12
January
جنوری 2017
شمارہ:1 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
پاکستان کو گزشتہ چند سالوں سے قومی سلامتی سے متعلق جن چیلنجز کا سامنا تھا ان پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے قوم اور اس کی افواج نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں جسے دنیابھر میں سراہا گیا ہے۔ الحمدﷲ 2017 کا سورج ایک ایسی امید اور روشنی لے کر ابھرا ہے جو اس امر کی نوید دیتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن اور تابناک ہے....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
سال 2017جہاں پاکستان میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے فیصلہ کن برس ثابت ہو سکتا ہے وہاں ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں نئے اتحاد وں اور صف بندی کے پس منظر میں بھی یہ سال بہت اہمیت کا حامل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 2017کے دوران پاکستان کی سکیورٹی فورس کی جاری کارروائیوں کے نتیجے میں ....Read full article
 
تحریر: محمد اکرم ذکی
آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان کے مشیر خارجہ کوہوٹل سے باہر نہ آنے دینا سفارتی آداب کی خلاف ورزی سے کہیں بڑھ کر حبس بے جا میں رکھنے کا مجرمانہ فعل ہے۔ اس فعل سے بھارت نے واضح طور پر اپنے اسی جارحانہ پیغام کو ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے۔ دشمنی پر مبنی جو پیغام وہ تسلسل کے ساتھ پاکستان کو دے رہا ہے اور پاکستان خطے کے وسیع تر مفاد میں امن اور دوستی کی خواہشات کو مقدم رکھے ہوئے ہے....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ماریہ سلطان
نیوکلیئر سپلائیرز گروپ اگرچہ ایک غیر روایتی نظام ہے تاہم ٹیکنالوجی کو کنٹرول میں رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔روایتی طور پر اس سے نہ صرف حساس ٹیکنالوجی کی تجارت کو منضبط کیا جاتا رہا ہے بلکہ اسی نظام کے ذریعے تمام ہائی ٹیک مواد کی بین الاقوامی تجارت بھی ضابطہ کار میں لائی جاتی رہی ہے۔ دو الگ الگ فہرستوں میں تقسیم اس نظام کا ایک حصہ نیوکلیائی ٹیکنالوجی اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر منہاس مجید
جب بھی فرقہ وارانہ تنازعات کی بات ہوتی ہے تو مغربی ممالک اُسے چودہ سو سال پہلے خلفائے راشدین کے انتخاب کو بنیاد بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سنی شیعہ مسلمان صدیوں تک، باوجود اجتہادی اور فقہی اختلافات کے، باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان اختلافات نے عالمِ اسلام میں بالعموم اور رفتہ رفتہ مشرقِ وسطیٰ میں .....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
ترکی کی سرحدیں تو پاکستان سے نہیں ملتیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ترکی اور پاکستان کے دل آپس میں ملتے ہیں۔ ترکیہ جمہوریہ، دنیا کا ایک ایسا منفرد ملک ہے جس کے باسیوں کے تعلقات سرزمینِ پاکستان میں بسنے والے لوگوں سے قیامِ پاکستان 1947ء بلکہ قراردادِ لاہور 1940ء سے بھی پہلے تاریخ میں نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جنگ عظیم اوّل میں تب دیکھنے کو ملا جب بکھرتی سلطنتِ عثمانیہ کو .....Read full article
 
تحریر: محمود شام
جناب سپہ سالار وقت!
آپ کو اللہ تعالیٰ نے بلا شبہ ایک عظیم مرتبے سے نوازا ہے۔ دُنیا کی ایک بہترین فوج کے سربراہ بننے کا اعزاز یقیناًایک تاریخ ساز موقع ہے۔ پاکستان مملکت خداداد۔ قدرت کے بہترین وسائل سے آراستہ ہے۔ یہ ایسی سر زمین ہے جہاں تاریخ ہزار ہا سال سے انگڑائیاں لے رہی ہے، جہاں فاتحین کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی چاپ اب بھی سنائی دیتی ہے۔ عظیم فاتح سکندر بھی اس سر....Read full article
 
تحریر: مونا خان
میرا اس جنریشن سے تعلق ہے جو’ کسوٹی زندگی کی، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی، کہانی گھر گھر کی، دل مل گئے، دیکھ مگر پیار سے، شاکا، لاکا، بوم بوم ، کاویاانجلی‘ جیسے ڈرامے دیکھ کر بڑی ہوئی۔ پاک بھارت دشمنی اپنی جگہ لیکن دل ہی دل میں ایک شوق تو تھا کہ جب بھی موقع ملا بھارت کا دورہ ضرور کرنا ہے....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
سانحہ مشرقی پاکستان ہماری تاریخ کا ایک المناک پہلو ہے، تاہم ہمیں اپنی افواج کے اُن لاتعداد شہداء، غازیوں اور ہیروز کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے اپنے لہو سے چراغ روشن کرکے مشرقی پاکستان میں پھیلے اندھیرے کو ختم کرنے کی جدوجہد میں اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ جن قومی ہیروز نے اس موقع پرغیر معمولی جرأت، استقامت اوربہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دھرتی کی حفاظت کا فرض....Read full article
 
تحریر: ناصر اقبال خٹک
پاک فوج کا ہر جوان اپنی زندگی اپنے ملک و قوم کی حفاظت کے لئے وقف کر دیتاہے۔ اسے اپنی اِس زندگی سے زیادہ اُس زندگی کی خواہش ہوتی ہے جو اُسے شہادت کے بعد ملتی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ خٹک ایسے ہی انسان تھے جن کی زندگی کا مقصد اپنے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرنا تھا۔....Read full article
 
انٹر ویو : صبا زیب
افتخار عارف کا نام ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ وہ نہ صرف پاکستان میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی لوگ ان کے مداح ہیں۔ وہ اپنے فن میں پختگی رکھنے والے منفرد ادیب ہیں۔ اپنا تجربہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کوئی تشنگی نہیں رہتی۔ انہوں نے پاکستان میں ادب کی ترویج میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں مہردونیم، حرف بریاب....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹروقار احمد
پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا بھر میں جس تیزی سے ماحولیاتی امور میں آگاہی کا سلسلہ بڑھا ہے، قدرتی ماحول اور وسائل میں تباہی شاید اس شرح سے کئی گنا زیادہ رہی ہے۔اگر اس بات کا جائزہ لیا جاے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں ماحول کی تباہی کس زمانے میں زیادہ ہوئی تو پتا یہ چلے گا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی صنعتی ترقی کے دوران اپنے قدرتی ماحول کو آلودہ، اور جنگلات وغیرہ کو بہت زیادہ.....Read full article

تحریر: عفت حسن رضوی
ہم نے وادی نیلم کے سفر سے پہلے وہاں کی تصاویر کو گوگل پر دیکھ لیا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم قدرتی حسن دیکھ کر بے ہوش ہوجائیں۔ تصاویر کسی اور ہی جہان کا منظر پیش کر رہی تھیں ، سفر سے ایک رات قبل ہی تصاویر دیکھ کر دل میں لڈو پھوٹنے لگے کہ واہ بھئی اب ہم بھی ان مناظر کا حصہ ہوں گے........Read full article
 
 
تحریر: شازمہ عقیل
سال 2002کے بعد جب پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں نے اپنی کارروائیاں تیز کیں تو معاشرے کا کوئی بھی طبقہ اس سے محفوظ نہیں رہ سکا ۔ حملہ آوروں نے 1000 سے زائد سکولوں اور درجنوں ہسپتالوں، پلوں، نجی املاک، پولیس تھانوں اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ جنازوں، مساجد اور مزاروں تک کو نہیں بخشا۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا ان کا خصوصی طور پر نشانہ بنے۔ ....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965کورات کی تاریکی میں بھارت نے لاہور کے بارڈر پر اچانک حملہ کر دیا۔ تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی بہادر فوج کے شانہ بشانہ یک جان ہو کر اُٹھ کھڑی ہوئی اور عملی طور پر تاریخ میں جو کردار مسلح افواج کے ساتھ ساتھ ثقافتی ابلاغ کے محاذ پر اس ادارے یعنی ریڈیو پاکستان لاہور نے کیا وہ ایک سنہری باب ہے۔ ستمبر1965کی جنگ کا جب بھی ذکر ہوتا ہے اس حوالے سے ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

گنرز کو طوطوں سے تشبیہہ کیوں دی جاتی ہے اس بارے میں تو ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ بڑے سے بڑا طوطا بھی توپ چلانے اور رٹا لگانے میں آرٹلری افسروں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پی ایم اے میں بیشتر کیڈٹ آرٹلری میں جانے سے اس لئے بھی خائف ہوتے ہیں کہ سینئرز کی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
گزشتہ ماہ کے شمارے میں ‘ میں نے اپنے دورۂ ایڈمنٹن کے حوالے سے قارئین کو آگاہ کیا تھا‘ اس کی مزید تفصیلات پیشِ خدمت ہیں۔ ایڈمنٹن میں میرا قیام ایک ہفتے کا تھا۔ یہاں میں اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک پبلک ہیئرنگ کے سلسلے میںآئی تھی۔ میں کینیڈا میں میں ایک نشریاتی ادارے سے وابستہ ہوں۔ یہ.....Read full article
 
تحریر: میجر ناصرہ انجم
پشاور کا شمار ایشیا کے ان تاریخی شہروں میں ہوتا ہے جنہوں نے وقت کے مختلف ادوار میں کئی نامور ہستیاں پیدا کیں۔شاعر ، ادیب ، مصنف اور بلند پایہ مفکر اسی شہر کی گُندھی مٹی کی مرہونِ منت ہیں۔مر حوم احمد فراز ، خاطر غزنوی اور دلیپ کمار(یوسف خان) کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔سیانے اس شہر کو پھولوں کا دیس اور مہمان نوازی کا شہر....Read full article
12
January

تحریر: میجر ناصرہ انجم

پشاور کا شمار ایشیا کے ان تاریخی شہروں میں ہوتا ہے جنہوں نے وقت کے مختلف ادوار میں کئی نامور ہستیاں پیدا کیں۔شاعر ، ادیب ، مصنف اور بلند پایہ مفکر اسی شہر کی گُندھی مٹی کی مرہونِ منت ہیں۔مر حوم احمد فراز ، خاطر غزنوی اور دلیپ کمار(یوسف خان) کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔سیانے اس شہر کو پھولوں کا دیس اور مہمان نوازی کا شہر گردانتے ہیں۔پشتون ثقافت ہو یا ہندکو تمدن‘ اس شہر کی خوبصورتی اس کے باسیوں ہی کے دم سے ہے۔اس شہر کو دیکھ کر گویا ایک عظیم الشان تہذیب کا سا گمان ہوتا ہے۔ اللہ نے اس شہر کو کئی نامور ہستیوں سے نوازا ہے انہی میں سے ایک شخصیت چاچا مکھن ہیں۔اپنے نام ہی کی طرح نرم وملائم، حلیم الطبع، غریب پروراور مرنجان مرنج شخصیت رکھنے والے چاچا مکھن گویا علم وادب کا ایک خزانہ ہیں۔
پشاور کا خاصہ اس کے باسیوں کی خوبصورتی ہے چاہے وہ ظاہری شکل وصورت میں ہو یا اخلاق و اقدار میں ہر لحاظ سے یہ شہر ’’ شہر نمایاں‘‘ کا درجہ رکھتاہے۔چا چا مکھن کا شمار پھولوں کے دیس کے ان مکینوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پرت در پرت اس شہرکو مختلف سانچوں میں ڈھلتے دیکھا۔

 

chachamakh.jpgوہ کہتے ہیںیہ شہر میرے لئے ایک ماں کا درجہ رکھتا ہے۔ ا س نے مجھے پالا پوسا، جوان کیا اور اس مقام تک پہنچا یا۔چا چا مکھن بچوں کی سی معصومیت سے بولے: کیا وقت تھاکہ شہر کے ایک کونے میں کسی کو تکلیف کی خبر ملتی تو لمحہ بھر میں پور ا شہر امڈ پڑتا۔ہمسایہ پروری، مہمان نوازی اور خوش اخلاقی پشاوریوں کا طرۂ امتیاز ہے اور رہے گی۔
وقت بہت خوبصورتی سے ایک رواں ندی کی طرح گزرگیا۔ہم جوان ہو گئے بچپن کی لا اُبالی فطرت جوانی کی گرمجوشی میں تبدیل ہوگئی، ذمہ داریاں بڑھتی گئیں اور وقت گزرتا گیا۔


چاچا مکھن کی پیدائش ویسے تو مری کے ایک دورافتادہ گاؤں کی ہے لیکن پشاور سے ان کا رشتہ تاریخ کی کئی ان مٹ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ وہ کہتے ہیں میں 1959ء میں فوج میں ریگولر ہوا 1965،1971ء کی جنگ دیکھی پاکستانیوں کا جذبہ حب الوطنی دیکھا۔اس وقت ہمارے پاس کچھ نہیں تھاصرف جذبہ اور ایمان تھا۔آج وقت بہت بدل چکا ہے۔ میں نے فوج کی خدمت کی اور فوج نے ہمیشہ مجھے یاد رکھا۔ مجھے دو میڈلز سے نوازا۔ فوج میرے لئے ایک خاندان کی طرح ہے۔فوج کے افسران اب بھی میرے پاس آتے ہیں، بیمار ہوجاؤں تو عیادت کرتے ہیں اور خبر گیری کے لئے آتے ہیں۔ میں اُن کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتا ہوں ۔

 

11کور میرے سامنے کھڑی ہوئی۔ کئی کور کمانڈر آئے اور گئے ۔ پشاور کور کے سابقہ کورکمانڈرجنرل ہدایت الرحمان ایک سینئر ترین فوجی افسر ہونے کے باوجود مجھ سے کھڑے ہو کر مصافحہ کرتے تھے۔ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔ مجھے 38 بار عمرہ اور دوبار حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی فوج نے میری خدمت کے لئے ایک سولجر مہیا کیا ہے جو میرا 24گھنٹے خیال رکھتا ہے۔ میں پشاور میں رہ کر اپنے گاؤں سے بھی زیادہ خوشی محسوس کرتا ہوں ۔

مجھے یاد ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ لگتا تھا کہ جیسے میرے پشاور شہر کی خوشیوں کو نظر لگ گئی ہو۔ یہ وقت دہشت گردی کی جنگ کا دَور تھا۔ جا بجا دھماکے اور قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ کوئی اُن ظالموں سے پوچھے کہ محض چند روپوں کے عوض کیوں اپنے بھائی کی زندگی کے درپے ہو۔میں 16دسمبر 2014کے واقعے کو کبھی نہیں بھول سکتا، میں مسلسل کئی راتوں تک روتا رہا ۔ اُن ماؤ ں کی گریہ وزاری اور ماتم کسی بھی ذی ہوش کے حواس گم کرنے کے لئے کافی تھا۔ میں نے پھولوں کے اس شہر میں پھولوں ہی کے جنازے دیکھے ۔ چاچا مکھن کی آوازبھرائی ہوئی اور آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ بولے : میں ہر لمحہ ہر پل خدا سے اس شہر جاوداں کی خوشیوں کی دعا کرتا ہوں۔
عجیب نفسانفسی اور بیگانگی کا دور آگیا ہے، عجب گھٹن آلود لا تعلقی ہے جس کا اظہار لفظوں میں ممکن ہی نہیں ۔ خون ارزاں یا پانی۔۔۔ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ قرآن کی یہ آیت بڑی تقویت دیتی ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے گو یا مشکلات کا وقت ہمیشہ نہیں رہے گا۔


اب تو اللہ کا شکر ہے کہ حالات پہلے کی نسبت بہت بہتر ہوگئے ہیں ۔ آہستہ آہستہ اس شہر کا حُسن لوٹ رہا ہے۔ ایک پرُ اطمینان سی فضا قائم ہو رہی ہے۔لوگ اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ میں اس شہر کو ویساہی دیکھنا چاہتا ہوں جیسے یہ پہلے تھا ۔اُجلا ، نکھرا اور محبت سے بھر پور۔

 
12
January

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

گزشتہ ماہ کے شمارے میں ‘ میں نے اپنے دورۂ ایڈمنٹن کے حوالے سے قارئین کو آگاہ کیا تھا‘ اس کی مزید تفصیلات پیشِ خدمت ہیں۔ ایڈمنٹن میں میرا قیام ایک ہفتے کا تھا۔ یہاں میں اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک پبلک ہیئرنگ کے سلسلے میںآئی تھی۔ میں کینیڈا میں میں ایک نشریاتی ادارے سے وابستہ ہوں۔ یہ ادارہ ریڈیو‘ ٹی وی سے متعلق ہے۔ اس کی نشریات کینیڈا کے مختلف شہروں میں ہوتی ہیں اور ایڈمنٹن میں ریڈیو اسٹیشن کے قیام کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے ہم یہاں آئے تھے۔ ریڈیو چینل یعنی ایف ایم یا اے ایم کا لائسنس حاصل کرنا پاکستان میں عام بات ہے۔کوئی بھی یہ حاصل کرسکتا ہے۔ جس کے پاس میڈیا کی تھوڑی بہت سمجھ ہو‘ وہ چند پیسے خرچ کرکے اپنا ریڈیو سٹیشن قائم کرسکتا ہے۔لوگ پیسہ کمانے کے لئے چینل کھول لیتے ہیں اور پھر ان کا واحد مقصد صرف پیسہ ہی رہ جاتا ہے۔ قومی مفاد‘ اصلاحِ معاشرہ‘ اخلاقیات‘ قوانین اور ضابطے ان سب کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ اسی باعث میڈیا مالکان مالی فوائد کے لئے مختلف سیاسی قیادتوں سے سمجھوتے کرلیتے ہیں اور دوسروں کی یعنی مخالفین کی کردار کشی اور پگڑی اچھالنا اپنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔ اس افسوسناک رویے کے باعث ہی اینکر مافیا وجود میں آیا۔ جب چینل کا مقصد صرف ریٹنگ یا پیسہ ہو تو اکثر نان پروفیشنل لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے کوئی بھی غیر تربیت یافتہ‘ غیر مہذب‘ غیر تعلیم یافتہ شخص ہاتھ میں مائیک اٹھا کر کمپیئر بن سکتا ہے۔

 

pumkinkamosmib.jpgگزشتہ دنوں ایک خاتون اینکر کوایک گارڈ کے ہاتھوں تھپڑ پڑنے کے واقعہ کی بازگشت سنائی دی۔ میں سوچتی ہوں کیا کیمرہ ٹیم لے کر کوئی بھی کہیں بھی گھس سکتا ہے؟ کیا بغیر تحریری اجازت نامے کے کہیں شوٹنگ یا ریکارڈنگ ہو سکتی ہے؟ کیا کوئی اینکر کسی گارڈ کی طرف جارحانہ انداز میں اس کی آن ایئر تذلیل کرسکتا ہے؟ کسی خاتون کو سرِعام طمانچہ رسید کرناکیا کسی مہذب معاشرے کا رویہ ہے؟ کیا ہم ہر قسم کی سنسنی خیز رپورٹنگ دیکھ کر لطف اندوز ہونے کو آزاد میڈیا سمجھیں گے؟ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہے؟ جب ایک معروف اینکر کو حقیقت اسکرین دکھانے پر جیل میں ڈال دیاجاتا ہے‘ جب ایک اینکر کو دوسرے چینل پر کیچڑ اچھالنے پر مامور کردیاجاتا ہے۔ جب ہمارے میڈیا والے اپنے ہی ملک اور اپنے ہی اداروں کو مالی فوائد کی خاطر پروپیگنڈہ کرکے بدنام کرنے میں مبتلا ہیں تو کہاں ہے میڈیا کی آزادی؟ اور کہاں ہے کوڈ آف کنڈکٹ؟کہاں ہیں اصول و قوانین؟ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ براہِ راست رپورٹنگ کیسے ہوتی ہے‘ کسی حادثے کی کوریج کرنے والے باپ سے پوچھتے ہیں کہ جب بم دھماکے میں آپ کا بیٹا مرا تو آپ کو کیسا محسوس ہوا؟‘‘ افسوس پاکستان میں چینل کی مشروم گروتھ تو ہوگئی‘ بھانت بھانت کے چینل تو کھل گئے مگر پروفیشنل ازم کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔
کینیڈا میں ایسا بالکل نہیں۔ یہاں ٹی وی یا ریڈیو چینل کھولنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ سب سے پہلے تو اگر آپ کوئی چینل لانا چاہتے ہیں تو دیکھیں ایساکوئی چینل پہلے ہی تو موجود نہیں۔ یعنی میوزک کا یا حالاتِ حاضرہ یانیوز کا‘ یا موسم یا ٹریفک کا حال بتانے والا؟ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کوئی نئی چیز کرسکتے ہیںیا موجودہ چینلز سے مطمئن نہیں تو پہلے آپ کو کمیونٹی، یعنی لوگوں سے دستخط کروانے ہوں گے پھر آپ کو ایک درخواست تیار کرنی ہو گی۔ درخواست بھیجنے اور اس کی سماعت میں ایک لمبا عرصہ لگتا ہے اس میں مثال کے طور پر میں ایڈمنٹن کے بارے میں بتاتی ہوں۔ یہاں
CRTC
نے نئے ریڈیو چینل کے لئے پبلک ہیئرنگ کی تو اس کی کارروائی کم از کم چھ مہینے پہلے سے جاری تھی۔
CRTC
کا مطلب ہے
Canada Radio-- Television and
Telecommunications Commission
یہ وفاقی حکومت کا ایسا مضبوط ادارہ ہے جس کے کنٹرول میں تمام نشریاتی ادارے آتے ہیں۔ یہ ادارہ رشوت ستانی اور سفارش کے مفہوم سے بھی ناآشنا ہے‘ کسی قسم کا کوئی سیاسی دباؤ نہ اس پرآتا ہے نہ یہ قبول کرتا ہے۔ پبلک ہیئرنگ سے مراد وہ طویل سماعت ہے جس میں چینل کھولنے کی خواہشمند پارٹیاں یا افراد شریک ہوتے ہیں۔ یہ سیشن ہفتے بھر جاری رہا۔ ابتدائی دو روز لوگوں نے اپنی سفارشات یا درخواستیں پیش کیں۔ دورانیہ‘ سب کے لئے مخصوص اور یکساں تھا۔ انگریزی اور فرنچ مترجم مسلسل ترجمہ کررہے تھے۔
CRTC
کی ویب سائٹ پر مستقل یہ تفصیلات
Update
ہو رہی تھیں۔ بعد میں ایک یا دو دن اعتراضات کے لئے تھے یعنی اگر آپ کو لگتا ہے کہ فلاں چینل نے یہ غلطی کی یا یہ کوتاہی کی تو نشاندہی کریں اور پھر ایک دن ان کے جوابات داخل کرانے کے لئے تھا۔ ہرچیز
Documented
تھی یعنی لکھی ہوئی‘ کوئی اضافت نہیں‘ کوئی آئیں بائیں شائیں نہیں۔ حسرت رہ گئی کہ اعتراض کے سیشن میں کوئی فقرے بازی یا نعرہ بازی ہو‘ کوئی طنز یہ کمنٹس ہی دے دے مگر عجیب شائستہ مزاج لوگ ہیں ہر بات دلیل کے ساتھ مہذب انداز میں کرتے ہیں۔ کوئی الزام تراشی بھی نہیں کرتے۔ ایک اور بات کہ
CRTC
کے لوگ گفتگو میں محتاط رہتے ہیں‘ توجہ سے سنتے ہیں اور کوئی تاثرات نہیں دیتے۔ قصہ مختصر نہایت شفاف طریقہ ہوتا ہے ۔اپنا کیس پیش کرنے اور اس کی سماعت کا نتیجہ آنے میں چار سے چھ ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ دورانِ سماعت میں نے غور کیا لوگ گفتگو سے گریز کرتے ہیں‘ بالکل خاموشی سے کارروائی سنتے ہیں۔ ہر پارٹی اپنے ساتھ مضبوط ٹیم لاتی ہے‘ وکیل بھی ہوتا ہے جو اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔ میرے لئے

CRTC
کی یہ ’عوامی سماعت‘ ایک بہت معلوماتی تجربہ رہا۔ وطنِ عزیز میں بھی کاش ایسا ہی کچھ ہو جائے۔
PEMRA
ہے‘ بالکل ہے مگراُسے اپنے کردار کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ خیر مجھے اُمید ہے کہ ایک دن ہمارے یہاں بھی انشاء اﷲ بہتری آئے گی۔ حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں‘ آنے والے دنوں میں تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔
کینیڈا میں
Halloween
کا شور ختم اور نیو ایئر کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔
Halloween
یوں تو31 اکتوبر کو ہوتا ہے مگر ستمبر سے تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ہر طرف مکڑیاں‘ مکڑی کے جالے‘ ڈھانچے‘ خوفناک ماسک‘ چڑیل اور اسی قسم کی عجیب و غریب چیزوں سے بازار‘ دکانیں اور گھر سجے ہوتے ہیں اور ان سب میں سب سے نمایاں ہوتا ہے نارنجی رنگ کا ایک بڑا سا کدو۔ یہ کدو بینک میں‘ دفاتر میں‘ ہوٹل میں ہرجگہ ضرور ہوتا ہے۔90 فیصد لوگوں کے گھروں کے مرکزی دروازے کے باہر ایک کدو یعنی
Pumpkin
رکھا ہوتا ہے۔
Pumpkin
کی مناسبت سے ریستوران میں
Pumpkin Muffin, Pumpkin Pie, Pumpkin Spice Latte PumpkinTea, Pumpkin Cake, Pumpkin Spice Donut
اور جانے کیا الا بلا ہوتا ہے۔ یہ Pumpkin کا موسمی بخار نومبر میں رخصت ہو جاتا ہے اور کرسمس‘ نیوایئر کا بخار چڑھ جاتا ہے جو جنوری تک جاری رہتا ہے۔
Halloween
میں لوگ
Costume
زیبِ تن کرتے ہیں‘ بچے گھر گھر جاکرTrick-or-Treat مانگتے ہیں‘ لوگ ان کو ٹافیاں‘ چاکلیٹ یا دیگر تحائف دیتے ہیں۔سنا ہے پاکستان میں بھی اب
Halloween
منایا جانے لگا ہے۔ اچھاہے‘ ضرور منائیں مگر بھوت اور چڑیل کے ماسک کے بجائے کرپٹ لوگوں کے ماسک لگا کر ایک دوسرے کو ڈرائیں۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
January

معروف صحافی اور ایک نجی چینل کی میزبان شازمہ عقیل کی تحریر

سال 2002کے بعد جب پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں نے اپنی کارروائیاں تیز کیں تو معاشرے کا کوئی بھی طبقہ اس سے محفوظ نہیں رہ سکا ۔ حملہ آوروں نے 1000 سے زائد سکولوں اور درجنوں ہسپتالوں، پلوں، نجی املاک، پولیس تھانوں اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ جنازوں، مساجد اور مزاروں تک کو نہیں بخشا۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا ان کا خصوصی طور پر نشانہ بنے۔ لاتعداد سرکاری ملازمین کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ متعدد علاقوں میں ملازمین کو حالات کے جبر کے باعث ملازمتیں بھی چھوڑنی پڑیں۔ سال 2007کے بعد حملوں کی تعداد میں یکدم شدت آئی تو صورت حال قابو سے باہر ہونے لگی اور اس سے نمٹنے کے لئے جہاں ہماری افواج میدان میں ایک نئے جذبے کے ساتھ نکلنے پر مجبور ہوئیں، وہاں ایف سی اور پولیس بھی عوام کے تحفظ کے لئے میدان میں نکل آئیں۔ایک اندازے کے مطابق سال 2013 تک صوبہ خیبرپختونخوا کے 1570 سے زائد پولیس اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں جن میں 100افسران بھی شامل ہیں۔ پولیس نے نہ صرف سیکڑوں شہادتیں دیں بلکہ عوام کے تحفظ کے لئے 24خودکش حملوں سمیت 80 سے زائد براہ راست حملے بھی برداشت کئے۔
یہ فورس اپنے بہادر افسران اور اہلکاروں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف دیوار بن کر کھڑی ہو گئی اور اس دیوار کی تشکیل اور مزاحمت میں مرد rafiakaseem.jpgحضرات کے علاوہ خواتین بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ درجنوں سیکڑوں خواتین تمام تر خطرات کے باوجود نہ صرف پولیس فورس کا حصہ بنیں بلکہ لاتعداد نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لئے عملی جدوجہد میں حصہ بھی لیا اور یہ ثابت کیا کہ خواتین بھی اپنے وطن کے لئے جانوں کا نذرانہ دینے میں پیش پیش ہیں۔ ان خواتین میں پختونخوا پولیس کی 29سالہ ہیڈ کانسٹیبل رافعہ قسیم بیگ سرِفہرست ہیں 2009کے دوران ایک ایسے وقت میں اس فورس کو جوائن کیا جب کچھ پولیس والے اور سرکاری ملازمین حضرات حملہ آوروں کے خوف سے چھٹیوں پر جانے میں عافیت سمجھ رہے تھے۔پشاور سے تعلق رکھنے والی رافعہ قسیم نے اپنی کمٹمنٹ، حوصلے اور جرأت کے لئے پورے ملک بلکہ دنیا میں الگ شناخت بنائی ہے۔ انہوں نے قانون کی ڈگری کے علاوہ ماسٹرز کی دو ڈگریاں بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ وہ پولیس فورس کی سب سے بہادر اور کوالیفائیڈ خاتون ہیں اور وہ ایک سِمبل کی صورت اختیار کر گئی ہیں تو یہ بے جا نہ ہو گا۔


عملاً رافعہ بظاہر ایک عام اور معمولی پوسٹ پر اپنے جنون، محبت اور جذباتی وابستگی جیسے عوامل کے باعث شاندار خدمات سرانجام دیتی آئی ہیں۔ رافعہ کا انتخاب حا ل ہی میں بم ڈسپوزل یونٹ کی ایک خصوصی ٹریننگ کے لئے کیا گیا اور وہ اس وقت نوشہرہ میں قائم سکول آف ایکسپلوسیوہینڈلنگ میں خصوصی تربیت حاصل کرنے میں مصروف تھیں۔ اس ٹریننگ میں ان کے ساتھ 30دیگر متعلقہ اہلکار بھی حصہ لے رہے تھے تاہم وہ اس گروپ میں شامل واحد خاتون ہیں اور ان کو نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا کی پہلی بم ناکارہ بنانے والی پہلی خاتون کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے انتخاب پر ملکی میڈیا بلکہ عالمی میڈیا نے بھی مثبت تبصرے شائع کئے اور وہ دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ٹریننگ کی تکمیل کے بعد وہ بم ناکارہ بنائے جانے والے ادارے بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن جائیں گی اور یوں وہ اس میدان میں ایشیا کی پہلی خاتون کا اعزاز پانے کا ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ اپنی خصوصی بات چیت میں رافعہ قسیم بیگ نے کہا کہ جس روز وہ پولیس فورس کے لئے انٹرویو اور ٹسٹ دینے آئی تھیں اس روز پشاور کے سیشن کورٹ میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں کئی لوگ شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے کہانی سناتے ہوئے کہا

زندگی کے کسی موڑ پر اگر فرائض سرانجام دیتے موت سامنے آ کر کھڑی ہو گئی تو میں اسے بخوشی سینے سے لگانے میں دیر نہیں لگاؤں گی کیونکہ دوسروں کے لئے محاذ جنگ پر لڑ کر جان دینے والے خوش نصیب ہوا کرتے ہیں۔


’’میں اپنی والدہ کے ساتھ انٹرویو اور ٹسٹ دینے پشاور آئی ہوئی تھی اور متعلقہ دفتر میں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ اس دوران مذکورہ دفتر کے کچھ ہی فاصلے پر واقع سیشن کورٹ پر حملہ کیا گیا۔ جس نے پورے پشاور کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہم جہاں موجود تھے وہ مقام بھی دھماکے کی شدت اور آواز سے لرز کر رہ گیا۔ بہت سے دیگر لوگوں کی طرح میری والدہ بھی سخت پریشان اور خوفزدہ ہو گئیں۔ دھماکے کے بعد والدہ نے مجھے کہا کہ پولیس وغیرہ جوائن کرنے یا انٹرویو دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ارادہ ترک کر کے گھر واپس چلی جاؤ۔ میں نے مسکراتے ہوئے والدہ کو کہا کہ ماں موت کا ایک دن مقرر ہے۔ ہم میں سے کوئی اپنی موت کے وقت کو کسی بھی احتیاط یا بہانے کے ذریعے ٹال نہیں سکتا۔ میں نے یہ سمجھا کر ان کو آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ جس دھماکے یا حملے میں لوگ شہید یا زخمی ہوئے تھے، ان میں سے کتنے لوگوں کا تعلق پولیس یا کسی اور فورس کے ساتھ تھا۔ میں نے والدہ کو سمجھایا کہ اگر ہم محض اس وجہ سے اپنی فورسز میں خدمات سرانجام دینے سے گھبراتے رہے کہ یہاں پر جان کا خطرہ زیادہ ہے تو ہمارے ملک اور عوام کی حفاظت کون کرے گا۔ بڑی منت سماجت اور دلائل کے بعد والدہ نے انٹرویو دینے کی اجازت دے دی جس کے بعد پولیس فورس میں میرا انتخاب ہوا۔ اور میں نے یہ ارادہ کر کے تربیت لینی شروع کی کہ میں محض نوکری کے لئے یہ فورس جوائن نہیں کر رہی بلکہ ایک جذبے اور مشن کے ساتھ ساتھ ایک بڑے مقصد کے لئے بھی کام کروں گی۔

میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لئے نہ صرف اپنی بہترین اور غیرمروجہ کارکردگی کا مظاہرہ کروں گی بلکہ وقت آنے پر جان دینے سے بھی دریغ نہیں کروں گی۔ میں اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہوں کہ عورت ہونا کسی بھی طور پر کمزوری کا سبب نہیں بن سکتا۔ خدا نے عورتوں کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ہم نے عملی جدوجہد اور اپنی کارکردگی کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم کسی بھی شعبے میں مرد حضرات سے کم نہیں ہیں۔


رافعہ قسیم سے جب یہ پوچھا گیا کہ پشاور جیسے خطرناک شہر میں ڈیوٹی دیتے وقت ایک خاتون ہونے کے باوجود ان کو ڈر نہیں تھا تو انہوں نے کہا وہ بنیادی طور پر اسی شہر سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں حالات کا علم تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہوں کہ عورت ہونا کسی بھی طور پر کمزوری کا سبب نہیں بن سکتا۔ خدا نے عورتوں کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ہم نے عملی جدوجہد اور اپنی کارکردگی کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم کسی بھی شعبے میں مرد حضرات سے کم نہیں ہیں۔ مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں کمزور یا کمتر ہوں کیونکہ عملاً ایسا ہے ہی نہیں۔ جن دنوں ہم نے ٹریننگ لینی شروع کی ان دنوں پشاور بدترین حملوں اور دھماکوں کی زد میں تھا۔ روزانہ کے حساب سے حملے ہوا کرتے تھے۔ تعداد اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہم دھماکوں اور حملوں کے عادی ہو چکے تھے۔ ہم نے دوران ٹریننگ بھی کئی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ یہ صورت حال میرے لئے جہاں دکھ کی وجہ بنی ہوئی تھی وہاں اسی حالت نے میرے ارادے اور مقصد کو اور بھی مضبوط اور پختہ کیا۔ میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لئے نہ صرف اپنی بہترین اور غیرمروجہ کارکردگی کا مظاہرہ کروں گی بلکہ وقت آنے پر جان دینے سے بھی دریغ نہیں کروں گی۔ ابتدائی ہفتوں کے دوران میں نے پشاور کے ایک ایسے مضافاتی پولیس سٹیشن کی حدود میں ایک کارروائی میں بھی حصہ لیا جو کہ ہر روز دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں رہا کرتا تھا۔ میں نے پہلی بار ایک ایسا بھاری ہتھیار بھی چلایا جس کے چلانے کی نہ تو مجھے تربیت دی گئی تھی اور نہ ہی مجھے اس کے استعمال کا طریقہ معلوم تھا۔ میں یہ دکھانا چاہ رہی تھی کہ اگر خواتین تعلیمی اور طبی اداروں میں خدمات سرانجام دے سکتی ہیں تو پولیس اور ایسی دیگر فورسز میں شامل ہو کر اپنے وطن اور عوام کی حفاظت کے لئے عملی طور پر کیوں نہیں ہوسکتیں؟‘‘


اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود کسی اور ادارے میں جاب کے لئے کوشش یا خواہش کے بارے میں جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے تعلیم یا ڈگریاں اس لئے حاصل نہیں کیں کہ ان کے ذریعے میں کوئی ایسی نوکری حاصل کروں جس میں مراعات زیادہ ہوں اور میں اقتصادی طور پر مستحکم ہو جاؤں۔ اعلیٰ تعلیم کا حصول اگر محض ملازمت کا حصول یا لگژری لائف انجوائے کرنا ہو تو یہ کام بے شمار دیگر لوگ بھی کر رہے ہیں۔ میں نے اپنی ذہنی صلاحیتیں بڑھانے کے لئے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور میں یہ بھی دکھانا چاہ رہی ہوں کہ اصل چیز آپ کا جذبہ، لگن او رکچھ خاص کرنے کا شوق ہے۔ ناکہ سٹیٹس یامراعات۔ میں پولیس فورس سے بہت مطمئن ہوں۔ زندگی کے کسی موڑ پر اگر فرائض سرانجام دیتے موت سامنے آکر کھڑی ہو گئی تو میں اسے بخوشی سینے سے لگانے میں دیر نہیں لگاؤں گی کیونکہ دوسروں کے لئے محاذ جنگ پر لڑ کر جان دینے والے خوش نصیب ہوا کرتے ہیں۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بننے کے فیصلے پر انہوں نے یوں تبصرہ کیا کہ ایک تو یہ کہ اس یونٹ میں ہر وقت جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ مگر اِس کے ساتھ ساتھ یہ اطمینان بھی رہتا ہے کہ آپ دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے بموں اور بارود سے بھی کھیل سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ ملک بچانے کی جنگ میں خواتین کی بھی ذمہ داری ہے اور تیسرا یہ کہ ملک پاکستان، ہمارے لئے ماں کا مقام رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کی جنگ میں مائیں، بیٹیاں اور بہنیں بھی حصہ دار ہونی چاہئیں۔

نذر قائداعظم


عظمتِ قومی کا محور قائد بے مثل ہے
اوّل و آخر سراسر قائد بے مثل ہے

جس کی موجوں سے ملا ساحل مرادوں کا ہمیں
راہبری کا وہ سمندر قائد بے مثل ہے

دُور تک پھیلی ہیں اُس کے عزم کی رعنائیاں
دُور تک کہتا ہے منظر قائد بے مثل ہے

منزلوں نے بڑھ کے اُس کے پاؤں چومے بارہا
بخت کا ایسا سکندر قائد بے مثل ہے

حلقۂ آزادی ملت ہے اُس کے فیض سے
سو یاد رکھ ہر سُو برابر قائد بے مثل ہے


ڈاکٹرنثار ترابی

*****

 
12
January

تحریر: عفت حسن رضوی

بہت عرصے سے سوچ رکھا تھا کہ دنیا کی سیر کو اس وقت تک نہ نکلیں گے جب تک کہ اپنے ملک کا چپہ چپہ دیکھ نہ لیں ، سو بسم اللہ ایک سہل اور خوبصورت چوائس یعنی آزاد جموں کشمیر کی وادی نیلم سے کی۔


ہم نے وادی نیلم کے سفر سے پہلے وہاں کی تصاویر کو گوگل پر دیکھ لیا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم قدرتی حسن دیکھ کر بے ہوش ہوجائیں۔ تصاویر کسی اور ہی جہان کا منظر پیش کر رہی تھیں ، سفر سے ایک رات قبل ہی تصاویر دیکھ کر دل میں لڈو پھوٹنے لگے کہ واہ بھئی اب ہم بھی ان مناظر کا حصہ ہوں گے۔


اگلے دن صبح اپنے گھر یعنی اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔ دوپہر کا کھانا مظفرآباد کے راستے میں کھانا پڑا،روڈ سائڈ ہوٹل تھا ، مینو پتا چلا چکن کڑھائی،دال ماش اور انڈا گریوی ہے،سو ہم نے چکن کڑھائی پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ آگے چلے تو خاصی دیر بعد نیلم جہلم پاور پروجیکٹ آگیا۔ چین پاکستان کے مشترکہ پروجیکٹ کو دیکھ کر انسان ششدر رہ جاتا ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کا سینہ چیرتا دریائے نیلم اور اس پر حضرت انسان کے فن تعمیرات کا کمال،یہاں بند بنانے کا کام ابھی جاری ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس کے بعد ہمارے دل میں دشمن ملک کی سرحد دیکھنے کا شوق سر اٹھانے لگا۔ ہم ہرے ہرے،اونچے اور خطرناک پہاڑوں کو دیکھ کر بار بار گاڑی کی سیٹ پر اچھل جاتے ، ’’اچھا تو یہ ہے مقبوضہ کشمیر‘‘ ڈرائیور کہتا، جی نہیں یہ اپنا ملک ہے، جس پر تنگ آکر ہم نے ایک بار ٹوک ہی دیا کہ ’’بھائی جلدی کریں نا! مجھے وہ علاقہ دکھائیں جہان دشمن نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اور ہمارے کشمیری بھائیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنائے رکھتا ہے۔


اپنی وادی کشمیر کے اس حصے کو دیکھنے کی ہماری خواہش کا اندازہ میرے میاں صاحب کو ہوگیا تھا۔ جھٹ سے انہوں نے اپنے موبائل کا گوگل میپ کھولا، بل کھاتی وہ سڑک ایل او سی کے بالکل ساتھ ساتھ چل رہی تھی، ہمیں بتایا گیا کہ سامنے وہ ہیں اور یہاں ہم۔ ہم نے تیوریوں پر بل ڈالتے ہوئے دشمن کی سرحد کا طائرانہ جائزہ لیا، یوں لگ رہا تھا جیسے آج ہی جا کر ہم نے دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے ہیں۔


گہری نیلی شام ہونے تک ہم وادی نیلم کے علاقے اٹھمقام کے سڑک کنارے بنے ایک ہوٹل میں تھے۔ ہلکی خنکی تھی، مگر شدت جذبات میں ہم ہوٹل کی چھت پر چڑھ کر دریائے نیلم کا شور سننے اور چودھویں کا چاند دیکھنے پہنچ گئے۔یوں لگ رہا تھا جیسے شہر میں جو چاند نکلتا ہے وہ کوئی اور ہوتا ہے، یہاں آکر تو چاند کی چاندنی بھی زیادہ روشن تھِی۔ سونے پہ سہاگہ دریائے نیلم کا پتھروں اور چٹانوں سے ٹکراتے پانی کا شور۔ اس ناسٹیلجک ماحول میں چاند دیکھتے دیکھتے بھوک لگی تو ویٹر کو بلایا ، مزے مزے کے کشمیری کھانوں کا سوچ کر منہ میں پانی بھرے جا رہا تھا، خیر کنٹرول کیا، ویٹر بھیا نے مینو سنانا شروع کیا ’’چکن کڑھائی،دال ماش ، انڈا گریوی‘‘ مجھے جیسے کانوں پر یقین نہ آیا، میرا منہ اتر گیا، اس سے پہلے کہ میں منہ کھولتی ، ہمارے میاں صاحب جو قدرے شریف واقع ہوئے ہیں، انہوں نے میرے چہرے کے بدلتے زاویے کو دیکھتے ہوئے انڈا گریوی کا آرڈر دے دیا۔
مجھے تجسس ہوا کہ آخر اتنے بڑے نفیس ہوٹل میں مینو اتنا بے رنگ کیوں۔ ویٹر کا پیچھا کیا تو ایک چھپڑ کے نیچے کچھ برتن،کچھ تیار مصالحوں کے پیکٹ اور راشن نظر آیا، یہ ہوٹل کا کچن تھا‘ہم نے مزید کوئی فرمائش کرنا مناسب نہ سمجھا‘انڈا گریوی سامنے آیا تو جیسے سارے گلے شکوے دور ہوگئے، جی بھر کے کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

wadinelam.jpg
ہم نے رات میں دریائے نیلم کا صرف شور سنا تھا جسے سنتے سنتے ہم نیند کی وادی میں کھو گئے تھے۔ صبح آنکھ کھلی تو پہلے کافی دیر کمبل میں منہ دیئے یہی جائزہ لیتے رہے کہ یا اللہ یہ میرے کان بج رہے ہیں یا پھر واقعی یہ ہلکی نغمگی، پرندوں کی چہچہاہٹ ہے، جب یقین آگیا تو دوڑ کر کمرے کی اس کھڑکی سے باہر جھانکا جو دریا کی جانب کھلتی تھی۔ سبز بلند پہاڑ،نیلم کا نیلا پانی،اڑتی تتلیاں اور تازہ ہوا کا جھونکا، صبح اتنی حسین اور خوبصورت تھی کہ دل سے سبحان اللہ کی صدائیں نکل رہی تھیں، اسی خوبصورتی کو آنکھوں میں سموئے ہم حسرتوں کے مارے اٹھمقام گھومنے نکلے۔ خواتین میں یہ بڑی خوبی کہہ لیں یا خرابی ، ہم کسی بھی جگہ گھومنے جائیں وہاں کے مقامی بازار ضرور ایکسپلور کرتی ہیں، اٹھمقام کا بازار پورے علاقے میں مشہور ہے، سوچا کچھ کشمیری اشیا کی شاپنگ کرلیں، یقین جانیں نیلم میں سب سے زیادہ پیدا ہونے والے اخروٹ پوری مارکیٹ میں ناپید تھے، بہت چھان پھٹک کے بعد بھی نہ ملے تو ہم نے مقامی دکاندار سے پوچھا ، وجہ بتائی گئی کہ ملک بھر کے بیوپاری کشمیر کے باغات کے اس انمول میوے کا سودا پہلے ہی کرلیتے ہیں۔ اس لئے وادئ نیلم کا اخروٹ وادئ نیلم میں شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ جن پھلوں کے بارے میں سنتے آئے ہیں کہ یہ تو کشمیر کے باغات میں بھیڑ بکریاں کھا جاتی ہیں، وہ پھل کہیں نہیں ملے، سبزی فروش کے مطابق پھل اور سبزی مظفر آباد سے آتی ہیں مقامی طور پر کاشکاری کی سہولیات کا فقدان بھی ہے اور کاشت کاری کے لئے زمین بھی میسر نہیں۔


ہم نے اس ناکامی کو ایک طرف کر کے پھر موڈ بنایا کہ چلو کشمیری شالیں بڑی مشہور ہیں کم از کم وہ تو لے کر جائیں، خیر سے ایک دو دکانیں مل بھی گئیں، مگر وائے قسمت کہ بے دلی ہی ہاتھ آئی، دکاندراوں کے بقول یہ کشمیری شالیں سری نگر سے مظفرآباد آتی ہیں ، وہیں سے وادی نیلم کے تاجر خرید لاتے ہیں۔ دل میں بڑے سوال اُٹھے کہ آخر یہ فروغ سیاحت ایجنسی کر کیا رہی ہے، یہ سب کام تو بآسانی کئے جاسکتے ہیں، وادئ نیلم میں قدرتی حسن کے ساتھ وہاں کے محبت سے لبریز لوگ، ان کی مقامی ثقافت ان کے پکوان اور بہت کچھ ہے سیاحوں کے لبھانے کو، مگر حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث یہ سب سوغاتیں اسٹریم لائن نہیں ہو پا رہیں۔
اور کچھ نہیں تو نیلم میں جا بجا جھرنوں سے گرنے والے پانی کا ٹھیکہ ہی کسی کو دے دیا جائے کہ یہ تازہ شفاف اور قدرتی منرلز سے بھرپور پانی مقامی ہوٹلز میں آئے سیاحوں کو آفر کیا جائے، ہم شہری لوگ تو دو سو تین سو روپے کا بوتل بند پانی پی کر شہروں میں خوش ہوتے رہتے ہیں کہ منرل واٹر پی لیا،کجا یہ کہ کشمیر کے جھرنوں سے ملے تازہ پانی۔


ہم اٹھمقام سے کیرن کے لئے نکلے، اب کی بار ذہن کے پردے پر گوگل کی وہ تصاویر تیرنے لگیں کہ بس اب خواب حقیقت ہوا چاہتے ہیں، اب ہم جنت کے عینی شاہد بنیں گے، ہم سوچوں میں گم تھے کہ کیرن آیا اور آ کر چلا گیا، یہاں سیاحوں کا بے پناہ رش تھا، جس کے باعث لگتا یہی تھا کہ انتظامات ناکافی تھے، یکطرفہ سڑک پر دائیں بائیں مخصوص کشمیری انداز کے لکڑی کے کھوکھے تھے جو بڑے روایتی اور بھلے معلوم ہو رہے تھے مگر صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اس وادی کا دلربا حسن کچھ گہنا سا گیا تھا، سڑک پر چپس ، بسکٹس ، چاکلیٹس کے ریپرز، موبائل فون کے استعمال شدہ کارڈز ،پانی کی خالی بوتلیں، بچوں کے استعمال شدہ ڈائپرز اور نجانے کیا کچھ کچرے کی صورت پڑا تھا، دیکھتے ہی طبیعت گراں ہوگئی ہم نے مقامی دکاندار سے وجہ دریافت کی تو پتا چلا یہاں صفائی کبھی ہوتی ہے کبھی نہیں، دراصل سیاحت کا محکمہ کسی صورت بھی فعال نہیں لگا ورنہ اس جنت نظیر مقام کا ایسا حشر نہ ہوتا۔
اسی پوائنٹ پر فوجی چوکی پر تعینات ایک جوان نے پوچھنے پر بتایا کہ اسی کیرن کا آدھا حصہ وہ سامنے دشمن کے پاس ہے، ہم حیرت سے دریائے نیلم کے اس پار وادی کو دیکھنے لگے، سچ تو یہ ہے کہ ہوائیں،سبزہ، ندیاں، پرندے،سورج کی روشنی تو کوئی سرحد روک سکتی ہے نہ کسی دشمن کے عزائم۔


اونچے پہاڑ دیکھ کر ہم قدرت کی بالادستی اور وطن پرستی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ صبح گیارہ بجے اپر نیلم پہنچے، یہ مقام نہیں دیکھا تو پھر کیا دیکھا، نیلم دریا کا جوخوبصورت برڈ آئی ویو یہ وادی دکھاتی ہے شاید ہی کہیں سے ملے، نہایت نفاست سے بنے گھر،صاف ستھرا ماحول اور اللہ میاں کے عطا کردہ جنتی نظارے وادی نیلم کو ممتاز بناتے ہیں۔ یہاں ہمیں خاص کشمیری انداز میں لکڑی سے بنے گیسٹ ہاؤس کے مالک راجہ سخاوت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، راجہ سخاوت کا گیسٹ ہاؤس اپرنیلم کے اس مقام پر ہے کہ سرحد کے اس پار سے دُوربین کے ذریعے یہ تک دیکھا جا سکتا ہے کہ سخاوت میاں اپنے ہوٹل میں چائے پی رہے ہیں، یہ منظر دیکھ کر ہی جسم میں ایڈونچر بجلی کی سی رفتار سے دوڑ گیا، مگر ہم شہریوں کے لئے تو شاید یہ ایڈونچر ہی ہو ، یہاں کے رہائشیوں کے لئے البتہ خطرے سے خالی نہیں۔ راجہ سخاوت نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ وہ وقت بھی کاٹا جب سرحد کے اس پار سے مارٹر گولے ان کے گھر پر گرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پاک فوج کے جوانوں نے کبھی سرحد کے اس پار عام آبادی کو نشانہ نہیں بنایا مگر دشمن کے پلان میں سب سے اول ٹاسک شاید ہم شہریوں کو کراس بارڈر فائرنگ کا نشانہ بنانا ہے۔ سخاوت بھائی نے بتایا کہ دشمن کی بزدلانہ کارروائیوں سے بچنے کے لئے اپر نیلم کے رہائشی ایک عرصے تک رات میں بلیک آؤٹ کرتے رہے ہیں۔ پھر انہوں نے ہمیں دریائے نیلم کے اس پار بنی دشمن کی ایک چوکی دکھائی، شدید نفرت سے کہنے لگے۔ ’’یہ ہے وہ چوکی جہاں سے ہم پر فائرنگ ہوا کرتی تھی، پہلے یہاں بھارتی ترنگا بھی لگا ہوتا تھا، اب عرصے سے یہ چوکی خالی پڑی ہے۔‘‘


ہم نے دل ہی دل میں اس وادی اپرنیلم کے رہائشیوں کی ہمت پر رشک کیا،جو دشمن کے نشانے پر ہوتے ہوئے بھی پرعزم ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے ان کے محافظ پاک فوج کے جوان ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہم راجہ سخاوت کے ہوٹل کی گرم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے دریائے نیلم کے پانی میں بہتی ان سیکڑوں کہانیوں کو سوچنے لگے جو سرحد کے اُس پار اور اِس پار بٹ کے رہ گئی ہیں۔
ہمارے شوق اور ذوق کو دیکھتے ہوئے سخاوت بھائی نے ہمیں رتی گلی جھیل جانے کا مشورہ دیا، ہم میاں بیوی پہلی بار نیلم گئے تھے، گوگل پر سرچ شدہ پلان میں بھی رتی گلی جانے کا ارادہ نہیں تھا، مگر سخاوت بھائی نے ایسی تعریفیں کیں کہ ہم دونوں جھٹ تیار ہوگئے،طے پایا کہ ہم رتی گلی سے واپس اپرنیلم آکر رات کا کھانا کھائیں گے۔
پورے نیلم میں ایسی پیاری پیاری جیپیں چل رہی تھیں،ہم نے سوچا ایسی ہی کوئی جیپ ہوگی جس میں بیٹھ کر جائیں گے،مگر سیاحوں کا ہائی سیزن ہونے کے باعث ایک جھلنگا سی لوڈر جیپ ہی ہمیں مل سکی، رخت سفر باندھا اور فوری روانہ ہوئے،سوچا اب تک جیسا اونچی نیچی سڑکوں کا سفر گزرا آگے بھی ویسا ہی ہوگا۔ جی ہاں ہم سراسر غلط تھے۔


ہم کہتے ہیں کہ اگر واقعی ایڈونچر نامی کسی انگریزی لفظ کا بخار سر پہ چڑھا ہے تو رتی گلی جانے کا پروگرام بنا لیں یہ بخار جلد ہی اتر جائے گا۔ نیلم سے دواریاں کے مقام تک تو سب ٹھیک تھا مگر اس کے بعد ’’چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘ کی مانند ہم دونوں کا تیز ہوا کے سامنے جلتے بجھتے دیئے جیسا حال تھا۔ ہم ٹھہرے اسلام آباد کی ایکسپریس وے جیسی چوڑی سڑک پر سفر کے عادی۔۔۔ کہاں وہ آڑھی ترچھی، بالکل پتلی، کہیں گول کہیں سیدھی کہیں اوپر کہیں ایک دم نیچی اور کہیں سانپ جیسی بل کھاتی سڑک اور اسے سڑک بھی کیوں کر کہئے جناب وہ تو جیسے پتلی گلی کا بھی کوئی دسواں حصہ تھا، چوڑی اتنی کہ جیپ کا ٹائر ادھر سے ادھر ہوا تو انجام سیدھا گہری کھائی میں بہتی تیز ندی۔’’الحفیظ و الامان، میری توبہ یا اللہ مجھے آج بچا لے ، آئندہ اس بستی کا رخ نہیں کروں گی۔‘‘ یہی وہ جملے تھے جو اگلے چار گھنٹے تک میں بڑبڑاتی رہی۔


یہ میرا حال تھا اور ایک ہمارے ڈرائیور صاحب تھے کہ اپنی دھن میں مست بے فکری سے اسٹیرنگ یہاں وہاں کئے چلے جا رہے تھے، انیس سو ساٹھ ماڈل کی جیپ جس کے اینجر پنجر ڈھیلے ہو کر جواب دے سکے تھے، راجہ زاہد نامی ڈرائیور بھائی ایسے چلا رہے تھے جیسے کوئی تجربہ کار خاتون بے دھیانی سے گول گول روٹیاں پکا رہی ہو۔ ہم جاں بلب تھے اور وہ گانوں سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ہمیں ایک ہی سوال کھائے جا رہا تھا کہ آخر ہم کب سیاحت کی اہمیت کو سمجھیں گے،کب ہمیں ادراک ہوگا کہ صرف سیاحت کے دم پر بعض ملکوں نے اپنی معیشت کھڑی کردی، جب ایک ٹورسٹ پوائنٹ پر اتنی بڑی تعداد میں ملک بھر سے لوگ جا رہے ہیں تو کیوں نہیں کوئی معقول راستہ بنا دیا جاتا تاکہ حادثات سے بچا جائے، یا پھر ایسے ٹورسٹ پوائنٹ کے راستے محفوظ بنانے تک انہیں گاڑیوں کے لئے بند کردیا جائے اور ہم جیسے شوقینوں کو کہا جائے کہ شوق ہے تو کرو ہائیکنگ۔۔۔
اس علاقے کے لائن آف کنٹرول سے متصل ہونے کے باعث یہاں نہ تو موبائل نیٹ ورک موجود ہیں نہ کسی ہسپتال چھوڑ ڈسپنسری کی سہولت، محکمہ سیاحت یہاں جانے کا کوئی بھاری ٹکٹ ہی لگادے مگر کچھ معمولی سی سہولیات اگر دے دے تو یہ سیاحتی پوائنٹ اینڈونچریس بھی ہو اور مزے کا بھی۔ مزہ تو ایسے سفر کی تھکن میں ہی آتا ہے مگر ایمرجنسی کے لئے انتظامات ناگزیر ہیں۔


ہم ٹھہرے نازک شہری،نہ ہماری خوراک خالص نہ پانی، اٹھارہ کلومیٹر کا راستہ ہمیں اٹھارہ ہزار کلو میٹر سے زیادہ لگا،یہ پل صراط پار ہوا تو ہم رتی گلی بیس کیمپ پہنچے، ہم تھکن سے ٹوٹے ہوئے تھے ادھر ہمارے ڈرائیور راجہ زاہد ایک دم فریش، آکسیجن کی کمی سے سانس لینے میں دشواری تھی، اس لئے آکسیجن کی جگہ سکھ کا سانس لیا، لگا نئی زندگی مل گئی،یہاں پہنچنے میں دوپہر کے تین بج گئے،اتنا اوپر بھی کچھ خیموں میں تنور لگے دیکھے تو ان محنتی کشمیریوں کی دشوار زندگی اور زندہ دلی پر عش عش کر اُٹھے، ہم نے ایک کیمپ میں بیٹھ کر بڑے چاؤ سے اپنے میاں سے کھانے کی فرمائش کی،انہوں نے بڑی سادگی سے کہہ دیا ’’مینو میں چکن کڑاہی، دال ماش اور انڈا گریوی ہے،اب دال ماش کو چانس دو’’ ہم نے چاول کے ساتھ دال ماش پہلی بار کھائی، اتنے دھکم پیل کے سفر کے بعد تو یہ دال ماش چاول کسی من و سلویٰ سے کم نہ لگا۔ اس کے بعد چائے پی کر آنکھیں جیسے کھل گئیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ رتی گلی نامی کوئی جھیل ہے، مگر بیس کیمپ پہنچنے پر جھیل کے آثار نہ پاکر یہاں وہاں پوچھا تو پتا چلا ابھی تو مزید ایک گھنٹے کا سفر باقی ہے۔ میرے دوستو قابل ذکر و فکر بات یہ تھی کہ اگلا سفر صرف پیدل یا گھوڑے پر ہی کیا جاسکتاتھا۔


ہم جو بارہ ہزار فٹ کی اونچائی سے قدرت کو دیکھ کر نہال تھے، گھڑ سواری وہ بھی پورے ایک گھنٹے نان سٹاپ کا سن کر ہمارے ہوش اُڑ گئے،ہم نے سارا بچپن گزار دیا مگر ابو کے کہنے پر بھی کراچی کے ساحل پر کھڑے گھوڑوں کو یہ شرف کبھی نہیں بخشا کیونکہ ہمیں یہ یقین تھا کہ گھوڑا ہمیں لے کر سمندر کے اندر غرق ہوجائے گا کہاں یہ عالم کہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر سیدھے کھڑے پہاڑ پر چڑھنے کے لئے ہمیں گھڑ سواری کرنا تھی۔ بیس کیمپ سے ہی واپسی کے ہمارے ارادے کو میاں صاحب بھانپ چکے تھے، اس لئے انہوں نے فوری طور پر دو گھوڑوں کی سواری بک کرلی۔ بڑے احتجاج کے بعد ہم چاروناچار ایک طوفان نامی گھوڑے پر تشریف فرما ہوئے،جس کا ساربان ایک دس گیارہ سالہ بچہ تھا، ڈرتے ڈرتے ہم نے آنکھیں بند کیں،طوفان نامی یہ گھوڑا چلنے لگا،یکایک کیا سنتے ہیں کہ بچہ طوفان کی لگام ہمارے ہاتھ میں دے کر کہتا ہے باجی اب لگامیں کھینچو اور گھوڑے کو چلاؤ۔ یقین جانیں اس لمحے ہماری شریانوں میں بہتا خون خشک ہوچکا تھا، وہ گھوڑا بالکل سیدھے کھڑے ایک پہاڑ پر جما جما کر قدم رکھتا جاتا، گھوڑا خود ہی فیصلہ کرتا اسے کہاں اور کیسے جانا ہے، لگامیں بے شک ہماری ہاتھ میں تھیں مگر ہم گھوڑے کو کیا چلاتے ہمارے اپنے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ان بُھربھری سی پہاڑیوں کی حالت یہ تھی کہ ایک ساتھ دو بلیاں بھی اس راستے سے نہیں گزر سکتیں ، جہاں وہ گھوڑے چل رہے تھے۔ خیر سنبھل سنبھل کر آخر کار گھوڑا بحفاظت ہمیں رتی گلی تک لے ہی آیا۔ اس جگہ کی خوبصورتی بعید از بیاں ہے، ہم نے بلند و بالا برف سے ڈھکے پہاڑ کو دیکھا ، جیسے روئی کے گالے جمے ہوں،رتی گلی جھیل کا پانی نیلا،سبز اور ہلکا آسمانی تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے نیلی پریاں یہاں وہاں اڑ رہی ہوں، پہاڑوں پر جمی برف جھک کر جھیل کے پانی میں خود کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے بن سنور رہی ہو،اس جھیل کے آس پاس اُگے پودے اور گھاس سبز اور سرخ رنگ کی تھی جس سے منظر جادوئی سا لگ رہا تھا، وہ ایک لمحہ دن بھر کیا عمر بھر کی تھکن مٹانے کو کافی تھا۔
رتی گلی سے واپسی پر رات ہوگئی، راستے وہی موت کے کنوئیں میں گاڑی چلانے جیسے، جتنی آیتیں یاد تھیں ساری پڑھتے رہے ، اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا اور ہمیں واپس اپر نیلم جانا تھا مگر ہمارے ڈرائیور راجہ زاہد نے اب تک گاڑی کی ہیڈلائٹس آن نہیں کی تھِیں۔اندھیرا جب ناقابل بیان حد تک بڑھ گیا تو ہم نے ٹوکا کہ بھائی لائٹس تو جلاؤ۔۔۔ جواب ملا ہیڈلائٹس خراب ہیں۔۔۔


بس اس کے بعد اتنا ہی کہوں گی کہ میں نے جو کتاب ’’موت کا منظر‘‘ کبھی پڑھی تھی اب اس کا حرف حرف یاد آرہا تھا، میں نے ڈرتے ہوئے پوچھا بھائی اس گھپ انڈھیرے میں کیا نظر آرہا ہے؟ ڈرائیور بھائی نے شان بے نیازی سے کہا ’’باجی ڈرو نہیں ہم نے سات سال تک گاڑی رات کو بغیر ہیڈلائٹس کے انہیں پہاڑیوں پر چلائی ہے، کیونکہ ان علاقوں میں رات کے وقت دشمن کی فائرنگ کا ڈر رہتا تھا۔‘‘ ہمارا دل چاہا کہ جا کر ایک بار دشمن کا منہ ہی نوچ لیں۔
ہم ہلتے جلتے وادیوں سے ملتے ملاتے،نئے سفر کی نئی یادیں آنکھوں میں سموئے رات گئے واپس اپر نیلم پہنچے تو راجہ سخاوت کی مخصوص مسکراہٹ نے ہمیں خوش آمدید کہا،ہمارے آنے سے پہلے ہی گرما گرم کھانا تیار تھا،مگر اب کی بار مینو میں ’’چکن کڑھائی،دال ماش، انڈا گریوی‘‘کی جگہ گرم روٹی دیسی بھنڈیاں اور میٹھا دہی تھا۔


پسِ تحریر:۔ گزشتہ کئی دنوں سے لائن آف کنٹرول اور خصوصاً وادئ نیلم میں انسانی بستیوں کو گولہ بارود سے تباہ کرنے کی روایت ہمارے دشمن نے ایک بار پھر شروع کر دی ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک مسافر بس کو انڈین آرمی کی طرف سے تباہ کرنے کی مذموم حرکت اور نتیجتاً نو بے گناہ مسافروں کی شہادت کی خبر نے ہمارا دِل پارا پارا کر دیا ہے۔ میرے دِل سے وادئ کشمیر اور وادئ نیلم کے مکینوں کے لئے سلامتی کی دعائیں نکلتی ہیں۔ مجھے فخر ہے اپنی پاک افواج پر اور یقین بھی ہے کہ وہ دشمن کو منہ توڑ جواب بھی دے رہے ہوں گے۔ مجھے توسمجھ آ گیا ہے مگر کاش دنیا بھی سمجھ جائے کہ کشمیر جنت نظیر جیسی وادی کو موت کی وادیوں میں تبدیل کرنے والی صرف اور صرف بھارتی قیادت اور بھارتی افواج ہیں۔ کشمیر کے بے بس اور مظلوم عوام آج پوری دنیا کے ضمیر کے لئے ایک چبھتا ہوا سوال ہیں جس کا جواب جلد یا بدیر ہمیں ضرور تلاش کرنا ہو گا۔

مصنفہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس فیلو، سوانح نگار ، قلمکار اور ایک نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
January

تحریر: ڈاکٹروقار احمد

پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا بھر میں جس تیزی سے ماحولیاتی امور میں آگاہی کا سلسلہ بڑھا ہے، قدرتی ماحول اور وسائل میں تباہی شاید اس شرح سے کئی گنا زیادہ رہی ہے۔اگر اس بات کا جائزہ لیا جاے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں ماحول کی تباہی کس زمانے میں زیادہ ہوئی تو پتا یہ چلے گا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی صنعتی ترقی کے دوران اپنے قدرتی ماحول کو آلودہ، اور جنگلات وغیرہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا بیٹھے ہیں۔جبکہ ترقی پذیر ممالک یہ کام اب کر رہے ہیں۔امریکا، برطانیہ، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک جنہیں غالباً ہر شعبے میں مثالی ممالک سمجھا جاتا ہے اگر ان کی صورت حال کا جائزہ لیا جاے تو پتا چلتا ہے کہ ان ممالک نے مجموعی قومی پیداواریا جی ڈی پی میں جتنا اضافہ کیا ہے، اس سے کہیں زیادہ وہ اپنا سماجی اور ماحولیاتی نقصان کر چکے ہیں اور قدرتی وسائل تباہ کر چکے ہیں۔گویا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی صنعت کا مالک کہے کہ ہم 100 ملین کی پیداوار کرتے ہیں اور جب آپ ان سے کارخانے کے اخراجات پوچھیں تو اسے معلوم نہ ہو کہ وہ اس پیداوار کی کیا قیمت ادا کر رہا ہے؟ کہیں وہ اپنے اثاثے تو خرچ نہیں کر رہا؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترقی کا اصل معیار کیا ہے؟ کیا صرف وقتی طور پر دولت کمانا اور لوگوں کا معیار زندگی عارضی طور پر بہتر کرنا ہی ترقی ہے، یا ہمیں اس کی پیمائش کے اصول تبدیل کرنے کی ضرورت ہے؟ اگر ہم اپنے ملک پاکستان میں ترقی کی موجودہ شرح دیکھیں تو بلا شبہ پچھلے کچھ سالوں میں ہمیں ہر شعبے میں ترقی نظر آئے گی۔خصوصاً صنعتیں، توانائی، سڑکیں، بندرگاہیں وغیرہ، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم ان ترقی یافتہ ممالک کے پچھلے دور کی طرح اپنے قدرتی ماحول کو آلودہ اور وسائل ارزاں قیمت پر ضائع تو نہیں کر رہے؟ ہمیں پائیدار ترقی کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ ایسا طریقہ جس سے ہم ترقی بھی کریں اور اپنے ماحول اور قدرتی وسائل کو بھی آنے والی نسلوں کے لئے بچا کر رکھیں۔ایسی ترقی کو پائیدار ترقی یا
sustainable development
کہتے ہیں۔

 

traqikasafr.jpgاس ضمن میں مریلین وارنگ کی پیش رفت قابلِ ذکر ہے جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کسی ملک کی ترقی کو ناپنے کے لئے جی ڈی پی کا پیمانہ ناکافی ہے اور اس میں ان عوامل کو ضرور شامل کرنا چاہئے جن کے بغیر ترقی بے معنی ہوتی ہے مثلاً سماجی اور ماحولیاتی عوامل ملک میں جرائم کی شرح، قدرتی وسائل کا ضیاع، ماحولیاتی نقصانات اور آلودگی وغیرہ۔ایسا ہی ایک پیمانہ
(Genuine Progress Indicator)
ہے جو کہ ایسے عوامل کو بھی شا مل کرتا ہے جنہیں جی ڈی پی نظرانداز کرتا ہے مثلاً قومی پیداوار کا کتنا حصہ غریبوں پر خرچ ہوتا ہے، جو رقوم پائیدار اشیاء پر خرچ ہوتی ہیں وہ جی پی آئی میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں اور جلد ختم ہونے والی اشیاء اس میں کمی کرتی ہیں، جبکہ جی ڈی پی محض رقوم کو خرچ ہونے کی بنیاد پر شمار کیا جاتا ہے۔
اب اگر امریکا کی جی ڈی پی اور جی پی آئی کا موازنہ کریں تو پچھلے 70 سالوں میں امریکا کی فی کس جی ڈی پی دس ہزار ڈالر سے بڑھ کے پینتالیس ہزار ڈالر تک جا پہنچی ہے جبکہ اسی اثنا میں فی کس جی پی آئی پانچ ہزار ڈالر سے بڑھ کر بمشکل 15000 ڈالر تک پہنچ پائی ہے۔
2013 میں ایک مشہور تحقیقی جریدے
Ecological Economics
میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں دنیا کے 71 ممالک کی ترقی کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں پتا چلا کہ صرف 3 ممالک جاپان، برطانیہ اور اٹلی ایسے ہیں جن کی جی پی آئی اور جی ڈی پی میں اضافہ تقریباً یکساں ہے، جبکہ کئی ممالک ایسے بھی ہیں جن کی جی ڈی پی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن جی پی آئی میں اس کے برعکس کئی گنا کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ عالمی جی ڈی پی اور جی پی آئی بھی شمار کیا گیا اور پتا یہ چلا کہ عالمی جی ڈی پی کی سطح 10000 ڈالر تک جا پہنچی ہے جبکہ عالمی جی پی آئی صرف چار ہزار ڈالر پر رکی ہوئی ہے۔
اب آئیے ذرا پاکستان کی صورتحال پر نگاہ ڈالتے ہیں۔پاکستان میں بلاشبہ پچھلے کچھ سالوں میں ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے اور نہ صرف مشہور و معروف پروجیکٹس جیسے سی پیک اور موٹرویز وغیرہ شروع ہوئے ہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی خاطر خواہ کام ہو رہا ہے مثلا کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے کئی منصوبے عمل میں آرہے ہیں۔لیکن اس صورتحال میں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس ساری ترقی کے دوران کہیں ہم اپنی ہوا، پانی اور زمین کو آلودہ تو نہیں کر رہے؟
میں یہاں مثال کے طور پر کراچی کے اطراف میں ہونے والے منصوبے پیش کرتا ہوں۔پچھلی 2 دہائیوں میں شہر کے اطراف مینگرووز کے جنگلات کا تیزی سے صفایا کیا گیا اور ہنوز یہ عمل جاری ہے۔ مینگرووز کے جنگلات بے پناہ معاشی اور ماحولیاتی فوائد مہیا کرتے ہیں۔جس میں سمندروں میں مچھلیوں کی خوراک، تازہ ہوا، سونامی اور سائیکلون سے بچاؤ شامل ہیں۔ ہوا سے کاربن جذب کرنے کا عمل سب سے زیادہ انہی جنگلات میں ہوتا ہے لہٰذا یہ کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لئے نہایت اچھا کردار ادا کر رہے ہیں۔گویا یہ ایسے فوائد ہیں جن کی قیمت مارکیٹ میں موجود اشیاء کے ذریعے نہیں لگائی جا سکتی۔ 2012 میں
(Ecosystem Services)
نامی سائنسی جریدے میں ایک تحقیق شائع ہوئی جس میں ہالینڈ، ہانگ کانگ اور برطانیہ کے سائنسدانوں نے حصہ لیا تھا۔اس تحقیق میں دنیا بھر کے مینگرووز کے جنگلات (بشمول پاکستان)کے معاشی فوائد کا جائزہ لیا گیا اور اندازہ ہوا کہ ایک ہیکٹر مینگرووز ہمیں تقریباً دو ہزار سے دس ہزار ڈالرز کا سالانہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔
IUCN
(Internatioal Union For Conservation of Nature)
کے مطابق پاکستان کے مینگرووز اس رینج میں اُونچی سطح پر ہیں اور تقریباً آٹھ ہزار ڈالرز فی ہیکٹر سالانہ کے لگ بھگ فائدہ پہنچاتے ہیں۔اس اعتبار سے اگر محتاط اندازہ لگایا جائے تو ایک لاکھ ہیکٹرز پر پھیلے یہ جنگلات ہمیں سالانہ 80 کروڑ ڈالرز کا فائدہ پہنچاتے ہیں۔لاکھوں لوگ جو مچھلی پکڑنے یا دیگر سمندری ذریعۂ معاش سے وابستہ ہیں وہ اس سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔ان تمام فوائد سے بڑھ کر یہ کہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ
deforestation
کے عمل سے عالمی سطح پر ہوا میں آکسیجن کی کمی واقع ہوگی۔
پچھلے کچھ عرصے میں کراچی کے ساحلی علاقوں میں جس تیزی سے شہرکاری
(urbanization)
ہوئی ہے اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ مائی کولاچی بائی پاس پر 2000 میں سے تقریباً 150 ہیکٹرز مینگرووز کاٹ کر کالونی بنا دی گئی۔ گزری کریک کے دوسری طرف پانچ سو ایکڑ جنگلات کو حاصل کیا جارہا ہے جس کی خبر اپریل 2012 کے اخبارات میں چھپ چکی ہے۔اسی طرح اگر
Port Qasim
کا حال دیکھا جائے تو پتا چلے گا کہ یہ انتہائی حساس مینگرووز کے جنگلات میں تعمیر کیا گیا اور اب تک مینگرووز کا کئی ہزار ایکڑ رقبہ پورٹ کی مختلف برتھیں تعمیر کرنے میں تباہ ہو چکا ہے۔حال ہی میں کوئلہ پاور پلانٹس کے لئے سیکڑوں ایکڑ پر جنگل کاٹا جارہا ہے۔اس ضمن میں محکمہ جنگلات اس یقین دہانی پر اجازت دے دیتا ہے کہ پروجیکٹ کنندہ ایک درخت کے بدلے پانچ درخت لگا دیں گے۔ تاہم ’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ درخت 30 سال میں جاکر جوان ہوتے ہیں اور 30 سالوں کا نقصان کیسے پورا کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ 30 سال تک ان کی نگہداشت کو یقینی بنانا ناممکن سا کام لگتا ہے۔موجودہ پلان کے مطابق پورٹ قاسم انڈسٹریل زون میں تین ہزار انڈسٹریز لگائی جائیں گی۔ جبکہ پورٹ قاسم میں اس وقت نیوی گیشن چینل کو مزید ساڑھے چار کلو میٹر بڑھایا جارہا ہے۔ جس کے بعد کئی برتھیں مزید تعمیر ہوں گی۔ نئے انڈسٹریل پلاٹس الاٹ کئے جائیں گے۔ ذرا سوچیں اگر یہ سب ہو گیا تو وہاں موجود حساس ایکوسسٹم کس قدر تباہ ہوجائے گا۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ وہاں کا پانی، جہاں کسی زمانے میں مچھلیاں وافر مقدار میں موجود ہوتی تھیں، اب آلودگی کی وجہ سے بالکل سیاہ رہتا ہے۔
اب ہم پاکستان میں تیزی سے لگنے والے کول پاور پلانٹس کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہیں۔دنیا بھر میں پچھلی چند دہائیوں سے عالمی گرمائش (گلوبل وارمنگ) محسوس کی جارہی ہے اور بیشتر سائنسی رپورٹیں اس کی تصدیق کرچکی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہوا میں گرین ہاس گیسوں (جیسا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ وغیرہ) کا اضافی اخراج ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی کچھ دہائیوں میں دنیا کا درجہ حرارت 2 سے 5 درجہ سنٹی گریڈ بڑھ سکتا ہے جو کہ بنی نوعِ انسان کی بقاء کے لئے انتہائی خطرناک ہوگا اور اس سے سب سے زیادہ متاثر وہ ترقی پذیر ممالک ہوں گے جن کا دارومدار قدرتی وسائل اور زراعت پر ہوگا۔ چنانچہ کئی بین الاقوامی معاہدوں جن میں
Kyoto Protcol, Rio Summit,

Copenhagen Climate Conference
اور حال ہی میں ہونے والے
Paris Agreement
میں دنیا بھر کے ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ انسانیت کو سب سے بڑا خطرہ آج کی دنیا میں کلائمیٹ چینج یعنی کہ دنیا کا بدلتا ہوا موسم ہے۔اس ضمن میں تقریبا تمام ہی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنا ضروری ہوگیا ہے اور اس کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ فوسل فیول (تیل، گیس اور کوئلے) کے استعمال کو کم سے کم کیا جائے اور توانائی کے متبادل ذرائع جیسے کہ ہوا، شمسی توانائی، پانی اور دیگر ذرائع سے توانائی پیدا کرنے پر زور دیا جائے۔اس ضمن میں دنیا بھر میں تحقیق کے نئے دروازے کھل گئے ہیں اور توانائی کے متبادل ذرائع
(alternate Sources)
کے بڑے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میں اب کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے عمل کو کم کیا جا رہا ہے۔چنانچہ پچھلے چالیس سال میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، کوریا اور امریکا اپنی قومی توانائی میں کوئلے کے تناسب کو کم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ 2014 میں امریکا نے ایک بہت بڑا منصوبہ منظور کیا ہے جس میں کاربن کے اخراج کو 2005 کی حد سے 30 فیصد کم کیا جائے گا اور یہ بنیادی طور پر کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو متبادل ذرائع سے تبدیل کرنے سے کیا جائے گا۔ جبکہ دوسری جانب ہندوستان، چین اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کوئلے کے استعمال کو بڑھا رہے ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئلے کی کم قیمت منصوبہ سازوں اور حکومتوں کو
alternate Sources
کے منصوبے جو کہ اس وقت مہنگے محسوس ہوتے ہیں، ان کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند لگتے ہیں۔تاہم اس سے ماحول پر ہونے والے نقصانات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
کوئلہ دنیا بھر میں
dirty fuel
کے نام سے مشہور ہے۔جس کی وجہ اس کے جلنے سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسوں کا اخراج ہے۔کوئلہ توانائی کے حامی اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہم
clean coal
ٹیکنالوجی اختیار کریں گے اور ماحول کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔کوئلہ جلنے سے سلفر آکسائڈ ، نائٹروجن آکسائیڈز ، کاربن مونو آکسائڈ کے ذرات
، fly ash
وغیرہ بھاری مقدار میں خارج ہوتے ہیں۔کوئلہ پاور پلانٹس میں ان کو قابو کرنے کے لئے مختلف طریقہ کار استعمال ہوتے ہیں۔تاہم ان تمام طریقہ کاروں سے آلودگی کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے، لیکن یہ ختم نہیں ہوتی۔ مثلاً راکھ کے ذرات ہوا میں جانے سے روکے جاسکتے ہیں، لیکن یہ جمع ہو کر سالڈ ویسٹ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں آلودگی ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اس کے علاوہ بعض بہت سے زہریلے عناصر جیساکہ مرکری ، آرسینک ، کیڈمئم اور دیگر دھاتیں کوئلے میں خطرناک حد تک پائی جاتی ہیں اور ان کو ماحول میں جانے سے روکنے کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا۔ امریکا میں ہونے والی سائنسی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ وہاں اب تک بجلی کا تقریباً 40 فیصد کوئلے سے پیدا ہو رہا ہے اوریہ دھاتیں ہر سال ہزاروں ٹن کی مقدار میں آلودگی پیدا کر رہی ہیں اور وہاں کے ماحول کو خراب کر رہی ہیں۔ایک بار یہ زہریلے مادے ہوا، پانی یا زمین میں داخل ہو جائیں تو پھر ان کو نکالنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔پچھلے مہینے پنجاب بھر میں سموگ کا راج رہا اور اس کی وجہ سے لوگوں کو سانس کی بیماریوں نے پریشان کر دیا۔ ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فصلوں کا بھوسا جلانے سے جو دھواں پیدا ہوا وہ دھند میں جذب ہوکر سموگ بنا۔ یہ دنیا میں پہلا واقعہ نہیں تھا، اس سے پہلے ایسے واقعات دنیا میں کئی جگہوں پر ہو چکے ہیں۔خاص طور پر دسمبر 1952 میں لندن میں ہونے والا سموگ کوئلہ جلانے کی وجہ سے ہوا تھا۔اس واقعے میں لاکھوں لوگ بیمار ہو گئے تھے، جبکہ ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
2005 میں قومی ماحولیاتی پالیسی
(National Environmental Policy)
منظور ہوئی جس میں ماحولیاتی تحفظ اور پائدار ترقی کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔پاکستان میں پچھلے چند سالوں میں کچھ بہت اچھے پروجیکٹس نظر آئے مثلا پن بجلی کے پروجیکٹس وغیرہ جو گھارو اور جھمپیر میں لگے تاہم موجودہ حکومت اس سلسلے میں ایسی دلچسپی نہیں لے رہی جیسے کوئلہ پاور پروجیکٹس پر توجہ دی جارہی ہے۔حکومت پنجاب کا ایک منصوبہ جو کہ گرین پاکستان پروگرام کے نام سے ہے ایک بہت اچھا قدم ہے۔جس کے تحت ملک بھر میں شجر کاری کی جائے گی اور100 ملین درخت لگائے جائیں گے۔ لیکن یہ پروجیکٹس اس وقت کامیاب ہوں گے جب حکومت ان کو اولین ترجیح دے گی۔سی پیک جیسے بڑے منصوبوں پر بھی قومی ماحولیاتی پالیسی کی روشنی میں عمل کرنا چاہئے۔
یہ محض چند ایک مثالیں ہیں جن سے یہ بات سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ کیا کسی ملک کی خوشحالی کے لئے صنعتی ترقی ضروری ہے یا اس کے اصل پیمانے کچھ اور ہونے چاہئیں؟ اب ایسی صورت حال میں آپ خود ہی بتائیے کہ کیا اس تیز رفتار ترقی کی راہ میں کہیں ہم وہی غلطیاں تو نہیں کر رہے ہیں جو ہم سے پہلے ترقی یافتہ ممالک کر چکے ہیں۔اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ترقی یافتہ ممالک اب اپنی صنعتیں تیسری دنیا کے ممالک میں ہی کیوں لگا رہے ہیں؟ جاپان، برطانیہ، امریکہ اور دیگر تمام ترقی یافتہ ممالک پاکستان، ہندوستان، چین اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں سرمایہ کاری کرنے میں کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟ کیا ہم پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال رہے ہیں یا یہ محض ڈالر کما کر اپنے ملک میں عارضی خوشحالی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومت کو چاہئے کہ ملکی ترقی کو صحیح سے سمجھنے کے لئے
GPI
کی شماری کروائی جائے۔ماہر اقتصادیات سے جنگلات کی صحیح اقتصادی قیمت لگوائی جائے اور ان کو قومی خزانے میں شامل کیا جانا چاہئے۔
National Environmental Policy
پر عمل کیا جاے اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے مستقبل کے اہداف مقرر کئے جائیں اور ان پر عمل کیا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی زند رہ سکیں۔

ڈاکٹر وقار احمد ایک ماہر ماحولیات ہیں اور جامعہ کراچی میں اپنی خدمات تدریس و تحقیق کی صورت میں انجام دے رہے ہیں.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
January

انٹر ویو : صبا زیب

افتخار عارف کا نام ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ وہ نہ صرف پاکستان میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی لوگ ان کے مداح ہیں۔ وہ اپنے فن میں پختگی رکھنے والے منفرد ادیب ہیں۔ اپنا تجربہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کوئی تشنگی نہیں رہتی۔ انہوں نے پاکستان میں ادب کی ترویج میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں مہردونیم، حرف بریاب، فیض بنام افتخار عارف اور انتخاب کلام فیض شامل ہیں۔ حال ہی میں وہ 3سال ایران میں ای سی او کے پہلے غیر ایرانی صدر کی خدمات انجام دے کر پاکستان آئے تو انہیں فوراً ہی ادارہ ترقی قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیاہے۔ اس سے پہلے وہ اس ادارے کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے طور پر بھی پاکستانی ادب اور ادیبوں کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ہم نے اپنے قارئین کے لئے افتخار عارف سے گفتگو کی جو قارئین کے لئے یقیناًدلچسپی کا باعث ہوگی۔

 

intiftakhararif.jpgسوال : ہمارے قارئین کے لئے اپنے بارے میں بتائیں خاص طورپر ادبی حوالے سے کہ یہ سفر کب اور کیسے شروع ہوا ؟
جواب: میری پیدائش21 مارچ1943 کو لکھنو میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم درسِ نظامی کے مدرسہ نظامیہ فرنگی محل سے حاصل کی۔ جوبلی سکول لکھنو سے سکول کی تعلیم حاصل کی یہ اس زمانے کا بہت مشہور سکول تھا۔ اس سکول میں شوکت صدیقی(ادیب، ڈرامہ نویس) نے بھی پڑھا تھا۔ انٹر میڈیٹ کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے وہاں بہت قابل اور بڑے اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا جن میں پرویز احتشام، نور الحسن ہاشمی، رادھا مکھر جی وغیرہ شامل ہیں۔
ایم اے کرنے کے بعد 1965 میں پاکستان آیا۔ غریب گھرانے سے تعلق تھا۔ میری پرورش نانا نے کی۔ والدہ شیعہ جب کہ والد حنفی مسلک سے تھے۔ میں نے اپنی زندگی بہت مشکل حالات میں گزاری۔ لالٹین کی روشنی میں پڑھائی کرتا تھا۔ اسی زمانے میں میری نظر کمزورہوگئی لیکن ان سب مشکلات کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور آخر کار ایم اے کرلیا۔


1965 میں جب میں پاکستان آیا تو سب سے پہلے ریڈیو کی طرف گیا۔ وہاں میں نے اردو اور ہندی میں خبریں پڑھنا شروع کیں‘ہر بلیٹن کے 10 روپے ملتے تھے۔
میری اردو اچھی تھی اور تلفظ بھی صاف تھا ۔آہستہ آہستہ ریڈیو پر مختلف پروگرام ملنے لگے۔ ریڈیو کے لئے خدیجہ نقوی اور ایس ایم سلیم کے ساتھ ایک ڈرامہ کیا۔ جب ٹی وی آیا تو ٹی وی میں چلے گئے وہاں کسوٹی کے نام سے ایک پروگرام کیا جس میں میرے ساتھ ضیاء محی الدین اور قریش پور جیسے بڑے نام تھے۔ اس زمانے میں کسوٹی بہت مقبول ہوا اور کسوٹی کے ساتھ مجھے بھی شہرت ملی۔


جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔ وہاں فارسی میں قوالیاں ہوتی تھیں اور مجھے بھی اس وقت فارسی کے بہت سے شعر یاد تھے۔ پھر جب پاکستان آیا تو اپنا گھر، گھر والے اور اپنا شہر یاد آتا تو اُن کی یاد میں شاعری شروع کردی اس طرح 1984 میں مہر دونیم کے نام سے پہلی شاعری کی کتاب آگئی۔


سوال : آپ آج کل کس پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں؟
جواب: ابھی پچھلے دنوں جب میں ایران میں تھا تو میں نے اپنے نئے شعری مجموعے پرکام کرنا شروع کیا۔ باغ گل سخ کے نام سے یہ شعری مجموعہ مارچ2017 تک مکمل ہو جائے گا۔

intiftakhararif1.jpg
سوال : پچھلے دنوں آپ ایران میں رہے، کیسا لگا آپ کو ایران اور وہاں کے لوگ؟
جواب: ایران میرے مزاج کے بہت قریب ہے وہاں کے لوگوں کی گفتگو، ان کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا سب مجھے بہت پسند ہے۔ وہاں کے لوگ خوش لباس ہیں اور گھر کی آرائش کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی پودے لگائے جاتے ہیں۔ وہاں لوگوں میں کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں لیکن ان میں وطن پرستی بہت زیادہ ہے۔ ملکی مفادپر سب اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو جاتے ہیں اور وہاں کے ادب میں بھی آپ کو یہ سب نمایاں نظر آئے گا۔
سوال : آپ کو لکھنے کے لئے کیا چیز راغب کرتی ہے۔ لکھنے کے لئے کیا خاص موڈ کا ہونا ضروری ہے؟
جواب: ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔
سوال :آپ خود کیا پڑھتے ہیں اور پسندیدہ رائٹرز کون سے ہیں؟
جواب: میں پہلے تو شاعری، اسلامی تاریخ، بڑی تہذیبوں کی تاریخ وغیرہ پڑھتا تھا لیکن آج کل میرا
Biographies
پڑھنے کی طرف رجحان کافی زیادہ ہوگیا ہے۔ بڑے اور مشہور لوگوں کی Biographies
‘ اس کے علاوہ شاعروں اور ادیبوں کی
Biographies
پڑھتا ہوں اور یہ بائیو گرافیز پڑھنے کا اتنا شوق ہے کہ اکثر اپنے دوستوں سے، مختلف ممالک سے منگوا کر پڑھتا ہوں۔ اس کے علاوہ پروگریسو رائٹرز کو بہت پڑھتا ہوں
World Poetry
خاص طور پر
Russian Poetry
کو ،انگلش ترجمے کے ساتھ، بھی پڑھتا رہاہوں۔
سوال : کیا ہمارے ہاں ایسا ادب فروغ پا رہا ہے جو آج سے پچاس سال بعد بھی اپنی شناخت قائم رکھ سکے؟
جواب: ہرزمانے میں بے شمار ادیب اور شاعر لکھ رہے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو 20/30سال بعد بھی باقی رہیں۔ بڑے رائٹرز وہ ہوتے ہیں جو اپنے زمانے سے
relevant
ہوں اور آنے والے وقتوں کو بھی اپنی لکھائی میں
Relate
کریں، جیسے علامہ اقبال کے زمانے میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جو شاعری کرتے تھے لیکن علامہ اقبال کی شاعری اُس وقت اور حالات کے بہت قریب تھی لیکن اس شاعری کو ہم آج بھی پڑھیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ آج کی ہی بات ہو رہی ہے۔بابا بلھے شاہؒ اور سلطان باہوؒ کولوگآج بھی پڑھتے ہیں ۔ لکھا ہوا لفظ ہی باقی رہتا ہے اور اسے ہی دوام حاصل ہے۔ہر لکھنے والا جب لفظ لکھ رہا ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی معجزہ سرانجام دے دیا ہے۔ لیکن یہ ایک
Illusion
ہی ہوتا ہے۔ چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو باقی رہتے ہیں۔
سوال: نئے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر یا شاعر؟
جواب:۔ آج کل بہت سے لوگ اچھا لکھ رہے ہیں جیسے ذیشان ساحل، عباس تابش، یاسمین حمید، حمیرا رحمن اور بہت سے دوسرے۔
سوال:۔ الیکٹرانک میڈیا اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد کہا جاتا ہے کہ کتاب پڑھنے کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کس حد تک سچائی ہے۔ جس معاشرے میں کتاب نہ پڑھی جائے کیا وہاں اچھی شاعری اور نثر فروغ پا سکتی ہے؟
جواب:۔ زمانہ ایک جگہ پر نہیں رہتا۔ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ اس میں توازن آتا جاتا ہے۔ جیسے ایک زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن آیا اس وقت لوگ اس کی نشریات شروع سے لے کر آخر تک دیکھتے تھے۔ پھر وی سی آر کا زمانہ آیا۔ اسی طرح آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اس میں بھی توازن آ جائے گا۔ کتابوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ان کو پڑھنا اچھا لکھنے کے لئے ضروری ہے۔

 

intiftakhararif2.jpg

سوال : آپ اکادمی ادبیات کے چیئرمین بھی رہے ہیں جو ایک مضبوط ادبی حوالہ ہے۔ آپ نے اس ادارے کی ترقی کے لئے کیا اقدامات کئے ؟
جواب: اکادمی ادبیات کے مقاصد طے شدہ ہیں۔ اس کا مقصد ادب اور ادیبوں کے لئے کام کرنا ہے۔ لہٰذا میں نے بڑے منصوبوں پرکام کیا۔ مثلاً 100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں
Pakistani Literature
کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔ اقبالیات کے 100سال کے نام سے ایک کتاب اردو اور انگریزی میں شائع کی۔
سوال : پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جس کے اثرات ہر شعبہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ کیا شعرو ادب بھی اس سے متاثر ہو رہا ہے؟کیا ہمارا ادیب اس لڑائی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے؟
جواب: کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں ہوتا جس کے اثرات قومی ادب پر نہ پڑیں آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی قومی واقعے سے اہلِ قلم دور نہیں رہ سکتے اور معاشرے پر ان کی رائے یقیناًاثر انداز ہوتی ہے۔
سوال : کیا ہمارا ادب صرف سماجی رویوں کی اصلاح تک محدود رہا یا انسان کے سیاسی اور معاشی مسائل کا ادراک بھی رکھتا ہے۔
جواب:ادیب کا کام ہے سماجی رویوں کی اصلاح کرنا وہ تو ادیب اور شاعر کررہے ہیں لوگوں کے معاشرتی ومعاشی مسائل کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے شاعر اور ادیب خود اپنے بہت سیمعاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
سوال : آپ عالمی ادب میں کس سے متاثر ہیں؟
جواب: میری نوجوانی میں ترقی پسند تحریک عروج پر تھی لہٰذا میں نے ترقی پسند ادیبوں کو ہی زیادہ پڑھا۔ غیرملکی ادیبوں کی کتابوں کے ترجمے بھی پڑھے اور انہیں براہ راست بھی پڑھا۔ ترقی پسند ادیب ہی میرے لئے رول ماڈل رہے۔ اقبال کے بعد
Pablo Nerubr
، ناظم حکمت،
Oddan
، فیض احمد فیض اور محمود درویش پسندیدہ شاعر ہیں ۔ ناول نگاروں میں مارکیز، میلان کندیرا، کنتھر گراس اور ڈرامہ نگار وں میں
Brish
اور بیکر پسند ہیں۔ ان سب کو ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی۔
سوال : فارسی اور عربی میں کیا اردو زبان سے بہتر ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا اقدامات کئے جائیں کہ اردو میں بھی دیگر زبانوں کی طرح کا ’’پاورفل‘‘ ادب تخلیق کیا جا سکے۔
جواب: گزشتہ پچاس سالوں میں پاکستان میں بہت اچھا ادب تخلیق کیا گیا۔ شاعری، افسانہ، ناول، مزاح، سوانح اور تحقیقی کتب کا بڑا ذخیرہ سامنے آیا۔ البتہ پڑھنے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کا کتب پڑھنے کی طرف رجحان بہت کم ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ عربی اور فارسی کے مقابلے میں اردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے اور شائع بھی ہوا ہے۔ اردو ادب کے مواد میں تنوع رہا۔ اس کی وجہ ادب کے لئے آزادانہ فضا بھی ہے۔
سوال : آخر میں ہلال کے قارئین اور فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام؟
جواب : فوج کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ سے ہی بہت اچھا رہا ۔ تقریباً ہر سپہ سالار نے مجھے بہت عزت دی اس لئے ہمیشہ ہی ان لوگوں کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اﷲ سب کو اپنی امان میں رکھے اور انہیں ترقی اور عزت سے نوازے۔

جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔

*****

ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔

*****

100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں

Pakistani Literature

کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔

*****

آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔

*****

 
11
January

تحریر: عبد الستار اعوان

1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر شہادت کا رتبہ پانے والے کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید(ستارۂ ہ جرأت) کے بارے میں ایک تحریر

سانحہ مشرقی پاکستان ہماری تاریخ کا ایک المناک پہلو ہے، تاہم ہمیں اپنی افواج کے اُن لاتعداد شہداء، غازیوں اور ہیروز کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے اپنے لہو سے چراغ روشن کرکے مشرقی پاکستان میں پھیلے اندھیرے کو ختم کرنے کی جدوجہد میں اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ جن قومی ہیروز نے اس موقع پرغیر معمولی جرأت، استقامت اوربہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دھرتی کی حفاظت کا فرض اداکیا ان میں ایک نام کیپٹن ایزد امتیاز علی( شہید) کا بھی ہے۔


کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید 1946ء میں شیخ امتیاز علی (مرحوم)کے ہاں بھیرہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ملٹری کالج جہلم سے ایف ایس سی کرنے کے بعد آئی ایس ایس بی کے امتحان میں کامیاب ہوکر2فروری 1968ء کو فوج میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں فوجی تربیت حاصل کی۔ پی ایم اے کاکول سے پیراٹروپر کا خصوصی کورس بھی کیا۔ پاسنگ آؤٹ کے بعد کیپٹن ایزدامتیاز علی کی تعیناتی انفینٹری کی ایک یونٹ 6پنجاب میں ہوئی۔ شہید کے ماموں اور معروف علمی و فکری شخصیت محمدسمیع اللہ (سابق وفاقی سیکرٹری) بتا رہے تھے کہ آپ بہت خوبصورت جوان تھے۔گورا رنگ، چھ فٹ سے نکلتا قد، نیلی آنکھیں،غرض آپ بہت خوش وضع اور وجیہہ شخصیت کے مالک تھے۔جب ہم ان کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر پی ایم اے کاکول گئے تو دیکھا کہ ان کی اسی بارعب شخصیت کی بناپر انہیں سب سے آگے کھڑا کیا گیا تھا۔

pakmitika.jpgمشرقی پاکستان میں جب انڈیا کی بھرپور مداخلت سے بغاوت کی آگ بھڑکنے لگی تووطن عزیز کے عوام کی طرح اس فوجی افسر کادل بھی آگ بگولہ ہو کر رہ گیا اور انہوں نے اس موقع پر غیر معمولی بہادر ی اور حب الوطنی کامظاہرہ کرتے ہوئے خود کو رضاکارانہ طورپر پیش کر دیا کہ وہ ہر صورت اپنے وطن کو مستحکم اور متحد دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ کی یونٹ6پنجاب رجمنٹ نے چونکہ اس جنگ میں باقاعدہ حصہ نہیں لیا تھا لہٰذا آپ نے اپنا نام اس بٹالین میں لکھوا دیا جو مشرقی پاکستان جا رہی تھی، یوں انہیں ان کی رضا کارانہ پیشکش کے تحت اپریل1971ء میں مشرقی پاکستان کے دفاع کے لئے بھیج دیا گیا۔ کیپٹن ایزد امتیاز علی نے اس علاقے میں پہنچ کر خداداد صلاحیتوں اور فطری بہادری کو کام میں لاتے ہوئے اپنے وطن کو متحد رکھنے کے لئے ایک خوفناک جنگ کا سامنا کیا او راپنے لہو کے آخری قطرے تک دشمن سے برسرپیکاررہے۔


21اور22نومبر71ء کی درمیانی شب ان کی بٹالین کوجیسو ر سیکٹر کے دفاع کاٹاسک سونپا گیا۔ ان کی بہادر بٹالین نے 23نومبرکو یہ ٹاسک مکمل کیا اور دشمن کے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پرتیار ہو گئی۔ اسی محاذپر2دسمبر کو دشمن نے بڑاحملہ کیا اور پلاٹون کمانڈر کیپٹن ایزد امتیاز علی نے اپنے ساتھیوں سمیت دشمن کی کثیر تعداد‘ جو ٹینکوں، توپوں اور بھاری اسلحہ سے لیس تھی، کا بڑی ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس سے اگلے روز دشمن نے اس پلاٹون کو سخت ترین فضائی حملوں سے نشانہ بنایا جس سے پلاٹون کی آر آرگن تباہ ہو گئی۔اسی معرکے کے دوران کیپٹن ایزد امتیاز علی لاپتا ہوگئے اور چند روز بعد ان کی شہادت کی مصدقہ خبرملی۔ آپ نے جیسو ر سیکٹر میں پلاٹون کمانڈر کی حیثیت سے اس سرزمین کی خاطر اپنی جان قربان کی۔


آپ تقریباً چھ ماہ تک مشرقی پاکستان محاذ پر فرائض انجام دیتے رہے۔ اس دوران دو تین دن کے لئے گھر چھٹی آئے اور انہوں نے اہلِ خانہ کو مشرقی پاکستان کے خوفناک حالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گو ہر طرف مایوسی کے اندھیرے ہیں لیکن میں انشاء اللہ اپنی دھرتی کے دفاع کی جنگ اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا۔


ان کے ماموں اور بھائی بتاتے ہیں آپ کو شہادت کا اس قدر شوق تھا کہ اکثر وہ ذاتی ڈائری پر اپنے نام کے ساتھ ’’شہید‘‘اور ’’ستارہ جرأت‘‘جیسے الفاظ لکھا کرتے۔ شہید کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔اسجد امتیاز اور سعد امتیاز حیات ہیں جبکہ والد اور بڑے بھائی عابد امتیازجوپولیس میں ایس ایس پی تھے، وفات پا چکے ہیں۔کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید کا گھرانہ اور ان کا خاندان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ شہید کے ماموں ، بہن بھائی اور ان کا خاندان اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ ان کے فرزند نے سرزمین وطن کے دفاع کی خاطر اپنی خوبصورت جوانی ایک خوفناک جنگ کی نذرکرتے ہوئے اپنے عہد کے مطابق اپنی جان قربان کر دی۔پاک فوج کے اس بہادر افسر کی بے مثال جرأتِ رندانہ کو سراہتے ہوئے انہیں بعد از شہادت ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
January

نامور صحافی‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتابوں کے مصنف محمود شام کی تحریر

جناب سپہ سالار وقت!
آپ کو اللہ تعالیٰ نے بلا شبہ ایک عظیم مرتبے سے نوازا ہے۔ دُنیا کی ایک بہترین فوج کے سربراہ بننے کا اعزاز یقیناًایک تاریخ ساز موقع ہے۔ پاکستان مملکت خداداد۔ قدرت کے بہترین وسائل سے آراستہ ہے۔ یہ ایسی سر زمین ہے جہاں تاریخ ہزار ہا سال سے انگڑائیاں لے رہی ہے، جہاں فاتحین کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی چاپ اب بھی سنائی دیتی ہے۔ عظیم فاتح سکندر بھی اس سر زمین کی آرزو میں پہنچ گیا تھا، سالٹ رینج میں اس کے گھوڑے نمک کی خوشبو اور ذائقے سے مسحور ہوئے تھے، مغل شاہسوار، اسی مقدس زمین سے گزر کر تخت دہلی تک پہنچتے رہے ہیں، غزنوی، ابدالی، درّانی بھی اپنی تلوار کی دھار سے یہاں کی وادیوں کی آنکھیں خیرہ کرتے رہے ہیں۔


اس خطّے کی اہمیت کبھی بھی کم نہیں رہی ہے۔ صرف قرون اولیٰ نہیں، قرون وسطی، یا اب جدید دَور کی صدیاں، کبھی مغل اس کی خوبصورتی کی کشش میں یہاں آکر تخت نشیں ہوتے رہے، اپنے ساتھ فارسی، ترکی، روایات، تاتاریوں کی قہر سامانیاں لاتے رہے۔ سولہویں صدی سے اٹھارہویں صدی ان کی تھی۔ اٹھارہویں صدی کے وسط سے انگریز کا جبر اس خطّے پر مسلط ہوا۔ 1947 سے ہم ایک آزاد مملکت ہیں۔ کوئٹہ سے پشاور تک اور ادھر ڈھاکے سے چٹاگانگ تک قائد اعظم کی قیادت میں دُنیا کی سب سے بڑی مسلم مملکت کا وجود عمل میں آیا۔


یہ داستان تو بہت طویل ہے۔ لیکن تاریخ کے جس مقام پر بھی کسی کو ذمہ داری ملتی ہے اس مقام اور اس موڑ کو پورے ماضی کے تناظر میں دیکھنے سے ہی وہ روڈمیپ تشکیل دیا جاسکتا ہے جس سے منزل مقصود تک پہنچا جاسکتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے جس موڑ پر ایک عظیم سپاہ کے سالار بنے ہیں وہاں بہت سی نیک نامیاں بھی اس ادارے کے پاس ہیں اور بہت سے چیلنج بھی درپیش ہیں۔ ان میں سے کچھ معرکے نئے ہیں کچھ گزشتہ سے پیوستہ ہیں۔ کچھ، بلکہ زیادہ، ہمارے ایک ’اتحادی‘ کے پیدا کردہ ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ ہمارے ہمسائے کے شر سے تخلیق ہوتے رہتے ہیں جس نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ یکے بعد دیگرے مختلف نسلوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ پاکستان بھارت ماتا کے جسم کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس خبط کے ذریعے بھارتی قیادتیں اپنی نئی نسل کو بھی پیچیدگیوں میں الجھاتی رہتی ہیں۔ اپنے سنگین مسائل پر پردہ ڈالنے کے لئے انہیں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور افسانہ طرازی ہی زیادہ نتیجہ خیز لگتی ہے۔


1979 سے پاکستان نے افغانستان اور روس کی جنگ کے تناظر میں امریکی پالیسیوں پر عملدرآمد کرکے اپنے لئے، اپنے مستقبل کے لئے خطرناک رُجحانات کی بنیاد رکھ دی۔ بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی سے ہم سکیورٹی۔ سرمایہ کاری، اقتصادی انحطاط کے ساتھ ساتھ معاشرتی، سماجی، اخلاقی بحرانوں میں اُلجھتے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی سازشیں بڑھتی جارہی ہیں۔ بھارت بھی اس صورت حال سے پورا فائدہ اٹھارہا ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہماری قومی قیادتیں اس دورانئے میں تجربہ کار تھیں نہ پختہ کار۔ آپس میں اتنی دست و گریباں کہ ملک دشمنوں کے خلاف بھی متحدہ نہ ہوسکیں۔ اس لئے گزشتہ چند دہائیوں اور بالخصوص نئے ہزاریے کے آغاز، اکیسویں صدی کی پہلی دہائی سے سیاسی خلاء کے باعث پاک فوج کے کندھوں پر زیادہ ذمہ داری آن پڑی ہے۔ پاکستان کے مایوس، بے کس، بے بس عوام اپنی فلاح اور صورت حال میں بہتری کے لئے فوج کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذہنوں میں یہ سوچ واضح ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بہترین پیشہ ور ادارہ ہیں، جنہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کا انتہائی اعلیٰ تربیت کا موقع بھی دیتے ہیں۔ پاک فوج میں ڈسپلن ہے ، مملکت کا درد ہے ۔اپنے وطن کی سلامتی کے لئے فوج کے عام سپاہی سے لے کر اعلیٰ ترین عہدیدار اپنی جان دینے سے گریز نہیں کرتے۔ جبکہ ملک میں ایک سیاسی، سماجی اور اخلاقی افراتفری رہی ہے۔ دوسری طرف دُنیا میں ناانصافیوں، مسلمان حکمرانوں کی نا اہلیوں، دہشت گردی کے نام پر مسلم دُنیا کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک مسلسل جنگ برپا کر رکھی ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں تو اسرائیل اور انڈیا کے مظالم 1948 سے جاری تھے۔ بعد میں عراق، لیبیا، مصر،الجزائر، یمن، شام اور دوسرے ملکوں میں مغرب کی خوفناک پالیسیوں نے القاعدہ، داعش، جیسی انتہا پسند اور خطرناک تنظیموں کو جنم دے دیا ہے جن کی سوچ تو بارہویں صدی کے قبائل کی ہے۔ لیکن انہیں اکیسویں صدی کے مہلک ہتھیار میسر آگئے ہیں۔


جب ہمارے ہاں متعدد ادارے اپنی اپنی ذمہ داریاں اُس انداز میں نبھا نہیں پائے جس طرح نبھانے چاہئے تھے۔ مگر یہ امر باعث فخر ہے کہ ہماری مسلح افواج ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، تربیت یافتہ ہیں، مسائل کی سنگینی کا ادراک رکھتی ہیں۔ فوج کے تعلیمی ادارے وطن عزیز کے بے پایاں معدنی وسائل کے بارے میں تحقیق کرتے رہتے ہیں اور عظیم وطن کو درپیش مسائل کی شناخت، تشخیص اور ان کا علاج بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ فوج کی درسگاہیں، فوج کے اسپتال بین الاقوامی معیار کے حامل ہیں۔


ایسی سماجی اور سیاسی بحرانی صورت حال میں آپ نے فوج کی کمان سنبھالی ہے، مگر آپ کو ورثے میں ایک عظیم مثالی تربیت اور ترقی یافتہ ادارہ ملا ہے آپ کو ایک عظیم سپہ سالار کی جانشینی کا شرف حاصل ہورہا ہے ۔ آرمی چیف پہلے بھی بہت آئے۔ بہت بہادر، ذہین، صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے والے، لیکن جنرل راحیل شریف اپنی مستعدی، سچی سوچ، پختہ ارادوں اور بروقت فیصلوں کی وجہ سے بہت ہی نیک نام اور مقبول جنرل بن گئے۔اتنے پسندیدہ کہ قوم کی اکثریت کی آرزو تھی کہ ان کو توسیع دی جائے۔ لیکن وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض تک محدود رہے انہیں جہاں جس وقت ہونا چاہئے تھا، وہیں ہوتے تھے۔ فاصلے، لمحے ان پر حاوی نہیں ہوسکے۔فرائض کی انجام دہی کو انہوں نے اپنے کسی ذاتی آرام، معاملے کو اس پر ترجیح نہیں دی۔ یہ تین سال مسلسل تگ و دو، جدو جہد، سفر کے 3سال تھے۔ قوم نے ،نہ آسمان نے، نہ اس سرزمین نے،کسی آرمی چیف کو یوں مسلسل حرکت میں دیکھا۔ وہ پاکستان کے اس پہلے سے فرض شناس اور نیک نام ادارے کے اعتبار میں اور نیک نامی میں مزید اضافہ کرگئے ہیں۔


آپ ایک ایسے عظیم سپہ سالار کے بعد اس مقدس ادارے کے سپہ سالار بنے ہیں۔ چیلنج اب بھی موجود ہیں۔ مسائل اب بھی سر اٹھارہے ہیں۔ قوم اب بھی آپس میں بٹی ہوئی ہے۔ بھارت کی طرف سے اب بھی در اندازی اور سازشیں جاری ہیں جو اس کی 70سالہ حالیہ تاریخ نہیں بلکہ ایک ہزار سالہ پرانی تاریخ کا مسلسل کردار ہے۔
آپ نے اپنی زندگی کے قیمتی سال اس عظیم ملک اور اس اعلیٰ ادارے کی خدمت میں گزارے ہیں۔بھارت ہی نہیں پورے خطّے پر آپ کی نظر ہے۔ دُنیا میں کیا ہورہا ہے۔ یہ بھی آپ کے علم میں ہے۔ اس وقت انتہا پسندی۔ دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے پاک فوج ضرب عضب کے ذریعے نمٹ رہی ہے۔ بہت سی کامیابیاں حاصل ہوچکی ہیں۔ بہت سی باقی ہیں۔ اس فوجی کارروائی کے لئے جن ہم وطنوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا ان کے معاملات فوری توجہ کے طالب ہیں۔ اس کا کوئی ٹائم فریم بھی ہونا چاہئے۔ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی فصلیں جہاں تیار ہورہی ہیں وہاں دل اور ذہن جیتنے باقی ہیں۔ دہشت گردوں کے قافلے افغانستان سے آرہے ہیں، افغانستان سے بھی معاملات درست کرنا ضروری ہے۔ پاک فوج نے ہی اس میں پہل کی تھی۔ افغان ہمارے مسلمان بھائی ہیں، ہم نے ان کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ پیار محبت سے ،سفارت کاری سے، کوششیں ناگزیر ہیں کہ انہیں بھارت کے دامِ ہمرنگِ زمیں سے نکالا جائے۔ یہ مرحلہ سیاسی اور فوجی قیادت مل کر طے کرتی ہے اور اسے اولیت دینا ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔


دہشت گردی کے بعد سب سے زیادہ ترجیح سی پیک۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کی تکمیل اور کامیابی کو درکار ہے۔ اس سے تمام پاکستان کی اور بالخصوص پسماندہ علاقوں کی تقدیر تبدیل کی جاسکتی ہے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔ اس پر شور بہت مچا۔ خوشیاں بہت منائی گئیں۔ لیکن اس کے لئے کماحقہ تیاری نہیں کی گئی۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو مطلوبہ شعبوں کی تعلیم اور تربیت دی جانی چاہئے تھی۔ ان کو چین بھیجا جاتا۔ وہ چینی کمپنیوں کی ضرورت کے مطابق تربیت حاصل کرتے۔ اب بھی ترجیح اسی امر کو ملنی چاہئے کیونکہ اگر یہ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے تو چینی کمپنیاں ان کو ملازمت نہیں دیں گی۔ لازماً یا تو یہ ملازمین دوسرے صوبوں سے آئیں گے یا پھر چینی یہاں برسر روزگار ہوں گے، ہر صورت میں بلوچستان میں محرومی کااحساس بڑھے گا۔ بلوچستان میں پاک فوج نے محرومی اور کشیدگی کم اور ختم کرنے کے لئے بہت محنت کی ہے۔ بہت سی سکیمیں شروع کی ہیں۔
de-radicalisation
کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کو بھی تربیت دی گئی ہے۔ میں نے خود کوئٹہ چھاؤنی میں نوجوانوں کو یہ تربیت حاصل کرتے دیکھا ہے۔


سی پیک پاکستان کے لئے بہت سود مند اور بہت سے بحران ختم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن ہماری سیاسی قیادتیں اسے صرف متنازع بنارہی ہیں۔اس کے لئے اپنے نوجوانوں اور کارکنوں کو مطلوبہ تعلیم و تربیت نہیں دے رہی ہیں۔ اگر فوج کے زیر انتظام کیڈٹ کالج۔ یونیورسٹیاں اس تربیت کا ذمہ لے لیں تو پاکستان کا مستقبل مزید محفوظ اور روشن ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی قیادتوں اور فوجی قیادتوں کے درمیان تنازع اور تصادم کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس لئے پاکستان کے عوام ہر وقت اندیشوں میں الجھے رہتے ہیں۔ اب تک پاک فوج نے گزشتہ دہائی میں سیاسی قیادتوں کی راہ آسان کی ہے۔ جمہوری حکومتوں کو اپنی اپنی معیاد پوری کرنے میں سہولت دی ہے۔ جس کا اعتراف دُنیا بھر میں کیا گیا ہے۔ فوج نے پاکستانیوں کو ہر آفت اور ہر بحران میں مکمل تعاون فراہم کیا ہے ۔ زلزلہ ہو، سیلاب یا کوئی اچانک آفت، پاک فوج ہی سامنے آئی ہے۔


پاکستان کے سب سے بڑے شہر، تجارتی اور صنعتی مرکز، کی روشنیاں اور رونقیں بھی اگر بحال ہوئی ہیں تو یہ پاک فوج اور رینجرز کی شبانہ روز کوششوں سے ہی ہوئی ہیں۔ اس کا اعتراف کراچی کے عام شہری بھی کرتے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ فوجی کارروائی کے ذریعے ہونے والے نتائج کو مستحکم کیا جائے۔ اب ضرورت ہے سیاسی حل کی۔ کراچی کے شہریوں کو اپنی مرضی سے منتخب کئے گئے نمائندوں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ بلوچستان کے ساتھ ساتھ کراچی بھی بھارت کی نظر میں کھٹکتا ہے۔ یہاں بھی تخریب کاری کی اس کی تاریخ ہے۔ کراچی کے شہری جتنے محفوظ ہوں گے، امن سے اپنا کاروبار کرسکیں گے، اتنی ہی غیر ملکی ایجنٹوں کو مایوسی ہوگی، ان کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے شہر کے بلدیاتی نظام کو بھرپور انداز میں چلنا چاہئے۔


آپ کے تجربے، مشاہدے، فکر سے توقع کی جاتی ہے کہ اب اس خطّے میں طاقت کا توازن درست سمت میں ہوگا۔ اپنے ہمسایوں سے ہمارے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔ چین تو ہمارا ہر موسم کا ساتھی ہے۔ اسے ہماری سلامتی اور ترقی کی ہم سے زیادہ فکر ہے۔ اس سے ہمارا تعاون ہر شعبے میں ہے۔ پاک فوج اور چینی فوج کے درمیان تعلقات مثالی ہیں۔ عسکری تربیت۔ فوجی ہتھیاروں کی تیاری میں ایک دوسرے سے تعاون بھرپور ہے۔ اب دوسرے ہمسایوں سے بھی ہمارے تعلقات میں استحکام پیدا ہونا چاہئے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت مل کر اپنے قومی مفادات کا تعین کریں۔ آئندہ دس پندرہ سال کے لئے روڈ میپ تشکیل دیا جائے۔
میں جانتا ہوں کہ امن کی یہ کوششیں پاکستان کی تمام قیادت کی سعی لاحاصل رہی ہیں کہ ہمارے ہمسائے بالخصوص ہندوستان، افغانستان (اور اب بنگلہ دیش بھی) ہمیں صرف تعصبات کی نظر سے دیکھتے آئے ہیں۔ یقیناًہم امن چاہتے ہیں مگر برابری اور عزت کے ساتھ۔


پاکستان کے ماضی میں اتنے نشیب و فراز آئے ہیں ایسے ایسے المیے برپا ہوئے ہیں کہ یہاں کی تاریخ اور تمدن دوسرے جمہوری ملکوں سے مختلف ہیں۔ یہاں مسلح افواج کی تربیت، فرائض کی انجام دہی میں ایک تسلسل ہے۔ عالمی تناظر میں پاک فوج کا کیا کردار ہونا چاہئے، یہ نظریہ بھی واضح ہے۔ بھارت کے عزائم اور خواہشوں کے بارے میں بھی پاک فوج کی پالیسیاں قطعی ہیں ۔ افغانستان ہمارا اب بھارت سے زیادہ دشمن بن رہا ہے۔ اس پر بھی پاک فوج کی تحقیق اور مشاہدہ ہر پہلو سے صراحت رکھتا ہے۔ ایران، اومان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مشرقِ وسطیٰ، امریکہ، برطانیہ سب سے عسکری تعلقات عملیت پسندی کے عکاس ہیں۔ سابق آرمی چیف نے جن 25ملکوں کے دورے کئے ان سے یقیناًپاکستان کو عسکری اور سیاسی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔


پاکستان کا مستقبل سیاسی اور فوجی قیادت میں بہترین مفاہمت سے ہی محفوظ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے عوام کی دلی تمنا یہی ہے کہ یہاں بہتر حکمرانی ہو، قومی خزانے کی لوٹ مار ختم ہو، بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ہو، غیر ممالک سے مالیاتی اداروں سے جو امداد یا قرضے لئے جاتے ہیں وہ انہی منصوبوں پر خرچ ہوں جن کے لئے حاصل کئے جاتے ہیں۔ قوم کو یقین واثق ہے کہ آپ کے تجربے، لگن اور جذبے کی بدولت نہ صرف پاک فوج دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گی بلکہ مملکت کے دوسرے اداروں کو بھی حوصلہ، تقویت اور رہنمائی ملے گی۔
انشاء اﷲ آپ کے 3سال پاکستان کو مزید استحکام اور عسکری طاقت دیں گے۔
پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مرا عشق ہے پاکستان

 

مرا عشق ہے پاکستان
اس پہ نچھاور ہے میری کل پونجی میری جان
مرا عشق ہے پاکستان
اس کی مٹی سے وابستہ
خواب‘ گلاب اور جیون
اس کے ہر اک ذرے میں ہے
میرے دل کی دھڑکن
اس کے رنگ وروپ کی خوشبو ہے میری پہچان
مرا عشق ہے پاکستان
بھوک اور ننگ کا ساتھی میرے آنسو پونچھنے والا
اچھے دنوں کا یار،مری خوشیوں پر جھومنے والا
میرے دل اور آنکھ کی ٹھنڈک
ہونٹوں کی مسکان ،
مرا عشق ہے پاکستان


ڈاکٹر اختر شمار

*****

 
10
January

پاکستان کو گزشتہ چند سالوں سے قومی سلامتی سے متعلق جن چیلنجز کا سامنا تھا ان پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے قوم اور اس کی افواج نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں جسے دنیابھر میں سراہا گیا ہے۔ الحمدﷲ 2017 کا سورج ایک ایسی امید اور روشنی لے کر ابھرا ہے جو اس امر کی نوید دیتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن اور تابناک ہے۔ بلاشبہ اس امن اور امید کے حصول کے لئے پاکستان کو جہدمسلسل کے کٹھن اور پُرخار راستوں سے ہو کر گزرنا پڑا ہے۔ آج کی کامرانیاں ہمارے ان بیٹوں کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے عفریت کا قلع قمع کرنے کے لئے اپنی جانیں نچھاور کر دیں مگر قوم اور وطن کی ان فضاؤں کو ایک لازوال کامیابی اور سرشاری سے ہمکنار کر گئے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سالِ نو کے موقع پر قوم کو آگاہ کیا کہ آپریشن ضرب عضب میں 583افسران اور جوان شہید جبکہ 2108افسران و جوان زخمی ہوئے اور آپریشن میں 35سو دہشت گرد ہلاک کئے جا چکے ہیں۔ اسی طرح پاک فوج نے ملک بھر میں 25ہزار 6سو بیس کومبنگ آپریشن کئے جس سے ملک میں امن عامہ کی مجموعی صورت حال میں بھی بہتری آئی ہے۔ صرف کراچی میں دہشت گردی کی وارداتوں میں72فیصد کمی آئی ہے۔ الغرض افواج پاکستان جہاں مغربی، مشرقی اور دیگر سرحدوں کی حفاظت کو موثر اور مضبوط رکھتی ہیں وہاں اندرونی سطح پر بھی دہشت گردی اور تخریب کاری کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔


افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بالعموم اور آپریشن ضرب عضب میں بالخصوص جو کامیابیاں سمیٹی ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت پاکستان کے وہ علاقے جہاں شدت پسندی عروج پر تھی اب وہاں کیڈٹ کالجوں، ہسپتالوں اور شاہراہوں کی تعمیر کی صورت میں ایک نیا اور پرامن پاکستان دکھائی دیتا ہے۔ آپریشن کے نتیجے میں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے 82فیصد سے زیادہ خاندان اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں اور باقی ماندہ افراد کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی جنرل ہیڈکوارٹرز میں افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ پاک فوج قومی سلامتی اور ملکی دفاع کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی بلکہ اسی عزم و ہمت سے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ سپہ سالار کا عزم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ افواجِ پاکستان 2017اور اس کے بعد آئندہ آنے والے سالوں میں بھی بھرپور جذبوں کے ساتھ ملکی دفاع اور سلامتی کے استحکام کا اعادہ کئے ہوئے ہیں جو پاکستان کے ایک عظیم اور پروقار مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد

10
January

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

ترکی کی سرحدیں تو پاکستان سے نہیں ملتیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ترکی اور پاکستان کے دل آپس میں ملتے ہیں۔ ترکیہ جمہوریہ، دنیا کا ایک ایسا منفرد ملک ہے جس کے باسیوں کے تعلقات سرزمینِ پاکستان میں بسنے والے لوگوں سے قیامِ پاکستان 1947ء بلکہ قراردادِ لاہور 1940ء سے بھی پہلے تاریخ میں نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جنگ عظیم اوّل میں تب دیکھنے کو ملا جب بکھرتی سلطنتِ عثمانیہ کو ابھرتی مغربی سامراجی طاقتوں نے ترکوں کو اپنے وطن سے محروم اور ترک قوم کو مٹانے کے لئے سرزمین ترکیہ پر یلغار کردی۔ مختلف مغربی طاقتوں نے بچے کھچے ترکی کو لوٹ کا مال سمجھ کر بندر بانٹ کرنا چاہی اور اس کے لئے جنگ گیلی پولی برپا کی گئی، جس میں غیرمتوقع طور پر ترک لیفٹیننٹ کرنل مصطفی کمال نے مغربی دنیا کی اتحادی افواج کو شکست فاش سے دوچار کردیا اور یہیں سے مصطفی کمال کو پاشا کا لقب ملا۔ اس دوران سرزمینِ متحدہ ہندوستان میں بسنے والے لوگوں نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک یادگار تحریک برپا کی۔ تب ترکی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، اپنی بقا کی آخری اور فیصلہ کن جنگ، جس کی قیادت غازی مصطفی کمال پاشا اتاترک کررہے تھے۔ برصغیر میں چلنے والی اس ترک دوست تحریک کو ’’تحریک خلافت‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ غازی مصطفی کمال پاشا نے جنگی میدانوں میں مغربی استعماری طاقتوں کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔


یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے لوگ اپنی آزادی کے لئے متحد ہورہے تھے اور مسلمانانِ برصغیر کے قائد محمد علی جناحؒ ، تحریک آزادی کو ایک نئے دھارے پر ڈال رہے تھے۔ بعد میں جنم لینے والی ریاستِ پاکستان کی ترکیہ جمہوریہ سے تعلقات کی بنیادیں یہیں سے اُستوار ہوئیں۔ ترکوں نے اپنی جنگ کامیابی سے جیتی اور عوامی جمہوری انقلاب برپا کرکے 1923ء میں ترکیہ جمہوریہ کی بنیاد رکھ دی۔ یہ مسلم دنیا کی واحد جمہوریت ہے جو کسی سامراج یا نوآبادیاتی نظام کی
Legacy
نہیں۔ مصطفی کمال پاشا نے جہاں ایک طرف مغربی استعماری قوتوں کو شکست دی تو دوسری طرف ایک آئینی جمہوری ریاست کا قیام اپنی قیادت کے تحت مکمل کیا۔ علامہ اقبال ؒ جنہیں ہم برصغیر میں مسلمانوں کی ریاست (پاکستان) کا فکری بانی کہتے ہیں، وہ ترکی میں مصطفی کمال پاشا کے تصورِ ریاست سے کس قدر متاثر تھے، اس پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

pakturktal.jpg’’ترکوں کے سیاسی اور مذہبی افکار میں اجتہاد کا جو تصور کام کررہا تھا، اسے عہد حاضر کے فلسفیانہ خیالات سے اور زیادہ تقویت پہنچی اور جس سے اس میں مزید وسعت پیدا ہوتی چلی گئی۔ مثال کے طور پر حلیم ثابت ہی کا نظریہ ہے جو اس نے اسلامی قانون کے بارے میں قائم کیا اور جس کی بنیاد اس نے جدید عمرانی تصورات پر رکھی‘‘ اور’’پھر اگر اسلام کی نشاۃ ثانیہ ناگزیر ہے، جیساکہ میرے نزدیک قطعی طور پر ہے، تو ہمیں بھی ترکوں کی طرح ایک نہ ایک دن اپنے عقلی اور ذہنی ورثے کی قدرو قیمت کا جائزہ لینا پڑے گا۔‘‘
علامہ محمد اقبال
، (The Reconstruction of Religious Thought in Islam)
صفحہ 121 اقبال اپنے بنیادی سیاسی فلسفے میں ترکیہ جمہوریہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ قرار دیتے ہیں۔مفکرِ پاکستان علامہ اقبال اور بانئ ترکی مصطفی کمال پاشا اتاترک کا سالِ وفات 1938ء ہی ہے۔ جب جدید ترکی کے بانی غازی مصطفی کمال پاشا کا انتقال ہوا تو بانئ پاکستان محمد علی جناح ؒ نے اس عظیم رہبر کے انتقال پر آل انڈیا مسلم لیگ کو درج ذیل حکم نامہ جاری کیا۔
"I request Provincial, District and Primary Muslim Leagues all over India to observe Friday the 18th of November as Kemal Day and hold public meetings to express deepest feeling of sorrow and sympathy of Musalmans of India in the irreparable loss that the Turkish Nation has suffered in the passing away of one of the greatest sons of Islam and a world figure and the saviour and maker of Modern Turkey--- Ghazi Kemal Ataturk."
Date: 11-11-1938 (Quaid-e-Azam Papers, National Archives of Pakistan)
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں قوموں کے تعلقات کس قدر گہری سطح پر قائم ہوئے۔ مفکرِ پاکستان اور بانئ پاکستان، جدید ترکی کے قائد مصطفی کمال پاشا کے حامی ہی نہیں بلکہ اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کے مداح بھی تھے، جسے ہمارے رجعت پسند حلقوں نے جان بوجھ کر ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔


قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ ، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے تو ترکیہ جمہوریہ نے اپنے ایک معروف ترک شاعر و ادیب اور دانشور یحییٰ کمال کو پاکستان میں اپنا سفیر نامزد کیا۔ پاکستان میں ترکی کے پہلے سفیر نے بانئ پاکستان کو 4مارچ 1948ء کو سفارتی اسناد پیش کیں۔ اس موقع پر قائد اعظم محمدعلی جناحؒ نے فرمایا:


’’کئی تاریخی میدانِ جنگوں میں آپ کے لیڈر کے کارنامے، آپ کے انقلاب کی کامیابی، عظیم اتاترک کا ابھرنا اور ان کا کیریئر، اپنے اعلیٰ تدبر سے ان کا آپ کو ایک قوم کی تعبیر دینا، حوصلہ مندی اور پیش بینی، ان تمام واقعات سے پاکستان کے عوام بخوبی واقف ہیں۔ درحقیقت برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری کے آغاز ہی سے ، آپ کے ملک میں رونما تبدیلیوں کا یہاں عوام پوری ہمدردی اور دلچسپی سے مشاہدہ کرتے رہے ہیں ۔‘‘
اس کے بعد تاریخی، سماجی اور روحانی طور پر دونوں قوموں کے مابین تعلقات سفارتی سطح پر بھی قائم ہوگئے۔ ترکی اور پاکستان نے ہردور میں ثابت کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اگر ان تعلقات کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب ترک قوم کسی مشکل کا شکار ہوئی تو پاکستانیوں نے بلا جھجک ترکوں کی حمایت کی اور اسی طرح ترکوں نے پاکستان کی۔ ترکی اور یونان کے درمیان قبرص کے مسئلے پر پاکستان نے روزِ اوّل سے ہی ترکوں کو کسی بھی عالمی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر سپورٹ کیا۔ جب 1974ء میں ترکی نے وزیراعظم بلندایجوت (مرحوم) کی حکومت میں قبرصی ترک عوام کو جاری خانہ جنگی سے نجات دلوانے کے لئے آپریشن کیا تو پاکستان نے کھل کر ترک حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ۔ اس وقت پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی اور انہوں نے ترکی کی ہر طرح سے مدد کا سرکاری سطح پر اعلان کیا۔ مسئلہ قبرص پر ترکی کے ساتھ تنازعاتی ملک چونکہ یونان تھا، اس لئے پاکستان کی جانب سے ترکی کی بھر پور حمایت کرنے پر یونان نے ہزاروں پاکستانیوں کو بحری کمپنیوں سے فارغ کردیا۔ ایک ملاقات کے دوران میرے دوست جناب بلند ایجوت (مرحوم) نے مجھے بتایا کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ یونانی بحری کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو یونانیوں نے فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے تو میں نے اسی وقت سرکاری حکم نامہ جاری کیا کہ ان متاثرین کو ترک بحری کمپنیوں میں ملازمتیں دے دی جائیں۔ اسی طرح ترکی، پاکستان کے ساتھ ہر عالمی محاذ پر ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ دونوں پاک بھارت جنگوں 1965ء اور 1971ء اور کشمیر کے مسئلے پر ترکی نے بلالحاظ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔


سرد جنگ کے زمانے میں دونوں ممالک آر سی ڈی اور سینٹو جیسے علاقائی اتحاد میں شامل رہے تو تب بھی دوست تھے اور جب یہ عالمی اتحاد ختم ہوئے تب بھی باہمی دوستی میں کمی نہ آئی۔ آج ترکی، دنیا میں ابھرتا ہوا ایک اہم ملک ہے، اس تناظر میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت مزید مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ انقرہ، جدید ترکی کا دارالحکومت ہے اور اس جدید شہر کے وسط میں سب سے بڑی اور اہم شاہراہ بانئ پاکستان محمد علی جناحؒ کے نام سے منسوب ہے، ’’جناح جاہ دیسی‘‘ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی شاہراہ پر بھارت کا سفارت خانہ ہے۔ ذرا تصور کریں، ترکی میں بھارتی سفارت خانے کی تمام دستاویزات پر جب ’’جناح جاہ دیسی‘‘ لکھنا ہوتا ہے تو بھارتیوں کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔ پاکستان میں مینارِ پاکستان، فیصل مسجد، داتا گنج بخش مسجد سمیت متعدد عمارات ترک معماروں کا کام ہیں اور اسلام آباد سے لے کر لاڑکانہ تک متعدد شاہراہیں، بانئ ترکی اتاترک کے نام سے منسوب ہیں۔


اس بدلتی دنیا میں جو یک محوریت سے مختلف علاقائی، تجارتی اور سٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدل رہی ہے، ترکی اور پاکستان دو اہم ممالک ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیا کا اہم ترین ملک اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور مسلم دنیا کی طاقت ور ترین وار مشینری رکھنے والا ملک ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایک سنگم کی سی ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دہانے پر بدلتی دنیا میں نیا کردار حاصل کررہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تعلقات اور چین کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اِن تعلقات کو اوربھی بڑھا رہا ہے۔ ایسے ہی ترکی مشرقِ وسطیٰ کاایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ملک ہے۔ تعلیم، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بعد دوسری اہم وار مشینری رکھنے والا، نیٹو کا دوسرا بڑا حصہ دار ہے۔ لہٰذا ان دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اب اس بدلتی دنیا میں ایک نیا علاقائی اور عالمی توازن بنانے میں نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔


اگر ہم اس سارے خطے پر سرسری نگاہ دوڑائیں تو اس خطے میں اہم ترین ممالک میں چین، روس، بھارت، پاکستان اور ترکی یک محوریت سے ملٹی پولر دنیا میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے جا رہے ہیں۔ اس میں ترکی اور پاکستان تقریباً تمام علاقائی اور عالمی معاملات میں ایک صف میں کھڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے یہ آئیڈیل تعلقات درحقیقت ایک فطری اتحادی کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگر افغانستان کے مسئلے میں ترکی اپنے ازبک نسلی تعلقات کے حوالے سے اور نیٹو کا رکن ہونے کے ناتے ایک خاص سیاسی مقام رکھتا ہے تو اسی طرح افغانستان، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون ہے۔ 9/11 کے بعد ترکی اور پاکستان، افغانستان کے مسئلے پر ایک دوست اور اتحادی کے طور پر بیشتر معاملات میں ایک موقف پر رہے اور ہم نے دیکھا دونوں دوست ممالک افغانستان میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کے علاوہ اپنے طور پر بھی مصروفِ کارہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک بڑی عالمی طاقتوں کے علاوہ بھی کئی علاقائی اور عالمی معاملات کو سلجھانے میں کوشاں ہیں۔


ترکی اور پاکستان متعدد شعبوں میں شریکِ کار ہیں خصوصاً دفاعی حوالے سے، لیکن ان گہرے تعلقات سے ہم مزید فوائد بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ خصوصاً تعلیم، صحت، صنعت، تجارت اور زراعت کے شعبوں میں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی زراعت کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے ترکی کی زرعی ترقی و صنعت سازی سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں بھی۔ میں پچھلی تین دہائیوں سے ترکی کی سیاست، تاریخ، ثقافت، تہذیب اور معاشرت کو سمجھنے میں مصروف ہوں۔ میرا یہ یقین ہے کہ اگر ہمارے پالیسی ساز، درج بالا شعبوں میں، ایک دوسرے سے تیزرفتاری سے تعاون بڑھائیں تو پاکستان اس منزل کو چند سالوں میں چھو سکتا ہے جس کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا ہے، یعنی ایک جدید تعلیم یافتہ، صنعتی اور مضبوط معیشت رکھنے والا ملک۔ ضرورت صرف سنجیدگی اور فیصلہ کرنے کی ہے۔ اس حوالے سے ترکی میں پاکستان کے سفیر سہیل محمود کا یہ جملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان ترکی تعلقات شان دار تاریخ رکھتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہمہ وقت آبیاری کی ضرورت ہے۔ سہیل محمود، انقرہ میں اور ترک سفیر صادق بابر گرگن پاکستان میں سفارتی حوالے سے بے مثال کردار ادا کررہے ہیں۔ ان دونوں سفارت کاروں کو میں نے ان دو روایتی دوستوں کے تعلقات کو سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے عروج پر پایا لیکن ان سفارتی کوششوں کے علاوہ پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے ان شعبوں میں تعاون کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے جو ہماری حکومت کے ایجنڈے میں زیادہ نمایاں نہیں، یعنی تعلیم، ٹیکنالوجی، علمی وادبی تحقیق، زراعت اور صنعت۔ اور اسی طرح ہم ترکوں کے ساتھ متعدد شعبوں میں اپنے تجربات شیئر کرسکتے ہیں، خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹرز اور آئی ٹی کے شعبے میں۔ اگر دونوں ممالک میں اہل فکر ودانش سے متعلق لوگوں کا
Exchange
پروگرام شروع کر دیا جائے تو دونوں ممالک جلد ہی اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جس سے یہ اہم مسلم ریاستیں دیگر مسلم دنیا کی رہنمائی کرسکتی ہیں۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
January

تحریر: ڈاکٹر منہاس مجید

جب بھی فرقہ وارانہ تنازعات کی بات ہوتی ہے تو مغربی ممالک اُسے چودہ سو سال پہلے خلفائے راشدین کے انتخاب کو بنیاد بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سنی شیعہ مسلمان صدیوں تک، باوجود اجتہادی اور فقہی اختلافات کے، باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان اختلافات نے عالمِ اسلام میں بالعموم اور رفتہ رفتہ مشرقِ وسطیٰ میں بالخصوص فرقہ واریت کی شکل اختیار کرلی جس کی مثال سولہویں صدی میں سلطنت فارس اور سلطنت عثمانیہ کی آپس میں جنگیں تھیں‘ تاہم وہ محدود تھیں۔ موجودہ شیعہ سنی تنازعات جو کہ ابتدا میں معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں کچھ عرصہ بعد تشدد کی انتہائی شکل اختیار کر لیتے ہیں مگر ختم پھر بھی نہیں ہوتے اور بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ان کے ختم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تنازعہ جو کسی مخصوص جگہ پر محدود لوگوں کے درمیان شروع ہوا تھااس کے بعد بیرونی عناصر کی مداخلت سے بین الاقوامی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کی وجوہات اندرونی اور بیرونی مداخلت دونوں ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ بیرونی مداخلت سے پیشتر ہم عالمِ اسلام میں موجودہ خامیوں کا مشاہدہ کریں۔


تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم سے ہی مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔1919 کے مصری انقلاب سے لے کر ترکی کی جنگِ آزادی (1919-1923)تک، عراق کرد تنازعہ (1919-2003)، سعودی عرب یمن جنگ (1934)، عراقی شیعہ بغاوت(1935-36) اور پھر دوسری جنگِ عظیم سے لے کر عراق ایران جنگ اور اس کے بعد کے واقعات جو مسلم ممالک کے درمیان باعث تنازعات رہے ہیں اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مغربی دنیا آج بھی انہی جنگوں کا حوالہ دیتی ہے اور مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے اواخر میں جبکہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ اختتام کو پہنچ رہی تھی‘ اس سرد جنگ میں مسلم ممالک کو دونوں طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور ان کے قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ کیا۔ سلیم راشد اپنی کتاب ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد مغرب ایک نئے دشمن کی تلاش میں تھا جس پر وہ اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرسکے اور ان کے لئے اسلام اور مسلم امہ سے بہتر دشمن اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی بات کا اعتراف شیرین ہنٹر نے بھی اپنی کتاب’’ دی فیوچر آف اسلام اینڈ ویسٹ‘‘ میں کیا ہے کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد اسلام مغرب کے لئے دشمن ہوگا۔ آج فرقہ واریت کی جب بات ہوتی ہے تو ان مذکورہ باتوں کو نظر انداز کرکے فقط مسلمانوں کے اندرونی تنازعات اور اختلافات کو ہی سبب گردانا جاتا ہے اور داعش یا اس طرح کی مسلح تنظیموں کے وجود کو انہی اختلافات کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔


9/11کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کے ساتھ ساری دنیادہشت گردی کی لپیٹ میں آجاتی ہے لیکن مٹھی بھر دہشت گردوں کا الزام سارے مسلمانوں پرلگایا گیا کیونکہ وہ مٹھی بھر لوگ’’ مسلمان‘‘ تھے۔ عراق پر حملہ ہوا۔ تیونس، لیبیا، شام، مصر، لبنان عرب سپرنگ کی لپیٹ میں آئے لیکن وہاں وہ امن قائم نہ ہو سکا جیسا کہ امریکہ کی بظاہرخواہش تھی کیونکہ امریکہ کی ڈیموکریٹک پیس تھیوری کے مطابق جہاں جمہوریت ہوگی، وہاں امن ہوگا اور جہاں حکمران مطلق العنان
(Autocratic)
ہیں، وہاں نا انصافی ہوگی۔ جہاں تک مذہبی اقلیتوں کا تعلق ہے چاہے وہ شیعہ سنی ہوں یا دیگر غیر مسلم ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور ان کی آپس میں لڑائیاں جاری رہتی ہیں۔ مغربی ممالک نے جہاں جہاں اپنی آزاد اقدارمتعارف کرانے کے لئے مسلح جارحیت کا راستہ اپنایا ہے وہاں امن قائم نہیں ہو سکا بلکہ یہ جارحیت مزید بدامنی پھیلنے کا باعث بنی ہے۔


اگر مشرقِ وسطیٰ کا جائزہ لیا جائے تو عراق اور شام میں حکومتی اختیار ختم ہونے پر فرقہ وارانہ تنازعات کا دوبارہ ظہور ہوا جس کے نتیجے میں داعش منظم ہوئی اور عراق میں سنی صوبوں اور شام کے مشرقی علاقوں میں پھیل گئی۔ داعش نے شام میں ریاستی عملداری کے خاتمے اور عراق میں سنی برادری کو سیاسی دھارے سے علیحدہ کرنے کا بروقت اور پورا فائدہ اٹھایا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں کہیں بھی وہ علاقے جو حکومتی دسترس سے باہر رہے ہیں تو اس خلانے دہشت گرد تنظیموں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہاں وہ اپنے مراکز قائم کریں اور وہیں سے وہ دہشت گردی کو پھیلا سکیں۔ اس کے علاوہ ریاستی عملداری کے ختم ہونے سے بیرونی عناصر فائدہ اُٹھا کر اپنے مقاصد پورا کرتے ہیں جیسا کہ عراق اور شام کی صورت حال میں ایران، سعودی عرب، ترکی، قطر، امریکہ، روس اور دیگر ممالک کی مداخلت ہے۔ جب ہم عرب سپرنگ کی بات کرتے ہیں تو یہ تیونس سے لے کر بحرین تک حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی تحریک کا نام ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ آزادی، انصاف اور خوشحالی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ تحریک بھی فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہوگئی اور اس ناسور نے مختلف ممالک کو فوری طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔اس آگ نے عالمِ اسلام کو دو دھڑوں میں تقسیم کردیا اور ہر ایک فریق دوسرے فریق سے خوفزدہ ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ جب شام میں سنی بشارالاسد کی حکومت سے برسرپیکارہیں تو ان کو سعودی عرب اور قطر کی معاونت حاصل ہے دوسری جانب شامی حکومت کو ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے جس میں مالی اور عسکری دونوں تعاون شامل ہیں۔ اسی طرح غیر ریاستی عناصر حزب اﷲ کو ایران جبکہ لیبیا کی رضاکارانہ فورس کو سعودی عرب کا تعاون حاصل ہے۔ بحرین کی شیعہ آبادی جو حکومت کے خلاف بغاوت کر رہی ہے اس کو ایران اور شام کی مدد حاصل ہے جبکہ بحرین کی حکومت کو سعودی عرب کا تعاون حاصل ہے۔ یاد رہے کہ بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف حکومت کا جانبدارانہ رویہ نیا نہیں ہے لیکن عرب سپرنگ ان پر بھی اثر انداز ہو اہے۔


عراق اور شام کے حالیہ تنازعے نے فرقہ وارانہ وفاداریوں کو عیاں کردیا ہے۔ عموماً سیاسی تنازعات فرقہ واریت کا روپ اختیار کرلیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ جیسا کہ ہم مشاہدہ کررہے ہیں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ڈرامائی انداز میں ایک نئی سرد جنگ کی طرف جارہا ہے۔ جہاں دونوں اس خطے میں اپنی بالا دستی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ اب یہ پراکسی وار کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ہر د و فریق فرقہ واریت کی اس جنگ میں اپنے مخالف فریق کے خلاف مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ شام،یمن، عراق سب جگہ صفِ اول کی جنگ فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑی جارہی ہے یعنی شیعہ بمقابلہ سنی حالانکہ یہ ایک فیکٹر ہے جو ہمیں ہر سطح پر نظر آتا ہے۔ اِن تنازعات کی وجہ دیگر بہت سے سٹریٹیجک ایشوز بھی ہیں اور غیر ملکی مداخلت بھی۔


لبنان اور کویت میں عارضی امن تو قائم ہے لیکن فرقہ واریت کی چنگاری کو کبھی بھی ہوا لگ سکتی ہے۔ مسلم دنیا کا آپس میں اختلاف یعنی شیعہ بلاک اور سنی بلاک میں تقسیم ہونا داعش جیسی تنظیم کو پیدا کرنے کا باعث بنا ہے جو بغیر کسی تفریق کے مغرب، شیعہ سنی، ایران حتیٰ کہ سعودی عرب کو بھی اپنا دشمن سمجھتی ہے۔


ان واقعات کے تناظر میں مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کے بدلتے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ کے صدر اوبامہ نے اعتراف کیا ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہدِ صدارت کی بدترین غلطی تھی۔ عراق پر حملے کو مغربی سکالرز تاریخ کی ایک بہت بڑی غلطی قرار دے چکے ہیں۔ اوبامہ حکومت کے ایران کے ساتھ کئی دہائیوں کے اختلافات اور پابندیوں کے بعد جوہری توانائی اور دیگر امور پر بات چیت اگرچہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے لیکن مذاکرات کے راستے کو اپنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلحے کا استعمال اختلافات کوحل کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اس خطے میں جاری بحران کو حل کئے بغیر نکلنا بھی ان پُر تشدد واقعات اور دہشت گردی کی وجہ ہے۔


المختصر یہ بات تو طے ہے کہ امتِ مسلمہ میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح مختلف مسالک اور فرقے موجود ہیں اور ان کے آپس میں کچھ بنیادی اور کچھ فروعی اختلافات کی وجہ سے تنازعات اور اندرونی چپقلش کا ماحول موجود رہتا ہے مگر موجودہ صورتحال میں اور بالخصوص مشرقِ وسطی میں جاری لڑائیاں کچھ اور خفیہ عوامل کی نشان دہی کرتی ہیں۔ تاہم اب ہم اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے سارا الزام دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ چہ جائیکہ ہم وہ حالات پیدا کریں کہ دوسرے ہماری مدد کے بہانے آکر معاملات کو اور خراب کریں ہمیں چاہئے کہ ہم سب مل کر فی الفور آپس میں مکالمے کا آغاز کریں۔ آپس میں مکالمہ اس نیت کے ساتھ کہ ہم نے مل کر امن و آشتی کے ساتھ رہنا ہے ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات کا احترام کرنا ہے اور اپنی موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کو اندرونی جنگ و جدل سے ہر حال میں بچانا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشروں میں بات کرنے کی روایت کی حوصلہ افزائی اور تشدد کی ہر شکل کی حوصلہ شکنی کریں تو امیدِ واثق ہے کہ مسلم آبادیاں آپس میں بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ
Diversity
یعنی تنوع کو خدا تعالیٰ کی تخلیق کا ایک امر سمجھیں اور یک رنگی‘ یک نسلی اور یک مذہبی ایجنڈے کے بجائے ایک دوسرے کی مثبت صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ معاشرے مختلف طبقات اور رنگ و نسل سے مل کر ہی بنتے ہیں یہ مسلمان علماء کرام‘ دانشوروں اور حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف مسلمانوں میں موجود فرقہ بندیوں کو تشدد اور جنگ کے راستے پر جانے سے روکیں بلکہ اپنے معاشروں میں بسنے والے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا بھی احترام کریں۔ یاد رکھیں کہ اندرونی جنگیں باقی تمام طرح کی لڑی جانے والی جنگوں سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ہوتی ہیں۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور اُس میں جاری پراکسی وارز
(Porxy Wars)
کا بہت گہری نظر سے تجزیہ کرنا چاہئے اور اس طرح کی جنگ کو پاکستان سے ہر حال میں دُور رکھنا چاہئے۔ پاکستان کی افواج نے ابھی تک تمام غیرریاستی دہشت گرد گروپوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے مگر اس خطرے کا سدِباب سماجی اور سیاسی سطح پر بھی نہایت ضروری ہے۔ ہمیں ایک پرامن معاشرہ درکار ہے جو صرف پُر امن بقائے باہمی کے اصولوں پرعمل سے ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے اور مکالمہ ان تمام کوششوں کی کنجی ہے۔ ہمیں مکالمے کی طاقت سے تشدد کے رویوں کو روکنا ہو گا۔ آیئے آپس میں بات کریں اور اس موجودہ ہلاکت خیزی کے طوفان کو روکیں جس سے ہماری دشمن قوتیں مسلسل فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

مضمون نگار یونیورسٹی آف پشاور کے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
January

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط: 12

سند یافتہ طوطے
گنرز کو طوطوں سے تشبیہہ کیوں دی جاتی ہے اس بارے میں تو ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ بڑے سے بڑا طوطا بھی توپ چلانے اور رٹا لگانے میں آرٹلری افسروں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پی ایم اے میں بیشتر کیڈٹ آرٹلری میں جانے سے اس لئے بھی خائف ہوتے ہیں کہ سینئرز کی جانب سے پہلے ہی خبردار کر دیا جاتا ہے کہ توپخانے میں پڑھائی اور رسوائی دونوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ پاس آؤٹ ہونے سے پہلے پی ایم اے میں ہم سے آرمز کی تین چوائسز پوچھی گئیں تو ہم نے جواب میں خوب سوچ سمجھ کر سگنل، آرڈیننس اور انجینئرنگ کور تحریر کیا۔ ہم بھولپن میں اپنے تئیں یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ چونکہ ان میں سے کوئی بھی آرم
A
کے حرف سے شروع نہیں ہوتی اس لئے یقیناًآرٹلری میں جانے سے بچ جائیں گے۔ لیکن تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خندہ کے مصداق پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ آرمز الاٹ کرنے والوں نے الٹا یہ سمجھا کہ کیڈٹ کو ان تینوں آرمز سے شغف ہے لہٰذا انہوں نے ہماری چوائس میں سے کوئی ایک آرم دینے کی بجائے ہمیں آرٹلری میں بھیجنا مناسب سمجھا تاکہ اس میں جاکر ہم ان تینوں آرمز کا اکٹھا مزہ لے سکیں۔


پاس آؤٹ ہونے کے بعد جب ہم نے گھبرائے گھبرائے یونٹ میں رپورٹ کی تو پہلے ہی دن ہمیں کتابوں کے دو عدد بھاری بھرکم مجلد سیٹ تھما دیئے گئے جنہیں پمفلٹ سیٹس کا نام دیا گیا تھا۔ہر ایک میں کم از کم دس ضخیم کتابیں اکٹھی جلد کی گئی تھیں۔ ان پمفلٹ سیٹس کو دیکھ کر سوچا کہ کہنے والے ٹھیک ہی کہتے تھے کہ خالم خولی توپ چلانا تو شایداتنا مشکل نہ ہو لیکن ساتھ میں علم کا اسقدر بوجھ اٹھانا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ ہر کتاب بجائے خود الفاظ اور معانی کا ایک بے کراں سمندر تھا جس میں ہم جیسے نان سوئمر کو ہاتھ پاؤں باندھ کر دھکیل دیا گیا تھا۔ کہاں پی ایم اے سے اٹیک ، ڈیفنس ، ریڈ اور ایمبش کی مالا جپتے ہوئے پاس آؤٹ ہوئے تھے اور کہاں سب کچھ بھول بھال کر، ڈیفلیکشن، ایلیویشن، فکسیشن، اوریئنٹیشن اور اسی قبیل کی سیکڑوں ہزاروں اصطلاحات رٹنے سے پالا پڑ گیا تھا جن سے ہمارے فرشتے تک ناواقف تھے۔ کتابوں کے ان پلندوں کی جانب دیکھتے ہی ہماری طبعیت اچاٹ سی ہونے لگتی چنانچہ پڑھنے کے بجائے ان سے ورزش کے لئے ڈمبلوں کا کام لیتے ۔


یونٹ میں لیفٹیننٹ احسن ہمارے استاد مقرر ہوئے جو ہم سے دو کورس سینئر تھے اور تازہ تازہ سکول آف آرٹلری سے چھ ماہ کا بیسک کورس مکمل کر کے لوٹے تھے۔ ہم بھی دو ماہ بعد اسی کورس پر جانے والے تھے۔ کتابیں ہم پر لادنے کا مقصد بھی ہمیں اس کورس کے لئے پہلے سے تیار کرنا تھا تاکہ ہم کورس پر جاکر بہتر پرفارم کر سکیں۔ لیفٹیننٹ احسن نے ہمیں سب سے پہلے دو اصطلاحات (فکسیشن اور اوریئنٹیشن) کی تعریف رٹنے کے لئے کہا ۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ حضور رٹا لگانے سے بہترنہ ہوگا کہ آپ ہمیں ان اصطلاحات کا مطلب ہی سمجھا دیں۔اس پر موصوف بہت برہم ہوئے جیسے ہم نے کوئی انتہائی نامناسب بات کہہ دی ہو۔’’نواں آیاں ایں سوہنیا‘‘ والے سٹائل میں کہنے لگے ’’برخوردار! آرٹلری میں رٹا پہلے لگایا جاتا ہے اور سمجھا بعد میں جاتا ہے۔ اگر ترتیب الٹ ہو جائے تو گرم سرد ہو کر دماغ الٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے‘‘۔ کچھ پس و پیش کے بعد سرِ تسلیم خم کرتے ہی بنی اور ہم نے بھی طوطے کی طرح رٹا لگانے کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ دو دن کی لگاتار محنت کے بعد اس قابل ہوئے کہ دونوں اصطلاحات ہمیں ازبر ہو گئیں۔


چند دن کے بعد سی او نے ہمارا انٹرویو کیا ۔ انہوں نے پوچھا کہ بیسک کورس کی تیاری کر رہے ہو؟ ہم نے فوراً اثبات میں گردن ہلا دی۔بولے : اچھا پھر فکسیشن اوراوریئنٹیشن کی تعریف سناؤ۔ دونوں تعریفیں یاد تو تھیں ہی چنانچہ ہم نے ایک ہی سانس میں فرفر سنا دیں۔ اس شاندار پرفارمنس پر انہوں نے کرسی سے اٹھ کر ہمیں داد دی اور ساتھ ہی ساتھ مزید محنت جاری رکھنے کی بھی تلقین کی۔ہم دفتر سے ہنستے مسکراتے باہر نکلے اور دونوں پمفلٹ سیٹ بغلوں میں دبا کر ٹی بار کا راستہ پکڑا جہاں لیفٹیننٹ احسن ہمارا انتظار کر رہے تھے۔موصوف ہمیں دیکھتے ہی خوشی سے بغلگیر ہو گئے اور میس حوالدار کو ہماری طرف سے چائے اور مٹھائی کا آرڈر دینے کے بعد فرمانے لگے ’’تم نے گنری کا پہلا ٹیسٹ پاس کر لیا ہے۔اب کورس پر جانے تک تمہیں کچھ پڑھنے پڑھانے کی ضرورت نہیں باقی پڑھائی کورس پر جا کر کر لینا۔‘‘اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ، ہم نے بھی پمفلٹ سیٹس کو بکسے میں بند کر کے تالا لگایا اورچابی بیٹ مین کے حوالے اس ہدایت کے ساتھ کی کہ اسے ایک گہرا گڑھا کھود کر دفن کر دیا جائے۔ باقی کے دن ہم نے میس میں فلمیں دیکھ کر اور صدر بازار پشاورکے چکر لگا کر گزارے۔
کورس پر تو ہمارے ساتھ جو ہوا سو ہوا لیکن جب ہم سکول آف آرٹلری سے باقاعدہ سند یافتہ طوطے بن کر یونٹ میں واپس آئے تو سی او کے انٹرویو سے پہلے ہر نئے سیکنڈ لفٹین کو فکسیشن اوراوریئنٹیشن کا سبق رٹانا نہ بھولے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ہمارے سی او کا علم مرورِ زمانہ کا شکار ہو کر صرف فکسیشن اوراوریئنٹیشن ہی تک محدود ہو چکا تھا اور باقی معاملات میں وہ اندازے سے ہی کام چلاتے تھے چنانچہ نئے لیفٹینوں کے علم کی گہرائی ناپنے کے لئے انہی دو اصطلاحات کا پیمانہ استعمال کرنا ان کی مجبوری بن چکا تھا۔

اب آپ سے کیا پردہ، جب ہم بذاتِ خود سی او بنے تو جونئیر افسروں کا نالج چیک کرتے ہوئے ہمیں بھی فکسیشن اور اوریئنٹیشن کے سوا کچھ اور یاد نہیں آتا تھا۔


روزے، انسپیکشن اور پوسٹیں

Biennial Fitness for War Inspection
جسے عرفِ عام میں ایڈم انسپیکشن بھی کہا جاتا ہے ،کسی بھی یونٹ کا پورے دو سال کے وقفے سے وقوع پذیر ہونے والا ایک اہم ترین ایونٹ ہوتا ہے۔ انسپیکشن ٹیم میں بالا ہیڈکوارٹر کے افسران شامل ہوتے ہیں۔عموما یہ ٹیم لامحدود اختیارات کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ اس کا کام یونٹ کے تمام سامان کی انسپیکشن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی آپریشنل تیاری کے بارے میں رپورٹ مرتب کرنا ہوتا ہے۔۔ یونٹ کو بہت پہلے سے اس انسپیکشن کے بارے میں مطلع کر دیا جاتا ہے اور مہینوں پہلے سے نہایت زور و شور سے تیاریاں شروع کر دی جاتی ہیں۔ تمام عمارتوں کو اندر باہر سے ازسرِنو رنگ و روغن کیا جاتا ہے، سب دستاویزات کو اچھی طرح سے چیک کرنے کے بعد ان میں موجود کمی بیشی دور کی جاتی ہے، گاڑیوں اور دوسرے سامان کی مرمت کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام افراد کو فائرنگ رینج پر لے جا کر فائر کی مشق کروائی جاتی ہے۔ پی ٹی اور ڈرل پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے تاکہ ایڈم انسپیکشن کرنے والی ٹیم کے ہاتھ کوئی پوائنٹ نہ آنے پائے اور یونٹ کو اچھی گریڈنگ مل سکے۔


بعض علاقے ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں پر مختلف وجوہات کی بنا پر یہ سب تیاریاں کرنا شائد ممکن نہیں ہوتیں جیسے سیاچن اور ایف سی این اے کے دوسرے علاقے۔ ایسی جگہوں پر موسم کی سختی اور یونٹ کے دور دراز علاقوں میں پھیلے ہونے کے باعث تیاری کا وہ اعلیٰ معیار قائم کرنا مشکل ہوتا ہے جو عام چھاؤنیوں میں دکھائی دیتا ہے۔لیکن کیا کہئے کہ کتابی طور پر تمام یونٹوں کے لئے ایک سا ہی معیار مقرر ہے البتہ یہ انسپیکشن ٹیم پر منحصر ہے کہ وہ علاقے اور ماحول کی مناسبت سے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہے ۔ ہم 2006 میں بطور میجر ،ہیڈکوارٹر آرٹلری ایف سی این اے میں پوسٹ ہو کر سکردو پہنچے تو کلرک نے ہمارے سامنے کمانڈر کا منظور کردہ شیڈول رکھ دیا جس کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں ہمیں دو یونٹوں کی ایڈم انسپیکشن پر مامور کیا گیا تھا۔


وقتِ مقررہ پر ہم نے سکردو کو خدا حافظ کہا اور اپنی ٹیم کے ہمراہ دیوسائی پلین کراس کرتے ہوئے پہلی یونٹ کے ہیڈکوارٹر میں پہنچ گئے۔ ٹیم میں ہمارے علاوہ ہردلعزیز سٹاف کیپٹن ،کیپٹن کامران اور تین کلرک بھی شامل تھے۔ یونٹ والوں نے ہمارا شایانِ شان استقبال کیا۔ ہم بتانا بھول گئے کہ وہ رمضان کے دن تھے اور ہم سب روزے سے تھے۔ سی او ، ٹو آئی سی اور دوسرے افسران بھی میس میں موجود تھے ۔سب نے مل کر یونٹ کی مشکلات کا ایسا نقشہ کھینچا کہ ہمارا دل پسیج گیا۔ ہم خود بھی اس سے پیشتر سیاچن کی دو عدد پوسٹنگز گزار چکے تھے اوران تمام مشکلات سے بخوبی واقف تھے۔ خیرایک اچھا سا افطار کم ڈنر کرنے کے بعد ہمیں ہمارے کمرے میں پہنچا دیا گیا ۔ ہم نے اور کیپٹن کامران نے باہمی مشورہ سے فیصلہ کیا کہ یونٹ کی مشکلات دیکھتے ہوئے زیادہ سختی کرنا مناسب نہیں لہٰذا تھوڑے لکھے کو بہت سمجھا جائے اور ’’ہتھ ذرا ہولا‘‘ ہی رکھا جائے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد اگلے دو دن ہم نے یاد الٰہی میں بسر کرنے کے ساتھ ساتھ انواع و اقسام کے کھانوں اور فلموں سے لطف اندوز ہونے میں گزارے۔


قسمت کی خرابی دیکھئے کہ تیسرے دن سی او نے کمانڈر کو فون کیا۔ برسبیل تذکرہ کمانڈر نے پوچھا کہ آپ لوگوں کی ایڈم انسپیکشن کیسی جا رہی ہے۔ سی او نے فوراً جواب دیا’’سر آپ نے بہت اچھی ٹیم بھیجی ہے، انہوں نے ہمارا بہت خیال رکھا ہے اور زیادہ گہرائی میں جا کر چیکنگ نہیں کی‘‘۔کمانڈر نے ان موصوف کو تو کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا لیکن ہمیں فون کر کے بے نقط سنائیں جو ہم اچھے جونئیر کی مانند سنتے رہے ۔ہمارے پاؤں تلے سے زمین اس وقت نکلی جب انہوں نے فرمایا کہ آپ اور سٹاف کیپٹن دونوں اس سیکٹر میں موجود تین پوسٹوں پر باری باری جائیں اور واپسی پر مجھے رپورٹ کریں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ بھلائی کے جواب میں ان سی او صاحب کی نادانی کے باعث ہمیں یہ دن دیکھنا بھی نصیب ہو سکتا ہے۔ آخر مرتے کیا نہ کرتے، ٹو آئی سی سے درخواست کی کہ ہماری پوسٹ یاترا کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے ہمارے لئے ایک خچر کا بندوبست کیا جس پر بیٹھ کر ہم روزے کی حالت میں پوسٹوں کا چکر لگاتے اوروہاں سے کمانڈر کو فون کر کے اطلاع دیتے۔تین دن بعد ہم نے اس یونٹ کو خدا حافظ کہا اور دوسری یونٹ کی راہ لی۔ اب کمانڈر نے ہمارے لئے سوائے روائتی سختی کے اور کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا تھا۔
دوسری یونٹ والے پہلی یونٹ سے ہمارے بارے میں تفصیلات معلوم کر چکے تھے اور انہیں یہی بتایا گیا تھا کہ زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ انسپیکشن ٹیم کا رویہ انتہائی نرم ہے۔ لیکن ان کی تمام تر امیدوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب ہم نے یونٹ میں پہنچتے ہی میس میں جانے کی بجائے سیدھا ٹریننگ گراؤنڈ کا رُخ کیا۔تمام یونٹ کا سامان گراؤنڈ میں اکٹھا کروا کر ہم نے ایک ایک چیز کی محدب عدسے سے انسپیکشن کرنا شروع کی۔ سی او اور ٹو آئی سی نے ہمیں میس کا راستہ دکھانے کی بہتیری کوشش کی لیکن ہم نے سنی اَن سنی کرتے ہوئے پوری یونٹ کو
Two Mile
ٹریک پر فالن ہونے کا حکم جاری کر دیا۔ انہوں نے ہمیں رام کرنے کے لئے مختلف طریقے آزمائے لیکن ہم نے نہ ماننا تھا نہ مانے اور گاڑی لے کر بذاتِ خود پورا فاصلہ ناپنے نکل کھڑے ہوئے۔ افسروں سمیت سب لوگ ٹریک سوٹ میں ملبوس سٹارٹ پوائنٹ پر پہنچ گئے۔ ٹو آئی سی ہم سے بہت سینئر تھے اور لیفٹیننٹ کرنل اپروو
Approve
ہو چکے تھے۔وہ ذرا سی دور ایک سٹول پر براجمان تھے۔ ہم نے ان سے درخواست کی کہ براہ مہربانی آپ بھی اس ٹیسٹ میں شامل ہوں ۔ یہ سن کر وہ سٹول سے گرتے گرتے بچے اور رحم طلب نظروں سے ہماری جانب دیکھا لیکن دوسری جانب ہمیں کمانڈر کا خوفناک چہرہ اپنی آنکھوں کے عین سامنے نظر آ رہا تھا لہٰذا ہم نے ان کی جاں بخشی کی درخواست مسترد کر دی۔


قصہ مختصر یہ کہ آنے والے تین دن اس یونٹ پر بہت گراں گزرے۔ تنگ آ کر سی او نے کمانڈر کو فون کیا اور مطلع کیا ’’سر! آپ نے انتہائی سخت ٹیم بھیجی ہے جس نے پوری یونٹ کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ آپ براہِ مہربانی انہیں جلد سے جلد واپس بلائیں اور کسی اور یونٹ میں بھیجیں۔‘‘ یہ الفاظ سن کر کمانڈر کی دلی تسکین ہو گئی۔ انہوں نے ہمیں فون کر کے شاباش دی اور دو دن اور لگا کراس یونٹ کی مزید اچھی طرح سے انسپیکشن کرنے کو کہا جس پر ہم نے دل وجان سے عمل کیا۔ جب ہم خود سی او بنے تو اس بات کا بطور خاص خیال رکھا کہ کسی قسم کی انسپیکشن کے دوران کمانڈر سے فون پر ہرگز بات نہ کی جائے۔


بریانی اور ایڈز
پنوں عاقل میں رہتے ہوئے سندھی کھانوں کا بہت چرچا ہوتا۔ ایک دن تمام افسروں کے پرزور اصرار پر سی او نے میس حوالدار کو طلب کیا اور اسے کک کو سندھی کھانوں کی ٹریننگ کے لئے سکھر میں واقع ایک بڑے ہوٹل میں بھجوانے کی ہدایات جاری کیں۔ ایک مہینے کی ٹریننگ کے بعد کک واپس یونٹ میں پہنچا تو میس حوالدار کے بقول وہ تمام سندھی کھانے بنانے میں طاق ہو چکا تھا۔ اس کی آزمائش کے لئے ایک ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں اور کھانوں کے ساتھ ساتھ سندھی بریانی کو بطورِ خاص شامل کیا گیا تھا۔ کھانا مزیدار بنا تھا اور سندھی بریانی نے بالخصوص سب کو بہت متاثر کیا۔ ڈنر ختم ہوا اور سب لوگ گھروں کو واپس ہوئے۔ صبح اٹھ کرحسب معمول واش روم کا رخ کیا تو پیشاب کا رنگ دیکھ کر ہمارے اوسان خطا ہو گئے۔ پیشاب کا رنگ سرخی مائل نارنجی ہو چکا تھا ۔


ذہن پر زور دینے سے یاد آیا کہ گزرے وقتوں میں جب گھروں کے نلکوں میں کارپوریشن کا پانی آیا کرتا تھاتوصفائی کے لئے کبھی کبھار واٹر ٹینک میں لال دوائی ڈالی جاتی تھی جس سے پانی کا رنگ ہلکا گلابی ہو جاتا تھا۔ہم قدرے پریشان ہوئے کہ ہو نہ ہو ہم نے لال دوائی کی طرح کی کوئی زہریلی چیز کھا لی ہے جس سے ہمارا یہ حال ہو چکا ہے۔ ذہن پر بہتیرا زور ڈالنے کے باوجود ہمیں کوئی ایسی بداحتیاطی یاد نہیں آئی جو حالیہ دنوں میں ہم سے سرزد ہوئی ہو۔ہم اسی شش و پنج میں مبتلا تھے کہ انجانے میں ضرورکسی مہلک بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ جلدی جلدی یونیفارم پہن کر دفتر کا رخ کیا۔ دفتر پہنچ کرابھی سوچ ہی رہے تھے کہ سی او کے پاس جا کر صورتحال ان کے گوش گزار کریں کہ سی او کا بیٹ مین حیران پریشان ہمارے دفتر میں داخل ہوا اور کہنے لگا ’’سر! خدا کے واسطے مجھے بچا لیں، مجھے ایڈز ہو گئی ہے۔‘‘ ہم نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا ’’سر!مجھے آج صبح سے پیشاب میں خون آ رہا ہے ۔ میں نے یونٹ کے میڈیکل این سی او سے ذکر کیا تو اس نے بتایا کہ یہ تو سیدھی سیدھی ایڈز کی علامت ہے اور اب تم کچھ ہی دیر کے مہمان ہو۔‘‘


ہم اس کو تسلی کیا دیتے کہ خودصبح سے اسی عارضے کا شکار تھے۔ ابھی اپنی وصیت قلم بند کرنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ سی او نے آفس میں طلب کر لیا۔ ہم نے سی او کے بیٹ مین کو ساتھ لیا اور ان کے آفس میں پہنچ گئے۔ سی او کے کچھ کہنے سے پہلے ہم نے ڈرتے ڈرتے تمام معاملہ ان کے گوش گزار کر دیا۔ وہ بولے کہ میں تو خود صبح سے اسی پریشانی میں مبتلا ہوں، جلدی سے سب افسروں کو میرے آفس میں طلب کرو۔ بات کھلی تو پتہ چلا کہ ہم تنہا اس رسوائی کا شکار نہیں ہوئے بلکہ شہر کا شہر بیمار ہوا پھرتا ہے۔ ٹو آئی سی نے غصے میں آکر میس حوالدار اور کک کو طلب کیا اور تفتیش کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ پتا چلا کہ کک نے سندھی بریانی کو رنگنے کے لئے جو رنگ استعمال کیا تھا وہ کچا تھا جس کے باعث ہم سب کو یہ مہلک عارضہ لاحق ہو ا تھا۔سی او کے بیٹ مین نے بھی بچے کھچے چاولوں پر ہاتھ صاف کیا تھا اس لئے وہ بھی اس کی زد میں آ گیا۔ دو تین روز کے بعد پیشاب کا رنگ تو سفید ہو گیا لیکن ہم نے دوبارہ بریانی کھانے کا خطرہ کم کم ہی مول لیا۔

(........جاری ہے)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
January

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اس وقت کے پروڈیوسرریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

ستمبر1965کورات کی تاریکی میں بھارت نے لاہور کے بارڈر پر اچانک حملہ کر دیا۔ تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی بہادر فوج کے شانہ بشانہ یک جان ہو کر اُٹھ کھڑی ہوئی اور عملی طور پر تاریخ میں جو کردار مسلح افواج کے ساتھ ساتھ ثقافتی ابلاغ کے محاذ پر اس ادارے یعنی ریڈیو پاکستان لاہور نے کیا وہ ایک سنہری باب ہے۔ ستمبر1965کی جنگ کا جب بھی ذکر ہوتا ہے اس حوالے سے پاکستان کی فنکار برادری کا ذکر بھی ضروری ہے۔ جس میں ملکہ ترنم نورجہاں کے علاوہ میوزیشنز، شعراء کرام سب کی ایک ہی سوچ تھی کہ ہم سب نے مل کر دشمن کے ناپاک ارادوں کو ملیا میٹ کرنا ہے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کی میری اس منتخب ٹیم میں جو لوگ شمار کئے جا سکتے ہیں اُن کے نام یہ ہیں۔ استاد صادق علی مانڈ کلارنٹ نواز، سارنگی نواز، ناظم علی (طبلہ نواز)، محمد صابر، (گھڑا) رحمت خان(وائلن) مراد حسین ہاشمی، سردار لطیف، ہارمونیم ماسٹر منو، سرود نواز فیض فرید، بانسری نواز خاور حسین (خادم) اورسرمنڈل پر، پرویز مہدی یہ میوزیشنز کی ٹیم تھی جو صرف ملکہ ترنم نورجہاں کے ترانوں کے لئے وقف تھی۔ سب نے بڑی محبت اور دل جمعی سے کام کیا۔ ایسا جذبہ قابل دید تھا۔ ہم سب لوگ صبح صبح ریڈیو سٹیشن آ جاتے اور رات تک کام جاری رہتا۔ یقین مانیں اﷲ تعالیٰ کی رحمت و برکت سے ملک و قوم کے لئے کام کرتے ہوئے سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا جس کی وجہ سے ہم اتنے اچھے ترانے پیش کرنے میں کامیاب ہوئے۔
جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ جنگ ستمبر 65 کے دوران ملکہ ترنم نورجہاں نے ریڈیوپاکستان لاہور سے نغمے پیش کئے۔ ہر ایک نغمے کی علیحدہ کہانی ہے۔ اس مہینے سب سے پہلے ترانے کا ذکر کرتا ہوں۔ ان تمام ترانوں کو پیش کرنے کا شرف مجھے حاصل ہے۔ پہلا ترانہ تھا۔
’’میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں‘‘

meryadolsyapa.jpg
جنگ ستمبر 65کو شروع ہوئی مگر ملکہ ترنم نورجہاں کے نغموں کی ریکارڈنگ 8ستمبر کو شروع ہوئی۔ اس کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ 8ستمبر 65 کو ملکہ ترنم نورجہاں نے ریڈیو اسٹیشن لاہور ٹیلیفون کیا کہ میں نورجہاں بول رہی ہوں۔اس وقت ملک و قوم کو میری آواز کی ضرورت ہے۔ میں ریکارڈنگ کے لئے ریڈیو اسٹیشن آنا چاہتی ہوں۔ اس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر شمس الدین بٹ(مرحوم) کو یقین نہ آیا اور ٹیلیفون بند کر دیا۔ دوبارہ ٹیلیفون آیا تو دوسری طرف مشہور میوزک کمپوزر حسن لطیف بول رہے تھے۔ کہنے لگے: بٹ صاحب! میں میڈم نورجہاں کے گھر سے بول رہا ہوں۔ میڈم نورجہاں واقعی ریکارڈنگ کے لئے آنا چاہتی ہیں۔ اسٹیشن ڈائریکٹر نے کہا کہ فوراً تشریف لے آئیں۔ ہم آپ کے جذبہ حب الوطنی کی داد دیتے ہیں۔ ہم آپ کی آواز میں ترانے ریکارڈ کر کے فوراً نشر کریں گے۔


اس وقت 25کے قریب پروڈیوسرزلاہور اسٹیشن پر کام کر رہے تھے۔ اس عظیم کام کو کرنے کے لئے اسٹیشن ڈائریکٹر کی نظر مجھ پر پڑی۔ حکم دیا کہ فوراً پروڈیوسر محمداعظم خان کو بلائیں۔ مجھے محترم بٹ صاحب نے کہا کہ میڈم نورجہاں آ رہی ہیں، آپ خود گیٹ پر جا کر ان کو ریسیو کریں اور فوراً میرے پاس لے آئیں۔ کچھ دیر کے بعد میڈم تشریف لے آئیں اور میں اسٹیشن ڈائریکٹر کے کمرے میں لے کر گیا۔ وہاں پر ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں اسٹیشن ڈائریکٹر، صوفی تبسم اور ناصر کاظمی موجود تھے۔ فیصلہ ہوا کہ آج کا دن ضائع نہ کیا جائے، آج ہی پہلا نغمہ ریکارڈ ہو جائے۔ میرے لئے بطور پروڈیوسر یہ بہت بڑا امتحان تھا اور عزت کی بات تھی۔ میں نے اﷲپاک سے دعا مانگی اور کام شروع کر دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلا نغمہ کون سا ریکارڈ کیا جائے۔ میرے ذہن میں یہی آیا کہ وطن کے سپاہی کی شان میں نغمہ ہونا چاہئے۔ میرا دھیان فوراً صوفی تبسم کی طرف گیا کیونکہ وہ بہت عظیم شاعر تھے۔ میں نے درخواست کی کہ صوفی صاحب ہمیں سپاہی کی شان میں نغمہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کمال ذہانت کے ساتھ مجھے یہ نغمہ لکھ کر دیا۔ ’’میرا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں‘‘ میں فوراً اپنی ریکارڈنگ ٹیم جو میں نے تمام میوزیشن سے منتخب کی تھی، کو لے کر آڈیو سٹوڈیو میں چلا گیا۔ اتفاق سے اس دن میرے دوست اور کلاسیکی فنکار سلیم حسین آئے ہوئے تھے۔ ان سے میں نے درخواست کی کہ اس نغمے کی دھن بنائیں۔ سلیم حسین نے بہت مہارت اور خوبی سے اس کی دھن بنائی۔ حسن لطیف (کمپوزر) نے بھی اس میں مدد کی۔ اب مسئلہ انتروں کا کہ کم از کم تین انترے ہونے چاہئیں۔ میڈم نورجہاں نے کہا کہ اعظم انترہ لائیں۔ میں بھاگا بھاگا صوفی تبسم کے پاس گیا اور کہا نغمے کی دھن بن گئی ہے، انترے چاہئیں۔ مجھے صوفی صاحب نے جواب دیا بیٹا میرے اندر کوئی مشین لگی ہوئی ہے اوپر سے انترہ آئے گا تو لکھ کر دوں گا۔ تقریباً دو گھنٹے کے بعد انترہ لکھ کر دیا اور ساتھ ہی حکم دیامیرے لئے اور سگریٹ بھیج دو۔ اس طرح یہ نغمہ تمام دن میں لکھا گیا۔ کمپوز ہوا اور رات تک اس کی ریکارڈنگ مکمل ہوئی۔ مجھے بٹ صاحب یعنی ہمارے اسٹیشن ڈائریکٹر نے کہا کہ اپنے باقی تمام پروگراموں کی فکر چھوڑو اور صرف میڈم نورجہاں کو اٹینڈ کرو اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھو۔ ناراض ہو کر نہ چلی جائیں۔ میرے لئے یہ بہت بڑا امتحان تھا کہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول فنکارہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کیا اور پہلے نغمے کی ریکارڈنگ شروع کر دی۔ ریکارڈنگ مکمل ہونے کے بعد فوری طور پر اس کو تسلسل کے ساتھ نشر کرنے کا اہتمام کیا۔ صبح ہونے تک ہمیں اس نغمے کو بار بار نشر کرنے پر اچھا ریسپانس ملا اور ہماری ہمت بڑھ گئی اور اس نغمے کو سُن کر ہماری مسلح افواج کے جوانوں کے حوصلے بلند ہوئے اور لڑائی میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہو گیا۔


میں یہاں یہ بھی عرض کروں کہ موسیقی فطرت انسانی کا ازلی رجحان ہے اور اس کا دل و دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ یہ تھی پہلے نغمے کی کہانی اس طرح دوسرے نغموں کی کہانی آئندہ شمارے میں تحریر کروں گا۔

اے وطن
اے وطن تیرے ہمیشہ ہی وفا دار رہیں گے
تیری حرمت کے سدا یونہی طلب گار رہیں گے
وعدہ کرتے ہیں تیری خاک کو ہم لے کر آج
دل سے ہم تیری وفاؤں کے پرستار رہیں گے
آنے دیں گے نہ کبھی آنچ تیری دھرتی پر
دشمنوں کے لئے ہم صورتِ تلوار رہیں گے
تجھ پر ہم گیت کتابوں میں یونہی لکھیں گے
جاں نثاراں تیری زمیں کے‘ قلم کار رہیں گے
تیری سرحد کی حفاظت پہ ہیں مامور جواں
قوم سو جائے مگر یہ سدا بیدار رہیں گے

یاسمین کنول

*****

 
10
January

تحریر: ناصر اقبال خٹک

لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ خٹک

پاک فوج کا ہر جوان اپنی زندگی اپنے ملک و قوم کی حفاظت کے لئے وقف کر دیتاہے۔ اسے اپنی اِس زندگی سے زیادہ اُس زندگی کی خواہش ہوتی ہے جو اُسے شہادت کے بعد ملتی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ خٹک ایسے ہی انسان تھے جن کی زندگی کا مقصد اپنے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرنا تھا۔


فیض اﷲ 10فروری 1962میں ضلع کرک کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ فیض اﷲ بچپن ہی سے ذہین اور کسی حد تک شرارتی تھے۔ فیض کو اُن کے والد محترم نے گورنمنٹ پرائمری سکول متوڑ میں داخل کروا دیا۔ ننھا فیض ہر کلاس میں ہر سال بہتر سے بہتر کارکردگی دکھاتا رہا۔ پڑھائی کے ساتھ مال مویشی بھی چراتا تھا۔ غلیل ہی اس کا پہلا ہتھیار تھا اور چھوٹے پرندے اس کا شکار تھے اور شکار میں اس کا کتا اس کا ساتھی تھا۔ کچھ عرصے تک بھیڑ بکریاں بھی چرائیں لیکن اس کے والد محترم نے زیادہ توجہ اس کی تعلیم پر ہی دی۔ پھر ایک دن فیض نے گورنمنٹ ہائی سکول صابر آباد سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ گورنمنٹ کالج کرک سے 1980 میں ایف ایس سی کیا۔ ایک دن اچانک فیض نے اپنے والد صاحب سے فوج میں جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے بھی انکار نہیں کیا کیونکہ والد پہلے ہی ملک کا سپاہی تھا۔ پھر اپنے بیٹے کو کیسے منع کر سکتا تھا۔ 1982کو آرمی میں بحیثیت کمیشنڈ آفیسر 69پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی۔ دو سال کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد
29FF
میں پوسٹ کر دیئے گئے۔ جہاں سے بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ عسکری زندگی شروع کی۔ وہ شروع ہی سے بہت محنتی تھے۔ ایمانداری ان کی رگوں میں شامل تھی۔ وہ ہمیشہ اچھی سوچ کے مالک رہے،ان کا ملٹری کیریئر ہمیشہ شاندار رہا۔ وہ دن بھی آ گیا جب وہ کمانڈنگ آفیسر بن گئے۔ اپنی ہی پیرنٹ یونٹ کے کرنل بن گئے۔ ان کے کرنل بننے پر پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ صدقے خیرات بھی کئے ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا۔ جب میجر تھے تو شادی کے بندھن میں بھی بندھ گئے۔ کرنل بننے پر اﷲ نے لخت جگر حمزہ کے روپ میں دیا اور اُن کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔ حمزہ ان کی پہلی نرینہ اولاد تھی۔ جس کا نام فیض نے خود حمزہ رکھا تھا۔ فیض بہت محبت کرنے والے باپ تھے۔ ہمیشہ اولاد کی اچھی پرورش اور بے لوث محبت کرنے والوں میں سے تھے۔

azeeminsanltcol.jpg
2002میں گوجرانوالہ میں اپنی یونٹ کی کمانڈ ختم کرنے کے بعد بحیثیت سٹاف آفیسر
(UN)
سیرالیون میں سلیکٹ ہوئے۔ بالآخر یو این مشن سرالیون چلے گئے۔ وہاں وہ پوری ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ وہ اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی کبھی نہیں کرتے تھے۔وہ اپنے فرض کو اچھی طرح نبھاتے تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ اپنی قابلیت پر بھرتی ہوا ہوں۔ نہ سفارش کروائی ہے اور نہ سفارش مانتا ہوں۔ جو بہتر لگے گا جو قانون کہے گا وہی مانوں گا۔ ہمیشہ سے سفارش کے خلاف تھے۔ سب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے۔ سپاہی سے آفیسر تک سب طبقوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے تھے۔ 29جون 2004 کی صبح فوجی مورچوں کے ایریا کی آسمانی نگرانی کے لئے
(MI-8)
ہیلی کاپٹر پر جانا تھا۔ صبح ٹھیک 9بجے ہیلی کاپٹر نے اپنے ہدف کی طرف پرواز کی۔ 45منٹ کے بعد ہیلی کاپٹر کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ لینڈ کرتے وقت ہیلی کاپٹر اچانک حادثے کا شکار ہوا اور جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا۔ بروقت کارروائی بھی نہ ہو سکی کیونکہ اچانک بارش بھی شروع ہو گئی اور ہیلی کاپٹر میں ایک فیض اﷲ کے ساتھ 16فیض اور بھی شامل تھے۔


غرض شہادت فیض کا مقدر ٹھہری۔ وہ فرض کی ادائیگی میں پاک فوج کے اس امن دستے کا حصہ تھے جسے اقوام متحدہ کے زیرنگرانی عالمی امن کو یقینی بنانا تھا۔ فیض کی فرض سے لگن اور شہادت نہ صرف پاکستان کے لئے سرمایہ افتخار ہے بلکہ پوری دنیا کے امن پسندوں کے لئے بھی باعث افتخار ہے۔ وہ جس گاؤں کے رہنے والے تھے اُس کی زیادہ تر آبادی غریب لوگوں پر مشتمل تھی اور اُن کی اپنے گاؤں میں روشنیاں بحال کرنے کی امیدیں فیض سے ہی تھیں۔ جس نے اس گاؤں میں جنم لیا تھا۔ جب اس کی لاش اس کے آبائی گاؤں لائی گئی تو ہر طرف غم کا ماحول اور مایوسی کے بادل تھے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی ہر طرف لاالہ الا اﷲ کا ورد تھا۔ لیکن ایک ان کے والد شاہ جہاں تھے جو اس منظر کو چپ چاپ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا لخت جگر ایک نئے سفرپر گامزن ہو چکا تھا اور انہیں اس پر فخر تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں انتہائی فخر اور شان سے ادا کی گئی اوراُنہیں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کر دیاگیا۔

 
10
January

تحریر: مونا خان

HEART OF ASIA ISTANBUL PROCESS ON AFGHANISTAN 6TH MINISTERIAL CONFERENCE AMRITSAR 2016

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرنے والی پاکستانی صحافی موناخان کے قلم سے دورہ ہندوستان کا ایک احوال

 

میرا اس جنریشن سے تعلق ہے جو’ کسوٹی زندگی کی، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی، کہانی گھر گھر کی، دل مل گئے، دیکھ مگر پیار سے، شاکا، لاکا، بوم بوم ، کاویاانجلی‘ جیسے ڈرامے دیکھ کر بڑی ہوئی۔ پاک بھارت دشمنی اپنی جگہ لیکن دل ہی دل میں ایک شوق تو تھا کہ جب بھی موقع ملا بھارت کا دورہ ضرور کرنا ہے جیسے ’گیت‘ڈرامے کا مان گولڈن ٹیمپل میں میرے ہی انتظار میں بیٹھا ہے۔ جی تو بات ہو رہی تھی بھارت یاترا کی، دفتر خارجہ کی رپورٹنگ کا یہ فائدہ تو ہے کہ ایسی یاترا کا چانس بن جاتا ہے۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرس بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں ہونا تھی۔ دفتر خارجہ سے نام بھجوائے گئے تو قرعہ فال میرے نام بھی نکلا۔ خوشی خوشی بھارت جانے کی تیاری کی۔ جیسے ہی واہگہ بارڈر پہنچے کچھ عجیب سے احساسات ہوئے، لیکن سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا۔ واہگہ سے جب گیٹ کراس کیا تو سامنے کی دنیا ہی اور تھی۔ آنکھوں کے سامنے عجیب اندھیرا سا چھا گیا۔ اندھیرا اس لئے نہیں تھا کہ رات تھی بلکہ اندھیرا اس لئے تھا جو خوبصورتی بھارتی ڈراموں اور فلموں میں گوری چٹی خواتین کی صورت میں نظر آتی ہے، نظر کے سامنے اس کے بالکل برعکس منظر تھا۔ بس یوں جانیئ کہ اندھیرا ہی تھا۔ میرے ساتھ آٹھ ساتھی اور تھے۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ ہاں بھئی! دیکھ لیا بھارت کا حسن! کولیگ کا جواب آیا ’توبہ کریں جی‘۔ میں جو سوچ رہی تھی کہ ’دل مل گئے‘ کا ڈاکٹر ارمان اور ’گیت‘ ڈرامے کا مان نظر آئے گا لیکن کیا پتا تھا کہ سارے ارمانوں کا خون ہو جائے گا۔ نہ تو ’’ویر پرتاب سنگھ‘‘ جیسا کوئی آفیسر دِکھا اور نہ سلمان خان جیسا کوئی پولیس آفیسر۔ یہ تو تھی واہگہ بارڈر پار کرنے کی بعد کی صورت حال۔ اب ذرا آگے چلتے ہیں۔ ہمارے پاکستانی مشن کے آفیسر ہمیں پروٹوکول دینے اور استقبال کے لئے وہاں موجود تھے۔ امیگریشن کے معاملات سے فارغ ہونے کے بعد مرحلہ آیا فون ایکٹیویشن کا۔ بندہ اب نئی جگہ جائے اور وہاں جا کر فیس بک چیک اِن بھی نہ کر سکے تو کیا فائدہ جانے کا!!! خیر بارڈر سے پاکستانی سفارت خانے کی تین گاڑیوں میں سوار ہو کر نو رکنی صحافیوں کے وفد کا قافلہ امرتسر کی سڑکوں پر رواں دواں تھا۔ گردن ہم نے کھڑکی سے باہر ہی رکھی کہ شائد کوئی مختلف چیز نظر آ جائے لیکن مجال ہے جو کچھ نظر آیا ہو۔ امرتسر ہمارے پنجاب جیسا ہی ہے، جیسے ہمارے پنجاب کے گاؤں ہیں بالکل ویسا۔ ہاں البتہ انٹری کے ساتھ ہی جب آپ کو شراب کی دکان نظر آتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ پاکستان نہیں ہے۔ فلمی تو ہم شروع سے ہیں مجھے تو امرتسر دیکھ کر ایک ہی گانا یاد آیا۔

 

bharatmainpak.jpg

ویر زارا فلم کا، ’’دھرتی سنہری امبر نیلا ہر موسم رنگیلا، ایسا دیس ہے میرا جیسا دیس ہے تیرا‘‘۔ ابھی ذہن میں گانا گونج ہی رہا تھا کہ گاڑی کی بریک کی آواز سے حال میں واپس آنا پڑا۔ سامنے نہ تو ’ویر‘ تھا اور نہ ’زارا‘ بلکہ سامنے موبائل کی دکان تھی جہاں سے ہم نے دنیا سے رابطے بحال کرنے کا وسیلہ ڈھونڈنا تھا۔ لیکن وہاں پر ہمیں چار گھنٹے خوار کرنے کے بعد اور اچھی خاصی رقم موبائل سم پیکیجز کی مد میں بٹور کر بھی ہمارے فون پر کال کرنے کی سہولت میسر نہیں تھی اور نہ ہی کوئی انٹرنیٹ پیکج دیا گیا۔ پہلے ہی کانفرنس کے مقام پر پہنچنے کے لئے لیٹ ہو گئے تھے اس لئے اپنے ہوٹل میں چیک اِن کرنے کے بجائے سیدھا کانفرنس کے مقام پر پہنچنے میں ہی عافیت سمجھی۔ وینیو پر بھی میڈیا کے لئے ایک جگہ مختص کر دی گئی تھی میڈیا سینٹر کے نام سے اور تمام صحافی وہاں ہی موجود تھے۔ ہم جب ادھر پہنچے تو بھانت بھانت کے صحافی وہاں موجود تھے۔ ہم پاکستانی تھے اس لئے فوراً نظر میں بھی آ گئے۔ نظر میں تو ہم شروع سے ہی تھے اس لئے ہر صحافی پر ایک عدد ’فرشتہ‘ تعینات تھا جس کا کام ہماری حرکات و سکنات پر نظر رکھنا تھا۔ بھارتی صحافیوں نے انٹرویو لینے کی خواہش کا اظہار کیا جسے ہم نے بخوشی قبول کیا۔ انھوں نے سوال جو بھی کئے ہم دلیل کے ساتھ پاکستانی موقف کا دفاع کرتے رہے، جس میں ہم خاصے کامیاب رہے۔ ڈیوٹی بھگتا کر احساس ہوا کہ کافی دیر سے کھانا نہیں کھایا جس کا اظہار بلاجھجک پاکستانی مشن کے آفیسرز کے سامنے بھی کر دیا کہ بھوک لگ رہی ہے، پاکستانی مشن نے ہمیں ریڈیسن بلو کے جڑواں ہوٹل ’پارک اِن‘ میں ہمارے لئے طعام کا بندوبست کر رکھا تھا۔ بھارتی کھانوں میں پنیر کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم نے امرتسر کی سپیشل مچھلی، دال مسوری، دال مکھنی اور پنیر تکہ کا آرڈر دیا۔ کھانا بلاشبہ کافی لذیذ تھا اس لئے ضرورت سے زیادہ کھا لیا۔ منہ کا ذائقہ جو کھانے کے بعد اچھا ہو گیا، اپنے ہوٹل پہنچ کر منہ حلق تک کڑوا ہو گیا۔ بھارت کے پاس پاکستانی صحافیوں کے لئے صرف ون سٹار ہوٹل میسر تھا، باقی ان کے بقول سب بک ہو چکے ہیں۔ ہوٹل میں نہ ریسپشنسٹ کا کوئی یونیفارم تھا نہ ویٹر کا۔ مجھے تو لگا کہ یہ ’ہم پہ تعینات فرشتوں‘ کا ’اپنا‘ ہوٹل تھا اس لئے وہاں جگہ دی گئی تا کہ ہم نظر کے سامنے رہیں۔ کمرے میں گئی تو کمرہ کم اور بھوت بنگلہ زیادہ تھا۔ ویٹرز کی شکلیں دیکھ کر مجھے ’دامنی گینگ ریپ‘ میں ملوث ملزم یاد آ گئے۔ غرض یہ کہ مجھے شدت سے غیر محفوظ ہونے کا احساس ہوا۔ میرے سامنے والے کمرے میں اپنے ہی دو صحافی تھے جن کو میں نے کہا کہ میرا دھیان رکھنا اور فون رِنگ پہ کر کے سونا تاکہ ضرورت پڑنے پر میں کال کر سکوں۔ پوری رات جاگ کر گزاری۔ ہر دو منٹ بعد یہ محسوس ہو کہ دروازے کے باہر کوئی موجود ہے۔ صبح ہوئی تو شکر ادا کیا اور دل میں تہیہ کیا کہ جو مرضی ہو جائے لیکن آج کی رات بھارت میں نہیں رکنا۔ اتوار کو واہگہ بارڈر بند ہوتا ہے ہم نے پاکستان میں دفتر خارجہ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ ہمارا آج ہی واپس آنے کا بندوبست کیا جائے۔ بھلا ہو اُن کا انھوں ہماری روداد سننے کے بعد بھارتی منسٹری سے بھی رابطہ کیا اور اتوار کی رات ہمارے لئے گیٹ کھلوانے کا بندوبست کروا دیا۔ کانفرنس کے دن بھی ہمارا کوئی خوشگوار تجربہ نہیں رہا۔ صبح ہوٹل سے باہر نکلے تو ہر وہ راستہ جو کانفرنس وینیو کو جاتا تھا وہاں سے ہمیں واپس بھیج دیا جاتا کہ دوسرے راستے سے جائیں۔ اب خدا جانے وہ دوسرا راستہ کہاں تھا دو گھنٹے مزید سڑکوں پر خاک چھاننے کے بعد دیہاتوں سے گزرتے ہوئے ڈرائیورز نے ہمیں کانفرنس کے قریب ترین مقام پر پہنچا دیا۔ ناکے پر موجود افسران نے ہماری گاڑی کو آگے نہیں جانے دیا اور ہم اپنا سامان اٹھا کر دو کلو میٹر چل کر میڈیا سینٹر پہنچے۔ کوریج کی، بھارتی صحافیوں کو انٹرویوز دیئے۔ کانفرنس کے اختتام پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا پاکستانی صحافیوں کے ہمراہ گولڈن ٹیمپل کا دورہ کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن بھارت سرکار نے اجازت نہیں دی اس لئے دورہ بھی نہ ہو سکا اور ہم سے بھی مشیر خارجہ کو نہ ملنے دیا جیسے ہم نے ان کی کوئی ’’برین واشنگ‘‘ کرنا تھی۔ بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط جب ہم سے ملنے آئے تو بھارتی سکیورٹی افسران نے میڈیا روم کو تالے لگا دئیے۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے جب باہر لان میں پاکستانی صحافیوں سے بات کرنا چاہی تو وہاں بھی سکیورٹی افسران نے مداخلت کی کہ پریس ٹاک نہیں کر سکتے۔ اس پر پاکستانی ہائی کمشنر نے بھارتی افسران کو جھاڑ پلا دی اور کہا کہ یہ میرے لوگ ہیں اور میرے لوگوں سے بات کرنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ بھارتی افسر کھسیانا سا ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔
ہائی کمشنر اور بھارتی افسر کی مداخلت کی وڈیو جو ہمارے ہی ایک کولیگ نے بنائی تھی وائرل ہو گئی، غرض کہ پاکستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا پر بھی اس ناروا سلوک کا خوب چرچا ہوا۔


وقت کم تھا اور مقابلہ سخت۔ نو بجے تک بارڈر پر پہنچنا تھا اور اس سے پہلے ہم نے گولڈن ٹیمپل کا دورہ بھی کرنا تھا کیونکہ امرتسر کی ایک ہی فینٹسی ہے جو اپنے پرکھوں سے بھی سن رکھی ہے اور وہ ہے گولڈن ٹیمپل۔ مشن کے پروٹوکول افسر سے درخواست کی کہ بارڈر پہ جانے سے پہلے ہمیں گولڈن ٹیمپل دِکھا دیں تاکہ یاترا مکمل ہو جائے۔ گولڈن ٹیمپل اور جلیانوالہ باغ جس کے حوالے سے بچپن میں ڈرامہ بھی دیکھ رکھا تھا اس جگہ کو دیکھنا ضروری تھا۔ سرتاج عزیز کو تو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اجازت نہیں ملی لیکن صحافی کو کیا ضرورت ’سکیورٹی‘ کی۔ گولڈن ٹیمپل گئے تصاویر بنوائیں لگے ہاتھوں ایک ایز لائیو بھی کر کے اپنے چینل کو بجھوا دیا۔ واپسی پہ دوستوں نے امرتسر کی مٹھائی سوغات کے طور پہ لینی تھی وہ لی اور بھاگتے دوڑتے نو بجے بارڈر پہ پہنچے۔ امیگریشن افسر بے چارہ ہمارے انتظار میں بیٹھا تھا کیونکہ اتوار کو بارڈر بند ہونے کے باعث اسے خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔ امیگریشن کے عمل کے بعد بھارتی افسران ہمیں کہنے لگے دیکھ لیں ہم نے تو اتنی جلدی آپ کی امیگریشن مکمل کر دی لیکن آپ کے اپنے پنجاب رینجرز لگتا ہے سو رہے ہیں جو آپ کو وصول نہیں کر رہے۔ یہ سننا تھا کہ سامنے سے آواز آئی ’’راہول جھوٹ مت بولو ہم کب سے اپنے بندوں کے لئے یہاں کھڑے ہیں‘‘ بھارتی افسر کھسیانا سا ہو گیا۔ ہمارا گیٹ کھلا تھا لیکن بھارتی افسران کو عین ٹائم پہ سرحدی گیٹ کی چابی ہی نہیں مل رہی تھی پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد دروازہ کھلا تو گویا سامنے جنت کا دروازہ ہو جیسے۔ بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے لیکن بھارت سے واپس پاکستان آنا جنت واپس آنے کے مترادف تھا۔ سامنے کھڑے پاک فوج اور رینجرز کے جوانوں کو دیکھ کر تخفظ کا احساس ہوا۔ دو دن جو بھارت میں غیر محفوظ ہونے کا احساس تھا ایک دم سے ختم ہو گیا۔ اپنا وطن ، اپنی مٹی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ تب اس قربانی کا اندازہ ہوا جو انیس سو سینتالیس میں ہمارے آباء واجداد نے دی تھی۔ اس قربانی کا مطلب اب سمجھ میں آیا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
ہمارا گیٹ کھلا تھا لیکن بھارتی افسران کو عین ٹائم پہ سرحدی گیٹ کی چابی ہی نہیں مل رہی تھی پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد دروازہ کھلا تو گویا سامنے جنت کا دروازہ ہو جیسے۔ بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے لیکن بھارت سے واپس پاکستان آنا جنت واپس آنے کے مترادف تھا۔ سامنے کھڑے پاک فوج اور رینجرز کے جوانوں کو دیکھ کر تخفظ کا احساس ہوا۔

*****

بھارت کے پاس پاکستانی صحافیوں کے لئے صرف ون سٹار ہوٹل میسر تھا، باقی ان کے بقول سب بک ہو چکے ہیں۔ ہوٹل میں نہ ریسپشنسٹ کا کوئی یونیفارم تھا نہ ویٹر کا۔ مجھے تو لگا کہ یہ ’ہم پہ تعینات فرشتوں‘ کا ’اپنا‘ ہوٹل تھا اس لئے وہاں جگہ دی گئی تا کہ ہم نظر کے سامنے رہیں۔

*****

دو دن جو بھارت میں غیر محفوظ ہونے کا احساس تھا ایک دم سے ختم ہو گیا۔ اپنا وطن ، اپنی مٹی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ تب اس قربانی کا اندازہ ہوا جو انیس سو سینتالیس میں ہمارے آباء واجداد نے دی تھی۔ اس قربانی کا مطلب اب سمجھ میں آیا ہے۔

*****

سامنے موبائل کی دکان تھی جہاں سے ہم نے دنیا سے رابطے بحال کرنے کا وسیلہ ڈھونڈنا تھا۔ لیکن وہاں پر ہمیں چار گھنٹے خوار کرنے کے بعد اور اچھی خاصی رقم موبائل سم پیکیجز کی مد میں بٹور کر بھی ہمارے فون پر کال کرنے کی سہولت میسر نہیں تھی اور نہ ہی کوئی انٹرنیٹ پیکج دیا گیا۔

*****

 
10
January

تحریر: ڈاکٹر ماریہ سلطان

نیوکلیئر سپلائیرز گروپ اگرچہ ایک غیر روایتی نظام ہے تاہم ٹیکنالوجی کو کنٹرول میں رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔روایتی طور پر اس سے نہ صرف حساس ٹیکنالوجی کی تجارت کو منضبط کیا جاتا رہا ہے بلکہ اسی نظام کے ذریعے تمام ہائی ٹیک مواد کی بین الاقوامی تجارت بھی ضابطہ کار میں لائی جاتی رہی ہے۔ دو الگ الگ فہرستوں میں تقسیم اس نظام کا ایک حصہ نیوکلیائی ٹیکنالوجی اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی صراحت کرتا ہے جب کہ دوسرے حصے میں بنیادی خام مال اور اہم مادوں ،جیسے بسمتھ، ایلومینیم وغیرہ، کی تجارت کا کنٹرول شامل ہے۔ مذکورہ دھاتیں اور دیگر نیوکلیائی مواد اور ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی ہائی ٹیک صنعت کی بقا کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس لئے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی اہمیت اور اندیشے ان دونوں درجوں میں آزادانہ تجارت سے جڑے ہوئے ہیں۔


تاہم گزشتہ چند سالوں سے اس ادارے کی غیر جانب داری اور موثر رہنے کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ ان شکوک کی بنیادی وجہ ہندوستان کو اس گروپ کا ممبر بنانے کے لئے کی جانے والی امریکہ کی جانب سے کوششوں کا بہت عمل دخل ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں امریکہ نے انتہائی جانبداری اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ نہ صرف نیوکلیئر کے میدان میں باہمی تعاون کے معاہدے کئے اور اس کو نیوکلیئرسپلائیر گروپ کی ممبر شب دلانے کے لئے پہلے سے طے شدہ قوانین کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی بلکہ اس باہمی تعاون کے منفی اثرات پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر بھی پڑنے شروع ہو گئے۔اب نہ صرف پاکستان کو نیوکلیئرسپلائیر گروپ کا ممبر بنانے کی، میڈیا بشمول سوشل میڈیا کے ایک مذموم مہم شروع کر دی گئی ہے بلکہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام، جس کی سکیورٹی ایک مسلمہ امر ہے، اس پر بھی حملے کئے جا رہے ہیں۔


ایک طرف تو بھارت کو نیوکلیئر سیفٹی کے ضمن میں بدترین ریکارڈ اور جوہری عدمِ پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود نیوکلیئرسپلائیر گروپ کی رکنیت دی جارہی ہے جب کہ دوسری طرف پاکستان کے صنعتی اداروں کو غیرروایتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپاہج کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا اور غیر روایتی پروپیگنڈے کا مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ صرف شرمناک بلکہ معتبر عالمی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان کا باعث بھی بنے گا۔ پاکستان کے لئے یہ قطعی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر منصفانہ طرزِ عمل ہے۔ اس سے جہاں ہماری مختصر اور طویل مدتی صنعتی ضروریات اور توانائی کے حصول کی کوششوں کو زِک پہنچے گی اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دفاع کے لئے انتہائی اہم نیوکلیئر صلاحیت کو مذموم پروپیگنڈے کے ذریعے داغ دار کرنے کی کوشش اور نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی اتفاقِ رائے کی روایت ، اس کی دوہری ٹیکنالوجی کی تجارت کو متاثر کرنے کی اہلیت اور بھارت امریکہ کا گٹھ جوڑ، پاکستان کی ترقی کی کوششوں پر بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔دونوں ملکوں کی جانب سے نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے یہ خدشات نہ صرف ترقی کے لئے ہمارے مشرق کے ساتھ اشتراک کو متاثر کریں گے بلکہ ہمارے ملک کی مستقبل میں تجارت نیز پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر بھی بُرے اثرات ڈالیں گے۔


جنیوا میں این ایس جی کے حوالے سے گفت و شنید اور بھارتی وزیرِاعظم کی این ایس جی میں شمولیت کی شاطرانہ کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب یہ انکشاف ہوا کہ نو بھارتی ادارے نیوکلیئرٹیکنالوجی کے حوالے سے خلاف ورزیوں کی وجہ سے حالیہ عرصے میں امریکہ کی درآمدی کنٹرول کی فہرست کا حصہ تھے۔ اس تمام کے باوجود موجودہ اوبامہ انتظامیہ اپنے آخری ایام میں بھارت کی نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت کے حصول میں مدد کر رہی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کے خلاف کسی معتبر شہادت کے بغیر ہی سوشل میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پرپاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اہم اقدامات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔


نیوکلیئرسپلائیر گروپ میں شمولیت ہو یا دیگر نیوکلیئر سے متعلق معاملات پاکستانی قوم کے خدشات بے بنیاد نہیں بلکہ اس کی ایک تازہ مثال اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے سات پاکستانی گروپس اور اداروں پر پابندی کا اعلان ہے۔ یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف کامرس نے ان سات
Entities
کو ایک نوٹیفکیشن کے تحت
Export Administration Regulations (EAR)
کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ تاہم یہ امر باعث تشویش اورمجرمانہ تعصب کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس پابندی کا باعث بننے والی کسی بھی وجوہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اپنے آخری مہینوں میں برتے گئے اس تعصب سے مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لئے پاکستانی اداروں کی فہرست میں شمولیت کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔


غیرمصدقہ اور مشکوک ذرائع جیسا کہ سوشل میڈیا، تجارتی ویب سائٹوں، انٹیلی جنس رپورٹوں اور وکی لیکس کی بنیاد پر تیار کردہ الفا پروجیکٹ پر شکوک کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس مشکوک رپورٹ کی بنیاد پاکستان کے پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات اور خدشات پیدا کئے جار ہے ہیں۔ ایسی رپورٹوں سے نہ صرف پاکستان کی نیوکلیئرسپلائر گروپ میں شمولیت کا کیس پیچیدہ ہوجائے گابلکہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ باہمی تعاون کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایسے ذرائع پر بھروسہ کرکے تشکیل دی گئی رپورٹ میں کالعدم اداروں کی فہرست میں شمولیت یا پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کے بارے میں تشویش پیدا کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہئے۔ پاکستانی کمپنیوں کی امریکہ کے کالعدم اداروں کی فہرست میں شمولیت ، جیسا کہ الفا رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا، پاکستان کی دفاعی ، نیوکلیائی اور عمومی صنعتوں کو بری طرح متاثر کرے گی۔


مذکورہ پروجیکٹ کا بظاہر مذموم مقصد مخصوص عناصر کے ایما پر پروپیگنڈا کو بنیاد بنا کر پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی صنعتوں کو نشانہ بنانا ہے۔ مزید برآں یہ رپورٹ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مستقبل کی امریکی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدہ تر بنانے کی کوشش بھی ہے۔
پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند ہے اور پاکستان نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کے معیارِ اہلیت پر پورا اترتا ہے۔ بے بنیاد،کمزور اور مشکوک معلومات کو بنیاد بنا کر امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے شکار اداروں کی فہرست میں توسیع پاکستان کی تجارت اور ترقی پر منفی اثرات ڈالے گی۔ اس طریقے سے بغیر کسی اصول اور معیار کے بین الاقوامی برآمدی کنٹرولز کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا باعثِ تشویش ہے۔ اسی طرح اگر بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کا قانوناً پابند نہیں کیا جاتا تو اس سے سب سے زیادہ نقصان نان این پی ٹی ممالک کو ہی ہو گا۔


پروجیکٹ الفا کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو این ایس جی کی ممبرشپ نہ دی جائے اور یہ بے بنیاد تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پروجیکٹ الفا نہ صرف ٹھوس مواد سے محروم ہے بلکہ اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور بظاہر اس پروجیکٹ کے ذریعے امریکہ۔ بھارت دفاعی صنعتوں کے مابین تعاون میں اضافے کے لئے راہ ہموار کرنا اور بھارت کو نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی کوشش ہے۔غیر روایتی نیٹ ورکس اور میڈیا میں چلائی جار ہی اس مسلسل مہم کا مقصد پاکستان کے دفاع،نیوکلیئر اور ہائی ٹیک صنعت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے جو کہ اصل حقائق سے قطعی مختلف ہے۔


بدقسمتی سے بھارت اور امریکہ کا باہمی تعاون بھارت کے لئے این ایس جی کی رکنیت کی درخواست تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کاپس پردہ محرک دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تجارت اور ٹیکنالوجی میں تعاون بھی ہے۔ اس تعاون کی چار جہتیں ہیں یعنی یو اے ویز
(Unmanned Aerial Vehicles)
کی بھارت میں پیداوار،بحرِ ہند میں بھارتی بالادستی کے لئے اقدامات،ایف سولہ کی فراہمی کا دفاعی معاہدہ اور جیٹ پروپلژن سسٹم جس سے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ کے لئے دفاعی معاہدہ تشکیل پا جائے گا۔


اسی طرح بھارت اور اسرائیل کا بری ،فضائی اور بحری فوجی تعاون بشمول انٹیلی جنس کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ موساد اور را کے مابین تعاون صرف انٹیلی جنس کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل بھارتی فوجیوں کو سرجیکل سٹرائیکس کا اہل بنانے کے لئے تربیت بھی دے رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے دفاعی اور سکیورٹی مفادات مشترکہ ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ملک وسیع پیمانے پر تعاون کررہے ہیں۔ جن میں بھارتی فضائیہ کے لئے جدید لڑاکا سسٹمز کی فراہمی،طویل فاصلے تک نشاندہی کرنے والے ٹریکنگ راڈار، زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل،بحریہ کو جدید جنگی کشتیوں کی فراہمی اور بہتری میں تعاون، اینٹی سب میرین ہیلی کاپٹروں کے لئے تعاون،جاسوس سٹیلائٹ اور اینٹی بالسٹک میزائل ٹیکنالوجی میں تعاون شامل ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور ہائی ٹیک صنعتوں میں تعاون تقریباً نو ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دونوں ملک کشمیر میں مشترکہ طور پرپُر امن جدوجہدِ آزادی کو دبانے کے لئے کوشاں ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کو نیوکلیئر دھمکیاں انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پروپیگنڈا مہم اور سوشل میڈیا کواستعمال کرنے میں ماہر اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو چاہئے تھا کہ اسلام آباد کی طرف سے ردِ عمل آنے سے قبل ہی پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیتی۔ تاہم جس
Website
نے اسرائیلی دھمکی والی خبر دی تھی اس کی تردید کرنے میں اسرائیل نے 96گھنٹے کی تاخیر کی۔ یہ تاخیر معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے بلاوجہ نہیں تھی بلکہ حالیہ دھمکی سوشل میڈیا کو بطورِ ذریعہ استعمال کرنے اور اسے علمی مباحثے کا حصہ بنا کر حقیقی صورتِ حال کا تاثر دینے کی بہترین مثال ہے۔


پاکستان کے دفاع، ہائی ٹیک صنعتوں اور نیوکلیئرپروگرام کے خلاف ایسے غیرمحفوظ ذرائع سے قائم کیا گیا تاثر قطعی ناقابلِ قبول ہے۔ سیاسی بنیادوں پر پابندیوں کو وسعت دینا اور بھارت امریکہ اور بھارت اسرائیل دفاعی تعاون پاکستان کے لئے مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ کا یہ تعاون اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کسی بھی ملک کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بنانے کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ مزید برآں امریکہ کی جانب سے بھارت کو ہائی ٹیک تجارت اور حساس ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون فراہم کیا جارہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کو نان ٹیرف اور ٹیرف رکاوٹوں کے ذریعے ننانوے اعشاریہ آٹھ فیصد رسائی سے محروم کیا جا رہاہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کے اصرار پر ان نو بھارتی اداروں کو پابندی کے شکار اداروں کی فہرست سے نکال دیا ہے جونیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ جس سے بھارت پر عائد تجارتی پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں۔ یہ تمام ادارے بھارت کے میزائل اور خلائی پروگرام پر دن رات عمل پیرا ہیں۔
بھارت کی این ایس جی میں شمولیت کے لئے امریکہ اس لئے بھی بھرپور کوششیں کر رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کی صنعت مشترک ہوگی جس سے بھارت کے بغیر ایس سی او ممالک کے مابین دفاعی تعاون کم موثر ہوجائے گا۔لگتا یہی ہے کہ ایشیاکی سطح پر بھارت کے ساتھ امریکہ اور دیگر چائنا مخالف ممالک کا ایک علاقائی بلاک بننے جا رہاہے۔ موجودہ امریکہ انتظامیہ کا بھارت کی طرف بے پناہ جھکاؤ امریکہ کے اپنے مفادات کو بھی ساؤتھ ایشیا میں زک پہنچائے گا کیونکہ اس خطے میں امریکہ تیزی سے صرف ایک ملک کے ساتھ تعاون کی جانب بڑھ رہا ہے۔


ماضی میں بھارت کو این ایس جی میں دی گئی رعایت عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے لئے اچھی ثابت ہوئی، نہ ہی اس سے جنوبی ایشیا میں استحکام آسکا۔ ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤکو یقینی بنانے کے لئے علاقائی استحکام اہم ترین عنصر ہے۔ نان این پی ٹی ممالک کو رکنیت دینے کے حوالے سے اس کلب کے تمام (اڑتالیس) ممالک کو غیر امتیازی طریقہ کار اپنانا چاہئے۔ نہ کہ صرف ایک ملک کو استثنا دینے کی کوشش۔ پاکستان دیگر نان این پی ٹی ممالک کے ساتھ بیک وقت این ایس جی میں شمولیت کا خواہش مند ہے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ رکنیت کے لئے نان این پی ٹی ممالک کی جانب سے دی گئی دونوں درخواستوں کا منصفانہ اور بیک وقت جائزہ لیا جائے۔ ایسا منصفانہ اور بے تعصبانہ طریقہ اختیار کرنے سے نیوکلیائی پھیلاؤ کو روکنے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔ پاکستان تقریباً ایک عشرے سے این ایس جی کے ساتھ کام کر رہاہے اور اب باقاعدہ طور پر گروپ میں شمولیت کے لئے تیار ہے۔


اس تمام صورت حال میں جس کو نیوکلیئر سکیورٹی اور تجارت کے نام پر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ایک اور پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ وہ پہلو پاکستان کی صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبے کو صرف تجارتی راہداری کے معنوں میں نہیں لیا جانا چاہئے بلکہ پاکستان، آنے والی دہائیوں میں، اس کو ایک مکمل معاشی و صنعتی منصوبہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان میں صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کا حصول بہت اہم ہو گا اور کسی طرح کی قدغن ہمارے بہتر مستقبل میں ایک رکاوٹ تصور کی جائے گی۔

مضمون نگار ساؤتھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ اور

SASSI

یونیورسٹی کی ڈائریکٹر جنرل اور چیئرپرسن ہیں۔ مصنفہ جنوبی ایشیا کے نیو کلیئر آرمز کنٹرول اور ڈس آرمامنٹ معاملات اور دفاع کی ماہر تجزیہ نگارہیں۔ ان کے تحقیقی مضامین مختلف جرنلز‘ اخبارات اور کتابوں میں شائع ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وجیکٹ الفا کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو این ایس جی کی ممبرشپ نہ دی جائے اور یہ بے بنیاد تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پروجیکٹ الفا نہ صرف ٹھوس مواد سے محروم ہے بلکہ اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور بظاہر اس پروجیکٹ کے ذریعے امریکہ ۔بھارت دفاعی صنعتوں کے مابین تعاون میں اضافے کے لئے راہ ہموار کرنا اور بھارت کو نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی کوشش ہے۔غیر روایتی نیٹ ورکس اور میڈیا میں چلائی جار ہی اس مسلسل مہم کا مقصد پاکستان کے دفاع،نیوکلیئر اور ہائی ٹیک صنعت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے جو کہ اصل حقائق سے قطعی مختلف ہے۔

*****

 
10
January

تحریر: محمد اکرم ذکی

سابق سیکرٹری جنرل و وزیر مملکت وزارت خارجہ۔پاکستان

آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان کے مشیر خارجہ کوہوٹل سے باہر نہ آنے دینا سفارتی آداب کی خلاف ورزی سے کہیں بڑھ کر حبس بے جا میں رکھنے کا مجرمانہ فعل ہے۔ اس فعل سے بھارت نے واضح طور پر اپنے اسی جارحانہ پیغام کو ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے۔ دشمنی پر مبنی جو پیغام وہ تسلسل کے ساتھ پاکستان کو دے رہا ہے اور پاکستان خطے کے وسیع تر مفاد میں امن اور دوستی کی خواہشات کو مقدم رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواب دیکھنے والے مقتدر حلقے کی آنکھیں اب کھل جانی چاہئے اور انہیں اس تلخ حقیقت کا ادراک کرلینا چاہئے کہ پاکستان کی ترقی، استحکام،امن اور سب سے بڑھ کرپاکستان کے وجود کو بھارت کی جانب سے حقیقی و سنگین خطرات درپیش ہیں اور بھارت پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی خاطر کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ پاکستان کے خلاف جارحانہ و دشمنانہ کردار کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت اب علاقائی بالادستی کے خواب سے آگے بڑھ کر دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمولیت کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ نہ صرف اپنی جنگی اور ایٹمی صلاحیت کو مسلسل بڑھا رہا ہے بلکہ خطے کے تمام ممالک کو اپنی تابعداری میں لینے کی کوشش بھی کررہا ہے۔بڑی جنگی طاقتوں میں اپنا شمار کرانے کے لئے بھارت نے جوہری پروگرام کو وسیع کرکے امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا سے جوہری معاہدے کئے ہیں۔نئے نیوکلیئر ڈاکٹر ائن کے تحت اپنی تینوں افواج کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کیا ہے ۔ کسی بھی بحری فوج کے پاس ایٹمی قوت کی موجودگی اس حوالے سے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے ،کیونکہ اسے مارک کرکے نشانہ بنانا مشکل ہوتا ہے۔ سلامتی کونسل میں مستقل نشست،خطے پہ بالادستی و اجارہ داری اوربڑی طاقتوں میں شماربھارت کی ایسی خواہشات ہیں کہ جن کی تکمیل کی راہ میں وہ پاکستان کو رکاوٹ سمجھتا ہے۔ اس رکاوٹ کو ہٹانے یا ختم کرنے کے لئے بھارت پاکستان کے خلاف ایک باقاعدہ پروگرام پہ کاربند ہے۔

 

hartofasia.jpgاس پروگرام میں پاکستان کو داخلی و خارجی سطح پر عدم استحکام کا شکار کرنا، پاکستان کو تنہا کرنا، تعمیر و ترقی کے دروازے بند کرنا، خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ اور بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرانے کے لئے الزامات کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھنا شامل ہے۔ پاکستان کے خلاف اس بھارتی پروگرام کو اگر امریکی حمایت حاصل ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے اپنا مرکزی حریف چین کو قرار دیا اور اپنی پالیسی ترتیب دی جس میں بھارت کو چین کے مدمقابل لانا شامل تھا۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ نے بھارت کے ساتھ بڑے دفاعی و جوہری معاہدے کئے ۔ 2001ء میں صدر بش نے بھارت کے ساتھ میزائل ڈیفنس سسٹم معاہدہ کیا۔ 2005میں نیوکلیئر ڈیل اور اس کے علاوہ بے تحاشہ اسلحہ دینے کے معاہدے کئے۔ اب امریکہ اور بھارت نے ایک دوسرے کے بیسز استعمال کرنے اور لاجسٹک امداد کے معاہدے کئے ہیں۔ بھارت چین کے خلاف امریکہ سے تعاون پر مبنی پالیسی کی قیمت پاکستان مخالف پالیسی میں امریکی حمایت و مدد کی صورت میں مانگتا ہے۔ چنانچہ پاکستان کے خلاف بھارتی جارحانہ و دشمنانہ رویے پہ عالمی خاموشی باعث حیرت نہیں ہونی چاہئے۔


پاکستان کے خلاف بھارت کے عزائم حالیہ دور حکومت یا موجودہ عشرے میں جارحانہ نہیں ہوئے بلکہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت پاکستان کی سلامتی کے خلاف سرگرم تھا۔ پاکستان پر جنگیں مسلط کیں۔ پہلے کشمیر پہ قبضہ کیا، پھر مشرقی پاکستان کو الگ کرنے میں اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا ۔ پاکستان کے پانیوں پر قبضے کی پالیسی اختیار کی۔ کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔ آزادئ کشمیر کے لئے جو تحریک اٹھی تو اسے دہشت گرد قرار دیا۔ نریندر مودی حکومت کے آنے کے بعد بھارتی کردار جارحانہ نہیں بلکہ بے نقاب ہوا۔ نریندر مودی نے بھارتی پالیسی کو واضح اور عیاں کیا۔ یہاں تک کہ پاکستان کو دولخت کرنے کا اقبال جرم بھی سینہ تان کر سابق مشرقی پاکستان میں کیا۔ پاکستان کو تقسیم در تقسیم کرنے کی دیرینہ بھارتی خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مودی نے بلوچستان اور گلگت بلتستان کی آزادی کی بھی باتیں شروع کردیں۔ دہشت گردی کے نام سے پاکستان کے خلاف واویلا کرکے پہلے دباؤمیں رکھنے کی کوشش کی۔ جب پاک افواج نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو بھارت نے ایک جانب مشرقی سرحد پر بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے شروع کردیا تو دوسری جانب لائن آف کنٹرول پر بھی جارحیت شروع کردی۔ اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ افغانستان کے ذریعے مغربی سرحد پر بھی پاک فوج کو مصروف کرنے کی کوشش کی۔ یہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ صلاحیتوں کا ہی مظہر ہے کہ بھارت کی جانب سے بیک وقت کھولے گئے کئی محاذوں پر افواج پاکستان نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا۔ اجیت دوول ڈاکٹرائن کہ ’’پاکستان میں گھس کر اسے تباہ کرو‘‘ کو عملی طور پر پاک فوج نے اپنی مؤثر حکمتِ عملی سے توڑا ہے۔


مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف دوسرا بڑا محاذ سفارتی سطح پر کھولا ، جس کا مقصد عالمی برادری میں پاکستان کو تنہا کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے پاکستان کے تمام دوست جن میں چین، سعودی عرب، ایران، عرب امارات، افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستیں وغیرہ شامل ہیں، ان تمام ممالک سے بھارت نے نہ صرف تجارت اور تعلقات کو فروغ دیا ہے بلکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف چین میں جاکرا حتجاج کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کو توانائی کے بحران میں مبتلا رکھنے کے لئے پہلے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں سے نکل کراسے ناکام بنانے کی کوشش کی اور پھر ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیاگیس منصوبے میں شامل ہوکر افغانستان سے پاکستان کے اندر دراندازی میں اضافہ کردیا۔ پاک افغان کشیدگی بڑھانے کے جہاں دیگر مقاصد ہیں وہاں ایک بڑا بھارتی مقصد یہ بھی ہے کہ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑے۔ اگر کامیاب بھی ہو تو بھی پاکستان کی توانائی سپلائی لائن افغانستان میں بھارتی پیر کے نیچے رہے۔ اسی طرح بھارت نے سعودی عرب اور عرب امارات کے ساتھ کئی معاہدے کئے۔ بھارت نے بہار میں سرمایہ کاری اور ایران، افغانستان، بھارت کوریڈور بناکر وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا وہ منصوبہ شروع کیا،جس میں پاکستان شامل نہیں ، حالانکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کا سہل اور محفوظ راستہ پاکستان افغانستان سے گزرتا ہے۔ جس طرح پاک افغان تعلقات میں خرابی کے لئے بھارت افغانستان میں سرگرم ہے، اسی طرح پاک ایران تعلقات میں خرابی پیدا کرنے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی پاکستان کے دورے پر پاک چین اقتصادی کوریڈور میں شامل ہونے کی خواہش لے کر آئے تھے۔ عین اسی وقت کلبھوشن کا معاملہ سامنے آیا اور ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ بھارت نے نہ صرف کلبھوشن کو اپنا جاسوس تسلیم کیا بلکہ فوری طور پر اس کی فیملی کے افراد بھی میڈیا پر لے آیا۔میڈیا کے ذریعے تاثر یہ دینا مقصود تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف ایران اور بھارت ایک ہیں، حالانکہ بلوچستان کے معاملے پر پاکستان اور ایران ایک جبکہ بھارت اور اسرائیل مخالف صفحہ پر موجود ہیں، جبکہ گوادر اورسی پیک کا بنیادی تعلق بلوچستان سے ہے۔ جس طرح پاکستانی بلوچستان میں بھارت مداخلت کررہا ہے اور یہاں بغاوت کا بیج بونے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ، اسی طرح ایرانی بلوچستان کے خلاف اسرائیل سرگرم ہے اور اس مقصد کے لئے بھارتی زمین استعمال کررہا ہے۔حال ہی میں اسرائیلی صدر نے بھارت کا طویل ترین دورہ بھی کیا ہے۔چنانچہ سی پیک میں شامل ہونے کی ایرانی خواہش کا نہ صرف چین نے خیر مقدم کیا بلکہ پاکستان نے بھی اسے خوش آئند قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل سی پیک کی آفیشل ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب میں چین اور ایران کے سفیروں نے خصوصی شرکت کی۔


سی پیک کو ناکام بنانے اور اس کی سکیورٹی مشکوک کرنے کے لئے دہشت گردانہ حملے جاری ہیں۔ چین سے گوادر کے لئے پہلے برآمد ی قافلے کی روانگی سے چار روز قبل پولیس ٹریننگ سکول کوئٹہ میں دہشت گردی کا اندوہناک سانحہ پیش آیا۔ برآمدی قافلے کے گوادر پہنچ جانے کے اگلے روز اور گوادر کی افتتاحی تقریب سے محض ایک روز قبل دربار شاہ نورانی میں خودکش حملہ ہوا۔ دہشت گردی کے دونوں واقعات میں بھارتی عنصر براہ راست ملوث پایا گیا ہے۔ اسی طرح پشاور، فاٹا، کراچی و ملک کے دیگر شہروں میں پیش آنے والے سانحات کا سرا افغانستان میں موجود کالعدم تنظیموں سے جاملتا ہے ۔ جو بھارتی چھتر چھایا میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں پاک فوج کے جوانوں نے اسی عرصے میں آبی حدود کی خلاف ورزی کرنے والی سب میرین کا راستہ روکا اور پاک فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک بھارتی ڈرون کو بھی مار گرایا۔


تیسرا قبیح عمل مقبوضہ وادی میں ریاستی طاقت کے حیوانی استعمال کی صورت میں بھارت سرانجام دے رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں برہان وانی کی المناک شہادت کے بعد کشمیری نوجوانوں کی جو تحریک آزادی کے نعرے کے ساتھ اٹھی اس کو کچلنے کے لئے بھارت ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کرچکا ہے۔ وانی کی شہادت کے بعد بیسیوں نوجوان شہید، سینکڑوں نوجوان، بچے، خواتین پیلٹ گن کا نشانہ بن کر اپنی بینائی کھوچکے ہیں۔ نوجوان بچیاں، مستورات لاپتا ہیں۔ سینکڑوں نوجوان، طالب علم زیر حراست ہیں۔ بجائے اس ظلم پر شرمندگی محسوس کرنے کے بھارت مقبوضہ وادی میں آزادی کی اس تحریک کو بھی پاک بھارت مسئلہ بنا کر پیش کرنے میں مصروف عمل ہے۔


پیش کردہ حالات و واقعات اتنے پرانے نہیں ہیں کہ جو اس سے قبل کسی عالمی یا علاقائی فورم پر پاکستان کی جانب سے پیش نہ کئے گئے ہوں۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارت کی جانب سے سفارتی آداب کی خلاف ورزی سے بڑھ کر مجرمانہ رویہ اپنانے کی وجہ یوں بھی سمجھ میں آتی ہے کہ بھارت’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ کے مصداق اپنے جرائم پر پردہ ڈال کے پاکستان کو ’’مجرم‘‘ثابت کرنے پر کمربستہ ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پاکستانی مشیر خارجہ کو حبس بے جا میں رکھا نہ تو انہیں ترجمان سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی گنے چنے موجود پاکستانی صحافیوں سے۔ حالانکہ ابھی نریندر مودی کو پاکستانی حکمرانوں کی میزبانی سے لطف اندوز ہوئے پورا ایک سال بھی مکمل نہیں ہواتھا۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے ہم خود یہ باور کریں کہ بھارت کی پاکستان دشمنی ایک حقیقت ہے۔ پاکستان کو بھارت کی جانب سے مستقل، طویل المدت اور سنجیدہ خطرے کا سامنا ہے ۔ جس سے نمٹنے کے لئے عسکری ، سیاسی قوتوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی ، میڈیا کو بھی اپنا مستقل اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان کو مربوط، جامع ،مستقل اور طویل المدت پالیسی اپنا نی ہوگی۔ سول ملٹری قیادت کو مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے عسکری قوت کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہوگا۔ سول انتظامیہ و پولیس کے ذریعے اندرونی انتشاریوں سے سخت رویہ اپنا نا ہوگا۔ بھارتی میڈیا ایک بمبئی سانحہ کو لے کر دنیا میں پاکستان دشمنی کا ڈھول پیٹ رہا ہے جبکہ ہمارا آزاد میڈیا سمجھوتہ ایکسپریس، مالگاؤں کویاد کرنا تو درکنار اے پی ایس، سانحہ چارسدہ یونیورسٹی، کوئٹہ کچہری حملہ، پولیس لائن حملے ودیگر بیسیوں ایسے سانحات کو فراموش کرچکا ہے جن میں بھارت براہِ راست ملوث تھا۔ ہمارے میڈیا کو بھی سلامتی کے امور میں قدم بہ قدم ملک و قوم کی ترجمانی کرنی ہوگی۔ بیرونی ممالک میں موجود ہمارے سفارتخانوں کو بھی موثرانداز میں اپنا نقطہ نظر دنیا پر واضح کرنا ہوگا، اور دنیاکو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی سرپرستی بھارت کررہا ہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیش بہا قربانی دے رہا ہے۔ عمومی طور پر بھارت کے حوالے سے ہماری پالیسی ردعمل یاسستی کا شکار رہتی ہے مگر اب اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ردعمل سے نکل کر سفارتی و سیاسی محاذپر پیش قدمی کریں۔ بھارتی رعونت اور جارحیت کے خلاف ایک جامع، مربوط اور طویل المدت پالیسی ترتیب دیں جس پر صبر و تحمل سے عمل پیرا ہوکر بھارتی عزائم کو ناکام بنایا جائے۔
(آمین)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے ہم خود یہ باور کریں کہ بھارت کی پاکستان دشمنی ایک حقیقت ہے۔ پاکستان کو بھارت کی جانب سے مستقل، طویل المدت اور سنجیدہ خطرے کا سامنا ہے ۔ جس سے نمٹنے کے لئے عسکری ، سیاسی قوتوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی ، میڈیا کو بھی اپنا مستقل اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

*****

 
10
January

تحریر: عقیل یوسف زئی

سال 2017جہاں پاکستان میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے فیصلہ کن برس ثابت ہو سکتا ہے وہاں ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں نئے اتحاد وں اور صف بندی کے پس منظر میں بھی یہ سال بہت اہمیت کا حامل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 2017کے دوران پاکستان کی سکیورٹی فورس کی جاری کارروائیوں کے نتیجے میں ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں بہت بڑی پیش رفت ہو گی کیونکہ ایسا کرنا نہ صرف پاکستان میں امن کے قیام کے لئے بہت لازمی ہے بلکہ ملک کے اندر جس قسم کے عالمی نوعیت کے منصوبے زیرتکمیل ہیں ان کی کامیابی کے لئے بھی مستقل امن ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگرچہ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ برسوں سے پنپنے والی دہشت گردی یا انتہاپسندی کے مکمل خاتمے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں تاہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جس سنجیدگی اور تیزی کے ساتھ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں، قومی سطح پر موجود ہم آہنگی اور اتفاق رائے کا ماحول قائم رہا تو اس ناسور کے خاتمے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یہ درست ہے کہ بعض عالمی اور علاقائی قوتیں اب بھی اس خطے میں اپنے اپنے مفادات کی جنگیں لڑنے میں مصروف ہیں تاہم یہ بھی غلط نہیں ہے کہ پاکستان کے اندر انتہاپسندوں کے نہ صرف بڑے مراکز تباہ کئے جا چکے ہیں۔ بلکہ عوام پر بھی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان میں اس طرز فکر کے حامل لوگوں کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چند برس قبل تک ایسے عناصر کے لئے بہت سے حلقوں میں ہمدردیاں پائی جاتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہو رہا اور اجتماعی سوچ اور رویوں میں کئی بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اکثر ماہرین پاکستان میں امن کے قیام کے حوالے سے کافی پرامید اور مطمئن ہیں اور ان کا خیال ہے کہ کہ اگر ادارہ جاتی سطح پر قومی اتفاق رائے کے جذبے کے تحت نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرایا گیا تو ملک میں بہت مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی بہتر ہو جائے گا۔ نئی فوجی قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جس عزم کا اظہار کرتے ہوئے سابقہ لائحہ عمل کے تسلسل میں جس نوعیت کے اقدامات کئے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں رکھی جائے گی۔ 12دسمبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پورا دن کور ہیڈکوارٹرز پشاور میں گزاراجہاں انہوں نے اب تک کی ان کارروائیوں اور اقدامات کی تفصیلات معلوم کیں جو کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فاٹا اور صوبہ خیبرپختونخوا میں کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے پشاور میں قیام کے دوران افغانستان کے ساتھ سرحدی معاملات، افغان مہاجرین کی واپسی اور بارڈرمینجمنٹ کے ایشوز پر بھی کور کمانڈر پشاور اور دیگر اعلیٰ حکام سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ان کو ہدایت کی کہ جو لائحہ عمل دو برس قبل اختیار کیا گیا تھا اس کو آگے بڑھاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فاٹا اور پختونخوا سے دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ ہو اور ان قوتوں کا بھی راستہ روکا جائے جو کہ افغان سرزمین کو بوجوہ پاکستان کے خلاف استعمال کرتی آ رہی ہیں۔ انہوں نے جاری اقدامات اور کارروائیوں کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کے علاوہ فاٹا کے متاثرین کی جلد واپسی اور بحالی سے متعلق اقدامات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بحالی کے کاموں میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی جائے۔ یہ احکامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عسکری قیادت اب فاٹا کو ہر قیمت پر کلیئر کرا کر وہاں امن کے قیام کے علاوہ نئے دور کے آغاز کے عزم میں سنجیدہ ہے اور غالباً اسی عزم کا نتیجہ ہے کہ وفاقی حکومت دیگر اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر فاٹا میں وسیع تر بنیادی اصلاحات لانے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ فاٹا کومین سٹریم پالٹیکس کا حصہ بنانے کے بعد افغانستان کی سرحد سے متصل اس نازک جغرافیائی خطے کا پورا ڈھانچہ تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔ اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض قوتیں اس تبدیلی یا کوشش کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ جو قوتیں فاٹا میں مجوزہ اصلاحات کی مخالفت کر رہی ہیں ان میں اندرونی حلقوں کے علاوہ بعض بیرونی ہاتھ بھی کارفرما ہیں کیونکہ فاٹا بعض غیر ملکی قوتوں کے مفادات کے تناظر میں اب بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ قوتیں چاہتی ہیں کہ یہاں بدامنی کے علاوہ سٹیٹس کو پرمبنی قوانین اور رویے موجود رہیں۔

متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہیں اور افغانستان ان طاقتوں کے لئے ایک سازگار میدان بنا ہوا ہے۔ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملات درست نہیں ہوتے اور بعض طاقتیں افغان قیادت کو پاکستان کے خلاف اکسانے میں مصروف عمل رہیں تو پاکستان میں امن کی کوششوں کو کس نوعیت کے چیلنجز درپیش ہوں گے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ضمن میں بھی 2017 بہت اہم سال ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور بعض دیگر اہم ممالک ایک نئے بلاک یا نئی علاقائی صف بندی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں افغان حکومت کے تعاون سے گریز کے نقصانات خود افغانستان بھی اٹھاتا آیا ہے۔ پاکستان سے گئے انتہا پسند نہ صرف پاکستان میں کارروائیاں کر کے آتے ہیں بلکہ وہ افغانستان کے اندر کارروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں اور وہ دوسرے ممالک کے لئے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ افغان قیادت کو اس مسئلے کے حل کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان کے امن کے اور تین اہم پہلوؤں یا عوامل میں ایک یہ ہے کہ یہاں پر اندرونی کارروائیوں کے ذریعے نان اسٹیٹ ایکٹرز کا خاتمہ ، دوسرا سرحدوں کو محفوظ بنانا اور پڑوسیوں سمیت بعض عالمی قوتوں کے عمل دخل اور حقیقی کردار کا راستہ روکنا جبکہ تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات کو کیسے ہینڈل کیا جائے تاکہ جو قوتیں اس پڑوسی ملک کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں ان کے عزائم کو ناکام بنایاجائے۔ پہلے کام یا پہلو کو اگر سامنے رکھا جائے تو اس کو کافی حد تک اس کے باوجود اطمینان بخش کہا جا سکتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے دائرے کو دیگر علاقوں یا صوبوں تک پھیلانے کی اشد ضرورت ہے۔ جہاں تک سرحدوں کو محفوظ بنانے کا تعلق ہے اس پر بھی ممکنہ طور پر کام جاری ہے۔ سب سے اہم مسئلہ تیسرے فیکٹر کے بارے میں درپیش ہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات کو کیسے درست کیا جائے کیونکہ متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہیں اور افغانستان ان طاقتوں کے لئے ایک سازگار میدان بنا ہوا ہے۔ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملات درست نہیں ہوتے اور بعض طاقتیں افغان قیادت کو پاکستان کے خلاف اکسانے میں مصروف عمل رہیں تو پاکستان میں امن کی کوششوں کو کس نوعیت کے چیلنجز درپیش ہوں گے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ضمن میں بھی 2017 بہت اہم سال ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور بعض دیگر اہم ممالک ایک نئے بلاک یا نئی علاقائی صف بندی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور یہ کوشش کئی سالوں سے جاری ہے کہ عالمی قوتوں کے چنگل سے نکل کر علاقائی ترقی، استحکام اور امن کے لئے ایک روڈ میپ تیار کیا جائے۔ اس منصوبے میں چین کا کردار بہت اہم ہے جبکہ روس بھی اب یہی چاہتا ہے کہ وہ خطے میں اپنا ایک مثبت کردار ادا کرے کیونکہ سی پیک سمیت متعدد دیگر منصوبوں کے بعد جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے درمیان عالمی ترقی اور ضروریات کے پس منظر میں جو منصوبے زیرتکمیل ہیں ان سے روس سمیت متعدد دیگر ممالک کو دور نہیں رکھا جا سکتا۔ اگرچہ افغانستان امریکہ اور بھارت کے درمیان یہ انڈرسٹیڈنگ موجود ہے کہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے تاہم پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں اس کو دیوار سے لگانے کی کوشش علاقائی منظر نامے کے مستقبل کے حوالے سے ممکن نہیں ہے۔

 

2017mutawa.jpgچین اور روس کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم اور سنٹرل ایشیا تک تجارت کی رسائی کی اہمیت کو اگر سامنے رکھا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ بھارت جس مقصد کے لئے افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہ رہا ہے وہ وسیع تر جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت اور منظر نامے کے تناظر میں افغانستان کے لئے سومند ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ افغان قیادت اب بھی پاکستان کے بجائے بھارت پر زیادہ اعتماد کر رہی ہے تاہم زمینی حقائق اور علاقائی ضروریات افغانستان کو اس سطح پر لے جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں جہاں وہ مستقل یا کلی طور پر بھارت پر انحصار کر کے پاکستان کے ساتھ دشمنی کا رستہ اختیار کرے۔ قدرتی طور پر افغانستان کا زیادہ تر انحصار اب بھی پاکستان پر ہے اور مستقبل کے خوشحال افغانستان کے لئے بھی لازمی ہے کہ پاک افغان تعلقات بہتر اور دوستانہ ہوں۔ سنٹرل ایشیا دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور افغانستان بھی چاہ رہا ہے کہ اس اہمیت سے وہ بھی فائدہ اٹھائے تاہم ایسا بوجوہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر نہ ہوں۔ پاکستان کے لئے بھی سنٹرل ایشیا کے تناظر میں ایک پُرامن دوست اور مستحکم افغانستان ناگزیر ہے۔ تاہم یہی وہ فیکٹر ہے جس پر بھارت اور بعض دیگر قوتوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور وہ کوشش کر رہی ہیں کہ خطے میں عدم استحکام موجود رہے تاکہ ایک نئے دور کی جانب کی جانے والی پیش رفت اور اس سے متعلقہ منصوبوں کا راستہ روکا جائے۔


حال ہی میں افغان سینٹ نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کو ایران اور امریکہ کی معاونت اور سرپرستی حاصل ہے۔ جبکہ اس سے قبل قندوز میں افغان فورسز کی ایک کارروائی کے دوران گرفتار کئے گئے بعض طالبان کمانڈرز سے ایسی دستاویزات برآمد کی گئیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ افغان طالبان کو بھارت اور بعض دیگر ممالک کے علاوہ بعض اسلامی ممالک بھی سپورٹ کرتے آ رہے ہیں۔ ایسے میں اب یہ کہنا زیادہ اہم نہیں رہا کہ افغانستان کے حالات کی ذمہ داری صرف پاکستان پر ڈالنے کے روائتی طریقے یا رویے کو آگے بڑھا کر دوسروں کے علاوہ اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ بات اب سب کو معلوم ہو چکی ہے کہ افغانستان میں مصروف عمل متعدد ’’ہاتھ‘‘ نہ صرف طالبان وغیرہ کی معاونت کر رہے ہیں بلکہ وہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خراب کرنے میں بھی مصروف عمل ہیں تاکہ بد اعتمادی کو فروغ دے کر مجوزہ روڈ میپ کو ناکامی سے دو چار کیا جائے۔ موجودہ افغان قیادت اقتصادی ترقی کا ایجنڈہ لے کر برسراقتدار آئی تھی۔ اس کے صدر سمیت متعدد اہم لوگ ماہرین اقتصادیات کے طورپر اہم عالمی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی اقتصادی استحکام پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ یہ کام تب تک ایک مستقل پلان کی شکل اختیار نہیں کر سکتا جب تک پاکستان اور افغانستان کے تجارتی معاملات اور روٹس کے استعمال کی پالیسی ہموار نہ ہو۔ افغانستان بھارت پرعارضی فائدے کے لئے تو انحصار کر سکتا ہے اور دونوں ممالک بعض دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے اتحادی بھی بن سکتے ہیں مگر خطے کے مستقل اور پائیدار امن کے لئے پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے مرکزی اور کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کے اندر ان تمام گروپوں کا خاتمہ لازمی ہے جو کہ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں کارروائیاں کر رہے ہیں یا کرتے تھے۔ تاہم یہ بھی لازمی ہے کہ افغانستان کی سرزمین بھی ان قوتوں یا گروپوں کو پناہ گاہیں فراہم نہ کرے جو کہ پاکستان میں لاتعداد کارروائیاں کرتے آئے ہیں اور ان کی اعلیٰ قیادت افغانستان میں چھپی ہوئی ہے۔ بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں افغان حکومت کے تعاون سے گریز کے نقصانات خود افغانستان بھی اٹھاتا آیا ہے۔ پاکستان سے گئے انتہاپسند نہ صرف پاکستان میں کارروائیاں کر کے آتے ہیں بلکہ وہ افغانستان کے اندر کارروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں اور وہ دوسرے ممالک کے لئے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ افغان قیادت کو اس مسئلے کے حل کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔


3اور 4 دسمبرکو امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران افغان صدر نے جو کلمات ادا کئے اور بھارتی وزیراعظم نے بین الاسطور اس کی جو تائید کی وہ جذباتی رد عمل کی حد تک بھی غلط ہے اور مسئلے کے حل میں بھی اس رویے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ کہنا کہ افغان مسئلے کی کنجی واقعتا پاکستان کے ہاتھ میں ہے زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ افغان صدر کا یہ کہنا بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو پانچ ماہ میں افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا۔ یہ ایک جذباتی رد عمل تو ہو سکتا ہے عملاً یہ درست نہیں ہے۔ اگر مسئلہ اتنا ہی آسان اور سادہ ہوتا تو پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے اپنے علاقوں میں ہزاروں کارروائیاں کیوں کرتا اور یہ سلسلہ، ریکارڈ جانی اور مالی نقصان کے باوجود، اب تک کیوں جاری رہتا۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لئے بہت سے مراحل پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔


بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی ناراضگی اور خدشات کے خاتمے کے لئے اب بھی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ ان کے خیال میں بڑے بھائی اور ذمہ دار ملک کے طورپر پاکستان کے فرائض کئی گنا زیادہ ہیں اور اگر پاکستان نے بھی وہی رویہ اپنایا جو کہ افغانستان نے اختیار کیا ہوا ہے تو اس کا تمام فائدہ بھارت کو ہو گا اور پاکستان کو اس فائدے کا راستہ روکنے کے لئے افغانستان کو اپنے قریب لانا چاہئے۔ غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت پاکستان کے پشتون لیڈروں اور بعض وزرا اورٹیکنوکریٹس پرمشتمل فرنٹیئرز آف افغان نامی گروپ سے کام لینے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ سابق وزیرداخلہ اور رکن قومی اسمبلی آفتاب خان شیرپاؤ کی قیادت میں کئی بار دونوں ممالک کو قریب لانے میں کامیاب رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس گروپ کی کوششوں سے معاملات پھر سے درست ہونا شروع ہو جائیں گے اور بداعتمادی کے خاتمے میں بہت مدد ملے۔


اگر خدشات کی بجائے سال 2017کے لئے اقتصادی منظر نامے کی ضروریات اور بعض اہم دوست ممالک کی کوششوں پر نظر ڈالی جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ متعدد رکاوٹوں کے باوجود 2017نہ صرف پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اہم اور فیصلہ کن سال ثابت ہو گا بلکہ اس سال افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی ایک مثبت اور نئے دور میں داخل ہو جائیں گے۔ کیونکہ بہتر تعلقات اور امن اور استحکام نہ صرف دونوں ممالک بلکہ یقیناًاہم علاقائی قوتوں کی بھی ضرورت ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہم غازی ۔۔۔۔


ہم لعل جواہر مٹی کے
ہم رِم جھم رِم جھم برکھا میں
ہم چاندنی پیارے چندا کی
ہم بامِ فلک کا تارا ہیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر
ہم قربان اپنی دھرتی پہ
اس ملک کے ہم رکھوالے ہیں
ہم اپنے وطن کے غازی ہیں
ہم ہوش و خرد کے پالے ہیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر
یہ دھرتی ماں تو سانجھی ہے
ہم مل کے اس کو شاد کریں
ہاتھوں میں دے کے ہاتھ چلیں
اور آہنی اِک دیوار بنیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر

سمیعہ نعمت

*****

 

Follow Us On Twitter