09
October
اکتوبر 2017
شمارہ:10 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قومیں اپنی بقاء کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دیتی ہیں۔ کسی قوم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی نو جوان نسل اپنی سرزمین اور اپنے نظریے کے ساتھ کس طرح سے جڑی ہوئی ہے اور وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کس قدر پرعزم ہے۔ الحمدﷲ پاکستانی قوم اور اس کے نوجوان اپنی دھرتی کی حفاظت اس سرشاری سے کرتے ہیں کہ اٹھارہ اٹھارہ، بائیس بائیس سال کے نوجوان اپنا ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
ایک ایسی دنیا میں جہاں تشدد، جنگ و دشمنی کا ماحول ہو ایسے میں دو ممالک جو نظریاتی لحاظ سے یکسر مختلف ہوںلیکن ان کی دوستی دنیا بھر کے لئے ایک مثال ہو وہ پاک چین دوستی ہے۔ پاکستان اور چین نہایت قریبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی تعلقات کی بنا پر دنیا بھر میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات پچھلی سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس تعلق کی جڑیں نہایت گہری اور پائیدار ہیں جو کہ یقیناً دونوں....Read full article
 
 alt=
تحریر: عقیل یوسف زئی
مقبول عام تجزیوں اور زمینی حقائق کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باوجود اس کے بہتر ہوتے جارہے ہیںمگر امریکہ اور بعض دیگر ممالک کی کوشش ہے کہ ان پڑوسی اور ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ممالک کو کسی بھی جواز کی آڑ میں مزید بداعتمادی اورتصادم کی راہ پر ڈال دیا جائے۔ کراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر پائی جانے والی بدگمانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ معاملات اس انداز سے بہتر نہیں ہو ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں
شمالی کوریا کی طرف سے 3ستمبر کو ہائیڈروجن بم اور اس سے قبل اوائل اگست میں بیلسٹک میزائل کے تجربات کے خلاف رد عمل کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کے خلاف بھاری اقتصادی پابندیوں کے حق میں قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے تحت شمالی کوریا کو تیل اور گیس کی فراہمی اور اس کی ٹیکسٹائل برآمدات پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ ان سے کہیں....Read full article
 
تحریر: حماس حمید چودھری
جرمنی کے شہر ' ہیمبرگ' میں جی ۔20 ممالک کا بارہواں سربراہی اجلاس رواں سال جولائی میں منعقد ہوا جس کی جرمنی نے پہلی بار میزبانی کی۔ اس وقت جی۔ٹونٹی گروپ کے 20 ممالک جبکہ یورپی یونین بحیثیت ادارہ بیسواں رکن ہے۔ اس کے علاوہ چند ممالک جن میں نیدرلینڈز ، اسپین، سنگاپور وغیرہ شامل ہیں، ان کو بھی باقاعدہ مدعو کیا جاتا ہے۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان کے ساتھ ساتھ وزراء.....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
بے گناہ روہنگیامسلمانوں کاخون آخررنگ لے آیا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے جنرل کونسل اجلاس میں روہنگیامسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم کی بازگشت سنی گئی۔دنیا دیرسے جاگی، اگرعالمی برادری ابتدا میں ہی میانمار حکومت پردباؤ ڈالتی توبہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ تاہم اب بھی کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میانمارکی سرکاری فورسزدوبارہ روہنگیا مسلمانوں کاقتل....Read full article
 
تحریر: یا سر پیر زادہ
>مہاتما بدھ نے پیڑ تلے بیٹھے بیٹھے جھڑتے پتوں سے مٹھی بھری اور آنند کو دیکھا۔'' اے آنند کیا سارے پتے میری مٹھی میں آگئے ہیں ؟''
آنند جھجکا۔پھر بولا، تتھا گت، یہ رت پت جھڑ کی ہے۔ پتے جنگل میں اتنے جھڑے ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہو سکتی۔.....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
12 پنجاب کے شہدا ء کی فہرست میرے ہاتھ میں تھی ۔ ان سب سے نسبت کا ایک مشترکہ پہلو تو تھا ہی لیکن جب اس فہرست پر تفصیلی نظر دوڑائی تو نگاہِ انتخاب برگزید ئہ الٰہی ،شہید حق نواز کے نام کے آگے لکھے اس کے گھر کے پتے پر جا ٹھہری، ''تحصیل میاں چنوں!''مجھے اپنی بے خبری پر افسوس ہوا کہ یہ شہید تو میرا گرائیں ہے ۔میرا فخر ہے دوسرے....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
گیٹ ٹو گَیدر
گیٹ ٹو گَیدر یعنی میل ملاقات فوجی زندگی کا خاصہ ہے۔ سیاچن کی برف پوش چوٹیاں ہوں، کوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑ ہوں، چولستان اور تھر کا صحرا ہو یا پنجاب کے میدانی علاقے، فوجی چاہے کہیں بھی ہوں مل بیٹھنے کا بہانہ ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔اس کی نوعیت اور لیول ضرور مختلف ہو سکتے ہیں مثلا یونٹ افسروں....Read full article
 
تحریر: رابعہ رحمن
میجر جمال اپنی فطرت میں ایک انوکھے اور دبنگ انسان تھے، میجر جمال شیران بلوچ11نومبر1986 کو تربت میں میر شیران کے ہاں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم تربت کے کیچ گرامر سکول سے حاصل کی اور ریذیڈیشنل کالج تربت سے ہی فارغ التحصیل ہوئے۔ میجر جمال کے والد میر شیران مسقط آرمی سے ریٹائر ہوئے تھے۔ جسم میں ایک فوجی افسر کا خون دوڑ رہاتھا اور میر شیران کی خواہش بھی تھی کہ....Read full article
 
انٹرویو : صبا زیب
جن کے حوصلے چٹان ہوں انہیں دنیا کی کوئی طاقت اپنے عزائم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ مشکلات ان سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ تو ہو سکتی ہیں مگر انہیں منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتیں۔
ثمرخان بھی پاکستان کا ایک ایسا ہی چمکتا ستارہ ہے جو دیر کے علاقے سے طلوع ہوا اور نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔ مختلف چوٹیوں کو اپنی.....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے....Read full article

تحریر: صائمہ بتول
اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کے لفظی معنی ایسی مشین کے ہیں جو انسانی دماغ کے قریب قریب سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ سمارٹ فون، ٹیبلٹ اور جدیدکمپیوٹر میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر ہے۔ اینڈ رائیڈ، ہارڈویئر کو زیادہ تیز، بہتر اور سمجھداری سے چلنے میں مدد دیتا ہے۔ جس کی مدد سے ہم خبریں، علم اورتفریح حاصل کرسکتے ہیں۔ موسیقی سنتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، نقشے ........Read full article
 
تحریر: مستنصر کلاسرا
مردان کی یونیورسٹی میں ہونے والا واقعہ کسی دل دہلادینے والی داستان سے کم نہیں۔ چند لوگوں نے ایک شخص پر الزام لگایا پھر فیصلہ سنایا اور پھر اُس کی سنگینی کا اندازہ کئے بغیر اس پر عمل بھی کر ڈالا۔ کسی بھی مہذب معاشرے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ ایک روایت بنتی جارہی ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
مچھرپوری دنیا میں سب سے چھوٹے مگر سب سے زہریلے اور جان لیوا جانداروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کی پوری دنیا میں تقریباً3,500 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہر سال تقریباََ ایک ملین سے زیادہ لوگ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مچھر سے پھیلنے.....Read full article
 
تحریر:ڈاکٹر ہمامیر
آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہو گا کہ فلاں خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جنگل کی آگ ہم نے اب تک صرف محاوروں میں یا کبھی کبھار خبروں میں ہی سنی تھی مگر دراصل جنگل کی آگ کیا ہوتی ہے، یہ ہمیں کینیڈا آ کر پتہ چلا۔....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
دنیا بھر میں پھیلے جپسی ہمیشہ ہی میرے سفروں میں خاص دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔ یورپ سے امریکہ تک یہ ہمیں ہرجگہ ملتے ہیں۔ خصوصاً یورپ میں ان کا وجود الگ سے دکھائی دیتا ہے کہ یورپی سیاست، ثقافت، موسیقی، ادب اور دیگر فنونِ لطیفہ پر اُن کے اثرات ہر دَور میں دیکھے گئے ہیں۔یورپ میں انہیں عام طور پر رومانی'' کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ لیکن ہر علاقے، خطے اور ملک میں اُن....Read full article
 
تحریر: محمد سعید گِل
ہر مصنف اور شاعر اپنی سوچ کے مطابق اپنے تحریری موضوع کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے بھی اپنی تحریر کے لئے افواجِ پاکستان کے موضوع کا انتخاب کیا۔ مجھے شروع سے ہی پاکستان کی مسلح افواج سے والہانہ محبت ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ سیلاب کی بپھری ہوئی لہریں ہوں، کراچی کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہو، سرحدوں کے کشیدہ حالات ہوں یا قدرتی آفات ہوں، پاک فوج ہر قسم کے....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
شاعر انقلاب و رومان فیض احمد فیض نے جیل کے دنوں میں لکھا اپنا مجموعہ کلام ''زندان نامہ'' ایلس فیض کو دیتے ہوئے کہا ذرا ''مولانا'' کو دکھا دینا زبان و بیان کی کوئی غلطی نہ رہ جائے۔فیض صاحب خود اپنی شاعری کے حوالے سے اُس وقت تک بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکے تھے مگر اُن کی عظمت اور انکساری کا عالم دیکھیں کہ اپنے کلام پر نظر ثانی کے لئے مولانا کو بھجوا رہے ہیں۔....Read full article
09
October

تحریر: مجاہد بریلوی

شاعر انقلاب و رومان فیض احمد فیض نے جیل کے دنوں میں لکھا اپنا مجموعہ کلام ''زندان نامہ'' ایلس فیض کو دیتے ہوئے کہا ذرا ''مولانا'' کو دکھا دینا زبان و بیان کی کوئی غلطی نہ رہ جائے۔فیض صاحب خود اپنی شاعری کے حوالے سے اُس وقت تک بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکے تھے مگر اُن کی عظمت اور انکساری کا عالم دیکھیں کہ اپنے کلام پر نظر ثانی کے لئے مولانا کو بھجوا رہے ہیں۔ یہ مولانا کون تھے؟ آج کا ہمارا آزاد پاپولر میڈیا نہ اُن کے نام سے واقف ہو گا اور نہ ہی اُن کے گراںمایہ صحافتی کام سے۔ ''مولانا'' کے نام سے شہرت رکھنے والے چراغ حسن حسرت کے بارے میں آغا شورش کاشمیری کا کہنا ہے ''سیرت بھی لکھی' افسانے بھی تحریر کئے۔۔ شاعری کے ہر کوچے سے آشنا رہے۔۔ غزل ہو یا نظم، طنز کریں یا پیروڈی، نعت لکھیں یا منقبت۔۔ قلم اُن کا موتی بکھیرتا تھا''۔ چراغ حسن حسرت نے ابتدائی صحافت کا آغاز مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال سے کیا۔ وہاں سے انہیں بابا ئے صحافت مولانا ظفر علی خان لے اُڑے۔ پھر میاں افتخار الدین کے پروگریسو پیپر کے اخبار امروز کی ایڈیٹری کی۔یہاں سے نوکری چھوڑی تو ریڈیو میں گئے اور وہاں بھی اپنی دھاک جمائی اور ''کالم نویسی'' تو خیر اُن کا خاص میدان تھا ہی۔ چراغ حسن حسرت کے نام کے ساتھ مولانا کا لاحقہ کب لگا۔۔ کیسے لگا۔۔ کیوں لگا؟ یہ ایک الگ تحقیق کا موضوع ہے کہ چراغ حسن حسرت میں معروف معنوں میں ''مولانا یا مولوی'' والی کوئی خصوصیت نہیں تھی۔ محض ''رند'' نہیں رندِ بلا نوش تھے۔ موسیقی سے شغف تھا اور اس کے لئے باقاعدہ جا کر گانا سُنتے۔چراغ حسن حسرت میں انا کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اُردو، عربی، فارسی اور سنسکرت کا بے پناہ علم اور دسترس تھی۔ صحافت اُن کے گھر کی باندی ہی نہیں تھی بلکہ ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دنوں میں جب جرمنی کے خلاف کمیونسٹ روس بھی جنگ میں شامل ہو گیا تو انڈین کمیونسٹوں نے بھی اسے قومی جنگ قرار دے دیا۔ اور تو اور جب فیض صاحب جیسے شاعر نے بھی کرنل کی وردی پہن لی تو چراغ حسن حسرت بھی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے میں بھرتی ہو گئے۔ سنگاپور جا کر ایک جنگی جریدہ نکالا۔ جنگ ختم ہوئی تو واپس پھر صحافت میں آگئے۔ قیامِ پاکستان کے وقت جب امروز نکلا تو اُس کی ایڈیٹری کے لئے خود فیض صاحب نے جو ایڈیٹر انچیف تھے، انہیں بلا کر ایڈیٹر بنایا۔ مولانا کا زیادہ وقت دفتر میں گزرتا یا پھر چائے خانوں میں محفلیں جماتے۔ بڑی بڑی ملازمتیں ملیں مگر اپنی انا کی خاطر ہاتھ جھاڑے اور دفتر کی سیڑھیاں اُتر گئے۔ میاں افتخار الدین پر وگریسو پیپرز کے مالک تو تھے ہی مگر پنجاب کے ایک بڑے جاگیردار اور سیاستدان بھی تھے۔ آغا شورش کاشمیری مولانا پر اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔ میاں افتخار الدین سے کوئی بات ایسی سرزد ہوگئی جو ان کی منشا کے خلاف ہوتی تو اس پر بگڑ جاتے، اب انہی کے دفتر میں بیٹھ کر انہی کے خلاف تبصرہ ہو رہا ہے۔ ترکیبیں وضع کی جا رہی ہیں، فقرے گھڑے جا رہے ہیں۔ طنزیں چلی آرہی ہیں۔ یار لوگ اس وقت تو سنتے اور سردھنتے لیکن پھر میاں صاحب تک پہنچا آتے۔ میاں افتخار صاحب دل میں گرہ باندھ لیتے۔ حسرت صاحب دل کا غبار نکال کے صاف ہو جاتے۔ میاں افتخارالدین کے ہاں معافی کا خانہ ہی نہیں تھا۔ اسی اثناء میں میاں افتخار الدین کی زبان سے نکل گیا: ''حسرت صاحب آپ مذہبی اردو لکھتے ہیں''۔ حسرت صاحب تاڑ گئے کہ انہیں یہ پٹی پڑھائی گئی ہے اور کس نے پڑھائی۔ بھڑک کر بولے ''میاں صاحب ! یہ مذہبی اردو کیا ہوتی ہے؟ معلوم ہوتا ہے آپ سے کسی مذہبی سکھ نے روایت کی ہے''۔ سگریٹ کا ایک لمبا کش کھینچتے ہوئے کہا ''معاف کیجئے میاں صاحب! زبان ہرایرے غیرے بیچ کلیان کے بس کا روگ نہیں۔ آپ نے اردو میں کتنی کتابیں پڑھی ہیں؟ اسکول کالج میں تو آپ انگریزی پڑھتے رہے''۔ پھر ایک لمبا سا کش اور پھر وہی کچو کے '' اجی میاں صاحب ! یہ لڑکے حقے کی نَے ہیں۔ آپ کے منہ لگے ہوئے ہیں۔ آپ کو فرصت کہاں کہ امروز پڑھیں۔ جو کچھ آپ کے کان میں ڈال دیا آپ نے 'آویزہ' بنالیا۔ انہیں تو اپنے نام کے ہجے تک نہیں آتے۔۔ رہ گئے معنی تو وہ انہیں کیا معلوم؟ ان کے ابا جان بھی نہیں جانتے۔ بھلا ان سے اپنے ہی نام کے معنی پوچھئے بتادیں تو میں اپنی زبان گدی سے نکلوادوں گا۔ غضب کرتے ہیں میاں صاحب! آپ لسانیات پر بھی سیاسیات کی طرح بلا سوچے سمجھے طبع آزمائی فرما رہے ہیں؟'' اب میاں افتخار الدین جان چھڑا رہے ہیں اور چھوٹتی نہیں۔ خیر وہاں سے اٹھ کر حسرت صاحب اپنے دفتر میں آبیٹھے ۔ چپڑاسی سے کہا حافظ یوسف کو بلاؤ۔ حافظ صاحب آگئے۔ ''سنا آپ نے؟ میاں صاحب کیا فرماتے ہیں؟'' سگریٹ کا ایک لمبا کش لگایا، سرد آہ کھینچی، مونچھوں کو تاؤ دیا، قصہ بیان کیا، قلم کو میز پر رکھا، سلپیں اٹھا کر پرے پھینک دیں۔ ''اجی چھوڑئیے۔ ناقدروں کے پاس کیا رکھا ہے؟ میاں افتخار الدین تو دولت کا حادثہ ہیں۔ ان سے شالا مار کے آموں کی فصل کا حال پوچھئے ۔ یہ کیا جانیں کہ زبان کیا ہے؟ ادب کسے کہتے ہیں؟ شعر کس باغ کی مولی ہے؟'' پورا دفتر سن رہا ہے اور یہ تمام باتیں بہر حال میاں صاحب تک پہنچ جاتی ہیں۔ ''حافظ جی! آج حرف و حکایت نہیں ہوں گے۔ محرم علی سے کہہ دو طبیعت منغض ہوگئی ہے۔ میاں صاحب کی صورت دیکھنے کے بعد قلم میں شگفتگی کیوں کر رہ سکتی ہے؟''
دفتر سے اٹھ کر کافی ہاؤس میں محفل لگی ہوئی ہے اور ذکر وہی میاں افتخار الدین کا ہو رہا ہے۔ امروز اخبار سے فارغ ہوئے تو کراچی میں ذوالفقار علی بخاری نے ریڈیو میں بُلا لیا۔ ذوالفقار علی بخاری کے بڑے بھائی احمد شاہ بخاری پطرس تھے۔ پطرس بخاری کیا تھے اُن کے لئے خود ایک الگ کالم باندھنا پڑے گا۔ اُستاد، ادیب، براڈکاسٹر اور اس پائے کے اسکالر کہ بعد میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب بنے۔ یہاں سے ریٹائر ہوئے تو یو این کے سیکریٹری ڈاک ہیمر شولڈ نے اپنا مشیر بنا لیا۔ بخاری برادران کا تقسیمِ ہند سے پہلے آل انڈیا ریڈیو میں طوطی بولتا تھا۔ بلکہ یار لوگوں نے بڑے بخاری یعنی پطرس بخاری اور چھوٹے بخاری یعنی ذوالفقار علی بخاری کے حوالے سے
BBC
یعنی بخاری برادران کارپوریشن رکھا ہوا تھا۔اب ''مولانا'' کا ریڈیو کے دفتر میں اُٹھنے بیٹھنے، بولنے لکھنے کا ایک علیحدہ انداز اور مزاج۔ بھلے ریڈیو کے سربراہ ذوالفقار علی بخاری ہوں مگر مولانا کہاں خاطر میں لاتے۔ بخاری صاحب ہر سال ماہِ محرم میں مرثیہ ریکارڈ کرواتے اور بعد میں سارا عملہ باجماعت سُنتا اور داد کے ڈونگرے برساتا۔ اب بخاری صاحب کی خواہش کہ ''مولانا'' بھی اُن کی مرثیہ گوئی پر کچھ فرمائیں۔ مولانا نے ایک لمبی ہوں کے ساتھ میر انیس کی ''مرثیہ خوانی'' سے گفتگو شروع کی تو بخاری صاحب تک آتے آتے یہ تک کہہ بیٹھے کہ ''مولانا! یہ مرثیہ گوئی ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے پہلے امام بارگاہوں کے پھیرے شب و روز لگانے ہوتے ہیں۔۔منبر پر ایک سلیقے سے نشست و برخاست ہوتی ہے۔۔ ایک ماحول ہوتا ہے۔۔ ایک فضا ہوتی ہے۔۔'' اب بخاری صاحب پہلو بدل رہے ہیں۔ ارد گرد اُن کے ماتحت ایک ایک کر کے کمرے سے نکل رہے ہیں۔ بخاری صاحب اُس وقت تو مولانا کی گفتگو سن کر نکل گئے مگر چند ہی دن میں مولانا کا یہاں سے بھی دانہ پانی اُٹھ گیا۔ واپس لاہور پلٹے تو روزی روزگار نے نڈھال کر دیا۔ پھر بڑے بیٹے کا غم اور بیماریوں نے بھی پکڑ لیا۔ اگر مستقل شاہانہ نوکری نہ ہو تو پھر مے نوشی کی لت بھی قبل از وقت موت کی دہلیز پر پہنچا دیتی ہے۔ مجاز لکھنوی اور اختر شیرانی کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا۔ مولانا چراغ حسن حسرت پر جب قلم اُٹھایا تھا تو مجھے احساس تھا کہ ''مولانا'' جیسی شخصیت کا ایک مضمون میں ''احاطہ'' نہیں کھینچا جا سکتا کہ خود اُن سے منسوب لطائف ایک پوری کتاب کا تقاضہ کرتے ہیں۔ چلتے چلتے مولانا کا ایک لطیفہ سُن لیں۔ ''مولانا کافی ہائوس میں بیٹھے تھے۔ ایک سیٹ کافی کا آرڈر دیا۔ گھنٹہ گزر گیا ویٹر نہیں آیا۔ کافی ہائوس کا مالک پاس سے گزرا تو شکایت کی۔ مالک نے پوچھا کس کو آرڈر دیا تھا؟ وہ کالے بالوں والے کو؟ مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا جب آرڈر دیا تھا تو بال کالے ہی تھے مگر اب تو سفید ہو چکے ہونگے''۔ یہ لیجیئے میں مولانا کی شاعری کو تو بھول ہی گیا
باغوں میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو ہم تم کو نہیں بھولے
ساون کا مہینہ ہے
ساجن سے جدا رہ کر جینا کوئی جینا ہے
مولانا نے جس صنف پہ لکھا، جیسا کہ ابتداء میں بھی میں نے کہا تھا… کہ نثر ہو کہ نظم، کالم نویسی ہو کہ خاکہ نگاری۔۔ اُسے کمال تک پہنچایا۔ افسوس کہ مولانا جیسے نابغہِ روزگار ہماری آج کی صحافت کے نصاب سے ہی اُٹھ گئے ہیں۔ اور یوں بھی ہماری آج کی صحافت کو مولانا جیسے صحافیوں کی ضرورت بھی نہیں۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
October

تحریر: محمد سعید گِل

ہر مصنف اور شاعر اپنی سوچ کے مطابق اپنے تحریری موضوع کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے بھی اپنی تحریر کے لئے افواجِ پاکستان کے موضوع کا انتخاب کیا۔ مجھے شروع سے ہی پاکستان کی مسلح افواج سے والہانہ محبت ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ سیلاب کی بپھری ہوئی لہریں ہوں، کراچی کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہو، سرحدوں کے کشیدہ حالات ہوں یا قدرتی آفات ہوں، پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔

 

دوسرے اداروں کی ذمہ داریاں بھی فوج پر ڈالی گئیں جنہیں پاک فوج نے بڑے احسن طریقے سے نبھایا اور اپنی ساکھ کو بحال رکھتے ہوئے پاکستانی قوم کا اعتماد حاصل کیا۔ پاک فوج نے وطن عزیز کے دفاع اور پاک پرچم کی سربلندی کے لئے بے شمار قربانیاں دیں۔ بڑے بڑے بہادر اور خوبصورت جوان وطن عزیز کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہو کر ملک و ملت پر بہت بڑا احسان کر گئے۔ شہید ہونے والا صرف اپنی جان قربان نہیں کرتا بلکہ اپنے خاندان کو بھی قربان کر جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی زندگی کے ساتھ کئی زندگیاں جڑی ہوتی ہیں ۔ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائی اور بیوی بچوں کا سہارا ہوتا ہے۔ اس طرح اس کی جان کے ساتھ جڑی ہوئی باقی جانیں اور زندگیاں بھی چلی جاتی ہیں۔

یہ سب کچھ سامنے رکھتے ہوئے میں نے پاک فوج کی خدمات اور قربانیوں کو اردو شاعری میں لکھنا شروع کیا۔ جسے لکھتے لکھتے کئی سال گزر گئے۔ افواج پاکستان پر ''پاسبان وطن'' کے نام سے کتاب لکھی۔ لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے چھپوا نہ سکا۔ میں ایک گارمنٹس فیکٹری کے سٹور میں ملازمت کرتا تھا۔ چند ماہ قبل بوجہ علالت میرے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا اور مجبوراً مجھے استعفیٰ دینا پڑا اور فارغ بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس دوران کتاب کو ترتیب دیا جائے۔ لیکن کتاب چھپوانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ میرے پاس ایک موٹر سائیکل تھی جو میں نے فروخت کر دی۔ لیکن موٹر سائیکل فروخت کر کے بھی اتنے پیسے نہ ہوئے کہ کتاب چھپوا سکوں۔ کچھ پیسے ادھار لئے اور اﷲ کی رحمت سے کتاب چھپوانے میں کامیاب ہو گیا۔ میری نظم'اے وطن'پاک فوج کے لئے میری محبت کی عکاس ہے

اے وطن
اے وطن مِلا جب بھی اِشارہ تیرا
میری افواج بن گئیں سہارا تیرا
تجھ پہ رُستم زماں کتنے قرباں ہوئے
کتنی جانوں نے صدقہ اُتارا تیرا
خون اپنے سے تیرا چمن سینچ کر
گوشہ گوشہ انہوں نے سنوارا تیرا
اِن کی قربانیوں سے جہاں میں سدا
یونہی روشن رہے گا ستارہ تیرا
میری مائوں نے تجھ پہ پسر وار کر
کیسے پورا کیا ہے خسارہ تیرا
اِن کی محنت مشقت سے ہی ایک دِن
لوٹ آئے گا سب کچھ دوبارہ تیرا
تیرا پرچم زمانے میں لہرائیں گے
ساری دُنیا میں گونجے گا نعرہ تیرا

*****

 
09
October

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

دنیا بھر میں پھیلے جپسی ہمیشہ ہی میرے سفروں میں خاص دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔ یورپ سے امریکہ تک یہ ہمیں ہرجگہ ملتے ہیں۔ خصوصاً یورپ میں ان کا وجود الگ سے دکھائی دیتا ہے کہ یورپی سیاست، ثقافت، موسیقی، ادب اور دیگر فنونِ لطیفہ پر اُن کے اثرات ہر دَور میں دیکھے گئے ہیں۔یورپ میں انہیں عام طور پر ''رومانی'' کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ لیکن ہر علاقے، خطے اور ملک میں اُن کے مختلف نام ہیں، جیسے ترکی میں چنگنے، سپین میں گیٹانو، اٹلی میں زنگارو، فرانس میں گیٹانو کے علاوہ زگیز اور منائوچز کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد نام ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق، دنیا میں ان کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے۔ اسّی فیصد جپسی یورپی ممالک میں اور باقی امریکہ ولاطینی امریکہ میں رہتے ہیں۔ میں نے ان کو ایران، ترکی، فرانس، سپین، بلغاریہ، بوسنیا، بلجیم، جرمنی، امریکہ، جہاں بھی میں گیا، وہاں پایا۔ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے۔ محققین ان کے بارے میں اب تقریباً طے کرچکے ہیں کہ یہ پنجاب، راجستھان اور سندھ کے علاقوں سے نقل مکانی کرکے دنیا بھر میں پھیل گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوکش دنیا بھر میں عسکری تاریخ میں برصغیر کی ایک دیوار ہے جس نے برصغیر کے لئے ایک عظیم الشان حفاظتی فصیل کا کردار ادا کیا۔ بلندوبالا اورخطرناک چوٹیوں،نامعلوم وادیوںاور برف پوش پہاڑوں نے بڑے بڑے حملہ آوروں کے برصغیر میں قدم رکھنے میں رکاوٹ کا کردار ادا کیا۔ سکندراعظم ہی وہ معروف فاتح ہے جو ہندوکش پار کرکے سرزمین ہندوسندھ میں داخل ہوا، مگر دیکھیں یہ فاتحِ عالم جو اناطولیہ، مصری وایرانی تہذیبوں کو روندتا ہوا، ہندوکش پار کرکے دریائے جہلم کے کناروں پر پہنچا تو اسے مہاراجہ پورس نے عملاً شکست سے دوچار کردیا۔ برصغیر تاریخی طور پر خودکفیل اور خوش حال خطہ رہا ہے، اسی لئے یہاں کی کسی تہذیب ودور میں کسی قوم نے ہندوکش پار کرکے دوسری قوم یا تہذیب کو زیر کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ لیکن میری تلاش کی حس ایک دلچسپ نکتے پر پہنچی ہے کہ ہمارے ہاں سے جنہوں نے ہندوکش پارکیا، وہ اپنے ہاتھوں میں تلواروں، نیزوں اور انسان کش ہتھیاروں کے بجائے بانسری، ڈفلی، ڈھول اور پُرسوز گیتوں کی لے اور سُر لے کر مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور پھر ساری دنیا میں پھیل گئے۔ دنیا میں ہر جگہ اُن کی پہچان گیت گانے اور رقص کرنے کے حوالے سے ہے۔ اپنے خطے اور سرزمین سے نکلے ان کو صدیاں بیت گئیں، لیکن آج بھی اُن کا حلیہ، رہن سہن، گیت، رقص اور روایات میں سرزمین وادیٔ سندھ کی چھاپ نمایاں ہے۔


جپسی جو ہندوکش پار کرکے گئے، وہ تو دنیا کے ادب، تحقیق اور دیگر موضوعات میں نمایاں مقام پا گئے لیکن وہ جو یہاں رہ گئے، ہمارے ادب، سیاست اور دیگر سماجی علوم میں اُن کا ذکر تک نہیں۔ آج بھی ہمارے ہاں ان جپسیوں کے پیچھے رہ جانے والے قبائل لاہور اور دیگر جدید بستیوں میں کہیں کہیں نظر آتے ہیں اور ہم انہیں دھتکار کر کمتر انسان تصور کرتے ہیں۔ اگر انتھروپولوجی کے حوالے سے تحقیق کی جائے تو ہمارے ملک کے خانہ بدوش اور دیگر نام نہاد نیچ ذات خصوصاً مصلّی حقیقتاً
Sons and Daughters of the Soil
ہیں۔ وہ یہاں ہزاروں سال سے رہتے اور بستے آئے ہیں۔ اور اگر تحقیق کو مزید پھیلا دیا جائے تو ان کی جڑیں، وادیٔ سندھ کی عظیم الشان تہذیب کے باسیوں سے جا ملتی ہیں۔ جپسیوں میں میری دلچسپی نے چند سروں تک پہنچنے میں میری مدد کی۔ میرے نزدیک دو سوال اٹھے کہ یہ کس دور میں اور کیوں وادیٔ سندھ کو چھوڑ کر چلے جانے پر مجبو رہوئے۔ ستلج دریا ایک وقت میں دریائے سندھ سے زیادہ بھرپور دریا تھا۔ قدرتی تغیرات نے اس طویل ترین دریا کو وقت کے ساتھ بدل دیا اور خشکی کی طرف گامزن کردیا۔ وادیٔ سندھ جو پنجاب، سندھ اور راجستھان تک پھیلی ہوئی تھی، اس کی کسی بڑی خشک سالی نے ان مقامی خانہ بدوشوں کو بدیس نقل مکانی پر مجبور کردیا۔ ان کی نقل مکانی کی تاریخوں پر تحقیق کی مختلف آراء ہیں۔ مگر میں جس رائے کو زیادہ مستند مانتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جپسیوں کو سرزمین سندھ وہند چھوڑے تقریباً ایک ہزار سال ہوا ہے اور یہ ہزار سال سے کئی صدیوں تک نقل مکانی کرتے رہے۔ کوہِ ہندوکش پار کرکے افغانستان وایران پہنچے اور پھر وہاں سے ان کے سفرِ مسلسل کے دو روٹس تھے۔ ایران سے کچھ اناطولیہ (ترکی) کی طرف گامزن ہوئے اور دوسرے عرب خطوں، عراق، اردن اور مصر۔ ترکی پہنچنے والوں نے باسفورس کو عبور کیا اور مشرقی یورپ سے اوپر لتھوینیا تک پھیل گئے۔ جو مصر پہنچے، اُن کا ایک دوسرا رستہ تھا دنیا میں پھیلنے کا۔ انہوں نے مصر سے صحارا کے صحرائوں کے سفر کیے اور پھر جبل الطارق عبور کرکے سپین میں داخل ہوئے۔ دونوں طرف سے یورپ میں داخل ہونے والے خانہ بدوشوں نے اپنی نقل مکانی کی متضاد اور من گھڑت داستانیں تراشیں۔
Survivors
کا ہمیشہ یہی رویہ ہوتا ہے۔
Gypsies
کا لفظ درحقیقت
Egypt
سے نکلا ہے۔ اور اسی طرح رومانی کا لفظ بھی… یورپ میں داخل ہونے والے خانہ بدوشوں نے اپنی نقل مکانی، دفاع اور زندہ رہنے کے لئے دلچسپ کہانیاں تراشیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ سرزمین سندھ سے نقل مکانی کرنے والے ان جپسیوں نے مختلف ادوار میں اپنی روایات، موسیقی، گیت اور رقص کی روایات کے ساتھ ساتھ جن خطوں کے سفر کئے اُن علاقوںکی روایات کو تو اپنے اندر جذب کیا، لیکن اپنے بنیادی حلیے، رہن سہن کو کبھی بھی مکمل طور پر نہیں بدلا۔


قرطبہ میں اپنی جہاں گردی کے دوران ایک شام میں بحیثیت سیاح ایک ایسے ریستوران میں گیا جو خانہ بدوش چلاتے تھے۔ گیٹانو گھر کے اندر ریستوران تھا اور وہاں گیٹانو کا مشہور رقص، فلیمینکو ثقافتی شو کے لئے پیش کیا جاتا تھا اور میری دلچسپی اس رقص کو ہی دیکھنے میں تھی۔ برصغیر کے بچھڑے ان لوگوں کے گھر میں مجھے اس وقت ایسا لگا جیسے میں سندھ یا سرائیکی خطے میں بیٹھا کوئی ثقافتی شو دیکھ رہا ہوں۔ جب ایک گیٹانو خاتون نے فلیمینکو رقص کیا اور اس کے ساتھیوں نے ڈھولکی پر گیٹانو گیت گایا۔ گیٹانو یا جپسیوں کے گیتوں میں ایک لمبی لے ہوتی ہے جو خاص سوز اور ہجرت کے درد کی آواز میں ڈھلی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی گیٹانو یا جپسی کو یہ کہیں کہ آپ انڈیا (برصغیر) سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں تو وہ کسی صورت بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ گیت گانے والے گیٹانو سے میں نے جب یہی سوال کیا تو اس نے کہا، نہیں میں تو ہسپانوی ہوں بس۔ میرے اصرار اور منت سماجت کے بعد وہ راضی ہوا میرے اس سوال کا جواب دینے پر کہ آپ اپنے ہاں اپنے آپ کو کہاں کے باشندے تصور کرتے ہیں۔ اس نے کہا، پنجاب! ہم اپنی دھرتی سے بچھڑے لوگ ہیں، ہمیں صدیاں بیت گئیں سفر کرتے کرتے۔ صحرا، سمندر اور آسمان۔ پھر اس نے اپنا ایک کارڈ نکالا جس کا اوپری حصہ آسمانی اور نچلا سبز اور بیچ میں ایک 16حصوں والا پہیہ تھا۔ اس گیت گانے والے گیٹانو نے کہا، ''مسٹر نیلا آسمان، سبز سرزمین ساری ہماری ہے۔ اور یہ پہیہ ہمارا سفر۔''


دوسری جنگ عظیم میں جپسی یہودیوں کی نسبت نازیوں کی طرف سے قتل عام اورسفاکیت کا زیادہ نشانہ بنے۔ ہٹلر نے ان کو ناپسندیدہ قوم قرار دے کر اجتماعی ہلاکتوں کا بندوبست کیا۔ یہودیوں کے قتل عام پر عالمی ادارے، ریاستیں اور لوگ متحرک ہوئے کہ وہ طبقاتی طور پر امیر تھے۔ لیکن ان جپسیوں کے قتل عام پر کوئی ریاست یا ادارہ نہیں بولا، سوائے یورپ کے ترقی پسند دانشوروں کے۔ میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ تلاش کی جستجو مجھے کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔ اپنے پہلے سفر 1983ء میں بلغاریہ میں مجھے ایک جپسی فیملی کے ہاں رہنے کا موقع ملا۔ اپنے تین دن قیام کے دوران میرا مطمع نظر وادیٔ سندھ کے ان بچھڑے لوگوں کی جڑیں ڈھونڈنا تھا جو مجھے کچھ ملیں بھی کہ وہ توے کو توا ہی کہتے ہیں۔ خاندان کو پنجابی زبان کی طرح ''ٹبر'' اور اسی طرح متعدد پنجابی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ میری رگِ جستجو نے کھوج لگایا کہ رومانیہ میں ایک خانہ بدوش قبیلے کا نام ''لاہوری'' ہے۔
یورپ میں جپسیوں کو سب سے پہلے اور زیادہ روسی ادب نے جگہ دی۔ معروف روسی ادیب الیگزینڈر پشکن اور لیو ٹالسٹائی ان روسی ادیبوں میں سرفہرست ہیں۔ روسی اور پھر یورپی ادب میں اشرافیہ کے لوگوں تک ادب کے ذریعہ جپسیوں کی آواز پہنچانے کا سہرا پشکن اور ٹالسٹائی کے سر ہے۔ پشکن کی معروفِ زمانہ نظم
The Gypsy
نے یورپ اور روس کو اپنے سحر میں لے لیا۔ 1976ء میں اشتراکی روس میں
"Queen of the Gypsies"
اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ یہ فلم دنیا کی شان دار فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ یورپ میں گھومتے، سڑکوں پر گانا گاتے اور گھوڑوں پر سوار جپسی، اپنے جپسی ہونے پر ہمیشہ نازاں نظر آتے۔ یورپ کی موسیقی میں برصغیر کے ان خانہ بدوشوں نے حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی آبائی تہذیب کو اپنے سے علیحدہ نہیںہونے دیا۔ یورپ سے امریکہ تک پھیلے ان خانہ بدوشوں کو دیکھ کر آنکھیں فوراً یہ کہتی ہیں، یہ ہم میں سے ہیں، بچھڑے لوگ۔ دنیا میں گیت، ساز اور آواز کے ساتھ پھیلے لوگ… جپسی۔

مضمون نگار معروف صحافی ' کالم نگار اور متعدد کتابوںکے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

محبت


محبت یوں اترتی ہے
کہیں دل کی منڈیروں پر
کہیں پلکوں کی چھائوں میں
کہیں پر دعائوں میں
کہ جیسے چاندنی خاموش صحرا میں بکھر جائے
محبت یوں اترتی ہے
کہیں لفظوں کے پیکر میں
صحیفہ ہو کوئی جیسے
کہیں مسجد کے منبر پر
کہیں مندر کی گھنٹی میں
کلیسا کی صلیبوں پر
کہیں ہیبریو٫ بُدھا٫ نانک کے قالب میں
مگر کیوںڈوب جاتی ہے
لیکن نفرت کی جھیلوں میں؟
محبت پھر اترتی ہے
کہیں بچے کی قلقاری
کہیں ممتا کی سرشاری
کہیں لاچارکی سیوا
کہیں دلبر کی دلداری
محبت رک نہیں سکتی
محبت کا ٹھکانہ تو
یہیں انسان کا دل ہے


(فرحین چوہدری)

*****

 
09
October
پاک بحریہ کا شمالی بحیرۂ عرب میں میزائل فائرنگ کا شاندار مظاہرہ

گزشتہ دنوںپاک بحریہ نے شمالی بحیرۂ عرب میںمیزائل فائرنگ کا شاندار مظاہر ہ کیا۔ پاک بحریہ کے سر براہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے میزائل فائرنگ کے کامیاب مظاہرے پر بحری بیڑے کی جنگی تیاریوں کو سراہا۔
فائر پاور کے اس بھرپورمظاہرے کے دوران پاکستان نیوی کے سی کنگ ہیلی کاپٹر نے فضاء سے سطح آب پر مار کرنے والا اینٹی شپ میزائل فائر کیا جس نے اپنے ہد ف کو پوری کامیابی سے نشانہ بنایا، چیف آف دی نیول اسٹاف نے سمندر میں تعینات فلیٹ یونٹس کا دورہ بھی کیا اور جاری بحری مشقوں کا معائنہ کیا۔
سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے نیول فلیٹ کی جنگی تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور فائرنگ کے اس کامیاب مظاہرے میں شامل تمام افسروں اور جوانوں کی کاوشوں کی تعریف کی اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بلند عزم و حوصلے کو سراہا۔

newspakberakamizile.jpg

09
October
کرنل کمانڈنٹ آف انجینئر کور کی تقریب

newscolkamandat.jpg

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انجینئرز سنٹر رسالپور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل جاویدمحمود بخاری کو کرنل کمانڈنٹ آف انجینئرز کور کے رینک کے بیجز لگائے۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

 

 

 

 

کوئٹہ کے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کا کوئٹہ گیریژن میں بُوٹ کیمپ کا دورہ

newscolkamandat1.jpg

گزشتہ دنوں کوئٹہ کے مختلف تعلیمی اداروں کے 200 کے قریب طلباء و طالبات نے کوئٹہ گیریژن کے فیلڈ ایریا میں بُوٹ کیمپ کا دورہ کیا۔ طلباء و طالبات کا تعلق بلوچستان یونیورسٹی، بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز، کوئٹہ سائنس کالج، موسیٰ کالج اور گیریژن ڈگری کالج سے تھا جنہوں نے کیمپ میں 2 روز قیام کیا۔
قیام کے دوران انہیں پاک فوج کی آپریشنل اور ٹریننگ سرگرمیاں دکھائی گئیں۔ انہوں نے پاک فوج کی جانب سے لگائے گئے ہتھیاروں کے نمائشی سٹالوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ بُوٹ کیمپ کے دورے کا مقصد طلباء و طالبات کو پاک فوج کے جوانوں اور افسران کے دفاع وطن کے لئے کی گئی سرگرمیوں اور چیلنجز سے متعارف کروانا تھا۔

09
October
کمانڈر کراچی کورکا دورۂ چھور گیریژن

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے چھور گیریژن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے انسدادِ دہشت گردی اور کلوز کوارٹرز بیٹل

(CQB)

کی مشقوں کا معائنہ کیا۔ کور کمانڈر نے فوجی افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ تربیتی مشقوں کے معیار کو سراہا۔ انہوں نے جوانوں سے ملاقات کے دوران ان کے مورال کی تعریف کی۔

newscomndrkarachi.jpg 

ڈی جی پنجاب رینجرز کا ہڑپال اور چاروا سیکٹر کا دورہ

newsdgpunjabrajgers.jpg

گزشتہ دنوں ڈی جی پنجاب رینجرز میجر جنرل اظہر نوید حیات خان نے ہڑپال اور چاروا سیکٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وہ وہاں تعینات فوجی دستوں سے ملے اور بھارتی اشتعال انگیزی پر بھرپور جوابی کارروائیوں کو سراہا۔ انہوں نے بھارتی سیزفائر کی خلاف ورزی کا نشانہ بننے والے متاثرہ خاندانوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اُن کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا اور بھارتی اشتعال انگیزی پر بھرپور جوابی کارروائی بھی کی جائے گی۔
09
October
پانچویں چیف آف آرمی سٹاف ینگ سولجرز انٹر سنٹرل پیسز چیمپیئن شپ

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ایبٹ آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پانچویں چیف آف آرمی سٹاف ینگ سولجرز انٹر سنٹرل پیسز چیمپیئن شپ کے فائنل میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس چیمپیئن شپ کا انعقاد بلوچ رجمنٹل سنٹر ایبٹ آباد میں ہوا۔ تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف نے جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے چیمپیئن شپ میں حصہ لینے والے تمام شرکاء کے تربیتی معیار، جسمانی فٹنس اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ تقریب میں انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن
(IGT&E)
لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور کمانڈر 10 کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا بھی موجود تھے۔

newspechweenpaces.jpg

09
October
کمانڈر راولپنڈی کور کا لائن آف کنٹرول کا دورہ

گزشتہ دنوں کمانڈر راولپنڈی کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا نے لائن آف کنٹرول پر بٹل اور دورندی سیکٹر کا دورہ کیا۔ کور کمانڈر نے وہاں تعینات دستوں کے مورال کی تعریف کی اور بھارتی اشتعال انگیزی پر بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لئے بھرپور جوابی کارروائی کو سراہا۔

newscdrrawcore.jpg

ائیر ڈیفنس سینٹر ملیرکینٹ میں پاسنگ آؤٹ پریڈ
گزشتہ دنوں آرمی ایئر ڈیفنس سنٹر ملیر کینٹ میں پاسنگ آئوٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل فرحت عباس ثانی تھے۔ انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ ایئر ڈیفنس ریکروٹ کورس 47 میں، اعلیٰ بیٹری، قاسم بیٹری قرار پائی۔ مہمانِ خصوصی نے پاس آئوٹ ہونے والے ریکروٹس کو مبارک باد دی اور پریڈ کے اعلیٰ معیار کو سراہا۔ مہمانِ خصوصی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

newsairdeif.jpg

09
October
امن کپ - شمالی وزیرستان ایجنسی

گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے یونس خان سٹیڈیم میں پاکستان الیون اور یوکے میڈیا الیون کے درمیان کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ اس میچ میں پاکستان الیون نے یوکے میڈیا الیون کو 133 رنز سے باآسانی شکست دے دی۔ پاکستان الیون نے یوکے میڈیا الیون کو جیت کے لئے 254 رنز کا ہدف دیا ، جواب میں مہمان ٹیم مقررہ 20اوورز میں 120رنز بناسکی۔ نثار آفریدی 70 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ یوکے میڈیا الیون نے ٹاس جیت کر پاکستان الیون کو بیٹنگ کی دعوت دی، اوپنر کامران اور یاسر حمید نے 51 رنز کا آغاز فراہم کیا۔ یاسر حمید 19 رن بنا کر آئوٹ ہوئے، کامران اکمل اور عمرامین نے بھی جارحانہ بیٹنگ کی لیکن دونوں بیٹسمین کے ''ریٹائر ڈہرٹ'' ہونے کے بعد سابق کپتان انضمام الحق اور شاہد آفریدی بیٹنگ کے لئے میدان میں اترے ۔ شاہد آفریدی نے روایتی جارحانہ انداز اپنا کر میران شاہ میں شائقین کو خوب محظوظ کیا اور کئی شاندار چھکے لگائے۔ انضمام الحق نے بھی عمدہ کھیل پیش کیا ۔ آفریدی 80 اور انضمام 28 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، یوں پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 253رن بنائے۔ میچ میں شاہد آفریدی ، یونس خان،عمرگل اور دیگر سٹارز ایکشن    میں نظر آئے۔اس مو قع پرگورنر

KP

اقبال ظفر جھگڑا، کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور بھی سٹیڈیم میں موجودتھے ۔ اس میچ کو دیکھنے کے لئے گرائونڈ میں قبائلی عمائدین کے علاوہ مختلف مقامی سکولوں کے  بچے بھی موجود تھے۔سکول کے بچوں نے اپنے ہاتھوں میں پاکستان اور برطانیہ کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے تعارف کرایا گیا۔ اس موقع پر کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ جو ہم کہتے آئے تھے کہ دہشتگردی کو شکست دی ہے آج اس کا عملی نمونہ دوستانہ کرکٹ میچ کی صورت میں ہورہا ہے ، گراوُنڈ میں ٢٠ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور ٢٥ ہزار میچ دیکھنے آ چکے ہیں اور یہ سب شمالی وزیرستان سے آئے ہیں۔ ان میں ہر عمر کا شخص ہے۔کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے باجوڑاور کرم میں بھی ترقیاتی کاموں کا آغاز کر دیا ہے اور وہاں کے لئے وسائل چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے دئیے جا رہے ہیں، وہاں بھی کیڈٹ کالجز اور سٹیڈیم بنیں گے ، ساتھ ساتھ سڑکوں کا جال بھی بچھایا جاے گا اور مقامی عوام صحیح معنوں میں امن کے ثمرات سے بہرور ہوسکیں گے۔

newsamancupo.jpg

09
October
آرمی میوزیم لاہور کا افتتاح
گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی میوزیم لاہور گیریژن کا افتتاح کیا۔ اس میوزیم میں تحریک پاکستان کی تاریخ و ثقافت کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ میوزیم کے مختلف حصوں کو نئی قوم کی تشکیل، قائد اور افواج، پاکستان کی جنگی تاریخ بشمول دہشت گردی کے خلاف جنگ، شہداء کارنر، نشانِ حیدر گیلری، بلند ترین جنگی محاذ سیاچن پر زندگی، کشمیر کارنر، پاکستان کا اقوام متحدہ میں کردار اور اقلیتوں کی قومی تعمیر میں کاوش اور قربانیوں کے نام دئیے گئے۔ بلاشبہ یہ میوزیم تاریخ سے متعلق معلومات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

newsarmymulahore.jpg

09
October
بلوچ رجمنٹ کی دو روزہ خصوصی کانفرنس
بلوچ رجمنٹ کی دو روزہ خصوصی کانفرنس بلوچ رجمنٹل سنٹر ایبٹ آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بلوچ رجمنٹ کے کرنل انچیف کے رینک لگائے گئے۔ اس موقع پر شہیدوں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے آرمی چیف نے شہداء کے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ دفاعِ وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے اہلِ خانہ کا پاک فوج بھرپور خیال رکھے گی۔ آرمی چیف نے یاد گار ِ شہداء پر پھول چڑھائے اور شہداء کی بلندیٔ درجات کی دُعا کی۔

newsbluchregkido.jpg

09
October
آرمی چیف کی لیفٹیننٹ ارسلان اسلم شہید کے گھر آمد، والدین سے تعزیت
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ گزشتہ دنوں مری کے قریب لیفٹیننٹ ارسلان اسلم شہید کے گھر گئے جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی۔ لیفٹیننٹ ارسلان اسلم خیبر ایجنسی میں راجگال میں قائم کی گئی نئی بارڈر پوسٹ پر دفاع وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے رتبہ شہادت پر فائز ہوئے تھے۔ آرمی چیف نے شہید کے والدین سے اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دفاع وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ دینے والوں پر قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک وطن عزیز میں ایسے بہادر سپوت موجود ہیں، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ملک دشمن افراد اور ایجنسیاں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور فوج پر تنقید اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاک فوج ملکی مفاد کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لئے قوم کے شابہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں قانون اور امن کی بحالی کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

newscoastoltarslan.jpg

09
October
٥٢ویں یومِ بحریہ کی تقریبات

1965ء کی لڑائی میںاپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے خلاف پاک بحریہ کے شاندار کارناموں کے اعتراف میںہر سال 8 ستمبر یوم بحریہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یومِ بحریہ کو روایتی اندازسے منانے کے لئے پی این ایس قاسم منوڑہ میں پاک بحریہ کی چار جہتی صلاحیتوں اورمہارتوں کا شاندار مظاہرہ پیش کیا گیا۔اس موقع پرگورنر سندھ محمد زبیربطورِ مہمانِ خصوصی تھے جبکہ سر براہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ بھی تقریب میں موجود تھے۔

پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور صلاحیتوں کے اس مظاہرے میں پاک بحریہ کے جہازوں اور ہیلی کاپٹرز کا فلائی پاسٹ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی مشقیں،پیرا جمپ، فراگ مین اٹیک،ویسل بورڈ سرچ اینڈ سیزر آپریشن اور فاسٹ بوٹ ریکوری کی مشقیں شامل تھیں۔پاک بحریہ کی اسپیشل آپریشن فورسز پاک میرینز اور اسپیشل سروس گروپ (نیوی) کے اہلکاروں نے بیچ اسالٹ کی مشقوں کا بھی مظاہرہ کیا۔ان مشقوں کے علاوہ پاک بحریہ کے فریگیٹ جہاز، آبدوز اور میزائل بوٹس بھی مظاہرے کا حصہ تھیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے ١٩٦٥ کی جنگ میں پاک بحریہ کے شاندار کارناموں کا ذکر کیا اور یومِ بحریہ کے موقع پر پاک بحریہ کی صلاحیتوں کے بھرپور مظاہرے کو سراہا۔پاک بحریہ کی صلاحیتوں اور اثاثوں کے اس شاندار مظاہرے کی تقریب میںعسکری و سول شخصیات او ر جنگی ہیروز کے علاوہ شہداء کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

newspechpanween.jpg

09
October
سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع کا ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ
گزشتہ دنوں سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع محمد بن عبداﷲ العیش نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ایئرہیڈکوارٹرزآمدپر پاک فضائیہ کے سربراہ ائیرچیف مارشل سہیل امان نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے ایک چاق چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی ۔پرنسپل سٹاف آفیسر ز کا معزز مہمان سے تعارف کرایا گیا۔بعد ازاںسعودی نائب وزیر دفاع نے پاک فضائیہ کے سربراہ ائیرچیف مارشل سہیل امان سے ان کے آفس میں ملاقات کی اور پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔سعودی نائب وزیر دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فضائیہ کے کلیدی کردار کو سراہا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا اعادہ کیااور رائل سعودی فضائیہ کو ایوی ایشن کے شعبے میںبھرپور مدد اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس دورے کے دوران سعودی وفد کو پاک فضائیہ کے تنظیمی ڈھانچہ اور پیشہ ورانہ کردار پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

newssaudinaibwazir.jpg

نَسٹ کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ میںتقریبِ تقسیمِ اسناد

گزشتہ دنوں نَسٹ کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ کی تیئیسویں تقریب تقسیم اسنادمنعقد ہوئی۔ اس موقع پر ایڈجوٹینٹ جنرل (جی ایچ کیو) لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر مہمانِ خصوصی تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں تعلیم مکمل کرنے والے طلباء کو مبارکباد دی اور الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ کے تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوںکی سہولیات فراہم کرنے پر کالج کی تعریف کی۔ انہوں نے انجینئرنگ پروگراموں کے لئے واشنگٹن اکارڈ کی منظوری کو خصوصی طور پر سراہا۔

ریکٹرنسٹ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نوید زمان اور کمانڈنٹ کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ انجینئر طارق جاوید نے اس موقع پر اپنے خطاب میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ تقریب میں 318 بی ایس سی انجینئرنگ اور 112 ماسٹرز کرنے والے طلباء کو اسناد دی گئیں۔

newsnustcolgof.jpg

09
October
تقریبِ اعزاز
گزشتہ دنوں 'بجلی توپ خانہ' رجمنٹ بہاولپور میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے اعزاز میں رینک لگائے جانے کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقریب میں کمانڈر 31 کور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن کے علاوہ حاضر سروس ، ریٹائرڈ فوجی افسران اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے خطاب میں اپنی

Parental

رجمنٹ کی تاریخ اور اعلیٰ خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔

newstaqreebehzaz.jpg

09
October
پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے ۔ جنرل قمر جاویدباجوہ

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء وطالبات اور فیکلٹی ممبران کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات

newsnojwanpakkak.jpg

آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء اور فیکلٹی ممبرز کے 173رکنی وفد سے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں ملاقات کی۔ وفد کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے اوربلوچستان کے نوجوان سب سے زیادہ باصلاحیت اور متحرک ہیں۔ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ اس لئے آپ قومی سالمیت اور ترقی کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں اور اپنی تعلیم اور کام پر بھرپور توجہ دیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ یہ ملک امن اور استحکام اور بلوچستان کی خوشحالی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتاجبکہ ریاست دشمن عناصر غیرملکی دشمن ایجنسیوں کے تعاون سے پروپیگنڈا کرتے ہیں لیکن نوجوان ان عناصر کے پروپیگنڈے سے گمراہ نہ ہوں اور منفی تاثر کو ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نوجوانوں کو محفوظ اور مستحکم پاکستان دینے کے لئے پرعزم ہے اور تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے خطاب میں کہا کہ ہم آہنگی کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پاکستان ہمارا ملک ہے ہم نے یہیں رہنا ہے اور یہیں جان دینی ہے۔ ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ مجھے بلوچستان سے بہت محبت ہے۔ فخر ہے کہ میرا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ بلوچستان میں کئی آرمی پبلک سکولز کھولے جا رہے ہیں۔ کوئٹہ میں نسٹ کا کیمپس بھی کھولا جا رہا ہے۔
09
October
ازبکستان کے سفیر کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات

گزشتہ دنوں ازبکستان کے سفیر
Furkat Sidikov
نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سے جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں شخصیات نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورت حال کے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ازبکستان کے سفیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔

newsuzbikastanksafeer.jpg

کمانڈر منگلا کور کا دورۂ ٹِلہ فائرنگ رینجز

گزشتہ دنوں کمانڈرمنگلا کور لیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی نے ٹلہ رینجز میں فیلڈ فائر کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر جوانوں اور افسروں سے ملاقات کی اور اُن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔

newsuzbikastanksafeer1.jpg

06
October

تحریر:ڈاکٹر ہمامیر

آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہو گا کہ فلاں خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جنگل کی آگ ہم نے اب تک صرف محاوروں میں یا کبھی کبھار خبروں میں ہی سنی تھی مگر دراصل جنگل کی آگ کیا ہوتی ہے، یہ ہمیں کینیڈا آ کر پتہ چلا۔


پہلے ہم یہ عرض کر دیں کہ اس برس یہاں کا موسم کچھ عجیب و غریب اور غیرمعمولی ہے۔ ونکوور میں شدید برف کا پڑنا اور وہ بھی مارچ تک۔۔۔غیرمعمولی، پھر شدید گرمی اور گرمی بھی ایسی کہ جھلسا دے، یہ غیرمعمولی۔۔۔ اور اب اگست شروع ہوا نہیں کہ خزاں کے رنگ پتوں پر نظر آنے لگے۔ جبکہ خزاں ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے اوائل میں ہوتی ہے۔ یہ بھی غیرمعمولی ہے۔ موسم کے نئے تیوروں نے اپنے رنگ دکھائے تو اس کا اثر کچھ اس طرح پڑا کہ لوگ بلبلا اٹھے۔ گرمی ایسی غضب کی پڑی کہ ہمارے صوبے برٹش کولمبیا کے جنگلات میں آگ لگ گئی۔ اگرچہ گزشتہ برس البرٹا صوبے کے علاقے فورٹ مک میری
(Fort Mc Murray)
میں بھی گرمیوں میں آگ لگی تھی۔ جس سے کافی نقصان ہوا تھا مگر اس پر جلد ہی قابو پا لیا گیا تھا۔ اب یہ جو برٹش کولمبیا میں آگ لگی ہے تو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اب اس وقت 250 سے زائد مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے۔ سیکڑوں فائر فائٹرز آگ بجھانے کے لئے کوشاں ہیں مگر ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ کینیڈا کی افواج بھی اب آگ بجھانے میں فائر فائٹرز کا ساتھ دے رہی ہیں۔ مگر آگ ہے کہ پھیلتی جا رہی ہے۔

jangalkiag.jpg
کینیڈا کے نوجوان اور ہر دلعزیز وزیراعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ سے متاثرہ جگہوں کا دورہ کیا۔ ہم غور کر رہے تھے کہ وزیراعظم کیسے بیانات دیں گے۔ ان کا برتائو کیسا ہو گا؟ اور ہم نے دیکھا کہ وہ طمطراق اور دبدبے کے بجائے انتہائی انکساری اور عاجزی کا نمونہ لگ رہے تھے۔ جینز کی پینٹ اور ہلکے رنگ کی قمیص پہنے کہنیوں تک آستین چڑھائے وہ ایک نارمل انسان کی طرح لگ رہے تھے۔ اُن کا برتائو ایک رضاکار جیسا تھا۔ ہمارے لئے تو یہ سب کچھ نیا نیا سا ہے۔ مصیبت کی گھڑی میں کینیڈا کی حکومت نے جعلی قسم کے ڈراموں سے بھی گریز کیا۔ بہرطور کینیڈا میں چیک اینڈ بیلنس ہے۔ یہاں کسی کا مال ہڑپ کرنا اتنا آسان نہیں۔ اگرچہ یہاں بھی عام لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں مگر محسوس ہوتا ہے کہ جو جذبہ پاکستانیوں میں اپنے ہم وطنوں کی مدد کا ہے وہ کہیں اور نہیں۔


یہ بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان میں اگر خدانخواستہ کوئی مشکل آ جائے تو پوری قوم متحد ہو کر پوری توانائی لگا کر ساتھ دیتی ہے۔ امیر ہو یا غریب، بچہ ہو یا بزرگ، خواتین ہوں یا مرد، سبھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تو افواج پاکستان جو نہ صرف دفاع وطن کے لئے جان کی بازی لگاتی ہیں بلکہ ملک پر آنے والی کسی بھی مصیبت میں پوری جانفشانی سے کام کرتی ہیں چاہئے وہ 2005میں آنے والا زلزلہ ہو، سیلاب ہوں یا کوئی اور مشکل ہو۔ ہر امتحان میں پاک فوج نے بے مثال کامیابی حاصل کی ہے۔
کینیڈا میں عوام اگرچہ اپنے ہم وطنوں کا درد محسوس کرتی ہے مگر وہ جذبہ نظر نہیں آتا جو پاکستانیوں کا ہوتا ہے۔ یہاں جیسے اب ہمارے صوبے میں آگ کی آفت آئی ہے تو لوگ سب سے پہلے انٹرنیٹ پر یہ دیکھیں گے کہ اس سے کیسے بچا جائے۔ انخلا کیسے ہو۔ احتیاطی تدابیر کیا ہوں؟ کیسے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اس آفت سے محفوظ رکھا جائے۔ یہاں پر چونکہ ہر چیز کی انشورنس ہوتی ہے تو لوگوں کو یہ فکر بھی نہیں ہوتی کہ اگر خدانخواستہ گھر یا گاڑی تباہ ہو گئی تو نقصان کیسے پورا ہو گا۔ انشورنس کی رقم لوگوں کو مل جاتی ہے مگر یہ تو طے ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں جو مشکلات درپیش ہوتی ہیں رقم اس کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں یا جن کے مال مویشی متاثر ہوئے ہیں وہ یقینا مشکل میں ہیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت بہت سے علاقے پہلے ہی مکینوں سے خالی کرالئے گئے ہیں ایسے میں ایمرجنسی جیسی صورت حال ہے۔


پورے صوبے میں دھواں پھیلا ہوا ہے۔ دھواں صحت کے لئے نہایت مضر ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو دمہ کی یا سانس کی تکلیف ہے ان کے لئے یہ وقت اور بھی سخت ہے، سارا دن عجیب سا غبار یا دھواں پورے آسمان پر رہتا ہے۔ اسی باعث سورج بھی سنہرا نہیں بلکہ لال لگتا ہے۔ سورج کی کرنیں بھی نارنجی سی ہیں اور تو اور چاند پر نظر ڈالیں تو وہ بھی ''قہرآلود'' لگتا ہے۔ قارئین شاید اسے مبالغہ سمجھیں مگر یہ سچ ہے کہ چاند بھی سرخی لئے ہوئے ہے۔ ستارے بھی نظر نہیں آتے کیونکہ فضا دھوئیں کے غلاف جیسا منظر پیش کر رہی ہے۔ لوگوں کو گلے میں تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ آگ کے پھیلنے کے باعث ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک موسم سرد نہیں ہو گاا ور برسات نہیں ہو گی، آگ پر قابو پانا مشکل ہے۔


عجیب بات ہے کہ مہینے بھر سے زیادہ ہو گیا بارش کا نام و نشان نہیں حالانکہ ونکوور کے بارے میں تو مشہور ہے کہ یہاں بارشیں بہت ہوتی ہیں۔ دیکھتے ہیں کب بارشوں کا سلسلہ شروع ہو تا ہے۔ کب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے اور کب آگ بجھتی ہے۔ اس وقت تو صورت حال یہ ہے کہ آگ مزید بھڑکتی جا رہی ہے۔ اﷲ رحم کرے یہاں کی تاریخ کی دوسری بڑی آگ ہے یہ جو تباہی پھیلا رہی ہے۔ برٹش کولمبیا میں 50 کی دہائی میں خوف ناک آگ لگی تھی یا پھر اب 2017 میں ایسی تباہ کن آگ لگی ہے جس سے ہزاروں ایکٹر زمین متاثر ہوئی ہے۔ حکومت نے کیمپ فائر پر پابندی لگا دی ہے اور خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ اب تو بس انتظار ہے بارانِ رحمت کا، اور آگ ٹھنڈی ہونے کا۔ خدا کرے جلد موسم تبدیل ہو اور آگ پر قابو پایا جا سکے۔ آمین!!

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: صائمہ بتول

اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کے لفظی معنی ایسی مشین کے ہیں جو انسانی دماغ کے قریب قریب سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ سمارٹ فون، ٹیبلٹ اور جدیدکمپیوٹر میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر ہے۔ اینڈ رائیڈ، ہارڈویئر کو زیادہ تیز، بہتر اور سمجھداری سے چلنے میں مدد دیتا ہے۔ جس کی مدد سے ہم خبریں، علم اورتفریح حاصل کرسکتے ہیں۔ موسیقی سنتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، نقشے کی مدد سے راستے ڈھونڈنکالتے ہیں بلکہ ہم خود اپنے ہی بارے میں بھی یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اس وقت ہم کہاں موجودہیں۔ اینڈ رائیڈ ہی کی بدولت ہم تصاویر بناتے، ویڈیو فلمیں بناتے اور آواز کو محفوظ کرتے ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہی سمارٹ فون آپ کا ہمراز اور مددگار بھی ہے جس نے بہت ساری چیزوں کو آپ سے دور اور کئی ایک کو آپ کے قریب ترکردیا ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک سے گاڑی کے ہارن تک اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ آج سے پندرہ سال پہلے 1995 میں آئی بی ایم کمپنی نے پہلا ذاتی فون متعارف کروایا۔ اس وقت سمارٹ فون ایجاد نہیں ہوا تھا۔ ذاتی فون کا نام اُس وقت سائمن پرسنل کمیونیکیشن
،(Simon Personal Communication)
تھا۔ اس کے بعد بہت ساری ابلاغی خصوصیات کو بھی جمع کرتے ہوئے ایپل کمپنی نے پہلاسمارٹ فون بنایا۔ جس میں 'ایپ سٹور' کا خصوصی اضافہ کیا گیا۔ ایپ سٹور کو آئی او ایس
(IOS)
بھی کہتے ہیں جس کی مدد سے صارفین مختلف سافٹ ویئر ڈائون لوڈ کرسکتے ہیں۔ اس خصوصیت کی بدولت گیم کے شائقین نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور دھڑا دھڑ مختلف گیمز اپنے ذاتی فون میںمحفوظ کیں اور کھیلنے لگے۔ آئی او ایس androidtech.jpgدنیا بھر کے بچوں میں مقبول ہوا اور فون کی قیمت 900 سے 1200 ڈالر ہوئی اور اس طرح ایپل کمپنی نے کروڑوں ڈالر کمائے۔
ایسے میں کمپیوٹر کے تاجروں سمیت کئی لوگوں کا خیال تھا کہ مائیکرو سافٹ بھی اس کے مقابلے کا کوئی فون مارکیٹ میں متعارف کروا سکے گا مگر ایسا نہ ہوا بلکہ گوگل نے اس میدان میں چھلانگ لگا دی اور 23 ستمبر2008 کو 'ایچ ٹی سی ڈریم' کے نام سے ایک عدد سمارٹ فون اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے شائقین کی خدمت میں پیش کردیا اور اس طرح اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہو گیا۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ایپل کمپنی کی اجارہ داری ختم ہوئی بلکہ کئی موبائل کمپنیاں جن میں کیو  موبائل کمپنی

موبائل سے لے کرمائیکرو میکس، جیسی چھوٹی بڑی کمپنیاں ایپل کمپنی جیسی بڑی کمپنی کے مقابلے میں آگئیں۔ مارکیٹ میں ایک طوفان برپا ہوگیا اور ایپل کمپنی معاشی طور پر گھٹنوں پر آگئی۔ بڑے بڑے ڈیسک ٹاپ،چھوٹے چھوٹے لیپ ٹاپ میں بدل گئے۔ ایک ہی جگہ پر ساکت اور تھوڑی بہت حرکت والے سارے پرانے سافٹ ویئر سے آراستہ تمام
gadgets
کو جیسے پَر لگ گئے۔ صارفین کی گود، میز، بستر، باورچی خانے، کھیل کے میدان، دفاتر ، ہسپتال، سکول، ہر جگہ اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کی ہم سفر ہوئی۔ وقتی اور جغرافیائی حدود کے معنی بدلے، زبانوں میں تبدیلی آئی اور دنیا سمٹ کر آپ کی ہتھیلی پر آ گئی۔ کہاں وہ زمانہ کہ ایک طالب علم الیگزینڈریا کے کسی کتب خانے کی جستجو میں سالوں اور میلوں کا سفر طے کرتا اور خطرات کو مول لیتا تھا اور اب یہ زمانہ کہ وقت اورجگہ کی قید سے آزاد!! کسی بھی حالت میں، کہیں بھی، کسی بھی زبان میں آپ اپنی خواہش کے مطابق گوگل کو احکامات صادر کرتے ہیں اور مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی آپ کو ورچوئیل رئیلٹی
(Virtual Reality)
بھی مہیا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ سافٹ ویئر جدید ترین گاڑیوں کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ مگر یہ مت بھولئے کہ یہ سافٹ ویئر آپ کی ذاتی زندگی اور شخصی آزادی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ آپ کو اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کے کسی کونے سے بھی دیکھا، سُنا، فلمایا اور جسمانی طور پر بدل کر پیش کیا جاسکتا ہے، آپ کی شناخت بدلی جاسکتی ہے ذاتی رکھ رکھائو کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ آپ کہیں پناہ گزیں ہوں یا چھپ کر بیٹھیں، آپ کو ڈھونڈا جاسکتا ہے، بینک اکائونٹ کریڈٹ کارڈ سے متعلقہ جرائم کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، یا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سمیت کئی ضروری کاغذوں میں گھنائونی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ آپ کے قریب رکھا ہوا سمارٹ فون آپ کا مخبر بھی ہوسکتا ہے اور آپ کے انتہائی ذاتی راز کسی کے آگے کھولنے کے لئے اُسے آپ کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔ اپنے محترم قارئین کو یاد دلاتی چلوں کہ موٹورولا بھی گوگل ہی کی کمپنی ہے جس نے پاکستان میں پہلے جی ایس ایم موبائل فون موبی لنک کی بنیاد 1994 میں رکھی۔


11 اگست2005 کو کیلیفورنیا میں گوگل کمپنی نے این ڈی رابن، رچ میور اور کرس وائٹ کی مدد سے اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی پر کام کرنا شروع کیا۔ 13 ستمبرکو ایرینا بلاک نامی خاتون نے اس کالوگو تیار کیا۔ 27اپریل 2009 کو 1-5کپ کیک اور چار مہینے بعد ہی یعنی اگست 2009 کو ڈو نٹ بنایا گیا۔ پھر41 دن بعد اکلیئر(2.0) جنوری2010 کو نیکسس ون

آیا اورساتھ ہی 6 اکتوبر2010 گوگل ٹی وی نے مارکیٹ میں قدم رکھا اور22 فروری 2011 کو ہنی، کامب3.0 ٹیبلٹ یعنی سلیٹ نما شکل میں آیا۔ 10مئی 2011 کو گوگل میوزک متعارف کروا دیا گیا۔18 اکتوبر2011 کو آئس کریم سینڈوچ4.0 سامنے آیا۔ 2011 ہی میں گوگل دنیا کی امیرترین کمپنیوں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔
27 جون2012 کو گوگل کمپنی نے اپنے گلاس پراجیکٹ کو دہرایا اور 9 جولائی 2012 کو جیلی بینز4.1 اور نیکسس ٹیبلٹ بنالیا۔ یہاں تک کے سفر میں اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ900 ملین ہوچکی تھی۔
21 اکتوبر 2013 کو کٹ کیٹ4.4 دھڑا دھڑ بکنے لگا، 18 مارچ2014 اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی نے دستی گھڑیوں میں بھی ڈیر ے ڈال لئے۔ 26 جون 2014 ہی میں پاور پارٹ زیرو(0) شروع ہوا۔ 12 نومبر2014 کو لالی پاپ 4.4 ساتھ ہی دی نیکسس پلیر اور15 اکتوبرمارش میلو 6.0 آیا۔ نیکسس 6 اور9 بھی انہی دنوں مارکیٹ میں آئے۔
22 اگست2016 میں ڈو نٹ7.0 سامنے آچکا ہے اور حالیہ سال 2017 میں نیاورژن متعارف کروایا جا چکا ہے اور اس پر دن رات کام ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ15x اور پکسل6 پر بھی کام ہو رہا ہے۔ دیکھئے یہ تحریرمکمل ہو کر سامنے آنے تک ترقی کی اس رفتار سے اینڈ رائیڈ کتنے حیرت کدوں کا پیش خیمہ بنے؟

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے کیونکہ وہ گھر گیاہی نہیں ہوتا۔
پانچ سالہ شہیر فون پراپنے والدسے ناراضگی کا اظہارکرتاہے کہ وہ ان سے ملنے نہیں آتے۔ وہ جواب میں اپنے معصوم بیٹے کے گلے شکوے ختم کرنے کے لئے وہ بہت جلدآنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ دراصل شہیر کے والد میجر شاہنواز آرمی میں ہیں اور اُن کی ڈیوٹی ان دنوںپاک افغان بارڈر پر ہے۔
نوسالہ عمران بھی اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیںاور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔
مدرسے میں بجنے والی گھنٹی کی آواز مجاہد کو سوچوں کی دنیاسے نکال کرحقیقت کی دنیا میں لے آتی ہے۔وہ دنیا جہاں انتہائی درجے کی تلخی ہے۔۔۔۔۔۔!
مجاہد جب سے اس مدرسہ میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔

 

ایک بارپھراسے وہی باتیں سمجھائی جانے لگیں۔لڑائی نہ کرناتو اسے ایسے سمجھایاجاتاہے جیسے وہ کوئی بہت بڑاجھگڑالُو ہے اورجھگڑا کرنا ہی اس کا پیشہ ہے۔وہ جی بھر کے بدمزہ ہوا۔کچھ بولا نہیں لیکن ناک بَھوں چڑھاکر چارپائی اٹھا کر اپنے کمرے میں آگیا۔چارپائی اس نے اسی کونے میں رکھی جہاں اس نے پہلے سے سوچ رکھا تھا۔ ویسے کمرے میں اس کے علاوہ چارپائی رکھنے کی اورکوئی جگہ بھی نہیں تھی۔چارچارپائیاں پہلے سے کمرے میں موجود تھیں اور یہ پانچویں رکھنے کے بعد توکمرے میں صرف اتنی جگہ رہ گئی جتنی ان پانچ چارپائیوں کے بیچ میں ضروری تھی۔ اس کے علاوہ کمرے میں کوئی جگہ نہیں بچی۔
بڑے مولانا صاحب کی ہدایات یہاں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ اسے مدرسے کی دیوار کے اندر قدم رکھتے ہی پتہ چل گیا تھا۔آج پہلی بار جب وہ مولوی ثناء اللہ سے ملا تواسے کچھ اندازہ تو اس بات کا ہو گیا۔ان کے کمرے سے نکل کروہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔ اسے پتہ چل گیا کہ یہاں پر سب بڑے مولانا صاحب سے کتنے متاثر ہیں۔
یقیناً وہ کوئی بہت ہی پہنچی ہوئی ہستی ہوںگی جن سے سب اتنے متاثرہیں۔اس نے دل میں سوچا۔


اس نے کمرے کے کونے میں چارپائی پرچادراورتکیہ بچھادیااوروہیں لیٹ گیا۔ وہ تھکاہواتھا۔اتنا سفر کرکے آیا تھا وہ آج۔۔۔۔سیف اللہ ابھی تک وہی کتاب پڑھ رہا تھا۔اس سے کوئی بات نہیں کی۔ پتا نہیں وہ مصروف تھا یااسے مسلسل نظراندازکررہا تھالیکن لگ تو بہت مصروف رہا تھا۔ وہ تھکا ہواتھالیٹتے ہی نیند کی وادی میں چلا گیا۔نیند کا وہ شوقین تھااور یہ اس کی فطرت تھی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کسی نے اسے کندھے سے ہلایا۔
اُٹھ جاؤ مجاہد جماعت کا وقت نکلا جارہاہے۔


وہ گہری نیند میں تھا۔اسے تو سمجھ بھی نہیں آئی کہ کس نے اسے ہلایاہے۔اس نے کروٹ لے کر دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔
چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اسے پھرکسی نے کندھے سے ہلایااوراس بارپہلے سے زیادہ شدت سے ہلایا۔وہ ہڑبڑاکراپنے بستر پربیٹھ گیا۔چند لمحے تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ کہاں موجود ہے۔ وہ آنکھیں مسلنے لگا۔کچھ لمحوں بعد جب حواس بحال ہوئے تو یہاں اپناآنایاد آگیا۔


جلدی سے اُٹھ جاؤ مجاہد۔ جماعت کھڑی ہونے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اورتم نے تووضو بھی کرنا ہے۔
کتنا وقت رہتا ہے ؟؟؟؟؟ یہ اس نے اس لئے پوچھا کہ وہ ہمیشہ وضووقت دیکھ کرکرتاتھا۔اگر جماعت میں وقت زیادہ ہوتا تھا تو وہ آرام سے کرتا۔دوسری صورت میں وہ پانچ منٹ کے اندر بھی تیارہوجاتاتھا۔
بہت کم وقت ہے۔شایدپانچ منٹ سے بھی کم۔ سیف اللہ نے دروازے سے نکلتے ہوئے کہا۔


وہ چھلانگ لگاکربسترسے اترآیا۔کمرے کے دروازے سے نکلتے ہوئے اسے یادآیا کہ اسے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ نماز اس وسیع مدرسے میں کس جگہ پڑھی جائے گی۔
سیف اللہ۔۔۔۔۔۔ اس نے پیچھے سے بلایا۔ وہ رک گیا۔
نماز کے لئے میں کس جگہ آؤں؟؟؟؟
وہ جو سامنے مینار نظرآرہا ہے۔۔اسی جگہ آنا۔
اس نے مینار کی طرف دیکھا۔اسے مسجد کا مینارنظرآگیالیکن وہ آتے ہوئے مدرسے کے سامنے والے دروازے سے آیا تھااور یہ مسجد مدرسے کے پیچھے کی طرف بنی ہوئی تھی اس لئے آتے ہوئے اس نے نہیں دیکھی تھی۔
جلدی سے آجانامجاہد۔ دیرکر دی اوربڑے مولانا صاحب کو پتا چلا تو وہ بہت ناراض ہوںگے۔۔۔غسل خانے کی طرف جاتے ہوئے اس نے اپنے پیچھے آواز سنی۔
مجاہد۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ اورایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پرپھیل گئی۔۔اچھانام تھااس کا۔
وہ جلدی سے کمروں کی قطارکے آخر میں بنے ہوئے غسل خانوں میں سے ایک میں گھس گیااور چندلمحوں میں وہاں سے نکل کرنزدیک ہی نلکے پرہاتھ منہ دھویااورجلدی سے مسجد کی طرف بھاگا۔
وہ مسجدمیں داخل ہواتوجماعت کھڑی ہونے والی تھی۔وہ بھی جلدی سے آخری صف میں کھڑا ہو گیا۔

مجاہداللہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آہستہ سے اپنانام دہرایااورایک ٹھنڈی سانس لی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ہاں ہاں کھینچ لواورکھینچ لو۔نکال لومیرے سارے بال۔لیکن مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے،لوگ تمہیں ہی گنجے کی بیوی کہیں گے۔ بائیک پرگنجے کے پیچھے تم پرہنسیں گے لوگ۔
ارے بابامیں نے کھینچے کب ہیں۔ میں مساج ہی توکررہی ہوں۔وہ کافی حیران ہوئی اس کی بات پر۔
ارے واہ! یہ مساج ہے توپھررسیاں تڑواناکیاہوتاہے ؟؟؟
ارسل۔۔۔۔ میں اتنے آرام سے توکررہی ہوں۔آپ توخوش ہی نہیں ہوتے۔ وہ بہت معصومیت سے بولی۔
ارے واہ! میں خوش نہیں ہوتایاتمہیں مجھ پررحم ہی نہیں آتا۔ایسے کھینچ رہی ہوجیسے کوئی بھینس بندھی ہوان کے ساتھ۔۔وہ بھونڈی مثال دیتے ہوئے بولا۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔وہ قہقہہ مارکرہنسی اس کی بے تکی تشبیہہ پر۔وہ ایسی ہی بے تکی مثالیں دیاکرتاتھا۔
آج ہفتے کادن تھااورگھرپران دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔رضاحسین اورشمیم عصرکی نمازپڑھ کررضاکے بہنوئی کی عیادت کوگئے تھے جو پچھلے دومہینوں سے علیل تھے اوراب ان کی واپسی عشاء سے پہلے ممکن نہیں تھی۔ کامران اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے نکلاہوا تھااورگھرمیں بس وہی دونوں رہ گئے تھے۔ ارسلان نہانے کے لئے جاہی رہاتھاکہ صبانے پیچھے سے آوازدے کرروک لیا۔ اور تیل لاکراس کے بالوں میں مساج کرنے لگی۔اب یہ اس کامعمول بن چکا تھا۔ ہربارنہ سہی لیکن کبھی کبھی وہ اس کے بالوں میں سرسوں کے تیل کامساج کرہی دیتی۔ ارسلان کے بال پیارے توپہلے بھی تھے۔چھوٹے چھوٹے بال ماتھے پرآتے ہوئے بہت اچھے لگتے اس پر، لیکن مساج کرواکے دھونے کے بعدتوصبا کوسب کچھ چھوڑکراس کے بالوں پرہی پیارآتا تھا۔گیلے ہوکروہ لگتے بھی توبہت پیارے تھے۔ وہ مساج کرتی جارہی تھی اورساتھ میں ان کی ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی چل رہی تھی۔
اب میں نے ایسابھی نہیں کھینچااوراتنے برے اورروکھے بال ہوں گے توکھنچتے ہوئے تولگیں گے نا۔کتنی دفعہ کہاہے کہ نہانے سے پہلے تیل لگایاکریں لیکن آپ بھلاکیوں سنیں گے۔۔
محترمہ میرے بال بہت پیارے ہیں لیکن جوتم کررہی ہووہ بالکل ٹھیک نہیں ہے۔وہ چھیڑرہاتھا۔
خودہی توکہاآپ نے کہ مساج کردوں اوراب خودہی شکایت بھی ہے۔ وہ ناراض ہورہی تھی۔
تومیں نے مساج کرنے کاکہاتھایہ کب کہاتھاکہ جڑسے ہی اکھاڑدو،کچھ چھوڑوہی نہ میرے سر پر۔
میں نے کب اکھاڑاہے ؟؟ اتنے آرام سے توکررہی ہوں۔
ہاں ہاں۔اکھاڑدو۔مجھے کوئی مسٔلہ نہیں ہے۔شرم سے توتم ڈوبوگی جب لوگ تمہیں ٹکلے کی بیوی کہیں گے۔۔؟
اس کی شرارت عروج پر تھی۔وہ ایسے ہی اسے چھیڑتاتھااوراسے چھیڑنے میں اسے بہت مزاآتا تھا۔وہ کوئی بہت بذلہ سنج شخص نہیں تھالیکن اس کے سامنے آتے ہی پتا نہیں کیوں اسے شرارتیں ہی سوجھتی تھی۔ اسے تنگ کرکے وہ بہت مزا لیتا تھا۔ اکثر صبح بایئک پرساتھ جاتے ہوئے وہ بائیک کوادھرادھرمختلف زاویوں سے گھما پھرا کراسے ڈراتارہتاتھااوروہ ڈربھی جاتی تھی اورپھراوپرسے صباکا ری ایکشن اتنا معصومانہ اورمزے کاہوتاتھاکہ اس کا اور دل کرتا اسے تنگ کرنے کو۔ وہ اکثر ناراض ہوجاتی اور سکول کے پاس بائیک سے اترکر روزنہیں توہردوسرے دن اسے یہ دھمکی بھی دیتی کہ اب وہ سارادن اس سے بات نہیں کرے گی اوراسے کوئی میسج بھی نہیں کرے گی۔کبھی کبھی تویہ دھمکی بھی ملتی کہ اب وہ کبھی اس کے ساتھ نہیں آئے گی بائیک پر۔ وہ آج ہی ٹرانسپورٹ میں بات کرکے اپنے لئے سکول کی بس لگوا لے گی اورآئندہ اسی میں آیاکرے گی لیکن اس کے ساتھ کبھی نہیں آئے گی۔
لیکن یہ دھمکی ہمیشہ دھمکی ہی رہتی۔ سکول کے دروازے سے داخل ہونے کے ٹھیک پندرہ منٹ بعدسے وہ انتظارکرناشروع کردیتی کہ کب اس کاسوری کامیسج آئے گا۔ کیوںکہ اس کاآفس مشکل سے پندرہ منٹ کے فاصلے پرہی تھا اور ہر بار جب وہ سکول کی اسمبلی سے فارغ ہوکرسٹاف روم میں آتی تھی تواس کامیسج آیا ہوتا تھا۔ ایک لمباساسوری اورایک اداس ساکارٹون اور اس کی ساری ناراضگی بھک کر کے اڑجاتی۔ وہ ایک میسج اس کے لبوں پرمسکان بکھیر دیتا۔ وہ اسے تنگ کرتا تھا اور جانتا ہوتا کہ وہ ناراض ہوگی۔ سوہرباربینک کے دروازے پربائیک کھڑی کرتے یہ اسے میسج کردیتااوریہ کام وہ کبھی بھی نہ بھولتا۔دنیاکی ہرشے سے زیادہ عزیزتھی وہ ایک لڑکی اسے۔
مجھے توکوئی پرابلم نہیں ہے اگرکوئی مجھے ٹکلے کی بیوی کہے یاپھرمجھے ٹکلے کے پیچھے بائیک پربیٹھے ہوئے دیکھے۔ بلکہ مجھے توبہت مزا آئے گاجب لوگ افسوس سے میری طرف دیکھیں گے۔اب چڑانے کی باری اس کی تھی۔
افسوس سے کیوں؟؟؟؟؟؟
توظاہرہے لوگ مجھے آپ کے ساتھ دیکھ کربہت افسوس کریں گے ناکہ دیکھوبیچاری لڑکی کی قسمت پھوٹ گئی ہے، اتنی پیاری ہے اورایک گنجے کے ساتھ بیاہ دی گئی۔۔۔ چھی چھی چھی۔ وہ مصنوعی اداسی اپنے چہرے پرچڑھاکربولی۔
اب ایسی بھی کوئی جنت سے اتری ہوئی حورنہیں ہوتم جومیں تمہارے ساتھ لنگور لگوںگا۔خود کوذراشیشے میں جاکردیکھ لو تم۔اس کا منہ لٹک گیاتھا۔ وہ اسے چڑانے میں آج کامیاب ہوہی گئی تھی ورنہ اکثروہ ہی جیتتاتھا۔
ہاہاہا۔۔میں نے ایساکب کہاکہ میں حورہوں اورآپ لنگورہیں؟؟؟؟ میں تولوگوں کی بات کررہی تھی۔
توتم اسی لئے کھینچ رہی ہومیرے بال تاکہ سارے نکال دواورپھرسب کی ہمدردیاں سمیٹ سکو۔ وہ واقعی چڑگیاتھا۔
بالکل۔سوفیصد صحیح اندازہ لگایاہے آپ نے۔میرا مقصدیہی ہے۔وہ اس کے پیچھے کھڑی مسکرارہی تھی۔ لیکن وہ انجان تھا۔
اچھابس چھوڑدو۔میں نہانے جارہاہوں۔ بہت اکھیڑلئے میرے بال۔
ارے رکیں ناابھی توپوری طرح اکھاڑے نہیں ہیں۔مجھے اوربھی اکھاڑنے ہیں۔ وہ ہنسے جارہی تھی۔
وہ اُٹھ کرکھڑاہوگیا۔مساج ہوگیاتھالیکن وہ ویسے ہی آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔ اسے اچھالگ رہاتھااورساتھ میں اسے غصہ بھی دلا رہی تھی۔
اچھااچھا۔ابھی مت نہائیں۔کم سے کم آدھاگھنٹہ توصبرکرلیں۔ابھی توتیل لگایاہے۔
وہ بھی تیل کی بوتل اُٹھاکراٹھ گئی۔اسے رات کے کھانے کے لئے بھی کچھ تیارکرناتھا۔امیرلوگ نہیں تھے۔کچھ رضاحسین کی پنشن تھی اورکچھ ارسلان کی تنخواہ۔گھرکاگزارہ اچھا چل رہاتھا۔ آج بینک سے واپس آتے ہوئے وہ اپنے ساتھ مچھلی لایاتھا۔اوررات کے کھانے میں صباکواسی مچھلی کوتلناتھاسووہ تیل کی بوتل رکھ کرکچن کی طرف گئی۔ابھی اسے مسالا تیارکرنا تھا۔تلناتوسب کے واپس آنے پرہی تھا۔۔۔۔

پاپا میں آپ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
کیوں بیٹا؟؟ اب پاپا نے کیا کیا ہے ؟
پاپا آپ نے کہا تھا کہ آپ بہت جلدی آئیں گے گھر۔۔لیکن آج پورا ہفتہ ہو گیا ہے آپ نہیں آئے۔
میجر شاہنواز بٹ نے آج گھر فون کیا تھا اور فون اٹھایا ہی اس کے بیٹے شہیرنے۔۔ وہ شہیر جو اپنے باپ سے ہر فون پر لڑتا تھا۔ صرف اس لئے کہ اس کا پاپا اس سے اور اس کی ماما سے پیار نہیں کرتا۔ اگر کرتا ہوتا تو اِتنے مہینوں بعد گھر نہ آتا۔ بلکہ جلدی جلدی آتا جیسا کہ اس کے سب دوستوں کے پاپا آتے تھے۔ وہ تو اپنی دانست میں سمجھتا تھا کہ اس کے دوست عبداللہ اور کامران کے پاپا ان سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں جو روز شام کو گھر آجاتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر اس نے حسن سلطان کو رکھا تھا جس کے پاپا ہر ہفتے کے دِن اِسلام آباد سے ان سے ملنے آتے تھے۔۔ اپنے پاپا میجر شاہنواز بٹ کو اس نے آخری نمبر دیا تھااور اس نمبر کے مطابق اس کے پاپا یعنی میجر شاہنواز بٹ کو اپنے بیٹے شہیر نواز اور اس کی ماما عائشہ سے کوئی پیار نہیں تھا۔جو وہ مہینوں تک ان سے ملنے گھر نہیں آتے۔ اگر ان کو پیار ہوتا تو وہ اس کے دوستوں کے پاپا کی طرح ان سے ملنے ضرور آتے۔
'' بیٹا میں نے آپ سے پرامس کیا تھا نا کہ جیسے ہی مجھے ٹا ئم ملے گا میں بھاگتا ہوا اپنے بیٹے کے پاس پہنچ جاؤں گا۔۔۔'' شاہنواز کو اپنا وعدہ یاد تھا۔
لیکن پاپا آپ کو پچھلے دو مہینوں سے ٹائم نہیں ملا۔ آپ آئے تھے تو بھی اتنی جلدی چلے گئے تھے۔۔۔ وہ بھی اسی کا بیٹا تھا۔
بیٹا وہ تو ایمرجنسی کال آئی تھی نا۔ اس لئے جلدی آنا پڑا تھا۔۔۔۔ باپ وضاحت دے رہا تھا۔
پاپا صرف آپ کو ایمرجنسی میں کیوں بلاتے ہیں۔ عبداللہ کے پاپا کو تو کبھی کسی نے نہیں بلایا۔
عائشہ جو کافی دیر سے صوفے پہ بیٹھی ان باپ بیٹے کے گلے شکوے سن رہی تھی دھیرے سے اس بات پہ ہنس دی۔ پانچ سال کا شہیر نواز نہیں جانتا تھا کہ اس کے پاپا کو اس سے اور اس کی ماما سے کیوں پیار نہیںہے۔ عائشہ جانتی تھی کہ اپنے بیٹے شہیراور بیوی عائشہ پرجان نچھاور کرنے والا شاہنواز اتنے مہینے گھر کیو ںنہیں آتااور یہ بات وہ اپنے بیٹے کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتی تھی۔لیکن وہ بچہ تھا اور بچے سمجھتے نہیں صرف دیکھتے ہیں اور اس کا شہیر بھی دوستوں کو دیکھ کر اپنے پاپا سے لڑ رہا تھا۔
لیکن اس نے روکا نہیں اسے۔ بلکہ اسے لڑنے دیا۔ آخر باپ تھا اس کا۔۔۔
بیٹا عبداللہ کے پاپا آرمی میں نہیں ہیں، شاہنواز نے وضاحت دینے کی کوشش کی۔
تو پاپا آپ بھی آرمی چھوڑ کر آجائیں۔۔ وہ بھی آج پورا حساب لے رہا تھا بیٹا ابھی تو نہیں چھوڑ سکتا نا۔۔
کیوں؟؟؟
وہ لاجواب ہو گیا تھا اور و ہ ہمیشہ ہی لاجواب ہو جاتا تھا۔ اولاد چیز ہی ایسی ہے کہ بڑے بڑوں کو لاجواب کر دیتی ہے۔اور عائشہ جانتی تھی کہ بحث میں اپنے سامنے والے کوہمیشہ لاجواب کر دینے والا شاہنواز اپنے پانچ سالہ بیٹے کے سامنے ہر بار لاجواب ہو جاتا ہے۔ سو وہ مسکراتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر اس کو بچانے آئی تھی۔
شہیر بیٹا پاپا سے اتنا لڑتے نہیں ہیں۔۔ وہ ڈیوٹی پر ہیں بیٹا۔۔ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔
نہیں ماما پاپا جان بوجھ کر نہیں آتے۔ڈیوٹی پر تو کامران کے پاپا بھی ہوتے ہیں۔ وہ آج بہت غصے میں تھا۔
اچھا چلو بیٹا مجھے فون دو اب۔۔کتنی دیر سے پاپا سے لڑ رہے ہو آپ۔ اب مجھے بات کرنے دیں۔آپ جا کے کارٹون دیکھ لو۔
یہ لیں ماما۔۔آپ بات کر لیں۔
اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔وہ غصے میں تھا ناراض تھا،لیکن اس وقت اس کے اُٹھ جانے پر شاہنواز نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا۔ وہ اپنے پاپا سے سخت ناراض تھا۔لیکن حیران وہ اس بات پر تھا کہ اس کی ماما اس کے پاپا سے کیوں ناراض نہیں ہوتی۔ کمرے کے دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا تھااور جی بھر کے بدمزہ ہوا تھا۔ اس کی ماما فون پہ ہنس رہی تھی۔ جانے کیوں۔ اس لمحے اپنی ماما بھی اسے اچھی نہیں لگی۔وہ پاپا سے اتنی خوشی سے بات کیوں کر رہی تھیـجب کہ پاپا کو تو ان دونوں کا احساس بھی نہیں ہے اور اس خراب موڈکے ساتھ وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


مجاہداللہ کیاہوگیاہے تمہیں؟؟؟؟؟ انہوں نے اپنی ازلی مسکراہٹ ہونٹوں پرسجاتے ہوئے کہا۔
شکیل بھائی اب میں یہاں نہیں رہوں گا۔ چلاجاؤں گامیں یہاں سے۔ مزید اب بے گناہوں کی جان نہیں لوں گامیں۔۔وہ بہت غصے میں تھا۔
ایساکیاہواہے مجاہدجوتم ایسے کہہ رہے ہواورمولاناصاحب نے مجھے اتنی جلدی میں بلایاتم سے بات کرنے کے لئے۔۔شکیل حیران تھا۔
میں جان گیاہوں سب حقیقت۔ ایسی باتیں جو آپ نہیں جانتے۔۔ مولانا صاحب صرف ایک دھوکہ ہیں اور۔۔۔۔۔وہ آگے بھی کچھ کہناچاہ رہاتھالیکن جانے کیوں رُک گیا۔
اس سے کیافرق پڑتاہے بیٹاکہ آپ کیاجان گئے ہو اور کون کیا ہے۔ کرنا تو سب کووہی ہوتاہے جس کافیصلہ ہواہوتاہے۔۔ وہ اپنی ازلی مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔
آپ نہیں جانتے شکیل بھائی آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔۔مجاہد کے لہجے میں کافی ڈر تھا۔
ایساکیاہے جومیں نہیں جانتااورتم جان گئے ہو؟؟؟ انہوں نے چائے پیالی میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔
شکیل بھائی میں اس رات ویسے ہی کمرے سے نکلا۔نیند نہیں آرہی تھی مجھے۔ میں قسمت سے مولاناصاحب کے کمرے کے پیچھے کی طرف سے مڑکرآیا۔وہاں روشنی جل رہی تھی۔اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبورہوکرمیں نے اندرجھانکاتومجھے کچھ انجان لوگ نظرآئے۔بالکل انجانے جن کومیں نے کبھی دیکھابھی نہیں تھا۔ میں وہیں کھڑے ہوکران کی باتیں سنتارہااورجیسے جیسے میں سنتارہامجھے لگامیں زمین میں دھنستاجارہاہوں۔ وہاں کپڑے کاایک تھیلابھی پڑاہواتھا۔وہ لوگ کہیں پرکچھ دھماکہ کرنے کی بات کررہے تھے اورپیسوں کی کچھ بات کررہے تھے لیکن مولانا صاحب نہیں مان رہے تھے۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیاہورہاہے لیکن بس یہ سمجھ پایاکہ مولاناصاحب نہیں مان رہے۔بھلاوہ اللہ اوررسولۖکے غلام ہیں پیسے لے کرکیسے دھماکہ کرسکتے تھے لیکن یہ میری سوچ تھی جوبالکل غلط ثابت ہوئی جب میں نے دیکھاکہ مولانا صاحب کے سامنے و ہ تھیلا اوراس جیساایک اور تھیلا انڈیلاگیااوران دونوں تھیلوں میں سے نوٹوں کی گڈیاں نکلیں۔ مولانا صاحب کے چہرے پراس وقت ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جومیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے پیسوں کے عوض دھماکہ کرنے کامعاہدہ کرلیا۔ اب آپ بتائیں شکیل بھائی جب مجھے یہ پتاچل گیاہے کہ مجھے ہی نہیں مجھ جیسے ہزاروں لڑکوں کومذہب کے نام پردھوکہ دیاگیاہے اوردیاجارہاہے تومیں یہاں کیسے رہوں گا۔۔۔
جوتم نے کہاوہ سب میں جانتاہوں اوراگرتم اس کے علاوہ بھی کچھ جانتے ہوتومجھے بتادو۔وہ بدستوراب بھی مسکرارہے تھے۔


(.........جاری ہے)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

مچھرپوری دنیا میں سب سے چھوٹے مگر سب سے زہریلے اور جان لیوا جانداروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کی پوری دنیا میں تقریباً3,500 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہر سال تقریباََ ایک ملین سے زیادہ لوگ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مچھر سے پھیلنے والی مختلف بیماریوں یعنی ملیریا ،
Yellow Fever
کے بعد آج کل چکن گونیا ڈینگی اور زیکا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں تقریباََ 214 ملین کیسز منظر عام پر آئے اور تقریباََ43,800 افراد اس کے ہاتھوں لقمۂ اجل بنے۔


ملیر یا ، مچھرسے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے جو کہ پلازموڈیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر سال پوری دنیا میں تقریباً 350-500 ملین افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ملیریا کی بیماری مچھر کی ایک خاص قسم اینا فلیز کی مادہ کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ جب یہ مادہ مچھر کسی ملیریا زدہ شخص کو کاٹتی ہے تو اس شخص کے خون سے ملیریا کے جرثو مے مچھر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔یہ جرثومے مچھر کے جسم میںہی نشونما پاتے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے بعد جب یہ مادہ کسی تندرست شخص کو کاٹتی ہے تو پلازموڈیم اس شخص کے خون میں شامل ہو جاتے ہیں اس شخص کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں یا اکثر اوقات سالوں تک نمو پاتے ہیں اورجب ایک خاص تعداد میں جرثومے پیدا ہو جاتے ہیں تو ملیریا کا حملہ شروع ہو جاتا ہے۔ ملیریا کی علامتیں پلازموڈیم کے حامل مچھر کے کاٹنے سے دو سے تین ہفتے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ ابتداء میں سردی، تیزبخار، تھکن، چھینکیں، جسم میں شدید درد، متلی، کھانسی، نزلے جیسی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات جوڑوں میں درد، یرقان، بے ہوشی کے دورے اور پھر ملیریا کے شدید حملے میں اعصابی نظام بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ جلد پر خارش اور سرخ دھبے ملیریا کی خاص نشانیاں شمار کی جاتی ہیں۔ ملیریا کی بیماری ہسپتالوں میں استعمال کی ہوئی سرنج استعمال کرنے اور جراثیم زدہ سامان کے استعمال سے بھی ایک فرد سے دوسرے فرد کے خون میں منتقل ہو سکتی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق ملیریا پھیلانے والے مچھر درحقیقت پروٹوزونز ہوتے ہیں اور ملیریا سے متاثرہ لوگوں کو کاٹنے کے بعد صحت مند لوگوں تک اس بیماری کے جراثیم بھی منتقل کرتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میںہر سال کروڑوں افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈینگی وائرس کا سبب بننے والا مادہ مچھر جسے
Aedes Aegypti
کہتے ہیں پہلی بار 1959 ء میں ایشیائی ممالک میں شناخت کیا گیا پھر یہ وائرس تیزی سے پاکستان، بھارت، افریقہ، مشرقی وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے 100 سے زائد ممالک میں پھیلتا چلا گیا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایشیائی ممالک میں ڈینگی کی بڑھتی ہوئی شرح کی بنیادی وجوہات درجہ حرارت میںاضافہ ، کئی علاقوں میں شدید اور مسلسل بارشیں ، سیلاب کی تباہ کاریاں اور بڑھتی ہوئی گنجان آبادی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اگر ڈینگی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو دنیا کی ایک کثیر آبادی کواس مچھر سے خطرہ لاحق ہے۔


ڈینگی وائرس کا سبب بننے والی مادہ، جس کے جسم پر سیاہ رنگ کی دھاریاں پائی جاتی ہیں، صاف پانی ، پانی کی ٹینکیوں ، گملوں ، نکاسیٔ آب کے راستوں، بارش کے پانی وغیرہ میں انڈے دیتی ہے۔ ڈینگی بخارکی ابتدائی علامات میں شدید بخار، سرمیں درد ، آنکھوں کے ڈھیلے میں شدید درد، بھوک نہ لگنا ، جسم میں درد، پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد شامل ہیں۔ بیماری کی فعال حالت میں مریض کا بلڈپریشر کم اور ہاتھ پیر ٹھنڈے بھی ہو سکتے ہیں۔جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں پر باریک سرخ دانے بن جاتے ہیں۔ اور مریض کے خون میں
Platelets
اور سفیدخُلیات کی کمی ہو جاتی ہے۔ ڈینگی بخار کو بریک بون فیور
بھی کہتے ہیں کیونکہ اس بخار کے دوران مریض کی ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہو جاتا ہے اور پھر مرض کی شدت میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا جاتا ہے، منہ اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔
چکن گونیا بھی ڈینگی وائرس کی طرح
(Aedes Aegypti)
نامی مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ جس کی پہلی اور عام علامات میں بہت تیز بخار اور جوڑوں میں درد شامل ہے۔
اگر کوئی عام مچھر چکن گونیا سے متاثرہ کسی مریض کو کاٹ لے تو وہ مچھر بھی چکن گونیا والے وائرس مچھر میں تبدیل ہو کر اس مرض کے پھیلائوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چکن گونیا کی علامات مادہ مچھر کے کاٹنے کے تین سے سات دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور عموماََ مریض مناسب علاج سے ایک ہفتہ میں تندرست ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن کچھ مریضوں میں تقریباََ ایک ماہ تک جوڑوں میں درد کی شکایت برقرار رہتی ہے۔
ملیریا ، ڈینگی اور چکن گونیا کے بعد ایک نیا وائرس ظاہر ہوا ہے جس کو زیکا وائرس کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وائرس بھی
Aedes Aegypti
کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ زیکا وائرس سب سے پہلے 1947 ء میں یوگنڈا کے بندروں میں دریافت کیا گیا تھا اور پہلا انسانی کیس 1954 ء میں نائیجریا میں منظر عام پر آیا۔ زیادہ تر گرم مر طوب علاقوںمیں پائے جانے والے
Aedes Aegypti
نامی مچھر اس وائرس کے پھیلائو کی وجہ ہے۔ یہ مچھر صاف پانی میں پرورش پاتے ہیں اور ان کے جسم پر سیاہ اور سفید نشانات ہوتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق زیکا وائرس میں مبتلا مریض بہت کم موت سے ہمکنار ہوتے ہیں اور تقریباً پانچ میں سے ایک مریض میں اس کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں جن میں آشوبِ چشم، بخار، سردرد، جوڑوں میں درد اور جلد پر سرخ نشانات شامل ہیں۔ زیکا وائرس کے حوالے سے سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ حاملہ عورت کے شکم میں پرورش پانے والے بچوں پر اس کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور مائکرو سیفلی نامی بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔ جس سے بچے کے دماغ کی نشونمارک جاتی ہے اور وہ ذہنی اور جسمانی معذوری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔


مچھروں کی مختلف اقسام پوری دنیا میں انتہائی خطرناک اور مہلک بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ جن سے بچائو اور ان کا مکمل علاج فی الوقت موجود نہیں ہے البتہ لوگ احتیاطی تدابیر اپنا کر مچھروں کے کاٹنے سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پانی کی ٹینکی ، ڈرم، پھولدان، گملے کے نیچے رکھے ہوئے برتن اور بوتلوں میں رکھے گئے پودوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں۔ مچھروں سے بچائو کے لئے کھڑکیوں اور دروازوں پر جالی لگوائیں۔ سوتے وقت مچھر دانی استعمال کریں۔ لباس ایسا زیب تن کریں جو مکمل طور پر ڈھکا ہوا ہو۔ لوگ خود احتیاط سے کام لیں کیونکہ صرف احتیاط ہی اس مرض سے بچائو کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم اپنے اردگرد اپنے گھر، پارک، مارکیٹ وغیرہ کے ماحول کو صاف ستھرا اور خشک رکھیں اور کسی بھی قسم کے پانی اور کوڑا کرکٹ کو ہر گز جمع نہ ہونے دیں۔
مچھروں سے ہونے والی بیماریاں موروثی اور وبائی نہیں ہیں۔ ان سے بچائوں کی تدابیر کر کے ہم ان سب بیماریوں کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
October

تحریر: مستنصر کلاسرا

عبدالولی خان یونیورسٹی کے جواں سال طالب علم کی تشدد سے ہلاکت کے پس منظر میں مستنصر کلاسرا کی ایک سروے رپورٹ

مردان کی یونیورسٹی میں ہونے والا واقعہ کسی دل دہلادینے والی داستان سے کم نہیں۔ چند لوگوں نے ایک شخص پر الزام لگایا پھر فیصلہ سنایا اور پھر اُس کی سنگینی کا اندازہ کئے بغیر اس پر عمل بھی کر ڈالا۔ کسی بھی مہذب معاشرے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ ایک روایت بنتی جارہی ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگائے بغیر ہی اپنی من مانی کی جائے۔ اس گھنائونے عمل کا تازہ ترین شکار عبدالولی خان یونیورسٹی مردا ن کا طالب علم مشال بنا یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں مگر بحیثیت ایک پاکستانی شہری میں اُمید کرتا ہوں کہ اس آخری واقعے کو آخری واقعہ بنانے کے لئے ریاست کے تمام ادارے' حکومت اور علمائے کرام اگر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو یہ واقعہ درحقیقت آخری واقعہ بن سکتا ہے۔ اس واقعے کوپیش نظر رکھتے ہوئے مختلف اداروں کے چند طلباء و طالبات سے اُن کے تاثرات لئے گئے اور یہ بھی پوچھا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں نوجوانوں کے تاثرات کچھ یوں تھے۔


نادیہ شاہین
nadiashaeen.jpgمیرے نزدیک یہ واقعہ کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں۔ ہم بحیثیت مسلمان اپنا اچھاتاثر ہر گز پیدا نہیں کررہے۔ جس دن ہم اپنے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرلیں گے اسی دن ہم اپنے معاشرے میں واضح فرق محسوس کریں گے۔ بدقسمتی سے عدم برداشت ہمارے معاشرے کی ایک بہت بڑی بُرائی بنتی جارہی ہے۔ اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مشال خان کے واقعے کے بارے میں میںیہ کہوںگی کہ ہم انفرادی طور پر کون ہوتے ہیں کسی کی غلطی کو فوراً جزا اور سزا کی نوبت تک لے کر آجانے والے؟ ہم ایک ملک کے شہری ہیں۔ ہمارے قوانین ہیں۔ ہر چیز کا

ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ اس کو اسی طرح آگے لے کر چلنا چاہئے۔

 


علی ریحان
alirehan.jpgمشال خان والا واقعہ ایک قوم کی حیثیت سے ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اس طرح کے واقعات باہر کی دنیا میں ہمارا بہت برا تاثر دیتے ہیں۔ پہلے ہی بڑی مشکل سے لیکن کامیابی کے ساتھ پاک فوج کی مدد سے ہم دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب اس طرح کے واقعات اگرہونا شروع ہو جائیں گے تو ہم کس طرح اپنے باقی چیلنجز کا مقابلہ کریں گے؟ میں تو ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ قانون کو کسی بھی صورت ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ مشال خان نے غلطی کی تھی یا نہیں' اس بات سے قطع نظر طالب علم کون ہوتے ہیں کہ وہ اسی وقت الزام لگا کر سزا دے دیں۔ ہمارے ملک میںہر قسم کے قوانین موجود ہیں۔ اگر کوئی کسی غلطی کا مرتکب ہوا بھی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر بندہ جج بن کر خود ہی سزا دے دے۔ جذبات تو ویسے بھی انسان سے غلط فیصلے کرواتے ہیں۔

 


شہزادی طوبیٰ
shazaditoba.jpgمیرے خیال میں جب تک ہم اپنے اپنے فرائض اور حقوق سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہوں گے' ایسے حادثات و واقعات رُونما ہوتے رہیں گے۔ ایک تو پہلے ہی ہم بے روزگاری' ناانصافی اور غربت جیسے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں پھراس طرح کے واقعات ہمارے ملک کے نوجوان طبقے میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ جب ملک کے نوجوان طبقے کے اندر اس طرح کی بے چینی ہوتی ہے تو وہ اپنا غصہ یا بے چینی کسی ایسے کام میں نکالتے ہیںجس کا نتیجہ نہ صرف ان کے اپنے لئے بلکہ پورے ملک کے لئے اچھا نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں ہماری حکومتوں اور برسرِاقتدار لوگوں کو نوجوانوں کے لئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے انہیں یہ احساس ملے کہ ان کا مستقبل روشن ہے تاکہ وہ دل جوئی سے اپنے کام پر ہی توجہ دیں نہ کہ مشال خان والے جیسے کسی اور واقعے کا حصہ بنیں۔

 


قرة العین
qain.jpgاس میںکوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں مذہبی آزادی ہے ہر شخص اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرسکتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے اسلامی معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ہماری اسلامی روایات کا غلط استعمال کرکے ان کا تقدس پامال کرتے ہیں۔ اور پھر اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ اس واقعے میں چندطلباء کا ایک نہتے طالب علم پر الزام لگا کراس پر چڑھ دوڑنا اور پھر فوراً اس کو قتل کردینا' اسلام تو اس چیز کی ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ مجھے تو اس واقعے کے محرکات کچھ اور ہی لگتے ہیں۔ اس واقعے کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کے ساتھ ساتھ دوبارہ اس طرح کے واقعات کبھی نہ ہونے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

 


طاہر نذیر
tahirnazeer.jpgتعلیم و تربیت دو لفظوں کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کی زندگی بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ان دو الفاظ کو ہم لوگوں نے ایک دوسرے سے اتنا دور کردیا ہے کہ جیسے تعلیم کا تربیت سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ میرے خیال میں ہمارے ملک کے اداروں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت دینے کی بھی بہت ضرورت ہے۔ اچھی تربیت سے ہی انسان کی شخصیت بنتی۔ طالب علموں کی اچھی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام کا بھی کلیدی کردار ہے۔ یہاں پر میں مزید ایک بات کا تذکرہ کرناچاہوں گا کہ ہمارے نوجوانوں کو ان سب باتوں کا خیال رکھنے کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہو رہے؟ کیا کوئی اپنے مقاصد کے لئے ہمیں استعمال تو نہیں کررہا؟ جیسا کہ حالیہ مشال خان کے واقعہ کے بارے میں ایک بات یہ بھی سامنے آئی تھی کہ اس کے یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ساتھ کچھ مسائل بھی چل رہے تھے۔ اس لئے اس واقعہ کے حل کے لئے اور منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اس پہلو کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

 


زینب
zainabkhan.jpgجوبھی معاشرہ تشدد کی طرف جاتا ہے اس کے نتائج ہر گز اچھے نہیں ہوسکتے۔ جب لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر خود ہی فیصلہ سنا کر اس پر عمل کرنا شروع کردیں گے تو اس سے ملکی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوگا۔ عدلیہ ' پولیس اور اس طرح کے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جس سے نہ صرف نوجوانوں میں بلکہ ملک کے ہر شہری میں اعتماد کی فضا پیدا ہو اور شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

 

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
October

تحریر: علی جاوید نقوی

بے گناہ روہنگیامسلمانوں کاخون آخررنگ لے آیا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے جنرل کونسل اجلاس میں روہنگیامسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم کی بازگشت سنی گئی۔دنیا دیرسے جاگی، اگرعالمی برادری ابتدا میں ہی میانمار حکومت پردباؤ ڈالتی توبہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ تاہم اب بھی کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میانمارکی سرکاری فورسزدوبارہ روہنگیا مسلمانوں کاقتل عام نہ کریں۔

rohangyamuslims.jpg
اقوام متحدہ نے تسلیم کیاہے کہ روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی ہورہی ہے،اُن پر ظلم کی انتہاکردی گئی ہے۔ان کے گھروں اوربستیوں کوآگ لگادی گئی اورانھیں زندہ جلایا گیا۔جوغریب اپنی جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے تھے ،انھیں میانمارکی فوج نے قتل کرناشروع کردیا۔ میانمارسے بنگلہ دیش جانے والے راستوں پرجگہ جگہ روہنگیامسلمانوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ انھیں اپنے پیاروں کودفنانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔عالمی برادری نے اس ظلم کے خلاف آوازتوبلندکی ہے لیکن اس میں اتنی شدت نہیں کہ میانمارحکومت اورفوج کو روک سکے۔ہوناتویہ چاہئے تھاکہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں میانمارحکومت کے خلاف عملی اقدامات کئے جاتے، میانمارکی فوج اورحکومت پرپابندیاں لگانے کا اعلان کیا جاتا، تاہم ایسا نہیں ہوا برطانیہ کے مطالبے پرسلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں بندکمرے میں میانمارمسلمانوں کی نسل کشی کے معاملے پر غور کیا گیا۔ پرتشدد واقعات کی مذمت کی گئی اورمیانمارحکومت سے حالات بہتربنانے کا مطالبہ کیاگیا۔تاہم اجلاس میں میانمارحکومت کوکوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ روہنگیا مسلمانوں کی جس طرح نسل کُشی کی جارہی ہے اس کی مثال ملنامشکل ہے۔ اب تک ہزاروں مسلمانوں کوشہید کیاجاچکاہے۔غیرجانب دار میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں بچے، خواتین اوربوڑھے شامل ہیں۔ پاکستان، ترکی،


ایران اور سعودی عرب سمیت مسلم ممالک نے اس ظلم پراحتجاج کیا جس کے بعداقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی خواب غفلت سے بیدار ہوئیں۔
پوری دنیا میں اس ظلم کے خلاف آوازاٹھنی شروع ہوئی۔اقوام متحدہ نے بھی اس ساری صورتحال کوناقابل قبول اورروہنگیامسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے تسلیم کیا کہ ''میانمارکاظالمانہ کریک ڈاؤن روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی کی واضح مثال ہے۔چارلاکھ روہنگیا مسلمان جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے پرمجبورہوگئے ہیں''۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی برائے میانماریانگ ہی لی نے نہ صرف روہنگیائی مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم پرتشویش کااظہارکیا بلکہ آنگ سان سوچی کوبھی تنقید کانشانہ بنایا۔اسی طرح برطانیہ کے وزیرخارجہ بورس جانسن بھی آنگ سان سوچی سے مسلمانوں پر تشددبندکرنے کی اپیل کرچکے ہیں۔


وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر اور روہنگیامسلمانوں کے لئے آوازاٹھائی، دوسرے کئی عالمی رہنماؤں نے بھی روہنگیامسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کامطالبہ کیا۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے روہنگیامسلمانوں پرہونے والے ظلم اوران کی جبری نقل مکانی کی خبروں پرتشویش کا اظہارکیاہے۔پاکستان نے میانمارحکومت پرزوردیا ہے کہ وہ رخائن کے علاقے میں ہونے والے قتل وغارت کی تفتیش کرائے اورذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ روہنگیامسلمانوں کاتحفظ کرے۔ پاکستان دنیا بھر میں مسلمان اقلیتوں کے تحفظ کامطالبہ کرتاہے اوروہ بین الاقوامی برادری اور بالخصوص اسلامی ممالک کی تنظیم اوآئی سی کے ساتھ مل کرروہنگیامسلمانوں کے تحفظ کے لئے کام کرتارہے گا۔

 

اقوام متحدہ نے تسلیم کیاہے کہ روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی ہورہی ہے،اُن پر ظلم کی انتہاکردی گئی ہے۔ان کے گھروں اوربستیوں کوآگ لگادی گئی اورانھیں زندہ جلایا گیا۔جوغریب اپنی جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے تھے ،انھیں میانمارکی فوج نے قتل کرناشروع کردیا۔

امن کانوبل انعام حاصل کرنیوالی میانمار کی آنگ سان سوچی سے امید تھی کہ وہ اس ظلم کی مذمت کریں گی اورروہنگیامسلمانوں کے حق میں آواز بلندکریں گی لیکن انہوں نے ظلم کاشکارلوگوں کاساتھ دینے کے بجائے ان کے گھرجلانے اور ان کاقتل عام کرنے والی سرکاری فوج کی حمایت کااعلان کردیا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کاسامناکرنے اوراُن کے سوالوں کاجواب دینے کے بجائے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت ہی نہیں کی۔ آنگ سان سوچی کا خیال ہے کہ اس طرح وہ عالمی برادری کی تنقید سے بچ جائیں گی۔آزاد ذرائع کے مطابق میانمار کی فوج کے سربراہ جنرل من آنگ بلانگ ایک سخت گیراورمسلمانوں کے خلاف تعصب رکھنے والے جنرل ہیں۔ وہ میانمارسے تمام روہنگیا مسلمانوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔ اوروہ اپنے طے شدہ پلان پرعمل کررہے ہیں۔آنگ سان سوچی بھی فوج کے اس عمل میں برابرکی شریک نظرآرہی ہیں۔یہاں تک کہ انہوں نے عالمی میڈیا کوبھی تنقید کانشانہ بنایاہے۔صورتحال یہ ہے کہ عالمی میڈیا کومتاثرہ علاقوں میں جانے اورمتاثرین سے بات چیت کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ابتداء میں چند صحافیوں نے روہنگیامسلمانوں سے ملاقاتیں کیں اوران پر ڈھائے جانے والے مظالم کورپورٹ کیاتو دنیا میں ایک کہرام مچ گیا۔


اسلامی سربراہی تنظیم اوآئی سی نے بھی روہنگیامسلمانوں پرمظالم کی مذمت کی ہے اورمیانمارحکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ''روہنگیامسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طورپربندکی جائیں۔ روہنگیامسلمانوں کے خلاف ریاستی تشدد کے بے جا استعمال پر بہت تشویش ہے۔ اس تشدد کو فوری طور پر بند کیا جائے۔'' پاکستان اوربرادر اسلامی ملک ترکی ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے روہنگیامسلمانوں کی حمایت میں آوازبلندکی اوران کے لئے امداد بھی روانہ کی۔پاکستان سے کئی تنظیموں کے نمائندے اپنے ان بے بس بھائیوں کی مدد کے لئے بنگلہ دیش میں قائم کیمپوں میں پہنچے۔ ترکی کی خاتون اول آمینہ اردگان نے ڈھاکہ کے کیمپوں میں ان روہنگیا خواتین کی حالت دیکھی تو وہ آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے روہنگیائی خواتین کوگلے لگا کران سے محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے میانمارفوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی بھی مذمت کی۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اس دورے کے بعد عالمی برادری کی توجہ کے لئے عالمی رہنماؤں کی بیگمات کوخطوط بھی لکھے جن میں روہنگیامسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں بتایاگیاہے اوران مظلوموں کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈھاکہ کے کیمپوں میں موجود روہنگیامسلمانوں نے بتایاہے کہ ان پرحملہ کرنے والوں میں میانمارکی فوج کے علاوہ رخائن میں بدھ مت کے پیروکارتھے، جنہوں نے ان کے گھروں کوجلایا اوران کے عزیزواقارب کوان کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے قتل کردیا،کئی خواتین کی آبروریزی بھی کی گئی۔ادھرصورت حال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت اتنی بڑی تعدادمیں مہاجرین کوپناہ دینے کے معاملے پرپریشان ہے اوربہت سے مہاجرین کوزبردستی واپس میانمار بھیجا جا رہا ہے۔
میانمارجسے برماکے نام سے بھی یادکیاجاتاہے،اُس کے شہررنگون میں برصغیر کے آخری بادشاہ بہادرشاہ ظفرکی قبربھی ہے۔بہادرشاہ ظفرکاانگریزوں کی قیدمیں رنگون میں انتقال ہوا اور انھیںگھر کے احاطے ہی میں سپردخاک کردیا گیا۔ بہادرشاہ ظفر کی قبر کی دیکھ بھال کے حوالے سے بھی میانمار حکومت تعصب کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔

 

امن کانوبل انعام حاصل کرنیوالی میانمار کی آنگ سان سوچی سے امید تھی کہ وہ اس ظلم کی مذمت کریں گی اورروہنگیامسلمانوں کے حق میں آواز بلندکریں گی لیکن انہوں نے ظلم کاشکارلوگوں کاساتھ دینے کے بجائے ان کے گھرجلانے اور ان کاقتل عام کرنے والی سرکاری فوج کی حمایت کااعلان کردیا

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ برماحکومت کے متعصبانہ قوانین کے باعث دس لاکھ روہنگیا مسلمانوں کوشہری حقوق حاصل نہیںاوروہ برمامیںکسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 1982ء میں شہریت کے قوانین میں تبدیلی کرکے برماکی شہریت سے ہی محروم کردیاگیا۔انھیں رہائش،روزگار،تعلیم اورصحت سمیت کوئی بنیادی سہولت حاصل نہیں ہے۔برماحکومت انھیں اپناشہری ہی نہیں سمجھتی اس لئے ان کی فلاح وبہبود کے حوالے سے بھی کوئی انتظام نہیں کیاجاتا۔یہاں تک کہ اگرمقامی بدھ مت کے لوگ ان سے زیادتی کریں توروہنگیائی مسلمان کسی عدالت میں انصاف کے لئے آوازبھی نہیں اٹھاسکتے۔مقامی پولیس بھی اپنے ہم مذہب بدھ مت کے ماننے والوںکاساتھ دیتی ہے۔اس سے زیادہ متعصبانہ رویہ برماکی فوج کا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انھیں شادی کے لئے بھی حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے اوروہ دو سے زیادہ بچے بھی پیدا نہیں کرسکتے۔انھیں ایک شہرسے دوسرے شہرآنے جانے کے لئے خصوصی اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت رخائن میں رہتی ہے۔جبکہ برمامیں کسی جگہ وہ کوئی جائیداد وغیرہ بھی نہیں خرید سکتے۔ بھارت بھی ان مسلمانوں کی نسل کشی میں برماکی فوج کاساتھ دے رہاہے۔میانمارکی سرحدیں بنگلہ دیش اوربھارت سے بھی ملتی ہیں۔ روہنگیامسلمان اس ظلم وستم سے تنگ آکربنگلہ دیش ہجرت کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش نے عالمی برادری کے دباؤ پرسرحد کے قریب کچھ کیمپ قائم کئے ہیں۔ تاہم بنگلہ دیش کامیانمارحکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ان لوگوں کوواپس لے، یہ بنگلہ دیشی شہری نہیں ہیں۔بھارت روہنگیامسلمانوں کوپناہ دینے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ بھارتی فوج نے بھارت میں داخل ہونے والے ہزاروں مہاجرین کو طاقت کے ذریعے واپس برما بھیج دیاہے۔ بھارتی حکومت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واضح طورپرکہاہے کہ وہ ان مہاجرین کوقبول نہیں کر سکتی، اقوام متحدہ کاچارٹرکہتاہے کہ جب کوئی پناہ گزین کسی ملک میں پناہ کے لئے آتاہے تواسے زبردستی اُس ملک میں واپس نہیں بھیجاجاسکتا۔ان روہنگیا مسلمانوں خصوصاً ان کے بچوں کوایک بہترمستقبل دینے کے لئے عالمی برادری کو فوری اورٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔دس لاکھ مسلمان ہیں جنھیں نہ میانمار اپناشہری تسلیم کررہاہے اورنہ بنگلہ دیش۔وہ دونوں ملکوں کی سرحد پربھٹک رہے ہیں اورہزاروں کھلے سمندرمیں، کشتیوں میں ایک ساحل سے دوسرے ساحل کی طرف دھکیلے جارہے ہیں۔لیکن کوئی انھیں پناہ دینے کے لئے تیارنہیں۔ پاکستان نے ابتداء میں ہزاروں روہنگیامسلمانوں کوپناہ دی۔ اس وقت ایک غیرسرکاری رپورٹ کے مطابق دولاکھ سے زیادہ روہنگیامسلمان کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں موجود ہیں ان میں سے کئی خاندانوں نے پاکستانیوں سے ہی شادیاں بھی کرلی ہیں۔


روہنگیامسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم نے آنگ سان سوچی کی سیاسی ساکھ کونقصان پہنچایاہے۔عالمی برادری میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے کے باعث ان کابڑااحترام تھا لیکن انہوں نے ان مظالم پرخاموشی اختیار کر کے عالمی برادری کاسرشرم سے جھکا دیا ہے،خود ان کی ساکھ بھی متاثرہوئی ہے۔ آنگ سان سوچی نے عالمی میڈیا پرالزام لگادیا کہ وہ غلط پروپیگنڈا کر رہاہے۔


بعض حلقوں کی طرف سے کہا جارہاہے کہ میانمارحکومت کوہمارے دوست ملک چین کی مدد بھی حاصل ہے۔ چین برمامیں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ میانمارحکومت اپنارُخ مغربی ممالک سے چین کی طرف موڑ رہی ہے۔ مغربی ممالک اسی لئے میانمارحکومت کو دباؤ میں لاناچاہتے ہیں۔ ہوسکتاہے اس دلیل میں کچھ وزن ہو۔لیکن اس وقت اصل اوربنیادی مسئلہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کاہے۔انھیں بچانے کے لئے عالمی برادری کواپناعملی کردار ادا کرناہوگا۔ روہنگیا مسلمانوں کامسئلہ خود برما حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کی سنگین غلطیوں اور متعصبانہ اقدامات کے باعث پیداہوا۔ اسے اس تناظرمیں نہیں دیکھناچاہئے کہ روہنگیا مسلمانوں کی مددکرنے سے پاکستان کے کسی دوست ملک سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ریاست رخائن میں 2012ء میں بھی فسادات ہوچکے ہیں جن میں ایک لاکھ روہنگیامسلمان بے گھرہو گئے تھے اورہزاروں مارے گئے۔ رخائن میں ایک تنظیم ''آراکان روہنگیاسیلویشن آرمی'' اے آرایس اے کام کررہی ہے۔ اس تنظیم کومیانمارحکومت نے دہشت گرد تنطیم قراردیاہواہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ اس تنظیم کے کارکن مسلمانوں کے علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔ اس تنظیم کے ارکان کی تعداد چند درجن سے زیادہ نہیں۔ لیکن اس تنظیم کی آڑمیں برما حکومت نے روہنگیامسلمانوں پرظلم وستم کی انتہاکردی ہے۔ برماحکومت نے عالمی میڈیا کے متاثرہ علاقوں میں جانے پرپابندی لگائی ہوئی ہے،بہت سے میڈیا نمائندوں کوائیرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا ہے، کئی کوبعدمیں ڈیپورٹ کردیا گیا۔ میانمارمسلمانوں پرظلم وستم کی جوتصویریں آرہی ہیں وہ زیادہ ترسوشل میڈیا کے ذریعے آرہی ہیں۔


روہنگیامسلمانوں کامسئلہ اسی صورت میں حل ہوگا کہ روہنگیامسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے ممالک میانمارحکومت پرپابندیاں لگانے کے لئے عملی اقدامات کریں اورمیانمارحکومت کومجبورکریں کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین کاخاتمہ کرے اورانھیں بنیادی شہری حقوق دے کربرابرکاشہری تسلیم کرے۔اگرمیانمارحکومت یہ سب اقدامات نہیں کرتی تویہ مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی برادری کے دباؤ پربرماکی فوج اورپولیس چند دنوں کے لئے ظالمانہ آپریشن روک دے گی لیکن جونہی عالمی برادری کادباؤ کم ہوگا وہ دوبارہ سے روہنگیامسلمانوں کورخائن سے نکالنے کاکام شروع کردے گی۔ اس مسئلے کامؤثر اورپائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اوآئی سی کوبھی صرف مذمتی بیانات جاری کرنے کے بجائے اپناعملی کردار ادا کرناچاہئے۔او آئی سی کی جانب سے میانمارحکومت کاتجارتی واقتصادی بائیکاٹ بھی اس پردباؤ ڈالنے کا ایک آپشن ہوسکتا ہے۔دوسری طرف مہاجرکیمپوں میں رہنے والے غریب وبے کس روہنگیامسلمانوں کے لئے امدادی کارروائیاں بھی تیزکرنے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

قومیں اپنی بقاء کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دیتی ہیں۔ کسی قوم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی نو جوان نسل اپنی سرزمین اور اپنے نظریے کے ساتھ کس طرح سے جڑی ہوئی ہے اور وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کس قدر پرعزم ہے۔ الحمدﷲ پاکستانی قوم اور اس کے نوجوان اپنی دھرتی کی حفاظت اس سرشاری سے کرتے ہیں کہ اٹھارہ اٹھارہ، بائیس بائیس سال کے نوجوان اپنا آج قوم کے کل کے لئے قربان کرتے ہوئے ایک پل نہیں لگاتے۔ راجگال پوسٹ پر سرحد پار سے دہشت گردی کے حملے کے نتیجے میں اس پوسٹ کا کمانڈر بائیس سالہ لیفٹیننٹ ارسلان اپنی جان پر کھیل گیا لیکن اس نے پوسٹ پر لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔نوعمر لیفٹیننٹ ارسلان شہیدتین بہنوں کا اکلوتا بھائی اور اپنے بوڑھے والدین کا واحد سہارا تھا لیکن دفاعِ وطن کی خاطر اس نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہید لیفٹیننٹ ارسلان کے گھر جا کر والدین سے ملاقات کی اور قبر پر فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوںنے کہا کہ امن اور قانون کی حکمرانی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کے لئے نوجوان قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ پاکستان کے حوالے سے پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوںنے کہا سمندر پار بیٹھ کر ملک توڑنے کی باتیں کرنے والے عنقریب قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ انہوںنے کہا کہ جب تک ہمارے بہادر بیٹے موجود ہیں وطن پر کوئی آنچ نہیںآئے گی۔


دشمن پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کی اس غیرت اور اَنا سے بخوبی واقف ہے جو وہ اپنی سرحدوں کے تقدس کی حفاظت کے لئے رکھتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف گزشتہ پندرہ برس سے جاری جنگ میں افواج پاکستان اور پاکستانی قوم کی قربانیاں دنیا بھر کی اقوام سے زیادہ ہیں۔ یہ وہ مسلح افواج ہیں کہ جس کا سپہ سالار آج بھی سینہ تان کر دشمن کو باور کراتا ہے کہ تمہاری گولیاں ختم ہو جائیں گی لیکن ہمارے جوانوں کے سینے ختم نہیں ہوں گے۔ اس سے ہماری مسلح افواج کے دفاع وطن کے حوالے سے نہ صرف ایک عظیم تر نظریے کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ وہ جذبہ بھی عود آتا ہے کہ جس کے تحت ہمارے سولجر اور افسر اس ملک پر جان وارنا اپنے لئے باعث صد وقار گردانتے ہیں۔یوں اُن شہیدوں اور غازیوں کے خون کا ایک ایک قطرہ خوشبو بن کر ملک کی فضائوں کو معطر کرتا ہے۔یہ افواج پاکستان کی قربانیوں ہی کا ثمر ہے کہ شمالی وزیرستان کا وہ علاقہ جو کبھی دہشت گردوں کا گڑھ تھا، وہیں آج پاکستانی قوم کرکٹ کا امن کپ 2017منعقد کروا کر بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دے رہی ہے کہ الحمدﷲ! ان علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا ہو چکا ہے اور مقامی عوام ایک پُرامن فضا میں سانس لے رہے ہیں۔
جذبے زندہ ہیں تو قوم زندہ ہے۔ بلاشبہ یہ قوم زندہ جذبوں والی قوم ہے کہ جس نے اس سرزمین کے حصول کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں اور اس کے بعد اس مقدس سرزمین کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل قربانیاں دیتی آ رہی ہے۔ دشمن جان لے! ایسی عظیم قوم اور اس کی بہادر افواج کو کبھی نہیں ہرایا جا سکتا۔ دنیا کے منظر پر ایسی ہی اقوام اپنی جگہ بناتی ہیں جو اپنے عظیم تر مقاصد سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ ان کی تکمیل کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کا حوصلہ بھی رکھتی ہوں۔ وہ دن دور نہیں جب یہ قوم شدت پسندی سمیت دیگر تمام چیلنجز پر مکمل طور پرقابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ انشاء اﷲ!
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

06
October

تحریر: حماس حمید چودھری

جرمنی کے شہر ' ہیمبرگ' میں جی ۔20 ممالک کا بارہواں سربراہی اجلاس رواں سال جولائی میں منعقد ہوا جس کی جرمنی نے پہلی بار میزبانی کی۔ اس وقت جی۔ٹونٹی گروپ کے 20 ممالک جبکہ یورپی یونین بحیثیت ادارہ بیسواں رکن ہے۔ اس کے علاوہ چند ممالک جن میں نیدرلینڈز ، اسپین، سنگاپور وغیرہ شامل ہیں، ان کو بھی باقاعدہ مدعو کیا جاتا ہے۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان کے ساتھ ساتھ وزراء برائے مالیاتی امور اور ان ممالک کے سینٹرل بینکوں کے گورنرز نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف ، افریقی یونین اور عالمی بینک کے سربراہان سمیت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔


اگر اس گروپ کے تاریخی پہلوکا جائزہ لیا جائے تو دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تعاون بڑھانے کے لئے اٹھائے گئے اقدام میں یہ تازہ ترین قدم ہے جس کی بنیاد جون 1999ء میں جی۔سیون گروپ کو مزید وسعت دینے کے لئے رکھی گئی ۔ اس گروپ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ تنظیم کا درجہ نہیں رکھتا اور دیگر عالمی اداروں کی طرح اس کا کوئی باقاعدہ دفتر اور عہدیداران نہیں ہیں بلکہ اس کا ایک چیئرپرسن ہے جو آج کل جرمن چانسلر، انجیلا مرکل، ہیں۔ کچھ مخصوص حلقوں نے جی ٹونٹی کی جانب سے فرانس میں موجود او۔ای۔سی۔ڈی کے ہیڈ کوارٹرز کو بطور سکریٹریٹ استعمال کرنے پر اعتراض بھی اٹھایا ہے ۔ ان تمام تر مسائل اور غیر رسمی حیثیت کے باوجود جی۔ٹونٹی گزشتہ چند سالوں کے دوران ایک مؤثر معاشی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے حیران کن طور پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جی۔ٹونٹی کے ابتدائی اجلاسوں میں صرف رکن ممالک کے مالی امور کے وزراء اور مرکزی بینکوں کے گورنرز ہی حصہ لیتے تھے لیکن 2008ء میں امریکی کارپوریشن لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے سے عالمی منڈی مالیاتی بحران کا شکار ہو گئی جس کے باعث جی۔ٹونٹی کی اہمیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور دنیا کی معاشی طاقتوں نے اس بحران، اور مستقبل کے ممکنہ بحرانوں، سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

gtwentygermany.jpg
ہیمبرگ کا اجلاس اسی معاشی تعاون کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 2017ء کا یہ اجلاس اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس وقت دہشت گردی اور مختلف خطوں کی غیر مستحکم سیاسی و معاشی صورتحال کے باعث پوری دنیا ایک غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ اسی لئے معاشی ترقی اور بین الاقوامی تجارت کے ساتھ ساتھ شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ ،یورپ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیاں، صحت اور ماحول کے مسائل بھی اجلاس کے ایجنڈا میں شامل تھے۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی سمگلنگ ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور صرف لیبیا میں پچھلے سال اس مد میں تقریباََ 2 ارب ڈالر کمائے جاچکے ہیں اور یہ پیسہ دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ سربراہی اجلاس سے قبل برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ہمیں انتہا پسند نظریات کو ختم کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لئے ہمیں ایسے عناصر کی مالی امداد بند کرنا ہوگی۔ اس امر کے لئے انہوں نے دنیا بھر کے سرکاری اور نجی سیکٹرز کو مشکوک مالی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اجلاس کے دوران تمام سربراہان سے اس سلسلے میں انفرادی طور پر با ت کریں گی۔ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد پہلی بار روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن سے مصافحہ کیا اور یہ بات اس لئے اہم ہے کیونکہ امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ ان کے الیکشن جیتنے میں امریکہ کے روایتی حریف روس کے سائبر سیل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔


اجلاس میں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا گیا اور رکن ممالک کو شمالی کوریا پر معاشی پابندیاں لگانے کے لئے کہا لیکن اس موقع پر چین کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے اور ہمسایہ ممالک کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث جنم لینے والے مسائل اور مستقبل میں اس کے ممکنہ خطرات کی سنگینی پر بھی روشنی ڈالی گئی اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرے لیکن اس سلسلے میں امریکہ نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان بھی پیرس معاہدے کا حصہ ہے اور پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس معاہدے کی پاسداری کرے گا اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گا۔


جی ۔ٹونٹی اجلاس کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی ایک مخصوص پراپیگنڈہ پر عمل پیرا دکھائی دیئے۔جی ٹونٹی گروپ کا پاکستان سے بظاہر براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود نریندر مودی مختلف موقعوں پر پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرتے نظر آئے۔اجلاس کے دوران ایک موقع پر انہوں نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کا داعش اور القاعدہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کوہتھیار کے طور پر دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور دنیا کو ایسے ممالک کے خلاف اجتماعی اور سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نریندر مودی کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا کیونکہ روزِاول سے بھارت لشکر طیبہ اور جیش محمد کی سرپرستی کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے اور بھارت اپنے ملک میں ہونے والی تمام تر دہشت گرد کارروائیوں کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی ذمہ داری پاکستان پر تھوپ دیتا ہے۔ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں تیز کرنے کے لئے اپنا 11 نکاتی ایجنڈہ بھی پیش کر دیا۔ ان نکات میں سے ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ ایسے ممالک کا جی۔ٹونٹی میں داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا جائے اور یہاں بھی ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا کیونکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے اور گیلپ کے مطابق 2030ء تک پاکستان دنیا کی ٹاپ ٹونٹی معاشی طاقتوں میں سے ایک ہوگا اور بھارت کو اسی بات کا خوف ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران نریندر مودی کی مرکزی توجہ دہشت گردی کے مسئلے پر ہی تھی اور جرمن چانسلر سے انفرادی ملاقات کے دوران بھی انہوں نے اس مسئلے کو اٹھایا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سربراہی اجلاس کے دوران نریندر مودی کی صرف یہی کوشش تھی کہ رکن ممالک کا دھیان کشمیر میں جاری بھارتی سفاکیت کی جانب مبذول نہ ہو اور کشمیریوں کی جانب سے آزادی کے لئے جاری مزاحمت کو دہشت گردی کا رنگ دے کر دنیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جائے۔


جب سے نریندر مودی نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا ہے، بھارت کی خارجہ پالیسی کی ترجیح پاکستان کو غیر مستحکم اور عالمی برادری میں تنہائی کا شکار کرنا ہے جو کہ اس اجلاس میں واضح طور پر محسوس ہوا ۔اگرچہ پاکستان ابھی تک عالمی برادری میں اپنا کیس مؤثر انداز میں نہیں لڑ سکا لیکن اس کے باوجود بھارت اپنے ناپاک عزائم میں ابھی تک کامیاب بھی نہیں ہو سکا۔بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود پاکستان میں سی پیک کے منصوبے کا آغاز ہوا جو کہ کامیابی سے جاری ہے۔سی پیک بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس کی کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرسکے لیکن پاک فوج اس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔پاک فوج نے سی پیک کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہوئی ہے اور اب تک نہایت احسن انداز میں اس ذمہ داری کو پورا کر رہی ہے۔


ایک بات غور طلب ہے کہ پاکستان جی۔ٹونٹی کے بہت سے ممالک کی طرح معاشی طور پر ابھرتی ہوئی ایک طاقت ہے لیکن اس کے باوجود ہم جی ٹونٹی کا حصہ نہیں۔ اگر میکسیکو جو کہ جی ۔ٹونٹی کا ایک مستقل رکن ہے اس کا موازنہ پاکستان سے کیا جائے تو میکسیکو میں پاکستان کی نسبت چالیس فیصد زیادہ غربت ہے اس کے علاوہ اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو میں جرائم کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جس کے باعث وہاں لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ ان تمام تر خرابیوں کے باوجود آج میکسیکو جی ۔ٹونٹی کا مستقل حصہ ہے جبکہ پاکستان نہیں۔ اس کی اہم وجہ ہماری کمزور اور غیر مستحکم پالیسیاں ہے۔ اگر آج ہم جی ۔ٹونٹی گروپ کا حصہ ہوتے تو بہتر اور مؤثر انداز میں بھارتی پراپیگنڈہ کا جواب دیں سکتے لیکن بد قسمتی سے ہماری اس سربراہی اجلاس میں کوئی نما ئندگی ہی نہیں تھی۔


سی پیک اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان جی۔ٹونٹی گروپ میں جگہ بنا لے گا لیکن ایک بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی افواج سی پیک کو بحفاظت تکمیل کے مرحلے تک تو پہنچا دیں گی لیکن جب عالمی برادری میں کیس لڑنے کا وقت آئے گا تو یہ سویلین حکومت کے لئے امتحان ہوگا کہ وہ کس انداز میں عالمی برادری کے سامنے اپنا کیس پیش کرتی ہے۔ پاکستان کے پاس تمام وسائل موجود ہیں جو کہ اسے دنیا کی بڑی معاشی طاقت بنانے کے لئے کافی ہیں لیکن ان کا مؤثر استعمال بہت ضروری ہے۔ عالمی حالات اس وقت ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان کے پاس مزید کسی غلطی کی گنجائش نہیںہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ نہ صرف اندرونی بلکہ عالمی حالات میں بہتری کے لئے کردار ادا کرے تاکہ عالمی برادری کو اندازہ ہو سکے کہ پاکستان ایک دہشتگرد ریاست نہیں بلکہ ایک امن پسند ملک ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان سمیت پورے ملک میں جو دہشتگردی کی کارروائیاں کر وا رہا ہے پاکستان کو چاہئے کہ اس کے ثبوت عالمی عدالت میں پیش کرے تاکہ بھارت کا مکار چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوسکے۔

مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخان

شمالی کوریا کی طرف سے 3ستمبر کو ہائیڈروجن بم اور اس سے قبل اوائل اگست میں بیلسٹک میزائل کے تجربات کے خلاف رد عمل کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کے خلاف بھاری اقتصادی پابندیوں کے حق میں قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے تحت شمالی کوریا کو تیل اور گیس کی فراہمی اور اس کی ٹیکسٹائل برآمدات پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ ان سے کہیں زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنا چاہتا تھا جن میں تیل اور گیس کی درآمدات پر مکمل پابندی، شمالی کوریا اور اس کے لیڈر کم جونگ کے اثاثوں کو منجمد کرنا شامل تھا۔ مگر چین اور روس نے ان پابندیوں کی مخالفت کی تھی اور سلامتی کونسل میں اس کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم امریکہ کی طرف سے پابندیوں میں نرمی پر آمادگی کے بعد نئی قرارداد منظور کر لی گئی۔ مبصرین کے مطابق نئی قرارداد میں بھی جن پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے، کافی سخت ہیں اور وہ شمالی کوریا کی معیشت کو کافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس سے قبل بھی سلامتی کونسل شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کی منظوری دے چکی ہے۔ یہ پابندیاں اوائل اگست میں شمالی کوریا کی طرف سے دور تک مار کرنے والے میزائل ٹیسٹ کے جواب میں عائد کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کی تین اہم برآمدات یعنی کوئلہ، خام لوہا اور سی فوڈ
(Sea Food)
کی خریداری کی بندش بھی شامل تھی۔
اگرچہ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات اور میزائل کی تیاریوں پر مشرق بعید کے دیگر ممالک خصوصاً جاپان اور جنوبی کوریا کو بھی شدید تشویش لاحق ہے۔ مگر کوریا کا مسئلہ بنیادی طور پر امریکہ اور شمالی کوریا کے گرد گھومتا ہے۔ اس مسئلے کی کیا نوعیت ہے؟ کیا اس کا باعث صرف شمالی کوریا کا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ہے۔ یا اسے پیدا کرنے اور اسے سنگین بنانے میں امریکہ کا بھی ہاتھ ہے؟ ان دونوں ممالک کے مفادات کے علاوہ اور کون سے جیوسٹریٹجک اور سیاسی عوامل ہیں جو اس مسئلے کے ایک مستقل اور تسلی بخش حل کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق الٹنا پڑیں گے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مسئلہ کب شروع ہوا؟ کیسے شروع ہوا؟ اور موجودہ مرحلے پر کیسے پہنچا؟


اگر ہم نقشے میں جزیرہ نما کوریا اور اس کے گردونواح میں واقع علاقوں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جاپان اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان بہت کم فاصلہ ہے۔ اسی لئے جزیرہ نما کوریا کو ایک ایسے خنجر سے تشبیہہ دی جاتی ہے جس کا رخ جاپان کی طرف ہے۔ ماضی قدیم میں ایشیا سے جاپان پر جتنے بھی حملے ہوئے یا آبادی کی نقل مکانی ہوئی۔ وہ جزیرہ نما کوریا کے راستے ہی ہوئی۔ حتیٰ کہ بدھ مت بھی جاپان میں ایشیا (چین) سے جزیرہ نما کوریا کے راستے ہی سے داخل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور جاپان نے اس میں شرکت کا اعلان کیا تو اس کا سب سے پہلا اقدام جزیرہ نما کوریا پر قبضہ تھا۔ جنگ ہارنے کے بعد دوسری جنگ میں امریکہ اور سابقہ سوویت یونین نے جزیرہ نما کوریا کو جاپانی فوج سے آزاد کروا لیا۔ لیکن متوازی خط الاستوا کے ساتھ ساتھ دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یہیں سے جزیرہ نما کوریا اور اس کے باشندوں پر دور ابتلاء کا آغاز ہوتاہے۔ کیونکہ جنگ کے بعد شمالی حصے میں سابقہ سوویت یونین کے زیراثر ایک کمیونسٹ حکومت قائم کر دی گئی اور جنوبی حصے میں امریکہ نے اپنا قبضہ مستحکم کر کے ایک الگ حکومت قائم کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی افواج جنوبی حصے میں متعین کر دیں۔ یوں جزیرہ نما کوریا جو جنگ عظیم دوئم سے قبل ایک ہی ملک تھا، دو ممالک یعنی شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں منقسم ہو گیا۔ اسی تقسیم کی وجہ سے 1951میں کوریا کی جنگ چھڑ گئی۔ جو دو سال تک جاری رہی۔ اس میں اگرچہ اقوام متحدہ کی کمان کے تحت متعدد ملکوں کے فوجی دستوں نے جنوبی کوریا پر شمالی کوریا کے حملے کے خلاف حصہ لیا تھا لیکن 90فیصد فوجیں امریکہ کی تھیں۔ اسی لئے شروع سے ہی شمالی کوریا کی نظر میں امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو اس کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور کوریا کے دو حصوں کو دوبارہ ایک کرنے کے خلاف ہے۔ 1953 میں جب کوریا کی جنگ بند کرنے پر فریقین رضا مند ہوئے تو جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان مستقل معاہدہ امن کی بجائے عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ شمالی کوریا، کوریا کی تقسیم کو غیرفطری اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ سمجھتا ہے۔ جسے امریکہ نے بحرالکاہل میں اپنے اور اپنے اتحادی ممالک خصوصاً جاپان کے مفادات کے تحفظ کے لئے کوریا کے عوام پر زبردستی ٹھونس رکھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں کوریا کی وجہ سے مشرق بعید میں حالات سخت کشیدہ رہے کیونکہ امریکہ نے جنوبی کوریا کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کر رکھا تھا جہاں ایٹمی ہتھیار بھی موجود تھے۔ جنوبی کوریا میں امریکہ ایٹمی اور غیرایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہزاروں کی تعداد میں اپنی افواج کی موجودگی کو شمالی کوریا کی طرف سے کسی ممکنہ حملے کو روکنے کے لئے ضروری سمجھتا تھا۔ مگر شمالی کوریا کے لئے یہ ایک کھلی اشتعال انگیزی تھی۔ اس کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں حالات سخت کشیدہ رہے۔ کیونکہ شمالی کوریا کو روس اور چین دونوں کی حمایت حاصل تھی لیکن 1990کی دہائی کے اوائل میں سابقہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور دو سپر طاقتوں کے درمیان سردجنگ کے خاتمے سے شمالی کوریا کے لئے ایک بالکل نئے اور مشکل دور کا آغاز ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سویت یونین شمالی کوریا کا واحد سہارا تھا اس کے حصے بخرے ہونے کے بعد اس کی جگہ جو نیا ملک یعنی روس ابھرا اس نے شمالی کوریا کا ساتھ دینے یا کسی قسم کی امداد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ سابقہ سوویت یونین دور میں شمالی کوریا کے ساتھ تعاون، دوستی اور باہمی امداد کے لئے جو معاہدہ تھا، نئے ملک روس نے اس میں توسیع کرنے سے انکار رکر دیا بلکہ تین سال بعد اس معاہدے کو منسوخ کر دیا۔ سوویت یونین کا خاتمہ شمالی کوریا کے لئے ایک سخت دھچکا تھا۔ اس نے چین سے رابطہ قائم کر کے اس سے امداد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن چین جس کے ساتھ شمالی کوریا کی 1300کلومیٹر لمبی سرحد ملتی ہے بڑے پیمانے پر شمالی کوریا کو امداد فراہم کرنے سے قاصر تھا۔ اسی دوران جنوبی کوریا نے نہ صرف زبردست اقتصادی ترقی کی بلکہ جاپان، امریکہ اور دُنیا کے دیگر ممالک کے علاوہ خود چین نے بھی اس کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات قائم کر لئے۔ اس کے مقابلے میں روس کا واحد سہارا چھن جانے کے بعد شمالی کوریا کی معیشت خصوصاً زراعت اور صنعت بری طرح متاثر ہوئی اور لوگوں کا معیار زندگی گرنے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کو امریکہ کی طرف سے معاندانہ بلکہ جارحانہ رویے کا سامنا تھا جس نے جنوبی کوریا میں اپنی فوجی قوت کو بڑھا کر شمالی کوریا کے لئے ایک واضح خطرے کی صورت پیدا کر دی تھی۔ مبصرین کے مطابق شمالی کوریا نے مایوس ہو کر ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے اس نے سب سے پہلے جوہری ہتھیار کے عدم پھیلائو کے معاہدے یعنی
NPT
سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جب امریکہ کو شمالی کوریا کی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا پتہ چلا تو اس نے چین کے ذریعے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ چین خود بھی جزیرہ نما کوریا میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ کے خلاف تھا۔ اس لئے اس نے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو روک دینے کی درخواست کی اور اس کے ساتھ امریکہ کو بھی کہا کہ وہ شمالی کوریا کی سلامتی کو لاحق خطرات دور کرنے کے لئے اقدامات کرے جن میں سرفہرست جنوبی کوریا میں اسلحے کے انبار لگانے اور بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کرنے سے اجتناب تھا لیکن اس معاملے میں جب امریکہ نے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا بلکہ شمالی کوریا کو حملے کی دھمکی دیتا رہاتو شمالی کوریا نے ایٹمی تجربات کا اعلان کر دیا اور 2005 میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ اس کے بعد امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں نہ صرف زیادہ دلچسپی ظاہر کرنا شروع کر دی بلکہ اس کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا۔ ابتداء میں یہ مذاکرات چین کے توسط سے شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان تھے لیکن بعد میں جاپان، جنوبی کوریا اور روس کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ امریکہ کے صدر جمی کارٹر کی کوششوں سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت شمالی کوریا نے اپنے زیرتعمیر دو ایٹمی ری ایکٹر بند کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے بدلے امریکہ نے شمالی کوریا کو ایٹمی قوت کے پرامن استعمال کے لئے 1000میگاواٹ کے دو ہلکے پانی کے ری ایکٹر اور ہر سال 50,000ٹن تیل دینے کا وعدہ کیا مگر اسی دوران امریکہ میں ڈیموکرٹیک پارٹی کے صدر کارٹر کی جگہ ری پبلکن پارٹی کے صدر ڈونلڈ ریگن نے حکومت سنبھال لی۔ ریگن انتظامیہ کی تمام تر توجہ افغانستان پر تھی۔ اسی لئے شمالی کوریا کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ جواب میں شمالی کوریا نے بھی اپنے ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر جاری رکھی۔ تاہم بل کلنٹن کے زمانے میں امریکہ اور شمالی کوریا ایک دفعہ پھر معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔ کلنٹن انتظامیہ کی دوسری مدت کے آخری سال یعنی 2000 میں سیکرٹری آف سٹیٹ میڈلین البرائٹ نے شمالی کوریا کا دورہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ کلنٹن کے شمالی کوریا اور شمالی کوریا کے لیڈر کم اِل سونگ کے امریکہ کے دورے کی بات چیت بھی چل رہی تھی۔ لیکن بش کے برسراقتدار آنے سے حالات یکسر بدل گئے۔ کیونکہ بش نے 2002میں اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں شمالی کوریا کو ایران، عراق کے ساتھ جوڑکے تینوں ممالک کو ایکسز آف ایول
(Axis of Evil)
قرار دے دیا۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور اول الذکر کی طرف سے چھٹا ہائیڈروجن بم کا دھماکہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے شکوک و شبہات اور عدم اعتماد اس عمل کی پیداوار ہے جس میں امریکہ شمالی کوریا کے سکیورٹی کے متعلق جائز خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سلامتی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے سخت پابندیاں تو عائد کر دی ہیں لیکن ان سے کوریا کا ایٹمی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ کیونکہ جیسا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ پابندیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مرغِ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن
برگِ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن
حسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لئے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بَن؟
اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!
مَن کی دُنیا؟ مَن کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دنیا؟ تن کی دنیا سُود و سَودا مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تَن کی دولت چھائوں ہے! آتا ہے دھن، جاتاہے دھن!
مَن کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
مَن کی دنیا میں نہ دیکھے میںنے شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ مَن تیرا، نہ تَن!

علامہ محمداقبال

*****

 
06
October

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط نمبر21

گیٹ ٹو گَیدر
گیٹ ٹو گَیدر یعنی میل ملاقات فوجی زندگی کا خاصہ ہے۔ سیاچن کی برف پوش چوٹیاں ہوں، کوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑ ہوں، چولستان اور تھر کا صحرا ہو یا پنجاب کے میدانی علاقے، فوجی چاہے کہیں بھی ہوں مل بیٹھنے کا بہانہ ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔اس کی نوعیت اور لیول ضرور مختلف ہو سکتے ہیں مثلا یونٹ افسروں یا کورس میٹس کی ملاقات، یونٹ کا سالانہ یوم تاسیس، عید ملن پارٹی یا لیڈیز کلب کی تقریب، لیکن مقصد وہی ایک کہ عسکری زندگی کی کرخت سطح کو میل ملاپ کے ذریعے ہموار کرنا اورمشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایک دوسرے کو ہمت و طاقت مہیا کرنا۔ یہاں اپنے ایک کورس میٹ کا ذکر کرتے چلیں جو سیاچن میں اپنی اٹھارہ ہزار فٹ بلند پوسٹ سے دوسرے کورس میٹ سے ملاقات کرنے اس کی پوسٹ پر تشریف لے گئے تھے جس کی بلندی بیس ہزار فٹ تھی۔

gettogether.jpg
ہم سٹاف کورس کے لئے کوئٹہ پہنچے تو وہاں طرح طرح کی گیٹ ٹو گَیدرز کا رواج دیکھا۔یار لوگوں نے چھوٹتے ہی 'آرم وائز 'گیٹ ٹو گیدر منعقد کرنا شروع کیں۔ انفنٹری افسروں کی تعداد تو سیکڑوں میں تھی ہی، آرٹلری، آرمر، انجینئرز، ایئر ڈیفنس وغیرہ والے بھی کم نہ تھے۔سب نے اپنی اپنی گیٹ ٹو گَیدر کو خوب انجوائے کیا۔ میس بک کروائے گئے اور پارٹیاں اڑائی گئیں۔ آخر میں آرڈننس کور کی باری آئی تو ان کی گیٹ ٹو گیدر فقط دو افسران پر مشتمل تھی جو اِن دنوں اتفاق سے سی ایم ایچ میں داخل تھے چنانچہ ان کی یادگار گیٹ ٹو گَیدر سی ایم ایچ کی کنٹین میں منعقد ہوئی۔


بہت سال پہلے ہماری یونٹ کی ایک گَیٹ ٹو گَیدر گیریژن میس راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ اس ایونٹ کو یونٹ کے حاضر سروس اور ریٹائر افسران کی بڑی تعداد نے رونق بخشی۔ سردیوں کا موسم تھا ، سب لوگ کھانے سے پہلے مختلف ٹولیوں کی صورت میں ایک بڑے ہال میں جمع تھے اور باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔ سینئر جونیئر کی تمیز کو میس میں کچھ دیر کے لئے بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔ایسے مواقع پر ہم سینئر افسران کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارنا پسند کرتے ہیں تاکہ ان کے تجربات سے فیض یاب ہو سکیں۔ ہم نے ایک گروپ کو جوائن کیا جہاں ایک ریٹائرڈ میجرکھڑے کہہ رہے تھے ''دوستو! اس یونٹ میں ہم دو کورس میٹس اکٹھے پاس آئوٹ ہو کر آئے تھے۔ میں میجر سے آگے ترقی نہ پا سکا جبکہ میرا کورس میٹ بریگیڈئر بن کر ریٹائر ہوا۔اس نے فوج کی وہ تمام سہولیات انجوائے کیں جو میں میجر ہوتے ہوئے نہ کر سکا۔ اس طرح وہ مجھ سے بہت بہتر رہا۔'' ان کے شکووں سے لبریز فرمودات سننے کے بعد ہم نے ایکسکیوز می کہہ کر ایک دوسرے گروپ کو جوائن کر لیا۔ اس گروپ میں انہی میجر صاحب کے کورس میٹ فرما رہے تھے ''حضرات!میں نے فوج میں بہت محنت کی اور بریگیڈئر کے عہدے تک پہنچا لیکن اس دوران میری ساری توجہ پیشہ ورانہ امور کی جانب رہی جس بنا پر فیملی کو خاطر خواہ وقت نہ دے پایا۔ نتیجتاً میرے بچے تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔جبکہ دوسری جانب میرا کورس میٹ میجر وقت پر ریٹائر ہو گیا، اس نے اپنا کاروبار جمایا اور بچوں کی تعلیم پر صحیح توجہ دی چنانچہ آج اس کی بیٹی ڈاکٹر اور بیٹا انجینئر ہے۔میرے خیال میں تو وہ مجھ سے بہت بہتر رہا۔''


لیڈیز گیٹ ٹو گَیدر میں عموماً مختلف برانڈز کے کپڑوں اور فیشن کے رجحانات پر سیر حاصل تبصرہ فرمانے کے ساتھ ساتھ بیٹ مینوں کی لاپروائیوں اور خاوندوں کی مصروفیات کا رونا رویا جاتا ہے۔بیچ بیچ میں دھوبیوں ، درزیوں ، اور خاکروبوں کا شکوہ بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ گیٹ ٹو گَیدر سے پہلے ہر خاتون کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا پہناوا سب سے دیدہ زیب اور منفرد قرار پائے۔ اس کے لئے رازداری کے ساتھ مختلف برانڈز کی دوکانوں کے چکر لگائے جاتے ہیں اور آن لائن شاپنگ سائٹس پر آرڈر بک کرائے جاتے ہیں۔ کچھ جہاندیدہ بیگمات تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لنڈا بازار کا رخ کرتی ہیں کیونکہ گوہر مراد کا حصول اکثر وہیں سے ممکن ہوتا ہے۔ ایسے میں کسی شناسا سے آمنا سامنا ہو جائے تو ہاتھ میں پکڑی ہوئی سبزی کی ٹوکری کی جانب توجہ دلا کر کہا جاتا ہے کہ کسی نے بتایا تھا کہ یہاں سبزی بہت اچھی ملتی ہے سوچا چل کر دیکھتے ہیں۔ بیگم صاحبہ ہر گیٹ ٹو گیدر سے پہلے شاپنگ پر لے جانے کی فرمائش ضرور کیا کرتی ہیں۔اگر کبھی ڈرتے ڈرتے ان کی توجہ الماری میں پہلے سے موجود بیسیوں جوڑوں کی جانب دلوائی جائے تو جواب میں چہرے پر معصومیت طاری کرکے کہتی ہیں''کہنے کو تو یہ سوٹ بہت ہیں لیکن ان میں ایک بھی کام کا نہیں ہے۔''

detailkev.jpg


ڈیٹیل بریفنگ
فوج کی گاڑی بریفنگ کے پٹرول سے چلتی ہے۔اعلی افسران کوہر مشکل کا حل وزٹ، کانفرنس اور بریفنگ کی صورت میں نظر آتا ہے۔بریفنگ کے لئے سلائیڈز اور مختلف قسم کے چارٹ اور ماڈل بنائے جاتے ہیں۔گئے وقتوں میں یہ کام کافی مشکل ہوا کرتا تھا البتہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر نے یہ مشکل آسان کرنے کے ساتھ ساتھ مزید مسائل کو جنم بھی دے دیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عین موقع پر کمپیوٹر میں وہ وہ خرابیاں نمودار ہوجاتی ہیں جن کا حل شاید بل گیٹس کے پاس بھی نہ ہو۔ سیانے لوگ ہمیشہ سمجھاتے آئے ہیں کہ بھیا اگر عزت بچانا چاہتے ہو تو بریفنگ میں ہر ڈیٹیل (تفصیل) شامل ہونا چاہئے۔ اس سے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ سلائیڈوں کی تعداد ڈیڑھ دو سو سے کم نہ رکھی جائے جبکہ ہمارا ذہن اس بات کو ماننے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوا۔یعنی اگرڈیٹیل شامل کرلی جائے تو پھر بریفنگ کیونکر کہلائے گی۔
ہمارے خیال میں تو ایک اچھی بریفنگ کا دورانیہ پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کی سلائیڈز میں آخری وقت تک ترمیم و اضافہ جاری رہتا ہے۔ بہرحال ایک آدھ روز پہلے کمانڈر کو بریفنگ دکھا کر اپرووکروا لی جاتی ہے۔ ہمارے ایک ڈپٹی کمانڈر اس معاملے میں بہت محتاط ہوا کرتے تھے۔ایک مرتبہ جی او سی کے وزٹ کے لئے ہم نے سلائیڈز تیار کیں اور ایک روز قبل کمانڈر کو دکھا کر اپروو کروا لیں۔ ان کے جانے کے بعد ہم نے دوبارہ سلائیڈوں کا جائزہ لیا تو سپیلنگ کی ایک غلطی دکھائی دی۔ ہم نے ڈپٹی کمانڈر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو بولے ''کچھ بھی ہواب اس غلطی کو درست نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سلائیڈز اپروو ہو چکی ہیں۔''


بریفنگ کیسی بھی ہو، انڈے بچے ضرور دیا کرتی ہے۔ یار لوگوں کی اس سے جان بلاوجہ نہیں جاتی کیونکہ اس عاشقی میں عزت سادات ہر لمحہ دائو پر لگی ہوتی ہے۔ ایک جنگی مشق کے دوران کمانڈر بریفنگ روم میں تشریف لائے۔ جنگی پلان پیش کیا گیا جس میں بے شمار خامیاں تھیں لہٰذا آپریشنز برانچ کی خوب عزت افزائی ہوئی۔ اس کے بعد کمانڈر نے ڈی کیو سے پوچھا کہ آپ نے کیا تیاری کی ہے۔ وہ بولے ''سر! میں جوانوں کے لئے راشن سپلائی کرنے کا بندوبست کر رہا ہوں۔'' کمانڈر کہنے لگے ''جس قسم کا پلان تم لوگوں نے تیار کیا ہے اس کے بعدتو تمہیں راشن کی بجائے کفن دفن کا بندوبست کرنا چاہئے۔'' ایک آپریشنل بریفنگ کے دوران کمانڈر کو بتایا گیا۔ ''سر! ہم دائیں جانب سے جا کر دشمن پر حملہ کریں گے، دوبدو لڑائی ہو گی اور اس کے بعد چوٹی پر ہمارا قبضہ ہو جائے گا۔'' کمانڈر پلان سن کر بولے ''ٹھیک ہے مگر اس کے بعد کیا ہو گا؟۔''جواب آیا''سر!ٹی بریک۔''اوراس کے بعدچراغوں میں روشنی نہ رہی۔


بورڈ رے بورڈ
پروموشن کے لئے جتنی چھان پھٹک فوج میں کی جاتی ہے اتنی شاید ہی کسی اور محکمے میں ہوتی ہو گی۔فوج میں ہر پروموشن کے لئے ایک خاص عرصہ اور وقت مقرر ہے۔ جوں جوں یہ وقت قریب آتا جاتا ہے افسر امید و بیم کی ایک ملی جلی سی کیفیت میں گرفتار ہوتا چلا جاتاہے۔ میجر کے بعد ہر رینک میں پروموشن کے لئے افسر کو بورڈ کا پل صراط پار کرنا لازمی ہے۔ یہ بورڈ سینئر افسران پر مشتمل ہوتا ہے جو ہر افسر کی پچھلی کارگزاری کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے کر اسے پروموٹ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جس کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے حتمی منظوری دی جاتی ہے۔ افسر بذات خودتو بورڈ کے سامنے پیش نہیں ہوتا تاہم اس کا تمام کچا چٹھا کاغذات کی صورت میں ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ افسر کا کام بس گھر بیٹھ کر'جل تُو جلال تُو' کا ورد کرنا ہوتا ہے۔ بورڈ میں عموماً افسر کی پرانی خطائوں سے تو صرف نظر کر لیا جاتا ہے لیکن تازہ غلطیوں پر محدب عدسہ رکھ کر بحث کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام عمر عشقِ بتاں میں کاٹنے والے'مومن'کو بورڈ قریب آنے پر مسلماں ہونا ہی پڑتا ہے۔ زیادہ تر کا حال تو کرکٹ کے اس بیٹسمین جیسا ہوتا ہے جو سنچری سے محض ایک یا دو رنز کے فاصلے پر ہو اور مخالف فاسٹ بالر بائونسر پر بائونسر پھینک رہا ہو۔


بڑے بوڑھوں نے بورڈ کیسز کے لئے بطور خاص ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ بورڈ کے دنوں میں 'یس سر 'کے علاوہ کوئی کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے ، کسی قسم کی فائل پر دستخط نہ کئے جائیں اور کوئی بھی فیصلہ دینے سے حتی الامکان ''پرہیز'' برتا جائے۔ کچھ دیگر سیانے لوگ کہہ گزرے ہیں کہ امام ضامن ہر وقت باندھ کر رکھا جائے، کمرے سے غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلا جائے اور کسی فوجی گاڑی پر ہرگز سوار نہ ہوا جائے۔بورڈ کے دنوں میں افسر وں کی زیادہ تر دوڑ ملا کی طرح مسجد کی جانب ہی ہوا کرتی ہے۔ کچھ لوگ تو تسبیح ہاتھ میں پکڑے وظائف کا عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ خواتین خانہ کی جانب سے بھی قرآن خوانی کی خصوصی محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ بورڈ والے افسر سے کسی معاملے میں رائے پوچھیں تو پوری بات سن کر فرماتے ہیں ''یارتمہیں جو مناسب لگے کر لو۔ روزہ افطار ہونے والا ہے،مجھے اجازت دو میں چلتا ہوں۔''


بورڈ کیسز کی یہ احتیاط پسندی اپنی جگہ لیکن حکام بالا بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوتے۔ ان کی بھی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اہم ترین کاموں کی ذمہ داری بورڈ والے افسران کے ہی سپرد کی جائے۔ ایسے میں بورڈ کیسز میاں محمد بخش کے ہم زبان ہو کر 'پھنس گئی جان شکنجے اندر جِیُویں ویلن دے وچ گنا'کے نعرے مارتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ سیانے لوگ ان کو ناصر کاظمی کے الفاظ میں تسلی دیتے ہیں کہ ''وقت اچھا بھی آئے گا ناصر، غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی''۔ چند بورڈ کیسز پر بورڈ کے دنوں میں ایک اور قسم کی کیفیت بھی طاری ہوجایا کرتی ہے جسے عرف عام میں ''آبیل مجھے مار''بھی کہا جاتا ہے۔ اس دوران ان کی کوشش ہوتی ہے کہ حکام بالا کی نظر وں میں ممتاز ہونے کے لئے کچھ نیا کر کے دکھایا جائے۔ کبھی کبھار اڑتے تیروں کے ساتھ یہ چھیڑ چھاڑ مہنگی بھی پڑ جاتی ہے جس کا نتیجہ ''کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن ، کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی''کی صورت میں نکلتا ہے۔


لینڈ مارک اور کوے
''دور ہو، مشہور ہو، ہلنے سے مجبور ہو'' اس کہاوت کا تعلق لینڈ مارک سے ہے اور یہ ہر فوجی کو اولین سبق کے طور پر یاد کروائی جاتی ہے۔ لینڈ مارک یا زمینی نشان کیا ہوتا ہے اور اس کی ضرورت کب پیش آتی ہے، اس کے بارے میں آپ کو تھوڑا بتاتے چلیں ۔ کسی بھی آپریشنل پلان کو فیلڈ میں عملی جامہ پہنانے سے پہلے ٹارگٹس یا اہداف کی ریکی کی جاتی ہے۔ اس دوران نقشے پر پہلے سے چنے گئے اہداف کو زمین پر تلاش کر کے پلان کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ اب چونکہ اصل ٹارگٹ دشمن کے علاقے میں واقع ہوتے ہیں اور ریکی کے دوران ان تک بذاتِ خود پہنچا نہیں جا سکتا اس لئے کوئی ایسی اونچی جگہ تلاش کی جاتی ہے جہاں سے تمام علاقہ بخوبی دکھائی دیتا ہو۔ کمانڈر اس جگہ سے اپنے ذیلی کمانڈروں کو بریفنگ دیتا ہے اور مطلوبہ اہداف کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے لئے وہ مختلف واضح طور پر دکھائی دینے والے فیچرز جیسے پہاڑی چوٹی، اکیلا درخت، نالہ جنکشن ، بجلی کا کھمبا وغیرہ کا انتخاب کرتا ہے جنہیں عرفِ عام میں لینڈ مارک کہا جاتا ہے۔ ان لینڈمارکس کے ریفرنس سے مختلف ٹارگٹس کی نشاندہی کی جاتی ہے جیسے ''ریفرنس پوائنٹ سامنے پہاڑی پر موجود اکیلا درخت، اس کے بارہ بجے کی لائن میں 500 میٹر پر دشمن کا مورچہ۔''


کتابی طور پر تو یہ باتیں نہایت آسان لگتی ہیں لیکن جب آپ کسی جنگی مشق کے دوران بریگیڈ کمانڈر کو ٹارگٹ دکھانے کی کوشش کر رہے ہوں تو ہاتھوں سے طوطے اور زمین سے لینڈ مارکس ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ایک مرتبہ ہمارے دوست میجر اختر دشمن کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے ایسی ہی صورتحال کا شکار ہوئے۔ کمانڈر کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بہت سے لینڈ مارک دکھانے کی کوشش کی لیکن کسی بھی طرح ٹارگٹ واضح کرنے میں ناکام رہے۔ کافی دیر تک ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد جب انہیں کوئی اور موزوں لینڈ مارک سجھائی نہیں دیا تو جھنجلا کر بولے ''سر سامنے دیکھئے، آسمان پر کّووں کا ایک غول اڑتا نظر آئے گا، ریفرنس پوائنٹ سب سے بائیں والا کوا، اس کوے کی دس بجے کی لائن میں پانچ سو میٹر دور دشمن کا مورچا ہے۔'' کوّوں کا غول تو کچھ ہی دیر میں اڑتا ہوا نگاہوں سے اوجھل ہو گیا البتہ اس اثنا میں کمانڈر کا پارہ ساتویں آسمان تک پہنچ چکا تھا۔


اتنے بے مثل لینڈ مارک دینے کی پاداش میں میجر اختر کو حکم دیا گیا کہ دو کلومیٹر دور ٹارگٹ کو ہاتھ لگا کر تیس منٹ میں واپس تشریف لائیں۔
(.......جاری ہے)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
October

انٹرویو : صبا زیب


مشکلات کا مقابلہ کر کے ہی کامیابی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔

جن کے حوصلے چٹان ہوں انہیں دنیا کی کوئی طاقت اپنے عزائم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ مشکلات ان سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ تو ہو سکتی ہیں مگر انہیں منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتیں۔
ثمرخان بھی پاکستان کا ایک ایسا ہی چمکتا ستارہ ہے جو دیر کے علاقے سے طلوع ہوا اور نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔ مختلف چوٹیوں کو اپنی سائیکل کے پیڈل سے سر کرتے ہوئے اس نے بہت سے ریکارڈ بنائے۔ وہ زندگی کو مسخر کرنا چاہتی ہے۔ فاصلے اس کی نگاہِ شوق کے سامنے سمٹ سے گئے ہیں۔ پہاڑوں میں پلنے والی یہ لڑکی زندگی کو فتح کرنے کا راز جان چکی ہے۔

samarkhan.jpg
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی


ثمر خان نے ایبٹ آباد آرمی پبلک سکول سے پیراگلائیڈنگ کا کورس کرنے کے بعد سپورٹس کی طرف توجہ دینی شروع کی۔ پہلی بار 2015 میں اسلام آباد سے قراقرم گلیشیئر تک سائیکلنگ کا سفر پندرہ دن میںطے کیا۔ 2016 میں اپنی ایک دوست کے ساتھ اسلام آباد سے درہ خنجراب تک سائیکل پر سفر کیا۔ ثمر خان کے لئے یہ ایک ایسا بریک تھرو تھا جس کی وجہ سے اس نے شہرت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔ غیرملکی میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا پرزبردست پذیرائی ملی۔ اس سفر نے ثمر کے خوف کو بالکل ختم کر دیا اور وہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو گئی۔ ان چیلنجز میں سے ایک بیافو گلیشیئر پر سائیکلنگ تھی۔ اس گلیشیئر پر سائیکلنگ کا مقصد دنیا کو پاکستان کے گلیشیئرز کی طرف متوجہ کرنا تھا جو
Climate Change
کی وجہ سے خطرے کی زد میں ہیں۔
26سالہ ثمرخان ایک نوجوان خاتون سائیکلسٹ ہے جسے اس ملک میں سائیکلنگ کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتداء میں گھر والوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ثمر خان اپنے ارادوں میں مضبوط تھی۔ اس نے اپنے گھر والوں کو اپنی حفاظت کا یقین دلانے کے لئے مارشل آرٹ میں مہارت حاصل کی تاکہ دورانِ سفر کسی بھی خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ جب وہ سڑک پر سائیکل لے کر نکلی تو جہاں کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی وہاں بہت سے لوگوں نے اس کی ہمت بھی بندھائی۔ چائنیز سے مشابہت رکھنے کی وجہ سے اکثر راہ چلتے لوگ
Long Live Pak China Friendship
کے نعرے لگاتے اور اسے کھانے پینے کی چیزیں بھی فراہم کرتے۔
ثمرخان کہتی ہیں کہ میں نے جب سائیکلنگ شروع کی تو شروع شروع کی مشکلات کی بناء پر میں کچھ مایوسی کا شکار تھی لیکن میں نے پُرعزم رہتے ہوئے کامیابیاں سمیٹیں۔ اپنے اس سائیکلنگ کے شوق کی بدولت ہی مجھے اندازہ ہوا کہ میرے اندر کتنی ہمت اور حوصلہ ہے۔

samarkhan1.jpg
ثمرخان کا کہنا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوپاتا کہ ہم میں مشکلات کا سامنا کرنے کی کتنی طاقت ہے۔ دنیا کا شاید ہی ایسا کوئی کام ہو جو ہم نہ کر سکیں۔ ابتداء میں ثمر خان کو پکی سڑک پر سائیکل چلانے کا خوف تھا۔ ٹریفک میں سائیکل چلانا اس کے لئے کافی مشکل تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس نے اس خوف پر قابو پالیا۔ سائیکلنگ کے دوران سخت موسم کو برداشت کرنا بھی اس کے لئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ بعض علاقوں میں شدید گرمی اور بعض علاقوں میں شدید سردی۔ ان سب مشکلات کو برداشت کر کے ہی وہ آج اس قابل ہوئی کہ افریقہ کی بلند ترین چوٹی کو سائیکل کے ذریعے سَر کرنے کا ارادہ کیا۔


ثمرخان نے اپنی تعلیم راولپنڈی میں حاصل کی وہ اپنی کلاس میں ہمیشہ ٹاپ پر رہیں۔ گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے گریجویشن کرنے کے بعد فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے فزکس میں ماسٹرز کیا۔ان کی والدہ کوخاندان والوں کی وجہ سے ثمر کی سائیکلنگ پر تھوڑا اعتراض تھا لیکن ثمر خان کی ہر
Achievement
پرجب خاندان نے انہیں سراہنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ ان کا اعتماد بحال ہوا۔ اب وہ لوگوں کی باتوں کی زیادہ پروا نہیں کرتیں۔ انہیں ثمر خان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔
ثمرخان کا بھائی انیل خان ہر موقع پر اسے سپورٹ کرنے کے لئے اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ ثمرخان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کا سپورٹس میں حصہ لینا اچھا نہیںسمجھا جاتا خاص طور پر ایڈونچر سپورٹس کو تو بالکل بھی
Encourage
نہیں کیا جاتا۔ والدین بھی اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ میں اپنی
Long Distance Cycling
میں سب کو شامل ہونے کی دعوت دیتی ہوں لیکن بمشکل چند خواتین کو اجازت ملتی ہے۔ ثمرخان کہتی ہیں کہ میں سائیکل زیادہ سے زیادہ چلانے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ یہاں لوگوں کو لڑکیوں کو سائیکل پر دیکھنے کی عادت پڑے۔ان کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں کو چاہئے کہ وہ خواتین کو سپورٹس میں خاص طور پر ایڈونچر سپورٹس میں آگے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ثمرخان اب افریقہ کی بلند ترین چوٹی
Mount Kilimanjaro
کو سر کرنے کی خواہش مند ہیں۔ اس سلسلے میں وہ ڈی جی۔ آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سے بھی ملیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کی نوجوانوں میں' خاص طورپر خواتین میں' کھیلوں کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا اور ان کی آنے والی مہم پر انہیں بھرپور معاونت کی یقین دہانی کروائی۔

 
06
October

تحریر: رابعہ رحمن


میجر جمال اپنی فطرت میں ایک انوکھے اور دبنگ انسان تھے، میجر جمال شیران بلوچ11نومبر1986 کو تربت میں میر شیران کے ہاں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم تربت کے کیچ گرامر سکول سے حاصل کی اور ریذیڈیشنل کالج تربت سے ہی فارغ التحصیل ہوئے۔ میجر جمال کے والد میر شیران مسقط آرمی سے ریٹائر ہوئے تھے۔ جسم میں ایک فوجی افسر کا خون دوڑ رہاتھا اور میر شیران کی خواہش بھی تھی کہ ان کے دونوں بیٹے فوج میں جائیں مگر بڑے بیٹے شعیب کوشش کے باوجود فوج میں نہ جاسکے اور میجر جمال کی قسمت کا قرعہ نکل آیا۔

chamankzary.jpg
پانچ بہنوں کے لاڈلے جمال اپنی خاموش اور سنجیدہ طبیعت کے باعث سب کی آنکھ کا تارا تھے، ہلکا پھلکا سہی، مذاق ان کی عادت تھی وہ ہمیشہ دوسروں کی عزت اور بھرم رکھنے کے قائل تھے۔ بہنوںکو اپنے دل کے بہت قریب رکھتے اور عورت کی عزت کو بہت اہمیت دیتے۔ یاروں کے یار اور پیاروں کا پیار، ایسے تھے میجر جمال شہید۔ ان کے دل میں جو بھی بات ہوتی وہ کبھی کسی سے اس کا اظہار نہ کرتے دوسروں کی رضا پہ راضی رہتے۔ انتہائی گرم جوش ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھوتہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ والدین کی عزت میں اپنا سر اور آنکھیں جھکائے رکھتے اور دوستوں کی محفل میں کبھی نازیبا کلمات بھی منہ سے ادا نہ کرتے، انسان کے اندر اعلیٰ صفات ہوں تو وہ انسان عام لوگوں سے مختلف نظرآتاہے، میجر جمال بھی انہی انسانوں میں سے تھے۔ گائوں میں کسی بھی گھرانے کو کوئی مشکل درپیش ہوتی اور میجر جمال کو پتہ چل جاتا تو وہ اس کی مدد کرنے نکل پڑتے ۔سچ اور انصاف کی بات کرتے، ظلم کے انتہائی خلاف اور بزدلی کو گالی سمجھتے تھے، دوستوں میں بیٹھتے اور اگر کوئی مذاق میں ایسی بات کہہ دیتا کہ جس میں محب وطن ہونے کی شدت کو کم کرنے کا شائبہ ہوتا توجمال فوراً کہتے کہ ہمیں وہ دن یاد رکھنا چاہئے جب ہم نے وردی پہن کر ملک وقوم اور مذہب کی خاطر جان قربان کرنے کا حلف لیا تھا۔


میجرجمال نے مئی2006ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور دوسالہ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد اپریل2008ء میں کمیشن حاصل کیا۔ فوج میں جانے سے لے کر شہید ہونے تک ان کا وردی، وطن اور دشمن کے بارے میں جنون کم نہیں ہوا تھا، میجرجمال نے سیالکوٹ، راولپنڈی اور آزادکشمیر میں پاک فوج کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دیں، آپریشن ضرب عضب کے دوران باجوڑ، خیبر ایجنسی اور مہمند ایجنسی کے محاذوں پر دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما رہے، میجرجمال کی دو سال قبل فرنیٹیئر کورخیبرپختونخوا میں تعیناتی ہوئی یہاں بھی انہوں نے آپریشن ردالفساد میں اللہ کا سپاہی ہونے کا ثبوت دیا۔
ایف سی کے پی میںاسپیشل فورس گروپ کے آفیسر کمانڈنگ کے طور پر دہشت گردوں کے چھکے چھڑائے، میجرجمال آپریشن ایریاسے کبھی فون کرتے تو ان کے گھر والوں نے کبھی ان کے لہجے میں خوف محسوس نہیں کیا اور اس سے بڑھ کر وہ کبھی بتاتے ہی نہ تھے کہ وہ آپریشنل ایریا میں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر اس وطن کی حفاظت کررہے ہیں۔


میجرجمال سے جب ان کے والدین شادی کی بات کرتے تو ان کا جواب ہوتا ، نہیں ابھی میں صرف اپنی نوکری پہ توجہ دینا چاہتا ہوں سب ضروری کام نمٹا لوں پھر شادی کرونگا، پھر ایک دن اچانک ہی انہوں نے کہاکہ آپ میری شادی کی تیاری کریں اور یوں ماں باپ نے ان کی کزن سے9دسمبر2016ء کو ان کی شادی کردی۔ کچھ دن چھٹی گزاری اور واپس چلے گئے۔ پھر صرف ایک بار رمضان میں چھٹی آئے، مسز نازک جمال اور میجرجمال کا بچپن اکٹھے گزرا تھا، اب زندگی ایک نئی ڈگر پہ چل پڑی تھی۔ آنکھوں کے خواب سنہرے ہوگئے تھے بندھن کے حقوق وفرائض کے متعلق سوچنا پڑگیا تھا، مگر والد کی یہ بات کبھی نہیں بھولے تھے کہ سپاہی جب یونیفارم پہنتاہے تو اسے خود کو شہادت کے لئے تیار رکھنا چاہئے۔

chamankzary1.jpg
اب میجرجمال نے فیصلہ کیا کہ پشاور میں گھر لے کر بیگم کو بلالوں تاکہ اپنے فرائض میں اضافے کے باعث ان کو بھی اسی طرح محبت اور ذمہ داری سے ادا کروں جس طرح وطن کے لئے کرتا ہوں۔18جولائی کو مسز نازک جمال کی فلائٹ تھی۔ اپنے نئے گھر اور جیون ساتھی کی سنگت میں زندگی گزارنے اور آنے والی خوشیوں اور دنوں کے لئے دھنک رنگوں سے کینوس پہ خوابوں کی تعبیریں لکھنے کے لئے مسز نازک جمال بڑے اہتمام سے تیاری کررہی تھیں مگر کارخانہ قدرت میں بھی ایک پروگرام مرتب کیاجاچکا تھا جس کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا مگر ابدی جدائی کا غم مسلسل سہنا بھی روگ بن جایا کرتاہے۔میجرجمال ہمیشہ کہاکرتے کہ خارجی ناسور سے اپنے وطن کو پاک کرنے کے لئے میں اپنی آخری سانس تک لڑوں گا اورپھر وہ لمحہ ٔعظیم آگیا اور وطن کی مٹی نے میجرجمال کا لہو مانگ لیا۔


میجرجمال کے بھائی سفر میں تھے کہ انہیں کال آگئی جس میں میجرجمال کے بارے میں ان کو کوئی بتا رہا تھاکہ وہ شہید ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اس وطن پر اپنی جان قربان کردی ۔آج شعیب کا ہرپل کا ساتھی، دوست، یار، بھائی اور بازو اُن کے جسم سے کٹ گیا تھا۔اُن کی سمجھ میںکچھ نہ آیا کہ یہ کیا ہے خواب یا حقیقت، کس طرح والدین کو بتائوں کہ آج جو خواب آپ نے جمال کی وردی کو لے کر دیکھا تھا وہ تعبیر پاکے آپ کے سرکو فخر سے تو بلند کرے گا مگر آنکھوں میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرح ساری عمر چبھتا رہے گا، کیا بتائوں اس نازک سی بھابھی کو کہ میجر جمال نے جنت میں گھر لے لیا ہے۔


امیدوصل کب کی ڈوب چکی اورپھر ان کو اپنا آپ سنبھالنا پڑا کیونکہ انہوں نے اب اپنے خاندان کو سنبھالنا تھا، شعیب کہتے ہیں کہ مجھے بھائی کی موت کا دکھ تو بہت ہے مگر موت کے طریقہ کار میں فرق ہوتاہے جس طریقے سے میجرجمال شہید میرے بھائی نے جان وطن کے نام کردی وہ ہمارے لئے باعث فخر ہے ہم یہ قربانیاں1947ء سے دیتے آئے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔ میجرجمال شہید کا جنازہ تربت کی تاریخ میں بہت بڑا جنازہ تھا ان کو جس عزت اور احترام کے ساتھ دفنایا گیا ہمارے علاقے کا ہربلوچ جوان یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے جسم پر وردی سجا کے یونہی شہید ہوکر آئے گا کہ وردی میں موت کا مزا ہی کچھ اور ہوتاہے۔


میجر جمال شہید کی موت اس بات کی گواہ ہے کہ بلوچ قوم کا ہر فرد دفاعِ وطن کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دینے سے کبھی گریز نہیں کرے گا۔ پاکستان کے باقی صوبوں کے باسیوں کی طرح، پاکستان ہربلوچ جوان کی پہلی محبت ہے۔ وہ بلوچ باپ ہو، ماں، بھائی، بہن ، بیوی یا اولاد ہو، اُنہیں اپنے پیاروں کو وطن کی حُرمت پر قربان کرنے پر ناز ہے۔ آج جب پوری پاکستانی قوم اپنے شہیدوں پر ناز کرتی ہے تو اس میں صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاتعداد شہیدوں کا نام بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ قربانیوں بلاشبہ پاکستان دشمنوں کے پروپیگنڈے کی موت ہیں۔ جھوٹ اور شرانگیزی پر مبنی لاکھ کوششوں کے باوجود دشمن بلوچستان کے باسیوں سے پاکستان کی محبت اور یقین کو متزلزل نہیں کرسکا۔ میجر جمال کی شہادت بلاشبہ دشمنوں کے ناپاک ایجنڈے کی موت ہے۔

جس طریقے سے میجرجمال شہید میرے بھائی نے جان وطن کے نام کردی وہ ہمارے لئے باعث فخر ہے ہم یہ قربانیاں1947ء سے دیتے آئے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔ میجرجمال شہید کا جنازہ تربت کی تاریخ میں بہت بڑا جنازہ تھا ان کو جس عزت اور احترام کے ساتھ دفنایا گیا ہمارے علاقے کا ہربلوچ جوان یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے جسم پر وردی سجا کے یونہی شہید ہوکر آئے گا کہ وردی میں موت کا مزا ہی کچھ اور ہوتاہے۔

میجرجمال شہید مختلف آپریشنز کے ہیرو تھے۔ جب 18جولائی کو وہ اپنی گاڑی میں جوانوں کے ساتھ آپریشن کے لئے نکلے تو ایک گاڑی نے ان کو ہٹ کیا اور خودکش حملہ آور نے خود کو بلاسٹ کرلیا۔ دھماکے کے ساتھ بہت ساری زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں، یقیناً فرشتوں نے شہیدوں کے جسموں کو ذرا بھی تکلیف نہ ہونے دی ہوگی اور اللہ کے حکم سے ان کی روحوںکو پھولوں میں لپیٹ کر دربار عالیہ میں پیش کیاہوگا۔ زمین سے آسمان تک خوشبو کا سفر تھااورروشنی کا سفر تھا جو صرف بصیرت والے دیکھ سکتے اور محسوس کرسکتے ہیں۔


دشمن نہیں جانتا کہ قوم پاکستان کے والدین اپنے بچوں کے لئے شہادت کی موت کی دعائیں رو رو کر مانگتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بیٹوں کو مرا ہوا قبول کرنا ہی نہیں چاہتے اور شہید تو زندہ ہوتاہے وہ ان کے لئے تاقیامت کی زندگی مانگتے ہیں اور جو اپنے شہید بیٹے کو کندھا دیتاہے وہ باپ سینہ پھلا کرکہتاہے آج میں سرخرو ہوا آج میرا بیٹا ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگیا۔
قابل فخر ہیں وہ مائیں جو شہید بیٹوں کے تابوت چومتی ہیں، قابل تحسین ہیں وہ بہنیں جو اپنے شہید بھائیوں کے جسدخاکی کو اپنے آنچل کا کفن پہنا کر مسکراتی ہیں اور آفرین ہے اس والد پر جو اپنے شہید بیٹوں کے جنازے اٹھااٹھا کر تھکتا نہیں اور سینہ فخر سے پھلائے کہتاہے میراکوئی اور بیٹا بھی ہوتا تو اللہ کا سپاہی بناتا، عظیم ملک کے عظیم سپوت عظمت کا مینار ہیں۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: حمیرا شہباز


12 پنجاب کے شہدا ء کی فہرست میرے ہاتھ میں تھی ۔ ان سب سے نسبت کا ایک مشترکہ پہلو تو تھا ہی لیکن جب اس فہرست پر تفصیلی نظر دوڑائی تو نگاہِ انتخاب برگزید ئہ الٰہی ،شہید حق نواز کے نام کے آگے لکھے اس کے گھر کے پتے پر جا ٹھہری، ''تحصیل میاں چنوں!''مجھے اپنی بے خبری پر افسوس ہوا کہ یہ شہید تو میرا گرائیں ہے ۔میرا فخر ہے دوسرے تمام شہیدوں کی طرح۔


ضلع خانیوال کے شہر میاں چنوں کی ایک نام نہاد تقسیم اس کی ریلوے لائن کی مناسبت سے ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے اِس طرف نسبتاً ترقی یافتہ علاقہ ہے اس پار کی دنیاکو ہم بچپن سے ''ٹیشن پار''یا''لینوں پار''کہتے اور سنتے آئے تھے جس کو ہم اپنی دانست میں پسماندہ بھی تصور کرتے تھے ۔ شہید حق نواز کی معروفیت کی امید پراس کے گھر کی کھوج نہایت روایتی طریقے سے لگائی گئی ۔ غوثیہ مسجد میں جب پوچھا گیا کہ کوئی شہید حق نواز کو جانتا ہے تو امام صاحب اسی کے چک کے نکلے اور وہ چک تھا ٹیشن پار کا ۔ ہماری کوتاہ نظری میں یکدم ٹیشن پار کا خطہ ہمدوشِ ثریا ہو گیا۔


گاڑی (ہماری کار ، نہ کہ ریل گاڑی)ریلوے پھاٹک کو عبور کر کے لائنوں پاروہاڑی جانے والی رہگزر پر رواں تھی۔ چک
126/15 ،ایل
کے سٹاپ نمبر 3 اور جنڈیالی 16جیسے مقامات سے گزرتے، کہیں کھیت کھلیان اور اینٹوں کے بھٹے، توکہیں راستے میںپڑتے چھوٹے چھوٹے بازاروں سے گزر کر گاڑی آگے بڑھتی رہی۔ سر راہ پڑتے بسم اللہ کتاب گھر، فاروق ٹینٹ سروس، جدہ ٹائل اسٹور، ڈوگر زرعی انڈسٹریز، غوث پاک فرنیچر جیسے تجارتی مراکز بازاروں کی رونق بڑھا رہے تھے۔ مٹی کے برتنوں کی ریڑھیاں، دکانوں پہ پڑی چھابیاں، جھاڑو، سٹیل کے ڈول، بان کی گانٹھیں، تربوزوں کے ڈھیر میرے اندر کے خریدار کو اکسا رہے تھے۔لیکن چشم خریدار تو گوہر جاں ہار دینے والے سوداگر کے سراغ میں سرگرداں تھی۔
چک
122/15 ایل
، کی جانب مڑے تو گلیوں کی خاک اڑ اڑ کر ہماری گاڑی کا پیچھا کر نے لگی جس پر کبھی حق نواز کے قدموں کے نشان ٹھہرے ہوں گے ۔ ''سجناں نال سجن''، ''محمدۖ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا''،''عباسِ علمدار''،جیسے نوشتۂ دیوار بھی پڑھنے کو ملے۔ میں منہ اٹھائے چک کے در و دیوار کی عظمت کا اندازہ لگارہی تھی کہ ڈرائیور نے سڑک کنارے کھڑے چند افراد کے قریب پہنچ کر کار کو بریک لگا دی۔ ان میں سب سے آگے ایک عمر رسیدہ خاتون تھی۔ابھی میں گاڑی سے اتری ہی تھی کہ میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ مجھ سے لپٹ گئیں۔''سو بسم اللہ''، ''جی آیاں نوں'' جیسے کلمات ان کی زبان پر تھے۔ ان کے چہرے پر جذبات کی شدت سے مجھے اس وقت اندازہ ہوا کہ ان کا انتظار تو میرے شوق دیدار سے کہیں بڑھ کر تھا۔ مجھے معلوم تو تھا ہی کہ وہاں ہماری ملاقات شہید حق نواز کے افراد خانہ سے ہو گی۔ لیکن کسی شہید کے اہل خانہ کے ایسے پرتپاک استقبال کا مجھے اندازہ نہ تھا۔
ہم ایک بڑے سے گیٹ والے گھر میں داخل ہو چکے تھے ۔اماں جی نے گیٹ کے فوری بعد بنے ہوئے ایک تاریک کمرے میں آنے کا اشارہ کیا ۔ ہمارے پیچھے اماں جی، دو آدمی، ایک اور خاتون اور پانچ چھ بچے بھی آگئے۔ کمرہ نیم تاریک تھا۔ کچھ دیر میں نگاہ تاریکی کی عادی ہوئی تو میں نے اندازہ لگایا کہ یہ شہید حق نواز کا کمرہ ہے کیونکہ اس کمرے کی دیوار پر ایک فوجی کی بڑی سی تصویر آویزاں تھی جس پر سنہری تاروں والا چمکیلا ہار ڈلا ہوا تھا۔اس تصویر کے فریم کے اوپری دونوں کونوں میں سلطان باہو کے گدی نشینوں کی چھوٹی چھوٹی تصاویر اٹکائی گئی تھیں جو شہید کے خاندان کے مکتب عقیدت کی نشان گر تھیں۔

haqkamaltha.jpg
ہم سب نے کئی بار ایک دوسرے کا حال پوچھا۔ میاںچنوں کی گرمی کا گلہ کیا اور کم کم آتی بجلی کی غیبت کی۔ بالآخر میں نے اپنی کرسی کے بائیں طرف بچھے پلنگ پر بیٹھی اماں جی سے پوچھا: ''ماں جی تسی حق نواز دی والدہ جے؟'' ان کی آنکھوں کے دمکتے دیئے حق نواز نام کی ہوا سے بھڑک اٹھے اور کمرہ روشن ہو گیا۔ میں نے کمرے میں موجود افراد کا تعارف چاہا۔ وہ دو آدمی حق نواز کے بڑے بھائی تھے جو زیادہ دیر کمرے میں رکے نہیں۔ میرے سیدھے ہاتھ والی کرسی پر بیٹھی ہوئی خاتون کی طرف دیکھ کر اماں جی نے کہا:''ہِے حق نوار دی بیوی ہاے'' (مجھے سن کر اچھا لگا کہ اماں جی نے اس کو حق نواز کی بیوہ نہیں کہا)یہ الگ بات ہے کہ اس کی طرف بغور دیکھنے کی میری ہمت نہیں تھی۔ اس کے چہرے کی تحریر پڑھنے کے بجائے میں نے اماں جی سے یہ پوچھنا آسان جاناکہ ان کو حق نواز کی شہادت کا کیسے پتا چلا۔


انہوں نے کچھ اس طرح سے بتایاکہ: سال2004 کی ایک صبح پولیس کی گاڑی ہمارے گھر آئی۔ انہوں نے حق نواز کے گھر کا پوچھا کہ یہی ہے اور کسی مرد سے بات کرنی چاہی۔ گھر پہ میں اکیلی تھی اس لئے وہ چلے گئے ۔ کچھ دیر بعد پھر آئے میرا رشتے کا بھائی ان سے ملا۔ پولیس نے اس کو کچھ بتایا اور چلی گئی ۔ میں نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ پولیس حق نواز کا کیوں پوچھ رہی تھی؟ کیا کیاہے اس نے؟ کیا ہوا ہے اس کو؟میرے بھائی نے بڑے آرام سے کہا: ''او کچھ نہیں کیا اس نے۔ ہونا کیا ہے، شہید ہو گیا ہے وہ اور کیا''!۔ پولیس کی دور جاتی گاڑی ابھی تک میری نظر میں تھی۔ میں اس کے پیچھے بھاگی، پھر تھک کر وہیں سڑک کنارے بیٹھ گئی۔ پھر گھر کو دوڑی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں''۔


اماں جی ابھی بھی ہاتھ مسل رہی تھیں جیسے اچانک کوئی ان کے ہاتھ سے متاع حیات لے اڑا ہو۔مجھ سے اتنا نہ ہو سکا کہ ان کے قریب جا بیٹھوں اور ان کے ہاتھ تھام کر کہہ سکوں کہ ماں جی آپ حوصلہ کریں۔ اتنا حوصلہ کہاں تھا مجھ میں۔


انہوں نے اپنی بات جاری رکھی: بس پھر تھوڑی دیر میں کئی فوجی گاڑیاں آگئیں۔ بڑے بڑے فوجی افسر آئے ۔ میرے حق نواز کو بڑے اعزاز سے دفنا کر چلے گئے۔ وہ مسکرا کر بولیں حق کامال تھا حق ادا کرگیا۔
میں نے شہیدحق نواز کے متعلق مزید جاننا چاہا۔ ان سے سوال جواب کچھ اس طرح ہوئے:


س-کیا حق نواز کو خود سے شوق تھا فوج میں بھرتی ہونے کا؟
ج- پتا نہیں۔ ہمارے خاندان میں کوئی بھی فوجی نہیں۔ نہ کبھی اس نے ذکر کیا نہ کبھی ہمارا خیال اس طرف گیا۔ بس ایک دفعہ ہمارا کوئی عزیز ملتان کے فوجی ہسپتال میں داخل تھا۔ یہ اس کا پتا لینے گیا۔ہمارے چک کے کسی کرنل صاحب کا بھی وہاں تبادلہ تھا، یہ ان سے بھی مل آیا۔ کچھ دن بعد اس نے مجھ سے کہا کہ اماں مجھے نئے جوتے اور کپڑے لے دے۔ وہ جو ملتان گیا تھا تو فوج میں بھرتی ہونے کا امتحان بھی دے آیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کو فوج نے بلالیا ہے اس لئے اسے یہ کچھ نئی چیزیں لے دی جائیں۔ ہم سب دیکھتے ہی رہ گئے اور وہ فوج کا نوکر ہو گیا۔ وہ جو ہم سے کبھی دور نہیں رہا تھا اب کبھی کبھار چھٹی آتا تھا۔


س-آپ نے اس کی شادی کب کی تھی؟

(حق نواز کی بیوی ہمارے لئے چائے وغیرہ لینے گئی تو میں نے یہ سوال کر ڈالا)
ج- ہاں جی وہ آخری بار جب آیا تو میں نے اس کے بڑے دوبھائیوں کے ساتھ ساتھ اس کی بھی شادی کردی۔ مانتا نہیں تھا لیکن شاید خدا میرے ارمان پورے کروانا چاہتا تھا۔ میں نے اسرار کیا تو وہ اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی پہ مان گیا۔(اماں جی نے اس کی شادی کی تصویر بھی بڑے چائو سے دکھائی اور بتایا کہ تصویر میں اس کے دائیں جانب جو اس کا رفیق نامی دوست بیٹھا ہے، وہ بھی فوجی ہے اور حق نواز کے ساتھ ہی شہید ہوا تھا)۔


س- حق نواز کی کوئی اولاد ہے؟
ج- نہیں (وہ تڑپ کر بولیں)۔خدا نے اس کو کوئی بیٹی ہی دے دی ہوتی تو میں اس کی نشانی کو اپنے سینے سے لگائے رکھتی۔ اپنی شادی کے ایک ہفتہ بعد وہ نوکری پر چلا گیا تھا۔ عجیب بات ہے پتا نہیں اس کے دل میں کیا تھا کہ جب وہ آخری بار جا رہا تھا تو کئی بار مڑ کر آیا ۔ اس نے کہا اماں میری بیوی کا خیال رکھنا، اس کو اکیلا نہ ہونے دینا، جہاں جانا اس کو ساتھ لے جانا۔ خود چلا گیا اس کو میرے ذمے لگا گیا۔ (انہوں نے حق نواز کی بیوی کی طرف دیکھ کر کہا) اس کی بڑی بہن کی شادی حق نواز کے بڑے بھائی کے ساتھ ہوئی تھی لیکن وہ بیچاری شادی کے کچھ دن بعد کرنٹ لگنے سے فوت ہو گئی اور اللہ کی کرنی دیکھو کچھ دن بعد حق نواز کی بھی خبر آگئی۔ کیا کرتی ماں ہوں اولاد کا اجڑا گھر نہیں دیکھ سکتی تھی۔ دونوں ہی دکھی تھے سال بعد میں نے ان دونوں کی شادی کر دی۔ اب ان کے دو بیٹے ہیں۔یہ دونوں بچے حق نواز کو بھی ابو فوجی کہتے ہیں۔ اس کو بہت چاہتے ہیں۔ اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ کہہ رہے تھے کہ آج ابو فوجی نے آنا ہے۔ اسی خوشی میں گھر کے سارے بچوں نے اسکول سے چھٹی کی ہے۔ ہمارا یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہو گا لیکن آپ کے آنے سے ہم سب کو اتنی ہی خوشی ہوئی جتنی حق نواز کے آنے کی ہوتی۔یہ میں نے آپ کے لئے میاں چنوں کی مشہور برفی ''خوشی کی برفی'' بھی منگوا کر رکھی ہے، ساتھ لے جانا۔


پنجاب میں رواج ہے کہ گھر آئے مہمان کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کسی شہید کی خبر لینے آنے والوں کو اس شہید کی ماں مٹھائی کے ڈبے دے کر رخصت کرے گی، ایسا کڑا جگر شہیدوں کی ماؤں کاہی ہوسکتا ہے۔


جب اماں جی کو پتا چلا کہ میں بھی میاں چنوں کی ہوں تو وہ بہت خوش بھی ہوئیں اور ناراض بھی کہ میں نے اتنے برسوں میں حق نواز کے گھر والوں کی خبر لی۔ پھر وہ خود ہی بولیں کہ کوئی کیا کرنے آتا جب حق نواز ہی نہیں رہا تو! اس کا ایک فوجی دوست جو آیا کرتا تھا وہ تو خود بھی اسی کے ساتھ شہید ہو گیا۔ ان دونوں کا تو ہمیشہ کا ساتھ ہو گیا۔
میں نے ان سے برفی کے دو ڈبے وصول کئے اور جوکیک اور تحفے ان کے لئے لائی تھی، اماں جی کو دیے۔ جتنی دیر میں وہاں رہی میں نے حق نواز کی بیوی، فرزانہ بی بی سے کئی ادھر ادھر کی باتیں کی تھیں لیکن حق نواز کے متعلق اس سے کوئی خاص بات نہ کر سکی۔ اس کو تحفہ دیتے ہوئے میں نے کہا سمجھو یہ جوڑا حق نواز کی طرف سے ہے۔ وہ پتھر بنی بیٹھی رہی۔ میںنے سوٹ اس کی گود میں رکھ دیا ۔ اس نے اپنا دوپٹہ اپنے چہرے پر کھینچ لیا اور رو دی۔ شاید اسے پتا تھا کہ اس نظارے کی تاب مجھ میںنہیں ہو گی۔

 

پنجاب میں رواج ہے کہ گھر آئے مہمان کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کسی شہید کی خبر لینے آنے والوں کو اس شہید کی ماں مٹھائی کے ڈبے دے کر رخصت کرے گی، ایسا کڑا جگر شہیدوں کی ماؤں کاہی ہوسکتا ہے۔

حق نواز کے بڑے بھائی، محمد ریاض نے اپنے بھائی کی شہادت کے بعد اپنی پکی نوکری چھوڑکر پہلے اپنے گھر میں اور کچھ سال بعد ایک الگ مستقل جگہ پر حق نواز پبلک اسکول کے نام سے ایک درس گاہ بنائی ہے جس کا منتظم و مدرس اور معاون وہ خود ہی ہے۔ جہاں سے کئی ننھے حق نواز تعلیم حاصل کر کے اس ملک کے محافظ بنیں گے جس کی خاطر سپاہی حق نواز نے جان کی باز ہاری تھی ۔


نائیک حق نواز، اللہ دتہ اور اماں بخت بھری کے چھ بیٹوں اور ایک بیٹی میں سے تیسرے نمبر پر تھا۔ اس نے گورنمنٹ پرائمری اسکول  ایل 122/15  سے ابتدائی اور گورنمنٹ ہائی اسکول  ایل 124/15  سے مڈل اور میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی۔ پاک فوج میںبھرتی ہوگیا ۔ پنجاب رجمنٹ سینٹرمردان سے تربیت حاصل کی اور کوئٹہ، زیارت، چمن اور نوشہرہ میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں۔ 2004 میں اس کی ماں نے اس کی شادی کردی۔ نئی زندگی کا آغاز کرنے والے حق نواز کی اپنے گھر والوں اور شریک حیات سے یہ آخری ملاقات تھی۔ 18 مارچ سال 2004 میں12 پنجاب آپریشن المیزان کے سلسلے میں وانا میں تعینات تھی۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق:
''نائیک حق نواز، میجر ثاقب زمان کے زیر قیادت شین ورسک کے علاقے میں آپریشن کرنے والی اگلی سپاہ کا حصہ تھے۔ کمپنی کمانڈر کی شہادت کے بعدآپ نے اپنے جونیئر ز کو بہترین طریقے سے منظم کیا اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے کرتے جام شہادت نوش کیا۔ ''

مضمون نگارڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: یا سر پیر زادہ


مہاتما بدھ نے پیڑ تلے بیٹھے بیٹھے جھڑتے پتوں سے مٹھی بھری اور آنند کو دیکھا۔'' اے آنند کیا سارے پتے میری مٹھی میں آگئے ہیں ؟''
آنند جھجکا۔پھر بولا، تتھا گت، یہ رت پت جھڑ کی ہے۔ پتے جنگل میں اتنے جھڑے ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہو سکتی۔''
مہاتما بدھ بولے۔'' اے آنند، تو نے سچ کہا۔ پت جھڑ کے ان گنت پتوں میں سے بس میں مٹھی بھر سمیٹ سکا ہوں۔ یہی گت سچائیوں کی ہے۔ جتنی سچائیاں میری گرفت میں آئیں، میں نے ان کا پرچار کیا۔ پر سچائیاں ان گنت ہیں، پت جھڑ کے پتوں کے سمان۔ ''


ہر کوئی یہاں سچ لکھ رہا ہے، تو پھر جھوٹ کہاں ہے ؟ہر ایک عالم ہے، تو پھر جاہل کون ہے ؟ ہر کوئی دانشور ہے، تو پھر غبی کسے کہیے؟ہر شخص پارسا ہے تو بد کہاں چھپے بیٹھے ہیں ؟ ہر ایک قانع ہے تو حریص کون ہے ؟ ہر کسی کو درویشی کا دعویٰ ہے تو پھر وہ کون ہیں جو دنیا کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں؟ ہر دوسرا بندہ اگر ولی ہے تو کیا کوئی عامی بھی ہے ؟ہماری مٹھی میں تو سچائیوں کے دو چار پتے بھی نہیں، لیکن وہم یہ کہ ہمیں گیان مل چکا ہے، نروان کی پہلی سیڑھی پر کبھی قدم نہیں رکھااور گمان یہ کہ ولی کامل کا تا ج ہمارے سر پر سجا ہے، علم کے سمندروں سے دور ہم لق و دق صحر ا میں کھڑے صبح سے شام تک ہم ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے رہتے ہیں اور پھر آپس میں ہی چند لوگوں کو دانشور، عالم اور ولی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جن بستیوں میں علم و دانش کا معیار یہ قرار پائے وہ گنجان آباد ہونے کے باوجود ویران ہو جایا کرتی ہیں۔ جہاں دین کا پرچار بندوق کی نوک پر کیا جائے، جہاں دانش اور جملے بازی میں فرق مٹ جائے، جہاں علم کا تعین سند دیکھ کر کیا جائے، جہاں لکھاری شہرت پانے کے لئے کہانیاں لکھیں، جہاں شاعر قصیدہ گوئی کو ذریعہ معاش بنا لے، جہاں استاد کی عزت شاگرد کے ہاتھ میں ہو، جہاں دانشور بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنے سے ڈرنے لگیں، ان شہروں میں اداسی بال کھولے سوتی ہے، انصاف کم ہو جاتا ہے اور سچائی شور میں دب جاتی ہے۔ تمام عمر گزر جاتی ہے، اپنی ذات کی سچائیاں بھی خود پر آشکار نہیں ہو پاتیں، دنیا کی البتہ ہم خبر دیتے ہیں۔ انتظار حسین کے شاہکار افسانے زرد کتا کا ایک ٹکرا یاد آیا :
یا شیخ، عالم کی کیا پہچان ہے ؟
فرمایا: اس میں طمع نہ ہو۔
عرض کیا : طمعِ دنیا کب پیدا ہوتی ہے ؟
فرمایا : جب علم گھٹ جائے۔
عرض کیا : علم کب گھٹتا ہے ؟
فرمایا : جب درویش سوال کرے، شاعر غرض رکھے، دیوانہ ہوش مند ہو جائے۔ عالم تاجر بن جائے، دانشمند منافع کمائے۔


طمعِ دنیا کو ترک کرنا پیغمبروں کا وصف ہے،ہم گناہوں میں لتھڑے ہوئے تو شاید ایسی آرزو کے قابل بھی نہیں، اپنے نفس کا بت توڑنا اس راکھشس کا سر کاٹنے جیسا ہے جس کا سر کاٹو تو اس کی جگہ دو سر اُگ آتا ہے۔ یہ جوکھم کا کام کون کرے، وہ بھی آج کے دور میں ؟ سو ہم نے ایک آسان راستہ چنا، دنیا دار درویشی کا راستہ !اس راستے میں طمعِ دنیا، دولت، شہرت یانمود و نمائش سے کنارہ کرنے کی کوئی بندش نہیں، فقط اس کا پرچار کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ دوسروں کو متاثر کرنے کی خواہش انسان میں فطری ہے سو وہ طرح طرح کے بھیس بدلتا ہے، مختلف طریقے آزماتا ہے، نت نئی ترکیبیں لڑاتا ہے، دنیا دار درویشی ایسی ہی ایک نئی ترکیب ہے، اس میں درویشی کا محض لبادہ اوڑھا جاتا ہے، حقیقی درویش نہیں بنا جاتا۔ یہ کام ذرا مشکل تھا کیونکہ درویشی کی پہلی شرط شریعت کی پاسداری ہے، گویا سچا کھرا ولی کامل وہی ہوگا جو اللہ کے بعد رسول ۖکی اطاعت کرے گا اور شرعی احکام کی پابندی کرے گا، ایک صوفی کے لئے کوئی رعایت نہیں۔ لیکن اب ہم ایسے مرشد اور مرید بھی دیکھتے ہیں جنہوں نے نماز نہ پڑھنے کی چھوٹ حاصل کر رکھی ہے (یہ آج کل کے دور کے ایک ماڈرن درویش کا بیان ہے جو انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے)،اب ہم ایسے صوفیوں کے قصے بھی پڑھتے ہیں جو شراب کے نشے میں دھت ہو کر ترک دنیا کئے بیٹھے ہیں، اور ایسے درویش آپ بیتیاں لکھتے ہیں جن میں وہ خدا سے براہ راست خط کتابت کا قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پچھلے ابواب میں یہ لکھتے ہیں کہ کیسے تمام عمر انہوں نے پوری جانفشانی کے ساتھ سرکار کی نوکری کی جن میں ہر طرح کے آمر کے احکامات کی بجا آوری بھی شامل تھی! ممکن ہے درویشی میں آسودگی کی ان سب کو تلاش ہو مگر دنیا داری کے ساتھ یہ ممکن ہی نہیں۔ آج کل کے دور میں کون ہے جو ترک دنیا کا دعویٰ کر سکے، کس کا ولی کامل ہے اور کس کا مرشد عرفان پا چکا، کسے خبر ! لیکن شریعت میں رعایت تو پیغمبروں کو حاصل نہ تھی، ان لوگوں نے کہاں سے ڈھونڈ نکالی ؟

 

ماتم اس بات کا ہے درویش ہو یا لکھاری، قناعت اور سچائی سے زیادہ وہ شہرت کا متمنی ہے۔ جس معاشرے میں درویشی اور علم محض دنیاوی منفعت کا وسیلہ بن جائے، وہاں ظالم کے خلاف بولنے والے کمزور پڑ جاتے ہیں، دہشت کے آگے سر جھکانے کی روش عام ہو جاتی ہے، چڑھتے سورج کی پرستش کی جاتی ہے، طاقتور کے قصیدے لکھے جاتے ہیں۔

سچائیاں تو ان گنت ہیں جنہیں کوئی نہیں پا سکتا، مگر ہمیں ہاتھ بڑھا کر انہیں پانے کی کوشش تو کرنا ہوگی، جتنی مٹھی میں آجائیں ان کا پرچار بھی کرنا ہوگا، اپنے حصے کی کاوش تو کرنی ہوگا۔ نقلی درویشوں کے ساتھ ساتھ ہمار ی بستیوں کے لکھاری بھی سچ کے متلاشی نہیں، وہ شہرت کے آسیب میں گرفتار ہیں، ادھر عوام بھی سچ سننا نہیں چاہتے، انہیں اسی مقبول و معروف بیانیے کی شراب چاہئے جسے پی کر وہ سدا مد ہوش رہیں، ایسے شرابیوں کو جگانے کی جو حماقت کرتا ہے سب سے پہلے وہ اسی پر قے کرتے ہیں۔ ہماری بستیاں ان شرابیوں سے بھری پڑی ہیں، شرابیوں کی اس بستی میں سچائی کا پرچار کرنا ایسے ہی ہے جیسے اندھے کو اندھیرے میں راستہ سمجھانا۔ماتم اس بات کا ہے درویش ہو یا لکھاری، قناعت اور سچائی سے زیادہ وہ شہرت کا متمنی ہے۔ جس معاشرے میں درویشی اور علم محض دنیاوی منفعت کا وسیلہ بن جائے، وہاں ظالم کے خلاف بولنے والے کمزور پڑ جاتے ہیں، دہشت کے آگے سر جھکانے کی روش عام ہو جاتی ہے، چڑھتے سورج کی پرستش کی جاتی ہے، طاقتور کے قصیدے لکھے جاتے ہیں۔ جس روز ہماری بستی کے دانا لوگ شہرت سے بے نیاز ہو جائیں گے، اس دن ہمارے لئے مٹھی بھر سچائیاں ہی کافی ہوں گی۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
06
October

تحریر: عقیل یوسف زئی


مقبول عام تجزیوں اور زمینی حقائق کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باوجود اس کے بہتر ہوتے جارہے ہیںمگر امریکہ اور بعض دیگر ممالک کی کوشش ہے کہ ان پڑوسی اور ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ممالک کو کسی بھی جواز کی آڑ میں مزید بداعتمادی اورتصادم کی راہ پر ڈال دیا جائے۔ کراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر پائی جانے والی بدگمانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ معاملات اس انداز سے بہتر نہیں ہو پا رہے، جس کی خطے کو ضرورت ہے۔ اس کے باوجود کہ نائن الیون کے بعد امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران 110 ممالک میں دہشت گردکارروائیاں ہوئی ہیں، عالمی برادری اور ہمارے بعض اتحادی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ جنگ اور طاقت کا استعمال اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو افغانستان میں کب کا امن آچکا ہوتا کیونکہ وہاں40 سے زائد ممالک ایک دہائی سے زائد کے عرصے تک لڑتے رہے ہیں۔ امریکہ نے بوجوہ جو غلطیاں کیں وہ ان کو مان نہیں رہا۔ سب سے بڑی کوتاہی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے افرادپر انحصار کیا اور اداروں کی بحالی کے علاوہ سیاسی عمل کے آغاز یا سرپرستی کے علاوہ تعمیرِ نو کو مسلسل نظر انداز کئے رکھا۔ دوسرا مسئلہ یہ درپیش رہا کہ وہ روس، ایران اور چین کے لئے افغانستان کو بیس کیمپ بنا بیٹھا اور اس مقصد کے لئے اندرون خانہ وہ وار لارڈز اور ان کے گروپس کی معاونت کرتا رہا۔ امریکہ پاکستان پر طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لئے مسلسل دبائو تو ڈالتا رہا مگر اس کی اپنی پالیسی کا یہ حال رہا کہ اس نے افغان طالبان کو ابھی تک دہشت گرد تنظیم ڈیکلیئر نہیں کیا ہے۔ بلکہ امریکیوں کی نظر میں طالبان محض مزاحمت کار ہیں۔ امریکہ نے القاعدہ کے خلاف تو مؤثر کارروائیاں کیں مگر طالبان کے ساتھ وہ دوطرفہ مگر متضاد رویے پر گامزن رہا۔ طالبان کو نہ ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی اور نہ اُن کو سیاسی عمل کا حصہ بننے دیا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان سے غیر ضروری توقعات وابستہ کی گئیں اور نجیب الطرفین ناکامیوں کا ذمے دار اسے قرار دیا جاتا رہا حالانکہ دہشت گردی ان ممالک میں بھی تواتر کے ساتھ ہوتی رہی ہے جو کہ پاکستان سے ہزاروں کلو میٹر دور واقع ہیں۔ امریکہ قطر دفتر کے ذریعے طالبان کے ساتھ رابطے میں رہا مگر پاکستان کے لئے اس قسم کے رابطے قابلِ جرم ٹھہرائے گئے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے بھی بعض مواقع پر شاید خاطرخواہ توقعات پرپورا نہ اتر سکا۔ تاہم پورے کاپورا ملبہ اس کے سر ڈالنا اور دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا بھی مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔

 

بہت سے تجزیہ کار پُرامید ہیں کہ امریکی دبائو کے باوجود خطے کے حالات بتدریج بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر میجر (ر) محمدعامر نے کہا ہے کہ پاکستان پر امریکہ کے لگائے گئے الزامات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ امریکہ کے ساتھ موجودہ نام نہاد اتحاد کے خاتمے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے، اس کا انحصار ختم ہو جائے گا بلکہ ہمارے لئے مہذب اور پاکستان دوست ممالک کے ساتھ نئے تعلقات کے ایک بہترین دور کا آغاز بھی ہو گا۔

شائد اسی کا نتیجہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی سٹیٹمنٹ کے بعد یہ بحث پھر سے چل نکلی ہے کہ اس تمام گیم میں امریکہ کا کیا رول رہا ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان اپنے طور پر کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ متعدد امریکی حکام اور تجزیہ کار بھی کہہ چکے ہیں کہ 2004-6 کے دوران حامد کرزئی کی بھی خواہش تھی کہ طالبان کو سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے اور ان کے ساتھ براہِ راست رابطے کئے جائیں۔ مگر امریکیوں نے اس کی اجازت نہیں دی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان طالبان اور ان کے اتحادیوں نے2004 کے بعد پھرسے مزاحمت کا آغاز کرلیا۔2004 تک حالات کافی پرامن تھے اور پیشنگوئی کی جارہی تھی کہ امریکہ اور اس کے اتحادی واقعتا افغانستان سے طالبان کا خاتمہ کرچکے ہیںمگر عملاً ایسا ہوا نہیں تھا۔ طالبان نے ایک پالیسی کے تحت پسپائی اختیار کر لی تھی اور شاید وہ بدلتے حالات میں ایک مجوزہ یا ممکنہ مفاہمتی عمل کے منتظر بھی تھے۔ یہ بات بھی کئی حوالوںسے ثابت ہو چکی ہے کہ امریکہ عملاً امن قائم کرنے کی نیت سے نہیں آیا تھا بلکہ اس کے پالیسی سازوں نے افغان سرزمین پر اپنے اڈے بنانے کی پلاننگ نائن الیون سے کئی برس قبل کی ہوئی تھی اور وہ افغانستان میں بیٹھ کر ایک پرانے فارمولے کو آگے بڑھانے آیا تھا۔ اب جا کر معلوم ہوگیا کہ امریکی مقاصد کچھ اور تھے، اور اس نے افغانستان کو ایک کمزور اور زیردست ملک کے طور پر اپنے مقاصد اور ترجیحات کے لئے استعمال کرنا تھا اور غالباً یہی وجہ تھی کہ امریکی حکام نے مفاہمتی کوشش اور خواہش کو مسترد کرکے2004-5 کے دوران افغان طالبان کوپھر سے مزاحمت پر مجبور کیا کیونکہ مزاحمت کی جنگ کے بہانے امریکیوں نے افغانستان کو کمزور اور خود کو ناگزیر بنا کر رکھناتھا۔ بعد میں جب طالبان کی کامیابیوں کا سلسلہ چل نکلا تو حالات سنگین ہوتے گئے اور اس پر کنٹرول برقرار رکھنا افغان فورسز اور امریکیوں کے لئے بھی ممکن نہیں رہا۔کچھ عرصہ قبل افغان طالبان کے سربراہ نے مفاہمتی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے تو افغان حکومت کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ طالبان کی قوت اور حملوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہاہے اور ان کو بعض معاشرتی عوامل کے باعث عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ طالبان سربراہ نے اپنے بیان میں آدھے افغانستان پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے اور ساتھ میں انہوںنے یہ بھی کہا ہے کہ جن علاقوں پر ان کا کنٹرول ہے وہاں امن ہے، تعمیر و ترقی کا سلسلہ جاری ہے اور عوام مطمئن ہیں۔ اگرچہ اس دعوے کو کلی طور پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ طالبان ایک زندہ حقیقت ہیں اور اگر ان کو مکمل شکست نہیں دی جاسکتی ہے تو ان کے ساتھ بات چیت میں کیا برائی ہے۔ اگر حزبِ اسلامی بوجوہ سیاسی عمل کا حصہ بن سکتی ہے تو طالبان کو بدلتے حالات کے تناظر میں ایڈجسٹ کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ اس ضمن میں پاکستان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ مفاہمت کی صورت میں پاکستان پر ڈالے جانے والے عالمی دبائو میں کمی واقع ہوگی اور اس کے ممکنہ گھیرائو کے خدشات کم پڑ جائیں گے۔ یہ اطلاعات خوش آئند ہیں کہ افغان حکومت اور پاکستان کے درمیان روس اور چین کی کوششوں سے فاصلے کم ہوتے جارہے ہیں اور اندرون خانہ بہت سے عملی اقدامات اور اعتماد سازی پر کام جاری ہے۔ علاقائی کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کی بھی ضرورت ہے اس لئے ماضی کی غلطیوں اور تلخیوں سے نکل کر ایک بہتر اور پُرامن مستقبل کے تمام امکانات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطے کو درپیش خطرات سے نمٹا اور نکالا جاسکے۔


باخبر سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر کی افغان پالیسی کے اعلان سے پیدا شدہ صورت حال کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات، اعتماد سازی اور اداروں کے درمیان کوآرڈی نیشن پر مشتمل ایک پلان پر اتفاق رائے کی کوششیں حتمی مراحل میں ہیں اور اس ضمن میں تاجکستان میں منعقدہ حالیہ کانفرنس کے دوران مذکورہ ذرائع نے واضح انداز میں عندیہ دیا کہ اگر چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات اور اختلافات کے خاتمے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے تو افغان حکومت امریکی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر قیامِ امن کے لئے اپنے طور پر بھرپور تعاون کرے گی۔سفارتی حلقوں کے مطابق اسی پیشرفت کے نتیجے میںبعد میں دونوں ممالک نہ صرف مذاکراتی عمل کے ایک مجوزہ طریقہ کار پر متفق ہوگئے بلکہ افواج کی سطح پر کوآرڈی نیشن کے لئے بھی علانیہ طور پر طریقہ وضع کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق تاجکستان کانفرنس کے دوران علاقائی تعاون یا کائونٹر ٹیررازم کے ممکنہ کوآرڈی نیشن کی مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کے علاوہ اتفاق رائے کا اظہار کیا جاچکا ہے اور کسی بھی متوقع عمل میں چین ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ جبکہ اس تمام پراسس کو روس کی حمایت اور معاونت بھی حاصل رہے گی۔ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات کے ماہر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے رابطے پر بتایا کہ ایک نئے علاقائی بلاک کے قیام کی کوششیں کافی عرصہ سے جاری تھیں اور اس میں چین کا بنیادی کردار تھا کیونکہ چین خطے کے حالات اور امریکی رویے کے اثرات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان حالیہ پیش رفت کا بنیادی کردار ہے تاہم اس کے لئے یہ قطعاً ضروری نہیں کہ امریکہ سے تعلقات بگاڑے جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ علاقائی ترقی اور متعدد بڑے منصوبوں کے لئے خطے کا امن لازمی ہے۔ اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان نے اپنے لئے نئے اتحادی تلاش کرلئے ہیں۔بہرحال تمام تر خدشات کے باوجود یہ اطلاعات کافی خوش آئند ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آنے کے تمام امکانات میں سنجیدہ ہیں۔


بہت سے تجزیہ کار پُرامید ہیں کہ امریکی دبائو کے باوجود خطے کے حالات بتدریج بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر میجر (ر) محمدعامر نے کہا ہے کہ پاکستان پر امریکہ کے لگائے گئے الزامات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ امریکہ کے ساتھ موجودہ نام نہاد اتحاد کے خاتمے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے، اس کا انحصار ختم ہو جائے گا بلکہ ہمارے لئے مہذب اور پاکستان دوست ممالک کے ساتھ نئے تعلقات کے ایک بہترین دور کا آغاز بھی ہو گا۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں کہا کہ امریکہ کے اپنے سابق سٹیشن ڈائریکٹر اور سی آئی اے کے ایک سابق سربراہ نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارے ساتھ جو تعاون کیا، اسی کی بدولت ہم افغانستان سے طالبان حکومت اور القاعدہ ختم کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ ہم نے بدلے میں پاکستان کو نظرانداز کیا، اس پر شک کیا اور اس کے ساتھ تعاون کے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن المیزان سے لے کر بعد کی تمام کارروائیوں کے دوران پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر بیان کردہ ڈبل گیم کا ریاستی سطح پر مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق افغانستان کا امن سرے سے امریکی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا اور نہ ہی وہ اب چاہتا ہے کہ وہاں امن اور استحکام ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یہاں کے عوام کبھی بھی افغانستان کے مخالف نہیں رہے اور نہ ہی افغان حکمرانوں اور عوام نے پاکستان کو کبھی اپنا دشمن سمجھا۔ اس کی بڑی مثال دو جنگوں کے دوران افغانستان کا بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ وہ رویہ ہے جب افغانستان نے مغربی سرحدوں کو محفوظ رکھا اور بھارت کو کوئی سہولت یا معاونت فراہم نہیںکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی دونوں برادر ممالک کو ایک دوسرے سے بدظن اور دُور کرنے کی تمام کوششیںناکام ہوں گی اور پاکستان نہ صرف ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے قیام میں اپنے طور پر اپنا مؤثر کردار ادا کرے گا بلکہ اپنے عملی اقدامات کے ذریعے ناراض بھائیوں کو گلے سے لگا کر امریکی اور بھارتی عزائم کو بھی ناکام بنائے گا۔ ان کہنا تھا کہ امریکہ کے رویے نے پاکستان کے لئے عالمی اور علاقائی سطح پر نئے دور کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ ہم اب چین اور روس سمیت بعض دوسرے اہم ممالک کے نہ صرف اتحادی ہیں بلکہ ہم امریکہ کے چنگل،حصار اور دبائو سے نکل آئے ہیں۔ انہوں مزید بتایا کہ نئے علاقائی منظر نامے کے تعین کے معاملے پر تمام ادارے، پارٹیاں اور عوام ایک صفحے پر ہیں اور ہم ایک نئے سفر کا آغاز کرنے والے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ خود اعتمادی اورخودانحصاری کا مظاہرہ کرکے افغانستان کے عوام کو بھائی سمجھ کر گلے لگایا جائے اور اس مقصد کے لئے کسی اور کی ترجیحات یا مفادات کے بجائے افغانستان اور پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ اس سلسلے میں میڈیا بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے تاکہ دوریوں اور خدشات کو ختم کیا جاسکے۔ ان کہنا تھا کہ کسی کو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ پاکستان اور افغانستان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
06
October

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم


پاک چین دوستی زندہ باد۔ وان سوئے وان سوئے

Wang Waye

ایک ایسی دنیا میں جہاں تشدد، جنگ و دشمنی کا ماحول ہو ایسے میں دو ممالک جو نظریاتی لحاظ سے یکسر مختلف ہوںلیکن ان کی دوستی دنیا بھر کے لئے ایک مثال ہو وہ پاک چین دوستی ہے۔ پاکستان اور چین نہایت قریبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی تعلقات کی بنا پر دنیا بھر میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات پچھلی سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس تعلق کی جڑیں نہایت گہری اور پائیدار ہیں جو کہ یقیناً دونوں ممالک کی قیادت کی سمجھ بوجھ اور مستقبل کے مشترکہ نقطہ نظر کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے۔


پاک چین دوستی کی ابتداء 21 مئی 1951 سے ہوئی ۔ پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا۔ اس سفارتی پیش قدمی کو چین نے کبھی نہ بھلایا۔ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دوطرفہ تعلقات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تمام موسموں اور حالات کے اتار چڑھائو کے باوجود قائم و دائم ہے۔ دراصل اس تعلق کو شروع ہی سے ایک دوسرے کی عزت اور ملکی مفادات کو محترم رکھنے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ لہٰذا دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں کی حمایت کی۔


بھارت کی چین کے ہاتھوں 1962 کی جنگ میں شکست سے جنوبی ایشیا کی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اسی زمانے میں پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی حد بندی کی بات چیت شروع ہوئی۔ دراصل اس وقت چین بھی دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ وہ اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ مناسب اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ امریکہ کی بھارت کو فوجی امداد نے پاکستان کو اتحادی بننے کی پالیسی سے بیزار کر دیا تھا۔ پاکستان یہ جان چکا تھا کہ بھارت کے امریکی ہتھیار نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے خلاف بھی استعمال کئے جائیں گے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان دنیا میں ایک آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی اپنانے کا خواہشمند بھی تھا۔ انہی ساری وجوہات نے پاکستان اور چین کو بہت قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرحدی حد بندی کے معاہدے پر مارچ1963 میں دستخط ہوئے۔ جس کے تحت پاکستان نے1,942کلومیٹر مربع میل کا سرسبز علاقہ حاصل کیا۔ اس معاہدے پر بھارت نے سخت اعتراض کیا۔ پاکستان اور چین نے فضائی تعاون کا معاہدہ بھی کیا جس کے تحت ڈھاکہ کینٹن
(Guangzhou)
شنگھائی فضائی سروسز کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس معاہدے کی اہمیت اس لئے بھی بہت زیادہ تھی کیوںکہ پاکستان سے اس معاہدے کی بنا پر چین نے ان تمام کوششوں کو پسِ پشت ڈال دیا تھا جو بین الاقوامی سطح پر چین کو تنہا کرنے کے لئے کی جارہی تھیں۔

pakchendostia.jpg
1965کی جنگ میں پاکستان کی چین سے دوستی نے بھارت پر ایک دبائو رکھا۔ جب 16ستمبر کو چین نے بھارت کو الٹی میٹم دیا کہ اگر تین دن کے اندر بھارت نے سکم چین سرحد سے اپنی فوج نہ ہٹائی تو نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔ اس وقت چینی الٹی میٹم نے مغربی پاکستان کے سیالکوٹ سیکٹر سے فوجی دبائو کم کرنے میں مدد کی۔ اس چینی پالیسی سے روس اور امریکہ کے رویے میں بھی تبدیلی آئی اور دونوں ممالک نے پاکستان اور بھارت پر زور ڈالا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت جنگ بندی پر عمل کریں ۔ چین کی اس پالیسی سے جنوبی ایشیا میں امن کی کوششوں کو تقویت ملی۔


صرف یہی نہیں 1966 میں جب امریکہ نے پاکستان پر فوجی سازوسامان کی ترسیل بند کی اس وقت بڑی تعداد میں چینی ہتھیار جن میں ایم آئی جی 15
اور ٹینک شامل ہیں یومِ پاکستان کی پریڈ میں نمائش کے لئے پیش کئے گئے۔ ساتھ ہی1966 میں دونوں ممالک کے درمیان120 ملین کی فوجی امداد کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ دراصل ان سارے تعلقات سے دنیا کو اور خاص طور پر پاکستان کے دشمن بھارت کو ایک واضح پیغام دیا گیا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ کھڑا ہے۔
تعلقات میں اہم سنگِ میل شاہراہ ریشم کا راستہ کھلنا تھا۔ جس نے چین کے صوبہ
(Xinjiang)
سنکیانگ کو وادی ہنزہ سے ملادیا تھا۔1969 تک شاہراہ قراقرم پر کام جاری تھا۔ اس شاہراہ پر تقریباً15000 پاکستانی اور چینی مزدوروں نے صبح شام کی انتھک محنت کے بعد تقریباً774کلومیٹر اور16,072 فٹ اونچائی پر کام مکمل کیا۔ شاہراہ قراقرم نے تعلقات کو مزید وسعت دی جو سیاسی تعلقات کے بعد معاشی ، فوجی اور معاشرتی تعلق کی صورت میں وسیع تر ہوگئی۔


پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک عظیم حصہ وہ تاریخی کردار ہے جس کو نہ صرف چین نے بلکہ دوسرے ممالک خاص طور پر امریکہ نے بھی سراہا۔ پاکستان نے امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کسنجر
(Henry Kissinger)
کے بیجنگ کے خفیہ دورے کے انتظامات کئے۔ جس کی وجہ سے بالآخر چین امریکہ سفارتی تعلقات قائم ہوسکے۔ انہی تعلقات کی وجہ سے امریکہ نے چین کی اقوامِ متحدہ میں رکنیت کی مخالفت ترک کی اور چین اقوامِ متحدہ کا ممبر اور سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بن سکا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے چین اور عرب دنیا خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ اس پاکستانی کردارکو چین نے کبھی فراموش نہیںکیا۔ چین نے شروع ہی سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ۔ خاص طور پر اقوامِ متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور بار بار پاکستان کی اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل میں حمایت کی۔ خاص طور پر جب امریکہ نے بھارت کو سلامتی کونسل کا ممبر بنانے کی کوششیں شروع کیں تو چین نے شروع ہی سے اس کی شدید مخالفت کی۔


1971 کی پاک بھارت جنگ کی چین نے مخالفت کی کیونکہ چین جنوبی ایشیا میں تسلط کی سیاست کی مخالفت کرتا آرہا تھا۔ چاہے وہ تسلط کسی عالمی طاقت کا ہو یا اس کے کسی اتحادی کا۔1971 کی جنگ میں چینی کردار صرف ہتھیاروں کی ترسیل تک محدود رہا۔


70کی دہائی کے آخری حصے میںبھارت کے ساتھ چین کے تعلقات کی بہتری سے پاکستان کچھ پریشان ضرور ہوا لیکن چین کے ساتھ اس کے تعلقات میں کمی نہ آئی۔ ٹھیک اسی زمانے میں جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد اور جواب میں افغان مجاہدین کی جنگ، امریکہ کا اس خطے میں ساز وسامان کے ساتھ مدد اور پاکستان کا افغانستان جنگ میں کردار اور اس کے ساتھ ہی خطے میں ایرانی انقلاب کی وجہ سے پاکستان اپنے داخلی اور بیرونی مسائل میں شدت سے گِھر گیا۔ امریکی امداد کی وجہ سے کچھ عرصے کے لئے چین بھارت تعلقات میں بہتری پیداہونے لگی لیکن یہ بہتری وقتی ثابت ہوئی۔
90کی دہائی میںپاک چین تعلقات میں وقتی تعطل ختم ہوا اور ایک بار پھر گرم جوشی پیدا ہوئی۔ چین نے پاکستان کی تقریباً ہر شعبے میں مدد کی۔ اس وقت چین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ چین کی اس وقت سب سے بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ تجارت کا حجم 18بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان اور چین نظریاتی طور پر دو مختلف ممالک ہیں۔ پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ اور اسلام کے نام پر رکھی گئی ۔ جبکہ چین میں کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی پر مائوزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد 21ستمبر 1949 میں رکھی۔ 1950 کے بعد یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس سنہری ہفتے

(Golden Week)

کی تقریبات مرکزی

Tiananmen Square

میں منعقد ہوتی ہیں۔


دفاعی شعبے میں چین نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج کی مختلف شعبوں میں امداد کی۔ خاص کر پاکستان کی دفاعی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے
(Heavy Mechanical Complex)
ٹیکسلا کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ چینی معاونت سے کامرہ میں ٹینک اور
Arms Plant
بھی لگایا گیا جبکہ 1986 میں
Heavy Electrical Complex
کا منصوبہ ہری پور میں شروع کیا گیا۔ پاکستانی افواج کی تینوں شعبوں میں چینی ہتھیاروں کی درآمد ہوئی جس میں بری اور بحری، زمین سے فضا میں نشانہ مارنے والے میزائل، ہلکے اور بھاری ہتھیار اور گولہ بارود شامل ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ٹینک کی صنعت میں خاص پیش رفت ہوئی اور نئی ٹینک ٹیکنالوجی خاص کر الخالد ٹینک چینی مشاورت اور معاونت سے تیار کیاگیا۔ دنیا کی تنقید کے باوجود پاک چین اشتراک سے مختلف میزائلوں کی ٹیکنالوجی کی بہتری میں بھی اہم پیش رفت ہوتی رہی۔
امریکہ بھارت نیوکلیئر ٹیکنالوجی برائے امن معاہدے کے بعد پاکستان نے چین کے ساتھ اس مخصوص نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے بات چیت کی جو بہت کامیاب رہی۔ چین نے پاکستان کے لئے نیوکلیئر توانائی کے پرامن استعمال کی پالیسی کی حمایت بھی کی اور اس کے حصول میں مدد کی۔
CHASNUPP-I
کا ایک پلانٹ پنجاب میں قائم کیا گیا۔ جبکہ
CHASNUPP-II
پروجیکٹ پر کام دسمبر 2005میں شروع ہوا۔
چین کی پاکستان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی شکل میں شروع ہوئی ہے۔ سی پیک سے پاکستان کا چین کے مغربی سنکیانگ صوبے سے بذریعہ شاہراہ رابطہ ہو جائے گا۔ جس سے معاشی ترقی کا ایک نیا دور منسلک ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ سی پیک منصوبہ سے پاکستان کے توانائی کے مسائل حل ہو جائیں گے اور اس کے ساتھ یہ منصوبہ شاہراہوں اور ریلویز کا ایک جال بچھا دے گا۔
سی پیک کے منصوبے کی بنیاد 2013میں رکھی گئی اور نومبر 2016 میں اس بڑے پروجیکٹ کے ایک حصے نے کام شروع کر دیا جب کہ کچھ اشیاء ٹرک کے ذریعے چین سے گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے مغربی ایشیا اور افریقہ کی منڈی میں بھیجی گئیں۔ اس کامیابی کے بعد چین نے اس منصوبے پر سرمایہ کاری میں اضافے کا عندیہ دیا جو اب 62بلین تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سی پیک کی کامیابی کے لئے پرامید ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سی پیک پاک چین دوستی میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا اور دونوں ممالک کو اس منصوبے کی تکمیل سے بے انتہا معاشی فوائد ہوں گے۔


معاشی تعلقات کی بنا پر چین پاکستان ایک ایسے سیاسی بندھن میں بندھ گئے ہیں جس کو سیاسی زبان میں اتحاد کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کی مخالفت بھارت اور امریکہ کی طرف سے شدت سے آئی کیوںکہ یہ دونوں ممالک چین کی بڑھتی ہوئی معاشی اور سیاسی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ بھارت کے لئے پاکستان کی سرزمین سے راستہ اس خوف میں مزید اضافہ ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے یہ چین سے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ممالک کا راستہ رہا ہے۔ ان علاقوں تک آسان رسائی براستہ پاکستان کم خرچ اور آسان ہے۔


پاکستان اور چین نظریاتی طور پر دو مختلف ممالک ہیں۔ پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ اور اسلام کے نام پر رکھی گئی ۔ جبکہ چین میں کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی پر مائوزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد 21ستمبر 1949 میں رکھی۔ 1950 کے بعد یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس سنہری ہفتے
(Golden Week)
کی تقریبات مرکزی
Tiananmen Square
میں منعقد ہوتی ہیں۔
پاکستان نے چین کے ابتدائی سالوں میں سیاسی حمایت کی۔ پاکستان نے اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود بھارت کو اس کی مغربی سرحدوں میں مستقل مصروف رکھا جس کی وجہ سے چین اس طرف نسبتاً کم مصروف رہا اور اس نے اپنا دھیان جنوب مغربی علاقوں کی طرف مبذول کیا۔ پاکستان کے ساتھ چین کو بھی اس دوستی سے فائدہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن کبھی بھی بھارت کی طرف نہ جھک سکا اور بھارت کا وہ خواب جس میں وہ خود کو جنوبی ایشیا کے علاقے پر اپنا تسلط یا علاقائی طاقت سمجھتا ہے کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔


حالیہ تناظر میں جبکہ امریکی صدر نے پاکستان کو افغانستان میں امریکی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سخت پالیسی کا اظہار کیا اور بھارت کو پاکستان کی جگہ افغانستان میں ایک اہم کردا دینے کی بات کی تو سب سے پہلے چینی سخت رد عمل سامنے آیا۔ جس نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں اور نقصانات پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان کی پالیسی کی تعریف کی۔ یہی حمایت اور حوصلہ افزائی ہے جس سے اس دوستی کی گہرائی اور پائیداری کا پتہ چلتا ہے۔ ایسے وقت میں چین کی حمایت نے جو اقوام متحدہ کا مستقل ممبر بھی ہے ان تمام امکانات کو بالکل محدود کر دیا ہے جس کے ذریعے پاکستان پر کسی قسم کی پابندی کا معاملہ زیربحث آ سکتا تھا۔ اسی لئے بھارت نے اس پالیسی بیان کو جو چین کی وزارت خارجہ نے پاکستان کی حمایت میں دیا، دہری اور دوغلی پالیسی قرار دیا۔


چین نے پاکستان کے ساتھ دوستی نبھائی۔ پاکستان کی ٹیکنالوجی، ہتھیار اور سرمایہ کاری کی فراہمی اور مختلف بحرانوں سے نکلنے میںخلوص سے مدد کی۔ اسی لئے پاک چین دوستی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی موسم یا وقت اسے کم نہیں کر سکا ہے۔بلکہ یہ دوستی سمندر سے گہری ہمالیہ سے اونچی شہد سے زیادہ میٹھی اور اب سی پیک معاہدے کے بعد اسٹیل سے زیادہ پائیدار اور مضبوط ہے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
19
September
ستمبر 2017
شمارہ:9 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قوم رواں برس یومِ دفاع اُسی جوش و خروش سے منا رہی ہے جس کے ساتھ اس نے باون سال قبل عددی اعتبار سے ایک بڑے دشمن کو شکستِ فاش دی تھی۔ ستمبر 65ء کی جنگ کے بعد ہی سے دشمن کو اس امر کا ادراک ہوا کہ وہ اس بہادر قوم اور اس کی جری افواج کو روائتی انداز سے کبھی شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ تب ہی سے دشمن نے اس عظیم مملکتِ خداداد کے خلاف سازشوں کے جال بُننا شروع کر دیئے۔ سانحۂ مشرقی پاکستان اُنہی سازشوں کا شاخسانہ تھا۔ دشمن ....Read full article
 
تحریر: فاروق اعظم
1965ء کی جنگ کو نصف صدی بیت چکی، تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی اُس پہلی باقاعدہ جنگ پر بحث و تمحیص کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہوا۔ پچاس سال کا عرصہ کسی ملک یا قوم کے لئے کم نہیں ہوتا۔ کامیاب وہ ہیں جو ماضی سے سیکھیں، حال کو سنواریں اور مستقبل کو روشن تر کریں۔ 65ء کے بعد یہ 52واں ماہِ ستمبر ہے، اس کے باوجود ہندوستانیوں نے یہ بحث شروع کردی ہے کہ جنگ 65ء میں ....Read full article
 
 alt=
تحریر: جاوید حفیظ
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے فورٹ مائر ورجینیا میں افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اہم پالیسی بیان دیا ہے۔ بیان کا ایک حصہ پاکستان کے لئے مختص ہے۔ بیان میں افغانستان کے لئے آئندہ عسکری پالیسی کے خدوخال بیان کئے گئے ہیں اور شاید اسی وجہ سے امریکی صدر نے اپنی تقریر کے لئے ملٹری بیس کا انتخاب کیا۔ صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے حامی رہے ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ امریکی عوام اس جنگ ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں
کستان کے دفا ع اور ترقی کے لئے ایک طاقت ور بحریہ کی ضرورت جس شخصیت نے سب سے پہلے محسوس کی وہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ اس وقت پاکستان دو حصوں مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل تھا۔ یہ دونوں حصے اپنی جغرافیائی وقو ع پذیری کی وجہ سے بالترتیب خلیج بنگال اور بحیرہ عرب میں بحری سر گرمیوں پر نظر رکھنے کی پوزیشن میں تھے۔ دفاعی حکمتِ عملی اور تجارتی سر گرمیوں کے حوالے سے خلیج بنگال او ربحیرہ عرب....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدرمحمود
کبھی غور کیا آپ نے کہ انسان محض گوشت پوست اور ہڈیوں کا نام نہیں، بلکہ ’انسان‘ جذبے کا نام ہے ۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا راز انسانی جذبہ ہے۔ بقول مولانا رومی تم جو ہو وہ تمہاری سوچ ہے باقی سب گوشت پوست ہے۔ مطلب یہ کہ انسان کو اس کی سوچ، عمل اورجذبے سے محروم کردیا جائے تو باقی صرف گوشت اور ہڈیا ں بچتی ہیں۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو محافظِ ملک و قوم بناتا اورجہاد کی منزل کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ جذبہ ہی ہے.....Read full article
 
تحریر: الطاف حسن قریشی
کیا خوب تھے وہ دن جن کی یادیں آج بھی دلوں کو نئے جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دیتی ہیں۔
یہ باون برس پہلے کی بات ہے، میں اپنے دوستوں کی دعوت پر 5 ستمبر 1965ء کی سہ پہر ساہیوال روانہ ہوا۔ اِرادہ ایک دو روز ٹھہرنے کا تھا۔ ایک ہی دن پہلے میں مقبوضہ کشمیر میں واقع چھمب جوڑیاں کے محاذ سے لوٹا تھا جہاں پاکستان کی فوجیں اکھنور کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔....Read full article
 
تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی
پاکستان اور بھارت کے مابین ستمبر 1965 کی جنگ تاریخ کے صفحات میں رقم ہوکر آئندہ نسلوں کے لئے ایک ناقابلِ تردید گواہی ہے کہ جنگوں میں فتح گولہ بارود، عددی برتری یا عسکری قوت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ دشمن کو فنا کرنے کا عزم، مادرِوطن کے دفاع پہ مرمٹنے کا حوصلہ، موت پر موت بن کر ٹوٹنے کا جذبہ جنگوں میں فتح یا شکست کا فیصلہ کرتے ہیں، اور انہی جذبوں سے سرشار پاک فوج کے نڈر، بہادر اور جری جوانوں نے اس جنگ میں اپنے سے.....Read full article
 
تحریر: وثیق شیخ
جنگ ستمبر1965کے دوران جرأت و بہادری کے ایسے ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملے کہ ان پر انسانی عقل حیران ہے۔ سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دشمن نے 400 سے زائد ٹینکوں سے حملہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں کسی بھی جگہ ٹینکوں سے لڑی جانے والی یہ سب سے بڑی جنگ تھی۔ قلیل تعداد اور اسلحہ کم ہونے کے باوجود پاک فوج کے بہادر اس جاں نثاری سے لڑے کہ دنیا کی عسکری تاریخ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
گئے وقتوں میں پشاور کے آرٹلری میس میں ہمہ وقت پندرہ سے بیس بیچلر آفیسرز کا ڈیرہ رہا کرتا تھا۔ ایک کمرے میں عموماً تین سے چار افسروں کا پڑاؤ ہوتا تھا۔ ایک غیر تحریری معاہدے کی رو سے میس میں موجود ہر شے عوام کی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی تھی۔ ذاتی سامان کی پھبتی صرف نیکر بنیان تک ہی محدود تھی بلکہ اکثر صورتوں میں توانہیں بھی روم میٹس....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
>ستمبر1965 کی جنگ کراماتی اور کرشماتی جنگ تھی۔
خاکی وردی والے خاک و خون ہو کر شہادت سے سرفراز ہوگئے مگر وطنِ عزیز کی سالمیت پر آنچ نہ آنے دی۔
چونڈہ میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی لڑائی لڑی گئی، 5ستمبر 1965 کی آدھی رات کے وقت بھارتی فوج بین الاقوامی سرحد پر آکر رُک تو گئی تھی مگر اُس کے ڈویژنل افسروں نے اپنے ماتحتوں پر انکشاف....Read full article
 
سروے : ازکٰی کاظمی
1965 کی جنگ نہ صرف ہمارے بزرگوں بلکہ ہماری نوجوان نسل کے دلوں پر آج بھی پاک فوج کی محبت اور جانثاری کا نقش قائم کئے ہوئے ہے۔ 6ستمبر 1965کی جنگ کے حوالے سے نوجوان نسل کے تاثرات جاننے کے لئے ہم نے ایک سروے کیا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے خیالات جانے جو ہلال کے قارئین کے لئے شائع کر رہے.....Read full article
 
تحریر:لیفٹیننٹ عاصمہ
ایک جانب آگ کے پھیلتے اور بلند ہوتے شعلے تھے تو دوسری طرف گولیوں کی بوچھاڑ،اسلحے بارود کی بو اور آگ کا دھواں کسی کے بھی حواس گم کرنے کے لئے کافی تھے لیکن جاوید احمدکے لئے ان میں سے کچھ بھی اہم نہ تھا،یہ سب چیزیں ان کی راہ نہیں روک سکتی تھیں۔۔۔آگ کے شعلوں سے تو ان کا 26 برس پرانا تعلق تھا اور بارود کی بو انہیں صرف یہ یاد دلاتی تھی کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں نہ صرف ان کے عزیز وطن کی حرمت کو للکارا ہے.....Read full article
 
تحریر: غزالہ یاسمین
6 ستمبرہماری قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس میں افواج پاکستان اور قوم کی جرات و بہادری کی ایسی داستانیں رقم ہیں جن سے آج بھی ہم اپنے ولولوں اور جذبوں کو روح تازہ بخشتے ہیں۔ یقیناًاس روزہم نے ثابت کردیا کہ پاکستان کوئی ترنوالہ نہیں اورقوم اپنی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔ ہرسال انہی ولولوں کی روشنی میں دفاع وطن کا اعادہ کرتی ہے۔ اس سال پوری.....Read full article
 
تحریر: عفت حسن رضوی
یہ 19جولائی تھی،خیبرایجنسی کی راجگال وادی میں فجر کی سپیدی نمودار ہونے کو تھی، سپاہی ایک مشکل معرکے کے لئے تیار تھے، نماز فجر پڑھی گئی،سب ہی نے آپریشن میں کامیابی کی دعا مانگی، مگر ایک نوجوان نے ہاتھ بلند کئے اور آنکھیں موندے اپنے رب سے کامیابی کے ساتھ شہادت مانگنے لگا۔ یہ سپیشل سروسز گروپ، سیون کمانڈو بٹالین (ببرم )کا کمانڈو....Read full article

تحریر: ڈاکٹر ہما میر
قیامِ پاکستان کو پورے ستّر سال ہوگئے، الحمدﷲ اس طویل عرصے میں مادرِ وطن نے مشکلات کے باجود ترقی کا سفر جاری رکھا۔ ان 70 برسوں میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، کئی جنگیں ہم پر مسلط کی گئیں، مگر بفضلِ خدا ہم ہر مصیبت سے نہایت ہمت سے نبرد آزما ہوئے، پوری قوم آزمائش کی ہرگھڑی میں متحد ہو کر امتحان........Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
اس نے بس میں بیٹھے ہوئے مسافروں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی، ہر چہرہ سپاٹ اور جذبات سے عاری تھا، کچھ لوگ کھڑے تھے، بیٹھے ہوئے مسافروں کی نسبت ان کے چہروں پر بیزاری زیادہ نمایاں تھی۔’’جانور کہیں کے‘‘ اس نے دل میں کہا اور بیٹھنے کے لئے جگہ تلاش کرنے لگا مگر کوئی سیٹ خالی نہیں تھی، مایوس ہو کر اس نے اپنے ساتھ....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا....Read full article
19
September

تحریر: یاسر پیرزادہ

اس نے بس میں بیٹھے ہوئے مسافروں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی، ہر چہرہ سپاٹ اور جذبات سے عاری تھا، کچھ لوگ کھڑے تھے، بیٹھے ہوئے مسافروں کی نسبت ان کے چہروں پر بیزاری زیادہ نمایاں تھی۔’’جانور کہیں کے‘‘ اس نے دل میں کہا اور بیٹھنے کے لئے جگہ تلاش کرنے لگا مگر کوئی سیٹ خالی نہیں تھی، مایوس ہو کر اس نے اپنے ساتھ کھڑے ہوئے ’’جانور‘‘ کی طرح بس سے لٹکی ہوئی چرمی گرفت کو مضبوطی سے تھام لیا، اس کی منزل دور تھی اور یوں کھڑے رہنے سے اسے کوفت ہو رہی تھی، ویسے بھی ساتھ والا کچھ زیادہ ہی جانور تھا، بے حد غلیظ حلیئے میں تھا، نہ جانے کب سے نہیں نہایا تھا، منہ سے بھبھکے اُٹھ رہے تھے، سر کے بالوں کی کھچڑی سی بنی ہوئی تھی اور زرد آنکھیں کسی بیماری کا پتہ دے رہی تھیں۔ اچانک بس ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی، وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور ’جانور‘ کے اوپر گِر گیا۔ ’جانور‘ نے اُسے گھور کر دیکھا اور اپنا بھاری بھر کم ہاتھ اس کے منہ پر جڑ دیا، وہ بیچارہ دو قدم پیچھے جا گرا، دوسرے مسافروں نے ایک لمحے کے لئے یہ منظر دلچسپی سے دیکھا مگر ساتھ ہی ان کے چہروں پر دوبارہ ازلی بیزاری طاری ہوئی۔ اس نے سوچا کاش اس کے پاس تیز دھار والا کوئی خنجر ہوتا تو وہ اس ’جانور‘ کا پیٹ چاک کر دیتا، بڑی مشکل سے اس نے اپنے جذبات کو قابو میں کیا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ ’جانور‘ اس کے چہرے سے اس کے جذبات کا اندازہ لگائے کیونکہ ایسی صورت میں یقیناً ’جانور‘ اسے ایک آدھ ہاتھ مزید جڑ دیتا جسے برداشت کرنے کی اب اس میں ہمت نہیں تھی ۔ ’جانور‘ بہت لحیم و شحیم تھا لہٰذا اس نے پرے رہنے میں ہی عافیت جانی۔

janwar.jpg
تھوڑی دیر بعد اس کی منزل آگئی، بس سے اُترتے ہوئے اس نے سُکھ کا سانس لیا، اپنے کپڑوں کی سلوٹیں درست کیں، بالوں میں ہاتھ پھیر کر انہیں سنوارنے کی کوشش کی اور سانس ٹھیک کرنے کے بعد سامنے واقع دفتر میں داخل ہوگیا۔ دفتر میں خاصی بھیڑ تھی، لوگ عجیب سی نفسا نفسی کے عالم میں ادھر ادھر پھر رہے تھے، یوں لگ رہا جیسے انہیں خود بھی پتہ نہ ہو کہ انہوں نے کس طرف جاناہے، ان کے چہروں پر بھی ویسی ہی بیزاری اور کسی حد تک نحوست طاری تھی، ان کی آنکھیں باہر کو اُبل رہی تھیں اور بعض کے منہ سے تو جھاگ بھی نکل رہی تھی، جب وہ بولتے تو یوں لگتا جیسے غُرّا رہے ہوں۔’’جانور سب کے سب! ‘‘ اس نے دل میں کہا۔ متعلقہ کھڑکی پر پہنچ کر اس نے بڑی لجاجت سے پوچھا ’’سر! میں نے اپنا بل‘‘ درست کروانا ہے یہ کون کریں گے؟ ‘‘کھڑکی کے پیچھے بیٹھے نوجوان نے ہاتھ سے سیڑھیوں کی جانب اشارہ کردیا اور پھر اپنے موبائل فون کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اس نے دوبارہ پوچھا ’’سر! اُوپر کون صاحب ہیں جو یہ کام کریں گے؟‘‘ اس مرتبہ نوجوان نے بُرا سامنہ بناتے ہوئے کہا ’’اوپر جا کر کسی سے پوچھ لینا!‘‘ اوپری منزل پر بھی رش لگاہوا تھا، جس بابو نے اس کا کام کرنا تھا اس کے اردگرد لوگ مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہے تھے، بڑی مشکل سے وہ ’’جانوروں‘‘ کی بھیڑ چیرتا ہوا اس تک پہنچا اور اپنا بل اس کے آگے کردیا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ بابو نے شعلہ اگلتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’سر، یہ میرا بل ہے، اس ماہ بہت زیادہ یونٹ ڈال دیئے گئے ہیں، میٹر ریڈنگ تو آج بھی یہاں تک نہیں پہنچی جتنی پندرہ دن پہلے اس بل میں درج کی گئی ہے، پلیز اسے ٹھیک کردیں!‘‘ بابو نے بل اس کے منہ پر مارا اور بولا’’دیکھ نہیں رہے پہلے سے کتنے لوگ لائن میں لگے ہیں، ویسے بھی اب دفتر کا وقت ختم ہونے والا ہے۔، تم کل آنا!‘‘ اس نے جواب میں کچھ کہنے کی کوشش مگر قطار میں کھڑے ’’جانوروں‘‘ نے یوں پیچھے دھکیلا کہ وہ بمشکل گرتے گرتے بچا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں باقی لوگوں نے اس کی یہ درگت بنتے تو نہیں دیکھی، پرے کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی ایک خاتون اس کی حالت دیکھ کر ہنس رہی تھی، اسے لگا جیسے بیچ بازار میں کسی نے اس کے کپڑے اُتار دیئے ہوں۔ ’’کاش میرے پاس کوئی مشین گن ہوتی،‘‘ اس نے دل میں سوچا،’’تو میں ابھی ان جانوروں کا قتلِ عام کردیتا‘‘
سورج غروب ہونے میں ابھی کافی وقت تھا، وہ چاہتا تو اپنے ایک دو کام نمٹا سکتا تھا مگر اس نے ارادہ بدل دیا ’’مجھے مزید ان جانوروں کے منہ نہیں لگنا چاہئے!‘‘ اس نے سوچا۔ گھر واپسی کا سفر بھی بس میں طے ہو، وہی منحوس صورت لوگ، بیزار چہرے، جانوروں جیسی شکلیں۔ اچانک اس کی نگاہ بس میں لگے چھوٹے سے آئینے پر پڑی، اس کے چہرے کا عکس آئینے میں نظر آرہا تھا یکدم وہ گھبرا گیا اسے لگا جیسے وہ بھی انہی ’’جانوروں‘‘ جیسا ایک ’جانور‘ ہے، اسے اپنی شکل پر بھی وہی وحشت، ویسی ہی جنونیت اور ویسی ہی نحوست نظر آئی، اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا گویا یقین کررہا ہو کہ یہ اسی کا چہرہ ہے جو آئینے میں نظر آرہا ہے، یقیناً یہ اُسی کا چہرہ تھا’’تو کیا میں بھی اسی طرح کا ایک جانور ہوٖں؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا ’’نہیں، یہ میرا وہم ہے، میں ان کی طرح نہیں ہوسکتا۔‘‘ یہی سوچتے ہوئے اس کی منزل آگئی، اس نے اردگرد کھڑے ’’جانوروں‘‘ کو دھکیلتے ہوئے اپنا راستہ بنایاا ور بس سے اُتر گیا۔


بس سٹاپ سے گھر تک کا راستہ چند منٹ سے زیادہ کا نہیں تھا، ایک جگہ رُک کر اس نے کھوکھے سے چائے پی اور سگریٹ کی ڈبی خریدی، سگریٹ سلگاتے ہوئے یکدم اسے خیال آیا، اس نے تیز تیز قدموں سے چلنا شروع کردیا، اپنے گھر سے ذرا پہلے دو گلیاں چھوڑ کر ایک چھوٹے سے گھر کے دروازے پر وہ رُک گیا، ادھر اُدھر دیکھا گلی میں کوئی نہیں تھا، اس نے گھڑی پر نظر ڈالی’’ابھی بہت وقت ہے‘‘ اس نے سوچا اور دروازے پر لگی گھنٹی بجا دی۔ ایک نو عمر لڑکی نے ’’کون ہے؟‘‘ کہتے ہوئے دروازہ کھولا ، اسے دیکھتے ہی گھبرا سی گئی’’ابا گھر پر نہیں ہیں، آپ شام کو آئیں‘‘ کہہ کر اس نے دوازہ بندکرنا چاہا مگر اتنی دیر میں وہ دروازہ کو دھکیل کر اندر داخل ہوچکا تھا، قریب تھا کہ لڑکی کی چیخ نکل جاتی اس نے لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، کچھ دیر وہ بے بس مچھلی کی طرح تڑپتی رہی پھر بے دم ہوگئی، اس نے خوفزدہ ہو کر ہاتھ اس کے منہ سے ہٹا دیا، لڑکی بے ہوش ہو چکی تھی، اس نے افراتفری کے عالم میں لڑکی کو وہیں چھوڑ ا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آیا، گلی اب بھی سنسان تھی، اس نے سُکھ کا سانس لیا اور فوراً دوسری گلی میں مُڑ گیا۔


مغرب کا وقت تھا، لوگ مسجد سے نماز اداکرکے نکل رہے تھے، وہ بھی انہی میں شامل ہوگیا، اچانک کہیں سے شور بلند ہوا ’’پکڑو، پکڑو۔۔۔ جانے نہ پائے۔۔۔ چورچور۔۔۔ ڈاکووو۔۔۔ پکڑو، پکڑو‘‘ اس کی سانس خشک ہوگئی، اسے لگا کہ اس کا ہارٹ فیل ہو جائے گا، لیکن پھر اس کی جان میں جان آئی ، لوگ کسی اور کے پیچھے تھے، یہ پچیس چھبیس سال کا ایک نوجوان تھا، لوگوں نے اسے بری طرح دبوچ رکھا تھا ’’ یہ میرا موبائل چھین کر بھاگ رہا تھا‘‘ کسی نے مجمعے میں سے کہا۔ ’’ہاں، میں اسے پہچانتا ہوں،کل میری دکان پر بھی اس نے ڈکیتی کی تھی۔‘‘ ایک اور شخص بولا، ’’مارو خبیث کو‘‘ ایک آواز آئی۔ پھر کیا تھا، لوگوں نے اس نوجوان کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ مارنے والوں میں وہ بھی شامل ہوگیا، اس نے نوجوان کی آنکھ پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کی آنکھ خون سے سرخ ہوگئی، کسی نے اس کے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا دیا، اس نے نوجوان کو الٹا لٹکایا اور اس کی کمر پر ڈنڈے برسانے شروع کردیئے، نوجوان کی چیخیں پہلے بلند ہوئیں اس کے بعد معدوم ہوتی چلی گئیں۔ آخری چیخ سننے کے بعد اس نے ڈنڈا پرے پھینکا اور ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے بڑبڑایا’’جانور کہیں کا!‘‘

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
19
September

تحریر: حفصہ ریحان

پاکستان میں دہشت گردی کے پس منظر میں لکھا گیا ناول

گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے کیونکہ وہ گھر گیاہی نہیں ہوتا۔
پانچ سالہ شہیر فون پراپنے والدسے ناراضگی کا اظہارکرتاہے کہ وہ ان سے ملنے نہیں آتے۔ وہ جواب میں اپنے معصوم بیٹے کے گلے شکوے ختم کرنے کے لئے وہ بہت جلدآنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ دراصل شہیر کے والد میجر شاہنواز آرمی میں ہیں اور اُن کی ڈیوٹی ان دنوں افغان بارڈر پر ہے۔
نوسالہ عمران بھی اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔
مدرسے میں بجنے والی گھنٹی کی آواز مجاہد کو سوچوں کی دنیاسے نکال کرحقیقت کی دنیا میں لے آتی ہے۔وہ دنیا جہاں انتہائی درجے کی تلخی ہے۔۔۔۔۔۔!

سفیرعلی کواللہ نے چاراولادیں دی تھیں۔ سب سے بڑی صبیحہ، اس کے چارسال بعدوجیہہ پھردو سال بعدہاشم اوراس کے ڈیڑھ سال بعدملیحہ۔
شیرعلی کواللہ نے دوبیٹوں سے نوازاتھا۔بڑاصارم اورساڑھے چارسال بعدریحان۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں مزیداولادنہیں دی۔
شیرعلی کی شادی کے چارسال بعددونوں بھائیوں نے رقم جمع کی اورمشترکہ طورپرشہر پشاورمیں گھر کے لئے ایک پلاٹ لیااورا س پر اچھاساگھربنالیا۔ نیچے والے پورشن میں شیرعلی اپنے بیوی بچوں سمیت رہنے لگااوراوپروالاپورشن کرائے پرچڑھادیاگیا۔
سفیرعلی باہررہتے ہوئے بھی اپنے بھائی اوروطن سے اتنی ہی محبت کرتاتھا۔ ہرسال دوسال بعدوہ اپنے بیوی بچوں سمیت مہینہ ڈیڑھ مہینہ پاکستان گزارنے آتا۔ اس عرصے میں یہ گھر خوشیوں کاگہوارہ ہوتا۔ سارے بچے بھی بہت خوش ہوتے اوربھائی توآپس میں اتنے خوش ہوتے جیسے مدتوں بعدمل رہے ہوں۔
شادی کے تقریباًپندرہ سال بعدجب صارم ابھی چودہ سال کاتھااورنویں جماعت میں پڑھ رہاتھا، ایک دن باپ کے دفترسے اس کے گھرپرفون آیاکہ شیرعلی کودل کادورہ پڑگیاہے اور انہیں ہسپتال لے جایا گیاہے۔وہ اپنی ماں کولے کر بھاگا بھاگا ہسپتال پہنچا۔ اس کے باپ کے دوست بھی وہاں موجود تھے۔اس کا باپ آئی سی یو میں تھا۔ وارڈ کے باہر وہ اور اس کی ماں روروکراللہ سے شیرعلی کی صحت کی دعائیں مانگتے رہے اوراندرڈاکٹراپنی کوششیں کرتے رہے لیکن فرشتہ اللہ کی طرف سے کچھ اورذمہ داری لے کرآیاتھا۔
اورپھرچارگھنٹے کے طویل اورجان لیواانتظارکے بعدانہیں وہ خبرسنادی گئی جس کوسننے کے لئے نہ کان تیارتھے اورنہ ہی روح راضی تھی۔
شیرعلی کی تدفین پرسفیراورغزالہ اپنے چاروں بچوں سمیت آئے تھے۔ ڈیڑھ مہینہ یہاں رہے اورپھرچلے گئے۔حیدراورغزالہ کادل بالکل نہیں کررہاتھازبیدہ اوردوبچوں کوچھوڑ کرجائیں لیکن وہاں کاروبارکامسئلہ تھاسوانہیں جاناہی پڑا۔لیکن انہیں تھوڑاسااطمینان صارم کی طرف سے تھاکہ اس چودہ سالہ بچے نے جس طرح اپنے آپ کومضبوط بناکراپنی ماں کے حوصلوں کوبڑھایاتھاوہ باعثِ اطمینان تھا۔
آپ نے بلایا؟؟ وجیہہ ریلنگ کے پاس آ کرآہستہ آوازمیں بولی۔ اس کی آواز صارم کو سوچوں کی دنیا سے واپس کھینچ لائی۔
وہ کچھ دیروجیہہ کی طرف دیکھتارہا۔۔ہمیشہ سنجیدگی کی دبیزچادراوڑھے کیپٹن صارم شیرعلی کے چہرے پرمسکراہٹوں ہی کے بسیرے تھے آج۔۔۔۔
’’ہاں بلایا توتھا۔۔۔۔لیکن تم نے آنے میں اتنی دیرکردی کہ میں نے ایک باراپنی گزشتہ زندگی کوچھان ماراہے اوربھول گیاہوں کہ تم سے کیاکہناتھا۔وہ اس کی طرف دیکھتے مسکرارہاتھا۔ وہ سمٹ گئی۔ بھلاصارم بھی کبھی ایسے مسکراسکتاہے۔ وہ سوچتی رہی لیکن کچھ بولی نہیں۔
’’وجیہہ تم مجھ سے اتنی دوردورکیوں رہتی ہو؟؟‘‘
وجیہہ نے ایک لمحے کوحیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔یہ کیساسوال تھا۔؟؟
’’ میرامطلب ہے کہ ریحان کے ساتھ تمہاری اچھی دوستی ہے لیکن مجھ سے تم ہمیشہ اکھڑی اکھڑی رہتی ہو۔۔‘‘ اس نے اپنی بات کی وضاحت دی۔
’’ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔‘‘ وہ بدستورنیچے دیکھتی رہی۔
’’ یہ نکاح واقعی تمہاری مرضی سے ہواہے نا؟؟؟‘‘
وہ ایک بارپھراس کی طرف حیرانی سے دیکھنے لگی۔یہ بھی کچھ عجیب ساسوال تھا۔وہ خاموش رہی۔
’’ وجیہہ مجھے امی نے کہاتھاکہ تم سے رشتے کے بارے میں رضامندی لی گئی ہے اورتمہیں کوئی اعترض نہیں ہے لیکن میں ایک بارخودتم سے پوچھناچاہتاتھا۔وہ اس لئے اول تومیرااور تمہاراسامنا کم ہی ہواہے اورجب ہوابھی ہے توکبھی تم نے سلام سے آگے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔جب ہم سب گھروالے ایک ساتھ بیٹھے ہوتے تھے تب بھی تم اکثرمجھے اگنور کررہی ہوتی تھی۔اکثرمیری طرف سے رخ موڑکربیٹھ جاتی۔ایسی ہی باتوں کے بعدمجھے لگاکہ تم شایدمجھے پسندنہیں کرتی۔ میں تمھیں پسندکرتاتھااورکرتاہوں۔ تب سے کرتاہوں جب ہم چھوٹے تھے اورتم لوگ تایا، تائی کے ساتھ یہاں چھٹیوں میں آیاکرتے تھے۔تمھیں یادہے نا! جب ابواورتایاگاؤں جاتے تھے توتم بہت رویاکرتی تھی اورتب میں تمہیں قریبی پارک میں اپنی سائیکل پرلے جایاکرتاتھااورتمہیں وہاں جھولے دیاکرتاتھا۔ میری پسندیدگی تب کی ہے لیکن جب سے تم لوگ یہاں آئے ہو تمہارے رویّے سے مجھے لگتارہاکہ تم مجھے کچھ خاص پسند نہیں کرتی۔جب امی نے مجھے تمہاری رضامندی کے بارے میں بتایاتومجھے لگاتم سے پوچھے بغیرتایا، تائی نے ہاں کردی ہوگی اس لئے میں نے امی سے ضدکی کہ میں تم سے ملناچاہتاہوں اورخود ایک بار پوچھنا چاہتا ہوں تم سے لیکن تایانے ایسی کسی بات سے منع کردیاتھامجھے۔وہ کہہ رہے تھے کہ سب کچھ تمہاری رضامندی سے ہورہاہے اورویسے بھی اس بات کایقین تومجھے اس لئے بھی تھاکہ تایاتم لوگوں سے اتناپیارکرتے ہیں وہ زبردستی تونہیں کریں گے تمہارے ساتھ لیکن پھربھی مجھے لگ رہاتھاکہ تم مجھے پسندنہیں کرتی تو۔۔۔۔‘‘
’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھ سے مرضی پوچھی گئی تھی۔‘‘ وجیہہ نے اس کی بات کاٹ کرکہا۔
’’ اورتمہاری رضاسے ہواہمارانکاح؟؟‘‘
’’ جی۔۔‘‘یک لفظی جواب آیا۔ صارم کے چہرے پرمسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔ اس نے ایک گہری سانس لی جیسے اس کے دل سے کوئی بوجھ ہٹ گیاہو۔ مسکراتا تووہ اکثرتھااور اس کی مسکراہٹ ہمیشہ اچھی بھی لگتی تھی لیکن آج مسکان کے ساتھ خوشی بھی جھلک رہی تھی۔
’’ پھرمیرے ساتھ ایسارویہ کیوں رکھتی تھی کہ مجھے لگتارہاکہ میں تمہیں ناپسند ہوں؟؟‘‘
’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے بس آپ ہروقت سنجیدہ سے رہتے تھے اورباتیں بھی اتنی کم کرتے ہیں کہ میں آپ سے کیسے بات کرتی۔ریحان توبہت باتیں کرتاہے بچپن سے ہی اس لئے اس کے ساتھ کافی دوستی ہے۔‘‘ اس نے اپنے رویے کی وضاحت دی جوصارم کوپریشان کررہاتھا۔
’’ باتیں کم کرتاہوں تواس کایہ مطلب تونہیں کہ مجھے اگنورہی کردیاجائے اوریاپھر میں کسی کوپسندنہیں کرسکتا۔ ‘‘
’’پسند؟؟؟؟ ‘‘وہ حیران ہوئی
’’ہاں پسند۔۔۔بلکہ صرف پسند نہیں شدید پسند یاپھر۔۔۔‘‘وہ مسکرایا۔۔
’’ آپ نے کبھی بتایانہیں۔‘‘ وجیہہ حیران ہورہی تھی۔
’’ صرف تمہیں نہیں بتایا۔امی جانتی تھیں اورانہوں نے تایا،تائی کوبھی بتایاتھا۔ ریحان بھی اکثرتمہارے حوالے سے تنگ کرتاتھامجھے۔ اورتایاسے توامی نے تب بات کی تھی جب تم لوگ یہاں شفٹ بھی نہیں ہوئے تھے۔ لیکن وہ بات کچھ زیادہ اہم بات نہیں تھی۔امی جانتی تھیں کہ میں تمہیں پسندکرتاہوں لیکن میں نے انہیں منع کیاتھاکہ کسی سے اس حوالے سے بات نہ کریں۔ اگرتایاسے بات کرنی بھی ہے تووہ یہی کردیں کہ جب تمہاری شادی کے لئے سوچاجائے اوراگرتم تایا،تائی کی مرضی سے کرنا چاہوتومیرے حوالے سے بھی سوچاجائے۔ایسامیں نے اس لئے کہا تھاکہ اگرتم کسی کوپسندکروتوپھرمیرے رشتے کوچھوڑکرتمہاری مرضی کو دیکھا جائے۔ وجیہہ میں تمہیں پسندکرتاہوں اورجب بھی گزشتہ زندگی میں اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچاتوصرف تمہارے حوالے سے سوچالیکن اس کایہ مطلب نہیں تھاکہ تم پرمجھے مسلط کردیا جائے۔ تمہاری خوشی زیادہ اہم تھی۔۔۔‘‘ ہمیشہ اپنی زندگی میں مگن رہنے والاصارم شیرعلی آج برملا اپنی پسند کا اظہار کر رہا تھا اور وہ دل کے کانوں سے سن رہی تھی۔وہ مردتھاتوبرملاکہہ رہا تھا وہ تولڑکی تھی کیسے بتاتی کہ اس کے احترازاورگریز کی وجہ صارم کے لئے اس کی پسندیدگی تھی۔ سنجیدگی کے خول میں لپٹاصارم کب اس کے دل میں اترگیاتھااسے پتابھی نہیں چلا تھا۔ اس نے توکبھی زیادہ باتیں بھی نہیں کی تھیں اس سے۔اورپھروہ اس کی طرف سے صرف’منہ‘ موڑکربیٹھتی تھی ’کان‘ تواس کی آوازپرہی ہوتے تھے اوراس کی پسنداتنی پرانی نہیں تھی جتنی صارم کی تھی۔ دوسال پہلے ہی سفیر علی اپناکاروباروہاں سے ختم کرکے پاکستان واپس آگئے تھے اوراسی گھرمیں اوپروالے پورشن میں رہنے لگے تھے۔ صبیحہ کی شادی توانہوں نے پہلے ہی اپنے دوست کے بیٹے سے کر دی تھی۔
*******
’’اَبو۔۔۔۔۔
اَمی۔۔۔۔۔
نعمان۔۔۔۔
شالو۔۔۔۔۔
اس کی چیخ وپکارپرباورچی خانے میں مصروف شاہدہ اوردونوں بچے نعمان اورشائلہ، بھاگتے ہوئے برآمدے میں آئے۔وہ سب جانتے تھے کہ آج اس کا آٹھویں کے اِمتحان کانتیجہ آناتھا۔
’’کیاہوابیٹانتیجہ کیساآیا؟؟‘‘ ماں نے جلدی سے پوچھا۔
جواب میں اس نے کچھ کہنے کے بجائے بھاگ کرماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
اورشاہدہ سمجھ گئی کہ اس کافیصل آج پھراسے سُرخرو کر گیاہے۔اس کی آنکھوں میں پانی کے قطرے جھلملانے لگے جِسے اس نے روکنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ خوشی کے آنسو ہی توتھے۔
وہ ایساہی تھا۔ہرخوشی کے موقعے پرکچھ کہے بغیربھاگ کرماں کے گلے میں بانہیں ڈال لیتا تھا۔آج بھی اس نے یہی کیا۔ماں سمجھ گئی تھی۔
’’بھیااب بتابھی دیں کہ رزلٹ کیساآیاآپ کا؟؟؟‘‘
ننھی شائلہ نے معصوم آواز میں پوچھا۔
’’ارے شالوتمہارابھیافرسٹ آیاہے۔۔‘‘ فیصل نے اسے اٹھاکرگول گول گھماتے ہوئے کہا۔
’’لوجی۔تواس میں کونسی نئی بات ہے؟؟ آپ توروزہی فرسٹ آتے ہیں۔‘‘نعمان منہ بناتے ہوئے بولا۔
’’لیکن امی! بھیاتوفرسٹ آئے ہیں پھرآپ روکیوں رہی ہیں؟‘‘ ننھی شائلہ حیران ہوئی تھی کیوں کہ آج تک اس نے کسی کوفرسٹ آنے پرروتے ہوئے نہیں دیکھاتھا۔
’’ا چھاتم دونوں جاؤاندر۔کھیلوجاکے۔‘‘ فیصل نے ان دونوں کواندربھیج دیا کیونکہ اس کے یاشاہدہ دونوں میں سے کسی کے پاس ان کے سوالوں کاجواب نہیں تھا۔ کیونکہ سات سالہ نعمان اور پانچ سالہ شائلہ خوشی کے آنسونہیں جانتے تھے۔
’’شائلہ مجھے لگتاہے کہ بھیانے ہم سے جھوٹ بولاکہ وہ فرسٹ آئے ہیں اگر وہ فرسٹ آتے توامی کیاایسے روتیں؟؟‘‘سات سالہ نعمان نے جیمزبانڈ فلموں کے ہیروکی طرح گول گول آنکھیں اِدھرادھر گھماتے ہوئے مشکوکانہ اندازمیں کہا۔
’’ہاں مجھے بھی لگتا ہے کہ بھیافیل ہوگئے ہیں اِسی لئے امی رورہی تھیں‘‘۔۔ شائلہ اپنی سمجھ کے مطابق دورکی کوڑی لائی تھی۔
’’بس پھرتومزاآئے گا۔آج ابوآکربھیاکوبھی پیٹیں گے۔۔۔ جیسے مجھے روزمارتے ہیں۔‘‘نعمان خوش ہوتے ہوئے بولا۔
’’لیکن تم توسکول نہیں جاتے نا!اِس لئے تمہیں مارپڑتی ہے ابوسے۔ بھیاتو روزسکول جاتے ہیں۔‘‘
شائلہ کواپنے بھیاکے بارے میں نعمان کی بات بری لگی تھی اوراحتجاجاًاس نے کھیلنابندکر دیا تھااس کے ساتھ۔
اورچھوٹانعمان اِس بات پردِل ہی دِل میں خوش تھاکہ بھیابھی آج ابوسے مارکھائے گا۔
********
’’مجاہداللہ۔۔۔۔۔۔۔
مجاہد۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
حمزہ نے اسے ہلایا۔وہ جواتنی دیرسے سوچوں میں مگن تھاایک دم سے جاگ اُٹھا۔
’’آں!!۔۔۔ہاں کیاہوا؟؟؟ ‘‘
’’مجھے توکچھ نہیں ہوالیکن تمہیں ضرورکچھ بڑاہوگیاہے۔اتنی دیرسے ناشتہ تمہارے سامنے پڑا ہے اورپڑے پڑے ٹھنڈابھی ہوگیاہے اورتم ہوکہ پتانہیں کہاں گم ہو۔۔۔۔‘‘
’’ نہیں کچھ نہیں۔۔میں کرتاہوں ناشتہ۔۔۔اوروہ ناشتہ کرنے لگا۔‘‘
’’مجاہد۔۔۔۔۔‘‘ اس نے آہستہ سے اسے پکارا۔وہ سراٹھاکراس کی طرف دیکھنے لگا
’’ تم ٹھیک ہو؟؟؟‘‘
’’ ہاں میں ٹھیک ہوں۔بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’ اچھاٹھیک ہے۔‘‘
حمزہ کمرے سے باہرنکل گیااوروہ ناشتہ کرتے ہوئے ایک بارپھرسوچنے لگا۔
حمزہ کے منہ سے نکلنے والانام 146146مجاہد145145 اس کی دماغ میں تیرکی طرح لگاتھا۔۔۔

’’ظفرکے ابا!‘‘رات سونے کے لئے لیٹتے ہوئے جمیلہ نے فضل سے کہا۔
’’ہوں۔۔۔۔۔‘‘
’’بچے کانام کیارکھیں گے ؟؟؟‘‘
’’جوتمہاری مرضی ہو۔‘‘مختصرساجواب آیا۔
’’لیکن پہلے بچوں کے نام توتم نے رکھے ہیں۔‘‘
’’توٹھیک ہے اس بچے کانام تم رکھ لو۔ویسے کچھ سوچاہے تم نے ؟؟؟‘‘ وہ الٹااسی سے پوچھ بیٹھا تھا۔
’’ ظفرکے ابا۔مجھے تورحمت اللہ نام بہت پسندہے۔‘‘
’’ھم م م م۔۔۔۔۔۔ اچھاہے۔‘‘ فضل کاجواب ایک بارپھرمختصرساتھا۔
’’ ہم نے اللہ سے بیٹی کی دعاکی تھی کہ وہ ہمیں بیٹی دے دے ،اپنی رحمت دے دے ہمیں لیکن اللہ نے ہمیں اگربیٹادے دیاہے توہمیں اس کاشکراداکرنا چاہئے۔‘‘
’’ہاں ظاہر ہے۔۔۔ بڑاشکرہے اس ذات کا۔‘‘
’’اب اللہ، ان شاء اللہ اسی بچے کوہمارے لئے رحمت بنائے گا۔‘‘
’’ان شاء اللہ۔۔۔۔۔‘‘ایک بارپھرمختصرجواب تھا۔
’’ بچے بھی توبہت خوش ہیں چھوٹے کودیکھ کر۔‘‘جمیلہ کااشارہ ان دونوں کے باقی چاربچوں کی طرف تھاجواس وقت دوسرے کمرے میں سورہے تھے۔
’’بس ٹھیک ہے ہمارے بیٹے کانام رحمت اللہ ہے۔۔‘‘جمیلہ نے مسرت سے بچے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ ٹھیک ہے۔‘‘فضل نے بھی تائیدکی۔۔۔
اوریوں اس کانام رحمت اللہ رکھ دیاگیا۔۔
********
تمھارا نام کیاہے ؟؟؟؟؟
سیف اللہ ۔۔۔۔۔۔ اور تمھارا؟؟؟؟؟؟
مجاہداللہ۔۔۔۔
کب سے ہویہاں پر؟؟؟؟؟ اس نے پھر پوچھا۔۔
پچھلے دومہینے سے ۔ وہ مختصرسے جواب دیتا رہا۔
اچھا۔دراصل مجھے بھی تمھارے ساتھ اسی کمرے میں رہناہے ۔منتظم نے مجھے اسی کمرے کا کہا ہے ۔
تو ٹھیک ہے نا۔رکھو اپنا سامان اورجب چارپائی آجائے تولے لینا۔وہ تو بہت غصے میں لگ رہا تھاپتا نہیں کیوں۔
اورکتنے لوگ ہیں اس کمرے میں؟؟؟؟ اس نے پھر پوچھا۔
تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھم م م م۔۔تو مطلب چار لوگوں کے ساتھ رہناپڑے گا۔خیر کوئی بات نہیں کچھ نہ کچھ ہوہی جائے گا۔اس نے اپنے ساتھ ہی سرگوشی کی۔
مجھ سے کچھ کہا؟؟؟؟؟ سیف اللہ نے سراٹھا کرپوچھا۔وہ ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔
نہیں نہیں۔۔کچھ بھی نہیں کہا۔میں تمھارے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں جب تک میری چارپائی نہیں آجاتی۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
سیف اللہ نے کچھ کہنے کے بجائے اپنے پھیلے ہوئے پیرسکیڑ لئے ۔اس کا مطلب تھا کہ اسے بیٹھنے کی اجازت مل گئی ۔
وہ کچھ کہے بغیرچارپائی پر پائینتی کی طرف بیٹھ گیااورانتظار کرنے لگا کہ کب منتظم آکراسے چارپائی لانے کے لئے بلاتا ہے ۔اسے کہا گیاتھا کہ اس کے لئے چارپائی کا انتظام کیاجارہاہے اور کچھ ہی دیر میں اسے اطلاع کر دی جائے گی۔پھروہ آکرچارپائی اپنے کمرے میں لے جائے ۔اسے سب سے پہلاسبق یہ دیا گیا کہ یہاں پراسے اپنے سارے کام خودکرنے پڑیں گے ۔وہ کسی سے کوئی مدد نہیں مانگے گا۔
وہ جہاں سے آیا تھا یہی سب اس نے وہاں بھی سیکھا تھا اوراب تک اسے جن قوائد و قوانین کے بارے میں بتایا گیا وہ اس کے لئے نئے نہیں تھے ۔اپنے سارے کام وہ پہلے ہی سے خود کرنے کا قائل تھا۔اورکسی بھی کام کے لئے سہارا لینے کابھی وہ قائل نہیں تھا۔وہ اُنیس سال کاجوان لڑکا تھا۔ اپنے آپ کوخوب اچھی طرح سنبھال سکتا تھا۔صحت کے لحاظ سے بھی وہ ایک بھرپورجوان تھا۔
اس کے انتظارکاعرصہ زیادہ طویل ثابت نہ ہوا۔تقریباً دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ منتظم نے آکراسے بتایاکہ وہ اپنے لئے چارپائی لے آئے ۔ان دس منٹ کے اندراندر وہ سارے کمرے کا ایک بھرپورجائزہ لے چکاتھااورفیصلہ کرچکا تھا کہ اسے اپنی چارپائی کہاں رکھنی ہے ۔وہ اٹھ کر منتظم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا جواسے عمارت کے پیچھے سے گھماتا ہوا ایک بڑے اورخالی کمرے میں لے آیا۔ وہاں پرکچھ چارپائیاں پڑی تھیں۔
ان میں سے ایک لے جاؤ اپنے کمرے میں۔ منتظم نے کہا۔
وہ چپ چاپ آگے بڑھا اور ایک چارپائی کو سیدھا کرکے اٹھایا اوراپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گیا۔۔
کھانے کے وقت آجانااورسکون سے رہنااپنے کمرے میں۔کوئی جھگڑا نہیں ہوناچاہئے اور یہ بھی یاد رکھو کہ بڑے مولانا صاحب آپس میں لڑائی جھگڑے کوسخت ناپسند کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
نا ول ’دام لہو‘ کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میں زمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
19
September

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

kanadammainpakfesty.jpgقیامِ پاکستان کو پورے ستّر سال ہوگئے، الحمدﷲ اس طویل عرصے میں مادرِ وطن نے مشکلات کے باجود ترقی کا سفر جاری رکھا۔ ان 70 برسوں میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، کئی جنگیں ہم پر مسلط کی گئیں، مگر بفضلِ خدا ہم ہر مصیبت سے نہایت ہمت سے نبرد آزما ہوئے، پوری قوم آزمائش کی ہرگھڑی میں متحد ہو کر امتحان میں کامران ہوئی۔ افواجِ پاکستان کی بے مثال قربانیوں اور محبِ وطن پاکستانیوں کی قابلِ قدر کاوشوں سے وطنِ عزیز اب ترقی و کامرانی کی ایسی راہ پر گامزن ہے کہ ان شاء اﷲ آنے والے برسوں میں پاکستان کا شمار ترقی پذیر کے بجائے ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔
وطن سے محبت یوں تو ہر پاکستانی کے دل میں ہوتی ہے مگر وہ پاکستانی جو دیارِ غیر میں ہوں ، جو مادرِ وطن سے دور ہوں، اُن کو اپنے ملک کی یاد زیادہ آتی ہے، خاص طورپر قومی نوعیت کے حامل اہم تہواروں ۔۔۔پر، یومِ پاکستان پر، یومِ آزادی پر اور یومِ دفاع پر۔ پاکستان کی محبت دل میں یوں موجزن ہوتی ہے کہ بس بیان سے باہرہے ۔


ان ایام میں پاکستان میں تو سبھی خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں مگر ملک سے باہر رہنے والوں کو شدت سے اپنے پاکستانی ہونے، وطن سے محبت ہونے اور وطن سے دور ہونے کا احساس ہوتا ہے۔
ہر سال کی طرح امسال بھی 14اگست یعنی یومِ آزادی پاکستان ونکوورمیں نہایت جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس حوالے سے کئی تقریبات ہوئیں جن میں سرفہرست پاکستان فیسٹول اور ونکوور میں پاکستان کے قونصل جنرل محمدطارق کی رہائش گاہ پر ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب تھی۔اس روز موسم اچھا تھا، دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ویسے کینیڈا میں یہ بات بھی خوب ہے کہ جب دھوپ نکلی ہو تو کہتے ہیں موسم اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں بادل چھائے ہوں، یعنی مطلع ابرآلودہو، تو کہتے ہیں موسم اچھا ہے۔ ہم اپنے ٹی وی شو ’دل اپنا پاکستان‘ کی ٹیم کے ہمراہ وقتِ مقررہ سے پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔ دراصل تقریب کا دورانیہ کم ہوتا ہے لہٰذا اکثر لوگ وقت سے پہلے پہنچتے ہیں۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد صدرِ پاکستان اور وزیرِاعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ یہ پیغامات انگریزی میں تھے اور تقریب کی کارروائی بھی گزشتہ سال کی طرح انگریزی میں ہی ہوئی۔ پیغامات کے بعد قونصل جنرل کی تقریر ہوئی اور کینیڈا میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سلمیٰ جان نے بھی خطاب کیا۔ اس کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا جس کے دوران پرچم کشائی ہوئی ۔ اس موقع پر کیک بھی کاٹا گیا اور مہمانوں کی تواضع پر تکلف طعام سے کی گئی۔


اب ذرا کچھ پاکستان کے فیسٹیول کی بات ہوجائے۔ بہت ہی شاندار طریقے سے پاکستان فیسیٹول ونکوور کے ڈاؤن ٹاؤن جیک پول پلازہ پر منایا گیا۔ ایک تو بہت ہی حسین لوکیشن یعنی پہاڑ، سمندر، چمکتی ہوئی بلندو بالا عمارات اورپھر علاقہ انتہائی بارونق، پورے ونکوور کے سیاحوں کا مرکز ، واٹرفرنٹ، پاکستان فیسٹیول کے دلچسپ سیگمنٹ ، لوگوں کی چہل پہل نے ایساماحوال بنا دیا کہ بس کیا کہنے، سمجھئے واقعی مزا آگیا۔
طرح طرح کے عمدہ پاکستانی کھانوں کے اسٹال، پاکستانی ملبوسات اور دستکاری کے اسٹال، بچوں کے کھیلنے کے لئے احاطہ، پاکستانی پرچم کے رنگ کے لباس پہنے مرد و خواتین، اسٹیج پر بچوں کی پرفامنس، فیشن شو اور موسیقی نے وہ مسحور کن اور یادگار سماں باندھا کہ اس فیسٹیول کی سنہری یاد ہمیشہ ذہن و دل میں تازہ رہے گی۔ فیسٹیول کی کامیابی پوری پاکستانی کمیونٹی کی کامیابی ہے، جس خوبی سے پاکستانی فن و ثقافت کو پاکستان فیسٹیول کے ذریعے اُجاگر کیا گیا وہ قابلِ ستائش ہے۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد

مضمون نگار مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
19
September
صحرائی نباتات کے بیج کا فضائی بکھیر
newssehrainibatat.jpg

بہاولپور سے 30 کلومیٹر مشرق میں پاکستان کا انتہائی خوبصورت صحرا واقع ہے۔ اِس کا رقبہ سندھ کے تھر کو چھوتا ہوا بھارت کے علاقے تک پھیلا ہوا ہے اور صحرائے چولستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔
چولستان اپنی رنگارنگ ثقافت اور طرح طرح کی جنگلی حیات کے باعث بہت دلکش مناظر پیش کرتا ہے۔ اِن سب مناظر کا دارومدار وہاں کی نباتات پر ہے۔


دو دہائیاں پہلے خشک سالی، مویشیوں کے چرنے اور انسانی سرگرمیوں نے چولستان کی نباتات میں بے پناہ کمی کردی تھی جو یہاں بسنے والی جنگلی حیات کے لئے نقصان کا باعث بن رہی تھی۔
ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان قدرتی وسائل کے تحفظ کا مستند ادارہ ہے۔ اِس ادارے نے مسکن اور جنگلی حیات کو زوال سے بچانے کے لئے ایک انوکھا منصوبہ تیار کیا۔ انہوں نے پاکستان آرمی کو بحالی مسکن کے لئے اپنے ساتھ شامل کرکے صحرائی نباتات کے بیج بذریعہ ہوائی جہاز فضا سے بکھیرنے کا منصوبہ شروع کیا۔ 2017ء میں اِس غیرمعمولی کام کو کرتے ہوئے پورے 20 سال ہوگئے ہیں اور اِن بیس سالوں میں 2,100 کلوگرام بیج بکھیرے جاچکے ہیں۔ یوں صحرائے چولستان میں مسکن کی حالت پہلے کی نسبت کہیں بہتر ہوچکی ہے۔


ہر سال بیج کے فضائی بکھیر کے بعد مسکن کی حالت کا وسیع جائزہ لیا جاتا ہے۔ تسلی بخش نتائج کی بنا پر یہ کام متواتر جاری ہے۔
بحالی مسکن طویل اور صبرآزما کام ہے جو ابھی اختتام کو نہیں پہنچا۔ ہمیں اُمید ہے کہ پاکستان آرمی کے مسلسل تعاون سے ہوبارہ فاؤنڈیشن اِس قومی فریضہ کو مثالی حالت کے حصول تک جاری رکھے گی۔
رپورٹ:لیفٹیننٹ کرنل اَرنسٹ شمس
(ریٹائرڈ)

19
September
کور کمانڈر پشاور کا دورہ شمالی وزیرستان ایجنسی
newscorecomandepseshawar.jpgگزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے شمالی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سربن کئی ماڈل گاؤں کا افتتاح کیا۔سربن کئی ماڈل گاؤں پہنچنے پر قبائلی عمائدین نے کورکمانڈر کا استقبال کیا۔ پاکستان آرمی کی طرف سے ماڈل گاؤں بنانے پر قبائلی عمائدین نے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔ اس ماڈل گاؤں میں قبائلی بھائیوں کے لئے جرگہ ہال، مسجد ، نوجوانوں کے کھیلنے کے لئے فٹ بال گراؤنڈ، کرکٹ گراؤنڈ اور قبائلی طرز کے گھر بنائے گئے ہیں، اس موقع پر جنرل آفسیر کمانڈنگ میجر جنرل حسن اظہر حیات بھی کورکمانڈر کے ہمراہ تھے۔
 
رینجرز اور پولیس کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشن

newscorecomandepseshawar1.jpg

پاکستان رینجرز، پنجاب پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے خفیہ اطلاعات کی روشنی میں اٹک، ڈیرہ غازی خان اور لاہور میں آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں اور 20افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار کئے گئے افراد سے بھاری مقدار میں غیرقانونی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کا تعلق کالعدم جماعت تحریک طالبان سے ہے۔ برآمد کیا جانے والا اسلحہ پنجاب کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا۔
19
September
چائنا فرینڈ شپ سینٹر اسلام آباد میں پہلے بین الاقوامی سی پیک لاجسٹکس فورم کا انعقاد

گزشتہ دنوں این ایل سی کے زیرِ اہتمام پاک چائنا فرینڈ شپ سینٹر اسلام آباد میں پہلے بین الاقوامی سی پیک لاجسٹکس فورم کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاکستان اور چین سے تعلق رکھنے والی معروف لاجسٹکس کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز، فریٹ فارورڈرز، شپنگ، چیمبرز آف کامرس، صنعت، تاجر برادری، مالیاتی اداروں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں،اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، تھنک ٹینک، میڈیا اور دیگر شعبوں کے نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
فورم میں سی پیک تجارتی امکانات، بار برداری اور سرحدپار نقل و حرکت اور پاکستان اور چین کی لاجسٹکس صنعتوں کے مابین تعاون کا جائزہ لیاگیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے اجراء کی صورت میں علاقائی تجارت کے حجم میں متوقع اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مطلوبہ پالیسی سازی کی نشاندہی بھی کی گئی تاکہ اس اہم قومی منصوبے کے لئے مال برداری کا جدید اور پائیدار نظام وضع کیاجاسکے۔

newschinafrendshipcenter.jpg
فورم کے مہمانِ خصوصی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ تھے۔ فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج پاکستان کی تقدیر بدلنے والے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو مکمل تحفظ مہیا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے ہمارے عزم پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے جسے پاک فوج فول پروف سکیورٹی فراہم کرے گی۔ آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک منصوبے کو ہر صورت میں کامیاب بنایا جائے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ چین کا ون بیلٹ ون روڈ وژن پوری دنیا کے لئے ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ہمیں اپنے قوانین بہتر بنانا ہوں گے۔ منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لئے تمام قومی اداروں کے مابین مربوط تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ2030 تک پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا کامیاب حصول میرا خواب ہے۔ ہمیں چین کے ساتھ اپنے مثالی تعلقات پر فخر ہے جو پُرامن بقائے باہمی کے اصول، مشترکہ مفادات اور عالمی و علاقائی امور پر یکساں مؤقف پر مبنی ہیں۔پاکستان اور چین ہر گھڑی اور ہر آزمائش میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات اب ہر شعبہ ہائے زندگی کا احاطہ کئے ہوئے ہیں جس کی جھلک دونوں ریاستوں کے کاروباری طبقات اور عوامی رابطوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہمیں برادر ملک تصور کیاجاتا ہے۔


آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک، پُرامن اور خوشحال خطے کی ہماری کوششوں کا واضح ثبوت ہے۔ تقسیمی مسابقت کے بجائے خطے کے ممالک کو باہمی شرکت داری پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ مجموعی خوشحالی اور پُرامن و روشن مستقبل کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔ انہوں نے سی پیک لاجسٹکس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ این ایل سی کو مستقبل میں بھی ایسے بامقصد فورمز کا انعقاد کرتے رہنا چاہئے ۔ بعد ازاں جنرل قمر جاویدباجوہ نے فورم میں چین اور پاکستان کی معروف لاجسٹکس کمپنیوں کی طرف سے لگائے گئے اسٹالوں کا معائنہ بھی کیا۔


قبل ازیں فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل مشتاق احمد فیصل نے فورم کے اغراض و مقاصداور این ایل سی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ فورم کے انعقاد کا مقصد چین اور پاکستان کے اسٹیک ہولڈرز کو ایک ایسے پلیٹ فارم پراکٹھا کرنا ہے جہاں وہ باہمی تعاون اور مشاورت سے مستقبل کے لئے قابلِ عمل حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔ انہوں نے سی پیک منصوبے کے لاجسٹکس کے شعبے میں مواقع اورچیلنجز کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ این ایل سی، سی پیک لاجسٹکس میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔


تجارتی امکانات کے موضوع پرنسٹ سکول آف سائنسز اینڈ ہیومنیٹیز کے پرنسپل اور ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان، این آر ڈی سی چائنا کی مس شنگ بنگ اور دیگر ماہرین نے بھی اظہار خیال کیا۔
فورم میں شریک ماہرین کی متفقہ رائے یہی تھی کہ سی پیک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ایسی بامقصد نشستوں کا اہتمام لازمی ہے۔ اس سلسلے میں این ایل سی کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہئے۔ فورم میں لاجسٹکس کے نظام میں موجود مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لئے پیش کی گئی ماہرین کی تجاویز حکومت کے لئے قابلِ عمل پالیسیاں وضع کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔

(رپورٹ: سید مشتاق احمد)

19
September
چھٹی آرمی پیسیز چیمپئن شپ

newschattiarmypaces.jpg

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اوکاڑہ کینٹ کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے چھٹی آرمی پیسیز چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب میں کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ اس مقابلے میں دس ٹیموں کے کل 258 کھلاڑیوں نے چیمپئن شپ کے مختلف مقابلوں میں حصہ لیا ۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس اور کھیل کے معیار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سپاہی کے لئے جسمانی طور پر چاق چوبند ہونے کا اُس کی جنگی صلاحیتوں سے گہرا تعلق ہے۔ راولپنڈی کور اس چھٹی پیسیز چیمپئن شپ کی فاتح قرار پائی جبکہ کراچی کور نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔سپاہی ظہیر شاہ مقابلے میں بہترین کھلاڑی قرار پائے جبکہ سپاہی نصیر اﷲ نے چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور کمانڈر بہاولپور کور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن بھی تقریب میں موجود تھے۔
19
September
مصیبت کی گھڑی میں عوام کے سنگ

افواج پاکستان کی کراچی میں امدادی سرگرمیاں

پاک فوج اور پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں نے کراچی سے بارش کے پانی کے اخراج کے لئے اپنی بھرپور خدمات انجام دیں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں پاک فوج کے جوانوں نے عوام اور سول انتظامیہ کی مددکی اور شہر کے 18 زیر آب علاقوں سے پانی نکالا۔

newskarchiflood.jpg

19
September
قومی مہم برائے مینگرووزاُگاؤ کا آغاز
newsqoumimuhimmangr.jpgگزشتہ دنوں پاک بحریہ نے ’’ پاک بحریہ مینگرووز اُگاؤ مہم 2017‘‘ کا آغاز کیا۔ اس مہم کے دوران صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں دس لاکھ سے زائد مینگرووز کے پودے لگائیں جائیں گے۔ اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا
گیا۔ مہمانِ خصوصی پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے مینگرووز کا پودا لگا کرمہم کا آغاز کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے کہا کہ مینگرووزکے جنگلات میں کمی نہ صرف ہمارے ساحلی علاقوں کے حیاتیاتی ماحول کوبلکہ ساحلی مکینوں کے ذریعۂ معاش کو بھی متاثر کرتی ہے۔ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے مزید کہا کہ اس طرح کی مہمات نہ صرف مینگرووز کے جنگلات میں اضافے کا باعث ہوں گی بلکہ عوام الناس میں ان جنگلات کے بارے میں آگاہی کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گی۔ مینگرووز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے اعلان کیا کہ اس مہم کا نام بدل کر ’’قومی مہم برائے مینگرووزاُگاؤ ‘‘رکھ دیا گیا ہے۔
بحریہ ماڈل سکول یونس آباد کے پرائمری اور بوائز سیکشن کا افتتاح
newsqoumimuhimmangr1.jpg پاک بحریہ کی کاوشوں کے نتیجے میں حال ہی میں بحریہ ماڈل سکول یونس آباد کے پرائمری سیکشن اور بوائز ونگ کی تکمیل ہوئی جس کا افتتاح وزیرِ اعلی سندھ سیّد مراد علی شاہ نے کیا۔ کمانڈر کراچی رئیر ایڈمرل اطہر مختار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ بحریہ ماڈل سکول یونس آبادکے قیام کا مقصد پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیار ی تعلیم مہیا کرنا ہے ۔ یہ تعلیمی شعبے میں حکومت سندھ کے تعاون سے پاک بحریہ کی ایک اہم کاوش ہے۔ بحریہ ماڈل سکول یونس آباد میں سائنساور کمپیوٹرکی جدید لیبارٹریزقائم کی گئی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سند ھ نے کہا کہ یونس آباد جیسے علاقوں میں معیاری تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی کے باعث والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے تھے۔ بحریہ ماڈل سکول جیسے تعلیمی اداروں کے قیام میں پاک بحریہ کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ کمانڈر کراچی رئیر ایڈمرل اطہر مختار نے پاک بحریہ کی نگرانی میں بحریہ ماڈل سکول یونس آباد کی تعمیر میں تعاون پر حکومت سندھ کا شکریہ ادا کیا ۔
19
September
ملٹری کالج جہلم کے کیڈٹس کا دورہ آرمی ہائی آیلٹیچیوڈ سکول رٹو

newsmilitrycoljehlum.jpgملٹری کالج جہلم کاشمار پاکستان آرمی کی سب سے پرانی اور ممتاز تعلیمی درسگاہوں میں ہوتا ہے۔ 1925ء سے قائم اس درسگاہ میں طلباء کی کردار سازی کے لئے تعلیم کے علاوہ ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ہر سال موسم گرما کی تعطیلات کے دوران
(Hiking Club)
کے ممبر کیڈٹس شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کا دورہ کرتے ہیں۔
امسال ہائیکنگ کلب کے طلباء نے آرمی ہائی آیلٹیچیوڈ سکول رٹو
(Army High Altitude School Rattu)
کا دورہ کیا۔ ملٹری کالج جہلم کے کیڈٹس نے یہاں پر ماؤنٹین وارفیئر کی اہم جزئیات جیسے
Crevasse Crossing
اور
Seat Repelling
کی عملی تربیت حاصل کی۔ علاوہ ازیں طلباء نے مشہور دیوسائی کے میدان اور ہنزہ کے تاریخی قلعہ بلتت اور عطا آباد جھیل کا بھی دورہ کیا اور علاقے سے متعلق مفید معلومات حاصل کیں۔
(رپورٹ: میجر حسان جاوید)

19
September

تحریر:لیفٹیننٹ عاصمہ

(پاکستان نیوی)

ایک جانب آگ کے پھیلتے اور بلند ہوتے شعلے تھے تو دوسری طرف گولیوں کی بوچھاڑ،اسلحے بارود کی بو اور آگ کا دھواں کسی کے بھی حواس گم کرنے کے لئے کافی تھے لیکن جاوید احمدکے لئے ان میں سے کچھ بھی اہم نہ تھا،یہ سب چیزیں ان کی راہ نہیں روک سکتی تھیں۔۔۔آگ کے شعلوں سے تو ان کا 26 برس پرانا تعلق تھا اور بارود کی بو انہیں صرف یہ یاد دلاتی تھی کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں نہ صرف ان کے عزیز وطن کی حرمت کو للکارا ہے بلکہ ان کے چند ساتھیوں کی سانسیں بھی چھین لی ہیں۔۔دشمن کی نفرت اور وطن سے محبت انہیں اپنے کام سے پیچھے نہ ہٹنے دیتی تھی،وہ دشمن کو یہ باور کروانا چاہتے تھے کہ وہ کچھ بھی کر لے اس وطن کے متوالوں سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔اس مٹی کی محبت میں مخمور اس کا ہر بیٹا اس کا سپاہی بن کر اپنے خون کے آخری قطرے اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس دیس کی حفاظت کرے گا۔ 27 نومبر 1984 کو پاک بحریہ میں شمولیت اختیار کرنے والے جاوید احمد 26 برس تک پاک بحریہ میں خدمات انجام دینے کے بعد پی این ایس رضا میں متعین تھے جب 22 مئی2011 کو دہشت گردوں نے پی این ایس مہران پر شب خون مارنے کی کوشش کی۔اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے جاوید احمد لیڈنگ فائر مین بلا تاخیر اپنی ٹیم کو تیار کر کے اس کی قیادت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچے اور اپنے فرائض کی ادائیگی انتہائی دلیری سے ادا کی۔ وہ بنا کسی خوف کے آگے بڑھتے رہے اور اپنی ٹیم کے قائد ہونے کے ناتے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بھی بڑھاتے رہے۔۔ان کے الفاظ اور جذبات میں اس قدر طاقت تھی کہ ان کے ساتھی ان کی ہر صدا پر لبیک کہتے ہوئے موت کے خوف سے بے نیاز آگے بڑھتے گئے اور دشمن کی لگائی ہوئی آگ پر اپنے عزم سے قابو پاتے رہے۔

dhartikabahdar.jpg
وطن کی محبت سے سرشار جاوید احمد لیڈنگ فائر مین گولیوں کی بوچھاڑ کے باوجود اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور قوم کے قیمتی اثاثہ جات کی حفاظت کے لئے ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔اس کڑے وقت میں انہیں نہ اپنی جان کی پروا تھی نہ دہشت گردوں کا خوف ۔۔فکر تھی تو صرف یہ کہ ملک و قوم کے قیمتی اثاثوں کو نقصان نہ پہنچے کیونکہ ان اثاثوں کی بقاء ہی قوم کی بقاء کی ضمانت تھی۔دہشت گردوں کی جانب سے اندھا دھند گولیاں برسائے جانے کے باعث جاوید احمد شدید زخمی ہو گئے لیکن پھر بھی انہوں نے پیش قدمی جاری رکھی۔۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جب وہ گرے تو دوبارہ اٹھ نہ سکے ۔ان کا جسم چھلنی ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود ان کا جذبہ اور ہمت جوان تھے۔ وطن عزیز کے دفاع کی لگن ابھی بھی پوری آب و تاب سے زندہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کے لئے ہدایات دیتے رہے۔ان کی زبان پر صرف یہی الفاظ تھے کہ ’’یا اللہ مجھے ہمت عطا کر کہ میں اپنا مشن پورا کر سکوں۔‘‘ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاوید احمد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے لیکن بلا شبہ ان کے عزم اور حوصلے نے ان کے ساتھیوں میں وہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے لڑتے رہے یہاں تک کہ حملہ آور اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور پاک بحریہ کے قیمتی اثاثے محفوظ رہے۔


جاوید احمد کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک دیندار اور اللہ کی مخلوق سے محبت کرنے والے انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار شخص تھے ۔وہ حقیقی معنوں میں ایک لیڈر تھے اور ہمیشہ اپنی ٹیم کے لئے جرأت و بہادری کا عملی نمونہ بنے رہے۔ جن دنوں دہشت گردوں نے یہ بزدلانہ حملہ کیا آپ کی ترقی ہونے والی تھی لیکن قسمت نے آپ کو ایک ایسے رتبے پر فائز کر دیا جو ہر شخص کا نصیب نہیں بنتا اور جہاں تک پہنچنے کی صرف آرزو ہی دلوں میں رہ جاتی ہے۔
جاوید احمد لیڈنگ فائر مین کو ان کی شجاعت و بہادری کے اعتراف میں ستارہ شجاعت سے نوازا گیا ۔

 
19
September

تحریر: غزالہ یاسمین

6 ستمبرہماری قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس میں افواج پاکستان اور قوم کی جرات و بہادری کی ایسی داستانیں رقم ہیں جن سے آج بھی ہم اپنے ولولوں اور جذبوں کو روح تازہ بخشتے ہیں۔ یقیناًاس روزہم نے ثابت کردیا کہ پاکستان کوئی ترنوالہ نہیں اورقوم اپنی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔ ہرسال انہی ولولوں کی روشنی میں دفاع وطن کا اعادہ کرتی ہے۔ اس سال پوری قوم نے ’’ دفاع وطن بقائے وطن ‘‘کے عزم کے ساتھ یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا۔سچ بھی یہی ہے کہ جب جب زندہ قومیں اپنے دفاع کے عزم کو دہراتی ہیں، یاد کرتی ہیں تو اسی میں اس قوم کی بقا کا راز پوشیدہ ہوتا ہے۔قوم نے ملک بھر میں مختلف تقریبات میں روایتی جذبے سے اپنا یہ عزم دہرایا۔ اس سلسلے میں جنرل ہیڈ کوارٹر زراولپنڈی میں منعقد ہونے والی تقریب نقطہ عروج تھی جس نے وطن کے کونے کونے کو’’ دفاع وطن بقائے وطن‘‘ کے لازوال جذبے سے سرشار کردیا۔ تقریب میں شہدا ء اور غازیوں کو بھرپور انداز میں سلام عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کارناموں کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ردالفساد سے جو ’’نوید نو‘‘ پیدا ہوئی اس کی اہمیت اور کامیابیوں کو بیان کیا گیا۔شہداء کی شہادت اوران کے اہل خانہ اور لواحقین کے جذبات کے اظہار پر ہر آنکھ پُرنم تھی۔


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ان کے خطاب نے حاضرین اور پوری قوم کے جذبوں کوجلا بخش دی۔ انہوں نے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم شہدا ء اور ان کے لواحقین کی احسان مندہے۔ ان کے پیاروں کی قربانیوں کی بدولت آج ہم اس مقام پر ہیں جہاں وطن پر چھائے اندھیرے چھٹ رہے ہیں۔اور ایک روشن مستقبل کی کرنیں نمودار ہور ہی ہیں۔شہداء کا خون ہم پر قرض ہے ۔ میں غازیوں کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اپنے جسموں پر تو گہرے زخم کھائے مگر وطن کو توانارکھا۔ یوں آج کا دن تجدید عہد اور تجدید وفا کا بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری قومی زندگی بے شک مشکلات کا شکار سہی مگر دفاع وطن ہمار ا قومی امتیاز ہے ۔جب تک ہمارے بزرگوں کا حوصلہ اور ہمارے جوانوں کی جرات برقرار ہے پاکستان کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔اس جذبے کا تعلق صرف جنگ سے ہی نہیں بلکہ قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بہت کر لیا ۔اب دنیا ’’ڈو مور‘‘ کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسلط جنگ کو ہم منطقی انجام تک پہنچائیں گئے۔عالمی طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دا ر ہمیں نہ ٹھہرائیں ۔ ہم امریکہ سے برابری کے تعلقات چاہتے ہیں ،امداد نہیں اور افغان جنگ ہم پاکستان میں نہیں لڑ سکتے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاد صرف ریاست کا حق ہے ۔بھٹکے ہوئے لوگ جہاد نہیں فساد کر رہے ۔انہوں نے کہا کہ قوم کا ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہے ۔فوج قوم کی حمایت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اپنے ملک کو امن گہوارہ بنا کر دم لیں گئے۔ کیوں کہ آج کا نوجوان ہمار ا حقیقی سرمایہ ہے ۔ہم آنے والی نسلوں کو دہشت گردی سے پاک پاکستان دینا چاہتے ہیں۔


پاک چین دوستی کے حوالے سے چیف آف آرمی سٹاف کا کہنا تھا کہ سی پیک پاک چین دوستی کا مظہر ہے اور خطے کا سرمایہ اور امن کی ضمانت ہے ۔ اس کو مکمل کرنا ایک قومی فریضہ ہے اور افواج پاکستان اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کیا جس نے دہشت گردوں کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب کر کے قومی یکجہتی میں کلیدی کردار اد ا کیا ہے ۔کشمیر کے حوالے سے واضع موقف کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر پاک و ہند کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکے عوام پچھلی کئی دہائیوں سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔اور ہم ان کی اس جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔


جنرل قمر جاوید باجوہ کے خطاب میں بہت سے پیغامات موجود تھے جنہوں نے قوم کو ہمت اور جرات بخشنے کے ساتھ ساتھ اطمینان بھی بخشا کہ افواج پاکستان ملک کو درپیش ہر خطے سے آگاہ اور ان سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیتوں سے لیس ہیں۔ اس موقع پر قومی نغموں نے بھی حاضرین کے لہو کو گرمائے رکھا اور وہ اس شاندار تقریب کے اعلیٰ معیار، ترتیب اور انتظامات کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔


تقریب میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکا اللہ ، چیف آف ائر سٹاف ائر چیف مارشل سہیل امان ،سابق آرمی چیفس جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف ، جنرل (ریٹائرڈ) اشفا ق پرویز کیانی کے علاوہ سیاسی قیادت جن میں اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق، وزیر دفاع خرم دستگیر ، وزیر خارجہ خواجہ آصف ، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق ، وزیر داخلہ احسن اقبال ، وزیر ماحولیات مشاہد اللہ خان، وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور مختلف ممالک کے سفیروں اور دفاعی اتاشیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔آخر میں تقریب میں شامل تمام افراد نے یاد گارشہداء پر پھول نچھاور کرتے ہوئے دفاع وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔

youmedifaewaten.jpg

 
19
September

تحریر: عفت حسن رضوی

آپریشن خیبر فور کے شہید جواں سال سپاہی عبدالجبار کی دلیری کی داستاں

یہ 19جولائی تھی،خیبرایجنسی کی راجگال وادی میں فجر کی سپیدی نمودار ہونے کو تھی، سپاہی ایک مشکل معرکے کے لئے تیار تھے، نماز فجر پڑھی گئی،سب ہی نے آپریشن میں کامیابی کی دعا مانگی، مگر ایک نوجوان نے ہاتھ بلند کئے اور آنکھیں موندے اپنے رب سے کامیابی کے ساتھ شہادت مانگنے لگا۔ یہ سپیشل سروسز گروپ، سیون کمانڈو بٹالین (ببرم )کا کمانڈو عبدالجبار تھا۔
دن گزرا اور وہ رات بھی آگئی جس کا 23 سالہ عبدالجبار کو بڑی شدت سے انتطار تھا، بارہ جوانوں پر مشتمل ٹیم کو وادی راجگال میں ایک پہاڑ کی بلندی پر موجود دہشت گردوں کی کمین گاہ پر آپریشن کا ٹاسک ملا، ان جانبازوں کے لئے سب سے پہلا چیلنج اس چوٹی کا دشوار گزار گھنا جنگل تھا، رات اڑھائی بجے یہ جوان بلندی پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانے کے عین سامنے موجود تھے، دائیں جانب کی فرنٹ پوزیشن پر عبدالجبار اور سپاہی دانش موجود تھے، دہشت گردوں سے لڑائی کا آغاز ہوا تو انہوں نے پہلے ہی وار میں چھ ملک دشمن مار ڈالے، گولیوں کی گونج وادی راجگال کے سناٹے میں پلٹ کر سنائی دے رہی تھی، رات کا اندھیرا اپنے پَر پھیلائے ہوئے تھا، روشنی کا واحد ذریعہ سیاہ آسمان پر چمکتے چاند کی چاندنی تھی۔ ایسے میں عبدالجبار کی نظر دو بزدل دہشت گرد وں پر پڑی جو پہاڑ کی چوٹی کی جانب بھاگ رہے تھے، یہ فیصلہ کن لمحہ تھا، عبدالجبار بھی مردانہ وار پیچھے بھاگا، ساتھی دانش سپاہی عبدالجبار کا شانہ پکڑ کر چلایا ’’یار اوپر سے مزید فائر آسکتا ہے ان کے پیچھے نہ جاؤ‘‘ مگر عبدالجبار نے شانہ چھڑایا اور جیسے کسی قہر کی طرح دہشت گردوں پر ٹوٹ پڑا، ساتویں دہشت گرد کو واصل جہنم کیا تو ایس ایس جی کے جوانوں کی زبانی مشہور ’’دھوکے کا پھندہ‘‘ یعنی زیر زمین چھپی آئی ای ڈی پر عبدالجبار کا پاؤں پڑ گیااور یہ جوان ایک زوردار دھماکے میں زخمی ہوگیا۔

sirmainnainkesifight.jpg
عبدالجبار کے حوصلے کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اس کے ساتھی حیران تھے کہزخمی عبدالجبار کے چہرے پر تکلیف کی رمق تک نہ تھی۔ زخمی عبدالجبار کی مدد کے لئے ہیلی کاپٹر بروقت پہنچا مگر ہیلی کاپٹر اس ناہموار دشوار گزار پہاڑی پر لینڈ کہاں کرتا، چیڑ کے گھنے جنگل میں ائیر لفٹ کرنا بھی ممکن نہ تھا، راستے ساتھ نہیں دے رہے تھے اور زخم تھے کہ تکلیف بڑھتی ہی جارہی تھی، اپنا دھیان ہٹانے کے لئے عبدالجبار ہر تھوڑی دیر بعد ساتھیوں سے یہی سوال کرتا ’’یار میری فائٹ میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی؟‘‘ عبدالجبار زخموں سے چور تھا۔ اپنے سی او کو دیکھتے ہی پوچھنے لگا ’’سر میں نے کیسی فائٹ کی ہے ؟‘‘ سی او نے قریب آکر عبدالجبار کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا تو نے وہ کام کردیا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔


عبدالجبار نے جس کامیابی اور شہادت کی دعا نمازِ فجر میں مانگی تھی وہ قبول ہوگئی تھی۔یہ اس جری جوان کی ہمت کا ثمر تھا کہ دہشت گردوں کی کمین گاہ، اب پاک فوج کے قبضے میں تھی، علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کرالیا گیا تھا اور پہاڑ کی چوٹی پر سبز ہلالی پرچم جھوم جھوم کر پیام امن سنا رہا تھا۔


20 جولائی کو خبر ملی کہ سپیشل سروسز گروپس اور فوجی جوانوں کے دستوں کی کامیابیاں رنگ لارہی ہیں، وادی راجگال میں جاری آپریشن خیبر فور میں نوے اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ خالی کرالیا گیا ہے، آئی ایس پی آر کی جانب سے دی جانے والی خبر میں اس کامیابی کے پیچھے چھپا ایک نام بھی درج تھا، شہید کمانڈو عبدالجبار۔۔۔۔۔


معلوم کرنے پر جب یہ علم ہوا کہ شہید کا تعلق گوجر خان سے ہے، تو میں نے اسلام آباد سے فوری قصد سفر کیا، شہید کے والد سے فون پر راستے پوچھتی رہی اور آخر کار ان کے آبائی علاقے میں پہنچ گئی۔ عبدالجبار کی شہادت کو ابھی چار روز گزرے تھے، پورے علاقے کی فضا بظاہر سوگوار تھی مگر جس کسی سے بھی عبدالجبار کی شہادت کا تذکرہ ہوتا، جواب میں جیسے کسی چٹان کی طرح سپاٹ،سخت مگر پرعزم بات سننے کو ملتی، شہید کے والد جو خود بھی 2002 میں بطور نائیک ریٹائر ہوئے تھے، اُن سے میں نے بکھری ہوئی یادوں کو سمیٹنے کا کہا۔ یہ فوجی لوگ ہیں انہیں کہاں ہماری طرح فر فر زبان اور قلم چلانا آتا ہے، شہید عبدالجبار کے والد دھیمی آواز میں بولے ’’فوج میں میرے والد سپاہی رہے، میں خود بیس سال وطن کی خاطر سینہ سپر رہا،مگر شہادت صرف میرے بیٹے کے حصے میں آئی۔ لگتا ہے میرے والد کی محنت وصول ہوگئی، وہ سخت ٹریننگ کے بعد میدان حرب میں نیا نیا وارد ہوا تھا، اس کی منزل وطن کے لئے جان وارنا تھی، اسے شہادت مطلوب تھی سو مل گئی۔‘‘

نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کار سپانڈنٹ عفت حسن رضوی، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔

@IffatHasanRizvi

 
19
September
ایف سی بلوچستان پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد

سپاہی محمد قاسم شہید کے والدِ محترم تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے

newsfcpakpoutprade.jpg

گزشتہ دنوں ایف سی بلوچستان کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی سپاہی محمد قاسم شہید کے والد عبدالظہیر تھے جن کا تعلق قلعہ سیف اﷲ بلوچستان سے ہے۔ سپاہی قاسم 6 جنوری 2017ء کو شہید ہوئے۔
فر نٹیئر کور خیبر پختونخوا میں پا سنگ آؤٹ پریڈ

newsfcpakpoutprade1.jpg

گزشتہ دنوں ہیڈکوارٹراورکزئی سکاؤٹس کلایہ میں فرنٹیئر کور کے 24 ویں بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہو ئی۔ اس دوران کل 493ریکروٹس پاس آؤٹ ہوئے۔ ڈی آئی جی فرنٹیئر کور بریگیڈئیرمحمدیوسف مجوکہ، تقریب کے مہما ن خصو صی تھے۔اس موقع پر اعلیٰ فوجی اور سول حکام ، قبا ئلی مشران اورپاس آؤٹ ہونے والے ریکروٹس کے والدین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ مہمان خصو صی نے پر یڈ کا معا ئنہ کیا اورتقریب سے خطاب کرتیہوئے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹیئر کورکے کردار کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پرمہمانِ خصوصی نے تربیت کے دوران مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعاما ت بھی تقسیم کئے۔
19
September
چیف آف آرمی سٹاف کا کوروبرانچ کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں کوروبرانچ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں ’کورو‘ کے حوالے سے ایک مفصل بریفنگ دی گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کوروو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

newscoasatcorobaranch.jpg

کورو پاکستان آرمی آفیسرز کا ایک طرح سے نادرہ سنٹر ہے۔یہ ایک ایسا ڈیٹا سنٹرہے جو کسی بھی آفیسر کا کمیشن سے لے کر اس کے اس دارفانی سے رخصت ہونے تک کا ڈیٹا اور اس کی زندگی میں آنے والی تمام تبدیلیوں کو اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ جی ایچ کیو میں جہاں پاکستان آرمی کے لاتعداد شعبہ جات ہیں، وہاں اگرچہ اس شعبے کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں ہے مگر آرمی آفیسر کی زندگی اور سروس جوں جوں آگے بڑھتی ہے ویسے ہی کورو کی اہمیت نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہے اور پھر رخصتی یعنی ریٹائرمنٹ پر الوداع ’’کورو‘‘ نے کہنا ہوتا ہے۔ اس لئے اس وقت تمام ترجیحات میں سب سے نمایاں کورو ڈیٹا کا صحیح ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ ہر آرمی آفیسر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنا، اپنی زوجہ، اپنے بچوں اور اپنے والدین کا صحیح ڈیٹا فراہم کرے اور اگر یہ ڈیٹا صحیح نہ ہو تو ریٹائرمنٹ کے دنوں میں اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اکثر ریٹائرڈآفیسرز کوکورو کی اہمیت کا اندازہ دیر سے ہوتا ہے اورپوسٹ ریٹائرمنٹ پر جب ان کا ڈیٹا درست نہ ہو رہا ہو تو ظاہر ہے اُنہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے بہت سارے واجبات رک جاتے ہیں۔ ان کے بچوں کے داخلے نہیں ہو پاتے۔ وہ آرمی سیٹس پر بچوں کو اپلائی نہیں کروا سکتے وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے جو آفیسرز اپنی سروس کے دوران اپنا ڈیٹا اپ ڈیٹ رکھتے ہیں وہ اپنی ریٹائرمنٹ پر بھی اس پریشانی سے بچے رہتے ہیں۔
کورو کا قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان آرمی میں ہوا۔ یعنی 14 اگست 1947۔ 1958میں کورو ایڈجوٹنٹ جنرل برانچ کا ایک ذیلی شعبہ تھا اور پھر 1998میں جب
AG Branch
کا دائرہ کار بڑھا تو اسے
PP & A Dte
یعنی پے، پنشن اور اکاؤنٹ ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بنا دیا گیا۔ کورو کے نمایاں کاموں میں پاکستان آرمی آفیسرز، جس میں نرسنگ آفیسرز بھی شامل ہوتیں ہیں، کا ڈیٹا ریکارڈ نہ صرف اپ ڈیٹ رکھنا ہے بلکہ ان کے پے اور الاؤنسز میں ردوبدل، ترقی، تبادلے کا اندراج، شادی کا اور اس کے بعد بچوں کا اندراج اور پھر ریٹائرمنٹ پر پنشن کی ادائیگی اور ماہانہ پنشن کی بروقت ادائیگی بھی کورو کے اہم کام ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سروس اور ریٹائرمنٹ والے آرمی آفیسرز کے ریکارڈ کا اپ ڈیٹ ہونا ہر آفیسر کا پے اینڈ پنشن کا صحیح ریکارڈ، سروس میڈلز، سروس کے دوران نمایاں کارکردگی پر ملنے والی مراعات، آرمی آفیسرز کے خاندان میں اضافہ اور اموات کی تصدیق کورو ہی کرتا ہے۔ اس لئے آرمی کے باقی شعبہ جات  کورو   سے آرمی آفیسرز کے متعلق ڈیٹا کی تصدیق کرواتے رہتے ہیں۔

(رپورٹ: اشتیاق احمد)


کورو ہیلپ ڈیسک
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
0336-7353542 (For text msg only

19
September
چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ لائن آف کنٹرول

newscoasatloc.jpg

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے14 اگست کو کمانڈر 10 کو ر لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کے ہمراہ لائن آف کنٹرول پر سبز کوٹ سیکٹر کا دورہ کیا۔اس موقع پر انہیں لائن آف کنٹرول کی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے لائن آف کنٹرول پر موجود سپاہ کے حوصلے کی تعریف کی اور انہیں دشمن کے مقابل جمے رہنے پر خراج تحسین پیش کیا ۔

شندورپولو فیسٹیول 2017

newsshandoorfest.jpg

گزشتہ دنوں تین روزہ شندورپولو فیسٹیول کا انعقاد چترال کے دور افتادہ علاقے شندور میں کیا گیا۔ شندور پولوکافائنل میچ چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے درمیان ہوا۔سنسنی خیز مقابلے کے بعد چترال کی ٹیم نے گلگت بلتستان کی ٹیم کوشکست دے کر فائنل جیتا۔فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی کمانڈرپشاورکور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ تھے۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ لوک میلے کا انعقاد جہاں پولو کے کھیل کو فروغ دیتاہے وہیں ہمیں یک جاہو کر دلوں کے درمیان کدورتوں کو دور کرنے کا موقع بھی دیتا ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے ۔
19
September
بلوچستان میں تقریباتِ یومِ آزادی

newsbalchismaintaqreebat.jpg

ماہِ اگست پاکستا ن کی آزادی کی بناء پر ایک منفردحیثیت کا حامل ہے۔ ملک کے طول و عرض میں اس ماہ کی مناسبت سے تقریبات کا آغاز ہوجاتا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں بھی اس ماہ کے ابتداء سے ہی بلوچستان سپورٹس فیسٹیول 2017ء کا آغاز ہوگیا تھا۔ جس میں ہاکی، فٹبال و دیگر کھیلوں کے تمام ایونٹس میں صوبہ بھر سے نوجوان کھلاڑی لڑکوں اور لڑکیوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔

14 اگست کی صبح بلوچستان کی عوام کا جوش اور ولولہ اپنے عروج پر تھا۔ بلوچستان کے ہر قصبے اور ہر شہر میں لوگ جوق در جوق سڑکوں پر سبز ہلالی پرچم لئے پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار رہے تھے۔ عوام کا اس طرح کی محبت کا اظہار اپنی فورسز پر اعتماد اور جذبۂ حب الوطنی قابلِ دید تھا۔ ہر طرف پاکستان زندہ باد اور سبز ہلالی پرچموں اور ملی نغموں نے ایک سحر طاری کر رکھا تھا۔

اسی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بگٹی سٹیڈیم میں عسکری اورسول انتظامیہ کی جانب سے یوم آزادی کے حوالے سے بلوچستان ایکسلینس ایوارڈ کی ایک شانداراورپروقار تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں بلوچستان میں سماجی خدمات ، فنون لطیفہ،تعلیم، صحت اور کھیلوں کے شعبہ جات میں بلوچستان کے نمایاں اورمنفرد مقام پانے والے افرادکوایوارڈزسے نوازاگیا۔ تقریب میں کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامرریاض اوروزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری سمیت وزراء اورعوام کی بہت بڑی تعدادنے شرکت کی۔چاروں صوبوں ،کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی طائفوں کے علاوہ برادرملک ترکی کے طائفے نے تقریب میں ایک سماں باندھ دیا اورشرکاء سے خوب داد وصول کی۔

(رپورٹ: فہیم خان)

19
September
فاٹا اور خیبرایجنسی میں جشن آزادی کی تقریبات

newsfataaurkhyber.jpg

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح قبائلی علاقہ جات میں بھی جشن آزادی روائتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ خیبر ایجنسی کی تینوں تحصیلوں لنڈی کوتل، جمرود اور تحصیل باڑہ میں جشن آزادی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ طورخم بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب کے بعد افغان اور پاکستان بارڈر فورسز کے درمیان تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔خیبر ایجنسی میں 14 اگست کو مختلف مقامات پر آتش بازی اور میوزک کے پروگرام منعقد ہوئے۔ جشن آزادی کی تقریبات قبائلی علاقوں باجوڑ ایجنسی، مہمند ایجنسی، کرم ایجنسی ، اورکزئی ایجنسی، وزیرستان، اور خیبر ایجنسی میں بھی انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئیں۔جشن آزادی کی تقریبات میں پولیٹیکل انتظامیہ کے علاوہ قبائلی مشران اور نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

علاوہ ازیں خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں سب سے بڑا جشن آزادی سپورٹس میلہ منعقد ہوا۔ جس میں کرکٹ ،والی بال، رسہ کشی، ہائی جمپ، لانگ جمپ، پی ٹی شو، 1500 اور 100 میٹر کی ریس، تقریری اور ملی نغموں کے مقابلے بھی شامل تھے ۔ مقامی عوام کی کثیرتعداد نے ان تقریبات میں شرکت کی۔

(رپورٹ: تکبیر آفریدی )
19
September
جے سی پی واہگہ پر جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا جھنڈا لہرانے کی تقریب

newsjcpwahagaper.jpg

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 70 ویں یوم آزادی کے موقع پر واہگہ کی مشترکہ چیک پوسٹ پر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا جھنڈا لہرایا۔ اس موقع پر انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وطن پہلے ہم بعد میں ہیں، ہم پر شہیدوں کے خون کا قرض ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہر پاکستانی

lیہ جھنڈا جس کو ہم نے آج بلند کیا ہے یہ ہماری ترقی اور بلندی کی علامت ہے

2پاکستان کے دشمن جو مشرق میں ہیں یا مغرب میں وہ میری یہ بات جان لیں کہ ان کے بارود اور گولیاں ختم ہوجائیں گی لیکن ہمارے جوانوں کی چھاتیاں ختم نہیں ہوں گی۔

3جس ملک کا قیام 27 رمضان کی بابرکت شب کو ہوا ہو اُس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا

(چیف آف آرمی سٹاف)

ردالفساد کا سپاہی ہے، ہم پائیدار امن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، قوم کے عزم کو کوئی خطرہ متزلزل نہیں کرسکتا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قانون اور آئین کی بالادستی اہم ہے۔ جس ملک کا قیام 27 رمضان کی بابرکت شب کو ہوا ہو اُس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ پاکستان کے تمام سکیورٹی ادارے آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کے سامنے ہم سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔ پاکستان کے دشمن جو مشرق میں ہیں یا مغرب میں وہ میری یہ بات جان لیں کہ ان کے بارود اور گولیاں ختم ہوجائیں گی لیکن ہمارے جوانوں کی چھاتیاں ختم نہیں ہوں گی‘ جب تک یہ قوم وہ جانثار پیدا کرتی رہے گی جو ملک کی آن پر قربان ہونے کے لئے ہر وقت تیار ہیں اس ملک پر کوئی آنچ نہیں آسکتی۔ آرمی چیف نے کہاکہ یہ جھنڈا جس کو ہم نے آج بلند کیا ہے یہ ہماری ترقی اور بلندی کی علامت ہے اور جس طرح 400 فٹ کی اونچائی پر یہ پرچم لہرایا گیا اسی طرح پاکستان ترقی کرے گا۔

 

اس تقریب میں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی‘ ڈی جی رینجرز میجر جنرل اظہر نوید خان، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے علاوہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ سول اور ملٹری افسران‘ قومی ہیروز اور ملک سے آئے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ جے سی پی واہگہ پر لہرائے جانے والے جنوبی ایشیا کے اس بلند ترین جھنڈے کی تیاری کا ٹھیکہ مصر کی ایک مشہور انجینئرنگ کمپنی کو دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا سنگِ بنیاد 31 مارچ کو ڈائریکٹر جنرل پنجاب رینجرز نے رکھا۔جبکہ متعلقہ کمپنی نے 8 اگست 2017 تک اپنا کام مکمل کرلیا۔ جھنڈے کے پول کی اونچائی 400 فٹ ہے۔ جھنڈے کی چوڑائی 120 فٹ جبکہ لمبائی 80 فٹ ہے۔ اس تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سول اور ملٹری افسران‘ قومی ہیروز اور ملک سے آئے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newsjcpwahagaper1.jpg

19
September
پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ نے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے انٹرن شپ پروگرام میں شامل نوجوان طالب علموں سے خطاب کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے طلباء و طالبات کو انٹرن شپ مکمل ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ اﷲ نے پاکستان کو ذہین اور متحرک نوجوانوں سے نوازا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہے۔

وہ ملک کو امن و خوشحالی کے نئے دور کی طرف لے جائیں گے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ وہ خود پر بھروسہ رکھیں۔ میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر عمل کریں اور کامیابی کے لئے کسی بھی شارٹ کٹ کی طرف نہ جائیں۔

چیف آف آرمی سٹاف نے طلباء و طالبات کو یقین دلایا کہ پاک فوج انہیں محفوظ اور مستحکم پاکستان فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ پاک فوج اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ تشدد اور دہشت گردی سے ملک کو نجات دلانے میں پاک فوج نے عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم قیام امن کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنا حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ’’ہر پاکستانی آپریشن ردالفساد کا سپاہی ہے۔‘‘ چیف آف آرمی سٹاف نے نوجوان طلباء و طالبات کو کہا کہ سوشل میڈیا پر معاندانہ بیانیوں سے چوکس رہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان داعش اور اس سے منسلک تنظیموں کا ہدف ہیں۔ ان سے محتاط رہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ آپ کی کامیابی اور ترقی کا انحصار تین چیزوں پر ہے۔ اﷲ پر ایمان، والدین کا احترام اور سخت محنت پر انحصار ہی درحقیقت کامیابی کی کنجی ہے۔

یاد رہے کہ انٹرن شپ پروگرام 2017کا انعقاد 11جولائی سے 17اگست تک کیا گیا تھا۔ جس میں ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں کے طالب علم شامل تھے۔

newspakkamustkbilnojwan.jpg

18
September

سروے : ازکٰی کاظمی

1965 کی جنگ نہ صرف ہمارے بزرگوں بلکہ ہماری نوجوان نسل کے دلوں پر آج بھی پاک فوج کی محبت اور جانثاری کا نقش قائم کئے ہوئے ہے۔ 6ستمبر 1965کی جنگ کے حوالے سے نوجوان نسل کے تاثرات جاننے کے لئے ہم نے ایک سروے کیا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے خیالات جانے جو ہلال کے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔

عدنان احمد

(ڈاکٹر)

adnanahmeddr.jpg

 

1965کی جنگ ہمیں دفاع وطن کی بہترین مثال پیش کرتی ہے اور ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے کہ اگر خدا پر یقین پختہ ہو تو کامیابی ضرور آپ کے قدم چومتی ہے۔
 

القاء بتول

(استاد)

alqqabatool.jpg

 

1965کی جنگ ہماری قومی تاریخ کا ایک بہت ہی یادگار واقعہ ہے۔ اس دن کو یاد کرنے سے مجھے ہمارے عظیم ہیرو میجر عزیز بھٹی، میجر شفقت بلوچ، ایم ایم عالم اور سرفراز رفیقی جیسے مجاہد جو کہ ہمارے آئیڈیل بن چکے ہیں شدت سے یاد آتے ہیں اور لہو کو ایمان کی طاقت سے گرما دیتے ہیں۔
 

معِز ملک

(طالب علم)

mahizmalik.jpgاس دن لاہور جم خانہ میں شام کو جیت کے جشن کا خواب دیکھنے والوں کو ہماری ایک بٹالین نے نو گھنٹے ’’بی آر بی‘‘ نہر پر روکے رکھا اور پوری قوم اپنی بہادر فوج کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ قوم اور فوج ایک ناقابل شکست جذبہ ایمانی سے سرشار ہو گئی۔
 

یوسف مرزا

(صحافی)

yousafmirza.jpg1965کی جنگ نہ صرف ہمیں ملک و قوم کے لئے جان کی دینے اہمیت سے آشنا کرتی ہے بلکہ ہمارے دلوں میں ایمان اور خدا پر یقین کو مزید پختہ کرتی ہے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ملک وقوم کی خاطر اپنا گھربار اور جان بھی قربان کرنا پڑے تو پیچھے نہ ہٹیں کیونکہ یہی اصل اثاثہ ہے۔
 

شافع عباس

(طالب علم)

shafah.jpgمیرے وطن کے لئے میری جاں بھی حاضر ہے۔ 1965 کی جنگ مجھے وطن عزیز کے ان شہیدوں اور غازیوں کی یاد دلاتی ہے جنہوں نے ہمارے لئے اپنی زندگی قربان کردی اور ہماری زندگیوں میں خوشبو بکھیر دی۔
 

علی حمزہ

(استاد)

alihamza.jpg1965 کی جنگ مجھے میجر عزیز بھٹی جیسے جانباز اور دلیر آفیسر کی یاد دلاتی ہے۔ میجر عزیز بھٹی کی کہانی محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے جو ہمیں دشمن کو للکارنے کی جرأت عطا کرتا ہے۔ نشان حیدر پانے والے اس جری سپوت کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور ہمارے خون میں ولولہ پیدا کرتی رہے گی۔
 

عاکف رفیق

(طالب علم)

akifrafiq.jpg6ستمبر کی جنگ میں عوام نے جو کردار ادا کیا اور جس طرح اپنے گھروں سے باہرنکل کر انہوں نے ملک و قوم کی حفاظت کی ،ایسا جذبہ آج کے ہرنوجوان میں ہونا چاہئے تب ہی وقت پڑنے پر یہ اپنا کردار بخوبی ادا کر سکیں گے۔
 

احمد عامر

(بینکار)

ahmedamir.jpgمیرا سر فخر سے اور بھی بلند ہو جاتا ہے جب میں 6ستمبر کے دن کو یاد کرتا ہوں۔ دشمن کے ناپاک ارادوں کو پست ہوتے ہوئے سوچنے سے جو فرحت محسوس ہوتی ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔
 
 
18
September

تحریر: فاروق اعظم

جنگِ پینسٹھ ہماری ملی تاریخ میں صرف دفاع ہی نہیں فتح بھی ہے

1965ء کی جنگ کو نصف صدی بیت چکی، تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی اُس پہلی باقاعدہ جنگ پر بحث و تمحیص کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہوا۔ پچاس سال کا عرصہ کسی ملک یا قوم کے لئے کم نہیں ہوتا۔ کامیاب وہ ہیں جو ماضی سے سیکھیں، حال کو سنواریں اور مستقبل کو روشن تر کریں۔ 65ء کے بعد یہ 52واں ماہِ ستمبر ہے، اس کے باوجود ہندوستانیوں نے یہ بحث شروع کردی ہے کہ جنگ 65ء میں جارح اور فاتح کون تھا؟ دو برس قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنگِ پینسٹھ کے پچاس سال مکمل ہونے پر جشنِ فتح منانے کا اعلان کیا تھا، جس سے جھوٹ پر مبنی بحث چھیڑی گئی۔ جنگِ 65ء کے تناظر میں عموماََ دو نکات زیر بحث رہتے ہیں کہ:
۱ ۔ جنگ شروع کس نے کی تھی یا جارحیت کا مرتکب ملک کون سا تھا؟
۲ ۔ جنگ میں شکست کسے ہوئی تھی یا فاتح ملک کون سا تھا؟
ممکن ہے کہ یہ کہہ دیا جائے کہ اس بحث میں اب پڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ جنگ کو گزرے 52 برس ہوچکے ہیں۔ اب کسی ملک کو جارح قرار دینے سے اس کا کیا بگڑے گا؟ یا پھر فاتح کہلوانے کا فائدہ کیا ہوگا؟ جب کہ پاکستان اور بھارت کی فوجیں 1966ء کے معاہدۂ تاشقند کے تحت جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جاچکی ہیں۔ بظاہر یہ ایک لایعنی بحث ہے، لیکن بعض طبقے اس کی آڑ میں حسب ذیل نکات اٹھاتے ہیں:
1۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں حقائق مسخ کرکے غلط تاریخ شامل کی گئی ہے۔
۲۔ محمد بن قاسم کی فتح سندھ سے اب تک جنگوں میں مسلم سپہ کی بہادری کی خودساختہ داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔
۳۔ پاکستان نے ہمیشہ جارحیت کی ہے اور شکست اس کا مقدر بنی ہے۔
۴ ۔ پاک فوج بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرنے کے باوجود کبھی ملک کا دفاع نہیں کرسکی۔
۵ ۔ کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں نہیں ہیں۔ 1965ء میں کشمیریوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں پاکستان ناکام رہا۔
ان حالات میں اس بحث کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ براہ راست نسلِ نو کے ناپختہ ذہنوں پر حملہ ہے۔ اگر اس پروپیگنڈے اور پھیلائی گئی الجھنوں کا سدِ باب نہ کیا گیا تو حقائق مسخ ہوکر ذہنی انتشار کی خلیج کو مزید وسیع کر سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے حالات و واقعات کو درست پیرائے میں بیان کیا جائے، تاکہ مغالطے رفع ہوکر حقائق منظر عام پر آسکیں۔ لہٰذا اول اس پہلو کو زیر بحث لاتے ہیں کہ 65ء میں جنگ کا آغاز کس نے اور کیوں کیا تھا؟

pakbharatjang.jpg
پاکستان کو جنگ چھیڑنے کا ذمے دار ٹھہرانے والے عموماََ ’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔ پاکستان کو جارح سمجھنے والوں کا مؤقف ہے کہ جنگِ پینسٹھ کا آغاز چھ ستمبر کی رات لاہور پر حملے کے بجائے اگست سے کیا جائے، جب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج سمیت مجاہدین کو گوریلا کارروائیوں کے لئے داخل کیا تھا۔ جس کی وجہ سے کشمیر میں حالات خراب ہوئے اور بدلے میں بھارت نے لاہور پر حملہ کردیا۔ ہماری رائے میں جنگِ پینسٹھ کا آغاز اگست سے بھی قبل ماہِ اپریل میں ہی ہوگیا تھا، جب بھارت نے رن آف کچھ کے پاکستانی علاقے پر حملہ کرکے اپنی فوجیں داخل کردی تھیں۔ واضح رہے کہ رن آف کچھ صوبہ سندھ میں بھارتی ریاست گجرات کی سرحد سے متصل نگر پارکر سے بحیرہ عرب کی جانب متنازع پٹی سر کریک تک کا نمکین دلدلی علاقہ ہے۔ سرکریک کے غیر آباد خطہ زمین پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدوں کا باقاعدہ تعین نہیں کیا گیا تھا۔ ساڑھے تین ہزار مربع میل پر مشتمل عظیم رن کچھ کا بڑا حصہ گجرات میں ہے۔ بھارت نے اس کے شمالی حصے پر بھی دعویٰ کر رکھا تھا، لیکن چھڈ بیٹ کی چوکی سے یہ پاکستان کے زیر نگرانی تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس خطے پر پہلے بھی فروری 1956ء میں جھڑپیں ہوچکی تھیں۔ تاہم پھر دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے سرحدوں کے تعین کے لئے آمادہ ہوگئے تھے۔


بھارت نے اپریل 1965ء میں ایک بار پھر رن آف کچھ کے پاکستانی علاقے کو طاقت کے بل بوتے پر ہتھیانے کا منصوبہ بنایا۔ جس کے لئے بھارتی فوج نے 5 اپریل کی رات پاک رینجرز کی چوکیوں پر حملہ کردیا۔ اسے معمولی سرحدی چھیڑ چھاڑ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا، کیوں کہ بھارتی فوج کے ڈپٹی کمانڈر انچیف میجر جنرل کمارامنگلم خود وہاں موجود تھے، جب کہ بھارتی وزیرداخلہ بھی اگلی فوجی چوکیوں کا دورہ کر رہے تھے۔ سر پر منڈلاتے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ کو ضروری فوجی اقدامات کی اجازت دی۔ جس پر پاک آرمی کے آٹھویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل ٹکا خان کو رن آف کچھ کے مقبوضہ علاقوں سے بھارتی فوج کو پسپا کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ انہوں نے برگیڈ یر افتخار خان جنجوعہ کو رن آف کچھ بھیجا اور تیار کئے گئے فوجی دستوں کو آگے بڑھایا۔ بالآخر بھرپور فوجی کارروائی کے بعد پاک آرمی نے 27 اپریل 1965ء تک بھارت سے اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کرالئے۔ رن آف کچھ میں شرمناک شکست بھارت کے لئے ناقابل برداشت تھی۔ جس پر وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’بھارت اب اپنی مرضی کا محاذ کھولے گا‘‘۔ معرکہ رن کچھ کی مزید تفصیل کے لئے 1965ء میں پاک بھارت جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی خالد محمود کی کتاب ’’رن کچھ سے چونڈہ تک‘‘ ملاحظہ کریں۔


اب آتے ہیں ریاست جموں کشمیر کی جانب، جہاں 1965ء میں بننے والی صورت حال کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ جموں کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے متنازع خطہ ہے۔ 1948ء میں سلامتی کونسل نے پاک بھارت کے مابین جنگ کی کیفیت کے باعث فریقین کو پابند کیا تھا کہ فوری جنگ بندی کی جائے۔ کشمیر سے فوجوں کو نکالا جائے۔ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے۔ ان میں سے پہلا نکتہ بھارت کے مفاد میں تھا، چنانچہ جنگ روک دی گئی۔ تاہم باقی دو نکات اُس وقت تسلیم کرنے کے باوجود بھارت ان پر عمل درآمد سے تاحال انکاری ہے اور اب کشمیر کو اٹوٹ انگ بھی قرار دے رہا ہے۔ یہ خیال رہے کہ بھارتی آئین میں ریاست جموں کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی حیثیت اب بھی حاصل ہے۔ اس کے باوجود بھی بھارت نے 1963ء میں کشمیر کو انڈین یونین میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں دسمبر 1964ء میں دفعہ 356-357کو کشمیر پر لاگو کرتے ہوئے قانون سازی اور انتظامی اختیارات بھی سنبھال لئے تھے، جسے کشمیری کسی صورت قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ دوسری جانب بھارت نے کشمیریوں کو مزید محدود کرنے کے لئے جنگ بندی لائن کے آر پار آباد لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر بھی پابندی لگادی تھی، حالانکہ سیز فائر لائن کوئی باقاعدہ سرحد نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر بڑھتی پابندیوں اور متشدانہ رویے نے وہاں کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو انقلابی کونسل کی تشکیل پر مجبور کیا، جس نے آگے چل کر پرزور تحریک کی شکل اختیار کی۔ کشمیریوں کی یہ جدوجہد حق خود ارادیت کے حصول کی خاطر جاری تحریک ہی کا حصہ تھی۔ لیکن بھارت نے اسے پاکستان کی جانب سے مداخلت قرار دے کر کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کردیں۔ بھارت کے اس الزام پر صدر پاکستان ایوب خان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے جس کا ہم پہلے وعدہ کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ ہم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد میں ان کی حمایت کریں گے‘‘۔


پاکستان اور کشمیری عوام اپنے عمل اور مؤقف میں حق بجانب تھے، لیکن بھارت کو رن آف کچھ کی شکست کا داغ مٹانے کے لئے کسی نئے محاذ کا انتخاب کرنا تھا، جس کی وہ پہلے ہی دھمکی دے چکا تھا۔ اس کے لئے اول کشمیر میں جنگ چھیڑ دی گئی اور آزاد کشمیر کی طرف پیش قدمی کی گئی۔ بعد میں باقاعدہ بین الاقوامی سرحد عبور کرکے لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کیا گیا۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کیا پاکستان سے مجاہدین نے مقبوضہ کشمیر کا رخ نہیں کیا تھا، جس کی مدد پاک فوج کر رہی تھی؟ اس بات سے قطعاََ انکار نہیں کہ جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن ہم اسے جارحیت کا رنگ نہیں دے سکتے۔ اول کشمیر ایک متناع ریاست ہے، جس میں سیز فائر لائن بین الاقوامی بارڈر کا درجہ نہیں رکھتی۔ دونوں اطراف کے کشمیری آمدورفت اور آزادانہ نقل و حرکت کا حق رکھتے ہیں۔ دوم پاکستان مسئلہ کشمیر کا فریق ہے، وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ان کی حمایت کا پابند ہے۔ اگر پاکستان کشمیریوں کی حمایت نہ کرے تو مجرم کہلائے گا۔ سوم کشمیریوں کا اپنی آزادی کی خاطر جدوجہد کرنا دہشت گردی نہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور بھی انہیں اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کا بھرپور حق دیتا ہے۔ اگر بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے بزور قوت محروم نہ رکھتا تو یہ حالات ہرگز پیش نہ آتے۔ 65ء میں بھارت کو بے گناہ ماننے کا مطلب، کشمیر کو متنازع خطہ تسلیم کرنے کے برعکس اُسے بھارت کی باقاعدہ ریاست ماننے کے مترادف ہے۔


یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کی چار طرح کی سرحدیں لگتی ہیں۔ ایک کشمیر کی جنگ بندی لائن (جسے 1972ء کے معاہدہ شملہ کے تحت لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا)۔ اس کے دونوں اطراف کا علاقہ متنازع ہے، یہاں تک کہ کشمیری استصوابِ رائے کے ذریعے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ نہ کرلیں۔ نمبر دو ورکنگ باؤنڈری، جیسا کہ جموں اور سیالکوٹ کے درمیان ہے۔ یعنی ایک طرف سیالکوٹ تسلیم شدہ علاقہ ہے، دوسری جانب جموں تاحال متنازع ہے۔ تیسرا انٹرنیشنل بارڈر ہے، جو پنجاب سے سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ 1984 کی بھارتی جارحیت کے بعد ہندوستان اور پاکستان کی افواج شمالی علاقہ جات کے سیاچن گلیشیئر سیکٹر میں غیر متعین شدہ مگر اصولی طور پر پاکستانی علاقے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں جس کا لائن آف ایکچو ئیل کانٹیکٹ
LAC,(Line of Actual Contact)
کہتے ہیں۔ بین الاقوامی سرحد کی یہ قسم سراسر بھارتی جارحیت کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ پاک بھارت کے درمیان ایل او سی پر محدود سطح کی جھڑپیں اب بھی جاری رہتی ہیں۔ بڑے گولے بھی داغے جاتے ہیں، لیکن اسے باقاعدہ طبلِ جنگ نہیں کہا جاتا۔ ہاں انٹرنیشنل بارڈر پر یہ کیفیت معمولی قرار نہیں دی جاسکتی۔ ستمبر 1965ء میں بین الاقوامی سرحد عبور کرنے کی جسارت بھارت نے کی تھی۔ 6 ستمبر کو فیلڈ مارشل ایوب خان کا ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ ’’بھارت نے کسی رسمی اعلان جنگ کے بغیر اپنی روایتی بزدلی اور عیاری سے کام لیتے ہوئے اپنی فوج کو پاکستان کی مقدس سرزمین میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو دندان شکن جواب دیں اور بھارتی سامراجیت کو کچل کر رکھ دیں‘‘۔ جنگ پینسٹھ میں بھارت نے مرضی کے محاذ کھولتے ہوئے کس طرح لاہور سے سیالکوٹ، چونڈہ، کھیم کرن اور راجستھان سیکٹر تک جنگ کو وسعت دی تھی، اس کی تفصیل محمد الیاس عادل کی کتاب ’’تاریخ پاکستان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔


اب دوسرے نکتے کو زیر بحث لاتے ہیں، بھارت کو فاتح قرار دینے والے ان کے نقصانات کم اور مفتوحہ رقبہ زیادہ ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری جانب شکست خوردہ کہنے والے نقصانات زیادہ اور مفتوحہ رقبے کی کمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق 23 ستمبر 1965ء کی صبح تین بجے جب فائر بندی ہوئی تو اس وقت دونوں ملکوں کی افواج کے زیر قبضہ علاقوں کی تفصیل کچھ اس طرح تھی۔ اکھنور سیکٹر میں 340 مربع میل بھارتی علاقہ پاکستانی فوج کے قبضے میں آیا۔ لاہورسیالکوٹ میں ایک مربع میل، کھیم کرن سیکٹر میں 36 مربع میل، سلیمانکی میں 40 مربع میل، راجستھان سیکٹر میں 1200 مربع میل بھارتی علاقے پر پاک فوج نے قبضہ کیا۔ اس طرح کل 1617 مربع میل بھارتی علاقے پر پاکستانی فوج سترہ روزہ جنگ میں قابض ہوئی۔ اس کے برعکس بھارتی فوج کارگل میں 10مربع میل، ٹٹوال میں 2 مربع میل، اڑی پونچھ میں 170 مربع میل، سیالکوٹ 140 مربع میل، لاہور سیکٹر میں 100 مربع میل اور راجستھان سیکٹر میں 24 مربع میل پاکستانی علاقے پر قابض ہوئی۔اس طرح بھارتی فوج نے کل 446 مربع میل پاکستانی علاقے پر قبضہ کیا۔ اس کے برخلاف بھارت کو فاتح قرار دینے والے اُن کی افواج کے زیر قبضہ رقبے کو 1800 مربع کلو میٹر اور پاکستان کے زیر قبضہ رقبہ کو 550 مربع کلو میٹر بیان کرتے ہیں۔ یہی تضادات افواج کے جانی نقصان، جنگی طیاروں اور ٹینکوں کی تباہی میں بھی نظر آتے ہیں۔ اس پر ایک تحقیقی تجزیہ جان فریکر نے پیش کیا ہے۔ وہ برطانوی میگزین ’’ایروپلین‘‘ کے ملٹری ایڈیٹر تھے۔ پاک بھارت جنگ کے تین سال بعد 1968ء میں وہ دوسری بار پاکستان آئے۔ ان کے دورے کا مقصد جنگِ پینسٹھ میں بالخصوص فضائیہ کے کردار پر ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ مرتب کرنا تھی۔ جان فریکر کی کتاب ’’جنگِ پاکستان 1965ء کا فضائی معرکہ‘‘ جامعہ کراچی میں پاکستان اسٹڈی سینٹر کی لائبریری میں موجود ہے۔ کتاب کے آخری باب ’’دعویٰ اور جوابِ دعویٰ‘‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1965ء کی جنگ کی گرما گرمی میں دونوں نے دشمن کے سو سے زائد طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ لیکن چونکہ یہ ایک بالکل غیر یقینی بات ہے۔ پھر بھی اس جنگ میں دونوں طرف ہونے والے نقصان کا صحیح تخمینہ اب بھی بڑی حد تک سامنے نہیں آیا۔ ہندوستان کے معاملے میں یہ بات زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ پاکستان نے جنگ سے متعلق اپنا ریکارڈ اور عملے کو غیر جانبدار معائنے کے لئے پیش کردیا اور اپنے نقصانات کی تفصیل شائع کرنے کے لئے تیار ہے۔ ایک مختصر فضائی فوج ہونے کی حیثیت سے پاکستان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے وسیع نقصانات کو آسانی سے پوشیدہ رکھ سکے‘‘۔ آگے چل کر انہوں نے اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے اور پاکستان اور بھارت کی پیش کردہ رپورٹوں کا جائزہ لیا ہے۔


اعداد و شمار کی اس بحث میں پڑنے کے بجائے ہمیں جنگ کے مقاصد اور اہداف پر غور کرنا ہوگا۔ اس تناظر میں شکست و فتح کا بہتر نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ جنگِ پینسٹھ میں بھارت کا کشمیر میں مقابلے کے بجائے انٹرنیشنل بارڈر کی طرف لپکنا اور لاہور پر قبضے کی کوشش کے دو مقاصد تھے۔ اول کشمیر میں ابھرنے والی تحریک کا خاتمہ اور دوم مغربی پاکستان پر قبضہ۔ چونکہ کشمیر پر دونوں ممالک کی افواج میں گھمسان کا رن پڑچکا تھا۔ ان حالات میں اگر بھارت دوسرے محاذِ جنگ کھول کر پاکستان کو نہ الجھاتا تو کشمیرپر قبضہ کھنا بھارت کے لئے انتہائی مشکل ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت نے نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ پر بھی پر حملہ کیا۔ جہاں تک کشمیر میں چھڑنے والی جنگ کی بات ہے تو وقتی طور پر اس کا رخ موڑنے میں بھارت کامیاب تو ہوا، لیکن تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکام رہا۔ کشمیریوں کی حقِ آزادی کی خاطر ابھرنے والی تحریک اب بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر مضبوط بھی ہے۔ دوسری جانب لاہور جم خانہ میں جشنِ فتح منانے کا خواب دیکھنے والی فوج ہزیمت لئے واپس پلٹنے پر مجبور ہوئی۔ جنگِ پینسٹھ میں پاک فوج کی کامیابی یہی تھی کہ وہ نا صرف کم وسائل اور بغیر کسی پیشگی تیاری کے باوجود اپنے سے بڑی فوج کا راستہ روکنے میں کامیاب رہی۔ بلکہ ہندوستان کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ بھی کیااور بھارتی فوج کو بھاری جانی ومالی نقصان بھی پہنچایا۔ اس بنا پر جنگِ پینسٹھ ہماری ملی تاریخ میں صرف کامیاب دفاع ہی نہیں ایک شاندار فتح بھی ہے۔

مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شہید کی بیوہ کے تاثرات

مرے شہید کا ماتم نہ یوں کرو کہ شہید
نظر سے ہوتا ہے اوجھل پہ مر نہیں سکتا
یہ سچ ہے میری اداسی خرید کر کوئی
مری نظر میں ستارے تو بھر نہیں سکتا
مری پہاڑ سی ویراں اُداس راتوں میں
نئی سحر کا اُجالا تو کر نہیں سکتا
حیات سادہ کے بے رنگ ہاتھ میں کوئی
حنائی رنگ کی سُرخی تو بھر نہیں سکتا
خموش گھر کے اکیلے اداس آنگن میں
مرے سہاگ کا مہتاب اُبھر نہیں سکتا
مگر میں خوش ہوں کہ میرا سہاگ کام آیا
مرے وطن کا محافظ وطن کے کام آیا
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس نے جاں دے کر
جوان بہنوں کے ناموس کی حفاظت کی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس نے خوں دے کر
سہاگنوں کے سہاگوں کی آبرو رکھ لی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کی ہمت نے
مرے وطن کو نئی ایک زندگی بخشی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کی ر گ رک میں
خلوص و جوشِ شہادت کی آگ روشن تھی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کے چہرے پر
خودی کا رنگ تھا دل میں وطن کی عزت تھی
اسی شہید کا خوں میری مانگ میں بھردو
مجھے وطن کی محبت سے سُرخرو کردو

رشیدہ سلیم سیمیں

*****

 
18
September

قوم رواں برس یومِ دفاع اُسی جوش و خروش سے منا رہی ہے جس کے ساتھ اس نے باون سال قبل عددی اعتبار سے ایک بڑے دشمن کو شکستِ فاش دی تھی۔ ستمبر 65ء کی جنگ کے بعد ہی سے دشمن کو اس امر کا ادراک ہوا کہ وہ اس بہادر قوم اور اس کی جری افواج کو روائتی انداز سے کبھی شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ تب ہی سے دشمن نے اس عظیم مملکتِ خداداد کے خلاف سازشوں کے جال بُننا شروع کر دیئے۔ سانحۂ مشرقی پاکستان اُنہی سازشوں کا شاخسانہ تھا۔ دشمن آج بھی پاکستان کی بنیادوں کو (خدانخواستہ) اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ کبھی کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرتا ہے تو کبھی اپنے ’گماشتوں‘ کے ذریعے پاکستان کے دیگر علاقوں میں مداخلت کر کے پاکستان کو انتشار کا شکار بنانا چاہتا ہے۔ جس میں اسے نہ صرف ماضی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ مستقبل میں بھی اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔ کیونکہ پاکستانی قوم اب دشمن کی درپردہ سازشوں سے کماحقہ‘ آگاہ ہو چکی ہے اور اُن کا مؤثر توڑ کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔


یوم دفاع پاکستان دشمن کو یہ باور کراتا ہے کہ آج کا پاکستان ایٹمی قوت کا حامل ایک طاقت ور اسلامی ملک ہے جس نے 16سال سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا بھر کے دیگر ممالک سے زیادہ کامیابیاں سمیٹی ہیں اور 70 ہزاسے زائد پاکستانیوں کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد بھی اس قوم کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ قوم اپنے وطن اور اپنے نظریئے کی حفاظت کے لئے بے دریغی سے لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ پاکستانی قوم کا یہی عزم اسے دنیا بھر کی دیگر اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ پاکستان اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی جانب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ دن دُور نہیں جب یہ ملک خود کو درپیش چیلنجز پر قابو پا کر حتمی کامیابی حاصل کر لے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے حال ہی میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ’’ پاک فوج اُنہیں محفوظ اور مستحکم پاکستان فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ پاک فوج اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ تشدد اور دہشت گردی سے ملک کو نجات دلانے میں پاک فوج نے عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم قیامِ امن کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔‘‘


گویا قوم باہمی یگانگت اور اتحاد کو یقینی بنا کر ہی درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔بانیء پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے 13اپریل 1948کو نوشہرہ میں افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’جماعت کی حمیت و عزت کا دامن کبھی نہ چھوڑیئے۔ یعنی اپنی رجمنٹ پر فخر پوری کور پر فخر اور اپنے ملک پاکستان پر فخر اور اس کے لئے سچی لگن۔۔۔ پاکستان آپ کے بَل پر قائم ہے اور آپ پر ملک کے محافظوں کی حیثیت سے پورا اعتماد رکھتا ہے۔ اس اعتماد کے لائق بنیئے۔ یہ فوج آپ کے آباء و اجدادہی کی دلیری اور تندہی کی بدولت پروان چڑھی اور نیک نام ہوئی ہے۔ عزم کیجئے کہ آپ اس کے قابل فخر فرزند بنیں گے۔‘‘


بلاشبہ افواج پاکستان نے آج تک اپنے وطن کی سرحدوں کی جس انداز سے حفاظت کی ہے اور وقت پڑنے پر سردھڑ کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ اس پر قوم کو اپنے ان فرزندوں پر بجا طور پر فخر ہے۔آج پاکستان امن کے حصول میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور اب ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستان مکمل طور پر خوشحالی اور امن کی تصویر بن کر اُبھرے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک کوئی ملک دفاعی اعتبار سے مضبوط ملک نہیں بنتا تب تک وہاں امن اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی قوم اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ دفاع وطن ہی بقائے وطن کی ضمانت ہے۔ ہماری افواج انہی سطور پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جدید ترین جنگی اور پیشہ ورانہ خطوط پر تیاری کو اپنا مطمع نظر بنائے ہوئے ہیں تاکہ دشمن ہماری سرحدوں کی جانب کبھی میلی نگاہ نہ اٹھا سکے۔
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

18
September

تحریر: جبار مرزا

ستمبر1965 کی جنگ کراماتی اور کرشماتی جنگ تھی۔
خاکی وردی والے خاک و خون ہو کر شہادت سے سرفراز ہوگئے مگر وطنِ عزیز کی سالمیت پر آنچ نہ آنے دی۔
چونڈہ میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی لڑائی لڑی گئی، 5ستمبر 1965 کی آدھی رات کے وقت بھارتی فوج بین الاقوامی سرحد پر آکر رُک تو گئی تھی مگر اُس کے ڈویژنل افسروں نے اپنے ماتحتوں پر انکشاف کیا تھا کہ ہمیں ’’یہاں رُکنا نہیں ہے بلکہ صف بندی کرکے آگے بڑھنا ہے، لاہور تک میدان صاف ہے، فوج کو دوپہر کا کھانا لاہور میں کھلایا جائے گا اور شام کو جنرل چوہدری فاتح افسروں کے اعزاز میں لاہور جم خانہ کلب میں محفلِ ناؤ نوش برپا کریں گے۔‘‘


بھارتیوں کے اس خواب کا انکشاف، بھارتی15 ڈویژن کا کمانڈر میجر جنرل نرنجن پرشاد جب اپنی جیپ چھوڑ کر بھاگا تو جیپ سے ملنے والی نرنجن پرشاد کی ڈائری سے ہو جو پاکستان کے پاس محفوظ ہے ۔ اس ڈائری میں لاہور پر قبضے کی تمام تفصیلات موجود ہیں، اس ڈائری میں پاکستان کے تمام کمانڈروں کے نام اور ان کی دفاعی پوزیشنوں کے بارے میں بالکل درست معلومات درج تھیں۔ بھارتیوں کو سقوطِ لاہور کا یقین بے وجہ نہ تھا ۔اس جنگ میں بھارت نے اپنی پوری فوجی قوت میدان میں جھونک دی تھی۔

napakiradonki.jpg
بھارت نے وہ اسلحہ جو اس نے امریکہ سے چین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے لیا تھا، وہ سارے کا سارا 1965 کی جنگ میں پاکستان کے خلاف پھونک دیا تھا، بھارت نے بہت بڑی منصوبہ بندی سے پاکستان پر حملہ کیا تھا، بھارتی فوج کی صف بندی کے ساتھ ہی دہلی میں فتح کے جشن کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔ غیر ملکی اخباری نمائندوں کو لاہور پر قبضے کی پیشگی اطلاع بھی دے دی گئی تھی۔ بی بی سی نے تو لاہور پر قبضے کی خبر نشر بھی کردی تھی۔ اخبارات کے ضمیمے دھڑا دھڑ چھپنے اور فروخت ہونے لگ گئے تھے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ارکان تہذیب و اخلاق کی روایات کو پامال کرکے بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ لاہور کے لئے اشون کمار کو ایڈمنسٹریٹر بھی نامزد کردیا گیا تھا۔ لاہور ریڈیو سٹیشن سے فتح کا اعلان کرنے لئے ریہرسل بھی کرلی گئی تھی۔ منصوبہ سازوں نے اکھنور کے علاقے میں ڈویژن اور ایک بکتر بند رجمنٹ دسواں پہاڑی ڈویژن، انیسواں اور پچیسواں پیدل ڈویژن اور بیس لانسر ٹینک رجمنٹ پر جمع کر رکھی تھیں۔ سیالکوٹ اور چونڈہ کی سرحد پر تین ڈویژن پیدل فوج یعنی چھبیسواں پیدل ڈویژن، چھٹا پہاڑی ڈویژن اور چودھواں پیدل ڈویژن اِن کے علاوہ پورا بکتر بند ڈویژن اور ٹینکوں کی دو رجمنٹیں اور دوسری رجمنٹس پوزیشن لے چکی تھیں۔


لاہور کے محاذ پر پندرھواں اور ساتواں پیدل ڈویژن حرکت میں آچکا تھا۔ پچاس میل تک وسیع محاذ پر نگاہ دوڑائیں تو دور تک بھارتی فوج بہت بڑے حملے اور فیصلہ کن وار کے لئے تیار تھی۔ اسی طرح قصور کے مقابل میں اگر چوتھا پہاڑی ڈویژن صف آرا تھا تو راجستھان میں گیارھواں پیدل ڈویژن حملے کے لئے وارم اپ ہو چکا تھا۔ یوں پھر پلان کے مطابق 5اور 6 ستمبر کی رات واہگہ کی طرف سے لاہور پر قبضہ،7 ستمبر کو قصور کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوج نے واہگہ کی طرف سے پیش قدمی کرتی فوج سے جرنیلی سڑک پر آ ملنا تھا۔ بھارت کا خیال تھا کہ لاہور پر شب خون سے پاکستانی عوام کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور افراتفری پھیل جائے گی۔ ادھر سیالکوٹ کی طرف سے بڑھتی ہوئی فوج گوجرانوالہ اور وزیرآباد کے درمیان کسی مقام پر لاہور کی طرف پیش قدمی کرنے والی فوج سے جاملے گی۔ شیخ چلی کی طرح بھارت نے خیال ہی خیال میں اپنے منصوبے پر کامیابی حاصل کرلی تھی اور اب تصوراتی طور سے فتح کا جشن منانے کا سوچ رہا تھا کہ مورکھ کو کافی تاخیر سے خیال آیا کہ اہلِ پاکستان کی قوتِ ایمانی اور افواج پاکستان کے جذبۂ جہاد اور آرزوئے شہادت کے سامنے تو ہمارا سب کچھ پانی کابلبلہ ہے اور ایسا ہی ہوا ’’ٹاپ آف دا نیوز‘‘ واشنگٹن کے نامہ نگار کے مطابق بھارتی فوج کی پہلی رجمنٹ جب پاکستانیوں کے مقابلے پر آئی تو لڑی نہیں بلکہ منہ پھیر کربھاگ نکلی اپنا اسلحہ، رسد اور ذاتی سامان تک چھوڑ کر بھاگ گئی۔ جہاں تک لاہور پر حملے کا تعلق تھا تو لاہور میں داخلے کے لئے باٹاپور کے پل پر قبضہ ضروری تھا۔ واہگہ سے باٹا پور تک معمولی مزاحمت کے بعد معمولی اس لئے کہ رینجرز کے علاوہ صرف ایک سکرین پلاٹون وہاں متعین تھی جس کی قیادت میجر عارف جان کررہے تھے، جنہوں نے بھارت کی عسکری اور عددی برتری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مشین گن خود سنبھال لی، میجر عارف جان نے واہگہ سیکٹر کے پہلے شہید کا اعزاز پاکر بھارت کے خواب کو چکنا چور کردیا کہ اگر ایک پلاٹون جس کا ہر جوان آخری گولی تک لڑاا ور شہید ہوتا گیا مگر پیچھے نہیں ہٹا تو جب پورے ایک ڈویژن فوج سے واسطہ پڑے گا تو پھر کیاہوگا۔

جنگ ستمبر محض سترہ دنوں کی روداد نہیں بلکہ کئی نسلوں تک اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اس جنگ میں جہاں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی اور پاک فضائیہ نے شجاعت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی، وہاں حکومتِ پاکستان نے بہت سے جری جوانوں ، غازیوں اور شہیدوں کو خصوصی تمغے دے کر ان کے ایثار کا اعتراف کیا تھا


پچاس میل لمبے اس محاذ کو قائم کرنے کا بھارتی منصوبہ محض یہ تھا کہ پاکستانی افواج پر مختلف سمتوں سے حملہ کیا جائے ، حالانکہ اتنے بڑے محاذ پر پاکستانی ڈویژن کمانڈر میجر جنرل محمد سرفراز خان کے پاس صرف سات بٹالین فوج تھی۔ اس کے باوجود بھارتی مورکھوں کی صفوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی، یہی وجہ تھی کہ بھارتی فوجیں باٹا پور کے پُل کے اس پار آکر رُک گئی تھیں، البتہ وقفے وقفے سے بھارتی توپ خانہ زبردست گولہ باری کررہا تھا اور پاکستانی فوج نے بڑے تحمل سے وہ گولہ باری برداشت کی۔ پاکستان کی برداشت بھارتیوں کو اور بھی پریشان کئے جارہی تھی۔ ٹینکوں کی رجمنٹ اور پیدل فوج جو کافی دیر سے باٹا پور پل پار کرنے کے لئے پر تول رہی تھی، جب بھارت کا پہلا ٹینک آگے بڑھا تو اُسے بڑی آسانی سے پاکستانی فوج نے تباہ کردیا۔ پھر 6 اور7 ستمبر کی درمیانی رات دس بجے یعنی بھارتی جارحیت کے دوسرے روز بھارت نے پورے بریگیڈ کے ساتھ حملہ کیا مگر پاکستانی جاں نثاروں نے وہ حملہ بھی ناکام بنا دیا۔ دونوں فوجوں کے درمیان فاصلہ بہت کم تھاشاید 100 گز بھی نہیں تھا آمنے سامنے ایک دوسرے کی حرکت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے میں باٹاپور کا پُل اڑانا بہت ضروری تھا بھارتی فوج کی اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ سے یہ کام بہت مشکل تھا مگر اس کٹھن کام کو انجام دینے کے لئے پاکستان آرمی انجینئرنگ کور کے میجر آفتاب احمدملک نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ رات کی تاریکی میں میجر آفتاب چند دیگر جاں نثاروں کو لے کر باٹا پور پل کو اُڑانے کی غرض سے ضرور ی بارود اور مائنز لے کر ہدف پر پہنچ گئے اس دوران بھارتیوں نے آفتاب ملک کو دیکھ لیا تھا اور گولہ باری میں شدت پیدا کردی تھی مگر پاکستان کی جوابی فائرنگ کے سامنے بھارتیوں کی پیش نہ چلی۔ میجر آفتاب ملک کا راستہ روکنے کے لئے تین ٹینک آگے بڑھے جنہیں پاکستانی فوج نے تباہ کردیا، بہت سارے گولہ بارود کی چمک کی وجہ سے آفتاب ملک اور ان کے ساتھی دکھائی تو دیئے مگر وہ سارے کے سارے پل کے ستونوں کے پیچھے چھپ کر مطلوبہ جگہ پر بارود بھرکے واپس آئے اور آکر جب نیگیٹو اور پازیٹو تاریں جوڑیں توپُل بھک سے اُڑ گیا۔ اس کے بعد سترہ دن کی جنگ میں بھارت ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکا، اس عرصے میں پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتیوں کے اوسان خطا کئے رکھے، ادھر، سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی۔ مگر بریگیڈیئر امجد، عبدالعلی ملک اور لیفٹیننٹ کرنل نثار احمد خان نے اپنے جوانوں اور فضائیہ کی مدد سے ان کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا، پاکستانی فوجی جوان جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں تلے لیٹ گئے اور دشمن کی پیش قدمی روک دی یوں بھارت تمام ترکوششوں کے باجود چونڈہ شہر میں داخل نہ ہو سکا ۔


جنگ ستمبر محض سترہ دنوں کی روداد نہیں بلکہ کئی نسلوں تک اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اس جنگ میں جہاں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی اور پاک فضائیہ نے شجاعت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی، وہاں حکومتِ پاکستان نے بہت سے جری جوانوں ، غازیوں اور شہیدوں کو خصوصی تمغے دے کر ان کے ایثار کا اعتراف کیا تھا، فوج کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر جنگ ستمبر میں میجر راجہ عزیز بھٹی کو ملا تھا۔ اس سے پہلے کیپٹن سرور اور میجر طفیل کو نشانِ حیدر مل چکے تھے۔


1965کی پاک بھارت جنگ میں لاہور کے محاذ پر 17 پنجاب کے الفا کمپنی کمانڈر میجر عزیزبھٹی شہید کو جو نشانِ حیدر ملا تھا، اس کی سفارش ان کے یونٹ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم قریشی نے کی تھی۔ ابراہیم قریشی جن کا تعلق راولپنڈی شہر سے تھا، وہ بعد میں بریگیڈئیر ہوئے، کئی ملکوں میں پاکستان کے سفیر رہے، وزارتِ خارجہ کے عہدے پر بھی فائزرہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل کرانے میں سفارتی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مددبھی کی۔ ابراہیم قریشی کا شمار ہمارے ان لوگوں میں ہوتا تھا جن سے ہمارا عقیدت کا تعلق رہا ہے، ابرہیم قریشی اسلام آباد میں مدفون ہیں۔ان کی گفتگو ہمیشہ جذبوں سے بھری ہوتی تھی۔ اور وہ بہت شفقت اور عقیدت سے میجر عزیز بھٹی شہید کی بہادری کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔


وہ اکثر کہتے کہ وطن کی خدمت کا جذبہ میجر عزیزبھٹی میں بدرجۂ اتم موجود تھا۔ وہ بہت دلیر اور نڈر آفیسر تھے جو اگلی صفوں میں رہتے ہوئے دشمن پر وار کرنے پر یقین رکھتے جس کا ثبوت اُن کے جنگ ستمبر کے کارناموں سے ملتا ہے۔
باٹا پور کا پل اڑانے والے میجر آفتاب ملک بھی اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ وہ فوج سے بطور کرنل ریٹائر ہوئے تھے، کرنل آفتاب ملک کو باٹا پور کا پُل اُڑانے پر ستارۂ جرأت ملا تھا، آپ نے1957 میں
Persian Pipeline
نامی کتاب بھی لکھی تھی۔ حکومتِ پاکستان سے ایڈیشنل سیکرٹری ریٹائر ہوئے اور پاکستان زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ 1991 میں جب پاکستان بیت المال کا قیام عمل میں آیا تو کرنل آفتاب ملک اس کے بانی سیکرٹری تھے، کرنل صاحب سعودی حکومت کے مشیر بھی رہے، بلوچستان حکومت کے سیکرٹری مواصلات بھی رہے، کرنل آفتاب ملک 1929میں ملک احمددین کے ہاں پیدا ہوئے اور 27 فروری1999 کو لندن میں وفات پائی اور3 مارچ1999 کو اسلام آباد میں تدفین ہوئی۔ اُن سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ اکثر اپنی یادوں پر مبنی جنگی واقعات سنایا کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ 1965 کی جنگ میں باٹا پور پُل کو اڑانا عسکری اور جنگی اعتبار سے بہت اہم تھا اور ہمارے جوانوں نے یہ کارنامہ دشمن کی شدید ترین مزاحمت اور فائرنگ کے دوران کیا کیونکہ مؤثر دفاع کے لئے اس کام کا کرنا ضروری تھا اور الحمدﷲ ہم اس میں کامیاب رہے۔ کیا باکمال لوگ تھے جو زندگی کی آخری سانس تک ’زندہ‘ رہے، بلکہ ایسے لوگ تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، تاریخ ایسے لوگوں کو مرنے ہی نہیں دیتی جو وطن، ملت اور دینِ اسلام کے لئے جیتے ہیںیا جان دے دیتے ہیں۔

مضمون نگار: ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
September

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد


قسط نمبر20

سر جی میں جاواں
گئے وقتوں میں پشاور کے آرٹلری میس میں ہمہ وقت پندرہ سے بیس بیچلر آفیسرز کا ڈیرہ رہا کرتا تھا۔ ایک کمرے میں عموماً تین سے چار افسروں کا پڑاؤ ہوتا تھا۔ ایک غیر تحریری معاہدے کی رو سے میس میں موجود ہر شے عوام کی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی تھی۔ ذاتی سامان کی پھبتی صرف نیکر بنیان تک ہی محدود تھی بلکہ اکثر صورتوں میں توانہیں بھی روم میٹس کی دست برد سے بچانا ناممکن ہو جاتا تھا۔ ہمارے ایک سینیئر کیپٹن جاوید ایک الگ ہی طبیعت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ موصوف کو کسی چیز کی ضرورت آن پڑتی تو پہلے روم میٹ سے مانگتے پھر پاس پڑوس کے تمام کمروں میں بیٹ مین کو دوڑاتے، اس کے بعد خود ایک چکر لگا کر دستِ سوال دراز کرتے اور جب گوہر مقصود کہیں سے ہاتھ نہ آتا تو چاروناچار اپنا ٹرنک کھولتے اور اس میں سے مطلوبہ آئیٹم برآمد کرتے ہوئے فرماتے ’’آج کل کے افسر کس قدر بے مروت ہو گئے ہیں ،معمولی سی چیز بھی دوسروں سے شئیر نہیں کرتے۔‘‘

targitsirgmainjawan.jpg
ایک مرتبہ ہمیں معلوم ہوا کہ موصوف وی سی آر خرید لائے ہیں۔ سب لوگ ان کے کمرے میں جمع ہوگئے اور فلم دکھانے کی فرمائش کی۔ انہوں نے فلم دیکھنے کی اجازت تو دے دی لیکن ہمیں وی سی آر کے نزدیک نہیں پھٹکنے دیا۔ اس زمانے میں ٹی وی اور وی سی آر بغیر ریموٹ کے ہوا کرتے تھے اور ان پر لگے بٹنوں کو ہاتھ سے پریس کرنا پڑتا تھا۔ چند دنوں بعد کیپٹن جاوید کو اچانک چھٹی جانا پڑا۔ وی سی آر کو ساتھ لے جانا ممکن نہ تھا چنانچہ جاتے ہوئے تاکید کر گئے کہ خبردارکوئی ان کے وی سی آر کو ہاتھ نہ لگائے۔ ہم ہمیشہ سے اپنے سینیئرز کے حد سے زیادہ فرمانبردار واقع ہوئے ہیں تاہم نئے نویلے وی سی آر سے دُور رہنا ہمیں صبر کے پل صراط کو بند آنکھوں عبور کرنے کے مترادف دکھائی دے رہا تھا۔ سینیئر کا حکم ایک طرف اور وارفتگئ شوق دوسری جانب،گویا ’’ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘ والا معاملہ درپیش تھا۔اس گھمبیر مسئلے کے حل کے لئے لیفٹین پارٹی کی ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی۔کافی بحث و مباحثہ کے بعد لیفٹیننٹ شوکت (جو کہ ماموں کے نام سے مشہور و معروف تھے) کی اس تجویز پر اتفاق رائے ہوا کہ وی سی آر کو چلانے کے لئے ہاتھوں کے بجائے پاؤں کا مناسب استعمال کیا جائے گا۔


ویک اینڈ کی آمد آمد تھی۔حسبِ پروگرام ویک اینڈ نائٹ پر بیچلر پارٹی ایک کمرے میں جمع ہوئی۔یہ ایک ہال نما مستطیل کمرہ تھا جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا چینج روم متصل تھا۔ بڑے کمرے اور چینج روم کے درمیان ریلنگ لگا کر ایک پردہ ٹانگ دیا گیا تھا۔فلم چلانے سے پہلے کمرے کی تمام روشنیاں گل کر کے سینما کا ماحول پیدا کیا گیا۔ اس کے بعد ہم سب انہماک سے فلم دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔ بارہ بجے کے قریب فلم ختم ہوئی تو ایک افسر نے اٹھ کر لائٹس آن کیں۔ اچانک چینج روم کا پردہ تھوڑا سا سرکا ، بیٹ مین حمید نے ایک کونے سے سر باہر نکالا اور منمناتی ہوئی آواز میں بولا’’سر جی! میں جاواں۔‘‘ ہوا کچھ یوں تھا کہ حمید ہمارے آنے سے پہلے چینج روم میں بوٹ پالش کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک ہم سب کمرے میں براجمان ہوگئے اور لائٹس بجھاکر فلم دیکھنا شروع کر دی۔ اس طرح حمید کے باہر نکلنے کا راستہ مسدود ہو گیا اور اس نے وہیں دبک کر انتظار کرنے میں عافیت جانی۔ حمید کی بات کے جواب میں خاموشی کا ایک مختصر وقفہ آیا جسے ماموں شوکت کی غصے بھری آواز نے توڑا ’’ٹھہر جا کم بخت،ابھی دوسری فلم لگانے لگے ہیں وہ بھی دیکھ کر جانا۔‘‘


تنخواہِ گمشدہ
فوج کی تنخواہ تھوڑی سہی لیکن اس میں برکت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جب ہم کیڈٹ بن کرنئے نئے فوج کو پیارے ہوئے تو چند سو روپے ماہوار کے وظیفے پر گزارہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری آتی چلی گئی اور ہمارا لائف سٹائل بھی بہتر ہوتا چلا گیا۔ تاہم یہ بات قدرے خوشی اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ نہ تو کبھی کسی قسم کی تنگی کا احساس دامن گیر ہوا اور نہ ہی کبھی قرض لینے کی نوبت آئی۔ شادی سے پہلے افسر تنخواہ بینک سے نکلوا کر میس حوالدار کے حوالے کر تا ہے اور شادی کے بعد بیگم کے۔ دونوں صورتوں میں افسر کا کام صرف تنخواہ کے چیک پر دستخط کرنا ہوتا ہے جو وہ برضا و رغبت کر دیتا ہے۔ تنخواہ کے ساتھ ہی لمبے چوڑے بل بھی موصول ہوجاتے ہیں جن کو چکانے کے بعدجو چند آنے پائیاں بچ رہتی ہیں ان کا حساب کتاب کر نے کے لئے جتنا وقت اور مہارت درکار ہوتی ہے اس کا افسروں کے ہاں شدید فقدان ہوتا ہے، لہٰذا اس بھاری پتھر کو چومنے سے گریز ہی کیا جاتا ہے۔ تنخواہ جاری و ساری رہے تو گلشن کا کاروبار ایک لگے بندھے معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے لیکن اگر کسی بنا پر اس میں کوئی رخنہ آ جائے تو گویا قیامت ہی ٹوٹ پڑتی ہے۔ ایسے میں افسر کا وہی حال ہوتا ہے جو 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد مرزا غالب کا ’’موئے فرنگیوں‘‘ کی جانب سے پینشن روکے جانے پر ہوا تھا۔


یہ مارچ 2001 کا ذکر ہے۔ ہم ان دنوں کپتان تھے اور سکول آف آرٹلری نوشہرہ میں عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ ہمیں سکول آف آرٹلری میں پوسٹ ہوئے کوئی دو ماہ کا عرصہ ہو چلا تھا۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ ایک دن تنخواہ کا چیک کیش کرانے بینک پہنچے تو انکشاف ہوا کہ تنخواہ اکاؤنٹ میں کریڈٹ نہیں ہوئی۔ ہمارے پاس سی ایم اے کی کنفرمیشن سلپ موجود تھی جو بینک مینجر کو دکھائی گئی لیکن انہوں نے ریکارڈ چیک کرنے کے بعد بتایا کہ انہیں چیک موصول نہیں ہوا۔ ہم نے اگلے دن چھٹی لے کرکنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس( سی ایم اے) پشاور کا رخ کیا۔ انہوں نے اپنے ریکارڈ کی پڑتال کر کے بتایا کہ ان کی جانب سے مذکورہ چیک بینک کو دو ہفتے قبل ارسال کر دیا گیا تھا۔ نوشہرہ پہنچ کر پھر بینک مینجر کے روبرو پیش ہوئے اور انہیں سی ایم اے کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سنی ان سنی کر دی اور اصرار کیا کہ چیک موصول ہوئے بغیر رقم ہمارے اکاؤنٹ میں کریڈٹ نہیں کی جا سکتی۔ اگلے دن پھر پشاور پہنچے اور سی ایم اے والوں سے اس مسئلے کا حل دریافت کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آپ نیشنل بینک سے نان پیمنٹ سرٹیفکیٹ لکھوا لائیں۔ ہم نوشہرہ پہنچے اور بینک مینیجر سے مذکورہ سرٹیفکیٹ لے کر اگلے ہی روز سی ایم اے والوں کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضرت اکاؤنٹنٹ نے فرمایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہم کیس بنا کر اپنے ہیڈ آفس کو راولپنڈی بھجوا رہے ہیں اور وہاں سے جو جواب موصول ہو گا اس سے آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔ چند دن بعد ہیڈ آفس کا جواب موصول ہو گیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ تین ماہ بعد سٹیٹ بینک سے فائنل سٹیٹمنٹ موصول ہوگی تب نیا چیک ایشو کیا جائے گا۔ ہم نے دن گننے شروع کر دئے۔ خدا خدا کر کے تین ماہ گزر گئے لیکن نیا چیک جاری نہ ہوا۔ ہمارے بار بار پوچھنے پر یہی بتایا جاتا کہ ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔ آخر پانچ ماہ گزرنے کے بعد ہمارا پیمانہ صبر لبریز ہو ہی گیا اور ہم نے ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو ایک عدد ذاتی خط ارسال کر دیا جس میں یہ تمام روداد من و عن بیان کی گئی تھی۔
اس خط کے جواب میں اکاؤنٹنٹ جنرل نے ہمیں فوراً نیا چیک ایشو کرنے کے احکامات جاری فرمائے اور ماتحت عملے کی اس بات پر سخت جواب طلبی فرمائی کہ اصولاً افسر کی رپورٹ پر نیا چیک تین دن کے اندر ایشو ہو جانا چاہئے تھا جو کہ پانچ مہینے بعد بھی کیوں نہ کیا گیا۔ہمیں تو فی الوقت اپنی تنخواہ کے چیک سے غرض تھی جو کہ تاخیر سے ہی سہی لیکن پوری ضرور ہو گئی تاہم کچھ دنوں بعد یونہی رولز کی ایک کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو براہ راست خط لکھنے کی ممانعت ہے۔ یہ پڑھ کر خدا کا شکر ادا کیا کہ ہم اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل دونوں ہی اس رول سے واقف نہ تھے ورنہ ہماری تنخواہ کا چیک گمشدہ ہی رہتا اور ہم اس کی تلاش میں آج بھی دربدر بھٹک رہے ہوتے۔


فدا کی بددعا
اگست 2006 کا ذکر ہے۔ ہم سکردو کے بیچوں بیچ واقع ہیڈکوارٹر آرٹلری ایف سی این اے میں بحیثیت جی ٹو عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ اس موسم میں سکردو جنت نظیر کا منظر پیش کرتا ہے۔ سرسبز پہاڑ، شفاف جھرنے اور معطر ہوائیں مل کر ایک سماں باندھ دیتی ہیں۔ ایسے میں ایک دن کمانڈر کو یونٹوں کے درمیان فائرنگ مقابلہ کروانے کا شوق چُرایا۔ دس دن بعد کی تاریخ طے ہوئی اور ہمیں مقابلے کا جج تعینات کر دیا گیا۔ ایک سہانی صبح کو تمام ٹیمیں بھرپور تیاری کے ساتھ فائرنگ رینج پر موجود تھیں۔ مقابلے میں کل سات ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں، ہر ٹیم دس جوانوں پر مشتمل تھی جس کی سربراہی ایک افسر کے ذمہ تھی۔ ٹیم کے دس ممبران نے سو میٹر کے فاصلے سے اپنے اپنے ٹارگٹ پر پانچ راؤنڈ فائر کرنا تھے۔ ٹارگٹ اینڈ پر موجود عملے نے ہر ٹارگٹ پر ہٹ کی گئی گولیوں کی تعداد گن کر ہمیں پاس کرنا تھی جو کہ ایک بڑے بورڈ پر ان کے نام کے آگے لکھی جانی تھی۔سب ٹیموں کے فائر کرنے کے بعد ان کی ٹارگٹ کو ہٹ کی گئی گولیوں کی تعداد جمع کرکے پوزیشنز کا فیصلہ ہونا تھا۔ مقابلے کی اہمیت کے پیش نظر تمام یونٹوں کے کمانڈنگ افسران بھی دیگر افسروں کے ہمراہ اپنی ٹیموں کی کارکردگی ملاحظہ کرنے کے لئے بنفسِ نفیس وہاں موجود تھے۔


میجر فدا کا شمار ہمارے بہت اچھے سینئرز میں ہوتا تھا۔ وہ بھی اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے اس مقابلے میں حصہ لے رہے تھے۔ ان کی ٹیم نے سب سے پہلے فائر کیا اور ٹارگٹ اینڈ کی جانب سے رزلٹ ہمیں لکھوا دیا گیا۔ اس رزلٹ کے مطابق میجر فدا کی کوئی ایک بھی گولی ٹارگٹ کو چھونے میں ناکام رہی تھی۔ ہم نے رزلٹ جوں کا توں بورڈ پر لکھوا دیا۔ میجر فدا کے نام کے سامنے بڑا سا انڈہ دیکھ کر ان کے کمانڈنگ افسر کے تیور آسمان کو لگ گئے۔ وہ تواپنی ٹیم کی جیت کی اُمید لگائے بیٹھے تھے جس پر اس شاندار رزلٹ نے سرے سے پانی پھیر دیا تھا۔میجر فدا معصوم صورت بنائے ہمارے پاس تشریف لائے اور نظر ثانی کی درخواست دائر کی۔ لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ہم بحیثیت ایمپائر عدل و انصاف کا علم بلند کر چکے تھے۔ہمارے مسلسل انکار پر انہوں نے فرمایا کہ میجر صاحب آپ ہمیشہ تو اس اپائنٹمنٹ پر نہیں رہیں گے، خدا کرے کہ آپ میری جگہ پوسٹ ہوجائیں۔ ایسا ہونا بادی النظر میں ناممکن نظر آتا تھا کیونکہ ہم سٹاف کورس کے لئے سیلیکٹ ہو چکے تھے جس کے لئے ہمیں اوائل دسمبر میں کوئٹہ رپورٹ کرنا تھی۔


حالات نے اچانک پلٹا کھایا اور ایک دن ایچ کیو کی جانب سے خط موصول ہوا کہ سٹاف کورس دسمبرکے بجائے اگلے جون میں شروع ہو گا۔ یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ ایم ایس برانچ نے فی الفور ہمیں اگلے نو ماہ کے لئے فارورڈ یونٹ میں پوسٹ کر دیا۔ یوں چند روز بعد ہم سکردو سے اٹھ کر میجر فدا سے سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ان کی گن پوزیشن کا چارج لے رہے تھے۔ اگلے نو ماہ ہم دن رات برف میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے اور سوچتے رہے کہ میجر فدا نے ایسا کون سا چلہ کیا ہوگا جس کی بدولت انہیں یہ ولایت حاصل ہوئی۔
(.........جاری ہے)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
18
September

تحریر: وثیق شیخ


جنگ ستمبر1965کے دوران جرأت و بہادری کے ایسے ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملے کہ ان پر انسانی عقل حیران ہے۔ سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دشمن نے 400 سے زائد ٹینکوں سے حملہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں کسی بھی جگہ ٹینکوں سے لڑی جانے والی یہ سب سے بڑی جنگ تھی۔ قلیل تعداد اور اسلحہ کم ہونے کے باوجود پاک فوج کے بہادر اس جاں نثاری سے لڑے کہ دنیا کی عسکری تاریخ اش اش کر اٹھی۔

اسی معرکے کے حوالے سے وثیق شیخ نے ان بزرگ شخصیات سے رابطہ کیا اور ان کے آنکھوں دیکھے احوال کو قلمبند کیا جنہوں نے 1965 میں چونڈہ کی جنگ کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا تھا۔

 

سعید بٹ
1944میں چونڈہ میں پیدا ہوئے۔ 1965میں ان کی عمر 21سال تھی۔ سعید صاحب اس وقت واپڈا میں ملازم تھے اور منڈی بہاؤالدین میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ دوران ڈیوٹی ان کو اطلاع ملی m_saeed_butt.jpgکہ بھارتی فوج نے چونڈہ پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ فوراً ہنگامی چھٹی لے کر چونڈہ پہنچے تاکہ اپنے خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کر سکیں۔ جنگ ستمبر کا احوال بیان کرتے ہوئے سعید بٹ 73 سال کی عمر میں بھی جذباتی ہو گئے اور اس طرح واقعات بیان کرنے لگے جیسے آج بھی وہ منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہو۔ انہوں نے چونڈہ آتے ہی محلے کے نوجوانوں کا ایک گروپ تشکیل دیا اور افواج پاکستان کو اپنی خدمات پیش کیں۔ رضاکارانہ طور پر ان کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ پہرہ دیں۔ 11ستمبر کو جب پھلورہ اور گڈگور کے درمیان شدید جنگ جاری تھی افواج پاکستان نے چونڈہ کو خالی کرنے کا حکم دیا تاکہ شہری آبادی کو جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔ بہت اصرار کے بعد لوگوں کو آمادہ کیا گیا کہ وہ شہری آبادی کو فوری خالی کر دیں۔ اسی دوران بھارتی فوج نے الہڑ اسٹیشن پر قبضہ کر لیا اور یہ خبر پھیلا دی کہ چونڈہ پر قبضہ ہو گیا ہے لیکن افواج پاکستان اور پاکستانی عوام اس بھارتی پروپیگنڈے کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے بھارتی ٹینکوں کا راستہ روک کر ڈٹے رہے ۔ سعید بٹ نے بھارتی فوج کو للکارتے ہوئے کہا کہ آج بھی اس کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے وہ بالکل تیار ہیں۔ 73سالہ بزرگ کا جذبہ دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دل سے بے اختیار یہ صدا نکلی ۔
؂ مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا
میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا


لال دین رحمانی
laldeenrehmani.jpg83سالہ لال دین رحمانی بھی 1965 کی جنگ میں قومی جذبے سے سرشار رضاکارانہ طور پر چونڈہ کے گردونواح پر نظر رکھنے کے لئے تعینات تھے۔ جنگ کے واقعات کا بڑی گرم جوشی سے تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری ڈیوٹی چونڈہ کے ساتھ گاؤں کالے وال پر نظر رکھنا تھی۔ بھارتی فوج کو پاکستانی فوج پھلورہ کے پاس روکے ہوئے تھی۔ بھارت نے 400ٹینکوں اور ایک بہت بڑی پیدل فوج کے ساتھ حملہ کیا لیکن اتنی بڑی قوت کے باوجود بھارتی سورما مٹھی بھر پاکستانی فوج کے سامنے بے بس نظر آ رہے تھے۔ لال دین اور ان کے ساتھی ایک کماد (گنے) کے کھیت میں چھپ کر دشمن پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک جیپ کی آواز آئی۔ وہ چوکنے ہو گئے۔ بھارتی فوج کی ایک ریکی ٹیم اسی کماد کے کھیت کے پاس آ کر رک گئی۔ جیپ میں ایک سکھ حوالدار اور دو ہندو فوجی مشین گن نصب کئے اپنی فوج سے کافی دور آ نکلے تھے۔ وہ کھیت کے اتنے قریب تھے کہ ان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ سکھ افسر پنجابی میں اپنے ساتھیوں سے مخاطب تھا۔ ’’اوئے رام پال واپس چلتے ہیں بہت دور نکل آئے ہیں کہیں پاکستانی فوج کے گھیرے میں نہ آ جائیں۔‘‘ اس کی آواز سے ہی گھبراہٹ کا پتہ چل رہا تھا۔
’’جی سر ٹھیک ہے۔‘‘ گھیرے میں آئے دشمن کو یوں ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر لال دین نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کیا اور فائر کھول دیا۔ تینوں بھارتی فوجی موقع پر ہی جہنم واصل ہو گئے۔ یہ واقعہ سناتے ہوئے بوڑھے لال دین نے وہی نعرہ تکبیر دوبارہ بلند کیا اور ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔ میں سوچنے لگا کہ اگر یہ جذبۂ ایمانی موجود نہ ہوتا تو کیا پاکستانی فوج اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کو شکست دے سکتی تھی۔


رحمت اﷲ بٹ
rehmat_ullahbutt.jpg82سالہ رحمت اﷲ بٹ اس عمر میں بھی چاق چوبندہیں۔ وہ جنگ ستمبر کا آنکھوں دیکھا حال پورے جذبۂ حب الوطنی سے بیان کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ وہ رضاکار ٹولی کے ساتھ چونڈہ کے باہر ریلوے لائن کی حفاظت پر مامور تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ٹینکوں کے گولے ہمارے دائیں بائیں گر رہے تھے۔ آنکھوں کے آگے تا حد نظر گرد اور دھوئیں کے بادل چھائے تھے۔ دشمن پوری قوت سے حملہ کر رہا تھا۔ نڈر اور بے باک پاک فوج ایک ایک انچ کا دفاع کر رہی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ دشمن ریلوئے لائن عبور کر لے گامگر پاک فوج کے جری سپوتوں کی بھرپور جوابی کارروائی کی بدولت دشمن چونڈہ سے آگے نہ بڑھ سکا اور آج بھی چونڈہ کا مقام دشمن فوج کے لئے ندامت اور ہزیمت کے طور پر جاناجاتا ہے۔

 

 

 


دو انمول واقعات

 

فوجی جوانوں کے لئے مائی برکتے کی بنائی گئی روٹیاں

مائی برکتے کی داستان قصبہ چونڈہ کے باسی یاد رکھے ہوئے ہیں۔ مائی بالکل اکیلی تھی۔ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ 1965کی جنگ شروع ہوئی تو گاؤں کے تمام خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ مائی نے جانے سے انکار کر دیا۔ مائی نے ایک تندور لگایا ہوا تھا جہاں وہ روٹیاں لگا کر اپنی گزر بسر کرتی تھی۔ جنگ کے دوران مائی سارا وقت روٹیاں لگاتی رہتی اور اپنے آپ سے باتیں کرتی رہتی۔ ابھی میرے فوجی جوان آئیں گے، بھوکے ہوں گے، یہاں کون ہے ان کے لئے کھانا پکانے والا، میں ہوں نا ان کی ماں ان کے لئے اپنے ہاتھوں سے کھانا بناؤں گی۔ میرے بیٹوں کو بھوک لگی ہو گی۔ روٹیاں لگا کر وہ بڑی سی چنگیر میں رکھتی اور سامنے سڑک پر کھڑی ہو جاتی جہاں سے فوجی جوان گزرتے تھے۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے ان کو رکنے کا اشارہ کرتی اور کھانے کی دعوت دیتی ۔ فوجی جوان مائی کا دل رکھنے کے لئے ایک ایک روٹی اٹھا لیتے اور تبرک کے طور پر مائی کے سامنے نوالہ توڑ کر منہ میں ڈال لیتے اور آنکھوں میں آنسو لئے دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑنے کے لئے محاذ جنگ کی طرف روانہ ہو جاتے کون جانے کتنی ماؤں نے اپنے بیٹوں کے لئے اﷲ سے کتنی دعائیں مانگی ہوں گی۔ اسی لئے تو دشمن اتنی طاقت رکھنے کے باوجود ریلوے لائن عبور نہ کر سکا۔


دوکاندار کی رقم

جنگ کے وقت چونڈہ میں ایک چھوٹا سا بازار تھا اسی بازار میں ایک سٹور تھا۔ بشیر جنرل سٹور۔ جنگ میں جب فوج نے شہریوں کو قصبہ خالی کرنے کا کہا تو لوگ اپنی دوکانیں اور گھربار چھوڑ کر چلے گئے۔ جلدی میں کوئی سامان اٹھانے کا موقع نہ مل سکا۔ گھروں اور دوکانوں میں تمام قیمتی سامان بھی جوں کا توں موجود تھا۔ 14روزہ جنگ کے بعد جب لوگ اپنے گھروں میں واپس آئے تو بہت سی دوکانوں اور گھروں سے سامان غائب تھا۔ پاک فوج پوری طرح چوکس تھی۔ لیکن پھر بھی کچھ موقع پرست ہاتھ مارنے میں کامیاب ہو گئے۔ بشیر رندھاوا بھی جب دوکان پر واپس آئے تو دوکان کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے۔ سامان تو اتنا چوری نہ ہوا تھا البتہ نقدی غائب تھی۔ زندگی کا نظام دوبارہ شروع ہو گیا۔ لوگ جنگ کے نقصانات سے بے پروا اپنے اپنے کاروبار میں مگن ہو گئے۔ ابھی جنگ بند ہوئے چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک دن پاک فوج کی ایک جیپ آ کر بشیر جنرل سٹور پر رکی۔ جیپ سے دو فوجی جوان نیچے اترے اور بشیر کو پوچھا یہ دوکان آپ کی ہے۔ انہوں نے بتایا جی میری ہی ہے۔ فوجی جوان نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک لفافہ بشیر صاحب کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ اپنی رقم گن لیں ایک دن ہم گشت پر تھے اور کچھ لوگ آپ کی دکان لوٹ رہے تھے، ہمیں دیکھ کر وہ بھاگ گئے۔ یہ رقم اٹھانے کا ان کو موقع نہ مل سکا۔ ہم یہ رقم اپنے ساتھ لے گئے اور کمانڈر صاحب کے پاس جمع کرا دی۔ اپنی امانت وصول کر لیں اور ہمیں رسید بنا دیں۔ بشیر رندھاوا اب اس دنیا میں موجود نہیں لیکن ان کا بیٹا اپنے والد سے سنی ہوئی داستان سناتے ہوئے آج بھی آب دیدہ ہو جاتا ہے۔

 
18
September

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

سابق سیکرٹری جنرل اور وزیرِ مملکت وزارتِ خارجہ۔ پاکستان


پاکستان اور بھارت کے مابین ستمبر 1965 کی جنگ تاریخ کے صفحات میں رقم ہوکر آئندہ نسلوں کے لئے ایک ناقابلِ تردید گواہی ہے کہ جنگوں میں فتح گولہ بارود، عددی برتری یا عسکری قوت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ دشمن کو فنا کرنے کا عزم، مادرِوطن کے دفاع پہ مرمٹنے کا حوصلہ، موت پر موت بن کر ٹوٹنے کا جذبہ جنگوں میں فتح یا شکست کا فیصلہ کرتے ہیں، اور انہی جذبوں سے سرشار پاک فوج کے نڈر، بہادر اور جری جوانوں نے اس جنگ میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے دانت یوں کھٹے کئے کہ حملہ آور دشمن اور اس کے اتحادی بھی اعتراف ناکامی پہ مجبور ہوئے ۔ جنگ ستمبر1965آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن ماضی کی باعثِ تقلید اور قابل فخر ایسی مثال ہے جو ہر جوان کو زندگی کے ہر دور میں ارضِ وطن کے دفاع کے لئے کسی بھی حدتک جانے کا حوصلہ فراہم کرتی رہے گی۔ پاکستانی قوم نے اس جنگ میں دلیری ، شجاعت، ایثار، خلوص اور قربانی کے وہ کارنامے انجام دیئے جوکہ تاریخ میں سنہری حروف سے رقم کئے جانے کے قابل ہیں۔ کہیں تودورانِ جنگ قوم کی بیٹیاں اپنا زیور تک دان کرتی نظر آئیں تو کہیں ستر سالہ بزرگ خواتین محاذ جنگ پر دشمن سے برسر پیکار پاک فوج کے جوانوں تک روٹیاں پہنچانے پہ بضد دکھائی دیں۔نوجوان مصر تھے کہ وہ اگلے مورچوں پر پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن فوجیوں کو رگیدنے میں حصہ شامل کریں ، توانا و ناتواں بزرگ ہسپتالوں میں خون کے عطیات دینے کے لئے ایک دوسرے پہ سبقت لے جانے کے لئے کوشاں تھے۔ پاک فوج کے جوان دفاع وطن میں خون کا آخری قطرہ نچھاور کرنے پر ہی نہیں بلکہ دشمن کے آخری سپاہی کا سر کچلنے کے لئے بے قرار تھے اور عوام نے بھی ان جوانوں کے حوصلے بڑھانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ دشمن کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ کوتاہ اندیشی میں اس نے ایسی قوم کو للکارا ہے کہ جو دفاع وطن میں جان دینے اور جان لینے ، دونوں فنون میں یکتا ہے۔ جبھی تو کسی محاذ پر دشمن اپنے مردہ و مجروح فوجی چھوڑ کر بھاگا تو کہیں اپنے ٹینک و توپیں، کسی مقام پر دشمن کے فضائی طیاروں کا ملبہ بکھرا تو کہیں دشمن فوجیوں کے وجود ۔ طاقت کے نشے میں چور بدمست ہاتھی کی طرح بھارتی افواج نے ارضِ وطن کی جانب پیش قدمی کی، ایک بار نہیں بلکہ کئی بار، ایک مقام پر نہیں بلکہ یکے بعد دیگر ے درجنوں مقاما ت پر ، مگر ہر بار، ہر مقام پر عبرتناک شکست اس کا مقدر بنی ۔ نصرت و کامیابی نے پاک افواج کے قدم چومے ۔ کروڑوں پاکستانیوں کی دعائیں، مدد الٰہی اور پاک جوانوں کی بلندہمتی اور شجاعت اس فتح کے بنیادی اسباب تھے۔


ارض وطن کا دفاع محفوظ ،مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اس کا ادراک تو دشمن کو6ستمبر 1965ء کی رات ہی ہوگیا تھا کہ جب اس نے بنا کسی پیشگی انتباہ
((Warning)
کے پاکستان پر دھاوابولامگر اس کے جواب میں اسے منہ کی کھانا پڑی۔ کہاں جو پروگرام تھا صبح کا ناشتہ لاہور جم خانہ میں کرنے کا اور کہاں برکی ہڈیارہ، واہگہ اور بھسین سیکٹر جارح بھارتی فوج کے لئے مرگھٹ میں بدل چکے تھے جہاں لاہور کو سرکرنے کی خواہش لے کر آنے والے بھارتی فوجیوں کو جان کے لالے پڑے تھے اور مقابلے میں تعداد میں نہایت قلیل اور کسی بھی اضافی جنگی بندوبست کے بنا پاک فوج کے سجیلے جوان قہر قدرت بنے ہوئے تھے۔چھ ستمبر کی رات میجر عزیز بھٹی کی قیادت میں موجود پاک فوج کے چند سپاہیوں نے دشمن کے بڑے اور بھرپور حملے کو بڑی پامردی سے روکا ، دشمن نے لاکھ جتن کئے مگر یہ مٹھی بھر جوان پہاڑ جیسے حوصلوں کے ساتھ بھارتی فوج کی راہ میں دیوار بنے رہے، یہاں تک کہ شہادت کا جام نوش کیا مگر پایۂ عزم میں کوئی لغزش نہ آئی۔اس دوران پاکستان کی دفاعی کمک کو بھی سرحد تک پہنچنے کا موقع مل گیا اوردشمن کا بی آر بی نہر کو عبور کرنے کا خواب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خواب ہی رہا۔ یہ ایسا کارنامہ تھا کہ قوم نے میجر عزیز بھٹی کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز یعنی نشانِ حیدر سے نوازا۔بھارتی میڈیا محاذ جنگ کے حالات سے بے خبر بڑی ڈھٹائی سے لاہور پہ قبضے کی خبریں نشر کررہا تھا ۔ ان خبروں کے ساتھ لاہور کی ایک بس کی تصویر جاری کی گئی تھی جو کہ سرحد پر گئی ہوئی تھی ۔ اس بس کی تصویر کو بنیاد بناکر بھارتی وزیردفاع یشونت راؤ چوہان اور جنرل جویا نتو ناتھ بھی لاہور فتح کرنے کی خوش فہمی میں مبتلا میڈیا کے سامنے احساس برتری کے نقارے بجاتے رہے مگر بھارتی بڑوں پہ بھی حقیقت اس وقت آشکار ا ہوئی جب حملہ آور بریگیڈز کی خبر گیری کے واسطے ڈویژن کمانڈ کے جنرل نے اگلے مورچوں کا رخ کیا تو معلوم پڑا کہ لاہور فتح تو درکنار یہاں تو جانی و عسکری نقصان کا اندازہ کرنا مشکل ہورہا ہے۔

madrewatanksh.jpg
یہاں سے منہ کی کھانے کے بعد بھارت نے یکے بعد دیگر ے کئی محاذ کھولے مگر ہر جگہ ناکامی و ہزیمت کا مزا چکھا ۔ بھارتی جرنیلوں نے منصوبہ بنایا کہ کسی ایسی سرحد سے بڑی عسکری قوت کے ساتھ حملہ کیا جائے کہ جہاں پاک فوج کی افرادی قوت کم ہو اور زیادہ مزاحمت کا سامنا کئے بغیر کسی طرح شہری علاقوں تک رسائی حاصل کرلی جائے۔ اس مقصد کے لئے دشمن نے سیالکوٹ کے محاذ پر جو پہلے سے بھی گرم تھا ، سیکڑوں ٹینکوں سے بڑا اور بھرپور حملہ کیا۔ سات اور آٹھ ستمبر کی درمیانی شب رات بارہ بجے کے قریب بھارتی فوج کے چودھویں انفینٹری ڈویژن نے باجرہ گڑھی سے سیالکوٹ کے گاؤں پر دھاوا بولا۔ بھارتی جرنیلوں نے منصوبے کے تحت تین اطراف سے بیک وقت حملہ کیا جس میں ایک چونڈ ہ کے مشرق میں نخنال سیکٹر ،دوسرا چاروہ سیکٹر اور تیسرا باجڑہ گڑھی ۔بھارتی فوج نے چاروہ ، گڈگور اور پھلوارہ سے گزر کر چونڈہ کی جانب پیش قدمی کی مگر پاک فوج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دشمن کوروکے رکھا۔ بھارتی فوج کا منصوبہ تھا کہ وہ کسی طرح جی ٹی روڈ اور ریلوے لائن پہ قبضہ کرکے لاہور اور راولپنڈی کے مابین تعلق کو کاٹ دے تاہم وطن عزیز کے عظیم و شجاع سپوتوں نے دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملادیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدیہ ٹینکوں کا سب سے بڑا حملہ تھا جو کہ چونڈہ میں بھارتی فوج نے کیا تھا ۔ دشمن نے سیکڑوں ٹینکوں اور ہزاروں سپاہیوں کے ہمراہ چونڈہ فتح کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ۔ دوران جنگ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ قلیل تعداد میں موجود اینٹی ٹینک شکن توپیں سیکڑوں ٹینکوں کی پیش قدمی روکنے میں ناکام پڑنے لگیں تو پاک فوج کے جوانوں نے ہاتھوں میں اور سینوں پر بم باندھ کے ٹینکوں کی جانب پیش قدمی کی ۔ ان چلتے پھرتے ٹینک شکن مجاہدوں نے میدانِ کارزار کو ٹینکوں کا قبرستان بنادیااور 600 ٹینکوں کے اس حملے میں بھی بھارتی فوج احساسِ شکست سے تلملاتی رہی۔


ستمبر1965ء کی جنگ میں بھارتی فوج نے صرف زمینی جنگ میں ہی ہزیمت نہیں اٹھائی بلکہ آب و باد بھی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ڈبونے میں پاکستان کے حامی و مددگاربنے۔ دنیا کی جنگی تاریخ کا ایک منفرد کارنامہ پاکستان کے غازی مجاہد پائلٹ ایم ایم عالم نے اپنے نام کیا اور ریکارڈ وقت میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیاروں کو زمین بوس کرڈالا ، عقاب صفت اس غازی ہوا باز نے دشمن کے کل نو طیارے مارگرائے۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا ۔ شاہین صفت ہوا بازوں نے اس جنگ میں دشمن کے ایک سو سے زائد طیارے تباہ کئے ۔ جن میں سے بیشتر تو ایسے تھے کہ جنہیں اڑنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ دوسری جانب پاکستان کے سمندری پانیوں کی نگہبان پاک بحریہ نے بھی اس جنگ میں بری و فضائی افواج کے شانہ بشانہ پیشہ ورانہ مہارت کے وہ جوہر دکھائے کہ بھارتی بحریہ تمام تر وسائل کے باوجود بے دست و پا ہوکر رہ گئی۔ پاک بحریہ نے تاریخی سومنات مند ر کے قریب واقع دوارکاکی بندرگاہ پر بھرپور کارروائی کرکے اسے ناکارہ کردیا۔ پاک بحریہ کی توپوں نے نہ صرف تین بھارتی طیارے مارگرائے بلکہ بھارت کے ایک جنگی بحری جہاز کو ڈبو کر بھارتی غرور کے تمام بل نکال دیئے۔ دوسری جانب پاک فوج نے کھیم کرن پر قبضہ کرلینے کے بعد بڑے بھارتی علاقے پر پاکستانی پرچم لہرا دیا، جبکہ بھارت نے راجستھان میں پیش قدمی کا ارادہ کیا تو پاک فوج اور حر مجاہدوں نے بھارتی راجستھان میں بہت بڑے علاقے پر قبضہ کرلیااور اس صحرائی علاقے کو بھارتی فوج کے لئے نوگوایریا میں تبدیل کردیا۔ اس محاذپر سیکڑوں مربع میل علاقہ پاکستان کے قبضے میں آیا۔ جنگ ستمبر میں پاکستان ، پاکستان کی عسکری قوت اور پاکستانی قوم کے بارے میں بھارت اور اس کے حلیفوں کے تمام تر اندازے غلط ثابت ہوئے اور نہ صرف اسے ناقابلِ یقین مزاحمت سے دوچار ہونا پڑا بلکہ ایک ایسی شکست بھارتی فوج کا مقدر بنی جو کہ کسی طور ان کے وہم و گمان میں نہ تھی۔

ستمبر1965ء کی جنگ میں بھارتی فوج نے صرف زمینی جنگ میں ہی ہزیمت نہیں اٹھائی بلکہ آب و باد بھی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ڈبونے میں پاکستان کے حامی و مددگاربنے۔ دنیا کی جنگی تاریخ کا ایک منفرد کارنامہ پاکستان کے غازی مجاہد پائلٹ ایم ایم عالم نے اپنے نام کیا اور ریکارڈ وقت میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیاروں کو زمین بوس کرڈالا ، عقاب صفت اس غازی ہوا باز نے دشمن کے کل نو طیارے مارگرائے۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا ۔


6ستمبر سے 22ستمبر 1965تک کی اس 17روزہ جنگ کے حالات و واقعات آج بھی پڑھنے اور سننے والوں کو ورطۂ حیرت میں ڈالتے ہیں،کہ کیسے طاقت اور عددی برتری کے احساس میں مبتلا کئی گنا بڑے دشمن نے پوری تیاری و قوت کے ساتھ ایک ایسے ملک پہ غیرعلانیہ حملہ کیا کہ جو نہ صر ف عددی و عسکری اعتبار سے کئی گنا کم تھا بلکہ جنگ کے لئے کسی طور بھی تیار نہ تھا، مگر اس کے باوجود اس نے حملہ آوروں کا غرور خاک میں ملادیا۔ اس جنگ میں وطن عزیز پاکستان کے حقیقی دوست و دشمن بھی کھل کر واضح ہوئے۔امریکہ کہ جس کے ساتھ دفاعی تعاون کا باقاعدہ معاہدہ تھا اور پاکستان سیٹو ، سینٹو میں شامل تھا ۔ اس کے باوجود اس جنگ میں امریکہ نے پاکستان کا کوئی ساتھ نہیں دیا، یہاں تک کہ دفاعی پرزہ جات تک بھی نہیں دیئے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اپنی سلامتی کی دفاعی جنگ میں بھارت سے برسر پیکار تھا تو اس وقت امریکہ نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرکے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا، کیونکہ بھارت کے ساتھ تو اس وقت امریکہ کا دفاعی تعاون کی مد میں یا دفاعی سازوسامان کی خرید و فروخت سے متعلق بظاہر کوئی معاہد ہ تھا ہی نہیں، چنانچہ معاہدوں کے تناظر میں امریکہ نے اگر تعاون کرنا بھی تھا تو وہ فقط پاکستان کے ساتھ کرنا تھا، تاہم عین جنگ کے دوران امریکہ نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان کا اعتماد کھودیا۔ میرے نزدیک ستمبر1965 ء میں بھارت نے پاکستان پہ جو حملہ کیااسے امریکہ کی غیرعلانیہ تائید حاصل تھی اور بھارت کو معلوم تھا کہ اگر اس نے پاکستان پہ ایک بڑی جنگ مسلط کی تو امریکہ اس جنگ میں پاکستان کی کوئی مدد و حمایت نہیں کرے گا۔ قبل ازیں 1965ء کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ اورگجرات کے سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئی تھیں جنہیں عالمی ثالثی میں حل کرلیا گیا تھا۔ مارچ 65ء میں ہی صدر ایوب مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی دعوت پر قاہرہ گئے ۔ جہاں چین کے وزیراعظم چواین لائی اور انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو بھی موجود تھے۔ اس ملاقات پر امریکی صدر جانسن اس قدر برہم ہوئے کہ انہوں نے پاکستانی امداد کے لئے پیرس میں ہونے والی کنسورشیم میٹنگ منسوخ کردی۔ جس کے پاکستان پر منفی اثرات بھی مرتب ہوئے جبکہ اگست 65ء میں ہی پاک بھارت کشیدگی کا محاذ کشمیر میں گرم ہوچکا تھا اور متنازعہ علاقوں میں دونوں ممالک کے مابین باقاعدہ جھڑپیں جاری تھیں۔ اس دوران بھارت نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان نے ایک منصوبے کے تحت ہزاروں مسلح لوگ کشمیر میں داخل کئے ہیں اور شاستری نے کہا کہ اس کا جواب دینے کے لئے وقت اور جگہ کا تعین وہ خود کریں گے۔


ہندوستان نے وقت اور جگہ کا تعین 6ستمبر1965ء رات گئے بین الاقوامی سرحد پر لاہور اور سیالکوٹ سیکٹر میں بھرپور اور غیرعلانیہ حملہ کرکے کیا۔ صدر ایوب نے پاکستانی قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے کہ جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہ ہوجائیں۔ ہندوستانی حکمران نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے کس قوم کو للکار ا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے قومی و علاقائی گلوکاروں نے جنگی ترانوں و نغموں سے قوم کے دلوں میں جرأت، حوصلے ، ایثار و قربانی کی نئی روح پھُونک دی۔ راقم اس وقت لاہور سول سروس اکیڈمی میں تعینات تھا اور اسی دن ایک رزمیہ نظم ’’یہ جنگ ہے عوام کی ، عوام کی یہ جنگ ہے‘‘ لکھی ، جو کہ ریڈیو پاکستان پہ بھی نشر ہوئی اور ماہنامہ ہلال دسمبر2016ء کے شمارے میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ستمبر65ء کی جنگ نے پاکستانی قوم کا بطور قوم دنیا میں تشخص اجاگر اور وقار بلند کیا۔ اس موقع پر کامیاب سفارتکاری کے باعث پاکستان کے دوست ممالک نے بھی کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔ ابھی پاک بھارت جنگ جاری تھی کہ 17ستمبر کو چین نے سکم کے مقبوضہ علاقے میں نئی بھارتی حلقہ بندیوں کو مسمار کرنے کا الٹی میٹم دے دیاجس نے بھارتی غرور کے پھولے غبارے سے ساری ہوا نکال دی۔ علاوہ ازیں چین نے پاکستان کی ہر ممکنہ مدد کی اور اشیائے ضروریہ سمیت اپنے اسلحہ خانوں کے منہ کھول دیئے۔ دوسری جانب برادر اسلامی ملک ایران نے بھی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور پاکستانی طیاروں کو اپنے ائیرپورٹ اور فضا استعمال کرنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ فیول و دیگر سامان فراہم کیا۔ اسی طرح انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو نے پاکستان کی مدد کے لئے اپنا بحری بیڑا بھجوایا۔ بعینہٖ ترکی اور ایران نے وافرمقدار میں اسلحہ بھی فراہم کیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت افغانستان کے ظاہر شا ہ نے پاکستان کے ساتھ اختلافات کے باوجود یقین دلایا کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔اس جنگ میں پاکستان کے لئے چین اور دیگر ہمسایہ ممالک کے بڑھتے تعاون سے مغربی قوتیں بھی پریشان ہوگئیں اور امریکہ جو کہ اپنا اعتماد بری طرح کھوچکا تھا۔ اس نے روس کو آگے کیا۔ 20ستمبر کو سلامتی کونسل نے دلالی کرتے ہوئے ایک قرارداد کے ذریعے دونوں ملکوں کو جنگ سے روک دیا۔تاشقند کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان وہ معروف معاہدہ طے پایا، جسے معاہدہ تاشقند کا نام دیا گیا۔ جنگ بندی کے معاہدے کی بھی ہندوستان بارہا خلاف ورزی کرچکا ہے۔معاہدہ تاشقند میں طے پایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفتوعہ علاقے واپس کریں گے۔1949ء کی کشمیر کی لائن آف سیز فائر بحال ہوگی۔ سلامتی کونسل3ماہ کے اندر اندر مسئلہ کشمیر کو حل کرے گی۔ذوالفقار علی بھٹو جو کہ اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے ، انہوں نے تاشقند معاہدے کی مخالفت کی تھی ، جس بناء پر انہیں وزارت خارجہ سے علیحدہ کردیا گیا تھااور انہوں نے اپنے آزاد سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنی تحریروں اور تقریروں میں معاہدہ تاشقند کے رازوں کی بات کرتے رہے مگر اپنی حیات میں انہوں نے وہ راز افشاء نہ کئے ۔ اس جنگ نے پاکستان کے دیرپا اور بااعتماد دوستوں کا بھی تعین کیا۔ چین کہ جس نے سب سے زیادہ معاونت کی اس کے ساتھ دوستی کی مثال سمندر سے گہری ، شہد سے میٹھی اور ہمالیہ سے بلند قرار پاتی ہے۔ ایران و ترکی کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون و بھائی چارے کو فروغ ملا اور ترقی کی شاہراہ پرمل کر چلنے کے فیصلے ہوئے ۔ جنگ ستمبر65ء کونصف صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، تاہم پاکستان کی تاریخ، بالخصوص عسکری تاریخ، سنہرے حروف سے رقم شدہ باب کی حیثیت ، اہمیت اور افادیت کی حامل ہے۔ اس جنگ نے ہی اقوامِ عالم پہ بالعموم اور دشمن پہ بالخصوص یہ واضح کیا کہ وطنِ عزیز پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے کوئی بھی بیرونی جارحیت بے سود ہے، لہٰذا اسے اندرونی عدم استحکام ، انتشار کا شکار کرکے کمزور کیا جائے۔ بادی النظر دیکھا جائے تو جنگ 65ء آج بھی جاری ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کا سلامتی کا مشیر اجیت دوال
(Ajit Doval)
پاکستان کے خلاف خطرناک منصوبہ بندی کرچکے ہیں اور افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تخریب کاری کررہے ہیں۔ جارح دشمن آج بھی غیر علانیہ طور پر پاکستان پر حملہ آور ہے، فرق محض اتنا ہے کہ پہلے وہ جغرافیائی سرحدوں سے حملہ آور تھا ۔ آج وہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور ثقافتی سرحدوں سے حملہ آور ہے۔آج میدان کارزار محض چونڈہ، کھیم کرن، برکی، راجستھان وغیر ہ ہی نہیں بلکہ ان میں فاٹا، گلگت بلتستان،بلوچستان کا بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ ستمبر 65ء کے میجر عزیز بھٹی، میجر جنرل ابرار حسین، بریگیڈیئر عبدالعلی ملک، لیفٹیننٹ کرنل نثار حسین کی طرح آج میجر جنرل ثناء اللہ، لیفٹیننٹ کرنل محمد توصیف میجر علی سلمان اور کیپٹن یاسر علی آج بھی دشمن سے محاذِ جنگ پر برسرِ پیکار ہیں، ارض وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔تاہم اس جنگ کو مکمل طور پر جیتنے کے لئے بھی ستمبر65ء کی جنگ والے قومی جذبے، ولولے اور ایثار و قربانی کی ضرورت ہے۔ جنگ ستمبر اہلِ دنیا کو یہ بتلانے کے لئے کافی ہے کہ ارض وطن پرجب کوئی مشکل وقت آیا تو اس کے دلیر ، شجاع اور غیور سپوت دفاع مقدس کے واسطے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، اس کی تائید ستمبر 65ء کی جنگ اورکامیاب’’ ضرب عضب‘‘ اور پورے عزم سے جاری و ساری ’’ردالفساد‘‘ کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کے چہروں پہ پھیلی مُسکان بھی کرتی ہے۔
شہدائے پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد

 

 
18
September

تحریر: الطاف حسن قریشی


کیا خوب تھے وہ دن جن کی یادیں آج بھی دلوں کو نئے جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دیتی ہیں۔
یہ باون برس پہلے کی بات ہے، میں اپنے دوستوں کی دعوت پر 5 ستمبر 1965ء کی سہ پہر ساہیوال روانہ ہوا۔ اِرادہ ایک دو روز ٹھہرنے کا تھا۔ ایک ہی دن پہلے میں مقبوضہ کشمیر میں واقع چھمب جوڑیاں کے محاذ سے لوٹا تھا جہاں پاکستان کی فوجیں اکھنور کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔ اس آپریشن ’گرینڈ سلام‘ کا بنیادی مقصد بھارتی افواج پر دباؤ بڑھانا اور اُن کی پیش قدمی کو روکنا تھا جنہوں نے آزاد کشمیر کے بعض سٹریٹجک علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مظفر آباد کو بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ ساہیوال پہنچنے کے بعد میں نے آل انڈیا ریڈیو سے بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کا یہ اعلان سنا کہ ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے۔ میری چھٹی حس نے اِس اعلان میں چھپا ہوا خطرہ محسوس کیا، چنانچہ میں نے صبح سویرے لاہور واپس جانے کا ارادہ کر لیا۔ میں ریڈیو سے صبح کی خبریں نہیں سن سکا تھا۔ لاہور کے گردونواح میں ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے میں آیا کہ لوگ اپنا سامان سروں پر اُٹھائے ریلوے اسٹیشن کی طرف چلے آرہے ہیں۔ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی اِس نقل و حرکت پر مجھے بڑی حیرت کے ساتھ ایک انجانا سا خوف محسوس ہونے لگا۔ میں کوئی نو بجے کے قریب اپنی رہائش گاہ سمن آباد پہنچا جس میں ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ کا دفتر بھی تھا۔ ابھی دفتر میں داخل ہی ہوا تھا کہ بہت خوفناک دھماکہ ہوا جس سے پوری عمارت لرز اُٹھی۔ یوں لگا جسے قریب ہی بم پھٹا ہو۔ صورتِ حال کا اندازہ لگانے کے لئے میں نے ریڈیو کا سوئچ آن کیا۔ صدر محمد ایوب خاں انگریزی میں قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بزدل دشمن نے لاہور کی جانب سے حملہ کر دیا ہے اور ہم نے اپنی افواج کو اُسے سبق سکھانے کا حکم دے دیا ہے۔

sixsepdifaewatan.jpg
یہ تقریر انگریزی میں تھی،اِس لئے لوگوں کے سر سے گزر گئی اورکوئی نمایاں ردِعمل ظاہر نہیں ہوا۔ بیس منٹ بعد مجھے اُردو ڈائجسٹ کے ایک قاری کا ٹیلی فون آیا جو لاہور میں ایئر فورس کے ساتھ منسلک تھے۔ انہوں نے بتایاکہ یہ دھماکہ ہمارے طیاروں کے ساؤنڈ بیریئر عبور کرنے پر ہوا ہے جو دشمن فوج کی بی آر بی نہر کی طرف پیش قدمی روکنے کے لئے فضا میں بلند ہوئے ہیں اور ٹھیک ٹھیک نشانے لگا رہے ہیں۔ محلے کے لوگ ہمارے دفتر میں جمع ہو گئے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ صدرِ مملکت کو اُردو میں خطاب کرنا اور قومی جذبوں کو اُبھارنا چاہئے تھا۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ریڈیو پاکستان سے اعلان ہوا کہ فیلڈ مارشل ایوب خاں پندرہ منٹ بعد اپنے ہم وطنوں سے خطاب کرنے والے ہیں اور پھر ریڈیو پر صدرِ مملکت کی آواز بلند ہوئی


’’میرے عزیز ہم وطنو! السلام علیکم! دس کروڑ پاکستانیوں کے امتحان کا وقت آن پہنچا ہے۔ آج صبح سویرے دشمن نے لاہور کی جانب سے حملہ کیا ہے اور بھارتی ہوائی بیڑے نے وزیرآباد ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مسافر گاڑی کو بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے دس کروڑ عوام کے دل کی دھڑکنوں میں لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ کی صدا گونج رہی ہے۔ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں خاموش نہ ہو جائیں۔ بھارت کے حکمران شاید یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ہمارے دلوں میں ایمان اور یقین محکم ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہم سچائی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم اتحاد اور عزم کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی مسلح فوجوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع عطا کیا ہے جن کا جذبۂ فداکاری اور آہنی عزم طرۂ امتیاز رہا ہے۔ ہمیں یقیناًان تمام ممالک کی ہمدردی اور حمایت حاصل ہو گی جو امن اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں نے شروع دن سے پاکستان کی آزاد مملکت کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور اٹھارہ برس سے پاکستان کے خلاف جنگی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے، وہ ہمیں ضرور کامیابی بخشے گا۔ ہم وطنو! آگے بڑھو، اﷲ تمہارا حامی و ناصر ہو!‘


تقریر ختم ہوتے ہی حاضرین نے پوری قوت سے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہی نعرے آس پاس کے محلوں سے بھی سنائی دینے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں لوگ ہماری عمارت کے گرد اکھٹے ہو گئے جن کے چہرے جذبۂ جہاد سے دمک رہے تھے۔ پھر مختلف شہروں سے ٹیلی فون کالز کا ایک تانتا سا بندھ گیاجن میں قومی آزادی کے تحفظ کا عظیم جذبہ کارفرما تھا۔ صدر ایوب خاں کی تقریر نے قوم کے اندر تازہ رُوح پھونک دی تھی جسے کامل یقین تھا کہ ہماری افواج اسلامی تاریخ کے اُن عظیم اور لافانی مجاہدوں کی روایات تازہ کریں گی جنہوں نے باطل کو سرنگوں کر دیا تھا اور اپنی جانوں پر کھیل کر حق کی شہادت دی تھی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اتحاد اور یک جہتی کے ایسے مناظر ہماری تاریخ میں گلزارِ کہکشاں کی طرح وجود میں آتے گئے جو آنے والی نسلوں کو روشنی، خوشبو اور تازگی فراہم کرتے رہیں گے۔ صدر ایوب خاں کے یہ الفاظ کہ کروڑوں دلوں میں لاالہ الا ﷲ کی صدائیں گونج رہی ہیں ، اُن گہرے زخموں کے لئے مرہم ثابت ہوئے جو ایک سال پہلے صدارتی انتخاب میں ہمارے سیاسی وجود کو لگے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے فیلڈ مارشل ایوب خاں کے مدِ مقابل مادرِ ملت فاطمہ جناح کو کھڑا کر دیا تھا اور سخت معرکہ پیش آیا تھا۔ پورے مشرقی پاکستان اور کراچی میں قائد اعظم کی ہمشیرہ کا فقید المثال استقبال ہوا، مگر دھاندلی سے انہیں شکست ہوئی۔ اس پر کراچی میں خونریز فسادت پھوٹ پڑے اور پورے ملک میں سیاسی فضا سخت کشیدہ تھی، لیکن صدر ایوب خاں کی نشری تقریر نے دلوں اور ذہنوں کی دنیا یکسر بدل ڈالی تھی۔ اتحاد اور اعتماد کے چشمے اُبلنے لگے تھے۔ تمام سیاسی قائدین فیلڈ مارشل کی دعوت پر اُن کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو گئے اور اپنی قوم کو پوری طرح متحد رہنے اور فوج کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے پر اُبھارتے رہے۔ چشمِ زدن میں شاعر، فن کار اور گلو کار میدان میں اُتر آئے اور فوجی ترانے اور ملی نغمے روح اور قلب کو گرمانے اور تڑپانے لگے۔


فیلڈ مارشل ایوب خاں نے افواجِ پاکستان کو دشمن سے نبردآزما ہونے کا حکم دے دیا تھا، مگر وہ ایک سخت آزمائش سے دوچار تھیں۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی جاری رکھتے ہوئے صوبہ سندھ کے جنوب مغرب میں واقع ایک غیر آباد علاقے رَن کچھ میں مارچ 1965ء کے اوائل میں اپنی فوجیں اُتار دی تھیں اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا جہاں پاکستان کی کسٹم پوسٹ واقع تھی۔ پاکستان کا 8 ڈویژن جس کے جی او سی میجر جنرل ٹکا خاں تھے، اس نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اسے جارحیت کا مزہ بھی چکھایا۔ معاملہ جب پوری جنگ کی طرف بڑھنے لگا، تو برطانوی وزیر اعظم ہیرلڈ ولسن کی مداخلت سے دونوں ملکوں نے سیز فائر کے معاہدے پر 30 جون کو دستخط کئے۔ اس کی شق 2 میں درج تھا کہ دونوں طرف کی فوجیں سات روز کے اندر واپس چلی جائیں گی اور ان کی جگہ پولیس یکم جنوری 1965ء کی پوزیشنوں پر پٹرولنگ کرے گی۔ اس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی افواج دفاعی پوزیشنوں سے بھی بہت پیچھے چلی گئی تھیں، بارودی سرنگیں بھی ہٹا لی گئی تھیں جبکہ اگلی پوزیشنوں کے قریب صرف رینجرز ، پولیس یا کہیں کہیں فوجی یونٹس تعینات تھے۔ 10 ڈویژن جسے لاہور کے دفاع کی ذمے داری سونپی گئی تھی، ان کے جی او سی میجر جنرل سرفراز نے 31اگست کی صبح کھاریاں کی دفاعی کانفرنس میں شرکت کی اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا سے دفاعی پوزیشنیں سنبھالنے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی اجازت چاہی جس کا جواب نفی میں دیا گیا کہ ہم بھارت کو مشتعل ہونے کا کوئی موقع دینا نہیں چاہتے۔

 

فوج اور عوام کے مابین گہری محبتوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ جب فوجی قافلے حرکت میں آتے تو عوام اُن پر پھولوں کی بارش کرتے اور اُن کی راہ میں آنکھیں بچھاتے تھے۔ خون دینے کے لئے جوانوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ لوگ دیگوں اور ضروریاتِ زندگی کی اشیا کے ساتھ اگلی پوزیشنوں تک پہنچنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے۔

بھارت نے 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی رات لاہور پر واہگہ اور قصور کی جانب سے کوئی وارننگ دئیے بغیر حملہ کر دیا اور دو روز بعد سیالکوٹ کی طرف بھی پیش قدمی شروع کر دی۔ آل انڈیا ریڈیو اور بی بی سی نے یہ افواہ بھی نشر کر دی کہ لاہور پر بھارت کا قبضہ ہو گیا ہے۔ ان تمام نامساعد حالات کے باجود فارورڈ ایریا میں تعینات شیر دل یونٹس نے دشمن کو اس وقت تک آگے بڑھنے نہیں دیا جب تک افواج نے اپنی پوزیشنیں سنبھال نہیں لی تھیں۔اعلیٰ افسر اپنے جوانوں سے آگے بڑھ کر دشمن پر وار کرتے اور اس کے وار سہتے رہے ۔ ابتدائی اڑتالیس گھنٹے قیامت کے تھے۔ پاکستان کو عددی اعتبار سے اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن کا سامنا تھا، مگر جذبۂ شہادت سے سرشار اور قوتِ ایمانی سے لیس ہماری فوج دشمن کے ٹینکوں، توپ خانوں اور طیاروں سے گولوں کی مسلسل بارش کے باوجود فولاد کی دیوار ثابت ہوئی۔ اس نے دشمن کی فوجوں کو بی آر بی نہر عبور نہیں کرنے دی اور بھارتی جرنیلوں کا جم خانہ میں جشنِ فتح منانے کا خواب انتہائی ڈراؤنے خواب میں تبدیل کر دیا تھا۔تمام محاذوں پر ہمارے افسر اور جوان اس قدر بہادری اور بے جگری سے لڑے کہ بیسویں صدی میں شجاعت و عظمت کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ میجر عزیز بھٹی نے لاہور کے محاذ پر محدود ٹروپس کے ساتھ انتہائی مشکل حالات میں کئی دنوں تک دشمن کو انگیج رکھا اور وہ آخرِ کار وطن کی سا لمیت اور عظمت پر قربان ہو گئے جس پر انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ اسی محاذ پر لیفٹیننٹ کرنل تجمل حسین ملک، میجر شفقت بلوچ اور پارسی لیفٹیننٹ کرنل گولا والا بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیتے رہے۔ قصور پر دشمن کا حملہ پسپا کرتے ہوئے میجر جنرل عبدالحمید کی قیادت میں ہماری فوجیں بھارت کے شہر کھیم کرن پر قابض ہو گئیں جہاں سے امرتسر کو سڑک جاتی تھی۔ سیالکوٹ پر دشمن کی پانچ ڈویژن فوج حملہ آور ہوئی تھی۔ میجر جنرل ابرار حسین، میجر جنرل ٹکا خاں، بریگیڈئیر عبدالعلی ملک اور بریگیڈئیر اے کے نیازی اپنی بے مثال قیادت کے جوہر دکھاتے رہے۔ چونڈہ، جہاں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی، وہ دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔ اِسی طرح اسکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے سرگودھا بیس پر ایک منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے گرا کر فضا پر پاکستان کی بالادستی قائم کر دی تھی۔ سندھ کے جنوب میں بریگیڈئیر کے ایم اظہر کی قیادت میں ہماری فوج بھارت کے ریلوے اسٹیشن ’مونا باؤ‘ تک پہنچ گئی تھی۔ ہماری بحریہ نے بھارت کی تاریخی بندرگاہ ’دوارکا‘ تباہ کر کے اس کی بحری طاقت پر کاری ضرب لگائی تھی۔


میں ان خوش نصیب صحافیوں میں غالباً آخری زندہ صحافی ہوں جسے جنگِ ستمبر کے تمام محاذوں پر جانے اور اعلیٰ فوجی کمان کے علاوہ اَن گنت فوجیوں اور شہریوں سے ملنے کا موقع ملا۔ فوج اور عوام کے مابین گہری محبتوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ جب فوجی قافلے حرکت میں آتے تو عوام اُن پر پھولوں کی بارش کرتے اور اُن کی راہ میں آنکھیں بچھاتے تھے۔ خون دینے کے لئے جوانوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ لوگ دیگوں اور ضروریاتِ زندگی کی اشیا کے ساتھ اگلی پوزیشنوں تک پہنچنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے۔ مہدی حسن اور میڈم نور جہاں کی مترنم آوازوں میں ملی نغمے فوج کے اندر وطن کے لئے قربان ہونے کے جذبے اُبھارتے اور ایک سرشاری پیدا کرتے رہے۔ آج اُسی فضا کو پیدا کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت پھر سر پر کھڑا ہے اور امریکہ بھی افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ ہم پر ڈالنا چاہتا ہے۔ خوش قسمتی سے عالمی دہشت گردی کے خلاف نبردآزما رہنے کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح پُرعزم ہے اور اس نے بہت سا کٹھن سفر طے بھی کر لیا ہے۔اب داخلی استحکام کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے جس میں مکالمے اور دلیل کی قوت سے خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ آج حکومت، فوج اور عوام ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر قومی سلامتی اور ملکی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھ سکتے اور ہر آنے والی آزمائش کو عظیم امکانات میں تبدیل کرنے کا تاریخ ساز کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔

مضمون نگار کا شمار ملک کے سینیئر اور نامور صحافیوں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک قومی اخبار میں ’صورتحال‘ کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
September

تحریر: ڈاکٹر صفدرمحمود


کبھی غور کیا آپ نے کہ انسان محض گوشت پوست اور ہڈیوں کا نام نہیں، بلکہ ’انسان‘ جذبے کا نام ہے ۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا راز انسانی جذبہ ہے۔ بقول مولانا رومی تم جو ہو وہ تمہاری سوچ ہے باقی سب گوشت پوست ہے۔ مطلب یہ کہ انسان کو اس کی سوچ، عمل اورجذبے سے محروم کردیا جائے تو باقی صرف گوشت اور ہڈیا ں بچتی ہیں۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو محافظِ ملک و قوم بناتا اورجہاد کی منزل کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو بے خوف اور اس قدر بہادر بناتا ہے کہ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا اور مسکراتے ہوئے موت کو سینے سے لگالیتا ہے۔ ورنہ زندگی کس کو پیاری اور عزیز نہیں۔ زندگی نبیوں اور پیغمبروں کو بھی پیاری تھی اور ہر انسان کو پیاری ہوتی ہے۔ آپ نے وہ واقعہ پڑھا ہوگا کہ حضرت ادریس علیہ السلام موت کے خوف سے آسمانوں پر چلے گئے تھے جہاں حضرت عزرائیلؑ نے اُن کی روح قبض کی۔ مطلب یہ کہ زندگی اﷲ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جو ہر جاندار کو عزیز اور پیاری ہوتی ہے اور انسان موت کے تصور سے ہی خوفزدہ ہو جاتا ہے لیکن جذبہ ایک ایسا محرک ہے جو انسان کو موت کے خوف سے بے نیاز کردیتا ہے اور شہادت ایک ایسا مقام ہے جسے پانے کی آرزو انسان کو دنیا کی محبت سے آزاد کرکے سرمقتل لے جاتی ہے۔ شہادت دراصل موت نہیں بلکہ حیاتِ جاودانی ہے، ہمیشہ کی زندگی اور ابدی حیات۔ شہید ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے لیکن قرآن مجید کے مطابق وہ زندہ ہے اور اﷲ پاک کے ہاں کھاتاپیتا ہے۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے لیکن اگر انسان کو موت کے بعد زندگی مل جائے تووہ رحمتِ خداوندی کا ایسا تحفہ اور انعام ہے جس کے مقام کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔
انسانی تاریخ اور اپنی قومی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کو انسان سے محض جذبہ ممتاز کرتاہے۔ دیکھنے میں سبھی انسان ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اُن میں سے معدودے چند تاریخ کا حصہ بن کر لوحِ جہاں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جبکہ دوسرے موت کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتے ہیں اور زمانہ انہیںیوں بھُلا دیتا ہے جیسے وہ کبھی دنیا میں تھے ہی نہیں۔ قائدِاعظم میرکارواں بنے اور پاکستان کی تحریک کی قیادت سنبھالی تو اُن کے ساتھ سیکڑوں سیاسی لیڈران ، لاکھوں سیاسی کارکنان اوراپنے دور کے ممتاز لوگ شامل تھے لیکن آج تاریخ میں قائدِاعظم کا مقام اُن تمام سے نہایت بلند اور ابدی نوعیت کا ہے جبکہ دوسروں کا نام صرف مانوس ہے، کچھ کے نام بھی مانوس نہیں رہے اور وقت کی گرد تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ یہ جذبہ ہی تھا، کردار ہی تھا، ایثار اور بے پایاں جدو جہد ہی تھی جس نے محمدعلی جناح کو قائدِاعظم بنایا، پھر بانیِ پاکستان اور بابائے قوم کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز کیا۔ یہ جذبہ ہی تھا جو بیماری اور جسمانی کمزوری کے باوجود قائدِاعظم سے روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرواتا، ہندوستان کے طول و عرض میں دورے کرواتا اور بیک وقت دو محاذوں، کانگریس اور انگریز کے خلاف برسرِپیکار رکھتا تھا۔

 

انسانی تاریخ اور اپنی قومی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کو انسان سے محض جذبہ ممتاز کرتاہے۔ دیکھنے میں سبھی انسان ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اُن میں سے معدودے چند تاریخ کا حصہ بن کر لوحِ جہاں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جبکہ دوسرے موت کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتے ہیں اور زمانہ انہیںیوں بھُلا دیتا ہے جیسے وہ کبھی دنیا میں تھے ہی نہیں۔

قائد یا لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ہجوم سے نعرے لگواتا اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے جذباتی تقریریں اور جھوٹے وعدے کرتا ہے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو صحیح معنوں میں قوم کی راہنمائی کرتا، قوم کا اندھا اعتماد حاصل کرتا اور قوم کو جذبے کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ قائد وہ ہوتا ہے جو قوم کو متحد اور منظم کرتا ہے اوراپنے ساتھیوں کو جذبے سے محرک کرتا ہے۔ قائدِاعظم کوئی ایک سال پاکستان کے گورنر جنرل رہے۔ اس ایک سال میں انہوں نے سادہ طرزِ حکومت، قومی وسائل کے ایماندارانہ استعمال ، قومی خزانے کے تقدس اور قانون کی حکمرانی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو خلافتِ راشدہ کے دور کی یاد دلاتی ہیں۔ گورنر جنرل ہاؤس کے اخراجات پر کڑی نظر رکھی اور اپنے علاج تک کے لئے بیرون ملک جانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے غریب ملک کا خزانہ اس خرچ کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ راتوں کو اُٹھ کر خود بتیاں بجھانا اور خزانے کی ایک ایک پائی کا خیال رکھنا قائداعظم کے جذبے، جذبۂ خدمت و ایثار۔ جذبۂ حب الوطنی کے منفرد مظاہر تھے۔ بچت اور اصراف سے گریز کی بہترین، اور موجودہ دور میں عنقامثال محترمہ فاطمہ جناح کا کراچی کی بیکری کو فون تھا جو گورنر جنرل ہاؤس میں ناشتے کا سامان فراہم کرتی تھی۔ محترمہ نے بیکری مالکان کو فون کیا اور کہا کہ آپ جو ڈبل روٹی سپلائی کرتے ہیں، ہم اس کے بمشکل دو تین سلائس کھاتے ہیں اور باقی ضائع ہو جاتی ہے۔ آپ گورنر ہاؤس کو اس سے چھوٹی ڈبل روٹی بھجوایا کریں۔ بیکری مالکان نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس سے چھوٹا سانچا ہی نہیں ہے۔ آپ کو سب سے چھوٹی ڈبل روٹی بھجوائی جاتی ہے۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ہدایت پر بیکری مالک نے چھوٹا سانچا تیار کروایا اور پہلے سے بہت چھوٹی ڈبل روٹی بھجوانی شروع کردی۔ ایسا کیوں تھا؟ چند سلائس ضائع جانے سے گورنر جنرل ہاؤس کو کیافرق پڑتا تھا؟ دراصل یہ جذبہ تھا جس نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو معمولی اصراف ، معمولی ضیاع سے بچنے پر مجبور کیا۔


لیڈر جذبوں کا رول ماڈل ہوتا ہے اور وہ اپنے ارد گرد موجود ساتھیوں کو بھی اُسی جذبے سے سرشار کرتا ہے۔ جو سیاسی راہنما، قومی لیڈر ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ بلاشبہ لیڈر نہیں، قائدنہیں بلکہ ہجوم کا مداری اور وقتی سیاسی لہر کا قائد ہوتا ہے۔ لیڈر ایک ایسی شمع ہوتی ہے جو تاریکی میں اُمید، حوصلوں اور جذبوں کی روشنی پھیلاتی اور اپنے ساتھیوں کو ننھے منے چراغ بنا دیتی ہے جو لیڈر اپنے ساتھیوں کی صلاحیتں اُجاگر نہیں کرسکتا، اُنہیں چراغ راہ نہیں بنا سکتا اور ان میں جذبہ روح نہیں پھونک سکتا وہ بہرحال لیڈر نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ لیڈر کو اس کا قائدانہ جذبہ اور قائدانہ کردار باقی لیڈروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ہماری قومی زندگی میں اس کی بہترین مثال قائدِاعظم کے دستِ راست اور قریبی رفیق نواب زادہ لیاقت علی خان کی ہے جو چار سال تک پاکستان کے وزیرِاعظم رہے اور اس دوران قائدِاعظم کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ قائداعظم نے اپنی زندگی بھر کی کمائی اور جمع پونجی انتقال سے پہلے قوم میں تقسیم کردی۔ لیاقت علی خان نواب ابن نواب تھے، ہزاروں ایکڑوں کے مالک اور محلات میں رہنے والے تھے۔ انگلستان اعلیٰ تعلیم کے لئے گئے تو اپنا باورچی اور خادم ساتھ لے کر گئے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم بنے تو سادہ طرزِ زندگی کی مثال بن گئے۔ اُس دور میں چینی راشن کارڈ پر ملتی تھی۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ وزیرِاعظم ہاؤس بھی کارڈ کا مرہون منت ہو۔ لیاقت علی خان کا وزیرِاعظم ہاؤس راشن کارڈ کے مطابق چینی لیتا تھا۔ عام طور پر چینی کا یہ کوٹہ مہینے کے پہلے بیس اکیس دنوں میں ختم ہوجاتا تھا۔ بقایا نودس دن وزیرِاعظم، ان کا خاندان اور مہمان پھیکی چائے پیتے تھے۔ اس کے پیچھے جذبہ کیا تھا؟ جذبہ شہری برابری اور قانون کی حکمرانی تھا کہ ملک کا قانون اور سسٹم سب کے لئے ایک طرح لاگو ہوگا۔ ایثار اور قربانی کا یہ عالم کہ نوابزادہ لیاقت علی خان شہید ہوئے تو محترمہ رعنا لیاقت علی اور بچوں کے لئے سرچھپانے کی جگہ بھی نہیں تھی کیونکہ لیاقت علی خان نے وزیراعظم ہونے کے باوجود نہ پاکستان میں گھر الاٹ کروایا تھا اور نہ ہی زرعی زمین۔ شہید کے بینک بیلنس چند روپے اور چند ایک کپڑوں کے جوڑے تھے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کہا کرتے تھے جب تک ہر پاکستانی کو چھت نہیں مل جاتی اور ہر مہاجر آباد نہیں ہوجاتا، وزیراعظم کو گھر الاٹ کروانے اور زرعی زمین کا کلیم داخل کرنے کا ہرگز حق نہیں۔ دراصل یہ خلافتِ راشدہ کے سنہری دور کا ماڈل تھا جس کی قائدِاعظم اور قائدِ ملت نے اتباع کرنے کی کوششیں کیں۔ وہ زندہ رہتے تو اس طرزِ حکومت کی بنیادیں مضبوط کرجاتے لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور


ع   اِک دھوپ تھی جوساتھ گئی آفتاب کے


مثالیں تو اَن گنت، لیکن مقصودیہ ہے کہ جذبہ انسان کو انسان سے ممیز کرتاہے، ممتاز کرتا اورعظمت کی بلندیوں پر بٹھاتا ہے ورنہ اولادِ آدم تو بظاہر ایک ہی جیسی ہے، ایک ہی طرح کی ساخت رکھتی اور ایک ہی جیسی نظر آتی ہے۔ اور پھر لیڈر سے مراد صرف سیاسی لیڈر نہیں۔ مختلف شعبوں کے سربراہ، اداروں کے ہیڈز
(HEADS)
، فوج، ایئرفورس، نیوی کے سربراہ وغیرہ سبھی اپنے اپنے دائرہ کار میں لیڈر ہوتے ہیں اور ان اصولوں کا اطلاق اُن سب پر ہوتا ہے۔ لیڈر شپ کا اول اصول یہ ہے کہ آپ اپنے کردار، کارکردگی اور شخصیت سے اپنے ساتھیوں کو کس طرح اور کتنامتاثر کرتے ہیں، آپ میں رول ماڈل بننے کی صلاحیت ہے یا نہیں؟ محض کرسی انسان کو لیڈر نہیں بناتی، انسانی خوبیاں، شخصیت، کردار اور قائدانہ صلاحیتیں لیڈر بناتی ہیں اور ان تمام خوبیوں کے پسِ پردہ محرک جذبہ ہوتاہے۔ اس لئے قیادت کے لئے جذبے کو بنیادی حیثیت دیتا ہوں۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
September

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں


کستان کے دفا ع اور ترقی کے لئے ایک طاقت ور بحریہ کی ضرورت جس شخصیت نے سب سے پہلے محسوس کی وہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ اس وقت پاکستان دو حصوں مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل تھا۔ یہ دونوں حصے اپنی جغرافیائی وقو ع پذیری کی وجہ سے بالترتیب خلیج بنگال اور بحیرہ عرب میں بحری سر گرمیوں پر نظر رکھنے کی پوزیشن میں تھے۔ دفاعی حکمتِ عملی اور تجارتی سر گرمیوں کے حوالے سے خلیج بنگال او ربحیرہ عرب ،بحرِ ہندکے سب سے اہم حصے ہیں اسی لئے ان کو بالترتیب بحرِہند کا مشرقی بازو اور مغربی بازو کہا جاتاہے۔ بحرِہند کی تاریخ میں ان دونوں بازوؤں نے نہایت اہم سیاسی اور دفاعی کردار ادا کیاہے۔ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھانپ لیا تھا کہ آنے والے دنوں میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا سمندر بحرِہند ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے فروغ اور بڑی طاقتوں کی دفاعی اور سیاسی حکمتِ عملی میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔ اس لئے انہوں نے پاکستان کے لئے ایک طاقت ور بحریہ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔خود پاکستان کے دفاع اور اس کی معاشی ترقی کے لئے بھی ایک طاقت و ر بحریہ کی موجودگی اشد ضروری تھی کیونکہ 1971سے قبل مشرقی اور مغربی پاکستان میں رابطہ ایک مضبوط بحریہ کے ذریعے ہی قائم رکھا جا سکتاتھا۔ اس کے علاوہ ملک کی 90فیصد تجارت چونکہ سمندر کے ذریعہ باہر کی دنیا سے تھی اس لئے ایک کمرشل نیوی بھی در کار تھی جس کی حفاظت ایک طاقت ور بحریہ ہی کر سکتی ہے۔ چنانچہ ایک مضبوط بحریہ مستقبل کے پاکستان کے لئے خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود پاک بحریہ نے قائد اعظم کے وژن کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اگر آج ہم جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا اور سب سے بڑھ کر بحرِہند کے علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں کے وسیع تناظر میں پاک بحریہ کی اہمیت اور اس کے کردار کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاک بحریہ اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی بنا پر خطے کے تمام ممالک سے خراجِ تحسین وصول کر رہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاک بحریہ ،بحیرہ عرب اور اس کے اردگرد واقع سمندری علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ یہ علاقے خلیج فارس، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ احمر سے ملحقہ ہونے کی وجہ سے دنیا کے اہم ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج فارس کے توانائی کے ذرائع یعنی تیل اور گیس ہیں جن کی دنیا بھر خصوصاً چین اور بھارت میں مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ ان ممالک کے اپنے توانائی کے ذرائع ان کی اقتصادی ترقی کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ وسطی ایشیا کے معدنی اور قدرتی ذرائع تک پہنچنے کے لئے بھی راستہ خلیج فارس اور ایران کے ذریعے جاتا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں خانہ جنگی، امریکہ کی مداخلت اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے بھی بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے علاقے نمایاں اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

 

pakbehriaaurwlaqaaman.jpg

اس وقت ان علاقوں میں نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ، فرانس اور چین کے بھی بحری اڈے قائم ہیں۔ امریکہ نے ان سمندروں میں بھاری بحری قوت مجتمع کر رکھی ہے جس میں طیارہ بردارجہاز، تباہ کن جہاز، فریگیٹ، آبدوزوں اور دیگر جہازوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس علاقے میں اپنے اڈوں اور بحری بیڑوں کے ذریعے افغانستان، عراق اور شام میں جاری جنگوں میں براہ راست حصہ لیتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر سے اس خطے کی حکمت عملی یعنی سٹریٹیجی میں انقلابی تبدیلی آنے کی توقع ہے۔ کیونکہ اس راہداری کا جنوبی ٹرمینل گوادر بلوچستان سے جڑے بحیرہ عرب کے ساحل پر ہے۔ کاریڈور کی تعمیر سے بحرِ ہند خصوصاً اس کے شمالی مغربی حصے یعنی بحیرہ عرب، خلیج عدن اور ہارن آف افریقہ کے علاقوں میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں زبرست اضافے کی توقع ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ اس خطے سے باہر کئی ملکوں کے لئے بھی متعدد چیلنج ابھر رہے ہیں ان چیلنجز میں بحری دہشت گردی،بحری قزاقی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ بحرِہند میں امن اور سلامتی صرف ان ملکوں کے لئے اہم نہیں ہے جن کے ساحلوں سے ان کا پانی ٹکراتا ہے بلکہ دنیاکے بیشتر ممالک جن میں سے بعض کے ساحل بحر ہند سے ہزاروں میل دور ہیں، کے لئے بھی اس سمندر کی نمایاں اہمیت ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بحرِ ہند، مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کی ایک بہت بڑی شاہراہ ہے۔ ایک انداز ے کے مطابق بحرِہند کی آبی شاہراہوں سے ہر سال تقریباً ایک لاکھ بحری جہاز تیل، مائع گیس اور دیگر تجارتی اشیاء لے کر گزرتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری اور چین کے منصوبے میری ٹائم سلک روڈ کی تعمیر سے ان اشیاء سے لدے جہازوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ان آبی شاہراہ کی حفاظت کا مسئلہ بھی نمایاں حیثیت اختیار کر جائے گا۔ سکیورٹی کے ان مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے بحرِہند کے اردگرد واقع ممالک نے دیگر ایسے ممالک جن کے بحرہند سے اہم دفاعی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں، کے ساتھ گزشتہ چند برسوں سے اجتماعی تعاون اور سلامتی کی بنیاد پر کئی فورمز قائم کر رکھے ہیں۔ پاکستان بحریہ ان فورمز کی رکن ہے اوران فورمز سے جو بھی سرگرمیاں ہوتی ہیں پاکستان بحریہ ان میں بھر پور حصہ لیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود پاکستان کا ساحل تقریباً ایک ہزار کلومیٹرسے زائد طویل ہے جو سر کریک سے شروع ہو کر خلیج فارس کے دہانے پر ختم ہوتا ہے۔ پاکستان کے اس جغرافیائی محلِ وقوع کی بناء پر پاک بحریہ کا اس علاقے میں پیدا ہونے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار،مستعد اور ضروری وسائل سے لیس ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم گزشتہ 70سال کے عرصہ کے دوران پاک بحریہ کا ایک جدیداور طاقتور قوت کے طور پرا رتقاء کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاک بحریہ نے محدود وسائل کے باوجود خاطر خواہ کا میابی حاصل کی ہے۔ پاک بحریہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ہر قسم کے بحری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اور علاقے کے دیگر ممالک کی بحری افواج سے مل کر اپنی اسی صلاحیت کا بھر پور اور کامیاب مظاہرہ بھی کیا ہے۔ اس وقت پاک بحریہ میں جدید ترین فریگیٹ اور تباہ کن جہازوں کے علاوہ سُر عت سے حملہ کرنے والے جہاز، بارودی سرنگیں صاف کرنے والے اور تربیت اور متفرق آپریشنز انجام دینے والے جہاز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جہازوں کو امداد فراہم کرنے اور دشمن کے جہازوں کا سراغ لگانے کے لئے پاک بحریہ کا ایک نیول ایئر آرم بھی ہے جس میں جدیدترین میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹر اور بغیر پائلٹ کے اُڑنے والے جہاز
(UAV)
شامل ہیں۔ زیرِ آب کارروائیوں کے لئے پاک بحریہ کے پاس آبدوزوں کا ایک بیٹرہ بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ا سپیشل آپریشنز فورسز، سمندر میں اسپیشل آپریشنز کے لئے تربیت یافتہ کمانڈوز، ساحل پر واقع پاک بحریہ کی تنصیبات کی حفاظت کے لئے دفاعی نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس سے پاک بحریہ ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔پاک بحریہ نے گزشتہ تقریباً 47 برسوں کے دوران اپنے بیڑے میں نئے جہازوں اور آبدوزوں کو شامل کر کے نمایاں تقویت حاصل کی ہے کیونکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان نے خلیج اور جزیرہ نما عرب کے مسلم ممالک کے ساتھ معاشی، تجارتی اور دفاعی تعلقات وسیع کرنے کی طر ف خصوصی توجہ مبذول کرنا شروع کر دی تھی۔

 

پاک بحریہ گزشتہ 70برس کے ایک لمبے سفر کے بعد اب ایک ایسے مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو چکی ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے ملک کا دفاع کرنے کے قابل ہے، بلکہ بحرِہند کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی، بحری تجارتی رہداریوں کے تحفظ اور بحری دہشت گردی اوربحری قزاقی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جہاں پاکستان نے ’’سیٹو‘‘
(SEATO)
کو خیر باد کہہ دیا تھا وہاں ’’سینٹو‘‘
(CENTO)
کی رکنیت نہ صرف بحال رکھی بلکہ اس دفاعی معاہدے کے رکن ممالک یعنی ترکی، ایران، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ پاکستان نے بحیرہ عرب میں مشترکہ بحری مشقوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ 1973-74کی عرب اسرائیل جنگ اور اسی دوران ویت نام سے امریکی افواج کے انخلا کے نتیجے میں خلیج فارس، مشرق وسطیٰ اور بحیرہ عرب میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنی بحری اور فضائی قوت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ ان حالات میں پاکستان کو بھی اپنی بحری قوت میں اضافہ اور اِسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی ضرورت کے تحت پاک بحریہ کی طاقت اور حجم میں اضافہ در اصل 1974 کے بعد شروع ہوا۔ چین سے حاصل کی جانے والی میزائل کشتیوں کی شکل میں پاک بحریہ کو ایک مؤثرہتھیار حاصل ہوا۔ 1990کی دہائی میں پاک بحریہ نے طاقت ور ہتھیاروں کی پیداوار اور جہاز سازی کے شعبے میں ایک خود کفیل فورس کا درجہ حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی تھی۔ پاکستان نیوی ڈاک یارڈمیں آگسٹا 90- بی آبدوز کی تیاری اور کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں بڑے اور درمیانے درجے کے جنگی جہاز، تیزرفتار میزائل بوٹس اور جنگی آئل ٹینکر کی پاکستانی انجینئرز کے ہاتھوں تیاری پاکستان بحریہ کی ترقی اور خود کفالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سائز کے اعتبار سے پاک بحریہ ایک بڑی فورس نہیں ہے اور اس کا امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور چین کی بحری افواج سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا تا ہم بحرِہند میں میری ٹائم سکیورٹی کے شعبے میں ان ممالک کی بحری افواج سے تعاون کر کے پاک بحریہ نے بہت مفید تجربات حاصل کئے ہیں اور یہ سلسلہ 2004سے جاری ہے جب پاکستان نے کمبائنڈ ٹاسک فورس 150میں شمولیت اختیار کر کے دیگر ملکوں کے ساتھ بحرِہند میں بحری دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سر گرمیوں کا قلع قمع کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بعد میں2009میں پاکستان بحریہ نے کمبائنڈ ٹاسک فور س151 میں شرکت اختیار کر کے خلیج عدن اور صومالیہ کے قریب سمندر میں بحری قزاقی کے خاتمہ کے لئے بھی قابل قدر کردار ادا کیا۔ 2007سے پاکستان بحریہ نے ’’امن‘‘ کے نام سے ہر دوسرے سال منعقد کی جانے والی بحری مشق کے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے جس میں عالمی بحری افواج کی ایک کثیر تعداد اپنے اثاثوں کے ساتھ شرکت کرتی ہے۔ان کا مقصد بھی اجتماعی کوششوں کے ذریعے علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔’ انڈین اوشین نیول سمپوزیم
‘(Indian Ocean Naval Symposium)
میں شرکت کے ذریعے پاک بحریہ نے نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو تسلیم کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یہ سمپوزیم دس ملکوں یعنی آسٹریلیا، بنگلہ دیش، فرانس، بھارت، ایران، عمان، پاکستان، سنگاپور، تھائی لینڈ اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ہے۔پاک بحریہ انڈین اوشن نیول سمپوزیم ورکنگ گروپ کی مختلف سر گرمیوں کی دو دفعہ میزبانی کر چکی ہے اس کے ہر اجلاس میں رکن ممالک اپنے بحری تجزیے، مسائل اور چیلنجز کے تناظرمیں انتہائی ضروری اور اہم معلومات کا تبادلہ کر تے ہیں۔
پاک بحریہ گزشتہ 70برس کے ایک لمبے سفر کے بعد اب ایک ایسے مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو چکی ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے ملک کا دفاع کرنے کے قابل ہے، بلکہ بحرِہند کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی، بحری تجارتی رہداریوں کے تحفظ اور بحری دہشت گردی اوربحری قزاقی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
18
September

تحریر: جاوید حفیظ


امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے فورٹ مائر ورجینیا میں افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اہم پالیسی بیان دیا ہے۔ بیان کا ایک حصہ پاکستان کے لئے مختص ہے۔ بیان میں افغانستان کے لئے آئندہ عسکری پالیسی کے خدوخال بیان کئے گئے ہیں اور شاید اسی وجہ سے امریکی صدر نے اپنی تقریر کے لئے ملٹری بیس کا انتخاب کیا۔ صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے حامی رہے ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ امریکی عوام اس جنگ سے بیزار ہو چکے ہیں اور امریکی صدر کی تقریر میں اس بات کا واضح اعتراف ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ افغانستان میں2001 اور عراق میں 2003 میں فوجیں اتارتے وقت امریکہ نے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے علاوہ جواہداف مقرر کئے تھے اُن میں جمہوریت کی نشوونما، انسانی حقوق کا تحفظ، آزادئ رائے اور حقوق نسواں جیسے مقاصد شامل تھے۔ بادی النظر میں یہ اہداف اعلیٰ و ارفع تھے لیکن ہر معاشرے میں ہروقت اجنبی اقدار اور اداروں کا اجراء ممکن نہیں ہوتا۔ جمہوریت کے پودے کی اچھی نشوونما کے لئے زرخیز مٹی، مناسب نمی اور موافق موسم درکار ہوتا ہے۔ جمہوری اقدار کسی سرجری کے ذریعے یکدم سیاسی جسم میں داخل نہیں ہو سکتیں۔ صدر ٹرمپ نے اب برملا کہا ہے کہ دنیا کے ممالک کو امریکی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کا ہدف اب ترک کرنا ہوگا۔


امریکی صدر نے افغانستان میں اب جو تین اہداف مقرر کئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ پہلا اور اہم ترین ہدف افغانستان سے امریکی فوجیوں کی باعزت واپسی اور مسائل کا دیر پا حل ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول امریکی فوجی جو جنگ میں زندگیاں قربان کرتے ہیں عسکری فتح کا پلان اُن کا حق ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ علانیہ اور جلدی میں فوج کا انخلاء مزید مسائل کو جنم دیتا ہے اور جلد بازی میں افواج کی واپسی ایک قسم کا خلا پیدا کردیتی ہے جسے داعش اور القاعدہ جیسی دہشت پسند تنظیمیں پُر کرتی ہیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ نائن الیون سے پہلے اسے داعش نے پُر کیا اور امریکہ کی کاوشوں کا پھل دہشت گردوں کے حصے میں آیا۔ اب ہم عراق والی غلطی افغانستان میں نہیں دہرائیں گے۔ تیسرا اورپاکستان کے لئے اہم نکتہ صدر ٹرمپ کا یہ قول ہے کہ بیس کالعدم تنظیمیں اب بھی افغانستان اور پاکستان میں فعال ہیں اور یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں دہشت گرد تنظیموں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ افرا تفری ، مار دھاڑ، اور دہشت گردی کے نمائندوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے۔ صورتِ حال (امریکہ کے لئے) زیادہ گھمبیر اس لئے بھی ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان کے مابین کشیدگی ہے جو جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یہ مشکل اور پیچیدہ صورت حال ورثے میں ملی ہے لیکن ان مشکل مسائل کو حل کیا جائے گا۔ افغانستان اور پاکستان میں موجود ان پناہ گاہوں کا خاتمہ ہمارا تیسرا ہدف ہے اور اس بات کو یقینی بناناہے کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ کیونکہ یہ ہتھیار ہمارے بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں۔ اب ملٹری آپریشن بغیر اعلان کے کئے جائیں گے۔ فیصلے روز مرہ کی بنیاد پر اور زمینی حقائق کو دیکھ کر کئے جائیں گے۔ دشمنوں کو ہمارے منصوبوں کی خبر نہیں ہوگی، ہم حملوں کا اعلان نہیں کریں گے لیکن حملہ ضرور کریں گے۔ امریکی طاقت کے تینوں ستون یعنی ملٹری، اقتصادی اور سفارتی طاقت بیک وقت استعمال ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ افغانستان میں طالبان کے چند دھڑوں کے ساتھ کوئی سیاسی حل نکل آئے لیکن یہ کب ہوگا، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا افغان عوام کا حق ہے ہم (امریکہ) کسی قسم کا حل ڈکٹیٹ نہیں کریں گے اور نہ ہی ہم افغان لوگوں کے طرزِ زندگی کا تعین کریں گے۔


یہ اہداف بیان کرنے کے بعد صدرٹرمپ پاکستان سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ ہم وہاں دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہوں کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ تنظیمیں خطے کے لئے اور دیگر ممالک کے لئے خطرہ ہیں۔ ہم پاکستان کی ماضی کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں، پاکستان کو ہمارے (امریکہ کے) ساتھ افغانستان میں پارٹنر بننے کا فائدہ ہوگا۔ اسے مجرموں اور دہشت گردوں کی دوستی سے کافی نقصان ہوگا۔ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دے رہے ہیں اور عین اُسی وقت وہ اُن دہشت گردوں کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہے جن سے ہم لڑ رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان تہذیب، نظم اور امن کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کو آشکار کرے۔


پاکستان کے بارے میں استعمال کئے گئے الفاظ خاصے تند و تلخ ہیں۔ جبکہ انڈیا پر تعریف کے پھول نچھاور کئے گئے ہیں۔ اُسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور امریکہ کا اسٹریٹجک حلیف کہا گیا ہے۔ انڈیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کی تعمیرِ نو میں زیادہ حصہ ڈالے کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ امریکہ افغان ڈرامہ میں انڈیا کو مین رول دینا چاہتا ہے لیکن ایک چیز واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان کے علاوہ چین اور روس اس رول کو پسند نہیں کریں گے۔ گویا بدلتے ہوئے علاقائی حالات چین اور روس کو پاکستان کے قریب تر لا رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے طالبان کے خلاف ایکشن نہ لیا تو پابندیاں لگ سکتی ہیں اور پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کا درجہ بھی ختم ہوسکتا ہے۔ ٹلرسن نے اس بات کی تشریح نہیں کی کہ پاکستان پر لگائی جانے والی مجوزہ پابندیوں کی نوعیت کیا ہوگی۔ یعنی وہ عسکری ہوں گی یا اقتصادی۔


پاکستان کا حکومتی ردِ عمل دو ٹوک ہے۔ ضربِ عضب اور ردالفساد کی وجہ سے پاکستان سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے یہ جنگ اپنی بقا کے لئے لڑی ہے، کسی عالمی قوت کی خوشنودی کے لئے نہیں۔ قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف اس طویل جنگ میں پاکستان کی قربانیاں سب ملکوں سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کو امریکہ کا اعتماد چاہئے امداد نہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی نئی پالیسی کے بارے میں پاکستان میں اتفاقِ رائے نظر آرہا ہے اور یہ خوش آئند بات ہے۔


صدر ٹرمپ کی تقریر پر سب سے بھرپور ردِ عمل چین کی طرف سے آیا ہے۔ سب سے پہلے چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صفِ اول میں کھڑا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں اور پھر سینئر ترین چینی سفارت کار یانگ جی چی نے امریکن وزیرِخارجہ ٹلرسن کو فون کرکے کہا کہ ہمیں پاکستان کے اہم کردار کی قدر کرنی چاہئے جو وہ افغانستان میں اداکررہا ہے۔ ہمیں پاکستان کی آزادی اور اقتدار اعلیٰ کو بھی نظر میں رکھنا چاہئے اور اس کے سکیورٹی خدشات کو بھی۔ یہاں چین نے بین السطور یہ کہا کہ کسی اور ملک کو افغانستان میں لانے سے پاکستان کی سکیورٹی کو خدشات لاحق ہوں گے۔

پاکستانی حکام نے بجا طور پر واضح کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی جاسکتی اور یہ عزم بھی دہرایا ہے کہ ہماری جانب سے کسی ہمسایہ ملک میں دراندازی نہیں ہوگی اب چونکہ امریکی افواج غیر معینہ مدت کے لئے افغانستان میں رہیں گی لہٰذا ہمیں یہ ڈیمانڈ بار بار کرنی چاہئے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو پاکستانی خون بہانے سے سختی سے روکا جائے کہ دسمبر 2014 میں ہمارے بچوں کے قاتل ابھی تک وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔


افغانستان کے لئے صدر پیوٹن کے نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں امن مذاکرات میں پاکستان کلیدی کردارکا حامل ہے۔ پاکستان پر پریشر ڈالنے سے پورا خطہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور اس سے افغانستان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکہ کے کئی تھنک ٹینک اور کالم نگار صدر ٹرمپ کی مجوزہ پالیسی کے حامی نظر نہیں آتے۔ ولسن سنٹر کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ پاکستان پر امریکی دباؤ کے مثبت نتائج کے بارے میں خیالات بر محل نہیں۔ آپ پاکستان کو دھمکیاں دے لیں یا لالچ، اس کی پالسیی میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایک انڈین نژاد صحافی نے مشہور برطانوی اخبار گارڈین میں لکھا ہے کہ ٹرمپ نے افغانستان میں چین کی پوزیشن کو مضبوط کردیا ہے۔


آج کے افغانستان کو سمجھنے کے لئے چند بنیادی فیکٹرز کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ ہمارے افغان بھائی غیور لوگ ہیں۔ وہ اپنے وطنِ عزیز میں غیر ملکی افواج کو برداشت نہیں کرتے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں جنگ جاری رہے گی۔ پشتون اور تاجک افغانستان کی دو بڑی لسانی اکائیاں ہیں۔ پشتونوں کی تعداد تاجک سے یقینی طور پر زیادہ ہے۔ ان دونوں میں مسابقت بعض دفعہ مخاصمت یعنی دشمنی کا روپ دھار لیتی ہے۔ باہر سے حملہ ہو تو یہ دونوں اکٹھے مل کر لڑتے ہیں اور جب حملہ آور چلا جائے تو باہم برسرِ پیکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن بطورِ ریاست افغانستان کی موجودہ شکل کے دونوں پُرزور حامی ہیں۔ ملک کے دور دراز حصوں پر کابل کی رٹ ہمیشہ کمزور رہی ہے۔ ایک امریکی اندازے کے مطابق اس وقت ملک کا چالیس فیصد ایریا طالبان کے زیرِ اثر ہے۔ پاکستان نے بارہا بارڈر کنٹرول کو مؤثر کرنے کی بات کی ہے لیکن کابل سے مثبت جواب نہیں ملا۔ ان حالات میں پاکستان کو الزام دینا کہ وہاں سے دہشت گرد آتے ہیں، صریحاً زیادتی ہے۔
امریکہ کے وزیرِ دفاع جنرل ریٹائرڈ جیمز ماٹس کاکہنا ہے کہ امریکہ نے یہ جنگ سولہ سال نہیں لڑی بلکہ یک سالہ جنگ سولہ مرتبہ لڑی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جنگ کی حکمت عملی غلط تھی اہداف اور پلاننگ طویل مدت کے نہیں تھے ہمیشہ جلدی میں ہدف تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ افغانستان کی دلدل سے نکلا جاسکے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ طالبان اکثر کہتے تھے گھڑیاں امریکیوں کے پاس ہیں لیکن وقت ہمارے ساتھ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اب امریکہ افغانستان سے جانے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دے گا۔


صدر ٹرمپ کی تقریر سُن کر مجھے یوں لگا جیسے یہ 2008 سے2014 کے درمیان لکھی گئی ہو۔ اُس وقت سوات کے علاوہ کچھ قبائلی علاقوں پر بھی طالبان کا کنٹرول تھا۔ مگر پاک فوج نے بے مثال قربانیاں دے کر ملک کے چپے چپے پر حکومتی رٹ بحال کی ہے۔ کوئی دوماہ قبل جب سینیٹر جان مکین پاکستان آئے تھے تو اُنہیں قبائلی علاقے دکھائے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کی تقریر سے مجھے یہ بھی محسوس ہوا جیسے اُسے تحریر کرنے سے قبل ہمارے ہمسایہ ملک سے پوچھا گیا ہو کہ کیا کہنا چاہئے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر دہشت گردوں کے ممکنہ قبضے کی بات بھی بے وقت کی راگنی ہے جسے ہمارا ہمسایہ ملک مسلسل الاپتا رہتا ہے۔ اس بات کا امکان نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے کیونکہ پاکستان کے مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے سبھی معترف ہیں اور جنگی جنون کے حوالے سے پاکستان میں صورت حال مختلف ہے۔ مکمل امن پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لئے ازبس ضروری ہے اور افغانستان میں حصولِ امن کے بغیر پاکستان میں مکمل امن نہیں آسکتا۔ اسی وجہ سے پاکستان نے ہمیشہ افغان امن کوششوں کی حمائت کی ہے۔


پاکستانی حکام نے بجا طور پر واضح کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی جاسکتی اور یہ عزم بھی دہرایا ہے کہ ہماری جانب سے کسی ہمسایہ ملک میں دراندازی نہیں ہوگی اب چونکہ امریکی افواج غیر معینہ مدت کے لئے افغانستان میں رہیں گی لہٰذا ہمیں یہ ڈیمانڈ بار بار کرنی چاہئے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو پاکستانی خون بہانے سے سختی سے روکا جائے کہ دسمبر 2014 میں ہمارے بچوں کے قاتل ابھی تک وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور اگر انڈیا کا رول افغانستان میں بڑھتا ہے تو ایسے قاتلوں کو مزید شہ ملے گی۔ کچھ اورکلبھوشن یادیو پاکستان بھیجے جائیں گے۔


خوش آئند بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی تقریر نے ہم پاکستانیوں کو متحدہ کیا ہے۔ انٹرنیشنل تنہائی سے نکالاہے۔ پاکستان کے پاس تین آپشن تھے یا تو امریکہ کی بات اٰمنّا وصدقنا کہتا اور پہلے کی طرح امریکی جنگ کا پھر سے حصہ بن جاتا مگر یہ ممکن نہ تھا کیونکہ امریکہ کی تازہ ترین پالیسی غلط مفروضوں پر قائم کی گئی ہے۔ طالبان کے پاس افغانستان کا چالیس فیصد علاقہ ہے تو انہیں پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کی کیا ضرورت ہے اور اگر طالبان کے کچھ خاندان پُرامن طور پر پاکستان میں رہ رہے ہیں تو وہ افغان مہاجرین کا حصہ ہیں، جنہیں واپس بھیجنے کی پاکستان عرصے سے کوشش کررہا ہے۔ پاکستان کے پاس دوسرا آپشن امریکہ سے قطع تعلقی کا تھا لیکن یہ بھی صائب فیصلہ نہ ہوتا۔ پاک امریکہ تعلقات بے حد اہم ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر آگے چلنا ہے یہ وقت جذباتیت کا نہیں۔ درمیانہ راستہ جو پاکستان نے اختیار کیا ہے۔ وہی بہترین راستہ ہے۔


ہمارا کیس مضبوط ہے لیکن اُسے باہر سُنا نہیں جارہا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان شاندار طریقے سے لڑا ہے۔ ہمارے نقصانات امریکی امداد سے کہیں زیادہ ہیں۔ جو کام نیٹو کی ڈیڑھ لاکھ افواج نہیں کرسکیں وہ بارہ ہزار کیسے کرسکیں گی۔ امریکی فورسز کو سپلائی کا مختصر ترین راستہ پاکستان کا ہے۔ امن مذاکرات کے لئے طالبان کو راضی کرنے کی کوشش میں بھی پاکستان مؤثر ہو سکتا ہے اور یہی بات چین اور روس نے امریکہ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
افغان مسئلے کی جڑیں افغانستان میں ہیں لہٰذا یہ جنگ وہیں لڑی جانی چاہئے۔ کابل حکومت کی رٹ ملک کے اکثر حصوں سے غائب ہے بوجوہ افغان نیشنل آرمی کمزور ہے۔ امریکہ کی بے تحاشا مالی امداد اور انڈیا کی ٹریننگ اسے مضبوط فوج نہیں بنا سکی۔ افغان ڈیموگرافک حقائق کے برعکس فوج کے اکثر افسران اقلیتی لسانی گروپس سے تعلق رکھتے ہیں، بھگوڑوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔


مزید چار ہزار سپیشل فورسز سے تعلق رکھنے والے امریکی فوجی جلد افغانستان پہنچ جائیں گے۔ اس طرح ٹوٹل تعداد بارہ ہزار ہو جائے گی۔ امریکی فیلڈ کمانڈروں کو وسیع تراختیارت دیئے جارہے ہیں۔ مگر وہ کام جو لاکھ سے زائد فوج نہ کرسکی۔ کیا وہ ہدف یعنی مکمل فتح صرف بارہ ہزار سپاہی حاصل کر پائیں گے؟ میرے خیال میں امریکہ کا اصل ہدف فتح نہیں بلکہ شکست سے بچنا ہے۔ دوسرا ہدف افغانستان میں داعش کے داخلے کو روکنا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظر رکھنا بھی امریکی پروگرام میں شامل ہے۔ آج اگر امریکہ افغانستان سے مکمل انخلاء کرلے تو کابل کی حکومت شائد زیادہ دن نہ چل سکے۔ اسی طرح افغان نیشنل آرمی مزید کمزور ہو جائے گی۔ یہ جو صدر ٹرمپ نے وضاحت کی ہے کہ اوول آفس میں پہنچ کر انہیں نئی حقیقتوں کا سامنا تھا، درست بات ہے اور اس لئے انہیں یوٹرن لینا پڑا۔


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کے حصول، اعلیٰ تعلیم اور تجارت کے لحاظ سے امریکہ پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔ واشنگٹن کے مالیاتی اداروں بشمول ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف میں بھی سپر پاور کا اثرورسوخ واضح ہے یورپین ممالک سے قریبی تعلق بھی امریکی قد کاٹھ میں اضافہ کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں امریکہ کی پوزیشن سینیئر پارٹنر والی ہے۔ میرا مشاہدہ کہتا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روسی اور ایرانی اکانومی کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ اگر چہ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکہ اب بھی پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دیتا ہے معروضی طور پر غلط ہے لیکن اگر بفرضِِ محال امریکہ پاکستان کو
State Sponsor Of Terrorism
یعنی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست ڈیکلیئر کردیتا ہے تو پاکستان کا نقصان زیادہ ہوگا امریکہ کا کم۔
تو کیا پاکستان امریکہ کی نئی پالیسی پر من و عن عمل شروع کردے؟ ایسا کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ صدر ٹرمپ کی تقریر میں لگائے گئے چند الزامات موجودہ زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ اگر یہ واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا کیس دنیا کے ممالک سنیں تو ہمیں وکالت کا آرٹ سیکھنا ہوگا۔ اچھے پڑھے لکھے لوگوں کو وکالت کے لئے بھیجنا ہوگا۔ گزشتہ سال جن ممبران نیشنل اسمبلی کو ہم نے مختلف ممالک میں بھیجا تھا، اُن میں کئی ہماری وکالت کے اہل ہی نہ تھے کچھ دوسرے تیاری کرکے نہیں گئے تھے یہ پیسے اور وقت کا ضیاع تھا۔


ہمیں امریکن کانگریس اور تھنک ٹینکس میں مسلسل کام کی ضرورت ہے۔ پہلے اپنا کیس محنت سے تیار کیا جائے پھر یہ طے کیا جائے کہ کس نے کیا کہنا ہے۔ امریکہ سے کہا جائے کہ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے میں ہماری مدد کرے کہ یہ کام امریکی مفاد میں بھی ہے۔ غیر ملکی صحافیوں اور سیاسی لیڈروں کو فاٹا کے مختلف حصے دکھائے جائیں۔ مغربی میڈیا میں پاکستانی آواز کی رسائی ہونی چاہئے اور اس کام کے لئے ہمیں محنت کرنا ہوگی۔ انفارمیشن منسٹری میں جان ڈالنا ہوگی۔ وزارتِ خارجہ پر بہت بڑی ذمہ داری آگئی ہے اور اسے ریٹائرڈ فارن سیکرٹری اور امریکہ میں پاکستان کے سفراء کو کنسلٹ کرتے رہنا چاہئے، ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ صدور اور اشخاص آتے جاتے رہے ہیں مگر ملک اور ان کے ادارے دائمی ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ آج ہیں کل نہیں ہوں گے مگر امریکی میڈیا اور کانگریس اپنی جگہ پر ہوں گے۔ امریکہ کوسمجھنا اور اس کے ساتھ کام کرنا فی الوقت مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ یاد رہے کہ سفارت کاری قومی مفادات کے حصول کا ذریعہ ہے اور اگر سپر پاور کے ساتھ ہمارے تعلقات میں زیادہ اورلمبا بگاڑ آیا تو نقصان ہمارا بھی ہوگا۔ لہٰذا قومی عزت اور وقار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے قومی مفادات کے حصول کے لئے اگر سنجیدہ پلاننگ ہوگی تو محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔

مضمون نگار مختلف ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
August
اگست 2017
شمارہ:8 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
14اگست1947کو معرض وجود میں آنے والے وطنِ عزیز پاکستان کو اپنے قیام کے آغاز ہی سے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس نوزائیدہ ریاست نے ہندوستان کی اَن گنت سازشوں کا سامنا کیا۔ لیکن پھر بھی اپنا سفر اعتماد اور وقار کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ پاکستان ایک نظریے اور مقصد کے پیش نظر قائم ہوا جہاں برِصغیر کے مسلمان مذہبی، سیاسی، معاشی و سماجی اعتبار سے....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان
گزشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے بھوٹان سے ملنے والی سرحد پر چین اور بھارت کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ وجہ تنازعہ سطح مرتفع پر مشتمل ایک چھوٹا سا علاقہ ڈوکلم
(Doklam Plateau)
ہے۔ جہاں بھارت، بھوٹان اور چین کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ اصل معاملہ بھوٹان اور چین کے درمیان ہے بھوٹان کا کہناہے کہ یہ علاقہ اُس کا حصہ ہے۔ جبکہ چین کامضبوط دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ زمانہ قدیم ....Read full article
 
 alt=
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
بحیرۂ روم سے بحیرۂ عرب تک پھیلا جس طرح مشرقِ وسطیٰ آج عالمی سیاست کا محور ہے، اگر ہم تاریخ میں جھانک کر دیکھیں تو یہی خطۂ ارض پچھلے تین ہزار برسوں سے زائد عرصے سے ایشیا، افریقہ اور یورپ کی تہذیب و تمدن اور سیاست کا مرکزومحور رہا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے یہیں سے جنم لیا۔ سمیری اور مصری تہذیب، یونانی تہذیب جسے آرکیالوجسٹ، یوریِشین تہذیب کہتے ہیں، انہی خطوں کے قریب....Read full article
 
تحریر: جبارمرزا
پاکستان قائم ہوئے پورے ستر برس بیت گئے۔ البتہ موجودہ 14اگست پاکستان کی تاریخ کا اکہترواں ہے۔ پہلا 14اگست 1947کا تھا جس روز پاکستان قائم ہوا تھا۔ 14اور 15اگست کی درمیانی رات برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک حصہ پاکستان کہلایا اور دوسرا ہندوستان۔ 14اور 15اگست 1947 کی درمیانی رات بارہ بجے پہلے انگریزی میں جناب ظہور آذر نے اور پھر اردو میں جناب مصطفی علی ہمدانی نے ریڈیو....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ حربی صلاحیتوں پر قوم کوہمیشہ نازرہا ہے ۔ محافظانِ وطن کی کامیابیوں ، کامرانیوں اور جرأتوں پر مبنی داستانوں کو قلمبند کرنا آسان نہیں ، بلاشبہ اس قوم کے ایک ایک فرد کے دل میں پاک فوج کی جو محبتیں بسی ہیں، ان کے پیچھے عزم و ہمت اور قربانیوں کی طویل داستانیں ہیں۔ سیلاب اور زلزلہ متاثرین کی بحالی ہو یا سیاچن سے لے کر وزیرستان ، بلوچستان اور ملک کے چپے چپے پر.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں قیام پاکستان کے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالی تھی اور لکھا تھا کہ14-15 اگست کی نصف شب جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہ قدر کی مبارک رات تھی۔ جسے ہم لیلتہ القدر کہتے ہیں۔ 15 اگست 1947ء کو جب پاکستانی قوم نے اپنا پہلا یوم آزادی منایا تو اس روز ستائیسویں رمضان اور جمعتہ الوداع کا دن تھا۔ گویا ساری نیک ساعتیں اس روز یکجا ہوگئی تھیں۔....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
مذہب انسان کی زندگی کا وہ حساس پہلو ہے جس پروہ شاذ ونادر ہی کوئی سمجھوتہ کرتاہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مذہب سے انسان کی دلی یا جذباتی وابستگی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اچھے یا بُرے معنوں میں مذہب کے نام پر آسانی سے جذبات سے کھیلا جاسکتا ہے۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے جو انسانی جبلت کے نرم خو یا متشدد پہلو کوابھارتا ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی اجازت نہیں اور نہ ہی ناحق خون بہانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے لیکن پھربھی اس کے اندر موجود.....Read full article
 
تحریر: فتح محمد ملک
آج جب نظریاتی استقامت کو انتہا پسندی کا نام دیا جاتا ہے تو مجھے "ہندوستان ٹائمز" کا وہ خراجِ تحسین یاد آتا ہے جو اس مؤقر روزنامہ نے قائداعظم کو پیش کیا تھا۔ بابائے قوم کی رحلت پر ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے لکھا تھا کہ اُن میں ایسی قوتِ ارادی تھی جو اُن کی راہ میں حائل ٹھوس حقائق کو توڑ پھوڑ کر خوابوں کو جیتے جاگتے حقائق میں منتقل کر سکتی تھی۔....Read full article
 
سروے: زین سرفراز
نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ قوموں پر جب بھی کبھی آزمائش کا دور آتا ہے تو نوجوان نسل اس آزمائش سے نکلنے کے لئے اپنا کردار ادا کر تی ہے۔ تحریکِ آزادئ پاکستان میں بھی نوجوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی نوجوانوں کے دل میں وطنِ عزیز کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا جذبہ موجزن ہے۔ ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) کی کارگل کے محاذ پر شاندار کارکردگی سے سب بخوبی واقف ہیں۔ معرکہ کارگل سے پہلے این ایل آئی کی بٹالینز صرف شمالی علاقہ جات میں عسکری خدمات سر انجام دیا کرتی تھیں۔ بعد ازاں انہیں ریگولر رجمنٹ کا درجہ دے دیا گیااور یوں ان کی خدمات کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہو گیا۔ این ایل آئی یونٹس نے موقع ملتے ہی دوسرے محاذوں پر بھی اپنی جنگی صلاحیتوں کا بخوبی لوہا منوایا....Read full article
 
تحریر: سمیع اﷲ سمیع
سرحدیں دل کی ہوں یا دنیا کی، کبھی ایک سی نہیں رہتیں ۔ پیہم تبدیلی ہی زندگی کی دلیل ہے۔ لفظ تقسیم برا بھی ہے اوراپنے تئیں اچھا بھی ہے۔کانگریسی صدراورسابق بھارتی وزیرداخلہ سردارپٹیل واشگاف الفاظ میں اقرارکرتے تھے کہ اگر دوبھائیوں کے مابین جھگڑا ختم نہ ہورہاہوتو تقسیم یقینی ہوتی ہے اوریہ فطری عمل ہے۔درحقیقت بروقت اورمبنی برانصاف تقسیم ہی کدورتوں کوروکتی ہے لیکن افسوس کہ ماؤنٹ بیٹن کی.....Read full article
 
تحریر: کیپٹن بلال نیازی
اور تم کیا جانو یہ کون لوگ ہیں؟جن کے قدموں کی دھمک سے پہاڑ تھرتھراتے ہیں۔جنہوں نے انسانی لباس پہن رکھاہے مگرجن کی پیشانیوں پرآسمان تحریریں لکھ رہا ہے۔ یہ کون راہرو ہیں جن کے قدم کبھی تھکتے نہیں؟یہ فاتح کون ہیں جنہوں نے بھوک اور پیاس کو یرغمال بنا رکھا ہے؟ جن کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں اچکنے کے لئے فرشتے تیار ہیں۔ایسے جذبے سے سر شار کچھ ایسی ہی داستان حوالدار ظہور احمد.....Read full article
 
اس دنیا میں اربوں لوگ ہیں اور اس میں سے ہر شخص کی کوئی نہ کوئی پسندیدہ شخصیت ہے۔ میری پسندیدہ شخصیت میرے بابا میجر اکبر شہید ہیں۔ وہ اس ملک کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کے لئے جان قربان کر دی۔ مجھے ان کے .....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
آرٹس کونسل کراچی میں تو ایک دن میں کئی ایسے پروگرام ہوتے ہیں اور ان میں شرکت کرکے یا نظامت کرکے بہت اچھا لگتا ہے۔ گزشتہ دنوں ونکوور میں دو ایسی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن سے اپنے دیس کی یاد تازہ ہوگئی۔....Read full article

تحریر: کوکب علی
’’ یوکرائن کی چمکدار زمین۔۔۔ تم ہمیشہ دمکتی رہو۔۔۔متحد اور شبنم کے قطروں کی طرح تابناک رہو۔یہاں تک کہ سورج تمہیں ماند نہ کر دے۔۔۔۔
ہم زمین پر حکومت کریں گے اور اس کو ترقی کی منازل تک پہنچائیں گے۔۔۔
ہم نے اپنی روح تک اس زمین کی آزادی کے لئے قربان کی۔۔ جذبہ اور محنت ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ........Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965 کی جنگ کے دوران مجھے ہر روز ایک نیاملی نغمہ پروڈیوس کرنے کا حکم تھا اور میری یہی کوشش ہوتی کہ کوئی دن خالی نہ جائے ۔یہ میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھی کہ نور جہاں جیسی بڑی فنکارہ کی ریڈیو پاکستان میں موجودگی سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ روزانہ ایک نئے نغمے کا انتخاب بھی بڑا مشکل کام ہوتا۔ 13 ستمبر1965 کو میرے پاس فائل میں موصول ہونے والے بے شمار نغمے تھے مگر....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
کدھرکھوئے ہومجاہد؟؟ حیدر نے پیچھے سے آکرپوچھا۔
ادھرہی توبیٹھاہواہوں۔ اس نے مڑے بغیرجواب دیا۔
گھرمیں سب کیسے تھے ؟؟؟
گھر؟؟؟؟ اس نے حیرانی سے حیدرکی طرف دیکھا۔
ہاں یارگھر۔تم گھر گئے تھے نا!آج پانچ دن بعد ہی توآئے ہو۔حیدرمسکراتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں گھر گیاتھامیں۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے بولا۔
تو وہی پوچھ رہا ہوں ناکہ گھرمیں سب کیسے ہیں؟؟....Read full article
09
August

تحریر: محمداعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اُس وقت کے پروڈیوسر ریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

ستمبر1965 کی جنگ کے دوران مجھے ہر روز ایک نیاملی نغمہ پروڈیوس کرنے کا حکم تھا اور میری یہی کوشش ہوتی کہ کوئی دن خالی نہ جائے ۔یہ میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھی کہ نور جہاں جیسی بڑی فنکارہ کی ریڈیو پاکستان میں موجودگی سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ روزانہ ایک نئے نغمے کا انتخاب بھی بڑا مشکل کام ہوتا۔ 13 ستمبر1965 کو میرے پاس فائل میں موصول ہونے والے بے شمار نغمے تھے مگر مجھے کوئی پسند نہیں آرہا تھا۔ میری یہی کوشش ہوتی کہ اپنے محترم استاد صوفی تبسم صاحب سے گزارش کروں کہ ہمیں نیا نغمہ عطا فرمادیں۔ 13ستمبر کو صوفی تبسم ناسازی طبیعت کی وجہ سے دفتر نہیں آئے۔ میرے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا کہ آج کون سا نغمہ ریکارڈ کرایا جائے۔ میں نے نماز پڑھ کر اﷲ پاک سے دعا کی کہ میرے مولامیری مدد فرما۔ اﷲ پاک نے میری دعا قبول کرلی اور میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ علامہ محمداقبال کی مشہور نظم’’ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن‘‘ کو ریکارڈ کیا جائے کیونکہ اس میں مومن مسلمان کی چارصفات کو اجاگر کیا گیا ہے اور پاک فوج کے اکثر جوان ان تمام صفات پر پورے اُترتے ہیں۔ جن کا یہی کہنا ہے کہ اُن کی زندگی ‘مال‘ جان غرض ہر چیز اس قوم پر قربان ہے جب میں نے علامہ اقبال کی یہ نظم میڈم نورجہاں کو دی تو اُنہوں نے فوراً اس کی استھائی بنانا شروع کردی میں نے اس میں اُن کی مدد کی اور کرتے کرتے اس کی خوبصورت استھائی بن گئی پھر محمدعلی مھنوں نے انترے بنانے میں ہماری مدد کی اورہم سب کی کوشش سے شام تک یہ ملی نغمہ مکمل ہوگیا پھر اس کی کمپوزیشن میں اس کے انٹرول اور
Opening
موزوں کی گئی اس تمام صورت حال سے میڈم نور جہاں بہت خوش ہوئیں اور اس نغمے کو بڑی مہارت اور خوبی سے گایا۔ اس کی کمپوزیشن میں میرا اور میڈم نور جہاں کا کچھ اختلاف ہوا ۔ استھائی کو چھوڑنے پر بات ہوتی رہی میرا خیال تھا کہ استھائی کو مکمل کہہ کر چھوڑنا چاہئے مگر میڈم نور جہاں اس کو صرف ’ہر لحظہ ہے مومن کی‘ پر چھوڑنے پر مصر تھیں۔ مجھے یہ کہتیں کہ یہاں چھوڑنا اس کی د ھن کے مطابق ہے اور اچھا لگتا ہے میں اتنی بڑی فنکارہ کے اصرار پر رضامند ہوگیا جب رات کو یہ نغمہ مکمل ہوگیا تو سننے کے بعد بہت اچھا لگا۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں ہر نغمے کے انتخاب سے لے کر ریکارڈنگ مکمل ہونے تک بہت سی مشکلات پیش آتیں مگر میں1965کی جنگ کے تناظر اور اپنی قومی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ہر چیز کو برداشت کرتارہا‘کئی بار کمپوزیشن میں بحث مباحثہ ہوتا میڈم نور جہاں کا کمپوزیشن میں بہت عمل دخل ہوتا‘ اُن کی عظمت اور فنی مہارت کا کمال تھا کہ ہر نغمے کو سنوارنے میں دل سے پوری پوری کوشش کرتیں اور بطورِ پروڈیوسر مجھے ہر چیز کا خیال رکھنا تھا۔ میوزک چونکہ میرا بہت مضبوط
Subject
ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرے اُس وقت کے سٹیشن ڈائریکٹر مرحوم شمس الدین بٹ صاحب نے میرا انتخاب کیا اس وقت سٹیشن پر20 کے قریب پروڈیوسر تھے میرا انتخاب میرے لئے بہت عزت کی بات بھی تھی اور بہت بڑی آزمائش بھی۔ اﷲپاک نے مجھے آزمائش میں سرخرو کیا۔میری کوشش ہوتی کہ میری قوم اور سٹیشن نے مجھ پر جو اعتماد کیا میں اسے بہر صورت پورا کروں۔ ہاں اب بات تھوڑی سی کمپوزیشن پر ہوجائے۔ استھائی میڈم نور جہاں نے بنائی جبکہ اس کے انترے میں نے کمپوز کئے اور کوشش کی کہ ان تمام عناصر یعنی قہاری و غفاری و قدسی و جبروت مسلمان کی یہ چار صفات یعنی غلبہ حاصل کرنا‘بخشنے والا‘ بڑا پاک صاف اور جاہ و جلال یہ وہ صفات ہیں جو علامہ اقبال کی نظر میں اصل مسلمان کی صفات ہیں اس کی تشریح کرنے میں گانے میں پورا پورا اہتمام کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ میڈم نور جہاں استھائی چھوڑنے کے بعد یہ مصرعہ دہراتیں۔ ہر لحظہ ہے مومن کی اور اس کے بعدانٹرول ختم ہونے کے بعد انترا اٹھاتیں اس طرح یہ تمام کمپوزیشن مکمل ہوئی۔ اس قومی نغمے کو فوری طور پرتسلسل کے ساتھ رات کو نشر کیاگیا اور ہمیں اس کا بہت عمدہ رسپانس ملا صبح کے وقت جب صوفی تبسم صاحب دفتر آئے تو مجھے شاباش دی کہ اعظم تم نے کمال کردیا ہے۔ میں کل طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے نہیں آسکا اور تم نے یہ نغمہ ریکارڈ کرکے بہت عمدہ کام کیا ہے۔ صوفی تبسم صاحب کی داد سے میرا حوصلہ مزید بلند ہوگیا اور پھر ہم نے اگلے نغمے کی تیاری شروع کردی۔ یہ نغمہ رئیس امروہوی کا لکھا ہوا تھا۔ ’’امیدِ فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو‘‘ اس نغمے کے بول سے ہمیں حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ میں اپنی پوری ریکارڈنگ ٹیم کے ساتھ ’’امیدِ فتح رکھو اور علم اُٹھائے چلو‘‘ نغمے کی ریکارڈنگ میں مصروف ہوگیااس کی مکمل تفصیل اِنْ شاء اﷲ آئندہ۔۔۔!

افواج پاکستان کا سپاہی

 

ہیں قوم کے محافظ افواج کے سپاہی
اور شان ہیں وطن کی دیتا ہے دل گواہی
حرمت کے پاسباں ہیں یہ فوج کے جیالے
اپنے وطن کا روشن ہیں نام کرنے والے
دشمن کا بھی وطن پر پڑنے دیا نہ سایہ
ہر بار دشمنوں نے آ کر یہ آزمایا
ہر آن ہیں وطن کو آباد کرنے والے
اجڑے ہوئے دلوں کو ہیں شاد کرنے والے
امن و امان قائم رکھتے ہیں یہ وطن میں
فصلِ بہار گویا اِن سے ہی ہے چمن میں
توحید کی بھی دولت ایمان ہے دلوں میں
اور جذبۂ شہادت شامل ہے ولولوں میں
ڈرتے نہیں کسی سے اﷲ سے ڈرنے والے
اسلام کے مجاہد ہیں فوج کے جیالے
دل کی دعا ہے اسلمؔ یہ ملک شادماں ہو
دائم خدا کی رحمت کا سر پہ سائباں ہو


مظفر اسلم

*****

 
09
August

تحریر: حفصہ ریحان

(قسط اوّل)

پاکستان میں دہشت گردی کے پس منظر میں لکھا گیا ناول

کدھرکھوئے ہومجاہد؟؟ حیدر نے پیچھے سے آکرپوچھا۔
ادھرہی توبیٹھاہواہوں۔ اس نے مڑے بغیرجواب دیا۔
گھرمیں سب کیسے تھے ؟؟؟
گھر؟؟؟؟ اس نے حیرانی سے حیدرکی طرف دیکھا۔
ہاں یارگھر۔تم گھر گئے تھے نا!آج پانچ دن بعد ہی توآئے ہو۔حیدرمسکراتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں گھر گیاتھامیں۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے بولا۔
تو وہی پوچھ رہا ہوں ناکہ گھرمیں سب کیسے ہیں؟؟
سب ٹھیک تھے۔۔ہاں ہاں سب ٹھیک تھے۔۔وہ ٹھنڈے موسم میں بھی ماتھے سے پسینہ ہٹاتے ہوئے بولا۔
تمہیں کیاہواہے مجاہد؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟؟
میں؟؟؟ نہیں۔۔میں۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔وہ بہت مشکل سے بولا۔
تم بتائے بغیرچلے گئے تھے اور وہ بھی رات کو۔۔گھرمیں خیریت تھی نا؟؟؟ حیدرکو بھی اس کارویہ پریشان کر رہاتھا۔اس لئے وہ اِدھراُدھرکے سوالات پوچھتا رہا۔
ہاں میں کہہ رہا ہوں ناکہ سب خیریت تھی۔۔ بس میں ویسے ہی گیاتھا۔ اسے تھوڑا سا غصہ آیا۔
اب تم جاؤیہاں سے۔۔میں تھوڑی دیرمیں آجاؤں گا۔
لیکن کیوں یار؟؟ تم بھی چلونامیرے ساتھ۔۔ناشتے کاوقت بھی ہونے والاہے۔۔ حیدر سمجھ گیاتھاکہ وہ کسی وجہ سے پریشان ہے۔لیکن وہ بتانہیں رہاتھا۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔بس تم جاؤ۔میں ناشتے کے لئے آجاؤں گا۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ حیدر اس کی پریشانی کے بارے میں اس سے کچھ پوچھے۔
اچھاٹھیک ہے۔حیدرجانے کے لئے اُٹھ گیا۔لیکن وہ جان چکاتھاکہ کوئی نہ کوئی پریشانی ضرورہے۔
لیکن یہ بات مجاہد کے لئے اطمینان کاباعث ضرورتھی۔حیدرناراض ہی سہی لیکن وہاں سے اُٹھ گیاتھا۔
اس تاحدنگاہ پھیلے ہوئے میدان کے اس کونے میں وہی ایک بڑاساپتھر پڑاتھاجس پراس وقت و ہ بیٹھاہواتھا۔ یہ جگہ اس کی پسندیدہ جگہوں میں سے ایک تھی۔ لیکن آج وہ پانچ دن بعدیہاں آکربیٹھاتھا اورسب کی نظرمیں وہ پانچ دن اپنے گھر گزارکرآیاتھاپر یہ صرف وہی جانتاتھاکہ وہ پانچ دن کہاں گزارکرآیاہے لیکن ایک قفل تھاجو اس کی زبان پرلگادیاگیاتھا۔ بہت بے بس کردیاگیاتھا اسے۔ بے بسی کی ایسی سلاخیں تھی جس کے پارایک تباہی تھی۔ہولناک تباہی۔ اس کے اپنے خاندان کے گیارہ افرادکی تباہی۔۔۔
اس نے گھبراکرآنکھیں بندکرلیں۔ذہن میں یادوں کے دریچے وا ہوئے۔۔۔
***************************************************
وہ آج جلدی گھر پہنچناچاہتاتھا۔لیکن جتنی جلدی وہ جاناچاہ رہاتھااتنی ہی اسے دیرہوگئی تھی۔ وہ مزدورتھا اورمزدوراپنے فیصلے خودکہاں کرتاہے۔اس کی قسمت تومالک کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
وہ گھرپہنچ چکاتھااورجانتاتھاکہ جمیلہ اسی کاانتظارکررہی ہوگی۔کیونکہ اِس گھرکاچولہافضل کی کمائی سے ہی چلتاتھااورجس دن اسے کام نہ ملتااس دن جمیلہ بی بی کے لئے گھرکاچولہاجلانا مشکل ہوجاتاتھا۔

damelahoo.jpg
ظفرکے ابا!!رات کوجب وہ لوگ سونے کے لئے لیٹے تواس نے جمیلہ کی آوازسنی۔
کیا ہوا؟
میرادل کرتاہے کہ اس باراللہ ہمیں بھی ایک بیٹی دے دے۔چاربیٹوں کے بعداب میرابہت دل کرتا ہے کہ ہماری بھی ایک بیٹی ہو۔اس کے لہجے میں ایک خواہش تھی۔
میرا بھی۔فضل آہستہ سے بولا۔
چاربیٹوں کے بعداس بارجمیلہ کے امیدسے ہونے پرفضل بھی کہیں دل کے کسی کونے میں بیٹی کی خواہش جگابیٹھاتھا لیکن اس نے جمیلہ سے اظہارنہیں کیاتھاپرآج جمیلہ نے اس کے دل کی بات کہہ دی تھی۔
اللہ نے چاہاتواس بارہمیں ضروربیٹی دے گا۔۔ جمیلہ نے اپنی خواہش کوالفاظ کاروپ دیا۔
اوراگربیٹی نہ ہوئی تو؟؟؟ فضل نے بغیر کسی وجہ کے پوچھ لیا۔
تومجھے اللہ کے کاموں میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔میں کون ہوتی ہوں اللہ کے کام کے بارے میں بولنے والی۔اللہ جس کوجوچاہتاہے عطاکرتاہے۔۔وہ روانی سے بولی۔
اوروہ عورت ایک بارپھراسے حیران کرگئی تھی۔وہ عورت اکثرہی اس کوحیران کردیاکرتی تھی۔عورت ہی توتھی وہ ۔۔۔اورعورت ہمیشہ حیران ہی کرتی ہے۔
ان دونوں کاساتھ تقریباً پندرہ سال کاتھا۔یہ نہیں تھاکہ وہ دونوں کوئی بہت ہی زیادہ خوشگوار زندگی گزاررہے تھے لیکن اپنی زندگی سے ناخوش بھی نہیں تھے اورویسے بھی خوشی کاتعلق دولت سے کہاں ہوتاہے۔ایک یہی توچیزہے جس میں غریب امیرسے زیادہ امیرہے۔
پندرہ سال کے عرصے میں اللہ نے ان دونوں کوچاربچے دئیے تھے اور اتفاق یاخوش قسمتی یاپھر بدقسمتی سے وہ دونوں ابھی تک اللہ کی رحمت سے محروم تھے اگرچہ نعمت سے اللہ نے ان کو خوب نوازاتھااور اس بارامیدسے ہونے پر جہاں جمیلہ بی بی کے دل میں بیٹی کی خواہش جاگ اٹھی تھی وہاں فضل بھی چپکے چپکے یہی دعاکررہاتھا۔۔۔
*************
پاپاآپ کب آئیں گے ؟؟مجھے آپ کی بہت یادآرہی ہے۔وہ معصوم بچہ فون پر اپنے باپ سے پوچھ رہا تھا۔
بیٹاپاپااتنی جلدی تونہیں آسکتے۔ابھی ڈیڑھ مہینے پہلے ہی توپاپامل کرآئے ہیں آپ سے۔ وہ اسے بہلاتے ہوئے بولے۔
لیکن پاپامیں آپ کومِس کرتاہوں۔وہ معصوم لہجے میں بولا۔
یہ تواچھی بات ہے کہ میرے بیٹے کوپاپایادآرہے ہیں۔وہ ہنوز اسے بہلاتے رہے۔
توپھرآپ آتے کیوں نہیں؟؟
آؤں گابیٹا بہت جلد آؤں گااورآ کربہت سارے دن اپنے بیٹے کے ساتھ گزاروں گا۔اب خوش؟؟
نہیں پاپایہ توآپ ہربارفون پرکہتے ہیں لیکن آتے نہیں ہیں آپ۔وہ انہیں پچھلے وعدے یاددلارہاتھا جووہ ہرباراس سے کرکے ہی اسے بہلاپاتے تھے۔
نہیں بیٹااب مجھے جیسے ہی چھٹی ملے گی پاپاآپ کے پاس آجائیں گے اور بہت سارے دن بھی گزاریں گے۔
پرومس پاپا؟؟
ہاں بیٹاپکاپرومس۔۔
اوکے پاپا۔ یہ لیں نانوویٹ کررہی ہیں ان سے با ت کر لیں اورماماکچن میں ہیں میں پھر ان سے آپ کی بات کرواتا ہوں۔۔۔
****************
ظفرکے ابا! میں نے ایک بات سوچی ہے۔
کیا؟
اگراس بارہمیں اللہ نے بیٹادیاتو میں نے اس کوقاری اِدریس کی طرح بناناہے۔
کیا مطلب؟وہ حیران ہوا۔
مطلب یہی ناکہ میں نے اس کوقاری اِدریس کے پاس بِٹھاناہے، وہ قاری بنے گا،عالِم بنے گا،دین کی باتیں بتائے گااوردین پھیلائے گا،کیاپتہ اللہ ہمیں ایسے ہی بخش دے۔
لیکن اس دن توتم کہہ رہی تھی کہ اللہ ہمیں بیٹی دے دے۔
چاہتی تومیں یہی ہوں لیکن اللہ کے کاموں میں کس کودخل ہے۔ کیاپتاوہ بیٹا ہی دے دے۔
ہاں یہ توہے ۔۔۔۔۔۔ خیریہ تواللہ کی مرضی ہے وہ جس کوچاہتاہے بیٹی دیتاہے اورجس کوچاہے بیٹا۔جوہماری قسمت میں ہوگاہمیں دے دے گا، چلواب سو جاؤ مجھے صبح کام پربھی جاناہے۔فضل لیٹتے ہوئے بولا۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔وہ بھی لیٹ گئی۔
******************
مدرسے میں ناشتے کی گھنٹی بج گئی جواسے سوچوں کی دنیا سے کھینچ کراذیت بھری حقیقی دنیامیں لے آئی۔کتنی تلخ ہوتی ہیں ماضی کی یادیں۔۔۔
قاری ادریس جیسابناؤں گی، دین پھیلائے گا۔۔۔اس کے ذہن میں الفاظ گونجتے رہے جوکسی دن ماں نے اسے یہ ساری باتیں سنائی تھیں۔۔۔ اس کے چہرے پرایک اذیت بھری مسکراہٹ دوڑگئی۔۔۔
************************************** 
فضل اورجمیلہ بی بی کے چاربیٹے تھے۔ سب سے بڑا ظفرگیارہ برس کا،اس کے بعد امان اللہ ساڑھے آٹھ برس کا،پھرچھ برس کاوحید علی اور پھرتین برس کااصغرعلی۔۔
ہرغریب کی طرح فضل کاخاندان بھی اس کی آمدنی سے بڑھ کرتھا۔ وہ غریب تھا، مزدور تھا،شاید اِسی لئے۔۔۔۔۔۔ اورغریب لوگ بچے سوچ سمجھ کرکہاں پیداکرتے ہیں۔
ظفرنے گیارہ برس کی عمرسے کام پرجاناشروع کردیا۔ گھرمیں بڑھتے ہوئے اِخراجات نے اسے سکول کو چھٹی جماعت میں خیربادکہہ کرمزدوری کرنے پرمجبورکر دیاتھا۔ وہ بہت حساس اور فرمانبرداربچہ تھااِسی لئے باپ کی پریشانی اور گھر میں تنگی کوسمجھ گیا تھااور ایک گیارہ سال کے بچے کی سمجھ کی مطابق اس نے یہی فیصلہ کیاکہ وہ سکول چھوڑکرکام کرناشروع کردے۔
وہ گیارہ برس کابچہ بہت سمجھدارتھا۔ اپنے گھرمیں پھیلی غربت نے اسے اپنی عمرسے زیادہ سمجھ اورسنجیدگی دے دی تھی اورغربت ہی تواِنسان کوعقل اورسمجھ دیتی ہے ورنہ بنگلوں میں رہنے اورویڈیوگیمزکھیلنے والے بچے ’سمجھ‘ کوکیاسمجھ سکیں۔
*************
پاپاآپ کل جلدی گھرآجائیں۔عمران باپ سے فرمائش کرنے لگا۔
کیوں جی؟ کوئی خاص بات؟ وہ اس اچانک فرمائش پر حیران ہوئے۔
بس ویسے ہی۔
لیکن پتہ توچلے کہ جلدی کی فرمائش کیوں کی جارہی ہے؟
پاپامیں نے اورطوبیٰ نے پلان بنایاہے کہ ہم سب کل گھومنے جائیں گے آپ کے ساتھ۔ وہ اپنے پلان میں طوبیٰ کانام شامل کرتے ہوئے بولا۔
لیکن یہ پلان بناکب اورکِس کِس نے بنایا؟؟؟
پاپامیں نے اورطوبیٰ نے۔۔
او رطوبیٰ کب اِتنی بڑی ہوگئی کہ وہ پلان بنانے لگی؟؟؟ وہ جانتے تھے کہ اس پلان میں طوبیٰ شامل نہیں تھی۔طوبیٰ کوتووہ پلان بناکربتاتاتھااوروہ خوش ہوجاتی تھی۔۔
ارے پاپا وہ توبہت بڑی ہوگئی ہے، مجھ سے بھی زیادہ بڑی، یہ پلان اسی کاہے۔
چلیں طوبیٰ سے ابھی پوچھ لیتے ہیں۔وہ جا ن بو جھ کرتنگ کررہے تھے حالانکہ جانتے تھے کہ گھومنے پھرنے کاشوق عمران سے زیادہ کسی کونہیں ہے۔
نہیں پاپا۔۔اس سے مت پوچھیں۔
کیوں؟؟؟
پاپاوہ جھوٹ بولتی ہے۔
ہاہاہا۔۔اچھاچلوبیٹانہیں پوچھتے ، جیسی تم لوگوں کی مرضی۔۔
تو آپ کل جلدی آئیں گے ؟؟؟ اس کی آنکھوں میں خوشی تھی۔
کوشِش کروں گابیٹا۔۔
کوشِش نہیں ناپاپاآپ نے ضرورآناہے۔
اورنہ آسکاتو؟؟
توپھرمیں آپ سے ناراض ہوجاؤں گا۔
تم یا طوبیٰ؟؟؟؟انہوں نے مسکراتے ہوئے حیرت سے پوچھا
پاپاہم دونوں۔۔۔
لیکن یہ پلان توطوبیٰ کاہے نا !!!تو ناراض بھی اسے ہی ہوناچاہئے۔وہ اسے پھنساتے ہوئے بولے۔
پاپا! میں آپ سے ناراض ہوں۔وہ ان کے تنگ کرنے پرمنہ بناتے ہوئے بولا۔
ہاہاہا۔۔اچھااچھانہیں تنگ کرتا۔آجاؤں گاکل جلدی اِنشاء اللہ۔۔
یاہووووووووو۔۔۔۔تھینک یوپاپا۔۔ میں ابھی جاکرطوبیٰ اور ماما کو بتاتا ہوں۔ وہ خوشی سے چلاتے ہوئے بھاگا
اچھاسنوتو۔۔۔۔۔۔انہوں نے پیچھے سے بلایا
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ جاچکاتھا۔
گھومنے پھرنے کی خبرسن کروہ کہاں رکنے والاتھا۔
**********
تائی وجیہہ سے بات کرنی ہے مجھے۔آپ کی اجازت چاہتاہوں؟؟ وہ سرجھکائے دھیمی آوازمیں بولا۔
لیکن بیٹاابھی تھکے نہیں ہوتم لوگ؟؟ نصرت چچی حیرانی سے مسکرائی۔
نہیں امی اب تورومی بھیانہیں تھک سکتے۔۔ ملیحہ نے باورچی خانے کے اندرسے آوازلگائی۔ وہ بڑے اباکے لئے چائے بنارہی تھی۔
تائی زیرلب مسکراتے ہوئے وجیہہ کوبلانے چلی گئی جوابھی تھوڑی ہی دیرپہلے دلہن کے ان بھاری بھرکم کپڑوں سے جان چھڑاکرلیٹ گئی تھی۔
صارم صحن میں جاکرمیزکے گردپڑی کرسی پربیٹھ گیا۔
سراج علی کے دوبیٹے اورایک بیٹی تھی۔بڑاسفیرعلی، اس سے چھوٹی فاخرہ اورسب سے چھوٹاشیرعلی۔سراج علی کوباپ کی طرف سے ترکے میں کچھ زمیں ملی تھی جس پر کھیتی کرکے وہ اپنااوربچوں کاپیٹ پالتے تھے لیکن پھرایک دن ان کی اچانک وفات کے بعداس خاندان پرمعاش کے لحاظ سے کافی مشکل وقت پڑا۔ سفیراس وقت بارہویں جماعت کاطالبعلم تھا۔ اس وقت کے حالات میں اس نے اپنی ماں کے مشورے سے ملک سے باہرجاکرقسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔شیرعلی کوآگے پڑھانااس کاخواب تھااورابھی فاخرہ کی شادی بھی کرنی تھی۔ اپنے باپ کے ایک واقف کارکے ذریعے ایک ایجنٹ سے بات کی اورکچھ زمین بیچ کرویزاحاصل کرلیا۔محنتی تووہ تھا ہی۔وہاں جاکرمحنت کی توگھرکے حالات بھی سدھرنے لگے۔ شیرعلی کی پڑھائی بھی چلتی رہی اورفاخرہ کاجہیزبھی جمع ہوتارہا۔ آخروہ وقت بھی آگیاجب شیرعلی نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی اوراچھی نوکری بھی حاصل کرلی اورپھرجب فاخرہ بھی عزت سے اپنے گھرسدھارگئی توفضیلت بیگم کوسفیرکی دلہن بھی گھرلانے کی فکرہوئی۔وہ ابھی شادی کرنانہیں چاہتاتھالیکن ماں کی ضدکے سامنے اس کی چل نہ سکی اورغزالہ اس کی زندگی میں شامل ہوگئی۔شادی کے دومہینے بعدوہ قطراپنے کام پرواپس چلے گئے۔غزالہ ایک بہت اچھی بہو ثابت ہوئی تھی۔ اپنی ساس کواس نے کبھی شکایت کاموقع نہیں دیاتھا لیکن یہ قسمت ہی کی بات تھی کہ اس شادی کے ڈیڑھ سال بعدہی فضیلت بیگم کوبھی اللہ نے اپنے پاس بلالیا۔ غزالہ کی گودمیں اس وقت چھ ماہ کی بچی صبیحہ موجودتھی۔ماں کی تدفین پرآیا توسداکے دردمندسفیرکو اپنے چھوٹے بھائی شیرعلی کی فکرہوئی کیوں کہ اس بار وہ غزالہ اوربچی کواپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ کافی صلاح مشورے کے بعد فیصلہ یہ ہواکہ شیرعلی کی شادی غزالہ کی چھوٹی بہن زبیدہ سے کردی جائے۔ شیرعلی نے تواپنے سارے فیصلے پہلے ہی اپنے باپ جیسے بڑے بھائی کے ہاتھ میں تھمادیئے تھے اوریوں زبیدہ شیرعلی کی زندگی میں شامل ہوگئی۔
(.....جاری ہے)

نا ول ’دام لہو‘ کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔اور کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میں زمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
August

تحریر: کوکب علی

’’ یوکرائن کی چمکدار زمین۔۔۔ تم ہمیشہ دمکتی رہو۔۔۔متحد اور شبنم کے قطروں کی طرح تابناک رہو۔یہاں تک کہ سورج تمہیں ماند نہ کر دے۔۔۔۔
ہم زمین پر حکومت کریں گے اور اس کو ترقی کی منازل تک پہنچائیں گے۔۔۔
ہم نے اپنی روح تک اس زمین کی آزادی کے لئے قربان کی۔۔ جذبہ اور محنت ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ،
ہمارے لباس سے بہتا خون۔۔قوم کے خوشحال لوگوں کو مزید سر بلند کرے گا
اور ہمارے وطن کی ندیاں اور جھرنے بھی آنے والوں کو ہماری کہانیاں سنائیں گے۔ ‘‘

shabnamkitarah.jpg
یوکرائن کے قومی ترانے کے یہ خوبصورت الفاظ اپنے وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور یوکرائنی قوم کے جذبوں کی آماجگاہ بھی۔۔
ماہِ اگست اپنے اندر ایک خوبصورت کشش رکھتا ہے۔ جیسے14 اگست 1947 سے وابستہ دلی جذبات اُس وقت خصوصی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، جب وقت اور زمانوں سے ادھر چشمِ تصور میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے۔۔۔اور اپنی مٹی کی خوشبو، زمین ، موسم ، تہذیب ، تمدن ، تہوار ،، دیارِ غیر میں بھی اپنی محبتوں کے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔۔۔ اسی طرح 24 اگست یوکرائن کی آزادی کا دن ہے۔۔۔جو یہاں کے رہنے والوں کی دلی محبتوں سے عبارت ہے۔۔


ملکی تاریخ میں آزادی کا دن وہ تاریخ ساز دن ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کو زندگی امر کر جاتا ہے اور آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے اس وطن سے محبت اور وفاداری کے امین رہتے ہیں -
ہر سال جیسے 14 اگست پاکستان میں سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے ،کیونکہ یہ دن لا زوال قربانیوں کا مظہر ہے اور انسانی تاریخ کی جدو جہد کا ایک روشن باب بھی۔ اسی طرح یوکرائن میں بھی اگست کا مہینہ اس ملک کے لوگوں کے لئے آزادی کا پروانہ لے کر آ یا اور24 اگست 1991 کو خطۂ ارض پر یوکرائن ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اُجاگر ہوا لہٰذا اس دن کو نہایت جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔۔24 اگست1991 یوکرائن کی تاریخ کا خوبصورت دن خیال کیا جاتا ہے جب یوکرائنی قوم کو آزادی کی نوید سنائی گئی۔۔اور اگلے ہی برس1992 میں ایک آزاد ملک کی حیثیت سے پاکستان اور یوکرائن کے سفارتی تعلقات استوار ہوئے۔۔۔۔اس دن کی مناسبت سے پورے یوکرائن میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔۔
یوکرائن کے دارالحکومت
Kiev
میں فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جاتاہے رضا کار فوجی دستے
March of the Unconquered
پیش کرتے ہیں جو ان لوگوں کی یاد میں پیش کی جاتی ہے جو آزادی کی راہ میں مارے گئے۔۔ اور ان تمام لوگوں کو
Heavenly Hundred
کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نیلے اور پیلے رنگ پر مشتمل یوکرائن کا جھنڈا تھامے مختلف شہروں میں مارچ کیا جاتا ہے۔وطن سے محبت کے گیت گائے جاتے ہیں۔۔ٹیلی ویژن سٹیشن سے نشریات پیش کی جاتی ہیں ، کنسرٹس کئے جاتے ہیں ،نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے ،آتش بازی کے مظاہرے پیش کئے جاتے ہیں اور فری مارکیٹس کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پورا دن اسی طرح پُررونق اور پُر مسرت طریقے سے گزارہ جاتا ہے۔۔مگر سچ تو یہ ہے کہ سرزمین کوئی بھی ہو مٹی کے قرض وہاں کے رہنے والوں پر واجب ہوا کرتے ہیں۔۔۔

مضمون نگار مختلف اخبارات و رسائل کے لئے لکھتی ہیں۔۔ آپ ان دنوں یوکرائن میں مقیم ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
August

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

وطنِ عزیز میںیوں تو روزانہ ہی ادبی، علمی اور ثقافتی محافل منعقد ہوتی ہیں مگر جب کینیڈا جیسے ملک میں اور وہ بھی ونکوور میں جہاں پاکستانی نسبتاً کم تعداد میں ہیں، ایسی کوئی تقریب ہو تو لوگ بصد شوق شرکت کرتے ہیں۔


آرٹس کونسل کراچی میں تو ایک دن میں کئی ایسے پروگرام ہوتے ہیں اور ان میں شرکت کرکے یا نظامت کرکے بہت اچھا لگتا ہے۔ گزشتہ دنوں ونکوور میں دو ایسی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن سے اپنے دیس کی یاد تازہ ہوگئی۔


کینیڈا میں عموماً کوئی بھی پروگرام، چاہے وہ چاند رات کا ہو، عید کا ہو، پکنک کا ہو، میوزک کا ہو، کوئی بھی ہو صرف ویک اینڈپر ہی ہوتا ہے۔ لوگ صرف ویک اینڈ پر ہی پروگراموں میں شرکت کرسکتے ہیں۔ یہاں گزشتہ دنوں ایسی اعلیٰ معیارکی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن کا لطف تادیر قائم رہے گا۔


ایک تقریب پاکستان کی دونامور شخصیات انور مسعود اور امجد اسلام امجد کے اعزاز میں تھی اور دوسری اردو غزل کے سب سے بڑے شاعر مرزا غالب کے حوالے سے تھی۔
ہم آپ کو دونوں تقاریب کا احوال سنائیں گے۔ پہلے انور مسعود اور امجد اسلام امجد کے بارے میں کچھ تحریر کرنا چاہیں گے۔-


انور مسعود اُردو اور پنجابی کے مشہور شاعر ہیں۔ وہ بہت لطیف انداز میں مزاحیہ شاعری کرتے ہیں۔35 برس تک وہ مختلف درسگاہوں میں فارسی پڑھاتے رہے۔ فارسی کے علاوہ وہ اُردو، انگریزی اور پنجابی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری بہت عمدہ اور سنانے کا انداز بھی خوب ہے۔ عموماً مزاحیہ مشاعرے ان ہی کی زیرِصدارت منعقد ہوتے ہیں۔
امجداسلام امجد کے بارے میں ہم کیا لکھیں، انہیں تو دنیا جانتی ہے، گیت نگار، ڈرامانگار، شاعر، دانشور، غرض امجداسلام امجد دنیائے ادب کا چمکتا ستارہ ہیں۔ ان کی خدمات کے صلے میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیاہے۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے کئی مرتبہ بہترین ڈراما رائیٹر کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ ان کے مقبول ڈراموں میں وارث، سمندر، دہلیز، رات، اپنے لوگ، وقت اور دیگرadbimahafil.jpg بے شمار ڈرامے شامل ہیں۔


اشفاق احمدمرحوم کا تحریرہ کردہ، ایک محبت سو فسانے، کا ٹائٹل سانگ’جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے، جو امجد پرویز کی آواز میں ریکارڈ ہوا، اس کے خالق امجداسلام امجد ہی ہیں۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول اور عالمی اردو کانفرنس کے سلسلے میں انور مسعود اور امجداسلام امجد ہر سال کراچی تشریف لاتے ہیں جہاں ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ اس بار اُن کی آمد کی اطلاع ونکوور میں ملی تو بہت خوشی ہوئی۔ ان دونوں حضرات کے اعزاز میں منعقد اس شام کی خاص بات فنڈریزنگ تھی جو ایک ایسے ادارے کے لئے تھی جس کا مقصد مستحق بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا۔ اس تقریب میں شرکت کے لئے ٹکٹ مہنگا رکھا گیا تھا۔ ویسے یہ کینیڈا کا رواج ہے کہ ہر پروگرام پر ٹکٹ ہوتا ہے۔ ہم تو آرٹس کونسل میں جو پروگرام کرتے ہیں وہ فری ہوتے ہیں۔ ان میں ٹکٹ کا کوئی تصورنہیں حتیٰ کہ میوزک کنسرٹ چاہے راحت فتح علی خان کا ہو، سجاد علی کا ہو یا علی حیدر کا، سب ممبران کے لئے مفت ہوتا ہے۔ یہ تو یہاں کینیڈا میں آکے احساس ہوا کہ ٹکٹ کیا بری بلا ہے۔


آپ شاید یقین نہیں کریں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات گھر میں بھی جو دوستوں کی مل بیٹھنے کی تقریب ہوتی ہے اس میں بھی ٹکٹ رکھا جاتا ہے ہم تو اس ٹکٹ سے عاجز آچکے ہیں، لہٰذا کوشش کرتے ہیں ہمیں بھی عادت پڑ جائے۔ ویسے اگر احباب نے مل کر کھانے کاپروگرام بنایا ہے تو یاد رکھئے اس کا مطلب دعوت نہیں بلکہ پاٹ لک

(Potluck)

ہے یعنی آپ اپنے ہمراہ کوئی کھانے کی چیز ساتھ لے کر جائیں۔ یہ سب اس مغربی کلچر کا حصہ ہے جس میں آپ کسی کو خلوص سے گھر پہ دعوت میں مدعو بھی نہیں کرتے، ویسے یہ تو ہمیں پہلے ہی علم تھا کہ اگر دوست باہر کھانا کھانے جائیںیا کافی پیش کریں تو دونوں اپنا اپنا بل خود دیں گے لیکن گھر پہ بھی کسی کو بلا کر ٹکٹ ، یہ ناقابلِ فہم ہے۔


ہم نے کوشش کی ہے کہ اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ یہ خود غرضی کی مہمانداری ختم ہو۔ ارے یہ ہم بات کرتے کرتے کہاں سے کہاں نکل گئے، انور مسعود اور امجد اسلام امجد پہ بات ہو رہی تھی۔ دونوں حضرات کے اعزاز میں منعقدہ پروگرام نہایت کامیاب ثابت ہوا۔ انور مسعود نے اپنی مشہور نظمیں، کوفتے اور بنیان سُنا کر محفل لوٹ لی۔ امجد اسلام امجد نے پہلے موجودہ دور کے ڈرامے اور ماضی کے ڈراموں پر روشنی ڈالی پھر اپنی غزلیں اور نظمیں سنائیں۔
پلکوں کی دہلیز پہ چمکا ایک ستارا تھا
ساحل کی اس بھیڑ میں جانے کون ہمارا تھا
کہساروں کی گونج کی صورت میں پھیل گیا ہے وہ
میں نے اپنے آپ میں چھپ کر جسے پکارا تھا
سر سے گزرتی ہر اِک موج کو ایسے دیکھتے ہیں
جیسے اس گرداب فنا میں یہی سہارا تھا
ترکِ وفا کے بعد ملا تو جب معلوم ہوا
اس میں کتنے رنگ تھے اس کے، کون ہمارا تھا
یہ کیسی آواز ہے جس کی زندہ گونج ہوں میں
صبح ازل میں کس نے امجد مجھے پکارا تھا
اب کچھ ذکر مرزا غالب کے حوالے سے ہونے والے پروگرام کا جس کا عنوان تھا ’’کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور‘‘ اس پروگرام کے تین حصے تھے، پہلے حصے میں غالب کی زندگی اور شاعری پہ گفتگو ہوئی، دوسرے میں غالب کی غزلیں گائی گئیں اور تیسرے حصے میں مشاعرہ تھا۔


یہ بات تو سبھی مانتے ہیں کہ اُردو شاعری کی آبرو غزل ہے اور غزل کے سرتاج غالب ہیں۔ مرزا اسدا ﷲ خان غالب پہلے اسد تخلص کیا کرتے تھے، اس زمانے میں اسد نامی ایک اور شاعر بھی تھے، لوگوں نے مشورہ دیا کہ چونکہ اس وقت غالب نو عمر تھے کہ ان کا ہر اچھا شعر دوسرے اسدؔ سے منسوب ہوجائے گا، لہٰذا یوں مرزا اسداﷲ خان، غالب بن گئے۔ غالب کی شاعری جتنی عظیم ہے ان کی ذاتی زندگی اتنی ہی دکھوں، مشکلات اور تکلیفوں سے عبارت ہے، ان کے یہاں سات بیٹے ہوئے جو پیدائش کے بعد وفات پاگئے۔


معاشی تکالیف بھی اٹھانا پڑیں، قرض کے بوجھ تلے دبے رہے۔ مگر حیرت انگیز طور ان کی شاعری میں نہ تلخی ہے نہ دکھ نہ اداسی، عجیب سرشاری اور مستی ہے ان کے کلام میں۔ اگر چہ وہ میر تقی میرؔ کے مداح تھے مگر میرؔ کی طرح المیہ شاعری نہیں کرتے تھے۔ غالبؔ کی ذاتی زندگی ان کی شاعری میں ہے لیکن تکالیف کا ذکر غالب نے کیا بھی ہے تو بہت منفرد انداز میں مثلاً:
رنج سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
یا پھر یہ شعر ملاحظہ فرمائیں
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
اسی غزل کا ایک اور مصرعہ ہے۔
قیدِ حیات و بند غم اصل میں دنوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
اب ان اشعار میں دکھ ، تکالیف، رونا اور آرامِ زندگی کا بیان تو ہے مگر اس طرح نہیں جیسے میر تقی میرؔ کے یہاں ہمیں ملتا ہے۔ غالب تو خود ہی کہتے ہیں۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
غالب وہ واحد شاعر ہیں جو خود اپنے اوپر بھی طنز کیا کرتے تھے۔ اب غالب کی شاعری کیاکیا کچھ ہے ہم کیسے بیان کریں؟ ان کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔
مرزا غالب پر پاکستان میں کئی ڈرامے بھی بنے۔ ایک مرتبہ انور مقصود نے غالبؔ پر خصوصی کھیل لکھا جس کا نام تھا ’’افسوس حاصل کا‘‘ اس ڈرامے میں ہمیں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ اس ڈرامے کی خاص بات یہ تھی کہ غالب پر تھا مگر اس میں خود غالب نہ تھے۔ اس کی کاسٹ میں ہمارے علاوہ معین اختر، طلعت حسین، لطیف کپاڈیا، شہزاد رضا بھی شامل تھے۔


اس ڈرامے کے کچھ اداکار اب اس دنیا میں نہیں۔ بلکہ لطیف کپاڈیا تو اسی ڈرامے کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کر گئے تھے۔ شوٹنگ کے دوران ان کی طبیعت خراب ہوئی انہیں ٹی وی اسٹیشن کے مقابل واقع ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔


خیر غالب پر جتنے بھی ڈرامے بنے ان میں سبحانی با یونس بطورِ غالب سب سے زیادہ جس ڈرامے میں جچے۔ اس کا نام تھا ’’مرزا غالب بند روڈ پر‘‘
مرزا غالب پر ہونے والے پروگرام میں جہاں غالبؔ کی غزلیں گائی گئیں اور ان کی شاعری پہ گفتگو ہوئی وہیں غالبؔ کی نثرنگاری پہ بھی بات ہوئی اور خطوطِ غالبؔ پڑھ کے سنائے گئے۔ غالبؔ کے بارے میں کیا کہیں، شاعری بھی بے مثال اور نثر بھی لاجواب، بے شک غالب جیسا کوئی نہیں۔


ہمارے جیسے ادبی ذوق رکھنے والے لوگوں کے لئے یہ دونوں تقاریب جن کا تذکرہ ہم نے رقم کیا۔ بہت تقویت اور طمانیت کا باعث ہیں۔ دیارِ غیر میں جب اُردو شاعری اور اُردو ادب پر بات ہو تو دل کھِل اٹھتاہے۔

مضمون نگار مشہور ادا کارہ، کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
August
کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکی کانووکیشن تقریب

newsqutainsti.jpgگزشتہ دنوں کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی کانووکیشن تقریب منعقد ہوئی۔ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ مہمانِ خصوصی نے طالب علموں اور فیکلٹی سٹاف کو کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پہلے کانووکیشن پر مبارکباد پیش کی۔ تقریب میں 97 گریجویٹ طلباء و طالبات شامل تھے۔ مہمان خصوصی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طالب علموں میں انعامات تقسیم کئے اور گریجویٹ طالب علموں میں اسناد تقسیم کیں۔ مس خولہ شانزا چھ گولڈ میڈلز کے ساتھ بہترین طالبہ قرار پائیں جبکہ شمسہ مبین نے سرجری میں، عائشہ سیف نے گائینا کالوجی میں، صدف سعید نے میڈسن میں اور نیلم ناز نے ای این ٹی میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ابوبکر نے شعبۂ چشم اور عاطف خان نے کمیونٹی میڈیسن میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ تقریب میں سرجن جنرل پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل آصف سُکھیرا، وائس چانسلر آف بلوچستان یونیورسٹی، اعلیٰ سول اور فوجی افسران کے علاوہ طلباء و طالبات کے والدین نے بھی شرکت کی۔

قبل ازیں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے اس موقع پر گریجویٹ طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حفظان صحت کے نظام کے محافظ ہیں اور انہیں معاشرے کو صحت مند رکھنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے طلباء و طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کی پورے جذبے سے خدمت کریں۔

 

سی ایم ایچ راولپنڈی میں کاکلیر امپلانٹ کا آغاز
سی ایم ایچ راولپنڈی میں کا کلیر امپلانٹ

(Cochlear Implant)

کا آغاز ہوگیا ہے۔ میجر جنرل زاہد حمید کمانڈنٹ سی ایم ایچ نے ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر اس پروگرام کا آغاز کیا۔ اس سلسلے کے پہلے کاکلیر امپلانٹ کا کامیاب آپریشن حوالدار وسیم کا کیا گیا۔ جو عسکری خدمات کے دوران قوت سماعت سے مکمل محروم ہوگئے تھے۔ کاکلیر امپلانٹ ایک ایسا مصنوعی کان ہے جو آپریشن کے ذریعے قوت سماعت سے محروم افراد کے کان میں نصب کیا جاتا ہے۔ پاک فوج کی جانب سے یہ اقدام زخمی جوانوں کو مصنوعی اعضاء کی فراہمی اور اُن کی بحالی صحت کے حوالے سے ایک بڑا سنگ میل ہے۔

newsqutainsti1.jpg

09
August
کمانڈر کراچی کورکاملیر گیریژن میں پولیس ٹریننگ کا معائنہ

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزانے ملیر گیریژن میں پاکستان آرمی کے زیرِ نگرانی پولیس ٹریننگ کا معائنہ کیا۔ اس موقعے پر پولیس ریکروٹس نے عملی مشقوں کا مظاہرہ کیا۔ کورکمانڈر نے تربیتی سرگرمیوں اور دستیاب سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے پولیس ریکروٹس کی دوران تربیت محنت اور لگن کو بھی سراہا۔

کور کمانڈر نے اپنے خطاب میں پاکستان رینجرز سندھ اور پولیس کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہر کا امن ان اداروں کی بہترکارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اورجنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل زاہد محمود بھی دورے کے دوران ان کے ہمراہ تھے۔

newskarachicore_ka.jpg

09
August
آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں انٹرن شپ کرنے والے طلباء و طالبات کا دورۂ ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا
ملک کے مختلف تعلیمی اداروں کے دو سو سے زائد طلباء و طالبات جو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ میں انٹرن شپ کررہے ہیں نے گزشتہ دنوں ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کا دورہ کیا۔ طلباء و طالبات نے ایچ آئی ٹی کی دفاعی تیاریوں کی صلاحیتوں کو دیکھ کر نہایت جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا لیفٹیننٹ جنرل نعیم اشرف نے طلباء کے وفد سے ملاقات کی اور ادارے کی دفاعی خود انحصاری کے کردار پر روشنی ڈالی۔ دورے کے دوران طلباء نے دفاعی اشیاء میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اورانہوں نے دفاعی صلاحیتوں سے متعلق سوالات بھی پوچھے۔ طلباء نے ادارے کو اُبھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔

newsisprstudentvsitto.jpg

09
August
کمانڈر پشاور کور کا خیبر ایجنسی اور کرم ایجنسی کا دورہ
کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کور کمانڈر کو کرم اور خیبر ایجنسی میں سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کور کمانڈر نے ان علاقوں میں تعینات فوجی جوانوں سے ملاقاتیں بھی کیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ان کی تیاریوں اور بلند حوصلوں کی تعریف کی۔ اس موقع پر آئی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل شاہین مظہر محمود بھی کور کمانڈر کے ہمراہ تھے۔

newscomanpeshcorekhaj.jpg

پاک فوج کے ساتھ ایک دن
گزشتہ دنوںیونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے طلباء و طا لبا ت نے فوجی جوانوں کے ساتھ لا ہو ر گیریژ ن میں ایک مصروف دِن گزارا۔ اِس موقع پر اُنہیں پا ک فو ج کے پیشہ و ار انہ اُ مو ر سے متعلق بر یفینگ دی گئی۔ اِس ایک رو زہ پروگرام کا مقصد طلبا ء وطا لبا ت میں سکیورٹی سے متعلق آ گا ہی ، خو د اعتما دی اور جذبہِ حب الو طنی کو مزید اُ جا گر کرنے کے ساتھ ساتھ پا ک فوج کی دفاعی ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کر نا تھا ۔بعدازاں طلباء و طالبات کو پاک فوج کے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اورمستعدی سے متعلق ایک عملی مظا ہر ہ د کھا یا گیا۔ اس مو قع پر طلباء کا جوش وجذ بہ دیدنی تھا۔انھوں نے اس ایک رو ز ہ پروگر ام میں گہر ی د لچسپی لی اور پا ک فو ج کی پیشہ وا را نہ صلاحیت اور بُلند جذبے کی بے حد تعریف کی۔

newscomangujcore1.jpg

09
August
پاک بحریہ کے سربراہ کا پاکستانی کرکٹ ٹیم کو خراجِ تحسین

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی2017ء کی تاریخی جیت پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے پاک بحریہ نے کھلاڑیوں کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ ضیافت کے میزبان پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ تھے۔

پاک بحریہ کے سربراہ نے ٹورنامنٹ بالخصوص فائنل میچ کے دوران کھلاڑیوں کے ٹیم ورک اور جذبے کو سراہا ۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی طرح پاک بحریہ بھی اپنی کرکٹ ٹیم پر فخر کرتی ہے۔ نیول چیف نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے سابق اہلکار فخر زمان پر خاص طور پرناز ہے جو سات سال تک پاکستان نیوی کی کرکٹ ٹیم کا حصہ رہے اور پورے ٹورنامنٹ کے دوران متاثر کن کارکردگی کی بدولت نہ صرف پاکستان کی بلکہ پاک بحریہ کی بھی پہچان بن گئے۔نیول چیف نے پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمدکی اعلیٰ کارکردگی کو بھی سراہا ۔ اس موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈ مرل محمد ذکاء اللہ نے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں میڈلز بھی تقسیم کئے۔

newscnstopakcrick.jpg

پاک بحریہ کے سربراہ کا ساحلی علاقوں کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے بلوچستان کے ساحلی علاقوں جیوانی، گوادر، پسنی اوراورماڑا کا دورہ کیا اور وہاں تعینات پاک بحریہ کے دستوں سے ملاقاتیں کیں۔

ایڈمرل ذکا ء اللہ نے وطن عزیز کی بحری سرحدوں کے تحفظ کے حوالے سے آفیسرز اور سی پی اوز/سیلرز کے پیشہ ورانہ کردار اور جذبے کو سراہا ،بعد ازاں چیف آف دی نیول سٹاف نے پی این ایس شمشیر اور پی این ایس محافظ کے دورے کے دوران آفیسرز اور سی پی اوز/سیلرز سے ملاقاتیں کیں اور ملکی سمندری حدود کے دفاع کے لئے ان کے عزم اور جذبے کو سرا ہتے ہوئے آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

newscnstopakcrick1.jpg

09
August
چیف آف آرمی سٹاف کا دورہ کوئٹہ گیریژن

’’بلوچستان پر میری بھرپور توجہ ہے اور دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی خوشحالی اہم مقصد ہے‘‘۔ چیف آف آرمی سٹاف

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر انہیں ہیڈکوارٹرز سدرن کمانڈ اور ہیڈکوارٹرز ایف سی بلوچستان میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلاً بریفنگ دی گئی۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات اور فرقہ ورانہ حملوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ دہشت گرد شکست خُوردگی کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں

(LEAs)

اور آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے ایف سی‘ پولیس‘ پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ فراریوں کے ہتھیار ڈالنے میں اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس موقعے پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان پر میری بھرپور توجہ ہے اور دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی خوشحالی اہم مقصد ہے۔ بعدازاں چیف آف آرمی سٹاف پاک فوج کے جوانوں اور افسران سے ملے اور اُن کے بلند حوصلوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستانی عوام کی فوج ہیں اور ان کی مکمل حمایت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔

newscoasquestagarission.jpg

09
August

(حسان اکبر جماعت سوئم کے طالب علم ہیں وہ جب دو سال کے تھے تو اُن کے والد محترم میجر اکبر جام شہادت نوش کر گئے۔ ’’میری پسندیدہ شخصیت‘‘ کے عنوان سے حسان اکبرکی ایک تحریر جس میں وہ اپنے ابو جان کو یاد کرتے ہیں، قارئین ہلال کے لئے پیش خدمت ہے۔)

اس دنیا میں اربوں لوگ ہیں اور اس میں سے ہر شخص کی کوئی نہ کوئی پسندیدہ شخصیت ہے۔ میری پسندیدہ شخصیت میرے بابا میجر اکبر شہید ہیں۔ وہ اس ملک کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کے لئے جان قربان کر دی۔ مجھے ان کے بارے meripasandedashak.jpgمیں کچھ بہت زیادہ یاد نہیں کیونکہ جب میں دو سال کا تھا تو میرے بابا شہید ہو گئے۔ مگر ان کا ایک دھندلا خاکہ میر ے ذہن میں محفوظ ہے۔ میرے بابا کا قد لمبا تھا سمارٹ اور خوبصورت تھے۔ ان کے چہرے پر داڑھی بہت اچھی لگتی تھی۔ میرے بابا نفیس انسان تھے۔ وہ کم گو تھے۔ وہ سادہ غذا کھاتے اور سادہ لباس پہنتے تھے۔ وہ پکے نمازی تھے۔ وہ قرآن پاک کی تلاوت روزانہ کرتے تھے۔ وہ بہت بہادر مومن سپاہی تھے۔ وہ بہت اچھے کھلاڑی تھے اور والی بال بہت شوق سے کھیلتے تھے۔ وہ ایک بہادر آفیسر تھے جو اسلام کے دشمنوں سے نہیں ڈرتے تھے۔ میرے بابا نے دس جون 2008کو اس پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے صلے میں انہیں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ مجھے اپنے بابا پر فخر ہے۔ میں بھی اپنے بابا کی طرح بہادر آرمی آفیسر بننا چاہتا ہوں۔ انہی کی طرح مومن بننا چاہتا ہوں۔انہی کی طرح شہادت پانا چاہتاہوں۔ کیونکہ شہید کبھی نہیں مرتے وہ زندہ ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے ’’اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔‘‘
09
August

تحریر: کیپٹن بلال نیازی

آپریشن المیزان سوات کے دوران متعدد قیمتی جانیں بچانے والے ایک نڈر غازی حوالدار ظہور احمد تمغۂ بسالت کی داستانِ شجاعت

اور تم کیا جانو یہ کون لوگ ہیں؟جن کے قدموں کی دھمک سے پہاڑ تھرتھراتے ہیں۔جنہوں نے انسانی لباس پہن رکھاہے مگرجن کی پیشانیوں پرآسمان تحریریں لکھ رہا ہے۔ یہ کون راہرو ہیں جن کے قدم کبھی تھکتے نہیں؟یہ فاتح کون ہیں جنہوں نے بھوک اور پیاس کو یرغمال بنا رکھا ہے؟ جن کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں اچکنے کے لئے فرشتے تیار ہیں۔ایسے جذبے سے سر شار کچھ ایسی ہی داستان حوالدار ظہور احمد کی ہے۔

farzshanasi.jpg
حوالدار ظہور احمد پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے نو احی گاؤں چک نمبر 50/2 ایل میں 24جولائی1983کو ایک راجپوت گھرانے میں محمد بشیر کے ہاں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ ظہور ا حمد کوبچپن سے ہی پاک وطن کی مٹی سے محبت اور پا ک فوج سے لگاؤ تھا۔ بچپن سے ہی فوجی وردی میں ملبوس پُر وقار جوان اُسے بہت ہی منفرد اور جاذب نظر لگتے تھے۔ اس کا یہی شوق 17جون2002کو اسے ریکروٹمنٹ آفس لاہور لے آیا۔ ظہور احمد نے ابتدائی تربیت آرمی ائیر ڈیفنس سنٹرملیر کینٹ سے حا صل کی اور پوسٹ ہو کر ائیر ڈیفنس کی مایہ ناز یونٹ 96 میڈیم ائیر ڈیفنس رجمنٹ میں پہنچ گیا۔


حوالدار ظہور احمد ایک نڈر سولجر ہونے کے ساتھ سا تھ ایک اچھا سپورٹس مین بھی ہے۔ باکسنگ ہو یا اتھلیٹکس، کبڈی کا میدان ہو یاکوئی بھی مقابلہ ،حوالدار ظہور احمد کے سامنے کھڑا farzshanas1i.jpgہونا ایک چیلنج ہوتا ہے۔ ٹر یننگ کے لحاظ سے ظہور احمد جیسے باہمت اور پُر جوش جوان کم کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔


جب96 میڈیم ائیر دیفنس آ پریشن المیزان پر جانے کے لئے سخت ٹر یننگ کے مراحل سے گزر رہی تھی تو اس دوران حوالدار ظہور احمد نے بھی بڑے جذبے اور لگن کے ساتھ ا س ٹر یننگ میں بڑھ چٹرھ کر حصہ لیا تاکہ جب مادرِ وطن کو کوئی خطرہ درپیش ہو تووہ اس کی بھرپور حفا ظت کر سکے۔


یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب حوالدار ظہور احمد اپنی یونٹ کے ساتھ آ پر یشن المیزان سوات میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ وہ 30اپریل 2014کو پانچ جوانوں کے ساتھ معمول کی گشت پر تھے۔ گشت کے دوران انہوں نے چار باغ کے علاقے سے گزرتے ہوئے ایک ڈبل سٹوری کلینک میں سے عورتوں اور بچوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنیں۔ خطرے کو بھانپتے ہو ئے حوالدار ظہور احمد نے تین سپاہیوں کو عمارت کے باہر پو ز یشن سنبھالنے کو کہا اور خود سوار عمر حنیف کے ساتھ تیزی سے عمارت میں داخل ہوا ، اندر داخل ہوتے ہی حوالدار ظہور احمد نے دیکھا کہ اندرایک خود کش حملہ آور موجود ہے ۔ جس نے عورتوں اور بچوں کو آدھے گھنٹے سے یرغمال بنا یا ہوا ہے۔ حملہ آور کا ٹارگٹ وی ڈی سی ممبر ڈاکٹر فاروق تھے۔ جو کہ اپنے کلینک میں موجو د تھے اورحملہ آور سے دست و گریباں تھے۔ حوالدار ظہور احمد صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنی جان کی پروا کئے بغیر سوار عمر حنیف کے ساتھ مل کر خود کش حملہ آور پر جھپٹے اور خود کش حملہ آور پر قا بو پاتے ہوئے وہا ں موجود عورتوں اور بچوں کومحفوظ راستے سے نکا لنے کے عمل کو بخوبی انجام دیا۔ یرغمال افراد کے محفوظ مقام پر پہنچتے ہی حوالدا ر ظہور نے سیٹرھیوں سے چھلانگ لگاکر آڑلی۔ جس کے چند لمحوں بعد ہی خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑا لیا۔


حوالدار ظہور کی موقع شناسی اور بے باک قیادت اور جرأت مندانہ عمل سے بہت سی قیمتی جانیں بچ گئیں۔ حوالدار ظہور احمد کی ثابت قدمی اور پامردی نے خود کش بمبار کے نا پاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔ اس جرأت و بہادری اور شاندار کارکردگی کی بناپر 96 میڈیم ائیر ڈیفنس رجمنٹ کے اس بہادر سپوت حوالدار ظہور احمد کو حکو مت پا کستان کی جانب سے23 مارچ 2016کو ستارۂ بسالت سے نوازا گیا ۔یہ نڈر غازی آج بھی اسی جوش و ولولے کے ساتھ اپنی یونٹ میں خدمات سر انجام دے رہا ہے اور یونٹ میں موجود تمام جوانوں کے لئے ہمت ، بہادری اور بلند مورال کی جیتی جاگتی تصویر اور عملی نمونہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
August

تحریر: سمیع اﷲ سمیع

سرحدیں دل کی ہوں یا دنیا کی، کبھی ایک سی نہیں رہتیں ۔ پیہم تبدیلی ہی زندگی کی دلیل ہے۔ لفظ تقسیم برا بھی ہے اوراپنے تئیں اچھا بھی ہے۔کانگریسی صدراورسابق بھارتی وزیرداخلہ سردارپٹیل واشگاف الفاظ میں اقرارکرتے تھے کہ اگر دوبھائیوں کے مابین جھگڑا ختم نہ ہورہاہوتو تقسیم یقینی ہوتی ہے اوریہ فطری عمل ہے۔درحقیقت بروقت اورمبنی برانصاف تقسیم ہی کدورتوں کوروکتی ہے لیکن افسوس کہ ماؤنٹ بیٹن کی سرکردگی میں ریڈکلف ایوارڈ کھلی بددیانتی کی ایک پُرسوز تصویر ہے جس کی سزا آج بھی آسام،انبالہ اورجالندھر کے مسلمان بھگت رہے ہیں۔ بھارت اس بدبختانہ اندازِتقسیم پرخوش تھا، اس لئے اس کے رہنمانے ماؤنٹ بیٹن کو خراج تحسین پیش کیا وگرنہ قائداعظم کے الفاظ تھے کہ انہوں نے کٹا پھٹا پاکستان بھی قبول کیا کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔گزشتہ ماہ جناب عبدالستاراعوان نے ہلال ہی کے صفحات پر جب آسام میں مسلمانوں کی حالتِ زار تحریرکی تو بلاشبہ کیبنٹ مشن پلان کی کیٹیگری ’’بی‘‘میں آسام وبنگال کی ایک ہی گروپ میں شمولیت کی برطانوی رائے یادآگئی۔جسے کانگریس جیسی ’’قومیت ‘‘کاپرچارکرنے والی تنظیم نے اس لئے ردکردیاکہ اس سے اس علاقے میں ہندوؤں کے اثرورسوخ میں کمی ہوگی ۔حالانکہ وقت نے ثابت کیاہے کہ محمد علی جناح کاموقف درست تھا۔


برصغیرکی تقسیم کی بنیادیں جہاں انگریز کی ہندونوازپالیسی میں ملتی ہیں وہیں اس کو کانگریس کی متعصب پالیسی بھی اساس عطاکرتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ محمدعلی جناح نے صلح واتحادکی آخری کوشش بھی کردیکھی لیکن کانگریس کی طرف سے مسلسل تعصب کااظہارانہیں اس بات پرقائل کرگیاکہ وہ مسلم مفادات کاتحفظ ایک علیحدہ مملکت کے طورپرہی کرسکتے ہیں ۔آئیے جنگِ عظیم دوم سے پہلے کے کانگریسی رویے پرنظرڈالتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ مسلم لیگ کی بنیادایک مسلم مملکت کی خواہش پرنہیں بلکہ مسلمانوں کے تحفظات پررکھی گئی ۔تحریک خلافت میں کانگریس کی بے وفائی ،لکھنوپیکٹ 1916کوپسِ پشت ڈالنااوردیگر متعصبانہ رویے بالآخر محمد علی جناح کو اس مقام پر لے آئے کہ ’’دسمبر1920میں کانگریس کے ناگپورکے اجلاس میں محمد علی جناح نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرلی‘‘۔ 1935کے گورنمنٹ آف انڈیاایکٹ کے تحت صوبائی خودمختاری تودی گئی لیکن گورنروں کویہ خصوصی اختیارات دیئے گئے کہ وہ ایمرجنسی کانفاذکرسکتے ہیں اوراس کے بعد اختیارات پر مکمل قبضے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا۔لیکن آزادئ ہند میں یہ قانون بھی ایک اہم پیش رفت سے کم نہ تھا۔اس کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات میں کانگریس کو ہندوستان کے بڑے صوبوں میں مکمل اکثریت ملی ،چارصوبوں میں وہ اکیلی سب سے بڑی پارٹی تھی جبکہ پنجاب اورسندھ میں اس کادامن نہیں بھرا۔ان انتخابات نے اقلیتوں کے متعلق کانگریس کے کھلم کھلا دعوؤں کوبے لباس کردیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب
India Wins Freedom
کے صفحہ نمبرستائیس پررقم طراز ہیں کہ’’مجھے رنج کے ساتھ یہ اعتراف کرناہے کہ بہار اور بمبئی،دونوں میں کانگریس اپنی قومیت کے امتحان میں پوری طرح سرخرو نہیں ہو سکی۔‘‘
مولانا رقم طراز ہیں کہ ’’کانگریس کافروغ ایک قومی تنظیم کے طورپرہوا تھا اور اسے یہ موقع فراہم کیا گیا تھا کہ مختلف فرقوں کے لوگوں کی قیادت کرسکے۔ چنانچہ ممبئی میں مسٹرنریمان مقامی کانگریس کے مسلمہ لیڈرتھے۔جب صوبائی حکومت کی تشکیل کاسوال اُٹھا،تو عام توقع یہ تھی کہ اپنے مرتبے اورریکارڈ کی بناپرمسٹرنریمان سے قیادت سنبھالنے کوکہاجائے گا۔اس کابہرنوع،یہ مطلب ہوتاکہ کانگریس پارٹی کے اراکین میں اگرچہ ہندوؤں کی اکثریت ہے لیکن ایک پارسی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ سردارپٹیل اوران کے ساتھی اس صورت حال کوقبول نہیں کر سکے اورانہوں نے سوچاکہ اس اعزازسے کانگریس کے ہندو حمائتیوں کو محروم کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔چنانچہ مسٹربی جی کھیرسامنے لائے گئے اورانہیں بمبئی میں کانگریس اسمبلی پارٹی کالیڈرمنتخب کیاگیا۔‘‘

(صفحہ 27,28انڈیاونز فریڈم)
دکھ اس بات کاہے کہ نریمان جو کہ ایک قابل لیڈرتھے انہوں نے جب صدرکانگریس کو ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پرمطلع کرنا چاہا توکشمیریوں کے قاتل جواہرلعل نہرو نے ان کی دادرسی کرنے کے بجائے سب کے سامنے ڈانٹ دیا۔اس کے بعد تفتیشی کمیٹی بنائی گئی جسے اس طرح ترتیب دیاگیاکہ سردارپٹیل بے گناہ ثابت ہوئے بالکل اسی طرح جس طرح آج احمدآباد، گجرات اورآسام کے قاتل بالآخربے گناہ ثابت ہورہے ہیں ۔وقت بدلاہے لیکن متعصب برہمن کی سوچ اورچال نہیں بدلی۔


اسی طرح بہارمیں بھی کانگریس کے مرکزی سطح کے مسلم رہنماسے ان کا حق چھین کرہندورہنما کودیاگیا۔ڈاکٹرسیدمحمودنہ صرف صوبہ بہارکے سب سے بڑے لیڈر تھے بلکہ آل انڈیاکانگریس کمیٹی میں جنرل سیکرٹری کے عہدے پربھی فائز تھے۔ مولانارقم طراز ہیں’’ڈاکٹرسیدمحمود کوصوبے کے اندربھی ایک حیثیت حاصل تھی اور باہربھی۔ کانگریس کو جب مکمل اکثریت حاصل ہوئی تو یہ سمجھ لیا گیا کہ صوبائی خودمختاری کے تحت ڈاکٹرسیدمحمود کولیڈرچن لیاجائے

 

گااوربہارکاوزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا۔ اس کے برعکس ہوا یہ کہ شری کرشن سنہا اورانوگرہ نارائن سنہا، جو مرکزی اسمبلی کے اراکین تھے ،انہیں بہارواپس بلالیاگیااوروزارت اعلیٰ کے لئے تیار کیا جانے لگا۔۔۔ڈاکٹرراجندر پرساد نے بہارمیں وہی کردار ادا کیا جو سردار پٹیل نے بمبئی میں کیاتھا۔‘‘ان دوواقعات پر ہم خود تبصرہ کرنے کے بجائے بہتر ہو گا کہ مولاناکے اسی صفحہ اُنتیس پرموجود الفاظ من وعن تحریر کردیں، بقول مولانا ابوالکلام آزاد صاحب ’’ان دوواقعات نے اس زمانے میں ایک بدمزگی پیداکی۔ پیچھے مُڑکر دیکھتا ہوں تو یہ محسوس کئے بغیرنہیں رہ سکتاکہ کانگریس جن مقاصد کی دعوے دارتھی ان پر عمل پیرانہیں ہو سکی۔‘‘اسی طرح بنگال میں کانگریسی رہنما مسٹرداس نے مسلمانوں کے لئے ریزروسیٹس (مخصوص کوٹے) کی کوشش کی کیونکہ وہاں مسلم تعدادمیں زیادہ ہونے کے باوجود سرکاری ملازمتوں سے محروم تھے اورتجارت پر بھی ہندوؤں کاقبضہ تھا لیکن ان کے انتقال کے بعد کانگریس نے تعصب پسند ی کاثبوت دیتے ہوئے ان کے احکامات کو رد کردیا۔اس مقام پر ایک سادہ لوح انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ جس تنظیم میں اس کے مرکزی وصوبائی رہنماؤں کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیا جائے،جہاں لیڈرکی وفات پر پالیسیاں یوٹرن لے لیں وہاں عام آدمی کی کیا اوقات رہ جاتی ہے۔


اب ہم ان حالات کی جانب آتے ہیں، جنھوں نے حکومتِ برطانیہ کو مجبورکیا کہ وہ ہندوستان کی آزادی اورمسلم لیگ کا تقسیمِ ہندکافارمولا قبول کریں۔
جاپان پر ایٹم بم گرانے کے بعدامریکہ اپنے آپ کو دنیا کاٹھیکیدارسمجھنے لگا اور اپنے بے بنیادظلم کے لئے بے ڈھنگے دلائل کی بھرمارکردی لیکن غیرجانب دار تجزیہ نگاروں نے جہاں پہلے جرمنی کے ’’زہریلی گیس‘‘کے استعمال کی مخالفت کی تھی وہیں امریکہ کی اس بہیمانہ کارروائی کو بھی رد کیا۔خود امریکی عوام نے اسے مسترد کر دیاکیونکہ وہ جانتے تھے کہ جاپان توپہلے ہی آبرومندانہ شکست کی درخواست دے چکا ہے گوکہ وہ کسی مجبوری کی بناپرواپس لے لی گئی لیکن اس سے جاپان کے پیچھے ہٹتے قدم صاف دکھائی دینے لگے تھے ۔2ستمبر 1961کو اکانومسٹ اخبارنے لکھاکہ’’ایٹم بم کے استعمال کو امریکیوں نے مسترد کر دیا۔‘‘روس کوجرمنی کے خلاف استعمال کرنے والے اب مشرقی یورپ میں اس کے بڑھتے ہوئے اقدام سے خوفزدہ تھے اورایٹم بم کے نشے میں بدمست ہوئے جارہے تھے کہ روسی اخبار نے ان کے دعووں کو چیلنج کردیا۔جناب زاہد چودھری اپنی کتاب ’’پاکستان کیسے بنا؟‘‘جلداول میں روسی جریدے نیوٹائمز کی ستمبر1945کی اشاعت کا حوالہ دیتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ’’امریکی پریس کے اس تاثر کو رد کر دیا گیا کہ امریکہ نے ایٹم بم کے استعمال کی دھمکی سے پوری دنیاپرغلبہ پا لیا ہے۔ جریدے نے انتباہ کیاکہ بہت جلد دوسری اقوام بھی اتنی ہی قوت کا ہتھیارایجاد کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔‘‘

(صفحہ 43جلداول ’ پاکستان کیسے بنا؟‘ )
امریکی اتنے بدمست ہوئے کہ امریکی سفیرنے یہاں تک کہہ دیاکہ اگرروس بات نہ مانے تو ایٹم بم سے اُڑادیاجائے۔

(نیویارک ٹائمز24مارچ 1946)
محکوم طبقوں کی جانب سے پہلے پہل چین کے ماؤزے تنگ نے محکوم اقوام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ ’’ایٹمی قوت سے خوف نہ کھاؤ‘‘

(دی ٹائمز 25ستمبر1946)
اسی طرح سامراج کے ایک پٹھوسیاسی رہنما نے ویت نام میں خودکشی کرکے عوام کے جذبۂ حریت کواُبھارا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی خواہش تھی کہ برطانیہ کوچ کرجائے ،اسی طرح ایران کی تیل کی دولت پر بھی امریکہ خودہاتھ صاف کرناچاہتاتھا۔برطانیہ جو جنگِ عظیم دوم کی وجہ سے معاشی ابتری کاشکارتھا، روزبروز اس کی معیشت کمزورہوتی جارہی تھی ۔ڈیڑھ کروڑ مربع میل پر پھیلے برصغیرکے چالیس کروڑعوام اب اسے ویسے بھی نہیں بھاتے تھے کہ جنگ میں برصغیرکی دولت خرچ ہونے کی وجہ سے اب یہ برطانیہ کے لئے سفید ہاتھی کاسادرجہ رکھتاتھا، ادھرامریکہ بھی روزبروزہندوستان کی آزادی کے لئے دباؤ بڑھارہاتھا۔زاہد چوہدری لکھتے ہیں کہ جنگ کے دوران برطانیہ کے پینتالیس لاکھ میں سے بیس لاکھ مکانات مکمل تباہ ہوگئے۔املاک کے نقصان کا تخمینہ آٹھ ارب اسی کروڑ ڈالرلگایاگیا۔16 جولائی 1945ء کو رجسٹرشدہ بے روزگارمردوں کی تعداداکہترہزارآٹھ سوسولہ تھی۔16جولائی کوبے روزگار عورتوں کی تعدادچالیس ہزارانیس تھی۔ہندوستان کے وائسرائے لارڈویول نے بائیس لاکھ پچاس ہزارٹن گندم کامطالبہ کیاتھا۔جسے پوراکرنے کے لئے امریکہ اورآسٹریلیاسے گندم درآمدکرناپڑی۔22 فروری 1947ء کو برطانوی وزارتِ محنت ونیشنل سروس کے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق بے روزگارافراد کی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔مارچ 1947ء میں خسارے کی توقع پینتیس کروڑ پونڈ تھی جسے پوراکرنے کے لئے پھرامریکہ سے قرض کی بھیک مانگی گئی۔


ایسے حالات میں جب جولائی 1945کے انتخابات ہوئے تو برطانوی پبلک نے ’’امراء‘‘کی جماعت کہلوانے والی کنزرویٹوپارٹی کے بجائے ’’لیبرپارٹی‘‘ کو منتخب کیا۔جب چھبیس جولائی کونتائج کااعلان کیاگیاتو لیبرپارٹی 412نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ کنزرویٹو213 نشستیں لے کردوسرے اورلبرل بارہ نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبرپررہی۔لیبرپارٹی کی جیت میں جہاں بے روزگاری ومہنگائی کے نعروں نے اہم کرداراداکیاوہیں ’’عظیم برطانیہ‘‘کی سلطنت میں سورج غروب کرنے کے لئے اس کی پالیسی کوسراہاگیاتاکہ مفلوک الحال برطانیہ وسیع سلطنت کے بوجھ سے چھٹکاراپاسکے۔


بارہ مئی 1946 کے نیویارک ٹائمز کے بقول مشرق وسطیٰ اورہندوستان کی آزادی میں یہ رکاوٹ تھی کہ یہاں سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے سائے برطانیہ کو مجبورکررہے تھے کہ ان علاقوں پراپناقبضہ برقراررکھے۔یہی وہ دورہے جہاں سے روس اورامریکہ کی چپقلش کاآغازہوتاہے۔کیونکہ جنگ سے زخمی عوام کا جھکاؤ کارل مارکس کے پیش کردہ نظریات کی جانب بڑھناایک فطری امرتھا۔اسی اثناء میں کانگریس نے اپنی تنظیم سے کمیونسٹ افرادکونکال کربرطانوی حمایت حاصل کرلی۔


جون 1945 میں شملہ میں جوکانفرنس ہوئی اس میں لارڈ ویول کی پیش کردہ تجاویزکے مطابق یہ طے پایاکہ نئی ایگزیکٹوکونسل میں پانچ ہندو،پانچ مسلم،ایک اچھوت اورایک سکھ کونمائندگی دی جائے گی۔اس ضمن میں مسلم لیگ کامطالبہ تھاکہ مسلمانوں کونامزدکرنے کااختیارمسلم لیگ کوہوناچاہئے لیکن کانگریس اپنی مکاری کے تحت یہ چاہتی تھی کہ مسلمان ارکان نامزدکرکے وہ مسلمانوں کی لیگ کی جانب جھکاؤ کی پالیسی کارخ موڑلیں گے مگرجناح جیسے مضبوط اورنڈرشخص نے ان کی اس خواہش کوعملی جامہ نہ پہننے دیا۔ ویول کاارادہ یہ تھاکہ ان پانچ کے چناؤ میں یونینسٹ اورکانگریس کو بھی شامل کیاجائے ،ظاہرہے اس طرح مسلم لیگ کی نمائندگی محدود ہوجاتی ۔کانگریس نے اپنے نامزدممبران کی جوفہرست لارڈویول کی جانب بھیجی اس کی بنیادپر30 مارچ 1946 کے نیویارک ٹائمزکے مطابق لارڈویول نے کہاکہ’’مسلم لیگ حق بجانب تھی، کونسل میں کانگریس کوغلبہ حاصل ہوجاتا‘‘۔14 جولائی کو بحث وتمحیص کے بعدبالآخریہ کانفرنس بھی اپنی اہمیت کھوبیٹھی۔گاندھی جی نے کہاکہ مسلم لیگ اورکانگریس کے مابین کبھی بھی تصفیہ نہ ہو سکے گا۔مولاناآزاد اورگاندھی کی خواہش تھی کہ لیگ کونظراندازکرکے برطانیہ کوآگے بڑھ جاناچاہئے لیکن برطانیہ کے لئے جناح جیسے آہنی بشر سے ٹکرلینا اتنا آسان نہ تھا۔


شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد اگست 1945 میں دہلی میں گورنروں کااجلاس ہوا۔جس میں نئی ایگزیکٹوکونسل کے لئے مرکزی اسمبلی کے انتخابات 1945کے اواخراورصوبائی اسمبلیوں کے 1946کے شروع میں منعقد کروا دیئے گئے۔گورنرپنجاب گلانسی انتخابات کی آخرتک، اس لئے مخالف کرتے رہے کہ انہیں علم تھاکہ پنجاب میں یونینسٹ اورکانگریس ہارجائیں گی۔بقول ویول اگرچہ دونوں جماعتیں 1946 کے انتخابات میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ تھیں لیکن کانگریس اس بار اتنی پرجوش نہیں تھی‘‘(بحوالہ : پاکستان کیسے بنا؟ مصنف:زاہد چودھری )
وزیرہند پیتھک لارنس،
Pethick Lawrence
ویول اورکانگریس انتخابات کواس لئے بھی ملتوی کرنا چاہتے تھے کہ کسی طرح پنجاب کے اضلاع جالندھر اورانبالہ میں مسلمانوں کوخوف دلا کرمسلم لیگ کے خلاف کیاجاسکے ۔لیکن برطانوی کابینہ نے ویول کو20 اگست کو تاربھیجااور21اگست کوویول نے انتخابات کااعلان کردیاجس میں سوائے کے پی، کے موجودہ پاکستان میں مسلم لیگ اپنالوہامنوانے میں کامیاب ہوگئی۔
کیبنٹ مشن23 مارچ 1946 کو ہندوستان پہنچاجس میں سرسٹیفرڈکرپس
(Stafford Cripps)
بھی شامل تھے۔سولہ مئی کو کیبنٹ مشن نے اپنی اسکیم شائع کی۔ جس کے تحت دفاع،بیرونی معاملات،اورذرائع رسل ورسائل مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی تجویزپیش کی گئی۔کیبنٹ مشن نے ہندوستان کو تین حصوں میں تقسیم کیا، اے،بی اورسی۔ ایسا اقلیتوں کے تحفظات دورکرنے کے لئے کیاگیا۔سیکشن بی میں پنجاب ،سندھ،شمالی مغربی سرحدی صوبہ(اب کے پی) اوربرطانوی بلوچستان کو شامل کیاگیا۔سیکشن ’’سی‘‘میں بنگال اورآسام شامل ہوئے، ایسا اس لئے کیا گیا کہ یہاں مسلم اقلیت کوتحفظ دینامقصودتھا،اس طرح سے یہاں مسلمان اکثریت میں آجاتے۔ اس میں مسلم اکثریتی صوبوں کو خودمختاری کی ضمانت دی گئی تھی اوراگرکوئی حصہ چاہتاتوبعدمیں الگ ہو سکتا تھا۔ مسلم لیگ نے اسے منظور کر لیا لیکن کانگریس اپنی ضدپراڑی رہی کہ آسام کو الگ کیاجائے ۔


کیبنٹ مشن پلان کی منظوری میں مولانا ابوالکلام آزادکے بقول ان کی محنت شاقہ شامل تھی۔لیکن کانگریس کے صدرکی تبدیلی نے صورت حال بدل دی۔ مولانا آٹھ سال صدررہنے کے بعد مستعفٰی ہوئے اورپھرجواہرلعل نہروکوصدرمنتخب کر لیا گیا۔ 6 جولائی کو کانگریس نے کیبنٹ مشن پلان کو منظورکیا تو سرسٹیفرڈ کرپس
(Stafford Cripps)
اور پیتھک لارنس نے مولانا کو مبارک باددی لیکن یہ ساری صورتحال کانگریس کی باگ ڈورایک ہندوصدرکے ہاتھ میں آنے سے یکسربدل گئی۔ 10جولائی کو یعنی مشن کومنظورکرنے کے فقط چاردن بعد بمبئی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے جواہرلعل نہروسے جب یہ سوال کیاگیا کہ ’’کیا اے۔ آئی۔ سی۔ سی کے ذریعہ قراردادکے منظورکرلئے جانے کے ساتھ کانگریس نے پلان کو،بشمول انٹیرم حکومت کی تشکیل کے ،جوں کا توں قبول کرلیاہے۔جواب میں نہرونے کہاکہ دستورسازاسمبلی میں کانگریس یوں شامل ہو گی کہ ’’سمجھوتوں سے یکسرآزادہوگی اوروہ تمام حالات جو رونما ہوسکتے ہیں، ان کا سامنا اپنی مرضی کے مطابق کرے گی‘‘

(صفحہ 204آزادی ء ہندمولاناآزاد۔)
اسی موقع پر ایک اورسوال کے جواب میں کانگریسی ذہنیت کھل کرسامنے آگئی جب صحافیوں نے پوچھاکہ کیاکیبنٹ مشن پلان میں بعدمیں کوئی تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے تو نہروصاحب نے جواب دیاکہ ’’کانگریس اپنے آپ کو آزاد سمجھتی ہے اس کے نزدیک جو مناسب ترین صورت ہوا اسی کے مطابق کیبنٹ مشن پلان کو تبدیل کردے یااس میں ترمیم کر دے۔‘‘اس کارد عمل لازمی تھالہٰذامسلم لیگ نے 27 جولائی کے اجلاس میں تین دن کی کارروائی کے بعد مشن کومسترد کیا اور پاکستان کے حصول کے لئے ڈائریکٹ ایکشن پراترآنے کافیصلہ کیا۔


ڈائریکٹ ایکشن کے نتیجے میں متعصب ہندوانتقامی کارروائی پراترآئے اور کلکتہ سمیت ملک بھرمیں قتل وغارت ہوئی ۔اس ضمن میں مولاناآزادلکھتے ہیں ’’یہ ہندوستانی تاریخ کے بد ترین المیوں میں سے ایک تھا اورمجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہناپڑرہاہے کہ ان واقعات کی ذمہ داری کا ایک بڑاحصہ جواہرلعل نہروکے سرجاتاہے ۔ان کے اس بدبختانہ بیان نے کہ کانگریس کیبنٹ مشن پلان میں ترمیم کے لئے آزا د ہو گی سیاسی اورفرقہ وارانہ سمجھوتے کے پورے سوال کوپھرسے کھول دیا۔‘‘یہ وہ واقعات ہیں جو اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ برصغیرکی تقسیم قائداعظم محمد علی جناح نے ناگریز طورپرکی ۔لکھنؤ پیکٹ سے لے کرشملہ کانفرنس اورکیبنٹ مشن پلان تک کسی بھی موڑ پر کانگریس نے مسلمانوں کے مفادات کوزک پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیااوراس ضمن میں دوسری اقلیتوں کوبھی معاف نہ کیا۔


متحدہ ہندوستان کی ترجمان کانگریس پاکستان کے نظریے سے اس قدر خائف تھی کہ اس نے پاکستان بننے