور رقص، فلیمینکو ثقافتی شو کے لئے پیش کیا جاتا تھا اور میری دلچسپی اس رقص کو ہی دیکھنے میں تھی۔ برصغیر کے بچھڑے ان لوگوں کے گھر میں مجھے اس وقت ایسا لگا جیسے میں سندھ یا سرائیکی خطے میں بیٹھا کوئی ثقافتی شو دیکھ رہا ہوں۔ جب ایک گیٹانو خاتون نے فلیمینکو رقص کیا اور اس کے ساتھیوں نے ڈھولکی پر گیٹانو گیت گایا۔ گیٹانو یا جپسیوں کے گیتوں میں ایک لمبی لے ہوتی ہے جو خاص سوز اور ہجرت کے درد کی آواز میں ڈھلی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی گیٹانو یا جپسی کو یہ کہیں کہ آپ انڈیا (برصغیر) سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں تو وہ کسی صورت بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ گیت گانے والے گیٹانو سے میں نے جب یہی سوال کیا تو اس نے کہا، نہیں میں تو ہسپانوی ہوں بس۔ میرے اصرار اور منت سماجت کے بعد وہ راضی ہوا میرے اس سوال کا جواب دینے پر کہ آپ اپنے ہاں اپنے آپ کو کہاں کے باشندے تصور کرتے ہیں۔ اس نے کہا، پنجاب! ہم اپنی دھرتی سے بچھڑے لوگ ہیں، ہمیں صدیاں بیت گئیں سفر کرتے کرتے۔ صحرا، سمندر اور آسمان۔ پھر اس نے اپنا ایک کارڈ نکالا جس کا اوپری حصہ آسمانی اور نچلا سبز اور بیچ میں ایک 16حصوں والا پہیہ تھا۔ اس گیت گانے والے گیٹانو نے کہا، ''مسٹر نیلا آسمان، سبز سرزمین ساری ہماری ہے۔ اور یہ پہیہ ہمارا سفر۔''


دوسری جنگ عظیم میں جپسی یہودیوں کی نسبت نازیوں کی طرف سے قتل عام اورسفاکیت کا زیادہ نشانہ بنے۔ ہٹلر نے ان کو ناپسندیدہ قوم قرار دے کر اجتماعی ہلاکتوں کا بندوبست کیا۔ یہودیوں کے قتل عام پر عالمی ادارے، ریاستیں اور لوگ متحرک ہوئے کہ وہ طبقاتی طور پر امیر تھے۔ لیکن ان جپسیوں کے قتل عام پر کوئی ریاست یا ادارہ نہیں بولا، سوائے یورپ کے ترقی پسند دانشوروں کے۔ میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ تلاش کی جستجو مجھے کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔ اپنے پہلے سفر 1983ء میں بلغاریہ میں مجھے ایک جپسی فیملی کے ہاں رہنے کا موقع ملا۔ اپنے تین دن قیام کے دوران میرا مطمع نظر وادیٔ سندھ کے ان بچھڑے لوگوں کی جڑیں ڈھونڈنا تھا جو مجھے کچھ ملیں بھی کہ وہ توے کو توا ہی کہتے ہیں۔ خاندان کو پنجابی زبان کی طرح ''ٹبر'' اور اسی طرح متعدد پنجابی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ میری رگِ جستجو نے کھوج لگایا کہ رومانیہ میں ایک خانہ بدوش قبیلے کا نام ''لاہوری'' ہے۔
یورپ میں جپسیوں کو سب سے پہلے اور زیادہ روسی ادب نے جگہ دی۔ معروف روسی ادیب الیگزینڈر پشکن اور لیو ٹالسٹائی ان روسی ادیبوں میں سرفہرست ہیں۔ روسی اور پھر یورپی ادب میں اشرافیہ کے لوگوں تک ادب کے ذریعہ جپسیوں کی آواز پہنچانے کا سہرا پشکن اور ٹالسٹائی کے سر ہے۔ پشکن کی معروفِ زمانہ نظم
The Gypsy
نے یورپ اور روس کو اپنے سحر میں لے لیا۔ 1976ء میں اشتراکی روس میں
"Queen of the Gypsies"
اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ یہ فلم دنیا کی شان دار فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ یورپ میں گھومتے، سڑکوں پر گانا گاتے اور گھوڑوں پر سوار جپسی، اپنے جپسی ہونے پر ہمیشہ نازاں نظر آتے۔ یورپ کی موسیقی میں برصغیر کے ان خانہ بدوشوں نے حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی آبائی تہذیب کو اپنے سے علیحدہ نہیںہونے دیا۔ یورپ سے امریکہ تک پھیلے ان خانہ بدوشوں کو دیکھ کر آنکھیں فوراً یہ کہتی ہیں، یہ ہم میں سے ہیں، بچھڑے لوگ۔ دنیا میں گیت، ساز اور آواز کے ساتھ پھیلے لوگ… جپسی۔

مضمون نگار معروف صحافی ' کالم نگار اور متعدد کتابوںکے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

محبت


محبت یوں اترتی ہے
کہیں دل کی منڈیروں پر
کہیں پلکوں کی چھائوں میں
کہیں پر دعائوں میں
کہ جیسے چاندنی خاموش صحرا میں بکھر جائے
محبت یوں اترتی ہے
کہیں لفظوں کے پیکر میں
صحیفہ ہو کوئی جیسے
کہیں مسجد کے منبر پر
کہیں مندر کی گھنٹی میں
کلیسا کی صلیبوں پر
کہیں ہیبریو٫ بُدھا٫ نانک کے قالب میں
مگر کیوںڈوب جاتی ہے
لیکن نفرت کی جھیلوں میں؟
محبت پھر اترتی ہے
کہیں بچے کی قلقاری
کہیں ممتا کی سرشاری
کہیں لاچارکی سیوا
کہیں دلبر کی دلداری
محبت رک نہیں سکتی
محبت کا ٹھکانہ تو
یہیں انسان کا دل ہے


(فرحین چوہدری)

*****

 
09
October
پاک بحریہ کا شمالی بحیرۂ عرب میں میزائل فائرنگ کا شاندار مظاہرہ

گزشتہ دنوںپاک بحریہ نے شمالی بحیرۂ عرب میںمیزائل فائرنگ کا شاندار مظاہر ہ کیا۔ پاک بحریہ کے سر براہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے میزائل فائرنگ کے کامیاب مظاہرے پر بحری بیڑے کی جنگی تیاریوں کو سراہا۔
فائر پاور کے اس بھرپورمظاہرے کے دوران پاکستان نیوی کے سی کنگ ہیلی کاپٹر نے فضاء سے سطح آب پر مار کرنے والا اینٹی شپ میزائل فائر کیا جس نے اپنے ہد ف کو پوری کامیابی سے نشانہ بنایا، چیف آف دی نیول اسٹاف نے سمندر میں تعینات فلیٹ یونٹس کا دورہ بھی کیا اور جاری بحری مشقوں کا معائنہ کیا۔
سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے نیول فلیٹ کی جنگی تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور فائرنگ کے اس کامیاب مظاہرے میں شامل تمام افسروں اور جوانوں کی کاوشوں کی تعریف کی اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بلند عزم و حوصلے کو سراہا۔

newspakberakamizile.jpg

09
October
کرنل کمانڈنٹ آف انجینئر کور کی تقریب

newscolkamandat.jpg

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انجینئرز سنٹر رسالپور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل جاویدمحمود بخاری کو کرنل کمانڈنٹ آف انجینئرز کور کے رینک کے بیجز لگائے۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

 

 

 

 

کوئٹہ کے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کا کوئٹہ گیریژن میں بُوٹ کیمپ کا دورہ

newscolkamandat1.jpg

گزشتہ دنوں کوئٹہ کے مختلف تعلیمی اداروں کے 200 کے قریب طلباء و طالبات نے کوئٹہ گیریژن کے فیلڈ ایریا میں بُوٹ کیمپ کا دورہ کیا۔ طلباء و طالبات کا تعلق بلوچستان یونیورسٹی، بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز، کوئٹہ سائنس کالج، موسیٰ کالج اور گیریژن ڈگری کالج سے تھا جنہوں نے کیمپ میں 2 روز قیام کیا۔
قیام کے دوران انہیں پاک فوج کی آپریشنل اور ٹریننگ سرگرمیاں دکھائی گئیں۔ انہوں نے پاک فوج کی جانب سے لگائے گئے ہتھیاروں کے نمائشی سٹالوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ بُوٹ کیمپ کے دورے کا مقصد طلباء و طالبات کو پاک فوج کے جوانوں اور افسران کے دفاع وطن کے لئے کی گئی سرگرمیوں اور چیلنجز سے متعارف کروانا تھا۔

09
October
کمانڈر کراچی کورکا دورۂ چھور گیریژن

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے چھور گیریژن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے انسدادِ دہشت گردی اور کلوز کوارٹرز بیٹل

(CQB)

کی مشقوں کا معائنہ کیا۔ کور کمانڈر نے فوجی افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ تربیتی مشقوں کے معیار کو سراہا۔ انہوں نے جوانوں سے ملاقات کے دوران ان کے مورال کی تعریف کی۔

newscomndrkarachi.jpg 

ڈی جی پنجاب رینجرز کا ہڑپال اور چاروا سیکٹر کا دورہ

newsdgpunjabrajgers.jpg

گزشتہ دنوں ڈی جی پنجاب رینجرز میجر جنرل اظہر نوید حیات خان نے ہڑپال اور چاروا سیکٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وہ وہاں تعینات فوجی دستوں سے ملے اور بھارتی اشتعال انگیزی پر بھرپور جوابی کارروائیوں کو سراہا۔ انہوں نے بھارتی سیزفائر کی خلاف ورزی کا نشانہ بننے والے متاثرہ خاندانوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اُن کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا اور بھارتی اشتعال انگیزی پر بھرپور جوابی کارروائی بھی کی جائے گی۔
09
October
پانچویں چیف آف آرمی سٹاف ینگ سولجرز انٹر سنٹرل پیسز چیمپیئن شپ

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ایبٹ آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پانچویں چیف آف آرمی سٹاف ینگ سولجرز انٹر سنٹرل پیسز چیمپیئن شپ کے فائنل میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس چیمپیئن شپ کا انعقاد بلوچ رجمنٹل سنٹر ایبٹ آباد میں ہوا۔ تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف نے جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے چیمپیئن شپ میں حصہ لینے والے تمام شرکاء کے تربیتی معیار، جسمانی فٹنس اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ تقریب میں انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن
(IGT&E)
لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور کمانڈر 10 کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا بھی موجود تھے۔

newspechweenpaces.jpg

09
October
کمانڈر راولپنڈی کور کا لائن آف کنٹرول کا دورہ

گزشتہ دنوں کمانڈر راولپنڈی کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا نے لائن آف کنٹرول پر بٹل اور دورندی سیکٹر کا دورہ کیا۔ کور کمانڈر نے وہاں تعینات دستوں کے مورال کی تعریف کی اور بھارتی اشتعال انگیزی پر بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لئے بھرپور جوابی کارروائی کو سراہا۔

newscdrrawcore.jpg

ائیر ڈیفنس سینٹر ملیرکینٹ میں پاسنگ آؤٹ پریڈ
گزشتہ دنوں آرمی ایئر ڈیفنس سنٹر ملیر کینٹ میں پاسنگ آئوٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل فرحت عباس ثانی تھے۔ انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ ایئر ڈیفنس ریکروٹ کورس 47 میں، اعلیٰ بیٹری، قاسم بیٹری قرار پائی۔ مہمانِ خصوصی نے پاس آئوٹ ہونے والے ریکروٹس کو مبارک باد دی اور پریڈ کے اعلیٰ معیار کو سراہا۔ مہمانِ خصوصی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newsairdeif.jpg

09
October
امن کپ - شمالی وزیرستان ایجنسی

گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے یونس خان سٹیڈیم میں پاکستان الیون اور یوکے میڈیا الیون کے درمیان کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ اس میچ میں پاکستان الیون نے یوکے میڈیا الیون کو 133 رنز سے باآسانی شکست دے دی۔ پاکستان الیون نے یوکے میڈیا الیون کو جیت کے لئے 254 رنز کا ہدف دیا ، جواب میں مہمان ٹیم مقررہ 20اوورز میں 120رنز بناسکی۔ نثار آفریدی 70 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ یوکے میڈیا الیون نے ٹاس جیت کر پاکستان الیون کو بیٹنگ کی دعوت دی، اوپنر کامران اور یاسر حمید نے 51 رنز کا آغاز فراہم کیا۔ یاسر حمید 19 رن بنا کر آئوٹ ہوئے، کامران اکمل اور عمرامین نے بھی جارحانہ بیٹنگ کی لیکن دونوں بیٹسمین کے ''ریٹائر ڈہرٹ'' ہونے کے بعد سابق کپتان انضمام الحق اور شاہد آفریدی بیٹنگ کے لئے میدان میں اترے ۔ شاہد آفریدی نے روایتی جارحانہ انداز اپنا کر میران شاہ میں شائقین کو خوب محظوظ کیا اور کئی شاندار چھکے لگائے۔ انضمام الحق نے بھی عمدہ کھیل پیش کیا ۔ آفریدی 80 اور انضمام 28 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، یوں پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 253رن بنائے۔ میچ میں شاہد آفریدی ، یونس خان،عمرگل اور دیگر سٹارز ایکشن    میں نظر آئے۔اس مو قع پرگورنر

KP

اقبال ظفر جھگڑا، کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور بھی سٹیڈیم میں موجودتھے ۔ اس میچ کو دیکھنے کے لئے گرائونڈ میں قبائلی عمائدین کے علاوہ مختلف مقامی سکولوں کے  بچے بھی موجود تھے۔سکول کے بچوں نے اپنے ہاتھوں میں پاکستان اور برطانیہ کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے تعارف کرایا گیا۔ اس موقع پر کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ جو ہم کہتے آئے تھے کہ دہشتگردی کو شکست دی ہے آج اس کا عملی نمونہ دوستانہ کرکٹ میچ کی صورت میں ہورہا ہے ، گراوُنڈ میں ٢٠ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور ٢٥ ہزار میچ دیکھنے آ چکے ہیں اور یہ سب شمالی وزیرستان سے آئے ہیں۔ ان میں ہر عمر کا شخص ہے۔کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے باجوڑاور کرم میں بھی ترقیاتی کاموں کا آغاز کر دیا ہے اور وہاں کے لئے وسائل چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے دئیے جا رہے ہیں، وہاں بھی کیڈٹ کالجز اور سٹیڈیم بنیں گے ، ساتھ ساتھ سڑکوں کا جال بھی بچھایا جاے گا اور مقامی عوام صحیح معنوں میں امن کے ثمرات سے بہرور ہوسکیں گے۔

newsamancupo.jpg

09
October
آرمی میوزیم لاہور کا افتتاح
گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی میوزیم لاہور گیریژن کا افتتاح کیا۔ اس میوزیم میں تحریک پاکستان کی تاریخ و ثقافت کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ میوزیم کے مختلف حصوں کو نئی قوم کی تشکیل، قائد اور افواج، پاکستان کی جنگی تاریخ بشمول دہشت گردی کے خلاف جنگ، شہداء کارنر، نشانِ حیدر گیلری، بلند ترین جنگی محاذ سیاچن پر زندگی، کشمیر کارنر، پاکستان کا اقوام متحدہ میں کردار اور اقلیتوں کی قومی تعمیر میں کاوش اور قربانیوں کے نام دئیے گئے۔ بلاشبہ یہ میوزیم تاریخ سے متعلق معلومات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

newsarmymulahore.jpg

09
October
بلوچ رجمنٹ کی دو روزہ خصوصی کانفرنس
بلوچ رجمنٹ کی دو روزہ خصوصی کانفرنس بلوچ رجمنٹل سنٹر ایبٹ آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بلوچ رجمنٹ کے کرنل انچیف کے رینک لگائے گئے۔ اس موقع پر شہیدوں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے آرمی چیف نے شہداء کے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ دفاعِ وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے اہلِ خانہ کا پاک فوج بھرپور خیال رکھے گی۔ آرمی چیف نے یاد گار ِ شہداء پر پھول چڑھائے اور شہداء کی بلندیٔ درجات کی دُعا کی۔

newsbluchregkido.jpg

09
October
آرمی چیف کی لیفٹیننٹ ارسلان اسلم شہید کے گھر آمد، والدین سے تعزیت
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ گزشتہ دنوں مری کے قریب لیفٹیننٹ ارسلان اسلم شہید کے گھر گئے جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی۔ لیفٹیننٹ ارسلان اسلم خیبر ایجنسی میں راجگال میں قائم کی گئی نئی بارڈر پوسٹ پر دفاع وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے رتبہ شہادت پر فائز ہوئے تھے۔ آرمی چیف نے شہید کے والدین سے اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دفاع وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ دینے والوں پر قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک وطن عزیز میں ایسے بہادر سپوت موجود ہیں، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ملک دشمن افراد اور ایجنسیاں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور فوج پر تنقید اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاک فوج ملکی مفاد کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لئے قوم کے شابہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں قانون اور امن کی بحالی کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

newscoastoltarslan.jpg

09
October
٥٢ویں یومِ بحریہ کی تقریبات

1965ء کی لڑائی میںاپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے خلاف پاک بحریہ کے شاندار کارناموں کے اعتراف میںہر سال 8 ستمبر یوم بحریہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یومِ بحریہ کو روایتی اندازسے منانے کے لئے پی این ایس قاسم منوڑہ میں پاک بحریہ کی چار جہتی صلاحیتوں اورمہارتوں کا شاندار مظاہرہ پیش کیا گیا۔اس موقع پرگورنر سندھ محمد زبیربطورِ مہمانِ خصوصی تھے جبکہ سر براہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ بھی تقریب میں موجود تھے۔

پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور صلاحیتوں کے اس مظاہرے میں پاک بحریہ کے جہازوں اور ہیلی کاپٹرز کا فلائی پاسٹ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی مشقیں،پیرا جمپ، فراگ مین اٹیک،ویسل بورڈ سرچ اینڈ سیزر آپریشن اور فاسٹ بوٹ ریکوری کی مشقیں شامل تھیں۔پاک بحریہ کی اسپیشل آپریشن فورسز پاک میرینز اور اسپیشل سروس گروپ (نیوی) کے اہلکاروں نے بیچ اسالٹ کی مشقوں کا بھی مظاہرہ کیا۔ان مشقوں کے علاوہ پاک بحریہ کے فریگیٹ جہاز، آبدوز اور میزائل بوٹس بھی مظاہرے کا حصہ تھیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے ١٩٦٥ کی جنگ میں پاک بحریہ کے شاندار کارناموں کا ذکر کیا اور یومِ بحریہ کے موقع پر پاک بحریہ کی صلاحیتوں کے بھرپور مظاہرے کو سراہا۔پاک بحریہ کی صلاحیتوں اور اثاثوں کے اس شاندار مظاہرے کی تقریب میںعسکری و سول شخصیات او ر جنگی ہیروز کے علاوہ شہداء کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

newspechpanween.jpg

09
October
سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع کا ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ
گزشتہ دنوں سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع محمد بن عبداﷲ العیش نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ایئرہیڈکوارٹرزآمدپر پاک فضائیہ کے سربراہ ائیرچیف مارشل سہیل امان نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے ایک چاق چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی ۔پرنسپل سٹاف آفیسر ز کا معزز مہمان سے تعارف کرایا گیا۔بعد ازاںسعودی نائب وزیر دفاع نے پاک فضائیہ کے سربراہ ائیرچیف مارشل سہیل امان سے ان کے آفس میں ملاقات کی اور پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔سعودی نائب وزیر دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فضائیہ کے کلیدی کردار کو سراہا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا اعادہ کیااور رائل سعودی فضائیہ کو ایوی ایشن کے شعبے میںبھرپور مدد اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس دورے کے دوران سعودی وفد کو پاک فضائیہ کے تنظیمی ڈھانچہ اور پیشہ ورانہ کردار پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

newssaudinaibwazir.jpg

نَسٹ کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ میںتقریبِ تقسیمِ اسناد

گزشتہ دنوں نَسٹ کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ کی تیئیسویں تقریب تقسیم اسنادمنعقد ہوئی۔ اس موقع پر ایڈجوٹینٹ جنرل (جی ایچ کیو) لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر مہمانِ خصوصی تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں تعلیم مکمل کرنے والے طلباء کو مبارکباد دی اور الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ کے تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوںکی سہولیات فراہم کرنے پر کالج کی تعریف کی۔ انہوں نے انجینئرنگ پروگراموں کے لئے واشنگٹن اکارڈ کی منظوری کو خصوصی طور پر سراہا۔

ریکٹرنسٹ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نوید زمان اور کمانڈنٹ کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ انجینئر طارق جاوید نے اس موقع پر اپنے خطاب میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ تقریب میں 318 بی ایس سی انجینئرنگ اور 112 ماسٹرز کرنے والے طلباء کو اسناد دی گئیں۔

newsnustcolgof.jpg

09
October
تقریبِ اعزاز
گزشتہ دنوں 'بجلی توپ خانہ' رجمنٹ بہاولپور میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے اعزاز میں رینک لگائے جانے کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقریب میں کمانڈر 31 کور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن کے علاوہ حاضر سروس ، ریٹائرڈ فوجی افسران اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے خطاب میں اپنی

Parental

رجمنٹ کی تاریخ اور اعلیٰ خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔

newstaqreebehzaz.jpg

09
October
پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے ۔ جنرل قمر جاویدباجوہ

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء وطالبات اور فیکلٹی ممبران کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات

newsnojwanpakkak.jpg

آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء اور فیکلٹی ممبرز کے 173رکنی وفد سے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں ملاقات کی۔ وفد کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے اوربلوچستان کے نوجوان سب سے زیادہ باصلاحیت اور متحرک ہیں۔ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ اس لئے آپ قومی سالمیت اور ترقی کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں اور اپنی تعلیم اور کام پر بھرپور توجہ دیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ یہ ملک امن اور استحکام اور بلوچستان کی خوشحالی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتاجبکہ ریاست دشمن عناصر غیرملکی دشمن ایجنسیوں کے تعاون سے پروپیگنڈا کرتے ہیں لیکن نوجوان ان عناصر کے پروپیگنڈے سے گمراہ نہ ہوں اور منفی تاثر کو ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نوجوانوں کو محفوظ اور مستحکم پاکستان دینے کے لئے پرعزم ہے اور تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے خطاب میں کہا کہ ہم آہنگی کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پاکستان ہمارا ملک ہے ہم نے یہیں رہنا ہے اور یہیں جان دینی ہے۔ ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ مجھے بلوچستان سے بہت محبت ہے۔ فخر ہے کہ میرا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ بلوچستان میں کئی آرمی پبلک سکولز کھولے جا رہے ہیں۔ کوئٹہ میں نسٹ کا کیمپس بھی کھولا جا رہا ہے۔
09
October
ازبکستان کے سفیر کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات

گزشتہ دنوں ازبکستان کے سفیر
Furkat Sidikov
نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سے جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں شخصیات نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورت حال کے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ازبکستان کے سفیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔

newsuzbikastanksafeer.jpg

کمانڈر منگلا کور کا دورۂ ٹِلہ فائرنگ رینجز

گزشتہ دنوں کمانڈرمنگلا کور لیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی نے ٹلہ رینجز میں فیلڈ فائر کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر جوانوں اور افسروں سے ملاقات کی اور اُن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔

newsuzbikastanksafeer1.jpg

06
October

تحریر:ڈاکٹر ہمامیر

آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہو گا کہ فلاں خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جنگل کی آگ ہم نے اب تک صرف محاوروں میں یا کبھی کبھار خبروں میں ہی سنی تھی مگر دراصل جنگل کی آگ کیا ہوتی ہے، یہ ہمیں کینیڈا آ کر پتہ چلا۔


پہلے ہم یہ عرض کر دیں کہ اس برس یہاں کا موسم کچھ عجیب و غریب اور غیرمعمولی ہے۔ ونکوور میں شدید برف کا پڑنا اور وہ بھی مارچ تک۔۔۔غیرمعمولی، پھر شدید گرمی اور گرمی بھی ایسی کہ جھلسا دے، یہ غیرمعمولی۔۔۔ اور اب اگست شروع ہوا نہیں کہ خزاں کے رنگ پتوں پر نظر آنے لگے۔ جبکہ خزاں ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے اوائل میں ہوتی ہے۔ یہ بھی غیرمعمولی ہے۔ موسم کے نئے تیوروں نے اپنے رنگ دکھائے تو اس کا اثر کچھ اس طرح پڑا کہ لوگ بلبلا اٹھے۔ گرمی ایسی غضب کی پڑی کہ ہمارے صوبے برٹش کولمبیا کے جنگلات میں آگ لگ گئی۔ اگرچہ گزشتہ برس البرٹا صوبے کے علاقے فورٹ مک میری
(Fort Mc Murray)
میں بھی گرمیوں میں آگ لگی تھی۔ جس سے کافی نقصان ہوا تھا مگر اس پر جلد ہی قابو پا لیا گیا تھا۔ اب یہ جو برٹش کولمبیا میں آگ لگی ہے تو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اب اس وقت 250 سے زائد مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے۔ سیکڑوں فائر فائٹرز آگ بجھانے کے لئے کوشاں ہیں مگر ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ کینیڈا کی افواج بھی اب آگ بجھانے میں فائر فائٹرز کا ساتھ دے رہی ہیں۔ مگر آگ ہے کہ پھیلتی جا رہی ہے۔

jangalkiag.jpg
کینیڈا کے نوجوان اور ہر دلعزیز وزیراعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ سے متاثرہ جگہوں کا دورہ کیا۔ ہم غور کر رہے تھے کہ وزیراعظم کیسے بیانات دیں گے۔ ان کا برتائو کیسا ہو گا؟ اور ہم نے دیکھا کہ وہ طمطراق اور دبدبے کے بجائے انتہائی انکساری اور عاجزی کا نمونہ لگ رہے تھے۔ جینز کی پینٹ اور ہلکے رنگ کی قمیص پہنے کہنیوں تک آستین چڑھائے وہ ایک نارمل انسان کی طرح لگ رہے تھے۔ اُن کا برتائو ایک رضاکار جیسا تھا۔ ہمارے لئے تو یہ سب کچھ نیا نیا سا ہے۔ مصیبت کی گھڑی میں کینیڈا کی حکومت نے جعلی قسم کے ڈراموں سے بھی گریز کیا۔ بہرطور کینیڈا میں چیک اینڈ بیلنس ہے۔ یہاں کسی کا مال ہڑپ کرنا اتنا آسان نہیں۔ اگرچہ یہاں بھی عام لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں مگر محسوس ہوتا ہے کہ جو جذبہ پاکستانیوں میں اپنے ہم وطنوں کی مدد کا ہے وہ کہیں اور نہیں۔


یہ بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان میں اگر خدانخواستہ کوئی مشکل آ جائے تو پوری قوم متحد ہو کر پوری توانائی لگا کر ساتھ دیتی ہے۔ امیر ہو یا غریب، بچہ ہو یا بزرگ، خواتین ہوں یا مرد، سبھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تو افواج پاکستان جو نہ صرف دفاع وطن کے لئے جان کی بازی لگاتی ہیں بلکہ ملک پر آنے والی کسی بھی مصیبت میں پوری جانفشانی سے کام کرتی ہیں چاہئے وہ 2005میں آنے والا زلزلہ ہو، سیلاب ہوں یا کوئی اور مشکل ہو۔ ہر امتحان میں پاک فوج نے بے مثال کامیابی حاصل کی ہے۔
کینیڈا میں عوام اگرچہ اپنے ہم وطنوں کا درد محسوس کرتی ہے مگر وہ جذبہ نظر نہیں آتا جو پاکستانیوں کا ہوتا ہے۔ یہاں جیسے اب ہمارے صوبے میں آگ کی آفت آئی ہے تو لوگ سب سے پہلے انٹرنیٹ پر یہ دیکھیں گے کہ اس سے کیسے بچا جائے۔ انخلا کیسے ہو۔ احتیاطی تدابیر کیا ہوں؟ کیسے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اس آفت سے محفوظ رکھا جائے۔ یہاں پر چونکہ ہر چیز کی انشورنس ہوتی ہے تو لوگوں کو یہ فکر بھی نہیں ہوتی کہ اگر خدانخواستہ گھر یا گاڑی تباہ ہو گئی تو نقصان کیسے پورا ہو گا۔ انشورنس کی رقم لوگوں کو مل جاتی ہے مگر یہ تو طے ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں جو مشکلات درپیش ہوتی ہیں رقم اس کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں یا جن کے مال مویشی متاثر ہوئے ہیں وہ یقینا مشکل میں ہیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت بہت سے علاقے پہلے ہی مکینوں سے خالی کرالئے گئے ہیں ایسے میں ایمرجنسی جیسی صورت حال ہے۔


پورے صوبے میں دھواں پھیلا ہوا ہے۔ دھواں صحت کے لئے نہایت مضر ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو دمہ کی یا سانس کی تکلیف ہے ان کے لئے یہ وقت اور بھی سخت ہے، سارا دن عجیب سا غبار یا دھواں پورے آسمان پر رہتا ہے۔ اسی باعث سورج بھی سنہرا نہیں بلکہ لال لگتا ہے۔ سورج کی کرنیں بھی نارنجی سی ہیں اور تو اور چاند پر نظر ڈالیں تو وہ بھی ''قہرآلود'' لگتا ہے۔ قارئین شاید اسے مبالغہ سمجھیں مگر یہ سچ ہے کہ چاند بھی سرخی لئے ہوئے ہے۔ ستارے بھی نظر نہیں آتے کیونکہ فضا دھوئیں کے غلاف جیسا منظر پیش کر رہی ہے۔ لوگوں کو گلے میں تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ آگ کے پھیلنے کے باعث ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک موسم سرد نہیں ہو گاا ور برسات نہیں ہو گی، آگ پر قابو پانا مشکل ہے۔


عجیب بات ہے کہ مہینے بھر سے زیادہ ہو گیا بارش کا نام و نشان نہیں حالانکہ ونکوور کے بارے میں تو مشہور ہے کہ یہاں بارشیں بہت ہوتی ہیں۔ دیکھتے ہیں کب بارشوں کا سلسلہ شروع ہو تا ہے۔ کب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے اور کب آگ بجھتی ہے۔ اس وقت تو صورت حال یہ ہے کہ آگ مزید بھڑکتی جا رہی ہے۔ اﷲ رحم کرے یہاں کی تاریخ کی دوسری بڑی آگ ہے یہ جو تباہی پھیلا رہی ہے۔ برٹش کولمبیا میں 50 کی دہائی میں خوف ناک آگ لگی تھی یا پھر اب 2017 میں ایسی تباہ کن آگ لگی ہے جس سے ہزاروں ایکٹر زمین متاثر ہوئی ہے۔ حکومت نے کیمپ فائر پر پابندی لگا دی ہے اور خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ اب تو بس انتظار ہے بارانِ رحمت کا، اور آگ ٹھنڈی ہونے کا۔ خدا کرے جلد موسم تبدیل ہو اور آگ پر قابو پایا جا سکے۔ آمین!!

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: صائمہ بتول

اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کے لفظی معنی ایسی مشین کے ہیں جو انسانی دماغ کے قریب قریب سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ سمارٹ فون، ٹیبلٹ اور جدیدکمپیوٹر میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر ہے۔ اینڈ رائیڈ، ہارڈویئر کو زیادہ تیز، بہتر اور سمجھداری سے چلنے میں مدد دیتا ہے۔ جس کی مدد سے ہم خبریں، علم اورتفریح حاصل کرسکتے ہیں۔ موسیقی سنتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، نقشے کی مدد سے راستے ڈھونڈنکالتے ہیں بلکہ ہم خود اپنے ہی بارے میں بھی یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اس وقت ہم کہاں موجودہیں۔ اینڈ رائیڈ ہی کی بدولت ہم تصاویر بناتے، ویڈیو فلمیں بناتے اور آواز کو محفوظ کرتے ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہی سمارٹ فون آپ کا ہمراز اور مددگار بھی ہے جس نے بہت ساری چیزوں کو آپ سے دور اور کئی ایک کو آپ کے قریب ترکردیا ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک سے گاڑی کے ہارن تک اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ آج سے پندرہ سال پہلے 1995 میں آئی بی ایم کمپنی نے پہلا ذاتی فون متعارف کروایا۔ اس وقت سمارٹ فون ایجاد نہیں ہوا تھا۔ ذاتی فون کا نام اُس وقت سائمن پرسنل کمیونیکیشن
،(Simon Personal Communication)
تھا۔ اس کے بعد بہت ساری ابلاغی خصوصیات کو بھی جمع کرتے ہوئے ایپل کمپنی نے پہلاسمارٹ فون بنایا۔ جس میں 'ایپ سٹور' کا خصوصی اضافہ کیا گیا۔ ایپ سٹور کو آئی او ایس
(IOS)
بھی کہتے ہیں جس کی مدد سے صارفین مختلف سافٹ ویئر ڈائون لوڈ کرسکتے ہیں۔ اس خصوصیت کی بدولت گیم کے شائقین نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور دھڑا دھڑ مختلف گیمز اپنے ذاتی فون میںمحفوظ کیں اور کھیلنے لگے۔ آئی او ایس androidtech.jpgدنیا بھر کے بچوں میں مقبول ہوا اور فون کی قیمت 900 سے 1200 ڈالر ہوئی اور اس طرح ایپل کمپنی نے کروڑوں ڈالر کمائے۔
ایسے میں کمپیوٹر کے تاجروں سمیت کئی لوگوں کا خیال تھا کہ مائیکرو سافٹ بھی اس کے مقابلے کا کوئی فون مارکیٹ میں متعارف کروا سکے گا مگر ایسا نہ ہوا بلکہ گوگل نے اس میدان میں چھلانگ لگا دی اور 23 ستمبر2008 کو 'ایچ ٹی سی ڈریم' کے نام سے ایک عدد سمارٹ فون اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے شائقین کی خدمت میں پیش کردیا اور اس طرح اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہو گیا۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ایپل کمپنی کی اجارہ داری ختم ہوئی بلکہ کئی موبائل کمپنیاں جن میں کیو  موبائل کمپنی

موبائل سے لے کرمائیکرو میکس، جیسی چھوٹی بڑی کمپنیاں ایپل کمپنی جیسی بڑی کمپنی کے مقابلے میں آگئیں۔ مارکیٹ میں ایک طوفان برپا ہوگیا اور ایپل کمپنی معاشی طور پر گھٹنوں پر آگئی۔ بڑے بڑے ڈیسک ٹاپ،چھوٹے چھوٹے لیپ ٹاپ میں بدل گئے۔ ایک ہی جگہ پر ساکت اور تھوڑی بہت حرکت والے سارے پرانے سافٹ ویئر سے آراستہ تمام
gadgets
کو جیسے پَر لگ گئے۔ صارفین کی گود، میز، بستر، باورچی خانے، کھیل کے میدان، دفاتر ، ہسپتال، سکول، ہر جگہ اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کی ہم سفر ہوئی۔ وقتی اور جغرافیائی حدود کے معنی بدلے، زبانوں میں تبدیلی آئی اور دنیا سمٹ کر آپ کی ہتھیلی پر آ گئی۔ کہاں وہ زمانہ کہ ایک طالب علم الیگزینڈریا کے کسی کتب خانے کی جستجو میں سالوں اور میلوں کا سفر طے کرتا اور خطرات کو مول لیتا تھا اور اب یہ زمانہ کہ وقت اورجگہ کی قید سے آزاد!! کسی بھی حالت میں، کہیں بھی، کسی بھی زبان میں آپ اپنی خواہش کے مطابق گوگل کو احکامات صادر کرتے ہیں اور مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی آپ کو ورچوئیل رئیلٹی
(Virtual Reality)
بھی مہیا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ سافٹ ویئر جدید ترین گاڑیوں کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ مگر یہ مت بھولئے کہ یہ سافٹ ویئر آپ کی ذاتی زندگی اور شخصی آزادی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ آپ کو اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کے کسی کونے سے بھی دیکھا، سُنا، فلمایا اور جسمانی طور پر بدل کر پیش کیا جاسکتا ہے، آپ کی شناخت بدلی جاسکتی ہے ذاتی رکھ رکھائو کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ آپ کہیں پناہ گزیں ہوں یا چھپ کر بیٹھیں، آپ کو ڈھونڈا جاسکتا ہے، بینک اکائونٹ کریڈٹ کارڈ سے متعلقہ جرائم کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، یا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سمیت کئی ضروری کاغذوں میں گھنائونی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ آپ کے قریب رکھا ہوا سمارٹ فون آپ کا مخبر بھی ہوسکتا ہے اور آپ کے انتہائی ذاتی راز کسی کے آگے کھولنے کے لئے اُسے آپ کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔ اپنے محترم قارئین کو یاد دلاتی چلوں کہ موٹورولا بھی گوگل ہی کی کمپنی ہے جس نے پاکستان میں پہلے جی ایس ایم موبائل فون موبی لنک کی بنیاد 1994 میں رکھی۔


11 اگست2005 کو کیلیفورنیا میں گوگل کمپنی نے این ڈی رابن، رچ میور اور کرس وائٹ کی مدد سے اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی پر کام کرنا شروع کیا۔ 13 ستمبرکو ایرینا بلاک نامی خاتون نے اس کالوگو تیار کیا۔ 27اپریل 2009 کو 1-5کپ کیک اور چار مہینے بعد ہی یعنی اگست 2009 کو ڈو نٹ بنایا گیا۔ پھر41 دن بعد اکلیئر(2.0) جنوری2010 کو نیکسس ون

آیا اورساتھ ہی 6 اکتوبر2010 گوگل ٹی وی نے مارکیٹ میں قدم رکھا اور22 فروری 2011 کو ہنی، کامب3.0 ٹیبلٹ یعنی سلیٹ نما شکل میں آیا۔ 10مئی 2011 کو گوگل میوزک متعارف کروا دیا گیا۔18 اکتوبر2011 کو آئس کریم سینڈوچ4.0 سامنے آیا۔ 2011 ہی میں گوگل دنیا کی امیرترین کمپنیوں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔
27 جون2012 کو گوگل کمپنی نے اپنے گلاس پراجیکٹ کو دہرایا اور 9 جولائی 2012 کو جیلی بینز4.1 اور نیکسس ٹیبلٹ بنالیا۔ یہاں تک کے سفر میں اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ900 ملین ہوچکی تھی۔
21 اکتوبر 2013 کو کٹ کیٹ4.4 دھڑا دھڑ بکنے لگا، 18 مارچ2014 اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی نے دستی گھڑیوں میں بھی ڈیر ے ڈال لئے۔ 26 جون 2014 ہی میں پاور پارٹ زیرو(0) شروع ہوا۔ 12 نومبر2014 کو لالی پاپ 4.4 ساتھ ہی دی نیکسس پلیر اور15 اکتوبرمارش میلو 6.0 آیا۔ نیکسس 6 اور9 بھی انہی دنوں مارکیٹ میں آئے۔
22 اگست2016 میں ڈو نٹ7.0 سامنے آچکا ہے اور حالیہ سال 2017 میں نیاورژن متعارف کروایا جا چکا ہے اور اس پر دن رات کام ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ15x اور پکسل6 پر بھی کام ہو رہا ہے۔ دیکھئے یہ تحریرمکمل ہو کر سامنے آنے تک ترقی کی اس رفتار سے اینڈ رائیڈ کتنے حیرت کدوں کا پیش خیمہ بنے؟

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے کیونکہ وہ گھر گیاہی نہیں ہوتا۔
پانچ سالہ شہیر فون پراپنے والدسے ناراضگی کا اظہارکرتاہے کہ وہ ان سے ملنے نہیں آتے۔ وہ جواب میں اپنے معصوم بیٹے کے گلے شکوے ختم کرنے کے لئے وہ بہت جلدآنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ دراصل شہیر کے والد میجر شاہنواز آرمی میں ہیں اور اُن کی ڈیوٹی ان دنوںپاک افغان بارڈر پر ہے۔
نوسالہ عمران بھی اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیںاور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔
مدرسے میں بجنے والی گھنٹی کی آواز مجاہد کو سوچوں کی دنیاسے نکال کرحقیقت کی دنیا میں لے آتی ہے۔وہ دنیا جہاں انتہائی درجے کی تلخی ہے۔۔۔۔۔۔!
مجاہد جب سے اس مدرسہ میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔

 

ایک بارپھراسے وہی باتیں سمجھائی جانے لگیں۔لڑائی نہ کرناتو اسے ایسے سمجھایاجاتاہے جیسے وہ کوئی بہت بڑاجھگڑالُو ہے اورجھگڑا کرنا ہی اس کا پیشہ ہے۔وہ جی بھر کے بدمزہ ہوا۔کچھ بولا نہیں لیکن ناک بَھوں چڑھاکر چارپائی اٹھا کر اپنے کمرے میں آگیا۔چارپائی اس نے اسی کونے میں رکھی جہاں اس نے پہلے سے سوچ رکھا تھا۔ ویسے کمرے میں اس کے علاوہ چارپائی رکھنے کی اورکوئی جگہ بھی نہیں تھی۔چارچارپائیاں پہلے سے کمرے میں موجود تھیں اور یہ پانچویں رکھنے کے بعد توکمرے میں صرف اتنی جگہ رہ گئی جتنی ان پانچ چارپائیوں کے بیچ میں ضروری تھی۔ اس کے علاوہ کمرے میں کوئی جگہ نہیں بچی۔
بڑے مولانا صاحب کی ہدایات یہاں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ اسے مدرسے کی دیوار کے اندر قدم رکھتے ہی پتہ چل گیا تھا۔آج پہلی بار جب وہ مولوی ثناء اللہ سے ملا تواسے کچھ اندازہ تو اس بات کا ہو گیا۔ان کے کمرے سے نکل کروہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔ اسے پتہ چل گیا کہ یہاں پر سب بڑے مولانا صاحب سے کتنے متاثر ہیں۔
یقیناً وہ کوئی بہت ہی پہنچی ہوئی ہستی ہوںگی جن سے سب اتنے متاثرہیں۔اس نے دل میں سوچا۔


اس نے کمرے کے کونے میں چارپائی پرچادراورتکیہ بچھادیااوروہیں لیٹ گیا۔ وہ تھکاہواتھا۔اتنا سفر کرکے آیا تھا وہ آج۔۔۔۔سیف اللہ ابھی تک وہی کتاب پڑھ رہا تھا۔اس سے کوئی بات نہیں کی۔ پتا نہیں وہ مصروف تھا یااسے مسلسل نظراندازکررہا تھالیکن لگ تو بہت مصروف رہا تھا۔ وہ تھکا ہواتھالیٹتے ہی نیند کی وادی میں چلا گیا۔نیند کا وہ شوقین تھااور یہ اس کی فطرت تھی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کسی نے اسے کندھے سے ہلایا۔
اُٹھ جاؤ مجاہد جماعت کا وقت نکلا جارہاہے۔


وہ گہری نیند میں تھا۔اسے تو سمجھ بھی نہیں آئی کہ کس نے اسے ہلایاہے۔اس نے کروٹ لے کر دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔
چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اسے پھرکسی نے کندھے سے ہلایااوراس بارپہلے سے زیادہ شدت سے ہلایا۔وہ ہڑبڑاکراپنے بستر پربیٹھ گیا۔چند لمحے تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ کہاں موجود ہے۔ وہ آنکھیں مسلنے لگا۔کچھ لمحوں بعد جب حواس بحال ہوئے تو یہاں اپناآنایاد آگیا۔


جلدی سے اُٹھ جاؤ مجاہد۔ جماعت کھڑی ہونے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اورتم نے تووضو بھی کرنا ہے۔
کتنا وقت رہتا ہے ؟؟؟؟؟ یہ اس نے اس لئے پوچھا کہ وہ ہمیشہ وضووقت دیکھ کرکرتاتھا۔اگر جماعت میں وقت زیادہ ہوتا تھا تو وہ آرام سے کرتا۔دوسری صورت میں وہ پانچ منٹ کے اندر بھی تیارہوجاتاتھا۔
بہت کم وقت ہے۔شایدپانچ منٹ سے بھی کم۔ سیف اللہ نے دروازے سے نکلتے ہوئے کہا۔


وہ چھلانگ لگاکربسترسے اترآیا۔کمرے کے دروازے سے نکلتے ہوئے اسے یادآیا کہ اسے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ نماز اس وسیع مدرسے میں کس جگہ پڑھی جائے گی۔
سیف اللہ۔۔۔۔۔۔ اس نے پیچھے سے بلایا۔ وہ رک گیا۔
نماز کے لئے میں کس جگہ آؤں؟؟؟؟
وہ جو سامنے مینار نظرآرہا ہے۔۔اسی جگہ آنا۔
اس نے مینار کی طرف دیکھا۔اسے مسجد کا مینارنظرآگیالیکن وہ آتے ہوئے مدرسے کے سامنے والے دروازے سے آیا تھااور یہ مسجد مدرسے کے پیچھے کی طرف بنی ہوئی تھی اس لئے آتے ہوئے اس نے نہیں دیکھی تھی۔
جلدی سے آجانامجاہد۔ دیرکر دی اوربڑے مولانا صاحب کو پتا چلا تو وہ بہت ناراض ہوںگے۔۔۔غسل خانے کی طرف جاتے ہوئے اس نے اپنے پیچھے آواز سنی۔
مجاہد۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ اورایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پرپھیل گئی۔۔اچھانام تھااس کا۔
وہ جلدی سے کمروں کی قطارکے آخر میں بنے ہوئے غسل خانوں میں سے ایک میں گھس گیااور چندلمحوں میں وہاں سے نکل کرنزدیک ہی نلکے پرہاتھ منہ دھویااورجلدی سے مسجد کی طرف بھاگا۔
وہ مسجدمیں داخل ہواتوجماعت کھڑی ہونے والی تھی۔وہ بھی جلدی سے آخری صف میں کھڑا ہو گیا۔

مجاہداللہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آہستہ سے اپنانام دہرایااورایک ٹھنڈی سانس لی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ہاں ہاں کھینچ لواورکھینچ لو۔نکال لومیرے سارے بال۔لیکن مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے،لوگ تمہیں ہی گنجے کی بیوی کہیں گے۔ بائیک پرگنجے کے پیچھے تم پرہنسیں گے لوگ۔
ارے بابامیں نے کھینچے کب ہیں۔ میں مساج ہی توکررہی ہوں۔وہ کافی حیران ہوئی اس کی بات پر۔
ارے واہ! یہ مساج ہے توپھررسیاں تڑواناکیاہوتاہے ؟؟؟
ارسل۔۔۔۔ میں اتنے آرام سے توکررہی ہوں۔آپ توخوش ہی نہیں ہوتے۔ وہ بہت معصومیت سے بولی۔
ارے واہ! میں خوش نہیں ہوتایاتمہیں مجھ پررحم ہی نہیں آتا۔ایسے کھینچ رہی ہوجیسے کوئی بھینس بندھی ہوان کے ساتھ۔۔وہ بھونڈی مثال دیتے ہوئے بولا۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔وہ قہقہہ مارکرہنسی اس کی بے تکی تشبیہہ پر۔وہ ایسی ہی بے تکی مثالیں دیاکرتاتھا۔
آج ہفتے کادن تھااورگھرپران دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔رضاحسین اورشمیم عصرکی نمازپڑھ کررضاکے بہنوئی کی عیادت کوگئے تھے جو پچھلے دومہینوں سے علیل تھے اوراب ان کی واپسی عشاء سے پہلے ممکن نہیں تھی۔ کامران اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے نکلاہوا تھااورگھرمیں بس وہی دونوں رہ گئے تھے۔ ارسلان نہانے کے لئے جاہی رہاتھاکہ صبانے پیچھے سے آوازدے کرروک لیا۔ اور تیل لاکراس کے بالوں میں مساج کرنے لگی۔اب یہ اس کامعمول بن چکا تھا۔ ہربارنہ سہی لیکن کبھی کبھی وہ اس کے بالوں میں سرسوں کے تیل کامساج کرہی دیتی۔ ارسلان کے بال پیارے توپہلے بھی تھے۔چھوٹے چھوٹے بال ماتھے پرآتے ہوئے بہت اچھے لگتے اس پر، لیکن مساج کرواکے دھونے کے بعدتوصبا کوسب کچھ چھوڑکراس کے بالوں پرہی پیارآتا تھا۔گیلے ہوکروہ لگتے بھی توبہت پیارے تھے۔ وہ مساج کرتی جارہی تھی اورساتھ میں ان کی ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی چل رہی تھی۔
اب میں نے ایسابھی نہیں کھینچااوراتنے برے اورروکھے بال ہوں گے توکھنچتے ہوئے تولگیں گے نا۔کتنی دفعہ کہاہے کہ نہانے سے پہلے تیل لگایاکریں لیکن آپ بھلاکیوں سنیں گے۔۔
محترمہ میرے بال بہت پیارے ہیں لیکن جوتم کررہی ہووہ بالکل ٹھیک نہیں ہے۔وہ چھیڑرہاتھا۔
خودہی توکہاآپ نے کہ مساج کردوں اوراب خودہی شکایت بھی ہے۔ وہ ناراض ہورہی تھی۔
تومیں نے مساج کرنے کاکہاتھایہ کب کہاتھاکہ جڑسے ہی اکھاڑدو،کچھ چھوڑوہی نہ میرے سر پر۔
میں نے کب اکھاڑاہے ؟؟ اتنے آرام سے توکررہی ہوں۔
ہاں ہاں۔اکھاڑدو۔مجھے کوئی مسٔلہ نہیں ہے۔شرم سے توتم ڈوبوگی جب لوگ تمہیں ٹکلے کی بیوی کہیں گے۔۔؟
اس کی شرارت عروج پر تھی۔وہ ایسے ہی اسے چھیڑتاتھااوراسے چھیڑنے میں اسے بہت مزاآتا تھا۔وہ کوئی بہت بذلہ سنج شخص نہیں تھالیکن اس کے سامنے آتے ہی پتا نہیں کیوں اسے شرارتیں ہی سوجھتی تھی۔ اسے تنگ کرکے وہ بہت مزا لیتا تھا۔ اکثر صبح بایئک پرساتھ جاتے ہوئے وہ بائیک کوادھرادھرمختلف زاویوں سے گھما پھرا کراسے ڈراتارہتاتھااوروہ ڈربھی جاتی تھی اورپھراوپرسے صباکا ری ایکشن اتنا معصومانہ اورمزے کاہوتاتھاکہ اس کا اور دل کرتا اسے تنگ کرنے کو۔ وہ اکثر ناراض ہوجاتی اور سکول کے پاس بائیک سے اترکر روزنہیں توہردوسرے دن اسے یہ دھمکی بھی دیتی کہ اب وہ سارادن اس سے بات نہیں کرے گی اوراسے کوئی میسج بھی نہیں کرے گی۔کبھی کبھی تویہ دھمکی بھی ملتی کہ اب وہ کبھی اس کے ساتھ نہیں آئے گی بائیک پر۔ وہ آج ہی ٹرانسپورٹ میں بات کرکے اپنے لئے سکول کی بس لگوا لے گی اورآئندہ اسی میں آیاکرے گی لیکن اس کے ساتھ کبھی نہیں آئے گی۔
لیکن یہ دھمکی ہمیشہ دھمکی ہی رہتی۔ سکول کے دروازے سے داخل ہونے کے ٹھیک پندرہ منٹ بعدسے وہ انتظارکرناشروع کردیتی کہ کب اس کاسوری کامیسج آئے گا۔ کیوںکہ اس کاآفس مشکل سے پندرہ منٹ کے فاصلے پرہی تھا اور ہر بار جب وہ سکول کی اسمبلی سے فارغ ہوکرسٹاف روم میں آتی تھی تواس کامیسج آیا ہوتا تھا۔ ایک لمباساسوری اورایک اداس ساکارٹون اور اس کی ساری ناراضگی بھک کر کے اڑجاتی۔ وہ ایک میسج اس کے لبوں پرمسکان بکھیر دیتا۔ وہ اسے تنگ کرتا تھا اور جانتا ہوتا کہ وہ ناراض ہوگی۔ سوہرباربینک کے دروازے پربائیک کھڑی کرتے یہ اسے میسج کردیتااوریہ کام وہ کبھی بھی نہ بھولتا۔دنیاکی ہرشے سے زیادہ عزیزتھی وہ ایک لڑکی اسے۔
مجھے توکوئی پرابلم نہیں ہے اگرکوئی مجھے ٹکلے کی بیوی کہے یاپھرمجھے ٹکلے کے پیچھے بائیک پربیٹھے ہوئے دیکھے۔ بلکہ مجھے توبہت مزا آئے گاجب لوگ افسوس سے میری طرف دیکھیں گے۔اب چڑانے کی باری اس کی تھی۔
افسوس سے کیوں؟؟؟؟؟؟
توظاہرہے لوگ مجھے آپ کے ساتھ دیکھ کربہت افسوس کریں گے ناکہ دیکھوبیچاری لڑکی کی قسمت پھوٹ گئی ہے، اتنی پیاری ہے اورایک گنجے کے ساتھ بیاہ دی گئی۔۔۔ چھی چھی چھی۔ وہ مصنوعی اداسی اپنے چہرے پرچڑھاکربولی۔
اب ایسی بھی کوئی جنت سے اتری ہوئی حورنہیں ہوتم جومیں تمہارے ساتھ لنگور لگوںگا۔خود کوذراشیشے میں جاکردیکھ لو تم۔اس کا منہ لٹک گیاتھا۔ وہ اسے چڑانے میں آج کامیاب ہوہی گئی تھی ورنہ اکثروہ ہی جیتتاتھا۔
ہاہاہا۔۔میں نے ایساکب کہاکہ میں حورہوں اورآپ لنگورہیں؟؟؟؟ میں تولوگوں کی بات کررہی تھی۔
توتم اسی لئے کھینچ رہی ہومیرے بال تاکہ سارے نکال دواورپھرسب کی ہمدردیاں سمیٹ سکو۔ وہ واقعی چڑگیاتھا۔
بالکل۔سوفیصد صحیح اندازہ لگایاہے آپ نے۔میرا مقصدیہی ہے۔وہ اس کے پیچھے کھڑی مسکرارہی تھی۔ لیکن وہ انجان تھا۔
اچھابس چھوڑدو۔میں نہانے جارہاہوں۔ بہت اکھیڑلئے میرے بال۔
ارے رکیں ناابھی توپوری طرح اکھاڑے نہیں ہیں۔مجھے اوربھی اکھاڑنے ہیں۔ وہ ہنسے جارہی تھی۔
وہ اُٹھ کرکھڑاہوگیا۔مساج ہوگیاتھالیکن وہ ویسے ہی آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔ اسے اچھالگ رہاتھااورساتھ میں اسے غصہ بھی دلا رہی تھی۔
اچھااچھا۔ابھی مت نہائیں۔کم سے کم آدھاگھنٹہ توصبرکرلیں۔ابھی توتیل لگایاہے۔
وہ بھی تیل کی بوتل اُٹھاکراٹھ گئی۔اسے رات کے کھانے کے لئے بھی کچھ تیارکرناتھا۔امیرلوگ نہیں تھے۔کچھ رضاحسین کی پنشن تھی اورکچھ ارسلان کی تنخواہ۔گھرکاگزارہ اچھا چل رہاتھا۔ آج بینک سے واپس آتے ہوئے وہ اپنے ساتھ مچھلی لایاتھا۔اوررات کے کھانے میں صباکواسی مچھلی کوتلناتھاسووہ تیل کی بوتل رکھ کرکچن کی طرف گئی۔ابھی اسے مسالا تیارکرنا تھا۔تلناتوسب کے واپس آنے پرہی تھا۔۔۔۔

پاپا میں آپ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
کیوں بیٹا؟؟ اب پاپا نے کیا کیا ہے ؟
پاپا آپ نے کہا تھا کہ آپ بہت جلدی آئیں گے گھر۔۔لیکن آج پورا ہفتہ ہو گیا ہے آپ نہیں آئے۔
میجر شاہنواز بٹ نے آج گھر فون کیا تھا اور فون اٹھایا ہی اس کے بیٹے شہیرنے۔۔ وہ شہیر جو اپنے باپ سے ہر فون پر لڑتا تھا۔ صرف اس لئے کہ اس کا پاپا اس سے اور اس کی ماما سے پیار نہیں کرتا۔ اگر کرتا ہوتا تو اِتنے مہینوں بعد گھر نہ آتا۔ بلکہ جلدی جلدی آتا جیسا کہ اس کے سب دوستوں کے پاپا آتے تھے۔ وہ تو اپنی دانست میں سمجھتا تھا کہ اس کے دوست عبداللہ اور کامران کے پاپا ان سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں جو روز شام کو گھر آجاتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر اس نے حسن سلطان کو رکھا تھا جس کے پاپا ہر ہفتے کے دِن اِسلام آباد سے ان سے ملنے آتے تھے۔۔ اپنے پاپا میجر شاہنواز بٹ کو اس نے آخری نمبر دیا تھااور اس نمبر کے مطابق اس کے پاپا یعنی میجر شاہنواز بٹ کو اپنے بیٹے شہیر نواز اور اس کی ماما عائشہ سے کوئی پیار نہیں تھا۔جو وہ مہینوں تک ان سے ملنے گھر نہیں آتے۔ اگر ان کو پیار ہوتا تو وہ اس کے دوستوں کے پاپا کی طرح ان سے ملنے ضرور آتے۔
'' بیٹا میں نے آپ سے پرامس کیا تھا نا کہ جیسے ہی مجھے ٹا ئم ملے گا میں بھاگتا ہوا اپنے بیٹے کے پاس پہنچ جاؤں گا۔۔۔'' شاہنواز کو اپنا وعدہ یاد تھا۔
لیکن پاپا آپ کو پچھلے دو مہینوں سے ٹائم نہیں ملا۔ آپ آئے تھے تو بھی اتنی جلدی چلے گئے تھے۔۔۔ وہ بھی اسی کا بیٹا تھا۔
بیٹا وہ تو ایمرجنسی کال آئی تھی نا۔ اس لئے جلدی آنا پڑا تھا۔۔۔۔ باپ وضاحت دے رہا تھا۔
پاپا صرف آپ کو ایمرجنسی میں کیوں بلاتے ہیں۔ عبداللہ کے پاپا کو تو کبھی کسی نے نہیں بلایا۔
عائشہ جو کافی دیر سے صوفے پہ بیٹھی ان باپ بیٹے کے گلے شکوے سن رہی تھی دھیرے سے اس بات پہ ہنس دی۔ پانچ سال کا شہیر نواز نہیں جانتا تھا کہ اس کے پاپا کو اس سے اور اس کی ماما سے کیوں پیار نہیںہے۔ عائشہ جانتی تھی کہ اپنے بیٹے شہیراور بیوی عائشہ پرجان نچھاور کرنے والا شاہنواز اتنے مہینے گھر کیو ںنہیں آتااور یہ بات وہ اپنے بیٹے کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتی تھی۔لیکن وہ بچہ تھا اور بچے سمجھتے نہیں صرف دیکھتے ہیں اور اس کا شہیر بھی دوستوں کو دیکھ کر اپنے پاپا سے لڑ رہا تھا۔
لیکن اس نے روکا نہیں اسے۔ بلکہ اسے لڑنے دیا۔ آخر باپ تھا اس کا۔۔۔
بیٹا عبداللہ کے پاپا آرمی میں نہیں ہیں، شاہنواز نے وضاحت دینے کی کوشش کی۔
تو پاپا آپ بھی آرمی چھوڑ کر آجائیں۔۔ وہ بھی آج پورا حساب لے رہا تھا بیٹا ابھی تو نہیں چھوڑ سکتا نا۔۔
کیوں؟؟؟
وہ لاجواب ہو گیا تھا اور و ہ ہمیشہ ہی لاجواب ہو جاتا تھا۔ اولاد چیز ہی ایسی ہے کہ بڑے بڑوں کو لاجواب کر دیتی ہے۔اور عائشہ جانتی تھی کہ بحث میں اپنے سامنے والے کوہمیشہ لاجواب کر دینے والا شاہنواز اپنے پانچ سالہ بیٹے کے سامنے ہر بار لاجواب ہو جاتا ہے۔ سو وہ مسکراتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر اس کو بچانے آئی تھی۔
شہیر بیٹا پاپا سے اتنا لڑتے نہیں ہیں۔۔ وہ ڈیوٹی پر ہیں بیٹا۔۔ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔
نہیں ماما پاپا جان بوجھ کر نہیں آتے۔ڈیوٹی پر تو کامران کے پاپا بھی ہوتے ہیں۔ وہ آج بہت غصے میں تھا۔
اچھا چلو بیٹا مجھے فون دو اب۔۔کتنی دیر سے پاپا سے لڑ رہے ہو آپ۔ اب مجھے بات کرنے دیں۔آپ جا کے کارٹون دیکھ لو۔
یہ لیں ماما۔۔آپ بات کر لیں۔
اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔وہ غصے میں تھا ناراض تھا،لیکن اس وقت اس کے اُٹھ جانے پر شاہنواز نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا۔ وہ اپنے پاپا سے سخت ناراض تھا۔لیکن حیران وہ اس بات پر تھا کہ اس کی ماما اس کے پاپا سے کیوں ناراض نہیں ہوتی۔ کمرے کے دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا تھااور جی بھر کے بدمزہ ہوا تھا۔ اس کی ماما فون پہ ہنس رہی تھی۔ جانے کیوں۔ اس لمحے اپنی ماما بھی اسے اچھی نہیں لگی۔وہ پاپا سے اتنی خوشی سے بات کیوں کر رہی تھیـجب کہ پاپا کو تو ان دونوں کا احساس بھی نہیں ہے اور اس خراب موڈکے ساتھ وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


مجاہداللہ کیاہوگیاہے تمہیں؟؟؟؟؟ انہوں نے اپنی ازلی مسکراہٹ ہونٹوں پرسجاتے ہوئے کہا۔
شکیل بھائی اب میں یہاں نہیں رہوں گا۔ چلاجاؤں گامیں یہاں سے۔ مزید اب بے گناہوں کی جان نہیں لوں گامیں۔۔وہ بہت غصے میں تھا۔
ایساکیاہواہے مجاہدجوتم ایسے کہہ رہے ہواورمولاناصاحب نے مجھے اتنی جلدی میں بلایاتم سے بات کرنے کے لئے۔۔شکیل حیران تھا۔
میں جان گیاہوں سب حقیقت۔ ایسی باتیں جو آپ نہیں جانتے۔۔ مولانا صاحب صرف ایک دھوکہ ہیں اور۔۔۔۔۔وہ آگے بھی کچھ کہناچاہ رہاتھالیکن جانے کیوں رُک گیا۔
اس سے کیافرق پڑتاہے بیٹاکہ آپ کیاجان گئے ہو اور کون کیا ہے۔ کرنا تو سب کووہی ہوتاہے جس کافیصلہ ہواہوتاہے۔۔ وہ اپنی ازلی مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔
آپ نہیں جانتے شکیل بھائی آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔۔مجاہد کے لہجے میں کافی ڈر تھا۔
ایساکیاہے جومیں نہیں جانتااورتم جان گئے ہو؟؟؟ انہوں نے چائے پیالی میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔
شکیل بھائی میں اس رات ویسے ہی کمرے سے نکلا۔نیند نہیں آرہی تھی مجھے۔ میں قسمت سے مولاناصاحب کے کمرے کے پیچھے کی طرف سے مڑکرآیا۔وہاں روشنی جل رہی تھی۔اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبورہوکرمیں نے اندرجھانکاتومجھے کچھ انجان لوگ نظرآئے۔بالکل انجانے جن کومیں نے کبھی دیکھابھی نہیں تھا۔ میں وہیں کھڑے ہوکران کی باتیں سنتارہااورجیسے جیسے میں سنتارہامجھے لگامیں زمین میں دھنستاجارہاہوں۔ وہاں کپڑے کاایک تھیلابھی پڑاہواتھا۔وہ لوگ کہیں پرکچھ دھماکہ کرنے کی بات کررہے تھے اورپیسوں کی کچھ بات کررہے تھے لیکن مولانا صاحب نہیں مان رہے تھے۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیاہورہاہے لیکن بس یہ سمجھ پایاکہ مولاناصاحب نہیں مان رہے۔بھلاوہ اللہ اوررسولۖکے غلام ہیں پیسے لے کرکیسے دھماکہ کرسکتے تھے لیکن یہ میری سوچ تھی جوبالکل غلط ثابت ہوئی جب میں نے دیکھاکہ مولانا صاحب کے سامنے و ہ تھیلا اوراس جیساایک اور تھیلا انڈیلاگیااوران دونوں تھیلوں میں سے نوٹوں کی گڈیاں نکلیں۔ مولانا صاحب کے چہرے پراس وقت ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جومیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے پیسوں کے عوض دھماکہ کرنے کامعاہدہ کرلیا۔ اب آپ بتائیں شکیل بھائی جب مجھے یہ پتاچل گیاہے کہ مجھے ہی نہیں مجھ جیسے ہزاروں لڑکوں کومذہب کے نام پردھوکہ دیاگیاہے اوردیاجارہاہے تومیں یہاں کیسے رہوں گا۔۔۔
جوتم نے کہاوہ سب میں جانتاہوں اوراگرتم اس کے علاوہ بھی کچھ جانتے ہوتومجھے بتادو۔وہ بدستوراب بھی مسکرارہے تھے۔


(.........جاری ہے)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

مچھرپوری دنیا میں سب سے چھوٹے مگر سب سے زہریلے اور جان لیوا جانداروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کی پوری دنیا میں تقریباً3,500 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہر سال تقریباََ ایک ملین سے زیادہ لوگ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مچھر سے پھیلنے والی مختلف بیماریوں یعنی ملیریا ،
Yellow Fever
کے بعد آج کل چکن گونیا ڈینگی اور زیکا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں تقریباََ 214 ملین کیسز منظر عام پر آئے اور تقریباََ43,800 افراد اس کے ہاتھوں لقمۂ اجل بنے۔


ملیر یا ، مچھرسے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے جو کہ پلازموڈیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر سال پوری دنیا میں تقریباً 350-500 ملین افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ملیریا کی بیماری مچھر کی ایک خاص قسم اینا فلیز کی مادہ کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ جب یہ مادہ مچھر کسی ملیریا زدہ شخص کو کاٹتی ہے تو اس شخص کے خون سے ملیریا کے جرثو مے مچھر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔یہ جرثومے مچھر کے جسم میںہی نشونما پاتے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے بعد جب یہ مادہ کسی تندرست شخص کو کاٹتی ہے تو پلازموڈیم اس شخص کے خون میں شامل ہو جاتے ہیں اس شخص کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں یا اکثر اوقات سالوں تک نمو پاتے ہیں اورجب ایک خاص تعداد میں جرثومے پیدا ہو جاتے ہیں تو ملیریا کا حملہ شروع ہو جاتا ہے۔ ملیریا کی علامتیں پلازموڈیم کے حامل مچھر کے کاٹنے سے دو سے تین ہفتے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ ابتداء میں سردی، تیزبخار، تھکن، چھینکیں، جسم میں شدید درد، متلی، کھانسی، نزلے جیسی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات جوڑوں میں درد، یرقان، بے ہوشی کے دورے اور پھر ملیریا کے شدید حملے میں اعصابی نظام بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ جلد پر خارش اور سرخ دھبے ملیریا کی خاص نشانیاں شمار کی جاتی ہیں۔ ملیریا کی بیماری ہسپتالوں میں استعمال کی ہوئی سرنج استعمال کرنے اور جراثیم زدہ سامان کے استعمال سے بھی ایک فرد سے دوسرے فرد کے خون میں منتقل ہو سکتی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق ملیریا پھیلانے والے مچھر درحقیقت پروٹوزونز ہوتے ہیں اور ملیریا سے متاثرہ لوگوں کو کاٹنے کے بعد صحت مند لوگوں تک اس بیماری کے جراثیم بھی منتقل کرتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میںہر سال کروڑوں افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈینگی وائرس کا سبب بننے والا مادہ مچھر جسے
Aedes Aegypti
کہتے ہیں پہلی بار 1959 ء میں ایشیائی ممالک میں شناخت کیا گیا پھر یہ وائرس تیزی سے پاکستان، بھارت، افریقہ، مشرقی وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے 100 سے زائد ممالک میں پھیلتا چلا گیا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایشیائی ممالک میں ڈینگی کی بڑھتی ہوئی شرح کی بنیادی وجوہات درجہ حرارت میںاضافہ ، کئی علاقوں میں شدید اور مسلسل بارشیں ، سیلاب کی تباہ کاریاں اور بڑھتی ہوئی گنجان آبادی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اگر ڈینگی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو دنیا کی ایک کثیر آبادی کواس مچھر سے خطرہ لاحق ہے۔


ڈینگی وائرس کا سبب بننے والی مادہ، جس کے جسم پر سیاہ رنگ کی دھاریاں پائی جاتی ہیں، صاف پانی ، پانی کی ٹینکیوں ، گملوں ، نکاسیٔ آب کے راستوں، بارش کے پانی وغیرہ میں انڈے دیتی ہے۔ ڈینگی بخارکی ابتدائی علامات میں شدید بخار، سرمیں درد ، آنکھوں کے ڈھیلے میں شدید درد، بھوک نہ لگنا ، جسم میں درد، پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد شامل ہیں۔ بیماری کی فعال حالت میں مریض کا بلڈپریشر کم اور ہاتھ پیر ٹھنڈے بھی ہو سکتے ہیں۔جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں پر باریک سرخ دانے بن جاتے ہیں۔ اور مریض کے خون میں
Platelets
اور سفیدخُلیات کی کمی ہو جاتی ہے۔ ڈینگی بخار کو بریک بون فیور
بھی کہتے ہیں کیونکہ اس بخار کے دوران مریض کی ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہو جاتا ہے اور پھر مرض کی شدت میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا جاتا ہے، منہ اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔
چکن گونیا بھی ڈینگی وائرس کی طرح
(Aedes Aegypti)
نامی مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ جس کی پہلی اور عام علامات میں بہت تیز بخار اور جوڑوں میں درد شامل ہے۔
اگر کوئی عام مچھر چکن گونیا سے متاثرہ کسی مریض کو کاٹ لے تو وہ مچھر بھی چکن گونیا والے وائرس مچھر میں تبدیل ہو کر اس مرض کے پھیلائوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چکن گونیا کی علامات مادہ مچھر کے کاٹنے کے تین سے سات دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور عموماََ مریض مناسب علاج سے ایک ہفتہ میں تندرست ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن کچھ مریضوں میں تقریباََ ایک ماہ تک جوڑوں میں درد کی شکایت برقرار رہتی ہے۔
ملیریا ، ڈینگی اور چکن گونیا کے بعد ایک نیا وائرس ظاہر ہوا ہے جس کو زیکا وائرس کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وائرس بھی
Aedes Aegypti
کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ زیکا وائرس سب سے پہلے 1947 ء میں یوگنڈا کے بندروں میں دریافت کیا گیا تھا اور پہلا انسانی کیس 1954 ء میں نائیجریا میں منظر عام پر آیا۔ زیادہ تر گرم مر طوب علاقوںمیں پائے جانے والے
Aedes Aegypti
نامی مچھر اس وائرس کے پھیلائو کی وجہ ہے۔ یہ مچھر صاف پانی میں پرورش پاتے ہیں اور ان کے جسم پر سیاہ اور سفید نشانات ہوتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق زیکا وائرس میں مبتلا مریض بہت کم موت سے ہمکنار ہوتے ہیں اور تقریباً پانچ میں سے ایک مریض میں اس کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں جن میں آشوبِ چشم، بخار، سردرد، جوڑوں میں درد اور جلد پر سرخ نشانات شامل ہیں۔ زیکا وائرس کے حوالے سے سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ حاملہ عورت کے شکم میں پرورش پانے والے بچوں پر اس کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور مائکرو سیفلی نامی بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔ جس سے بچے کے دماغ کی نشونمارک جاتی ہے اور وہ ذہنی اور جسمانی معذوری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔


مچھروں کی مختلف اقسام پوری دنیا میں انتہائی خطرناک اور مہلک بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ جن سے بچائو اور ان کا مکمل علاج فی الوقت موجود نہیں ہے البتہ لوگ احتیاطی تدابیر اپنا کر مچھروں کے کاٹنے سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پانی کی ٹینکی ، ڈرم، پھولدان، گملے کے نیچے رکھے ہوئے برتن اور بوتلوں میں رکھے گئے پودوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں۔ مچھروں سے بچائو کے لئے کھڑکیوں اور دروازوں پر جالی لگوائیں۔ سوتے وقت مچھر دانی استعمال کریں۔ لباس ایسا زیب تن کریں جو مکمل طور پر ڈھکا ہوا ہو۔ لوگ خود احتیاط سے کام لیں کیونکہ صرف احتیاط ہی اس مرض سے بچائو کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم اپنے اردگرد اپنے گھر، پارک، مارکیٹ وغیرہ کے ماحول کو صاف ستھرا اور خشک رکھیں اور کسی بھی قسم کے پانی اور کوڑا کرکٹ کو ہر گز جمع نہ ہونے دیں۔
مچھروں سے ہونے والی بیماریاں موروثی اور وبائی نہیں ہیں۔ ان سے بچائوں کی تدابیر کر کے ہم ان سب بیماریوں کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
October

تحریر: مستنصر کلاسرا

عبدالولی خان یونیورسٹی کے جواں سال طالب علم کی تشدد سے ہلاکت کے پس منظر میں مستنصر کلاسرا کی ایک سروے رپورٹ

مردان کی یونیورسٹی میں ہونے والا واقعہ کسی دل دہلادینے والی داستان سے کم نہیں۔ چند لوگوں نے ایک شخص پر الزام لگایا پھر فیصلہ سنایا اور پھر اُس کی سنگینی کا اندازہ کئے بغیر اس پر عمل بھی کر ڈالا۔ کسی بھی مہذب معاشرے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ ایک روایت بنتی جارہی ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگائے بغیر ہی اپنی من مانی کی جائے۔ اس گھنائونے عمل کا تازہ ترین شکار عبدالولی خان یونیورسٹی مردا ن کا طالب علم مشال بنا یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں مگر بحیثیت ایک پاکستانی شہری میں اُمید کرتا ہوں کہ اس آخری واقعے کو آخری واقعہ بنانے کے لئے ریاست کے تمام ادارے' حکومت اور علمائے کرام اگر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو یہ واقعہ درحقیقت آخری واقعہ بن سکتا ہے۔ اس واقعے کوپیش نظر رکھتے ہوئے مختلف اداروں کے چند طلباء و طالبات سے اُن کے تاثرات لئے گئے اور یہ بھی پوچھا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں نوجوانوں کے تاثرات کچھ یوں تھے۔


نادیہ شاہین
nadiashaeen.jpgمیرے نزدیک یہ واقعہ کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں۔ ہم بحیثیت مسلمان اپنا اچھاتاثر ہر گز پیدا نہیں کررہے۔ جس دن ہم اپنے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرلیں گے اسی دن ہم اپنے معاشرے میں واضح فرق محسوس کریں گے۔ بدقسمتی سے عدم برداشت ہمارے معاشرے کی ایک بہت بڑی بُرائی بنتی جارہی ہے۔ اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مشال خان کے واقعے کے بارے میں میںیہ کہوںگی کہ ہم انفرادی طور پر کون ہوتے ہیں کسی کی غلطی کو فوراً جزا اور سزا کی نوبت تک لے کر آجانے والے؟ ہم ایک ملک کے شہری ہیں۔ ہمارے قوانین ہیں۔ ہر چیز کا

ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ اس کو اسی طرح آگے لے کر چلنا چاہئے۔

 


علی ریحان
alirehan.jpgمشال خان والا واقعہ ایک قوم کی حیثیت سے ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اس طرح کے واقعات باہر کی دنیا میں ہمارا بہت برا تاثر دیتے ہیں۔ پہلے ہی بڑی مشکل سے لیکن کامیابی کے ساتھ پاک فوج کی مدد سے ہم دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب اس طرح کے واقعات اگرہونا شروع ہو جائیں گے تو ہم کس طرح اپنے باقی چیلنجز کا مقابلہ کریں گے؟ میں تو ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ قانون کو کسی بھی صورت ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ مشال خان نے غلطی کی تھی یا نہیں' اس بات سے قطع نظر طالب علم کون ہوتے ہیں کہ وہ اسی وقت الزام لگا کر سزا دے دیں۔ ہمارے ملک میںہر قسم کے قوانین موجود ہیں۔ اگر کوئی کسی غلطی کا مرتکب ہوا بھی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر بندہ جج بن کر خود ہی سزا دے دے۔ جذبات تو ویسے بھی انسان سے غلط فیصلے کرواتے ہیں۔

 


شہزادی طوبیٰ
shazaditoba.jpgمیرے خیال میں جب تک ہم اپنے اپنے فرائض اور حقوق سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہوں گے' ایسے حادثات و واقعات رُونما ہوتے رہیں گے۔ ایک تو پہلے ہی ہم بے روزگاری' ناانصافی اور غربت جیسے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں پھراس طرح کے واقعات ہمارے ملک کے نوجوان طبقے میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ جب ملک کے نوجوان طبقے کے اندر اس طرح کی بے چینی ہوتی ہے تو وہ اپنا غصہ یا بے چینی کسی ایسے کام میں نکالتے ہیںجس کا نتیجہ نہ صرف ان کے اپنے لئے بلکہ پورے ملک کے لئے اچھا نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں ہماری حکومتوں اور برسرِاقتدار لوگوں کو نوجوانوں کے لئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے انہیں یہ احساس ملے کہ ان کا مستقبل روشن ہے تاکہ وہ دل جوئی سے اپنے کام پر ہی توجہ دیں نہ کہ مشال خان والے جیسے کسی اور واقعے کا حصہ بنیں۔

 


قرة العین
qain.jpgاس میںکوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں مذہبی آزادی ہے ہر شخص اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرسکتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے اسلامی معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ہماری اسلامی روایات کا غلط استعمال کرکے ان کا تقدس پامال کرتے ہیں۔ اور پھر اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ اس واقعے میں چندطلباء کا ایک نہتے طالب علم پر الزام لگا کراس پر چڑھ دوڑنا اور پھر فوراً اس کو قتل کردینا' اسلام تو اس چیز کی ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ مجھے تو اس واقعے کے محرکات کچھ اور ہی لگتے ہیں۔ اس واقعے کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کے ساتھ ساتھ دوبارہ اس طرح کے واقعات کبھی نہ ہونے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

 


طاہر نذیر
tahirnazeer.jpgتعلیم و تربیت دو لفظوں کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کی زندگی بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ان دو الفاظ کو ہم لوگوں نے ایک دوسرے سے اتنا دور کردیا ہے کہ جیسے تعلیم کا تربیت سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ میرے خیال میں ہمارے ملک کے اداروں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت دینے کی بھی بہت ضرورت ہے۔ اچھی تربیت سے ہی انسان کی شخصیت بنتی۔ طالب علموں کی اچھی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام کا بھی کلیدی کردار ہے۔ یہاں پر میں مزید ایک بات کا تذکرہ کرناچاہوں گا کہ ہمارے نوجوانوں کو ان سب باتوں کا خیال رکھنے کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہو رہے؟ کیا کوئی اپنے مقاصد کے لئے ہمیں استعمال تو نہیں کررہا؟ جیسا کہ حالیہ مشال خان کے واقعہ کے بارے میں ایک بات یہ بھی سامنے آئی تھی کہ اس کے یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ساتھ کچھ مسائل بھی چل رہے تھے۔ اس لئے اس واقعہ کے حل کے لئے اور منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اس پہلو کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

 


زینب
zainabkhan.jpgجوبھی معاشرہ تشدد کی طرف جاتا ہے اس کے نتائج ہر گز اچھے نہیں ہوسکتے۔ جب لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر خود ہی فیصلہ سنا کر اس پر عمل کرنا شروع کردیں گے تو اس سے ملکی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوگا۔ عدلیہ ' پولیس اور اس طرح کے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جس سے نہ صرف نوجوانوں میں بلکہ ملک کے ہر شہری میں اعتماد کی فضا پیدا ہو اور شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

 

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
October

تحریر: علی جاوید نقوی

بے گناہ روہنگیامسلمانوں کاخون آخررنگ لے آیا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے جنرل کونسل اجلاس میں روہنگیامسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم کی بازگشت سنی گئی۔دنیا دیرسے جاگی، اگرعالمی برادری ابتدا میں ہی میانمار حکومت پردباؤ ڈالتی توبہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ تاہم اب بھی کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میانمارکی سرکاری فورسزدوبارہ روہنگیا مسلمانوں کاقتل عام نہ کریں۔

rohangyamuslims.jpg
اقوام متحدہ نے تسلیم کیاہے کہ روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی ہورہی ہے،اُن پر ظلم کی انتہاکردی گئی ہے۔ان کے گھروں اوربستیوں کوآگ لگادی گئی اورانھیں زندہ جلایا گیا۔جوغریب اپنی جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے تھے ،انھیں میانمارکی فوج نے قتل کرناشروع کردیا۔ میانمارسے بنگلہ دیش جانے والے راستوں پرجگہ جگہ روہنگیامسلمانوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ انھیں اپنے پیاروں کودفنانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔عالمی برادری نے اس ظلم کے خلاف آوازتوبلندکی ہے لیکن اس میں اتنی شدت نہیں کہ میانمارحکومت اورفوج کو روک سکے۔ہوناتویہ چاہئے تھاکہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں میانمارحکومت کے خلاف عملی اقدامات کئے جاتے، میانمارکی فوج اورحکومت پرپابندیاں لگانے کا اعلان کیا جاتا، تاہم ایسا نہیں ہوا برطانیہ کے مطالبے پرسلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں بندکمرے میں میانمارمسلمانوں کی نسل کشی کے معاملے پر غور کیا گیا۔ پرتشدد واقعات کی مذمت کی گئی اورمیانمارحکومت سے حالات بہتربنانے کا مطالبہ کیاگیا۔تاہم اجلاس میں میانمارحکومت کوکوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ روہنگیا مسلمانوں کی جس طرح نسل کُشی کی جارہی ہے اس کی مثال ملنامشکل ہے۔ اب تک ہزاروں مسلمانوں کوشہید کیاجاچکاہے۔غیرجانب دار میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں بچے، خواتین اوربوڑھے شامل ہیں۔ پاکستان، ترکی،


ایران اور سعودی عرب سمیت مسلم ممالک نے اس ظلم پراحتجاج کیا جس کے بعداقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی خواب غفلت سے بیدار ہوئیں۔
پوری دنیا میں اس ظلم کے خلاف آوازاٹھنی شروع ہوئی۔اقوام متحدہ نے بھی اس ساری صورتحال کوناقابل قبول اورروہنگیامسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے تسلیم کیا کہ ''میانمارکاظالمانہ کریک ڈاؤن روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی کی واضح مثال ہے۔چارلاکھ روہنگیا مسلمان جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے پرمجبورہوگئے ہیں''۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی برائے میانماریانگ ہی لی نے نہ صرف روہنگیائی مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم پرتشویش کااظہارکیا بلکہ آنگ سان سوچی کوبھی تنقید کانشانہ بنایا۔اسی طرح برطانیہ کے وزیرخارجہ بورس جانسن بھی آنگ سان سوچی سے مسلمانوں پر تشددبندکرنے کی اپیل کرچکے ہیں۔


وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر اور روہنگیامسلمانوں کے لئے آوازاٹھائی، دوسرے کئی عالمی رہنماؤں نے بھی روہنگیامسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کامطالبہ کیا۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے روہنگیامسلمانوں پرہونے والے ظلم اوران کی جبری نقل مکانی کی خبروں پرتشویش کا اظہارکیاہے۔پاکستان نے میانمارحکومت پرزوردیا ہے کہ وہ رخائن کے علاقے میں ہونے والے قتل وغارت کی تفتیش کرائے اورذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ روہنگیامسلمانوں کاتحفظ کرے۔ پاکستان دنیا بھر میں مسلمان اقلیتوں کے تحفظ کامطالبہ کرتاہے اوروہ بین الاقوامی برادری اور بالخصوص اسلامی ممالک کی تنظیم اوآئی سی کے ساتھ مل کرروہنگیامسلمانوں کے تحفظ کے لئے کام کرتارہے گا۔

 

اقوام متحدہ نے تسلیم کیاہے کہ روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی ہورہی ہے،اُن پر ظلم کی انتہاکردی گئی ہے۔ان کے گھروں اوربستیوں کوآگ لگادی گئی اورانھیں زندہ جلایا گیا۔جوغریب اپنی جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے تھے ،انھیں میانمارکی فوج نے قتل کرناشروع کردیا۔

امن کانوبل انعام حاصل کرنیوالی میانمار کی آنگ سان سوچی سے امید تھی کہ وہ اس ظلم کی مذمت کریں گی اورروہنگیامسلمانوں کے حق میں آواز بلندکریں گی لیکن انہوں نے ظلم کاشکارلوگوں کاساتھ دینے کے بجائے ان کے گھرجلانے اور ان کاقتل عام کرنے والی سرکاری فوج کی حمایت کااعلان کردیا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کاسامناکرنے اوراُن کے سوالوں کاجواب دینے کے بجائے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت ہی نہیں کی۔ آنگ سان سوچی کا خیال ہے کہ اس طرح وہ عالمی برادری کی تنقید سے بچ جائیں گی۔آزاد ذرائع کے مطابق میانمار کی فوج کے سربراہ جنرل من آنگ بلانگ ایک سخت گیراورمسلمانوں کے خلاف تعصب رکھنے والے جنرل ہیں۔ وہ میانمارسے تمام روہنگیا مسلمانوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔ اوروہ اپنے طے شدہ پلان پرعمل کررہے ہیں۔آنگ سان سوچی بھی فوج کے اس عمل میں برابرکی شریک نظرآرہی ہیں۔یہاں تک کہ انہوں نے عالمی میڈیا کوبھی تنقید کانشانہ بنایاہے۔صورتحال یہ ہے کہ عالمی میڈیا کومتاثرہ علاقوں میں جانے اورمتاثرین سے بات چیت کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ابتداء میں چند صحافیوں نے روہنگیامسلمانوں سے ملاقاتیں کیں اوران پر ڈھائے جانے والے مظالم کورپورٹ کیاتو دنیا میں ایک کہرام مچ گیا۔


اسلامی سربراہی تنظیم اوآئی سی نے بھی روہنگیامسلمانوں پرمظالم کی مذمت کی ہے اورمیانمارحکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ''روہنگیامسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طورپربندکی جائیں۔ روہنگیامسلمانوں کے خلاف ریاستی تشدد کے بے جا استعمال پر بہت تشویش ہے۔ اس تشدد کو فوری طور پر بند کیا جائے۔'' پاکستان اوربرادر اسلامی ملک ترکی ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے روہنگیامسلمانوں کی حمایت میں آوازبلندکی اوران کے لئے امداد بھی روانہ کی۔پاکستان سے کئی تنظیموں کے نمائندے اپنے ان بے بس بھائیوں کی مدد کے لئے بنگلہ دیش میں قائم کیمپوں میں پہنچے۔ ترکی کی خاتون اول آمینہ اردگان نے ڈھاکہ کے کیمپوں میں ان روہنگیا خواتین کی حالت دیکھی تو وہ آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے روہنگیائی خواتین کوگلے لگا کران سے محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے میانمارفوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی بھی مذمت کی۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اس دورے کے بعد عالمی برادری کی توجہ کے لئے عالمی رہنماؤں کی بیگمات کوخطوط بھی لکھے جن میں روہنگیامسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں بتایاگیاہے اوران مظلوموں کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈھاکہ کے کیمپوں میں موجود روہنگیامسلمانوں نے بتایاہے کہ ان پرحملہ کرنے والوں میں میانمارکی فوج کے علاوہ رخائن میں بدھ مت کے پیروکارتھے، جنہوں نے ان کے گھروں کوجلایا اوران کے عزیزواقارب کوان کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے قتل کردیا،کئی خواتین کی آبروریزی بھی کی گئی۔ادھرصورت حال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت اتنی بڑی تعدادمیں مہاجرین کوپناہ دینے کے معاملے پرپریشان ہے اوربہت سے مہاجرین کوزبردستی واپس میانمار بھیجا جا رہا ہے۔
میانمارجسے برماکے نام سے بھی یادکیاجاتاہے،اُس کے شہررنگون میں برصغیر کے آخری بادشاہ بہادرشاہ ظفرکی قبربھی ہے۔بہادرشاہ ظفرکاانگریزوں کی قیدمیں رنگون میں انتقال ہوا اور انھیںگھر کے احاطے ہی میں سپردخاک کردیا گیا۔ بہادرشاہ ظفر کی قبر کی دیکھ بھال کے حوالے سے بھی میانمار حکومت تعصب کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔

 

امن کانوبل انعام حاصل کرنیوالی میانمار کی آنگ سان سوچی سے امید تھی کہ وہ اس ظلم کی مذمت کریں گی اورروہنگیامسلمانوں کے حق میں آواز بلندکریں گی لیکن انہوں نے ظلم کاشکارلوگوں کاساتھ دینے کے بجائے ان کے گھرجلانے اور ان کاقتل عام کرنے والی سرکاری فوج کی حمایت کااعلان کردیا

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ برماحکومت کے متعصبانہ قوانین کے باعث دس لاکھ روہنگیا مسلمانوں کوشہری حقوق حاصل نہیںاوروہ برمامیںکسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 1982ء میں شہریت کے قوانین میں تبدیلی کرکے برماکی شہریت سے ہی محروم کردیاگیا۔انھیں رہائش،روزگار،تعلیم اورصحت سمیت کوئی بنیادی سہولت حاصل نہیں ہے۔برماحکومت انھیں اپناشہری ہی نہیں سمجھتی اس لئے ان کی فلاح وبہبود کے حوالے سے بھی کوئی انتظام نہیں کیاجاتا۔یہاں تک کہ اگرمقامی بدھ مت کے لوگ ان سے زیادتی کریں توروہنگیائی مسلمان کسی عدالت میں انصاف کے لئے آوازبھی نہیں اٹھاسکتے۔مقامی پولیس بھی اپنے ہم مذہب بدھ مت کے ماننے والوںکاساتھ دیتی ہے۔اس سے زیادہ متعصبانہ رویہ برماکی فوج کا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انھیں شادی کے لئے بھی حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے اوروہ دو سے زیادہ بچے بھی پیدا نہیں کرسکتے۔انھیں ایک شہرسے دوسرے شہرآنے جانے کے لئے خصوصی اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت رخائن میں رہتی ہے۔جبکہ برمامیں کسی جگہ وہ کوئی جائیداد وغیرہ بھی نہیں خرید سکتے۔ بھارت بھی ان مسلمانوں کی نسل کشی میں برماکی فوج کاساتھ دے رہاہے۔میانمارکی سرحدیں بنگلہ دیش اوربھارت سے بھی ملتی ہیں۔ روہنگیامسلمان اس ظلم وستم سے تنگ آکربنگلہ دیش ہجرت کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش نے عالمی برادری کے دباؤ پرسرحد کے قریب کچھ کیمپ قائم کئے ہیں۔ تاہم بنگلہ دیش کامیانمارحکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ان لوگوں کوواپس لے، یہ بنگلہ دیشی شہری نہیں ہیں۔بھارت روہنگیامسلمانوں کوپناہ دینے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ بھارتی فوج نے بھارت میں داخل ہونے والے ہزاروں مہاجرین کو طاقت کے ذریعے واپس برما بھیج دیاہے۔ بھارتی حکومت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واضح طورپرکہاہے کہ وہ ان مہاجرین کوقبول نہیں کر سکتی، اقوام متحدہ کاچارٹرکہتاہے کہ جب کوئی پناہ گزین کسی ملک میں پناہ کے لئے آتاہے تواسے زبردستی اُس ملک میں واپس نہیں بھیجاجاسکتا۔ان روہنگیا مسلمانوں خصوصاً ان کے بچوں کوایک بہترمستقبل دینے کے لئے عالمی برادری کو فوری اورٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔دس لاکھ مسلمان ہیں جنھیں نہ میانمار اپناشہری تسلیم کررہاہے اورنہ بنگلہ دیش۔وہ دونوں ملکوں کی سرحد پربھٹک رہے ہیں اورہزاروں کھلے سمندرمیں، کشتیوں میں ایک ساحل سے دوسرے ساحل کی طرف دھکیلے جارہے ہیں۔لیکن کوئی انھیں پناہ دینے کے لئے تیارنہیں۔ پاکستان نے ابتداء میں ہزاروں روہنگیامسلمانوں کوپناہ دی۔ اس وقت ایک غیرسرکاری رپورٹ کے مطابق دولاکھ سے زیادہ روہنگیامسلمان کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں موجود ہیں ان میں سے کئی خاندانوں نے پاکستانیوں سے ہی شادیاں بھی کرلی ہیں۔


روہنگیامسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم نے آنگ سان سوچی کی سیاسی ساکھ کونقصان پہنچایاہے۔عالمی برادری میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے کے باعث ان کابڑااحترام تھا لیکن انہوں نے ان مظالم پرخاموشی اختیار کر کے عالمی برادری کاسرشرم سے جھکا دیا ہے،خود ان کی ساکھ بھی متاثرہوئی ہے۔ آنگ سان سوچی نے عالمی میڈیا پرالزام لگادیا کہ وہ غلط پروپیگنڈا کر رہاہے۔


بعض حلقوں کی طرف سے کہا جارہاہے کہ میانمارحکومت کوہمارے دوست ملک چین کی مدد بھی حاصل ہے۔ چین برمامیں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ میانمارحکومت اپنارُخ مغربی ممالک سے چین کی طرف موڑ رہی ہے۔ مغربی ممالک اسی لئے میانمارحکومت کو دباؤ میں لاناچاہتے ہیں۔ ہوسکتاہے اس دلیل میں کچھ وزن ہو۔لیکن اس وقت اصل اوربنیادی مسئلہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کاہے۔انھیں بچانے کے لئے عالمی برادری کواپناعملی کردار ادا کرناہوگا۔ روہنگیا مسلمانوں کامسئلہ خود برما حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کی سنگین غلطیوں اور متعصبانہ اقدامات کے باعث پیداہوا۔ اسے اس تناظرمیں نہیں دیکھناچاہئے کہ روہنگیا مسلمانوں کی مددکرنے سے پاکستان کے کسی دوست ملک سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ریاست رخائن میں 2012ء میں بھی فسادات ہوچکے ہیں جن میں ایک لاکھ روہنگیامسلمان بے گھرہو گئے تھے اورہزاروں مارے گئے۔ رخائن میں ایک تنظیم ''آراکان روہنگیاسیلویشن آرمی'' اے آرایس اے کام کررہی ہے۔ اس تنظیم کومیانمارحکومت نے دہشت گرد تنطیم قراردیاہواہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ اس تنظیم کے کارکن مسلمانوں کے علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔ اس تنظیم کے ارکان کی تعداد چند درجن سے زیادہ نہیں۔ لیکن اس تنظیم کی آڑمیں برما حکومت نے روہنگیامسلمانوں پرظلم وستم کی انتہاکردی ہے۔ برماحکومت نے عالمی میڈیا کے متاثرہ علاقوں میں جانے پرپابندی لگائی ہوئی ہے،بہت سے میڈیا نمائندوں کوائیرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا ہے، کئی کوبعدمیں ڈیپورٹ کردیا گیا۔ میانمارمسلمانوں پرظلم وستم کی جوتصویریں آرہی ہیں وہ زیادہ ترسوشل میڈیا کے ذریعے آرہی ہیں۔


روہنگیامسلمانوں کامسئلہ اسی صورت میں حل ہوگا کہ روہنگیامسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے ممالک میانمارحکومت پرپابندیاں لگانے کے لئے عملی اقدامات کریں اورمیانمارحکومت کومجبورکریں کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین کاخاتمہ کرے اورانھیں بنیادی شہری حقوق دے کربرابرکاشہری تسلیم کرے۔اگرمیانمارحکومت یہ سب اقدامات نہیں کرتی تویہ مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی برادری کے دباؤ پربرماکی فوج اورپولیس چند دنوں کے لئے ظالمانہ آپریشن روک دے گی لیکن جونہی عالمی برادری کادباؤ کم ہوگا وہ دوبارہ سے روہنگیامسلمانوں کورخائن سے نکالنے کاکام شروع کردے گی۔ اس مسئلے کامؤثر اورپائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اوآئی سی کوبھی صرف مذمتی بیانات جاری کرنے کے بجائے اپناعملی کردار ادا کرناچاہئے۔او آئی سی کی جانب سے میانمارحکومت کاتجارتی واقتصادی بائیکاٹ بھی اس پردباؤ ڈالنے کا ایک آپشن ہوسکتا ہے۔دوسری طرف مہاجرکیمپوں میں رہنے والے غریب وبے کس روہنگیامسلمانوں کے لئے امدادی کارروائیاں بھی تیزکرنے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

قومیں اپنی بقاء کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دیتی ہیں۔ کسی قوم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی نو جوان نسل اپنی سرزمین اور اپنے نظریے کے ساتھ کس طرح سے جڑی ہوئی ہے اور وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کس قدر پرعزم ہے۔ الحمدﷲ پاکستانی قوم اور اس کے نوجوان اپنی دھرتی کی حفاظت اس سرشاری سے کرتے ہیں کہ اٹھارہ اٹھارہ، بائیس بائیس سال کے نوجوان اپنا آج قوم کے کل کے لئے قربان کرتے ہوئے ایک پل نہیں لگاتے۔ راجگال پوسٹ پر سرحد پار سے دہشت گردی کے حملے کے نتیجے میں اس پوسٹ کا کمانڈر بائیس سالہ لیفٹیننٹ ارسلان اپنی جان پر کھیل گیا لیکن اس نے پوسٹ پر لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔نوعمر لیفٹیننٹ ارسلان شہیدتین بہنوں کا اکلوتا بھائی اور اپنے بوڑھے والدین کا واحد سہارا تھا لیکن دفاعِ وطن کی خاطر اس نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہید لیفٹیننٹ ارسلان کے گھر جا کر والدین سے ملاقات کی اور قبر پر فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوںنے کہا کہ امن اور قانون کی حکمرانی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کے لئے نوجوان قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ پاکستان کے حوالے سے پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوںنے کہا سمندر پار بیٹھ کر ملک توڑنے کی باتیں کرنے والے عنقریب قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ انہوںنے کہا کہ جب تک ہمارے بہادر بیٹے موجود ہیں وطن پر کوئی آنچ نہیںآئے گی۔


دشمن پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کی اس غیرت اور اَنا سے بخوبی واقف ہے جو وہ اپنی سرحدوں کے تقدس کی حفاظت کے لئے رکھتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف گزشتہ پندرہ برس سے جاری جنگ میں افواج پاکستان اور پاکستانی قوم کی قربانیاں دنیا بھر کی اقوام سے زیادہ ہیں۔ یہ وہ مسلح افواج ہیں کہ جس کا سپہ سالار آج بھی سینہ تان کر دشمن کو باور کراتا ہے کہ تمہاری گولیاں ختم ہو جائیں گی لیکن ہمارے جوانوں کے سینے ختم نہیں ہوں گے۔ اس سے ہماری مسلح افواج کے دفاع وطن کے حوالے سے نہ صرف ایک عظیم تر نظریے کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ وہ جذبہ بھی عود آتا ہے کہ جس کے تحت ہمارے سولجر اور افسر اس ملک پر جان وارنا اپنے لئے باعث صد وقار گردانتے ہیں۔یوں اُن شہیدوں اور غازیوں کے خون کا ایک ایک قطرہ خوشبو بن کر ملک کی فضائوں کو معطر کرتا ہے۔یہ افواج پاکستان کی قربانیوں ہی کا ثمر ہے کہ شمالی وزیرستان کا وہ علاقہ جو کبھی دہشت گردوں کا گڑھ تھا، وہیں آج پاکستانی قوم کرکٹ کا امن کپ 2017منعقد کروا کر بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دے رہی ہے کہ الحمدﷲ! ان علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا ہو چکا ہے اور مقامی عوام ایک پُرامن فضا میں سانس لے رہے ہیں۔
جذبے زندہ ہیں تو قوم زندہ ہے۔ بلاشبہ یہ قوم زندہ جذبوں والی قوم ہے کہ جس نے اس سرزمین کے حصول کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں اور اس کے بعد اس مقدس سرزمین کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل قربانیاں دیتی آ رہی ہے۔ دشمن جان لے! ایسی عظیم قوم اور اس کی بہادر افواج کو کبھی نہیں ہرایا جا سکتا۔ دنیا کے منظر پر ایسی ہی اقوام اپنی جگہ بناتی ہیں جو اپنے عظیم تر مقاصد سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ ان کی تکمیل کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کا حوصلہ بھی رکھتی ہوں۔ وہ دن دور نہیں جب یہ قوم شدت پسندی سمیت دیگر تمام چیلنجز پر مکمل طور پرقابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ انشاء اﷲ!
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

06
October

تحریر: حماس حمید چودھری

جرمنی کے شہر ' ہیمبرگ' میں جی ۔20 ممالک کا بارہواں سربراہی اجلاس رواں سال جولائی میں منعقد ہوا جس کی جرمنی نے پہلی بار میزبانی کی۔ اس وقت جی۔ٹونٹی گروپ کے 20 ممالک جبکہ یورپی یونین بحیثیت ادارہ بیسواں رکن ہے۔ اس کے علاوہ چند ممالک جن میں نیدرلینڈز ، اسپین، سنگاپور وغیرہ شامل ہیں، ان کو بھی باقاعدہ مدعو کیا جاتا ہے۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان کے ساتھ ساتھ وزراء برائے مالیاتی امور اور ان ممالک کے سینٹرل بینکوں کے گورنرز نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف ، افریقی یونین اور عالمی بینک کے سربراہان سمیت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔


اگر اس گروپ کے تاریخی پہلوکا جائزہ لیا جائے تو دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تعاون بڑھانے کے لئے اٹھائے گئے اقدام میں یہ تازہ ترین قدم ہے جس کی بنیاد جون 1999ء میں جی۔سیون گروپ کو مزید وسعت دینے کے لئے رکھی گئی ۔ اس گروپ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ تنظیم کا درجہ نہیں رکھتا اور دیگر عالمی اداروں کی طرح اس کا کوئی باقاعدہ دفتر اور عہدیداران نہیں ہیں بلکہ اس کا ایک چیئرپرسن ہے جو آج کل جرمن چانسلر، انجیلا مرکل، ہیں۔ کچھ مخصوص حلقوں نے جی ٹونٹی کی جانب سے فرانس میں موجود او۔ای۔سی۔ڈی کے ہیڈ کوارٹرز کو بطور سکریٹریٹ استعمال کرنے پر اعتراض بھی اٹھایا ہے ۔ ان تمام تر مسائل اور غیر رسمی حیثیت کے باوجود جی۔ٹونٹی گزشتہ چند سالوں کے دوران ایک مؤثر معاشی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے حیران کن طور پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جی۔ٹونٹی کے ابتدائی اجلاسوں میں صرف رکن ممالک کے مالی امور کے وزراء اور مرکزی بینکوں کے گورنرز ہی حصہ لیتے تھے لیکن 2008ء میں امریکی کارپوریشن لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے سے عالمی منڈی مالیاتی بحران کا شکار ہو گئی جس کے باعث جی۔ٹونٹی کی اہمیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور دنیا کی معاشی طاقتوں نے اس بحران، اور مستقبل کے ممکنہ بحرانوں، سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

gtwentygermany.jpg
ہیمبرگ کا اجلاس اسی معاشی تعاون کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 2017ء کا یہ اجلاس اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس وقت دہشت گردی اور مختلف خطوں کی غیر مستحکم سیاسی و معاشی صورتحال کے باعث پوری دنیا ایک غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ اسی لئے معاشی ترقی اور بین الاقوامی تجارت کے ساتھ ساتھ شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ ،یورپ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیاں، صحت اور ماحول کے مسائل بھی اجلاس کے ایجنڈا میں شامل تھے۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی سمگلنگ ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور صرف لیبیا میں پچھلے سال اس مد میں تقریباََ 2 ارب ڈالر کمائے جاچکے ہیں اور یہ پیسہ دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ سربراہی اجلاس سے قبل برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ہمیں انتہا پسند نظریات کو ختم کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لئے ہمیں ایسے عناصر کی مالی امداد بند کرنا ہوگی۔ اس امر کے لئے انہوں نے دنیا بھر کے سرکاری اور نجی سیکٹرز کو مشکوک مالی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اجلاس کے دوران تمام سربراہان سے اس سلسلے میں انفرادی طور پر با ت کریں گی۔ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد پہلی بار روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن سے مصافحہ کیا اور یہ بات اس لئے اہم ہے کیونکہ امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ ان کے الیکشن جیتنے میں امریکہ کے روایتی حریف روس کے سائبر سیل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔


اجلاس میں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا گیا اور رکن ممالک کو شمالی کوریا پر معاشی پابندیاں لگانے کے لئے کہا لیکن اس موقع پر چین کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے اور ہمسایہ ممالک کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث جنم لینے والے مسائل اور مستقبل میں اس کے ممکنہ خطرات کی سنگینی پر بھی روشنی ڈالی گئی اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرے لیکن اس سلسلے میں امریکہ نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان بھی پیرس معاہدے کا حصہ ہے اور پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس معاہدے کی پاسداری کرے گا اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گا۔


جی ۔ٹونٹی اجلاس کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی ایک مخصوص پراپیگنڈہ پر عمل پیرا دکھائی دیئے۔جی ٹونٹی گروپ کا پاکستان سے بظاہر براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود نریندر مودی مختلف موقعوں پر پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرتے نظر آئے۔اجلاس کے دوران ایک موقع پر انہوں نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کا داعش اور القاعدہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کوہتھیار کے طور پر دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور دنیا کو ایسے ممالک کے خلاف اجتماعی اور سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نریندر مودی کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا کیونکہ روزِاول سے بھارت لشکر طیبہ اور جیش محمد کی سرپرستی کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے اور بھارت اپنے ملک میں ہونے والی تمام تر دہشت گرد کارروائیوں کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی ذمہ داری پاکستان پر تھوپ دیتا ہے۔ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں تیز کرنے کے لئے اپنا 11 نکاتی ایجنڈہ بھی پیش کر دیا۔ ان نکات میں سے ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ ایسے ممالک کا جی۔ٹونٹی میں داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا جائے اور یہاں بھی ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا کیونکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے اور گیلپ کے مطابق 2030ء تک پاکستان دنیا کی ٹاپ ٹونٹی معاشی طاقتوں میں سے ایک ہوگا اور بھارت کو اسی بات کا خوف ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران نریندر مودی کی مرکزی توجہ دہشت گردی کے مسئلے پر ہی تھی اور جرمن چانسلر سے انفرادی ملاقات کے دوران بھی انہوں نے اس مسئلے کو اٹھایا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سربراہی اجلاس کے دوران نریندر مودی کی صرف یہی کوشش تھی کہ رکن ممالک کا دھیان کشمیر میں جاری بھارتی سفاکیت کی جانب مبذول نہ ہو اور کشمیریوں کی جانب سے آزادی کے لئے جاری مزاحمت کو دہشت گردی کا رنگ دے کر دنیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جائے۔


جب سے نریندر مودی نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا ہے، بھارت کی خارجہ پالیسی کی ترجیح پاکستان کو غیر مستحکم اور عالمی برادری میں تنہائی کا شکار کرنا ہے جو کہ اس اجلاس میں واضح طور پر محسوس ہوا ۔اگرچہ پاکستان ابھی تک عالمی برادری میں اپنا کیس مؤثر انداز میں نہیں لڑ سکا لیکن اس کے باوجود بھارت اپنے ناپاک عزائم میں ابھی تک کامیاب بھی نہیں ہو سکا۔بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود پاکستان میں سی پیک کے منصوبے کا آغاز ہوا جو کہ کامیابی سے جاری ہے۔سی پیک بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس کی کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرسکے لیکن پاک فوج اس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔پاک فوج نے سی پیک کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہوئی ہے اور اب تک نہایت احسن انداز میں اس ذمہ داری کو پورا کر رہی ہے۔


ایک بات غور طلب ہے کہ پاکستان جی۔ٹونٹی کے بہت سے ممالک کی طرح معاشی طور پر ابھرتی ہوئی ایک طاقت ہے لیکن اس کے باوجود ہم جی ٹونٹی کا حصہ نہیں۔ اگر میکسیکو جو کہ جی ۔ٹونٹی کا ایک مستقل رکن ہے اس کا موازنہ پاکستان سے کیا جائے تو میکسیکو میں پاکستان کی نسبت چالیس فیصد زیادہ غربت ہے اس کے علاوہ اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو میں جرائم کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جس کے باعث وہاں لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ ان تمام تر خرابیوں کے باوجود آج میکسیکو جی ۔ٹونٹی کا مستقل حصہ ہے جبکہ پاکستان نہیں۔ اس کی اہم وجہ ہماری کمزور اور غیر مستحکم پالیسیاں ہے۔ اگر آج ہم جی ۔ٹونٹی گروپ کا حصہ ہوتے تو بہتر اور مؤثر انداز میں بھارتی پراپیگنڈہ کا جواب دیں سکتے لیکن بد قسمتی سے ہماری اس سربراہی اجلاس میں کوئی نما ئندگی ہی نہیں تھی۔


سی پیک اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان جی۔ٹونٹی گروپ میں جگہ بنا لے گا لیکن ایک بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی افواج سی پیک کو بحفاظت تکمیل کے مرحلے تک تو پہنچا دیں گی لیکن جب عالمی برادری میں کیس لڑنے کا وقت آئے گا تو یہ سویلین حکومت کے لئے امتحان ہوگا کہ وہ کس انداز میں عالمی برادری کے سامنے اپنا کیس پیش کرتی ہے۔ پاکستان کے پاس تمام وسائل موجود ہیں جو کہ اسے دنیا کی بڑی معاشی طاقت بنانے کے لئے کافی ہیں لیکن ان کا مؤثر استعمال بہت ضروری ہے۔ عالمی حالات اس وقت ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان کے پاس مزید کسی غلطی کی گنجائش نہیںہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ نہ صرف اندرونی بلکہ عالمی حالات میں بہتری کے لئے کردار ادا کرے تاکہ عالمی برادری کو اندازہ ہو سکے کہ پاکستان ایک دہشتگرد ریاست نہیں بلکہ ایک امن پسند ملک ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان سمیت پورے ملک میں جو دہشتگردی کی کارروائیاں کر وا رہا ہے پاکستان کو چاہئے کہ اس کے ثبوت عالمی عدالت میں پیش کرے تاکہ بھارت کا مکار چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوسکے۔

مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخان

شمالی کوریا کی طرف سے 3ستمبر کو ہائیڈروجن بم اور اس سے قبل اوائل اگست میں بیلسٹک میزائل کے تجربات کے خلاف رد عمل کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کے خلاف بھاری اقتصادی پابندیوں کے حق میں قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے تحت شمالی کوریا کو تیل اور گیس کی فراہمی اور اس کی ٹیکسٹائل برآمدات پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ ان سے کہیں زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنا چاہتا تھا جن میں تیل اور گیس کی درآمدات پر مکمل پابندی، شمالی کوریا اور اس کے لیڈر کم جونگ کے اثاثوں کو منجمد کرنا شامل تھا۔ مگر چین اور روس نے ان پابندیوں کی مخالفت کی تھی اور سلامتی کونسل میں اس کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم امریکہ کی طرف سے پابندیوں میں نرمی پر آمادگی کے بعد نئی قرارداد منظور کر لی گئی۔ مبصرین کے مطابق نئی قرارداد میں بھی جن پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے، کافی سخت ہیں اور وہ شمالی کوریا کی معیشت کو کافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس سے قبل بھی سلامتی کونسل شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کی منظوری دے چکی ہے۔ یہ پابندیاں اوائل اگست میں شمالی کوریا کی طرف سے دور تک مار کرنے والے میزائل ٹیسٹ کے جواب میں عائد کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کی تین اہم برآمدات یعنی کوئلہ، خام لوہا اور سی فوڈ
(Sea Food)
کی خریداری کی بندش بھی شامل تھی۔
اگرچہ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات اور میزائل کی تیاریوں پر مشرق بعید کے دیگر ممالک خصوصاً جاپان اور جنوبی کوریا کو بھی شدید تشویش لاحق ہے۔ مگر کوریا کا مسئلہ بنیادی طور پر امریکہ اور شمالی کوریا کے گرد گھومتا ہے۔ اس مسئلے کی کیا نوعیت ہے؟ کیا اس کا باعث صرف شمالی کوریا کا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ہے۔ یا اسے پیدا کرنے اور اسے سنگین بنانے میں امریکہ کا بھی ہاتھ ہے؟ ان دونوں ممالک کے مفادات کے علاوہ اور کون سے جیوسٹریٹجک اور سیاسی عوامل ہیں جو اس مسئلے کے ایک مستقل اور تسلی بخش حل کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق الٹنا پڑیں گے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مسئلہ کب شروع ہوا؟ کیسے شروع ہوا؟ اور موجودہ مرحلے پر کیسے پہنچا؟


اگر ہم نقشے میں جزیرہ نما کوریا اور اس کے گردونواح میں واقع علاقوں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جاپان اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان بہت کم فاصلہ ہے۔ اسی لئے جزیرہ نما کوریا کو ایک ایسے خنجر سے تشبیہہ دی جاتی ہے جس کا رخ جاپان کی طرف ہے۔ ماضی قدیم میں ایشیا سے جاپان پر جتنے بھی حملے ہوئے یا آبادی کی نقل مکانی ہوئی۔ وہ جزیرہ نما کوریا کے راستے ہی ہوئی۔ حتیٰ کہ بدھ مت بھی جاپان میں ایشیا (چین) سے جزیرہ نما کوریا کے راستے ہی سے داخل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور جاپان نے اس میں شرکت کا اعلان کیا تو اس کا سب سے پہلا اقدام جزیرہ نما کوریا پر قبضہ تھا۔ جنگ ہارنے کے بعد دوسری جنگ میں امریکہ اور سابقہ سوویت یونین نے جزیرہ نما کوریا کو جاپانی فوج سے آزاد کروا لیا۔ لیکن متوازی خط الاستوا کے ساتھ ساتھ دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یہیں سے جزیرہ نما کوریا اور اس کے باشندوں پر دور ابتلاء کا آغاز ہوتاہے۔ کیونکہ جنگ کے بعد شمالی حصے میں سابقہ سوویت یونین کے زیراثر ایک کمیونسٹ حکومت قائم کر دی گئی اور جنوبی حصے میں امریکہ نے اپنا قبضہ مستحکم کر کے ایک الگ حکومت قائم کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی افواج جنوبی حصے میں متعین کر دیں۔ یوں جزیرہ نما کوریا جو جنگ عظیم دوئم سے قبل ایک ہی ملک تھا، دو ممالک یعنی شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں منقسم ہو گیا۔ اسی تقسیم کی وجہ سے 1951میں کوریا کی جنگ چھڑ گئی۔ جو دو سال تک جاری رہی۔ اس میں اگرچہ اقوام متحدہ کی کمان کے تحت متعدد ملکوں کے فوجی دستوں نے جنوبی کوریا پر شمالی کوریا کے حملے کے خلاف حصہ لیا تھا لیکن 90فیصد فوجیں امریکہ کی تھیں۔ اسی لئے شروع سے ہی شمالی کوریا کی نظر میں امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو اس کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور کوریا کے دو حصوں کو دوبارہ ایک کرنے کے خلاف ہے۔ 1953 میں جب کوریا کی جنگ بند کرنے پر فریقین رضا مند ہوئے تو جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان مستقل معاہدہ امن کی بجائے عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ شمالی کوریا، کوریا کی تقسیم کو غیرفطری اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ سمجھتا ہے۔ جسے امریکہ نے بحرالکاہل میں اپنے اور اپنے اتحادی ممالک خصوصاً جاپان کے مفادات کے تحفظ کے لئے کوریا کے عوام پر زبردستی ٹھونس رکھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں کوریا کی وجہ سے مشرق بعید میں حالات سخت کشیدہ رہے کیونکہ امریکہ نے جنوبی کوریا کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کر رکھا تھا جہاں ایٹمی ہتھیار بھی موجود تھے۔ جنوبی کوریا میں امریکہ ایٹمی اور غیرایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہزاروں کی تعداد میں اپنی افواج کی موجودگی کو شمالی کوریا کی طرف سے کسی ممکنہ حملے کو روکنے کے لئے ضروری سمجھتا تھا۔ مگر شمالی کوریا کے لئے یہ ایک کھلی اشتعال انگیزی تھی۔ اس کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں حالات سخت کشیدہ رہے۔ کیونکہ شمالی کوریا کو روس اور چین دونوں کی حمایت حاصل تھی لیکن 1990کی دہائی کے اوائل میں سابقہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور دو سپر طاقتوں کے درمیان سردجنگ کے خاتمے سے شمالی کوریا کے لئے ایک بالکل نئے اور مشکل دور کا آغاز ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سویت یونین شمالی کوریا کا واحد سہارا تھا اس کے حصے بخرے ہونے کے بعد اس کی جگہ جو نیا ملک یعنی روس ابھرا اس نے شمالی کوریا کا ساتھ دینے یا کسی قسم کی امداد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ سابقہ سوویت یونین دور میں شمالی کوریا کے ساتھ تعاون، دوستی اور باہمی امداد کے لئے جو معاہدہ تھا، نئے ملک روس نے اس میں توسیع کرنے سے انکار رکر دیا بلکہ تین سال بعد اس معاہدے کو منسوخ کر دیا۔ سوویت یونین کا خاتمہ شمالی کوریا کے لئے ایک سخت دھچکا تھا۔ اس نے چین سے رابطہ قائم کر کے اس سے امداد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن چین جس کے ساتھ شمالی کوریا کی 1300کلومیٹر لمبی سرحد ملتی ہے بڑے پیمانے پر شمالی کوریا کو امداد فراہم کرنے سے قاصر تھا۔ اسی دوران جنوبی کوریا نے نہ صرف زبردست اقتصادی ترقی کی بلکہ جاپان، امریکہ اور دُنیا کے دیگر ممالک کے علاوہ خود چین نے بھی اس کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات قائم کر لئے۔ اس کے مقابلے میں روس کا واحد سہارا چھن جانے کے بعد شمالی کوریا کی معیشت خصوصاً زراعت اور صنعت بری طرح متاثر ہوئی اور لوگوں کا معیار زندگی گرنے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کو امریکہ کی طرف سے معاندانہ بلکہ جارحانہ رویے کا سامنا تھا جس نے جنوبی کوریا میں اپنی فوجی قوت کو بڑھا کر شمالی کوریا کے لئے ایک واضح خطرے کی صورت پیدا کر دی تھی۔ مبصرین کے مطابق شمالی کوریا نے مایوس ہو کر ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے اس نے سب سے پہلے جوہری ہتھیار کے عدم پھیلائو کے معاہدے یعنی
NPT
سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جب امریکہ کو شمالی کوریا کی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا پتہ چلا تو اس نے چین کے ذریعے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ چین خود بھی جزیرہ نما کوریا میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ کے خلاف تھا۔ اس لئے اس نے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو روک دینے کی درخواست کی اور اس کے ساتھ امریکہ کو بھی کہا کہ وہ شمالی کوریا کی سلامتی کو لاحق خطرات دور کرنے کے لئے اقدامات کرے جن میں سرفہرست جنوبی کوریا میں اسلحے کے انبار لگانے اور بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کرنے سے اجتناب تھا لیکن اس معاملے میں جب امریکہ نے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا بلکہ شمالی کوریا کو حملے کی دھمکی دیتا رہاتو شمالی کوریا نے ایٹمی تجربات کا اعلان کر دیا اور 2005 میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ اس کے بعد امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں نہ صرف زیادہ دلچسپی ظاہر کرنا شروع کر دی بلکہ اس کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا۔ ابتداء میں یہ مذاکرات چین کے توسط سے شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان تھے لیکن بعد میں جاپان، جنوبی کوریا اور روس کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ امریکہ کے صدر جمی کارٹر کی کوششوں سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت شمالی کوریا نے اپنے زیرتعمیر دو ایٹمی ری ایکٹر بند کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے بدلے امریکہ نے شمالی کوریا کو ایٹمی قوت کے پرامن استعمال کے لئے 1000میگاواٹ کے دو ہلکے پانی کے ری ایکٹر اور ہر سال 50,000ٹن تیل دینے کا وعدہ کیا مگر اسی دوران امریکہ میں ڈیموکرٹیک پارٹی کے صدر کارٹر کی جگہ ری پبلکن پارٹی کے صدر ڈونلڈ ریگن نے حکومت سنبھال لی۔ ریگن انتظامیہ کی تمام تر توجہ افغانستان پر تھی۔ اسی لئے شمالی کوریا کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ جواب میں شمالی کوریا نے بھی اپنے ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر جاری رکھی۔ تاہم بل کلنٹن کے زمانے میں امریکہ اور شمالی کوریا ایک دفعہ پھر معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔ کلنٹن انتظامیہ کی دوسری مدت کے آخری سال یعنی 2000 میں سیکرٹری آف سٹیٹ میڈلین البرائٹ نے شمالی کوریا کا دورہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ کلنٹن کے شمالی کوریا اور شمالی کوریا کے لیڈر کم اِل سونگ کے امریکہ کے دورے کی بات چیت بھی چل رہی تھی۔ لیکن بش کے برسراقتدار آنے سے حالات یکسر بدل گئے۔ کیونکہ بش نے 2002میں اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں شمالی کوریا کو ایران، عراق کے ساتھ جوڑکے تینوں ممالک کو ایکسز آف ایول
(Axis of Evil)
قرار دے دیا۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور اول الذکر کی طرف سے چھٹا ہائیڈروجن بم کا دھماکہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے شکوک و شبہات اور عدم اعتماد اس عمل کی پیداوار ہے جس میں امریکہ شمالی کوریا کے سکیورٹی کے متعلق جائز خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سلامتی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے سخت پابندیاں تو عائد کر دی ہیں لیکن ان سے کوریا کا ایٹمی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ کیونکہ جیسا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ پابندیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مرغِ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن
برگِ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن
حسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لئے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بَن؟
اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!
مَن کی دُنیا؟ مَن کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دنیا؟ تن کی دنیا سُود و سَودا مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تَن کی دولت چھائوں ہے! آتا ہے دھن، جاتاہے دھن!
مَن کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
مَن کی دنیا میں نہ دیکھے میںنے شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ مَن تیرا، نہ تَن!

علامہ محمداقبال

*****

 
06
October

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط نمبر21

گیٹ ٹو گَیدر
گیٹ ٹو گَیدر یعنی میل ملاقات فوجی زندگی کا خاصہ ہے۔ سیاچن کی برف پوش چوٹیاں ہوں، کوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑ ہوں، چولستان اور تھر کا صحرا ہو یا پنجاب کے میدانی علاقے، فوجی چاہے کہیں بھی ہوں مل بیٹھنے کا بہانہ ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔اس کی نوعیت اور لیول ضرور مختلف ہو سکتے ہیں مثلا یونٹ افسروں یا کورس میٹس کی ملاقات، یونٹ کا سالانہ یوم تاسیس، عید ملن پارٹی یا لیڈیز کلب کی تقریب، لیکن مقصد وہی ایک کہ عسکری زندگی کی کرخت سطح کو میل ملاپ کے ذریعے ہموار کرنا اورمشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایک دوسرے کو ہمت و طاقت مہیا کرنا۔ یہاں اپنے ایک کورس میٹ کا ذکر کرتے چلیں جو سیاچن میں اپنی اٹھارہ ہزار فٹ بلند پوسٹ سے دوسرے کورس میٹ سے ملاقات کرنے اس کی پوسٹ پر تشریف لے گئے تھے جس کی بلندی بیس ہزار فٹ تھی۔

gettogether.jpg
ہم سٹاف کورس کے لئے کوئٹہ پہنچے تو وہاں طرح طرح کی گیٹ ٹو گَیدرز کا رواج دیکھا۔یار لوگوں نے چھوٹتے ہی 'آرم وائز 'گیٹ ٹو گیدر منعقد کرنا شروع کیں۔ انفنٹری افسروں کی تعداد تو سیکڑوں میں تھی ہی، آرٹلری، آرمر، انجینئرز، ایئر ڈیفنس وغیرہ والے بھی کم نہ تھے۔سب نے اپنی اپنی گیٹ ٹو گَیدر کو خوب انجوائے کیا۔ میس بک کروائے گئے اور پارٹیاں اڑائی گئیں۔ آخر میں آرڈننس کور کی باری آئی تو ان کی گیٹ ٹو گیدر فقط دو افسران پر مشتمل تھی جو اِن دنوں اتفاق سے سی ایم ایچ میں داخل تھے چنانچہ ان کی یادگار گیٹ ٹو گَیدر سی ایم ایچ کی کنٹین میں منعقد ہوئی۔


بہت سال پہلے ہماری یونٹ کی ایک گَیٹ ٹو گَیدر گیریژن میس راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ اس ایونٹ کو یونٹ کے حاضر سروس اور ریٹائر افسران کی بڑی تعداد نے رونق بخشی۔ سردیوں کا موسم تھا ، سب لوگ کھانے سے پہلے مختلف ٹولیوں کی صورت میں ایک بڑے ہال میں جمع تھے اور باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔ سینئر جونیئر کی تمیز کو میس میں کچھ دیر کے لئے بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔ایسے مواقع پر ہم سینئر افسران کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارنا پسند کرتے ہیں تاکہ ان کے تجربات سے فیض یاب ہو سکیں۔ ہم نے ایک گروپ کو جوائن کیا جہاں ایک ریٹائرڈ میجرکھڑے کہہ رہے تھے ''دوستو! اس یونٹ میں ہم دو کورس میٹس اکٹھے پاس آئوٹ ہو کر آئے تھے۔ میں میجر سے آگے ترقی نہ پا سکا جبکہ میرا کورس میٹ بریگیڈئر بن کر ریٹائر ہوا۔اس نے فوج کی وہ تمام سہولیات انجوائے کیں جو میں میجر ہوتے ہوئے نہ کر سکا۔ اس طرح وہ مجھ سے بہت بہتر رہا۔'' ان کے شکووں سے لبریز فرمودات سننے کے بعد ہم نے ایکسکیوز می کہہ کر ایک دوسرے گروپ کو جوائن کر لیا۔ اس گروپ میں انہی میجر صاحب کے کورس میٹ فرما رہے تھے ''حضرات!میں نے فوج میں بہت محنت کی اور بریگیڈئر کے عہدے تک پہنچا لیکن اس دوران میری ساری توجہ پیشہ ورانہ امور کی جانب رہی جس بنا پر فیملی کو خاطر خواہ وقت نہ دے پایا۔ نتیجتاً میرے بچے تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔جبکہ دوسری جانب میرا کورس میٹ میجر وقت پر ریٹائر ہو گیا، اس نے اپنا کاروبار جمایا اور بچوں کی تعلیم پر صحیح توجہ دی چنانچہ آج اس کی بیٹی ڈاکٹر اور بیٹا انجینئر ہے۔میرے خیال میں تو وہ مجھ سے بہت بہتر رہا۔''


لیڈیز گیٹ ٹو گَیدر میں عموماً مختلف برانڈز کے کپڑوں اور فیشن کے رجحانات پر سیر حاصل تبصرہ فرمانے کے ساتھ ساتھ بیٹ مینوں کی لاپروائیوں اور خاوندوں کی مصروفیات کا رونا رویا جاتا ہے۔بیچ بیچ میں دھوبیوں ، درزیوں ، اور خاکروبوں کا شکوہ بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ گیٹ ٹو گَیدر سے پہلے ہر خاتون کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا پہناوا سب سے دیدہ زیب اور منفرد قرار پائے۔ اس کے لئے رازداری کے ساتھ مختلف برانڈز کی دوکانوں کے چکر لگائے جاتے ہیں اور آن لائن شاپنگ سائٹس پر آرڈر بک کرائے جاتے ہیں۔ کچھ جہاندیدہ بیگمات تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لنڈا بازار کا رخ کرتی ہیں کیونکہ گوہر مراد کا حصول اکثر وہیں سے ممکن ہوتا ہے۔ ایسے میں کسی شناسا سے آمنا سامنا ہو جائے تو ہاتھ میں پکڑی ہوئی سبزی کی ٹوکری کی جانب توجہ دلا کر کہا جاتا ہے کہ کسی نے بتایا تھا کہ یہاں سبزی بہت اچھی ملتی ہے سوچا چل کر دیکھتے ہیں۔ بیگم صاحبہ ہر گیٹ ٹو گیدر سے پہلے شاپنگ پر لے جانے کی فرمائش ضرور کیا کرتی ہیں۔اگر کبھی ڈرتے ڈرتے ان کی توجہ الماری میں پہلے سے موجود بیسیوں جوڑوں کی جانب دلوائی جائے تو جواب میں چہرے پر معصومیت طاری کرکے کہتی ہیں''کہنے کو تو یہ سوٹ بہت ہیں لیکن ان میں ایک بھی کام کا نہیں ہے۔''

detailkev.jpg


ڈیٹیل بریفنگ
فوج کی گاڑی بریفنگ کے پٹرول سے چلتی ہے۔اعلی افسران کوہر مشکل کا حل وزٹ، کانفرنس اور بریفنگ کی صورت میں نظر آتا ہے۔بریفنگ کے لئے سلائیڈز اور مختلف قسم کے چارٹ اور ماڈل بنائے جاتے ہیں۔گئے وقتوں میں یہ کام کافی مشکل ہوا کرتا تھا البتہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر نے یہ مشکل آسان کرنے کے ساتھ ساتھ مزید مسائل کو جنم بھی دے دیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عین موقع پر کمپیوٹر میں وہ وہ خرابیاں نمودار ہوجاتی ہیں جن کا حل شاید بل گیٹس کے پاس بھی نہ ہو۔ سیانے لوگ ہمیشہ سمجھاتے آئے ہیں کہ بھیا اگر عزت بچانا چاہتے ہو تو بریفنگ میں ہر ڈیٹیل (تفصیل) شامل ہونا چاہئے۔ اس سے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ سلائیڈوں کی تعداد ڈیڑھ دو سو سے کم نہ رکھی جائے جبکہ ہمارا ذہن اس بات کو ماننے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوا۔یعنی اگرڈیٹیل شامل کرلی جائے تو پھر بریفنگ کیونکر کہلائے گی۔
ہمارے خیال میں تو ایک اچھی بریفنگ کا دورانیہ پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کی سلائیڈز میں آخری وقت تک ترمیم و اضافہ جاری رہتا ہے۔ بہرحال ایک آدھ روز پہلے کمانڈر کو بریفنگ دکھا کر اپرووکروا لی جاتی ہے۔ ہمارے ایک ڈپٹی کمانڈر اس معاملے میں بہت محتاط ہوا کرتے تھے۔ایک مرتبہ جی او سی کے وزٹ کے لئے ہم نے سلائیڈز تیار کیں اور ایک روز قبل کمانڈر کو دکھا کر اپروو کروا لیں۔ ان کے جانے کے بعد ہم نے دوبارہ سلائیڈوں کا جائزہ لیا تو سپیلنگ کی ایک غلطی دکھائی دی۔ ہم نے ڈپٹی کمانڈر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو بولے ''کچھ بھی ہواب اس غلطی کو درست نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سلائیڈز اپروو ہو چکی ہیں۔''


بریفنگ کیسی بھی ہو، انڈے بچے ضرور دیا کرتی ہے۔ یار لوگوں کی اس سے جان بلاوجہ نہیں جاتی کیونکہ اس عاشقی میں عزت سادات ہر لمحہ دائو پر لگی ہوتی ہے۔ ایک جنگی مشق کے دوران کمانڈر بریفنگ روم میں تشریف لائے۔ جنگی پلان پیش کیا گیا جس میں بے شمار خامیاں تھیں لہٰذا آپریشنز برانچ کی خوب عزت افزائی ہوئی۔ اس کے بعد کمانڈر نے ڈی کیو سے پوچھا کہ آپ نے کیا تیاری کی ہے۔ وہ بولے ''سر! میں جوانوں کے لئے راشن سپلائی کرنے کا بندوبست کر رہا ہوں۔'' کمانڈر کہنے لگے ''جس قسم کا پلان تم لوگوں نے تیار کیا ہے اس کے بعدتو تمہیں راشن کی بجائے کفن دفن کا بندوبست کرنا چاہئے۔'' ایک آپریشنل بریفنگ کے دوران کمانڈر کو بتایا گیا۔ ''سر! ہم دائیں جانب سے جا کر دشمن پر حملہ کریں گے، دوبدو لڑائی ہو گی اور اس کے بعد چوٹی پر ہمارا قبضہ ہو جائے گا۔'' کمانڈر پلان سن کر بولے ''ٹھیک ہے مگر اس کے بعد کیا ہو گا؟۔''جواب آیا''سر!ٹی بریک۔''اوراس کے بعدچراغوں میں روشنی نہ رہی۔


بورڈ رے بورڈ
پروموشن کے لئے جتنی چھان پھٹک فوج میں کی جاتی ہے اتنی شاید ہی کسی اور محکمے میں ہوتی ہو گی۔فوج میں ہر پروموشن کے لئے ایک خاص عرصہ اور وقت مقرر ہے۔ جوں جوں یہ وقت قریب آتا جاتا ہے افسر امید و بیم کی ایک ملی جلی سی کیفیت میں گرفتار ہوتا چلا جاتاہے۔ میجر کے بعد ہر رینک میں پروموشن کے لئے افسر کو بورڈ کا پل صراط پار کرنا لازمی ہے۔ یہ بورڈ سینئر افسران پر مشتمل ہوتا ہے جو ہر افسر کی پچھلی کارگزاری کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے کر اسے پروموٹ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جس کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے حتمی منظوری دی جاتی ہے۔ افسر بذات خودتو بورڈ کے سامنے پیش نہیں ہوتا تاہم اس کا تمام کچا چٹھا کاغذات کی صورت میں ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ افسر کا کام بس گھر بیٹھ کر'جل تُو جلال تُو' کا ورد کرنا ہوتا ہے۔ بورڈ میں عموماً افسر کی پرانی خطائوں سے تو صرف نظر کر لیا جاتا ہے لیکن تازہ غلطیوں پر محدب عدسہ رکھ کر بحث کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام عمر عشقِ بتاں میں کاٹنے والے'مومن'کو بورڈ قریب آنے پر مسلماں ہونا ہی پڑتا ہے۔ زیادہ تر کا حال تو کرکٹ کے اس بیٹسمین جیسا ہوتا ہے جو سنچری سے محض ایک یا دو رنز کے فاصلے پر ہو اور مخالف فاسٹ بالر بائونسر پر بائونسر پھینک رہا ہو۔


بڑے بوڑھوں نے بورڈ کیسز کے لئے بطور خاص ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ بورڈ کے دنوں میں 'یس سر 'کے علاوہ کوئی کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے ، کسی قسم کی فائل پر دستخط نہ کئے جائیں اور کوئی بھی فیصلہ دینے سے حتی الامکان ''پرہیز'' برتا جائے۔ کچھ دیگر سیانے لوگ کہہ گزرے ہیں کہ امام ضامن ہر وقت باندھ کر رکھا جائے، کمرے سے غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلا جائے اور کسی فوجی گاڑی پر ہرگز سوار نہ ہوا جائے۔بورڈ کے دنوں میں افسر وں کی زیادہ تر دوڑ ملا کی طرح مسجد کی جانب ہی ہوا کرتی ہے۔ کچھ لوگ تو تسبیح ہاتھ میں پکڑے وظائف کا عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ خواتین خانہ کی جانب سے بھی قرآن خوانی کی خصوصی محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ بورڈ والے افسر سے کسی معاملے میں رائے پوچھیں تو پوری بات سن کر فرماتے ہیں ''یارتمہیں جو مناسب لگے کر لو۔ روزہ افطار ہونے والا ہے،مجھے اجازت دو میں چلتا ہوں۔''


بورڈ کیسز کی یہ احتیاط پسندی اپنی جگہ لیکن حکام بالا بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوتے۔ ان کی بھی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اہم ترین کاموں کی ذمہ داری بورڈ والے افسران کے ہی سپرد کی جائے۔ ایسے میں بورڈ کیسز میاں محمد بخش کے ہم زبان ہو کر 'پھنس گئی جان شکنجے اندر جِیُویں ویلن دے وچ گنا'کے نعرے مارتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ سیانے لوگ ان کو ناصر کاظمی کے الفاظ میں تسلی دیتے ہیں کہ ''وقت اچھا بھی آئے گا ناصر، غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی''۔ چند بورڈ کیسز پر بورڈ کے دنوں میں ایک اور قسم کی کیفیت بھی طاری ہوجایا کرتی ہے جسے عرف عام میں ''آبیل مجھے مار''بھی کہا جاتا ہے۔ اس دوران ان کی کوشش ہوتی ہے کہ حکام بالا کی نظر وں میں ممتاز ہونے کے لئے کچھ نیا کر کے دکھایا جائے۔ کبھی کبھار اڑتے تیروں کے ساتھ یہ چھیڑ چھاڑ مہنگی بھی پڑ جاتی ہے جس کا نتیجہ ''کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن ، کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی''کی صورت میں نکلتا ہے۔


لینڈ مارک اور کوے
''دور ہو، مشہور ہو، ہلنے سے مجبور ہو'' اس کہاوت کا تعلق لینڈ مارک سے ہے اور یہ ہر فوجی کو اولین سبق کے طور پر یاد کروائی جاتی ہے۔ لینڈ مارک یا زمینی نشان کیا ہوتا ہے اور اس کی ضرورت کب پیش آتی ہے، اس کے بارے میں آپ کو تھوڑا بتاتے چلیں ۔ کسی بھی آپریشنل پلان کو فیلڈ میں عملی جامہ پہنانے سے پہلے ٹارگٹس یا اہداف کی ریکی کی جاتی ہے۔ اس دوران نقشے پر پہلے سے چنے گئے اہداف کو زمین پر تلاش کر کے پلان کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ اب چونکہ اصل ٹارگٹ دشمن کے علاقے میں واقع ہوتے ہیں اور ریکی کے دوران ان تک بذاتِ خود پہنچا نہیں جا سکتا اس لئے کوئی ایسی اونچی جگہ تلاش کی جاتی ہے جہاں سے تمام علاقہ بخوبی دکھائی دیتا ہو۔ کمانڈر اس جگہ سے اپنے ذیلی کمانڈروں کو بریفنگ دیتا ہے اور مطلوبہ اہداف کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے لئے وہ مختلف واضح طور پر دکھائی دینے والے فیچرز جیسے پہاڑی چوٹی، اکیلا درخت، نالہ جنکشن ، بجلی کا کھمبا وغیرہ کا انتخاب کرتا ہے جنہیں عرفِ عام میں لینڈ مارک کہا جاتا ہے۔ ان لینڈمارکس کے ریفرنس سے مختلف ٹارگٹس کی نشاندہی کی جاتی ہے جیسے ''ریفرنس پوائنٹ سامنے پہاڑی پر موجود اکیلا درخت، اس کے بارہ بجے کی لائن میں 500 میٹر پر دشمن کا مورچہ۔''


کتابی طور پر تو یہ باتیں نہایت آسان لگتی ہیں لیکن جب آپ کسی جنگی مشق کے دوران بریگیڈ کمانڈر کو ٹارگٹ دکھانے کی کوشش کر رہے ہوں تو ہاتھوں سے طوطے اور زمین سے لینڈ مارکس ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ایک مرتبہ ہمارے دوست میجر اختر دشمن کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے ایسی ہی صورتحال کا شکار ہوئے۔ کمانڈر کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بہت سے لینڈ مارک دکھانے کی کوشش کی لیکن کسی بھی طرح ٹارگٹ واضح کرنے میں ناکام رہے۔ کافی دیر تک ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد جب انہیں کوئی اور موزوں لینڈ مارک سجھائی نہیں دیا تو جھنجلا کر بولے ''سر سامنے دیکھئے، آسمان پر کّووں کا ایک غول اڑتا نظر آئے گا، ریفرنس پوائنٹ سب سے بائیں والا کوا، اس کوے کی دس بجے کی لائن میں پانچ سو میٹر دور دشمن کا مورچا ہے۔'' کوّوں کا غول تو کچھ ہی دیر میں اڑتا ہوا نگاہوں سے اوجھل ہو گیا البتہ اس اثنا میں کمانڈر کا پارہ ساتویں آسمان تک پہنچ چکا تھا۔


اتنے بے مثل لینڈ مارک دینے کی پاداش میں میجر اختر کو حکم دیا گیا کہ دو کلومیٹر دور ٹارگٹ کو ہاتھ لگا کر تیس منٹ میں واپس تشریف لائیں۔
(.......جاری ہے)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
October

انٹرویو : صبا زیب


مشکلات کا مقابلہ کر کے ہی کامیابی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔

جن کے حوصلے چٹان ہوں انہیں دنیا کی کوئی طاقت اپنے عزائم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ مشکلات ان سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ تو ہو سکتی ہیں مگر انہیں منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتیں۔
ثمرخان بھی پاکستان کا ایک ایسا ہی چمکتا ستارہ ہے جو دیر کے علاقے سے طلوع ہوا اور نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔ مختلف چوٹیوں کو اپنی سائیکل کے پیڈل سے سر کرتے ہوئے اس نے بہت سے ریکارڈ بنائے۔ وہ زندگی کو مسخر کرنا چاہتی ہے۔ فاصلے اس کی نگاہِ شوق کے سامنے سمٹ سے گئے ہیں۔ پہاڑوں میں پلنے والی یہ لڑکی زندگی کو فتح کرنے کا راز جان چکی ہے۔

samarkhan.jpg
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی


ثمر خان نے ایبٹ آباد آرمی پبلک سکول سے پیراگلائیڈنگ کا کورس کرنے کے بعد سپورٹس کی طرف توجہ دینی شروع کی۔ پہلی بار 2015 میں اسلام آباد سے قراقرم گلیشیئر تک سائیکلنگ کا سفر پندرہ دن میںطے کیا۔ 2016 میں اپنی ایک دوست کے ساتھ اسلام آباد سے درہ خنجراب تک سائیکل پر سفر کیا۔ ثمر خان کے لئے یہ ایک ایسا بریک تھرو تھا جس کی وجہ سے اس نے شہرت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔ غیرملکی میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا پرزبردست پذیرائی ملی۔ اس سفر نے ثمر کے خوف کو بالکل ختم کر دیا اور وہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو گئی۔ ان چیلنجز میں سے ایک بیافو گلیشیئر پر سائیکلنگ تھی۔ اس گلیشیئر پر سائیکلنگ کا مقصد دنیا کو پاکستان کے گلیشیئرز کی طرف متوجہ کرنا تھا جو
Climate Change
کی وجہ سے خطرے کی زد میں ہیں۔
26سالہ ثمرخان ایک نوجوان خاتون سائیکلسٹ ہے جسے اس ملک میں سائیکلنگ کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتداء میں گھر والوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ثمر خان اپنے ارادوں میں مضبوط تھی۔ اس نے اپنے گھر والوں کو اپنی حفاظت کا یقین دلانے کے لئے مارشل آرٹ میں مہارت حاصل کی تاکہ دورانِ سفر کسی بھی خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ جب وہ سڑک پر سائیکل لے کر نکلی تو جہاں کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی وہاں بہت سے لوگوں نے اس کی ہمت بھی بندھائی۔ چائنیز سے مشابہت رکھنے کی وجہ سے اکثر راہ چلتے لوگ
Long Live Pak China Friendship
کے نعرے لگاتے اور اسے کھانے پینے کی چیزیں بھی فراہم کرتے۔
ثمرخان کہتی ہیں کہ میں نے جب سائیکلنگ شروع کی تو شروع شروع کی مشکلات کی بناء پر میں کچھ مایوسی کا شکار تھی لیکن میں نے پُرعزم رہتے ہوئے کامیابیاں سمیٹیں۔ اپنے اس سائیکلنگ کے شوق کی بدولت ہی مجھے اندازہ ہوا کہ میرے اندر کتنی ہمت اور حوصلہ ہے۔

samarkhan1.jpg
ثمرخان کا کہنا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوپاتا کہ ہم میں مشکلات کا سامنا کرنے کی کتنی طاقت ہے۔ دنیا کا شاید ہی ایسا کوئی کام ہو جو ہم نہ کر سکیں۔ ابتداء میں ثمر خان کو پکی سڑک پر سائیکل چلانے کا خوف تھا۔ ٹریفک میں سائیکل چلانا اس کے لئے کافی مشکل تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس نے اس خوف پر قابو پالیا۔ سائیکلنگ کے دوران سخت موسم کو برداشت کرنا بھی اس کے لئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ بعض علاقوں میں شدید گرمی اور بعض علاقوں میں شدید سردی۔ ان سب مشکلات کو برداشت کر کے ہی وہ آج اس قابل ہوئی کہ افریقہ کی بلند ترین چوٹی کو سائیکل کے ذریعے سَر کرنے کا ارادہ کیا۔


ثمرخان نے اپنی تعلیم راولپنڈی میں حاصل کی وہ اپنی کلاس میں ہمیشہ ٹاپ پر رہیں۔ گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے گریجویشن کرنے کے بعد فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے فزکس میں ماسٹرز کیا۔ان کی والدہ کوخاندان والوں کی وجہ سے ثمر کی سائیکلنگ پر تھوڑا اعتراض تھا لیکن ثمر خان کی ہر
Achievement
پرجب خاندان نے انہیں سراہنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ ان کا اعتماد بحال ہوا۔ اب وہ لوگوں کی باتوں کی زیادہ پروا نہیں کرتیں۔ انہیں ثمر خان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔
ثمرخان کا بھائی انیل خان ہر موقع پر اسے سپورٹ کرنے کے لئے اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ ثمرخان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کا سپورٹس میں حصہ لینا اچھا نہیںسمجھا جاتا خاص طور پر ایڈونچر سپورٹس کو تو بالکل بھی
Encourage
نہیں کیا جاتا۔ والدین بھی اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ میں اپنی
Long Distance Cycling
میں سب کو شامل ہونے کی دعوت دیتی ہوں لیکن بمشکل چند خواتین کو اجازت ملتی ہے۔ ثمرخان کہتی ہیں کہ میں سائیکل زیادہ سے زیادہ چلانے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ یہاں لوگوں کو لڑکیوں کو سائیکل پر دیکھنے کی عادت پڑے۔ان کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں کو چاہئے کہ وہ خواتین کو سپورٹس میں خاص طور پر ایڈونچر سپورٹس میں آگے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ثمرخان اب افریقہ کی بلند ترین چوٹی
Mount Kilimanjaro
کو سر کرنے کی خواہش مند ہیں۔ اس سلسلے میں وہ ڈی جی۔ آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سے بھی ملیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کی نوجوانوں میں' خاص طورپر خواتین میں' کھیلوں کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا اور ان کی آنے والی مہم پر انہیں بھرپور معاونت کی یقین دہانی کروائی۔

 
06
October

تحریر: رابعہ رحمن


میجر جمال اپنی فطرت میں ایک انوکھے اور دبنگ انسان تھے، میجر جمال شیران بلوچ11نومبر1986 کو تربت میں میر شیران کے ہاں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم تربت کے کیچ گرامر سکول سے حاصل کی اور ریذیڈیشنل کالج تربت سے ہی فارغ التحصیل ہوئے۔ میجر جمال کے والد میر شیران مسقط آرمی سے ریٹائر ہوئے تھے۔ جسم میں ایک فوجی افسر کا خون دوڑ رہاتھا اور میر شیران کی خواہش بھی تھی کہ ان کے دونوں بیٹے فوج میں جائیں مگر بڑے بیٹے شعیب کوشش کے باوجود فوج میں نہ جاسکے اور میجر جمال کی قسمت کا قرعہ نکل آیا۔

chamankzary.jpg
پانچ بہنوں کے لاڈلے جمال اپنی خاموش اور سنجیدہ طبیعت کے باعث سب کی آنکھ کا تارا تھے، ہلکا پھلکا سہی، مذاق ان کی عادت تھی وہ ہمیشہ دوسروں کی عزت اور بھرم رکھنے کے قائل تھے۔ بہنوںکو اپنے دل کے بہت قریب رکھتے اور عورت کی عزت کو بہت اہمیت دیتے۔ یاروں کے یار اور پیاروں کا پیار، ایسے تھے میجر جمال شہید۔ ان کے دل میں جو بھی بات ہوتی وہ کبھی کسی سے اس کا اظہار نہ کرتے دوسروں کی رضا پہ راضی رہتے۔ انتہائی گرم جوش ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھوتہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ والدین کی عزت میں اپنا سر اور آنکھیں جھکائے رکھتے اور دوستوں کی محفل میں کبھی نازیبا کلمات بھی منہ سے ادا نہ کرتے، انسان کے اندر اعلیٰ صفات ہوں تو وہ انسان عام لوگوں سے مختلف نظرآتاہے، میجر جمال بھی انہی انسانوں میں سے تھے۔ گائوں میں کسی بھی گھرانے کو کوئی مشکل درپیش ہوتی اور میجر جمال کو پتہ چل جاتا تو وہ اس کی مدد کرنے نکل پڑتے ۔سچ اور انصاف کی بات کرتے، ظلم کے انتہائی خلاف اور بزدلی کو گالی سمجھتے تھے، دوستوں میں بیٹھتے اور اگر کوئی مذاق میں ایسی بات کہہ دیتا کہ جس میں محب وطن ہونے کی شدت کو کم کرنے کا شائبہ ہوتا توجمال فوراً کہتے کہ ہمیں وہ دن یاد رکھنا چاہئے جب ہم نے وردی پہن کر ملک وقوم اور مذہب کی خاطر جان قربان کرنے کا حلف لیا تھا۔


میجرجمال نے مئی2006ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور دوسالہ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد اپریل2008ء میں کمیشن حاصل کیا۔ فوج میں جانے سے لے کر شہید ہونے تک ان کا وردی، وطن اور دشمن کے بارے میں جنون کم نہیں ہوا تھا، میجرجمال نے سیالکوٹ، راولپنڈی اور آزادکشمیر میں پاک فوج کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دیں، آپریشن ضرب عضب کے دوران باجوڑ، خیبر ایجنسی اور مہمند ایجنسی کے محاذوں پر دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما رہے، میجرجمال کی دو سال قبل فرنیٹیئر کورخیبرپختونخوا میں تعیناتی ہوئی یہاں بھی انہوں نے آپریشن ردالفساد میں اللہ کا سپاہی ہونے کا ثبوت دیا۔
ایف سی کے پی میںاسپیشل فورس گروپ کے آفیسر کمانڈنگ کے طور پر دہشت گردوں کے چھکے چھڑائے، میجرجمال آپریشن ایریاسے کبھی فون کرتے تو ان کے گھر والوں نے کبھی ان کے لہجے میں خوف محسوس نہیں کیا اور اس سے بڑھ کر وہ کبھی بتاتے ہی نہ تھے کہ وہ آپریشنل ایریا میں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر اس وطن کی حفاظت کررہے ہیں۔


میجرجمال سے جب ان کے والدین شادی کی بات کرتے تو ان کا جواب ہوتا ، نہیں ابھی میں صرف اپنی نوکری پہ توجہ دینا چاہتا ہوں سب ضروری کام نمٹا لوں پھر شادی کرونگا، پھر ایک دن اچانک ہی انہوں نے کہاکہ آپ میری شادی کی تیاری کریں اور یوں ماں باپ نے ان کی کزن سے9دسمبر2016ء کو ان کی شادی کردی۔ کچھ دن چھٹی گزاری اور واپس چلے گئے۔ پھر صرف ایک بار رمضان میں چھٹی آئے، مسز نازک جمال اور میجرجمال کا بچپن اکٹھے گزرا تھا، اب زندگی ایک نئی ڈگر پہ چل پڑی تھی۔ آنکھوں کے خواب سنہرے ہوگئے تھے بندھن کے حقوق وفرائض کے متعلق سوچنا پڑگیا تھا، مگر والد کی یہ بات کبھی نہیں بھولے تھے کہ سپاہی جب یونیفارم پہنتاہے تو اسے خود کو شہادت کے لئے تیار رکھنا چاہئے۔

chamankzary1.jpg
اب میجرجمال نے فیصلہ کیا کہ پشاور میں گھر لے کر بیگم کو بلالوں تاکہ اپنے فرائض میں اضافے کے باعث ان کو بھی اسی طرح محبت اور ذمہ داری سے ادا کروں جس طرح وطن کے لئے کرتا ہوں۔18جولائی کو مسز نازک جمال کی فلائٹ تھی۔ اپنے نئے گھر اور جیون ساتھی کی سنگت میں زندگی گزارنے اور آنے والی خوشیوں اور دنوں کے لئے دھنک رنگوں سے کینوس پہ خوابوں کی تعبیریں لکھنے کے لئے مسز نازک جمال بڑے اہتمام سے تیاری کررہی تھیں مگر کارخانہ قدرت میں بھی ایک پروگرام مرتب کیاجاچکا تھا جس کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا مگر ابدی جدائی کا غم مسلسل سہنا بھی روگ بن جایا کرتاہے۔میجرجمال ہمیشہ کہاکرتے کہ خارجی ناسور سے اپنے وطن کو پاک کرنے کے لئے میں اپنی آخری سانس تک لڑوں گا اورپھر وہ لمحہ ٔعظیم آگیا اور وطن کی مٹی نے میجرجمال کا لہو مانگ لیا۔


میجرجمال کے بھائی سفر میں تھے کہ انہیں کال آگئی جس میں میجرجمال کے بارے میں ان کو کوئی بتا رہا تھاکہ وہ شہید ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اس وطن پر اپنی جان قربان کردی ۔آج شعیب کا ہرپل کا ساتھی، دوست، یار، بھائی اور بازو اُن کے جسم سے کٹ گیا تھا۔اُن کی سمجھ میںکچھ نہ آیا کہ یہ کیا ہے خواب یا حقیقت، کس طرح والدین کو بتائوں کہ آج جو خواب آپ نے جمال کی وردی کو لے کر دیکھا تھا وہ تعبیر پاکے آپ کے سرکو فخر سے تو بلند کرے گا مگر آنکھوں میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرح ساری عمر چبھتا رہے گا، کیا بتائوں اس نازک سی بھابھی کو کہ میجر جمال نے جنت میں گھر لے لیا ہے۔


امیدوصل کب کی ڈوب چکی اورپھر ان کو اپنا آپ سنبھالنا پڑا کیونکہ انہوں نے اب اپنے خاندان کو سنبھالنا تھا، شعیب کہتے ہیں کہ مجھے بھائی کی موت کا دکھ تو بہت ہے مگر موت کے طریقہ کار میں فرق ہوتاہے جس طریقے سے میجرجمال شہید میرے بھائی نے جان وطن کے نام کردی وہ ہمارے لئے باعث فخر ہے ہم یہ قربانیاں1947ء سے دیتے آئے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔ میجرجمال شہید کا جنازہ تربت کی تاریخ میں بہت بڑا جنازہ تھا ان کو جس عزت اور احترام کے ساتھ دفنایا گیا ہمارے علاقے کا ہربلوچ جوان یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے جسم پر وردی سجا کے یونہی شہید ہوکر آئے گا کہ وردی میں موت کا مزا ہی کچھ اور ہوتاہے۔


میجر جمال شہید کی موت اس بات کی گواہ ہے کہ بلوچ قوم کا ہر فرد دفاعِ وطن کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دینے سے کبھی گریز نہیں کرے گا۔ پاکستان کے باقی صوبوں کے باسیوں کی طرح، پاکستان ہربلوچ جوان کی پہلی محبت ہے۔ وہ بلوچ باپ ہو، ماں، بھائی، بہن ، بیوی یا اولاد ہو، اُنہیں اپنے پیاروں کو وطن کی حُرمت پر قربان کرنے پر ناز ہے۔ آج جب پوری پاکستانی قوم اپنے شہیدوں پر ناز کرتی ہے تو اس میں صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاتعداد شہیدوں کا نام بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ قربانیوں بلاشبہ پاکستان دشمنوں کے پروپیگنڈے کی موت ہیں۔ جھوٹ اور شرانگیزی پر مبنی لاکھ کوششوں کے باوجود دشمن بلوچستان کے باسیوں سے پاکستان کی محبت اور یقین کو متزلزل نہیں کرسکا۔ میجر جمال کی شہادت بلاشبہ دشمنوں کے ناپاک ایجنڈے کی موت ہے۔

جس طریقے سے میجرجمال شہید میرے بھائی نے جان وطن کے نام کردی وہ ہمارے لئے باعث فخر ہے ہم یہ قربانیاں1947ء سے دیتے آئے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔ میجرجمال شہید کا جنازہ تربت کی تاریخ میں بہت بڑا جنازہ تھا ان کو جس عزت اور احترام کے ساتھ دفنایا گیا ہمارے علاقے کا ہربلوچ جوان یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے جسم پر وردی سجا کے یونہی شہید ہوکر آئے گا کہ وردی میں موت کا مزا ہی کچھ اور ہوتاہے۔

میجرجمال شہید مختلف آپریشنز کے ہیرو تھے۔ جب 18جولائی کو وہ اپنی گاڑی میں جوانوں کے ساتھ آپریشن کے لئے نکلے تو ایک گاڑی نے ان کو ہٹ کیا اور خودکش حملہ آور نے خود کو بلاسٹ کرلیا۔ دھماکے کے ساتھ بہت ساری زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں، یقیناً فرشتوں نے شہیدوں کے جسموں کو ذرا بھی تکلیف نہ ہونے دی ہوگی اور اللہ کے حکم سے ان کی روحوںکو پھولوں میں لپیٹ کر دربار عالیہ میں پیش کیاہوگا۔ زمین سے آسمان تک خوشبو کا سفر تھااورروشنی کا سفر تھا جو صرف بصیرت والے دیکھ سکتے اور محسوس کرسکتے ہیں۔


دشمن نہیں جانتا کہ قوم پاکستان کے والدین اپنے بچوں کے لئے شہادت کی موت کی دعائیں رو رو کر مانگتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بیٹوں کو مرا ہوا قبول کرنا ہی نہیں چاہتے اور شہید تو زندہ ہوتاہے وہ ان کے لئے تاقیامت کی زندگی مانگتے ہیں اور جو اپنے شہید بیٹے کو کندھا دیتاہے وہ باپ سینہ پھلا کرکہتاہے آج میں سرخرو ہوا آج میرا بیٹا ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگیا۔
قابل فخر ہیں وہ مائیں جو شہید بیٹوں کے تابوت چومتی ہیں، قابل تحسین ہیں وہ بہنیں جو اپنے شہید بھائیوں کے جسدخاکی کو اپنے آنچل کا کفن پہنا کر مسکراتی ہیں اور آفرین ہے اس والد پر جو اپنے شہید بیٹوں کے جنازے اٹھااٹھا کر تھکتا نہیں اور سینہ فخر سے پھلائے کہتاہے میراکوئی اور بیٹا بھی ہوتا تو اللہ کا سپاہی بناتا، عظیم ملک کے عظیم سپوت عظمت کا مینار ہیں۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: حمیرا شہباز


12 پنجاب کے شہدا ء کی فہرست میرے ہاتھ میں تھی ۔ ان سب سے نسبت کا ایک مشترکہ پہلو تو تھا ہی لیکن جب اس فہرست پر تفصیلی نظر دوڑائی تو نگاہِ انتخاب برگزید ئہ الٰہی ،شہید حق نواز کے نام کے آگے لکھے اس کے گھر کے پتے پر جا ٹھہری، ''تحصیل میاں چنوں!''مجھے اپنی بے خبری پر افسوس ہوا کہ یہ شہید تو میرا گرائیں ہے ۔میرا فخر ہے دوسرے تمام شہیدوں کی طرح۔


ضلع خانیوال کے شہر میاں چنوں کی ایک نام نہاد تقسیم اس کی ریلوے لائن کی مناسبت سے ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے اِس طرف نسبتاً ترقی یافتہ علاقہ ہے اس پار کی دنیاکو ہم بچپن سے ''ٹیشن پار''یا''لینوں پار''کہتے اور سنتے آئے تھے جس کو ہم اپنی دانست میں پسماندہ بھی تصور کرتے تھے ۔ شہید حق نواز کی معروفیت کی امید پراس کے گھر کی کھوج نہایت روایتی طریقے سے لگائی گئی ۔ غوثیہ مسجد میں جب پوچھا گیا کہ کوئی شہید حق نواز کو جانتا ہے تو امام صاحب اسی کے چک کے نکلے اور وہ چک تھا ٹیشن پار کا ۔ ہماری کوتاہ نظری میں یکدم ٹیشن پار کا خطہ ہمدوشِ ثریا ہو گیا۔


گاڑی (ہماری کار ، نہ کہ ریل گاڑی)ریلوے پھاٹک کو عبور کر کے لائنوں پاروہاڑی جانے والی رہگزر پر رواں تھی۔ چک
126/15 ،ایل
کے سٹاپ نمبر 3 اور جنڈیالی 16جیسے مقامات سے گزرتے، کہیں کھیت کھلیان اور اینٹوں کے بھٹے، توکہیں راستے میںپڑتے چھوٹے چھوٹے بازاروں سے گزر کر گاڑی آگے بڑھتی رہی۔ سر راہ پڑتے بسم اللہ کتاب گھر، فاروق ٹینٹ سروس، جدہ ٹائل اسٹور، ڈوگر زرعی انڈسٹریز، غوث پاک فرنیچر جیسے تجارتی مراکز بازاروں کی رونق بڑھا رہے تھے۔ مٹی کے برتنوں کی ریڑھیاں، دکانوں پہ پڑی چھابیاں، جھاڑو، سٹیل کے ڈول، بان کی گانٹھیں، تربوزوں کے ڈھیر میرے اندر کے خریدار کو اکسا رہے تھے۔لیکن چشم خریدار تو گوہر جاں ہار دینے والے سوداگر کے سراغ میں سرگرداں تھی۔
چک
122/15 ایل
، کی جانب مڑے تو گلیوں کی خاک اڑ اڑ کر ہماری گاڑی کا پیچھا کر نے لگی جس پر کبھی حق نواز کے قدموں کے نشان ٹھہرے ہوں گے ۔ ''سجناں نال سجن''، ''محمدۖ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا''،''عباسِ علمدار''،جیسے نوشتۂ دیوار بھی پڑھنے کو ملے۔ میں منہ اٹھائے چک کے در و دیوار کی عظمت کا اندازہ لگارہی تھی کہ ڈرائیور نے سڑک کنارے کھڑے چند افراد کے قریب پہنچ کر کار کو بریک لگا دی۔ ان میں سب سے آگے ایک عمر رسیدہ خاتون تھی۔ابھی میں گاڑی سے اتری ہی تھی کہ میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ مجھ سے لپٹ گئیں۔''سو بسم اللہ''، ''جی آیاں نوں'' جیسے کلمات ان کی زبان پر تھے۔ ان کے چہرے پر جذبات کی شدت سے مجھے اس وقت اندازہ ہوا کہ ان کا انتظار تو میرے شوق دیدار سے کہیں بڑھ کر تھا۔ مجھے معلوم تو تھا ہی کہ وہاں ہماری ملاقات شہید حق نواز کے افراد خانہ سے ہو گی۔ لیکن کسی شہید کے اہل خانہ کے ایسے پرتپاک استقبال کا مجھے اندازہ نہ تھا۔
ہم ایک بڑے سے گیٹ والے گھر میں داخل ہو چکے تھے ۔اماں جی نے گیٹ کے فوری بعد بنے ہوئے ایک تاریک کمرے میں آنے کا اشارہ کیا ۔ ہمارے پیچھے اماں جی، دو آدمی، ایک اور خاتون اور پانچ چھ بچے بھی آگئے۔ کمرہ نیم تاریک تھا۔ کچھ دیر میں نگاہ تاریکی کی عادی ہوئی تو میں نے اندازہ لگایا کہ یہ شہید حق نواز کا کمرہ ہے کیونکہ اس کمرے کی دیوار پر ایک فوجی کی بڑی سی تصویر آویزاں تھی جس پر سنہری تاروں والا چمکیلا ہار ڈلا ہوا تھا۔اس تصویر کے فریم کے اوپری دونوں کونوں میں سلطان باہو کے گدی نشینوں کی چھوٹی چھوٹی تصاویر اٹکائی گئی تھیں جو شہید کے خاندان کے مکتب عقیدت کی نشان گر تھیں۔

haqkamaltha.jpg
ہم سب نے کئی بار ایک دوسرے کا حال پوچھا۔ میاںچنوں کی گرمی کا گلہ کیا اور کم کم آتی بجلی کی غیبت کی۔ بالآخر میں نے اپنی کرسی کے بائیں طرف بچھے پلنگ پر بیٹھی اماں جی سے پوچھا: ''ماں جی تسی حق نواز دی والدہ جے؟'' ان کی آنکھوں کے دمکتے دیئے حق نواز نام کی ہوا سے بھڑک اٹھے اور کمرہ روشن ہو گیا۔ میں نے کمرے میں موجود افراد کا تعارف چاہا۔ وہ دو آدمی حق نواز کے بڑے بھائی تھے جو زیادہ دیر کمرے میں رکے نہیں۔ میرے سیدھے ہاتھ والی کرسی پر بیٹھی ہوئی خاتون کی طرف دیکھ کر اماں جی نے کہا:''ہِے حق نوار دی بیوی ہاے'' (مجھے سن کر اچھا لگا کہ اماں جی نے اس کو حق نواز کی بیوہ نہیں کہا)یہ الگ بات ہے کہ اس کی طرف بغور دیکھنے کی میری ہمت نہیں تھی۔ اس کے چہرے کی تحریر پڑھنے کے بجائے میں نے اماں جی سے یہ پوچھنا آسان جاناکہ ان کو حق نواز کی شہادت کا کیسے پتا چلا۔


انہوں نے کچھ اس طرح سے بتایاکہ: سال2004 کی ایک صبح پولیس کی گاڑی ہمارے گھر آئی۔ انہوں نے حق نواز کے گھر کا پوچھا کہ یہی ہے اور کسی مرد سے بات کرنی چاہی۔ گھر پہ میں اکیلی تھی اس لئے وہ چلے گئے ۔ کچھ دیر بعد پھر آئے میرا رشتے کا بھائی ان سے ملا۔ پولیس نے اس کو کچھ بتایا اور چلی گئی ۔ میں نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ پولیس حق نواز کا کیوں پوچھ رہی تھی؟ کیا کیاہے اس نے؟ کیا ہوا ہے اس کو؟میرے بھائی نے بڑے آرام سے کہا: ''او کچھ نہیں کیا اس نے۔ ہونا کیا ہے، شہید ہو گیا ہے وہ اور کیا''!۔ پولیس کی دور جاتی گاڑی ابھی تک میری نظر میں تھی۔ میں اس کے پیچھے بھاگی، پھر تھک کر وہیں سڑک کنارے بیٹھ گئی۔ پھر گھر کو دوڑی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں''۔


اماں جی ابھی بھی ہاتھ مسل رہی تھیں جیسے اچانک کوئی ان کے ہاتھ سے متاع حیات لے اڑا ہو۔مجھ سے اتنا نہ ہو سکا کہ ان کے قریب جا بیٹھوں اور ان کے ہاتھ تھام کر کہہ سکوں کہ ماں جی آپ حوصلہ کریں۔ اتنا حوصلہ کہاں تھا مجھ میں۔


انہوں نے اپنی بات جاری رکھی: بس پھر تھوڑی دیر میں کئی فوجی گاڑیاں آگئیں۔ بڑے بڑے فوجی افسر آئے ۔ میرے حق نواز کو بڑے اعزاز سے دفنا کر چلے گئے۔ وہ مسکرا کر بولیں حق کامال تھا حق ادا کرگیا۔
میں نے شہیدحق نواز کے متعلق مزید جاننا چاہا۔ ان سے سوال جواب کچھ اس طرح ہوئے:


س-کیا حق نواز کو خود سے شوق تھا فوج میں بھرتی ہونے کا؟
ج- پتا نہیں۔ ہمارے خاندان میں کوئی بھی فوجی نہیں۔ نہ کبھی اس نے ذکر کیا نہ کبھی ہمارا خیال اس طرف گیا۔ بس ایک دفعہ ہمارا کوئی عزیز ملتان کے فوجی ہسپتال میں داخل تھا۔ یہ اس کا پتا لینے گیا۔ہمارے چک کے کسی کرنل صاحب کا بھی وہاں تبادلہ تھا، یہ ان سے بھی مل آیا۔ کچھ دن بعد اس نے مجھ سے کہا کہ اماں مجھے نئے جوتے اور کپڑے لے دے۔ وہ جو ملتان گیا تھا تو فوج میں بھرتی ہونے کا امتحان بھی دے آیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کو فوج نے بلالیا ہے اس لئے اسے یہ کچھ نئی چیزیں لے دی جائیں۔ ہم سب دیکھتے ہی رہ گئے اور وہ فوج کا نوکر ہو گیا۔ وہ جو ہم سے کبھی دور نہیں رہا تھا اب کبھی کبھار چھٹی آتا تھا۔


س-آپ نے اس کی شادی کب کی تھی؟

(حق نواز کی بیوی ہمارے لئے چائے وغیرہ لینے گئی تو میں نے یہ سوال کر ڈالا)
ج- ہاں جی وہ آخری بار جب آیا تو میں نے اس کے بڑے دوبھائیوں کے ساتھ ساتھ اس کی بھی شادی کردی۔ مانتا نہیں تھا لیکن شاید خدا میرے ارمان پورے کروانا چاہتا تھا۔ میں نے اسرار کیا تو وہ اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی پہ مان گیا۔(اماں جی نے اس کی شادی کی تصویر بھی بڑے چائو سے دکھائی اور بتایا کہ تصویر میں اس کے دائیں جانب جو اس کا رفیق نامی دوست بیٹھا ہے، وہ بھی فوجی ہے اور حق نواز کے ساتھ ہی شہید ہوا تھا)۔


س- حق نواز کی کوئی اولاد ہے؟
ج- نہیں (وہ تڑپ کر بولیں)۔خدا نے اس کو کوئی بیٹی ہی دے دی ہوتی تو میں اس کی نشانی کو اپنے سینے سے لگائے رکھتی۔ اپنی شادی کے ایک ہفتہ بعد وہ نوکری پر چلا گیا تھا۔ عجیب بات ہے پتا نہیں اس کے دل میں کیا تھا کہ جب وہ آخری بار جا رہا تھا تو کئی بار مڑ کر آیا ۔ اس نے کہا اماں میری بیوی کا خیال رکھنا، اس کو اکیلا نہ ہونے دینا، جہاں جانا اس کو ساتھ لے جانا۔ خود چلا گیا اس کو میرے ذمے لگا گیا۔ (انہوں نے حق نواز کی بیوی کی طرف دیکھ کر کہا) اس کی بڑی بہن کی شادی حق نواز کے بڑے بھائی کے ساتھ ہوئی تھی لیکن وہ بیچاری شادی کے کچھ دن بعد کرنٹ لگنے سے فوت ہو گئی اور اللہ کی کرنی دیکھو کچھ دن بعد حق نواز کی بھی خبر آگئی۔ کیا کرتی ماں ہوں اولاد کا اجڑا گھر نہیں دیکھ سکتی تھی۔ دونوں ہی دکھی تھے سال بعد میں نے ان دونوں کی شادی کر دی۔ اب ان کے دو بیٹے ہیں۔یہ دونوں بچے حق نواز کو بھی ابو فوجی کہتے ہیں۔ اس کو بہت چاہتے ہیں۔ اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ کہہ رہے تھے کہ آج ابو فوجی نے آنا ہے۔ اسی خوشی میں گھر کے سارے بچوں نے اسکول سے چھٹی کی ہے۔ ہمارا یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہو گا لیکن آپ کے آنے سے ہم سب کو اتنی ہی خوشی ہوئی جتنی حق نواز کے آنے کی ہوتی۔یہ میں نے آپ کے لئے میاں چنوں کی مشہور برفی ''خوشی کی برفی'' بھی منگوا کر رکھی ہے، ساتھ لے جانا۔


پنجاب میں رواج ہے کہ گھر آئے مہمان کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کسی شہید کی خبر لینے آنے والوں کو اس شہید کی ماں مٹھائی کے ڈبے دے کر رخصت کرے گی، ایسا کڑا جگر شہیدوں کی ماؤں کاہی ہوسکتا ہے۔


جب اماں جی کو پتا چلا کہ میں بھی میاں چنوں کی ہوں تو وہ بہت خوش بھی ہوئیں اور ناراض بھی کہ میں نے اتنے برسوں میں حق نواز کے گھر والوں کی خبر لی۔ پھر وہ خود ہی بولیں کہ کوئی کیا کرنے آتا جب حق نواز ہی نہیں رہا تو! اس کا ایک فوجی دوست جو آیا کرتا تھا وہ تو خود بھی اسی کے ساتھ شہید ہو گیا۔ ان دونوں کا تو ہمیشہ کا ساتھ ہو گیا۔
میں نے ان سے برفی کے دو ڈبے وصول کئے اور جوکیک اور تحفے ان کے لئے لائی تھی، اماں جی کو دیے۔ جتنی دیر میں وہاں رہی میں نے حق نواز کی بیوی، فرزانہ بی بی سے کئی ادھر ادھر کی باتیں کی تھیں لیکن حق نواز کے متعلق اس سے کوئی خاص بات نہ کر سکی۔ اس کو تحفہ دیتے ہوئے میں نے کہا سمجھو یہ جوڑا حق نواز کی طرف سے ہے۔ وہ پتھر بنی بیٹھی رہی۔ میںنے سوٹ اس کی گود میں رکھ دیا ۔ اس نے اپنا دوپٹہ اپنے چہرے پر کھینچ لیا اور رو دی۔ شاید اسے پتا تھا کہ اس نظارے کی تاب مجھ میںنہیں ہو گی۔

 

پنجاب میں رواج ہے کہ گھر آئے مہمان کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کسی شہید کی خبر لینے آنے والوں کو اس شہید کی ماں مٹھائی کے ڈبے دے کر رخصت کرے گی، ایسا کڑا جگر شہیدوں کی ماؤں کاہی ہوسکتا ہے۔

حق نواز کے بڑے بھائی، محمد ریاض نے اپنے بھائی کی شہادت کے بعد اپنی پکی نوکری چھوڑکر پہلے اپنے گھر میں اور کچھ سال بعد ایک الگ مستقل جگہ پر حق نواز پبلک اسکول کے نام سے ایک درس گاہ بنائی ہے جس کا منتظم و مدرس اور معاون وہ خود ہی ہے۔ جہاں سے کئی ننھے حق نواز تعلیم حاصل کر کے اس ملک کے محافظ بنیں گے جس کی خاطر سپاہی حق نواز نے جان کی باز ہاری تھی ۔


نائیک حق نواز، اللہ دتہ اور اماں بخت بھری کے چھ بیٹوں اور ایک بیٹی میں سے تیسرے نمبر پر تھا۔ اس نے گورنمنٹ پرائمری اسکول  ایل 122/15  سے ابتدائی اور گورنمنٹ ہائی اسکول  ایل 124/15  سے مڈل اور میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی۔ پاک فوج میںبھرتی ہوگیا ۔ پنجاب رجمنٹ سینٹرمردان سے تربیت حاصل کی اور کوئٹہ، زیارت، چمن اور نوشہرہ میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں۔ 2004 میں اس کی ماں نے اس کی شادی کردی۔ نئی زندگی کا آغاز کرنے والے حق نواز کی اپنے گھر والوں اور شریک حیات سے یہ آخری ملاقات تھی۔ 18 مارچ سال 2004 میں12 پنجاب آپریشن المیزان کے سلسلے میں وانا میں تعینات تھی۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق:
''نائیک حق نواز، میجر ثاقب زمان کے زیر قیادت شین ورسک کے علاقے میں آپریشن کرنے والی اگلی سپاہ کا حصہ تھے۔ کمپنی کمانڈر کی شہادت کے بعدآپ نے اپنے جونیئر ز کو بہترین طریقے سے منظم کیا اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے کرتے جام شہادت نوش کیا۔ ''

مضمون نگارڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: یا سر پیر زادہ


مہاتما بدھ نے پیڑ تلے بیٹھے بیٹھے جھڑتے پتوں سے مٹھی بھری اور آنند کو دیکھا۔'' اے آنند کیا سارے پتے میری مٹھی میں آگئے ہیں ؟''
آنند جھجکا۔پھر بولا، تتھا گت، یہ رت پت جھڑ کی ہے۔ پتے جنگل میں اتنے جھڑے ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہو سکتی۔''
مہاتما بدھ بولے۔'' اے آنند، تو نے سچ کہا۔ پت جھڑ کے ان گنت پتوں میں سے بس میں مٹھی بھر سمیٹ سکا ہوں۔ یہی گت سچائیوں کی ہے۔ جتنی سچائیاں میری گرفت میں آئیں، میں نے ان کا پرچار کیا۔ پر سچائیاں ان گنت ہیں، پت جھڑ کے پتوں کے سمان۔ ''


ہر کوئی یہاں سچ لکھ رہا ہے، تو پھر جھوٹ کہاں ہے ؟ہر ایک عالم ہے، تو پھر جاہل کون ہے ؟ ہر کوئی دانشور ہے، تو پھر غبی کسے کہیے؟ہر شخص پارسا ہے تو بد کہاں چھپے بیٹھے ہیں ؟ ہر ایک قانع ہے تو حریص کون ہے ؟ ہر کسی کو درویشی کا دعویٰ ہے تو پھر وہ کون ہیں جو دنیا کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں؟ ہر دوسرا بندہ اگر ولی ہے تو کیا کوئی عامی بھی ہے ؟ہماری مٹھی میں تو سچائیوں کے دو چار پتے بھی نہیں، لیکن وہم یہ کہ ہمیں گیان مل چکا ہے، نروان کی پہلی سیڑھی پر کبھی قدم نہیں رکھااور گمان یہ کہ ولی کامل کا تا ج ہمارے سر پر سجا ہے، علم کے سمندروں سے دور ہم لق و دق صحر ا میں کھڑے صبح سے شام تک ہم ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے رہتے ہیں اور پھر آپس میں ہی چند لوگوں کو دانشور، عالم اور ولی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جن بستیوں میں علم و دانش کا معیار یہ قرار پائے وہ گنجان آباد ہونے کے باوجود ویران ہو جایا کرتی ہیں۔ جہاں دین کا پرچار بندوق کی نوک پر کیا جائے، جہاں دانش اور جملے بازی میں فرق مٹ جائے، جہاں علم کا تعین سند دیکھ کر کیا جائے، جہاں لکھاری شہرت پانے کے لئے کہانیاں لکھیں، جہاں شاعر قصیدہ گوئی کو ذریعہ معاش بنا لے، جہاں استاد کی عزت شاگرد کے ہاتھ میں ہو، جہاں دانشور بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنے سے ڈرنے لگیں، ان شہروں میں اداسی بال کھولے سوتی ہے، انصاف کم ہو جاتا ہے اور سچائی شور میں دب جاتی ہے۔ تمام عمر گزر جاتی ہے، اپنی ذات کی سچائیاں بھی خود پر آشکار نہیں ہو پاتیں، دنیا کی البتہ ہم خبر دیتے ہیں۔ انتظار حسین کے شاہکار افسانے زرد کتا کا ایک ٹکرا یاد آیا :
یا شیخ، عالم کی کیا پہچان ہے ؟
فرمایا: اس میں طمع نہ ہو۔
عرض کیا : طمعِ دنیا کب پیدا ہوتی ہے ؟
فرمایا : جب علم گھٹ جائے۔
عرض کیا : علم کب گھٹتا ہے ؟
فرمایا : جب درویش سوال کرے، شاعر غرض رکھے، دیوانہ ہوش مند ہو جائے۔ عالم تاجر بن جائے، دانشمند منافع کمائے۔


طمعِ دنیا کو ترک کرنا پیغمبروں کا وصف ہے،ہم گناہوں میں لتھڑے ہوئے تو شاید ایسی آرزو کے قابل بھی نہیں، اپنے نفس کا بت توڑنا اس راکھشس کا سر کاٹنے جیسا ہے جس کا سر کاٹو تو اس کی جگہ دو سر اُگ آتا ہے۔ یہ جوکھم کا کام کون کرے، وہ بھی آج کے دور میں ؟ سو ہم نے ایک آسان راستہ چنا، دنیا دار درویشی کا راستہ !اس راستے میں طمعِ دنیا، دولت، شہرت یانمود و نمائش سے کنارہ کرنے کی کوئی بندش نہیں، فقط اس کا پرچار کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ دوسروں کو متاثر کرنے کی خواہش انسان میں فطری ہے سو وہ طرح طرح کے بھیس بدلتا ہے، مختلف طریقے آزماتا ہے، نت نئی ترکیبیں لڑاتا ہے، دنیا دار درویشی ایسی ہی ایک نئی ترکیب ہے، اس میں درویشی کا محض لبادہ اوڑھا جاتا ہے، حقیقی درویش نہیں بنا جاتا۔ یہ کام ذرا مشکل تھا کیونکہ درویشی کی پہلی شرط شریعت کی پاسداری ہے، گویا سچا کھرا ولی کامل وہی ہوگا جو اللہ کے بعد رسول ۖکی اطاعت کرے گا اور شرعی احکام کی پابندی کرے گا، ایک صوفی کے لئے کوئی رعایت نہیں۔ لیکن اب ہم ایسے مرشد اور مرید بھی دیکھتے ہیں جنہوں نے نماز نہ پڑھنے کی چھوٹ حاصل کر رکھی ہے (یہ آج کل کے دور کے ایک ماڈرن درویش کا بیان ہے جو انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے)،اب ہم ایسے صوفیوں کے قصے بھی پڑھتے ہیں جو شراب کے نشے میں دھت ہو کر ترک دنیا کئے بیٹھے ہیں، اور ایسے درویش آپ بیتیاں لکھتے ہیں جن میں وہ خدا سے براہ راست خط کتابت کا قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پچھلے ابواب میں یہ لکھتے ہیں کہ کیسے تمام عمر انہوں نے پوری جانفشانی کے ساتھ سرکار کی نوکری کی جن میں ہر طرح کے آمر کے احکامات کی بجا آوری بھی شامل تھی! ممکن ہے درویشی میں آسودگی کی ان سب کو تلاش ہو مگر دنیا داری کے ساتھ یہ ممکن ہی نہیں۔ آج کل کے دور میں کون ہے جو ترک دنیا کا دعویٰ کر سکے، کس کا ولی کامل ہے اور کس کا مرشد عرفان پا چکا، کسے خبر ! لیکن شریعت میں رعایت تو پیغمبروں کو حاصل نہ تھی، ان لوگوں نے کہاں سے ڈھونڈ نکالی ؟

 

ماتم اس بات کا ہے درویش ہو یا لکھاری، قناعت اور سچائی سے زیادہ وہ شہرت کا متمنی ہے۔ جس معاشرے میں درویشی اور علم محض دنیاوی منفعت کا وسیلہ بن جائے، وہاں ظالم کے خلاف بولنے والے کمزور پڑ جاتے ہیں، دہشت کے آگے سر جھکانے کی روش عام ہو جاتی ہے، چڑھتے سورج کی پرستش کی جاتی ہے، طاقتور کے قصیدے لکھے جاتے ہیں۔

سچائیاں تو ان گنت ہیں جنہیں کوئی نہیں پا سکتا، مگر ہمیں ہاتھ بڑھا کر انہیں پانے کی کوشش تو کرنا ہوگی، جتنی مٹھی میں آجائیں ان کا پرچار بھی کرنا ہوگا، اپنے حصے کی کاوش تو کرنی ہوگا۔ نقلی درویشوں کے ساتھ ساتھ ہمار ی بستیوں کے لکھاری بھی سچ کے متلاشی نہیں، وہ شہرت کے آسیب میں گرفتار ہیں، ادھر عوام بھی سچ سننا نہیں چاہتے، انہیں اسی مقبول و معروف بیانیے کی شراب چاہئے جسے پی کر وہ سدا مد ہوش رہیں، ایسے شرابیوں کو جگانے کی جو حماقت کرتا ہے سب سے پہلے وہ اسی پر قے کرتے ہیں۔ ہماری بستیاں ان شرابیوں سے بھری پڑی ہیں، شرابیوں کی اس بستی میں سچائی کا پرچار کرنا ایسے ہی ہے جیسے اندھے کو اندھیرے میں راستہ سمجھانا۔ماتم اس بات کا ہے درویش ہو یا لکھاری، قناعت اور سچائی سے زیادہ وہ شہرت کا متمنی ہے۔ جس معاشرے میں درویشی اور علم محض دنیاوی منفعت کا وسیلہ بن جائے، وہاں ظالم کے خلاف بولنے والے کمزور پڑ جاتے ہیں، دہشت کے آگے سر جھکانے کی روش عام ہو جاتی ہے، چڑھتے سورج کی پرستش کی جاتی ہے، طاقتور کے قصیدے لکھے جاتے ہیں۔ جس روز ہماری بستی کے دانا لوگ شہرت سے بے نیاز ہو جائیں گے، اس دن ہمارے لئے مٹھی بھر سچائیاں ہی کافی ہوں گی۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: عقیل یوسف زئی


مقبول عام تجزیوں اور زمینی حقائق کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باوجود اس کے بہتر ہوتے جارہے ہیںمگر امریکہ اور بعض دیگر ممالک کی کوشش ہے کہ ان پڑوسی اور ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ممالک کو کسی بھی جواز کی آڑ میں مزید بداعتمادی اورتصادم کی راہ پر ڈال دیا جائے۔ کراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر پائی جانے والی بدگمانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ معاملات اس انداز سے بہتر نہیں ہو پا رہے، جس کی خطے کو ضرورت ہے۔ اس کے باوجود کہ نائن الیون کے بعد امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران 110 ممالک میں دہشت گردکارروائیاں ہوئی ہیں، عالمی برادری اور ہمارے بعض اتحادی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ جنگ اور طاقت کا استعمال اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو افغانستان میں کب کا امن آچکا ہوتا کیونکہ وہاں40 سے زائد ممالک ایک دہائی سے زائد کے عرصے تک لڑتے رہے ہیں۔ امریکہ نے بوجوہ جو غلطیاں کیں وہ ان کو مان نہیں رہا۔ سب سے بڑی کوتاہی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے افرادپر انحصار کیا اور اداروں کی بحالی کے علاوہ سیاسی عمل کے آغاز یا سرپرستی کے علاوہ تعمیرِ نو کو مسلسل نظر انداز کئے رکھا۔ دوسرا مسئلہ یہ درپیش رہا کہ وہ روس، ایران اور چین کے لئے افغانستان کو بیس کیمپ بنا بیٹھا اور اس مقصد کے لئے اندرون خانہ وہ وار لارڈز اور ان کے گروپس کی معاونت کرتا رہا۔ امریکہ پاکستان پر طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لئے مسلسل دبائو تو ڈالتا رہا مگر اس کی اپنی پالیسی کا یہ حال رہا کہ اس نے افغان طالبان کو ابھی تک دہشت گرد تنظیم ڈیکلیئر نہیں کیا ہے۔ بلکہ امریکیوں کی نظر میں طالبان محض مزاحمت کار ہیں۔ امریکہ نے القاعدہ کے خلاف تو مؤثر کارروائیاں کیں مگر طالبان کے ساتھ وہ دوطرفہ مگر متضاد رویے پر گامزن رہا۔ طالبان کو نہ ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی اور نہ اُن کو سیاسی عمل کا حصہ بننے دیا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان سے غیر ضروری توقعات وابستہ کی گئیں اور نجیب الطرفین ناکامیوں کا ذمے دار اسے قرار دیا جاتا رہا حالانکہ دہشت گردی ان ممالک میں بھی تواتر کے ساتھ ہوتی رہی ہے جو کہ پاکستان سے ہزاروں کلو میٹر دور واقع ہیں۔ امریکہ قطر دفتر کے ذریعے طالبان کے ساتھ رابطے میں رہا مگر پاکستان کے لئے اس قسم کے رابطے قابلِ جرم ٹھہرائے گئے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے بھی بعض مواقع پر شاید خاطرخواہ توقعات پرپورا نہ اتر سکا۔ تاہم پورے کاپورا ملبہ اس کے سر ڈالنا اور دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا بھی مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔

 

بہت سے تجزیہ کار پُرامید ہیں کہ امریکی دبائو کے باوجود خطے کے حالات بتدریج بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر میجر (ر) محمدعامر نے کہا ہے کہ پاکستان پر امریکہ کے لگائے گئے الزامات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ امریکہ کے ساتھ موجودہ نام نہاد اتحاد کے خاتمے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے، اس کا انحصار ختم ہو جائے گا بلکہ ہمارے لئے مہذب اور پاکستان دوست ممالک کے ساتھ نئے تعلقات کے ایک بہترین دور کا آغاز بھی ہو گا۔

شائد اسی کا نتیجہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی سٹیٹمنٹ کے بعد یہ بحث پھر سے چل نکلی ہے کہ اس تمام گیم میں امریکہ کا کیا رول رہا ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان اپنے طور پر کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ متعدد امریکی حکام اور تجزیہ کار بھی کہہ چکے ہیں کہ 2004-6 کے دوران حامد کرزئی کی بھی خواہش تھی کہ طالبان کو سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے اور ان کے ساتھ براہِ راست رابطے کئے جائیں۔ مگر امریکیوں نے اس کی اجازت نہیں دی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان طالبان اور ان کے اتحادیوں نے2004 کے بعد پھرسے مزاحمت کا آغاز کرلیا۔2004 تک حالات کافی پرامن تھے اور پیشنگوئی کی جارہی تھی کہ امریکہ اور اس کے اتحادی واقعتا افغانستان سے طالبان کا خاتمہ کرچکے ہیںمگر عملاً ایسا ہوا نہیں تھا۔ طالبان نے ایک پالیسی کے تحت پسپائی اختیار کر لی تھی اور شاید وہ بدلتے حالات میں ایک مجوزہ یا ممکنہ مفاہمتی عمل کے منتظر بھی تھے۔ یہ بات بھی کئی حوالوںسے ثابت ہو چکی ہے کہ امریکہ عملاً امن قائم کرنے کی نیت سے نہیں آیا تھا بلکہ اس کے پالیسی سازوں نے افغان سرزمین پر اپنے اڈے بنانے کی پلاننگ نائن الیون سے کئی برس قبل کی ہوئی تھی اور وہ افغانستان میں بیٹھ کر ایک پرانے فارمولے کو آگے بڑھانے آیا تھا۔ اب جا کر معلوم ہوگیا کہ امریکی مقاصد کچھ اور تھے، اور اس نے افغانستان کو ایک کمزور اور زیردست ملک کے طور پر اپنے مقاصد اور ترجیحات کے لئے استعمال کرنا تھا اور غالباً یہی وجہ تھی کہ امریکی حکام نے مفاہمتی کوشش اور خواہش کو مسترد کرکے2004-5 کے دوران افغان طالبان کوپھر سے مزاحمت پر مجبور کیا کیونکہ مزاحمت کی جنگ کے بہانے امریکیوں نے افغانستان کو کمزور اور خود کو ناگزیر بنا کر رکھناتھا۔ بعد میں جب طالبان کی کامیابیوں کا سلسلہ چل نکلا تو حالات سنگین ہوتے گئے اور اس پر کنٹرول برقرار رکھنا افغان فورسز اور امریکیوں کے لئے بھی ممکن نہیں رہا۔کچھ عرصہ قبل افغان طالبان کے سربراہ نے مفاہمتی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے تو افغان حکومت کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ طالبان کی قوت اور حملوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہاہے اور ان کو بعض معاشرتی عوامل کے باعث عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ طالبان سربراہ نے اپنے بیان میں آدھے افغانستان پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے اور ساتھ میں انہوںنے یہ بھی کہا ہے کہ جن علاقوں پر ان کا کنٹرول ہے وہاں امن ہے، تعمیر و ترقی کا سلسلہ جاری ہے اور عوام مطمئن ہیں۔ اگرچہ اس دعوے کو کلی طور پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ طالبان ایک زندہ حقیقت ہیں اور اگر ان کو مکمل شکست نہیں دی جاسکتی ہے تو ان کے ساتھ بات چیت میں کیا برائی ہے۔ اگر حزبِ اسلامی بوجوہ سیاسی عمل کا حصہ بن سکتی ہے تو طالبان کو بدلتے حالات کے تناظر میں ایڈجسٹ کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ اس ضمن میں پاکستان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ مفاہمت کی صورت میں پاکستان پر ڈالے جانے والے عالمی دبائو میں کمی واقع ہوگی اور اس کے ممکنہ گھیرائو کے خدشات کم پڑ جائیں گے۔ یہ اطلاعات خوش آئند ہیں کہ افغان حکومت اور پاکستان کے درمیان روس اور چین کی کوششوں سے فاصلے کم ہوتے جارہے ہیں اور اندرون خانہ بہت سے عملی اقدامات اور اعتماد سازی پر کام جاری ہے۔ علاقائی کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کی بھی ضرورت ہے اس لئے ماضی کی غلطیوں اور تلخیوں سے نکل کر ایک بہتر اور پُرامن مستقبل کے تمام امکانات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطے کو درپیش خطرات سے نمٹا اور نکالا جاسکے۔


باخبر سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر کی افغان پالیسی کے اعلان سے پیدا شدہ صورت حال کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات، اعتماد سازی اور اداروں کے درمیان کوآرڈی نیشن پر مشتمل ایک پلان پر اتفاق رائے کی کوششیں حتمی مراحل میں ہیں اور اس ضمن میں تاجکستان میں منعقدہ حالیہ کانفرنس کے دوران مذکورہ ذرائع نے واضح انداز میں عندیہ دیا کہ اگر چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات اور اختلافات کے خاتمے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے تو افغان حکومت امریکی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر قیامِ امن کے لئے اپنے طور پر بھرپور تعاون کرے گی۔سفارتی حلقوں کے مطابق اسی پیشرفت کے نتیجے میںبعد میں دونوں ممالک نہ صرف مذاکراتی عمل کے ایک مجوزہ طریقہ کار پر متفق ہوگئے بلکہ افواج کی سطح پر کوآرڈی نیشن کے لئے بھی علانیہ طور پر طریقہ وضع کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق تاجکستان کانفرنس کے دوران علاقائی تعاون یا کائونٹر ٹیررازم کے ممکنہ کوآرڈی نیشن کی مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کے علاوہ اتفاق رائے کا اظہار کیا جاچکا ہے اور کسی بھی متوقع عمل میں چین ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ جبکہ اس تمام پراسس کو روس کی حمایت اور معاونت بھی حاصل رہے گی۔ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات کے ماہر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے رابطے پر بتایا کہ ایک نئے علاقائی بلاک کے قیام کی کوششیں کافی عرصہ سے جاری تھیں اور اس میں چین کا بنیادی کردار تھا کیونکہ چین خطے کے حالات اور امریکی رویے کے اثرات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان حالیہ پیش رفت کا بنیادی کردار ہے تاہم اس کے لئے یہ قطعاً ضروری نہیں کہ امریکہ سے تعلقات بگاڑے جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ علاقائی ترقی اور متعدد بڑے منصوبوں کے لئے خطے کا امن لازمی ہے۔ اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان نے اپنے لئے نئے اتحادی تلاش کرلئے ہیں۔بہرحال تمام تر خدشات کے باوجود یہ اطلاعات کافی خوش آئند ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آنے کے تمام امکانات میں سنجیدہ ہیں۔


بہت سے تجزیہ کار پُرامید ہیں کہ امریکی دبائو کے باوجود خطے کے حالات بتدریج بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر میجر (ر) محمدعامر نے کہا ہے کہ پاکستان پر امریکہ کے لگائے گئے الزامات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ امریکہ کے ساتھ موجودہ نام نہاد اتحاد کے خاتمے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے، اس کا انحصار ختم ہو جائے گا بلکہ ہمارے لئے مہذب اور پاکستان دوست ممالک کے ساتھ نئے تعلقات کے ایک بہترین دور کا آغاز بھی ہو گا۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں کہا کہ امریکہ کے اپنے سابق سٹیشن ڈائریکٹر اور سی آئی اے کے ایک سابق سربراہ نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارے ساتھ جو تعاون کیا، اسی کی بدولت ہم افغانستان سے طالبان حکومت اور القاعدہ ختم کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ ہم نے بدلے میں پاکستان کو نظرانداز کیا، اس پر شک کیا اور اس کے ساتھ تعاون کے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن المیزان سے لے کر بعد کی تمام کارروائیوں کے دوران پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر بیان کردہ ڈبل گیم کا ریاستی سطح پر مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق افغانستان کا امن سرے سے امریکی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا اور نہ ہی وہ اب چاہتا ہے کہ وہاں امن اور استحکام ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یہاں کے عوام کبھی بھی افغانستان کے مخالف نہیں رہے اور نہ ہی افغان حکمرانوں اور عوام نے پاکستان کو کبھی اپنا دشمن سمجھا۔ اس کی بڑی مثال دو جنگوں کے دوران افغانستان کا بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ وہ رویہ ہے جب افغانستان نے مغربی سرحدوں کو محفوظ رکھا اور بھارت کو کوئی سہولت یا معاونت فراہم نہیںکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی دونوں برادر ممالک کو ایک دوسرے سے بدظن اور دُور کرنے کی تمام کوششیںناکام ہوں گی اور پاکستان نہ صرف ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے قیام میں اپنے طور پر اپنا مؤثر کردار ادا کرے گا بلکہ اپنے عملی اقدامات کے ذریعے ناراض بھائیوں کو گلے سے لگا کر امریکی اور بھارتی عزائم کو بھی ناکام بنائے گا۔ ان کہنا تھا کہ امریکہ کے رویے نے پاکستان کے لئے عالمی اور علاقائی سطح پر نئے دور کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ ہم اب چین اور روس سمیت بعض دوسرے اہم ممالک کے نہ صرف اتحادی ہیں بلکہ ہم امریکہ کے چنگل،حصار اور دبائو سے نکل آئے ہیں۔ انہوں مزید بتایا کہ نئے علاقائی منظر نامے کے تعین کے معاملے پر تمام ادارے، پارٹیاں اور عوام ایک صفحے پر ہیں اور ہم ایک نئے سفر کا آغاز کرنے والے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ خود اعتمادی اورخودانحصاری کا مظاہرہ کرکے افغانستان کے عوام کو بھائی سمجھ کر گلے لگایا جائے اور اس مقصد کے لئے کسی اور کی ترجیحات یا مفادات کے بجائے افغانستان اور پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ اس سلسلے میں میڈیا بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے تاکہ دوریوں اور خدشات کو ختم کیا جاسکے۔ ان کہنا تھا کہ کسی کو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ پاکستان اور افغانستان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
October

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم


پاک چین دوستی زندہ باد۔ وان سوئے وان سوئے

Wang Waye

ایک ایسی دنیا میں جہاں تشدد، جنگ و دشمنی کا ماحول ہو ایسے میں دو ممالک جو نظریاتی لحاظ سے یکسر مختلف ہوںلیکن ان کی دوستی دنیا بھر کے لئے ایک مثال ہو وہ پاک چین دوستی ہے۔ پاکستان اور چین نہایت قریبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی تعلقات کی بنا پر دنیا بھر میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات پچھلی سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس تعلق کی جڑیں نہایت گہری اور پائیدار ہیں جو کہ یقیناً دونوں ممالک کی قیادت کی سمجھ بوجھ اور مستقبل کے مشترکہ نقطہ نظر کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے۔


پاک چین دوستی کی ابتداء 21 مئی 1951 سے ہوئی ۔ پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا۔ اس سفارتی پیش قدمی کو چین نے کبھی نہ بھلایا۔ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دوطرفہ تعلقات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تمام موسموں اور حالات کے اتار چڑھائو کے باوجود قائم و دائم ہے۔ دراصل اس تعلق کو شروع ہی سے ایک دوسرے کی عزت اور ملکی مفادات کو محترم رکھنے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ لہٰذا دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں کی حمایت کی۔


بھارت کی چین کے ہاتھوں 1962 کی جنگ میں شکست سے جنوبی ایشیا کی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اسی زمانے میں پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی حد بندی کی بات چیت شروع ہوئی۔ دراصل اس وقت چین بھی دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ وہ اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ مناسب اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ امریکہ کی بھارت کو فوجی امداد نے پاکستان کو اتحادی بننے کی پالیسی سے بیزار کر دیا تھا۔ پاکستان یہ جان چکا تھا کہ بھارت کے امریکی ہتھیار نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے خلاف بھی استعمال کئے جائیں گے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان دنیا میں ایک آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی اپنانے کا خواہشمند بھی تھا۔ انہی ساری وجوہات نے پاکستان اور چین کو بہت قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرحدی حد بندی کے معاہدے پر مارچ1963 میں دستخط ہوئے۔ جس کے تحت پاکستان نے1,942کلومیٹر مربع میل کا سرسبز علاقہ حاصل کیا۔ اس معاہدے پر بھارت نے سخت اعتراض کیا۔ پاکستان اور چین نے فضائی تعاون کا معاہدہ بھی کیا جس کے تحت ڈھاکہ کینٹن
(Guangzhou)
شنگھائی فضائی سروسز کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس معاہدے کی اہمیت اس لئے بھی بہت زیادہ تھی کیوںکہ پاکستان سے اس معاہدے کی بنا پر چین نے ان تمام کوششوں کو پسِ پشت ڈال دیا تھا جو بین الاقوامی سطح پر چین کو تنہا کرنے کے لئے کی جارہی تھیں۔

pakchendostia.jpg
1965کی جنگ میں پاکستان کی چین سے دوستی نے بھارت پر ایک دبائو رکھا۔ جب 16ستمبر کو چین نے بھارت کو الٹی میٹم دیا کہ اگر تین دن کے اندر بھارت نے سکم چین سرحد سے اپنی فوج نہ ہٹائی تو نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔ اس وقت چینی الٹی میٹم نے مغربی پاکستان کے سیالکوٹ سیکٹر سے فوجی دبائو کم کرنے میں مدد کی۔ اس چینی پالیسی سے روس اور امریکہ کے رویے میں بھی تبدیلی آئی اور دونوں ممالک نے پاکستان اور بھارت پر زور ڈالا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت جنگ بندی پر عمل کریں ۔ چین کی اس پالیسی سے جنوبی ایشیا میں امن کی کوششوں کو تقویت ملی۔


صرف یہی نہیں 1966 میں جب امریکہ نے پاکستان پر فوجی سازوسامان کی ترسیل بند کی اس وقت بڑی تعداد میں چینی ہتھیار جن میں ایم آئی جی 15
اور ٹینک شامل ہیں یومِ پاکستان کی پریڈ میں نمائش کے لئے پیش کئے گئے۔ ساتھ ہی1966 میں دونوں ممالک کے درمیان120 ملین کی فوجی امداد کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ دراصل ان سارے تعلقات سے دنیا کو اور خاص طور پر پاکستان کے دشمن بھارت کو ایک واضح پیغام دیا گیا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ کھڑا ہے۔
تعلقات میں اہم سنگِ میل شاہراہ ریشم کا راستہ کھلنا تھا۔ جس نے چین کے صوبہ
(Xinjiang)
سنکیانگ کو وادی ہنزہ سے ملادیا تھا۔1969 تک شاہراہ قراقرم پر کام جاری تھا۔ اس شاہراہ پر تقریباً15000 پاکستانی اور چینی مزدوروں نے صبح شام کی انتھک محنت کے بعد تقریباً774کلومیٹر اور16,072 فٹ اونچائی پر کام مکمل کیا۔ شاہراہ قراقرم نے تعلقات کو مزید وسعت دی جو سیاسی تعلقات کے بعد معاشی ، فوجی اور معاشرتی تعلق کی صورت میں وسیع تر ہوگئی۔


پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک عظیم حصہ وہ تاریخی کردار ہے جس کو نہ صرف چین نے بلکہ دوسرے ممالک خاص طور پر امریکہ نے بھی سراہا۔ پاکستان نے امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کسنجر
(Henry Kissinger)
کے بیجنگ کے خفیہ دورے کے انتظامات کئے۔ جس کی وجہ سے بالآخر چین امریکہ سفارتی تعلقات قائم ہوسکے۔ انہی تعلقات کی وجہ سے امریکہ نے چین کی اقوامِ متحدہ میں رکنیت کی مخالفت ترک کی اور چین اقوامِ متحدہ کا ممبر اور سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بن سکا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے چین اور عرب دنیا خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ اس پاکستانی کردارکو چین نے کبھی فراموش نہیںکیا۔ چین نے شروع ہی سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ۔ خاص طور پر اقوامِ متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور بار بار پاکستان کی اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل میں حمایت کی۔ خاص طور پر جب امریکہ نے بھارت کو سلامتی کونسل کا ممبر بنانے کی کوششیں شروع کیں تو چین نے شروع ہی سے اس کی شدید مخالفت کی۔


1971 کی پاک بھارت جنگ کی چین نے مخالفت کی کیونکہ چین جنوبی ایشیا میں تسلط کی سیاست کی مخالفت کرتا آرہا تھا۔ چاہے وہ تسلط کسی عالمی طاقت کا ہو یا اس کے کسی اتحادی کا۔1971 کی جنگ میں چینی کردار صرف ہتھیاروں کی ترسیل تک محدود رہا۔


70کی دہائی کے آخری حصے میںبھارت کے ساتھ چین کے تعلقات کی بہتری سے پاکستان کچھ پریشان ضرور ہوا لیکن چین کے ساتھ اس کے تعلقات میں کمی نہ آئی۔ ٹھیک اسی زمانے میں جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد اور جواب میں افغان مجاہدین کی جنگ، امریکہ کا اس خطے میں ساز وسامان کے ساتھ مدد اور پاکستان کا افغانستان جنگ میں کردار اور اس کے ساتھ ہی خطے میں ایرانی انقلاب کی وجہ سے پاکستان اپنے داخلی اور بیرونی مسائل میں شدت سے گِھر گیا۔ امریکی امداد کی وجہ سے کچھ عرصے کے لئے چین بھارت تعلقات میں بہتری پیداہونے لگی لیکن یہ بہتری وقتی ثابت ہوئی۔
90کی دہائی میںپاک چین تعلقات میں وقتی تعطل ختم ہوا اور ایک بار پھر گرم جوشی پیدا ہوئی۔ چین نے پاکستان کی تقریباً ہر شعبے میں مدد کی۔ اس وقت چین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ چین کی اس وقت سب سے بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ تجارت کا حجم 18بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان اور چین نظریاتی طور پر دو مختلف ممالک ہیں۔ پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ اور اسلام کے نام پر رکھی گئی ۔ جبکہ چین میں کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی پر مائوزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد 21ستمبر 1949 میں رکھی۔ 1950 کے بعد یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس سنہری ہفتے

(Golden Week)

کی تقریبات مرکزی

Tiananmen Square

میں منعقد ہوتی ہیں۔


دفاعی شعبے میں چین نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج کی مختلف شعبوں میں امداد کی۔ خاص کر پاکستان کی دفاعی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے
(Heavy Mechanical Complex)
ٹیکسلا کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ چینی معاونت سے کامرہ میں ٹینک اور
Arms Plant
بھی لگایا گیا جبکہ 1986 میں
Heavy Electrical Complex
کا منصوبہ ہری پور میں شروع کیا گیا۔ پاکستانی افواج کی تینوں شعبوں میں چینی ہتھیاروں کی درآمد ہوئی جس میں بری اور بحری، زمین سے فضا میں نشانہ مارنے والے میزائل، ہلکے اور بھاری ہتھیار اور گولہ بارود شامل ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ٹینک کی صنعت میں خاص پیش رفت ہوئی اور نئی ٹینک ٹیکنالوجی خاص کر الخالد ٹینک چینی مشاورت اور معاونت سے تیار کیاگیا۔ دنیا کی تنقید کے باوجود پاک چین اشتراک سے مختلف میزائلوں کی ٹیکنالوجی کی بہتری میں بھی اہم پیش رفت ہوتی رہی۔
امریکہ بھارت نیوکلیئر ٹیکنالوجی برائے امن معاہدے کے بعد پاکستان نے چین کے ساتھ اس مخصوص نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے بات چیت کی جو بہت کامیاب رہی۔ چین نے پاکستان کے لئے نیوکلیئر توانائی کے پرامن استعمال کی پالیسی کی حمایت بھی کی اور اس کے حصول میں مدد کی۔
CHASNUPP-I
کا ایک پلانٹ پنجاب میں قائم کیا گیا۔ جبکہ
CHASNUPP-II
پروجیکٹ پر کام دسمبر 2005میں شروع ہوا۔
چین کی پاکستان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی شکل میں شروع ہوئی ہے۔ سی پیک سے پاکستان کا چین کے مغربی سنکیانگ صوبے سے بذریعہ شاہراہ رابطہ ہو جائے گا۔ جس سے معاشی ترقی کا ایک نیا دور منسلک ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ سی پیک منصوبہ سے پاکستان کے توانائی کے مسائل حل ہو جائیں گے اور اس کے ساتھ یہ منصوبہ شاہراہوں اور ریلویز کا ایک جال بچھا دے گا۔
سی پیک کے منصوبے کی بنیاد 2013میں رکھی گئی اور نومبر 2016 میں اس بڑے پروجیکٹ کے ایک حصے نے کام شروع کر دیا جب کہ کچھ اشیاء ٹرک کے ذریعے چین سے گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے مغربی ایشیا اور افریقہ کی منڈی میں بھیجی گئیں۔ اس کامیابی کے بعد چین نے اس منصوبے پر سرمایہ کاری میں اضافے کا عندیہ دیا جو اب 62بلین تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سی پیک کی کامیابی کے لئے پرامید ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سی پیک پاک چین دوستی میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا اور دونوں ممالک کو اس منصوبے کی تکمیل سے بے انتہا معاشی فوائد ہوں گے۔


معاشی تعلقات کی بنا پر چین پاکستان ایک ایسے سیاسی بندھن میں بندھ گئے ہیں جس کو سیاسی زبان میں اتحاد کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کی مخالفت بھارت اور امریکہ کی طرف سے شدت سے آئی کیوںکہ یہ دونوں ممالک چین کی بڑھتی ہوئی معاشی اور سیاسی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ بھارت کے لئے پاکستان کی سرزمین سے راستہ اس خوف میں مزید اضافہ ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے یہ چین سے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ممالک کا راستہ رہا ہے۔ ان علاقوں تک آسان رسائی براستہ پاکستان کم خرچ اور آسان ہے۔


پاکستان اور چین نظریاتی طور پر دو مختلف ممالک ہیں۔ پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ اور اسلام کے نام پر رکھی گئی ۔ جبکہ چین میں کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی پر مائوزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد 21ستمبر 1949 میں رکھی۔ 1950 کے بعد یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس سنہری ہفتے
(Golden Week)
کی تقریبات مرکزی
Tiananmen Square
میں منعقد ہوتی ہیں۔
پاکستان نے چین کے ابتدائی سالوں میں سیاسی حمایت کی۔ پاکستان نے اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود بھارت کو اس کی مغربی سرحدوں میں مستقل مصروف رکھا جس کی وجہ سے چین اس طرف نسبتاً کم مصروف رہا اور اس نے اپنا دھیان جنوب مغربی علاقوں کی طرف مبذول کیا۔ پاکستان کے ساتھ چین کو بھی اس دوستی سے فائدہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن کبھی بھی بھارت کی طرف نہ جھک سکا اور بھارت کا وہ خواب جس میں وہ خود کو جنوبی ایشیا کے علاقے پر اپنا تسلط یا علاقائی طاقت سمجھتا ہے کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔


حالیہ تناظر میں جبکہ امریکی صدر نے پاکستان کو افغانستان میں امریکی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سخت پالیسی کا اظہار کیا اور بھارت کو پاکستان کی جگہ افغانستان میں ایک اہم کردا دینے کی بات کی تو سب سے پہلے چینی سخت رد عمل سامنے آیا۔ جس نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں اور نقصانات پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان کی پالیسی کی تعریف کی۔ یہی حمایت اور حوصلہ افزائی ہے جس سے اس دوستی کی گہرائی اور پائیداری کا پتہ چلتا ہے۔ ایسے وقت میں چین کی حمایت نے جو اقوام متحدہ کا مستقل ممبر بھی ہے ان تمام امکانات کو بالکل محدود کر دیا ہے جس کے ذریعے پاکستان پر کسی قسم کی پابندی کا معاملہ زیربحث آ سکتا تھا۔ اسی لئے بھارت نے اس پالیسی بیان کو جو چین کی وزارت خارجہ نے پاکستان کی حمایت میں دیا، دہری اور دوغلی پالیسی قرار دیا۔


چین نے پاکستان کے ساتھ دوستی نبھائی۔ پاکستان کی ٹیکنالوجی، ہتھیار اور سرمایہ کاری کی فراہمی اور مختلف بحرانوں سے نکلنے میںخلوص سے مدد کی۔ اسی لئے پاک چین دوستی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی موسم یا وقت اسے کم نہیں کر سکا ہے۔بلکہ یہ دوستی سمندر سے گہری ہمالیہ سے اونچی شہد سے زیادہ میٹھی اور اب سی پیک معاہدے کے بعد اسٹیل سے زیادہ پائیدار اور مضبوط ہے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter