15
December
دسمبر 2017
شمارہ:12 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو درپیش خطرات سے آگاہ ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے اعلیٰ معیار کی تربیت اور آپریشنل تیاریوں سے غافل نہیں رہ سکتے۔ آرمی چیف نے بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کوختم نہیں کر سکتی۔ چیف آف آرمی سٹاف کا....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے نومبر کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان حکومتی سطح پر اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت کے دورے اکثر ہوتے رہتے ہیں لیکن جنرل باجوہ کا یہ دورہ تین وجوہات کی بناء پر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تو یہ کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطوں میں سیاسی حالات تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں....Read full article
 
 alt=
تحریر: عقیل یوسف زئی
افغانستان کے مشرقی شہر اور صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پچھلے دنوں پاکستانی قونصلیٹ کے اسسٹنٹ نیئر اقبال رانا کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے چھ گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ اس سے قبل اسی شہر سے پاکستانی سفارتی عملے کے ایک اور اہلکار کو اغوأ کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں افغان اداروں نے کئی روز کی کوششوں کے نتیجے....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
اقوام کے سامنے بعض اوقات ایسا بھی وقت آتا ہے جب زندگی ان کی ہر دل عزیز چیز کی قربانی مانگ لیتی ہے۔پاک فوج کا تو ہر سپاہی اپنی زندگی اس ملک کو سونپ کر آگے آتا ہے لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کے ننھے سپاہی جوکہ قلم دوات کے ساتھ مستقبل کے خواب سجائے درس گاہ میں تعلیم حاصل کررہے ہوں گے، قوم کے لئے قربانی کا کٹھن مرحلہ ان کے سامنے....Read full article
 
تحریر: یا سر پیر زادہ
ایک عام مسلمان اپنی روز مرہ زندگی میں قرآن کی تلاوت کتنی مرتبہ کرتا ہے ؟ ظاہر ہے اس بات کا اعداد و شمار پر مبنی کوئی حتمی جواب تو نہیں دیا جا سکتا مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایسے مسلمانوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی جو پورے اہتمام کے ساتھ ہر روز قرآن کے ایک رکوع کی تلاوت کرتے ہوں گے ، اس سے بھی کم وہ لوگ ہوں گے جو اردو ترجمے کے ساتھ روزانہ قرآن پڑھتے ہوں گے .....Read full article
 
تحریر : میجر عابد مسعود
انسان کے بچپن کا دور اس کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ ماں باپ کے بعد جو ہستی انسان کی شخصیت کی تراش خراش کرتی ہے اور اسے کامیابی یا ناکامی کے سانچے میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ استاد ہے۔ استاد ایک جوہری کی مانند ہے جو پتھر میں چھپے ہیرے کی تراش خراش کرتا ہے۔ اگر ہم عظیم لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو دریافت کرنے ....Read full article
 
تحریر: بریگیڈیئر فیصل مسعود ریٹائرڈ
پاکستان آرمی میں 32سالہ کمیشنڈ سروس کے دوران مجھے بھی اپنے بیشتر ساتھیوں کی طرح پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف تقریباً دو عشروں پر محیط جنگ کا حصہ بننے اور عزم و یقین سے آراستہ لازوال قربانیوںکے ان گنت ناقابل فراموش واقعات کو قریب سے دیکھنے.....Read full article
 
تحریر: صبا زیب
ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا نام سنتے ہی ویلز کا یخ بستہ موسم، سنگلاخ پہاڑ اور دنیا کے سخت جان فوجی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ انہی فوجیوں میں پاکستانی فوج کے جوان بھی شامل ہیں جو ملک کے اندر تو دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہیں ہی۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک سے باہربھی بین الاقوامی سطح پر دنیا کی بڑی فوجوں کے ساتھ مقابلے میں اپنی ہمت اور دلیری کا سکہ بٹھا....Read full article
 
تحریر : پروفیسر ارشاد حسین شاہ
اس وقت افواج پاکستان ملک کی سلامتی اور بقاء امن کے لئے دہشت گردی اورشدت پسندی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ پاکستانی افواج کے جوان اور افسران جتنی بہادری، دلیری، ولولے، حب الوطنی، حکمت عملی اور کامیابی سے نامساعد حالات میں دشمنان پاکستان کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کی تاریخ میں مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ ہمارے پاس ہمارے جوانوں اور افسران کی ان گنت مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے دشمن کے خلاف....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل میربازخان
سر کچھ ہی دنوں کی ہی بات ہے آپ بھی موجیں کریں گے بس ایک دفعہ آپ کرنیل بن جائیں۔'' سپاہی اقرار کے ان الفاظ کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے، تو دل ٹھنڈی آہیں بھرنا شروع کرتا ہے اور خیالات ماضی کے دریچوں کو کریدنا شروع کر دیتے ہیں جب ایسے ہی الفاظ عسکری زندگی کے ہر موڑ پر سننے کو ملتے....Read full article
 
تحریر: فرخنداقبال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایشیا کے پانچ ممالک(جاپان، چین، جنوبی کوریا، ویت نام اور فلپائن) پر مشتمل 12روزہ طویل دورہ کیا،جس کے دو بڑے مقاصد تھے:(1)شمالی کوریا کے ایٹمی بحران پر قابو پانا(2)خطّے میں امریکی تجارت کا توازن درست کرنا۔لیکن اس دورے کا جائزہ لیتے وقت بہت سے دیگر نکتے بھی ذہن میں آتے ہیں،جن پر ذیل میں مختصراً.....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
پاکستان کو دو لخت ہوئے 46برس بیت گئے۔ وہ بیسویں صدی کا اکہترواں سال تھا اور آج ہم اکیسویں صدی کے سترھویں سال کو وداع کر رہے ہیں۔ علم الاعداد کی روشنی میں اکہتر اور سترہ دونوں کا سنگل عدد آٹھ بنتا ہے۔ گویا تاریخ کا نہیں یہ اقلیدس کا کھیل ہے۔ ہندسوں کی شکست ہے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ چھیالیس برس بیت گئے مگر وہی دن کی گردش وہی رات کی، نہ تب غور ہوا.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
گزشتہ سات دہائیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا تصور پاکستان کیا تھا اور اگر وہ زندہ رہتے تو پاکستان کا آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی نقشہ کن خطوط پر استوار ہوتا۔ جہاں تک قائداعظم کے تصور پاکستان کا تعلق ہے ان نکات پر تقریباً سارے دانشور، لکھاری اور محقق متفق ہیں کہ وہ پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں قانون کی حکمرانی، آئین کی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہمامیر
جب تک ہم یورپ نہیں گئے تھے، بلکہ یوں کہئے جب تک ہم اٹلی کے شہر وینس نہیں گئے تھے ہمیں اندازہ نہیںتھا کہ فلموں میں اور حقیقی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اکثر فلمی گانوں میں وینس میں کشتی میں ہیرو ، ہیروئن بیٹھے رومانوی گیت گا رہے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ وینس کا شہر پانی میں گھرا ہوا ہے، یہاں عمارتیں، ہوٹل سب پانی کے اوپر ہیں اور گاڑیوں کے بجائے لوگ کشتی میں سفر کرتے ہیں....Read full article

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
پوسٹنگ کے ضمن میں اللہ میاں نے ایم ایس برانچ کو خصوصی طور پر فری ہینڈ سے نواز رکھا ہے۔ ہم تو اپنے اور بیشمار ساتھیوں کے تجر بے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افسر کی پوسٹنگ کبھی بھی اس شہر میں نہیں آتی جس کے لئے دل و جان سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ افسر کو چارو ناچار اسی پوسٹنگ پر آمنا و صدّقنا کہنا ہوتا ہے جو اس کے اور فیملی سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ بقول غالب پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے........Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرحمیرا شہباز
یہ کیسے پیغامات اور تصاویر ہیں میرے موبائل میں؟؟؟ دورانِ سفر اپنے موبائل کی گیلری کو جنبشِ انگشت سے ٹٹولتے ہوئے میں نے سوچا۔ ایران کو تسلیت کے یہ پیغام کس نے بھیجے ہیں؟ کیا ہوا ہے ایران کو؟ ان دو دن پرانے پیغامات کی کھوج میں میں نے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کے گروپس کی دو روز پرانی گفتگو کو تیزی سے دیکھا۔اوہ!!! ایران میں زلزلہ! اور وہ بھی کرمانشاہ میں۔ مزید پیغامات پڑھتی گئی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
انسانی جسم ایک ایسی مشین کی مانند ہے جس کی بہتر کارکردگی کے لئے اس کا حرکت میں رہنا بے حد ضروری ہے۔ غیر فعال طرززندگی گزارنے والے افراد مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں تقریباً 150 منٹ کے لئے اعتدال کے ساتھ جسمانی ورزش کرنی چاہئے۔ ورزش کا بنیادی مقصد چاق چوبندرہنا اور ذہنی تنائو.....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔.....Read full article
 
تحریر: صائمہ بتول
سائبر کرائم یا کمپیوٹر کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پورے نیٹ ورک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، جس میںملزم، مدعی، مجرم اور ہدف بھی کمپیوٹر ہوتا ہے۔ سائبر کرائم ایسے مجرمانہ فعل کے ارتکاب کو کہا جاتا ہے جس کا ہدف فردِ واحد، ایک تنظیم، گروپ، کمپنی اور ملک ہو سکتا ہے جسے باقاعدہ طے شدہ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بناکر ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی.....Read full article
 
تحریر: اسلم کمال
جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں، وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فنون لطیفہ بھی جنگوں کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ زندہ قوموں کے زندہ دل اور بہادر لوگ جنگوں کے دوران فنون لطیفہ کے ذریعے اپنے جذبوں کا اظہار.....Read full article
 
تحریر: محمد طارق علی
غلامی سے چھٹکارا پا کر آزادی کا نعرہ لگانے کی پاداش میں بوسنیا کے مسلمانوں کو جو قیمت چکانا پڑی، اس کی تفصیلات اتنی شرم ناک اور غم ناک ہیں کہ انسانیت اسے ابھی بھول نہیں پائی۔ بوسنیا کو آزاد ہوئے پچیس برس بیت چکے لیکن آج کا بوسنیائی ادب اس خوں چکاں آزادی کی دردناک چیخیں اور لہو رنگ خراشیں ابھی تک سنبھالے ہوئے ....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
منفرد لہجے اور من موہنی شخصیت کے رومانوی شاعر منیر نیازی کا ذکر کرنے کے لئے مجھے خاصا پیچھے جانا پڑے گا۔ پچاس کی دہائی میں فراق، جوش، فیض اور جگر کے بعد جو نئی نمائندہ شاعروں کی فصل سامنے آئی اُن میں حبیب جالب، منیر نیازی، احمد فراز، احمد مشتاق، مصطفیٰ زیدی، ناصر کاظمی، ظہیر کاشمیری اور پھر ذرا بعد میں ظفر اقبال، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور افتخار عارف تک آتے آتے....Read full article
15
December

yaromerayar.jpg

لیفٹیننٹ ارسلان ستی شہید کے والد خالقِ حقیقی سے جاملے
دکھ کی کوئی زبان ہوتی تو دُکھ بھی رو دیتا۔ واقعہ ہی عجیب ہے، سانحہ بھی عظیم ہے۔ خدا کی عظمت، مصلحت اور محبت کے سوا کوئی توجیہہ بھی نہیں ہے۔ بیٹے کی وطن سے محبت۔باپ کی بیٹے سے محبت۔ لیفٹیننٹ ارسلان شہید، اپنے والد کا اکلوتا بیٹا 23ستمبر 2017 کو وادیٔ راجگال میں ملک دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان نثار کرگیا۔ وطن کی مٹی میں دفن ہوگیا۔ بوڑھے باپ نے جوان بیٹے کی پرچم میں لپٹی لاش مسکراتے ہوئے وصول کی۔ غم میں ڈوبی یہ مسکراہٹ شہید کی عظمت کے احترام میں تھی۔ کہ شہید مٹی سے آنسو مٹانے کے لئے جانیں قربان کرتے ہیں تو پھر رونا کیسا! روح کے گہرے گھائو کہاں مٹتے ہیں۔ دل کی لگی تو جان لے کے چین لیتی ہے۔ سنو دل جیت گیا، محبت جیت گئی۔ ٹھیک 67دنوں کے بعد بوڑھا باپ دل کے ہاتھوں جان ہار کر اپنے بیٹے ارسلان کے ساتھ قبر میں جا سویا۔محبت،مٹی اور خون یکجاں ہو گئے۔

سب لے گیا وہ آنکھ کا پانی
ہر آنسو اب یاد وہ آئے
وہ مجھ میں سیدھا چلتا تھا
اب چلتا ہوں کمر جھکائے
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس بات کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
جس مٹی کے ساتھ وہ کھیلا
اس مٹی کو دے آیا ہوں
قرض چکا کر خون سے اپنے
سارے خواب بچا لایا وہ
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس باپ کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
جن کے ایسے بیٹے ہوں وہ کر کے سر اونچا چلتے ہیں
پھول ضروری تھے کچھ جانے
تب جا کے گلشن کھلتے ہیں
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس باپ کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
اویارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،

12
December

تحریر: مجاہد بریلوی

منفرد لہجے اور من موہنی شخصیت کے رومانوی شاعر منیر نیازی کا ذکر کرنے کے لئے مجھے خاصا پیچھے جانا پڑے گا۔ پچاس کی دہائی میں فراق، جوش، فیض اور جگر کے بعد جو نئی نمائندہ شاعروں کی فصل سامنے آئی اُن میں حبیب جالب، منیر نیازی، احمد فراز، احمد مشتاق، مصطفیٰ زیدی، ناصر کاظمی، ظہیر کاشمیری اور پھر ذرا بعد میں ظفر اقبال، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور افتخار عارف تک آتے آتے معذرت کے ساتھ چند اہم نام ذہن پر زور ڈالنے پر بھی یاد نہیں آ رہے۔ ان تمام محترم و مکرم شعراء میں ہمارا زیادہ تعلق شاعرِ عوام حبیب جالب سے تھا اور اُس کا اولین سبب نظریاتی تھا مگر بعد میں اُس پر ذاتی تعلق اس حد تک غالب آگیا کہ جو اُن کی زندگی کے آخری دنوں تک رہا۔ آشنائی تو خیر احمد فراز اور منیر نیازی سے بھی تھی مگر جیسا کہ پہلے کہا اس میں اتنی قربت اور گرمجوشی نہ تھی۔ ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ جب 1981 میں پریس کلب کے پہلے جوائنٹ سیکریٹری اور اگلے تین سال سیکریٹری رہے تو سال میں کم از کم دو' تین مشاعرے ضرور کروانے ہوتے۔ اب ایک ''جالب صاحب'' سے تو مشاعرہ ہو نہیں سکتا تھا۔ غالباً مارچ 1981 کے لگ بھگ کی بات ہو گی، جالب صاحب جیل میں تھے۔ باقی شعراء کو تو راضی کر لیا مگر منیر نیازی نے لاہور کے کافی ہائوس میں کھڑے ہو کر اپنے غصیلے لہجے میں کہا ''اوئے تو تو ''جالب'' کے علاوہ کسی کو شاعر نہیں مانتا، اب میرے بغیر کراچی میں مشاعرہ کر کے دکھا''۔ ساتھ میں کھڑے ہمارے دوست شاعر یوسف کامران ہماری مدد کو آئے اور سمجھانے کے انداز میں منیر نیازی سے کہا ''یہ لاہور اور کافی ہائوس کی روایت نہیں۔۔ ابھی یہ نوجوان ہے کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ کی عظمت کا اسیر ہو جائے گا''۔ اس پر منیر نیازی کے سُرخ تپتے چہرے پر روایتی مسکراہٹ بکھرنے لگی۔ گلے لگایا اور یوسف کامران کی ڈیوٹی لگائی کہ ''شامیں ایہنوں نال بٹھانا اے''۔ منیر نیازی کراچی آئے۔ مشاعرے سے پہلے جو پریس کلب کے کمیٹی روم میں محفل جمی تو پھر جنہیں منیر نیازی کی محفلوں میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ ''اُن کے سامنے کسی اور کا چراغ نہیں جلتا''۔ منیر نیازی جاہ و جمال کا خوبصورت پیکر تھے۔ ہما شما تو کیا مرزا غالب کو بھی شاعر نہیں مانتے تھے۔ ٹیلی وژن کے ایک انٹرویو میں منیر احمد شیخ نے منیر نیازی سے کہا کہ ''منّو بھائی کا کہنا ہے کہ اگر منیر نیازی کے سامنے مرزا غالب کی شاعری کی بھی تعریف کر دی جائے تو وہ بُرا مانتے ہیں''۔ منیر نیازی نے فرمایا ''وہ صحیح کہتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو خبیث روحوں سے بچانے کے لئے اپنی ذات کے گرد خود پسندی کی فصیلیں کھڑی کر رکھی ہیں''۔ منّو بھائی منیر نیازی کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ ایک روز بڑی سنجیدگی سے منیر نیازی نے پوچھا ''یہ بات کس حد تک درست ہے کہ پاکستان کا خواب علامہّ اقبال نے دیکھا تھا؟'' عرض کیا کہ ''میں نے بھی یہی سُنا ہے''۔ کہنے لگے ''اگر یہ صحیح ہے تو کل سے اس ملک کا سارا نظام مجھے سنبھالنا پڑے گا کیونکہ ایک شاعر کے خواب کو کوئی دوسرا شاعر ہی پورا کر سکتا ہے''۔ جن شعرائِ کرام سے ہمارا قریبی تعلق اور شب و روز کی تفصیلی صحبتیں رہیں اُن میں بیشتر کو دیکھا کہ عمر کے پچاس کے پیٹے تک قابلِ برداشت ہوتے مگر ساٹھ یعنی سٹھیانے کی عمر کو پہنچنے کے بعد اُن کے ساتھ وضع داری کے باوجود ایک گھنٹہ گزارنا مشکل ہو جاتا۔ جہاں تک منیر نیازی کا تعلق تھا کہ جنہیں اُن کے قریبی احباب ''خان صاحب'' کہتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بزلہ سنج اور گریس فُل ہوتے گئے۔ بلکہ اُن کی شاعری کا سفر بھی آگے بڑھتا گیا۔ فیض صاحب جب لینن پیس پرائز لے کر واپس لوٹے تو لاہور کے ادیبوں، شاعروں کی ایک بڑی تعداد اُن کے استقبال کے لئے ریلوے اسٹیشن پر موجود تھی جن میں منیر نیازی بھی تھے۔ اُن کے ایک قریبی رفیق اطہر ندیم نے ان کے بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قدرے افسوس سے کہا ''خان صاحب! آپ کے تقریباً سارے بال سفید ہو گئے ہیں''۔ جس پر خان صاحب نے اپنے کرارے لہجے میں کہا کہ ''ہاں کچھ خواتین کا خیال ہے کہ میں پہلے سے زیادہ گریس فُل ہو گیا ہوں''۔ مگر چند دن بعد ہی یہی سوال پاک ٹی ہائوس کے باہر کسی اور شخص نے کیا تو خان صاحب تقریباً برس پڑے اور کہا ''تم مجھے ایک نا پُختہ، لااُبالی لڑکے کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہو؟ تم مجھ میں میچورٹی نہیں دیکھنا چاہتے؟'' سوال کرنے والا سہم کر رہ گیا۔ منیر نیازی کی ذاتی باتوں کے حوالے سے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جسے بیان کرتے ہوئے میں اُن کی شاعری کو تو پیچھے ہی چھوڑ آیا۔ ہئے ہئے کیا غزل۔۔ کیا نظم۔۔
میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عمر میری تھی مگر اُس کو بسر اُس نے کیا
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اُس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا
khansab.jpgچاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو
منیر نیازی محفلوں کے نہیں مشاعروں کے شاعر تھے۔ اپنے اشعار سُناتے ہوئے ایک عجیب وارفتگی اُن پر چھا جاتی۔ خان صاحب کی ایک خامی جو بعد میں خوبی بن گئی کہ اُنہیں اشعار خود یاد نہیں رہتے یا پھر وہ شعر بھولنے کی عادت اُن کا ایک ایسا تُرپ کا پتہ بن گئی کہ جس سے وہ مشاعرہ لوٹ لیتے۔ اب اِدھر منیر نیازی اُٹھ کر ایک خاص ادا سے مائیک کے سامنے آئے۔۔ خاموشی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔۔ فرمائشی آوازیں لگ رہی ہیں اور خان صاحب ہیں کہ توڑ توڑ کر ایک ایک مصرعہ پڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر اِس نظم کے بغیر تو اُنہیں اُٹھنے ہی نہیں دیا جاتا کہ جسے منیر نیازی نہیں سامعین کورس کی صورت میں پڑھا کرتے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کیا نظم ہے اُس پر منیر نیازی کا ایک ایک مصرعہ کے ایک ایک لفظ کو اٹک اٹک کر پڑھنا:۔
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو
اُسے آواز دینی ہو، اُسے واپس بُلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اُس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ، اُس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

مرزا غالب سے لے کر منیر نیازی تک، ساری زندگی اُن کا سب سے بڑا مسئلہ روزی روزگار ہی رہا۔ مرزا کو انگریز سرکار سے وظیفہ تو ملتا تھا مگر اس کے لئے کیسے کیسے انہوں نے مصائب اُٹھائے۔ ایک بار جب یہ وظیفہ مہینوں بند رہا تو اس کے لئے کلکتہ میں مہینوں پڑے رہے۔ اپنی وظیفہ خواری پر مرزا نے کیا مضمون باندھا ہے۔
غالب وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
منیر نیازی نے بھی کبھی کوئی باقاعدہ نوکری نہیں کی۔ واحد ذریعہِ آمدنی مشاعرے ہی تھے۔ پاکستانی فلموں کا یہ اچھا دور تھا۔ قتیل شفائی، حبیب جالب، احمد راہی اور منیر نیازی کی نظمیں، غزلیں معقول معاوضے میں لی جاتیں جس سے بہرحال وقتی طور پر انہیں خوشحالی میسر آتی۔ فلم شہید کا گیت
اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
تو آج بھی مقبولِ عام گیت ہے۔ چلتے چلتے منیر نیازی کی سادگی اور معصومیت کا ایک واقعہ سُن لیں۔ 60 کی دہائی میں نیا نیا ٹی وی آیا تھا۔ اُن دنوں خاص طور پر لاہور میں انڈین ٹی وی ''دور درشن'' بڑے شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک دن ہمارے بھولے بھالے منیر نیازی نے دوستوں کو شام کو دعوت دی کہ آج پنجابی کی مشہور شاعرہ، پنجابی شعراء پر ایک پروگرام کر رہی ہیں۔ منیر نیازی بہرحال اردو کے ساتھ پنجابی کے بھی مستند شاعر تھے۔ شام کو صحن میں چھڑکائو ہوا۔ میز پر ٹی وی سیٹ رکھا گیا ساتھ میں دیگر لوازمات کا بھی اہتمام تھا۔ امرتا پریتم پنجابی کی بڑی شاعرہ تو تھیں ہی مگر خوبصورتی میں بھی کم نہ تھیں۔ بلھّے شاہ سے پروگرام شروع ہوا۔ منیر نیازی ساتھ بیٹھے دوستوں سے کہنے لگے ''کیا خوبصورت شاعرہ ہے''۔ بلھّے شاہ کے بعد وارث شاہ کا ذکر آیا حتیٰ کہ اُستاد دامن اور احمد راہی تک کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ امرتا جی نے کہا ''یوں تو اور بھی پنجابی کے پاکستان میں قابلِ ذکر شاعر ہیں مگر پروگرام میں اتنا وقت نہیں کہ اُن کا ذکر کیا جائے''۔ اس پر خان صاحب نے انتہائی غصے سے گلاس دیوار پر مارتے ہوئے کہا ''اوئے کتنی بد صورت عورت ہے''۔
خان صاحب آپ جیسے شاعر جب اسّی کی پیڑھی میں بھی جائیں تو لگتا یہی ہے کہ ''آپ جلدی چلے گئے'' کہ آپ کے بعد ''آپ جیسا'' کوئی دوسرا نہ آیا اور شاید آئے گا بھی نہیں کہ شاعر تو ہیں مگر اُن کے نام تو انگلیوں پر ہی آتے ہیں۔ میر، غالب، اقبال، فیض، فراق، جوش، جالب اور منیر نیازی۔

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ککھ چوریہ کہانی ہم سب کی ہے

attaulhaq.jpg

گزشتہ روز ہم دونوں دوست آوارہ گردی کے موڈ میں تھے۔ سارا دن بلامقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے رہے۔ میرا یہ دوست مال و منال، شہرت اور معاشرے میں اعلیٰ مقام کے باوجود ابھی تک عوامی مزاج کا حامل ہے چنانچہ آوارہ گردی کے لئے ہم نے لکشمی چوک میں جا کر چانپیں کھائیں، کشمیری چائے پی اور پھر گاڑی ایک طرف پارک کرکے پیدل چل پڑے۔ اس روز ہمیں پیدل چلنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ شاید اس لئے کہ بہت عرصے بعد اس کا موقع ملا تھا۔ لکشمی چوک میں بے پناہ رونق تھی۔ مالشئے، تماش بین، کھابہ گیر، فقیر، نشئی، بے فکرے ہر قسم کے لوگ ریکارڈنگ کے شور شرابے میں اپنے اپنے دھیان میں مگن تھے۔ میں اورمیرا دوست مالٹوں کی ایک ریڑھی کے پاس رک گئے۔
کیا خیال ہے مالٹے نہ کھائے جائیں؟
نیکی اور پوچھ پوچھ میں نے کہا اور پھر ہم دونوںں مالٹوں پر پل پڑے۔ ریڑھی والا مالٹے چھیل چھیل کر اور کاٹ کاٹ کر پلیٹ میں رکھتا چلاجاتا تھا اور ہم کھاتے چلے جاتے تھے۔ ہم اس روز عجیب طرح کی جنونی کیفیت میں مبتلا تھے بالآخر ہم نے ہاتھ کھینچ لئے۔ میں مالٹے گنتا جارہا تھا ہم نے بیس مالٹے کھائے تھے!
میرے دوست نے ریڑھی والے سے پوچھا: کتنے پیسے؟
ریڑھی والے نے کہا: کتنے مالٹے بنے؟
میرے دوست نے ایک لمحے کے توقف کے بعد جواب دیا: بارہ
ریڑھی والے کے چہرے پرشک کی ایک لکیر سی پھیلی لیکن اس نے بغیر کسی تکرار کے بارہ مالٹوں کے پیسے وصول کئے اوراپنی ریڑھی پر بچھی بوری کے نیچے رکھ دیئے۔
میں نے اپنے دوست کی طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھا مگر اس نے آنکھیں جھکادیں۔ ہم دونوں خاموشی سے کار تک آئے۔ رستے میں ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی۔ بس دونوں ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے رہے!
یہ میرے دوست کی کہانی ہے۔ یہ میری کہانی ہے۔ یہ آپ سب کی کہانی ہے اورشاید ہر بشر کی کہانی ہے کبھی وہ لکھ کی چوری نہیں کرتا اور کبھی ککھ کی چوری پر راغب ہوجاتا ہے۔ انسان کو اپنی پارسائی پر غرور نہیں کرناچاہئے بلکہ ہر لمحہ شیطان الرجیم کے حملوں سے پناہ مانگتے رہنا چاہئے۔۔
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
(عطا الحق قاسمی کی ایک تحریر سے اقتباس)

*****

 
12
December

تحریر: محمد طارق علی

غلامی سے چھٹکارا پا کر آزادی کا نعرہ لگانے کی پاداش میں بوسنیا کے مسلمانوں کو جو قیمت چکانا پڑی، اس کی تفصیلات اتنی شرم ناک اور غم ناک ہیں کہ انسانیت اسے ابھی بھول نہیں پائی۔ بوسنیا کو آزاد ہوئے پچیس برس بیت چکے لیکن آج کا بوسنیائی ادب اس خوں چکاں آزادی کی دردناک چیخیں اور لہو رنگ خراشیں ابھی تک سنبھالے ہوئے ہے۔
بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام قریباً چار سال (1992-95)جاری رہا۔ خون کی ندیاں بہہ گئیں، عصمتیں لُٹیں، گھربار جلے لیکن وہ اپنے نعرۂ آزادی پر ڈٹے رہے۔ اس خوں ریز دور سے اکیس برس قبل ایک شاعر ''میک دِزدار'' ،جسے آج کے بوسنیا کا ''قومی شاعر'' ہونے کا اعزاز حاصل ہے، نے اپنے غلام وطن کی آزادی کے گیت گائے تھے، اسے اپنے وطن اور ہم وطنوں سے بے حد پیار تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ (بوسنیائی) بھی ایک زندہ قوم کی طرح سر اٹھا کر جیئیں۔


میک دِزدار نے اپنی درد بداماں شاعری مادر وطن کی آزادی سے کوئی تقریباً اکیس برس پہلے کی تھی۔ وہ حساس تھا، وطن کی آزادی اس کے قلب و روح کا حصہ تھی۔ وہ خاموش قوم کی لُٹی عزت کو دیکھتا اور گہرا درد دل میں چھپائے پھرتا رہتا لیکن پھر آخر ایک دن گرمٔ جذبات اس کے قلم سے ٹپک پڑی۔ وہ جانتا تھا کہ دن ضرور بدلیں گے۔ اس نے وطن کی ہوائوں کے بدلتے رخ کو محسوس کر لیا تھا اور اس کی سرسراہٹوں میں اسے آزادی کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں سنائی دینے لگی تھی۔ لیکن آزادی کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا، اس کے لئے وہ چاہتا تھا کہ پہلے اس کی خوابیدہ قوم غفلت چھوڑے اور اس کی کرب بھری پکار کو سنے۔ اس کی شہرہ آفاق تصنیف
STONE SLEEPERS
پتھروں میں سوئی آوازیں سب سے پہلے 1966 میں شائع ہوئی۔ بعدمیں نظر ثانی کر کے اس نے اس میں کافی تبدیلیاں کیں لیکن پھر اس کی عمر نے وفا نہ کی اور وہ1971میں چل بسا۔ نظرثانی شدہ کتاب اس کی وفات کے دو سال بعد یعنی 1973 میں مُنَصَّۂ شہود پر آئی۔ کچھ عرصہ بعد اسی ایڈیشن کاا سی عنوان سے انگریزی میں ترجمہ شائع ہوا۔ اس ترجمے کو ڈاکٹر محمد حامد نے ''پتھروں میں سوئی آوازیں'' کے عنوان سے اردو زبان کے قالب میں بہت خوبصورتی سے ڈھالا۔ وہ خود بھی ایک عمدہ شاعر ہیں اور ادبی جرائد میں اُن کی نگارشات چھپتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میک دزدار کی اثر انگیز شاعری کا ترجمہ کرتے ہوئے مجھے اکثر یوں محسوس ہوا کہ گویا میں خود یہ اشعار لکھ رہا ہوں۔ ان کی مذکورہ کتاب نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد نے شائع کی ہے۔

patronmainsoiawazain.jpg
میک دزدار نے پُرسوز شعروں میں بین السطور جو پیغام چھپا رکھا تھا قوم نے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اسے پا لیا۔ اس کا پیغام تھاکہ آزاد وطن سے بڑی نعمت اور کچھ نہیں۔ ملک چاہے غریب ہو یا کم زرخیز، قوم کے لئے بہرحال باعث فخر ہوتاہے۔


بوسنیا کی سرزمین انہی دنوں پاکستانیوں کے دلوں میں بھی آ سمائی تھی جب وہاں کے مسلمان اپنی آزادی کی جنگ میں دشمنوں سے نبرد آزما تھے اور پورا بوسنیا آگ اور خون میں لت پت تھا۔ دشمن قوتیں اُنہیں اُن کے پیدائشی حق سے محروم کرنے پر تُلی ہوئی تھیں۔ یہ جنگ بڑی شدید تھی۔ مسلمان تقریباً نہتے اور غیرتربیت یافتہ تھے لیکن شمعِ آزادی کی لَو اُن کے دِلوں میں کسی طرح بھی کم نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کسی سرزمین کو سمجھنا ہو تو پہلے وہاںکے باسیوں اور اُن سے بھی زیادہ وہاں کے مفکروں اور لکھاریوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے کہ یہ اپنی قوم کے شعور و دانش اور تہذیب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ کسی قوم میں آزادی کا جذبہ اہلِ قلم ہی ابھارتے ہیں اور جب ہم نے بوسنیائی لوگوں کے دامنِ علم و دانش کو دیکھا تو وہ خالی ہر گز نہ تھا۔ میک دزدار ایسا دانش مند شاعر جو بعد میں ان کا قومی شاعر کہلایا، اُن کے ہاں موجود تھا۔ اس نے ہلکے ہلکے ملال بھرے انداز میں شاعری کی، جو کچھ کہا بین السطور کہا تاکہ لوگ اسے پڑھ کر تفکر کریں۔ پھر قلب میں بسا کر خود آگاہی حاصل کریں کہ آزادی کی روشنی کی تلاش اسی طرح ممکن ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اپنی پہچان کے بغیر بوسنیائی مسلم قوم حصول آزادی کے لئے خون کے دریا سے گزر کر منزل تک جا نہیں پائے گی۔


بے شک میک دزدار کے ترسیدہ تر سیدہ سے مصرعوں میں آنے والے وقت کی تصویریںدھندلی ہیں لیکن اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قومی شاعری تفصیلی مستقبل نامہ نہیں ہوتی۔ اس کی شاعری ایسی شاعری تھی جو ایک دردمند دل سے نکل کر قوم کے دھڑکتے دل میں جا سمائی تھی۔ اس کا پیغام واضح تھا ،دل نشیں تھا اور اَنمٹ تھا۔ اس نے سرگوشی کے سے انداز میں یوں کہا تھا۔


''شہ سوارو ں کا سردار بن کے
شمالی پہاڑوں سے نیچے اتر کے
مرے شہر کو ایسے تاراج کر کے
کہو گے کہ مَیں نے اُسے
ڈھیر ملبے کا کرکے
سبھی بدعقیدہ سے لوگوں کا سر توڑ ڈالا ہے
تمہیں جان کر سخت حیرت سی ہو گی
کہ مَیں شہر میں سر اُٹھا کر
ابھی پھر رہا ہوں
تم مرے گھر کو مسمار کر دو
یہ گر جائے گا
اور تم گالیاں دو گے
اور یہ کہو گے کہ میں اس گھروندے کے ہر شخص کو مار ڈالوں گا
پھر بھی میں اس سرزمین پر
وہی خواب تکتا رہوں گا
تم میرے سارے چشموں کو زہریلا کر دو گے
اور تم ہنسو گے
کہ تم نے مجھے موت کے گھاٹ اتارا
مرے انگور کے باغ کو چاہے جڑ سے اکھاڑو
کہ میں نرم سایوں سے محروم ہو جائوں
اور قحط سالی ہمارے گھروں پر مسلط ہو
چاہے جیسے بھی ہو
میں حقائق کا اظہار کرتا رہوں گا
تمھیں کیا خبر باغباں اور گلشن کا
رشتہ ہے کیا؟''
صاف ظاہر ہے کہ میک دزدار نے ''باغ'' اور ''گلشن'' کے الفاظ کااستعمال استعاروں کے طور پر کیا ہے۔ یقینا اس نے یہ اشعار قوم کے رُو بہ رُو ہو کر دشمن سے مخاطب ہو کر کہے۔ آگے چل کر اُس نے قدرے کھل کر دشمن کو للکارا اور کہا کہ میں کم زور سہی پھر بھی مجھے مٹانا آسان نہیں۔ لفظ ''مَیں''کے ذریعے اُس نے پوری قوم کو گواہ بنا کر اپنے ایک مصمم ارادے کا اظہار کیا۔
''مجھے اس سرزمین پر بہت کم ٹھہرنا ہے
پھر بھی مجھے ختم کرنا کچھ آساں نہیں ہے
پَر یاد رکھنا کہ میں
دار پر بھی یوں مسکرائوں گا
جیسے کہ میں بزم ِ یاراں میں ہوں
آہنی عزم کے ساتھ میں
دار کو چومتا
موت کی وادیوں میں اتر جائوں گا
مرا جسم تو ایک لمحے کا گھر تھا
اس پہ قبضہ تمھارا ہوا ہے
مگر جسم تو بندی خانہ تھا
تمہیں کیا بتائوں کہ
تمہیں میرے تیروں کی
ڈھالوں کی، شمشیروں کی
کچھ خبر ہی نہیں
تمھیں کب یہ معلوم ہے
کہ یہ فولاد میرا بہت تیز ہے
مجھے یہ خبر ہے کہ اک روز تم آئو گے
تم نے اپنی صلیبوں کے آگے قسم کھائی ہے آگ سے ایسے کھیلو گے کہ
میرا نشاں تک نہ باقی رہے گا
چلو آ رہو
مَیں تمہاری غارت گری اور مصائب
کو سہنے کو تیار ہوں۔''


قومی شاعری میں کسی بھی غلام قوم کی آزادی کا کوئی لگا بندھا ضابطہ کار تو نہیں ہوتا لیکن جذبات میں گھلے ملے الفاظ میک دزدار کے قلم سے نکلتے اور قوم کے دل کو گرماتے رہے۔ وہ کبھی غافل نہ بیٹھا۔ نابغہ شخص تھا، الفاظ اور خیالات کی فراوانی تھی۔ وہ وقتاً فوقتاًقوم کو جھنجھوڑتا او ربتاتا کہ وقت کم ہے اور کام زیادہ۔ اس نے جہاں بوسنیا کے اُجڑے ماضی کے ساتھ ساتھ موت کے رقص کا ذکر کیا، وہیں وطن کے گیت اور ترانے بھی پیش کئے لیکن دھیمے انداز میں اس لئے کہ جن دنوں وہ سر ہتھیلی پر رکھ کر اپنی سلگتی شاعری کو کاغذ پر بکھیر کر خوابیدہ مسلم قوم کو جگانے کی کوشش کر رہا تھا، انہی دنوں کمیونسٹ یوگوسلاویہ اپنی وفاقی ریاستوں بشمول بوسنیا اچھی خاصی آب و تاب کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود تھا۔ میک دزدار نہیں چاہتا تھا کہ اس کی طلبِ آزادی والی شاعری کی گونج حکومتی ایوانوں تک جا پہنچے۔


میک دزدار کا اصل نام محمد علی ہے۔ وہ 1917میں پیدا ہوا۔ یوں اس نے اپنا بچپن، لڑکپن پہلی جنگ عظیم اور اس کے مابعد اثرات کے زیرسایہ گزارا۔ جب یورپ میں دوسری جنگ عظیم (1939-45) لڑی گئی تو وہ اس وقت ایک باشعور نوجوان تھا۔ وہ قلم کی طاقت کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے فاشسٹوں کے خلاف لکھنا شروع کیا لیکن میک دزدار کا فرضی نام اپنا کر۔ بوسنیائی زبان میں ''میک '' کا لفظی مطلب ''پوست کا پھول'' ہے جسے اس ملک میں زمین ، نیند اور موت کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا فرضی نام ''زمین'' یعنی وطن سے اس کے دلی لگائو اور آزادی یا موت کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دنوں عظیم جنگوں کے ہول ناک اثرات کو پوری دنیا نے عمومی اور یورپ نے خصوصی طور پر محسوس کیا۔ خود محمدعلی کے وطن بوسنیا کو نئے نئے ناموں، جغرافیائی حد بندیوں اور ان کے منفی اثرات سے گزرنا پڑا۔ بوسنیائی مسلمانوں کی آزادی اور قومی شناخت کچل کر رکھ دی گئی تھی۔ بوسنیا کی جغرافیائی تبدیلیوں اور اس کے سماجی ڈھانچے میں ردوبدل اور توڑ پھوڑ میں وہاں کے مسلمانوں کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ انہوں نے بہرحال اس آشوب کے ساتھ جینے کا قرینہ سیکھ لیا تھا۔ اُن کے ہاں لیڈر شپ کا فقدان تھا اور وہ ایسے خوابوں کے تعاقب میں نہ تھے جن کی کوئی تعبیر نہ ہو۔


محمد علی خاموشی سے اپنے وطن کے حالات کا پیش منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ قوم کی عزلت کا ملال اور درد دل میں چھپائے پھرتا تھا۔ اس نے شعروں میں حال کی عکاسی کی اورلٹی ہوئی عظمت کے گیت بھی گائے لیکن زیادہ نہیں اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ ماضی جیسا بھی تھا گزر گیا۔ ہمیں صرف حال یعنی آج کو سامنے رکھنا ہے۔ اس کے کلام میں مذہب کا بھی کہیں کہیں ہلکا سا ذکر ملتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتا تھا مذہب تو اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ مسئلہ صرف قوم کی بقا کا ہے۔ سو غیرملکی استعمار نے بوسنیا کی فضائوں میں جو درد و کرب بو دیا تھا، اس نے اپنے قلم سے اسی کی نشان دہی کی۔ لیکن اس نے اپنے مسلم اہلِ وطن سے یہ نہیں کہا کہ تم نے کب اٹھنا اور کب دشمن سے دست وگریباں ہونا ہے۔ ہاں بین السطور یہ ضرور کہا کہ ذلّت کی زندگی سے موت بہتر ہے۔ تاکہ قوم کے دل میں تبدیلی کا خیال نمو پائے اور وہ خواب غفلت سے جاگے۔


محمد علی کے شعروں میں درد بھری پکار تھی۔ بعض اوقات ایسا لگتا تھا کہ وہ خود کلامی میں مصروف ہے اور کبھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ تن تنہا کسی مرتفع زمین پر کھڑا اپنی سوز بھری آواز میں کوئی حزنیہ گیت الاپ رہا ہے۔ کبھی کبھی اس کا عارفانہ انداز کچھ یوں بتاتا ہے کہ جیسے وہ دنیا سے بے گانہ کوئی صوفی یا مفکر ہے۔ یا بہت درد مند مصلح ہے جو اپنی سوئی ہوئی قوم کو جگانے اور آنے والے وقت سے باخبر کرنا چاہتا ہے۔ ایک بار اس نے بہت تیّقن سے کہا


''وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بابت سوچیں
موجیں طوفان کی بڑھتی چلی آ رہی ہیں
آئیں اس سے پہلے کہ ہم بہہ جائیں ان میں
وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بات سوچیں
آندھیاں پھر اچانک بڑھیں گی
وقت کے تند شعلے نگل جائیں گے
وقت ہے، آئیں ہم وقت میں جا رہیں
وقت تھوڑا سا ہے
یہ ہمیشہ نہ ہو گا
وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بات سوچیں۔''
آزادی کا بُلاوا محمد علی یا میک دزدار کے نزدیک ہر جسمانی آسائش سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا آج پُرآشوب ضرور ہے۔ تاہم اس کی آرزو تو غیرمغلوب ہے۔ آج کی اذیت میںکل کی خوشی کا پیغام چھپا ہے۔ اگر آج انسان حالات کے جبر کے باعث نیچے گرا ہے تو کوئی بات نہیں۔ وہ اسے حوصلہ دیتا اور نوید سناتا ہے کہ اے انسان تو عظیم ہے اور یہ عظمت خود تیرے اندر چھپی ہوئی ہے۔
روشنی کے فقط تین مینار ہیں
انسانِ کامل ہے، سورج ہے اور چاند ہے
جو کہ قوت ہیں
اس دور تک پھیلی دنیا کی
آئیں سبھی جان لیں
بادشاہت بہشتوں کی خود اپنے اندر ہے۔''
اس کے نزدیک سب لوگ پاک ہیں۔ ان کی روحیں پاک ہیں پھر وہ چشم باطن سے کچھ دیکھتا اور انہیں خبردار کرتا ہے۔
''آہوئوں کی قطاریں
گئی رات کے اس سمے میں
نہ جانے کہاں جا رہی ہیں
انہیں یہ خبر ہے
کہ صیاد جنگل میں ہے
اس کے ترکش میں وہ تیر ہیں
جو کہ آہو کے خوں کے لئے سخت بے تاب ہیں
اور ہرنیاں اپنے بچوں کو پھر دیکھنے کی طلب
اپنی آنکھوں میں ڈھانپے ہوئے
اس جہاں سے گزر جائیں گی۔''
وہ پاک (مسلم) لوگوں کو آنے والے وقت کے لئے خود کو تیار رہنے کو بھی کہتا ہے۔
''تمھیں کچھ عذابوں کے تشدد سے
اور دار کے رشتوں سے گزرنا پڑے گا
زندگی کو دکھ اور درد کی بھینٹ
چڑھنے نہ دینا
اپنی ساری زرہیں اور بکتر لئے
وحشتوں کو فنا کر دو تلوار سے
موت کو موت کے گھاٹ اتار دو
وقت نزدیک ہے
آئو بینائیوں کو نئی تاب دیں
ساحلوں اور پہاڑوں پہ
سب دیدبان اور محافظ کھڑے ہوں
ہر اک سمت تکتے ہوں
آئیں کہ ہم اپنے اندر بھی جھانکیں
وقت نزدیک ہے
وقت نزدیک ہے۔''


پھر ایک دن آیا کہ محمدعلی یا میک دزدار اپنی قوم کو جگاتے جگاتے خودابدی نیند، سو گیا۔ وہ 1971 میں اس دنیائے فانی سے وہاں چلا گیا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ لیکن بہرحال آزادی کی خوش خبری والا پرتیقن پیغام وہ قوم کے نام چھوڑ گیا تھا اور ٹھیک اکیس سال بعد اس کا جاگتی آنکھوں دیکھا خواب اس وقت پورا ہوا جب کمیونسٹ نظام والا ملک یوگوسلاویہ (قائم شدہ 1945) صدرمارشل ٹیٹو کے مرنے کے بعد زیادہ دیرٹھہر نہ سکا اور اپنے قیام 1945 کے سینتالیس سال بعد 1992 میں ٹوٹ گیا۔ اس کی وفاقی ریاستیں یکے بعد دیگرے آزاد ہو گئیں ۔ یکم مارچ 1992 کو بوسنیا کے مسلمانوںنے بھی آزادی کا اعلان کر دیا۔
لیکن معاملہ ذرا پیچیدہ تھا۔ بوسنیا میں 43 فی صد مسلمان، 33فیصد سرب، 17فیصد کروٹس اور 7فیصد دیگر اقوام کے لوگ تھے۔ سربوں کی خواہش تھی کہ بوسنیا سربیا کا حصہ بنے جبکہ بوسنیا میںکروٹس بھی بطور ایک طاقتور گروپ موجود تھا۔ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک خوں ریز محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ دشمن قوتوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ بوسنیائی مسلمان اصلاً ترک ہیں لہٰذا انکی نسل کشی ضروری ہے۔ ویسے بھی یورپی یونین، نیٹو اور امریکہ کی مداخلت کے بعد ایک معاہدے ''ڈیشن کارڈ'' کے تحت جنگ روک دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں ستر فی صد سے زائد لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔ اس وقت تک یہ ملک بالکل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ ایک آزاد اسلامی مملکت (بوسنیا) کے قیام میں پاکستان بھی بوسنیائی عوام کی امداد میں پیش پیش رہا اور یو این او کے پروگرام کے تحت پاکستانی فوجی دستے وہاں گئے اور امن کی بحالی میں خاطر خواہ کردار ادا کیا۔ آج کل دونوں ملکوں کے مابین نہایت خوش گوار تعلقات ہیں۔ مذکورہ ترجمہ شدہ کتاب اسی دوستی کی ایک خوبصورت مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔


کتاب میں ایک جگہ محمد اسلم رائو نے لکھا ہے کہ ''کہا جاتا ہے کہ میک دزدار (یامحمدعلی) علامہ اقبال کے خیالات سے بہت متاثر تھے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اردو کے قالب میں ڈھلے محمدعلی کے اشعار پڑھیں تو کئی مقامات پر یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم اقبال کے اشعار کو ذرا مختلف انداز میں پڑھ رہے ہیں۔ ان میں وہی 'عزت نفس، خودی، آزادی کی تڑپ اور قوت ایمانی کا جذبہ نظر آتا ہے' جو محکوم قوموں کو متحرک بناتا اور ان میں جذبۂِ حریت جگاتا ہے۔ دونوں شاعروں نے اپنے اپنے زمانوں میں دو قومی نظریے کے تحت متاثر کن شاعری کی اور اپنے اپنے وطن میں 'قومی شاعر' کا درجہ حاصل کیا۔''

مضمون گار مختلف اخبارات اور جرائد کے لئے لکھتے ہیں۔
 
12
December

تحریر: اسلم کمال

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں، وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فنون لطیفہ بھی جنگوں کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ زندہ قوموں کے زندہ دل اور بہادر لوگ جنگوں کے دوران فنون لطیفہ کے ذریعے اپنے جذبوں کا اظہار کرتے ہیں۔


1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران صورت حال کچھ ایسی تھی کہ ہماری بہادر افواج سرحدوں پر دشمن سے مصروف پیکار تھی تو سرحدوں کے اندر شاعر، موسیقار اور گلوکار خوبصورت رزمیہ نغمے تخلیق کر کے قوم کا لہو گرما رہے تھے۔ اس دوران کیا کیا کچھ تخلیق ہوا، آیئے اس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے۔

 

6 ستمبر 1965ء کی صبح بھارت نے لاہور کے برکی ہڈیارہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر جارحیت کا مجرمانہ ارتکاب کیا۔ اس کے باوجود کہ یہ حملہ بلا جواز اور اچانک تھااور دشمن ارض پاک میں داخل بھی ہوگیا۔ لیکن پاکستان کی شیر دل فوج نے اپنی بے مثل بہادری اور جانثاری سے نہ صرف اُس کی پیش قدمی روک دی بلکہ اُسے الٹے پائوں پسپا ہوکر اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کردیا۔ صبح گیارہ بجے کے قریب ریڈیو اور ٹی وی پر صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خاں نے رات کے اندھیرے میں در آنے والے بزدل دشمن کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کرتے ہوئے ایک بے مثال تقریر میں اس جارح ہمسایہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا: بھارت کے جنگی نیتا نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ لاہور کے زندہ دل اور بہادر شہریو! عیار دشمن نے اس جنگی آزمائش کے لئے سب سے پہلے تمہارا انتخاب کیا ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ مستقبل کا مورخ تمہیں ان الفاظ میں یاد کرے گا کہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے دشمن کو اپنی بے مثال شجاعت سے وہ سبق دیا جس کو اس کی نسلیں بھی فراموش نہ کرسکیں گی۔ پاکستان کی بہادر افواج اور غیور اہل وطن ! کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کی توپوں کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردو۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان پائندہ باد!


قارئین ! یہ ایک حقیقت ہے کہ ولولہ انگیزی اور جرأت مندی کے باب میں صدر پاکستان کی اس تقریر نے فی الواقعہ آدھی جنگ جیت لی تھی۔ اس تقریر نے پاکستانی قوم کو ایک سیسہ پلائی دیوار بنا دیا۔ ہر ایک شعبہ زندگی میں فرض شناسی اور حب الوطنی کی لہر دوڑ گئی۔ پورے سترہ دنوں اور اور سترہ راتوں کی اس جنگ کے دوران نہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھیں اور نہ ذخیرہ اندوزی ہوئی بلکہ جرائم میں حیرت انگیز کمی واقع ہوگئی۔
صدر ایوب کی، اعلانِ جنگ پر مبنی، تقریر کے ایک ایک لفظ نے سب سے پہلے شعبہ شعروشاعری میں ایک ایسی رجزیہ اور رزمیہ روح پھونک دی کہ ادباء و شعراء اخبارات کے دفاتر ، ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنوں کا رخ کرنے اور بلا معاوضہ اپنی شاعرانہ اور ادیبانہ خدمات پیش کرنے لگے۔ کراچی سے اگلے ہی روز رئیس امروہوی کا لکھا ہوا جانثارانِ لاہور کے لئے شاندار خراج کا ترانہ پاکستان کے طول و عرض میں گونجنے لگا


خطہء لاہور تیرے جانثاروں کو سلام
ارضِ شالا مار راوی کے کناروں کو سلام
لاہور جمخانہ میں شراب پینے کا ارمان لے کر حملہ آور ہونے والے بھارتی جنرل چوہدری اور اس کے فوجی بی آر بی کے بہت اُدھر جب اپنے ہی خون میں نہا رہے تھے اور ٹینکوں کا ایک ٹڈی دل لے کر سیالکوٹ کو روند ڈالنے کے مکروہ عزائم والے جب چونڈہ کے میدان میں عبرت کا نشان بن رہے تھے۔ اس وقت صحافی، دانشور اور شاعر صفدر میر تانگے پر لائوڈ اسپیکر لگا کر مال روڈ پر پاک ٹی ہائوس سے بھاٹی دروازے تک اور بھاٹی دروازے سے پاک ٹی ہائوس تک چکر پہ چکر لگاتے ہوئے اپنی رجزیہ نظمیں ''لاہور سربلند ہے لاہور زندہ باد '' اور ''سیالکوٹ تو زندہ رہے گا '' سنا سنا کر لاہوریوں اور سیالکوٹیوں کے بے مثال صبرو استقلال کو خراجِ عقیدت پیش کررہے تھے۔


راقم (اسلم کمال) 7 ستمبر کی صبح شملہ پہاڑی کے قریب ریڈیو پاکستان لاہور کے سامنے ایمپرس روڈ پر سیر کررہا تھا۔ ریڈیو اور ٹرانسسٹروں پر شکیل احمد کی ولولہ انگیز آواز میں جنگی خبریں نشر ہورہی تھیں کہ ہمارے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن ملک کے اندر گھس کر اس کے ہوائی اڈوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے۔ یہ سن کر راقم پر ایک کیفیت طاری ہوگئی اور 7 ستمبر کی اس صبح 8 بجے اس کے اندر ایک شاعر پیدا ہوگیا۔ اس نے پہلی نظم لکھی

funoonlatifaper.jpg

ایک شاعر تھا میں اک مصور تھا میں
اک تخیل زدہ مضطرب نوجوان تھا جِسے
اپنے خوابوں کی پریوں سے فرصت نہ تھی
جس کے پوروں پہ تھا سایہء برگِ گل
جس کے ہونٹوں پہ تھے پرفشاں کچھ سجل گیت عذرائوں سلمائوں کے
جس کی آنکھوں میں تھا سر مئی چمپئی وادیوں کا فسوں
آج میں بھی نہیں وہ تخیل زدہ
آج ہاتھوں میں بندوق سر پہ کفن
آج ہونٹوں پہ اللہ اکبر کے بول
جنگ ستمبر کی فتح کا جشن مختلف مکتبہ فکر اور شعبوں سے تعلق رکھنے والوںنے اپنے اپنے انداز میں منایا۔ اس کااحوال ذیل میں دیکھئے 


شاعری
صوفی غلام مصطفےٰ تبسم ، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، مشیر کاظمی، طفیل ہوشیاری، قیوم نظر، کلیم عثمانی ، مظفر وارثی ، سیف زلفی، مسرور انور ، سیف الدین سیف، صہبا اختر، محمود شام، تاجدار عادل ، جمیل الدین عالی، ناصر کاظمی، حمائت علی شاعر، الغرض تمام پاکستانی زبانوں کے شاعروں اور ادیبوں نے پاکستان کے دشمن سے دلی نفرت اور پاکستان کے ذرے ذرے سے قلبی محبت اور عقیدت کا اظہار جس جذبے اور جوش سے کیا۔ وہ پاکستانی شعر و ادب کا ایک ناقابل فراموش باب ہے یہی نہیں بلکہ اس جنگ نے پاکستانی فنونِ لطیفہ اور ان سے ماخوذ جن فنون پر گہرے اثرات مرتب کیے وہ بالا ختصار مندرجہ ذیل ہیں۔


موسیقی
1965ء کی جنگ نے پاکستانی ادب میں خاص طور پر شاعری میں جنگی ترانوں اور نغمات کی صورت میں جس رزمیہ اور رجزیہ آہنگ کا اضافہ کیا اُس نے سب سے پہلے پاکستانی موسیقاروں کے سامنے حب الوطنی کا ایک ایسا منظر پھیلا دیا کہ ملی ترانوں اور نغموں کی دھنوں میں، رجزیہ پکار اور رزمیہ للکار سے مملو سُروں کے امتزاج و ایزاد سے ہماری روائتی موسیقی خودبخود ایک پاکستانی موڑ مڑ گئی۔ نثار بزمی، سہیل رانا ، خلیل احمد، خادم حسین، بابا چشتی ، رشید عطرے ، سلیم اقبال، ایم اشرف ، فیروز نظامی ، پروفیسر اسرار جیسے اساتذہ کی ان دھنوں کو ہمارے گلوکاروں نے جس سوزو گداز اور ایقان و ایمان سے گایا اُس کی تاثیر نے قریہ قریہ، بستی بستی، شہر شہر، ہر محاذ پر اس ناگہانی جنگ کا رخ مورچہ مورچہ پاکستان کی فتح مبین کی جانب موڑ دیا۔ یہ ہمارے شعراء کے الفاظ تھے، جو ہمارے موسیقاروں کی دھنوں میں ڈھل کر ہمارے گُلوکاروں کی آواز بن کر سترہ دن اور سترہ راتوں کی اس جنگ میں بری، بحری اور فضائی پاک فوج کے صف شکن اور جان بکف مجاہدوں کے شانہ بشانہ دشمن کے لشکروں کی صفیں الٹتے رہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں ، مہدی حسن، نسیم بیگم، عنایت حسین بھٹی ، احمد رشدی، عالم لوہار، تاج ملتانی، شہناز بیگم، حبیب ولی محمد، علّن فقیر، مسعود رانا، منیر حسین، سلیم رضا، شوکت علی اور غلام علی کی آوازوں کا ایسا لشکر نعرہ زن تھا جس کے آگے خندق خندق اور مورچہ مورچہ ہمارے حق میں اس جنگ کی ہوا ہوگئی تھی۔


اس جنگ میں ملکہ ترنم نور جہاں کا یہ جملہ ہر ایک پاکستانی کے دل پر وطن سے محبت کا ان مٹ نقش بن کر ثبت ہوگیا۔ وہ جب ایک جنگی ترانہ ریکارڈ کروا رہی تھیں تو فضائی حملے کا سائرن بجنے پر ان سے درخواست کی گئی کہ وہ بھی خندق میں پناہ لے لیں۔ ملکہ ترنم نے جواب میں دو ٹوک کہا؛ میں خندق میں پناہ لینے کی بجائے وطن کا گیت گاتے ہوئے مرنا پسند کروں گی۔ اسی جنگ کا یہ بھی ایک کرشمہ ہی تھا کہ پروفیسر اسرار کی دھن پر ملکہ ترنم جیسی شہرہ آفاق گائیکہ ایک بالکل گمنام گلوکار محمد صدیق کے ساتھ منیر نیازی کا کلام گانے پر بخوشی راضی ہوگئیں


اے وطن اے عالمِ اسلام کی تابندگی تجھ پر سلام
اس جہاں کی تیرگی میں اے نظر کی روشنی تجھ پر سلام
صحافت
روزناموں سے لے کر ہفتہ وار ، سہ ماہی اور ماہوار رسائل و جرائد تک سب نے اس جنگ میں اپنا بھرپور قومی کردار ادا کیا۔ فنون، نقوش اور اوراق نے جنگ نمبر نکالے۔ اردو ڈائجسٹ ، سیارہ ڈائجسٹ اور حکایت ڈائجسٹ نے خاص طور پر اس جنگ کی تفصیلات کو پاکستانی قوم کی تاریخ میں ایک امانت کی طرح محفوظ کردیا۔
فلم
1965ء کی جنگ پر ''قسم اُس وقت کی'' کے نام سے پاک فضائیہ کے پس منظر میں ایک فلم بنی۔ جس میں ہیرو کا کردار طارق عزیز نے اور مختصر سا ہیروئن کا کردار شبنم نے ادا کیا۔ سکرپٹ غالباً پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے تیار کیا اور نغمات فیض احمد فیض نے لکھے۔


ٹی وی ڈرامہ
شہدائے وطن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مختلف ڈرامے بھی تشکیل دیئے گئے اور یہ ڈرامے صرف 65ء کے شہداء کے نہیں بلکہ 1948، 1971اور معرکۂ کارگل کے شہداء کے بھی ہیں۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جنگوں میں وطن کے جو سپوت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اُن کے اثرات معاشرے کے لئے فخر اور اعتماد کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔


1۔ کیپٹن سرور شہیدنشان حیدر سرور شہید کا کردار اداکار سلیم ناصر نے ادا کیا۔
2۔ میجر طفیل شہید نشان حیدر میجر طفیل کا کردار اسٹیج ایکٹر ظلِ سبحان نے ادا کیا
3۔ میجر عزیز بھٹی شہیدنشان حیدر میجر عزیز بھٹی شہید کا کردار ایک غیر اداکار ناصر شیرازی نے ادا کیا۔
4۔ راشد منہاس نشان حیدر اس میں ہیروئن کا کردار ٹی وی اداکارہ مرینہ خان نے ادا کیا
5۔ لالک جا ن نشان حیدر


مزاحمتی صداکاری
ریڈیو پاکستان لاہورکے نصیر انور کا پروگرام ''مہاشے'' اشفاق احمد کا ''تلقین شاہ'' نظام دین کا پنجابی پروگرام اور اعجاز بٹالوی کی رزمیہ ڈائری کے صداکاروں نے فنِ صدا کاری میں رجزیہ اور رزمیہ لب و لہجہ متعارف کروایا۔


فنِ تعمیر
رن کچھ سے لے کر چھمب جوڑیاں تک پاکستانی سرحد کی حرمت و عظمت پر اپنی جانیں قربان کرنے والے پاک سرزمین کے بیٹوں کے جنگی کارناموں کی یادگاریں جنگی محاذ بننے والے علاقوں میں جا بجا تعمیر ہوکر اہل وطن کی سلامتی کی ضمانت اور وطن عزیز کی حرمت و عظمت کا نشان بن گئیں۔
1965ء کی اس جنگ کے نشانِ حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی کی شہادت گاہ کی یادگار بی آر بی نہر کے کنارے تعمیر کی گئی۔ اس یادگار کا سنگ بنیاد میجر راجہ عزیز بھٹی کے والد گرامی کے ہاتھوں سے رکھوایا گیا اور اس تقریب کی رواں کمنٹری اس وقت لاہور کے کمشنر مختار مسعود (مصنف آوازِ دوست) کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا جس یادگار کا سنگ بنیاد آج ایک بوڑھے باپ کے دو ہاتھ رکھ رہے ہیں۔ یہ یادگار قیامت تک ایک بیٹے کی بہادرانہ سعادت مندی کی کہانی سنایا کرے گی ۔ انہی کمشنر لاہو رجناب مختار مسعود کی خصوصی دلچسپی کے طفیل لاہور کے ریگل چوک میں 1965ء کی اس جنگ کے شہداء کی یاد میں ''مسجدِ شہدائ'' تعمیر ہوئی۔ اس مسجد کا پورے ڈیزائن پر محیط گول گنبد شہید سپاہی کا ہیلمٹ ہے اور اسکا مخروطی مینار اس کی بندوق کی سنگین ہے۔ اس مینار کی بنیاد میں پاکستانی سِکّے اور نقوش کا لاہور نمبر محفوظ کیا گیا ہے۔ جب یہ مسجد زیر تعمیر تھی اس کے ڈیزائن گنبد اور مینار کی شکل و صورت پر کچھ کچھ لے دے بھی ہوئی تھی ۔ مگر بالآخر یہی تعمیراتی اجتہاد مستقبل کے پاکستانی طرزِ تعمیر کے ابتدائی خدوخال اجاگر کرگیا۔


علم و ادب
سترہ دنوں اور سترہ راتوں کی اس جنگ کے کچھ ماہ بعد پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، مدیروں اور صحافیوں کا ملک گیروفد لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں کی اعلیٰ فوجی کمان کی دعوت پر اپنی بہادر افواج کے ساتھ اظہارِ اعترافِ شجاعت کے لئے گیا تاکہ وطن عزیز کے اہل علم و دانش کا یہ طبقہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے کہ اس وطن کے چپے چپے کا دفاع کس جاں نثاری سے کیا گیا۔ اس وفد میں محمد طفیل مدیر نقوش، جمیل الدین عالی، قتیل شفائی، الطاف حسن قریشی، عبدالقادر حسن، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، ابن انشا، سید قاسم محمود، حبیب کیفوی، بانو قدسیہ، رفعت خواجہ، سائرہ ہاشمی، شیخ رؤف، ڈاکٹر رشید انور، بشیر منذر، حفیظ تائب اور جلیل عالی جیسی شخصیات شامل تھیں۔ برکی ہڈیارہ سیکٹر میں بی آر بی نہر کے کنارے ایک گمنام سپاہی کی قبر کی طرف اشارہ کرکے غازی جنرل سرفراز نے بڑے جذباتی انداز میں بتایا کہ اس مجاہد نے اپنے فرائض اس جانفشانی سے ادا کئے کہ دشمن کی گولیوں کی بوچھاڑ میں اُس کے تن پر پاک فوج کی وردی اور بوٹوں کے چند چیتھڑوں کے سوا کچھ نہ بچا تھا۔ اُس کی یونٹ اور اس کی رجمنٹ بلکہ اس کا نام کیا تھا اس کا بھی کوئی نشان نہ مل سکا۔ اس لئے اس کی قبر کو گمنام سپاہی کی قبر کا نام دیا گیا ہے لیکن میں جب بھی ادھر سے گزرا ہوں جنرل صاحب نے بتایا میرے کانوں نے باقاعدہ اس کے سلیوٹ کرنے کی آواز سنی ہے۔ دراصل وہ مجھے سلیوٹ نہیں کرتا بلکہ بآواز بلند اپنا نام ''ابنِ پاکستان'' بتاتا ہے۔


پاک فوج کے غازیوں کے اعزاز میں شالا مار باغ لاہور میں ایک تقریب ہوئی۔ اس کی نظامت کے فرائض مشہور وکیل ادیب اور دانشور اعجاز بٹالوی مرحوم نے ادا کئے۔ اس تقریب کے مہمانِ اعلیٰ کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ سے ایک غیر ملکی نامہ نگار نے پوچھا کہ جنرل صاحب بھارت کے ساتھ آپ کا باڈر اتنا طویل ہے۔ اس پر دشمن نے کبھی رن آف کچھ، کبھی فاضلکا، کبھی قصور، کبھی لاہور اورکبھی سیالکوٹ پر حملہ کرکے آپ کو پریشان تو خوب کیا ہوگا۔ جنرل موسیٰ نے جواب میں کہا پریشان تو دشمن ہوا کہ اس نے جہاں جہاں بھی سر اٹھایا ہمیں وہاں سر کچلنے کے لئے موجود پایا۔


اسی طرح''نشان حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی'' جیسی اعلیٰ کتاب اصغر علی نے لکھی اور پاکستانی اردو ادب میں مزاحمتی نثر کی بنیاد رکھ دی۔


فنِ خطاطی
بھارت نے 6 ستمبر کی صبح حملہ کیا اور صدر پاکستان نے جواب میں اعلان جنگ کرتے ہوئے اہلِ وطن کو کہا کہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کی توپوں کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردو۔ راقم (اسلم کمال) نے اُسی رات اپنی رہائش کو پوری طرح بلیک آئوٹ کرکے یہ عہد کیا کہ پاک وطن کا سپاہی جب تک میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دے گا میں ہر رات اپنے کینوس پر اُس کے اعترافِ شجاعت میں دادِ تخلیق دوں گا۔ پہلی رات راقم نے کینوس پر کلمہ طیبہ کی آئل پینٹ میں مصورانہ خطاطی کی جو بعد میں ایک تخلیقی تحریک بن گئی۔


فنِ مصوری
اس جنگ کی باقی راتوں میں ہر رات ایک پینٹنگ کی۔ ان 17 پینٹنگز کی نمائش خاص طور پر غیر ملکی نامہ نگاروں کے لئے الحمرا آرٹس کونسل لاہور میںہوئی۔ بعد میں ان کی نمائش پاکستان نیشنل سینٹر الفلاح لاہور میں ہوئی اور ان میں سے کچھ پینٹنگز مشہور ادبی رسالہ نقوش نے اپنے جنگ نمبر میں شامل کیں۔ اس طرح یہ مصوری مزاحمتی مصوری میں بدل گئی۔


جنگی مصوری
شعبہ فنون لطیفہ یعنی فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی جو اب کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن بن چکا ہے۔ اس کی بانی چیئر پرسن مسز اینا مولکا احمد نے جنگ بندی کے فوراً بعد باٹا پور میں بی آر بی کے جی ٹی روڈ پر پل کے قریب گھاس سے لدی ہوئی ایک بیل گاڑی کو ماڈل بنا کر اس کے پیچھے چھپ کر عرفِ عام میں ''رانی توپ ''کی جو نقل و حرکت کی کہانی زبانِ زدِ عام ہوئی تھی اس کو پینٹ کیا۔


مشہور پورٹریٹ پینٹر سعید اختر نے ائیر مارشل نور خاں کا فائٹر پائیلٹ کے لباس میں پورٹریٹ بنایا۔ محمودا لحسن رومی، منان عزمی، خالد لطیف، ظہیر احمد جنجوعہ، جاوید بٹ اور استاد سلیم حسین شریف کو آئی ایس پی آر لاہور نے جنگی فوٹو گراف فراہم کئے جن کو ان مصوروں نے پینٹنگز میں ڈھالا اور الحمرا آرٹس کونسل میں ایک شاندار نمائش ہوئی۔ پاک فضائیہ کے ونگ کمانڈر حسینی اور بہت سارے چینی مصوروں نے اعلیٰ فنی مہارت کے ساتھ پاک فضائیہ کے ایف۔ 86 سیبر اور ایف۔ 104 سٹارفائٹر کو پاک آسمانوں کی نگہبانی کرتے اور بری اور بحری افواج کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے دکھایا۔ خاص طور پر لاہور کے بسنت کی پتنگوں سے بھرئے ہوئے آسمان پر سکواڈرن لیڈر شربت علی چنگیزی کو بھارتی فضائیہ کے بھگوڑے ہنٹر طیاروں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرتے جس طرح چینی مصوروں نے دکھایا۔ وہ قابل صد تحسین تھا۔ یہیں سے دراصل آہستہ آہستہ رفعت پذیر ہوتی ہوئی پاکستان اور چین کے مابین آج کی ہمالیہ جیسی بلند دوستی کی ثقافتی سطح پر بنیاد پڑ گئی تھی۔

سلامتی
یہ اتنے سارے بونے
سروںکی فصل پہ کھڑے
ہمالیہ کی بلندیوں پہ کیوں نظریں جمائے ہیں
یہ کیوں بے خبر ہیں؟
کہ بلندی ،اعلیٰ ظرفی اور جرأت کی متقاضی ہے
یہ بے سمت آوازیں تو صرف اک شور ہے
اور اب کہ گیدڑ بھی دھاڑنے لگ پڑے ہیں
مگر اے ہمالیہ کی گود میں پلنے والے
میرے وطن کے غیور بیٹو!
جب تمہارے گھروں کو بھیڑیئے خوں سے نہلا دیں
تو اُس وقت سے ،بہت پہلے، تم آگے بڑھنا
کہ
کڑے وقتوں میں، دشمنوں کی صف پر حملہ کرنا
جارحیت نہیں، سلامتی ہے

*****

 
12
December

تحریر: ڈاکٹرحمیرا شہباز

تسلیت کرمانشاہ!!! تسلیت ایران
یہ کیسے پیغامات اور تصاویر ہیں میرے موبائل میں؟؟؟ دورانِ سفر اپنے موبائل کی گیلری کو جنبشِ انگشت سے ٹٹولتے ہوئے میں نے سوچا۔ ایران کو تسلیت کے یہ پیغام کس نے بھیجے ہیں؟ کیا ہوا ہے ایران کو؟ ان دو دن پرانے پیغامات کی کھوج میں میں نے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کے گروپس کی دو روز پرانی گفتگو کو تیزی سے دیکھا۔اوہ!!! ایران میں زلزلہ! اور وہ بھی کرمانشاہ میں۔ مزید پیغامات پڑھتی گئی اور جانتی گئی کہ ایران اور عراق کی مشترک سرحد کے شہر اس زلزلے کی زد میں آگئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق


''12 نومبر کو ایران اور عراق کے سرحدی علاقے میں آنے والے سات اعشاریہ تین شدت کے شدید زلزلے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان عراق کی سرحد سے متصل ایرانی صوبے کرمانشاہ میں ہوا۔ ایک ایرانی امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے70 ہزار افراد کو فوری طور پر امداد اور پناہ گاہوں کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ائیر فورس کا سی 130 طیارہ خیمے، غذائی اور طبی امدادی سامان لے کر تہران پہنچا گیا ہے۔ ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر آصف درانی نے امدادی سامان ہلال احمر ایران کے سربراہ کے حوالے کیا۔ اس موقع پرسربراہ ہلال احمر ایران کا کہنا تھا کہ پاکستان امداد فراہم کرنے والا سب سے پہلا ملک ہے۔''(ہفتہ 18نومبر 2017)
صدر محترم اور جناب وزیر اعظم پاکستان نے ایرانی صدر عزت مآب حسن روحانی کو زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر تسلیت کا پیغام بھجوایا کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستانی قوم ان کے دکھ درد میں شریک ہے۔

eranizalzalaar.jpg
پاکستان کی ایران سے وابستگی مستقل بنیادوں پر ہے۔ دونوں ممالک مثالی ہمسائے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی ایسی کوئی مثال تلاش کی جا سکے جہاں دو ہمسایہ ممالک میں اتنی ثقافتی، لسانی، تاریخی، مذہبی اور ادبی مماثلت پائی جاتی ہو۔ سیاسی سطح پر دیکھا جائے تو اسلامی جمہوریہ ایران، اقوام عالم میں پہلا ملک تھا جس نے 14اگست 1947کو قیام اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سب سے پہلے رسمی طور پر تسلیم کیا تھا۔ شہنشاہ ایران پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت تھے۔ ان کوپاکستان کے استحکام کی اہمیت کا پورا ادراک تھا لہٰذا ایران نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا تاکہ جنوبی ایشیا عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ان باہمی روابط میں اور بھی پختگی آئی ہے۔ موجودہ دور میں بھی ایران کے پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں جس کا اظہار ایران کے موجودہ صدر عزت مآب حسن روحانی نے مارچ 2016 میں اپنے دورہ پاکستان میں بھی کیا ۔


پاکستان اور ایران کے تجارتی روابط بھی روز افزوں ہیں۔ تہران میں ایران اور پاکستان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 20 ویں اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان توانائی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں کثیرالجہتی تعلقات قائم ہیں اور پاکستان ان تعلقات کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ زاہدان اور کوئٹہ کے درمیان مال گاڑی کے ذریعے ایران، پاکستان کو سیمنٹ، تارکول، سلفر اور تیل برآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان چاول اور خام سلفر ایران کو برآمد کرتا ہے۔ اسلام آباد میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے ایران اور پاکستان میں پورٹ اور شپنگ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی چابہار اور پاکستان کی گوادر بندرگاہ ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ حلیف اور معاون بندرگاہیں ہیں۔
ایران اور پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ اسلامی دنیا کے اہم ممالک ہونے کے ناتے اپنے مضبوط رشتوں سے عالمی امن کے لئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس سلسلے میں پاکستان کی کاوشیں بھی نمایاں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور افغان مسئلے پرامریکہ سے کشیدہ تعلقات کے پیشِ نظر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے دورہ ایران کو بہت اہمیت حاصل ہے جو کہ کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کا پہلا رسمی دورۂ ایران تھا۔
ایران اور پاکستان کے عوام کی یکانگت او رمحبت کا اہم ستون ثقافتی روابط ہیں۔ مولانارومی کی مثنوی معنوی، دیوان حافظ ، گلستان و بوستان سعدی پاکستانیوں کے لئے اجنبی نگارشات نہیں اور ایرانیوں کے لئے بھی علامہ اقبال فقط مصور پاکستان ہی نہیں بلکہ انقلابِ اسلامی ایران کی پیش بینی کرنے والے شاعر فردا بھی ہیں۔ایرانی علامہ اقبال کے ان اشعار کو اقبال کی پیش گوئی قرار دیتے ہیں


چون چراغ لالہ سوزم در خیابان شما
ای جوانان عجم جان من و جان شما
میرسد مردی کہ زنجیر غلامان بشکند
دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما


ہمارے خطے میں دینِ اسلام کا فروغ فارسی گو صوفیائے کرام کا مرہون منت ہے۔ فارسی سیکڑوں سال تک برصغیر کی سرکاری زبان رہی ہے۔ ہمارے بیش بہا دینی، علمی اور ادبی ذخائر اس امر کی غمازی کرتے ہیں۔ خود علامہ اقبال کے شاعرانہ کلام کا کثیر حصہ فارسی زبان میں ہے اس لئے کہ محض ایک صدی قبل بھی فارسی زبان اس خطے میں رائج تھی۔ آج بھی ہمارے گھروں میں قرآن کریم کے ساتھ دیگر معتبر دینی اور اخلاقی کتب کی ردیف میں کشف المحجوب اور مثنوی معنوی جیسی معرکة الآرا کتب کا مقام تسلیم شدہ ہے۔


پاکستان میں فارسی زبان و ادب کی تدریس کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مستقل شعبے کی حیثیت رکھتی ہے۔ تہران یونیورسٹی میں بھی شعبۂ اردو کارفرما ہے۔ دونوں ممالک میں علمی و ادبی کانفرنسوں کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ چند روز قبل ہی پاکستان ایجوکیشن کمیشن اور اسلام آباد میں ایران کے قونصل خانہ کے باہمی تعاون سے فارسی زبان اور ادب کے شعبہ میں قابل قدر علمی و ادبی نگارشات کو اقبال اور سعدی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ نومبر2017 کے آغاز ہی میں پاکستان کے ہم مرز ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان کے شہر زاہدان کی سیستان بلوچستان یونیورسٹی میں علامہ اقبال کے 140ویں یوم ولادت کی مناسبت سے شایانِ شان بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا اتفاق ہوا، جس نے مجھے یہ یقین بخشا کہ شائد کبھی ایران پاکستان کے روابط کی کوئی اور وجہ باقی رہے نہ رہے، علامہ اقبال کی شاعری یقینا اس ربط باہمی کی دائمی وجہ رہے گی ۔


میں نے مختلف علمی مسافتوں میں ایران کے جس بھی شہر کا سفر کیا، وہ اصفہان نصف جہان ہو یا گیلانِ مازندران، زاہدان کی مانوس بلوچ فضا ہو یا بجنوردِ خراسان ، جو احترام ، استقبال ، پذیرائی اور اپنائیت ایرانی زمین میں پاکستانیوں کوحاصل ہے، وہ بے مثال ہے۔ اسی لئے ایران کے عوامی معاملات پر دھیان رہتا ہے۔ کرمانشاہ کے حالیہ زلزلے نے تو ہمیں یہاں بھی ہلا دیا۔ ا بھی دو ماہ قبل تو میں کرمانشاہ گئی تھی۔
گزشتہ سال گیلان کی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اعلان کردیا گیا تھا کہ اگلے برس انجمن ترویج فارسی کی کانفرنس کرمانشاہ میں منعقد ہوگی۔ وہیں پر کانفرنس کے شرکا میں سے ایک کرمانشاہی مہمان نے بتایا کہ اس کا شہر کتنا خوبصورت ہے، کئی دیدنی تاریخی مقامات ہیں وہاں۔ لیکن پھر بھی میرا کوئی ارادہ نہیں تھا اگلی کانفرنس میں شرکت کا ۔ یہ تو پتا نہیں کس نے میرے کان میں ڈال دیا کہ کوہ بیستوں ہے وہاں۔
بیستوں!!! شیریں فرہاد والا بیستوں ؟ میں نے تصدیق چاہی تو پتا چلا کہ ہاں وہی والا۔ اب شیریں کی خواہش اور فرہاد کی کوشش کو دیکھنا تو بنتا تھا۔


4 ستمبر کی شام کو میں اور کئی دیگر شرکائے کانفرنس ، ہماری میزبان رازی یونیورسٹی کی تہران کے علاقے شہر آرا میں موجود مہمان سرا میں پہنچ گئے تھے۔5ستمبر 2017کو کانفرنس کے مختلف ممالک اور شہروں سے آئے شرکا کو لئے بس2بج کر 30 منٹ پر کرمانشاہ کے لئے روانہ ہوئی تھی۔ تمام سفر صحرا میں سے تھا۔ بلند خشک پہاڑ اور وسیع ریگزار، خدا کی بزرگی کا نشاں تھے۔ ایک لا متناہی ساحل یا خشک ریتلا سمندر جس میں کہیں کہیں پانی کے جزیروں کا گمان باقی تھا۔ جگہ جگہ زمین کے سینے میں گڑے درشت اور سنگلاخ نشتر نما پہاڑوں سے دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ایک بڑا سا کینوس ہو جس پر فطرت نے نوک قلم سے دلکش خطاطی میں اس خطے کی قدیم تہذیب کا سفر رقم کیا ہو۔ ہر پہاڑ کو دیکھ کر سوچتی کہ بیستوں جانے کیسا ہو گا؟


وہی اک حسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں
یہ شیریں بھی ہے گویا، بیستوں بھی کوہکن بھی ہے
رات کوئی گیارہ بجے کے قریب ہم رازی یونیورسٹی کے ڈائننگ ہال کے آگے اترے۔ فرہادانِ شیریںِ صفت ہمارے پرتپاک استقبال کو منتظر تھے۔ لگتا تھا
زینتِ محفل ہیں فرہادانِ شیریں عطا
اس محل میں ہے رواں ہونے کو جوئے شیِر آج


رات میں بھی یونیورسٹی کے گرداگرد کھڑے پہاڑوں پر پورا دھیان تھا ہمارا۔ میں نے اور ایک دن پہلے بننے والی افغانستانی اسکالر سہیلی نے ہر پہاڑ کا تنقیدی جائزہ شروع کر دیا۔ شاید یہ بیستوں ہے! نہیں وہ والا ہو گا! ہر پر شکوہ کوہ کی رنگت اور بلندی میں ہم شیریں کا حسن اور فرہاد کا عزم تلاش کرتے رہے۔ اگلا پورا دن کانفرنس کی کارروائی میں گزرا۔ اپنی کم علمی سے شرمندہ کسی سے پوچھ بھی نہ سکے کہ ان میں سے شیریں فرہاد والا پہاڑ کون سا ہے؟ وہ تو ایک ایرانی نے ہمیں اس دھوکے سے نکالا او ریہ کہہ کر ان سارے پہاڑوں کو رائی برابر کردیا کہ یہاں نظر آنے والا کوئی بھی پہاڑ بیستوں نہیں۔ کانفرنس پروگرام میں سیروسیاحت والا کالم بھی اتنا واضح نہ تھا کہ ہم کہاں کی سیر کو جائیں گے۔ پہلے روز طاق بستان دکھایا گیا۔ دوسرے روز کو ہ بیستوں کا وعدہ تھا۔


اگلے روز شام میں ، مغرب سے تھوڑی ہی دیر پہلے ہم کرمانشاہ شہر سے کوئی تیس کلومیٹر دور کوہ بیستوں کے سامنے کھڑے تھے۔ انتہائی ظالم پہاڑ تھا۔ سخت، سیاہ، بنجر، بلند۔ دیومالائی پہاڑوں کی طرح تکونی شکل نہ تھی اس کی، بلکہ خود ہی دیو نما تھا۔ دل ٹوٹ گیا اس کو دیکھ کر اور احساس ہوا کہ واقعی کمال ہوگا اس کو تراشنا اور جوئے شیر لانا۔ شیریں نے بھی کیا امتحان لیا تھا عشق کا؟ ! اگر فرہاد شیریں کی موت کی جھوٹی خبر سن کر خود کو بھی تیشہ سے مار نہ ڈالتا تو اس پہاڑ کو تراشتے تراشتے ضرور ختم ہو جاتا۔اقبال نے اس کہسار کو دیکھا ہوتا تو ان کو یہ شعر کہنے میں کچھ تامل ضرور ہوتا


تیشہ اگر بہ سنگ زد ایں چہ مقام گفتگوست
عشق بہ دوش می کشد این ہمہ کہسار را


ہم تو میزبانوں سے ویسے ہی نالاں تھے کہ جس کے لئے اتنی دورآئے وہاں ہمیں وہ دن ڈھلے کیوں لائے ۔ اس پہاڑ میں ایک گہرا شگاف تھا۔ ہم نے میزبانوں سے پوچھا کہ کیا یہاں سے دودھ کی نہر کھودی گئی تھی؟ اردگرد شیریں کا محل بھی ڈھونڈنا چاہا۔ لیکن نداند۔ البتہ بیستوں پر ہخا منشی دور کا کتبہ کندہ تھا جس کا شمار دنیا کے چند قدیم ترین کتبوں میں ہوتا ہے۔
کوہ بیستوں پہنچنے میں دیر اس لئے ہوئی کہ اس سے قبل کرمانشاہ شہر سے کوئی گھنٹا بھر کی مسافت پر ہمارے میزبان ہمیں ''مرصاد'' نامی مقام پر لے گئے۔ یہ علاقہ ایران عراق کا سرحدی علاقہ تھا۔ مرصاد کے ایک میوزیم میں ایران عراق جنگ کی تاریخ پیش کی گئی تھی۔ نزدیک ہی اسلام آباد غربی صوبہ کرمانشاہ کا ایک سرحدی شہر تھا۔ یہ وہی علاقے ہیں جو چند روز قبل شدید زلزلے کی زد میں آگئے تھے۔ زلزلے کی خبر سن کر میں نے کانفرنس سیکریٹری ڈاکٹر بیگ زادہ کو تسلیت کا پیغام بھیجا۔ ان کا جواب آیا


''سلام خانم۔کرمانشاہ کا یہ زلزلہ جان و مال ہار دینے کی تاریخ کو دہرا رہا ہے، پہلے جنگ میں اور اب زلزلے میں۔ اسلام آباد کے ہسپتال جو ابھی کچھ عرصہ قبل جنگ کے زخمیوں سے بھرے ہوئے تھے، اب زلزلے کے زخمیوں سے پر ہیں۔آپ کی ہمدردی کا بہت شکریہ!''


اور پھر مزید لکھ بھیجا
''ابھی تک جنگ کے زخم بھرے نہ تھے۔ اس جنگ کی یاد اب بھی میرے شہر کے لوگوں کو بے چین کر دیتی ہے۔ اے میرے شیریں شہر!ہاں اے میرے بچپن کی یاد! آج رات زمیں نے کس بہانے سے پھر سے تیرے دل کو توڑا ہے؟ کہ تیرے فرزندوں پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا ہے۔ شیریں ! مجھے معاف کرنا۔ آج کی شب ہزار بار تیری یاد میں مروں گا اور تیرے قصر شیریں میں عزاداری کروں گا۔''
یقینا دوہری مصیبت نے کرمانشاہیوں کے حوصلوں کو مزید آزمایا ہوگا۔ مگر مجھے یقینِ کامل ہے کہ فرہاد کے ہم سخن یہ لوگ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں سے بھی بلندتر حوصلے کے مالک ہیں۔ پاکستان کے لوگوںکے دل ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں۔ زلزلوں کی شدت ہو یا دشمنوں کی چالوں کی حدت، دونوں ملکوں کی دوستی لازوال ہے اور رہے گی۔

مضمون نگار:ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
December
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا سر کریک کا دورہ

گزشتہ دنوں 9ممبران قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے سرکریک اور پی این ایس قاسم کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران کمانڈر کوسٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سر کریک کے دورے کے دوران کمپنی ہیڈکوارٹرز شاہ بندر میںکمیٹی ممبران کو سر کریک کے متنازعہ علاقے پر بریفنگ دی گئی اور پاک میرینز کی جانب سے سرکریک کے دفاع کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔بعد ازاں قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو سرحدی مورچوں کا دورہ کروایا گیا اور وہاں نصب آلات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے ممبران نے کریکس کے علاقے میں پاک بحریہ کے اگلے مورچوں پر تعینات آفیسرزاور سی پی اوز/سیلرز سے ملاقات کی اور ان کے حوصلے، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ کمیٹی ممبران نے پی این ایس قاسم کے دورے کے دوران وہاں دی جانے والی تربیتی سہولیات کا جائزہ بھی لیااور ٹریننگ کے اعلیٰ معیار کی تعریف کی۔

newsqomiasmably.jpg 

ہینڈ بال چیمپیئن شپ کا انعقاد

گزشتہ دنوں فرسٹ آرمرڈ ڈیو،انٹر یونٹ ہینڈ بال چیمپیئن شپ 2017 ملتان گیریژن میں منعقد ہوئی ۔ چیمپیئن شپ میں کل16ٹیموں نے حصہ لیا ۔ فرسٹ آرمرڈ ڈیو کی یونٹ 313انجینئر بٹالین نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیمپیئن ٹرافی جیت لی۔اس موقع پر بریگیڈیئر فیاض فاروق نے فاتح ٹیم کے کپتان میجر عبدالستار راجہ کو چیمپیئن ٹرافی دی جبکہ فرسٹ آرمرڈ ڈیوکی یونٹ 140ایس پی نے دوسری پوزیشن حاصل کی ۔

newsqomiasmably1.jpg 

11
December
کمانڈر لاہور کور کا سالانہ جنگی مشقوں کا معائنہ

گزشتہ دنوں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے جہلم کے قر یب ٹلہ ر ینجز کا د ور ہ کیا اور فیلڈ فا ئر کا عملی مظا ہر ہ د یکھا ۔موسم سرما کی یہ سا لا نہ جنگی مشقیں ہر سا ل حقیقت سے قر یب تر ما حو ل میں منعقد کی جا تی ہیں جن کا مقصد فوجی جو انو ں کی عسکر ی استعد اد کا ر میں مز ید بہتر ی لانا ہے ۔ مشقو ں کے د ورا ن اُنھو ں نے انفنٹری ، آرمرڈ اور توپ خا نے کے فا ئر کا مظاہرہ د یکھا اور بھا ر ی ہتھیاروں سے اہداف پر مؤ ثر اور د ر ست نشا نے لگا نے پر د اد د ی ۔اس موقع پر انہوں نے جوانوں کے بلند جذبے اور پیشہ ور انہ مہا ر ت کو سر اہا۔

newsaikdinpkfojksath1.jpg 

11
December
ایک دن پاک فوج کے ساتھ
گزشتہ دنوں 'ایک دن پاک فوج کے ساتھ' پروگرام کے تحت مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں کے 200 سے زائد طلباء و طالبات نے پنوں عاقل کینٹ کا دورہ کیا۔ طلباء و طالبات نے گیریژن کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔ اسی سلسلے میں پاک فوج کے نیشنل سکیورٹی میں کردار کے حوالے سے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں ایک سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں جنرل کمانڈنگ آفیسر پنوں عاقل ڈویژن میجر جنرل ظفر اﷲ خان نے طلباء و طالبات سے خطاب کیا۔

newsaikdinpkfojksath.jpg 

11
December
فرنٹیئر سکاو ٔٹس کیڈٹ کا لج ورسک میں یومِ والدین کی تقریب
گزشتہ دنوں فرنٹیئر سکائوٹس کیڈٹ کالج ورسک میںیو مِ والدین کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ تھے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہکیڈٹس ہمارا قیمتی اثاثہ اور روشن مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہماری نوجوان نسل انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم و فنون میں مہارت سے آراستہ ہو۔ انہوں نے ادارے کی تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی سراہااور طلبا ء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے حصول کے بعد ملک و قوم کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ تقر یب کے اختتام پر کور کمانڈ ر نے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوںمیں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں ٹرافیاںاور میڈلز بھی تقسیم کئے ۔

newsfrontierscouts.jpg

کمانڈر کراچی کور کا ائیر ڈیفنس بریگیڈملیر گیریژن کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کورلیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزانے ائیر ڈیفنس بریگیڈ ملیر گیریژن کا دورہ کیااور بریگیڈ کے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اُنہیں بریگیڈ کی پیشہ ورانہ تربیتی سرگرمیوں اور انتظامی معاملات پر بریفنگ دی گئی۔

newsfrontierscouts1.jpg

11
December
آرمی ایوی ایشن تربیتی فضائی کورس کی تقریب

گزشتہ دنوں آرمی ایوی ایشن سکول گوجرانوالہ چھائونی میںآرمی ایوی ایشن کے بنیادی تربیتی فضائی کورس

P-58

کی تکمیل پر تقریب منعقد ہوئی جس میں کمانڈر گوجرانوالہ کور لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ کمانڈر گوجرانوالہ کور لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق نے تربیت مکمل کرنے والے پائلٹس کو انفرادی طور پر ایوی ایشن کے خصوصی نشان سے نوازا۔ اس موقع پر انہوں نے بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران کو ٹرافیاں بھی دیں ۔

مہمانِ خصوصی نے خطاب کرتے ہوئے آرمی ایوی ایشن سکول کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ تقریب میں آرمی ایوی ایشن کے آفیسرز کے علاوہ گوجرانوالہ گیریژن کے آفیسرز وفیملیز اور تربیت مکمل کرنے والے آفیسرز کے عزیزواقارب نے بھی شرکت کی۔

newsarmyaviation.jpg

ڈی جی رینجرز ڈسٹرکٹ ہاکی لیگ کی اختتامی تقریب
گزشتہ دنوں پاکستان رینجرز (سندھ) کی جانب سے کے ایچ اے ا سٹیڈیم گلشن اقبال میں ڈی جی رینجرز ڈسٹرکٹ ہاکی لیگ کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈی جی رینجرز (سندھ ) میجر جنرل محمد سعیدتھے۔ فائنل میچ ڈی جی رینجرز الیون اورڈسٹرکٹ ویسٹ کی ٹیموں کے مابین کھیلا گیاجس میں رینجرز الیون کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔ مہمانِ خصوصی نے میچ کے اختتام پر فاتح ٹیم کو ٹرافی کے ساتھ 5لاکھ روپے جبکہ رنر اَپ ٹیم کو ٹرافی کے ساتھ 3لاکھ روپے ، بیسٹ اسکورر اور بیسٹ گول کیپر کو پچاس ،پچاس ہزار روپے کے انعامات سے نوازا جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں بھی میڈلز تقسیم کئے گئے۔

newsarmyaviation1.jpg

11
December
کمانڈر پشاور کور کا دورۂ باجوڑ ایجنسی
گزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے باجوڑ ایجنسی کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ آئی جی ایف سی (این) میجر جنرل وسیم اشرف نے ایجنسی میں امن وامان کی مجموعی صورتحال پر انہیں بریفنگ دی۔ کور کمانڈر نے سخت مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود دفاعِ وطن میں مصروف ٹروپس کے عزم و حوصلے کو سراہا۔ ٹروپس سے خطاب کے دوران انہوں نے ٹروپس کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

newscomanpeshwarbajor.jpg

فرنٹیئر کور کے زیرِ اہتمام کمبیٹ لیڈی سولجرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ
گزشتہ دنوں فرنٹیئر کور کے زیرِ اہتمام لیڈی سولجرز کے دوسرے بیچ کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ بیگم انسپکٹر جنرل فرنٹئیر کور، کے پی (نارتھ) تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں۔ پاسنگ آئوٹ پریڈ کا انعقاد ''سکائوٹس ٹریننگ اکیڈمی۔ وارسک'' میں کیا گیا۔ لیڈی سولجرز کے دوسرے بیچ سے کل تیس ''کمبیٹ لیڈی سولجرز'' نے تربیتی کامیابی کے بعد پاسنگ آئوٹ پریڈ میں حصہ لیا۔ مہمانِ خصوصی بیگم انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کورکے پی (نارتھ) نے لیڈی سولجر جمیلہ کو مجموعی طور پر بہترین کارکردگی پر انسپکٹر جنرل فرنٹئیر کور کی اعزازی شمشیر سے بھی نوازا۔ تقریب میں فوجی و سول عہدیداران اور لیڈی سولجرز کے عزیز و اقارب کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مجموعی طور پر تربیت کے معیار کو سراہا۔

newscomanpeshwarbajor1.jpg 

11
December
مجاہد فورس کے اولین کرنل کمانڈنٹ کی تعیناتی
گزشتہ دنوں مجاہد فورس سنٹر بھمبر میں پہلے کرنل کمانڈنٹ آف مجاہد فورس کی تعیناتی کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کمانڈر راولپنڈی کور، لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کو پہلا کرنل کمانڈنٹ آف مجاہد فورس مقرر کیا۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بعدازاں چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے خطاب میںمجاہد فورس کی، خصوصاً لائن آف کنٹرول کے حوالے سے، کارکردگی اور قربانیوں کو سراہا۔ قبل ازیں چیف آف آرمی سٹاف نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی بھی کی۔

newsmujahidforcekaw.jpg 

ملٹری پولیس کور کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

گزشتہ دنوں ڈیرہ اسماعیل خان سنٹر میں ملٹری پولیس کورکی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل پرسونل سروسز
(Personnel Services)
اور پرووسٹ مارشل
(Provost Marshal)
میجرجنرل نادر خان تھے۔ اس موقع پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملٹری پولیس پاک فوج میںنظم و ضبط کی نگران ہے اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نعرے ''انصباط'' کے مطابق نظم و ضبط کو قائم رکھیں۔
مہمانِ خصوصی نے پریڈ کا معائنہ کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newsmujahidforcekaw1.jpg

11
December
کمانڈرملتان کور کا مظفرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز پر فوجی مشقوں کا معائنہ
گزشتہ دنوں کمانڈر ملتان کور لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ ڈوگر نے مظفرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز پرفوجی مشقوں کا معائنہ کیا ۔ مشقوں میں آرمڈ فورسز ،آرٹلری ،بکتربند، ائیر ڈیفنس اور انفینٹری بٹالین کے دستوںنے حصہ لیا ۔ جوانوں نے اپنی جنگی مہارتوں اور صلاحیتوںکا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیموپیش کیا ۔ کمانڈر ملتان کور نے جوانوں کی پیشہ ورانہ اہلیت وتربیتی معیار کی تعریف کی اور ان کی جنگی مہارت کو سراہا۔

newscomndermultancoreka.jpg

11
December
مزارِ اقبال پر اعزازی گارڈ کے فرائض سنبھالے جانے کی تقریب

گزشتہ دنوں شاعر مشرق حکیم الامت علا مہ محمد اقبال کے یو مِ و لاد ت کے سلسلے میں مز ار پر ایک پروقار تقر یب منعقد ہو ئی ۔ کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے مز ار اقبال پر پھو لو ں کی چا د ر چڑ ھا ئی اور اُ ن کے ایصا لِ ثو اب کے لئے فا تحہ پڑ ھی ۔

اس مو قع پر پا کستا ن نیو ی کے ایک چا ق چو بند د ستے نے پا کستا ن رینجرز پنجاب سے اعزازی گا ر ڈ کے فر ائض سنبھا لے اور سلا می پیش کی۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز (پنجاب) میجر جنرل اظہر نو یدحیات خان، گیریژن کمانڈر لاہور میجر جنرل محمد عامر اور اسٹیشن کمانڈرنیوی کموڈور ساجد محمودشہزادنے بھی مزار پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔

newsmizareiqbaler.jpg

باجوڑایجنسی کے طلباء کا ہیڈکوارٹرز ایف سی اور قلعہ بالاہسار کا دورہ
گزشتہ دنوں فرنٹیئر کور کے پی، کے زیر اہتمام باجوڑ ایجنسی کے طلباء نے تاریخی قلعہ بالاہسار اور ہیڈکوارٹرز ایف سی کے پی پشاور کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد طلباء کو تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ معلومات فراہم کرنا اور دورِ جدید کے تعلیمی نظام سے آگاہ کرنا تھا۔ اس دوران طلباء نے قلعہ بالاہسار میوزیم کا بھی دورہ کیا اور گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے تاریخی ورثے اور ثقافت کی حفاظت کے لئے فرنٹیئر کور کے پی، کی قربانیوں کو بھی سراہا۔

newsmizareiqbaler1.jpg

11
December
پاک فضائیہ کے جے ایف سیونٹین تھنڈر کا دُبئی ائیر شو میں شاندار فضائی مظاہرہ

گزشتہ دنوں شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد کی موجودگی میں 16ویں دُبئی ائیر شو کی افتتاحی تقریب کا انعقادہوا۔ تقریب میں پاک فضائیہ کے جے ایف سیونٹین تھنڈر نے اپنی فضائی کارکردگی سے مسحور کن فضائی مظاہرہ پیش کیا اور غیر معمولی کرتب دکھائے، جن میں مسل کلائیمب تھنڈر ٹرنز، سلو سپیڈ پرفارمنس اینڈ انورٹڈ فلائیٹ
(muscle climb, thunder turns, slow speed performance and inverted flight)
شامل ہیں ۔ پاک فضائیہ نے اپنی کارکردگی سے تماشائیوں پر سحر طاری کر دیا۔ مظاہرے کے بعد جب طیارہ واپس آیا تو پُرجوش شائقین نے تالیاں بجا کر داد دی۔ تقریب میں تمام ہتھیاروں سے لیس جے ایف سیونٹین طیارہ زمین پر شائقین کے لئے مرکز نگاہ بنا رہا۔ جے ایف سیونٹین تھنڈر کے علاوہ جدید ترین تربیتی طیارہ سُپر مشاق بھی پانچ روز جاری رہنے والے اس ائیر شو میں نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔ ائیر مارشل احمر شہزاد،چیئرمین پاکستان ائیروناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے بھی اس افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔

newspafairshoweighty.jpg

11
December
گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،شہید میجرمحمد اسحاق کے لاہور میں واقع ان کے گھر گئے اور وہاں ان کے خاندان سے ملاقات کی اورشہید کے ایصال و ثواب کیلئے فاتحہ پڑھی۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ ہمارے افسران اور جوانوں کی وطن کے دفاع کیلئے عظیم قربانیوں سے ہمارا قومی عزم مضبوط ہوا ہے جو دہشت گردوں کی بزدلانہ کاروائیوں سے کمزور نہیں ہوسکتا۔جنہیں ہر قیمت پر شکست دی جائے گی۔

newsmajmishaq.jpg

11
December
الائیڈ آفیسرز سٹاف کورس کالج کوئٹہ کیشرکاء کا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا دورہ
آف میڈیکل سائنسز کا دورہ کیا۔ ان میں سعودی عرب،بنگلہ دیش، برازیل، ایران، اُردن، ملائیشیائ، عمان، فلسطین، سری لنکا، برطانیہ، آسٹریلیا ،بوسنیا،چین، مصر اور دیگر ممالک کے شرکاء شامل تھے۔ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارباب عبدالودود نے غیر ملکی مہمانوں کو خو ش آمدید کہا اور بتایا کہ کمز کالج اپنے طلباء کومعیاری تعلیم مہیا کررہا ہے جو کسی بھی اچھے میڈیکل کالج کا خاصا ہے ۔ کمز نہ صرف پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے غیر ملکی طلبہ کو بھی یہاں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بعدازاں وائس پرنسپل کمانڈر بریگیڈیئر سید ندیم الحق نے الائیڈ آفیسرز کو بریفنگ دی۔اس موقع پر طلباء و طالبات نے ثقافتی پروگرام پیش کیا۔ الائیڈ آفیسرز اور ان کی فیملیز میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔

newsaliedofficestaf.jpg

فرسٹ آرمرڈ ڈیوانٹر یونٹ باکسنگ چیمپیئن شپ
گزشتہ دنوں ملتان گیریژن میں فرسٹ آرمرڈ ڈیوانٹر یونٹ باکسنگ چیمپیئن شپ منعقد ہوئی ۔ چیمپیئن شپ میں کل10یونٹوں کے 80کھلاڑیوں نے دس مختلف ویٹ کیٹگری میں حصہ لیا ۔ فرسٹ آرمرڈ ڈیو کی 21 ایس اینڈ ٹی بٹالیننے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے چیمپیئن ٹرافی جیت لی۔ تقریب کے اختتام پربریگیڈ ئیر فیاض فاروق نے پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں میں انعامات تقسیم کئے ۔

newsaliedofficestaf1.jpg

08
December
جنرل زبیر محمود حیات رجمنٹ آف آرٹلری کے کرنل انچیف مقرر
گزشتہ دنوں آرٹلری سنٹر اٹک میں تھرڈ کرنل اِنچیف آف رجمنٹ آف آرٹلری کی تقریب منعقد ہوئی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کو اِس موقع پر تھرڈ کرنل اِن چیف آف رجمنٹ آف آرٹلری کے رینک لگائے گئے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ آرٹلری کور کی فلاح اور استحکام کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس تقریب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل میاں ہلال حسین کو بھی کرنل کمانڈنٹ کے رینک لگائے گئے۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کے علاوہ جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newscjstoarterly.jpg

کرنل کمانڈنٹ آف ملٹری پولیس کور کی تقریب
گزشتہ دنوں ملٹری پولیس ٹریننگ سنٹر ڈیرہ اسماعیل خان میں کرنل کمانڈنٹ کی تقریب منعقد ہوئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر ایڈجوٹینٹ جنرل آف پاکستان آرمی کو کرنل کمانڈنٹ آف ملٹری پولیس کے رینک لگائے۔

newscjstoarterly1.jpg

08
December

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

شالا مسافر کوئی نہ تھیوے
پوسٹنگ کے ضمن میں اللہ میاں نے ایم ایس برانچ کو خصوصی طور پر فری ہینڈ سے نواز رکھا ہے۔ ہم تو اپنے اور بیشمار ساتھیوں کے تجر بے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افسر کی پوسٹنگ کبھی بھی اس شہر میں نہیں آتی جس کے لئے دل و جان سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ افسر کو چارو ناچار اسی پوسٹنگ پر آمنا و صدّقنا کہنا ہوتا ہے جو اس کے اور فیملی سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ بقول غالب پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق۔۔۔ آدمی ہمارا کوئی دم تحریر بھی تھا؟۔ پوسٹنگ موصول ہوتے ہی پرانا سٹیشن اجنبی سا محسوس ہونے لگتا ہے اور ''چل اڑ جا رے پنچھی'' والی فیلنگ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ دریں اثنا چار کاموں کا فی الفور آغاز ہوجاتا ہے یعنی رونا دھونا، کلئیرنس ،پیکنگ اور ٹرک کی تلاش۔ نئی پوسٹنگ پر بیگم کا رونا دھونا اپنی جگہ ایک مصمم حقیقت ہے۔ رونے دھونے کی مقدار نئے سٹیشن کے میکے سے فاصلے سے براہ راست اور سسرال سے فاصلے سے معکوس متناسب ہوا کرتی ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دیرتو زور و شور سے جاری رہتا ہے پھر دھیرے دھیرے بیمار کو'بے وجہ قرار' آ ہی جاتا ہے۔ اس کی وجہ عموماً نئے شہر میں موجود شاپنگ کی معلومات ہوتی ہیں جو لیڈیز کلب کے توسط سے بیگم تک پہنچتی ہیں۔
یہ بات بھی تجربے سے ثابت ہے کہ حکومت سے پیسہ وصول کرنا تو ناکوں چنے چبانے کے برابر ہے ہی لیکن سرکاری واجبات کی ادائیگی بھی جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ کلئیرنس کروانے کے لئے ایسے ایسے محکموں کے چکر لگانے پڑتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ جس دفتر کا آپ کو نام بھی معلوم نہیں ہوتا، پتہ چلتا ہے کہ آپ کی طرف ان کے بھی ہزار دو ہزار نکلتے ہیں۔ چلتے چلتے جوتیاں گھس جاتی ہیں لیکن گوہر مقصود ہاتھ نہیں آتا۔ جس دفتر میں بھی کلئیرنس فارم روانہ کیا جاتا ہے وہاں سے جواب ملتا ہے کہ ہم تو سب سے آخر میں دستخط کریں گے۔ یہ نکتہ ہماری سمجھ میں آج تک نہیں آیا کہ جب سب ہی آخر میں دستخط کریں گے تو پہلے کون کرے گا؟ جو افسران اس صحرا میں خود سے آبلہ پائی کرنے نکل پڑتے ہیں وہ ایک آدھ دن میں ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے توبہ توبہ کر اٹھتے ہیں اور یہ کام اپنے کسی 'سیانے' حوالدار کو سونپ دیتے ہیں جو چند 'آزمودہ' نسخے آزمانے کے بعد یہ مرحلہ طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس دوران افسر کی جیب خاطر خواہ حد تک ہلکی ہو چکی ہوتی ہے۔
سامان کی پیکنگ ایک انتہائی ٹیکنیکل قسم کا کام ہے اور ہم سے قسم لے لیجئے کہ یہ آئی ایس ایس بی پاس کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ سو سو طرح کے تجربات سے گزر کر ہی بندہ اس کام میں مہارت حاصل کرپاتا ہے۔ ہرپوسٹنگ پر سامان کے لئے نئی پیکنگ بنوانا پڑتی ہے کیونکہ پرانی پیکنگ دو سال کے عرصے میں سٹور میں پڑی پڑی یا تو گل سڑ جاتی ہے یا'نادیدہ قوتوں' کے ہاتھ لگ کر غائب ہو جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے آرڈیننس والوں سے جان پہچان نکال کر پرانے کمبل بھی بہم پہنچائے جاتے ہیں اور کارپینٹر سے کریٹ بنوانے کا فریضہ بھی سر انجام دیا جاتا ہے۔ سامان کو لاکھ حفاظتی پردوں میں بھی پیک کر دیا جائے تب بھی اس کے بحفاظت منزل مقصود تک پہنچنے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ واقفان حال شاہد ہیں کہ جہیز کی کسی چیز کو معمولی خراش بھی پہنچ جائے تو بیگمات کے لئے وہ صدمہ ابدی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان تمام خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیکنگ کے لئے خصوصی ٹیم کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے گھر کی چیزیں کمبلوں میں لپٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس گھر کو آپ نے دو تین سال تک ارمانوں سے سجایا ہوتا ہے اسے یوں ویران ہوتے دیکھ کر سینے پر سانپ لوٹتے ہیں لیکن بادل نخواستہ یہ عمل جاری رکھا جاتا ہے۔


سامان کی پرانے سٹیشن سے نئے سٹیشن تک ترسیل کے لئے مناسب سواری کا بندوبست کرنا بھی گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ یہ عمل لگ بھگ قربانی کا بکرا ڈھونڈنے جیسا ہی ہوتا ہے۔ افسر کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی کم خرچ بالا نشین قسم کا ٹرک اس مقصد کے لئے حاصل ہو جائے چنانچہ تمام دوستوں یاروں اور دور نزدیک کے جاننے والوں کو ٹرک والوں سے گفت و شنید کا ٹاسک دے دیا جاتا ہے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد ۔ نئے شہر کا نام سنتے ہی ٹرک والے جس رقم کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اس سے بہترتو یہ لگتا ہے کہ بندہ تمام سامان فقیروں میں تقسیم کر کے خالی ہاتھ نئے ڈیوٹی سٹیشن پر پہنچ جائے اور وہاں جا کر پورے کا پورا سامان دوبارہ خرید لے۔ لیکن کیا کریں ایسا چاہتے ہوئے بھی ممکن نہیں ہوتا کیوں کہ اس سامان میں وافر حصہ بیگم کے جہیز کا ہوتا ہے جس سے جدائی انہیں کسی طور گوارا نہیں ہوتی۔ کافی ردو کد کے بعد بجٹ کے ڈیڑھ گنا حد میں ایک عدد ٹرک مہیا ہو ہی جاتا ہے۔ خدا خدا کر کے وہ دن بھی آ ہی جاتا ہے جب ٹرک گھر کے دروازے پر آن موجود ہوتا ہے۔ اب سامان کو ٹرک میں لوڈ کرنے کا آغاز ہوتا ہے جو کہ نہایت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ سامان کو ایک خاص ترتیب سے مرحلہ وار ٹرک میں لوڈ کرایا جاتا ہے۔ صوفے کی جگہ بنانے کی کوشش میں فرج سوار ہونے سے رہ جاتا ہے اور جہیز کی پیٹی کو ترجیح دیں تو ڈائئنگ ٹیبل کو نیچے اتارنا پڑتا ہے۔ اس مرحلے پر بیگم ہمارے کتابوں والے ٹرنک کو سو سو صلواتیں سناتی ہیں اور اسے ٹرک بدر کروا کے ہی دم لیتی ہیں۔ تمام تر کوشش کے باوجود آخر میں بہت سا سامان بچ جاتا ہے جسے موقع پر ہی مستحقین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
بالآخر ٹرک روانہ ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے افسر بمع فیملی پرانے سٹیشن کو خدا حافظ کر کے اپنی ذاتی گاڑی میں نئے سٹیشن کے لئے روانہ ہوجاتا ہے۔ نئے سٹیشن پر پہنچ کر سامان کسی سٹور میں رکھوایا جاتا ہے۔ اگر گھر الاٹ ہونے میں کچھ دیر ہو تو تب تک کا وقت میس کے ایک کمرے والے گیسٹ روم میں گزارا جاتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی سٹیشن پر آپ کو چار بیڈ روم کا گھر مل جائے جبکہ دوسرے سٹیشن پر آپ دو کمروں کے فلیٹ میں ڈیرہ جمانے پر مجبور ہوں۔ ایسے میں ہر بار پردے اور قالین گھر کے سائز کے حساب سے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔ نئے گھر کو نئے سرے سے رنگ و روغن کروا کر بڑے چائو سے تیار کیا جاتا ہے۔ تمام اشیاء کی پیکنگ کھولی جاتی ہے۔ ٹوٹی ہوئی اشیاء پر آنسو بہائے جاتے ہیں اور بچ جانے والی چیزوں پر شکرانے کے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ گھر کو نئے شہر کی مناسبت سے خوب سجایا سنوارا جاتا ہے، فون، کیبل، بجلی، گیس کے کنکشن لگوائے جاتے ہیں اور بچوں کے داخلے کرائے جاتے ہیں۔ زندگی نئے سرے سے شروع ہوتی ہے، پرانے دوستوں کو بھلا کرنئے دوست بنائے جاتے ہیں اور نت نئی دلچسپیاں اختیار کی جاتی ہیں۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہتا ہے، دو سال گویا پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں اور پھر اچانک ایک دن بیٹھے بٹھائے۔۔۔۔۔۔ نئی پوسٹنگ آ جاتی ہے۔


ہینڈنگ ٹیکنگ
فوج میں ایک بار داخلہ ہی اپنی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد اپنی مرضی چلانے کا موقع شاذو نادر ہی مل پاتا ہے۔ پوسٹنگ ، ٹرانسفر ایک معمول کی بات ہوتی ہے جس میں سٹیشن اور وقت کا انتخاب افسر کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ ہر پوسٹنگ اور ٹرانسفر سے ایک چیزلازماً جڑی ہوتی ہے اور وہ ہے جانے والے کا نئے آنے والے کو چارج سونپنا جسے عرف عام میں ہینڈنگ ٹیکنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس دو الفاظ کے مجموعے میں کتنے حشر پوشیدہ ہیں وہ تو واقفانِ حال ہی بہتر جانتے ہیں۔ہینڈنگ ٹیکنگ انفرادی بھی ہوتی ہے اورپوری یونٹ کی بھی۔اب دو تین سال کی پوسٹنگ کے دوران ایک سٹیشن پر رہتے ہوئے بہت سی چیزیں ایشو کروائی جاتی ہیں جن کو مکمل چلتی حالت میں نئے آنے والے فرد یا یونٹ کے حوالے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہینڈنگ ٹیکنگ میں چارج پر موجود تمام منقولہ و غیر منقولہ اشیاء کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔اگر کوئی چیز ناموجود ہو یا اس کا کوئی کل پرزہ ڈھیلا ہو تو جان نہیں چھٹتی بلکہ اکثر اوقات بات اوپر تک پہنچ جاتی ہے چنانچہ اس تمام عمل کے دوران عزت سادات دائو پر لگی رہتی ہے۔دینے والے چیزیں پوری کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ لینے والے بھلی چنگی چیزوں میں نقص نکال کر ایک طرف رکھتے چلے جاتے ہیں۔ خیر یہ سلسلہ کچھ دیر جاری رہ کر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے اور کچھ لو کچھ دو کے اصول کو اپنا کر درمیانہ راستہ نکال ہی لیا جاتا ہے۔
سیاچن میں ہم ایک مرتبہ پوسٹ پر پہنچے تو ہمیں وہاں پہلے سے موجود کیپٹن امین کے ساتھ ہینڈنگ ٹیکنگ کرنا پڑی۔ کیپٹن امین اگلی صبح ہمیں اگلو سے باہر لے گئے اور فرمانے لگے کہ اس پوسٹ پر صرف اگلو ہی برف سے باہر ہے باقی ہر چیز برف کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ میں تمہیں جگہوں کی نشاندہی کر دیتا ہوں اگر تم چاہو تو کھود کر نکال لو اور گن کر اپنی تسلی کر لو۔اب بھلا 19 ہزار فٹ کی بلندی پر کون ہو گا جو برف کھود کر راشن کے تھیلے دریافت کرے اور کولمبس ثانی کہلائے۔چنانچہ ہم نے اچھے فرمانبردار جونئیر کی طرح سر تسلیم خم کر دیا کیوں کہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا اور یوں عسکری تاریخ کی یہ مختصر ترین ہینڈنگ ٹیکنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ پوسٹ پر ہم نے تین مہینے جوں توں کر کے گزارے اورادھر ادھر کھود کھود کر ضرورت کے مطابق راشن دریافت کرتے رہے۔ ہوتا کچھ یوں کہ جہاں دال برآمد کرنے کے لئے کھدائی کرتے وہاں پکی پکائی سبزی کے ڈبے ہمارا منہ چڑاتے نظر آتے اور جس جگہ کیپٹن امین نے گھی کے ڈبوں کا بتایا تھا وہاں سے انرجائل کے ڈبے نکل آتے۔ خیریونہی کرتے کراتے ہمارا وقت مکمل ہوا اور ہماری ریلیف کے طور پر کیپٹن ارسلان تشریف لے آئے۔ ہم نے بھی پرانے طریقے کے مطابق ان کو راشن وغیرہ کی نشاندہی کی اور ہنستے کھیلتے پوسٹ کو خداحافظ کہا۔ ہماری کیپٹن ارسلان سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی کہ ان سے پوچھتے کہ برف کے اس موئن جوداڑو سے انہوں نے مزید کیا کچھ برآمد کیا۔

جاری ہے۔۔۔۔

 
08
December

تحریر: ڈاکٹر ہمامیر

جب تک ہم یورپ نہیں گئے تھے، بلکہ یوں کہئے جب تک ہم اٹلی کے شہر وینس نہیں گئے تھے ہمیں اندازہ نہیںتھا کہ فلموں میں اور حقیقی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اکثر فلمی گانوں میں وینس میں کشتی میں ہیرو ، ہیروئن بیٹھے رومانوی گیت گا رہے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ وینس کا شہر پانی میں گھرا ہوا ہے، یہاں عمارتیں، ہوٹل سب پانی کے اوپر ہیں اور گاڑیوں کے بجائے لوگ کشتی میں سفر کرتے ہیں۔ وینس118 جزیروں پر مشتمل شہر ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے بذریعہ پل ایک دوسرے سے جڑے ہیں اور ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔ہمیں بہت شوق تھا کہ وینس کی خوبصورتی دیکھیں، وہاں کی مشہور کشتی گنڈولا
(Gondola)
میں بیٹھیں، جس میں بیٹھ کر ہیروئن لہر ا لہرا کے گیت گاتی ہے۔2013 میں ہم پہلی بار یورپ کے دورے پر گئے اور بطور خاص وینس گئے جہاں دھوپ، گرمی اور حبس نے چودہ طبق روشن کردیئے، مگر ہم نے ہنسی خوشی یہ گرمی برداشت کی کہ گنڈولا میں بیٹھیں گے تو مزا آجائے گا۔ مگر صاحبو ! ہوا یوں کہ مہنگا ٹکٹ خرید کر جب اس گنڈولا میں بیٹھے تو ناخدا نے سختی سے تنبیہہ کی کہ کوئی کھڑا نہ ہو، سب آرام سے بیٹھ جائیں۔ ہم نے کئی بار کوشش کی کہ کم از کم ایک آدھ تصویر ذرا کھڑے ہوکر بنالیں مگر ہر بار ہمیں بٹھا دیاگیا۔ سارے موڈکا ستیاناس ہوگیا، ایک تو گرمی، پسینہ اوپر سے مہنگا ٹکٹ، پھر ہلنے جلنے پر پابندی۔ جانے فلموں میں کیسے شوٹنگ ہوتی ہوگی۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف رہا ہمارا سفرِوینس!!! یہ وینس کا ذکر ہم یوں کررہے ہیں کہ کینیڈاآنے سے قبل ہمیں سردیاں اور برفباری بہت اچھی لگتی تھی۔ کراچی میں تو بالکل ٹھنڈ نہیں پڑتی لہٰذا برفباری پسند ہونا قدرتی بات ہے۔ ایک تو فلموں کا ہمارے دل و دماغ پر بہت اثر ہوتا ہے، فلموں میں ہیرو، ہیروئن برف میں گانے گاتے ہیں، ہیرو تو خیر خوب گرم کپڑے مثلاً اوور کوٹ، مفلر، اونی دستانے وغیرہ پہنے ہوتا ہے، جبکہ ظالم ہدایتکار نے ہیروئن کو شیفون کی ساڑھی پہنا رکھی ہوتی ہے۔ وہ غریب برف میں ایسے آرام سے گھومتی ہے جیسے چاندنی رات میں ساحلِ سمندر پر چہل قدمی کررہی ہو۔
Snow man
بنانا، برف کے گولے ایک دوسرے پر اُچھالنا، برف میں لڑھکنا، یہ سب فلموں میں ہی اچھا لگتا ہے، جب سے ہم نے کینیڈا میں ڈیرہ ڈالا ہے برف اور سردی کے نام سے ہی دانت بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔

desdeskisair.jpg
ایک تو مصیبت یہ ہے کہ یہاں کی شہری حکومت، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت سب اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں لہٰذا نہ بارش کا پانی کہیں کھڑا ہوتا ہے نہ برف کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں۔
Heating System
بھی عمدہ ہوتا ہے، کمبخت بجلی بھی نہیں جاتی لہٰذا کوئی بہانہ نہیں چلتا اور دفتر ٹائم پہ ہی پہنچنا پڑتاہے۔ ٹرانسپورٹ والے بھی آرام سے ڈیوٹی کرتے ہیں، پہیہ جام یا ہڑتال بھی نہیں ہوتی، کچھ بھی ہوجائے،بندے کو ڈیوٹی پر ٹائم پہ ہی پہنچنا ہوتا ہے چاہے آندھی ہو یا طوفان، کاروبارِحیات چلتا رہتا ہے۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوجاتی ہیں، سورج صبح 8 بجے نکلتا ہے اور بادلوں میں ڈھکا رہتا ہے۔ ہمیں تو اب اس برفباری سے وحشت سی ہونے لگی ہے۔ کہیں بھی جانا ہو تو پہلے گھر کے باہر سے اور گاڑی پر سے برف صاف کرو۔ پھر گاڑی سٹارٹ کرکے پانچ دس منٹ کے لئے چھوڑ دو، جب انجن گرم ہو جائے پھر ہیٹر آن کرکے منزل مقصود پہ روانہ ہوجائو۔ بھلے ساری مشقت میں اپنی قلفی جم جائے لیکن کرنا یہی پڑتا ہے۔ پاکستان میں تو الگ ہی لائف اسٹائل ہوتا ہے، گاڑی صاف کرنا، چمکانا، آپ کو منزلِ مقصود پہ پہنچانا، یہ سب کام ڈرائیور کرلیتا ہے، گھر کی صفائی ستھرائی یا دیگر امور کے لئے بھی ملازمین بآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔ کینیڈا میں مشکل یہ ہے کہ سارا کام خود کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کوئی مالی، ماسی، چوکیدار یا ڈرائیور نہیں ہوتا۔ یہاں تو ٹوائلٹ بھی خود صاف کرنا ہوتا ہے۔ کھانا پکانا، گھر کی صفائی، لان کی دیکھ بھال، ملازمت، ہر وقت لگتا ہے کہ بس کام، کام اورکام۔ اسی باعث یہاں کے لوگ فارغ الذہن نہیں ہوتے اس لئے شیطان کا گھر نہیں بنتا۔ یہاں کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ دیکھے کہ فلاں نے کیا پہنا ہے، فلاں کے یہاں کیا پکا ، فلاں کی ساس بہو سے جھگڑ تو نہیں رہی؟ فلاں کیا کررہا ہے۔ کسی کو کسی کی پروا ہے نہ ٹوہ، ہر کوئی اپنے آپ میں مگن ہے۔ یہ مجبوری ہے کیونکہ یہاں وہ سسٹم تو نہیں کہ ایک کمائے دس کھائیں۔ اگر ایک گھر میں دس افراد ہیں تو دس کے دس کوکمانا ہوگا۔ سٹوڈنٹس بھی کام کرتے ہیں کیونکہ ہائی سکول تک تو تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے اور مفت ہے مگر یونیورسٹی کے لئے فیس دینی ہوتی ہے۔


یہاں کینیڈا میں والدین اپنے بچے کی یونیورسٹی کی فیس ادا نہیں کرتے لہٰذا بچے کو خود کما کے اپنے اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں۔ مقامی بچے بہت حیرت کرتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ دیسی والدین بچوں کی کفالت کرتے ہیں۔ پاکستان میںساری زندگی والدین بچوں کو پالتے ہیں جبکہ یہاں بچہ اٹھارہ برس کا ہوا اور اس نے الگ ٹھکانہ کرلیا۔ یہ آزادی عجیب ہے، بچہ سمجھتا ہے میں بڑا ہوگیا لہٰذا اب میں آزاد ہوں، اب کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی پابندی نہیں۔ اس قسم کی آزادی کے نتائج وہ نکلتے ہیں جو مشرقی اور اسلامی اقدار کے منافی ہیں۔ اکثر ہم یہ سوچتے ہیں کہ مشرق اور مغرب میں بہت فرق ہے، ہمیں اپنا پن اور مروّت بالکل نظر نہیں آتی۔ بس ایک مشینی زندگی ہے اور وہ بھی صرف اپنے لئے۔ جب ہم نئے نئے آئے تھے تو ایک مرتبہ بس میں کہیں جارہے تھے۔ وہاں ہم نے ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا جو بہت خوبصورت اور نوعمر تھی۔ اس نے اپنا ایک چوتھائی سر گنجاکر رکھا تھا اور باقی سر کے بالوں کو گہرا نیلا اور سبز رنگا تھا۔ اُس لڑکی نے جو ہمیں اپنی طرف بغور دیکھتے ہوئے دیکھا تو بھڑک گئی۔ اس نے وہ مغلظات بکیں کہ توبہ توبہ۔ ہم شرمندہ ہو کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
اب ایک اور واقعہ، یہ بھی بس میں پیش آیا۔ گرمیوں کے دن تھے، ہم رات کے وقت گھر واپس جارہے تھے۔ ہمیںبس کی عقبی حصے میں سیٹ خالی نظر آئی تو وہیں جاکر بیٹھ گئے۔ ہمارے سامنے ایک نوجوان سیاہ فام لڑکی بیٹھی تھی جس کے ہاتھ میں موبائل، کان میں ہیڈ فون اور پشت پہ بیک پیک تھا۔ وہ حلیے سے یقیناً کوئی طالبہ لگ رہی تھی۔ اس نے فون پر باتیں کرتے کرتے دھڑ سے اپنے پائوں ہماری جانب بڑھائے اور ساتھ والی نشست پر رکھ دیئے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ اُس کے جوتے بالکل ہماری سائیڈ پر تھے۔ ہم دنگ رہ گئے، پاکستان میں کوئی جاہل بھی ہوگا تو کبھی دوسرے کے منہ کے آگے جوتے کرکے نہیں بیٹھے گا۔ یہاں تعلیمی اداروں میں جو علم سکھایا جارہا ہے وہ اپنی جگہ لیکن اگر کسی نے یہ بھی نہ سیکھا کہ ادب، لحاظ، تمیز کس چڑیا کانام ہے تو کیا فائدہ ایسی ڈگریوں کا۔ ہم سے یہ بدتمیزی برداشت نہ ہوئی اور ہم نے اُس کو پیر ہٹانے کے لئے کہا، اُس لڑکی نے سُنی اَن سُنی کردی، مجبوراً ہمیںنشست تبدیل کرنی پڑی۔ یہ واقعات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین جان سکیں کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کتنی ضروری ہے۔ تربیت کا جو معیار ہمارے یہاں ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ اکثر ہمارے (پاکستانی فیملیز کے) بچے بھی بڑوں کو سلام نہیں کرتے۔ اگر آپ بچے کے دوست ہیں تو بچہ آپ کو ہیلو کہے گا، اگر آپ بچے کے والد یاوالدہ کے دوست ہیں توسلام کرنا تو دُور کی بات، بچہ آپ کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر پاکستانی اور مسلمان خاندان اپنے بچوں کی پرورش بہت عمدہ انداز سے کررہے ہیں۔ بچوں کو بنیادی ادب آداب کے علاوہ مذہب کی تعلیم بھی دے رہے ہیں۔ وطنِ عزیز میں بچے کو سنبھالنے والے بہت عزیز رشتہ دار ہوتے ہیں جبکہ کینیڈا میں ڈے کیئر سینٹرز اس ذمہ داری کو نبھارہے ہیں۔ چونکہ ماں جاب کرتی ہے اور باپ (اگر ساتھ ہو تو) بھی جاب کرتا ہے لہٰذا بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ڈے کیئرسینٹر ہی موزوں ہے۔ بیشتر پاکستانی اس منفعت بخش کاروبار سے منسلک ہیں۔
اب ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آگیا ہے کہ کیوں بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی اپنے بچوں کی شادیاں پاکستان میں ہی کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ یہاں کی نوجوان نسل مکمل گمراہی میں ڈوبی ہوئی ہے لیکن ایک بنیادی فرق جو نمایاں ہے وہ سوچ کا ہے۔ کینیڈا میں پلنے بڑھنے والے نوجوان شخص آزادی، فکری آزادی، دو ٹوک بات کرنے، اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں بزرگ اپنی مرضی بچوں یا نوجوانوں پر ہرگز مسلط نہیں کرسکتے۔ پاکستان میں ہر معاملے میں بزرگوں یا والدین کا فیصلہ ہی چلتا ہے کہ بچہ کیا پڑھے گا، کیا بنے گا، کہاں اور کس سے شادی کرے گا۔ جبکہ یہاں یہ رواج نہیں۔ کینیڈا میں بسنے والے زندگی تو یہاں بسر کررہے ہیں، مگر وہ لوگ جو عرصۂ دراز سے یہاں مقیم ہیں وہ ذہنی طور پر پاکستان کی ہی تہذیب و روایات کا پاس کر رہے ہیں، ایسے میں جب اُن کی اولاد مختلف سوچ کی حامی ہو تو دو تہذیبوں، دو افکار اور دو نسلوں کا ٹکرائو ہونا فطری سی بات ہے۔

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہُوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تُو

مری مثال کہ اک نخلِ خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخِ چمن کا طائر تُو

میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تُو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تُو

فضا اُداس ہے رُت مضمحل ہے میں چپ ہُوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تُو

فراز تُو نے اُسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تُو

ahmed_faraz.jpg
احمدفراز

*****

 
08
December

تحریر: صائمہ بتول

سائبر کرائم یا کمپیوٹر کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پورے نیٹ ورک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، جس میںملزم، مدعی، مجرم اور ہدف بھی کمپیوٹر ہوتا ہے۔ سائبر کرائم ایسے مجرمانہ فعل کے ارتکاب کو کہا جاتا ہے جس کا ہدف فردِ واحد، ایک تنظیم، گروپ، کمپنی اور ملک ہو سکتا ہے جسے باقاعدہ طے شدہ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بناکر ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی طور پر بالواسطہ یا بلاواسطہ یا دونوں طرح سے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ سائبر کرائم کے وار سے کسی ملک کے حفاظتی اقدامات پر یا کسی قوم کی ثقافت پر وار کیا جاتا ہے۔ یا کسی بھی مذہب پر قدغن لگائی جاسکتی ہے۔ اس میں جدیدہتھیار ٹیلی کمیونیکیشن، نیٹ ورک، انٹر نیٹ، موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ، چیٹ روم،بلوٹوتھ، ایس ایم ایس، ایم ایم ایس، واٹس ایپ، ای میل، لنکڈان، انسٹا گرام اور سیٹلائٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اعلیٰ سطح کے جرائم میں ہیکنگ (دراندازی، توڑ پھوڑ) بڑے پیمانے پر غیر اخلاقی و غیر قانونی نگرانی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی،بچوںسے متعلقہ برہنگی جنسی جرائم، انسانوں کی تجارت، ممالک کی سائبر سرحدوں پر سائبراٹیک کے علاوہ کئی اور جرائم بھی شامل ہیں۔ ذاتی معلومات اور شخصی آزادی بھی اسی مد میں آتے ہیں۔ سائبر کرائم میں مجرم کوئی ایک حکومت بھی ہوسکتی ہے اور کئی کیسوں میں واحد شخص بھی اس کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ جاسوسی اور مالیاتی چوری یا ڈاکے کے علاوہ سرحدوں پر مشکوک سرگرمیاں سائبر وار فیرکہلاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سائبرکرائم کے ذریعے دنیا بھر میں سالانہ445 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ 2016 میں مائیکرو سافٹ کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے فراڈ پر1.5 بلین ڈالر کا نقصان ہوا جو آن لائن دھوکہ دہی میں آتا ہے۔ایک تحقیقاتی ٹیم کے مطابق سائبر کرائم روز بروز بڑھے گا اور2019 تک یہ مجموعی نقصان 2.1 ٹریلین ڈالر تک جاسکتا ہے۔ تاریخ کا بدترین ہیکنگ کمپیوٹر کرائم1970 سے1973 کے دورانیے میں نیویارک کے یونین ڈائم سیونگ بینک میں ہوا جس میں کئی سو اکائونٹس کو نشانہ بنا کر 1.5 ملین ڈالر اڑا لئے گئے۔1983 میں 19 سالہ طالب علم نے اپنے ذاتی کمپیوٹر کی مدد سے ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے کمپیوٹر سسٹم کو باقاعدہ ناکارہ بنا کر دنیا بھر سے اس کا رابطہ توڑ دیا تھا۔ اسی طرح2010 میں اسپین کے ایک تفتیشی افسر نے دو ساتھیوں سے مل کر دنیا بھر کے تقریباً 13ملین کمپیوٹرز کو وائرس سے تباہ کردیا۔ یاد رہے کہ دنیا کا پہلا وائرس(آئی بی ایم کی رپورٹ کے مطابق) 1986 میں لاہور پاکستان کے رہائشی فاروق علوی برادران نے برین کے نام سے بنایا جو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ بہر حال ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم کی درجہ بندی میں چند اور اضافے ہوئے جن کی تفصیل یہ ہے:

newcybercrime.jpg
سائبرٹیررازم، سائبر ایکسٹورشن، سائبر وار فیئر ؤ، کمپیوٹر بطور ٹارگٹ، کمپیوٹربطورٹول ، ای ہراسمنٹ اور ڈرگ ٹریفکنگ۔ یہ سلسلہ جاری ہے جس میں ذہنی، اعصابی، جذباتی اورروحانی طور پر بے راہ روی اور بیماری لاحق کردینے والا تحریری، تصویری اور صوتی آواز والا مواد شامل ہوتا ہے۔ رواں سال مئی 2017 میں 74 ممالک پر شدید نوعیت کا سائبر اٹیک ہوا جس کو
' 'Wanna Cry
'رونے کی خواہش'کانام دیا گیا۔ کمپیوٹر سے وابستہ مثبت اور منفی رجحانات کے ساتھ ساتھ فوائد و نقصانات کا حساب بھی ضروری ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک میں اس جرم کا تدارک، قانون سازی، ہنر، تعلیم و تربیت اور استعمال کا مفید طریقہ اور ادراک بھی ضروری ہے تاہم دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سائبر کرائم سے ہونے والے نقصان، مجرمانہ حرکات، نقل و حمل اور جرائم کی نشاندہی اور استغاثہ ابھی تک ایک مسئلہ ہی ہے جو یقینا بھرپور حل کا منتظر ہے۔ جین لوپ رچٹ
(Jean-Loup Richet)
کمپنی جو سائبر کرائم کے تدارک پر کام کررہی ہے، کے مطابق تکنیکی مہارت، سمجھ بوجھ اور پیچیدہ قسم کی فنی رسائی سائبر کرائم کو مزید مہلک اور گھمبیر ہونے سے روک سکتی ہے۔ ہیکنگ یعنی توڑ پھوڑ اور دراندازی وقت کے ساتھ ساتھ اتنی پیچیدہ اور خطرناک نہیں رہی جتنی ماضی قریب میں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ہیکرز اور اس شعبے سے متعلقہ مختلف لوگوں نے مختلف طریقوں سے واقفیت اورآگاہی سمیت ہوشیار اور چوکنا رہنے کی راہیں ہموارکرلی ہیں جس میں پرنٹ میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک کو استعمال میں لایاگیا۔ اس کے علاوہ کلائوڈ کمپیوٹنگ استعمال کرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے وہ ایک نجی مخصوص سرور کے ساتھ سرور مینجمنٹ نیٹ ورک کنفگریشن سمیت کمپیوٹر کے ماہرین، انٹرنیٹ فروش اور صارفین کا علم بھی رکھتے ہوں۔ کمپیوٹر کو استعمال کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ بہتر، محفوظ اور نسبتاً آسان کمپیوٹنگ کو فروغ دیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک ای میل کا حجم معلوم ہو تو سافٹ ویئر کا حجم ناپاجاسکتا ہے۔ کلائوڈکمپیوٹنگ بھی سائبر کرائم کے حملے سے بچائو کا ایک موثر طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی احتیاط مثلاً بروٹ فورسنگ اور الگورتھم یعنی علمِ ترکیب کے استعمال کے بغیر بھی حفاظتی بند یعنی پاس ورڈ کو تبدیل کرنے سے بھی وائرس یا کسی تخریبی حملے سے بچا جاسکتا ہے۔ اب جدید تفتیش میںکمپیوٹر گواہی، شہادت یا شواہد کے طور پر استعمال ہوتا ہے اورخصوصاً ڈیجیٹل فرانزک کے شعبے میں تو یقینا تفتیش کا سارا دارو مدار کمپیوٹر ہی پر ہوتا ہے۔ کمپیوٹر اگر براہِ راست مجرمانہ نقل و حرکت میں نہ شامل ہو پھر بھی ممکنہ حد تک کمپیوٹر یا فون سے مجرم یاجرم کا پتہ لگانا آسان ہو سکتا ہے۔ اسی لئے بہت سارے ممالک میں انٹرنیٹ کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ خاص وقت تک صارفین سے متعلقہ ضروری کوائف حاصل کرکے اُن کو باقاعدہ ریکارڈ کے طور پر محفوظ رکھیں تاکہ قانونی پہلوئوں اورموشگافیوں میں مدد مل سکے مثال کے طور پر سارے یورپی ممالک میں کم ازکم بارہ مہینے تمام ای میل کی آمد ورفت کا حساب رکھنا ضروری ہے۔


جس طرح سائبر کرائم کے انداز وقوع مختلف اور بے شمار ہیں اسی طرح تفتیش کے طریقے اور معیار بھی جُدا جُدا ہیں مگر سب سے زیادہ آئی پی ایڈریس (انٹرنیشنل پروٹوکول) مشہور اور نسبتاً مؤثر ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر تفتیشی ماہراسی لئے معیار کے ذریعے مقدمے کو حل کرے۔ بعض اوقات بڑے بڑے ہائی ٹیک جرائم میں بہت لوٹیک طریقے اپنائے جاتے ہیں جن کے ذریعے تفتیشی ماہرین جدید دنیا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔ دنیا بھر میں سائبر کرائم کو مزیدقابلِ رسا، لائقِ سمجھ اورقابلِ حل بنانے کے لئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں جس میں ایک چھوٹے سے چھوٹے علاقے سے لے کر بین الاقوامی امدادی اور مشاورتی ادارے سرگرمِ عمل ہیں۔ قانونی استحصال اور کم تعلیم کی وجہ سے مجرموں کا بہترین ہدف تیسری دنیا کے کم یا غیر ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ فلپائن میں سائبر کرائم کا قانون بہت ہی کمزور اور ناقابلِ عمل ہونے کے برابر ہے۔ اسی لئے سائبر کریمنل نہ صرف بین الاقوامی سرحدوں سے اسے نشانہ بنانے میں ناقابلِ شناخت رہتے ہیں بلکہ قانون کے شکنجوں میں بھی نہیں آتے اور اگر پکڑے جائیں تو ناقص قوانین کی وجہ سے قانونی استغاثہ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اسی تناظر میں امریکہ نے سائبر قوانین بنانے میں پہل کی پھر بھی ایف بی آئی کو بین الاقوامی مجرموں سے نبرد آزما ہونے میں مشکل پیش آئی۔ جس کی مثال دو روسی ہیکرز کی گرفتاری کا مشہور کیس ہے جس میں ایف بی آئی کو ایک جعلی کمپنی بنانی پڑی جو سیٹلائٹ کے ذریعے دوسری کئی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتی ہو۔ بڑی تگ و دو کے بعد دونوں روسی مجرموں کو واشنگٹن میں کام کی دعوت دی گئی۔ کافی دلچسپ اور جاذب دعوت سے مستفید ہونے کی نیت سے آنے والے دونوں مجرموں کو انٹرویو کے بعد دفتر کی عمارت کے باہر ہی دھر لیا گیا۔ مگر دوسری جانب کمزور، ناپختہ اور ادھورے قوانین جرائم کے راستے مزید ہموار کرتے ہیں۔ جس طرح میںنے عرض کی کہ پیش گوئی ہے کہ آنے والے سالوں میں کمپیوٹر کا استعمال زیادہ ہوگا اسی طرح متعلقہ جرائم اور سزائوں کا حلقۂ کار بھی وسیع ہوتا جائے گا۔ سائبر کرائم کے زمرے میں بغیر اجازت کے کمپیوٹر کے استعمال سے لے کر کمپیوٹر ٹیمپرنگ
(Tempring)
بھیشامل ہے۔ اسی طرح سزا بھی جرم کی نوعیت کے حساب سے ہے۔ کلاس اے سے لے کر کلاس 'سی' تک مختلف نوعیت کے واقعات شامل ہیں جن کی سزا معمولی حوالات سے بھاری فائن اور 15 سال کی جیل تک ممکن ہے۔ بعض مستند ہیکرز مخبری کرنے والے اداروں کے باقاعدہ ملازم ہیں جو اندر کے بھیدی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ممکنہ طریقہ بھی قانون سازی ہی ہے۔ سزا یافتہ مجرموں کو جیل سے رہائی کے بعد بھی کمپیوٹر خریدنے اور اس پر کام کرنے پر پابندی ہونی چاہئے اور یہ پابندی باقاعدہ عدالت کی طرف سے عائد کی جائے۔


جس طرح روزمرہ کی زندگی میںٹیکنالوجی کا استعمال ترقی کی گاڑی کا پہیہ بن چکا ہے اسی قدر سائبر کرائم کے اندیشے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ خصوصاً بینک اکائونٹ کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کے صارفین ہی اس کا ہدف نہیں بلکہ بڑے بڑے پاور پلانٹ، ایٹمی ہتھیاروں کے گودام، چھائونیاں، حساس ادارے، ہوٹل، دفاتر، خریدو فروخت کی منڈیاں، بڑے بڑے مال اور شہر کے شہر اور ملک کے ملک اس کا ہدف ہوسکتے ہیں۔ اس لئے نہایت ضروری ہے کہ اس موضوع (سائبر کرائم) کے بارے میں آگہی، تعلیم و تربیت، ہوشیار، اور چوکنا رہنے کی تدابیر کی جائیں، مؤثر قوانین بنائے جائیں، عدالت اور وکلاء مختص کئے جائیں تاکہ شہروں اور تعلیمی اداروں میں اس کے فوائد و نقصانات باور کروائے جائیں۔ شکایات کا ازالہ کیا جائے مجرموں کو سزا دی جائے۔ ایف بی آئی کے شکایات کے شعبہ میں2014 میں269,422 شکایات کا اندراج ہوا جس کا مجموعی نقصان073،422، 800ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ سال بھر میں1.5 ملین سائبر حملے ہوئے جس میں4000 مجرمانہ حملے روزانہ،170 حملے فی گھنٹہ اور3 حملے فی منٹ کی رفتار سے ہیں ۔ یہ حملے پر لگائے دنیا بھر کو نقصان پہنچانے کے لئے اڑ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کوئی شخص کہیں بھی اور کسی وجہ سے بھی اس'عفریت' کا نشانہ بن سکتا ہے زیادہ تر 'آن لائن' رہنے والے لوگوں کے لئے اس کی سمجھ بوجھ بہت ضروری ہے۔


پاکستان میں سائبر کرائم بل پاس ہو چکا ہے اور ایف بی آئی پچھلے 15 سال سے ملک کی بیشتر جگہوں پر کام کررہی ہے۔ اس سلسلے میں جدیدیت، سہولت اور ماہرین سمیت ججوں اور وکلاء کی مہارت میں بھی اضافہ ایک انتہائی ضروری امر ہے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

sbatool This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
December

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ اقساط کا خلاصہ
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔


صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیں اور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔


صبا آرمی پبلک سکول میں ٹیچر ہے اور اس کا خاوند ارسلان ایک بنک میں نوکری کرتا ہے۔ دونوں کے بیچ محبت بھری نوک جھونک جاری رہتی ہے۔
مجاہد ایک مدرسے میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔بڑے مولانا صاحب کی ہدایات مدرسے میں کتنی اہمیت رکھتی ہیں،اس کا اندازہ اسے مولوی ثناء اﷲ سے ملنے پر ہوگیا تھا۔وہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔لیکن جلد ہی مجاہد کو بڑے مولانا صاحب کی حقیقت کا علم ہوگیا کہ وہ دین کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا سودا کرتے ہیں۔ اس بات کا ذکر وہ مدرسے میں موجود شکیل بھائی سے کرتا ہے جو اسے اپنی کہانی سنا کر چُپ رہنے کا مشورہ دیتا ہے ۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ یہاں ایسا کوئی نہیں جو اس کی مدد کرے ہر کوئی پیسے کے لئے کام کرتا ہے۔ 

جب فضل، رحمت کی انگلی تھامے مسجدمیں داخل ہوا تو بچے سبق ختم کرکے اٹھ چکے تھے۔ جب کہ قاری صاحب ادھرہی صحن میں چادربچھاکربیٹھے ہوئے تھے۔
''السلام علیکم قاری صاحب۔''فضلونے عقیدت سے سلام کیا۔
'' وعلیکم السلام فضل اللہ کیسے ہو۔آؤ بیٹھو۔'' قاری صاحب نے بچھی ہوئی چادرکے ایک طرف فضل کے لئے جگہ خالی کی۔
''کہواس وقت کیسے آناہوا۔۔۔''
'' قاری صاحب یہ میراچھوٹابیٹاہے رحمت اللہ۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ آپ کی طرح بنے۔ دنیا اور آخرت میں واقعی ہمارے لئے رحمت بن جائے۔۔۔'' فضل نے مدعابیان کیا۔
قا ری ادریس کے چہرے پرایک سایہ ساآکرگزر گیا۔چند لمحوں کے لئے انہوں نے آنکھیں موندھ لی لیں، جیسے کوئی تکلیف پہنچی ہوان کو۔۔۔ یاجیسے مراقبے میں چلے گئے ہوں، لیکن جلد ہی انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔
''فضل اللہ،اللہ اس بچے کوتمہارے اورخاندان کے لئے واقعی رحمت بنا دے لیکن میری طرح نہ بنائے۔'' فضلوکے کانوں میں قاری صاحب کی دکھ بھری آوازگونجی۔ وہ یکدم چونک گیا تھا۔
'' کیاہواقاری صاحب؟؟ میں نے کچھ غلط کہاکیا؟''
''نہیں نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔'' قاری صاحب کواندازاہوگیاتھا کہ فضل بری طرح چونکاہے اورکچھ کھوجناچاہتاہے۔اس لئے جلدی سے انہوں نے موضوع بدل دیا۔
''ا چھاٹھیک ہے فضل اللہ! تم جب چاہوبچے کوبھیج سکتے ہواورچاہوتوآج شام سے ہی۔'' قاری صاحب مسکرائے تھے۔ جیسے وہ ہمیشہ مسکراتے تھے۔ ان کی مسکراہٹ پرفرشتوں کاگمان ہوتا تھا۔
''اچھاٹھیک ہے قاری صاحب۔میں اس کوبھیج دوں گاآج یاکل میں۔ اب چلتاہوں۔اللہ حافظ!''
''اللہ حافظ۔'' قاری صاحب آہستہ سے بولے۔
وہ دونوں باپ بیٹاگھرآگئے تھے۔ لیکن فضلوکے دل میں پھانس سی چبھ گئی تھی۔ باربارقاری صاحب کاچہرہ نظروں کے سامنے آرہاتھا۔ جانے ایسی کیا بات تھی جس سے قاری صاحب کو اتنی تکلیف پہنچی تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات بھی فضلوکویادتھے لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔
لیکن بات زیادہ دیرتک اس کے ذہن میں نہ رہ سکی۔ شام تک وہ بھول ہی گیا۔ اس غریب کی زندگی میں تومسائل کے اوربھی انبارتھے ایسے میں وہ قاری ادریس کے دکھ کوکتنی دیریادرکھ پاتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رحمت اللہ نے قاری ادریس سے سبق پڑھناشروع کردیاتھا۔وہ روزصبح بھی جاتاتھااورشام کو بھی۔ قاری ادریس نے ایک بارکوشش کی کہ فضل رحمت اللہ کوسکول بھی بھیج دیا کرے۔ لیکن اس نے ایک ہی رٹ لگارکھی تھی۔ ''فضل تم اس بچے کوسکول بھی بھیج دیاکرو۔اوررہی پڑھانے کی بات تووہ میں شام کوباقی بچوں کے ساتھ پڑھادیاکروں گا۔شام کوبھی توبچے آتے ہیں نا۔'' اس دن قاری صاحب نے جمعے کی نمازاورخطبے کے بعد فضل کوبٹھاکرکہا۔ ''ارے نہیں قاری صاحب! میں غریب آدمی ہوں۔ میرے بچوں نے کون ساپڑھ کرافسربن جاناہے۔ جومیرے باقی بچے پڑھ رہے ہیں اس سے توبہترہے کہ کوئی نہ ہی پڑھے۔'' فضل کے لہجے میں د کھ تھالیکن سچائی تھی۔
'' کیامطلب؟؟؟''
'' اب دیکھیں ناقاری صاحب۔میرے بیٹے امان اللہ نے دس جماعتیں پڑھ لیں۔ اس سے آگے میری اوقات نہیں تھی۔آج وہ بھی مزدوری کررہاہے۔ اس کے بعدجوبچے پڑھ رہے ہیں ان کوبھی دس جماعتوں سے زیاہ پڑھانے کی ہمت نہیں ہے میری۔ دس جماعتیں پڑھ کروہ کیاکرلیںگے قاری صاحب؟؟؟ اورمیں اس کوبھی داخل کرا دو ں گالیکن ظفرنے پتاکیاہے ابھی داخل ہونے میں سات مہینے رہتے ہیں۔''
'' اچھا ٹھیک ہے لیکن وقت پر داخل کرا دینا اسے۔ایسانہ ہوکہ رہ جائے۔۔''
''جی قاری صاحب داخل کرا دوں گا۔'' اور وہ دونوں باپ بیٹا وہاں سے اٹھ کرآگئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ صبح کی نماز پڑھ کرسیرکے لئے اس میدان میں آگیاجہاں وہ روز آیا کرتا تھا لیکن آج اس کی ہمت گھومنے پھرنے کی نہیں تھی۔وہ جاکرکھلی فضامیں بیٹھ گیا۔ وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھالیکن آج کل ماضی خودہی اس کے پیچھے پڑاہواتھا۔یہاں بھی نہ چاہتے ہوئے ماضی نے ایک بارپھراس کے دماغ میں جھانکا۔
'' مجاہد جلدی آجانا،آج ناشتے کے بعددرس ہوگا۔''حیدرنے اسے نکلتے ہوئے یاددلایا۔
'' کون سادرس؟؟؟؟'' اس نے مڑکرپوچھا:
''جوہرجمعہ کو ہوتاہے اورجس میں ہم لوگ مدرسے کے نئے آنے والوں بچوں کواسلام کی تعلیمات دیتے ہیں؟؟؟''
'' لیکن میں کیسے دے سکتاہوں؟؟؟'' اس نے سرگوشی کی۔
'' جیسے ہرہفتے دیتے ہو۔ بس جلدی آجانا۔''حیدر نے دوبار ہ تنبیہہ کی۔
'' اچھا!''اوروہ نکل گیا۔
ا وراب اس وسیع میدان میں کھلے آسمان تلے، وہ سوچنے لگاکہ اس نے کس سے اورکہاں پر اسلامی تعلیمات لی تھیں؟؟؟اورکیا وہ اس قابل ہے کہ وہ کسی کوتعلیمات دے سکے؟ماضی ایک بارپھراپنی پوری شدت سے حملہ آورہوا۔۔

اب وہ صبح شام قاری ادریس کے پاس جایاکرتا۔ وہ بچہ تھا۔ قاری صاحب کوفکرتھی کہ پانچ سال کابچہ صبح شام کایادکروایاہواسبق یادنہیں رکھ پائے گا۔۔اس کاحل انھوں نے یہ نکالا کہ صبح اس کو باقی ترجمہ پڑھنے والے بچوں کے ساتھ بٹھاتے اورشام کواس کوسبق یاد کرواتے۔ ۔ قاری صاحب چاہتے تھے کہ ترجمہ بے شک وہ یادنہ کرے لیکن چلواسی بہانے کچھ سیکھ ہی جائے گا۔
''اے پروردگار!
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مددمانگتے ہیں،ہم کوسیدھے راستے پرچلا۔ ان لوگوں کے راستے پرجن پرتواپنافضل وکرم کرتارہا۔نہ کہ ان کے راستے پرجن پرتوغصے ہوتارہا۔ اورنہ گمراہوں کے راستے پر۔''
( الفاتحہ 3ـ7 )
''اے اللہ ہم پررحم کر۔ہمیں بخش دے۔ ہم پراپناکرم کر۔ ہم اس قابل نہیں ہیں۔ لیکن تیرافضل بے انتہاہے۔ ہم کم ظرف ہیں لیکن تیراظرف بہت بڑاہے۔ ہمیں ہمارے اعمال کے مطابق نہ دے، کیونکہ ہمارے اعمال تُو صرف عذاب کے قابل ہیں۔ لیکن اپنے رسولۖ کے صدقے ہمیں بخش دے۔ ہمیں قومِ عادکے انجام سے بچا لے۔ ہمیں قومِ ثمودبننے سے بچالے، ہماراحال قومِ لوط جیسانہ کر۔ ہمیں ایسے کاموں سے بچالے کہ ہماراانجام قومِ شعیب جیسا ہو۔ ہمارے اعمال کونہ دیکھ۔اپنی بادشاہی کے صدقے ہمیں آگ سے بچالے۔ اے میرے مالِک تیرے غصے کی تاب نہیں ہے ہم میں۔ہم پراپنی رحمت کی چادرڈال دے۔ وہ رحمت جس کا سایہ ہم پرہمیشہ رہے۔ ہم سب کوصراطِ مستقیم پر چلا۔ اس راستے پرجس پرتیرے برگزیدہ بندے چلے۔ وہ بندے جوتجھ سے محبت کرتے تھے۔ اور وہ بندے جن سے تومحبت کرتاہے اوروہ راستہ جوتیراراستہ ہے۔ وہ راستہ جس پر تیرانبیۖ چلا,جس پرصحابہ کرام چلے۔ یا اللہ! ہمارے بچوں کونیکی کی توفیق دے،ان کواچھا انسان بنادے۔ ان کواچھا مسلمان بنادے۔ یامیرے رب ہماری دعا قبول فرما۔۔
آمین ثم آمین۔۔۔۔۔۔''
سب نے بآوازِ بلند کہا۔
آج جمعے کا دن تھا۔ محلے کے سارے مردجمعہ پڑھنے آئے تھے۔ یہ قاری ادریس کے الفاظ تھے۔ جمعے کی نمازکے بعددعاکی تھی انھوں نے۔ ہمیشہ جمعے کی نمازکے بعدوہ دعاکرتے تھے۔ اور ہمیشہ یہی دعامانگتے تھے۔
'' قاری صاحب! صراطِ مستقیم کیاہے ؟؟''
قاری ادریس نے چونک کرعزیز کی طرف دیکھا۔ جوسوالیہ نظروں سے ان ہی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
یہ عصرکاوقت تھا۔سارے بچے قاری صاحب سے قرآن کاسبق پڑھنے آئے تھے۔ رحمت اللہ بھی باقی بچوں کے بیچ میں بیٹھ کرسبق یادکررہاتھا۔ وہ بھی رک کرقاری صاحب کے جواب کا انتظارکرنے لگا۔
''عزیزبیٹاصراطِ مستقیم کامطلب ہے سیدھاراستہ۔''
'' لیکن قاری صاحب سیدھے راستے کامطلب کیاہے ؟؟''
ا س تیرہ سال کے بچے کی طرف سے پھرسوال آیا۔ وہ بھی آج جمعے کی نمازمیں موجودتھا۔ اور قاری صاحب کاپوراخطبہ اوردعاسن چکاتھا۔
'' دیکھوبیٹا! تمہارے گھرکی طرف ایک راستہ جاتاہے۔ تم یہاں سے نکل کراسی راستے پرچلوگے توسیدھااپنے گھرپہنچوگے۔ لیکن اگراس راستے کوچھوڑدوگے تواپنے گھرکا راستہ نہیں پاسکو گے۔ بلکہ کہیں اورہی نکل جاؤگے۔ یہی حال صراطِ مستقیم کا بھی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جواللہ کوپسندہے اورجس پرچلنے کاہم مسلمانوں کو حکم دیاگیاہے۔ جس پراللہ کے رسولۖ اوربرگزیدہ بزرگ چلے ہیںاوراسی راستے پرچل کرہم اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔اب اگرہم ا س راستے کو چھوڑ دیں گے توجس طرح تم اپنے گھرنہیں پہنچ سکتے بالکل اسی طرح ہم اللہ کوخوش نہیں کر سکتے۔''
قاری صاحب نے بچوں کی سمجھ کے مطابق بہت آسان الفاظ میں جواب دیاتھا۔
'' توقاری صاحب ہم اس راستے پر نہیں چلتے کیا؟؟''
یہ سوال ارشاد کی طرف سے آیا تھا جوقاری صاحب کے بالکل پیچھے بیٹھاہواتھا۔
'' بیٹاکوشش توہم سب ہی کرتے ہیں۔لیکن اس کوشش میں اکثراوقات ہمیں ناکامی ہوجاتی ہے اورہم اللہ کے راستے کوچھوڑ دیتے ہیں۔''
'' ناکامی کیوں ہوتی ہے قاری صاحب؟؟''
''بیٹاصراطِ مستقیم پرچلنا اتناآسان نہیں ہے۔ اس راستے پرچلتے ہوئے انسان کے سامنے بہت مشکلات آتی ہیں۔وہ مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے۔ پھر اگروہ ان مشکلات سے صبرکے ساتھ گزرجائے اوراپنے رب کی رضا پر چلے تووہ اللہ کے نزدیک کامیاب کہلاتا ہے۔ لیکن ایسا بہت کم لوگ ہی کرپاتے ہیں۔ ہم جیسے کمزورایمان کے لوگ تومشکلات کے آغازپرہی ہمت ہار جاتے ہیں۔ پھر اللہ ہمیں آزمانابھی چھوڑدیتا ہے۔ رہی آپ کی بات کہ ہم ناکام کیوں ہوتے ہیں تو بیٹااس کاجواب یہ ہے کہ ہمارے اندرصدق اورمضبوطی نہیں ہوتی ورنہ ایساہوہی نہیں سکتاکہ کوئی مسلمان صراطِ مستقیم پرچلناچاہے اوراللہ اس کی مددنہ کرے۔ بس بیٹاارادے کی مضبوطی درکار ہوتی ہے۔ ''
''قاری صاحب ہم لوگ چھٹی کرلیں؟؟ ''کونے سے آوازآئی۔
''ہاں بیٹاچلوچھٹی کرلو۔ شام ہونے والی ہے۔'' اورسب بچوں نے سیپارے بندکرکے گھروں کی راہ لی۔
پانچ سالہ رحمت اللہ ساراراستہ یہ سوچتارہاکہ آخرصراطِ مستقیم پرکیسے چلاجاتا ہے ؟اور اگرکوئی چلتاہے تواللہ اسے آزماتاکیوں ہے ؟؟ اس کی معصوم سی سمجھ میں قاری ادریس کی باتیں نہیں آئی تھیں۔ لیکن اسے قاری ادریس کاساراخطبہ یادتھا۔ جیسے ہربچے کے سامنے دہرائے گئے الفاظ اسے یادہوجاتے تھے۔یا پھرشایداس لئے کہ وہ اس کی زندگی کاسب سے پہلے سناجانے والاخطبہ تھا۔ لیکن اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آیاتھا۔ وہ نہیں سمجھ پایاتھا کہ قومِ عادکون تھے۔ قومِ ثمود کا کیا قصور اور کیا اِنجام تھااوریہ کہ قاری صاحب نے قومِ لوط جیسانہ بننے کی دعاکیوں مانگی تھی۔بس پورے خطبے اورآج قاری صاحب کے درس میں اس کواتنی سی سمجھ آئی تھی کہ اللہ کے نبیۖ اورصحابہ ضرورکوئی بہت اچھے لوگ ہوں گے جو قاری صاحب نے ان جیسابننے کی دعاکی۔ یہ سوچتے سوچتے وہ گھرپہنچ چکاتھااورپھر وہ بچوں کے ساتھ کھیل کود میں لگ گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
'' طوبیٰ! آج جلدی سے ہوم ورک کرلو۔ پاپا آئیں گے تو گھومنے جائیں گے۔'' یہ عمران تھا۔
''بھائی کہاں جائیں گے ؟؟'' طوبیٰ حیران ہوئی۔
''پتہ نہیں۔ بس کہیں بھی چلیں گے۔ لیکن خوب مزے کریں گے۔'' وہ کافی خوش لگ رہا تھا۔
''لیکن پاپا نے تو کچھ بھی نہیں کہا بھائی۔''
'' ارے پاپا نے تم سے کچھ نہیں کہا لیکن انھوں نے مجھ سے کہا تھا نا۔''
''پاپا نے نہیں تم نے پاپا سے کہا ہوگا۔۔ورنہ پھر پاپا کل ضرور بتاتے ماما کو۔'' وہ بھی طوبیٰ تھی سید خاور حسین شاہ کی بیٹی۔ اپنے بھائی کی فطرت کو وہ بھی اچھی طرح جانتی تھی۔
'' ہاں میں نے پاپا سے کہا تھا اور وہ مان بھی گئے تھے۔''
''تو ماننا تو تھا نا۔ پاپا تمہاری بات ٹالتے ہی کب ہیں۔''
'' اچھا چلو اب جلو مت۔ جلدی سے ہوم ورک ختم کرو پھر پاپا آجائیں گے۔ ''
''رکو میں ماما کو بتا کے آتی ہوں۔''
'' ارے نہیں۔ پہلے ہوم ورک تو ختم کر لو۔ پھر بتا دینا۔ابھی اٹھ کرجاؤ گی تو ماما غصہ کریں گی۔''
''اچھا چلو ٹھیک ہے۔ میں جلدی جلدی کام ختم کرتی ہوں۔''وہ بھی طوبیٰ تھی۔اپنے بھائی کی کچھ نہ کچھ فطرت تو اس نے بھی لی تھی۔ عمی جتنی شوقین نہ سہی لیکن گھومنے پھرنے کاشوق اسے بھی تھا۔ اپنے بھائی کی زبانی اس پروگرام کا سن کراسے پہلے توحیرت ہوئی تھی لیکن اس کے بعد خوشی کی بھی ایک لہراس کے اندر اٹھ گئی تھی۔ وہ ماں کو خبر دینے سے زیادہ اس لئے ماں کے پاس بھاگنا چاہ رہی تھی کہ اس خبر کی سچائی جانچ سکے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمی نے اسے بیوقوف بنایا ہو۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج پھر جمعے کا دن تھا۔ قاری صاحب چاہتے تھے کہ محلہ جھنگی کے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایک درس کا اہتمام کیا جائے۔ جس میں گائوں کے غریب اور اَن پڑ ھ لوگوں کو اسلام کے بنیادی عقائد سے روشناس کروایا جائے۔ آج اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔ عصر کی نماز کے بعد آج محلے کے مرد مسجد میں جمع تھے۔ قاری صاحب نے بولنا شروع کیا۔
''شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوستو! آج ہم ارکانِ اسلام کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے۔ ''
''تو دوستو! سب سے پہلے آتی ہے توحید۔ ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ دل سے گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے سوا کسی کی پرستش یا عبادت نہیں کرنی چاہئے۔ یا پھر یوں کہ اس کی ذات کی صفت ہی واحد ہے۔ اب اگر کوئی ذات میں یا صفات میں شریک مانا جائے تو یہ شرک ہوگا۔ لیکن یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ صفات میں شرک کا تو سیدھا مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ غفور ہے رحیم ہے۔ سمیع ہے بصیر ہے۔ قہار ہے اور جبار ہے۔ تو اگر ہم کسی اور کو چاہے وہ انسان ہو یاحیوان۔ اگرہم اس میں یہی صفات تصور کریں گے تو ہم مشرک ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ آتی ہے۔ اس کے بعد آتا ہے۔ ذات میں شرک۔ اب اس میں ہم لوگ بہت غلطی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا رب نہیں مانا تو ہم اچھے مسلمان ہیں۔ ہم نے کسی دیوتا یا دیوی سے دعا نہیں کی تو ہم نیک ہیں۔ ہم نے کسی جانور کو اپنا خدا نہیں مانا تو ہم مشرک نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی نہ کسی موڑ پر ہم سب ہی شرک کرتے ہیں۔ہم اس کی ذات میں بھی شریک ٹھہراتے ہیں اورصفات میں بھی۔ دانستہ تو نہیں لیکن نادانستہ ہم دل کھول کر شرک کرتے ہیں۔ ہم دولت کو خدا مانتے ہیں۔ رشتوں سے وہ اُمیدیں لگائے رکھتے ہیں جن کوپورا کرنا صرف ہمارے رب کا خاصا ہے۔ انسانوں سے مانگتے ہیں۔ اپنی ضرورتوں کے لئے انسانوں کے آگے جھکتے ہیں۔ کیا ہوا اگر ہم بتوں کے آگے نہیں جھکتے تو۔۔ انسانوں کے آگے تو ہم جھکتے ہیں۔ اور پھر اُمیدیں پورا نہ ہونے پر گلہ اسی رب سے کرتے ہیں۔ یہ کھلا شرک نہیں تو کیا ہے ؟؟؟ اور رب فرماتا ہے۔' 'اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے۔اس کے سوا سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جس کو وہ معاف کرنا چاہئے۔ تو جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔''
(النسا:611)
اس کے بعد ہم آتے ہیں نماز پر۔ جو اسلام کا دوسرا رکن ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔
''صبر اورنماز کے ذریعے (اللہ تعالیٰ سے) مدد طلب کرو۔ یہ(نماز) بہت بھاری ہوتی ہے سوائے ان کے جواللہ سے ڈرنے والے ہیں۔''
(البقرہ: 45)
ہمارے نبیۖ کا ارشاد ہے کہ
''جو بھی بندہ مومن اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کے بدلے ایک گناہ مٹاتا ہے۔ اور اس کے درجے بلند کرتا ہے۔ پس زیادہ سجدے کیا کرو۔''
''ہم مسلمان دن میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں۔ پانچ بار اللہ کے دربار میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔اس سے راضی ہونے کی التجا کرتے ہیں۔ لیکن گناہ سے کنارہ نہیں کرتے۔ عجیب بات ہے نا۔ غور فرمایئے کہ ہم معافی تو مانگتے ہیں لیکن کنارہ کبھی نہیں کرتے۔ ہم جھوٹ بول لیتے ہیں۔غیبت کر لیتے ہیں۔ ملاوٹ کر لیتے ہیں۔ اور اس کے بعد اللہ کے دربار میں کھڑے ہو کر معافی مانگتے ہیں۔ تو ایسے میں ہمیں معافی کیسے ملے گی۔ اگرہم حقیقتاً معافی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا پڑے گا۔''
(.....جاری ہے)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
December

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

انسانی جسم ایک ایسی مشین کی مانند ہے جس کی بہتر کارکردگی کے لئے اس کا حرکت میں رہنا بے حد ضروری ہے۔ غیر فعال طرززندگی گزارنے والے افراد مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں تقریباً 150 منٹ کے لئے اعتدال کے ساتھ جسمانی ورزش کرنی چاہئے۔ ورزش کا بنیادی مقصد چاق چوبندرہنا اور ذہنی تنائو میں کمی ہے۔


پیدل چلنے اور متوازن قسم کی ورزش سے انسان بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق ورزش نہ کرنے والے افراد کی بہ نسبت ورزش کرنے یا پیدل چلنے والے افراد بلڈپریشر اور شوگر کے مرض کا شکار کم ہوتے ہیں جبکہ جسمانی ورزش وزن میں بھی کمی کا باعث ہوتی ہے۔جو افراد ورزش نہیں کرتے وہ جلد تھک جاتے ہیں۔ ان کے جسم کا گوشت نرم ہو جاتا ہے اور اعصاب کمزور پڑجاتے ہیں۔ پیٹ بڑھ جاتا ہے اور معمولی کام اور محنت کرنے سے بھی سانس پھولنے لگتا ہے۔ کھانا بھی ٹھیک طریقے سے ہضم نہیں ہوتا۔جس کی وجہ سے خون میں کمی بھی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش کے معمول کو نہ اپنا نے کی وجہ سے بلند فشارِ خون، مُٹاپا، جوڑوں کا درد، دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی، بے خوابی، بدہضمی وغیرہ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ تمام مسائل اور بیماریاں بظاہر الگ الگ نظر آتی ہیں مگر یہ سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔جن میں فشار خون کا دل کی بے قاعدہ حرکت سے، جوڑوں کے درد کا مٹاپے سے، اور بدہضمی کا تعلق بے خوابی سے ہے جو ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جو افراد ایک ہفتے میں دس کلو میٹر تک پیدل چلتے ہیں،ان کا ذہن تروتازہ اور یاداشت برقرار رہتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجنگ
(National Institute of Aging)
کی ایک تحقیق کے مطابق پیدل چلنے والے افراد کے دماغ بھی صحت مند رہتے ہیں جبکہ پیدل نہ چلنے والے یا سست افراد کے دماغ جلدی کمزور پڑجاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق باقاعدگی سے ورزش اور جسمانی سرگرمیاں خون میں شوگر کو درست سطح پر رکھنے کے لئے بھی کارآمدہیں۔ ورزش نہ صرف دل اور خون کی نالیوں کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور مُٹاپے سے بچاتی ہے بلکہ پٹھوں، جوڑوں اور ہڈیوں کی صحت کے لئے بھی بے حد ضروری ہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے 'ٹائپ 2' ذیابیطیس کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش میں اضافے کے سبب
HbA1c
یعنی طویل عرصے کی بلڈ شوگر کی ویلیو بھی کم ہوسکتی ہے۔مسلسل جسمانی سرگرمیوں اور ورزش سے بلڈ پریشر کو بھی کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور خون کی چکنائی کا صحت بخش توازن قائم رہتاہے اور انسولین کو استعمال کرنے کے لئے جسم کی صلاحیت بہتر ہوجاتی ہے۔

 

warzishkinsani.jpgسڈنی یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جوا فراد پش اپ اور سِٹ اپ جیسی ورزش کو اپنے روزمرہ معمول میں شامل کرتے ہیں ان میں کینسر سے موت کا خطرہ 31 فیصد جبکہ کسی بھی مرض سے قبل ازوقت موت کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی تنظیم نیشنل سلِیپ فائونڈیشن
(National Sleep Foundation)
کے ایک جائزے کے مطابق ورزش نیند کے لئے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے اور جو افراد بھرپور ورزش کرتے ہیں ان کی نیند کا معیار بہترین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی سرگرمی یا ورزش جسم کے درجہ حرارت، نظام انہضام اور دل کی دھڑکنوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔


مختلف تحقیقات کے مطابق باقاعدگی سے ورزش، زکام اور فلو کے امکانات کو بھی کم کرتی ہے، کیونکہ ورزش سے انسانی جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور جسمانی سرگرمی پیدا کرنے والے ہارمونز کو رٹیسول اور ایڈرینالین کو اپنی حدود میں برقرار رکھتی ہے، جس سے مدافعتی نظام کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی سرگرمیوں اور ورزش سے نظر کی کمزوری کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ ورزش اور بہترقوت سماعت کابھی ایک گہرا تعلق ہے جس میں مختلف تحقیقات کے مطابق اچھی صحت کے حامل افراد میں سماعت کی خرابی کا مسئلہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں سے کان کے اندرونی حصوں میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے جو قوت سماعت کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس کے علاوہ ورزش سے ذیابیطس اور دل کے امراض میں بھی خاطرخواہ کمی واقع ہوتی ہے جو قوت سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مناسب اور متوازن ورزش سے غیرارادی طورپر پیشاب نکلنے کے مسئلے پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق
Nocturia
، جس میں پیشاب کی حاجت رات بھر رہتی ہے، کی حالت ورزش کرنے سے کم ہو جاتی ہے۔


ورزش سے جسم میں ایک خاص لچک پیدا ہوتی ہے جو جسم کو زیادہ فعال، متحرک اور طاقتور بناتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش شریانوں میں خون کی صفائی کے ساتھ ساتھ بلارکاوٹ روانی، دل اور پھیپھڑوں کی صحت بخش کارکردگی، ہڈیوں کی مضبوطی اور نظام ہضم کی فعالیت اور جسمانی نشو و نما میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ورزش ہر عمر کے افراد کے لئے موزوں ہے مگر ورزش ہمیشہ جسم کی قوت برداشت کے مطابق کرنی چاہئے جو جسم پر بارنہ بنے۔ کیونکہ اس سے دل اور پھیپھڑوں پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ادھیڑ عمر اور بڑی عمر کے افراد کے لئے بہترین ورزش پیدل چلنا، باغبانی اور سائیکل چلانا ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے وہ افراد جو مُٹاپے کاشکار ہوتے ہیں وہ اگر باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں تو ان پر مُٹاپے کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں اور وہ افراد ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی بیماریوں سے محفو ظ رہ سکتے ہیں۔ مُٹاپے کے حامل افراد اگر ورزش کے ساتھ ساتھ اپنی خوراک پر بھی توجہ دیں تو مزید بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کی وائلڈلائف ٹرسٹ اور
University of Essex
کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ورزش اور چہل قدمی کے لئے کسی سرسبز مقام (جہاں پر ہر یا لی، گھاس، پیڑ اور پودے موجود ہوں) کا انتخاب کریں تو ان کے جسم اور دماغ پر اس کے بے حد مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کیونکہ کسی سرسبز مقام پر ورزش شروع کرتے ہی موڈخوشگوار ہو جاتاہے۔ نفسیاتی طور پر انسان خود کو زیادہ پر اعتماد اور فعال محسوس کرنے لگتا ہے جو دماغی صحت کے لئے ایک اچھی کیفیت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سرسبز مقامات پر موجود درختوں، پودوں اور گھاس سے دن کے اوقات میں تازہ آکسیجن کا اخراج ہوتا ہے جو سانس لینے کے راستے انسانی خون میں جذب ہو کر تمام اعضاء میں، جن میں دماغ بھی شامل ہے، آکسیجن کی فراہمی کو بہتر بناتی ہے جس کے جسمانی اور ذہنی طور پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


کچھ افراد کو گھر سے باہر چہل قدمی یا ورزش کی سہولت میسر نہیں ہوتی ہے یا ان کے گھر کے قریب چہل قدمی کے لئے کوئی جگہ میسر نہیں ہوتی وہ افراد اپنے گھروں میں رہتے ہوئے بھی کسی نہ کسی کھلی جگہ پر چہل قدمی کر سکتے ہیں۔اپنے گھر کے صحن ، چھت یا پھر اپنے بیڈ روم میں بھی با آسانی واک کی جا سکتی ہے۔ گھر میں اگر سیٹرھیاں موجود ہیں تو سیٹرھیاں چڑھنا اور اترنا بھی ایک بہت اچھی اور آسان جسمانی ورزش یا سرگرمی ہے جس سے وزن میں نمایا ں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔


ایک اور ورزش جو ہم گھر میں اپنے بیڈ روم میں بھی با آسانی کر سکتے ہیں کہ فرش پر لیٹ کر ٹانگوں کو سائیکل کی طرح چلایا جائے یا پھر شام کے اوقات میں بچوں کے ساتھ گھر کے باغ یا صحن میں مختلف جسمانی کھیل کود کرنے سے بھی صحت میں تندرستی آتی ہے اور جسم فعال رہتا ہے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

باورچی کو کہا گیا تھا کہ وہ ننھے کا خیال رکھے۔ چنانچہ وہ ہر دس پندرہ منٹ کے بعد باورچی خانے کی کھڑکی سے سر نکال کر ننھے کی طرف دیکھے بغیر چلاتا تھا۔ ''ننھے یوں مت کرو'' ''خبردار ننھے جو یہ کیا تو!''
پھر یکایک ننھے کے رونے کی آواز آئی۔ ہم بھاگے بھاگے پہنچے۔ ننھے کو چوٹ کیونکر لگی؟'' ہم نے باورچی سے پوچھا۔
''وہ سامنے سیڑھیاں دیکھیں آپ نے؟''
''ہاں''
''بس وہ ننھے نے نہیں دیکھیں''
(شفیق الرحمن کی کتاب ''حماقتیں ''سے اقتباس)

*****

 
08
December

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو درپیش خطرات سے آگاہ ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے اعلیٰ معیار کی تربیت اور آپریشنل تیاریوں سے غافل نہیں رہ سکتے۔ آرمی چیف نے بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کوختم نہیں کر سکتی۔ چیف آف آرمی سٹاف کا اس امر سے متعلق اعادہ ہماری قوم اور مسلح افواج کے اُس عزم اور حوصلے کی عکاسی کرتا ہے جو وہ پاکستان کے دفاع اور قائداعظم کے وژن اور نظریئے کے مطابق اس مملکت خداداد کی تکمیل اور استحکام سے متعلق رکھتی ہیں۔ اسی جذبے کے پیش نظر ہماری قوم اور اُس کی افواج اپنے سپوت اس وطن پر نچھاورکرنے میں کسی تذبذب کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہو چکی ہے لیکن شدت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ ملک بھر میں جاری آپریشن ردالفساد کے ذریعے فسادیوں کو تلاش کر کے اُنہیں کیفرکردار تک پہنچانا اُن میں سے ایک بھرپور اور مؤثر کاوش ہے۔


حال ہی میں پاکستان کے ایک بہادر سپوت میجر اسحاق کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک سرچ آپریشن کے دوران فسادیوں کو جہنم واصل کرنے کی تگ و دو میں کامیابی کے عوض اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ میجر اسحاق کے لواحقین نے اُن کی شہادت کو اپنے خاندان کے لئے باعثِ فخر قرار دیا۔ جہاں فوج نے اس سانحے میں اپنا ایک آفیسر کھویا یقینا وہاں اُس آفیسر کے خاندان نے اپنا جگر گوشہ کھو دیا۔ یوں قوم اور افواج کا دکھ سانجھا ہے۔
بلاشبہ وطن کے لئے دی گئی ایک ایک سپوت کی قربانی قوم کے عزم اور نظریئے کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح سے قوم کو وطن کی سالمیت اپنی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہے۔اسی بناء پر بانی ٔ پاکستان نے کہا تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جو قوم صرف چند سالوں کی جدوجہد کے بعد اپنے لئے ایک الگ وطن حاصل کر سکتی ہے وہ اس کی حفاظت یقینی بنانے کی اہلیت بھی رکھتی ہے اور یہی بانی ٔ پاکستان کی افواج پاکستان کے لئے تلقین بھی تھی۔ 23جنوری 1948 کو کراچی میں افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ''ہم اقوام متحدہ کے منشور میں شامل اصولوں کی بھرپور تائید کرتے ہیں لیکن اپنے دفاع کے تقاضوں سے غافل رہنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ تنظیم اقوام متحدہ کتنی ہی طاقت ور ہو جائے لیکن اپنے ملک کے دفاع کی اصل ذمہ داری ہمیں پر رہے گی اور پاکستان کو ہر اُفتاد اور خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے خودمستعد رہنا ہو گا۔ اس ناقص دنیا میں یہی ہوتا آیا ہے کہ کمزور اور دفاع سے محروم قومیں دوسروں کو جارحیت کی ترغیب دیتی ہیں۔ لہٰذا جو قومیں سمجھتی ہیں کہ ہم کمزور ہیں، وہ ہم پر حملہ اور مشق ستم کر سکتی ہیں، اُن کے لئے یہ وجۂ تحریص ہی ختم کر دی جائے اور اس وجۂ تحریص کا خاتمہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب ہم اپنے آپ کو اتنا طاقت ور بنا لیں کہ کسی کو ہمارے خلاف جارحیت کی مجال ہی نہ رہے۔''


یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے ہمیشہ قائداعظم کے ان خیالات و تصورات پر لبیک کہا اور اپنے ملک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے بڑے سے بڑے دشمن کے سامنے ڈٹ جانے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہیں۔ آج آئے روز قوم کے بیٹے اپنی جانیں قربان کر کے اپنے قائد کے پاکستان کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کے نظریئے کی آبیاری کر رہے ہیں اور آج الحمدﷲ یہ قوم ہر جارحیت اور چیلنج کا منہ توڑ جواب دینے کی استعداد سے مالامال ہے۔ پاکستان ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے کے لئے منصۂ شہود پر اُبھرا ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ ان شاء اﷲ!

08
December

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

گزشتہ سات دہائیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا تصور پاکستان کیا تھا اور اگر وہ زندہ رہتے تو پاکستان کا آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی نقشہ کن خطوط پر استوار ہوتا۔ جہاں تک قائداعظم کے تصور پاکستان کا تعلق ہے ان نکات پر تقریباً سارے دانشور، لکھاری اور محقق متفق ہیں کہ وہ پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی ، انسانی مساوات اور سماجی و معاشی انصاف کا بول بالا ہو۔ قائداعظم جاگیرداری نظام کا خاتمہ چاہتے تھے اور انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ انہیں ایسا پاکستان نہیں چاہئے جو جاگیرداروں کی جاگیر ہو بلکہ وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جو عوام کی ملکیت ہو، مطلب یہ کہ جہاںعوام کی حاکمیت ہو نہ کہ جاگیرادروں کی۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جہاں تک قانون کی حکمرانی، انسانی برابری ،سماجی اور معاشی انصاف کا تعلق ہے دراصل یہ سب اسلامی نظام کے درخشاں اصول ہیں جن کی نبی کریمۖ کے دور سے لے کر خلافت راشدہ کے دور تک بے شمار مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ سیکولر حضرات انہیں سیکولر ازم قرار دیتے ہیں جبکہ ہم انہیں اسلام کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں۔ گویا ان نکات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ذرا رک کر پہلے اتنا سا فیصلہ کر لیجئے کہ کیا ہم نے قائداعظم کے بتائے ہوئے اُن اصولوں کو اپنایا اور عمل کیا جن پر کوئی اختلاف رائے نہیں؟ قائداعظم نے 11اگست 1947کی اپنی تقریر میں زور دے کر کرپشن، سفارش، اسمگلنگ، اقرباء پروری اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کا وعدہ کیا اور واضح کیا کہ وہ پاکستان میں ان خرابیوں کو برداشت نہیں کریںگے۔کیا ہم نے ان موذی امراض پر قابو پا لیا ہے؟ کیا ان بیماریوں کے کینسر نے گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے باطنی وجود کو چاٹ چاٹ کر کمزور نہیں کر دیا؟ میری بات یاد رکھئے کہ کسی بھی قوم یا ملک کو باطنی طور پر مضبوط کرنے کے لئے عوام کو ملکی ڈھانچے میں احساس شرکت دینا ضروری ہوتا ہے اور احساس شرکت اس وقت پروان چڑھتا ہے جب معاشرے میں انسانی مساوات اور سماجی و معاشی انصاف کا راج ہو۔ کرپشن، سفارش اور اقرباء پروری کا خاتمہ ہو چکا ہو اور ہر شخص کو جینے کے برابر مواقع مہیاہوں کیونکہ جہاں کرپشن، سفارش اور اقرباء پروری سکہ رائج الوقت ہوں وہاں عوام کا وہ طبقہ مستقل طور پر احساس محرومی کا شکار ہو کر ریاست سے بدظن ہو جاتا ہے جو سفارش، اثر ورسوخ اور سماجی و معاشی انصاف سے محروم ہو۔ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔ یہی قائداعظم کا خواب تھا اور یہی اصول اسلامی نظام کی بنیاد ہیں۔ اسی لئے قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 101 مرتبہ اور قیام پاکستان کے بعد چودہ بار یہ وضاحت کی کہ پاکستان کے آئین اور ریاستی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ بھی کر دیا کہ آئین کیسا ہو گا؟ اس کا فیصلہ منتخب دستور ساز اسمبلی اور عوام کریں گے۔ یہ بیان ایک طرح سے اُن کے جمہوری طرز فکر کی غمازی کرتا ہے۔ جب فیصلہ عوام کو کرنا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھئے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان بھی سیکولر ذہن کے مالک تھے۔ انگریز کی فوجی زندگی کے حوالے سے ان کی زندگی سیکولرازم کے مطابق پروان چڑھی تھی وہ مطلق العنان بھی تھے اور ریاستی طاقت بھی ان کے پاس تھی لیکن جب انہوں نے اپنے تشکیل کردہ آئین میں پاکستان کو صرف جمہوری قرار دیا تو اتنا دبائو پڑا کہ طوعاً و کرہاً پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینا پڑا۔ یہ عوامی امنگوں کی ترجمانی تھی ورنہ پاکستانی عوام نے کبھی بھی مذہبی جماعتوں کو اقتدارنہیں سونپا اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ دراصل تھیوکریسی کا اسلام میں تصور ہی موجود نہیں اسی لئے قائداعظم بھی بار بار وضاحت کرتے رہے کہ پاکستان ہر گز ملائیت کی حامل مذہبی ریاست نہیں ہو گی۔ کچھ سیکولر حضرات کا کہنا ہے کہ اگر قائداعظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کرتے تو جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی طاقتیں ان کی مخالفت نہ کرتیں۔ یہ دلیل انتہائی سطحی ہے کیونکہ مولانا مودودی کی تحریریں گواہ ہیں کہ انہیں اعتراض اس بات پر تھا کہ مسلم لیگ اور قائداعظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن مسلم لیگی قیادت اسلام نافذ نہیں کر سکے گی۔ مولانا اشرف علی تھانوی جیسی ملک گیر مذہبی روحانی شخصیت نے کھل کر قائداعظم کا ساتھ دیا۔ رہی جمعیت علماء ہند تو وہ سرے سے ہی وطنیت اور تصور پاکستان کی مخالف تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد ان کے ممتاز رہنما مولانا حسین احمد مدنی نے پاکستان کے حوالے سے واضح طور پر کہا تھا کہ مسجد کی جگہ پر تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو پھر اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی ۔ گویا انہوں نے پاکستان کو مسجد سے تشبیہہ دی تھی۔ کچھ عرصہ قبل ایک معزز سابق جج نے فرمایا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کی حمایت سے بنا اور یہ کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔

 

mazibmanimbais.jpgسوال یہ ہے کہ کیا 1945-46کے انتخابات میں مسلم اقلیتی صوبوں اور مسلمان عوام نے سیکولر پاکستان کے لئے ووٹ دیئے تھے؟ اگر سیکولر پاکستان کے لئے ہی اتنی قربانیاں دینی تھیں تو پھر سیکولر ہندوستان میں کیا تکلیف تھی؟ نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور حج کرنے پر تو سیکولر ہندوستان میں بھی کوئی پابندی نہیں تھی۔ مسلم اقلیتی صوبے ہوں یا ہندوستان کے مسلمان۔ انہوں نے اس لئے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی تھی کہ قائداعظم کے وعدے کے مطابق پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جانی تھی۔ اسے ایک اسلامی جمہوری فلاحی مملکت ہونا تھا نہ کہ مذہبی ریاست۔ اس حوالے سے سیکولر دانشوروں کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے کبھی اسلامی ریاست کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ سوال یہ ہے کہ اُن کے منہ سے کبھی سیکولر کا لفظ بھی تو نہیں نکلا۔ دوم آپ یہ تو انکار نہیں کر سکتے کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے پہلے بار بار کہا کہ پاکستان کی ریاست کے ڈھانچے کی بنیاد اسلام پر استوار کی جائے گی۔ بھلا اس میں اور اسلامی ریاست میں کیا فرق ہے؟ ویسے عرض ہے کہ قائداعظم نے فروری 1948کو بھی وضاحت کی کہ'' میرے ذہن میں ہمیشہ ایک اصول رہا ہے وہ اصول ہے جمہوریت کا۔ میرا ایمان ہے کہ ہماری کامیابی اور نجات کا راز نبی کریمۖ کے دیئے گئے اصولوں کی پیروی میں ہے۔ آئیے! ہم اسلامی آئیڈیلز اور اصولوں کی بنیاد پرجمہوریت کی عمارت تعمیر کریں۔'' گویا قائداعظم نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ وہ ایسی جمہوریت کے حامی ہیں جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہو۔ انہیں اصولوں کے مطابق قائداعظم نے ان گنت بار اقلیتوں کو برابر کے حقوق کی یقین دہانی کرائی اور بار بار وضاحت کی کہ اسلام نے جو فراخدلانہ سلوک اقلیتوں سے کیا ہے اس کی مثال دوسرے مذاہب میں نہیں ملتی۔


قائداعظم پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے کہ جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہو لیکن وہ ہرگز مذہبی ریاست نہ ہو کیونکہ مذہبی ریاست شہریوں پر مذہب نافذ کرتی ہے جبکہ اسلامی ریاست میں لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق آزادانہ زندگی گزارتے ہیں اور بحیثیت شہری سب کوبرابر کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ سیکولر حضرات اسے سیکولر ازم کہتے ہیں جبکہ ہم اسے اسلامی نظام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بقول ڈاکٹر حمید اﷲ (پیرس والے) میثاق مدینہ میں مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیئے گئے تھے۔ یہی بات جب قائداعظم نے 11اگست 1947 کو کہی تو سیکولر حضرات نے اُن کی سیکڑوں دوسری تقاریر کو پس پشت ڈال کر اُن پر سیکولر ازم کا ٹھپہ لگا دیا جو دراصل اُن کی اپنی خواہش ہے نہ کہ قائداعظم کی منشائ!!


1956 کا دستور بنانے والی دستورساز اسمبلی کے اراکین کی اکثریت 1945-46کے انتخابات میں منتخب ہو کر آئی تھی۔ 1973کے آئین کے بنیادی اصول پالیسی کے رہنما اصول وغیرہ تقریباً وہی ہیں جو 1956کے آئین کے تھے۔ گویا اگر قائداعظم بھی زندہ ہوتے تو تقریباً اسی قسم کا دستور بننا تھا۔ اس دستور کے مطابق پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اسے سیکولر حضرات صرف جمہوریہ نہیں بنا سکتے۔ اس دستور میں قانون کی حکمرانی، انسانی مساوات، مذہبی آزادی، سماجی و معاشی انصاف، تمام شہریوں کے لئے یکساں مواقع اور مسلمانانِ پاکستان کی زندگیوں کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کی ضمانت دی گئی ہے۔ انہی اصولوں کا ذکر قائداعظم زندگی بھر کرتے رہے۔ لیکن سیکولر حضرات انہیں سیکولر کہہ کر اپنا پلہ بھاری کرتے ہیں۔ جبکہ انہی اصولوں پر بننے والا دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور کہلاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا ہم نے ان اصولوں کو عملی جامہ پہنایا ہے؟ افسوس! ہم عمل کی طرف تو آتے نہیں اور کتابی بحثوں میں الجھے رہتے ہیں۔ فرق صاف ظاہر ہے قائداعظم زندہ ہوتے تو ان پر عمل بھی کرواتے جبکہ ان کے جانشین عام طور پر قول و فعل کے تضاد کا شکار رہے۔


اگر آپ ذرا سا غور کریں تو آپ کو احساس ہو گا کہ قائداعظم پر سیکولر ازم کا بہتان لگانے والے تین قسم کے حضرات ہیں۔ اول وہ لوگ جو دین سے بیگانہ ہیں۔ دو م وہ جو دین سے بدظن ہیں اور سوم وہ جو دین سے برگشتہ ہیں۔ اس گروہ کا قائد ان کا وہ پسندیدہ مورخ ہے جو ببانگ دہل ٹیلی ویژن پر کہتا رہتا ہے کہ ہمیں قرآن و حدیث سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان قرآن سے بالاتر ہو کر سوچ سکتا ہے؟ اس کے فرمودات سن کر مجھے یوں لگا جیسے وہ شخص اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ قائداعظم کی ذاتی زندگی پر اسلام کی چھاپ نظر نہیں آتی اس لئے وہ سیکولر نظام کے حامی تھے۔ ظاہر ہے کہ قائداعظم کوئی مولوی یا صوفی منش انسان نہیں تھے۔ نہ ہی وہ کوئی مذہبی شخصیت تھے لیکن وہ عقیدے کے حوالے سے ایک پکے سچے مسلمان تھے۔ ان کی سچائی، حق گوئی اور دیانت کی گواہی اُن کے شدید ترین مخالف بھی دیتے تھے۔ نبی کریمۖ کا اسم گرامی دنیا کے عظیم ترین قانون دینے والی شخصیات میں پڑھ کر لنکنز اِن میں داخلہ،مسلم وقف الاولاد بل
(Muslim Wakf- al- Aulad Bill)
محترمہ رتی سے شادی کرنے سے قبل اُسے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد صدیقی کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام کروانا اور اپنی اکلوتی بیٹی دینا سے غیرمسلمان نوجوان سے شادی کے باعث لاتعلق ہو جانا ایسے اقدامات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے باطن میں ایک مسلمان بستا تھا۔ یاد رہے کہ مولانا نذیر صدیقی مرحوم مولانا شاہ احمد نورانی کے تایا تھے۔ ایک لکھاری نے دعویٰ کیا کہ قائداعظم کبھی کسی مذہبی تقریب میں نہیں گئے۔ یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ انگلستان سے واپس آ کر بمبئی میں انہوں نے جس پہلے جلسے میں شرکت کی وہ عید میلاد النبیۖ کا جلسہ تھا جس میں راجہ صاحب محمود آباد نے سیرت نبویۖ پر ایمان افروز تقریر کی، نعتیں پڑھی گئیں اور حضورۖ کی خدمت میں ہدیہ عقیدت پیش کیا گیا۔ گورنر جنرل بننے کے بعد اور وفات سے آٹھ ماہ قبل بھی انہوں نے عیدمیلاد النبیۖ کے موقع پر 25جنوری 1948کو کراچی لاء بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا اور پاکستان میں شریعت کی بنیاد پر قانون سازی کا اعلان کیا۔ کیا قائداعظم کو سستی شہرت یا ووٹوں کی ضرورت تھی کہ وہ اسلامی جمہوریت، شریعت کے نفاذ یا پاکستان کے آئین کی اسلامی اصولوں پر بنیاد کا اعلان کر رہے تھے اور بار بار کر رہے تھے۔ ان کی صداقت، اصول پرستی اور سچائی مسلمہ حقیقتیں ہیں۔ اسی لئے میں محسوس کرتا ہوں کہ جو دانشور قائداعظم پر سیکولر ازم کا بہتان لگاتے ہیں وہ خود تضاد بیانی کا شکار ہیں کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ قائداعظم ایک سچے کھرے انسان تھے۔ وہ ہر گز منافق نہیں تھے۔ لیکن یہ تسلیم کرنے کے باوجود ان کی نیت پر شبہ کرتے ہیں اور ان کے الفاظ پہ اعتبار نہیں کرتے۔ قائداعظم نے آزادی سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد ایک سو بار سے زیادہ یہ کہا کہ پاکستان کے نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی ہم نے جمہوریت تیرہ سو برس پہلے سیکھ لی تھی ہماری تعلیمات اور قوانین کا منبع قرآن مجید اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام دوسرے مذاہب کی مانند مذہبی عبادات کا مجموعہ نہیں۔ اگر آپ قائداعظم کی تقریریں پڑھیں تو آپ کو ان میں مسلسل ان باتوں کی تکرار ملتی ہے اس لئے جب ہمارے سیکولر حضرات قائداعظم کے تصور پاکستان پر سیکولر ازم کا بہتان لگاتے ہیں تو گویا تضاد بیانی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ وہ قائداعظم کو سچا اور کھرا انسان بھی مانتے ہیں اور ان کے اعلانات کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔دراصل مذہب سے خوفزدہ یہ حضرات قائداعظم کے سیدھے سادے الفاظ سے اپنا من پسند مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اُن کی اِن کاوشوں کا شاہکار 11اگست 1947کی تقریر ہے۔ اول تو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا قائداعظم نے زندگی بھر ایک ہی تقریر کی؟ آپ حضرات اُن کی سیکڑوں تقریروں کو کیوں درخوراعتنا نہیں سمجھتے؟ گورنر جنرل کا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے 14اگست 1948 کو اسمبلی میں جو تقریر کی آپ اسے کیوں توجہ کے قابل نہیں سمجھتے۔ اس لئے کہ اس تقریر میں قائداعظم نے حضور نبی کریمۖ کو اپنا رول ماڈل اور نمونہ یا اسوہ حسنہ قرار دیا اور یہی وہ بات ہے جو ان آزاد خیال اور مذہب بیزار لوگوں کو پسند نہیں۔ 11اگست کو قائداعظم نے فقط یہ کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور یہ بات میثاقِ مدینہ کا حصہ ہے۔ دوم انہوں نے کہا کہ تمام شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ یعنی کسی پر مذہبی جبر کیا جائے گا نہ مذہب تھوپا جائے گا۔ تو اس میں سیکولر ازم کہاں سے آ گیا۔ کیونکہ یہ اسلامی نظام کے بنیادی اصول ہیں۔ جب قائداعظم ''ہماری جمہوریت کی بنیاد اسلام پر ہو گی'' کی تکرار کرتے تھے تو اس میں اُس شخصی آزادی کا تصور موجود ہے جس کی ضمانت جمہوریت دیتی ہے۔ جب وہ قانون کی حکمرانی انسانی مساوات، سماجی و معاشی انصاف اور عدل کی بات کرتے تھے، جاگیرداری، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، اقرباء پروری اور سفارش کے خاتمے کا وعدہ کرتے تھے تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ یہ ہمارے دین اور مذہب کے سنہری اصول ہیں۔ جبکہ سیکولر حضرات انہیں سیکولر ازم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ انہیں ہر اچھی چیز سیکولر ازم میں اور ہر خطرہ مذہب میں نظر آتا ہے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہمارا مذہب انتہا پسندوں، فرقہ واریت کے علمبرداروں اور مذہبی سوداگروں کی جولان گاہ بن گیا ہے۔ جبکہ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ انتہاپسندی اور فرقہ واریت مذہب نہیں بلکہ سیاست کا شاخسانہ ہے۔ ورنہ مذہب تو ان تمام عوامل کی نفی کرتا ہے۔


تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم نے مسلمانان پاک و ہند سے اسلامی جمہوری ریاست کے قیام کا مینڈیٹ لیا تھا اور اسی منشور پر 1945-46کے انتخابات جیتے تھے۔ اسلام ہی کے نام پر مسلمانوں نے اَن گنت قربانیاں دی تھیں اور عالمی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی تھی۔ قائداعظم جیسا دیانت دار لیڈر اس مینڈیٹ سے کبھی بھی انحراف نہیں کر سکتا تھا۔ وہ مؤرخین جن کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے اسلام کا نعرہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے لگایا اور دراصل قائداعظم پر بہتان لگاتے ہیں اور اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ اگر قائداعظم ایسا نہیں چاہتے تھے تو پھر قیام پاکستان کے بعد انہوں نے بارہ ماہ کی زندگی میں چودہ بار اسلام کو پاکستان کے نظام کی بنیاد کیوں قرار دیا؟ قیام پاکستان کے بعد زندگی کے آخری سال میں انہیں ایسی کون سی مجبوری تھی کہ انہوںنے شریعت کے نفاذ کا وعدہ کیا؟ ہمارے سیکولر دانشور شوشے چھوڑتے رہتے ہیں اور کنفیوژن پھیلاتے رہتے ہیں۔یہ حضرات قرار دادِمقاصد سے نہایت الرجک ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مذہبی انتہاپسندی پیدا ہوئی ہے۔ پھر وہ اس صدمے سے بھی نڈھال ہیں کہ قراردادِ مقاصد سے ڈر کر وفاقی ہندو وزیر منڈل ہندوستان بھاگ گیا تھا۔ ان کو قراردادِ مقاصد اس لئے ناپسند ہے کہ یہ اﷲتعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کا اعلان کرکے یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلام، قرآن اور سنت سے اخذ کردہ اصولوں کے مطابق گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ اگرچہ اس قرارداد میں اقلیتوں کو مذہبی و شہری حقوق کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ لیکن کیا کیجئے کہ سیکولر دانشوروں کو اسلام سے خوف آتا ہے اور وہ اس افسانے پر آنسو بہاتے ہیں کہ اس قرارداد کی وجہ سے منڈل ہندوستان چلا گیا۔ اس دور میں دونوں ملکوں کے شہریوں کو آنے جانے اور پسند کے مطابق سکونت اختیار کرنے کی آزادی تھی اس لئے منڈل اپنے پسندیدہ معاشرے میں چلا گیا جو اس کا حق تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ یہ قرارداد وزیراعظم لیاقت علی خان نے 7مارچ 1949 کو پیش کی جب منڈل وفاقی کابینہ میں وزیر تھے۔اگر انہیں اعتراض تھا تو وہ استعفیٰ دے دیتے لیکن وہ ستمبر 1950 تک وفاقی کابینہ کے رکن رہے؟ ان حضرات کو اس شق سے خوف آتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلامی تقاضوں، قرآن اور سنت کے مطابق گزارنے کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں گے لیکن اس سے فرار کیسے ممکن ہے کیونکہ پاکستان کے مسلم عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے یہ شق 1956 کے آئین میں بھی موجود تھی اور 1973کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہے۔ بلکہ ایک قدم آگے جا کر موجودہ آئین کے پالیسی کے اصول نمبر ایک میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ مسلمانان پاکستان کی زندگیوں کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ ان دانشوروںکی یہ تحقیق بھی لاجواب ہے کہ قرارداد مقاصد نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو جنم دیا ہے جبکہ اس وقت ہندوستان میں اکیس مذہبی انتہاپسند تنظیمیں ہندوازم کے احیاء اور مسلمانوں کو ہندومت میں واپس لانے کے لئے سرگرم ہیں۔


امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو سب سے بڑا خطرہ مذہبی انتہاپسندی سے ہے۔ کیا ہندوستانی پارلیمنٹ نے قرارداد مقاصد پاس کی ہے؟ دانشوروں کے اسی گروہ نے یہ شوشہ بھی چھوڑا ہے کہ قائداعظم نے جگن ناتھ آزاد سے پاکستان کا ترانہ لکھوایا ۔ میں نے تحقیق سے ثابت کیا کہ یہ اس دہائی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ قائداعظم نہ ہی جگن ناتھ آزاد کو جانتے تھے نہ انہوں نے نہ کبھی اس سے ملے اور نہ اس سے ترانہ لکھوایا ۔


کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نہ میرا ذاتی مسئلہ ہے نہ میرا کوئی ایجنڈا ہے لیکن قائداعظم کے احترام کا تقاضا ہے کہ اُن کے نظریات کو مسخ نہ کیا جائے اور جو بات انہوں نے سیکڑوں بار کہی اس پر اپنی خواہشات کا خول نہ چڑھایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اسی منشور پر عوامی حمایت حاصل کی اور حصول پاکستان کی جنگ لڑی۔ لیکن دین سے خوف زدہ طبقہ قائداعظم کے نام پر سیکولر پاکستان کا نعرہ لگا کر اپنی خواہشات کے گھوڑے دوڑا رہا ہے اور بابائے قوم پر بہتان لگا رہا ہے۔ اﷲ انہیں ہدایت دے۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سیوہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
December

تحریر: جبار مرزا

پاکستان کو دو لخت ہوئے 46برس بیت گئے۔ وہ بیسویں صدی کا اکہترواں سال تھا اور آج ہم اکیسویں صدی کے سترھویں سال کو وداع کر رہے ہیں۔ علم الاعداد کی روشنی میں اکہتر اور سترہ دونوں کا سنگل عدد آٹھ بنتا ہے۔ گویا تاریخ کا نہیں یہ اقلیدس کا کھیل ہے۔ ہندسوں کی شکست ہے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ چھیالیس برس بیت گئے مگر وہی دن کی گردش وہی رات کی، نہ تب غور ہوا اور نہ آج توجہ فرمائی جا رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں 1971 کے حوالے سے اگر فوجی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو مارچ 1971 سے دسمبر1971 تک ہماری افواج لگاتار 8ماہ تک سرکش اور باغی عناصر اور مکار دشمن بھارت کی روزافزوں جنگی کارروائیوں کے خلاف نبردآزما رہیں۔ اس سارے عرصے میں انہیں بالکل بھی سستانے کا موقع نہ ملا۔ سرحد پر ہر جگہ اُن پر حملے جاری رہے۔ اندرونِ ملک تخریب کاری کا نشانہ بنتے رہے۔ کہیں سے کوئی مدد نہیں پہنچ پائی۔ چھٹیاں بند تھیں۔ بیوی، بچے ،ماں، باپ، بہن، بھائی اور دیگر عزیز واقارب ہزاروں میل دور بیٹھے ان کے لئے صرف سلامتی کی دعائیں ہی کرتے رہ گئے۔ رسد کا سلسلہ اطمینان بخش نہ تھا ہر طرف (بلکہ وہاں کی حکومت کے ہر شعبے میں) دشمن کے جاسوس چھپے بیٹھے تھے۔ عدم تحفظ کا یہ عالم تھا کہ محصور ہونے کا احساس دامن گیر رہنے لگا تھا۔ فوجیوں کی جسمانی حالت ابتر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا ذہنی دبائو بھی بڑھتا چلا گیا تھا۔ دنیا کی بڑی بڑی جنگوں میں بھی شاید کسی فوج کو اس قسم کے حالات کا سامنا نہ ہوا ہو گا جس طرح کے ناسازگار ماحول اور ناموافق حالات میں افواج پاکستان کو اپنے سے تعداد میں کئی گنا زیادہ اور جنگی طاقت سے لیس مشرقی پاکستان میں بھارت سے پنجہ آزمائی کے وقت ہوا۔ پانیوں پر سوویت یونین کا قبضہ تھا فضائی راستے میں بھارت گھات لگائے بیٹھا تھا۔ مشرقی پاکستان کے ہر شعبۂ زندگی میں فوجی تربیت یافتہ مکتی باہنی موجود تھے۔ ساڑھے پانچ لاکھ بھارتی فوج اور ڈیڑھ لاکھ مکتی باہنی گوریلوں کے مقابلے میں 34ہزار پاکستانی فوج تھی۔ جن میں پیشہ ورانہ فوجیوں کو نکال کر خالص لڑاکا فوجی محض 24ہزار تھے۔ اس سے پہلے جولائی 1970 میں مشرقی پاکستان میں زبردست سیلاب آئے پھر 12-13 نومبر کو ایسا ہولناک طوفان آیا اور مشرقی پاکستان کے ساحلی علاقوں پر اس قدر تباہی ہوئی کہ کم و بیش دو لاکھ افراد ہلاک ہو گئے ایسے میں افواج پاکستان نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر دن رات امدادی کارروائیاں کیں۔ اس کے باجود بنگالی سیاستدانوں اور بھارتی میڈیا نے پاکستانی فوجیوں کے خلاف نازیبا پروپیگنڈا جاری رکھا۔ 7دسمبر 1970کو عام انتخابات ہوئے۔ پی پی پی نے مغربی پاکستان کی 138نشستوں میں سے 81 پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے 162نشستوں میں سے 160 پر کامیابی سمیٹی۔ یہاں یہ بات واضح ہو کہ الیکشن میں یہ کامیابی عوامی لیگ اور اس کے مسلح غنڈوں کی ہر طرح کی دھونس، دھاندلی اور تشدد کی بھی مرہونِ منت تھی۔ یوں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پی پی پی بڑی سیاسی پارٹیاں بن کر ابھریں۔ مگر اُن دونوں جماعتوں نے قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر مفاہمت کے بجائے ٹکرائو کا راستہ اپنایا اور یوں سیاسی طور سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی راہ ہموار ہونے میں مشکل درپیش نہ ہوئی۔ بھارت اس سارے منظر نامے کی گھات میں تھا۔ اس کی پروپیگنڈا مہم جوئوں نے ہر طرح کی مخالفت کو ہوا دینے کے سارے حربے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بھارتی فوجیوں نے پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہن کر بنگالی خواتین کوہراساں کرکے اور اغواء کرکے افواج پاکستان کے خلاف نفرت آمیز ماحول بنانے کا گھنائونا کھیل کھیلا۔ دشمن ملک سے بھلائی کی توقع تو نہیں ہو سکتی مگر المیہ یہ تھا کہ سیاسی بصیرت کے دعویداروں کو بھی متوقع اقتدار کی دھند میں کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔


اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو قائداعظم محمد علی جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے بعد ہماری ملکی سیاست بہت تیزی سے زوال پذیر ہوئی۔ ملک پر سیاسی گرفت کمزور پڑی تو ایک خطرناک خلاء پیدا ہو گیا، اور 1953 سے 1958 کے درمیان 6برسوں میں 7وزیراعظم تبدیل ہوئے جو محلاتی سازشوں کے ذریعے بدلے جاتے رہے۔ وہ اسمبلی جو خود عوام کا اعتماد کھو چکی تھی وہ فوراً نئے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیتی چلی جا رہی تھی الغرض پاکستان کا سیاسی میدان کبھی بھی جمہوری اعتبار سے قابلِ رشک نہیں رہا۔


بہرطور عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی قیادت کے عدم اخلاص کے سبب حالات کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے میں ناکامی نے شیخ مجیب کی شاطرانہ چالوں کو اور بھی مبہم کر دیا تھا اور یوں پاکستان دولخت ہو گیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کا المیہ کوئی ناگہانی حادثہ نہ تھا۔ دسمبر 1971 میں جس غارت گری نے اور خانہ بربادی نے ملک کو دو ٹکڑے کیا وہ دراصل ان غلطیوں اورعاقبت نااندیشیوں کا نقطہئِ عروج تھا جن کا آغاز لیاقت علی خان کی شہادت کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ جنرل کے ایم عارف نے اپنی یادداشتوں ''ورکنگ وِد ضیائ'' میں ایک جگہ اس قسم کے جذبات کا اظہار افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یحییٰ حکومت کے خاتمے اور بھٹو حکومت کے آغاز سے بھی مارشل لاء ختم نہ ہوا بلکہ ایک جمہوریت کا دعویدار سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گیا اور جب بھٹو کا دور ختم ہوا تو تمام سیاسی اور جمہوری پارٹیاں مارشل لاء کے ساتھ کھڑی تھیں۔ کے ایم عارف نے یہ بھی لکھا کہ 1970کے انتخابات پر اس کا کوئی مخالف بھی انگلی نہ اٹھا سکا اور 1977کے انتخابات کو پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے قبول نہ کیا۔ سیاسی اور جمہوری دور کی ناپائیداری کی اس سے واضح مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔


گزشتہ ستر برسوں میں جوبے یقینی چلی آرہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ قیادت کا فقدان تھا۔ ہم آج بھی ناپائیداری کے دور سے گزر رہے ہیں۔ جو یقینا کسی بھی قوم او رملک کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ لہٰذا آج اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ تمام ادارے اپنے اپنے تئیں خود کو مضبوط کریں اور شفافیت کے ساتھ اپنے معاملات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ بلاشبہ وہی قومیں بین الاقوامی سطح پر باوقار اقوام کی صف میں کھڑی ہونے کی اہل قرار پاتی ہیں جو اپنے ماضی سے سیکھتی ہیں اور مستقبل کی راہیں انصاف، دیانتداری اور صادق جذبوں کے ساتھ سنوارتی ہیں۔ لہٰذا پاکستانی قوم کو ماضی کے غم میں ڈوبے رہنے کے بجائے ملک کے بہترین مستقبل کے لئے شب و روز محنت اور مسلسل جدوجہد کرنا ہو گی۔ تب ہی جا کر ہم دہشت گردوں کے عفریت کی طرح دیگر مشکلات اور چیلنجز پر قابو پانے کے قابل ہو پائیں گے۔ حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا:


کیوں زیاں کار بنوں، سودِ فراموش رہوں
فکرِفردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بلبل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا! میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں؟

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں پر
(سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں لکھی گئی۔)
پچھتائے ہیں سر کا بوجھ گرا کر بھی
حیراں ہیں آنکھیں دیوار ہٹا کر بھی
لوگوں کے گھیرائو سے ڈر کر بھاگے تھے
کانپ گئے ہیں اپنے سامنے آ کر بھی
انگلی تھام کے چلنا بھی منظور نہ تھا
کھو گئے بھیڑ میں آگے آگے جا کر بھی
اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں پر
گونگے ہو گئے شہر کے سارے ہاکر بھی
عالی سب انصاف ترازو ٹوٹ چکے
کیا پائو گے اب زنجیر ہلا کر بھی


جلیل عالی

*****

 
08
December

تحریر: فرخنداقبال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایشیا کے پانچ ممالک(جاپان، چین، جنوبی کوریا، ویت نام اور فلپائن) پر مشتمل 12روزہ طویل دورہ کیا،جس کے دو بڑے مقاصد تھے:(1)شمالی کوریا کے ایٹمی بحران پر قابو پانا(2)خطّے میں امریکی تجارت کا توازن درست کرنا۔لیکن اس دورے کا جائزہ لیتے وقت بہت سے دیگر نکتے بھی ذہن میں آتے ہیں،جن پر ذیل میں مختصراً بحث کی گئی ہے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سیاسی نظام چلانے میں چین کی شراکتی حیثیت باضابطہ طور پر تسلیم کرلی ہے

اپنی صدارتی مہم کے دوران چین پر کرنسی کا ہیر پھیر کرنے اور امریکی معیشت کو تباہ کرنے کے الزامات لگانے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورے میں چین اور اس کے صدر شی جن پنگ کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔ انھوں نے بیجنگ میں کاروباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ''میں چین پر الزام عائد نہیں کروں گا۔ کون کسی ملک پر اپنے شہریوں کے فائدے کے لئے دوسرے ملک سے نفع اٹھانے میں کامیابی حاصل کرنے پر کوئی الزام عائد کرسکتا ہے؟ میں چین کو بڑا کریڈٹ دوں گا۔''شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل میں چین سے مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ''میں آپ کے صدر کے بارے میں ایک چیز جانتا ہوں ،وہ یہ ہے کہ اگر وہ اس معاملے پر محنت سے کام کریں تو یہ بحران حل ہوجائے گا،اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔''انھوں نے شی جن پنگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''آپ ایک بہت خاص شخص ہیں۔''مستحکم معیشت، ایک پٹّی ایک شاہراہ اورایشیائی ترقیاتی انفراسٹرکچر بینک جیسی کئی کامیاب پالیسیوں کے ساتھ عالمی سیاست میں تیزی سے جگہ بنانے والا چین افغانستان اور مشرق وسطی میں راہنما کردار (مذاکرات اور جنگ بندی سرگرمیاں) ادا کرنے کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل میں مرکزی کردار ادا کرنے کی اہلےّت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابھرتے ہوئے چین سے مقابلے کے لئے اپنے پیش رو باراک اوبامہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صدر ٹرمپ بھی اس سے مدد مانگ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین اس مطالبے کا مثبت جواب دے گا؟دیکھا جائے تو چین 1950-53کے جزیرہ نما جنگ

trupdoraasia.jpg
(Peninsular War)
سے لے کر آج تک شمالی کوریا کا قریبی دوست رہا ہے۔ اس جنگ میں اس نے شمالی کوریا کے دفاع کے لئے اپنی فوجیں باقاعدہ طور پر میدان میں اتاری تھیں۔ جنگ کے بعد بھی چین نے اس کے تینوںرہنمائوں
Kim II Sung (1948-94)، Kim Jong-il (1994-2011)
اور
Kim Jong-un
2011سے تاحال سے ہر طرح کا سیاسی، سفارتی اور اقتصادی تعاون کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت 6.86بلین ڈالر سے زائد مالےّت کی سالانہ تجارت ہورہی ہے جس میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔2017کے پہلے نصف میں 2.6بلین ڈالرکی دوطرفہ تجارت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے اس عرصے کی نسبت 10فیصد زیادہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ چین شمالی کوریا پر بہت اثرورسوخ رکھتا ہے اور وہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک سکتا ہے لیکن اس بارے میں چین کی اپنی حدود اور الگ سوچ ہے۔ شمالی کوریا جنوبی کوریا کا دشمن ہے جس کے ساتھ چین کے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے۔چین کو جنوبی کوریا اور امریکہ کی سالانہ مشترکہ بڑی فوجی مشقوں پر شدید تشویش ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل کے لئے چین پر زور ڈالتے ہیں تو چین جواب دیتا ہے کہ اس عمل کا آغاز تب ہی ہوگا جب امریکہ اور جنوبی کوریا یہ مشترکہ فوجی مشقیں روک دیں، جس کے لئے امریکہ تیار نہیں ہے۔ ایک ایٹمی شمالی کوریا، چین اور اس کے دشمن ملک جنوبی کوریا کے درمیان ایک بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے اور جتنی اس کی طاقت بڑھتی ہے اتناہی یہ جنوبی کوریا کو چین کی سرحدوں سے دور رکھ سکتا ہے جہاں بڑی تعداد میں امریکی فوج موجود ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کا مرکز چین سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس ملک میں کسی بھی قسم کا انتشار چین کے لئے فوری خطرہ ہے اور اس کی پہلی اور آخری کوشش اس کی حکومت کو مستحکم رکھنا ہے اور وہ کم جونگ پر بہت زیادہ دبائو ڈال کر اسے مکمل طور پر تنہا نہیں کرنا چاہتا۔امریکہ کے ساتھ مخالفت میں لیبیا کے معمر قذافی اور عراق کے صدام حسین کی حکومتوں کے گرنے کے اثرات سے کون واقف نہیں ہے۔ شمالی کوریا میں اس قسم کی صورتحال سے شدید انتشار اور ایٹمی ہتھیاروں کا چین کے دشمن ہاتھوں میں جانے کا بہت امکان ہوگا ۔اور چین یہ بھی جانتا ہے کہ امریکہ ایٹمی طاقت کے حامل ملک شمالی کوریا پر حملے کی جرأت نہیں کرے گا ،کہ اس صورت میں اس کے اتحادی جنوبی کوریا، جاپان اور گوام میں امریکی فوجی تنصیبات کے علاوہ امریکی سرزمین بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائلوں کے نشانے پر آسکتے ہیں۔ ان سب فیکٹرز کو دیکھتے ہوئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ چین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کا زیادہ مثبت جواب دے سکتا ہے۔


ٹرمپ کی چین اور خطّے کے دیگر ممالک کے ساتھ امریکی تجارت متوازن کرنے کی کوشش او ر یہاں امریکہ کی اسٹریٹجک حیثیت 
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورے کے اختتام پر کہا کہ اس دورے کے نتیجے میں 300بلین ڈالر کی امریکی مصنوعات فروخت ہورہی ہیں ،اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حجم میںبہت جلد چار گنا اضافہ ہوجائے گااور یہ معاہدے ایک ٹریلین ڈالر سے بھی بڑھ جائیں گے۔دیکھا جائے تو اس وقت امریکہ کو چین کے ساتھ تجارت میں تقریباً 347بلین ڈالر ، جاپان کے ساتھ 69بلین ڈالراور جنوبی کوریا کے ساتھ 27.7بلین ڈالر خسارہ ہورہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے 250بلین ڈالر کے اقتصادی معاہدے کئے لیکن اقتصادی ماہرین سمجھتے ہیںکہ ان معاہدوں سے امریکہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ بلکہ ان میں سے کچھ تجزیہ کاران معاہدوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے اور اسٹریٹجک معاملات سے توجہ ہٹانے کی ایک چینی چال بھی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ نے اپنے دورے میںجاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبے
(Shinzo Abe)
کو بتایا کہ ''اگر جاپان امریکہ سے اسلحہ خریدتا ہے تو وہ شمالی کوریا کے میزائلوں سے بھی محفوظ ہوجائے گا اور مجھے بھی خوش کردے گا۔''جس پر شنزو ایبے نے رضامندی کا اظہار کیا۔ اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی روز جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایشیا بحرالکاہل خطّے کے 11ممالک کے ساتھ امریکی معاہدے

Trans-Pacific Partnership

سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت ہی امریکہ نے دوطر فہ انداز کے اقتصادی تعلقات کا آغاز کرلیا تھا لیکن اس کے ساتھ سب سے بڑا خدشہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ اس معاہدے سے نکلنے کے بعد ا س خطّے میں اس کے اسٹریٹجک مقاصد متاثر ہوسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ باراک اوبامہ دور کے اس معاہدے کا بڑا مقصد چین کے گرد حصار باندھناتھا۔ لیکن اب امریکہ نے جب دو طرفہ انداز کی تجارت اختیار کرلی ہے تو اس کے ساتھ اس کی یہاں خارجہ پالیسی بھی بڑی حد تک دوطرفہ ہوگئی ہے۔ جو کہ خطّے میں تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت چین کے لئے ایک سرپرائز کامیابی ہے۔ اس فیصلے سے چین کو خطّے کی قیادت سنبھالنے کا زبردست موقع ملا ہے۔ وہ اس وقت ون بیلٹ ون روڈ ، ایشیائی ترقیاتی انفراسٹرکچر بینک اور اس قسم کے دیگر علاقائی اور عالمگیر پالیسیوں کے تحت اپنی طاقت
integrated
انداز سے بڑھا رہا ہے۔


ٹرمپ کا دورہ اورشمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر جنوبی کوریا اور جاپان کی پریشانی
شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے خطّے میں سب سے زیادہ پریشانی جنوبی کوریا اور جاپان کو ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر اگرچہ ان دونوں ممالک میں ان کی خوب آئو بھگت ہوئی اور شمالی کوریا کے بارے میں مسلسل بیانات بھی دئیے گئے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 12روزہ طویل اس دورے میں ان کے خدشات ختم یا کم کرنے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کچھ کیا گیا؟ کیا ان دونوں ممالک کے رہنما ٹرمپ کے دورے کے بعد شمالی کوریا کے خطرے میں کوئی کمی محسوس کر رہے ہیں ؟ ایسے کوئی آثار یا اشارے کم از کم ابھی تک ان کے رہنمائوں مون جائے ان اور شنزو ایبے کے بیانات میں سامنے نہیں آئے ہیں۔ اگرچہ چینی صدر شی جن پنگ نے اپنا ایک خصوصی نمائندہ شمالی کوریا بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ۔میڈیا میں یہ خبر آنے کے بعد یہ تبصرے شروع ہوگئے کہ چین نے یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کے بعد اٹھایا ہے اور وہ اب سنجیدگی سے شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے تنازعے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی
Xinhua
نے فوری طور پر اس سلسلے میں وضاحت جاری کردی اور کہا کہ چینی صدر کے نمائندے کے دورے کا مقصد برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کے حالیہ اجلاس پر گفت و شنید کرنا ہے ، اور اس کا شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سلسلے میں اگلے چند ماہ نہایت اہم ہیں جس میں یہ واضح ہوجائے گا کہ جنوبی کوریا اور جاپان کا شمالی کوریا کے خطرے کے سدباب کے لئے امریکہ پر اعتماد کا گراف کیا ہے؟
جارج بش کا دورہ۔۔ٹرمپ کا دورہ۔۔26برسوں میں بہت کچھ بدل گیا۔


ایشیا کابالکل اسی قسم کا ایک طویل دورہ 1991-92میں سابق امریکی صدر جارج بش سینئرنے کیا تھا ،جس کا مقصد سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی واحد سپر پاور کی حیثےّت کا پیغام دینا اور اس کی قیادت میں ایک نئے عالمی نظام کا خاکہ کھینچنا تھا۔ اب جب 26سال بعد ایک امریکی صدر نے اس خطّے کو ایک طویل دورے کے لئے چنا تو اس خطّے میں ایک نئی سپر پاور (چین) پنپ رہی ہے اور یہ صدر
Protectionist
قسم کے خیالات رکھتے ہیں۔ جن کی عالمی حیثیت یہ ہے کہ وہ جب بھی اپنے سب سے بڑے حریف شمالی کوریا کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے تو وہ جواباً پہلے سے بڑے اور خطرناک ایٹمی ہتھیار کا تجربہ کرتا ہے۔ اور اس صدر کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ شمالی کوریا کو رام کرنے کے لئے چین کی منّت کریں۔ اس وقت کئی دیگر ممالک بھی امریکہ کو کھلم کھلا طور پر چیلنج کر رہے ہیں۔ آج سے 26برس پہلے اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

 

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
December

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل میربازخان

''سر کچھ ہی دنوں کی ہی بات ہے آپ بھی موجیں کریںگے بس ایک دفعہ آپ کرنیل بن جائیں۔'' سپاہی اقرار کے ان الفاظ کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے، تو دل ٹھنڈی آہیں بھرنا شروع کرتا ہے اور خیالات ماضی کے دریچوں کو کریدنا شروع کر دیتے ہیں جب ایسے ہی الفاظ عسکری زندگی کے ہر موڑ پر سننے کو ملتے تھے۔
سر! بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اور پھرفقط سترہ برس بعد وہ ''کچھ ہی'' دن گزر گئے اور ہماری' موجیں' شروع ہو گئیں جب کمانڈ لینے کے پہلے دن ہی جنرل صاحب نے ایک ماٹھی پریزینٹیشن دینے پر جھاڑ پلادی اور پھر 'موجوں' کا نہ ختم ہونے والا ایک ایسا طویل سلسلہ شروع ہوا جو 21اکتوبر 2000، پی ایم اے سے پاسنگ آئوٹ والے دن سے لے کر آج تک ہماری عسکری زندگی کا خاصہ رہا۔ ان 'موجوں' کا سلسلہ تو تب ہی شروع ہو گیا تھا جب پلٹن میں پہلے دن کی فا لِن پر لیفٹیننٹ عثمان طاہر نے کمپنی سے الگ کھڑے رہنے پر ''عزت افزائی'' کی تھی اور کیپٹن نعمان الدین حیدر نے'سر آئی تھنک' کہنے پر ہماری سوچنے سمجھنے کی 'غیراخلاقی' جسارت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کوارٹر گارڈ کے سیل میں قید کر دیا تھا۔ پھر ہمیں کمپنی لائنز میں جوانوں کے ساتھ ابتدائی عسکری تربیت کے لئے بھیجا گیا تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم پی ایم اے سے آفیسر پاس آئوٹ ہو کر پاک فوج کی ایک مایہ ناز پلٹن میں کوارٹر گارڈ کا حصہ بنیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ سی کمپنی کی آٹھ نمبر پلاٹون میں بیتے وہ تیس دن ہماری پیشہ ورانہ زندگی کے یادگار ترین دنوں میں سے تھے جس کے دوران سپاہی ناصر، اقرار، شمعون بہادر اور حوالدار لطیف جیسے سادہ لوح اور مخلص انسانوں کی صحبت ملی۔ ایسے ہی ایک موقعے پر جب رات کے تین بجے حکم ملا کہ نئے لیفٹین صاحبان نے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کہیں جانا ہے تو سپاہی اقرار نے وہ تاریخی الفاظ صادر کئے تھے۔۔۔۔۔
''کیا مصیبت ہے !!!!! چلو سر کوئی بات نہیں ۔۔۔ بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔''

colsabkimojain.jpg


وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ ہم کرنیل صاحب کی 'موجوں' کا تصور لئے افسری کے موڈ میں آ گئے۔ کندھے بھاری ہوئے تو ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا اور پلٹن کے ابتدائی ایام میں دی گئی تربیت کی بدولت ہر اس پوسٹ پر تعینات ہوئے جو ہمیں کرنیل صاحب کی 'موجوں' کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔ سٹاف کالج کی اپر فوائر کے تابڑ توڑ حملوں سے ہم بچ کر نکلے تو آسماں سے گرا اور کھجور میں اٹکا کے مصداق بالتوروگلیشئر کو 'حفظ'کرکے 'مسرور' ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بہرکیف 'موجوں' کے حصول کی خاطر قراقرم کے سُرور سے نکل کر پہلے مارگلہ کی آغوش میں نمل اور پھر سلطنت عمان کے صحرائوں کے سحر میں کھو گئے۔ سلطنت عمان سے واپسی پر ابھی وادیٔ ہنزہ کے دلفریب مناظر دیکھ ہی رہے تھے کہ کرنیل صاحب کا پروانہ آگیا کہ خدائی رینج پر رپورٹ کرکے ایکسرسائز کی تیاری شروع کریں۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ پی آئی اے کا خیال ترک کرکے شاہراہ قراقرم پر رختِ سفر باندھ لیا۔ پھر کہیں سے آواز آئی چلو کوئی بات نہیں ایک ہی سال کی تو بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سال گزر گیا اور وہ دن آہی گیا۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب کے فوراً بعد ہماری 'موجیں' شروع ہوگئیں۔ سب سٹینڈرڈ پریزنٹیشن کا ذکر پہلے ہوچکا، جیسے ہی بڑے گھر سے دفتر پہنچا تو ایس ایم صاحب نے دفتر میں داخل ہو کر پہلے سب اچھا سنا دیا


''سر راجن پور میں ڈیزل اور راشن ختم ہو گیا ہے لیکن مسئلے کی بات نہیں شام کا کھانا بن جائے گا۔
رکھ عربی پر صوبیدار امجد صاحب کو بخار ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں ہم نے
replacement
بھجوا دی ہے۔
سپاہی تنویر اور عبدالرحمن چھٹی سے واپس ابھی تک نہیں آئے، پرسوں حاضری تھی۔
سپاہی کلرک چھوٹے خان کی کل چھٹی سے حاضری تھی ابھی تک رابطہ نہیں ہو رہا، موبائل بھی بند ہے۔
کمانڈر صاحب کا آج ایم بی ایم کا وزٹ پلان ہے ۔ صوبیدار خیر بہادر صاحب تو ایڈمٹ ہیں کسی اور جے سی او کو بھیجنا پڑے گا۔
کل پے ڈےہے لیکن پچھلے سی او صاحب سے تنخواہ کا چیک سائن کرانا ہوگا کیونکہ ابھی تک اکاؤنٹ ان کے نام پر ہے۔
بینڈ پلاٹون کے لئے جو نئے بندے آپ نے چنے تھے، وہ انکاری ہیں۔
باقی سب اچھا ہے سر !''
ابھی ایس ایم صاحب کا سب اچھا ختم ہوا ہی تھا کہ کیپٹن بلال (ایڈجوٹنٹ) داخل ہوئے اور یوں گویا ہوئے:
''سر
!there is a minor issue
ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے سی سی آر میں ایک ڈیوٹی آفیسر نے جانا تھا نہیں گیا، بریگیڈ نے
explanation

مانگی ہے۔
کور کے مقابلوں میں سی ٹی ٹی ایس اور ایس پی ایس ٹیم کی غیر معیاری کارکردگی پر ڈیو ہیڈکوارٹر کمنٹس مانگ رہا ہے۔
سر! آپ نے چار اگست سے سات اگست تک ریکی پر جانا ہے۔ نو سے گیارہ اگست پفرز کانفرنس ہے۔
14 اگست کو آزادی فنکشن ہے اس کی ذمہ داری ہماری ہے۔ پرسوں کمانڈر کو اس پر بریفنگ دینی ہے اور سکیورٹی بھی ہماری ہے۔
ہم نے فائرنگ کے لئے جو دوبارہ اجازت مانگی تھی، اس پر ڈیو کمنٹس مانگ رہا ہے۔
چار بندوں نے کوارٹر کا عرصہ بڑھانے کی درخواست دی ہے۔ دینے میں مسئلہ کوئی نہیں لیکن پندرہ بندے ویٹنگ لسٹ پر بھی ہیں۔
رکھ عربی سے گارڈ واپس آنی تھی، اس کا عرصہ بڑھ گیا ہے اور اگلا مہینہ بھی ہماری گارڈ وہیں پر رہے گی۔''
اتنے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے اور بی ایم صاحب کی دوستانہ مگربارعب آواز گونجتی ہے۔ ''سر! ٹیک اوور کر لیا مبارک ہو۔ اچھا سر کمانڈر کہہ رہے ہیں کہ جیلوں کی سکیورٹی کے بارے میں جو
presentation
ڈیو میں دینی تھی کل کمانڈر سے آپ ڈسکس کریںگے۔''
اسی اثنا میں ہیڈ کلرک صاحب وارد ہوتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں:
سر! آڈٹ ٹیم آرہی ہے، میں نے ان سے بات کر لی ہے معاملہ ٹھیک رہے گا۔ (پندرہ دن بعد پتہ چلا کہ اٹھانوے پرانے پوائنٹس کے ساتھ سینتالیس نئے پوائنٹس بھی لکھ لئے ہیں۔)
سر! بریگیڈ میں راجن پور کے بارے میں جو کمنٹس بھیجنے تھے اس کا پانچواں ریمائنڈر آگیا ہے اور بھی چھ سات ریمائنڈر ہیں۔
کل دس بجے آپ نے کمانڈر صاحب کو سٹڈی پیریئڈ کے بارے میں بریف کرنا ہے۔ پرسوں کور میں ایک آئی ایچ ڈی ہے جس میں آپ سنڈیکیٹ ممبر ہیں۔
آج دو بجے گل حسن ہال میں حفظ و قرأت کا مقابلہ ہے آپ نے بھی جانا ہے۔
ہمارے پاس تین اے کیٹیگری کلرک تھے ان میں سے دو کی پوسٹنگ آگئی ہے۔،،


کسی نہ کسی طرح کچھ کام نمٹا کر جیسے ہی گھر پہنچا، بچوں نے خواہش ظاہر کردی کہ باہر جانا ہے ۔ اسی اثنا میں بیگم نے نوید سنا دی کہ اے سی کام نہیں کر رہا، کل سے صفائی والا گھر پر نہیں آیا، واش روم کا شاور کام نہیں کر رہا، کوکنگ رینج کیا تبدیل ہو سکتا ہے؟ آج مہینے کا سامان بھی لانا ہے۔ بچوں کے سکول میں کوئی فنکشن ہے اس کے لئے نئے کپڑے لانے ہیں۔ اچھا آج شام گیم مس نہیں کرسکتے؟ میں نے لیڈیز کلب جانا ہے وہاں ہماری ریہرسل ہے۔


کچھ لمحوں بعد احساس ہوا کہ موبائل کی گھنٹی کافی دیر سے بج رہی ہے۔ کمانڈر اور بی ایم کے نمبروں سے مس کالز کی تعداد دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ کمانڈر کے بجائے ہم نے پہلے بی ایم کو فون کیا تاکہ پہلے حالات کی نزاکت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ پتہ چلا کہ ٹی وی پر راجن پور کے بارے میں کوئی خبر چل رہی تھی ۔ کسی نہ کسی طرح کینال ریسٹ ہائوس راجن پور کے باسیوں کو جگا کر حالات و واقعات کا پتہ لگوایا اور کمانڈر کو رپورٹ دی۔ حسب معمول کمانڈر صاحب ہم سے کچھ زیادہ ہی باخبر تھے، بہر حال انہوں نے کمپنی کمانڈر کو ذرا آنکھیں کھول کر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فون بند کیا۔ دن کو قیلولہ کرنے کی خواہش تو برسوں سے تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ احساس پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ شاید یہ سہولتیں صرف ''الفا، برائو،چارلی''اور ''سنہرے دن''کے فوجیوں کو نصیب تھیں۔ گیم کے بعد ہم نے کمانڈر کے لئے بنائی گئی پریزینٹیشن دیکھنے کی ٹھانی تو پتہ چلا کہ ایڈجوٹنٹ صاحب نے ابھی اس پر کام ہی شروع نہیں کیا اور وہ بھی اس کام کے لئے رات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم نے بھی ان کو جھاڑ پلا کر اپنی نئی کمانڈ کا احساس دلایا کہ اب ایسے نہیں چلے گا۔ ہر کام وقت پر تیار ہونا چاہئے۔ ایڈجوٹنٹ صاحب دفتر سے نکلے اور اپنے دفتر میں دوسرے لیفٹین صاحبان سے ملکر ہماری ''اچھائیاں'' کرنا شروع ہوگئے۔ ''ابھی نیا نیا پروموٹ ہوا ہے اس کو پتہ تب چلے گا جب ایک ہی دن میں تین تین بریفنگ تیار کرنی پڑیں گی۔'' ستم ظریفی یہ کہ ہم اس وقت ان کے دفتر کے سامنے سے گزر رہے تھے، ہم نے عزت اسی میں جانی کہ برداشت کیا جائے، اس لئے بات نہ سننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ گھر پہنچنے سے پہلے ہی ایڈجوٹنٹ صاحب نے موبائل پر رات کے روٹ مارچ کی نوید سنادی۔ ''کاکولیات'' کے مصنف کے مداح تو ہم پہلے سے تھے، دل توبہت چاہا کہ ہسپتال جا کر کسی غیرمرئی مرض سے مستفید ہوں مگر نئی نئی کمانڈ کا ولولہ آڑے آگیا اور پورا روٹ مارچ کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ روٹ مارچ کے راستے پر ہم نے غور کیا اور نقشے کے اسرارورموز میں سے ہم نے بار بار کوئی شارٹ کٹ ڈھونڈنے کی بے سود کوشش تو ضرور کی مگر نقشے پر کسی کولمبس کے ہاتھ سے مارک ہوا، بارہ کلومیٹرکا راستہ زمین پر لگ بھگ اٹھارہ کلومیٹر کے برابر نکلا۔ خدا خدا کرکے واپس پہنچے اور معمول کے مطابق حلوے اور پکوڑوں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا گیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے مرغان سحر کے بیدار ہونے کا وقت ہوا چاہتا تھا مگر ٹیلیفون کالوں کا تانتا پھر بھی بندھا رہا۔ آخری کال تقریباً صبح پانچ بجے آئی کہ سر صبح جو پارٹی خانیوال جا رہی ہے ڈیو سے اس کی
(move sanction)
ابھی تک نہیں پہنچی۔ کچھ پتہ نہیں چلا کب ہم بستر پر پہنچے اور کب آنکھ لگی، ہوش اس وقت آیا جب موبائل پر صبح کا الارم بج رہا تھا اور اس کے ٹیون میں دور کہیں سے وہی سریلی آواز سنائی دے رہی تھی:
''بس سر!آپ ایک دفعہ کرنیل بن جائیں پھر آپ کی 'موجیں ہی موجیں' ہیں۔''

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
December

تحریر : پروفیسر ارشاد حسین شاہ

میجرواصف حسین شاہ شہیدستارہ بسالت کے حوالے سے ان کے والد محترم پروفیسر ارشاد حسین شاہ کی خصوصی تحریر

 

اس وقت افواج پاکستان ملک کی سلامتی اور بقاء امن کے لئے دہشت گردی اورشدت پسندی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ پاکستانی افواج کے جوان اور افسران جتنی بہادری، دلیری، ولولے، حب الوطنی، حکمت عملی اور کامیابی سے نامساعد حالات میں دشمنان پاکستان کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کی تاریخ میں مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ ہمارے پاس ہمارے جوانوں اور افسران کی ان گنت مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے دشمن کے خلاف لڑائی کے دوران، یہ جانتے ہوئے کہ ابھی کچھ دیر بعد ہم اس دنیا فانی میں نہیں ہوں گے، انتہائی جانفشانی اور دلیری کا مظاہرہ کیا اور شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے انہوں نے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی اس ملک کی آبیاری کے لئے بہا دیا۔ ایسے لوگ اللہ کی طرف سے چنے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ زندہ و تابندہ ہو تے ہیں۔ میجر واصف حسین شاہ نے اسی جذبے کے تحت ملک کی سلامتی اور فرائض منصبی کو پورا کرنے اور اسلام کی سربلندی کے لئے دتہ خیل وزیر ستان میں 15نومبر 2014ء کو تقریباً 400تخریب کاروں کے ساتھ مقابلے میں جام شہادت نوش فرمایا۔

 

pakkbetty.jpgمیجر واصف حسین شاہ شہید 2مئی 1981ء کو تربیلہ ڈیم کے پی کے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایف ایس سی کا امتحان اچھے نمبروں کے ساتھ ایف جی کالج منگلا کینٹ سے پاس کیا۔ وہ ایک اچھے مقرر، خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ہر دل عزیز انسان تھے۔ ان کا منگلا کینٹ میں والدین کے ساتھ رہائش کی وجہ سے فوج کے ساتھ کافی لگائو تھا۔ ایف ایس سی کے فوراً بعد تمام متعلقہ امتحانات پاس کر کے 106پی ایم اے لانگ کورس جوائن کیا۔ پی ایم اے کاکول میں ٹریننگ کے دوران اپنی خداداد صلاحیتوںکا بہترین مظاہرہ کرتے رہے۔وہ 2002 میں پی ایم اے کاکول سے پاس آئوٹ ہوئے۔ انہوں نے باغ پیر کنٹھی، گوجرنوالہ، بالاکوٹ، سکردو اور سوات میں ڈیوٹی سرانجام دی۔ سوات میں آپریشن راہ نجات میں بڑی بہادری سے ملک و قوم کا دفاع کیا۔ سوات سے کامیابی کے ساتھ فرائض انجام دینے کے بعد غازی بن کر لوٹے۔


میجر واصف حسین شاہ شہید بچپن ہی سے بڑے ملنسار، خوش اخلاق اور مدبر انسان تھے۔ انہیں کبھی غصہ میں نہیں دیکھا گیا۔ اُن کے چہرے پر ہر وقت ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہوتی تھی اور یہ مسکراہٹ ہم نے ان کے چہرے پر تابوت میں بھی دیکھی۔


انہیں کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اپنے والد کی چشمہ میانوالی پوسٹنگ کے دوران پاکستان اٹامک انرجی سکول میں زیر تعلیم تھے۔ تب انہوں مقامی آفیسرز کے بچوں کے ساتھ مل کر ایک کرکٹ ٹیم بنائی۔ جب وہ پاکستان اٹامک انرجی سکول میں تیسری جماعت کے طالب علم تھے تو اس وقت سکول میں دوڑ کے مقابلہ میں ان کی دوسری پوزیشن آئی۔ اُنہیں زندگی کی پہلی ٹرافی ملی جو آج بھی محفوظ ہے۔


میجر واصف کے والد صا حب کی منگلا تبدیلی پر انہیں ایف جی پبلک سکول منگلا کینٹ داخل کروایا گیا۔ اس سکول میں وہ تقاریر اور نعت خوانی میں حصہ لیتے رہے۔ منگلا کینٹ میں رہائش کی وجہ سے پاکستان آرمی کے ساتھ واپڈا کے آفیسرز کا کافی میل جول تھا۔ یہ پاکستان آرمی کا تعاون تھا کہ وہ واپڈا کے تمام آفیسرز کو جو منگلا کینٹ برال کالونی میں رہتے تھے ہر وہ سہولت میسر کرتے تھے جو کہ وہ اپنے سویلین آفیسرز کو مہیا کرتے تھے۔ اس طرح منگلا کینٹ میں رہائش پذیر آرمی اور واپڈا کے آفیسرز ایک فیملی کی طرح تھے۔ میجر واصف شاہ نے ایف جی کالج منگلا کینٹ میں تعلیم کے دوران ہی تن سازی، ویٹ لفٹنگ، تیراکی اور گھڑ سواری میں مہارت حاصل کر لی تھی جو کہ ان کو عملی زندگی میں بھی کام آئی۔ان کی پی ایم اے کاکول میں ٹریننگ کے دوران جسمانی طاقت، ذہانت اور برداشت کی کافی مثالیں ہیںجن میں سے دو کا ذکر کریں گے۔


فیلڈ میں یرموک ایکسرسائز کے دوران ضروری سامان کے علاوہ پی ایم اے کاکول سے اُنہوں نے ایل ایم جی اٹھائی۔ یہ ایل ایم جی پوری ایکسرسائز کے دوران اٹھائے رکھی اور پانچویں دن پی ایم اے کاکول میں جمع کرا دی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ جب سب کیڈٹس یرموک سے پی ایم اے واپس آئے تو فطرتی طور پر سب میں تھکاوٹ، کمزوری اور لاغر پن تھا۔ اس دوران پلاٹون کمانڈر نے کہا کہ کیا آپ سب کیڈٹس میں سے کسی میں دم خم ہے کہ وہ پش اپس نکال سکے تو میجر واصف شاہ رضاکارانہ طور پر پش اپس کے لیے تیار ہو گئے اور کوئی پچاس پش اپس نکالیں۔ میجر واصف شاہ کی اس طاقت، برداشت اور حوصلہ کو دیکھ کر سب دھنگ رہ گئے۔
میجر واصف حسین شاہ نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے کانگو میں ایک سال خدمات انجام دیں۔ وہاں پر ان کی بہت سی خصوصیات کی وجہ سے ان کو
King of Mwanga
کہا جاتا تھا۔ موانگا میں انہوں نے ایک مسجد بھی تعمیر کروائی۔ واپسی پر ان کی
Attachment
کوئی دوسال کے لئے
Azad Kashmir Regmental Center
مانسر کیمپ میں ہوئی۔ مگر تقریباً آٹھ ماہ بعد یہاں سے ان کو ا پریشن ضرب عضب میں حصہ لینے کے لئے شمالی وزیرستان بھیج دیا گیا۔ میجر واصف حسین شاہ نے شمالی وزیر ستان میں بہت سے آپریشنز کی کمانڈ کی اور کامیابی سے انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے بہت کم نفری اور اسلحے کے ساتھ مشکل، بلندترین اور دفاعی اعتبار سے بہت اہم اور دہشت گردوں کی اہم پناہ گاہ زرم سر اور سپیر اغر پر قبضہ جما کر 3چوکیاں قائم کر دیں۔ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک درہ تھا جس کو تخریب کار افغانستان آنے جانے اور اسلحہ کی رسدکے لئے استعمال کرتے تھے۔ یہ علاقہ بہت عرصے سے ملک دشمن عناصر کے قبضے میں تھا اور یہاں سے تخریب کار دتہ خیل پر راکٹ پھینکتے تھے اور افواج پاکستان پر حملہ کرتے تھے۔ اس قبضے کی وجہ سے ان کوفاتح زرم سر اور سپیراغر کہتے ہیں۔ میجر واصف حسین شاہ
Bravo Company
کی کمانڈ کر رہے تھے کہ 15نومبر2014 شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے تقریباً چار سو تربیت یافتہ، منظم اورجدید اسلحے سے لیس تخریب کاروں نے پوسٹ نمبر 3پر حملہ کردیا۔ میجرواصف حسین شاہ نے دفاعی اعتبار سے اپناہیڈکوارٹر پوسٹ 2پر بنایا تھا۔ان کو اطلاع ملی کہ پوسٹ 3پر حملہ ہو گیا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ میں ان کو سبق سکھائو ںگا۔ اور پوسٹ 2سے بمعہ چار سپاہیوں کے وہ برق رفتاری سے پوسٹ 3پر پہنچے اور فرنٹ لائن پر پوزیشن سنبھا ل کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ چونکہ چاروں اطراف سے دشمن کا فائر آرہا تھا جس کی وجہ سے کچھ جوان زخمی ہوئے، تاہم میجر واصف حسین شاہ نے تخریب کاروں کو پیچھے دھکیل دیا اسی مقابلے کے دوران ان کو دو گولیاں بائیں کندھے اور ہنسلی کی ہڈی پر لگیں مگر پھر بھی انہوںنے اس کی پروا نہ کی اور بڑی بہادری سے تخریب کاروں کا مقابلہ کرتے رہے۔ انہیں نفری کی کمی، اسلحے کی قلت، بروقت کمک نہ پہنچنے اور دشمن کے بارے میں فوجی اعتبار سے متعلقہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔میجر واصف کی فرنٹ لائن پر موجودگی سے جوانوں کے مورال میں اضافہ ہوا۔ شام تقریباً سات بجے میجرواصف حسین شاہ کے بنکر کو ملک دشمن عناصر نے تین اطراف سے گھیر لیا۔ ان حالات میں بھی میجر واصف حسین شاہ پورے جذبۂ ایمانی، شجاعت اور حوصلے سے لڑے۔ اسی دوران نزدیک سے آر پی جی کا فائر کیا گیا اس کے ٹکڑے میجر واصف کے اوپروالے جبڑے کو چیرتے ہوئے گردن سے نکل گئے جو ان کی شہادت کا سبب بنے۔ان کے ساتھ ہی نائیک جاویداختر، سپاہی محمد نواز،سپاہی نذیر احمداور سپاہی ایاز نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ میجر واصف کی شہادت کے بعد صوبیدار جہانگیر احمد بڑی بہادری سے لڑے اور دشمن کے ساتھ دست بدست لڑائی میں شہید ہوگئے۔ میجر واصف حسین شاہ کو غیرمعمولی جرأت اور شجاعت کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی اور ملک سے بے پناہ محبت اور ایک مثالی، نڈر اور باہمت کمانڈرہونے کے سبب ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔ میجر واصف حسین شاہ شہید کی نمازجنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ پشاور سٹیڈیم پشاور میں اداکی گئی جس میں اس وقت کے کور کمانڈر پشاور، لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور گورنر صوبہ خیبرپختونخوا نے بھی شرکت کی۔ میجر واصف شہید کی دوسری نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے شیخ آباد مانسہرہ میں ادا کی گئی۔ جس میں علاقے کی عوام کے علاوہ اعلیٰ سول و فوجی افسران اور اہلکاران نے بھی شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد پاک فوج کی بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے شہیدکو سلامی دی اور اانہیں قومی و فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
December

تحریر: صبا زیب


برطانیہ میں منعقد ہ بین الاقوامی کیمبرین پیٹرول میں پاکستان آرمی نے چار مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کیا۔ رواں برس گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کے ساتھ ایک ملاقات

 

ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا نام سنتے ہی ویلز کا یخ بستہ موسم، سنگلاخ پہاڑ اور دنیا کے سخت جان فوجی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ انہی فوجیوں میں پاکستانی فوج کے جوان بھی شامل ہیں جو ملک کے اندر تو دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہیں ہی۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک سے باہربھی بین الاقوامی سطح پر دنیا کی بڑی فوجوں کے ساتھ مقابلے میں اپنی ہمت اور دلیری کا سکہ بٹھا رہے ہیں۔ مسلسل تیسری بار ایکسرسائزکیمبرین پیڑول میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پاکستانی فوجی عام فوجی تو نہیں ہو سکتے کیونکہ اس ایکسرسائز میں ایک ہزار سے زائد برطانیہ کے فوجی اور 28بین الاقوامی فوجی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔برطانوی فوج کی 160بریگیڈ ہر سال اس مقابلے کومنعقد کرواتی ہے۔
ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا ایونٹ اپنے انداز کا ایک منفرد اور دنیا کا سب سے بڑا فوجی ایونٹ ہے۔ یہ ایک
Long Range
پیٹرول مشق ہے جس کا دورانیہ 48گھنٹے ہوتا ہے۔ اس میں تقریباً 50میل تک کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس میں حصہ لینے والوں میں
Navigation
کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ جسمانی برداشت کو بھی جانچا جاتا ہے۔ اس
Patrol
کا آغازبرطانوی فوج نے 1960میں کیا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان نے 2005 سے اس میں حصہ لینا شروع کیا اور اب تک گیارہ بار اس
Patrol
میں حصہ لے چکا ہے۔

jbjazbayhun_jawan.jpg
پاکستانی فوج کی 59پنجاب رجمنٹ نے کیمبرین پیٹرول میں دوسری بار حصہ لیا اور دونوں بار گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے لئے ٹیم کے انتخاب کا معیار یہ ہے کہ پہلے پاکستان میں مختلف ٹیموں کے مابین لوکل سطح پر مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں جنہیں پاس کرنے کے بعد آرمی کی سطح پر ایک مقابلہ رکھا جاتا ہے جو ٹیم اس مقابلے میں جیتتی ہے وہ کیمبرین پیٹرول میں حصہ لیتی ہے۔ انگلینڈ جانے سے پہلے اس ٹیم کی ٹریننگ ایسے علاقوں میں کی جاتی ہے جو ویلز کے علاقے سے ملتے جلتے ہوں تاکہ وہاں جا کر ٹیم موسم کی سختی کو برداشت کر سکے۔ ایکسرسائز کیمبرین پیٹرول میں 59 پنجاب رجمنٹ کی گیارہ رکنی ٹیم نے حصہ لیا۔ جن میں میجر جواد جمیل، کیپٹن محمدعثمان افضل، لیفٹیننٹ عبدالرحیم، حوالدار بابر عدیل، حوالدار غلام مصطفی، نائیک محمدآصف، لانس نائیک قیصر عباس، لانس نائیک ناصر علی، لانس نائیک محمداشفاق، سپاہی وقاص احمد اورسپاہی محمدنذیر شامل ہیں۔ اس ٹیم کی ٹریننگ جونیئر لیڈرز اکیڈمی شنکیاری میں کی گئی۔ میجر جواد جو کہ اس ٹیم کے انتظامی انچارج تھے، نے بتایا کہ ہم مقابلہ شروع ہونے سے تقریباً 10-15 دن پہلے وہاں چلے جاتے ہیں۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم ویلز کے موسم کے عادی ہو جاتے ہیں۔ پھر مشترکہ ٹریننگ شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ ایسے ہتھیار استعمال کرنا ہوتے ہیں جو ہمارے لئے نئے ہوتے ہیں کیونکہ مقابلے میں ہتھیار ہمیں
U. K. Army
کے استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ کچھ
Drills
بھی ہمیں ان کے ساتھ کرنی ہوتی ہیں۔ ان سے کچھ سیکھتے اور
Adopt
کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی ٹیم
U. K.
جاتی ہے تو اس کی میزبانی کوئی برطانوی رجمنٹ کرتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کی میزبانی پچھلے تین سالوں سے 32انجینئرز کر رہی ہے۔


ٹیم کپتان ،کیپٹن محمد عثمان افضل نے بتایا کہ ان کے لئے ویلز میں سب سے بڑا چیلنج وہاں کا شدید سرد موسم تھا۔ اس لئے وہاں کچھ بھی آسان نہیں تھا۔ کچھ اہداف ایسے تھے کہ جن تک پہنچنے کے لئے پانی سے بھی گزرنا پڑتا تھا بلکہ وہاں جگہ جگہ پانی تھا۔ راستوں میں پانی اتنا تھا کہ پائوں پورے کا پورا اندر دھنس جاتا اور چاریا پانچ کلومیٹر چلنے کے بعد جرابیں تبدیل کرنی پڑتی تھیں۔ وہاں اچانک بارش شروع ہو جاتی یا اچانک دھوپ نکل آتی۔ موسم کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔کیپٹن عثمان کا کہنا تھا کہ شائد ہی کوئی ایسا ملک ہو جس نے مسلسل تین بار
Cambrian Patrol
میں گولڈ میڈل جیتا ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان آرمی کتنی پروفیشنل ہے۔
Cambrian Patrol
میں جب
Task
دیا جاتا ہے تو بہترین نتائج حاصل کرنے کے لئے ایک ماڈل بنایا جاتا ہے۔ اس ماڈل کو دیکھ کر ہی ٹیم کیپٹن اپنے ساتھیوں کو احکامات دیتا ہے۔ ہمارا اس بار بنایا گیا ماڈل بھی بہت پسند کیا گیا اور اسے بیسٹ ماڈل کہا گیا۔
کیپٹن عثمان نے بتایا کہ ہر ٹیم میں 8افراد حصہ لیتے ہیں جبکہ 2افراد ایسے ہوتے ہیں جو ایمرجنسی کی صورت میں ٹیم میں شامل کئے جاتے ہیں۔ کچھ ٹیمیں دس بارہ گھنٹوں میں ہی
disqualify
ہو جاتی ہیں بہت لوگ زخمی ہو جاتے ہیں اگر ایک ٹیم میں دو سے زیادہ لوگ زخمی ہو جائیں تو وہ ٹیم مقابلے سے نکل جاتی ہے۔ ہر سال نئی چیزیں شامل کی جاتی ہیں اس کے لئے ہم ایک
Broad Training
کرتے ہیں۔ جس میں ہم زیادہ سے زیادہ چیزیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مستقبل میں نئی ٹیم کے گولڈ میڈل لینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میجر جواد نے کہا کہ
Cambrian Patrol
پر جانے والی ٹیم کو چاہئے کہ وہ اپنی ٹریننگ کو بہت اچھی طرح پورا کریں اور جونیئر لیڈرز اکیڈمی جو کہ اس ٹریننگ کی ذمہ دار ہے کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ تجربہ کار اور کوالیفائیڈ سٹاف کے ساتھ ساتھ پہلے سے جیتی ہوئی ٹیموں کو بھی اس ٹریننگ کا حصہ بنائیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ وسائل کو بروئے کار لانا چاہئے کیونکہ اس
Patrol
میں صرف جسمانی فٹنس ہی نہیں بلکہ ذہنی تندرستی اور استعداد بھی دکھانی ہوتی ہے۔ کیپٹن عثمان کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ ہماری اکیڈمی کا ٹریننگ لیول بہت اچھا ہے۔ اسے ایسے ہی کام کرنا چاہئے اور ساتھ ساتھ تجربہ کار لوگوں کو بھی لازمی شامل کرنا چاہئے۔ ٹیم کو بھی چاہئے کہ پوری ایمانداری کے ساتھ ٹریننگ حاصل کرے اور ملک و قوم کے لئے فخر کا باعث بنیں۔

sipwaqas.jpg
سپاہی وقاص احمد
ہمارے لئے یہ بہت ہی فخر کی بات تھی کہ ہماری یونٹ دوسری بار اس مقابلے کے لئے جا رہی تھی اور جب ہم نے دوسری بار بھی گولڈ میڈل حاصل کر لیا تو یہ فخر دوگنا بڑھ گیا کہ یہ نہ صرف ہماری یونٹ بلکہ ہمارے ملک کے لئے بھی اعزاز تھا۔

naikmasif.jpg
نائیک محمد آصف
ہمارے لئے یہ اس لئے بھی قابل فخر ہے کہ ہم نے نہ صرف اس سال گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ پچھلے سال کے گولڈ میڈل کا دفاع بھی کیا اور اس کے لئے ہم اﷲتعالیٰ کے جتنے بھی شکرگزار ہوں کم ہے۔

naiknabar.jpg

حوالدار بابر عدیل
2005سے ہم اس
Cambrian Patrol
میں حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک پاک فوج کے جوان چار مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ اس میں ہماری محنت کے ساتھ ساتھ قوم کی دعائوں کا حصہ بھی ہے۔ خاص طور پر انگلینڈ میں مقیم پاکستانیوں نے ہمارے لئے بہت دعائیں کیں۔

 
08
December

تحریر: بریگیڈیئر فیصل مسعود ریٹائرڈ


لیفٹیننٹ ارسلان عالم شہید کی شہادت جہاں ہم سب کے لئے بحیثیت پاکستانی باعثِ فخر ہے وہیں اس نوخیز خوبصورت نوجوان افسر کی بے وقت رخصت پر قوم بجا طورپر دل گرفتہ بھی ہے۔


پاکستان آرمی میں 32سالہ کمیشنڈ سروس کے دوران مجھے بھی اپنے بیشتر ساتھیوں کی طرح پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف تقریباً دو عشروں پر محیط جنگ کا حصہ بننے اور عزم و یقین سے آراستہ لازوال قربانیوںکے ان گنت ناقابل فراموش واقعات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔


اکتوبر2001میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد کسی یونٹ کی کمان خالی نہ ہونے کی وجہ سے مجھے عارضی طور پر اے ایس سی سکول تعینات کر دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان دو اطراف سے روائتی و غیرروائتی جنگ کے مہیب سایوں میں گھر چکا تھا۔ مشرق میںہمارا روائتی دشمن جنگی سازوسامان کی برتری کے زعم میں مبتلا، حیلوں بہانوں سے مسلسل ہم پر دبائو بڑھا رہا تھا جبکہ دوسری طرف مغرب میں دہشت و وحشت کا آسیب پَر پھیلائے ابھر رہا تھا۔ افغانستان میں امریکی بمباری عروج پر تھی اور طالبان کی حکومت تہہ و بالا ہو چکی تھی۔


2002 کے وسط میں پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی آڑ میں بھارت نے اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر تعینات کر دیا۔ بحیثیت ایک پاکستانی مشرقی سرحد پر منڈلانے والے خطرات کے بارے میں ہم میں سے کسی کے ذہن میں کسی قسم کا کوئی شائبہ یا ابہام نہیں تھا۔ مغرب کی طرف صورت حال تاہم مختلف تھی۔ دوست اور دشمن کی پہچان میں بے یقینی کی کیفیت کو مخصوص عناصر اپنے منفی پراپیگنڈے سے مزید دھندلا رہے تھے۔ وطن اور اسلام کے نام پر مر مٹنے والی سادہ لوح قوم کے اخلاص سے گھنائونا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔

lettayabsearslantk.jpg
میں نے اکتوبر2002میں یونٹ کی کمان سنبھالی تو ہم مشرقی سرحد پر تعینات تھے۔ مارچ کے اوائل میں صدر پاکستان نے اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے کی اجازت دینے سے انکار کا اعلان کیاجسے اقوام عالم میںفوری پذیرائی ملی۔ بھارت کے لئے اب پاکستان پر مزید دبائو بڑھانا ممکن نہ رہا تھا۔ تاہم بھاری بھر کم جنگی مشین جسے وہ مہینوں کی مشقت سے پاکستان کی سرحد پر کھینچ تان کر لایا تھا، اس کی یکسر واپسی کا اعلان بھارتی قیادت کے لئے فوری ممکن نہ تھا۔ آخر اپنے سادہ لوح عوام کے کروڑوں روپے کے اخراجات اور مہینوں پر محیط مہم جوئی کا مناسب جواز پیش کرنا آسان نہ تھا۔
نومبر 2002کے اوائل میںبالآخر دونوں ملکوں نے اپنی اپنی افواج کی چھائونیوں میں واپسی کا دو طرفہ فیصلہ کیا اور یوں وہ یونٹ جس کی کمان سنبھالے مجھے محض دو ماہ کا عرصہ ہوا تھا، زمانہ امن کے مقام کوہاٹ پہنچ گئی۔ کوہاٹ واپسی پر ایک عام تاثر تھا کہ جنگ کے بادل چھٹ چکے ہیں۔


ہماری مشرقی سرحد پر تعیناتی کے دوران افغانستان میں امریکی حملے کے بعد طالبان کی حکومت تتر بتر ہو چکی تھی۔ بیشتر افغان عسکریت پسند اور ان کے اتحادی پاکستان سے ملحقہ اور پاکستان کے اندر قبائلی علاقہ جات میں روپوش ہو چکے تھے۔ اگرچہ فضا میںتنائو تھا لیکن روپوش عسکریت پسندوں اور بالخصوص قبائلی عوام اور پاک افواج اور ایف سی میںبہرحال ٹکرائو کی بظاہر کوئی کیفیت نہیں تھی۔ قبائلی علاقہ جات میں آمدورفت بغیر کسی روک ٹوک یا سنجیدہ حفاظتی اقدامات کے جاری تھی۔ کسی چھاپہ مار کارروائی یا بارودی سرنگوں سے حملوں کے طریقہ کار کے مطابق میں اپنے ذمہ داری کے علاقوں بشمول کرم ایجنسی شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے دور دراز علاقوں سے واقفیت حاصل کرنے کے سفرپر نکل پڑا۔


گو کہ قبائلی علاقہ جات میں پرتشدد واقعات کا ابھی آغاز نہیں ہوا تھا تاہم پاک فوج کی قبائلی علاقہ جات میں تاریخ میں پہلی بار تعیناتی سے دہشت گردوں اور افواج پاکستان کے درمیان ایک واضح لکیر نظر آنے لگی تھی۔فضا خوف سے آلودہ اور باہمی شکوک و شبہات سے بوجھل ہو چکی تھی۔


تین جیپوں پر مشتمل ہمارا قافلہ کرم ایجنسی کے آغاز میں ہی واقع ٹل چھائونی سے گزرتے ہوئے رات گئے صدر مقام پاراچنار پہنچا۔ شب بسری کے بعد صبح کوہ سفید المعروف تورا بورا پہاڑ کو عقب میں رکھ کر ہم نے چند تصاویر بنائیں اور شمالی وزیرستان کے لئے روانہ ہوئے۔ میران شاہ میں رات گزارنے کے بعد ہم وانا کے لئے روانہ ہوئے۔ جس کے لئے ہم نے مرکزی شاہراہ کے بجائے میران شاہ، میر علی، رزمک، لدھا، مکین اور کانی گرم کا اندرونی راستہ اختیار کیا۔ ویران اور گہری گھاٹیوں سے گزرتے ہوئے ایک بار بھی احساس نہ ہوا کہ کچھ عرصے بعد یہ علاقہ خاک و خون اوروحشت و خوف کے اندھیرے میںاس طرح غرق ہوگا کہ ہر ذی روح جو اس کی خاک آلود ہوا میں سانس لے گا، اپنی روح و جاں پر گہرے گھائولے کر نکلے گا۔


اگلے چند ماہ قبائلی علاقوں میں موت کا سکوت تھا جیسے ہولناک طوفان کے آنے سے پہلے کی پراسرار خاموشی۔ آزادفضائوں میں دشمن زہر گھول چکا تھا۔ لاوا پک چکا تھا، بس پھٹنے کو تھا۔ فی الوقت دونوں اطراف ایک دوسرے پر کھلم کھلا حملہ کرنے سے گریزاں لیکن دل رنجش سے پھٹنے کو تھے۔


صدیوں سے انسان کے اندر چھپے شکاری اور اپنے دفاع کی جبلیات ہوش و حواس پر غالب آتی جا رہی تھیں۔ پاکستان کا قبائلی علاقہ ایک بارود کا ڈھیر تھا بس چنگاری کامنتظر۔ غالباً فروری 2003 کے دوران وانا کے اعظم بازار میں دن دھاڑے پاک فوج کے ایک جوان کو سینے میںگولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ پاک فوج نے زخم کھا کر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ فروری میں ہی یونٹ کو حکم ملا کہ حالات میں کشیدگی بڑھنے کے پیش نظر وانا میں سپلائی پوائنٹس قائم کئے جائیں۔ میں نے اپنے نوجوان افسروں میں سے لیفٹیننٹ طیب کا انتخاب کیا۔ اتوار کے روز لیفٹیننٹ طیب نے تمام تر تیاری کے بعد مجھے گھر پر فون کیا اور روانگی کی اجازت طلب کی۔ میں نے طیب سے کہا کہ اگر وہ ویک اینڈ گھر گزارنا چاہتا ہو تو کل علی الصبح روانہ ہو جائے۔ لیفٹیننٹ طیب کا جواب آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ ''نہیں سر! میں آج ہی جانا چاہتا ہوں۔'' طیب کی شادی کو محض ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا تھا اور اس کی ایک پیاری سی چھ ماہ کی بیٹی تھی۔


طیب نے سات آٹھ گھنٹوں کے سفر کے بعد صوبہ پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کی سرحد پر واقع شہر ٹانک میںقیام کیا۔ اگلی صبح ایک کانوائے، جس میں انجینئرز کی بھاری گاڑیاں اور سست رفتار مشینری بھی شامل ہو چکی تھی، کو لے کر لیفٹیننٹ طیب عازم سفرہوا۔ رات کا کھانا کھا کر طیب نے مجھے فون کال کی جو میری اس کے ساتھ آخری گفتگو تھی۔ میں نے اس کو تاکید کی کہ وانا پہنچتے ہی سب سے پہلے مجھے اطلاع کرے۔


شام کے قریب طیب کی شہادت کی اطلاع مل گئی۔ وانا سے 30میل کے فاصلے پر سروکئی کے مقام پر دہشت گردوں کے اچانک حملے میںطیب اور متعدد جوان جام شہادت نوش کر گئے۔ طیب کا جسد خاکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ کوہاٹ لایا گیا۔ میں پہنچا تو طیب خون آلود خاکی وردی میں ابدی نیند سو رہا تھا۔ نوجوان شہید کی گردن پر گولی کا کاری وار نمایاں تھا۔ ٹھوڑی پر سفید پٹی اور گردن اور گال کے بیچ کا حصہ خون آلود تھا۔ دہشت گردی کی سیاہ طویل رات کا آغاز ہو چکا تھا بے چہرہ دشمن نے آنے والے سالوں میں اسلام کے نام پر نہ صرف اسلامی روایات بلکہ مروجہ عالمی جنگی اصولوں کی وہ دھجیاں اڑائیں کہ انسانیت کانپ کر رہ گئی۔


سوشل میڈیا پر لیفٹیننٹ ارسلان عالم ستی کی تصاویر کو ہر پاکستانی کی طرح میں نے بھی فخر و ملال کے ملے جلے احساسات کے ساتھ دیکھا۔ شام گئے کسی نے تابوت میں بند نوجوان و نوخیز شہید کا چہرہ اپ لوڈ کیا تو بے اختیار مجھے لیفٹیننٹ طیب یاد آ گیا۔ وہی سکون، وہی معصومیت اور وہی خون آلود گردن۔ طیب کی بیٹی آج پندرہ سال کی ہے۔ ارسلان عالم 22سال کا تھا۔ خون کا ایک خراج ہے جو پاکستان ادا کر رہا ہے۔ لہو میں لپٹی عزم و استقلال کی داستان ہے۔


31اگست 2017 کوفوجی وردی میں اپنا آخری دن گزارنے کے بعد جب میں جی ایچ کیو سے نکل رہا تھا تو دل و دماغ میں یادوں کا ایک طوفان برپا تھا۔ آنکھوں کے کونوں میں آنسو تھے کہ گرنے کو بے تاب تھے۔ آج 23ستمبر کے دن جبکہ پاک فوج سے میرا تعلق محض رسمی رہ گیا ہے، ارسلان کی شہادت نے گہرے گھائو کھرچ ڈالے ہیں۔ آنسوئوں کا ایک سیل رواں ہے۔ اب جبکہ میں وقت کے دھندلکے میں کھونے جا رہا ہوں۔ اپریل 2018میں میرا بیٹا پاکستان ملٹری اکیڈمی سے انشاء اﷲ پاس آئوٹ ہو کر پاک فوج کی صفوں میں شامل ہو گا۔ لیفٹیننٹ ارسلان عالم ستی وقت شہادت ایک چھوٹی سی پوسٹ کی کمان کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ روشنیوں اور رنگوں میں بسے پاک وطن کے آبادوشاداب شہروں اور قصبوں سے میلوں دور، چھوٹی سی پوسٹ پر گرنے والاشہید کا مقدس خون ہم پر قرض ہے۔ دُوراُفتاد سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ یہ چھوٹی سی پوسٹ کبھی خالی نہیں ہو گی۔ سبز ہلالی پرچم لہراتا رہے گا۔

اے وطن تیرے لئے !

aywatentereliay.jpg
(میجر اسحاق شہید کی گود میں بیٹھی اُن کی ننھی مُنی گڑیا جیسی بیٹی کی تصویر دیکھ کر لکھی گئی)

میرے پاس
بس
تمہی تھے 'بابا'
میں نے تم کو ہار دیا
اے وطن دیکھ لے !
تجھ پہ
اپنا سب کچھ
وار دیا!
اپنا گہنا تجھ کو
دے کر
خود کو یوں
'گہنا' دیا
کہ…!
میرے درد سے
تیری عظمت
ارفع و اعلیٰ ہے
میرے جسم کا
اِک اِک 'لُوں'


تیرا ہی
رکھوالا ہے
کہ میں ہوں
اس مٹی کی بیٹی
اور بابا بھی تھے
اس مٹی کے بیٹے
وہ
اب بھی تو
''ہیں''
اس مٹی میں ہی!
اس مٹی کی ہے
شان بڑی
اس سے میری
پہچان بڑھی
ہوں اب بھی تیرے ساتھ وطن
ہے جتنی مری بساط وطن
یوسف عالمگیرین
23نومبر2017

*****

 
08
December

تحریر : میجر عابد مسعود


ممتاز استاد، محقق اور صاحبِ طرز شخصیت پروفیسر سعید راشد مرحوم کے حوالے سیمیجر عابد مسعودکی ایک تحریر

 

انسان کے بچپن کا دور اس کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ ماں باپ کے بعد جو ہستی انسان کی شخصیت کی تراش خراش کرتی ہے اور اسے کامیابی یا ناکامی کے سانچے میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ استاد ہے۔ استاد ایک جوہری کی مانند ہے جو پتھر میں چھپے ہیرے کی تراش خراش کرتا ہے۔ اگر ہم عظیم لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور جلا بخشنے میں ان کے کسی استاد کا ہاتھ تھا۔


سکندر اعظم کو ارسطو کی شاگردی نصیب ہوئی۔ اپنے شہرہ آفاق استاد کے بارے میں سکندر نے کہا تھا کہ میرے استاد کا درجہ میرے باپ سے بہت بڑھ کر ہے۔ باپ تو مجھے آسمان سے زمین پر لایا تھا لیکن میرے استاد نے مجھے زمین سے علم و آگہی کے آسمان تک پہنچایا ہے۔


اسی طرح ایک واقعہ ہے کہ عباسی خلیفہ مامون الرشید جب بچہ تھا تو اس کے استاد نے کسی بات پر ناراض ہو کر اس کو دو تین تھپڑ جڑ دیئے۔ مامون رونے لگا اتنی دیر میں سلطنت کا وزیر اعظم وہاں آگیا۔ مامون نے آنسو پونچھے اور ایسے ظاہر کیا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بعد میں استاد نے پوچھا کہ شہزادے میں ڈر رہا تھا کہ آپ شکایت لگائیںگے۔ تو مامون بولا: استاد محترم!'' آپ نے مجھے میری اصلاح کے لئے مارا میں آپ کا ادب نہیں کروں گا تو علم کیسے حاصل ہوگا۔'' تاریخ گواہ ہے کہ اچھے استاد پارس کی طرح ہوتے ہیں کہ جن کو جو چیز بھی چھوئے وہ سونا بن جاتی ہے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل، اس کی ترقی کا دارومدار اس کے استادوں اور مدارس پر ہوتا ہے۔
ایک ایسے ہی استادپروفیسر سعید راشد تھے جنھوں نے ہزاروں طالب علموں کی زندگی بدلی۔ سعید راشد 1927 میں بریلی میں پیدا ہوئے ۔ اُن کے نانا عظمت اللہ صدیقی فجر کی نماز پڑھا کر واپس آئے تو نانی نے کہا مبارک ہو۔ اللہ نے نواسہ دیا ہے۔ نا نا نے الحمداللہ کہا۔ نومولود کے کان میں اذان دی۔ ہاتھ اٹھا کر دعا دی ''یااللہ ! اس بچے کو سعید بنانا''۔

qoumkmehmar.jpg


ان کے خاندان میں علم و فضل کے علاوہ مذہب سے خصوصی لگا ئو تھا۔ سورۂ رحمن کثرت سے پڑھی جاتی تھی۔ طہارت و پاکیزگی کا یہ حال تھا کہ مائیں اپنے بچوں کو وضو کرکے دودھ پلاتی تھیں اور دودھ پلاتے وقت سورہ رحمن کا دم کرتی جاتی تھیں۔
تھوڑے سے بڑے ہوئے تو نانا کو اکثر یہ کہتے سنا کہ میرا یہ بیٹا سعید بنے گا۔ گویا ایک ننھے ذہن کا
self image
بنایا جا رہا تھا کہ اس نے بڑے ہو کر اچھے اور نیک کام کرنے ہیں۔
تعلیم کی ابتداء اس زمانے کے دستور کے مطابق قاعدہ بغدادی، ناظرہ قرآن اور اخلاقیات کی کتاب راہ نجات کی تدریس سے کی۔ بریلی اس زمانے میں سیاسی سرگرمیوں اور تحریک آزادی کا ایک اہم مرکز تھا۔چناچہ طالب علم سعید راشد کو قائداعظم، عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ظفر علی خان، جواہر لال نہرو اور گاندھی کی تقاریر سننے اور انھیں دیکھنے کا موقع ملا۔


سعید راشد نے 1949 میںایم اے اردو کیا اور پھر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ٹیچر ٹریننگ کالج میں داخلے لیا۔ یہاں ان کو ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر ہادی حسن، خواجہ غلام الدین، پروفیسر رشید احمد صدیقی جیسے مشہور اساتذہ سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ یہ سب لوگ علم و فن کا سمندر تھے۔ امریکہ میں ڈاکٹریٹ کے لئے اسکالر شپ ملنے کا قوی امکان تھا مگر ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنے ہونہار شاگرد سے کہا ''تمہاری منزل امریکہ نہیں پاکستان ہے اور دیکھو سول سروس کی چمک دمک کا شکار نہ ہوجانا، پاکستان کو افسروں سے زیادہ ٹیچروں کی ضرورت ہوگی۔ قومیں سکولوں میں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ خدا نے تمہیں ٹیچر پیدا کیا ہے اورتمھاری منزل کلاس روم ہے''۔
سعید راشد نے اپنے عظیم اُستادکی بات کو پلّے باندھ لیا۔ پاکستان ہجرت کی اور 11جون 1950 کو اس پاک سر زمین پر قدم رکھا۔ مختلف جگہوں پر ٹیچنگ کے لئے اپلائی کیا۔ 21 اگست کو ملٹری کالج جہلم کے لئے انٹر ویو ہوا اور 22 اگست 1950 کو اس ادرے سے منسلک ہوگئے۔
اپنے نئے وطن کی تعمیر کا جو جذبہ وہ لے کر آئے تھے، اسی کو مشعل راہ بنا کر اگلے 38 سال اپنے ملک کے مستقبل کی کردار سازی کرتے رہے۔ آپ کا نصب العین انگریزی ناول
Good bye Mr Chips
کا یہ مشہور جملہ تھا کہ
''It is so important to be influencing them who are going to grow up and matter to the world.''
ملٹری کالج جہلم میں ایک استاد ہونے کے علاوہ وہ ہائوس ماسٹر بھی تھے اور اس حیثیت سے انہوں نے طالب علموں کے والدین کی طرح ان کی نشوونما پر توجہ دی۔ ان کامشن تھا کہ ہر طالب علم کو انفرادی طور پر اس کی اہمیت اور صلاحیتوں کا احساس دلایا جائے اور متقبل کے قائدانہ کردار کے لئے تیار کیا جائے۔
From discovery to development
کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہر طالب علم کی حوصلہ افزائی کی جاتی کہ زیادہ سے زیادہ سرگرمیوں میں حصہ لے اور اپنے آپ کو خوب سے خوب تر بنائے۔ ہائوس کی لائبریری ہر وقت کھلی رہتی۔ جس کا جی چاہے جو کتاب پڑھے یا ساتھ لے جائے کہیں نوٹ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح ایک ٹک شاپ تھی جہاں بچے خود چیزیں اٹھاتے اور قیمت رکھ دیتے۔
انہوں نے تخلیقی صلاحیتوںکو اجاگر کرنے کے لئے بک ریویو، مضمون نویسی، جنرل نالج اور پبلک اسپیکنگ پر خاص توجہ دی۔ انہوں نے کالج میگزین کی ادارت بھی کی۔ اس کے علاوہ ڈرامے لکھے اور پروڈیوس کئے۔
سعید راشد کے شاگردوں میں14 شہید، 1 نشان حیدر، 25 ستارہ جرأت اور 20 اعزازِ شمشیر
(Sword of Honour)
حاصل کرنے والے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد میں جنرل کے عہدے تک پہنچنے والے شامل ہیں۔آپ کی جوہر شناس نظر تھی کہ کئی ایسے طالب علم جن کے لئے آپ نے اعلیٰ عہدوں کی پیش گوئی کی اور وہ اسی طرح پوری ہوئی۔
اپنے دور کے 38 سال سعید راشد نے ایک مثالی زندگی گزاری، کبھی اپنی کلاس یا ذمہ داری سے لیٹ نہیں ہوئے۔ کبھی شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا، کبھی

Improper

لباس نہیں پہنا۔ ان کا لباس ہمیشہ سفید پینٹ شرٹ ہوتا جو دودھ کی طرح صاف ہوتا۔ کلاس میں ہر طالب علم سے اتنی عزت و احترام سے بات کرتے کہ وہ اپنے آپ کو کوئی

VIP

سمجھتا۔ کسی کی اصلاح کرنی ہوتی تو عمدہ طریقے سے بتاتے۔ ان کی توجہ شخصیت سازی پر ہوتی اور ہر طالب علم کا انفرادی طور پر جائزہ لیتے۔ اکثر نصیحت کرتے ''زندگی کا حاصل زندگی کی طوالت میں نہیں ہے بلکہ اس کے عرض
width
میں ہے۔''
1988 میں کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 2سال میں ملٹری کالج کی تاریخ لکھی۔ 1990-1994 اے پی ایس جہلم، منگلا کینٹ کے پرنسپل رہے۔ انہوں نے 1999 میںراولپنڈی میں وفات پائی لیکن اپنے طالب علموں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ ہمیں ایسے ہی بے لوث اساتذہ کی آج بھی ضرورت ہے جو اپنے کردار سے ایک اچھے انسان کا نمونہ پیش کریں تاکہ اُن کی تقلید کرکے طالب علم اپنی زندگیاں سنوار سکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
December

تحریر: یا سر پیر زادہ


ایک عام مسلمان اپنی روز مرہ زندگی میں قرآن کی تلاوت کتنی مرتبہ کرتا ہے ؟ ظاہر ہے اس بات کا اعداد و شمار پر مبنی کوئی حتمی جواب تو نہیں دیا جا سکتا مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایسے مسلمانوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی جو پورے اہتمام کے ساتھ ہر روز قرآن کے ایک رکوع کی تلاوت کرتے ہوں گے ، اس سے بھی کم وہ لوگ ہوں گے جو اردو ترجمے کے ساتھ روزانہ قرآن پڑھتے ہوں گے ،اور ان لوگوں کی تعداد تو شائد بہت ہی تھوڑی ہو جو قرآن کی کچھ آیات بمع تفسیر باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے ہوں گے ، اور وہ خوش نصیب تو یقینا آٹے میں نمک کے برابر ہوں گے جو یہ سب کام کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی آیات پر نہ صرف غور کرتے ہوں گے بلکہ ان سے رہنمائی بھی حاصل کرتے ہوں گے۔بظاہر یہ آخری کام مشکل لگتا ہے مگر خود قرا ن کے الفاظ میں یہ ایسا مشکل بھی نہیں،'' ہم نے اسے (قرآن کو) سوچنے سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے ، تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے''!(مفہوم)۔افسوس کہ قرآن کی اس دعوت کے باوجود ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہیں جو خود اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ خود قرآن نے اس ضمن میں ہمیں سوچنے سمجھنے کا ایک فریم ورک دیا ہے مگر ہم میں سے شائدہی کبھی کسی نے اس پر غور کیا ہو۔ یہ فریم ورک کیا ہے ؟ یہ سوچنے سمجھنے کا وہ طریقہ ہے جو قرآن نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے۔ جو ں جوں میں نے اس پر غور کیا، میں ورطۂ حیرت میں ڈوبتا گیا۔ اس سے پہلے کبھی قرآن کے یہ معنی مجھ پر آشکار نہیں ہوئے تھے ،شائد اسی لئے قرآن کا مطلب ''بار بار پڑھی جانے والی کتاب'' ہے کہ ہم اسے بار بار پڑھیں اور ہر مرتبہ نئے انداز سے فیض یاب ہوں۔ اب ذرا اس سوچنے سمجھنے کے فریم ورک پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔


سوچ کا پہلا اصول قرآن نے یہ بتایا ہے کہ جن چیزوں کا ہمیں علم نہ ہو ان کے بارے سنی سنائی باتیں پھیلانا درست نہیں، حوالہ ہے سورہ بنی اسرائیل، آیات نمبر :36''کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔یقیناآنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہوگی۔''مولانا مودودی نے اس آیت کی تشریح یوں کی ہے کہ لوگ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہم و گمان کے بجائے ''علم'' کی پیروی کریں۔اگر ہم اس ایک آیت پر عمل کرنا شروع کر دیں تو حیرت انگیز نتائج نکلیں گے۔مثلاً آئے روز ہم مختلف مکاتب فکر کے مولوی حضرات کی باتیں سنتے ہیں ، ان میں سے بیشتر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی غرض سے قرآن و حدیث اور مختلف تاریخی کتب کا حوالہ بھی دیتے ہیں ، کیا ہم میں سے کبھی کسی نے یہ کوشش کی کہ جس قرآنی آیت یا حدیث کا حوالہ دیا جا رہا ہے ذرا زحمت کرکے اسے خود نکال کر پڑھ لیں ؟ میں تو اکثر یہ کام کرتا ہوں اور کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جو حوالہ دیا گیا ہوتا ہے وہ غلط پیرائے میں سیاق و سباق سے ہٹ کر دیا گیا ہوتا ہے اور اس کامفہوم اس بات سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو کوئی 'عالم' ہمیں بتا رہا ہوتا ہے۔یہ کام کرنا کوئی ایسا مشکل نہیں کیونکہ اب تو قرآن و حدیث کے ایسے سافٹ وئیر دستیاب ہیں جن کی مدد سے آن واحد میں آ پ متعلقہ آیات اور احادیث کا نہ صرف اصل متن بلکہ ترجمہ اور تشریح بھی پڑھ سکتے ہیں ، ایک سافٹ وئیر ہے
Easy Quran and Hadees
جو انٹرنیٹ پر مفت میسر ہے جس کی مدد سے آپ یہ کا م بآسانی کر سکتے ہیں ، اس سافٹ وئیر میں آپ کوئی بھی لفظ ڈالیں ، مثلازکوٰة تو یہ آ پ کو زکوٰةسے متعلق تمام آیات ، احادیث بمع ترجمہ و تفسیر پیش کر دے گا ، گویا بنیادی ماخذ آ پ کے سامنے ہے۔ اب کسی سنی سنائی بات پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں اور یہی قرآن کا حکم ہے۔


قرآن نے سوچنے کا دوسرا اصول ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان کو جذبات سے نہیں بلکہ عقل سے سوچنا چاہئے ، حوالہ سورہ الفرقان ، آیات نمبر:73-72 ''(اور رحمان کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ جنہیں اگر ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔'' یہ خوبصورت آیات ہیں مگر شائد ہی آ پ نے کسی عالم دین کو ٹی وی پر اس کی تشریح بیان کرتے سنا ہو۔ اس آیت میں خدا اپنے بندوں کی نشانی یہ بیان کر رہا ہے کہ اگر انہیں خدائی احکامات بھی سنائے جاتے ہیں تو وہ ان پر اندھے اور بہرے بن کر عمل کرنے میں نہیں جت جاتے، گویا غور کرتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرتے ہیں ،یعنی اللہ ہمیں یہ تلقین کر رہا ہے کہ مذہب کے معاملات میں بھی عقلی استدلال سے کام لیا جائے نہ کہ لوگوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں راغب کیا جائے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ جب انسان جذبات کے تابع ہو کر سوچتا ہے تو بہت سارے حقائق اسے نظر آنا بند ہو جاتے ہیں ، اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے ، وہ سچائی سے دور ہو جاتا ہے اور یوں اسے حقیقت کا ادراک نہیں ہو پاتا اور یہی وہ المیہ ہے جس کا ہم شکار ہیں۔


سوچنے کا تیسرا اصول جو قرآن سے ہم اخذ کر سکتے ہیں وہ تخلیقی سوچ کو روایتی سوچ پر ترجیح دینا ہے ، سورہ احزاب کی آیت نمبر66-67اور68 میں اللہ فرماتا ہے ''جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کر دیئے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ 'کاش ہم نے اللہ اور رسول ۖکی اطاعت کی ہوتی۔'اور کہیں گے 'اے رب، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بے راہ کر دیا۔اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔''اس کے بعد سورۂ سبا کی آیت نمبر46 میں اللہ فرماتا ہے: ''اے نبی ۖ ان سے کہو کہ 'میں تمہیں بس ایک نصیحت کرتا ہوں ،اﷲ کے لئے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑائواور سوچو ، تمہارے صاحب (مراد رسول اللہ ۖ) میں آخر کون سی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے۔''گویا سورہ احزاب میں خدا نے روایتی انداز میں سوچنے والے ان لوگوں کو، جنہوں نے اپنے ذہنوں کو محض اس لئے بند کر لیا تھا کہ ان میں اپنے سرداروں سے اختلاف کرنے کی جرأت نہیں تھی ، کا انجام بیان فرمایا ہے کہ جب آگ سے ان کے چہرے الٹ پلٹ کئے جائیں گے تو وہ اس وقت یہ تاویل دیں گے ، جبکہ دوسری طرف سورہ سبا میں اللہ تخلیقی سوچ کو ابھارنے کا حکم دے رہا ہے کہ ہمیں اپنا دماغ لڑانا چاہئے اور سوچنا چاہئے ، کیا
out of box thinking
اسی کو نہیں کہتے؟
آ ج جن اقوام نے قرآن کے بیان کردہ یہ آفاقی اصول اپنا رکھے ہیں وہ ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور مسلمان جن پر اللہ نے اپنی یہ کتاب نازل کی، ان زریں اصولوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں ، دنیا میں تو ہم رسوا ہو ہی رہے ہیں ، آخرت میں خدا ہم پر رحم کرے، آمین۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ولادتِ رسولِ عربیۖ

دربدر پھرتے تھے لوگ مارے مارے
ویرانوں میں پھر کر دن تھے گزارے
نہ تھا زندگی میں دستور کوئی
مغرور کوئی تو مجبور کوئی
کھالیتے وہ مل جاتا جہاں تک
تہذیب کا نہ تھا نام و نشاں تک
پیدائش پہ بیٹیاں تھے وہ مار دیتے
آپس میں لڑتے زندگیاں گزار دیتے
گناہوں کی چھائی تھی ہر سو خماری
بت پرستی، خود پرستی، ہر سو بیماری
قدرت کو اُن پہ تھا رحم آیا
اِک بندۂ خدا ان میں تشریف لایا
سادگی بھی تھی صفائی و سچائی بھی تھی
انسانیت کے لئے مسیحائی بھی تھی
صادق و امیں کہہ کر سب نے پکارا
یتیموں کے مولا بے کسوں کے سہارا
اس صورت سا کوئی نہ دنیا میںآیا
دیکھا جس نے چاہت سے کلمہ سنایا
وہ لوگ سب کے امام بن گئے
محمدۖ کی غلامی سے حکمران بن گئے
اسی تعلیم کی ہے سب کو ضرورت
ترقی ہے جس میں اور امن کی صورت

الیاس

*****

 
08
December

تحریر: جویریہ صدیق


اے پی ایس پشاورکے شہداء کی یاد میں لکھی جانے والی ایک تحریر

 

اقوام کے سامنے بعض اوقات ایسا بھی وقت آتا ہے جب زندگی ان کی ہر دل عزیز چیز کی قربانی مانگ لیتی ہے۔پاک فوج کا تو ہر سپاہی اپنی زندگی اس ملک کو سونپ کر آگے آتا ہے لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کے ننھے سپاہی جوکہ قلم دوات کے ساتھ مستقبل کے خواب سجائے درس گاہ میں تعلیم حاصل کررہے ہوں گے، قوم کے لئے قربانی کا کٹھن مرحلہ ان کے سامنے آجائے گا۔


کتنے غازی بچے کہتے رہے اگر ہمارے پاس بھی ہتھیار ہوتے تو ہم ایک بھی ملعون دہشت گرد کو سکول سے زندہ واپس نہ جانے دیتے اس وطن عزیز پر جان بھی نچھاور۔خیر و شر کی جنگ میں قسمت بھی کیا موڑ لائی جس نے ہم سے ہمارے پیارے بچوں اور ان کے اساتذہ کی قربانی مانگی۔1971کی جنگ کے بعد یہ دوسرا بڑا سانحہ تھا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور سفاک دہشت گردوں کو اپنے ہاتھوں سے کیفر کردار تک پہنچانے کی طالب تھی۔

 

manzlonkasafar.jpgسانحہ آرمی پبلک سکول ورسک روڈ پشاور میں 122طالب علموں، 22 اساتذہ بشمول کالج سٹاف نے جام شہادت نوش کیا۔لائنس نائیک محمد الطاف اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھے۔ قریب سے گزر رہے تھے، انہوں نے بھی گولیوں کی آوازیں سن کر اپنے طور پر بچوں کو بچانے کا کام شروع کیا اور دہشتگردوں کی فائرنگ کا شکار ہوکر شہید ہوگئے۔


ان معصوم طالب علموں اور ان کے اساتذہ کی قربانی صدق خلیل اور صبر حسین کی عظیم روایت کا احیا ہے۔سولہ دسمبر ایک قیامت تھی جو ہم سب پر گزری۔ مائوں کی گودیں اجڑ گئیں، باپ کے کندھے جھک گئے اور بہت سے لال ماں اور والد کی شفقت سے محروم ہوگئے تو کچھ کے شریک حیات ابدی نیند سوگئے۔پھولوں کے شہر نے پھولوں کے اتنے جنازے دیکھے کہ ایسا لگ رہا تھا کہ اس رات کی کوئی صبح نہیں ۔


سب نگاہیں اس پاک وطن کی پاک فوج پر مرکوز تھیں۔ ہر دل میں بدلے کی آگ تھی، ہر شخص معصوموں کے لئے تڑپ رہا تھا۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرکے رہیں گے ۔انہوں نے اے پی ایس حملے کو پاکستان کے دل پرحملہ قرار دیا۔جنرل راحیل شریف نے کہا یہ حملہ پاک فوج کے جونئیر دستے پر حملہ ہے ۔اس وقت پاکستان کے ہر فوجی نے مشرقی اور مغربی باڈر سے لے کر گوادر کے ساحل سے سیاچین کے پہاڑوں پر ڈیوٹی کرتے ہوئے یہ قسم کھائی کہ خون کا آخری قطرہ بھی بہا دیں گے لیکن اپنے بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ان کے خون کا بدلہ لیں گے ۔
اس سانحے کے بعد لگ رہا تھا کہ پاکستانی بچے کبھی سکول جا ہی نہیں سکیں گے۔ ہر طرف خوف ہراس تھا لیکن 12 جنوری کو جب آرمی پبلک سکول کو دوبارہ کھولا گیا تو سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ استقبال کے لئے سپہ سالار خود کھڑا تھا۔ پاکستان کی فوج نے شہداء کے لواحقین کی دلجوئی اور غازیوں کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ان اقدامات نے پاکستانیوں کو خوف سے نکلنے میں مدد دی اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس بحال ہوگئی۔


جون 2014 سے جاری آپریشن ضرب عضب میں مزید تیزی لائی گئی اور ارادہ مزید پختہ کیا گیا کہ جب تک شمالی وزیرستان اور پاک افغان سرحد کو محفوظ نہیں بنالیا جاتا چین کی سانس نہیں لیں گے۔فوجی یونٹوں اور خود جنرل راحیل شریف نے اے پی ایس سانحے کے شہداء کی تصاویر اپنے سامنے آویزاں کر رکھی تھیں جنہیں دیکھ کر ہر روز اسی عہد کی تجدید کی جاتی کہ ایک ایک دہشت گرد کو جہنم واصل کرنا ہے۔اس سانحے نے ملک میں انقلاب برپاکردیا۔

سولہ دسمبر لہو سے فتح کے چراغ روشن کرنے کا دن ہے۔یہ ایک قیامت تھی جو ہم پر بیت گئی لیکن اس دن قربانی شجاعت اور صبر کی ایسی داستان لکھی گئی جس کی تاریخ نہیں ملتی۔اس دن نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد کیا۔ ملک میں امن و امان قائم کرنا صرف حکومت اور فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم سب کو مل کر حصہ ڈالنا ہوگا۔

2001 سے 2009 تک جنوبی وزیرستان،سوات میں امن قائم کرنے کے لئے آپریشن کے گئے تھے لیکن آپریشن ضرب عضب میں صرف دو برس کی قلیل مدت میں شمالی وزیرستان میں حکومتی عملداری قائم کی گئی اور عارضی طور پر بے دخل افراد کو گھر بھیجنے کا کام شروع ہوا۔یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔ جوانوں نے دشمن اور اس کی بچھائی گئی بارودی سرنگوںکے علاوہ زمینی اور موسمی مشکلات کی موجودگی کے باوجود مشن جاری رکھا۔ 500 سے زائد فوجیوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور ڈھائی ہزار سے زائد زخمی ہوئے لیکن آپریشن جاری رہا۔


شمالی وزیرستان کے علاقے میں تاریخ کی مشکل ترین جنگ لڑ کر حکومتی رٹ قائم کی گئی۔وادی شوال جسے دہشت گردوں کی آخری آماجگاہ کہا جاتا تھا وہاں تحریک طالبان پاکستان، سجناں گروپ اور فضل اللہ گروپ متحرک تھے۔پاک فوج نے کارروائی کا آغازمشکل ترین چوٹی آسمان پنگا سے کیا اور ڈابر، کنڈغر، مانہ، انزرکس، مگروٹی،گربز کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔جنرل راحیل شریف نے خود اگلے مورچوں پر جاکر جوانوں کا حوصلہ بلند کیا۔
منفی دس درجہ حرارت اور تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر حق و باطل کی جنگ لڑی گئی اور حق کی فتح ہوئی ۔جو علاقے کبھی تاج برطانیہ میں بھی فتح نہیں ہو سکے، آج وہاں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے ۔
حضرت محمدۖ کی تلوار مبارک کے نام پر شروع ہونے والے آپریشن نے سپاہیوں میں وہ جذبہ ایمانی بھر دیا کہ وہ اپنے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو توڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور حق کی فتح ہوگئی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں جنگ لڑتے ہوئے فوجیوں نے کہا کہ پیچھے جاکر ہم وطنوں کو بتائیں کہ ہم نے اے پی ایس کا بدلہ لے لیا۔یہ کہتے ہوئے ان کی اواز فرطِ جذبات سے بھر سی آئی اور میڈیا کے نمائندوں کی انکھیں بھی پرنم ہوگئیں۔

 

اچھے اور بُرے دہشت گرد کی تفریق ختم کرنا ہوگی۔چندہ دینے سے پہلے دیکھ لیں کہ کہیں ہم دہشت گردوں کو گولی تو نہیں خرید کر دے رہے۔ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ پاکستانیوں کو شکست نہیں دے سکتے، جس ملک کے بچے ان کے استاتذہ اتنی بڑی قربانی کی داستان رقم کرچکے ہوں، اسی قربانی کی بنیاد پر ہم اپنی ازادی اور خود مختاری کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ہم تمام معصوم شہداء کے قرض دار ہیں۔

فوجی کمان میں تبدیلی کے بعد جب جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور آرمی چیف حلف اٹھایا تو انہوں نے بھی اس عہد کی تجدید کی کہ اے پی ایس کے شہداء کا خون مجھ پر قرض ہے۔انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ جنرل راحیل شریف کی طرح ان کے دفتر میں بھی اے پی ایس کے شہید بچوں کی تصاویر موجود ہیں۔ میں گاہے بگاہے ان تصاویر کو دیکھتا رہتا ہوں تاکہ میرا عزم کبھی متزلزل نا ہو۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے 22 فروری 2017 کوآپریشن رد الفساد کا اعلان کیا اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی نئی حکمتِ عملی بنائی۔جنرل باجوہ نے کہا ہر پاکستانی رد الفساد کا سپاہی ہے اور ہمیں مل کر فسادیوں سے ملک پاک کرنا ہوگا۔


حقائق نے یہ ثابت کردیا تھا کہ اے پی ایس حملہ آور افغانستان سے آئے تھے اور ان کو ملا فضل اللہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔لشکرِ جھنگوی،مجلس الاحرار، ٹی ٹی پی، الافامی گروپ اور بلوچ لبریشن آرمی کی ڈوریں بھارت اور افغانستان سے ہلائی جارہی تھیں۔ان کے سہولت کار ملک میں بیٹھے ہوئے تھے اور چھپ کر بزدلانہ کارروائیاں کررہے تھے۔


رد الفساد کے تحت ملک بھر میں چھپے ہوئے فسادیوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں ۔دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن ہوئے جس کے بعد امن و امان کی صورتحال میں واضح فرق آگیا ۔آپریشن ردالفساد کی وجہ سے قتل، ڈکیتی، اغوا، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ستر فیصد کمی آچکی ہے اور پاکستان نے اپنے عظیم دوست چین کے ساتھ تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے سی پیک کا آغاز کردیا ۔
فوج نے اپنے نئے جنگی ڈاکٹرین میں عوام کو بھی اپنے ساتھ آپریشن کا حصہ بنا لیا۔ انہیں اپیل کی کہ انہیں اپنی آنکھیں اور کان کھلا رکھنے ہیں اور اپنے اردگرد کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوج کو دینی ہے۔16 جولائی 2017 کو آپریشن خیبرفور کا آغاز کیا گیا ۔خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں بڑا آپریشن ہوا اور سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔پاک فوج نے آپریشن رد الفساد کے دوسرے مرحلے میں افغانستان کے ساتھ بارڈر کو بھی سیل کرنے کے کام کا آغاز کیا۔ پہلے مرحلے میں باجوڑ، مہمند ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں باڑ لگائی گئی ہے۔چمن بارڈر پر قلعے قائم کئے گئے ہیں۔ اب تک بارڈر پر بیالیس کلومیٹر پر باڑ لگانے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اور 750 قلعے بنائے جارہے ہیں اوران میں سے کئی قلعے مکمل ہوگئے ہیں ۔


سولہ دسمبر لہو سے فتح کے چراغ روشن کرنے کا دن ہے۔یہ ایک قیامت تھی جو ہم پر بیت گئی لیکن اس دن قربانی شجاعت اور صبر کی ایسی داستان لکھی گئی جس کی تاریخ نہیں ملتی۔اس دن نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد کیا۔ ملک میں امن و امان قائم کرنا صرف حکومت اور فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم سب کو مل کر حصہ ڈالنا ہوگا۔ اچھے اور بُرے دہشت گرد کی تفریق ختم کرنا ہوگی۔چندہ دینے سے پہلے دیکھ لیں کہ کہیں ہم دہشت گردوں کو گولی تو نہیں خرید کر دے رہے۔ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ پاکستانیوں کو شکست نہیں دے سکتے، جس ملک کے بچے ان کے استاتذہ اتنی بڑی قربانی کی داستان رقم کرچکے ہوں، اسی قربانی کی بنیاد پر ہم اپنی ازادی اور خود مختاری کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ہم تمام معصوم شہداء کے قرض دار ہیں۔ اے پی ایس کے تمام شہداء اور ان کے لواحقین زندہ باد پاکستان پایندہ باد۔

مضمون نگار: ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب 'سانحہ آرمی پبلک سکول' شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

twitter@Javerias

 
08
December

تحریر: عقیل یوسف زئی


افغانستان کے مشرقی شہر اور صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پچھلے دنوں پاکستانی قونصلیٹ کے اسسٹنٹ نیئر اقبال رانا کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے چھ گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ اس سے قبل اسی شہر سے پاکستانی سفارتی عملے کے ایک اور اہلکار کو اغوأ کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں افغان اداروں نے کئی روز کی کوششوں کے نتیجے میں باز یاب کرایا تھا۔ جبکہ گزشتہ 17 برسوں کے دوران افغانستان میں نہ صرف ایسے کئی واقعات ہوتے رہے ہیں بلکہ کئی بار پاکستانی، دیگر ممالک کے سفارتخانوںکے اہلکاروں اور قونصلیٹس کو حملوں کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق نیئر اقبال رانا اور بعض دیگر کو دھمکیاں دی جارہی تھیں اور یہ صورت حال متعلقہ افغان حکام کے نوٹس میں لائی جا چکی تھی۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمرسمیت متعدد دیگر اعلیٰ شخصیات نے اس واقعے پر جہاں ایک طرف پاکستانی حکومت سے رابطہ کر کے اظہارِ افسوس کیا ہے وہاں افغان صدر نے واقعے کی تحقیقات کا بذاتِ خود حکم دے کر ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کی ہدایات جاری کی ہیں۔ واقعے کے دوسرے روز حنیف اتمر نے قومی سلامتی کے پاکستانی مشیر ناصر خان جنجوعہ سے رابطہ کرکے اس واقعے پر افسوس ظاہر کیا اور یقین دلایا کہ مجرموں کی گرفتاری کے علاوہ سفارتکاروں کے مکمل تحفظ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ دوسری طرف اشرف غنی نے وزیرِاعظم شاہدخاقان عباسی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ہر ممکن تعاون کے علاوہ واقعے پر اظہارِ افسوس کرنے میں کوئی تاخیر نہیںکی جو کہ بدلتے حالات کے تناظر میں ایک خوش آئند اقدام اور طرزِ عمل ہے۔


قبل ازیں افغان حکام نے مقتول کی نعش کو پورے احترام، عزت اور پروٹوکول کے ساتھ طورخم بارڈر پر پہنچایا جہاں نعش ایف سی حکام کے حوالے کردی گئی۔ ان کی نعش اور تابوت پر پھولوں کے گلدستے چڑھائے گئے تھے اور اسے پاکستانی پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔

 

خطے کا امن دونوں ممالک کی دوستی اور اعتماد سازی کے ساتھ مشروط ہے۔ بدلتے حالات میں بعض قوتیں کوشش کریں گی کہ کشیدگی اور تصادم کی فضا کو فروغ دیا جائے۔ تاہم دونوں ممالک کو ٹھنڈے دل سے ایک دوسرے کی بعض مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے معاملات کو آگے لے کر جانا ہوگا۔

امر واقعہ تو یہ ہے کہ جس اہتمام کے ساتھ افغان حکام اور فورسز نے سفارتکار کے تابوت کو طورخم پہنچایا اور جو انتظامات کئے گئے، ہمارے ہاں اس نوعیت کے کوئی انتظامات نہیں تھے۔ غالباً یہ وہ واحد نعش تھی جس کو افغان فورسز نے اتنی عزت، دکھ اور اہتمام کے ساتھ پاکستانی اہلکاروں کے سپرد کیا جس سے ثابت یہ ہو رہا تھا کہ سانحے پر اعلیٰ ترین افغان شخصیات، اداروں اور حکام بھی رنجیدہ ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو ایک سال کی دوری، لاتعلقی اور کشیدگی کے بعد پھر سے قریب لانے کی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہورہی تھیں اور جنرل قمرجاوید باجوہ کے یکم اکتوبر کے دورئہ کابل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنی شروع ہوگئی تھی۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہے کہ جنرل باجوہ کے کامیاب دورے کے بعد نادیدہ قوتوں نے مسلسل کوشش کی کہ بداعتمادی اور کشیدگی پیدا کرنے کے لئے کابل اور دوسرے شہروں پر حملے تیز کئے جائیں اور افغان صدر اشرف غنی کے متوقع دورئہ اسلام آباد کا راستہ روکاجائے۔ جنرل باجوہ کے دورئہ کابل کے بعد کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا تھا اور دونوں ممالک قریب آرہے تھے کہ کابل سمیت دوسرے شہروں کو بدترین حملوں کا نشانہ بنانے کی مہم چل نکلی جو کہ ایک باقاعدہ پلاننگ کا حصہ تھی۔ جنرل باجوہ یکم اکتوبر کو کابل گئے تو اس کے بعد ایک مہینے کے دوران افغانستان کے تقریباً 15صوبوں پر طالبان، داعش اور دیگر نے تقریباً 21بڑے حملے کئے جن میںگیارہ خود کش حملے بھی شامل ہیں۔ صرف کابل کو ایک ماہ کے اندر 6 حملوں کانشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں 16 افسران اور فورسز کے 123 اہلکاروں سمیت300 لوگ مارے گئے۔ کابل کے 6 حملوں میں سے 4 ہائی پروفائل سکیورٹی زون میں کرائے گئے جہاں اہم دفاتر کے علاوہ متعدد سفارتخانے بھی موجود ہیں۔ اس صورت حال کا واحد مقصد یہ تھا کہ ان حملوں کی آڑ اور دبائو میں بہتر ہوتے تعلقات کا راستہ پھر سے روکا جائے اور ماضی کی طرح مجوزہ مفاہمتی اور مشترکہ کارروائیوں کے آپشن کا راستہ مسدود کیا جائے۔ وقتی طور پر حملہ آور یا اُن کے منصوبہ ساز اس کوشش میں کامیاب بھی ہوگئے کیونکہ افغان صدر کا دورئہ اسلام آباد تعطل کا شکار ہوا اور ان پر دبائو میں حسبِ سابق اضافہ ہونے لگا۔ اسی دوران پشاور آئے ہوئے افغان ڈپٹی گورنر محمدنبی احمدی لاپتہ ہوگئے اور کہا گیا کہ ان کو مسلح افراد نے ڈبگری گارڈن سے اٹھایا ہے۔ تادمِ تحریر ان کا سراغ نہیں ملا ہے۔ اس سے قبل اسی شہر میں بعض دیگر کے علاوہ ماضی قریب میں ایک افغان قونصل جنرل اور ایرانی قونصل جنرل کو بھی اغوا ء کیا گیا تھا جبکہ بعض اہم لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ان واقعات کو محض اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس قسم کے واقعات ایک مستقل اور مسلسل پالیسی کا نتیجہ ہیں اور اس کا مقصد بدگمانیوں اور فاصلوں میں اضافہ کرنا ہے اس لئے یہ کہنا کہ ایسے واقعات کو اتفاق، حادثہ یا حکومتی اداروں کا نتیجہ قرار دیا جائے، زمینی حقائق کے تناظر میں درست اپروچ نہیں ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ جب بھی دونوں پڑوسی ممالک قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے واقعات کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں حکومتیں ایسے واقعات اور معاملات پر سخت ردِ عمل اورجذباتی بیانات کے بجائے ٹھنڈے دل سے ان ہاتھوں کا سراغ لگائیں جو کہ مسلسل پالیسی کے ذریعے ایسے واقعات کی آڑ میں کشیدگی کا راستہ ہموار کرتے آئے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ افغان حکمران ماضی کے مقابلے میں حملوں یا دیگر واقعات کے بعد پاکستان پر روایتی الزامات لگانے سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور پاکستان کا رویہ بھی مثبت ہے تاہم ایسے واقعات ہوتے رہیں گے کیونکہ مفاہمتی عمل اور ریاستوں کے درمیان قربت دہشت گردوں کے علاوہ بعض ان عالمی اور علاقائی قوتوں کے لئے بھی قابلِ قبول اور سود مند نہیں ہے جو کہ افغانستان اور پاکستان کو قریب آنے نہیں دے رہے ہیں اور ان کے مفادات کشیدگی اور بداعتمادی سے جڑے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو حالیہ واقعے کے ذریعے دیوار سے لگانے کی کامیاب سازش کی گئی ہے کیونکہ اس بات کا اعتراف جناب اشرف غنی خود کر چکے ہیں کہ سفارتکاروں کو سکیورٹی فراہم کرنا ان کی ریاستی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں پاکستان کو ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے افغانستان کی مجبوریوں اور کمزوریوں کو مدِ نظر رکھ کر اس قسم کی سازشوں کو ٹھنڈے دل اور بہتر طرزِ عمل کے ساتھ ڈیل کرنا ہوگا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ افغان ڈپٹی گورنر کا اغواء اور پاکستانی سفارت کار کے قتل کے محرکات ذاتی یا مجرمانہ پسِ منظررکھتے ہوں۔ ایسے میں لازمی ہے کہ حملہ آوروں کے مقاصد کو سامنے رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے اور اعتماد سازی کو سبوتاژ کرنے والی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔

jalalabadmain.jpg
یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ بعض افغان حکام کی بداحتیاطی بھی بدمزگی کی وجہ بنتی رہی ہے، مثلاً اعلیٰ افغان حکام کی پشاوراور دیگر شہروں سے گمشدگی اور بعض ذمہ داران کی غیر قانونی سرگرمیوں نے افغانستان اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کو پھر سے مشکوک اور تلخ بنایا ہے جس پر پاکستانی ادارے بھی تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ برس اسلام آباد میں صوبہ کنڑ کے گورنر لاپتہ ہوگئے تھے جن کی بازیابی کے لئے کئی روز کارروائیاں ہوتی رہیں اور تلخی بڑھتی گئی۔ چند روز قبل پشاور میں افغانستان کے نئے قونصل جنرل معین مرستیال کے پرسنل سیکرٹری اور سابق ٹریڈ کمشنر میرویس یوسفزئی نے پشاور کے علاقے شیخ کلی میں چند دیگر افراد کے ہمراہ رحمان اﷲ ولد رحمان الدین پر حملہ کرکے فائرنگ کی جس کو دو گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوگیا۔ ان کی رپورٹ پر پشاور پولیس نے میر ویس کو گرفتار کرلیا۔ اس تنازعے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ موصوف نے چند برس قبل پشاور میں افغان سفارتی عملے کا رُکن ہوتے ہوئے غیرقانونی طور پر جائیداد خریدی اور اس کے بعد کاغذات کے معاملہ پر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ اسی عرصے کے دوران انکشاف ہوا کہ موصوف نے نہ صرف افغان تاجروں سے بھاری رشوت لی بلکہ سٹاف کی تنخواہوں میں غبن بھی کیا۔ مسلسل شکایات کے بعد گزشتہ برس سابق قونصلر ڈاکٹر عبداﷲ پویان نے ان کو برطرف کردیا اور تلخی اتنی بڑھی کہ ان پر افغان قونصلیٹ میں داخلے پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی اور ایک بار ان کو قونصلیٹ کی حدود سے گارڈز کے ذریعے باہر نکلوایا گیا۔ نئے قونصل جنرل معین مرستیال نے چند ہفتے بعد چارج سنبھالا تو میرویس یوسفزئی کو انہوں نے تمام سابقہ شکایات اور کارروائیوں کے باوجود اپنا پرسنل سیکرٹری مقرر کیا۔ اس دوران شکایات آئیں کہ وہ بعض دیگر کارندوں کے ذریعے ویزے جاری کرنے پر 10 سے 20ہزار تک کی رشوت لینے میں ملوث ہے اور بعض مشکوک لوگوں کو ویزے جاری کررہا ہے جس پر متعدد انکوائریاں بھی ہوئیں۔ یہ سکینڈل زیرِ بحث تھا کہ اس نے جائیداد کے تنازعے پر ایک شخص پر فائرنگ کا انتہائی اقدام بھی اٹھایا۔ ابھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تھا کہ دیگری گارڈز سے صوبہ کنڑ کے ڈپٹی گورنر نبی احمدی لاپتہ ہوگئے جو کہ نجی دورے پر علاج کی غرض سے پشاور آئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ افغان سفارتی عملہ بھی اُن کی آمد سے لاعلم دکھائی دیا۔ اس سے کئی برس قبل حیات آباد پشاور سے بداحتیاطی کے باعث افغان قونصلر جنرل خرامی بھی اٹھائے گئے تھے جن کی بازیابی کے لئے کروڑوں کی ادائیگی کی گئی تھی۔ تاہم حالیہ واقعات نے صورتحال کو اور بھی گمبھیر بنادیا ہے۔


سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کو یہ علم ہے کہ بعض نادیدہ قوتیں اور تیسرے ہاتھ جیسے عوامل نہیں چاہتے کہ بحالی تعلقات کی کوششوں کو کامیاب ہونے دیا جائے تو ایسے میں فریقین احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے؟ یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے تناظر میں خصوصی اقدامات کیوں نہیںکئے جاتے اور مزید بدگمانیوں کا راستہ کیوں نہیں روکا جاتا۔ خیبر ایجنسی کے وہ 17 لوگ تاحال لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو افغانستان میں رکھاگیا ہے۔ حال ہی میں جب افغان سرزمین سے آئے بعض دہشت گردوں نے باجوڑ کی ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور کیپٹن سمیت متعدد افراد کو نشانہ بنایا تو وہ متعدد زخمی پھر آسانی سے واپس افغانستان چلے گئے جن کو جوابی کارروائی میں پاک فوج نے نشانہ بنایا تھا۔اس واقعے کی اطلاع دوسری سائیڈ کو دی گئی مگر وہاں سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔ اس کے برعکس افغان تجزیہ کار مسلسل الزام لگارہے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے بعض سرحدی صوبوں پر گولہ باری کی جاتی رہی ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ عام آبادی کو نہیں بلکہ ان مبینہ ٹھکانوںکو کبھی کبھار نشانہ بناتے ہیں جہاں پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گرد چھپے ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل بھی بات چیت کے ذریعے نکالنا لازمی ہے تاکہ ان عناصر کے پروپیگنڈے کا راستہ روکا جاسکے جو ایسے اقدامات یا کارروائیوں کی آڑ میں بدگمانی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔


اس ضمن میں سابق سفارتکار رستم شاہ مہمند نے رابطے پر بتایا کہ بعض افسوسناک واقعات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی کی کوششیں رک جائیں۔ ان کے مطابق افغانستان نہ صرف حالتِ جنگ میں ہے بلکہ جاری جنگ کے کھلاڑیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ کوششوں کا راستہ مختلف سازشیں کرکے روکا جائے گااور بعض ایسے واقعات کا راستہ ہموار کیا جائے گاجن سے تلخیاں بڑھیںگی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور ساتھ میں صلح اور امن کی ریاستی کوششیں بھی جاری رکھنی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتکار کی ہلاکت میں حکومت ملوث نہیں ہوسکتی۔


سینیئر تجزیہ کار طاہر خان نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ خطے کا امن دونوں ممالک کی دوستی اور اعتماد سازی کے ساتھ مشروط ہے۔ بدلتے حالات میں بعض قوتیں کوشش کریں گی کہ کشیدگی اور تصادم کی فضا کو فروغ دیا جائے۔ تاہم دونوں ممالک کو ٹھنڈے دل سے ایک دوسرے کی بعض مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے معاملات کو آگے لے کر جانا ہوگا۔ ان کے مطابق ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کی اشد ضرورت ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ ماضی کے برعکس اس بار الزامات کے بجائے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور اعلیٰ حکام دوطرفہ طور پر بعض واقعات کے بعد ایک دوسرے کو اعتماد میں لینے بھی لگے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
December

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے نومبر کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان حکومتی سطح پر اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت کے دورے اکثر ہوتے رہتے ہیں لیکن جنرل باجوہ کا یہ دورہ تین وجوہات کی بناء پر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تو یہ کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطوں میں سیاسی حالات تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں۔'' داعش'' یا ''اسلامی خلافت'' جس کی افواج تین سال قبل عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قابض تھیں، عسکری لحاظ سے شکست کھا کر تتر بِتّر ہو رہی ہیں اور اس کے جنگجو اردگرد کے اسلامی ملکوں جن میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں، میں پناہ لے رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس خطے کی سلامتی کے لئے ایک نیا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ ایران کے ساتھ تقریباً900 کلومیٹر لمبی سرحد اور آبنائے ہرُمز کے دہانے پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان خلیج فارس کی دفاعی حکمتِ عملی کا ایک اہم پارٹنر ہے۔ خلیج فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے پاکستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خصوصاً ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی پاکستان کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ دونوں پاکستان کے دوست ممالک ہیں۔ ان حالات کی روشنی میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ حکومتی سطح پر تبادلۂ خیال اور صلاح مشورہ ضروری ہے۔


جنرل باجوہ کا دورئہ ایران جس دوسری وجہ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے وہ یہ کہ حال ہی میں افغانستان نے بھارت سے درآمدات کے لئے ایران کی بندر گاہ چابہار کا استعمال شروع کیا ہے۔ اس کے تحت افغانستان کے لئے بھارتی گندم کی پہلی کھیپ حال ہی میں ایران کے راستے افغانستان پہنچی ہے۔ اس سے قبل افغانستان کی درآمدات بھارت سے کراچی کے راستے آتی تھیں۔ چابہار گوادر سے صرف72 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر میں بھارت ایران کو مالی امداد فراہم کررہا ہے۔

 

pakirantaluuk.jpgاس بندر گاہ کے راستے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کا اجراء صرف معاشی مضمرات کا حامل نہیں بلکہ سیاسی اور دفاعی لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور ایران دوبرادر اسلامی ممالک ہیں۔ دونوں کے باہمی تعلقات ماضی میں بھی خوشگوار رہے ہیں اور اب بھی جذبۂ خیرسگالی، باہمی احترام اور تعاون کی سپرٹ سے مزّین ہیں۔ اس لئے یہ ایک بالکل قدرتی بات ہے کہ دونوں میں سے کسی کے لئے بھی اگر کوئی مسئلہ تشویش کا باعث ہو تو اُس پر بات چیت اور تبادلۂ خیال ہونا چاہئے۔ تیسرے، باوجود اس کے کہ دونوں ملکوں میں حکومتی اور عوامی سطح پر خوشگوار تعلقات قائم ہیں، پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر سکیورٹی کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردوں، خصوصاً پاک طالبان اور ''داعش'' کے جنگجوئوں، کی موجودگی اور اُن کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان ملاقات کا سلسلہ لازمی ہے۔ جنرل باجوہ کے دورئہ ایران کا ایک اہم مقصد پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد کی سکیورٹی کو اور بھی یقینی بنانا ہے تاکہ دہشت گرد، تخریب کار اور جرائم پیشہ افراد جن میں غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے لوگ، اسلحہ، منشیات اور انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث لوگ شامل ہیں، اس سرحد کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔ بلوچستان میں فوج اور ایف سی کی نگرانی میں دونوں ملکوں کی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان میں پاکستان کی طرف سرحد کے ساتھ ساتھ گہری خندق اور چیک پوسٹوں کا قیام بھی شامل ہے۔ پاکستان نے ایران سے بھی سرحد کی دوسری طرف سے اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے، جس طرح پاک۔ افغان بارڈر کی سکیورٹی کے لئے پاکستان نے اپنی طرف اہم اور مؤثر اقدامات کئے ہیں، اسی طرح پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ دہشت گرد پاک، ایران سرحد کو اپنی مذموم سرگرمیوں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لئے پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت نے دوطرفہ بنیادوں پر باہمی روابط کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر اور مضبوط بنانا صرف اسی لئے ضروری نہیں کہ سرحدکے اُس پار سے دہشت گرد پاکستانی صوبہ بلوچستان میں داخل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرسکتے ہیں بلکہ طویل سرحد کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میںجرائم پیشہ افراد کی غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سرگرمیوں میں انسانی سمگلنگ، منشیات اور سب سے نمایاں غیر قانونی طور پر پاکستان سے ایران جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ان میں سے بہت سے سرحد پر دھر لئے جاتے ہیں اس کے باوجود ان غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو چوری چھپے پاکستان سے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق ایران نے 2015 میں ایسے 26,000 افراد کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا جبکہ اُس سے ایک سال قبل ایسے افراد کی تعداد 5218 تھی۔ اس طرح ایران سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں ممالک کی حکومتیں اس صورت حال سے پریشان ہیں کیونکہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے ان افراد میں سمگلر اور جرائم پیشہ افراد کے علاوہ دہشت گرد بھی ہوسکتے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ایک افسر کلبھوشن یادیو کی مثال ہمارے سامنے ہے جسے ایران سے بلوچستان میں خفیہ طور پر داخل ہوتے وقت پاکستانی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ سرحد کے آر پار غیر قانونی افراد کی نقل و حرکت کو روکنے اور مؤثر بارڈر کے لئے جو اقدامات کئے جارہے ہیں اُن میں دونوں ممالک کا تعاون شامل ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان اور ایران دونوں اِن اقدامات کی افادیت اور اہمیت پر متفق ہیں۔ اس کا اظہار دونوں جانب سے جنرل باجوہ کے دورئہ ایران کے موقع پر کیا گیا تھا۔

 

باوجود اس کے کہ دونوں ملکوں میں حکومتی اور عوامی سطح پر خوشگوار تعلقات قائم ہیں، پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر سکیورٹی کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردوں، خصوصاً پاک طالبان اور ''داعش'' کے جنگجوئوں، کی موجودگی اور اُن کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان ملاقات کا سلسلہ لازمی ہے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات اتنے گہرے، ہمہ گیر، دیرینہ اور مضبوط ہیں کہ انہیں محض بارڈر سکیورٹی تک محدود نہیں رکھا گیا ۔ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ملک نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لئے اس جغرافیائی حقیقت سے آگے بھی بہت کچھ ہیں۔ ماضی میں جب ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت پیش آئی، تو دونوں میں سے کسی نے بخل سے کام نہیں لیا۔ 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پاکستانی معیشت خصوصاً برآمدات پر سخت دبائو پڑا تو ایران نے پاکستانی برآمدت کے لئے اپنی منڈیوں کے دروازے کھول دیئے تھے اور صرف تین سال کے عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حُجم میںگیارہ گنا اضافہ ہوگیا تھا۔ اسی طرح 1979کے اسلامی انقلاب اور اس کے ساتھ ہی عراق کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں جب ایرانی بھائی مشکلات کا شکار ہوئے تو پاکستان نے اپنے وسائل کے مطابق ایران کو اشیائے خورو نوش، اناج اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی جاری رکھی۔ پاکستان اور ایران دو آزاد اور خود مختار علیحدہ ممالک ہیں اوران میںسے ہر ایک کی علاقائی اور عالمی پالیسی اُس کے قومی مفادات کے تابع ہے لیکن دونوں نے ایسا کرتے وقت کسی کے بنیادی مفاد کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی۔ اسی سلسلے میں ایران کی طرف سے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت ایک نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح پاکستان نے یمن میں اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کسی ایسے اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتا جس کی وجہ سے ہمسایہ اسلامی ملکوں کے مفاد پر زد پڑتی ہو۔ حکومتی سطح پر پاکستان اور ایران میں ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی اور محبت کی کوئی کمی نہیں۔ تاہم ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے پاک ایران دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں کمی واقع ہوگئی تھی۔ لیکن دوسال قبل ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ایٹمی سمجھوتے کے بعد ایران کے خلاف پابندیاں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے ممالک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسیع کررہے ہیں۔ کیونکہ ایران تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کا مالک ہے۔ پاکستان نے بھی اس سمت پیش رفت کی ہے۔ مارچ 2016 میں پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ تجارت خرم دستگیر نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو آئندہ پانچ برسوں میں ایک بلین ڈالر سے بڑھا کر 5بلین ڈالر کی سطح تک لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُسی برس ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اُن کے دورے کے دوران اس مقصد کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت
MOU
پر بھی دستخط کئے گئے تھے۔ دوطرفہ تجارت میں فروغ کے علاوہ پاکستان اور ایران نے حال ہی میں عوامی سطح پر روابط میں اضافہ کرنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ ان میں دونوںملکوں کے درمیان مزید دو کراسنگ پوائنٹس کا قیام ہے۔ یہ کراسنگ پوائنٹس گید اور مند پاکستان میں اورایمدان اور پشین سرحد کی دوسری طرف ایران میں ہیں۔ ان کراسنگ پوائنٹس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بھی بڑھے گی اور لوگوں کی آمد و رفت میں بھی اضافہ ہوگا۔ سفری سہولتوں کو مزید آسان اور سستا بنانے کے لئے پاکستان اور ایران نے ایک فیری سروس شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت اورآمدو رفت کا سب سے قدیم راستہ تفتان سے گزرتا ہے۔ اس کو وسیع کیا گیا ہے اور اسے نئی سہولتوں سے مزّین کیا گیا ہے۔ اس پر ایک شاندار گیٹ تعمیر کیا گیاہے جس کا افتتاح دسمبر2016 میں کیا گیا تھا۔ اسی تناظر میںآرمی چیف جنرل باجوہ کے دورے کو خصوصی اہمیت حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ اس سے ان سہولتوں کو مستحکم کرنے اور مزید وسعت دینے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
November
نومبر 2017
شمارہ:11 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ریاستِ پاکستان جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہے آج الحمدﷲ وہ اس پر نہ صرف کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے بلکہ پاکستان کے مجموعی حالات بھی انتہائی پُرامن ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کے دلوں سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خوف کے سائے چھٹ رہے ہیں اور وہ اعتماد اور حوصلے سے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ....Read full article
 
تحریر: محمودشام
امریکہ پاکستان سے اگر چہ کئی ہزار میل دور واقع ہے لیکن 2001سے یہ ہمارا پڑوسی بنا ہوا ہے۔ کون کابل میں آج کل ہے مقیم دیکھ ہمسائے یوں بدلتے ہیں عام طور پر کہا جاتاہے کہ ہمسائے نہیں بدلے جاسکتے مگر امریکہ ایسی طاقت ہے....Read full article
 
 alt=
تحریر : محمدعلی بیگ
ہندو قوم اپنے جدا گانہ تشخص کو بر قرار رکھنے کے لئے ہمہ وقت نہایت چوکس رہتی ہے۔ بھارت جو کہ ساری دنیا میں ہر وقت سیکولر نظریات کا ڈھنڈورا پیٹتا نظر آتا ہے اور خود کو جمہوریت اور مذہبی رواداری کا علمبر دار کہتا ہے لیکن اگر ہم بھارتی سیاست پر نظر دوڑائیں تو یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ یہ اوراس جیسے دیگر بھارتی دعوے کھوکھلے ، جعلی اور حقیقت کے منافی ہیں ....Read full article
 
تحریر: احسان اﷲ ٹیپو
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ پچھلے سولہ سال سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ 9/11 کے بعد کے حالات نے جس طرح اس خطے کو اپنے لپیٹ میں لیا آج بھی اس سے نکلنے کی تگ و دو ہو رہی ہے۔ فطری حسن، قدرتی وسائل اور زرعی پیداوار سے مالامال اس جنت عرضی کی پہچان دہشت گردی، خودکش حملے، ڈرون، القاعدہ....Read full article
 
حریر: فاروق اعظم
پاکستان کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوب مشرق میں بحیرہ عرب اور بھارت کی سرحد سے متصل سندھ کا ضلع بدین دکھائی دے گا، جس کے پڑوس میں ریگستانی ضلع تھرپارکر واقع ہے۔ وہی تھرپارکر جہاں کے صحرائو ں میں سب سے زیادہ قدر پانی کی ہے۔ مذکورہ اضلاع سے متصل سرحد کے اُس پار بھارتی ریاست گجرات شروع ہوتی ہے۔ گجرات کو اس لئے بھی.....Read full article
 
تحریر: میجر مظفراحمد
پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کی تقریبات کے تسلسل میں پاک فوج کے زیر انتظام مؤرخہ 21 اکتوبر 2017ء سے 31 اکتوبر 2017ء تک قومی موٹر ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
ریلی کے انعقاد کا مقصد جہاں دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان اور اُس کے عوام پُرامن ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں وہاںجذبۂ ملی یکجہتی و یگانگت کو اُبھارنا بھی شامل ہے....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل معظم اشفاق
سی ایم ایچ کوئٹہ کے ٹھنڈے آئی سی یو میں مشینوں سے بندھا میرا بیٹا جُمعہ بس سانس کے زیروبم سے ہی زندہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس کا زرد چہرہ اور بند آنکھیں مجھے اجنبی معلوم ہوتی ہیں ۔اس چہرے پر میرے لئے پہچان کے کوئی آثار نہیں۔ جب سے میں آیا ہوں، کتنی دفعہ پکارا ہے مگر اس نے ذرا سی دیر کے لئے بھی آنکھیں کھول کر مجھے نہیں دیکھا۔ بچپن ہی سے اس کی عادت تھی کہ جب میں کام کاج سے واپس.....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
بہت سال پہلے ہمارا ایک بیٹ مین بشیر ہوا کرتا تھا جو کہ سادگی میں اپنی مثال آپ تھا۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ہماری یونٹ ایک طویل جنگی مشق کے سلسلے میں کھاریاں کے قریب ایک علاقے میں موجود تھی۔ دوران ایکسرسائز ہم نے ویک اینڈ پر گھر جانے کا پروگرام بنایا۔ بشیر سے کہا گیا کہ ہمارے لئے بس کی ایک سیٹ کا بندوبست کرے۔ اس نے یہ سن کر دوڑ لگائی اور نگاہوں....Read full article
 
تحریر:سمیع اللہ سمیع
دنیامیں طاقت کی رسہ کشی درحقیقت وسائل کی کھینچاتانی سے مشروط رہی ہے۔ افغانستان وہ بدقسمت ملک ہے جس کی سرحدوں سے انیسویں صدی کے وسط سے تاحال سپرپاورزکی آنکھ مچولی جاری ہے۔فرق بس اتناپڑاہے کہ اب برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے جبکہ روس نسبتاًکمزورہونے کے باعث بیک فٹ پر لڑرہاہے۔بہت سے افغانی ....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
کمرے میں باوقار اور سنجیدہ ماحول طاری تھا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا اجلاس تھا۔ امریکی وزیر دفاع کمیٹی کے سامنے دنیا میں سکیورٹی کے حوالے سے پالیسی وضاحتیں دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک سینیٹر نے انہیں سوال کیا ''ون بیلٹ ون روڈ سٹریٹجی کے ذریعے چین مختلف برِاعظموں کے مابین زمینی اور سمندری روٹس کے پھیلائو کا خواہاں ہے....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
ہندوستان دراصل تنگ برہمن ذہنیت اور رسم و رواج کو ماننے والی حکمران اقلیت کا ملک ہے۔ یہ حکمران طبقہ اکثریتی ہندوآبادی کو اپنے سیاسی مقاصد اور مذہبی جنون کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ دوغلے چہرے والے اس ملک میں دوسرے تمام مذاہب کی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندوئوں اور سکھوں کا رہنا بھی اب ایک مسئلہ بن گیا ہے۔قتل و غارت گری کے خون آشام سائے تلے زندگی گزارنے والی اقلیتیں.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر حمیرا شہباز
دانشمندوں کی دانشوری پر غور و فکر بذات خود ایک دانشمندانہ عمل ہے۔ 9نومبر 2017 شاعر فردا علامہ محمد اقبال کا 140 واں یومِ ولادت ہے۔ اقبال کو شاعر فردا بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی بصیرت ، ان کی دور بینی، دور اندیشی ان کے کلام سے عیاں ہے اور شاید اس لئے بھی کہ ملک تو سالوں میں بن جاتے ہیں لیکن قومیں صدیوں میں تربیت پاتی ہیں ۔ 140 سال قبل پیدا ہونے والے.....Read full article
 
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی
شاعرِمشرق،حکیم الامت،مفکرِاسلام اور مصوّرِپاکستان علاّمہ محمد اقبال کے افکارپوری نسلِ انسانی کے لئے عموماََ،امت مسلمہ کے خصوصاََاور امت مسلمہ کے نوجوانوں کے لئے مزید خصوصیت کے ساتھ علم و دانش کا مخزن ہیں۔ان کا پیغام امن،ترقی ،خوشحالی،محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے۔ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ، سب سے زیادہ وابستہ تھیں۔وہ سمجھتے تھے کہ نوجوان نسل قوم.....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
ایک زمانہ تھا جب گلی محلوں میں جا بجا ویڈیو کیسٹس کی دکانیں ہوا کرتی تھیں، جس نوجوان کو نوکری نہ ملتی یا اس کی دبئی جانے کی کوشش بارآور نہ ہوتی، وہ ویڈیو کیسٹسکی دکا ن کھول لیتا اور سوچتا کہ اب یہیں اس کی ''دبئی'' لگ جائے گی۔انہی دکانوں سے وی سی آر بھی کرائے پر مل جایا کرتا ،ٹی وی بمع وی سی آر اور پانچ من پسند فلموںکا مکمل پیکج فقط سو روپے میں مل جاتا ۔یار .....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز
وطن کے وہ سپاہی جو اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھائے، سینہ تانے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں تاریخ اُن کے نام کبھی نہیں بھولتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لہو میں اسی جذبے کو پروان چڑھانے کی خاطر ان جانبازوں کے نام عقیدت اور فخر سے دہراتی ہے کیونکہ یہ نام صفحہ ٔ قرطاس پر بھی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
ڈپریشن جو کہ پوری دنیا میں 'مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے' کسی بھی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، اسے ہم عرفِ عام میں اداسی اور مایوسی بھی کہتے ہیں۔ ڈپریشن ایک پیچیدہ دماغی بیماری ہے جو انسان کو حیاتیاتی ، نفسیاتی اور سماجی طور پر متاثر کرتی ہے ۔ جب مایوسی اور اداسی کا غلبہ بہت دنوں تک رہے اور اس کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روزمرہ کے معمولات.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
اﷲ سبحانہ' تعالیٰ کی عطاکردہ روحانی کیفیات کے احوال پڑھ کر نہ صرف ایمان اور یقین مزید مضبوط ہوتا ہے بلکہ نظامِ قدرت کو بھی سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ایمان کے باوجود اکثر لوگوں کا یقین ''ڈھلمل'' یعنی ڈانواڈول ہی ہوتا ہے ورنہ اگلے جہان، روزِ حساب، قبر میں سوال جواب اور جزا سزا پر یقین کامل ہو تو انسان نہ جھوٹ بولے، نہ دھوکہ دے، نہ ملاوٹ کرے، نہ قتل و....Read full article

انٹرویو: قاسم علی
قوی خان پاکستان کے ان ورسٹائل فنکاروں میں شامل ہیں جن کی شخصیت کا جادوفنون لطیفہ کے چاروں شعبوں ریڈیو، تھیٹر ، ٹی وی اور فلم میں سر چڑھ کر بول رہا ہے انہیں فنی دنیا کا حصہ بنے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن وہ آج بھی کیرئیر کے آغاز جیسی لگن اور جذ بے کے ساتھ کام میں مصروف ہیں اور ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ قوی خان اپنی زندگی کو........Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس.....Read full article
 
تحریر: صائمہ بتول
لفظ سائبو رگ 1960 میں
Manfred Clynes
اور
Nathan S. Kline
نے دریافت کیا۔ یاد رہے کہ یہ لفظ اینڈ رائڈ، بائیو نک، بائیو میٹرک اور مافوق الفطرت اعضاء رکھنے والی مخلوق سے یکسر مختلف اور بہت ساری خصوصیات میں ملتا جلتا تاثر رکھتاہے۔ یہ ٹیکنالوجی تمام دودھ دینے والے جانور اور انسانوں میں ایسے اعضائ، جو ناکارہ ہو چکے ہوں مگر نقصان کے باوجود بحالی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ھمامیر
>یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کینیڈا ایک سرد ملک ہے جہاں زیادہ تر ٹھنڈ رہتی ہے لیکن یہاں کی خزاں ایک ایسا موسم ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہمارے خیال سے تو یہاں کی برف یہاں کی خصوصیت ہے۔ تاہم سیاح برفباری کے بجائے خزاں دیکھنے کینیڈا.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
صوفی غلام مصطفٰی تبسّم معروف اصطلاح میں قطعی صوفی نہ تھے مگر ان کی شخصیت سراپا صوفیانہ و درویشانہ تھی۔ مولانا چراغ حسن حسرت کی طرح رندِ بلانوش تو نہ تھے مگر مَے و مینا سے آشنائی ضرور تھی اور اس کا سبب وہ محفل آرائیاں تھیں کہ جن کے بغیر اُن کی شامیں مکمل نہ ہوتیں۔ صوفی غلام مصطفٰی تبسّم اس پائے کے عالم اور استاد تھے کہ حفیظ ہوشیار پوری تک انہیں جگت استاد کہا کرتے تھے.....Read full article
 
تحریر ۔ طاہرہ حبیب جالب
تعلیم'' یہ انسان میں شعور پیدا کرتی ہے اس کی بدولت ہی انسان اچھے بُرے کی تمیز کرسکتا ہے یعنی تعلیم ہی بنیادی مسائل کا حل ہے۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کررہا ہے۔ ظاہری طور پر پاکستان میں دو تعلیمی نظام ہیں۔ اُردو میڈیم جو سرکاری سکولوں یا گلی محلوں کے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے جس میں اُردو مضامین اور اسلامیات کو اہمیت دی جاتی ہے ان ....Read full article
 
تحریر: فرحین چودھری
خوبصورت منقش گملے میں لہراتا ننھا سا خوش نما پودا نوجوانوں کی خاص طور پر دلچسپی کامرکز بن گیا۔ اماں بی اور دادا ابو نے غور سے پودے کو چھو کر، سونگھ کر دیکھااگرچہ اس کے رنگ و نسل کے بارے میں شکوک کا اظہار بھی کیا تھا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اس کے چمکیلے پتے اور جھومر جیسے جھولتے ننھے ننھے پھول....Read full article
 
تحریر: عمران علی ملک
قدرت نے ارضِ وطن پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کی آب و ہوا اور سال بھر کے دوران رنگ بدلتے موسم ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی یہاںگرمی کی شدید لہر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آسمان سے سورج گرمی برساتا ہے تو زمین بھی تپش کی شدت سے آگ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ ایسے میں شمالی علاقہ جات ....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
1990 میںبحیثیت سٹیشن ڈائریکٹر میری پوسٹنگ سکردو ہوئی تو مجھے 5فروری کو وہاں پہنچنے کا حکم ملا۔ میں نے فوری طور پر سکردو کے لئے پی آئی اے سے اپنی ٹکٹ حاصل کر لی۔سکردو جانے سے پہلے ناردرن ایریاز بکنگ آفس سے ٹکٹ کی کنفرمیشن کرانی ضروری ہوتی ہے۔ یہ کام بھی ہو گیا۔ میں اپنے کالج کے ساتھی محمداختر کے پاس ٹھہر گیا۔ وہ مجھے ....Read full article
09
November

محمد اعظم خان

خوبصورت مقام سکردو میں پوسٹنگ اور خدمات کی انجام دہی کا احوال ریڈیو پاکستان کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر محمد اعظم خان کے قلم سے

1990 میںبحیثیت سٹیشن ڈائریکٹر میری پوسٹنگ سکردو ہوئی تو مجھے 5فروری کو وہاں پہنچنے کا حکم ملا۔ میں نے فوری طور پر سکردو کے لئے پی آئی اے سے اپنی ٹکٹ حاصل کر لی۔سکردو جانے سے پہلے ناردرن ایریاز بکنگ آفس سے ٹکٹ کی کنفرمیشن کرانی ضروری ہوتی ہے۔ یہ کام بھی ہو گیا۔ میں اپنے کالج کے ساتھی محمداختر کے پاس ٹھہر گیا۔ وہ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایئرپورٹ لائے۔ 5فروری سے لے کر 8فروری تک مسلسل 4روز پرواز منسوخ ہوتی رہی۔ اس کی وجہ سکردو کا موسم تھا۔ خدا خدا کر کے 9فروری کو فلائٹ روانہ ہوئی۔ ایئرپورٹ پر مجھ سے پہلے والے سٹیشن ڈائریکٹر محترم ضمیر صدیقی مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ 10فروری کو میں نے بحیثیت ڈائریکٹر چارج لیا۔ ضمیر صدیقی صاحب نے مجھے تمام سٹاف سے ملایا۔ مجھے وہاں کام کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ یہاں کے لوگ بہت ہی محنتی اور ایماندار ہیں۔ چوری چکاری کا دور دور تک خدشہ نہیں ۔ سکردو سٹیشن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ
Hard
ایریا ہونے کی وجہ سے آرمی آفیسرز سے بہت واسطہ رہتا ہے۔ میرے زمانے میں میجر افتخار کی بیگم ہمارے فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئر تھیں۔ نہایت عمدہ پروگرام کرتی تھیں۔ میری یہی کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ فوجی جوانوں کی فرمائش پوری کی جائے۔ کیونکہ اس وقت صرف ریڈیو سٹیشن سکردو ہی تفریح کا واحد ذریعہ تھا۔ ریڈیو سٹیشن کی خبروں کو بڑے شوق سے سنا جاتا تھا۔ آرمی سٹیشن کمانڈر مجھے اپنی خاص میٹنگ کے لئے ضرور بلاتے تھے۔ اور میں فوجی تقریبات میں بڑے شوق سے جاتا تھا ایک دفعہ میں نے میجر عاصم سے اپنی ایک خواہش کا ذکر کیا کہ مجھے سیاچن دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر کسی خاص کام سے سیاچن جا رہا تھا کہ مجھے میجر عاصم کا ٹیلی فون آیا کہ آپ کل صبح آٹھ بجے ہیلی پیڈ پہنچ جائیں۔ اس کا مکمل احوال ان شاء اﷲ اگلے مضمون میں بتائوں گا کہ اس قدر سخت سردی یعنی منفی 50ڈگری میں وہاں فوجی آفیسر اور جوان کیسے رہتے ہیں۔

mujyyadhasbzara.jpg

بہت دلیری اور ہمت کی بات ہے۔ یہ انہی کا کام ہے کہ دشمن کو پیش قدمی سے روکے ہوئے ہیں۔ میرے اپنے ایک عزیز کرنل محمود بھی اُن دنوں سکردو میں تعینات تھے۔ ان سے بھی کافی معلومات حاصل ہوتی رہتی تھیں۔ وہاں کے آرمی آفیسرز اور سول آفیسرز کا سلوک مجھے بہت اچھا لگا۔ اکثر کھانوں اور پارٹیوں میں ملاقات رہتی۔ شنگریلا جھیل اور صدپارہ جھیل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ خاص کر شنگریلا جہاں جہاز کے اندر ایک چھوٹا سا چند کمروں کا ہوٹل بنا ہوا ہے۔ شنگریلا جھیل کے اندر ہوٹل کا منظر بھی بہت اچھا ہے اور وہاں کھانا کھاتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آپ مچھلیوں کے ساتھ اس جگہ پر موجود ہیں۔ شنگریلا سے پہلے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا چڑیاگھر بھی ہے۔ سکردو میں دو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ بلتی اور نوربختی دونوں ہی بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ میں نے سکردو ریڈیو سٹیشن پر پروگراموں کے علاوہ دو کام ایسے کئے کہ وہاں کے لوگ مجھے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ایک ٹرانسمشن کا وقت تبدیل کیا کیونکہ مجھے میرے ڈرائیور محمد حسین اور دوسرے ملازم کہتے تھے کہ سر رات کو گیارہ بجے ریڈیو سٹیشن بند ہوتا ہے۔ ہمیں سٹاف کو چھوڑتے چھوڑتے رات کا ایک بج جاتا ہے۔ پھر گاڑی کو ریڈیو سٹیشن چھوڑنا ہوتا ہے۔ گھر پہنچنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ آپ براہ مہربانی ہیڈکوارٹر سے اجازت لے کر اس ٹرانسمشن کا وقت 4سے 11بجے کے بجائے 3سے 10بجے تک کرا دیں۔ میں نے اپنے سٹاف کی خاطر بڑی کوشش سے ہیڈکوارٹر سے اجازت لے کر ریڈیو کا پروگرام نشر کرنے کا وقت 3بجے سے 10بجے رات کروا دیا۔ اس سے میرے سٹاف میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسی طرح میری دلی خواہش تھی کہ ریڈیو سٹیشن کے احاطے میں مسجد ہو اس کے لئے ایک جگہ مقرر کی اور اس کی پہلی اینٹ اپنے ہاتھ سے رکھی۔ یہ اﷲ تعالیٰ نے مجھ سے دیگر کاموں کے علاوہ بہت اچھا کام کروایا۔ سٹیشن پر سردی کے موسم میں مجھے 40من لکڑی استعمال کرنے کی اجازت تھی جو کہ میں اپنے سٹاف خاص کر گارڈ، ڈرائیور اور پولیس سٹاف کو بانٹ دیتا تھا۔ صدپارہ جھیل کا میں نے تین چار دفعہ نظارہ کیا۔ میری سکردو پوسٹنگ سے پہلے میری والدہ مجھے اکثر کہتی ''بیٹا ٹھنڈی ہوا بادل کا سایہ'' میں کہتا امی جان آپ یہ کیا بات کرتی ہیں۔ وہ میری خدمت سے بہت خوش تھیں اور دعا کے طور پر بار بار کہتی ''ٹھنڈی ہوا بادل کا سایہ'' یہ بات مجھے سکردو جا کر سمجھ آئی کہ میری والدہ کے کہنے کا کیا مطلب تھا یعنی سکردو میں ٹھنڈی ہوا کا اور بادل کا سایہ ہمیشہ رہا۔ مختلف وادیوں میں بھی گئے۔ آئندہ ان شاء اﷲ سیاچن کا ذکر کروں گا کہ اتنی بلندی پر بھی ہماری پاکستانی افواج کیسے بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہاں دنیا کی سب سے اونچی پوسٹیں ہیں۔ پاکستانی بہادر فوج کیسے کیسے کام سرانجام دیتی ہے۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
(....جاری ہے)

 

علامہ ڈاکٹرمحمداقبال
کیااقبال کے اشعار نے بیدار ملت کو
کہ آزادی وطن کی آج ہے درکار ملت کو
اسی سے قوم نے قلب و نظر کی روشنی پائی
ہوئی بیدار سوئی قوم جس سے لے کے انگڑائی
ہوا بیدار جذبۂ خودی اشعار سے تیرے
ملی جو رہنمائی قوم کو افکار سے تیرے
تیرے فکر و تخیّل سے ملا احساسِ آزادی
تو غافل قوم کو منزل کی اس نے راہ دکھلا دی
رگ و جاں میں ہوئے بیدار اسرار جہانبانی
کہ ہے کردار کے اندر نہاں رمزِ مسلمانی
تیری بانگِ درا نے کردیا بیدار قوموں کو
غلامی میں ملا درسِ خودی نادار قوموں کو
رہائی قوم کو حاصل ہوئی جس دم غلامی سے
چمن گویا مہک اُٹھا بہارِ شادمانی سے
خودی کے درس نے اہلِ وطن کو دی توانائی
وطن کے گوشے گوشے سے صدائے مرحبا آئی
تیرے شاہیں نے جس دم رفعتِ پرواز سکھلادی
شعور و آگہی نے روشنی منزل کی دکھلا دی
لبِ دریا پہ اسرارِ جہاں کی جستجو کرنا
خضر کے ساتھ ملنا اور شب بھر گفتگو کرنا
یہ تُو نے پیش گوئی کی وطن آزاد ہونے کی
تصور میں تِرے تصویر تھی جو شاد ہونے کی
ہے ندرت بھی سخن میں قوتِ الہامِ کامل بھی
خودی کے ساتھ آزادی کا ہے پیغام شامل بھی
تدبّر نے تِرے پائی زمانے میں پذیرائی
تفکر نے تِرے عظمت کی شہرت دائمی پائی
رہے گا جنت الفردوس میں تیرا مقام آخر
فلک پر تااَبد روشن رہے گا تیرا نام آخر
مِلا اقبال کی عظمت کو بھی اقبال تابندہ
کہ دانشور رہا کرتے ہیں اسلم جاوداں زندہ
مظفر اسلم

*****

 
09
November

تحریر: محمد امجد چوہدری

طلباء و طلبات کو شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ رکھنے کی ضرورت

درسگاہیں اور علم گاہیں کسی معاشرے کو باشعور، منظم اور مہذب بنانے میں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ قوموں کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی میں ان کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ جامعہ کراچی کا شمار پاکستان کے ان اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں معمار قوم کا کردار ادا کیا اورآج بھی جدید تقاضوں کے مطابق نوجوانان وطن کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ بارہ سو ایکٹر رقبے پر مشتمل اس یونیورسٹی کا قیام1951ء میں عمل میں لایا گیا ۔صرف دو شعبوں سے تدریسی اور تحقیقی کام کا آغاز کرنے والی یہ جامعہ آج سائنس اور آرٹس کے53 مختلف شعبوں اور عالمی طرز کے20جدیدترین تحقیقاتی سنٹر ز اور انسٹی ٹیوٹس پر مشتمل ہے جہاں 24ہزار سے زائد طلباء و طالبات 800سے زائد قابل اساتذہ اوردرس و تدریس کے اڑھائی ہزارسٹاف کی زیرنگرانی اپنی علمی و تحقیقی پیاس بجھا رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تدریسی وتحقیقی معیار میں جامعہ کراچی کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔اس کے فارغ التحصیل طلباء قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔ جامعہ کراچی کی ترقی اور ارتقاء کے عمل میں اس کے دُوراندیش اساتذہ کی محنت و قابلیت اور انتظامیہ کی کوششوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ تعلیمی ادارے علم وعمل اور آگہی و شعور کے مرکز ہوتے ہیں، اسی لئے تو ملک دشمن عناصر کا اولین نشانہ بھی یہی ہوتے ہیں۔پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان کی ہر وہ شے جو ہمارے وقار، ترقی اورروشن مستقبل کی علامت سمجھی جاتی ہے، دہشت گردوں کے نشانے پر رہی۔ کراچی سے خیبر تک انہوں نے معصوم شہریوں اور سیکورٹی اداروں پر حملے کئے۔ تعلیمی ادارے خاص طور پر ان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ وہ نہ صرف انہیں نشانہ بنا رہے تھے بلکہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں بھی مصروف عمل تھے۔اسی بھنور میں جامعہ کراچی کو بھی دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں بھی شدت پسندی، بدامنی اور بے یقینی کے بیج بونے کی کوشش کی گئی تاہم طلباء و طالبات کی ہوشمندی، اساتذہ کی مستعدی، انتظامیہ کے تعاون اور سکیورٹی فورسز کی کڑی نگرانی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان (ستارہ امتیاز) یہاں کے بہت سے مسائل جن میں انتظامی اور مالی قابل ذکر ہیں، حل کرنے میں انتہائی اہم کردار اداکررہے ہیں۔وہ نباتات کے استاد ہیں اور یونیورسٹی کو سرسبزوشاداب اور پھلتا پھولتا دیکھنے کی متمنی ہیں۔ اسی لئے بعض معاملات خاص طور پر فنڈنگ اور مالی خسارے کے لحاظ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں مگر شدید مالی مسائل ہماری رہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی یونیورسٹی کو اتنی رقم دی جائے جتنی کہ ایک عام یونیورسٹی کو فراہم کی جاتی ہے تو پچیس سال میں انقلابی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں ترقی اور علوم میں تبدیلی و جدت آرہی ہے، ہم بھی اپنے ملک کو اس سے ہمکنار کر سکتے ہیں ۔یہ تبھی ممکن ہے جب ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا اثر کراچی یونیورسٹی پر بھی پڑتا ہے۔ جب ہمیں کھل کر بات کرنے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پروفیشنل بحث و مباحثے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پیشہ ورانہ مضامین میں تحقیق کرنے کے لئے مالی آزادی ہوگی، توہم پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور کامیاب بنانے میں بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس تناظر میں کراچی یونیورسٹی پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان پر سرمایہ کاری ہے۔ یونیورسٹی کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی پروفیسرڈاکٹر محمد اجمل خان نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ وہ اس حوالے سے رینجرزکے کردار کے معترف ہیں۔ان کا کہنا ہے کراچی یونیورسٹی آپریشن ردالفساد کا ایک
Main Component
ہے۔ یہاں جو چند لوگ فساد کرکے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان سے نجات ضروری ہے اور اس سلسلے میں رینجرز اپنا مؤثر کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ جامعہ کو سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مشکوک افراد پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ اس طرح ان تمام مجموعی کوششوں سے جامعہ کراچی کو شدت پسندی کا لیبل لگا کر اس کی ساکھ کو متاثر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ دہشت گرد عناصر ہماری کمزوریوں کی تاک میں ہیں۔ وہ پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے کا موقع ہرگز ضائع نہیں کرتے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے نوجوانوں کے شعور میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہے۔ پاک فوج دہشت گردوں سے براہ راست نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں بھی بہت سے اقدامات اٹھارہی ہے۔

jamiat.jpg

گزشتہ دنوں جنرل ہیڈکوارٹرز میں ''شدت پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کے کردار'' کے موضوع پر ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا جس میں پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو شکست دی جاچکی، شدت پسندی کو شکست دینے کے لئے ہمارے تعلیمی ادارے اور میڈیا معاشرے کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ ہم باہمی تعاون سے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے والی قوتوں کو شکست دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کا دورہ کیا اور طلباء سے خطاب بھی کیا۔ طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء منفی چیزوں پر دھیان نہ دیں اوروالدین کے خواب پورے کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں کہ سب لوگ دنیا کو میری نظر سے دیکھیں تو میں بنیاد پرست نہیں انتہا پسند کہلائوں گا۔ جب میں دوسروں کو اپنے نظریات ماننے پر مجبور کروں تو تشدد پسند یا دہشت گرد کہلائوں گا۔مجھے کسی کو ثابت نہیں کرنا کہ میں مسلم ہوں ، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، مسلمان ہونے کے لئے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں، عمل سے ثابت کریں۔اس طرح کے سیمینارزاور کانفرنسیں یقینا ہمارے نوجوانوں کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں کے بارے میں مؤثر طور پر باخبر اور باشعور رکھتی ہیں۔ بہرحال جامعہ کراچی علم کا ایک ایسا رواں چشمہ ہے جس نے پاکستان کی تعمیر سے استحکام تک ایک ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ یہ چشمہ اسی طرح رواں رہ کر ملک کی ترقی اور استحکام کو دوام بخشتا رہے گا۔

 
09
November

تحریر: عمران علی ملک

قدرت نے ارضِ وطن پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کی آب و ہوا اور سال بھر کے دوران رنگ بدلتے موسم ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی یہاںگرمی کی شدید لہر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آسمان سے سورج گرمی برساتا ہے تو زمین بھی تپش کی شدت سے آگ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ ایسے میں شمالی علاقہ جات کی سیاحت کا رجحان بڑھ جاتا ہے ۔ دہشت گردی کی لہر نے پورے ملک سے سیاحت کا سلسلہ تقریباً ختم کر دیا تھا لیکن پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں اور بیش بہا قربانیوں سے وطن عزیز ایک بار پھر سیاحت کے لئے محفوظ مقام بن چکا ہے۔ سیاحت کی بات ہو تو گلگت بلتستان کسی جنت سے کم نہیں۔ویسے تو بلتستان کا ہر علاقہ قدرتی مناظر میں اپنی مثال آپ ہے لیکن ان میں سکردو ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

skerdozamen.jpg
اسلام آباد سے سکرودو کے لئے فضائی سفر کی سہولت بھی موجود ہے۔ پی آئی اے کی پروازیں روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں لیکن موسم خراب ہونے کی صورت میں پروازیں منسوخ کر دی جاتی ہیں۔ اسلام آباد سے سکردو کا زمینی سفر قراقرم ہائی وے کے ذریعے ہوتا ہے ۔دہشت گردی کے دوران یہ سفر قدرے غیر محفوظ تھا مگر پاک فوج اور ایف سی کے زیر نگرانی یہ سفر قافلوں کی شکل میں جاری رہا۔ راستوں میں بھی جگہ جگہ ایف سی اہلکار ڈیوٹی دیتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سنگلاخ چٹانوں میں بنا کسی سائے کے ڈیوٹی دیتے اہلکار وں کر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وطنِ عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے یہ جوان کس قدر پُر عزم ہیں۔ پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں کی وجہ سے اب یہ سفر انتہائی محفوظ ہے ۔
جگلوٹ اور گلگت سے سکردو تک پہنچنے کے لئے واحد زمینی راستہ 167 کلومیٹر، گلگت ـسکردو روڈ ہے ۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ یہ دشوار گزار راستہ ہے مگر سکردو کے ڈرائیور نہایت مہارت سے ڈرائیونگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلگتـ سکردو روڈ میں ایک جانب فلک بوس پہاڑ ہیں تو دوسری جانب زمین کی تہوں میں دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے کبھی یہ راستہ منقطع بھی ہو جاتا ہے ۔ جس کو ایف ڈبلیو او کم سے کم وقت میں ٹرانسپورٹ کے لئے بحال کردیتی ہے۔


سکردو میں اپریل کے آخر میں بہار کا آغاز ہوتے ہی سیاحت کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ اپریل سے ستمبر تک سیاحت کا بھرپور موسم ہوتا ہے۔ سیاح سکردو کا رُخ کرتے ہیں۔ اکتوبر میں یہ حسین وادی سفید چادر اوڑھنا شروع کر دیتی ہے اور رفتہ رفتہ ہر طرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے ۔


سکردو شہر سے 50فٹ بلند پہاڑ پر واقع قلعہ کھرپوچو اپنے ڈیزائن اور محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس قلعے کی بناوٹ ایسی ہے کہ اس سے پورا سکردو شہر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔ نیز اس قلعے سے دریائے سندھ اور اس کے پیچھے بلند و بالا پہاڑ اتنہائی دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔


کھرپوچو کے عقب میں واقع گائوں ننگ سوق کو ''آرگینک ویلج'' کا نام دیا گیا ہے۔اس گائوں میں آج تک مصنوعی اشیاء سے پاک 100فیصد قدرتی اجناس استعمال کی جاتی ہیں ۔اس گائوں میں نہ تو سرکاری بجلی ہے اور نہ ہی کوئی سڑک موجود ہے۔گائوں تک پہنچنے کا واحد راستہ انتہائی دشوار گزار ہے جہاں سے پیدل گزرنا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں تھا مگر پاک فوج نے اب اس راستے کو قدرے آسان بنانے کے لئے لکڑی کے پُل بنا دئیے ہیں ۔
سکردو سے شگر جاتے ہوئے ایک نہایت ہی خوبصورت مقام سے گزرتے ہیں یہ ایک صحرا ہے جو کولڈ ڈیزرٹ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دریائے سندھ کے ساتھ کئی میلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس صحرا کے درمیان سے گزرتی سڑک اور پس منظر میں خوبصورت پہاڑ ایک دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔


وادیٔ شگراور شگر فورٹ
وادٔ شگر بلتستان کی ایک خوبصورت وادی ہے ۔یہ 170کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ جونہی اس وادی میں داخل ہوں یہاں ایک خاص قسم کی خوشبو آپ کا استقبال کرتی ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنے اس کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ وادٔ شگر سے دریائے شگر گزرتا ہے جو آگے جا کر دریائے سندھ میں ضم ہو جاتا ہے۔ اس وادی میںسب سے مشہور مقام شگر فورٹ اور شگر پیلس ہے۔ اس کو بلتی زبان میں ''پھونک کھر'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''چٹان پر محل'' یہ بلتستان کے فن تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے۔ آج کل یہاں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے اور پیلس کی عمارت کا کچھ حصہ ایک ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وادٔ شگر میں قائم مسجد امبوریک کا شمار بلتستان کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔ اس مسجد کی بنیاد سید امیر کبیر علی ہمدانی نے رکھی اور یہ آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔یونیسکو نے اس مسجد کو کلچرل ایوارڈ بھی دیا ہے ۔


شنگریلا جھیل
کچورہ گائوں میں موجود ہونے کی وجہ سے اس جھیل کا اصل نام کچورہ جھیل ہے۔ یہاں 1983میں قومی ایئر لائن کا ایک طیارہ گر گیا تھا جس کو کسی نے خرید کر ایک ریسٹورنٹ میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام شنگریلا رکھا۔ ''شنگری لا ''تبتی الفاظ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے ''زمین پر جنت''۔ جھیل کے کنارے یہ اپنی نوعیت کا منفرد ریسٹورنٹ ہے جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔ چاروں جانب پہاڑوں میں گھرے اس خوبصورت مقام پر جائے بغیر سکردو کی سیاحت مکمل نہیں سمجھی جا سکتی ۔


اپر کچورہ جھیل
یہ انتہائی شفاف پانی کی ایک وسیع و عریض جھیل ہے کچورہ۔ شنگریلا جھیل سے کئی گنا بڑی جھیل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی گہری بھی ہے ۔ اس کی گہرائی 280فٹ ہے۔ یہ انتہائی خوبصورت تفریحی مقام ہے ۔سر سبز درختوں میں گھرے کچے راستے ٹریکنگ کے شوقین حضرات کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ لیکن ناکافی سہولیات اور قدرے دشوار گزار راستے کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمدورفت کم ہوتی ہے۔
سکردو شہر سے 40کلومیٹر دور وادیء کھرمنگ میں منٹھوکھا آبشارواقع ہے ۔ اس کی اونچائی زمین سے 180فٹ ہے۔ دورونزدیک سے لوگ یہاں تفریح کے لئے آتے ہیں۔ آبشار سے اُڑتی پھوار ہوا میں شامل ہو کر انتہائی دلفریب نظارہ پیش کرتی ہے۔


منٹھال بُدھا راک
سکردو۔ سدپارہ روڈ پر سکردو سے 3کلومیٹر دور منٹھال گائوں میں واقع یہ گرینائٹ کا چٹان نما پتھر ہے جس کی اونچائی تقریباً50فٹ ہے ۔اس چٹان کے درمیان میں بُدھا کی ایک بڑی اور اطراف میں کئی چھوٹی تصاویر کندہ کی گئی ہیں۔


دیوسائی نیشنل پارک
دیوسائی (جنات کی سرزمین) استور اور سکردو کے درمیان دنیا کے دوسرے بڑے میدان ہیںجو سطح سمندر سے 13,497فٹ بلند ی پر واقع ہیں ۔ یہ میدان 3000مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ دیوسائی کو بلتی زبان میں ''غبیارسہ'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''گرمیوں کی جگہ''کیونکہ اس علاقے تک رسائی گرمیوں کے صرف 3مہینے ہی ممکن ہوتی ہے۔ دیوسائی کو 1993میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں برفانی چیتا، برائون ریچھ، مرموٹ، مارخور، ہڑیال اور باز کی کئی نسلیں پائی جاتی ہیں۔ سرسبز گھاس کی چادر اوڑھے ان میدانوں میں رنگا رنگ خوبصورت پھولوں ، اُڑتی تتلیوں ، خوشبوئوں اور بہتے پانیوں سے جو نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہاں آنے والوں کو ہمیشہ کے لئے اپنا اسیر کر لیتا ہے۔


سکردو پاکستان کے سیاحتی مقامات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں برف پوش پہاڑوں کو چھو کر گزرنے والی ہوا ئوں کا احساس ہی تن بدن میں تازگی پیدا کر دیتا ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنوں سے اُٹھنے والی ٹھنڈی پھوار سانسوں کو ایسی تازگی بخشتی ہے کہ روح تک ٹھنڈک محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہاں کی وادیوں میں ایک خاص خوشبو سے سانسیں بھی مہک جاتی ہیں اور انسان اُس خوشبو کو کبھی بھی بُھلا نہیں سکتا۔ یہاں سیب ، چیری، خوبانی ، آلوبخارہ، انجیراور بادام کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ سکردو کی خوبصورتی کی طرح یہاں کے لوگ بھی لالچ سے دور ، انتہائی خوش اخلاق اور پُر امن ہیں۔محنت کا رجحان بچوں اور بڑوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔ بچے بہت ملنسار اور تعلیم کے شوقین ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے کئی کئی میل کا سفر بھی پیدل کرتے ہیں۔سیاحت کے دلدادہ سکردو جانے کے بعد کبھی اس کے سحر سے نکل نہیں پائیں گے۔جیسا کہ ایک نغمے کے بول کچھ یوں ہیں 
ایک بار جو آئے …
دل یہاں رہ جائے …
جانا چاہے نہ پھر یہاں سے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
November

تحریر: فرحین چودھری

خوبصورت منقش گملے میں لہراتا ننھا سا خوش نما پودا نوجوانوں کی خاص طور پر دلچسپی کامرکز بن گیا۔ اماں بی اور دادا ابو نے غور سے پودے کو چھو کر، سونگھ کر دیکھااگرچہ اس کے رنگ و نسل کے بارے میں شکوک کا اظہار بھی کیا تھا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اس کے چمکیلے پتے اور جھومر جیسے جھولتے ننھے ننھے پھول اُنھیں بھی لبھا رہے تھے۔
''دادا ابو نرسری والا بتا رہا تھا یہ بیل بڑی تیزی سے پھیلتی ہے'' قندیل خاصی پُرجوش تھی۔
تبھی عامر نے مستقبل کی تصویر کشی شروع کر دی'' گھر کی دیواروں اور چھت پر جب یہ بہار دکھائے گی تو گزرنے والے مڑ مڑ کر دیکھیں گے۔
''ہوں'' دادا ابا نے عینک اُتار کر ہاتھ میں پکڑتے ہوئے ہنکارا بھرا۔ پھر اماں بی کی جانب متوجہ ہوئے۔
''کیوں بہو! ہے تو خوبصورت یہ بیل مگر باس دل کو نہیں بھا رہی۔۔۔تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔۔؟''
اماں بی نے سر سے سرکتے دوپٹے کو دوبارہ سلیقے سے سجاتے ہوئے سُسر اور بچوں کے درمیان ہمیشہ کی طرح پل کا کردار اداکرتے ہوئے صرف اتنا کہا۔
''اصل میں بچے گھر کی

Looks

میں کوئی تبدیلی لانا چاہتے تھے۔ دیواروں پر لگا سیمنٹ، پتھر، رنگ و روغن اچھا تو تھا مگر تقریباً سبھی گھر اس علاقے میں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ ایک ہی جیسے لگتے تھے۔ سو انہوں نے لان کو نئے سرے سے، نئے انداز سے، سنوارنے کا سوچا۔ ساتھ ہی دیواروں اور چھت پر خوبصورت بیلوں کو چڑھانے کا خیال بھی سوجھا۔''
قندیل اور عامر کو کئی نرسریاں چھاننے کے بعد ایک نرسری سے یہ بیل ملی تھی۔ جس کے پھول بھی خوبصورت تھے اور جو بقول نرسری والے کے بانس کی طرح راتوں رات بڑھتی تھی۔۔۔سو ماں کا بیان مکمل ہوتے ہی انھوں نے پھرتی سے گملا اُٹھایا اور لان میں پہنچ گئے۔
دادا ابا دھیرے دھیرے چلتے ہوئے برآمدے میں پڑے موڑھے پر بیٹھ گئے اور لگے حقّہ گڑگڑانے۔۔۔یہ ان کی پرانی عادت تھی کسی مسئلے کا سرا ہاتھ نہ آتا۔۔۔اندر سے پوری طرح''ہاں'' کی آواز سنائی نہ دیتی تو حقے کی گڑگڑاہٹ میں ذہن کے اُبال کو سمونے کی کوشش کرتے۔۔۔اندر کے الاؤ کا حقے کے دھوئیں سے کیا مقابلہ!۔
یہ کوشش ناکام ہونے پر ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے۔
بیل نے دیکھتے ہی دیکھتے اطراف کی دیواروں کو ڈھکنا شروع کر دیا۔ سبھی خوش تھے۔ سیمنٹ اور پتھروں کے کھردرے پن کی جگہ اب سبزے کے ساتھ لال نیلے سفید پھولوں نے لے لی تھی۔ گھر کی
Looks
میں واضح فرق محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔باقی تو سب ٹھیک تھا۔لیکن دادا ابو اور اماں کو بیل کے قریب سے کبھی کبھار ایک ہمک یا باس کا جھونکا سا آتا محسوس ہوتا۔ جو بقول بچوں کے ان کا وہم تھا۔۔البتہ اس بیل کی خوشبو بھی کوئی نہ تھی۔ مگر خوشنمائی اور چمکیلے پتوں کے ہوتے ہوئے خوشبو کا عنصر اتنا اہم نہ رہا تھا۔ ویسے بھی بدن پر مہکتے پرفیومز۔۔۔کمروں میں گھر میں ہر طرف
Airfreshner
کے ہوتے ہوئے پھولوں کی خوشبو کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ بیل مختلف دیواروں کا احاطہ کرتی ہوئی اب سامنے گیٹ کے ساتھ چھت کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔دُور سے یہ گھر۔۔باقی گھروں کی نسبت خاصا مختلف اور خوبصورت دکھائی دینے لگا تھا۔ بچے خوش تھے۔
خرابی اس دن پیدا ہوئی جس دن نماز پڑھتے ہوئے پٹ سے بیل کے پتوں سے ایک سیاہ سانپ نما کیڑا گرا اور اماں بی کے دوپٹے پر رینگنے لگا۔ گھبرا کر انھوں نے نمازتوڑ ڈالی۔ یہ اچھا شگون نہ تھا۔ کیڑے کو گھبرا کر جھٹکا تو وہ تیزی سے رینگتا ہوا پھر بیل میں جا چھپا۔
زندگی میں پہلی بار ان کی نماز میں خلل پڑا تھا۔ جس کا انھیں بے حد قلق تھا۔ دادا ابو نے بیل کو کھنگالنا شروع کیا تو عجیب و غریب انکشافات ہونے لگے۔
دُور سے خوشنما اور چمکیلے دکھائی دینے والے پتوں اور ملائم سفید نیلے پھولوں سے ڈھکی شاخوں پر سانپ نما کیڑے شاخوں کا حصہ بنے چمٹے ہوئے تھے۔ اُن کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی پھیل گئی۔ پوری بیل میں ان کیڑوں کی تعداد نہ جانے کتنی ہو گی۔ جب کہ یہ بیل پورے گھر کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ یہ خیال خاصا کراہت انگیز تھا۔ بلکہ شاخوں کی چمکتی تہوں میں ایک خاص قسم کی سڑاند بھی موجود تھی۔
دادا ابو نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ کہ بیل کو ہٹانا ضروری ہے۔ مالی سے بات بھی کر لی گئی۔ مگر قندیل اور عامر پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ نہیں دادا ابو! یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی بیل نے گھر کی خوبصورتی بنا دی ہے اور آپ اسے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اماں آپ سمجھائیں انھیں ۔۔۔؟ اماں بے چاری اس مرحلے پر عجیب اُلجھن کا شکار ہو گئی۔ کیوں کہ وہ خود زہریلے کیڑوں اور بدبُو سے خوفزدہ تھی۔ آنکھوں دیکھی مکھی کیسے نگل لیتیں۔ مگر اُن کے دلائل بے کار گئے۔
بچوں کا موقف تھا کہ ہر پودے میں کیڑے مکوڑے سبھی کچھ ہوتا ہے اور پھر یہ تو
Foreign plant
ہے۔ ہزاروں قسم کی
Allergies
کے باوجود لوگوں نے لگائے ہوئے ہیں۔ تب اماں بی نے بھی سوچا کہ بات تو ٹھیک ہے اپنے دیسی پودوں ، پھل دار درختوں اور جڑی بوٹیوں میں بھی کیڑے زہر سب کچھ ہوتا ہی ہے۔
دادا ابومُصر تھے کہ خود رَو جنگلی پودوں کی بات اور ہے۔ گھر میں نسبتاً محفوظ پھول پودے لگنے چاہئیں۔ ایک سرد جنگ کی سی کیفیت گھر بھر پر چھا گئی۔ یہاں تک کہ ایک دن عامر کو مالی نے بتایا کہ دیواروں کا سیمنٹ اور رنگ و روغن جگہ جگہ سے تیزی سے خراب ہو کر گر رہا ہے اور یہ ساری کارستانی اس بیل کی ہے جو اپنے خوش نما پتوں اور پھولوں کے جال تلے اپنے نوکیلے کانٹوں اور جڑوں سے سیمنٹ کو چاٹ رہی ہے۔
دادا ابو شد و مد کے ساتھ بیل کے مخالف ہو ئے، اماں بی خاموش تھیں کہ اب مسئلہ گھر کی دیواروں اور چھت کا تھا اور خاصا اہم تھا۔
دادا ابو نے اپنے طور پر چھان بین شروع کر دی پتہ چلا کہ یہ بیل دریا پار والی حویلی سے لائی گئی تھی۔ جہاں ایک لمبا چوڑا گھرانہ آباد ہے۔ ان کی خاصی جاگیر ہے اور مختلف علاقوں سے آ کر یہاں آباد ہو جانے والے ان گھرانوں نے آپس میں رشتے ناتے کر لئے اور ایک خاندان بنا کر اپنے علاقے میں دھاک بٹھا لی۔ ایسی بیلیں وہی تمام نرسریوں کو بھیجتے اور بیچتے ہیں۔ دادا ابو کو سخت غصہ آیا کہ کیسے شرپسند لوگ ہیں جو ایسی زہریلی اور دیواروں کو کھوکھلا کرنے والی بیلوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ ان کی گوشمالی کرنا چاہتے تھے۔ مگر مالی نے سمجھایا کہ بڑے خر دماغ لوگ ہیں کسی کی پروا نہیں کرتے۔ ان کا بس چلے تو پورے شہر کو اپنی حویلی میں ڈال لیں۔
اماں بی بھی خوفزدہ تھیں انھوں نے بھی اِدھر ُادھر سے سنا کہ دریا پار حویلی والے اپنے اور اپنی بیلوں کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ نہ جانے کس طرح اپنے متعلق شکوک ظاہر کرنے والوں کی انھیں خبر ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اس گھر کے افراد میں پھوٹ ڈال دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ آنگن نفرتوں سے بھرتے اور محبتوں سے خالی ہوتے چلے جاتے ہیں حتیٰ کہ سُونے ہو جاتے ہیں۔
قندیل اور عامر ان باتوںکو محض وہم سمجھ کر ٹالتے رہے۔ بلکہ انھوں نے مالی کی بھی سرزنش کر ڈالی کہ وہ اُلٹی سیدھی افواہوں سے گریز کرے۔
لیکن دھیرے دھیرے ان پر بھی کچھ چیزیں عیاں ہونے لگیں۔ گھر میں داخل ہوتے وقت کھانا کھاتے کوئی اہم کام کرتے وقت یا باہر نکلتے وقت کوئی نہ کوئی سیاہ کیڑا سرسراتا ہوا قریب سے گزر جاتا۔ دونوں کے چہروں کا رنگ بدلنے لگتا۔
بے تحاشہ پرفیوم اور
Airfreshner
کے باوجود بھی عجیب سی سڑاند کا کوئی جھونکا گھر میں بارہا آتا محسوس ہوتا وہ گھبرا جاتے۔ کوئی ملنے جلنے والا بیل کی خوش نمائی کو سراہتا تو وہ غور سے اس کی ناک کو دیکھنے لگتے کہ کہیں ناگوار باس کے باعث وہ سکڑ تو نہیں رہی۔
دھیرے دھیرے بیل نہ صرف گھر کی دیواروں اور چھت کو بلکہ ان کی سوچوں اور ذہنوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہر دم ان کے اعصاب پر سوار رہنے لگی۔
اماں بی کو اکثر کئی بار یوں لگتا جیسے بیل پر اُگی ہزاروں آنکھیں انھیں گھور رہی ہیں۔ بعض اوقات محسوس ہوتا کوئی ان کے قدموں کی چاپ بھی سن رہا ہے۔
وہ محتاط اندازسے دبے پاؤں چلنے لگیں۔ ان کی حرکات و سکنات میں قدرتی پن مفقود ہونے لگا۔ خوفزدہ انداز میں نپے تلے کام کرتے کرتے ان کے اعصاب چٹکنے لگے۔ اس احساس کی تشہیر بچوں کے سامنے بے فائدہ تھی۔ سسر سے ہلکا تذکرہ کیا تو وہ چونک گئے۔ ان کی اپنی ذہنی کیفیت بھی یہی تھی۔ بہو کو مزید ہراساں کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے طور پر چپکے چپکے بیل کے پتوں اور شاخوں کی تلاشی لینے لگے۔ جیسے واقعی وہاں کوئی ذی روح بیٹھا اُن کی نگرانی کر رہا ہو۔
اِدھر بیل تھی کہ سیلِ رواں کی طرح بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ گیٹ، دیواریں، چھت، صحن، دالان، گرل، کھڑکیاںسبھی پر وہ گھوم رہی تھی، سرسرا رہی تھی۔ اس کی چمکتی شاخیں فتح کے نشے میںمست گھر کے کونوں کھدروں پر یلغار کیے جا رہی تھیں۔ کچھ شاخیں چھت سے ہو کر عقبی صحن، برآمدے کے ستونوں اورروشن دان کے ذریعے اندرونی چھت پر بھی رینگ آئی تھیں۔
اب قندیل بھی دل سے چاہنے لگی تھی کہ بیل اُکھاڑ دی جائے مگر پورے گھر پر اس کا وجود یوں طاری ہو چکا تھا کہ اس کے بغیر اب گھر کا تصور عجیب سا لگتا تھا۔
اگر بیل اُکھاڑ دی گئی تو جا بجا کھرونچوں سے اُکھڑا سیمنٹ اور رنگ و روغن کتنا برا لگے گا۔ دوسری کوئی بیل بڑھنے میں جانے کتنی مدت لے۔ ہو سکتا ہے وہ بھی دیواروں اور چھتوں کو خراب کرے۔ کیڑے اور باس اس کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔
ڈھیروں تاویلیں، دلائل۔۔۔قافلہ در قافلہ ان کی سوچوں کو آباد کرتے اور گزر جاتے۔ کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ آخر کئی دوسرے گھروں میں بھی یہ بیل تھی۔ وہاں بھی تو ایسے مسائل ہوں گے۔ عامر سوچتا ''شاید ہم لوگ کچھ زیادہ وہمی اور
Security Conscious
ہو گئے ہیں؟''
مگر اماں بی اب بضد تھیں کہ اس بیل کے ساتھ ضرور کوئی نہ کوئی ناقابلِ قبول اور نقصان دہ بات جُڑی ہے۔
دادا ابو اِسے اُکھاڑ پھینکنے کی تیاریوں میں تھے، مگر اب مالی ٹال مٹول کر رہا تھا۔ زہریلے کیڑوں سے بھری کئی سو فٹ پر پھیلی بدبودار بیل کو اُکھاڑنے سے وہ خود ڈر رہا تھا۔ وہ یہ کام کسی اور سے کروانا چاہتا تھا مگر جو بھی آ کر بیل کے حجم اور اس کے کیڑوں کو دیکھتا، غائب ہو جاتا اور مڑ کر نہ آتا۔
رفتہ رفتہ اِن چاروں کو پریشانی لاحق ہونے لگی کہ جلد از جلد منڈھے چڑھ جانے والی اس بیل کو اب اُتارا کیسے جائے؟۔
پودوں کے کیڑوں کے کئی ماہرین کو بلایا گیا۔ کسی نے کہا کہ بیل کو جڑ سے کاٹ دیں۔ شاخیں پتے خود مر جائیں گے، مگر جڑ کو کون کاٹے۔ کیڑے مار سپرے کا بھی مشورہ ہوا، لیکن سارے کیڑے ایک دم کیوں کر مریں گے۔ ادھ موئے ہو کر بھاگیں گے تو گھر پر دھاوا بول دیں گے۔ الماریوں، بکسوں اور کونوں کھدروں میں جا چھپے تو کتنے دن مسئلہ رہے گا؟ کہاں کہاں ڈوھونڈیں گے انھیں۔ ویسے بھی پچھلے دنوں دادا ابو نے کچھ کیڑوں کو جب کچلا تھا تو برآمدے کے فرش پر ایسے بدنما دھبے پڑ گئے تھے کہ بار بار رگڑنے دھونے سے بھی وہ نشان مٹے نہیں بلکہ فرش کا وہ حصہ دھبوں کے باعث میلا میلا سا نظر آنے لگا تھا۔ محض ایک زہریلی بدبودار بیل کے باعث۔
وہ چاروں کبھی مل بیٹھ کر، کبھی الگ الگ اپنے اپنے طور پر دن رات اسی اُدھیڑ بُن میں تھے کہ کیا کریں اچانک عامر کو ایک انوکھاخیال سوجھا۔ اس نے نوک پلک سنوار کر اسے سب کے سامنے پیش کر دیا۔
پہلے پہل تو دادا ابو، اماں بی اور قندیل اسے دیوانے کا خواب سمجھے۔ ناقابلِ عمل۔۔۔مگر جوں جوں غور کرتے گئے ۔ توں توں گرہیں کھلتی گئیں۔
اگلے دن گھر کے باہر دادا ابو اور عامر کی نگرانی میں مٹی کے تیل کے کئی کنستر ایک جانب دھرے تھے اور دوسری جانب فائر بریگیڈ کا چوکس عملہ تیار کھڑا تھا۔ دور فاصلے پر کار میں بیٹھی ورد کرتی اماں بی سوچ رہی تھیں کہ اپنے ہاتھوں لگائی بدبودار بیلوں اور ان کے زہریلے کیڑوں کے خاتمے کے لئے اپنے ارد گرد آگ کبھی کبھار خود ہی لگانی پڑتی ہے۔

 
 
09
November

تحریر ۔ طاہرہ حبیب جالب

''تعلیم'' یہ انسان میں شعور پیدا کرتی ہے اس کی بدولت ہی انسان اچھے بُرے کی تمیز کرسکتا ہے یعنی تعلیم ہی بنیادی مسائل کا حل ہے۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کررہا ہے۔ ظاہری طور پر پاکستان میں دو تعلیمی نظام ہیں۔ اُردو میڈیم جو سرکاری سکولوں یا گلی محلوں کے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے جس میں اُردو مضامین اور اسلامیات کو اہمیت دی جاتی ہے ان سکولوں میں غریبوں کے بچے ہی پڑھتے ہیں اور طلباء کو رٹا سسٹم پر لگایا جاتا ہے۔ ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں میں سے بیشتر کے لئے انگریزی زبان ہمیشہ خوفناک جن یا آفت ہی رہتی ہے۔دوسری قسم انگلش میڈیم سکولوں کی ہے۔ان سکولوں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں ان میں صرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ایلیٹ کلاس کی اولادیں ہی پڑھ سکتی ہیں۔ غریب ان سکولز کے پاس سے صرف گزر ہی سکتے ہیں۔ سفید پوش طبقے کی جیب پر ان سکول کی فیسیں صرف بجلی گرانے اور صفایا کرنے کا ہی کام کرسکتی ہیں۔ ان سکولز میں اسلامی مضامین یا اُردو کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور اُردو ہمیشہ ان سکولز کے طلباء کے لئے مسئلہ بنی رہتی ہے۔ سکولوں کی ایک اور قسم بھی پاکستان میں رائج ہے وہ دینی مدارس ہیں۔مدارس کو نظام کے بجائے سب سسٹم کہنا زیادہ بہتر ہوگا جن میں اسلامی مضامین کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ انگلش، کمپیوٹر، سائنس اور سائنسی مضامین کو یکسر نظر انداز نہ سہی مگر توجہ کم ہی دی جاتی ہے۔یعنی دنیاوی علوم کو بھی شامل نصاب کرنا لازم ہوتا ہے اور جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ان مدارس کی آڑ میں شدت پسندی کو فروغ بھی دیا جاتا ہے۔

majodatleeminizam.jpg
یہ تین طبقاتی تعلیمی نظام ملک اور انسانیت کی کوئی خدمت نہیں کررہے بلکہ نوجوان نسل اور ملک کے مستقبل کے معماروں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں جس کی وجہ سے بیرون ملک ہمارے اداروں کی ڈگریوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور طلباء کو دوبارہ اپ گریڈیشن کی ضرورت پڑتی ہے۔


پاکستان میں نظام تعلیم کی زبوں حالی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے سب سے پہلی حکومتی لاپروائی، غیر حقیقی منصوبہ بندی اور ملک کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات ہیں۔ اُردو ، انگریزی میڈیم میں تقسیم بھی اس زمرے میں آتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ تمام اُردو میڈیم یا دوسرے الفاظ میں سرکاری اداروں میں تعلیم کا معیار بہت کم ہے اور تمام انگلش میڈیم یا پرائیویٹ اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ بڑے شہروں میں پرائیویٹ سکول اپنی کارکردگی بہترین دکھاتے پائے جائیں گے مگر ان سکولز کو چھوٹے شہروں میں دیکھا جائے تو اکثر کی حالت سرکاری سکول جیسی ہی ہوتی ہے۔ دراصل پاکستان میں سکول سسٹمز ایک کاروبار بن چکا ہے جس کے پاس کچھ پیسہ اکٹھا ہوا وہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کا سوچنے لگتا ہے ذرا سوچئے کہ جب کاروباری ذہنیت کے لوگ اس میدان کے کرتا دھرتا ہوں تو معیاری تعلیم کی توقع فضول ہے۔ دیہاتوں کے سکولوں کی زبوں حالی کا تو جواب ہی نہیں ہے بمشکل 20سے 25 بچے ایسے نکلتے ہوںگے جو پڑھائی جاری رکھ سکتے ہوں گے باقی بچے معاشی مجبوریوں کے تحت اسی عمر میں کھیتوں میں، یا پھر کسی نجی ادارے میں، کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ پرائمری سکولوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ آج بھی وہاں بچے ٹاٹ پر پڑھ رہے ہیں جیسا کہ آج سے 20 سال پہلے دیکھا جاسکتا تھا۔ اس وقت بھی بچے ماسٹر کے گھر کا سودا سلف لا رہے ہوتے تھے اور آج بھی یہ روایت قائم ہے۔ کل بھی بچے ماسٹرکے لئے مکھن ، لسی لاتے تھے اور آج بھی لارہے ہیں۔اس وقت بھی بچے سکول سے بھاگ کر کھیلنے کودنے کیلئے کھیتوں میں چلے جاتے تھے آج بھی وہی صورت حال ہے۔ دوران کلاس اُستاد سگریٹ نوشی سے بھی اجتناب نہیں کرتے اور اپنے لباس کی صفائی کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی کہ اُستاد ''رول ماڈل'' ہوا کرتے ہیں۔سرکاری سکولز میں بچوں کی یونیفارم اور ظاہری حالت پر توجہ نہیں دی جاتی۔ وہی نیلی شلوار قمیض یا سفید شرٹ، خاکی پینٹ۔
سکول انتظامیہ یونیفارم پر زور دے دیتی ہے مگر اکثر یونیفارم کی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ غیر استری شدہ لباس، بچوں کے ناخن، بال اور جوتوں کی صفائی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ زور دیا جاتا ہے تو صرف اس بات پر کہ سبق یاد کرو اور سبق بھی وہی جو کتاب میں لکھا ہے اگر ایک لفظ بھی ادھر سے اُدھر ہوگیا تو خاطر تواضع حاضر۔۔۔۔۔


اس کلچر کے زیر اثر ہم ایسے ذہنوں کی تربیت کررہے ہیں جو لکیر کے فقیر بنے رہتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی کام ہونا چاہئے یہی ان کی شخصیت اور کردار میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ بچے پڑھ لکھ تو جائیں گے مگر نظم و ضبط اور متوازن شخصیت کے بغیر ''پڑھے لکھے ان پڑھ'' بن جائیں گے۔ اس میں کسی حد تک اساتذہ کرام کی آمدنی کا بھی تعلق ہے جوکہ تنخواہوں کی صورت میں بہت کم ہے۔ اس وجہ سے وہ بچوں کو الگ سے ٹیوشن پڑھانے پر زور دیتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی بہت کم ہوتی ہے اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مجھ سے ٹیوشن پڑھو۔ آج کے دور میں الگ سے ٹیوشن پڑھانا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے بلکہ اس کام کے لئے باقاعدہ اکیڈیمیز تشکیل پاچکی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ آج کے دور میں تعلیمی ادارے منافع بخش کاروبار ہیں۔ ہم تعلیمی نظام کو ایک صورت میں بہتر بنا سکتے ہیں کہ حکومت اپنی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ کو سرِ فہرست رکھے۔ اس کے لئے نہ صرف مناسب بجٹ رکھا جائے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ بجٹ کا مناسب اور صحیح جگہ پر استعمال بھی کیا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بجٹ یعنی وسائل کے باوجود محکمہ تعلیم کے افسران اور ملازمین کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بہت سے سکولوں، کالجوں کی عمارتوں، کلاس رومز، فنی تربیت کی تجربہ گاہوں اور سپورٹس گرائونڈ کا بُرا حال ہوتا ہے۔ اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کا صحیح استعمال بھی یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔اگر استاد کی بنیادی ضرویات کو پورا کیا جائے گا تو وہ طلبہ کی تعلیمی ضرورتوں کا خیال رکھے گا۔ اسی طرح طالب علموں کی معیاری اور مفت تعلیم ہونی چاہئے۔ اس کے لئے نصاب میں بھی ردوبدل ضروری ہے۔


حکومت کو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔اگر ممکن ہو تو ایسے سکولوں کا اجراء کیا جائے جہاں طلباء اور طالبات کومیٹرک تک تعلیم مکمل طور پرمفت دی جائے۔ اس طرح غربت کا شکار عوام کو تعلیمی سہولتوں سے آراستہ کیا جاسکتا ہے ۔ اگر پرائمری تک مخلوط تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں تو کم از کم اداروں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ طلباء و طالبات کو تعلیمی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کو گروس نیشنل پروڈکٹ کا نمایاں حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ دیگر ممالک مثلاً بنگلہ دیش میں کم از کم گروس نیشنل پروڈکٹ کا 2.2% ، بھارت میں 3-3% اور نیپال میں 3-2% خرچ ہوتا ہے۔لہٰذا پاکستان کو بھی گروس نیشنل پروڈکٹ کا 4% تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا تاکہ تعلیمی مسائل حل ہوسکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
November

تحریر: مجاہد بریلوی

صوفی غلام مصطفٰی تبسّم معروف اصطلاح میں قطعی صوفی نہ تھے مگر ان کی شخصیت سراپا صوفیانہ و درویشانہ تھی۔ مولانا چراغ حسن حسرت کی طرح رندِ بلانوش تو نہ تھے مگر مَے و مینا سے آشنائی ضرور تھی اور اس کا سبب وہ محفل آرائیاں تھیں کہ جن کے بغیر اُن کی شامیں مکمل نہ ہوتیں۔ صوفی غلام مصطفٰی تبسّم اس پائے کے عالم اور استاد تھے کہ حفیظ ہوشیار پوری تک انہیں جگت استاد کہا کرتے تھے۔ بقول ممتاز نقاد مظفر علی سید محض لاہور اور امرتسر ہی نہیں پورے بر صغیر بلکہ چہار جہان میں ان کے شاگرد پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ سڑک پر دو قدم چلنا دوبھر ہو جاتا۔ہر کس و بے کس کے سلام کا مفصل جواب دینے رک جاتے تھے ''کیسے ہو؟ آج کل کہاں ہو؟ کیا کرتے ہو؟ گھر پر ضرور آنا''۔اور یہ بات صوفی صاحب صرف زبانی اور کلامی نہ کرتے۔ شاید ہی کوئی ایسا ہو جو یہ سن کر نہ آتا ہو بلکہ دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ''فلاں سیکریٹری یا جج صاحب کے پاس کاغذات رکے ہوئے ہیں آپ زحمت کریں تو عزت رہ جائے گی۔ سواری موجود ہے ابھی آدھے گھنٹے میں واپس آ جائیں گے''۔ اپنے وطن امرتسر کے کسی سائل کو تو وہ ٹال ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن دہلی سے علی گڑھ بلکہ کلکتے تک کے حاجت مندان کے لئے محترم تھے۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم مشرقی پنجاب کے مردم خیز شہر امرتسر میں 1899 میں پیدا ہوئے۔ بچپن اور جوانی امرتسر میں گزاری مگر زندگی بھر امرتسر سے نہیں نکل سکے۔ اردو اور فارسی کے گورنمنٹ کالج میں لیکچرار ہوئے اور پھر ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔( شاگردوں کی فوج ظفر موج کی… جب وہ 1948 سے 1954تک گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ اردو فارسی کی صدارت پر فائز رہے… ان سے خصوصی رغبت تھی) فیض صاحب بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔ اس سلسلے میں فیض صاحب کے بارے میں صوفی صاحب نے ایک بڑا دلچسپ واقعہ کہیں لکھا کہ گورنمنٹ کالج امرتسر میں امتحانات کے دوران جب وہ کلاس روم میں پہنچے تو ایک خوبرُو گھنے بالوں والا نوجوان، کبھی قلم سے ایک دو لائنیں لکھتا کبھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتا۔ صوفی صاحب نے قریب جا کر پوچھا ''بھئی کیا پریشانی ہے؟'' نوجوان فیض نے قمیض کی جیب سے سگریٹ کی ڈبیا اور ماچس نکال کر دکھائی۔ صوفی صاحب سمجھ گئے کہ سگریٹ کی شدید طلب قلم کی روانی میں رکاوٹ ہے۔ اجازت ملتے ہی فیض صاحب نے ادھر چند کش لئے نہیں کہ قلم رواں ہو گیا۔

sufisahab.jpg
فیض صاحب کی مے نوشی کے بھی بڑے چرچے ہم نے سنے ہیں مگر اصل میں وہ بلا کے سگریٹ نوش تھے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ سن لیں۔ اپنے انتقال سے کچھ ماہ پہلے کراچی میں بیگم مجید ملک کے گھر میں جہاں ان کا مستقل قیام رہتا پاس بیٹھے ایک بقراط نے سگریٹ نوشی کے نقصانات پر فیض صاحب کے سامنے تقریر شروع کر دی۔ یہی نہیں بلکہ جیب سے کیلکولیٹر نکال کر فرمانے لگے ''غالباََ آپ پچاس سال سے سگریٹ پی ہی رہے ہوں گے''۔ ایک لمبی 'ہوں' میں فیض صاحب نے جواب دیا۔ جس کا مطلب تھا 'جی ہاں'۔ اب موصوف فرماتے ہیں ''فیض صاحب آپ ایک دو پیکٹ تو ضرورپیتے ہوں گے۔ پچاس سال پہلے ایک سگریٹ کا پیکٹ آٹھ آنے کا ہوگا۔ چالیس سال پہلے ایک روپے کا۔ تیس سال پہلے 5 روپے کا۔ بیس سال پہلے 10روپے کا۔ اِن دنوں جو آپ سگریٹ پی رہے ہیں پچیس روپے کا تو ضرور ہوگا''۔ یہ کہہ کر ضرب جمع کر کے بتایاکہ آپ 18لاکھ 74ہزار6 سو42روپے کے سگریٹ پی چکے ہیں۔ بقراط صاحب فرمانے لگے ''اگر آج آپ کے پاس اتنی خطیر رقم ہوتی تو آپ اس کا کیا کرتے؟'' حسب معمول فیض صاحب نے ایک لمبی 'ہوں' کے ساتھ جواب دیا ''بھئی سگریٹ ہی پیتے۔


صوفی صاحب کے انتقال کے بعد فیض صاحب اکثر محفلوں میں کہا کرتے ''بھئی غزل کہتے ہوئے کبھی زبان اور عروض کا مسئلہ آجاتا تو ڈاکٹر تا ثیر رہے نہ صوفی صاحب اس لئے اکثر غزل مکمل ہونے کے بعد شرمندگی رہتی ہے۔ اگر ان اساتذہ کی نظر سے گزر جاتی تو اطمینان ہوتا''۔ جی ہاں 21ویں صدی کے عظیم شاعر کی نظر میں یہ مقام تھا استاذی صوفی غلام مصطفٰی تبسّم کا۔ جو لوگ صوفی صاحب کی شخصیت سے پوری طرح واقف نہیں تھے وہ انہیں بڑا رنگین مزاج آدمی سمجھتے جو نوجوانوں کو اپنی محفلوں میں بٹھا کر گمراہ کرنے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ پطرس بخاری سے منسوب یہ شعر اُن دنوں لاہور میں بڑا مشہور ہوا
رات کو رند صبح کو صوفی
یہ تبسّم عجیب انساں ہے


صوفی صاحب کو کھانے سے زیادہ کھلانے کا شوق تھا۔ خاص طور میں امرتسری کُلچہ اُن کی کمزوری تھا۔ امرتسر میں اپنی نوجوانی کے زمانے میں باقاعدہ اپنے ہاتھ سے کُلچے لگاتے۔ سہ پہر سے رات تک جو بھی مہمان آتا اس کی تواضع کشمیری چائے کے ساتھ امرتسری کُلچے سے ضرور ہوتی۔ ساتھ میں مربہ اور مکھن تو ضرور ہوتا۔ صوفی صاحب کی شخصیت کا جو سارا سراپا میں نے اب تک کھینچا ہے اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اُن کا سارا وقت محفل آرائیوں اور جگت بازی میں گزرتا تھا۔ خود صوفی صاحب ایک مستندشاعر تھے اور 1965 کی جنگ میں تو ان کا یہ عالم تھاکہ لاہور کے ریڈیو اسٹیشن پر آکر بیٹھ جاتے اور ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ سازینے ادھر دھن بنا ہی رہے ہوتے کہ مصرعے زبان پر آنا شروع ہو جاتے۔ صوفی صاحب کا یہ جنگی ترانہ''اے پتر ہٹاں تے نیں وکدے'' ''میریا ڈھول سپاہیا'' ''میرا ماہی چھیل چھبیلا،کرنیل نی جرنیل نی'' نے تو بڑی شہرت پائی۔ ہمارے فوجی جوان محاذِ جنگ پر خندقوں میں بیٹھے فرصت کے لمحوں میں اسے جھوم جھوم کر گنگنا رہے ہوتے اور پھر فریدہ خانم کی گائیکی نے تو صوفی صاحب کی اس غزل کو امر بنا دیا ۔
وہ مجھ سے ہوئے ہم کلا م اللہ اللہ
کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ


فیض صاحب بڑے شاعر تو تھے ہی مگر ایک تو راولپنڈی سازش کیس ، لینن پیس پرائز اورتیسرے اُن کی شخصیت کی محبوبیت نے بھی انہیں عالمی شہرت دی۔ ایک اور سبب ''کلاس'' کا بھی تھا کہ ہماری اشرافیہ نے بھی انہیں سنوارا بھی اور سنبھالا بھی۔ مگر صوفی صاحب ایک درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی درویشانہ بودوباش کے سبب افسوس اس طرح یاد نہیں کئے جاتے کہ جس کے وہ مستحق تھے۔


چراغِ زندگی ہو گا فروزاں، ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں، ہم نہیں ہوں گے
اگر ماضی منور تھا کبھی، تو ہم نہ تھے حاضر
جو مستقبل کبھی ہو گا درخشاں، ہم نہیں ہوں گے

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
November
پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام دوسر ے بین الاقوامی ناٹیکل مقابلوں کا انعقاد
گزشتہ دنوں پاک بحریہ کے زیر اہتمام پاکستان نیول اکیڈمی میں دوسرے بین الاقوامی ناٹیکل مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ان تین روزہ مقابلوں میں چین، سری لنکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان نیول اکیڈمی اور پاکستا ن میرینز اکیڈمی کی چھ ٹیموں نے حصہ لیا۔ یہ ایونٹ نیول فزیکل ٹریننگ اینڈ سپورٹس کمپلیکس پی این ایس کارساز کی مختلف کیٹیگریزمیں منعقد ہونے والے تیراکی، لائف سیونگ ، کراچی بندرگاہ پر ہونے والے سی مین شپ اور کشتی رانی کے مقابلوں پر مشتمل تھا۔ چین کی نیول اکیڈمی کی ٹیم نے پورے ایونٹ کے دوران نہایت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اورچار گولڈ،دوسلوراور ایک برائونز میڈلز کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ سری لنکا کی ٹیم ایک گولڈ اور چار سلورمیڈلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ تقریب کے اختتام پرمہمانِ خصوصی کمانڈر کراچی رئیر ایڈمرل اطہر مختار نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں میں ٹرافیاں اور انعامات بھی تقسیم کئے۔

newspaknavykzer.jpg

09
November
پاکستان رینجرز (سندھ) انٹر سیکٹر ہاکی چیمپیئن شپ
گزشتہ دنوںپاکستان رینجرز (سندھ) انٹر سیکٹر ہاکی چیمپیئن شپ کی اختتامی تقریب کا انعقادکے۔ ایچ۔ اے سٹیڈیم گلشن اقبال کراچی میں ہوا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈی جی رینجرز (سندھ )میجر جنرل محمد سعیدتھے۔ فائنل میچ سچل رینجرز اور قاسم رینجرز کی ٹیموں کے مابین کھیلا گیاجس میں سچل رینجرز کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی ۔ مہمانِ خصوصی نے میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں میں میڈلز اور ٹرافیاں تقسیم کیں اور کیش انعامات بھی دیئے۔

newspkrangersind.jpg 

ایف سی این اے کا سکردو میں فری میڈیکل کیمپ

گزشتہ دنوں ایف سی این اے کی جانب سے مچلو ہوشے ویلی ضلع گانچھے
Machlu Hushey Valley District Ghanche
سکردو میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مقامی لوگوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور ادویات فراہم کی گئی۔ اس کیمپ کے قیام کا مقصد ہیڈکوارٹرز ایف سی این اے کی جانب سے گلگت بلتستان کے دور افتادہ بسنے والے لوگوں کو اُن کے علاقے میں طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

newsfcna.jpg

08
November
نوجوانوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے بچاؤ کے لئے آگہی مہم

رپورٹ: لیفٹیننٹ کرنل فا روق فیروز

نوnewnojwanoka.jpgجوان نسل کسی بھی معاشرے اور ملک کا قیمتی اثا ثہ ہوتی ہے۔پاکستانی نوجوان نسل بھی ملک کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔جس نے ملک کے وقار اور عزت کو دوام بخشنے کے لئے جو خدما ت انجام دی ہیں وہ انمٹ ہیں۔جن نو جوانو ں اور بچوں نے دنیا بھر میں پا کستان کانا م روشن کیا ہے ان کی ایک طویل فہرست ہے۔ بدقسمتی سے انتہا پسندی کی ایک لہر نے پوری دنیا کو طویل عرصے سے گھیر رکھا ہے۔اس نے بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پا کستا نی تعلیمی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔جس کی وجہ سے کچھ عرصہ سے ایسے کیسزمنظر عام پر آرہے ہیں کہ طلباء و طالبات دہشت گردوں سے تربیت لے کر ملک وقوم کے خلاف استعمال کئے جا رہے ہیں۔
اس تناظر میں چیف آ ف آرمی سٹا ف جنرل قمرجاوید باجوہ نے خصو صی اقدامات کا آغا ز کیا ہے تا کہ نو جوا ن نسل کو گمرا ہی سے بچا کر ان کو حقائق کی دنیا سے روشناس کرایا جا سکے ۔
کمانڈر 10 کور نے چیف آف آرمی سٹا ف کی ہدایا ت کی روشنی میں 10کو رکے تحت فو جی فا رمیشنز کو اپنے اپنے علاقے کے سکو لو ں اور کالجوں کے طلباء و طالبا ت کو فو جی مصروفیا ت سے آ گا ہ کرنے،انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ناسور سے بچنے کے لئے تعلیم اور تفریح کے ذرا ئع فراہم کر نے کے لئے خصوصی اقداما ت کی ہدایات دی ہیں۔


اسی سلسلے میں جنرل کما نڈنگ آ فیسر 12 ڈویژن میجر جنرل اظہر عبا س نے مظفر آباد میں آزاد جمو ں وکشمیریو نیورسٹی کا دورہ کیا۔ انہوں نے نو جوانو ں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کی صلا حیتو ں پر پو را یقین ہے۔ وہ خود پر بھروسہ رکھیں۔ جنرل کما نڈنگ آفیسر نے نو جوان طلباء و طالبا ت سے کہا کہ سوشل میڈیا پر بیانات سے محتاط رہیں۔پڑھے لکھے نو جوان داعش اور اس سے منسلک تنظیمو ں کا ہدف ہیں ۔
23 ڈویثر ن کے علاقہ ڈونگی میں طلباء و طا لبات کو 3 اے کے بریگیڈ کے زیر اہتمام لائٹ کما نڈوز بٹا لین نے عملی تر بیت کا مظا ہرہ پیش کیا۔جس میں بتا یا گیا کہ اگر آپ پر ناگہانی آفت آجاتی ہے تو ان حا لا ت میں آپ کیسے مقا بلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردو ں سے مقا بلہ کرنے کے لئے ان کے جذبے کو ابھارااور فوجی سر گر میوں کے با رے میںآگاہ کیا۔


حا ل ہی میں 66 بر یگیڈ کے افسران نے رنگڑا سکول کا دورہ کیا جس میں بچو ں کو بتا یا گیا کہ آپ پا کستان کے مستقبل کا سر مایہ ہیںاور دہشت گردی کا خوف ذہن میں نہ رکھیں ۔یہ دشمن ہما ری قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ہمیں اس بزدل دشمن کا مقابلہ کرنا ہے اوردشمن کو شکست دے کر ملک کو ترقی کی راہ پر گا مزن رکھنا ہے ۔


اسی حوالے سے4 اے کے بریگیڈ 649کی مجا ہد بٹا لین کے کمانڈنگ آفیسر نے بھمبر کے ڈگری کالج کا دورہ کیا۔جس میں انہوں نے طلباء و طالبات سے خطاب کیا اور آئے دن ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں بتایا۔انہوں نے کہا کہ ہماری نو جوان نسل با ہمت اور جرأت مند ہے اورہر آفت کا مقا بلہ کرنے کے لئے پر عزم ہے اور طلباء وطالبات کو یقین دلایا کہ پا ک فوج انہیں محفو ظ اور مستحکم پاکستان فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے اور پاک فو ج اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی بھر پور صلا حیت رکھتی ہے


بھمبر کے ہا ئیرسکینڈری سکول کے طلباء کو ہتھیاروں کا استعمال بتایا گیا اور ان کو فا ئر کرنا بھی سکھا یا گیا۔اس کے علاوہ ہتھیاروں کو کھولنے اور بند کرنے کے طریقے بھی بتا ئے گئے۔طلباء نے خود فا ئر کئے۔ تقریب کے اختتام پر طلباء کوفو جی سرگرمیوں کے بارے میں بتا یاگیا۔ اس کے علاوہ آئے دن ہونے والی دہشت گردی کے متعلق بتایا گیاکہ ان حالات میں محتاط رہیںکہ نو جوان ہی ان لو گو ں کا ہدف ہیں۔
علاوہ ازیںبریگیڈیر نیر نصیر نے شمالی علاقہ جات کے طلباء و طا لبا ت کی راہنمائی کے سلسلے میں خپلو پبلک سکول اور کا لج کا دورہ کیا ۔ جہا ں انھو ں نے طلباء و طا لبات سے خطاب کے دوران انہیںاپنے گردو پیش سے با خبر رہنے اور اپنی توانائیاں ملک و قو م کی خدمت کے لئے وقف کر نے پر زورد یا۔

08
November
ینگ آفیسرز اسالٹ کورس کمپی ٹیشن 2017
گزشتہ دنوں بہاولپور کور ینگ آفیسرز اسالٹ کورس کمپیٹیشن 2017ء کا انعقادہوا۔ کمانڈر بہاولپور کور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن نے تقریب میں شرکت کی اور مقابلوں کا معائنہ کیا۔ کور کمانڈر نے مقابلے میںحصہ لینے والے ینگ آفیسرز کے تربیتی معیار کو سراہا اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ پیش کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newsyounoffivers.jpg

08
November
انٹر فارمیشن پیرا میٹ کمپی ٹیشن ۔منگلاکور
گزشتہ دنوں کمانڈر منگلا کورلیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی نے موہری رینج کھاریاں پر ہونے والے انٹر فارمیشن پیرا میٹ کمپیٹیشن کے موقع پر موہری رینج کا دورہ کیا۔ ان فائرنگ مقابلوں میں منگلا کور کی تمام فارمیشنوں کے جوانوں نے شرکت کی۔ مقابلوں میں رائفل جی تھری،ایس ایم جی ، ایل ایم جی، اور سنائپر رائفل کا استعمال ہوا۔ کمانڈر منگلا کور نے جوانوں کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور مقابلے میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے ۔

newsinterformation.jpg

08
November
کمانڈر گوجرانوالہ کور کا ظفروال میں تربیتی مشقوں کا معائنہ
گزشتہ دنوں کمانڈر گوجرانوالہ کورلیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق نے ظفروال میں جاری تربیتی مشقوں کا دورہ کیا۔ ٹریننگ ایریا میں پہنچنے پر کور کمانڈر کو مشقوں کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کے بارے میں بریف کیا گیا۔بعد ازاں زیر تربیت سپاہ نے متاثر کن مظاہروں کے ذریعے حاصل کردہ تربیت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔کور کمانڈر نے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز کے دفاع کے لئے جدید ،پیشہ ورانہ، روائتی اور غیر روائتی تربیت کا حصول بے حد اہمیت کا حامل ہے ۔ کور کمانڈر نے مشقوں کے انعقاد اور تربیت کے معیار کو بھی سراہا۔

newscomangujcoreabn.jpg 

کمانڈر کراچی کور کا حیدر آباد گیریژن کا دورہ

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے حیدرآباد گیریژن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گیریژن میں نئے قائم کردہ
Iqbal Sports Arena
کا افتتاح کیا۔ کور کمانڈر کو وہاں فراہم کردہ کھیلوں کی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ دریں اثناء کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے حیدر آباد گیریژن میں واقع
Desert Hawk Boys Hostel
کے دورے کے دوران اساتذہ اور طلباء سے ملاقات بھی کی۔

newscomangujcore1a.jpg 

08
November
ایک دن پاک فوج کے ساتھ
گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد 'ایک دن پاک فوج کے ساتھ' پروگرام کے تحت نوجوان طلباء و طالبات کو عسکری سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور وطن عزیز کے ساتھ جذبۂ حب الوطنی کو اُجاگر کرنا تھا۔ اس دوران طلباء و طالبات نے جنگی سازوسامان دیکھا اور مختلف ہتھیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ طالب علموں نے عسکری زندگی اور جنگی سازوسامان میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔

newsaikdinpkfoj.jpg

08
November
چیف آف نیول سٹاف کا جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے ایڈمرل ظفر محمود عباسی کو پاکستان نیوی کا نیا سربراہ تعینات ہونے پر مبارکباد دی۔ جنرل زبیر محمود حیات نے پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور
Maritime
سمندری سکیورٹی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ادا کئے گئے کردار کو بھی سراہا۔

newschefofnevalmeet.jpg

کمانڈر پشاور کورکا دورۂ شمالی و جنوبی وزیرستان ایجنسی اور ڈیرہ اسماعیل خان

گزشتہ دنوں کمانڈرپشاور کورلیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے جنوبی وزیرستان ایجنسی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔انہیں علاقے کی سکیورٹی کی صورتحال، باڈرپر باڑلگانے کے عمل، آپریشنل تیاریوں،بارڈرسکیورٹی کے لئے اضافی اقدامات اور علاقے میں ترقیاتی کاموں پر پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔کور کمانڈر نے اس موقع پر جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں ذوالقرنین شہید کے نام سے منسوب قلعہ اور تحصیل ہیڈکوارٹر مکین کا افتتاح کیا۔انہوں نے لدھا ہائی سکول کا بھی دورہ کیا۔دریں اثنا کور کمانڈر شمالی وزیرستان میں اگلے مورچوں پر تعینات جوانوں سے ملے اور ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا۔ کورکمانڈر نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہیڈکواٹر ایف سی سائوتھ کی نئی تعمیر ہونے والی عمارت کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔

newscomandpeshwarcore.jpg

08
November

2017 پچیسویں میکانائزڈ ڈویژن انٹر یونٹ ایتھلیٹکس کمپیٹیشن

newstwntyfive.jpg

گزشتہ دنوں 25 میکانائزڈ ڈویژن انٹر یونٹ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2017 کا انعقاد ہوا۔ اختتامی تقریب کے مہمانانِ خصوصی جی او سی 25 میکانائزڈ ڈویژن میجر جنرل زاہد محمود اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور تھے۔ اس مقابلے میں 25 میکانائزڈ ڈویژن کی 22 ٹیموں نے حصہ لیا۔ 87 ایس پی میڈیم رجمنٹ آرٹلری مقابلے کی فاتح ٹیم قرار پائی۔ جبکہ 23 ایس اینڈ ٹی بٹالین دوسرے نمبر پر رہی۔ تقریب کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔
08
November
کمانڈر لاہور کور کی کیپٹن محمد الحسنین شہید کے والدین سے تعزیت

گزشتہ دنوںکمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے ننکانہ صاحب میں کیپٹن محمد الحسنین شہید کے والدین سے تعزیت کی اور فاتحہ پڑھی۔اُنھوں نے شہید کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے قبر پر پھول بھی چڑھائے۔ اس مو قع پر شہید کے والدین کے علاوہ عزیز واقارب بھی موجود تھے۔

کیپٹن محمد الحسنین شہید گزشتہ دِنوں غیر ملکی باشندوں کے اغوا میں ملوث گروہ کی تلاش میں تھے کہ کرم ایجنسی کے قریب خرلاچی کے مقام پر دہشت گردوںکی جانب سے کئے گئے دھماکے میں جامِ شہادت نوش کر گئے ۔

کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا کہ دہشت گردی کی اِس جنگ میں فوج اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اُنھوں نے اِس عزم کو دُہرایا کہ فوج اور عوام مل کر شرپسندوں کواُن کے انجام تک پہنچا ئیں گے۔

newscomanderrwpcore.jpg 

انٹر سروسز سیلنگ چیمپیئن شپ2017
گزشتہ دنوںانٹر سروسز سیلنگ چیمپیئن شپ2017جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز کے زیرِ انتظام پاکستان نیوی اکیوٹک کلب ڈاک یارڈ میں منعقد ہوئی۔چیمپیئن شپ کے دوران انٹر پرائز کلاس ، 470کلاس ، لیزر ریڈئیل کلاس، لیزر سٹینڈرڈ کلاس ، آر ایس ایکس کلاس، مسٹرال کلاس اور ایل16-کلاس کے مقابلے منعقد ہوئے جن میں تینوںمسلح افواج کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاک بحریہ کی ٹیموں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سونے کے سات تمغے حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ پاک فضائیہ نے چاندی کے سات تمغوں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اختتامی تقریب کے موقع پر مہمانِ خصوصی کمانڈر کراچی ریئر ایڈمرل اطہر مختار نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newscomanderrwpcore1.jpg

08
November
چیف آف آرمی سٹاف کی نائب صوبیدار محمد ندیم شہید کے اہلِ خانہ سے تعزیت
گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نائب صوبیدار محمد ندیم شہید کے اہلِ خانہ سے گائوں چاہ گانجا جہلم میں اُن کے گھر جا کر تعزیت کی۔ نائب صوبیدار محمد ندیم شہید 29 ستمبر کو رکھ چکڑی سیکٹر لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی کا نشانہ بنے۔ وہ بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے سول افراد کی مدد کررہے تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے اُن کی قبر پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہاکہ نائب صوبیدار ندیم شہید نے اپنی زندگی پاکستان کے لئے وقف کی اور اپنی جان کو بے گناہ شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے قربان کردی۔

newscoasnaibsub.jpg

08
November

(ماخوذ نقش فریادی)

آ کہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اُسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سُود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لُٹا دی ہم نے
تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گِنوائوں تو گِنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جُز ترے اور کو سمجھائوں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے، دکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مَصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے، رُخِ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بے کس جن کے
اشک آنکھوں میں بِلکتے ہُوئے سو جاتے ہیں
ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہُوئے منڈلاتے ہُوئے آتے ہیں

جب کبھی بِکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میںرہ رہ کے اُبلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
فیض احمد فیض

 
08
November

تحریر: ڈاکٹر ھمامیر

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کینیڈا ایک سرد ملک ہے جہاں زیادہ تر ٹھنڈ رہتی ہے لیکن یہاں کی خزاں ایک ایسا موسم ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہمارے خیال سے تو یہاں کی برف یہاں کی خصوصیت ہے۔ تاہم سیاح برفباری کے بجائے خزاں دیکھنے کینیڈا آتے ہیں۔


ہم تو ہمیشہ یہی کہتے آئے ہیں کہ خزاں ہمیں بہت پسند ہے، ہمارا تعلق اُسی طبقۂ فکر سے ہے جو موسمِ خزاں کو بہار پہ فوقیت دیتے ہیں، اس کے حسین رنگوں میں کھو جاتے ہیں اور اسے بہترین موسم گردانتے ہیں۔ تاہم اب ہم یہ اعتراف بھی کررہے ہیںکہ جب سورج کی تمازت کم ہو جائے ، آسماں ہمہ وقت سیاہ بادلوں سے ڈھکا رہے، سرمئی شاموں میںسرسراتی تیز ہوا سوکھے پتوں کو ہر سُو بکھیردے تو دل کبھی اداس بھی ہو ہی جاتا ہے۔ جانے یہ اثر موسم کی یک لخت تبدیلی کا ہے یا گھر سے دوری کا لیکن اتناضرور ہے کہ پردیس میں تنہائی کلیجے پر کٹار کی طرح لگتی ہے۔


ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں یہاں کینیڈا میں اچھے پُرخلوص دوست ملے۔ یہاں اکثر و بیشتر ادبی، ثقافتی محافل بھی منعقد ہوتی رہتی ہیں، ہمارا ٹی وی شو بھی کامیابی سے چل رہا ہے لیکن ان سب کے باوجود کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس چلے جائیں، اپنوں سے لاکھوں میل دور، سات سمندر پار، دیارِ غیر میں شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک اجنبی سرزمین پر ہیں، وطنِ عزیز کی یاد ہمہ وقت دل میں چٹکیاں لیتی رہتی ہے۔ کچھ بھی ہو اپنا وطن اپنا ہی ہوتاہے۔

newsdesmainperdais.jpg
موسم سرد ہونا شروع ہوا تو جہاں دیگر معمولات میں تبدیلی آئی وہیں کھانے پینے کے معاملات میں بھی فرق پڑنے لگا۔ مثلاً خشک میوہ جات، کافی اور چائے کا استعمال بڑھ گیا۔ ویسے تو یہاں لوگ سال کے بارہ مہینے کافی پیتے ہیں اور وہ بھی نہار منہ تاہم سردیوں میں کافی زیادہ پی جاتی ہے۔ ویک اینڈ پر دیسی ریستورانوں میں حلوہ پوری کے ساتھ پائے کا بھی ناشتہ ہوتا ہے۔ نہایت عمدہ پائے اور گرما گرم نان، واہ ! مزہ ہی آجاتا ہے۔ حلوہ پوری کا بھی جواب نہیں، بڑی بڑی پھولی پھولی کڑھائی سے نکلی پوری، چنے کا سالن جس کے اوپر ہری مرچیں اور ہرا دھنیا پڑا ہوتا ہے، آلو کی خشک ترکاری ساتھ میں سوجی کا حلوہ جس میں اصلی زردے کا رنگ شامل ہوتا ہے اور اصلی گھی میں بنا ہوتا ہے، دہی، کٹی پیاز اور اچار بھی ملتا ہے۔ اس مزیدار ناشتے کے ساتھ لسی پیجئے، نمکین یا میٹھی اور بعدازاں چائے۔ ہم تو حلوہ پوری کے بھی شوقین ہیں اور پائے کے بھی ۔ پائے میں نان چور کے کھاتے ہیں، پائے کے لوازمات یعنی باریک کٹی ادرک، ہرا دھنیا، پودینہ، ہری مرچیںاور لیموں وغیرہ 'کھانے کا' لطف دوبالاکردیتے ہیں۔


کینیڈا میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بازار کا کھانا ناقص نہیں ہوتا، یہاں ہوٹلوں میں حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے، سموسے، پکوڑے یا جلیبیاں گندی کڑھائی کے پرانے کالے تیل میں نہیں تلی جاتیں ، دوپٹہ رنگنے کے کلر کے بجائے مٹھائیوں میں اصل فوڈ کلر استعمال ہوتا ہے۔ تیل بھی معیاری ہے، کیونکہ دو نمبر یاتین نمبر چیزیں نہ بنتی ہیں نہ بکتی ہیں، نہ جانوروں کے سینگوں اور ہڈیوں سے جعلی تیل بنتا ہے نہ غیر قانونی کارخانے ہیں۔


کھانا پکانے کے لئے سب سے اہم چیز تیل یا گھی ہوتا ہے، کینیڈا میں دونوں عمدہ ملتے ہیں، پھر مصالحہ جات کی بات کریں تو لال مرچ پسی ہوئی واقعی لال مرچ ہی ہوتی ہے، پسی ہوئی اینٹیں نہیں، اسی طرح چائے کی پتی بھی چائے ہی ہوتی ہے چنے کے چھلکے نہیں۔ ویسے تو یہاں کھلی پتی کا رواج نہیں زیادہ تر ٹی بیگ ہی استعمال ہوتا ہے۔ ایک بات ہم فخریہ بتانا چاہتے ہیں کہ کینیڈا کی مارکیٹ میں پاکستانی مصالحوں، پاکستانی اچار اور پاکستانی چاول کے علاوہ پاکستانی چائے کی بھی بہت ڈیمانڈ ہے۔ پاکستانی چاول دیگر چاولوں کے مقابلے میں دویا تین گنا مہنگا ضرور ہے مگر معیاری ہونے کے باعث لوگ اسے فوقیت دیتے ہیں۔ باسمتی چاول کے لمبے دانے اور پکتے وقت ان سے اٹھتی مہک انہیں سب سے ممتاز کرتی ہے۔ پاکستانی مصالحے اور اچار بھی خوب بِکتے ہیں۔ عجیب بات ہے یہی اچار جب پاکستان میں کھائو تو ذائقہ الگ اور یہاں کھائو تو ذائقہ الگ۔ معلوم نہیںکوالٹی کنٹرول اس کی وجہ ہے یا کوئی اور بات، تاہم یہ تو طے ہے ہمارے کچن میں پاکستانی مصنوعات ہی اپنی بہار دکھاتی ہیں۔ کینیڈا میں گوشت اچھا تازہ ملتا ہے، حلال گوشت نسبتاً مہنگا ہوتا ہے۔ یہاں قصاب کی دکانوں میں گوشت نفیس انداز سے رکھا ہوتا ہے۔ ایک تو ٹرکوں پر کھلا گوشت لے جانے کاکوئی تصور نہیں پھر بکرے کے گوشت کے نام پر بکر ے کا ہی گوشت ملتا ہے، جانور کی بھی بڑی توقیر ہے۔ یہاں نس میں پانی ڈال کے وزن بھی کوئی نہیں بڑھاتا، نہ بیمار جانور کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ اسی لئے بیف، چکن یا مٹن اس کا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے۔ نہاری کے لئے جو گوشت ملتا ہے نہایت ملائم، ہم تو حیران ہی رہ گئے، کراچی میں نہاری کا گوشت ایسا ہوتا ہے کہ ہم تو خالی شوربہ ہی کھاتے تھے مگر یہاں صورت حال مختلف ہے، واقعی کھانے کا مزہ ہے۔ یہاں ہر چیز عمدہ اور معیاری، چاندی کا ورق جو کھیریا دیگر میٹھے پکوان پر لگاتے ہیں وہ بھی پنّی کے بجائے اصلی چاندی کا ملتا ہے، اسی طرح دودھ، دودھ تو اتنا خالص ہے کہ کیا کہیں، دنیا کا بہترین دودھ کینیڈا میں ملتا ہے۔ ان بیچاروں کو علم ہی نہیں کہ دودھ میں ٹیلکم پائوڈراور کیمیکل یا دیگر زہر ملا کے بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ گائے کو ہارمون کے انجیکشن لگا لگا کے زیادہ دودھ نکال سکتے ہیں، پھر یہ لوگ دودھ بھی گائے بھینسوں کا ہی بیچتے ہیں خود فیکٹری میں دودھ بنانے نہیں بیٹھ جاتے۔ اب یہاں گائے بھی تو سرسبز و شاداب کھلیانوں میں چارہ کھاتی ہے ہماری گائے کی طرح کچرے کے ڈھیر پر تو منہ نہیں مارتی۔
Cattle Farm
جا کے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مویشی کیسے شاہانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہمارے غریب مویشی تو سڑکوں پر آوارہ پھرتے ہیں، بڑی شاہراہوں پر جہاں ہیوی ٹریفک ہو، وہاں بھی ادھر اُدھر سے گائے بکریاں آجاتی ہیں۔ کینیڈا میں انسانی زندگی کی قدرومنزلت تو ہے ہی لیکن جس طر ح یہاں جانوروں، پھولوں، پودوں کی قدر ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ درخت کاٹنا سنگین جرم ہے یہاں۔ یہاں ٹمبر مافیا کا کوئی وجود نہیں۔ حالانکہ لکڑی درختوں سے ہی حاصل کی جاتی ہے، درخت کٹتے بھی ہیں لیکن سب قانون کے دائرے میں رہ کر ہوتا ہے، یعنی درختوں کی کٹائی کے لئے انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ ویسے یہ بھی خوب ہے کہ کینیڈا میں ہرکام کے لئے لائسنس یا اجازت نامہ لیناضروری ہے اور اجازت نامہ حاصل کرنے کے لئے اُس کام کی تربیت لینی ضروری ہے جس کے لئے لائسنس لیا جا رہا ہے۔ کسی میلے میں پکوڑے بیچنے ہیں تو اس کے لئے بھی یہی قانون لاگو ہوگا۔ میلے کا لفظ یوں استعمال کیا کہ سڑک پر چھابڑی یا ٹھیلا لگا کر کوئی بھی چیز فروخت نہیں کی جاسکتی۔ فٹ پاتھ پر ریڑھی والوںاور سڑک کنارے چھابڑی والوں کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئی ہیں۔ اینٹی انکروچمنٹ کا محکمہ غالباً یہاں نہیں ہوگا کیونکہ ضرورت ہی نہیں پڑتی یا ہوگا بھی تو ہر وقت فارغ ہی رہتا ہوگا۔ سنا ہے ہمارے یہاں بھی یہ محکمہ ہے اور سب سے زیادہ کمائی بھی اسی کی ہے۔


کینیڈا میں اکثر پاکستانی خواتین کیٹرنگ کا کام کرتی ہیں۔ یہ کام وہ گھر میں انجام دیتی ہیں۔ یعنی اگر آپ کو گھر پہ دعوت کرنی ہے اور بریانی، قورما، نان، نہاری یاکباب وغیرہ بنوانے ہیں تو فون پر آرڈر کرسکتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں بازار سے خریدیں تو مہنگی بھی ہوں گی اور وہ ذائقہ بھی نہ ہوگا جو گھر کا ہوتا ہے۔ چھوٹی موٹی دعوتوں کے لئے یہ انتظام بہتر ہے تاہم بڑی دعوتوں اور پارٹیوں کے لئے ہوٹل والے کیٹرنگ کرتے ہیں۔ دعوت کے علاوہ آپ اپنے لئے بھی کیٹرنگ کروا سکتے ہیں، مثلاً درجن بھر نان یا پراٹھے بنوالیں اور فریزر میں رکھ کے روزانہ ایک ایک نکال کر کھاتے جائیں۔ جو لوگ زیادہ مصروف ہوتے ہیں اور بالکل کوکنگ نہیں کرسکتے وہ ماہانہ پیسے دے کر روزانہ دو وقت کے کھانے کا پیکج لے سکتے ہیں۔ ہمیں تو لگتا ہے دنیا کا بہترین کھانا اپنا دیسی کھانا ہے، برگر اور پیزا سے اپنا گزارہ نہیں ہوتا۔جانے دنیا یہ فاسٹ فوڈ کو کیوں اتنا پسند کرتی ہے؟ خیر پسند اپنی اپنی۔ ہمیں تو ناشتے میں پراٹھے ہی پسند ہیں۔ ہمیں یہی فکر تھی کہ کینیڈا میں پراٹھوں کا کیا ہوگا، والدہ کے ہاتھ کے بنے پراٹھے ہماری کمزوری تھی، مگر الحمدﷲ ! یہاں کے آلو پراٹھے، گوبھی کے پراٹھے، پنیر کے پراٹھے، مولی کے پراٹھے، سادہ پراٹھے سبھی ملتے ہیں۔ ہم نے اپنے فریزر میں خوب پراٹھے بھر رکھے ہیں۔ جو ہم گرم کرکے کھاتے ہیں تاہم فریزر سے نکلے پراٹھوں میں وہ بات کہاں جو ماں کے ہاتھ کے گرم گرم تازہ لچھے دار پراٹھوں میں ہے۔


کھانے پینے کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہم نے کینیڈا آکر استعمال کرنی شروع کیں۔ مثلاً گڑ، شکر کی چائے، مصالحہ چائے، گھر کا دہی یعنی گھر میں دہی جمائی اور کھائی، پراٹھے کے ساتھ دہی اور اچار ایک ساتھ، نہاری کا گوشت (پہلے ہم صرف شوبہ کھاتے تھے) سبزی کی ترکاری میں اجوائن اور السی، بادام مکھن، سبزی منچورین اور اصلی شہد۔ ایسا نہیں کہ پاکستان میں یہ چیزیں میسر نہیں دراصل کراچی کی تیزرفتار زندگی میں کھانے کا اسٹائل ہی الگ ہے۔ہمیں تو اصلی شہد کی بہت خوشی ہے، ایک تو وہ شہد ہے جو اسٹورز سے ملتا ہے، وہ بھی اصلی ہوتا ہے مگر
Pasturized
ہوتاہے، ہم جو شہد استعمال کرتے ہیں وہ ایک ایسی خاص دکان سے لاتے ہیں جو شہد کے لئے مخصوص ہے، یہاں شہد کی مختلف ورائٹی ہے، یہ شہد مختلف پھولوں سے حاصل کیا ہوتا ہے اور ہر شیشی پر اس کے پھول کا نام لکھا ہوتاہے، چونکہ یہ
Pasturized
نہیں ہوتا یعنی کسی خاص درجہ حرارت پرگرم نہیں کیا جاتا لہٰذا ذرا مہنگا ہے مگر بے مثال ہے، یہ دکان
Bee Centre
کہلاتی ہے۔ یہاں پر ایسا شہد بھی ملتا ہے جسے براہِ راست چھتے سے نکالاہوتا ہے۔ اس شہد کو چھانا نہیں جاتا، یعنی اصلی کا بھی اصلی شہد، واہ ، واہ بھئی کیا کہنے!
شہد ایک تو صحت کے لئے بہت مفید ہے پھر اسلامی نقطۂ نگاہ سے بھی اس کی اہمیت مسلم ہے۔ گڑ اور شہد کھانے کے باعث اب چینی کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے، حیرت انگیز طور پر ہمارے کھانے پینے کا انداز تبدیل ہوگیا ہے۔ ہم سوچتے تھے کینیڈا میں ڈبل روٹی انڈے ملیں گے، مغربی انداز کے پھیکے کھانوں کے تصور سے ہماری جان نکلتی تھی مگر کمال یہ ہے کہ اب ہم مکمل دیسی اسٹائل کا کھانا کھا رہے ہیں، اتنا دیسی تو کراچی میں بھی نہ تھا جو یہاں ونکو ور میں ہے۔

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: صائمہ بتول

لفظ سائبو رگ 1960 میں
Manfred Clynes
اور
Nathan S. Kline
نے دریافت کیا۔ یاد رہے کہ یہ لفظ اینڈ رائڈ، بائیو نک، بائیو میٹرک اور مافوق الفطرت اعضاء رکھنے والی مخلوق سے یکسر مختلف اور بہت ساری خصوصیات میں ملتا جلتا تاثر رکھتاہے۔ یہ ٹیکنالوجی تمام دودھ دینے والے جانور اور انسانوں میں ایسے اعضائ، جو ناکارہ ہو چکے ہوں مگر نقصان کے باوجود بحالی کی تھوڑی گنجائش رکھتے ہوں،میں بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ڈی ایس ہیلسی سائبو رگ نے 1965میں ایک کردار سپرمین تخلیق کرکے انسانی زندگی میں ممکنات کے کئی دروازے کھول دیئے اور اس کردار کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ زندگی کے اندرونی اور بیرونی معاملات و احساسات کے درمیان ایک پُل موجود ہے جو دماغ اور
Matter
کے درمیان کارفرما ہو سکتا ہے۔ اسی خیال کو مختلف ذرائع سے پیش کیا گیا جس میں فلم ''سٹارٹریک'' اور ''سٹار وار'' کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سے قبل 1843 میں ایک کردار جو انتہائی طاقتور تھا، جو مشین اور انسان دونوں کا امتزاج تھا، متعارف ہوا اور وہی کردار آگے چل کر کیپٹن ''فیوچر'' کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ 1928 میں کیپٹن فیوچر ہر انسان کی خواہش بن گیا۔ اس کے علاوہ1944 میں سی ایل مور
(C.L. Moore)
کی کہانی نو وومن بورن
(No Woman Born)
ایسی رقاصہ کے بارے میں ہے جس کا جسم ایک حادثے میں جل کر خاکستر ہوگیا مگر دماغ سلامت رہا جسے بعد میں ایک مشینی جسم دے دیا گیا۔ یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پانچ دہائیوں کی مسلسل محنت اور عرق ریزی کے بعد یہ ٹیکنالوجی اب سائنس کی حیرت انگیز دنیا میں انسانی زندگی کی بقاء کی ضامن کے طور پر اُبھر رہی ہے۔ اور اب نیل ہربی سن اور ایملی بورگ اس صدی کے پہلے ''سائبورگ ہیومن'' کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔
تینتیس سالہ نیل ہربی سن
(Neil Harbisson)
27جولائی 1984 میں کاتلونیہ(سپین) میں پیدا ہوا۔ برطانیہ میں پلا بڑھا اور نیویارک امریکہ کا رہائشی ہے نیل ہربی سن پیدائشی
Colour Blind
تھا۔ وہ ہر چیز کو فقط مٹیالے رنگ میںہی دیکھ سکتا تھا جو کلر بلائنڈ کی انتہائی بڑی کیفیت ہے۔ نیل ہربی سن ایک سیماب صفات لڑکا ہے جو مختلف سکولوں میں آرٹ اور موسیقی کا علم حاصل کرتا رہا۔ گیارہ سال کی عمر میں اِسے اپنے سکول کی طرف سے ایک خصوصی رعایت دی گئی۔ جس میں اس کا تصویروں اور چیزوں میںرنگ بھرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ بس پھر کیا تھا لڑکے نے صرف کالے اور سفید رنگ کی مدد سے ایک عدد پیانو جوڑ لیا۔ یہ لڑکا عمرکے 29 برس کالے اور سفید رنگ کی دنیا تک محدود رہا اور کوئی رنگ دار لباس نہ پہن سکا۔19 سال کی عمرمیں انگلینڈ پڑھنے چلا گیا۔ جہاں اس نے موسیقی، سُر ، لَے، اس کی ساخت ، بناوٹ اورترکیب کا علم ڈارلنگٹن کالج سے حاصل کیا۔

cybert3ech.jpg
آوازوں کو سننے اور میوزک سے محبت کرنے والا یہ نوجوان جونہی کالے اور سفید دائروں سے نکلا اس نے آرٹ اور میوزک کی دنیا میں ٹیکنالوجی کی ایک اور شاخ کو باقاعدہ طور پر متعارف کرواتے ہوئے اپنی قومی شناخت اپنے پاسپورٹ پر ایک برقی اینٹینا کے ساتھ ہی کروائی۔ بظاہر یہ مشکل کام تھا کہ انسان کو دھاتی اعضاء سمیت انسان کے طورپر دیکھاجا سکے لیکن نیل بضد رہا اور بااعتماد بھی اور بالآخر برطانیہ کے نجی شعبے کو آمادہ کرنے میں کامیاب رہا کہ یہ برقی تار تمام آلات سمیت اس کی آنکھ اورحسیات کا حصہ ہیں۔ یہ سب کچھ کب اور کیسے ممکن ہوا؟ دراصل نیل ہربی سن کبھی بھی اپنے رنگوں سے عاری مزاج سے مطمئن اور خوش نہیں تھا۔ وہ اپنی اس بے تابی اور بے رنگی کی کیفیت کا اظہار کئی اچھے اور بڑے طریقوں سے کرتا رہا اور بچپن میں اپنی ماں سے سنی گئی قوسِ قزح کی کہانی سے تحریک لیتا رہا۔ اس کے علاوہ یورپ کی جدید اور ترقی یافتہ دنیا کے کئی ایک واقعات اور سائنسی تبدیلیاں اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔ جس کو نیل ہربی سن نے اپنے مختلف انٹرویوز اور تقاریر میں بیان کیا ہے۔ وہ اپنی اس قدرتی اور پیدائشی کمی کا مشکور ہے جس نے اسے رنگوں اور سروں کی امتزاجی دنیا سے متعارف کرا دیا۔ اس کے علاوہ وہ ایک اور ساتھی مون بیباس
(Moonbibas)
سے متاثر ہے جس کے بائیں بازو میں ایک دھاتی سنسر ڈال دیا گیا ہے جس سے اسے زلزلے کی آمد کا پتہ معلوم ہو جاتا ہے۔ حرکت ، سنسناہٹ اور جھنجھناہٹ نیل نے اپنی کارکردگی میں بھی نقل کی۔ اس کے علاوہ فرانسیسی خاتون
ORLAN
کی مثال بھی اس کے سامنے ہے ۔جو اپنی ظاہری شکل کو تقریباً 9 مرتبہ بدلوا چکی ہے۔ نیل ہر بی سن 2004میں بہت سارے ناکام تجربوں کے بعد اپنی کھوپڑی میںایک دھاتی برقی اور باقاعدہ حسیات والا چپ
(Chip)
ڈلوانے میں کامیاب ہو گیا۔ جس کا اینٹینا مکھی کی طرح اس کے سر کے سامنے والے حصے سے گزرتا ہوا ماتھے سے ذرا فاصلے پر آنکھوں کے سامنے رک جاتا ہے۔ جس کی مدد سے وہ رنگوں کو سونگھ اور سن کر شکل و صورت اور حرکات میںڈھال سکتا ہے۔ نیل ہربی سن اس تمام کارکردگی اور تجربات کی تفصیل سے گریز ہی کرتا ہے۔ اپریل 2017ء میںنیشنل جیو گرافک رسالے کے نمائندے ڈی۔ ٹی میکس
(D.T.MAX)
کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی وہ تفصیلات میں جانے سے گریزاں ہی دکھائی دیا۔ مگر اس سے ہرگز یہ تاثر نہیں ملتا کہ نیل ہربی سن انسانی زندگی میں تغیراتی حیاتیاتی اور ثقافتی حقیقت کا ایک سنگ میل بن کر سامنے نہیں آیا۔ ایک موسیقار جو سروں کا سوداگر ہے یقینا رنگوں اور قدرت کے کرشموں سے بھی ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ بارش کے بعد آسمان پر سات رنگی قوس قزح بھی اس پیغام کی ایک سطر ہے۔ یہ سب کچھ جب وائبریشن،بلوٹوتھ،سنسر، مائیکروچپ اور ابلاغیات و مواصلات میں ڈھلتے ہیں تو انسانی زندگی میں مادوں کی طاقت اور مدد سے تبدیلی ممکن ہے۔ اگر ہم 69سالہ رے کروز وبل جو ایک امریکی سائنسدان ہونے کے علاوہ گوگل کا اہم رکن اور او سی آر پہلی ریڈنگ مشین کا بانی ہے کو پڑھیں جو کہتا ہے کہ 1978 میں متعارف کروائی جانے والی
Kurzweil Technology
کی تحریک اور آئیڈیا فضائی سفر کے دوران ایک اندھے انسان سے گفتگو کے دوران ملا۔رے کروزویل کی کتاب ہاؤٹو ٹریٹ اے مائنڈ
(How to treat a mind)
جو 2012 میں شائع ہوئی میںسائبورگ ٹیکنالوجی کو عملی اور قابل استعمال بنانے میں کئی جامع اور قابل عمل پیرے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دی ایج آف سِپر چوئیل مشین
The Age Of Spiritual Machine 
بھی کچھ اس قسم کے اشارے کرتی ہے۔ ہربی سن کو برطانوی حکومت نے بھی پاسپورٹ پر اینٹینا سمیت دکھا کر اسے دنیاکی پہلی باقاعدہ برقی و انسانی مخلوق تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک مقصد بن چکا ہے جس کی نقل میں کئی مزید انسان اپنے اندر سائبورگ ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ اگر شہد کی مکھی اپنے ننھے منے اینٹینا کی مدد سے کئی میل دور سے سیدھی رس پر بیٹھ سکتی ہے تو حضرت انسان بھی اپنی عقل، سوچ، عمل، حسیات اور محسوسات سے کام لیتے ہوئے کائنات کو حیرت کدہ بناتا چلا جارہا ہے۔برقی آنکھ کے حوالے سے نیل ہربی سن کی کتاب 2014میں شائع ہو چکی ہے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور دو کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ اقساط کا خلاصہ
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیںاور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔
مجاہد جب سے اس مدرسہ میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔
بڑے مولانا صاحب کی ہدایات مدرسے میں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ پہلی بار جب مجاہد مولوی ثناء اللہ سے ملا تواسے کچھ اندازہ تو اس بات کا ہو گیا۔ان کے کمرے سے نکل کروہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔
صبا آرمی پبلک سکول میں ٹیچر ہے اور اس کا خاوند ارسلان ایک بنک میں نوکری کرتا ے۔ دونوں کے بیچ محبت بھری نوک جھونک جاری رہتی ہے۔

 

قسط چہارم

شکیل بھائی میں اس رات ویسے ہی کمرے سے نکلا۔نیند نہیں آرہی تھی مجھے۔ میں قسمت سے مولاناصاحب کے کمرے کے پیچھے کی طرف سے مڑکرآیا۔وہاں روشنی جل رہی تھی۔اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبورہوکرمیں نے اندرجھانکاتومجھے کچھ انجان لوگ نظرآئے۔بالکل انجانے جن کومیں نے کبھی دیکھابھی نہیں تھا۔ میں وہیں کھڑے ہوکران کی باتیں سنتارہااورجیسے جیسے میں سنتارہامجھے لگامیں زمین میں دھنستاجارہاہوں۔ وہاں کپڑے کاایک تھیلابھی پڑاہواتھا۔وہ لوگ کہیں پرکچھ دھماکہ کرنے کی بات کررہے تھے اورپیسوں کی کچھ بات کررہے تھے لیکن مولانا صاحب نہیں مان رہے تھے۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیاہورہاہے لیکن بس یہ سمجھ پایاکہ مولاناصاحب نہیں مان رہے۔بھلاوہ اللہ اوررسولۖکے غلام ہیں پیسے لے کرکیسے دھماکہ کرسکتے تھے لیکن یہ میری سوچ تھی جوبالکل غلط ثابت ہوئی جب میں نے دیکھاکہ مولانا صاحب کے سامنے و ہ تھیلا اوراس جیساایک اور تھیلا انڈیلاگیااوران دونوں تھیلوں میں سے نوٹوں کی گڈیاں نکلیں۔ مولانا صاحب کے چہرے پراس وقت ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جومیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے پیسوں کے عوض دھماکہ کرنے کامعاہدہ کرلیا۔ اب آپ بتائیں شکیل بھائی جب مجھے یہ پتاچل گیاہے کہ مجھے ہی نہیں مجھ جیسے ہزاروں لڑکوں کومذہب کے نام پردھوکہ دیاگیاہے اوردیاجارہاہے تومیں یہاں کیسے رہوں گا۔۔۔
جوتم نے کہاوہ سب میں جانتاہوں اوراگرتم اس کے علاوہ بھی کچھ جانتے ہوتومجھے بتادو۔وہ بدستوراب بھی مسکرارہے تھے۔
کیا؟؟؟؟؟؟؟؟ وہ چیخا
آپ یہ سب جانتے ہیں؟؟؟؟؟
ہاں۔۔۔ جواب مختصرتھا۔
اورآپ پھربھی یہاں ہیں؟؟؟؟؟ کیوں؟؟؟؟
کیونکہ تم بھی یہاں ہو۔۔۔
لیکن میں یہاں نہیں رہوں گا۔بھاگ جاؤں گایہاں سے۔وہ تقریباً چلّاتے ہوئے بولا ۔
یہ میں نے بھی سوچاتھالیکن صرف سوچ ہی پایاتھا۔کرنہیں پایامجاہد۔۔شکیل زمین پرنظریں جماتے ہوئے بولے۔
کیوں؟؟؟؟
زندگی میں کبھی کبھی سوچ اورعمل کے درمیان اتنافاصلہ آجاتاہے مجاہد،کہ سوچنا تو آپ کے بس میں رہ جاتاہے لیکن عمل کرنانہیں۔ میرے ساتھ بھی ایساہی ہوا۔ میں بھی صرف سوچ ہی پایا۔تمہارے ساتھ بھی ایساہی ہے تم بھی صرف سوچ ہی پا رہے ہو۔سوچ اورعمل کے بیچ کافاصلہ پاٹناتمہارے بس میں بھی نہیں ہے ۔ان کی مسکراہٹ اب ختم ہوچکی تھی۔
شکیل بھائی میں اگرغلط راستے پرچلاتھا، اوراب مجھے اندازہ بھی ہوگیاہے اور اب میں اس راستے کوترک کرناچاہ رہاہوں تویہ اتنامشکل کیوں ہے ۔ وہ کافی پریشان تھا۔
مشکل نہیں ہے بیٹاناممکن ہے ۔۔۔
لیکن کیوں؟؟؟
کیوں کہ کبھی کبھی غلط راستے پرچلتے چلتے ہم ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے صرف آگے جانے کاراستہ ملتاہے ۔پیچھے کاراستہ تووہاں کوئی ہوتاہی نہیں ہے اوروہ آگے کاراستہ مزیدغلطی اورتباہی کاہوتاہے۔ لیکن اس پرچلنابھی ہماری مجبوری ہوتی ہے ۔
وہ خاموش رہا۔
مجاہد بیٹاکبھی کبھی زندگی میں کی جانے والی ایک غلطی کی قیمت ہم ساری زندگی نہیں چکاپاتے۔ وہ غلطی ہماری زندگی تولے سکتی ہے لیکن سدھرنہیں سکتی اور اس غلطی کی قیمت کے آگے ہماری اپنی زندگی کی قیمت بہت کم ہوتی ہے ۔سمجھ لو کہ تم بھی اپنے حصے کی وہ غلطی کرچکے ہواورمیں بھی کرچکاہوں۔اب ہمارے پاس واپسی کاکوئی راستہ نہیں۔۔۔۔
آپ کیوں نہیں چلے جاتے یہاں سے شکیل بھائی۔آپ توبھاگ جائیں نا۔ ویسے بھی آپ کبھی ہفتے ڈیڑھ ہفتے میں ایک چکرلگاتے ہیں یہاں کا،تونہ آئیں یہاں۔ آپ کے لئے تو یہاں سے نکلنے کامسئلہ بھی نہیں ہے ۔اس نے اپنی طرف سے تجویزدی۔
اگریہ میرے لئے ممکن ہوتاتومیں کب کاایساکرچکاہوتا۔۔ وہ چائے کی چسکی بھرتے ہوئے بولے۔
آپ کے لئے ممکن کیوں نہیں ہے ؟؟؟
کیونکہ میں بھی اپنی وہ غلطی کرچکاہوں جس کے بعدواپسی کاکوئی راستہ نہیں بچتا۔۔
میں سمجھا نہیں۔ وہ واقعی بالکل نہیں سمجھا تھا۔بھلا ان کے لئے کیا مشکل تھا یہاں سے جانا۔
وہ کچھ دیرخاموشی سے چائے کے سپ پھرتے رہے اورپھرگویاہوئے ۔
مجاہدبیٹا تم کیاجانتے ہومیرے بارے میں؟؟
کچھ خاص نہیں۔
میری ایک بیٹی اوردوبیٹے ہیں۔بیوی اورماں باپ بھی زندہ ہیں۔بہنوں کی شادی ہوچکی ہے اورمیرے ماں باپ،بیوی اوراولاد باہرکے ملک میں رہ رہے ہیں۔ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں بہت آسائشوں والی زندگی۔ لیکن تب تک جب تک میں یہاں یہی کام کرتارہوں جوابھی کر رہاہوں۔مجھ پراورمیرے گھروالوں پرلمحہ لمحہ نظررکھی جاتی ہے ۔ ادھرمیں نے کوئی ایسی کوشش کی جوتم کہہ رہے ہویاان کی بات ماننے سے انکارکردیاتو میرے خاندان کانام ونشان مٹنے میں ایک سے دوسرے لمحے کی دیرنہیں لگے گی۔ میں جب یہاں آیاتھاتوتم سب کی طرح دین کی خدمت کے جذبے سے آیاتھااورمیں تب بھی ڈاکٹرتھااوریہی کام کرتاتھا جو اب کر رہا ہوں۔پھرایک دن مجھے بھی پتاچلاکہ میرے ساتھ دھوکہ ہورہاہے اورمجھے دین کی خدمت نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیاجارہاہے اورپھرمیں نے بالکل تمہاری طرح سوچا۔یہاں سے نکلنے کی ٹھان لی۔ لیکن مجھے فون ملاکردیاگیاجس میں میری سترہ سال کی بیٹی کواغوا کیاگیاتھا اور اس سے میری بات کروائی گئی۔
وہ چندلمحے چپ رہے ۔شایداپنی سوچوں کومجتمع کررہے تھے۔
اوراسی لمحے میری ہمت دم توڑ گئی اورمیں نے یہاں کے لوگوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔میں مجبورتھاکیاکرتا۔ میں توشایدیہاں سے بھاگ جاتالیکن اپنے ساتھ جڑے چھ لوگوں کی موت سہنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میںاوریہ ہمت تم میں بھی نہیں ہوگی۔ بیٹالوگ کہتے ہیں کہ مردکبھی بھی مجبور نہیں ہوتالیکن میں نہیں مانتا۔ مرد بھی مجبورہوتاہے ۔باقی کسی چیزیاکسی رشتے سے نہ بھی ہوتاہواپنی اولاد سے ضرور مجبورہوجاتاہے۔میں بھی اپنی بیٹی اوربیوی کی بے حرمتی اوراس کے بعد دردناک موت اوراپنے بیٹوں کی حسرت ناک موت اوراپنے ماں باپ کی آنکھوں کے دئیے نہیں بجھاسکتا۔اتنی ہمت نہیں تھی مجھ میں۔
وہ خاموش ہوگیا۔اس کمرے میں تھوڑی دیرگھمبیرخاموشی رہی۔ وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتاتھاکہ جس شکیل بھائی کووہ سب بہت خوش قسمت اورخوش باش سمجھتے تھے وہ بھی قسمت،حالات اورمجبوری کی ایسی بھٹی میں جل رہے ہیں جس سے نجات کی کوئی امیدنہیں ہے ۔ایک نہ ختم ہونے والی اندھیری رات ان کی زندگی کوبھی مکمل طورپرگھیرے ہوئے ہے ۔
بڑے مولاناصاحب نے مجھے کہا ہے کہ اگرمیں اگلے مشن میں ان کاساتھ دوں گا اور ان کاکام کر دوں گا تووہ مجھے اس کے بعدآزادکردیں گے بشرطیکہ میں قرآن پر حلف اُٹھاؤں کہ پوری زندگی یہ سارے رازاپنے سینے میں ہی رکھوں گا۔۔۔
انہوں نے گھورکراس کی طر ف د یکھا۔ایسے جیسے اچنبھے کی بات کی ہواُس نے۔
ایسے کہا انہوں نے ؟؟؟
ہاں ایسے ہی۔۔۔
پھرکیاجواب دیاتم نے ؟؟؟
میں نے وہی کہاکہ اب میں کسی بے گناہ کی جان نہیں لوں گا۔۔وہ اب بھی اپنی بات پر اٹکاہواتھا۔
تو کیاکروگے ؟؟؟
میں یہاں سے بھاگ جاؤں گا۔کچھ بھی کرلوں گااورچلاجاؤں گایہاں سے لیکن اب مولانا صاحب کی بات نہیں مانوں گا۔بہت جانیں لے لی ہیں میں نے ان کے لئے ۔
لیکن جاؤگے کہاں؟؟؟
یہاں سے بھاگ جاؤں گاتوکسی بڑے سرکاری آفیسر یا پھرکسی بڑے آدمی سے مل کریہاں کی ساری سچائی بتادوں گااوراپنے اوراپنے خاندان کے لئے پناہ بھی مانگ لوں گا۔
اورتمہیں لگتاہے کہ وہ لوگ تمہاری مدد کریں گے ؟؟؟
کیوں نہیں کریں گے ۔۔۔
وہ ایک دم سے قہقہہ لگاکرہنسے اوراتناہنسے کہ ان کی پلکیں بھیگ گئی ایسے جیسے اس نے کوئی بہت ہی اچھالطیفہ سنایاہو۔جب ہنستے ہنستے تھک گئے تو اس کی طرف غور سے دیکھنے لگے۔ وہ بھی کافی اچنبھے سے ان کی طرف دیکھتا رہا۔ ایسے قہقہے مارمارکرتووہ کبھی نہیں ہنسے تھے۔
بہت معصوم ہوتم مجاہداللہ۔۔۔ تم نے گھر، مدرسے اوریہاں کے لوگوں کے علاوہ دنیاکو دیکھا ہی نہیںہے۔تمہیں کیالگتاہے کہ مولاناصاحب اورہزاروں پرمشتمل ان کا گروہ جوکرتاہے وہ ان بڑے لوگوں سے چھپ کرکرتاہے ؟؟؟ ایسا نہیں ہے۔ اس ملک کے بہت سے بااثر افراد بھی اِن خطرناک لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ تمہارے مولانا صاحب کے پاس آنے سے پہلے اسی طرح کے کئی تھیلے ان کے ہاں بھی پہنچادئیے جاتے ہیں۔ وہ پہلے سے باخبرہوتے ہیں کہ آج فلاں جگہ دھماکہ ہوناہے یاآج فلاں چوک پرمعصوموں پرفائرنگ ہونی ہے۔ اس لئے کبھی سننے میں نہیں آیاکہ ایساکوئی بندہ مراہے اورہمارے نام کے مجاہدوں کوایسے بندوں کی نہیں بلکہ معصوموں کی موت کاحکم نامہ ملتاہے اورتم جانتے ہو مجاہد اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ فائدے میں وہ لوگ رہتے ہیں جومذہب کے نام پرسیاست کرتے ہیں، جو داڑھی رکھ کروہاں لوگوں کے لیڈر بنے ہوتے ہیں اوریہاں سے ان معصوموں کی موت کی قیمت وصول کرتے ہیں اورتم یہ مت سمجھو کہ یہ صرف مولاناصاحب ہیں جو یہ سب کررہے ہیں۔ ان کے پیچھے مختلف ممالک کے لوگ ہیں جوپیسے دے کران سے یہ کام کرواتے ہیں اورمولانا صاحب تم اورمجھ جیسے لوگوں سے مذہب کے نام پروہی کام کروالیتے ہیں جس کے لئے انہوں نے پیسوں کے تھیلے لئے ہوتے ہیںاورجس کام کے لئے ابھی تمہیں مولانا صاحب کہہ رہے ہیں تم جانتے ہواس میں کیاہوگا؟؟؟
کیا؟؟؟؟ وہ مزید انکشافات کا منتظرہوگیا۔
اس کام میں فوجی وردی استعمال ہوگی اورفوجی تمغے بھی اورنقلی فوجی وردی نہیں بلکہ بالکل اصلی وردی اورتم لوگ وردی پہن کریہ کام کروگے اورتم جانتے نہیں ہو مجاہد کہ وہ وردی کہاں سے آئے گی۔۔میں بتاتاہوں۔۔۔
وہ چندلمحے رُکے ۔۔۔۔
اس کام کے لئے پہلے سے لوگوں کوخریداجاتاہے اوراس دنیامیں آج سب کے ایمان کی ایک قیمت ہے اورجب مولاناصاحب کے بڑے وہ قیمت دے دیتے ہیں توکوئی بھی بک جاتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور کسی کی کم۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سچے ہوتے ہیں اور کسی قیمت پر ایمان نہیں بیچتے۔اللہ کے بعد ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ ملک چل رہا ہے ورنہ کب کا سب کچھ ختم ہوچکا ہوتا۔فوج ایسا ادارہ ہے جو مخلص ہے اس وطن کے ساتھ۔ لیکن اس پوری فوج کے اندر کوئی ایک آدھ ایسا آدمی ہو گا جس کی ایمان کی قیمت ہو گی۔وہ بھی اپنی قیمت وصول کر کے یہ وردی اور تمغے فراہم کر دے گا اوریہ فوجی وردی وہیں سے آئے گی۔جہاں تک میں جانتا ہوں سارے ہی فوجی چاہے وہ افسر ہو یا سپاہی وطن پرجان دینا اعزاز سمجھتے ہیںاور جان دیتے بھی ہیں لیکن مولانا صاحب اور ان کے نیٹ ورک کو اپنے کام کے لئے پورے ادارے میں ایک بھی بندہ مل جائے تو ان کا کام ہو جائے گا اور یہ لوگ ہرجگہ ایسے ہی ایک آدھ بندے کوتلاشتے ہیں۔
وہ سراسیمگی کی حالت میں انہیں دیکھتارہااوروہ انکشاف پرانکشاف کرتے رہے۔۔۔۔
مر تا وہی ہے مجاہد جوبے خبرہوتاہے ۔جو کسی بازارمیں سبزی بیچنے والاہوتاہے یاریڑھی پر سجائی چوڑیاں بیچنے والایا پھروہ خریدارجس کی بدقسمتی اسے اس وقت وہاں لے کرآئی تھی۔ جسے پہلے سے دھماکے کاوقت اورجگہ پتاہوتی ہے وہ وہاں کیوں آئے گا۔اب تم ہی مجھے بتادوکہ جودین راستے سے پتھرہٹانے پربخشش کی نوید دیتاہواورکسی یتیم کوکھاناکھلانے پرجنت کاحقدارٹھراتاہووہ بھلادھماکہ کرکے کئی معصوم بچوں کویتیم کردینے والے کوکیسے جنت دے سکتاہے اورمیراخیال ہے کہ تمہیں بھی یہ باتیں سمجھ آگئی ہیں لیکن اب وقت نہیں ہے ۔دیر توپہلے ہی ہو چکی ہے ۔تمہارے لئے اب بہتریہ ہے کہ تم ان کی اس پیشکش پرغور کرلوجوانہوں نے تمہیں دی ہے۔ کیونکہ تم بھی کسی اورچیزسے مجبور ہو نہ ہواپنی اولادسے ضرور مجبور ہو گے۔ تمہارابھی توایک بیٹاہے ناجوتم کوابھی پہچانتابھی نہیں ہے۔ جویہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا باپ کس مجبوری کی سلاخوں میں جکڑا ہواہے۔
آپ کیسی باتیں کررہے ہیں شکیل بھائی۔آپ کے کہنے کامطلب ہے کہ مولانا صاحب خون بہانے کے پیسے لیتے ہیں؟؟؟
ہاں میرایہی مطلب ہے ۔انہیں ہی کیاان کے گروہ کے سرغنوں میں سے کسی کو بھی نہ دین کی کوئی خدمت کرنی ہے اورنہ ہی انہیں دین سے کوئی لگاؤ ہے۔ اگر ایسا کچھ ہوتاتووہ کسی بے گناہ کی جان کاسوداکیوں کرتے ؟؟تمہیں شایدیادنہ ہو کہ آج سے پندرہ سال پہلے یہاں ایک مدرسے پربم پھینک دئیے گئے اور سیکڑوں معصوم بے گناہوں کی جان چلی گئی اورکہاگیاکہ وہاں اسلحہ تھا۔ وہاں واقعی اسلحہ تھا لیکن وہ کسی معصوم بچے نے نہیں رکھاتھا۔ان کوتوپتابھی نہیں تھاکہ وہاں اس طرح کی کوئی چیزتھی۔جنہوں نے حملہ کیاانہوں نے پہلے مولاناصاحب جیسے کسی بندے سے وہ رکھوایااورپھراسی کابہانابناکران معصوموں پربمباری کر دی۔
مولاناصاحب جیسے یا۔۔۔۔؟؟؟؟ اسنے معنی خیزلہجے میں پوچھا۔ مولانا صاحب نے ۔۔
مجاہدنے ایک لمبی سانس لی۔ شکیل کے انکشافات اس کے لئے قبول کرنا آسان نہیں تھے ۔
مجاہد اللہ مولانا صاحب کوجب وہاں کا کام دیاگیاتو وہ کچھ عرصہ وہاں پڑھانے لگے اورتم جانتے ہوکہ دل اوردماغ کواپنے قابومیں کرنے کے فن میں انہیں بہت مہارت حاصل ہے۔ سو انہوں نے یہی کیااورکچھ ہی عرصے میں جہاد میں استعمال ہونے والے اسلحے کی حفاظت کے نام پرکچھ اسلحہ وہاں منتقل کر دیا اور جب ان کا کام ختم ہوا تو اسی اسلحے کے نام پر مدرسے میں پڑھنے والے معصوموں پرایسی بمباری کردی گئی کہ اُن کے اعضاکابھی پتانہیں چل سکا اور ایسے ہی نوٹوں سے بھرے ہوئے تھیلے تب بھی انہوں نے لئے تھے اورمیں تب بھی جانتا تھا اوراب بھی جانتاہوں لیکن تب بھی کچھ نہیں کرسکتاتھااوراب بھی بے بس ہوں۔۔
وہ بالکل خاموش تھا۔ایسے جیسے سانپ سونگھ گیاہو۔
جانتے ہومجاہد میں نے ایک باریہ بھی سوچاکہ اپنے خاندان کی قربانی دے دوں گالیکن مزیدمعصوموں کاگنہگار نہیں بنوں گالیکن جانتے ہوتب کیاہوا؟؟
وہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتارہا۔۔
تب میں نے بہت رازداری سے کھوج لگایاکہ میں جاکرکس سے بات کروں اور کس سے مدد مانگوں۔ لیکن مجھے مکمل طورپر ناکامی ہوئی۔ہرشاخ پر الو بیٹھا تھا جس کے سامنے کسی کی جان کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔پھرمیں نے مذہبی لوگوں کا سراغ لگایاجووزیروں، مشیروں اور بڑے بڑے عہدوں پرہیں۔میں نے سوچا کہ یہ تووہ لوگ ہیں جواللہ اوررسولۖکے راستے اوراحکامات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہ لوگ میری کسی طرح سے مددکردیںگے لیکن یہاں پرتومیں بالکل ہی مایوس ہوگیا۔وہ لوگ اپنے ذاتی مسائل اور طاقت کے کھیل میں اتنے مصروف تھے کہ اس کو خداسمجھ بیٹھے تھے اوروہی سب کررہے تھے جویہاں پرمولاناصاحب کررہے ہیں۔ مذہب کی فکرنہ یہاں کسی کوہے اورنہ وہاں۔یہاں بھی مذہب کے سوداگراوروہاں بھی اسی کے نام پرلوگوں کی بے وقوفی۔ یہاں سے میں نے مایوس ہوکروہی راستہ دوبارہ پکڑلیاجس کو چھوڑنا چاہا تھا۔ اگر میں کچھ کرنہیں سکتاتھاتواپنے چھ پیاروں کواپنے ساتھ مرواکرمیں کیاحاصل کرلیتا؟؟
وہ اب بھی انہیں اسی طرح حیرت سے ٹک ٹک تکے جارہاتھا۔اس کے پاس پڑی چائے کی پیالی کب کی ٹھنڈی ہوچکی تھی۔
تومیں سمجھ جاؤں کہ میرے پاس واپسی کاکوئی راستہ نہیں ہے ۔اب ساری زندگی مجھے بے گناہوں کی جانیں ہی لینی ہیں۔۔اس کے لہجے میں ایک لٹا ہارا ہوا مسافر بول رہا تھا۔
لیکن تم نے توابھی کہاہے کہ مولاناصاحب نے تم سے کہاہے کہ اگرتم اگلاایک مشن ان کی مرضی سے کرلوتووہ تمہیں جانے دے سکتے ہیں۔۔۔
آپ کولگتاہے کہ وہ ایساکرسکتے ہیں؟؟ اس کی مسکراہٹ بہت تھکی ہوئی تھی، اگرانہوں نے کہاہے تووہ ضرورایساکرسکتے ہیں۔کیوںکہ کچھ بھی ہے ایک بات کی گواہی میں ضروردوں گاکہ مولاناصاحب جھوٹ نہیں بولتے ۔ وہ زبردستی بھی تم سے کوئی کام کروا سکتے ہیں اوروہ واقعی ایساکربھی سکتے ہیں۔ لیکن اگرانہوں نے تمہیں پیشکش کی ہے تو میرا خیال ہے کہ تم غورکرلواس پر۔۔پہلے اچھی طرح سے حالات کاجائزہ لے لو۔ہرزاویے سے ۔اس کے بعد فیصلہ کرنا۔۔
مجاہدوہاں بیٹھاسوچ رہاتھاکہ اس کے حالات توبالکل ہارون جیسے ہوگئے تھے۔ کسی نے اس سے کہاتھاکہ ’’ہارون جیسامت بننابیٹا۔‘‘
لیکن وہ ہارون جیساہی بن گیاتھا۔۔۔۔

جمیلہ اسے عالمِ دین ہی بناناچاہتی تھی سوان دونوں نے اسے سکول داخل کرنے سے پہلے قاری ادریس کے پاس بٹھاناچاہا۔۔۔رات کوانہوں نے یہی فیصلہ کیاکہ اسے قاری صاحب کے پاس بھیجناشروع کردیاجائے اورسکول میں جب داخلوں کاموسم آئے گاتواس باراسے داخل کر دیںگے لیکن ا س میں ابھی سات مہینے کاعرصہ رہتاتھا۔۔
اوراگلے دن تونہیں ہو سکاالبتہ اس سے اگلے دن فضل نے ٹھیکیدارسے جلدی چھٹی لے لی تھی اورگھرآکررحمت کوگھرکے قریب والی مسجدمیں لے گیاتھاجس کی امامت قاری ادریس کرتے تھے ۔ بہت ہی بردباراورعزت دارانسان تھے ۔ گاؤں کے لوگ ان کوقاری صاحب ہی بولتے تھے ۔فضل اوربچے اسی مسجدمیں نمازپڑھنے آتے تھے ۔
یہ اصل میں ایک چھوٹی سی مسجدتھی جس کونمازکے اوقات کے بعد مدرسے کے طورپر استعمال کیاجاتاتھا۔محلے کے اکثربچے قاری ادریس سے قرآن کاسبق پڑھنے آتے تھے اورقاری ادریس ایک بارصبح اورایک بارعصرمیں بچوں کوپڑھاتے تھے ۔جو بچے سکول جاتے تھے وہ عصرکی نمازکے بعدپڑھ لیتے تھے اورجوسکول نہیں جاتے وہ صبح پڑھ لیتے اس طرح سے مسجدکاصحن بھی تنگ نہ پڑتااورمحلے کے سارے بچے پڑھ بھی جاتے ۔
گاؤں کے لوگ قاری صاحب کی بہت عزت کرتے تھے ۔وہ تھے ہی اتنے اچھے ۔ہرکسی سے عزت سے ملتے تھے ۔کبھی فضول بات نہ کرتے ۔نہ کبھی کسی سے کچھ مانگتے تھے ۔ان کاتعلق اس گاؤں سے نہیں تھالیکن کسی کوپتہ نہیں تھاکہ ان کاخاندان کہاں ہے ۔وہ بس پچھلے چھ سال سے محلہ جھنگی کی مسجدمیں آبادتھے۔ گاؤں کے لوگوں نے کبھی ان کے منہ سے اپنے خاندان کے کسی فردکے بارے میں نہیں سنااگرکبھی کسی نے کوشش کی بھی توقاری صاحب ٹال دیتے ۔ خود داری ان میں بہت تھی۔بھوکارہ لیتے لیکن خودکسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے ۔گاؤں کے کچھ مالی طورپرمستحکم لوگوں نے آپس میں ان کے کھانے کابندوبست کررکھاتھا۔اب وہی لوگ ایک ایک دن کاکھاناقاری صاحب کوبھجواتے تھے ۔ قاری صاحب گاؤں کے بچوں کوبغیراجرت کے پڑھاتے تھے ۔ پڑھانے کی اجرت انہوں نے کبھی نہیں مانگی اگرکسی نے کبھی دینے کی کوشش کی بھی توقاری صاحب یہ کہہ کرمنع کردیتے کہ وہ یہ کام اللہ کی رضاکے لئے کر رہے ہیں اوراللہ کے لئے کئے جانے والے کام کی اجرت نہیں لی جاتی رہا کھانے اورکپڑوں کا معاملہ تووہ گاؤں میں کوئی نہ کوئی قاری صاحب کو دے ہی دیتا۔لیکن قاری صاحب کی عجیب بات تھی کہ وہ پورے سال میں دو سے زیادہ جوڑے قبول ہی نہیں کرتے تھے ۔جب ان کوسال میں دوجوڑے مل جاتے تھے توتیسراوہ اصرارپربھی نہیں لیتے تھے ۔
جب فضل، رحمت کی انگلی تھامے مسجدمیں داخل ہوا تو بچے سبق ختم کرکے اٹھ گئے تھے ۔جب کہ قاری صاحب ادھرہی صحن میں چادربچھاکربیٹھے تھے ۔
السلام علیکم قاری صاحب۔۔،فضلونے عقیدت سے سلام کیا۔
وعلیکم السلام فضل اللہ کیسے ہو؟آؤ بیٹھو۔۔ قاری صاحب نے بچھی ہوئی چادرکے ایک طرف فضل کے لئے جگہ خالی کی۔
کہواس وقت کیسے آناہوا۔۔۔؟
قاری صاحب یہ میراچھوٹابیٹاہے رحمت اللہ۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ آپ کی طرح بنے ۔دنیا اور آخرت میں واقعی ہمارے لئے رحمت بن جائے ۔۔۔فضل نے مدعابیان کیا۔
(جاری ہے……)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔
 
08
November

انٹرویو: قاسم علی

فن اور فنکار کا رشتہ وطن اور اس کی ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی ایک پہچان ہے۔ جس پر ہمیں فخر ہے۔ دوسروں کے نقل کرنے والے جلد ناکام ہو جائیں گے۔

قوی خان پاکستان کے ان ورسٹائل فنکاروں میں شامل ہیں جن کی شخصیت کا جادوفنون لطیفہ کے چاروں شعبوں ریڈیو، تھیٹر ، ٹی وی اور فلم میں سر چڑھ کر بول رہا ہے انہیں فنی دنیا کا حصہ بنے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن وہ آج بھی کیرئیر کے آغاز جیسی لگن اور جذ بے کے ساتھ کام میں مصروف ہیں اور ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ قوی خان اپنی زندگی کو '' جہد مسلسل '' قرار دیتے ہیں انہیں بدلتے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کا فن بخوبی آتا ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پی ٹی وی سے آن ائیر ہونے والے پہلے ڈرامے میں '' ہیرو'' کا کردار ادا کرنے کا اعزاز بھی قوی خان کو حاصل ہے۔ قوی صاحب اگرچہ انتہائی کم گو انسان ہیںلیکن ہلال کے قارئین کے لئے انہوں نے بے تکلف گفتگو کی اور اپنے نجی اور پیشہ ورانہ زندگی پر کھل کر بات کی جو پیش خدمت ہے ۔

mqavikhan.jpg
سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں ، بچپن کہاں گزرا ، تعلیم کہاں مکمل کی ؟
میری پیدائش 13 نومبر 1942کوشاہ جہاں پور انڈیا میں ہوئی، میرے والد محمد نقی خان محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور ان دنوں شاہ جہاں پور میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ بعد میں ہم پشاور منتقل ہوگئے جہاںگورنمنٹ ہائی سکول پشاوراور ایڈورڈ کالج سے میں نے تعلیم مکمل کی۔میں نے 7برس کی عمر میں ریڈیو پاکستان سے کام کا آغاز کردیا تھا اور تب سے لے کر آج تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمارا گھرپشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان کے بالکل قریب تھا۔ ہمارے محلے میںاُس زمانے کے ریڈیو پاکستان پشاور کے مشہورآرٹسٹ شیخ شریف کی رہائش بھی تھی جن کا پروگرام '' قہوہ خانہ'' سبھی بڑے شوق سے سنتے تھے ، ایک دن انہوں نے مجھے سکول سے واپس آتے گلی میں دیکھا تو بولے: بیٹا آپ ریڈیو پر بچوں کے پروگرام کا حصہ بنو گے، میں نے ڈرتے ڈرتے ہاں کہا، یوں میرا ریڈیو سے رشتہ قائم ہوا ، شیخ شریف کو لینے کے لئے ریڈیو کی جو گاڑی آتی میں بھی اسی میں آیا جاتا کرتا تھا۔ ابتدا میں جاکر میں بیٹھا رہتا تھا ، کام ہوتا دیکھا کرتا تھا اور پھر واپس آجایا کرتا تھا۔ پھر '' نانی اماں '' کے عنوان سے ہفتہ وار ایک پروگرام شروع ہوا جس میں ایک بوڑھی عورت اپنے نواسے ، نواسی کو کہانی سنایا کرتی تھی میں اس پروگرام کا حصہ بنا ۔ پھر کیا ہوا، گھوڑا کیوں گرگیا ، شہزادی نے تیر کیوں چلایا ، وہ کیسے مرگیا وغیرہ میرے ڈائیلاگ ہوا کرتے تھے۔ مجھے ایک پروگرام کا معاوضہ 5روپے ملتا تھا جسے لے کر میں گاڑی میں بیٹھتا تھا اور بھاگ کر گھر آجاتا تھا۔ اس زمانے میں مجھے پورے مہینے کا جیب خرچ ایک روپیہ ملتا تھا اور باقی 19روپے میں گھر دے دیتا تھا۔


سوال:ریڈیو سے ٹی وی تک کا سفر کیسے طے ہوا؟
الفاظ کے تلفظ ، ادائیگی ، زیر زبر کا فرق ، گفتگو کا قرینہ و سلیقہ میں نے ریڈیو پاکستان سے سیکھا اور کالج کی تعلیم کے دوران بھی ریڈیوپر کام کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا پھر میں 1961میں لاہور آگیا ۔ میں نے پانچ چھ برس بینک میں ملازمت بھی کی لیکن چونکہ میرے پاس ریڈیو پاکستان کا این او سی تھا تو میں نے ریڈیو لاہور پر کام کا سلسلہ جاری رکھا پھر میں نے الحمرا تھیٹر اور اوپن ائیر تھیٹر میں اداکاری کے جوہر دکھائے، رفتہ رفتہ مجھے فلم میں کام کرنے کا موقع بھی میسر آگیا 1964میں میری پہلی فلم '' رواج'' ریلیز ہوئی جسے دلجیت مرزا صاحب نے بنایا تھا ، '' رواج'' میں ولن کا کردار میں نے ادا کیا ساتھ ہی پروڈکشن میںدلجیت مرزا کو اسسٹ بھی کیا تھا جس سے مجھے فلم میکنگ کی باریکیوں کو سمجھنے میں کافی مدد ملی ، اسی دوران لاہور میںپاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہورہا تھا ، میں نے کام کے لئے فوری اپلائی کیا جلد ہی مجھے یہ پیغام ملا کہ پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پہلاکھیل ''نذرانہ'' آن ائیر جائے گا اس میں ہیرو کا کردار میں ادا کروں گا تو وہ میرے لئے تاریخ بن گئی جو اب تک ہے ۔ اس کھیل کو نجمہ فاروقی نے تحریر کیا تھا اور فضل کمال نے ڈائریکٹ کیا تھا، میرے ساتھ کنول حمید نے ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ پھر میں نے 1966 میں بینک کی جاب چھوڑ دی اور تمام تر توجہ فن اداکاری پر مرکوز کردی ، ریڈیو، ٹی وی ، تھیٹر اور فلم ہر میڈیم میں مجھے کام ملتا رہا اور میں نے اس سلسلے میں بریک نہ آنے دی۔ ایک زمانے میںمجھ پر فلم میکنگ کا جنون طاری ہوگیا جس کی تکمیل کے لئے میں نے بارہ فلمیں بھی بنائیںجو زیادہ اچھی نہیں گئیں اس ناکامی نے مجھے زندگی کے نشیب و فراز سے بخوبی آشنا کروایا لیکن اس سارے سفر میں ٹیلیویژن نے مجھے تھامے رکھا ، ہم دونوں نے ایک دوسرے کا دامن نہیں چھوڑا۔اب تک 54برس ہوگئے ہیں میں نان اسٹاپ ٹی وی پر کام کررہا ہوں اور ہر ہفتے میں کسی نہ کسی چینل پر ضرور آن ائیر ہوتا ہوں ۔ میں نے زندگی میں کوئی بزنس نہیں کیا ، کوئی پراپرٹی نہیں بنائی۔ اداکاری ہی میرا جنون رہا جس سے مجھے رزق کا سامان بھی مہیا ہوتا رہا۔ میں پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اوپر نہیں پہنچ گیا بلکہ میرا سفر تو جہد مسلسل کی عملی مثال ہے، پہلی کے بعد دوسری پھر تیسری سیڑھی مرحلہ وار عبور کیں۔


سوال: آپ بلاشبہ پاکستان میں فن اداکاری کے بانی فنکاروں میں شامل ہیں یہ بتائیے گاتھیٹر اور ریڈیو کا تجربہ ایک فنکار کی تکمیل کے لئے کتنا ضروری ہے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ریڈیو اور تھیٹر کی اہمیت بنیادی ستون سے کم نہیںہے اس کا تجربہ ہونے سے آپ کے کام میں و ہی پختگی آتی ہے جیسے ستونوں کے ساتھ عمارت مستحکم کھڑی رہتی ہے۔ آرٹسٹ کوعلم ہونا چاہئے کہ مکالمہ کہنے کے کیا اسرار ورموز ہیں ، تھیٹر ہال میں جو 600آدمی آپ کو لائیو دیکھ رہے ہیں ان کی ڈیمانڈ کیاہے اورٹی وی ناظرین کے سامنے کیسے آنا ہے۔ آوازکی پچ، باڈی لینگوئیج، کیمرہ ہینڈلنگ ، خود اعتمادی اور ہر میڈیم کاباہمی فرق، یہ سب علوم تجر بے سے ہی حاصل ہوتے ہیں اورسب سے بڑھ کر فنکار کا زمانے میںآنے والی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہونا بہت ضروری ہے ، جیسے کچھ سالوں بعد کیمرے بدل جاتے ہیں ، لائٹس بدل جاتی ہیں، لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آجاتی ہے ، لباس اور گفتگو کا انداز بدل جاتاہے، ویسے ہی آرٹسٹ کو وقت کے ساتھ ان تبدیلیوں کو اپنا لینا چاہئے ورنہ وہ زمانے کے ساتھ چل نہیں پائے گا۔ میرا یقین ہے کہ ریڈیو او ر تھیٹرکا تجربہ ہونے کی وجہ سے میں نے اتنے برس کام کرلیا ورنہ خامیاں اورکوتاہیاں تو مجھ میںبھی بہت ہیں اور مکمل تو صرف میرے مالک کی ذات ہے ۔


سوال: ہمارے ہاںاچھے ڈرامے بن تو رہے ہیں لیکن ماضی جیسے کلاسک کھیل اب کیوں نظر نہیں آتے ۔؟
اصل میں سارا سسٹم سپلائی اور ڈیمانڈ پر مبنی ہے۔ جنریشن تبدیل ہوچکی ہے اور آج کی آڈئینس کی ڈیمانڈ کچھ اور ہے اسی طرح کمرشلزم کے اثرات بھی ہیں۔ اب دیکھیں آج کے ڈرامے
Woman Dominated
ہیں ۔ میں ان دنوں جس کھیل کی ریکارڈنگ کر وا رہا ہوں وہ بھی ایسے موضوع کا احاطہ کرتاہے ، عورتوں کی کہانیاں ہیں اور ہماری خواتین ایسے کھیل بڑے شوق سے دیکھتی ہیں۔ ہوا جس طرف ہوپتنگ اسی طرف جاتی ہے اس لئے آج کل خواتین کے موضوعات کھیلوں میں حاوی نظر آتے ہیں ، انہی کو کمرشل ملتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ ہمارے ہر گھر میں ایک کہانی ہوتی ہے جنہیں روایات ، اقدار اور وقار کے ساتھ اصلاحی انداز میں سامنے لانا چاہئے تاکہ عوام کے دلوں میں تعمیری سوچ پروان چڑھے۔

mqavikhan1.jpg
سوال: غیر ملکی ڈراموں سے پاکستانی ڈراموں کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے؟
میں تو اس چیز کا قائل ہوں کہ باہر دیکھنے کے بجائے پہلے آپ اپنے آنگن کی اچھی طرح صفائی کر لیں، گھر سے گلی کارخ کریں اس کی دیکھ بھال کریں پھر سڑک کی صفائی ستھرائی بھی ہماری ذمہ داری ہے اس کے بعد آپ کسی اور جانب دیکھیں ابھی ہم اپنی دیوار سے آگے نکلے نہیں ہیں اپنے معیار کو مثالی بنایا نہیں ہے اور باہر کی ثقافتی یلغار کے آگے ڈھیر ہوگئے ہیںجو مناسب نہیںہے۔ فن اور فنکار کا رشتہ وطن اور اس کی ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ جس پر ہمیں فخر ہے۔ دوسروں کی نقل کرنے والے جلد ناکام ہو جائیں گے۔


سوال: ''اندھیرا اجالا'' کا شمار پاکستان کے مقبول ترین اور کلاسک کھیلوں میں ہوتا ہے اس میںکام کرنے کا فیصلہ آپ نے اپنے والد سے متاثر ہوکرکیا تھا؟
جی ہاں اور یہ یونیفارمز مجھے ویسے ہی بہت پسند ہیں، جب بھی آپ کسی پولیس آفیسر یا آرمی کے جوان سے ہاتھ ملائیں توآپ کو محسوس ہو گا کہ آپ نے کسی مضبوط ترین شخصیت سے ہاتھ ملایا ہے ، ان کے ہاتھ سے ہی ان کی محنت ، جدوجہد ، ان کے کام اور پیشے سے لگن کا پتہ چل جاتا ہے تو مجھے اللہ نے موقع دیا تو میں نے کوشش کی کہ اس کھیل کے ذریعے عوام کی تفریح کے ساتھ مثبت پیغامات دئیے جائیں اور بفضلِ اللہ بڑی کامیابی سے بھی ہمکنار ہوا، اس میں دکھائی جانے والی کہانیاں زیادہ تر سچی اور اصلی ہوتی تھیں پھر وہ بند اس لئے ہوا کہ ہمارے رائٹر بیمار ہوگئے تھے ساتھ میں وہ پی ایچ ڈی بھی کر رہے تھے لیکن ایسے ڈراموں کی ہمارے معاشرے کو اشد ضرورت ہے ، ان کو بند ہونا ہی نہیں چاہئے ۔اندھیرا اجالا کی کامیابی میں بنیادی کریڈٹ اسکرپٹ اور ڈائریکٹر کا ہے۔


سوال: آپ کے بچے کیا کر رہے ہیں ، انہوں نے ٹی وی یا فلم انڈسٹری کو کیرئیر کے طور پر کیوں نہیں اپنایا؟
میرے دو بیٹے(محمد عدنان قوی ، مہران قوی) اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں نے ابتدا میں ٹی وی پر کچھ کام کیا تھا جیسا اشفاق احمد کا کھیل تھا '' من چلے کا سودا'' ، لیکن میں نے محسوس کیا کہ بچوں کو پہلے اپنی تعلیم مکمل کرنی چاہئے چنانچہ ایک آئی ٹی کی طرف نکل گیا اور دوسرا ڈاکٹر بن گیا اس وقت دونوں کینیڈا میں مقیم ہیں ، دونوں بیٹیاں بھی شادی کے بعد بیرون ملک سیٹل ہیں میں نانا ، دادا بن چکا ہوں ، بچے مجھے ملنے آتے رہتے ہیں اور میں بھی اکثر ان کے پاس جاتا ہوں۔


سوال: شاعری سے لگاؤہے پسندیدہ شاعر کون ہے؟
جی بالکل مرزاغالب میرے پسندیدہ شاعرہیں۔اس کے علاوہ احمد فراز بھی مجھے پسند ہیں انکا تعلق ریڈیو پاکستان پشاور سے تھا وہ وہاں ڈیوٹی آفیسر تھے اور ان کے لکھے کھیل'' ساحل کی ریت'' میں کام بھی کیا تھا وہ مجھے بچپن سے بھی جانتے تھے بلکہ میں اسلام آباد کی ایک تقریب میںمدعو تھا وہاں میں ان کا شعر پڑھ رہا تھا کہ
''ہر ایک خواہش روتی رہتی ہے '' میںدوسرا مصرعہ بھول گیا مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ پیچھے کھڑے ہوئے ہیں ۔وہ پیچھے سے آئے مجھے گلے لگایا اور دوسرا مصرعہ خود پڑھا '' میرے اندر بارش ہوتی رہتی ہے''۔


سوال: موسیقی سے کتنالگاؤہے ، فیورٹ سنگر کون ہیں؟
مجھے سیمی کلاسیکل موسیقی سے لگاؤ ہے اور پرانے اساتذہ کو میں شوق سے سنتا ہوں، نصرت فتح علی خان ،فتح علی خان اور عصر حاضرکے گلوکاروں میں سے سجاد علی مجھے بہت پسند ہے اس کے گیتوں سے طبیعت خوش ہوجاتی ہے ۔


سوال: ہمارے ہاں فنکاروں کی سیکنڈ لائن کیوں نہیں بن پاتی اور ہماری فلم ڈرامے کے اثر سے باہر کیوں نہیں نکل رہی؟
اصل میں سیکنڈ لائن بنانے ہی نہیں دی جاتی ، یہاں پر اگر کسی کو مقام و مرتبہ ملتا ہے تو یہ بھی بہت مشکل سے ملتا ہے ، یہ شوبز فیلڈ ہی ایسی ہے ۔سینئرز بھی رہنمائی نہیں کرتے چنانچہ سٹارز تو چند ایک ہی بنتے ہیں باقی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی محنت رائیگاں چلی جاتی ہے ۔ فلم ڈرامے کے اثر سے رفتہ رفتہ نکلے گی ٹیکنالوجی کی ترقی نے پروڈکشن کا پورا نظام ہی بدل دیا ہے، اب نہ نیگیٹو رہا، نہ ڈویلپنگ ، پرنٹنگ کی مشینیں رہیں نہ پروجیکٹر والے پرانے سنیما رہے ، لوگ محنت کر رہے ہیں رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔


سوال : آپ کو کون کون سے اعزازار مل چکے ہیں ؟کوئی اور اعزاز حاصل کرنے کی تمنا باقی ہے؟
اعزاز تو مجھے سارے مل چکے ہیں ، ریڈیو،تھیٹر ، ٹی وی اور فلم ہر شعبے میں مجھے علیحدہ علیحدہ ایوارڈز دئیے گئے ہیں اور اب مجھے صرف ایک اعزاز چاہئے اور وہ ہے میرے مالک کی نظر کرم ، میری تمنا ہے کہ مالک کائنات مجھ سے راضی ہوجائیں۔


سوال: پاک فوج آج کل دہشت گردوں سے جنگ میں مصروف ہے ، ان کی قربانیوں کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
زندگی اور موت کا مالک تو رب کائنات ہے لیکن اگر غازی اور شہید کا مقام اور رتبہ پڑھ لیا جائے اور پڑھ کر سمجھ لیا جائے تو بلاشبہ ہر شخص غازی اور شہید بننے کو تیار ہوجائے اور ملک وقوم کے لئے اس سے بڑی خدمت یا قربانی ہو ہی نہیں سکتی کہ آپ اپنی سرزمین اور کروڑوں لوگوں کی حفاظت کے لئے بے لوث اپنی جان دے دیتے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کو دیکھتے ہی سلام پیش کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہماری سرحدوں کے علاوہ ہماری عزتوں ، اقدار اورمال و متاع کے محافظ بھی ہیں۔ یہ بہت عظیم لوگ ہیں۔ میں جب ان کو دیکھتا ہوں تو دیکھتا ہی رہ جاتا ہوں جذبات سے میری آنکھوں میںبے اختیار آنسو آجاتے ہیں۔
سرحدوں پر جو ہمارے بہادر اور غیور فرزندہماری حفاظت کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیںدر حقیقت وہ ہمارے سر کا تاج اور فخر ہیں ہر روز ہماری دعاؤ ں میں ان کا خصوصی ذکر رہتا ہے، ہمارے جذبات ، احساسات اور سب کچھ ان عظیم لوگوں کے لئے ہیں، ہماری سرحدوں ، عزتوں ، سبز ہلالی پرچم اور ملک و قوم کے محافظ سے بڑا شخص اس معاشرے میں کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ خاکی وردی زیب تن کئے یہ فرزند قوم کا قابل فخر سرمایہ ہیں اور جو شہادت کا رتبہ پالے ان کے لئے تو دین و دنیااور آخرت میں جنت کا مقام ہے سبحان اللہ ، سبحان اللہ اسی لئے میں نے کہا ہے کہ جو سمجھ جائے تووہ بھی اس مقام و مرتبے کو پانے کی خواہش رکھے۔ان بہادر فرزندوں کی عزت و تکریم کے لئے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں اور ساری قوم کے یہی جذبات ہیں۔ میں نے جوانی میں فوجی بھائیوں کے لئے سرحدوں پر جاکر بہت سے پروگرام کئے ہیں آج بھی اگر مجھے بلایا جائے تو میں ساری مصروفیت ترک کرکے فوراً پہنچ جاؤں گا، میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔ یہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔
میں نے ایک فلم'' پاسبان '' بنائی تھی جس میں دو شعر پاک فوج کی نذر کئے تھے۔
قسم ہے شہیدوں کے لہو کی
قسم زندگی کی، قسم آبرو کی
گھر اپنا کسی کو جلانے نہ دیں گے
وطن پر کوئی آنچ آنے نہ دیں گے
پاکستان زندہ باد ، افواج پاکستان پائندہ باد۔


سوال: رواں برس پاکستانی قوم نے اپنی آزادی کی سترہویں سالگرہ کا جشن منایا آپ بتائے کہ ہم اپنے ملک کے لئے کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرنا چاہئے؟
میرا خیال ہے کہ ہر باشعور آدمی کوگھر میں اپنی یہ عادت بنا لینی چاہئے کہ وہ ہر روز صبح اٹھ کر اپنے بچوں کو آزاد وطن کی اہمیت سے روشناس کروائے اس کو بتائے کہ کس طرح اس کے آباء واجداد نے پاک سرزمین کو حاصل کرنے کے لئے بے انتہا قربانیاں دیںاور کسی ایک موضوع پر چار لائنوں کا درس بچے کو لازمی دیا کرے۔ جیساکہ پاکستان کو حاصل کرنے میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار ، علامہ اقبال کا خواب آزادی وغیرہ اگر سارے لوگ ایسا سوچ لیں کہ ہم نے ایسا کرنا ہے تو اس قوم میں جذبہ حب الوطنی ، آزاد سرزمین کی اہمیت اور ترقی کی لگن اتنی ہوجائے گی کہ جب وہ شعور کی منزل تک پہنچے گا تو اس کو پاک وطن کی زمین کا ایک ایک انچ اپنی جان سے عزیز تر ہوگا، یہ مجھ سمیت تمام قوم بالخصوص والدین کا فرض ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داری لینا پڑے گی۔ صبح ناشتے کے وقت یہ کام ہونا چاہئے اور ٹی وی پر بھی حب الوطنی پر مبنی پروگرام آنے چاہئیں ۔تربیت کے حامل مختصر پروگراموں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا چاہئے جیسا پہلے پی ٹی وی پر ہوا کرتا تھا۔ میں آپ کو اپنے ایک پروگرام کا بتاتا ہوںجس کا دورانیہ صرف ایک منٹ ہوتا تھا جس میں میں بچوں کو نصیحت کیا کرتا تھا جیسے میں باغ کی سیر کر رہا ہوتا ہوں تو کوئی بچہ میرے پاس سے گزرتا ہے تو میں اس کو روک کر کہتا ہوں کہ بیٹا بڑوں کو سلام کرکے گزرا کرو۔السلام علیکم کہہ کرمیں آگے بڑھ جاتا ہوں اوروہ بچہ مجھے دیکھتا رہتا ہے اس کا اثراتنا ہوا تھا کہ کئی سال کے بعد میں ماڈل ٹاؤن پارک میں جا رہا تھا کہ میرے پاس سے ایک صاحب گزرے تو انہوںنے کہا السلام علیکم ، میں نے اسے دیکھا تو بولا سلام کرلیا کرتے ہیںقوی صاحب ، فوراً میرے ذہن میں اس بچے کی تصویر آئی تو میں نے آگے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا تو جوبات اچھی ہو دل پر اثر کرتی ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

ڈپریشن جو کہ پوری دنیا میں 'مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے' کسی بھی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، اسے ہم عرفِ عام میں اداسی اور مایوسی بھی کہتے ہیں۔ ڈپریشن ایک پیچیدہ دماغی بیماری ہے جو انسان کو حیاتیاتی ، نفسیاتی اور سماجی طور پر متاثر کرتی ہے ۔ جب مایوسی اور اداسی کا غلبہ بہت دنوں تک رہے اور اس کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روزمرہ کے معمولات اس سے متاثر ہونے لگیں اور متاثرہ شخص ایک خول میں بند ہو کررہ جائے تو اسے ڈپریشن کا نام دیا جاتا ہے ۔
بعض حالتوں میں ڈپریشن کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی ہے مگر مریض پر اس کے دورے اتنے شدید ہوتے ہیں کہ مستقل مایوسی اور اداسی کی کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ان کو علاج اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ۔


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں300 بلین سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں سالانہ تقریباََ8 لاکھ افراد ذہنی دبائو کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں جبکہ تقریباً 20 فیصد لوگ ڈپریشن کے باعث دیگر نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً34 فیصد آبادی ذہنی دبائو یا ڈپریشن کا شکار ہے ۔
ڈپریشن کی خاص علامات میں مستقل پریشانی، سستی، کمزوری، سردرد، تھکاوٹ، بے چینی اور نااُمیدی شامل ہیں۔ ڈپریشن کی بیماری کا علاج ہر فرد کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے ۔ بعض لوگوں کو اس مایوسی کی حالت میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو اپنے پیاروں کو اپنے جذبات اور احساسات سنا کراور ان سے مل کر طبیعت میں بہتری محسوس ہوتی ہے جبکہ کچھ افراد اپنے جذبات اور احساسات اپنے علاوہ کسی دوسرے فرد سے بیان نہیں کر سکتے اور اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر اس ڈپریشن کے شکنجے میں دھنستے چلے جاتے ہیں ۔

dipressionkmerzpe.jpg
ڈپریشن کی حالت میں عام طور پر سر میں درد اور بے چینی شروع ہو جاتی ہے ، معدے کی کارکردگی بھی بُری طرح متاثر ہوتی ہے ۔ وزن میں اچانک کمی آنے لگتی ہے اور مریض تیزی سے بڑھاپے کی طرف بڑھنے لگتا ہے ۔نیند کی کمی کے باعث مزاج میں چڑچڑا پن او رسستی پیدا ہونے لگتی ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں کمی بھی ڈپریشن کا باعث بنتی ہے ۔وزن میں کمی سے کچھ لوگ خوش نہیں ہوتے بلکہ وہ خود کو اداس اور سست محسوس کرنے لگتے ہیں اور کھانے سے رغبت ختم ہو جاتی ہے جس سے ان کا بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے اور پھر اس سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وزن میں کمی سے ڈپریشن اور مایوسی میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں ۔


ڈپریشن کے شکار افراد کی بھوک بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ ڈپریشن خوراک کی خواہش کو کنڑول کرنے والے ہارمونز پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ اس حالت میں بعض افراد ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں جبکہ کچھ افراد اپنی عام خوراک سے بھی کم کھاتے ہیں۔جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں اضافہ یا کمی ہونے لگتی ہے۔ اس کے علا وہ ڈپریشن کے مریضوں میں بہت زیادہ سونا یا بے خوابی، بہت جلد نیند کا ختم ہو جا نا بھی عام ہوتا ہے۔ایک طبی تحقیق کے مطابق مایوسی کے شکار افراد راتوں کو جاگتے رہتے ہیں اور وہ اپنے مسائل کو سوچتے رہتے ہیں۔


ذہنی دبائو یاڈپریشن کے باعث کچھ ہارمونز متاثرہ فرد کی جلد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ ڈپریشن کے دوران ان ہارمونز کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کے باعث اکثر مریضوں کو کیل، مہاسوں اور خارش وغیرہ شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سینے میں جلن، قبض، ہیضہ اور قے وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معدہ انسانی مزاج کی کیفیات کے مطابق ردعمل ظاہر کر تا ہے۔ مستقل اداسی بھی ڈپریشن کی ایک اہم علامت ہے اور ہر وقت اداس رہنے والے افراد میں خودکشی کے خیالات بھی ہر وقت آتے رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر اپنی جان لینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔


ڈپریشن درحقیقت ایک ذاتی نوعیت کا مرض ہے جس کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں وجوہات اور پھر علاج قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ڈپریشن اور مایوسی کی وجہ موروثی عوامل ہوتے ہیں یعنی موروثی طور پر جسمانی لحاظ سے کمزور اور نازک افراد نسبتاً زیادہ جلد قنوطیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص کے والدین کو ڈپریشن کا مرض ہے تو اس شخص میں اس مرض کی منتقلی کے امکانات دوسرے افراد کے مقابلے میں تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں کے گھروں اوردفتروں کی پریشانیاں بھی انسان کو ڈپریشن کا مریض بنادیتی ہیں اور پھر وہ ہائی بلڈپریشر، دل اور گردے کی مختلف بیماریاں اور کینسر جیسے عوارض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق ڈپریشن بعض اوقات سرطان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مسلسل ذہنی دبائو کے شکار افراد میں ٹیومرکا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور پھر کوئی بھی ذہنی صدمہ یا جسمانی نقصان سرطان کا باعث بن سکتا ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہری سبزیاں مثلاً پالک، مٹر، سلاد کے پتے کھانے سے ڈپریشن کے مرض میں پچاس فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ کھانا ایک اعتدال میں رہ کر کھائیں اور ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ ورزش اور جسمانی سرگرمی ضرور رکھنی چاہئے۔


ڈپریشن کی حالت میں متوازن غذا کھانا بے حد ضروری ہے۔ بازار کے چکنائی سے بھرپور، غیر معیاری کھانوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور کھانے میں تازہ پھلوں، سبزیوں کی سلاد اور فریش جوسز کا استعمال لازمی کرنا چاہئے اور کیفین اور الکوحل سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے ۔ ایک تحقیق کے مطابق ہری سبزیاں مثلاً پالک، مٹر، سلاد کے پتے کھانے سے ڈپریشن کے مرض میں پچاس فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ کھانا ایک اعتدال میں رہ کر کھائیں اور ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ ورزش اور جسمانی سرگرمی ضرور رکھنی چاہئے۔ روزانہ ورزش سے انسان کی جسمانی صحت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کا ذہن بھی فریش رہتا ہے۔ اگر مریض کو معلوم ہو کہ اسے کس وجہ سے ڈپریشن کا مسئلہ ہو رہا ہے تو اس وجہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور مایوسی سے دور رہنا چاہئے کیونکہ اگر مریض چاہے تو اپنے آپ کو اس ڈپریشن کی حالت سے بآسانی نکال سکتا ہے ۔ ڈپریشن کا علاج سائیکوتھراپی اور اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات
(Antidepressant drugs)
کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے۔ باتوں کے ذریعے (یعنی سائیکو تھراپی) علاج میں ڈپریشن کے مریضوں کو اپنے احساسات اور دل کی باتیں کسی اپنے دوست یا بااعتماد فرد کے ساتھ ڈسکس کرنے سے ڈپریشن میں کمی ہو سکتی ہے، جبکہ بعض حالات میں ماہر نفسیات سے مشورہ کرنا اور اس سے اپنے دل کی بات شیئر کرنا زیادہ آسان اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ سائیکو تھراپی کے ذریعے علاج میں وقت لگتا ہے اور بہت زیادہ شدید ڈپریشن کی کیفیت میں ڈاکٹر مریض کو مایوسی ختم کرنے والی ادویات بھی تجویز کرتے ہیں۔جس سے آہستہ آہستہ مریض خود میں بہتری محسوس کرنے لگتا ہے ، اس کی اداسی میں کمی آنے لگتی ہے اور زندگی جینے کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اور وہ اپنے حالات کا مقابلہ کر نے کی صلاحیت میں بہتری محسوس کر تا ہے ۔ ان ڈپریشن کش ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی ہوتے ہیں مگر ان میں اتنی شدت نہیں ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایس ایس آر آئی اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات کے استعمال سے ابتداء میں کچھ مریضوں کو قے اور بے چینی کی سی کیفیت شروع ہو جاتی ہے جبکہ ٹرائی سائیکلسٹ اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات استعمال کرنے والے مریضوں میں دوائی کے شروع دنوں میں منہ کی خشکی اور قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق ڈپریشن والی ادویات میں نیند لانے والے عنصر موجود ہوتے ہیں اور ان کو رات سونے سے پہلے کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔لہٰذا یہ دوائیں استعمال کرنے کے بعد ڈرائیونگ کرنے یا کوئی بھاری کام کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور علاج شروع ہونے کے بعد گاہے بگاہے اپنے ڈاکٹر کو معائنہ کرواتے رہنا چاہئے تاکہ وہ دوائیوں کے اثر کو دیکھتے ہوئے مرض کا اندازہ لگا سکے کہ اس دوا سے مریض کو افاقہ ہو رہا ہے یا اس کے مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


ڈپریشن کی حالت میں مریض کو ماحول اور حالات تبدیل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے کہ ہماری ہر اداسی اور غم کا علاج صرف اس کائنات کے مالک کے پاس ہے ۔ جو اپنے بندوں سے ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتاہے ۔ ڈپریشن جیسے موذی مرض سے بچنے کے لئے اپنی روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں لانے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ نیند کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ رات کو جلدی سونے اور صبح سویرے اٹھنے کی عادت اپنانی چاہئے ۔ اور نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کو معمول بنالیں ۔ اس کے ساتھ صبح کی سیر اور ہلکی پھلکی ورزش کو بھی اپنا معمول بنا لینا چاہئے اور اپنی اجتماعی صحت کابھی خیال رکھیں۔ لوگوں کی مدد کریں ۔ مستحق لوگوں کی مدد کرنے سے جو خوشی مل سکتی ہے، وہ دنیا کے کسی بھی خزانے سے زیادہ ہے ۔ اپنے آپ کو مختلف تفریحی سرگرمیوں میں شامل کریں کیونکہ ڈپریشن کا عفر یت زیادہ تر فارغ اوقات اور خالی دماغ پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ اس سے بچنے کے لئے اپنے دماغ کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں ۔ مختلف تخلیقی سرگرمیوں مثلاً تحریر یا تقریر کی عادت، پینٹنگ، کوکنگ، فلاور میکنگ، سوشل ورکنگ، باغبانی، درس وتدریس سے آہستہ آہستہ مریض خود کو حالت سکون اور اطمینان میں محسوس کرنے لگتا ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو خاندان کے ساتھ رہتے ہیں ان کی ذہنی اور جسمانی صحت ان لوگوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہوتی ہے جو کہ اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں ۔ایسے افراد جو ڈپریشن سے پہلے مایوسی اور اداسی کا شکار رہتے ہیں، ان میں چونکہ ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ، ان کے گھروالوں کو چاہئے کہ ایسے افراد کو اکیلا نہ چھوڑیں۔ اُن سے ان کی مشکلات اورپریشانیوں کے بارے میں بات کریں۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن کے شکار افراد کے ساتھ شفقت اور محبت کا برتائو کیا جانا چاہئے اور ان کے ساتھ سختی کرنے یا ان کی حالت کو نظر انداز کرنے سے ان کے مرض کو بڑھاوا ملتا ہے۔ ایسے مریضوں کو ہمدردی اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کی ایک ریسرچ کے مطابق ڈپریشن کے مریضوں کو گلے لگانے سے،ان سے ہمدردی کرنے سے ڈپریشن اور دماغی تنائو میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔مریض کو تسلی و تشفی دینی چاہئے اور ماحول اور حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کر نی چاہئے اور مرض کی شدت میں اضافہ ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ کیونکہ خدا نخواستہ اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

شہباز علی(لیڈنگ میرین)شہید کی داستانِ شجاعت ،لیفٹیننٹ عاصمہ نازکے قلم سے

وطن کے وہ سپاہی جو اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھائے، سینہ تانے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں تاریخ اُن کے نام کبھی نہیں بھولتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لہو میں اسی جذبے کو پروان چڑھانے کی خاطر ان جانبازوں کے نام عقیدت اور فخر سے دہراتی ہے کیونکہ یہ نام صفحہ ٔ قرطاس پر بھی اعزاز بن کرجگمگاتے ہیں۔


شہباز علی لیڈنگ میرین بھی پاکستان کی تاریخ کے ان ہی کرداروں میں سے ایک ہے جو وطن کی غیرت و ناموس کی خاطر جان قربان کر کے اپنے آباء کی تاریخ کو ہر بار نئے رنگ سے دُہراتے ہیں۔دسمبر2015 میں بسول ڈیم اورماڑہ کی سائٹ کا سروے کرنے والے صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی سکیورٹی کا فرض ادا کرنے کے لئے جس ٹیم کا انتخاب کیا گیا اس میں شہباز علی بھی شامل تھا۔شہبازایک ایسا فرض شناس اور پُر جوش سپاہی تھا جو ہمیشہ اپنے ساتھیوں میں نمایاں نظر آتا ،جس کی اپنے فرض سے لگن جداگانہ اور بے نظیر تھی۔ 30دسمبر 2015 کو سائٹ سروے کے لئے روانہ ہونے والی اس سکیورٹی ٹیم میں بھی شہباز علی اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں سب سے الگ اورممتاز دکھائی دیتا تھا، وہ فرض کی ادائیگی کے دوران معمولی سے معمولی چیزوں اور امکانات کوبھی نظر انداز کرنے کا قائل نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ ڈیوٹی کے لئے نکلتے ہوئے وہ اپنے کام سے متعلق ہر قسم کی تفصیلات حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ دسمبر2015 کی اس صبح بھی جب اسے سکیورٹی ٹیم کا انچارج مقرر کیا گیا تو نہ صرف یہ کہ اس نے اپنے روٹ کی مکمل تفصیلات حاصل کیں بلکہ راستے میں پیش آنے والی تمام ممکنہ صورتحال پر بھی غور کیا۔ شہر میں امن و امان کی صورتحال اس امر کی متقاضی تھی کہ ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما ہونے کی حکمتِ عملی تیار رکھی جائے یہی وجہ ہے کہ ٹیم کے دیگر ارکان کی طرح شہباز علی بھی مستعد تھا۔

 

joamanwofoladse.jpgاورماڑہ سے40 کلومیٹر کے فاصلے پر جب سروے ٹیم کوسٹل ہائی وے سے کچے راستے پر اتری تو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہباز علی نے اپنی گاڑی کو سب سے آگے رکھا اورکارواں میں شامل تمام گاڑیوں کو ایک مخصوص فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایات دیتے ہوئے آگے بڑھا۔اس حکمت عملی کا مقصدیہ تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں کم سے کم نقصان ہو اور کاروان میں شامل تمام افراد اور گاڑیاں محفوظ رہ سکیں۔ بسول ڈیم سائٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ وہی ہوا جس کا خدشہ شہباز علی کے ذہن میں سفر کے آغاز سے موجود تھا، چند شر پسند عناصر نے سروے ٹیم پر حملہ کر دیا اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔شہباز علی نے فوراً اپنی گاڑی کو اس طرح پوزیشن پر کیا کہ وہ نہ صرف شر پسندوں کو بھرپور جواب دے سکے بلکہ سروے ٹیم کو محفوظ رکھتے ہوئے سکیورٹی ٹیم میں شامل اپنے دیگر ساتھیوں کا تحفظ بھی یقینی بنا سکے۔ اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے شہباز علی نے شر پسندوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا اور انہیں اپنی جانب ہی متوجہ رکھا تاکہ کاروان میں شامل سرکاری اہلکار اور سکیورٹی ٹیم کے باقی ارکان متبادل راستوں سے بحفاظت نکل سکیں۔فائرنگ کے تبادلے کے دوران شہباز علی متعدد گولیوں کا شکار بناتاہم شدید زخمی ہونے کے باوجود اس کے عزم اور حوصلے میں کمی نہ آئی اور وہ مسلسل دیوار آہن بن کرشرپسندوں کے سامنے سینہ سپر رہا۔زخموں سے چُور شہباز علی کے جسم کے کئی حصوں سے خون بہہ رہا تھا مگر وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔اپنے ساتھیوں کے تحفظ کا جو بِیڑہ اس نے اٹھایا تھا۔ وہ اسے پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کے لئے پُر عزم تھا۔شہباز علی نے شرپسندوں کو اس وقت تک اپنی جانب متوجہ رکھا جب تک کاروان میں شامل دیگر تمام گاڑیاں محفوظ راستے پرگامزن نہ ہو گئیں۔ دہشت گردوںکو جونہی اپنی ناکامی کا ادراک ہوا انہوں نے دوسری گاڑیوں کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہا مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ شہباز علی کی جرأ ت اور بہادری نے اس کے دیگر تمام ساتھیوں اور سروے ٹیم کو بحفاظت خطرے سے دور کر دیاتھا اور اس طرح لیڈنگ میرین شہباز علی نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کے تحفظ کا عہد وفا کر دکھایا۔


19برس تک اپنے سینے کو حرمت وطن کا آہنی حصار ثابت کرنے والا شہباز علی بردبار،خاموش طبع مگر خوش اخلاق ساتھی اور اپنے کام کو اپنی ذات پر ترجیح دینے والا ایک ایسا جوان تھا جس کی زیادہ تر گفتگو کا محور افواج پاکستان کی جانب سے ملک کے تحفظ کے لئے دی جانے والی قربانیاں اور فرض شناسی کی عظیم داستانیں رقم کرنے والے وطن کے سپاہی رہتے تھے۔کرِیکس کے دشوار گزار علاقوں میں دفاع وطن کی ذمہ داری نبھانے کے دوران اس کے ساتھ وقت گزارنے والے ایف سی پی او محمد ملوک کے مطابق ایک جرأت مند سپاہی کی تمام خصوصیات کا حامل ہونے کے علاوہ شہباز علی اپنی خوش لباسی کے سبب بھی جانا جاتا تھا۔ اپنے گھر اور دوستوں سے کوسوں دور کریکس کی دلدلی زمینوں پربھی اوقات کار کے بعد وہ ہمیشہ اچھا لباس زیب تن کئے نظر آتا اورساتھیوں کے استفسار پر کہتا کہ انسان کے باطن کے ساتھ ساتھ اس کا ظاہر بھی بے عیب نظر آنا چاہئے۔


اپنے ظاہر و باطن کو بے عیب بنانے کی کوشش کرنے والا یہ جوان اپنے تمام فرائض بطریقِ احسن نبھاتا ہوا دنیا ئے فانی سے رخصت ہوا۔ اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کا یہ عمل شہباز علی کے عزم و ہمت کی وہ داستان سناتا ہے جو شاید دنیا کے کسی بھی داستان گو کے الفاظ کی محتاج نہیں۔ شہباز علی نے وراثت میں حوصلے ، جوانمردی اور اولوالعزمی کی وہ مثال چھوڑی ہے جو نہ صرف شہید کی اولاد کے سینے پر تمغہ بن کر سجے گی بلکہ پاک میرینز میں آنے والے ہر جوان اور افسر کے لئے بھی قابل تقلید رہے گی۔

میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا

abdul_hammed.jpg

میجر (ریٹائرڈ) عبدالحمید بٹ1973میں جب دشمن کی قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ہم وطنوں کے نام یہ اشعار لکھے جو نذرِ قارئین ہلال ہیں۔


میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا
خموشیِٔ دل صدا آرزو کی گہرائی
درِ قفس شبِ ہجراں سکوتِ تنہائی
ہر ایک کنج قفس میں تلاش کرتی ہے
مری نظر ترے رخسار و لب کی رعنائی
مہک اُٹھا ہے تری یاد سے قفس اے دوست
ہوائے صبحِ وطن جب بھی اس طرف آئی
میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا
سلام کہتے ہیں تم کو تمہارے شیدائی
ہزار بار مبارک ہو دوستوں کو حمید
ہمارے بعد وطن میں جو کوئی عید آئی

*****

 
08
November

تحریر: یاسر پیرزادہ

ایک زمانہ تھا جب گلی محلوں میں جا بجا ویڈیو کیسٹس کی دکانیں ہوا کرتی تھیں، جس نوجوان کو نوکری نہ ملتی یا اس کی دبئی جانے کی کوشش بارآور نہ ہوتی، وہ ویڈیو کیسٹسکی دکا ن کھول لیتا اور سوچتا کہ اب یہیں اس کی ''دبئی'' لگ جائے گی۔انہی دکانوں سے وی سی آر بھی کرائے پر مل جایا کرتا ،ٹی وی بمع وی سی آر اور پانچ من پسند فلموںکا مکمل پیکج فقط سو روپے میں مل جاتا ۔یار لوگ رات دس بجے سے صبح دس بجے تک وہ پانچ فلمیںیوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے جیسے ایف ایس سی کا پرچہ انہی فلموں میں سے بننا ہو۔ویڈیو گیمز کی بھرمار بھی اسی زمانے میں ہوئی۔ ان مشینوں میں ایک روپے کا ٹوکن ڈالا جاتا تھا ،بعض اوقات یہ ٹوکن ایک ایک گھنٹہ چل جاتا کیونکہ مجھ جیسے بچوں نے ان گیمز کو ہرانے کے ایسے ایسے فارمولے ایجاد کر رکھے تھے کہ با لآخر گیم ختم ہو جاتی اورہاتھ باندھ کر کہتی کہ مائی باپ! اب میری جان چھوڑیں اور کسی اور کو مجھ پر طبع آزمائی کا موقع دیں۔ان ویڈیو گیمز کے خلاف بعض اخبارات میں خاصا زہریلا پروپیگنڈا بھی شائع کیا جاتا اور نام نہاد تحقیق سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی کہ ان ویڈیو گیمز کا زیادہ استعمال کرنے والے بچے کند ذہن اور غبی ہوتے ہیں اوران کے سیکھنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے (ا ب خود کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد وہ باتیںٹھیک ہی تھیں)۔

 


اس زمانے کا سرکاری ٹی وی سہ پہر تین بجے ''بصیرت'' سے شروع ہوتا اوررات بارہ بجے ''فرمان الٰہی '' پر ختم ہوتا ۔ان دنوں اس سرکاری ٹی وی چینل کا ہرپروگرام ہی سپر ہٹ ہواکرتا بالکل ایسے جیسے کسی میرا تھن میں دوڑنے والا واحد شخص اوّل آجائے۔کارٹون اورالف لیلہ تو خیر بچوں میں مقبول تھے ،مگر پی ٹی وی کا اصل اثاثہ پرائم ٹائم کے دوران چلنے والے ڈرامے تھے جنہیں دیکھنے کے لئے سڑکیں ویران ہو جایا کرتی تھیں۔ان ڈراموں کے دوران اشتہارات چلوانے کے لئے کمپنیاں منہ مانگے دام دینے کو تیار ہوتیں کیونکہ ان کی مصنوعات کی تشہیر کے لئے دوسرا کوئی چینل ہی نہیں تھا۔راگ رنگ، خبرنامہ،نیلام گھر اور 1985کی غیر جماعتی اسمبلی کی کارروائی بھی پی ٹی وی کے ''شاہکار ''پروگراموں میں شامل تھے۔


اس زمانے میں سال بھر میں ڈیڑھ سو کے قریب فلمیں ریلیز ہو ا کرتی تھیں، لاہور اس فلم انڈسٹری کا مرکز تھا ،یہاں کے سٹوڈیوزکی رونقیں اپنے جوبن پر تھیں۔ یہ سلطان راہی کے عروج کا بھی دور تھاتاہم مجھے کویتا ،غلام محی الدین ،شان اورنیلی بطور اداکار پسند تھے۔نئی فلم جمعے کو ریلیز ہوتی اور اس کا پہلا شو دیکھنا ایک سعادت سمجھی جاتی ۔میں نے اس زمانے کی تقریباً ہر نئی فلم کا پہلا شو شبستان، میٹرو پول ،رتن ،گلستان ،محفل ،صنوبر اور پرنس جیسے تاریخی سنیما گھروں میں دیکھا ہے۔ان میں سے اب غالباً شبستان ، میٹروپول ا ور پرنس ہی بچے ہیں، باقی ٹھیکیداروں کو پیارے ہو چکے ہیں۔


اس زمانے کی بہترین تفریح کسی کزن کی شادی ہوا کرتی تھی۔ شادی سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے تمام رشتہ دار شادی والے گھر میں جمع ہو جاتے، رات گئے تک ڈھولکی بجائی جاتی ،صبح صادق تک گپ شپ چلتی، چھیڑ چھاڑ ہوتی، معاشقے پروا ن چڑھتے ،ایک آدھ نیا رشتہ بھی طے پا جاتا،اگلے دن صبح حلوہ پوریوں کا ناشتہ کیا جاتا، غرض شادی کے دن تک ایک پر لطف گہما گہمی رہتی۔ بارات کے موقع پر جب دلہن کو گھر لایا جاتا تو پھر سب کزن مل کر کسی فائیو سٹار ہوٹل میں آئس کریم کھانے جاتے ،واپس آ کر پھر محفل جمتی جس کا اختتام فجر کی اذان پر ہوتا۔اس زمانے کی شادی کی فلمیں بنانے کا بھی ایک مخصوص انداز ہوتا، دلہا دلہن کی تصویروں سے جب فلم شروع ہوتی تو عموماً بیک گرائونڈ میں ایک ہی گانا چلایا جاتا ''جدھر دیکھوں تیری تصویر نظر آتی ہے …''۔ولیمے کے بعد بھی قریبی رشتہ دار ایک آدھ دن تک شادی والے گھر میں رہتے ۔کچھ ایسا ہی ماحول مرگ کے موقع پر بھی ہوتا ۔قریبی رشتہ دار دسویں تک سوگ والے گھر میں رہتے اور پھر چالیسویں تک ہر جمعرات کو بھی اکٹھے ہوتے ۔


اس زمانے میں محبت کرنا بڑے جوکھم کا کام تھا،نہ موبائل فون نہ ایس ایم ایس، اوربیٹھے ہیں تصور جاناں کئے ہوئے…اور جاناں گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی تھی۔گھنٹوں گرمیوں کی دوپہر میں اس کے گھر کے باہر ٹہلتے رہو کہ شائد چھت پر کپڑے سکھانے ہی آ جائے مگر آخر میں اس کا کوئی مسٹنڈا بھائی موٹر سائیکل پر نکلتا اور یوں گھورتاہوا جاتا کہ روح فنا ہو جاتی ۔جتیندر ،متھن چکر وتی اور امیتابھ بچن چونکہ اس زمانے کا کریز تھے، اس لئے رومانس کے لئے بھی انہی ہیروز کی فلموں کے گانے کام آتے ،''دھوپ میں نکلا نہ کرو روپ کی رانی ''،''نینوں میں سپنا،سپنوں میں سجنا''،''اکھیوں ہی اکھیوںمیں تیری میری بات چلی''… اس زمانے میں نوجوانوں کے لبوں پرتھے۔
یہ 1980کی دہائی تھی ،یہ وہ زمانہ تھا جب ملک میں مارشل لا تھا ،اور اس وقت کے حکمران نے چونکہ ''اسلامی '' نظام نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا اس لئے کسی ٹی وی نیوز کاسٹر کو بغیر دوپٹے کے خبریں پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ مبادا کوئی غیرشرعی خبر منہ سے نکل جائے ۔حتی کہ ڈراموں میں بھی کسی اداکارہ کے سر سے دوپٹہ سرک جاتا تو سٹیشن منیجر کی یوں جواب طلبی کی جاتی گویا اس غریب نے اداکارہ کے سر سے دوپٹہ کھینچا ہو ۔میں ناسٹلجیا کا شکار ہوں اور نہ ہی میرا ارادہ اس دور کی سنہری یادوں کو گلیمرائز کر کے پیش کرنے کا ہے ۔مجھے اس بات کا ماتم کرنے کا بھی کوئی شوق نہیں کہ اس زمانے میں شادی اور مرگ کے موقع پر دوست رشتہ دار اکٹھے ہو کر ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شرکت کرتے تھے اور آج کل کے دور میں یہ مفقود ہو چکا ہے۔اس زمانے کی فلمیں ،گانے ،ڈرامے اتنے ہی اچھے اور برے تھے جتنے آج کل ہیں ۔مجھے اس فقرے سے ہی سخت چڑ ہے کہ ''ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوا کرتا تھا ''یا ''ہمارے زمانے کی اقدار آج سے بہتر تھیں ''۔ہر زمانے کا اپنا ایک نشہ اور رومانس ہوتا ہے اور رومانس چونکہ جوانی سے جڑا ہوتا ہے اسی لئے ہمیں رہ رہ کر اپنی جوانی کا زمانہ یاد آتا ہے اور اس کے ساتھ وابستہ ہر چیز ہمیں انمول لگتی ہے ۔


آج کا دور غالباً انسانی تاریخ کا انتہائی حیرت انگیز دور ہے ،اس دور کی اپنی اقدار ہیں اور اپنے ضابطے۔اس دور کا لائف سٹائل ،آسودگی کا معیار ،محبت کے اصول ،خوشی کا پیمانہ ،روایات کی پاسداری ،سب کچھ ہی نرالا ہے ۔آج کے دور کا نوجوان نہ صرف سوال کرتا ہے بلکہ اس کا تسلی بخش جواب بھی چاہتا ہے ،گھسے پٹے جوابات اور طفل تسلیوں سے اسے مطمئن نہیں کیا جا سکتا ۔یہ دور فرسودہ نظریات کو چیلنج کرنے کا دور ہے ،جس تیزی سے اس دور میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان کا ادراک شائد ہم میں سے کسی کو بھی نہیں ہو پا رہا ،یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے ماحو ل کو دیکھ کر کڑھتے ہیں ،سماجی اقدار کی پامالی پر دل گرفتہ رہتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ نام نہاد روایات کا احترام نہ کرنے والوں کو اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہئے ۔جو لوگ اب بھی تاریخ کے اس تیز ترین دور کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں گے ،یہ دور انہیں بے رحمی سے روندتا ہوا آگے نکل جائے گا اور وہ اسی بات پر ماتم کرتے رہ جائیںگے کہ ٹی وی پر فحاشی بہت بڑھ گئی ہے لہٰذا نیوز کاسٹر کو دوپٹہ اوڑھ کر خبریں پڑھنی چاہئیں۔دس برس بعد ہم ان میں سے کسی ایک بھی مسئلے پر بات نہیں کررہے ہوں گے جن مسائل کو آج ہم نے زندگی موت کا مسئلہ بنایا ہوا ہے ،صرف دس برس اور انتظار کرلیں۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی

شاعرِمشرق،حکیم الامت،مفکرِاسلام اور مصوّرِپاکستان علاّمہ محمد اقبال کے افکارپوری نسلِ انسانی کے لئے عموماََ،امت مسلمہ کے خصوصاََاور امت مسلمہ کے نوجوانوں کے لئے مزید خصوصیت کے ساتھ علم و دانش کا مخزن ہیں۔ان کا پیغام امن،ترقی ،خوشحالی،محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے۔ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ، سب سے زیادہ وابستہ تھیں۔وہ سمجھتے تھے کہ نوجوان نسل قوم کا مستقبل ہے،اگر یہ نسل تعلیم یافتہ،باصلاحیت ،مہذب اور روشن دماغ ہوگی توقوم کا مستقبل تابناک ہوگابصورتِ دیگر قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی۔گویا قوم کا مستقبل نسلِ نو کے ساتھ وابستہ ہے۔اس لئے وہ چاہتے تھے کہ یہ نسل آگے بڑھنے کے لئے دین و دنیا کے تمام علوم سے بہرہ مند ہو۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے آفاق تک رسائی حاصل کرے اور جو کام اس قوم کے بزرگوں کے ہاتھوں پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچے وہ اس قوم کے نوجوانوں کے ہاتھوں انجام پذیر ہوں۔جس طرح اقبال خود قوم کے نوجوانوں کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے ان کی آرزو تھی کہ اسی طرح نوجوانوں کے اندر بھی احساس اور قوم کا درد پیدا ہو۔اقبال کے دل سے ہمیشہ اس قسم کی دعائیں نکلتی تھیں:
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق میری نظر بخش دے
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
جہاں وہ جوانوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ انہی جیسے فکر واحساس کو دل و دماغ میں جگہ دیں گے وہاں وہ آنے والے حالات کی پیش بینی کرتے ہوئے ان علوم وفنون کے حصول اور قوم کے لئے ان کے استفادے کی صورت پیدا کریں گے جو بزرگوں کے دور میں سامنے نہیں آسکے۔اقبال چونکہ قوم کے سچے درد مندتھے اورحقیقی تڑپ رکھنے والے مفکر تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اس قوم کے نوجوانوں میں بھی یہی شعور اور احساس و فکر پیدا ہو۔ایک اور مقام پر دعائیہ الفاظ دیکھیے:
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال وپر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
اقبال نے مسلم نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی ہے۔وہ چاہتے تھے کہ جو خصوصیات اللہ نے شاہین میں پیدا کی ہیں وہ نوجوانوں میں بھی پیدا ہو جائیں۔شاہین بلند پرواز ہے عام پرندوں کی طرح نیچی پرواز اس کے شایانِ شان نہیں۔نوجوانوں میں بلند پروازی کی صفت پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مقاصد بلند ہوں،ان کی سوچ میں پستی نہ ہو۔شاہین کی آنکھ بہت دور تک دیکھ سکتی ہے،نوجوانوں میں اس صفت کا مطلب ہے کہ وہ دوراندیش ہوں۔آنے والے حالات کو پہلے سے بھانپ کر منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔شاہین کسی اور کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا یعنی وہ خود دار ہے۔اپنی محنت اور کوشش پر انحصار کرتا ہے۔گویا مسلم نوجوانوں میں خودداری کی صفت ہونی چاہئے۔وہ دوسروں کے بجائے اپنی ذات کی محنت اور کوشش پرانحصار کرنے والے بن کر اللہ سے مدد کی توقع رکھنے والے ہوں۔
شاہین آشیانہ بنا کر کسی ایک جگہ پابند رہنا پسند نہیں کرتا۔اقبال مسلم نوجوان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ کسی ایک جگہ بیٹھ کر ترقی اور عظمت کے خواب دیکھنے کے بجائے علوم و فنون کے حصول کے لئے پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی جانا پڑے،جانے سے گریزنہ کرے۔ترقی اوربہتری کے مواقع جہاں بھی نظر آئیں ان تک رسائی حاصل کرنے کی جدوجہد کرے۔
فقرواستغنا شاہین کی اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ہے۔وہ دوسرے پرندوں کی سرگرمیوںاور کھیل کود سے بے نیاز ہوتا ہے۔دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔مسلم نوجوانوں کی تربیت میں بھی یہی چیز شامل ہونی چاہئے۔
خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں غلامی میں
زرہ کوئی اگر محفوظ، رکھتی ہے، تو استغنا
شاہین کی صفات اگر کسی نوجوان میں جمع ہو جائیں تو اس کی شخصیت ایک خود دار اور خود شناس انسان کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔جس قوم میں ایسے نوجوان ہوں وہ ترقی کے راستوں پر انتہائی کامیابی سے گامزن ہوسکتی ہے۔اور بلا شبہ مصافِ زندگی صورتِ فولاد پیدا کر لیتی ہے۔اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دم ہے اگر تُو ، تو نہیں خطرۂ افتاد

خودی کا جو درس اقبال نے دیا ہے اسے نوجوانوں کی زندگی کا لازمی جزو بنا دینا چاہتے ہیں۔خودی اقبال کا وہ فلسفہ ہے جس کی ہزاروںتشریحات ہو چکی ہیں۔کتابیں اس فلسفے کی وضاحت سے بھری پڑی ہیں۔مگریہ فلاسفی ہنوز تشنۂ تفہیم ہے۔اس کی تشنگی کی وجہ یہ ہے کہ یہ فلسفہ زبانی توضیحات نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔اس ایک لفظی فلسفے ہی کی وجہ سے اقبال کو امامِ فلسفہ کا منصب حاصل ہے۔اقبال اپنے نوجوانوں کو اسی فلسفے پر عمل پیرا دیکھنے کے آرزو مند ہیں:
تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل، یہ سرِزندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان مغرب کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں۔اور اس مطالعے سے اپنی زندگیوں کو قابلِ تقلید بنائیں۔وہ مغربی تہذیب کی عارضی چکا چوند کو مسلم نوجوانوں کے لئے انتہائی نقصان دہ سمجھتے ہیںکیونکہ یہ ظاہری چمک دمک روحانی اقدار سے ہٹ کر صرف مادی ترقی کی طرف لے جاتی ہے،جبکہ اسلامی تہذیب اور ہمارے اسلاف کی تعلیمات ایک پائیدار روحانی ترقی اور انسانی بھلائی کے دروازے کھولتی ہیں:
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردُوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اُس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاجِ سرِ دارا
علامہ اقبال کو اس بات پر افسوس ہے کہ ہمارے آبأو اجداد کی لکھی ہوئی کتابیں یورپ میں نصاب کا حصہ ہیںمگر مسلم نوجوان اس سے استفادہ کرنے سے محروم ہیں۔وہ ہمارے اسلاف کی کتابوں سے، جو کہ علوم کے سرچشمے ہیں، سیراب ہو کر دنیا پر حکومت کر رہے ہیں اور ہم ان علوم کو کھو کر غیروں کے کاسہ لیس بن چکے ہیں۔یہ صورت حال اپنے فرائض سے غافل ہونے،تساہل پسندی اور دوسروں پہ انحصار کی عادت کے سبب پیدا ہوئی ہے جس کا نقصان ہماری آنے والی نسلوں کو بھی ہو سکتا ہے:
ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جو انوں کی تن آسانی
اقبال نے فرمایا کہ محنت اور کوشش کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔قرآن پاک اور حاملِ قرآن کی تعلیم یہی ہے انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش اور محنت کرتا ہے۔ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ رہنے سے مقاصد کا حصول ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر قسم کے وسائل سے مالامال کیا ہے مگر ان وسائل کو کام میں لانے کے لئے دانش و حکمت کے ساتھ جدوجہد اور سعیٔ پیہم کی ضرورت ہے۔
غافل مَنَشیں نہ وقتِ بازی ست
وقتِ ہنر است و کارسازی ست
یعنی یہ وقت نہ تو غفلت شعاری کا ہے اور نہ ہی کھیل کود کا،یہ وقت ہنرمندی کے مظاہرے اور کارسازی کا ہے۔گویا جو کام بگڑے ہوتے ہیں انہیں ہم اپنی ہنرمندی اور کارسازی کے جذبے سے درست کر سکتے ہیں۔مشکل سے مشکل کام محنت اور کوشش سے ہو سکتا ہے۔ایک نوجوان میں اگر جذبہ موجود ہے اور جذبے کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے تو ترقی کی منزل تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں۔جوانی کا زمانہ قوت اور جذبوں کی فراوانی کا زمانہ ہوتا ہے۔ان جذبوں اور قوتِ جسمانی کو کام میں لا کر ناممکن کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیں
آج ملک و قوم کو جو مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں سے کام لینا ہوگا۔اپنی قوت اور علم کو کام میں لانا ہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا نوجوان طبقہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے کافی حد تک باخبر ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت سے جنگ میں برابر کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاک فوج اور سلامتی کے دیگر اداروں میں ہمارے نوجوان ہی شامل ہیںجو اقبال کے شاہین بن کر قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے روزوشب مصروفِ عمل ہیں۔اقبال کو ایسے ہی نوجوانوں سے محبت ہے کیونکہ یہی ملک و قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔
آئیے دعا کریں کہ اللہ انہیں بھی سلامت رکھے اور ملک وقوم کے مستقبل کو بھی۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

مضمون نگار اُردو ادب و تحقیق کا ایک معروف نام ہیں وہ وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات دیتے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


بیادِ اقبال

رہتی تھی کوئی برقِ تپاں قلب و جگر میں
اک ہجر کہ رکھتا تھا اُسے شوقِ سفر میں

کیوں حشر اٹھاتا نہ جنوں اُس کا فلک پر
لاتا تھا ستاروں کی خبر ثانیہ بھر میں

دیوار ٹھہرتی کوئی کیا اُس کے مقابل
اک دشتِ ابد گیر کا سودا تھا جو سر میں

وا کر کے دلوں بیچ نئے دہر دریچے
کہتا تھا کہ مت قید رہو شام و سحر میں

دُھن تھی کہ زمانے کی نگاہوں میں بسا دے
کچھ خواب لئے پھرتا تھا وہ دیدۂ تر میں

اللہ نے کیا عشق عطا اُس کو کیا تھا
رہتا تھا ہر اک آن وہ آقا کی نظر میں

اُس جیسا کوئی صاحبِ اعجاز کہاں ہے
لے جائے جو احساس کو دنیائے دِگر میں

جوں جوں کہ گزرتا چلا جاتا ہے زمانہ
آتا چلا جاتا ہے جہاں اُس کے اثر میں

یارب ہنرِ شعر میں اقبال کے صدقے
رکھنا مرے لکھے ہوئے الفاظ کی شرمیں

jalil_aali.jpg
جلیل عالی

*****

*****

 
08
November

تحریر: ڈاکٹر حمیرا شہباز

دانشمندوں کی دانشوری پر غور و فکر بذات خود ایک دانشمندانہ عمل ہے۔ 9نومبر 2017 شاعر فردا علامہ محمد اقبال کا 140 واں یومِ ولادت ہے۔ اقبال کو شاعر فردا بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی بصیرت ، ان کی دور بینی، دور اندیشی ان کے کلام سے عیاں ہے اور شاید اس لئے بھی کہ ملک تو سالوں میں بن جاتے ہیں لیکن قومیں صدیوں میں تربیت پاتی ہیں ۔ 140 سال قبل پیدا ہونے والے اقبال کی وفات کو بھی 80برس ہونے کو ہیں۔ ہم اپنے حال کو دیکھ کر اقبال کی فکر فردا کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہمارا امروز اقبال کا وہی فردا ہے جس کے لئے وہ فکر مند تھے۔
امروز ہمان فردایست کہ دیروز نگرانش بود
حکیم الامت نے اپنی حکمت آمیز شاعری میں جہاں قوم کو لاحق جملہ امراض کی تشخیص کی ہے وہاں ان کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کا فلسفہ خودی خاص طور پر امت مسلمہ کو لاحق کئی مسائل کا حل ہے۔ بہت سی دقیق شرحیں فلسفہ خودی کو بیان کرتی ہیں اس کے باوجود بھی اس فلسفے کا فہم عام ہونا ابھی باقی ہے کیونکہ اقبال نے لفظ ''خودی''کے مروجہ لغوی معنی اور انگریزی متبادل لفظ
"ego"
یا
"self"
کے قدرے منفی تاثر کے برخلافت اس لفظ کو مثبت تاثیر بخشی ہے ۔ خودی کے اصطلاحی معنی علامہ اقبال کے جہانِ افکار میں بہت وسعت رکھتے ہیں۔ اگر ان تمام شرحوں اور لغوی اور اصطلاحی مفاہیم کا احاطہ کیا جائے تو لفظ خودی کی آسان تعبیر ''خود شناسی'' اور ''خود آگاہی''ہے، یعنی انسان اپنے وجود کی حیثیت، اپنی صلاحیتوں اور اپنی تخلیق کے مقاصد سے باخبر ہو، ان صلاحتیوں کو خالق کی امانت جان کر ان کے درست استعمال اور ان کی افزائش و تقویت کے لئے کوشاں رہے۔

khudikikahani.jpg
علامہ کے فارسی اور اردو کلام میں خودی کے جملہ پہلوئوں کا بیان ملتا ہے۔ انسان تو انسان اقبال نہایت ہنرمندانہ انداز میں جانوروں کی خود فراموشی میں بھی مضمر قباحتوں اور سنگین نتائج کی نشاندہی فرماتے ہیں۔ ایسی بہت سی تمثیلی حکایات نظر سے گزرتی ہیں جو جانوروں کی زبانی خودی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
بانگ درا کی معروف نظم ''ایک مکڑا اور مکھی'' کا پیغام کیا ہے؟ خودشناسی! ایک مکھی جس لمحے اپنی اصل، اپنی خصوصیات، اپنی شناخت اور فطرت سے بے بہرہ ہوتی ہے، جان سے جاتی ہے۔ ایک مکڑے کی خوشامد نے اس کو اس کی اصل حیثیت اور خوبیوں کے بجائے وہ اوصاف دکھائے جو اس کی شخصیت اور فطرت کے مساوی نہ تھے:
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی!
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
یہ حسن، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
نظم ''ہمدردی'' کا مرکزی کردار، ایک معمولی ، بظاہر چھوٹا ساکیڑا، جگنو، اپنی صلاحیت سے آگاہ ہے اور اس کو درست طور پر بروئے کار لانے کا ادراک بھی رکھتا ہے۔ اس خود آگاہی نے اس کو اتنی فراست اور توانائی بخشی ہے کہ وہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور کی بھی مدد کر سکتا ہے۔ شب کی تاریکی میں راہ گم کردہ بلبل کو رستہ دکھا سکتا ہے:
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
''بال جبریل'' کی ایک نظم ''شیر اور خچر'' میں اقبال قوی اوصاف کے مالک شیر اور ضعیف پیکر خچر کے مکالمے میں بیان فرماتے ہیں کہ کس طرح کمزور نفس لوگ حسن بیان کی کرشمہ سازی سے خود کو طاقتور اور اوصافِ حمیدہ کے حامل احباب سے نسبت کو ثابت کرکے حقیقت کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
شیر
ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ
کون ہیں تیرے اب و جد، کس قبیلے سے ہے تو؟
خچر
میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور
وہ صبا رفتار، شاہی اصطبل کی آبرو!
اقبال شاہین میں وہ اوصاف پاتے ہیں جو کہ فقر اسلامی کا خاصہ ہیں اور ایک مومن کی خودی کو استحکام بخشتے ہیں۔جس کو خود کی پہچان ہو، وہی خودداری جیسی اعلیٰ صفات کا مظہر ہو سکتا ہے۔نظم''پندباز بہ بچ خویش'' میں ایک باز اپنے بچے کو نصیحت کرتا ہے اور اس کو خودداری، غیرت مندی، بلند پروازی، خلوت پسندی، تیز نگاہی، سخت کوشی جیسی اعلیٰ صفات گِنواتا ہے :
تو دانی کہ بازاں زیک جوہرند
دل شیر دارند و مشت پرند
نکو شیوہ و پختہ تدبیر باش
جسور و غیور و کلاں گیر باش
یعنی : تو جانتا ہے تمام بازوں کی پیدائش ایک ہی جوہر سے ہوئی ہے، بظاہر مٹھی بھر پروں کا وجود ہیں ہم، لیکن شیروں کا سا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اس لئے ایک باز کو صرف اپنے اندر بازوں کی سی ہی خصلت کو فروغ دینا چاہئے۔ کیونکہ:
نصیب جہاں آنچہ خرمی است
ز سنگینی و محنت و پر دمی است
تہ چرخ گردندہ ای کوز پشت
بخور آنچہ گیری ز نرم و درشت
ز دست کسی طعمہ ای خود مگیر
نکو باش و پند نکویان پذیر
یعنی: دنیا میں جو بھی بھلائی حاصل ہوتی ہے وہ مسلسل اور انتہائی محنت سے حاصل ہوتی ہے، آسمان تلے اپنا رزق خود تلاش کر، کسی کے ہاتھ کا نوالہ نہ لے، نیک بن اور نیکو کاروں کی نصیحت پہ کان دھر۔
اقبال گوشہ نشینی اور معاملات جہاں سے کنارہ کشی کو منفی تصوف گردانتے ہیں۔ اسی لئے تو اقبال کی ایک نظم ''اگر خواہی اندر خطر زی'' میں جب ایک ہرن دوسرے ہرن کے سامنے، صیاد کے خطرے سے حرم میں جا بسنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو وہ اسے پر خطر زندگی کی افادیت سمجھاتا ہے:
رفیقش گفت ای یار خردمند
اگر خواہی حیات اندر خطر زی
خطر تاب و توان را امتحان است
عیار ممکنات جسم و جان است
یعنی: اس کے ساتھی(ہرن)نے کہا کہ اے سیانے، اگر زندگی کا خواہاں ہے تو خطروں میں جینا سیکھ۔ زندگی کی مشکلات ہی انسان کی مخفی طاقتوں اور صلاحیتوں کے لئے کسوٹی ثابت ہوتی ہیں اور کھرے کھوٹے کا فرق ظاہر کرتی ہیں۔
اگر کسی کو اپنی بقا اور سلامتی مطلوب ہے تواسے ایک لحظہ کے لئے بھی اپنی خودی کی حفاظت سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔کسی کی خودی اتنی ضعیف نہ ہو کہ وہ دشمن کی ہوس یا ضرورت کی بھینٹ چڑھ جائے۔
مثنوی اسرار خودی کی ایک حکایت میں اقبال بیان کرتے ہیں کہ جب ایک پیاسا پرندہ ہیرے کے ایک ٹکڑے کو پانی کا قطرہ سمجھ کر پینے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی چونچ ہیرے سے ٹکرا کر رہ جاتی ہے۔اور ہیرا اس کو باور کرواتا ہے کہ:
قطرہ ٔ آبی نیم ساقی نیم
من برأ دیگراں باقی نیم
یعنی: میں قطرہ آب یا کوئی ساقی نہیں ہوں، میں اس لئے زندہ نہیں کہ دوسرے مجھے ہڑپ کر جائیں۔
آخر کار وہ پیاسا پرندہ شبنم کے قطرے سے اپنی پیاس بجھاتا ہے اور نظم کے انجام میں اقبال پانی کے قطرے اور ہیرے کے ٹکڑے کی خاصیت کا فرق بیان کرتے ہوئے اسرار خودی فاش کرتے ہیں:
قطرہ سخت اندام و گوہر خو نبود
ریزہِ الماس بود و او نبود
غافل از حفظ خودی یک دم مشو
ریزہِ الماس شو شبنم مشو
پختہ فطرت صورت کہسار باش
حامل صد ابر دریا بار باش
نغمہ ئی پیدا کن از تارِ خودی
آشکارا سازِ اسرارِ خودی
یعنی: شبنم کا قطرہ نہ تو سخت اندام تھا اور نہ ہی ہیرے کی طرح سخت جان۔ اپنی خودی کی حفاظت سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہونا۔ ہیرے کا ٹکڑا بنو، نہ کہ شبنم کا قطرہ۔ پہاڑوں کی مانند پختہ فطرت بنو تاکہ سیکڑوں سیلابی بارشوں کی شدت کوبرداشت کر سکو، اپنی خودی کے تار سے ایسا نغمہ بنائو جس سے اسرارِ خودی سب پر آشکارہ ہو جائیں۔
مختلف حکایات میں علامہ اقبال منفرد انداز میں مختلف بے زبانوں کی زبانی اپنا فلسفہئِ خودی بیان کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن مثنوی اسرار خودی کی وہ حکایت بہت دلچسپ ہے جس میں ضعف خودی کے خطرناک نتائج کا بیان ہے، جب ایک پرسکون جنگل میں شیر اپنی فطرت کے عین مطابق بھیڑ بکریوں کو چیر پھاڑ کر اپنا پیٹ بھرنے لگتے ہیں اور باقی جانوروں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں تو آخر کار ایک چالاک بھیڑ خود کو مرسلِ یزداں بتاتی ہے اور اپنی تبلیغ میں ان شیروں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ:
توبہ از اعمال نامحمود کن
أ زیاں اندیش فکر سود کن
یعنی کہ وہ اپنی طاقت آزمائی کو ترک کردیں اور گھاٹے کا سودا کرنے کے بجائے اپنی بھلائی کی فکر کریں ۔
شیر ان کے جھانسے میں آ کر گوشت خوری سے توبہ کر لیتے ہیں اوراپنی خودی کھو بیٹھتے ہیں اوربھیڑبکریوں کی طرح گھاس کھانے پر مائل ہو جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ علف خوری سے ان کے دانت ضعیف اور خود بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ اقبال اس بے ہمتی سے پیدا ہونے والے امراض کچھ اس طرح گنواتے ہیں:
صد مرض پیدا شد از بی ہمتی
کوتہ دستی بیدلی دوں فطرتی
شیر بیدار از فسون میش خفت
انحطاط خویش را تہذیب گفت
یعنی: اس بے ہمتی سے کوتاہ دستی ، بے دلی اور پست فطرتی جیسے سیکڑوں مرض جنم لیتے ہیں۔ بیدار صفت شیر اس بھیڑ کی سحر آمیز باتوں میں آ جاتے ہیں اور اپنی پستی اور زوال کو تہذیب کا نام دیتے ہیں۔
انسان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنا اشرف مقام پہچانے ، دنیاوی فائدے کی خاطر نادان مکھی کی طرح کسی کی خوشامد کا شکار بننے کے بجائے اپنی حقیقت کو پہچانتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے کرے۔ غیروں کے دکھلائے کھوکھلے خوابوں اور سرابوں کے پیچھے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے، اپنے مقصد حیات اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقت پسندی سے جانچے اور اپنی بظاہر معمولی صلاحیت کو نکھار کر جگنو کی طرح دوسروں کے لئے بھی مشعل راہ بنے۔ خچر کی طرح اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو چھپانے اور دوسروں کے نام و نسب کا سہارا لینے کے بجائے خود میں شاہینوں کے سے اوصاف پیدا کرے اوراپنی بہتر شناخت بنائے جس کو ظاہر کرنے میں شرمندگی نہ ہو۔ خود میں الماس کے ٹکڑے کی سی کاٹ پیدا کرے جو مخالف کے لئے تر نوالا ثابت نہ ہو۔ کیونکہ انسان اگر نام نہاد افلاطونی تہذیب کے چکر میں پڑ کر اگر ضعف خودی کا شکار ہوا تو پھر یہ طے ہے کہ سستی، کاہلی ، کم ہمتی جیسی بیماریوں سے بچنا مشکل ہے جو زندگی کو مفلوج کردیتی ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ :
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مضمون نگارڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

اﷲ سبحانہ' تعالیٰ کی عطاکردہ روحانی کیفیات کے احوال پڑھ کر نہ صرف ایمان اور یقین مزید مضبوط ہوتا ہے بلکہ نظامِ قدرت کو بھی سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ایمان کے باوجود اکثر لوگوں کا یقین ''ڈھلمل'' یعنی ڈانواڈول ہی ہوتا ہے ورنہ اگلے جہان، روزِ حساب، قبر میں سوال جواب اور جزا سزا پر یقین کامل ہو تو انسان نہ جھوٹ بولے، نہ دھوکہ دے، نہ ملاوٹ کرے، نہ قتل و غارت کا مرتکب ہو، نہ شراب و زنا میں ملوث ہو، نہ حرام کھائے نہ قرب شاہی کے لئے اپنا ذہن وضمیر گروی رکھے۔ سوچا جائے تو روحانی تصرفات قدرت کا چھوٹا سا انعام ہوتی ہیں انسان کے اعمال اور عشقِ اِلٰہی و عشقِ رسولۖ کا۔ تو پھر اس سے بڑے انعام کا تصور کیجئے جو موت کے بعد کی دنیا میں عطا ہوگا؟ جب اس طرح کے تصدیق شدہ یعنی مستند حوالوں سے قدرت کے رازوں سے تھوڑا سا پردہ سرکتا ہے تو انسان پر ابدی زندگی کا راز فاش ہوتا ہے۔ ابدی زندگی صرف اُنہیں عطا ہوتی ہے جو دنیا سے پردہ کر جاتے ہیں ورنہ تو انسان اپنی تمام تر دولت، کروفر، شان و شوکت اور اقتدار کے ساتھ مٹی میں مل جاتا ہے۔ بقاء مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ مجھے زندگی میں ایک دو ایسے اولیاء کرام کی مجلس نصیب ہوئی ہے جن کی سچائی، حقانیت، فقر، عشق سند کی حیثیت رکھتے ہیں اورجن کا باطن ہمہ وقت منوّر رہتا تھا۔ ان فقیروں کو نہ تو اس دنیا سے رغبت تھی اور نہ ہی وہ خوفِ الٰہی کے مارے فالتو بات کرتے تھے۔ یہ میرا اُن سے محبت کا رشتہ تھا کہ وہ کبھی کبھار میرے کریدنے پر بعض مرحوم ہستیوں سے ملاقات کا تھوڑا سا ذکر کردیتے تھے ۔ اُنہیں حضور نبی کریمۖ کی زیارت بھی نصیب ہوئی تھی۔ شاید وہ سمجھتے تھے کہ مجھ جیسے دنیا دار کی تسکین اور دلداری کے لئے راز سے تھوڑا سا پردہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس لئے میں جب کبھی کسی نہایت قابلِ اعتماد، سرتاپا سچے اور عاشقِ الٰہی و رسول کی زبان سے روحانی احوال سنتا ہوں تو مجھے اُن پر یقین آجاتا ہے کیونکہ یہ نیک ہستیاں ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک اور صاف ہوتی ہیں اور اُنہیں دنیا اور دنیا داروں سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ یقین رکھئے تحقیق اور چھان پھٹک میری عادت ہے اور میں شعبدہ بازوں کی شعبدہ بازیوں سے ہرگز متاثر نہیں ہوتا۔


میں تو ایک دنیا دار انسان ہوں،مجھے نہ روحانیت کا علم ہے نہ تصوف کا لیکن میرا یقین کسی حد تک مستحکم ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وہ عظیم صحابی ہیں جنہیں ہجرت کے وقت مدینہ منورہ میں نبی کریم ۖ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ظاہر ہے کہ ایسا اعزازآسمانوں پر طے ہوتا ہے اور نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔ طویل عرصہ قبل مدینہ منوّرہ میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھرکی زیارت کا موقع بھی ملا جو پہلے مسجدِ نبوی سے چند گز کے فاصلے پر واقع تھا اور اب حرمِ نبوی کی توسیع کے بعد اس کا حصہ بن چکا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری استنبول میں دفن ہیں۔ چند برس قبل مجھے اُن کے مزار اور مزار سے ملحق ابوایوب انصاری مسجد میں حاضری کا موقع ملا۔ میری کیفیت محاورے کی زبان میں خرِ عیسیٰ والی تھی یعنی اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گدھا مکہ معظمہ سے بھی ہو آئے تو گدھا ہی رہے گا۔ چند روز قبل ابولامتیاز ع۔ س۔ مسلم کی کتاب ''ادب گاہ'' پڑھتے ہوئے ایک ایسے واقعے پر نظر پڑی کہ جی چاہا آپ سے شیئر کروں۔ محترم مسلم رجب مرحوم بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں، تحریکِ پاکستان اور قائدِاعظم کے شیدائی تھے اور معروف شخصیت بھی تھے۔ تقریباً96 سال زندگی گزارکر کوئی دو تین برس قبل دبئی میں اﷲ کو پیارے ہوئے۔ عابد و زاہد انسان تھے۔ لیکن بات ہے اپنے اپنے نصیب کی۔۔ اب آپ اُن سے حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر حاضری کا احوال پڑھئے اور عاشقانِ الٰہی و عاشقانِ رسولۖ کے مقامات اور ابدی زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ اگر یہ باتیں سمجھ آجائیں تو اپنے آپ پر نگاہ ڈالیں۔ وہ لکھتے ہیں: ''میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ نے حضورِاکرم ۖ کی یہ حدیث سُن رکھی تھی کہ 'میری اُمت کا جو پہلا لشکر قیصر کے شہر پر حملہ آور ہوگا، وہ مغفرت یافتہ ہے۔


ایوب انصاری اس وعدئہ مغفرت پر شوقِ شہادت میں عہدِ حضرتِ امیر معاویہ (48ہجری،668 عیسوی) میں قسطنطنیہ پر حملہ آور ہونے والے لشکر کے ساتھ شامل ہوگئے اور مرتبۂ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق اثنائے محاصرہ میں وفات پائی، لیکن چونکہ نیت شہادت کی تھی اس لئے وفات میں بھی مرتبۂ شہادت کی بابت کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ اس محاصرے میں شہر فتح نہ ہوسکا۔ حدیث مبارکہ کی روشنی میں آپ کی وصیت تھی کہ مجھے دشمن کے قریب ترین اور اسلامی لشکر کی آخری حدود میں دفن کیا جائے چنانچہ آپ فصیلِ شہر کے نیچے مدفون ہوئے۔


سلطان محمد فاتح کے دَور میں آپ کا مرقد ازسرِ نودریافت ہوا تو اُسے 1445ء میں 'مسجدِ ایوب انصاری'کی تعمیر کا اعزاز حاصل ہوا- بعد میں حسبِ ضرورت مسجد کی مرمت، تعمیرِ نو اور توسیع ہوتی رہی، آپ کے روضہ مبارک کی تعمیر بھی اُسی سال احاطۂ مسجد میں ہوئی۔ قبر کے تعویذ کے ارد گرد چاندی کی جالی نصب ہے۔


میں چاندی کی جالیوں کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔ اپنی پستیِ کردارپر منفعل… لیکن میری یہ پستی بھی اُس وقت بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت سے سرفراز تھی اور اُس پر جتنا بھی نازاں ہوتا کم تھا، لیکن مجھے کہاں ہوش تھا۔ میں اپنی پستی کے احساس پر غرقاب ہوتا جارہا تھا لیکن اُدھر وہ عظمت و شوکت، وہ شان جو مجھے کشاں کشاں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔ یہ بندۂ کمینہ آج میزبانِ سید المرسلین و شہِ لولاک کا مہمان تھا۔ آنکھوں میں ایک منظر متحرک ہوگیا- شرمندگی ایک طرف، میرا جی چاہا ان جالیوں کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں سمو لوں- یہ میرے سینے کی گہرائیوں میں اس طرح پیوست ہوجائیںکہ ان میں اور میرے دل میں کوئی فرق نہ رہے، آنکھوں سے چشمہ انفعال جاری تھا۔ سامنے دربارِ رسالتۖ تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ عالمِ نور میں جلوہ فگن، دعوتِ مجسم تھا۔ سرورِ کائنات، جناب رسالت مآب ،میرے آقا وماوا و ملجا ۖتخت پر تشریف فرما تھے اور حضرت ابوایوب انصاری اپنی انگلی تھمائے ایک بچے کی طرح مجھے پیشِ رحمت لے جارہے تھے۔


قرب میں قوسین سے نزدیک تر
اور جلوے ہیں کہ تاحدِ نظر


ایک سیہ اعمال اور عادی گنہ گار کی یہ خوش نصیبی، یہ بارشِ انوار ! سحابِ رحمت کی ٹھنڈی اور معطر پھوار نے مشامِ جاں کو سُرور سے بھر دیا۔ پھر یاد نہیں۔ نجانے کتنا وقت گزرا۔ آنکھیں کھلیں تو احساس ہوا کہ ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے اور میں گرد و پیش سے بے نیاز دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہوں اور اب لوگ حیرت سے تک رہے ہیں۔ جب طبیعت ذرا سنبھلی تو محافظ آہستہ آہستہ دبے پائوں مجھ تک آیا، اور کان میں کہا: 'وقت کا خیال نہ کریں اندرونی دروازہ کھول دیتا ہوں، جی چاہے تو مرقد تک چلے جائیں اور جب تک جی چاہے اندر ٹھہریں۔''
'یہ اﷲ کا فضل ہے، جسے چاہے عطا کرے، اور اﷲ بہت بڑے فضل والا ہے۔

،(سورة الحدید5:21)
کیا یہی وہ اَن چاہا موڑ یا سنگِ میل تھا؟ کیا یہی وہ حیات بخش لمحہ تھا، جو نئی زندگی کی بشارت ہوتا ہے؟ کیا میری طفلگی اور انگلی تھامنے کا استعارہ ایک نقطۂ آغاز تھا؟
'پس اﷲ جو ہے ، تو وہی ہے صاحبِ اختیار اور سب کام بنانے والا، اور وہی زندہ کرتا ہے مردے کو، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے
(سورة الشوریٰ :٤٢۔٩)
واپسی پر ٹیکسی ڈرائیورنے نجانے کس غیر معمولی جذبے کے تحت میرے غلیظ جوتے اٹھائے اور باہر نکل کر میرے پائوں کے سامنے رکھ دیئے۔ اُس نے نہ صرف کرایہ لینے سے انکار کردیا بلکہ اگلے روز بھی آنے پر اصرار کیا اور فی الواقع صبح سے آکر ہوٹل کے سامنے حاضر خدمت ہوگیا۔
اب صورت حال دوسری تھی، احساس تو بیدار تھا، لیکن شعور بدستور خواب میں تھا، یا شاید ایک لطیف مخموری کیفیت طاری تھی۔ بازار میں کچھ خریداری کے لئے رُک گئے، جس دکان پر جاتے ہیں، تو ''زبانِ یارِ من تُرکی و من تُرکی نمی دانم'' کے باوجود ہر شخص پوچھتا ہے:
''حاجی؟۔۔۔ پاکستانی؟۔۔۔ مبروک ! 
جب متعدد بار یہ صورت حال پیش آئی تو میں نے بیگم سے کہا ''مجھے تمہاری پیشانی پر کچھ نظر نہیں آتا، تمہیں میری پیشانی پر کچھ لکھا نظر آتا ہے جو اِن سب کو نظر آرہا ہے۔


اور میری طرف نظر میں پاکستانی سفارت خانے کا وہ اہل کار بھی گھوم گیا جو میری طرف دیکھ کر پاسپورٹ تھامے چپکے سے اندر چلا گیا تھا اور چند ثانیوں میں ترمیم کی مہر لگوا لایا تھا۔ ظاہر ہے بیگم کا جواب بھی نفی میں تھا۔ لیکن جو پیش آرہی تھی اُسے کون جھٹلاتا۔۔۔ اﷲ اکبر وﷲ الحمد۔


یہ آخری شب تھی بیگم کے ٹخنے میں30 سال قبل آپریشن کی وجہ سے مستقل تکلیف ہے اور ٹیڑھا پائوں پڑجائے توچلا نہیں جاتا ، استنبول کے پرانے اور دُرونِ لاہور جیسے بازاروں میں یہی دقت پیش آگئی اور ہوٹل پہنچتے پہنچتے ٹخنہ سوج کر کُپّاہوگیا۔ یہ رونے بیٹھ گئیں کہ اب میں اپنے پائوں سے طواف اور سعی کیسے کرسکوں گی(وہاں سے عمرے کے لئے جانا تھا) یہ تو جب تک ٹھیک ہونے سے رہا۔ دفعةً جیسے کوئی پردہ اٹھا گیا اور سارے واقعات تصویر کی طرح میری آنکھوں کے سامنے گئے۔ میںنے کہا :''خدا کی بندی، جو اس اہتمام کے ساتھ یہاں تک لایا ہے اور جس نے یہ یہ نشانیاں دکھلائی ہیں، اب اُس سے نااُمید ہوتی

ہو؟ دعا کرو۔۔۔ اور حقیقت ہے، کہ صبح تک درد سوجن کا نام ونشان تک نہ تھا۔''

(بحوالہ ادب گاہ۔صفات126-27)
یہ بات ہے اپنے اپنے نصیب کی۔ اپنے اپنے اعمال کی۔ جسے چاہے وہ عطا کرے لیکن یہ عطا یوں ہی نہیں ہوتی؟ اس کے لئے نصف شب جاگنا، اﷲ کے حضور پیش ہونا، گناہوں کی معافی طلب کر کے عبادات و مجاہدات میں مصروف رہنا پڑتا ہے۔ حدیث قدسی اس بات کو یوں بیان کرتی ہے کہ جب کوئی شخص نوافل اور عبادات کے ذریعے اﷲ پاک کا قرب حاصل کرلیتا ہے تو اﷲ پاک اس کا ہاتھ ، اس کی زبان اور آنکھ بن جاتے ہیں۔ جب انسان اپنے خالقِ حقیقی کی زبان بن جائے اور اُسی کی آنکھ سے دیکھے توکیا اُس پر روحانی دنیا کے پردے ہٹ نہیں جائیں گے؟ کیا وہ فرش و عرش کے راز سمجھ نہیں سکے گا؟ کیا اُس پر حقائق واضح نہیں ہو جائیں گے ؟اور اس کی زبان سے نکلے الفاظ پتھر پر لکیر نہیں ہوں گے؟ میںنے اپنی زندگی میں جو اولیاء کرام دیکھے، وہ اشاروں سے بات کرتے تھے، قدرت کے راز عیاں نہیں کرتے تھے لیکن اُن کے اشاروں سے کی گئی بات کچھ نہیں دنوں بعد مِن و عن صحیح ثابت ہوتی تھی، اُن کی نگاہ سے قلب صاف اور باطن منور ہوتا تھا، اُن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی تھی بلکہ مقدر بھی بدل دیتی تھی۔ یہ سلسلہ ہے اپنے اپنے تجربات کا۔ جنہیں زندگی میں کبھی کوئی ایسی ہستی نہیں ملی وہ تشکیک میں مبتلا رہیں گے۔ لیکن جنہیں یہ تجربہ ہو چکا ہے وہ اسے سمجھ جائیں گے۔ سمجھیں یا نہ لیکن اس پر غور کریں۔ میرا روحانی تجربات کے بعد اس پر یقین، ایمان کی مانند مضبوط ہے۔ میں ایسے واقعات بہ وزنِ کرامات کا عینی شاہد ہوں۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سیوہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

منزل ہے رُوبرو جو ہے سمتِ سفر درست
کیا غم ہے جو نہیں ہیںمرے بال و پر درست
کمزوریٔ بدن کی شکایت نہ ہو مجھے
رکھے خدائے پاک جو فکر و نظر درست
اس خوں کے لوتھڑے سے عبارت ہے زندگی
سب کچھ درست جان، رہے دل اگر درست
سمجھوں کہ آگیا ہے زمانے میں انقلاب
ہو جائیں گر غریب کے شام و سحر درست
انسانیت کے درد سے ہے جو بہرہ مند ہو
جذبہ وہی ہے راست وہی نغمہ گر درست
بھولے نہ جو شناخت کبھی گردوپیش کی
رکھتا ہے وہ خیال ہمیشہ اثر درست
جو اپنے خال و خد کو بگڑنے نہ دے کبھی
تائب میری نظر میں ہے بس وہ ہنر درست

h_taib.jpg


حفیظ تائب

*****

 
08
November

تحریر: صائمہ جبار

ہندوستان دراصل تنگ برہمن ذہنیت اور رسم و رواج کو ماننے والی حکمران اقلیت کا ملک ہے۔ یہ حکمران طبقہ اکثریتی ہندوآبادی کو اپنے سیاسی مقاصد اور مذہبی جنون کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ دوغلے چہرے والے اس ملک میں دوسرے تمام مذاہب کی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندوئوں اور سکھوں کا رہنا بھی اب ایک مسئلہ بن گیا ہے۔قتل و غارت گری کے خون آشام سائے تلے زندگی گزارنے والی اقلیتیں اب سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟


دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے دار بھارت کا اصل چہرہ بی جے پی جیسی انتہا پسند سیاسی پارٹی کے رہنما نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آتے ہی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔بی جے پی مسلمانوں سے نفرت کرنے والی ایک انتہا پسند پارٹی ہے جس نے آر ایس ایس
(Rashtriya Swayamsevak Sangh)
کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ آر ایس ایس ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں ملوث ایک مسلمان مخالف منشور رکھنے والی تنظیم ہے۔کہنے کو تو بھارت کے آئین میں 42 ویں ترمیم کے بعد بھارت ایک جمہوری ریاست اور سیکولر (لامذہب) اسٹیٹ ہے جس سے مراد ہے کہ بھارتی ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب کے لوگ وہاں آزادی سے رہ سکتے ہیں۔ لیکن انتہا پسند بی جے پی کے برسرِ اقتدار آتے ہی بھارت کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور اقلیتوں کے خلاف مظالم میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ اسلام بھارت کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور بھارت کی کل آبادی کا 14 فیصد سے زائد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن مودی کے اس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں بے انتہا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں
Food and Agriculture Organization (FAO)
اور
Organization for Economic Co-operation
and Development (OECD)
کی رپورٹ کے مطابق بھارت دنیا میں بڑے گوشت کو درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ لیکن منافقت کی انتہا یہ ہے کہ مقدس سمجھی جانے والی اس گائے کو پیسے کی خاطر تو مارا اور بیچا جا سکتا ہے لیکن مسلمانوں سے نفرت کے باعث انہیں بڑا گوشت کھانے کے شک پر بھی ہجوم کے ہاتھوں قتل کرنے کے واقعات میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے۔نہ صرف مسلمان بلکہ بھارت کی دوسری اقلیتیں بھی ہجوم کے ہاتھوں موت کا شکار ہو رہی ہیں۔پہلے تو ایسے بہت سے واقعات میڈیا پر رپورٹ ہی نہیں ہوتے تھے، پہلا اندوہناک واقعہ 2015 میں رپورٹ ہوا جب 52 سالہ محمد اخلاق اتر پردیش دادری میں ہندو انتہا پسند ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوا۔ ہجوم کو شک تھا کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا۔ حکومتی جماعت بی جے پی کی طرف سے اس کی کوئی مذمت نہیں کی گئی بلکہ خاموشی رہی۔ اس کے بعد تو اس طرح کے واقعات کی لائنیں لگ گئیں۔رواں سال مارچ سے مئی تک اس طرح کے سات واقعات ہوئے۔ فرسٹ پوسٹ کے آرٹیکل کے مطابق:
Cow slaughter row: Since 2010, 97% of beef-related violence took place after Modi govt came to power. Indias first data journalism initiative
نے ایک کانٹنٹ سروے کیا جس میں 2010 سے 2017 تک شدت پسندی کے واقعات میں بھارت میں 51 فیصد مسلمان نشانے پر تھے۔جن میں 97 فیصد واقعات نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ہوئے۔
بھارت میں اقلیتوں کو گھر واپسی کے نام سے ایک مہم چلا کر زبردستی ہندو بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس مہم کو شروع کرنے والا گروپ دھرما جگران سمیتی
(Dharma Jagran Samiti)
ہے جو کہ حکمران جماعت بی جے پی کی ایک ذیلی جماعت ہے۔

kiahundustan.jpg
اتر پردیش میں دھرما جگران سمیتی کے سربراہ راجیشور سنگھ کہتے ہیں کہ ہم 2021 تک بھارت کو پورا ہندو بنانا چاہتے ہیں اس لئے یا تو اقلیتیں ہندو بن جائیں یا بھارت چھوڑ دیں۔دوسری شدت پسند جماعتیں اس بات کو سپورٹ کرتی ہیں جو مسلمانوں کے لئے باعثِ تشویش ہے۔
بھارتی فلم انڈسٹری بالی وڈ نامور مسلمان اداکاروں سے بھری پڑی ہے۔ کچھ عرصہ قبل نامور اداکار ہدایتکار عامر خان نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر اظہار خیال کیا تھا۔ شاہ رخ خان نے بھی عامر خان کے بیان کو سراہا لیکن اس کے بعد انکو انتہا پسند ہندو سیاسی جماعت شیو سینا سے دھمکیاں بھی ملیں۔ شیو سینا کے رہنما کا کہنا تھا کہ عامر خان کو پاکستان چلے جانا چاہئے۔احتیاطاً دونوں کی سکیورٹی بڑھانا پڑی کیونکہ ان پر حملوں کے امکانات بہت زیادہ تھے۔


بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں یوگی ادھتیا ناتھ کا چیف منسٹربن جانا ریاست میں رہنے والی تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے باعثِ تشویش ہے۔ ادھتیا ناتھ ہندوتوا نظریے کا بہت بڑا ماننے والا ہے۔ اپنے سیاسی جلسوں میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے میں شہرت رکھتا ہے۔اسی انتہا پسند ہندو نظریے کے باعث بی جے پی نے ریاست اتر پردیش میں 14 سال بعد جیت حاصل کی اور اپنے اسی نظریے کی وجہ سے کسی اقلیت کو ٹکٹ نہیں دیا۔


2015 میں اسی ادھتیا یوگی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دل دہلا دینے والا بیان دیا کہ ہندوں کو چاہیئے کہ وہ مسلمان خواتین کی قبروں سے لاشیں نکال کر بے حرمتی کریں۔
جب 2016 میں بھارتی مسلمان اداکار شاہ رخ خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھارت میں عدم برداشت کی بات کی تو اس وقت انہیں بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت ادھتیا ناتھ نے شاہ رخ خان کو حافظ سعید کے ساتھ تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ شاہ رخ خان کی فلمیں اکثریت ہندو آبادی دیکھتی ہے اور اگر انہوں نے فلموں کا بائیکاٹ کر دیا تو شاہ رخ خان سڑک پر آجائیں گے۔


ادھتیا یوگی نے بر سرِ اقتدار آتے ہی بڑے گوشت پر پابندی عائد کر دی۔ مذبح خانوں پر کریک ڈائون کا آغاز ہو گیا۔ یوگی ادھتیا کھلم کھلا ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکہ میں مسلم پابندی کی طرف داری کرتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں اس نے واضح کہا کہ اگر ہمیں موقع ملا تو اپنے دیوی دیوتائوں کے مجسمے مسجدوں میں رکھیں گے۔ یوگی نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر ایک ہندو قتل ہوا تو ہم پولیس میں جانے کے بجائے اس کے بدلے میں 10 مسلمان قتل کریں گے۔ اور اگر انہوں نے ہماری ایک لڑکی لی تو ہم اس کے بدلے ان کی 100 لڑکیاں لیں گے۔ یہ بالکل وہی نظریہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے نریندر مودی نے 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا تھا۔
اگر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف یہی زہر بھرا جاتا رہا تو یوگی جیسا انسان اگلا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے جو کہ بھارت کی لبرل سوسائٹی کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔


مسلمانوں سے نفرت کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ یہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کے حق میں نہیں۔ پاکستانی کرکٹرز کے ممکنہ بھارتی دورے پر پہلے سے ہی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور آخرپاکستانی حکومت نے کرکٹ ٹیم کو بھارت جانے سے روک دیا اور اب پاکستان اور بھارت میں دو طرفہ کرکٹ میچ ختم ہو چکے ہیں۔کہتے ہیں کہ فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن پاکستانی فنکاروں، اداکاروں اور گلوکاروں کو بھی بھارت جانے پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیںاور تو اور اگر کوئی لبرل دانش ور اس انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے پاکستان کا ہمدرد ہونے کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بھارت میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے بارے میں مئی 2017کو جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے سیمینار میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کے کردار کے موضوع پر بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہا پسندی قومی سطح پر ابھر چکی ہے اور بھارت کے قومی چہرے کو مسخ کررہی ہے،آر ایس ایس کے انتہا پسند اور گائورکھشک ابھرتی ہوئی انتہا پسندی کا اظہار ہیں۔
اس صورتحال میں بین الاقوامی کمیونٹی ، علمائ،میڈیا اور سول سوسائٹی کوبھارت میں بڑھتی اس انتہا پسندی پر آواز اٹھانا ہو گی۔ کیونکہ بھارتی سیکولرازم تیزی سے شدت پسندی اور بنیاد پرستی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے اس خطے کو پہلے ہی داعش اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کا سامنا ہے۔ ایسے میں ہندو شدت پسندی کا ایک نیا خطرہ خطے میں امن و امان کے لئے خطرناک ہو گا۔دوسری شدت پسند تنظیموں کا تو کوئی مخصوص ملک نہیں لیکن یہ ہندو انتہا پسند تو بھارتی حکومت کے زیرِ سایہ ہیں اورنریندر مودی کے منظورِ نظر ہیں ۔ بھارتی سیاست میں ایک بڑے سٹیک ہولڈر ہیں جس سے بھارتی ریاست پر شدت پسند ہونے کا لیبل لگ رہا ہے۔

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

ریاستِ پاکستان جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہے آج الحمدﷲ وہ اس پر نہ صرف کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے بلکہ پاکستان کے مجموعی حالات بھی انتہائی پُرامن ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کے دلوں سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خوف کے سائے چھٹ رہے ہیں اور وہ اعتماد اور حوصلے سے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس کا ایک ثبوت پاکستان موٹر ریلی کا انعقاد ہے جو افواجِ پاکستان کے زیراہتمام منعقد ہوئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایات اور سرپرستی میں منعقد کی جانے والی اس ریلی میں ملک بھر سے لوگوں نے شرکت کی اور دنیا کو بتا دیا کہ پاکستانی نہ صرف خود پُرامن قوم ہیں بلکہ خطے میں دیرپاامن کے خواہاں بھی ہیں۔ پاکستان موٹر ریلی میں حصہ لینے والے لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ بلاشبہ یہ ریلی ملی یکجہتی اور قومی سطح پر اعتماد کی بحالی کا باعث بنی ہے۔


یہ ہماری قوم کے بیٹوں کی قربانیوں ہی کا ثمر ہے کہ پاکستان کا اصل اور خوبصورت چہرہ پھر سے دنیا کے سامنے اُبھرا ہے اور آج یہ قوم ''پاکستان موٹر ریلی'' جیسے میگاایونٹس منعقد کر کے بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ کس طرح سے پاکستان دہشت گردی پر قابو پا کر دنیا کو امن اور محبت کی خوشبو سے معطر کر رہا ہے۔ موٹر ریلی پاکستان کے مختلف علاقوں خنجراب، چترال، مظفر آباد، اسلام آباد، لاہور، ڈیرہ اسماعیل خان، رزمک (شمالی وزیرستان)، گومل زام ڈیم، کوئٹہ اور کراچی سمیت دیگر شہروں سے ہوتی ہوئی گوادر پہنچی۔ بلاشبہ اس ریلی نے پاکستان کے ایک پُرعزم اور پُرامن ملک ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ 31اکتوبر2017 کو گوادر میں ہونے والی اختتامی تقریب جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی شرکت کی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی پُرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم ہے اور تمام چیلنجز کے باوجود سربلند ہونا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب موٹر ریلی پُرامن پاکستان کے دعوے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خنجراب تا گوادر ہر پاکستانی امن و ترقی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی ترقی کو پاکستان کی ترقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی اقتصادی و معاشرتی ترقی کے لئے پاک فوج صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔


اسی طرح انٹر نیشنل کرکٹ بھی پاکستان میں واپس آ چکی ہے۔ دشمن ممالک نے سری لنکن ٹیم کے خلاف ایک حادثے کو بنیاد بنا کر کرکٹ کو پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہا لیکن وہ اس میں بھی ناکام رہا۔ الحمدﷲ پاکستانی قوم کو ایک اور محاذ پر بھی کامیابی ملی کہ افواج پاکستان کی ٹیم انگلینڈ میں ہونے والے مقابلوں کیمبرین پیٹرول(جنگی مشقوں) میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے سُرخرو ٹھہری ہے۔ پاکستان نے جس طرح سے کچھ سال قبل افغانستان میں اغوا ہونے والے ایک خاندان کو دہشت گردوں کے شکنجے سے چھڑوا کر اُنہیں واپس کینیڈا بھیجا ہے اس سے بھی افواج پاکستان اور اس کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کی جانب سے بین الاقوامی امن کے قیام میں سرانجام دی گئی خدمات کی عکاسی ہوتی ہے۔


پاکستانی قوم اور اس کی افواج عزم اور جانفشانی کی علامت ہیں کہ ان کی قربانیاں اور کامیابیاں اظہرمن الشمس ہیں۔ اب دنیا اس کانسپریسی تھیوری کو ماننے کے لئے چنداں تیار نہیں جس کی رو سے پاکستان کو دنیا کا امن پامال کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔ اب پاکستان اپنی کارکردگی کی بدولت اس مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنا مؤقف واضح کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ آج پاکستان کا شمار باوقار اور مضبوط اقوام میں ہوتا ہے جس کے لئے پاکستانی قوم اور اس کی افواج کی بے مثال کارکردگی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہماری عزت، وقار اور عظمت پاکستان ہی کے دم سے ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان پائندہ باد۔

08
November

تحریر: خالد محمود رسول

کمرے میں باوقار اور سنجیدہ ماحول طاری تھا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا اجلاس تھا۔ امریکی وزیر دفاع کمیٹی کے سامنے دنیا میں سکیورٹی کے حوالے سے پالیسی وضاحتیں دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک سینیٹر نے انہیں سوال کیا ''ون بیلٹ ون روڈ سٹریٹجی کے ذریعے چین مختلف برِاعظموں کے مابین زمینی اور سمندری روٹس کے پھیلائو کا خواہاں ہے۔۔۔ آپ افغانستان میں چین کا کیا رول دیکھتے ہیں، بالخصوص ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے۔


امریکی وزیر دفاع نے نپے تلے انداز میں جواب دیا۔ ''آج کی دنیا میں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کئی طرح کی بیلٹس اور کئی طرح کی روڈز کے ذریعے منسلک ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ایک ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں پر ون بیلٹ ون روڈ کو مسلط کرے۔'' اس وضاحت کے دوران انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کیونکہ اس منصوبے کا ایک حصہ متنازعہ علاقے سے گزرتا ہے ، اس لئے یہ منصوبہ اور بھی تشویشناک ہے۔ ان کا اشارہ واضح طور پر سی پیک کی اس تجارتی شاہراہ کی طرف تھا جو گلگت بلتستان سے گزر رہی ہے۔
بھارت کی چین کے منصوبے
Belt Road Initiative
پر ناخوشی ڈھکی چھپی نہیں لیکن سی پیک کے حوالے سے ہندوستان اس منصوبے کے روزِ اول سے ہی زیادہ چیں بہ چیں رہا ہے۔ ہر فورم پر ہندوستان نے اس منصوبے کی اس بناء پر مخالفت کی کہ سی پیک کی مرکزی شاہراہ بقول اس کے گلگت بلتستان کے متنازعہ علاقے سے گزرتی ہے ۔ پاکستان کا مؤقف بڑا واضح اور جاندار رہا ہے۔ مزید برآں چالیس سا ل قبل اسی علاقے سے شاہراہ قراقرم گزری لیکن بھارت نے اس بنیاد پر اس پر کبھی اعتراض نہیں اٹھایا لیکن سی پیک کے منصوبے کے پاکستانی معیشت پر انقلابی امکانات کے پیشِ نظر ہر فورم پر دہائی دینے میں مصروف ہے۔


بھارت کے اس مؤقف کو یوں تو دنیا میں کوئی پذیرائی نہیں ملی ہے تاہم اس نے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور امسال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جون میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں امریکہ نے ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے بھارت کے مؤقف کی تائید کے اشارے ملے ہیں۔

سی پیک کے آغاز سے ہی بھارت کو اس منصوبے پر اعتراض تھا۔ اصل اندرونی دکھ تو یہ تھا کہ پاکستان میں جہاں سال ہا سال سے ڈیڑھ دو ارب ڈالر سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی وہاں ایک ہی پروگرام کے تحت چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ لانچ ہو گیا۔ بلکہ اس میں بعد میں اضافہ ہو کر یہ ممکنہ سرمایہ کاری پچپن ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔ انرجی، انفراسٹرکچر، پورٹ، انڈسٹریل اسٹیٹس، ریلوے، پائپ لائینز اور فائبر آپٹک سمیت کئی اور شعبوں پر مبنی اس سرمایہ کاری کو پاکستان کی معیشت کے لئے گیم چینجر کہا گیا۔

امریکی وزیر دفاع کے اس بیان پر چین نے بجا طور پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ پاکستان نے بھی اپنے مؤقف کا واشگاف انداز میں اظہار کیا لیکن بھارتی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں امریکہ کی پالیسی میں بھارت کی طرف جھکائو پر شادیانے بجائے گئے۔ عالمی طاقتوں کی کھینچا تانی میں امریکہ کی اس 'بھارت نواز' پالیسی کے خطے پر بالعموم اور سی پیک پر بالخصوص دُور رَس اثرات ہو سکتے ہیں۔


سی پیک کے آغاز سے ہی بھارت کو اس منصوبے پر اعتراض تھا۔ اصل اندرونی دکھ تو یہ تھا کہ پاکستان میں جہاں سال ہا سال سے ڈیڑھ دو ارب ڈالر سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی وہاں ایک ہی پروگرام کے تحت چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ لانچ ہو گیا۔ بلکہ اس میں بعد میں اضافہ ہو کر یہ ممکنہ سرمایہ کاری پچپن ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔ انرجی، انفراسٹرکچر، پورٹ، انڈسٹریل اسٹیٹس، ریلوے، پائپ لائینز اور فائبر آپٹک سمیت کئی اور شعبوں پر مبنی اس سرمایہ کاری کو پاکستان کی معیشت کے لئے گیم چینجر کہا گیا۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کے قریب ترین دوست ملک چین کے ذریعے ہو رہی ہے ۔ سی پیک منصوبے کے تحت مرکزی تجارتی شاہراہ گلگت بلتستان سے گزرے گی۔ بھارت کو سی پیک منصوبے پر دشمنی 'نبھانے' کا اور کوئی سفارتی یا قانونی طریقہ نہ سوجھا تواس نکتے کو بنیاد بنا کر دنیا بھر میں اس منصوبے کی مخالفت شروع کر دی کہ یہ تجارتی شاہراہ گلگت بلتستان کے علاقے سے گزرتی ہے جو اس کی نظر میں متنازعہ ہے۔


دنیاکے ممالک اپنے اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں۔ چین کی معاشی طاقت اورآنے والے وقتوں میں چین کے ساتھ تجارت اور تعلقات سے جُڑے معاشی امکانات کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے تعلق کو مناسب جانا ۔ ان ممالک میں یورپ کے وہ ممالک بھی شامل ہیں جو امریکہ اور نیٹو کے اتحادی بھی ہیں۔ گزشتہ سال چین میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے سلسلے میں سربراہ کانفرنس میں پینتالیس سے زائد سربراہ شامل ہوئے۔ جنوبی ایشیا میں سے بھارت واحد ملک تھا جس نے عین آخری لمحے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
امریکی حکام کو بہرحال یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہئے کہ حقیقت میں
Disputed Territory

مقبوضہ کشمیر ہے نہ کہ آزادکشمیر یا گلگت بلتستان۔ زمین پر موجود حالات کے طائرنہ جائزے سے یہ بات مکمل واضح ہو جاتی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگوں نے اپنا فیصلہ پاکستان کے حق میں روزِاول سے دے دیا ہے۔ آزادکشمیر کے عوام پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ پاکستان کی سرحدوں کے دفاع میں ہمہ وقت پیش پیش رہتے ہیں چہ جائیکہ ہندوستانی افواج کے جو اپنی بربریت کے ذریعے ہمہ وقت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی کی تحریک کو کچلنے میںمصروف ہے۔ آزادکشمیر کے عوام اور پاکستانی افواج کے درمیان رشتہ 'قابض اور مظلوم' کا نہیں بلکہ 'دوست اور بھائی' کا ہے۔ پاکستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام ایک اِکائی کی صورت رکھتے ہیں۔ ایک ہی وجود کے مختلف اعضا ہیں۔ غرضیکہ تاریخی، ثقافتی اور زمینی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ
Disputed Territory
گلگت بلتستان نہیں بلکہ
Indian Occupied Kashmir
ہے جہاں
Plebiscite
ہونا باقی ہے۔ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کے حق میں اپنا فیصلہ 1947میں ہی دے دیا تھا اور آج وہ پاکستان کی شناخت ہیں۔
امریکہ نے اپنی نئی افغان پالیسی میں بھارت کے مجوزہ کردار کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے اور ساتھ ہی چین کو بھی پیغام دیا ہے کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی راہ میں اب امریکہ رکاوٹیں کھڑی کرنے پرکمر بستہ ہے۔ امریکہ عرصے سے چین کو گھیرے میں رکھنے اور محدود رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگرچین نے کمال مہارت سے عالمی سطح پر اپنے آپ کو ہر طرح کے قضیے سے بچائے رکھا، اپنی معیشت کے پھیلائو اور اور استحکام پر توجہ مرکوز رکھی لیکن اب ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے کثیر الملکی اور بین البرا عظمی پھیلائو پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔


امریکہ کی ورلڈ آرڈر لیڈرشپ کو مسلسل نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ''پہلے امریکہ'
(America First)
کے نعرے اور پالیسی کے ساتھ اقتدار سنبھالا تو عالمی بساط پر امریکہ کے قائدانہ رول اور پالیسیوں میں تبدیلی نظر آنا شروع ہو گئی۔ اپنے قریب ترین اتحادی یورپی یونین کے ساتھ ان کے نیٹو کی فنڈنگ کے حوالے سے اختلاف نے امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں وقتی سرد مہری پیدا کر دی ہے۔
چین کے ساتھ صدر ٹرمپ کے گزشتہ انتخابی بیانات کے پیشِ نظر ٹریڈ وار کا خدشہ تھا لیکن چین اور بعد ازاں وائٹ ہائوس میں مدبرانہ عناصر صدر ٹرمپ کو اس تجارتی جنگ کا نفع نقصان سمجھانے میں توکامیاب ہو گئے لیکن امریکہ اپنی دُور رَس علاقائی اور عالمی پالیسیوں کے تسلسل میں چین کی ابھرتی ہوئی معاشی اور سیاسی طاقت سے خائف ہے۔ اس پس منظر میں جنرل میٹیز کی جانب سے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر یہ بیان اس امر کی چغلی کھا رہا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں چین کو بدستور گھیرے رکھنے اور محدود کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔


امریکہ اس سے قبل پاکستان ایران گیس منصوبے کو روند چکا ہے۔ پاکستان میں گیس کے وسائل اس کی ضروریات سے کہیں کم ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوں کی کوتاہ بینی تھی کہ انہوں نے چند ہی سالوں میں گیس کے محدود وسائل کو کھاد، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی پیداوار میں کھلے دل سے استعمال کرتے ہوئے ملک کو گیس کی قلت سے ہمکنار کر دیا۔ ایران سے گیس کی درآمد ایک قدرتی متبادل تھا لیکن یہ متبادل امریکہ اور ایران کی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایران کی جانب سے پائپ لائن کی پاکستان سرحد تک تعمیر کے باوجود پاکستان امریکہ اور سلامتی کونسل کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے دبائو کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل نہ کر سکا۔ حالانکہ یورپ کے بیشتر ممالک اپنی انرجی ضروریات کے لئے گیس روس سے درآمد کرتے ہیں۔ روس سے تمام تر مخاصمت کے باوجود امریکہ نے کبھی یورپی اتحادی ممالک کو اس بات پر مجبور نہ کیا کہ وہ روس سے گیس نہ لیں لیکن پاکستان اپنے مخصوص سیاسی، علاقائی اور معاشی حالات کے ہاتھوں ایسا مجبور ہوا کہ پاک ایران منصوبے پر آزادانہ مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں رہا ۔

پاکستان کے ریاستی اداروں کے لئے یہ امر بہت اہم ہے کہ سی پیک منصوبہ کسی بھی صورت عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کا شکار نہ ہو۔ سفارتکاری اور باہمی تعلقات کو اس انداز میں نبھانے کی ضرورت ہے کہ سی پیک منصوبہ اور اس کی مرکزی گزرگاہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کے اثرات سے محفوظ رہے۔


اس دوران امریکہ کی نئی افغان پالیسی پر عمل درآمد کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ میڈیا میں یہ خبریں بہت دنوں سے گردش میں ہیں کہ پاکستان کو ایک سخت پیغام دیئے جانے کی تیاری ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کمیٹی نے بجا طور پر ایک دلیرانہ اور مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے۔ بہرحال پاکستان کا مؤقف اپنی جگہ مگرتاریخ کی گواہی یہی ہے کہ امریکہ اپنے دور رس سکیورٹی مفادات کے لئے روایتی اقدامات سے شائد ہی باز رہ سکے۔


پاکستان کے ریاستی اداروں کے لئے یہ امر بہت اہم ہے کہ سی پیک منصوبہ کسی بھی صورت عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کا شکار نہ ہو۔ سفارتکاری اور باہمی تعلقات کو اس انداز میں نبھانے کی ضرورت ہے کہ سی پیک منصوبہ اور اس کی مرکزی گزرگاہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کے اثرات سے محفوظ رہے۔ ہمیں اس منصوبے کو ایک اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بننے سے روکنے کے لئے بہترین سفارتکاری اور معاملہ فہمی کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے تاکہ سی پیک کو اپنے نشانے پر لینے کی دشمن کی نئی چال کامیاب نہ ہونے پائے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر:سمیع اللہ سمیع

دنیامیں طاقت کی رسہ کشی درحقیقت وسائل کی کھینچاتانی سے مشروط رہی ہے۔ افغانستان وہ بدقسمت ملک ہے جس کی سرحدوں سے انیسویں صدی کے وسط سے تاحال سپرپاورزکی آنکھ مچولی جاری ہے۔فرق بس اتناپڑاہے کہ اب برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے جبکہ روس نسبتاًکمزورہونے کے باعث بیک فٹ پر لڑرہاہے۔بہت سے افغانی پرامیدہیں کہ روسی وزیراعظم ولادی میرپیوٹن اورڈونلڈٹرمپ دوطرفہ تعلقات میں بہتری لائیں گے توافغانستان چکی کے پاٹوں میںمزید پسنے سے محفوظ رہ جائے گا۔1930کی، افغانی معدنی وسائل پر،جرمن رپورٹ سے اب تک کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 3ٹریلین ڈالرسے زائدکے معدنی وسائل موجودہیں ۔سی این بی سی اپنی ویب سائٹ پر لکھتاہے کہ افغان جنگ پر خرچ ہونے والے700 بلین ڈالراب امریکہ وہاں کے معدنی ذخائرسے حاصل کرے گا۔
United States Institute of Peace
کے مطابق افغانستان میں
Aynak
کے مقام پر
copper
کے ذخائرکی لاگت پچاس بلین ڈالرہے ۔سی این بی سی کے مطابق 1997میں افغان طالبان کاایک وفدیونین آئل کمپنی آف کیلی فورنیا
(UNOCAL)
سے گیس پائپ لائن کے دوبلین ڈالرکے منصوبے پر رضامند ہوا لیکن افغان طالبان چاہتے تھے کہ امریکہ انھیںسرکاری سطح پرتسلیم کرے، اسی بناپر یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔ افغانستان کی 80فیصدآبادی کاتعلق زراعت کے پیشہ سے ہے جبکہ وہ اپنی ضرورت کی 24پروڈکٹس پاکستان سے درآمدکرتاہے جن میں چاول، ادویات اوردوسری روزمرہ کی اشیاء شامل ہیں۔اس طرح افغانستان پاکستانی مال کا تیسرا بڑاخریدارہے اوراس کی بیرون ملک برآمدات بھی پاکستان کے ساتھ اس کے 2010کے معاہدے۔
APTTA
کے تحت ہوتی ہیں۔ 2014کے آخرمیں افغانستان کی کمرشل ٹرانزٹ پچھترہزارسے کم ہوکرپینتیس ہزارتک رہ گئی جوہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے جبکہ 2014کے آغاز پردوطرفہ تجارت کی شرح دوبلین ڈالرتھی۔اس کی خاص وجوہات ایرانی راستے کی آسانیاں، کرایہ اور کار گو اخراجات کی کمی اورڈالرکے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی کم مالیت ہیں۔
اس وقت امریکی پالیسی اورآئی ایس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے چین، ایران اورروس کومجبورکردیاہے کہ وہ افغانستان میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کریں ۔خطے کے ان تین ممالک کامؤقف ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن نہیں چاہتااوروہ اپنے آپ کوافغانستان کے لئے ناگزیر ثابت کرنے کی خاطربہت سے اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ جیساکہ سابق افغان صدرحامدکرزئی نے
Russian TV
کو انٹرویودیتے ہوئے کہاکہ یہ سوال قابل غورہے کہ امریکی سکیورٹی فورسز اورسی آئی اے کی موجودگی میں دہشت گردتنظیم دولت اسلامیہ کاافغانستان میں واردہونااوربتدریج قوت بڑھانا کیسے ممکن ہوا؟انھوں نے کہاکہ امریکہ توافغانستان میں قیامِ امن کے لئے آیا تھا لیکن اس کے آنے کے بعدعدم استحکام،معاشی ابتری اوردہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دوٹوک اندازمیں کہاکہ افغانیوں کو ہراساں کرنا، بمباری اور قتل وغارت سمیت جیلیں بھرناجیسے اقدامات اپنی اہمیت کھوبیٹھے ہیں۔ہمیں قیامِ امن کے لئے راہیں بھی پرامن ڈھونڈناہوں گی۔جب ان سے سوال کیاگیاکہ کیا امریکہ دولت اسلامیہ کوافغانستان میں اسلحہ فراہم کررہاہے ؟توانہوں نے بلاجھجک اس بات کااظہارکیاکہ میرے پاس لوگ آتے ہیں اوربتاتے ہیں کہ کیسے بے رنگ ہیلی کاپٹرروزانہ کی بنیادپراسلحہ لے کرآئی ایس کے مختلف ٹھکانوں تک پہنچاتے ہیں اورایساپورے افغانستان میں کیاجارہاہے۔اپنی بات کوجاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم پوچھیں کہ امریکہ کی موجودگی میں داعش کیسے پھیلی جبکہ وہ تو طالبان والقاعدہ کوختم کرنے آیاتھا۔انھوں نے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے مزیدکہاکہ افغانستان میں امریکی عملداری کاتویہ حال ہے کہ جب امریکی وزیردفاع جنرل میٹس افغانستان کی سرزمین پرقیام پذیر تھے تووہ کابل ائرپورٹ کوبھی محفوظ نہ بناسکے ۔ان کی یہ بات طالبان کی اس بات کی کسی حدتک تصدیق کرتی ہے کہ وہ آج بھی افغانستان کے آدھے حصے پر قابض ہیں۔انھوں نے پاکستان سے افغانستان کے تعلقات کوبہتربنانے کی اہمیت پربھی زوردیا۔

گزشتہ ماہ پشاورمیں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل عبدالوحیدپوہان نے کہاکہ کچھ طاقتیں پاکستان اورافغانستان کوایک دوسرے سے دوررکھناچاہتی ہیں۔پاکستان وافغانستان کے بہترتعلقات نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ حالیہ حالات کے لئے بھی ناگزیرہیں۔

گزشتہ ماہ پشاورمیں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل عبدالوحیدپوہان نے کہاکہ کچھ طاقتیں پاکستان اورافغانستان کوایک دوسرے سے دوررکھناچاہتی ہیں۔پاکستان وافغانستان کے بہترتعلقات نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ حالیہ حالات کے لئے بھی ناگزیرہیں۔انھوں نے اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ میں جتناعرصہ پشاورمیں رہا، مجھے محسوس ہی نہیں ہواکہ میں کسی دوسرے ملک میں آیاہواہوں ۔دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔افغان صدرسے جب بھی ملاقات ہوئی انھوں نے پاکستان کے ساتھ بہترتعلقات کی تلقین کی۔


افغان صدراشرف غنی نے اقتدارسنبھالتے ہی پاکستان سے بہترتعلقات کاعندیہ دیاتھالیکن پھررفتہ رفتہ سب کچھ سرد خانے کی نذرہوگیاجس میں آرمی پبلک سکول کاواقعہ ایک بڑامحرک تھا۔حالیہ بیجنگ کانفرنس میں افغان صدراشرف غنی نے اپنی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے پانچ سرکلز بیان کئے جس میں پاکستان کو پہلے اوربھارت کو چوتھے سرکل میں رکھاگیایہ پاکستان کے بارے میں افغانستان کی پالیسی کایوٹرن ہے جو کہ ایک خوش آئندقدم ہے۔اس میں دونوں ممالک کی سول وملٹری قیادت کے دوروں اورنیک نیتی کاعمل دخل ہے۔19 ستمبرکواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی اشرف غنی کایہی کہناتھاکہ وہ پاکستان سے بہترتعلقات کے خواہاں ہیں۔ اس سے اگلے روز، بدھ کوافغان سفیر عمرزخیلوال نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے ملاقات کی جس میں انھوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی بہتری کے لئے نہ صرف آرمی چیف کی کوششوں کوسراہابلکہ امیدظاہرکی کہ وہ دونوں ممالک کو قریب لانے میں مزیدکرداراداکریں گے۔اس دوران ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اورخطے میں سکیورٹی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔اس میٹنگ میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون پر بھی اطمینان کااظہارکیاگیا۔

pakafghantaluqmado.jpg
آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے پہلے دورہ افغانستان کے نہایت مثبت نتائج حاصل کئے ۔اس دورہ میں ان کے ساتھ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل نویدمختاربھی شامل تھے۔صدراشرف غنی کے ساتھ ون ٹوون ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی جس میںغلط فہمیوں کے ازالے اوردونوں ممالک میں امن واستحکام کوجاری رکھنے کے لئے مختلف سطح کے مذاکراتی عمل کو تواترکے ساتھ جاری رکھنے پربھی اتفاق کیاگیا۔آرمی چیف نے قیامِ امن کے لئے افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کی بھی پیشکش کی ۔پاک فوج کے ترجمان نے اس دورہ کے بعد کہاکہ اس ملاقات کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اس کے بعد کوئی منفی بیان سامنے نہیں آیا۔اس ملاقات کے بعدایک مثبت ماحول کی تعمیرمیں مددملی اورافغانستان اب سمجھ رہاہے کہ پاکستان اس کے لئے کتنا مثبت کرداراداکرسکتاہے۔


ڈونلڈٹرمپ کی21 اگست کی نئی افغان پالیسی کے مندرجات تووقت کے ساتھ ساتھ طشت ازبام ہوہی جائیں گے لیکن اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ ستمبر 2017 میں افغانستان کی سرزمین پر موجوددہشت گردوں کے ٹھکانوں پر 751 بم پھینکے گئے جوکہ 2012کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی تک امریکہ نے افغان طالبان کو محض مزاحمت کار قرار دیا ہواہے اورہمیں ڈومورکے چکرمیں الجھارکھاہے۔یہ وہی افغان پالیسی ہے جسے ستمبر میں سابق صدر حامدکرزئی نے افغانستان کے مسائل میں اضافے کاسبب قراردیاہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں افغانی صدراشرف غنی نے اس بات پراطمینان کااظہارکیاہے کہ صدرٹرمپ نے مزید ٹروپس بھیج کر انتہاپسندوں کویہ پیغام دیاہے کہ ان کے لئے بہترراستہ میدان جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کی میزہے۔یہ عجب اسرارہے کہ جب پاکستان،چین، امریکہ وافغانستان کے مابین جنوری 2016 میںفورنیشن پیس ٹاک شروع کی جاتی ہیں تو پانچویں سیشن میں کابل سے خبرلیک کی جاتی ہے کہ ملاعمرکراچی میں وفات پاچکے ہیں اورپاکستان نے اس لئے خبرکوعام نہیں کیا کہ طالبان پر اثرورسوخ میں کمی نہ آئے۔ پھراکیس مئی2016 میں ڈرون اٹیک کر کے طالبان رہنما ملااخترمنصور کو اگلی دنیا میں پہنچا دیا جاتاہے۔ دنیاپریہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ پاکستانی علاقے میں موجودتھے جبکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ ایران سے مذاکرات کرکے واپس جارہے تھے۔ اس وقت سے اب تک فورنیشن پیس ٹاک سردخانے کی نذر رہے۔ دوسری جانب پاکستانی سرزمین پر انٹیلی جینس شئیرنگ کے معاملے پرپاکستان نے کرم ایجنسی میں کارروائی کرتے ہوئے5 کینیڈین مغویوں کو بازیاب کرایاہے۔ دفترخارجہ کے ترجمان نفس زکریانے اس حوالے سے کہاہے کہ پاکستان سے زیادہ بہترکارروائی پاکستا ن کی سرزمین پر کوئی نہیں کر سکتا۔ امریکی وزیردفاع جیمزمیٹس اورامریکی صدرنے اس کارروائی کودونوں ممالک کے مابین ایک مثبت پیش رفت قراردیاہے۔ اس معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی انٹیلی جینس شئیرنگ پر کارروائی پاک فوج ہی کرے گی کہ اس میں دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے، مشترکہ آپریشن کی کوئی صورت قابلِ قبول نہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اعتمادکی فضاقائم کی جائے۔


اقوام متحدہ کے 72ویں اجلاس کے بعد ایشیا سوسائٹی فورم سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پاکستان کو قربانی کابکرانہ بنائے۔انھوں نے امریکہ کومتنبہ کیاکہ وہ پاکستان کوحقانی نیٹ ورک کے حوالے سے الزام دیناچھوڑدے، دو تین عشرے قبل یہی لوگ آپ کے
Darling
تھے ۔انھوں نے زوردیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کوآج امریکہ زمین پر بوجھ قراردے رہاہے ،یہی لوگ دوتین عشرے قبل وائٹ ہائوس کے چہیتے تھے ۔انھوں نے مزید کہاکہ امریکہ نے ماضی میں بھی ہمارے لئے مشکلات کھڑی کی ہیں اوراب بھی شدت پسندی میں اضافے کا موجب بن رہاہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے بھی کہاکہ دنیاکوچاہئے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے ضمن میں خدمات کوسراہے، اگر اسی طرح الزامات کاسلسلہ جاری رہاتو یہ خطے کے امن کے لئے سازگار ثابت نہ ہوگا۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان کوفوجی ضروریات کے لئے امریکہ پرزیادہ انحصارکی ضرورت نہیں ہے۔ اگرکسی کاایک راستہ بندکیاجائے تووہ لامحالہ دوسرا راستہ اختیارکرے گا۔


ضرورت اس امرکی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی تیسرے ملک کے منفی اثرات قبول نہ کرے ۔ بھارت جیساملک افغانستان کی سرزمین پر موجودہے ،ان کی اسمبلیوں میں لابنگ کررہاہے ،وہ کبھی نہیں چاہے گاکہ پاکستان وافغانستان کے تعلقات بحال ہوں اورجندال کے ذریعے لوہے کے بہترین ذخائربھارت کے ہاتھ لگیں ۔مختلف ذرائع اس بات کی تائید کررہے ہیںکہ لوہے کوبھارت تک پہنچانے کے لئے سجن جندال پاکستان سے واہگہ کازمینی راستہ مانگ رہاہے جسے قبول کرناپاکستان کے مفاد میں نہیں۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی تیسرے ملک کے منفی اثرات قبول نہ کرے ۔ بھارت جیساملک افغانستان کی سرزمین پر موجودہے ،ان کی اسمبلیوں میں لابنگ کررہاہے ،وہ کبھی نہیں چاہے گاکہ پاکستان وافغانستان کے تعلقات بحال ہوں اورجندال کے ذریعے لوہے کے بہترین ذخائربھارت کے ہاتھ لگیں ۔مختلف ذرائع اس بات کی تائید کررہے ہیںکہ لوہے کوبھارت تک پہنچانے کے لئے سجن جندال پاکستان سے واہگہ کازمینی راستہ مانگ رہاہے جسے قبول کرناپاکستان کے مفاد میں نہیں۔


چارفریقی مذاکرات کا آغازہوچکاہے۔اس دوران امریکہ کی جانب سے کرم ایجنسی کی مخالف سمت افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا میںڈرون حملوں کے بعد طالبان کی جانب سے کئے گئے حملوں میں صوبائی پولیس آفیسر سمیت افغانستان کو 72افراد کی قربانی دینا پڑی ۔پکتیامیں حالیہ دہشت گردی کی واردات پر آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہاکہ دہشت گردی سے لڑنے والے افغان ہمارے بہادر بھائی ہیں،خطے کے استحکام کے لئے ہم مل کرلڑیں گے اور دہشت گردوں کوشکست دیں گے ۔اس موقع پر آئی ایس پی آرکی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی کہ کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہواہے۔آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے بعد دونوں ممالک کی افواج کے تعاون اور باہمی اعتمادمیں اضافہ ہوا ہے۔ریزولیوٹ سپورٹ مشن
Resolute Support Missiom
کے تحت اطلاعات کابروقت تبادلہ کیاگیا۔ چار فریقی مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہاکہ ہم نے طالبان کو کوئی محبت کاپیغام نہیں بھیجا، ان مذاکرات کے دوران امریکہ کوڈرون حملوں سے اجتناب برتناچاہئے اورہم اکیلے طالبان کومیزتک نہیں لاسکتے، اس ضمن میں افغان حکومت کا بھی تعاون درکار ہے۔
چار فریقی مذاکرات کے بعد بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے نے اس بات کاعندیہ دے دیاہے کہ خطے کاکون ساملک افغانستان میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرناچاہتاہے اورکس طرح کی بزدلانہ حرکات کرکے پاکستان کے عزائم کو پست کرنے کی سعیِ ناکام میں مصروفِ عمل ہے۔


خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ اگر امریکہ نے ہوش کے ناخن نہ لئے اورجنگ کوجنگ سے ختم کرنے یااپنی طاقت کے زعم میں بھارت کوآگے لاکرخطے میں عدم توازن کی کوئی بھی کوشش کی تواس کے نتائج نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ اس خطے میں امریکہ کے مفادات کے لئے بھی بدتر ثابت ہوں گے۔آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے بعددونوں ممالک کے مابین بڑھتی قربتیں کسی تیسرے ملک کو ان کے درمیان دراڑیں ڈالنے سے روک رہی ہیں۔ افغان صدر نے بھی پاکستان کادورہ کرنا ہے جس کے پاک افغان تعلقات پر یقینا نہایت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان حالات کے تناظر میں قوی امید ہے کہ اس خطے کے عوام اپنے بہترمستقبل کے لئے کسی کادست نگررہنے کے بجائے آپس کے تعاون سے مسائل کاحل نکال لیں گے۔بصورت دیگراغیار ان کی معدنیات سمیت ان کاچین بھی چھین کے رہیں گے۔

مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

(قسط22)

سادگی
بہت سال پہلے ہمارا ایک بیٹ مین بشیر ہوا کرتا تھا جو کہ سادگی میں اپنی مثال آپ تھا۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ہماری یونٹ ایک طویل جنگی مشق کے سلسلے میں کھاریاں کے قریب ایک علاقے میں موجود تھی۔ دوران ایکسرسائز ہم نے ویک اینڈ پر گھر جانے کا پروگرام بنایا۔ بشیر سے کہا گیا کہ ہمارے لئے بس کی ایک سیٹ کا بندوبست کرے۔ اس نے یہ سن کر دوڑ لگائی اور نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ دو گھنٹے کے انتظار کے بعد ہانپتا کانپتا ایک طرف سے نمودار ہوا اور آتے ہی کہنے لگا کہ سر! کوئی بس والا بھی سیٹ دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے لڑائی جھگڑے کے بعد جا کر ملی ہے۔ ویک اینڈ پر عموماً رش کی وجہ سے ایسا ہوتا تھا جو کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ ہم نے اسے شاباش دی اور تیار ہونے کے لئے ٹینٹ میں چلے گئے۔ کچھ دیر بعد باہر نکلے تو ہماری نگاہ سامنے موجود سچ مچ کی "سیٹ" پر پڑی جس کے ساتھ بشیر کھڑا مسکرا رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ہم نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا۔
مت پوچھئے کہ اس روز گھر تک پہنچنے کے لئے ہمیں کتنا کٹھن سفر طے کرنا پڑا البتہ اس واقعے کے بعد ہم نے کسی سے بس کی سیٹ لانے کی فرمائش نہیں کی۔


بھول چوک
اچھی تربیت ہمیشہ سے پاک فوج کا طرہ امتیاز رہی ہے۔ زمانۂ امن میں معیاری ٹریننگ ہی فوج کی اولین ترجیح ہوتی ہے جس کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا۔ ہر فارمیشن کو سال میں دو مرتبہ جنگی مشقوں کے لئے لازمی طور پر فیلڈ ایریا میں نکلنا ہوتا ہے ۔ دو سال میں ایک بار فائرنگ رینج پر کیمپ بھی کیا جاتا ہے جس کے دوران بھاری ہتھیاروں یعنی توپوں اور ٹینکوں کے لائیو فائر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ ہر یونٹ کے لئے سخت امتحان کا موقع ہوتا ہے جس کے لئے بہت پہلے سے تیاریاں شروع کر دی جاتی ہیں۔ تمام لوگوں کی ریفریشر ٹریننگ کے ساتھ ساتھ توپوں کی صفائی اور گولوں کی ستھرائی کا بطور خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ یونٹ جب میدان میں پہنچے تو ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس ہو تاکہ کم وقت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ ٹریننگ کے بارے میں ایک ایس ایم صاحب نے ریٹائرمنٹ کے موقع پران خیالات کا اظہار کیا، صاحبو! میں نے فوج میں پینتیس سال زیرِتربیت رہ کر گزارے ہیں۔ در حقیقت ٹریننگ تو پہلے سال ہی کی تھی باقی کے چونتیس سال اسی کو دہراتے ہوئے گزرے ہیں۔


ایک ایسی ہی جنگی مشق کے لئے ہمیں اوکاڑہ سے خیر پور ٹامیوالی فائرنگ رینج پر پہنچنا اور دو ماہ کے لئے وہاں پر کیمپ کرنا تھا۔ یونٹ میں دو ماہ پہلے سے سخت تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔ جوں جوں وقت قریب آتا جا رہا تھا ان تیاریوں میں مزید سختی آتی چلی گئی۔ آخر خدا خدا کر کے وہ دن آن پہنچا جب یونٹ نے تمام رخت سفر باندھ کر اٹھارہ توپوں کے ہمراہ چھائونی سے کوچ کیا۔ کوئی دس گھنٹوں کے لگاتار سفر کے بعد جب ہمارا قافلہ منزل پر پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔ سامان اتارنے کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف خیموں کی چھوٹی سی بستی آباد ہو گئی۔ ایک مناسب جگہ پر لنگر کا سامان کھولا گیا اور کچھ ہی دیر میں گرما گرم کھانا تیار کر کے پیش کر دیا گیا۔ ایک بڑے سے ٹینٹ میں آفیسرز میس کا انتظام کیا گیا جہاں بیٹھ کر سب افسروں نے لالٹین کی روشنی میں کھانا تناول کیا۔ اگلے روز سے رینج پر پریکٹس فائر کا آغاز ہونا تھا اس لئے محفل جلد برخاست کر دی گئی اور سی او سمیت سب لوگوں نے شب باشی کے لئے اپنے اپنے خیموں کا رخ کیا۔


اگلی صبح کا آغاز کچھ ایسا اچھا نہ تھا۔ سی او میس میں تشریف لائے تو ان کے چہرے سے ناراضی عیاں تھی۔ چھوٹتے ہی ٹو آئی سی کی طرف رخ کر کے فرمانے لگے کہ ''میری تو تمام رات آنکھوں میں ہی کٹی ہے۔'' ٹو آئی سی بولے کہ ''سر ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں نے تو سب سے بہترین جگہ پر آپ کا ٹینٹ لگوایا تھا تاکہ آپ ٹھیک طرح سے آرام فرما سکیں۔'' سی او نے جواب دیا ''میجر صاحب! آپ اس بات پر یقینا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز کے مستحق ہیں کہ آپ نے میرے ٹینٹ کے لئے عین لنگر کے ہمسائے میں جگہ کا انتخاب کیا ۔ رات بھر بکریوں کی مَیں مَیں نے آسمان سر پر اٹھائے رکھا ، پو پھٹتے ہی مرغوں نے اذانیں دینا شروع کر دیں اور دن چڑھے لنگر پر خانساموں کی قوالی شروع ہو گئی۔ اب ایسے شاندار ماحول میں کوئی پلک بھی کیسے جھپک سکتا ہے۔

 
یہ قضیہ ابھی جاری ہی تھا کہ صوبیدار میجر صاحب ٹینٹ کا پردہ اٹھا کر ایک کونے سے نمودار ہوئے۔ سی او اپنی پریشانی بھول کر ان کی جانب متوجہ ہوئے۔ ''جی، ایس ایم صاحب ، کیا سب لوگ فائر کے لئے تیار ہیں؟'' جواب آیا ''سر! سب خیر خیریت ہے۔ وہ بس آپ کو بتانا تھا کہ ۔۔ کہ۔۔۔ہم گولے لانا بھول گئے ہیں۔'' یہ سن کر سی او نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ قریب تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک ہو جاتا کہ ٹو آئی سی اور دوسرے افسروں نے ان کو سہارا دے کر کرسی پر بٹھایا ۔ تھوڑی دیر بعد ان کی طبیعت بحال ہوئی تو انہوں نے فرداً فرداً ہم سب کی ''عزت افزائی'' کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی ساتھ اوکاڑہ کینٹ فون کر کے فوری طور پر دو ٹرک چلوائے گئے جو گولے لے کر شام تک خیر پور رینج پہنچے۔


اگلے دن کا آغاز صبح سویرے ایک عدد کالے بکرے کی قربانی سے کیا گیا جس کے بعد خطیب صاحب نے خصوصی دعا بھی فرمائی۔ فائر سے پہلے توپوں کو رینج ایریا سے سات کلومیٹر پیچھے ڈیپلائے کیا گیا۔ ٹارگٹ ایریا سے ڈھائی کلومیٹر پیچھے ایک اونچے ٹیلے پر آبزرویشن پوسٹ (او پی) بنائی گئی ۔ او پی سے گن پوزیشن کو وائرلیس سیٹ کے ذریعے ٹارگٹ کی پوزیشن اور دیگر معلومات پاس کرنے کے بعد فائرکے احکامات دیئے جانے تھے جس کے بعد گن پوزیشن افسر نے ڈیٹا نکال کر توپوں کا رخ ٹارگٹ کی جانب کرنا اور فائر کروانا تھا۔ سی او سمیت تمام افسران او پی پر جمع ہو گئے۔ فائر کا باقاعدہ آغاز ہوا تو ایک نئی مشکل نے آن لیا۔ ہمارے گولوں نے گویا ٹارگٹ کے قریب نہ پھٹنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ہزار جتن کر کے دیکھ لئے لیکن گولوں کا چلن وہی رہا۔ کافی دیر تک یہی سلسلہ جاری رہا تو فائر روک دیا گیا اور تمام افسران سی او کے ہمراہ گن پوزیشن پر پہنچ گئے۔ معاملے کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ توپوں کی سائٹس میں کچھ فنی خرابی تھی جس کے باعث گولے غلط ڈیٹا پر فائر ہو رہے تھے۔


سی او اور ٹو آئی سی کی جانب سے گن پوزیشن آفیسر کی ''عزت افزائی'' کا آغاز ہوا تو موصوف چہرے پر معصومیت طاری کر کے بولے ''سر! اب سمجھ میں آیا کہ فائر کے لئے صرف بکرے کی قربانی ہی کافی نہیں بلکہ سائٹس کو ٹیسٹ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔''


ایسا کیوں ہوتا ہے؟
تنخواہ کچھوے کی رفتار سے رینگتی ہے جبکہ مہنگائی خرگوش کی ماننددوڑ لگاتی ہے۔ تنخواہ ملنے سے پہلے ہی بل موصول ہو جاتے ہیں۔ لنگر گپ ہمیشہ سچ نکلتی ہے۔ چھٹی کا وقت قریب آتے ہی آپ کا نام کسی کورس، کمپیٹیشن یا ایکسرسائز کے لئے سیلیکٹ ہو جاتا ہے۔کوئی گیٹ ٹو گیدر ہو تو مناسب کپڑوں کا انتخاب ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔جس شخص سے کام پڑے اس کا نمبر موبائل سے ڈیلیٹ ہو جاتا ہے۔ جو کاغذ برسوں سینت سینت کر رکھے جاتے ہیں ضرورت پڑنے پر چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھی نہیں مل پاتے۔گیسٹ روم کا پوچھنے پر ہمیشہ جواب ملتا ہے کہ اگلے چار ماہ تک سب گیسٹ روم بک ہیں جبکہ بغیر بکنگ کے پہنچنے پر پتہ چلتا ہے کہ سب کے سب خالی پڑے ہیں۔جس پراجیکٹ سے آپ جان چھڑانا چاہیں وہ آپ کو مل کر رہتا ہے اور جب آپ کو اس کی سمجھ آنے لگتی ہے تو وہ کسی اور کے حوالے کردیا جاتا ہے۔


عزیز از جان دوست بھی دوبارہ کسی سٹیشن پر اکٹھے نہیں ہو پاتے۔آپ جس یونٹ میں پوسٹ ہوں تمام کینٹ کی ذمہ داریاں اسے ہی سونپ دی جاتی ہیں۔ کسی اہم ترین وزٹ سے قبل بیٹ مین وردی پر ڈیو سائن الٹا ٹانک دیتا ہے۔ بریفنگ سے ذرا دیر پہلے کمپیوٹر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔بریفنگ ، وزٹ اور ٹیسٹ کے دوران وہی سوال پوچھے جاتے ہیں جن کے جواب آپ کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ہوتے۔جس دن آپ کا موڈ اچھا ہو اس روز باس کا موڈ نا خوشگوار ہو جاتا ہے۔ جس روز مرغی کھانے کو دل چاہے تو گھر میں ٹینڈے پکے ملتے ہیں ۔ جو اسائنمنٹ آپ اپنے تئیں سخت محنت سے تیار کرتے ہیں اس پر آپ کو جھاڑ پلا دی جاتی ہے جبکہ کئی بار واجبی سی کارروائی پر تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں۔ آپ بیگم کی برتھ ڈے، شادی کی سالگرہ کا دن اور بچوں کی کلاسز ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔ بیگم میکے جانے کا ارادہ کریں تو ٹرین میں سیٹ ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سب تو ہوتا ہے لیکن اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل معظم اشفاق

سی ایم ایچ کوئٹہ کے ٹھنڈے آئی سی یو میں مشینوں سے بندھا میرا بیٹا جُمعہ بس سانس کے زیروبم سے ہی زندہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس کا زرد چہرہ اور بند آنکھیں مجھے اجنبی معلوم ہوتی ہیں ۔اس چہرے پر میرے لئے پہچان کے کوئی آثار نہیں۔ جب سے میں آیا ہوں، کتنی دفعہ پکارا ہے مگر اس نے ذرا سی دیر کے لئے بھی آنکھیں کھول کر مجھے نہیں دیکھا۔ بچپن ہی سے اس کی عادت تھی کہ جب میں کام کاج سے واپس گھر لوٹتا تو وہ سونے کی اداکاری کرتا۔ جب میں اس کے پاس جاتا تو وہ قہقہہ لگا کر مجھ سے لپٹ جاتا۔ اس کی آنکھیں ہمیشہ مخصوص انداز سے بند ہوتیں جن میں کھلنے کی بے قراری نمایاں اور ہونٹوں پر معصوم مسکان ہوتی ، جو سوتے میں بھی اس سے جدا نہ ہوتی تھی ۔ آج بھی مجھے یوں ہی لگا کہ وہ حسب معمول سو نہیں رہا محض سونے کی اداکاری کر رہا ہے اور ابھی مجھے حیران کرنے کے لئے قہقہہ لگا کر ہنس دے گا۔ آج مگر اس کے چہرے پر سنجیدگی ہے، ایسی سنجیدگی جو بہت بڑا دھوکا سہہ کر چہرے پر در آتی ہے اور پھر لاکھ جتن کر لو جاتی ہی نہیں ۔


جمعہ میرے بچوں میں مجھے سب سے پیارا ہے۔ہم بلوچستان کے دور اُفتادہ ضلع کوہلو کے غریب لوگ ہیں ۔گز