16
May
مئی 2017
شمارہ:5 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قومیں پرعزم ہوں اور اپنے نظریے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں تو وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما قوم ایک طویل اور کٹھن جنگ میں کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اب الحمدﷲ اس مقام پر ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا عمومی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب وہ فساد بپا کرنے....Read full article
 
تحریر:خورشیدندیم
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر....Read full article
 
 alt=
تحریر: محمد عامر رانا
انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
22فروری سے آپریشن رد الفساد ملک بھر میں جاری ہے۔فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب لگانے کے لئے جس آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے ابتدائی مراحل کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اچانک بڑھ گئے تھے جو اب بہت حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے پیچھے پاک....Read full article
 
تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ امریکہ کے جنگی اخراجات کو کم کرکے اسی سرمائے کو امریکی شہریوں کی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں گے۔امریکہ کے اندر وہ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتے ہیں، اس بارے تو کچھ کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔ تاہم شام اور افغانستان کو ملٹر ی انڈسٹریل کمپلیکس کی خوفناک.....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے.....Read full article
 
تحریر: فاران شاہد
پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی....Read full article
 
تحریر: محمدمنیر
کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ مغربی تعلیم، آزادئ فکر اور میڈیا کی تانوں اور اڑانوں کے باوجود حکومتیں اور معاشرے کے طاقت ور طبقے مذہبی شخصیات کے تیوروں سے کیوں خائف رہتے ہیں اور....Read full article
 
تحریر: شاہد نسیم
ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ہربار ہمیشہ ہر بلند آواز یا ہر نئی کوشش کو’ اپنے‘ اسلام کے لئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں جن کے خیال میں بین المذاہب ہم آہنگی یا مکالمہ ایک ایسی شاطرانہ اختراع یا ایک ایسا نیا دین گھڑنے کی بھونڈی سی کوشش ہے۔ جس کا شریعت میں کوئی بھی تصور موجود نہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کی پُرفریب اصطلاح سے نہ تو کوئی سے دو مذاہب کے درمیان معاہدہ مراد ہے....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
بلاشبہ یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ پچیس برس قبل لاہورمیں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ سرکاری نہیں ہے۔ اس لئے اس کا معیار آج بھی قائم ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر (موجودہ نہیں) جو اس وقت پچیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے تھے کے خلاف خاکروب حضرات نے ہڑتال کر دی۔ یہ خاکروب اپنے حالات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے کام.....Read full article
 
تحریر: حجاب حبیب جالب
مئی، یا مزدوروں کا عالمی دن، ہم کیوں مناتے ہیں؟ صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کی زندگی بہت مشکل تھی اور ان سے ایک دن میں 16,16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدورکے ذمہ ہوتے۔ ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ مزدور کے زخمی ہونے کی صور ت میں اس کا علاج کروایا جاتا، مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدید پرتھا.....Read full article
 
تحریر: کوکب علی
ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔.....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا....Read full article

تحریر: میجر مظفر احمد
لاہور میں خود کش حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے جوان اور متعین سول شمار کنندگان مردم شماری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ سول شمار کنندگان اور فوج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ایک عظیم قربانی ہے۔ مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان قیمتی جانوں کی قربانی سے ہمارے عزائم مزید مضبوط ہوں گے........Read full article
 
تحریر: عبدالستاراعوان
ستمبر1965ء کے معرکہ چھمب جوڑیا ں میں ہمارے جن قومی ہیروز نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اُن دلیر فرزندان وطن میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا بھی ہے غلام مہدی خان شہید کا شمار اُن جانبازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت جرأت ،بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان اس دھرتی پر نچھاور کر دی۔ غلام مہدی خان کا.....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
6ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں پانچویں نغمے ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یک جان تھی۔ ہر ایک محاذ پر افواج پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے.....Read full article
 
تحریر: رابعہ رحمن
عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر....Read full article
 
تحریر: محمدامجد چوہدری
اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم کا جو بھی فرد افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑتا ہے، ’’سروس فار ایور‘‘ہمیشہ کے لئے اس کا عزم بن جاتا ہے۔ وہ یونیفارم میں ہوتو اسی جذبے کے تحت جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے، ملکی یکجہتی کی علامت بن کر قریے قریے میں ڈیوٹی کے لیے لبیک کہتا ہے، قوم کے آرام و چین کے لئے سرحدوں پرپہرہ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال مقرر ہے جس سے ہم ابھی بھی تقریباً دو سال کے فاصلے پر تھے۔ ایک سینئر بزرگوار سے مشورہ کیا تو انہوں نے پہلے تو جلدی شادی کرنے کے نقصانات تفصیل سے بیان کئے اور پھر دیر تک ہمیں ....Read full article
 
تحریر: انوار ایوب را جہ
یہ 1983-84کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی.....Read full article
 
تحریر: فہیم خان
صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ.....Read full article
 
تحریر: میجر حسان جاوید
مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک....Read full article
11
May
دوہری سیٹ والے جے ایف سیون ٹین بی تھنڈر کی پہلی کامیاب اڑان

newsdohriuran1.jpg

گزشتہ دنوں ڈبل سیٹ جے ایف سیون ٹین بی تھنڈ ر نے چینگڈو (چین) میں اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز کی ۔پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان اس تاریخی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
Aviation Industry Corporation of China (AVIC)
. کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ،
Mr. Li Yuhai
اس پروقار تقریب کے میزبان تھے۔ پاک چین مشترکہ کاوش ڈبل سیٹجے ایف سیون ٹین بی تھنڈ ر اپنی آزمائشی پروازکے ابتدائی مرا حل سے گزر رہا ہے۔ جے ایف سیون ٹین بی تھنڈر کی شمولیت خود انحصاری کی طرف ایک سنگِ میل کی حیثیت کی حامل ہے۔ اس طیارے کی شمولیت سے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی بہترین
combat training
ممکن ہو سکے گی۔ جے ایف سیون ٹین تھنڈر طیارے کی پاک فضائیہ میں شمولیت کا آغا ز2007 سے ہو ا جوکہ مسلسل جاری ہے۔ اب تک پاک فضائیہ میں جے ایف سیون ٹین کے پانچ سکواڈرنز خدمات انجام دے رہے ہیں جو کہ ہر طرح کے آپریشن سر انجام دیتے ہیں۔ جے ایف سیون ٹین تھنڈر ایک بہترین جنگی جہاز ہے جس کا موازنہ دنیا کے جدید طیاروں سے کیا جا سکتا ہے۔
کور ہیڈکوارٹرز ملتان میں مردم شماری کے حوالے سے اجلاس

newsdohriuran2.jpg 

گزشتہ دنوں کمانڈرملتان کورلیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار کی زیر صدارت کور ہیڈ کوارٹرز ملتان میں چھٹی قومی خانہ مردم شماری فیز 2کے سلسلے میں آرمی اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا اجلاس ہوا۔ جس میں مردم شماری کے حوالے سے کئے
جانے والے انتظامات کامکمل جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اپنے متعلقہ محکموں کی جانب سے کئے جانے والے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار نے خانہ مردم شماری کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی بہتری کے لئے ضروری ہدایات دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور خوش اسلوبی کے تسلسل پر زور دیا۔ اجلاس میں ملتان، خانیوال، ساہیوال اور اوکاڑہ کے اضلاع میں ہونے والی خانہ مردم شماری کے حوالے سے لائحہ عمل بھی طے کیا گیا۔ کمانڈر ملتان کور نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خانہ مردم شماری میں ملتا ن کور سول انتظامیہ اور محکمہ شماریات کے حکام کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں خدمات سر انجام دے گی۔
11
May

تحریر: کوکب علی

ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔
ماں گویا کتابِ زیست کا وہ دلچسپ باب ہے جس کی محبتوں اور قربانیوں سے گندھی تحریر سے صرفِ نظر ممکن نہیں ۔۔۔گو کہ ماں سے محبت کسی مخصوص دن کی مختاج نہیں مگر پھر بھی زمانے کے بدلتے رواجوں کے ساتھ چلتے ہوئے مئی کے دوسرے اتوار کوجہاں دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن جوش وخروش سے منایا جاتا ہے وہاں یوکرائن میں بھی یہ دن پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس دن کا باقاعدہ آغاز امریکی کانگریس کی جانب سے 8 مئی 1914 کو کیا گیا ۔ پھر سویڈن ، ناروے جرمنی اور لندن میں منایا گیا ۔ یوکرائن میں اس دن کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ۔سن 2000ء سے اس دن کو منانے کا آغاز کیا گیا ۔
اس دن باقاعدہ طور پر پھولوں کی خریداری کی جاتی ہے ۔ وہ جن کی مائیں حیات ہیں انہیں گلابی اور سرخ پھول پیش کئے جاتے ہیں اور جن کی مائیں حیات نہیں وہ سفید پھول ان کی قبروں پر لے جاتے ہیں۔ یوکرائن میں اس روز خوب چہل پہل ہوتی ہے ، ریسٹورنٹس خصوصی طور پر
mother's breakfast' mother's lunch
اور
mother's dinner
کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔ بچے ماؤں کو کارڈز اور خصوصی تحائف دیتے ہیں ۔ ماؤں کو خاص طور پر اس دن کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے کہ کب بچھڑے بچے ان کوآ کر صورت دکھائیں گے یا فون پر ایک مدت بعد اپنی آواز سنوائیں گے ، کیونکہ بہرحال مشرقی اور مغربی قدروں میں فرق ہے ، دوسرے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی خاندانی نظام مضبوط نہیں اور ماں یا باپ بچوں کے کچھ بڑے ہوتے ہی اکیلے زندگی گزارنے پر مجبورہو جاتے ہیں۔ اس دن کے حوالے سے یوکرائنی میوزک میں بھی تنوع موجود ہے ،مدرز ڈے پر تفریحی مقامات بھی پُررونق دکھائی دیتے ہیں۔
یوکرائنی ادب میں بھی ماں کی عظمت کے حوالے سے لفظوں کے رنگ بکھیرے گئے ۔ یوکرائنی شاعر
Sova
نے خاص طور پر اپنی نظم

The Owl
میں اپنی دھرتی یوکرائن کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے
Is there on earth a son more fine'
In all Ukraine? Good people, gaze,
اس نظم میں ماں کی اس محبت کا ذکر ہے جو وہ اپنے خوبصورت بیٹے کی پیدائش پر اُس سے رکھتی ہے ۔ ماں چاہتی ہے کہ وہ اُسے دنیا کی ہر خوشی دے۔ اس کے باپ کی وفات پر وہ زندگی کے اُتار چڑھاؤ کو دیکھنے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی سب خواہشیں پوری کرتی ہے اور ایک دن وہ آرمی میں جا کر ملک کی خدمت کرتا ہے یہ لمحہ ماں کے لئے فخر کا باعث ہے ،، مگر ملک کی حفاظت کرتے کرتے وہ ایک بار لاپتہ ہوجاتاہے ۔ دس برس گزر جاتے ہیں ،، مگر ماں اس کی تلاش جاری رکھتی ہے یہاں تک کہ بوڑھی ہو کرگلیوں بازاروں میں اپنے بیٹے کو آوازیں دیتی ہے۔ گلی کے شریر بچے اس کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ ماں کے حوالے سے اس طویل نظم نے پڑھنے والوں پر پُر سوز اثرات مرتب کئے ہیں ۔
ماں کی لازوال محبتوں کی یہ داستانیں رہتی دنیا تک قائم رہیں گی ۔سر زمین کوئی بھی ہو ماں کااپنی اولاد کے لئے پیاراور اس کے رنگ ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
 
11
May

تحریر: فہیم خان

صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ جیسے جیسے نورینہ بڑی ہوتی گئی اس کی دلچسپی خلاء میں موجود ستاروں اورسیاروں کے بارے میں بڑھتی گئی۔ وہ کائنات میں موجود ستاروں سیاروں کے بارے میں بہت سے جواب طلب رازوں کو جاننا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں ایک انٹرنیشنل ادارے سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا اس ادارے کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس بچی کا تعلق پاکستان کے اس علاقے سے ہے جہاں امن وامان کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ بچی ستاروں پر کمند ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جلدہی نورینہ شاہ نے انٹرنیشنل میڈیا پر اپنی جگہ بنا لی۔ یو این کے سابقہ سیکرٹری بان کی مون نے بھی نورینہ کی تعریف کی۔ اسی طرح برطانیہ کے میگزین ایڈ زون نے نورینہ کا نہ صرف تفصیلی انٹرویو شائع کیابلکہ اس کو ایشیا کی کم عمر ترین سفیر بھی مقرر کیا۔

balchkachamkta.jpg
راقم اس باصلاحیت طالبہ سے ملنے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں واقع نورینہ شاہ کے گھر پہنچا۔ نورینہ شاہ نے اپنے بارے میں بتایا کہ ابھی وہ سیکنڈ ائیر کی طالبہ ہے۔ لیکن وہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنی جدوجہد کو آگے لے جانا چاہتی ہے۔ اس نے کہا کہ پاکستان کے عام لوگ آسٹرونومسٹ کو پامسٹ سمجھتے ہیں۔ جب بھی میں کسی سیمینار میں گئی وہاں لوگ مجھے اپنے ہاتھوں کی لکیریں دکھانا چاہتے تھے لیکن لوگوں کو بڑی مشکل سے سمجھانا پڑتاہے کہ میرا یہ کام نہیں۔ تحقیق کے سلسلے میں مجھے ایک بین الاقوامی ادارے نے ایک دوربین بھی گفٹ کی تاکہ میرے علم میں مزید اضافہ ہوسکے۔ گو کہ یہ میری تحقیق کا اگلا ہدف ستاروں کے ٹوٹنے کے عمل سے پیدا ہونے والے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے ناکافی ہے۔ ابھی میری منزل کافی دور ہے اور مجھے بہت محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے اللہ پاک کی ذات پر پختہ یقین ہے کہ انشاء اللہ ایک روز میری محنت رنگ لائے گی اور بلوچستان کی بیٹی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے گی۔نو رینہ نے مزید بتایا کہ میرے ابو نے وسائل کی کمی کے باوجود میری بھرپور رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی اور آج میں جس مقام پر ہوں اس کا سارا کریڈٹ میرے والدین کو جاتا ہے۔ نورینہ نے ارباب اختیار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے جیسے دیگر طلبہ و طالبات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔


نورینہ کے والد حفیظ اﷲ صاحب ‘جو ایک گورنمنٹ ملازم ہیں، نے اپنی بیٹی کے بارے میں بتایا کہ اس کو کم عمری سے ستاروں کے بارے میں جاننے کا شوق تھا جو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ اس کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی کی۔ کئی انٹرنیشنل ادارے نورینہ شاہ سے رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اداروں نے ایوارڈ اورسرٹیفکیٹ بھی دئیے ہیں۔ یہ بچی بڑے عزائم اور ارادے رکھتی ہے جس کے لئے نورینہ کو آگے بہت کچھ کرنا ہے۔ لیکن خلاء بینی کے لئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ این جی اوز نے یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن ابھی تک این جی او یا حکومتی سطح پر عملی طورپر کچھ نہیں کیا گیا۔ بہر حال آج ہمیں اپنی بچی پر فخر ہے اوریقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد سے یہ بچی اپنی محنت اور سچی لگن کی بدولت دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرے گی۔


اس طالبہ سے ملاقات کے بعد ایک پاکستانی ہونے کے ناتے سرفخر سے بلند ہوتا ہے کہ نورینہ شاہ جیسی باصلاحیت اور بلند حوصلہ طالب علم اس خطے میں موجود ہیں۔ ہمارے ارباب اختیار کو اس طالبہ کے لئے خصوصی دلچسپی لے کر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ایسے باصلاحیت نوجوان اس دھرتی کے چمکدار ستارے بن کر ساری دنیا میں پوری آب وتاب سے چمکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
May

تحریر: میجر حسان جاوید

مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک کی سب سے اونچی چوٹی ہے جو سطح سمندر سے 3200 فٹ بلند ہے۔ ٹلہ جوگیاں جہلم شہر سے مغرب میں مشہور تاریخی قلعہ روہتاس سے تقریباً25 کلومیٹر کی مسافت پر موجود ہے۔ بلند مقام ہونے کی بدولت جوگیاں کا پہاڑ میلوں دور سے اپنی جانب توجہ مبزول کراتا ہے اور شام کے اوقات میں انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کا موسم سردیوں میں شدید اور گرمیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے۔


ٹلہ جوگیاں سیکڑوں صدیوں سے جوگیوں اور فقیروں کی آماجگاہ رہاہے۔ اس مقام کو قدیم ہندو‘ بدھ اور سکھ مذاہب میں ایک تعلیمی اور تربیتی درسگاہ کا درجہ حاصل تھا۔ جہاں پورے ہندوستان سے جوگی اور فقیر تربیت کے لئے آتے تھے۔

خانقاہوں اوٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔


ایک روایت کے مطابق ٹلہ جوگیاں کی بنیاد تقریباً سو سال قبل مسیح جوگیوں کی ایک قدیم شاخ کن پترا (کانوں کو چھدوانے والے) جوگیوں کے پیشوا گورو گورکھ ناتھ نے رکھی۔ اس قدیم پہاڑی کے ساتھ بہت سی دیومالائی اور لوک داستانیں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق پنجاب کی مشہور لوک داستان ’ہیر رانجھا‘ کے مرکزی کردار رانجھا نے اس پہاڑی پر آکر قیام کیا۔ اپنے کان چھدوائے اور جوگی کا روپ اختیار کیا۔ ایک روایت کے مطابق سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک نے تقریباً پانچ سو سال قبل ٹلہ جوگیاں پر چالیس دن قیام کیا اور اپنی عبادت کی۔ اسی عقیدت کی بدولت پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ نے یہاں پانی کا ایک تالاب بھی تعمیر کروایا۔ مشہور ہے کہ عظیم مسلمان فلسفی اور ریاضی دان ابوریحان البیرونی نے تقریباً ایک ہزار سال قبل اس پہاڑ پر قیام کیا اور پھر پنڈدادن خان کے مقام پر بیٹھ کر زمین کا قطر معلوم کیا۔

 

tallajogiyan.jpgمغلیہ دور میں اس جگہ کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ مغل بادشاہ لاہور سے کشمیر کی طرف سفر کرتے ہوئے اس پہاڑ پر عارضی قیام کرتے تھے۔ پہاڑ پر موجود پانی کے تالاب مغلیہ دور کی یاد دلاتے ہیں۔ انگریز دورِ حکومت میں ٹلہ جوگیاں کو ایک پہاڑی مقام کا درجہ حاصل تھا جہاں شدید گرمیوں میں انتظامیہ کے دفاترمنتقل ہوجاتے تھے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔ پہاڑ کے اوپر ریسٹ ہاؤس کی عمارت بھی موجود ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل تک یہاں پورے ہندوستان سے فقیر اور جوگی آتے اور وجدان حاصل کرتے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ جن میں ایک قلعہ روہتاس اور دوسرا دریائے جہلم کے کنارے سنگھوئی گاؤں سے نکلتا ہے جبکہ ایک راستہ جی ٹی روڈ پر ڈومیلی گاؤں سے ٹلہ جوگیاں کے نزدیک گاؤں بھیت تک جاتا ہے۔ الغرض ٹلہ جوگیاں ایک انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے اور اس کو سیر و سیاحت کے لحاظ سے ترقی دی جاسکتی ہے۔

مضمون نگار کا تعلق آرمی ایجوکیشن کور سے ہے وہ ان دنوں ملٹری کالج جہلم میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
 
10
May

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی اسکرین پر نظر دوڑائی تو ایک دہلا دینے والے منظر کو چیختی چلاتی سرخیوں سے مسلسل دکھایا جا رہا تھا۔ سانحہ یا واقعہ۔۔ مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ہوا تھا مگر لاہور سے کہا گیا کہ یونیورسٹی بند ہو چکی ہے اس لئے صوابی روانہ ہو جاؤ۔ صوابی۔۔ اسلام آباد سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ ایک مقامی سینئر صحافی‘ جو ہمارے ساتھ ہو لئے تھے‘ تفصیل سے بتا رہے تھے۔ ولی خان یونیورسٹی کا طالب علم مشعال خان یونیورسٹی میں اپنی بزلہ سنجی اور بے باکی کے سبب بڑا مشہور تھا۔ بحث و مباحثہ کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ولی خان یونیورسٹی گزشتہ تین ماہ سے وائس چانسلر سے محروم تھی جس پر طلبہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور ہر روز ایڈمنسٹریٹو بلاک کے سامنے صبح ہی سے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیتے۔ مشعال بھی اُن طلباء میں شامل تھا جو یونیورسٹی کے ’’وائس چانسلر‘‘ کے حوالے سے احتجاج میں آگے آگے تھے۔ اس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ خوش نہیں تھی۔ دوسری جانب مشہور سیاسی رہنما ولی خان سے منسوب یونیورسٹی کے بارے میں مقامی صحافی نے بتایا کہ کمین گاہوں میں چھپی عسکری تنظیموں نے ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت کے پی کے کی یونیورسٹیوں میں ایک بڑی تعداد میں ایسے طلباء کو داخل کروایا ہے جو ’’لبرل اور روشن خیال‘‘ طلباء پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اِن یونیورسٹیوں کی انتظامیہ میں بھی یہ نقب لگانے میں مصروف ہیں۔مقامی صحافی کی گفتگو جاری تھی کہ سرسبزوشاداب صوابی میں ہم داخل ہو گئے۔ صاف ستھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسا مقام آیا کہ جہاں سے آگے گاڑی کا گزر نہیں ہوتا۔ گاڑی سے اُتر کر ابھی چار قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے ویل چیئر پر بیٹھے ادھیڑ عمری کی طرف مائل سرخ و سفید چہرے والے مقامی رہنما نے چلاتے ہوئے کہا ’’مجاہد صاحب!‘‘۔ یہ عبد الرحمٰن تھے جو یاد دلا رہے تھے کہ ہم کراچی یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ تیز تپتی دھوپ میں عبد الرحمٰن دکھ بھری آواز میں کہنے لگے ’’میں مشعال اور اُس کے پورے خاندان کو جانتا ہوں۔ یہ بچہ میرے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے۔ مشعال اور اُس کا خاندان کیا پورے صوابی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی حضورؐ کی شان میں گستاخی کرنا تو کیا اس بارے میں سوچنے کا بھی تصور کرے‘‘۔ رات گئے جب مشعال کے دوستوں نے بتایا کہ ایک گروپ مسلسل مشعال کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ اُس کے نام سے ایک جعلی آئی ڈی بھی طلبہ کو دکھائی جاتی۔ سانحے کے روز ہم دیکھ رہے تھے کہ یہ گروپس جن میں یونیورسٹی انتظامیہ کے چند اساتذہ بھی شامل تھے۔ سرگوشیوں میں ہمیں سازش کا جال بُنتے نظر آرہے تھے۔ مگر یہ ہمیں یقین نہ تھا کہ ہم اپنے سامنے درندگی اور بربریت کا اتنا بڑا سانحہ بھی دیکھیں گے۔ مشتعل گروپ میں سے ایک جس نے اپنا نام اور اپنے باپ کا بھی نام بتایا باقاعدہ سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر حلف لیا کہ ’’مشعال کو ایک ایسی بدترین مثال بنائیں گے کہ آئندہ کوئی روشن خیال، ترقی پسند اور لبرل ہونے کی جراّت بھی نہیں کر سکے گا‘‘۔ ابتداء میں یہ کوئی سو سوا سو تھے مگر ہاسٹل پہنچتے پہنچتے تعداد ہزار سے اوپر پہنچ گئی۔ ’’اوہ میرے خدا!‘‘ عبد الرحمٰن کی آواز آنسوؤں اور سسکیوں میں ڈوب گئی۔’’ مشعال کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اسکے دوستوں نے جو کچھ بیان کیا اُس کے تصور ہی سے خود کو پختون اور مسلمان کہتے ہوئے شرم آتی ہے‘‘۔ پولیس اور انتظامیہ اُس وقت آئی جب مشعال کی برہنہ لاش پر لاٹھیاں برسائی جا رہی تھیں۔ ہاں! پولیس کو اس کارنامے پر ضرور داد دینی چاہئے کہ مشعال کی لاش کو آگ لگانے سے پہلے ہی اُنہوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ لیکن ایک بھی۔۔ جی ہاں! وہاں پر موجود ایک بھی فردکو پولیس کی تحویل میں نہیں لیا گیا۔ میرا جی چاہا کہ واپس اُنہیں قدموں سے لوٹ جاؤں مگر مشعال کے والد اور بہن کی ہمت اور جراّت کے بارے میں سن چکا تھا اس لئیے حجرے میں داخل ہوا جہاں مشعال کا باہمت باپ سر جھکائے پُرسہ لے رہا تھا۔ میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو عزیز و اقارب پُرسہ دیتے ہوئے صبر کی روایتی تلقین کر رہے تھے۔ میرے بوڑھے والد نے پُر نم آنکھوں سے کہا ’’جس کی انگلی کٹتی ہے وہی دل چیرتے دکھ کو محسوس کر سکتا ہے‘‘۔ مشعال کے والد کے آگے بھی مجھے چُپ لگ گئی۔جُھریوں بھرے سرخ و سفید چہرے پر بیٹے کا دکھ سمیٹے مشعال کے والد نے صرف اتنا کہا ’’میرا مشعال تو چلا گیا مگر خدا کے واسطے میرے وطن کے کسی دوسرے مشعال کے ساتھ یہ بربریت اور درندگی کا وحشیانہ کھیل نہ کھیلا جائے‘‘۔
یہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لئے۔ اختافاتِ رائے کا انجام وحشیانہ موت نہیں۔ ہم سب کو قائد کا پاکستان واپس لانا ہے۔ پُرامن پاکستان، خوشحال اور مسکراتا پاکستان!

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

تحریر: انوار ایوب را جہ

یہ 84-1983 کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب تھی ‘روتی ہوئیں ویگن سے نکلیں اور کار میں سوار ہو گئیں۔ وہ اپنی والدہ کواسلام آباد ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہی تھیں۔ ان کے سب بہن بھائی برطانیہ میں رہتے تھے۔ بس وہ یہاں پاکستان میں اپنے بچوں اور خاوند کے ساتھ رہتی تھیں جو ایک فوجی افسر تھے۔


ان تین بچوں کے لیے کار میں بیٹھنے کا یہ پہلا تجربہ تھا ، اس سے پہلے یہ تا یا محبوب کی سبز ویگن میں بیٹھ کر اپنی ماں کے ساتھ گاؤں سے میرپور جاتے جو خود میں ایک تفریح تھی۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ سے ان تین بچوں اور ان کی ماں کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔ ایک اور سبز رنگ کی گاڑی میں جس سفر کا آغاز ہوا ‘وہ آج بھی جاری ہے۔اس سفر کے دوران بہت سے پڑاؤ ان پانچ مسافروں کی زندگی میں آئے اور اس سفر کا کمال یہ ہے کہ اس کا ہر لمحہ یادگار ہے۔ اس رات وہ کار راولپنڈی صدر میں کپڑوں کی دکان پر رکی۔ ان بچوں اور ان کی ماں کے لئے کپڑے خریدے گئے اور یہ کار آخر کار رات کی تاریکی میں تربیلا پہنچی جہاں ان چار مسافروں کی زندگی کا آغاز ہونا تھا۔


دوسرے روز جب صبح کا آغاز ہوا تو یہ تین بچے اور ان کی والدہ ایک نئے ماحول میں آنکھ کھول رہے تھے۔ بچے اردو کا ایک لفظ نہیں بول سکتے تھے ، ان کی ماں پہاڑی زبان کے علاوہ تھوڑی بہت اردو بول سکتی تھیں مگر ان کے لئے ابھی تک یہ تبدیلی ایک بہت بڑا تعجب تھا۔ اس روز یہ بچے جاگے۔ ان کے پاس راولپنڈی سے خریدے ہوئے نئے کپڑے تھے۔ ایک اردلی ایک ٹرے میں کچھ ناشتہ لایا اور ڈائننگ ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔ مجھے یاد ہے اس گھر کے باہر ایک تختی لگی تھی جس پر لکھا تھا ، کیپٹن محمد ایوب اور یہ وہی صاحب تھے جنہوں نے ایک رات قبل ان تین بچوں اور ان کی والدہ کو کشمیر کے پہاڑوں سے ایس ایس جی کی چھاؤنی میں لا کر محصور کیا تھا۔ یہ کہانی میری ہے ، یہ کہانی میری والدہ اور اور میرے بھائیوں کی ہے ، مگر اب جب میں زندگی کی چار دہایاں پوری کرنے والا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ کہانی میری یا میرے خاندان کی نہیں بلکہ ہر اس خاندان کی ہے جس کا تعلق فوج سے ہے۔ ابو جی اس وقت ایس ایس جی میں تھے اور یہ سبز رنگ کی فییٹ کار ہماری پہلی فیملی کار تھی اور یہ ہمار ا فوج کی زندگی میں شامل ہونے کا وہ یادگار دن تھا جس کی چھاپ آج تک ہماری زندگیوں پر ہے۔انگریزی میں کہتے ہیں
Once  a  Soldier, Always  a  Soldier
کچھ ایسا ہی معاملہ ان خاندانوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اس فوجی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جو ان کا بھائی، باپ یا خاوند ہوتا ہے۔ وردی اور سپاہی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے روح اور جسم۔ یہ رشتہ جو ایک سپاہی کے لئے ریکروٹمنٹ سینٹر سے اور افسر کے لئے کاکول سے شروع ہوتا ہے مگر اس کا اختتام کبھی نہیں ہوتا ، یہ رشتہ زندگی ختم ہونے تک ڈی این اے کا حصہ بن کر ساتھ چلتا ہے اور اس رشتے کو ایک فوجی کے ساتھ ساتھ اس کا خاندان بھی اپنا لیتا ہے جیسے ہم نے اپنایا۔


ان تین بچوں میں سب سے بڑا میں تھا اور دو چھوٹے میرے بھائی تھے۔ ایک اب کینیڈا میں آباد ہے اور دوسرا پاکستان میں ہائی کورٹ کا وکیل ہے اور میں یہاں برطانیہ میں رہتا ہوں جبکہ ابو جی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور اب تختی پر کیپٹن نہیں بلکہ لیفٹیننٹ کرنل(ر ) لکھا ہوا ہے۔ بہت سا وقت گزر گیا ، بہت سی نسلیں جوان ہو گئیں ، بہت سی ایس او پیز میں تبدیلیاں کی گئیں ، خاکی کی جگہ کیمو فلاج نے لے لی، ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی ساخت اور استعمال میں تبدیلی آئی مگر ان سب کے ساتھ جڑا سپاہی نہیں بدلا، اس کا جذبہ ماند نہیں پڑا، اس کے ڈی این اے کے جرثوموں میں کل بھی سبز لہو موجود تھا اور آج بھی وہی سبز لہو موجود ہے جس میں ایمان ، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ لہو سرخ ہوتا ہے مگر سپاہی کے لہو میں سبز ہلالی پرچم اپنا رنگ ایسے اتار دیتا ہے کہ اس کی وردی اس کا کفن بن جاتی ہے۔ میں وردی نہیں پہن سکا ، شائد میرے مقدر میں یہ نہیں تھا ، مگر میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ وردی کے پاس اور وردی کے ساتھ گزارا اس لئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ وردی میرے لئے بھی اتنی اہم ہے جتنی ابو جی کے لئے تھی۔ ایس ایس جی کچھ دیوانوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو کسی نام ، ایوارڈ اور میڈل کے لئے اس کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ ایک مختلف سوچ ہے ، ایک الگ مائنڈ سیٹ ، ایک مکمل اور دیوانہ وار عشق یعنی ’’من جانبازم ‘‘ ہم جب فوج کی زندگی کا حصہ بنے تو ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہماری زندگی میں سب سے پہلے فوج اعتماد کا ٹیکہ لگائے گی ، ہمیں وہ پاکستان کا ہر علاقہ دکھائے گی، ہمیں ایران سے افغانستان اور انڈیا سے چین کی سرحدیں دکھائے گی۔ ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہمارے پڑوس میں بریگیڈیر ٹی ایم جیسے جنگجو ہوں گے ، ہمیں ہر گز یہ پتہ نہیں تھا کہ شاہراہ دستور پر ’’ا ﷲ ہو‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے جب ہمارے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ 23 مارچ کی پریڈ میں شامل ہوں گے تو جذبے اور جوش سے ہمارے آنسو نکلا کریں گے۔ ہمیں نہ کسی ایف جی سکول کا علم تھا اور نہ ہی کبھی آرمی پبلک سکول کا سوچا تھا ، یہ کبھی بھی ہمارے گمان میں نہیں تھا کہ ہم تیراکی سیکھیں گے یا ہمیں کبھی دنیا کے بلند ترین محاذجنگ پر ہیلی کاپٹر سے لٹک کر جانے والے کیپٹن نوید اور ہوا بازی کی عالمی تاریخ کے عظیم ہیرو ایم ایم عالم سے ملنے کا موقع ملے گا اور پھر یہ کس نے سوچا تھا کہ کارگل کی جنگ میں شہداء کی فہرست میں ایک نام کیپٹن جاوید اقبال کا ہو گا جو میری والدہ کے بھائی ہوں گے اورکسے معلوم تھاکہ اسی فوج میں ہمارے ہم عصر بھی وہی وردی پہنیں گے جو ان کے بھی ڈی این اے کا حصہ تھی ، کسے علم تھا کہ ان میں سے کچھ ہم سب کو پیچھے چھوڑ جائیں گئے اور سبز ہلالی پرچم کا انتخاب اپنے کفن کے طور پر کریں گے۔ بس یہ فوج کا کمال ہے اور فوج کی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر کوئی لکھتا نہیں اور شائد کوئی بولتا بھی نہیں مگر میں آج ایسا کیوں سوچ رہا ہوں؟ میں تو مکمل سویلین ہوں۔


بس یوں ہی کبھی کبھار غیر ارادی طور پر جب پاکستان جاتا ہوں تو ان گلیوں میں چلتا ہوں جہاں بچپن گزرا اور جہاں آج بھی تندرست جسموں اور بلند جذبوں والے سپاہی رہتے ہیں ، بس ایک رشتہ ہے جو خود ہی قائم ہے، بس وہ پرانے دوست جو کبھی اسکول میں ساتھ پڑھتے تھے۔ اب کرنیل بن گئے ہیں اور ان کو مل کر کچھ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں ؟


محمد میرا بیٹا ہے جو ماشاء اللہ تین سال کا ہونے والا ہے اور اب وہ باتیں بھی کرتا ہے ، محمد اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک تین بار پاکستان جا چکا ہے۔ وہ ایک برٹش پاکستانی/کشمیری بچہ ہے اس کا تعلق اس مٹی سے ہے جس میں وہ پیدا ہوا مگر اسے میں نے اور میری بیگم نے ہمیشہ وہ چار دیواری دکھائی ہے جس سے ہمارا تعلق ہے۔ محمد کو اس کی ماں نے بہت محنت سے اپنی زبان کے کچھ لفظ سکھائے جیسے ’’ابو جی‘‘، ’’پاکستان زندہ باد‘‘، ’’دل دل پاکستان‘‘ اور’’اﷲ جی کرم کرو۔‘‘ میری سٹڈی میں ابو جی کی ایک تصویر لگی ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور اس تصویر سے باتیں کرتا ہے ، مجھے اس کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی مگر وہ اپنی ماں کو سب کچھ سمجھا لیتا ہے ، شائد ایسا ہم سب نے کیا ہو۔ آج ہم گاڑی میں کہیں جا رہے تھے ، محمد متواتر کچھ کہہ رہا تھا اور میری بیگم فرنٹ سیٹ پر بیٹھی رو رہی تھی ، میں نے پوچھا تو وہ بولی کہ محمد نے ٹی وی پر ایک نغمہ سنا ہے اور کل سے بے دھیانی میں گنگنا رہا ہے۔ میں نے بیگم سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ بولی کہ محمد کہہ رہا ہے ’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی میری آنکھیں بھی تر ہو گئیں مگر نہ جانے کیوں منہ سے شکر کا کلمہ ادا ہوا، مجھے اتنے سالوں بعد یہ احساس ہوا کہ وردی ابھی بھی ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: محمدامجد چوہدری

اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم کا جو بھی فرد افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑتا ہے، ’’سروس فار ایور‘‘ہمیشہ کے لئے اس کا عزم بن جاتا ہے۔ وہ یونیفارم میں ہوتو اسی جذبے کے تحت جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے، ملکی یکجہتی کی علامت بن کر قریے قریے میں ڈیوٹی کے لیے لبیک کہتا ہے، قوم کے آرام و چین کے لئے سرحدوں پرپہرہ دیتا ہے، موسم کی چیرہ دستیوں کوبرداشت کرتا ہے، سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کو عبور کرتا حتیٰ کہ جان کی پروا کئے بغیر ملک و قوم کے خلاف برسرپیکار ہر قوت سے جا ٹکراتا ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد وہ یونیفارم کو تو خیر باد کہہ دیتا ہے تاہم قومی خدمت اور سرفروشی کا لباس پوری عمر زیب تن کئے رکھتا ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں:
Once a Soldier, Always a Soldier
اپنے اسی وصف کے عملی اظہار کے لئے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیتے ہیں۔ ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن(ڈی ایف وی اے) کا قیام بھی اسے جذبے کے تحت عمل میں آیا۔ اس کے بانیوں میں افواج پاکستان کے ممتاز ویٹرنز لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد اعظم خان(مرحوم)، ائرمارشل(ر) ظفر چوہدری، لیفٹیننٹ جنرل (ر)عتیق الرحمن، لیفٹیننٹ جنرل(ر) کے ایم اظہراور کمانڈر(ر) عابد اقبال(نیوی) شامل ہیں۔ بری ، بحری اور فضائی افواج کے کسی بھی رینک کے ریٹائرڈ ملازمین اس کے رکن بن سکتے ہیں۔ اس طرح افواج پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو یکجا کرکے ان کی آواز بلند کرنے میں یہ انتہائی مؤثر اور متحرک کردار ادا کررہا ہے۔

servicefoever.jpg
اس میں بھی کوئی دو آراء نہیں کہ ایک سپاہی جب فوج میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوتا ہے تواسے کبھی بھی انتظامی مسائل کا سامنا نہیں کرناپڑتا۔ فوج اس کا گھر ہوتی ہے اورسپاہی سے لے کر جنرل تک اسی خاندان کے فرد ہوتے ہیں۔ ہر سینئر افسر اپنے ماتحت افراد کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پوری یکسوئی اور توجہ سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جونہی وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتا ہے اسے اپنی پنشن کے حصول اور اس سے جڑے بہت سے دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان تمام الجھنوں سے نبردآزما ہونے اور ان کی دادرسی کے لئے پر ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ان کی ترجمان بن کر ان کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ تنظیم اجتماعی فلاح و بہبود کے کئی اہداف حاصل کرچکی ہے۔ اس سلسلے میں یہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے مرکزی دفاتر سے مسلسل رابطے میں رہ کر ان کاموں پر مؤثر انداز سے عمل درآمد کروا چکی ہے۔یہ ملک کی 13پنشنر تنظیموں کی بھی رکن ہے جس میں 12وفاقی اور صوبائی پنشنر تنظیمیں شامل ہیں۔ ان سب کا مجموعی اتحاد و الحاق پاکستان فیڈریشن آف سول اینڈ ملٹری پنشنرز ایسوسی ایشنز کہلاتا ہے۔ڈی ایف وی اے نہ صرف اس کی اہم ترین رکن ہے بلکہ اس کے صدر کو اس اتحاد کا صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوتا ہے۔


لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد نصیر اخترڈیفنس اس وقت فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) فاروق احمد خان اس کے صدر ہیں۔دیگر عہدیداروں میں سینئر نائب صدر ائر وائس مارشل(ر) انور محمود خان ، جنرل سیکرٹری (ر)بریگیڈیئر صفدر حسین اعوان، سیکرٹری کرنل(ر) چوہدری محمد اسلم، سیکرٹری خزانہ کرنل(ر) طاہر حسین کاردار اور سیکرٹری اطلاعات و نشریات سپاہی (ر)مبارک احمد اعوان شامل ہیں۔ادارے کا سالانہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے ممبران کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔ گزشتہ اجلاس میں کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اورادارے کی خدمات اور کارکردگی کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا ۔


اس طرح ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن سے وابستہ افراد اپنی یکجہتی کے ذریعے نہ صرف اپنے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں بلکہ معاشرے میں ہم آہنگی کے فروغ کے لئے بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔یہ تنظیم پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے بھی ایک قابل تقلید مثال ہے جواسی جذبے کے تحت اپنے اجتماعی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی اور خوشحالی میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 
10
May

تحریر: رابعہ رحمن

عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر پہ گامزن ہوچکی ہے۔ پھر یہ سفر اس کی آخری سانس تک جاری رہتاہے۔ وہ اس سفر کے دوران آنے والے ہرموڑ اور اونچے نیچے راستوں پر اپنی محبت اور معصومیت کے پروں کو پھیلائے اڑتی چلی جاتی ہے اس کے پر اگر کاٹ بھی دیئے جائیں تو وہ نئے پر اُگالیتی ہے اس کے پروں کی اُڑان اور آنچل کے سائے میں نسلوں کی نسلیں پھلتی پھولتی ہیں۔


انہی نسلوں میں پلنے بڑھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں‘ ان میں بہت سے پرائیویٹ اداروں اور گورنمنٹ سیکٹر کے میدان میں ہیں۔ ڈگریاں حاصل کرنے اور نوکریاں ملنے تک سب افراد شام کو واپس گھر میں اپنی ماں،بہن، بیٹی یا بیوی یعنی کہ کسی نہ کسی روپ میں وہ عورت کے سائے میں آجاتے ہیں۔ دن بھر کی مشکلات، واقعات، تجربات آکر بیان کرتے ہیں۔ گھر کی گرم روٹی بھی کھاتے ہیں اورپھر اگلے دن اپنی محبتوں اور خدمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی کی ڈگر پر، شام کو لوٹ آنے کے لئے، چل پڑتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایسا ادارہ ہے جسے دنیا کا بہترین ادارہ کہاجاتاہے وہ ہے افواج پاکستان کا ادارہ۔ اس ادارے میں جانے کے لئے تقریباً ہرپاکستانی نوجوان جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تو لڑکپن کے دیکھے ہوئے، وردی پہننے کی آرزو سے بھرپور، خوابوں کی تعبیر چاہتاہے۔ ایک عورت جب اس ادارے میں اس نوجوان کو بھیجتی ہے کہ اے میرے لال، میرے بھائی، میرے بابا میرے شوہر تمہارے حصے کی چولہے کی آگ تمہارے لوٹ آنے تک جلتی رہے گی‘ تمہارے حصے کی روٹی بھی میرے آنچل میں لپٹی گرم ہی رہے گی‘ تمہاری ساری باتیں سننے کو میری سماعتیں ہمیشہ منتظر رہیں گی۔ زندگی وقت کا نام ہے، وقت فیصلے کا اور فیصلہ جب صحیح وقت پر ہوا ہو تو تقدیر بھی ساتھ دیتی ہے۔ اسی طرح ایک فیصلہ فوجی افسر کے گھر میں ایک بار انگڑائی ضرور لیتاہے۔ بریگیڈئیر بابر علاؤ الدین کے گھر میں بھی بیٹے مُھد حیدر کے لئے فوج میں بھیجے جانے کے لئے چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ مُھد ابھی ایف اے میں تھا۔ دوستوں کا شیدائی اور زندگی کو ہنسی مذاق میں گزارنے والا کسی بھی بات پہ سنجیدہ نہیں ہوتا تھا۔ ماں کہتی کہ مُھد ایف اے کے پیپرز آنے والے ہیں‘ میں تمہیں اپنے والد اور شوہر کی طرح ایک کامیاب فوجی افسر دیکھنا چاہتی ہوں مگر تم نے وقت کو مذاق سمجھ لیا ہے تمہارے دوست خود پڑھ کر بے وقت تمہارے گھر آجاتے ہیں اور تم اس بات سے قطع نظر کہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاؤ گے ‘ ان کے ساتھ موج مستی میں لگ جاتے ہو اور کل کو آج کے تمہارے یہ دوست تمہیں مڑ کر آواز بھی نہیں دینگے اور ہاتھ پکڑ کر تمہیں اپنے ساتھ لے کر بھی نہیں چلیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ مُھد کے تینوں دوست ایف اے میں کامیاب ہوئے اور مُھدجس کا خواب صرف اور صرف پی ایم اے جانا تھا‘ ٹوٹ گیا۔ وہ کامیاب نہ ہوسکا‘وہ انتہائی شرمندہ تھا۔ رزلٹ میں ناکامی کی خبر سنا کر ماں کی گود میں سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اللہ نے ماں کو جذبات کی ندی کی طرح بنایاہے‘ مگر مُھد کی ماں جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی جہاندیدہ خاتون ہیں۔ زندگی کے اس اہم موڑ پر جہاں مُھد کے ساتھ ساتھ بریگیڈئیر بابر اور دیگر اہل خانہ بھی شکست وریخت کا شکار ہورہے تھے‘ وہاں ایک ماں نے اہم فیصلہ کیا کہ کوئی میرے بیٹے کو ناکامی کا احساس نہیں دلائے گا ۔کوئی ذومعنی چبھتا ہوا جملہ اس کو مذاق میں بھی نہیں کہاجائے گا ۔مُھد کی ذمہ داری میں لیتی ہوں۔ ماں نے مُھد کو دلی جذبات کے ساتھ ساتھ عقل کو بھی نگہبان مانتے ہوئے کہا‘ بیٹا زندگی کی اس ٹھوکر کو اللہ کا انعام سمجھ کر قبول کرو‘ بے شک انسان کی خطائیں اسے ایسے مقام پر لے آتی ہیں کہ اگر وہ سمجھداری سے کام نہیں لیتا اوربیرونی عوامل کے منفی رجحانات کو اپنا لیتاہے تو وہ پہاڑ سے گرنے والے پتھر کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جاتاہے۔ اگر وہ زندگی کی پہلی ناکامی کو چیلنج سمجھ کر قبول کرتاہے‘ اللہ پہ یقین رکھتا ہے، بڑوں کی نصیحتوں کا مذاق نہیں اڑاتا اور نہ ان کو اپنا دشمن سمجھتاہے تویقین کرو وہ اس بھٹی کی طرح ہوجاتاہے جس میں سے کوئلے ہیرے بن کے نکلتے ہیں۔ وہاں کچی مٹی سے اینٹیں پک کر گھروں کو تعمیر کرتی ہیں۔ مُھد نے ایسے میں ماں سے وعدہ کیا کہ وہ آج کے دن کی شرمندگی کو بابا کی آنکھوں کے فخر میں بدل کے چھوڑے گا۔پھر وہ دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو یاد کرنے لگا ۔اس کی آنکھوں میں مایوسی اور تکلیف کا عکس تھا۔ ایسے میں ماں نے کہا: نہ بیٹا دوست کبھی بُرے نہیں ہوتے، تم کو ہی دوستی اور زندگی کے دیگر معاملات میں توازن رکھنا نہیں آیا‘ کبھی کسی پر الزام مت دینا اور جب بھی کوئی فیصلہ کرو بزرگوں کی عزت کو معتبر کرنے کا راستہ چننا سب کچھ حاصل ہوجائے گا۔


مُھد کو دیکھتے ہی دیکھتے کتابوں سے عشق ہوگیا ۔انتہائی معصوم سادہ دل انسان تھا۔ گھر میں موجود تناؤ کاشدت سے احساس کرتا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اس کے والد کو کتنا شوق ہے کہ ان کا بڑا بیٹا فوج جوائن کرے اور جب وہ ریٹائر ہوں تو ان کی بیلٹ اور ٹوپی اس کے بدن پر سجی ہوئی دیکھیں۔ وقت (اپنی رفتارکو) پر لگائے اڑئے جارہا تھا۔ پھر مقدر سے وہ دن آگیا جب مُھد نے گریجویشن میں پوزیشن لی اور ساتھ ہی اس نے فوج کا امتحان بھی پاس کرلیا مگر ان چار سالوں میں اس نے اپنے بابا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی اور اکثر اوقات ایسا بھی ہوا کہ وہ نماز پڑھتی ماں کی گود میں سررکھ کر رویا کرتا۔آج وہی مُھد حیدر سیکنڈلیفٹیننٹ ہے اور جب گھر آتا ہے اور دروازے میں کھڑے ہوکر بابا کو سیلوٹ کرتاہے تو بابا دونوں بازو کھول کر کہتے ہیں’آج میری جوانی میرے سامنے کھڑی ہے‘ اب میں اس کو انجوائے کرتاہوں‘ اور مھد کو سینے سے لگالیتے ہیں۔ فوج کے ادارے میں جہاں وطن کی خاطر قربانی کا سبق دیاجاتاہے ، جو عزت یہ ادارہ معاشرے میں دلاتاہے کوئی اور نہیں۔ چمکتی پیشانی، روشن آنکھوں،سمارٹ جسم اور مضبوط ارادوں سے بھرپوریہ نوجوانان پاکستان ملک کی خدمت حفاظت کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔عمومی خیال یہ ہے کہ فوجی افسر بہت مزے کی زندگی گزارتے ہیں ۔بے شک یہ کسی حد تک سچ بھی ہے لیکن وہ کس طرح فوجی افسر بنا‘ یہ معاشرے کے باقی لوگ نہیں جانتے۔ فوجی افسر کے اندر سب سے پہلے اپنے خاندان سے رابطہ منقطع کرنے کا حوصلہ پیدا کیاجاتاہے ۔جب یہ افسر اٹھارہ بیس سال کی عمر میں دو سے ڈھائی ماہ تک اپنے ماں باپ کی آواز تک بھی نہیں سن سکتے لیکن ان کی سخت ترین ٹریننگ ان کو اجازت اور وقت ہی نہیں دیتی کہ وہ ماں کی پکائی ہوئی گرم روٹی کو یاد کرسکیں۔ صبح صادق کی موسم کی سختی کو نظرانداز کرتے ہوئے پی ٹی کلاسز، فرنٹ رول، سینیئرز کے ’’رگڑے‘‘ اور ڈرل اس تسلسل کے ساتھ کرائی جاتی ہے کہ رات کااندھیرا چھانے لگتاہے اور ماں کی گود سے نکلا ہوا یہ لڑکپن کی دہلیز، یہ کرکٹ کھیلتا، مستیاں کرتا اور موج مناتالڑکا ایسے بستر پر تھک کے گرتاہے کہ پھر صبح ہوجاتی ہے ڈنکا بجتاہے اورپھر اسی تواتر سے زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔

OK SIR,YES SIR
ان کی زندگی کا خاصہ بن جاتاہے ایسے میں اگر گھر سے کوئی خط آجائے تو باتھ روم میں گھس کر پڑھتے ہیں اور گھروالوں کو یاد کرتے ہیں ۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں گھر جانا ہے یا ماںیاد آرہی ہے۔ یہ مشینی زندگی کا عرصہ کوئی ماہ دوماہ کا نہیں ہے بلکہ لانگ اور شارٹ کورس کے مطابق سالوں پر محیط ہوتاہے۔ اس میں کوئی بیمار ہے تو اسے اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ ایکسرسائز پر جانا ہے تو وہاں کی تمام سختیاں برداشت کرکے خود کو اچھا فوجی بنانے کے لئے تیار کرناہے۔ گلہ شکوہ، منت سماجت اور حیلے بہانے۔۔۔۔۔ وہاں کچھ نہیں چلتا‘ یہ جذبہ فوجی افسر ساری عمر اپنا اندر شمع کی طرح جلتا رکھتے ہیں۔ ان کا فخر اس وقت اور بھی بڑھ جاتاہے جب وہ ایک دن اپنے ہی بیٹے کو پی ایم اے کے گیٹ کے اندر چھوڑ کر واپسی کے قدم لیتے ہیں۔ ان کو اپنا سخت ترین گزارا ہوا وقت مشقت اور تنہائیوں کے تمام موسم بھول جاتے ہیں۔ یہاں سے پھر ایک نیا عہد وطن، ماں اور وردی سے نبھانے کیلئے تحریر کیاجاتاہے۔ ایسی افواج اور وطن کو شکست کا سامنا کیسے ہوسکتاہے جو طوفانوں کے تھپیڑوں میں وطن کی مٹی کو ماں کی گود سمجھ کر سوجاتے ہیں اور وطن کی مٹی بھی انہیں لوریاں سنا کر میٹھی نیند سلاتی ہے۔۔۔۔۔ ماں مٹی اور افواج پاکستان کو پوری قوم کا سلام۔ پھر یہی نوجوان اس وطن کے لئے بے پناہ قربانی دیتے ہیں اپنا وقت، جوانی، خاندان، خواہشیں سب قربان کردیتے ہیں اور ایک دن غازی یا شہید ہوکر اپنی ماں یا بچوں کے پاس لوٹ آتے ہیں۔ والدین کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ غلطی بچے ہی کرتے ہیں اگر ہم ان غلطیوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیں اور وطن کے ان معماروں کو مستقبل کا قیمتی اثاثہ جان کر بنا کسی حیل وحجت اور تفن بازی کے بغیر سہارا دیں گے تو پوری ایک نسل کو بچالیں گے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May
شمالی وزیرستان میں پاکستان کا سب سے بڑا پرچم
شمالی وزیرستان میں پاکستان کا سب سے بڑا پرچم بنایا گیا۔ اس پرچم کی لمبائی 210 فٹ اور چوڑائی 150 فٹ ہے۔ اس پرچم کو چھوٹے پتھروں سے بنایا گیا ہے۔ عثمان خان جو کہ مقامی علاقے شیوا

(Shewa)

کا رہائشی ہے‘ نے اس پرچم کو تیار کیا۔ عثمان خان نے اپنی اس کاوش کو وطن سے محبت کا اظہار قرار دیتے ہوئے پرچم کو قوم کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے نام کیا ہے۔ پرچم کی افتتاحی تقریب میں آرمی افسران‘ سیاسی قائدین‘ طلباء اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newsshumaliwazirstanmain1.jpg 

10
May

لیفٹیننٹ راجہ خاور شہاب کی شہادت پر لکھی گئی ایک نظم

راجہ محمد سلیم عادل

2مارچ 2017کو لیفٹیننٹ راجہ خاور شہاب نے جانی خیل بنوں میں شدت پسندوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ اس مایہ ناز سپوت کا تعلق کھوئی رٹہ موضع دھڑہ کے راجپوت خاندان سے تھا۔ شہادت کے وقت شہید کی عمر صرف 23برس تھی۔

pegham.jpgبہار آنے کو ہے
خزاں کا طلسم
ٹوٹنے کو ہے
تہہِ خاک ہے ابھی لیکن
فصلِ بہار پھوٹنے کو ہے
تم درندۂ صفت ہو تو کیا غم
دھرتی کے سینے سے نغمہ
جھرنا بن کر بہتا ہے
ہمیں آواز دیتا ہے
وہ ہم سے اب بھی کہتا ہے
میرے نغمے یہ میرا جلترنگ
وقت کے دھارے پہ رکھا
کب سے ہے
لہو پیتے درندوں سے
میں آشنا پرانا ہوں
انہیں کہہ دو کہ میں تو
وقت کے دھارے پہ رکھا
اِک زمانہ ہوں
اس ارض وطن کی خاطر
جو موت ملی ہے مجھ کو
اس موت کا میں دیوانہ ہوں

10
May

تحریر: محمد اعظم خان

6ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں پانچویں نغمے ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یک جان تھی۔ ہر ایک محاذ پر افواج پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار تھیں اور دشمن کو دندان شکن شکست دینے کے لئے صف آراء تھیں ایک طرف ریڈیو پاکستان ثقافتی ابلاغ کے محاذ پر اپنے قومی جذبے سے سرشار کام میں مصروف تھا تو دوسری طرف افواج پاکستان کے تینوں شعبے ایئرفورس، بحری اور بری تمام محاذوں پر دشمن کو پے درپے شکست سے دوچار کررہے تھے اور ہمیں ان کی بہادری کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ایک ایسا نغمہ ریکارڈ کیا جائے جس میں تینوں شعبوں کا ذکر ہو اور افواج پاکستان کا مورال بلند ہو۔ چنانچہ یہ نغمہ’’ یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ ریکارڈ کیا گیا۔ ملکہ ترنم نے مجھے ایک دھن سنائی جو کہ انہوں نے بیرون ملک سنی تھی اور ان کو اس کی کمپوزیشن بہت پسند تھی۔ میں نے اورمیڈم نورجہاں نے محترم صوفی تبسم صاحب کو گنگنا کر سنائی اور گزارش کی کہ اسی دھن پر تینوں افواج کے شعبوں پر مبنی نغمہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کمال مہارت سے یہ استھائی لکھ کر دی۔ ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ ملکہ ترنم صوفی صاحب کے اس مصرعے پر بہت خوش ہوئیں کہ میری بتائی ہوئی دھن پر یہ بول کتنے اچھے فٹ ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنی پوزیشن کے مطابق اس نغمے کی ریہرسل شروع کر دی۔ یہ نغمہ بھی ایک ہی دن میں لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور شام کو اس کی ریکارڈنگ مکمل ہوئی۔ اس نغمے کی ریکارڈنگ کے دوران بھی ہمیں اپنی فوج کی فتوحات کی اطلاعات ملتی رہی ہیں خاص کر ایئرفورس اور بحری افواج کی۔ رات کو جب یہ ملی نغمہ نشر ہوا تو ہمیں بے شمار ٹیلیفون موصول ہوئے۔ ملکہ ترنم نے خواہش ظاہر کی کہ میں فوجی بھائیوں کے پروگرام میں خود بات کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے ہمارے فوجی بھائیوں کے جذبہ حب الوطنی میں اضافہ ہو گا۔ اس کو ریڈیو پر خاص اعلان کے ساتھ نشر کیا گیا کہ میڈم نورجہاں اپنے پیارے بھائیوں کو مخاطب کریں گی۔ فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئر یاسمین طاہر نے ان کا بہترین استقبال کیا۔ میں بھی ملکہ ترنم نورجہاں کی اس گفتگو میں شامل تھا۔ فوجی بھائیوں نے میڈم نورجہاں سے میریا ڈھول سپاہیا گانے کی فرمائش کی جو کہ میڈم نورجہاں نے فوراً پوری کی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ موسیقی انسانی فطرت کا ازلی رجحان ہے اور اس کا دل و دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی افواج نے ہر محاذ پر ان نغموں سے متاثر ہو کر زیادہ جوش و جذبے سے جنگ لڑی ۔ مختلف محاذوں سے فتوحات کی خبریں سن کر میری ریکارڈنگ ٹیم کا حوصلہ بھی بلند ہوتا۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ نغمہ ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ تینوں افواج کے شعبوں کی کارکردگی کا عکاس ہے۔ میں نے دوران ریکارڈنگ یہ سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا کہ ہمیں جنگ کی تمام خبروں سے آگاہ رکھا جائے تاکہ ہم حالات و واقعات کے مطابق نغمے ریکارڈ کریں۔ یہ وقت کی اشد ضرورت تھی اور بطور پروڈیوسر میرا ہر وقت یہی مشن تھا کہ خوبصورت شاعری اور موسیقی سے مزین نغمے تخلیق کروں۔ اﷲ پاک نے میری اس کوشش میں میری پوری مدد کی ۔ میں اپنی ریکارڈنگ ٹیم کا بھی بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ اس پوری کوشش میں سب سے زیادہ میڈم نورجہاں کے جذبہ حب الوطنی کو داد دیئے بغیرنہیں رہ سکتا کہ انہوں نے اپنا پورا تن من دھن نغمے گانے میں صرف کیا اور ایک عظیم فنکارہ ہونے کا ثبوت دیا۔

(جاری ہے)

 
 
10
May

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:16

بِل وِل
مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال مقرر ہے جس سے ہم ابھی بھی تقریباً دو سال کے فاصلے پر تھے۔ ایک سینئر بزرگوار سے مشورہ کیا تو انہوں نے پہلے تو جلدی شادی کرنے کے نقصانات تفصیل سے بیان کئے اور پھر دیر تک ہمیں اس بھیانک غلطی پر سرزنش کرتے رہے ۔ جواب میں ہم نے دیر سے شادی کرنے کے نقصانات گنوانا شروع کئے جو ان کے بیان کئے گئے نقصانات سے کہیں زیادہ تھے۔ بات بڑھنے لگی تو ہم نے جلدی سے ان کے لئے چائے کا آرڈر دیا اور کہا کہ مقدر میں جو لکھا تھا وہ ہو گیااب آپ ہمیں مشورہ دیں کہ اس مشکل کا حل کیسے نکالا جائے۔

 

bilwil.jpgبزرگوار نے خشمگیں نگاہوں سے ہمیں گھورا اور ویٹر کو ہمارے حساب میں چائے کے ساتھ سموسے اور مٹھائی بھی لانے کے لئے کہا ۔ انہوں نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور فرمانے لگے ’’برخوردار !تمہارا مسئلہ صرف جی او سی ہی حل کر سکتا ہے۔‘‘ ہم نے عرض کی کہ جی او سی کے کرنے کے لئے ہزاروں کام ہیں یہ بات ان تک کیسے پہنچائی جائے کہ ایک نوآموز کیپٹن کتنی بڑی مشکل میں گرفتار ہے۔ بزرگوار پورا سموسہ یکبار منہ میں ڈالتے ہوئے بولے ’’اس کے لئے جی او سی کو اپلیکیشن دینا پڑے گی۔‘‘ ہم نے ان سے یہ نیک کام بھی اپنے مبارک ہاتھوں سے کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے قبول کر لی۔ چنانچہ کیپٹن ضیا شہزاد کی جانب سے میجر جنرل منیر حفیظ کو خط تحریر کیا گیا جس میں تمام مصائب و آلام کا ذکر کرتے ہوئے ان سے ایک عدد گھر الاٹ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔


چند دنوں بعد جنرل صاحب کا جوابی خط موصول ہوا جس میں ہمیں شادی کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ گھر الاٹ کرنے کی خوشخبری بھی سنائی گئی تھی۔ یہ سن کر ہم پر تو شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ فوراً ڈیو ہیڈکوارٹرز سے رابطہ کر کے گھر کا الاٹمنٹ لیٹر لیا ۔ جب موقع پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ گھر قدامت اور جسامت دونوں کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھا۔ انگریزوں کے زمانے کا تعمیر شدہ یہ گھر ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ اس کا لان ہی طول و عرض میں فٹبال گراؤنڈ سے کیا کم ہو گا۔ کمروں کی تعداد اور ان کی لمبائی چوڑائی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ پتہ چلا کہ لوگ اس گھر کو لینا اس لئے بھی پسند نہیں کرتے کہ اس کی دیکھ بھال اور سجاوٹ کے لئے بہت زیادہ تردد درکار تھا۔ ہم چونکہ انکار کرنے کی پوزیشن میں بالکل بھی نہیں تھے۔ اس لئے ہم نے ان باتوں کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا اور گھر میں شفٹ ہو گئے۔ اب یوں تھا کہ اس گھر میں موجود دس کمروں میں سے ہم بمشکل ایک کمرہ اور کچن استعمال کر رہے تھے۔


دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ تقریبا دو ماہ کے بعد گیس کا بل موصول ہوا جو کہ پورے 8ہزار روپے پر مشتمل تھا۔ان دنوں کپتان کی تنخواہ تقریباً چار ہزار کے قریب ہوا کرتی تھی۔ یہ بل دیکھ کر تو ہم بلبلا اٹھے کیونکہ جتنی گیس ہم استعمال کر رہے تھے اس کے مطابق تو بل پچاس روپے سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔میٹر گھر سے باہر نصب تھا وہاں جا کر میٹر ریڈنگ چیک کی جو کہ درست تھی۔ میٹر سے کچن تک کا فاصلہ کوئی سو فٹ کے قریب تھا۔ پائپ لائن کو چیک کروانے پر معلوم ہوا کہ وہ درمیان میں ایک جگہ سے لیک تھی جس کی بنا یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا۔ہم نے پائپ لائن کی مرمت تو فورا کروالی۔ اب دوسرا مرحلہ بل ٹھیک کروانے کا تھا۔ یونٹ کے کوارٹر ماسٹر اور سی او سے بات کی۔ انہوں نے بریگیڈ اور بریگیڈ والوں نے ڈیو ہیڈکوارٹر کا راستہ دکھایا۔ پورا ہفتہ ایک آفس سے دوسرے آفس کے چکر لگاتے گزر گیا ۔ ہر طرف سے ایک ہی جواب ملتا کہ اس بل کا کچھ نہیں ہو سکتا،یہ تو آپ کو ادا کر نا ہی ہو گا ۔
قریب تھا کہ اس بل کی فکر میں ہمارا دل کام کرنا چھوڑ دیتا کہ انہی بزرگوار سے دوبارہ ملاقات ہو گئی۔ ہم نے اپنی پریشانی کا ذکر ان سے کیا تو انہوں نے ہمیں جتایا کہ وہ ان نقصانات سے ہمیں پہلے ہی خبردار کر چکے تھے۔ہم نے ان سے معافی طلب کی ، آئندہ کے لئے محتاط رہنے کا وعدہ کیا اور مدد کی درخواست کی۔ ان کے لئے دوبارہ چائے، سموسے اور مٹھائی منگوائی گئی۔ انہوں نے پورا کیس تفصیل سے سننے کے بعد ہمیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا۔ وہاں سے ہم سیدھے صدر بازار گئے اور بیکری سے دو پونڈ کا کیک پیک کروایا۔ اب ہماری گاڑی کا رخ سوئی گیس کے ریجنل آفس کی طرف تھا۔ وہاں پہنچ کر ہم نے ریجنل مینیجر کے پی اے کے توسط سے ملاقات کی اجازت طلب کی جو فوراً مل گئی۔ ہم نے کیک ان کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد اپنی بپتا تفصیل کے ساتھ بیان کی۔ انہوں نے فرمایا کہ اتنے معمولی کام کے لئے آپ کو خودچل کر آنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے بعدانہوں نے بل پر 8ہزار کو کاٹ کر 80 روپے لکھا اور دستخط کر دئے ۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور شاداں و فرحاں واپس گھر پہنچ گئے۔ شام کے قریب بیل ہوئی ، باہر نکل کر دیکھا تو سوئی گیس کے محکمے کا لائن مین تھا، کہنے لگا کہ سر آپ کا بل تو کم ہو گیا ہے لیکن میٹر پر ریڈنگ ابھی بھی وہی ہے، صاحب کا حکم ہے کہ اسے بھی ایڈجسٹ کر دیا جائے۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس مرد مومن نے یہ کام بھی بخوبی سر انجام دے دیا۔ اس دن کے بعد سے ہم جب بھی سوئی گیس کے آفس کے باہر سے گزرتے ہیں تودونوں ہاتھوں سے سیلوٹ کرنا نہیں بھولتے۔


لاعلمی ہزار نعمت ہے
بڑے بوڑھے کہتے آئے ہیں کہ فوج میں اچھی کمانڈ کے لئے باخبر رہنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ کمانڈر ہر جگہ خود تو موجود نہیں ہوتا لیکن اسے ہر معاملے کی خبر ہونا لازم ہے۔ کسی بڑے واقعے کے پیش آنے سے پہلے کچھ اشارے مل جائیں تو مناسب حفاظتی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں اور اگر کوئی غلط حرکت وقوع پذیر ہو جائے تو اس کے اصل ذمہ داروں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اب یہ کمانڈر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کرتا ہے ۔
ہم نے جب یونٹ میں آنکھیں کھولیں اور اپنے سے سینیئر افسران کے بیچ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا تو خود کو اس معاملے میں ہمیشہ ایک احساس کمتری کا شکار پایا۔ باقی افسر تو بڑی تفصیل کے ساتھ یونٹ میں پیش آنے والے واقعات کے ماہرانہ تجزئیے بیان کرتے پائے جاتے جبکہ ہمارا یہ حال کہ ہمیں تفصیل تو درکنار سرے سے ان واقعات کا علم ہی نہ ہوتا اور ہونقوں کی مانند بیٹھے ان کے منہ تکا کرتے۔ ہم دل ہی دل میں حیران بھی ہوتے کہ ان بزرگوں کو اتنی خبریں کہاں سے ملتی ہیں ۔ کئی مرتبہ یہ راز جاننے کی کوشش بھی کی لیکن بھلا کوئی اپنی کامیابی کا گر بھی دوسروں سے شیئر کرتا ہے لہٰذا یہ کوشش ہمیشہ بے سود ہی ثابت ہوئی۔


جب اس قسم کی بے کیف زندگی گزارنا مزید دوبھر ہوگیا تو ہم نے سوچا کہ اب کوئی نہ کوئی راہ نکالنی ہی پڑے گی۔ کافی غور و فکر کے بعد ہم نے اپنا ذاتی خفیہ نیٹ ورک تشکیل دینے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ اس کام کے لئے ہم نے اپنی کمپنی کے دو سپاہیوں کو تیار کیا جن کا کام ہمیں اندر کی خبریں مہیا کرنا تھا۔ ان ہرکاروں کو تعینات کر کے ہمیں یک گونہ سکون حاصل ہوا کہ آج کے بعد ہمیں کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا بلکہ ہمیں بھی باخبر اور ہوشیار افسر وں میں گنا جائے گا۔ جیسا ہم نے سوچا تھا ویسا ہی ہوا ۔ہمارے موکل ہمیں وقتاً فوقتاً تمام خبریں مہیا کر دیا کرتے اور ہم اگلے روز افسروں کے درمیان بیٹھ کر ان خبروں کا تجزیہ کرکے داد وصول کرتے۔


کچھ دن اسی طرح گزرے لیکن پھر ہمیں احساس ہونا شروع ہو گیا کہ ہم نے خود اپنے ساتھ کتنی بڑی دشمنی مول لے لی ہے۔ ہمارے کارندے دن دیکھتے نہ رات ،خبریں لے کر پہنچ جاتے اور چھوٹی چھوٹی فضول باتوں پر ہمارا گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ضائع کرتے۔ ان کی فراہم کی گئی خبروں میں شاذ و نادر ہی کوئی کام کی بات ہوا کرتی بلکہ یہ زیادہ تر دوسرے لوگوں کی شکایتوں پر ہی مشتمل ہوا کرتی تھیں۔ ہوتے ہوتے ایک وقت ایسا آگیا کہ ہمیں اپنی یونٹ کے جوانوں میں خرابیوں کے پہاڑ دکھائی دینے لگے۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ہم نے انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ اپنے جاسوسوں کی پہنائی ہوئی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ نتیجتاًہم کسی جوان کو کوئی ذمہ داری سونپنے لگتے تو فوراً اس کی منفی خصوصیات نظروں کے سامنے گھیرا ڈال لیتیں۔ہزار سوچ بچار کے بعد اگر کسی کو کوئی کام دے بھی دیتے تو ہر لمحہ یہی خیال رہتا کہ شاید اس شخص کو کام دے کر کہ ہم سے کوئی بھاری غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ اسی کش مکش میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد بالآخر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ زیادہ معلومات کا حصول فائدہ کے بجائے اُلٹا نقصان کا باعث ہوتا ہے ۔ شاید اسی لئے کسی بڑے بوڑھے نے یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ بے علمی بھی خوش نصیبی ہے
اسی بڑے بوڑھے کی بات پر عمل کرتے ہوئے ہم نے اپنے مخبروں کو فی الفور برخواست کردیا اور دوبارہ کبھی اس چکر میں پڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بعد زندگی میں جو سکون میسر آیا وہ آج تک جاری و ساری ہے۔


پتیلے اور کڑاہیاں
یو این مشن پرپوسٹ ہونے سے پہلے ہمارا خیال تھا کہ کانگو پہنچ کر دن رات راوی کے ساتھ مل کر چین لکھا کریں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر تو گویا چین وین سب اجڑ کر رہ گیا۔ چیف آپریشنزآفیسر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ہم تھے اور دن رات کی دفتری مشقت۔ نئے بریگیڈ کمانڈر پوسٹ ہو کر آئے تو ہمیں ان کے لئے بریفنگ تیار کرنا تھی۔ پرانی بریفنگ نکال کر دیکھی تو اس میں کانگو کی تاریخ کا آغاز 1960 سے کیا گیا تھا۔ ہم نے اپنی ایفیشنسی دکھانے کے لئے سوچا کہ تاریخ ذرا جامع قسم کی ہونی چاہئے لہذا تاریخ کا تذکرہ 1908 سے شروع کیا گیا۔ سلائیڈیں تیار کر کے بریفنگ دینے بیٹھے ، کمانڈر کو کانگو کی تاریخ 1908سے بتانا شروع کی اور چلتے چلتے 2015 تک پہنچے۔ یہ سن کر کمانڈر بولے کہ وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ بتا کہ 1908 سے پہلے یہاں کیا تھا؟ ہمارے فرشتوں کو بھی اس کا جواب معلوم نہیں تھا۔ کمانڈر نے سخت جھاڑ پلائی جو ہم نے اچھے جونئیرز کے طورپر وصول کی اور کہا کہ سر آپ کو چیک کر کے بتائیں گے۔
گوگل سے رجوع کیا تو پتہ چلاکہ یہ تو عین وہی جگہ ہے جہاں پر ڈارون کی تھیوری کے مطابق ہزاروں برس پہلے بندروں نے انسانی شکل اختیار کی تھی۔ اگلے روزہم نے تاریخ کو بیس ہزار قبل مسیح سے شروع کر کے سن 2015 تک پہنچایا تو کمانڈر کہنے لگے کہ یار یہ تو کچھ زیادہ نہیں ہو گیا۔ میرے خیال میں 1960 تک ہی ٹھیک ہے۔ ہم نے وہ سلائیڈیں ڈیلیٹ کرنے کے بجائے ہائیڈ کر دیں تاکہ ہمارے بعد آنے والے افسروں کو کانگو کی ہسٹری تلاش کرنے اورنئے آنے والے کمانڈروں کو مطمئن کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہ آئے۔نئے کمانڈر کے آتے ہی زور و شور سے کام کا آغاز ہوا۔ تمام پرانے سامان کی لسٹیں ترتیب دی گئیں تاکہ اس کی جگہ پاکستان سے نیا سامان منگوا یا جا سکے۔تمام لسٹیں تیار ہو کر آرڈیننس افسر کی وساطت سے پاکستان بھجوا دی گئیں۔


چند دنوں کے بعد جی ایچ کیو سے ایک خط موصول ہوا جس میں ہماری لسٹوں کو اعتراض لگا کر واپس کیا گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جلدی میں ہم سے انجینئرنگ کے سامان کی لسٹ میں پتیلوں اور کڑاہیوں کا اندراج ہو گیا تھا۔
جاری ہے ۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: عبدالستاراعوان

ستمبر1965ء کے معرکہ چھمب جوڑیا ں میں ہمارے جن قومی ہیروز نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اُن دلیر فرزندان وطن میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا بھی ہے غلام مہدی خان شہید کا شمار اُن جانبازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت جرأت ،بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان اس دھرتی پر نچھاور کر دی۔ غلام مہدی خان کا تعلق علاقہ کوٹیڑہ بھٹیاں تلہ گنگ ضلع چکوال سے تھا، والدکا نام احمد خان تھا۔ وہ بچپن ہی سے محنتی اور جفاکش تھے،فوج میں آنے کے بعد فوجی مہارت‘ بہت لگن اور شوق سے سیکھی۔ان کا شمار اپنی یونٹ کے مایہ ناز سپاہیوں میں ہوتا تھا،بڑے خوش مزاج اور بہادر انسان تھے ۔ جس وقت انہوں نے جام شہادت نوش کیا اس وقت پاک آرمی کی آرمڈ کور میں بطور ایکٹنگ لانس دفعدار
(ALD)
خدمات انجام دے رہے تھے ۔ آرمڈ کور میں انہوں نے عسکری اور حربی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا۔شہیدباسکٹ بال کے معروف کھلاڑی تھے ۔

markahechamp.jpg
جس وقت بزدل ہندو دشمن فوج نے رات کی تاریکی میں پاک وطن پر حملہ کیاتو ان دنوں غلام مہدی خان چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے ۔ جنگ شروع ہوتے ہی انہیں اپنی یونٹ سے بلاواآیا اور وہ دیوانہ وار اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھے ۔ جب وہ یونٹ میں پہنچے تو حکم ملا کہ آپ ایک کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ایڈمن ڈیوٹی کریں گے اور محاذ پر نہیں جائیں گے ۔ غلام مہدی خان (شہید) نے اپنی فطری بہادری اور جرأت کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم پرآنے والی اس کڑی آزمائش میں دشمن کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑیں گے اور اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کر تے ہیں ۔ ان کی ذاتی خواہش اور بھرپور اصرار پر ایک خصوصی اجازت نامے کے تحت انہیں چھمب جوڑیاں سیکٹر بھیج دیا گیا ۔


شہید کے پوتے کیپٹن عاقب شہزاد بھٹی بتارہے تھے کہ جب میری دادی اماں ان کی جرأت مندانہ داستان سناتیں تو کانپ سی جاتی تھیں، وہ بیان کرتیں کہ جنگ چھڑی تو آپ کے دادا کو اس میں شمولیت کا از حد شوق تھا اور جب انہیں محاذ پر جانے کی اجازت ملی تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے تھے ۔ وہ اس لئے خوش تھے کہ ان کا وہ دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہونے والا تھا جس کے لئے انہوں نے آرمی جوائن کی تھی۔غلام مہدی شہید کے قریبی دوست زور خان کہتے ہیں کہ جب وہ محاذِ جنگ پر جانے لگے تو ان سے آخری ملاقات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اب جنگ کے بعد ملاقات ہوگی ۔ میری یہ بات انہیں ناگوار گزری اور بڑے جذبے سے کہنے لگے کہ آپ یہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہو جاؤں۔معرکہ چھمب جوڑیاں میں اُن کا حوصلہ اور عزم نہایت بلند رہا اور دشمن کی گولہ باری اور شیلنگ کی پروا نہ کرتے ہوئے انہوں نے اس محاذ پر بڑی ثابت قدمی دکھائی ۔
غلام مہدی اپنے ٹینک پر سوار جنگ میں حصہ لے رہے تھے کہ ایک اینٹی ٹینک مائین مارٹر نے ان کے ٹینک کو نشانہ بنایا جس سے اس کی چین ٹوٹ گئی ۔ غلام مہدی اور ان کے ساتھیوں نے ٹینک سے نیچے اتر کر آڑ ڈھونڈنے کی کوشش کی تاکہ دشمن کے خلاف ہلکے ہتھیاروں سے لڑا جا سکے ۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک اوٹ میں ہو گئے جب کہ ان کا ایک ساتھی ٹینک سے اترتے ہی شدید زخمی ہو گیا ۔ غلام مہد ی خان اپنے اس زخمی سپاہی کو یوں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے‘ چنانچہ وہ ایک بار پھر آگے بڑھے ، برستی گولیوں میں اس کے پاس پہنچے اور اسے سہارا دے کر تیزی کے ساتھ اپنے مورچے کی جانب پلٹے اور اسے محفوظ جگہ پر پہنچایا ۔ اسی اثنا میں ایک سنسناتی گولی آئی جوانہیں شدید زخمی کر گئی جس کے نتیجے میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔


اے ایل ڈی غلام مہدی خان شہید نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ساتھی کی جان بچائی تھی اس غیر معمولی بہادری اور دلیری کی بنا پرانہیں تمغہ جرأت عطا کیا گیا ۔ شہید کے پوتے کیپٹن عاقب شہزاد بھٹی بتاتے ہیں کہ میرے داداغلام مہدی خان شہید کا یہ میڈل میرے لئے ایک بہت بڑی تحریک کاباعث بنا ہے ، میں اپنے دادا کے کارہائے نمایاں سے متاثر ہو کر فوج میں شامل ہوا ہوں اورمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس دھرتی کے تحفظ کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مَقامِ اقبالؒ

صاحبِ عرفاں‘ خودی کا رازداں اقبال تھا
جذبۂ عشق و جنوں کا ترجماں اقبال تھا
مردِ مومن‘ خیر خواہِ ملتِ اسلامیہ
علم و آگاہی کا بحرِ بے کراں اقبال تھا
جس کے ہر اِک لفظ میں غلطاں ہے پیغامِ حیات
عظمتِ اسلاف کی وہ داستاں اقبال تھا
اُس متاعِ شوق سے محروم کیوں سینے ہیں آج
رات دن جس کے لئے گرمِ فغاں اقبال تھا
صاحبِ فکر و نظر‘ شیریں سخن‘ شعلہ بیاں
آبروئے شاعری کا پاسباں اقبال تھا
اس کی دولت حُبِّ شاہِ انبیاء تھی اے جلالؔ
آشنائے روحِ اسرارِ نہاں اقبال تھا
ڈاکٹر سید قاسم جلال

*****

 
10
May

تحریر: جبار مرزا

مشیت الرحمن ملک تمغۂ قائداعظم کے ذکر سے پہلے مجھے جوان دنوں کا اپنا ہی قول یاد آ گیا کہ ’’مر جانا کوئی بڑی بات نہیں زندہ رہنا کمال ہے۔‘‘ بعض لوگ کبھی نہیں مرتے۔ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔


کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا سکھا رہے تھے، پن نکالی ہی تھی کہ بم کیپٹن مشیت الرحمن کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا۔ سی ایم ایچ ملتان میں ان کی بیگم عصمت، جو ان کی پھوپھی زاد بھی تھیں، جن سے 1960میں جھنگ میں شادی ہوئی اور دونوں کی ثمر نامی بیٹی بھی تھی، کی اجازت سے کیپٹن مشیت کی زندگی بچانے کے لئے ان کے دونوں بازو کاٹ دیئے گئے ۔ کٹے ہوئے بازو اور آنکھوں پر بندھی پٹی کے ساتھ کیپٹن ملک کو راولپنڈی سی ایم ایچ شفٹ کر دیا گیا۔ جب پٹی کھلی تو کیپٹن مشیت پر کھلاکہ وہ آنکھوں جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ کسی بھی انسان کے لئے کس قدر کربناک لمحات ہیں جب اسے پتہ ہو کہ وہ آدھے سے زیادہ کٹ چکا ہے اور بچا ہوا جسم اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے، جو دن اور رات میں امتیاز کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے کہ اﷲ پاک کسی شخص کو بھی اس کی برداشت سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتے۔
کیپٹن مشیت الرحمن ملک ایک حوصلہ مند جوان اور روائتی فوجی تھے جن کا مقصد ہی خطرات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ناموس وطن اور دھرتی کی حفاظت کے لئے دشمن کے خلاف مورچوں میں اترے ہوتے ہیں۔ کیپٹن مشیت الرحمن کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ وہ فوج کے چھوٹے مورچے سے نکل کر زندگی کے بڑے محاذ پر اولوالعزم شخصیت کا روپ دھار چکے تھے۔ ہرے زخم جب بھر گئے تو ایک آنکھ میں روشنی کی واپسی کی امید پیدا ہوئی۔ آئی سپیشلسٹ بریگیڈیئر پیرزادہ نے کیپٹن مشیت لرحمن کی برطانیہ روانگی کا اہتمام کیا۔ فوج اپنے غازیوں اور شہیدوں کو بہت عزیز رکھتی ہے۔ قرنیہ لگا دیا گیا۔ رتی برابر دکھائی دینے لگ گیا جب دروبام چمک اٹھتے تو وہ جان جاتے کہ صبح ہو گئی ہے اور بقول فیض صاحب زندگی کا زندان تاریک ہوتا تو وہ سمجھ جایا کرتے کہ اب میرے وطن کی مانگ ستاروں سے بھر گئی ہے۔

zindagiebadta.jpg
کیپٹن مشیت الرحمن ملک برطانیہ سے پلٹے تو مصنوعی بازو لگے ہوئے تھے۔ فوج نے جھنگ میں ایک کنال کا رہائشی پلاٹ الاٹ کیا تو انہوں نے وہ پلاٹ اپنی بیگم عصمت کے نام کر دیا۔ اسی عرصے میں بیٹے حمیت الرحمن کی ولادت ہوئی۔ کیپٹن مشیت کی بیگم عصمت ڈاکٹر تھیں۔ جن سے بعدازاں اُن کی علیٰحدگی ہوگئی۔ بہرکیف کیپٹن مشیت نے معاشتی طور پر خود کو سنبھالا دینے کی بہت کوششیں کیں۔ فوج کی طرف سے معقول پنشن ملنے کے باوجود دیگر ضروریات سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف کاروبار کرنے کی کوشش کی‘ پرنٹنگ پریس لگائی کیونکہ فوج میں کمشن حاصل کرنے سے پہلے مشیت الرحمن فیصل آباد کے روزنامہ’سعادت وغریب‘ اور ’عوام‘ کے ساتھ وابستہ رہ چکے تھے۔ جہاں وہ لائیلپور کی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اس تمام مہارت تجربے اور صحافتی جان پہچان کے باوجود وہ پرنٹنگ پریس بھی نہ چلا سکے۔ فوج میں جانے سے پہلے وہ لاہور باٹاپور شو کمپنی میں ملازمت بھی کرتے رہے۔ یعنی زندگی کی ساری دھوپ چھاؤں سے گزرے مگر کوئی بھی کام وہ پورا نہ کر پائے۔ آخرکار 1965میں انہوں نے فیصل آباد میں اپنے گھر کے گیراج میں ہی نابیناؤں کے لئے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کا نام پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ رکھا۔ اس کی بنیاد رکھنے میں کراچی کی ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے بہت ساتھ دیا۔ فاطمہ شاہ جو1916 میں بھیرہ میں پیدا ہوئی تھیں، میڈیکل ڈاکٹر تھیں۔ 1948میں اپوا کی سیکرٹری ہیلتھ رہیں۔ 1956میں ان کی بینائی یک دم ختم ہو گئی تھی۔ انہوں نے 1960میں پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ قائم کی اور اس کی بانی ہونے کے ساتھ ساتھ 19سال تک اس کی صدر رہیں۔ سکولوں کالجوں میں بریل
(Braille)
کواضافی مضمون کی طرح پڑھنے کا انتظام کروایا۔ 1974میں پیرس اور برلن میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف بلائنڈ کی صدر منتخب ہوئیں۔ الغرض ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے کیپٹن مشیت الرحمن کا بہت ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ کیپٹن مشیت الرحمن جن کی زندگی میں اندھیروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا، وہ فاطمہ شاہ کی حوصلہ افزائی سے پھر سے توانا ہو گئے اور 1965میں گیراج میں شروع کئے گئے پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ سرگودھا ڈویژن کے بعد 1967 میں فیصل آباد کی جناح کالونی میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر نابیناؤں کے لئے کرسیاں بنائی کی تربیت شروع کر دی۔ یوں کیپٹن مشیت الرحمن دن بھر بازاروں اور گلیوں میں بھیک مانگتے نابینوں کو اکٹھا کرتے اور انہیں مختلف ہنر سکھاتے اور معاشرے میں باعزت زندگی اور محنت میں عظمت کی تحریک دینے لگ گئے۔ کیپٹن ملک نے اپنا ادارہ رجسٹر بھی کروا لیا تھا پھر 1970 میں باقاعدہ تعلیمی شعبے کا آغاز کر دیا گیا۔ نابینا بچوں اور بالغوں کے لئے بریل کے ذریعے تعلیم کا حصول ممکن بنایا۔ 1971 میں مقامی لائنز کلب کی مدد سے صوتی کتب
(Electronic Books)
کی لائبریری قائم کی جس میں پہلی نابینا بچی کا داخلہ ہوا۔ پھر فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج اور دیگر سکولوں میں مربوط تعلیم پروگرام شروع کیا۔ 1977میں محکمہ اوقاف نے گورونانک پورہ چک نمبر 279نادر خان والی میں ایک گرودوارے کی عمارت کیپٹن مشیت الرحمن کے حوالے کر دی۔ جہاں جناح کالونی والا ایک کرائے کا کمرہ چھوڑ کر وہ اپنا ادارہ گرودوارے میں لے گئے اور اس کا نام اتحاد مرکز نابینا رکھا جو بعد میں المینار مرکز نابینا ہو گیا۔


جنرل ضیا الحق 1978 میں فیصل آباد گئے تو کیپٹن مشیت الرحمن کی محنت اور نابیناؤں کی زندگی سنوارنے کے عمل سے بہت متاثر ہوئے اور فیصل آبادمیں ادارے کے لئے کوئی مناسب جگہ دینے کا حکم دیا۔ یوں پھر فیصل آباد کے اقبال سٹیڈیم کے نزدیک 1979 میں کیپٹن مشیت الرحمن کچھ اراضی اور ادارے کی تعمیر کے لئے رقم بھی دی گئی۔ علاقے کے مخیر لوگوں نے بھی ادارے سے مالی تعاون کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم کا علیحدہ شعبہ اور قیام کے لئے گرلز ہاسٹل بھی تعمیر کیا گیا۔ نابیناؤں کو پہلے میٹرک تک باقاعدہ تعلیم و تربیت اور ہنر سکھانے کا آغاز ہوا۔ مقامی طلباء کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی ادارے نے دینا شروع کر دی اور دوسرے شہروں کے طلباء و طالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ ہاسٹل بنائے گئے۔ ادارے کا نظام ایک بورڈ کے سپرد کیا گیا۔


کیپٹن مشیت الرحمن نے نہ صرف نابیناؤں کو ہنر اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ بے روزگار نابیناؤں کو سرکاری ملازمتیں بھی دلوائیں ۔ بعضوں کی آپس میں شادیوں کا بندوبست اور ان کی اگلی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے بھی اقدامات کئے۔ کیپٹن مشیت الرحمن جنہیں نصف درجن سے زیادہ زبانوں پر عبور حاصل تھا، جو کئی مذاہب اور ثقافتوں کا مطالعہ بھی کر چکے تھے۔ ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ پہلی نظر میں انہیں دیکھ کر گوشت پوست کا معذور سا شخص سمجھ کر ہر کوئی اپنے تئیں ترس کھانے لگتالیکن جب ان سے گفتگو کرتا اوران کے عزائم سے آگاہی پاتا تو ترس کھانے والا شخص عقیدت سے ان کے ہاتھ چوم کر رخصت ہوتا۔


8جون 1974 کو کیپٹن مشیت نے خالدہ بانو سے دوسری شادی کرلی۔ انہوں نے شادی کے بعد اپنی اہلیہ کو ایم اے اردو اور بی ایڈبھی کروایا۔
ان کے دو بیٹے ہیں۔ ودیعت الرحمن بیٹا اور سحر مشیت بیٹی ہے جو اسلام آباد میں بحریہ کالج میں گونگے بہروں کو پڑھاتی ہیں وہ شاعر ادیب اور معروف قانون دان رائے اظہر تمغۂ شجاعت کی شریک سفر ہیں۔


خالدہ بانونے شادی کے بعد جہاں کیپٹن مشیت کی دیکھ بھال کی ان کے اداروں کا انتظامی کنڑول سنبھالا، اپنی تعلیم مکمل کی وہاں ایران، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ ملکوں ملکوں کیپٹن مشیت کے ساتھ بین الاقوامی نابیناؤں کی کانفرنسز اور خصوصی اجلاسوں میں شریک بھی ہوئیں اور فروری 1977میں کیپٹن مشیت کے ہمراہ شاہ فیصل سے بھی ملیں۔ آٹھ غیرملکی دوروں کی طویل کہانی، کامیابیاں اور کارنامے اور بھی طولانی ہیں۔ کیپٹن مشیت نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ ’’انسانی آنکھیں‘‘ یہ آنکھوں کی ابتدائی بیماریوں اور مسائل سے لے کر نابیناپن اور بصارت کی بحالی تک محیط ہے اور مستند مانی جاتی ہے۔ خالدہ بانو دو کتابوں کی مصنفہ ہیں ایک ان کی سوانح ہے’ سفر حیات‘ اور دوسری اس طویل اور ضخیم کتاب کی تلخیص ہے۔ کیپٹن مشیت الرحمن ملک صدارتی تمغۂ قائداعظم پانے والے معذور ہوتے ہوئے بھی بھرپور زندگی گزارنے اور اپنے مشن کی تکمیل کے بعد 20نومبر2011 کو اکیاسی برس کی عمر میں رحلت فرماگئے اور فیصل آباد کے محمد پورہ والے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نعت

آقاؐ میری بس اتنی تمنا قبول ہو
مجھ پہ تیری نگاہِ کرم کا نزول ہو
دیکھوں میں جس طرف نظر آئے تُو مجھے
عشقِ نبیؐ کا لازم یہ مجھ پر اصول ہو
آلِ رسولِؐ پاک کا ہوجائے یوں کرم
بخشش میری جو ہو تو وصیلہ بتول ہو
ہو جائے یوں علاج میرا اے شافیِ اُمم
خاکِ شفا میری تیرے قدموں کی دھول ہو
گرمجھ سے طلب ہو اِ ک نذرانہ حضورؐ کو
ہاتھوں میں میرے گلشنِ زہرہ کا پھول ہو
حاصل میری وفاؤں کا اے کاتبِ تقدیر
لکھ دے مِرا نصیب میں خدا کا رسولؐ ہو
مسکن میرا ہو گنبدِ خضریٰ کے آس پاس
پیشِ نظر پھر میرے سجدوں کا طول ہو
وقعت کہاں ہے مجھ میں کہ مدحت کروں تری
بخش دیجئے گا مجھ سے سرزد جو بھول ہو
اِ ک نعتِ رسولِ کبریاؐ میری پہچان ہے عتیقؔ
رحمتوں کا کیوں نہ میرے سخن میں شمول ہو
میجر عتیق الرحمن

*****

 
10
May

تحریر: حجاب حبیب جالب

مئی، یا مزدوروں کا عالمی دن، ہم کیوں مناتے ہیں؟ صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کی زندگی بہت مشکل تھی اور ان سے ایک دن میں 16,16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدورکے ذمہ ہوتے۔ ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ مزدور کے زخمی ہونے کی صور ت میں اس کا علاج کروایا جاتا، مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدید پرتھا۔ وہ جس کو چاہتا ملازمت پر رکھتا جس کو چاہتا ملازمت سے ہٹا دیتا۔ ہفتے میں ساتوں دن ہی کام کرنا پڑتا چھٹی کا کوئی تصور ہی نہ تھا ان تمام مسائل کے حل کے لئے امریکہ اور یورپ میں مزدوروں نے مختلف تحریکیں چلائیں۔ سن 1884 ء میں فیڈریشن آف آرگنائز ڈ اینڈ لیبر یونینز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔ قراداد میں کچھ مطالبے رکھے گئے۔ جن میں سب سے اہم مطالبہ تھا کہ مزدوروں کے اوقات کاروں کو 16گھنٹو ں سے کم کرکے 8گھنٹے کیا جائے۔ مزدوروں کا کہنا تھا کہ آٹھ گھنٹے کام کے لئے آٹھ گھنٹے آرام کے لئے اور آٹھ گھنٹے ہماری مرضی کے۔ یہ مطالبہ یکم مئی سے لاگوکرنے کی تجویز پیش کی گئی لیکن اس مطالبے کوتمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی کو ہی ہڑتال کا علان کیا گیا اور جب تک مطالبا ت نہ مانے جاتے یہ تحریک جاری رہتی۔ 16,16گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں آٹھ گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا اسی وجہ سے اپریل 1886تک اڑھائی لاکھ سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے اس تحریک کا آغاز امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوا۔ ہڑتال سے نمٹنے کے لئے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعدا د شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے فراہم کیا تھا۔ تحریک کا آغاز یکم مئی سے ہو گیا پہلے دن ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی 2مئی کو بھی ہڑتا ل بہت کامیاب اور پُر امن رہی لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پُر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے چار مزدور ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے خلاف تحر یک کے منتظمین نے اگلے ہی روز چار مئی کو احتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ پُر امن جلسہ جاری تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کر کے بہت سے مزدور ہلاک و زخمی کر دئیے پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں اس حملے کو بہانہ بنا کر پولیس نے گھر گھر چھاپے مارے اور بائیں بازوں اور مزدور راہنماؤں کو گرفتا ر کر لیا۔ ایک جعلی مقدمے میں 8مزدور راہنماؤں کو سزائے موت دے دی گئی۔

worldlabourd.jpg
البرٹ یارس، آگسٹ سپائز ،ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11نومبر 1887 کو پھانسی دے دی گئی لوئس لنگ نے جیل میں خود کشی کر لی اور باقی تینوں کو 1893میں معافی دے کر رہاکر دیا گیا۔ مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا۔ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا کہ ’’ مئی 1886کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہو ں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہوئی ہے۔‘‘
البرٹ پارسن نے کہا ’’دنیا کے غریبوں کو چاہئے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو ان کی غربت کے ذمہ دار ہیںیعنی سرمایہ دار طبقہ‘‘جب مزدوروں پر فائرنگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپنا سفید جھنڈا ایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کر کے ہوا میں لہرا دیا۔ اس کے بعد مزدور تحریک کا جھنڈ اہمیشہ سرخ رہا۔سن 1889ء میں ریمنڈلیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔ اس کے بعد سوائے امریکہ ، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کے‘ یہ دن عالمی یوم مزدور کے طور پر منایا جانے لگا۔


جنوبی افریقہ میں بھی غالباً نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی منایا جانے لگا۔ مزدور طبقے اور دیگر استحصال زدہ طبقات کی حکومت لینن کی سربراہی میں اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم ہوئی اس کے بعد مزدور طبقے انقلابی سرخ پرچم لہرائیں گے۔


ماضی کی اس کامیاب جدوجہد کے باعث فیکٹری اور مل کے ملازمین کو کسی حد تک تحفظات مل گئے لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے۔ جو صبح مزدوری کرتا ہے اور رات کو اس کا چولہا جلتا ہے کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ چھٹی کے ساتھ ہی اس کے گھر میں فاقے کی آمد ہوتی ہے۔ ایسے مزدوروں کی زندگی میں یکم مئی کی کیا اہمیت ہو گی ؟ یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یومِ مئی صرف اس حادثے کی یاد منانے کا نام نہیں جس میں بہت سے مزدور مارے گئے۔ بلکہ یہ ایک
Resolve
ہے کہ مزدور کی زندگی کو ایک آرام دہ انسانی زندگی کے لیول پر لانے کی جدوجہد کامیابی تک جاری رہے گی۔


اگر ہم اپنے ملکِ عزیز پاکستان کی صورتِ حال کا جائزہ لیں توایک عام مزدور کی زندگی کافی مشکلات کی شکار نظر آئے گی۔ ہمارے ملک میں آبادی کی زیادتی‘ فنی تعلیم کی کمی‘ صنعتی ترقی کے کم مواقع اور معاشی بدحالی کی وجہ سے بے روزگاری عام ہے۔ مزدوروں کی فراوانی ، سپلائی اور ڈیمانڈ کے اصول کے مطابق
(Laissez Faire)
مارکیٹ میں مزدور کی اُجرت کو کم کرنے کا باعث بنتی ہے۔ گورنمنٹ اپنے تئیں مزدور کی کم سے کم یومیہ اورماہانہ اُجرت مقرر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر اُس پر عمل درآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کو چاہئے کہ نہ صرف مجموعی طور پر معاشی حالت کو بہتر بنائے اور بے روزگاری کا خاتمہ کرے بلکہ کم سے کم اُجرت کی حد کو مزید بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو یقینی بھی بنائے۔ ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی تشدد اور دہشت پسندی کا شکار ہے اُس میں انتہائی غربت جلتی پر تیل کاکام دیتی ہے۔ بھوک کے ہاتھوں انفرادی یا پورے خاندان کی خودکشی کے واقعات تمام سماج کے منہ پر دھبہ ہیں۔ یہ انسانیت کی تذلیل ہے جس کی اجازت نہ مذہب دیتا ہے نہ عام اخلاقیات۔ بلاشبہ پاکستان تبھی ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے گا جب اس میں بسنے والے غریب اور مزدور بھی عزت کی زندگی گزارنے کے ذرائع کے مالک ہوں گے۔


حکومت کی جانب سے کم سے کم اُجرت مقررکرنے کے علاوہ مزدوروں کے لئے صحت‘ تعلیم اور سماجی انصاف کے حصول کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم سب کی ترجیح ایک بہترین سماج کی تشکیل ہو۔ عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مزدور کی شان میں یکم مئی کے دن قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ تاہم ہمارا معاشرہ اب غربت اور پَُرتشدد انتہاپسندی کے امتزاج کا شکار نظرآتا ہے جو یقیناً ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت غربت کے خاتمے اور مزدور کی بہتری کے لئے ایک دور رس جامع پالیسی کا اعلان کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: شاہد نسیم

ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ہربار ہمیشہ ہر بلند آواز یا ہر نئی کوشش کو’ اپنے‘ اسلام کے لئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں جن کے خیال میں بین المذاہب ہم آہنگی یا مکالمہ ایک ایسی شاطرانہ اختراع یا ایک ایسا نیا دین گھڑنے کی بھونڈی سی کوشش ہے۔ جس کا شریعت میں کوئی بھی تصور موجود نہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کی پُرفریب اصطلاح سے نہ تو کوئی سے دو مذاہب کے درمیان معاہدہ مراد ہے، نہ مناظرہ، نہ مباہلہ، نہ دعوت و تبلیغ بلکہ مکالمے یا ہم آہنگی کا کھیل سوائے ایک نئے فتنے کے اور کچھ نہیں ۔ ہادی برحق محمدﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ میری اُمت میں مسلمانوں کے اندر ایک گروہ ہو گا، جو عیسائیوں سے دوستی کرنے کے جنون میں اُن کے کے نقش قدم پر چلنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرے گا اور آج ہم اُس گروہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے عیسائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود دیکھ رہے ہیں۔


اور دوسرے‘ ہم میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے خیال کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کا مطلب کبھی بھی ایمان لانا یا یہودو نصاریٰ کے ساتھ ہر اختلاف کا خاتمہ کر کے دوستی کرلینا نہیں ہوتابلکہ ہم آہنگی کے فروغ کی کوششوں کا مطلب اختلاف کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھنا ہوتاہے اور ایک د وسرے کو جاننے اور سمجھنے کے بعد مل جل کر رہنے کی کسی سبیل پر اتفاق رائے کرنا ہوتاہے او ر خاص طور پر آ ج جب ہماری بہت بڑی دنیا ، بہت چھوٹی دنیا میں سکڑ چکی ہے، اب اس چھوٹے سے گلوبل ویلج میں بین المذاہب ہم آہنگی بنائے رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے ہر سطح پر مکالمہ کرنا تمام انسانوں اور تمام مذاہب کی ضرورت بن چکی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب ہماری دنیا بہت تیزی کے ساتھ صرف دو بلاک مسلم ورلڈ اور نان مسلم ورلڈ میں تقسیم ہوتی دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ سے مسلم بلاک کے حق میں توازنِ طاقت تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی صورتحال اس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے کہ کوئی ایک واقعہ باقی تمام دنیا کو مسلم دنیا کے مخالف لا کر کھڑا کر سکتا ہے اور مسلم ورلڈ کے لئے ایک ایسے ناقابلِ تلافی نقصان کی وجہ بن سکتا ہے، جسے پاٹنے میں ہماری آنے والی نسلوں کی صدیاں لگ سکتی ہیں۔کیا یہ سب آنکھوں کے سامنے موجود تلخ حقیقتیں ہم سے یہی تقاضہ نہیں کرتیں کہ اِس صورتحال سے نکلنے کے لئے سوچنا، سمجھنا اور پھر ایک روڈ میپ تیار کرنا سب سے پہلے ہم مسلمانوں کی ہی ضرورت ہے؟؟


اور تیسرے ‘ہم میں وہ لوگ ہیں، جن کے خیال کے مطابق یہ صرف ایک موضوع ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے لئے ایک بڑا چیلنج بھی ہے انہوں نے جہاں ایک طرف اپنے روشن دلائل سے اُن حجتوں، مکروں اور نفرتوں سے بھرے لوگوں کو بھی لاجواب کرنا ہے ، جو قرآن و سنت پرعمل پیرا ہونے کے بجائے اپنے صدیوں پرانے بزرگوں کی فکر سے آگے پیچھے نکل کر کچھ بھی دیکھنے، سوچنے پر تیار نہیں ہوتے اور ہر بلند آواز یا کوشش کو ’اپنے‘اسلام کے لئے خطرہ سمجھ کر شور مچا دیتے ہیں، گھات لگا لیتے ہیں، مرنے یا مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے اہلِ کتاب کو اپنے مقام پر اور ہم سے صرف اولادِ آدم کا رشتہ رکھنے والے باقی تمام انسانوں کو اپنے مقام پر اُن ادھورے سوالات کے بھی جواب دینے ہیں، جن کے جواب پانے کے لئے جدید دور کی انسانیت تڑپ رہی ہے، سسک رہی ہے کیونکہ جدید دور کی ترقیاں زندگی، موت اور پھر زندگی کے تصور سے تعلق رکھنے والے بنیادی سوالات کو آسان کرنے کے بجائے مشکل کرتی جا رہی ہیں اور یہ چیلنج تنگ دائروں میں قیدکوئی مسلمان کبھی قبول نہیں کر سکتا، اِس چیلنج کو تو وہی مسلمان قبول کر سکتا ہے ، جو ربُّ العالمین کا بندہ اور رحمت اللعالمین ﷺکا اُمتی بن کر دیکھ، سوچ اور محسوس کر تے ہوئے پوری انسانیت کو اسلامی تعلیمات کی آغوش میں لانے کی فکر کرے۔


جس اُمت نے باقی انسانوں کے معاملات دستور کے مطابق طے کرانے تھے، وہ آپس میں ہی ہر ہم آہنگی اور مکالمے کی نعمت سے محروم ہو کر بیٹھ گئی اور ایک دوسرے کو ہی کافر، بدعتی یا مُرتد ثابت کرنے کے لائق رہ گئی اور یہ بھی بین المذاہب ہم آہنگی سے دوری ہی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے جس اُمت کو تمام انبیاء اور تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا پابند کیا جا رہا ہے، وہ اُمت تفرقہ بازی میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کے فرقوں کی مقدس ہستیوں کا نام احترام سے لینے کی صلاحیت سے محروم ہو کر رہ گئی۔ خود ہادی برحق محمد مصطفیؐ کی سیرت مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہے کہ وہ اگر اپنی گفتگو میں پانچ مرتبہ یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے تھے تو اُس میں سے تین مرتبہ ان کو اہلِ کتاب کہہ کر مُخاطب کرتے تھے حالانکہ اُس دور میں یہی یہودو نصاری خانہ کعبہ میں بت رکھ کراُن کی پوجا کیا کرتے تھے، بالکل برہنہ ہو کر اُن کے سامنے ناچا کرتے تھے اور کائنات کے سب سے پاک لوگوں کی جماعت پر ظلم و ستم کی انتہا کر دیا کرتے تھے لیکن ان تمام مظالم اورزیادتیوں کے باوجود امن، فلاح و سلامتی کے پیغمبر نے کبھی اگر ان کو مشرک، کافر یا یہود و نصاریٰ کہا تو اِس سے زیادہ مرتبہ اہلِ کتاب کہہ کر بھی مُخاطب کیا تا کہ ہم آہنگی بھی بنی رہے۔اور خاص طور پر اُس مکالمے کی گنجائش بھی باقی رہے ، جس میں مسلمان باقی تمام مذاہب کے لوگوں کا دھیان اُس ’’ایک اللہ‘‘ کی طرف دلاتا ہے جو علم و حکمت سے لبریز رب انسانوں سے صرف کتاب کے ذریعے ہی بات کرنے کا عادی ہے۔ کاش آج کا مسلمان تصور کرے کہ ہمارے نبیﷺ جو کہ قرآن کی عملی تفسیر ہیں مکہ میں کھڑے ہو کر اہلِ کتاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں : اے اہلِ کتاب آؤ اُس کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں، کسی شے کو اس کا شریک قرار نہ دیں اور نہ ہم میں سے کوئی اللہ کے بجائے دوسرے کا پیدا کرنے والا بننے کی کوشش کرے۔


یہ وہ پکارِنبوت تھی، جس نے دنیا کی ہر باطل قوت کو لرزا کر رکھ دیا تھا ،یہ ہم سب کے جان سے پیارے نبیﷺ کا اندازِ گفتگو تھا، جس کا تجربہ اللہ کی کتابیں تھام کر گھومنے والوں کو کبھی نہ ہوا تھا۔پھر اس پاک کام کی مخالفت کرنے والوں کے خیال میں ہمارے نبی ﷺ کی یہ پکار، یہ اندازِ گفتگو اور یہ دعوتِ ہم آہنگی اور مکالمے کی ابتدا نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ کاش ہمارے علماء حق اور بزرگانِ دین نے بروقت اِن ضد، نفرت سے بھرے’’ علماءِ سُو‘‘ کو بھی اللہ اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق یہود و نصاریٰ کو پانچ میں سے تین مرتبہ اہلِ کتاب کہنے پر مجبورکیا ہوتا تو ہم مسلمان کبھی بھی آپس میں ایک دوسرے کو مُرتد، منافق، بدعتی یا لبرل فاشسٹ ثابت کر کے ایک دوسرے کے قتل خود پر حلال کرنے کا سوچ بھی نہ سکتے لیکن افسوس جس اسلوبِ گفتگو کو ہم اہلِ الکتاب کے مقام پر باقی نہ رکھ سکے، اُس کو آگے چل کر ہم آپس میں اپنے اختلافات میں بھی قائم نہ رکھ سکے اور القرآن کے ذریعے انسانوں کو اندھیرے سے نور کی طرف نکالنے والی اُمت، خود ہی گھپ اندھیروں میں بھٹکتی آنکھوں کے سامنے ہے اور و جہ یہی تفرقہ بازی، جس نے ہمیں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں اتنا مصروف کر دیا کہ ہم باقی دوسرے فرائض سے غافل ہوتے چلے گئے ، جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرے کے کئی علمی و فکری شعبوں میں زوال کی طرح بین المذاہب مکالمہ بھی تحقیق و جستجو سے محروم رہا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے تحقیق کی جگہ اندھی تقلید کرنے والوں نے لی اور پھر اندھی تقلید کرنے والوں کی جگہ دین میں زبردستی کرنے والوں نے لے لی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِس معاملے میں آزادی عطا کی ہے کہ وہ جو چاہے ، دین اختیار کرے، اپنی پسند کا دین اپنانے کا اختیار دینا اسلامی تعلیمات کا وہ منفردضابطہ ہے جو ایک طرف انسانوں کو خوب اچھی طرح سوچنے، سمجھنے اور پھر فیصلہ کرنے کا بھی حق دیتا ہے اور دوسری طرف انسانوں کو اُس اللہ کا تعارف بھی دیتا ہے، جس لائق تعریف رب نے اگر دین میں زبردستی کرنی ہوتی تو وہ ابھی سارے انسانوں کو ایمان بخش دے بلکہ انسان پیدا ہی باقی مخلوقات کی طرح ایک مخصوص سوچ کے ساتھ ہوں اور اُس کے علاوہ نہ کچھ کر سکیں اور نہ کچھ سوچ سکیں لیکن اللہ تو چاہتا ہے کہ انسان خود سوچ، سمجھ کر اپنے شوق سے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف آئیں اور دین میں پورے کے پورے داخل ہونے کے لئے آئیں تاکہ طریقوں سے شروع ہو کر طریقوں پر ختم ہو جانے والی نماز نہیں بلکہ وہ نماز قائم کریں جو نمازی کو ذہنوں میں چھپی فحاشی سے بھی اور دل میں چھپے منکر سے بھی باز رکھتی ہے اور روزے بھی وہ رکھنے آئیں جو باقی اُمتوں کی طرح صرف مخصوص وقت سے مخصوص وقت تک بھوکے، پیاسے رہنے کا نام نہ ہوں بلکہ تقویٰ میں اضافے کا سبب بھی بنتے ہوں اور کسی اندھی تقلید کرنے والے یا زبردستی دین میں آنے والا بھلا یہ تمام پاک کام کیسے کر سکتا ہے، اُسے کوئی بھی کیسے زبردستی ان کاموں پر مجبور کر سکتا ہے ؟ اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے مقدس اور پاک کام کی مخالفت کرنے والا دوسرا طبقہ وہ ہے، جس نے اِقامتِ دین سے مراد دنیا سے تمام ادیان کا خاتمہ لے لیا ہے اور ساری انسانیت کو مسلمان بنانا اور دنیا سے غیر مسلموں کا خاتمہ سمجھ لیا ہے یہی تصور ان کی گمراہی کا باعث بن گیا ہے ۔ یہ تصور دین فطرت کے بھی خلاف ہے اور اللہ کے احکامات سے بھی روگردانی ہے۔

naseemshahid7@gmailcom
 
10
May

تحریر: یاسرپیرزادہ

بلاشبہ یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ پچیس برس قبل لاہورمیں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ سرکاری نہیں ہے۔ اس لئے اس کا معیار آج بھی قائم ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر (موجودہ نہیں) جو اس وقت پچیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے تھے کے خلاف خاکروب حضرات نے ہڑتال کر دی۔ یہ خاکروب اپنے حالات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ یعنی وہ دن میں بارہ بارہ گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے پر مجبور تھے۔ ان کی ملازمت کے کنٹریکٹ میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یعنی ایسا نہیں تھا کہ انہیں سال میں مخصوص تعداد میں تنخواہ سمیت چھٹیاں کرنے کی اجازت ہو۔ یہ ان کے سپروائزر کی صوابدید تھی کہ اگر وہ چاہے تو انہیں کام سے ایک آدھ دن رخصت دے اس سے زیادہ کی صورت میں تنخواہ کی کٹوتی اور پھر ’’مکمل چھٹی‘‘ یونیورسٹی کے دیگر سٹاف کے برعکس انہیں ہفتے کے روز بھی چھٹی کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ کسی قسم کی علاج معالجے کی سہولت یا بچوں کے تعلیمی اخراجات کی مد میں ا نہیں کوئی الاؤنس، بیمہ یا فنڈ نہیں دیا جاتا تھا۔ دس ہزار روپے میں زندگی گزارنا ان کی ذمہ داری تھی۔ ان حالات میں جب ہڑتال ہوئی تو پچیس لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے وی سی صاحب نے موقف اختیار کیا کہ خاکروب حضرات کی ملازمت کی سختیوں کا یونیورسٹی سے کوئی سروکار نہیں۔ کیونکہ یونیورسٹی نے کیمپس کی صفائی کا انتظام ایک پرائیویٹ کمپنی کے سپرد کر رکھا ہے جو ان خاکروبوں کو ملازمت دیتی ہے۔ لہٰذا وہ جانے اور اس کا کام۔ ’’مینوں کی لگے‘‘ تاہم جب دباؤ زیادہ بڑھا تو یونیورسٹی نے اس کمپنی سے بات کی اور کمپنی نے خاکروبوں کی تنخواہ میں چند روپوں کا اضافہ کر دیا مگر کچھ ہی عرصے بعد تقریباً ایک چوتھائی افراد کو ملازمت سے بھی فارغ کر دیا کیونکہ تنخواہ بڑھانے کے بعد کمپنی کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا تھا۔ وی سی صاحب نے آنکھیں بند کر لیں۔ خاکروب ٹھنڈے پڑ گئے اور اس کے بعد سب ہنسی خوشی زندگی گزرانے لگے۔

 

قابل لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے خوف سے جان چھڑا بھی لیں تو اپنی انا کے خول سے نہیں نکل پاتے۔ ملک کی خدمت کرنے کے لئے وہ اتنی کڑی شرائط رکھتے ہیں کہ نہ نومن تیل ہوتا ہے نہ کوئی رادھا نا چتی ہے۔ انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول چاہئے۔

دنیا میں ایک تصور ’’ٹیلنٹ اکا نومی‘‘ کا ہے۔ سیدھے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ میں ٹیلنٹ ہے تو آپ وی سی صاحب کی طرح پچیس لاکھ روپے ماہوار تنخواہ لے سکتے ہیں۔ گویا محنت کر حسد نہ کر‘ اور اگر ٹیلنٹ نہیں تو دس ہزار روپوں میں خاکروب بھرتی ہو جائیں گے۔ مسلسل بیس برس تک بغیر کسی چھٹی کے کام کرنے کے بعد آپ پچیس لاکھ کے عدد کو چھو پائیں گے۔ مگر اس وقت تک وی سی صاحب جس عدد پر بیٹھیں ہوں گے اس تک پہنچنے کے لئے کسی خاکروب کو غالباً کئی نوری سال درکار ہوں گے۔ یہ بات درست ہے کہ قابل اور محنتی افراد زیادہ مشاہیر کے حقدار ہوتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن افراد کو قدرت نے نہیں نوازا یا ان کی پیدائش ہی ایسے حالات میں ہوئی جہاں ان کی صلاحیتوں کو پھل پھولنے کا موقع نہیں مل سکا تو اس کی سزا انہیں ٹیلنٹ اکانومی کا نام لے کر دی جائے۔

qabliyatkaimiya.jpg
گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹیلنٹ اکانومی کے اس تصور نے لوگوں کا استحصال کیا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے
CEOs
کو تو اس کی قابلیت اور اپنی ضرورت کے تحت لاکھوں کی تنخواہ دیتی ہیں مگر لیبر کلاس کا کوئی پرسان حال نہیں ’کیوں‘ اس لئے کہ ان میں کوئی ایسا جوہر نایاب نہیں جو مارکیٹ میں نہ ملتا ہو۔ اسی لئے ان کا استحصال کیا جاتا ہے اور اسے ٹیلنٹ اکانومی کا خوبصورت نام دے کر آنکھیں پھیر لی جاتی ہیں۔ دنیا کی فلاحی ریاستوں نے (یونیورسٹی میں جن کی مثالیں دیتے ہوئے وی سی صاحب تھکتے نہیں تھے) اس مسئلے کا حل یوں نکالا کہ جس ’ٹیلنٹڈ شخص‘ کی آمدن میں جتنا اضافہ ہو اس پر اسی زائد شرح سے ٹیکس عائد کر دیا اور پھرا س پیسے کو معاشرے کے کم خوشحال طبقے پر یوں خرچ کیا کہ کم آمدن والے لوگوں کے صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے اخراجات صفر کے برابر ہو جائیں ۔ دوسرا اُن ریاستوں نے لیبر لاز کا سختی سے نفاذ کیا۔ کم سے کم تنخواہ اتنی رکھی جس میں ایک شریف آدمی کا گزارا ہو سکے اور پھر اس تنخواہ کو یقینی بھی بنایا۔ وہاں کسی ادارے کا سربراہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتا کہ میں نے تو صفائی کا انتظام ’’آؤٹ سورس‘‘ کر رکھا ہے۔ لہٰذا سویپرز کی تنخواہوں سے میرا کیا لینا دینا۔ تیسرا ان معاشروں میں ظاہری کرو فر اور شان و شوکت دکھانے والے امراء کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ محل نما گھر بنانے والوں پر میڈیا میں تنقید کی جاتی ہے اور لوگ عموماً ایسی حرکتوں سے باز ہی رہتے ہیں تاہم یہ روایت فلاحی ریاستوں میں ہے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں نہیں۔ نتیجہ ان اقدامات سے یہ نکلا کہ معاشرے میں طبقاتی فرق تو رہا مگر اتنا زیادہ نہیں کہ ایک شخص پچیس لاکھ اور دوسرا دس ہزار۔


اس سارے قصے کا تکلیف دہ پہلو صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں لیبر لاز کا نفاذ نہیں ہے۔ زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ ملک کی بہترین درس گاہ کا سب سے قابل وی سی جسے دنیا کے کامیاب مینجمنٹ ماڈلز زبانی یاد ہیں اس کے سامنے جب استحصالی نظام کا چھوٹا سا نمونہ آیا تو اس نے ویسے ہی ردعمل دکھایا جیسے کوئی بھی سرمایہ دار اپنے کارخانے میں مزدوروں کی ہڑتال کی صورت میں دکھاتا ہے۔ کیا فائدہ ایسی دیدہ بِینا کا، کس کام کی یہ ڈگریاں ! بلاشبہ المیہ ہماری اشرافیہ کا ہے۔ ہماری اخلاقیات کا ہے اور ہماری قابلیت کا ہے۔ ہم میں سے جو لوگ قابل ہیں بدقسمتی سے وہ ڈرپوک بھی ہیں۔ انہیں اس آرام اور آسائش کے کھو جانے کا ڈر ہے۔ جسے انہوں نے اتنی محنت کے بعد حاصل کیا ہے۔ کیا ضرورت ہے کسی خاکروب کے حق کے لئے لڑنے کی۔ اگر یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مجھے فارغ کر دیا تو میرے پچیس لاکھ تو گئے لہٰذا مجھے کیا پڑی ہے اس قضیئے میں چی گویرا بننے کی! دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہر کروڑ پتی اپنی شخصیت میں انقلابی ہے۔ مگر یہ انقلاب وہ اپنے ادارے میں لانے کی ہمت نہیں کرتا۔ یہاں لوگ کھرب پتی بننے کے بعد بھی یہی رونا روتے ہیں کہ انہیں اس ملک میں کاروبار نہیں کرنے دیا گیا۔ نہ جانے اور کتنا استحصال کرنے کی حسرت تھی ان کے دل میں جو ہزاروں ارب روپے کمانے کے بعد بھی پوری نہیں ہوئی۔


قابل لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے خوف سے جان چھڑا بھی لیں تو اپنی انا کے خول سے نہیں نکل پاتے۔ ملک کی خدمت کرنے کے لئے وہ اتنی کڑی شرائط رکھتے ہیں کہ نہ نومن تیل ہوتا ہے نہ کوئی رادھا نا چتی ہے۔ انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول چاہئے۔ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری ہردم ان سے ایک فون کے فاصلے پر موجود ہیں۔ جونہی بیورکریسی کوئی رکاوٹ ڈالے آن ہی آن میں وزیراعلیٰ صاحب اسے دور کریں ان کے پروٹوکول کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔ ان تمام نزاکتوں کے بعد اگر ذرا سی بات بھی ان کی طبع نازک پر گراں گزرے تو وہ اطمینان سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں واپس چلے جائیں اور پھر باہر بیٹھ کر ٹویٹ کرتے رہیں کہ میں نے تو اس ملک کے لئے بہت کرنا چاہا مگر ہمیں کرنے نہیں دیا گیا۔


ایسے قابل لوگوں سے بس اتنی درخواست ہے کہ اس ملک کو فقط اپنی محبوبہ جتنی اہمیت دے دیں‘ باقی حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

قومیں پرعزم ہوں اور اپنے نظریے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں تو وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما قوم ایک طویل اور کٹھن جنگ میں کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اب الحمدﷲ اس مقام پر ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا عمومی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب وہ فساد بپا کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کا آغاز کر چکی ہے۔


بلاشبہ آپریشن ردالفساد انتہائی موثر انداز سے جاری ہے اور آئے روز ملک کے مختلف علاقوں سے فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں کو تلاش کر کے اُنہیں ٹھکانے لگایا جارہا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ قوم کا ہر فرد ردالفساد کا سپاہی ہے۔ گویا ہر پاکستانی شہری چاہے وہ کسی بھی طور سے ملک کی خدمت کر رہا ہے اسے آپریشن ردالفساد میں ریاست کا ہاتھ بٹانا ہے اور اس پاک سرزمین کو صحیح معنوں میں فساد اور شدت پسندی سے پاک کرنا ہے اور اسے ایسی سرزمین بنانا ہے جس کے باشندے ملکی قانون اور اپنے اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق رکھتے ہوں۔ یہ تبھی ممکن ہے جب قوم افواج اور دیگر ادارے پوری دلجمعی سے آپریشن ردالفساد کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ قوم اور افواج پاکستان کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے پاکستان دشمن عناصر کبھی مردم شماری میں مصروف ٹیموں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں توکبھی کوئی دوسرا سافٹ ٹارگٹ تلاش کر کے اپنی ’’دہشت‘‘ بٹھانے کی ناکام

 

کوشش کرتے ہیں۔ قوم بھاگتے ہوئے فسادیوں کا ان کی کمین گاہوں تک پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ اب اس دھرتی اور سرزمین پر ان فسادیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا خاتمہ ان کا مقدر بن چکا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور آپریشن ردالفساد کے حوالے سے واضح طور پر قوم کو آگاہ کر چکے ہیں کہ ردالفساد درحقیقت پہلے کئے گئے آپریشنز کے حاصل کردہ اہداف کو یکجا
(Consolidate)
کرنا ہے اور یہ صرف فوج کا آپریشن نہیں اس میں پولیس، رینجرز اور دیگر ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ جنگ صرف افواج پاکستان نے تنہا نہیں پوری قوم نے مل کر جیتنی ہے۔ اور ہر ادارے نے کام کرنا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے خیالات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب پوری قوم اور تمام ادارے پوری یکسوئی کے ساتھ کسی چیلنج سے نمٹنے کے لئے برسرپیکار ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ریاست کسی بھی عفریت کا قلع قمع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ الحمد ﷲہماری قوم مکمل کامیابی کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ قوم کا ہر ایک فرد ملک دشمنوں کی سرکوبی کے لئے پرعزم رہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی معاونت ایک قومی فریضہ سمجھ کر کرے تاکہ اس مقدس دھرتی سے شدت پسندی اور فساد کی بیخ کنی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کی جا سکے۔

10
May

تحریر: محمدمنیر

کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں بہت سے درے واقع ہیں جن میں مالاکنڈ‘ خیبر‘ گندھاب ‘ کرم‘ گومل اور ٹوچی زیادہ مشہور ہیں۔ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدو رفت کا ذریعہ ہیں اور تاریخی اعتبار سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔


قبائلی علاقہ جات میں پانچ مشہور دریا‘ سوات‘ کابل‘ کرم ‘ ٹوچی اور گومل بہتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والے پشتون ہیں۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے لوگ بہت بہادر اور غیور ہیں۔ برطانوی حکومت‘ جو کہ برصغیر میں1849 تا1947 مسلط رہی‘ نے فاٹا کے قبائل پر مختلف طریقوں سے قابو پانے کی کوشش کی۔تاہم جنوب مغربی سرحدوں میں واقع قبائل نے برطانوی حکومت کے لئے بہت سے مسائل پیدا کئے۔


برطانوی حکومت کو بنیادی طور پر دو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو یہ کہ مقامی طور پر قبائل کو برطانیہ کے زیرِ اثر علاقوں پر قبضہ کرنے سے کیسے روکا جائے اور دوسرا یہ کہ بیرونی سطح پر روس کی مداخلت کا کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ مختلف اوقات میں برطانوی حکومت نے قبائل کے خلاف جنگیں بھی کیں لیکن وہ ان پر اپنا تسلط قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے قبائل کے ساتھ کبھی سختی اور کبھی ترقی کی پالیسی اختیار کی۔ تا ہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تاجدارِ برطانیہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی اور صنعتی ترقی کے لئے کوئی کام نہ کرسکی۔ لیکن 1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا تو ان علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے کچھ اقدامات ضروراٹھائے گئے۔


قائدِاعظم کے ایک قریبی ساتھی میاں جعفر شاہ ‘جو شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں وزیرِ تعلیم بھی رہ چکے ہیں‘ کے مطابق خان عبدالغفار خان نے جون 1947 میں قائدِاعظم سے ملاقات کے دوران قیامِ پاکستان کی حمایت کے لئے تین اہم شرائط رکھیں جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں ضم کردیا جائے۔ قائدِاعظم نے خان عبدالغفار خان کی اس تجویز کو فوراً تسلیم کرتے ہوئے خان سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں قبائلی عوام کو ہمنوا بنانے کے لئے عملی اقدامات کریں تاکہ متفقہ طور پر اس تجویز کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ بابائے قوم قبائلیوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس مسئلے کو جمہوری اور آئینی انداز میں غیور قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہتے تھے۔ قبائلی علاقوں سے متعلق نوزائیدہ پاکستان کی پالیسیوں کا اندازہ بابائے قوم کی ان باتوں سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپریل1948میں قبائلی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے قبائلی سرداروں کو یقین دلایا کہ پاکستان ان علاقوں کی ترقی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا اور ان علاقوں کی اقتصادی خوشحالی کے لئے ہر قسم کی مالی و فنی معاونت فراہم کرے گا‘ تاکہ قبائلی بھائیوں کی زندگیوں کو بہتربنایاجائے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستان قبائلی نظام زندگی کے اندر کسی قسم کی غیرضروری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے یہاں تعلیمی اور سماجی ترقی کے لئے کوشاں رہے گا اور مالی مدد بھی جاری و ساری رکھی جائے گی۔ قائدِاعظم کی یہ دلی خواہش تھی کہ ان علاقوں کی مروجہ حیثیت کو بدلا جائے تاکہ ان قبائل کی زندگی کو بہتر اور آسان بنایا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ قبائلی علاقوں کو صرف امداد سے چلایا جائے اور وہ ہر سال بھکاریوں کی طرح حکومتِ پاکستان سے امداد کے طلبگار رہیں‘ بلکہ اس صورت حال کو بدلنا ہوگا تاکہ غیور قبائلی عوام بھی ملکی وسائل میں حصہ دار بن سکیں۔


یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قائدِاعظم کی وفات کے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں نے قائد کی خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا اور ان علاقوں کے لئے برطانوی حکمرانوں کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو جاری رکھا جس کے تحت قبائلی عوام کو بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ان کو وکیل‘ اپیل اور دلیل جیسے بنیادی حق تک بھی رسائی نہ دی گئی۔ فاٹا میں رہنے والے قبائلیوں کو ایف سی آر جیسے قوانین کے تحت چلایاجاتا رہا اور اُنہیں پولیٹیکل ایجنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ یہاں کے نمائندوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی دی گئی لیکن بدقسمتی سے یہ نمائندگان اپنے علاقوں کے لئے قانون سازی نہ کروا سکے۔


یہ بات خوش آئند ہے کہ2014 میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فاٹا میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں8 نومبر کو وزیرِاعظم پاکستان نے پانچ رُکنی فاٹا ریفارمز کمیٹی تشکیل دی۔ جس کی سربراہی ان کے مشیر برائے اُمورِ خارجہ سرتاج عزیز کو سونپی گئی۔ کمیٹی نے تمام قبائلی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ وزیرِاعظم کو پیش کی۔ وفاقی کابینہ نے 2 مارچ2017 کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے پانچ سال کے عرصے میں بتدریج انضمام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے بہت سی توقعات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی کابینہ نے فاٹا کمیٹی کی تمام شفارشات کو من و عن تسلیم کیا ۔ ان سفارشات میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ آڈٹ کے نظام کو فاٹا تک توسیع دی جائے۔ راہداری پرمٹ ختم کئے جائیں‘ بینکنگ سسٹم اور اعلٰی عدلیہ کو فاٹاتک توسیع دی جائے‘ رواج ایکٹ نافذ کیا جائے جس کے ذریعے فاٹا کا اپنا جرگہ کا نظام نافذ رہے گا۔ بہرحال رواج ایکٹ کے تحت جو قاضی کام کریں گے وہ بنیادی طور پر سیشن جج ہوں گے جن کے کسی بھی فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ سے رجوع کیا جاسکے گا۔


یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ ہماری قیادت فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پر متفق ہے۔ علاوہ ازیں فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام بھی اس فیصلے پر خوش ہیں کہ ان کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ مزید یہ کہ قومی اور صوبائی سطح کی کم و بیش تمام جماعتیں فاٹا میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں۔ البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ چند ایک جماعتیں اصلاحات کے نفاذ کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر جے یو آئی کا موقف ہے کہ اصلاحات نافذ کرنے سے پہلے فاٹا میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے فاٹا کے لوگوں کی رائے لے لی جاتی تو بہتر ہوتا۔ جبکہ پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ پانچ سال کے بجائے جتنا بھی جلدی ممکن ہو سکے فاٹا کا انضمام عمل میں لایا جائے۔ اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کرنے میں جلدی سے کام نہ لیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے
(TDPs)
کی بحالی کا کام مکمل کیا جائے اور افغانستان جانے والے قبائلیوں کو واپس لایا جائے۔ فاٹا کی تعمیرِ نو کی جائے اور اس کی بحالی کے لئے قومی وسائل کا پانچ فیصد مختص کیا جائے۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ فاٹا کو ضم کرنے کے حوالے سے آئینی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کا نفاذ ایک مشکل مرحلہ ہوگا اس لئے اصلاحات کے نفاذ کا ایک طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے تاکہ اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور ٹیکنیکل مسائل کا حل نکالا جاسکے۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے عوام کو ان اصلاحات سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خیبر پختونخوا سے ان کے الحاق کے بعد فاٹا میں اقتصادی ترقی کا عمل تیز ہوگا اور ان علاقوں میں گورننس بہتر ہوگی اور دہشت گردی پر بہترانداز میں قابو پایا جاسکے گا۔ فاٹا کے لوگ چاہتے ہیں کہ اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ فاٹا میں بلدیاتی/ لوکل باڈی الیکشنز(انتخابات) جلد کروائے جائیں۔


موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو انتہائی شفافیت اور مقامی قبائل کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھایا جائے۔ نیز یہ کہ ان اصلاحات اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کئے جانے سے متعلق توقعات اور تحفظات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ فاٹا میں کی جانے والی اصلاحات ملکی ترقی اور سلامتی کی ضامن ہوں اور پاکستان کی دشمن قوتیں ان معمولی اختلافات کو اپنے مذموم عزائم کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بطورِ ریسرچ فیلو کام کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

تحریر: فاران شاہد

پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی ایک رپورٹ مجریہ مارچ 2016ء میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی جوہری پروگرام کو بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ 2014ء میں بھارت کے اٹامک پاور اسٹیشن کے ہیڈٖ کانسٹیبل نے اپنی سروس رائفل سے تین افراد کو قتل کر دیا تھا۔ لیکن یہ ایک واقعہ نہیں، 1991ء سے 2003ء تک تو بھارت کے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں بلنڈرز اور کولپیسز ہوتے رہے ہیں، جہاں ہائیڈروجن لیکس، آئل لیکس، اٹامک پاور اسٹیشنز کا کولنگ سسٹم بند ہو جانا، فائر الارم بجنا، پائپ لیک ہونا، ری ایکٹرز اور ایٹمی پاور اسٹیشنز میں کئی کئی ٹن پانی بھر جانے جیسے واقعات کئی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے سائنس دان اور اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان محتاط سائنس دانوں کا دبے الفاظ میں کہنا ہے کہ بھارت میں ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی بھارتی ایٹمی اثاثوں کے عدم تحفظ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بھارت چونکہ ایک سیکولر ملک ہے اس لئے یہاں سیکولر اور جمہوریت پسند سیاستدانوں کے خیالات بھی دفاعی ماہرین سے ملتے جلتے ہیں۔ دریں اثناء متذکرہ بالا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور روس کے ایٹمی اثاثے بھارت سے زیادہ محفوظ ہیں جبکہ بھارتی انتظامات نہایت کمزور ہیں۔


دی ٹائمز آف انڈیا نے بھارت کی پالیسیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے خبر دی تھی کہ بھارت کی عسکری و سیاسی قیادت ہنگامی بنیادوں پر بڑی تعداد میں اسلحے کی خریداری کر رہی ہے۔ روس، فرانس اور اسرائیل سے تیار حالت میں جنگی ہتھیار خرید لئے گئے ہیں جو مارچ تک بھارت کو مل جائیں گے۔ علاوہ ازیں خریداری کے لئے دو اعلیٰ سطح کی بااختیار کمیٹیوں نے سامان حرب کی پڑتال کر کے اسی وقت فیصلہ کر لیا۔ اسرائیل سے فضا سے زمین میں مار کرنے والا
SAM
بارک 8 میزائل، روس سے S-400 اینٹی بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم، سخوئی 30ایم کے آئی، میخایان مگ29سی، ٹرانسپورٹ طیارے200کاموف، 2267ہیلی کاپٹرز، فضا میں تیل بھرنے والے طیارے اور دیگر حربی ساز و سامان کے معاہدے کئے ہیں۔ علاوہ ازیں T-90,T-72 ٹینک، کونکورس اور اینٹی میزائل اور سمیرج راکٹ اور بارود سے بھرے بم بھی خریدے ہیں۔ روس جو اس وقت معاشی طور پر کافی کمزور ہے اس خریداری سے اس میں خوش حالی کی لہر دوڑ گئی ہے۔


گزشتہ برس بھارتی مسلح افواج کے سربراہان نے مودی سرکار کو باور کروایا تھا کہ بھارت جنگ میں صرف سولہ دن تک ہی اپنا اسلحہ استعمال کر سکتا ہے، مزید گنجائش و صلاحیت نہیں۔ غالباً اسی لئے یہ استعداد بڑھا کر چالیس دن تک کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس نے یہ صلاحیت 1991ء میں ہی حاصل کر لی تھی۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت خفیہ جنگی تیاریاں اس لئے کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے پاس موجود ہتھیاروں سے خوفزدہ ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی یہاں سے بھی ملتی ہے کہ بھارتی افسر نے جرمنی کی ہوفنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے بھارت کے پاس زیادہ سے زیادہ اسلحہ ہونا چاہئے۔ بھارتی مصنفین غزالہ وہاب اور پراوین سباوہتی نے کتاب
Dragon at the Door
میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’’پاکستان نے اپنے آپ کو فوجی طاقت بنا لیا ہے جبکہ بھارت نے خود کو محض ملٹری فوج بنایا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک فوجی طاقت کا مطلب ہے کہ کوئی فوج فوجی طاقت کو مؤثر انداز میں ان اہداف اور ان جگہوں پر ایسے استعمال کرے کہ دشمن کے دانت کھٹے ہو جائیں۔ ملٹری فوج کے معنی یہ ہیں کہ صرف ہتھیاروں کو جمع کیا جائے۔ انہی کے بقول پاکستان فوجی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جب کہ بھارت جیو اسٹریٹیجک کھلاڑی بھی نہیں بن سکا۔ یعنی بھارت اپنی فوج کو اپنی سرحدوں سے آگے لے جانے کی صلاحیت سے عاجز ہے۔ بھارتی جنگی پالیسیوں پر پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ کیا اس نے ازبس اپنے آپ کو چین اور پاکستان تک ہی محدود کر رکھا ہے؟

 

bharatkikufiya.jpgدسمبر2015ء میں ’’فارن پالیسی‘‘ نامی جریدے نے یہی انکشافات کئے تھے جو ’’دی ٹائمز آف انڈیا‘‘نے فروری 2017ء میں کئے ہیں۔ متذکرہ رپورٹ میں یہ پول کھلا تھا کہ بھارت اپنی جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے جلاکیرے میں ایک "نیوکلیئر سٹی"کی تعمیر میں مصروف ہے۔ یہ برصغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جوہری شہر ہو گا۔ اس جوہری شہر میں ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے یورینیم کی افزودگی کی جائے گی، جس کا واضح مطلب جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے۔ نیوکلیئر سٹی میں ہی ایٹمی ریسرچ لیبارٹریاں اور ایٹمی ہتھیار بنائے جائیں گے۔ نیز اس سے بڑے پیمانے پر ائیر کرافٹنگ کی سہولیات بھی میسر آ سکیں گی۔ اور یہ شہر 2017ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کا جنگی جنون صرف پہلی مرتبہ ابھرکر سامنے نہیں آرہا بلکہ گزشتہ کئی عشروں سے خوف ناک ہتھیار بنانے اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی تگ و تاز کر رہاہے۔ برس ہا برس دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے اور حال ہی میں بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ کو پھر بڑھایا ہے۔ جس کا اولین مقصد جدید ہتھیاروں کے انبار لگانا ہے۔ آخر کار بھارت اتنے خوفناک ہتھیار کیوں جمع کر رہا ہے؟ درحقیقت ہمارا روایتی حریف ایشیا کی سب سے بڑی جنگی طاقت بننے کے خبط میں مبتلا ہے وہ اپنی اس بالاداستی کی راہ میں چین اور پاکستان کو بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور اس رکاوٹ کو جلد از جلد عبور کرنا چاہتا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ایک بڑے جوہری شہر کی تعمیرکے بارے میں رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد کسی بڑی طاقت نے تشویش کا اظہار کیا نہ ہی کوئی واویلا مچایاہے۔ دوسری جانب پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا کے بارے میں ان طاقتوں کا رویہ منافقانہ ہے۔ دوہری پالیسی کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ خود امریکہ پاکستان پر متعدد بار دباؤ ڈال چکا ہے کہ وہ (پاکستان) اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرے۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اسلامی ایٹم بم کا نام دے کر پوری دنیا میں پروپیگنڈا کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر عالمی طاقتیں بھی اس کے خلاف متحرک ہو گئیں۔ نتیجتاً ایران پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ المختصر اسلامی ممالک کو اس ایٹم بم سے دور کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ جبکہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ سمیت دیگر اسلام دشمن طاقتیں اسی ایٹم بم سے کھلونے کی طرح کھیل رہی ہیں۔ اس ضمن میں عراق پر بھی الزامات لگائے گئے کہ اس کے پاس مہلک ہتھیار ہیں اور اسی بات کو لے کر اس کا چیستان بنایا گیا۔ بعد میں امریکہ نے خود ہی ڈھٹائی سے تسلیم کر لیا کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیار ہونے کی اطلاع مصدقہ نہیں تھی۔ گویا ایک غیرمصدقہ اطلاع کو بنیاد بنا کر ایک ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا اور اس کے سربراہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ادھر لیبیا نے ایٹمی قوت بننے کی کوشش کی تو اسے نشان عبرت بنا کر ہی دم لیا گیا۔ ان تمام حقائق و شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تر صورت حالات کے مضمرات میں جھانکنے سے حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ چنانچہ بھارت کا جنگی جنون بالخصوص جوہری ہتھیاروں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاریوں سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کے خدشات بدرجہ اتم موجود ہیں اور پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے۔وہ پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کے لئے ہاتھ پاؤں بھی مار رہا ہے۔ تاہم اب تک بھارت پر عالمی طاقتوں کا کوئی دباؤ محسوس نہیں ہو رہا۔ مزید برآں اگر اس خاموشی کے پس منظر میں پاک بھارت تنازعات کا عمل دخل ہے تو پاکستان اس میدان میں بھی لڑنے کے لئے ہردم تیار ہے۔ پاکستان نے تو متعدد بار مذاکرات کی پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ تراشا اور راہ فرار لی۔ بھارت کی جانب سے ایل او سی کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ اس کی بلا اشتعال فائرنگ کی زد میں آنے والے شہداء کی تعداد چار سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس بات کا خیال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ بھارت کے ساتھ خفیہ طور پر ایشیا کی بڑی ایٹمی قوت بننے میں معاونت کر کے خوف ناک کھیل کھیل رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف خطے کا توازن بگڑے گا بلکہ (لازمی طور پر) خطرے سے دوچار ہو گا۔ اقوام متحدہ اور امریکہ نے اگر بھارت کے اس خفیہ ایٹمی پروگرام کی طرف توجہ نہ دی تو اس کا خمیازہ انہیں بھی بھگتنا پڑے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر: میجر مظفر احمد

بیدیاں روڈ(لاہور) پر مردم شماری ڈیوٹی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے جری سپوتوں کا احوال

 

لاہور میں خود کش حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے جوان اور متعین سول شمار کنندگان مردم شماری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ سول شمار کنندگان اور فوج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ایک عظیم قربانی ہے۔ مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان قیمتی جانوں کی قربانی سے ہمارے عزائم مزید مضبوط ہوں گے۔ ہم پوری قوم کے ساتھ مل کر اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی اس لعنت سے پاک کریں گے۔ ’’مجھے سوگواران خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں اُن جوانوں کو جنہوں نے اپنے فرض کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔‘‘

جنرل قمرجاوید باجوہ

چیف آف آرمی سٹاف

 

5اپریل 2017 کو خوشگوار صبح میں ابھرتی ہوئی سورج کی کرنیں پاک سرزمین کو روشن کر رہی تھیں۔ بھٹہ چوک اور اس کے نواح میں انسانی چہل پہل میں اضافہ ہو چکا تھا۔ علیٰ الصبح، حوالدار محمد ریاض کی قیادت میں جوان محفوظ شہید کینٹ سے بیدیاں روڈ(لاہور) مانانوالہ چوک کے علاقے میں مردم شماری پر مامور سول انتظامیہ کے شمار کنندگان کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے نکلے۔ پورے دن کی دوڑ دھوپ کے لئے زاد راہ اور انصرام ہمراہ تھا۔ سول شمار کنندگان سے ملاپ کرنے کے بعد دن کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ سڑکوں پر علاقہ مکین، بشمول سکولوں کے طالبعلم، اپنی پیشہ ورانہ کاروباری مصروفیات اور تعلیمی سرگرمیوں کے لئے رواں دواں تھے۔ اسی اثنا میں، خبثِ باطن کی حیلہ گری میں مبتلا دشمن نے ایک بار پھر قوم کے ان سرفروشوں کا راستہ روکنے کے لئے وار کر ڈالا۔ آہستہ آہستہ چلتی گاڑی کے عقب سے ایک خودکش بمبار تقریباً سات بج کر پچپن منٹ پر نمودار ہوا اور قریب آ کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ جس کے نتیجے میں 2سندھ رجمنٹ کے 4جوان حوالدار محمد ریاض، لانس نائیک محمد ارشاد، لانس نائیک ممشاد احمد اکرم، سپاہی ساجد علی اور 10این ایل آئی رجمنٹ کے سپاہی عبداﷲ نے جامِ شہادت نوش کیا اور 10جوان زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں 3راہ گیر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ مگر یہ امر قابلِ ذکر ہے، یہ جوان جب تک زندہ رہے انہوں نے سول شمارکنندگان سٹاف کا بال بھی بیکانہ ہونے دیا۔

watenkimati.jpg


دشمن کے اس وار کے باوجود بھی جذبۂ فرض شناسی و خدمت کسی قدر بھی کم نہ ہو سکا اور چند ہی منٹوں میں میجر زبیر احمد اور لیفٹیننٹ فیروز کی قیادت میں کمک آن پہنچی، صورت حال پر قابو پایا گیا اور وہ ایک بار پھر سونپے گئے کام کو پورا کرنے کے لئے نکل پڑے۔ حقیقتاً یہ محض جو ابی ہمت و عزم کے اقدامات نہ تھے بلکہ بزدل

دشمن کی شکست تھی۔
اے شہیدان وطن تم پر سلام
تم نے روشن کر دیا ملت کا نام
اس مضمون میں لکھے گئے چند پیرائے گو ان شہداء کی قربانیوں کو سمو نہیں سکتے مگر ہمارے اپنے شہیدوں کو خراج تحسین کی ایک معمولی جسارت ہے۔


hav_riaz.jpgسب سے پہلے ذکر حوالدار محمد ریاض (شہید ) کا جو ضلع فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کے نواحی گاؤں 410گ ب کے ایک زمیندار گھرانے میں 20مئی 1979کو پیدا ہوئے۔ان کے والدین کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کے باوجود متانت کے ساتھ گُزر بسر کرتے تھے جو ریاض کی اوائل عمری ہی میں رحلت کر گئے۔ دراز قد حوالدار محمد ریاض بچپن ہی سے ذہین اور خوش طبع تھے۔ گاؤں سے اپنی ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں کی تکمیل کے بعد فنِ سپاہ گری کے شوق کی ترویج کے لئے فوج میں جانے کی ٹھانی۔ ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ریاض نے ابتدائی تربیت سندھ رجمنٹل سنٹر حیدرآباد سے حاصل کی۔ دوران ابتدائی تربیت انھوں نے ہر ایونٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، خصوصاً پریڈ ڈرل میں امتیازی شیلڈ حاصل کی۔ ابتدائی تربیت کے اختتام پر جنوری 1995 کو 2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ یونٹ کے ساتھ چھمب، سیالکوٹ اور باگسر کے محاذوں اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ و شمالی وزیرستان میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ڈیوٹی سرانجام دی۔ عسکری تربیتی کورسز خصوصاً
ATGM Course
انفنٹری سکول اور یونٹ کے تربیتی مقابلوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ انہی خوبیوں کے پیشِ نظر سندھ رجمنٹ سنٹر میں بطور انسٹرکٹر تعینات ہوئے اور وہاں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ریاض کے ساتھیوں اور خصوصاً کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل ناصر محمود نے ان کی شخصیت کاتذکرہ اس انداز میں کیا ہے۔ ’’حوالدار ریاض میں ایک مخصوص احساس ذمہ داری تھا جو نہ صرف ان کے عسکری معمولات زندگی میں نظر آتا تھا بلکہ اپنی اہلیہ سمیت بچوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور مسائل کے بارے میں پائی جانے والی فکر مندی میں بھی جھلکتا تھا۔‘‘ روزِ شہادت، مردم شماری کی ڈیوٹی میں بحیثیت پارٹی کمانڈر مکمل سکیورٹی و انصرامی تیاریاں اور اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی ان کی خوبیوں کی غمازی کرتی ہیں۔ حوالدار ریاض کے لواحقین میں اہلیہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن کے لئے پدرانہ شفقت کا خلاء تو ضرور رہے گا مگر اس باہمت خاندان نے ریاض کی شہادت پر نہایت فخر کا اظہار کیا ہے۔


2سندھ رجمنٹ کے ایک اور جوان لانس نائیک محمد ارشاد (شہید) ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کے نواحی گاؤں بھلومار میں 13 جنوری 1991کو پیدا ہوئے۔ درمیانے قد کے حامل ارشاد بچپن سے ہی سنجیدہ ذہن کے مالک اور قدرے خاموش طبع تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی سے حاصل کی اور میٹرک کے بعد فوج میں ملازمت اختیار کی۔ ابتدائی تربیت کے بعد جولائی 2010 میں بطور سپاہی 2سندھ رجمنٹ میں تعینات ہو گئے۔ دوران سروس یونٹ کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر باگسر اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ ایجنسی میں بڑی جانفشانی اور ایمانداری سےln_m_arshad.jpg اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ حالیہ مردم شماری ڈیوٹی میں اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر یونٹ نے انہیں لانس نائیک کے رینک پر ترقی دی۔ ارشاد نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا اور 5اپریل 2017کو اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر کے امر ہو گئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اُن میں اپنے اہل و عیال سے محبت اور ان کی ضرورتوں کا احساس بھی بدرجۂ اتم تھا۔ اس کا اظہار انہوں نے ایک روز قبل اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کیا تھا کہ اُس نے اگلے روز اپنے والدین کو کچھ رقم منی آرڈر کرنا ہے۔ ان کی شہادت پر ان کے جسد خاکی کے ساتھ لپٹی اس رقم کی موجودگی نے ان کے ساتھیوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ درحقیقت ارشاد نے اپنے اہل و عیال کے لئے ازلی کامیابی کا سامان مہیا کر دیا جس پر ان کے ضعیف والدین کو فخر ہے۔ ایسے والدین قابل ستائش ہیں جو اپنے لخت جگر قوم پر نچھاور کر دیتے ہیں۔


ln_mashmad.jpgلانس نائیک ممشاد احمداکرام (شہید) ضلع خانیوال کی تحصیل کبیر والا کے نواحی گاؤں کوہی والا میں 10 اکتوبر 1988 کو ایک کاشتکارگھرانے میں پیدا ہوئے۔ درمیانے قد کے ممشاد خوش اخلاق اور وسیع ذہن کے مالک تھے۔ گاؤں سے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی اور جولائی2010 کو2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ایل او سی پر باگسر سیکٹر اور باجوڑ ایجنسی میں محنت و جانفشانی کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ یونٹ کے کھیلوں اور تربیتی مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یونٹ کا علم بلند رکھنے میں پیش پیش رہے۔ مردم شماری کی ڈیوٹی کے دوران5 اپریل2017 کو شدید زخمی ہوگئے۔13 دن تک سی ایم ایچ لاہور میں زندگی موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر 17 اپریل کو خالقِ حقیقی سے جا ملے اور شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔ لواحقین میں اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں جنہیں ان کی شہادت پر ناز ہے۔


2sip_sajid.jpgسندھ رجمنٹ کے تیسرے بہادر سرفروش سپاہی ساجد علی (شہید) ضلع میرپور خاص سندھ کی تحصیل کوٹ غلام محمد کے نواحی گاؤں 285 دیہہ میں 10مارچ 1989کو ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ساجد علی شروع ہی سے ذہین اور حسِ مزاح سے مالامال تھے۔ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ والدین کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر ہاتھ بٹاتے تھے۔ مخصوص ثقافتی ٹوپی و اجرک پہن کر کلہاڑی کندھے پر رکھے مویشیوں کی نگہبانی کرتے تھے۔ فوج سے محبت انہیں سپاہ گری کے شعبے میں کھینچ لائی اور ابتدائی ٹریننگ کے بعد جنوری 2009میں 2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ یونٹ میں بڑی بہادری کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑی۔ مختلف مقابلوں میں نام کمایا اورخصوصاً ڈرائیونگ کے شعبے کو اپناتے ہوئے ایک اچھے ڈرائیور بنے۔ بالآخر فرائض منصبی کی بجاآوری میں مردم شماری کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔ ان کے لواحقین میں بیوہ اور والدہ شامل ہیں جو ساجد کی شہادت کو اپنے لئے اﷲ رب العزت کی مہربانی گردانتی ہیں۔

 

10این ایل آئی رجمنٹ کے سپاہی عبداﷲ (شہید) 1992کو ضلع چترال کے گاؤں کریم آباد میں پیدا ہوئے۔ عبداﷲ بچپن سے ذہین اور جسمانی طور پر تیز و پھرتیلے sip_abdullah.jpgتھے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول شوغور چترال سے حاصل کی اور میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد 13اکتوبر 2010کو فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے۔

یونٹ میں پوسٹنگ پر ایل او سی (لیپہ سیکٹر) اور وزیرستان میں خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔ آپریشن ضرب عضب میں عبداﷲ میران شاہ سے دتہ خیل تک ہر مشکل کارروائی میں صف اول کے دستہ میں شامل رہے۔ سپاہی عبداﷲ کو موت سے شناسائی ہو چکی تھی۔ بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر سپاہی 2015 میں وادی بویا میں دہشت گردوں سے مقابلے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ اس بہادر سپوت نے بہادری اور دلیری سے دہشت گردوں کے کئی خطرناک حملوں کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مزیدبراں یونٹ کے فٹ بال اور دیگر تربیتی مقابلوں میں نام کمایا۔ عبداﷲ کو حالیہ 23مارچ 2017شکرپڑیاں کی پریڈ میں اعلیٰ ڈرل کی وجہ سے پیادہ دستے میں نشاندار کی ڈیوٹی سونپی گئی۔ عبداﷲ کے عزم ، بہادری اور چہرے پر ہمیشہ رہنے والی مسکراہٹ کی وجہ سے ان کے ساتھیوں اور خصوصاً ان کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عرفان احمد کو عبداﷲ سے ایک ذاتی لگاؤ تھا۔


قومی فریضہ مردم شماری 2017کی ڈیوٹی کو سرانجام دینے کے لئے سپاہی عبداﷲ نے اسی جذبہ ایمانی کے تحت اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ شہادت سے دو دن قبل شہید کے چھوٹے بھائی سیف اﷲ نے ٹیلیفون پر چھٹی آنے کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ بھائی ہماری یونٹ ایک اہم مشن پر مامور ہے اور میں ڈیوٹی کے اختتام پر ہی چھٹی آؤں گا۔ اسی جذبے کا اظہار عبداﷲ نے دوران ٹریننگ کیاجب ان کے والد محترم کی رحلت ہوئی لیکن اپنے والد کے آخری دیدار کے لئے بھی نہ پہنچ سکے۔یہ عبداﷲ کا شوق شہادت ہی تھا جو اسے مردم شماری کی ڈیوٹی کی صورت میں اپنی خواہش کی تکمیل کی راہ پر لے گیا۔یوں بوڑھی ماں کا سہارا چھن گیا اور 10 این ایل آئی رجمنٹ ایک بہادر جوان سے محروم ہو گئی۔ مگر اپنے پیچھے بہادری اورعزم کی لازوال داستان چھوڑ دی۔ عبداﷲ کے دل کا حال اس کی ڈائری میں کچھ ان الفاظ میں درج تھا۔


جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا


ملک کا دفاع اور سونپے گئے قومی فریضوں کی تکمیل پاکستان فوج کا ہر شخص اپنی ذات سے بھی زیادہ مقدم رکھتا ہے۔ یہی وہ سوچ اور جذبہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے دشمن ہمیں زیر نہیں کر سکے اور ہر دفعہ خود ہی اپنی شکست خوردگی کے زخم چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے

 

ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
یہی دیوار‘ یہی چھت‘ یہی سایہ ہے

جس کی تعمیر میں ہر ہاتھ ہے شامل لوگو
اس کے باعث ہی دھڑکتا ہے ہر اِک دل لوگو
یہی دولت‘ یہی عزت‘ یہی سرمایہ ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
گہری نظروں سے عدو دیکھ رہا ہے جس کو
ایک مدت کا فَسوں دیکھ رہا ہے جس کو
اس سے پہلے بھی تفرقوں سے ہی غم پایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
چال چلنے نہیں دیں گے یہ قسم کھاتے ہیں
جال بُننے نہیں دیں گے یہ قسم کھاتے ہیں
پھر سے طوفانوں نے اِک بار سَر اٹھایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
لَم یَزل کی یہ امانت ہے بچانی سب کو
اپنی آزاد فضا بھی ہے سبحانی سب کو
موسمِ گل نے‘ چمن زار یہ سجایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے

سعیدالزمان

*****

 
09
May

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ مغربی تعلیم، آزادئ فکر اور میڈیا کی تانوں اور اڑانوں کے باوجود حکومتیں اور معاشرے کے طاقت ور طبقے مذہبی شخصیات کے تیوروں سے کیوں خائف رہتے ہیں اور آج بھی ان کی رائے کو کیوں اہمیت دی جاتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ ادراک ضروری ہے کہ بارہویں صدی سے لے کر بیسیویں صدی کے آغاز تک مسلمانوں کی قیادت علمائے کرام کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ 1192-93 میں قطب الدین ایبک نے ہندوستان میں پہلی مسلم حکومت کی بنیاد رکھی اور یہ سلسلہ انگریزوں کی 1857 میں بالادستی اور حکومت تک جاری و ساری رہا۔ مسلمانوں کے اس آٹھ سو سالہ دور حکومت کے دوران علماء کو ہمیشہ دربار میں اہم حیثیت حاصل رہی۔ سبھی مسلمان بادشاہ اُن سے مشاورت کرتے رہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال بھی کرتے رہے۔ گویا ایک طرح سے علماء شریک اقتدار تھے اور بعض اوقات بادشاہ گر کا رول بھی ادا کرتے رہے۔ ضرورت پڑنے پر یہی علماء مزاحمت کے علمبرداربھی بنے۔ اکبر بادشاہ سب سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور حکمران تھا اور اس کی بادشاہت 49برس یعنی نصف صدی پر محیط ہے۔ لیکن جب اس نے دین الہٰی کی جسارت کی تو نہ صرف مجدد الف ثانی بلکہ ان کی قیادت میں بڑے بڑے علماء نے بھی مزاحمت کی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ درباری مسلمانوں نے بادشاہ کی خوشنودی کے لئے دین الہٰی قبول کر لیا۔ اس طرح اورنگزیب کے انتقال کے بعد جب مسلمانوں کے اقتدار کا شیرازہ بکھرنے لگا اور مرہٹوں، جاٹوں اور طاقت ور ہندومہاراجوں نے

کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار تھا اور پاکستان بننے کے بعد وہ نظریہ ختم ہو گیا۔ حالانکہ اگر آپ تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان ایک تصور کی پیداوار تھا اور دو قومی نظریہ اس تصور
(Ideology)
کا اہم ترین حصہ تھا جب کہ وہ تصور محض دو قومی نظریہ تک محدود نہ تھا۔ اس تصور کا پہلا حصہ دو قومی نظریہ تھا جو ایک حقیقت ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا تھا۔ جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ وہ ملکی وسائل کے مالک ہوں اور انہیں اپنی ترقی خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لئے استعمال کر سکیں۔ وہ اپنانظام حکومت اور نظام تعلیم واضح کریں اور عالمی سطح پرعزت کمائیں۔
مسلمانوں کا ناطقہ بند کر نا چاہا تو شاہ ولی اﷲ نے تحریک جہاد کا بیج بویا جسے بعد ازاں ان کے عزیزان، مریدین اور شاگردوں نے عملی تحریک کی شکل دی۔ یہ تحریک 1731سے 1831تک تقریباً ایک سو سال جاری رہی اور بالاکوٹ میں اپنوں ہی کے ہاتھوں دم توڑ گئی۔ سراج الدولہ نے 1757ء میں اور ٹیپو سلطان نے 1799میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی غداری کے سبب شکست کھائی اور یوں انگریزوں کے اقتدار کی راہ ہموار ہوئی۔ انہی ہزیمتوں اور شکستوں نے مسلم ہندوستان میں دوننگ وطن علامتیں یعنی میرجعفر اور میر صادق متعارف کرائیں جن کی غداری کا ماتم آج بھی کیا جاتا ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی لڑی گئی تو اس میں بھی سب سے زیادہ قربانیاں علمائے کرام نے دیں اور سب سے زیادہ گردنیں کٹوانے والے بھی وہی تھے۔ انگریزوں کا طوق غلامی اتار پھینکنے کے لئے جو آخری منظم کوشش کی گئی وہ ریشمی رومال کی تحریک تھی، اس تحریک کی قیادت بھی علمائے کرام کے پاس تھی۔ اس تحریک کی تفصیلات نہایت دلچسپ ہیں۔ منصوبے کے مطابق ترکی کی عثمانی فوج نے بلوچستان کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہونا تھا لیکن افغانستان کے شاہی خاندان کے چند افراد کی مخبری نے یہ راز فاش کر دیا اور یوں انگریزوں نے اس تحریک کو کچل دیا۔ اس تمام عرصے میں جتنے لوگوں کو سزا کے طور پر کالے پانی بھیجا گیا۔ قیدوبند میں ڈالا گیایا جلاوطن کیا گیا ان سب کا تعلق علمائے کرام اور مذہبی حلقوں سے تھا۔ یوں بیسویں صدی کے طلوع تک ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی و فکری قیادت زیادہ تر علمائے کرام کے ہاتھوں میں تھی۔ ریشمی رومال تحریک کی ناکامی کے بعد حصول آزادی یا حصولِ حقوق کے لئے عسکری اندازترک کر دیا گیا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق جمہوری سیاسی حکمت عملی اپنائی گئی۔ جس کی ذمہ داری مغربی تعلیم یافتہ حضرات نے سنبھال لی یوں تاریخی عمل نے تقریباً نو صدیوں کے بعد مدرسوں کو پیچھے دھکیل دیا اور مغربی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو سیاسی قیادت کا فرض سونپ دیا۔ اس کے باوجود علمائے کرام اور مذہبی طاقتیں پس پردہ رہ کر نہ صرف اپنا کردار سرانجام دیتی رہیں بلکہ انہوں نے خود کو ہر تحریک کی صف اول میں شامل کئے رکھا کیونکہ مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ان کے وسیع اثر روسوخ کاپورا ادراک رکھتا تھا اور ان کی سیاسی اہمیت کا قائل تھا۔

 

pakkinazriyati.jpg1934-35میں انگلستان سے واپسی پر جب قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی تنظیم نو کا بِیڑ ااٹھایا تو اس وقت مسلم لیگ ایک بے جان سیاسی قوت بن چکی تھی جس پر وڈیرے، جاگیردار، گدی نشین اور کمزور سیاسی شخصیات چھائی ہوئی تھیں۔ مسلم لیگ کے تن مردہ میں جان اس وقت پڑنا شروع ہوئی جب انتخابات کے بعد کانگریس نے 1937 میں چھ اکثریتی صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائیں اور مسلمانوں نے ڈیڑھ برس تک ہندو راج کا مزہ چکھا تو ان کی آنکھیں کھلیں۔ کانگریسی دور حکومت میں نہ صرف مسلمانوں پر ملازمتوں اور زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع بند کر دیئے گئے بلکہ سکولوں میں مسلمان دشمن ترانہ ’بندے ماترم‘ بھی لازمی قرار دے دیا گیا اور گاندھی جی کے بت کی پرارتھنا کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ تفصیل دیکھنی ہو تو پیرپور رپورٹ پڑھئے۔ مسلم لیگ صحیح معنوں میں عوامی تحریک اس وقت بنی جب مسلم لیگ نے مارچ 1940میں قرارداد لاہور (پاکستان) منظور کر کے ہندوستان میں بھی پھیلے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کر دی۔ لنڈن ٹائمز کے مطابق اس اجلاس میں تقریباً ایک لاکھ مسلمان عوام نے شرکت کی جو کہ ایک سیاسی کرامت تھی۔


مذہب مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور تحریک پاکستان کے دوران کلیدی عنصر کی حیثیت سے موجود رہا۔ 1935سے لے کر 1947 تک قائداعظم نے باربار اپنی تقریروں کے ذریعے مسلمانوں میں علیحدہ قومیت کا احساس بیدار اور پھر مضبوط کرنے کی کوششیں کیں اور علیحدہ قومیت کے شعور کی بنیاد ہمیشہ مذہب اور کلچر کو قرار دیا۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد ان کا سارا زور ہی دوقومی نظریے پر تھا اور وہ مسلسل مسلمان عوام کو بڑی دردمندی سے یہ سمجھانے اور باور کرانے کی کوششیں کرتے رہے کہ ہم اس لئے مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک آزاد مملکت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مسلمان اپنے مذہب، کلچر، روایات اور انداز کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے پیش نظر مسلمانوں کے معاشی، اقتصادی اور معاشرتی مفادات بھی تھے اس لئے علامہ اقبال مسلمانوں کی
Fuller Development of Personality
پر زور دیتے تھے۔ یعنی مسلمان شخصیت کی مکمل نشوونما کے لئے ایک آزادوطن کا قیام ضروری سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب مکمل نشوونما کی بات کی جاتی ہے تو اس میں معاشی، سیاسی، فکری، تعلیمی اور مذہبی تمام عوامل شامل ہوتے ہیں۔
چنانچہ میں جب پاکستان کی تاریخ اور ہندوستان میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کی سیکڑوں برسوں پر محیط زندگی کا بغور مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے اسلام پاکستان کے خمیر اور باطن میں شامل نظر آتا ہے اور پاکستان کی بنیاد کا مؤثر ترین محرک دکھائی دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر قائداعظم نے اسلام کا نام نہ لیا ہوتا تو وہ نہ کبھی مسلمانوں کی اکثریت کے لیڈر بنتے نہ 1945-46 کے انتخابات میں مثالی فتح حاصل کرتے اور نہ ہی پاکستان بنتا۔ اور ہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس سے قائداعظم کا کوئی ذاتی مفاد ہر گز وابستہ نہیں تھا۔ وہ خلوص نیت سے بات کرتے تھے اور انہوں نے زندگی کا معتدبہ حصہ مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ ہمارے بعض دین سے بیزار اور بیگانہ حضرات ’’وکیلانہ‘‘ بحث کی طرز پر بال کی کھال اتارتے ہوئے کہتے رہتے ہیں کہ قائداعظم کا مقصد مسلمان ریاست کا قیام تھا نہ کہ اسلامی ریاست۔ اول تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مسلمان اور اسلام دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دوم یہ کہ خود قائداعظم نے پاکستان کو پریمیئر اسلامی ریاست قرار دیا جسے سیکولر حضرات مانتے نہیں کیونکہ انہوں نے قائداعظم کو پڑھا ہی نہیں۔ تیسری بات یہ کہ قائداعظم نے کوئی سوبار سے زیادہ کہا کہ پاکستان کے سیاسی نظام کی بنیاد اسلام پر ہو گی۔ یہ حضرات کیوں نہیں سمجھتے کہ جس ریاست کے نظام کی بنیاد اسلام پر ہو وہی اسلامی ریاست ہوتی ہے۔ لیکن اس سے ہرگز مراد مذہبی ریاست نہیں کیونکہ اسلامی ریاست اپنے شہریوں پر مذہب نافذ نہیں کرتی۔ وہ اقلیتوں کی حفاظت کے علاوہ انہیں پوری مذہبی آزادی او رپورے حقوق دیتی ہے۔ یہی منشا قائداعظم کی تھی اور اسی لئے وہ اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا تصور پیش کرتے تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام پاکستان کے خمیر اور باطن میں شامل ہے۔ قائداعظم نے اسلامی قوتوں یا مذہبی جماعتوں کو شکست دے کر پاکستان نہیں بنایا تھا۔ بلکہ انہیں کئی مذہبی جماعتوں مذہبی شخصیات بڑے بڑے مذہبی اور روحانی گھرانوں اور پیروں کی حمایت حاصل تھی۔ رہی مذہبی انتہا پسندی تو وہ سیاست کا شاخسانہ اور عالمی سیاسی ایجنڈے کا نتیجہ ہے نہ کہ مذہب کا۔ کیونکہ ہر مسلمان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ برداشت، مذہبی رواداری، عفو و درگزر، حق گوئی، قانون کا احترام اور انصاف اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور نبی کریمﷺ ان کی عملی مثال تھے۔ انتہاپسندی، جذباتیت اور قانون شکنی کے رحجانات کا مقابلہ کرنے کے لئے انہی اسلامی اصولوں کو فروغ دینے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔ (ملاحظہ کریں قائداعظم کا براڈ کاسٹ پیغام بنام امریکی عوام فروری 1948 ء ، خورشید احمد یوسفی
(Speeches of Quaid e Azam)
جلد
IV
کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار تھا اور پاکستان بننے کے بعد وہ نظریہ ختم ہو گیا۔ حالانکہ اگر آپ تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان ایک تصور کی پیداوار تھا اور دو قومی نظریہ اس تصور
(Ideology)
کا اہم ترین حصہ تھا جب کہ وہ تصور محض دو قومی نظریہ تک محدود نہ تھا۔ اس تصور کا پہلا حصہ دو قومی نظریہ تھا جو ایک حقیقت ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا تھا۔ جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ وہ ملکی وسائل کے مالک ہوں اور انہیں اپنی ترقی خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لئے استعمال کر سکیں۔ وہ اپنانظام حکومت اور نظام تعلیم واضح کریں اور عالمی سطح پرعزت کمائیں۔ میں نے اس تصور کو مختصر ترین الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ورنہ اگر آپ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں، مسلم لیگ کی قراردادوں اور مسلم لیگ کے اجلاسوں میں کی گئی تقریروں کو غور سے پڑھیں تو ان میں آپ کو پاکستان کا ایک واضح تصور ملتا ہے اور ایک ایسا خواب نظر آتا ہے جو آج بھی تشنۂ تکمیل ہے اور جسے منزل کے طور پر ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ قائداعظم کی تقاریر ہوں، قراردادیں یا مسلم لیگی رہنماؤں کی تقریریں ان سب کے مرکزی نکات اور تصورات کا خلاصہ یہی ہے کہ چونکہ مسلمان اور ہندو الگ الگ قومیں ہیں جو ہزاروں برس اکٹھے رہنے کے باوجود متوازی دھاروں میں بہہ رہی ہیں۔ ان کا مذہب ، رسم و رواج ، بودوباش ، تاریخ ، ذہنی پس منظر اور سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور متضاد ہیں اور مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں اقلیت ہونے کے سبب ہندو اکثریت کے مستقل غلام رہیں گے۔ انہیں معاشرے میں کبھی بھی باعزت مقام حاصل نہیں ہو سکے گا اور نہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں گے۔ اس لئے وہ ایک الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جسے ہم نظریہ پاکستان کہتے ہیں وہ صرف یہاں تک محدود نہیں ہے۔ کیونکہ آزاد وطن کا قیام اس کا فقط پہلا حصہ تھا جب کہ پاکستان کے قیام کے مقاصد اس کا ناگزیر اور دوسرا حصہ ہیں۔ کیونکہ جب بھی قائداعظم نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا اور وضاحت کی کہ وہ پاکستان کیوں اور کیسا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ وہ کہتے تھے وہ مسلمان عوام کے احساسات اور اُمنگوں کی ترجمانی تھی اور ان کے مطالبات و تصورات کو مسلمانوں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور اسی تصور پاکستان کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے مسلمان عوام نے نہ صرف مسلم لیگ کی حمایت کی، 1946-47 کے انتخابات میں پاکستان کے حصول کے لئے ووٹ دیئے بلکہ اس مقصد کے لئے بے پناہ قربانیاں بھی دیں۔ اس جذبے کو سمجھنے کے لئے مسلم لیگ کے اجلاسوں میں کی گئی ان تقاریر کو بھی غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ جو اقلیتی صوبوں کے لیڈروں نے بار بار کیں۔ ظاہر ہے کہ وہ صوبے جہاں مسلمان اقلیت میں تھے وہ کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتے تھے اور انہیں بہرحال ہندوستان ہی میں رہنا تھا لیکن ان صوبوں کے لیڈروں نے ہمیشہ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے قیام کی زور دار حمایت کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان کی راکھ پر ایک مسلمان مملکت، ایک اسلامی ریاست قائم ہو گی جہاں مسلمان اپنے دین، آدرش اور تصورات کے مطابق آزادانہ زندگی گزاریں گے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور بحیثیت قوم پھلنے پھولنے کے لئے تمام مواقع میسر ہوں گے۔ جو بہرحال ہندوستان میں دستیاب نہیں ہو سکتے۔ اس لئے یہ سمجھنا اور کہنا کہ قیام پاکستان کے بعد نظریہ پاکستان بے کار اور بے معنی ہو کر رہ گیا ہے اپنی تاریخ سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اگر کوئی نظریہ کامیاب ہو جائے تو وہ مرتا نہیں بلکہ اپنی سچائی کے سبب مزید مضبوط ہوتا ہے۔ دوم تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ نظریات اُبھرتے ڈوبتے رہتے ہیں لیکن کبھی مرتے ہیں اور نہ بے معنی ہوتے ہیں۔


یوں تو ہماری تاریخِ آزادی کا ہر صفحہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے لیکن اس وقت مسلم لیگ کے 1941کے سالانہ اجلاس منعقدہ مدراس کی کارروائی یاد آ رہی ہے جو قائداعظم کی زیرصدارت اپریل 1941 میں ہوا اور یہ اجلاس اس لئے اہم تھا کہ یہ قرارداد لاہور (مارچ 1940ء) منظور کرنے کے بعد منعقد ہو رہا تھا۔ اس اجلاس میں مسلم لیگی رہنما عبدالحمید خان چیئرمین استقبالیہ کمیٹی نے مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کو کانگریسی دور حکومت (1937-1939) کی یاد دلائی اور کہا کہ کانگریسی صوبوں میں مسلمان بچوں کو بندے ماترم جیسا مسلمان دشمن ترانہ پڑھنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور گاندھی کی تصویر کی پوجا کی جاتی تھی۔ جب کہ مسلمان ہر قیمت پر اپنے مذہب، کلچر اور زبان کو قائم و دائم رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تصور سے خدشات میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اس سارے عرصے میں قائداعظم بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ایک روشن خیال اسلامی جمہوری ریاست ہو گی۔ جس میں انسانی مساوات، سماجی و معاشی عدل اور قانون کی حکمرانی کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوقومی نظریے اور اسی خواب کی تکمیل کے لئے ووٹ دیئے تھے۔ چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ ہم نے نظریہ پاکستان کے پہلے حصے پر عمل کر کے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان تو قائم کر دیا لیکن اس کا دوسرا حصہ تشنہ تکمیل ہے۔ جسے عملی جامہ پہنائے بغیر پاکستان کے تصور کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
کچھ دوستوں کا اصرار ہے کہ قائداعظم نے پاکستان کے حوالے سے کبھی نظریہ
(Ideology)
کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دو قومی نظریے کی بات کی۔ ان دوستوں سے گزارش ہے کہ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں صرف مدراس کے 1941جلسہ عام میں قائداعظم نے مسلم لیگ کے نظریے کے حوالے سے تین بار آئیڈیالوجی کا لفظ استعمال کیا۔ اسی تقریر میں قائداعظم نے واضح طور پر کہا ہماری منزل پاکستان ہے۔ اسی تقریر میں انہوں نے قومی ترقی کے لئے نظام تعلیم وضع کرنے اور معاشرتی ترقی کے لئے حکمت عملی بنانے کی بات کی اور اسی اجلاس میں عبدالحمید خان نے خطبہ استقبالیہ میں قرار دادا لاہور کو قرارداد پاکستان قرار دیا۔ حالانکہ 1940کی قرارداد میں پاکستان کا لفظ استعمال نہیں ہوا تھا۔


کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نظریہ پاکستان محض دو قومی نظریے کی بنیاد پر قیام پاکستان تک محدود نہ تھا بلکہ اسے ایک مخصوص ریاست بنانا بھی اس نظریے کا ناگزیر حصہ تھا۔ آئیڈیالوجی کا لفظ تحریک پاکستان کے دوران بار بار استعمال ہوا جس کے ذریعے تصور پاکستان کی وضاحت کی جاتی رہی۔


براہ کرم یہ بات یاد رکھیں کہ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ نظریہ پہلے موجود تھا ملک بعد میں معرض وجود میں آیا۔ گویا پاکستان کا جغرافیہ اس کی تاریخ کا مرہون منت ہے۔ میں اس اصول کا قائل ہوں کہ جو قوم اپنی تاریخ فراموش کر دیتی ہے اس کا جغرافیہ اسے فراموش کر دیتا ہے۔ اس لئے جغرافیے کی حفاظت کے لئے نظریے کو زندہ رکھنا ناگزیر ہے۔


میں سمجھتا ہوں کہ نظریہ پاکستان کی ترویج حکومت کا فرض ہے اور اسے نصاب کا حصہ بنانا حکومت پر لازم ہے۔ تصور پاکستان کے شعور کو زندہ رکھنے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کا استعمال بھی ضروری ہے۔ 14اگست، 23مارچ، 25دسمبر جیسے قومی ایام پر نظریہ پاکستان کی نشرواشاعت ہمارا قومی فریضہ ہے جسے ہمارا میڈیا پوری طرح نہیں نبھا رہا۔ اپنے ملک کی نظریاتی اساس کو مضبوط بنا کر ہی قومی اتحاد اور ملکی استحکام کے مقاصد پورے کئے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک لابی موجود ہے جو نظریہ پاکستان کے ضمن میں بدگمانیاں اور شکوک پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس لابی کے پس پردہ غیرملکی ہاتھ اور وسائل موجود ہوں۔ ان کی کارستانیوں کا توڑ کرنے کے لئے ایک ’’سیل‘‘ کی ضرورت ہے جو سکالرز پر مشتمل ہو اور میڈیا میں جہاں جہاں نظریہ پاکستان، قائداعظم اور تحریک پاکستان کے حوالے سے ابہام یا کنفیوژن پیدا کیا جائے یہ ’’سیل‘‘ اس کا مدلل جواب دے۔ میرے نزدیک یہ وطن سے محبت اور وفا کا تقاضا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
May

تحریر: علی جاوید نقوی

غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے۔

 

مقبوضہ کشمیر میں انڈین الیکشن ڈرامہ بُری طرح فلاپ ہوگیاہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کی نگرانی میں ان نام نہادضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار بھی منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی سرکار نے مقبوضہ وادی میں انتخابی ماحول بنانے کے لئے پیسے دے کر جعلی امیدوارکھڑے کئے،انتخابی مہم چلانے کے لئے بھی انھیں بھاری رقوم فراہم کی گئیں تاکہ غیرملکی میڈیا اورمبصرین کویہ تاثردیا جاسکے کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل امن ہے اورکشمیری انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں۔


ضمنی انتخابات کے موقع پربہت سخت انتظامات کئے گئے تھے۔بھارتی فوج نے ڈرادھمکا کرلوگوں کوپولنگ سٹیشنزلانے کی کوشش کی ۔کئی جگہ اعلانات کئے گئے کہ سیکورٹی فورسز چیک کریں گی کس نے ووٹ ڈالااورکس نے نہیں۔لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود الیکشن کاڈرامہ بری طرح فلاپ ہوگیا۔خود بھارتی میڈیا اورتجزیہ نگاروں کوبھی یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیربھارت کے کنٹرول میں نہیں رہا۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج تمام ترطاقت استعمال کرنے کے باوجود، کشمیریوں کوغلام بنانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جوبھارتی غلامی کے لئے تیارہو۔ہرشخص کی زبان پرآزادی کانعرہ ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن بھی کم ترین ٹرن آؤٹ اورعوامی بائیکاٹ سے پریشان ہے ، جس کے بعداننت ناگ میں ہونے والاضمنی الیکشن ملتوی کرکے اب 25مئی کوکرانے کااعلان کیاگیاہے۔

 

1غیرملکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ووٹنگ والے دن پولنگ اسٹیشنز سنسان پڑے تھے۔
2ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواربھی منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔
3بوڑھے، نوجوان بیٹوں کی نعشیں اٹھارہے ہیں لیکن ان کے چہروں پرخوف اورمایوسی کی بجائے آزادی کی امید ہے۔
4مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے بھارت،امریکہ سمیت، تمام ممالک کی پیشکشیں مستردکرچکاہے۔
5عالمی برادری کوطے کرناچاہئے بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل نہیں کرتاتواس کے ساتھ کیاسلوک کیا جائے،دوہرا معیارختم ہوناچاہئے۔
6بھارت ایک نام نہاد سیکولرریاست سے انتہاپسندہندوریاست کی طرف بڑھ رہاہے۔
7پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہاتھاکہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔کوئی اپنی شہہ رگ سے کیسے دستبردار ہوسکتاہے۔آج مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ پاکستانی پرچم لہرارہے ہیں،کشمیریوں کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں۔ کشمیری عوام نے بھارتی تشدداورخوف وہراس پھیلانے کے باوجود ان نام نہاد ضمنی انتخابات کاحصہ بننے سے انکارکردیاہے۔مقبوضہ کشمیرکے نوجوانوں کامقبول نعرہ ’’پاکستان زندہ باد،کشمیر بنے گاپاکستان‘‘ بن چکا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی محبت کا عالم یہ ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑمیں پاکستانی قومی ترانے کوانتہائی جوش وجذبے کے ساتھ پڑھتے ہیں،پاکستانی کرکٹرز جیسا یونیفارم پہنتے ہیں اورسبزہلالی پرچم اپنے گھروں پرلہراتے ہیں۔بھارتی فوج انھیں مارتی پیٹتی ہے، گرفتارکرتی ہے،اٹھالے جاتی ہے، لیکن وہ باربارپاکستان سے اپنی محبت کااظہارکررہے ہیں۔ایک کشمیری نوجوان نے الجزیرہ ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ’’ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہماری ماؤں،بہنوں کی عزت محفوظ نہیں، وہ ہمارے مذہب ’اسلام‘ سے نفرت کرتے ہیں،ہم سے نفرت کرتے ہیں، ہم بھارت کے ساتھ نہیں رہ سکتے‘‘۔بی بی سی سے گفتگوکرتے ہوئے ایک نوجوان نے کہا’’ہمیں الیکشن نہیں آزادی چاہئے‘‘۔کٹھ پتلی سیاست دان بھی اب اس بات کوسمجھ گئے ہیں کشمیری نوجوان الیکشن نہیں،حق خودارادیت چاہتے ہیں۔کشمیری نوجوان مختلف طریقوں سے بھارت سے اپنی نفرت کااظہارکررہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم جس کشمیری نوجوان کودہشت گرد کہتے ہیں وہ برہان وانی شہید ،کشمیری نوجوانوں کاہیرو ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے و الے احتجاج میں اب تک ایک سوسے زیادہ کشمیری شہید اور سولہ ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ نام نہادانتخابات رکوانے کے لئے احتجاج میں شہیداورزخمی ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

maqboozakashmirmain.jpg
بھارت میں ہندوقوم پرستی کواُبھارکرووٹ لینے والی بھارتیہ جنتاپارٹی ،مقبوضہ کشمیر میں بے بس نظرآتی ہے۔بی جے پی نے کامیابی کے لئے سرکاری مشینری کے ساتھ ساتھ لالچ اوردھونس سمیت ہرحربہ آزمایا لیکن وہ کشمیر ی حریت پسندوں اورحریت کانفرنس کورام نہ کرسکی ۔الیکشن کے دن بھارتی فوج اور دیگر فورسز کشمیریوں کوزبردستی ووٹ ڈالنے کے لئے مجبور کرتی رہیں ،لیکن کشمیریوں نے انھیں مسترد کردیا۔ کئی جگہ ووٹ ڈالنے کے لئے نوجوانوں کوتشدد کانشانہ بنایاگیا۔ ایسا لگ رہاتھا مقبوضہ کشمیر میں انتخابات نہیں ہورہے بلکہ فوجی مشقیں ہورہی ہیں۔ جگہ جگہ ناکے ،فوج کی گشت اورووٹ ڈالنے کے لئے کشمیریوں سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے۔کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جس نے احتجاجاََ ووٹ بھی نہیں بنوایا ہوا،وہ موجودہ بھارتی انتخابی عمل اورکٹھ پتلی ریاستی حکومت کوتسلیم ہی نہیں کرتے۔وہ جماعتیں اورکٹھ پتلی حکومت جوکل تک ریاستی جبراورتشددمیں برابرکی شریک تھیں ،کشمیری عوام کی ہمدردیاں اورووٹ حاصل کرنے کے لئے اب تشدد اورقتل عام کی مذمت کررہی ہیں۔چند سال پہلے بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کوکمزورکرنے کے لئے ایک نیا حربہ استعمال کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لئے دوسری ریاستوں سے بھارتی شہریوں کولاکرآبادکیاگیا،انھیں خصوصی مراعات دی گئیں۔ لیکن پھربھی بھارت اپنی برتری قائم نہ کرسکا۔
اس وقت ہزاروں کشمیر ی نوجوان بھارتی قید میں ہیں۔ جن کاجرم بھارتی تسلط سے آزادی اورجعلی انتخابات کابائیکاٹ ہے،یہ نوجوان چاہتے ہیں کہ انھیں حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرسکیں۔ خود بھارتی میڈیا اس بات کوتسلیم کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اکثریت بھارت سے آزادی چاہتی ہے۔ماضی میں بھارت سے وفادری دکھانے والے فاروق عبداللہ بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ’’ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکاہے اوربھارت کومقبوضہ کشمیر پرپاکستان سے بات کرنا ہوگی ،ورنہ کچھ نہیں بچے گا‘‘۔سوشل میڈیااور ٹی وی چینلزپروہ فوٹیج بہت دیکھی گئیں جن میں بھارتی فوجوں کودیکھ کرخواتین اوربچے گھروں میں چھپنے کے بجائے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوں اورسڑکوں پرنکل آئے،جواب میں بھارتی فوجیوں نے ان نہتے کشمیریوں پرپیلیٹ گن کاظالمانہ استعمال کیا۔اس پیلیٹ گن کے بارے میں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ’’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنادیتی ہے ‘‘۔ان پیلٹ گنوں کے باعث درجنوں بچے اورنوجوان عمر بھر کے لئے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مؤثرآوازنہیں اٹھائی،میرے خیال میں پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔


بھارت ایک طرف سلامتی کونسل میں مستقل نشست اورویٹو پاور کاامیدوار ہے تو دوسری طرف اس کی حالت یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمد کرنے کوتیارنہیں۔کیاعالمی برادری کوبھارت پراعتماد کرناچاہئے؟ہرگز نہیں، بھارت عالمی برادری کااعتماد کھوچکا ہے۔اس کارویہ جارحانہ اورعلاقائی بالا دستی کاہے۔وہ نیپال،بھوٹان اوربنگلہ دیش کی طرح دیگرریاستوں کوبھی اپنی سٹیٹس بناناچاہتاہے۔بھارت کایہ جارحانہ رویہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے بڑاخطرہ ہے۔


یہ وقت ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کوبھی سوچناچاہئے کہ اتنی زیادہ امریکی نوازشات کے باوجود ،بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے امریکہ کی پیشکش بھی قبول کرنے کوتیارنہیں۔ جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ سمیت تمام دوست ممالک کی پیشکش کوقبول کرتارہاہے۔بھارتی رویہ عجیب وغریب ہے۔عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی مصالحت کی پیشکش کرتی ہے توبھارت کہتا ہے یہ دوطرفہ مسئلہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر حل کرنے کاکہتاہے تو بھارت پینترا بدل کرموقف اختیارکرتا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اوروہ اس پر بات چیت نہیں کرے گا۔ لیکن کیایہ بھارتی چالاکیاں عالمی امن اورجنوبی ایشیاکے لئے تباہ کن نہیں؟عالمی برادری کوخاموشی اختیارکرنے کی بجائے اپنامؤثررول ادا کرناچاہئے۔ جوملک، چاہے وہ بھارت ہویاکوئی اور،اقوام متحدہ کی قراردادوں کوتسلیم نہیں کرتا اس پرپابندیاں عائد کردینی چاہئیں تاکہ دوسرے ممالک کوبھی نصیحت ہو۔ مسئلہ کشمیر یابھارت کے معاملے میں دوہرامعیار ،پوری دنیا کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔


دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر پربھارتی کنٹرول بھارتی فوجیوں کے جبروتشدد کی وجہ سے ہے۔جس دن بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا،مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنافیصلہ سنا دیں گے ۔کشمیریوں کے دل، دلی کے لئے نہیں اسلام آباد کے لئے دھڑکتے ہیں۔

 

سوشل میڈیااور ٹی وی چینلزپروہ فوٹیج بہت دیکھی گئیں جن میں بھارتی فوجوں کودیکھ کرخواتین اوربچے گھروں میں چھپنے کے بجائے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوں اورسڑکوں پرنکل آئے،جواب میں بھارتی فوجیوں نے ان نہتے کشمیریوں پرپیلیٹ گن کاظالمانہ استعمال کیا۔اس پیلیٹ گن کے بارے میں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ’’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنادیتی ہے ‘‘۔ان پیلٹ گنوں کے باعث درجنوں بچے اورنوجوان عمر بھر کے لئے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مؤثرآوازنہیں اٹھائی،میرے خیال میں پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔

بھارتیہ جنتاپارٹی کی فرقہ وارانہ اورقومیت پرمبنی سوچ نے بھی نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت کی دیگرمذہبی اقلیتوں کویہ سوچنے پرمجبورکردیا ہے کہ بھارت میں ان کامستقبل کیاہے؟مذہبی اقلیتیں عملاً دوسرے درجے کی شہری بن چکی ہیں۔آج بھارت میں آپ کسی مسلمان یاغیرہندوپرالزام لگادیں کہ اس نے گائے ،جسے سرکاری طورپرمقدس جانور قرار دے دیا گیاہے ، ’’بے حرمتی‘‘ کی ہے۔بس انتہاپسند ہندو اورریاست دونوں فورا حرکت میں آجائیں گے۔ اخبارات روزانہ ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں ،مسلمان نوجوانوں کوگائے کے معاملے میں کس طرح تشدد کانشانہ بنایاجاتاہے ۔بھارتی لوک سبھا کے بعض اراکین کھلے لفظوں میں کہہ رہے ہیں ’’انسانی جان کی قیمت گائے سے زیادہ نہیں ‘‘۔ بھارت بہت تیزی سے ایک نام نہاد سیکولرریاست سے ہندوریاست کاسفر طے کررہاہے۔جہاں کروڑوں انسانوں کی زندگیاں غیرمحفوظ ہوگئی ہیں۔ہمیں اس خدشے کوبھی مدنظررکھناہوگاکہ ہندووانہ پالیسیوں اورمظالم سے تنگ آ کر روہنگیا مسلمانوں کی طرح، بھارتی مسلمان اورغیرہندوبڑی تعدادمیں پاکستان اوربنگلہ دیش ہجرت کرسکتے ہیں۔حادثاتی طورپروزیراعظم کامنصب سنبھالنے والے کسی شخص سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ وہ جواقدامات کررہاہے اسے اُن کے سائیڈایفیکٹس کااندازہ بھی ہوگا۔
کچھ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے،ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے کیاکررہے ہیں،سرکاری طورپرکشمیریوں کی شہادت پراخباری ردعمل جاری کردیاجاتاہے اس کے بعد اس وقت تک ایک خاموشی ،جب تک مزید کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی خبرنہیں آجاتی۔ہمیں اپنے رویے کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے اندریہ احساس پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کشمیریوں کی امیدوں کامرکز ہیں۔کیاہمیں علم نہیں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ،مسئلہ کشمیر عالمی سطح پراجاگرکرنے کے لئے کیا اقدامات کررہے ہیں۔ سوائے خاموش رہنے کے۔ مجھے یاد ہے جب اُس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے بزرگ سیاست دان اوربابائے اپوزیشن نواب زادہ نصراللہ خان کوکشمیر کمیٹی کاچیئرمین بنایاتوانہوں مسئلہ کشمیر کواپنااوڑھنابچھونابنالیا۔کئی ممالک کے دورے کئے،ان کی ہرگفتگو،ہرخطاب اورہرانٹرویو کاآغاز مسئلہ کشمیر کواجاگرکرنے سے ہوتاتھا۔ ان کی بیٹھک کے دروازے کشمیریوں اورکشمیری رہنماؤں کے لئے کھلے رہتے تھے۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اب تک کئی فارمولے اورحل پیش کئے جاچکے ہیں،بہت سے بیک ڈورچینلز اورڈپلومیسی اختیارکی جاچکی ہے۔لیکن ان سب کوششوں کے باوجود مسئلہ کشمیر جوں کا توں اپنی جگہ موجود ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار بھارت کاہے ،جومیں نہ مانوں والی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔بہت سے حکمرانوں کادعوی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پہنچ گئے تھے لیکن پھرکوئی نہ کوئی ایساواقعہ ہوگیا کہ ساری محنت پرپانی پھرگیا۔


بھارت سرکار نے الیکشن کے انعقاد کوکامیاب بنانے کے لئے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کوجیلوں میں ڈال دیا، سیکڑوں کارکنوں کوگرفتارکرلیا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کامؤقف واضح ہے ’’نام نہاد انتخابات، حق خود ارادیت کامتبادل کسی صورت نہیں ہوسکتے‘‘۔ ایک طرف بھارتی مراعات اورپیشکشیں ہیں اوردوسری طرف مشکلات ،اذیتیں اورصعوبتیں ہیں۔ کشمیر ی، بھارتی غلامی سے آزادی کے لئے جان ومال کی قربانی دینے کاعزم کرچکے ہیں۔آج بوڑھے کشمیر ی اپنے جوان بیٹوں کی نعشیں اٹھارہے ہیں لیکن ان کے چہروں پرملال اورافسردگی نہیں ایک نئی صبح اوربھارت سے آزادی کی امید ہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ امریکہ کے جنگی اخراجات کو کم کرکے اسی سرمائے کو امریکی شہریوں کی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں گے۔امریکہ کے اندر وہ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتے ہیں، اس بارے تو کچھ کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔ تاہم شام اور افغانستان کو ملٹر ی انڈسٹریل کمپلیکس کی خوفناک جنگی ایجادات سے نواز کر دنیا کو بڑا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو تختہ مشق بنائے رکھنے کا امریکی وطیرہ برقرار رہے گا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ شام کے ائیربیس کو نشانہ بنانا اور افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانا ، ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پالیسی ہے یا اس نے اپنے اقتدار کے دوام اور کاروباری مفادات کی خاطر جنگی پالیسی کے سامنے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ گرچہ دونوں حملوں کا نشانہ براہ راست دو اسلامی ملک بنے ہیں تاہم بالواسطہ طور پر دونوں حملوں میں نہ صرف روس کے مفادات کو چوٹ پہنچی بلکہ باالفاظ دیگر اسے متنبہ کیا گیا ہے۔


صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے فوراً بعد سی آئی اے نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے، اس الزام کے تحت دونوں کے مابین سفارتی تعلقات میں تناؤ اتنا بڑھاکہ امریکہ نے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر بھی کردیا ، گرچہ اس وقت روس کی جانب سے بھی سخت ردعمل متوقع تھا مگر صدر پیوٹن نے اعلان کیا کہ روس ردعمل میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کریگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کہ جنہوں نے بطور صدر ابھی حلف نہیں لیا تھا، روس کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور امریکہ روس تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس سے قبل کہ نومنتخب امریکی صدر کی اس خواہش کو عالمی میڈیا میں پذیرائی ملتی متعدد ممالک کے کئی شہروں میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ جسے عالمی میڈیا کی بھرپور توجہ ملی۔ ان ہنگامہ خیز خبروں میں جنگی پالیسیوں میں بدلاؤ، حریف ممالک سے تعلقات میں بہتری جیسی امیدیں گم ہوکر رہ گئیں۔ نتیجتاً دو ملکوں شام اور افغانستان میں امریکہ نے انتہائی غیر متوقع اور غیر ضروری حملے کئے ہیں۔


7 اپریل 2017 کو علی الصبح مشرقی بحیرہ روم میں تعینات امریکی بحری بیڑے نے شام پر ٹوماہاک کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔ حملے میں امریکی بحری بیڑے نے شام کے صوبے حمص میں واقع الشعیرات اڈے پر59 ٹوماہاک کروز میزائل داغے۔الشعیرات اڈے کا جو کہ صوبہ حمص میں شہر حمص سے 31 کلو میٹر جنوب مشرق میں تدمر روڈ پر واقع ہے، شامی افواج اور باغیوں یا دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں اہم کردار رہا ہے ۔ حال ہی میں روس سے لئے جانے والے سخوئی اورمِگ 40 طیارے اسی بیس پر ہی رکھے گئے ہیں۔ روس اور شام نے ایس400 میزائل سسٹم کے لئے بھی اسی اڈے کا انتخاب کیا تھا۔ باالفاظ دیگر شام میں امریکہ نے جس اڈے کو نشانہ بنایا وہ شام اور روس کے مشترکہ زیراستعمال تھا۔
دوسرا بڑا حملہ مریکہ نے پاک افغان سرحد سے متصل صوبہ ننگرہار کے قریب اچین ضلع میں کیا۔ جس میں دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہر ی بم کو استعمال کیا گیا۔اس خوفناک بم کو ماسو آرڈننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) بم کہا جاتا ہے ، جس میں 11 ٹن وزنی بارودی مواد تھا۔ اپنے نام کے مخفف کے لحاظ سے، امریکی فضائیہ میں عرف عام میں اِسے ’’مدر آف آل بمز‘‘کہا جاتاہے ۔ یہ بم امریکی فضائیہ کے سی 130 طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے گرایا گیا۔ یہ 30فٹ لمبااور 40 انچ چوڑا ہے اور اس کا وزن 9500کلوگرام ہے ، وزن میں یہ ہیروشیما ایٹم بم سے دوگنا بڑاتھا۔عینی شاہدین کے مطابق بم پھٹتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ جیسے قیامت آگئی ہو۔ اس بم کی قیامت خیزی کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دواضلاع میں دور تک اس بم کی آواز سنی گئی اور اس کے اثرات افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بھی مرتب ہوئے۔متعدد علاقوں کی بیشتر عمارات میں دراڑیں آگئیں۔ اچین اور قریبی اضلاع میں پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے اور زمین میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ’’موآب‘‘ اس وقت چلایا گیا جب روس کے دارالحکومت ماسکو میں افغانستان کے مستقبل سے متعلق کانفرنس جاری تھی۔ اس کانفرنس میں خطے کے گیارہ ممالک چین، روس، ایران، ہندوستان، پاکستان، ازبکستان، قازقستان، ترکمانستان، کرغزستان،ا فغانستان اور تاجکستان شامل تھے۔

 

khitymainamank.jpgماسکو کانفرنس افغانستان کے امن سے متعلق اس تین رکنی فورم کا تسلسل تھی کہ جس میں پہلے ابتدائی طور پر چین ، روس اور پاکستان شامل تھے، بعد ازاں اس میں خطے کے تمام ممالک کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایسی کانفرنس کہ جس میں خطے کے تمام ممالک شریک تھے اس کا امریکہ نے بائیکاٹ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں خطے کے اندر روس کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا۔ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ امریکہ نے افغان امن سے متعلق ہونے والے سنجیدہ اقدامات یا مذکرات کو سبوتاژ کیا ہو۔ ماضی قریب میں بھی امریکی رویہ اس امر کا عکاس ہے کہ امریکہ بشمول نیٹو افغانستان میں پائیدار قیام امن کی کوششوں کو اپنے مفادات کے منافی سمجھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل چین نے بھی پاکستان اور افغانستان کو ساتھ لے کر ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا۔ امن کے حوالے سے کچھ پیش رفت بھی ہوئی کہ امریکی خواہش پر امریکہ کو اس میں شامل کرکے تین رکنی سے چار رکنی فورم کردیا گیا۔ امریکہ نے خود شامل ہونے کے بعد اس پلیٹ فارم سے بھی کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہونے دی بلکہ اقوام متحدہ میں جاکر افغانستان اور ہندوستان کو ساتھ ملاکر افغانستان کے مستقبل سے متعلق ایک نئی مثلث تشکیل دے دی۔ امریکہ کا یہ طرز عمل کم از کم اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ افغانستان میں سب کچھ امریکی ترجیحات میں شامل ہے ، ماسوائے امن کے۔


قرائن بتاتے ہیں کہ اکتوبر 2001ء میں نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ افغانستان میں امن کے دیپ روشن کرنے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے حصول اور خطے میں اپنی چودھراہٹ کا خواب لے کر آیا تھا۔ امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا تھا۔ ابھرتی ہوئی طاقت چین کا راستہ بھی روکنا تھا۔ ایران اور روس کے قریب بھی رہنا تھا اور پاکستان کے جوہری پروگرام پر بھی نگاہ رکھنا چاہتا تھا۔ بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قیام کے بعد افغانستان یا پاکستان میں امریکہ اپنا عسکری وجود بھرپور قوت کے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔اپریل 1996ء میں شنگھائی فائیو کی بنیاد رکھی گئی ۔جس میں روس اور چین دونوں شامل تھے۔ جبکہ ازبکستان شامل نہیں تھا۔ جون2001ء میں ازبکستان نے شمولیت اختیار کی۔جب شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وجود میں آنے کے تھوڑے ہی عرصے میں نائن الیون کا حادثہ برپا ہوا۔ گرچہ اس واقعے میں کوئی ایک حملہ آور بھی افغان نہیں تھا مگر اس کے باوجود افغانستان پہ امریکہ نے نیٹواور دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ چڑھائی کی۔ افغانستان جو کہ ایک طویل جنگی اور خانہ جنگی کی تاریخ اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ امریکہ کے لئے اتنا ہی آسان ہدف ثابت ہوا کہ آج سولہ سالہ قبضے کے بعد بھی امریکہ کو افغانستان میں دنیا کے سب سے بڑے بم چلانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔


اپنے وقت کی تین بڑی طاقتوں نے یکے بعد دیگرے افغانستان کوترنوالہ بنانے کی کوشش کی ہے مگر بالآخر تینوں کی کوششیں ناکامی پہ منتج ہوئیں۔ سلطنت برطانیہ ،کہ جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، نے دو دفعہ افغانستان سر کرنے کی کوشش کی۔ 1838سے 1842، 1870سے 1880،اینگلو افغان جنگوں میں افغان قبائل کے بیچ پھوٹ ڈالنے کے باوجود بھی برٹش افواج کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ 1979ء میں کمیونسٹ روس افغانستان میں داخل ہوا۔ افغانستان میں پندرہ ہزار روسی فوجوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔افغانستان سے نکلنے والے آخری روسی فوجی کے الفاظ تھے کہ نو سالہ جنگ کے بعد آج ایک بھی روسی فوجی افغانستان میں موجود نہیں ہے۔ اکتوبر2001 میں امریکہ نے نیٹو ممالک کے ساتھ حملہ کیا۔ 16سالہ جنگ کے بعد اسی افغانستان میں امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانا پڑا ۔ 2013 ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے جریدے میں عراق اور افغان جنگ پر امریکی اخراجات کا تخمینہ چار سے چھ ٹریلین یو ایس ڈالر لگایا گیا۔
گزشتہ تیس سال سے افغانستان منظم اداروں سے محروم ملک چلا آرہا ہے، جس کے باعث اپنے وسائل اور آبادی کے اعداد و شمارکے حوالے سے بھی دوسروں کا دست نگر ہے۔ اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق پختون افغانستان کی کل آبادی کا تقریباً42فیصد، تاجک27فیصد،ہزارہ 11فیصد، ازبک9فیصد ہیں جبکہ ایمق، ترکمن،بلوچ، نورستانی اور قزلباشوں کی بھی قابل ذکر تعداد افغان آبادی کا حصہ ہے۔ مشرقی اور جنوبی افغانستان کو خالصتاً پشتونوں کا علاقہ قرار دیا جاتا ہے ۔کابل کے جنوب مغرب میں واقع علاقے بھی روایتی طور پر پختونوں ہی کا خطہ تصور کئے جاتے ہیں ۔تاجک زیادہ تر کابل شہر ، بدخشان اور کاپیسا کے صوبوں میں مقیم ہیں ، لیکن دوسری طرف انتہائی جنوبی صوبے یعنی ہرات میں بھی تاجکوں کی کافی بڑی تعداد نے سکونت اختیار کررکھی ہے ۔ ہزارہ نسل کے لوگ وسطی افغانستان میں مقیم ہیں ۔ ان کے اس علاقے کو ہزارہ جات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور بامیان صوبے کو اس کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے ۔ ایمق افغانستان

کے وسطی پہاڑی سلسلے کے مغربی علاقوں میں بس گئے ہیں ۔ کوہ ہندوکش کے شمال کا علاقہ ازبک قوم کا علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور مزار شریف کو ان کے مرکز اور اہم شہر کا درجہ حاصل ہے ۔


ایک طرف طویل جنگی تاریخ اور جنگ کو بطور پیشہ اپنائے رکھنے والے وہ افغان ہیں، جو نسلی، مسلکی اور لسانی اعتبار سے منقسم ہیں اور پاور شیئرنگ پہ بھی یقین نہیں رکھتے۔ دوسری طرف افغانستان پرامریکہ اور نیٹو کی صورت میں وہ قوت مسلط ہے کہ جو اپنا مفاد آج بھی جنگ اور بدامنی میں کھوجتی ہے۔ جس کے باعث مستقبل قریب میں افغانستان کے حالات میں بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔حتیٰ کہ امریکہ و نیٹوفورسز کا افغانستان سے فوری اور مکمل انخلابھی افغانستان میں پائیدار قیام امن کی ضمانت نہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان سرزمین پر متحارب قبائل و گروہ ہوں کا پاور شیئرنگ پر یقین نہ ہونا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف مختلف جہادی گروہ برسرپیکار تھے جو کہ امریکی مفاد کی جنگ لڑ رہے تھے جسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے ’’جہاد‘‘ ڈکلیئر کیا گیا ۔ ’’مجاہدین ‘‘ اپنی دانست میں ’’جہاد‘‘ اور حقیقت میں مختلف ممالک کے مفادات کی لڑائی میں مصروف رہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوویت یونین کے افغانستان میں آنے سے انخلاء تک امریکی مفاد کی جنگ لڑی گئی۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے نائن الیون تک خطے کے بالخصوص پڑوسی ممالک کے مفادات کی جنگ افغان و بیرونی گروہوں نے لڑی۔ اکتوبر 2001سے تاحال دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر قبضے اور عزائم کے حصول کی جنگ جاری ہے۔ان تمام جنگوں کے باوجود یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کوئی ایک بھی مسلح گروہ دوسرے کی بالادستی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ یہ مسلح گروہ دوسرے ممالک کی مفاد کی جنگ بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، جس کو بنیاد بناکر مستقبل کے نئے نقشے ترتیب دینے کی چہ میگوئیاں ہیں۔


سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، جبکہ امریکہ کے افغانستان پہ حملے و قبضے میں پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اور نان نیٹو اتحادی تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ افغانستان کی تعمیر و ترقی بالخصوص شعبہ جاتی و ادارہ جاتی تعاون میں پاکستان کو مقدم رکھتا ، اس کے برعکس امریکہ نے افغانستان میں نہ صرف بھارت کے قدم مضبوط کئے، بلکہ پاکستان کی تمام تر قربانیوں اور تعاون کو فراموش کرتے ہوئے دہشتگردوں سے تعاون کا الزام عائد کیا۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کو وار زون ڈکلیئر کرتے ہوئے پاکستانی علاقے میں کارروائیاں بھی کیں۔ افغانستان سے ماضی کے ’’مجاہدین‘‘ اور حال کے ’’دہشتگردوں‘‘ کو فاٹا میں دھکیلا گیااور پھر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فاٹا میں آپریشن کرے۔ پاکستان سے اس میں کچھ توقف ہوا تو تحریک طالبان پاکستان بن گئی ۔ جس کا مرکز پہلے فاٹا اور فاٹا میں فوجی آپریشن کے بعد افغانستان شفٹ ہوا۔ جہاں سے براہ راست یہ بھارتی سرپرستی میں چلی گئی۔بھارت نے بھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ مشرقی سرحد پر جنگ کے ذریعے کبھی بھی پاک فوج کو زیر نہیں کرسکتا، اس نے مغربی سرحد پہ بھی پاک فوج کو انگیج کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کے دفاع و سلامتی پر دہشتگردانہ حملوں کی افغانستان کی زمین سے براہ راست سرپرستی بھی کی۔ دوسری جانب امریکہ افغان طالبان کی قوت توڑنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکا۔ سولہ سالہ جنگ کے بعد بھی افغان طالبان ایک حقیقت ہیں اور کئی علاقوں میں اپنا مسلمہ وجود رکھتے ہیں۔گرچہ پاکستان افغان طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی تھا، اس کے باوجود آج بھی امریکہ و افغان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز تک لائے۔ حالانکہ اس تاثر کو اب ختم ہونا چاہئے کہ افغان طالبان پاکستان کے زیر اثر ہیں اور پاکستان کی بات مانتے ہیں، یہاں تک کہ جب ملا عمر برسراقتدار تھے تو اس وقت انہوں نے جنرل مشرف کی بات نہیں مانی تھی اور جنرل محمود کو خالی لوٹا دیا تھا۔


یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ داعش کا جنم اس وقت عراق میں ہوا جب امریکہ عراق میں موجود تھا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ داعش کے بنانے میں امریکی کردار کارفرما تھا۔داعش نے انتہائی مختصر عرصے میں یورپ سمیت کئی ممالک میں اپنے وجود کا احساس دلایا۔ بالخصوص یورپ کے ان ممالک کو داعش نے زیادہ نشانہ بنایا ،جنہوں نے عراق و شام میں بمباری کے لئے امریکہ کا ساتھ دینے سے معذوری اختیاری کی، جیسا کہ فرانس۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح افغانستان میں بھی داعش نے اپنی موجودگی کا اعلان کیا اور داعش میں سب سے پہلے ان دہشت گردوں نے شمولیت کا اعلان کیا، جنہیں بھارتی یا اس کے سرپرستوں کی چھتر چھایا حاصل تھی۔ جس سے اس خیال کو تقویت ملی کہ اب طالبان کی قوت کو توڑنے اور افغانستان کو ’’کنٹرولڈ ڈسٹرب‘‘
(Controlled Chaos)
میں رکھنے کے لئے باقاعدہ طور پر افغانستان میں داعش کی سرپرستی کی جارہی ہے ۔خطے میں اس نئے وبال سے افغان حکومت سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑی اور داعش کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کی فضا میں روس، ایران، چین ، پاکستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں سے روابط بھی کھل کرسامنے آئے۔ یہ وہی دور تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے مری مذاکرات کا اہتمام کیا، مگر ’’دوستوں‘‘ کو کہاں گوارا تھا کہ افغانستان میں امن سے پورا خطہ پرسکون ہو اور تعمیر و ترقی کی شاہراہ پہ چلے۔ چنانچہ مختصر وقفے سے طالبان امیر ملا اختر منصور کو بلوچستان میں نشانہ بنایاگیا، جس کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان مذاکرات کے ذریعے امن کا قیام ایک خواب بن کررہ گیا۔


بھارت میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ ویل نے چند برس قبل اپنی حکومت کو افغانستان میں امن سے متعلق ایک تجویز پیش کی تھی، گرچہ اس تجویزکے مطابق رابرٹ ویل نے امریکی حکومت اورنیٹو کو مشور ہ دیا تھا کہ پختون افغانستان اور غیر پختون افغانستان کوتقسیم کردیا جائے۔ بیرونی افواج (امریکہ، نیٹو) غیر پختون افغانستان (شمالی افغانستان) میں اپنا مرکز رکھیں۔ گرچہ طالبان کا گڑھ پختون علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم طالبان ، یا بیرونی افواج کے خلاف متحرک گروہ لسانی طور پر منقسم نہیں ہیں۔ مختلف لسانی گروہ افغانستان کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر شمال میں واقع قندوز صوبے میں پختونوں کی اکثریت ہے تو دوسری طرف جنوبی صوبے ہرات میں تاجک، ازبک، ہزارہ اکثریت میں ہیں جبکہ لوگر جیسے پختون علاقوں کے درمیان واقع صوبے میں بھی بڑی تعداد میں تاجک بستے ہیں ۔ ایسا بھی نہیں کہ شمال میں رہنے والے صرف ایک قومیت کے لوگ ہیں، یا جنوب میں صرف ایک ہی زبان کے بولنے والے موجود ہیں۔ چنانچہ لسانی بنیادوں پر تقسیم یا امن کی خواہش شائد اتنی سود مند نہ ہو ، تاہم انتظامی بنیادوں پر تقسیم اور پاور شیئرنگ کے ذریعے کسی حد تک افغانستان میں امن ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ شام کی طرز پر افغانستان میں بھی ’’پیس زونز‘‘ قائم کرکے کئی علاقوں میں امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ شاعر مشرق افغانستان کو ایشیا کا قلب مانتے تھے۔ قلب میں بے سکونی ہو تو جسم میں سکون ممکن نہیں، لہٰذاخطے کے امن کے لئے پرامن افغانستان ضروری ہے۔ جس کے لئے خطے کے تمام ممالک کو نیک نیتی سے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔


آسیا یک پیکرِ آب و گِل است
ملتِ افغاں در آں پیکر دل است
از گشادِ او گشادِ آسیا
از فسادِ او فسادِ آسیا

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
May

تحریر: جویریہ صدیق

22فروری سے آپریشن رد الفساد ملک بھر میں جاری ہے۔فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب لگانے کے لئے جس آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے ابتدائی مراحل کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اچانک بڑھ گئے تھے جو اب بہت حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے پیچھے پاک فوج‘ انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور رینجرز کی شب و روز کی محنت کارفرما ہے۔


آپریشن رد الفساد کے تحت فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بارڈر مینجمنٹ، ملک سے ناجائز اسلحے اور بارودی مواد کا خاتمہ، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور دہشت گردوں اور خارجیوں کی کمین گاہوں کے خاتمہ پر بھی مثبت پیش رفت جاری ہے۔
آپریشن رد الفساد کے آغاز میں ہی دو مزید چیزیں سامنے آئیں جن سے فوج نبرد آزما ہے وہ ہے انتہا پسندی اور افواہ سازی۔ سوشل میڈیا پر جعلی سرکلر کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ہمارے خودساختہ دانشور بنا کسی تحقیق کے اس سرکلر کو اچھالتے رہے اور دو صوبوں کے درمیان نفرت کو ہوا دیتے رہے۔ہمارے کچھ میڈیا کے بہن بھائی جن کے پاس خبروں کی کمی ہوتی ہے وہ بھی جعلی خبروں کو اچھالنا شروع ہوگئے۔


بعد ازاں یہ بھی پتہ چل گیا کہ سرکلر جعلی ہے پھر بھی پنجاب پولیس نے معذرت کی۔ لیکن اس جعلی سرکلر کی آڑ میں پاکستان اور پاکستان کے عسکری اداروں پر بے تحاشہ کیچڑ اچھالا گیا۔
یہ واقعہ یہاں پر اس بات کو عیاں کرگیا کہ جنگ اور آپریشن اب صرف زمین پر نہیں ہوتے بلکہ جنگیں اب سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاپر بھی لڑی جارہی ہیں۔کسی بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرتے وقت یہ بات پیشِ نظر رکھی جائے کہ اس کے مخالف سوشل میڈیا اور دوسرے میڈیا پر کیا کہا جا رہا ہے؟ تنقید برائے تنقید اور ملک کو بدنام کرنے کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ان کے پیچھے کون سی لابی ہے؟ فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ اس پر بھی ایک رد الفساد کی اشد ضرورت ہے۔


دوسرا اہم پہلو جو رد الفساد کے آغاز کے بعد سامنے آیا وہ ہے انتہا پسندی۔ جوکہ ہمارے معاشرے میں موجود تو پہلے سے ہے لیکن اب اس کا استعمال دہشت گردوں نے منظم طریقے سے شروع کردیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں دہشت گردوں کی مبینہ ساتھی نورین لغاری کی ویڈیو جاری کی۔ جس کو دیکھ کر ہر پاکستانی ماں اور باپ ورطۂ حیرت میں آگئے کہ ہمارے بچے تعلیمی اداروں سے کہاں سے کہاں پہنچ سکتے ہیں۔نورین لغاری کے والد پروفیسر‘ وہ خود میڈیکل کی طالبہ کیسے دہشت گردوں تک پہنچ گئی۔ یہاں پر ذمہ داری فوج یا حکومت پر نہیں والدین پر عائد ہوتی ہے۔فوج نے تو اس کو بازیاب کروایا‘ اس کی بحالی پر کام چل رہا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لڑکی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوگئی اور والدین غافل رہے۔


فوج کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر گھر یا یونیورسٹی میں آکر دیکھے کہ ہماری نئی نسل اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر کیا کررہی ہے؟ ان کے فیس بک فرینڈز کون ہیں؟ وہ ٹویٹر پر کس کس کو فالو کرتے ہیں؟ان کے دوست احباب کون ہیں؟ ان کے اساتذہ کس طرح کے خیالات کے مالک ہیں؟کیا رد الفساد میں بحیثیت پاکستانی ہم سب کا فرض نہیں بنتا کہ اپنا اپنا حصہ ڈالیں؟ کیا پاک وطن کے دفاع کے لئے میرا آپ کا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے اردگرد دہشت گردی اور انتہا پسندی کو رپورٹ کریں؟ جہاں تک ہوسکے اس کا سدباب کرنے کی کوشش کریں؟

 

آپریشن رد الفساد کے تحت فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہے ہیں۔

آپریشن رد الفساد کی ایک اور بڑی کامیابی کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کا ہتھیار ڈالنا ہے۔اپنے اعترافی بیان میں احسان نے طالبان کی حقیقت کو عیاں کردیا ہے طالبان کوئی اسلام کی جنگ نہیں لڑ رہے وہ کرائے کے قاتل ہیں اور اس وقت را اور این ڈی ایس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔انہیں بھارت اور افغانستان سے بھاری فنڈنگ دی جاتی ہے جس کے بعد وہ پاکستان میں آکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہے ۔یہاں تک کے طالبان پاکستان کے خلاف اسرائیل سے بھی مدد لینے کو تیار تھے ۔ایک اور خوفناک انکشاف جو احسان اللہ احسان نے کیا وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر طالبان اسلام کی غلط تشریح کرتے رہے اور نوجوانوں کو بھٹکایا۔اس اعتراف یہ بات مزید عیاں ہوگی کہ ہمارے دشمنوں اور دہشت گردوں کا مین ہدف اب ہماری یوتھ ہے۔وہ انہیں ورغلا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔


فوج اپنی جنگی ڈاکٹرائن کے تحت کامیابی کے ساتھ ردالفساد آپریشن کررہی ہے۔اس سے پہلے ہونے والے ملٹری آپریشنز، المیزان، راہ راست،راہ نجات اور ضرب عضب خالصتاً فوج نے لڑے۔لیکن رد الفساد میں عوام کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا انہیں اسلحہ نہیں اٹھانا، انہیں خود فیصلے کرکے ہجوم کا انصاف نہیں کرنا، انہیں صرف اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے ہیں۔ اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہے کہ ان کے دوست کون ہیں اور وہ اپنا جیب خرچ کہاں صرف کررہے ہیں۔اگر ان کے رہن سہن میں بدلاؤ دیکھیں تو ان سے بات کریں انہیں ماہر نفسیات کو دکھائیں۔ان کو راہ راست پر لائیں۔


مکان کرائے پر دیتے وقت نادرہ کا شناختی کارڈ طلب کریں۔اس کی قریبی نادرہ سینٹر سے تصدیق بھی کروائیں کہ اصلی ہے یا جعلی۔ملازم رکھتے وقت اس کے کوائف کی بھی تصدیق کروائیں۔کسی کو گاڑی کرائے پر دیتے وقت لائسنس اور شناختی کارڈ کی کاپی اپنے پاس رکھیں۔اپنا شناختی کارڈ دیتے وقت اس پر لکھ دیں کس مقصد کے لئے آپ یہ شناختی کارڈ دے رہے ہیں۔کسی بھی شخص، رشتہ دار یا عزیز کو اپنے شناختی کارڈ پر سم خرید کر نہ دیں۔آپ کی کم فہمی سے کہیں ایسانہ ہوکہ آپ دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہوجائیں۔


فسادی اب فساد کا بیج ہمارے تعلیمی اداروں میں بو رہے ہیں۔عسکری طور پر شکست کے بعد اب ان کا ٹارگٹ ہمارے بچے ہیں جنہیں وہ برین واشنگ کرکے ورغلا رہے ہیں۔تعلیمی اداروں میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لئے جامعات میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند ہونا چاہئے۔ وہاں پر سیاسی جماعتوں کے ونگز پر پابندی عائد کی جائے، اسلحے کی ممانعت ہو، درس گاہوں کی انتظامیہ اور اساتذہ کے لئے بھی قوانین مرتب کئے جائیں جس کے تحت نہ تو وہ دائیں اور نہ ہی بائیں بازو کی انتہا پسندی کو فروغ دے سکیں۔نصاب میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ 1980 کا نصاب 2017 میں پڑھانا زیادتی ہے۔ دنیا بدل چکی ہے ہم ٹریکٹر کے چار پہیوں میں پھنسے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کے درمیان ہر ماہ میٹنگ رکھی جائے تاکہ طالب علم کی کارکردگی سے اس کے والدین آگاہ رہیں۔بچوں کے بڑے ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ گھر والے ان کی سرگرمیوں سے غافل ہو جائیں۔


فوجی اپنا کام کررہے ہیں، لیکن، کیا آپ اپنا کام کررہے ہیں؟کچھ فسادی سوشل میڈیا پر ہر وقت پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ہر محب وطن پاکستانی کا بھی فرض بنتا ہے کہ جواب دلیل اور حقائق کے ساتھ دیں۔سوشل میڈیا پر بیٹھے یہ فسادی طالبان اور داعش سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔یہ دہشت گردعالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اگر ان کے خلاف کارروائیاں نہ کی گئیں تو وہ پاکستانی ریاستی اداروں کو مزید متنازعہ بنا کر پیش کرتے رہیں گے۔پاکستانی بلاگرز اور انٹرنیٹ سٹارز کو چاہئے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے سے ملک میں اعتدال پسندی اور پاکستانیت کو فروغ دیں۔


سیاستدان بھی ایک دوسرے کے خلاف سیاسی چپقلش میں نوجوان نسل کو استعمال نہ کریں۔نوجوان ملک کا ساٹھ فیصد ہیں انہیں تعلیم، ثقافت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔شعرائے کرام، فلم، ڈرامہ نگار، ادیب اور دانشور انتہاپسندی کے خلاف لکھیں اور ملک سے محبت کا کلام لکھیں۔صحافیوں کو بھی چاہئے کہ وہ مثبت خبروں پر کام کریں ہر وقت منفی خبریں دیکھنا بھی ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔


عوام سے گزارش ہے چندہ دیتے وقت یہ خیال رکھیں کہ آیا آپ ان پیسوں سے فلاحی کام ہی کررہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنے ہم وطنوں کے خلاف استعمال ہونے والی گولی خرید رہے ہیں۔دہشت گردوں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان، ملا فضل اللہ، مجلس الاحرار، داعش اور لشکر جھنگوی کو بہت بڑی فنڈنگ بھارت سے مل رہی ہے۔ان پیسوں سے یہ سہولت کار خریدتے ہیں۔ سہولت کار بارڈر پار سے نہیں آتے، یہیں موجود ہیں۔کچھ لوگ تو سادہ لوحی میں اور کچھ پیسوں کے لالچ میں ایسا کر جاتے ہیں۔مقامی لوگ دہشت گردوں سے ہوشیار رہیں اور اپنی ہی دھرتی کے خلاف استعمال نہ ہوں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے اور ہمیں مل کر فسادیوں سے اپنا ملک پاک کرنا ہوگا۔ تو آئیے مل کر اپنی فوج کا ساتھ دیں اور ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

مضمون نگار صحافی اور فوٹوگرافر ہیں اور ’سانحہ آرمی پبلک سکول شہداء کی یادداشتیں‘ کتاب کی مصنفہ ہیں ۔

Twitter @javerias

 
09
May

تحریر: محمد عامر رانا

انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔

 

جب کچھ رجحانات خطرے کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں توان کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور نفسیاتی توجیحات کی جاتی ہیں۔ ان موضوعات پر تحقیق مسلسل جاری ہے لیکن فی الوقت یہ یقین کرنے میں وقت درکار ہے کہ وہ کیا عمل ہے جوکسی فرد کی ذہنی کیفیت یکدم تبدیل کردیتا ہے اور وہ دہشت گردی کا ایندھن بننے پر تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ ایسے افراد دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے منسلک ہونے سے پہلے مذہبی اجتماعیت کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں اور عموماً ان کا یہ سفر غیر عسکری مذہبی جماعتوں اور تحریکوں سے شروع ہوتا ہے۔
غیر عسکری مذہبی قوتیں ابہام کا شکار ہیں اور وہ دہشت گردی کی مکمل مخالفت کرنے سے ہچکچاتی ہیں اور اس ابہام کا الزام اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں۔ جب دینی مدارس یا ان سے منسلک تنظیموں کے وابستگان دہشتگردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو جدید مذہبی ادارے ان سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جدید تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے افراد دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو مدارس کے وابستگان انگشت نمائی دوسری جانب کرتے ہیں۔


یہ مسئلے کے ادراک سے انکار اور راہ فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شدت پسندی کا مسئلہ خاصا پیچیدہ ہے اور ریاست اسے فوری حل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ حل کیا ہو؟ بات گھوم پھر کر بیانیے پر آ کر ٹک جاتی ہے۔ بیانیے کو ایک موم کی ناک سمجھا جاتا ہے کہ جیسے چاہے موڑ لی یا گھما دی۔ نہ صرف حکومت بلکہ دانشور طبقے کا ایک حصہ بھی اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ بیانیے آرڈر پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔ گویا جب ایک بیانیے کی افادیت باقی نہ رہے یا اس سے نقصان ہونے لگے تو فوری طور پر اسے نئے بیانیے سے تبدیل کر دیا جائے۔


اس حوالے سے پاکستان میں دو آراء پائی جاتی ہیں ۔ ان میں پہلا خالصتاً مذہبی بیانیہ ہے اور ریاست نہ صرف اسے قبول کرتی ہے بلکہ خود کو اس اقلیم کا محافظ بھی گردانتی ہے۔ دوسرا بیانیہ سیکولر ہے جسے متبادل بیانیہ بھی کہا جاتا ہے جو کہ جدید اور ترقی پسند سماج کا تصور پیش کرتا ہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے اس مسئلے کا طویل مدتی حل تجویز کیا جاتا ہے جس میں نصابی اصلاحات سے ثقافتی اظہار اور سماج و ریاست کے باہمی تعلقات میں تبدیلی سمیت بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ یقیناًیہ دہشت گردی کے مسئلے کا فوری حل نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’نظریے کی جنگ‘‘میں ریاست مدد کے لئے اپنے مذہبی نظریاتی اتحادیوں کی جانب واپس ہو لیتی ہے۔

 

ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔

دوسری جانب مذہبی طبقہ مقتدر اشرافیہ کا حصہ بن کر اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ تاہم مذہبی رہنما اس مسئلے کا ٹھوس حل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دہشت گردی کے واقعات کی محض’مذمت‘اور ذمہ داروں کو ’بھٹکے ہوئے‘ قرار دینے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ اس سے شدت پسندانہ نظریات کی کشش کم کرنے کے لئے موثر متبادل بیانیہ تشکیل دینے میں بھی کوئی مدد نہیں ملتی۔


شدت پسندوں کے بیانیے کی طاقت ان کی مذہبی دلیل یا اسلام کی مخصوص تشریح میں چھپی ہے۔ اس لئے مذہبی انتہاپسندوں کی اصل طاقت ان کی نظریاتی ساخت میں پوشیدہ ہے جس کی بنیاد مذہبی حجت پر استوار ہے اور اسے سیاسی استدلال سے تقویت ملتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف سطحی بیانیوں کی آویزش نہیں ہے بلکہ اس کا مذہبی استدلال یا اسلامی احکامات کی تشریح سے گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ مذہبی اشرافیہ متبادل بیانیوں کے لئے تیار نہیں ہے یا اس میں نیا بیانیہ پیش کرنے کی اہلیت ہی نہیں پائی جاتی۔حکومت نے نیشنل ایکشن پلان میں نفرت پر مبنی تقاریر پر پابندی کے نکتے کو درست یا غلط طور پر انتہاپسندی کے خاتمے کے اقدامات کا متبادل سمجھا ہے۔ تاہم غور کیا جائے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ربط اور ان پر اعتماد کی کمی تمام مسائل کی جڑ ہے جسے تاحال کمزور نہیں کیا جا سکا۔ یہی خلا پر کرنے کے لئے ’نیکٹا‘کا قیام عمل میں آیا تھا مگر حکام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سامنے آ کر لڑنے کے بجائے بیانیے کنٹرول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔


عموماً ’نیکٹا‘کے غیرموثر ہونے کے لئے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے طاقتور اداروں کی جانب سے عدم تعاون کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے مگر خود حکومت نے بھی ’نیکٹا‘کو مناسب وسائل اور اعانت مہیا نہیں کی۔ اگر ایسا ہوتا تو دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا یہ ادارہ فعال اور موثر کردار ادا کر سکتا تھا۔

 

دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ نیکٹا‘ نے اپنے لئے یہ انتہائی مشکل کام منتخب کرتے ہوئے یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ اسے متبادل بیانیے تخلیق کرنے میں کسی ادارے کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا۔
بیانیے نعرے یا جھنکار نہیں ہوتے۔ بیانیے کسی معاملے پر وسیع تر مطابقت اور کسی قوم کی سوچ کا اظہار ہوتے ہیں۔ ان کی جڑیں کسی قوم کی تہذیبی گہرائی اور افراد و سماج کے رویوں میں پیوست ہوتی ہیں مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بیانیے کی بنیاد ایک معقول ساخت پر قائم ہوتی ہے۔ یہ ساخت یا ڈھانچہ مخصوص اقدار کا حامل ہوتا ہے جن کو اپنانے سے رویے تشکیل پاتے ہیں اور انہیں رہنمائی ملتی ہے۔ ایسے کاموں میں ریاست کا بھی اہم کردار ہے مگر اس کے لئے سماج کی رضامندی اور اتفاق رائے بھی شامل ہوتے ہیں۔


ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔
دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے انسداد دہشت گردی کے صوبائی محکمہ جات کو بہرصورت مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں کام کرنے والے شعبہ جات کو مزید انسانی وسائل، فنڈ، تربیت اور سب سے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں سے تعاون درکار ہو گا۔


پہلے معاملے کا تعلق انتہا پسندی کے بدلتے ہوئے رجحانات سے ہے بالائی متوسط طبقات کے نوجوانوں میں تعلیمی اصلاحات، بالخصوص نصاب کے کلیدی مقاصد کا ازسرنو جائزہ، کسی بھی سی وی ای کاؤنٹر وائیلنٹ ایکسٹریم ازم
Counter Violent Extremism
پالیسی کا انتہائی اہم عنصر ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت سا علمی کام ہوچکا ہے لیکن تیزتر اور مستقل تحقیق اور تعلیمی مراکز کے قیام کی ضرورت باقی ہے۔ ماہرین تنقیدی سوچ کی تعمیر کو تعلیم کا بنیادی مقصد مانتے ہیں۔ شہریت اور’ سوک ایجوکیشن‘ کو بنیادی تعلیم (چاہے نجی یا سرکاری سکول ہو یا مدرسہ)کے دوران نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔ طلبہ کو اچھا شہری بنانے پر زور دیا جانا چاہئے اور آئین اور قانون کی پاسداری کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔
کسی بھی سی وی ای میں داخلی سکیورٹی اصلاحات کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔ یہاں ہمیں اہم سٹریٹجک ترجیحات اور ان کے داخلی سکیورٹی سے تعلق کے دوبارہ جائزے کی ضرورت ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 256 کے مکمل نفاذ کی ضرورت ہے جس میں واضح کہا گیا ہے کہ کوئی نجی تنظیم قائم نہیں کی جائے گی جو کسی فوجی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے کے قابل ہو، ایسی ہرتنظیم غیر قانونی ہوگی۔ اسی کے ساتھ قومی دھارے میں پرتشدد نظریات کو فروغ دینے والے افراد یا گروہوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔


نسلی و سیاسی، سماجی و ثقافتی اور مذہبی اتصال کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال مخصوص ہے۔ ہمارے لئے آئین پاکستان سے وفاداری کی بہت اہمیت ہے۔ آئین ایک جامع عمرانی معاہدہ ہے جس پر مختلف نقطۂ نظر سے تعلق رکھنے والوں کا اتفاق ہے۔ ریاست اور سماج دونوں کو اس سے رہنمائی لینی چاہیے۔ پاکستان کے مثبت بیانیے کا ماخذ اسی کو ہونا چاہئے اور آئین کو دھیرے دھیرے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔
یہ محض چند تجاویز ہیں۔ ماہرین اور دیگر افراد اس میں مزید حصہ ڈال سکتے ہیں اور بہترمشورہ دے سکتے ہیں۔ مشاہدات اور تجاویز جمع کرنے کے لئے حکومت کو کوئی طریق کار مرتب کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار ایک معروف تجزیہ نگار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر:خورشیدندیم

پُر تشدد انتہا پسندی کا رد
(Counter Violent Extremism)
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا اور حکمرانوں کے انتخاب کا حق عوام کو منتقل ہو گیا تو بطور ہتھیار تشدد کی پذیرائی کا امکان ختم ہو گیا۔


تشدد انقلابی تحریکوں کا ہتھیار رہا ہے۔ انہوں نے ’’ سٹیٹس کو ‘‘ کو توڑنے کے لئے، غور وفکر کے بعد، تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کیا۔ ماؤزے تنگ اور لینن نے اپنی انقلابی حکمتِ عملی کے تحت تشدد کا ذکر کیا۔اس کی تائید میں دلائل دئیے اور خون بہانے کو انقلاب کی ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکیت کے زیر اثر دنیا بھر میں جو انقلابی تحریکیں برپا ہوئیں انہوں نے اعلانیہ تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ یہ تشدد اگرچہ ریاست کے خلاف تھا لیکن بالواسطہ طور پراس کا ہدف سماج اور عوام بنتے تھے۔


اشتراکیت کی طرح ،اسلام کے نام پرجب انقلابی تحریکیں اٹھیں تو انہوں نے بھی تشدد کو اختیار کیا۔ مصر سے الجزائر تک ہمیں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب اسلامی تحریکوں نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ اشتراکیت میں چونکہ مذہب کی نفی کی جاتی ہے، اس لئے اس کے پُر تشدد بیانیے میں طبقاتی تقسیم کو بنیادی دلیل بنایا گیا۔ ایک بورژوائی طبقے سے نجات کو عوامی فلاح کے لئے ناگزیر سمجھا گیا اور اس کے لئے تشدد کو ناگزیر کہا گیا۔ اسلامی تحریکوں کا بیانیہ مذہبی تھا۔ انہوں نے جہاد کے تصور کی تعبیرِ نو کرتے ہوئے ، ایک نئی فقہ ایجاد کی اور تشدد کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہوئے، اسے بطور حکمت عملی اختیار کر لیا۔


1990ء کی دہائی میں، دنیا بھر میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہونے لگا۔ خلیج کی پہلی جنگ کے نتیجے میں کچھ انتہا پسند گروہ سامنے آئے۔ ان میں سے اکثر وہ تھے جو سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں متحرک رہ چکے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف ان کی جد و جہد کو بین الاقوامی تحفظ حاصل تھا کیونکہ عالمی سطح پر مختلف ریاستوں نے مل کر سوویت یونین کو شکست دینے کی حکمت عملی بنائی اور اس مقصد کے لئے مسلح تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1990ء کی دہائی کے بعد انہیں عالمی سرپرستی حاصل نہ رہی کیونکہ عالمی قوتوں کے مقاصد اور ان تحریکوں کے مقاصد و اہداف یکساں نہیں رہے۔

 

putashadad.jpgتشدد پر ریاست کی اجارہ داری کو ہمیشہ قبول کیا گیا ہے۔مذہب کے علاوہ سیکولرتصورِ ریاست کے تحت بھی،ریاست کے لئے تشدد کو جائزقراردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست اگر کسی کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دے تو اس حق کو چیلنج نہیں کیا جاتا۔ تاہم ریاست یہ کام کسی قانون اور ضابطے کے تحت کرتی ہے، جیسے فوج کے ادارے کا قیام یا پولیس کو مسلح کرنا۔سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، جب غیرحکومتی مسلح تحریکوں کو ریاستوں نے قبول کرنے سے انکارکیا تو انہوں نے مزاحمت کی اور اب ریاستی نظام ان کا ہدف بن گیا۔ اس کو روکنے کے لئے ریاستوں نے کئی طرح کی حکمت عملی اختیار کی۔ اسے ردِ پرتشدد انتہاپسندی
(Counter Violent Extremism)
کا نام دیا گیا۔
پر تشدد انتہا پسندی کو روکنے کے لئے مختلف ممالک نے جو لائحہ عمل اختیار کیا، اُس کے کئی ماڈل ہیں۔ امریکہ کا اپنا ماڈل ہے، برطانیہ کا اپنا۔ دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے مقامی حالات کے پیش نظر اس مسئلے کے اسباب تلاش کئے۔ پھر ان اسباب کی روشنی میں اس کا علاج دریافت کیا۔ ان ممالک میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں اور بعض دیگر بھی۔ چونکہ اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی ایک عالمی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے ، اس لئے ہر ماڈل میں مذہب بطور حوالہ موجود ہے۔


پاکستان میں اس وقت جو تشدد ہے وہ دو طرح کا ہے۔ ایک وہ جو مقامی حالات کے زیر اثر پیدا ہوا اور اس کے اسباب سیاسی وسماجی ہیں۔ اس کے مظاہرکراچی اور بلوچستان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان مخالفت خارجی قوتوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس کی بنیاد ملکی حالات بنے۔ ایک تشدد وہ ہے جو ملک گیر ہے اور اس کی بنیاد مذہب کی ایک خاص تعبیر پر ہے۔تشدد کی ان دو صورتوں کے توڑکے لئے ،ہمیں دو طرح کی انسدادِ تشدد
( Counter Violence)
حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ کراچی کا مسئلہ جرم اور سیاست کا یک جا ہونا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی عمل کو بحال کرتے ہوئے جرم سے نمٹا جائے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ بلوچستان میں محرومیوں کی تلافی اورجائز مطالبات پورا کرتے ہوئے لوگوں کو جمہوری جد و جہد کا راستہ دکھانا ضروری ہے۔ جمہوریت در اصل تشدد کا راستہ روکتی ہے۔


جہاں تک مذہبی تشدد کا معاملہ ہے، وہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے اوراس کی بنیادیں عالمی سیاست میں ہیں۔ دین کی جو تعبیر اس مقصد کے لئے اختیار کی گئی ہے، اس میں جدید قومی ریاست کی نفی کرتے ہوئے مسلمانوں کو عالمی سطح پر ایک سیاسی اکائی تسلیم کیا گیا ہے۔ یوں ان تمام تنظیموں اور افراد کے مابین رسمی یا غیر رسمی اتفاقِ رائے اور تعاون وجود میں آ گیاہے جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں متحرک ہے۔ یہ عوامل پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ہمارے نظمِ اجتماعی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔


اس تشدد کی روک تھام کے لئے دو کام اہم ہیں۔ ایک یہ کہ اس نقطۂ نظر کی فکری بنیادوں کو چیلنج کیا جائے اوریہ بتایا جائے کہ کس طرح دین کی تعلیمات سے غلط استدلال کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ دورِ جدید میں قومی ریاستوں کے وجود کو بین الاقوامی معاہدوں کا تحفظ حاصل ہے اور ہم ان معاہدوں میں شریک ہیں۔ اس لئے ہم ان کو ماننے کے پابند ہیں۔ دوسرا یہ کہ دین میں ایسا حکم موجود نہیں ہے جو مسلمانوں کے لئے یہ لازم قرار دیتا ہو کہ وہ عالمی سطح پر ایک ریاست کی صورت میں منظم ہوں۔ یہ چند بنیادی اجزاء ہیں ورنہ یہ تعبیر بحیثیت مجموعی محلِ نظر ہے۔اس دینی تعبیر کا جائزہ لینے اور اس کا جوابی دینی بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔


دوسرا کام یہ ہے کہ جن لوگوں نے تشدد کو بطور حکمت عملی اختیار کیا ہے، ان کے خلاف اقدام کیا جائے۔ یہ اقدام ظاہر ہے کہ ریاست ہی کر سکتی ہے۔ ضربِ عضب اور پھر ردالفساد کی مہم اسی ریاستی اقدام کے مظاہر ہیں۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ہمیں اس میں کامیابی ہوئی ہے اور ایسے بہت سے لوگوں کا خاتمہ ہو گیا ہے جنہوں نے معاشرے میں تشدد کو پھیلایا اور انسانی جان و مال کو خطرے میں ڈالا۔


اس تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب تک مذہبی انتہا پسندی کا بیانیہ ختم نہیں ہوتا، تشدد کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔اس کے لئے ہمیں ایک واضح حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ پہلے مرحلے میں ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ یہ بیانیہ کیا ہے اور اس کے بعد اگلے مرحلے میں اس کا جوابی بیانیہ تیار کرنا ہے۔اس باب میں یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ ہم اس کوشش میں کوئی نیا دین ایجاد نہیں کر رہے۔اسلام وہی ہے جو اللہ کے آخری رسول ﷺ کی سند سے ثابت ہے۔ ہمیں صرف یہ بتانا ہے کہ کس طرح اس دین کی غلط تعبیر کی گئی ہے۔ اس سے اگلا مرحلہ اس بیانیے کی اساس پر دینی دعوت وتعلیم کے اداروں کی تشکیلِ نو ہے۔یہ مراحل طے کر نے کے بعد ہی ،ایک واضح ایکشن پلان بروئے کار آسکے گا۔
اس وقت نیشنل الیکشن پلان کے تحت نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی
(NECTA)
کے نام سے ادارہ قائم ہے جس کے اہتمام میں ایک جوابی بیانیے کی تشکیل کا کام جا ری ہے۔اس میں سماج کے مختلف طبقات کے نمائندے شریک ہیں۔تاہم اس سے پہلے اس بیانیے کے جائزے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کا باعث ہے۔اِس وقت یہ اس طرح زیرِ بحث نہیں جیسے ہو نا چاہیے۔اس سارے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔


1۔ ایک فکری ادارے کا قیام جو انتہا پسندی کے موجودہ بیانئے کا ہمہ جہتی تجزیہ کرے۔اس کے تحت ان سوالات کے جوابات تلاش کیے جائیں:
اس بیانیے کا دینی استدلال کیا ہے؟اسے دین کے بنیادی ماخذ سے کس طرح اخذ کیا جا تا ہے؟
ب۔ مسلم تاریخ کے کس عہد میں اس کا آغاز ہوا اور وہ کون کون سے داخلی اور خارجی عوامل تھے جنہوں نے اس بیانیے کو جنم دیا؟
ج۔ یہ بیانیہ مقبول کیسے ہوا؟اس کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی گئی ؟
د۔ اس بیانیے کے فروغ میں روایتی سماجی دینی اداروں کا کردار کیا رہا؟
ہ۔ریاست اسے روکنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکی؟
و۔ جدید تعلیم کے ادروں تک یہ بیانیہ کیسے پہنچا اور انتہا پسند تنظیموں کو کیسے یہاں سے افرادی قوت میسر آئی؟
اس کام کے لیے ہمیں معاصر معاشروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔جیسے یہ جانا جائے کہ 9/11کے بعد امریکی حکمتِ عملی کیا تھی۔اس ضمن میں9/11کمیشن کی رپورٹ اہم ہے۔
2۔ یہ فکری ادارہ ان جوابی بیانیوں کا جائزہ لے جو مختلف اہلِ علم نے اپنے طور پر پیش کیے۔ان اہلِ علم کو مدعو کیا جائے اور ان کے استدلال کو پوری طرح سمجھا جائے۔
3۔ اہلِ علم کی مدد سے ایک جوابی بیانیہ تیار کیا جائے۔
4۔ اگلے مر حلے میں ابلاغ کی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔اس میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ مسجدو مدرسہ اور میڈیا جیسے قدیم و جدید ابلاغی ا داروں کو اس جوابی بیانیے کی ترویج کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے؟
5۔ موجودہ دینی و عمومی تعلیمی نظاموں کا جائزہ لیا جائے اوریہ دیکھا جائے کہ جوابی بیانیے کے نکات کس طرح نصاب میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
6.۔ مسجداور مدرسے کے نظام کو ایک ریاستی نظم کے تابع کیا جائے تاکہ ان اداروں کا سوئے استعمال روکا جا سکے۔
7۔ تدریجاً بارہ سال کی بنیادی تعلیم کو یکساں بنا دیا جائے۔اس کے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ کی طرح دینی تعلیم کے تخصص
(specialization)
کے ادارے قائم ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جوابی بیانیے کی تشکیل کے بعد ،اس کی اشاعت اورفروغ کے لیے ہمیں اہلِ دانش کی مدد سے جہاں ایک موثرابلاغی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی وہاں نظام تعلیم کوبھی نئے خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
25
April
اپریل 2017
شمارہ:4 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
وطنِ عزیز میں امن کی بحالی کے لئے افواجِ پاکستان اور قوم باہم مل کر دہشت گردی کے جس عفریت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما تھیں‘ الحمدﷲ اس میں کافی حد تک کامیابی مل چکی ہے اوراُس کے ثمرات کا اندازہ امن عامہ کی عمومی صورتحال اور عوام کے دمکتے چہروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ الحمدﷲعوام الناس دہشت گردی کے خوف سے نکل چکے ہیں ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں
دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص....Read full article
 
 alt=
تحریر: طاہرہ جالب
کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر....Read full article
 
تحریر: جاوید حفیظ
مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت.....Read full article
 
تحریر: غزالہ یاسمین
23مارچ ہماری قومی تاریخ میں غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا پیمان باندھ کر اس کے حصول کی باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اس عہد کو تاریخ....Read full article
 
تحریر: فرح حسین
23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
کوئی بھی فوجی یا ریاستی اہلکار اپنی جان اس لئے قربان نہیں کرتا کہ اسے جان قربان کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ بلکہ وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر دشمنوں کے خلاف لڑتا ہے کہ اگر ملک کی حفاظت کے لئے جان بھی دینی پڑی تو پروا نہیں۔ یہ جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنے کا کیا طریقہ ہے اور کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ یہی جذبہ تمام سکیورٹی اداروں کے ہر اہلکار میں موجزن رہے۔....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
وہ ایک خوبصورت صبح تھی۔ شفاف‘ روشن دن30جولائی، میری اٹھارویں سالگرہ تھی۔ میں اور میرا بھائی گھر پر اپنے والدین کے منتظر تھے۔ میں بہت خوش اور پرجوش تھی۔سینیلا بول رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسکراہٹ اتر اتر کر اس کے ہونٹوں تک بکھر رہی تھی۔ اس کی ہوا میں کہیں تیر تی ہوئی نظر شاید ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کے خوابوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔.....Read full article
 
تحریر: طاہر محمود
23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج.....Read full article
 
تحریر: طاہر محمود
بوسنیا کے ایک جنگی ترانے کا ترجمہ
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں میں نے جانا ہے
اس خاموشی میں صرف اک صدا ابھرتی ہے
اﷲ اکبر
سردیوں کی ایک لمبی رات.....Read full article
 
تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ
جہلم شہر سے رانجھا میرا نامی گاؤں کی طرف جائیں تو چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلال ٹاؤن آتا ہے۔ اسی بلال ٹاؤن میں محلہ شاہ پور ہے۔ جہاں مادر وطن کا وہ جانباز (شہید) پیدا ہوا اور اسی قبرستان میں پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ دفن ہوا۔....Read full article

انٹرویو : او یس حفیظ
عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس........Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرہمامیر
سرکس میں تماشا نہیں لگاتا۔ یہ بات کیوں اور کیسے مشہور ہوئی معلوم نہیں لیکن مجھے ان بھیڑیوں کا خیال ضرور آیا جنہیں ایک کینیڈین جوڑا بڑی محبت سے ایسے پال رہا ہے جیسے وہاں کتے یا بلی پلتی ہے۔ ونکوور کے شمال مشرق میں پہاڑوں کے دامن میں 1.25 ایکڑ کے وسیع رقبے پر....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر وقار احمد
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان توانائی کے مستقل اور شدید بحران کا شکار رہا ہے اور اس کے حل کے لئے مختلف تجاویز، منصوبے اور حکومتی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سلسلے کو اگر ہم ملک کی تیزرفتار ترقی اور خصوصاً سی پیک جیسے بڑے منصوبوں سے جوڑیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور حقیقی اور پائیدار ترقی کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔یہ بہت نازک وقت ہے جب پاکستان....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان کے ساتھ بطورِ آرٹلری آبزرور موجود تھے۔ یہاں دن رات تیر کر دریا پار کرنے کی پریکٹس کی جاتی تھی۔ ستم بالائے ستم ....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی....Read full article
25
April


بوسنیا کے ایک جنگی ترانے کا ترجمہ
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں میں نے جانا ہے
اس خاموشی میں صرف اک صدا ابھرتی ہے
اﷲ اکبر
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں ‘ میں نے جانا ہے
میرے بزرگوں کی دھرتی آج مدد کو پکارتی ہے
میری ماں
اگر میں نہ لوٹ سکا
تو میرے انتظار میں گھڑیاں نہ ضائع کرنا
تیری پلکوں سے ایک آنسو
خامشی سے ڈھلک جائے
اور پھر فاتحہ مجھے الوداع کہے
یہ میری قربانیوں کا ثمر ہوگا
میری ماں
میں دیکھ سکتا ہوں
کہ اذاں کی صدا کے پروں کی سواری
مجھے جنت کے دروازے کو لے جارہی ہے
اور وہاں

میرے شہر سے آنے والی رمضان کی خوشبوئیں
مجھے خوش آمدید کہہ رہی ہیں
میری ماں
میں نے جانا ہے
کہ میری دھرتی مجھے پکارتی ہے
مگر تجھے اِک عہد کرنا ہوگا
کہ تومیری بہنوں کے آنچل کی لاج رکھے گی
اور میں
قبر کی اتھاہ گہرائیوں سے دیکھنا چاہوں گا
کہ میری بہنیں
بوسنیا کے غازیوں کو جنم دے رہی ہیں
میری ماں! الوداع
میری بہنو ! الوداع
میرے بوسنیا! الوداع
میں نے جانا ہے
کہ جنت کی صدائیں مجھے پکارتی ہیں
اﷲ اکبر، اﷲ اکبر
(ترجمہ :طاہر محمود۔ فروری 1995)

*****

14
April

23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج سے محبت جسم سے روح تک کے سارے سفر کا احاطہ کرتی ہے۔ فوجی کے دل و دماغ میںیہ دونوں جذبے یوں گڈ مڈ ہوتے ہیں کہ ان کی علیحدہ علیحدہ شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ ملک اور فوج ، فوج اور ملک بس یہ دو شناختیں مل کر ایک ہو جاتی ہیں اور فوجی کی اپنی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ بس صرف جذبہ زندہ رہ جاتا ہے۔
انسان محبت کرتا ہے کہ زندہ رہ جائے اور زندگی حسین ہو جائے۔ فوجی محبت کرتا ہے کہ زندگی قربان کر دے اور محبوب تا قیامت زندہ رہ جائے۔ ایسی محبت کی مثالیں کہاں ملیں گی کہ جسم کو توانا رکھاجاتا ہے کہ قربانی کے ثمر رائیگاں نہ جائیں۔ قربانی کرنے والا اپنے لہو کا خراج صرف کامیابی چاہتا ہے اپنے ملک کی کامیابی۔ اور اگرکامیابی ممکن نظر نہ آتی ہو اور موت کا سامنا ہو تو وہ خوشی خوشی موت کو گلے لگاتا ہے۔ اسے اپنی جدوجہد پر فخر ہوتا ہے کہ
Honour
اور
Pride
کے عَلم اس کی موت تک بلند تھے۔
یہ جذبے، یہ لوگ، یہ جسم، یہ آنکھیں یہ حوصلے سب 23مارچ کی پریڈمیں زندہ شکل میں ہوتے ہیں۔ مگر وقت پڑنے پر یہ ملک کے لئے اپنی آخری قربانی سے بھی چنداں دور نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر آنکھیں ہر لمحہ نم نہ ہوں تو اور کیا ہو۔ فوجی کب روتا ہے۔ شاید بہت کم، ہاں مگر وطن سے محبت کے جذبے ضرور اس کی آنکھوں کو ہمیشہ نم کرتے ہیں۔
(طاہر محمود)

11
April

معروف اداکارہ اور یومِ پاکستان پریڈ کی کمنٹیٹر فرح حسین کی وطن سے محبت میں لبریز ایک تحریر

23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے وہ شاید اپنا وجود یا اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے۔ جس کو دیکھو وہ انسانیت کا، سرحد کے غیر اہم ہونے کا اور دوستی کا گیت گاتا نظر آتا ہے۔ ان باتوں سے کسی ذی عقل انسان کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن سوال صرف ایک ہے کس قیمت پر اور یہی نقطہ اختلاف ہے۔


23مارچ کی سب سے بڑی مصروفیت صبح سے ہی پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی پریڈ ہوتی تھی۔ ایک جوش و خروش اور ولولہ پیدا ہوتا تھا مارچ پاسٹ اور سلیوٹ کرتے ہوئے فوجیوں کو دیکھ کر ایک احساس تفاخر پیدا ہوتا تھا اور احساس ہوتا تھا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔


اس پریڈ کے انعقاد کا سلسلہ موقوف ہو گیا اور 23مارچ کا دن بھی بہت سے چھٹی والے دنوں میں سے ایک ہو گیا۔ یہ چھٹی کیوں ہے؟ اس دن کی اہمیت کیا ہے؟ کیسے ہم نے اس ولولہ اس جذبہ کو زندہ رکھنا ہے جو ہمارے اسلاف کی میراث اور ہمارے تشخص کی بنیاد ہے؟ نہ تو کاروباری سکولز کے پاس اس کے لئے وقت اور نہ ہی مختلف لبرل و آزادئ اظہار کے قائل ٹی وی چینلز کے ہاں اس کی ضرورت۔ ہمارے ہاں وطن دوستی کے جذبات اور اظہار کو ایک خاص انداز سے دیکھا جاتا ہے اور وطن مخالف نظریات کی تشہیر کو آزادی رائے واظہار مانا جاتا ہے۔ جس نے ہمارے بچوں کے ذہنوں میں اپنی شناخت کے اعتبار سے بہت سے ایسے سوال پیدا کر دیئے ہیں جو درست نہیں ہیں۔


آج بچے وہ ملی جذبہ محسوس نہیں کر پاتے جو ہمارے بچپن کا خاصہ تھا۔ کیونکہ آج بچوں کو صرف یہ پتہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر ایک کرپٹ ہے۔ ہر کام رشوت سے ہوتا ہے اور ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ جس نے ایک خاص طرح کے احساس کمتری کو جنم دیا ہے اور جذبہ سرشاری کو ختم کر دیا ہے اور جس ملک کے جوان اپنے پرچم، اپنے ملک پر فخر کرنے کا جذبہ کھونے لگیں اس ملک کو پھر بیرونی دشمنوں سے نہیں اندرونی خلفشار سے زیادہ خطرہ رہتا ہے۔مارچ 2015میں دس سال کے تعطل کے بعد 23مارچ کو پریڈ کے دوبارہ انعقاد نے اس دن کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا اوراب ہر سال منعقدہونے والی یہ پریڈ صرف افواج پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے تجدید عہد کا دن ہے۔


کمنٹری بوتھ میں بیٹھ کر افواج پاکستان کے جوانوں کو ’’اپنی قوت اپنی جان جاگ رہا ہے پاکستان‘‘ اور ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘ پر مارچ پاسٹ کرتے دیکھا۔ اس تقریب کا حصہ بننا میرے لئے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ قوم کی نظریاتی اساس اور وحدت کا احساس اجاگر کرنا بھی اہم ہے۔ یہ شیرجوان جو کھلے قرآن کے سامنے ہاتھ اٹھا کر وطن کی حرمت اور دفاع کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کا عہد کرتے ہیں انہیں دیکھ کر میرے دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے۔


’’میریا شیر جواناں تینوں رب دیاں رکھاں۔‘‘
میں کیوں نہ اپنی قوم کے ان بیٹوں پرفخر کروں کہ یہ وہ جوان ہیں جو دفاعِ وطن کے لئے جان کی بازی لگادینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پریڈ کی کمنٹری کا ایک ایک لفظ ادا کرتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں اپنے مجاہدوں کے شانہ بشانہ اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہوں۔ پریڈ کے وہ لمحے مجھے میرے ہونے کا یقین دلارہے تھے۔ میری آنکھوں میں فخر کے آنسوتھے اور لفظوں میں بلا کی جرأت اور شجاعت تھی۔ یقیناًپریڈ کے یہ لمحات میری زندگی کے انمول خزانوں میں سے ایک تھے کہ مجھے یوں لگا کہ آج میں بھی اپنے وطن اور اپنی قوم کے لئے کوئی ایسا کام کررہی ہوں جس پر میں باقی زندگی میں فخر کرتی رہوں۔

 
11
April

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی سنجیدہ اخبار کی نمائندہ کتاب کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہتی ہیں۔ فی زمانہ ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا کے اینکروں کاجو ’’حال احوال‘‘ ہے اور جس میں خود میں بھی شامل ہوں۔ اُس میں کہاں کتاب پڑھنا کہاں لکھنا۔۔ زبانیں اتنی بدزبان بلکہ بد لگام ہو چکی ہیں۔ اور جو بازاری زبان میں بک بھی رہی ہیں تو کسے فرصت اور ضرورت کہ کتاب خریدے اور پڑھے۔یہ ساری تمہید باندھنے کا سبب یہ ہے کہ خیرسے عزت سادات رہ گئی یعنی ہم نے ماضی حال میں جن کتابوں کے اوراق اُلٹے اُن پر جو سیر حاصل گفتگو ہوئی اُسے اگلے دن پرنٹ کی صورت میں

دیکھ کر خوشی ہوئی کہ
شہر میں اعتبار ہے اپنا
مہ کدے میں ادھار ہے اپنا

پہلا سوال تو یہی ہوا کہ ان دنوں کون سی کتاب زیرِ مطالعہ ہے؟ اب ادھر ہماری یہ عادت ہوگئی ہے کہ دن بھر کی مشقت کے بعد رات کے دوسرے پہر میں میز پر دھری کتابوں کو ٹٹولنا شروع کرتے ہیں۔ اور ذہنی کیفیت سے ہم آہنگ کتاب اُٹھا کر کوشش ہوتی ہے کہ اُسے اختتام تک پہنچایا جائے مگر یہ ذرا کم ہی ہوتاہے۔ مگر اپنی عزیز دوست اور انتہائی پڑھی لکھی ادیبہ اور شاعرہ ’’فہمیدہ ریاض‘‘کی حال ہی میں آکسفورڈ سے شائع ہونے والی کتاب ’’تم کبیر‘‘کے چند اوراق اُلٹنے کے بعد ہی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور یوں پھر کسی دوسری کتاب کی طرف ہاتھ نہیں جاتا ہے۔ ’’تم کبیر‘‘ فہمیدہ ریاض کی وہ طویل نظم ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے نام لکھی ہے۔ جو 2010 میں امریکہ میں ایک تالاب میں ڈوب گیا تھا۔ کسی ماں کا بیس اکیس سال کا جوان بیٹا اُس سے اچانک چھن جائے تو جس کرب و آلام سے وہ گزرتی ہوگی اُس کا بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے اُس کا بیان ممکن نہیں۔ میں خود اس تجربے سے گزرا ہوں۔ بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو میری والدہ محترمہ کو ایک طویل چُپ لگ گئی تھی۔ مگر فہمیدہ کی شاعرانہ عظمت اورتخلیقی صلاحیت دیکھیں کہ انہوں نے اس ’ذاتی‘غم کو ایک بڑی یادگاری تخلیق میں ڈھال دیا۔

 

kitabedostan.jpgدوسرا سوال ہوا ایسی کون سی کتاب ہے جسے آپ ختم نہیں کر پاتے؟ میں نے انتہائی تفصیل سے بتایا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی ذاتی زندگی پر ممتاز اسکالر خالد نظیر صوفی نے دو جلدوں میں ایک کتاب مرتب کی ہے ’’اقبال درونِ خانہ‘‘ جس میں کوئی سو مضامین ہوں گے اُن کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے۔ بعض انتہائی دلچسپ اور بعض بس ذرا سر سری۔ سو یہ کتاب مہینے بعد بھی ختم نہیں ہورہی۔ تیسرا سوال بھی بڑا دلچسپ تھا کہ وہ کون سی دو تین کتابیں ہیں جو آپ بار بارپڑھنا چاہتے ہیں؟ میرا جواب تھا فیض احمد فیض کا مجموعہ کلام ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ اور دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کی ’’آخرشب کے ہمسفر‘‘۔۔پوچھا گیا۔ ۔کیوں؟ اختصارسے لکھ رہا ہوں کہ ایک تو فیض صاحب کی شاعری ہمارے کام بہت آتی ہے۔ قلم گھستے ہوئے جب الفاظ غریب ہونے لگتے ہیں تو فیض صاحب کا ایک مصرعہ یا شعر ساری بات بڑی خوبصورتی سے سمیٹ دیتا ہے۔ دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کا ناول ’’آخر شب کے ہمسفر‘‘ ہے۔ ویسے تو قرۃالعین حیدر کا سب سے بڑا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہے اور جسے بلا شبہ اردو کا بھی سب سے بڑا ناول سمجھا جاتا ہے مگر ’’ آخر شب کے ہمسفر‘‘ برصغیر پاک وہند کی اشتراکی تحریک کے بارے میں ہے جس کا بڑا المناک انجام ہوا اور جسے عینی آپا نے اپنے منفرد اسٹائل میں اس خوبصورتی سے لکھا ہے کہ یہ ناول ہوتے ہوئے بھی ایک عظیم سیاسی تاریخ کا نوحہ بن گیا ہے۔یوں گزشتہ آٹھ دس برسوں میں کوئی بیس پچیس بار تو اس کو پڑھ ہی چکا ہوں۔ سوال ہوا آئندہ کس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ ہے؟بے ساختہ نام آیا
"Debriefing The President" by John Nixon
صدام حسین کے بارے میں یہ کتاب مشرق وسطیٰ کی حالیہ سیاسی ہنگامہ خیزی کو سمجھنے کے لئے بڑی اہم ہے۔ سابق صدر کو جب انتہائی ناگفتہ حالت میں پکڑا گیا اور اُن تصاویر کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جس میں شیو بڑھا۔۔ بوڑھا ہوتا ‘تھکا ہارا صدام حسین دکھایا گیا۔تو اُس وقت مسلم دنیا کا ردعمل مختلف تھا وہ بھول چکی تھی کہ خود صدام حسین نے اپنی قوم پر کیا مظالم ڈھائے تھے۔ جون نے اپنی کتاب میں صدام حسین کی ڈی بریفنگ کا ذکر بڑے متاثر کُن انداز میں کیا ہے۔ جون لکھتا ہے میرے ساتھ ایک اور امریکی اہلکار بھی تھا۔ صدام نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا۔ پہلے آپ اپنا تعارف کرائیں کہ آپ کون ہیں اس پر انتہائی درشت لہجے میں امریکی اہلکار نے جواب دیا ہم یہاں تمہارے سوالوں کا جواب دینے نہیں آئے ہیں جو کچھ ہم پوچھ رہے ہیں اُس کا جواب دو۔ تم ہماری قیدمیں ہو اور تمہارا مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس پر صدام حسین کا جواب تھا کہ میں ایک ملک کا صدر ہوں اگر تمہارے ملک امریکہ کے صدر کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا تو تمہارے ملک کے عوام کا کیا ردِعمل ہوتا۔ صدام نے امریکوں کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ تم ’’عرب اور خاص طور پر عراقی‘‘ سائیکی نہیں سمجھتے۔ اب تم مشرق وسطیٰ میں پھنس چکے ہو تم یہاں سے آسانی سے نہیں نکل سکتے۔ یقیناً یہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ افسوس کہ میں اسے ختم نہیں کر پارہا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ ایک انگریزی اخبار کی نمائندہ نے کتابوں کے حوالے سے گفتگو کیا کی آپ اپنے مطالعے کا رُعب جمانے لگے ۔یقین کیجئے جس مشقت میں سارا دن گزرتا ہے اس کے بعد سب سے زیادہ افسوس رات کے آخری پہر میںیہ ہوتا ہے کہ سارے مہینے میں درجن بھر کتابیں خریدیں یا تبصرے کے لئے ملیں مگر مشکل سے دو تین مکمل‘ دو تین ادھوری اور بقیہ کا تو ایک ورق بھی نہیں اُلٹ سکا۔ مگر ایک بات یقیناً خوش آئند ہے کہ حالیہ برسوں میں نہ صرف وطنِ عزیز میں اردو، انگریزی اور مادری زبانوں میں کتابوں کی اشاعت میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے بلکہ لٹریری فیسٹول اور جو کتاب میلے ہورہے ہیں اُس سے اطمینان ہوتا ہے کہ وہ جو اپنی خوف و دہشت اور کلاشنکوفوں سے اپنی شریعت کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کروڑوں عوام کو ازمنہِ وسطیٰ کے دور میں دھکیلنا چاہتے تھے۔ جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں اسکولوں کو نذرِ آتش کیا تھا انہیں اس جراّت مند قوم نے شکست دے دی ہے۔ یوں بھی کلاشنکوف کا سب سے مؤثر جواب کتاب ہی ہو سکتی ہے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ذرا نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو کتنا اونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی اس پر سے گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ بعض لوگ آسمان سے گرتے ہیں تو کھجور میں اٹک جاتے ہیں، وہیں بیٹھے کھجوریں کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن کھجوریں بھی تو کہیں کہیں ہوتی ہیں، ہر جگہ نہیں ہوتیں۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں آسمان اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔ غالبؔ نام کا شاعر جو دو سو سال پہلے ہوا ہے، ایک جگہ کسی سے کہتا ہے۔
؂ کیا آسمان کے برابر نہیں ہوں میں؟
جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اونچی ہوتی گئیں، آسمان ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر اٹھتا گیا۔ اب نہ چیزوں کی قیمتیں نیچے آئیں نہ آسمان نیچے اترا۔
ایک زمانے میں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے پھر ہماشما جانے لگے۔ جو خود نہیں جا سکتے تھے ان کا دماغ چلا جاتا تھا۔ یہ نیچے دماغ کے بغیر ہی کام چلا لیتے تھے۔ بڑی حد تک اب بھی یہی صورت حال ہے۔
پیارے بچو! راہ چلتے میں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے تاکہ ٹھوکر نہ لگے۔ جو زمین کی طرف دیکھ کر چلتا ہے اسے ٹھو کر نہیں لگتی۔
(ابن انشاء کی تصنیف ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ سے انتخاب)

*****

 
11
April

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے‘ ریہرسل ہوئی اور پھر ریکارڈ ہونے کے بعد فوری طور پر نشر ہوئے۔ آج کے اس نغمے ’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ میں نے صوفی صاحب سے گزارش کی کہ قصور بارڈر پر بھی لڑائی ہو رہی ہے اور ملکہ ترنم نورجہاں قصور کی رہنے والی ہیں۔ اس لئے قصور پر بھی نغمہ ہونا چاہئے جس پر صوفی صاحب نے کافی سوچ بچار کے ساتھ مجھے یہ استھائی لکھ کر دی۔


’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘
میں یہ استھائی لے کر اپنی ریکارڈنگ ٹیم کے پاس اسٹوڈیو نمبر2میں چلا گیا اور یہ استھائی ملکہ ترنم نورجہاں کو دی۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے بولوں کی مناسبت سے اس کو راگ دیس میں موزوں کیا۔ تھوڑی ریہرسل کے بعد میڈم نورجہاں نے کہا کہ اعظم صاحب اس کے انترے لائیں۔ چنانچہ میں پھر صوفی صاحب کے پاس اپنے کمرے میں گیا۔ محترم صوفی تبسم میرے کمرے میں ہی بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت وہ اقبال کا ایک شعر اور اس کی تشریح میں مصروف عمل تھے میں نے بڑے ادب سے معافی مانگی کہ صوفی صاحب آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔ میری مجبوری ہے کہ آج بھی ایک نیا نغمہ ریکارڈ کرنا ہے۔ اس نغمے کی استھائی تو آپ نے دے دی ہے۔ اب تین انترے چاہئیں۔ صوفی صاحب نے از راہ کرم کچھ دیر سوچنے کے بعد انترے عطا فرما دیئے۔ ان دنوں صوفی صاحب کی آمد بھی کمال تھی۔ حالات اور وقت کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمے لکھ کر دیتے۔ میڈم نورجہاں اس خاص نغمے کو پڑھ کر بہت خوش ہوئیں کیونکہ یہ نغمہ ان کے شہر پر لکھا گیا تھا۔ سارے دن میں نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور رات کو ریکارڈ ہوا۔ اپنے پڑھنے والوں کو بتا دوں کہ نغمے کی بنیادی دھن
Melody
کہلاتی ہے۔ اور جو باقی
Orchestra
ہوتا ہے اس کو
Harmony
کہتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کو جب ترتیب سے اکٹھا کرتے ہیں تو تب نغمہ تخلیق پاتا ہے۔ باقی رہ گئی ریکارڈنگ تو اس کے لئے بھی بہت علم اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا م کے لئے میں نے بطور میوزک پروڈیوسر بہت محنت اور کوشش کی ہے۔ ہر کوئی ریکارڈنگ نہیں کر سکتا اور پھر اتنی بڑی آرٹسٹ کی ریکارڈنگ۔ میری ریکارڈنگ کو میڈم نورجہاں اتنا پسند کرتی تھیں کہ میرے بغیر ریکارڈنگ نہیں کراتی تھیں۔ ہمیشہ کہتی اعظم بھیا، ریکارڈنگ پر آپ خود بیٹھیں۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ تمام نغموں کی ریکارڈنگ کوالٹی کتنی عمدہ ہے حالانکہ اس وقت ریکارڈنگ کے آلات اتنے جدید نہیں تھے۔ میں صرف تین مائیکروفون استعمال کرتا تھا۔ بیلنس کرنے میں مجھے کافی وقت لگتا تھا تاکہ بہترین ریکارڈنگ ہو جائے۔ ستمبر65 کی جنگ کے دوران پروڈیوسر، میوزیشنز، گلوکار سب کے درمیان ایسی انڈر سٹینڈنگ پہلے یا بعد میں کبھی بھی دیکھنے میں نہیںآئی جتنی ان سترہ دنوں میں دیکھنے کو ملی۔ بھارتیوں کا خیال تھا کہ ہم نے یہ ملی نغمے جنگ سے پہلے ریکارڈ کئے ہیں لیکن جب جنگ کا اختتام ہوا تو یہ حقیقت ان پر کھلی اور ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ ملی نغمے جنگ کے دوران ہی ریکارڈ ہوئے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کو صبح میں اپنی جیپ پر لے کر آتا۔ وہ سارا سارا دن میرے پاس ریکارڈنگ کے لئے موجود رہتیں بعض اوقات جب باہر خطرے کا سائرن ہوتا تو میڈم نورجہاں اسٹوڈیو میں ہی اپنی ٹیم کے ساتھ موجود رہتیں۔ میڈیم نورجہاں کہتی کہ اعظم صاحب اگر موت اسٹوڈیو میں لکھی ہے تو کوئی بات نہیں ہم اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑ سکتے۔ جنگ ستمبر کے دوران پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے۔ ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ فضائی حملوں کے دوران پور لاہور بلیک آؤٹ میں ڈوب جاتا تو لاہورئیے اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر ’’فائٹ‘‘ دیکھتے۔ اور اپنے پائلٹوں کو باقاعدہ داد دیتے۔ انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا کہ وہ حملوں کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ فائٹ کا نظارہ میں نے ایک مرتبہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح آگے بھارتی طیارے اور ان کے پیچھے ہمارے جہاز ہوتے۔ لوگ سڑکوں پر دشمنوں کے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لئے بلند نعرے لگاتے۔ عوام کے جذبات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہر شہری کا رخ بارڈر کی طرف ہوتا۔ ان میں سے کوئی ہاکی اور کلہاڑی اٹھائے تو کوئی اپنے فوجی بھائیوں کے لئے کھانے اور دیگر اشیاء لے کر بارڈر کی طرف جا رہا ہوتا۔ یہ کیسا جذبہ تھا ہمارے ملی نغمے ہتھیار کا کام کر رہے تھے۔ ہمارے فوجی جوان ان کو سن کر بہادر ی اور دلیری سے لڑتے،یقیناًفوج اور عوام کا ساتھ بہت کام آتاہے۔

 
11
April

تحریر: صائمہ جبار

بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں کی گئی۔
بھارتی فلم سنسر بورڈ نے اسی لئے فلم کے پروڈیوسر کو اس ڈیکلیئریشن کو ہٹانے کا آرڈر دیا ہے جس میں کہا گیا کہ فلم حقائق پر مبنی ہے۔
Censor Board Of Film Certification (CBFC)
کے مطابق فلم ساز کو ایک ڈیکلیئریشن دکھا نا پڑے گا جس میں لکھا جائے کہ فلم کچھ افسانوی ہے اور کچھ حقائق پر مبنی۔ یہ خبر بھارتی اخباروں دکن کرونیکل اور ڈیلی نیوز انیلیسزمیں شائع کی گئی ہے۔
اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان کو اس وقت بہت سے چیلنجز در پیش ہیں۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی اہمیت بھی پاکستان کے لئے گیم چینجر کی سی ہے۔خطے کے سٹریٹجک حالات کا تقاضا ہے کہ سی پیک کی نہ صرف زمینی بلکہ بحری سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔


دشمن کی سازشوں اورپروپیگنڈے کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب صحیح اور حقیقی معنوں میں ماضی کے متعلق معلومات نہ صرف نوجوان نسل بلکہ ہر عمر کے افراد اورطبقے تک پہنچیں گی۔ پاکستان پر کی گئی سرجیکل سٹرائیکس کا جھوٹا دعوی اس کی ایک مثال ہے۔ جس پر نہ صرف بھارت میں ایک بڑے طبقے اوردنیا نے بلکہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی کمیشن نے بھی یقین نہیں کیا اور مشکوک قرار دیا۔مودی حکومت کو اپنے ہی لبرل طبقے نے اس جھوٹ پر مذاق کا نشانہ بنایا۔


قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاک بحریہ دشمن کی ہر سازش کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کر تی آئی ہے۔ اس کی ایک روشن مثال 1965اور 1971میں پاک بھارت جنگوں میں پاک بحریہ کا کردار رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ایک بڑا حصہ رہا ہے۔ کوئی بھی فورم ہو بھارت اپنی سازشوں سے باز نہیں آتا۔

pnsghazib.jpgدرحقیقت آبدوز ’غازی‘ پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جس نے بھارت کے ساتھ لڑی گئی 1965ور1971کی جنگوں میں حصہ لیا۔پاکستان نیوی نے خود سے کئی گناہ بڑی بھارتی نیوی کے سامنے سخت مذاحمت کی اور بھر پور دفاع کیا۔ بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے پانیوں تک پھیلی ہوئی سمندری حدود کی حفاظت پاک بحریہ کی ذمہ داری رہی ہے اور ان دونوں جنگوں کے دوران پاک بحریہ کے یونٹس گہرے پانیوں تک گئے تا کہ تجارتی آمدورفت بحفاظت جاری رہ سکے۔اس دوران پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہرنہیں آنے دیا۔یہ پی این ایس غازی آبدوز ہی تھی جس کے باعث دشمن 1965 میں اپنے بحری فلیٹ کو باہر نہ نکال سکا۔ پی این ایس غازی پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جسے امریکہ سے لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 1945 سے 1963تک یہ امریکی نیوی کا حصہ رہی ۔چار ستمبر 1964 کو یہ آبدوز کراچی کے نیول ڈاک یارڈپہنچی اور پاک نیوی میں پہلی تیز رفتار آبدوز بنی۔ اس کا نام غازی 1964میں رکھا گیا اس کا پرانا نام
USS Diablo (SS-479)
تھا۔
1965 کی جنگ میں غازی کا کردار
اعلانِ جنگ کے فوری بعد بحری یونٹس کو اپنے اپنے اہداف کی جانب روانہ کیا گیا۔ دفاع کے ساتھ ساتھ پٹرولنگ شروع ہوئی۔بھارت کے تجارتی جہاز ’’سرسوتی‘‘اور دوسرے کئی جہازپاکستان میں کراچی بندر گاہ پر زیرِ حراست رہے۔ سات ستمبر کامیابی کا دن تھا۔ اس روز پی این ایس غازی سمیت پاک بحریہ کا بیڑا بھارت کے ساحلی علاقے دوارکاپر حملے کے لئے روانہ ہوا۔کیونکہ اس مقام پر نصب کیا گیا ریڈار پاک فضائیہ کے راستے میں رکاوٹ تھا۔پاک بحریہ کے فلیٹ نے 20منٹ میں دوارکا کو تباہ کر دیا۔بعد میں بھارت نے اپنے جہاز تلوار کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کو بھیجا لیکن وہ پی این ایس غازی کے خوف سے کہیں اور نکل گیا۔


جنگ میں بہترین کارکردگی کی وجہ سے پی این ایس غازی کے عملے نے 10ایوارڈ حاصل کئے جن میں دو ستارۂ جرأت بھی شامل ہیں۔
1971 کی جنگ میں غازی کا کردار
14نومبر 1971 کمانڈرظفر محمد خان اپنی سربراہی میں 93بہادر جوانوں کو لے کر پی این ایس غازی میں کراچی بندرگاہ سے ایک بے حد مشکل مشن پر روانہ ہوئے۔ آبدوز غازی کو مشن دیا گیا تھا کہ مغربی بھارت کے دفاعی سمندروں سے گزرتے ہوئے اپنی بیس سے 3000میل دور خلیج بنگال کے شمال میں جائے۔ اس علاقے کی صورتحال بے حد کشیدہ تھی۔جس کے باعث آبدوز غازی کو ہدایات دی گئی تھیں کہ ریڈیو پر مکمل خاموشی رکھی جائے اور صرف رات کے وقت ہی بیٹریاں وغیرہ چارج کی جائیں۔جو مشکل مشن غازی کو دیا گیا تھا وہ بھارتی نیوی بیس وشاکاپتنام میں نقل و حرکت روکنے کے لئے بندرگاہ کے آس پاس پانی میں بارودی سرنگیں بچھانے کا تھا۔


غازی آبدوز نے بہت مہارت سے یہ کام شروع کیا اور بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں۔لیکن قیاس ہے کہ یہ آبدوز بد قسمتی سے اپنی ہی بچھائی ہوئی ایک بارودی سرنگ کی زد میں آ کر ڈوب گئی۔دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ بندرگاہ بھی کانپ اٹھی۔ یہ علاقہ بھارتی حدود میں تھا لیکن بہت دیر تک بھارت کو پتا نہیں چل سکا کہ ہوا کیا ہے؟ تاہم ایک بھارتی مچھیرے نے پانی میں پی این ایس ’غازی‘ کے عملے میں لائف جیکٹس دیکھی جس کے بعد بھارت نے غازی کو تباہ کرنے کا دعوی کر دیا ۔ یہی نہیں بلکہ کچھ بھارتی افسروں نے تو اس بات پر تمغے بھی وصول کئے۔


غازی کے ساتھ رونما ہونے والا واقعہ تین اور چار دسمبر کی درمیانی شب پیش آیا جبکہ بھارت نے اس کو تباہ کرنے کا دعویٰ نو تاریخ کو کیا۔ اگر بھارت نے غازی کو تباہ کیا تھا تو اسے اتنے دن تک پتا کیوں نہیں چلا ۔اور اگر پتا تھا تو اتنے دن تک اس کو چھپا کر کیوں رکھا؟


بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی دعوے جھوٹے تھے۔ بھارتی وائس ایڈمرل میہیر رائے نے حال ہی میں اپنی ایک شائع کردہ کتاب میں کہا کہ غازی آبدوزپہلے وشکاپتنام بندرگاہ سے کافی دور تعینات تھی اور غالباً دو یا تین دسمبر 1971کو بارودی سرنگیں بچھانے آئی تھی اور قریب ہی دو تین سرنگیں بچھا چکی تھی اور ایک بارودی سرنگ سے تباہ ہو گئی تھی۔ ایڈمرل میہیر رائے نے یہ بھی لکھا کہ پانی میں بارودی سرنگیں ایک لائن کے پیٹرن میں 150میٹر کے فاصلے اور 30میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی تھیں جس کی تصدیق آبدوز ریسکیو ویسل نیسٹارکے پانی کے نیچے موجود ٹی وی سے کی گئی۔ ان کے مطابق سونار ٹرانسمیشن اور اس کے شور کو جانچتے ہوئے پاکستانی آبدوزاس علاقے سے نکل کر محفوظ گہرے پانیوں میں جا چکی تھی۔اور آدھی رات کے قریب جب پیٹرولنگ کشتیاں واپس بندرگاہ لوٹ گئیں تو غازی آبدوز پھر سے بارودی سرنگیں بچھانے کا کام مکمل کرنے نکل پڑی تاکہ بھارت کے مشرقی فلیٹ کو وشاکا پتنام کی پورٹ پر محدود کرنے کی اسائینمنٹ مکمل کی جائے۔اس مشن کو مکمل کرنے کی بے چینی میں اپنے ہی پہلے سے بچھائی ہوئی سرنگ والے ٹریک میں غلطی سے مڑ گئی۔جس کی وجہ شائدساحل پرمون سون کے موسم کے بعد چلنے والی تیز ہواؤں سے اُٹھنے والی تندوتیز لہریں تھیں۔


دشمن کی اپنی گواہی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غازی اس وقت تباہ ہوئی جب وہ اس بات کو یقینی بنا رہی تھی کہ بھارت کے مشرقی بیڑے کو بند کرنے کے لئے بارودی سرنگوں کوبچھانے کا کام ٹھیک طور پر ہو رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی جنگ میں تباہ ہونے والی یہ پہلی آبدوز تھی۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین کی درخواست کے باوجود بھارتی حکومت غازی کے ڈوبے ہوئے حصوں کو سمندر سے نکالنے پر راضی نہ ہوئی۔2010میں بھارت کی مشرقی کمانڈ نے 1971کی جنگ کا سارا ریکارڈ ضائع کر دیا ۔ غازی کی تباہی کا ریکارڈ بھی اسی میں شامل تھا۔
1971 میں بھارتی فوج کی مشرقی کمانڈ کے چیف آف سٹاف جے ایف آر جیکب نے مئی2010 میں ایک آرٹیکل

THE TRUTH BEHIND THE NAVY'S 'SINKING' oF GHAZI "
میں واضح کیا کہ غازی آبدوز ایک حادثے کا شکار ہوئی،اور بھارتی نیوی کا اس کے ڈوبنے سے کوئی تعلق نہیں۔اسی لئے تمام ریکارڈ ختم کر دیا گیا۔
پاکستانی انگریزی اخبار میں محمد عادل ملکی نے
"warriors of the waves''
کے نام سے لکھے ایک آرٹیکل میں بتایا کہ انہوں نے غازی کے ڈوبنے کے حوالے سے ایک ایسے تجربہ کار عملے کے فرد سے رابطہ کیا جس نے غازی میں کام کیا تھا جب وہ امریکہ میں یو ایس ایس ڈائیبلو کے نام سے ہوا کرتی تھی۔مصنف ایک آزادانہ رائے لینا چاہتا تھا۔ مصنف کے مطابق جب ڈوبے ہوئے ملبے کی تصاویر اور خاکوں کا مشاہدہ کیا گیا تو اس بات کاپتا چلا کہ
forward torpedo room
میں ہونے والے ایک دھماکے کی وجہ سے آبدوز تباہ ہوئی۔یہی رائے ایک بھارتی صحافی سندیپ یونیتھین کی تھی جو کہ ملٹری اور سٹریٹیجک تجزیوں کا ماہر ہے۔اس بات کا یقین اس ویڈیو سے بھی ہوتا ہے جو غوطہ خوروں نے بنائی تھی۔


غازی کے ڈوبنے کے کچھ روز بعد بھارتی غوطہ خوروں نے اس میں سے قیمتی اور اہم معلومات حاصل کرلیں۔ان میں سے چند اشیا آج بھی بھارتی وار ٹائم میوزیم میں سجائی گئی ہیں۔
آج 1971کو 45 برس گزر چکے ہیں اور بھارت نے غازی کے ڈوبنے کا کریڈٹ لینے کے لئے ایک جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی فلم بنائی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے بھارت کو اس کا ہوش کیوں نہیں آیا؟ اتنے برس گزرنے کے بعد اچانک اس موضوع پر فلم بنانے کا خیال کیوں آ گیا؟بھارتی حکومت اور نیوی اپنے جھوٹے مؤقف کو فروغ دینے کے لئے بالی وڈ کا استعمال کرنے سے کبھی بھی دریغ نہیں کر تا۔مگر جھوٹ اور حقائق کو توڑ مروڑ کرپشن کرنے کی بھارتی روش کا نقصان سب سے زیادہ بھارت کے غریب عوام کو ہے جو خود تو غربت کی چکی میں ہمیشہ پسے ہوئے ہیں مگر اس نام نہاد پروپیگنڈے کی وجہ سے کبھی بھی بھارتی نیتاؤں اور نام نہاد سورماؤں کے جھوٹے دعوؤں اور جھوٹے خوابوں کے چنگل سے خود کوآزاد نہ کراسکے۔

 

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
April

انٹرویو : او یس حفیظ

خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتاہے ‘ جسے وقت پر نہ اُتارا جائے تو زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے

عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس ‘ شاعر اور کامیاب منتظم بھی ہیں۔ ویسے تو آپ کی جائے پیدائش امرتسر ہے اور اس نسبت سے آپ ’’امبر سریے‘‘ ہیں مگر آپ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی نے مکمل لاہورئیے کو دیکھنا ہے تو آپ کو دیکھ لے کیونکہ ذات اور شخصیت کے اعتبار سے آپ پر اندرون لاہورئیے کا گمان ہوتا ہے۔ آپ ’’کھلے ڈُلے‘‘ مزاج کے آدمی ہیں اور اپنے منفرد شگفتہ اندازِ گفتگو سے محفل کو کشتِ زعفران بنانے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہلال کے لئے آپ کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔


سوال: اپنے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: میں یکم فروری 1943کو امرتسر کے ایک کشمیری علمی گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے سے پہلے کئی بیٹیاں تھیں اس وجہ سے میں بہت لاڈلا تھا، اتنا لاڈلا کہ میرا نک نیم ’’شہزادہ‘‘160پڑ گیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ میں نے اپنی ابتدائی زندگی شہزادوں ہی کی طرح بسر کی۔ میرے والد مولانا بہاء الحق قاسمی مشہور عالم دین تھے جو قیامِ پاکستان کے وقت امرتسر سے ہجرت کر کے وزیرآباد آگئے اور یہاں پر سکول ٹیچر مقرر ہو گئے۔

interattraullhaq.jpgمیری زندگی کے دس سال وزیر آباد کے بکریانوالہ کوچہ میر چونیاں میں گزرے اور پھر باقی زندگی لاہور میں۔ اس باقی زندگی میں دو سال امریکا کے شہر سینٹ لوئیس میں بطور فوڈ اینڈ بیوریجزمنیجر، دوسال اوسلو (ناروے) میں بطور سفیر اور تین مہینے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں بطور سفیر اپنی خدمات انجام دیں۔ لاہور تقریباً 25سال ماڈل ٹاؤن میں گزارے۔ کچھ عرصہ اچھرہ کے ونڈسر پارک میں ایک کرائے کے مکان میں رہا۔ تقریباً 25سال ہی اقبال ٹاؤن میں اپنے تعمیر کردہ گھر میں ہنسی خوشی بسر کئے اور اب تقریباً پندرہ برس سے ڈیفنس کے ای ایم ای سیکٹر میں رہائش پذیر ہوں۔ وزیر آباد کے ایم پی پرائمری اسکول غلہ منڈی سے پانچ جماعتوں کے بعد چھٹی جماعت میں گورو کوٹھا کے ہائی سکول میں داخلہ لیا اور اس کے بعد ہم لاہور شفٹ ہوگئے۔ میٹرک ماڈل ہائی سکول ماڈل ٹاؤن سے کیا۔ بی اے، ایم اے او کالج لاہور سے کیا جبکہ ایم اے (اردو ادب) پنجاب یونیورسٹی اوریئنٹل کالج سے کیا۔ 35سال نوائے وقت سے منسلک رہا اور اس کے ساتھ ساتھ ایم اے او کالج میں لیکچرار شپ بھی کی۔ اب ایک طویل عرصے سے جنگ میں کالم لکھ رہا ہوں اس تمام عرصے میں پوری دنیا میں بسلسلہ تقریبات شرکت کے لئے جاتا رہا ہوں۔ آٹھ سال الحمراء آرٹس کونسل میں بطور چیئرمین اپنی خدمات انجام دی ہیں اور اب گزشتہ ایک برس سے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی ) کا چیئرمین ہوں۔


سوال: اپنے بچپن اور فیملی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، چھ بہنیں اور دو بھائی۔ والد اور والدہ کو ملا کر ہم دس افراد تھے۔ بڑے بھائی اور دو بہنیں وفات پا چکی ہیں۔ میں فرسٹ ائیر میں تھا جب میری والدہ کا انتقال ہوا اور والد کا انتقال 1987میں ہوا تھا۔ میری والدہ کافی بیمار رہتی تھیں انہوں نے کئی سال علالت میں گزارے اور ابا جی کا ہاتھ کافی بھاری تھا (مسکراتے ہوئے) وہ چونکہ استاد تھے اس لئے ڈنڈا بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن میں بہت لاڈلا تھا، اس لئے میری تمام تر نالائقیوں کے باوجود انہیں مجھ سے بہت محبت تھی۔ ذرا سی بیماری کی صورت میں وہ مجھے اپنے کندھوں پر بٹھا کر ہسپتالوں کے چکر لگاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میرے پاؤں پر پھوڑا نکل آیا تو انہوں نے مجھے زمین پر پاؤں نہیں رکھنے دیا لیکن اپنی والدہ کا سوچ کر آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے میری نالائقی کے دن تو بہت دیکھے لیکن عین جوانی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے ہمیشہ یہ پشیمانی رہی کہ وہ مجھے ترقی کرتا دیکھنے کے لئے اس دنیا میں موجود نہ تھیں۔


سوال: آپ کا والد کے ساتھ دہرا رشتہ تھا، محبت کا بھی اور ڈانٹ ڈپٹ کا بھی؟
جواب : ان کی ڈانٹ میں بھی پیار تھا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی ڈانٹ نے ہی مجھے صحیح راستہ دکھایا، ان کی محبت کے منظر آج بھی میری آنکھوں سے نہیں ہٹتے، میرے والد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ انہوں نے زندگی سادگی سے گزاری اور ہمیں بھی سادگی کا درس دیا۔ وہ ہمیں اپنی اور اپنے خاندان کی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے قصے سناتے تھے، پرانی تاریخ سے ایسے ایسے واقعات ڈھونڈ کر لاتے جن سے ہم میں انسانیت بیدار ہو، ہم اچھی اقدار کو اپنائیں۔ وہ ایک قدآور عالم دین اور پرجوش خطیب تھے۔ جب وہ وزیر آباد میں سکول ٹیچر تھے توجامعہ اشرفیہ کے بانی مفتی محمد حسن نے جو کہ میرے والد کے استاد بھی تھے اور دادا کے شاگرد بھی، انہوں نے میرے والد سے کہا کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی جامع مسجد میں آپ کی ضرورت ہے، آپ یہاں آ جائیں۔ چنانچہ میرے والد صاحب نے پیشکش قبول کر لی اور ہم لاہور ماڈل ٹاؤن میں آ کر آباد ہو گئے اور میرے والد ماڈل ٹاؤن مسجد میں خطیب مقرر ہو گئے۔ یہیں ماڈل ٹاؤن میں ایک واقعہ بھی پیش آیا، ہوا یوں کہ میرے والد نے مسجد میں کچھ سخت خطبات دیئے، جس پر چند لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ آپ بس نماز پڑھا دیا کریں باقی کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے والد نے ان سے کہا کہ ’’میں صبح ناشتے میں چائے کا ایک کپ اور رس لیتا ہوں، دوپہر کو بھی روکھی سوکھی کھاتا ہوں، رات کو دال چاول کھا کر سو جاتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور جس دن میری ضروریات میں اضافہ ہو جائے گا اس دن میں آپ کی بات پر غور ضرور کروں گا‘‘۔ ابا جی کی باتوں کا لوگوں پر بہت اثر ہوا،نتیجتاً مسجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ ابا جی کی ایک ذاتی لائبریری تھی جس میں ہر مذہب اور ہر مسلک کی کتابیں تھیں اور یہیں سے مجھے کتابوں کا شوق بھی ہوا، میں نے وہ ساری کتابیں پڑھیں جس کے بعد خدا نے ذہن کشادہ کر دیا۔ ابا جی کی خودداری اور عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ کچھ سال قبل ماڈل ٹاؤن کے قبرستان کی تحقیق کرنے کے لئے ایک محقق بھیجے گئے۔ انہوں نے قبرستان کی تاریخ کا جائزہ لیا، پرانی دستاویزات کو کھنگالا، وہاں انہیں بہت سے دیگر کاغذات کے ہمراہ میرے اباجی کا ایک خط بھی ملا۔ لکھا تھا ’’آپ مجھے جو تنخواہ دیتے ہیں وہ میری ضروریات سے بہت زیادہ ہے براہِ کرم اس میں تخفیف کر دی جائے‘‘۔ انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہو گی، اندازہ لگا لیجئے وہ اس پر بھی خوش تھے اور اسے بھی زیادہ تصور کرتے تھے۔ آج کے مادہ پرست دور میں انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے مگر نیت نہیں بھرتی۔ دل بھر جاتا ہے مگر اکاؤنٹ نہیں بھرتے اور اسی پیسہ کمانے کی دوڑ نے ملک میں بدعنوانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔


سوال: ادبی سفر کا آغاز کب اور کہاں سے کیا، پہلا شعر کب کہا، کہاں شائع ہوا؟
جواب: ادب کی طرف رحجان تو شروع سے ہی تھا، پہلی کوشش سکول کے زمانے میں ہی کی تھی، پہلا شعر کب کہا یہ تو یاد نہیں لیکن ادبی زندگی کا آغاز ساتویں یا آٹھویں جماعت سے ہو گیا تھا، جب اسکندر مرزا کے دور میں ہونے والی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے پس منظر میں میرے اندر چھپے ہوئے مزاح نگار نے انگڑائی لی اور میں نے ’’ہلال پاکستان‘‘ کے ایڈیٹر کے نام ایک شگفتہ سا مراسلہ بھیج دیا جو من و عن چھپ گیا۔ اس سے بہت حوصلہ ملا۔ پہلی باقاعدہ نثری تحریرغالباً 1959ء میں مولانا کوثر نیازی کے اخبار روزنامہ شہاب میں شائع ہوئی تھی اور پھر ہم کسی شہاب ثاقب کی طرح ان کے صفحات پر ٹوٹ پڑے۔ میں اس وقت سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا جب شہاب کے صفحات پر میرا کالم ’’کچھ یوں ہی سہی‘‘ کے عنوان سے چھپنا شروع ہو گیا تھا۔


سوال: شاعری میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں، اپنی تحریروں میں کبھی اصلاح لی؟
جواب: ہر گز نہیں کیونکہ میں مانتا ہوں کہ شاعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ میں نے شاعری میں کبھی کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی، کسی سے آج تک اصلاح نہیں لی۔ مجھے یہ بھی علم نہیں کہ شعری اوزان اور تقطیع وغیرہ کیا ہیں لیکن ان سب کے باوجود میں نے بہت کم بے وزن شعر کہا ہے۔


سوال: کیا چیز لکھنے کی جانب راغب کرتی ہے؟
جواب: خیال، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتا ہے، جسے وقت پر نہ اتارا جائے تو یہ زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے۔ جب میرے ذہن میں کوئی اچھا آئیڈیا آتا ہے، میں فوراً اسے نوٹ کر لیتا ہوں اور اس پر لکھنے لگ جاتا ہوں۔ میرے لئے سب سے زیادہ مشکل کام فرمائشی لکھنا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی میرے پاس آ کر کہتا ہے کہ فلاں موضوع یا فلاں چیز پر آپ کو لکھنا چاہئے لیکن میرے سے نہیں لکھا جاتا اور اس کے برعکس کبھی کبھی کوئی پوری چیزکوئی غزل،کالم، تحریر وغیرہ خود بخود نازل ہو جاتی ہے۔


سوال: آپ شاعر بھی ہیں، ادیب بھی ہیں، ڈرامہ رائٹر بھی ہیں، کالم نگاری بھی کرتے ہیں اور سفارت کاری بھی کر چکے ہیں۔ خود کو کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟
جواب: بنیادی طور پر میں صرف ایک طنز و مزاح نگار ہوں۔ میرے ہر کام‘ خواہ وہ کالم ہوں، خاکے ہوں، ڈرامے ہوں یا کچھ اور، ان میں آپ کو طنز و مزاح ہی نظر آئے گا۔ شگفتہ تحریریں میرا جنون ہیں، میں لکھتا بھی شگفتہ ہوں، پڑھتا بھی شگفتہ ہوں باتوں میں بھی شگفتگی ہی ملے گی البتہ میری تحریروں کی شگفتگی کے نیچے اداسی بھی چھپی ہوتی ہے اور اس میں طنز بھی ہوتا ہے۔


سوال: سکول کے زمانے میں ذہین طالب علم تھے یا بس نارمل تھے؟
جواب: میں اصل میں انتہائی نالائق طالب علم تھا، (نہایت پرجوش لہجے میں) میٹرک میں بڑی مشکل سے پاس ہوا، سیکنڈ ڈویژن آئی تھی، ایف اے میں تھرڈ ڈویژن تھی، بی اے میں سپلی آ گئی تھی، جب ایم اے میں تھا تو اردو کے ایک پرچے میں فیل ہو گیا تھا مگر پھر دوبارہ امتحان دے کر کلیئر کیا۔
سنا ہے کہ سعادت حسن منٹو بھی اردو میں فیل ہو گئے تھے۔ اپنے شعبے کا ماسٹر اپنے ہی شعبے کے امتحانات میں ناکام ضرور ہوتا ہے۔ سجاد باقر رضوی ہمارے استاد تھے۔ ایک روز انہیں پتہ نہیں کیا سوجھی انہوں نے ایم اے اردو کے لئے فیس جمع کرا دی۔ پھر وہ اُسی پرچے میں فیل ہو گئے جو وہ ہمیں پڑھاتے تھے۔


سوال: اس سے تو یہ مطلب ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں خامیاں موجود ہیں جو بچوں کی ذہانت کا پتا چلانے میں ناکام رہتا ہے؟
جواب: میں خود بھی استاد رہا ہوں، مجھے علم ہے کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ نوجوانوں کی تعلیمی صلاحیتوں کے یکسر الٹ ہے۔ ہمیں اب اس سسٹم کو ختم کر دینا چاہئے۔ اب معروضی سسٹم وقت کا تقاضا ہے۔ اس میں طالب علم کو وسیع معلومات حاصل کرنا پڑتی ہیں، اس کا دماغ تیز ہوتا ہے، کسی بھی نکتے کے ہر پہلو پر غور کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔


سوال: آج تو آپ پر اردو میں مقالے لکھے جا رہے ہوں گے؟
جواب: جی بالکل، کم از کم 8 طالب علم میری شخصیت، کالم نگاری اور دوسرے کئی پہلوؤں پر ایم فل کا تھیسز لکھ کر ڈگری لے چکے ہیں، کئی تو پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں۔


سوال: آپ خود ادیب ہیں، آپ کے بھائی (ضیاء الحق قاسمی) مشہور مزاحیہ شاعر تھے،آپ کا بیٹا بھی رائٹر ہے، کیا ادب آپ کے خون میں شامل ہے؟
جواب: بالکل، میں یہی سمجھتا ہوں کہ ادب ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔ میری تین پھپھیاں (پھوپھیاں) تھیں اور تینوں کشمیری زبان کی شاعرہ تھیں۔ ادب تو ہمارا ورثہ ہے۔ اس سے محبت ہمارے خون میں شامل ہے۔ ایک ہزار سال سے ہمارا خاندان ادب کی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ’’تاریخ اقوام کشمیر‘‘ ایک مستند ترین دستاویز قسم کی کتاب ہے جس میں بہت سے دوسرے صاحبان ادب کے ساتھ میرے جد امجد سے لے کر والد تک سب کا ذکر محفوظ ہے۔ مجھ پر آ کر یہ سلسلہ اس حد تک بدلا ہے کہ اب مذہبی اور معاشرتی سنجیدگی میں مزاح نگاری کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔ میرا بڑا بیٹا یاسر (پیرزادہ) بھی لکھتا ہے، دوسرا بیٹا علی قاسمی بھی رائٹر ہے۔


سوال: کیا ہمارا موجودہ ادب یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اپنی افادیت برقرار رکھ سکے؟
جواب: میرے خیال میں یہ ایک مشکل سوال ہے اور فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ میں یہ مانتا ہوں کہ کچھ ادب وقتی بھی ہوتا ہے جسے فی زمانہ پر تو بہت پذیرائی ملتی ہے مگر وہ جب وقت کے دھارے میں آتا ہے تو اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال میرزا ادیب کے خطوط کی ہے جسے اُس زمانے میں تو بہت شہرت ملی مگر آج ان کا اتنا ذکر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنے دور میں بہت نظر انداز ہوتے ہیں جیسے نظیر اکبر آبادی مگر بعد میں نقادوں نے ان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جیسے ان سے بڑا کوئی شاعر ہی پیدا نہ ہوا ہو لیکن آج پھر ان کی شاعری پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ گلہ کرتے بھی پائے جاتے ہیں کہ ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے حالانکہ یہ فیصلہ عوام کرتے ہیں اور اچھا ادب کبھی بھی نظر انداز نہیں ہو سکتا۔


سوال: موجودہ شاعروں، ادیبوں میں آپ کو کون پسند ہے؟
جواب: میرے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر تو علامہ اقبالؒ ہیں جن سے مجھے عشق ہے۔ پھر سنجیدہ شاعری میں منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض اور جون ایلیا پسند ہیں۔ مزاحیہ شاعری میں دلاور فگار، ضمیر جعفری، انور مسعود اور اکبر الٰہ آبادی پسند ہیں۔ مزاح نگاروں میں سب سے زیادہ تو مشتاق احمد یوسفی صاحب پسند ہیں، خدا ان کی عمر دراز کرے لیکن وہ آج کل لکھ نہیں رہے اور قرۃ العین حیدر بھی پسند ہیں۔


سوال: عالمی ادیبوں میں کون پسند ہے، کسے پڑھتے ہیں؟
جواب: میں زیادہ تر مزاح ہی پڑھتا ہوں۔ عالمی ادیبوں میں ٹی ایس ایلیٹ اور مارک ٹوئن پسند ہیں۔بالخصوص مارک ٹوئن کا وہ جملہ بے حد پسند ہے کہ ’’بچپن میں ہم اتنے غریب تھے کہ ایک کتا بھی نہیں خرید سکتے تھے، رات کو جب کوئی آہٹ ہوتی تھی تو ہم سب گھر والوں کو باری باری بھونکنا پڑتا تھا‘‘۔


سوال: ہمارے ہاں کتاب اور مطالعے کی روایت کم کیوں ہو گئی ہے؟
جواب: میں اس بیان کو سرے سے ہی رد کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں کتاب نہیں بکتی یا اس کی روایت کم ہو گئی ہے۔ اس طرح کی باتیں صرف وہ لوگ یا وہ شاعر کرتے ہیں جن کی اپنی کتابیں نہیں بکتیں۔ ہمارے ملک میں اتنے زیادہ ’’بک فیئرز‘‘ اور کتاب میلے ہوتے ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں اور ہر کتاب میلے میں کروڑوں کی کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔


سوال: کیاہمارا موجودہ ادب ہمارے منفی سماجی رویوں کی اصلاح کر رہا ہے؟
جواب: ادب ہمیشہ ’’اِن ڈائریکٹ‘‘ بات کرتا ہے، یہ کبھی بھی ڈائریکٹ بات نہیں کرتا۔ یہ
’between the lines‘‘
بات کرتا ہے اور دنیا کا کوئی ادب ایسا نہیں ملے گا جس میں کوئی نہ کوئی پیغام نہ چُھپا ہو۔ دنیا میں جتنے انقلاب آئے ان کے پیچھے بہت بڑا ہاتھ ادب کا بھی ہے البتہ ادب کے اصلاح کرنے کا طریقہ ہومیو پیتھک ہے۔


سوال: حال ہی میں عدلیہ کی جانب سے اردو کو دفتری زبان بنانے اور مقابلے کے امتحان اردو میں لینے کے فیصلے سامنے آئے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے ادب کی ترویج و ترقی پر بھی کوئی اثر ہو گا؟
جواب: ہمارے ادیب تو اردو میں ہی لکھتے ہیں، وہ انگریزی میں تو لکھتے نہیں کہ اس فیصلے سے کوئی فرق پڑے لیکن میں دل و جان سے اس فیصلے کی تائید کرتا ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ محض انگریزی کی وجہ سے بہت سے قابل افراد روند دئیے جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر نہایت نالائق لوگ اوپر آ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی صرف انگریزی ہی اچھی ہوتی ہے اور پتا انہیں ’’ککھ‘‘ نہیں ہوتا۔


سوال: باقاعدہ کالم نگاری کب شروع کی؟
جواب: کالم نگاری تو شہاب کے زمانے میں ہی شروع ہو گئی تھی، بعد میں نوائے وقت جوائن کر لیا، وہاں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ سنڈے میگزین میں فیچر بھی لکھتا تھا، ہر مہینے باقاعدگی سے اس کام کے 323 روپے ملتے تھے۔


سوال: آپ کے فکاہیہ کالم کو آپ کے والد صاحبہ کی تائید حاصل تھی؟
جواب: ویسے تو میرے والد میرے کالم کو ’’خرافات‘‘ کہتے تھے لیکن پڑھتے بھی ضرور تھے۔ ایک دفعہ جب میں امریکا میں تھا تو میں نے ایک کالم لکھا جس میں مَیں نے لکھاکہ ’’ہماری ہاں جنسی گھٹن بہت زیادہ ہو گئی ہے جس کا مظاہرہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر عام دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ جانوروں کی عصمت بھی محفوظ نہیں رہی‘‘۔ جب یہ کالم چھپا تو میرے والد میرے سے ناراض ہو گئے، وہ فوراً مجید نظامی مرحوم کے پاس گئے کہ آپ نے یہ کالم شائع ہی کیوں کیا، انہوں نے سمجھایا کہ میں نے ایک نوجوان کے خیالات سمجھ کر اسے چھاپ دیا ہے، اس کے بعد انہوں نے مجھے خط لکھا کہ فوری طور پر اپنے ان خیالات سے توبہ کرو۔ آخر کو میں بھی انہی کا بیٹا تھا، میں نے انہیں 26صفحوں پر مشتمل خط لکھا جس میں ان کی لائبریری میں موجود کتابوں سے بے شمار حوالے دئیے اور اپنے موقف کا اعادہ کیا، جس پر وہ مان گئے۔ جہاں تک بات تائید کی ہے تو مجھ سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب کالموں میں دس پندرہ دن کا ناغہ ہو جاتا تو مجھے بلا کر پوچھتے ’’یار تیری وہ خرافات ان دنوں نہیں چھپ رہیں‘‘ میں سمجھ جاتا کہ انہیں میرا کالم پسند ہے لیکن حوصلہ افزائی کا انداز دوسروں سے مختلف ہے۔


سوال: کالم نگاری کے حوالے سے کوئی دلچسپ واقعہ جو آپ سنانا چاہیں؟
جواب: ویسے تو بے شمار واقعات ہیں لیکن میں آپ کو اپنے ’’لمبریٹا‘‘ سکوٹر کا واقعہ سناتا ہوں جو میں نے 70sمیں قسطوں پر لیا تھا، مگر قسطیں پوری ہونے سے پہلے ہی یہ سکوٹر چوری ہو گیا۔ اس پر میں نے ’’محترم چور صاحب‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھ دیا۔ یہ کالم اتنا مقبول ہوا کہ پاکستان کے ہر بڑے کالم نگار نے اس پر کالم لکھا۔ ابنِ انشاء نے لکھا، احمد ندیم قاسمی نے لکھا، انتظار حسین نے لکھا۔ اس زمانے میں مساوات اخبار میں سہیل ظفر نے بھی اس پر کالم لکھا۔ چور گھبرا گیا کہ ’’میں نے کس قوم کو للکارا ہے‘‘ اور وہ میرا سکوٹر واپس کر گیا۔ جس پر میں نے بعد میں ایک اور کالم لکھا ’’چور صاحب آپ کا شکریہ!‘‘۔ اس کالم میں مَیں نے لکھا کہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے سکوٹر واپس کر دیا، میں نے تو ابھی اس کی قسطیں بھی پوری نہیں دی تھیں لیکن میں پریشان ہوں کہ آپ نے کس کا کالم پڑھ کر سکوٹر واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ’’مساوات‘‘ میں سہیل ظفر کا کالم پڑھ کر اسے پارٹی کا حکم سمجھا اور سکوٹر واپس کر دیا۔ وہ زمانہ اتنا رواداری کا تھا کہ کسی نے بھی اسے مائنڈ نہیں کیا بلکہ جب سہیل ظفر مجھے ملے تو ہم ہنس ہنس کر دہرے ہو گئے۔


سوال: امریکا کیوں جانا ہوا تھا؟
جواب: اگر صحیح پوچھیں تو آوارہ گردی کرنے گیا تھا۔ اس زمانے کے میرے سارے دوست امریکا چلے گئے تھے میں اکیلا ہی تھا جو اس ’’جوگا‘‘ نہیں تھا کہ ٹکٹ بھی خرید سکتا۔ نوائے وقت کی سب ایڈیٹری کے دوران میں نے ایک ففٹی سی سی موٹرسائیکل خرید لی تھی۔ اس سواری کو موٹرسائیکل میں نے خود قرار دیا ہے ورنہ اسے ’’پھٹپھٹی‘‘ کہا جاتا تھا۔ میں نے پندرہ سو روپے میں یہ بائیک فروخت کی۔ کچھ پیسے والد محترم سے اور کچھ بھائی جان ضیاء الحق قاسمی سے لئے اورپیدل ہی یورپ کے لئے روانہ ہو گیا۔ پیدل ان معنوں میں کہ جہاز کی بجائے بسوں، ٹرینوں، ٹرکوں اور لفٹ وغیرہ لے کر لکسمبرگ تک پہنچا اور وہاں سے ایک جہاز کی سستی ترین ٹکٹ لی اور امریکا جا اترا۔ لاہور سے نیویارک پہنچنے پر میرے چھ ہزار روپے یعنی چھ سو ڈالر خرچ ہوئے۔ اس زمانے میں ایک ڈالر دس روپے کا تھا۔

interattaulhaq1.jpg
پردیس میں جاتے ہی روٹی، کپڑا اور مکان کی ضرورت پڑتی ہے۔ قریب ہی ایک ہسپتال میں بلڈ ٹیکنیشن کی سیٹ خالی تھی، میں وہاں انٹرویو کے لئے چلا گیا۔ ڈاکٹر نے پوچھا نام کیا ہے، میں نے نام بتایا، پھر اس نے پوچھا کتنے پڑھے لکھے ہو۔ میں نے کہا، ایم اے اردو لٹریچر۔ اس نے کہا کل سے نوکری جوائن کر لو۔ (زوردار قہقہہ) مجھے امریکی نظام صحت پر آج بھی ہنسی آتی ہے۔ایمبولینسیں، حادثات یا فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو ایمرجنسی میں وہاں لایا کرتی تھیں اور میں انہیں خون لگاتا تھا۔ انتہائی نازک کام تھا لیکن اللہ نے مجھےُ سرخرو کیا۔ شاید ابا جی کی دعائیں تھیں جنہوں نے مجھے محفوظ رکھا۔ کچھ عرصہ بعد ایک ہوٹل جوائن کر لیا۔ پھر امریکہ میں بڑے ہوٹل میں فوڈ اینڈ بیوریجز منیجر کی نوکری مل گئی۔


مگر امریکہ میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ میری عدم موجودگی میں میرے والد (والدہ تو پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں)کو کچھ ہوگیا تو میں کیسے خود کو معاف کروں گا۔ پھر یہ سوچ بھی بے چین کرتی تھی کہ اگر مجھے خود کو کچھ ہو گیا تو یہاں گوروں کے قبرستان میں دفن ہونا پڑے گا جبکہ میں تو اپنے ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں دفن ہونا چاہتا تھا جہاں درود و سلام کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ پھر ایک سوچ یہ بھی تھی کہ میں امریکا میں شادی کرتا ہوں تو ممکن ہے کل کو میری نسل میں سے کسی کا نام ’’پیرزادہ پیٹر قاسمی‘‘ ہو اور ہمارے خاندان کی ایک ہزار سالہ دینی پس منظر کی تاریخ کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے۔ حالانکہ ہمارے خاندان کے شاگردوں میں ماضی بعید میں حضرت مجدد الف ثانیؒ اور ماضی قریب کی تاریخ میں امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور بانی جامعہ اشرفیہ مفتی محمد حسنؒ کے علاوہ سیکڑوں علما و مشائخ کا نام شامل ہے۔ چنانچہ دو سال امریکا میں رہنے کے بعد میں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ وہاں میں نے جو کمایا تھا وہ وہیں سیر و سیاحت پر خرچ کر دیا تھا۔ دوستوں نے کافی سمجھایا لیکن میں نے ایک نہیں سنی اور واپسی کا رخت سفر باندھ لیا۔ واپسی کے لئے بھی میں نے مشکل راستہ چنا اور امریکا سے بائی ایئر یورپ اور یورپ سے بائی روڈ پاکستان کے لئے روانہ ہو ا۔ ملکوں ملکوں گھومتے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے میں یورپین ملکوں سے ہوتا ہوا ترکی اور ترکی سے ایران پہنچا جس کے سرحدی قصبے سے ٹرین کے ذریعے میں کوئٹہ اور پھر کوئٹہ سے لاہور پہنچا۔ میں نے گھر والوں کو سرپرائز دینے کا سوچا تھا۔ اس وقت شام کا وقت تھا جب میں نے اپنے گھر کی بیل پر انگلی رکھی اور تھوڑی دیر بعد میرے اباجی نے دروازہ کھولا۔ انہوں نے مجھے اچانک اپنے سامنے پایا تو خوشی سے ان کا چہرہ دمک اٹھا۔اس وقت ابا جی کے چہرے پر جو خوشی اور مسکراہٹ تھی، وہ مجھے آج بھی نہیں بھولی۔


سوال: کالج میں پڑھانے کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
جواب: مجھے دلی طور پر تو شروع سے ٹیچنگ سے لگاؤ تھا کیونکہ نوجوان ذہنوں کو پروان چڑھانے میں جو سکون اور مسرت ہے وہ میں نے کسی اور کام میں نہیں محسوس کی۔ بچوں کی ذہنی تربیت کرنا بنیادی فرائض کا حصہ سمجھتا ہوں۔ جب مجھے ٹیچنگ کی پیشکش ہوئی تو میں نے اپنے ایک دوست سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیکچرر شپ اور کالم نگاری کے اوقات الگ الگ ہیں، دونوں میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یوں میں بیک وقت کالم نگار اور لیکچرر بن گیا۔ میں تو خود بھی یہی چاہتا تھا چنانچہ ہم آہنگی اور یکسانیت کے باعث دونوں ملازمتیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔


سوال: پہلی کتاب کب منظر عام پر آئی۔
جواب: روزنِ دیوار کے نام سے میرے کالموں کا پہلا مجموعہ غالباً 1972-73میں منظر عام پر آیا تھا۔ میں نے کبھی اپنے کالموں کی کتاب میں وقتی نوعیت کے کالم شامل نہیں کئے۔ چراغ حسن حسرت اگرچہ واقعتا بہت بڑا نام ہے۔ میں نے بہت شوق سے ان کے انتخاب کی کتاب خریدی مگر مجھ سے پڑھی نہیں گئی کیونکہ تمام حوالے اور واقعات پرانے زمانے کے تھے۔ میں ان کے طنز کے پیچھے چھپے ہوئے واقعے کو سمجھ ہی نہ سکا۔ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے میں نے ہمیشہ اپنے کالموں کی کتاب میں تخلیقی نوعیت کے کالم شامل کئے ہیں۔ اب تک میری کوئی ڈیڑھ درجن کتابیں آ چکی ہیں، جن میں طنز و مزاح کی کتابیں بھی ہیں اور سفرنامے بھی۔


سوال: ڈرامہ نگاری کی طرف کیسے آئے۔
جواب: اتفاق سے۔ (مسکراتے ہوئے) اور یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ میں نے زندگی میں کوئی کام پلاننگ سے نہیں کیا۔ لوگ پوچھتے ہیں آپ کو ٹی وی کے لئے لکھنے میں کون کون سی مشکلات پیش آئیں مگر میرے ساتھ یہ معاملہ بالکل نہیں تھا۔ میں کالم لکھتا تھا جب میرے ایک دوست نے ٹی وی کے لئے ڈرامہ لکھنے کو کہا میں نے انکار کر دیا اورکہا کہ میں ڈرامہ نگار نہیں ہوں۔ وہ ہمیشہ ڈٹے رہتے، بار بار اصرار کرتے کہ ایک بار ڈرامہ لکھ کر تو دیکھیں۔ پھر مجھے کہا گیا کہ آپ کے کالموں میں ڈائیلاگ اور ڈرامہ موجود ہوتا ہے۔ ان کے اصرار پر میں نے پہلا ڈرامہ علی بابا چالیس چور لکھا۔ ویسے تو یہ بچوں کا ڈرامہ تھا لیکن بڑے بھی اسے بڑے شوق سے دیکھتے تھے، اس کے بعد میں نے ایک ڈرامہ ’’اپنے پرائے‘‘ لکھا مگر اس کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا کیونکہ اس وقت حکومت کی جانب سے پی ٹی وی پر خاصی سختی کی گئی تھی، ضیاء جالندھری اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے، ایک روز انہوں نے لاہور اور کراچی کا دورہ کیا۔ لاہور سٹیشن سے میرا ڈرامہ چل رہا تھا اورکراچی میں انور مقصود کے ڈرامے ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ انہوں نے میرے ڈرامے کے ایک کردار اور آنگن ٹیڑھا میں سلیم ناصر کے کردار پر اعتراض کیا کہ آپ قوم کو بدتمیزی سکھا رہے ہیں۔ خوب ’’کھچائی‘‘ کے بعد انہوں نے دونوں کرداروں کو نکالنے کا حکم دیا۔ لاہور سٹیشن والوں نے فوری طور پر مان لیا اور ڈرامے پر قینچی پھیر دی مگر کراچی سٹیشن نے دلیری دکھائی، اور چونکہ، چنانچہ سے کام لیتے ہوئے قطع برید کرنے کے بجائے ڈرامے کو اپنے حساب سے آن ایئر کیا۔ ’’اپنے پرائے‘‘ کے بعد میں نے نہ لکھنے کی ٹھان لی لیکن پھر مجھے لکھنا پڑ گیا۔ پھر خواجہ اینڈ سنز لکھا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ ڈالے، اس کے بعد میں نے شب دیگ لکھا جس کے کرداروں ’’کاکا منا‘‘ اور ’’انکل کیوں‘‘ کو بہت شہرت ملی، ایک اور ڈرامے کے کردار پروفیسر اللہ دتا اداس کو بھی لوگوں نے بہت پسند کیا۔ پھر ’’حویلی‘‘ لکھا، ’’شیدا ٹلی‘‘ لکھا، کچھ اور ڈرامے اور لانگ پلے لکھے، اس کے بعد دو ڈرامے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے بھی لکھے۔ میرے سارے ڈرامے سفید پوش طبقے کی نمائندگی کرتے تھے، میں نے کبھی ڈراموں میں بڑی کوٹھیاں، لمبی گاڑیاں نہیں دکھائیں بلکہ میں تو اس طرح کے گلیمر کو میڈیا کی دہشت گردی سمجھتا ہوں۔


سوال: سفارت کاری کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ جہاں بھی جاؤں، جو بھی کروں کچھ ایسا کروں کہ پتا لگے کچھ تبدیلی آئی ہے، ناروے میں میرے ہوتے ہوئے سفارت خانے کے دروازے ہر پاکستانی کے لئے کھلے تھے اور لوگ بلا جھجک میرے پاس آیا کرتے تھے بلکہ ایک بار تو یہ افواہ اڑی کہ سفیر صاحب ’’گرون لینڈ‘‘ میں جو کہ اوسلو کا نواحی علاقہ ہے اور پاکستانیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں۔ ناروے میں سفیر کو صدر جتنا درجہ حاصل ہوتا ہے اور یہ بات ملک کے وقار کے خلاف سمجھی گئی۔ پہلے پہل تو میں خاموش رہا مگر جب بات زیادہ بڑھ گئی تو ایک دن جمعے کو میں شہر کی سب سے بڑی مسجد میں چلا گیا اور وہاں جا کر اپنا آبائی کام کیا یعنی خطبہ دیا۔ میں نے کہا کہ جب سے میں اوسلو آیا ہوں، تب سے کوئی نہ کوئی سیکنڈل سننے کو ملتا ہے، اب کی بار میرا سیکنڈل سامنے آیا ہے کہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ کھانا کھاتے پایا گیا ہوں۔ میں یہاں کوئی صفائی دینے نہیں آیا بلکہ یہ بتانے آیا ہوں کہ میری ساری زندگی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزری ہے، میری زندگی کا یہ حصہ بھی انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزرے گا اور جب میں پاکستان واپس چلا جاؤں گا تو انہی لوگوں کے پاس جاؤں گا اور میری دعا ہے کہ جب میں مروں تو جاگیرداروں اور وڈیروں کے ساتھ اٹھائے جانے کی بجائے انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ اٹھایا جاؤں۔ میں آج بھی اکثر پیدل اندرون لاہور میں چلا جاتا ہوں تاکہ مجھے میرا ماضی نہ بھولے۔ ناروے کی سفارت کاری کے دوران پوری پاکستانی کمیونٹی ہر کام کے لئے میرے ساتھ کھڑی تھی، آج جب مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے پاکستانی ناروے میں کتنے منظم اور کتنے متحد ہیں۔ وہ اپنے ملک سے کس قدر محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ یہاں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔


سوال: آپ آٹھ سال تک الحمراء آرٹس کونسل کے چیئر مین رہے، وہاں ایسا کیا کام کیا جسے آپ اپنا امتیازی کام کہہ سکیں؟
جواب: وہاں تو بہت سارے کام کئے لیکن اگر کام کا ذکر کرنا مقصود ہو تو میں دو بڑے کام گنواؤں گا۔ اول تو میں نے انٹرنیشنل لٹریری فیسٹیولز کروائے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، دوسرا یہ کہ میں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں ایوارڈز شروع کروائے۔ اس کے علاوہ میں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کام شروع کیا اور پہلے ایک اشتہار شائع کیا کہ 35سال کی عمر تک کے افراد اپنا کلام بھیجیں۔ پورے پاکستان سے نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا، ہم نے ان میں سے اچھے شاعروں کا انتخاب کیا، انہیں لاہور بلوایا، ان کا مشاعرہ کروایا، ان کو معاوضہ دیا، ان کے لئے ورکشاپس کروائیں جس میں انہیں شعری اصناف کے بارے میں تعلیم دی گئی، پھر ان کے منتخب کلام کو ان کی تصویر اور مختصر سوانح پر مشتمل خاکے کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کیا گیا جسے ’’ذرا نم ہو‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن جس کام کی مجھے ذاتی خوشی ہے وہ یہ کہ مجھے چونکہ اقبالؒ سے عشق ہے، اس لئے میں نے الحمراء میں اقبال کا مجسمہ بنوا کر نصب کروایا۔ پہلے پہل اس کی بے پناہ مخالفت دیکھنے میں آئی مگر آج لوگ وہاں جا کر سیلفیاں لے رہے ہوتے ہیں۔


سوال: اب پی ٹی وی کے لئے آپ کیا کام کرنا چاہ رہے ہیں؟
جواب: پی ٹی وی میں میری ساری توجہ پروگرامنگ پر ہے۔ میرے نزدیک پی ٹی وی کا سب سے پلس پوائنٹ ’’ناسٹلجیا‘‘ ہے چنانچہ ایک تو ہم نے پرانے کلاسیک ڈرامے شروع کئے ہیں لیکن جو اس سے بڑا کام میں نے کیا اور جس کا میں نے آتے اعلان کیا تھا وہ یہ تھا کہ میرا وَن پوائنٹ ایجنڈا ’’اِن ہاؤس‘‘ پروڈکشن ہے۔ میرے سے پہلے 26سٹوڈیو ویران پڑے تھے، ملازم بے کار تھے، پی ٹی وی میں الو بولا کرتے تھے، سارا کام باہر سے لے کر چلا رہے تھے، میں نے سارے سٹوڈیو کھلوائے اور اِن ہاؤس پروڈکشن شروع کی۔ اب جو سہ ماہی آن ائیر ہے اس میں سارے پروگرام ہمارے اپنے چل رہے ہیں۔


سوال: موجودہ حالات میں آپ پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: میں تو بے پناہ پُر امید شخص ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ زندگی میں مجھے جو کچھ ملا ہے، صرف اس لئے ملا ہے کہ نہ تو میں کبھی اداس ہوا ہوں اور نہ کبھی مایوس ہوا ہوں۔ اور اب تو میں اپنی آنکھوں سے پاکستان کو ترقی کرتا دیکھ رہا ہوں۔ آپ دیکھئے کہ آزادی کے وقت ہمارے پاس کیا تھا اور آج ہم کہاں ہیں، غریب سے غریب شخص کے حالات میں بھی کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ ایک وقت تھا ہم لوگوں کے پاس جوتے نہیں ہوتے تھے، سڑکیں نہیں تھیں، ہسپتال نہیں تھے، آج آپ عالمی سروے رپورٹیں اٹھا کر دیکھ لیں وہ یہ کہتی ہیں کہ اگر یہ تسلسل جاری رہا تو 2025میں پاکستانی معیشت یورپی ممالک کے مدمقابل کھڑی ہو گی۔ اگر جمہوری تسلسل برقرار رہا اور تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے رہے تو یہ ملک بہت ترقی کرے گا۔


سوال: ابھی حال ہی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات دیکھنے کو ملے، پنجاب اسمبلی کے باہر خود کش حملہ ہوا، سندھ میں لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر حملہ ہوا، آپ اس نئی لہر کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ ہمارے کچھ طالع آزماؤں کے بوئے ہوئے بیج ہیں، ماضی میں جان بوجھ کر مذہبی منافرت کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔ اگرچہ اس میں غیرملکی طاقتوں اور پڑوسی ملک کی سازشیں بھی شریک ہیں لیکن استعمال ہمارے اپنے لوگ ہو رہے ہیں۔ اب بھی کچھ ایسے فکری مراکز موجود ہیں جہاں مذہب کی غلط تشریحات سے نوجوانوں کے کچے ذہنوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں ہمارے ہی خلاف استعمال کیا جاتا ہے مگر ہمارے ریاستی اداروں بالخصوص فوج نے جس قدر قربانیاں دی ہیں اس سے حالات بہت پُر امید ہیں۔


سوال: اپنا کون سا شعر سب سے زیادہ پسند ہے؟
جواب: اپنے شعروں میں مجھے ایک شعر بہت پسند ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری ساری زندگی کا نچوڑ یہ شعر ہے، میں نے اپنی پوری زندگی اس شعر کے مطابق گزاری ہے۔
اک صدا دے کے میں لوٹ آیا عطاؔ
اس نے اندر سے جب یہ کہا، کون ہے؟
(پنجابی میں) نہیں تے ناں سہی،

(زوردار قہقہہ)


سوال: آپ کا پسندیدہ لیڈر کون سا ہے؟
جواب: یقیناًمیرے پسندیدہ لیڈر قائداعظم محمد علی جناح ہی ہیں جن کے پاس ایک ویژن تھا، ایک لگن تھی، لیکن اگر موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو آپ کے پاس بہت محدود آپشن ہے۔ کچھ جماعتیں لسانیت کی بنیاد پر چل رہی ہیں، کچھ مذہب کا نعرہ لگا رہی ہیں، کچھ قومیت کے پردے میں چھپی ہوئی ہیں، میں ان سب لوگوں کے ساتھ تو چل نہیں سکتا۔ ہمارے کچھ اچھے اور ٹیلنٹڈ سیاستدان بھی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہیں جس وجہ سے آپ کی آپشن بہت محدود ہو جاتی ہے اور میری سیاسی وابستگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔


سوال: ماشاء اللہ آپ ایک ہمہ جہت اور بہت کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، اپنی زندگی کی روشنی میں نوجوانوں کو کیا پیغام دیں گے؟
جواب: میں ہمیشہ ایک ہی پیغام دیا کرتا ہوں کہ اپنے وسائل میں خوش رہیں، اگرچہ دولت ایک بڑا وسیلہ ہے مگر اس کی غیر موجودگی میں بھی خوش رہنے کی ہزار ہا چیزیں ہیں، آپ کے پاس آنکھیں ہیں، ہاتھ، پیر ہیں، عقل ہے، سوچ ہے، فکر ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس پر اکتفا کر کے بیٹھ جائیں بلکہ زیادہ کے لئے کوشش کرتے رہیں لیکن کسی خواہش کے غلام نہ بنیں جب آپ خواہشوں کی غلامی پر اتر آئے تو پھر آپ گھٹیا سے گھٹیا کام بھی کریں گے۔


سوال: فوجی بھائیوں اور ہلال کے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: فوجی بھائی جس طرح ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
ایک دعائیہ غزل
خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہئے
اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہئے
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم
جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئے
خواہشوں کو خوب صورت شکل دینے کے لئے
خواہشوں کی قید سے آزاد سے ہونا چاہئے
ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے
عرض کرتے عمر گزری ہے عطاؔ صاحب جہاں
آج اُس محفل میں کچھ ارشاد ہونا چاہئے

 
11
April

تحریر: ڈاکٹر وقار احمد

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان توانائی کے مستقل اور شدید بحران کا شکار رہا ہے اور اس کے حل کے لئے مختلف تجاویز، منصوبے اور حکومتی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سلسلے کو اگر ہم ملک کی تیزرفتار ترقی اور خصوصاً سی پیک جیسے بڑے منصوبوں سے جوڑیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور حقیقی اور پائیدار ترقی کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔یہ بہت نازک وقت ہے جب پاکستان اپنے پڑوسی ممالک سے نہ صرف اقتصادی بلکہ تکنیکی اور دفاعی اعتبار سے بھی ایک بھرپور مقابلے میں شامل ہے۔اس تناظر کو اگر گلوبل وارمنگ کے عمل اور موسمیاتی تبدیلی سے جوڑدیں تو ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارے وسائل کیا ہیں اور ہمیں ان میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے اور یہ اس فیصلے کا انتہائی اہم وقت ہے۔


اگر ہم اپنے ملک کا موازنہ دیگر ممالک سے کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہم بہت کم توانائی استعمال کر رہے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ ہمارا معیار زندگی ہے۔توانائی اگر بجلی کی صورت میں ہو تو اس کا شمار یونٹس میں کیا جاتا ہے۔ایک کلو واٹ بجلی اگر ہم ایک گھنٹے تک خرچ کریں تو یہ ایک یونٹ کہلاتا ہے۔دنیا بھر میں اوسطاً بجلی کا استعمال 2700 یونٹ سالانہ ہے جبکہ پاکستان میں اس میں یہ شرح صرف 450 یونٹ سالانہ ہے۔تاہم واضح رہے کہ پاکستان کی یہ اوسط دیہی اور شہری آبادیوں کو ملا کر ہے اور صرف شہروں کو دیکھا جائے تو یہ شرح کہیں زیادہ ہوگی۔اس صورتحال میں جہاں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ہمیں اور بہت ترقی کرنی ہے، وہیں ایک اور بات ثابت ہوتی ہے کہ ہم ایک سادہ طرزِ زندگی والی قوم ہیں، ہم بہت کم وسائل کا ضیاع کرتے ہیں اور اس طرح اپنے ماحول کو کسی حد تک تحفظ دیتے آئے ہیں۔


پائیدار ترtwaaikabuhran.jpgقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے معیارِزندگی کو بہتر نہ کریں بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اپنی ترقی کو ماحول سے ہم آہنگ کیا جائے اور آنے والی نسلوں کے لئے قدرتی وسائل بچا کر رکھے جائیں اور ان کے لئے ایک سازگار ماحول چھوڑا جائے۔لہٰذا دنیا بھر میں صنعتی ترقی اور بالخصوص توانائی کے شعبے سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کئی بین الاقوامی اور عالمی معاہدوں‘ جیسا کہ1997 میں جاپان میں ہونے والے کیوٹو پروٹوکول سے لے کر 2015 میں پیرس معاہدے تک کئی بار اقوام عالم اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے عملی اقدامات تیز تر کئے جائیں۔ چنانچہ پیرس معاہدہ میں گلوبل وارمنگ کو زیادہ سے زیادہ 2 درجے سینٹی گریڈ پر روکنے کے لئے اقوام عالم کو کاربن اخراج کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اب اس کام کے لئے بڑے منصوبے بنا رہے ہیں۔


پیرس معاہدے کے تحت ہر ملک اپنی کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو کم کرنے کے لئے قومی اہداف مقرر کرے جس کو

(Nationally Determined Contribution (NDC)

کہا جاتا ہے اور اس کے لئے قومی سطح کے منصوبوں کو عمل میں لانا پڑا ہے۔لہٰذا پاکستان نے بھی اپنا این ڈی سی کا معاہدہ جمع کروادیا ہے اور اس کے تحت ہمیں 2030 کے اہداف میں کاربن کے اخراج کو20 فیصد کم کرنا ہوگا۔
ہمارے شمالی علاقوں میں پن بجلی کے لئے جو قدرتی مواقع موجود ہیں وہ کسی بھی ترقی پسند قوم کے لئے ایک خواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی طرح توانائی کے متبادل ذرائع جیسے ہوا اور شمسی توانائی وغیرہ اور روایتی ذرائع مثلاً کوئلہ اور گیس وغیرہ کا نہ صرف اقتصادی موازنہ ضروری ہے بلکہ ان کے دُور رَس ماحولیات اور صحت پر پڑنے والے اثرات کا تجزیہ بھی نہایت اہم ہے اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دنیا کے دیگر ممالک اس وقت کس سمت میں جارہے ہیں اور سائنسی بنیادوں پر کیا چیز ہمارے لئے بہترین ثابت ہوگی۔ جب تک ہم تمام صورت حال کا جائزہ نہیں لے لیتے ہمیں یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ ہم کس ذریعے کو اختیار کرتے ہوئے ترقی کریں۔


اس وقت پاکستان میں توانائی کی کل ضرورت تقریباً 22000 میگاواٹ ہے جبکہ اس کی پیداوار سترہ سے اٹھارہ ہزار میگاواٹ ہے۔اس طرح 4000 سے 5000 میگاواٹ کی کمی ہے چنانچہ ہمیں نہ صرف سستے بلکہ ماحول دوست اور مستقبل میں فائدہ مند ذرائع کو کام میں لانا ہوگا۔بجلی دو طریقوں سے بن سکتی ہے، ایک تو جنریٹر چلانے سے جس کے لئے ٹربائن کو گھومنا پڑتا ہے۔دوسرا شمسی توانائی کے ذریعے، ٹربائن گھومنے والا ذریعہ کئی طریقوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً پانی سے، بھاپ یا ہوا کے زور پر اس کو گھما سکتے ہیں۔ ہوا، شمسی توانائی اور کچھ نئے ذرائع کو متبادل ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔تو آئیے ان ذرائع کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔


پن بجلی
توانائی کا سب سے سستا ذریعہ
hydropower
یعنی پن بجلی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس پر اتنی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس کے ماحولیاتی اثرات بھی دیگر روایتی ذرائع کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں۔پن بجلی کے منصوبے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن میں ڈیم
(Reservoir)
بنایا جاتا ہے۔ اس کے ابتدائی اخراجات اور قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ قیمت وصول ہو جاتی ہے۔دوسرا سٹریمنگ ہائیڈرو پاور ہے جس میں ڈیم بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بجلی، ندی یا دریا کے بہاؤ کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔اس کے چھوٹے چھوٹے بہت سے جنریٹرز لگ سکتے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان کو چھوٹے ندی نالوں پر بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ ایک درمیانہ جنریٹر ایک ہزار سے زائد گھروں کو بجلی فراہم کر سکتا ہے اور یہ ماحول پر کوئی منفی اثرات بھی نہیں ڈالتے ہیں۔


2003 میں بھارت نے ایک بڑا منصوبہ بنایا جس میں پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے 162 ذیلی منصوبوں کو منظور کیا گیا۔اگر ہم پاکستان کے شمالی علاقوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے پن بجلی کے لئے نہایت موزوں ہیں اور ان کے بہتے دریاؤں میں پانی کا قدرتی طور پر تیز بہاؤ اور دریا کی ڈھلان ہمیں بڑے ڈیم بنائے بغیر، چھوٹے ڈیمز اور اسٹریمنگ ہائیڈرو پاور سے اتنی بجلی پیدا کر کے دے سکتے ہیں جو ملکی ضرورت سے تین گنا زیادہ ہوگی۔چنانچہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں 65000 میگاواٹ بجلی کے منصوبے بن سکتے ہیں۔مثال کے طور پر صرف تین منصوبے بونجی ہائڈرو پاور پروجیکٹ جس سے 7500 میگاواٹ اور دیامر،بھاشا ڈیم جس سے 4500 میگاواٹ پیدا ہوسکتے ہیں اور داسو ڈیم بھی 4500 میگاواٹ پیدا کر سکتا ہے۔ان میں چند منصوبے سی پیک سے بھی جڑے ہیں۔دیگر چھوٹے بڑے منصوبوں کے ذریعے موجودہ اور مستقبل کی ملکی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔


پن بجلی میں چونکہ ایندھن استعمال نہیں ہوتا، اس لئے اس کے ماحولیاتی اثرات کوئلے اور تیل کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور ان سے ہمالیہ اور قراقرم کے پگھلتے ہوئے گلیشئیرز کو بھی بچایا جا سکے گا کیونکہ یہ پہاڑوں پر موسم سازگار بنانے میں مدد دیتے ہیں۔تاہم ڈیم سازی کے عمل سے سمندروں میں مٹی کی ترسیل رکتی ہے اور پہاڑوں کا خاصا رقبہ زیرآب آجاتا ہے جس سے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔


واپڈا کو ڈیمز سے اس وقت سات ہزار میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔جو کہ 2014 میں 1.5 روپے فی یونٹ پڑتی تھی اور داسو ڈیم جیسے منصوبے 50 پیسے فی یونٹ کی قیمت پر بجلی مہیا کریں گے۔یہی بجلی اگر اسٹریمنگ ہائیڈرو پاور سے بنائی جائے تو اس کی قیمت تقریبا 10 سے30 پیسے فی یونٹ پڑے گی۔جبکہ 31 دسمبر 2016 کو واپڈا کی پریس ریلیز کے مطابق مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمتیں کچھ یوں رہیں، پن بجلی 2.15، گیس 9.07، فرنس آئل 11.05، ہائی اسپیڈ ڈیزل 17.96، کوئلہ 12.08، نیوکلیئر 6.87، سولر 17، ہوا سے بجلی 16.63 روپے فی یونٹ۔ لہٰذا عوام کو اس وقت اوسط قیمت ساڑھے گیارہ (11.50) روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی ترسیل کی جارہی ہے اگر پن بجلی کا تناسب بڑھا دیا جائے تو یہ مزید سستی ہو سکتی ہے۔


ہوا سے بجلی
ہوا سے بجلی بنانے کا عمل اس وقت دنیا بھر میں کافی مقبول ہو رہا ہے اور کئی یورپی ممالک ہوا کو استعمال کر رہے ہیں۔اس وقت ملک میں جو بڑے منصوبے چل رہے ہیں وہ گھارو اور جھمپیر پر ہیں۔ہوا کی اس راہداری میں ہوا کی رفتار نہایت تیز ہے اور یہاں کل پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس وقت ملک میں صرف 590میگاواٹ بجلی ہوا سے بن رہی ہے۔ہوا جو کہ مفت حاصل ہوتی ہے، اس سے بجلی بنانے کو ایک ماحول دوست عمل سمجھا جاتا ہے تاہم ہوا کے زور پر ٹربائن یا جنریٹر چلانے کے لئے جو ٹیکنالوجی درکار ہے وہ اس وقت خاصی مہنگی ہے اور اس کے بھی ماحول پر کچھ نہ کچھ منفی اثرات ہوتے ہیں۔مثلاً شور وغیرہ‘ اور یہ سردیوں میں آنے والے پرندوں کے لئے بھی مضر ہوسکتے ہیں۔اس وقت موجودہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یہ ذریعہ مہنگا ہے اور وہاں زیادہ قابل استعمال ہے جہاں دیگر ماحول دوست ذرائع موجود نہ ہوں۔


شمسی توانائی
شمسی توانائی پر بھی دنیا بھر میں بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی سامنے آرہی ہے جو پہلے سے سستی بھی ہے اور دیرپا بھی۔اس کو ماحول دوست اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں بغیر کسی ایندھن کے محض سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔پاکستان چونکہ سب ٹروپیکل ممالک میں آتا ہے، لہٰذا ہمیں دھوپ کئی گھنٹے خاصی شدت کے ساتھ ملتی ہے۔ لہٰذا شمسی توانائی کے مواقع ہمارے ہاں خوب ہیں۔اس وقت بازاروں میں ہر سائز کی چھوٹی بڑی سولر پلیٹیں دستیاب ہیں۔ان کی اوسط 25 سال تک گارنٹی ہوتی ہے۔ تاہم بظاہر مفت نظر آنے والی شمسی توانائی چونکہ صرف دن میں بجلی مہیا کر سکتی ہے، اس لئے رات میں بجلی حاصل کرنے کے لئے اس کو ذخیرہ کرنا پڑتا ہے (جو کہ ایک مہنگا کام ہے) یا پھر رات کو دیگر ذرائع سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔مثال کے طور پر اس وقت ملک میں قائد اعظم پاور پلانٹ اور بہاولپور جیسے بڑے منصوبے کام کر رہے ہیں۔یہ پلانٹ صرف 100 میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے اور اس وقت موجود ذرائع میں سب سے مہنگا ہے۔یہ ذریعہ صرف اس جگہ کارآمد ہے جہاں بجلی کی قومی ترسیل (نیشنل گرڈ) نہ ہو یا بجلی کا کوئی اور متبادل نہ ہو مثلاً دُور دراز کے گاؤں دیہات وغیرہ میں چھوٹے پیمانے پر بجلی کے استعمال کے لئے یہ موزوں ہے۔لیکن یہ بات واضح رہے کہ آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ توانائی کا یہ وسیلہ سب سے کارآمد ہوگا۔


تھرمل پاور
اس وقت پاکستان میں ملکی پیداوار کا ایک بڑا حصہ تھرمل پاور پر منحصر ہے، اب تک ہم گیس یا تیل سے ہی بجلی بناتے آئے ہیں۔جبکہ کوئلے کا استعمال قومی پیداوار کا صرف ایک فیصد رہا ہے۔ کوئلہ کا استعمال انسانی تاریخ میں نیا نہیں۔ اس کا شمار حیاتیاتی ایندھن میں ہوتا ہے اور اس کو ڈرٹی فیول کے نام سے جانا جاتا ہے۔لہذا دنیا بھر میں تھرمل پاور کو عموماً اور کول پاور کو خصوصاً بتدریج ترک کیا جارہا ہے۔خود امریکا، چین اور ترقی یافتہ یورپی ممالک اپنے ملک میں اس سے پیدا ہونے والی آلودگی سے پریشان ہیں۔یہ بات صحیح ہے کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ توانائی تھرمل پاور اور خصوصاً کوئلے سے حاصل کی جارہی ہے۔لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس سے ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کی قیمت بہت زیادہ ہے اور دنیا بھر میں اب اِسے ترک کرنے کے لئے کھربوں ڈالر کے منصوبے عمل میں لائے جا رہے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور ماحول کی تباہی کو روکنا ہے۔جیساکہ امریکہ میں 2015 میں ایک بڑا منصوبہ ’’کلین پاور پلان‘‘ کا صدر اباما نے نے خود اعلان کیا، جس میں کول پاور پلانٹس سے کاربن اور آلودگی کے اخراج کو کم کیا جارہا ہے۔اسی طرح گزشتہ تین سالوں سے چین اپنے کوئلے کے استعمال کو کم سے کم تر کرتا جارہا ہے۔کوئلے سے ہونے والی آلودگی ماحول کوبے حد نقصان پہنچاتی ہے۔


اس وقت پاکستان میں سی پیک کے تحت فوری دس منصوبے
Early Harvest Energy Projects
کے نام سے شروع کئے گئے ہیں جو 2018 تک دس ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کریں گے۔اس کے علاوہ کئی منصوبے اور ہیں۔ ان میں بیشتر منصوبے کول پاور کے ہیں جن میں کئی پلانٹ بیرون ملک سے کوئلہ درآمد کریں گے اور کچھ تھر کا کوئلہ استعمال کریں گے۔تمام پاور پلانٹس چین سے درآمد کئے جا رہے ہیں۔ان میں آلودگی‘ جیسے کہ بیشتر گیسیں اور خطرناک دھاتیں مثلاً مرکری (پارہ) اور سیسہ جو ذہنی معذوری اور دیگر خطرناک امراض کا باعث بنتے ہیں، کو روکنے کا کوئی خاص تدارک نہیں ہے۔


دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس وقت جہاں بھی کول پاور پلانٹس استعمال ہورہے ہیں وہاں سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی متعارف کرائی جاچکی ہے اور کئی ممالک میں اس کو مزید جدید بناکر الٹرا سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے جس سے نہ صرف خطرناک گیسوں بلکہ خطرناک دھاتوں کا اخراج بھی کم کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے اور اس سے بجلی کی قیمت بڑھ جائے گی۔ لہٰذا پاکستان میں نئے لگنے والے کول پاور پلانٹس میں سے صرف چند ہی اس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے اور اس سے بجلی کی قیمت 12 روپے فی یونٹ سے بھی بڑھ جائے گی۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں
Minamata Convention
پر دستخط کئے ہیں، جس کے
Annex D
کے مطابق حکومت اس بات کی پابند ہے کہ ملک میں کوئلے کے ذریعے مرکری کی آلودگی کو روکنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرے گی۔
اب اس ضمن میں دیکھنا یہ ہوگا کہ ہماری دیرپا ترقی کے لئے کون سے ذرائع ہمارے لئے مفید ہیں؟ کیا ہمارے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں جو ماحول دوست بھی ہوں اور سستے بھی؟ کیا ہم اپنی عوام کو بہتر ماحول اور ایک بلند معیار زندگی، معاشی کامیابی کے ساتھ دے سکتے ہیں؟ توانائی کے بغیر ترقی ناممکن ہے، لہٰذا حکومت کو ایسی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس میں توانائی کے وہ ذرائع استعمال کئے جائیں جو لوگوں کی صحت کو نقصان نہ پہنچائیں، کم قیمت ہوں، کاربن کا اخراج بھی نہ کریں اور سی پیک جیسے عظیم منصوبوں کے ذریعہ لمبے عرصے تک ملک اور قوم کی بقا اور خوشحالی کا باعث بنے۔


پاکستان اگر اپنی قومی توانائی کا صرف ۱یک فیصد کوئلہ سے پیدا کر رہا ہے تو یہ نہایت خوشی کی بات ہے، جس سمت میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جانا چاہ رہے ہیں ہم پہلے ہی وہاں موجود ہیں ہمیں پیچھے جانے کے بجائے اکیسویں صدی کی اس دوڑ میں آگے کی طرف جانا چاہئے۔ایسے منصوبوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جو مہنگے بھی ہوں اور ماحول کے لئے نقصان دہ بھی۔اس صورتحال میں اگر حکومت پن بجلی پر توجہ دے اور اس کے نظام ترسیل پر رقم خرچ کرے، ساتھ ہی شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کے شعبے میں تحقیق کو تیز کرے، تو کوئی بعید نہیں کہ ہم توانائی میں ناصرف خودکفیل ہوجائیں گے بلکہ اپنی ترقی کے خواب بھی پورے کر سکیں گے۔

ڈاکٹر وقار احمد ایک ماہر ماحولیات ہیں اور جامعہ کراچی میں اپنی خدمات تدریس و تحقیق کی صورت میں انجام دے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ایڈہاک

ہیں مسلسل اشک آنکھوں میں‘ ہنسی ایڈہاک پر
غم ملے ہیں مستقل ہم کو‘ خوشی ایڈہاک پر
اور آجائے گا کوئی جیب جب خالی ہوئی
چل رہی ہے اُن سے اپنی دوستی ایڈہاک پر
مستقل شے کیا ملے دُنیائے فانی میں ہمیں
دوستو! ہم کو ملی ہے زندگی ایڈہاک پر
حادثوں کی بارشیں ہوتی ہیں متواتر جلالؔ
ہم اگر کر لیں ذرا سی دل لگی ایڈہاک پر

ڈاکٹرسیدقاسم جلالؔ

*****

 
10
April

تحریر: ڈاکٹرہمامیر

سرکس میں تماشا نہیں لگاتا۔ یہ بات کیوں اور کیسے مشہور ہوئی معلوم نہیں لیکن مجھے ان بھیڑیوں کا خیال ضرور آیا جنہیں ایک کینیڈین جوڑا بڑی محبت سے ایسے پال رہا ہے جیسے وہاں کتے یا بلی پلتی ہے۔ ونکوور کے شمال مشرق میں پہاڑوں کے دامن میں 1.25 ایکڑ کے وسیع رقبے پر
Casey & Shelley
نامی میاں بیوی نے بھیڑیوں کو بڑے ناز سے پالا ہے۔ لوگ ہرن پالتے ہیں، بھیڑ ، بکری، گائے، دنبے، بیل، اونٹ، گھوڑے، گدھے، مور، پرندے، کتا، بلی پالتے ہیں۔ جانے یہ بھیڑئیے پالنے کا خیال کیونکر آیا اور یہ کیا ایک نئی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ یعنی بھیڑیے سے متعلق جتنی باتیں یا کہاوتیں مشہور ہیں، ان کے حساب سے تو بھیڑیا ایسا درندہ ہے جس کے بارے میں کبھی پہلے نہیں سنا کہ اسے پالا جائے۔ لوگ سانپ جیسے موذی کو پال لیتے ہیں مگر زہر نکال کے۔ یہ بھیڑیا پالنا آخر کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ سب میری سمجھ سے تو باہر ہے تاہم میں آپ کو ان پالتو بھیڑیوں کے tazahawabaharki.jpgبارے میں بتاتی ہوں جو
Casey
اور
Shelley
نے پالے ہیں۔ یہ تعداد میں کل 7ہیں۔ ان میں سے ایک مادہ ہے جس کا نام مایا ہے۔ وہ سب سے بڑی ہے اس کی عمر 17برس ہے
Wiley
نامی بھیڑیا خوب تندرست و توانا ہے۔ اس کی عمر14برس ہے اور وزن 110پاؤنڈ ہے۔
Aspen
نامی بھیڑیا ہے جو سب سے پہلے پلا تھا۔
Aspen
چھوٹا سا بچہ تھا جب اسے لایا گیا تھا۔ ان کے علاوہ
Dave
اور
Flora
بھی ہیں۔ یہ سب بھیڑئیے مل جل کر رہتے ہیں۔ ان کے مالک
Shelley
اور
Casey
نے باقاعدہ وولف سینٹر بنایا ہے جہاںیہ سات بھیڑیے خوب گھومتے پھرتے عیش کرتے ہیں۔
Shelley
اور
Casey
مختلف سکولوں میں جا کر بھیڑیوں کے حق میں تقاریر کرتے ہیں۔ بچوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ ان کے وولف سینٹر کا دورہ کریں تاکہ بھیڑیوں کے حوالے سے ان کے ذہن تبدیل ہو سکیں۔ یہ دونوں میاں بیوی بھیڑیوں کی پبلسٹی میں آگے آگے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ بھیڑیوں سے خوف کھانے یا ان کو برا سمجھنے کے بجائے ان سے محبت کریں، ان کو گھروں میں پالیں اور بھیڑیوں کو درندہ سمجھنے کے بجائے پالتو جانور سمجھیں۔


چلیں اب ختم کریں یہ بھیڑیوں کی باتیں بہت ہو گئیں۔ ذرا سیاسی درجہ حرات پر بات ہو جائے۔ اس بار موسم سرما میں عالمی سیاست گرم رہی۔ نئے قوانین، نئے اصول، نئی باتیں سامنے آئیں۔ دنیا کے دیگر مسلمان ممالک میں بسنے والوں کی ہمدردی اور اظہار یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالنے والے کسی اشارے کے منتظر رہے اور نئی پالیسیوں پر ان کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کہیں کوئی صدا سنائی نہ دی۔ بس اتنا ضرور ہوا کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی بین الاقوامی مقبولیت میں ضرور اضافہ ہوا۔ ٹروڈو بہت باصلاحیت نوجوان وزیراعظم ہیں۔ وہ تمام مذاہب اور مسالک کا احترام کرتے ہیں۔ غیرملکی تارکین وطن اور مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کے حق میں بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح مسلمانوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا اور جس طرح تارکین وطن کو گلے لگایا، لوگ ان کے مداح ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر انہیں سراہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ٹرکوں کے پیچھے ان کے پورٹریٹ نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل سابق صدر ایوب خان کی تصاویر ہمیں ٹرک کے پیچھے نظر آتی تھیں۔ جسٹن ٹروڈو کے والد بھی سیاستدان تھے، وہ بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ کمال بات ہے کہ یہ خاندان نہایت ایماندار اور محنتی ہے۔ ان پر ایک پائی کی بھی کرپشن کا الزام نہیں۔ یہ ایسے وی آئی پی ہیں جو اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں۔ ان کے چہرے پر کوئی رعونت یا فرعونیت نہیں۔ ٹروڈو کا مسکراتا چہرہ، ان کے مثبت بیانات، عملی اقدامات، اختلافات و اقدار کا لحاظ ان کو ایک آئیڈیل سیاستدان کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ جسٹن ٹروڈو کی اہلیہ نہایت حسین وجمیل خاتون ہیں۔ یہ سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ ذاتی جیپ سے شاپنگ کرتی ہیں۔ ٹروڈو کے بچے ابھی پڑھ رہے ہیں اور کسی سیاسی کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ بچے کسی کی تقرری، ٹرانسفر، یا کسی قسم کی دیگر ذمہ داریوں سے مبرا ہیں۔ نیز ان کو یہ بھی نہیں باور کرایا گیا کہ ان کے باپ کے بعد اقتدار انہی کا حق ہے۔کینیڈا کی دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ یہ سب جمہوری روایات کے امین ہیں اور جمہوریت کے مفہوم سے نہ صرف آشنا ہیں بلکہ اپنے طرز عمل سے ثابت بھی کرتے ہیں۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ

جہلم شہر سے رانجھا میرا نامی گاؤں کی طرف جائیں تو چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلال ٹاؤن آتا ہے۔ اسی بلال ٹاؤن میں محلہ شاہ پور ہے۔ جہاں مادر وطن کا وہ جانباز (شہید) پیدا ہوا اور اسی قبرستان میں پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ دفن ہوا۔


سپاہی وقاص احمد 20جولائی 1989کو جہلم میں پیدا ہوا۔ اس کے والد افتخار احمد حکمت کا کام کرتے ہیں اور حکیم کے طور پر مشہور ہیں۔چھ بہن بھائیوں میں وقاص احمد کا تیسرا نمبر ہے۔ بچپن سے ہی وقاص احمد وقت کا انتہائی پابند تھا اور اپنی اسی خوبی کی وجہ سے سارے گھر والے وقاص احمد کو چھوٹی عمر میں ہی فوجی کہنے لگے تھے۔وقاص احمد انتہائی نرم دل اور رحمدل تھا۔ اپنے تو کیا وہ کسی غیر کو بھی معمولی سی بھی تکلیف میں دیکھتا تو تڑپ اٹھتا اور حتی الامکان اپنی بساط سے بھی بڑھ کر اس کے کام آنے کی کوشش کرتا۔ وقاص احمد کے خاندان میں کوئی بھی فوجی نہ تھا۔ مگر اس کی امی کی بڑی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پاک فوج کا حصہ بنے۔ چنانچہ میٹرک کرنے کے بعد وقاص احمد ریکروٹنگ آفس گیا اور آرمی میں بھرتی ہو گیا۔ یقیناًاﷲتعالیٰ نے اسے شہادت کے لئے چن لیا تھا۔ اس لئے بغیرکسی معمولی سی بھی رکاوٹ کے وہ پنجاب رجمنٹ میں بھرتی ہو گیا۔ ضروری عسکری ٹریننگ کے بعد اس کی ٹرانسفر 55پنجاب رجمنٹ میں ہو گئی۔ اپنے حسن اخلاق اور اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت وہ جلد ہی 55پنجاب رجمنٹ کے سپاہی سے لے کر کمانڈنگ آفیسر تک ہرایک کی آنکھ کا تارا بن گیا۔

 

sipahiwaqashusain.jpgانہی دنوں ارض وطن پر دہشت گردی کا خون آشام آسیب نجانے کہاں سے در آیا۔ روازنہ سیکڑوں ہزاروں لوگوں کو دوچار انسانی قالب میں چھپے ہوئے درندے خودکش جیکٹس اور طرح طرح کے خوف ناک آتشیں ہتھیاروں سے خون میں نہلانے لگے۔ مسجد یں، امام بارگاہیں، چرچ غرضیکہ کوئی بھی عبادت گاہ محفوظ نہ رہی۔ پررونق مقامات، تفریحی گاہوں اور پرہجوم مقامات پرخوف کے سائے منڈلانے لگے۔ لوگ سکولوں، کالجوں اور کھیل کے میدانوں میں بچوں کو بھیجنے سے ڈرنے لگے۔ اس پرہو اور خوف سے بھرپور فضا کا طلسم توڑنے کے لئے پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے انتہائی دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اور ان خون آشام درندوں کو نکیل ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ پوری فوج اپنے سپہ سالار کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان موت کے ہر کاروں کے خلاف سینہ سپر ہو گئی۔ آرمی نے بلاامتیاز دہشت گردوں کو پوری قوت سے کچلنا شروع کر دیا۔ ملک بھر میں جہاں جہاں ان دہشت گرد درندوں کی کمین گاہیں تھیں انہیں ان کمین گاہوں سے ایک چوہے کی طرح بلوں سے نکال کر تباہ وبرباد کرنا شروع کر دیا۔ وقاص احمد کو 55پنجاب رجمنٹ سمیت دہشت گردوں کے مستقر جنوبی وزیرستان بھیج دیا گیا اور وانا میں آپریشن شروع کر دیا گیا۔


یہ غالباً وقاص کی شہادت سے ایک دن پہلے کی بات ہے کہ اس نے سارے گھروالوں سے خوب جی بھر کر باتیں کیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم انشاء اﷲ دو ماہ بعد واپس آ جائیں گے۔ مگر خدا نے اسے اپنی راہ میں شہادت کے عہدے پر فائز کرنے کے لئے چن لیا تھا۔ یہ بارہ جولائی 2013 دو رمضان المبارک اور جمعہ کا دن تھا۔ دشمن کی گھات کی وجہ سے کمیونیکیشن کا سلسلہ اچانک منقطع ہو گیا۔ عسکری زندگی میں اور خاص کر میدان جنگ میں کمیونیکیشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ وقاص احمد کے تین ساتھی رابطہ بحال کرنے کے لئے اپنی جگہ سے نکلے۔ سپاہی وقاص احمد نے انہیں دیکھا تو وہ بھی ساتھ ہو لیا۔ حالانکہ یہ اس کی ڈیوٹی نہیں تھی۔ فوج میں ہر کام کے لئے مخصوص افراد ہوتے ہیں۔ ساتھیوں نے اسے منع بھی کیا۔ مگر شہادت اسے اپنی بانہوں میں بھرنے کے لئے اسے جائے شہادت پربلا رہی تھی۔ چنانچہ وہ ضد کر کے ساتھ چلا گیا۔ کچھ دور انہیں وہ پول (کھمبا)نظر آ گیا۔ جہاں سے ٹیلی فون تار ٹوٹ کر لٹک رہی تھی۔ جس کی وجہ سے کمیونیکیشن بریک ہو گیا تھا۔فوجی حکمت عملی کے مطابق ایک ساتھی ان سے دور چلا گیا۔ تاکہ دشمنوں کی طرف سے فائرنگ کی صورت میں
Cover
فائر دے سکے۔ دو ساتھی کھمبے سے تھوڑی دُور پوزیشن لے کر بیٹھ گئے۔ جبکہ وقاص احمد کھمبے پر چڑھ کر تاریں جوڑنے لگا۔ تاریں جوڑنے کے بعد وہ نیچے اترنے ہی لگا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ قریب ہی گھات لگائے دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔ کھمبے سے ہی وقاص نے دیکھا کہ اس کے تینوں ساتھی خاک و خون میں نہا چکے تھے۔ وقاص احمد کے دل میں رائی برابر بھی خوف نہ تھا۔ اس نے تیزی سے کھمبے سے چھلانگ لگائی اور دشمن پر فائر شروع کر دیا۔ وقاص کی جوابی فائرنگ سے دہشت گردوں کی فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ تب وقاص نے اپنے قریبی دونوں ساتھیوں کو جو کہ شہید ہو چکے تھے اپنے کندھوں پر لاد کر کیمپ کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر ابھی دو قدم بھی نہ اٹھا پایا تھا کہ آتش و آہن کا ایک برسٹ آیا اور اکتالیس گولیاں اس کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔ اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گیا۔ ایک گولی اس کے موبائل فون پر بھی لگی یوں وہ اپنے گھر سے دور ارض وطن پر اپنی جوانی کی سوغات لوٹا کر امر ہو گیا۔ شہادت کے تین ماہ بعد اﷲتعالیٰ نے اسے بیٹے سے نوازا جس کا نام حیدر وقاص رکھا گیا جو اب ،جنوری 2017میں، تین سال کا ہو گیا ہے۔ راہ حق میں جانیں لٹا دینا بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ مگر جن ماؤں کے جوان کڑیل بیٹے یوں چپ چاپ دنیا والوں سے ناتا توڑ کر راہ حق کے مسافر بن جائیں اور اس پار ستاروں اور کہکشاؤں کے دیس جا بسیں، ان ماؤں کی آنکھوں کے سوتے کبھی بھی خشک نہیں ہوتے۔ سپاہی وقاص احمد شہید ہو کر زندہ جاوید ہو گیا۔ جس چارپائی پر وقاص احمد سویا کرتا تھا اس کی ماں اس کی طرف دیکھ کر آج بھی روتی رہتی ہے۔ وہ موٹر سائیکل جو وقاص سواری کے لئے استعمال کرتا تھا۔ وہ آج بھی کمرے میں کھڑی اپنے مالک کی آمد کی منتظر ہے۔ کاش کوئی اسے بتائے کہ سپاہی وقاص احمد تو دنیاوی رشتوں سے بے نیاز ستاروں اور کہکشاؤں کے دیس کا وہ باسی بن چکا ہے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیںآیا کرتا۔ وہ وطن کی حرمت پر قربان ہو گیا۔ وہ وطن کا نام باقی رکھنے کے لئے خود تو مٹ گیا مگر اس کے پائے استقامت میں ایک لمحے کے لئے بھی لغزش نہیں آئی۔ وہ جا چکا ہے مگر ارض وطن کے ہر نقش میں اس کا پَرتو ہے۔ یقیناًسب سے بڑی قربانی خاک وطن میں ہنستے کھیلتے اپنا لہو سینچنا ہے۔ جب تک ہمارے بہادر سپاہی اپنے لہو سے یہ آبیاری کرتے رہیں گے ارض وطن پر یوں ہی پھول کھلتے رہیں گے۔

 
10
April

وطنِ عزیز میں امن کی بحالی کے لئے افواجِ پاکستان اور قوم باہم مل کر دہشت گردی کے جس عفریت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما تھیں‘ الحمدﷲ اس میں کافی حد تک کامیابی مل چکی ہے اوراُس کے ثمرات کا اندازہ امن عامہ کی عمومی صورتحال اور عوام کے دمکتے چہروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ الحمدﷲعوام الناس دہشت گردی کے خوف سے نکل چکے ہیں اور وہ دہشت گردی کے ہونے والے اِکا دُکا واقعات سے نمٹنے کے لئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ افواجِ پاکستان نے جس انداز ہے دہشت گردی کے جن پر قابو پایاہے اس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔


اب باقی ماندہ فسادیوں اور سہولت کاروں کے خلاف’ آپریشن رد الفساد‘ کامیابی سے جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس سرزمین سے فسادکی مکمل بیخ کنی نہیں ہوجاتی۔ عوام کے حوصلے کس قدر بلند اور جذبے کس طور جواں ہیں ‘اس کا اندازہ حالیہ یومِ پاکستان پریڈ سے لگایا جاسکتا ہے۔ رواں برس پریڈ کی خاصیت یہ تھی کہ برادر ممالک چین اور سعودی عرب کے فوجی دستے اور برادر ملک ترکی کے مہتر بینڈ نے شریک ہو کر پاکستان اور پاکستانیوں کا مان بڑھایا۔ دریں اثناء شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سمیت ملک بھر میں پاکستان ڈے منایا گیا جس میں بچوں ‘ بوڑھوں اور جوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ لوگوں کے چہرے تمکنت اور خوشی سے دمکتے دکھائی دیئے جو یہ پیغام دے رہے تھے کہ پاکستان تاریک راہوں سے نکل آیا ہے اور اب ایک روشن اور تابناک مستقبل پاکستان اور اس کے باسیوں کا مقدر ہے۔ عوام کو صرف اس حدتک ذمہ دارہونے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کرنے اور اپنے حصے کی شمع جلانے میں بخل سے کام نہ لیں کیونکہ پاکستان صرف اسی صورت میں ترقی کرسکتا ہے جب تمام ادارے اپنے اپنے حصے کاکام اس انداز سے کریں کہ جس سے ملک میں ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہو۔


زندہ قومیں اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتیں اور اپنے حوصلے پست نہیں ہونے دیتیں کہ اُمید ہی میں روشن و تابناک مستقبل کے راز پنہاں ہوا کرتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم رواداری اور باہمی یگانگت کو یقینی بنانا ہوگا۔ بانئ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے 11 ستمبر1947 کو دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا ’’ پاکستان کی عظیم ریاست کو اگر ہم آسودہ ‘ خوشحال اور ثروت مند بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام کی فلاح پر تمام تر توجہ مرکوز کرنی پڑے گی اور ان میں بھی عام لوگوں بالخصو ص نادار آبادی کی فلاح مقدم ہے۔ اگر آپ نے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے‘ ناگواریوں کو دفن کرکے باہم تعاون سے کام کیا تو آپ کی کامیابی یقینی ہے اگر آپ نے ماضی کی روش بدل دی اورآپس میں مل جل کر اس جذبہ کے ساتھ کام کیا کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ و ہ کسی بھی فرقے سے ہو‘ خواہ ماضی میںآپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کچھ بھی رہی ہو‘ اس کا رنگ ذات یا مسلک خواہ کچھ بھی ہو‘ وہ شخص اول آخر اس ریاست کا شہری ہے اور اس کے حقوق‘ مراعات اور فرائض برابرکے ہیں‘ تو یاد رکھئے کہ آپ کی ترقی کی کوئی حد وانتہا نہ ہوگی۔‘‘


الغرض قوم اور اداروں کو پوری تندہی کے ساتھ اپنی خدمات کو اس اُمید سے یقینی بنانا ہے کہ آنے والے وقتوں میں وطنِ عزیز پاکستان دنیا کے بہترین اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکے۔

10
April

تحریر: جاوید حفیظ

مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں منافع کماتی ہیں۔ نئے کارخانے لگتے ہیں۔ سڑکیں بنتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور انشورنس کا بزنس فروغ پاتا ہے۔ تجارتی روابط ٹورازم کو ترقی دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ تجارت ملکوں کے مابین امن اور خطے میں استحکام لاتی ہے۔ کیونکہ اقتصادی تعاون کے بین الاقوامی فروغ کے لئے امن اور استحکام اہم شرط ہے۔


علاقائی اقتصادی تعاون سے وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملتی ہے مثلاً پاکستان ٹیکسٹائل اور چاول برآمد کرتا ہے اور ہمسایہ ملک ایران یہ دونوں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ایران اگر یہ دونوں چیزیں کسی دورکے ملک سے منگوانے کے بجائے پاکستان سے خریدے تو اسے سستی بھی پڑیں گی کیونکہ ٹرانسپورٹ کرنے میں لاگت کم آئے گی۔ اسی طرح ایران تیل اور گیس برآمد کرتا ہے جبکہ اس کے ہمسایہ ممالک ترکی اور پاکستان کی انرجی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں ان تین ملکوں کے باہمی تعاون سے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے 1964 میں آر سی ڈی
(Regional Cooperation For Development)
بنائی گئی۔ اس تنظیم کا مقصد تینوں ملکوں کے مابین تجارت کا فروغ اور شاہراہ کے ذریعے سفر کو آسان بنانا تھا۔ یہی وہ شاہراہ تھی جو پاکستان کو یورپ سے منسلک کر سکتی تھی۔ ایران میں 1979 میں انقلاب آیا تو آر سی ڈی غیرفعال ہو گئی۔ 1985میں تینوں ممالک نے اسے نئے نام یعنی ای سی او
(Economic Cooperation Organisation)
کے ذریعے دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1992 میں افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے چھ ممالک اس تنظیم میں شامل ہو گئے۔ بیسیویں صدی نے علاقائی تعاون کا عروج دیکھا ہے اور بہت سے ممالک باہمی اشتراک سے مستفید ہوئے۔ اس تعاون کی سب سے بڑی مثال یورپی یونین ہے۔ تعاون اور اتحاد کی اس شکل میں سرمایہ اور لیبر آزادانہ ایک ملک سے دوسرے ممبر ملک جا سکتے ہیں۔ مثلاً فرانس کا شہری جرمنی، یونان، ہالینڈ کسی بھی ملک میں نہ صرف جاب کر سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں سے تھکے ہوئے یورپ کے لئے یہ بہت خوشگوار تجربہ تھا۔ اسی طرح کا ایک اور کامیاب تجربہ ایشیا میں آسیان کی صورت میں سامنے آیا۔ یہاں علاقائی تعاون سے سنگاپور، ملائشیا اور دیگر ممبر ممالک کو بہت فائدہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے معیار زندگی بہتر ہوا۔ ان ممالک نے نہ صرف باہمی تجارت کو خاصی حد تک بڑھایا بلکہ تعلیم صحت اور ریسرچ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کی معاونت کی، بالآخر خارجہ پالیسی کے امور میں بھی تعاون دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف یورپ کے کئی ممالک مشترکہ ویزہ پالیسی کا حصہ ہیں اور ایک کامن کرنسی یعنی یورو معرض وجود میں آئی۔ ان دو کامیاب علاقائی تنظیموں کے علاوہ چند ایسی مثالیں بھی مشاہدے میں آئیں جن میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور ان میں ایک تنظیم سارک بھی ہے۔

ecoaurpakistan.jpg
اس بات کا تعین بھی ضروری ہے کہ سارک ناکام تنظیم کیوں ہے۔ کسی بھی علاقائی تعاون تنظیم کی کامیابی کے لئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ ممبر ممالک کی سوچ اور مقاصد میں ہم آہنگی ہو۔ صاف ظاہر ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے ہدف مختلف ہیں۔ مثلاً انڈیا ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جو اس کا تابع فرمان ہو۔ مگر انڈیا اپنا یہ ہدف حاصل نہیں کر سکا اور 1998 کے ایٹمی تجربوں کے بعد تو پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ لیکن اس بات کا کیا علاج ہے کہ انڈیا نے اپنا برتری اور رعب جمانے کا ہدف ترک نہیں کیا۔ پھر انڈیا اور پاکستان کے مابین کئی حل طلب مسائل ہیں جن میں کشمیر سرفہرست ہے۔ ای سی او ممالک کے درمیان ایسے جھگڑے نہیں لہٰذا اس تنظیم کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔معیشت کا تنوع اور ایک دوسرے پر انحصار علاقائی تعاون کی کامیابی کی دوسری شرط ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں ٹیکسٹائل گڈز برآمد کرتے ہیں بین الاقوامی منڈی میں دونوں میں مقابلے کی فضا رہتی ہے۔ اسی طرح انڈیا، پاکستان اور سری لنکا تینوں چاول برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین باسمتی چاول برآمد کرنے کے سلسلے میں سخت مسابقت رہتی ہے۔ ای سی او کے ممبر ممالک میں ایسی کوئی مشکل نظر نہیںآتی۔ پاکستان اور ترکی بہت ساری ایسی چیزیں بناتے ہیں جن کی سنٹرل ایشیا میں کھپت ہے۔ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے اور ہمیں گرمیوں میں تاجکستان سے بجلی مل سکتی ہے۔ ایک منصوبہ جسے کاساایک ہزار
(CASA-1000)
کا نام دیا گیا ہے پر دستخط ہو چکے ہیں۔


عام طور پر کہا جاتا ہے کہ علاقائی تعاون اور تجارت کے فروغ کے لئے مذہبی اور کلچرل ہم آہنگی اور یکسانیت لازمی شرط نہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ترکی مسلمانوں کا ملک ہے۔ پوری کوشش کے باوجود ترکی ابھی تک یورپی یونین کی ممبر شب حاصل نہیں کر سکا۔ سارک ممالک کے لوگ تین چار مذاہب کے پیروکار ہیں۔ جن میں ہندو مت، اسلام، بدھ مت اور عیسائیت نمایاں ہیں۔ ان کے برعکس ای سی او ممبر ممالک میں ہر جگہ مسلمان اکثریت میں ہیں اور اس وجہ سے ای سی او کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔


ای سی او نے اب تک کیا اہداف حاصل کئے ہیں۔ اس تنظیم کا ریکارڈ کیسا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ریکارڈ دیکھنے کے بعد میں ای سی او کو نیم کامیاب تنظیم کہوں گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اس تنظیم کا مستقبل روشن ہے۔ ای سی او ممالک نے 2005ء میں سرکردہ اشخاص کا ایک پینل بنایا تھا تاکہ مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جائے۔ اس پینل کا کہنا تھا کہ اگر کسٹم ڈیوٹی کم کی جائے اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا ازالہ کیا جائے تو ای سی او ممبرز اپنی باہمی تجارت کو ٹوٹل ٹریڈ کے بیس فیصد تک لے جا سکتے ہیں۔ 2015 گزر گیا لیکن باہمی تجارت آٹھ فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ آئیے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تنظیم اپنے مکمل اہداف حاصل کرنے سے کیوں قاصر رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو افغانستان کی غیرمستحکم صورت حال نظر آتی ہے جو تاحال قائم ہے۔ دوسری بڑی وجہ ایران پر ایٹمی پروگرام کی وجہ سے لگنے والی عالمی اقتصادی پابندیاں تھیں تیسری وجہ یہ ہے کہ سنٹرل ایشیا کے کئی ممالک اپنے انفراسٹرکچر کی وجہ سے روس کی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔ ای سی او کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ان ملکوں کو روس کی معیشت اور تجارت سے دور کیا جائے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر گیس پائپ لائنز بن جائیں اور ممبر ممالک کا ایران پاکستان اور ترکی کے ساتھ زمینی سفر آرام دہ ہو جائے تو سنٹرل ایشین ممالک کو بہت فائدہ ہو گا۔ راقم الحروف جب دو شنبے میں سفیر تھا تو اس بات کا این ایچ اے کی مدد سے تعین کر لیا گیا تھا کہ اسلام آباد سے براستہ پشاور جلال آباد کابل تاجکستان کا سفر آسانی سے دس گھنٹے میں ممکن ہے۔ دو شنبے سے بائی روڈ ماسکو جانے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہے۔ اور اب آتے ہیں یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی ای سی او سمٹ کانفرنس کی جانب۔ فروری کے مہینے میں پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر دیکھنے میں آئی۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ای سی او سمٹ کانفرنس کو سبوتاژ کر دے گا لیکن دشمن اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کانفرنس میں چھ صدور ایک وزیراعظم اور دو نائب وزیراعظم آئے۔ ایران کے صدر حسن روحانی اور ترکی کے صدر طیب رجب اردوان
(Recep Tayyip Erdogan)
نمایاں رہے۔ یہ پاکستانی سفارت کاری کی واضح کامیابی تھی۔ اس سے پاکستان کی علاقائی اہمیت کا پھر سے اقرار ہوا ہے۔ انڈیا کا یہ دعویٰ کہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں تنہا ہے۔ غلط ثابت ہوا۔
اسلام آباد کی سربراہ میٹنگ کا شعار تھا۔
(Connecting for regional prosperity)
یعنی خطے میں خوشحالی لانے کے لئے ممبر ممالک کو جوڑا جائے، قریب تر لایا جائے۔ فارن سیکرٹری اعزازچوہدری نے اس کی وضاحت یوں کی کہ سڑکوں کے ذریعے سفر کو آرام دہ اور کم خرچ بنایا جائے تاکہ ممبر ممالک کے لوگ آسانی سے سارے خطے میں آ جا سکیں اور اس کے علاوہ مال بردار ٹرک اور ٹرالر بڑی تعداد میں روزانہ بارڈر کراس کریں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب سڑکوں کی حالت بہت اچھی ہو، ریلوے کا نظام فعال ہو، اور مال کی ٹرانسپورٹ کم قیمت ہو۔ سڑکوں اور ریلوے کے علاوہ پائپ لائن انرجی کی ٹرانسپورٹ کا آسان اور کم خرچ ذریعہ ہے۔ تیل کی نقل و حرکت کا یہ طریقہ ٹینکرز کے مقابلے میں آسان بھی ہے۔


اسلام آباد کی سربراہ کانفرنس میں وژن 2025ء کو ممبر ممالک نے اتفاق رائے سے پاس کیا۔ یہ مستقبل قریب کا روڈ میپ ہے۔ اس روڈ میپ کا ایک اہم نکتہ اگلے پانچ سال میں ممبر ممالک کے مابین تجارت کو دوگنا کرنے کا عزم ہے۔ اس کامیاب کانفرنس نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی پاکستان کو دنیا میں یا ہمارے خطے میں تنہا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ چین کے نائب وزیرخارجہ نے ہمارے وزیراعظم کی دعوت پر کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کی۔ کانفرنس کے اعلامیے میں سی پیک کا باقاعدہ ذکر ہے اور اس بات کا اقرار بھی ہے کہ یہ منصوبہ تمام خطے کی اقتصادی ترقی کو مہمیز کرے گا۔


دراصل سی پیک کا مقصد بھی ٹرانسپورٹ کو آسان بنانے کے لئے خنجراب سے گوادر تک سڑکیں اور اقتصادی ترقی کے پروجیکٹ بنانا ہے۔ تیل کی درآمد کے لئے چین تک پائپ لائن بچھانا ہے۔ پاکستان کی انرجی کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سی پیک کے منصوبے کی وجہ سے پاکستان میں بیس لاکھ یعنی دو ملین نئے جاب نکلیں گے۔ ای سی او کے ممبر ممالک بڑی آسانی سے سی پیک کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گوادر اور خنجراب کے راستے درآمد اور برآمد کر سکتے ہیں۔ ایران کی اقتصادی پابندیاں اٹھنے سے ای سی او تعاون بڑھے گا۔ تمام ممبر ممالک کو کوشش کرنی چاہئے کہ افغانستان میں امن جلد آئے۔ افغانستان میں امن اور استحکام پورے خطے میں خوشحالی لائے گا۔ دوسری طرف روس نے یوریشین اکنامک یونین اور سی پیک کولنک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ آج کے زمانے میں اقتصادی ترقی اور تجارت کا فروغ بہت اہم ہیں اور علاقائی تعاون ان دونوں اہداف کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ای سی او کی تنظیم نے ہمیں یہ اہداف پورے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

مضمون نگار، متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔

عظیم الشان پاکستان

 

اقوامِ عالم میں ہے اِک پہچان پاکستان
بہت مضبوط پاکستان‘ عظیم الشان پاکستان
جو اِک اشارہ ہو تو رکھ دیں جاں ہتھیلی پر
صفایا کر دیں باطل کا یہ فرزندانِ پاکستان
میری اس قوم نے پھر سے نئے پیمان باندھے ہیں
سلامت تاقیامت باصفا مردانِ پاکستان
میرے شہروں کی رونق بس انہی کے دم سے ہے قائم
میرا اِ ک اِک سپاہی واری و قربان پاکستان
شہیدوں‘ غازیوں کا قرض میں کیسے چکا پاؤں
میرے ہر گیت‘ ہر اک نظم کا عنوان پاکستان

عالیہ عاطف

*****

 
10
April

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں

دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص وقفے کے بعد باقاعدہ طور پر مردمِ شماری کی جاتی ہے۔ اس کے لئے حکومت میں ایک الگ شعبہ ہوتا ہے جس کا کام نہ صرف مردم شماری کے لئے مطلوبہ انتظامات کرنا بلکہ مردم شماری سے حاصل اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی تجزیئے کی بنیاد پر حکومت مکمل ترقی اور قوم کی فلاح و بہبود کی خاطر طویل المیعاد بنیادوں پر پالیسیاں متعین کرتی ہے۔ پاکستان میں آزادی کے فوراً بعد1950میں مردم شماری کے لئے ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا تھا۔ ابتداء میں یہ شعبہ مرکزی وزارتِ داخلہ کا حصہ تھا اور اسی کے تحت پاکستان میں1951 میں ملک کی پہلی مردم شماری کا اہتمام کیاگیا تھا۔ لیکن متحدہ ہندوستان کے وہ علاقے جو اب پاکستان کا حصہ ہیں‘ میں پہلی مردم شماری 1881 میں منعقد ہوئی تھی۔1951 میں پہلی مردم شماری کے بعددوسری مردم شماری1962 میں ہوئی۔ تیسری مردم شماری1971 میں ہونی چاہئے تھی لیکن مشرقی پاکستان کے سیاسی بحران اور بھارت کے ساتھ جنگ کی وجہ سے1972 میں مردم شماری کا انعقاد کیا گیا۔ چوتھی مردم شماری اپنے دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد یعنی 1981 میں ہوئی لیکن اس سے اگلی یعنی پانچویں مردم شماری1991 کے بجائے 1998 (سات سال کی تاخیرسے) کرائی گئی۔ اس تاخیر کی وجہ بھی ملک کے بعد غیر معمولی سیاسی حالات اور خاص طور پر افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی مداخلت اور اس مداخلت کے خلاف افغان تحریک مزاحمت کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان میں آمد تھی۔ ان مہاجرین کی غالب اکثریت کا تعلق پشتون نسل سے تھا۔ اس لئے وہ پاکستان کی پشتون آبادی میں اس طرح گھل مل گئے کہ اُنہیں مردم شماری کے دوران علٰیحدہ شمار کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا لیکن چونکہ مردم شماری کو زیادہ دیر تک مؤخر نہیں کیا جاسکتا تھا‘ اس لئے1998 میں پاکستان کی پانچویں مردم شماری کا انعقاد ہوا۔ یہ مردم شماری ملک کی متنازعہ ترین مردم شماری تھی۔ کیونکہ پاکستان کے بعض علاقوں خصوصاً بلوچستان کے بعض حصوں میں مردم شماری کے عملے کو کام کرنے سے روک دیاگیا تھا۔ اس کی بھی بڑی وجہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں آباد افغان مہاجرین کی موجودگی تھی جو پاکستان میں اپنے طویل قیام کے دوران نہ صرف جائیداد ‘ روزگار اور کاروبار کے مالک بن چکے تھے‘ بلکہ متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے اُنہوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ بھی حاصل کر لئے تھے۔ بلوچستان کی بلوچ آبادی کو خدشہ تھا کہ ان افغان مہاجرین کو پاکستان کے شہری شمار کرکے صوبے میں پشتون آبادی کو زیادہ ظاہر کرکے بلوچ آبادی کو اقلیت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ بلوچستان میں غیربلوچ پاکستانی باشندوں مثلاً پنجابی اور کراچی سے اُردو بولنے والے لوگوں کی آباد کاری کی وجہ سے صوبے کی بلوچ آبادی میں پہلے ہی بہت تشویش پائی جاتی تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کے قیام کی وجہ سے بلوچ آبادی میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی تھی۔ کیونکہ بلوچیوں کو ڈر تھا کہ اگر ان افغان مہاجرین کو پشتون آبادی کا حصہ ظاہر کیا گیا تو صوبے میںآباد دو بڑے لسانی گروپوں یعنی پشتون اور بلوچوں کے درمیان آبادی کا توازن اول الذکر گروپ کے حق میں چلا جائے گا۔

mardamshumarihamara.jpg
کسی بھی ملک میں جہاں وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی اداروں میں نمائندگی اور وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ اہمیت آبادی کو حاصل ہو‘ وہاںآبادی میں کمی بیشی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے۔ اس کے دو صوبوں یعنی سندھ اور بلوچستان دو دو لسانی گروپوں یعنی بالترتیب سندھی اور اُردو زبان بولنے والے اور پشتو اور بلوچی بولنے والے علاقوں میں منقسم ہیں۔ سندھ میں یہ تقسیم دیہی اور شہری علاقوں میں تقسیم کی صورت پائی جاتی ہے جہاں بالترتیب سندھی اور اُردو بولنے والوں کی اکثریتی آبادی قیام پذیر ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت(آرٹیکل (3)51 ملک کی قومی اسمبلی کی نشستیں‘ صوبوں‘ فاٹا اور اسلام آباد کی کیپیٹل ٹیرٹری
(Capital Territory)
کے درمیان آخری مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر الاٹ کی جاتی ہیں۔ اس لئے ہر دس برس بعد قومی اسمبلی میں نہ صرف صوبوں بلکہ فاٹا اور اسلام آباد کے لئے بھی مختص نشستوں میں رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ آبادی کو انتخابات کے ذریعے صرف قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لئے بنیاد کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ صوبوں اور وفاق کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں بھی آبادی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی محکموں میں صوبوں کے لئے مختص کوٹے میں سرکاری ملازمتوں کو بھی آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس لئے ہر صوبہ اور وفاقی یونٹ اپنی اپنی آبادی کے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور مردم شماری کے موقع پر اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ صرف قومی اسمبلی میں مختص ان کی نشستوں میں اضافہ ہوسکے بلکہ وفاقی فنڈز کی تقسیم اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹے میں اُنہیں زیادہ سے زیادہ حصہ مل سکے۔1998 میں سات سال کی تاخیر کے بعد مردم شماری کے پیچھے بھی یہی محرکات کار فرما تھے۔ ان میں افغان مہاجرین کا مسئلہ سب سے نمایاں تھا لیکن 1998 کے بعد دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد2008 کے بجائے2017 میں چھٹی مردم شماری کے انعقاد میں تاخیر کی وجوہات میں وہ حالات بھی شامل تھے جن کا9/11 کے بعد خصوصاً افغانستان پر امریکی فضائی حملوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے تعلق تھا۔ اس دوران دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں خاندان خصوصاً پاکستان کے شمال میں واقع قبائلی علاقوں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اگرچہ بے گھر ہونے والے ان افراد کی اکثریت اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکی ہے لیکن بحالی اور آباد کاری کا عمل نامکمل ہونے کی وجہ سے ان بے گھر افراد کی خاصی تعداد ابھی تک اپنے گھروں سے دور رہائش پذیر ہے اور اس وجہ سے اُنہیں موجودہ مردم شماری میں شمار کرنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ اس طرح بلوچستان میں بھی امن و امان کی خراب صورت حال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شرپسندوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے بھی بعض بلوچ علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ان حالات کی وجہ سے بعض سیاسی جماعتوں نے موجودہ مردم شماری کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری سے پہلے افغان مہاجرین کو واپس اپنے گھروں کوبھیجا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعدادو شمار متنازعہ رہیں گے۔


پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی اگرچہ ایک بڑی تعداد نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہروں‘ قصبوں یا آباد علاقوں میں پناہ لی لیکن ان میں بیشتر نے ملک کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز کراچی کا رُخ کیا تھا۔ کراچی میں پشتون نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پہلے ہی ایک خاصی بڑی تعداد موجود ہے۔ قبائلی علاقوں سے مزید پشتون افراد کی آمد پر ایم کیو ایم نے احتجاج کیا اورمطالبہ کیاکہ یا تو کراچی میں بے گھر ہونے والے اِن پشتونوں کی آمد پر پابندی عائد کی جائے یا ان کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں اضافے کی بنیاد پر شہری علاقوں کے لئے مختص فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔ صاف ظاہر تھا کہ ایم کیو ایم ایک انسانی مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی تھی لیکن ایم کیو ایم کی سیاست صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ موجودہ مردم شماری کے اعلان کے بعد جب عملے نے اپنے کام کا آغاز کیا تو ایم کیوایم نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صوبے میں شہری آبادی کے مقابلے میں دیہی آبادی کو زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ نہ صرف صوبہ سندھ کے حصے میں وصول ہونے والے فنڈز کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں کو ملے بلکہ دیہی علاقوں میں ملازمتوں کے کوٹے 60 سے40 فیصد کو برقرار رکھا جاسکے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں ہر لسانی گروپ کوشش کررہا ہے کہ اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاسکے تاکہ سیاسی قوت‘ اختیارات اور قومی آمدنی میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیا جاسکے۔ حالانکہ یہ ایک خالصتاً انتظامی عمل ہے جس میں پیشہ ورانہ مہارت کے مالک اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ لوگ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔


ان حالات میں مردم شماری کے عمل کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پاک فوج سے مدد لی گئی۔ چونکہ پاکستان آرمی کی ایک بڑی تعداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغربی سرحدوں پر تعینات تھی اور مشرقی بارڈر پر بھارت کے غیرذمہ دار اور جارحانہ رویے کی وجہ سے بھی حالات غیر معمولی صورت حال کی متقاضی ہیں اس لئے مردم شماری میں فرائض کی انجام دہی کے لئے فوجی جوانوں کو فارغ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ موجودہ مردم شماری میں تاخیر کی وجوہات میں پاک فوج کے جوانوں کی عدم دستیابی بھی شامل تھی۔ تاہم جب سپریم کورٹ نے اگلے یعنی 2018 کے انتخابات سے قبل ہر حال میں مردم شماری کا حکم دیا تو موجود حکومت کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مردم شماری کا عمل فی الفور شروع کردے۔ یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہے اور دو مراحل میں اگلے دو ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اسے تحفظ فراہم کرنے اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے پاک فوج کے دو لاکھ سپاہی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ پروگرام کے مطابق ہر شمار کنندہ کے ساتھ فوج کا ایک سپاہی ہوگا۔ اس سے نہ صرف شمار کنندگان کو تحفظ حاصل ہوگا بلکہ فوج کی شراکت سے موجودہ مردم شماری کے پورے عمل پر قوم کے ہر طبقے اور ملک کے ہر حصے کا اعتماد بحال ہوگا۔ مردم شماری کا عمل شروع ہونے کے چند دن کے اندر مردم شماری کے عملے پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ایسے مزید واقعات کا خدشہ موجود ہے اور اس کے پیش نظر مردم شماری کے عمل میں فوج کی شرکت اور معاونت کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مردم شماری کے دوران شمار کنندگان کے ہمراہ فوجی جوانوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج قومی اہمیت کے ہر عمل پر سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ ملک کی خدمت کے لئے تیار ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:15

آئی ایم نان سوئمر
جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان کے ساتھ بطورِ آرٹلری آبزرور موجود تھے۔ یہاں دن رات تیر کر دریا پار کرنے کی پریکٹس کی جاتی تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ نان سوئمر حضرات کو خصوصی طور پر تختہ مشق بنایاجاتا تھا۔ دن یونہی گزر رہے تھے کہ ایک دن اچانک پتہ چلا کہ بریگیڈ کمانڈر مشقوں کا جائزہ لینے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔

targitapril17.jpg
یہ سننا تھا کہ پریکٹس کو گویا پر لگ گئے۔ سی او نے چن چن کر اچھے سوئمر علیحدہ کئے ۔ ان سب کو پہلے ہلے میں دریا عبور کر کے دوسرے کنارے پر موجود فرضی دشمن سے دو بدو جنگ کر نا تھی۔مقررہ روز بریگیڈ کمانڈر تشریف لائے۔ انہیں نقشوں اور چارٹ کی مدد سے اس مشق کی غرض و غایت سمجھائی گئی۔ عملی مظاہرے کا وقت ہوا تو کمپنی نے ایک جگہ اکٹھا ہونا شروع کیا۔ کمپنی کمانڈر نے ایک ولولہ انگیز تقریر کرکے اپنے جوانوں کا لہو گرمایا اور ان کو بلاخوف و خطر آتشِ نمرود میں کود پڑنے کی تلقین کی۔ کمانڈر سمیت سب نے تالیاں بجا کر داد دی۔ جوانوں کا مورال آسمان کو چھو رہا تھا۔ سب لوگ بھاگ کر کنارے پر پہنچے اور دریا میں چھلانگیں لگا دیں۔ چشمِ زدن میں سب دریا کے پار تھے اور وہاں پر دشمن پر حملہ کر کے دادِ تحسین وصول کر رہے تھے۔
اچانک بریگیڈ کمانڈر کی نظر کمپنی کمانڈر پر پڑی جو کہ ابھی تک اسی کنارے پر موجود تھے۔ کمانڈر نے حیران ہو کر پوچھا’’میجر اسلم! آپ ابھی تک ادھر ہی کیوں موجود ہیں‘‘جواب آیا ’’سر ، آئی ایم نان سوئمر‘‘۔ اس کے بعد چراغوں میں تیل اور روشنی دونوں غائب ہو گئے۔ہوا یوں تھا کہ میجر صاحب ایک روز قبل ہی چھٹیاں گزار کر واپس پہنچے تھے اور پریکٹس میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ سی او نے سمجھا کہ وہ سوئمر ہیں اس لئے ان کو کمپنی کی کمانڈ سونپ دی گئی تھی۔
اس کے بعد پورا مہینہ میجر صاحب نے نیکر پہن کر دریا میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے گزارا۔


گدھوں کا کاروبار
12 اکتوبر 1999 کی شام کو ہم یونٹ کے ہمراہ جہلم کے ایکسرسائز ایریا میں مقیم تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ فوج نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھال لی ہے۔ ایکسرسائز کے اختتام کا اعلان ہوگیا اور ہمیں فی الفور ہری پور پہنچنے کا حکم ملا۔ ہری پور پہنچ کر دو تین دن معاملات پر کنٹرول حاصل کرنے میں گزر گئے۔ کچھ دنوں بعد صورتحال معمول پر آگئی اور یونٹ نے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے کر سرکاری محکموں کی کارکردگی کی براہ راست نگرانی شروع کر دی۔ سول حکومت اور پولیس کے اہلکار بھی ہمارے ساتھ اس ڈیوٹی میں شریک تھے۔مسائل کا ایک انبار تھا، جبکہ وسائل وہی نہ ہونے کے برابر۔دوسری جانب عوام کی توقعات کو ہ ہمالیہ سے بھی بلند ہو چکی تھیں ۔ ان کے نزدیک ہر معاملے کا آسان حل یہی تھا کہ اسے فوج کے روبرو پیش کر دیا جائے۔ چنانچہ ہمارے دفاتر کے باہر ہر وقت ان گنت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ ہم نے اپنے قیام کے دوران بھرپور کوشش کی کہ الجھے ہوئے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جائیں۔اس سلسلے میں ہمیں مقامی انتظامیہ، علاقہ معززین اور عوام کا بھرپور تعاون بھی حاصل رہا۔

targitapril17one.jpg
یہ روٹین یوں تو بے حد تھکا دینے والی تھی لیکن بسا اوقات اس میں سے بھی ایسے ایسے شگوفے کھلتے ہوتے کہ ہم ہنستے ہنستے چکرا کر گرجاتے۔ ایک دن ایک پچاس پچپن سالہ خاتون تشریف لائیں اور شکایت کی کہ میں جب گلی سے گزرتی ہوں تو چار افراد مجھے چھیڑتے ہیں۔ آپ انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ہم نے بی بی سے تفصیل پوچھنے کے بعد انسپکٹر بشیر کو طلب کیا اور اسے فی الفور ان چاروں افراد کو ہمارے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ بشیر اپنے ساتھ پانچ سپاہی بھی لے کر گیا اور تھوڑی دیر میں ان چاروں کو لے کر ہمارے روبرو حاضر ہوگیا۔ ہم نے غور سے دیکھا تو چاروں کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان نکلیں۔ ایک بابا تو چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھا اور اس کو چارپائی پر ڈال کر لایا گیا تھا۔ ہم نے سمجھا کہ بشیر کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر غلط بندوں کو پکڑ کر لے آیا ہے لیکن بی بی نے بھی ملزموں کو شناخت کر لیا تو شک کی گنجائش باقی نہ رہی۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ ان بابوں نے اس بی بی کو کہیں بیس تیس سال پہلے چھیڑا تھا جس کا حساب وہ آج چکانا چاہتی تھی۔ مقدمہ دلچسپ تھا اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا فیصلہ کیا جائے۔ بہرحال کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے یونٹ کے خطیب صاحب کو بلایا اور چاروں بابوں کو اس حکم کے ساتھ ان کے حوالے کیا کہ ان سے دعائے قنوت سن کر چھوڑ دیا جائے۔خود سننے کی جسارت اس لئے نہیں کی کہ ہمیں خود بھی اچھی طرح سے نہیں آتی تھی۔
ایک روز ہمیں ایک شخص کے خلاف شکایت موصول ہوئی کہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ہم نے فوراً اس علاقے کے ایس ایچ او کو طلب کیا اور مذکورہ شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ایس ایچ او کہنے لگا ’’سر اس شخص کو گرفتار کرنا خطرے سے خالی نہیں وہ انتہائی بااثر آدمی ہے‘‘۔
ہم نے غصے سے پوچھا ’’آخر یہ بااثر آدمی کیا کاروبار کرتا ہے۔‘‘ جواب ملا ’’سر وہ گدھوں کا کاروبار کرتا ہے۔‘‘


بیچلر سی او
یہ ان دنوں کی بات ہے جب لوگ سیر و تفریح اور شاپنگ کے لئے پشاور کا رخ کیا کرتے تھے۔ پی ایم اے میں جب ہماری پوسٹنگ اناؤنس کی گئی تو ساتھ ہی سٹیشن پشاور کینٹ بتایا گیا۔ یار لوگوں نے پشاور کی دلکشی کے قصے خوب مزے لے لے کر سنائے اور ہمارے شوق کو اور مہمیز کیا۔ لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ خلیل خان جب فاختہ اڑانے کے لئے پشاور پہنچے تو ہاتھوں کے طوطے فی الفور اڑ گئے۔ یہ جان کر ہمارے بن کھِلے ارمانوں پر منوں اوس پڑ گئی کہ ہمارے سی او بیچلر ہیں۔ فورسڈ بیچلر نہیں بلکہ سچ مچ کے، اصلی والے بیچلر۔ ان کے پاس پروفیشن کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا۔ ہم صبح سے لے کر شام تک یونٹ میں ان سے عزت افزائی کروانے کے بعد کمرے کا رخ کرتے تو احتیاط کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے کہ ساتھ والا کمرہ ان کا تھا۔ کھانا کھانے کے لئے میس کا رخ کرتے تو وہاں پر بھی ان کی پرہیبت شکل نظر آتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے اپنی سروس کا زیادہ تر حصہ انٹیلی جنس میں گزارا ہوا تھا اور ہر بات کی ٹوہ لگانا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ آرٹلری کا یہ کریلا جاسوسی کی نیم چڑھ کر حد درجہ کڑوا ہو چکا تھا۔

targitapril17two.jpg
عام طور پر ان کو یہ خدشہ لاحق رہا کرتا تھاکہ افسران ان کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ عنایات صرف افسروں کے لئے خاص نہ تھیں بلکہ سارا زمانہ ان کے قدموں میں تھا کیا جے سی او، کیا این سی او اور کیا سپاہی کوئی بھی ان کی مہربانیوں سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ان کی کوشش ہوتی کہ لوگوں کو ہر وقت ڈرا سہما کر رکھا جائے اور اس قسم کا نظام تشکیل دیا جائے کہ ان کو پل پل کی خبر ملتی رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کوئی بھی طریقہ روا رکھنے کے قائل تھے۔


ایک مرتبہ ہم میس کے ٹی وی روم میں بیٹھے کھانا لگنے کا انتظار کر رہے تھے۔ یکایک ایک ویٹر نے چپکے سے آکر کان میں بولا کہ آپ کو سائیڈ روم میں کیپٹن جمیل اور لیفٹیننٹ کبیر یاد کر رہے ہیں۔ یہ دونوں افسران ہم سے دو ڈھائی سال سینئر تھے اور ان کا تعلق ایک دوسری یونٹ سے تھا۔ہم پہلے تو شش و پنج میں پڑ گئے کہ ان کو ہم سے آخرکیا کام آن پڑا ہے جو ہمیں تخلیے میں طلب کیا جا رہا ہے۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے سائیڈ روم میں پہنچے تو دیکھا کہ دونوں افسران ایک صوفے پر براجمان ہیں۔ ہم نے سلام کیا تو سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد لیفٹیننٹ کبیر نے پوچھا کہ سنا ہے کہ آج کل آپ کے سی او آپ پر بہت ظلم رو ا رکھے ہوئے ہیں۔ کیپٹن جمیل بھی ساتھ میں گویا ہوئے کہ آپ لوگ تو بہت سختی جھیل رہے ہیں۔ ایسے سی او کے ساتھ کام کرنا تو انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔ ہم کچھ دیر تو سنتے رہے پھر بولے ’’سر آپ لوگ ہوتے کون ہیں میرے سی او کے خلاف کوئی بات کرنے والے۔ ان جیسا قابل اور محنتی افسر روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہے۔ ہم انہیں دل و جان سے پیار کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات سننا ہمیں ہرگزگوارا نہیں۔معاف کیجئے گا !آپ لوگ مجھ سے بہت سینئر ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سینئر آفیسر کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس طرح سے بات کرنا اخلاقی اور قانونی تقاضوں کے عین منافی ہے اور اگر میں ان کو اس بارے میں مطلع کر دوں تو آپ دونوں کے خلاف سخت ایکشن بھی لیا جا سکتا ہے۔‘‘


ان دونوں افسران کو ہم سے اس قسم کی حق گوئی و بیباکی کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو ہم سے سی او کی برائیاں سننا چاہ رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ بالکل الٹ نکلا۔ بہرحال ہم تو اپنے سی او کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد سکون سے ڈائننگ روم میں پہنچ گئے۔ کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ سی او کا بیٹ مین پیغام لے کر پہنچ گیا کہ ہمیں یاد فرمایا جا رہا ہے۔ ہم سی او کے کمرے میں پہنچے تو انہوں نے کھڑے ہو کر ہمارا استقبال کیا۔ ہمارے لئے چائے منگوائی گئی اور جاتے ہوئے پندرہ دن کی چھٹی بھی عنائت فرمائی۔ بات دراصل یہ تھی کہ جب ہمارا انٹرویو لیا جا رہا تھا تو موصوف بنفسِ نفیس پردے کے پیچھے چھپ کر ساری باتیں سن رہے تھے اور انہوں نے خود ہی ان دونوں افسروں کو اس واہیات کام کے لئے تیار کیا تھا۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ وہ ساری برائیاں جو ہم ان کی پیٹھ پیچھے کیا کرتے تھے، وہ اپنے کانوں سے سن سکیں۔ لیکن ہمارے منہ سے برائی کے بجائے اپنی اس قدر تعریف سننے کے بعد ہمارے بارے میں ان کا موقف یکسر تبدیل ہو گیا۔ اب ان کو پوری یونٹ میں ہم سے زیادہ لائق افسر کوئی اور نظر نہیں آتا تھا۔


(اب آپ سے کیا چھپائیں کہ ویٹر نے ہمیں پیغام دیتے ہوئے کان میں یہ بھی کہہ دیا تھا’’سر! سی او صاحب پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ آپ بات چیت کرتے ہوئے احتیاط کیجئے گا۔)

...جاری ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
April

تحریر: حمیرا شہباز


وہ ایک خوبصورت صبح تھی۔ شفاف‘ روشن دن30جولائی، میری اٹھارویں سالگرہ تھی۔ میں اور میرا بھائی گھر پر اپنے والدین کے منتظر تھے۔ میں بہت خوش اور پرجوش تھی۔سینیلا بول رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسکراہٹ اتر اتر کر اس کے ہونٹوں تک بکھر رہی تھی۔ اس کی ہوا میں کہیں تیر تی ہوئی نظر شاید ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کے خوابوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔ پھر یکدم اس کا چہرہ سرخ تر ہوگیا۔ یہ سرخی غیر معمولی تھی، اب گویا اس کی آنکھیں خون آلود ہو رہی تھیں اور ان کی سرخی چھلک چھلک کر گالوں تک اتر آئی تھی۔میں نے سوچا تھا آج تو ضرور میں گھر سے باہر جا سکوں گی لیکن کسی کو میری سالگرہ یاد نہیں تھی شاید اس لئے کہ 15 مئی سے بوسنیا میں اعلان جنگ جو ہوچکا تھا۔سینیلا میرے برابر بیٹھی بول رہی تھی۔
سبز چائے اور کھجور کے بسکٹوں کے ساتھ ہم دونوں نئے سال کی پہلی شام منانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں سینیلا کو سولہ سال سے جانتی ہوں یہ الگ بات ہے کہ چوبیس گھنٹے قبل میں اس سے پہلی بار ملی تھی اور آج ہم دونوں بیٹھے ایک دوسرے کو کھوج رہے تھے۔ وہ سراپا زباں تھی اور میں ہمہ تن گوش۔


سال 1992 میں، میں توزلا کے گرامر سکول کے آخری سال میں تھی۔ اس دن جب جنگ چھڑی تو ہم سکول میں تھے۔ کلاس میں طلبا کی تعداد غیر معمولی طور پر کم تھی۔ بہت سے بچوں کے والدین ،جو کہ سرب اور کروشیائی تھے جانتے تھے کہ یوگوسلاویائی فوج شہر پر قبضہ کرنا چاہے گی، وہ راتوں رات کسی کو بتائے بنا شہر چھوڑ چکے تھے‘ میرے والدین کو اندازہ نہ تھا اور انہوں نے مجھے خبردار کئے بنا سکول بھیج دیا۔ ہمارے گھر کے نیچے ایک تہ خانہ تھا۔سکول سے گھر پہنچی تو اس دن سے ہم زیر زمین چلے گئے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر دنیا کتنی بدل چکی ہے۔ میں خود کو یقین نہیں دلا پا رہی تھی میری اٹھارویں سالگرہ کا دن یوں گزرے گا۔ امی ابو اس روز بھی خالی ہاتھوں اور لبریز آنکھوں کے ساتھ لوٹے۔ پورے اڑھائی ماہ... وہ سپاٹ لہجے میں کہتے کہتے رک گئی۔ اب وہ میری نمناک آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔اس نے گہرا سانس لے کر پھر سے کہا۔ میں پورے اڑھائی ماہ اس تہ خانے میں رہی۔ میں اور میرا بھائی مختلف میوزک سن کر اور گیمزکھیل کر اپنا وقت گزارتے۔ اس نے میرا نام لے کر بڑی سادگی سے کہا: میں نے ابھی تک جنگ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔

 

میں جو اس بوسینیائی مترجم کی زبانی پاکستانی فوج کی کارکردگی کے جواب میں شکریے کے طویل کلمات، بلکہ باقاعدہ قصیدہ خوانی کی منتظر تھی اس کی اس کاوش نے مجھ پر واضح کردیا کہ پاک فوج بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ سینیلا سوچ رہی تھی اور اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا:ہم شاید پاکستانی فوج سے بہتر خدا سے کچھ اور نہیں مانگ سکتے تھے۔

سینیلا نے بہت کچھ بتایا، ان لفظوں کی شدت مجھ میں باقی رہ گئی ہے۔ کیسے اس کے ماں باپ یوگوسلاویائی فوج کی بمباری کے باوجود روز کام پر جاتے تھے اور کیسے وہ ہر روز اس امید پر سو جاتی کہ کل وہ ضرور سورج سے نظر ملا سکے گی۔اس نے بتایا کہ اگست کے آخر تک طے پا چکا تھا کہ سکول بند رہیں گے۔اس کا مطلب تھا کہ گھر بیٹھ کر اسے جنگ بندی کا انتظار کرنا تھا یا باہر نکل کر موت کا سامنا کیونکہ رہائشی علاقے شدید حملے کی زد میں تھے۔


مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔ گھر کا بچا کھچا راشن بھی ختم ہو رہا تھا۔ میں سخت مایوسی کا شکار تھی۔ پھر میرے ہاتھ ایک کتاب لگی، جس کا عنوان تھا:
'In Pursuit of Happiness'
۔ آخر کب تک گھر بیٹھے کچھ ہونے کا انتظار کیا جائے۔ پھر ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے یہ خانہ زندانی قبول نہیں۔ میں کب تک یوں اپنے ہی گھر میں قیدی بنی رہوں گی۔ مجھے اپنے لئے کام ڈھونڈنا ہو گا۔اس کتاب نے میری بہت مدد کی۔ میں نے اپنی تمام تر ہمت کو یکجا کیا اور جنگ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سینیلا کا جوش اب تک اس کے وجود میں زندہ تھا۔
میری ایک سہیلی اور میرے ایک ہم جماعت نے مجھ سے علاقے کے ایک ہسپتال میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے پوچھا۔ بہت سا طبی عملہ شہر چھوڑ کر جا چکا تھا جبکہ فوجی اور سول زخمیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ گولہ باری میں مارے جانے کے قوی امکان کے باوجود میں نے ہسپتال میں زخمیوں کی امداد کا فیصلہ کر لیا۔ وہاں چھ ماہ تک میں نے زخمیوں کی نگہداشت کا کام کیا لیکن مارچ 1993 میں یہ کام چھوڑ دیا۔ میں بہت جذباتی ہوں۔شاید اب میں مزید درد کی داستانیں اور خون کے منظر برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے تو اس کے چھ ماہ تک یہ کام کرنے پر بھی حیرت تھی۔

pakfojaurbosniya.jpg
لیکن میں اپنے ملک اپنے لوگوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں ایک مہاجر کیمپ میں چلی گئی۔یواین ایچ سی آر کی گاڑیاں سرب مہاجرین کو بھر بھر کر توزلا کیمہاجر کیمپوں میں لا رہی تھیں۔ ہمارے ملک میں مختلف ممالک کی امداد آرہی تھی لیکن امدادی عملے کی کارکردگی میں سب سے بڑا مسئلہ زبان کا تھا۔ وہ ہمارے مسائل کو دیکھ تو پا رہے تھے لیکن جان نہیں پا رہے تھے۔ میں اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ان کی معاونت کرتی رہی اور پھر میں نے وہ انگریزی زبان سیکھنا شروع کردی جس کو زمانہ طالب علمی میں میں غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کرتی آرہی تھی۔ وہ نہایت شکستہ انگریزی میں کہے چلی جارہی تھی۔


حکومت نے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے جنگ کے حالات میں اپنی تعلیم کو پھر سے جاری کرنے کا سوچا۔ میں ریاضی میں بہت ماہر تھی۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے حصول کی غرض سے میں نے ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ بہت سخت سردیوں کے دن تھے، خستہ حال عمارت اور ٹوٹی چھتوں والی کلاس میں بنا چھتری کے بارش عذاب سے کم نہیں لگتی۔ میں بنا جرابوں ،ٹوپی اور دستانوں کے ٹھٹھرتی رہتی لیکن باقاعدگی سے کلاس میں حاضر ہوتی۔میرے جوتے پھٹ چکے تھے۔۔۔ اس نے جملہ مکمل نہیں کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مجھے معلوم ہے وہ نئے جوتے کیوں نہ لے سکی یا اس کو اپنی بیچارگی کا اظہار کرنا اچھا نہیں لگا۔


لیکن ایک دن میرا انجینئر بننے کا خواب منفی پندرہ ڈگری تک سرد پڑگیا۔ میں امتحان دے رہی تھی کہ میری ہاتھوں کی رگوں میں خون یخ ہوگیا۔ میں لکھ نہیں پا رہی تھی۔ میری انگلیاں الفاظ کی بناوٹ میں قلم کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھیں۔ میں نے اپنے ہاتھ آپس میں رگڑنے چاہئے لیکن بے سود۔ موسم کی سردمہری اور جنگ کی سختی نے میرے وجود سے تمام حرارت نچوڑ لی تھی۔میں نے خود سے سوال کیا کہ آخر میں یہ کیا کر رہی ہوں؟ سردی تو گزر ہی جانی ہے لیکن جنگ ؟؟ جنگ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں! سینیلا کے لفظوں میں چھپی سفاک سردی میرے اندر بھی سرایت کر رہی تھی۔


اقوام متحدہ کی طرف سے مترجمین کی کچھ اسامیوں کا اعلان ہوا۔ میرے لئے اس وقت وہ نوکری حاصل کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ میں نے کتابوں کی مدد سے خود انگریزی زبان سیکھی اور امتحان بھی پاس کرلیا۔ وہ نظریں زمین پہ گاڑھے سوچ بھی رہی تھی اور مسکرا بھی رہی تھی کہ کیسے کیسے وہ حالات سے مقابلہ کرتی چلی گئی۔ اس نے بتایا: اس وقت میری نوکری بہت معنی رکھتی تھی۔ میں اپنے گھر میں میں اکیلی کمانے والے تھی۔ امی، ابو اور بھائی کی فعالیت جنگ سے بہت متاثر ہوئی۔ مجھے اقوام متحدہ کی ملازمت سے جو پیسے ملتے ہم اس سے اپنی ضرورت کے علاوہ محلے بھر کی ضرورتوں کو ممکنہ حد تک پورا کرتے۔


پاکستانی فوج بھی تو بوسنیا میں امن مشن پر آئی تھی؟ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا۔ " 1994میں پہلی بار میں نے اقوام متحدہ کی باقاعدہ مترجم کی حیثیت سے پاکستانی فوج کے ساتھ کام شروع کیا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ میں نے سکول میں پڑھتے ہوئے انڈیا کانام سن رکھا تھا کیونکہ یوگوسلاویہ کے لیڈر مارشل ٹیٹو کے نہرو کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، لیکن میں پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔میں چاہتی تو ڈچ یا سویڈش فوج کا انتخاب کر سکتی تھی لیکن میں نے پاکستانی فوج کو چنا کیونکہ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ پاکستانی مسلمان ہوتے ہیں۔ بوسنیا کے مسلمانوں کی بقا کا مسئلہ تھا اس لئے مسلمان فوج کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ مجھے مناسب لگا"۔اس فیصلے کا اطمینان اس کے لہجے سے جھلک رہا تھا۔
پاک فوج کی امن مشنز میں کارکردگی کوئی پوشیدہ امر نہیں لیکن میں خود ،سینیلا کے منہ سے سننا چاہتی تھی جو کہ خود بھی جنگ سے متاثر تھی کہ آخر اس کا پاک فوج کے لئے مترجم کے فرائض انجام دینا کیسا رہا؟


مجھ سمیت دیگر مترجم خواتین کے لئے پاکستانی فوج کے ساتھ کام کرنا آسان نہ تھا۔ بہت سے کلچرل شاک سہنے پڑے۔ ہمارے لئے بہت عجیب تھا کہ پاکستانی مرد لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملاتے، ان کی طرف دیکھتے نہیں، بلکہ ان کو باقاعدہ نظر انداز کرتے ہیں اوروہ مردوں کے مقابلے میں خواتین سے مختلف رویہ رکھتے ہیں۔ مثلا ہیڈکوارٹرز میں رات کو جس مترجم کی ڈیوٹی ہوتی وہ اکثر کامن روم یا ٹی وی روم میں فوجیوں کے ساتھ بیٹھتی تھی۔ گپ شپ لگانا، کوئی گیم کھیلنا یا ٹی وی دیکھنا معمول تھا۔ لیکن جب ہم خواتین ٹی وی روم میں داخل ہوتیں تو تمام پاکستانی فوجی اٹھ کر چلے جاتے تھے۔ شروع شروع میں یہ رویہ ہمیں مضحکہ خیر بلکہ ہتک آمیز بھی لگتا تھا۔ کئی مترجمین نے تو ہیڈکوارٹر میں اس امتیازی سلوک کی شکایت بھی کی۔ میں اس کی بات سن کر مسکرا رہی تھی۔


پھر آہستہ آہستہ ہم اس صورت حال کے عادی ہو گئے اورہم نے جان لیا کہ یہ رویہ ان کی ثقافتی اقدار کا حصہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم نے مل کر کام کرنا تھا اور ہم دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی، پاکستانی فوج نے ہماری ہر ممکن مدد کی۔ اپنے فرائض منصبی سے بڑھ کر۔ انہوں نے جنگی زخمیوں کے لئے ہسپتال بنایا اور بہت سے بوسنیا ئی لوگوں کوروزگار کے مواقع فراہم کئے۔ بعد میں ان ’ڈیزرٹ ہاکس‘(18پنجاب رجمنٹ) کی کوششوں سے پاکستان میں میری والدہ کا علاج بھی عمل میں آیا۔ اس اوپن ہارٹ سرجری کے بعد سے میری امی کے سینے میں پاکستانی دل دھڑکتا رہا۔وہ بہت ممنون تھیں۔


اور وہ پاکستانی بٹالین کی یادگار کا کیا معاملہ تھا؟ میں نے سنی سنائی بات کی تصدیق چاہی۔ہاں !بوسنیا میں پاک فوج کی بٹالین 17 پنجاب ،نے اپنے مشن کے دوران1996 میں ایک یادگار بھی بنائی تھی جو کہ بہادر فوج کی کارکردگی اور ان کے بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کی علامت تھی۔ یہ یادگار توزلا شہر کے بیچوں بیچ ایک پارک میں نصب تھی۔کچھ سال قبل میرا خیال ہے 2011 میں شاید ایک دن میر ے والد نے بوسنیا سے مجھے ہالینڈ فون کر کے بتایا کہ موجودہ ناظمین شہر نے اس یادگار کو وہاں سے ہٹا دیا ہے۔ اور اب وہاں وہ بوسنیا کی ہزاروں سال پرانی بادشاہت کی یاد میں ایک رائل تھیم پارک بنانے جا رہے ہیں جو کہ ہمارے شاہانہ ماضی کی یادگار ہو گا۔یہ امر میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا کہ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ہزاروں سال پرانی حقیقت کو زندہ کرنے کے لئے ہم چند سال پرانی حقیقت کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ سینیلا سخت نالاں دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے مجھ سے استفسار کیا:انسان اتنا زود فراموش کیسے ہو سکتا ہے؟ بلکہ احسان فراموش؟ ہم اتنی جلد اپنوں کے دیئے گئے زخموں اور غیروں کے مرہم کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ اس بادشاہت نے ہمیں کیا دیا؟ جب ہم خاک و خون میں ڈوبے تھے تو کیا یہ بادشاہت ہمارے کام آئی ؟نہیں! وہ میری طرف دیکھے بنا بات کر رہی تھی جیسے اپنی قوم کی احسان فراموشی پر مجھ سے نظر نہ ملا پا رہی ہو۔


یہ بات میرے لئے ناقابل برداشت تھی۔ میں نے پاکستانی فوج کی تین یونٹوں کے ساتھ بطور مترجم کام کیا تھا۔ میرا اس یادگار سے جذباتی لگاؤ تھا۔ میں نے فیس بک پر تحریک چلائی ، ہم خیال لوگوں کو یکجا کیا تاکہ اس یادگار کو بحال کیا جائے۔ خودچھٹی لے کر بوسنیا گئی اور آخر کار انتظامیہ کو قائل کیا جس کے نتیجے میں اس یادگار کو توزلا شہر میں ایک اور پارک میں نمایاں جگہ پرپھر سے نصب کردیا گیاجو کہ آج بھی افواج پاکستان کی بوسنیا کے مسلمانوں کی مشکل وقت میں ساتھ نبھانے کی یادگار ہے۔


میں جو اس بوسینیائی مترجم کی زبانی پاکستانی فوج کی کارکردگی کے جواب میں شکریے کے طویل کلمات، بلکہ باقاعدہ قصیدہ خوانی کی منتظر تھی اس کی اس کاوش نے مجھ پر واضح کردیا کہ پاک فوج بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ سینیلا سوچ رہی تھی اور اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا:ہم شاید پاکستانی فوج سے بہتر خدا سے کچھ اور نہیں مانگ سکتے تھے۔ اب سینیلابوسنیا کی ایک مترجم ،میرے لئے پاکستان کی ترجمان بھی ہے۔

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

تحریر: یاسرپیرزادہ

کوئی بھی فوجی یا ریاستی اہلکار اپنی جان اس لئے قربان نہیں کرتا کہ اسے جان قربان کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ بلکہ وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر دشمنوں کے خلاف لڑتا ہے کہ اگر ملک کی حفاظت کے لئے جان بھی دینی پڑی تو پروا نہیں۔ یہ جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنے کا کیا طریقہ ہے اور کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ یہی جذبہ تمام سکیورٹی اداروں کے ہر اہلکار میں موجزن رہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی برس ہو گئے ہمیں دہشت گردی کی جنگ لڑتے ہوئے مگر آج تک ہم کوئی جامع اور مربوط پروگرام نہیں بنا سکے جس کے تحت جنگ میں شہید ہونے والوں کے خاندان کی کفالت کی جا سکے (لفظ ’’کفالت‘‘ یہاں کس قدر بے معنی لگ رہا ہے)۔ فوج میں تو شہدا کے لئے ایسے کوئی پروگرام موجودہیں مگر پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار اگر دہشت گردوں سے نبردآزماہوتے ہوئے جام شہادت نوش کر جائیں تو ان کے خاندان کو فقط چند لاکھ روپے معاوضہ ملتا ہے۔ اس معاوضے کو بڑھانے کی سمری حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی ہے جس میں شہید کے خاندان کے لئے کم از کم معاوضہ پندرہ لاکھ روپے تجویز کیا گیا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیے کہ اس سے پہلے کیا معاوضہ ہو گا۔ کیا ہم معاوضے سے بہتر کوئی لفظ تلاش کر سکتے ہیں۔ کیا جنگیں اس قسم کے ’’معاوضوں‘‘ سے جیتی جاتی ہیں۔


جنگ صرف ٹی وی پر جنگی ترانے چلانے کا نام نہیں۔ یقیناًان جنگی ترانوں کی اپنی افادیت ہوتی ہے اور شہداء کی یاد میں چلنے والے ترانے اور پروگرام جنگ میں فوجیوں کا لہو گرمائے رکھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ سیاسی قیادت اورفوجی کمانڈروں کا محاذ جنگ پر جا کر جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں یقین دلانا کہ یہ قوم ان کی قربانیوں کی دل و جان سے قدر کرتی ہے، از حد ضروری ہے۔ تاہم یہ کافی نہیں۔ ایک لمحے کو فوج، پولیس، لیویز، ایف سی یا خاصہ دار فورس کے اس جوان کے بارے میں سوچئے جس نے اپنی جان صرف اس لئے قربان کر دی تاکہ آپ اور میں اس ملک میں محفوظ رہ سکیں لیکن اگر وہ محاذ جنگ یا اپنی فراض کی ادائیگی کے دوران یہ سوچنے لگے کہ اس کے بعد اس کے بیوی بچوں کا کیا بنے گا، کیا اس کی بیٹیاں دوسروں کی محتاج ہو جائیں گی، کیا گھر بار چلانے کے لئے اس کی پردہ دار بیوی کو دربدر ہونا پڑے گا، کیااس کے بچوں کی تعلیم مکمل ہو جائے گی، کیا اس کے والدین کا علاج جاری رہ سکے گا۔۔۔ تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس کا مورال کیسا ہو گا۔۔۔ دہشت گردی کی یہ خونی جنگ ہزاروں بچوں کویتیم کر چکی ہے، عورتوں سے ان کے سر کا تاج چھین چکی ہے، بہنوں سے ان کے ہیرے جیسے بھائی لے چکی ہے اور ماؤں سے ان کے جگر کے ٹکڑے لے کر کھا چکی ہے۔ بے شک یہ قیمتی جانیں واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ کوئی ایسا جادو نہیں جو پھول سے معصوم بچوں کے ذہنوں سے باپ کی یاد بھلا کر ان کا دل بہلاسکے مگر ایک ایساکام ہم ضرور کر سکتے ہیں جو بطور قوم نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ اس سے ہمارے جوانوں کے حوصلے بھی بلند رہیں گے اور یہ جنگ بھی جیتی جا سکے گی اور وہ کام ہے شہدا کے لئے جنت کی تعمیر۔ ایک جنت تو وہ ہے جس کا ہمارے رب نے شہیدوں سے وعدہ کیا ہے اور ایک جنت وہ ہو جو ہم ان شہدا کے بچوں کے لئے اسی دنیا میں تعمیر کر دیں۔


جنت کا استعارہ یہاں استعمال کیا گیا ہے۔ اصل میں اس سے مراد وہ مکمل پیکج ہے جو شہید کے خاندان کو دیا جانا چاہئے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی مثال لیتے ہیں فرض کریں کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران یہاں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی تعداد پانچ سو تھی۔ اگر ان پانچ سو شہداء پر دو کروڑ روپے فی کس بھی خرچ کیا جائے تو کل رقم دس ارب روپے بنتی ہے۔ یعنی سال کے فقط دو ارب ذرا سوچئے کہ ان روپوں سے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو حکومت ایک علاقے میں زمین مختص کر سکتی ہے۔ جہاں صرف شہداء کے خاندانوں کے گھر ہوں اسے ڈی ایچ اے کی طرز پر تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت صرف زمین دے تو دو چار مخیر کاروباری شخصیات ہی شہداء کے لئے یہ ہاؤسنگ سکیم ڈیویلپ کر سکتی ہیں۔ اس ہاؤسنگ سوسائٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور یہاں خود کارپاور پلانٹ سمیت وہ تمام سہولیات موجود ہوں جو کسی بھی مہنگی ترین سوسائٹی میں ہوتی ہیں۔ اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کروڑ روپے سے شاندار گھر تعمیر کیا جائے جو ہر شہید کی فیملی کو الاٹ کیا جائے۔ شہید کے بچوں کے لئے یہ سہولت موجود ہو کہ اگر وہ مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں بھی پڑھنا چاہیں تو اس ضمن میں کوئی مالی رکاوٹ حائل نہ ہو، پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی طرز پر ایک فنڈ ان بچوں کی تعلیم کے لئے بآسانی بنایا جا سکتا ہے۔ جو بچے نوکری کے قابل ہوں، انہیں نوکری دی جائے یا باقی ماندہ ایک کروڑ روپے کی سرمایا کاری کی سہولت فراہم کی جائے جس سے ان کا ماہانہ خرچہ بغیر ذہنی تناؤ کے پورا ہوتا رہے۔ اسی ہاؤسنگ سکیم میں ایک جدید ترین ہسپتال ہو جہاں شہدا کے لواحقین کا مکمل علاج معالجہ مفت ہو، انہیں خصوصی کارڈ جاری کئے جائیں جو انہیں مختلف مراعات کے حصول میں مدد دیں جیسے کہ ہوائی اڈے پر وی آئی پی لاؤنج کی سہولت، ریل یا جہاز کے ٹکٹ میں ترجیحی سلوک اور رعایت، سرکاری تقریبات میں شمولیت وغیرہ یہ تمام کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے شہداء کے لئے زمین پر جنت بنا دی یا اس کی شہادت کا قرض چکا دیا کیونکہ اصل جنت تو وہی ہے جو خدا نے اس کے لئے تیار کی ہے۔ اور جہاں وہ امر ہو چکا تاہم ان اقدامات سے کم از کم اس تاثر کی نفی ہو گی کہ ہماری قوم بالکل بانجھ ہو چکی ہے۔


دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی درست تعداد کا مجھے علم نہیں پورے ملک میں یہ تعداد یقیناًہزاروں میں ہو گی اور ان اقدامات کے لئے اربوں روپے درکار ہو گے لیکن ان اربوں روپوں کا حصول دو طریقوں سے ممکن ہے۔ ایک اگر حکومت اسے بھی میٹرو کی طرح ایک میگاپراجیکٹ سمجھے تو اربوں روپوں کا بجٹ منٹوں میں مختص ہو سکتا ہے۔ دوسرے اندرون و بیرون ملک لاتعداد ایسے پاکستانی ہیں جنہیں اگر اس بات کا یقین ہو کہ ان کا پیسہ شفاف انداز میں صرف شہداء کے خاندانوں پر خرچ کیا جائے گا تو وہ اس کارخیر کو ہفتوں میں نہیں تو مہینوں میں نمٹا دیں گے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت زمین الاٹ کرنے اور سالانہ بجٹ مختص کرنے کے بعد اس منصوبے سے علیحدہ ہو جائے اور اس کے انتظام وانصرام دس ایسے افراد کے سپرد کر دیا جائے جن کی نہ صرف دیانت اور اہلیت شک و شبے سے بالاتر ہو بلکہ وہ اس کام کو سرانجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کی آبادی ماشاء اﷲاٹھارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اٹھارہ کروڑ سے دس افراد تو ضرور ایسے نکل آئیں گے جو اب تک سوشل میڈیا کی لعن طعن سے محفوظ ہوں گے۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ

خودی کے سوز سے روشن ہیں اُمتوں کے چراغ

یہ ایک بات کہ آدم ہے صاحبِ مقصود

ہزار گونہ فروغ و ہزار گونہ فراغ

(اقبالؔ )

*****

 
10
April

تحریر: غزالہ یاسمین

23مارچ ہماری قومی تاریخ میں غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا پیمان باندھ کر اس کے حصول کی باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اس عہد کو تاریخ نے ’’قرارداد پاکستان‘‘ کا نام دیا اور تحریک پاکستان کا یہ نقطہ عروج کہلایا۔اسی مناسبت سے یہ دن ہر سال پاکستان کی قومی خوشیوں کا بھی نقطہ عروج ہوتا ہے۔ خاص طور پر جہاں برّی، بحری اور فضائی افواج کی مشترکہ پریڈ قومی جذبوں اور ولولوں کو جلا بخشتی ہے وہیں ہمارے اس عہد کی تجدید بھی کرتی ہے کہ ہم وطن عزیز کی آزادی، وقار اور حرمت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس سال یوم پاکستان کی تقریب اس لئے بھی یادگار تھی کہ اس میں ہماری افواج کے شانہ بشانہ ہمارے دوست ممالک، سعودی عرب اورعوامی جمہوریہ چین، کے فوجی دستوں نے بھی حصہ لیا اور قومی فضائیں قدیم ترک ملٹری بینڈ کی خوبصورت دھنوں سے مہک اٹھی تھیں۔جیوے جیوے پاکستان کی دھن بکھیر کر نہ صرف انہوں نے پاکستان سے اپنی دوستی کا اظہار کیا بلکہ ہمارے جذبوں کو بھی مہمیز لگا دی۔


اس مرتبہ یہ دن اس عہد کی تجدید کے طور پر بھی منایا گیا کہ پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کو ہر صورت میں شکست دینا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ نے اس موقع پر پاکستان کو فسادیوں سے پاک کرنے کے عہد کی تجدید کے طور پر ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ کا جو سلوگن دیا اس کی جھلکیاں مسلح افواج کی شاندار پریڈ ، شاہینوں کی بلند پرواز، ملک بھر میں قومی نغموں کی گونج اور سبز ہلالی پرچموں کی بہار میں نمایاں طور پر نظر آئیں۔ مگر سب سے زیادہ اس نعرے کا رنگ اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں کے پریڈ ایونیو میں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں نظر آیا۔ جس کا آنکھوں دیکھا حال ہم اپنے قارئین سے بیان کرتے ہیں۔

23marchparade2017one.jpg
راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں جو گزشتہ تین سال سے پریڈایونیو ہے وہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ پریڈ گراؤنڈ میں سب سے پہلے تینوں مسلح افواج کے سربراہان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وائس چیف آف ایئر سٹاف اسد لودھی جوچیف آف ائر سٹاف ایئر چیف مارشل سہیل امان کی فلائی پاسٹ کی کمانڈ کرنے کی وجہ سے سٹیج پر ان کی نمائندگی کررہے تھے اور نیول چیف ایڈمرل محمد ذکاء اﷲ سلامی کے چبوترے پر موجود تھے۔ اس کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور وزیردفاع خواجہ محمد آصف پریڈ وینیو میں پہنچے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کی آمد پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ صدر مملکت ممنون حسین جو پریڈ کے مہمان خصوصی تھے، ان کی آمد کا اعلان بگل بجا کر کیا گیا۔ وہ پریذیڈنٹ باڈی گارڈز کے جلو میں روایتی بگھی میں سوار ہو کرتقریب میں پہنچے تووزیراعظم اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔


پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر عامر حسین نواز نے صدر مملکت کو پریڈ میں شامل پنجاب رجمنٹ، فرنٹیئرفورس ، ناردرن لائٹ، انفنٹری، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، مجاہد فورس، فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا، پاکستان رینجرز پنجاب، پاکستان پولیس، ٹرائی سروسز لیڈیز آفیسرز، آرمڈ فورسز نرسنگ آفیسرز، بوائز سکاؤٹس، گرلز گائیڈز اورسپیشل سروسز گروپ کے دستوں کا معائنہ کرایا۔


پریڈ کے معائنے کے بعدپاک فضائیہ کا فلائی پاسٹ شروع ہوا جس کی قیادت ایئر چیف مارشل سہیل امان کررہے تھے۔ ایئر چیف ایف 16 طیارے میں سوار سلامی کے چبوترے پرسے گزرے تو طیارے کی گھن گرج نے ایک سماں باندھ دیا۔ ایف 16،جے ایف تھنڈر طیاروں کے شاندار پاسٹ نے حاضرین کا لہو گرما دیا۔ حاضرین نے زبردست مظاہرے پر دل کھول کر داد دی۔ کچھ دیر کے بعد ایئر چیف مارشل سہیل امان بھی سلامی کے چبوترے پر پہنچ تو پریڈ گراؤنڈ تالیوں سے گونج اٹھا۔اس کے بعد صدر پاکستان ممنون حسین نے پریڈ سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کا دفاع مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے۔ ہم تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ امن دوستی اور بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ بھارت کے غیرذمہ دارانہ طرز عمل لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ صدر پاکستان نے مزید کہا کہ پاکستان چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس جنگ میں ہماری افواج اور سکیورٹی اداروں نے کمال بہادری کے ساتھ کام کیا۔ ہمارے ان شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستان پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔ انہو نے واضح کیا کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد ردالفساد کے تحت کارروائیاں بچے کھچے دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔

صدرِ مملکت کے خطاب کے بعد مسلح افواج کے دستے باوقار انداز سے سلامی کی چبوترے کی طرف بڑھے۔ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے دستے نے بھی اپنے مخصوص انداز میں پریڈ کرتے ہوئے چبوترے پر موجود مہمانِ خصوصی کو سلامی دی۔ اس کے بعد آرمڈ کور کا دستہ جو الخالد ٹینک اور الضرار ٹینکوں پر مشتمل تھا، سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا۔ اس کے بعد بکتر بند (اے پی سیز) آرٹلری، آرمی ایئر ڈیفنس ‘ میزائل اور ٹریکنگ ریڈار سسٹم سے لیس ایف ایم90 کور آف انجینئرنگ‘ کور آف سگنلز کے دستوں نے بھی صدر ممنون حسین کو سلامی دی۔ پریڈ میں پاکستان کے جدید ترین نصر میزائل سسٹم، بغیر پائلٹ طیارے شہپر اور براق سمیت دفاعی سامانِ حرب کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔


اس پریڈ کی سب سے خاص بات سعودی عرب اور چین کے مسلح افواج کے دستوں کی پریڈ تھی۔ جنہوں نے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ چینی فوجی دستہ جب سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا تو حاضرین نے پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ترکی فوجی بینڈ نے ’’دل دل پاکستان‘‘اور ’’جیوے جیوے پاکستان ‘‘ دھن بجا کرپاکستان سے اپنی دوستی کا دم بھرا۔


آرمی اور بحریہ ایوی ایشن کے کوبرا۔ ایم ٹی17- پیونک ہیلی کاپٹروں پر مشتمل دستوں نے تین سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شاندار فضائی مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔ شیردل ٹیم، جے ایف 17تھنڈر اور ایف- 16 طیاروں کے فلائی پاسٹ نے فضا میں خوبصورت رنگ بکھیرے اور طیاروں کو آواز سے دوگنی اور کم رفتار سے دائروں میں گھومتے‘ اُلٹی پروازوں‘ ورٹیکل رول بناتے اور تھنڈر ٹرن سمیت مختلف مظاہرے کرکے حاضرین کو ورطۂ حیرت میں ڈالے رکھا۔ کمانڈوز کا 10 ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال کا مظاہرہ بھی شاندار تھا۔ تینوں مسلح افواج کے پیرا شوٹرز میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ کی قیادت میںیکے بعد دیگرے سلامی کے چبوترے کے سامنے اُترے تو صدرِ مملکت نے فرداً فرداً تمام پیرا شوٹرز سے مصافحہ کیا۔


پاکستانی ثقافت کے سب رنگ بھی پریڈ کا نمایاں حصہ تھے جنہوں نے لوگوں سے خوب داد وصول کی۔ کشمیر فلوٹ میں لوک فنکاروں نے کشمیری لباس پہن رکھا تھا۔ بلوچستان کا فلوٹ بلوچیوں کی روایتی تہذیب کی عکاسی کرتا ہوا جب سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا تو بلوچی لوک فنکار اپنے صوبے کی ثقافت کو اجاگر کررہے تھے۔ اس کے علاوہ سندھ‘ پنجاب‘ گلگت بلتستان کے فلوٹس نے بھی اپنے اپنے علاقوں کی ثقافت کو بہت خوبصورتی سے اُجاگر کیا۔
پریڈ کے اختتام پر مختلف سکولوں کے بچوں نے راحت فتح علی خان کے ساتھ قومی و ملی نغمہ ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ پیش کیا اور حاضرین کے جوش و جذبے میں اضافہ کیا اور اپنی موجودگی کا احساس دلایا کہ پاکستان کی نئی نسل بھی اپنے بڑوں کی طرح اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔یوں جوش اور جذبے کا عزم دل میں لئے وفاقی وزراء، پارلیمنٹ کے ارکان‘غیر ملکی مندوبین ‘ سفیروں اور ہائی کمشنروں کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے پریڈ میں شرکت کی۔وفاقی دارالحکومت میں اس ولولہ انگیز پریڈ کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں میں متعدد تقریبات کا انعقاد ہوا۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے خصوصی پروگرام اور ایڈیشنز کا اہتمام کیا۔ جس میں تحریک پاکستان اور جدو جہدِ پاکستان کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ہیروز کو شاندار انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

23marchparade2017two.jpg

 
10
April

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرلی ہے۔ خاص کر موجودہ بنگلہ دیشی حکومت گزشتہ تمام حکمرانوں پر بازی لے گئی ہے۔


مارچ کے پہلے ہفتے میں حکومت بنگلہ دیش نے پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پیش کی جو بلا مخالفت منظور ہوگئی۔ اس قرارداد میں25 مارچ کا دن ’’یومِ نسل کشی‘‘ کے طور پر منانے کی منظوری دی گئی۔یہ دن 25 مارچ 1971 کے دن کی یاد میں منایا جائے گا جب بقول حکومتِ بنگلہ دیش افواجِ پاکستان نے آپریشن سرچ لائٹ کے تحت بنگالیوں کا قتل عام کیا اور بلاامتیاز بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔


25مارچ کو افواجِ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی حقیقت کیا ہے۔ بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے لگایا گیا یہ الزام کہ تین لاکھ نہتے بنگالیوں کا قتل عام کیا گیا۔ کیا واقعی یہ حقیقت ہے یا فسانہ۔۔۔ ان سب سوالات کے جوابات کے لئے بہتر ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ اور غیر جذباتی تحقیق کی جائے اور پوری دیانتداری سے گزرے ہوئے حالات کا جائزہ لیا جائے۔

Genocide
یا نسل کشی کا مطلب ایک منظم سازش کے تحت کسی گروہ یا قوم کی پوری نسل کو ختم کردیناہے۔ اس گروہ کی بنیاد نسلی یا مذہبی ہو سکتی ہے۔ جن کو بے دریغ اور بلاتفریق صرف ایک خاص گروہ سے تعلق کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اُتار دیاجائے تاکہ اس گروہ کا خاتمہ ہو سکے۔ 90 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد سربیا اور کروشیا نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ بنگلہ دیش میں یہ خیال 1990 کی دہائی کے بعد زیادہ شدو مد سے اُبھرا۔


اب جبکہ تین لاکھ بنگالیوں کے نام نہاد قتل عام کی یاد میںیومِ نسل کشی منانے کا اعلان کیاگیا ہے بذاتِ خود ناقابلِ یقین ہے۔ یہ تین لاکھ کی تعداد کا حوالہ بنگلہ دیش کے سابق صدر مجیب الرحمن کے ڈیوڈفراسٹ کو دیئے گئے انٹر ویو میں استعمال کیا گیا تھا جو آج کے بنگلہ دیش میں آسمانی صحیفے کے طور پر بار ہا استعمال کیا جاتا ہے۔ روزنامہ ہندو نے بھی حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ تعداد 26,000 ہے۔ کلکتہ سے تعلق رکھنے والی شرمیلا بوس
نے اپنی کتاب
Dead Reckoning:Memories Of 1971
میں تیکنیکی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ یک طرفہ تصویر ہے۔ کیونکہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ اس طرح ہوا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں کہاں گئیں۔ انہوں نے تین لاکھ کی تعداد کو ایک جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں کسی سطح پر ثابت نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی سرکاری رپورٹ میں اس تعداد کا حوالہ یا ثبوت موجود ہے۔ خاص کر ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے کے بارے میں شدید تحفظات موجود ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا سے بھی اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹر سجاد حسین جو کہ ڈھاکہ یونیورسٹی اور راج شاہی یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر تھے انہوں نے اپنی یادداشتیں
The Wastes of Time
کے نام سے شائع کرائی ہیں۔ انہوں نے یہ واضح نشاندہی کی ہے کہ اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی میں تاریکی اور سائے کا راج تھا۔ اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ اگر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو معاملات، خاص کر بنگالی طلبہ کا جنون اور نفرت بہت واضح طور پر سمجھ آتے ہیں۔ بنگالی عوام کا قتلِ عام اور ملک میں انتشار کی اس پوری کہانی میں بھارت کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ بھارت کا پوری تحریک میں انتہائی اہم اور فعال رول تھا۔ اس بات کا اعادہ مختلف بھارتی لیڈران نے عوام اور ذرائع ابلاغ کے سامنے کیا ہے، جس میں مرار جی ڈیسائی‘ راہول گاندھی‘ بنگلہ دیش کے سابق سپیکر شوکت علی اور بھارتی ڈی جی ایف آئی میجر جنرل زیڈ اے خان شامل ہیں، کہ بھارت کا بنگلہ دیش تحریک میں مدد کرنے کا مقصد پاکستان توڑنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ شدید انتشار پھیلانا- عوامی رائے کو پاکستان مخالف کرنے کے لئے آسان ہدف نہتے عوام ہی بنے کیونکہ جب عوام کے جان و مال کو خطرہ ہوگا تب ہی نفرت کی آگ زیادہ بھڑکے گی اور مخالفت زیادہ پھیلے گی۔ اس انتشار کی ذمہ داری، جیسا کہ اس معاملے میں ہوا اگر پاکستان پر ڈال دی جائے تو ایسی نفرت اور انتشار پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔


ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔ پاکستان کو توڑنا بھارت کا اولین ہدف رہا ہے۔ کیا آج کے بنگالی اسکالر کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا اس ہدف کی تکمیل میں بھارت نے ہر ممکن حربے استعمال نہ کئے ہوں گے چاہے اس کے لئے کتنے ہی بنگالیوں کو قتل کرنا پڑا ہو یا عورتوں کی بے حرمتی کرنی پڑی ہو۔


مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں مکتی باہنی کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مکتی باہنی کی فوجی تربیت اور اسلحہ کہاں سے آیا۔ یہی نہیں مکتی باہنی کی صورت میں ایک بہت بڑی تعداد میں بھارتی فوجی لڑائی میں شامل تھے۔ مکتی باہنی وہ دہشت گرد تنظیم تھی جس نے عوام کا بے دریغ قتل عام اور لوٹ مار کی۔ خاص کر دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں میں اور دور دراز علاقوں میں جہاں وہ بے یارومددگار تھے۔ کئی شہری علاقوں میں نہتے بنگالیوں کو پاک فوج نے بچایا۔ ڈھاکہ گزٹ کے اگست‘ دسمبر1971 کاReview کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 76,000 کی تعداد میں بنگالی مرد اور عورتوں کو مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے کارکنوں نے موت کے گھاٹ اتارا ( منیراحمد
‘(Bangla Desh Myth Exploded
سب سے اہم بات جس کی نشاندہی شرمیلابوس نے بھی کی ہے کہ مرنے والوں کی زیادہ تعداد بہاریوں یا غیر بنگالیوں کی تھی جو یقیناًپاکستان فوج کا نشانہ نہیں بنے تھے۔ بقول بنگلہ دیشی حکام کے پاک فوج بنگالیوں کا قتل عام کررہی تھی تو کیا اس تین لاکھ کی تعداد میں زیادہ تر بہاریوں یا غیر بنگالوں کی ہے جو کہ بلاشبہ مکتی باہنی کے تعصب کا شکار ہوئے۔


ایک اور اہم نکتہ جو بارہا اٹھایا جاتا ہے۔ وہ نہتے اور غیر تربیت یافتہ ہونے کا ہے۔ مکتی باہنی کے افراد نہ ہی نہتے اور نہ ہی غیر تربیت یافتہ تھے بلکہ وہ ببانگِ دہل اور مسلح جدو جہد کررہے تھے۔ آج بھی 1971 کی یادداشتوں میں مکتی باہنی کے رضاکاروں کی تربیت اور مسلح کرتے ہوئے تصاویر موجود ہیں۔ جس سے اس تنظیم کی ساخت اور مقاصد کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ اس بات کا اعادہ مجیب الرحمن نے اپنی 9 جنوری1972کی تقریر میں کیا تھا۔ انہوں نے مکتی باہنی کے چھاپہ ماروں سے ہتھیار پھینکنے کی اپیل کی مگر اس یقین دہانی کے ساتھ کہ دشمنوں کا صفایا کرنے کی ذمہ داری باضابطہ فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔ ایک طرف تو بنگلہ دیش ایک مغالطے میں تین لاکھ افراد کے قتل کی ذمہ داری پاک فوج پر ڈال رہی ہے لیکن ان لاتعداد غیر بنگالی‘ پاکستان سے محبت کرنے والے افراد اور ان کے خاندانوں کا جس طرح قتل عام کیا گیا ان کے خون کا حساب کون دے گا جو تعصب کی بھینٹ چڑھ گئے اور جن کی قربانیوں کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ جیسا کہ مجیب الرحمن کی 9 جنوری کی تقریر سے واضح ہے کہ ملکی سطح پر باضابطہ دہشت گردی کا اعلان اور حکم دے دیا گیا تھا۔


اس تعصب اور نفرت کی آگ صرف شہروں اور سویلین علاقوں تک محدود نہ تھی بلکہ بنگالی فوجیوں نے اپنے ساتھی غیر بنگالی فوجیوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا۔ جن کی تعداد بھی تاریخ کے صفحات سے غائب کردی گئی یا وہ بھی پاک فوج کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔


اس تمام معاملے کی ایک غیر جانبدارانہ ریسرچ کی ضرورت ہے لیکن ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے47 سالوں میں بنگلہ دیش میں یہ معاملہ قوم پرستی پر مبنی دیومالائی بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان اور اس کی حمایت میں بات کرنا ایک جرم بنا دیا گیا ہے۔ خاص کر جب حال ہی میں پاکستان سے محبت کے جرم میں سیاسی لیڈران کو تختہ دار تک پر چڑھا دیا گیا۔ جب کہ ان کا جرم بھی ثابت نہ ہو سکا تھا۔ آج بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ کی حکومت ایک جمہوری آمریت کی مثال ہے۔ وہاں حکومت مخالف بڑی سیاسی جماعتیں خاص کر بی این پی اور جماعت اسلامی جن مقدمات میں الجھی ہوئی ہیں اُن میں سے زیادہ تر کا تعلق1971 کے واقعات سے ہے ایسے وقت میں یہ جماعتیں اپنی بقا کی جدو جہد میں ہیں اور خود کو زیادہ محب وطن ثابت کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی دہشت گردی کی فضا قائم ہو‘ پاکستان پر جمع کی ہوئی قرار داد کی مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کے باوجود 350 کے ایوان میں 56 اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔


موجودہ حکومت پاکستان مخالفت پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہے پاکستان مخالف اقدامات کرکے بھارت سے زیادہ تعلقات بڑھائے جارہے ہیں۔ تاکہ نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی فوائد بھی حاصل کئے جاسکیں۔ یہ ایک الگ عنوان ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات آگے جاکر کن کن مسائل اور پیچیدگیوں کا شکار ہونے جارہے ہیں۔بلکہ فی الوقت شیخ حسینہ اپنے آئندہ ماہ اپریل میں شروع ہونے والے دورے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


بھارت اور بنگلہ دیش کا ایک مشترکہ مقصد یقیناًنہ صرف پاکستان کو دنیا بھر کے سامنے ایک
rogue
ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے بلکہ ساتھ ہی پاک فوج کو ناتجربہ کار اور غیر پیشہ ورانہ ادارہ ثابت کرنا بھی ہے۔
موجودہ بنگلہ دیشی حکومت نفرت کا ایک ایسا جال بُن رہی ہیں جس میں آہستہ آہستہ پوری قوم پھنستی جارہی ہے۔ یہ قوم پرستی جس کی بنیاد پر اُنہوں نے پاکستان سے علیحدگی کی اسی طرح کی نفرت ہی کے بل بوتے پر پروان چڑھتی ہے۔ متعصب قوم پرستی کی ایک صاف مثال جرمن قوم اور ہٹلر کی ہے۔ جو اپنے تعصب اور قوم پرستی میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ یہ قوم پرستی دوسری قوموں سے برتری اور انتقام کی صورت اختیار کرگئی کہ جرمن کو تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ حسینہ کا طرزِ حکومت اور ان کی بنگالی قوم پرستی اور نفرت اس ملک و قوم کو کہیں اس نہج پر نہ لے جائے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ بچے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے

*****

ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔

*****

 
10
April

تحریر: عقیل یوسف زئی

ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کے حالیہ دورۂ وزیرستان کے بعد ہلال کے لئے خصوصی تحریر

شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر واقع یہ ایجنسی طویل عرصے تک نہ صرف ریکارڈ درون حملوں بلکہ غیرملکی جنگجوؤں اور جہادی تنظیموں کی آماجگاہ بنی رہی۔ اسی ایجنسی کو اس حوالے سے بھی بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے کہ اس کے آخری سرے پر غلام خان نامی وہ کراسنگ پوائنٹ یا سرحد موجود ہے جس کے ذریعے افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک آسانی کے ساتھ پہنچا جا سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کا ہیڈکوارٹر میران شاں بنوں سے محض 61کلومیٹر جبکہ غلام خان 79کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ غلام خان سے کچھ فاصلے پر خوست صوبہ واقع ہے۔ میران شاہ سے کابل 277، دوشنبہ 860 جبکہ تاشقند 1414کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان کا یہ عالمی روٹ پاکستان‘ بلکہ پورے برصغیر اور وسط ایشیا کے لئے سب سے مناسب اور قریب ترین راستہ ہے۔ 2001کے بعد جب افغانستان میں ایک پیچیدہ اور علاقائی جنگ کا آغاز کیا گیاتو جنوبی اور شمالی وزیرستان پر مشتمل یہ اہم جغرافیائی پٹی اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔ پاکستانی طالبان کے علاوہ عرب‘ ازبک‘ چیچن اور تاجک جنگجو تنظیموں نے اس پورے علاقے کو یرغمال بنا کر رکھ دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے لاکھوں قبائلی باشندوں ان کے مشران‘ تعلیم یافتہ حلقوں اور تاجروں کو دوطرفہ حملوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف ڈرون حملوں کے ذریعے یہاں کے باشندوں کو بدترین عدم تحفظ اور خوف سے دو چار ہونا پڑا۔ اگر یہ کہا جائے کہ شمالی وزیرستان اپنے لوگوں کے لئے کئی برسوں تک نوگوایریا بنا رہا تو غلط نہیں ہو گا۔ ایک وقت میں یہ علاقہ فقیر آف ایپی کی جدوجہد اور مزاحمت کے باعث برطانیہ اور اس کے مخالف کیمپ کے لئے جتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا‘ نائن الیون کے بعد ویسی ہی صورتحال پھر سے بنی رہی۔ اور شمالی وزیرستان اپنوں کے علاوہ غیروں کی سازشی سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز بنا رہا۔ 10تحصیلوں پر مشتمل اس ایجنسی کے اہم مراکز یا علاقوں میں میران شاہ کے علاوہ میر علی‘ رزمک‘ شوال‘دتہ خیل اور غلام خان شامل ہیں۔ یہ ایک پرخطر پہاڑی خطہ مگر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جبکہ یہاں رہنے والے قبیلے نہ صرف صدیوں پر محیط تاریخ رکھتے ہیں بلکہ ان کو خطے کی سیاست اور معیشت کے علاوہ ثقافت کے فروغ میں ہر دور میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ 2002 کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل اصرار کرتے رہے کہ اس ایجنسی میں بھرپور آپریشن کرایا جائے تاہم اس کا آغاز 2014میں کیا گیا۔ جو کہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ اس پر عالمی اطمینان کی شرح بھی تسلی بخش رہی اور اب یہ علاقہ ریاستی رٹ میں لایا جا چکا ہے۔ جون 2014 کو شروع کئے گئے آپریشن کے نتیجے میں 10لاکھ کے لگ بھگ لوگ بنوں‘ ڈی آئی خان‘ کوہاٹ اور پشاور سمیت دیگر علاقوں میں نقل مکانی کر گئے۔ فورسز نے مرحلہ وار مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جہاں پر موجود مضبوط دہشت گرد ٹھکانے تباہ کئے گئے۔ نوگوایریاز کو ریاستی رٹ میں لایا گیا اور ان علاقوں میں مستقل طور پر فورسز تعینات کی گئیں جہاں سے طالبان لشکروں کی دو طرفہ آمدورفت اور سرگرمیاں ممکن تھیں۔ عوام نے حکومت اور فورسزکا ساتھ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ امن اور ریاستی رٹ کی خواہش میں نہ صرف یہ کہ جان و مال دے کے بے مثال قربانیاں دیں بلکہ ڈھائی سال تک مہاجرت کے مصائب بھی خندہ پیشانی سے برداشت کئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تقریباًتمام علاقے میں ریاستی رٹ بحال کی جا چکی ہے۔ لیویز نہ صرف پوری صلاحیت کے ساتھ فوج کی معاونت کر رہی ہیں بلکہ تمام سرکاری ادارے بھی تیزی کے ساتھ فعال ہونے لگے ہیں۔ آپریشن سے قبل سول اداروں کا علاقے میں وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا تھا ۔ 80فیصد علاقے پر لشکروں یا جہادی تنظیموں کا قبضہ اور غلبہ تھا بلکہ سرکاری دفاتر اور اہلکار جان بچانے کے لئے بنوں میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔ آپریشن کے بعد سرکاری اداروں کی بحالی پر توجہ دی گئی اور ویران دفاتر پھر سے بحال ہونے لگے۔ اگرچہ اب بھی حکومت کوسہولیات کی فراہمی اور اداروں کی بھرپور معاونت میں کئی مشکلات اور دشواریوں کے علاوہ فنڈز اور وسائل کی کمی جیسے حالات کا سامنا ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ ریاستی ادارے کی واپسی کے علاوہ زندگی کی رونقیں تیزی کے ساتھ بحال ہوتی نظر آ رہی ہیں اور تعمیر نو کا کام بھی جاری ہے۔ سرکاری سرپرستی میں‘ فوجی حکام کی معاونت کے ساتھ‘ بحالی اور تعمیر کا کام سست ہی سہی مگر کافی حد تک اطمینان بخش قرار دیا جا رہا ہے۔

puramanaurbehter.jpg
23مارچ کی تقریبات کے سلسلے میں میران شاہ کے یونس خان سپورٹس کمپلیکس میں ایک شاندار پریڈ کے علاوہ کھیلوں اور ثقافتی پروگرامز کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ فوجی حکام‘ اہلکاروں کے علاوہ تقریباً 20ہزار مقامی لوگ‘ طلباء اور نوجوان شریک ہوئے۔ اس تقریب میں دوسروں کے علاوہ جنرل آفیسرز کمانڈنگ میجر جنرل اظہر حیات اور پولیٹیکل ایجنٹ کامران آفریدی بطور خاص شریک ہوئے۔ جنرل اظہر حیات نے اس موقع پر کہا کہ وہ امن کے قیام میں فورسز کے کردار کے علاوہ عوام کی معاونت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںٖ جن کے عزم اور کوششوں سے نہ صرف علاقے سے دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہوابلکہ متاثرین کی واپسی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے جرگوں، جنازوں اور سرکاری تنصیبات کے علاوہ تعلیمی مراکز اور ہسپتالوں کو بھی نہیں بخشا۔ تاہم اب ان کو پھر سے یہاں گھسنے نہیں دیا جائے گا اور اس خطے کو امن اور ترقی سے ہمکنار کرکے مثالی اور پرامن علاقہ بنایا جائے گا۔ بعد ازاں صحافیوں سے تفصیلی بات چیت میں پی اے کامران آفریدی نے ان فیصلوں کی تفصیلات بتائیں جو کہ حکومت نے علاقے کی ترقی کے لئے شروع کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکری حکام کی معاونت اور مشاورت سے عوام کے تحفظ اور علاقے کی ترقی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ماضی کے حالات و واقعات کی تلافی کی جا سکے۔


جی او سی میجر جنرل اظہر حیات اور پی اے کامران آفریدی نے صحافیوں کے ساتھ اپنی خصوصی نشستوں کے دورران بتایا کہ افغانستان جانے والے وزیرستانی باشندوں کی واپسی کے لئے بہت جلد ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا تاکہ ان کو باعزت طریقے سے ان کے علاقوں میں واپس لا کر بسایا جائے۔ ان کے بقول تقریباً 90فیصدآئی ڈی پیز واپس آ چکے ہیں۔ اب ان کی بحالی اور علاقے کی تعمیر نو پر توجہ دی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے کو تیز کرنے کے لئے اسلام آباد اور پشاور کے اعلیٰ حکام اور اداروں کو زیادہ سے زیادہ وسائل کی فراہمی پر قائل کیا جائے تاکہ عملی اقدامات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ برسوں تک حالات کے جبر کا شکار ہونے والے لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں بلکہ ان کو یہ باورکرایا جائے کہ حکومت امن کے قیام اور سہولیات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے۔ دونوں اعلیٰ حکام نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے لوگوں کے اقتصادی مسائل حل کرنے اور غلام خان سرحد کو دوبارہ کھولنے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ اس روٹ کو پھر سے فعال بنایا جائے اور اس کے ذریعے مقامی آبادی کو کاروبار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ دونوں اعلیٰ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ جن لوگوں کے گھر، مارکیٹیں اور دکانیں متاثر ہو ئیں ان کی از سر نو تعمیر کا کام شروع ہے اور حکومت اس سلسلے میں نقصانات کے ازالے کے لئے قابل ذکر اور اطمینان بخش اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوشش کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان کے ٹی ڈی پیز کو مردم شماری کے دوران وزیرستان ہی کے شہری قرار دینے کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ایک فارمولے کے پلان کے ذریعے یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے شہری حقوق اور وسائل کا حصہ دار بننے کا راستہ ہموار کر کے انہیں ہر قسم کے وسائل اور حقوق سے مستفید کیا جائے۔ ان کے مطابق سول اور عسکری ادارے باہمی مشاورت کے ذریعے جہاں ایک طرف علاقے کے امن اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لئے یکسو ہو کر کام کر رہے ہیں وہاں تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں میں بھی مشاورت سے کام لیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ وزیرستان کے انتظامی ڈھانچے کے علاوہ یہاں کی معاشرت اور معیشت کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔


قبل ازیں مقامی عمائدین، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امن کے قیام پر مکمل اعتماد اور اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں اور کاموں کو مستقل امن کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کی شکایات اور ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے شمالی وزیرستان کے لئے جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے اور جن لوگوں کے گھروں، مارکیٹوں اور کاروبار کو نقصان پہنچا ہے اس کی فوری تلافی کی جائے ان کے مطابق وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ شدت پسند یا ان کے حامی پھر سے ادھر کا رخ کریں کیونکہ یہ لوگ انسانیت، پاکستانیت اور قبائل کے دشمن رہے ہیں اور ان کے منفی عزائم نے اس خطے کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو وہ حقوق اور وسائل دیئے جائیں جو کہ پاکستان کے دوسرے شہریوں اور علاقوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے 23مارچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے پروگرامز ہوتے رہیں گے تاکہ اس جنگ زدہ وزیرستان کے باسیوں کو خوشی اور تفریح کے مواقع ملتے رہیں اور ایسے پروگرامز کے ذریعے عوام اور ریاستی اداروں کو یکجا ہونے کا موقع بھی ملتا رہے ۔


قدرتی وسائل میں قبائل برابر کے حصہ دار
فاٹا اور وزیرستان کی تاریخ میں غالباً پہلی دفعہ یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ قدرتی وسائل یا معدنیات جن علاقوں میں دریافت ہوں گے وہاں کے مقامی باشندوں یا عوام کو نہ صرف ایک مناسب رائلٹی دی جائے گی بلکہ ترجیحی بنیادوں پر ان کو ملازمتیں بھی دی جائیں گی۔ اس سلسلے میں شمالی وزیرستان کے متعلقہ حکام نے گزشتہ دنوں تحصیل بویہ کے علاقے محمد خیل میں دریافت کے گئے قیمتی معدنیات (کاپر) کی آمدن میں سے مقامی قبائل یا لوگوں میں 18فیصد کی رائلٹی کے چیک تقسیم کئے۔ حکام کے مطابق معدنیات اور دیگر قدرتی ذخائر جس بھی علاقے میں دریافت ہوں گے‘ وہاں کے عوام کو 18فیصد کے حساب سے رائلٹی دی جائے گی اور لیزنگ کمپنیوں کو باقاعدہ اس فیصلے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک فارمولے کے تحت یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جس علاقے میں معدنیات کا کوئی مرکز دریافت ہو گا وہاں کے عوام کو ملازمتیں دی جائیں گی اور لیبر اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی ان کو دی جائیں گی تاکہ اس طریقے سے مقامی آبادی کو نہ صرف پروڈکشن میں حصہ دار بنایا جائے بلکہ ان کو روزگار اور ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔ حکام کے مطابق وزیرستان میں کرومائیٹ ، کاپر‘ کوئلے، تیل،جپسم اور متعدد دیگر قدرتی معدنیات کے لامحدود وسائل، ذخائر موجود ہیں اور ان ذخائر کی لیزنگ کا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ دیگان نامی علاقے میں بھی رائلٹی کی مد میں گزشتہ دنوں لوگوں میں چیک تقسیم کئے گئے۔


شمالی وزیرستان میں 60ہزارسکیورٹی اہلکار متعین
اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوج اور پیراملٹری فورسز کی بڑی تعداد متعین کی گئی ہے جبکہ اہم علاقوں کے پہاڑوں پر درجنوں مورچے بھی بنائے گئے ہیں تاکہ علاقے اور یہاں کے عوام کو محفوظ بنایا جائے۔ حکام کے مطابق اس وقت اس اہم ایجنسی میں تقریباً 60ہزار سکیورٹی اہلکار موجود ہیں جن میں 35000 لیویز بھی شامل ہیں۔ لیویز‘ فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ سڑکوں اور چوٹیوں پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ان کی فعالیت اور کارکردگی کو عوام کے علاوہ فوجی حکام بھی سراہتے آ رہے ہیں۔


آپریشن ضرب عضب کے باقاعدہ آغاز سے قبل شمالی وزیرستان سے غلام خان کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے افغانستان والے ہزاروں خاندانوں کی پاکستان واپسی کا دوبارہ آغاز اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران متوقع ہے اس مقصد کے لئے اعلیٰ سول اور فوجی حکام کے درمیان ایک باقاعدہ شیڈول کے لئے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ اعلیٰ فوجی اور سول حکام نے گزشتہ روز میران شاہ میں غیررسمی بات چیت کے دوران بتایا کہ افغانستان جانے والے متاثرین کی واپسی میں تاخیر اس لئے ہوئی کہ ایک تو ان کی غیرمعمولی چیکنگ لازمی تھی جس کے لئے غیرمعمولی وقت درکار تھالہٰذا واپسی دو تین مراحل میں مکمل ہوئی ان مراحل کے دوران لوگوں کے درمیان تعداد کم رہی جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں مسلسل حملوں کی وجہ سے سرحد سیل کی گئی اور متاثرین کی بحالی میں بعض انتظامی رکاوٹیں حائل رہیں تاہم توقع کی جانی چاہئے کہ متاثرین کی واپسی کا سلسلہ پھر سے شروع ہو سکے گا اور اب کی بار کوشش کی جائے گی کہ تمام لوگ واپس آ جائیں ۔متعلقہ حکام نے استفسار پر بتایا کہ آپریشن سے قبل یا اس کے دور ان شمالی وزیرستان سے تقریباً 12000 خاندان غلام خان کے راستے افغانستان کے سرحدی صوبے خوست منتقل ہو گئے تھے۔ آپریشن کی تکمیل اور ٹی ڈی پیز کی واپسی کے اعلان کے بعد دو تین مراحل کے دوران تقریباً 1800سے زائدخاندان اپنے علاقوں میں واپس آ گئے۔ تاہم 9000 کے قریب خاندان اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔ حکام کے مطابق اگر ملک میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ نہیں چل پڑتا اور حالات نارمل رہتے تو اب تک ان خاندانوں کو واپس لایا جا چکا ہوتا۔ اگر چہ غیرمعمولی صورت حال کے باعث یہ سلسلہ تاخیر کا شکار ہوا تاہم اب ان کی واپسی کے لئے ایک اور فیز کا آغاز ہونے والا ہے جس کے دوران ان کی واپسی اور بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ غلام خان کے کراسنگ پوائنٹ کو دوبارہ کھولنے کے آپشن اور امکان کا بھی اعلیٰ سطحی جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ہزاروں افراد کا روزگار اور کاروبار اس روٹ سے وابستہ ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ایک مربوط طریقہ کار کے مطابق دونوں جانب کی عام آمدورفت کے علاوہ تجارت کا سلسلہ بھی جلد بحال ہو سکے۔


بنوں اور بعض دیگر علاقوں میں آباد ٹی ڈی پیز کی مکمل واپسی کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ٹی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کا سلسلہ جاری ہے تاہم دوسری طرف مقامی عمائدین صحافیوں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے باوجود ٹی ڈی پیز کی واپسی سست روی کا شکار ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں گھر مسمار کئے جا چکے ہیں اور گھروں کی تعمیر کے لئے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس میں چند خامیاں بھی ہیں۔ ان کے مطابق اب بھی تقریباً 40فیصد ٹی ڈی پیز واپسی کے منتظر ہیں جو واپس آ گئے ہیں ان میں سے کچھ یا تو رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں یا عارضی بنیادوں پر خیمے لگا کر حکومتی امداد کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق ابھی حکومتی کارندوں کے مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاک فوج نے اپنا رول ادا کردیا ہے۔ اب باقی اداروں پر منحصر ہے کہ وہ روایتی سست روی اور بیوروکریٹک ڈیلے کی وجہ سے حاصل شدہ کامیابیوں کے ثمر حاصل کریں‘ نہ کہ اپنے عمل سے اُن کے حُسن کو گہنا دیں۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش ک رتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

’’اے مری سَر زمیں !‘‘
کس قدر پُرکشش‘ کس قدر دلنشیں‘ یہ بہاریں تری‘ یہ نظارے ترے
تُو ہے کتنی حسیں‘ اے مری سَرزمیں‘ کوہ و صحرا تلک کتنے پیارے ترے
تُوہے ماں کی طرح مُونس و مہرباں‘ تجھ سے آباد و شاداں ہمارا جہاں
تُو نسیمِ سحر از کراں تا کراں‘ تُجھ میں اُڑتے پھریں ہم غبارے ترے
تُجھ سے جب بھی کبھی دُور جانا پڑا‘ دل جدائی میں تیری تڑپتا رہا
ہم سراپا وفا‘ بندگانِ صفا‘ تُوہے دریا تو ہم ہیں کنارے ترے
تجھ کومیلی نظر سے جو دیکھے کوئی‘ تُجھ سے دَست و گریباں جو ہو مُدعی
اُس سے ہو جائے اپنی لڑائی کھلی‘ ہم ہیں شمشیر کے تیز دھارے ترے
تیری بنیاد دینِ مبیں پر پڑی‘ تو عطائے خدا‘ تو دعائے نبیﷺ
فکرِ اقبالؒ ‘ و قائدؒ کے صدقے ملی‘ تیرا اصغر پرےؔ جائے وارے ترے
خواجہ محمداصغر پرے

*****

 
10
April

تحریر: طاہرہ جالب

کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں۔ خوراک، زراعت، صنعتی ترقی اور افرادی قوت کیا ہے ؟ غرضیکہ ہر شعبے کی تنظیم و تشکیل کے لئے دیگر عوامل کے علاوہ مردم شماری پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے ملک کا مستقبل یقینی اورمحفوظ ہو جاتا ہے۔ ملک کی ترقی و تعمیر کا انحصار بھی مردم شماری پر ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک سیاسی ، سماجی ، معاشرتی اور معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ اپنے اندر بسنے والوں کی تعداد ، تعلیم، سماجی حیثیت اور معاشی کیفیت کے بارے میں بنیادی معلومات نہ رکھتا ہو۔ درست اعداد و شمار حاصل کرنے کے بعد حکومت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین پلاننگ کرتی ہے۔ مثلاً تعلیم کے شعبے میں تعلیمی پلاننگ جس سے معلوم ہو گا کہ کتنے افراد خواندہ ہیں اور کتنے ناخواندہ، کتنے مرد تعلیم یافتہ ہیں، کتنی خواتین تعلیم یافتہ ہیں اورکتنے افراد زیر تعلیم ہیں۔ جو سہولیات تعلیمی اداروں میں میسر ہیں اس کے اعداد و شمار سے الگ معلومات ملیں گی۔ مردم شماری کے ذریعے ہنر اور فنی مہارتوں کے بارے میں رحجان کا اندازہ لگا کر ملک میں ایسی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے جن کے لئے مستقبل میں افرادی قوت دستیاب ہو سکے۔ ذرائع آمد و رفت کے منصوبے بنانے کے لئے حکومت انہی اعداد و شمار کو استعمال کرتی ہے تاکہ ضرورت کے مطابق نقل و حمل کی ترقی کا پروگرام ترتیب دے کر معاشی اور معاشرتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔


اس کے علاوہ شرح افزائش کا اندازہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر زرعی پیداوار کی طلب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور غذائی قلت اور گرانی کو دور کیا جا سکتاہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی مردم شماری کے صحیح اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے جو منصوبہ بندی کی جاتی ہے مردم شماری اس کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔

 

milkaragybehna.jpgاگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے دو ہجری میں مدینہ شہر میں مردم شماری کرائی گئی۔ عہدِ رسالتؐ میں وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام قائم کیا گیا جس کے تحت صاحبِ حیثیت افراد سے خیرات و صدقہ لے کر معاشرے کے ضرورت مند افراد میں منصفانہ طور پر تقسیم کئے گئے۔ اس کے بعد 15 ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ نے باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ قبلِ مسیح رومن سلطنت نے فوجی اور سیاسی مقاصد اور جائیداد کی رجسٹریشن کے لئے پہلی مرتبہ رومن تہذیب میں باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ پھر باب الایران ، مصر ، چین اور جنوبی امریکہ میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مردم شماری کروائی گئی۔ مسلم ممالک میں شہر کوفہ میں بھی مردم شماری کے شواہد ملتے ہیں۔ جرمنی میں چودھویں صدی عیسوی میں بہت منظم طریقے سے مردم شماری کروائے جانے کا ریکارڈ ملتا ہے۔ پندرھویں صدی عیسوی میں سپین میں باقاعدہ مردم شماری کی گئی۔ کینیڈا ، امریکہ اور سویڈن اس مردم شماری کے مؤجد ہیں جو آج کل ہوتی ہے۔ مردم شماری ہر دس سال بعد لازمی قرار دی گئی ہے۔


19 سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں چھٹی مردم شماری ہو رہی ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے بعد 2008 میں یہ عمل ضروری تھا۔ مگر اب تک یہ مسئلہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گیند کی طرح اچھالا جاتا رہا ہے۔ آخر کار سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہو چکا ہے جوملک کی معیشت کو بہتر طور پر چلانے کے لئے ممد و معاون ثابت ہو گا۔ ملک بھر میں 15مارچ 2017 سے شروع ہونے والی مردم شماری 2 مراحل میں مکمل ہو گی۔ چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 63اضلاع پہلے مرحلے میں 15 مارچ سے 13اپریل تک خانہ اور مردم شماری ہو گی۔ باقی 88 اضلاع اور علاقوں میں مردم شماری دوسرے مرحلے میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


19 سال بعد ہونے والی مردم شماری پر اعتراضات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان ایک دوسرے کی نسبت زیادہ کی جنگ ہے تو بلوچستان میں افغان مہاجرین کو شمار کرنے پر بھی اعتراضات موجود ہیں۔ گویا چھٹی مردم شماری کا انعقاد پھر ایک مرتبہ چند شبہات کے ماحول میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس امر میں دو لاکھ فوجی اور ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب سول ملازمین کی شمولیت کافی حد تک شفافیت لائے گی۔ اس بار مردوں اور عورتوں کے علاوہ خواجہ سراؤں کو بھی گنا جائے گا۔ اگر اس بار مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا تو نہ صرف منصوبہ بندی کرنا آسان ہو گی بلکہ صوبوں اور اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم بھی درست اور منصفانہ ہو گی۔
موجودہ مردم شماری کا فیصلہ اوراس کی
Execution
ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے مگر اس تمام کوشش میں پاک آرمی کے رول کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ موجودہ حالات میں پاک فوج کو بہت سے محاذوں پر بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں روایتی اور غیر روایتی دونوں شامل ہیں۔ ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد کا آغاز کردیاگیا ہے جس کے اہداف یقینی طور پر ایک بھرپور عمل کے متقاضی ہیں۔ موجودہ آپریشن صر ف پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں فسادیوں کے تمام نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو لائن آف کنٹرول پر جارحانہ رویوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ یہ ہماری افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ قابلیت ہی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی’’ سرجیکل سٹرائیک‘‘ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہی رہا۔ مگر ہمیں یہ دشمن کے عزائم کی خبر ضرور دیتا ہے کہ اگر بس چلے تو دشمن کوئی بھی کارروائی کرنے سے باز نہیں رہے گا۔ ان تمام کمٹمنٹس کے ساتھ جو پاکستان دشمنوں کی پیدا کردہ ہیں۔ پاک فوج کی ایک نہایت مناسب تعداد ہمیشہ اپنی ٹریننگ میں بھی مصروف عمل رہتی ہے۔ غرضیکہ ان حالات میں دو لاکھ فوج کو سپیئر کرنا دراصل ان کی ایک اضافی ذمہ داری بن جاتا ہے جس کو اٹھانے کے لئے پاک فوج کی ہائی کمان سے لے کر ایک سپاہی تک سب نے خیر مقدم کیا ہے۔


موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی مردم شماری کے بارے میں مشترکہ پریس کانفرنس جس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں‘ ایک قومی یکجہتی اور سول ملٹری تعلقات میں مثالی ہم آہنگی کی غماز بھی تھی۔ میجر جنرل آصف غفور نے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مردم شماری کی افادیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پاک آرمی اور عوام کے درمیان ایک لازوال رشتہ ہے۔ اس مردم شماری کے دوران پاک فوج کے جوان ہر گھر کے دروازے تک آئیں گے۔ اس عمل کے دوران بے شک
Data Collection
بھی ہوگی مگر یہ پاک فوج کی طرف سے اپنی عوام کے لئے ایک جذبہ خیرسگالی کا پیغام بھی ہوگا۔ اب جب کہ مردم شماری کی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے جو کامیابی سے جاری ہے، تو ہمیں اطمینان رکھنا چاہئے کہ حکومت اور افواج کی یہ کاوش ضرورآنے والے دنوں میں پاکستان کی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
14
March
مارچ 2017
شمارہ:3 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قوم رواں برس ستترواں یوم پاکستان ان حالات میں منا رہی ہے کہ جب اسے اپنے حوصلے اور بھی بلند رکھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن گھناؤنی سازشوں اور دہشت گردی کے ذریعے اس وطن کی سالمیت کے درپے ہے۔ 23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں جب قرارداد پاکستان پاس ہوئی تب پاکستان صرف ایک خواب تھا لیکن ٹھیک 7برس بعد برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
پاک فوج نے ملک بھرسے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ شروع کردیاہے،اوریہ کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن کااعلان ہوا توملک بھرمیں اس کاخیرمقدم کیاگیا۔عوام کے تمام طبقات کی خواہش اورمطالبہ تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کوکسی خاص علاقے تک محدود نہ رکھاجائے، دہشت گرد جہاں اورجس علاقے میں بھی چھپے ہوں انھیں نشانہ بنایا جائے ....Read full article
 
تحریر: سمیع اللہ خان
دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
سات قبائلی ایجنسیوں پر مشتمل پاکستان کے سرحدی علاقے یعنی فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور مختلف ادوار میں اس مقصد کے لئے حکومت کی جانب سے تبدیلیاں یا اصلاحات لانے کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل محض اعلانات تک محدود رہا اور کسی بھی حکومت نے عملاً ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس اہم ترین جغرافیائی یونٹ کو....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں اور چیختی بلبلاتی بچیوں سے.....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
دہشت گردی کی نئی لہر نے عوام کو شدید رنج و غم میں مبتلا کردیاہے۔گزشتہ دنوں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ایک سو بائیس سے زائد افراد شہید ہوئے اور تین سو کے قریب زخمی ہوئے۔ فروری میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے ان واقعات نے عوام کو نشانہ بنایاہے۔ضرب عضب کی کامیابی کے بعد عوام اپنے روزمرہ زندگی کے معمولات کو سر انجام دے رہے تھے کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میں اُن مغربی مورخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہور پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میں وجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنماؤں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوؤں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی....Read full article
 
تحریر:محمود شام
یہ آسمان چومنے کے لئے بے تاب مینار پاکستان ہم سے کچھ کہہ رہا ہے۔
اس کے گرد پھیلا ہوا سبزہ زار۔ ہمیں کہانیاں سنانے کے لئے بے چین ہے۔
کبھی دوڑتی بھاگتی۔ زر کی طلب میں گزرتی ساعتوں سے چند لمحات نکال کر اس کے سائے میں آکر بیٹھیں اور دل کے کان لگاکر سنیں کہ یہ زبان حال سے کیا کہہ....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
نظریہ قوموں کی فکری اساس ہے۔ نظریہ اس جذبے کو جلا بخشتا ہے جس کی بنیاد پر ہجوم میں سے قوم بنتی ہے اور پھر اسی جذبے کی آبیاری کرتے ہوئے قوم اپنی سرحدوں کا تعین کرتی ہے۔ لہٰذا نظریے سے جڑے رہنا ہی ملک و قوم کی بقا کی ضمانت ہے۔ کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جذبہ سرد پڑنے لگتا ہے۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ زندگی کے جھمیلوں سے لڑتے ہوئے وہ اپنے تمام جذبات کو....Read full article
 
تحریر: خورشیدندیم
>یہ تاریخی واقعہ ہے کہ انسان اجتماعی صورت میں رہتے ہیں۔ ابنِ آدم کی معلوم تاریخ اسی کی تائید کرتی ہے۔ سماج کا نام ذہن میں آتے ہی اجتماعیت کا تصور سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اجتماعیت کیسے وجود میں آئی؟َ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل عارف محمود
کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین شہید اور موت میں شناسائی بہت پہلے قائم ہو چکی تھی، بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر آفیسر 2013 میں کوئٹہ پولیس لائن میں جنازے کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ جنازے پہ جاتے ہوئے اچانک سید مبین کی ماں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور وہ جنازہ چھوڑ ....Read full article
 
تحریر: شوکت نثار سلیمی
یہ 6جون 1989کی ایک سعید گھڑی تھی جب میری گود میں تم نے آنکھ کھولی۔ یوں لگا تھا جیسے چاند میرے آنگن میں اتر آیا ہو۔ خوشبو، روشنی ہماری رگ و پے میں سرائت کر گئی۔ زندگی کی کرنیں جگمگا اٹھیں۔ تال، رقص اور سرور کی کئی شمعیں ضوفشاں ہو گئیں۔ بربط زندگی کی لے پر نغمے پھوٹنے لگے۔ روش روش بہار تھی۔ زندگی اتنی .....Read full article

انٹرویو: صبا زیب
کسی بھی ملک یا علاقے کی ثقافت کو جاننے کے لئے وہاں کے لوگوں کا رہن سہن، زبان اور طور طریقے دیکھنے پڑتے ہیں۔ ملک کی پہچان ثقافت ہوتی ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے اسے فخر کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی ثقافت کا پرچار دنیا کے ہر کونے میں عزت اور وقار کے ساتھ کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب........Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز
دنیا میں امن و آشتی کے فروغ اور اقوام عالم کے مابین تعاون اور اعتماد بڑھانے کے لئے پاک بحریہ نے2007 میں ’’امن‘‘ کے نام سے جن کثیرالملکی بحری مشقوں کا سلسلہ شروع کیاتھا’امن17‘ اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔ 2007 کے بعد سے پاک بحریہ ہر دو سال بعدامن مشقوں کا انعقاد کرتی رہی ہے اس برس....Read full article
 
تحریر: میجر مظفر احمد
حوالدار (ر) تاج مسیح مارچ 1939کو ضلع بہاولپورکی تحصیل حاصل پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مارٹن پرائمری سکول کرسچین کالونی حاصل پور میں حاصل کی۔ وہ پست قد مگر نہایت ہی چاق چوبند اور پھرتیلے تھے۔ بچپن سے ہی کھیلوں سے رغبت تھی اور سپورٹس میں نام کمانا چاہتے تھے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انہوں نے ہاکی کے کھیل کو چنا اور اُس ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
اگست 2012 میں جب ہم نے مجاہد آرٹلری کی ایک مایہ ناز فیلڈ یونٹ کی کمانڈ سنبھالی تو وہ کشمیر جنت نظیر کے حسین پہاڑوں پر ڈیپلائے تھی۔ ہمارا ہیڈکوارٹر ایک الگ تھلگ جگہ پر واقع تھا۔ نہایت دلکش لینڈ سکیپ پر مشتمل وادی کے بیچوں بیچ واقع ہمارا میس بھی اپنی مثال آپ تھا۔ فیملی کا جھنجھٹ بھی....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
فی زمانہ زندگی گزارنے کا ایک پرفیکٹ ماڈل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس ماڈل کے تحت آپ کسی اربن مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوں( اس ضمن میں آپ کو کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیدائش کے بعد شروع ہو گا) اپنے والدین کے خرچے پر کھیلیں کودیں، سکول جائیں، بہت اچھے نمبروں میں میٹرک یا او لیول کا امتحان پاس کریں، کالج میں داخلہ لیں، ابا سے حسب توفیق گاڑی یا موٹر سائیکل....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آج ہم تیسرے نغمے کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ نغمہ 10ستمبر 1965کو ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستانی افواج اپنے جنگی محاذ پر دشمن کو تاریخ ساز شکست دینے کے لئے کوشاں تھیں۔ ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے کچھ فوجی جوان زخمی ہو کر لاہور سی ایم ایچ میں داخل ہوئے ہیں۔ میں،میڈم نورجہاں .....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
لاہور، پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن تاریخی، علمی، ادبی، سیاسی، فکری اور ثقافتی حوالے سے اسے پاکستان کا دِل کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے آباد اس شہر کی تاریخ پُراسرار بھی ہے اور سحرانگیز بھی۔ مؤرخ اسے ڈیڑھ ہزار سال قدیم شہر قرار دیتے ہیں۔ لیکن ماہرینِ آثارِقدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ.....Read full article
 
تحریر : محمد امجد چودھری
وہ چشم تصور میں سرحدوں پر ڈٹے، دشمن سے برسرپیکار پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب قسم کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ ارشد جبار کو فخر ہے کہ دفاع وطن پر قربان ہونے والے افواج پاکستان کے بہت سے شہداء اور غازیوں کی وردی ان کے ہاتھوں سے سلی تھی۔ بہت سوں نے ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والی یونیفارم زیب تن کی ہوگی جس کی صورت میں وہ خود کو ان....Read full article
14
March

اعظم معراج

اے وطنِ عزیز کے محروم و بے شناخت بیٹو!
اپنے سماج سے بیگانو!
دھرتی سے اپنی نسبت سے لاعلم دھرتی واسیو!
اس ارضِ پاک کو بنانے
سنوارنے ... سجانے
اور بچانے میں اپنے اجداد کے کردار سے بے بہرہ معصومو!
اپنے آبا کی سرزمین پر اجنبیوں کی طرح رہتے اور
نفرت انگیز سماجی رویوں کے وار سہتے
اپنے روشنی کے میناروں کو
اپنی محرومیوں کے اندھیروں میں ... گم کرتے خاک نشینو!
خود رحمی، احساس کمتری و برتری کی
چکی کے پاٹوں میں پسے ہوئے راندہ درگاہ
ہم وطنو
ہزاروں لوگ
تمہاری ان محرومیوں کا نوحہ کہتے ... اور سینہ کوبی کرتے ہیں
تمہاری ان کمزوریوں اور پستیوں کو بیچتے ہیں
بے شک اس ظلمت شب میں
امید کے دیے جلانے والے
تمہیں دھرتی سے نسبت بتانے والے
اور یہ منترہ
تمہیں رٹانے والے
کہ تم وارث ہو اس سر زمیں کے
اور اس ارضِ پاک کو
اپنے خون پسینے سے سینچنے والے وطن کے معماروں
اور روشنی کے میناروں سے
تمہارا ناتا جوڑنے والے
شہدائے وطن کے پاک لہو کے رنگ سے
تمہاری بے رنگ روحوں میں
رنگ بھرتے مرد قلندر
بہت سے صبح نو کی نوید سنانے والے ہوں گے
یاد رکھنا
ان بہت سوں میں سے ایک میں بھی ہوں
لیکن اگر
کبھی لمبی اندھیری رات کے سیاہ گھپ
اندھیروں سے گھبرا کر یہ دیوانے
صرف چند بھی رہ گئے تو
ان چند میں ایک میں بھی ضرور ہوں گا
پھر اگر
امید سحر میں ان میں سے صرف ایک بچا
تو وہ
یقیناًمیں ہی ہوں گا
لیکن اگر
گھنے پیڑوں کے جھنڈ میں سے
سورج کوچھوتے درختوں پر
امیدِحیاتِ نو میں نغمہ مرگ گاتے ہوئے
ققنسوں کے مہک دار شاخوں سے بنے گھونسلوں میں سے
سنہری ٹھنڈی ہوتی ہوئی آگ میں سے
کئی نوجوان
سورج کی طرح چمکتے
قرمزی سنہرے ققنس
اپنی ہزاروں سال کی پستیوں، ذلتوں اور
محرومیوں کے بھاری بوجھ
اپنے توانا سنہری پروں سے جھٹکتے ہوئے
اپنی چونچوں میں
اپنی قابلِ فخر شناخت کے علم دبائے
امیدوں کی روشن شمعیں دلوں میں جلائے
عزم و حوصلے اور امنگیں
جن کے سینوں میں موجزن ہوں
جن کی نظر
روشنی کے میناروں سے اٹھتی ہوئی
دور آسمانوں پر ہو
اور
وہ دن کے اجالوں میں
سورج کی طرف
لمبی اڑانیں بھریں
تو سمجھ لینا
جن مہک دار گھونسلوں سے
جوان ققنس اڑتے ہیں
ان گھونسلوں میں
میرے بدن کی راکھ تھی

 
14
March

تحریر: یاسرپیرزادہ

فی زمانہ زندگی گزارنے کا ایک پرفیکٹ ماڈل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس ماڈل کے تحت آپ کسی اربن مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوں( اس ضمن میں آپ کو کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیدائش کے بعد شروع ہو گا) اپنے والدین کے خرچے پر کھیلیں کودیں، سکول جائیں، بہت اچھے نمبروں میں میٹرک یا او لیول کا امتحان پاس کریں، کالج میں داخلہ لیں، ابا سے حسب توفیق گاڑی یا موٹر سائیکل کی فرمائش کریں، گریجویشن کریں، جتنے نمبر آئیں اس حساب سے انجینئرنگ، میڈیکل یا ایم بی اے وغیرہ میں داخلہ لیں یا پھر سی ایس ایس کی تیاری کریں، کینیڈا آسٹریلیا، یو کے یا امریکہ میں پڑھنے کے لئے پر تولیں، تعلیم مکمل کریں، ملازمت تلاش کریں یا ابا کی فیکٹری سنبھال لیں، شادی کروائیں (اپنی)، بچے پیدا کریں اور پھر ان بچوں کو اسی ماڈل کے تحت بڑا کریں، ان کے سکول کالج کے فیسوں کی ٹینشن لیں، ان کے لئے ملازمت کا بندوبست کریں،ان کی شادیاں کریں۔۔۔۔ اور باقی زندگی خدا کی یاد میں بسر کر دیں


اس ماڈل میں بظاہر کوئی خرابی نہیں سوائے اس کے کہ ایک روز جب آپ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر کے دالان میں آرام کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہوں گے تو یہ گزری ہوئی زندگی ایک فلم کی طرح آپ کی آنکھوں کے سامنے چلے گی۔ اس وقت آپ کو یوں نہیں لگنا چاہئے کہ آپ نے زندگی میں بس جھک ہی ماری! ہر امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے سکول کی کلاس کے پچاس بچوں میں سے وہ نہ ہوں جن کا نام ہی استاد کو یاد نہیں رہتا، جسے کبھی سزا ہی نہ ملی ہو، جس کے سوالات سے ٹیچرز گھبراتے نہ ہوں، جو صرف پڑھائی میں ہی اے گریڈ نہ لیتا ہو بلکہ ہاکی میں سینٹر فارورڈ بھی کھیلتا ہو، جس نے کالج میں کبھی کوئی کلاس ’’بنک‘‘ نہ کی ہو جو اپنے دوستوں کی پراکسی لگانے سے گھبراتا ہو، جس نے کینٹین پر بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گپیں نہ لگائی ہوں، جس نے ہاسٹل کے کمرے میں صبح چار بجے تک تاش نہ کھیلی ہو، جسے کالج میں عشق نہ ہوا ہو، جس کا یونیورسٹی میں کوئی جھگڑا نہ ہوا ہو، جس نے اپنی کلاس فیلو کوخط نہ لکھا ہو، جس نے فرسٹ ایئر میں سگریٹ نہ پیا ہو، جسے دوستوں کے ساتھ لاہور سے مری جانے کی اجازت نہ ملی ہو، جس نے ’’ڈیٹ‘‘ پر جانے کے لئے دوست سے موٹر سائیکل نہ مانگی ہو۔۔۔

 

zindagiguzarny.jpgعجیب بات یہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں یہ یادیں انمول ہیں مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے، یہ باتیں ہماری زندگی سے آؤٹ ہوتی چلی جاتی ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہو پاتا، جن دوستوں کے ساتھ گھنٹوں ہم بے تکی باتیں کیا کرتے تھے وہ دوست چھوٹ جاتے ہیں، کچھ ملک سے باہرسیٹل ہو جاتے ہیں ،کچھ شہر چھوڑ جاتے ہیں، کچھ کو زندگی کی دھوپ جھلسا دیتی ہے اور کسی کی دوٹکے کی نوکری جان نہیں چھوڑتی، کچھ دوست رابطے میں رہتے ہیں مگر رسمی انداز میں، کچھ کو ہم رابطہ نہیں کرتے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی کی دوڑ میں ہم ان سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ گویا جن باتوں کو ہم اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں، ان باتوں کو زندگی کی دوڑ دھوپ کے نام پر خود ہی اپنی زندگیوں سے نکال باہر کرتے ہیں اور پھر کافی کا مگ ہاتھ میں لے کر یاد کرتے ہیں کہ ہائے وہ بھی کیا دور تھا، لڑکیوں کا حال تو اور بھی عجیب ہے۔ سکول کالج کے زمانے میں جن سہیلیوں کی ایک دوسرے میں جان ہوتی ہے، شادی کے بعد برسوں ان میں ملاقات ہی نہیں ہو پاتی۔ آج وہ مہ جبیں چار بچوں بمعہ ایک ہونق قسم کے خاوند کے ساتھ ملتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی نے اس کے اور اس نے زندگی کے ساتھ کیا سلوک کیا


لیکن ہم بھی کیا کریں جب سائیکل ملتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کب وہ دن آئے گا جب اپنی موٹر سائیکل کو کک لگا کر سٹارٹ کریں گے۔ جب موٹر سائیکل ملتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کیا وہ دن بھی آئے جب اپنی گاڑی ہو گی۔ جسے جب چاہیں گے سٹارٹ کرکے کہیں بھی لے جائیں گے۔ جب پانچویں جماعت میں تھے تو حسرت بھری نگاہوں سے سینئر سیکشن کو دیکھا کرتے تھے کہ کب ہمارا یونیفارم بھی ان بڑے بچوں جیسا ہو گا۔ جب سینئر سیکشن میں پہنچتے تو میٹرک کے امتحان کی ٹینشن جینے نہیں دیتی تھی۔کیونکہ فلموں میں دیکھا کرتے تھے کہ ہیروفقط دو تین کتابیں لے کر سارا وقت کینٹین میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ مستیاں کرتا ہے اور کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی اس پر فدا ہوتی ہے۔ کالج پہنچے تو پتا چلا کہ ایف ایس سی کرنے والوں کے لئے کالج میں بھی سکول جیسا ماحول ہے۔ پھر بی اے کے لئے دن گننے شروع کئے کہ بی اے میں یقیناًایسی پڑھائی ہو گی، جس کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا، بی اے میں پہنچے تو احساس ہوا کہ اصل موج تو یونیورسٹی میں ہے جہاں لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں یونیورسٹی میں سوچتے تھے کہ کب یہاں سے نکلیں گے اور اچھی سی نوکری کریں گے۔ اپنے پیسے کمائیں گے۔ جب نوکری ملی تو سوچا کب امیگریشن ملے گی اور اس ملک سے جان چھوٹے گی اور جب امیگریشن ملی تو سوچتے ہیں کہ کیوں نہ فیس بک پر ایک گروپ بنا کر اپنے سکول کالج کے دوستوں سے رابطہ کر کے پرانی سنہری یادوں کو تازہ کیا جائے۔


اپنی زندگی کو پرفیکٹ بنانے کے چکر میں کہیں ہم اسے

imperfect

تو نہیں بنا دیتے؟ شاید ہاں اور شاید نہیں۔ نہیں اس لئے کیونکہ باعزت طریقے سے زندہ رہنے کے لئے اچھا تعلیمی ریکارڈ، آگے بڑھنے کی لگن، ڈسپلن، اچھی ملازمت، کاروبار، ازدواجی زندگی سب ضروری ہے مگر زندگی اس سے بڑھ کر بھی کچھ مانگتی ہے۔ کروڑوں لوگ امتحانات میں اچھے گریڈ لیتے ہیں، کروڑوں لوگ دنیا میں بزنس کرتے ہیں، مگر زندگی صرف ملازمت کرنے یا کاروبار کرنے کا نام نہیں۔ زندگی صرف سولہ جماعتیں پاس کر کے نوکری ڈھونڈ کر شادی کرنے کا نام نہیں، زندگی یقیناًاس سے بڑھ کر کچھ مانگتی ہے۔ سو زندگی میں کوئی ایک ایسا کام ہمیں کر جانا چاہئے کہ جب زندگی کی فلم ریوائنڈ کر کے دیکھیں تو یہ نہ سوچیں کہ کاش میں نے کالج میں اس لڑکی سے اظہار محبت کر دیا ہوتا جو مجھے پسندتھی۔ کاش میں محکمہ جنگلات میں ملازمت کرنے کی بجائے وائلڈ لائف فوٹو گرافر بن جاتا، کاش میں اتنی دولت کمانے کے ساتھ ساتھ کوئی دو چار فلاحی ادارے بھی بنا دیتا، کاش مجھ میں سچ کہنے کی جرأت ہوتی اور میں دوٹکے کے ذاتی مفاد کی خاطر کسی کے سامنے نہ جھک جاتا۔ کاش میں اتنی پھیکی اور بے مزہ زندگی نہ گزارتا!

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

فوجی وردیاں تیار کرنے کے ماہر ارشد جبار سے محمد امجد چودھری کی گفتگو

وہ چشم تصور میں سرحدوں پر ڈٹے، دشمن سے برسرپیکار پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب قسم کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ ارشد جبار کو فخر ہے کہ دفاع وطن پر قربان ہونے والے افواج پاکستان کے بہت سے شہداء اور غازیوں کی وردی ان کے ہاتھوں سے سلی تھی۔ بہت سوں نے ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والی یونیفارم زیب تن کی ہوگی جس کی صورت میں وہ خود کو ان کے درمیان محسوس کرتے ہیں۔ یقیناان کے لئے یہ بات ایک اعزاز سے کم نہیں کیونکہ فوجی وردی کسی بھی سپاہی کے لئے ایک خاص معنی رکھتی ہے ۔ یہ نظم و ضبط اور ذمہ داریوں کا ایک ایسا سانچا ہے جس میں ایک سپاہی کو تربیت اور آزمائش کی بھٹی میں سے گزر کر خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ اس کی چمک دمک ایک سپاہی کے وطن کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھنے کے عزم کی عکاسی کررہی ہوتی ہے۔ اس پر سجے میڈلز اس کی جرات و بہادری ، قربانی اور خطرات سے ٹکرانے کی داستان سنا رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ قوم کی یکجہتی، عزت و وقار اور آزادی کی علامت ہے۔ ارشد جبار کو اس کے تقدس کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ایک خاص جذبے اور شوق سے اس کی تیاری کے فرض کو انتہائی سلیقے سے انجام دیتے ہیں۔

 

 

arshadjabarseguf.jpgارشد جبار نے جب آنکھ کھولی تو ان کے والد عبدالجبار کو یہ پیشہ اختیار کئے ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا۔ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل 1945ء میں راولپنڈی میں کشمیر روڈ پر ایک دکان کے باہر چھوٹے سے کام سے آغاز کیا۔ وہ اپنے کام میں مہارت سے جلد ہی اپنے گاہکوں میں مقبول ہو گئے۔ 1947ء میں ایک دکان کرائے پر حاصل کی۔ معروف بیوروکریٹ، ادیب اور دانشور قدرت اللہ شہاب اور ان کے بھائی اس دکان کے مالکان تھے۔ارشد جبار نے اپنی یادوں کو کریدتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دکان کا کرایہ دوسو روپے تھا اور ان کے والد دونوں بھائیوں کوسو سو روپے کے دو علیحدہ چیک کی صورت میں ادائیگی کرتے تھے۔1983ء میں ان کے والد نے یہ دکان خرید لی۔


ارشد جبار بارہ جماعتیں پاس ہیں۔ انہوں نے میٹرک پبلک سکول ایبٹ آباد سے کیا۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ انہوں نے جو کام شروع کیا ہے اسے مزید بہتر طریقے سے آگے بڑھائیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ارشد جبار کو اسی شعبے میں جدید مہارت کے لئے برطانیہ بجھوایا۔ 1972ء میں انہوں نے انگلینڈ ٹیلر اینڈ کٹر اکیڈمی ویلز سے ڈپلومہ حاصل کیا۔ 1973ء میں وطن واپسی پر انہوں نے اپنے والد کے کام کو مزید مہارت اور جدت سے کرنا شروع کیا اور خاص طور پر فوجی یونیفارم کی تیاری کے حوالے سے خوب نام کمایا۔ افواج پاکستان کی بہت سی اہم شخصیات نے ان کے ہاتھوں سے تیارہونے والی وردی زیب تن کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت سے افسر سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان سے یونیفارم تیار کروانے آئے جو آج جنرل کے رینک تک پہنچ چکے ہیں اور طویل عرصے سے انہی کی تیار کردہ یونیفارم پہن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کامیابی میں مہارت اور جدت کے علاوہ اخلاص، وقت کی پابندی اور وعدے کی پاسداری نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ان اصولوں کو کسی بھی شعبے اور کاروبار کی کامیابی قراردیا ہے کیونکہ گاہک کا اعتماد اسی سے بڑھتا ہے اوروہ طویل عرصے تک آپ کی خدمات سے استفادہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ نسلوں تک یہ تعلق چلتا ہے۔ بعض افراد کی تو تیسری نسل ان سے لباس تیار کروا رہی ہے۔


ارشد جبار کو وردی کے تمام لوازمات اور اقسام کا بخوبی علم ہے۔ انہیں رجمنٹل لوگوز، انسگنیاز، میڈلز، ٹائٹلز اور دیگر اشیاء میں کبھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ارشد جبار کو اپنے کام اور ہنر پر فخر ہے۔ ان کے تیارکردہ لباس کو گاہک زیب تن کر کے جب اطمینان کا اظہار کرتا ہے تو یہی ان کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا اس سے مجھے اپنے کام میں ایک عجیب سرشاری محسوس ہوتی ہے۔ میں اور بھی زیادہ محنت اور لگن سے کام کرنا شروع کردیتا ہوں۔ ان کی مہارت کے دلدادہ افراد کی ایک طویل فہرست ہے۔ ایک سپاہی سے لے کر جنرل تک اور ایک عام آدمی سے لے کر ممتاز سیاستدان ، بیوروکریٹ، کاروباری شخصیات ان میں شامل ہیں۔ ارشد جبار کے ایک بھائی خرم جبار اور بیٹا جنید جبار بھی اُن کے ساتھ اُن کے والد کی مہارت اور فن کی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جس کا آغاز 1945میں اُن کے والد نے کیا۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

لاہور، پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن تاریخی، علمی، ادبی، سیاسی، فکری اور ثقافتی حوالے سے اسے پاکستان کا دِل کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے آباد اس شہر کی تاریخ پُراسرار بھی ہے اور سحرانگیز بھی۔ مؤرخ اسے ڈیڑھ ہزار سال قدیم شہر قرار دیتے ہیں۔ لیکن ماہرینِ آثارِقدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ ’ہڑپائی‘ شہر ہے۔ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے زمانے کا شہر۔ اس حوالے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ دریاکے اس طرف جہاں یہ شہر آج آباد ہے، قدرتی اور انسانی آفات کے سبب یہ شہر کئی مرتبہ اجڑا اور آباد ہوا۔ پنجاب بھر میں ماہرینِ آثارِقدیمہ نے ہڑپائی بستیوں کے جو آثار دریافت کئے ہیں، اس میں چند آثار دریائے راوی کے دوسرے کنارے سے بھی ملے ہیں جوکہ اسی بستی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ماہرین آثارِقدیمہ کے دعووں کو تسلیم کیا جائے تو لاہور برصغیر کا وہ واحد شہر ہے جسے موہنجوداڑو دَور کا زندہ وآباد شہر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔


لاہور صدیوں سے اُن واقعات کو اپنے سینے میں دفن کئے بیٹھا ہے جس نے اس شہر ہی نہیں بلکہ خطے کی تاریخ پر انمٹ اثرات مرتب کئے۔ اسی لئے اس شہرِاسرار کو اس خطے کا علمی وفکری، ادبی وسیاسی ، ثقافتی وسماجی گہوارہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ہم لاہور کی گزشتہ چند صدیوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بڑے دلچسپ حقائق بے نقاب ہوتے ہیں۔ مغل شہنشاہ ہمایوں، چودہ سال ہندوستان کے تخت وتاج سے محروم رہا اور اسے اس دوران جلاوطن ہونا پڑا۔ 1554ء میں ہمایوں نے لاہور کو درحقیقت دوبارہ فتح کیا۔ وہی لاہور جسے شیرشاہ سوری اور اس کا بیٹا خاک میں ملا دینا چاہتے تھے۔ جب ہمایوں کی آمد لاہور ہوئی تو لاہور کے باسیوں نے پورے شہر میں چراغاں کرکے اُس کا استقبال کیا۔ ہمایوں کے انتقال کے بعد 1556ء میں اکبر اعظم کی تخت نشینی کے دوران لاہور اپنے دورِعروج میں داخل ہوا۔ اس دوران لاہور برصغیر کی طلسماتی بستی بن گیا۔ اسی لئے اکبر 1584ء سے 1598ء تک لاہور میں مقیم رہا۔ یورپی سیاح اس دوران لاہور کی شان وشوکت دیکھنے آتے تھے۔ متعدد یورپی سیاحوں سمیت ابوالفضل نے بھی اس شہر کے اس طلسماتی عہد کو سپردِقلم کیا۔

 

sherlahorekishan.jpgمغل دَورِحکمرانی میں اس شہر نے برصغیر سے لے کر وسطی ایشیا تک اپنے سیاسی وفکری اثرات مرتب کئے۔ اسی دَور میں دریائے راوی میں بحری جہازوں سے سندھ اورپھر بحیرۂ عرب تک تجارتی راستہ قائم تھا۔ عہدِ جہانگیری میں لاہور کی سیاسی، فکری اور ادبی زندگی کو مزید طاقت ملی۔رنجیت سنگھ کے زمانے میں لاہور کو اگر تلاش کیا جائے تو مزید دلچسپ حقائق اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس کے دَور میں فوجی تربیت کے لئے یورپ سے فوجی انسٹرکٹر یہاں آئے۔ اسی لئے اُس کے دربار میں پنجابی اور فارسی کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی رائج تھی۔ 1821ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر ولیم مور کروفٹ نے جب رنجیت سنگھ کے لاہور کو دیکھا تو ورطۂ حیرت میں ڈوب گیا کہ اس پنجابی حکمران نے فوج کے نظم ونسق کو کس جدید انداز میں جدید تقاضوں کے مطابق قائم کررکھا ہے۔


لاہوریوں کی انگریز سامراج کے خلاف پہلی بغاوت بھی اس شہر کی تاریخ کا جھومر ہے۔ 1849ء میں چیلیاں والا (گجرات) میں برطانوی سامراج نے برصغیر میں کالونائزیشن کی تکمیل کے لئے آخری جنگ لڑی جس میں پنجاب کے سپوتوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ بدقسمت پنجابی سپاہی، انگریز افواج کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔ اس کے بعد انگریزوں نے اس طلسماتی بستی (لاہور) میں قیام کے انتظامات شروع کر دئیے اور مسیحی عبادت کے لئے بھی کوششیں شروع کردیں۔ اس کے لئے یہاں پر موجود مقبرہ انارکلی کو انگریزوں نے جون 1851ء میں ’’سینٹ جیمز چرچ‘‘ قرار دے دیا اور عمارت کے گرد خاردار تار لگا دئیے۔ جب لاہوریوں کو انارکلی کے مقبرے کو گرجاگھر میں بدلنے کی خبر ملی تو اہلیانِ لاہور اس (گرجاگھر قرار دی گئی) عمارت کی طرف چڑھ دوڑے۔ اس دوران برطانوی سامراج کے مسلح اہلکاروں نے نہتے شہریوں پر بے دریغ گولیاں برسائیں جس سے متعدد لاہوری شہید ہوگئے۔ اس کے بعد 1857ء کی جنگِ آزادی میں بھی لاہور چھاؤنی میں موجود دیسی جوانوں نے علمِ بغاوت بلند کیا۔ اس شہر کے لوگوں نے جو تحریکیں برپا کیں وہ اپنی جگہ، لیکن اس شہر کے باسیوں نے کئی ایسے واقعات بھی دیکھے کہ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ہاتھیوں، گھوڑوں، اونٹوں اور دیگر جانوروں سے چلنے والی سواریاں تو یہاں عام تھیں۔ لیکن 1862ء میں لاہوریوں نے پہلا سٹیم انجن جب راوی کنارے اترتے دیکھا تو اُن کے لئے یہ’ سیاہ جن‘ ایک عجوبہ تھا۔ (انڈس سٹیم فلوٹیلا کمپنی اسے کراچی کی بندرگاہ سے دریائی راستے سے لاہور لائی تھی۔) سٹیم انجن راوی کنارے اتارنے کے بعد لاہور ریلوے سٹیشن پہنچایا جانا بھی حیران کن منظر تھا۔ ایک سو دو بیل اور دو ہاتھی اس انجن کو لاہور ریلوے سٹیشن تک کھینچ کر لائے۔ سٹیم انجن کا راوی کنارے اترنا، پھر چوبرجی سے ہوتے ہوئے ریلوے سٹیشن تک جانا، اس موقع پر شہر میں میلے جیسی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔


اسی شہرِ لاہور میں پیسہ اخبار اور زمیندار اخبار جیسے اخباروں کے اجراء نے برصغیر بھر میں دھوم مچا دی اور صحافت کے شعبے میں ناقابل فراموش نام بھی پیدا کئے۔ ان اخبارات سمیت دیگر اخبارات نے ہی تحریکِ آزادی کے چراغ جلائے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران یہاں پر بغاوت برپا تھی۔ پنجاب بھر سے لوگ جنگ عظیم، جنگ بلقان میں برطانوی سامراج کی چیرہ دستیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کررہے تھے۔ عبیداللہ سندھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کابل منتقل ہو چکے تھے جن میں لاتعداد نوجوان شامل تھے۔ ان باغیوں میں مسلمان، ہندو اور سکھ سب ہی لوگ شامل تھے۔ وہاں جلاوطن حکومت بھی قائم کی گئی۔ آزادی کے یہ متوالے اس وقت روس، افغانستان، جرمنی اور سلطنت عثمانیہ کے ساتھ رابطوں میں تھے۔ میرے مطالعے میں اس دَور کی ایسی سرکاری دستاویزات آئی ہیں جن میں لاہور میں انٹیلی جینس والوں کو خاص ہدایت نامہ جاری کیا گیا کہ اُن سیاسی، سماجی، ادبی اور متحرک لوگوں پر نظر رکھیں جو کابل میں موجود آزادی پسندوں، باغیوں کے ساتھ یا پھر روس، جرمنی، افغانستان اور سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جن لوگوں پر نظر رکھے جانے کی ہدایت کی گئی، اُن میں علامہ محمد اقبالؒ بھی شامل تھے کہ وہ ایسی محفلوں میں شامل ہوتے تھے جو برطانیہ سے آزادی چاہتے تھے اور محمد اقبالؒ ان محفلوں میں باغیانہ شاعری کرکے بغاوت پر آمادہ کرتے تھے۔ اسی لئے برطانوی سامراج نے 1919ء میں رولٹ ایکٹ پاس کیا۔ اس کا نام تھا
The Anarchical and Revolutionary Crimes Act 1919

اس ایکٹ کے تحت، برٹش سرکار نے اختیارحاصل کیاکہ آزادی، انقلاب اور برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو بغیر مقدمہ چلائے گرفتار کیا جاسکے۔ اس سیاہ قانون کے خلاف لاہور کے شہریوں نے شدید احتجاج شروع کیا تو 13اپریل 1919ء کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر مائیکل ایڈوائر نے لاہور میں مارشل لاء نافذ کرکے احتجاج کرنے والوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد لاہور اور امرتسر احتجاجی مظاہروں کا گڑھ بن گئے۔ اس دوران لاہور کی سڑکیں خون سے سرخ ہوگئیں کہ یہ لاہوریئے آزادی چاہتے تھے۔ انہی مظاہروں کے سلسلے میں جلیانوالہ باغ کا سانحہ برپا ہوا جس میں 380نہتے پُرامن آزادی پسندوں کو برٹش راج نے موت کی نیند سلا دیا۔


لاہور متعدد علمی، فکری، ادبی اور سیاسی تحریکوں کا مرکز اور نقطۂ آغاز بننے کا اعزاز بھی رکھتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی تعلیمی آبیاری تو مختلف سکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہوئی۔ مگر یہ لاہور شہر ہے جس نے اس فلسفی اور شاعر کو شاعرِ مشرق اور مفکر پاکستان جیسی معراج پر پہنچایا کہ لاہور میں ان کی فکر، شاعری اور سیاسی سوچ پروان چڑھی اور اسی شہر سے اُن کی دھاک پورے ہندوستان میں پھیلی۔ 6جنوری 1923ء کو مقبرہ جہانگیر پر ایک گارڈن پارٹی میں گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میکلیگن کی صدارت میں علامہ اقبالؒ کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی جہاں انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس تقریب میں چھے سو سے زائد معززینِ شہر شریک ہوئے جن میں رنجیت سنگھ کی پوتی (بمبا سدر لینڈ) اور سر فضل حسین بھی شامل تھے۔


قراردادِ لاہور جس نے مسلمانانِ برصغیر کے مقدر کا فیصلہ کیا، اسی شہرِ لاہور میں پیش ہوئی۔ 22سے 24مارچ تک منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانانِ برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہوا۔ لاہور شہر میں پیش ہونے والی اس قرارداد نے برصغیر میں ایک نئی ریاست کے وجود کی بنیاد رکھی۔ لیکن ایک اور بڑی حقیقت ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوچکی ہے کہ اسی شہر لاہور میں آل انڈیا کانگریس نے ایک اجلاس میں تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ 31دسمبر 1929ء کو راوی کنارے آل انڈیا کانگریس نے مرحلہ وار آزادی کے مطالبات کی بجائے مکمل آزادی کے لئے ایک اعلامیہ جاری کیا جسے ’’پورنا سوراج‘‘ یعنی مکمل آزادی قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے ہوم رُول، ڈومینین رُول جیسے مطالبات کئے جاتے تھے۔ اسی شہرِ اسرار میں کانگریس نے برطانوی سامراج سے مکمل آزادی کا عہد کرکے یہ ثابت کیا کہ جو فیصلے لاہور میں کئے جائیں، وہی سیاسی مقدر ہوتے ہیں۔ 31دسمبر 1929ء نئے سال کے آغاز کے وقت نہرو نے دریائے راوی کنارے نصف شب تین رنگوں کے جھنڈے کشائی کرکے اس تحریک کی بنیاد رکھی جس نے آزادئ ہند اور بعد میں آزادئ پاک وہند کے راستے متعین کئے۔


لاہور نے 20فروری 1974ء کو اسلامی تاریخ میں ایک ایسا نظارہ کیا کہ جہاں عالمِ اسلام کے چالیس سے زائد حکمران اور لیڈر اکٹھے ہوئے۔ اسلامی کانفرنس کے اس اجلاس میں آزادئ فلسطین کے سرکردہ رہنما یاسر عرفات اور اُن کی تنظیم پی ایل او کو آزادئ فلسطین اور فلسطین کی نمائندہ تنظیم قرار دیا گیا اور یاسرعرفات کو پہلی مرتبہ بحیثیت سربراہِ حکومت کے پروٹوکول کے تحت ریسیو کیا گیا۔ اس وقت پی ایل او کو اسرائیل اور اس کی ہمنوا عالمی طاقتیں دہشت گرد قرار دیتی تھیں۔ اسی کے نتیجے میں، اقوامِ متحدہ میں یاسر عرفات کو خطاب کی دعوت دی گئی جہاں سے تحریک آزادئ فلسطین ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اس تاریخ ساز فیصلے کی بنیاد لاہور میں ہی رکھی گئی۔


لاہور نے اپنے ہاں دنیا کے نامور سپوتوں کو جنم بھی دیا اور اپنی جھولی میں ان نامور سپوتوں کی پرورش بھی کی۔ اس شہر کے پانچ سپوتوں کے سینے پر دنیا کا سب سے بڑا عالمی اعزاز نوبل پرائز بھی سجا۔ ان پانچ سپوتوں نے اس بستی میں پرورش پائی اور اپنے شعبے میں کامیابی کا آغاز کیا۔ رڈیارڈ کپلنگ، سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر اور نامور ادیب کو اپنے مشہورِعالم ناول
Kim
پر 1907ء میں نوبل انعام ملا۔ وہ ایک عرصہ لاہور میں مقیم رہے اور لاہور میوزیم کے سامنے رکھی توپ آج تک
Kim
سے منسوب ہے۔آرتھر کومپٹن، جنہیں 1927ء میں کیمسٹری میں ایک نئی شاخ
Magnetochemistry
کی بنیاد رکھنے پر نوبل انعام ملا، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے وابستہ رہے۔ ہرگوبند کھرانہ جنہیں 1968ء میں جینیات میں نوبل انعام ملا، برٹش دَور میں لاہور میں پیدا ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی۔ ڈاکٹر عبدالسلام جنہیں 1979ء میں فزکس ہی میں نوبل انعام سے نوازا گیا، پیدا تو جھنگ میں ہوئے لیکن انہوں نے اسی شہر لاہور میں اپنے علمی اور تحقیقی کاموں کو پروان چڑھایا اور گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہیں پڑھاتے بھی رہے۔ 1983ء میں فزکس میں نوبل انعام پانے والے سبھرامنائن چندرشیکھر بھی یہیں پیدا ہوئے، ان کے والد ریلوے ورکشاپ مغل پورہ میں انجینئر تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور یہیں پڑھاتے بھی رہے۔ لاہور اپنے کئی حوالوں سے جس قدر تاریخ ساز شہر ثابت ہوا ہے، اس کی مثال برصغیر کے کسی دوسرے شہر میں نہیں ملتی۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آج ہم تیسرے نغمے کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ نغمہ 10ستمبر 1965کو ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستانی افواج اپنے جنگی محاذ پر دشمن کو تاریخ ساز شکست دینے کے لئے کوشاں تھیں۔ ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے کچھ فوجی جوان زخمی ہو کر لاہور سی ایم ایچ میں داخل ہوئے ہیں۔ میں،میڈم نورجہاں اور میوزک کمپوزر حسن لطیف فوری طور پر پھول لے کر ان زخمی جوانوں کو ملنے سی ایم ایچ گئے۔ میڈم نورجہاں اور میں نے ان تمام جوانوں کی عیادت کی، پھول پیش کئے۔ میڈم نورجہاں نے وہاں پر ایک اور ملی نغمہ گا کر سنایا تاکہ ان زخمی جوانوں کی ہمت افزائی ہو سکے۔ ایک جوان ایسا تھا جس کی بم لگنے سے ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں دوبارہ محاذ پر جانا چاہتا ہوں۔ میری زندگی اس قوم کی امانت ہے۔ اپنے ملک اور قوم کے لئے جان کی قربانی دینے کے لئے ہم سب ہر وقت تیار ہیں۔ ہم نے دشمن کو کسی صورت آگے نہیں بڑھنے دینا۔ واپس ریڈیو سٹیشن آ کر میں نے صوفی تبسم کو اس واقعے کے متعلق بتایا اور گزارش کی کہ ان جذبات کے لحاظ سے کوئی خوبصورت ترانہ ہونا چاہئے۔ صوفی تبسم نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ استھائی لکھ دی۔


اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
کیہہ لبھ نی ایں وچ بازار کڑے


اس استھائی کو لے کر میں پوری ٹیم کے ساتھ اسٹوڈیو نمبر2چلا گیا۔ اور اس کی دھن راگنی بھیرویں میں موزوں کی۔ راگ بھیرویں تمام کومل سروں کا مجموعہ ہے اور اس کا تاثر دوسرے راگ راگنیوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس شہرہ آفاق نغمے کی بنیادی دھن میں نے ترتیب دی اور اس کے انترے میڈم نورجہاں اور ماسٹر مھنوں نے مل کر بنائے۔ نہایت عمدہ دھن بن گئی۔ تمام دن میں یہ شہرہ آفاق نغمہ لکھا گیا۔ کمپوز ہوا اور شام کے وقت اس کی ریکاڈنگ مکمل ہوئی۔ میڈم نورجہاں نے اس کے بولوں کے مطابق ایسے دل گداز انداز میں اس کو گایا کہ یہ نغمہ امر ہو گیا۔ یقین مانیں جب یہ نغمہ ریکارڈ ہونے کے بعد میں نے میڈم نورجہاں اور صوفی تبسم سے سنا تو ہم سب کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں۔ کہ کس کمال کا نغمہ تخلیق ہوا ہے۔ حالات اور جنگی محاذ کے منظر کو بیان کرنے میں اس نغمے کے ہر بول اور دھن نے دلوں پر بہت مثبت اثر کیا۔ یہ نغمہ نشر ہونے کے بعد ہمیں متعدد ٹیلیفون موصول ہوئے کہ آپ نے کیسا خوبصورت نغمہ پروڈیوس کیا ہے۔ یہ سب ہماری ٹیم کی مشترکہ کوشش تھی کہ ریکارڈنگ کے درمیان صوفی تبسم ہمارے پاس رہے۔ ایک استھائی اور انترہ مکمل ہونے کے بعد نغمے کی شکل نکل آئی۔ ہم نے اس کی تیاری میں کافی وقت لیا۔ جوں جوں صوفی صاحب انترے لکھ کر دیتے ہم ان کو بڑے اچھے انداز میں شامل کرتے جاتے۔ ایک استھائی اور تین انترے تھے۔ ان انتروں کے ہر بول میں وقت کی صورت حال اور ہمارے جوانوں کا جذبہ نمایاں تھا۔ یعنی موت سے نہ ڈرنا اور جذبہ شہادت سے سرشاری، ان بہادر جوانوں کا طرہ امتیاز تھا جیسا کہ اس انترے میں نمایاں ہے۔


ایہہ شیر بہادر غازی نیں۔ ایہہ کسے کولوں وی ہردے نئیں
ایہناں دشمناں کولوں کیہہ ڈرنا۔ ایہہ موت کولوں وی ڈر دے نئیں
ایہہ اپنے دیس دی عزت توں جان اپنی دیندے وار کڑے

دھن بھاگ نے اوہناں مانواں دے جناں مانواں دے ایہہ جائے نئیں
دھن بھاگ نیں بہن بھرانواں دے جناں گودیاں ویر کھڈائے نئیں
ایہہ مان نیں ماناں والیاں دے۔ نئیں ایس دی تینوں کار کڑے

ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے کی لبھ نی ایں وچ بزار کڑے
ایہہ دین اے میرے داتا دی ۔ ناں ایویں ٹکراں مار کڑے

ایہہ پتر وکاؤ چیز نہیں، مل دے کے جھولی پائیے نی
ایہہ ایناں سستا مال نئیں۔ کتوں جا کے منگ لیایئے نی
ایہہ سودا نقد وی نئیں وگدا تو لبھدی پھریں اُدھار کڑے
ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے کی لبھ نی ایں وچہ بزار کڑے


اس نغمے میں شیربہادر جوانوں کے ذکرکے ساتھ ان ماؤں اور بہنوں کا بھی ذکر ہے جن کی گود میں انہوں نے پرورش پائی، یہ شیرجوان ان ماؤں کا مان ہیں۔ صوفی تبسم صاحب نے کمال مہارت سے ترانہ لکھا اور ہم نے اپنی پوری پوری صلاحیت کے ساتھ اس کی دھن بنائی اور میڈم نے بولوں کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمہ گایا۔


میرے اپنے خیال میں میرے تمام پروڈیوس کئے ہوئے نغموں میں یہ سب سے اعلیٰ نغمہ ہے۔ باقی تمام نغمے بھی وقت کی مناسبت سے اچھے ہیں مگر اس نغمے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اسی نغمے کی ریکارڈنگ کے دوران میڈم نورجہاں کے گھر سے ظل ہما کا ٹیلیفون آتا کہ اماں ہوائی حملے کا اعلان ہو رہا ہے۔ فوراً گھر آ جائیں۔ مگر میڈم اور میرا یہی کہنا ہوتا تھا کہ موت جہاں بھی آنی ہے اس کا ایک وقت مقرر ہے‘ ہم اپنا آج کا کام نہیں چھوڑ سکتے۔ باقی زیادہ تر لوگ باہر گراؤنڈ میں کھودی ہوئی خندق میں چلے جاتے اور ہم سب کو آنے کا کہتے۔ مگر میرا اپنی ریکارڈنگ ٹیم کو یہی کہنا تھا کہ ہم میں سے کوئی نہیں جائے گا۔ ریکارڈنگ چلتی رہے گی ہم اپنے کام میں مگن پوری توجہ کے ساتھ ریکارڈنگ کرتے رہتے۔ صوفی صاحب کا یہ مصرعہ ہماری بہت ہمت افزائی کرتا۔


ایہہ شیربہادر غازی نیں ایہہ کسے کولوں وی نیں ہردے نئیں
ایناں دشمناں کولوں کِیہہ ڈرنا ایہہ موت کولوں وی ڈر دے نئیں


پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی خبریں بھی ملتیں مگر ان کی ثابت قدمی اور فتح کے پیغام بھی خبروں میں ملتے رہتے۔ اسی مناسب سے ہم اگلا نغمہ صوفی صاحب سے لکھواتے اور اس کی دھن بنا کر ریکارڈ کرتے اور فوری طور پر نشر کر دیتے۔ ہمیں ہمارے سٹیشن ڈائریکٹر (مرحوم) شمس الدین بٹ کا یہی حکم تھا۔ اﷲ پاک کے فضل و کرم سے کسی دن کوئی ناغہ نہیں کیا۔ ہر روز نیا نغمہ لکھوانا یا منتخب کرنا اور اس کو ریکارڈ کر کے نشر کرنا میری ڈیوٹی میں شامل تھا۔ میں نے دن رات محنت کر کے اس کام کو پوری ذمہ داری سے نبھایا۔ اس کے لئے مجھے کیا کچھ کرنا پڑتا یہ میرا اﷲ ہی جانتا ہے۔


مجھے بہت مشکلات پیش آئیں مگر میں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ اور پوری قوت اور جذبہ ایمانی سے اپنے کام کو پورا کیا۔ میڈم نورجہاں مجھے کہتیں کہ اعظم میاں تم کس قدر محنتی انسان ہو تھکتے نہیں۔ یہ سب اﷲ پاک کی مجھ پر مہربانی تھی کہ میں نے اپنی قوم اور ملک کے لئے انتھک محنت اور کوشش کی یہی وجہ تھی کہ اﷲپاک نے مجھے اپنے کام میں کامیابی عطا فرمائی۔
(جاری ہے)

ڈاکٹر نثار ترابی

اپنے مان اپنے پاکستان کے نام
(۲۳؍ مارچ کے تناظر میں)

سورج چمکے بن کر تیری گلیوں کا بنجارا
تیرا جوگی ہو کر نکلے ‘ شام کا پہلا تارا
تو ہے مان ہمارا
تیری شامیں خوشبو تھامیں ‘ نس نس جوت جگائیں
تیرے نام پہ قریہ قریہ پھیل گیا‘ اجیارا
تو ہے مان ہمارا
تیری دُھن میں رنگ جمائیں ‘ چار سُروں کے پالے
تیری موج میں گاتا جائے ‘ تیرا راوی دھارا
تو ہے مان ہمارا
کیوں نہ تیری آن ہمیں ہو ‘ اپنی جان سے پیاری
ہم نے ڈوب کے دریا دریا تیرا نقش ابھارا
تو ہے مان ہمارا
تیرے خواب سجا کے پلکیں ‘ قوس قزح شرمائیں
تیری مٹی کو چومے تو جگنو بن جائے تارا
تو ہے مان ہمارا
تو آنکھوں میں ٹھہرا سپنا ‘ تجھ پہ نازاں جیون اپنا
تو ہی ناؤ ‘ تو ہی دریا ‘ تو ہی آس کنارا
تو ہے مان ہمارا

*****

 
14
March

تحریر: میجر مظفر احمد

حوالدار (ر) تاج مسیح مارچ 1939کو ضلع بہاولپورکی تحصیل حاصل پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مارٹن پرائمری سکول کرسچین کالونی حاصل پور میں حاصل کی۔ وہ پست قد مگر نہایت ہی چاق چوبند اور پھرتیلے تھے۔ بچپن سے ہی کھیلوں سے رغبت تھی اور سپورٹس میں نام کمانا چاہتے تھے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انہوں نے ہاکی کے کھیل کو چنا اور اُس میں مہارت حاصل کرنا شروع کی۔ انہی اوصاف کی وجہ سے انہوں نے اوائل عمری میں ضلع بہاولپور کی ہاکی ٹیم میں اپنی جگہ بنالی اور ٹیم کے ہر دلعزیز کھلاڑی بن گئے۔
جب انہوں نے جوانی میں قدم رکھا تو پاک فوج میں بطور سینٹری ورکر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں 15جنوری 1957کو پاکستان آرمی کی 3پٹھان رجمنٹ کا حصہ بن گئے (جو بعد میں12ایف ایف رجمنٹ کہلائی)۔

 

22فرنٹیر فورس رجمنٹ جانباز بٹالین جب مشرقی پاکستان جیسور میں تعینات تھی توان کی پوسٹنگ مئی 1970کو اس میں کر دی گئی۔ یونٹ نے جلد ہی ان کی اسپورٹس کی صلاحیتوں کو جانچ لیا اور بھرپور مواقع فراہم کرنا شروع کر دئیے۔ انہوں نے یونٹ کے اعتماد پر پورا اُترتے ہوئے نہ صرف کھیل کو ترجیح دی بلکہ بطور سینٹری ورکر اور دفاعِ وطن کے لئے بحیثیت سپاہی بھی پیش پیش رہے۔ ان جیسے بہادر اور فرض شناسوں کی وجہ سے ہی 22فرنٹئیر فورس رجمنٹ اپنے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سمین جان بابر کی سربراہی میں مکتی باہنیوں کی بغاوت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہی۔مزید برآں جب انڈین لڑاکا طیارے، ٹینک،آرٹلری اور راکٹ بارش کی طرح برس رہے تھے، تب بھی حوالدار تاج مسیح یونٹ کے ساتھ دشمن کے خلاف محاذ پر برسرپیکار رہے۔ یہاں یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ 8دسمبر ( یونٹ بیٹل ڈے) کو جانباز بٹالین نے بینا پول - جگرگاچا روڈ پر

Y

جنکشن جے مقام پر دشمن کی پیش قدمی کو نہ صرف روکا بلکہ اُس کے ٹینکوں اور توپ خانے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مزید برآں 16دسمبر 1971کو دشمن کے آگے ہتھیار نہ ڈالے اور18دسمبر1971کو ہتھیار ناکارہ بنا کر کھلنا دریا میں بہانے کے بعد حکومتی احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے جنگی قیدی بن گئے۔
تذکرہ کتاب
"The Warden of Marches"
(لیفٹیننٹ جنرل (ر) عتیق الرحمن)
حوالدار تاج مسیح مسلسل دو سال تک آگرہ کی جیل میں دشمن کے مظالم اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد 1973کے آخر میں رہا ہو ئے۔

khamoshspihai.jpg
1974میں جانباز بٹالین کی تنظیم نو کے موقع پر وہ دوبارہ ملتان کینٹ میں یونٹ کا حصہ بنے اور یونٹ کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں نئی روح ڈالنی شروع کی۔ انہوں نے 1975میں شب وروز محنت کرتے ہوئے 17ڈویژن کھاریاں کے حصہ کے طور پر یونٹ کو کھیلوں میں رنر اپ کی ٹرافی دلوائی ۔ انہوں نے صحیح معنوں میں مختلف اسٹیشنوں پر یونٹ کے پرچم کو کھیلوں میں بالعموم اور ہاکی میں بالخصوص سرنگوں نہ ہونے دیا۔
ان کی سروس سا ل 1976میں اختتام پذیر ہوئی۔ ان کی خداداد صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اپریل1977میں جانباز بٹالین نے ان کو بحیثیت ہاکی کوچ منتخب کر لیا۔ 19سال تک کوچنگ کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے انہوں نے یونٹ کے عَلم کوکسی بھی ڈویژن میں نیچے نہ آنے دیا ۔انہی خدمات کو سراہتے ہوئے سال 2003کے14ڈویژن اوکاڑہ کے ہاکی مقابلوں کے موقع پر اُس وقت کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل احتشام ضمیر جعفری نے ان کو انعام سے نوازا اور تعریف کی۔


یہ یونٹ کے ساتھ ان کی لگن تھی کہ اپنی بگڑتی ہوئی صحت اور لیفٹیننٹ کرنل ملک محمد انور اقبال سی او جانباز بٹالین کے آرام کے مشورے کے باوجود انہوں نے2004-2006تک آپریشن المیزان میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں یونٹ کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔ ان کی موجودگی سروکئی، وانا، جنڈولا، ٹل، شیوہ اور سپین وام جیسی پر خطر جگہوں پر بھی یونٹ کے جوانوں کے لئے حوصلے کی بلندی کا باعث تھی۔ عمر زیادہ ہونے کے باوجود بھی وہ 2007-2009 تک آپریشن راہِ راست میں یونٹ کے ساتھ ساتھ رہے ۔
سال2010 میں جب ان کی صحت انتہائی خراب ہو گئی اور ان کا جسم بیماری سے لاغر ہو گیا تو یونٹ نے ان کو دوبارہ گھر میں آرام کرنے کا مشورہ دیااور ان کی خدمات کے صلے میں یونٹ نے ان کے بیٹے جمیل مسیح کو بطو ر سینٹری ورکر بھرتی کر لیا۔


اس عظیم، جرأت مند اور محب وطن خاموش سپاہی کا انتقال 20دسمبر 2016 کو ہواانہیں کرسچن کالونی قبرستان حاصل پور میں سپردخاک کر دیا گیا۔حوالدار تاج مسیح کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور پاکستان کے تمام بیٹوں نے بلاامتیاز مذہب، رنگ، نسل اور زبان کے اس کی خدمت اور حفاظت کرنی ہے۔

 
14
March

انٹرویو: صبا زیب

کسی بھی ملک یا علاقے کی ثقافت کو جاننے کے لئے وہاں کے لوگوں کا رہن سہن، زبان اور طور طریقے دیکھنے پڑتے ہیں۔ ملک کی پہچان ثقافت ہوتی ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے اسے فخر کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی ثقافت کا پرچار دنیا کے ہر کونے میں عزت اور وقار کے ساتھ کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب اور ثقافت کو دنیا میں زندہ رکھا۔ یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ثقافت میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے اور یہ تبدیلی اسے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ جب بات ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کی ثقافت کی کریں تو یہ کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہو گا کہ یہاں کی ثقافت اپنے اندر ایک جہاں کو سموئے ہوئے ہے ۔ اس کی وسعت اور زرخیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں 70سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان میں سے کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جو پوری دنیا میں کہیں اور نہیں بولی جاتیں۔ اپنی اس ثقافت کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے ہمارے ملک کے بہت سے لوگ اور ادارے کام کر رہے ہیں انہی میں ایک معتبرنام فوزیہ سعید کا ہے جو آج کل لوک ورثہ میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کام کر رہی ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم نے ان سے ثقافت کے حوالے سے کچھ سوالات کئے ہیں جو یقیناًدلچسپی کا باعث ہوں گے۔
سوال: آپ ثقافت یا کلچر کو کیسے ڈیفائن کریں گی؟
جواب: ثقافت یا کلچر کے دو حصے ہیں۔
Tangible
اور
Intangible Intangible
ثقافت کا وہ حصہ ہے جسے ہم چھو نہیں سکتے۔ مثلاً زبان، رسم و رواج، رہن سہن وغیرہ اور
Tangible
میں لباس شامل ہے جسے ہم چھو سکتے ہیں تو بنیادی طور پر کلچر میں یہی چیزیں شامل ہیں۔

hamryhanapnykachar.jpg
سوال: پاکستانی کلچر کی تعریف کیسے کریں گی؟
جواب: میں یہی کہوں گی کہ صدیوں سے اس دھرتی‘ اس سرزمین پرجو مختلف تہذیبیں آتی رہی ہیں اور مختلف مذاہب آتے رہے ہیں ان کا
Composite
کلچر ہے میں یہ کبھی نہیں کہوں گی کہ ہمارا کلچر 1947میں آیا۔ اس سے پہلے بھی جو اس دھرتی پر آیا سب ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔ اس میں انڈس ویلی ہے گندھارا ہے۔ جو اس سرزمین پر ہوا ہم اس سب کو اون کرتے ہیں کیونکہ اس سب کی جھلک ہمارے کلچر میں ہے۔ ہم پاکستانی ہیں۔ اس سرزمین کا جو ماضی ہے اس سب کے ساتھ ہم پاکستانی ہیں۔ اکثر ہم اپنے کلچر کو صرف عرب مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت محدود تعریف ہے جو کچھ یہاں ہوا وہ سب ہمارے کلچر پر اثرانداز ہوا اور وہ سب ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔
سوال: ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں دیہات زیادہ ہیں۔ ہمارا کلچر بھی دیہی ہے۔ اگر ہم ماڈرن کلچر، جو صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی سے تشکیل پا رہا ہے، کی بات کریں تو آپ اس کے ہمارے دیہی کلچر پر کیااثرات دیکھتی ہیں؟
جواب: بہت زیادہ فرق پڑتا ہے جو بھی آپ کی ویلیوز ہیں وہ تبدیل ہوتی ہیں۔ جب لوگ دیہاتوں سے شہروں کی طرف آتے ہیں تو اس میں اکنامک فیکٹر زیادہ ہوتا ہے اس وقت لوگوں کو لگتا ہے کہ جب تک ہم اچھی اردو نہیں بولیں گے یا اچھی انگریزی نہیں بولیں گے ہمیں اچھی نوکری نہیں ملے گی تب ہم اپنے کلچر سے
Disassociate
کرتے ہیں۔ اپنی زبان سے
Disassociate
کرتے ہیں لباس سے کرتے ہیں اور پھر جب ہمیں ایسی جگہ نوکری ملتی ہے تو وہاں کا ماحول ہمارے کلچر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس وقت اگر ہم انگریزی کو کسی اور کے لہجے میں بولیں گے تو لوگ ہم پر ہنسیں گے تب ہمارے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم انگریزی سمجھیں، بولیں اس طرح ہماری ترجیحات میں انگریزی سب سے پہلے ہے۔ پھر اردو۔۔۔ اور وہ بھی ایک خاص لہجے والی اور پھر ایک لمبے گیپ کے بعد علاقائی زبانوں کی باری آتی ہے۔ ایک زمانہ تھا، ہمارے ہاں شہروں میں بھی بڑے آرام سے کڑھائیاں، سلائیاں ہوتی تھیں۔ سکول کی چھٹیوں میں بچیاں بڑے آرام سے سلائیاں کڑھائیاں کرتی تھیں۔ تحائف بھی اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے دیئے جاتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ ہوا کہ جب آپ نے بازار سے خرید کر کوئی چیز تحفہ دی تو اس کی قدر زیادہ کی جانے لگی بہ نسبت اس کے جو گھر میں ہاتھ سے بنا کر دی جاتی ۔ جیسے پہلے ہم
Potato
پینٹگ سے کارڈز گھروں میں بناتے تھے پھر ان کی قدر بازار کے کارڈز نے ختم کر دی۔ اسی طرح ہمارا کلچر تبدیل ہوتا گیا۔ یہاں یہ بات بہت افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ ہمارے ہاں اپنے کلچر کوبرا کہنا ہی ایک کلچر بن گیا ہے۔ ہم اپنے کلچر کو عزت کے ساتھ اپناتے ہی نہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کلچر کے ساتھ ہماری عزت کم ہو جائے گی۔ جدت پسندی کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ آپ اپنے کلچر کو پیچھے چھوڑ دیں۔
سوال: پاکستانی کلچر کو فروغ دینے کے لئے ہم ماڈرن ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گی کہ کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ بات کبھی نہیں سوچنی چاہئے کہ کلچر جامد ہے۔ مثال کے طورپر آپ اپنے ذہن میں لے کر آئیں کہ ایک بڑے پیڑ کے نیچے ایک چرواہا بانسری بجا رہا ہے۔ اب اس تصویر میں رومانس بہت ہے لیکن فوک کلچر یہ بھی ہے کہ بھرے بازار میں لوگ ہیں اور کسی گھر کی اوپر والی منزل سے ٹوکری نیچے لٹکائی جاتی ہے اور اس میں سامان ڈالا جاتا ہے یہ بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے، یہ حقیقت ہے کہ ہمارا کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے گیت تبدیل ہوتے ہیں۔ ہمارے ہیروز تبدیل ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے کلچر اپنی ثقافت کو تبدیل کرنا ہے۔ اسے ترجیح دینا ہے، جب چیزوں کے بارے میں آگاہی بڑھتی ہے توہم کچھ چیزوں کو اپنے کلچر سے نکال دیتے ہیں۔ اسے میں
Pruning
کا عمل کہتی ہوں۔ جیسے پودوں اور درختوں کی بہتر نشوونما کے لئے ان کی کانٹ چھانٹ ضروری ہوتی ہے اسی طرح اپنے کلچر میں سے بری چیزیں نکالنا اس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ اپنے کلچر کو ہم نے ایسے ہی گروم کرنا ہے۔ ہمیں ایسی چیزوں کو نکالنا ہے جو ہمارے لئے ٹھیک نہیں جو ہمیں کہتی ہیں کہ اس بات پر ماں کو مار دو۔ بہن کو مار دو وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ بدعتیں اور جڑی بوٹیاں ہیں جن کو نکالنا بالکل جائز ہے۔ مجھے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوک ورثہ کاروکاری کو پروموٹ کرنے کے لئے کیا کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے لیکن ہم اسے آگے لے کر نہیں جا سکتے۔ ہماری ہیومن رائٹس کی اتنی معلومات ہو گئی ہیں۔ جس سے ہمیں یہ پتا چل گیا ہے کہ
Discrimination
کیا ہے تو اب ہم ان آلات سے اپنے کلچر کی
Pruning
کرتے ہیں ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے جب آگاہی بڑھتی ہے تو ان Measures
کے مطابق آپ اپنے کلچر کو ٹھیک کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ
Collective
Wisdom سے ہوتا ہے ۔ میرا تعلیم حاصل کرنا مجھے نہیں روکتاکہ میں اپنی ثقافت پر عمل نہ کروں۔ میں ایک پی ایچ ڈی پاکستانی خاتون ہوں اور میں اپنی روایات سے پیار کرتی ہوں۔ بہت سے ینگ لوگوں کولگتا ہے کہ ثقافت کو اپنانا قدامت پسندی ہے اور ان کو لگتا ہے کہ اگر ماڈرن ہونا ہے تو ثقافت کو چھوڑنا ہے لیکن میں کہتی ہوں کہ ثقافت کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے اس کو کھڑکی سے باہر نہیں پھینکنا چاہئے۔ مثال میں دیتی ہوں لباس کی، ایک زمانہ تھا جب ہمارے ہاں غرارے اور شرارے چلتے تھے۔ بہت وزنی زیورات پہنے جاتے تھے لیکن وقت بدلتا گیا۔ اب عورتیں ملازمت کرتی ہیں وہ غرارے شرارے نہیں پہنتیں لیکن ہماری شلوارقمیض میں اتنی گنجائش تھی کہ اس میںآرام سے کام کر سکتے ہیں۔ اپنی ثقافت کو
Transform
کر لیں گے تو یہ ہمیں
Modernization
میں مدد کرے گی۔ دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ جیسے ماضی میں جاپان میں کیمونوز پہنے جاتے تھے لیکن یہ ایسا لباس تھا جو ان کے کام میں مشکل پیدا کرتا تھا۔ اس لباس میں تبدیلی لانے کے بجائے انہوں نے اسے استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا۔ آہستہ آہستہ وہ بہت کم نظر آنے لگا۔ اب آپ جاپان میں بھی وہی یورپی اور امریکن لباس دیکھتے ہیں۔ جب آپ اپنے کلچر کو
Modify
نہیں کریں گے تو پھر ایک بالکل الگ چیز آپ کے معاشرے میں نظرآنے لگے گی۔ اس سے نقصان بہت ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عورتوں کے لباس میں کافی تبدیلی نظر آتی ہے لیکن مردوں کے لباس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور بالکل نئی چیز یعنی وہی مغربی لباس نظر آتا ہے کیونکہ مردوں نے اپنے لباس میں تبدیلی نہیں کی۔

 

hamryhanapnykachar1.jpgسوال: پاکستانی کلچر کے سٹرانگ پوائنٹس کیا ہیں؟
جواب: اگرلوگ اسے اپنا لیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے کلچر میں سب سے مضبوط چیز رشتے ہیں اور پھر جو یہ گروپ
Orientation
ہے یہ مجھے بہت پسند ہے۔ ہم بچپن سے ہی لفظ’ ہم‘ استعمال کرتے ہیں ہم لوگ ’ہم‘ کر کے سوچتے ہیں۔ میں جب لوک ورثہ کی بات کرتی ہوں تو ہم کر کے سوچتی ہوں۔ اپنی فیملی کی بات کرتی ہوں تو ہم کر کے سوچتی ہوں جبکہ بہت سے مغربی ممالک ایسے ہیں جنہیں ہم کر کے سوچنے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ وہ ’میں‘ سے شروع ہوتے ہیں اور ’میں‘ پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ جبکہ ہم لوگ گروپ کی بقاء کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اپنوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکیں۔ اگر ہم اپنے کلچر کا مغربی کلچر سے موازنہ کر کے دیکھیں تو اس میں جو چیز بالکل فرق نظر آئے گی وہ یہی ہے یعنی رشتوں کو نبھانا۔
سوال: آپ نے کہا کہ کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ آپ ہمیں بتائیں کہ ہمیں اپنے کلچر کو کن لائنز پر
Evolve
کرنا چاہئے؟
جواب: سب سے پہلے تو یہ کہ ہمیں اپنے کلچر کی عزت کرنی چاہئے۔ کلچر کو ہم نے ایک ہوّا بنا دیا ہے جتنی بھی بری چیزیں ہیں وہ ہم نے کلچر کے نام لگا دی ہیں اور اچھی چیزیں
Modernization
کے نام کر دی ہیں۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم اپنے کلچر کی مثبت چیزوں کو سامنے لے کر آئیں اور اس کی عزت بڑھائیں۔ عزت کے ساتھ اس میں تبدیلی لے کر آئیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ تبدیلی لانا مشکل ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر پیار اور محبت سے یہ سب کیا جائے تو کچھ بھی مشکل نہیں۔ بہت سی ایسی چیزیں ہمارے کلچر کا حصہ بن چکی ہیں جن کا پہلے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جیسے جیسے آگاہی بڑھتی ہے مہذب معاشرے ویسے ویسے پروان چڑھتے ہیں۔ ہمارے کلچر کے مستقبل کی سمت بھی یہی ہو گی۔ نئی رِیت، نئے رواج ایسے ہی جنم لیتے ہیں جیسے پہلے زمانے میں عورتیں کنویں پر اکٹھی ہوتی تھیں اور آپس میں باتیں شیئر کرتی تھیں وہی کچھ اب فیس بک پر ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جو
Hangout
گروپ بنتے ہیں یہ ویسے ہی ہیں جو کنویں پر ہوتے تھے۔
سوال: ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی بہت عام ہوگئی ہے اپنے معاشرے کو پرامن بنانے کے لئے کلچر کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
جواب: کلچر بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ کلچر لوگوں کے دلوں تک پہنچتاہے۔ جیسے بلھے شاہ، یا بابا فرید کی کافی ہو تو وہ سیدھی دل پر اثر کرتی ہے۔ کلچر میں بہت طاقت ہے یہ دلوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے۔ برصغیر میں اسلام تلوار کے زور پر نہیں آیا تھا بلکہ ان صوفیائے کرام نے پیار اور محبت کا درس دے کر اسلام کو پھیلایا۔ ہم ان جیسے عقلمند نہیں ہیں ہم انہی سے سیکھ سکتے ہیں کہ تبدیلی کیسے لانی ہے۔ اس کے علاوہ تخلیقی اظہار اور ابلاغ
(Creative Expression)
بہت ضروری ہے۔ یہ عسکریت پسند اس سے دور بھاگتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کی اینٹی بائیوٹک ہے یا یوں کہیں کہ ان کی ویکسین ہے میرے خیال سے جوبندہ ساز اٹھاتا ہے وہ ہتھیار نہیں اٹھا سکتا۔ جو
Creative
آدمی ہے وہ جان نہیں لے سکتا۔ یہ بم دھماکے کرنے کے لئے دلوں کو سخت کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے معاشرے میں تخلیقی عمل کو بڑھا کر اسے امن پسند بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی تخلیقی کو دوبارہ حاصل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں کوئی کمیونٹی ایسی نہیں جن کی اپنی زبان نہ ہو، موسیقی نہ ہو، رقص نہ ہو۔ اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ یہ چیزیں نیچرل ہیں تخلیقیہمارے ڈی این اے میں ہے اگر ہم اسے دبائیں گے تو پھر جنگلی جانور ہی بنیں گے اور اگر اسے ابھاریں گے تو انسانیت کی طرف آئیں گے۔
سوال: اکثر انڈین دانشور کہتے ہیں کہ ہمارا کلچر ایک ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ گنگا،جمنا اور دریائے سندھ کی تہذیبوں میں بہت فرق ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
جواب: گئے وقتوں میں کہ ساؤتھ ایشیئن ممالک میں بہت سی چیزیں ایک جیسی ضرور تھیں۔ تاہم اب سب کی اپنی اپنی شناخت ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارا منفی امیج بن ساگیا ہے جبکہ پاکستان کا نام سنتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیں کیونکہ ہم نے دنیا کو اپنا کلچر بندوق والا زیادہ بتایا ہے اور باقی چیزوں پر ہم نے پابندی لگا رکھی ہے۔ ہم میں
Similarities
ہیں لیکن ہم بہت منفردبھی ہیں اپنی اس انفرادیت کو ہم نے ابھی تک استعمال نہیں کیا نہ کبھی ہم نے فخر کے ساتھ اپنی کسی ثقافت کو اپنایا۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ انڈیا ہماری انڈس ویلی کو بھی اپنا کہہ رہا ہے دنیا میں لوگ انڈس ویلی کو پاکستان کے بجائے انڈیا کی وجہ سے پہچان رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم کبھی فخر سے بتاتے ہی نہیں کہ ہم اس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں یہاں تک کہ مہر گڑھ کو نہیں پوچھتے۔ ہمارے نصاب میں وہ شامل ہی نہیں، نہ ہمارے بچوں کو اس کے بارے میں کچھ پتا ہے۔ جب آپ اپنی چیز کی رکھوالی نہیں کرتے تو پھر اسے لوگ ہتھیا لیتے۔ اب انڈیا اور پاکستان کی عورتوں کے مسائل ایک جیسے ہیں لیکن دنیا میں انڈیا کی عورتوں کو بہادر مانا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کی عورت کو مظلوم تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنا
image
ہی ایسا بنایا ہے ۔
سوال: پاکستان کی ثقافت دنیا کی باقی ثقافتوں سے کیسے منفردہے؟
جواب: ہماری ثقافت بہت زرخیز ہے ہماری 70زبانوں میں سے 25 کے قریب ایسی زبانیں ہیں جن میں باقاعدہ ادب موجود ہے۔ اب جیسے میں کہتی ہوں کہ مجھے اپنی ثقافت میں رشتے بہت پسند ہیں۔ رشتے اور بھی بہت جگہوں پر اہم ہیں لیکن ہمارے ہاں ایک الگ انداز ہے۔ جیسے آپ ماں کے رشتے کو لے لیں کہ آپ بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن ماؤں کے ساتھ وابستگی ویسی ہی رہتی ہے۔ یہ بہت منفرد چیز ہے۔ پھر ہمارا میوزک ہے، قوالی ہے، ہماری تربیت ہے۔ ہمارے گلگت بلتستان میں یاک پولو کھیلی جاتی ہے جو اور کہیں نہیں کھیلی جاتی۔
سوال: لوک ورثہ ہمارے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کیا کر رہا ہے؟
جواب: مجھے یہاں آئے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں ہم نے اپنی ترجیحات سیٹ کیں۔ ہماری پہلی ترجیح نوجوان نسل اور بچے ہیں ہم نے انہیں اپنی ثقافت سے روشناس کروانا ہے۔ دوسری ترجیح یہ کہ پہلے
Documentation
اور
Publications
پر زیادہ زور دیا گیا مگر
Dissemination
پرکم زور دیا۔ اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ جو بھی ہم کام کریں گے اس کی پراڈکٹ بنا کر معاشرے میں پھیلانی ہے۔ میڈیا کے ذریعے اسے آگے لے کر جائیں گے تاکہ وہ ہمارے بچوں کے کام آئے اور آنے والی نسل اپنی شناخت زیادہ بہتر طریقے سے کر سکے۔ اس کے علاوہ اب ہم ہر سال سمر کیمپ لگاتے ہیں جس کی
Theme
کوئی بھی قومی یا علاقائی زبان ہوتی ہے۔ پہلے سال ہم نے بلوچی زبان کی
Theme
استعمال کی جس میں بچوں کو بلوچی زبان میں ایک گیت بھی سکھایا گیا۔ اس سمر کیمپ میں ہر قسم کا
Fun
اور
Games
بھی ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ’رباب‘ پر بہت کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ ہماری ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں خیبرپختوخواہ کے لوگوں سے کہتی ہوں کہ تم لوگ چاہے جتنے مرضی ماڈرن ہو جاؤ لیکن رباب بجانا نہ چھوڑنا کیونکہ یہ ہمارے کلچر کا نشان ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دہشت گردی کو توڑتا ہے۔ اس کے بجانے سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے ہم نے لوک ورثہ میں رباب بجانے کا مقابلہ کروایا اور اس مقابلے میں جیتنے والوں میں ایک رکشہ ڈرائیور تھا اور ایک پھل فروش۔
ہم نے لوک ورثہ میں چھوٹے بچوں کاٹیلنٹ ہنٹ کروایا جو بہت کامیاب رہا۔ لوک ورثہ اپنے ہیروز کو پروموٹ کر نے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حبیب جالب، احمد فراز، جون ایلیا ان کے بارے میں ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں۔ پھر ہم
"Dying Instruments"
پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انڈس ویلی کی تہذیب میں ایک ساز ہوتا تھا۔
Brindio
اس کو ہم بنوا رہے ہیں۔ لوک ورثہ میں اب میلوں کا انعقاد بہت زیادہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں میل ملاپ بڑھ رہا ہے۔
سوال: متوازن معاشرے کے لئے مرد اور عورت کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
جواب: اس کے لئے میں یہی کہوں گی کہ ہمیں رِیت اور رواج کوآہستہ آہستہ
Modify
کرنا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں سے عورتوں کے ایسے رول تلاش کرنے ہیں جن میں عورت مضبوط رہی ہو۔ اس میں میں ایک مثال ہیر کی دوں گی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک بہت بہادر خاتون تھی اور اپنے سارے فیصلے خود کرتی تھی۔ وارث شاہ نے ہیر لکھی۔ ہیر کے مزار میں رانجھے کی قبر بھی ہے۔ لیکن لوگ اسے ہیر کا مزار ہی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ میں ایک مومل کا کردار تھا جسے زیادہ تر لوگ صرف ایک طوائف کے طور پر جانتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایک بہت بہادر عورت تھی اس نے اپنے باپ کا بدلہ لیا تھا۔ اس لئے میں کہتی ہوں کہ ہم نے معاشرے میں توازن اپنی ہی جڑوں سے لے کر آنا ہے۔
سوال: آپ کو اپنا مقام حاصل کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: میری کہانی بھی عام عورتوں کی طرح ہے۔ ابتدا میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر میں پابندیاں بھی تھیں۔ پہلی بار جب میں ٹیلی ویژن پر آئی تو اس وقت میں کالج میں پڑھتی تھی۔ اس وقت میری دادی گھر پر ٹیلی ویژن لگانے ہی نہیں دیتی تھیں کہ اگر دادا نے دیکھ لیا تو بہت برا ہو گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آئی۔ مجھے لگتا ہے کہ پیار اور محبت سے اگر ان رشتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے تو سب کام آسان ہو جاتے ہیں آپ کے والدین بھی آپ کے ساتھ ساتھ
Grow
کرتے ہیں۔ میری اپروچ یہ ہے جو کہ میں ہر بچی کو بتاتی ہوں کہ اپنے لئے
Elbow-room
بنائیں۔ اس میں کسی بھی اصول کو توڑا نہیں جاتا بلکہ آہستہ آہستہ اپنے لئے جگہ بنائی جاتی ہے۔

hamryhanapnykachar2.jpg

 
13
March

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

(پاک نیوی)

Together For Peace

 

دنیا میں امن و آشتی کے فروغ اور اقوام عالم کے مابین تعاون اور اعتماد بڑھانے کے لئے پاک بحریہ نے2007 میں ’’امن‘‘ کے نام سے جن کثیرالملکی بحری مشقوں کا سلسلہ شروع کیاتھا’امن17‘ اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔ 2007 کے بعد سے پاک بحریہ ہر دو سال بعدامن مشقوں کا انعقاد کرتی رہی ہے اس برس’امن17‘ میں 37ممالک کی بحری افواج کے نمائندوں اور بحری اثاثوں کی شرکت جہاں پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال کی عکاس ہے وہاں میری ٹائم سیکٹر میں امن کے قیام کے لئے پاک بحریہ کی طرف سے کی جانے والی جہد مسلسل کا ثمر بھی ہے۔ امن2017 کی بحری مشقوں کا انعقاد اور بین الاقوامی بحری افواج کی شرکت بھی اسی اعتماد کا مظہر ہے۔
Together for Peace
کے اصولِ عمل کے ساتھ ان مشقوں کا مقصد یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے دنیا کے مسائل کے بہتر اور قابل عمل حل تلاش کئے جا سکتے ہیں۔
یہ مشقیں ہاربر اور سی فیز
(Harbour & Sea Phase)
پر مشتمل ہوتی ہیں ہاربر فیز کا مقصد باہمی دلچسپی کے امور اور نئے خیالات پر غور و فکر ہے جبکہ سی فیز میں مختلف آپریشنز مشترکہ طور پر کئے جاتے ہیں۔امن مشقیں نہ صرف مختلف ممالک کی بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث ہیں بلکہ باہمی اعتماد میں بہتری کا سبب بھی ہیں۔ ان مشقوں میں شریک تمام ممالک نئے تجربات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اور اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید نکھارتے ہیں۔
یہ مشقیں صرف آپریشنل نوعیت کے معاملات پر مشتمل نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد ایک ایسا ماحول پروان چڑھانا ہے جہاں اقوام عالم کے مابین اعتمادکی فضا قائم ہو۔اسی لئے امن میں شریک ممالک کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں آگہی بھی ان مشقوں کا ایک اہم حصہ ہے۔امن مشقوں کے دوران ہونے والاثقافتی شو شریک ممالک کی ثقافت اور تہذیب کی عکاسی کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کو باہمی اخوت اور محبت کا درس بھی دیتا ہے۔ جس کی بدولت انسانی ہمدردی اور محبت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔امن مشقوں میں شریک بحری افواج کے نمائندے مختلف ممالک کی ثقافت کے رنگ دیکھ کر نہ صرف ان ممالک کے ساتھ ایک نئی وابستگی محسوس کرتے ہیں بلکہ دنیا میں امن کے سفیر کا کردار بھی ادا کرتے