12
July
جولائی 2017
شمارہ:7 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ادارے ملکی سلامتی اور بقاء کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔ ملک کا ہر فرد اور سبھی ادارے باہم مل کر ریاست کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ لہٰذا ادارے جتنی تن دہی اور اولوالعزمی سے اپنے اپنے حصے کے فرائض انجام دے رہے ہوں‘ ریاست اُسی طرح سے ترقی اور وقار کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔ افواجِ پاکستان بھی دیگر اداروں کی مانند اپنے حصے کا کام جو کہ وطنِ عزیز کی جغرافیائی....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے....Read full article
 
 alt=
تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان
جون کے پہلے ہفتے میں چھ عرب ممالک جن میں سے تین یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا تعلق خلیج تعاون کونسل سے ہے، نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر کے اس کے ساتھ تمام زمینی اور فضائی روابط منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کا ساتھ دینے والے باقی تین عرب ممالک مصر، لیبیا اور یمن ہیں۔ بعد میں تین اور ممالک یعنی جبوتی، نائیجیریا اور مالدیپ بھی اس میں شامل ہو....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں بدلتی صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے طور پر جنم لیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں، سابق سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین مقابلے کے نتیجے میں دونوں طاقتوں نے اپنے ہاں اسلحے کے انبار لگانا شروع کردئیے۔ جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو دنیا کے مختلف ممالک علاقائی اقتصادی....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ظاہر ہے شہ رگ کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ ظلم و ستم کا شکار ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے شہری پُرسکون رہ سکیں۔ گویا ان کی بے قراری ایک فطری امر ہے۔.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انسان زندگی بھر سیکھتا ہی رہتا ہے ۔ اس کے سیکھنے کا عمل یا علم حاصل کرنے کا سلسلہ قبر تک جاری رہتا ہے۔ علم و تحقیق کی دنیا میں کوئی حرف ،حرف آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی انسان کامل علم کے حصول کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ میں ایک معمولی سا طالب علم ہوں ، سیکھنے کی دل میں آرزو ہے اور مکالمے پر یقین رکھتا ہوں۔ البتہ اس بات کا قائل ہوں....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
47ء میں تقسیم کے بعد بھارت کی فضا کبھی بھی مسلمانوں کے لئے سازگار نہیں رہی تاہم جب سے نریندر مودی ا ورا ن کا ٹولہ برسراقتدار آیا ہے مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر نفرتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اوریہ سرزمین ان پر اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ملک میں.....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
دریا، پہاڑ، سمندر، صحرا،زر خیز زمین اور چارموسم۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جواگرکسی ملک کے پاس ہوں تو وہاں کے باشندوں کو خوش قسمت خیال کیا جاتا ہے کیونکہ ان چھ عناصر کی موجودگی میں معیشت خود انحصاری کی راہ پر رواں دواں رہتی ہے اور عوام خوشحال رہتے ہیں نیز بہتر طرز زندگی کی ضمانت اور ذرائع روزگار بھی ہمہ وقت میسر ہیں- چونکہ مضبوط اورمستحکم معاشی حالات پرسکون معاشرے کو....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
خدا نے انسان کو فیصلے کرنے کا کتنا اختیار دیا ہے؟ انسان اپنے معاملات میں کس قدر آزاد ہے؟ اگر سب کچھ کاتب تقدیر نے لکھ ڈالا ہے تو پھر انسان کی آزادی کے کیا معنی ہیں اور اگر اس کی آزادی خدا کی منشا کے تابع ہے تو پھر اس سے بازپرس کیوں کر ہو گی؟ یہ وہ مسائل ہیں جن پر صدیوں سے بحث جاری ہے مگر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس مسئلے پر بہت دلچسپ انداز میں ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
چُھٹی سے زیادہ دلفریب لفظ شاید فوجی ڈکشنری میں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ چھٹی کی مثال عسکری زندگی کے صحرا میں ایک ہرے بھرے نخلستان کی مانند ہے جس کے تصور سے ہی روزمرہ کی کٹھنائیوں کی شدت کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ سپاہی کی زندگی چچا غالب کی طرح ہزاروں خواہشوں کا مرقع نہیں ہوتی بلکہ لے دے کر اس کی سوچ کا ....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
آپ کے ملک میں سب باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں؟میری روم میٹ کی جانب سے انتہائی غیر متوقع سوال تھا ۔ وہ میرے عقب میں دائیں طرف والے بستر پر بیٹھی مجھ سے مخاطب تھی جبکہ میں کل کی کانفرنس کی تیاری میں مقالہ دہرانے کے بجائے اپنے بستر پر بیٹھی نیا جوڑا استری کر رہی تھی۔ ہم دونوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے چوبیس گھنٹے تو ہو چکے تھے لیکن سلام ،صبح بخیر،.....Read full article
 
تحریر : وقاراحمد
مناماٹا کنونشن ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جو انسانی صحت اور قدرتی ماحول کو مرکری کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لئے تشکیل دیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے زیرِ سرپرستی اس معاہدے پر 19 جنوری2013 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط ہوئے اور اسی سال اکتوبر میں جاپان کے شہر کما موٹو میں مناماٹا کنونشن کی باقاعدہ توثیق کردی گئی۔ اس کنونشن میں پاکستان سمیت دنیا کے 128 ممالک دستخط کر چکے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر عاطف منصورملک
اگر آپ اکبری دروازے سے اندرون لاہو ر میں داخل ہوں تو تنگ بازار سے گزر کر محلہ سریاں والا آتا ہے۔ غازیا علم دین شہید کا گھر اِسی محلے میں تھا، انہی کے نام پر اب وہا ں کا چوک موسوم ہے۔ اس چوک سے بائیں جانب مڑ کر کوچہ چابک سواراں سے گزرتے جائیے تو آگے محلہ ککے زئیاں آتا ہے۔ ککے زئی اسے عرفِ عام میں بڑی گلی کہتے ہیں۔ گو کہ یہ گلی اتنی تنگ ہے کہ کسی مرگ پر جنازہ .....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
آج ہم اپنے مضمون میں ایک ایسے تجربے کا ذکرکرنا چاہتے ہیں جو عمر بھر کے لئے ہمارے دل و دماغ پہ ثبت ہوگیا ہے۔ ہمیں وہ دیکھنے کو ملا جس کا ہم شاید کبھی گمان بھی نہ کرسکتے ہوں۔ اگر چہ2015 میں بھی ہم نے اس کی جھلک دیکھی تھی۔ مگر اس بارہم خود اس کا حصہ تھے لہٰذا ہمیں قریب....Read full article

تحریر: مجاہد بریلوی
لندن میں ہوں۔ لاہور کے دفتر سے حکمِ حاکم آیا کہ یہاں کے الیکشن بہت دیکھ لئے اب ذرا برطانوی الیکشن دیکھنے جائیں۔ ایئرپورٹ سے میلوں کا فاصلہ طے کر تے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ راستے میں نہ کوئی جلسہ‘ نہ دھرنا‘ نہ پوسٹر‘ نہ بینر‘ یہ کیسا الیکشن ہے؟
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے........Read full article
 
تحریر: وثیق شیخ
چونڈہ کا محاذ اس لحاظ سے بہت منفرد اہمیت کا حامل ہے کہ باون سال گزرنے کے بعدبھی اس میدان جنگ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ وہ محاذ ہے۔ جہاں 1965 میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی۔ آج بھی قصبہ چونڈہ کے جوان ان ہی میدانوں میں سیر کرتے ہوئے اپنے بزرگوں سے جنگ کی ولولہ انگیز داستانیں سن کر اپنے خون کو گرماتے ہیں۔ جہاں بھارتی اور پاکستانی .....Read full article
 
تحریر: موناخان
نہ تو ہم جیمز بانڈ ہیں اور نہ ہی ہماری پچھلی نسل میں کوئی صحافی رہا ہے۔ یہ جسارت اپنے پورے خاندان میں ہم نے ہی کی ہے۔ یہ صحافت کا کیڑا کب سرایت کر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ جی تو بات ہو رہی تھی مشن نیپال کی۔ گزشتہ شمارے میں جس نیپال کی کتھا آپ کو سنائی تھی، اس کا اصل قصہ تو ابھی باقی ہے۔ فوج سے جلد ریٹائرمنٹ لینے والے بہت سے فوجی سکیورٹی ایجنسیز کھول لیتے ہیں یا کسی بڑے تھنک .....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
میڈم نور جہاں کا فنی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ ان تمام کا ذکریہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ میں اس وقت صرف میڈم نور جہاں کے اُن ملی نغموں کا ذکر کرتا ہوں جو ریڈیو پاکستان میں ہم نے مل کر پروڈیوس کئے۔آج جس نغمے کا ذکر ہے یہ 12 ستمبرکو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے شاعرتنویر نقوی ہیں۔....Read full article
 
تحریر: اسد عباس ملک
یہ مارچ کی ایک سہانی صبح تھی جب ہم کراچی سے براستہ حیدر آباد اور میر پور خاص عمر کوٹ (تھرپارکر) کے لئے روانہ ہوئے۔ میرپور سے گزرتے ہوئے روڈ کے دونوں طرف آموں کے بور بھرے سرسبز باغ ہمیں بیک وقت بہار اور گرمیوں کی آمد کا پتہ دے رہے تھے۔ میلوں پھیلا ہوا سبزہ، ہلکی سنہری چادر اوڑھے گندم کے کھیت اور ان میں رزق حلال کی تپسیا کرنے والے افراد ایک منظر .....Read full article
 
تحریر: عثمان انصاری
پاک بحریہ بحرِ ہندکی ایک طاقتور اور تجربہ کار بحری قوت ہے جو کہ بحرِ ہند میں امن اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ انفرادی سطح پر پاک بحریہ بحر ہند کے شمال میں بحیرہ عرب میں امن و استحکام کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔ بحیرہ عرب کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ سمندر خلیجی اور عالمی ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کا اہم راستہ ہے....Read full article
12
July

تحریر: عثمان انصاری

پاک بحریہ بحرِ ہندکی ایک طاقتور اور تجربہ کار بحری قوت ہے جو کہ بحرِ ہند میں امن اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ انفرادی سطح پر پاک بحریہ بحر ہند کے شمال میں بحیرہ عرب میں امن و استحکام کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔ بحیرہ عرب کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ سمندر خلیجی اور عالمی ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کا اہم راستہ ہے ۔علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے میں پاک بحریہ کی کاوشوں میں اہم ترین چیز دیگر بحری افواج کے ساتھ مشترکہ تعاون ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کثیر الملکی ٹاسک فورس
CTF-150
اور
CTF-151
کی اہم رکن ہے۔ان دونوں ٹاسک فورسز کا مقصد بحیرہ عرب میں میری ٹائم سکیورٹی ، دہشت گردی اور بحری قزاقی کی روک تھام کرنا ہے۔یہ ٹاسک فورسز اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان میں30مختلف ممالک شامل ہیں جو اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ پاک بحریہ کی ان ٹاسک فورسز میں شمولیت خطے میں امن کے استحکام میں ایک اہم ترین کاوش ہے اورپاک بحریہ ان سر گرمیوں میں مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام کو کس قدر اہم تصور کرتی ہے۔ انہی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ایما پر پاک بحریہ کو ان ٹاسک فورسز کی کمانڈ کا تجربہ متعدد بارحاصل ہوا ہے جو کہ پاک بحریہ کی خطے کے لئے خدمات کا ثبوت ہے۔ اگرچہ یہ خطہ عدم استحکام کا شکار ہے تاہم پاکستان نیوی کے کردار اور مشترکہ کوششو ں کی وجہ سے سمندروں میں صورتحال پرسکون ہے اور ہر قسم کی جہازرانی آزادانہ طریقے سے ہو رہی ہے۔ لہٰذا یہاں یہ مناسب ہوگا کہ اس پورے منظر نامے میں پاکستان نیوی کی کاوشوں پر روشنی ڈالی جائے ۔

pakbehriayabehre.jpg
ستمبر 2001ء میں افغانستان جنگ کے دوران بحیرۂ عرب میں بھاری بحری قوت صف بستہ نظر آئی تاکہ اس آپریشن میں مدد فراہم کی جاسکے، تاہم ضرورت اس امر کی بھی تھی کہ کسی بھی دہشت گرد کو فرا ر ہونے اور سمندری راستے سے ممکنہ طور پر خلیجی ممالک یا اس کے اطراف میں پہنچنے سے روکا جاسکے۔ اکتوبر 2002ء میں فرانسیسی رجسٹرڈ آئل سپر ٹینکر لمبرگ پر ہونے والے حملے نے جبکہ لمبرگ یمنی پورٹ آف عدن میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا، علاقائی جہازرانی کو درپیش خطرات اور اس طرح عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کو پوری طرح آشکار کر دیا ، جو کہ اس حملے کا اصل مقصدبھی تھا۔اگر بحری گزرگاہوں اور بندرگاہوں کو محفوظ نہیں بنایا گیا اور سمندروں میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا گیاتو عالمی معیشت کو اس کا شدید نقصان پہنچے گا۔ اس طرح بحیرۂ عرب اور اس کے اطراف کے پانیوں کو خصوصاََ خطرے کی زد میں تصور کیا جاتا تھاکیوں کہ خلیجی ممالک کو جانے والے توانائی اور تجارتی راستے یہیں سے نکلتے ہیں۔ اس لئے پورے خطے کو محفوظ بنایا جانا ضروری تھا تاہم یہ کسی بھی طرح کوئی آسان کام نہیں تھاکیوں کہ اس خطے کی وسعت کے باعث کوئی بھی نیوی تن تنہا اس کی نگرانی اور حفاظت کرنے کی اہل نہیں تھی۔
CTF-150
دراصل امریکی نیول ٹاسک فورس کے طور پرجود میں آیالیکن 2002ء میں یہ ایک کثیر القومی بحری قوت میں تبدیل ہوگیا جو بنیادی طور پر امریکی ، نیٹو کے چند یورپی اتحادیوں اور جاپان پر مشتمل تھی۔
پاکستان نیوی نے 2004ء میں
CTF-150
میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت سے اس کا ایک اہم ترین رکن ہے، پاک بحریہ نے پہلی مرتبہ 2006ء میں
CTF-150
کی قیادت سنبھالی اور اس کے بعد سے تاحال نو مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر چکی ہے۔
CTF-150
ایک وسیع علاقے کی نگرانی کی ذمہ دار ہے جہاں سے جہاز رانی کے مصروف ترین راستے گزرتے ہیں(دنیا کے ایک تہائی خام تیل کی ترسیل انہی راستوں سے ہوتی ہے) ۔ یہ علاقہ
2 Million
مربع میل سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں خلیج عمان، خلیج عدن، بحیرۂ احمر اور شمالی بحیرۂ عرب شامل ہیں۔ اس خطے سے مکمل واقفیت کے سبب پاکستان نیو ی
CTF-150
کا اہم ترین حصہ ہے۔
سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ کے گزشتہ دورۂ بحرین کے دوران امریکی نیول فورسز سینٹرل کمانڈ
(NAVCENT)
کے کمانڈر وائس ایڈمرل کیون ایم ڈونیگن نے اس حقیقت کا واضح الفاظ میں اعتراف کیا۔
NAVCENT
بذاتِ خود امریکی سینٹرل کمانڈ
(CENTCOM)
کا حصہ ہے جس کے تحت کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا قیام عمل میں آیا۔ ایڈمرل ذکاء اللہ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور بشمول دوطرفہ بحری اشتراک اور بحرِ ہند میں سکیورٹی کے معاملے سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایڈمرل ڈونیگن نے پاکستان نیوی کے افسروں اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور علاقائی سکیورٹی اور استحکام کے قیام میں پاک بحریہ کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے اس ضمن میں بیشتر کامیابی کو خطے میں پاک بحریہ کی مسلسل موجودگی سے منسوب کیا جس نے خطے میں آزادانہ جہاز رانی کے لئے محفوظ ماحول برقرار رکھا۔ سکیورٹی کے اعلیٰ معیار کی بدولت نہ صر ف سمندر میں دہشت گردی کے واقعات کا خاتمہ ہوا بلکہ دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے میں اگرچہ
CTF-150
کا اہم کردار رہا ہے تاہم 2000 ء کے درمیانی عشرے میں جنم لینے والے سکیورٹی کے نئے خطرات کے حوالے سے اس میں ایک امر واضح ہوا کہ یہ بحری قذاقی سے نمٹنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔ صومالی بحری قزاقوں کی جانب سے پہلے پہل ہورن آف افریقہ کے اطراف اور بعد ازاں بحرِ ہند میں حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں ایسے واقعات سے نمٹنے کا مطالبہ سامنے آیا۔ جس کے نتیجے میں 2009ء میں ایک خصوصی ٹاسک فورس
CTF-151
کا قیام عمل میں آیا۔
پاک بحریہ نے
CTF-150
میں اپنے کارہائے نمایاں اور خطے کے امن واستحکام کے لئے پاکستان کی ناگزیر حیثیت کو تسلیم کروانے کے لئے ٹاسک فورس 151 میں فوری شمولیت اختیار کی اور ٹاسک فورس کی کمانڈ کرنے والی خطے کی اولین بحری قوت ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور اس کے بعد بھی وہ کئی مواقع پر یہ اہم ذمہ داری ادا کرتی رہی ہے۔
پاک بحریہ نے دھیرے دھیرے بحری قزاقوں کی کارروائیوں کو ناکام بنانا شرو ع کردیاجس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی راہداری جس کا گزر باب المندب سے خلیجِ عمان کی طرف ہوتا تھا، محفوظ ہوتا چلا گیا۔ اس ضمن میں پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کو اقوام متحدہ کے کونٹیکٹ گروپ برائے بحری قزاقی میں باقاعدگی سے شرکت کی دعوت دی جاتی رہی ہے ، جو صومالی بحری قزاقوں سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل
(Contact Group on Piracy)
کی قرارداد1851کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
اگرچہ دونوں کمبائنڈ میری ٹائم فورسز میں پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کی شرکت اکثر خبروں کی زینت بنی رہتی ہے مگر دونوں فورسز میں پاکستان کی شمولیت کا ایک اہم پہلو اس کے میری ٹائم پٹرول کرافٹ کی تعیناتی ہے۔ یہ پاک بحریہ کے نسبتاً غیر معروف اثاثے ہیں جوایک ہی مشن کے دوران سمندر کے وسیع علاقے کی نگرانی کی اہلیت رکھتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران فوری مدد کے لئے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایئر کرافٹ کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا اہم اثاثہ ہوتے ہیں جو صحیح صورتحال کا پتہ لگاتے ہیں، مدد کی ضرورت پڑنے پر متاثر ہ فریق سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور پھر بحرین میں قائم کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے ہیڈ کوارٹرزکو یہ تمام معلومات ارسال کرتے ہیں ۔
سمندری نگرانی کے حوالے سے لانگ رینج پی تھری سی اورین پاک بحریہ کا اثاثہ ہیں ۔ پی تھری سی یا اس کی دوسری اقسام جو کمبائنڈ میر ی ٹائم فورسز کے دیگر پارٹنرز تعینات کرتے ہیں، سے مطابقت کے سبب پاکستانی اورین فلیٹ ایک فطری انتخاب ہے۔
کمبائنڈ میری ٹائم فورسز150-اور151کے آپریشنز میں حصہ لینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان آپریشنز میں حصہ لینے سے مقامی بحری افواج کی استعداد اور تربیت میں اضافہ ہوا ہے جس سے علاقائی بحری افواج کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔اس نقطہ نظر سے پا ک بحریہ ایک تجربہ کار بحری قوت گردانی جاتی ہے کیونکہ پاک بحریہ خلیجی ممالک کی کئی بحری افواج کو تربیت دے چکی ہے اور اس کے تربیتی اداروں میں علاقائی بحری افواج کے کئی آفیسرز آج بھی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دیگر بحری افواج کے ساتھ پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کی انجام دہی کے ذریعے پاک بحریہ کی صلاحیتو ں میں اضافہ ہواہے۔ لیکن کئی علاقائی بحری افواج انفرادی طور پر بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی جیسے جڑواں خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ( اور کچھ افواج اپنے محدود حجم اور وسائل کے سبب یہ اہلیت کبھی بھی حاصل نہیں کرسکتیں) ۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کا میری ٹائم مزاحمتی آپریشنز
(Maritime Interdiction Operations)
کی انجام دہی کے لئے سمال بوٹ انٹرڈکشن ڈرلز،سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز،ہیلی کاپٹرز کے ذریعے انجام پانے والے آپریشنز اور بحری جنگی جہازوں کی مہارتوں جیسی صلاحیتوں پر عبور اہم ہے۔ مزید برآں، زیادہ سے زیادہ باہمی رابطے حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور علاقائی افواج کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جس کے یقیناًمثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں اور پاک بحریہ اس سے بھر پور مستفید ہوئی ہے۔
مختصراً یہ کہ پاک بحریہ کی خطے میں مسلسل موجودگی نے اسے سب کے لئے محفوظ بنادیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی 90فی صد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے تاہم دیگر علاقائی ریاستیں خصوصاً خلیجی ممالک جو اپنی خوراک کا 80فی صد بذریعہ سمندر حاصل کرتی ہیں بھی یقیناًاس بحری امن سے مستفید ہو رہی ہیں۔ یہ صرف پاکستان کے ہی مفاد میں نہیں کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے عزم پر کار بند رہے بلکہ پاک بحریہ کی کاوشیں تمام علاقائی ممالک کے لئے بھی سود مند ہیں۔ پاک بحریہ کی کاوشوں کی بدولت یہ سب پر واضح ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور بحری امن کو یقینی بنانے کے سلسلے میں عالمی سطح پرکی جانے والی مشترکہ کوششوں کا اہم حصہ ہے ۔
اس تمام منظر نامے میں پاکستان کے کردار کے بغیر کمبائنڈ میری ٹائم فورسزکے مشن کی تکمیل ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

 
12
July

تحریر: اسد عباس ملک

یہ مارچ کی ایک سہانی صبح تھی جب ہم کراچی سے براستہ حیدر آباد اور میر پور خاص عمر کوٹ (تھرپارکر) کے لئے روانہ ہوئے۔ میرپور سے گزرتے ہوئے روڈ کے دونوں طرف آموں کے بور بھرے سرسبز باغ ہمیں بیک وقت بہار اور گرمیوں کی آمد کا پتہ دے رہے تھے۔ میلوں پھیلا ہوا سبزہ، ہلکی سنہری چادر اوڑھے گندم کے کھیت اور ان میں رزق حلال کی تپسیا کرنے والے افراد ایک منظر پیش کر رہے تھے۔ شہر کی چکا چوند اور شور سے بھری زندگی سے دور یہ منظر نہایت سکون بخش تھا کہ خالق نے اس دھرتی کو کتنے موسموں، کتنے رنگوں اور کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ انہی نعمتوں سے بینائی کو سیراب کرتے جب ہم عمر کوٹ کے تاریخی شہر پہنچے تو سہ پہر ہو چکی تھی۔ مگر ہمیں اپنا سفر جاری رکھنا تھا اور یوں عمر کوٹ سے شمال کی جانب دو گھنٹے مزید سفر کرنے کے بعد ہم اپنی منزل مقصود یعنی ڈاہری نامی گاؤں پہنچے۔ جہاں ہمارے میزبان ہمارے منتظر تھے۔ دن ڈھل چکا تھا اور پاکستان اور انڈیا کے بارڈر پر واقع صحراے تھر کا یہ گاؤں میلوں پھیلے اونچے نیچے ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک عجیب منظر پیش کر رہا تھا۔۔ مقامی لوگوں کے مطابق 1965 کی جنگ میں اسی بارڈرسے پاکستان کی بری فوج نے انڈیا کے اندر گھس کردشمن کے قریباً 20 کلو میٹر رقبے پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر 1971کی لڑائی میں بزدل دشمن نے جب بارڈر کراس کرتے ہوے اس علاقے پر قبضہ کرنا چا ہا تو مقامی آبادی نے اپنی فوج کے ساتھ مل کر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ایک مقامی بزرگ چاچا جمعن نے اس مڈبھیڑ کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے انہوں نے دشمن کی فوج سے اپنی جان بچائی تھی۔

sehratharkbatchy.jpg
’’میں اس وقت کافی جوان تھا، شاید 25سال کا تھا۔ کیونکہ بارڈر پر فائرنگ ہورہی تھی اس لئے بارڈر کے قریب رہنے والے لوگوں کو عمر کوٹ شہر کی طرف ہجرت کرنے کو کہا گیا تھا، تاکہ دشمن کی کسی بھی جارحیت سے مقامی ہندو اور مسلمان آبادی کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ میں اپنی بکریوں کے ریوڑ کو لے کر آ رہا تھا جب اچانک فائرنگ شروع ہوئی اور دشمن کی طرف سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں میری پانچ بکریاں ہلاک ہو گئی تھیں جب کہ میں نے ریت کے ایک ٹیلے کی اوٹ میں لیٹ کر خود کو فائرنگ سے بچایا تھا ۔‘‘ چاچا جمعن کے مطابق وہ وہاں اس وقت تک لیٹا رہا تھا جب تک پاکستانی فوج کی جوابی فائرنگ سے دشمن کی فائرنگ بند نہیں ہو گئی تھی۔ چاچا جمعن اب ایک دکان چلاتے ہیں ۔ اس دوران جب انہوں نے اپنی بات مکمل کی تو میں نے اپنے آس پاس بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کا بھی ایک ہجوم پایا۔ ان میں سے کچھ میری گود میں پڑے

DSLR

کیمرے کو اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے تو کچھ ماضی کے قصے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے بچوں کو بھی محفل کا حصہ بنانے کی غرض سے جب پوچھا کہ کون کون اردو میں بات کر سکتا تھا تو صرف دو بچوں نے ہاتھ کھڑے کئے۔ ان میں سے ایک کا نام سجاول تھا۔ سجاول ایک مقامی سکول میں پانچویں کلا س کا طالب علم اورمانیٹر تھا۔اس سے رسمی گفتگو کے بعد جب میں نے پوچھا کہ وہ بڑا ہو کر کیا بننا چاہتا ہے تو سجاول نے جواب دیا کہ وہ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اسے مزید کریدتے ہوے پا ک فوج میں شمولیت کی وجہ پوچھی تو سجاول کا جواب تھا کہ اسے پاک آرمی کے جوان بہت پسندہیں۔ کیونکہ وہ بہت بہادرہوتے ہیں اور انہوں نے ہر مشکل وقت میں اس کے گاؤں کے لوگوں کی حفاظت کی ہے۔ سجاول کے مطابق اس کے گاؤں کے باقی سب بچے بھی فوج میں ہی جانا چاہتے ہیں۔ میں نے جب اپنے مقامی میزبان سے کہا کہ وہ تھری زبان میں وہاں کھڑے بچوں سے پوچھے کہ ان میں سے کون کون پاک فوج میں جانا چاہتا ہے تو میری حیرت کی اس وقت انتہاء نہ رہی جب وہاں موجود بچوں میں ایک چھوٹی بچی نے بھی ہاتھ کھڑا کر رکھا تھا۔ میری ٹیم کے سب لوگ بھی یہ منظر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ ہمارے مقامی میزبان نے بتایا کہ تھرپارکر کے علاقے میں بارڈر پر بسنے والی آبادی میں گویا کہ تعلیم و دیگر بنیادی سہولتوں کا اشد فقدان ہے ، مگر اس کے باوجود یہاں نئی نسل میں سے اکثریت فوج میں جانا چاہتی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ معاشی استحصال اور محرومیوں کا شکار ان علاقوں میں صحت ، تعلیم ، روزگار اور پینے کے پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورتوں کے نہ ہونے کے باوجود جو ایک چیز ان لوگوں کو میسر ہے اوروہ ہے اس علاقے کا امن و امان اور تحفظ ۔ انڈیا کے بارڈر پر ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی یہ سمجھتی ہے کہ پاک فوج کی بدولت ہی وہ ان علاقوں میں دشمن کی توپوں کی زد میں ہونے کے باوجودآرام و سکون کی نیند سو سکتے ہیں اور کسی بھی قسم کے خوف اور خطرے کے بغیر اپنی روزمرہ کی معاشی و معاشرتی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ یہاں کے بچے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں اور فوج کو اپنا پسندیدہ ادارہ سمجھتے ہیں۔


ضرورت اس امرکی ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت ان علاقوں کی ترقی کی طرف توجہ دے اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ان علاقوں میں پانی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے۔ ڈاہری گاؤں اور اس کے اطراف میں واقع دوسرے علاقوں میں بھی تعلیمی سہولتوں کاشدیدفقدان ہے۔یہاں پانچویں جماعت کے بعد تعلیم کی سہولت موجود نہیں اور اکثر اوقات بچے بمشکل ہی پانچویں تک تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ جب کہ بچوں ، با لخصوص بچیوں کی ایک بڑی تعداد دن بھر پانی بھر کر لانے میں مصروف رہتی ہے۔ لہٰذا تھرپارکر کے بچوں اور بچیوں کی تعلیمی ضروریات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بچے بھی پڑھ لکھ کر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
July

تحریر: محمداعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اُس وقت کے پروڈیوسر ریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

میڈم نور جہاں کا فنی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ ان تمام کا ذکریہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ میں اس وقت صرف میڈم نور جہاں کے اُن ملی نغموں کا ذکر کرتا ہوں جو ریڈیو پاکستان میں ہم نے مل کر پروڈیوس کئے۔آج جس نغمے کا ذکر ہے یہ 12 ستمبرکو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے شاعرتنویر نقوی ہیں۔ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں‘ مجھے بطور پروڈیوسر یہ انتخاب کرناہوتا تھا کہ آج کون سا نغمہ ریکارڈ کیا جائے۔ ملی نغمے تو ہمیں بے شمار موصول ہوتے مگر جنگی حالات و واقعات کے مطابق ہمیں ملی نغمے کا انتخاب روزانہ کرنا ہوتا۔میں ریکارڈنگ کے لئے سارا دن اپنی منتخب ٹیم کے ساتھ مصروفِ عمل رہتا۔بعض اوقات یہ کام رات گئے تک جاری رہتا کیونکہ ملی نغمے کے انتخاب سے لے کر ریکارڈنگ مکمل ہونے تک بہت سی مشکلات درپیش ہوتیں مگر جذبۂ ایمانی اور لگن کی وجہ سے تمام امور بخوبی انجام پاجاتے۔ مجھے میڈم نور جہاں اکثر کہتیں کہ اعظم میاں تم کتنے انتھک انسان ہو‘ کام کرتے چلے جاتے ہو‘ تھکتے نہیں ۔ یہ سب کچھ اﷲ پاک کی مجھ پر مہربانی تھی کہ اتنے بڑے کام کا ذمہ لیا ہوا تھا‘ اس کو پورا کرنا میرا فرض تھا۔ یہ سب کچھ اپنی پیاری‘ نڈر اور بہادر افواجِ پاکستان کے لئے تھا۔ وہ محاذ پر اپنی ڈیوٹی دے رہی تھیں‘ اور میں ثقافتی محاذ پر اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔
تنویر نقوی نے یہ ملی نغمہ ہمیں لکھ کر بھیجا’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ آپ خود دیکھیں کہ کس طرح تنویر نقوی نے شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو۔ یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی
یہ شفق رنگ لہو
جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی‘ جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی
دُور جس صبح درخشان سے اندھیرا ہوگا
رات کٹ جائے گی‘ گل رنگ سویرا ہوگا
اپنی رفتار کو اب اور ذرا تیز کرو
اپنے جذبات کو کچھ اور جنوں خیز کرو
ایک دو گام پر اب منزلِ آزادی ہے
آگ اور خوں کے اُدھر امن کی آبادی ہے
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
میں نے اپنی پوری ٹیم اور میڈم نور جہاں کی مدد سے ان اشعار کو موسیقی کی مدد سے پُراثر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنی اس کوشش میں کامیاب فرمایا۔ بہادر افواج پاکستان کے شہیدوں کالہو رنگ لایا اور ہم ہر محاذ پر کامیاب ہوئے ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا کرم تھا کہ تعداد میں ہم سے زیادہ فوج کی موجودگی کے باوجود ہم نے اور ہماری بہادر افواجِ پاکستان نے اپنے جذبہ ایمانی سے ہر محاذ پر دشمن کو عبرت ناک شکست سے دور چار کیا اور دُنیا نے یہ سب کچھ دیکھا۔ یہ ہماری فوجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے اور ہمیں اپنی اس قربانی کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔ ملک پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور یہاں کا ہر باشندہ اپنے ملک کے لئے خاص نظریات رکھتا ہے ہمیں اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی ہر حالت میں حفاظت کرنی ہے۔ اور عہد کرنا ہے کہ اپنے پاک وطن کے لئے وقت آنے پر اپنی جان تک قربان کردیں گے۔

 
 
12
July
تربت میں پاک بحریہ کا نیا ا ئیر اسٹیشن فعال کر دیا گیا

گزشتہ دنوں تربت میں قائم نیول ائیر اسٹیشن پی این ایس صدیق کی فعالی کی تقریب تربت بلوچستان میں منعقد ہوئی۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس نیول ائیر اسٹیشن کی فعالی پاک بحریہ کو نہ صرف وقت کے تقاضوں کے عین مطابق میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز میں مدددے گی بلکہ سمندری دہشت گردی اوربحری قذاقی کی روک تھام کے لئے کی جانے والی پاک بحریہ کی کاوشوں میں بھی معاون ثابت ہو گی۔ اس ائیر اسٹیشن کے نو تعمیر شدہ رن وے کو جدید تقاضوں کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے اور یہ پاک بحریہ اور دیگر فوجی اداروں سمیت سول ایئرلائنز کے بڑے جہازوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر کہا کہ یہ اہم نیول بیس وطنِ عزیز کے دفاع کے حوالے سے پاک بحریہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کا باعث ہوگی جس کی بدولت بحیرہ عرب میں مزید بحری استحکام پیدا ہوگا اور خصوصاََمغرب کی سمت ہمارے اسٹریٹجک پھیلاؤ میں معاونت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیول ایئر اسٹیشن تربت کا دہرا استعمال بحری دفاع کے ساتھ ساتھ اقتصادی طور پر بھی مفید ثابت ہوگا۔ تقریب کے دوران ایک شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ بھی پیش کیا گیا جس میں پاک بحریہ کے پی تھری سی ایئر کرافٹ ، زیڈ نائن ای سی اور سی کنگ ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔ تقریب میں پاک بحریہ سمیت دیگر اعلی فوجی حکام اور اعلی سول شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newspakbehriaster.jpg

12
July
چیف آف آرمی اسٹاف کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات
گذشتہ دنوں برطانوی ہائی کمشنر مسٹر تھامس ڈریو ؂ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ سے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں شخصیات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔

newsukhighcommisioner.jpg

ماحولیات کا عالمی دن
پاک بحریہ ہر سال باقاعدگی سے ماحولیات کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس سلسلے میں متعدد سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن کا مقصد پاکستان میں ماحولیات کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور عوام الناس اور متعلقہ اداروں میں ماحولیات بالخصوص سمندری ماحول کے حوالے سے آگاہی پید ا کرنا ہے۔ ان سرگرمیوں میں اس دن کی اہمیت پر لیکچرز، خصوصی بینرز کی تیاری، مضمون نویسی، نقشہ نویسی کے مقابلے ، بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں صفائی کی مہمات شامل تھیں جن میں پاک بحریہ کے علاوہ مقامی افراد نے بھی حصہ لیا۔ رواں برس ماحولیات کے عالمی دن سے متعلق منعقدہ تقریبات کے موقع پر چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ ماحولیات خصوصاََبحری ماحول کی بہتری کے لیے ہر ممکن کاوشیں جاری رکھے گی۔

newsukhighcommisioner1.jpg

12
July
پاک افغان بین الاقوامی سرحد حفاظتی باڑ لگانے کا عمل شروع

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر پاک افغان سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلے میں باجوڑ‘ مہمند اور خیبر ایجنسیوں میں باڑ لگائی جارہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں جہاں پاک افغان سرحدی علاقہ ہے‘ وہاں حفاظتی باڑ لگائی جائے گی۔ حفاظتی باڑ کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور ایف سی کے پی پاک افغان سرحد پر پوسٹیں اور قلعے بھی تعمیر کررہی ہے جس کا مقصد سرحدی نگرانی کو مزید بہتربنانا ہے۔ محفوظ سرحد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ امن و استحکام کے لئے بارڈر کوآرڈینیشن میکنزم ضروری ہے۔

newspakafghanhifbar.jpg

چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ پارا چنار

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار کُرم ایجنسی کا دورہ کیا۔ جہاں اُنہیں سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعہ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف قبائلی عمائدین اور دھرنے کے نمائندوں سے ملے اور شہداء کے ایصالِ ثواب کے لئے دعاکی۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرون ملک تھے اور واپسی پر خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر اُن کا دورہ پاراچنار تاخیر کا شکار ہوا۔ انہوں نے کمانڈر پشاور کور اور آئی جی ایف سی کومتاثرین کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور ہم ان شاء اﷲ کامیاب بھی ہوں گے۔ دشمن ہمیں تقسیم نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہمارے عزم کو پست کرسکتا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے ایف سی کے پی اور مقامی انتظامیہ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ایف سی کے 126 بہادر جوان کرم ایجنسی میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی فرائض میں 387 زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایف سی کے پی ایک پیشہ ور فورس ہے جس میں تمام قبیلوں اور فرقوں کی نمائندگی ہے اور وہ بے لوث انداز میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔
اس موقع پر قبائلی عمائدین نے پاک فوج پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں اور ہمارا خون اپنی سرزمین پر قربان ہے۔ ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں۔
چیف آف آرمی سٹاف نے احتجاجی دھرنے کے شرکاء کا موقف سنا اور انہیں یقین دلایا کہ سلامتی سے متعلق عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی مسائل ایگزیکٹو باڈی کے ذریعے حل کئے جائیں گے جبکہ سکیورٹی امور کے متعلق تجاویز پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ ہم اسی صورت میں مؤثرثابت ہوسکتے ہیں جب مقامی افراد بھی سکیورٹی اور نگرانی کا حصہ ہوں گے۔

اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے درج ذیل اعلانات کئے۔انہوں نے کہا کہ
* اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں، جن کے مقامی سہولت کاروں اور اعانت کرنے والوں کو گرفتار کرلیاگیا ہے اور ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
* پارا چنار میں سکیورٹی بڑھانے کے لئے اضافی فوج کے دستے تعینات کردئیے گئے ہیں جبکہ پاک افغان بارڈر کو مؤثر انداز میں سیل کرنے کے لئے ایف سی کے اضافی دستے بھی تعینات کئے جارہے ہیں۔ طوری رضاکاروں کو بھی چیک پوسٹوں پر سکیورٹی کے لئے ساتھ ملایا جارہاہے۔
* لاہور اور اسلام آباد کی طرح پارا چنار میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے سیف سٹی‘ منصوبے کا آغاز کیا جائے گا۔
* سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے۔ فاٹا کے زیادہ حساس علاقوں میں پہلے مرحلے میں باڑ لگائی جائے گی جبکہ بلوچستان سمیت پاک افغان سرحد پر مکمل طور پر دوسرے مرحلے میں باڑ لگائی جائے گی۔
* ایف سی کے دستوں کی جانب سے دھماکے کے بعد مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لئے فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور ذمہ داران کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ایف سی کمانڈنٹ کو پہلے ہی تبدیل کیا جاچکا ہے زندگی کا کوئی متبادل نہیں مگر فائرنگ سے شہید اور زخمی ہونے والوں کو ایف سی کی جانب سے علیحدہ زر تلافی ادا کیا جائے گا۔
* آرمی پبلک سکول پارا چنار کا نام میجر گلفام شہید کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے اور اس کو کیڈٹ کالج تک اپ گریڈ کیا جائے گا۔
* پارا چنار میں پاک آرمی کی جانب سے ٹراما سنٹر قائم کیا جائے گا جبکہ سول انتظامیہ کی جانب سے بہتر طبی سہولیات کے لئے مقامی سول ہسپتال کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
* حکومت نے متاثرین پارا چنار کے لئے ملک کے دیگر حصوں کے متاثرین کی طرح معاوضے کا اعلان کیا ہے کیونکہ تمام پاکستانی برابر ہیں۔
* پاک فوج فاٹا کو مرکزی دھارے میں لائے جانے کی پوری حمایت کرتی ہے جس کا آغاز ہوچکا ہے اور امن و استحکام کے لئے اس پر جلد عمل درآمد ضروری ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے مزید کہاکہ ملک میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے پاک فوج اپنی کوشش جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کی دوسری طرف افغانستان میں خطرہ اب بھی موجود ہے کیونکہ داعش وہاں اپنے قدم جما رہی ہے۔ ہمیں فرقہ واریت کے خلاف متحد، ثابت قدم، تیار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز قومی اتحاد اور اتفاق کی عکاس ہیں اور ہم ایک قوم ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے پاک افغان بارڈر حکام کے درمیان روابط اور سکیورٹی کے تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

newspakafghanhifbar1.jpg

12
July
چیف آف آرمی سٹاف کاعیدالفطر پر لائن آف کنٹرول کا دورہ
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عید الفطر لائن آف کنٹرول پر فرائض انجام دینے والے جوانوں کے ساتھ منائی۔ انہوں نے نماز عید لائن آف کنٹرول پر تعینات افسران اور جوانوں کے ساتھ ادا کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کی خوشحالی کے لئے دعائیں کی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے لائن آف کنٹرول پر تعینات دستوں کے بلند حوصلے‘ عزم و ہمت اور آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہا۔

newscoaseidloc.jpg

11
July
چیف آف آرمی سٹاف کا ایس ایس جی ٹریننگ ایریا تربیلا کا دورہ

گذشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایس ایس جی ٹریننگ ایریا کا دورہ کیا۔ اس ٹریننگ میں نائیجیرین سپیشل فورسز بٹالین کو پاک فوج ایس ایس جی ٹیم نے آٹھ ہفتوں پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی تربیت فراہم کی۔ ٹریننگ میں 440 بشمول 26 افسران شامل تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے ٹریننگ کے معیار کو سراہا اور کہا کہ دہشت گردی ایک لعنت ہے جس کا سب کو مل کر سدِباب کرنا ہوگا۔

newscoasvisittossgtarbela.jpg

11
July
چیف آف آرمی سٹاف کا دورہ لائن آف کنٹرول
گذشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول مظفر آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں سرحد پار سیز فائر کی خلاف ورزی اور لائن آف کنٹرول سے متعلق اہم معاملات پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جوانوں سے ملے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بلند حوصلوں کو سراہا۔

newscoasviscontrloline.jpg

کمانڈر پشاور کور کا کرم اور خیبر ایجنسی کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کرم اور خیبر ایجنسی کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں علاقے کی صورت حال سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ بعدازاں کور کمانڈر جوانوں سے ملے اور اُن کے بلند حوصلوں اور عزم کی تعریف کی۔

newscoasviscontrloline1.jpg

11
July

تحریر: مونا خان

آخری حصہ

نہ تو ہم جیمز بانڈ ہیں اور نہ ہی ہماری پچھلی نسل میں کوئی صحافی رہا ہے۔ یہ جسارت اپنے پورے خاندان میں ہم نے ہی کی ہے۔ یہ صحافت کا کیڑا کب سرایت کر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ جی تو بات ہو رہی تھی مشن نیپال کی۔ گزشتہ شمارے میں جس نیپال کی کتھا آپ کو سنائی تھی، اس کا اصل قصہ تو ابھی باقی ہے۔ فوج سے جلد ریٹائرمنٹ لینے والے بہت سے فوجی سکیورٹی ایجنسیز کھول لیتے ہیں یا کسی بڑے تھنک ٹینک کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں ۔ فوج ایک نوکری ہی نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، جب فوجی ریٹائرڈ ہو جاتا ہے تو بسا اوقات بندے سے نوکری ڈھونڈنے میں بھول چوک ہو جاتی ہے۔ اور یہی بھول ہوئی 2014میں فوج سے ریٹائرڈ ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر سے۔ اسلام آباد بحریہ ٹاؤن میں رہنے والے کرنل صاحب نے اپنا سی وی نوکری کی تلاش میں انٹرنیٹ پر ڈالا ۔ ان کے سی وی میں کچھ اتنی مزیدار چیزیں تھیں جو کوسوں دور بیٹھے کچھ لوگوں کو بہت بھائیں ۔ جس میں سرفہرست یہ تھا کہ کرنل صاحب پاکستان کی خفیہ ایجنسی میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں ۔اب بندہ پوچھے جب ایجنسی تھی ہی خفیہ تو پھر سی وی میں لکھنے کی کیا ضرورت تھی لیکن بات وہی ہے کہ جب برا وقت آتا ہے تو ایسی ہی غلطیاں ہو جاتی ہیں جن کا پھر خمیازہ بھگتنا پڑ جاتا ہے۔سٹریٹ سلوشن نامی کمپنی نے کرنل حبیب سے رابطہ کیا اور آٹھ ہزار ڈالر تک ماہانہ کا پرکشش پیکج آفر کیا۔ جنوری 2017 سے ای میلز کا سلسلہ شروع ہوا۔ ای میلز میں مارک تھامسن نامی شخص نے خود کوسٹریٹ اسٹریٹجک سلوشن نامی کمپنی کا سینئر ریکروٹر ظاہر کیا۔ مارک تھامسن نے حبیب ظاہر کی سی وی موصول ہونے کے بعد انہیں انٹرویو کے لئے کھٹمنڈو بلایا۔ کرنل حبیب ظاہر کو کھٹمنڈو آنے کے لئے بزنس کلاس کی ٹکٹ دی گئی۔ حبیب ظاہر کو پرکشش مراعات کا جھانسہ دے کر باقاعدہ پھنسایا گیا۔ ای میلز کیرئیرز ایٹ سٹریٹ سلوشنز ڈاٹ بز
(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)
کے ای میل ایڈریس سے بھیجی گئیں۔ مارک تھامسن نے حبیب ظاہر کی رہائش کے لئے کھٹمنڈو میں حیات ریجنسی نامی ہوٹل میں بکنگ کروائی۔
حبیب ظاہر کو ای میل کے ذریعے ہوٹل بکنگ کنفرمیشن نمبر 226339 بھیجا گیا۔ حبیب ظاہر کے لئے کھٹمنڈو میں 6 سے 9 اپریل تک ہوٹل میں بکنگ کرائی گئی۔


لیفٹیننٹ کرنل( ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی کے بعد سے مارک تھامسن بھی منظر عام سے غائب ہوگیا اور سٹریٹ سلوشنز کی ویب سائٹ بھی بند ہے۔ واقعے کے بعد جب تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا گیا تو پتہ چلا کہ سٹریٹ سلوشنز ویب سائٹ کاہوسٹ سرور بھارت میں تھا۔ ویب سائٹ کو پروٹیکشن پرائیویسی پروٹیکٹ آسٹریلیا نامی کمپنی دے رہی تھی۔ جس برطانوی نمبر سے کرنل حبیب کو نوکری کے سلسلے میں کالز موصول ہوتی رہیں وہ برطانوی موبائل نمبر بھی جعلی نکلا۔ تب جا کر عقدہ کھلا کہ یہاں معاملہ کوئی اور ہے۔ سیدھا سادا جھانسہ اور مکمل معلومات کے بعد کسی کوپھنسانا کیا ہوتا ہے؟ یہ اِس ساری کہانی سے واضح ہو گیا۔ ایک کام کرنل صاحب ٹھیک کر گئے جو انھوں نے کھٹمنڈو ائیرپورٹ اور لمبینی ائیرپورٹ سے اپنے گھر والوں کو تصویر اور میسیج بجھوا دیا جس سے ان کا نیپال پہنچنا ثابت ہوا۔ کرنل حبیب ظاہر نے کھٹمنڈو ایئرپورٹ اور اپنے بورڈنگ پاس کی تصاویر واٹس ایپ کے ذریعے اہل خانہ کو بھیجیں۔ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کی ای میلز کا ڈیٹا جب چیک کیا گیا تو ساری ٹائم لائن سامنے آ گئی۔ 8 فروری کو موصول ای میل میں حبیب ظاہر کو 10 روز میں ایئرٹکٹ و دیگر دستاویزات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ 22 فروری کو ای میل کے ذریعے انٹرویو کا پہلا مقام تبدیل کرنے کی اطلاع دی گئی۔

 

missionnepal.jpgحبیب ظاہر کو انٹرویو کے نئے مقام سے بروقت آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ایک ای میل میں حبیب ظاہرکو بتایا گیا کہ انٹرویو پینلسٹ کوالالمپور پراجیکٹ میں مصروف ہے۔ عہدیدار کی مصروفیت کے باعث حبیب ظاہر کو مارچ کے تیسرے ہفتے تک انتظار کا کہا گیا۔ 4 اپریل کی ای میل کے ذریعے حبیب ظاہر کو موبائل پر انٹرنیٹ آن رکھنے کا کہا گیا۔ چار اپریل کی ای میل میں حبیب ظاہر کو اپنی لوکیشنز سے متعلق مسلسل آگاہ رکھنے کا کہا گیا۔ سولہ مارچ کو بھیجی گئی ای میل میں حبیب ظاہر کو اومان ایئرلائن کا بزنس کلاس ٹکٹ فراہم کیا گیا۔ ای میل میں حبیب ظاہر کو کھانے پینے اور سفری اخراجات کے بل سنبھال کر رکھنے کا بھی کہا گیا۔ بدھا ائیر ویز کے جہاز کے سامنے بنائی گئی تصویر کے بعد کرنل حبیب کو دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔ یہ وہ آخری تصویر تھی جو انھوں نے اپنے گھر والوں کو وٹس ایپ کی تھی۔


ہمارا نیپال جانے کا مقصد تھا کہ جو معلومات سامنے آئی ہیں اسکے فٹ پرنٹس سامنے رکھ کر یہ ثابت کرنا کہ کرنل حبیب کو کس نے پھنسایا اور کس نے اغوا کیا۔ کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر کو اغوا کرانے والے تینوں اہم کردار بھارتی نکلے۔ سفل چوہدری نامی بھارتی شہری نے حبیب ظاہر کے لئے ٹکٹ خریدا۔ یہ ٹکٹ پریشیسزٹریولز اینڈ ٹوورز کھٹمنڈو سے خریدا گیا۔ سفل چوہدری نامی بھارتی شہری نیپال میں لوکل ٹورسٹ گائیڈ ہے۔ صابو رجورا نامی بھارتی شہری نے حبیب ظاہر کے لئے ہوٹل میں بکنگ کرائی۔ صابو رجورا جلجلے نامی کمپنی میں مارکیٹنگ منیجر کے روپ میں کام کرتی ہے۔ ڈولی رینچن نامی بھارتی شہری نے کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر کو ایئرپورٹ سے ساتھ لیا تھا۔ یہ وہ معلومات تھیں جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھیں کہ کرنل حبیب کی گمشدگی اور اغوا میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے۔


ہم جب نیپال پہنچے تو آن ارائیول ویزہ لینے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پہلے سے ہی وہاں موجود’لوگ‘ الرٹ نہ ہو جائیں اور جس مقصد کے لئے ہم وہاں گئے ہیں وہ اس میں ہماریلئے رکاوٹیں کھڑی نہ کر دیں ۔ ائیرپورٹ پہنچ کر ہم چھ لوگوں نے آن ارائیول ویزہ لیا اور ہوٹل کی جانب گامزن ہوئے۔ نیپال میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے ہمارا کافی ساتھ دیا اور ہر ممکن مدد بھی کی۔ لیکن نیپال میں بھارت کا اثر بہت زیادہ ہے۔ نیپال کی سیاست میں بھی بھارت کا عمل دخل ہے۔ نیپال جیسا لینڈ لاکڈ ملک جو کھانے پینے کی اشیاء بھارت کے ساتھ زمینی راستوں سے درآمد کرتا ہے، وہاں بھارت آنے جانے کے لئے کسی ویزہ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی بھارتی شہری کو نیپال آنے کے لئے ویزہ کی ضرورت ہے۔ بھارت نیپال سرحد پر کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی امیگریشن نہیں، بس دو چوکیاں آمنے سامنے بنی ہوئی ہیں ۔ پہلے دن صرف گھوم پھر کر جگہ کا جائزہ لیا۔ دوسری صبح کھٹمنڈو سے لمبینی کے لئے فلائٹ لی۔ مقصد یہ تھا کہ جو بھارت کے ساتھ سرحدی مقام ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر جائزہ لیں اور کچھ وڈیوز بنا لیں ۔ ہچکولے کھاتی فلائٹ لمبینی پہنچی تو بھیروا ائیرپورٹ جس کو گوتم بدھا ائیر پورٹ بھی کہا جاتا ہے ‘کی تصاویر بنائیں ۔ پھر معلومات کے مطابق سنولی کراسنگ پوائنٹ ، جو ائیر پورٹ سے صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا، وہاں جانے کے لئے ٹیکسی ہائر کی۔ سنولی سرحد کے قریب پہنچے تو شکر ہے ٹیکسی والے نے بروقت بریک لگا ئی کیونکہ اگر وہ کراس بھی کر لیتا تو ہمیں تب پتہ چلتا جب ویلکم ٹو انڈیا کا بورڈ نظر آتا۔ خیر وہاں اتر کر تصاویر بنائیں ۔ بھارت آنے جانے والے لوگوں کی وڈیوز بنائیں ۔ ہمارے اور بھارت کی سرحد کے درمیان صرف چند فٹ کا ہی فاصلہ تھا۔ اتنے میں سرحدی چوکی پر موجود پولیس والے کی نظر ہم پر پڑی۔ ایک تو ہم دیکھنے میں نیپالی یا بھارتی نہیں لگ رہے تھے اور دوسرا ہم وڈیو بنا رہے تھے۔ اس نے آکر پوچھا کہ سرحد پر آپ کس کی اجازت سے وڈیوز بنا رہے ہیں؟ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ بھیا تمہاری وڈیو بنا رہے ہیں اس لئے کہانی بنانے میں ہی عافیت جانی اور کہا کہ سارک ممالک کی تجارت پر سٹوری کر رہے ہیں اس لئے بارڈر فوٹیج بنا رہے ہیں۔‘‘ اس کو جواب تھوڑا تسلی بخش لگا اور وہ چلا گیا۔ لیکن پانچ منٹ بعد ہی اس کو سامنے والی چوکی (بھارت) کی جانب سے اشارہ ہوا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ تو وہ دو تین مزید پولیس افسران کے ساتھ آیا اور بولا آپ کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر جانا پڑے گا اجازت لے کر آئیں ،معاملہ تھوڑا سنجیدہ ہو رہا تھا۔ رسک بھی تھا۔ ہمیں سرحد پار لے جانے میں ان کو دو منٹ بھی نہ لگتے اور ہم جو آئے تھے کرنل حبیب کی رپورٹنگ کرنے، کوئی ہماری گمشدگی کی رپورٹ کر رہا ہوتا۔ ہم نے اسے یقین دلایا کہ ہم ابھی ڈی سی آفس جا کر اجازت لے کر آتے ہیں۔ بس وہاں سے جان چھڑا کر بھاگے اور لمبینی گیٹ پر پہنچ کر دم لیا۔ وہاں جا کر ایز لائیو ریکارڈ کروائے جو ٹی وی پر چلنے تھے۔ اس کے بعد رخ کیا ’کالی دہا‘نامی سرحدی چوکی کا۔ وہاں جانے کا خیال اس لئے آیا کیونکہ کرنل حبیب کے پاس جو نیپال کا موبائل نمبر موجود تھا اس کے آخری سگنل ’کالی دہا‘نامی سرحد کے قریب مایا دیوی مندر کے احاطے میں لگے ٹاور سے ملے تھے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ ڈولی رینچن نامی بھارتی شہری نے جب کرنل حبیب کو ائیر پورٹ سے لیا تو بجائے اس کے کہ وہ سنولی سرحد سے جاتا اس نے لمبا رستہ اختیار کیا جو کہ ائیرپورٹ سے تقریباً 25کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مندر تک تو ہم آرام سے پہنچ گئے۔ مندر سے ’کالی دہا‘ سرحد کا فاصلہ سات منٹ کا تھا لیکن ٹیکسی ڈرائیور سے جب کہا کہ ’کالی دہا‘ جانا ہے تو اس کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ ہم وہاں جائیں۔ ہم چھ لوگ دو ٹیکسیوں میں سوار تھے۔ ایک ٹیکسی والے نے تو سیدھا انکار کر دیا کہ میں ادھر نہیں جا سکتا اور نہ جانے کی اس نے وجہ نہیں بتائی۔ جس ٹیکسی میں ہم سوار تھے اس ٹیکسی والے نے بھی یہی کہا کہ ’’میڈم!کچا سا راستہ ہے اور ادھر اتنی آمدورفت بھی نہیں ہے ، اگر آپ لوگ جائیں گے تو فوراً نظر میں آ جائیں گے اور کچھ ہوا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘ اس نے بہت واضح الفاظ میں تنبیہہ کر دی تھی۔ تحقیقاتی صحافت کا جذبہ اتنا تھا کہ رسک کی پروا کئے بغیر میں وہاں جانا چاہتی تھی، لیکن میرے ساتھ آئے پانچ صحافیوں نے مجھ اکیلی لڑکی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے سمجھایا کہ جب ٹیکسی والا لے کر نہیں جا رہا تو ہم کیسے جا سکتے ہیں؟ اور ایسے میں ہم بھی تمہیں نہیں جانے دیں گے۔ ’’لو بات ہی ختم ہو گئی۔ ایک تو ہمارے معاشرے میں لڑکی کا انویسٹیگیٹو صحافی ہونا بھی اچنبھا ہے ساتھ والے آپ کی حفاظت میں ہی لگے رہتے ہیں۔ خیر میں نے زیادہ بحث نہیں کی اور ٹیکسی والے سے کہا کہ بھیا پیسے لے لو مجھ سے اور ہمیں ائیرپورٹ چھوڑ کر تم کالی دہا کی تصاویر بنا کر مجھے وٹس ایپ پر بھیجنا ‘‘ ٹیکسی والا بھی یقیناًان کی ایجنسی والا ہی تھا وہ اس بات پر بھی نہیں مانا۔ ہم ائیر پورٹ پہنچے واپس کھٹمنڈو کی فلائٹ لی۔ کھٹمنڈو پہنچ کر اگلی صبح پاکستانی سفیر کا انٹرویو کیا اور اس کے بعد تھامل نامی بازار جہاں بہت سے دفاتر بھی قائم تھے، وہاں کا رُخ کیا۔ بھارتی کردار جن دفاتر میں کام کرتے تھے، ان کی ریکی کی، باہر سے جاکر اور تصاویربنا کر جگہ کو اسٹیبلیش کیا تاکہ جب رپورٹ بنائیں تو تمام تصاویری اور وڈیو ثبوت کے ساتھ دیں ۔ یہ ہمارا نیپال میں آخری دن تھا۔ صرف ایک خلش تھی کہ کالی دہا سرحد پر نہیں جا سکی لیکن پھر سوچا جو ہوتا ہے اچھا ہوتا ہے۔

 

بہرحال تمام معلومات اور پھر اس کے بعد آنکھوں دیکھے حال کے بعد بھارت کا اثرو رسوخ، بھارتی ایجنسیوں کا نیپال میں کردار، کھلی سرحدیں، کرنل حبیب ظاہر کو پھنسانے میں بھارتی ویب سائٹ، بھارتی کردار، موبائل فون کا بھارتی سرحد کے قریب جا کر سگنل ختم ہونا یہ تمام ثبوت یہ ثابت کرنے کے لئے بہت تھے کہ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کو’ را‘ نے باقاعدہ جال بچھا کر پھنسایا اور اس کا مقصد کرنل حبیب کو پاکستانی جاسوس ظاہر کر کے کلبھوشن کیس میں کلبھوشن یادیو کو بچانے کے لئے یہ ہتھکنڈا استعمال کرنا تھا لیکن کرنل حبیب کے گھر والوں کی بروقت ایف آئی آر اور پاکستانی میڈیا پر کرنل حبیب کی نیپال سے گمشدگی کی خبر سے بھارت اس کہانی پر کھیل نہیں سکا۔ نیپال میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے بھی بروقت نیپالی دفتر خارجہ کے ساتھ معاملہ اٹھا لیا۔ نیپالی پولیس رپورٹ کے مطابق کرنل حبیب نیپال میں نہیں ہیں اور وہاں موجود خفیہ ایجنسیز ان کے اغوا میں ملوث ہیں۔ لیکن نیپال نے سرکاری طور پر پاکستانی سفارت خانے کو ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں دی اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے۔ کیونکہ2010 میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک اہلکار کو سفارت خانے سے صرف چند قدم کے فاصلے پر آٹھ گولیاں ماری گئیں اور اس واقعے کی رپورٹ آج تک نیپالی حکومت کی جانب سے نہیں دی گئی کہ گولیاں کس نے ماریں۔ کرنل حبیب کے کیس میں بھارت کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ لیکن میڈیا نے اس واقعے کو اسٹیبلش کرنے میں کردار ادا کر دیا کہ کرنل حبیب ظاہر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے قبضے میں ہی ہیں ۔

مونا خان ایک نجی نیوز چینل سے منسلک ہیں۔ فارن افیئرز اور ڈیفنس کارسپونڈنٹ ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
July

تحریر: وثیق شیخ

چونڈہ کا محاذ اس لحاظ سے بہت منفرد اہمیت کا حامل ہے کہ باون سال گزرنے کے بعدبھی اس میدان جنگ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ وہ محاذ ہے۔ جہاں 1965 میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی۔ آج بھی قصبہ چونڈہ کے جوان ان ہی میدانوں میں سیر کرتے ہوئے اپنے بزرگوں سے جنگ کی ولولہ انگیز داستانیں سن کر اپنے خون کو گرماتے ہیں۔ جہاں بھارتی اور پاکستانی افواج آٹھ روز تک ایک دوسرے سے نبردآزما رہیں۔


چند روز پہلے سٹاف کالج کوئٹہ کے زیرِ تربیت میجر رینک کے ساٹھ افسران پر مشتمل ایک وفد نے چونڈہ کا دورہ کیا۔ چونڈہ کے نوجوانوں نے اپنے بزرگوں کے ہمراہ پاک فوج کے آفیسرز کا پرتپاک خیرمقدم کیاا وراُنہیں محاذ چونڈہ کا دورہ کروایا۔ ہر مقام پر بزرگ جنگ کا آنکھوں دیکھا حال سناتے اور فوجی جوان چشم تصور میں ان مناظر کو دیکھتے جب ان میدانوں میں حق وباطل کا معرکہ لڑا جا رہا تھا۔ خوبصورت سفید داڑھی اور گورے چٹے 81سالہ رحمت اﷲ بٹ سٹاف کالج کی ٹیم کے ہمراہ اسی ریلوے لائن پر آہستہ آہستہ چھڑی ہاتھ میں لئے چہل قدمی کر رہے تھے۔ ایک فوجی افسر نے کہا ’’جناب جنگ کے بارے میں کچھ بتائیے۔‘‘ بزرگ نے ایک لمبا سانس لیا، آنکھیں نیم وا کیں جیسے چشمِ تصور سے محاذ جنگ پر جا پہنچے ہوں اور یوں گویا ہوئے: ’’صبح سویرے اہلیان قصبہ چونڈہ کی آنکھ ٹینکوں کے فائر کی آواز سے کھلی۔ لوگ ہڑبڑا کر اُٹھ گئے اور اپنے اہلِ خانہ کو اکٹھا کر کے تسلیاں دینے لگے کچھ نہیں ہو گا، لیکن اندر سے کچھ پریشان ہو گئے۔ گھر سے باہر صورت احوال جاننے کے لئے نکلے تو پاک آرمی کے جوان گلی گلی قصبہ خالی کرانے کا کہہ رہے تھے۔ مساجد میں اعلان ہو رہا تھا کہ بھارت نے حملہ کر دیا ہے، سب لوک قصبہ خالی کر دیں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ نوجوانوں نے اپنے اہل و عیال کو روانہ کیا اور خود قصبے کے باہر دفاع پر تعینات فوج کے شانہ بشانہ وطن پر جان دینے کے لئے شامل ہو گئے۔ فضا دھول اور دھوئیں سے تاحد نظر دھندلا گئی تھی۔‘‘

chwindakmahaz.jpg
’’اﷲ اکبر کے نعروں سے گونجتی فضا میں فوجی جوان فائر کرنے میں مصروف تھے۔ ہر فوجی جوان اپنی جگہ ہمت و شجاعت کی ایک مثال بنا ہوا تھا۔ اہلیان قصبہ اپنے جوانوں کی ہر طرح مدد کر رہے تھے۔ سامنے بھارتی ٹینک قطار در قطار آہنی دیوار بنائے چلے آ رہے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ بھارتی ٹینکوں نے دھوکہ دینے کے لئے اپنے ٹینکوں پر پاکستانی پرچم لگائے ہوئے تھے۔ تاکہ پاک فوج کو دھوکہ ہو کہ پاکستانی ٹینک ہیں۔ بہت جلد پاک فوج نے بھانپ لیا یہ دشمن کی چال ہے۔‘‘


بٹ صاحب مزید بولے کہ ’’پاک فوج کا ایک سپاہی بشیر جب پھلورہ کے پاس بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوا تو اس کو گرفتار کرنے والا بھارتی کرنل سپاہی بشیر کا کلاس فیلو تھا۔دونوں دوست بہت جذباتی طریقہ سے ملے، لیکن دشمن دشمن ہوتا ہے۔ بھارتی کرنل نے سپاہی بشیر کو کہا کہ افسوس میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔ سپاہی بشیر نے کہا مجھے کوئی گلہ نہیں اپنا فرض ادا کرو۔ لیکن دوسرے دن سپاہی بشیر بھارتی قید سے فرار ہو گیا اور دوبارہ اپنی فوج کے ساتھ مل گیا۔ چونڈہ کے اندر مساجد سے مسلسل سائرن کی آواز بلند ہو رہی تھی۔ جنگ کا ماحول چھایا ہوا تھا۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’بٹ صاحب کیا ٹینکوں کے نیچے بم باندھ کر لیٹنے والی کہانی سچی ہے؟ بٹ صاحب کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے گویا وہ ماضی میں اس لمحے کو دیکھ رہے تھے۔ بٹ صاحب نے اپنی سفید ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرا اور بتایا: ’’میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب 17ستمبر 1965 کو دوپہر کے وقت بھارتی حملہ بھرپور طریقے سے جاری تھا اور لگتا تھا کہ بھارتی فرسٹ آرمڈ ڈویژن اب ریلوے لائن عبور کر لے گا تو پاکستانی کمانڈر بریگیڈیئر عبدالعلی نے اپنے جوانوں کو ریلوے اسٹیشن پر اکٹھا کیا اور ایک مختصر تقریر میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اﷲ کی نصرت کے لئے اپنے وطن پر جان قربان کر دیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل دیں۔ کون کون اپنے وطن پر جان قربان کرنا چاہتا ہے؟ تمام فوجی جوانوں نے بیک وقت ہاتھ اٹھا دیئے۔ کمانڈر صاحب نے چند جوانوں کا انتخاب کیا اور ان کو دشمن کی صفوں میں گھس جانے کا ہدف دیا۔ پلک جھپکتے وہ سرفروش آنکھوں سے اوجھل ہو گئے اور دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ فضا بھاری دھماکوں سے گونج اٹھی اور بھارتی سنچورین ٹینکوں کے پرخچے اڑنے لگے۔ دشمن کا حملہ اچانک رک گیا وہ جگہ آج بھی نشان عبرت ہے جہاں بھارتی تین سو فوجی اجتماعی طور پر دفن کئے گئے جن کی لاشیں بھارتی فوج اٹھانا بھول گئی اور ان کی لاشیں گدھ اور کوے نوچتے رہے۔ جب تعفن زیادہ پھیلنے لگا تو پاک فوج نے وقتی طور پر ایک بڑا سا گڑھا کھود کر ان بھارتی سورماؤں کی لاشیں ایک ہی جگہ دبا دیں۔ چونڈہ ریلوے اسٹیشن کے پاس آج بھی وہ جگہ جوں کی توں موجود ہے۔‘‘ بعد میں ان لاشوں کو پورے فوجی احترام سے واپس کیا گیا۔
جنگی نقطہ نظر سے چونڈہ کی جنگ کا اگر تجزیہ کیا جائے تو داستان کچھ یوں ہے۔


8ستمبرکو بھارتی فرسٹ آرمڈ ڈویژن نے چھ ماؤنٹین ڈویژن، 14انفنٹری ڈویژن اور کئی انفنٹری بریگیڈز کی مدد سے تین کالم کی فارمیشن بناتے ہوئے چار واہ، باجرہ گڑھی اور نخنال سے پاک سرزمین پر اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ حملہ کر دیا۔ رینجرز کے محافظ چند گھنٹے داد شجاعت دے کر پیچھے ہٹ گئے۔ بھارتی ابھی چند سو گز کا فاصلہ طے کر پائے تھے کہ پاک فوج کے شیردل مجاہد قہر بن کر اپنے وطن کے دفاع کے لئے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ جنرل جگن ناتھ چوہدری (جس نے کبھی محاذ کا دورہ تک نہیں کیا تھا) کا بنایا گیا وار پلان جو چند گھنٹوں میں سیالکوٹ ڈسکہ روڈ پر پہنچنے کا تھا، اس کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوا۔ پاک فوج کے تین ہزار فوجی جوان ہزاروں بھارتی فوجیوں اور چار سو ٹینکوں کے آگے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے سینہ سپر ہو گئے۔ نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی کا جذبہ دل میں لئے شہادت کے طلب گار یہ جوان وہ کارنامہ سرانجام دینے جا رہے تھے کہ تاریخ کا طالب علم ہمیشہ انگشت بدنداں رہے گا۔ 325ٹینک اور ساری فوجی قوت صرف چند ہزار گز کا فاصلہ طے کر کے رک گئی اور بھارتی فوجی اپنے افسروں کا منہ دیکھنے لگے۔ گویا یہ سوال پوچھ رہے ہوں سر آپ تو کہتے تھے کہ پاکستانی اتنی بڑی قوت کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کریں گے، یہ تو ہمارے ہی ٹینکوں پر سوار ہو گئے ہیں، سر اَب کیا کریں؟


بھارتی کمانڈر پی کے دون نے مزید فوجی اور ٹینک ری انفورس کرنے کی اپیل کی جو منظور کر لی گئی۔ بھارتی فوج دو دن کی جنگ کے بعد گڈگور تک پہنچ گئی۔ پاک فوج اپنے کم وسائل اور کم نفری کے باوجود’’ لاسٹ مین لاسٹ بلٹ‘‘ کا ماٹو لئے دفاع کر رہی تھی۔ کرنل عبدالرحمن اپنی بٹالین کے شانہ بشانہ میدان میں ڈٹے ہوئے تھے اور لمحہ بہ لمحہ اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ گڈگور سے آگے پھلورہ کے مقام پر بھارتی سورماؤں اور پاک فوج کے شیروں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ کرنل عبدالرحمن نے اپنی جان وطن پر قربان کر دی اور ستارۂ جرأت حاصل کیا۔ بھارتی 17پونا ہارس کو پھلورہ حاصل کرنے کا ہدف ملا۔ کرنل تارہ پوری نے دو دن سرتوڑ کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی۔ پاکستانی ایئرفورس نے اپنی فوج کا بھرپور ساتھ دیا اور دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچائے رکھی۔ پھلورہ حاصل کرنے کے بعد بھارتی فوج نے چونڈہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ وہ کہاں جانتے تھے کہ چونڈہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بننے جا رہا ہے۔


چونڈہ کی جنگ اپنے اندر ہزاروں داستانیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ایسی داستانیں جن پر یقین کرنا محال ہے لیکن ہر داستان کے پیچھے صرف اور صرف حقیقت اور سچائی ہے۔چونڈہ کی جنگ جو سات دن جاری رہی اور یہ تو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح افواج پاکستان اور چونڈہ کے نوجوان شانہ بشانہ دفاع کرتے رہے اور جب وقت آیا تو فوجی جوان اپنے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے۔


14 تاریخ صبح چھ بجے لڑائی شروع ہوئی۔ 17پونا ہارس نے بھرپور حملہ کر دیا اور مدمقابل تھی پاک فوج کی 25کیولری
(Men of Steel)
پھلورہ کو بھارتی فوج نے کمان ہیڈکوارٹر بنا لیا۔ بریگیڈیئر علی اپنی تین رجمنٹوں اور تین بہادر کمانڈروں کے ساتھ چونڈہ کے دفاع کے لئے موجود تھے۔ بریگیڈیئر علی چونڈہ کے دربار کے ٹیلے پر کھڑے سارا میدان جنگ دیکھ رہے تھے اور اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ کرنل جمشید مغربی سمت کی طرف اپنی کمان سنبھالے ہوئے تھے تاکہ دشمن سیالکوٹ کی طرف بڑھنے کی جرأت نہ کر سکے۔ مشرقی طرف سے بھی افواج پاکستان نے بھارتی فوج کو گھیر رکھا تھا۔ فرسٹ آرمڈ ڈویژن جو بھارت کی سب سے بڑی جنگی مشین تھی، کسی سہمے ہوئے پرندے کی طرح چونڈہ کے پاس سے ریلوے لائن عبور کر نے کی سرتوڑ کوشش کر رہی تھی جو کسی طور کامیاب نہ ہو رہی تھی۔


بھارتی 17پونا ہارس رجمنٹ نے جو فرسٹ آرمڈ ڈویژن کا حصہ تھی، تین بڑے حملے کئے اور ہر بار کرنل نثار کی 25کیولری نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لہٰذا 17پونا ہارس اپنے تیس ٹینک صرف ان تین حملوں میں تباہ کروا کر ہانپنے لگی۔ کرنل تارہ پوری چونڈہ ریلوے سٹیشن کے پاس کرنل نثار کے ٹینک کے فائر کی زد میں آیا اور جان گنوا بیٹھا۔ جنگ کے بعد بھارت نے اپنی خفگی مٹانے کے لئے ناکام کمانڈر کرنل تارہ پوری کو بھارتی فوج کا سب سے اعلیٰ اعزاز ’’پرم ویر چکرا‘‘ دیا۔


سرزمین چونڈہ کے وہ میدان اور ریلوے لائن آج بھی جوں کی توں موجود ہیں جو بھارتی کمانڈر اور فورس کو ماضی کی عبرتناک شکست کی یاد دلاتے ہیں۔
اے سرزمین چونڈہ تجھے سلام!
پاک فوج تیری عظمت کو سلام!
اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے!

مضمون نگار چونڈہ کے قصبہ کے مستقل رہائشی ہیں۔

نگہبانِ وطن
یہ ہیں شانِ وطن
اور ہیں آنِ وطن
مہرباں ہے سخن
نیک تر ہے چلن
غازی یہ صف شکن
وار دیں گے بدن
نگہبانِ وطن
نگہبانِ وطن
یہ وطن کے امیں
واریں جانِ زریں
صف بہ صف ہم نشیں
آفریں‘ آفریں
یہ ہیں نعرہ زن
یہ ہیں مانِ وطن
نگہبانِ وطن
نگہبانِ وطن
سخت جان ‘ مہرباں
ہم نوا‘ ہم نشاں
پاک تن‘ پاک جاں
رب کی حفظ و اماں
وار کے تن بدن
سوئے دارِ عدن
نگہبانِ وطن
نگہبانِ وطن

سمیعہ نعمت

*****

 
11
July

تحریر: مجاہد بریلوی

لندن میں ہوں۔ لاہور کے دفتر سے حکمِ حاکم آیا کہ یہاں کے الیکشن بہت دیکھ لئے اب ذرا برطانوی الیکشن دیکھنے جائیں۔ ایئرپورٹ سے میلوں کا فاصلہ طے کر تے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ راستے میں نہ کوئی جلسہ‘ نہ دھرنا‘ نہ پوسٹر‘ نہ بینر‘ یہ کیسا الیکشن ہے؟
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
بات لندن میں الیکشن کے حوالے سے ہو رہی تھی اور اس پر مزید بات نہیں ہو گی کہ الیکشن کہیں کے بھی ہوں مدیر اعلیٰ ’’ہلال‘‘ سے طے ہو چکا ہے کہ کم از کم آپ کے جریدے میں یہ موضوع ممنوعہ رہے گا۔ لندن شہر کے حوالے سے جو میں کہہ بیٹھا کہ ’’کوئی ویرانی سی ویرانی ہے‘‘ تو اس پر مشہور اسکالر ڈاکٹر جانسن یاد آگئے جنہوں نے برسوں پہلے لندن پر کیسا تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’جو زندگی سے بیزار ہو وہ لندن چلا آئے‘‘۔ کسی بدبخت کی جہالت چٹخی تو جوابی سوال کیا ’’اور اگر لندن ہی سے بیزار ہو جائے تو؟‘‘ ڈاکٹر جانسن نے بڑی بیزاری سے جواب دیا ’’تو پھر سمجھیں وہ زندگی سے بیزار ہے‘‘۔ کہا جاتا ہے محبوب کا مزاج، لندن کا موسم اور پاکستان کی۔۔؟ یہ لیجئیے پھر اس کے آگے وہ لفظ آنے والا تھا جس پر پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ ’’شجر ممنوعہ‘‘ ہے۔ جہاں تک محبوب کے مزاج کا تعلق ہے تو عمر کے اس پہر میں ساری توجہ بیوی کے مزاج پر رہتی ہے۔ اور جو ہمارے شہر سے نکلتے ہی بے رحمی کی حد تک برہم رہتا ہے۔ حالانکہ وہ دن کب کے ہوا ہوئے کہ
؂ کیا زمانہ تھا اِدھر شام اُدھر ہاتھ میں جام
اب تو رستے بھی رہے یاد نہ میخانوں کے
اگر ان میخانوں یعنی پبوں کے پاس سے گزر بھی ہوتا ہے تو اس میں بیٹھی خوش جمالوں کو دور سے سلام کرتے ہوئے اپنی راہ پکڑتے ہیں۔ جو یوں بھی ان دنوں صراطِ مستقیم پر چل رہی ہے کہ ماہِ رمضان ہے۔ جی ہاں لندن بلکہ سارے برطانیہ میں ماشاء اللہ جس پاکستانی سے ملنا ہوا، اور جن کی تعداد اب 10 لاکھ کے لگ بھگ ہے‘ ایک دو کو چھوڑ کر سارے الحمدللہ روزے سے ہوتے ہیں۔ اور تو اور ہمارے مستقل میزبان بیرسٹر صبغت اللہ قادری کوئن کونسل یعنی
Q.C
کا اعزاز رکھنے والے کہ جو لندن میں اپنی شام کی دعوتوں کی شہرت رکھتے ہیں روزے سے ہیں۔ روزے اور پھر لندن میں۔۔ جی ہاں یہاں ساڑھے اٹھارہ گھنٹے کے روزے ہوتے ہیں۔
Scandinavian
ممالک میں تو یہ کھنچ کر 21 گھنٹے کے ہو جاتے ہیں۔ ایک ویب سائٹ پر پڑھ رہا تھا کہ برصغیر بلکہ ایشیائی ممالک سے آنے والے مسلمان جو 14/15 گھنٹے کا روزہ رکھنے کے عادی ہیں‘ مستند علماء کرام سے رجوع کر رہے ہیں کہ فن لینڈ میں تو معاملہ 22 گھنٹے تک آپہنچا ہے۔ یعنی کیا فرماتے ہیں علماء دین کہ ’’سحری اور افطار‘‘ کے وقت میں فرق بس گھنٹے کا ہی ہے۔ خوفِ خلقِ خدا کے سبب اس موضوع کو یہیں چھوڑتا ہوں کہ لندن کا موسم ’’ہائے لندن۔۔ وائے لندن‘‘۔۔ ایک زمانہ تھا کہ جس دن یہاں سورج نکلتا وہ گوروں کے لئے روزِ عید ہوتا مگر ادھر چند برسوں سے لندن کو بھی گرمی نے آلیا ہے۔لندن کی 38 ڈگری کی جھلستی گرمی میں جب ایئر پورٹ سے باہر نکلا سورج سوا نیزے پر تو نہیں تھا مگر اتنا ضرور تھا کہ سوئیٹر‘کوٹ اُتار پھینکے۔ مگر یہ صورتحال محض شام تک تھی۔ شام ڈھلتے ہی ہلکی بارش اور خُنکی اور پھر رات کے پہلے پہر میں پھر سے سوئیٹر پر کوٹ۔ جب تک یہ سطرآپ پڑھ رہے ہوں گے انتخابی نتائج آچکے ہونگے۔ 24 گھنٹے پہلے تک تو امریکہ کی طرح برطانوی الیکشن کے بارے میں سارے سروے اور میڈیا کے سرخیل ایک بڑے
Upset
کے منتظر تھے۔ یعنی مہینے بھر پہلے جو لیبر پارٹی 24 پوائنٹ پیچھے تھی، الیکشن سے ایک دن پہلے صورتحال یہ ہے کہ ٹوری 45.5 تو لیبر 44.5 ۔ ایک پرسنٹ کا فرق۔ یہ تو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ برطانوی الیکشن کی ہلکی سی بھی جھلک یہاں کے چوراہوں، سڑکوں اور بازاروں میں نظر نہیں آتی۔ سارا انتخابی معرکہ اخباروں اور اسکرینوں پر ہوتا ہے۔ جس روز لندن پہنچا اُس شب دونوں وزرائے اعظم کے درمیان
Debate
تھی۔ نامزد وزرائے کرام ایک طرف کھڑے تھے دوسری طرف اینکر اور اُن کے ساتھ سو کے لگ بھگ شرکاء جنہوں نے براہ راست بڑے چبھتے ہوئے سوال کئے اور بہرحال جواب بھی بڑے برجستہ آئے۔ الیکشن کے حوالے سے یہ دلچسپ بات بھی بتاتا چلوں کہ یہ گزشتہ 85 سال سے چاہے ضمنی ہوں یا قبل از وقت یا پھر 5سال بعدجمعرات ہی کے دن ہی کیوں ہوتے ہیں اس بارے میں مختلف کہانیاں بتائی جاتی ہیں مگر ایک مستند لندن والے دانشور نے بتایا کہ گورے پانچ دن ڈٹ کر کام کرتے ہیں جمعہ کی شام تنخواہ ملنے کے بعد اگلے دو دن ساری کمائی تفریح پر لٹا دیتے ہیں اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ چھٹی کے دو دنوں میں گوروں کی پہلی ترجیح تفریح ہی ہوتی ہے اور اگر ان دنوں الیکشن ہوں تو 25 فیصد بھی پولنگ کی طرف رخ نہ کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کے دن چھٹی بھی نہیں ہوتی۔ اسکول ، کالج اور بازار سب کھلے ہوتے ہیں۔ صبح سات بجے سے رات دس بجے تک کسی بھی وقت ووٹ کاسٹ کرلیں۔ اُس سے بھی زیادہ حیرت ناک بات میرے لئے یہ تھی کہ پولنگ ختم ہوتے ہی یعنی دس بجے بی بی سی نے اپنے
Exit
Poll
میں جو نتائج بتائے وہی اگلے دن سرکاری طور پر بھی سامنے آئے۔ اور جیسا کہ ابتداء میں لکھ چکا ہوں کہ یہ ساری دنیا کے لیئے
Upset
تھے
Poor
وزیراعظم تھریسا مئے کی ٹوری پارٹی بھاری اکثریت لینے کے بجائے سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر سکی۔ یعنی 326 ووٹ جو حکومت بنانے کے لئے اُسے چاہئے تھے اُس سے آٹھ ووٹ پیچھے جبکہ لیبر پارٹی جس کے 2015 کے انتخاب میں 223 امیدوار کامیاب ہوئے تھے اُس کے 262 امیدوار کامیاب ہوئے۔
Poor

ٹوری وزیراعظم اس تحریر لکھنے تک حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ یہ لیجئیے برطانوی انتخابات کی تفصیل میں میں اتنا آگے چلا گیا تو یہ بتانا بھول گیا کہ وہ گرمی جس کا میں نے ذکر کیا تھا اُس کی جگہ کھڑکی کے باہر سے خنک ہوائیں اور پھواریں پڑتی دیکھ رہا ہوں۔ ایسے میں اب کیا الیکشن ولیکشن کا ذکر۔۔ سوئیٹر پر کوٹ ڈال لیا ہے اور لندن برج کی جانب قدم بڑھ رہے ہیں۔ اور ہاں معاف کیجئیے گا ایک بار پھرخوفِ خلقِ خدا کے سبب اپنے ٹھکانے کی جگہ نہیں بتاؤں گا مگر کون نہیں جانتا کہ لندن کے اس خوشگوار موسم میں دو ہی مقام ایسے ہوتے ہیں جو بانہیں کھولے کھڑے ہوتے ہیں ایک پارک اور دوسرے ۔۔۔۔ جانے دیجیئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
July

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

آج ہم اپنے مضمون میں ایک ایسے تجربے کا ذکرکرنا چاہتے ہیں جو عمر بھر کے لئے ہمارے دل و دماغ پہ ثبت ہوگیا ہے۔ ہمیں وہ دیکھنے کو ملا جس کا ہم شاید کبھی گمان بھی نہ کرسکتے ہوں۔ اگر چہ2015 میں بھی ہم نے اس کی جھلک دیکھی تھی۔ مگر اس بارہم خود اس کا حصہ تھے لہٰذا ہمیں قریب سے اس پورے نظام کو سمجھنے کاموقع ملا۔


یہ ساری تمہید اس لئے ہے کہ قارئین جان سکیں کہ جمہوریت دراصل ہے کیا؟ انتخابات، ووٹ کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدوار کو چننا پولنگ کا عمل، گنتی، بیلٹ بکس، نتائج، یہ سارا عمل کیسے شفاف ،مہذب اور عمدہ طریقے سے ہوتا ہے، وہ ہم بیان کریں گے، نیز ہم یہ بھی عرض کردیں کہ اب ہمیں واقعی پتہ چل گیا کہ جمہوریت کتنی خوبصورت چیز ہے‘ اگر حقیقی ہو۔ ورنہ جمہوریت کا ڈراما تو ایک بھیانک عفریت سے کم نہیں جو غریب کی جان کے درپے ہے۔


9 مئی کو کینیڈا کے صوبے برٹش کو لمبیا میں صوبائی الیکشن تھے۔ اس الیکشن کی بازگشت تو مہینوں پہلے سے سنائی دے رہی تھی جب اُمیدواراپنے اپنے حلقوں میں مستعدی کے ساتھ متحرک تھے۔ امیدوار اپنے الیکشن آفس کا افتتاح کرتے ہیں جس میں اپنے ووٹرز اور حامیوں کو مدعو کرتے ہیں، تواضع ہوتی ہے۔ امیدوار ہر ایک سے نہایت عاجزی سے ملتا ہے، اپنا منشور بتاتا ہے اور یوں لوگ اپنا ذہن بنانے لگتے ہیں۔ یہ دعوتِ عام ہے مگر لوگ زیادہ تر اُسی امیدوار کے آفس جاتے ہیں جس پارٹی سے اُن کا تعلق ہو۔ اُمیدوار کے آفس میں اس کے ورکرز دن رات کام کرتے ہیں۔ لوگوں کو فون کرنا، ان کوپولنگ سٹیشن بتانا، یہ تمام کام رضاکارانہ طور پر ہوتا ہے یعنی رضاکار کوئی پیسہ نہیں لیتے، مفت میں ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کے آفس ہر الیکشن میں الگ ہوتے ہیں کیونکہ یہ کرایہ پر حاصل کئے جاتے ہیں۔ سڑکوں پر کیمپ لگانا یہاں کا رواج نہیں۔ ان بیچاروں کو معلوم ہے کہ سڑکوں پر تمبو گاڑ کر‘ کیمپ لگا کر ‘اونچی آواز میں ٹیپ چلا کر اپنی پارٹی کے گانے یاترانے لگانے سے کیا ہوتا ہے؟ٹرکوں پر چڑھ کر ہنگامہ آرائی کا بھی انہیں معلوم نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے جلسے بھی ہوتے ہیں مگر کسی ہال میں جہاں لوگ خوب جوش و خروش سے شریک ہوتے ہیں۔


9 مئی2017 کے الیکشن میں ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جو حکومت میں ہیں یعنی وزیر وغیرہ، مگر یہاں عجیب سسٹم ہے یعنی اگر کوئی حکومت میں ہے اور اگلے الیکشن میں حصہ لے رہا ہے تو وہ اپنی کرسی، اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتا۔ ایسے لوگ بھی جلسے کرتے ہیں مگر ان کے جلسوں میں امیدوار فرعون کے بجائے مسکین بنا نظر آتا ہے۔ ہر ایک کے پاس جا کر ہاتھ ملانا، اس کی خیریت معلوم کرنا اور رسمی گفتگو کرنایہاں کا طریقہ ہے۔ امیدوار کے چمچے ہوتے ہیں مگر اس کو گھیرے میں لے کر عوام کو دھتکار تے نہیں۔ حیرت انگیز طور پر اسلحہ نہیں ہوتا۔ پولیس بھی نہیں ہوتی نہ سیکورٹی گارڈ ز ہوتے ہیں۔2015 کے فیڈرل الیکشن میں ہم کئی تجربات سے گزرے تھے۔ اس بار سوچا کہ خود اس عمل میں حصہ لیں اور دیکھیں کہ یہاں انتخابات کیسے ہوتے ہیں۔ ہم نے الیکشن بی سی2017 کی ویب سائٹ کھولی تو وہاں الیکشن سٹاف کی اسامیاں خالی تھیں۔ واضح رہے کہ الیکشن سٹاف الیکشن سے بہت پہلے ہی چنا جاتا ہے۔ ویب سائٹ پر پوری تفصیل درج ہوتی ہے، ہر حلقہ، ہر حلقے کا الیکشن دفتر، وہاں کا فون نمبر، ای میل ایڈریس، افسر کا نام، سب درج ہوتا ہے۔ نیز معاوضہ بھی لکھا ہوتا ہے۔ ہم نے کئی حلقوں کے نمبر نوٹ کئے پھر سوچا خود جا کے اپنا
Resume
پیش کریں اوردیکھیں کہ بھرتی کیسے ہوتی ہے۔ ہم نے انٹرنیٹ سے فارم ڈاؤن لوڈ کیا، ساتھ اپنا
Resume
لگایا اور قریبی الیکشن آفس پہنچ گئے۔ انہوں نے ہم سے کاغذات لئے اور پوچھا انٹر ویو کے لئے کب آسکتی ہیں؟ ہم نے جھٹ کہا ابھی کرلیں انٹرویو۔ انہوں نے نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، ایک فارم پُرکرنے کو کہا اور پوچھا ہم کس دن ڈیوٹی دے سکتے ہیں؟

heqeeqihusneint.jpg
آپ حیران ہوں گے کہ الیکشن 9 مئی کو ہے تو پھر یہ کیسا سوال ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ایڈوانس پولنگ بھی ہوتی ہے، یعنی 9مئی کو جنرل الیکشن ڈے ہے باقی کچھ دن ویک اینڈ پر ایڈوانس پولنگ ہوتی ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم کسی بھی دن کام کرسکتے ہیں، دس منٹ کے بعد ہمیں انٹرویو کے لئے بلالیا گیا۔ اگر چہ ویب سائٹ پہ لکھا ہے کہ تجربہ ضروری نہیں لیکن اگر ہو تو اچھا ہے، پھر بھی انٹرویو میں پوچھتے ہیں کوئی تجربہ؟ ہم نے بتایا ہمیں کوئی تجربہ نہیں۔ دوچار سوالات کئے اور ہمیں 9مئی کے لئے ووٹنگ آفیسر منتخب کر لیا گیا۔ ووٹنگ آفیسر کی کیا ڈیوٹی ہوتی ہے، یہ ہم بعد میں بتائیں گے۔لیکن یہ ضرور بتادیں کہ ہم پر واضح کردیا گیا کہ الیکشن سٹاف کے لئے ضروری ہے کہ وہ آن لائن ٹریننگ حاصل کریں پھر ایک دن کلاس روم ٹریننگ لیں اس کے بعد ہی وہ الیکشن سٹاف بن سکتے ہیں۔ اگر آن لائن یا کلاس روم ٹریننگ نہیں لی تو ان کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان دونوں ٹریننگ کے لئے معمولی سی رقم بھی ملتی ہے۔ الیکشن کے دن ڈیوٹی14-16 گھنٹے کم از کم ہوتی ہے جس کا معقول معاوضہ ملتا ہے۔ اگر پہلے الیکشن میں کام کرنے کا تجربہ ہو، پھر بھی آن لائن اور کلاس روم ٹریننگ لازمی ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ الیکشن کے دن ڈیوٹی پر کالے، سفید یا سرمئی رنگ کے کپڑے پہنیں کیونکہ ایسا نہ ہو کوئی رنگ کسی پارٹی کے رنگ سے ملتا ہو لہٰذا اپنے آپ کو مکمل نیوٹرل رکھیں۔ ہم نے تمام کاغذی کارروائی مکمل کی اور خوشی خوشی گھر آگئے۔ ہمیں یہ پتہ چلا کہ سٹاف کی بھرتی میرٹ پر ہوتی ہے اور ہمیں سختی سے یہ بھی باور ہوگیا کہ ہم کسی پارٹی کو سپورٹ نہیں کرسکتے۔ اگر ہمارا ووٹ ہے تو ہم ڈیوٹی کے علاوہ کسی اور دن جاکے ڈال آئیں کیونکہ ڈیوٹی والے دن ہم اپنی جگہ سے ہِل بھی نہ سکیں گے۔


ہم نے آن لائن اور کلاس روم ٹریننگ لی، ہمیں ایک کیو آر جی دیا گیا، یہ ایک گائیڈہے جس سے ہمیں کام میں مدد ملتی ہے۔ الیکشن کی ڈیوٹی سے قبل سپروائزر کی بار بار ای میل آتی رہی جس میں لکھا ہوتا کہ کیا کرنا ہے مثلاً پھر دہرایا گیا کہ لباس کا رنگ کیا ہو، پھر بتایا گیا کہ اپنا کھانا پانی ساتھ لائیں جو14-16 گھنٹے کے لئے کافی ہو، وہاں نہ مائیکرو ویو اوون ہوگا نہ فریج، یہ ذہن میں رکھیں۔ پارکنگ کہاں ہوگی، موسم کے حساب سے سوئیٹر ، شال رکھیں، طویل دورانیہ کے لئے کرسی پر بیٹھنا ہوگا لہٰذا جب موقع ملے تھوڑا بہت کرسی پہ بیٹھے بیٹھے کھالیں۔ واش روم بلااجازت نہیں جاسکتے۔ سپروائزر کو بتائیں وہ آپ کا سٹیشن اتنی دیر بند کرے گا جب تک آپ واپس نہ آجائیں۔ یہ تمام باتیں کلاس روم میں سمجھا دی گئی تھیں۔ پھر بھی ای میل کے ذریعے ان کو دہرانے کا مقصد یہ تھا کہ سٹاف مکمل تیاری سے آئے تاکہ اسے پریشانی نہ ہو۔


ہمیں پہلے تو ہنسی آ رہی تھی کہ ایک دن کی پولنگ کے لئے اتنے جھمیلے، اتنی تیاری، آن لائن سمجھو، پھر کلاس روم میں پریکٹس کرو۔ عجیب بے وقوفی لگ رہی تھی مگر الیکشن والے دن ہمیں پتا چل گیا کہ جسے ہم بے وقوفی سمجھ رہے تھے، وہ دراصل ہماری ہی آسانی اور سہولت کے لئے تھے۔


ہمارا پولنگ اسٹیشن ایک اسکول میں تھا۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے لے کر رات آٹھ بجے ہونی تھی۔ پولنگ کے عملے کو صبح ٹھیک7بجے پہنچنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ہم اپنی دانست میں 7:15 بجے یہ خیال لے کر پہنچے کہ وہاں الو بول رہا ہو گا۔ مگر یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہم پندرہ منٹ لیٹ تھے۔ ساراعملہ ٹھیک 7بجے پہنچ گیا تھا۔ سپروائزر تو ساڑھے چھ بجے سے موجود تھی۔ جلدی جلدی ہم نے اپنے ووٹنگ کلرک کے ساتھ مل کر ٹیبل سیٹ کی۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ ٹیبل سیٹ کرنا کیا ہوتا ہے۔ تو بھئی یہ بات ہے کہ تمام سٹیشن ایک ہی طرح سیٹ ہوتے ہیں۔ بیلٹ بکس، ووٹرز لسٹ، بیلٹ پیپر سبھی اپنے مقررہ مقام پر ہی رکھنے ہوتے ہیں۔ بیلٹ بکس ہمیشہ دائیں طرف، بیلٹ پیپر ووٹنگ افسرکلرک کے آگے۔ کیو آر جی یعنی تصویری گائیڈبک درمیان میں۔ بیلٹ پیپر کا
Counter Bail
رکھنے کے لئے کاغذ کی تھیلی ٹیپ سے کونے میں چپکے گی۔ ہم عملے کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔


ہر میز پر ایک ووٹنگ افسر اور ایک ووٹنگ کلرک بیٹھتا ہے۔ دو انفارمیشن آفیسرز ہوتے ہیں جو عمارت کے بیرونی حصے میں کھڑے ہو کر ووٹرز کو گائیڈ کرتے ہیں کہ انہیں کس میز پر جانا ہے۔ واضح رہے کہ ہر میز کا نمبر ہوتا ہے۔ ووٹر کو گھر پر ووٹنگ کارڈ بھیجا جاتا ہے جسے وہ اپنی تصویری شناخت کے ساتھ پولنگ اسٹیشن لے کر جاتا ہے۔ متعلقہ میز پر جا کے ووٹنگ کلرک کو اپنی شناخت، پتہ کارڈ وغیرہ دکھاتا ہے۔ جسے کلرک ووٹرز لسٹ میں تلاش کر کے نشان لگاتا ہے اور ووٹر سے دستخط کروانا ہے۔ ووٹر کا نام جس نمبر پر ہوتا ہے وہی نمبر ووٹنگ افسر بیلٹ پیپر پر دو جگہ درج کرتا ہے اور بیلٹ پیپر ووٹر کو تھماتا ہے تاکہ وہ ایک دوسری میز پر جا کے اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے آگے نشان لگا دے۔ ووٹرز کی سہولت کے لئے اس میز پر گتے کی آڑ رکھی ہوتی ہے تاکہ وہ خفیہ ووٹنگ کرے اور کوئی دیکھ نہ لے۔ بیلٹ بکس بھی لوہے کے بجائے گتے کا ہوتا ہے اور اس پر
Seal
کاغذی ہوتی ہے۔ ہم پر تو ہر بار حیرت کے پہاڑ ہی ٹوٹ رہے تھے۔ سپروائزر نے ہمیں کہہ دیا تھا کہ کوئی مسئلہ ہو اس کو آواز دے لیں وہ فٹافٹ آ کے مسئلہ نمٹا دے گی۔


9مئی کو ساڑھے سات بجے تک ہم میزیں وغیرہ سیٹ کر چکے تھے۔ پونے آٹھ بجے سپروائزر نے کہا پانی وغیرہ پی لیں۔ کچھ کھا لیں ٹھیک آٹھ بجے پولنگ شروع ہو جائے گی۔ گھڑی نے آٹھ بجائے تو ایک سیکنڈ کی دیر کے بغیر پولنگ کا عمل شروع ہو گیا۔ ووٹر قطار بنا کے کھڑے تھے، جیسے ہی آٹھ بجے وہ داخل ہو گئے۔ پولنگ کا عمل اسکول کے جمنازیم میں ہو رہا تھا۔ ہمارا خیال تھا لیکشن والے دن عام تعطیل ہو گی مگر تعطیل کا یہاں ویسا تصور نہیں جیسا ہمارے ہاں ہے۔ کوئی چھٹی نہیں تھی، اسکول بھی لگا ہوا تھا۔ مگر پولنگ اس طرح ہو رہی تھی کہ نہ بچے ڈسٹرب ہوئے نہ ہمیں احساس ہوا کہ اسکول میں تدریس جاری ہے۔ عجیب لوگ ہیں یہ۔ نہ کسی کے یوم پیدائش پر چھٹی، نہ موت پر، نہ برسی پر چھٹی، نہ الیکشن پر، کا م کام اور کام۔ یہ بھی کوئی بات ہے۔ اوپر سے وقت کی پابندی، ہمیں تو عادت کچھ اور ہی پڑی ہے۔ برس ہا برس ہم اپنے یہاں ہونے والے الیکشن کی خصوصی نشریات کی میزبانی کرتے رہے ہیں۔ ہم نے پولنگ اسٹیشنوں پر جا کے لائیو رپورٹنگ بھی کی ہے۔ کتنی بار ایسا ہوا کہ دوپہر بارہ بجے تک بھی بعض علاقوں میں پولنگ کا عمل شروع نہ ہو سکا۔ کتنی بار عملہ دیر سے پہنچا کیسے کیسے جعلی ووٹ بھگتائے گئے۔ لگے ہاتھوں ہم بتا دیں کہ یہاں جعلی یا دو دفعہ ووٹ دینا یا کوئی فراڈ ایسا جرم ہے جس پر 20ہزار ڈالر جرمانہ اور دو سال قید ہے۔ لہٰذا ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ دوم یہاں ووٹر کے انگوٹھے پر سیاہی بھی نہیں لگائی جاتی۔ اعتبار کی بھی کوئی انتہاہوتی ہے۔


اب ذرا لیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے حامیوں کا بھی حال جان لیجئے۔ بغیر کاغذی اجازت نامے کے کوئی کارکن کوئی حمایتی وہاں داخل نہیں ہو سکتا۔ اسے رجسٹر میں اندراج کروانا پڑتا ہے۔ وہ پولنگ کے عمل کا جائزہ تو لے سکتے ہیں مگر مداخلت نہیں کر سکتے۔


اب ایک جماعت کی کارکن اس پر معترض ہو گئیں کہ ضعیف ماں ووٹ ڈالتے ہوئے اپنی بیٹی کی مدد کیوں لے رہی ہے۔ یا کوئی بچہ کیوں نشان لگاتے وقت موجود ہے۔ یہ سب نہایت حیرت انگیز ہے۔ اوپر سے ایک عجیب و غریب قانون یہ کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندے سے پولنگ کا عملہ کچھ لے نہیں سکتا۔ یعنی کوئی کھانے کی چیز۔ ان کے لئے کبھی پیزا آ رہا ہے تو کبھی مصالحہ چائے ،سموسے، کبھی پراٹھے تو کبھی برگر۔ مگر سپروائزر نے واضح کر دیا تھا کہ نہ ہم ان کو کھانا پینا دے سکتے ہیں نہ وہ کوئی اشیاء ہمیں دے سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ نمائندے ہم سے یعنی عملے سے براہ راست گفتگو نہیں کر سکتے کوئی مسئلہ ہے تو وہ سپروائزر کو آگاہ کریں گے۔ کمال ہے ہمارے وطن میں تو ایک خاتون امیدوار نے الیکشن والے دن پولنگ اسٹاف کی دھنائی کر دی تھی۔ یہاں کینیڈا میں تو پولنگ کے عملے کی بڑی عزت ہے۔ یہاں ہر ایک کی عزت و وقار کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ اونچی آواز یا ذرا تلخ لہجے میں تو کیا براہ راست ہی بات کر لیتا۔ نہ کوئی پولیس تعینات تھی نہ گارڈ۔ دراصل لوگوں کو معلوم ہے کہ دنگا کریں گے تو فرض شناس پولیس قانون کے تقاضے پورے کرے گی۔ کوئی کسی کو نہیں کہہ رہا تھا کہ کسے ووٹ دو۔ کوئی بینر، کوئی پوسٹر بھی نہیں تھے۔ کوئی مشورہ بھی نہیں کر رہا تھا کہ کسے ووٹ دیں۔ ہر کوئی اپنا مختار تھا۔ پولنگ کا عمل بغیر شورشرابے کے خاموشی کے ساتھ 12گھنٹے جاری رہا اور ٹھیک آٹھ بجے رات دروازے بند کر دیئے گئے۔ گنتی کے وقت امیدواروں کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ ویسے پورا عمل اتنا شفاف اور بے عیب ہوتا ہے کہ گڑبڑ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تبھی تو لوہے کے بجائے گتے کا ڈبہ بیلٹ بکس ہوتا ہے۔ ہم رات کے دس بجے تک مصروف رہے۔ ہارنے والے امیدواروں کے حمایتی اور جیتنے والے امیدواروں کے حمایتی کے تاثرات یکساں ہوتے ہیں، نہ چیخ و پکار، نہ ہنگامہ نہ زندہ باد کے نعرے۔جیتنے والے کسی ہال میں جمع ہو کر خوشیاں مناتے ہیں اور ہارنے والے گھر جا کے سو جاتے ہیں۔ وہ بیلٹ بکس چھیننا نہیں جانتے۔ وہ اسے ہاتھ تک نہیں لگا سکتے۔ گنتی صرف عملہ کرتا ہے۔ 9مئی صوبائی الیکشن کا دن تھا۔ ہمیں یہ دن ہمیشہ یاد رہے گا۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ قانون اگر سخت ہو، سب کے لئے یکساں ہو‘ لوگوں کو اعتبار ہواور ان کی جان و مال محفوظ ہو۔ انہیںیہ معلوم ہو کہ وہ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں جو ان کے امیدوار کو ایوان میں لے جائے گا۔ جہاں وہ ان کے مسائل حل کروا سکے گا تو اس سے زیادہ طمانیت بخش بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت عوام سے ہے عوام اصل طاقت ہے عوام کی رائے کتنی اہم ہے۔یہ سب یہیں آ کے معلوم ہوا۔ واقعی جمہوریت بہت عمدہ چیز ہے۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اِک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک گھر ہے تنہایادوں کا اور ہم سب اُس میں رہتے ہیں
اِک آنکھ ہے دریا آنکھوں کا‘ ہر منظر اُس میں ڈوب گیا
اِ ک چہرہ صحرا چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک خواب خزانہ نیندوں کا وہ ہم سب نے برباد کیا
اِک نیند خرابہ خوابوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک لمحہ لاکھ زمانوں کا وہ مسکن ہے ویرانوں کا
اِک عہد بکھرتے لمحوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک موسم ہرے پرندوں کا وہ سرد ہوا کا رزق ہوا
اِک گلشن خالی پیڑوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک رستہ اس کے شہروں کا‘ ہم اس کی دھول میں دھول ہوئے
اِک شہر اس کی اُمیدوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں

ڈاکٹراجمل نیازی

*****

 
11
July

تحریر: ڈاکٹر عاطف منصورملک

فلائیٹ لیفٹیننٹ وقاص شمیم شہید کے بارے میں ونگ کمانڈر (ر)ڈاکٹر عاطف منصورملککی ایک یادوں بھری تحریر

اگر آپ اکبری دروازے سے اندرون لاہو ر میں داخل ہوں تو تنگ بازار سے گزر کر محلہ سریاں والا آتا ہے۔ غازی علم دین شہید کا گھر اِسی محلے میں تھا، انہی کے نام پر اب وہا ں کا چوک موسوم ہے۔ اس چوک سے بائیں جانب مڑ کر کوچہ چابک سواراں سے گزرتے جائیے تو آگے محلہ ککے زئیاں آتا ہے۔ ککے زئی اسے عرفِ عام میں بڑی گلی کہتے ہیں۔ گو کہ یہ گلی اتنی تنگ ہے کہ کسی مرگ پر جنازہ بھی آسانی سے نہ نکل پائے ۔ کہتے ہیں کہ سلطان محمود غز نوی کے ساتھ حملہ آور لشکر میں یہ قبیلہ تھا۔ فاتح قوم کے طور پر انہوں نے مفتوح علاقے کو اپنا مسکن بنا یا۔ صدیا ں گزر گئیں مگر ککے زئی اپنے رنگ کے ساتھ جڑے رہے۔ ککے زئی ایک لڑاکا قوم ہے۔ اندرون لاہو ر میں محلہ ککے زئیاں کی لڑا ئیاں اور شادیاں دونوں ضرب المثل ہیں۔ یہ عجب رنگ کے لوگ ہیں، ایک طرف لڑنے کو تیار، دوسری جانب یار باش، مہمان نواز ، کھل کر کِھلانے والے۔ آپ سے محبت بھی کھل کر کریں گے اور لڑیں گے بھی کھل کر۔
وقاص شمیم ککے زئی تھا، ٹھیٹ ککے زئی۔ لڑنے مرنے کو تیار، کھل کر پیا ر کرنے والا ۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ شرارت کی چمک تھی، اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ رہتی تھی ایسے کہ ابھی کوئی حرکت کرے گا، کوئی طوفان لائے گا۔ وہ ایک بے چین روح تھا، کبھی نہ بیٹھنے والا، جس کو کسی طور چین نہ آئے۔ آتے جاتے کو ئی بات کرنے والا، ایک معرکے سے نکل کر اگلے معرکے کی تلاش میں رہنے والا ۔

 

jansaranwaten.jpgاس کی آواز اس کی آنکھوں کی طرح اندر اترنے والی تھی۔ وہ عجب شخص تھا ، اس کی آ نکھیں، اس کا چہرہ ، اس کا اندر باہر ایک تھا۔ ہما را اس سے عجب تعلق تھا، کبھی اس کی حرکتوں سے ہم زچ ہو جاتے تھے ، کبھی وہ ہما را محبوب تھا۔ وہ ہما ری زندگیوں میں غیر محسوس انداز میں داخل ہو گیا، اس کا ظاہری دکھاوا ایک لاپروا ، لااُبالی، سر پھرے کا تھا، مگر اس کی عجب خا صیت تھی وہ آپ کے درد کو خود بخود محسوس کر لیتا تھا بغیر بتائے جان لیتا تھا اور پھر وہ اپنی بسا ط سے بڑ ھ کر جو کچھ کر سکتا تھا کرتا تھا۔ کورس میٹ، افسر، ائیر مین، بیٹ مین سب کے لئے اس کے دل کے دروازے کھلے تھے، اور کھلے بھی چار چوپٹ تھے، بلکہ وقا ص کی شخصیت کے لحاظ سے تو اس نے دروازے کے کواڑ ہی اتار کر پھینک دئیے تھے کہ کسی کو آنے میں پریشانی نہ ہو۔


میں نے بچپن سے اپنے بزرگوں سے ککے زئیوں کی کئی باتیں سنی تھیں، نعرہ تھا، ’’ککے زئی، ہائے جان گئی۔‘‘ وقا ص کو جب میں نے کہا، ’’ککے زئی، میں نے سنا ہے کہ درانتی کے ایک طرف دندے ہوتے ہیں، مگر ککے زئی کے دو طرف دندے ہوتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا، ’’ملک جا نے دے۔‘‘


مجھے نہیں علم کہ کب وقاص کے بزرگ اندرون لاہور سے نکلے اور بیگم روڈ پر آ کر رہنے لگے۔ بیگم روڈ مزنگ اڈہ سے شروع ہوتی ہے اور جین مندر پر ختم ہوتی ہے۔ اس کے گھر میں داخل ہوں تو کھلاصحن تھا، جہاں ہر روز اس کی والدہ ہر شام نوکروں کے اور محلے کے بچوں کو پڑھا تی تھیں۔ اس کی والدہ ایف جی سکول میں تعلیم دیتی تھیں، جبکہ اس کے والد کرنل شمیم پی ایم اے کاکول میں شعبہ ریا ضی کے سربراہ تھے۔ یہ اسا تذہ کا گھر تھا۔ بے لوث، کھرے، مخلص۔ وقا ص خود کیڈٹ کالج حسن ابدال سے پڑھا تھا۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں وقا ص میں مزنگ اڈے کے تھڑے پر فارغ بیٹھے لوگوں کی یار باشی اور جین مندر میں گائے گئے بھجنوں کا رنگ نظر آتا تھا۔ سرگودھا میں پوسٹنگ کے وقت اس نے ایک کنٹینر قابوکیا ہوا تھا اور اس میں اکیلا رہتا ۔ اس کی طبیعت کی سیمابی اس کی متحمل نہ تھی کہ وہ کسی اور کے ساتھ کمرے میں رہتا۔ شام کو وہ اپنے بیٹ مین کے بچے کو پڑھاتا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کے پیچھے چلتے اپنے حصے کی تعلیم کی شمع کو روشن کئے ہوئے تھا۔


وہ ایک بے چین روح تھا، ہر کام جلد کرنے والا، ہر دم تیزی میں رہنے والا، شاید اسے علم تھا کہ اس کے پاس وقت کم ہے۔ اکیڈ می میں چھٹیوں پر جا نے کے لئے جب بک شدہ فلائنگ کوچیں آتی تھیں تو وقا ص ہمیشہ اچک کر ڈرائیور کے ساتھ والی سب سے اگلی سیٹ پر بیٹھتا تھا، اب کوئی جو مرضی کر لے وہ سیٹ کسی اور کو نہیں مل سکتی تھی۔ یہ ہر دفعہ کا معاملہ تھا۔ میں اسے کہتا تھا، ’’ککے زئی، اگلی سیٹ پر بیٹھ کر کیا تو کوچ سے پہلے لاہور پہنچ جائے گا۔‘‘ وہ ہنستا تھا اور کہتا تھا،’’ملک، جانے دے۔‘‘


وقاص خود دار تھا، بلا کا خود دار۔ یہ صفت اس کے خون میں شامل تھی۔ جب اس کا بڑا بھائی جنید شمیم پی ایم اے کاکول سے پاس آؤٹ ہو رہا تھا تو وقاص نے پریڈ پر جانے کے لئے چھٹی کی درخواست دی جو کہ نہ ملی۔ جنید پی ایم اے کا سب سے بڑا اپائٹمنٹ ہو لڈر تھا، پا سنگ آؤٹ پریڈ کمانڈ کر رہا تھا، پا سنگ آؤٹ پر اسے اعزا ز مل رہا تھا۔ وقا ص کے والد پی ایم اے کے شعبہ ریا ضی کے ہیڈ تھے۔ اکیڈمی سے کیڈٹ سرکاری طور پر پریڈ دیکھنے پی ایم اے جا رہے تھے، مگر وقا ص اس گریجویشن پریڈ پر نہیں گیا۔ کرنل شمیم کی خودداری یہ اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ کسی کو ایک فون ہی کر لیتے۔


جب وقا ص کی سرکاری جیپ سرگودھا کے کرانہ پہاڑ سے گری وہ اپنے دو ساتھی افسروں کے ہمراہ بیس کے میڈیکل سکواڈرن سے سالانہ طبی معائنہ کر وا کر پہاڑ کی چوٹی پر لگے ریڈار پر جا رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ جب موت کا فر شتہ اس کے سامنے آیا ہوگا تو وقا ص نے آ نکھوں میں شرارت کے سا تھ اس سے پوچھا ہوگا، ’’بھائی، آپ لینے تو آگئے ہیں مگر ریکارڈ چیک کر لیں کسی اور کی جگہ تو مجھے غلطی سے نہیں لے جا رہے۔ اچھا اب آپ آ ہی گئے ہیں تو یو نیفا رم میں ڈیوٹی پر ہوں، پہاڑ کی اتنی بلندی سے گرا ہوں، شہادت کا رتبہ لکھنا نہ بھولئے گا۔ صبح کا نا شتہ بھی نہیں کیا، دیکھیں یہ اخبار میں لپٹا ساتھ ہے، روزہ دار کا درجہ بھی لکھ لیں۔‘‘


مغرب کے قریب میانی صاحب کے قبرستان میں وقا ص کو دفنا کر میں اس کے گھر پہنچا۔ اس کے والد غم پر قابو پانے کی کوشش کرتے لوگوں کی تواضع کے بارے میں فکر مند تھے، اس کی والدہ اس کے کورس میٹوں کو لپٹا کر چوم رہی تھیں۔ میں چپ چا پ اپنے موٹر سائیکل کو سٹا رٹ کئے بغیر گھسیٹتا جین مندر تک آ گیا، روح میں دور تک دکھ اتر آیا تھا۔ آدھا فر لانگ چل کر موٹر سائیکل کو کک مار ی اور اپنے گھر کو چل پڑ ا، آگے ڈیوس روڈ سے ٹھنڈی سڑک کو جا مڑا۔


ٹھنڈی سڑک ویسے بھی ایک فسوں رکھتی ہے، ایک جانب ا یچی سن کالج ا ور زمان پارک دوسری جانب انگریز دور کے بنے ریلوے افسران کے بڑے بڑے بنگلے۔ درخت اتنے کہ سخت گرمی میں بھی اِس سڑک پر داخل ہوں تو ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے، اِسی وجہ سے لاہور کے باسی سندر داس روڈ کو عرفِ عام میں ٹھنڈی سڑک کہتے ہیں۔ طبیعت پر بوجھ اتنا تھا کہ موٹر سائیکل سڑک کے کنارے ایک طرف روک دی اور آ نکھوں سے بے ساختہ آ نسو جاری ہو گئے، رومال اور دامن دونوں تر تھے۔ اچا نک درختوں میں تیز ہوا چلنے لگی اور آواز آئی،’’ملک جانے دے۔‘‘


ککے زئی، جانے دیا۔ پر کیا کرو ں برسوں گزر گئے مگر جانے نہیں دیا جاتا۔ تیری تصویریں البم سے نکا ل کر رکھ دی ہیں مگر تو بڑا سخت جان ہے، دل پر تیرا نقش ماہ و سا ل کی گرد کے باوجود روشن ہے۔ ابھی تو آئے گا، کسی نئی حرکت، کسی نئے چٹکلے کے ساتھ۔ خوش رہ، امید ہے کہ تو نے وہاں بھی خوب ادھم مچا رکھا ہوگا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
July

تحریر : وقاراحمد

مناماٹا کنونشن ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جو انسانی صحت اور قدرتی ماحول کو مرکری کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لئے تشکیل دیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے زیرِ سرپرستی اس معاہدے پر 19 جنوری2013 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط ہوئے اور اسی سال اکتوبر میں جاپان کے شہر کما موٹو میں مناماٹا کنونشن کی باقاعدہ توثیق کردی گئی۔ اس کنونشن میں پاکستان سمیت دنیا کے 128 ممالک دستخط کر چکے ہیں۔ جبکہ50 ممالک قومی سطح پر اس کا اطلاق کر چکے ہیں۔ پاکستان میں ابھی اس کا اطلاق ہونا باقی ہے۔ اس معاہدے کا نام جاپان کے شہر مناماٹا کے نام پر کیوں رکھا گیا اور اس کی تاریخ مرکری سے کیسے جڑی؟ یہ ایک دلچسپ واقعہ ہے۔


گو کہ پارا (مرکری) ایک قدرتی دھات ہے، اور زمین یا چٹانوں میں پایا جاتا ہے، تاہم عصرِ حاضر میں اس کے صنعتی استعمال کی وجہ سے ماحول میں اس کی آمیزش ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے۔ دنیا نے سب سے پہلے اس کی زندہ مثال جاپان میں دیکھی۔ جاپان کے شہر مناماٹا میں ہونے والا واقعہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا یہاں 1908 میں چسسو کارپوریشن نامی ایک کیمیکل فیکٹری لگی جس نے 1932 میں پارے سے کچھ کیمیکلز تیار کرنا شروع کر دئیے اور اس سے آلودہ پانی مناماٹاکی خلیج میں ڈالنے لگی۔ اس کی وجہ سے وہاں کی آبی حیات پارے سے متاثر ہونے لگی اور وہاں کے سمندر میں مچھلیوں اور دیگر آبی حیات، انسانوں اور جانوروں کو متاثر کرنے لگی۔ پارے میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اگر ایک بار اس کو قدرتی ماحول میں پھینک دیا جائے تو وہ سالہا سال وہاں رہتا ہے اور حیاتیاتی انواع کو متاثر کرتا رہتا ہے۔یہ سمندر کے پودوں اور مچھلیوں وغیرہ کے جسم میں جذب ہو جاتا ہے، جب ان مچھلیوں، جھینگوں وغیرہ کو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے تو انسانی جسم میں داخل ہوکر لوگوں کو دماغی طور پر معذور کرنے لگتا ہے۔چنانچہ جاپان کے شہر مناماٹا میں بھی ایسا ہی ہوا خصوصاً وہ بچے جو اپنی پیدائش سے قبل شکم مادر میں ہی اس سے متاثر ہو چکے تھے، وہ طرح طرح کی ذہنی اور جسمانی معذوریوں کے ساتھ اس دنیا میں آنے لگے۔


رفتہ رفتہmanamataconve.jpg یہ صورتحال خطرناک ہوتی گئی اور 1956 میں کماموٹو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ’’مناماٹا ڈزیز‘‘ کے نام سے اس بیماری کی تشخیص کی جس میں مرکری کی وجہ سے طرح طرح کی اعصابی اور دماغی کمزوریاں، جیسا کہ ذہنی معذوری، رعشہ، سماعت، گویائی اور بینائی کا متاثر ہونا، اور دیگر اعصابی بیماریاں شامل ہیں‘ اور نہ صرف انسان اس کے اثرات سے متاثر ہوئے بلکہ جانوروں میں بھی ایسے ہی اثرات نظر آئے اور لوگوں نے دیکھا کہ وہاں کی بلیاں پاگل ہو گئیں اور وہ چلتے ہوئے ناچتی تھیں۔ اس بیماری سے 1784 انسان اور بیشمار جانور ہلاک ہوگئے، جبکہ ہزاروں لوگ مذکورہ بیماریوں سے متاثر ہوئے۔ عدالتی حکم نامے کے تحت چسسو کارپوریشن نے کل 86 ملین ڈالر متاثرین کو ادا کئے اور ماحول کو صاف کرنے کے اقدامات کئے۔


مناماٹا کنونشن کے ذریعہ پارے کی ماحول میں بڑھتی ہوئی مقدار اور تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماریوں کی طرف اقوامِ عالم کی توجہ مبذول کروائی جارہی ہے۔ پارا ایک ایسی دھات ہے جو کہ خالص حالت میں مائع کی شکل میں ہوتا ہے جیسا کہ تھرمامیٹر میں‘ تاہم دیگر عناصر مثلاً آکسیجن، کلورین وغیرہ سے جڑنے کے بعد اس کی کیمیاوی شکلیں اور خصوصیات مختلف ہوجاتی ہیں، جس کے باعث اس کو روزمرہ کے استعمال کی بیشمار چیزوں میں شامل کیا جاتا ہے مثلاً انرجی سیور بلب، تھرمامیٹر، اس کے مرکبات کی دانتوں میں فلنگ، الیکٹرانک اشیا میں استعمال، بیٹریز، رنگ گورا کرنے کی کریمیں، پینٹس کے علاوہ اور دیگر بیشمار صنعتی ذرائع جیسا کہ کوئلہ پاور پلانٹس، سونے کی نجی کانیں وغیرہ شامل ہیں میں استعمال ہوتاہے۔ لہٰذا ان اشیا کی پیداوار سے لے کر استعمال اور پھر فضلہ میں پھینکے جانے سے ہوا اور پانی میں اس کی مقدار بڑھ رہی ہے اور پودوں، جانوروں اور انسانوں پر اس کے زہریلے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ نجانے آج کے دور میں کتنی ایسی بیماریاں ہیں جو اس دھات یا اس جیسی دیگر ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔


پارے کے زہریلے اثرات کے بڑے واقعات جاپان کے علاوہ عراق اور پیرو وغیرہ میں بھی سامنے آچکے ہیں جس کا تفصیلی ذکر ایک امریکی سائنسدان مائیکل گوچفیلڈ اپنے2003 کے مضمون میں کر چکے ہیں. جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ میں اس دھات کو نہایت کم مقدار میں بھی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے اور خصوصاً چھوٹے بچوں کے لئے یہ انتہائی مضر ہے۔ اس کے ساتھ ہی کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اب یہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے۔


مرکری زمین یا چٹانوں سے کانوں کے ذریعہ نکالا جاتا ہے لہٰذا اس معاہدہ میں مرکری کے پھیلا کو روکنے کے لئے جن اقدامات کا فیصلہ ہوا ہے ان میں مرکری کی نئی کانوں پر پابندی، موجودہ کانوں کا بتدریج خاتمہ، اس دھات کا مختلف اشیاء میں استعمال ختم کرنا، مختلف صنعتوں میں اس کے استعمال کو دیگر متبادل عناصر سے تبدیل کرنا، صنعتوں سے ہوا، پانی اور زمین سے اس کے اخراج کو کم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ مزید یہ کہ معاہدے کی رُو سے موجودہ مرکری ملی اشیاء احتیاط سے ذخیرہ کرنا اور اس کے فضلے کو حفاظت کے ساتھ ٹھکانے لگانے کے اقدامات کرنا بھی ہے۔


اپریل میں یورپی پارلیمنٹ اس معاہدے کو منظور کر چکی ہے اور 18 مئی 2017 کو آٹھ یورپی ممالک اس معاہدے کو اپنے ہاں نافذ کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کی ماحولیاتی بیورو کی پروجیکٹ مینجر الینا لیمبریڈی کا کہنا ہے ’’یورپ نے ایک بار پھر اپنے عالمی قیادت کے کردار کو قائم رکھا ہے، اور اب اس معاہدے کو نافذ کرنے والے ممالک پچاس سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ بین الاقوامی سطح پر ایک امید افزا بات ہے۔ اسی طرح بھارتی ماہرین نے رواں سال میں ہونے والے اجلاس میں اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ پارے کے استعمال پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے۔ یہی صورتحال دنیا کے دیگر ممالک کی ہے۔


مناماٹا کنونشن کو قابلِ عمل بنانے اور ماحول میں اس دھات اس کے موجودہ پھیلا ؤکا صحیح اندازہ لگانے کے لئے ایک اور منصوبہ شروع کیا گیا جس کا نام
Innitial Assessment (MIA) Minamata
ہے. پاکستان میں کنونشن کو لاگو کرنے اور ایم ائی اے منصوبے پر عمل کرنے کی ذمہ داری کلائمیٹ چینج کی وزارت کو ملی ہے۔اس منصوبے کے نیشنل پروجیکٹ کوارڈینٹر ڈاکٹر ضیغم عباس کا کہنا ہے کہ ایم ائی اے منصوبہ 30 ستمبر 2017 تک مکمل کر لیا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ 2009 میں ایک سروے کے مطابق ملک میں مرکری کا اخراج 36900 کلوگرام تھا تاہم اس منصوبے کے تحت بعض کیمیکل فیکٹریوں میں مرکری کے متبادل پیش کئے گئے اور اس طرح مرکری کے اخراج کو 21000 کلوگرام کم کردیا گیا۔ تاہم ایم ائی اے منصوبے پر ابھی کام ہو رہا ہے، ملک بھر میں مرکری کی کتنی مقدار استعمال اور اخراج ہو رہی ہے اس کا صحیح اندازہ منصوبے کی تکمیل پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔


ایم ائی اے منصوبے کی تکمیل کے بعد اس معاہدے کو قومی اسمبلی سے منظور کروانے اور ملک میں نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔ معاہدے میں کل 35 آرٹیکل ہیں، پہلا آرٹیکل معاہدے کے مقصد کو بیان کرتا ہے، جبکہ باقی آرٹیکلز مرکری کے ماحول میں آنے کے ذرائع سے لے کر تجارتی تفصیل، اس دھات سے بنی اشیاء، اس کے صنعتی استعمال، ہوا پانی اور دیگر ماحول میں اس کے اخراج کی تفصیل کو بیان کرتے ہیں۔ معاہدے میں پارے کی ماحول میں آمیزش کی روک تھام اور اس کے لئے کئے جانے والے ممکنہ اقدامات کی مکمل ہدایات موجود ہیں۔ غرض یہ کہ 59 صفحوں پر مشتمل یہ مسودہ پارے کے متعلق ہر قسم کی تفصیل اور اس سے حفاظتی اقدامات مہیا کرتا ہے۔ یہ مسودہ ویب سائٹ پر موجود ہے اور کوئی بھی شخص اس کی تفصیل پڑھ سکتا ہے۔


لوگوں کو چاہئے کہ ایسی تمام اشیاء جن میں مرکری ملا ہو ان کے استعمال سے گریز کریں اور ان کا متبادل تلاش کریں، مثلا رنگ گورا کرنے کی کریمیں اور دیگر میک اپ کے سامان میں اجزا پڑھ کر بغیر مرکری والی اشیاء خریدیں، دانتوں کی فلنگ کے مرکب بھی اب بغیر مرکری کے تقریباً اتنی ہی قیمت میں مل ر ہے ہیں لہٰذا ان کا انتخاب کریں. اس سلسلے میں معلومات کو عام کیا جانا چاہئے۔


عوام کی صحت کی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ نہ صرف مرکری بلکہ اس جیسی دیگر دھاتیں جن میں سیسہ، تانبہ اور کیڈمیم وغیرہ شامل ہیں، ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں اور نہ صرف انسانی صحت بلکہ دیگر جانداروں کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ ان کی ماحول میں روک تھام کے لئے زہریلے مادوں پر جامع حکمتِ عملی تیار کرے اور اپنی عوام کو بہتر ماحول اور صحت مند زندگی دے۔

مضمون نگار جامع کراچی میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
July

تحریر: حمیرا شہباز

آپ کے ملک میں سب باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں؟میری روم میٹ کی جانب سے انتہائی غیر متوقع سوال تھا ۔ وہ میرے عقب میں دائیں طرف والے بستر پر بیٹھی مجھ سے مخاطب تھی جبکہ میں کل کی کانفرنس کی تیاری میں مقالہ دہرانے کے بجائے اپنے بستر پر بیٹھی نیا جوڑا استری کر رہی تھی۔ ہم دونوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے چوبیس گھنٹے تو ہو چکے تھے لیکن سلام ،صبح بخیر، اور گیلان کے خنک موسم پر سرسری تبصرے کے علاوہ ہماری کوئی خاص بات نہیں ہوپائی تھی۔ اور یہ اجتماعی نوعیت کا نہایت ذاتی سوال باقاعدہ باہمی گفتگو کا آغاز تھا۔


میں اسلام آباد، کراچی، دبئی اور تہران سے ہوتی تقریباً اٹھائیس گھنٹوں کی طویل مسافت کے بعد رات آٹھ بجے کے قریب گیلان یونیورسٹی کے خصوصی مہمان سرا کی تیسری منزل کے کمرہ نمبر اڑتیس میں پہنچی تھی۔ بستروں کی تعداد بتا رہی تھی کہ اس میں تین مہمانوں کے سمانے کی جگہ ہے۔ جو بندہ کمرے میں میرا سامان چھوڑنے آیا‘ اس نے ساتھ ہی زبانی دعوت نامہ بھی پیش کیا کہ نیچے بسیں تیار ہیں‘ سب کو کھانے پر کہیں جانا ہے۔ہمیں کوئی بیس منٹ کی مسافت پر رشت کی شہرداری میں جانا پڑا کیونکہ ناظمِ شہر پہلی فرصت میں ہماری میزبانی کا شرف حاصل کرنا چاہتا تھا۔ناظمِ رشت کا خطاب ، کانفرس کے منتظمین کی تقاریر، ایران کے مختلف شہروں اور دیگر ممالک سے آئے محققین کا استقبال، مہمان اسکالرز کے لئے تحائف، گیلان کی موسیقی، روایتی کھانا اور بہت کچھ تھا اس محفل میں۔ جو نام میرے ذہن میں رہ گیا ،وہ تھامرزا قاسمی ۔ میں اپنی پسندیدہ ایرانی غذا چلو کباب سے انصاف کر رہی تھی کہ ساتھ بیٹھی ایک میزبان نے مجھے پیشکش کی کہ آپ مرزا قاسمی بھی لیں، اس کے ہاتھ میں تھامی پلیٹ میں بینگن کا بھرتا تھا!!یقیناًمرزا قاسمی بہت لذیذ تھا۔


اس خوش آمدی عشائیہ سے واپسی تک اس کمرے کی واحد باسی میں ہی تھی جبکہ سیڑھیاں چڑھتے تقریباً ہر کمرے میں ہی میں نے دو دو ، تین تین خواتین یا کسی دانشورجوڑے کو داخل ہوتے دیکھا۔ شکر ہے میں اتنی تھک چکی تھی کہ کمرے میں اکیلے گھبرانے کی کچھ خاص فرصت نہ ملی۔مارے تھکاوٹ کے مجھے نیند نہیں آ رہی تھی بلکہ بے ہوشی طاری ہو رہی تھی۔ دھڑ دھڑ دھڑ۔ میری آنکھ کھلی تو سوچا کیا سورج میرے کمرے میں نکلا ہے؟ اتنی روشنی!!پھر یاد آیا کہ میں نے لائٹ خود ہی جلتی چھوڑ دی تھی۔ رات کا ایک تو بج رہا ہو گا۔ کوئی میرے کمرے کا دروازہ پِیٹ رہا تھا۔دھڑکتے دل سے دروازے کے پاس جا کر میں نے پوچھا : کون؟ لیکن جواب سمجھ نہیں آیا۔ دروازہ پھر کھٹکا۔ دروازہ کھولا تو وہی کارمند جو میرا سامان کمرے میں لایا تھا ‘ کسی کا بیگ لئے کھڑا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک خاتون کمرے میں وارد ہوئی۔ صاف ظاہر تھا اس نیم شب میں وارد ہونے والی یہ محترمہ میری روم میٹ تھی۔ میں نے اس سے صرف اتنا کہا کہ ٹکٹ دروازے میں لگی ہے، اس کو بند کردینا۔ البتہ سوتے سوتے مجھے اتنا اندازہ ضرور ہوا کہ میں نے اپنی روم میٹ پر اپنی فارسی دانی ثابت کر دی ہے کیونکہ شاید چابی کو میں غلطی سے ٹکٹ کہہ گئی تھی ۔


آج پورا دن بھی ہماری کوئی خاص بات نہ ہو سکی، کانفرنس کی ابتدائی تقریب، شام و نہار، اور پھر رشت کے ماڈل ویلیج کی سیر۔اب جو وہ سونے کی تیاری کر رہی تھی اور میں بستر پر اڑھائی گز کا دوپٹہ پھیلائے استری کر رہی تھی تو اس نے یہ سوال کیا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ آخر یہی سوال کیوں؟ میں نے ذہن میں اپنے پورے ملک کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔ اتنے وسیع پیمانے کا سوال تھا؟ میرے ملک کے سب لوگ۔۔۔؟ پھر میں نے اپنے اردگرد کے لوگوں، اہل خانہ، رشتہ داروں، محلے والوں، دوست احباب کو چشم تصور سے نماز پڑھتے دیکھا۔ جمعہ کے اجتماعات، خبروں میں ملک گیر عید کی نمازوں کے مناظر، مسجدوں میں شہید ہونے والے نمازیوں کی خبریں مجھے یا د آگئیں۔ میں اس کو جواباً روانی میں ہاں! کہہ ہی چکی تھی اور اس ہاں کی تصدیق میرے یہ خیالات بھی کر ہے تھے۔


اس کی اگلی بات نے مجھے اور بھی حیران کردیا۔ لیکن تم نے تو کوئی نماز نہیں پڑھی؟ جیسے کہہ رہی ہو کہ کیا سب میں تمہارا شمار نہیں ہوتا؟ میں کپڑے استری کر چکی تھی اور کمبل تان کر اسی کی طرح تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکی تھی۔ میں نے ذہن میں فارسی کا لمبا چوڑا جملہ سیدھا کر لیا تھا لیکن اسے صرف اتنا کہہ سکی: صبح پڑھوں گی۔ اس نے فوراً ایک چھوٹی سی بچی کی طرح مجھے پکا کرنے کی کوشش کی :اچھا! میں بھی تمہارے ساتھ پڑھوں گی۔میں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیا اس نے یہ ساری تمہید اسی لئے باندھی ہے ؟


تمہارا نام کیا ہے؟ اس کے سوال سے مجھے خیال آیا کہ ہم نے واقعی ایک دوسرے کا نام ابھی تک نہیں پوچھا تھا۔ اس نے میرے بتانے پر میرا نام دہرایا اور سوچتے ہوئے ہوا میں نظر گھمائی اور کہا: ہاں یہ نام ایرانیوں کا بھی ہوتا ہے۔ شاید یہ ایران کی زمین کی تاثیر تھی کہ وہ بھی ایرانیوں کی طرح ہر بات کو گھما پھرا کر ایران سے جوڑ رہی تھی۔میں نے اپنے نام کی حضرت عائشہؓ سے نسبت کی بنا پر اس کو بتایا کہ یہ عربی نام ہے۔ اس نے اپنا نام وفا بتایا’وفا ‘ اس نے اپنے اوپر کے دانت نچلے ہونٹ پر گاڑھتے ہوئے ’ف ‘کی تشدید کو واضح طور پر ادا کرتے ہوئے کہا وفا بھی عربی نام ہے۔ اور پھر وہ مزید بتاتی چلی گئی کہ و ہ ریسرچ ایسوسی ایٹ ہے، فارسی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی حامل ہے ،عربی زبان بہت اچھی طرح سے جانتی ہے اور پہلے بھی کئی بار ایران آچکی ہے ۔ یہ بات تو خیر صبح ہی پتا چل گئی تھی کہ وہ آذربائیجان باکو سے ہے۔ چونکہ آذربائیجان سے بائی روڈ آ رہی تھی اس لئے رات دیر سے پہنچ کر زحمت دینے پر وہ معذرت خواہ بھی تھی۔


ایرانیوں کی گرمجوشی سے وہ بہت متاثر تھی۔ خاص طور پر اس کے نزدیک ایرانی مرد بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ وہ خواتین کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اچھے ہونے کا یہ پیمانہ اس نے اس لئے طے کیا تھا کہ وہ کچھ عرصہ ماسکو میں کام کے سلسلے میں رہ چکی تھی اور بقول اس کے، روسی مرد بہت ’’سرد‘‘ہوتے ہیں جب کہ ایرانی ’’گرم‘‘۔ اس نے پھر سے ایرانی مردوں کی گرم جوشی اور خلوص کی وکالت کی۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ شاید زمین کا اثر ہے۔ سرد زمین ، سرد لوگ؛ گرم زمین، گرم لوگ‘ اس نے پوچھا کہ پاکستانی مرد کیسے ہوتے ہیں؟ اس کے اچھائی کے پیمانے کو میں نے مدنظر رکھتے ہوئے بس اتنا کہا:گرم تر۔ وہ ہنس دی ۔ وہ میرے لئے خوش تھی کہ میں ایسے ملک میں رہتی ہوں جہاں کے مرد عورتوں سے عزت سے پیش آتے ہیں۔
تم نے یہ جو کپڑے استری کئے ہیں بہت خوبصورت ہیں۔تمہارا لباس کتنا الگ ہے ، صاف لگتا ہے خواتین کے کپڑے ہیں، ان کا رنگ، ان کا انداز۔لیکن میرے کپڑوں اور مردوں کے کپڑوں میں کوئی فرق نہیں۔ پینٹ شرٹ، کوٹ۔ اور یہ اسکارف تو میں صرف ایران میں لیتی ہوں۔اس نے کرسی کی پشت پر ٹکائے ہوئے اسکارف کو بے نیازی سے دیکھتے ہوئے کہا۔وفا کی بات سن کر مجھے کل رشت کی شہر داری میں ایک میزبان ایرانی خاتون کا سوال یاد آگیا جو اس نے میرے صرف دو رنگ کے کپڑوں کو دیکھ کر پوچھا تھا : کیا آپ کے ملک میں خواتین دفتروں میں بھی ایسے ہی رنگ برنگے کپڑے پہنتی ہیں؟ اس کو میرے جواب سے بہت خوشی ہوئی کہ میں کسی بھی رنگ کا جوڑا پہن کر یونیورسٹی جاسکتی ہوں۔ اس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی کبھی کسی کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئے گی اور ایسے ہی رنگدار ملبوسات زیب تن کرسکے گی۔


تم جب نماز پڑھتی ہو تو کیا تمہارا دھیان پوری طرح نماز پر ہوتا ہے؟ وفا پھر سے میری نمازوں کا تنقیدی مطالعہ کرنے کے موڈ میں تھی۔ میں سمجھ گئی کہ وہ میرے خشوع و خضوع کی سطح کی پیمائش کر کے ہی رہے گی ۔ میں نے کہا:ہمیشہ نہیں۔ اور یہ سچ بھی تھا۔


کیا تمہیں نماز پڑھنے میں مزہ آتا ہے؟میرا مطلب ہے تمہیں لگتا ہے کہ تم اللہ سے باتیں کر رہی ہو؟وفا نے مزید جاننا چاہا۔ بس مجھے لگا کہ میری نمازوں کا حساب تو دنیا میں ہی ہو رہا ہے۔ وہ اپنی ظاہری وضع قطع سے اتنی مسلمان نہیں لگتی تھی جتنا اس کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ شاید جو کچھ اس کے ظاہری اطوار یا لباس کا حصہ تھا وہ اس کی علاقائی ثقافت کا ترجمان تھا جب کہ اس کی سوچ امت مسلمہ کی ایک مشترک تہذیب کی آئینہ دار تھی۔ دو الگ ثقافتی پس منظر رکھنے کے باوجود فارسی جاننے کے علاوہ ہم دونوں میں ایک اور قدر جومشترک تھی وہ ہمارا دین اسلام تھا۔ بہر حال میں نے اس کو بڑی تسلی سے بتایا کہ میرے لئے نماز پڑھنا اہم ہے کیونکہ خدا مجھ سے چاہتا ہے کہ میں یہ فرض ادا کروں اور میں بھی چاہتی ہوں کیونکہ میرے خالق کایہ حق بنتا ہے۔ لیکن ہر بار کی نماز ایک سی نہیں ہوتی۔ کوئی سوال درپیش ہو تو دعا لمبی ہو جاتی ہے۔ جبکہ شکر ادا کرنا ہو تو طویل سجدے اچھے لگتے ہیں۔ کبھی تو


بحرفی می توان گفتن تمنای جہانی را
من از ذوق حضوری طول دادم داستانی را


کبھی نماز محض ایک روٹین ورک ہوتی ہے اورکبھی ذہن اتنا منتشر ہوتا ہے کہ یاد ہی نہیں ہوتا کونسی رکعت پہ ہوں۔ اگر وفا اردو جانتی ہوتی تو میں اس کو یہ شعر ضرور سناتی
غضب کیا تیری یاد نے مجھے آ ستایا نماز میں
میرے وہ بھی سجدے قضا ہوئے جو ادا کئے تھے نماز میں
وفا نے کہا:ایسی نماز کا فائدہ؟ میں نے اس کو یاد کروایا کہ صبح کانفرنس کا سیشن جلدی شروع ہونا ہے اور نیند بھی آیا ہی چاہتی تھی۔


مجھے صبح وفا نے اٹھایا، وہ ایک دم تیار کھڑی تھی اور نیچے بسیں بھی غذا خوری کے ہال کے چکر کاٹ رہی تھیں‘ مہمانوں کو ناشتے کے لئے لے جا رہی تھیں۔ اس نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ وہ میرا وعدہ شب کیا ہوا؟ صبح کی نماز میں نے کیسے ادا کی اور کب ادا کی؟ میں نے بھی ذکر نہیں چھیڑا۔ اتفاق سے دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کا موقع مل گیا۔ میں کمرے میں پہنچی تو وفا پہلے سے ہی موجود تھی۔ میں نے وضو کیا اور اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔آؤ نماز پڑھیں۔ قبلہ کا رخ میں نے نیچے استقبالیہ سے پوچھ لیا تھا۔ اور اس رخ پر جائے نماز بچھائی تو اتفاق سے سامنے وفا کا بستر تھا۔میرا خیال تھا جتنی دیر میں میں اپنا قبلہ درست کروں گی وہ وضو کرکے میرے برابر کھڑی ہوگی۔ لیکن وفا ایک دم وفا نا آشنالگ رہی تھی، ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ میں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی اس نے بنا کسی تاثر کے کہا: تم پڑھو میں پھر پڑھوں گی۔ میں نے ایک لمحے کو سوچا کہیں ناراض تو نہیں ہو گئی میں نے فجر جو اس کے ساتھ نہیں پڑھی تھی۔ خیر اصرار تو میں کر نہیں سکتی تھی۔ جائے نماز تھوڑی کھینچ کر ایک طرف کی تاکہ وہ سامنے نہ آئے۔ ابھی میں نیت ہی باندھ رہی تھی کہ وہ بیچ میں بول پڑی۔تم اونچی آواز میں نماز پڑھ سکتی ہومیرے لئے؟ میں نے دل میں سوچا یہ کیوں میری نمازوں کے پیچھے پڑ گئی ہے پھر میرے دل میں ایک اور بھولا بھٹکا خیال بلکہ ایک بھولی بسری یاد نجانے کہاں سے آ گئی جس کو میں نے فورا ہی جھٹک دیا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور نماز شروع کر دی۔ زندگی میں کئی ایسی بے حضور نمازیں پڑھیں ہیں ۔ لیکن آج پہلا تجربہ تھا کہ میں اللہ میاں کے ساتھ کسی اور کے لئے بھی نماز پڑھ رہی ہوں۔ میں بآوازِ بلند نماز پڑھتی رہی۔ بہت عرصہ بعد میں نے دوران نماز تلاوت کرتے ہوئے اپنی آوازسنی تھی۔ سفر کی نماز کا مزہ بھی کچھ الگ ہوتا ہے۔ حالانکہ مجھے اس وقت بھی کسر نماز ادا کرنی تھی لیکن نماز پڑھنے میں مزہ آرہا تھا اس لئے میں نے پورے فرض پڑھے۔ اور اس میں مجھے کوئی شک نہیں کہ جتنی دیر میں نے اس وقت چار رکعتیں فرض کی پڑھی ہیں، بصورت دیگر پوری بارہ رکعتیں ادا کر چکی ہوتی۔ سلام پھیر کر میں نے وفا کی طرف دیکھا وہ بہت مطمئن بیٹھی ہوئی تھی۔ میں جائے نماز پر بیٹھی انگلیوں پر تسبیح پڑھ رہی تھی کہ وفا اٹھ کر بستر کے کنارے پر آئی جو جائے نماز کے قریب تھا۔ یہ تو مجھے آتی ہے؟ اس کے منہ سے جملہ نکلا۔ میں منہ اٹھائے اسے دیکھتی رہی لیکن سمجھ نہ پائی کہ اس کو کیا چیز آتی ہے۔ پھر اس نے کہا:بس پڑھ لی؟ اتنی ہی پڑھنی تھی؟ اس کی باتوں سے مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ اس نے خود ہی وضاحت شروع کر دی: تمھیں شاید یاد ہو کہ تم نے پہلی بار نماز کب پڑھی تھی لیکن مجھے تو یہ بھی نہیں یاد کہ میں نے آخری بار نماز کب پڑھی تھی۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی یقین نہیں تھا کہ مجھے نماز آتی بھی ہے یا نہیں۔میں نے تم سے بلند آواز میں پڑھنے کوبھی اسی لئے کہا تھا کہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ کیا تم بھی ویسے ہی پڑھتی ہو جیسے کہ میں جانتی ہوں۔


اُف!! یہی وہ سوچ تھی جس کو میں نے نماز پڑھنے سے قبل جھٹکا تھا۔ اس وقت مجھے اپنی سوچ پر افسوس تھااور اب شدید حیرت۔ اور یہ حیرت اس لئے نہیں تھی کہ اس پی ایچ ڈی شدہ ، فارسی دان، عربی فہم ، پکی عمر کی مسلمان خاتون کو نمازکیونکر نہیں آتی بلکہ مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ تاریخ خود کو ایسے کیسے دہرا سکتی ہے۔ یہی جملے، ایسی ہی باتیں میں نے سولہ سال قبل اسی ایران زمین پر سنی تھیں تب بھی وہ ایک آذری خاتون تھی جو کہ آذربائیجان سے فارسی زبان کا ایک ریفریشر کورس کرنے تہران آئی تھی۔ مہرآباد کی مہمان سرا کی پانچویں منزل پر جو سویٹ ہمیں ملا تھا اس کا ایک کمرہ میرے اور میری ترک نژاد جرمن روم میٹ کے پاس تھا جبکہ دوسرے کمرے میں دو آذری خواتین تھیں جو باکو یونیورسٹی کی استاد تھیں۔ ان میں سے ایک لیلیٰ تھی، بہت خوب صورت، باوقار، قدرے عمر رسیدہ (اس کا بتانا تھا کہ وہ نانی بن چکی ہے) میں جب صبح کی نماز پڑھا کرتی تھی تو وہ اپنا سیگریٹ سلگائے لاؤنج میں کھڑکی کے پاس بظاہر باہر تہران کے شمالی پہاڑوں سے پرے کوہ دماوند پر جمتی برف کی تہوں کو دیکھتی رہتی تھی۔ اور ایک دن اس کے اِس سوال نے مجھ پر واضح کر دیا کہ وہ مجھے نماز پڑھتے دیکھتی رہتی ہے۔ میں ابھی جائے نماز پر ہی بیٹھی تھی کہ لیلیٰ خانم نے مجھ سے پوچھا تھا: کیا نماز کے دوران اشکبار ہونا ضروری ہے؟ ۔ نہیں، ایسی کوئی شرط نہیں ہے میں نے مسکرا کر کہا تو پھر تم نماز میں روتی کیوں ہو؟ میری تو جیسے چوری پکڑی گئی۔نہیں تو، بس کبھی اداس ہو جاتی ہوں۔ گھر والے یاد آ جاتے ہیں۔ سار ا دن تو آپ کو پتا ہے یہ ایرانی ہمیں پڑھاتے نہیں تھکتے۔بس نماز میں ذرا فرصت مل جاتی ہے۔ مجھے لیلیٰ خانم بہت اچھی لگتی تھی لیکن کبھی اس سے بہت بات نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے ہم دونوں اکثر صبح سویرے باتیں کرتے تھے۔ایک دن اس نے مجھ سے کہا :کیا میں تمہارے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہوں؟ ہاں کیوں نہیں ۔مجھے سن کر بہت اچھا لگا۔ وفا کی طرح اس نے بھی مجھ سے اونچی آواز میں نماز پڑھنے کو کہا تھا لیکن وہ خود بھی میرے برابر کھڑی ہو جاتی تھی اور میرے پیچھے نماز دہراتی تھی۔ ہم نے کئی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں۔


میں نے وفا سے پوچھا کہ لیلیٰ خانم تو کہتی تھی کہ آذربائیجان چونکہ تازہ تازہ سوویت یونین سے الگ ہوا ہے اس لئے غلامی کے اتنے سالوں بعد نئے اسلامی ملک میں اسلامی اقدار ابھی اتنی عام نہیں۔ لیلیٰ کا دکھ صاف دکھائی دیتا تھا کہ وہ صحیح سے نماز بھی نہیں جانتی۔ لیکن یہ تو سولہ سال پرانی بات ہے اور آج وفا بھی وہیں کھڑی ہے جہاں لیلیٰ تھی۔ اتنے برسوں بعد بھی آذربائیجان کے مسلمان بنیادی عبادات سے نا آشنا ہیں؟ کیا قوموں کی زندگی میں سولہ سال کوئی معنی نہیں رکھتے؟


میں جو تحائف ساتھ لائی تھی اس میں سے وفا کو ایک ان سِلا جوڑا دیا اور اس کو بتایا کہ وہ اس کو میرے کپڑوں کی طرح سلوائے اور اس میں نماز ضرور پڑھے۔ چاہے وہ نماز کنتی ہی بے حضور کیوں نہ ہو۔ اسے چاہے لگے یا نہ لگے، وہ اللہ میاں کے ہی سامنے ہو گی۔ وفا نے اس سوٹ کا دوپٹہ کھول کر اوڑھ لیا اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں خود کے لئے ستائش تھی۔ کیسری باتِک کا دوپٹہ واقعی اس پر جچ رہا تھا۔


اس کا جذبہ ، نماز سیکھنے کی تڑپ بہت شدید تھی۔ وفا نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں آیندہ برس ہونے والی کانفرنس میں ایران ضرور آؤں ۔ پھر ہم دونوں مل کر نماز پڑھا کریں گے۔وہ اگلی نماز پڑھنے کے لئے ایک سال تک کے انتظار پر آمادہ تھی۔اس نے کہا اگر آذربائیجان میں کوئی فارسی کی کانفرنس ہوئی تو وہ مجھے ضرور دعوت دے گی۔ ایسے ہی کچھ وعدے میں نے بھی اس سے کئے۔


نماز کے مختلف اوقات میں صج کی بیداری ، دوپہر کے کھانے کا خمار، شام کی مصروفیت، رات کی نیند کا نشہ مقابل ہوتا ہے۔ بیشک یہ سب جہاد بالنفس ہے لیکن اب لیلیٰ اور وفا کی تڑپ ، ان کا شوقِ قیامِ نماز مجھے شکر پر ضرور آمادہ کرتا ہے کہ شاید بے حضور ہی سہی لیکن میں نماز پڑھ تو سکتی ہوں۔ان دونوں کو سوچوں تو اب مجھے نماز کے سجدے گراں نہیں لگتے۔

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم‘ جواں ہیں لات و منات
یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!
(علامہ اقبالؒ )

*****

 
11
July

ادارے ملکی سلامتی اور بقاء کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔ ملک کا ہر فرد اور سبھی ادارے باہم مل کر ریاست کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ لہٰذا ادارے جتنی تن دہی اور اولوالعزمی سے اپنے اپنے حصے کے فرائض انجام دے رہے ہوں‘ ریاست اُسی طرح سے ترقی اور وقار کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔ افواجِ پاکستان بھی دیگر اداروں کی مانند اپنے حصے کا کام جو کہ وطنِ عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے‘ بخوبی انجام دے رہی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ وقت پڑنے پر افواجِ پاکستان سیلاب اور زلزلوں ایسی قدرتی آفات سمیت ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی داد رسی کے لئے اپنا کردار کرتی ہیں‘پاک افواج صرف بیرونی ہی نہیں اندرونی خلفشار سے نمٹنے کے فرائض بھی سرانجام دے رہی ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال کراچی آپریشن ہے جس کے ذریعے پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی مرکز اور صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت ملک کے بعض دیگر علاقوں میں امن و امان کی بحالی میں پاک فوج کا مثالی کردار سامنے آیا ہے۔اسی طرح دہشت گردی کے عفریت پر کافی حد تک قابو پانے کے بعد اب پاک فوج فسادیوں کی سرکوبی کے لئے مصروفِ عمل ہے جس کا مقصدملک کے کونے کونے میں موجود فسادیوں اور ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اُنہیں ٹھکانے لگانا ہے تاکہ وطنِ عزیز کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔


افواجِ پاکستان اس مقصد کے لئے کہ مادرِ وطن کے شہری سکون اور امن کی زندگی بسر کرسکیں‘ مسلسل کام کرتی ہیں۔ وہ جہاں سیاچن کی یخ بستہ وادیوں میں دشمن سے نبر د آزما ہیں وہیں لائن آف کنٹرول سمیت مشرقی اور مغربی سرحدوں کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کرانجام دے رہی ہوتی ہیں۔پاک افواج ان دنوں بھی چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی ہیں جب اس ملک کے شہری اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ قومی اور مذہبی تہوار منارہے ہوتے ہیں۔ اس دوران افواجِ پاکستان کے جری سپوت اپنے اپنے گھروں اور خاندانوں سے ہزاروں میل دور دفاعِ وطن کے فریضے پر مامور ہوتے ہیں کہ بلاشبہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کسی بھی شہری کی ذاتی خوشیوں اور منفعتوں سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہے۔ اس طرح سے عسکری خدمات صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مقدس فریضہ ہے۔ یقیناًپاک افواج کے ہر شخص کی خوشیاں اپنی قوم اور اپنے شہریوں کی خوشیوں اور ان کے چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ جُڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ مسلح ا فواج کے جانبازوں کی عیدیں‘ تہوار اور دیگر خوشیاں اُن کے محاذ پر ڈٹے رہنے کے جذبوں کے اندر موجود اطمینان اور اعتمادمیں پنہاں ہوا کرتی ہیں۔ بقول یاور عباس
؂ کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
مری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا
مری سرحدوں کے اندر نہ قدم بڑھا سکو گے
مری سرحدوں تک آئے تو نہ بچ کے جا سکو گے
مری ضربِ حیدری ہے کہاں تاب لا سکو گے
کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

11
July

تحریر: یاسرپیرزادہ

خدا نے انسان کو فیصلے کرنے کا کتنا اختیار دیا ہے؟ انسان اپنے معاملات میں کس قدر آزاد ہے؟ اگر سب کچھ کاتب تقدیر نے لکھ ڈالا ہے تو پھر انسان کی آزادی کے کیا معنی ہیں اور اگر اس کی آزادی خدا کی منشا کے تابع ہے تو پھر اس سے بازپرس کیوں کر ہو گی؟ یہ وہ مسائل ہیں جن پر صدیوں سے بحث جاری ہے مگر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس مسئلے پر بہت دلچسپ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خدا کے پاس اشیاء کا علم ان کے وجود میں آنے سے قبل یعنی ازل سے ہے۔ اور یوں خدا کی منشا اس کے آفاقی فیصلے اور لوح ازل پر لکھی ہوئی تقدیر اسی ابدی علم کے مطابق ہیں۔ خدا کا ابدی فیصلہ فقط تشریحی نوعیت کا ہے۔ حتمی نہیں۔ خدا نے انسان کو فطرت کے مطابق پیدا کیا ہے۔ اسے عقل عطا کی ہے۔ پھر اسے پکارا ہے۔ نبی کے ذریعے اپنا پیغام پہنچایا ہے اور بتایا ہے کہ اسے ایمان لانا ہے اور کفر سے بچنا ہے۔ جب کوئی انسان اس پیغام کو ماننے سے انکار کرتا ہے، سچائی کو نہیں پہچانتا تو اس کی یہ بداعتقادی اس کا اپنا عمل ہے۔ جو اس نے مکمل آزادی کو بروئے کار لاکر اپنایا ہے اور یہ آزادی بھی اسے خدا کی طرف سے ہی ودیعت ہوئی ہے نہ کہ خدا نے انسان پر اپنا فیصلہ مسلط کیا ہے کہ وہ اسی انداز میں سوچے۔ امام ابوحنیفہؒ کا کہنا ہے کہ خدا نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ وہ حق و باطل میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لے۔ جو انسان آفاقی پیغام کو پالیتا ہے وہ خدا کی مدد اور ہدایت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ خدا کسی کو بھی کافر پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے ایک انسان کے طور پر پیدا کرتا ہے۔ ایمان لانا نہ لانا یکسر اس انسان کی اپنی مرضی اور منشا پر منحصر ہے۔ انسان کے تمام اعمال اس کے سونے جاگنے یا حرکت کرنے کے اس کی اپنی مرضی سے ہوتے ہیں مگر خدا ہی ان کا خالق ہے اور وہ خدا کی مرضی، علم، فیصلے اور منشا سے ہی ہو پاتے ہیں۔


امام ابوحنیفہؒ کے ایک پیروکار ابو منصور محمد الماتریدی نے اپنی شہرہ آفاق کتب ’’کتاب التوحید‘‘ اور ’’تاویلات القرآن‘‘ میں ان مسائل پر تفصیلی بحث کی ہے جیسے کہ انسان کا اختیار کتنا ہے؟ خدا کے ابدی فیصلوں کا انسان کے اعمال پر کیا اثر ہے؟ خدا کی حکمت کیا ہے؟ اس دنیا میں برائی کا وجود کیا معنی رکھتا ہے؟ مذہبی ذمہ داری کی کیا بنیاد ہے؟ ماتریدی کا کہنا ہے کہ خدا اور انسان کے مابین تعلق کو ایسا نہ سمجھا جائے جیسا کہ خدا اور مادی دنیا کا تعلق ہے۔ خدا نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا ہے۔ غلط اور صحیح کو پرکھنے کی صلاحیت دی ہے۔ اور اس کو سوچنے، سمجھنے، محسوس کرنے ،فیصلہ کرنے اور اختیار استعمال کرنے کی استعداد دی ہے۔ اس کی مدد کے لئے آسمانی کتب ارسال کی ہیں اور انہیں پیغمبروں کے ذریعے کھول کر بیان کیا ہے۔ انسان اپنے دماغ کو اسی طرف مائل کرتا ہے جہاں سے اسے فائدہ ملنے کا امکان ہو جبکہ اس طرف جانے سے روکتا ہے، جہاں نقصان کا احتمال ہو۔ انسان اپنے عقل اور شعور کی بنیاد پر ان میں سے کسی بھی راہ کا انتخاب کرتا ہے اور پھر اس انتخاب کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کا کلی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔ اب چونکہ انسان سوچتا ہے، خواہش کرتا ہے اور اپنی مرضی سے چیزوں کا انتخاب کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنے آپ کو آزاد ہی سمجھتا ہے اور کبھی یہ نہیں سمجھتا کہ کوئی بیرونی طاقت زور زبردستی سے اس پر اپنے فیصلے مسلط کر رہی ہے۔ یہ شعور آزادی بقول ماتریدی کے ایک ٹھوس حقیقت ہے جس کے انکار کا مطلب انسانی دانش اور علوم کا انکار ہو گا۔ اس انسانی آزادی سے انکار کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ انسان کے اعمال کا ذمہ دار خود انسان نہیں بلکہ خدا ہے اور یوں آخرت کے دن انسان کو اس کے گناہوں کی سزا دینا جس میں اس کا کوئی اختیار نہیں تھا، ایک غیرمنطقی بات ہو گی


ماتریدی انسان کی مختاری اور کبریائی طاقت اور اس کے ابدی فیصلوں اور انسانی اعمال پر خدا کی برتری کے اس دقیق مسئلے کو یوں ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ تخلیق صرف خدا کا اختیار ہے اور تمام انسانی اعمال اچھے، برے، اختیاری، غیراختیاری، سب اسی کے تخلیق کردہ ہیں۔ تخلیق سے مراد وہ اعمال ہیں جن کے بارے میں خدا کو اپنی لامتناہی طاقت اور کامل علم کی بدولت عدم سے وجود میں لانے کا اختیار ہے۔ کوئی بھی انسان ان تمام عوامل،وجوہات اور حالات یا اپنے عمل کے نتائج کا مکمل ادراک نہیں رکھ سکتا۔ اس کے پاس وہ مطلوبہ طاقت ہی نہیں جس کے بل پر وہ ایسا عمل کر سکے۔ چنانچہ وہ اپنے اعمال کا خالق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا کہ خدا ہی تمام انسانی اعمال کا خالق ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان تمام اعمال میں اس کی منشا شامل ہے۔ کیونکہ امر خداوندی کے واقع ہونے سے پہلے منشا الہٰی کا وجود ضروری ہے۔ اس دنیا میں خدا کی مرضی کے بغیر پتّہ بھی نہیں ہل سکتا۔ مگر اس کے ساتھ ہی خدا کو انسان کے اعمال کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ منشاءِ الہٰی کا تعین الوہی علم کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جس عمل کو ہم خدا کا تخلیق کردہ سمجھتے ہیں وہ اصل میں انسان کی اپنی عقل و دانش اور اس کی آزادانہ رائے پر مبنی عمل ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہئے کہ خدا کی مرضی سے ہی اچھا یا برا عمل وجود میں آتا ہے۔ خدا کو اس کا مکمل علم ہے کہ انسان دی گئی عقل استعمال کر کے کس راستے کا انتخاب کرے گا اور جب انسان مکمل آزادی کے ساتھ اپنا راستہ منتخب کرلیتا ہے تو خدا اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اچھائی یا برائی بھی تخلیق کر دیتا ہے۔


صدیوں سے مسلم فلسفیوں نے قضا و قدر کے اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی ہے اور ماتریدی جیسے عظیم سکالر کی کوششیں بھی اسی کا حصہ ہیں لیکن یہ مسئلہ ایسا نہیں جس کا کوئی حتمی جواب تراش کر انسان کو مطمئن کیا جا سکے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان ہرفیصلے کا ذمہ دار ہے تو اس کی تقدیر کا آدھے سے زیادہ فیصلہ تو اس وقت ہو جاتا ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے اور کم از کم اپنی پیدائش کے معاملے میں وہ مجبور ہے۔ اس ضمن میں سائنس کی تحقیق بے حد حیرت انگیز ہے۔ سٹیفن ہا کنز کے مطابق نیوروسائنس میں حالیہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ہمارا دماغ سائنس کے قوانین کے تابع ہمارے اعمال کا تعین کرتا ہے۔ نہ کہ ان قوانین سے باہر کسی قوت کے تابع۔ مثال کے طور پر دماغ کی سرجری کے چند مریضوں پر جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اگر ان کے دماغ کے مخصوص حصوں میں برقی طریقے سے تحریک پیدا کی جائے تو ان میں اپنے ہاتھ پیر یا بازؤں کو حرکت دینے حتیٰ کہ لب ہلانے اور بولنے کی خواہش بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہاکنز کہتا ہے کہ اگر ہمارا طرزعمل ہی طبعی قوانین کے تابع ہے تو انسان کی آزادی کا تصور ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ طبعی قوانین کو بروئے کار لا کر انسانی طرز عمل کی پیش گوئی تو کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ اس قدر پیچیدہ کام ہے کہ فقط ایک معمولی عمل کو جاننے کے لئے ہمیں انسانی جسم میں کھربوں مالیکیولز کے ملاپ سے متعلق مساوات کو حل کرنا پڑے گا جس کے لئے اربوں برس درکار ہوں گے۔


ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی۔
نوٹ:۔ اس کالم کو لکھنے میں اے، کے، ایوب علی کے مضامین

Tahawism
اور
Maturidism
سے استفادہ کیا گیا ہے۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہو صداقت کے لئے
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
زندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیدا کرے
خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے
سوئے گردوں نالۂ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے
(علامہ اقبال)

*****

 
11
July

تحریر: ملیحہ خادم

دریا، پہاڑ، سمندر، صحرا،زر خیز زمین اور چارموسم۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جواگرکسی ملک کے پاس ہوں تو وہاں کے باشندوں کو خوش قسمت خیال کیا جاتا ہے کیونکہ ان چھ عناصر کی موجودگی میں معیشت خود انحصاری کی راہ پر رواں دواں رہتی ہے اور عوام خوشحال رہتے ہیں نیز بہتر طرز زندگی کی ضمانت اور ذرائع روزگار بھی ہمہ وقت میسر ہیں- چونکہ مضبوط اورمستحکم معاشی حالات پرسکون معاشرے کو جنم دیتے ہیں اس لئے عوام کی فلاح کو ذہن میں رکھتے ہوئے جہاں تجارت، کاروبار اور افراط زر کے حوالے سے پالیسی بنانی ضروری ہے وہیں قدرتی وسائل کادرست استعمال بھی بے حد ضروری ہے ۔


قدرت نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازاہے۔ ہمارے پاس یہ سب چیزیں بھی ہیں اور صلاحیتوں سے مالامال قوم بھی۔ لیکن پھر بھی ہمارے معاشی حالات ابتر ہیں اور بحیثیت مجموعی ہم اور ہمارا ملک بیرونی امداد کے محتاج ہوتے جارہے ہیں۔ ہم بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ جھیل رہے ہیں، ہمارے ذرائع آمدن اورروزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ جہاں اوربہت سے عوامل اس صورتحال کو پیدا کررہے ہیں وہیں ہماری اپنی تساہل پسندی اور مستقبل پر نظر نہ رکھنے کی غلطی پاکستان کو نقصان پہنچارہی ہے۔


افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر ہمارے ارباب اختیار کی توجہ اس طرف کم ہے تو عام پاکستانی بھی کوتاہ اندیشی سے کام لے رہے ہیں۔ ہم قدرتی وسائل کو اندھادھند بغیر کسی منصوبہ بندی کے استعمال کررہے ہیں۔ ہم نے کل کے لئے سوچنا اور محنت کرنا کم کردیا ہے اس کے بجائے ہماری توجہ صرف آج سے وابستہ ہو کر رہ گئی ہے۔ تیل، پٹرولیم اور گیس کے ذخائر، قیمتی پتھر اور دھاتوں سے ہٹ کر اگر صرف قدرت کی طرف سے عطا کردہ وسائل کوہی اچھے طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان ترقی کرسکتا ہے۔

qudartiwasail.jpgدریا، پہاڑ جنگلات اور صحرا وغیرہ سیاحوں کے لئے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ وہ خدا کی خدائی دیکھنے کے لئے ایسے مقامات کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جس کا فائدہ نچلی سطح سے لے کر اوپر تک معیشت کو پہنچتا ہے۔ اس لئے ایسے مقامات کی حفاظت اور خوبصورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔


گزشتہ چند دہائیوں میں بدامنی اور دہشت گردی نے سیاحوں کو پاکستان سے خوفزدہ کردیا تھا لیکن اب جب کہ ہمارے ملک میں امن واپس آرہا ہے تو ہمیں سیاحت پر پوری توجہ دے کر پاکستان کو سیاحوں کی جنت بنا دینا چاہئے۔ اس سے معاشی حالات تو بہتر ہوں گے ہی ساتھ میں پاکستان اور پاکستانیوں کا اصل روشن اور مہمان نواز چہرہ بھی دنیا کے سامنے آئے گا۔ مناسب انتظامات اور بہتر منصوبہ بندی سے ہم مزید بہتری لا سکتے ہیں۔


پانی زندگی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ تیل کے بعد پانی پرجنگیں شروع ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ اس وقت ساری دنیا میں پانی کم ہورہا ہے۔ بیشتر ممالک نے اس بحران کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ پانی کے ذخائر بڑھانے کے علاوہ وہاں کی حکومتوں نے پانی کے بے جا استعمال اور زیاں کی روک تھام کا بندوبست بھی شروع کردیاہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں اس مسئلے کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نہ ڈیم بنارہے ہیں جو پانی ذخیرہ کرکے بجلی اور دیگر ضروریات کو پورا کریں اور نہ ہی ہماری توجہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی طرف ہے۔ بارشوں کے بعد وہ تمام پانی جو ہماری بہت سی ضروریات پوری کرسکتا ہے، سیلاب کی نظر ہوجا تا ہے اور عوام بجلی اورپانی کو ترستے رہ جاتے ہیں۔ ہم دریاؤں اور سمندرکے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بھگت رہے ہیں اور پانی کی کمی کا رونا بھی رورہے ہیں لیکن اس دہری مصیبت کے تدارک کی کوششیں سرکاری اورعوامی سطح پرآٹے میں نمک کے برابرہیں ۔ اگر ایک طرف ہماری موجودہ اور سابقہ تمام حکومتیں پانی کے ذخائر بنانے میں سستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں تو دوسری طرف عوام بلا ضرورت گھروں کے صحن، کپڑے اور گاڑیاں دھو کر پانی ضائع کرنے میں اکثر اوقات چستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔


پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی نصف سے زیادہ آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے،لیکن نااہلی اورناقص حکمت عملی نے ہمارے ملک کے زرعی شعبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کسانوں کی جدید خطوط پر تربیت نہ ہونے کے باعث کسان کاشتکاری کے نئے طریقوں سے واقف نہیں ہیں جس کی وجہ سے فصل کی کاشت کے لئے پرانے اور روایتی طریقے اپنائے جاتے ہیں، نتیجہ زرعی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے ۔ اس کی وجہ سے زراعت میں ہماری خودانحصاری کم ہورہی ہے اور ہم سبزیاں درآمد کرنا شروع کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی کمی اورزرعی اراضی کی سیرابی کے مروجہ طریقہ کارجو اکثر ملکوں میں متروکہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں، بھی کسانوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔


گزشتہ کچھ سالوں سے دنیا بھرمیں موسمیاتی تبدیلیاں رونماہورہی ہیں جن کی لپیٹ میں پاکستان بھی آیا ہوا ہے۔ اب پاکستان کا موسم بھی زیادہ گرم ہوتا جارہا ہے اور سیلاب سمیت دیگر قدرتی آفات جن میں خشک سالی، زلزلے اور طوفانی بارشیں شامل ہیں، پہلے کی نسبت زیادہ وقوع پذیر ہونے لگے ہیں۔ اس موسمیاتی تبدیلی نے زرعی پیداوار کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ بارش کی کمی‘ زیادتی یا شدید گرمی اور سردی فصلوں کونقصان پہنچارہی ہے اور چونکہ ہمارا کسان موسم کے ان تغیرات سے آگاہی نہیں رکھتا اس لئے وہ اپنی فصل کو موسمی تبدیلیوں سے بچا نہیں پاتا‘ لہٰذا اس کی محنت اور کمائی ضائع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔


ہم نے صنعتوں سے خارج ہونیوالی گیس اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے جو فضا کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی میں شامل ہوکر انسانی زندگی کی لئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ اکثر فیکٹریاں اپنا صنعتی فضلہ غیر محفوظ طریقے سے پھینک دیتی ہیں اور چونکہ سرکاری سطح پر یہاں بھی ناقص منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا دوردورہ ہے اس لئے اکثر یہ زہریلا مواد صنعتی علاقوں کے قرب و جوار کی آبادیوں میں متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کا ایک سبب یہ زہریلی اور مضر صحت گیس اور مادہ بھی ہیں جس کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے۔


گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث ہر سال قیمتی انسانی زندگیاں ضائع ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی ہماری حکومت کی حکمت عملی نہیں بن پارہی ۔ ماہرین موسمیاتی تغیرات سے بچنے کا آسان ترین حل شجر کاری کو قرار دیتے ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں نئے درخت لگانا تو درکنار لگے ہوئے درخت بھی کاٹے جارہے ہیں۔ دریاؤں کے کناروں پر موجود درخت سیلاب سے بچاو کابہترین اور قدرتی ذریعہ ہیں لیکن یہاں بھی ہم کوتاہ اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان درختوں کو کاٹ دیتے ہیں۔ ہر سال کتنے ہی ایکڑ زرعی ا راضی، رہائشی مکانات، مویشی اور انسانی جانیں سیلاب کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں لیکن ہم بیرونی امدد کے آسرے پر حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔


بجلی کے بحران، طوفا نی بارش، سیلاب سمیت ان تمام نقصانات کا خمیازہ ہماری معیشت کو بھگتنا پڑتا ہے اور ہم مزید بیرونی قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں۔ ضرورت وقت ہے کہ حکومت ان بنیادی مسائل پر خصوصی توجہ دے اور سب سے پہلے ملک میں پانی کے ذخائر میں اضافہ کرے تاکہ بجلی اور زراعت کا شعبہ مستحکم ہوسکے نیز ہر سال آنیوالے سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں سے بھی بچاجا سکے۔ نیز شجرکاری پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ گرمی کی شدت کا تدارک ہوسکے۔ دریاؤں، چشموں کے پانی کو استعمال میں لا کر اس سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ تھرکے صحرا کو پانی پہنچا کر وہاں قحط اور خشک سالی کی شکار معصوم زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب بہت زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہیں، بس ذرا سی منصوبہ بندی اور عزم درکار ہے تاکہ معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکے اور قدرتی وسائل سے استفادہ حاصل کیا جاسکے ۔

ملیحہ خادم فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
July

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط نمبر 18

چُھٹی اور تعزیت
چُھٹی سے زیادہ دلفریب لفظ شاید فوجی ڈکشنری میں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ چھٹی کی مثال عسکری زندگی کے صحرا میں ایک ہرے بھرے نخلستان کی مانند ہے جس کے تصور سے ہی روزمرہ کی کٹھنائیوں کی شدت کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ سپاہی کی زندگی چچا غالب کی طرح ہزاروں خواہشوں کا مرقع نہیں ہوتی بلکہ لے دے کر اس کی سوچ کا واحد محور چھٹی ہی ہوا کرتی ہے جس پہ اس کا دم بھی نکلتا ہے اور ارمان بھی ۔ جیسا کہ مرزا سے کسی نے ان کی پسند دریافت کی تو یکلخت بولے ’’آم ہوں اور عام ہوں‘‘ٹھیک ویسے ہی کسی فوجی سے اس کی دلی مراد پوچھیں تو فوراً نعرہ بلند کرے گا ’’چھٹی ہو اور کھلی ہو۔‘‘


چھٹی کا حصول ویسے تو اتنا مشکل نہیں ہوتا تاہم جب کبھی یونٹ کوئی اہم ذمہ داری سر انجام دے رہی ہویا جنگی مشقوں میں مصروف ہو تو اکثر یک انار صد بیمار والا معاملہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسے میں زیادہ ترلوگ تو صبر و شکر کا دامن تھام کر دن گزارتے ہیں لیکن کچھ مردانِ قلندر ایسے بھی ہوتے ہیں جوان بے جا پابندیوں کو خاطر میں لانا گوارا نہیں کرتے اور ہر قیمت پر چھٹی کے حصول کے لئے سرگرداں رہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ان کی جانب سے طرح طرح کے عذر بھی تراشے جاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ جب بات ’’کوئی صورت نظر نہیں آتی، کوئی امید بر نہیں آتی‘‘تک جا پہنچے تو جھوٹ بول کر کسی قریبی رشتہ دار کو اس جہان فانی سے کوچ کرو انے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ایسی صورتِ حال میں مجاز افسران کو بھی گرہ ڈھیلی کر کے مذکورہ جوان کو چھٹی کا پروانہ عطا کرنا ہی پڑتا ہے۔


یہ 1998کے موسم گرما کا ذکر ہے۔ یونٹ ان دنوں سالانہ جنگی مشقوں کے لئے جہلم کے نزدیک ٹلہ فائرنگ رینج پر کیمپ کئے ہوئے تھی۔ ایک دن ہم معمول کے کاموں میں مصروف تھے کہ سپاہی بشیر نے ہمیں اپنے والد صاحب کے انتقال کی خبر سنائی۔سپاہی بشیر کافی دنوں سے چھٹی جانے کی درخواست کر رہا تھا لیکن فارمیشن کی ہدایت کے مطابق مشقوں کے اختتام تک چھٹی پر پابندی عائدتھی اس لئے اس کی درخواست کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ بہرحال والد کی وفات کی اطلاع ملتے ہی اس کی چھٹی فوراً منظور کرلی گئی ۔ یونٹ سے ایک گاڑی روانہ کی گئی جو اسے بس میں بٹھا کر واپس لوٹی۔ دو تین دن بعد مشغولیت قدرے کم ہوئی تو سی او کے ذہن میں خیال آیا کہ بشیر کا گاؤں قریب ہی واقع ہے چنانچہ اس کے گھر والوں سے تعزیت کے لئے کسی افسر کو بھیجا جانا چاہئے۔ چونکہ اس کا تعلق ہماری کمپنی سے تھا اس لئے اس نیک کام کاقرعہ فال ہمارے نام نکلا۔ اگلے دن پروگرام کے مطابق ہم سپاہی بشیر کے گاؤں کی جانب روانہ ہوئے۔ پہلے سے اطلاع اس لئے نہیں کی جاسکی کہ اس کے لئے مطلوبہ ذرائع ہی میسر نہ تھے کیونکہ اس زمانے میں موبائل فون اس قدر عام نہیں ہوتے تھے۔


قصہ مختصر، رستہ پوچھتے پاچھتے دوپہر کے قریب بشیر کے گاؤں پہنچے ۔مطلوبہ گھر کے باہر ایک بزرگ بیٹھے ملے ۔ ہم نے ان سے بشیر کے والد کی وفات پر دلی تعزیت کی اور یونٹ کے سی او کی جانب سے سوگواران کے لئے ہمدردی کا پیغام بھی پہنچایا۔ پوری بات سن کر بابا جی نے فرمایا کہ بشیر تو میرا بیٹا ہے اور میں زندہ سلامت آ پ کے سامنے موجود ہوں۔ یہ جان کر ہمیں جو شرمندگی ہوئی، سو ہوئی لیکن ایک زندہ آدمی سے اسی کی وفات کی تعزیت کر کے ہم ایک انوکھے ریکارڈ کے حامل ضرور ہو گئے۔ ہم نے بابا جی سے بشیر کو حاضر کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ بشیر تو ابھی تک یونٹ سے گھر نہیں پہنچا۔یہ سن کر ہمارا غصہ دوچند ہوگیا۔ تلملاتے ہوئے واپس پہنچے اور بشیر کا انتظار شروع کردیا۔وہ ناہنجار پورے دس دن کی چھٹی گزار کر اٹھلاتا ہوا یونٹ واپس پہنچا۔ ہم بھی بھرے بیٹھے تھے لہٰذا اسے لے کر فی الفور سی او کے سامنے پہنچ گئے ۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی اس نے آناً فاناً سی او کے پاؤں پکڑ لئے اور کہنے لگا کہ سر! والد صاحب کی وفات کے بارے میں تو میں نے جھوٹ بولا تھا لیکن آپ یقین مانیں کہ میری والدہ بہت سخت بیمار ہیں۔ لہٰذا ان کی دیکھ بھال کے لئے مجھے دس دن کی چھٹی بھجوا دیں۔
ہمارے سی او بھی انتہائی خدا ترس انسان واقع ہوئے تھے انہوں نے نہ صرف بشیر کو معاف کردیا بلکہ اس کی بات پر یقین کرتے ہوئے مزید دس دن کی چھٹی بھی عنایت فرمادی۔


کس قیامت کی یہ کالیں
گئے وقتوں میں حضرتِ داغ کو ’’قیامت کے نامے‘‘ موصول ہوا کرتے تھے جبکہ فی زمانہ فوجی افسران کا واسطہ قیامت کی فون کالوں سے پڑتا ہے ۔آج سے بیس برس قبل موبائل فون اتنے عام نہیں ہوئے تھے اور گلشن کا تمام کاروبار یونٹ میں موجود اکلوتے سرکاری فون کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔ یہ فون دفتری اوقات میں ایڈجوٹنٹ کے تصرف میں ہوتا تھا لہٰذا نامہ بر کا کردار بھی اکثر و بیشتر وہی ادا کرتا تھا۔حسبِ روایت مرحلہ شوق کے طے ہونے تک دو چار مشکل مراحل سے گزرنا لازم تھا جن کے دوران نامہ بر کے رقیبِ روسیاہ کی صورت اختیار کرنے کا احتمال بھی ہمہ وقت موجود رہتا تھا۔


یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب آتش جوان تھا اور پشاور چھاؤنی میں عسکری خدمات سر انجام دے رہا تھا جبکہ کیپٹن ندیم ان دنوں یونٹ ایڈجوٹنٹ کے عہدہ پر فائز تھے۔ جولائی 1999 کی ایک گرم دوپہر میں ہم ایک عدد ضروری کام کے سلسلے میں ان کے آفس میں موجود تھے ۔موصوف سی او سے تازہ تازہ عزت افزائی کروانے کے بعد دفتر لوٹے تھے اوراس کیفیت میں فوج سے استعفے دینے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے تھے۔ اسی دوران فون کی گھنٹی بجی ، پتہ چلا کہ دوسری جانب ایک محترمہ موجود تھیں جو ان سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرنے کی خواہشمند تھیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ اس قسم کی شریفانہ گفتگو کا وقت تھا نہ موقع لہٰذا انہوں نے شائستگی سے معذرت فرمائی اور سر جھکا کر اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔ کچھ ہی دیر بعد گھنٹی دوبارہ بجی اور اس مرتبہ بھی دوسری جانب وہی محترمہ موجود تھیں۔ کیپٹن ندیم نے ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے ذرا درشت لہجہ میں بات کی اور فون بند کردیا لیکن یہ سلسلہ اس کے باوجود بھی نہ رکا۔ تیسری بار گھنٹی بجی ، فون اٹھایا گیا اور کیپٹن ندیم کی جانب سے پہلے سے زیادہ سخت سست سنانے کے بعد فون رکھ دیا گیا۔


اس کے بعد کیپٹن ندیم نے ہمیں ہدایت دی کہ اب اگر فون آئے تو آپ اٹینڈ کریں اور ان خاتون کو سختی سے منع کیجئے کہ وہ بار بار فون کر کے ہمیں ڈسٹرب نہ کریں۔ مشکل یہ تھی کہ ایک تو ہمیں اس طرح کے معاملات کا خاطر خواہ تجربہ نہ تھا اور دوسرے کسی خاتون سے بے رخی سے بات کرنا ہماری طبیعت شاعرانہ کو گوارا نہ تھا۔ بہرحال ایک اچھے جونئیر کی طرح دل کڑا کر کے ہم نے سینئر کے حکم کی پاسداری کرنا ضروری خیال کیا۔حسب معمول کچھ ہی دیر کے بعد فون کی گھنٹی بجی ۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، فون اٹھاتے ہی کھری کھری سنانا شروع کر دیں۔ہم اپنی دھن میں بولے چلے جا رہے تھے جبکہ دوسری جانب مکمل خاموشی طاری تھی۔ کچھ دیر بعدہم جیسے ہی سانس لینے کے لئے رکے تو ایک بھاری مردانہ آواز کانوں میں گونجی ’’بیٹا میں کمانڈر بول رہا ہوں۔ آپ فوراً سے پہلے میرے دفتر میں تشریف لے آئیں۔‘‘ اب ہماری یہ حالت کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ ہم نے انجانے میں کمانڈر کو بُرا بھلا کہہ کر گویا قیامت کو آواز دے لی تھی۔ بہرحال مرتے کیا نہ کرتے‘ کیپٹن ندیم کو ساتھ لے کر ڈرتے کانپتے کمانڈر کے آفس میں جاپہنچے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے ہم نے معافی مانگ کر تمام معاملہ ان کے گوش گزار کر دیا۔ اگرچہ کمانڈر عمر کے لحاظ سے بزرگ تھے لیکن ان کے سینے میں ایک جوان دل دھڑک رہا تھا۔ ہماری بات سن کر انہوں نے ایک زور دارقہقہہ لگایا اور مزید کچھ کہے بغیر ہمیں دفتر سے جانے کی اجازت دے دی۔ اس طرح غالب کے پرزے اڑنے سے بچ گئے ۔ اس دن کے بعد سے ہم فون پر بات کرنے سے پہلے یہ اچھی طرح یقین کر لیتے ہیں کہ کہیں دوسری جانب کمانڈر یاکوئی خاتون تو موجودنہیں۔


فوجی گاڑیاں، ڈرائیور اور انسپکشن
فوجی گاڑیوں کو اونچے نیچے پہاڑی راستوں ، دریاؤں اور صحراؤں میں رواں دواں رکھنا انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے کیونکہ یہ پٹرول سے کم اور دعاؤں سے زیادہ چلتی ہیں۔ہماری نظر میں اگر کوئی طبقہ بغیر حساب کتاب کے جنت میں جانے کا حقدار ہے تو وہ ہے فوجی ڈرائیور جو لاکھ مشکلات کے باوجود ان گاڑیوں کو صحیح سلامت منزل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ صحرا میں ہونیوالی ایک جنگی مشق کے دوران کسی فوجی گاڑی کا ایک درخت کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہو گیا۔یہ اس علاقے میں موجود تن تنہا درخت تھا اور اس کے قرب وجوار میں میلوں میل کسی اور درخت کا نام و نشان تک نہیں پایا جاتا تھا۔ ڈرائیور سے دریافت کیا گیا کہ بھلے آدمی تمہیں پورے صحرا میں گاڑی ٹکرانے کے لئے یہی اکیلا درخت ملا تھا تو اس نے جواب دیا کہ سر میں آخر تک یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس درخت کے دائیں سے گزروں یا بائیں سے ۔ یہ سوچتے سوچتے وقت ہاتھ سے نکل گیا اور گاڑی درخت سے جا ٹکرائی۔ ایک مرتبہ ہمیں گاڑیوں کے ایک قافلے کے ہمراہ کشمیر کے بلند و بالاپہاڑوں میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ اونچی نیچی پہاڑیوں اور تنگ راستوں پر سفر خاموشی سے جاری تھا کہ ہم نے وقت گزاری کے لئے ڈرائیور سے گپ شپ لگانے کا سوچا۔ ڈرائیور سے اس کے گاؤں، خاندان، یونٹ اور ادھر ادھر کی دوسری چیزوں کے بارے میں سوالات پوچھے جن کے جواب وہ دیتا گیا۔ کچھ دیر بعد جب پوچھنے کے لئے کچھ اور باقی نہیں بچا تو ہم گویا ہوئے ’’بشیر!اورتو سب ٹھیک ٹھاک ہے ناں‘‘اس پر ستم ظریف بولا ’’سر!باقی سب تو ٹھیک ہے بس گاڑی کی بریکیں کام نہیں کر رہیں۔‘‘


فوجی گاڑیوں کی دیکھ بھال ای ایم ای کور کے ذمہ ہوا کرتی ہے۔ ہر سال ایک لگے بندھے شیڈول کے مطابق گاڑیوں کی ٹیکنیکل انسپکشن بھی ای ایم ای والے ہی کرتے ہیں۔ یعنی وہی ذبح کرے اور وہی لے ثواب الٹا۔ سال بھر میں گاڑیوں کے جو نقائص ٹھیک ہونے سے رہ جاتے ہیں وہ ای ایم ای کی انسپکشن ٹیم بے دھڑک اپنی رپورٹ میں درج کرتی ہے۔ یہ موقع عموماً یونٹ کے لئے سخت امتحان کا ہوتا ہے۔ یونٹ کی کوشش ہوتی ہے کہ گاڑیوں کے نقائص انسپکشن سے پہلے کسی بھی طرح سے دور کروائے جائیں، چاہے اس کے لئے جتنا بھی خرچ یا جیسے بھی جتن کیوں نہ کرنے پڑیں۔لیکن لاکھ کوشش کے باوجود حضرت خضر کی ہم عمر کچھ گاڑیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی مسیحائی کے لئے جس ’پیمبرانہ‘ استعداد کی ضرورت ہوتی ہے وہ آج کل کے معمولی مستریوں اور مکینکوں میں کہاں مل سکتی ہے۔ اس طرح انسپکشن ٹیم کو زیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا اور ان پیرانہ سال گاڑیوں کے نقائص کی صورت میں کاغذوں کا پیٹ بھرنے کے لئے مطلوبہ مواد آسانی سے میسر آ جاتا ہے۔ یہ رپورٹ بعد میں برے بھلے ریمارکس کے ساتھ بالا ہیڈکوارٹر کو روانہ کر دی جاتی ہے جس کی سنگینی کی بنا پر بسا اوقات سی او کو کمانڈر کی جانب سے وارننگ کی صورت میں ’’خصوصی محبت نامہ‘‘بھی ارسال کر دیا جاتا ہے۔


ہم نے یونٹ کی کمانڈ سنبھالی تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ پرانی ٹیکنیکل انسپکشن رپورٹس نکلوا کر اپنے سامنے رکھ لیں۔ اس کے بعد جملہ ڈرائیوران کا اجلاس طلب کیا اور ان کو رپورٹس میں درج تمام نقائص دور کرنے پر آمادہ کیا۔ ڈرائیور حضرات نے ہمارے حکم پر دل و جان سے کام شروع کیا اور دو مہینے کے قلیل عرصے میں گاڑیوں میں موجود وہ تمام نقائص دور کرنے میں کامیاب ہو گئے جو کہ پرانی رپورٹوں میں درج تھے۔ اس کے بعد ہم نے نوٹ کیا کہ ایک پوائنٹ بڑے تواتر کے ساتھ چلا آر ہا تھا اوروہ یہ کہ یونٹ میں گاڑیاں کھڑی کرنے کے لئے شیڈ موجود نہیں جس کے باعث دھوپ، بارش اور موسم کی سختیاں گاڑیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت دن رات ایک کر کے نہ صرف تمام گاڑیوں کے لئے پکے شیڈ کھڑے کر دیئے بلکہ ساتھ ہی ساتھ ایک خوبصورت سی ورکشاپ بھی تعمیر کروادی۔ یہ سب کارنامے سرانجام دینے کے بعد ہم اپنے تئیں ایسے اترا رہے تھے کہ جیسے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔
انسپکشن کے لئے کمانڈرای ایم ای بنفس نفیس یونٹ میں تشریف لائے۔ ہم نے ان سے عرض گزاری کہ حضور ہم نے پچھلی رپورٹوں میں موجود تمام پوائنٹس جو کہ باوا آدم کے زمانے سے چلے آتے تھے، قلیل مدت میں ختم کر دیئے ہیں کیا اس کارنامے پر ہمیں کوئی شاباش ملنے کی توقع ہے؟ موصوف نے یہ سن کر کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ،سگریٹ کا لمبا کش لیا اور فرمانے لگے ’’بھائی صاحب! ہمارے پرفارمے میں کسی قسم کی تعریف کا خانہ سرے سے موجودہی نہیں ہے اس لئے آپ کی فرمائش پوری کرنا ہمارے لئے یکسرممکن نہیں ۔ الٹا آپ نے یہ کام کر کے ہمیں ایک گھمبیر مشکل کا شکار کر دیا ہے ،وہ یہ کہ پہلے تو پرانے پوائنٹس سے ہمارا کام بخوبی چل جاتا تھا جبکہ اب ہمیں تازہ پوائنٹس ڈھونڈنے کے لئے نئے سرے سے محنت کرنا پڑے گی۔‘‘

جاری ہے۔۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
July

تحریر : ڈاکٹر صفدر محمود

میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انسان زندگی بھر سیکھتا ہی رہتا ہے ۔ اس کے سیکھنے کا عمل یا علم حاصل کرنے کا سلسلہ قبر تک جاری رہتا ہے۔ علم و تحقیق کی دنیا میں کوئی حرف ،حرف آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی انسان کامل علم کے حصول کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ میں ایک معمولی سا طالب علم ہوں ، سیکھنے کی دل میں آرزو ہے اور مکالمے پر یقین رکھتا ہوں۔ البتہ اس بات کا قائل ہوں کہ بحث یا تبادلہ خیال علمی انداز میں اور تہذیب کے دائرے میں ہونا چاہئے اور طعن و تشنیع ، تنقیص اور طنز سے بچنا چاہئے کیونکہ اس سے علمی تکبر کا اظہار ہوتا ہے اور سچا علم تکبر نہیں، عاجزی سکھاتا ہے۔صرف اقتدار، اختیار ، دولت، عہدے اور شہرت ہی تکبر میں مبتلا نہیں کرتے، میں نے لوگوں کو ’’علم‘‘ کے تکبر میں مبتلا دیکھا ہے۔


سوال یہ ہے کہ پاکستان کس دن وجود میں آیا؟ میں اپنی بات بعد میں کروں گا پہلے دو معتبر حوالے ملاحظہ فرما لیجیے۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب ’پاکستان کرونیکل‘ مرتبہ عقیل عباس جعفری ہے۔ کتاب میں پاکستان کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات جمع کردی گئی ہیں۔اس لحاظ سے یہ پاکستان کی روزمرہ کی تاریخ ہے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 1پر قائداعظم کو 14اگست 1947کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سٹیج پر ہندوستان کے آخری وائسرائے ماؤنٹ بیٹن بیٹھے ہیں۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے 14اگست بروز جمعرات صبح 9بجے دستور ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن نے آزادی اور انتقال اقتدار کا اعلان کیا۔ قیام پاکستان کے لئے درمیانی شب یعنی مڈ نائٹ کا وقت طے ہوا تھا۔ پاکستان کرونیکل کے صفحہ نمبر 1کے مطابق:’’14اگست اور 15اگست کی درمیانی شب مطابق 27رمضان المبارک 1366 ہجری رات ٹھیک بارہ بجے دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار اور دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی مملکت کا اضافہ ہوا جس کا نام پاکستان ہے۔ ‘‘
( ’پاکستان کرونیکل‘ عقیل عباس جعفری ، فضلی سنز (2010) صفحہ نمبر 1)
آزادی کا اعلان صبح دستور ساز اسمبلی میں ہوچکا تھا۔ پاکستان کے پرچم کی منظوری دستور ساز اسمبلی سے 12اگست کو حاصل کی جاچکی تھی۔ 14اگست کو قائداعظم قومی پرچم کشائی کے لئے کراچی گئے تو مولانا شبیر احمد عثمانی کو اپنے ساتھ لے گئے اورانہی سے پرچم کشائی کی رسم ادا کروائی۔ڈھاکہ میں قائداعظم کے حکم پر مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہرزادے مولانا ظفر احمد عثمانی نے یہ رسم سرانجام دی۔ پرچم کشائی کا تذکرہ بھی پاکستان کرونیکل کے صفحہ نمبر 1پر موجود ہے۔ پاکستان کی پرچم کشائی کی پہلی تقریب میں دو نامور علماء اور مولانا اشرف علی تھانوی کے قریبی حضرات کو دعوت دینے اور ان سے پرچم لہروانے میں ایک پیغام پنہاں ہے۔ اس پر غور کیجئے اور سمجھنے کی کوشش کیجئے کیوں کہ قائداعظم کاہر فیصلہ سوچا سمجھا اور گہرے تدبر کا نتیجہ ہوتا تھا۔ مختصریہ ہے کہ آزادی اور انتقالِ اقتدار کا اعلان اور پاکستان کے پرچم لہرانے کی رسم 14اگست کو ہوئی اور 14 اگست کے دن چھبیس رمضان المبارک تھا۔ دوپہر دو بجے ماؤنٹ بیٹن دہلی روانہ ہوگئے جہاں اسی رات 12 بجے بھارت کی آزادی کے اعلان کے ساتھ انھیں بھارت کے گورنر جنرل کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔


اسی کتاب کے صفحہ نمبر 2پر ریڈیو پاکستان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے: ’’15-14 اگست کی درمیانی شب لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو سٹیشنوں سے رات گیارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔ 12 بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذرکی آواز میں انگریزی اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئے گی۔ رات کے ٹھیک بارہ بجے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں یہ الفاظ گونجے: ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔‘‘ ۔ فوراً بعد مولانا زاہد القاسمی نے سورہ فتح کی آیات کی تلاوت فرمائی۔ 15 اگست کو جمعتہ الوداع تھا۔ اسی دن پاکستان کا پہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا۔ اسی روز جمعتہ الوداع کے حوالے سے قائداعظم کا پیغام جاری ہوا۔


15اگست کو رمضان کی ستائیسویں تھی ۔ چنانچہ 15-14اگست کی درمیانی شب لیلتہ القدر تھی۔
اس سلسلے کا دوسرا حوالہ سید انصار ناصری کی کتاب ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ہے۔ سید انصار ناصری ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھے اور تاریخ ساز ایام اور فیصلہ کن ایام کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے 3جون کے تقسیم ہندکے اعلان کے بعد قائداعظم کی تقریر کا اردو ترجمہ اپنی زبان میں آل انڈیا ریڈیو سروس سے نشر کیا اور تقریر کے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ وہ 11اگست سے 14 اگست تک قائداعظم کی تقاریر کے تراجم ریڈیو سے نشر کرتے رہے۔ وہ اپنی کتاب ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے صفحہ نمبر 198 پر لکھتے ہیں :’’رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ نزول قرآن پاک کی مقدس رات لیلتہ القدر کی نورانی صبح، جمعتہ الوداع کا مقدس دن، ایسا قران السعدین تھا، جب رب ذوالجلال والاکرام نے اپنے محبوب ، مکرم حضرت محمد ﷺ کے طفیل ان کے کروڑوں امتیوں کے جذبہ ایمانی اور مثالی اتحاد وبرکت سے، پاکستان کی وسیع و عریض مملکت کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ ‘‘
(پاکستان زندہ باد، سید انصار ناصری،دیا پبلی کیشنز، اسلام آباد (1993)

 

اسی کتاب کے صفحہ نمبر 2پر ریڈیو پاکستان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے: ’’15-14 اگست کی درمیانی شب لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو سٹیشنوں سے رات گیارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔ 12 بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذرکی آواز میں انگریزی اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئے گی۔ رات کے ٹھیک بارہ بجے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں یہ الفاظ گونجے: ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔‘‘ ۔ فوراً بعد مولانا زاہد القاسمی نے سورہ فتح کی آیات کی تلاوت فرمائی۔ 15 اگست کو جمعتہ الوداع تھا۔ اسی دن پاکستان کا پہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا۔ اسی روز جمعتہ الوداع کے حوالے سے قائداعظم کا پیغام جاری ہوا۔

بلاشبہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں آزادی کا اعلان چودہ اگست کو ہوا، اسی روز پاکستان کے پرچم سرکاری طور پر لہرائے گئے۔ چودہ پندرہ اگست کی نصف شب پاکستان کا قیام عمل میں آگیا چنانچہ پہلا یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا گیا۔
رمضان المبارک کی آخری راتیں قرآن مجید کے نزول کے حوالے سے اہم اور مقدس ہیں۔ رہا لیلتہ القدر کا مسئلہ تو وہ ستائیسویں رمضان کے ساتھ منسلک نہیں۔ اس مقدس رات کے حوالے سے تمام احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور رات بھر عبادت کرو۔ ہم نے لیلتہ القدر کو ستائیسویں رمضان کے ساتھ وابستہ کرلیا ہے، جو کہ صحیح نہیں۔


یہ بات درست ہے کہ بھارت اسی رات کو آزاد ہوا۔ لیکن کیا بھارت مسلمان ملک ہے؟ کیا بھارت اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے؟ اور کیا بھارت رمضان، ستائیسویں رمضان اور نزول قرآن کے تقدس کو سمجھتا ہے؟ چودہ پندرہ اگست کی شب بے شمار واقعات ہوئے ہوں گے لیکن ہم بات کر رہے ہیں پاکستان کی ، جسے قائداعظم نے پریمئر اسلامی ریاست اور عالم اسلام کا حصار قراردیا تھا۔
(Speeches, Statements of Quaid e Azam vol (iv) Khurshid Ahmad Yusufi, Bazm-e-Iqbal, Lahore, p 2692 & p 2643)
بھارت تو پہلے سے موجود تھا ، بھارت کو تقسیم کرکے جو ملک دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا اس کا نام پاکستان ہے۔ یہ ایک تاریخی ، منفرد اور عظیم الشان کارنامہ تھا جو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے سرانجام دیا گیا۔ اس لئے میرے درویش استاد اوربزرگ پروفیسر منور صاحب کہا کرتے تھے کہ پاکستان پر اللہ پاک کی رحمت کا سایہ ہے۔ میرے محترم ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ پاکستان اللہ کا انعام ہے۔ وہ قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ جب انعام الہٰی کی قدر نہ کی جائے تو سزا بھی ملتی ہے۔ بہرحال یہ اپنے اپنے نقطہ نظر، احساسات اور تصورات کا معاملہ ہے۔


نعمتوں پر شکرکی بات ہوئی ہے تو مجھے پروفیسر مرزا منور صاحب کے الفاظ یاد آرہے ہیں ، جو انہوں نے اپنی کتاب حصار پاکستان کے صفحہ نمبر 194 پر لکھے ہیں:’’لاکھ لاکھ شکراس خدائے مہرباں کا جس نے اولاد آدم کی دائمی ہدایت کے لئے قرآن الفرقان ماہ رمضان کی آخری متبرک راتوں میں سے ایک میں نازل کرنا شروع کیا ، اسی طرح لاکھ لاکھ شکر خدائے رحمن کا جس نے رمضان ہی کے ماہ مبارک کی آخری مقدس راتوں میں سے ایک میں امت مسلمہ کو پاکستان کی عظیم الشان نعمت غیر مترقبہ سے نوازا۔‘‘


پاکستان رمضان المبارک کے آخری مقدس عشرے میں معرض وجود میں آیا۔ کچھ حضرات ابہام پیدا کرنے کے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 14اگست 1947کو 27 واں روزہ تھا۔ اس لئے 13اگست اور 14اگست کی درمیانی شب لیلتہ القدر تھی۔ ریکارڈ کی درستی اور تاریخ پاکستان کو مسخ ہونے سے بچانے کے لئے عرض کرتا ہوں کہ کراچی سے شائع ہونے والا ڈان کا پہلا پرچہ دیکھ لیں۔ اس کی پیشانی پر 15اگست کے ساتھ واضح طور پر 27 رمضان المبارک چھپا ہوا ہے۔ میں نے مزید تصدیق کے لئے لاہور سے شائع ہونے والا پاکستان ٹائمز بھی دیکھا۔ اس کی پیشانی پر بھی 15 اگست کے ساتھ 27رمضان المبارک چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب 15 اگست کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس روز رمضان کا ستائیسواں روزہ تھا اور جس رات پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا وہ ہمارے ہاں مروجہ تصور کے مطابق میں لیلتہ القدر تھی۔

 

بھارت تو پہلے سے موجود تھا ، بھارت کو تقسیم کرکے جو ملک دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا اس کا نام پاکستان ہے۔ یہ ایک تاریخی ، منفرد اور عظیم الشان کارنامہ تھا جو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے سرانجام دیا گیا۔ اس لئے میرے درویش استاد اوربزرگ پروفیسر منور صاحب کہا کرتے تھے کہ پاکستان پر اللہ پاک کی رحمت کا سایہ ہے۔ میرے محترم ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ پاکستان اللہ کا انعام ہے۔ وہ قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ جب انعام الہٰی کی قدر نہ کی جائے تو سزا بھی ملتی ہے۔ بہرحال یہ اپنے اپنے نقطہ نظر، احساسات اور تصورات کا معاملہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے پہلا یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا تو پھر چودہ اگست کو یوم آزادی منانے کا فیصلہ کیونکر ہوا؟سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی مرکزی کابینہ نے وزیراعظم لیاقت علی خان کی زیر صدارت 29 جون 1948 کو فیصلہ کیا کہ آئندہ پاکستان کا یوم آزادی چودہ اگست کو منایا جائے گا۔ یہ فیصلہ کیوں کر ہوا،؟کس کی تجویز تھی؟ یہ معلوم نہ ہوسکا۔ لیکن بظاہر مقصد پاکستان کے یوم آزادی کو ہندوستان کے یوم آزادی سے الگ رکھنا تھا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں چودہ اگست کو ہندوستان ہندوستانی وائسرائے اور برطانوی حکومت کا نمائندہ ماؤنٹ بیٹن پروانۂ آزادی دے گیا تھا اور پاکستان کے پرچم بھی اسی تاریخ کو لہرا دیئے گئے تھے۔ چنانچہ چودہ اگست کو یوم آزادی منانے کا جواز موجود تھا۔ بہرحال کابینہ کے اس فیصلے کی منظوری جولائی 1948ء میں گورنر جنرل سے لی گئی اور اس حوالے سے سرکاری طور پر فوری ہدایات جاری کردی گئیں۔ چنانچہ دوسرا یوم آزادی چودہ اگست کو منایا گیا۔
میری گزارش ہے کہ ہمارے لئے ستائیسویں رمضان بہت اہم او رمقدس ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم چودہ اگست کے ساتھ ساتھ 27ویں رمضان کو بھی ذہن میں رکھیں اور نئی نسلوں کو اس تاریخی حقیقت سے آگاہ کریں۔ ستائیسویں رمضان کے ذکر سے قوت ایمانی کو تقویت ملتی ہے اور پاکستان کے مستقبل پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔


سوال یہ ہے کہ آزادئ ہند اور قیام پاکستان کے لئے چودہ اگست 1947ء کا دن کیونکر طے ہوا، کیونکہ اس تاریخ کا اعلان کرنے والوں کو ہر گز علم اور احساس نہیں تھا کہ یہ رمضان کا مبارک مہینہ ہوگا، جس رات بارہ بجے قیام پاکستان کا اعلان ہوگا، وہ شب قدر ہوگی جسے مسلمان مبارک ترین رات سمجھتے ہیں اور جس صبح پاکستان میں سورج طلوع ہوگا وہ جمعتہ الوداع ہوگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انگلستان کے وزیراعظم اٹیلی نے فروری 1947ء میں پارلیمینٹ میں اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کو جون 1948ء میں آزادی دی جاسکتی ہے۔ انگلستان کے وزیراعظم کا اعلان اپنی جگہ ، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ہونا وہی تھا جو قدرت کو منظور تھا۔ اگر لارڈ ویول ہندوستان کا وائسرائے رہتا تو شاید آزادی میں تاخیر کا سبب بنتا۔ مارچ 1947ء میں ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے بن کر آیا تو اس نے حالات کا جائزہ لینے اور ہندوستانی لیڈروں سے ملاقاتیں کرنے کے بعد محسوس کیا کہ ہم آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھے ہوئے ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ کر تباہی لاسکتا ہے۔ وہ جب دورے پر پنڈی کہوٹہ کے قریب ایک گاؤں دیکھنے کے لئے گیا تو یہ دیکھ کر صدمے سے نڈھال ہوگیا کہ سارا گاؤں فرقہ وارانہ فسادات کے سبب تباہ ہوچکا تھا۔ ’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ کی ایک تصویر میں اسے گھروں کے ملبے پر چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ پشاور پہنچا اور قلعے کی فصیل سے نیچے نظر ڈالی تو حد نظر تک برقعہ پوش خواتین کا جلوس دیکھا جو آزادی کے لئے نعرے لگارہی تھیں۔ سیاسی اور معاشرتی صورت حال کا بغور جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ہندوستان کو جلد از جلد آزاد کردینا اور یہاں سے برطانوی اقتدار کا جلد رخصت ہوجانا ہی برطانیہ اور ہندوستان دونوں کے مفاد میں ہے۔ دوسری جانب جنگ عظیم دوم نے کچھ اس طرح کا معاشی دباؤ انگلستان پر ڈالاتھا کہ انگلستان کے لئے اپنی کالونیوں پر تسلط قائم کررکھنا ممکن نہ رہا۔ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم کا منصوبہ بنایا ، حکومت سے منظوری لی اور 2 جون1947ء کو ہندوستان کے لیڈروں قائداعظم، نہرو، سردار بلدیو سنگھ سے ملاقات کرکے ٹرانسفر آف پاور کے منصوبے کو منظور کروالیا۔چنانچہ 3جون کو انتقال اقتدار کا سرکاری اعلان بھی کردیا لیکن اس میں انتقال اقتدار اور قیام پاکستان کی تاریخ اور دن کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ معاملات کو ڈھالنے کا قدرت کا اپنا انداز ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا لیکن اپنا کام کرجاتا ہے۔ 3جون کو تقسیم ہند اور انتقال اقتدار کا اعلان کرتے وقت ماؤنٹ بیٹن نے اپنی نشری تقریر میں صرف یہ کہا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی۔ اسی حوالے سے ماؤنٹ بیٹن نے 4 جون کو پریس کانفرنس کی۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ ہندوستان کے کسی وائسرائے نے پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ اس میں کوئی تین سو سے زائد ملکی اور غیر ملکی پریس نمائندے شریک تھے۔


پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد اسمبلی چیمبر دہلی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اسی گونج میں ماؤنٹ بیٹن نے سوالات کی دعوت دی۔ لطف کی بات ہے کہ سوالات کا سارا رخ انتقال اقتدار کی تفصیلات کی جانب تھا۔ آخر میں ایک ہندوستانی نمائندے نے سوال پوچھا:’’سر، ٹرانسفر آف پاور کے لئے دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے ذہن میں اس کے لئے کوئی تاریخ بھی ہوگی؟‘‘ ماؤنٹ بیٹن خود اعتمادی کے گھوڑے پر سوار تھا۔ جواب دیا ’’ہاں ہے‘‘۔ اخباری نمائندے نے پوچھا تو پھرسر، کون سی تاریخ ہے؟ ماؤنٹ بیٹن نے فریڈم ایٹ مڈ نائٹ کے مصنفین کو بتایا کہ میں انتقال اقتدار کی تاریخ کے بارے میں واضح نہیں تھا کیونکہ ابھی برطانوی پارلیمینٹ نے آزادئ ہند کا قانون پاس کرنا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ جب یہ سوال پوچھا گیا تو ماؤنٹ بیٹن یہ تاثر بھی نہیں دینا چاہتا تھا کہ فیصلے کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ وہ لمحہ بھر سوچ میں پڑگیا کہ تاریخ کا مخمصہ کیسے حل کرے۔ ماؤنٹ بیٹن جنگ عظیم دوم میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا کا کمانڈر تھا اور اس نے برما کے جنگلوں میں دشمن کو شکست دی تھی۔ جنگ عظیم دوم یورپ میں تو مئی 1945ء میں ختم ہوگئی تھی لیکن جاپان کی فوجیں مزاحمت کرتی رہیں اور لڑائی جاری رہی۔ جاپان نے چودہ اگست 1945ء کو شکست تسلیم کی اور ہتھیار ڈالنے کے لئے شرائط اپنے فیلڈ کمانڈر کو پہنچائیں۔ چنانچہ جنگ عظیم دوم سرکاری طور پر چودہ ،پندرہ اگست 1945ء کی نصف شب ختم ہوئی ۔ یہ تاریخ ماؤنٹ بیٹین کے ذہن ، قلب اور لاشعور میں کندہ تھی۔ کیونکہ یہ انگلستان کی عظیم فتح کا دن تھا۔ چنانچہ اس نے پریس کانفرنس کے آخری سوال کے دباؤ کے جواب میں فوراً اعلان کردیا ’’ہندوستان کو انتقال اقتدار 15 اگست 1947ء کو کردیا جائے گا۔ ‘‘اسے اندازہ تھا، نہ برطانوی حکمرانوں کو علم تھا کہ پندرہ اگست مسلمانوں کے ستائیسویں رمضان کا مبارک دن ہے اور 15-14 اگست کی شب ، شب قدر ہے۔ یہ قدرت کا فیصلہ تھا اور یقین رکھئے کہ قدرت کے فیصلے بلاوجہ نہیں ہوتے۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: عبد الستار اعوان

47ء میں تقسیم کے بعد بھارت کی فضا کبھی بھی مسلمانوں کے لئے سازگار نہیں رہی تاہم جب سے نریندر مودی ا ورا ن کا ٹولہ برسراقتدار آیا ہے مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر نفرتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اوریہ سرزمین ان پر اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ملک میں جس انداز سے اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں اگر یہ پالیسی ترک نہ کی گئی تو اس سے خود ریاست بہت بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے ۔ مودی سرکار کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے جونہی کوئی بہانہ ہاتھ آتا ہے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کی منافقت دیکھئے کہ وہ ایک طرف ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘ (وکاس ہندی زبان میں ترقی کو کہتے ہیں) کے نعرے لگاتے ہیں اور دوسری جانب مسلمانوں کے خلاف تعصب‘ تنگ نظر ی اور نفرتوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔آج کل ریاست آسام کے ایک کروڑ مسلمان نریندر مودی کے نشانے پر ہیں اور انہیںآسام سے بے دخل کرنے کے لئے نام نہاد قانونی جواز تلاش کرنے کی تیاریاں جار ی ہیں ۔آسام کی وزارت اعلیٰ پر مسلسل 16برس تک ترون گوگوئی جیسا متعصب شخص براجمان رہا جس کے دور میں مسلمانوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو ا اور اس نے انہیں پریشان کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،آج کل آسام کے وزیراعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے راہنما سبرانند سونووال ہیں جو 2016ء میں اس منصب پر فائز ہوئے ‘ان کے دور میں بھی مسلمانوں کے حصے میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں آیا۔


ریاست آسام بھارت کے شمال مشر ق میں واقع ہے ، اس کا دارالحکومت دسپور ہے ۔ یہ ریاست گھنے جنگلوں اور سرسبز پہاڑوں کی سرزمین کہلاتی ہے ۔ آسام کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب چونتیس فیصد بتایا جاتا ہے۔ آسام کے اکثر مسلمان بنگالی زبان بولتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بنگالی ہیں۔آسام میں مسلمانوں کی شہریت کا معاملہ گزشتہ39برس سے انتہائی سنگین چلاآ رہا ہے ۔ ماضی میں ایسے لاتعداد واقعات رونماہو چکے ہیں جب ریاستی اداروں کی ہلہ شیری سے متشدد ہندو تنظیموں نے مسلمان آبادیوں پر حملے کئے جن میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ا ور ان کی جائیدادیں برباد ہوئیں۔ مسلمانوں کو مختلف ادوار میں بنگالی ہونے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتاراجاتا رہا ہے ۔آسام کے مظلوم مسلمان 1983ء کے فسادات کو یاد کر کے آج بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں جب ہندو تنظیموں نے صرف چند دنوں میں چار ہزار کے قریب مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، عورتوں کی عصمت دری کی اور ان کی املاک کو لوٹاگیا ۔ اس واقعے کے متاثرین آج تک خوارہو رہے ہیں لیکن بھارتی عدالتیں انہیں انصاف فراہم کرنے سے کلی طور پر انکاری ہیں ۔

 

narindramodi.jpgکچھ عرصہ قبل جب آسام میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوا توعالمی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا:’’ آسام میں گزشتہ ہفتوں کے دوران بہت بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری ہوئی ہے۔ آزادی کے بعد غالباً یہ سب سے بڑا فساد ہے جس میں تقریباً چار لاکھ لوگ بے گھر ہو ئے۔ بھارت کے قومی اقلیتی کمیشن کے مطابق منظم حملوں کے بعد مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹا گیا اور اس کے بعد ان کی آبادیوں کو پوری طرح خاکستر کر دیا تاکہ یہ دوبارہ کبھی اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔غیر قانونی تارکین وطن کا سوال خطے کا ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس میں مذہبی نفرت کا پہلو بھی شامل رہا ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے آسام کے بھیانک مظالم کی خبریں کبھی شائع نہیں کی جاتیں۔‘‘
اگر ہم اس معاملے کا مختصر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شہریت کے عنوان پر آسامی مسلمانوں کے خلاف یہ مہم 1978ء میں آل آسام سٹوڈنٹس اور دیگر ہند و تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی۔ ان تنظیموں کا نعرہ تھا کہ یہ لوگ آسامی نہیں بنگالی ہیں اور انہیں ملک بدر کیا جائے ۔بعد ازاں یہ مہم مسلمانوں کے خلاف زبردست تحریک میں بدل گئی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔ جمعیۃ علما ئے ہند آسامی مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سب سے پرانی اور نمائندہ تنظیم ہے ۔اس جماعت نے دیگر اقلیتی پارٹیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کے خلاف جاری اس پرتشدد ہندو تحریک کو روکنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا اورمسلمانوں کے خلاف 1978ء سے جاری اس مہم کو 1985ء میں
Accord Assam
معاہدے کی صورت میں ختم کرانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ معاہدہ اس وقت کی راجیو گاندھی مرکزی حکومت ، آسام حکومت ، مسلمان مخالف تحریکوں اور جمعیۃ علمائے ہند کی باہمی رضامندی سے ہو ا۔ اس میں طے پایا کہ1971ء کو بنیاد بنایا جائے گا اور اس سے پہلے آسام میں آکر سکونت اختیار کرنے والوں کو بھارتی شہری تسلیم کیاجائے گا۔ بعد ازاں اس معاہدے کو پارلیمنٹ سے بھی پاس کروایا گیا اور ملک بھر کی جماعتوں نے اسے قبول کیا۔1985ء سے اب تک سب کچھ ٹھیک تھا لیکن چند سال پیشتر یہ معاہدہ اس وقت متنازع بنانے کی کوشش کی گئی جب سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کے دورِحکومت میں ہندو تنظیموں نے بھارتی عدالتوں میں رٹ دائر کر دی کہ 1971کے بجائے 1951ء کی ووٹر لسٹوں کو بنیادبنا کر شہریت کا فیصلہ کیا جائے، اس رٹ میں آسام اکارڈمعاہدے کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کر دیا گیا جس کی وجہ سے اب آسام کے لاکھوں مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیاہے ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر مسلمانوں کی نمائند ہ سیاسی جماعت جمعیۃ علمائے ہند اپنی دو حامی جماعتوں آل آسام مینارٹیز سٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی کے تعاون سے میدان میں آ کر آسام اکارڈ کا بھرپور دفاع کررہی ہے۔


اس وقت یہ کیس بھارتی سپریم کورٹ میں ہے جسے آسام کی 14مسلمان مخالف ہندوجماعتوں کی بھرپور تائید حاصل ہے جبکہ دوسری جانب تین جماعتیں جمعیۃ علمائے ہند ، آل آسام مینارٹیز سٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی اپنے حق کے لئے لڑ رہی ہیں۔یہ مقدمہ پہلے سپریم کورٹ کے ڈویژن بنچ کے پاس تھا جس نے فریقین سے سوالات کر کے انہیں جواب داخل کرنے کا حکم دیا ،بعد میں یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ کے حوالے کر دیاگیا ۔ یکم مئی 17ء کو جمعیت علمائے ہند اور اس کی حامی جماعتوں نے ان سوالات کے جوابات اور دیگر دستاویزات بنچ کے رو بروپیش کیں۔ اب سپریم کورٹ میں ان مقدمات کی باقاعد ہ سماعت کا آغا ز ہو چکا ہے اور آسام کے لاکھوں مسلمانوں کی نظریں اس فیصلے پر ہیں جو ان کے مستقبل پر اثر انداز ہونے جا رہا ہے ۔


مسلمان راہنما ؤں کا موقف بڑا واضح اور مدلل ہے کہ حکومت آسام اکار ڈ 1985کی پاسداری کرے اور اس کے مطابق ہی شہریت کا فیصلہ کیا جائے۔ آسام میں مذہب کی بنیاد پر شہری تفریق قابل قبول نہیں۔شہریت کے لیے مذہب کو بنیاد بنا نا متحدہ قومیت اوراُس سیکولراز م کے بھی سراسر منافی ہے جس کا بھارت دعویدار ہے۔ آسام میں کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے تو اسے ملک سے فوراً نکالا جانا چاہیے خواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہولیکن کسی حقیقی شہری کو بلا وجہ پریشان نہ کیا جائے۔


مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ ہندو تنظیمیں ریاستی آشیر باد سے مسلمانوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھڑا کر رہی ہیں کیونکہ آسام اکارڈ میں شہریت کا جو پیمانہ مقرر کیا گیا تھا اور جس کے تحت قومی شہری اندراج(‘ نیشنل سٹیزن رجسٹریشن) کا کام تقریباً مکمل ہوچکا تھا ،اس میں چونکہ مسلمانوں کے حوالے سے بنگلہ دیشی مسئلہ دم توڑتا ہوا نظرآیا اس وجہ سے حکومت نے یہ نئی ساز ش تیار کی اوراب وہ عدالتوں کاسہارا لے کر 71ء کے مقرر کردہ اپنے ہی وضع کردہ پیمانے کو کالعدم قرار دے کر مسلمانوں کے لئے نئی مشکلات پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ آسامی مسلمانوں کے ممتاز لیڈراور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ آسام کے مسلمانوں کے خلاف سازش چل رہی ہے کہ ان سے شہریت کے حقوق چھین لئے جائیں ، ان سے ووٹنگ کا حق سلب کر لیا جائے لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔


اس ضمن میں معروف بھارتی صحافی عابد انور اور عمران عاکف خان کہتے ہیں کہ ’’ا فسوسناک بات یہ ہے کہ آسام کی سابق ترون گوگو ئی حکومت اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے بجائے محض سیاسی مفادات کی خاطر لٹکاتی رہی۔ آسام کے مسلمانوں کے استحصال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریاستی حکومت نے آسام میں بارڈر پولیس بناکر اسے مکمل اختیا دے دیا ہے کہ وہ جسے چاہے غیر ملکی قرار دے کر عقوبت خانوں میں ڈال سکتی ہے۔ ہزاروں معصوم لوگ بارڈر پولیس کے ظلم و ستم کا شکار ہو چکے ہیں۔بھارتی صحافی برادری کا کہنا ہے کہ نئی دلی سرکار کا دوہرا پیمانہ دیکھئے کہ ایک طرف تو حکومت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر چکی ہے جس کے پاس ہوتے ہی لاکھوں غیر ملکی ہندو پناہ گزینوں کو بھارتی شہریت مل جائے گی جبکہ دوسری جانب بھارت کے لاکھوں حقیقی شہریوں کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے بھارتی شہریت سے محروم کر دیاجائے گا ‘‘۔


دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ آسام میں شہریت کے حوالے سے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ظالمانہ فیصلے سے براہ راست پچاس لاکھ مسلمان خواتین کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ آسام کے حقیقی شہری اور بنگالی مہاجر کے درمیان فرق کرنے کے لئے قومی شہری رجسٹریشن کا فارمولہ اختیار کیا گیا تھا اور اس میں شہریت کو ثابت کرنے کے لئے جودستاویزات درکار تھیں ان میں ایک پنچایت سرٹیفکیٹ بھی شامل تھا ۔ یہ سرٹیفکیٹ پنچایت سیکرٹری کی جانب سے اس لڑکی کو دیاجاتا ہے جو شادی کر کے دوسرے گھر چلی جاتی ہے، یہ سرٹیفکیٹ اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ لڑکی بنگالی نہیں آسامی شہریت کی حامل ہے ۔گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک تازہ فیصلے میں قومی رجسٹر برائے شہریت نامی اس سرٹیفکیٹ اور اس کی معاون دستاویزات کو واضح طور پربے حیثیت ،بے معنی اور غیر مستند قرار دے دیا ہے جس سے 50لاکھ سے زائد خواتین کی شہریت منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔آسام کی مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں اب تک 80فی صد کام مکمل ہو چکا تھا کہ گوہاٹی ہائی کورٹ نے اس کے خلاف فیصلہ دے ڈالا۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کی شہریتی جانچ پڑتال کے لئے ایک ٹربیونل بھی کام کر رہاہے جس کی جانب سے مسلمانوں کولاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے آسامی مسلمانوں کے نمائند ہ سیاسی وفد نے حال ہی میں وزیراعلیٰ آسام سے ملاقات کر کے کہا کہ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کو روکاجائے لیکن تاحال وزیراعلیٰ کی جانب سے کسی قسم کے اقدامات سامنے نہیں آئے۔ایک طرف ہندو تنظیموں نے آسام اکارڈ کے خلاف درجنوں مقدمات دائر کر رکھے ہیں تو دوسری جانب مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ پریشان کن امریہ ہے کہ پولیس نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلمان خواتین کو گرفتار کر ناشروع کر دیا ہے ۔


بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس قدر خطرنا ک ہے کہ عموماً مسلمان خواتین کو رات کے وقت گرفتار کر کے انہیں حراستی مراکز
(Detention Camps)
میں قید کر دیاجاتا ہے جبکہ یہ گرفتاریاں سراسر غیر قانونی ہیں۔بھارتی آئین کی روسے کسی خاتون کی گرفتاری رات کے وقت اور بغیر لیڈی پولیس کے نہیں کی جاسکتی لیکن آسام میں اس کی واضح خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے جب ان حراستی مراکز میں جانے کے لئے اجازت چاہی تو کہا گیا کہ وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہوگی، جب انہوں نے وزارت داخلہ سے رجوع کیا تو انہیں وہاں سے بھی کوئی اجازت نامہ نہ ملا ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ حراستی مراکز میں خواتین کے ساتھ کیا ہورہاہے کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا لیکن جو تھوڑی بہت اطلاعات ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ بہت لرزہ دینے والی ہیں۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مسلمان خواتین کو مجرموں کے ساتھ رکھا جارہا ہے اوردرندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عصمت دری کی جارہی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان کیمپوں میں ہزاروں مسلمان خواتین تڑپ رہی ہیں لیکن ’’سیکولر بھارت ‘‘ اور ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘کی دعویدار مودی سرکار انہیں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔


آسام کے گزشتہ ادوار اور تازہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ سراسر بی جے پی حکومت اور نریندر مودی کی مسلم دشمنی کا شاخسانہ ہے ، چونکہ آسام اکارڈ اور قومی شہری رجسٹریشن کی رو سے بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف مہم دم توڑ چکی تھی اور ان کی شہریت کا مسئلہ تقریباً حل ہو چکا تھا جبکہ مودی حکومت اور ہندو تنظیمیں نہیں چاہتیں کہ مسلمان اس سے نجات حاصل کریں چنانچہ نئی دلی سرکار ایک بار پھر ہندو تنظیموں کو تھپکی دے کر قومی شہریت کی منسوخی کا یہ ڈرامہ کھیل رہی ہے اور اپنی عدالتوں اور اپنے ہی وضع کردہ قانون اور آئینی پیمانے کے ذریعے اخلاقی جواز تلاش کرکے یہ مسئلہ دوبارہ تازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آسام کے ایک کروڑ مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ اس ضمن میں غالب گمان یہی ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کافیصلہ بھی آسام کے مسلمانوں کے خلاف آئے گا کیونکہ ماضی کے لاتعداد فیصلے گواہ ہیں جو ان نام نہادعدالتوں نے واضح طور پر جانبدار ی اور ہندو نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف دیئے ۔ خاکم بدہن‘ اگر یہ فیصلہ بھی آسام اکارڈ کے خلاف آتا ہے تو اس سے ایک کروڑ مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگنے کا خدشہ ہے۔شہریت کے حوالے سے آسامی مسلمانوں کو اس وقت آسام سول کورٹس، گوہاٹی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں درجنوں مقدمات کا سامنا ہے اور اب یہ لاکھوں فرزندان اسلام حسرت و یاس بھری نگاہوں سے ان عدالتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جن کے فیصلوں سے ان کا مستقبل روشن یا پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریک ہو جائے گا .......


بہر کیف معاملہ گولڈن ٹیمپل کا ہو ، بابری مسجد ، گجرات قتل عام یا آسام کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی حالتِ زار کا‘ یہ سب بھارتی حکمرانوں کی تنگ نظری کے مظاہر ہیں۔ جب تک بھارتی حکمران ،فوج اور ہندو لیڈراپنے اندر سے تعصب کے میل کو ختم نہیں کرتے ،اپنی اصلاح پر توجہ نہیں دیتے، اقلیتوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کی طرح زندگی گزارنے کے مواقع نہیں دیتے ‘بھارت مسائل کی دلدل میں دھنستا جائے گا اور بقول بھارتی صحافی خشونت سنگھ بالآخر اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ‘پاکستان یا دنیا کا کوئی بھی ملک اسے تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے تعصبانہ رویوں کی بدولت ہی خود کشی کا ارتکاب کر ے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: صائمہ جبار

قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ظاہر ہے شہ رگ کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ ظلم و ستم کا شکار ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے شہری پُرسکون رہ سکیں۔ گویا ان کی بے قراری ایک فطری امر ہے۔


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظلم و بربریت انتہا پر ہے ۔ ضلع بڈگام میں لوگوں کے پتھراؤ سے بچنے کے لئے ایک نوجوان کو فوجی جیپ کے آگے باندھ دیا گیا۔سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہونے والی اس ویڈیونے دنیا کو بھارتی بربریت کی صحیح تصویر دکھا ئی تو بھارت چکرا کر رہ گیا اوردنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہو نے کا دعویٰ کرنے والے بھارت نے26 اپریل 2017 کوکشمیر میں انٹر نیٹ مہیا کرنے والی تمام کمپنیوں کو فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ جیسی تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ گزشتہ پانچ برس میں بھارت 30 سے زائد کشمیریوں کا انٹر نیٹ بند کر چکا ہے۔جبکہ گزشتہ برس کشمیری کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد تو انٹرنیٹ بلیک آوٹ چھ ماہ تک جاری رہا۔برہان وانی کی شہرت بھی سوشل میڈیا سے ہی پھیلی تھی۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر کشمیری پنڈتوں کی علیٰحدہ بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ اور برہان وانی نے اپنی سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے ویڈیو پیغامات میں بھارت کے اس منصوبے کو بے نقاب کیا تھا۔ نوجوان کشمیری اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مظاہروں کی ویڈیو بناتے ہیں اور انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے اس کا جواز یہ دیا ہے کہ سماج دشمن عناصر سوشل میڈیا کو قومی مفاد کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

Software Freedom Law Centre
کی رپورٹ کے مطابق 2012 سے 2016 تک 31 سے زائد مرتبہ انٹرنیٹ کو کشمیر میں بلاک کیا گیا ہے ۔ تاہم اب پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹس پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تقریباً آٹھ لاکھ فوجی تعینات ہیں جو دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ فوجی موجودگی والا علاقہ بن چکا ہے۔ نیو یارک میں قائم کمیٹی’’ ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ ‘‘نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سوشل میڈیا پر عائد پابندی اٹھائی جائے۔رپورٹرز ودآؤٹ بارڈر کی عالمی تنظیم نے بھی کشمیر میں سوشل میڈیا بین پر تشویش کا اظہار کیا ہے،اور بھارت کو فوری طور پر یہ بین ختم کرنے کا کہا ہے۔


آج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار کرنا نا ممکن ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور وہ سوشل میڈیا کا استعمال کر کے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھا رہے ہیں۔ پیلٹ گن فائرنگ سے متاثر افراد کی تصاویر شاید ہم تک کبھی نہ پہنچتیں کیونکہ روایتی میڈیا پر تو پہلے سے پابندیاں تھیں۔ یہ تو سوشل میڈیا ہی تھا کہ جس کے ذریعے دنیا تک وہ تصاویر پہنچیں جو کہ بھارتی غنڈا گردی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔کشمیری نوجوان نہ صرف سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ احتجاج کی کال دینے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے رہے ہیں۔لوکل انتظامیہ اس بات سے خوفزدہ ہو کر سوشل میڈیا سایٹس پر پابندی لگا رہی ہے۔ٹویٹر،فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ کو بند کیا جا چکا ہے۔


لیکن ہمت ہے ان کشمیری نوجوانوں کی جنہوں نے ہار نہ ماننے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔انیس سالہ طالب علم عزیر جان نے کشمیریوں کے رابطے کے لئے فیس بک کا ایک لوکل ورژن بنا ڈالا۔جس کا نام کیش بک ہے۔کچھ ہی روز میں اس سائٹ پر سات سے آٹھ ہزار لوگوں نے اپنے آپ کو رجسٹر ڈکیا ہے اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔عزیر جان کے مطابق یہ سائٹ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ جب باقی تمام سوشل نیٹ ورکس کو بند کر دیا گیا ہے تو کشمیری آپس میں کیسے رابطے کریں گے۔ یہ سائٹ ان کو یہی سہولت دے گی۔بیانیے کی یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر بھی پھیل چکی ہے۔


آج کشمیر پہلے سے زیادہ بھارت کے خلاف ہے۔کشمیریوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے اورکشمیر میں حقِ خود ارادیت کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ مطالبہ 1947 سے چلا آ رہا ہے۔
مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا قدیم ترین بین الاقوامی حل طلب مسئلہ ہے۔بھارت پاکستان میں پہلی جنگ اسی مسئلے پر ہوئی۔بھارت اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں یکم جنوری 1948میں لے کر گیا۔کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے فوجی تعینات ہو گئے تھے۔اقوامِ متحدہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر بھارت کے ساتھ الحاق کرے گا یا پاکستان کے ساتھ اس کا فیصلہ ایک جمہوری طریقے سے حقِ خود ارادیت کے تحت کیا جائے گا۔بعد میں 3 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اس قرارداد پر پھر سے زور دیا گیا۔


اب تک کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ پیلٹ فائرنگ کا نیا ہتھیار بھارتی فوج کے ہاتھ آ گیا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کی بینائی جا چکی ہے۔ خواتین کی عصمت دری ، ماؤں کے سامنے جوان بیٹوں کا قتل بھارتی فوج کے لئے ایک عام سی بات ہے۔بھارتی افواج نے انسانی حقوق کی پامالی کا ریکارڈ کشمیر میں قائم کیا ہے۔


پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی محبت کا سلسلہ بہت پرانا اور تاریخی ہے۔ کشمیری شہدا کو پاکستانی جھنڈے میں دفنایا جاتا ہے۔ جنازوں میں پاکستان زندہ باد اور ہم لے کے رہیں گے آ زادی کے نعرے گونجتے رہتے ہیں۔
قدرتی حسن سے مالا مال وادی جموں وکشمیر انیسویں صدی میں مشہور سیاحتی مقام ہوا کرتی تھی۔ اس کا موسم اور دلکش مناظر سیاحوں کی نگاہ کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ لیکن اس حسین وادی کو ایسی نظر لگی کہ یہاں امن و امان ناپید ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ وادی کسی دیو کے تسلط میں ہے جس کی آزادی کے لئے وہاں کے مقیم اپنے خون کا نذرانہ دے رہے ہیں۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھارت کی ان سفاکانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کا نوٹس لے تا کہ کشمیر کو فلسطین بننے سے روکا جا سکے۔پاکستان کی طرف سے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کو خوش آمدید کہا گیا ہے لیکن بھارت کسی صورت اس مسئلے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی ماننے پر تیار نہیں ہوتا۔


بہرکیف جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھارت کے لئے ناممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے مظالم کو دنیا سے چھپائے رکھے۔ لہٰذا بھارت جس قدر بھی کوشش کرلے‘ ظلم و ستم کا بازار گرم کرے یا پھر سوشل میڈیا پر پابندیاں لگائے ۔ اب یہ بات طے ہے کہ جلد یا بابدیر بھارت کو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا اور کشمیریوں کو بھارت سے نجات مل کر رہے گی۔

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں بدلتی صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے طور پر جنم لیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں، سابق سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین مقابلے کے نتیجے میں دونوں طاقتوں نے اپنے ہاں اسلحے کے انبار لگانا شروع کردئیے۔ جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو دنیا کے مختلف ممالک علاقائی اقتصادی اتحادوں میں جڑنے لگے۔انہی میں سے ایک اتحاد شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ہے۔ چین ایک عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر تیزرفتار‘ زور پکڑتا ہوا ملک جانا جانے لگا اور روسی فیڈریشن، اقتصادی اور نئے عسکری اتحادوں میں اہم کردار ادا کرنے لگی۔ چین کو علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لئے نئے راستے درکار تھے۔ آج ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ چین اپنے ان اہداف میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کا قیام اِن اہداف کے لئے ہی تھا جس میں روسی فیڈریشن علاقائی توازن میں اپنا برابر حصہ ڈال رہی ہے۔


سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن کر سامنے آیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گردی کا مرکز، مشرقِ وسطیٰ بن کر ابھرا۔ عراق، شام اور لیبیا جیسی اہم ریاستوں کو جیسے کھوکھلا کیا گیا، اگر اس کو غور سے دیکھا جائے تو معاملہ سمجھ میں آتا ہے کہ دہشت گردی کو ان ممالک میں کیوں کر اور کن طاقتوں نے پلنے ‘بڑھنے اور پنپنے کے مواقع فراہم کئے۔ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے جس کو دہشت گردی کے ذریعے کھوکھلا کرنے کی عالمی سازش کارفرما تھی، جسے پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور طریقے سے ناکام بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ پاکستان اس تناظر میں ایک اہم ترین ملک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اور نئی عالمی اقتصادی طاقت عوامی جمہوریہ چین کا دیرینہ دوست اور اتحادی ہے۔ حال ہی میں چین کو راہداری دینے کے منصوبے نے پاکستان کی علاقائی طاقت کو مضبوط تر کردیا ہے۔ پاکستان سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایک نیا کردار بنانے میں کوشاں ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں 2005ء سے ایک آبزرور کی حیثیت سے اس کی شمولیت اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ اور اب جون 2017ء میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی سربراہ کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کو مکمل رکنیت دے دی گئی ہے۔ یہ پاکستان کا خطے میں ایک اہم ملک ہونے کا بڑا ثبوت ہے اور یہ کہ پاکستان کے بغیر علاقائی اتحاد نامکمل سمجھے جارہے ہیں۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے اہم ملک ہے بلکہ اس کی جیو سٹریٹجک اہمیت کو بھی کوئی علاقائی اور عالمی طاقت نظرانداز نہیں کرسکتی۔

scoorgoniz.jpg
آستانہ میں ہونے والی اس سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے شرکت کی اور کانفرنس میں شامل رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ کانفرنس میں ایک اہم توجہ دینے والی بات روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کی انہوں نے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی ایک اہم مسئلہ ہے جس سے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے رکن ممالک کو نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں پُراسرار طریقے سے جنم لینے والی دہشت گرد تنظیم
ISIS
مشرقِ وسطیٰ کے بعد وسطی ایشیا اور جنوبی روس میں دہشت گردی پھیلا کر اِن خطوں کے ممالک کو
Destabilize
کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یقیناًیہ ایک اہم مسئلہ ہے اور سوال یہ ہے کہ
ISIS
اُن ہی ممالک کو کیوں اپنے نشانے پر رکھ رہی ہے جو کسی حوالے سے عالمی سرمایہ داری کے سرخیل امریکہ کے زیادہ کہنے میں نہیں۔ شنگھائی کوآپریشن میں شامل روس اور چین کے علاوہ قازقستان، کرغستان، تاجکستان اور ازبکستان رکن ممالک ہیں۔ اگر روسی صدرپیوٹن کے اس بیان کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو وہ گمبھیر صورتِ حال سمجھ میں آتی ہے جس کی طرف انہوں نے آستانہ کانفرنس میں اشارہ کیا ہے۔ پاکستان جہاں ایک طرف ایسی ہی دہشت گردی کا شکار ملک ہے، وہیں پاکستان علاقے میں اقتصادی راہداریوں کے ذریعے اپنی حیثیت بھی منوا رہا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان میں روسی سفیر نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری سے روسی فیڈریشن مستفید ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔ بھارت اس صورتِ حال میں پیچیدگی کا شکار ہے۔ لیکن ان بدلتے ہوئے حالات میں وہ جہاں پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہا، وہاں وہ پاکستان چین راہداری منصوبے میں، جس میں روس بھی دلچسپی رکھتا ہے، اب روڑے اٹکانے کے بجائے فوائد حاصل کرنے کا خواہاں بھی ہے۔ لیکن بھارتی حکومت اس حقیقت کو حلق سے نگلنے میں بڑی تکلیف محسوس کررہی ہے۔


بہرطور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں بھارت اور پاکستان کی مکمل رکنیت کے بعد یہ تنظیم عالمی سطح پر ایک نئی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ جہاں اس میں چین اور روس جیسی اقتصادی اور عسکری طاقتیں شامل ہیں، وہیں پاکستان اور بھارت کی رکنیت نے اس تنظیم میں دنیا کی آدھی آبادی کو شامل کردیا ہے۔ اس تنظیم میں دنیا کی چار ایٹمی طاقتیں، چین، روس، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔ ایسے میں یہ ایک اقتصادی اور عالمی طاقت میں توازن میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والا علاقائی اتحاد بنتا چلا جا رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جنم لینے والے اتحادوں میں ایک اتحاد ثابت ہونے جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت خطے کے دو اہم ممالک روس اور چین ہیں اور اس کے بعد پاکستان اور بھارت دوسرے اہم ممالک ہیں۔ اس اتحاد میں پاکستان کی مکمل رکنیت پاکستان کی ایک
Powerful State
ہونے کا ثبوت ہے۔ پاکستان دھیرے دھیرے جس طرح امریکی چنگل سے باہر آرہا ہے، اس نے پاکستان کی اہمیت کو مزید مضبوط کردیا ہے۔ اگر سفارتی حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان اس اتحاد کے اندر بھی ایک طاقت ور ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ دوستی اور لاتعداد منصوبوں میں شمولیت اور خصوصاً اب پاک چین اقتصادی راہداری ، پاکستان کے‘ اس تنظیم کے اندر‘ ایک انتہائی اہم ملک ہونے کی دلیل ہے۔ روس، پاکستان کی اس اہمیت سے جس قدر آگاہ ہے، اس کا اندازہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے مابین مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات سے لگایا جا سکتا ہے۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان

جون کے پہلے ہفتے میں چھ عرب ممالک جن میں سے تین یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا تعلق خلیج تعاون کونسل سے ہے، نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر کے اس کے ساتھ تمام زمینی اور فضائی روابط منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کا ساتھ دینے والے باقی تین عرب ممالک مصر، لیبیا اور یمن ہیں۔ بعد میں تین اور ممالک یعنی جبوتی، نائیجیریا اور مالدیپ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس اقدام کی وجہ قطر کی طرف سے دہشت گرد، انتہاپسند اور جہادی تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام ہے۔ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے بعض گروپوں کو ایران کی حمایت بھی حاصل ہے۔صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بائیکاٹ کے اعلان کے بعد سعودی عرب نے قطر کو دس شرائط پوری کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا ہے جن میں اخوان المسلمین ، حماس ، حزب اﷲ اور شام میں صدر اسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات ختم کرنا، بین الاقوامی سطح پر خصوصاً عرب ملکوں میں مقبول ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’’الجزیرہ‘‘ کی نشریات پر پابندی اور اس کے عملے کو قطر سے نکل جانے کا حکم بھی شامل ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے واضح کہا ہے کہ جب تک قطر کی طرف سے ان شرائط کو پورا نہیں کیا جاتا، نہ صرف اس کا بائیکاٹ جاری رہے گا بلکہ قطر کے خلاف سخت اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف قطر نے ان اقدامات کو جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی ملک کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ کیا جائے گا۔ قطر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قطر میں جس کی 28لاکھ آبادی میں سے 80فیصد غیرملکیوں پر مشتمل ہے، عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے لیکن حکومت کا ساتھ دینے اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔

 

خلیج فارس کے اس بحران کا تعلق اگرچہ بنیادی طور پر دو برادر عرب ممالک یعنی قطر اور سعودی عرب سے ہے، لیکن اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تیل اور گیس جیسے قیمتی ذخائر کا مالک ہونے کی وجہ سے خلیج فارس کا یہ بحران نہ صرف اس میں براہ راست ملوث ہے، بلکہ علاقے میں واقع دیگر ممالک اور بین الاقوامی سطح پر بھی دوررس مضمرات کا حامل ہے۔

خلیج فارس کے اس بحران کا تعلق اگرچہ بنیادی طور پر دو برادر عرب ممالک یعنی قطر اور سعودی عرب سے ہے، لیکن اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تیل اور گیس جیسے قیمتی ذخائر کا مالک ہونے کی وجہ سے خلیج فارس کا یہ بحران نہ صرف اس میں براہ راست ملوث ہے، بلکہ علاقے میں واقع دیگر ممالک اور بین الاقوامی سطح پر بھی دوررس مضمرات کا حامل ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، قطر کا موجودہ بحران تین وجوہات کی بنا پر اس کے لئے خصوصی توجہ کا متقاضی ہے ایک یہ کہ پاکستان خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے۔ اس بحران میں شدت کے باعث اگر کسی تصادم کی نوبت آتی ہے تو پاکستان فوری طور پر اس کی لپیٹ میں آئے گا۔ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی ، تجارتی اور دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ لاکھوں پاکستانی وہاں محنت مزدوری اور دیگر قسم کے روزگار کے لئے مقیم ہیں۔ ان کی وطن کو بھیجے جانے والی زرمبادلہ کی رقوم پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل ہیں اس لئے پاکستان آخری ملک ہو گا جو خلیج فارس اور خاص طور پر اس خطے میں واقع ممالک کے درمیان کسی قسم کے تصادم کا خواہشمند ہو گا۔ دوسرے پاکستان کے سعودی عرب اور قطر دونوں کے ساتھ اہم اور قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک خصوصاً سعودی عرب میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اوورسیز ورکرز کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ قطر اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات قائم ہیں اور ان ممالک کی دفاعی افواج کو تربیت دینے کے لئے پاکستان کے فوجی دستے ان ممالک میں تعینات ہیں۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے ساتھ دو طرفہ بنیادوں پر ہمیشہ قریبی تعلقات کے قیام کی کوشش کی ہے لیکن ان کے باہمی جھگڑوں سے دور رہنے کی کوشش کی ہے۔ اسی روائتی پالیسی کے تحت پاکستان نے دو سال قبل اپنی فوج کو یمن بھجنے سے انکار رکر دیا تھا۔ تاہم اس وقت پاکستان کو قدرے پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ کیونکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم 34اسلامی ملکوں کے اتحاد میں پاکستان بھی بحیثیت ایک رکن کے شامل ہے، بلکہ ہمارے ایک سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل(ر) راحیل شریف اسی اتحاد کے تحت قائم ہونے والی فوج کے کمانڈر بھی ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس بحران میں پاکستان کا جھکاؤ سعودی عرب کی طرف زیادہ ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو قطر کی طرف سے پاکستان کو اس بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل نہ کی جاتی اور اس مقصد کے لئے قطر کا سرکاری وفد پاکستان کا دورہ نہ کرتا۔ خود وزیراعظم محمدنوازشریف نے 12جون کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم اور ان کے وفد نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات کے علاوہ سابق ولی عہد شہزادہ نائف اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد جو ملک کے وزیردفاع بھی ہیں، سے ملاقات کی تھی اور سعودی عرب کی اپنی آزادی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی یقین دہانی کرانے کے علاوہ اس بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کروانے میں اپنی خدمات کی پیش کش بھی کی تھی۔

 

khaleejtawan.jpg

پاکستان کی موجودہ حکومت بڑی دانشمندی اور احتیاط کے ساتھ ایک درست مؤقف اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس مؤقف کا مقصد اس بحران کو مزید شدید ہونے سے روکنا اور سعودی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنا ہے۔ اس خطے میں پاکستان کو جو اہم مقام حاصل ہے اس کی بنا پر پاکستان اس کردار کے ادا کرنے کا پوری طرح اہل ہے۔ دیگر اسلامی ممالک مثلاً کویت اور ترکی بھی اس بحران کا جلد از جلد خاتمہ چاہتے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ تینوں ممالک اگر مل کر مصالحت کی کوششوں کا آغاز کریں تو یہ کوششیں بارآور ثابت ہوں گی۔ کیونکہ قطر نے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ اگر سعودی عرب اور اس کا ساتھ دینے والے ممالک لچک کا مظاہرہ کریں تو بات چیت کا آغاز ہو سکتا ہے جوکہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لئے تیسرا چیلنج یہ ہے کہ اس میں ایران کو بھی ملوث کیا گیا ہے۔ بلکہ بعض تجزیہ نگاروں کی رائے میں اس بحران کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسداددہشت گردی کی آڑ میں سعودی عرب کی قیادت اور اس کی برملا حمایت سے جو اسلامی فوجی اتحاد ایران کے خلاف قائم کیا گیا ہے، قطر نے اس کا ہم نوا بننے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اس اتحاد کی سربراہی کانفرنس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اسے الگ تھلگ کرنے کی اپیل کی تھی۔ قطر نے اس اپیل پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ قطر سے پرخاش کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ قطر شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اور روس کے تعلقات میں بہتری لا رہا ہے۔ قطر کی علاقائی پالیسی میں ان تبدیلیوں کی وجہ یہ ہے کہ خلیج فارس میں پانی کے نیچے قطر کی گیس کے سب سے بڑے ذخیرے کا ایک حصہ ایران کی سمندری حدود کے اندر واقع ہے۔ اس سے استفادہ کرنے کے لئے قطر کو ایران کے تعاون کی ضرورت ہے۔ جہاں تک امریکہ اور سعودی عرب کی مرضی کے برعکس قطر کی جانب سے شام اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوشش کا تعلق ہے، تو اس کی وجہ بھی قطر کی گیس ہے۔ جسے قطر روس کی مدد سے پیداوار میں اضافہ کر کے شام اور ترکی کے راستے یورپ کو بیچنا چاہتا ہے۔ یورپ کے ممالک اس منصوبے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ کیونکہ اس کی تکمیل سے ان کا روس کی گیس پر انحصار کم ہو جائے گا۔ چونکہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے خوشگوار رہے ہیں اس لئے پاکستان کے لئے کسی ایسے اقدام کی حمایت کرنا بہت مشکل ہو گا، جس کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانا ہو۔ پاکستان نے قطر کے ساتھ مائع قدرتی گیس خریدنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ پاکستان کبھی نہیں چاہے گا کہ یہ معاہدہ کسی خطرے سے دوچار ہو۔


مستقبل میں یہ بحران کیا شکل اختیار کرے گا؟اس سلسلے میں ایک بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ قطر اور سعودی عرب میں تصادم یا خلیج کے خطے میں کسی بڑی جنگ کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی بھی تین وجوہات ہیں۔ اول سعودی عرب اور دیگر ممالک کی طرف سے مکمل ناکہ بندی کے باوجود قطر نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا ہے۔ قطر کے وزیر خارجہ نے ایک دفعہ پھر کہا ہے کہ اس کا ملک کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ دوئم تمام دنیا کے خلیج فارس کے ساتھ اس قدر اہم مفادات وابستہ ہیں کہ وہ نہیں چاہیں گے کہ اس خطے میں کنوؤں سے تیل اور گیس کی بجائے آگ کے شعلے بلند ہوں۔ خلیج فارس میں تصادم سے عالمی معاشی نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ سوئم قطر میں امریکہ کا اس علاقے میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں سے افغانستان اور شام میں امریکہ کے فضائی حملے کئے جا سکتے ہیں، کسی بڑے تصادم کی صورت میں امریکہ کے لئے اس اڈے کو استعمال کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ امریکی فوج کی طرف سے موجودہ کشیدہ صورت حال پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پھر حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟


اگرچہ کویت، ترکی اور پاکستان کی جانب سے بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم فوری طور پر بات چیت کے آغاز کا کوئی امکان نہیں اور یہ بحران موجودہ شکل میں طویل عرصے تک قائم رہ سکتا ہے۔ یہ صورت حال قطر برداشت کر سکتا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی گیس کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ میں گیس کی ترسیل پر پابندی شامل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک خود قطر کی گیس استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً متحدہ عرب امارات (یو۔ اے۔ ای) اپنی گیس کی ضروریات کا 40فیصد حصہ قطر سے درآمد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین اور فضا سے قطر کے ساتھ رابطے تو بند کر دیئے گئے ہیں لیکن پائپ لائنوں میں قطر کی سپلائی جاری ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر قطر اس بحرانی کیفیت سے ایک طویل عرصہ تک عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: عقیل یوسفزئی

سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جب بھی کوئی بڑا حملہ سامنے آ جاتا ہے افغانستان روائتی انداز میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے جس کے باعث تلخی اور کشیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔

 

کچھ عرصہ قبل تک توقع کی جا رہی تھی کہ بدلتے حالات اور متوقع چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری واقع ہو گی۔ مگر لگ یہ رہا ہے کہ ابھی ایسا ہونے یا کرنے میں مزید وقت لگے گا اور کشیدگی بدستور برقرار رہے گی۔ مسلسل بداعتمادی اور کشیدگی کی تاریخ کئی دہائیوں پر مشتمل ہے اور اس کے متعدد عوامل اور اسباب ہیں۔ تاہم موجودہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے برسراقتدار آنے کے بعد جو جذبہ خیرسگالی تھا اور اعتماد سازی کا جو ماحول بنتا دکھائی دے رہا تھا بدقسمتی سے وہ سلسلہ بوجوہ برقرار نہ رہ سکا اور کابل میں منعقدہ ایک حالیہ کانفرنس کے دوران جناب غنی نے پھر سے وہی مسئلہ دہرایا ہے کہ ان کے بقول پاکستان نے افغانستان پر غیراعلانیہ جنگ مسلط کی ہے۔ بعض صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق افغان صدر نے 32ممالک کی مذکورہ کانفرنس کے لئے جو تقریر تیار کی تھی اس کے نکات کے بارے میں جب بعض عالمی طاقتوں کو معلوم ہوا کہ اس سے پاک افغان تعلقات میں مزید تلخی آئے گی تو انہوں نے ایک معتبر عالمی ادارے کے ذریعے جناب غنی کو پیغام بھیجوایا کہ وہ ایسی باتیں کرنے سے گریز کریں جس کے نتیجے میں ان کی کوششوں کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہوجو کہ عالمی سطح پر دونوں ممالک کو قریب لانے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ تاہم عجب صورت حال اس وقت پیدا ہو گئی جب ایوان صدر کے بعض پاکستان مخالف لوگوں نے ایک پڑوسی ملک کے زیراثر افغان میڈیا کے ذریعے وہ تقریر لیک کروائی جس میں پاکستان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسی لیک تقریر کو ری پروڈیوس یا فالو کر کے چلایا۔ ذرائع کے مطابق یہ واردات انہی لوگوں نے کی جنہوں نے مری ڈائیلاگ کے پہلے مرحلے کے بعد ایوان صدر ہی سے طالبان رہنما ملا محمدعمر کی ہلاکت کی خبر چلوائی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انتظامی طور پر افغان اداروں میں ڈسپلن کا سخت فقدان ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کرنے میں صرف بھارت ملوث نہیں ہے بلکہ بعض دیگر پڑوسی ممالک بھی اپنے اثر و رسوخ کے باعث اسی رویے پر گامزن ہیں۔ جس کا مظاہرہ بھارت کرتا آ رہا ہے۔ اشرف غنی کے مذکورہ الزام یا بیان کا پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بذات خود یہ کہہ کر جواب دیا کہ افغان صدر نے ایسا کہہ کر غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام لیا ہے اور یہ کہ پاکستان ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان کا نہ صرف خواہش مند ہے بلکہ اس کے لئے عملی کوششیں بھی کر رہا ہے۔ کور کمانڈر اجلاس میں بھی اس معاملے اور بیان کا نوٹس لیا گیا جبکہ وزارت خارجہ نے بھی اس الزام کو بلاجواز قرار دے دیا۔ جناب اشرف غنی کے اس یک طرفہ بیان نے واقعتا فاصلوں میں مزید اضافے کا راستہ ہموار کر دیا اور اس کی بازگشت کئی روز تک اسلام آباد اور کابل میں سنائی دی۔ اس کے فوراً بعد جب کابل سمیت متعدد صوبوں میں حملے ہوئے تو حسب معمول افغان میڈیا اور بعض پاکستان مخالف حلقوں نے پھر سے پاکستان پر الزامات لگائے اور صورت حال میں مزید کشیدگی واقع ہونے لگی۔ اسی تناظر میں آستانہ کانفرنس کے دوران جب افغان صدر اور پاکستان کے وزیراعظم محمدنوازشریف کی ملاقات ہوئی تو اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیراعظم پاکستان نے مختصر بات چیت کے دوران افغان صدر کو مشورہ دیا کہ وہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے ذمہ داری سے کام لیا کریں تاکہ کشیدگی اور بداعتمادی میں کمی لائی جا سکے۔ اس تمام صورت حال اور وضاحتوں کے باوجود نہ تو تاحال اعتمادسازی کا ماحول قائم ہوا ہے اور نہ ہی طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا کوئی امکان پیدا ہوا ہے۔

 

یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انتظامی طور پر افغان اداروں میں ڈسپلن کا سخت فقدان ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کرنے میں صرف بھارت ملوث نہیں ہے بلکہ بعض دیگر پڑوسی ممالک بھی اپنے اثر و رسوخ کے باعث اسی رویے پر گامزن ہیں۔ جس کا مظاہرہ بھارت کرتا آ رہا ہے۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونو ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جب بھی کوئی بڑا حملہ سامنے آ جاتا ہے افغانستان روائتی انداز میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے جس کے باعث تلخی اور کشیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔


المیہ یہ ہے کہ افغان حکام اور میڈیا کی سوئی ابھی تک پاکستان اور حقانی نیٹ ورک پر اٹکی ہوئی ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان کی جنگ میں نہ صرف یہ کہ متعدد دیگر پراکسی ٹولز داخل ہو گئی ہیں بلکہ داعش کی صورت حال میں ایک خطرناک جنگی مشین نے بھی جڑیں پکڑ لی ہیں۔ عالمی سطح پر داعش کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے امریکہ کی آشیرباد حاصل ہے۔ تاہم افغانستان میں مشکوک امریکی کردار اور پالیسیوں پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ حالانکہ داعش نے نہ صرف افغان طالبان اور القاعدہ کو پیچھے دھکیلنے کی قوت حاصل کر لی ہے بلکہ رواں برس کے دوران سب سے زیادہ اور خطرناک حملے بھی داعش ہی نے کرائے ہیں اور صوبہ ننگرہار سمیت متعدد صوبوں میں یہ تنظیم لمبے عرصے تک قابض بھی رہی ہے۔ حال ہی میں ننگرہار میں مقامی لوگوں نے طالبان کے ساتھ مل کر داعش کے ٹھکانوں پر لشکر کشی کی جبکہ حکومت کا اس پر یہ رد عمل آیا کہ لشکر کشی اس لئے کی گئی کہ مذکورہ علاقوں میں افغان فورسز تعینات یا موجود نہیں ہیں۔ طالبان کے ساتھ اگر شہریوں نے ہاتھ ملا کر داعش پر لشکر کشی کی تو اس کو عوام کی بے بسی اور فورسز کی ناکامی ہی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اور یہی وہ بنیادی نکتہ یا مسئلہ ہے جس سے نمٹنے میں افغان حکومت کوشش کے باوجود ناکام رہی ہے کہ داعش نے اب تک سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا ہے۔


کابل کے سفارتی علاقے میں ایک ٹینکر کے ذریعے جس طریقے سے بارودی مواد پہنچایا گیا اور اس عمل کو جس انداز میں سکیورٹی کے بعض ذمہ داران کی مبینہ معاونت حاصل رہی اس پر عالمی قوتوں اور برادری نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ بعض ماہرین اس تمام صورت حال کو نئی امریکی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن کے قیام میں ناکام رہا ہے اور اب چاہتا ہے کہ ایک بار پھر اس جنگ زدہ ملک میں اپنی فورسز کی تعداد بڑھائے۔ افغانستان کے حکمران اور عوام یہ بھی بھول رہے ہیں کہ داعش نے سال 2001 کے دوران برطانیہ سمیت یورپ اور مڈل ایسٹ کے تقریباً ایک درجن ممالک کو کامیابی سے نشانہ بنایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عالمی دہشت گردی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے افغانستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تاہم حقانی نیٹ ورک کے روائتی کردار کی آڑ میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور یہی وہ رویہ ہے جس نے مسئلے کو گھمبیر بنا دیا ہے۔

 

نیٹو کے انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغان فوج میں شامل بعض اہم عہدیداران اور حلقے نہ صرف یہ کہ پسِ پردہ طالبان اور دیگر حملہ آور قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں بلکہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھی انہی لوگوں نے طالبان اور دیگر کو بعض اطلاعات، گائیڈ لائن اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ معتبر سفارتی ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ اس بات کا انکشاف حال ہی میں کابل میں موجود بعض سفاتکاروں نے اسلام آباد کی ایک متعلقہ یورپی مشن کے سربراہ کو ایک خفیہ مراسلے کے دوران کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق سال 2017 کے دوران کابل سمیت افغانستان کے 13صوبوں میں خودکش حملوں سمیت 100سے زائد حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد نشانہ بنے۔ جن میں فورسز اور پولیس کے 300 سے زائد افراد کے علاوہ تقریباً ایک درجن غیرملکی اور سفارتکار بھی شامل ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق سی آئی اے اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے جب ان حملوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا اکثر حملے اس وجہ سے کامیاب ہوئے اور حملہ آور آسانی کے ساتھ اس لئے حساس مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے کہ انہیں افغان فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کی معاونت حاصل رہی اور بعض حلقے حملہ آوروں کے ساتھ بوجوہ نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ انہوں نے خودکش بمباروں اور بارودی مواد کو ٹارگیٹڈ ایریاز میں پہنچنے کی سہولتیں بھی فراہم کیں۔ کہا جا رہا ہے کہ قندھار، ہرات، کابل اور قندوز میں حساس مقامات اور ملٹری ایریاز پر کئے گئے حملوں کی سہولت کاری کے فرائض بھی ایسے ہی عناصر نے انجام دیئے۔ جو حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود طالبان اور دیگر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل قندھار کے گورنر ہاؤس پر کئے گئے خوفناک دھماکے کے بعد بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ اس حملے کی جب نیٹو اور متحدہ عرب امارات کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ حملہ آوروں کو بعض سکیورٹی حکام کی معاونت حاصل تھی۔ جبکہ مزار شریف کے فوجی ہیڈکوارٹرز پر کئے گئے حملے میں بھی اندرونی ہاتھ ملوث پایا گیا تھا۔ حال ہی میں جب کابل کے سفارتی علاقے کو ٹینکر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور اس میں 100 افراد جان بحق اور 400زخمی ہوئے تو اس کی تحقیقات کے بعد بھی یہی صورت حال سامنے آئی اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹ میں پھر سے نشاندہی کی کہ اس حملے میں بھی حملہ آوروں کو مذکورہ افغان حلقوں یا حکام کی درپردہ معاونت حاصل تھی۔

کابل حملوں کے بعد 10جون کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کھل کر مذمت کی اور کہا کہ طالبان کی جنگ عوام یا سفارت کاروں کے بجائے امریکی اور نیٹو ٹروپس کے خلاف لڑی جا رہی ہے اور ان کی کبھی یہ پالیسی نہیں رہی کہ عوام یا بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جائے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ افغانستان عالمی اور علاقائی پراکسی وارز کا پھر سے مرکز بن گیا ہے اور صورت حال سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے بجائے ابھی تک روائتی الزامات اور بیانات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ افغان صدر اور چیف ایگزیکٹو کے تعلقات ر کا یہ عالم ہے کہ دونوں کئی ماہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے جبکہ وزراء بھی کابینہ کے اجلاسوں اور اپنے دفاتر سے غائب رہتے ہیں۔ دوسری طرف میڈیا کے علاوہ افغان سفارتی امور میں پروفیشنلز کے بجائے ایسے لوگ بٹھائے گئے ہیں جو کہ حدود و قیود اور صورتحال کی نزاکت کا خیال رکھے بغیراور اصل پراکسی ٹولز کا نام لئے بغیر پورے کا پورا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کابل کے خوفناک حملے کی ذمہ داری نہ تو داعش نے قبول کی اور نہ طالبان نے۔ مگر اس کے ڈانڈے پاکستان سے ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ حالانکہ افغان حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ چند اور طاقتور قوتیں بھی اس گیم کا عملی حصہ بنی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں افغانستان میں کئی برسوں تک فرائض سرانجام دینے والے ایک برطانوی فوجی آفیسر رابرٹ گیلی مور کا انٹرویو سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بعض دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ بھارت ہی افغان عوام اور فوج میں پاکستان کے خلاف بدگمانیاں پھیلا رہا ہے۔ اور یہ کہ افغانستان میں آئی ایس آئی یا پاکستان کی مداخلت ایک فسانہ ہے ان کے مطابق کابل میں بھارت کا بڑھتا ہوا اثرو رسوخ خطے کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور بھارت پاکستان کے خلاف لابنگ اور پراپیگنڈے کے لئے معقول فنڈنگ کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی افغانستان میں طالبان کے خلاف کئی جنگیں لڑی ہیں۔ مگر اس دوران ان سمیت کسی کو بھی پاکستان کی براہ راست مداخلت کے ثبوت نہیں ملے۔ ان کے بقول اس وقت افغانستان میں بھارت، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تیسری گریٹ گیم جاری ہے جس کا محرک اور فعال کردار بھارت ہے۔ افغانستان کے عوام پچھلے 40برسوں سے بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب ان کی قوت برداشت بھی جواب دے گئی ہے۔ ایسے میں اگر وہ کسی کے بھی خلاف رد عمل دکھاتے ہیں تو اس میں زیادہ حیرت کی کوئی بات نہیں۔ تاہم ریاستی ذمہ داران، سیاست دان اور حکمران جتنی جلد اس بات کا ادراک اور احساس کریں کہ معاملات تیزی کے ساتھ ان کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں اتنا ہی ان کے لئے افغانستان کے لئے اور خطے کے لئے بہتر ہو گا۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی عملی اور سفارتی سطح پر یہ مزید یقین دلانا ہو گا کہ اس کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور بھارت یا دیگر قوتیں افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال کر رہی ہیں تو اس کی بھی روک تھام کی جائے تاکہ علاقائی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔


نیٹو کے انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغان فوج میں شامل بعض اہم عہدیداران اور حلقے نہ صرف یہ کہ پسِ پردہ طالبان اور دیگر حملہ آور قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں بلکہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھی انہی لوگوں نے طالبان اور دیگر کو بعض اطلاعات، گائیڈ لائن اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ معتبر سفارتی ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ اس بات کا انکشاف حال ہی میں کابل میں موجود بعض سفاتکاروں نے اسلام آباد کی ایک متعلقہ یورپی مشن کے سربراہ کو ایک خفیہ مراسلے کے دوران کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق سال 2017 کے دوران کابل سمیت افغانستان کے 13صوبوں میں خودکش حملوں سمیت 100سے زائد حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد نشانہ بنے۔ جن میں فورسز اور پولیس کے 300 سے زائد افراد کے علاوہ تقریباً ایک درجن غیرملکی اور سفارتکار بھی شامل ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق سی آئی اے اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے جب ان حملوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا اکثر حملے اس وجہ سے کامیاب ہوئے اور حملہ آور آسانی کے ساتھ اس لئے حساس مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے کہ انہیں افغان فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کی معاونت حاصل رہی اور بعض حلقے حملہ آوروں کے ساتھ بوجوہ نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ انہوں نے خودکش بمباروں اور بارودی مواد کو ٹارگیٹڈ ایریاز میں پہنچنے کی سہولتیں بھی فراہم کیں۔ کہا جا رہا ہے کہ قندھار، ہرات، کابل اور قندوز میں حساس مقامات اور ملٹری ایریاز پر کئے گئے حملوں کی سہولت کاری کے فرائض بھی ایسے ہی عناصر نے انجام دیئے۔ جو حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود طالبان اور دیگر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل قندھار کے گورنر ہاؤس پر کئے گئے خوفناک دھماکے کے بعد بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ اس حملے کی جب نیٹو اور متحدہ عرب امارات کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ حملہ آوروں کو بعض سکیورٹی حکام کی معاونت حاصل تھی۔ جبکہ مزار شریف کے فوجی ہیڈکوارٹرز پر کئے گئے حملے میں بھی اندرونی ہاتھ ملوث پایا گیا تھا۔ حال ہی میں جب کابل کے سفارتی علاقے کو ٹینکر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور اس میں 100 افراد جان بحق اور 400زخمی ہوئے تو اس کی تحقیقات کے بعد بھی یہی صورت حال سامنے آئی اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹ میں پھر سے نشاندہی کی کہ اس حملے میں بھی حملہ آوروں کو مذکورہ افغان حلقوں یا حکام کی درپردہ معاونت حاصل تھی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter