16
May
مئی 2017
شمارہ:5 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قومیں پرعزم ہوں اور اپنے نظریے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں تو وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما قوم ایک طویل اور کٹھن جنگ میں کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اب الحمدﷲ اس مقام پر ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا عمومی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب وہ فساد بپا کرنے....Read full article
 
تحریر:خورشیدندیم
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر....Read full article
 
 alt=
تحریر: محمد عامر رانا
انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
22فروری سے آپریشن رد الفساد ملک بھر میں جاری ہے۔فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب لگانے کے لئے جس آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے ابتدائی مراحل کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اچانک بڑھ گئے تھے جو اب بہت حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے پیچھے پاک....Read full article
 
تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ امریکہ کے جنگی اخراجات کو کم کرکے اسی سرمائے کو امریکی شہریوں کی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں گے۔امریکہ کے اندر وہ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتے ہیں، اس بارے تو کچھ کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔ تاہم شام اور افغانستان کو ملٹر ی انڈسٹریل کمپلیکس کی خوفناک.....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے.....Read full article
 
تحریر: فاران شاہد
پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی....Read full article
 
تحریر: محمدمنیر
کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ مغربی تعلیم، آزادئ فکر اور میڈیا کی تانوں اور اڑانوں کے باوجود حکومتیں اور معاشرے کے طاقت ور طبقے مذہبی شخصیات کے تیوروں سے کیوں خائف رہتے ہیں اور....Read full article
 
تحریر: شاہد نسیم
ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ہربار ہمیشہ ہر بلند آواز یا ہر نئی کوشش کو’ اپنے‘ اسلام کے لئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں جن کے خیال میں بین المذاہب ہم آہنگی یا مکالمہ ایک ایسی شاطرانہ اختراع یا ایک ایسا نیا دین گھڑنے کی بھونڈی سی کوشش ہے۔ جس کا شریعت میں کوئی بھی تصور موجود نہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کی پُرفریب اصطلاح سے نہ تو کوئی سے دو مذاہب کے درمیان معاہدہ مراد ہے....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
بلاشبہ یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ پچیس برس قبل لاہورمیں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ سرکاری نہیں ہے۔ اس لئے اس کا معیار آج بھی قائم ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر (موجودہ نہیں) جو اس وقت پچیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے تھے کے خلاف خاکروب حضرات نے ہڑتال کر دی۔ یہ خاکروب اپنے حالات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے کام.....Read full article
 
تحریر: حجاب حبیب جالب
مئی، یا مزدوروں کا عالمی دن، ہم کیوں مناتے ہیں؟ صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کی زندگی بہت مشکل تھی اور ان سے ایک دن میں 16,16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدورکے ذمہ ہوتے۔ ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ مزدور کے زخمی ہونے کی صور ت میں اس کا علاج کروایا جاتا، مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدید پرتھا.....Read full article
 
تحریر: کوکب علی
ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔.....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا....Read full article

تحریر: میجر مظفر احمد
لاہور میں خود کش حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے جوان اور متعین سول شمار کنندگان مردم شماری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ سول شمار کنندگان اور فوج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ایک عظیم قربانی ہے۔ مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان قیمتی جانوں کی قربانی سے ہمارے عزائم مزید مضبوط ہوں گے........Read full article
 
تحریر: عبدالستاراعوان
ستمبر1965ء کے معرکہ چھمب جوڑیا ں میں ہمارے جن قومی ہیروز نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اُن دلیر فرزندان وطن میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا بھی ہے غلام مہدی خان شہید کا شمار اُن جانبازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت جرأت ،بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان اس دھرتی پر نچھاور کر دی۔ غلام مہدی خان کا.....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
6ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں پانچویں نغمے ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یک جان تھی۔ ہر ایک محاذ پر افواج پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے.....Read full article
 
تحریر: رابعہ رحمن
عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر....Read full article
 
تحریر: محمدامجد چوہدری
اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم کا جو بھی فرد افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑتا ہے، ’’سروس فار ایور‘‘ہمیشہ کے لئے اس کا عزم بن جاتا ہے۔ وہ یونیفارم میں ہوتو اسی جذبے کے تحت جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے، ملکی یکجہتی کی علامت بن کر قریے قریے میں ڈیوٹی کے لیے لبیک کہتا ہے، قوم کے آرام و چین کے لئے سرحدوں پرپہرہ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال مقرر ہے جس سے ہم ابھی بھی تقریباً دو سال کے فاصلے پر تھے۔ ایک سینئر بزرگوار سے مشورہ کیا تو انہوں نے پہلے تو جلدی شادی کرنے کے نقصانات تفصیل سے بیان کئے اور پھر دیر تک ہمیں ....Read full article
 
تحریر: انوار ایوب را جہ
یہ 1983-84کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی.....Read full article
 
تحریر: فہیم خان
صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ.....Read full article
 
تحریر: میجر حسان جاوید
مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک....Read full article
11
May
دوہری سیٹ والے جے ایف سیون ٹین بی تھنڈر کی پہلی کامیاب اڑان

newsdohriuran1.jpg

گزشتہ دنوں ڈبل سیٹ جے ایف سیون ٹین بی تھنڈ ر نے چینگڈو (چین) میں اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز کی ۔پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان اس تاریخی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
Aviation Industry Corporation of China (AVIC)
. کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ،
Mr. Li Yuhai
اس پروقار تقریب کے میزبان تھے۔ پاک چین مشترکہ کاوش ڈبل سیٹجے ایف سیون ٹین بی تھنڈ ر اپنی آزمائشی پروازکے ابتدائی مرا حل سے گزر رہا ہے۔ جے ایف سیون ٹین بی تھنڈر کی شمولیت خود انحصاری کی طرف ایک سنگِ میل کی حیثیت کی حامل ہے۔ اس طیارے کی شمولیت سے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی بہترین
combat training
ممکن ہو سکے گی۔ جے ایف سیون ٹین تھنڈر طیارے کی پاک فضائیہ میں شمولیت کا آغا ز2007 سے ہو ا جوکہ مسلسل جاری ہے۔ اب تک پاک فضائیہ میں جے ایف سیون ٹین کے پانچ سکواڈرنز خدمات انجام دے رہے ہیں جو کہ ہر طرح کے آپریشن سر انجام دیتے ہیں۔ جے ایف سیون ٹین تھنڈر ایک بہترین جنگی جہاز ہے جس کا موازنہ دنیا کے جدید طیاروں سے کیا جا سکتا ہے۔
کور ہیڈکوارٹرز ملتان میں مردم شماری کے حوالے سے اجلاس

newsdohriuran2.jpg 

گزشتہ دنوں کمانڈرملتان کورلیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار کی زیر صدارت کور ہیڈ کوارٹرز ملتان میں چھٹی قومی خانہ مردم شماری فیز 2کے سلسلے میں آرمی اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا اجلاس ہوا۔ جس میں مردم شماری کے حوالے سے کئے
جانے والے انتظامات کامکمل جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اپنے متعلقہ محکموں کی جانب سے کئے جانے والے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار نے خانہ مردم شماری کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی بہتری کے لئے ضروری ہدایات دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور خوش اسلوبی کے تسلسل پر زور دیا۔ اجلاس میں ملتان، خانیوال، ساہیوال اور اوکاڑہ کے اضلاع میں ہونے والی خانہ مردم شماری کے حوالے سے لائحہ عمل بھی طے کیا گیا۔ کمانڈر ملتان کور نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خانہ مردم شماری میں ملتا ن کور سول انتظامیہ اور محکمہ شماریات کے حکام کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں خدمات سر انجام دے گی۔
11
May

تحریر: کوکب علی

ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔
ماں گویا کتابِ زیست کا وہ دلچسپ باب ہے جس کی محبتوں اور قربانیوں سے گندھی تحریر سے صرفِ نظر ممکن نہیں ۔۔۔گو کہ ماں سے محبت کسی مخصوص دن کی مختاج نہیں مگر پھر بھی زمانے کے بدلتے رواجوں کے ساتھ چلتے ہوئے مئی کے دوسرے اتوار کوجہاں دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن جوش وخروش سے منایا جاتا ہے وہاں یوکرائن میں بھی یہ دن پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس دن کا باقاعدہ آغاز امریکی کانگریس کی جانب سے 8 مئی 1914 کو کیا گیا ۔ پھر سویڈن ، ناروے جرمنی اور لندن میں منایا گیا ۔ یوکرائن میں اس دن کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ۔سن 2000ء سے اس دن کو منانے کا آغاز کیا گیا ۔
اس دن باقاعدہ طور پر پھولوں کی خریداری کی جاتی ہے ۔ وہ جن کی مائیں حیات ہیں انہیں گلابی اور سرخ پھول پیش کئے جاتے ہیں اور جن کی مائیں حیات نہیں وہ سفید پھول ان کی قبروں پر لے جاتے ہیں۔ یوکرائن میں اس روز خوب چہل پہل ہوتی ہے ، ریسٹورنٹس خصوصی طور پر
mother's breakfast' mother's lunch
اور
mother's dinner
کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔ بچے ماؤں کو کارڈز اور خصوصی تحائف دیتے ہیں ۔ ماؤں کو خاص طور پر اس دن کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے کہ کب بچھڑے بچے ان کوآ کر صورت دکھائیں گے یا فون پر ایک مدت بعد اپنی آواز سنوائیں گے ، کیونکہ بہرحال مشرقی اور مغربی قدروں میں فرق ہے ، دوسرے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی خاندانی نظام مضبوط نہیں اور ماں یا باپ بچوں کے کچھ بڑے ہوتے ہی اکیلے زندگی گزارنے پر مجبورہو جاتے ہیں۔ اس دن کے حوالے سے یوکرائنی میوزک میں بھی تنوع موجود ہے ،مدرز ڈے پر تفریحی مقامات بھی پُررونق دکھائی دیتے ہیں۔
یوکرائنی ادب میں بھی ماں کی عظمت کے حوالے سے لفظوں کے رنگ بکھیرے گئے ۔ یوکرائنی شاعر
Sova
نے خاص طور پر اپنی نظم

The Owl
میں اپنی دھرتی یوکرائن کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے
Is there on earth a son more fine'
In all Ukraine? Good people, gaze,
اس نظم میں ماں کی اس محبت کا ذکر ہے جو وہ اپنے خوبصورت بیٹے کی پیدائش پر اُس سے رکھتی ہے ۔ ماں چاہتی ہے کہ وہ اُسے دنیا کی ہر خوشی دے۔ اس کے باپ کی وفات پر وہ زندگی کے اُتار چڑھاؤ کو دیکھنے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی سب خواہشیں پوری کرتی ہے اور ایک دن وہ آرمی میں جا کر ملک کی خدمت کرتا ہے یہ لمحہ ماں کے لئے فخر کا باعث ہے ،، مگر ملک کی حفاظت کرتے کرتے وہ ایک بار لاپتہ ہوجاتاہے ۔ دس برس گزر جاتے ہیں ،، مگر ماں اس کی تلاش جاری رکھتی ہے یہاں تک کہ بوڑھی ہو کرگلیوں بازاروں میں اپنے بیٹے کو آوازیں دیتی ہے۔ گلی کے شریر بچے اس کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ ماں کے حوالے سے اس طویل نظم نے پڑھنے والوں پر پُر سوز اثرات مرتب کئے ہیں ۔
ماں کی لازوال محبتوں کی یہ داستانیں رہتی دنیا تک قائم رہیں گی ۔سر زمین کوئی بھی ہو ماں کااپنی اولاد کے لئے پیاراور اس کے رنگ ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
 
11
May

تحریر: فہیم خان

صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ جیسے جیسے نورینہ بڑی ہوتی گئی اس کی دلچسپی خلاء میں موجود ستاروں اورسیاروں کے بارے میں بڑھتی گئی۔ وہ کائنات میں موجود ستاروں سیاروں کے بارے میں بہت سے جواب طلب رازوں کو جاننا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں ایک انٹرنیشنل ادارے سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا اس ادارے کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس بچی کا تعلق پاکستان کے اس علاقے سے ہے جہاں امن وامان کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ بچی ستاروں پر کمند ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جلدہی نورینہ شاہ نے انٹرنیشنل میڈیا پر اپنی جگہ بنا لی۔ یو این کے سابقہ سیکرٹری بان کی مون نے بھی نورینہ کی تعریف کی۔ اسی طرح برطانیہ کے میگزین ایڈ زون نے نورینہ کا نہ صرف تفصیلی انٹرویو شائع کیابلکہ اس کو ایشیا کی کم عمر ترین سفیر بھی مقرر کیا۔

balchkachamkta.jpg
راقم اس باصلاحیت طالبہ سے ملنے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں واقع نورینہ شاہ کے گھر پہنچا۔ نورینہ شاہ نے اپنے بارے میں بتایا کہ ابھی وہ سیکنڈ ائیر کی طالبہ ہے۔ لیکن وہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنی جدوجہد کو آگے لے جانا چاہتی ہے۔ اس نے کہا کہ پاکستان کے عام لوگ آسٹرونومسٹ کو پامسٹ سمجھتے ہیں۔ جب بھی میں کسی سیمینار میں گئی وہاں لوگ مجھے اپنے ہاتھوں کی لکیریں دکھانا چاہتے تھے لیکن لوگوں کو بڑی مشکل سے سمجھانا پڑتاہے کہ میرا یہ کام نہیں۔ تحقیق کے سلسلے میں مجھے ایک بین الاقوامی ادارے نے ایک دوربین بھی گفٹ کی تاکہ میرے علم میں مزید اضافہ ہوسکے۔ گو کہ یہ میری تحقیق کا اگلا ہدف ستاروں کے ٹوٹنے کے عمل سے پیدا ہونے والے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے ناکافی ہے۔ ابھی میری منزل کافی دور ہے اور مجھے بہت محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے اللہ پاک کی ذات پر پختہ یقین ہے کہ انشاء اللہ ایک روز میری محنت رنگ لائے گی اور بلوچستان کی بیٹی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے گی۔نو رینہ نے مزید بتایا کہ میرے ابو نے وسائل کی کمی کے باوجود میری بھرپور رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی اور آج میں جس مقام پر ہوں اس کا سارا کریڈٹ میرے والدین کو جاتا ہے۔ نورینہ نے ارباب اختیار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے جیسے دیگر طلبہ و طالبات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔


نورینہ کے والد حفیظ اﷲ صاحب ‘جو ایک گورنمنٹ ملازم ہیں، نے اپنی بیٹی کے بارے میں بتایا کہ اس کو کم عمری سے ستاروں کے بارے میں جاننے کا شوق تھا جو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ اس کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی کی۔ کئی انٹرنیشنل ادارے نورینہ شاہ سے رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اداروں نے ایوارڈ اورسرٹیفکیٹ بھی دئیے ہیں۔ یہ بچی بڑے عزائم اور ارادے رکھتی ہے جس کے لئے نورینہ کو آگے بہت کچھ کرنا ہے۔ لیکن خلاء بینی کے لئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ این جی اوز نے یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن ابھی تک این جی او یا حکومتی سطح پر عملی طورپر کچھ نہیں کیا گیا۔ بہر حال آج ہمیں اپنی بچی پر فخر ہے اوریقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد سے یہ بچی اپنی محنت اور سچی لگن کی بدولت دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرے گی۔


اس طالبہ سے ملاقات کے بعد ایک پاکستانی ہونے کے ناتے سرفخر سے بلند ہوتا ہے کہ نورینہ شاہ جیسی باصلاحیت اور بلند حوصلہ طالب علم اس خطے میں موجود ہیں۔ ہمارے ارباب اختیار کو اس طالبہ کے لئے خصوصی دلچسپی لے کر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ایسے باصلاحیت نوجوان اس دھرتی کے چمکدار ستارے بن کر ساری دنیا میں پوری آب وتاب سے چمکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
May

تحریر: میجر حسان جاوید

مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک کی سب سے اونچی چوٹی ہے جو سطح سمندر سے 3200 فٹ بلند ہے۔ ٹلہ جوگیاں جہلم شہر سے مغرب میں مشہور تاریخی قلعہ روہتاس سے تقریباً25 کلومیٹر کی مسافت پر موجود ہے۔ بلند مقام ہونے کی بدولت جوگیاں کا پہاڑ میلوں دور سے اپنی جانب توجہ مبزول کراتا ہے اور شام کے اوقات میں انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کا موسم سردیوں میں شدید اور گرمیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے۔


ٹلہ جوگیاں سیکڑوں صدیوں سے جوگیوں اور فقیروں کی آماجگاہ رہاہے۔ اس مقام کو قدیم ہندو‘ بدھ اور سکھ مذاہب میں ایک تعلیمی اور تربیتی درسگاہ کا درجہ حاصل تھا۔ جہاں پورے ہندوستان سے جوگی اور فقیر تربیت کے لئے آتے تھے۔

خانقاہوں اوٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔


ایک روایت کے مطابق ٹلہ جوگیاں کی بنیاد تقریباً سو سال قبل مسیح جوگیوں کی ایک قدیم شاخ کن پترا (کانوں کو چھدوانے والے) جوگیوں کے پیشوا گورو گورکھ ناتھ نے رکھی۔ اس قدیم پہاڑی کے ساتھ بہت سی دیومالائی اور لوک داستانیں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق پنجاب کی مشہور لوک داستان ’ہیر رانجھا‘ کے مرکزی کردار رانجھا نے اس پہاڑی پر آکر قیام کیا۔ اپنے کان چھدوائے اور جوگی کا روپ اختیار کیا۔ ایک روایت کے مطابق سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک نے تقریباً پانچ سو سال قبل ٹلہ جوگیاں پر چالیس دن قیام کیا اور اپنی عبادت کی۔ اسی عقیدت کی بدولت پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ نے یہاں پانی کا ایک تالاب بھی تعمیر کروایا۔ مشہور ہے کہ عظیم مسلمان فلسفی اور ریاضی دان ابوریحان البیرونی نے تقریباً ایک ہزار سال قبل اس پہاڑ پر قیام کیا اور پھر پنڈدادن خان کے مقام پر بیٹھ کر زمین کا قطر معلوم کیا۔

 

tallajogiyan.jpgمغلیہ دور میں اس جگہ کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ مغل بادشاہ لاہور سے کشمیر کی طرف سفر کرتے ہوئے اس پہاڑ پر عارضی قیام کرتے تھے۔ پہاڑ پر موجود پانی کے تالاب مغلیہ دور کی یاد دلاتے ہیں۔ انگریز دورِ حکومت میں ٹلہ جوگیاں کو ایک پہاڑی مقام کا درجہ حاصل تھا جہاں شدید گرمیوں میں انتظامیہ کے دفاترمنتقل ہوجاتے تھے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔ پہاڑ کے اوپر ریسٹ ہاؤس کی عمارت بھی موجود ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل تک یہاں پورے ہندوستان سے فقیر اور جوگی آتے اور وجدان حاصل کرتے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ جن میں ایک قلعہ روہتاس اور دوسرا دریائے جہلم کے کنارے سنگھوئی گاؤں سے نکلتا ہے جبکہ ایک راستہ جی ٹی روڈ پر ڈومیلی گاؤں سے ٹلہ جوگیاں کے نزدیک گاؤں بھیت تک جاتا ہے۔ الغرض ٹلہ جوگیاں ایک انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے اور اس کو سیر و سیاحت کے لحاظ سے ترقی دی جاسکتی ہے۔

مضمون نگار کا تعلق آرمی ایجوکیشن کور سے ہے وہ ان دنوں ملٹری کالج جہلم میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
 
10
May

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی اسکرین پر نظر دوڑائی تو ایک دہلا دینے والے منظر کو چیختی چلاتی سرخیوں سے مسلسل دکھایا جا رہا تھا۔ سانحہ یا واقعہ۔۔ مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ہوا تھا مگر لاہور سے کہا گیا کہ یونیورسٹی بند ہو چکی ہے اس لئے صوابی روانہ ہو جاؤ۔ صوابی۔۔ اسلام آباد سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ ایک مقامی سینئر صحافی‘ جو ہمارے ساتھ ہو لئے تھے‘ تفصیل سے بتا رہے تھے۔ ولی خان یونیورسٹی کا طالب علم مشعال خان یونیورسٹی میں اپنی بزلہ سنجی اور بے باکی کے سبب بڑا مشہور تھا۔ بحث و مباحثہ کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ولی خان یونیورسٹی گزشتہ تین ماہ سے وائس چانسلر سے محروم تھی جس پر طلبہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور ہر روز ایڈمنسٹریٹو بلاک کے سامنے صبح ہی سے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیتے۔ مشعال بھی اُن طلباء میں شامل تھا جو یونیورسٹی کے ’’وائس چانسلر‘‘ کے حوالے سے احتجاج میں آگے آگے تھے۔ اس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ خوش نہیں تھی۔ دوسری جانب مشہور سیاسی رہنما ولی خان سے منسوب یونیورسٹی کے بارے میں مقامی صحافی نے بتایا کہ کمین گاہوں میں چھپی عسکری تنظیموں نے ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت کے پی کے کی یونیورسٹیوں میں ایک بڑی تعداد میں ایسے طلباء کو داخل کروایا ہے جو ’’لبرل اور روشن خیال‘‘ طلباء پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اِن یونیورسٹیوں کی انتظامیہ میں بھی یہ نقب لگانے میں مصروف ہیں۔مقامی صحافی کی گفتگو جاری تھی کہ سرسبزوشاداب صوابی میں ہم داخل ہو گئے۔ صاف ستھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسا مقام آیا کہ جہاں سے آگے گاڑی کا گزر نہیں ہوتا۔ گاڑی سے اُتر کر ابھی چار قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے ویل چیئر پر بیٹھے ادھیڑ عمری کی طرف مائل سرخ و سفید چہرے والے مقامی رہنما نے چلاتے ہوئے کہا ’’مجاہد صاحب!‘‘۔ یہ عبد الرحمٰن تھے جو یاد دلا رہے تھے کہ ہم کراچی یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ تیز تپتی دھوپ میں عبد الرحمٰن دکھ بھری آواز میں کہنے لگے ’’میں مشعال اور اُس کے پورے خاندان کو جانتا ہوں۔ یہ بچہ میرے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے۔ مشعال اور اُس کا خاندان کیا پورے صوابی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی حضورؐ کی شان میں گستاخی کرنا تو کیا اس بارے میں سوچنے کا بھی تصور کرے‘‘۔ رات گئے جب مشعال کے دوستوں نے بتایا کہ ایک گروپ مسلسل مشعال کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ اُس کے نام سے ایک جعلی آئی ڈی بھی طلبہ کو دکھائی جاتی۔ سانحے کے روز ہم دیکھ رہے تھے کہ یہ گروپس جن میں یونیورسٹی انتظامیہ کے چند اساتذہ بھی شامل تھے۔ سرگوشیوں میں ہمیں سازش کا جال بُنتے نظر آرہے تھے۔ مگر یہ ہمیں یقین نہ تھا کہ ہم اپنے سامنے درندگی اور بربریت کا اتنا بڑا سانحہ بھی دیکھیں گے۔ مشتعل گروپ میں سے ایک جس نے اپنا نام اور اپنے باپ کا بھی نام بتایا باقاعدہ سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر حلف لیا کہ ’’مشعال کو ایک ایسی بدترین مثال بنائیں گے کہ آئندہ کوئی روشن خیال، ترقی پسند اور لبرل ہونے کی جراّت بھی نہیں کر سکے گا‘‘۔ ابتداء میں یہ کوئی سو سوا سو تھے مگر ہاسٹل پہنچتے پہنچتے تعداد ہزار سے اوپر پہنچ گئی۔ ’’اوہ میرے خدا!‘‘ عبد الرحمٰن کی آواز آنسوؤں اور سسکیوں میں ڈوب گئی۔’’ مشعال کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اسکے دوستوں نے جو کچھ بیان کیا اُس کے تصور ہی سے خود کو پختون اور مسلمان کہتے ہوئے شرم آتی ہے‘‘۔ پولیس اور انتظامیہ اُس وقت آئی جب مشعال کی برہنہ لاش پر لاٹھیاں برسائی جا رہی تھیں۔ ہاں! پولیس کو اس کارنامے پر ضرور داد دینی چاہئے کہ مشعال کی لاش کو آگ لگانے سے پہلے ہی اُنہوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ لیکن ایک بھی۔۔ جی ہاں! وہاں پر موجود ایک بھی فردکو پولیس کی تحویل میں نہیں لیا گیا۔ میرا جی چاہا کہ واپس اُنہیں قدموں سے لوٹ جاؤں مگر مشعال کے والد اور بہن کی ہمت اور جراّت کے بارے میں سن چکا تھا اس لئیے حجرے میں داخل ہوا جہاں مشعال کا باہمت باپ سر جھکائے پُرسہ لے رہا تھا۔ میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو عزیز و اقارب پُرسہ دیتے ہوئے صبر کی روایتی تلقین کر رہے تھے۔ میرے بوڑھے والد نے پُر نم آنکھوں سے کہا ’’جس کی انگلی کٹتی ہے وہی دل چیرتے دکھ کو محسوس کر سکتا ہے‘‘۔ مشعال کے والد کے آگے بھی مجھے چُپ لگ گئی۔جُھریوں بھرے سرخ و سفید چہرے پر بیٹے کا دکھ سمیٹے مشعال کے والد نے صرف اتنا کہا ’’میرا مشعال تو چلا گیا مگر خدا کے واسطے میرے وطن کے کسی دوسرے مشعال کے ساتھ یہ بربریت اور درندگی کا وحشیانہ کھیل نہ کھیلا جائے‘‘۔
یہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لئے۔ اختافاتِ رائے کا انجام وحشیانہ موت نہیں۔ ہم سب کو قائد کا پاکستان واپس لانا ہے۔ پُرامن پاکستان، خوشحال اور مسکراتا پاکستان!

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

تحریر: انوار ایوب را جہ

یہ 84-1983 کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب تھی ‘روتی ہوئیں ویگن سے نکلیں اور کار میں سوار ہو گئیں۔ وہ اپنی والدہ کواسلام آباد ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہی تھیں۔ ان کے سب بہن بھائی برطانیہ میں رہتے تھے۔ بس وہ یہاں پاکستان میں اپنے بچوں اور خاوند کے ساتھ رہتی تھیں جو ایک فوجی افسر تھے۔


ان تین بچوں کے لیے کار میں بیٹھنے کا یہ پہلا تجربہ تھا ، اس سے پہلے یہ تا یا محبوب کی سبز ویگن میں بیٹھ کر اپنی ماں کے ساتھ گاؤں سے میرپور جاتے جو خود میں ایک تفریح تھی۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ سے ان تین بچوں اور ان کی ماں کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔ ایک اور سبز رنگ کی گاڑی میں جس سفر کا آغاز ہوا ‘وہ آج بھی جاری ہے۔اس سفر کے دوران بہت سے پڑاؤ ان پانچ مسافروں کی زندگی میں آئے اور اس سفر کا کمال یہ ہے کہ اس کا ہر لمحہ یادگار ہے۔ اس رات وہ کار راولپنڈی صدر میں کپڑوں کی دکان پر رکی۔ ان بچوں اور ان کی ماں کے لئے کپڑے خریدے گئے اور یہ کار آخر کار رات کی تاریکی میں تربیلا پہنچی جہاں ان چار مسافروں کی زندگی کا آغاز ہونا تھا۔


دوسرے روز جب صبح کا آغاز ہوا تو یہ تین بچے اور ان کی والدہ ایک نئے ماحول میں آنکھ کھول رہے تھے۔ بچے اردو کا ایک لفظ نہیں بول سکتے تھے ، ان کی ماں پہاڑی زبان کے علاوہ تھوڑی بہت اردو بول سکتی تھیں مگر ان کے لئے ابھی تک یہ تبدیلی ایک بہت بڑا تعجب تھا۔ اس روز یہ بچے جاگے۔ ان کے پاس راولپنڈی سے خریدے ہوئے نئے کپڑے تھے۔ ایک اردلی ایک ٹرے میں کچھ ناشتہ لایا اور ڈائننگ ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔ مجھے یاد ہے اس گھر کے باہر ایک تختی لگی تھی جس پر لکھا تھا ، کیپٹن محمد ایوب اور یہ وہی صاحب تھے جنہوں نے ایک رات قبل ان تین بچوں اور ان کی والدہ کو کشمیر کے پہاڑوں سے ایس ایس جی کی چھاؤنی میں لا کر محصور کیا تھا۔ یہ کہانی میری ہے ، یہ کہانی میری والدہ اور اور میرے بھائیوں کی ہے ، مگر اب جب میں زندگی کی چار دہایاں پوری کرنے والا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ کہانی میری یا میرے خاندان کی نہیں بلکہ ہر اس خاندان کی ہے جس کا تعلق فوج سے ہے۔ ابو جی اس وقت ایس ایس جی میں تھے اور یہ سبز رنگ کی فییٹ کار ہماری پہلی فیملی کار تھی اور یہ ہمار ا فوج کی زندگی میں شامل ہونے کا وہ یادگار دن تھا جس کی چھاپ آج تک ہماری زندگیوں پر ہے۔انگریزی میں کہتے ہیں
Once  a  Soldier, Always  a  Soldier
کچھ ایسا ہی معاملہ ان خاندانوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اس فوجی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جو ان کا بھائی، باپ یا خاوند ہوتا ہے۔ وردی اور سپاہی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے روح اور جسم۔ یہ رشتہ جو ایک سپاہی کے لئے ریکروٹمنٹ سینٹر سے اور افسر کے لئے کاکول سے شروع ہوتا ہے مگر اس کا اختتام کبھی نہیں ہوتا ، یہ رشتہ زندگی ختم ہونے تک ڈی این اے کا حصہ بن کر ساتھ چلتا ہے اور اس رشتے کو ایک فوجی کے ساتھ ساتھ اس کا خاندان بھی اپنا لیتا ہے جیسے ہم نے اپنایا۔


ان تین بچوں میں سب سے بڑا میں تھا اور دو چھوٹے میرے بھائی تھے۔ ایک اب کینیڈا میں آباد ہے اور دوسرا پاکستان میں ہائی کورٹ کا وکیل ہے اور میں یہاں برطانیہ میں رہتا ہوں جبکہ ابو جی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور اب تختی پر کیپٹن نہیں بلکہ لیفٹیننٹ کرنل(ر ) لکھا ہوا ہے۔ بہت سا وقت گزر گیا ، بہت سی نسلیں جوان ہو گئیں ، بہت سی ایس او پیز میں تبدیلیاں کی گئیں ، خاکی کی جگہ کیمو فلاج نے لے لی، ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی ساخت اور استعمال میں تبدیلی آئی مگر ان سب کے ساتھ جڑا سپاہی نہیں بدلا، اس کا جذبہ ماند نہیں پڑا، اس کے ڈی این اے کے جرثوموں میں کل بھی سبز لہو موجود تھا اور آج بھی وہی سبز لہو موجود ہے جس میں ایمان ، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ لہو سرخ ہوتا ہے مگر سپاہی کے لہو میں سبز ہلالی پرچم اپنا رنگ ایسے اتار دیتا ہے کہ اس کی وردی اس کا کفن بن جاتی ہے۔ میں وردی نہیں پہن سکا ، شائد میرے مقدر میں یہ نہیں تھا ، مگر میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ وردی کے پاس اور وردی کے ساتھ گزارا اس لئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ وردی میرے لئے بھی اتنی اہم ہے جتنی ابو جی کے لئے تھی۔ ایس ایس جی کچھ دیوانوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو کسی نام ، ایوارڈ اور میڈل کے لئے اس کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ ایک مختلف سوچ ہے ، ایک الگ مائنڈ سیٹ ، ایک مکمل اور دیوانہ وار عشق یعنی ’’من جانبازم ‘‘ ہم جب فوج کی زندگی کا حصہ بنے تو ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہماری زندگی میں سب سے پہلے فوج اعتماد کا ٹیکہ لگائے گی ، ہمیں وہ پاکستان کا ہر علاقہ دکھائے گی، ہمیں ایران سے افغانستان اور انڈیا سے چین کی سرحدیں دکھائے گی۔ ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہمارے پڑوس میں بریگیڈیر ٹی ایم جیسے جنگجو ہوں گے ، ہمیں ہر گز یہ پتہ نہیں تھا کہ شاہراہ دستور پر ’’ا ﷲ ہو‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے جب ہمارے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ 23 مارچ کی پریڈ میں شامل ہوں گے تو جذبے اور جوش سے ہمارے آنسو نکلا کریں گے۔ ہمیں نہ کسی ایف جی سکول کا علم تھا اور نہ ہی کبھی آرمی پبلک سکول کا سوچا تھا ، یہ کبھی بھی ہمارے گمان میں نہیں تھا کہ ہم تیراکی سیکھیں گے یا ہمیں کبھی دنیا کے بلند ترین محاذجنگ پر ہیلی کاپٹر سے لٹک کر جانے والے کیپٹن نوید اور ہوا بازی کی عالمی تاریخ کے عظیم ہیرو ایم ایم عالم سے ملنے کا موقع ملے گا اور پھر یہ کس نے سوچا تھا کہ کارگل کی جنگ میں شہداء کی فہرست میں ایک نام کیپٹن جاوید اقبال کا ہو گا جو میری والدہ کے بھائی ہوں گے اورکسے معلوم تھاکہ اسی فوج میں ہمارے ہم عصر بھی وہی وردی پہنیں گے جو ان کے بھی ڈی این اے کا حصہ تھی ، کسے علم تھا کہ ان میں سے کچھ ہم سب کو پیچھے چھوڑ جائیں گئے اور سبز ہلالی پرچم کا انتخاب اپنے کفن کے طور پر کریں گے۔ بس یہ فوج کا کمال ہے اور فوج کی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر کوئی لکھتا نہیں اور شائد کوئی بولتا بھی نہیں مگر میں آج ایسا کیوں سوچ رہا ہوں؟ میں تو مکمل سویلین ہوں۔


بس یوں ہی کبھی کبھار غیر ارادی طور پر جب پاکستان جاتا ہوں تو ان گلیوں میں چلتا ہوں جہاں بچپن گزرا اور جہاں آج بھی تندرست جسموں اور بلند جذبوں والے سپاہی رہتے ہیں ، بس ایک رشتہ ہے جو خود ہی قائم ہے، بس وہ پرانے دوست جو کبھی اسکول میں ساتھ پڑھتے تھے۔ اب کرنیل بن گئے ہیں اور ان کو مل کر کچھ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں ؟


محمد میرا بیٹا ہے جو ماشاء اللہ تین سال کا ہونے والا ہے اور اب وہ باتیں بھی کرتا ہے ، محمد اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک تین بار پاکستان جا چکا ہے۔ وہ ایک برٹش پاکستانی/کشمیری بچہ ہے اس کا تعلق اس مٹی سے ہے جس میں وہ پیدا ہوا مگر اسے میں نے اور میری بیگم نے ہمیشہ وہ چار دیواری دکھائی ہے جس سے ہمارا تعلق ہے۔ محمد کو اس کی ماں نے بہت محنت سے اپنی زبان کے کچھ لفظ سکھائے جیسے ’’ابو جی‘‘، ’’پاکستان زندہ باد‘‘، ’’دل دل پاکستان‘‘ اور’’اﷲ جی کرم کرو۔‘‘ میری سٹڈی میں ابو جی کی ایک تصویر لگی ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور اس تصویر سے باتیں کرتا ہے ، مجھے اس کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی مگر وہ اپنی ماں کو سب کچھ سمجھا لیتا ہے ، شائد ایسا ہم سب نے کیا ہو۔ آج ہم گاڑی میں کہیں جا رہے تھے ، محمد متواتر کچھ کہہ رہا تھا اور میری بیگم فرنٹ سیٹ پر بیٹھی رو رہی تھی ، میں نے پوچھا تو وہ بولی کہ محمد نے ٹی وی پر ایک نغمہ سنا ہے اور کل سے بے دھیانی میں گنگنا رہا ہے۔ میں نے بیگم سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ بولی کہ محمد کہہ رہا ہے ’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی میری آنکھیں بھی تر ہو گئیں مگر نہ جانے کیوں منہ سے شکر کا کلمہ ادا ہوا، مجھے اتنے سالوں بعد یہ احساس ہوا کہ وردی ابھی بھی ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: محمدامجد چوہدری

اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم کا جو بھی فرد افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑتا ہے، ’’سروس فار ایور‘‘ہمیشہ کے لئے اس کا عزم بن جاتا ہے۔ وہ یونیفارم میں ہوتو اسی جذبے کے تحت جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے، ملکی یکجہتی کی علامت بن کر قریے قریے میں ڈیوٹی کے لیے لبیک کہتا ہے، قوم کے آرام و چین کے لئے سرحدوں پرپہرہ دیتا ہے، موسم کی چیرہ دستیوں کوبرداشت کرتا ہے، سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کو عبور کرتا حتیٰ کہ جان کی پروا کئے بغیر ملک و قوم کے خلاف برسرپیکار ہر قوت سے جا ٹکراتا ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد وہ یونیفارم کو تو خیر باد کہہ دیتا ہے تاہم قومی خدمت اور سرفروشی کا لباس پوری عمر زیب تن کئے رکھتا ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں:
Once a Soldier, Always a Soldier
اپنے اسی وصف کے عملی اظہار کے لئے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیتے ہیں۔ ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن(ڈی ایف وی اے) کا قیام بھی اسے جذبے کے تحت عمل میں آیا۔ اس کے بانیوں میں افواج پاکستان کے ممتاز ویٹرنز لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد اعظم خان(مرحوم)، ائرمارشل(ر) ظفر چوہدری، لیفٹیننٹ جنرل (ر)عتیق الرحمن، لیفٹیننٹ جنرل(ر) کے ایم اظہراور کمانڈر(ر) عابد اقبال(نیوی) شامل ہیں۔ بری ، بحری اور فضائی افواج کے کسی بھی رینک کے ریٹائرڈ ملازمین اس کے رکن بن سکتے ہیں۔ اس طرح افواج پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو یکجا کرکے ان کی آواز بلند کرنے میں یہ انتہائی مؤثر اور متحرک کردار ادا کررہا ہے۔

servicefoever.jpg
اس میں بھی کوئی دو آراء نہیں کہ ایک سپاہی جب فوج میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوتا ہے تواسے کبھی بھی انتظامی مسائل کا سامنا نہیں کرناپڑتا۔ فوج اس کا گھر ہوتی ہے اورسپاہی سے لے کر جنرل تک اسی خاندان کے فرد ہوتے ہیں۔ ہر سینئر افسر اپنے ماتحت افراد کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پوری یکسوئی اور توجہ سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جونہی وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتا ہے اسے اپنی پنشن کے حصول اور اس سے جڑے بہت سے دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان تمام الجھنوں سے نبردآزما ہونے اور ان کی دادرسی کے لئے پر ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ان کی ترجمان بن کر ان کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ تنظیم اجتماعی فلاح و بہبود کے کئی اہداف حاصل کرچکی ہے۔ اس سلسلے میں یہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے مرکزی دفاتر سے مسلسل رابطے میں رہ کر ان کاموں پر مؤثر انداز سے عمل درآمد کروا چکی ہے۔یہ ملک کی 13پنشنر تنظیموں کی بھی رکن ہے جس میں 12وفاقی اور صوبائی پنشنر تنظیمیں شامل ہیں۔ ان سب کا مجموعی اتحاد و الحاق پاکستان فیڈریشن آف سول اینڈ ملٹری پنشنرز ایسوسی ایشنز کہلاتا ہے۔ڈی ایف وی اے نہ صرف اس کی اہم ترین رکن ہے بلکہ اس کے صدر کو اس اتحاد کا صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوتا ہے۔


لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد نصیر اخترڈیفنس اس وقت فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) فاروق احمد خان اس کے صدر ہیں۔دیگر عہدیداروں میں سینئر نائب صدر ائر وائس مارشل(ر) انور محمود خان ، جنرل سیکرٹری (ر)بریگیڈیئر صفدر حسین اعوان، سیکرٹری کرنل(ر) چوہدری محمد اسلم، سیکرٹری خزانہ کرنل(ر) طاہر حسین کاردار اور سیکرٹری اطلاعات و نشریات سپاہی (ر)مبارک احمد اعوان شامل ہیں۔ادارے کا سالانہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے ممبران کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔ گزشتہ اجلاس میں کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اورادارے کی خدمات اور کارکردگی کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا ۔


اس طرح ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن سے وابستہ افراد اپنی یکجہتی کے ذریعے نہ صرف اپنے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں بلکہ معاشرے میں ہم آہنگی کے فروغ کے لئے بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔یہ تنظیم پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے بھی ایک قابل تقلید مثال ہے جواسی جذبے کے تحت اپنے اجتماعی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی اور خوشحالی میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 
10
May

تحریر: رابعہ رحمن

عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر پہ گامزن ہوچکی ہے۔ پھر یہ سفر اس کی آخری سانس تک جاری رہتاہے۔ وہ اس سفر کے دوران آنے والے ہرموڑ اور اونچے نیچے راستوں پر اپنی محبت اور معصومیت کے پروں کو پھیلائے اڑتی چلی جاتی ہے اس کے پر اگر کاٹ بھی دیئے جائیں تو وہ نئے پر اُگالیتی ہے اس کے پروں کی اُڑان اور آنچل کے سائے میں نسلوں کی نسلیں پھلتی پھولتی ہیں۔


انہی نسلوں میں پلنے بڑھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں‘ ان میں بہت سے پرائیویٹ اداروں اور گورنمنٹ سیکٹر کے میدان میں ہیں۔ ڈگریاں حاصل کرنے اور نوکریاں ملنے تک سب افراد شام کو واپس گھر میں اپنی ماں،بہن، بیٹی یا بیوی یعنی کہ کسی نہ کسی روپ میں وہ عورت کے سائے میں آجاتے ہیں۔ دن بھر کی مشکلات، واقعات، تجربات آکر بیان کرتے ہیں۔ گھر کی گرم روٹی بھی کھاتے ہیں اورپھر اگلے دن اپنی محبتوں اور خدمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی کی ڈگر پر، شام کو لوٹ آنے کے لئے، چل پڑتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایسا ادارہ ہے جسے دنیا کا بہترین ادارہ کہاجاتاہے وہ ہے افواج پاکستان کا ادارہ۔ اس ادارے میں جانے کے لئے تقریباً ہرپاکستانی نوجوان جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تو لڑکپن کے دیکھے ہوئے، وردی پہننے کی آرزو سے بھرپور، خوابوں کی تعبیر چاہتاہے۔ ایک عورت جب اس ادارے میں اس نوجوان کو بھیجتی ہے کہ اے میرے لال، میرے بھائی، میرے بابا میرے شوہر تمہارے حصے کی چولہے کی آگ تمہارے لوٹ آنے تک جلتی رہے گی‘ تمہارے حصے کی روٹی بھی میرے آنچل میں لپٹی گرم ہی رہے گی‘ تمہاری ساری باتیں سننے کو میری سماعتیں ہمیشہ منتظر رہیں گی۔ زندگی وقت کا نام ہے، وقت فیصلے کا اور فیصلہ جب صحیح وقت پر ہوا ہو تو تقدیر بھی ساتھ دیتی ہے۔ اسی طرح ایک فیصلہ فوجی افسر کے گھر میں ایک بار انگڑائی ضرور لیتاہے۔ بریگیڈئیر بابر علاؤ الدین کے گھر میں بھی بیٹے مُھد حیدر کے لئے فوج میں بھیجے جانے کے لئے چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ مُھد ابھی ایف اے میں تھا۔ دوستوں کا شیدائی اور زندگی کو ہنسی مذاق میں گزارنے والا کسی بھی بات پہ سنجیدہ نہیں ہوتا تھا۔ ماں کہتی کہ مُھد ایف اے کے پیپرز آنے والے ہیں‘ میں تمہیں اپنے والد اور شوہر کی طرح ایک کامیاب فوجی افسر دیکھنا چاہتی ہوں مگر تم نے وقت کو مذاق سمجھ لیا ہے تمہارے دوست خود پڑھ کر بے وقت تمہارے گھر آجاتے ہیں اور تم اس بات سے قطع نظر کہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاؤ گے ‘ ان کے ساتھ موج مستی میں لگ جاتے ہو اور کل کو آج کے تمہارے یہ دوست تمہیں مڑ کر آواز بھی نہیں دینگے اور ہاتھ پکڑ کر تمہیں اپنے ساتھ لے کر بھی نہیں چلیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ مُھد کے تینوں دوست ایف اے میں کامیاب ہوئے اور مُھدجس کا خواب صرف اور صرف پی ایم اے جانا تھا‘ ٹوٹ گیا۔ وہ کامیاب نہ ہوسکا‘وہ انتہائی شرمندہ تھا۔ رزلٹ میں ناکامی کی خبر سنا کر ماں کی گود میں سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اللہ نے ماں کو جذبات کی ندی کی طرح بنایاہے‘ مگر مُھد کی ماں جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی جہاندیدہ خاتون ہیں۔ زندگی کے اس اہم موڑ پر جہاں مُھد کے ساتھ ساتھ بریگیڈئیر بابر اور دیگر اہل خانہ بھی شکست وریخت کا شکار ہورہے تھے‘ وہاں ایک ماں نے اہم فیصلہ کیا کہ کوئی میرے بیٹے کو ناکامی کا احساس نہیں دلائے گا ۔کوئی ذومعنی چبھتا ہوا جملہ اس کو مذاق میں بھی نہیں کہاجائے گا ۔مُھد کی ذمہ داری میں لیتی ہوں۔ ماں نے مُھد کو دلی جذبات کے ساتھ ساتھ عقل کو بھی نگہبان مانتے ہوئے کہا‘ بیٹا زندگی کی اس ٹھوکر کو اللہ کا انعام سمجھ کر قبول کرو‘ بے شک انسان کی خطائیں اسے ایسے مقام پر لے آتی ہیں کہ اگر وہ سمجھداری سے کام نہیں لیتا اوربیرونی عوامل کے منفی رجحانات کو اپنا لیتاہے تو وہ پہاڑ سے گرنے والے پتھر کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جاتاہے۔ اگر وہ زندگی کی پہلی ناکامی کو چیلنج سمجھ کر قبول کرتاہے‘ اللہ پہ یقین رکھتا ہے، بڑوں کی نصیحتوں کا مذاق نہیں اڑاتا اور نہ ان کو اپنا دشمن سمجھتاہے تویقین کرو وہ اس بھٹی کی طرح ہوجاتاہے جس میں سے کوئلے ہیرے بن کے نکلتے ہیں۔ وہاں کچی مٹی سے اینٹیں پک کر گھروں کو تعمیر کرتی ہیں۔ مُھد نے ایسے میں ماں سے وعدہ کیا کہ وہ آج کے دن کی شرمندگی کو بابا کی آنکھوں کے فخر میں بدل کے چھوڑے گا۔پھر وہ دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو یاد کرنے لگا ۔اس کی آنکھوں میں مایوسی اور تکلیف کا عکس تھا۔ ایسے میں ماں نے کہا: نہ بیٹا دوست کبھی بُرے نہیں ہوتے، تم کو ہی دوستی اور زندگی کے دیگر معاملات میں توازن رکھنا نہیں آیا‘ کبھی کسی پر الزام مت دینا اور جب بھی کوئی فیصلہ کرو بزرگوں کی عزت کو معتبر کرنے کا راستہ چننا سب کچھ حاصل ہوجائے گا۔


مُھد کو دیکھتے ہی دیکھتے کتابوں سے عشق ہوگیا ۔انتہائی معصوم سادہ دل انسان تھا۔ گھر میں موجود تناؤ کاشدت سے احساس کرتا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اس کے والد کو کتنا شوق ہے کہ ان کا بڑا بیٹا فوج جوائن کرے اور جب وہ ریٹائر ہوں تو ان کی بیلٹ اور ٹوپی اس کے بدن پر سجی ہوئی دیکھیں۔ وقت (اپنی رفتارکو) پر لگائے اڑئے جارہا تھا۔ پھر مقدر سے وہ دن آگیا جب مُھد نے گریجویشن میں پوزیشن لی اور ساتھ ہی اس نے فوج کا امتحان بھی پاس کرلیا مگر ان چار سالوں میں اس نے اپنے بابا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی اور اکثر اوقات ایسا بھی ہوا کہ وہ نماز پڑھتی ماں کی گود میں سررکھ کر رویا کرتا۔آج وہی مُھد حیدر سیکنڈلیفٹیننٹ ہے اور جب گھر آتا ہے اور دروازے میں کھڑے ہوکر بابا کو سیلوٹ کرتاہے تو بابا دونوں بازو کھول کر کہتے ہیں’آج میری جوانی میرے سامنے کھڑی ہے‘ اب میں اس کو انجوائے کرتاہوں‘ اور مھد کو سینے سے لگالیتے ہیں۔ فوج کے ادارے میں جہاں وطن کی خاطر قربانی کا سبق دیاجاتاہے ، جو عزت یہ ادارہ معاشرے میں دلاتاہے کوئی اور نہیں۔ چمکتی پیشانی، روشن آنکھوں،سمارٹ جسم اور مضبوط ارادوں سے بھرپوریہ نوجوانان پاکستان ملک کی خدمت حفاظت کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔عمومی خیال یہ ہے کہ فوجی افسر بہت مزے کی زندگی گزارتے ہیں ۔بے شک یہ کسی حد تک سچ بھی ہے لیکن وہ کس طرح فوجی افسر بنا‘ یہ معاشرے کے باقی لوگ نہیں جانتے۔ فوجی افسر کے اندر سب سے پہلے اپنے خاندان سے رابطہ منقطع کرنے کا حوصلہ پیدا کیاجاتاہے ۔جب یہ افسر اٹھارہ بیس سال کی عمر میں دو سے ڈھائی ماہ تک اپنے ماں باپ کی آواز تک بھی نہیں سن سکتے لیکن ان کی سخت ترین ٹریننگ ان کو اجازت اور وقت ہی نہیں دیتی کہ وہ ماں کی پکائی ہوئی گرم روٹی کو یاد کرسکیں۔ صبح صادق کی موسم کی سختی کو نظرانداز کرتے ہوئے پی ٹی کلاسز، فرنٹ رول، سینیئرز کے ’’رگڑے‘‘ اور ڈرل اس تسلسل کے ساتھ کرائی جاتی ہے کہ رات کااندھیرا چھانے لگتاہے اور ماں کی گود سے نکلا ہوا یہ لڑکپن کی دہلیز، یہ کرکٹ کھیلتا، مستیاں کرتا اور موج مناتالڑکا ایسے بستر پر تھک کے گرتاہے کہ پھر صبح ہوجاتی ہے ڈنکا بجتاہے اورپھر اسی تواتر سے زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔

OK SIR,YES SIR
ان کی زندگی کا خاصہ بن جاتاہے ایسے میں اگر گھر سے کوئی خط آجائے تو باتھ روم میں گھس کر پڑھتے ہیں اور گھروالوں کو یاد کرتے ہیں ۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں گھر جانا ہے یا ماںیاد آرہی ہے۔ یہ مشینی زندگی کا عرصہ کوئی ماہ دوماہ کا نہیں ہے بلکہ لانگ اور شارٹ کورس کے مطابق سالوں پر محیط ہوتاہے۔ اس میں کوئی بیمار ہے تو اسے اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ ایکسرسائز پر جانا ہے تو وہاں کی تمام سختیاں برداشت کرکے خود کو اچھا فوجی بنانے کے لئے تیار کرناہے۔ گلہ شکوہ، منت سماجت اور حیلے بہانے۔۔۔۔۔ وہاں کچھ نہیں چلتا‘ یہ جذبہ فوجی افسر ساری عمر اپنا اندر شمع کی طرح جلتا رکھتے ہیں۔ ان کا فخر اس وقت اور بھی بڑھ جاتاہے جب وہ ایک دن اپنے ہی بیٹے کو پی ایم اے کے گیٹ کے اندر چھوڑ کر واپسی کے قدم لیتے ہیں۔ ان کو اپنا سخت ترین گزارا ہوا وقت مشقت اور تنہائیوں کے تمام موسم بھول جاتے ہیں۔ یہاں سے پھر ایک نیا عہد وطن، ماں اور وردی سے نبھانے کیلئے تحریر کیاجاتاہے۔ ایسی افواج اور وطن کو شکست کا سامنا کیسے ہوسکتاہے جو طوفانوں کے تھپیڑوں میں وطن کی مٹی کو ماں کی گود سمجھ کر سوجاتے ہیں اور وطن کی مٹی بھی انہیں لوریاں سنا کر میٹھی نیند سلاتی ہے۔۔۔۔۔ ماں مٹی اور افواج پاکستان کو پوری قوم کا سلام۔ پھر یہی نوجوان اس وطن کے لئے بے پناہ قربانی دیتے ہیں اپنا وقت، جوانی، خاندان، خواہشیں سب قربان کردیتے ہیں اور ایک دن غازی یا شہید ہوکر اپنی ماں یا بچوں کے پاس لوٹ آتے ہیں۔ والدین کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ غلطی بچے ہی کرتے ہیں اگر ہم ان غلطیوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیں اور وطن کے ان معماروں کو مستقبل کا قیمتی اثاثہ جان کر بنا کسی حیل وحجت اور تفن بازی کے بغیر سہارا دیں گے تو پوری ایک نسل کو بچالیں گے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May
شمالی وزیرستان میں پاکستان کا سب سے بڑا پرچم
شمالی وزیرستان میں پاکستان کا سب سے بڑا پرچم بنایا گیا۔ اس پرچم کی لمبائی 210 فٹ اور چوڑائی 150 فٹ ہے۔ اس پرچم کو چھوٹے پتھروں سے بنایا گیا ہے۔ عثمان خان جو کہ مقامی علاقے شیوا

(Shewa)

کا رہائشی ہے‘ نے اس پرچم کو تیار کیا۔ عثمان خان نے اپنی اس کاوش کو وطن سے محبت کا اظہار قرار دیتے ہوئے پرچم کو قوم کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے نام کیا ہے۔ پرچم کی افتتاحی تقریب میں آرمی افسران‘ سیاسی قائدین‘ طلباء اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newsshumaliwazirstanmain1.jpg 

10
May

لیفٹیننٹ راجہ خاور شہاب کی شہادت پر لکھی گئی ایک نظم

راجہ محمد سلیم عادل

2مارچ 2017کو لیفٹیننٹ راجہ خاور شہاب نے جانی خیل بنوں میں شدت پسندوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ اس مایہ ناز سپوت کا تعلق کھوئی رٹہ موضع دھڑہ کے راجپوت خاندان سے تھا۔ شہادت کے وقت شہید کی عمر صرف 23برس تھی۔

pegham.jpgبہار آنے کو ہے
خزاں کا طلسم
ٹوٹنے کو ہے
تہہِ خاک ہے ابھی لیکن
فصلِ بہار پھوٹنے کو ہے
تم درندۂ صفت ہو تو کیا غم
دھرتی کے سینے سے نغمہ
جھرنا بن کر بہتا ہے
ہمیں آواز دیتا ہے
وہ ہم سے اب بھی کہتا ہے
میرے نغمے یہ میرا جلترنگ
وقت کے دھارے پہ رکھا
کب سے ہے
لہو پیتے درندوں سے
میں آشنا پرانا ہوں
انہیں کہہ دو کہ میں تو
وقت کے دھارے پہ رکھا
اِک زمانہ ہوں
اس ارض وطن کی خاطر
جو موت ملی ہے مجھ کو
اس موت کا میں دیوانہ ہوں

10
May

تحریر: محمد اعظم خان

6ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں پانچویں نغمے ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یک جان تھی۔ ہر ایک محاذ پر افواج پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار تھیں اور دشمن کو دندان شکن شکست دینے کے لئے صف آراء تھیں ایک طرف ریڈیو پاکستان ثقافتی ابلاغ کے محاذ پر اپنے قومی جذبے سے سرشار کام میں مصروف تھا تو دوسری طرف افواج پاکستان کے تینوں شعبے ایئرفورس، بحری اور بری تمام محاذوں پر دشمن کو پے درپے شکست سے دوچار کررہے تھے اور ہمیں ان کی بہادری کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ایک ایسا نغمہ ریکارڈ کیا جائے جس میں تینوں شعبوں کا ذکر ہو اور افواج پاکستان کا مورال بلند ہو۔ چنانچہ یہ نغمہ’’ یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ ریکارڈ کیا گیا۔ ملکہ ترنم نے مجھے ایک دھن سنائی جو کہ انہوں نے بیرون ملک سنی تھی اور ان کو اس کی کمپوزیشن بہت پسند تھی۔ میں نے اورمیڈم نورجہاں نے محترم صوفی تبسم صاحب کو گنگنا کر سنائی اور گزارش کی کہ اسی دھن پر تینوں افواج کے شعبوں پر مبنی نغمہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کمال مہارت سے یہ استھائی لکھ کر دی۔ ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ ملکہ ترنم صوفی صاحب کے اس مصرعے پر بہت خوش ہوئیں کہ میری بتائی ہوئی دھن پر یہ بول کتنے اچھے فٹ ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنی پوزیشن کے مطابق اس نغمے کی ریہرسل شروع کر دی۔ یہ نغمہ بھی ایک ہی دن میں لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور شام کو اس کی ریکارڈنگ مکمل ہوئی۔ اس نغمے کی ریکارڈنگ کے دوران بھی ہمیں اپنی فوج کی فتوحات کی اطلاعات ملتی رہی ہیں خاص کر ایئرفورس اور بحری افواج کی۔ رات کو جب یہ ملی نغمہ نشر ہوا تو ہمیں بے شمار ٹیلیفون موصول ہوئے۔ ملکہ ترنم نے خواہش ظاہر کی کہ میں فوجی بھائیوں کے پروگرام میں خود بات کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے ہمارے فوجی بھائیوں کے جذبہ حب الوطنی میں اضافہ ہو گا۔ اس کو ریڈیو پر خاص اعلان کے ساتھ نشر کیا گیا کہ میڈم نورجہاں اپنے پیارے بھائیوں کو مخاطب کریں گی۔ فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئر یاسمین طاہر نے ان کا بہترین استقبال کیا۔ میں بھی ملکہ ترنم نورجہاں کی اس گفتگو میں شامل تھا۔ فوجی بھائیوں نے میڈم نورجہاں سے میریا ڈھول سپاہیا گانے کی فرمائش کی جو کہ میڈم نورجہاں نے فوراً پوری کی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ موسیقی انسانی فطرت کا ازلی رجحان ہے اور اس کا دل و دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی افواج نے ہر محاذ پر ان نغموں سے متاثر ہو کر زیادہ جوش و جذبے سے جنگ لڑی ۔ مختلف محاذوں سے فتوحات کی خبریں سن کر میری ریکارڈنگ ٹیم کا حوصلہ بھی بلند ہوتا۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ نغمہ ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ تینوں افواج کے شعبوں کی کارکردگی کا عکاس ہے۔ میں نے دوران ریکارڈنگ یہ سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا کہ ہمیں جنگ کی تمام خبروں سے آگاہ رکھا جائے تاکہ ہم حالات و واقعات کے مطابق نغمے ریکارڈ کریں۔ یہ وقت کی اشد ضرورت تھی اور بطور پروڈیوسر میرا ہر وقت یہی مشن تھا کہ خوبصورت شاعری اور موسیقی سے مزین نغمے تخلیق کروں۔ اﷲ پاک نے میری اس کوشش میں میری پوری مدد کی ۔ میں اپنی ریکارڈنگ ٹیم کا بھی بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ اس پوری کوشش میں سب سے زیادہ میڈم نورجہاں کے جذبہ حب الوطنی کو داد دیئے بغیرنہیں رہ سکتا کہ انہوں نے اپنا پورا تن من دھن نغمے گانے میں صرف کیا اور ایک عظیم فنکارہ ہونے کا ثبوت دیا۔

(جاری ہے)

 
 
10
May

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:16

بِل وِل
مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال مقرر ہے جس سے ہم ابھی بھی تقریباً دو سال کے فاصلے پر تھے۔ ایک سینئر بزرگوار سے مشورہ کیا تو انہوں نے پہلے تو جلدی شادی کرنے کے نقصانات تفصیل سے بیان کئے اور پھر دیر تک ہمیں اس بھیانک غلطی پر سرزنش کرتے رہے ۔ جواب میں ہم نے دیر سے شادی کرنے کے نقصانات گنوانا شروع کئے جو ان کے بیان کئے گئے نقصانات سے کہیں زیادہ تھے۔ بات بڑھنے لگی تو ہم نے جلدی سے ان کے لئے چائے کا آرڈر دیا اور کہا کہ مقدر میں جو لکھا تھا وہ ہو گیااب آپ ہمیں مشورہ دیں کہ اس مشکل کا حل کیسے نکالا جائے۔

 

bilwil.jpgبزرگوار نے خشمگیں نگاہوں سے ہمیں گھورا اور ویٹر کو ہمارے حساب میں چائے کے ساتھ سموسے اور مٹھائی بھی لانے کے لئے کہا ۔ انہوں نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور فرمانے لگے ’’برخوردار !تمہارا مسئلہ صرف جی او سی ہی حل کر سکتا ہے۔‘‘ ہم نے عرض کی کہ جی او سی کے کرنے کے لئے ہزاروں کام ہیں یہ بات ان تک کیسے پہنچائی جائے کہ ایک نوآموز کیپٹن کتنی بڑی مشکل میں گرفتار ہے۔ بزرگوار پورا سموسہ یکبار منہ میں ڈالتے ہوئے بولے ’’اس کے لئے جی او سی کو اپلیکیشن دینا پڑے گی۔‘‘ ہم نے ان سے یہ نیک کام بھی اپنے مبارک ہاتھوں سے کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے قبول کر لی۔ چنانچہ کیپٹن ضیا شہزاد کی جانب سے میجر جنرل منیر حفیظ کو خط تحریر کیا گیا جس میں تمام مصائب و آلام کا ذکر کرتے ہوئے ان سے ایک عدد گھر الاٹ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔


چند دنوں بعد جنرل صاحب کا جوابی خط موصول ہوا جس میں ہمیں شادی کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ گھر الاٹ کرنے کی خوشخبری بھی سنائی گئی تھی۔ یہ سن کر ہم پر تو شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ فوراً ڈیو ہیڈکوارٹرز سے رابطہ کر کے گھر کا الاٹمنٹ لیٹر لیا ۔ جب موقع پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ گھر قدامت اور جسامت دونوں کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھا۔ انگریزوں کے زمانے کا تعمیر شدہ یہ گھر ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ اس کا لان ہی طول و عرض میں فٹبال گراؤنڈ سے کیا کم ہو گا۔ کمروں کی تعداد اور ان کی لمبائی چوڑائی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ پتہ چلا کہ لوگ اس گھر کو لینا اس لئے بھی پسند نہیں کرتے کہ اس کی دیکھ بھال اور سجاوٹ کے لئے بہت زیادہ تردد درکار تھا۔ ہم چونکہ انکار کرنے کی پوزیشن میں بالکل بھی نہیں تھے۔ اس لئے ہم نے ان باتوں کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا اور گھر میں شفٹ ہو گئے۔ اب یوں تھا کہ اس گھر میں موجود دس کمروں میں سے ہم بمشکل ایک کمرہ اور کچن استعمال کر رہے تھے۔


دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ تقریبا دو ماہ کے بعد گیس کا بل موصول ہوا جو کہ پورے 8ہزار روپے پر مشتمل تھا۔ان دنوں کپتان کی تنخواہ تقریباً چار ہزار کے قریب ہوا کرتی تھی۔ یہ بل دیکھ کر تو ہم بلبلا اٹھے کیونکہ جتنی گیس ہم استعمال کر رہے تھے اس کے مطابق تو بل پچاس روپے سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔میٹر گھر سے باہر نصب تھا وہاں جا کر میٹر ریڈنگ چیک کی جو کہ درست تھی۔ میٹر سے کچن تک کا فاصلہ کوئی سو فٹ کے قریب تھا۔ پائپ لائن کو چیک کروانے پر معلوم ہوا کہ وہ درمیان میں ایک جگہ سے لیک تھی جس کی بنا یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا۔ہم نے پائپ لائن کی مرمت تو فورا کروالی۔ اب دوسرا مرحلہ بل ٹھیک کروانے کا تھا۔ یونٹ کے کوارٹر ماسٹر اور سی او سے بات کی۔ انہوں نے بریگیڈ اور بریگیڈ والوں نے ڈیو ہیڈکوارٹر کا راستہ دکھایا۔ پورا ہفتہ ایک آفس سے دوسرے آفس کے چکر لگاتے گزر گیا ۔ ہر طرف سے ایک ہی جواب ملتا کہ اس بل کا کچھ نہیں ہو سکتا،یہ تو آپ کو ادا کر نا ہی ہو گا ۔
قریب تھا کہ اس بل کی فکر میں ہمارا دل کام کرنا چھوڑ دیتا کہ انہی بزرگوار سے دوبارہ ملاقات ہو گئی۔ ہم نے اپنی پریشانی کا ذکر ان سے کیا تو انہوں نے ہمیں جتایا کہ وہ ان نقصانات سے ہمیں پہلے ہی خبردار کر چکے تھے۔ہم نے ان سے معافی طلب کی ، آئندہ کے لئے محتاط رہنے کا وعدہ کیا اور مدد کی درخواست کی۔ ان کے لئے دوبارہ چائے، سموسے اور مٹھائی منگوائی گئی۔ انہوں نے پورا کیس تفصیل سے سننے کے بعد ہمیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا۔ وہاں سے ہم سیدھے صدر بازار گئے اور بیکری سے دو پونڈ کا کیک پیک کروایا۔ اب ہماری گاڑی کا رخ سوئی گیس کے ریجنل آفس کی طرف تھا۔ وہاں پہنچ کر ہم نے ریجنل مینیجر کے پی اے کے توسط سے ملاقات کی اجازت طلب کی جو فوراً مل گئی۔ ہم نے کیک ان کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد اپنی بپتا تفصیل کے ساتھ بیان کی۔ انہوں نے فرمایا کہ اتنے معمولی کام کے لئے آپ کو خودچل کر آنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے بعدانہوں نے بل پر 8ہزار کو کاٹ کر 80 روپے لکھا اور دستخط کر دئے ۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور شاداں و فرحاں واپس گھر پہنچ گئے۔ شام کے قریب بیل ہوئی ، باہر نکل کر دیکھا تو سوئی گیس کے محکمے کا لائن مین تھا، کہنے لگا کہ سر آپ کا بل تو کم ہو گیا ہے لیکن میٹر پر ریڈنگ ابھی بھی وہی ہے، صاحب کا حکم ہے کہ اسے بھی ایڈجسٹ کر دیا جائے۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس مرد مومن نے یہ کام بھی بخوبی سر انجام دے دیا۔ اس دن کے بعد سے ہم جب بھی سوئی گیس کے آفس کے باہر سے گزرتے ہیں تودونوں ہاتھوں سے سیلوٹ کرنا نہیں بھولتے۔


لاعلمی ہزار نعمت ہے
بڑے بوڑھے کہتے آئے ہیں کہ فوج میں اچھی کمانڈ کے لئے باخبر رہنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ کمانڈر ہر جگہ خود تو موجود نہیں ہوتا لیکن اسے ہر معاملے کی خبر ہونا لازم ہے۔ کسی بڑے واقعے کے پیش آنے سے پہلے کچھ اشارے مل جائیں تو مناسب حفاظتی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں اور اگر کوئی غلط حرکت وقوع پذیر ہو جائے تو اس کے اصل ذمہ داروں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اب یہ کمانڈر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کرتا ہے ۔
ہم نے جب یونٹ میں آنکھیں کھولیں اور اپنے سے سینیئر افسران کے بیچ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا تو خود کو اس معاملے میں ہمیشہ ایک احساس کمتری کا شکار پایا۔ باقی افسر تو بڑی تفصیل کے ساتھ یونٹ میں پیش آنے والے واقعات کے ماہرانہ تجزئیے بیان کرتے پائے جاتے جبکہ ہمارا یہ حال کہ ہمیں تفصیل تو درکنار سرے سے ان واقعات کا علم ہی نہ ہوتا اور ہونقوں کی مانند بیٹھے ان کے منہ تکا کرتے۔ ہم دل ہی دل میں حیران بھی ہوتے کہ ان بزرگوں کو اتنی خبریں کہاں سے ملتی ہیں ۔ کئی مرتبہ یہ راز جاننے کی کوشش بھی کی لیکن بھلا کوئی اپنی کامیابی کا گر بھی دوسروں سے شیئر کرتا ہے لہٰذا یہ کوشش ہمیشہ بے سود ہی ثابت ہوئی۔


جب اس قسم کی بے کیف زندگی گزارنا مزید دوبھر ہوگیا تو ہم نے سوچا کہ اب کوئی نہ کوئی راہ نکالنی ہی پڑے گی۔ کافی غور و فکر کے بعد ہم نے اپنا ذاتی خفیہ نیٹ ورک تشکیل دینے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ اس کام کے لئے ہم نے اپنی کمپنی کے دو سپاہیوں کو تیار کیا جن کا کام ہمیں اندر کی خبریں مہیا کرنا تھا۔ ان ہرکاروں کو تعینات کر کے ہمیں یک گونہ سکون حاصل ہوا کہ آج کے بعد ہمیں کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا بلکہ ہمیں بھی باخبر اور ہوشیار افسر وں میں گنا جائے گا۔ جیسا ہم نے سوچا تھا ویسا ہی ہوا ۔ہمارے موکل ہمیں وقتاً فوقتاً تمام خبریں مہیا کر دیا کرتے اور ہم اگلے روز افسروں کے درمیان بیٹھ کر ان خبروں کا تجزیہ کرکے داد وصول کرتے۔


کچھ دن اسی طرح گزرے لیکن پھر ہمیں احساس ہونا شروع ہو گیا کہ ہم نے خود اپنے ساتھ کتنی بڑی دشمنی مول لے لی ہے۔ ہمارے کارندے دن دیکھتے نہ رات ،خبریں لے کر پہنچ جاتے اور چھوٹی چھوٹی فضول باتوں پر ہمارا گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ضائع کرتے۔ ان کی فراہم کی گئی خبروں میں شاذ و نادر ہی کوئی کام کی بات ہوا کرتی بلکہ یہ زیادہ تر دوسرے لوگوں کی شکایتوں پر ہی مشتمل ہوا کرتی تھیں۔ ہوتے ہوتے ایک وقت ایسا آگیا کہ ہمیں اپنی یونٹ کے جوانوں میں خرابیوں کے پہاڑ دکھائی دینے لگے۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ہم نے انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ اپنے جاسوسوں کی پہنائی ہوئی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ نتیجتاًہم کسی جوان کو کوئی ذمہ داری سونپنے لگتے تو فوراً اس کی منفی خصوصیات نظروں کے سامنے گھیرا ڈال لیتیں۔ہزار سوچ بچار کے بعد اگر کسی کو کوئی کام دے بھی دیتے تو ہر لمحہ یہی خیال رہتا کہ شاید اس شخص کو کام دے کر کہ ہم سے کوئی بھاری غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ اسی کش مکش میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد بالآخر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ زیادہ معلومات کا حصول فائدہ کے بجائے اُلٹا نقصان کا باعث ہوتا ہے ۔ شاید اسی لئے کسی بڑے بوڑھے نے یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ بے علمی بھی خوش نصیبی ہے
اسی بڑے بوڑھے کی بات پر عمل کرتے ہوئے ہم نے اپنے مخبروں کو فی الفور برخواست کردیا اور دوبارہ کبھی اس چکر میں پڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بعد زندگی میں جو سکون میسر آیا وہ آج تک جاری و ساری ہے۔


پتیلے اور کڑاہیاں
یو این مشن پرپوسٹ ہونے سے پہلے ہمارا خیال تھا کہ کانگو پہنچ کر دن رات راوی کے ساتھ مل کر چین لکھا کریں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر تو گویا چین وین سب اجڑ کر رہ گیا۔ چیف آپریشنزآفیسر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ہم تھے اور دن رات کی دفتری مشقت۔ نئے بریگیڈ کمانڈر پوسٹ ہو کر آئے تو ہمیں ان کے لئے بریفنگ تیار کرنا تھی۔ پرانی بریفنگ نکال کر دیکھی تو اس میں کانگو کی تاریخ کا آغاز 1960 سے کیا گیا تھا۔ ہم نے اپنی ایفیشنسی دکھانے کے لئے سوچا کہ تاریخ ذرا جامع قسم کی ہونی چاہئے لہذا تاریخ کا تذکرہ 1908 سے شروع کیا گیا۔ سلائیڈیں تیار کر کے بریفنگ دینے بیٹھے ، کمانڈر کو کانگو کی تاریخ 1908سے بتانا شروع کی اور چلتے چلتے 2015 تک پہنچے۔ یہ سن کر کمانڈر بولے کہ وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ بتا کہ 1908 سے پہلے یہاں کیا تھا؟ ہمارے فرشتوں کو بھی اس کا جواب معلوم نہیں تھا۔ کمانڈر نے سخت جھاڑ پلائی جو ہم نے اچھے جونئیرز کے طورپر وصول کی اور کہا کہ سر آپ کو چیک کر کے بتائیں گے۔
گوگل سے رجوع کیا تو پتہ چلاکہ یہ تو عین وہی جگہ ہے جہاں پر ڈارون کی تھیوری کے مطابق ہزاروں برس پہلے بندروں نے انسانی شکل اختیار کی تھی۔ اگلے روزہم نے تاریخ کو بیس ہزار قبل مسیح سے شروع کر کے سن 2015 تک پہنچایا تو کمانڈر کہنے لگے کہ یار یہ تو کچھ زیادہ نہیں ہو گیا۔ میرے خیال میں 1960 تک ہی ٹھیک ہے۔ ہم نے وہ سلائیڈیں ڈیلیٹ کرنے کے بجائے ہائیڈ کر دیں تاکہ ہمارے بعد آنے والے افسروں کو کانگو کی ہسٹری تلاش کرنے اورنئے آنے والے کمانڈروں کو مطمئن کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہ آئے۔نئے کمانڈر کے آتے ہی زور و شور سے کام کا آغاز ہوا۔ تمام پرانے سامان کی لسٹیں ترتیب دی گئیں تاکہ اس کی جگہ پاکستان سے نیا سامان منگوا یا جا سکے۔تمام لسٹیں تیار ہو کر آرڈیننس افسر کی وساطت سے پاکستان بھجوا دی گئیں۔


چند دنوں کے بعد جی ایچ کیو سے ایک خط موصول ہوا جس میں ہماری لسٹوں کو اعتراض لگا کر واپس کیا گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جلدی میں ہم سے انجینئرنگ کے سامان کی لسٹ میں پتیلوں اور کڑاہیوں کا اندراج ہو گیا تھا۔
جاری ہے ۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: عبدالستاراعوان

ستمبر1965ء کے معرکہ چھمب جوڑیا ں میں ہمارے جن قومی ہیروز نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اُن دلیر فرزندان وطن میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا بھی ہے غلام مہدی خان شہید کا شمار اُن جانبازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت جرأت ،بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان اس دھرتی پر نچھاور کر دی۔ غلام مہدی خان کا تعلق علاقہ کوٹیڑہ بھٹیاں تلہ گنگ ضلع چکوال سے تھا، والدکا نام احمد خان تھا۔ وہ بچپن ہی سے محنتی اور جفاکش تھے،فوج میں آنے کے بعد فوجی مہارت‘ بہت لگن اور شوق سے سیکھی۔ان کا شمار اپنی یونٹ کے مایہ ناز سپاہیوں میں ہوتا تھا،بڑے خوش مزاج اور بہادر انسان تھے ۔ جس وقت انہوں نے جام شہادت نوش کیا اس وقت پاک آرمی کی آرمڈ کور میں بطور ایکٹنگ لانس دفعدار
(ALD)
خدمات انجام دے رہے تھے ۔ آرمڈ کور میں انہوں نے عسکری اور حربی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا۔شہیدباسکٹ بال کے معروف کھلاڑی تھے ۔

markahechamp.jpg
جس وقت بزدل ہندو دشمن فوج نے رات کی تاریکی میں پاک وطن پر حملہ کیاتو ان دنوں غلام مہدی خان چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے ۔ جنگ شروع ہوتے ہی انہیں اپنی یونٹ سے بلاواآیا اور وہ دیوانہ وار اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھے ۔ جب وہ یونٹ میں پہنچے تو حکم ملا کہ آپ ایک کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ایڈمن ڈیوٹی کریں گے اور محاذ پر نہیں جائیں گے ۔ غلام مہدی خان (شہید) نے اپنی فطری بہادری اور جرأت کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم پرآنے والی اس کڑی آزمائش میں دشمن کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑیں گے اور اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کر تے ہیں ۔ ان کی ذاتی خواہش اور بھرپور اصرار پر ایک خصوصی اجازت نامے کے تحت انہیں چھمب جوڑیاں سیکٹر بھیج دیا گیا ۔


شہید کے پوتے کیپٹن عاقب شہزاد بھٹی بتارہے تھے کہ جب میری دادی اماں ان کی جرأت مندانہ داستان سناتیں تو کانپ سی جاتی تھیں، وہ بیان کرتیں کہ جنگ چھڑی تو آپ کے دادا کو اس میں شمولیت کا از حد شوق تھا اور جب انہیں محاذ پر جانے کی اجازت ملی تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے تھے ۔ وہ اس لئے خوش تھے کہ ان کا وہ دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہونے والا تھا جس کے لئے انہوں نے آرمی جوائن کی تھی۔غلام مہدی شہید کے قریبی دوست زور خان کہتے ہیں کہ جب وہ محاذِ جنگ پر جانے لگے تو ان سے آخری ملاقات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اب جنگ کے بعد ملاقات ہوگی ۔ میری یہ بات انہیں ناگوار گزری اور بڑے جذبے سے کہنے لگے کہ آپ یہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہو جاؤں۔معرکہ چھمب جوڑیاں میں اُن کا حوصلہ اور عزم نہایت بلند رہا اور دشمن کی گولہ باری اور شیلنگ کی پروا نہ کرتے ہوئے انہوں نے اس محاذ پر بڑی ثابت قدمی دکھائی ۔
غلام مہدی اپنے ٹینک پر سوار جنگ میں حصہ لے رہے تھے کہ ایک اینٹی ٹینک مائین مارٹر نے ان کے ٹینک کو نشانہ بنایا جس سے اس کی چین ٹوٹ گئی ۔ غلام مہدی اور ان کے ساتھیوں نے ٹینک سے نیچے اتر کر آڑ ڈھونڈنے کی کوشش کی تاکہ دشمن کے خلاف ہلکے ہتھیاروں سے لڑا جا سکے ۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک اوٹ میں ہو گئے جب کہ ان کا ایک ساتھی ٹینک سے اترتے ہی شدید زخمی ہو گیا ۔ غلام مہد ی خان اپنے اس زخمی سپاہی کو یوں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے‘ چنانچہ وہ ایک بار پھر آگے بڑھے ، برستی گولیوں میں اس کے پاس پہنچے اور اسے سہارا دے کر تیزی کے ساتھ اپنے مورچے کی جانب پلٹے اور اسے محفوظ جگہ پر پہنچایا ۔ اسی اثنا میں ایک سنسناتی گولی آئی جوانہیں شدید زخمی کر گئی جس کے نتیجے میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔


اے ایل ڈی غلام مہدی خان شہید نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ساتھی کی جان بچائی تھی اس غیر معمولی بہادری اور دلیری کی بنا پرانہیں تمغہ جرأت عطا کیا گیا ۔ شہید کے پوتے کیپٹن عاقب شہزاد بھٹی بتاتے ہیں کہ میرے داداغلام مہدی خان شہید کا یہ میڈل میرے لئے ایک بہت بڑی تحریک کاباعث بنا ہے ، میں اپنے دادا کے کارہائے نمایاں سے متاثر ہو کر فوج میں شامل ہوا ہوں اورمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس دھرتی کے تحفظ کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مَقامِ اقبالؒ

صاحبِ عرفاں‘ خودی کا رازداں اقبال تھا
جذبۂ عشق و جنوں کا ترجماں اقبال تھا
مردِ مومن‘ خیر خواہِ ملتِ اسلامیہ
علم و آگاہی کا بحرِ بے کراں اقبال تھا
جس کے ہر اِک لفظ میں غلطاں ہے پیغامِ حیات
عظمتِ اسلاف کی وہ داستاں اقبال تھا
اُس متاعِ شوق سے محروم کیوں سینے ہیں آج
رات دن جس کے لئے گرمِ فغاں اقبال تھا
صاحبِ فکر و نظر‘ شیریں سخن‘ شعلہ بیاں
آبروئے شاعری کا پاسباں اقبال تھا
اس کی دولت حُبِّ شاہِ انبیاء تھی اے جلالؔ
آشنائے روحِ اسرارِ نہاں اقبال تھا
ڈاکٹر سید قاسم جلال

*****

 
10
May

تحریر: جبار مرزا

مشیت الرحمن ملک تمغۂ قائداعظم کے ذکر سے پہلے مجھے جوان دنوں کا اپنا ہی قول یاد آ گیا کہ ’’مر جانا کوئی بڑی بات نہیں زندہ رہنا کمال ہے۔‘‘ بعض لوگ کبھی نہیں مرتے۔ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔


کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا سکھا رہے تھے، پن نکالی ہی تھی کہ بم کیپٹن مشیت الرحمن کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا۔ سی ایم ایچ ملتان میں ان کی بیگم عصمت، جو ان کی پھوپھی زاد بھی تھیں، جن سے 1960میں جھنگ میں شادی ہوئی اور دونوں کی ثمر نامی بیٹی بھی تھی، کی اجازت سے کیپٹن مشیت کی زندگی بچانے کے لئے ان کے دونوں بازو کاٹ دیئے گئے ۔ کٹے ہوئے بازو اور آنکھوں پر بندھی پٹی کے ساتھ کیپٹن ملک کو راولپنڈی سی ایم ایچ شفٹ کر دیا گیا۔ جب پٹی کھلی تو کیپٹن مشیت پر کھلاکہ وہ آنکھوں جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ کسی بھی انسان کے لئے کس قدر کربناک لمحات ہیں جب اسے پتہ ہو کہ وہ آدھے سے زیادہ کٹ چکا ہے اور بچا ہوا جسم اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے، جو دن اور رات میں امتیاز کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے کہ اﷲ پاک کسی شخص کو بھی اس کی برداشت سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتے۔
کیپٹن مشیت الرحمن ملک ایک حوصلہ مند جوان اور روائتی فوجی تھے جن کا مقصد ہی خطرات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ناموس وطن اور دھرتی کی حفاظت کے لئے دشمن کے خلاف مورچوں میں اترے ہوتے ہیں۔ کیپٹن مشیت الرحمن کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ وہ فوج کے چھوٹے مورچے سے نکل کر زندگی کے بڑے محاذ پر اولوالعزم شخصیت کا روپ دھار چکے تھے۔ ہرے زخم جب بھر گئے تو ایک آنکھ میں روشنی کی واپسی کی امید پیدا ہوئی۔ آئی سپیشلسٹ بریگیڈیئر پیرزادہ نے کیپٹن مشیت لرحمن کی برطانیہ روانگی کا اہتمام کیا۔ فوج اپنے غازیوں اور شہیدوں کو بہت عزیز رکھتی ہے۔ قرنیہ لگا دیا گیا۔ رتی برابر دکھائی دینے لگ گیا جب دروبام چمک اٹھتے تو وہ جان جاتے کہ صبح ہو گئی ہے اور بقول فیض صاحب زندگی کا زندان تاریک ہوتا تو وہ سمجھ جایا کرتے کہ اب میرے وطن کی مانگ ستاروں سے بھر گئی ہے۔

zindagiebadta.jpg
کیپٹن مشیت الرحمن ملک برطانیہ سے پلٹے تو مصنوعی بازو لگے ہوئے تھے۔ فوج نے جھنگ میں ایک کنال کا رہائشی پلاٹ الاٹ کیا تو انہوں نے وہ پلاٹ اپنی بیگم عصمت کے نام کر دیا۔ اسی عرصے میں بیٹے حمیت الرحمن کی ولادت ہوئی۔ کیپٹن مشیت کی بیگم عصمت ڈاکٹر تھیں۔ جن سے بعدازاں اُن کی علیٰحدگی ہوگئی۔ بہرکیف کیپٹن مشیت نے معاشتی طور پر خود کو سنبھالا دینے کی بہت کوششیں کیں۔ فوج کی طرف سے معقول پنشن ملنے کے باوجود دیگر ضروریات سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف کاروبار کرنے کی کوشش کی‘ پرنٹنگ پریس لگائی کیونکہ فوج میں کمشن حاصل کرنے سے پہلے مشیت الرحمن فیصل آباد کے روزنامہ’سعادت وغریب‘ اور ’عوام‘ کے ساتھ وابستہ رہ چکے تھے۔ جہاں وہ لائیلپور کی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اس تمام مہارت تجربے اور صحافتی جان پہچان کے باوجود وہ پرنٹنگ پریس بھی نہ چلا سکے۔ فوج میں جانے سے پہلے وہ لاہور باٹاپور شو کمپنی میں ملازمت بھی کرتے رہے۔ یعنی زندگی کی ساری دھوپ چھاؤں سے گزرے مگر کوئی بھی کام وہ پورا نہ کر پائے۔ آخرکار 1965میں انہوں نے فیصل آباد میں اپنے گھر کے گیراج میں ہی نابیناؤں کے لئے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کا نام پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ رکھا۔ اس کی بنیاد رکھنے میں کراچی کی ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے بہت ساتھ دیا۔ فاطمہ شاہ جو1916 میں بھیرہ میں پیدا ہوئی تھیں، میڈیکل ڈاکٹر تھیں۔ 1948میں اپوا کی سیکرٹری ہیلتھ رہیں۔ 1956میں ان کی بینائی یک دم ختم ہو گئی تھی۔ انہوں نے 1960میں پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ قائم کی اور اس کی بانی ہونے کے ساتھ ساتھ 19سال تک اس کی صدر رہیں۔ سکولوں کالجوں میں بریل
(Braille)
کواضافی مضمون کی طرح پڑھنے کا انتظام کروایا۔ 1974میں پیرس اور برلن میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف بلائنڈ کی صدر منتخب ہوئیں۔ الغرض ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے کیپٹن مشیت الرحمن کا بہت ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ کیپٹن مشیت الرحمن جن کی زندگی میں اندھیروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا، وہ فاطمہ شاہ کی حوصلہ افزائی سے پھر سے توانا ہو گئے اور 1965میں گیراج میں شروع کئے گئے پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ سرگودھا ڈویژن کے بعد 1967 میں فیصل آباد کی جناح کالونی میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر نابیناؤں کے لئے کرسیاں بنائی کی تربیت شروع کر دی۔ یوں کیپٹن مشیت الرحمن دن بھر بازاروں اور گلیوں میں بھیک مانگتے نابینوں کو اکٹھا کرتے اور انہیں مختلف ہنر سکھاتے اور معاشرے میں باعزت زندگی اور محنت میں عظمت کی تحریک دینے لگ گئے۔ کیپٹن ملک نے اپنا ادارہ رجسٹر بھی کروا لیا تھا پھر 1970 میں باقاعدہ تعلیمی شعبے کا آغاز کر دیا گیا۔ نابینا بچوں اور بالغوں کے لئے بریل کے ذریعے تعلیم کا حصول ممکن بنایا۔ 1971 میں مقامی لائنز کلب کی مدد سے صوتی کتب
(Electronic Books)
کی لائبریری قائم کی جس میں پہلی نابینا بچی کا داخلہ ہوا۔ پھر فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج اور دیگر سکولوں میں مربوط تعلیم پروگرام شروع کیا۔ 1977میں محکمہ اوقاف نے گورونانک پورہ چک نمبر 279نادر خان والی میں ایک گرودوارے کی عمارت کیپٹن مشیت الرحمن کے حوالے کر دی۔ جہاں جناح کالونی والا ایک کرائے کا کمرہ چھوڑ کر وہ اپنا ادارہ گرودوارے میں لے گئے اور اس کا نام اتحاد مرکز نابینا رکھا جو بعد میں المینار مرکز نابینا ہو گیا۔


جنرل ضیا الحق 1978 میں فیصل آباد گئے تو کیپٹن مشیت الرحمن کی محنت اور نابیناؤں کی زندگی سنوارنے کے عمل سے بہت متاثر ہوئے اور فیصل آبادمیں ادارے کے لئے کوئی مناسب جگہ دینے کا حکم دیا۔ یوں پھر فیصل آباد کے اقبال سٹیڈیم کے نزدیک 1979 میں کیپٹن مشیت الرحمن کچھ اراضی اور ادارے کی تعمیر کے لئے رقم بھی دی گئی۔ علاقے کے مخیر لوگوں نے بھی ادارے سے مالی تعاون کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم کا علیحدہ شعبہ اور قیام کے لئے گرلز ہاسٹل بھی تعمیر کیا گیا۔ نابیناؤں کو پہلے میٹرک تک باقاعدہ تعلیم و تربیت اور ہنر سکھانے کا آغاز ہوا۔ مقامی طلباء کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی ادارے نے دینا شروع کر دی اور دوسرے شہروں کے طلباء و طالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ ہاسٹل بنائے گئے۔ ادارے کا نظام ایک بورڈ کے سپرد کیا گیا۔


کیپٹن مشیت الرحمن نے نہ صرف نابیناؤں کو ہنر اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ بے روزگار نابیناؤں کو سرکاری ملازمتیں بھی دلوائیں ۔ بعضوں کی آپس میں شادیوں کا بندوبست اور ان کی اگلی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے بھی اقدامات کئے۔ کیپٹن مشیت الرحمن جنہیں نصف درجن سے زیادہ زبانوں پر عبور حاصل تھا، جو کئی مذاہب اور ثقافتوں کا مطالعہ بھی کر چکے تھے۔ ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ پہلی نظر میں انہیں دیکھ کر گوشت پوست کا معذور سا شخص سمجھ کر ہر کوئی اپنے تئیں ترس کھانے لگتالیکن جب ان سے گفتگو کرتا اوران کے عزائم سے آگاہی پاتا تو ترس کھانے والا شخص عقیدت سے ان کے ہاتھ چوم کر رخصت ہوتا۔


8جون 1974 کو کیپٹن مشیت نے خالدہ بانو سے دوسری شادی کرلی۔ انہوں نے شادی کے بعد اپنی اہلیہ کو ایم اے اردو اور بی ایڈبھی کروایا۔
ان کے دو بیٹے ہیں۔ ودیعت الرحمن بیٹا اور سحر مشیت بیٹی ہے جو اسلام آباد میں بحریہ کالج میں گونگے بہروں کو پڑھاتی ہیں وہ شاعر ادیب اور معروف قانون دان رائے اظہر تمغۂ شجاعت کی شریک سفر ہیں۔


خالدہ بانونے شادی کے بعد جہاں کیپٹن مشیت کی دیکھ بھال کی ان کے اداروں کا انتظامی کنڑول سنبھالا، اپنی تعلیم مکمل کی وہاں ایران، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ ملکوں ملکوں کیپٹن مشیت کے ساتھ بین الاقوامی نابیناؤں کی کانفرنسز اور خصوصی اجلاسوں میں شریک بھی ہوئیں اور فروری 1977میں کیپٹن مشیت کے ہمراہ شاہ فیصل سے بھی ملیں۔ آٹھ غیرملکی دوروں کی طویل کہانی، کامیابیاں اور کارنامے اور بھی طولانی ہیں۔ کیپٹن مشیت نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ ’’انسانی آنکھیں‘‘ یہ آنکھوں کی ابتدائی بیماریوں اور مسائل سے لے کر نابیناپن اور بصارت کی بحالی تک محیط ہے اور مستند مانی جاتی ہے۔ خالدہ بانو دو کتابوں کی مصنفہ ہیں ایک ان کی سوانح ہے’ سفر حیات‘ اور دوسری اس طویل اور ضخیم کتاب کی تلخیص ہے۔ کیپٹن مشیت الرحمن ملک صدارتی تمغۂ قائداعظم پانے والے معذور ہوتے ہوئے بھی بھرپور زندگی گزارنے اور اپنے مشن کی تکمیل کے بعد 20نومبر2011 کو اکیاسی برس کی عمر میں رحلت فرماگئے اور فیصل آباد کے محمد پورہ والے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نعت

آقاؐ میری بس اتنی تمنا قبول ہو
مجھ پہ تیری نگاہِ کرم کا نزول ہو
دیکھوں میں جس طرف نظر آئے تُو مجھے
عشقِ نبیؐ کا لازم یہ مجھ پر اصول ہو
آلِ رسولِؐ پاک کا ہوجائے یوں کرم
بخشش میری جو ہو تو وصیلہ بتول ہو
ہو جائے یوں علاج میرا اے شافیِ اُمم
خاکِ شفا میری تیرے قدموں کی دھول ہو
گرمجھ سے طلب ہو اِ ک نذرانہ حضورؐ کو
ہاتھوں میں میرے گلشنِ زہرہ کا پھول ہو
حاصل میری وفاؤں کا اے کاتبِ تقدیر
لکھ دے مِرا نصیب میں خدا کا رسولؐ ہو
مسکن میرا ہو گنبدِ خضریٰ کے آس پاس
پیشِ نظر پھر میرے سجدوں کا طول ہو
وقعت کہاں ہے مجھ میں کہ مدحت کروں تری
بخش دیجئے گا مجھ سے سرزد جو بھول ہو
اِ ک نعتِ رسولِ کبریاؐ میری پہچان ہے عتیقؔ
رحمتوں کا کیوں نہ میرے سخن میں شمول ہو
میجر عتیق الرحمن

*****

 
10
May

تحریر: حجاب حبیب جالب

مئی، یا مزدوروں کا عالمی دن، ہم کیوں مناتے ہیں؟ صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کی زندگی بہت مشکل تھی اور ان سے ایک دن میں 16,16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدورکے ذمہ ہوتے۔ ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ مزدور کے زخمی ہونے کی صور ت میں اس کا علاج کروایا جاتا، مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدید پرتھا۔ وہ جس کو چاہتا ملازمت پر رکھتا جس کو چاہتا ملازمت سے ہٹا دیتا۔ ہفتے میں ساتوں دن ہی کام کرنا پڑتا چھٹی کا کوئی تصور ہی نہ تھا ان تمام مسائل کے حل کے لئے امریکہ اور یورپ میں مزدوروں نے مختلف تحریکیں چلائیں۔ سن 1884 ء میں فیڈریشن آف آرگنائز ڈ اینڈ لیبر یونینز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔ قراداد میں کچھ مطالبے رکھے گئے۔ جن میں سب سے اہم مطالبہ تھا کہ مزدوروں کے اوقات کاروں کو 16گھنٹو ں سے کم کرکے 8گھنٹے کیا جائے۔ مزدوروں کا کہنا تھا کہ آٹھ گھنٹے کام کے لئے آٹھ گھنٹے آرام کے لئے اور آٹھ گھنٹے ہماری مرضی کے۔ یہ مطالبہ یکم مئی سے لاگوکرنے کی تجویز پیش کی گئی لیکن اس مطالبے کوتمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی کو ہی ہڑتال کا علان کیا گیا اور جب تک مطالبا ت نہ مانے جاتے یہ تحریک جاری رہتی۔ 16,16گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں آٹھ گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا اسی وجہ سے اپریل 1886تک اڑھائی لاکھ سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے اس تحریک کا آغاز امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوا۔ ہڑتال سے نمٹنے کے لئے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعدا د شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے فراہم کیا تھا۔ تحریک کا آغاز یکم مئی سے ہو گیا پہلے دن ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی 2مئی کو بھی ہڑتا ل بہت کامیاب اور پُر امن رہی لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پُر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے چار مزدور ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے خلاف تحر یک کے منتظمین نے اگلے ہی روز چار مئی کو احتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ پُر امن جلسہ جاری تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کر کے بہت سے مزدور ہلاک و زخمی کر دئیے پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں اس حملے کو بہانہ بنا کر پولیس نے گھر گھر چھاپے مارے اور بائیں بازوں اور مزدور راہنماؤں کو گرفتا ر کر لیا۔ ایک جعلی مقدمے میں 8مزدور راہنماؤں کو سزائے موت دے دی گئی۔

worldlabourd.jpg
البرٹ یارس، آگسٹ سپائز ،ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11نومبر 1887 کو پھانسی دے دی گئی لوئس لنگ نے جیل میں خود کشی کر لی اور باقی تینوں کو 1893میں معافی دے کر رہاکر دیا گیا۔ مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا۔ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا کہ ’’ مئی 1886کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہو ں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہوئی ہے۔‘‘
البرٹ پارسن نے کہا ’’دنیا کے غریبوں کو چاہئے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو ان کی غربت کے ذمہ دار ہیںیعنی سرمایہ دار طبقہ‘‘جب مزدوروں پر فائرنگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپنا سفید جھنڈا ایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کر کے ہوا میں لہرا دیا۔ اس کے بعد مزدور تحریک کا جھنڈ اہمیشہ سرخ رہا۔سن 1889ء میں ریمنڈلیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔ اس کے بعد سوائے امریکہ ، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کے‘ یہ دن عالمی یوم مزدور کے طور پر منایا جانے لگا۔


جنوبی افریقہ میں بھی غالباً نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی منایا جانے لگا۔ مزدور طبقے اور دیگر استحصال زدہ طبقات کی حکومت لینن کی سربراہی میں اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم ہوئی اس کے بعد مزدور طبقے انقلابی سرخ پرچم لہرائیں گے۔


ماضی کی اس کامیاب جدوجہد کے باعث فیکٹری اور مل کے ملازمین کو کسی حد تک تحفظات مل گئے لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے۔ جو صبح مزدوری کرتا ہے اور رات کو اس کا چولہا جلتا ہے کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ چھٹی کے ساتھ ہی اس کے گھر میں فاقے کی آمد ہوتی ہے۔ ایسے مزدوروں کی زندگی میں یکم مئی کی کیا اہمیت ہو گی ؟ یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یومِ مئی صرف اس حادثے کی یاد منانے کا نام نہیں جس میں بہت سے مزدور مارے گئے۔ بلکہ یہ ایک
Resolve
ہے کہ مزدور کی زندگی کو ایک آرام دہ انسانی زندگی کے لیول پر لانے کی جدوجہد کامیابی تک جاری رہے گی۔


اگر ہم اپنے ملکِ عزیز پاکستان کی صورتِ حال کا جائزہ لیں توایک عام مزدور کی زندگی کافی مشکلات کی شکار نظر آئے گی۔ ہمارے ملک میں آبادی کی زیادتی‘ فنی تعلیم کی کمی‘ صنعتی ترقی کے کم مواقع اور معاشی بدحالی کی وجہ سے بے روزگاری عام ہے۔ مزدوروں کی فراوانی ، سپلائی اور ڈیمانڈ کے اصول کے مطابق
(Laissez Faire)
مارکیٹ میں مزدور کی اُجرت کو کم کرنے کا باعث بنتی ہے۔ گورنمنٹ اپنے تئیں مزدور کی کم سے کم یومیہ اورماہانہ اُجرت مقرر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر اُس پر عمل درآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کو چاہئے کہ نہ صرف مجموعی طور پر معاشی حالت کو بہتر بنائے اور بے روزگاری کا خاتمہ کرے بلکہ کم سے کم اُجرت کی حد کو مزید بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو یقینی بھی بنائے۔ ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی تشدد اور دہشت پسندی کا شکار ہے اُس میں انتہائی غربت جلتی پر تیل کاکام دیتی ہے۔ بھوک کے ہاتھوں انفرادی یا پورے خاندان کی خودکشی کے واقعات تمام سماج کے منہ پر دھبہ ہیں۔ یہ انسانیت کی تذلیل ہے جس کی اجازت نہ مذہب دیتا ہے نہ عام اخلاقیات۔ بلاشبہ پاکستان تبھی ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے گا جب اس میں بسنے والے غریب اور مزدور بھی عزت کی زندگی گزارنے کے ذرائع کے مالک ہوں گے۔


حکومت کی جانب سے کم سے کم اُجرت مقررکرنے کے علاوہ مزدوروں کے لئے صحت‘ تعلیم اور سماجی انصاف کے حصول کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم سب کی ترجیح ایک بہترین سماج کی تشکیل ہو۔ عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مزدور کی شان میں یکم مئی کے دن قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ تاہم ہمارا معاشرہ اب غربت اور پَُرتشدد انتہاپسندی کے امتزاج کا شکار نظرآتا ہے جو یقیناً ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت غربت کے خاتمے اور مزدور کی بہتری کے لئے ایک دور رس جامع پالیسی کا اعلان کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: شاہد نسیم

ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ہربار ہمیشہ ہر بلند آواز یا ہر نئی کوشش کو’ اپنے‘ اسلام کے لئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں جن کے خیال میں بین المذاہب ہم آہنگی یا مکالمہ ایک ایسی شاطرانہ اختراع یا ایک ایسا نیا دین گھڑنے کی بھونڈی سی کوشش ہے۔ جس کا شریعت میں کوئی بھی تصور موجود نہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کی پُرفریب اصطلاح سے نہ تو کوئی سے دو مذاہب کے درمیان معاہدہ مراد ہے، نہ مناظرہ، نہ مباہلہ، نہ دعوت و تبلیغ بلکہ مکالمے یا ہم آہنگی کا کھیل سوائے ایک نئے فتنے کے اور کچھ نہیں ۔ ہادی برحق محمدﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ میری اُمت میں مسلمانوں کے اندر ایک گروہ ہو گا، جو عیسائیوں سے دوستی کرنے کے جنون میں اُن کے کے نقش قدم پر چلنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرے گا اور آج ہم اُس گروہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے عیسائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود دیکھ رہے ہیں۔


اور دوسرے‘ ہم میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے خیال کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کا مطلب کبھی بھی ایمان لانا یا یہودو نصاریٰ کے ساتھ ہر اختلاف کا خاتمہ کر کے دوستی کرلینا نہیں ہوتابلکہ ہم آہنگی کے فروغ کی کوششوں کا مطلب اختلاف کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھنا ہوتاہے اور ایک د وسرے کو جاننے اور سمجھنے کے بعد مل جل کر رہنے کی کسی سبیل پر اتفاق رائے کرنا ہوتاہے او ر خاص طور پر آ ج جب ہماری بہت بڑی دنیا ، بہت چھوٹی دنیا میں سکڑ چکی ہے، اب اس چھوٹے سے گلوبل ویلج میں بین المذاہب ہم آہنگی بنائے رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے ہر سطح پر مکالمہ کرنا تمام انسانوں اور تمام مذاہب کی ضرورت بن چکی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب ہماری دنیا بہت تیزی کے ساتھ صرف دو بلاک مسلم ورلڈ اور نان مسلم ورلڈ میں تقسیم ہوتی دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ سے مسلم بلاک کے حق میں توازنِ طاقت تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی صورتحال اس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے کہ کوئی ایک واقعہ باقی تمام دنیا کو مسلم دنیا کے مخالف لا کر کھڑا کر سکتا ہے اور مسلم ورلڈ کے لئے ایک ایسے ناقابلِ تلافی نقصان کی وجہ بن سکتا ہے، جسے پاٹنے میں ہماری آنے والی نسلوں کی صدیاں لگ سکتی ہیں۔کیا یہ سب آنکھوں کے سامنے موجود تلخ حقیقتیں ہم سے یہی تقاضہ نہیں کرتیں کہ اِس صورتحال سے نکلنے کے لئے سوچنا، سمجھنا اور پھر ایک روڈ میپ تیار کرنا سب سے پہلے ہم مسلمانوں کی ہی ضرورت ہے؟؟


اور تیسرے ‘ہم میں وہ لوگ ہیں، جن کے خیال کے مطابق یہ صرف ایک موضوع ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے لئے ایک بڑا چیلنج بھی ہے انہوں نے جہاں ایک طرف اپنے روشن دلائل سے اُن حجتوں، مکروں اور نفرتوں سے بھرے لوگوں کو بھی لاجواب کرنا ہے ، جو قرآن و سنت پرعمل پیرا ہونے کے بجائے اپنے صدیوں پرانے بزرگوں کی فکر سے آگے پیچھے نکل کر کچھ بھی دیکھنے، سوچنے پر تیار نہیں ہوتے اور ہر بلند آواز یا کوشش کو ’اپنے‘اسلام کے لئے خطرہ سمجھ کر شور مچا دیتے ہیں، گھات لگا لیتے ہیں، مرنے یا مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے اہلِ کتاب کو اپنے مقام پر اور ہم سے صرف اولادِ آدم کا رشتہ رکھنے والے باقی تمام انسانوں کو اپنے مقام پر اُن ادھورے سوالات کے بھی جواب دینے ہیں، جن کے جواب پانے کے لئے جدید دور کی انسانیت تڑپ رہی ہے، سسک رہی ہے کیونکہ جدید دور کی ترقیاں زندگی، موت اور پھر زندگی کے تصور سے تعلق رکھنے والے بنیادی سوالات کو آسان کرنے کے بجائے مشکل کرتی جا رہی ہیں اور یہ چیلنج تنگ دائروں میں قیدکوئی مسلمان کبھی قبول نہیں کر سکتا، اِس چیلنج کو تو وہی مسلمان قبول کر سکتا ہے ، جو ربُّ العالمین کا بندہ اور رحمت اللعالمین ﷺکا اُمتی بن کر دیکھ، سوچ اور محسوس کر تے ہوئے پوری انسانیت کو اسلامی تعلیمات کی آغوش میں لانے کی فکر کرے۔


جس اُمت نے باقی انسانوں کے معاملات دستور کے مطابق طے کرانے تھے، وہ آپس میں ہی ہر ہم آہنگی اور مکالمے کی نعمت سے محروم ہو کر بیٹھ گئی اور ایک دوسرے کو ہی کافر، بدعتی یا مُرتد ثابت کرنے کے لائق رہ گئی اور یہ بھی بین المذاہب ہم آہنگی سے دوری ہی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے جس اُمت کو تمام انبیاء اور تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا پابند کیا جا رہا ہے، وہ اُمت تفرقہ بازی میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کے فرقوں کی مقدس ہستیوں کا نام احترام سے لینے کی صلاحیت سے محروم ہو کر رہ گئی۔ خود ہادی برحق محمد مصطفیؐ کی سیرت مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہے کہ وہ اگر اپنی گفتگو میں پانچ مرتبہ یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے تھے تو اُس میں سے تین مرتبہ ان کو اہلِ کتاب کہہ کر مُخاطب کرتے تھے حالانکہ اُس دور میں یہی یہودو نصاری خانہ کعبہ میں بت رکھ کراُن کی پوجا کیا کرتے تھے، بالکل برہنہ ہو کر اُن کے سامنے ناچا کرتے تھے اور کائنات کے سب سے پاک لوگوں کی جماعت پر ظلم و ستم کی انتہا کر دیا کرتے تھے لیکن ان تمام مظالم اورزیادتیوں کے باوجود امن، فلاح و سلامتی کے پیغمبر نے کبھی اگر ان کو مشرک، کافر یا یہود و نصاریٰ کہا تو اِس سے زیادہ مرتبہ اہلِ کتاب کہہ کر بھی مُخاطب کیا تا کہ ہم آہنگی بھی بنی رہے۔اور خاص طور پر اُس مکالمے کی گنجائش بھی باقی رہے ، جس میں مسلمان باقی تمام مذاہب کے لوگوں کا دھیان اُس ’’ایک اللہ‘‘ کی طرف دلاتا ہے جو علم و حکمت سے لبریز رب انسانوں سے صرف کتاب کے ذریعے ہی بات کرنے کا عادی ہے۔ کاش آج کا مسلمان تصور کرے کہ ہمارے نبیﷺ جو کہ قرآن کی عملی تفسیر ہیں مکہ میں کھڑے ہو کر اہلِ کتاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں : اے اہلِ کتاب آؤ اُس کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں، کسی شے کو اس کا شریک قرار نہ دیں اور نہ ہم میں سے کوئی اللہ کے بجائے دوسرے کا پیدا کرنے والا بننے کی کوشش کرے۔


یہ وہ پکارِنبوت تھی، جس نے دنیا کی ہر باطل قوت کو لرزا کر رکھ دیا تھا ،یہ ہم سب کے جان سے پیارے نبیﷺ کا اندازِ گفتگو تھا، جس کا تجربہ اللہ کی کتابیں تھام کر گھومنے والوں کو کبھی نہ ہوا تھا۔پھر اس پاک کام کی مخالفت کرنے والوں کے خیال میں ہمارے نبی ﷺ کی یہ پکار، یہ اندازِ گفتگو اور یہ دعوتِ ہم آہنگی اور مکالمے کی ابتدا نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ کاش ہمارے علماء حق اور بزرگانِ دین نے بروقت اِن ضد، نفرت سے بھرے’’ علماءِ سُو‘‘ کو بھی اللہ اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق یہود و نصاریٰ کو پانچ میں سے تین مرتبہ اہلِ کتاب کہنے پر مجبورکیا ہوتا تو ہم مسلمان کبھی بھی آپس میں ایک دوسرے کو مُرتد، منافق، بدعتی یا لبرل فاشسٹ ثابت کر کے ایک دوسرے کے قتل خود پر حلال کرنے کا سوچ بھی نہ سکتے لیکن افسوس جس اسلوبِ گفتگو کو ہم اہلِ الکتاب کے مقام پر باقی نہ رکھ سکے، اُس کو آگے چل کر ہم آپس میں اپنے اختلافات میں بھی قائم نہ رکھ سکے اور القرآن کے ذریعے انسانوں کو اندھیرے سے نور کی طرف نکالنے والی اُمت، خود ہی گھپ اندھیروں میں بھٹکتی آنکھوں کے سامنے ہے اور و جہ یہی تفرقہ بازی، جس نے ہمیں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں اتنا مصروف کر دیا کہ ہم باقی دوسرے فرائض سے غافل ہوتے چلے گئے ، جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرے کے کئی علمی و فکری شعبوں میں زوال کی طرح بین المذاہب مکالمہ بھی تحقیق و جستجو سے محروم رہا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے تحقیق کی جگہ اندھی تقلید کرنے والوں نے لی اور پھر اندھی تقلید کرنے والوں کی جگہ دین میں زبردستی کرنے والوں نے لے لی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِس معاملے میں آزادی عطا کی ہے کہ وہ جو چاہے ، دین اختیار کرے، اپنی پسند کا دین اپنانے کا اختیار دینا اسلامی تعلیمات کا وہ منفردضابطہ ہے جو ایک طرف انسانوں کو خوب اچھی طرح سوچنے، سمجھنے اور پھر فیصلہ کرنے کا بھی حق دیتا ہے اور دوسری طرف انسانوں کو اُس اللہ کا تعارف بھی دیتا ہے، جس لائق تعریف رب نے اگر دین میں زبردستی کرنی ہوتی تو وہ ابھی سارے انسانوں کو ایمان بخش دے بلکہ انسان پیدا ہی باقی مخلوقات کی طرح ایک مخصوص سوچ کے ساتھ ہوں اور اُس کے علاوہ نہ کچھ کر سکیں اور نہ کچھ سوچ سکیں لیکن اللہ تو چاہتا ہے کہ انسان خود سوچ، سمجھ کر اپنے شوق سے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف آئیں اور دین میں پورے کے پورے داخل ہونے کے لئے آئیں تاکہ طریقوں سے شروع ہو کر طریقوں پر ختم ہو جانے والی نماز نہیں بلکہ وہ نماز قائم کریں جو نمازی کو ذہنوں میں چھپی فحاشی سے بھی اور دل میں چھپے منکر سے بھی باز رکھتی ہے اور روزے بھی وہ رکھنے آئیں جو باقی اُمتوں کی طرح صرف مخصوص وقت سے مخصوص وقت تک بھوکے، پیاسے رہنے کا نام نہ ہوں بلکہ تقویٰ میں اضافے کا سبب بھی بنتے ہوں اور کسی اندھی تقلید کرنے والے یا زبردستی دین میں آنے والا بھلا یہ تمام پاک کام کیسے کر سکتا ہے، اُسے کوئی بھی کیسے زبردستی ان کاموں پر مجبور کر سکتا ہے ؟ اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے مقدس اور پاک کام کی مخالفت کرنے والا دوسرا طبقہ وہ ہے، جس نے اِقامتِ دین سے مراد دنیا سے تمام ادیان کا خاتمہ لے لیا ہے اور ساری انسانیت کو مسلمان بنانا اور دنیا سے غیر مسلموں کا خاتمہ سمجھ لیا ہے یہی تصور ان کی گمراہی کا باعث بن گیا ہے ۔ یہ تصور دین فطرت کے بھی خلاف ہے اور اللہ کے احکامات سے بھی روگردانی ہے۔

naseemshahid7@gmailcom
 
10
May

تحریر: یاسرپیرزادہ

بلاشبہ یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ پچیس برس قبل لاہورمیں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ سرکاری نہیں ہے۔ اس لئے اس کا معیار آج بھی قائم ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر (موجودہ نہیں) جو اس وقت پچیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے تھے کے خلاف خاکروب حضرات نے ہڑتال کر دی۔ یہ خاکروب اپنے حالات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ یعنی وہ دن میں بارہ بارہ گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے پر مجبور تھے۔ ان کی ملازمت کے کنٹریکٹ میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یعنی ایسا نہیں تھا کہ انہیں سال میں مخصوص تعداد میں تنخواہ سمیت چھٹیاں کرنے کی اجازت ہو۔ یہ ان کے سپروائزر کی صوابدید تھی کہ اگر وہ چاہے تو انہیں کام سے ایک آدھ دن رخصت دے اس سے زیادہ کی صورت میں تنخواہ کی کٹوتی اور پھر ’’مکمل چھٹی‘‘ یونیورسٹی کے دیگر سٹاف کے برعکس انہیں ہفتے کے روز بھی چھٹی کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ کسی قسم کی علاج معالجے کی سہولت یا بچوں کے تعلیمی اخراجات کی مد میں ا نہیں کوئی الاؤنس، بیمہ یا فنڈ نہیں دیا جاتا تھا۔ دس ہزار روپے میں زندگی گزارنا ان کی ذمہ داری تھی۔ ان حالات میں جب ہڑتال ہوئی تو پچیس لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے وی سی صاحب نے موقف اختیار کیا کہ خاکروب حضرات کی ملازمت کی سختیوں کا یونیورسٹی سے کوئی سروکار نہیں۔ کیونکہ یونیورسٹی نے کیمپس کی صفائی کا انتظام ایک پرائیویٹ کمپنی کے سپرد کر رکھا ہے جو ان خاکروبوں کو ملازمت دیتی ہے۔ لہٰذا وہ جانے اور اس کا کام۔ ’’مینوں کی لگے‘‘ تاہم جب دباؤ زیادہ بڑھا تو یونیورسٹی نے اس کمپنی سے بات کی اور کمپنی نے خاکروبوں کی تنخواہ میں چند روپوں کا اضافہ کر دیا مگر کچھ ہی عرصے بعد تقریباً ایک چوتھائی افراد کو ملازمت سے بھی فارغ کر دیا کیونکہ تنخواہ بڑھانے کے بعد کمپنی کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا تھا۔ وی سی صاحب نے آنکھیں بند کر لیں۔ خاکروب ٹھنڈے پڑ گئے اور اس کے بعد سب ہنسی خوشی زندگی گزرانے لگے۔

 

قابل لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے خوف سے جان چھڑا بھی لیں تو اپنی انا کے خول سے نہیں نکل پاتے۔ ملک کی خدمت کرنے کے لئے وہ اتنی کڑی شرائط رکھتے ہیں کہ نہ نومن تیل ہوتا ہے نہ کوئی رادھا نا چتی ہے۔ انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول چاہئے۔

دنیا میں ایک تصور ’’ٹیلنٹ اکا نومی‘‘ کا ہے۔ سیدھے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ میں ٹیلنٹ ہے تو آپ وی سی صاحب کی طرح پچیس لاکھ روپے ماہوار تنخواہ لے سکتے ہیں۔ گویا محنت کر حسد نہ کر‘ اور اگر ٹیلنٹ نہیں تو دس ہزار روپوں میں خاکروب بھرتی ہو جائیں گے۔ مسلسل بیس برس تک بغیر کسی چھٹی کے کام کرنے کے بعد آپ پچیس لاکھ کے عدد کو چھو پائیں گے۔ مگر اس وقت تک وی سی صاحب جس عدد پر بیٹھیں ہوں گے اس تک پہنچنے کے لئے کسی خاکروب کو غالباً کئی نوری سال درکار ہوں گے۔ یہ بات درست ہے کہ قابل اور محنتی افراد زیادہ مشاہیر کے حقدار ہوتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن افراد کو قدرت نے نہیں نوازا یا ان کی پیدائش ہی ایسے حالات میں ہوئی جہاں ان کی صلاحیتوں کو پھل پھولنے کا موقع نہیں مل سکا تو اس کی سزا انہیں ٹیلنٹ اکانومی کا نام لے کر دی جائے۔

qabliyatkaimiya.jpg
گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹیلنٹ اکانومی کے اس تصور نے لوگوں کا استحصال کیا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے
CEOs
کو تو اس کی قابلیت اور اپنی ضرورت کے تحت لاکھوں کی تنخواہ دیتی ہیں مگر لیبر کلاس کا کوئی پرسان حال نہیں ’کیوں‘ اس لئے کہ ان میں کوئی ایسا جوہر نایاب نہیں جو مارکیٹ میں نہ ملتا ہو۔ اسی لئے ان کا استحصال کیا جاتا ہے اور اسے ٹیلنٹ اکانومی کا خوبصورت نام دے کر آنکھیں پھیر لی جاتی ہیں۔ دنیا کی فلاحی ریاستوں نے (یونیورسٹی میں جن کی مثالیں دیتے ہوئے وی سی صاحب تھکتے نہیں تھے) اس مسئلے کا حل یوں نکالا کہ جس ’ٹیلنٹڈ شخص‘ کی آمدن میں جتنا اضافہ ہو اس پر اسی زائد شرح سے ٹیکس عائد کر دیا اور پھرا س پیسے کو معاشرے کے کم خوشحال طبقے پر یوں خرچ کیا کہ کم آمدن والے لوگوں کے صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے اخراجات صفر کے برابر ہو جائیں ۔ دوسرا اُن ریاستوں نے لیبر لاز کا سختی سے نفاذ کیا۔ کم سے کم تنخواہ اتنی رکھی جس میں ایک شریف آدمی کا گزارا ہو سکے اور پھر اس تنخواہ کو یقینی بھی بنایا۔ وہاں کسی ادارے کا سربراہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتا کہ میں نے تو صفائی کا انتظام ’’آؤٹ سورس‘‘ کر رکھا ہے۔ لہٰذا سویپرز کی تنخواہوں سے میرا کیا لینا دینا۔ تیسرا ان معاشروں میں ظاہری کرو فر اور شان و شوکت دکھانے والے امراء کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ محل نما گھر بنانے والوں پر میڈیا میں تنقید کی جاتی ہے اور لوگ عموماً ایسی حرکتوں سے باز ہی رہتے ہیں تاہم یہ روایت فلاحی ریاستوں میں ہے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں نہیں۔ نتیجہ ان اقدامات سے یہ نکلا کہ معاشرے میں طبقاتی فرق تو رہا مگر اتنا زیادہ نہیں کہ ایک شخص پچیس لاکھ اور دوسرا دس ہزار۔


اس سارے قصے کا تکلیف دہ پہلو صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں لیبر لاز کا نفاذ نہیں ہے۔ زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ ملک کی بہترین درس گاہ کا سب سے قابل وی سی جسے دنیا کے کامیاب مینجمنٹ ماڈلز زبانی یاد ہیں اس کے سامنے جب استحصالی نظام کا چھوٹا سا نمونہ آیا تو اس نے ویسے ہی ردعمل دکھایا جیسے کوئی بھی سرمایہ دار اپنے کارخانے میں مزدوروں کی ہڑتال کی صورت میں دکھاتا ہے۔ کیا فائدہ ایسی دیدہ بِینا کا، کس کام کی یہ ڈگریاں ! بلاشبہ المیہ ہماری اشرافیہ کا ہے۔ ہماری اخلاقیات کا ہے اور ہماری قابلیت کا ہے۔ ہم میں سے جو لوگ قابل ہیں بدقسمتی سے وہ ڈرپوک بھی ہیں۔ انہیں اس آرام اور آسائش کے کھو جانے کا ڈر ہے۔ جسے انہوں نے اتنی محنت کے بعد حاصل کیا ہے۔ کیا ضرورت ہے کسی خاکروب کے حق کے لئے لڑنے کی۔ اگر یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مجھے فارغ کر دیا تو میرے پچیس لاکھ تو گئے لہٰذا مجھے کیا پڑی ہے اس قضیئے میں چی گویرا بننے کی! دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہر کروڑ پتی اپنی شخصیت میں انقلابی ہے۔ مگر یہ انقلاب وہ اپنے ادارے میں لانے کی ہمت نہیں کرتا۔ یہاں لوگ کھرب پتی بننے کے بعد بھی یہی رونا روتے ہیں کہ انہیں اس ملک میں کاروبار نہیں کرنے دیا گیا۔ نہ جانے اور کتنا استحصال کرنے کی حسرت تھی ان کے دل میں جو ہزاروں ارب روپے کمانے کے بعد بھی پوری نہیں ہوئی۔


قابل لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے خوف سے جان چھڑا بھی لیں تو اپنی انا کے خول سے نہیں نکل پاتے۔ ملک کی خدمت کرنے کے لئے وہ اتنی کڑی شرائط رکھتے ہیں کہ نہ نومن تیل ہوتا ہے نہ کوئی رادھا نا چتی ہے۔ انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول چاہئے۔ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری ہردم ان سے ایک فون کے فاصلے پر موجود ہیں۔ جونہی بیورکریسی کوئی رکاوٹ ڈالے آن ہی آن میں وزیراعلیٰ صاحب اسے دور کریں ان کے پروٹوکول کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔ ان تمام نزاکتوں کے بعد اگر ذرا سی بات بھی ان کی طبع نازک پر گراں گزرے تو وہ اطمینان سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں واپس چلے جائیں اور پھر باہر بیٹھ کر ٹویٹ کرتے رہیں کہ میں نے تو اس ملک کے لئے بہت کرنا چاہا مگر ہمیں کرنے نہیں دیا گیا۔


ایسے قابل لوگوں سے بس اتنی درخواست ہے کہ اس ملک کو فقط اپنی محبوبہ جتنی اہمیت دے دیں‘ باقی حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

قومیں پرعزم ہوں اور اپنے نظریے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں تو وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما قوم ایک طویل اور کٹھن جنگ میں کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اب الحمدﷲ اس مقام پر ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا عمومی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب وہ فساد بپا کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کا آغاز کر چکی ہے۔


بلاشبہ آپریشن ردالفساد انتہائی موثر انداز سے جاری ہے اور آئے روز ملک کے مختلف علاقوں سے فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں کو تلاش کر کے اُنہیں ٹھکانے لگایا جارہا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ قوم کا ہر فرد ردالفساد کا سپاہی ہے۔ گویا ہر پاکستانی شہری چاہے وہ کسی بھی طور سے ملک کی خدمت کر رہا ہے اسے آپریشن ردالفساد میں ریاست کا ہاتھ بٹانا ہے اور اس پاک سرزمین کو صحیح معنوں میں فساد اور شدت پسندی سے پاک کرنا ہے اور اسے ایسی سرزمین بنانا ہے جس کے باشندے ملکی قانون اور اپنے اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق رکھتے ہوں۔ یہ تبھی ممکن ہے جب قوم افواج اور دیگر ادارے پوری دلجمعی سے آپریشن ردالفساد کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ قوم اور افواج پاکستان کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے پاکستان دشمن عناصر کبھی مردم شماری میں مصروف ٹیموں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں توکبھی کوئی دوسرا سافٹ ٹارگٹ تلاش کر کے اپنی ’’دہشت‘‘ بٹھانے کی ناکام

 

کوشش کرتے ہیں۔ قوم بھاگتے ہوئے فسادیوں کا ان کی کمین گاہوں تک پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ اب اس دھرتی اور سرزمین پر ان فسادیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا خاتمہ ان کا مقدر بن چکا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور آپریشن ردالفساد کے حوالے سے واضح طور پر قوم کو آگاہ کر چکے ہیں کہ ردالفساد درحقیقت پہلے کئے گئے آپریشنز کے حاصل کردہ اہداف کو یکجا
(Consolidate)
کرنا ہے اور یہ صرف فوج کا آپریشن نہیں اس میں پولیس، رینجرز اور دیگر ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ جنگ صرف افواج پاکستان نے تنہا نہیں پوری قوم نے مل کر جیتنی ہے۔ اور ہر ادارے نے کام کرنا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے خیالات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب پوری قوم اور تمام ادارے پوری یکسوئی کے ساتھ کسی چیلنج سے نمٹنے کے لئے برسرپیکار ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ریاست کسی بھی عفریت کا قلع قمع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ الحمد ﷲہماری قوم مکمل کامیابی کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ قوم کا ہر ایک فرد ملک دشمنوں کی سرکوبی کے لئے پرعزم رہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی معاونت ایک قومی فریضہ سمجھ کر کرے تاکہ اس مقدس دھرتی سے شدت پسندی اور فساد کی بیخ کنی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کی جا سکے۔

10
May

تحریر: محمدمنیر

کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں بہت سے درے واقع ہیں جن میں مالاکنڈ‘ خیبر‘ گندھاب ‘ کرم‘ گومل اور ٹوچی زیادہ مشہور ہیں۔ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدو رفت کا ذریعہ ہیں اور تاریخی اعتبار سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔


قبائلی علاقہ جات میں پانچ مشہور دریا‘ سوات‘ کابل‘ کرم ‘ ٹوچی اور گومل بہتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والے پشتون ہیں۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے لوگ بہت بہادر اور غیور ہیں۔ برطانوی حکومت‘ جو کہ برصغیر میں1849 تا1947 مسلط رہی‘ نے فاٹا کے قبائل پر مختلف طریقوں سے قابو پانے کی کوشش کی۔تاہم جنوب مغربی سرحدوں میں واقع قبائل نے برطانوی حکومت کے لئے بہت سے مسائل پیدا کئے۔


برطانوی حکومت کو بنیادی طور پر دو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو یہ کہ مقامی طور پر قبائل کو برطانیہ کے زیرِ اثر علاقوں پر قبضہ کرنے سے کیسے روکا جائے اور دوسرا یہ کہ بیرونی سطح پر روس کی مداخلت کا کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ مختلف اوقات میں برطانوی حکومت نے قبائل کے خلاف جنگیں بھی کیں لیکن وہ ان پر اپنا تسلط قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے قبائل کے ساتھ کبھی سختی اور کبھی ترقی کی پالیسی اختیار کی۔ تا ہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تاجدارِ برطانیہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی اور صنعتی ترقی کے لئے کوئی کام نہ کرسکی۔ لیکن 1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا تو ان علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے کچھ اقدامات ضروراٹھائے گئے۔


قائدِاعظم کے ایک قریبی ساتھی میاں جعفر شاہ ‘جو شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں وزیرِ تعلیم بھی رہ چکے ہیں‘ کے مطابق خان عبدالغفار خان نے جون 1947 میں قائدِاعظم سے ملاقات کے دوران قیامِ پاکستان کی حمایت کے لئے تین اہم شرائط رکھیں جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں ضم کردیا جائے۔ قائدِاعظم نے خان عبدالغفار خان کی اس تجویز کو فوراً تسلیم کرتے ہوئے خان سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں قبائلی عوام کو ہمنوا بنانے کے لئے عملی اقدامات کریں تاکہ متفقہ طور پر اس تجویز کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ بابائے قوم قبائلیوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس مسئلے کو جمہوری اور آئینی انداز میں غیور قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہتے تھے۔ قبائلی علاقوں سے متعلق نوزائیدہ پاکستان کی پالیسیوں کا اندازہ بابائے قوم کی ان باتوں سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپریل1948میں قبائلی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے قبائلی سرداروں کو یقین دلایا کہ پاکستان ان علاقوں کی ترقی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا اور ان علاقوں کی اقتصادی خوشحالی کے لئے ہر قسم کی مالی و فنی معاونت فراہم کرے گا‘ تاکہ قبائلی بھائیوں کی زندگیوں کو بہتربنایاجائے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستان قبائلی نظام زندگی کے اندر کسی قسم کی غیرضروری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے یہاں تعلیمی اور سماجی ترقی کے لئے کوشاں رہے گا اور مالی مدد بھی جاری و ساری رکھی جائے گی۔ قائدِاعظم کی یہ دلی خواہش تھی کہ ان علاقوں کی مروجہ حیثیت کو بدلا جائے تاکہ ان قبائل کی زندگی کو بہتر اور آسان بنایا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ قبائلی علاقوں کو صرف امداد سے چلایا جائے اور وہ ہر سال بھکاریوں کی طرح حکومتِ پاکستان سے امداد کے طلبگار رہیں‘ بلکہ اس صورت حال کو بدلنا ہوگا تاکہ غیور قبائلی عوام بھی ملکی وسائل میں حصہ دار بن سکیں۔


یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قائدِاعظم کی وفات کے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں نے قائد کی خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا اور ان علاقوں کے لئے برطانوی حکمرانوں کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو جاری رکھا جس کے تحت قبائلی عوام کو بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ان کو وکیل‘ اپیل اور دلیل جیسے بنیادی حق تک بھی رسائی نہ دی گئی۔ فاٹا میں رہنے والے قبائلیوں کو ایف سی آر جیسے قوانین کے تحت چلایاجاتا رہا اور اُنہیں پولیٹیکل ایجنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ یہاں کے نمائندوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی دی گئی لیکن بدقسمتی سے یہ نمائندگان اپنے علاقوں کے لئے قانون سازی نہ کروا سکے۔


یہ بات خوش آئند ہے کہ2014 میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فاٹا میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں8 نومبر کو وزیرِاعظم پاکستان نے پانچ رُکنی فاٹا ریفارمز کمیٹی تشکیل دی۔ جس کی سربراہی ان کے مشیر برائے اُمورِ خارجہ سرتاج عزیز کو سونپی گئی۔ کمیٹی نے تمام قبائلی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ وزیرِاعظم کو پیش کی۔ وفاقی کابینہ نے 2 مارچ2017 کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے پانچ سال کے عرصے میں بتدریج انضمام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے بہت سی توقعات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی کابینہ نے فاٹا کمیٹی کی تمام شفارشات کو من و عن تسلیم کیا ۔ ان سفارشات میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ آڈٹ کے نظام کو فاٹا تک توسیع دی جائے۔ راہداری پرمٹ ختم کئے جائیں‘ بینکنگ سسٹم اور اعلٰی عدلیہ کو فاٹاتک توسیع دی جائے‘ رواج ایکٹ نافذ کیا جائے جس کے ذریعے فاٹا کا اپنا جرگہ کا نظام نافذ رہے گا۔ بہرحال رواج ایکٹ کے تحت جو قاضی کام کریں گے وہ بنیادی طور پر سیشن جج ہوں گے جن کے کسی بھی فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ سے رجوع کیا جاسکے گا۔


یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ ہماری قیادت فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پر متفق ہے۔ علاوہ ازیں فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام بھی اس فیصلے پر خوش ہیں کہ ان کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ مزید یہ کہ قومی اور صوبائی سطح کی کم و بیش تمام جماعتیں فاٹا میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں۔ البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ چند ایک جماعتیں اصلاحات کے نفاذ کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر جے یو آئی کا موقف ہے کہ اصلاحات نافذ کرنے سے پہلے فاٹا میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے فاٹا کے لوگوں کی رائے لے لی جاتی تو بہتر ہوتا۔ جبکہ پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ پانچ سال کے بجائے جتنا بھی جلدی ممکن ہو سکے فاٹا کا انضمام عمل میں لایا جائے۔ اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کرنے میں جلدی سے کام نہ لیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے
(TDPs)
کی بحالی کا کام مکمل کیا جائے اور افغانستان جانے والے قبائلیوں کو واپس لایا جائے۔ فاٹا کی تعمیرِ نو کی جائے اور اس کی بحالی کے لئے قومی وسائل کا پانچ فیصد مختص کیا جائے۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ فاٹا کو ضم کرنے کے حوالے سے آئینی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کا نفاذ ایک مشکل مرحلہ ہوگا اس لئے اصلاحات کے نفاذ کا ایک طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے تاکہ اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور ٹیکنیکل مسائل کا حل نکالا جاسکے۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے عوام کو ان اصلاحات سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خیبر پختونخوا سے ان کے الحاق کے بعد فاٹا میں اقتصادی ترقی کا عمل تیز ہوگا اور ان علاقوں میں گورننس بہتر ہوگی اور دہشت گردی پر بہترانداز میں قابو پایا جاسکے گا۔ فاٹا کے لوگ چاہتے ہیں کہ اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ فاٹا میں بلدیاتی/ لوکل باڈی الیکشنز(انتخابات) جلد کروائے جائیں۔


موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو انتہائی شفافیت اور مقامی قبائل کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھایا جائے۔ نیز یہ کہ ان اصلاحات اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کئے جانے سے متعلق توقعات اور تحفظات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ فاٹا میں کی جانے والی اصلاحات ملکی ترقی اور سلامتی کی ضامن ہوں اور پاکستان کی دشمن قوتیں ان معمولی اختلافات کو اپنے مذموم عزائم کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بطورِ ریسرچ فیلو کام کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

تحریر: فاران شاہد

پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی ایک رپورٹ مجریہ مارچ 2016ء میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی جوہری پروگرام کو بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ 2014ء میں بھارت کے اٹامک پاور اسٹیشن کے ہیڈٖ کانسٹیبل نے اپنی سروس رائفل سے تین افراد کو قتل کر دیا تھا۔ لیکن یہ ایک واقعہ نہیں، 1991ء سے 2003ء تک تو بھارت کے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں بلنڈرز اور کولپیسز ہوتے رہے ہیں، جہاں ہائیڈروجن لیکس، آئل لیکس، اٹامک پاور اسٹیشنز کا کولنگ سسٹم بند ہو جانا، فائر الارم بجنا، پائپ لیک ہونا، ری ایکٹرز اور ایٹمی پاور اسٹیشنز میں کئی کئی ٹن پانی بھر جانے جیسے واقعات کئی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے سائنس دان اور اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان محتاط سائنس دانوں کا دبے الفاظ میں کہنا ہے کہ بھارت میں ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی بھارتی ایٹمی اثاثوں کے عدم تحفظ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بھارت چونکہ ایک سیکولر ملک ہے اس لئے یہاں سیکولر اور جمہوریت پسند سیاستدانوں کے خیالات بھی دفاعی ماہرین سے ملتے جلتے ہیں۔ دریں اثناء متذکرہ بالا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور روس کے ایٹمی اثاثے بھارت سے زیادہ محفوظ ہیں جبکہ بھارتی انتظامات نہایت کمزور ہیں۔


دی ٹائمز آف انڈیا نے بھارت کی پالیسیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے خبر دی تھی کہ بھارت کی عسکری و سیاسی قیادت ہنگامی بنیادوں پر بڑی تعداد میں اسلحے کی خریداری کر رہی ہے۔ روس، فرانس اور اسرائیل سے تیار حالت میں جنگی ہتھیار خرید لئے گئے ہیں جو مارچ تک بھارت کو مل جائیں گے۔ علاوہ ازیں خریداری کے لئے دو اعلیٰ سطح کی بااختیار کمیٹیوں نے سامان حرب کی پڑتال کر کے اسی وقت فیصلہ کر لیا۔ اسرائیل سے فضا سے زمین میں مار کرنے والا
SAM
بارک 8 میزائل، روس سے S-400 اینٹی بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم، سخوئی 30ایم کے آئی، میخایان مگ29سی، ٹرانسپورٹ طیارے200کاموف، 2267ہیلی کاپٹرز، فضا میں تیل بھرنے والے طیارے اور دیگر حربی ساز و سامان کے معاہدے کئے ہیں۔ علاوہ ازیں T-90,T-72 ٹینک، کونکورس اور اینٹی میزائل اور سمیرج راکٹ اور بارود سے بھرے بم بھی خریدے ہیں۔ روس جو اس وقت معاشی طور پر کافی کمزور ہے اس خریداری سے اس میں خوش حالی کی لہر دوڑ گئی ہے۔


گزشتہ برس بھارتی مسلح افواج کے سربراہان نے مودی سرکار کو باور کروایا تھا کہ بھارت جنگ میں صرف سولہ دن تک ہی اپنا اسلحہ استعمال کر سکتا ہے، مزید گنجائش و صلاحیت نہیں۔ غالباً اسی لئے یہ استعداد بڑھا کر چالیس دن تک کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس نے یہ صلاحیت 1991ء میں ہی حاصل کر لی تھی۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت خفیہ جنگی تیاریاں اس لئے کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے پاس موجود ہتھیاروں سے خوفزدہ ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی یہاں سے بھی ملتی ہے کہ بھارتی افسر نے جرمنی کی ہوفنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے بھارت کے پاس زیادہ سے زیادہ اسلحہ ہونا چاہئے۔ بھارتی مصنفین غزالہ وہاب اور پراوین سباوہتی نے کتاب
Dragon at the Door
میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’’پاکستان نے اپنے آپ کو فوجی طاقت بنا لیا ہے جبکہ بھارت نے خود کو محض ملٹری فوج بنایا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک فوجی طاقت کا مطلب ہے کہ کوئی فوج فوجی طاقت کو مؤثر انداز میں ان اہداف اور ان جگہوں پر ایسے استعمال کرے کہ دشمن کے دانت کھٹے ہو جائیں۔ ملٹری فوج کے معنی یہ ہیں کہ صرف ہتھیاروں کو جمع کیا جائے۔ انہی کے بقول پاکستان فوجی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جب کہ بھارت جیو اسٹریٹیجک کھلاڑی بھی نہیں بن سکا۔ یعنی بھارت اپنی فوج کو اپنی سرحدوں سے آگے لے جانے کی صلاحیت سے عاجز ہے۔ بھارتی جنگی پالیسیوں پر پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ کیا اس نے ازبس اپنے آپ کو چین اور پاکستان تک ہی محدود کر رکھا ہے؟

 

bharatkikufiya.jpgدسمبر2015ء میں ’’فارن پالیسی‘‘ نامی جریدے نے یہی انکشافات کئے تھے جو ’’دی ٹائمز آف انڈیا‘‘نے فروری 2017ء میں کئے ہیں۔ متذکرہ رپورٹ میں یہ پول کھلا تھا کہ بھارت اپنی جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے جلاکیرے میں ایک "نیوکلیئر سٹی"کی تعمیر میں مصروف ہے۔ یہ برصغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جوہری شہر ہو گا۔ اس جوہری شہر میں ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے یورینیم کی افزودگی کی جائے گی، جس کا واضح مطلب جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے۔ نیوکلیئر سٹی میں ہی ایٹمی ریسرچ لیبارٹریاں اور ایٹمی ہتھیار بنائے جائیں گے۔ نیز اس سے بڑے پیمانے پر ائیر کرافٹنگ کی سہولیات بھی میسر آ سکیں گی۔ اور یہ شہر 2017ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کا جنگی جنون صرف پہلی مرتبہ ابھرکر سامنے نہیں آرہا بلکہ گزشتہ کئی عشروں سے خوف ناک ہتھیار بنانے اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی تگ و تاز کر رہاہے۔ برس ہا برس دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے اور حال ہی میں بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ کو پھر بڑھایا ہے۔ جس کا اولین مقصد جدید ہتھیاروں کے انبار لگانا ہے۔ آخر کار بھارت اتنے خوفناک ہتھیار کیوں جمع کر رہا ہے؟ درحقیقت ہمارا روایتی حریف ایشیا کی سب سے بڑی جنگی طاقت بننے کے خبط میں مبتلا ہے وہ اپنی اس بالاداستی کی راہ میں چین اور پاکستان کو بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور اس رکاوٹ کو جلد از جلد عبور کرنا چاہتا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ایک بڑے جوہری شہر کی تعمیرکے بارے میں رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد کسی بڑی طاقت نے تشویش کا اظہار کیا نہ ہی کوئی واویلا مچایاہے۔ دوسری جانب پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا کے بارے میں ان طاقتوں کا رویہ منافقانہ ہے۔ دوہری پالیسی کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ خود امریکہ پاکستان پر متعدد بار دباؤ ڈال چکا ہے کہ وہ (پاکستان) اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرے۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اسلامی ایٹم بم کا نام دے کر پوری دنیا میں پروپیگنڈا کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر عالمی طاقتیں بھی اس کے خلاف متحرک ہو گئیں۔ نتیجتاً ایران پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ المختصر اسلامی ممالک کو اس ایٹم بم سے دور کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ جبکہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ سمیت دیگر اسلام دشمن طاقتیں اسی ایٹم بم سے کھلونے کی طرح کھیل رہی ہیں۔ اس ضمن میں عراق پر بھی الزامات لگائے گئے کہ اس کے پاس مہلک ہتھیار ہیں اور اسی بات کو لے کر اس کا چیستان بنایا گیا۔ بعد میں امریکہ نے خود ہی ڈھٹائی سے تسلیم کر لیا کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیار ہونے کی اطلاع مصدقہ نہیں تھی۔ گویا ایک غیرمصدقہ اطلاع کو بنیاد بنا کر ایک ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا اور اس کے سربراہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ادھر لیبیا نے ایٹمی قوت بننے کی کوشش کی تو اسے نشان عبرت بنا کر ہی دم لیا گیا۔ ان تمام حقائق و شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تر صورت حالات کے مضمرات میں جھانکنے سے حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ چنانچہ بھارت کا جنگی جنون بالخصوص جوہری ہتھیاروں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاریوں سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کے خدشات بدرجہ اتم موجود ہیں اور پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے۔وہ پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کے لئے ہاتھ پاؤں بھی مار رہا ہے۔ تاہم اب تک بھارت پر عالمی طاقتوں کا کوئی دباؤ محسوس نہیں ہو رہا۔ مزید برآں اگر اس خاموشی کے پس منظر میں پاک بھارت تنازعات کا عمل دخل ہے تو پاکستان اس میدان میں بھی لڑنے کے لئے ہردم تیار ہے۔ پاکستان نے تو متعدد بار مذاکرات کی پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ تراشا اور راہ فرار لی۔ بھارت کی جانب سے ایل او سی کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ اس کی بلا اشتعال فائرنگ کی زد میں آنے والے شہداء کی تعداد چار سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس بات کا خیال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ بھارت کے ساتھ خفیہ طور پر ایشیا کی بڑی ایٹمی قوت بننے میں معاونت کر کے خوف ناک کھیل کھیل رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف خطے کا توازن بگڑے گا بلکہ (لازمی طور پر) خطرے سے دوچار ہو گا۔ اقوام متحدہ اور امریکہ نے اگر بھارت کے اس خفیہ ایٹمی پروگرام کی طرف توجہ نہ دی تو اس کا خمیازہ انہیں بھی بھگتنا پڑے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر: میجر مظفر احمد

بیدیاں روڈ(لاہور) پر مردم شماری ڈیوٹی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے جری سپوتوں کا احوال

 

لاہور میں خود کش حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے جوان اور متعین سول شمار کنندگان مردم شماری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ سول شمار کنندگان اور فوج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ایک عظیم قربانی ہے۔ مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان قیمتی جانوں کی قربانی سے ہمارے عزائم مزید مضبوط ہوں گے۔ ہم پوری قوم کے ساتھ مل کر اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی اس لعنت سے پاک کریں گے۔ ’’مجھے سوگواران خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں اُن جوانوں کو جنہوں نے اپنے فرض کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔‘‘

جنرل قمرجاوید باجوہ

چیف آف آرمی سٹاف

 

5اپریل 2017 کو خوشگوار صبح میں ابھرتی ہوئی سورج کی کرنیں پاک سرزمین کو روشن کر رہی تھیں۔ بھٹہ چوک اور اس کے نواح میں انسانی چہل پہل میں اضافہ ہو چکا تھا۔ علیٰ الصبح، حوالدار محمد ریاض کی قیادت میں جوان محفوظ شہید کینٹ سے بیدیاں روڈ(لاہور) مانانوالہ چوک کے علاقے میں مردم شماری پر مامور سول انتظامیہ کے شمار کنندگان کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے نکلے۔ پورے دن کی دوڑ دھوپ کے لئے زاد راہ اور انصرام ہمراہ تھا۔ سول شمار کنندگان سے ملاپ کرنے کے بعد دن کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ سڑکوں پر علاقہ مکین، بشمول سکولوں کے طالبعلم، اپنی پیشہ ورانہ کاروباری مصروفیات اور تعلیمی سرگرمیوں کے لئے رواں دواں تھے۔ اسی اثنا میں، خبثِ باطن کی حیلہ گری میں مبتلا دشمن نے ایک بار پھر قوم کے ان سرفروشوں کا راستہ روکنے کے لئے وار کر ڈالا۔ آہستہ آہستہ چلتی گاڑی کے عقب سے ایک خودکش بمبار تقریباً سات بج کر پچپن منٹ پر نمودار ہوا اور قریب آ کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ جس کے نتیجے میں 2سندھ رجمنٹ کے 4جوان حوالدار محمد ریاض، لانس نائیک محمد ارشاد، لانس نائیک ممشاد احمد اکرم، سپاہی ساجد علی اور 10این ایل آئی رجمنٹ کے سپاہی عبداﷲ نے جامِ شہادت نوش کیا اور 10جوان زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں 3راہ گیر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ مگر یہ امر قابلِ ذکر ہے، یہ جوان جب تک زندہ رہے انہوں نے سول شمارکنندگان سٹاف کا بال بھی بیکانہ ہونے دیا۔

watenkimati.jpg


دشمن کے اس وار کے باوجود بھی جذبۂ فرض شناسی و خدمت کسی قدر بھی کم نہ ہو سکا اور چند ہی منٹوں میں میجر زبیر احمد اور لیفٹیننٹ فیروز کی قیادت میں کمک آن پہنچی، صورت حال پر قابو پایا گیا اور وہ ایک بار پھر سونپے گئے کام کو پورا کرنے کے لئے نکل پڑے۔ حقیقتاً یہ محض جو ابی ہمت و عزم کے اقدامات نہ تھے بلکہ بزدل

دشمن کی شکست تھی۔
اے شہیدان وطن تم پر سلام
تم نے روشن کر دیا ملت کا نام
اس مضمون میں لکھے گئے چند پیرائے گو ان شہداء کی قربانیوں کو سمو نہیں سکتے مگر ہمارے اپنے شہیدوں کو خراج تحسین کی ایک معمولی جسارت ہے۔


hav_riaz.jpgسب سے پہلے ذکر حوالدار محمد ریاض (شہید ) کا جو ضلع فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کے نواحی گاؤں 410گ ب کے ایک زمیندار گھرانے میں 20مئی 1979کو پیدا ہوئے۔ان کے والدین کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کے باوجود متانت کے ساتھ گُزر بسر کرتے تھے جو ریاض کی اوائل عمری ہی میں رحلت کر گئے۔ دراز قد حوالدار محمد ریاض بچپن ہی سے ذہین اور خوش طبع تھے۔ گاؤں سے اپنی ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں کی تکمیل کے بعد فنِ سپاہ گری کے شوق کی ترویج کے لئے فوج میں جانے کی ٹھانی۔ ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ریاض نے ابتدائی تربیت سندھ رجمنٹل سنٹر حیدرآباد سے حاصل کی۔ دوران ابتدائی تربیت انھوں نے ہر ایونٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، خصوصاً پریڈ ڈرل میں امتیازی شیلڈ حاصل کی۔ ابتدائی تربیت کے اختتام پر جنوری 1995 کو 2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ یونٹ کے ساتھ چھمب، سیالکوٹ اور باگسر کے محاذوں اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ و شمالی وزیرستان میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ڈیوٹی سرانجام دی۔ عسکری تربیتی کورسز خصوصاً
ATGM Course
انفنٹری سکول اور یونٹ کے تربیتی مقابلوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ انہی خوبیوں کے پیشِ نظر سندھ رجمنٹ سنٹر میں بطور انسٹرکٹر تعینات ہوئے اور وہاں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ریاض کے ساتھیوں اور خصوصاً کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل ناصر محمود نے ان کی شخصیت کاتذکرہ اس انداز میں کیا ہے۔ ’’حوالدار ریاض میں ایک مخصوص احساس ذمہ داری تھا جو نہ صرف ان کے عسکری معمولات زندگی میں نظر آتا تھا بلکہ اپنی اہلیہ سمیت بچوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور مسائل کے بارے میں پائی جانے والی فکر مندی میں بھی جھلکتا تھا۔‘‘ روزِ شہادت، مردم شماری کی ڈیوٹی میں بحیثیت پارٹی کمانڈر مکمل سکیورٹی و انصرامی تیاریاں اور اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی ان کی خوبیوں کی غمازی کرتی ہیں۔ حوالدار ریاض کے لواحقین میں اہلیہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن کے لئے پدرانہ شفقت کا خلاء تو ضرور رہے گا مگر اس باہمت خاندان نے ریاض کی شہادت پر نہایت فخر کا اظہار کیا ہے۔


2سندھ رجمنٹ کے ایک اور جوان لانس نائیک محمد ارشاد (شہید) ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کے نواحی گاؤں بھلومار میں 13 جنوری 1991کو پیدا ہوئے۔ درمیانے قد کے حامل ارشاد بچپن سے ہی سنجیدہ ذہن کے مالک اور قدرے خاموش طبع تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی سے حاصل کی اور میٹرک کے بعد فوج میں ملازمت اختیار کی۔ ابتدائی تربیت کے بعد جولائی 2010 میں بطور سپاہی 2سندھ رجمنٹ میں تعینات ہو گئے۔ دوران سروس یونٹ کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر باگسر اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ ایجنسی میں بڑی جانفشانی اور ایمانداری سےln_m_arshad.jpg اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ حالیہ مردم شماری ڈیوٹی میں اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر یونٹ نے انہیں لانس نائیک کے رینک پر ترقی دی۔ ارشاد نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا اور 5اپریل 2017کو اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر کے امر ہو گئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اُن میں اپنے اہل و عیال سے محبت اور ان کی ضرورتوں کا احساس بھی بدرجۂ اتم تھا۔ اس کا اظہار انہوں نے ایک روز قبل اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کیا تھا کہ اُس نے اگلے روز اپنے والدین کو کچھ رقم منی آرڈر کرنا ہے۔ ان کی شہادت پر ان کے جسد خاکی کے ساتھ لپٹی اس رقم کی موجودگی نے ان کے ساتھیوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ درحقیقت ارشاد نے اپنے اہل و عیال کے لئے ازلی کامیابی کا سامان مہیا کر دیا جس پر ان کے ضعیف والدین کو فخر ہے۔ ایسے والدین قابل ستائش ہیں جو اپنے لخت جگر قوم پر نچھاور کر دیتے ہیں۔


ln_mashmad.jpgلانس نائیک ممشاد احمداکرام (شہید) ضلع خانیوال کی تحصیل کبیر والا کے نواحی گاؤں کوہی والا میں 10 اکتوبر 1988 کو ایک کاشتکارگھرانے میں پیدا ہوئے۔ درمیانے قد کے ممشاد خوش اخلاق اور وسیع ذہن کے مالک تھے۔ گاؤں سے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی اور جولائی2010 کو2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ایل او سی پر باگسر سیکٹر اور باجوڑ ایجنسی میں محنت و جانفشانی کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ یونٹ کے کھیلوں اور تربیتی مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یونٹ کا علم بلند رکھنے میں پیش پیش رہے۔ مردم شماری کی ڈیوٹی کے دوران5 اپریل2017 کو شدید زخمی ہوگئے۔13 دن تک سی ایم ایچ لاہور میں زندگی موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر 17 اپریل کو خالقِ حقیقی سے جا ملے اور شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔ لواحقین میں اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں جنہیں ان کی شہادت پر ناز ہے۔


2sip_sajid.jpgسندھ رجمنٹ کے تیسرے بہادر سرفروش سپاہی ساجد علی (شہید) ضلع میرپور خاص سندھ کی تحصیل کوٹ غلام محمد کے نواحی گاؤں 285 دیہہ میں 10مارچ 1989کو ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ساجد علی شروع ہی سے ذہین اور حسِ مزاح سے مالامال تھے۔ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ والدین کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر ہاتھ بٹاتے تھے۔ مخصوص ثقافتی ٹوپی و اجرک پہن کر کلہاڑی کندھے پر رکھے مویشیوں کی نگہبانی کرتے تھے۔ فوج سے محبت انہیں سپاہ گری کے شعبے میں کھینچ لائی اور ابتدائی ٹریننگ کے بعد جنوری 2009میں 2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ یونٹ میں بڑی بہادری کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑی۔ مختلف مقابلوں میں نام کمایا اورخصوصاً ڈرائیونگ کے شعبے کو اپناتے ہوئے ایک اچھے ڈرائیور بنے۔ بالآخر فرائض منصبی کی بجاآوری میں مردم شماری کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔ ان کے لواحقین میں بیوہ اور والدہ شامل ہیں جو ساجد کی شہادت کو اپنے لئے اﷲ رب العزت کی مہربانی گردانتی ہیں۔

 

10این ایل آئی رجمنٹ کے سپاہی عبداﷲ (شہید) 1992کو ضلع چترال کے گاؤں کریم آباد میں پیدا ہوئے۔ عبداﷲ بچپن سے ذہین اور جسمانی طور پر تیز و پھرتیلے sip_abdullah.jpgتھے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول شوغور چترال سے حاصل کی اور میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد 13اکتوبر 2010کو فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے۔

یونٹ میں پوسٹنگ پر ایل او سی (لیپہ سیکٹر) اور وزیرستان میں خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔ آپریشن ضرب عضب میں عبداﷲ میران شاہ سے دتہ خیل تک ہر مشکل کارروائی میں صف اول کے دستہ میں شامل رہے۔ سپاہی عبداﷲ کو موت سے شناسائی ہو چکی تھی۔ بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر سپاہی 2015 میں وادی بویا میں دہشت گردوں سے مقابلے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ اس بہادر سپوت نے بہادری اور دلیری سے دہشت گردوں کے کئی خطرناک حملوں کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مزیدبراں یونٹ کے فٹ بال اور دیگر تربیتی مقابلوں میں نام کمایا۔ عبداﷲ کو حالیہ 23مارچ 2017شکرپڑیاں کی پریڈ میں اعلیٰ ڈرل کی وجہ سے پیادہ دستے میں نشاندار کی ڈیوٹی سونپی گئی۔ عبداﷲ کے عزم ، بہادری اور چہرے پر ہمیشہ رہنے والی مسکراہٹ کی وجہ سے ان کے ساتھیوں اور خصوصاً ان کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عرفان احمد کو عبداﷲ سے ایک ذاتی لگاؤ تھا۔


قومی فریضہ مردم شماری 2017کی ڈیوٹی کو سرانجام دینے کے لئے سپاہی عبداﷲ نے اسی جذبہ ایمانی کے تحت اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ شہادت سے دو دن قبل شہید کے چھوٹے بھائی سیف اﷲ نے ٹیلیفون پر چھٹی آنے کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ بھائی ہماری یونٹ ایک اہم مشن پر مامور ہے اور میں ڈیوٹی کے اختتام پر ہی چھٹی آؤں گا۔ اسی جذبے کا اظہار عبداﷲ نے دوران ٹریننگ کیاجب ان کے والد محترم کی رحلت ہوئی لیکن اپنے والد کے آخری دیدار کے لئے بھی نہ پہنچ سکے۔یہ عبداﷲ کا شوق شہادت ہی تھا جو اسے مردم شماری کی ڈیوٹی کی صورت میں اپنی خواہش کی تکمیل کی راہ پر لے گیا۔یوں بوڑھی ماں کا سہارا چھن گیا اور 10 این ایل آئی رجمنٹ ایک بہادر جوان سے محروم ہو گئی۔ مگر اپنے پیچھے بہادری اورعزم کی لازوال داستان چھوڑ دی۔ عبداﷲ کے دل کا حال اس کی ڈائری میں کچھ ان الفاظ میں درج تھا۔


جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا


ملک کا دفاع اور سونپے گئے قومی فریضوں کی تکمیل پاکستان فوج کا ہر شخص اپنی ذات سے بھی زیادہ مقدم رکھتا ہے۔ یہی وہ سوچ اور جذبہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے دشمن ہمیں زیر نہیں کر سکے اور ہر دفعہ خود ہی اپنی شکست خوردگی کے زخم چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے

 

ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
یہی دیوار‘ یہی چھت‘ یہی سایہ ہے

جس کی تعمیر میں ہر ہاتھ ہے شامل لوگو
اس کے باعث ہی دھڑکتا ہے ہر اِک دل لوگو
یہی دولت‘ یہی عزت‘ یہی سرمایہ ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
گہری نظروں سے عدو دیکھ رہا ہے جس کو
ایک مدت کا فَسوں دیکھ رہا ہے جس کو
اس سے پہلے بھی تفرقوں سے ہی غم پایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
چال چلنے نہیں دیں گے یہ قسم کھاتے ہیں
جال بُننے نہیں دیں گے یہ قسم کھاتے ہیں
پھر سے طوفانوں نے اِک بار سَر اٹھایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
لَم یَزل کی یہ امانت ہے بچانی سب کو
اپنی آزاد فضا بھی ہے سبحانی سب کو
موسمِ گل نے‘ چمن زار یہ سجایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے

سعیدالزمان

*****

 
09
May

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ مغربی تعلیم، آزادئ فکر اور میڈیا کی تانوں اور اڑانوں کے باوجود حکومتیں اور معاشرے کے طاقت ور طبقے مذہبی شخصیات کے تیوروں سے کیوں خائف رہتے ہیں اور آج بھی ان کی رائے کو کیوں اہمیت دی جاتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ ادراک ضروری ہے کہ بارہویں صدی سے لے کر بیسیویں صدی کے آغاز تک مسلمانوں کی قیادت علمائے کرام کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ 1192-93 میں قطب الدین ایبک نے ہندوستان میں پہلی مسلم حکومت کی بنیاد رکھی اور یہ سلسلہ انگریزوں کی 1857 میں بالادستی اور حکومت تک جاری و ساری رہا۔ مسلمانوں کے اس آٹھ سو سالہ دور حکومت کے دوران علماء کو ہمیشہ دربار میں اہم حیثیت حاصل رہی۔ سبھی مسلمان بادشاہ اُن سے مشاورت کرتے رہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال بھی کرتے رہے۔ گویا ایک طرح سے علماء شریک اقتدار تھے اور بعض اوقات بادشاہ گر کا رول بھی ادا کرتے رہے۔ ضرورت پڑنے پر یہی علماء مزاحمت کے علمبرداربھی بنے۔ اکبر بادشاہ سب سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور حکمران تھا اور اس کی بادشاہت 49برس یعنی نصف صدی پر محیط ہے۔ لیکن جب اس نے دین الہٰی کی جسارت کی تو نہ صرف مجدد الف ثانی بلکہ ان کی قیادت میں بڑے بڑے علماء نے بھی مزاحمت کی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ درباری مسلمانوں نے بادشاہ کی خوشنودی کے لئے دین الہٰی قبول کر لیا۔ اس طرح اورنگزیب کے انتقال کے بعد جب مسلمانوں کے اقتدار کا شیرازہ بکھرنے لگا اور مرہٹوں، جاٹوں اور طاقت ور ہندومہاراجوں نے

کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار تھا اور پاکستان بننے کے بعد وہ نظریہ ختم ہو گیا۔ حالانکہ اگر آپ تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان ایک تصور کی پیداوار تھا اور دو قومی نظریہ اس تصور
(Ideology)
کا اہم ترین حصہ تھا جب کہ وہ تصور محض دو قومی نظریہ تک محدود نہ تھا۔ اس تصور کا پہلا حصہ دو قومی نظریہ تھا جو ایک حقیقت ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا تھا۔ جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ وہ ملکی وسائل کے مالک ہوں اور انہیں اپنی ترقی خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لئے استعمال کر سکیں۔ وہ اپنانظام حکومت اور نظام تعلیم واضح کریں اور عالمی سطح پرعزت کمائیں۔
مسلمانوں کا ناطقہ بند کر نا چاہا تو شاہ ولی اﷲ نے تحریک جہاد کا بیج بویا جسے بعد ازاں ان کے عزیزان، مریدین اور شاگردوں نے عملی تحریک کی شکل دی۔ یہ تحریک 1731سے 1831تک تقریباً ایک سو سال جاری رہی اور بالاکوٹ میں اپنوں ہی کے ہاتھوں دم توڑ گئی۔ سراج الدولہ نے 1757ء میں اور ٹیپو سلطان نے 1799میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی غداری کے سبب شکست کھائی اور یوں انگریزوں کے اقتدار کی راہ ہموار ہوئی۔ انہی ہزیمتوں اور شکستوں نے مسلم ہندوستان میں دوننگ وطن علامتیں یعنی میرجعفر اور میر صادق متعارف کرائیں جن کی غداری کا ماتم آج بھی کیا جاتا ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی لڑی گئی تو اس میں بھی سب سے زیادہ قربانیاں علمائے کرام نے دیں اور سب سے زیادہ گردنیں کٹوانے والے بھی وہی تھے۔ انگریزوں کا طوق غلامی اتار پھینکنے کے لئے جو آخری منظم کوشش کی گئی وہ ریشمی رومال کی تحریک تھی، اس تحریک کی قیادت بھی علمائے کرام کے پاس تھی۔ اس تحریک کی تفصیلات نہایت دلچسپ ہیں۔ منصوبے کے مطابق ترکی کی عثمانی فوج نے بلوچستان کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہونا تھا لیکن افغانستان کے شاہی خاندان کے چند افراد کی مخبری نے یہ راز فاش کر دیا اور یوں انگریزوں نے اس تحریک کو کچل دیا۔ اس تمام عرصے میں جتنے لوگوں کو سزا کے طور پر کالے پانی بھیجا گیا۔ قیدوبند میں ڈالا گیایا جلاوطن کیا گیا ان سب کا تعلق علمائے کرام اور مذہبی حلقوں سے تھا۔ یوں بیسویں صدی کے طلوع تک ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی و فکری قیادت زیادہ تر علمائے کرام کے ہاتھوں میں تھی۔ ریشمی رومال تحریک کی ناکامی کے بعد حصول آزادی یا حصولِ حقوق کے لئے عسکری اندازترک کر دیا گیا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق جمہوری سیاسی حکمت عملی اپنائی گئی۔ جس کی ذمہ داری مغربی تعلیم یافتہ حضرات نے سنبھال لی یوں تاریخی عمل نے تقریباً نو صدیوں کے بعد مدرسوں کو پیچھے دھکیل دیا اور مغربی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو سیاسی قیادت کا فرض سونپ دیا۔ اس کے باوجود علمائے کرام اور مذہبی طاقتیں پس پردہ رہ کر نہ صرف اپنا کردار سرانجام دیتی رہیں بلکہ انہوں نے خود کو ہر تحریک کی صف اول میں شامل کئے رکھا کیونکہ مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ان کے وسیع اثر روسوخ کاپورا ادراک رکھتا تھا اور ان کی سیاسی اہمیت کا قائل تھا۔

 

pakkinazriyati.jpg1934-35میں انگلستان سے واپسی پر جب قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی تنظیم نو کا بِیڑ ااٹھایا تو اس وقت مسلم لیگ ایک بے جان سیاسی قوت بن چکی تھی جس پر وڈیرے، جاگیردار، گدی نشین اور کمزور سیاسی شخصیات چھائی ہوئی تھیں۔ مسلم لیگ کے تن مردہ میں جان اس وقت پڑنا شروع ہوئی جب انتخابات کے بعد کانگریس نے 1937 میں چھ اکثریتی صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائیں اور مسلمانوں نے ڈیڑھ برس تک ہندو راج کا مزہ چکھا تو ان کی آنکھیں کھلیں۔ کانگریسی دور حکومت میں نہ صرف مسلمانوں پر ملازمتوں اور زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع بند کر دیئے گئے بلکہ سکولوں میں مسلمان دشمن ترانہ ’بندے ماترم‘ بھی لازمی قرار دے دیا گیا اور گاندھی جی کے بت کی پرارتھنا کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ تفصیل دیکھنی ہو تو پیرپور رپورٹ پڑھئے۔ مسلم لیگ صحیح معنوں میں عوامی تحریک اس وقت بنی جب مسلم لیگ نے مارچ 1940میں قرارداد لاہور (پاکستان) منظور کر کے ہندوستان میں بھی پھیلے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کر دی۔ لنڈن ٹائمز کے مطابق اس اجلاس میں تقریباً ایک لاکھ مسلمان عوام نے شرکت کی جو کہ ایک سیاسی کرامت تھی۔


مذہب مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور تحریک پاکستان کے دوران کلیدی عنصر کی حیثیت سے موجود رہا۔ 1935سے لے کر 1947 تک قائداعظم نے باربار اپنی تقریروں کے ذریعے مسلمانوں میں علیحدہ قومیت کا احساس بیدار اور پھر مضبوط کرنے کی کوششیں کیں اور علیحدہ قومیت کے شعور کی بنیاد ہمیشہ مذہب اور کلچر کو قرار دیا۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد ان کا سارا زور ہی دوقومی نظریے پر تھا اور وہ مسلسل مسلمان عوام کو بڑی دردمندی سے یہ سمجھانے اور باور کرانے کی کوششیں کرتے رہے کہ ہم اس لئے مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک آزاد مملکت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مسلمان اپنے مذہب، کلچر، روایات اور انداز کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے پیش نظر مسلمانوں کے معاشی، اقتصادی اور معاشرتی مفادات بھی تھے اس لئے علامہ اقبال مسلمانوں کی
Fuller Development of Personality
پر زور دیتے تھے۔ یعنی مسلمان شخصیت کی مکمل نشوونما کے لئے ایک آزادوطن کا قیام ضروری سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب مکمل نشوونما کی بات کی جاتی ہے تو اس میں معاشی، سیاسی، فکری، تعلیمی اور مذہبی تمام عوامل شامل ہوتے ہیں۔
چنانچہ میں جب پاکستان کی تاریخ اور ہندوستان میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کی سیکڑوں برسوں پر محیط زندگی کا بغور مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے اسلام پاکستان کے خمیر اور باطن میں شامل نظر آتا ہے اور پاکستان کی بنیاد کا مؤثر ترین محرک دکھائی دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر قائداعظم نے اسلام کا نام نہ لیا ہوتا تو وہ نہ کبھی مسلمانوں کی اکثریت کے لیڈر بنتے نہ 1945-46 کے انتخابات میں مثالی فتح حاصل کرتے اور نہ ہی پاکستان بنتا۔ اور ہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس سے قائداعظم کا کوئی ذاتی مفاد ہر گز وابستہ نہیں تھا۔ وہ خلوص نیت سے بات کرتے تھے اور انہوں نے زندگی کا معتدبہ حصہ مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ ہمارے بعض دین سے بیزار اور بیگانہ حضرات ’’وکیلانہ‘‘ بحث کی طرز پر بال کی کھال اتارتے ہوئے کہتے رہتے ہیں کہ قائداعظم کا مقصد مسلمان ریاست کا قیام تھا نہ کہ اسلامی ریاست۔ اول تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مسلمان اور اسلام دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دوم یہ کہ خود قائداعظم نے پاکستان کو پریمیئر اسلامی ریاست قرار دیا جسے سیکولر حضرات مانتے نہیں کیونکہ انہوں نے قائداعظم کو پڑھا ہی نہیں۔ تیسری بات یہ کہ قائداعظم نے کوئی سوبار سے زیادہ کہا کہ پاکستان کے سیاسی نظام کی بنیاد اسلام پر ہو گی۔ یہ حضرات کیوں نہیں سمجھتے کہ جس ریاست کے نظام کی بنیاد اسلام پر ہو وہی اسلامی ریاست ہوتی ہے۔ لیکن اس سے ہرگز مراد مذہبی ریاست نہیں کیونکہ اسلامی ریاست اپنے شہریوں پر مذہب نافذ نہیں کرتی۔ وہ اقلیتوں کی حفاظت کے علاوہ انہیں پوری مذہبی آزادی او رپورے حقوق دیتی ہے۔ یہی منشا قائداعظم کی تھی اور اسی لئے وہ اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا تصور پیش کرتے تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام پاکستان کے خمیر اور باطن میں شامل ہے۔ قائداعظم نے اسلامی قوتوں یا مذہبی جماعتوں کو شکست دے کر پاکستان نہیں بنایا تھا۔ بلکہ انہیں کئی مذہبی جماعتوں مذہبی شخصیات بڑے بڑے مذہبی اور روحانی گھرانوں اور پیروں کی حمایت حاصل تھی۔ رہی مذہبی انتہا پسندی تو وہ سیاست کا شاخسانہ اور عالمی سیاسی ایجنڈے کا نتیجہ ہے نہ کہ مذہب کا۔ کیونکہ ہر مسلمان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ برداشت، مذہبی رواداری، عفو و درگزر، حق گوئی، قانون کا احترام اور انصاف اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور نبی کریمﷺ ان کی عملی مثال تھے۔ انتہاپسندی، جذباتیت اور قانون شکنی کے رحجانات کا مقابلہ کرنے کے لئے انہی اسلامی اصولوں کو فروغ دینے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔ (ملاحظہ کریں قائداعظم کا براڈ کاسٹ پیغام بنام امریکی عوام فروری 1948 ء ، خورشید احمد یوسفی
(Speeches of Quaid e Azam)
جلد
IV
کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار تھا اور پاکستان بننے کے بعد وہ نظریہ ختم ہو گیا۔ حالانکہ اگر آپ تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان ایک تصور کی پیداوار تھا اور دو قومی نظریہ اس تصور
(Ideology)
کا اہم ترین حصہ تھا جب کہ وہ تصور محض دو قومی نظریہ تک محدود نہ تھا۔ اس تصور کا پہلا حصہ دو قومی نظریہ تھا جو ایک حقیقت ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا تھا۔ جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ وہ ملکی وسائل کے مالک ہوں اور انہیں اپنی ترقی خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لئے استعمال کر سکیں۔ وہ اپنانظام حکومت اور نظام تعلیم واضح کریں اور عالمی سطح پرعزت کمائیں۔ میں نے اس تصور کو مختصر ترین الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ورنہ اگر آپ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں، مسلم لیگ کی قراردادوں اور مسلم لیگ کے اجلاسوں میں کی گئی تقریروں کو غور سے پڑھیں تو ان میں آپ کو پاکستان کا ایک واضح تصور ملتا ہے اور ایک ایسا خواب نظر آتا ہے جو آج بھی تشنۂ تکمیل ہے اور جسے منزل کے طور پر ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ قائداعظم کی تقاریر ہوں، قراردادیں یا مسلم لیگی رہنماؤں کی تقریریں ان سب کے مرکزی نکات اور تصورات کا خلاصہ یہی ہے کہ چونکہ مسلمان اور ہندو الگ الگ قومیں ہیں جو ہزاروں برس اکٹھے رہنے کے باوجود متوازی دھاروں میں بہہ رہی ہیں۔ ان کا مذہب ، رسم و رواج ، بودوباش ، تاریخ ، ذہنی پس منظر اور سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور متضاد ہیں اور مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں اقلیت ہونے کے سبب ہندو اکثریت کے مستقل غلام رہیں گے۔ انہیں معاشرے میں کبھی بھی باعزت مقام حاصل نہیں ہو سکے گا اور نہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں گے۔ اس لئے وہ ایک الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جسے ہم نظریہ پاکستان کہتے ہیں وہ صرف یہاں تک محدود نہیں ہے۔ کیونکہ آزاد وطن کا قیام اس کا فقط پہلا حصہ تھا جب کہ پاکستان کے قیام کے مقاصد اس کا ناگزیر اور دوسرا حصہ ہیں۔ کیونکہ جب بھی قائداعظم نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا اور وضاحت کی کہ وہ پاکستان کیوں اور کیسا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ وہ کہتے تھے وہ مسلمان عوام کے احساسات اور اُمنگوں کی ترجمانی تھی اور ان کے مطالبات و تصورات کو مسلمانوں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور اسی تصور پاکستان کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے مسلمان عوام نے نہ صرف مسلم لیگ کی حمایت کی، 1946-47 کے انتخابات میں پاکستان کے حصول کے لئے ووٹ دیئے بلکہ اس مقصد کے لئے بے پناہ قربانیاں بھی دیں۔ اس جذبے کو سمجھنے کے لئے مسلم لیگ کے اجلاسوں میں کی گئی ان تقاریر کو بھی غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ جو اقلیتی صوبوں کے لیڈروں نے بار بار کیں۔ ظاہر ہے کہ وہ صوبے جہاں مسلمان اقلیت میں تھے وہ کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتے تھے اور انہیں بہرحال ہندوستان ہی میں رہنا تھا لیکن ان صوبوں کے لیڈروں نے ہمیشہ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے قیام کی زور دار حمایت کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان کی راکھ پر ایک مسلمان مملکت، ایک اسلامی ریاست قائم ہو گی جہاں مسلمان اپنے دین، آدرش اور تصورات کے مطابق آزادانہ زندگی گزاریں گے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور بحیثیت قوم پھلنے پھولنے کے لئے تمام مواقع میسر ہوں گے۔ جو بہرحال ہندوستان میں دستیاب نہیں ہو سکتے۔ اس لئے یہ سمجھنا اور کہنا کہ قیام پاکستان کے بعد نظریہ پاکستان بے کار اور بے معنی ہو کر رہ گیا ہے اپنی تاریخ سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اگر کوئی نظریہ کامیاب ہو جائے تو وہ مرتا نہیں بلکہ اپنی سچائی کے سبب مزید مضبوط ہوتا ہے۔ دوم تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ نظریات اُبھرتے ڈوبتے رہتے ہیں لیکن کبھی مرتے ہیں اور نہ بے معنی ہوتے ہیں۔


یوں تو ہماری تاریخِ آزادی کا ہر صفحہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے لیکن اس وقت مسلم لیگ کے 1941کے سالانہ اجلاس منعقدہ مدراس کی کارروائی یاد آ رہی ہے جو قائداعظم کی زیرصدارت اپریل 1941 میں ہوا اور یہ اجلاس اس لئے اہم تھا کہ یہ قرارداد لاہور (مارچ 1940ء) منظور کرنے کے بعد منعقد ہو رہا تھا۔ اس اجلاس میں مسلم لیگی رہنما عبدالحمید خان چیئرمین استقبالیہ کمیٹی نے مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کو کانگریسی دور حکومت (1937-1939) کی یاد دلائی اور کہا کہ کانگریسی صوبوں میں مسلمان بچوں کو بندے ماترم جیسا مسلمان دشمن ترانہ پڑھنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور گاندھی کی تصویر کی پوجا کی جاتی تھی۔ جب کہ مسلمان ہر قیمت پر اپنے مذہب، کلچر اور زبان کو قائم و دائم رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تصور سے خدشات میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اس سارے عرصے میں قائداعظم بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ایک روشن خیال اسلامی جمہوری ریاست ہو گی۔ جس میں انسانی مساوات، سماجی و معاشی عدل اور قانون کی حکمرانی کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوقومی نظریے اور اسی خواب کی تکمیل کے لئے ووٹ دیئے تھے۔ چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ ہم نے نظریہ پاکستان کے پہلے حصے پر عمل کر کے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان تو قائم کر دیا لیکن اس کا دوسرا حصہ تشنہ تکمیل ہے۔ جسے عملی جامہ پہنائے بغیر پاکستان کے تصور کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
کچھ دوستوں کا اصرار ہے کہ قائداعظم نے پاکستان کے حوالے سے کبھی نظریہ
(Ideology)
کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دو قومی نظریے کی بات کی۔ ان دوستوں سے گزارش ہے کہ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں صرف مدراس کے 1941جلسہ عام میں قائداعظم نے مسلم لیگ کے نظریے کے حوالے سے تین بار آئیڈیالوجی کا لفظ استعمال کیا۔ اسی تقریر میں قائداعظم نے واضح طور پر کہا ہماری منزل پاکستان ہے۔ اسی تقریر میں انہوں نے قومی ترقی کے لئے نظام تعلیم وضع کرنے اور معاشرتی ترقی کے لئے حکمت عملی بنانے کی بات کی اور اسی اجلاس میں عبدالحمید خان نے خطبہ استقبالیہ میں قرار دادا لاہور کو قرارداد پاکستان قرار دیا۔ حالانکہ 1940کی قرارداد میں پاکستان کا لفظ استعمال نہیں ہوا تھا۔


کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نظریہ پاکستان محض دو قومی نظریے کی بنیاد پر قیام پاکستان تک محدود نہ تھا بلکہ اسے ایک مخصوص ریاست بنانا بھی اس نظریے کا ناگزیر حصہ تھا۔ آئیڈیالوجی کا لفظ تحریک پاکستان کے دوران بار بار استعمال ہوا جس کے ذریعے تصور پاکستان کی وضاحت کی جاتی رہی۔


براہ کرم یہ بات یاد رکھیں کہ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ نظریہ پہلے موجود تھا ملک بعد میں معرض وجود میں آیا۔ گویا پاکستان کا جغرافیہ اس کی تاریخ کا مرہون منت ہے۔ میں اس اصول کا قائل ہوں کہ جو قوم اپنی تاریخ فراموش کر دیتی ہے اس کا جغرافیہ اسے فراموش کر دیتا ہے۔ اس لئے جغرافیے کی حفاظت کے لئے نظریے کو زندہ رکھنا ناگزیر ہے۔


میں سمجھتا ہوں کہ نظریہ پاکستان کی ترویج حکومت کا فرض ہے اور اسے نصاب کا حصہ بنانا حکومت پر لازم ہے۔ تصور پاکستان کے شعور کو زندہ رکھنے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کا استعمال بھی ضروری ہے۔ 14اگست، 23مارچ، 25دسمبر جیسے قومی ایام پر نظریہ پاکستان کی نشرواشاعت ہمارا قومی فریضہ ہے جسے ہمارا میڈیا پوری طرح نہیں نبھا رہا۔ اپنے ملک کی نظریاتی اساس کو مضبوط بنا کر ہی قومی اتحاد اور ملکی استحکام کے مقاصد پورے کئے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک لابی موجود ہے جو نظریہ پاکستان کے ضمن میں بدگمانیاں اور شکوک پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس لابی کے پس پردہ غیرملکی ہاتھ اور وسائل موجود ہوں۔ ان کی کارستانیوں کا توڑ کرنے کے لئے ایک ’’سیل‘‘ کی ضرورت ہے جو سکالرز پر مشتمل ہو اور میڈیا میں جہاں جہاں نظریہ پاکستان، قائداعظم اور تحریک پاکستان کے حوالے سے ابہام یا کنفیوژن پیدا کیا جائے یہ ’’سیل‘‘ اس کا مدلل جواب دے۔ میرے نزدیک یہ وطن سے محبت اور وفا کا تقاضا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
May

تحریر: علی جاوید نقوی

غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے۔

 

مقبوضہ کشمیر میں انڈین الیکشن ڈرامہ بُری طرح فلاپ ہوگیاہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کی نگرانی میں ان نام نہادضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار بھی منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی سرکار نے مقبوضہ وادی میں انتخابی ماحول بنانے کے لئے پیسے دے کر جعلی امیدوارکھڑے کئے،انتخابی مہم چلانے کے لئے بھی انھیں بھاری رقوم فراہم کی گئیں تاکہ غیرملکی میڈیا اورمبصرین کویہ تاثردیا جاسکے کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل امن ہے اورکشمیری انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں۔


ضمنی انتخابات کے موقع پربہت سخت انتظامات کئے گئے تھے۔بھارتی فوج نے ڈرادھمکا کرلوگوں کوپولنگ سٹیشنزلانے کی کوشش کی ۔کئی جگہ اعلانات کئے گئے کہ سیکورٹی فورسز چیک کریں گی کس نے ووٹ ڈالااورکس نے نہیں۔لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود الیکشن کاڈرامہ بری طرح فلاپ ہوگیا۔خود بھارتی میڈیا اورتجزیہ نگاروں کوبھی یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیربھارت کے کنٹرول میں نہیں رہا۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج تمام ترطاقت استعمال کرنے کے باوجود، کشمیریوں کوغلام بنانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جوبھارتی غلامی کے لئے تیارہو۔ہرشخص کی زبان پرآزادی کانعرہ ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن بھی کم ترین ٹرن آؤٹ اورعوامی بائیکاٹ سے پریشان ہے ، جس کے بعداننت ناگ میں ہونے والاضمنی الیکشن ملتوی کرکے اب 25مئی کوکرانے کااعلان کیاگیاہے۔

 

1غیرملکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ووٹنگ والے دن پولنگ اسٹیشنز سنسان پڑے تھے۔
2ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواربھی منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔
3بوڑھے، نوجوان بیٹوں کی نعشیں اٹھارہے ہیں لیکن ان کے چہروں پرخوف اورمایوسی کی بجائے آزادی کی امید ہے۔
4مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے بھارت،امریکہ سمیت، تمام ممالک کی پیشکشیں مستردکرچکاہے۔
5عالمی برادری کوطے کرناچاہئے بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل نہیں کرتاتواس کے ساتھ کیاسلوک کیا جائے،دوہرا معیارختم ہوناچاہئے۔
6بھارت ایک نام نہاد سیکولرریاست سے انتہاپسندہندوریاست کی طرف بڑھ رہاہے۔
7پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہاتھاکہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔کوئی اپنی شہہ رگ سے کیسے دستبردار ہوسکتاہے۔آج مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ پاکستانی پرچم لہرارہے ہیں،کشمیریوں کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں۔ کشمیری عوام نے بھارتی تشدداورخوف وہراس پھیلانے کے باوجود ان نام نہاد ضمنی انتخابات کاحصہ بننے سے انکارکردیاہے۔مقبوضہ کشمیرکے نوجوانوں کامقبول نعرہ ’’پاکستان زندہ باد،کشمیر بنے گاپاکستان‘‘ بن چکا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی محبت کا عالم یہ ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑمیں پاکستانی قومی ترانے کوانتہائی جوش وجذبے کے ساتھ پڑھتے ہیں،پاکستانی کرکٹرز جیسا یونیفارم پہنتے ہیں اورسبزہلالی پرچم اپنے گھروں پرلہراتے ہیں۔بھارتی فوج انھیں مارتی پیٹتی ہے، گرفتارکرتی ہے،اٹھالے جاتی ہے، لیکن وہ باربارپاکستان سے اپنی محبت کااظہارکررہے ہیں۔ایک کشمیری نوجوان نے الجزیرہ ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ’’ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہماری ماؤں،بہنوں کی عزت محفوظ نہیں، وہ ہمارے مذہب ’اسلام‘ سے نفرت کرتے ہیں،ہم سے نفرت کرتے ہیں، ہم بھارت کے ساتھ نہیں رہ سکتے‘‘۔بی بی سی سے گفتگوکرتے ہوئے ایک نوجوان نے کہا’’ہمیں الیکشن نہیں آزادی چاہئے‘‘۔کٹھ پتلی سیاست دان بھی اب اس بات کوسمجھ گئے ہیں کشمیری نوجوان الیکشن نہیں،حق خودارادیت چاہتے ہیں۔کشمیری نوجوان مختلف طریقوں سے بھارت سے اپنی نفرت کااظہارکررہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم جس کشمیری نوجوان کودہشت گرد کہتے ہیں وہ برہان وانی شہید ،کشمیری نوجوانوں کاہیرو ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے و الے احتجاج میں اب تک ایک سوسے زیادہ کشمیری شہید اور سولہ ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ نام نہادانتخابات رکوانے کے لئے احتجاج میں شہیداورزخمی ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

maqboozakashmirmain.jpg
بھارت میں ہندوقوم پرستی کواُبھارکرووٹ لینے والی بھارتیہ جنتاپارٹی ،مقبوضہ کشمیر میں بے بس نظرآتی ہے۔بی جے پی نے کامیابی کے لئے سرکاری مشینری کے ساتھ ساتھ لالچ اوردھونس سمیت ہرحربہ آزمایا لیکن وہ کشمیر ی حریت پسندوں اورحریت کانفرنس کورام نہ کرسکی ۔الیکشن کے دن بھارتی فوج اور دیگر فورسز کشمیریوں کوزبردستی ووٹ ڈالنے کے لئے مجبور کرتی رہیں ،لیکن کشمیریوں نے انھیں مسترد کردیا۔ کئی جگہ ووٹ ڈالنے کے لئے نوجوانوں کوتشدد کانشانہ بنایاگیا۔ ایسا لگ رہاتھا مقبوضہ کشمیر میں انتخابات نہیں ہورہے بلکہ فوجی مشقیں ہورہی ہیں۔ جگہ جگہ ناکے ،فوج کی گشت اورووٹ ڈالنے کے لئے کشمیریوں سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے۔کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جس نے احتجاجاََ ووٹ بھی نہیں بنوایا ہوا،وہ موجودہ بھارتی انتخابی عمل اورکٹھ پتلی ریاستی حکومت کوتسلیم ہی نہیں کرتے۔وہ جماعتیں اورکٹھ پتلی حکومت جوکل تک ریاستی جبراورتشددمیں برابرکی شریک تھیں ،کشمیری عوام کی ہمدردیاں اورووٹ حاصل کرنے کے لئے اب تشدد اورقتل عام کی مذمت کررہی ہیں۔چند سال پہلے بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کوکمزورکرنے کے لئے ایک نیا حربہ استعمال کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لئے دوسری ریاستوں سے بھارتی شہریوں کولاکرآبادکیاگیا،انھیں خصوصی مراعات دی گئیں۔ لیکن پھربھی بھارت اپنی برتری قائم نہ کرسکا۔
اس وقت ہزاروں کشمیر ی نوجوان بھارتی قید میں ہیں۔ جن کاجرم بھارتی تسلط سے آزادی اورجعلی انتخابات کابائیکاٹ ہے،یہ نوجوان چاہتے ہیں کہ انھیں حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرسکیں۔ خود بھارتی میڈیا اس بات کوتسلیم کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اکثریت بھارت سے آزادی چاہتی ہے۔ماضی میں بھارت سے وفادری دکھانے والے فاروق عبداللہ بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ’’ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکاہے اوربھارت کومقبوضہ کشمیر پرپاکستان سے بات کرنا ہوگی ،ورنہ کچھ نہیں بچے گا‘‘۔سوشل میڈیااور ٹی وی چینلزپروہ فوٹیج بہت دیکھی گئیں جن میں بھارتی فوجوں کودیکھ کرخواتین اوربچے گھروں میں چھپنے کے بجائے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوں اورسڑکوں پرنکل آئے،جواب میں بھارتی فوجیوں نے ان نہتے کشمیریوں پرپیلیٹ گن کاظالمانہ استعمال کیا۔اس پیلیٹ گن کے بارے میں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ’’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنادیتی ہے ‘‘۔ان پیلٹ گنوں کے باعث درجنوں بچے اورنوجوان عمر بھر کے لئے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مؤثرآوازنہیں اٹھائی،میرے خیال میں پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔


بھارت ایک طرف سلامتی کونسل میں مستقل نشست اورویٹو پاور کاامیدوار ہے تو دوسری طرف اس کی حالت یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمد کرنے کوتیارنہیں۔کیاعالمی برادری کوبھارت پراعتماد کرناچاہئے؟ہرگز نہیں، بھارت عالمی برادری کااعتماد کھوچکا ہے۔اس کارویہ جارحانہ اورعلاقائی بالا دستی کاہے۔وہ نیپال،بھوٹان اوربنگلہ دیش کی طرح دیگرریاستوں کوبھی اپنی سٹیٹس بناناچاہتاہے۔بھارت کایہ جارحانہ رویہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے بڑاخطرہ ہے۔


یہ وقت ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کوبھی سوچناچاہئے کہ اتنی زیادہ امریکی نوازشات کے باوجود ،بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے امریکہ کی پیشکش بھی قبول کرنے کوتیارنہیں۔ جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ سمیت تمام دوست ممالک کی پیشکش کوقبول کرتارہاہے۔بھارتی رویہ عجیب وغریب ہے۔عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی مصالحت کی پیشکش کرتی ہے توبھارت کہتا ہے یہ دوطرفہ مسئلہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر حل کرنے کاکہتاہے تو بھارت پینترا بدل کرموقف اختیارکرتا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اوروہ اس پر بات چیت نہیں کرے گا۔ لیکن کیایہ بھارتی چالاکیاں عالمی امن اورجنوبی ایشیاکے لئے تباہ کن نہیں؟عالمی برادری کوخاموشی اختیارکرنے کی بجائے اپنامؤثررول ادا کرناچاہئے۔ جوملک، چاہے وہ بھارت ہویاکوئی اور،اقوام متحدہ کی قراردادوں کوتسلیم نہیں کرتا اس پرپابندیاں عائد کردینی چاہئیں تاکہ دوسرے ممالک کوبھی نصیحت ہو۔ مسئلہ کشمیر یابھارت کے معاملے میں دوہرامعیار ،پوری دنیا کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔


دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر پربھارتی کنٹرول بھارتی فوجیوں کے جبروتشدد کی وجہ سے ہے۔جس دن بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا،مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنافیصلہ سنا دیں گے ۔کشمیریوں کے دل، دلی کے لئے نہیں اسلام آباد کے لئے دھڑکتے ہیں۔

 

سوشل میڈیااور ٹی وی چینلزپروہ فوٹیج بہت دیکھی گئیں جن میں بھارتی فوجوں کودیکھ کرخواتین اوربچے گھروں میں چھپنے کے بجائے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوں اورسڑکوں پرنکل آئے،جواب میں بھارتی فوجیوں نے ان نہتے کشمیریوں پرپیلیٹ گن کاظالمانہ استعمال کیا۔اس پیلیٹ گن کے بارے میں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ’’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنادیتی ہے ‘‘۔ان پیلٹ گنوں کے باعث درجنوں بچے اورنوجوان عمر بھر کے لئے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مؤثرآوازنہیں اٹھائی،میرے خیال میں پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔

بھارتیہ جنتاپارٹی کی فرقہ وارانہ اورقومیت پرمبنی سوچ نے بھی نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت کی دیگرمذہبی اقلیتوں کویہ سوچنے پرمجبورکردیا ہے کہ بھارت میں ان کامستقبل کیاہے؟مذہبی اقلیتیں عملاً دوسرے درجے کی شہری بن چکی ہیں۔آج بھارت میں آپ کسی مسلمان یاغیرہندوپرالزام لگادیں کہ اس نے گائے ،جسے سرکاری طورپرمقدس جانور قرار دے دیا گیاہے ، ’’بے حرمتی‘‘ کی ہے۔بس انتہاپسند ہندو اورریاست دونوں فورا حرکت میں آجائیں گے۔ اخبارات روزانہ ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں ،مسلمان نوجوانوں کوگائے کے معاملے میں کس طرح تشدد کانشانہ بنایاجاتاہے ۔بھارتی لوک سبھا کے بعض اراکین کھلے لفظوں میں کہہ رہے ہیں ’’انسانی جان کی قیمت گائے سے زیادہ نہیں ‘‘۔ بھارت بہت تیزی سے ایک نام نہاد سیکولرریاست سے ہندوریاست کاسفر طے کررہاہے۔جہاں کروڑوں انسانوں کی زندگیاں غیرمحفوظ ہوگئی ہیں۔ہمیں اس خدشے کوبھی مدنظررکھناہوگاکہ ہندووانہ پالیسیوں اورمظالم سے تنگ آ کر روہنگیا مسلمانوں کی طرح، بھارتی مسلمان اورغیرہندوبڑی تعدادمیں پاکستان اوربنگلہ دیش ہجرت کرسکتے ہیں۔حادثاتی طورپروزیراعظم کامنصب سنبھالنے والے کسی شخص سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ وہ جواقدامات کررہاہے اسے اُن کے سائیڈایفیکٹس کااندازہ بھی ہوگا۔
کچھ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے،ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے کیاکررہے ہیں،سرکاری طورپرکشمیریوں کی شہادت پراخباری ردعمل جاری کردیاجاتاہے اس کے بعد اس وقت تک ایک خاموشی ،جب تک مزید کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی خبرنہیں آجاتی۔ہمیں اپنے رویے کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے اندریہ احساس پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کشمیریوں کی امیدوں کامرکز ہیں۔کیاہمیں علم نہیں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ،مسئلہ کشمیر عالمی سطح پراجاگرکرنے کے لئے کیا اقدامات کررہے ہیں۔ سوائے خاموش رہنے کے۔ مجھے یاد ہے جب اُس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے بزرگ سیاست دان اوربابائے اپوزیشن نواب زادہ نصراللہ خان کوکشمیر کمیٹی کاچیئرمین بنایاتوانہوں مسئلہ کشمیر کواپنااوڑھنابچھونابنالیا۔کئی ممالک کے دورے کئے،ان کی ہرگفتگو،ہرخطاب اورہرانٹرویو کاآغاز مسئلہ کشمیر کواجاگرکرنے سے ہوتاتھا۔ ان کی بیٹھک کے دروازے کشمیریوں اورکشمیری رہنماؤں کے لئے کھلے رہتے تھے۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اب تک کئی فارمولے اورحل پیش کئے جاچکے ہیں،بہت سے بیک ڈورچینلز اورڈپلومیسی اختیارکی جاچکی ہے۔لیکن ان سب کوششوں کے باوجود مسئلہ کشمیر جوں کا توں اپنی جگہ موجود ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار بھارت کاہے ،جومیں نہ مانوں والی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔بہت سے حکمرانوں کادعوی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پہنچ گئے تھے لیکن پھرکوئی نہ کوئی ایساواقعہ ہوگیا کہ ساری محنت پرپانی پھرگیا۔


بھارت سرکار نے الیکشن کے انعقاد کوکامیاب بنانے کے لئے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کوجیلوں میں ڈال دیا، سیکڑوں کارکنوں کوگرفتارکرلیا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کامؤقف واضح ہے ’’نام نہاد انتخابات، حق خود ارادیت کامتبادل کسی صورت نہیں ہوسکتے‘‘۔ ایک طرف بھارتی مراعات اورپیشکشیں ہیں اوردوسری طرف مشکلات ،اذیتیں اورصعوبتیں ہیں۔ کشمیر ی، بھارتی غلامی سے آزادی کے لئے جان ومال کی قربانی دینے کاعزم کرچکے ہیں۔آج بوڑھے کشمیر ی اپنے جوان بیٹوں کی نعشیں اٹھارہے ہیں لیکن ان کے چہروں پرملال اورافسردگی نہیں ایک نئی صبح اوربھارت سے آزادی کی امید ہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ امریکہ کے جنگی اخراجات کو کم کرکے اسی سرمائے کو امریکی شہریوں کی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں گے۔امریکہ کے اندر وہ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتے ہیں، اس بارے تو کچھ کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔ تاہم شام اور افغانستان کو ملٹر ی انڈسٹریل کمپلیکس کی خوفناک جنگی ایجادات سے نواز کر دنیا کو بڑا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو تختہ مشق بنائے رکھنے کا امریکی وطیرہ برقرار رہے گا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ شام کے ائیربیس کو نشانہ بنانا اور افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانا ، ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پالیسی ہے یا اس نے اپنے اقتدار کے دوام اور کاروباری مفادات کی خاطر جنگی پالیسی کے سامنے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ گرچہ دونوں حملوں کا نشانہ براہ راست دو اسلامی ملک بنے ہیں تاہم بالواسطہ طور پر دونوں حملوں میں نہ صرف روس کے مفادات کو چوٹ پہنچی بلکہ باالفاظ دیگر اسے متنبہ کیا گیا ہے۔


صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے فوراً بعد سی آئی اے نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے، اس الزام کے تحت دونوں کے مابین سفارتی تعلقات میں تناؤ اتنا بڑھاکہ امریکہ نے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر بھی کردیا ، گرچہ اس وقت روس کی جانب سے بھی سخت ردعمل متوقع تھا مگر صدر پیوٹن نے اعلان کیا کہ روس ردعمل میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کریگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کہ جنہوں نے بطور صدر ابھی حلف نہیں لیا تھا، روس کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور امریکہ روس تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس سے قبل کہ نومنتخب امریکی صدر کی اس خواہش کو عالمی میڈیا میں پذیرائی ملتی متعدد ممالک کے کئی شہروں میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ جسے عالمی میڈیا کی بھرپور توجہ ملی۔ ان ہنگامہ خیز خبروں میں جنگی پالیسیوں میں بدلاؤ، حریف ممالک سے تعلقات میں بہتری جیسی امیدیں گم ہوکر رہ گئیں۔ نتیجتاً دو ملکوں شام اور افغانستان میں امریکہ نے انتہائی غیر متوقع اور غیر ضروری حملے کئے ہیں۔


7 اپریل 2017 کو علی الصبح مشرقی بحیرہ روم میں تعینات امریکی بحری بیڑے نے شام پر ٹوماہاک کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔ حملے میں امریکی بحری بیڑے نے شام کے صوبے حمص میں واقع الشعیرات اڈے پر59 ٹوماہاک کروز میزائل داغے۔الشعیرات اڈے کا جو کہ صوبہ حمص میں شہر حمص سے 31 کلو میٹر جنوب مشرق میں تدمر روڈ پر واقع ہے، شامی افواج اور باغیوں یا دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں اہم کردار رہا ہے ۔ حال ہی میں روس سے لئے جانے والے سخوئی اورمِگ 40 طیارے اسی بیس پر ہی رکھے گئے ہیں۔ روس اور شام نے ایس400 میزائل سسٹم کے لئے بھی اسی اڈے کا انتخاب کیا تھا۔ باالفاظ دیگر شام میں امریکہ نے جس اڈے کو نشانہ بنایا وہ شام اور روس کے مشترکہ زیراستعمال تھا۔
دوسرا بڑا حملہ مریکہ نے پاک افغان سرحد سے متصل صوبہ ننگرہار کے قریب اچین ضلع میں کیا۔ جس میں دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہر ی بم کو استعمال کیا گیا۔اس خوفناک بم کو ماسو آرڈننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) بم کہا جاتا ہے ، جس میں 11 ٹن وزنی بارودی مواد تھا۔ اپنے نام کے مخفف کے لحاظ سے، امریکی فضائیہ میں عرف عام میں اِسے ’’مدر آف آل بمز‘‘کہا جاتاہے ۔ یہ بم امریکی فضائیہ کے سی 130 طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے گرایا گیا۔ یہ 30فٹ لمبااور 40 انچ چوڑا ہے اور اس کا وزن 9500کلوگرام ہے ، وزن میں یہ ہیروشیما ایٹم بم سے دوگنا بڑاتھا۔عینی شاہدین کے مطابق بم پھٹتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ جیسے قیامت آگئی ہو۔ اس بم کی قیامت خیزی کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دواضلاع میں دور تک اس بم کی آواز سنی گئی اور اس کے اثرات افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بھی مرتب ہوئے۔متعدد علاقوں کی بیشتر عمارات میں دراڑیں آگئیں۔ اچین اور قریبی اضلاع میں پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے اور زمین میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ’’موآب‘‘ اس وقت چلایا گیا جب روس کے دارالحکومت ماسکو میں افغانستان کے مستقبل سے متعلق کانفرنس جاری تھی۔ اس کانفرنس میں خطے کے گیارہ ممالک چین، روس، ایران، ہندوستان، پاکستان، ازبکستان، قازقستان، ترکمانستان، کرغزستان،ا فغانستان اور تاجکستان شامل تھے۔

 

khitymainamank.jpgماسکو کانفرنس افغانستان کے امن سے متعلق اس تین رکنی فورم کا تسلسل تھی کہ جس میں پہلے ابتدائی طور پر چین ، روس اور پاکستان شامل تھے، بعد ازاں اس میں خطے کے تمام ممالک کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایسی کانفرنس کہ جس میں خطے کے تمام ممالک شریک تھے اس کا امریکہ نے بائیکاٹ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں خطے کے اندر روس کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا۔ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ امریکہ نے افغان امن سے متعلق ہونے والے سنجیدہ اقدامات یا مذکرات کو سبوتاژ کیا ہو۔ ماضی قریب میں بھی امریکی رویہ اس امر کا عکاس ہے کہ امریکہ بشمول نیٹو افغانستان میں پائیدار قیام امن کی کوششوں کو اپنے مفادات کے منافی سمجھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل چین نے بھی پاکستان اور افغانستان کو ساتھ لے کر ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا۔ امن کے حوالے سے کچھ پیش رفت بھی ہوئی کہ امریکی خواہش پر امریکہ کو اس میں شامل کرکے تین رکنی سے چار رکنی فورم کردیا گیا۔ امریکہ نے خود شامل ہونے کے بعد اس پلیٹ فارم سے بھی کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہونے دی بلکہ اقوام متحدہ میں جاکر افغانستان اور ہندوستان کو ساتھ ملاکر افغانستان کے مستقبل سے متعلق ایک نئی مثلث تشکیل دے دی۔ امریکہ کا یہ طرز عمل کم از کم اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ افغانستان میں سب کچھ امریکی ترجیحات میں شامل ہے ، ماسوائے امن کے۔


قرائن بتاتے ہیں کہ اکتوبر 2001ء میں نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ افغانستان میں امن کے دیپ روشن کرنے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے حصول اور خطے میں اپنی چودھراہٹ کا خواب لے کر آیا تھا۔ امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا تھا۔ ابھرتی ہوئی طاقت چین کا راستہ بھی روکنا تھا۔ ایران اور روس کے قریب بھی رہنا تھا اور پاکستان کے جوہری پروگرام پر بھی نگاہ رکھنا چاہتا تھا۔ بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قیام کے بعد افغانستان یا پاکستان میں امریکہ اپنا عسکری وجود بھرپور قوت کے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔اپریل 1996ء میں شنگھائی فائیو کی بنیاد رکھی گئی ۔جس میں روس اور چین دونوں شامل تھے۔ جبکہ ازبکستان شامل نہیں تھا۔ جون2001ء میں ازبکستان نے شمولیت اختیار کی۔جب شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وجود میں آنے کے تھوڑے ہی عرصے میں نائن الیون کا حادثہ برپا ہوا۔ گرچہ اس واقعے میں کوئی ایک حملہ آور بھی افغان نہیں تھا مگر اس کے باوجود افغانستان پہ امریکہ نے نیٹواور دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ چڑھائی کی۔ افغانستان جو کہ ایک طویل جنگی اور خانہ جنگی کی تاریخ اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ امریکہ کے لئے اتنا ہی آسان ہدف ثابت ہوا کہ آج سولہ سالہ قبضے کے بعد بھی امریکہ کو افغانستان میں دنیا کے سب سے بڑے بم چلانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔


اپنے وقت کی تین بڑی طاقتوں نے یکے بعد دیگرے افغانستان کوترنوالہ بنانے کی کوشش کی ہے مگر بالآخر تینوں کی کوششیں ناکامی پہ منتج ہوئیں۔ سلطنت برطانیہ ،کہ جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، نے دو دفعہ افغانستان سر کرنے کی کوشش کی۔ 1838سے 1842، 1870سے 1880،اینگلو افغان جنگوں میں افغان قبائل کے بیچ پھوٹ ڈالنے کے باوجود بھی برٹش افواج کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ 1979ء میں کمیونسٹ روس افغانستان میں داخل ہوا۔ افغانستان میں پندرہ ہزار روسی فوجوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔افغانستان سے نکلنے والے آخری روسی فوجی کے الفاظ تھے کہ نو سالہ جنگ کے بعد آج ایک بھی روسی فوجی افغانستان میں موجود نہیں ہے۔ اکتوبر2001 میں امریکہ نے نیٹو ممالک کے ساتھ حملہ کیا۔ 16سالہ جنگ کے بعد اسی افغانستان میں امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانا پڑا ۔ 2013 ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے جریدے میں عراق اور افغان جنگ پر امریکی اخراجات کا تخمینہ چار سے چھ ٹریلین یو ایس ڈالر لگایا گیا۔
گزشتہ تیس سال سے افغانستان منظم اداروں سے محروم ملک چلا آرہا ہے، جس کے باعث اپنے وسائل اور آبادی کے اعداد و شمارکے حوالے سے بھی دوسروں کا دست نگر ہے۔ اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق پختون افغانستان کی کل آبادی کا تقریباً42فیصد، تاجک27فیصد،ہزارہ 11فیصد، ازبک9فیصد ہیں جبکہ ایمق، ترکمن،بلوچ، نورستانی اور قزلباشوں کی بھی قابل ذکر تعداد افغان آبادی کا حصہ ہے۔ مشرقی اور جنوبی افغانستان کو خالصتاً پشتونوں کا علاقہ قرار دیا جاتا ہے ۔کابل کے جنوب مغرب میں واقع علاقے بھی روایتی طور پر پختونوں ہی کا خطہ تصور کئے جاتے ہیں ۔تاجک زیادہ تر کابل شہر ، بدخشان اور کاپیسا کے صوبوں میں مقیم ہیں ، لیکن دوسری طرف انتہائی جنوبی صوبے یعنی ہرات میں بھی تاجکوں کی کافی بڑی تعداد نے سکونت اختیار کررکھی ہے ۔ ہزارہ نسل کے لوگ وسطی افغانستان میں مقیم ہیں ۔ ان کے اس علاقے کو ہزارہ جات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور بامیان صوبے کو اس کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے ۔ ایمق افغانستان

کے وسطی پہاڑی سلسلے کے مغربی علاقوں میں بس گئے ہیں ۔ کوہ ہندوکش کے شمال کا علاقہ ازبک قوم کا علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور مزار شریف کو ان کے مرکز اور اہم شہر کا درجہ حاصل ہے ۔


ایک طرف طویل جنگی تاریخ اور جنگ کو بطور پیشہ اپنائے رکھنے والے وہ افغان ہیں، جو نسلی، مسلکی اور لسانی اعتبار سے منقسم ہیں اور پاور شیئرنگ پہ بھی یقین نہیں رکھتے۔ دوسری طرف افغانستان پرامریکہ اور نیٹو کی صورت میں وہ قوت مسلط ہے کہ جو اپنا مفاد آج بھی جنگ اور بدامنی میں کھوجتی ہے۔ جس کے باعث مستقبل قریب میں افغانستان کے حالات میں بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔حتیٰ کہ امریکہ و نیٹوفورسز کا افغانستان سے فوری اور مکمل انخلابھی افغانستان میں پائیدار قیام امن کی ضمانت نہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان سرزمین پر متحارب قبائل و گروہ ہوں کا پاور شیئرنگ پر یقین نہ ہونا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف مختلف جہادی گروہ برسرپیکار تھے جو کہ امریکی مفاد کی جنگ لڑ رہے تھے جسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے ’’جہاد‘‘ ڈکلیئر کیا گیا ۔ ’’مجاہدین ‘‘ اپنی دانست میں ’’جہاد‘‘ اور حقیقت میں مختلف ممالک کے مفادات کی لڑائی میں مصروف رہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوویت یونین کے افغانستان میں آنے سے انخلاء تک امریکی مفاد کی جنگ لڑی گئی۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے نائن الیون تک خطے کے بالخصوص پڑوسی ممالک کے مفادات کی جنگ افغان و بیرونی گروہوں نے لڑی۔ اکتوبر 2001سے تاحال دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر قبضے اور عزائم کے حصول کی جنگ جاری ہے۔ان تمام جنگوں کے باوجود یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کوئی ایک بھی مسلح گروہ دوسرے کی بالادستی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ یہ مسلح گروہ دوسرے ممالک کی مفاد کی جنگ بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، جس کو بنیاد بناکر مستقبل کے نئے نقشے ترتیب دینے کی چہ میگوئیاں ہیں۔


سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، جبکہ امریکہ کے افغانستان پہ حملے و قبضے میں پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اور نان نیٹو اتحادی تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ افغانستان کی تعمیر و ترقی بالخصوص شعبہ جاتی و ادارہ جاتی تعاون میں پاکستان کو مقدم رکھتا ، اس کے برعکس امریکہ نے افغانستان میں نہ صرف بھارت کے قدم مضبوط کئے، بلکہ پاکستان کی تمام تر قربانیوں اور تعاون کو فراموش کرتے ہوئے دہشتگردوں سے تعاون کا الزام عائد کیا۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کو وار زون ڈکلیئر کرتے ہوئے پاکستانی علاقے میں کارروائیاں بھی کیں۔ افغانستان سے ماضی کے ’’مجاہدین‘‘ اور حال کے ’’دہشتگردوں‘‘ کو فاٹا میں دھکیلا گیااور پھر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فاٹا میں آپریشن کرے۔ پاکستان سے اس میں کچھ توقف ہوا تو تحریک طالبان پاکستان بن گئی ۔ جس کا مرکز پہلے فاٹا اور فاٹا میں فوجی آپریشن کے بعد افغانستان شفٹ ہوا۔ جہاں سے براہ راست یہ بھارتی سرپرستی میں چلی گئی۔بھارت نے بھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ مشرقی سرحد پر جنگ کے ذریعے کبھی بھی پاک فوج کو زیر نہیں کرسکتا، اس نے مغربی سرحد پہ بھی پاک فوج کو انگیج کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کے دفاع و سلامتی پر دہشتگردانہ حملوں کی افغانستان کی زمین سے براہ راست سرپرستی بھی کی۔ دوسری جانب امریکہ افغان طالبان کی قوت توڑنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکا۔ سولہ سالہ جنگ کے بعد بھی افغان طالبان ایک حقیقت ہیں اور کئی علاقوں میں اپنا مسلمہ وجود رکھتے ہیں۔گرچہ پاکستان افغان طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی تھا، اس کے باوجود آج بھی امریکہ و افغان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز تک لائے۔ حالانکہ اس تاثر کو اب ختم ہونا چاہئے کہ افغان طالبان پاکستان کے زیر اثر ہیں اور پاکستان کی بات مانتے ہیں، یہاں تک کہ جب ملا عمر برسراقتدار تھے تو اس وقت انہوں نے جنرل مشرف کی بات نہیں مانی تھی اور جنرل محمود کو خالی لوٹا دیا تھا۔


یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ داعش کا جنم اس وقت عراق میں ہوا جب امریکہ عراق میں موجود تھا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ داعش کے بنانے میں امریکی کردار کارفرما تھا۔داعش نے انتہائی مختصر عرصے میں یورپ سمیت کئی ممالک میں اپنے وجود کا احساس دلایا۔ بالخصوص یورپ کے ان ممالک کو داعش نے زیادہ نشانہ بنایا ،جنہوں نے عراق و شام میں بمباری کے لئے امریکہ کا ساتھ دینے سے معذوری اختیاری کی، جیسا کہ فرانس۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح افغانستان میں بھی داعش نے اپنی موجودگی کا اعلان کیا اور داعش میں سب سے پہلے ان دہشت گردوں نے شمولیت کا اعلان کیا، جنہیں بھارتی یا اس کے سرپرستوں کی چھتر چھایا حاصل تھی۔ جس سے اس خیال کو تقویت ملی کہ اب طالبان کی قوت کو توڑنے اور افغانستان کو ’’کنٹرولڈ ڈسٹرب‘‘
(Controlled Chaos)
میں رکھنے کے لئے باقاعدہ طور پر افغانستان میں داعش کی سرپرستی کی جارہی ہے ۔خطے میں اس نئے وبال سے افغان حکومت سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑی اور داعش کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کی فضا میں روس، ایران، چین ، پاکستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں سے روابط بھی کھل کرسامنے آئے۔ یہ وہی دور تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے مری مذاکرات کا اہتمام کیا، مگر ’’دوستوں‘‘ کو کہاں گوارا تھا کہ افغانستان میں امن سے پورا خطہ پرسکون ہو اور تعمیر و ترقی کی شاہراہ پہ چلے۔ چنانچہ مختصر وقفے سے طالبان امیر ملا اختر منصور کو بلوچستان میں نشانہ بنایاگیا، جس کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان مذاکرات کے ذریعے امن کا قیام ایک خواب بن کررہ گیا۔


بھارت میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ ویل نے چند برس قبل اپنی حکومت کو افغانستان میں امن سے متعلق ایک تجویز پیش کی تھی، گرچہ اس تجویزکے مطابق رابرٹ ویل نے امریکی حکومت اورنیٹو کو مشور ہ دیا تھا کہ پختون افغانستان اور غیر پختون افغانستان کوتقسیم کردیا جائے۔ بیرونی افواج (امریکہ، نیٹو) غیر پختون افغانستان (شمالی افغانستان) میں اپنا مرکز رکھیں۔ گرچہ طالبان کا گڑھ پختون علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم طالبان ، یا بیرونی افواج کے خلاف متحرک گروہ لسانی طور پر منقسم نہیں ہیں۔ مختلف لسانی گروہ افغانستان کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر شمال میں واقع قندوز صوبے میں پختونوں کی اکثریت ہے تو دوسری طرف جنوبی صوبے ہرات میں تاجک، ازبک، ہزارہ اکثریت میں ہیں جبکہ لوگر جیسے پختون علاقوں کے درمیان واقع صوبے میں بھی بڑی تعداد میں تاجک بستے ہیں ۔ ایسا بھی نہیں کہ شمال میں رہنے والے صرف ایک قومیت کے لوگ ہیں، یا جنوب میں صرف ایک ہی زبان کے بولنے والے موجود ہیں۔ چنانچہ لسانی بنیادوں پر تقسیم یا امن کی خواہش شائد اتنی سود مند نہ ہو ، تاہم انتظامی بنیادوں پر تقسیم اور پاور شیئرنگ کے ذریعے کسی حد تک افغانستان میں امن ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ شام کی طرز پر افغانستان میں بھی ’’پیس زونز‘‘ قائم کرکے کئی علاقوں میں امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ شاعر مشرق افغانستان کو ایشیا کا قلب مانتے تھے۔ قلب میں بے سکونی ہو تو جسم میں سکون ممکن نہیں، لہٰذاخطے کے امن کے لئے پرامن افغانستان ضروری ہے۔ جس کے لئے خطے کے تمام ممالک کو نیک نیتی سے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔


آسیا یک پیکرِ آب و گِل است
ملتِ افغاں در آں پیکر دل است
از گشادِ او گشادِ آسیا
از فسادِ او فسادِ آسیا

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
May

تحریر: جویریہ صدیق

22فروری سے آپریشن رد الفساد ملک بھر میں جاری ہے۔فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب لگانے کے لئے جس آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے ابتدائی مراحل کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اچانک بڑھ گئے تھے جو اب بہت حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے پیچھے پاک فوج‘ انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور رینجرز کی شب و روز کی محنت کارفرما ہے۔


آپریشن رد الفساد کے تحت فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بارڈر مینجمنٹ، ملک سے ناجائز اسلحے اور بارودی مواد کا خاتمہ، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور دہشت گردوں اور خارجیوں کی کمین گاہوں کے خاتمہ پر بھی مثبت پیش رفت جاری ہے۔
آپریشن رد الفساد کے آغاز میں ہی دو مزید چیزیں سامنے آئیں جن سے فوج نبرد آزما ہے وہ ہے انتہا پسندی اور افواہ سازی۔ سوشل میڈیا پر جعلی سرکلر کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ہمارے خودساختہ دانشور بنا کسی تحقیق کے اس سرکلر کو اچھالتے رہے اور دو صوبوں کے درمیان نفرت کو ہوا دیتے رہے۔ہمارے کچھ میڈیا کے بہن بھائی جن کے پاس خبروں کی کمی ہوتی ہے وہ بھی جعلی خبروں کو اچھالنا شروع ہوگئے۔


بعد ازاں یہ بھی پتہ چل گیا کہ سرکلر جعلی ہے پھر بھی پنجاب پولیس نے معذرت کی۔ لیکن اس جعلی سرکلر کی آڑ میں پاکستان اور پاکستان کے عسکری اداروں پر بے تحاشہ کیچڑ اچھالا گیا۔
یہ واقعہ یہاں پر اس بات کو عیاں کرگیا کہ جنگ اور آپریشن اب صرف زمین پر نہیں ہوتے بلکہ جنگیں اب سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاپر بھی لڑی جارہی ہیں۔کسی بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرتے وقت یہ بات پیشِ نظر رکھی جائے کہ اس کے مخالف سوشل میڈیا اور دوسرے میڈیا پر کیا کہا جا رہا ہے؟ تنقید برائے تنقید اور ملک کو بدنام کرنے کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ان کے پیچھے کون سی لابی ہے؟ فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ اس پر بھی ایک رد الفساد کی اشد ضرورت ہے۔


دوسرا اہم پہلو جو رد الفساد کے آغاز کے بعد سامنے آیا وہ ہے انتہا پسندی۔ جوکہ ہمارے معاشرے میں موجود تو پہلے سے ہے لیکن اب اس کا استعمال دہشت گردوں نے منظم طریقے سے شروع کردیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں دہشت گردوں کی مبینہ ساتھی نورین لغاری کی ویڈیو جاری کی۔ جس کو دیکھ کر ہر پاکستانی ماں اور باپ ورطۂ حیرت میں آگئے کہ ہمارے بچے تعلیمی اداروں سے کہاں سے کہاں پہنچ سکتے ہیں۔نورین لغاری کے والد پروفیسر‘ وہ خود میڈیکل کی طالبہ کیسے دہشت گردوں تک پہنچ گئی۔ یہاں پر ذمہ داری فوج یا حکومت پر نہیں والدین پر عائد ہوتی ہے۔فوج نے تو اس کو بازیاب کروایا‘ اس کی بحالی پر کام چل رہا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لڑکی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوگئی اور والدین غافل رہے۔


فوج کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر گھر یا یونیورسٹی میں آکر دیکھے کہ ہماری نئی نسل اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر کیا کررہی ہے؟ ان کے فیس بک فرینڈز کون ہیں؟ وہ ٹویٹر پر کس کس کو فالو کرتے ہیں؟ان کے دوست احباب کون ہیں؟ ان کے اساتذہ کس طرح کے خیالات کے مالک ہیں؟کیا رد الفساد میں بحیثیت پاکستانی ہم سب کا فرض نہیں بنتا کہ اپنا اپنا حصہ ڈالیں؟ کیا پاک وطن کے دفاع کے لئے میرا آپ کا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے اردگرد دہشت گردی اور انتہا پسندی کو رپورٹ کریں؟ جہاں تک ہوسکے اس کا سدباب کرنے کی کوشش کریں؟

 

آپریشن رد الفساد کے تحت فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہے ہیں۔

آپریشن رد الفساد کی ایک اور بڑی کامیابی کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کا ہتھیار ڈالنا ہے۔اپنے اعترافی بیان میں احسان نے طالبان کی حقیقت کو عیاں کردیا ہے طالبان کوئی اسلام کی جنگ نہیں لڑ رہے وہ کرائے کے قاتل ہیں اور اس وقت را اور این ڈی ایس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔انہیں بھارت اور افغانستان سے بھاری فنڈنگ دی جاتی ہے جس کے بعد وہ پاکستان میں آکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہے ۔یہاں تک کے طالبان پاکستان کے خلاف اسرائیل سے بھی مدد لینے کو تیار تھے ۔ایک اور خوفناک انکشاف جو احسان اللہ احسان نے کیا وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر طالبان اسلام کی غلط تشریح کرتے رہے اور نوجوانوں کو بھٹکایا۔اس اعتراف یہ بات مزید عیاں ہوگی کہ ہمارے دشمنوں اور دہشت گردوں کا مین ہدف اب ہماری یوتھ ہے۔وہ انہیں ورغلا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔


فوج اپنی جنگی ڈاکٹرائن کے تحت کامیابی کے ساتھ ردالفساد آپریشن کررہی ہے۔اس سے پہلے ہونے والے ملٹری آپریشنز، المیزان، راہ راست،راہ نجات اور ضرب عضب خالصتاً فوج نے لڑے۔لیکن رد الفساد میں عوام کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا انہیں اسلحہ نہیں اٹھانا، انہیں خود فیصلے کرکے ہجوم کا انصاف نہیں کرنا، انہیں صرف اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے ہیں۔ اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہے کہ ان کے دوست کون ہیں اور وہ اپنا جیب خرچ کہاں صرف کررہے ہیں۔اگر ان کے رہن سہن میں بدلاؤ دیکھیں تو ان سے بات کریں انہیں ماہر نفسیات کو دکھائیں۔ان کو راہ راست پر لائیں۔


مکان کرائے پر دیتے وقت نادرہ کا شناختی کارڈ طلب کریں۔اس کی قریبی نادرہ سینٹر سے تصدیق بھی کروائیں کہ اصلی ہے یا جعلی۔ملازم رکھتے وقت اس کے کوائف کی بھی تصدیق کروائیں۔کسی کو گاڑی کرائے پر دیتے وقت لائسنس اور شناختی کارڈ کی کاپی اپنے پاس رکھیں۔اپنا شناختی کارڈ دیتے وقت اس پر لکھ دیں کس مقصد کے لئے آپ یہ شناختی کارڈ دے رہے ہیں۔کسی بھی شخص، رشتہ دار یا عزیز کو اپنے شناختی کارڈ پر سم خرید کر نہ دیں۔آپ کی کم فہمی سے کہیں ایسانہ ہوکہ آپ دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہوجائیں۔


فسادی اب فساد کا بیج ہمارے تعلیمی اداروں میں بو رہے ہیں۔عسکری طور پر شکست کے بعد اب ان کا ٹارگٹ ہمارے بچے ہیں جنہیں وہ برین واشنگ کرکے ورغلا رہے ہیں۔تعلیمی اداروں میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لئے جامعات میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند ہونا چاہئے۔ وہاں پر سیاسی جماعتوں کے ونگز پر پابندی عائد کی جائے، اسلحے کی ممانعت ہو، درس گاہوں کی انتظامیہ اور اساتذہ کے لئے بھی قوانین مرتب کئے جائیں جس کے تحت نہ تو وہ دائیں اور نہ ہی بائیں بازو کی انتہا پسندی کو فروغ دے سکیں۔نصاب میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ 1980 کا نصاب 2017 میں پڑھانا زیادتی ہے۔ دنیا بدل چکی ہے ہم ٹریکٹر کے چار پہیوں میں پھنسے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کے درمیان ہر ماہ میٹنگ رکھی جائے تاکہ طالب علم کی کارکردگی سے اس کے والدین آگاہ رہیں۔بچوں کے بڑے ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ گھر والے ان کی سرگرمیوں سے غافل ہو جائیں۔


فوجی اپنا کام کررہے ہیں، لیکن، کیا آپ اپنا کام کررہے ہیں؟کچھ فسادی سوشل میڈیا پر ہر وقت پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ہر محب وطن پاکستانی کا بھی فرض بنتا ہے کہ جواب دلیل اور حقائق کے ساتھ دیں۔سوشل میڈیا پر بیٹھے یہ فسادی طالبان اور داعش سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔یہ دہشت گردعالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اگر ان کے خلاف کارروائیاں نہ کی گئیں تو وہ پاکستانی ریاستی اداروں کو مزید متنازعہ بنا کر پیش کرتے رہیں گے۔پاکستانی بلاگرز اور انٹرنیٹ سٹارز کو چاہئے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے سے ملک میں اعتدال پسندی اور پاکستانیت کو فروغ دیں۔


سیاستدان بھی ایک دوسرے کے خلاف سیاسی چپقلش میں نوجوان نسل کو استعمال نہ کریں۔نوجوان ملک کا ساٹھ فیصد ہیں انہیں تعلیم، ثقافت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔شعرائے کرام، فلم، ڈرامہ نگار، ادیب اور دانشور انتہاپسندی کے خلاف لکھیں اور ملک سے محبت کا کلام لکھیں۔صحافیوں کو بھی چاہئے کہ وہ مثبت خبروں پر کام کریں ہر وقت منفی خبریں دیکھنا بھی ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔


عوام سے گزارش ہے چندہ دیتے وقت یہ خیال رکھیں کہ آیا آپ ان پیسوں سے فلاحی کام ہی کررہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنے ہم وطنوں کے خلاف استعمال ہونے والی گولی خرید رہے ہیں۔دہشت گردوں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان، ملا فضل اللہ، مجلس الاحرار، داعش اور لشکر جھنگوی کو بہت بڑی فنڈنگ بھارت سے مل رہی ہے۔ان پیسوں سے یہ سہولت کار خریدتے ہیں۔ سہولت کار بارڈر پار سے نہیں آتے، یہیں موجود ہیں۔کچھ لوگ تو سادہ لوحی میں اور کچھ پیسوں کے لالچ میں ایسا کر جاتے ہیں۔مقامی لوگ دہشت گردوں سے ہوشیار رہیں اور اپنی ہی دھرتی کے خلاف استعمال نہ ہوں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے اور ہمیں مل کر فسادیوں سے اپنا ملک پاک کرنا ہوگا۔ تو آئیے مل کر اپنی فوج کا ساتھ دیں اور ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

مضمون نگار صحافی اور فوٹوگرافر ہیں اور ’سانحہ آرمی پبلک سکول شہداء کی یادداشتیں‘ کتاب کی مصنفہ ہیں ۔

Twitter @javerias

 
09
May

تحریر: محمد عامر رانا

انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔

 

جب کچھ رجحانات خطرے کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں توان کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور نفسیاتی توجیحات کی جاتی ہیں۔ ان موضوعات پر تحقیق مسلسل جاری ہے لیکن فی الوقت یہ یقین کرنے میں وقت درکار ہے کہ وہ کیا عمل ہے جوکسی فرد کی ذہنی کیفیت یکدم تبدیل کردیتا ہے اور وہ دہشت گردی کا ایندھن بننے پر تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ ایسے افراد دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے منسلک ہونے سے پہلے مذہبی اجتماعیت کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں اور عموماً ان کا یہ سفر غیر عسکری مذہبی جماعتوں اور تحریکوں سے شروع ہوتا ہے۔
غیر عسکری مذہبی قوتیں ابہام کا شکار ہیں اور وہ دہشت گردی کی مکمل مخالفت کرنے سے ہچکچاتی ہیں اور اس ابہام کا الزام اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں۔ جب دینی مدارس یا ان سے منسلک تنظیموں کے وابستگان دہشتگردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو جدید مذہبی ادارے ان سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جدید تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے افراد دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو مدارس کے وابستگان انگشت نمائی دوسری جانب کرتے ہیں۔


یہ مسئلے کے ادراک سے انکار اور راہ فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شدت پسندی کا مسئلہ خاصا پیچیدہ ہے اور ریاست اسے فوری حل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ حل کیا ہو؟ بات گھوم پھر کر بیانیے پر آ کر ٹک جاتی ہے۔ بیانیے کو ایک موم کی ناک سمجھا جاتا ہے کہ جیسے چاہے موڑ لی یا گھما دی۔ نہ صرف حکومت بلکہ دانشور طبقے کا ایک حصہ بھی اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ بیانیے آرڈر پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔ گویا جب ایک بیانیے کی افادیت باقی نہ رہے یا اس سے نقصان ہونے لگے تو فوری طور پر اسے نئے بیانیے سے تبدیل کر دیا جائے۔


اس حوالے سے پاکستان میں دو آراء پائی جاتی ہیں ۔ ان میں پہلا خالصتاً مذہبی بیانیہ ہے اور ریاست نہ صرف اسے قبول کرتی ہے بلکہ خود کو اس اقلیم کا محافظ بھی گردانتی ہے۔ دوسرا بیانیہ سیکولر ہے جسے متبادل بیانیہ بھی کہا جاتا ہے جو کہ جدید اور ترقی پسند سماج کا تصور پیش کرتا ہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے اس مسئلے کا طویل مدتی حل تجویز کیا جاتا ہے جس میں نصابی اصلاحات سے ثقافتی اظہار اور سماج و ریاست کے باہمی تعلقات میں تبدیلی سمیت بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ یقیناًیہ دہشت گردی کے مسئلے کا فوری حل نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’نظریے کی جنگ‘‘میں ریاست مدد کے لئے اپنے مذہبی نظریاتی اتحادیوں کی جانب واپس ہو لیتی ہے۔

 

ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔

دوسری جانب مذہبی طبقہ مقتدر اشرافیہ کا حصہ بن کر اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ تاہم مذہبی رہنما اس مسئلے کا ٹھوس حل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دہشت گردی کے واقعات کی محض’مذمت‘اور ذمہ داروں کو ’بھٹکے ہوئے‘ قرار دینے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ اس سے شدت پسندانہ نظریات کی کشش کم کرنے کے لئے موثر متبادل بیانیہ تشکیل دینے میں بھی کوئی مدد نہیں ملتی۔


شدت پسندوں کے بیانیے کی طاقت ان کی مذہبی دلیل یا اسلام کی مخصوص تشریح میں چھپی ہے۔ اس لئے مذہبی انتہاپسندوں کی اصل طاقت ان کی نظریاتی ساخت میں پوشیدہ ہے جس کی بنیاد مذہبی حجت پر استوار ہے اور اسے سیاسی استدلال سے تقویت ملتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف سطحی بیانیوں کی آویزش نہیں ہے بلکہ اس کا مذہبی استدلال یا اسلامی احکامات کی تشریح سے گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ مذہبی اشرافیہ متبادل بیانیوں کے لئے تیار نہیں ہے یا اس میں نیا بیانیہ پیش کرنے کی اہلیت ہی نہیں پائی جاتی۔حکومت نے نیشنل ایکشن پلان میں نفرت پر مبنی تقاریر پر پابندی کے نکتے کو درست یا غلط طور پر انتہاپسندی کے خاتمے کے اقدامات کا متبادل سمجھا ہے۔ تاہم غور کیا جائے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ربط اور ان پر اعتماد کی کمی تمام مسائل کی جڑ ہے جسے تاحال کمزور نہیں کیا جا سکا۔ یہی خلا پر کرنے کے لئے ’نیکٹا‘کا قیام عمل میں آیا تھا مگر حکام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سامنے آ کر لڑنے کے بجائے بیانیے کنٹرول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔


عموماً ’نیکٹا‘کے غیرموثر ہونے کے لئے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے طاقتور اداروں کی جانب سے عدم تعاون کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے مگر خود حکومت نے بھی ’نیکٹا‘کو مناسب وسائل اور اعانت مہیا نہیں کی۔ اگر ایسا ہوتا تو دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا یہ ادارہ فعال اور موثر کردار ادا کر سکتا تھا۔

 

دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ نیکٹا‘ نے اپنے لئے یہ انتہائی مشکل کام منتخب کرتے ہوئے یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ اسے متبادل بیانیے تخلیق کرنے میں کسی ادارے کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا۔
بیانیے نعرے یا جھنکار نہیں ہوتے۔ بیانیے کسی معاملے پر وسیع تر مطابقت اور کسی قوم کی سوچ کا اظہار ہوتے ہیں۔ ان کی جڑیں کسی قوم کی تہذیبی گہرائی اور افراد و سماج کے رویوں میں پیوست ہوتی ہیں مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بیانیے کی بنیاد ایک معقول ساخت پر قائم ہوتی ہے۔ یہ ساخت یا ڈھانچہ مخصوص اقدار کا حامل ہوتا ہے جن کو اپنانے سے رویے تشکیل پاتے ہیں اور انہیں رہنمائی ملتی ہے۔ ایسے کاموں میں ریاست کا بھی اہم کردار ہے مگر اس کے لئے سماج کی رضامندی اور اتفاق رائے بھی شامل ہوتے ہیں۔


ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔
دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے انسداد دہشت گردی کے صوبائی محکمہ جات کو بہرصورت مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں کام کرنے والے شعبہ جات کو مزید انسانی وسائل، فنڈ، تربیت اور سب سے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں سے تعاون درکار ہو گا۔


پہلے معاملے کا تعلق انتہا پسندی کے بدلتے ہوئے رجحانات سے ہے بالائی متوسط طبقات کے نوجوانوں میں تعلیمی اصلاحات، بالخصوص نصاب کے کلیدی مقاصد کا ازسرنو جائزہ، کسی بھی سی وی ای کاؤنٹر وائیلنٹ ایکسٹریم ازم
Counter Violent Extremism
پالیسی کا انتہائی اہم عنصر ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت سا علمی کام ہوچکا ہے لیکن تیزتر اور مستقل تحقیق اور تعلیمی مراکز کے قیام کی ضرورت باقی ہے۔ ماہرین تنقیدی سوچ کی تعمیر کو تعلیم کا بنیادی مقصد مانتے ہیں۔ شہریت اور’ سوک ایجوکیشن‘ کو بنیادی تعلیم (چاہے نجی یا سرکاری سکول ہو یا مدرسہ)کے دوران نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔ طلبہ کو اچھا شہری بنانے پر زور دیا جانا چاہئے اور آئین اور قانون کی پاسداری کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔
کسی بھی سی وی ای میں داخلی سکیورٹی اصلاحات کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔ یہاں ہمیں اہم سٹریٹجک ترجیحات اور ان کے داخلی سکیورٹی سے تعلق کے دوبارہ جائزے کی ضرورت ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 256 کے مکمل نفاذ کی ضرورت ہے جس میں واضح کہا گیا ہے کہ کوئی نجی تنظیم قائم نہیں کی جائے گی جو کسی فوجی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے کے قابل ہو، ایسی ہرتنظیم غیر قانونی ہوگی۔ اسی کے ساتھ قومی دھارے میں پرتشدد نظریات کو فروغ دینے والے افراد یا گروہوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔


نسلی و سیاسی، سماجی و ثقافتی اور مذہبی اتصال کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال مخصوص ہے۔ ہمارے لئے آئین پاکستان سے وفاداری کی بہت اہمیت ہے۔ آئین ایک جامع عمرانی معاہدہ ہے جس پر مختلف نقطۂ نظر سے تعلق رکھنے والوں کا اتفاق ہے۔ ریاست اور سماج دونوں کو اس سے رہنمائی لینی چاہیے۔ پاکستان کے مثبت بیانیے کا ماخذ اسی کو ہونا چاہئے اور آئین کو دھیرے دھیرے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔
یہ محض چند تجاویز ہیں۔ ماہرین اور دیگر افراد اس میں مزید حصہ ڈال سکتے ہیں اور بہترمشورہ دے سکتے ہیں۔ مشاہدات اور تجاویز جمع کرنے کے لئے حکومت کو کوئی طریق کار مرتب کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار ایک معروف تجزیہ نگار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر:خورشیدندیم

پُر تشدد انتہا پسندی کا رد
(Counter Violent Extremism)
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا اور حکمرانوں کے انتخاب کا حق عوام کو منتقل ہو گیا تو بطور ہتھیار تشدد کی پذیرائی کا امکان ختم ہو گیا۔


تشدد انقلابی تحریکوں کا ہتھیار رہا ہے۔ انہوں نے ’’ سٹیٹس کو ‘‘ کو توڑنے کے لئے، غور وفکر کے بعد، تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کیا۔ ماؤزے تنگ اور لینن نے اپنی انقلابی حکمتِ عملی کے تحت تشدد کا ذکر کیا۔اس کی تائید میں دلائل دئیے اور خون بہانے کو انقلاب کی ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکیت کے زیر اثر دنیا بھر میں جو انقلابی تحریکیں برپا ہوئیں انہوں نے اعلانیہ تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ یہ تشدد اگرچہ ریاست کے خلاف تھا لیکن بالواسطہ طور پراس کا ہدف سماج اور عوام بنتے تھے۔


اشتراکیت کی طرح ،اسلام کے نام پرجب انقلابی تحریکیں اٹھیں تو انہوں نے بھی تشدد کو اختیار کیا۔ مصر سے الجزائر تک ہمیں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب اسلامی تحریکوں نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ اشتراکیت میں چونکہ مذہب کی نفی کی جاتی ہے، اس لئے اس کے پُر تشدد بیانیے میں طبقاتی تقسیم کو بنیادی دلیل بنایا گیا۔ ایک بورژوائی طبقے سے نجات کو عوامی فلاح کے لئے ناگزیر سمجھا گیا اور اس کے لئے تشدد کو ناگزیر کہا گیا۔ اسلامی تحریکوں کا بیانیہ مذہبی تھا۔ انہوں نے جہاد کے تصور کی تعبیرِ نو کرتے ہوئے ، ایک نئی فقہ ایجاد کی اور تشدد کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہوئے، اسے بطور حکمت عملی اختیار کر لیا۔


1990ء کی دہائی میں، دنیا بھر میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہونے لگا۔ خلیج کی پہلی جنگ کے نتیجے میں کچھ انتہا پسند گروہ سامنے آئے۔ ان میں سے اکثر وہ تھے جو سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں متحرک رہ چکے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف ان کی جد و جہد کو بین الاقوامی تحفظ حاصل تھا کیونکہ عالمی سطح پر مختلف ریاستوں نے مل کر سوویت یونین کو شکست دینے کی حکمت عملی بنائی اور اس مقصد کے لئے مسلح تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1990ء کی دہائی کے بعد انہیں عالمی سرپرستی حاصل نہ رہی کیونکہ عالمی قوتوں کے مقاصد اور ان تحریکوں کے مقاصد و اہداف یکساں نہیں رہے۔

 

putashadad.jpgتشدد پر ریاست کی اجارہ داری کو ہمیشہ قبول کیا گیا ہے۔مذہب کے علاوہ سیکولرتصورِ ریاست کے تحت بھی،ریاست کے لئے تشدد کو جائزقراردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست اگر کسی کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دے تو اس حق کو چیلنج نہیں کیا جاتا۔ تاہم ریاست یہ کام کسی قانون اور ضابطے کے تحت کرتی ہے، جیسے فوج کے ادارے کا قیام یا پولیس کو مسلح کرنا۔سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، جب غیرحکومتی مسلح تحریکوں کو ریاستوں نے قبول کرنے سے انکارکیا تو انہوں نے مزاحمت کی اور اب ریاستی نظام ان کا ہدف بن گیا۔ اس کو روکنے کے لئے ریاستوں نے کئی طرح کی حکمت عملی اختیار کی۔ اسے ردِ پرتشدد انتہاپسندی
(Counter Violent Extremism)
کا نام دیا گیا۔
پر تشدد انتہا پسندی کو روکنے کے لئے مختلف ممالک نے جو لائحہ عمل اختیار کیا، اُس کے کئی ماڈل ہیں۔ امریکہ کا اپنا ماڈل ہے، برطانیہ کا اپنا۔ دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے مقامی حالات کے پیش نظر اس مسئلے کے اسباب تلاش کئے۔ پھر ان اسباب کی روشنی میں اس کا علاج دریافت کیا۔ ان ممالک میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں اور بعض دیگر بھی۔ چونکہ اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی ایک عالمی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے ، اس لئے ہر ماڈل میں مذہب بطور حوالہ موجود ہے۔


پاکستان میں اس وقت جو تشدد ہے وہ دو طرح کا ہے۔ ایک وہ جو مقامی حالات کے زیر اثر پیدا ہوا اور اس کے اسباب سیاسی وسماجی ہیں۔ اس کے مظاہرکراچی اور بلوچستان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان مخالفت خارجی قوتوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس کی بنیاد ملکی حالات بنے۔ ایک تشدد وہ ہے جو ملک گیر ہے اور اس کی بنیاد مذہب کی ایک خاص تعبیر پر ہے۔تشدد کی ان دو صورتوں کے توڑکے لئے ،ہمیں دو طرح کی انسدادِ تشدد
( Counter Violence)
حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ کراچی کا مسئلہ جرم اور سیاست کا یک جا ہونا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی عمل کو بحال کرتے ہوئے جرم سے نمٹا جائے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ بلوچستان میں محرومیوں کی تلافی اورجائز مطالبات پورا کرتے ہوئے لوگوں کو جمہوری جد و جہد کا راستہ دکھانا ضروری ہے۔ جمہوریت در اصل تشدد کا راستہ روکتی ہے۔


جہاں تک مذہبی تشدد کا معاملہ ہے، وہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے اوراس کی بنیادیں عالمی سیاست میں ہیں۔ دین کی جو تعبیر اس مقصد کے لئے اختیار کی گئی ہے، اس میں جدید قومی ریاست کی نفی کرتے ہوئے مسلمانوں کو عالمی سطح پر ایک سیاسی اکائی تسلیم کیا گیا ہے۔ یوں ان تمام تنظیموں اور افراد کے مابین رسمی یا غیر رسمی اتفاقِ رائے اور تعاون وجود میں آ گیاہے جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں متحرک ہے۔ یہ عوامل پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ہمارے نظمِ اجتماعی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔


اس تشدد کی روک تھام کے لئے دو کام اہم ہیں۔ ایک یہ کہ اس نقطۂ نظر کی فکری بنیادوں کو چیلنج کیا جائے اوریہ بتایا جائے کہ کس طرح دین کی تعلیمات سے غلط استدلال کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ دورِ جدید میں قومی ریاستوں کے وجود کو بین الاقوامی معاہدوں کا تحفظ حاصل ہے اور ہم ان معاہدوں میں شریک ہیں۔ اس لئے ہم ان کو ماننے کے پابند ہیں۔ دوسرا یہ کہ دین میں ایسا حکم موجود نہیں ہے جو مسلمانوں کے لئے یہ لازم قرار دیتا ہو کہ وہ عالمی سطح پر ایک ریاست کی صورت میں منظم ہوں۔ یہ چند بنیادی اجزاء ہیں ورنہ یہ تعبیر بحیثیت مجموعی محلِ نظر ہے۔اس دینی تعبیر کا جائزہ لینے اور اس کا جوابی دینی بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔


دوسرا کام یہ ہے کہ جن لوگوں نے تشدد کو بطور حکمت عملی اختیار کیا ہے، ان کے خلاف اقدام کیا جائے۔ یہ اقدام ظاہر ہے کہ ریاست ہی کر سکتی ہے۔ ضربِ عضب اور پھر ردالفساد کی مہم اسی ریاستی اقدام کے مظاہر ہیں۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ہمیں اس میں کامیابی ہوئی ہے اور ایسے بہت سے لوگوں کا خاتمہ ہو گیا ہے جنہوں نے معاشرے میں تشدد کو پھیلایا اور انسانی جان و مال کو خطرے میں ڈالا۔


اس تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب تک مذہبی انتہا پسندی کا بیانیہ ختم نہیں ہوتا، تشدد کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔اس کے لئے ہمیں ایک واضح حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ پہلے مرحلے میں ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ یہ بیانیہ کیا ہے اور اس کے بعد اگلے مرحلے میں اس کا جوابی بیانیہ تیار کرنا ہے۔اس باب میں یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ ہم اس کوشش میں کوئی نیا دین ایجاد نہیں کر رہے۔اسلام وہی ہے جو اللہ کے آخری رسول ﷺ کی سند سے ثابت ہے۔ ہمیں صرف یہ بتانا ہے کہ کس طرح اس دین کی غلط تعبیر کی گئی ہے۔ اس سے اگلا مرحلہ اس بیانیے کی اساس پر دینی دعوت وتعلیم کے اداروں کی تشکیلِ نو ہے۔یہ مراحل طے کر نے کے بعد ہی ،ایک واضح ایکشن پلان بروئے کار آسکے گا۔
اس وقت نیشنل الیکشن پلان کے تحت نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی
(NECTA)
کے نام سے ادارہ قائم ہے جس کے اہتمام میں ایک جوابی بیانیے کی تشکیل کا کام جا ری ہے۔اس میں سماج کے مختلف طبقات کے نمائندے شریک ہیں۔تاہم اس سے پہلے اس بیانیے کے جائزے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کا باعث ہے۔اِس وقت یہ اس طرح زیرِ بحث نہیں جیسے ہو نا چاہیے۔اس سارے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔


1۔ ایک فکری ادارے کا قیام جو انتہا پسندی کے موجودہ بیانئے کا ہمہ جہتی تجزیہ کرے۔اس کے تحت ان سوالات کے جوابات تلاش کیے جائیں:
اس بیانیے کا دینی استدلال کیا ہے؟اسے دین کے بنیادی ماخذ سے کس طرح اخذ کیا جا تا ہے؟
ب۔ مسلم تاریخ کے کس عہد میں اس کا آغاز ہوا اور وہ کون کون سے داخلی اور خارجی عوامل تھے جنہوں نے اس بیانیے کو جنم دیا؟
ج۔ یہ بیانیہ مقبول کیسے ہوا؟اس کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی گئی ؟
د۔ اس بیانیے کے فروغ میں روایتی سماجی دینی اداروں کا کردار کیا رہا؟
ہ۔ریاست اسے روکنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکی؟
و۔ جدید تعلیم کے ادروں تک یہ بیانیہ کیسے پہنچا اور انتہا پسند تنظیموں کو کیسے یہاں سے افرادی قوت میسر آئی؟
اس کام کے لیے ہمیں معاصر معاشروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔جیسے یہ جانا جائے کہ 9/11کے بعد امریکی حکمتِ عملی کیا تھی۔اس ضمن میں9/11کمیشن کی رپورٹ اہم ہے۔
2۔ یہ فکری ادارہ ان جوابی بیانیوں کا جائزہ لے جو مختلف اہلِ علم نے اپنے طور پر پیش کیے۔ان اہلِ علم کو مدعو کیا جائے اور ان کے استدلال کو پوری طرح سمجھا جائے۔
3۔ اہلِ علم کی مدد سے ایک جوابی بیانیہ تیار کیا جائے۔
4۔ اگلے مر حلے میں ابلاغ کی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔اس میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ مسجدو مدرسہ اور میڈیا جیسے قدیم و جدید ابلاغی ا داروں کو اس جوابی بیانیے کی ترویج کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے؟
5۔ موجودہ دینی و عمومی تعلیمی نظاموں کا جائزہ لیا جائے اوریہ دیکھا جائے کہ جوابی بیانیے کے نکات کس طرح نصاب میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
6.۔ مسجداور مدرسے کے نظام کو ایک ریاستی نظم کے تابع کیا جائے تاکہ ان اداروں کا سوئے استعمال روکا جا سکے۔
7۔ تدریجاً بارہ سال کی بنیادی تعلیم کو یکساں بنا دیا جائے۔اس کے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ کی طرح دینی تعلیم کے تخصص
(specialization)
کے ادارے قائم ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جوابی بیانیے کی تشکیل کے بعد ،اس کی اشاعت اورفروغ کے لیے ہمیں اہلِ دانش کی مدد سے جہاں ایک موثرابلاغی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی وہاں نظام تعلیم کوبھی نئے خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter