13
June
جون 2017
شمارہ:6 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ملکی دفاع کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہوا کرتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اگر کوئی ریاست دفاعی اعتبار سے کمزور ہو اور اس کی سپاہ اس قابل نہ ہو کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے تو پھر ایسی ریاست کی سالمیت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام نے معاشرت اور سماجی اعتبار سے ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی لائن کو بھی....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس کے باوجود بہتر نہیں ہوپارہے کہ دونوں ممالک کو نہ صرف ایک جیسے حالات خصوصاً دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ ان کے درمیان بہتر تعلقات علاقے اور خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ حال ہی میں جب لندن اجلاس کے تناظر میں طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے رابطے بحال ہونا شروع ہوگئے تو پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ایک....Read full article
 
 alt=
تحریر: حماس حمید چودھری
206 قبل مسیح میں ہان خاندان چین میں برسر اقتدار آیا۔ہان خاندان کی چار سو سالہ حکومت چین کی معاشی تاریخ میں سنہرے دور کے طور پر یاد کی جاتی ہے کیونکہ ہان خاندان نے تاریخ میں پہلی بار ایشیا کو افریقہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی مقاصد کے لئے براہ راست جوڑنے کا سوچا اور پھریہی سوچ بنیاد بنی شاہراہ ریشم کی۔ اس قدیم شاہراہ ریشم(سلک روڈ) کی....Read full article
 
تحریر: محمود شام
قلم کا قرطاس سے‘ذہن کا انگلیوں سے‘ سوچ کا تحریر سے رشتہ جوڑتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے‘ مگر ایسا انتشار‘ ایسی انارکی اور بے یقینی کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ اتنی تشویش محسوس کی تھی۔ہر جانے والا دن‘ ہر ڈوبنے والا سورج بہت سی اُمیدیں لے کر ڈوب جاتا ہے۔ آرزوئیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ اتنی شدت پسندی پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کی تھی۔ مذہبی ....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہونے والی امریکہ ،عرب اسلامی سربراہی کانفرنس اپنی نوعیت کے حوالے سے ایک منفردکانفرنس تھی، کانفرنس کے کیانتائج برآمد ہوں گے ،یہ آنے والاوقت بتائے گا۔ حیرت کی بات ہے امریکی صدر کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں نظر نہ آئیں ،انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کوفروغ دینے والے بھارت کودہشت گردی سے متاثرہ ملک قراردے دیا۔اس کانفرنس سے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں دانشوروں کا ایک ایسا منظم گروہ متحرک ہوگیا ہے جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے بارے میں شکوک و شبہات اور کنفیوژن پیدا کررہا ہے بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کررہا ہے۔ ان کے ایجنڈے کا ایک اہم نقطہ قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا ہے تاکہ پاکستان کی اسلامی ثقافت پر سیکولرازم کا غلاف چڑھایا جاسکے۔ ان حضرات کو قائداعظم کی سیکڑوں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
بھارت کا دفاعی بجٹ یکم فروری2017 کو پیش کیاگیا۔ اس سال 359,854کروڑ روپے وزارتِ دفاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجودبھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ سوال بدستور موجود تھا کہ کیا مختص کی گئی رقم ملک کی سکیورٹی کے لئے کافی ہے؟ دوسرے الفاظ میں اتنی بڑی رقم کے باوجود بھارت کی خود ساختہ دفاعی ضروریات مکمل نہیں ہورہی ہیں۔ حالانکہ اس سال دفاعی.....Read full article
 
تحریر : صبا زیب
رویے جب شدت اختیار کرنے لگ جائیں تو انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے بھی اعتدال اور میانہ روی کو زندگی کے ہر معاملے میں پسند کیا ہے۔ جب ہم اپنے رویوں میں شدت پسند ہوجاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہماری زندگی میں بے چینی آجاتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے بھی اس سے....Read full article
 
تحریر: میجر مظفراحمد
دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دینے والے ملک اور خطے میں امن کے خواہاں پاکستان کو اس کی مردم شماری کی مہم کے دوران 5مئی 2017 کو ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تناؤ دراصل کوئی نیا واقعہ نہیں تھا بلکہ پس منظر میں پاک افغان بارڈر تناؤ کی صورت میں پوشیدہ تلخ تاریخ کا شاخسانہ تھا۔ قومی فریضے کی انجام دہی کے لئے مردم شماری کے دوسرے....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
رات کا وقت فوجی کارروائیوں کے لئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے کیونکہ رات کی تاریکی میں دشمن کے خلاف سرپرائز حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر فوجی تربیت میں رات کے وقت آپریٹ کرنے پرخصوصی توجہ دی جاتی ہے اور عسکری مشقوں کے دوران بھی فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے لئے زیادہ تر رات کے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔آجکل تو ایک سے....Read full article
 
تحریر: خدیجہ محمود
جس طرح ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ اسی طرح میری نظر میں پاک فوج سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ سپاہی ہو یا جرنیل آسمانِ شجاعت کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس کے سینے پر کسی نہ کسی قربانی کا تمغہ سجا ہوا ہے اور وہ قربانی صرف دفاعِ وطن کے مقدس فریضہ کے دوران رتبۂ شہادت پر فائز ہونے کی ہی نہیں بلکہ خون کو جماتی ہوئی سیاچن گلیشیر جسے برف کا صحرا.....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
بھارت کا جنگی جنون اور خطے میں برتری کی شدید خواہش ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں بھارتی ایئر فورس کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پہلی بار اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے بارہ ہزار سے زائد افسروں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہیں کسی بھی وقت کسی بھی چیلنج کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اخبارات کو اس خط کی اطلاع پہنچی تو زیادہ تر ماہرین نے اسے.....Read full article
 
تحریر: عفت حسن رضوی
تحریر کو پڑھنے سے پہلے وہ قارئین جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے ذرا گوگل سرچ کریں "بیتھنی موٹا" ، اکیس سالہ امریکی ویب اسٹار جو وڈیو بلاگر ہے ، اس وقت یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد فالوئرز رکھتی ہے جو کسی بھی عالمی سیاسی لیڈر یا ہالی وڈ اسٹار سے زیادہ ہیں ، بیتھنی نہ کوئی اداکارہ ہے نہ کسی سیاسی شخصیت کی بیٹی اور نہ ہی کوئی علمی ادبی پس منظر۔ بیتھنی نے دوہزار نو میں جب وہ.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
میں آپ کو ذرا تھر یعنی سندھ کے اُس علاقے میں لئے چلتا ہوں جو غربت کے اعتبار سے سندھ کے 29 اضلا ع میں آخری نمبروں پرآتا ہے ۔ مگر یقین کیجئے کہ ہفتے بھر پہلے تھر جانا ہوا تو پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اور برسوں کا مطلب روایتی طور پر دہائیاں نہیں حقیقتاً دسمبر 2017 میں سندھ اینگروکول اینڈ پاور پروجیکٹ کے چیف ایگزیکٹیوشمس الدین احمد شیخ کے....Read full article

تحریر: یاسر پیرزادہ
کتنا اچھا ہو اگرآپ کی زندگی میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ ہو!آپ کی جنم پرچی سے لے کر ایم اے کی سند تک اور پنگھوڑے میں انگوٹھا چوسنے کی تصویر سے لے کر شادی میں دودھ پلائی کی تصویر تک ہر شے ایک پرفیکٹ طریقے سے........Read full article
 
26مئی 2017کو اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائداعظم یونیورسٹی میں مذہبی برداشت و ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس میں جید علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر متفقہ فتویٰ اور اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر ملک کے.....Read full article
 
تحریر: موناخان
ہمالیہ کے پہاڑوں کا دور تک پھیلتا ہوا سلسلہ۔۔ سفید ماؤنٹ ایورسٹ جس کو سر کرنے کے لئے ہزاروں کوہ پیما نیپال کا سفر کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا نیپالی نام ’ساگرما تھا‘ ہے۔ ارے نہیں ایسا مطلب بالکل بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ۔ ہم نیپال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ کھٹمنڈو اور لمبینی کی سڑکوں پر خوار ہونے گئے تھے۔ خواری بھی ایسی جس میں دل راضی تھا.....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر 1965 کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے میں 16ستمبر کو ریکارڈ ہونے والے ملی نغمے کی کہانی بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ دشمن کا یہی پراپیگنڈہ تھا کہ یہ نغمے پاکستان نے پہلے سے تیار کر رکھے تھے۔ مگر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ نغمے....Read full article
 
تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع
ماہِ رمضان درحقیقت رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہے ، اس میں خزاں کے پتوں کی طرح گناہ جھڑتے اور موسم بہار کی طرح خیر و بھلائی کی تازہ کونپلیں پھوٹتی ہیں ،مغفرت کی ہوائیں چلتی اور رحمت کی پھوار برستی ہے ، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا پھل جنت ہے ، یہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ، اس میں نوافل کا ثواب فرضوں جتنا.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرہما میر
وقت کا پہیہ تیزی سے گھومے جارہا ہے‘ دن ہفتوں میں‘ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ 24 گھنٹے اتنے جلدی کیسے گزر جاتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں تو لگتا تھا دن بہت لمبے ہوتے ہیں‘ صبح سکول جانا‘ دوپہر میں گھر واپس آکر ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانا‘ پھر ذرا آرام کرنا۔ سہہ پہر میں ٹیوشن پڑھنا....Read full article
13
June

تحریر: ڈاکٹرہما میر

وقت کا پہیہ تیزی سے گھومے جارہا ہے‘ دن ہفتوں میں‘ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ 24 گھنٹے اتنے جلدی کیسے گزر جاتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں تو لگتا تھا دن بہت لمبے ہوتے ہیں‘ صبح سکول جانا‘ دوپہر میں گھر واپس آکر ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانا‘ پھر ذرا آرام کرنا۔ سہہ پہر میں ٹیوشن پڑھنا‘ ہوم ورک کرنا‘ پھر شام میں گھر سے باہر جاکرکھیلنا‘ رات کا کھانا کھانا اور پھر مزے سے سو جانا۔ اس دوران گھومنا پھرنا اور رشتہ داروں کے گھر ملنے جانا بھی ہوتا تھا۔ سب کچھ کتنی جلدی بیت گیا۔ بچپن میں خواہش تھی کہ بس جلدی سے بڑے ہو جائیں‘ جلدی سے تعلیم کا سلسلہ مکمل ہو اور پھر زندگی میں بس آرام ہی آرام ہو۔


کیا خبر تھی کہ اصل زندگی تو وہی تھی‘ وہی بچپن کا سنہری دور تو سب سے خوبصورت تھا جب نہ کوئی فکر تھی نہ پریشانی‘ نہ غم ‘ نہ اداسی‘ نہ کوئی ذمہ داری ‘ نہ کوئی ٹینشن۔ یہ سب عارضے تو اس وقت لاحق ہوتے ہیں جب ہم اپنی عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں‘ صحیح معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجاتا ہے۔


ایسا عموماً سبھی کے ساتھ ہوتا ہے‘ مگرایک خاص طبقہ ایسا بھی ہے جن کے نہ یہ معمولات ہوتے ہیں نہ مسائل‘ یہ وہ اشرافیہ ہے جن کی گھٹی میں صرف مال بنانا ہوتا ہے۔ (میں نے مال کمانا نہیں بلکہ مال بنانا لکھا ہے) ایسے لوگوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں دوسروں کو حقیر فقیر سمجھنا اور خود کو شہزادہ سمجھنا ہوتا ہے۔ یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ انہیں ماں باپ کی وہ توجہ اور محبت نہیں ملتی جو ایک عام آدمی کے بچے کو ملتی ہے۔ لہٰذا ان کی محبت و توجہ کا مرکز صرف پیسہ ہوتا ہے۔ ان کی کردار سازی کی ذمہ داری کسی نے پوری نہیں کی ہوتی اس لئے یہ ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی کے مسائل میں اپنے کنبے کی پرورش کرنا‘ محنت سے روزی روٹی کمانا اور زندگی کی گاڑی کو آبرومندانہ طریقے سے کھینچنا ہوتا ہے۔


جب سے میں کینیڈا آئی ہوں میرے اندر یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ عوام کا کیا حق ہے اور اُنہیں اپنے جائز حقوق سے محروم رکھنا کتنا تکلیف دہ عمل ہے۔ جب میں دیکھتی ہوں کہ یہاں تعلیم و صحت سمیت لوگوں کو بہترین سہولیات حاصل ہیں تو مجھے اپنے سرکاری سکولز اور سرکاری ہسپتال یاد آنے لگتے ہیں‘ میں نے بطورِ ڈاکٹر وطنِ عزیز میں سرکاری ہسپتال میں کام کیا ہے اور مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ وہاں کیا حالتِ زار ہے۔ سکولوں کے حوالے سے بھی حقیقت سب پر عیاں ہے۔ بس جی کُڑھتا رہتا ہے۔ ابھی ہمارے ایک دوست کو عارضۂ قلب لاحق ہوا تو اُنہیں ڈاکٹروں نے بائی پاس آپریشن کا مشورہ دے ڈالا۔ انہوں نے یہاں ونکوور کے ایک مقامی ہسپتال میں اپناآپریشن کروایا۔ میں ان کی عیادت کے لئے ہسپتال گئی۔ ہسپتال کیا تھا کسی سیون سٹار ہوٹل جیسا شاندارماحول تھا۔ مریض کے آپریشن کو دو روز گزر چکے تھے مگر وہ نقاہت کے باعث زیادہ بات چیت نہیں کرپا رہے تھے‘ ان کی بیگم نے بتایا کہ آپریشن کے بعد پانچ چھ دن ہسپتال میں رکھتے ہیں پھر چھٹی مل جائے گی۔ اب گھر پر دو مہینے آرام کریں گے۔


کینیڈا کے ہسپتال میں سٹریچر بھی ہیں اور مناسب بستر بھی‘ لہٰذا مریضوں کو ٹھنڈے فرش پر لٹا کے مارنے کا بھی کوئی واقعہ درپیش نہیںآیا۔ ڈاکٹروں کی تنخواہ لاکھوں کروڑوں میں ہوتی ہے جس وجہ سے ڈاکٹر بڑے خوشحال ہیں۔ جب میں نے ڈاکٹری مکمل کی تو ایک ہسپتال میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے گئی‘ انہوں نے کہا چار ہزار وپے ماہانہ میں آپ کام شروع کردیجئے‘ میں نے بتلایا جناب اس سے دُگنی تنخواہ میں اپنے ڈرائیور کو دیتی ہوں‘ انہوں نے کہا تو کیا ہوا ہم اپنے چوکیدار کو 10 ہزارروپے ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں۔ آج اتنے برس بیت گئے مگر وہ کرب میں اب بھی محسوس کرتی ہوں کہ کس طرح عمرِ عزیز کے کئی قیمتی سال پڑھائی میں صرف کرکے اتنی محنت کرکے ڈاکٹر بنی اور پھر تنخواہ کے نام پر ایسی تذلیل ہوئی کہ انسان توبہ کرے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کو اپنا مشن سمجھنے والوں کی ایسی بے قدری کے باعث ہی قابل ڈاکٹر ملک سے باہر جاکر کما رہے ہیں کہ اپنے ہاں گارڈ یا ڈرائیور ان سے زیادہ خوشحال ہیں۔
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
June

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر 1965 کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے میں 16ستمبر کو ریکارڈ ہونے والے ملی نغمے کی کہانی بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ دشمن کا یہی پراپیگنڈہ تھا کہ یہ نغمے پاکستان نے پہلے سے تیار کر رکھے تھے۔ مگر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ نغمے روزانہ کی بنیاد پر حالات و واقعات کی مناسبت سے لکھے گئے اور پروڈیوس ہوئے ہیں تو دشمن بے حد شرمندہ ہوا۔۔۔ یہ سب کچھ پاکستانی قوم اور پاک فوج کے جذبہ حب الوطنی سے ممکن ہو سکا۔ ایک طرف پاکستانی فوج ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف عمل تھی تو دوسری طرف ریڈیوپاکستان لاہور اپنے ثقافتی محاذ پر دن رات نت نئے نغمے تخلیق کرنے میں مصروف تھا۔


جنگ ستمبر1965 کے دوران پوری قوم کا ایک ہی تبصرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ مختلف محاذوں سے جب ہمیں کامیابی کی اطلاعات ملنی شروع ہوئیں تو پھر میں نے حالات و واقعات سے متاثر ہو کر اس نغمے کا انتخاب کیا۔ ’’اُمید فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو‘‘ یہ نغمہ ہمیں کراچی سے محترم رئیس امروہوی سے موصول ہوا۔ اس نغمے میں فتح کی امید اور مصروف عمل رہنے کی تلقین ہے۔ اس کی کمپوزیشن بھی میں نے اور ملکہ ترنم نور جہاں نے مل کر بنائی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ مجھے دفتر کی جانب سے ایک جیپ اور ڈرائیور ملا ہوا تھا۔ جو مجھے صبح صبح گھر سے لیتا اور پھر میں گلبرگ میں میڈم نور جہاں کو لینے چلا جاتا۔ سارے دن میں نغمے کی تیاری ہوتی رہتی، میری یہی کوشش ہوتی کہ ملکہ ترنم نورجہاں کو پوری طرح مصروف رکھوں،کھانا میڈم نور جہاں کے گھر سے بھی آتا اور میرا نائب قاصد فضل بھی میرے گھر سے کھانا لاتا۔ ہم اکٹھے بیٹھ کر اپنے کمرے میں کھانا کھاتے اور پھر فوراً اسٹوڈیو ہی میں گانے کی ریہرسل کے لئے چلے جاتے۔ یہ عمل سارا دن جاری رہتا۔ کوشش ہوتی کہ وقت ضائع نہ جائے اور نغمہ ریکارڈ ہو جائے۔ یقین مانیں ان دنوں میرے ساتھ تمام سازندوں نے جو میری اس خاص ٹیم میں شامل تھے، میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سارا سارا دن ملی نغمے کی ریہرسل کرتے اور شام کے وقت ریکارڈنگ ہوتی۔ ریکارڈنگ میں بھی بہت وقت لگتا۔ کیونکہ میوزک
Balance
کرنے میں بہت محنت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ریکارڈ کے آلات بھی بڑے محدود تھے۔ بڑی مشکل سے میں میوزک کو ریکارڈ کر پاتا۔ پھر ہیڈفون لگا کر
Track
کے ساتھ میڈم کو گانے کے لئے کہتا۔ ریہرسل کے دوران تمام ریکارڈنگ کے لوازمات طے ہو جاتے یہی وجہ ہے کہ ملی نغمہ بہت اچھے طریقے سے ریکارڈ ہوتا۔ ریکارڈنگ کرنے کے بعد میڈم نورجہاں اور میں ریکارڈنگ کو دو تین مرتبہ سنتے اور جب تک تسلی نہ ہوتی ریکارڈنگ چلتی رہتی۔ یہ عمل کافی دیر تک چلتا۔ ریہرسل ایک ایسی چیز ہے جو کسی بھی نغمے کو کامیاب کرنے میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آج کل کے سنگر ریہرسل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ نغمے اچھے نہیں ہوتے۔ کسی بھی کام میں نیت، محنت اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے اور میڈم نور جہاں نے جس خلوص اور محنت سے یہ نغمے ریکارڈ کئے ہیں یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ میڈم نورجہاں کا سارا دن میرے ساتھ ریڈیو اسٹیشن پر رہنا ایک بہت بڑی بات تھی۔ انہوں نے بچوں اور گھر کی بھی پروا نہیں کی۔ میں نے اپنے بیوی بچوں کو سیالکوٹ بھیج دیا تھا۔ ان کو کہا کہ میرا کچھ پتہ نہیں، میں رات کو کب فارغ ہوتا ہوں۔ بعض اوقات مجھے ریڈیو اسٹیشن پر ہی سونا پڑ جاتا اور صبح سویرے گھر جا کر تیار ہو کر پھر ریڈیو اسٹیشن آتا اور میڈم نور جہاں کو لینے چلاجاتا۔ میڈم نورجہاں جیسی فنکارہ نے بھی میرے ساتھ بہت تعاون کیا یقین مانیں ان نغموں کی ریکارڈنگ کے دوران ہماری بہت انڈر سٹینڈنگ ہو گئی تھی مجھے کہتی تھیں اعظم بھیا تم تھکتے نہیں اور تم کس قدر جنون سے کام کرتے ہو۔ ان نغموں کی وجہ سے میڈم نورجہاں کا میرے گھر بھی آ نا جانا ہو گیا۔ وہ میرے بچوں کی شادیوں میں شامل ہوئیں۔ ایک دفعہ میرے گھر کا راستہ بھول گئیں تو معروف گلوکار مسعود رانا کو لے کر میرے گھر پہنچ گئیں۔ مجھے کہتیں کہ اعظم صاحب مجھے کسی چیز کی پروا نہیں، نہ پیسے کی نہ شہرت کی، میں تو کمرشل سنگر تھی ان ترانوں نے قوم میں میری عزت بڑھا دی ہے۔ میں یہی جواب دیتا کہ میڈم آپ تو خود ہی ملکہ ہیں فن موسیقی میں آپ کا کوئی جواب نہیں، میری اور آپ کی اس خدمت کو پوری قوم بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

 
13
June

تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع

ماہِ رمضان درحقیقت رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہے ، اس میں خزاں کے پتوں کی طرح گناہ جھڑتے اور موسم بہار کی طرح خیر و بھلائی کی تازہ کونپلیں پھوٹتی ہیں ،مغفرت کی ہوائیں چلتی اور رحمت کی پھوار برستی ہے ، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا پھل جنت ہے ، یہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ، اس میں نوافل کا ثواب فرضوں جتنا اور فرضوں کا ثواب ستر گنا بڑھادیا جاتا ہے، اس کا پہلا عشرہ رحمت کہلاتاہے ، دوسرا مغفرت کہلاتا ہے اور تیسرا جہنم کی آگ سے خلاصی کہلاتا ہے ۔
(صحیح ابن خزیمہ ، سنن بیہقی)
اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے اسی مبارک مہینہ میں نازل فرمائے ہیں ، چنانچہ قرآنِ مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ دُنیا پر تمام کا تمام اسی مہینہ میں نازل ہوا اور وہاں سے حسب موقع تھوڑا تھوڑا تیئس (23) سال کے عرصہ میں آنحضرت ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوا ۔ اس کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسی ماہ کی یکم یا تین تاریخ کو صحیفے عطاء کئے گئے ، حضرت داؤد علیہ السلام کو بارہ یا اٹھارہ رمضان میں ’’ زبور ‘‘ عطاء کی گئی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھ رمضان میں’’تورات‘‘ عطاء کی گئی ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بارہ یا تیرہ رمضان میں ’’انجیل‘‘ عطاء کی گئی ، اور حضور نبی پاک ﷺ کو چوبیس رمضان میں’’ قرآن مجید‘‘ جیسی مقدس کتاب عطاء کی گئی۔
(مسند احمد، معجم طبرانی)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہِ مبارک کو کلام الٰہی کے ساتھ ایک خاص قسم کی مناسبت حاصل ہے ، اسی وجہ سے قرآنِ پاک کی تلاوت کی کثرت اس مہینہ میں منقول ہے اور مشائخ کا معمول ہے۔ چنانچہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہرسال رمضان میں تمام قرآن شریف نبی کریم ﷺ کو سناتے تھے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺسے سنتے تھے ۔ علماء نے ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے قرآنِ پاک کے (مروّجہ) باہم دَور کرنے کے مستحب ہونے پر استدلال کیا ہے ۔
(فضائل رمضان بحذف و تغیر)
مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں اکسٹھ (61) قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے ، ایک دن کا ، ایک رات کا اور ایک تمام رمضان شریف میں تراویح کا۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں ساٹھ (60) قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے ، اس طرح کہ روزانہ دو قرآنِ مجید پڑھ لیتے تھے اور اس کے علاوہ عام دنوں میں روزانہ ایک قرآنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے ۔(فضائل قرآن)اس کے علاوہ روزانہ دس ، پندرہ پارے پڑھنا تو عام مشائخ کا معمول رہا ہے کہ رمضان نزولِ قرآن کی سالگرہ اور جشن عام کا مہینہ ہے۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے (تمام) دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے (تمام) دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔‘‘
(صحیح بخاری)
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ : ’’(رمضان کی آمد پر ) رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‘‘

(صحیح مسلم)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’ریّان‘‘ ہے ، اس دروازہ سے قیامت کے دن صرف روزہ دار لوگ داخل ہوں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام روزہ داروں کا نام لے کر بلایا جائے گا ، وہ اس دعوت پر کھڑے ہوں گے اور اُن کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا ، پس جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا، پھر اس دروازہ سے اس کے بعد کوئی داخل نہیں ہوسکے گا۔‘‘

(بخاری و مسلم)
‘‘ ایک روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسولِ پاک ﷺکا رنگ بدل جاتا، نماز میں اضافہ ہوجاتا ، دُعاء میں آہ و زاری بڑھ جاتی اور آپؐ کا رنگ سرخ ہوجاتا۔‘‘
(شعب الایمان للبیہقی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ سے پوچھا گیا کہ : ’’رمضان (کے روزہ) کے بعد کون سا روزہ افضل ہے ؟ ‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ رمضان کی تعظیم کی وجہ سے شعبان کا روزہ رکھنا افضل ہے ۔‘‘ پھر سوال کیا گیا کہ : ’’کون سا صدقہ افضل ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا کہ : ’’رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے۔‘‘
(جامع ترمذی)
حضرت اُم معقل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر (فضیلت رکھتا) ہے ۔
(جامع ترمذی)
ایک حدیث میں آتا ہے ، حضرت ابو ہریرہؓ نے حضورِ اکرم ﷺسے نقل کیا ہے کہ : ’’ میری اُمت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر عطاء کی گئی ہیں جو پہلی اُمتوں کو نہیں ملیں :
1۔ان کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے یہاں مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
2۔ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دُعا کرتی ہیں اور افطار تک کرتی رہتی ہیں۔
3۔جنت ہر روز اُن کے لئے آراستہ کی جاتی ہے ، پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ : ’’ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دُنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آجائیں ۔‘‘
4۔اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں اُن برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف اور دنوں میں پہنچ سکتے ہیں۔
5۔رمضان کی آخری رات میں ( تمام ) روزہ داروں کی مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ ’’شبِ مغفرت‘‘ ’’شبِ قدر‘‘ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ نہیں! بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے۔‘‘
(مسند احمد ، مسند بزار ، سنن بیہقی)
چونکہ رمضانُ المبارک کی راتوں میں ’’شبِ قدر‘‘ سب سے افضل رات ہے ، اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خیال فرمایا کہ اتنی بڑی فضیلت اسی رات کی ہوسکتی ہے ، مگر حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : ’’اس کے فضائل مستقل علیٰحدہ چیز ہیں ۔‘‘
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے ، اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور (جہنم کی) آگ سے چھٹکارا پانے کا سبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی طرح اس کو بھی ثواب ہوگا ، مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ’’ یارسول اللہ! ( ﷺ) ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’(اس سے پیٹ بھر کر کھلانا مراد نہیں ہے ) بلکہ یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ کسی کو ایک کھجور سے روزہ افطار کرادینے سے ، ایک گھونٹ لسی کا پلادینے سے بھی عطا فرمادیتے ہیں۔
( صحیح ابن خزیمہ)
ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورِ اقدس ﷺ نے رمضان المبارک کے قریب ارشاد فرمایا کہ : ’’رمضان کا مہینہ آگیا ہے جو بڑی برکت والا ہے ، حق تعالیٰ شانہ اس میں تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتے ہیں ، خطاؤں کو معاف فرماتے ہیں ، دُعاء کو قبول کرتے ہیں ، تمہارے ’’تنافس‘‘ (یعنی نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے) کو دیکھتے ہیں اور ملائکہ سے فخر کرتے ہیں ، پس تم اللہ تعالیٰ کو اپنی نیکی دکھلاؤ! ، بد نصیب ہے وہ شخص جو اس مہینہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔
(معجم طبرانی)
رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات ’’شبِ قدر‘‘ کہلاتی ہے جو بہت ہی خیر و برکت والی رات ہے ، قرآنِ پاک میں اس کو ہزار مہینوں سے افضل بتلایا گیا ہے ، ہزار مہینوں کے تراسی برس اور چار ماہ ہوتے ہیں ، خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے ۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : ’’شبِ قدر‘‘ اللہ تعالیٰ نے (صرف ) میری اُمت کو مرحمت فرمائی ہے ، پہلی اُمتوں کو نہیں ملی ۔‘‘
(دُرّمنثور)
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آنحضرت ﷺ عادت شریفہ اعتکاف کی ہمیشہ رہی ہے ، اس مہینے میں تمام مہینے کا اعتکاف فرمایا اور جس سال وصال ہوا ہے اس سال بیس روز کا اعتکاف فرمایا تھا ، لیکن اکثر عادت شریفہ چونکہ اخیر عشرہ ہی کے اعتکاف کی رہی ہے اس لئے علماء کے نزدیک’’سنت مؤکدہ‘‘ اعتکاف اخیر عشرہ ہی کا ہے ۔ اور چوں کہ اس اعتکاف کی بڑی غرض ’’شبِ قدر‘‘ کی تلاش ہے اس لئے حقیقت میں اعتکاف اس کے لئے بہت ہی مناسب ہے۔
(فضائل رمضان)
ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد وارد ہوا ہے کہ اعتکاف کرنے والا شخص گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اُس کے لئے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کہ کرنے والے کے لئے۔

(سنن ابن ماجہ)
مطلب یہ ہے کہ بہت سے نیک اعمال جیسے جنازہ میں شرکت ، مریض کی عیادت وغیرہ ایسے اُمور ہیں کہ اعتکاف میں بیٹھ جانے کی وجہ سے اعتکاف میں بیٹھنے والا شخص ان کو نہیں کرسکتا ، اس لئے اعتکاف کی وجہ سے جن عبادتوں سے وہ رُکا رہتا ہے اُن کا اجر بغیر کئے بھی اُسے ملتا رہتا ہے۔
(فضائل رمضان)
کتنے خوش قسمت اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مبارک مہینے کے ایک ایک لمحہ کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں ، اُن کے شب و روز میں خوف خدا سے آہوں اور سسکیوں کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے اور اُن کے اشک ہائے ندامت دل کی میل اور اُس کی کدورتوں کو بہاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بلاشبہ ماہِ رمضان ۔۔۔ روحانیت اور نیکیوں کا موسم بہار ہوتا ہے ، یہ مہینہ رحمت و مغفرت کی معطر ہواؤں سے مشک بار ہوتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
June
پاسنگ آؤٹ پریڈ آرمڈ کور سنٹر
گزشتہ دنوں آرمڈ کور سنٹر نوشہرہ میں ریکروٹوں کی تقریب حلف برداری اور پاسنگ آؤ ٹ پریڈ منعقد ہوئی ۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل چنگیز دل خان ڈائریکٹر جنرل آرمڈ کور تھے ۔ پریڈ گراؤنڈ پہنچنے کے بعد ریکروٹوں کے چاق و چوبند دستے نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی بعدازاں انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی میجر جنرل چنگیز دل خان نے کورس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ریکروٹوں میں انعامات بھی تقسیم کئے ۔

newspoutkorecent.jpg

فر نٹیئر کور خیبر پختونخواہ ریکروٹس پا سنگ آؤٹ پر یڈ
گزشتہ دنوں سکاؤٹس ٹر یننگ اکیڈ می وارسک میں فرنٹئیر کور کے 24 ویں بیچ کے ریکروٹس کی پا سنگ آؤٹ پریڈ ہو ئی ۔ اس تقریب کے مہما ن خصو صی وز یر داخلہ چو ہدر ی نثار علی خان تھے۔مہما ن خصو صی کا اکیڈ می پہنچنے پر آئی جی ایف سی (نارتھ )میجر جنر ل شا ہین مظہر محمود، آئی جی ایف سی (ساؤتھ) میجر جنر ل خالد جاوید اور کما نڈ نٹ سکا ؤٹس ٹر یننگ اکیڈ می کر نل رفیق احمدنے استقبال کیا۔ مہمان خصو صی نے پر یڈ کا معا ئنہ کیا اور جوانوں کی تربیت کے اعلیٰ معیار کو سراہا۔ تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے مہمان خصوصی وزیر داخلہ چو ہدری نثار علی خان نے پا س آؤٹ ہو نے والے ریکروٹس کو مبا رک پیش کی اور ملک و قوم کی دفاع کے لئے فر نٹئیر کور کے کر دار کی تعریف کی ۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے مختلف شعبوں میں اعلٰی کا ر کردگی دکھا نے والے کا میاب ریکروٹس میں انعاما ت بھی تقسیم کئے گئے۔

newspoutkorecent1.jpg

12
June

جید علماء کا فتویٰ

26مئی 2017کو اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائداعظم یونیورسٹی میں مذہبی برداشت و ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس میں جید علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر متفقہ فتویٰ اور اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر ملک کے معروف 31 علماء کرام و مشائخ عظام کے دستخط موجود ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفا ق المدارس پاکستان‘ وفاق المدارس العربیہ‘ رابطۃ المدارس پاکستان‘ پاکستان علماء کونسل اور دارالعلوم کراچی سمیت مختلف اداروں ‘ مسالک اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور مشائخ عظام نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کرتے ہوئے محاذ آرائی‘ فساد‘ دہشت گردی‘ شریعت کے نام پر طاقت کے استعمال کو حرام قرار دے دیا اور کہا کہ اسلام اوربرداشت کے نام پر قتل و دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں‘ دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کو کوتاہی کی بناپر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کرنا کسی صورت درست نہیں۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت‘ فوج یا دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں‘ ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم ہے‘ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال‘ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی‘ تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں حرام قطعی‘ شریعت کی روسے ممنوع اور بغاوت ہیں‘ ریاست کے ملک دشمن عناصر کو کچلنے کے لئے شروع کئے گئے آپریشنز ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء ومشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فتویٰ
یہ تحریر اس دہشت گردی اور خودکش حملوں سے متعلق ہے جن سے پاکستان اور اہل پاکستان سخت بے چین اور لہولہان ہو رہے ہیں اور جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہم متفقہ طور پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور مفتیان حضرات یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ

jayadulmaka.jpg
-1 اسلامی جمہوریہ پاکستان، آئینی و دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق قرارداد مقاصد سے ہوتا ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے استعمال کرنے کا حق ہے وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔


-2ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں یہ فکری سوچ جس جگہ بھی ہو، ہماری دشمن ہے اور اس کے خلاف فکری و انتظامی جدوجہد دینی تقاضا ہے۔
-3 ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک قومی و ملی جرم ہے۔ اس لئے ہم ریاستی اداروں کی جانب سے ایسی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کی درخواست کرتے ہیں۔
-4 پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب وفساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا ہے۔
-5 ہم پاکستان کے تمام مسلکوں اور مکاتب فکر کے نمائندہ علماء شرعی دلائل کی روشنی میں اتفاق رائے سے خود کش حملوں کو حرام قرار دیتے ہیں اور ہماری رائے میں خودکش حملے کرنے والے، کروانے والے اور ان حملوں کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون پاکستانی اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست پاکستان شرعی طور پر اس قانونی کارروائی کی مجاز ہے جو باغیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔
-6دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لئے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔
-7جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں، کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ ریاست سے بالاتر کسی گروہ کی ایسی کارروائی فساد اور بغاوت ہے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین اور واجب تعزیر جرم ہے۔
-8 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری، دستوری و آئینی میثاق کے پابند ہیں جس کی رو سے ان پر لازم قرار پاتا ہے کہ وہ بہرصورت حب الوطنی اور ملکی و قومی مفادات کا تحفظ پہلی ترجیح کے طور پر کریں اور اس پر کسی صورت آنچ نہ آنے دیں۔ ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کو کسی بھی عنوان سے نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی اور غدر قرار پاتی ہے جو دینی نقطہ نظر سے سنگین جرم اور لائق تعزیر ہے۔
-9 ریاست پاکستان میں امن و سکون قائم کرنے اور دشمنان پاکستان کے خلاف جو جدوجہد ضرب عضب اور رد الفساد کے نام سے شروع کی گئی ہے، ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔


متفقہ اعلامیہ
قرآن و سنت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ دستور کے تقاضوں کے عین مطابق پیغام پاکستان کے ذریعے درج ذیل اقدامات کا اعلامیہ پیش کیا جاتا ہے:
-1 پاکستان کا 1973کا دستور اسلامی اور جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان سماجی اور عمرانی معاہدہ ہے جس کی توثیق تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ نے متفقہ طور پر کی ہوئی ہے۔ اس لئے اس دستور کی بالادستی اور عمل درآمد کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا نیز ہر پاکستانی ریاستِ پاکستان کے ساتھ ہر صورت میں اپنی وفاداری کا وعدہ وفا کرے۔
-2 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی رو سے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت حاصل ہے۔ ان حقوق میں قانون و اخلاق عامہ کے تحت مساوات حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل ، اظہار خیال، عقیدہ ، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہے۔
-3 اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق سے ہوتا ہے: اﷲتبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
-4 پاکستان کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کے احکام کے نفاذ کی پرامن جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا دینی حق ہے۔ یہ حق دستور پاکستان کے تحت اسے حاصل ہے اور اس کی ملک میں کوئی ممانعت نہیں ہے جبکہ بہت سے ملی اور قومی مسائل کا سبب اﷲتعالیٰ سے کئے ہوئے عہد سے رو گردانی ہے۔ اس حوالے سے پیش رفت کرتے ہوئے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلنٹ بینچ کو مزید فعال بنایا جائے۔
-5 دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کوتاہی کی بنا پر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کسی صورت درست نہیں۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت، فوج یا دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو غیرمسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے اور ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم قرار پاتا ہے۔ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب وفساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، حرام قطعی ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت ہیں۔ یہ ریاست، ملک و قوم اور وطن کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ لہٰذا ریاست نے ان کو کچلنے کے لئے ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کے نام سے جو آپریشن شروع کر رکھے ہیں اور قومی اتفاق رائے سے جو لائحہ عمل تشکیل دیا ہے ان کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔
-6 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علما اور مشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور پوری قوم قومی بقاء کی اس جنگ میں افواج پاکستان اور پاکستان کے دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کرتی ہے۔
-7 تمام دینی مسالک کے نمائندہ علما نے شرعی دلائل کی روشنی میں قتل ناحق کے عنوان سے خودکش حملوں کے حرام قطعی ہونے کا جو فتویٰ جاری کیا تھا اس کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔ نیز لسانی، علاقائی، مذہبی اور مسلکی عصبیت کے نام پر جو مسلح گروہ ریاست کے خلاف مصروف عمل ہیں، یہ سب شریعت کے احکام کے منافی اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب ہیں، لہٰذا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں۔
-8 فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالف اور فساد فی الارض ہے نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک قومی اور ملی جرم ہے۔
-9 وطن عزیز میں قائم تمام درسگاہوں کا بنیادی مقصد تعلیم و تربیت ہے۔ ملک کی تمام سرکاری و نجی درسگاہوں کا کسی نوعیت کی عسکریت نفرت انگیزی انتہا پسندی اور شدت پسندی پر مبنی تعلیم یا تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ اس میں ملوث ہے تو اس کے خلاف ثبوت و شواہد کے ساتھ کارروائی کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
-10 انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی کے خلاف فکری جہاد اور انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ گزشتہ عشرے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہ منفی رجحان مختلف قسم کے تعلیمی اداروں میں پایا جاتا ہے۔ سو یہ فکر جہاں کہیں بھی ہو، ہماری دشمن ہے۔ یہ لوگ خواہ کسی بھی درسگاہ سے منسلک ہوں، کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
-11 ہرمکتبہ فکر اور مسلک کو مثبت انداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے اجازت ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص، مسلک یا ادارہ کے خلاف اہانت اور نفرت انگیزی، اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر کی اجازت نہیں۔
-12 صراحت، کنایہ، اشارہ، تعریض اور توریہ کے ذریعے کسی بھی صورت میں نبی کریم ﷺ انبیائے کرام و رُسل عظام علیہم السلام، امہات المومنین و اہل بیت اطہار، صحابہ کرام، شعائر اسلام کی اہانت کے حوالے سے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 295 کی تمام دفعات کو ریاستی اداروں کے ذریعہ لفظاً اور معناً نافذ کیا جائے اور اگر ان قوانین کا کہیں غلط استعمال ہوا ہے تو اس کے ازالے کی احسن تدبیر ضروری ہے، مگر قانون کو کسی صورت میں کوئی فرد یا گروہ اپنے ہاتھ میں لینے اور متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا مجاز نہیں۔
-13 عالم دین اور مفتی کا منصبی فریضہ ہے کہ صریح کفریہ کلمات کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی حکم بتائے۔ البتہ کسی کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ آیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، یہ عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔
-14 سرزمین پاک اﷲتعالیٰ کی مقدس امانت ہے۔ اس کا ایک ایک چپہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے فروغ، دہشت گرد ی کے گروہوں کی فکری و عملی تیاری، دہشت گردی کے لئے لوگوں کی بھرتی، دیگر ممالک میں دہشت گردی، مداخلت اور اس جیسے دوسرے ناپاک عزائم کے حصول کے لئے ہرگز استعمال نہ ہونے دی جائے۔
-15 مسلمانوں میں مسالک و مکاتب فکر قرون اولیٰ سے چلے آ رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ ان میں دلیل و استدلال کی بنیاد پر فقہی اور نظریاتی ابحاث ہمارے دینی اور اسلامی علمی سرمائے کا حصہ ہیں اور رہیں گی۔ لیکن یہ تعلیم و تحقیق کے موضوعات ہیں اور ان کا اصل مقام درس گاہیں ہیں۔ درس گاہوں میں اختلاف رائے کے اسلامی آداب (آداب مراعاۃ الخلاف) یعنی
(ethics of disagreement)
کو تمام سرکاری و نجی درسگاہوں کے نصاب میں شامل کرنا چاہئے۔
-16 اسلامی تعلیمات اور 1973 کے متفقہ دستور کے مطابق حکومت اور عوام کے حقوق و فرائض طے شدہ ہیں، جس طرح عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض درست اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق انجام دیں، اسی طرح ریاستی ادارے اور ان کے عہدیدا ر بھی اپنے فرائض اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ادا کرنے کے پابند ہیں۔
-17 اسلام کے اصولوں کے مطابق جمہوریت، حریت، مساوات، برداشت، رواداری، باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی پاکستانی معاشرے کی تشکیل جدید ضروری ہے تاکہ پرامن بقائے باہمی کے لئے فضا سازگار ہو۔
-18 احترام انسانیت ، اکرام مسلم نیز بزرگوں، عورتوں، بچوں، خواجہ سراؤں، معذوروں الغرض تمام محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اسلامی احکام کا نفاذ ضروری ہے۔ نیز پاکستانی معاشرے میں انسانی اقدار اور اخوت اسلامی پر مبنی اسلامی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
-19 پاکستان میں رہنے والے پابند آئین و قانون تمام غیرمسلم شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو پابند آئین و قانون مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ نیز یہ کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور ان کے تہواروں کے موقع پر اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
-20 اسلام خواتین کو احترام عطا کرتا ہے اور ان کے حقوق کی پاسداری کرتاہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں بھی عورتوں کے حقوق کی پاسداری کی تاکید فرمائی ہے نیز رسول اﷲ ﷺ کے دورسے اسلامی ریاست میں خواتین کی تعلیم وتربیت جاری رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کو حق رائے دہی‘ حصولِ تعلیم اور ملازمت کا حق حاصل ہے۔ خواتین کے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنا اور خواتین اساتذہ و طالبات پر حملے کرنا انسانی اقدار‘ اسلامی تعلیمات اور قانون کے منافی ہے۔ اسی طرح اسلامی تعلیمات کی رو سے غیرت کے نام پر قتل ‘ قرآن سے شادی‘ وٹہ سٹہ‘ ونی اور خواتین کے دیگر حقوق کی پامالی احکامِ شریعت میں سختی سے ممنوع ہے۔ حکومت قانونِ قصاص و تعزیر کے علاوہ دیگرحق تلفیوں کے بارے میں قانون سازی کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وراثت میں عورتوں کا حق یقینی بنائے۔
-21 لاؤڈ سپیکر کے ہر طرح کے غیر قانونی استعمال کی ہر صورت میں حوصلہ شکنی کی جائے اور متعلقہ قانون پر من و عن عمل کیا جائے اور منبر و محراب سے جاری ہونے والے نفرت انگیز خطابات کو ریکارڈ کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ نیز ٹیلیویژن چینلوں پر مذہبی موضوعات پر مناظرہ بازی کو قانوناً ممنوع اور قابلِ دست اندازی پولیس قرار دیا جائے۔
-22 الیکٹرانک میڈیا کے حقِ آزادی اظہار کو قانون کے دائرے میں لایا جائے اور اس کی حدود کا تعین کیا جائے اور ہر اس پروگرام پر پابندی لگائے جائے جو پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔
متفقہ اعلامیہ کے اہم نکات
-1۔ دستورپاکستان 1973 اسلامی جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان ایسا عمرانی معاہدہ ہے جس کو تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ کی حمایت حاصل ہے اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان میں قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہونا چاہئے اورنہ ہی اس دستور کی موجودگی میں کسی فرد یا گروہ کو ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف کسی قسم کی مسلح جدوجہد کا کوئی حق حاصل ہے۔
-2۔ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ‘ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی نیزلسانی‘ علاقائی‘ مذہبی‘ مسلکی اختلافات اور قومیت کے نام پر تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں احکامِ شریعت کے خلاف ہیں اور پاکستان کے دستور و قانون سے بغاوت ہیں۔ طاقت کے زور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالفت اور فسا د فی الارض ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور قانون کی روسے ایک قومی اور ملی جرم بھی ہے۔ دفاعِ پاکستان اور استحکام پاکستان کے لئے ایسی تخریبی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس لئے ان کے تدارک کے لئے بھرپور انتظامی‘ تعلیمی ‘ فکری اور دفاعی اقدامات لازم ہیں۔
-3۔ دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق پاکستانی معاشرے کی ایسی تشکیلِ جدید ضروری ہے جس کے ذریعے سے معاشرے میں منافرت ‘ تنگ نظری‘ عدم برداشت اور بہتان تراشی جیسے بڑھتے ہوئے رجحانات کا خاتمہ کیا جاسکے اور ایسا معاشرہ قائم ہو جس میں برداشت و رواداری‘ باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی حقوق و فرائض کا نظام قائم ہو۔

12
June

تحریر: موناخان

ہمالیہ کے پہاڑوں کا دور تک پھیلتا ہوا سلسلہ۔۔ سفید ماؤنٹ ایورسٹ جس کو سر کرنے کے لئے ہزاروں کوہ پیما نیپال کا سفر کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا نیپالی نام ’ساگرما تھا‘ ہے۔ ارے نہیں ایسا مطلب بالکل بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ۔ ہم نیپال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ کھٹمنڈو اور لمبینی کی سڑکوں پر خوار ہونے گئے تھے۔ خواری بھی ایسی جس میں دل راضی تھا اور تین بار قبول ہے بول چکا تھا۔ اسلام آباد میں جب نیپال جانے کا پلان بنا تو سوچا ڈائریکٹ فلائٹ ہو گی جلدی پہنچ جائیں گے چھ لوگوں کا قافلہ تھا جو نیپال جانے کے لئے تیار تھا۔۔ ٹکٹ ہاتھ میں آئے تو علم ہوا آٹھ گھنٹے مسقط میں قیام ہے ۔ سوچا آٹھ گھنٹے کیا کریں گے مسقط کے چھوٹے سے ائیرپورٹ پہ جو شروع ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بہرحال سفر شروع تو کرنا تھا۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے سوار ہوئے تو مسقط پہنچ کر ہی دم لیا۔ مسقط اترے تو پہلی دوڑ درمیان میں بنے انفارمیشن ڈیسک کی جانب لگائی۔ وہاں پہنچے تو ایک طویل لائن ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ جی ہاں یہ طویل لائن مفت کا انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تھی جو وائی فائی کا پاس ورڈ لے رہے تھے ۔ ہمارا تو چلو حق تھا آخر آٹھ گھنٹے کیسے گزارتے چھوٹے سے ائیرپورٹ پہ۔ مسقط سے کھٹمنڈو صبح سات بجے پہنچے۔ صبح کی روشنی میں لینڈنگ کو جہاز کی کھڑکی سے دیکھا۔ کھٹمنڈو ائیرپورٹ پر لینڈنگ مشکل لینڈنگز میں سے ہے۔کھٹمنڈو ایئرپورٹ جو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے بیچ قائم ہے پر لینڈنگ کے لئے پائلٹ کو کافی مہارت چاہئے ۔ خیر اللہ اللہ کر کے لینڈ ہوئے۔ ہماری ایمبیسی کے پروٹوکول والے ہمارے انتظار میں تھے کہ ہم پہنچیں اور وہ ہمارا آن آرائیول ویزہ لگوائیں ۔ آخر ہم ڈپلومیٹک کارسپونڈنٹ تھے ‘ اتنا تو حق تھا ہمارا۔ ائیر پورٹ سے ہی سم کارڈز اور انٹرنیٹ پیکج خریدا۔ یہ ہمارا نیپال کا پہلا دورہ تھا۔ ہر طرف پھینی پھینی(چپٹی ناک والی) شکلیں دیکھ کر کچھ دیر بعد شک ہوا کہ آئینہ دیکھ لیں کہیں ہم بھی ’پھینے‘ تو نہیں ہو گئے ۔ چین اور نیپال کی سرحد آپس میں ملتی ہے شائد اس لئے شکلیں اِدھر بھی ویسی ہی ہیں چین کے لوگوں جیسی‘ بس رنگت کا فرق ہے ۔ ہمالیہ کے برفیلے سفید پہاڑوں کا نیپال کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں ۔ رنگت کے لحاظ سے بھارت کے اثرات نیپال پہ زیادہ ہیں اور کیوں نہ ہوں ۔ نیپال اپنی سرحد کا زیادہ حصہ بھارت کیساتھ شئیر کرتا ہے۔ نیپال کی شمالی سرحد جہاں ماؤنٹ ایورسٹ ہے‘ چین سے منسلک ہے۔ جبکہ مشرقی‘ مغربی اور جنوبی سرحد بھارت سے ملتی ہے۔ نیپال کے 74 میں سے 24 اضلاع بھارت سے ملتے ہیں ۔ نیپال میں جا کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا انڈیا ہے۔ اگر مذاہب کی بات کی جائے تو نیپال میں80فیصد ہندو مذہب کے لوگ ہیں ۔ 10 فیصد بدھ مت کے ماننے والے ، چار فیصد مسلمان ، دو فیصد کرسچن جبکہ باقی دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں۔

chalonepalchalain.jpg

یہ ساری معلومات ہم وین ڈرائیور راجیش سے سنتے ہوئے ہوٹل پہنچے۔ یاک اینڈ یٹی نامی چائینیز ہوٹل میں کمرے لئے۔ ہوٹل تو بس ٹھیک تھا لیکن ایک بات کھٹمنڈو میں اترتے ہی محسوس ہوئی اور وہ ہے د ھول مٹی۔ کھٹمنڈو میں ہر دوسرے بندے نے منہ پر ڈسٹ ماسک پہنا ہوتا ہے۔ ہوٹل روم میں اتنی طویل مسافت کے بعدسستانا ضروری تھا۔ تین چار گھنٹے ریسٹ کر نے کے بعدکھٹمنڈو کی گلیوں میں نکل گئے۔ سوچا کہ نیپالی کھانے ہی ٹرائی کریں گے ۔ انڈیا کی طرح نیپال میں بھی سبزی بہت رغبت سے کھائی جاتی ہے۔ اور یہ بات ماننے والی ہے کہ میں نے ایسی مزیدار سبزی کبھی پاکستان میں بھی نہیں کھائی۔ میٹ میں گائے کا گوشت نیپال میں نہیں کھایا جاتا اور نہ گائے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ گائیں نیپال میں بھی مادر پدر آزاد پھر رہی ہوتی ہیں ۔ میٹ کے لئے نیپال میں وائلڈ بور کا گوشت استعمال کیا جاتا جو کہ ہمارے لئے قطعی حرام ہے۔ اس لئے سبزی کھانے میں ہی عافیت جانی۔ کھٹمنڈو چونکہ نیپال کا دارالحکومت ہے اس لئے مہنگائی بھی کافی ہے۔ مہنگا ہونے کی ایک وجہ یہاں پر سیاحوں کی بڑی تعداد ہے۔ نیپال میں اتنے نیپالی نظر نہیں آتے جتنے سیاح نظر آتے ہیں۔ دل میں حسرت سی اٹھی کہ کاش ہمارے ہاں بھی سیاح اس طرح گھومیں پھریں۔ دوسرے روز لمبینی کا رخ کیا اور وہاں ضروری کام نپٹائے۔ تیسرے روز تھامل بازار جو کہ کھٹمنڈو کا مشہور شاپنگ ایریا ہے‘ وہاں کا رخ کیا۔ بازار میں قابل ذکر ایک چیز دیکھی اور وہ یہ کہ نیپال میں خواتین دکانداروں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے اور وہ کمال اعتماد کیساتھ اپنی دکان چلا رہی ہوتی ہیں ۔ لیکن عوامی خوبصورتی یہاں بھی نظر نہیں آئی۔ اب یہ تو ماننا پڑے گا کہ خوبصورتی میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو خاصا نوازا ہے۔ تھامل بازار سے نیپال کی خاص سوغات سنگنگ باؤل یعنی میوزک والا کٹورہ خریدا۔ جس کو بجانے کے لئے خاص پریکٹس چاہئے ۔ یہ اتنی ساری باتیں اس لئے بتائی ہیں تاکہ جب آپ پہلی بار نیپال جائیں تو آپ کو یہ باتیں پہلے سے پتہ ہوں ۔ نیپال میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کا بھی ایک الگ ہی نظام ہے۔ سرکاری نمبر پلیٹ سفید رنگ کی ہوتی ہے اور سرخ ہندسے ہوتے ہیں۔ گرین نمبر پلیٹ کی گاڑی دیکھیں گے تو وہ سیاحوں کے لئے مختص ہے۔ نیلے رنگ کی نمبر پلیٹ ڈپلومیٹس کے لئے ہوتی ہے۔ سرخ رنگ کی نمبر پلیٹ عام شہری کے لئے ہے جبکہ کالے رنگ کی نمبر پلیٹ ٹیکسیوں کے لئے ہے۔ نیپال کے بزنس سے لے کر سیاسی اور حکومتی سطح پر تین اطراف سے لگنے والے ہمسائے بھارت کے بہت اثرات ہیں۔ نیپالی کرنسی کی ویلیو پاکستانی روپے سے ذرا زیادہ ہے۔ سیاحوں کی کثرت کی وجہ سے نیپال میں گھومنے پھرنے میں کوئی ڈر نہیں لگتا۔ لیکن جب آپ صحافی ہوں اور پاکستانی ہوں تو بہت سی ان دیکھی نظریں آپکے تعاقب میں ہوتی ہیں اور وہ نظریں نیپال کی سرحد کے تین اطراف سے لگنے والے ہمسائے کی ہوتی ہیں ۔ پہلے حصے میں نیپال کا تعارف گوش گزار کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مشن نیپال کی تفصیلات بتائی جائیں گی ۔
(...جاری ہے)

مضمون نگار ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ ڈپلومیٹک اینڈ ڈیفنس کارسپانڈنٹ منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June

تحریر: یاسر پیرزادہ

کتنا اچھا ہو اگرآپ کی زندگی میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ ہو!آپ کی جنم پرچی سے لے کر ایم اے کی سند تک اور پنگھوڑے میں انگوٹھا چوسنے کی تصویر سے لے کر شادی میں دودھ پلائی کی تصویر تک ہر شے ایک پرفیکٹ طریقے سے
organized
ہو ۔آپ کی سٹڈی میں کتابوں کی کیٹیلاگ ہو اور تمام کتابیں یوں نمبروں کے ساتھ ترتیب میں لگی ہوں جیسے لائبریری آف کانگریس ہو۔ آپ کی ذاتی فائلیں انڈیکس کے ساتھ الماری میں سجی ہوں اور ان میں موجود تمام کاغذ تاریخ کی ترتیب سے موجود ہوں تاکہ کوئی بھی کاغذ ڈھونڈنے میں تیس سیکنڈ سے زائد کا وقت نہ لگے ،یہی نہیں بلکہ یہ انڈیکس آپ کے کمپیوٹر میں بھی محفوظ ہو۔آپ کی فلموں اور پسندیدہ گانوں کی کلیکشن بھی اسی طرح مائیکرو سافٹ آفس کے کسی پروگرام میں محفوظ ہو اور ایک کلک پر آ پ اپنی مرضی کی فلم یا گانا ڈھونڈیں اور انجوائے کریں ۔آپ کی فیملی کی تصاویر،پاسپورٹ ،شناختی کارڈ ،بچوں کے رزلٹ کارڈ ،گھر کے بل ،مختلف اوقات میں خریدی گئیں اشیا کے گارنٹی کارڈز،کریڈٹ کارڈ بل ،بینک سٹیٹمنٹ،پرانے اخبارات کی فائل ،ٹیکس کے کاغذات ،کمپیوٹر کا ڈیٹا ۔۔۔غرض ہر شے یوں ترتیب میں ہو کہ اگر کوئی سرکاری اہلکار آپ سے پوچھ لے کہ سن 1933ء میں آپ کے نانا جان نے سرکاری ملازمت کی درخواست جمع کرواتے وقت جس اوتھ کمشنر سے تصدیق کروائی تھی اس کی باجی کا نام بتاؤ تو آپ فوراً اپنے لیپ ٹاپ میں جائیں ،نانا جان کا ’’پروفائل‘‘ کھولیں اور مطلوبہ انفارمیشن ڈھونڈ کر اس اہلکار کے منہ پر ماریں ۔کاش کہ ہماری زندگی اتنی پرفیکٹ ہو جائے !
ایک پرفیکٹ زندگی کی خواہش کرنے والا شخص پرفیکشنسٹ کہلائے گا ۔ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے مزاج اور استطاعت کے مطابق پرفیکشنسٹ ہے مگر یہ کام نہایت جوکھم کا ہے ۔دن کے چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے کام کرنا ،ان اٹھارہ میں سے دو گھنٹے جاگنگ کرنا، متوازن غذا کھانا‘ فیملی کو کوالٹی ٹائم دینا ،دفتر میں مثالی کارکردگی دکھانا ،دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ،روزانہ کسی کتاب کے پچاس صفحات کا مطالعہ کرنا ،فلم دیکھنا، اخبار پڑھنا ،دن میں تین دفعہ دانتوں میں برش کرنا،مہینے میں ایک دفعہ ڈاکٹر سے جنرل چیک اپ کروانا ،چھ مہینے بعد اپنے تمام ٹیسٹ کروانا،اپنے کتّے کو سیر کروانا، تھوڑا بہت ٹی وی دیکھنا ،عبادت کرنا، ہمسایوں سے میل جول رکھنا‘ نوکروں سے حسن سلوک کرنا اور ان تمام امور کی انجام دہی کے دوران ماتھے پر شکن نہ آنے دینا اور ہر کسی سے خوامخواہ خوش اخلاقی سے پیش آنا
perfectionism
کی معراج ہے ۔ یہی نہیں بلکہ گھر میں ہر چیز کو ایک پرفیکٹ اندازمیں اس کی جگہ رکھنا بھی پرفیکشنسٹ بندے کی مجبوری ہوتی ہے ۔لیکن کیا کرہ ارض پر ایسا کوئی پرفیکشنسٹ بندہ پایا جاتا ہے ؟

نہیں ۔ایسا کوئی شخص نہیں جو ہر کام کو اس قدر پرفیکٹ انداز میں کرنے کا اہل ہولیکن اس کے باوجود انسان میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ اس کا ہر کام پرفیکٹ طریقے سے ہو ۔ایسے ہی ایک مہربان نے آج سے تین سال قبل مجھے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں اس قدر
organized
ہیں کہ اگر سر درد کی گولی بھی خریدیں تو اس کا بل سنبھال کے رکھتے ہیں ،انہوں نے ہیلتھ کئیر کی ایک فائل بنائی ہوئی ہے جس میں وہ ایسے تمام بل لگادیتے ہیں ۔اس مر د مومن نے یہ بھی بتایا کہ اس نوع کی لگ بھگ پچاس فائلیں وہ
maintain
کرتے ہیں جنہیں ہر اتوار کو اپ ڈیٹ بھی کیا جاتا ہے ۔ظاہرہے یہ باتیں کسی بھی شخص کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھیں لہٰذااس دن کے بعد میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ اپنی زندگی میں ایسا ہی پرفیکٹ انقلاب لے کر آؤں گا ۔اس انقلاب کے اہداف میں وہ تمام امور شامل تھے جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے۔ الحمد اللہ، آج تین سال گزرنے کے بعد میں پورے اطمینان سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ان میں سے ایک بھی بات پر عمل نہیں کیا !
پرفیکشنسٹ انسان کے ساتھ سب سے بڑی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ چونکہ اس نے ہر کام پرفیکٹ انداز میں کرنے کا تہیہ کیا ہوتا ہے اس لئے وہ کوئی کام شروع ہی نہیں کر پاتا ۔کسی بھی کام کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ وہ کام شروع کریں ،جب کام شروع ہوگا تو ختم بھی ہوگا اور جب ختم ہو گا تو اس دوران اس کام کی فائن ٹیوننگ کی جائے گی اور اسے ممکنہ حد تک پرفیکٹ بنایا جائے گا ۔لیکن پرفیکشنسٹ انسان کام شروع کرنے سے پہلے ہی اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کام کو پرفیکٹ انداز میں کرنا کس قدر مشکل ہے چنانچہ وہ کام شروع ہی نہیں کر پاتا ۔اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے یہ سوچا ہو کہ گھر کی ہر چیز ایک ترتیب کے ساتھ اپنی جگہ آئیڈیل طریقے سے یوں موجود ہو کہ اگر آپ نیویارک میں بیٹھے ہوں اور کوئی آپ سے جنم پرچی مانگ لے تو آپ نے پہلے سے اسے سکین روا کے آن لائن رکھا ہو اور آپ وہیں دریائے ہڈسن کے کنارے بیٹھے بیٹھے اسے اپنے آئی فون کے ذریعے شئیر کردیں۔ یہ کرنا بالکل مشکل نہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ ہم اس پرفیکٹ ماڈل کو صرف سوچتے ہیں اس پرکام کوئی نہیں کرتے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں اگر کوئی پچھلے مہینے کا بجلی کا بل بھی مانگ لے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو قمیض کی جیب میں رہ گیا تھا جودھل کر استری بھی ہو چکی ہے،بجلی کا فیوز اڑ جائے تو لگانے کے لئے تار کا ٹکڑا نہیں ملتا ،شناختی کارڈ ایکسپائر ہو چکا ہے،ڈرائیونگ لائسنس بنوایا ہی نہیں ،پچھلے ماہ جو مائیکرو ویو اوون لیا تھا وہ خراب ہو گیا ہے مگر اس کا گارنٹی کارڈ نہیں مل رہا اور ایک بنک آپ کو ہر ماہ غلط کریڈٹ کارڈ بل بھجوا دیتا ہے مگر آپ بے بس ہیں کیونکہ آپ نے اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں رکھا !
ذاتی زندگی میں ہمارا یہ حال ضرور ہے مگر قومی معاملات میں ہم کوئی رعایت دینے کے عادی نہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ایک پرفیکٹ جمہوری نظام راتوں رات قائم ہو جائے جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں ۔
آمریتوں کودس دس بار ہ بارہ سال دینے کے بعد جب ہم بادل نخواستہ جمہوریت قبول کرتے ہیں تو فوراً
perfectionism
کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پانچ سال کی بچہ جمہوریت کسی گھبرو جوان کی مانند
behave
کرے ۔اور جب ایسا نہیں ہوتا تو ہم کسی جھگڑالو ساس کے انداز میں جمہوری نظام کو طعنے دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ہم ،جو اپنے گھر کی چار چیزیں ترتیب سے نہیں رکھ سکتے،چاہتے ہیں کہ انتخابی سسٹم اس قدر آئیڈیل ہو کہ سوائے چند خود ساختہ راست بازوں کے کوئی بھی اس کی چھاننی سے گزر نہ پائے ۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمارے پولنگ بوتھ بھی کسی فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے کی طرز پر بنائے جائیں ،الیکشن کمیشن کے پاس جادو کی چھڑی ہو جس سے وہ ہر امیدوار کا کچھا چٹھا ایک کلک پر کھول سکے اور جب الیکشن کے نتائج آئیں تو ایسی صالح قیادت سامنے آئے کہ قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہو جائے ۔کسی پرفیکشنسٹکی طرح ہم یہ سب چاہتے ضرور ہیں مگر اس کام کو شروع کرنے کے لئے گھر سے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کو تیار نہیں ۔ہم ’’دو نمبر‘‘ پرفیکشنسٹ ہیں !

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
June
دروش چھاؤنی چترال میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب

گزشتہ دنوں چترال سکاؤٹس، دیر سکاؤٹس اور باجوڑ سکاؤٹس پر مشتمل فرنٹئیر کور کے نادرن سیکٹر کے نوجوانوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ دروش چھاؤنی ، چترال میں منعقد ہوئی۔ کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔

اس موقع پرجوانوں سے خطاب کر تے ہو ئے کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور نے ملک پر حملہ آور ہو کر اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی مزموم کوشش کی ہے ۔لیکن پاکستانی قوم اور پاک فوج نے پر عزم ہو کر اس ناسور کا مکمل طور پر صفایا کر دیا ۔ مہمانِ خصوصی نے جوانوں پر زور دیا کہ وہ کٹھن اور مشکل تربیت کے بعد پاک فوج کا حصّہ بننے جا رہے ہیں بلاشبہ قوم کو آپ پر فخر ہے۔

بعد ازاں اس موقع پر مہمان خصوصی نے کورس میں نمایاں کارگردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعامات تقسیم کیے ۔

newsderwishchaoni.jpg

کمانڈر پشاور کور کا دورہ کرم ایجنسی
گزشتہ دنوں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کرم ایجنسی کا دورہ کیاجہاں اُن کو علاقے میں جاری آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے آرمی پبلک سکول پاراچنار کا سنگِ بنیاد رکھا ، جس کا اعلان چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورہ پارا چنار کے موقع پر کیا تھا ۔ اس موقع پر کور کمانڈر نے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی اور قیام امن کے لیے اُن کی قربانیوں کی تعریف کی۔ کورکمانڈر نے اگلے مورچوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر تعینات فوجی جوانوں سے ملاقات اور ان کے جذبے کی تعریف کی۔

newsderwishchaoni1.jpg

12
June
افغان نیشنل آرمی کی چمن بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ اور پاک فوج کی موثر جوابی کاروائی

گزشتہ دنوں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے سول ہسپتال میں چمن میں افغان بارڈر فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستان میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلیگ میٹنگ کا نتیجہ ضرور نکلے گا لیکن پاکستان کی سرزمین کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوسکتی ۔ جو کوئی پاکستان کے علاقہ میں آکر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کرے گا اس کا پہلا جواب یہی ہے جو کچھ روز قبل ہم نے ان کو دیا۔ جنرل عامر ریاض نے سول ہسپتال چمن میں مریضوں کی عیادت کی اور ان کو یقین دلایا کہ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ ہے اور ان کی ہر ممکن مددجاری رکھے گی۔

بعد ازاں کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل عامر ریاض نے چمن بارڈر پر موجود ڈیوٹی پر تعینات پاکستان آرمی اور ایف سی کے جوانوں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے ، ہمت ، عزم اور جواں مردی کو سراہا۔

nerwsafgahnnationchaman.jpg

12
June
کمانڈر پشاور کور کا شمالی وزیرستان کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے میران شاہ، شمالی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا۔ ان کے دو روزہ دورے کے دوران انہیں علاقے میں سیکورٹی صورتحال اور پاک فوج کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کیا گیا، اس موقع پر وہ تعلیمی اور تربیتی اداروں میں بچوں سے ملے اور تعلیم کے فروغ پر مزید زور دیا۔

newsfirstshoting.jpg 

فرسٹ کراچی شوٹنگ چیمپئن شپ
گزشتہ دنوں کراچی گیریژن میں پہلی کراچی شوٹنگ چمپیئن شپ منعقد ہوئی، اس چمپیئن شپ میں پاکستان آرمی، نیوی، ایئر فورس، اے ایس ایف اور رینجرز نے حصہ لیا۔ کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا تقریب کے مہمان خصوصی تھے، پاکستان نیوی سب سے زیادہ پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہی۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔

newsfirstshoting1.jpg

12
June
پاک بحریہ کے سربراہ کی چمن فائرنگ واقعہ کے زخمیوں کی عیادت

گذشتہ دنوں چمن میں پاک افغان سرحد کے قریب فائرنگ کا ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جب افغان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے سرحدکے قریب فرنٹیئر کانسٹیبلری ،سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور مردم شماری کی ٹیم کو نشانہ بنایا۔

newspakbehriachaman.jpg

فائرنگ کے واقعہ میں شہادتوں کے ساتھ سا تھ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے اس افسوسناک واقعہ کی سخت مزمت کی اور زخمیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لئے سی ایم ایچ کوئٹہ میں زیرِ علاج زخمیوں کی عیادت کی۔

 

اسپیشل سروس گروپ (نیوی)کے بیچ بی- 2016کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

گزشتہ دنوں پاک بحریہ کے اسپیشل سروس گروپ (نیوی ) کے بیچ بی - 2016 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ نیول اسپیشل آپریشنز ٹریننگ سینٹر میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈر کوسٹ رئیر ایڈمرل عبدالعلیم تھے ۔ پاس آؤٹ ہونے والے بیچ ،جس میں بحرین کوسٹ گارڈز کے پرسنیل بھی شامل تھے ،نے 33 ہفتے کی کٹھن تربیت کامیابی سے مکمل کی۔اس تربیت میں سوئمنگ، پیراٹروپنگ، کمبیٹ ڈائیونگ، اَنڈرواٹر آپریشنز، ، اسپیشل وارفئیر آپریشنز، لینڈ وارفئیر، اسپیشل فائر آرم ٹیکنیکس اور ایکسپلوزیو ہینڈلنگ جیسی مہارتیں شامل تھیں۔ مہمانِ خصوصی نے پریڈ کے معائنے کے بعد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جوانوں میں انعامات تقسیم کئے ۔

newspakbehriachaman1.jpg

12
June

تحریر: مجاہد بریلوی

میں آپ کو ذرا تھر یعنی سندھ کے اُس علاقے میں لئے چلتا ہوں جو غربت کے اعتبار سے سندھ کے 29 اضلا ع میں آخری نمبروں پرآتا ہے ۔ مگر یقین کیجئے کہ ہفتے بھر پہلے تھر جانا ہوا تو پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اور برسوں کا مطلب روایتی طور پر دہائیاں نہیں حقیقتاً دسمبر 2017 میں سندھ اینگروکول اینڈ پاور پروجیکٹ کے چیف ایگزیکٹیوشمس الدین احمد شیخ کے دعوے کے مطابق کوئلہ نکلنا شروع ہوگیا تو جون 2018 میں یہاں سے 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں جانا شروع ہوجائے گی۔

therkasafarj.jpg


بیس برس تو گزر ہی گئے مگر آج بھی یاد ہے کہ اسلام کوٹ کا کٹھن سفر ایک پرانی جیپ میں اس طرح طے کیا تھا کہ جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا کے جس کا جوڑ جوڑ نہ ہل گیا ہو۔ ادھر برسوں سے تھر میں کوئلے کے اربوں روپے کے خزانے کے ساری دنیا میں چرچے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ میں آنے والی ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اگلے سال اتنے ’’کروڑ ٹن کوئلہ‘‘ اور اُس سے اگلے سال اتنے ’’سو میگاواٹ بجلی‘‘ کی پیدوار شروع ہوجائے گی ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین اس بات کا برسوں سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’’تھر‘‘ اور اُس کے اطراف کا علاقہ کول یعنی کوئلے کا اتنا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے کہ اُسے دنیا کے دس بڑے ملکوں کی صف میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز میں اگر 187 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز ہیں تو اس میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز صرف تھر میں ہیں۔ مئی کے پہلے ہفتے میں ’’سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘‘ کے سربراہ شمس الدین احمد شیخ کی جانب سے دعوت ملی کہ ذرا تھر میں ایک دن ہمارے ساتھ گزاریں۔تو کانوں کو ہاتھ لگایا کہ عمر کے اس حصّے میں کراچی کی گرمی برداشت نہیں ہوتی آپ دنیا کے گرم ترین علاقے کے لق و دق صحرا میں اور وہ بھی اُس وقت جب سورج سوا نیزے پر ہوتا ہے اور گرمی کا پارہ 50 ڈگری کو چھو رہا ہوتا ہے‘ سارا دن گزارنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر شمس الدین احمد شیخ جس اصرار اور محبت سے بُلا کر ہمیں مستقبل کی نوید دے رہے تھے‘ اُس پر انکار ممکن نہ تھا۔ حالیہ برسوں میں وطنِ عزیز ہو یا وطن سے باہر ‘’’خواہشِ سفر‘‘ کا سودا سر میں ایسا سمایا ہے کہ ادھر کوئی دعوت ملتی نہیں ادُھر ’’بسترا‘‘ بندھنا شروع ہو جاتا ہے۔ جھوٹ کیوں بولوں ’’ کول یعنی کوئلے‘‘ میں ہاتھ سیاہ کرنے سے زیادہ ’’تھر‘‘ میں شام گزارنے کا خیال غالب تھا۔ سال بھر پہلے جب تھر کے لق ودق صحرا میں بڑی مشکل سے ایک کنویں کے ساتھ لگے درخت کی چھاؤں ملی تو شیخ صاحب نے ایک بینچ پر نقشہ جما کر دسمبر 2017 میں کوئلہ اورجون 2018 میں 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں دینے کاانکشاف اور اس کے لئے ’’اعداد و شمار‘‘ کا جو دفتر کھولا تو شیخ صاحب کے احترام میں سُن تولیا مگر یقین کرنے کو جی نہ چاہا۔ سات گھنٹے کا سفر طے کر کے اسلام کوٹ پہنچے اور پھر وہاں پروجیکٹ کے ایک رہائشی بلاک میں شام تو اُسی طرح گزاری کہ جو برسوں سے گزرتی ہے مگر اُس کی تفصیل میں خوفِ خلقِ خدا کے سبب نہیں جاؤں گا۔ کوئلہ نکالنے کے لئے سندھ حکومت نے پانچ بلاکس مختلف کمپنیوں کو دیئے تھے۔ سندھ اینگرو تھر پروجیکٹ کو بلاک 2 دیا گیا ہے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 2 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز ہیں جس سے 5 ہزار سالانہ میگاواٹ بجلی 50 سال تک فراہم ہوسکے گی۔

مجموعی طور پر پانچ میں سے یہ واحد بلاک ہے جس پر اتنی تیزی سے کام جاری ہے کہ شیخ صاحب کے دعوے کے مطابق ہم مرحلہ وار ٹارگٹس کے حوالے سے 4 ماہ آگے ہیں۔ شیخ صاحب نے اعتراف کیا کہ اگر سی پیک نہ آتا تو ہمارا پروجیکٹ اتنی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے نہ کر پاتا۔ ہماری درخواست پر وزیراعظم پاکستان نے خصوصی طور پر اس پر توجہ دی اور پھر غالباً پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی اقتصادی منصوبے کے حوالے سے یہ پہلا پروجیکٹ ہے جس کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں پہلی بار سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا کہ یہ ایک ’’قومی پروجیکٹ‘‘ ہے۔ شیخ صاحب نے سندھ تھر کول پروجیکٹ کے حوالے سے ہماری روایت کے بر خلاف سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ وعدے کے مطابق دس منٹ بعد شیخ صاحب کی ہمراہی میں‘ میں پتھریلی سڑکوں کے دائیں بائیں چینیوں اور تھّریوں کو 50 ڈگری ٹمپریچر میں جس طرح جتے دیکھا اُس پر اُن کی استقامت اور عظمت کو بے ساختہ سلام پیش کیا۔ سال بھر پہلے پروجیکٹ پر دس بارہ گاڑیاں‘ ٹریکٹر اور مشینیں اور اُن پر سو ڈیڑھ سو افراد سر گرم نظر آتے تھے۔ شیخ صاحب نے تھر کول پروجیکٹ کے عین قلب میں ایک انتہائی گہری کھائی کی طرف انگلی سے اشارا کرتے ہوئے بتایاکہ اگر مزید اتنی ہی گہرائی میں گئے تو کوئلے کی پہلی کھیپ اگلے سات ماہ بعد بیلٹ سے پلانٹ کو روانہ ہوگی۔گہرائی سے نکلی مٹی کو دیکھنے کے لئے مشکل سے بس دو تین منٹ گاڑی سے باہر گزرے کہ لگا ایک قیامت ٹوٹ رہی ہے۔ واپس لوٹا تو دوپہر کا آخری پہر تھا ۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز کا یہ پہلا پرائیوٹ‘پبلک پروجیکٹ اُن مخالفین کے لئے ایک جواب ہوگا جنہیں سندھ میں وڈیرہ شاہی‘ اداروں کی تباہی اور بچوں کی اموات ہی نظر آتی ہیں ۔۔۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June

تحریر: عفت حسن رضوی

تحریر کو پڑھنے سے پہلے وہ قارئین جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے ذرا گوگل سرچ کریں "بیتھنی موٹا" ، اکیس سالہ امریکی ویب اسٹار جو وڈیو بلاگر ہے ، اس وقت یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد فالوئرز رکھتی ہے جو کسی بھی عالمی سیاسی لیڈر یا ہالی وڈ اسٹار سے زیادہ ہیں ، بیتھنی نہ کوئی اداکارہ ہے نہ کسی سیاسی شخصیت کی بیٹی اور نہ ہی کوئی علمی ادبی پس منظر۔ بیتھنی نے دوہزار نو میں جب وہ صرف پندرہ سال کی تھی یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا اور اپنی روزمرہ کی وڈیوز موبائل سے بنا کر انٹرنیٹ پر لگانے لگی ، جلد ہی نو عمر لڑکے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد بیتھنی کی گرویدہ ہوگئی، اب حال یہ ہے کہ وہ ویب ریٹنگ میں امریکی پاپ گلوکارہ کیٹی پیری اور میڈونا سے کئی درجے اوپر ہے۔


بیتھنی جیسے کتنی ہی نو عمر لڑکے لڑکیاں ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنی شناخت ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگے ہیں ، یہ وہ خو ہے جو انہیں اپنے والدین ، خاندان اور اپنے معاشرے سے الگ اپنی پہچان بنانے کے لئے اکساتی ہے، یہ کوئی منفی جذبہ نہیں ، اپنا نام بنانے کی خاطر تو اللہ جانے سیانے لوگ کئی زمانوں سے کیا کیا جتن کر رہے ہیں۔ اب دور اور ہے ، اب ہاتھوں میں چمکیلے اسمارٹ فونز وہ آفت کے پرکالے ہیں جو انگلیوں کی پوروں سے کلک ہوتے ہی ان نوجوانوں کو ایک نئی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں۔


ہم جیسے عام سے لوگ اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ ایک تصویر فیس بک پر لگانے کے بعد ہماری جبلت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ دیکھیں کتنے لوگوں نے لائک کیا، کوئی اچھوتا کام کرکے اس کی تفصیل سوشل میڈیا پر ڈالتے ہی اشتیاق ہوتا ہے یہ جاننے کا کہ کتنے لوگوں نے میرا کارنامہ پسند کیا اورکس کو پسند نہیں آیا ۔

socialmediaper.jpg
حیدرآباد کی نورین لغاری ، اچھی خاصی زندگی اور ایم بی بی ایس کی پڑھائی چھوڑ کر ایک دہشت گرد گروپ سے جا ملی ، بغیر کسی کے زور زبردستی کے خود اپنے والدین‘ دوستوں اور اساتذہ کو دھوکا دے کر لاہور جا نکلی ، لاہور جا کر اس لڑکے علی طارق سے شادی کرلی جو شدت پسند تھا، نورین نے خود کو تیار کرلیا کہ وہ مسیحیوں کے اہم دن ایسٹر پر ، خود کو کسی چرچ میں دھماکے سے اڑا لے گی۔ یہ سب اپنی پہچان ، اپنی شناخت ڈھونڈنے کے سوا کیا ہے؟ نورین کو ایک دہشتگرد لڑکے کی باتوں میں اپنے لئے اہمیت نظر آئی ، حیدرآباد کے علاقے حسین آباد کے رہائشی ، سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالجبار لغاری کی بیٹی نورین کو اپنے بل بوتے پر حیدرآباد سے لاہور جانے میں ایڈونچر محسوس ہوا ، ایسا نہیں کہ نورین کو معلوم ہی نہیں تھا کہ علی طارق ایک شدت پسند لڑکا ہے ،جس کے منصوبوں میں معصوم افراد کا قتل عام شامل ہے ، بس نورین علی طارق کی شخصیت کے حصار میں تھی۔


میں یہ تحریر کسی عمومی رائے کے طور پر نہیں لکھ رہی ،2015 میں میرا امریکی ریاست کالوراڈو کے شہر ڈینور میں کافی عرصے تک قیام رہا، ڈینور میں میری دوستی فرینک اینیلو سے ہوئی ، فرینک کالوراڈو میں پراجیکٹ ورتھ مور نامی این جی او چلاتے ہیں جوکہ سیاسی پناہ حاصل کرنے والے مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کرتی ہے۔ فرینک سے ہی پتا چلا کہ 2014 میں ڈینور میں مقیم ایک سومالی پناہ گزین فیملی کی دو نو عمر بچیاں گھر سے ہائی اسکول گئیں‘ واپس نہ آئیں ، کچھ دیر بعد انہوں نے گھر والوں کو اطلاع دی کہ وہ شام میں جاری جنگ کے لئے دہشت گرد تنظیم داعش میں شامل ہونے جارہی ہیں۔ اگرچہ بروقت کارروائی کرکے ان کم سن لڑکیوں کو جرمنی سے پکڑ لیا گیا مگر یہ واقعہ ایک بڑے سوال کے طور پر ابھر کر سامنے آیا کہ آخر کیوں ان بچیوں کو پر سکون زندگی چھوڑ کر داعش میں شمولیت کا خیال سوجھا۔


اس حوالے سے ڈینور کی انٹیلی جنس سروسز نے جب کریدا تو معلوم ہوا کہ دونوں بہنیں سوشل میڈیا پر ایسے دوستوں کے ساتھ رابطے میں تھیں جو داعش کو کسی ایڈونچر رائیڈ کے طور پر پیش کرتے تھے ، انہیں کم عمری میں یورپین مسلمان لڑکوں سے شادی کا جھانسہ دیا گیا، فرینک اینیلو کی مدد سے میری ملاقات ان بچیوں کے والد سے ہوئی، اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا تھا، بچیوں کے والد علی فرح مجھے مسلمان اور پاکستانی جان کر خاصے خوش تھے ، کچھ بات ہوتی رہی پھر جب فرینک نے میرا تعارف پاکستانی صحافی کے طور پر کرایا تو علی فرح مکمل طور پر ناگواری کے ساتھ خاموش ہوگئے بس اتنا ہی بتا سکے کہ ایک سیاہ فام پناہ گزین لڑکی کے لئے انٹرنیٹ پر خوش شکل گورے یورپی مسلمان لڑکے کی داعش جوائن کرنے کی آفر کتنی اہمیت رکھتی ہوگی ، اندازہ خود لگا لیں۔


گزشتہ چند برسوں میں تقریبا ایک ہزار برٹش نیشنل شام اور عراق جاچکے ہیں جن میں بعض تو مسلمان بھی نہیں،اچھی خاصی تعداد کالجز اور ہائی اسکول طالبات کی ہے۔ پاکستان میں کسی پڑھی لکھی لڑکی کا گھر بار چھوڑ کر شدت پسند تنظیم میں شامل ہونا اگرچہ عمومی مسئلہ تو نہیں مگر نورین لغاری کامعاملہ ٹیسٹ کیس ہے۔ یہ واقعہ پہلا ہے مگر آخری نہیں۔
ایسی خبریں روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں کہ اسلام آباد کی لڑکی کو قصور کے لڑکے نے شادی کا جھانسہ دے کر قتل کردیا ، کراچی کے کسی امیر خاندان کی لڑکی کی لاش چک اٹھائیس جنوبی پنجاب کے ایک ہوٹل سے ملی، انٹرنیٹ کی دوستی جان کو پڑگئی سرگودھا کے لڑکے کو اٹک میں لوٹ لیا گیا۔ یہ فرضی نام سہی مگر ایسی خبریں ہم صحافیوں کی روزمرہ رپورٹنگ کا حصہ ہیں۔ کیا بعید ہے جو محض شادی کا جھانسہ تھا وہ کسی شدت پسند تنظیم میں شمولیت کا پیغام ہو۔
یہ کوئی زیب داستان نہیں،آج کل کی حقیقت ہے کہ نو عمر بچے بچیوں کو شیشے میں اتارنے کے لئے دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کو بہت فعال طریقے سے استعمال کررہی ہیں ، خوش شکل لڑکے لڑکیاں سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شئیر کرتے ہیں، یہاں مذہبی عقائد ڈسکس ہوتے ہیں ، نوجوان اپنی نفسیاتی الجھنوں پر بات کرتے ہیں ، رفتہ رفتہ صنف مخالف میں کوئی ایک ایسا ٹکر جاتا ہے جو محبت میں مذہبی عقائد کی آمیزش کرکے ایسا رومانوی پلان بناتا ہے جس کی انتہا کوئی بم دھماکہ اور معصوموں کا قتل عام ہوتا ہے۔


اس آنے والے طوفان کا صرف ایک بند ہے ، اس مرض کا علاج اگر کسی کے پاس ہے تو وہ ہیں والدین، ایڈونچرز کے اس سونامی میں والدین ہی اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر، سنبھل کر چلنا اور اپنی شناخت بنانا سکھا سکتے ہیں۔
دنیا کی طاقتور عسکری قوت امریکہ اوربرطانیہ کی فوجیں بھی کسی کے گھر میں گھس کر یہ نہیں جان سکتیں کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے والدین سے تعلقات کیسے ہیں، وہ کن سے ملتے ہیں ، کہاں جاتے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر جو گھنٹوں طویل نشستیں چلتی ہیں تو یہ کس سے بات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا سرویلنس کے ہزار ہا طریقے ایجاد ہو بھی جائیں تب بھی پوری دنیا میں موجود دو ارب ٹین ایجرز اور نوجوانوں پر مکمل طور پر نگاہ رکھنا ناممکن ہے۔
جس طرح بھوک لگنا فطری فعل ہے مگر اس کے لیئے کھانا کھانے کی ایک حد ہے ، جیسے بیماری کا علاج کرنا فطری ہے مگر اس کے لئے دوا لینے کی بھی اپنی حدود ہیں ایسے ہی ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات حاصل کرنے کی خُو اچھی اور فطری ہے، مگر اس کی بھی اب حدود و قیود واضح کرنا ہوں گی، جس یوٹیوب کی ویب سائٹ پر بچوں کی اے بی سی اور ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار کی نظم وڈیو کی شکل میں موجود ہے وہیں عمر کی حد ملحوظ خاطر رکھے بغیر جہادی ، شدت پسند اور عصبیت پسندوں کی پروپیگنڈہ وڈیوز ایک کلک کی دوری پر ہیں، حکومت چاہے تو اس سلسلے میں پالیسی لا سکتی ہے ،" ایج ریسٹرکشن " کی اصطلاح ایسی بھی کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ روزانہ رات کو آپ اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی کے ہاتھ سے موبائل چھین کر اس کی سیکورٹی اسکروٹنی کرکے واپس کردیں اور وہ ردعمل میں اپنی معمولی باتیں بھی آپ سے چھپا نہ سکے۔میرے خیال میں تو اب والدین کو اپنے نوجوان بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال پر طعن و تشنیع دینے کے بجائے ان کی فیملی لسٹ کے ساتھ ساتھ فرینڈ لسٹ میں بھی شامل ہونے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگار نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ بلاگر اور کالم نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June
کمانڈر لاہور کور کا سینسس کنٹرول ہیڈ کوارٹر قصور کا دورہ
شتہ دنوں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے فوج اور سول انتظامیہ کی زیر نگرانی قصور شہر میں جاری مردم شماری مہم کا جائزہ لینے کے لئے سینس کنٹرول ہیڈکوارٹر قصور

Census

کا دورہ کیا۔ جہاں اُنھیں خانہ شماری اور مردم شماری کے حوالے سے اب تک کی مرحلہ وار پیش رفت کے بارے میں مفصل بریفینگ دی گئی۔ بعد ازاں کور کمانڈر ،قصور شہر کے مختلف وارڈز میں گئے اور مردم شماری ٹیموں اور شہریوں سے گفت و شنید کی اور مہم کے حوالے سے اُن کا نقطہ نظر اور ردِعمل معلوم کیا ۔ اُنھوں نے دوران مہم عام شہریوں کے تعاون کو بے حد سراہااور شکریہ ادا کیا۔ کور کمانڈر نے سول اور قومی اداروں کے باہمی اشتراک سے کامیابی سے جاری اس مہم اور اس میں حصہ لینے والی ٹیموں کی کار کردگی کی بھی تعریف کی۔

newsjune17commandcorecensus.jpg

کمانڈر کراچی کور کا کیڈٹ کالج گڈاپ کا دورہ

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے کیڈٹ کالج گڈاپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فیکلٹی ممبرز اور طلباء سے ملاقات کی اور کالج میں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طلباء کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں اپنے وطن عزیز کا نام روشن کریں گے۔

newsjune17commandcorecensus1.jpg

12
June
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کوئٹہ گریژن کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ گریژن اور دیگر تنصیبات کا دورہ کیا۔ کوئٹہ پہنچنے پر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض اور آئی جی ٹی اینڈ ای لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کا دورہ کیا اور وہاں مختلف کورسز میں زیر تعلیم نوجوان افسروں سے تبادلہ خیال کیا ۔

آرمی چیف نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے طلباء سے سالانہ خطاب کیا۔اس موقع پر انہوں نے بیرونی اور اندرونی سیکیورٹی صورتحال اور فوج کی جواب حکمت عملی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ملک میں قیام امن کے لئے فوج کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج استحکام کے آپریشنز میں نہایت فعال کردار اد کر رہی ہے ۔بعد ازاں آرمی چیف نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا بھی دورہ کیااورچمن واقعہ میں زخمی ہونیوالوں کی عیادت کی ۔

newsurdujunecoasquetagar.jpg

12
June
چیف آف آرمی اسٹاف کا لائن آ ف کنٹرول کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر نکیال سینٹر کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں موجودہ حالات سے مکمل آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے جوانوں کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بلند حوصلوں کو سراہا۔ بعد ازاں چیف آف آرمی اسٹاف بنوں آپریشن میں شہادت پانے والے لیفٹیننٹ خاور شہید کے گھر بھی گئے۔ انہوں نے شہید آفیسر اور اس کے خاندان کی وطن عزیز کے لئے اس عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر کمانڈر راولپنڈی کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا بھی ان کے ہمراہ تھے۔

newsurducoasvicitloc.jpg

ہیڈ کوارٹر سدرن کمانڈ کوئٹہ کینٹ میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس

گزشتہ دنوں ہیڈکوارٹر سدرن کمانڈ کوئٹہ میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض ،صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس سمیت دیگر سینئر فوجی اور سول حکام نے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا ء نے صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبے میں مربوط رسپانس کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جائے گا۔

newsurducoasvicitloc1.jpg

12
June
چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دور

گزشتہ دنوں ، چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمودحیات نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر انہیں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جس میں انہیں پاک فضائیہ کے تنظیمی ڈھانچہ اور پیشہ ورانہ کردار سے آگاہ کیا گیا۔

بعد ازاں جنرل زبیرمحمودحیات نے ائیر چیف سے ان کے آفس میں ملاقات کی اور پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ ء خیال کیا ۔

newscharmantjointscome.jpg

ترک سفارتکار کا جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
گزشتہ دنوں ترکی کے سفارتکار

Sadik Babur Girgin

نے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دو طرفہ دفاعی اور سیکورٹی کے معاملات پر مزید تعاون کو بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔

newscharmantjointscome1.jpg

09
June

تحریر: خالد محمود رسول

بھارت کا جنگی جنون اور خطے میں برتری کی شدید خواہش ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں بھارتی ایئر فورس کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پہلی بار اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے بارہ ہزار سے زائد افسروں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہیں کسی بھی وقت کسی بھی چیلنج کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اخبارات کو اس خط کی اطلاع پہنچی تو زیادہ تر ماہرین نے اسے بھارتی سیکیورٹی کو درپیش مسائل کے پس منظر میں ایک سنگین اشارہ سمجھا۔ بھارت اس وقت کشمیر میں جاری مزاحمت اور تحریک آزادی کو دبانے کے لئے ہر حربہ آزما رہا ہے۔ مزاحمت کی شدت بھارتی افواج کی جارحیت سے شدید تر ہے جس پر بھارت کو ملک کے اندر اور ملک سے باہر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے مسلسل پاکستان کی سرحدوں اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کووطیرہ بنایا ہوا ہے تاکہ دنیا کی نظر کشمیر کے نہتے شہریوں پر توڑنے والے مظالم سے ہٹا سکے۔


ابھی اس غیر معمولی خط پر تبصرے جاری تھے کہ ایک اور خبر نے دفاعی حلقوں کی توجہ مبذول کرا لی۔ اسرائیل کے سرکاری ادارے اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز نے بھارتی نیوی کے لئے 630 ملین ڈالرز کے میزائیل ڈیفنس سسٹم اور دفاعی ساز و سامان کی فروخت کا معاہدہ کیا۔ یہ خریداری اپریل میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والے اسرائیل بھارت کے درمیان اب تک ہونے والے سب سے بڑے خریداری معاہدے کے تحت ہوئی۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل ٹیکنالوجی سے لیس دو ارب ڈالرز کے ہتھیار اور سازو سامان بھارتی نیوی کو فراہم کرے گا۔ اسرائیل کے دفاعی حلقوں میں اس معاہدے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اسرائیل کے اس اسلحہ ساز ادارے کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اسلحہ بیچنے کا معاہدہ تھا۔

bharatkajangijnoon.jpgبھارت آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ دنیا بھر میں انتہائی غریب افراد کی سب سے زیادہ تعداد بھارت میں ہے۔ اس تلخ حقیقت کے باوجود یہ بھی ایک سنگین حقیقت ہے کہ بھارت کا جنگی جنون اسے چین نہیں لینے دے رہا ۔ دفاعی اخراجات کے اعتبار سے اب بھارت دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ دنیا بھر کے نمایاں ممالک کے ملٹری اخراجات پر مبنی ایک حقائق نامہ یعنی
Fact Sheet
ترتیب د یتا ہے۔ اس ادارے کی 2016کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زائد ملٹری اخراجات امریکہ نے کئے یعنی 611 ارب ڈالر جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا3.3% تھا۔ دوسرے نمبر پر چین، تیسرے نمبر پر روس، چوتھے نمبر پرسعودی عرب اور پانچویں نمبر پر بھارت تھا۔ بھارت کے کل ملٹری اخراجات کا اندازہ 55.9 ارب ڈالر لگایا گیا جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 2.5 %تھا۔ اس کے برعکس پاکستان کے ملٹری اخراجات کا تخمینہ اس فیکٹ شیٹ کے مطابق فقط 9.9 ارب ڈالر لگایا گیا۔
بھارت کا بجٹ 2017-18 یکم فروری کو پیش کیا گیا۔ بھارت کے تمام دفاعی اداروں کے لئے بشمول پنشن اخراجات وزیر خزانہ ارون جیتلی نے 3,59,854 کروڑ بھارتی روپوں کا دفاعی بجٹ پیش کیا یعنی 53.3ارب ڈالر کے برابر۔ پنشن کے لئے مختص 85,740کروڑ بھارتی روپے کے بعد اس دفاعی بجٹ کا حجم 2,74,144کروڑ بھارتی روپے ہے یعنی چالیس ارب ڈالرز سے کچھ زائد۔ یہ بجٹ گزشتہ سال کے بجٹ سے 5.54% زیادہ ہے۔ اس بجٹ کے ساتھ ایک تین سالہ میڈیم ٹرم
Fiscal Policy Statement
بھی پیش کی گئی جس کے مطابق دفاع کے لئے مختص جاری اخراجات میں 2018-19میں آٹھ فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ 019-20 میں اسے مزید 11%بڑھایا جائے گا۔
دفاعی اخراجات اصل میں کتنے ہیں؟ اسے عام آدمی کی نظر سے چھپانے کے لئے گزشتہ سال سے بجٹ میں اسے پیش کرنے کا انداز بدل دیا گیا ہے ۔ سالہاسال سے بجٹ میں دفاعی اخراجات کی مختلف مدوں کے لئے ایک
Demand of Grant Format
رائج تھا۔ اس سال کے بجٹ میں گزشتہ سال کی طرح اس میں تبدیلی روا رکھی گئی جس کی وجہ سے دفاعی تحقیقی اداروں کو بھی اصل دفاعی اخراجات کا کھوج لگانے میں دقت پیش آئی۔
گزشتہ سال کے اخراجات کے گوشوارے بجٹ کے ساتھ پیش کئے گئے تو یہ حیران کن امر سامنے آیا کہ گزشتہ سال دفاع کے لئے مختص وسائل کا8.11% استعمال نہ کیا جا سکا یعنی 6,970کروڑ بھارتی روپے استعمال نہ کئے جانے کی صورت میں یہ رقم واپس حکومتی خزانے میں چلی گئی یعنی
Surrender
کر دی گئی۔
بھارتی دفاعی بجٹ کی مختلف افواج اور دفاعی اداروں میں تقسیم کچھ یوں ہے ؛ انڈین آرمی پر کل دفاعی بجٹ کا 57% خرچ ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا سب سے بڑا حصہ بھارتی ایئر فورس کے لئے مختص ہوتا ہے یعنی 22 % ۔ نیوی کے لئے چودہ فی صد، ڈیفنس ریسرچ ایند ڈیویلپمنٹ ادارے کے لئے چھ فی صد اور آرڈی نینس فیکٹریوں کے لئے ایک فی صد مختص کیا گیا۔ دفاعی صلاحیتوں کی اپ گریڈیشن کے لئے مختص بجٹ میں آرمی اور نیوی کے بجٹ میں فی صدی اضافہ نہیں کی گیا البتہ بھارتی ایئر فورس کو جدید بنانے کے لئے مختص بجٹ میں 12 % اضافہ کیا گیا۔ اس نمایاں اضافے کا مقصد بھارتی ایئر فورس کے لئے نئے رافیل جنگی طیارے، اپاچی اور چینوک ہیلی کاپٹرز کی مزید خریداری کو ممکن بنانا ہے۔


بھارت کی معیشت گزشتہ تین سالوں کے دوران عالمی معیشت میں مشکلات کے باوجود سات فی صد سالانہ کے لگ بھگ شرح نمو کے ساتھ بڑھتی رہی۔ اس سے قبل کئی سال تک مسلسل بھارت کی معیشت دس گیارہ فی صد سالانہ کی رفتار سے نمو پاتی رہی۔ اس وقت عالمی معیشت میں شرح افزائش میں اضافہ واجبی سا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دنیا کے اکثر ممالک میں فری مارکیٹ کے خلاف ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ یورپ میں پاپولر سیاست دان یورپی یونین اور آزادانہ عالمی تجارت سے اپنے ملکوں کے لئے مناسب
Protection
کے حامی ہیں۔ امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں بھی عالمی تجاری معاہدوں پر کڑی تنقید کی گئی۔ بلکہ نئے صدر نے پہلے سے تقریباٌ طے شدہ معاہدے ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ میں شمولیت سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں یورپ اور امریکہ کے درمیان زیرِ غور معاہدے ٹرانس انٹلانٹک ٹریڈ اینڈ ایویسٹمنٹ پارٹنرشپ کے مذاکرات بھی معطل کر دئیے ہیں۔ بھارتی معیشت برآمدات ، درآمدات اور سرمایہ کاری کے بھاری حجم کی وجہ سے عالمی معیشت کے ساتھ بہت مربوط ہے۔ بھارت کے ماہرین معیشت بھارت کی گزشتہ عشرے کی نسبت حالیہ تین فی صد کم شرح نمو پر اکثر تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے اندر غربت، کرپشن اور کم ہوتی ہوئی شرح نمو بھارتی معیشت کے لئے بہت بڑے چیلنجز ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کئے جا رہا ہے۔ بلکہ علاقائی برتری کے خبط میں مبتلا اکثر ماہرین اس بجٹ کو مزید بڑھانے کے لئے مشورے دیتے رہتے ہیں کہ بقول ان کے بھارت کی افواج کے موجودہ سازو سامان کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور بڑی طاقتوں کے ہم پلّہ بنانے کے لئے موجودہ بجٹ ناکافی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت نے تین سالہ پالیسی پیپر میں اگلے سال مزید آٹھ فی صد اور اس سے اگلے سال مزید گیارہ فی صد کا عندیہ ابھی سے ظاہر کر دیا ہے۔


بھارت کے جنگی جنون کا سب سے بڑا اور مسلسل نشانہ پاکستان ہے۔ پاکستان کی طویل سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود پاکستان پر دراندازی کے الزامات لگانے کا سلسلہ بھارت میں اپنی سکیورٹی کی ناکامی کے ہر نئے واقعے کے ساتھ پھر سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہو یا اڑی کیمپ پر حملہ، ابھی گولیوں کی تڑتڑاہت ختم نہیں ہوتی کہ بھارتی میڈیا کی انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور زبانیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک دبانے میں ناکامی اور وہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج کی موجودگی اور بربریت کے باوجود کشمیریوں کی حیران کن مزاحمت نے بھارتی انا اور برتری کے تفاخر کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ افغانستان میں پاکستان دشمنی پر مبنی کارروائیوں، پاکستان کی سرحدوں پر اور پاکستان کے اندر مکروہ خفیہ کارروائیوں کے سامنے پاکستان کی افواج نے کامیابی سے بند باندھ رکھا ہے۔ سی پیک منصوبے پر بھارت دنیا بھر میں واویلا مچا رہا ہے۔ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے والا بھارت اس وقت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا جب گزشتہ ماہ بیجنگ میں ون بیلٹ اینڈ ون روڈ منصوبے کے لئے کانفرنس میں انچاس سربراہان مملکت سمیت 130ممالک نے شرکت کی لیکن بھارت نے عین آخری وقت پر سی پیک پر اپنے اعتراض کو بہانہ بنا کر شرکت سے کنارہ کشی کر لی۔


بھارت کا جنگی جنون پاکستان کے خلاف ہمیشہ کی طرح مصروفِ عمل ہے لیکن اب سی پیک کے منصوبے کے بعد بھارت کا جنون نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ سرحدوں پر مسلسل گولہ باری اور پاکستان میں غیر اعلانیہ اور خفیہ کارروائیوں کا واحد ہدف پاکستان کو معاشی اور عسکری طور پر الجھانا اور کمزور کرنا ہے۔ پاکستان نے بجا طور پر اپنی دفاعی پیداوار میں مسلسل خود انحصاری پر توجہ دے کر اپنے دفاع کو مزید محفوظ اور مضبوط کرنے کا عمل کامیابی سے جاری رکھا ہے۔ بھارت کے حالیہ دفاعی بجٹ میں مزید اضافے ، نئے جنگی سازو سامان کی خریداری اور اپنے افسران کی ہمہ وقت تیار رہنے کی ہدایت ظاہر کر رہی ہے کہ بھارت کا جنگی جنون ٹھنڈا ہونے کی بجائے مسلسل بھڑک رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے ہمیشہ کی طرح چوکس اور دفاعی سازو سامان میں برتری یا کم از کم توازن رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہنے کی ضروت ہے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: علی جاوید نقوی

سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہونے والی امریکہ ،عرب اسلامی سربراہی کانفرنس اپنی نوعیت کے حوالے سے ایک منفردکانفرنس تھی، کانفرنس کے کیانتائج برآمد ہوں گے ،یہ آنے والاوقت بتائے گا۔ حیرت کی بات ہے امریکی صدر کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں نظر نہ آئیں ،انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کوفروغ دینے والے بھارت کودہشت گردی سے متاثرہ ملک قراردے دیا۔اس کانفرنس سے ہمیں ایک سبق ضرور ملا ہے کہ آنکھیں بند کرکے کسی پراعتماد کرنے کے کیانتائج ہوسکتے ہیں۔پاکستان عالم اسلام کی قیادت کی نہ صرف اہلیت رکھتاہے،بلکہ پاکستان ہی وہ واحداسلامی ملک ہے جس پرمشرق وسطی تنازعے کے تمام فریق اعتماد کرتے ہیں۔ہم اپنی غیرجانب دارانہ حیثیت برقراررکھتے ہوئے ،مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے مؤثرکردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کانفرنس کی صدارت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے کی ۔ تمام مسلم ممالک کادہشت گردی اوردہشت گردو ں کے خلاف مل کرجنگ لڑنا ایک سنہرا خواب ہے ۔کیا ہی اچھاہوتا اس’’عرب اسلامک امریکن سمٹ‘‘ میں دیگربرادر اسلامی ممالک کو بھی مدعوکرلیاجاتا ۔اس کانفرنس میں دعوت نامے کے باوجود ترکی کے صدررجب طیب اردگان نے شرکت نہیں کی ،ترکی کی نمائندگی ترک وزیرخارجہ نے کی۔


امریکہ ،عرب اسلامی کانفرنس کے اختتام پرجومشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’’ عالمی اورعلاقائی سطح پردہشت گردی،انتہاپسندی کی روک تھام اورامن واستحکام وترقی کے لئے عرب واسلامی ممالک اورامریکہ قریبی پارٹنرشپ قائم کریں گے۔ فریقین نے مشترکہ کارروائیوں اورتعلقات کی مضبوطی کے لئے تعاون بڑھانے اوراقدامات اٹھانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے پراتفاق کیا‘‘۔مشترکہ کارروائیوں کالفظ اپنے اندربہت سے معنی لئے ہوئے ہے۔ کیا ان مشترکہ کارروائیوں میں پاکستان شامل ہوگا؟ امریکہ اورخلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے درمیان دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لئے بھی ایک سمجھوتہ طے پایا ۔اس حوالے سے امریکہ اورچھ خلیجی ممالک کے حکام نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ۔ سربراہ اجلاس کے بعدصدرٹرمپ نے ریاض میں انتہاپسندی کے انسداد کے لئے قائم ہونے والے خصوصی انسٹی ٹیوٹ’گلوبل سنٹرفارکومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘‘ کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔یہ سنٹرانتہاپسندانہ نظریات سے لڑنے کے لئے حکمت عملی بنائے گا۔اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرزمیں مختلف ممالک سے بارہ نمائندے منتخب کئے جائیں گے۔


دہشت گردی اوردہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے مسلم ممالک کی مشترکہ فوج ایک اچھاآئیڈیاہے۔اس پرمزید کام کیاجاناچاہیے ۔اس اسلامی فوج کوپوری امت مسلمہ کی فوج بنانے کی ضرورت ہے۔امت مسلمہ کادشمن تویہ ہی چاہتا ہے کہ ہم فرقہ وارانہ اختلافات کاشکارہوجائیں۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی پاکستان کے لئے یقینی طورپرایک اعزاز ہے اورامید ہے جلد ایک پیشہ ور فوج تیارہوجائے گی،جوداعش اورالقاعدہ جیسی دہشت گردتنظیموں سے نمٹ سکے گی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اس کانفرنس میں موجود تھے۔

badaltyhalatmuslim.jpg
یہ پاکستان کے امتحان کابھی وقت ہے ،سعودی عرب اورایران دونوں پاکستان کے دوست ہیں۔دونوں ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیا۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ ان دونوں دوستوں کواہمیت دی اوربھائی سمجھا۔اب ہمارے ان دونوں دوستوں میں بعض امورخصوصاشام اوریمن کے معاملے پرسخت کشیدگی ہے۔پاکستان کی اسلامی ممالک کی اتحادی فوج میں شرکت پربرادرملک ایران کے تحفظات ہیں۔جبکہ ہم مشکل وقت میں سعودی عرب کوبھی تنہانہیں چھوڑسکتے۔اس کانفرنس میں ایران کانام لے کراسے تنہاکرنے کی باتوں نے پاکستان کوآزمائش میں ڈال دیا ہے۔بہترہوتااس کانفرنس سے پہلے پاکستان، سعودی عرب اورایران کواپنے اختلافات کم کرنے اوربات چیت کے ذریعے طے کرنے پرراضی کرلیتا۔جہاں تک طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کامعاملہ ہے تودنیا کے سامنے امریکہ کی مثال موجودہے جوآج تک افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکا۔


کانفرنس میں امریکی صدرنے جوکچھ کہا،ہماری طرف سے یہ پیغام ضرور جاناچاہئے تھاکہ ہماراامریکی پالیسیوں سے سوفیصد متفق ہوناضروری نہیں،خاص کر بھارت کی شان میں صدرٹرمپ نے جو فرمایاہے۔ سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیزنے اپنے خطاب میں اسلامی عسکری اتحاد کابھی ذکرکیااورکہا کہ یہ اتحاددہشت گردی کوشکست دینے کے لئے بنایاگیاہے۔ دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کااتحاد ایک اچھااقدام ہے لیکن اگراس اتحادمیں امریکہ بھی شامل ہوگاتوبہت سے سوالات اورغلط فہمیاں پیداہوں گی ۔ مشرق وسطی میں ہمارا کردار ایک ثالت کاہوناچاہیے فریق کانہیں۔داعش اورالقاعدہ جیسی تنظیمیں مسلم ممالک میں انتشار اورتباہی کاباعث بن رہی ہیں۔داعش نوجوانوں کوورغلاکراپنے منفی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔تاہم داعش اورعلاقے کی اسرائیل مخالف مزاحمتی تنظیموں میں فرق ہے۔
امریکی صدرٹرمپ جن کی کرسی صدارت خطرے میں ہے اوران کے مواخذے کی باتیں ہورہی ہیں۔ٹرمپ نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کا آغاز اسلام کے مرکزسعودی عرب سے کرکے اپنے مسلم دشمن ہونے کے الزام کو دھونے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس کے لئے انھیں زبانی جمع خرچ کے علاوہ بہت کچھ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ سعودی عرب کے بعد اسرائیل اورویٹی کن سٹی بھی گئے۔ان کا دیوارگریہ جانابھی متنازعہ عمل ہے ،عربوں کے اس علاقے پراسرائیل نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ڈونلڈٹرمپ نے اسرائیل کے دورے کے موقع پرکھل کرکہاکہ’’ اسرائیل سے محبت ہے اوراس کااحترام کرتے ہیں ،وہ اسرائیل کے ساتھ ہیں‘‘۔اگرٹرمپ اسرائیل کے ساتھ ہیں تووہ مسلم ممالک کے ساتھ کیسے ہیں؟بات اتنی سادہ نہیں ہے۔


ٹرمپ اپنے دورے سے یہ بھی ثابت کرناچاہ رہے تھے کہ وہ دنیاکے تین بڑے مذاہب مسیحیت،اسلام اوریہودیت کوساتھ لے کرچلناچاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ مذاہب کی جنگ توہرگز نہیں ہے۔دہشت گردوں کانشانہ تمام مذاہب اورفرقے ہیں۔مشرق وسطی سمیت دنیا بھرمیں جوقتل وغارت جاری ہے اس کی ایک وجہ امریکی پالیسیاں بھی ہیں۔امریکہ کوایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کاقیام جلدازجلد عمل میں آسکے اوراسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بندباندھا جائے ۔


ٹرمپ نے اس کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف تقریر کی ،انہوں نے ایران کی پالیسیوں پرتنقید کی اوراُسے تنہاکرنے کی بات کی ۔پاکستان ،امریکہ کے ساتھ مل کردہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہاہے،لیکن صدرٹرمپ نے ہماری قربانیوں کااعتراف نہ کیا،جس پرہماراشکوہ بنتاہے۔ سابق صدراوبامہ کے دور میں امریکہ اورسعودی عرب کے تعلقات سردمہری کاشکارتھے،جس کی وجہ سے مشرق وسطی امریکی ترجیحات میں نچلی سطح پرآگیاتھا۔اب ان تعلقات میں ایک نئی گرم جوشی آگئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اورخلیجی ممالک کی اس نئی فرینڈ شپ کے خطے پرکیااثرات ہوں گے۔بعض عرب دوستوں کے گوادرپورٹ کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں۔امریکہ اوربھارت بھی نہیں چاہتے کہ گوادرپورٹ کے راستے خطے میں چین کااثروروسوخ بڑھے۔


ٹرمپ ایک بزنس مین ہیں انہوں نے امریکی معیشت کومستحکم کرنے اورنوجوانوں کے لئے روزگارکے نئے مواقع پید اکرنے کے لئے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لئے سعودی عرب کاانتخاب کیا۔ وہ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالرکے معاہدے کرنے میں کامیاب رہے۔امریکی پالسیی سازوں کواندازہ تھاکہ یہ سعودی عرب کوامریکی اسلحہ بیچنے کابہترین موقع ہے۔سعودی عرب جوپہلے ہی معاشی دباؤ کاشکارہے، اربوں ڈالرکے اسلحے کی خریداری معیشت پرمزیدبوجھ ڈالے گی، جبکہ امریکی اسلحہ سازکمپنیوں کی چاروں انگلیاں گھی میں ہوں گی۔


سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدرٹرمپ کوسعودی عرب کے سب سے بڑے اعزازسے نوازا۔اب ظاہر ہے میڈل پہننے کے لئے میڈل دینے والے کے آگے سرجھکاناپڑتا ہے۔صدرٹرمپ پر بداعتمادی کایہ حال ہے کہ صدرٹرمپ کی اس تصویرپرامریکہ میں ہنگامہ کھڑاہوگیا۔چندسال پہلے امریکی صدراوبامہ نے بھی اسی طرح جھک کرمیڈل پہنا تھا،اس وقت ٹرمپ کی طرف سے اوبامہ کوشدید تنقید کانشانہ بنایاگیا۔اب ٹرمپ کواسی تنقید کاسامناکرناپڑا ہے۔


اہم سوال یہ ہے کہ کیاامریکی صدرٹرمپ کے دورے کے اثرات دیگرمسلم ممالک پرمرتب ہوں گے اورکیاصدرٹرمپ مسلم ممالک کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کریں گے؟ہمارا خیال ہے یہ سب زبانی جمع خرچ ہے ۔صدرٹرمپ کی مسلم ممالک کے حوالے سے پالیسی تبدیل نہیں ہوگی ۔مسلم دنیا کابھی صدرٹرمپ سے یہ امیدیں وابستہ کرلیناکہ وہ امت مسلمہ کے مفادات کاتحفظ کریں گے ایک لطیفہ ہی ہے۔امریکہ کی اپنی ترجیحات ہیں اوردیگرممالک کی اپنی ترجیحات اورمفادات ہیں ۔ہماری پالیسی ہے کہ ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ،اورنہ پاکستان کسی ملک کے اندرمہم جوئی کاارادہ رکھتاہے۔ کسی مسلح گروپ کے ذریعے کسی ملک کی حکومت کو ہٹانے کارحجان کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔اس پالیسی کے تحت پاکستان،شام میں صدربشارالاسد کی حکومت کوتسلیم کرتاہے اوریمن میں حوثی باغیوں کی مسلح جدوجہد کی مخالفت کرتاہے۔یوں اگردیکھاجائے توشام کے مسئلے پرپاکستان ،ایران کے قریب ہے جبکہ یمن کے معاملے پرپاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے۔پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے موجود ہیں۔پاکستان ان دفاعی معاہدوں پرعمل کرنے اورکسی غیرملکی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کی مدد کاپابند ہے،تحفظ حرمین شریفین بھی ہم سب کی ذمہ دار ی ہے۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ پاکستان کوکسی کے کہنے پرکسی تیسرے ملک میں مہم جوئی شروع کردینی چاہئے۔ہم اس وقت خود ایک مشکل صورتحال کاشکارہیں،دہشت گردوں کے خلاف ایک ایسی لڑائی لڑرہے ہیں۔جس میں ٹی ٹی پی اورداعش جیسی تنظیموں کوغیرملکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔یہ بھی واضح ہے کہ ملکوں کے تعلقات باہمی مفادات پرہوتے ہیں ناں کہ مذہب اورفرقے کی بنیادپر۔ امریکہ اورایران کے درمیان مخاصمت چالیس سال سے جاری ہے۔یہ ایران اورامریکہ کی مرضی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کس طرح رکھتے ہیں ۔ہم نے اب تک اپنادامن بچاکررکھا ہواہے۔ہمارے دشمن کی شروع سے کوشش ہے کہ پاکستان کوکسی طرح فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلاجائے۔لیکن پاکستان کے عوام نے مل کراس سازش کوناکام بنایاہے،سب کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں۔ہمیں کسی نئی سازش کاشکارہونے کی بجائے بھائی چارے اورامن کی فضا کوقائم رکھنا ہے۔پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں۔مختلف فرقوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں،جب کسی ایک بھائی کوتکلیف ہوتی ہے اس کادرد دوسرا بھی محسوس کرتاہے ۔ہمارامفاد یہ ہے کہ مسلم ممالک بھی فرقہ واریت کاشکارنہ ہوں۔


سفارتی امورکے بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ہمارے عرب دوستوں نے جلدبازی میں اپناوزن امریکی پلڑے میں ڈال کرگھاٹے کاسوداکیاہے۔انھیں امریکہ ،روس اورچین تینوں عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے چاہئیں۔اگراس کانفرنس میں روسی صدرپیوٹن بھی آجاتے توبہترہوتا۔سارے انڈے امریکہ کی باسکٹ میں ڈالنے کافیصلہ دانشمندانہ نہیں۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے علاوہ بحرین،کویت،قطر،متحدہ عرب امارات،اومان اورمصرکے سربراہان مملکت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دفترخارجہ کی کوششوں کے باوجود وزیراعظم نوازشریف اورڈونلڈٹرمپ کے درمیان ون ٹوون ملاقات نہ ہوسکی۔نائن الیون کے بعد پاکستان دہشت گردی کاسب سے زیادہ شکارہواہے۔اب تک ہزاروں لوگ اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرچکے ہیں۔پاکستانی معیشت کواربوں روپے کانقصان ہوا ہے لیکن امریکی صدرٹرمپ نے اپنی تقریرمیں پاکستان کی قربانیوں کاذکرنہیں کیا۔یہ بات طے ہے کہ مشرق وسطی میں اس وقت تک امن نہیں آسکتاجب تک تمام برادرممالک بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔سعودی عرب اورایران کے اختلافات اتنے سنگین نہیں کہ انھیں دورنہ کیاجاسکے ۔اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے مسائل کاحل کسی دوسرے سے لینے کی بجائے آپس میں بات چیت کا آغاز کریں۔ اس ضمن میں پاکستان ثالثی کاکرداراداکرسکتاہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

سرنگوں کبھی نہ ہوپرچم تیرا


زندگی تیرے نام ہے
شہادت مرا انعام ہے
میری عیدیں اور شبراتیں
اے وطن تیرا دوام ہے
تری عظمت و شان و شوکت
مرا سکھ چین آرام ہے
سرنگوں کبھی نہ ہوپرچم تیرا
اسلحہ مرا بے نیام ہے
ترے نظریے کے لئے
پینا شہادت کا جام ہے
تو رہے پائندہ و تابندا
فوج کا بس یہی کام ہے
دنیا میں تُو ہو سربلند‘ اس لئے
لیاقت حاضر صبح و شام ہے
بریگیڈیئرلیاقت محمود

*****

 
09
June

تحریر: حماس حمید چودھری

206 قبل مسیح میں ہان خاندان چین میں برسر اقتدار آیا۔ہان خاندان کی چار سو سالہ حکومت چین کی معاشی تاریخ میں سنہرے دور کے طور پر یاد کی جاتی ہے کیونکہ ہان خاندان نے تاریخ میں پہلی بار ایشیا کو افریقہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی مقاصد کے لئے براہ راست جوڑنے کا سوچا اور پھریہی سوچ بنیاد بنی شاہراہ ریشم کی۔ اس قدیم شاہراہ ریشم(سلک روڈ) کی کچھ جھلکیاں آج بھی گلگت شہرسے قراقرم روڈ کے ذریعے خنجراب بارڈر کی طرف جاتے ہوئے دریا کی دوسری جانب دیکھی جاسکتی ہیں۔قدیم زمانے میں شاہراہ ریشم مشرق میں جاپانی جزیروں تک اور مغرب میں بحیرہ روم تک پھیلی ہوئی تھی لیکن بعد میں مختلف وجوہات کے باعث یہ عظیم الشان تجارتی سلسلہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ ایشیا اور یورپ کو ایک سڑک کے ذریعے جوڑنے کاسنہری خواب تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو گیا۔


سیکڑوں سالوں بعد آج جب ہم نے اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم جمالئے ہیں تو ایک بار پھر سے ایشیا کو افریقہ اوریورپ سے ایک سڑک کے ذریعے جوڑنے کا خیال زبان زد عام ہے۔اس خیال کی باز گشت اس وقت سنائی دی جب ستمبر اور اکتوبر 2013ء میں ایشیا اور یورپ کی مختلف ریاستوں کے دورے کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے مَیری ٹائم سلک روڈ اور سلک روڈ اکنامک بیلٹ کا تصور پیش کیا گیا۔ اس خیال نے اس وقت حقیقت کا روپ دھارنا شروع کیا جب نومبر2014ء میں چینی حکومت نے سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان میں 46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا اس معاہدے پر دستخط 20 اپریل 2015ء کو چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کئے لیکن یہ صرف ابتداء تھی چین کے اس بین البر اعظمی منصوبے کی، جس نے ایشیا کو افریقہ اور یورپ سے براہِ راست جوڑنا تھا‘ 14اور15 مئی 2017ء کو چین نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو فروغ دینے کے لئے بیجنگ میں ایک بہت بڑے اجلاس کی میزبانی کی جس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے سربراہان بشمول روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوان اور مختلف نمائندوں نے علاوہ مختلف عالمی اداروں ‘ آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے سربراہان اور مندوبین نے بھی شرکت کی۔اس دو روزہ اجلاس کے دوران پاکستان اور چین نے تقریباً 500 ملین ڈالر کے بھاشا ڈیم، 333 ملین ڈالر کے گوادر ایئر پورٹ، حویلیاں ڈرائی پورٹ اور ریلوے ٹریک کے منصوبوں کے چھ اضافی معاہدوں پر دستخط کئے جس سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی مالیت اب تقریباً 75بلین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا بین الصوبائی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کے درجنوں ممالک کو براہ راست جوڑنے کے لئے چین سمندری اور زمینی راستوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کرنا چاہتا ہے جس پر تقریباً ایک کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔ چین 2014ء سے اب تک ون بیلٹ ون روڈ سے ملحقہ ممالک کے ساتھ تقریباً 400 ارب ڈالر کے منصوبے سائن کر چکا ہے اور 2017ء میں ہی مذکورہ منصوبوں کے لئے تقریباً 90 ارب ڈالر اپنے تین سرکاری بینکوں میں منتقل کر چکا ہے۔


چین کی ایک کھرب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری سے پاکستان اور سری لنکا میں بندرگاہوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں تیز رفتار ٹرینوں اور وسطی ایشیا سے گزرنے والی گیس پائپ لائنوں ، سنکیانگ سے گوادرکی گہرے پانی کی بندرگاہ تک57 ارب ڈالر کی لاگت کا زمینی راستہ، ایک ارب ڈالر کی لاگت سے سری لنکا کے شہر کولمبو میں ایک پورٹ سٹی کی تعمیر، سنکیانگ سے سنگاپور تک تین ہزار میل لمبی تیز رفتار ٹرین کی پٹری بچھانے کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے ساتھ بھی بیشتر منصوبوں پر عمل درآمد شامل ہے۔اس کے علاوہ چین کا ایگزم بینک افریقہ کے کئی ممالک میں ریلوے نیٹ ورک کے لئے بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

onebeltroadpak.jpg
امریکہ کی بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے امریکہ سے فاصلے پیدا ہو چکے ہیں۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور پاکستان کا قریبی دوست اور ہمسایہ ہے۔فوربز کے مطابق چین 2018ء تک معاشی میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون پر چلا جائے گا اور حالات بھی کچھ ایسے ہی دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ فوکس بزنس کے مطابق ایک امریکی اوسطاً 62ہزار ڈالر قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ دنیا کا مستقبل ہے اور یہ بین البراعظمی منصوبہ دنیا کو ایک نئی شکل اور ترتیب دے گا۔


مشہور کورین دانشورجے ہو چنگ کا کہنا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جب مکمل ہوگا تو تقریباً60 ممالک اس کا حصہ ہوں گے اور دنیا کی دو تہائی آبادی اس سے منسلک ہوگی جبکہ یہ عالمی جی ڈی پی کے 55فیصد اور عالمی توانائی کے75فیصد حصے پر مشتمل ہوگا۔ہانگ کانگ کے اخبار ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ انسانی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم منصوبہ ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا اب امریکہ کی امریکہ فرسٹ پالیسی سے تنگ آکر چین کی جانب جھکتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ چین کی پالیسیاں باہمی تعاون ، باہمی دلچسپی اور باہمی منافع پر مبنی ہیں۔چین ایشیائی سپر پاور بننے کے بعد اب عالمی سپر پاور بنتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ دوسری عالمی طاقتوں روس اور امریکہ کی جنگی پالیسیوں کی نسبت چین کی پرامن معاشی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے دنیا چین کی جانب دیکھ رہی ہے۔


اس عالمی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے اورواشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کا اشارہ بھارت کی جانب تھا کیونکہ بھارت نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کے بار ہا احتجاج کے باوجود چین نے بھارت کو اعتماد میں لئے بغیر پاکستان میں سی پیک کا آغاز کر دیا جوکہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ہی حصہ ہے ۔ حالانکہ حالیہ دنوں میں ہی بھارت میں چین کے سفیر لیو ژو ہیو نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں پاک چین اقتصادی راہداری پر وضاحت دی کہ سی پیک منصوبہ کسی لحاظ سے بھی بھارت کی ترقی کے خلاف نہیں اور وہ ون بیلٹ ون روڈ کے اس عظیم منصوبے میں بھارت کی شمولیت چاہتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی سفیر کے مذکورہ بیان پر پاکستانی حلقوں نے اعتراضات کئے تھے جس کے بعد چینی سفیر کو سی پیک کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے دیا گیا اپنا بیان واپس لینا پڑا۔


اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی کامیابی کا دارومدار پاک چین اقتصادی راہداری کی کامیابی سے منسلک ہے کیونکہ سی پیک ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے اور اس کی کامیابی کو چین دنیا کے سامنے بطور مثال پیش کرے گا۔جب بھی کسی بڑے منصوبے کا آغاز کرنا ہو تو اس سے پہلے ایک پائلٹ منصوبہ بنایا جاتا ہے جس کی کامیابی کی بنیاد پر بڑے منصوبے کا آغاز کیا جاتا ہے اس لحاظ سے دنیا کی نظریں سی پیک پر مرکوز ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں سات لاکھ نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں تو ون بیلٹ ون روڈ کی وجہ سے ستر لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا اور یہ باتیں ہمارے دشمنوں کو بھاتی نہیں ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا مقصد بھی سی پیک کو سبو تاژ کرنا تھا۔بارڈر کے اس پار بیٹھے دشمن اور ہماری صفوں میں موجود منافق کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان میں معاشی استحکام اور خوشحالی آئے جس کے لئے وہ کسی بھی اخلاقی حد سے گر جانے میں قباحت محسوس نہیں کرتے ۔


اس ساری صورتحال میں افواج پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل اور فیصلہ کن ہے کیونکہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی دہشتگردی کا شکار ہے جبکہ افواج پاکستان پچھلے سولہ سالوں سے حالت جنگ میں ہیں اگرچہ حالات بتدریج کامیابی کی جانب گامزن ہیں تاہم حکومت کی ناکام فلاحی پالیسیاں اور سیاسی عدم استحکام اس امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ دشمن کبھی جاسوس ایجنسیوں کے ذریعے بلوچستان کے معصوم لوگوں کو ورغلاتا ہے تو کبھی افغان بھائیوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بو تا ہے، کبھی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے گوادر منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی کراچی کے حالات خراب کرتا ہے۔بارڈر کے اس پار بیٹھا دشمن بد امنی اور دہشتگردی کو بنیاد بنا کر سی پیک منصوبے کو دنیا کی نظر میں ناکام دکھانا چاہتاہے لیکن اس کے ناپاک مقاصد کے حصول کی راہ میں افواج پاکستان سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہیں۔


ایک اور بات قابل غور ہے کہ چین او بی او آر سے منسلک ممالک کو آسان قرضوں کی صورت میں سرمایہ دے گا اور ایک وقت پر ان ممالک کو یہ قرضہ اتارنا ہوگا تو پاکستان کو چاہئے کہ مکمل پلاننگ کے ساتھ اس منصوبے کے ساتھ چلے تاکہ آج کا دوست کل کا آقا نہ بن جائے۔دوستی اپنی جگہ ہوتی ہے لیکن جہاں مفادات کی بات آجاتی ہے تو عقلمند سب سے پہلے اپنے مفادات محفوظ کرتا ہے اور پھر دوسروں کے ۔ اپنے دوست چین کی طرح ہمیں بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔


سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے اگر چین کا زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور پاکستان کا کم تو بھی یہ گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ اس وقت پاکستان کے عوام کی معاشی حالت بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ گیلپ کے مطابق پاکستان کی چالیس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے اور نو جوانوں میں بے روزگاری کی شرح روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔اس موقع پر ہمیں بحیثیت قوم مل کر سی پیک کو کامیاب بنا کر ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی جنگی بنیادوں پرانتہائی محتاط انداز میں راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کی زندگی


خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیان و حریر
نہنگِ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد
نہنگ مُردہ کو موجِ سراب بھی زنجیر

*****

 
09
June

ملکی دفاع کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہوا کرتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اگر کوئی ریاست دفاعی اعتبار سے کمزور ہو اور اس کی سپاہ اس قابل نہ ہو کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے تو پھر ایسی ریاست کی سالمیت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام نے معاشرت اور سماجی اعتبار سے ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی لائن کو بھی مضبوط خطوط پر استوار رکھا ہے۔ مضبوط دفاع اور ملکی سالمیت کو یقینی بنانے کے پیش نظر وطنِ عزیز پاکستان نے بھی بطورِریاست کبھی اس پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمارا دین بھی ہمیں اپنا دفاع مضبوط رکھنے اور خود کو تیار رکھنے کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ پاک کی آیت کا مفہوم ہے ۔


’’اور(مسلمانوں) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں اُن سے مقابلے کے لئے تیار کرو جن کے ذریعے تم اﷲ کے دشمن اور اپنے(موجودہ) دشمن پر ہیبت طاری کرسکو‘ اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے‘ (مگر) اﷲ اُنہیں جانتا ہے۔ ‘‘
(سورۃ الانفال آیت 60)
افواج پاکستان ’الحمدﷲ‘ پیشہ ورانہ اہلیت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں۔ ہماری بری‘ بحری اورفضائی افواج نے ہر ہر معرکے میں اپنی اہلیت اور قوت دونوں ثابت کی ہیں۔ ظاہر ہے ریاست کو اس امر کا ادراک ہے کہ ملکی سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا کس قدر اہم ہے۔ لہٰذا ہر سال دفاع کے لئے بجٹ مختص کیا جاتا ہے ۔ رواں برس بھی بجٹ2017-18 کے47کھرب اور 52 ارب کے وفاقی بجٹ میں سے928 ارب دفاعی بجٹ کے لئے مختص کئے گئے ہیں جو مجموعی بجٹ کا تقریباً16 فیصدبنتا ہے۔مختص کردہ بجٹ کا اگر پڑوسی ملک ہندوستان اور بعض دیگر بڑی طاقتوں سے موازنہ کیاجائے تو یہ نہایت قلیل ہے لیکن ریاست کی تینوں افواج اس مختص کردہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ اہلیت اور صلاحیتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی سعی کرتی ہیں بلکہ وقت پڑنے پر کسی بھی چیلنج سے نبرد آزما ہو کر ملکی دفاع کو یقینی بناتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما ہے جس میں بری‘ بحری اور فضائی افواج نے اپنی اپنی ذمہ داریاں اس انداز سے نبھائی ہیں کہ ایک دنیا ان کااعتراف کرتی ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی وطنِ عزیز کو خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے اور پاکستان دشمن عناصر ملک کے خلاف کارروائیاں کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن ہماری فورسز کی جانب سے نہ صرف ایسی کارروائیوں کا مؤثرجواب دیا جاتا ہے بلکہ ان عناصر کا پیچھا اُن کی کمین گاہوں تک کیا جاتاہے۔افواجِ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے نہ صرف کماحقہ‘ آگاہ ہیں بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت سے بھی مالامال ہیں اور وہ اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ صرف امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ترقی اور خوشحالی حاصل کی جاسکتی ہے۔بلاشبہ دیرپا امن کے حصول کے لئے پاکستان کو ایک طاقت ور اور مضبوط ریاست کے طور پر خود کو منوانا ہے جس کے لئے پاکستان کے عوام اور اس کی افواج مل کر کام کررہی ہیں کہ باہمی اتحاد و یگانگت ہی میں ریاست کا امن اور وقار پنہاں ہیں۔

09
June

تحریر: خدیجہ محمود

جس طرح ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ اسی طرح میری نظر میں پاک فوج سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ سپاہی ہو یا جرنیل آسمانِ شجاعت کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس کے سینے پر کسی نہ کسی قربانی کا تمغہ سجا ہوا ہے اور وہ قربانی صرف دفاعِ وطن کے مقدس فریضہ کے دوران رتبۂ شہادت پر فائز ہونے کی ہی نہیں بلکہ خون کو جماتی ہوئی سیاچن گلیشیر جسے برف کا صحرا کہیں تو مناسب ہوگا کی سردی میں توکبھی جھلسا دینے والی ریگستان کی گرمی میں اپنے تمام پیاروں سے دوری‘ دورانِ تربیت زخمی ہو کر یا کسی آپریشن میں جسم کے کسی حصے کی تاعمر معذوری کی صورت میں بھی شامل ہے اور پھر بھی وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ:’’ اے وطن! ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں‘‘
بظاہر یہ چمکتی ہوئی کلف زدہ بے شکن فوجی وردی ہے لیکن اپنے اندراَن گنت داستانیں سموئے ہوئے خاموشی کی زبان میں بہت کچھ سناتی ہے جو شاید صرف چند اہلِ دل ہی سمجھ پاتے ہیں۔
آج کا مضمون ان
Unsung Heroes
کوخراج تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کاوش ہے جو اس پاک وطن کے عشق میں چُور‘ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
زمانے میں ادا کرتے ہیں جب بھی رسمِ شبیری
تو نوکِ خنجرِ باطل پہ بھی سررقص کرتا ہے
اپنی اس تحریر میں میں چاہ کر بھی لفاظی نہیں کرپاؤں گی کیونکہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی جن کے سینوں میں دل کی جگہ پاکستان دھڑک رہا ہے‘ وہ کسی ستائش کی پروا کئے بغیر اس ملک کی خدمت کررہے ہیں۔ ان کا صرف ایک ہی جنون‘ ایک ہی عشق اور ایک ہی ایمان ہے ۔ جس کا نام پاکستان ہے۔

shukriayapakfoj.jpg
کچھ صحافی اور اینکر حضرات پرنٹ ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے مختلف میڈیم پر پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان سب سے مخاطب ہو کر یہ کہنے اور لکھنے کی جسارت کررہی ہوں کہ پاکستان میں ایک ہی تو ادارہ ہے جس کے نمائندگان نہایت یقین سے اس ملک کے شہریوں کو اعتماد دلاتے ہیں کہ ’’تم سکون کی نیندسو لو‘ پاک فوج جاگ رہی ہے۔‘‘


کچھ حب الوطنی کے دعوے داروں کا اعتراض ہے کہ ملک کے بجٹ کا 70فیصد حصہ پاک فوج پر خرچ ہوتا ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ ذرا غور سے اعداد و شمار کو دیکھیں۔ پالیسیوں پر نظردوڑائیں اور عینک کے دھندلائے شیشے صاف کریں تو صاف نظر آجائے گا کہ50 فیصدسے اوپر بجٹ تو قرض اتارنے کی مد میں صرف ہوتا ہے اور باقی تمام اخراجات کے بعد دفاعِ وطن پر ملک کا 17 فیصد سے بھی کم بجٹ تینوں افواج پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اگر اس دعوے پر کسی کوشبہ یا اعتراض ہے تو وہ کسی بھی سینئر تجزیہ کار صحافی یا اکانومسٹ جو اس مضمون میں کمال رکھتے ہیں اعداد و شمار کے حوالے سے تصدیق کرسکتے ہیں۔ ہمارے چند دانشور یہ بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ پاک فوج اپنے فرائض کی انجام دہی کی تنخواہ لیتی ہے تو سرکار پھر یہ بھی بتا دیں کہ آپ کے بازار میں خون کن داموں فروخت ہوتا ہے؟ سہاگنوں کی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی کیا قیمت ہے؟ وہ نو بیاہتا دلہن جس کے ہاتھوں کی مہندی بھی ابھی پھیکی نہیں ہوئی اور جس کی آنکھوں میں لمبی راتوں میں نیند کی جگہ انتظار جم گیا ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والا انتظار اس کی کیا بولی لگائیں گے آپ؟


ایک بوڑھی ماں جس کا جوان بیٹا اس دھرتی کی مٹی کو سیراب کرگیا اپنے لہو سے۔۔۔ اس کی خالی کوکھ کی قوتِ خرید کی جرأت کرسکتے ہیں آپ؟ وہ بچے جن کے باپ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ وہ اس آس میں دن گزارتے ہیں کہ نئے کپڑے ملیں گے۔ ان کو کپڑے ملتے ہیں لیکن باپ کے‘ وہ بھی لہو سے تر اور سبز ہلالی پرچم۔۔۔ اس ٹوٹی ہوئی آس کو آپ کتنے میں خریدسکتے ہیں؟
پوچھنے پر آؤں تو نہ جانے ان صاحبانِ علم و دانش سے کتنی چیزوں کے دام پوچھ سکتی ہوں لیکن جانے دیجئے صاحب آپ کی ان باتوں کے باوجود سلام ہے ان مٹی کے بندوں کی دیوانگی پر جو کسی نہ کسی آپریشن یا تربیتی مراحل میں ہونے والی ساری عمر کی معذوری کے باوجود بھی اپنے اندر سے جذبۂ حب الوطنی ختم نہ کرسکے۔

 

ایک بوڑھی ماں جس کا جوان بیٹا اس دھرتی کی مٹی کو سیراب کرگیا اپنے لہو سے۔۔۔ اس کی خالی کوکھ کی قوتِ خرید کی جرأت کرسکتے ہیں آپ؟ وہ بچے جن کے باپ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ وہ اس آس میں دن گزارتے ہیں کہ نئے کپڑے ملیں گے۔ ان کو کپڑے ملتے ہیں لیکن باپ کے‘ وہ بھی لہو سے تر اور سبز ہلالی پرچم۔۔۔ اس ٹوٹی ہوئی آس کو آپ کتنے میں خریدسکتے ہیں؟

گفتارکے ان غازیوں پر حیرانی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس مملکت خدا داد پاکستان کے ٹوٹنے کی بات کس منہ سے کرتے ہیں۔ اس کی برائیوں کو محدب عدسے سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور پھر ایک نہ ہونے والی ہولناک تباہی کی خوفناک عکاسی کرتے ہیں۔ جب زلزلہ آتا ہے‘ سیلاب آتا ہے یا کوئی اور مشکل وقت تواس کاسامنا پاک فوج کو کرنا پڑتا ہے اور یہ محبِ وطن کسی اخبار یا چینل پر دُکھ کا اظہارکرتے ہوئے اس ملک سے محبت کا ثبوت نہیں دیتے بلکہ ایمرجنسی میں فوری طور پر امدادی کارروائی کے لئے پہنچتے ہیں مخیر حضرات اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے ضرورت کا سامان ضرور فراہم کردیتے ہیں لیکن خطرناک مقامات پر پہنچاتا کون ہے؟ پاکستان اور افواج میں خامیاں نکالنے والوں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ان کے علم میں نہیں کہ برادر اسلامی ممالک کہ جن کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے اور وسائل کے انبار ہیں کیا وہ جدید آلاتِ حرب میں باقی دنیا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ اﷲ کے فضل وکرم سے ہر قسم کا جدید اسلحہ ٹینک‘ میزائل‘ جہاز ماشاء اﷲ نہ صرف پاکستان میں بنتے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ اسلحہ جات برآمد بھی کئے جاتے ہیں۔کیا ان کے کان اس نعرۂ تکبیر کی گونج سے محروم ہیں جو بھارت کے پرتھوی میزائل کے جواب پر غوری میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد پوری دنیا کو سنائی دیا تھا۔


1965 میں جب امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر دی تھی تو کیا پاکستان مفلوج ہوگیا تھا؟ بالکل نہیں۔ سپر پاور کا دعویٰ کرنے والا ملک روس جس نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی مدد کی آج وہ خود کئی ریاستوں میں بٹ چکا ہے‘ تقسیم ہو چکا ہے لیکن بفضلِ تعالیٰ پاکستان جو خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ وہ تھا‘ وہ ہے اور انشاء اﷲ قیامت تک رہے گا۔ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتی رہے گی‘ زندہ رکھے گی۔ غوری کے سامنے ہمیشہ پرتھوی شکست کھائے گا۔
پاکستان کا دفاع یقیناًناقابلِ تسخیر ہے۔ اب دشمن ہم پر براہِ راست وار نہیں کر پارہا لیکن معصوم عوام کے ذہنوں میں خوف پھیلانے کی مجرمانہ کوشش ضرور کررہا ہے اور نہ جانے کیوں کچھ لوگ کم علمی اور کچھ بددیانتی کی وجہ سے پروپیگنڈا کا حصہ بن جاتے ہیں اور جس کی ایک مثال یہ جعلی سکیورٹی الرٹس ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچائے جارہے ہوتے ہیں۔ اس بارے میں بھی عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاک فوج کا ادارہ آئی ایس پی آر کبھی بھی

WhatsApp
پر عوام کو ایسی خبریں نہیں دیتا۔ الحمدﷲ ! پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نپٹنا جانتی ہے اور ان ناعاقبت اندیش جو اس پروپیگنڈا کا حصہ بن رہے ہیں‘ ان سے دست بستہ التجا ہے کہ خدا را آنکھیں کھولیں کیونکہ اگر آپ اب بھی نہ جاگے تو
؂تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اس مضمون کو لکھنے کے دوران ہی مجھے میری پاک فوج کی دوہستیوں کے بارے میں خبر ملی کہ لیفٹیننٹ خاور اور کیپٹن جنید فضل جسم پر تازہ لہو کے چھینٹے لئے جنونِ عشق اور حدودِ عشق کی تمام منازل طے کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرکے حیاتِ جاودانی پاچکے ہیں۔
شہیدو! تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اگر میرے اس مضمون کو پڑھ کر دل پر مادرِ وطن کے ان جاں نثاروں کے لئے کسی ایک دھڑکن کی سلامی بھی محسوس کریں تو میں اس کو اپنی پاک فوج کے شہیدوں اور غازیوں سے عقیدت کا ثمر سمجھوں گی اور ایک بار پھر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے :
شکریہ ۔ پاک فوج

مصنفہ میڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:17

چاچا کمپس
رات کا وقت فوجی کارروائیوں کے لئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے کیونکہ رات کی تاریکی میں دشمن کے خلاف سرپرائز حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر فوجی تربیت میں رات کے وقت آپریٹ کرنے پرخصوصی توجہ دی جاتی ہے اور عسکری مشقوں کے دوران بھی فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے لئے زیادہ تر رات کے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔آجکل تو ایک سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے جی پی ایس اورگوگل میپ وغیرہ کی مدد لی جاتی ہے جنہیں ایک بچہ بھی بخوبی استعمال کر سکتا ہے لیکن گزرے وقتوں میں یہ معاملہ اتنا آسان نہیں تھا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے نقشے اور کمپاس کے ساتھ ساتھ ستاروں کی چالوں سے بھی مدد لی جاتی تھی۔ دن کے وقت تو ’’چاچا کمپس‘‘یعنی راہ چلتے سیانے بندوں سے پوچھ پاچھ کر بھی کام چلا لیا جاتا تھا لیکن رات کو صورتحال اکثر قابو سے باہر ہو جایا کرتی تھی ۔ عموماً ایسا ہوتا کہ فوجی قافلے ایسے بھٹکتے کہ ڈھونڈے سے بھی نہ ملتے اورصبح ہونے کے بعد احساس ہوتاکہ جس جگہ پہنچنا تھا اس سے بالکل 180 ڈگری الٹ سمت میں جا نکلے ہیں۔ ۔


ایک مرتبہ کچھ یوں ہوا کہ ہم صحرا میں جنگی مشقوں کے لئے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ ایک روز ہمیں تیرہ گاڑیوں کے ایک کانوائے کے ساتھ پندرہ کلومیٹر دور ایک کمپنی پوزیشن پر پہنچنے کا ٹاسک ملا۔ہم نے نقشے پر روٹ مارک کیا ، تمام گاڑیوں کی فٹنس چیک کی اور رات ہوتے ہی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔ صحرا میں پکی سڑکیں تو ہوتی نہیں بس گاڑیوں کے چلنے کی وجہ سے کچھ ٹریک بن جاتے ہیں۔ دوسری مشکل یہ ہوتی ہے کہ تمام علاقہ تقریباً ایک سا ہی ہوتا ہے۔ کوئی ایک بھی نشانی ایسی نہیں مل پاتی جس کے ریفرنس سے اپنی پوزیشن معلوم کی جاسکے۔ کچھ دور چلنے کے بعد ہم اسی مشکل کا شکار ہوئے۔ نقشے کی مدد سے اپنی پوزیشن معلوم کرنا چاہی تو کامیابی نہ ہوئی۔بہرحال اندازے سے سفر جار ی رکھا۔


سفر شروع کئے ہوئے پانچ گھنٹے سے زائدگزر چکے تھے اور اب تک ہمیں اپنی منزل پرپہنچ جاناچاہئے تھا لیکن دور دور تک منزل کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ وائرلیس پر کال کر کے ہم نے اپنی خیریت کی اطلاع دی اور اپنے کھو جانے کے بارے میں بھی آگاہ کر دیا۔ہمیں موومنٹ روک دینے کا حکم دیاگیا اور ہماری تلاش میں ٹیمیں روانہ کی گئیں جو کچھ دیر بعد تھک ہار کر واپس آ گئیں۔ہم نے خود بھی بہتیری بھاگ دوڑ کی لیکن راہ راست پرواپس آنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بالآخر مجبور ہو کر ہمیں اپنے کانوائے کے ہمراہ وہ شب تاروں کی چھاؤں میں بسر کرناپڑی۔
صبح اٹھ کر فضا میں لنگر کے تازہ کھانوں کی مہک محسوس ہوئی تو پتہ چلا کہ ہم نے جس کمپنی میں پہنچناتھا وہ ٹیلے کے عین دوسری جانب خیمہ زن تھی۔


پنوں پاگل
یہ ان دنوں کا ذکرہے جب آتش جوان تھا اور بحیثیت کیپٹن آرٹلری سکول نوشہرہ میں عسکری خدمات سرانجام دے رہا تھا۔دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ اچانک ہماری پرسکون زندگی کو پنوں عاقل پوسٹنگ کی صورت میں ایک بھونچال کا سامناکرنا پڑا ۔ لوگوں سے طرح طرح کی باتیں سننے کو ملیں ۔ کسی نے کہا کہ وہاں سال کے گیارہ مہینے سخت گرمی پڑتی ہے اور دسمبر کے مہینے میں ذرا سی کم۔ کوئی بولا کہ پنوں عاقل پہنچ کر اور واپسی پر، دونوں مرتبہ رونا آتا ہے۔ ہم بھی یہ باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑاتے رہے۔ بالآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمیں نوشہرہ کو الوداع کہہ کر پنوں عاقل کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ہم نے سامان ٹرک پر روانہ کیا اور خود اپنی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے فیملی کے ہمراہ پنوں عاقل پہنچ گئے۔ اگست کا مہینہ تھا، رات ہو چکی تھی اور ہم تمام دن ڈرائیونگ کر نے کے بعد تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے۔ غسل کے لئے واش روم کا رخ کیا۔ ٹونٹی کھولی تو اس سے کھولتا ہوا بھاپ نما پانی برآمد ہوا۔غلطی سے پانی کی حدت کا اندازہ لگانے کے لئے ہم نے ایک ڈونگا اپنے ہاتھ پر انڈیل لیا جس کے فورا بعد ہماری آنکھوں سے آنسو اور حلق سے ایک فلک شگاف چیخ برآمد ہوئی ۔ اسطرح بزرگوں کی کہی ہوئی بات کا پہلا حصہ درست ثابت ہوگیا جو پنوں عاقل پہنچ کر رونے سے متعلق تھا۔

 

panoopagal.jpgہم نے سوچا کہ سارا دن تیز دھوپ پڑتی رہی ہے تھوڑی دیر میں گرم پانی بہہ جائے گا اور نسبتاً ٹھنڈا پانی آنا شروع ہو جائے گا جو نہانے کے لئے موزوں ہو گا۔اسی امیدمیں انتظار کرنا شروع کیا لیکن پانی کی تپش میں کمی واقع ہونا تھی نہ ہوئی۔ آدھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد ہم غسل کا ارادہ ترک کر نے پر مجبور ہو گئے۔ گیسٹ روم کے انچارج حوالدار کو بلا کر اسے اپنی داستانِ غم سنائی تو وہ بولا ’’سر! اچھا ہوا آپ نے مجھے بلا لیا اگر آپ پوری ٹینکی بھی خالی کردیتے تو بھی ٹونٹی سے کھولتا ہوا پانی ہی باہر آتا۔ اس کا واحدحل یہ ہے کہ نہانے سے پہلے پانی کی بالٹی میں برف ڈال کر اسے ٹھنڈا کیا جائے۔‘‘


چند دن گیسٹ روم میں رہنے کے بعد ہم نے گھر الاٹ کروانے کے لئے سنجیدگی اختیار کی۔ڈ ی کیو سے رابطہ کیا تو بولے کہ پنوں عاقل میں گھروں کے بارے میں فکرمند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہ واحد کینٹ ہے جہاں پر گھر وافر تعداد میں موجود ہیں ۔ چونکہ افسر کم اور گھر زیادہ ہوتے ہیں اس لئے ہر نئے آنے والے افسر کو تین چار گھروں میں سے ایک کے انتخاب کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ سن کر ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ حسبِ روایت ہمیں بھی چار گھروں میں سے ایک گھر منتخب کرنے کا آپشن دیا گیا۔ ہم نے شام ہوتے ہی فیملی کے ہمراہ گھروں کی ریکی سٹارٹ کی اور چاروں گھروں میں سے جو ایک ہمیں زیادہ بہتر محسوس ہوا‘ اگلے دن اس میں شفٹ ہوگئے۔ کچھ عرصے کے بعد سننے میں آیا کہ ہر نئے افسر کو یہ چاروں گھر ضرور آفر کئے جاتے ہیں ۔مشہور تھا کہ ان گھروں میں بھوت پریت کا بسیرا ہے۔ وہاں رہتے ہوئے ہمارا سانپوں سے تو اکثر آمنا سامنا ہوجایا کرتا لیکن بھوتوں سے ملاقات کی حسرت ہی رہی۔ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصے تک باقی تین گھر بھی آباد ہو گئے۔ اب یار لوگوں نے ان گھروں کو تو بھوتوں سے کلئیر قرار دے دیا البتہ بھوتوں کو خالی ہونے والے دیگر گھروں میں شفٹ کردیا۔


ان دنوں ہمارا برخوردار عظیم صرف تین سال کاتھا اور اپنی توتلی زبان میں پنوں عاقل کو پنوں پاگل کہا کرتاتھا جسے سن کر سب یونٹ افسر بہت محظوظ ہوتے تھے۔موسم کی سختیوں اور دوسری مشکلات کے باوجود کچھ ہی دنوں میں پنوں عاقل میں ہمارا دل لگ گیا۔بیگم نے بھی وقت گزاری کے لئے لیڈیز کلب جوائن کر لیا اورٹی ایف ڈبلیو سی میں بھی باقاعدہ حاضری دینا شروع کر دی۔ پنوں عاقل میں ڈیڑھ سال گزار کر ہم پروموٹ بھی ہوگئے۔
اب دل میں نئی پوسٹنگ کے ارمان جنم لینے لگے۔ ایک روز دوپہر کو یونہی دل لگی سوجھی اور بیٹھے بٹھائے ایم ایس برانچ میں فون کر دیا۔ خوش قسمتی سے متعلقہ افسر سے بات ہوگئی۔ ان سے اپنی پوسٹنگ کے بارے میں دریافت کیا۔ کہنے لگے کہ سکردو میں ایک پوسٹ خالی ہے، لیکن ہم وہاں آپ کو پوسٹ نہیں کر سکتے کیونکہ آپ پہلے ہی سیاچین میں کافی وقت گزارچکے ہیں۔ البتہ اگر آپ کو ایک مرتبہ پھر وہاں جانے میں دلچسپی ہے تو اپنے سی او سے ایک سرٹیفیکیٹ سائن کروا کر ہمیں فیکس کر دیں۔ ہم نے فوراً سے پہلے سی او سے سرٹیفیکیٹ سائن کروا کرایم ایس برانچ میں فیکس کر دیا اور آدھے گھنٹے کے بعد جوابی فیکس کے ذریعے ہمیں سکردو کی پوسٹنگ موصول ہو گئی۔ایم ایس برانچ سے اتنی پھرتی کی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی تھی اس لئے آج تک ہم اس بات کو معجزے کے خانے میں ہی شمار کرتے ہیں۔


شام کو گھر پہنچ کر یہ خوش خبری بیگم کے گوش گزار کی تو گھر میں بجائے خوشی کے الٹا کہرا م مچ گیا۔ بیگم نے جھٹ سے ہمیں اپنی خوشیوں کا قاتل قرار دے دیا۔ ان کی دانست میں ان کے جمے جمائے آشیانے پر ایم ایس برانچ نے نہیں بلکہ ہم نے کلہاڑیاں چلائی تھیں۔ان دنوں اتفاق سے والد صاحب بھی ہمارے پاس مقیم تھے۔ انہوں نے کوئی پندرہ بیس سال قبل دوستوں کے ہمراہ اپنی ذاتی جیپ پر شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ فرمایا تھا۔ اپنی معلومات و مشاہدات کی روشنی میں انہوں نے سکردو کو ایک انتہائی ہیبت ناک جگہ ثابت کیا اور حسب روایت ہمیں انتہائی سخت سست قرار دیا۔ہر چند کہ ہم نے لاکھ صفائیاں پیش کیں کہ سکردو ایک فیملی سٹیشن ہے اور وہاں پہنچ کراور کچھ ہو نہ ہو لیکن پنوں عاقل کی گرمی سے ضرور نجات مل جائے گی لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی۔ غرض وہ رات بیگم نے روتے ہوئے بسر کی اور ہم رات بھر ان کے آنسو پونچھنے کا نیک کام سر انجام دیتے رہے۔
سکردو جا کر ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا یہ تو ایک علیحدہ موضوع ہے البتہ اپنے تجربے کی روشنی میں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ پنوں عاقل جاتے ہوئے تو رونا لازم ہے البتہ وہاں سے واپسی پر رونا اس صورت میں آتا ہے اگر آپ کی پوسٹنگ سکردو ہو جائے۔


خوبیاں خامیاں
فوج میں قدم رنجہ فرمانے کے لئے ہر افسر کو آئی ایس ایس بی کے گیٹ سے گزرنا لازمی ہے۔آئی ایس ایس بی میں کیا کچھ دیکھا اور پرکھا جاتا ہے اس کے بارے میں تو واقفانِ حال ہی کچھ بہتر بتا سکتے ہیں۔ ہم تو صرف اتنا کہیں گے کہ اس گورکھ دھندے کی سمجھ نہ تو سیلیکٹ ہونے والوں کو آتی ہے اور نہ ہی ریجیکٹ ہونے والوں کو۔ ہر امیدوار کو آئی ایس ایس بی کے لئے دو مواقع دیئے جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک امیدوار جو کہ پہلی دفعہ میں ریجیکٹ ہو جاتا ہے دوسری بار سیلیکٹ ہو کر گوہر مراد حاصل کر لیتا ہے۔ ہمارے ایک کورس میٹ بھی اسی زمرے میں شامل تھے۔ وہ پہلی کوشش میں سیلیکٹ ہونے میں ناکام رہے تھے لیکن دوسری بار ان کی کوئی ادا آئی ایس ایس بی والوں کو ایسی بھائی کہ انہیں کامیابی کاپروانہ عطا کر کے سیدھا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول روانہ کر دیا گیا۔


موصوف ایک دن موڈمیں تھے کہ موقع غنیمت جان کر ہم نے ان سے آئی ایس ایس بی کی سیلیکشن پر روشنی ڈالنے کی درخواست کی۔ یہ سن کر انہوں نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ،سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور گویا ہوئے ’’آپ تو جانتے ہیں کہ آئی ایس ایس بی میں امیدواروں کو اپنی پانچ خوبیاں اور خامیاں لکھنے کے لئے کہا جاتا ہے۔خوبیاں تو ہر کوئی بڑھا چڑھا کر بیان کر دیتا ہے لیکن خامیوں تک پہنچ کر فہم اورقلم دونوں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔ پہلی مرتبہ جب ہم آئی ایس ایس بی گئے تو مذکورہ کالم میں اپنی تمام خامیاں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایس ایس بی والوں نے ہمیں ناٹ ریکمینڈ کر کے گھر کی راہ دکھا دی۔(ہم معذرت چاہتے ہیں کہ ان کی بیان کی گئی خامیوں کو احاطہ تحریر میں لانا بوجہ خوف فساد خلق ہمارے لئے ممکن نہیں۔) دوسری بار چونکہ ہم تمام کشتیاں جلا کر آئی ایس ایس بی پہنچے تھے لہٰذا غلطی کی گنجائش بالکل بھی نہیں تھی۔ چنانچہ اس بار ہم نے پانچ خامیاں کچھ اس طرح تحریر کیں۔ ’’غلط کام ہوتا دیکھ کر شدیدغصہ آ جاتا ہے، کتاب لیٹ کر پڑھتا ہوں، سائیکل تیز چلاتا ہوں، گانے اونچی آواز میں سنتا ہوں۔۔۔ اور۔۔۔۔ کبھی کبھار عصر کی سنتیں چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ اب آپ ہی بتائیں کہ اس مومنانہ جواب کے بعد کون کافر ہوگا جو انہیں سیلیکٹ نہ کرتا۔
جاری ہے۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
June

تحریر: میجر مظفراحمد

(قربانیوں کا گراف بلندی کی جانب گامزن، پاک فوج کا ایک اور سپاہی اور گیارہ سول جانفروش شہید اورچالیس افراد زخمی )

دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دینے والے ملک اور خطے میں امن کے خواہاں پاکستان کو اس کی مردم شماری کی مہم کے دوران 5مئی 2017 کو ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تناؤ دراصل کوئی نیا واقعہ نہیں تھا بلکہ پس منظر میں پاک افغان بارڈر تناؤ کی صورت میں پوشیدہ تلخ تاریخ کا شاخسانہ تھا۔ قومی فریضے کی انجام دہی کے لئے مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں 87اضلاع میں گنتی کی مہم جا ری تھی۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداﷲ کے سرحدی علاقہ چمن کی کِلّی لقمان اور کِلّی جہانگیر، جہاں پاکستانی بلوچ اور پشتون آبادیاں مقیم ہیں، ان علاقوں میں مردم شماری کے لئے تیاریاں شروع ہوئیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور فوج کے اعلیٰ حکام نے افغان حکام کو قبل ازوقت مطلع کیا تو جواباً ان دیہات کے شرپسند عناصرنے واویلا شروع کر دیا اور افغان حکام نے بلاتصدیق ان دو دیہاتوں کو افغان حدود کے اندر قرار دیتے ہوئے انہیں متنازعہ بنا دیا۔ مزید برآں افغان اقدامات صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ 30اپریل 2017کے بعد سے افغان بارڈر پولیس نے باقاعدہ رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کر دیں۔ بالآخر 5مئی 2017کو افغان بارڈر پولیس نے کِلّی جہانگیر میں مردم شماری پر تعینات فرنٹیئر کور کے 57ونگ کے جوانوں اور سول شمارکنندگان کی ٹیم پر بہیمانہ فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 23بلوچ رجمنٹ کی امدادی فورس کا ایک جوان اورگیارہ سول افراد شہید اور چالیس افراد (فرنٹیئر کور اور سول) زخمی ہو گئے۔

afwajepakka.jpg افواج پاکستان کو مجبوراً جوابی کارروائی کرناپڑی۔ اس جوابی کارروائی سے افغان بارڈر پولیس کے کئی افراد مارے گئے اور اس کی 3-4چوکیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ نتیجتاً باب دوستی بھی ہر طرح کی آمدورفت کے لئے بند کر دیا گیا۔ افغان بارڈر پولیس کے نقصان پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے برملا افسوس کا اظہار کیا اور افغان حکام کی ہٹ دھرمی کے باوجود انہیں علاقائی حدود کی وضاحت کے لئے اور ملکیتی تصدیق کے لئے سروے کا مشورہ بھی دیا۔

اسی دوران میں کِلّی جہانگیر کے ایک سربراہ حاجی جہانگیر اچکزئی کا بیان سامنے آیا جس کے مطابق انہوں نے کِلّی جہانگیر کے پاکستان کے ساتھ شروع سے ملحقہ ہونے کی تصدیق کی۔


موجودہ علاقائی کشیدگی اور تناؤ کی صورت حال میں بھارت کے کردار کو کسی طور پر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغان بھارت گٹھ جوڑ اور پاکستا ن کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے اقدامات دراصل بین الاقوامی قوتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونے چاہئیں، جن سے تاحال وہ غافل نظر آتے ہیں۔


لازوال قربانیاں
مردم شماری کے انعقاد میں ہمارے سپاہیوں اور سول انتظامیہ کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ شہید ہونے والوں میں پاک فوج کی 23بلوچ رجمنٹ کے سپاہی حسن علی کے جام شہادت نوش کرنے کا احوال درج ذیل ہے۔

sipahihasanali.jpg
سپاہی حسن علی (شہید) 8مارچ 1996 کو تحصیل کلرسیداں کے گاؤں کلربدھال میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم کلرسیداں سے حاصل کی۔انہیں اوائل عمری سے ہی سپاہ گری کے شعبہ سے رغبت تھی اور یہی دلچسپی انہیں فوج میں ملازمت کی طرف کھینچ لائی۔ ایبٹ آباد کے بلوچ رجمنٹل سینٹر میں ابتدائی عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد25اکتوبر 2016 کو چمن کے مقام پر 23بلوچ رجمنٹ میں تعینات ہوئے۔ آپ شروع سے ہی بہت مستعد، چوکس اور ذہین تھے۔بلوچ رجمنٹل سنٹر میں تربیت کے دوران بہت نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں بلوچ رجمنٹ سینٹر انٹر کمپنی
PACES
اور 100میٹر ، 400میٹر ایتھلیٹکٹس مقابلوں میں سلور میڈل قابل ذکر ہیں۔
یونٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد بہت محنت سے کام کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں۔ جنوری 2017 کے 41 ڈویژن کے انٹر یونٹ
PACES
مقابلوں میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ لورالائی میں حالیہ مردم شماری2017 میں حصہ لیا۔


ذاتی مشاغل میں انہیں تصویر کشی کا بہت شوق تھا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ گھل مل کر رہتے تھے اور دوسروں کے ساتھ ہمدردانہ رویے کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔پاک افغان سرحدی تناؤ کے موقع پر مردم شماری کی ڈیوٹی کے دوران آپ یونٹ کی ذخیرہ کمپنی کا حصہ تھے۔ 5مئی 2017کو جب اطلاع موصول ہوئی کہ مردم شماری پر تعینات فرنٹیئر کور کے جوان اورسول شمارکنندگان کی ٹیم افغان بارڈر پولیس کی فائرنگ کی زد میں آگئی ہے تو ان کی کمپنی کو میجر عیس ولی کے زیر کمان کِلّی جہانگیر میں بطور امداد ، کمک کی ڈیوٹی انجام دینے کا حکم ملا۔ تقریباً آٹھ بج کر پندرہ منٹ کا وقت تھا، حالات بہت کشیدہ ہو چکے تھے، افغان بارڈر پولیس کے فائر سے کئی سول پاکستانی شہید اورزخمی ہو چکے تھے۔ سپاہی حسن علی کی کمپنی کی کِلّی جہانگیر میں پیش قدمی جاری تھی۔ آگے بڑھتے ہوئے ایک پلاٹون کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پلاٹون کمانڈر کی ہدایت پر ایک اونچی پوزیشن سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سپاہی حسن علی متاثرہ پلاٹون کو غلافی فائر دینے لگے۔ اسی اثنا میں ایک راکٹ ان کی عارضی دفاعی پوزیشن کے سامنے آ کر پھٹ گیا جس سے ان کی چھاتی پر گہرے زخم آ گئے۔ زخموں کے باوجود یہ جرأت مند سپاہی تندہی کے ساتھ غلافی فائر دیتا رہا اور متاثرہ پلاٹون کو افغان فائر کے اثر سے باہر نکالا۔ بہت زیادہ خون رسنے کی وجہ سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی اور بالآخر مردم شماری کی مہم کی کامیابی اور ملکی سالمیت کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے کا ایک اور باب رقم ہو گیا۔ان کے لواحقین میں والدین، چھ بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں جنہیں ان کی شہادت پر فخر ہے۔


جب تک ہمارے وطن اور فوج میں سپاہی حسن علی شاہ جیسے بہادر ، جوانمرد، ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کرنے والے جوان موجود ہیں اس وقت تک کوئی بھی ہمارے ملک کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔

تم روشن چہروں والے ہو

 

اس دیس کی اِک پہچان ہو تم
وردی میں مُلک کی شان ہو تم
گھر چھوڑے اپنے کس کے لئے
سب ناتے توڑے کس کے لئے
کیا جذبہ ہے کہ لڑنے چلے
ہاں وطن کی خاطر مرنے چلے
قسمت کے دھنی متوالے ہو
تم روشن چہروں والے ہو
گر لوٹ آؤ تو غازی ہو
شہدائے حق جو نہ آؤ


کیپٹن محمد ارحم طارق

*****

 
09
June

تحریر : صبا زیب

رویے جب شدت اختیار کرنے لگ جائیں تو انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے بھی اعتدال اور میانہ روی کو زندگی کے ہر معاملے میں پسند کیا ہے۔ جب ہم اپنے رویوں میں شدت پسند ہوجاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہماری زندگی میں بے چینی آجاتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے بھی اس سے متاثرہوتے ہیں‘ کیونکہ انتہا پسندی انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف بڑھتی ہے اور افراد سے معاشرے میں پھیلتی ہے اور اس طرح معاشرہ بدامنی کی طرف بڑھتا ہے۔

 

youthrejectexter.jpgآج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انتہا پسندی کو تیزی سے فروغ حاصل ہو رہا ہے کیونکہ انتہا پسند تعلیم اور جدید علوم میں عام لوگوں سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں وہ بھی اس جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہے ہیں اور خاص طور پر نوجوانوں کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اس انتہا پسندی کے خاتمے کے لئیے جہاں ہماری پاک فوج انتہاپسندوں اور دہشت گردوں سے لڑائی لڑ رہی ہے وہاں اس نے نوجوانوں‘ خاص طور پر طالب علموں‘ کو ان دہشت گردوں سے بچانے کے لئے انہیں آگاہی دینے کا عزم بھی کررکھا ہے۔ اسی سلسلے میں18 مئی2017 کو پاک فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے ’’انتہا پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کا کردار ‘‘
(Role Of Youth in Rejecting Extremism)
کے موضوع پر ایک سیمینار جی ایچ کیوکے آڈیٹوریم میں منعقد کیا جس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی ۔ ان کے علاوہ ملک کی تقریباً ایک سو سے زائد یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ز نے بھی شرکت کی۔

youthrejectexter1.jpg 

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد‘ سابق آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل‘ غازی صلاح الدین‘ ڈاکٹر فرخ سلیم‘ اور پروفیسر احمدرفیق اختر نے بطورِ سپیکر اس سیمینار میں شرکت کی۔ جبکہ نوجوان طالب علموں کی نمائندگی حریم ظفر نے کی جن کا تعلق پشاوریونیورسٹی سے ہے۔سیمینار کاآغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے معاشرے سے انتہا پسندی کو ختم کریں۔ان کا کہنا تھا کہ داعش نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی ہے اور اپنی تنظیم کے لئے نوجوان نسل کو ہدف بنا رہی ہے۔ نوجوانوں کو دہشت گردی سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا آپریشن رد الفساد کا مقصد ملک میں کئے گئے تمام آپریشنز کے مقاصد کا حصول اور ملک میں امن و استحکام قائم کرنا ہے۔ اس آپریشن کا ایک مقصد معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس شدت پسندی کا نشانہ بننے سے بچائیں۔ دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ ہماری کامیابیاں نوجوانوں کی مرہونِ منت ہیں وردی میں ملبوس پاکستانیوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں میں سے90 فیصد نوجوان سپاہیوں اورینگ افسران کی ہیں آخر میں انہوں نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ سپیکرز اور مہمانوں کے درمیان بات چیت سود مند ثابت ہوگی۔
سیمینار کے پہلے سپیکر سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل تھے انہوں نے
Threat and Fault-lines
پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی پاکستان میں ایک اہم سیکیورٹی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے محرکات میں اندرونی اور بیرونی دونوں عناصر شامل ہیں۔ اندرونی عناصر میں پاکستان میں موجود مذہبی اور جہادی تنظیمیں‘ جبکہ بیرونی عناصر میں غیرملکی ایجنسیز‘ جن میں ’’را‘‘ اور این ڈی ایس ہیں شامل ہیں۔ انتہا پسندی کے بڑھنے کی وجہ انہوں نے ملک کے اداروں کی ناکامی کو قرار دیا انہوں نے خاص طور پر محکمہ پولیس کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نورین لغاری‘ مشال خان اور لال مسجد کے واقعات کی مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے کہا انتہاپسندی سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے آئین اور نصاب میں کچھ ترامیم کرنی چاہئیں۔ ایچ ای سی کو چاہئے کہ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی سے متعلق مضامین کو بھی شامل کیا جائے۔

youthrejectexter2.jpg
ڈاکٹر سڈل کے بعد حریم ظفر‘ جو طالب علموں کی نمائندگی کر رہی تھیں‘ نے کہا کہ ہمارے دشمن اس وقت نہ ہندو ہیں نہ عیسائی اور نہ مسلمان بلکہ ہمارا دشمن انتہاپسند ہے‘ اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر کے اس کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سب سے زیادہ خطرہ نوجوان طالب علموں کو ہے۔ دہشت گردی کے اس عفریت سے نوجوان طالب علموں کو بچانے کے لئے تعلیم‘ والدین‘ میڈیا اور خود نوجوان اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حریم نے کہا کہ آج کے نوجوان کو آرٹ کی طرف لے کر آنا بہت ضروری ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری میں یہ شامل ہے کہ وہ انتہاپسندی کو سختی سے مسترد کریں۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے
Role of Economy in Forging Extremisn ک
ے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی ایک تعریف یہ بھی ہے :’’ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے شہریوں کے خلاف تشدد کا غیرقانونی استعمال ‘‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک درخت ہے اور درخت کی جڑیں ہوتی ہیں لہٰذا دہشت گردی کی بھی جڑیں ہیں جیسے درخت کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں ویسے ہی دہشت گردی کی بھی ہیں۔ دہشت گردی کی شاخوں میں معاشرتی ناانصافیاں اور سیاسی ناانصافیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت عرصے کی ریسرچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مذہب سے براہِ راست تعلق نہیں۔ کبھی کبھار یہ وجہ بن سکتاہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو مذہب کو گہرائی سے جانتا ہے دہشت گردی کو نہیں اپناتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم صرف دہشت گردی کی شاخوں کو نہ کاٹیں بلکہ ان کی جڑوں کو بھی ختم کریں۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کے بعد میڈیا سے متعلق بات کرتے ہوئے ممتاز رائٹر اور صحافی غازی صلاح الدین نے کہا پرانا میڈیا نئے میڈیا میں تبدیل ہو رہا ہے اور نئے میڈیا میں سوشل میڈیا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے میڈیا میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے ہمارے میڈیا کو دانشور لوگوں کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں
Academia
کی ضرورت ہے۔ میڈیا پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ یہ ایسی خبریں زیادہ چلاتا ہے جس کے اثرات منفی ہوتے ہیں۔میڈیا دکھاتا ہے لیکن جب اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا تو مسائل بڑھنے لگ جاتے ہیں۔ انوسٹی گیٹورپوٹنگ ختم ہوتی جارہی ہے۔ یونیورسٹیوں میں اخبارات نہیں ملتے کوئی کتابوں کی دکان نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا سب سے پہلاکام
rational debate
کروانا ہے ۔ ہم نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی یہ لڑائی سب سے پہلے دماغوں میں لڑنی ہے۔


ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے سیمینار میں
Extremism-Role of Faculties/Instituitions
کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ پہلے ہماری یونیورسٹیوں کے نام ٹاپ رینکنگ میں نہیںآتے تھے لیکن اب آتے ہیں۔ ذمہ داری کا آغاز گھر سے شروع ہوتا ہے ‘پھر سکول آتا ہے ‘ پھر کالج آتا ہے اور پھر یونیورسٹی۔ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ ہم نے اپنی دیواریں مضبوط کرنی ہیں ہمیں ان دیواروں کی بنیادیں رکھنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خود غرضی‘ لالچ اور غصے کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ ایچ ای سی یونیورسٹیوں کے طالب علموں کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ طالب علموں کو نہ صرف نصابی بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھیں۔ سب ڈیپارٹمنٹس کو اکٹھا کرنا ہے‘ سیمینار منعقد کروانے ہیں اور اس کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو اکٹھا کرکے انہیں ملک کے مختلف علاقوں کی سیر کروانی ہے اور بتانا ہے کہ ہمارا ملک کتنا خوبصورت ہے۔


پروفیسر احمدرفیق اختر نے ڈاکٹر مختار کے بعد مذہب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر استاد اور شاگرد کے درمیان رابطہ نہ رہے تو دہشت گردی اور انتہا پسندی فروغ پاتی ہے۔ ایک لمبے عرصے سے ہمارے مدرسوں کے تعلیمی نظام میں تبدیلی نہیں آئی چند الفاظ جاننے والا اپنے آپ کو مفکر ماننے لگتا ہے اور دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے ۔ کسی دوسرے کی کہی ہوئی بات کی نفی کردیتا ہے۔ آج تک کسی سائنس دان نے اپنے سے پہلے والے سائنس دان کو کبھی مسترد نہیں کیا۔


ان سب سپیکرز کی تقریر کے بعد مہمانوں نے سپیکرز سے سوالات کئے۔ یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کراچی کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سوال کیا۔ جس کا جواب انہوں نے اُسی وقت کھڑے ہو کر دیا۔

youthrejectexter3.jpg
سوال و جواب کے سیشن کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے سے نوجوانوں کا استحصال ہو رہاہے۔ نوجوان نسل ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہے لیکن بے چہرہ اور بے نام قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو مسلسل گمراہ کر رہی ہیں۔ ضرورت ہے کہ نوجوانوں کو بامقصد زندگی میں مصروف کیا جائے‘ دہشت گردوں کو شکست دینے کے بعد ان کے بیانیے کو بھی شکست دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا سکیورٹی خدشات کم کرنے ہی سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا‘ فوج اکیلے کچھ نہیں کرسکتی‘ سب کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی‘ دہشت گردی کی وجوہات ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو پوری دنیا نے سراہا ہے‘ پاکستان کی فوج دنیا کی بہادر ترین فوج ہے جس نے دہشت گردوں کے خلاف انتہائی منفرد جنگ لڑی ہے‘ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ہمارا روشن مستقبل ہے اورہم اپنے مستقبل کو دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دیں گے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہم ہے‘ نوجوان نسل کو صحیح راہ پر گامزن کرنا ہوگا‘ شدت پسندی کسی نظریے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مائنڈسیٹ ہے جو عدم برداشت پیدا کرتا ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا انتہائی غلط اور افسوسناک ہے‘ دہشت گردی کی بڑی وجہ ناانصافی اور عدمِ برداشت ہے‘ والدین‘ اساتذہ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے نوجوانوں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھیں گے‘ ریاست کی رٹ کو مکمل طور پر بحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی کا 50 فیصد سے زائدحصہ25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اورہمارے ملک کا مستقبل ان ہی نوجوان کے ہاتھوں میں ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں‘ آج سے 10 سال بعد یا تو ہم پھل کاٹ رہے ہوں گے یا پھر یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح ہمارے نوجوان شدت پسندی کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ آرمی چیف نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں پراکسی وار میں ہندوستانی قیادت کا ملوث ہوناکوئی راز نہیں اور اب بلوچستان میں بھی ان کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے انتہا پسندی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں‘ انتہاپسندی کو اب معمول کی بات سمجھ لیا گیا ہے۔ نفرت بھارت کے مرکزی دھارے میں آچکی ہے اور بھارت کا قومی چہرہ مسخ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اور اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔ جنرل قمر جاوید جاجوہ نے مزید کہا کہ آپریشن ردالفساد نئے دور کا آغاز ہے اور سکیورٹی خطرات ختم کرکے ترقی کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک بہادر‘ پیشہ ور‘ محب وطن فوج کی قیادت کرنے کا اعزاز بخشا ہے جس پر مجھے فخر ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں معاشرے کے تمام طبقات‘ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کوخراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دہشت گردوں کے خاتمے میں تسلسل کے ساتھ ہماری مدد کی۔ آج ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اہم ترین مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہم بتدریج دہشت گردی کے خلاف بڑے آپریشنز سے ٹارگٹڈ آپریشنز کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ آپریشن رد الفساد کے ساتھ ساتھ ہمیں نیشنل ایکشن پلان میں ایسے طریقِ کار کو بھی اپنانا ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کے اسباب کو بھی حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے پروگرام کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اجتماعی حل تلاش کرنا ہے‘ جس سے ہم سب متاثر ہو رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ‘نوجوان نسل بھی اس سے متاثر ہے‘پوری قوم اور ان نوجوانوں کے والدین کو چاہئے کہ انہیں نہ صرف تعلیم یافتہ بنائیں بلکہ ایک متوازن شخصیت ‘ تعمیری شہری اور مستقبل کالیڈر بھی بنائیں۔ نوجوان اپنی ذہانت ‘ مہارت اور لیاقت سے پاکستان کے لئے حیران کن کارنامے انجام دے سکتے ہیں جس طرح سے پاکستان محفوظ ہو رہا ہے ‘ یہ ضروری ہے کہ ہم ذہین نوجوانوں کو ملک میں محفوظ بنائیں کیونکہ پاکستان کو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ان کی ضرورت ہے۔


اس کے ساتھ ہی چیف آف آرمی سٹاف نے اپنا خطاب ختم کیا ۔ خطاب کے بعد قومی ترانے کی دھن بجائی گئی جس کے احترام میں ہال میں موجود سب لوگ کھڑے ہوگئے ۔ قومی ترانے کے بعد مہمانوں کو پُرتکلف لنچ کروایا گیااور یوں اس اہم تقریب کا اختتام ہوا۔

 
09
June

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

بھارت کا دفاعی بجٹ یکم فروری2017 کو پیش کیاگیا۔ اس سال 359,854کروڑ روپے وزارتِ دفاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجودبھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ سوال بدستور موجود تھا کہ کیا مختص کی گئی رقم ملک کی سکیورٹی کے لئے کافی ہے؟ دوسرے الفاظ میں اتنی بڑی رقم کے باوجود بھارت کی خود ساختہ دفاعی ضروریات مکمل نہیں ہورہی ہیں۔ حالانکہ اس سال دفاعی بجٹ میں 2.74ٹریلین روپے بڑھائے گئے ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔2016-17 میں یہ رقم2.49ٹریلین روپییعنی تقریباً12.78 فیصد کی شرح سے جو کہ تقریباً21.47 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔ اس طرح سے یہ لگا تار دوسرے سال دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ بقول بھارتی وزیرِ خزانہ ترقی اورجدیدیت کی کوشش ہے جس کی وجہ سے ہتھیاروں کی خریداری کے لئے زیادہ رقم درکار ہوگی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیرمالیات نے موجودہ بجٹ کو غریبوں کا بجٹ بھی قرار دیا ہے۔


بھارت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا خریدار ہے۔ بھارت کا دفاعی خرچہ تقریباً100 گنا بڑھ چکا ہے۔ اگر اس کے پچھلے دس سالوں کے دفاعی بجٹوں کا بھی موازنہ کیا جائے تو اس وقت بھارتی ہتھیاروں کی خریداری دنیا کی ٹوٹل ہتھیاروں کی خریداری کا 14فیصد ہے۔ بھارت اس وقت سب سے زیادہ ہتھیار روس سے خریدتا ہے‘ اس کے بعد امریکہ اورپھر اسرائیل سے جبکہ
IHS Jane
‘ جو کہ ایک مشہور بین الاقوامی جرنل ہے‘ کے ڈیٹا کے مطابق بھارت امریکہ کا اس کے ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے جس کا ٹوٹل حجم 1.9 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جب کہ 2013 تک بھارت امریکہ خرید و فروخت صرف سات فیصدتک پہنچ سکی تھی۔ یعنی پچھلے چار سال میں بھارتی دفاعی خریداری حد سے زیادہ بڑھی ہے۔

 

bharatkadfaibudg.jpgسی این این کی طرف سے کئے گئے ایک سروے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی میں کئے جانے والے زیادہ تر سروے دو انتہاؤں پر مرکوز رہے۔ جو ایک دوسرے سے بالکل مخالف تھے۔ یعنی کچھ نے تو بھارت کے بارے میں ڈیٹا دکھایا جو خلائی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اس میں بہت آگے جانے کا خواہش مندبھی ہے جہاں بلین ڈالرز انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے سروے میں اس بھارت کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد‘ تقریباً 92ملین افراد‘ اپنی زندگی کی گاڑی معمولی اور انتہائی کم اُجرت مزدوری پر چلا رہے ہیں۔ یہ سروے بھوک اور افلاس ‘ پانی کی کمی ‘ صحت اور تعلیم کی ضروریات کے فقدان کی نشاندہی کررہے ہیں۔ جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد انتہائی کسمپرسی سے زندگی کی گاڑی چلا رہے ہیں اور یہی بھارت کی اصل تصویر ہے۔


بھارتی میڈیا اور خاص کر بھارتی فلمیں زیادہ تر ایک ایسے بھارت کی خوبصورت تصویر دکھاتے ہیں جس میں خوشحالی‘سکون اور ایک آئیڈیل سوسائٹی نظر آتی ہے لیکن حقیقت اس ڈرامائی تصویر کے بالکل برعکس اورانتہائی بھیانک ہے۔
سی این این کے ایک سروے سے شروع کرتے ہیں۔ اس سروے نے 300 ملین گھریلو افراد سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق تقریباً73 فیصد افراد کا تعلق کسی گاؤں یا دیہات سے تھا۔ ان میں سے صرف2.5 فیصد کے پاس چار پہیوں کی سواری موجود تھی اور دس فیصد سے کم افراد باقاعدہ نوکری پیشہ تھے جن کو ہر مہینے تنخواہ کی یقین دہانی ہوتی ہے۔ اس سروے کے مطابق دیہی علاقوں کے اعداد و شمار نہ صرف بدترین تھے بلکہ ان افراد کی تعلیمی قابلیت انتہائی کم تھی۔ تقریباً 35.7 فیصد مکمل طور پر ناخواندہ تھے اور اس کے مطابق یہ قطعاً حیرت انگیز نہیں ہے کہ بھارت کی بیشتر آبادی انتہائی غریب ہے۔
World Bank
کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں تقریباً 58 فیصد آبادی 3.10ڈالر کی کم آمدنی پر گزارہ کررہی ہے۔ یعنی تقریباً آدھی سے زیادہ آبادی صرف300 روپے کی آمدن پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے اور اگر اس وقت اس دفاعی بجٹ کا خیال آجائے کہ وہ359,854 کروڑ روپے ہے تو حکومت کا جنگی جنون واضح ہوجاتا ہے۔ صرف یہی نہیں یو این کی مزدوروں کی تنظیم آئی ایل او کی رپورٹ میں واضح بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں بے روز گاری کا گراف مستقل بڑھ رہا ہے ۔ یہ سال 2016 میں17.7 ملین تھا 2019 میں بڑھ کر17.8 ملیناور 2018 میں18 ملین ہوجائے گا۔ یعنی 2017-18 میں بیروزگاری کی شرح 3.4 فیصد تک ہو جائے گی۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے گراف سے عام آدمی کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


ایک طرف بھارت کے دفاعی بجٹ میں ہر سال بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور دوسری طرف
(World Toilet Day)
کے موقع پر عالمی بنک نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی آبادی والے ملک میں60.4 فیصد افراد کو صاف‘ محفوظ اور ذاتی بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں ہے ۔ بھارت کی سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ نے بھی اس سہولت کے شدید فقدان کی بارہا نشاندہی کی ہے لیکن بدقسمت قوم کے چالاک حکمران نے ملک کے عوام کو ان کی انتہائی انسانی ضرورت کو پس پشت ڈال کرملک کو ایک نہ ختم ہونے والی ہوسناک دوڑ میں شامل کردیا ہے۔ نومبر 2015 میں مشہور بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ تک کہا کہ اگربھارت کے وہ744 ملین افراد جو بیت الخلا میں جانے کے لئے انتظار کرتے ہیں‘ ایک قطار بنالیں تو یہ قطار زمین سے چاند تک طویل ہو گی۔ غربت اور افلاس کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات کی عدم فراہمی اور پھر اس کے ساتھ ایک انتہائی عظیم الشان فوجی بجٹ بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔


بھارت میں پیدائش کے وقت بچوں کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے۔ طبی سہولیات شہروں اور قصبوں تک محدود ہیں لیکن گاؤں دیہات میں ان کا شدید فقدان ہے۔ بلکہ زچہ و بچہ کی اموات کی بڑی وجہ غیر معیاری پانی اور صابن اور غیر صحت بخش فضا ہے۔ حالانکہ پیدائش کے لئے استعمال ہونے والے اوزار نہ صرف کم قیمت بلکہ سادہ بھی ہوتے ہیں مگر غیرتربیت یافتہ نرسوں اور مڈوائف یا ان کی مسلسل غیر موجودگی کی وجہ سے بھارت میں زچہ بچہ کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔


صحت کی سہولیات کا شدید بحران ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پانچ سال سے کم عمر 14000 بچے ہیضہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہیضہ عام طور پر غیر معیاری اور گندے پانی کی وجہ سے ایک وبائی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ماضی میں بھی بھارت کے بڑے دیہی علاقوں میں ہیضے نے ہزاروں بچوں کی جانیں لے لی تھیں۔ بھارت میں بہنے والے دریا گنگا‘ جمنا کا پانی انتہائی کثیف اورآلودہ ہو چکا ہے لیکن بھارتی حکومت ان مسائل سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے اور سی این این ہی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر ہزاربچوں میں سے38 بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے ہی اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 763.4 ملین افراد کو پینے کا صاف پانی میسرنہیں ہے جو کہ پنجاب‘ ہریانہ اور اترکھنڈ کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں دانشوروں کا ایک ایسا منظم گروہ متحرک ہوگیا ہے جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے بارے میں شکوک و شبہات اور کنفیوژن پیدا کررہا ہے بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کررہا ہے۔ ان کے ایجنڈے کا ایک اہم نقطہ قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا ہے تاکہ پاکستان کی اسلامی ثقافت پر سیکولرازم کا غلاف چڑھایا جاسکے۔ ان حضرات کو قائداعظم کی سیکڑوں تقاریر میں سے صرف ایک تقریر پسند ہے جو انہوں نے گیارہ اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد کی۔ حالانکہ اس تقریر میں بھی اسلامی رواداری، انسانی مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کا ذکر ہے جو میثاق مدینہ کی روح کے عین مطابق ہیں لیکن مذہب بیزار دانشوروں نے اسے سیکولرازم کا منشور قرار دے دیا ہے۔ یہ ایک طویل تقریر تھی جس میں سیاسی، انتظامی اور معاشرتی زندگی کے مختلف شعبوں کا ذکر کیا گیا تھا لیکن اس گروہ کو اس میں صرف چار فقرے پسند ہیں جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر اچھالتے رہتے ہیں اور مسلسل لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان فقروں میں اقلیتوں کے لئے جس برابری، شہری حقوق اور مذہبی آزادی کا تصور ملتا ہے اس کی خلافت راشدہ اور خاص طور حضرت عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور میں سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن دین بیزار گروہ انہیں اسلامی ورثے کا حصہ قرار دینے کے بجائے اپنی سیکولرازم کی اساس قرار دیتا ہے۔ مقصد پاکستان کو اسلام سے آزاد کرا کے سیکولر ریاست بنانا ہے کیونکہ اسلام ان کی مادر پدر آزادی کے راستے میں دیوار چین بنا ہوا ہے۔ اب تو یہ گروہ اس قدر مضبوط اور بولڈ ہوگیا ہے کہ ڈھٹائی سے پاکستان میں شراب نوشی اور عصمت فروشی کا مطالبہ کرنے لگا ہے۔ اس مطالبے کی ایک شکل انگریزوں کے دور کی رنگین یادوں کا رومانوی انداز میں تذکرہ کرنا، دوسرا دبئی جیسے برادر ملک میں ایسی آزادیوں کا حسین نقشہ پیش کرنا اور تیسرا مغربی ممالک کی ترقی کو تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے بجائے ان آزادیوں کا مرہون منت ثابت کرنا ہے۔

tarekkkomasah.jpg

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صدر ضیا الحق کی اسلامائزیشن یعنی اسلام کی سختی کے خلاف ردعمل ہے جب کہ صاحبان نظر اسے بیرونی ایجنڈے کا حصہ سمجھتے ہیں جس کا مقصد اسلامی قدروں کو مٹا کر اور سیکولرازم کے لئے راہ ہموار کرکے اکھنڈ بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔ اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ دانشوروں اور لکھاریوں کا یہ گروہ بھارت سے خفیہ تعلقات اور این جی اوز کے بہانے بیرونی امداد کی شہرت رکھتا ہے جس کی آج تک صحیح معنوں میں تحقیق و تفتیش نہیں کی گئی۔ ہماری کمزوری اور بدقسمتی سے ایسے دانشور میڈیا میں ایک طاقت ور لابی بن چکے ہیں اور تعلیمی اداروں میں گفتگو اور لیکچروں کے ذریعے نوجوانوں نسل کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔اصل بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور ہماری نوجوان نسل کو یہ علم ہی نہیں کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا، تحریک پاکستان کے پسِ پردہ کیا عوامل اور محرکات کارفرما تھے، ہمارے بزرگوں، قائدین اور قائداعظم کا تصور پاکستان کیا تھا۔ اسلام بیزار گروہ نے ایک منظم تحریک کے ذریعے یہ تاثر پیدا کردیا ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دور میں پڑھائی جانے والی تاریخ اور مطالعہ پاکستان کی درسی کتب میں تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات بے بنیاد اور خبث باطن کا اظہار ہے۔ مطالعہ پاکستان کا مقصد محض طلبہ کو پاکستان سے متعارف کرانا تھا۔ یہ لازمی مضمون محض تعارفی کتاب تھی اور اس میں تفصیل نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاکر روشن خیالی کی آڑ میں ایک محاذ بنادیاگیاجس نے مسلسل پروپیگنڈہ جاری رکھا چنانچہ نصاب سے وہ سارا لوازمہ نکال دیا گیا جس کا تعلق پاکستان کی نظریاتی بنیاد، ہندوؤں کے طرزِ عمل اور مطالبۂ پاکستان سے تھا۔


یہ گروہ وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتا رہتا ہے۔ ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ قائداعظم نے ترانہ پاکستان ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا اور اسے چودہ اور پندرہ اگست کی نصف شب آزادی کا اعلان ہوتے ہی ریڈیو پاکستان سے سنایا اور بجایا گیا۔ مقصد قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا اور نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنا ہے۔ افسوس کہ اس جھوٹ کی اتنے تواتر سے تشہیر کی گئی ہے کہ بہت سے سادہ لوح پاکستانی اسے بلا تحقیق تسلیم کرنے لگے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک صاحب اس موضوع پر ایم فل کا مقالہ لکھ کر اور کامیاب ہوکر اپنی کتاب بھی چھپواچکے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم کا جگن ناتھ آزاد سے ترانۂ پاکستان لکھوانا اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ بے بنیاد دعوے اور جھوٹ کو پھیلانے میں انگریزی اخبارات اورکم علم اینکروں نے کلیدی کردا ر ادا کیا ہے۔ اورایک انتہائی پرانا اورمعتبراخبار اس بارے میں مضامین چھاپتا رہا ہے جس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے کہ اس اخبار کی بنیاد بانئ پاکستان نے رکھی تھی۔ ان عالم فاضل مدیران نے جھوٹ چھاپنے سے قبل تحقیق کی ذرا بھی زحمت گوارانہ کی اور اس طرح گمراہ کرنے والوں کے ہاتھ میں کھلونا بن گئے۔


اس مضمون کا مقصد اس جھوٹ کا پردہ چاک کرنا اور سچ کو سامنے لانا ہے۔ میں نے اس افسانے کی تہہ در تہہ تحقیق کی ہے اور دوڑ دھوپ کے ساتھ ساتھ اسے اپنا وقت دیا ہے اور خون جگر پلایاہے۔میں اس وقت کھلے ذہن کے ساتھ سچ کی تلاش کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔

 

یہ گروہ وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتا رہتا ہے۔ ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ قائداعظم نے ترانہ پاکستان ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا اور اسے چودہ اور پندرہ اگست کی نصف شب آزادی کا اعلان ہوتے ہی ریڈیو پاکستان سے سنایا اور بجایا گیا۔ مقصد قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا اور نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنا ہے۔

کچھ عرصہ قبل بھی میڈیا(پرنٹ اور الیکٹرانک) پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 9 اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلا کر پاکستان کا ترانہ لکھنے کو کہا۔ انھوں نے پانچ دنوں میں ترانہ لکھ دیاجو قائداعظم کی منظوری کے بعد آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا اور پھر یہ ترانہ 18ماہ تک پاکستان میں بجتا رہا۔ جب 23فروری1949کو حکومت پاکستان نے قومی ترانے کے لئے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کردیا گیا۔ اس انکشاف کے بعد مجھے بہت سے طلبہ اور بزرگ شہریوں کے فون آئے جو حقیقت حال جاننا چاہتے تھے۔ لیکن میرا جواب یہی تھا کہ بظاہر یہ بات قرینِ قیاس نہیں ہے لیکن میں تحقیق کے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے ان سکالروں سے رابطے کئے جنھوں نے قائداعظمؒ پر تحقیق کرنے اور لکھنے میں عمر گزار دی ہے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ یہ محض شوشہ اور بالکل بے بنیاد اور ناقابل یقین دعویٰ ہے۔ لیکن میں ان کی بات بلاتحقیق ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ قائداعظم اور جگن ناتھ آزاد کے حوالے سے یہ دعوے کرنے والے حضرات نے انٹرنیٹ پر کئی ’’بلاگز‘‘ میں اپنا نقطۂ نظر اور من پسند معلومات فیڈ کرکے محفوظ کردی تھیں تاکہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کو کنفیوز کیا جاسکے۔ ان ساری معلومات کی بنیاد کوئی ٹھوس تحقیق نہیں تھی بلکہ سنی سنائی یا پھر جگن ناتھ آزاد کے صاحبزادے چندرآزاد کے انکشافات تھے جن کی حمایت میں چندر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔


سچ کی تلاش میں میں جن حقائق تک پہنچا ان کا ذکر بعد میں کروں گا پہلے تمہید کے طور پر جگن نات آازاد کے بارے میں چند سطور لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔جگن ناتھ آزاد معروف شاعر تلوک چند کا بیٹا تھا، وہ 1918 ء میں عیسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوا۔ اس نے 1937ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور 1944ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی کیا۔ مختصر سا عرصہ ’’ادبی دنیا‘‘ سے منسلک رہنے کے بعد اس نے لاہور میں ’’جئے ہند‘‘ نامی اخبار میں نوکری کر لی۔ قیام پاکستان کے بعد ستمبر میں بھارت ہجرت کر گیا۔ اکتوبر میں ایک بار لاہور آیا لیکن فرقہ وارانہ فسادات کے خوف سے مستقل طور پر بھارت چلا گیا۔
Wikipedia
اور
All Things Pakistan
کے بلاگز میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ قائداعظم نے اپنے دوست جگن ناتھ آزاد کو 9اگست کو بلا کر پاکستان کا ترانہ لکھنے کے لئے پانچ دن دئیے۔ قائداعظم نے اسے فوراً منظور کیا اور یہ ترانہ اعلان آزادی کے بعد ریڈیو پاکستان پر چلایا گیا۔ چندر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت پاکستان نے جگن کو 1979میں صدارتی اقبال میڈل عطا کیا۔


میرا پہلا ردعمل کہ ’’یہ بات قرین قیاس نہیں ہے‘‘،کیوں تھا؟ہر بڑے شخص کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ایک تصویر ہوتی ہے اور جو بات اس تصویر کے چوکھٹے میں فٹ نہ آئے انسان اسے بغیر ثبوت کے ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ قائداعظم سرتاپا قانونی اور آئینی شخصیت تھے۔ اس لئے یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ قائداعظم کسی کو ترانہ لکھنے کے لئے کہیں اور پھر کابینہ، حکومت یا ماہرین کی رائے لئے بغیر اسے خود ہی آمرانہ انداز میں منظور کرلیں۔ جبکہ ان کا اردو، فارسی زبان اور اردو شاعری سے واجبی سا تعلق تھا۔ میرے لئے دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کا معتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا، ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی یا سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29سال کے غیر معروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار جئے ہند کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

 

دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کا معتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا، ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی یا سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29سال کے غیر معروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار جئے ہند کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو محض تخیلاتی باتیں ہیں۔ مجھے تحقیق کے تقاضے پورے کرنے اور سچ کا کھوج لگانے کے لئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔ ذہنی جستجو نے رہنمائی کی اور کہا قائداعظم کوئی عام شہری نہیں تھے جن سے جو چاہے دستک دے کر ملاقات کر لے۔ وہ مسلمانانِ ہند و پاکستان کے قائداعظم اور جولائی 47ء سے پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کا کہیں نہ کہیں ریکارڈ موجود ہوگا۔ سچ کی تلاش کے اس سفر میں مجھے 1989ء میں چھپی ہوئی پروفیسر احمد سعید کی ایک کتاب مل گئی۔ جس کا نام ہے۔
"Visitors of the Quaid-e-Azam"
۔ احمد سعید نے بڑی محنت سے قائداعظم کے ملاقاتیوں کی تفصیل جمع کی ہے۔ جو 25اپریل1948ء تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں قائداعظم کے ملاقاتیوں میں جگن ناتھ آزاد کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے مصنف سید انصار ناصری نے بھی قائداعظم کی کراچی آمد 7 اگست شام سے لے کر 15اگست تک کی مصروفیات کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں بھی آزاد کا ذکر کہیں نہیں۔دل نے کہا جب 7اگست 1947کو قائداعظم بطور گورنر جنرل دلی سے کراچی آئے تو ان کے ساتھ ان کے اے ڈی سی بھی تھے۔ اے ڈی سی ہی ملاقاتوں کا سارااہتمام کرتا اور اہم ترین عینی شاہد ہوتاہے اور صرف وہی اس سچائی کی تلاش پر مہر ثبت کرسکتا ہے۔ جب قائداعظم کراچی اترے تو عطا ربانی بطور اے ڈی سی ان کے ساتھ تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس وقت وہ زندہ تھے لیکن ان تک رسائی ایک کٹھن کام تھا۔ خاصی جدوجہد کے بعد میں بذریعہ نظامی صاحب ان تک پہنچا۔ جناب عطا ربانی صاحب کاجچا تلا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نامی شخص نہ کبھی قائداعظم سے ملا اور نہ ہی میں نے کبھی قائداعظم سے اس کا نام سنا۔ اب اس کے بعد اس بحث کا دروازہ بند ہوجانا چاہئے کہ جگن ناتھ آزاد کو قائداعظم نے بلایا۔ اگست 1947 میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کے سبب جگن ناتھ آزاد لاہور میں مسلمان دوستوں کے ہاں پناہ لیتے پھر رہے تھے اور ان کوجان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں ان کی کراچی میں قائداعظم سے ملاقات کا تصور بھی محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود جگن ناتھ آزاد نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا حالانکہ وہ پاکستان میں کئی دفعہ آئے حتیٰ کہ وہ علامہ اقبال کی صد سالہ کانفرنس کی تقریبات میں بھی مدعو تھے۔ جہاں انہوں نے مقالات بھی پیش کئے جو اس حوالے سے چھپنے والی کتاب میں شامل ہیں۔ عادل انجم نے جگن ناتھ آزاد کے ترانے کا شوشہ چھوڑا تھا۔ انھوں نے چندر آزاد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جگن ناتھ آزاد کو 1979میں صدارتی اقبال ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے صدارتی ایوارڈ کی ساری فہرست دیکھی ہے اس میں آزاد کانام نہیں ہے۔ پھر میں کابینہ ڈویژن پہنچا اور قومی ایوارڈ یافتگان کا ریکارڈ کھنگالا۔ اس میں بھی آزاد کا نام نہیں ہے۔’ وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آجائے‘۔


اب آئیے اس بحث کے دوسرے حصے کی طرف۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز گواہ ہیں کہ جگن ناتھ آزاد کا کوئی ترانہ یا ملی نغمہ یا کلام 1949 تک ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں ہوا۔ 14اور 15اگست کے درمیانی شب جب آزادی کے اعلان کے ساتھ پہلی بار ریڈیو پاکستان کی صدا گونجی تو اس کے بعد احمد ندیم قاسمی کا یہ ملی نغمہ نشر ہوا:
’پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو‘


ان دنوں قاسمی صاحب ریڈیو میں سکرپٹ رائٹر تھے۔ 15 اگست کو پہلا ملی نغمہ مولانا ظفر علی خان کا نشر ہوا جس کا مصرعہ تھا 
توحید کے ترانے کی تانیں اڑانے والے


میں نے یہیں تک اکتفا نہیں کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ میں نے 14اگست سے لے کر اواخر اگست تک کے اخبارات دیکھے۔ جگن ناتھ آزاد کا نام کسی پروگرام میں بھی نہیں ہے۔ سچ کی تلاش میں، ریڈیو پاکستان کے آرکائیو سے ہوتے ہوئے ریڈیو کے سینئر ریٹائرڈ لوگوں تک پہنچا۔ ان میں خالد شیرازی بھی تھے جنہوں نے 14اگست سے 21اگست1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انھوں نے سختی سے جگن ناتھ کے حوالے سے اس دعویٰ کی نفی کی۔ پھر انھوں نے ریڈیو پاکستان کا رسالہ آہنگ ملاحظہ کروایاجس میں سارے پروگراموں کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں۔ یہ رسالہ 1948سے باقاعدگی سے چھپنا شروع ہوا۔


18 ماہ تک آزاد کے ترانے بجنے کی خبر دینے والے براہِ کرم ریڈیو پاکستان اکادمی کی لائبریری میں موجود آہنگ کی جلدیں دیکھ لیں اور اپنے موقف سے تائب ہوجائیں۔ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ اگر آزاد کا ترانہ ہمارا قومی ترانہ تھا اور وہ 1949 ء تک نشر ہوتا رہا تو پھر اس کا کسی پاکستانی کتاب، کسی سرکاری ریکارڈ میں بھی ذکر کیوں نہیں ہے اور اس کے سننے والے کہاں چلے گئے؟اگر جگن ناتھ آزاد نے قائداعظم کے کہنے پر ترانہ لکھا تھا تو انھوں نے اس منفرد اعزاز کا کبھی ذکر کیوں نہ کیا۔ جگن ناتھ نے اپنی کتاب’’آنکھیں ترستیاں ہیں ‘‘ 1982 میں ضمناً یہ ذکر کیا ہے کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا اس کا ذکر موجود نہیں۔ اگر قائداعظم کے فرمان پر لکھاتو وہ یقیناًاس کا ذکر کرتا۔ آزاد کے والد تلوک چند نے نعتیں لکھیں۔ جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کے لئے ملی نغمہ لکھا جو ہوسکتا ہے کسی وقت ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا ہو لیکن یہ بات طے ہے جگن ناتھ آزاد کبھی قائداعظم سے ملے، نہ انھوں نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا اور نہ ہی ان کا قومی ترانہ 18ماہ تک نشر ہوتا رہایا قومی تقریبات میں بجتا رہا۔


قائداعظم بانئ پاکستان اور ہمارے عظیم محسن ہیں۔ ان کے احترام کا تقاضا ہے کہ بلاتحقیق اور بغیر ٹھوس شواہد ان سے کوئی بات منسوب نہ کی جائے اور انھیں سیکولر ثابت کرنے کے جنون میں نہ تو غلط بیانی کا گناہ کیا جائے اور نہ ہی تاریخ کو مسخ کیا جائے۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسرارِ پیدا


اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
ناچیز جہانِ مہ و پرویں ترے آگے
وہ عالمِ مجبور ہے، تو عالمِ آزاد
موجوں کی تپش کیا ہے؟ فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے وہ دولت ہے خداداد
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُردَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ افتاد

 

سلطان ٹیپو کی وصیت


تُو رہ نوردِ شوق ہے؟ منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تندو تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں
محفل گداز! گرمئ محفل نہ کر قبول
صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
علامہ اقبال

*****

 
09
June

تحریر: محمود شام

قلم کا قرطاس سے‘ذہن کا انگلیوں سے‘ سوچ کا تحریر سے رشتہ جوڑتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے‘ مگر ایسا انتشار‘ ایسی انارکی اور بے یقینی کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ اتنی تشویش محسوس کی تھی۔ہر جانے والا دن‘ ہر ڈوبنے والا سورج بہت سی اُمیدیں لے کر ڈوب جاتا ہے۔ آرزوئیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ اتنی شدت پسندی پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کی تھی۔ مذہبی انتہا پسندی بھی عروج پر ہے۔ سیاسی وفاداریوں میں بھی انتہائی شدت ہے بلکہ ایک جنون ہے۔ سیاسی لیڈروں کی پالیسیاں غلط ہوں یا درست‘ ان کے کارکن اور عہدیدار ان کی ہر بات پر آمَنَّا و صَدَّقْنَا کہتے ہیں۔ لیڈر دن کو رات کہے تو یہ بھی لازم ہے کہ دن کو رات مانیں۔ اپنے ذہن کا استعمال ممنوع ہے۔ اسی لئے معاشرے میں ہر طرف ایک افراتفری کی کیفیت نظر آرہی ہے۔ نفسا نفسی بھی ہے۔ اکثریت کی زندگی بہت کٹھن ہوگئی ہے۔

bilkhasooskarachi.jpg
ایک طرف تو یہ عدم استحکام ہے۔ کوئی قوم کو ایک سمت میں لے جانے والا نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے قومی مفادات اور قومی روڈ میپ کا تعین نہیں کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جب سرحدوں کے اس پار سے بھی دھمکیاں ملنے لگیں تو دل یہ سوچنے اور ذہن اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہورہا ہے۔ ہم نے جب سے دوسروں کی لڑائیاں لڑنا شروع کی ہیں ‘ جب سے دوسروں کے مفادات کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے‘ جب سے بڑی طاقتوں کے آلۂ کار بننے شروع ہوئے ہیں‘ ہماری سرحدیں مخدوش ہونے لگی ہیں۔ ہمارے شہروں میں شدت پسندی کا غلبہ ہونے لگا ہے۔ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ امن کا دین ہے۔ انسانوں کے درمیان محبت پیدا کرتا ہے۔ ہمارے رسول اکرمﷺ ؐ کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر اتارا ہے۔اسلام کو صوفیائے کرام اور اولیائے عظام نے پیار اور محبت سے دنیا میں پھیلایا۔ اب بھی غیر مسلم پیارے نبیﷺ کے اسوۂ حسنہ اور اچھے مسلمانوں کے کردار کو دیکھ کر اسلام قبول کررہے ہیں۔ لیکن اس مملکت خداد میں مسلمان مسلمان کو جس طرح ہلاک کرنے لگے تھے اور مذہب کا نام استعمال کرکے دوسروں کو تہ تیغ کیا جارہا تھا اس سے بہت زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

 

فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔

یہ فرقہ پرستی مسلک دشمنی اور اپنے عقیدے کو دوسرے پر مسلط کرنے کا سلسلہ بتدریج ہوا ہے‘ اچانک نہیں ہوا۔ اسے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ مختلف مقتدر حلقوں کی طرف سے اس کی سرپرستی بھی کی گئی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے نوجوان اکثریت کی جس نعمت سے نوازا تھا‘ اس کو ہم نے اپنے غلط رویوں ‘ پالیسیوں اور صحیح قیادت نہ ہونے کی بدولت اپنے لیے ایک زحمت بنالیا۔ نوجوان بلا شبہ ایک طاقت ہیں‘ توانائی ہیں‘ ایک دریا ہیں جس میں طغیانی آئی ہوتی ہے۔ اگر اس کے کنارے پختہ نہ بنائے جائیں‘ دریاؤں میں سے ریت نہ نکالی جائے‘ پانی کے لئے گنجائش نہ بڑھائی جائے تو وہ کناروں سے بغاوت کردیتے ہیں‘ چھلک جاتے ہیں‘ آس پاس تباہی مچادیتے ہیں۔ اگر ان کی سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کی جائے ‘ بند باندھے جائیں‘ نہریں نکالی جائیں تو وہ زمین کو زرخیز بنادیتے ہیں۔ نوجوانوں کے ذہن بھی بپھرے ہوئے دریاؤں کی مانند ہیں۔ جہاں ناانصافی بڑھ جائے‘ نفرتوں کے سلسلے ختم نہ ہوں‘ انسانیت کی قدر نہ ہو۔ میرٹ پرروزگار نہ ملے‘ وہاں پھر یہ دریا کناروں سے اچھلنے لگتے ہیں۔ ہر معاشرے میں مقامی طور پر بھی ایسے مافیاز موجود ہوتے ہیں جنہیں دشمن ایجنسیوں کی حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ ان نوجوانوں کو اپنے حلقۂ عاطفت میں لے لیتے ہیں۔ یہ نوجوان کسی ایسی پناہ یا سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کچھ تنظیمیں انہیں نسلی بنیادوں پر گمراہ کرتی ہیں۔ کچھ زبان کا استحصال کرکے انہیں بغاوت پر اُکساتی ہیں۔ جب سے دنیا میں مختلف واقعات کو بہانہ بناکر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جارحیت شروع ہوئی ہے‘ مغرب نے کبھی جمہوریت کے قیام کا عذر تراش کر‘ کبھی شدت پسندی کا الزام لگاکر مختلف اسلامی ملکوں میں فساد برپا کئے ہیں۔ بعض مسلم حکمران مغربی جارح قوتوں کے گماشتے بن گئے۔ مسلم ممالک میں زیادہ تر شہری آزادیاں نہیں ہیں۔ آج کا پڑھا لکھا مسلم نوجوان اپنے حکمرانوں سے خوش نہیں ہوتا۔ وہ بغاوت کرنے کے لیے سڑک پر آتا ہے تو اسے پابہ زنجیر کردیا جاتا ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں تو نصف صدی سے ظلم و ستم ڈھائے جارہے تھے۔ اکثر مسلمان حکمران ہر جبر و تشدد خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔بہت سی تنظیموں نے مسلم نوجوانوں کے ان باغیانہ رُجحانات سے فائدہ اٹھایا اور انہیں شدت پسندی کا راستہ دکھایا۔ بے بس اور بے کس نوجوانوں کو ہتھیار دے کر طاقت ور ہونے کا احساس دلایا اور کہا گیا کہ یہ راستہ جنت کا راستہ ہے۔

 

نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ھیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔

یہ سارے ملے جلے رُجحانات چاہے وہ لسانی حوالے سے شدت پکڑ رہے تھے یا نسلی اعتبار سے یا پھر فرقہ وارانہ وابستگی کے حوالے سے‘ انہوں نے پُر امن شہروں کو تشدد اور ہلاکت خیزیوں کا مرکز بنادیا۔ کراچی میں لسانی حوالہ لاشیں گراتا رہا۔ بلوچستان میں نسلی شناخت۔ کے پی کے‘ فاٹا‘ جنوبی پنجاب میں مذہبی شدت پسندی۔ پھر فوج اور قوم نے مل کر ان ساری شدتوں‘ عصبیتوں کے خاتمے کا پروگرام بنایا ۔ پارلیمنٹ نے بھی اس عزم کی توثیق کی۔ ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔ فاٹا میں اور دوسرے علاقوں میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے فوجی کارروائی سے ختم کئے گئے۔ اس کے لئے فاٹا کے ہزاروں رہائشیوں کواپنے ہی گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ کیمپوں میں زندگی گزارنی پڑی۔ ان قابل فخر پاکستانیوں نے یہ قربانی صرف اسی لئے دی کہ پاکستان پُر امن ہوجائے۔ انسانی خون بہنا بند ہوجائے۔ مسلمان مسلمان کو‘ پاکستانی پاکستانی کو ہلاک نہ کرے۔ ہمارے نوجوان دشمنوں اور غیروں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں۔
اب موجودہ سپہ سالار‘ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں اور بالخصوص کراچی میں ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا۔


ضرب عضب کے ساتھ ساتھ آپریشن ردّالفساد شروع کردیا گیا ہے۔ میں کراچی میں رہتا ہوں۔ میں نے 90کے عشرے میں ایسے دن بھی دیکھے ہیں جب چند گھنٹوں میں ہی پچاس ساٹھ سے زیادہ لاشیں گرادی جاتی تھیں۔ ہم نے حکیم محمد سعید شہید جیسے سچے پاکستانی بھی انہی وحشیانہ وارداتوں میں کھوئے۔ کتنے ہی ڈاکٹر شہید کئے گئے۔ سیاسی شخصیتوں کی جانیں لے لی گئیں۔ بعض تنظیموں نے ایک دوسرے کے کارکن بیدردی سے مارے۔ ہم تو خیر رہتے ہی کراچی میں تھے۔ لیکن ان وارداتوں اور خونریزی کے باعث دوسرے ملکوں سے سرمایہ کاروں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا۔ خاص طور پر کراچی میں کاروباری میٹنگ کرنے سے منع کرتے تھے۔ زیادہ تر دوبئی میں ملنے کو ترجیح دیتے تھے۔
پاک فوج کی طرف سے پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں اور منتخب حکومت سے مشاورت کے بعد کراچی آپریشن نے بہت کامیابیاں حاصل کیں۔ کیونکہ اس میں کراچی کے شہریوں‘ تاجروں ‘ صنعتکاروں‘ دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں‘ علمائے حق اور سیاسی کارکنوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ رینجرز سے مکمل تعاون کیا گیا۔ اس میں رینجرز کو بھی قربانیاں دینا پڑیں۔ مگر رفتہ رفتہ کراچی کی رونقیں بحال ہونے لگیں۔ شہریوں کے دل سے خوف رفتہ رفتہ جاتا رہا ‘اب ساحل پر پھر وہی ہجوم دکھائی دینے لگے ہیں۔ سیمینارز‘ کنسرٹس کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے۔ کتاب میلے منعقد ہورہے ہیں۔ یونیورسٹیوں‘ کالجوں اورسکولوں میں پھر سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔


کراچی ابھی تک 1960 اور 1970 والا تو واپس نہیں آیا ہے لیکن بڑی حد تک شہریوں کا اعتماد واپس آگیا ہے۔ کارخانوں میں ساری شفٹیں کام کررہی ہیں۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں خریداروں کے ہجوم نظر آتے ہیں۔ مگر بہتر حکمرانی کا خواب اب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ صوبائی حکومتیں اپنے لئے تو خود مختاری مانگتی ہیں۔ لیکن بلدیاتی اداروں کی خود مختاری سلب کرلیتی ہیں۔ کراچی میں امن تو بحال ہوگیا ہے‘ لیکن بلدیاتی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنارہی ہے۔ کچرا اٹھانے کا بندوبست نہیں ہورہا ہے۔ شہر کی ساری سڑکیں کھدی پڑی ہیں۔ ٹریفک ہر وقت جام رہتا ہے۔ صبح ہو‘ دوپہر یاشام بڑی بڑی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑتی نہیں‘ رینگنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ کوئی تدبر یا حسن انتظام نہیں ہے۔
شہریوں کا ذہنی سکون برباد ہورہا ہے۔ یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ پاک فوج کے آپریشن۔ رینجرز کی مسلسل کاوشوں سے قائم ہونے والا امن خراب حکمرانی‘ شہریوں کی پریشانی‘ پبلک پرائیویٹ سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث پھر بد امنی میں نہ بدل جائے۔


فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔


اسی طرح ملک بھر میں ضرب عضب پھر ردّالفساد کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بھی متعلقہ صوبائی حکومتیں ہی مستحکم اور دیرپا کرسکتی ہیں۔ ’ردّالفساد‘ کی اصطلاح بہت وسیع معانی رکھتی ہے۔ مذہبی حوالے سے بھی اور انتظامی نکتہ نظر سے بھی۔ جسے بہت سے شدت پسند اپنے نقطۂ نظر سے جہاد کہتے ہیں‘ جنت کا راستہ خیال کرتے ہیں‘ وہ علمائے حق کے نزدیک فساد ہے۔ اسکا ردّ بہت ضروری ہے۔ اس ردّالفساد کے ذریعے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے اور بلوچستان سب جگہ ہی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ بہت سے مقامات پر پہلے سے کارروائی کرکے بڑی مقدار میں گولہ بارود‘ ہتھیار پکڑ کے ان دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے مشکوک افراد پکڑے جاچکے ہیں‘ ان کے خلاف مقدمات تیار کرکے عدالتوں میں پیش کئے جارہے ہیں۔ ان آپریشنوں کی کامیابی کی شہادت اس امر سے مل سکتی ہے کہ اب پہلے کی طرح بم دھماکوں کی وارداتیں نہیں ہورہیں۔ پبلک مقامات‘ مساجد‘ بازار اور حساس تنصیبات اب محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔ پارلیمنٹ کی قرارداد اور سیاسی فوجی قیادت نے ملک کر حکمتِ عملی مرتب کی جسے نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا گیا اس میں سے فوری نوعیت کی کارروائی تو ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی ہورہی ہیں۔ سزائے موت پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔


لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان تمام عوامل اور اسباب کا بھی خاتمہ کیا جائے جن کی وجہ سے فساد برپا ہوتا ہے‘ جن محرومیوں سے مجبور ہوکر نوجوان لسانی‘ نسلی اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کا آلۂ کار بنتے ہیں۔خاص طور پر بے روزگار نوجوان کو ماہانہ معقول تنخواہ بھی دی جاتی ہے اور اس کے اہل خانہ کی مالی مدد بھی کی جاتی ہے۔


پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق قریباً 12کروڑ افراد 15سے 25سال تک کی عمر کے ہیں۔ یہ قدرت کا بہت بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے‘ یہ ہماری طاقت ہیں‘ توانائی ہیں۔ لیکن مقامی حکومتوں کی بے اختیاری‘ صوبائی حکومتوں کی غیر ذمہ داری اور سیاسی قیادت کی لا پروائی سے یہ قیمتی اثاثہ بوجھ بن رہا ہے۔ ہمارے کونسلروں‘ میئروں‘ چیئرمینوں کی ذمہ داری ہے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کا قومی فریضہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں نوجوانوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ ان کی معاشی کیفیت سے آگاہی حاصل کریں۔ان نوجوانوں کو اگر مناسب تعلیم ملے اور موزوں تربیت تو وہ پاکستان کو حقیقت میں ایشیا کا ٹائیگر بناسکتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سیاسی قیادتوں کی ذمہ داری ہے۔ پھرہماری غریب اکثریت کو قدم قدم با اثر افراد کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جاگیردار اپنے علاقے میں سکول نہیں کھلنے دیتے۔ ہر صوبے کے دیہی علاقوں میں کئی ہزار اسکول بند پڑے ہیں۔ عمارتیں ہیں مگر وہاں کچھ اور ہورہا ہے۔ اسکول ہیں‘ طالب علم ہیں مگر ٹیچر نہیں ہیں۔ پولیس‘ مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے کی مرضی سے تعینات ہوتی ہے۔ اس لئے وہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے ایم این اے‘ ایم پی اے کا حکم مانتی ہے جس سے نا انصافی جنم لیتی ہے۔ اکثریت کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے ۔ قانون کا نفاذ یکساں نہیں ہوگا۔نا انصافیوں ‘ زیادتیوں اور ظلم کے شکار خاندان ہی پھر شدت پسندوں کا ہتھیار بنتے ہیں اور جب اس کے ساتھ مذہب کا سہارا مل جائے تو یہ اشتراک خطرناک ہوجاتا ہے۔جہالت اور جذباتیت بڑا خطرناک گٹھ جوڑ ہے۔ ملک میں جہالت بھی بہت ہے اور جذباتیت بھی۔ تعلیم ہی انسان کو دلیل کا استعمال سکھاتی ہے۔ برداشت پیدا کرتی ہے۔تحمل کا درس دیتی ہے۔ پاکستانی قوم مزاجاً جذباتی ہے۔ اس لئے وہ آسانی سے چند خود غرض سیاستدانوں اور مذہبی سوداگروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے۔ شایدحکمران طبقے کا ایک حصہ یہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ یہ قوم پڑھے لکھے ۔ کیونکہ اگر یہ پڑھ لکھ گئی تو ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
پاکستان میں کسی بھی بھائی بہن بزرگ سے پوچھا جائے تو وہ فوج کے اس عزم کی مکمل تائید کرتا ہے کہ ملک میں اور بالخصوص کراچی میں امن ہر قیمت پر۔ امن کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ پُر سکون ماحول بھی سرمایہ کاری اور نئی صنعتوں کے لئے سازگار ہوتا ہے۔ فوج نے اپنا یہ عزم بڑی حد تک پایۂ تکمیل کو پہنچادیا ہے۔ آج 2017 کے نصف میں 2015-2016 اور اس سے پہلے کے پُر آشوب برسوں کی نسبت حالات بہت زیادہ پُر امن اور پُر سکون ہیں۔ لیکن اگر ان عوامل اور محرّکات کے خاتمے کے لیے کوششیں نہ کی گئیں جن کے باعث 90-80 کے عشروں اور اکیسویں صدی کے اوائل میں شدت پسندی اور افراتفری اور انتشار پیدا ہوا‘ جسے بڑی قربانیاں دے کر پاک فوج‘ رینجرز اور پولیس نے بحال کیا ہے۔ جس کے لئے ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ پولیس والے بھی شہید ہوئے ہیں۔ اور عام شہریوں‘ بچوں‘ بزرگوں۔ ماؤں بہنوں کا خون بھی بہا ہے تو یہ خونریزی دوبارہ بھی شروع ہوسکتی ہے۔ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نصاب کا جائزہ لینا ہوگا۔ مساجد اور مدارس کے خطبات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ میڈیا پر بھی نظر رکھنا ہوگی‘ وہاں کوئی تربیت ہے نہ نصب العین‘ وہ مجرموں اور دہشت گردوں کو ہیرو اور شاندار انسان بناکر پیش کرتے ہیں۔ ان کو بہت زیادہ با اثر دکھاتے ہیں۔


نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ہیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹھہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔
ہر ادارے کو اس قومی جہاد میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم ہر قیمت پر قائم کئے گئے امن سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔ ملک میں استحکام پیداکرسکیں گے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
June

افغان امور کے ماہر‘ ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کی تحریر

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس کے باوجود بہتر نہیں ہوپارہے کہ دونوں ممالک کو نہ صرف ایک جیسے حالات خصوصاً دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ ان کے درمیان بہتر تعلقات علاقے اور خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ حال ہی میں جب لندن اجلاس کے تناظر میں طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے رابطے بحال ہونا شروع ہوگئے تو پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ایک طرف نہ صرف سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کابل بھیجا بلکہ اعلیٰ ترین سطح کے عسکری وفود بھی کابل گئے جہاں انہوں نے اعلیٰ حکومتی عہدے داران‘سیاستدانوں اور حکمرانوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے اس پڑوسی اور برادر ملک کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پارلیمانی وفد میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شامل تھے جن میں تین کا تعلق پشتون قوم پرست جماعتوں سے تھا‘ تاہم اس دورے کے بھی وہ نتائج سامنے نہیں آئے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ وفد میں شامل قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ کے مطابق دورے کے اختتام پر طے پایا تھا کہ افغان حکومت نیک خواہشات اور خیرمقدمی کلمات پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کرے گی تاہم افغان حکومت نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ وفد کے بعض ارکان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ان کی تقریباً پانچ گھنٹے پر مشتمل طویل نشست ہوئی جس کے دوران انہوں نے متعدد بار سخت لہجہ اور رویہ بھی اپنایا تاہم وفد کے ارکان ان کو مسلسل یہ یقین دہانی کراتے رہے کہ ماضی کی شکایات کے بجائے موجود حالات اور مستقبل کے چیلنجز کے تناظر میں آگے بڑھا جائے۔ ان ارکان کے مطابق سینٹ کے چیئرمین نے تو میزبانی کے آداب کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملاقات کے دوران سخت رویہ اپنایا اور یکطرفہ الزامات لگائے‘ تاہم پاکستانی وفد نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ مثبت اور دوستانہ طرزِ عمل اپنائیں۔ وفد نے حکومت پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر اشرف غنی اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کو دورہ پاکستان کی الگ الگ دعوتیں بھی دیں اور وزیر اعظم کا خصوصی پیغام بھی سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے افغان صدر کو پہنچایا۔ حامدکرزئی نے خلافِ توقع یہ دعوت قبول کرلی اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں گے تاہم ابھی وفد کی واپسی ہوئی ہی تھی کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک بیان میں مؤقف اپنایا کہ وہ پاکستان کا دورہ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک پاکستان‘ ان کے بقول‘ بعض ان افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا وعدہ پورا نہیں کرتا جو کہ افغان حکومت ایک فہرست کی صورت میں دے چکی ہے۔ حالانکہ ایسی ہی ایک فہرست پاکستان بھی افغان حکومت کو دے چکا ہے۔ جناب اشرف غنی کے اس غیرلچک دار رویے اور مشروط طرزِ عمل نے اعلٰی سطحی پاکستانی وفد کے دورۂ کابل کی امیدوں اور نتائج پرپانی پھیر دیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا جانے لگا کہ افغان حکمران شاید مصالحت یا مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اسی دوران جب افغانستان کے نمائندہ صحافیوں کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو دوسروں کے علاوہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا جس کے دوران انہوں نے دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں کئی گھنٹوں تک افغان صحافیوں کی شکایات اور تجاویز کو بڑے غور سے سنا اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے افغانستان کے امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس نشست کے علاوہ ایسے ہی جذبات کا اظہار مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی کیا تھا۔ یہ طرزِعمل اس کوشش کا ایک اظہار تھا جس کے ذریعے افغان حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور میڈیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان بہت سے تحفظات اور خدشات کے باوجود اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔


ابھی اس تمام پیشرفت پر تبصرے اور تجزیئے جاری تھے کہ چمن بارڈر پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں جبکہ اسی شام افغان فورسز نے طورخم بارڈرپر بھی حملے کئے۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں متعدد شہریوں کے علاوہ فورسز کے کئی اہلکار جاں بحق ہوگئے اور پاکستان کو ایک بار پھر چمن بارڈر بند کرنے کا اقدام اٹھانا پڑا۔ افغان حکام خصوصاً قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اس نازک ایشو پر ایک ذمہ دار عہدیدار کے رویے کے برعکس ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مصالحت اور متوقع مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر معدوم ہوگئے۔ تصادم کے بارے میں دونوں ممالک کے الگ الگ بیانات اور الزامات پر بحث کئے بغیر اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اپنی فورسز کے علاوہ عوام کو مشتعل کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہ ایک حکومتی عہدیدار کے بجائے ایک ایسے راہنما دکھائی دیئے جو کہ جلتی آگ پر مٹی کا تیل ڈالنے کا ماہر ہو۔ افغان حکام نے اس موقع پر حد بندی یا سرحدی حدود کا ایشو بھی اٹھایا جو کہ مزید تلخی کا سبب بن گیا اور معاملات بگڑتے رہے۔ اس تمام معاملے کے دوران افغان میڈیا نے بھی ایشوز کو مزید بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یوں یکطرفہ طور پر کشیدگی کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ دو مطالبات پھر سے دہرائے گئے ۔ ایک تو یہ کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور بعض دیگر کے خلاف مزید کارروائیاں کرے اور دوسرا یہ کہ لسٹ میں شامل ان 90 افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا اقدام اٹھاجائے جو کہ بقول افغان حکومت کے پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں اس کے جواب میں پاکستان کا موقف یہ رہا کہ مطلوب افراد پاکستان کے بجائے افغانستان میں ہیں‘ اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور یہ کہ اگر ایسے افراد یہاں پائے گئے جو کہ افغانستان پر حملوں میں ملوث ہیں تو کارروائی سے قطعاً گریز نہیں کیا جائے گا۔ ایک اور مسئلے کو بھی شدت کے ساتھ میڈیا اور عوامی حلقوں کی سطح پر اٹھایا گیا اور وہ یہ تھا کہ ڈیورنڈ لائن کے سٹیٹس پر بحث کا آغاز کیا گیا۔ شعوری طور پر کوشش کی گئی کہ اس معاملے پر افغانستان کے علاوہ پاکستان کے بعض قوم پرست حلقوں کو بھی اشتعال دلایاجائے۔ اس طرزِ عمل نے مسئلے کو اور بھی خراب کرکے رکھ دیا کیونکہ پاکستان بارڈر مینجمنٹ کے معاملے پر افغان حکام کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرچکا تھا اور اس ضمن میں عملی اقدامات بھی کئے جاچکے ہیں۔


دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان کا یہ طرزِ عمل اپنا ایک مضبوط پس منظر رکھتا ہے اور اس کے متعدد اسباب اور عوامل ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اب بھی ایک سے زائدلابیاں اس کوشش میں ہیں کہ دونوں ممالک کو قریب نہ آنے دیا جائے بلکہ کشیدگی کوبھی ہوا دی جائے اور اس کے لئے مختلف قسم کے الزامات اور اقدامات کے ذریعے راستہ بھی ہموار کیا جائے۔ ان ماہرین کے مطابق ان لابیوں یا حلقوں کو بھارت کے علاوہ بعض دیگر ممالک کی سرپرستی بھی حاصل ہے جو کہ افغانستان کے راستے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تعلقات کشیدہ رہیں۔ اس قسم کے لوگ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہیں بلکہ ان کا میڈیا میں بھی بہت اثر و رسوخ ہے اور میڈیا کے بعض اداروں کو اسی مقصد کے لئے باقاعدہ سپانسر بھی کیا جاتا ہے۔

 

افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔

حال ہی میں کابل کادورہ کرنے والے ممتاز صحافی ہارون الرشید نے اس ضمن میں رابطے پر بتایا کہ کابل میں انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ‘ حنیف اتمراور حامدکرزئی سمیت دیگر اعلی عہدیداران سے بات چیت کی ۔اکثریت کا خیال تھا کہ افغانستان کے خراب حالات کی ذمہ داری محض پاکستان پرہی عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ ان کو بتایا گیا کہ جب بھی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوتا ہے یا پاکستان افغان طالبان کو میز پر بٹھانے کی کوشش کرتا ہے‘ ایوانِ صدر یا ایسے دوسرے کسی دفتر سے کوئی ایسا بیان جان بوجھ کر جاری کردیا جاتا ہے جو کہ اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ہارون الرشید کے مطابق اس تاثر میں افغان میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے اور اس کے ذریعے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ہی خرابی کا سبب ہے۔ اس پراپیگنڈے کو بھارت کے علاوہ ایران اور امریکہ کی آشیربادبھی حاصل ہے تاہم پاکستان کے سفارتی حلقے اس کو کاؤنٹر کرنے میں بوجوہ ناکام دکھائی دیتے ہیں اور یوں 80 فیصد لوگ پاکستان کے خلاف ہوگئے ہیں۔
سینئر تجزیہ نگار اور اینکر حسن خان کے مطابق ان کے دورۂ کابل کے دوران معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف افغان حکمرانوں اور عوام کی نفرت میں پہلے کے مقابلے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اور چمن تصادم کو نہ صرف بہت زیادہ اچھالا گیا بلکہ ڈیورنڈ لائن(انٹرنیشنل بارڈر) کو متنازعہ بنانے کی مسلسل کوشش بھی کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں حسن خان کا کہنا تھا کہ اس بار انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ اور حامدکرزئی کو پاکستان کے بارے میں کافی بہتر اور مثبت پایااوردونوں لیڈروں نے ملاقاتوں کے دوران اس بات کو تسلیم بھی کیا کہ ہر خرابی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا رویہ شاید درست نہیں ہے بلکہ بعض دیگر عوامل بھی بدامنی اور عدمِ استحکام کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق حامد کرزئی پاکستان کے بارے میں مثبت بات کررہے تھے اور ان کی توپوں کا رخ امریکہ کی جانب تھا۔


دونوں سینئرصحافیوں کے مطابق بدامنی اور عدمِ استحکام کی ایک بڑی وجہ افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی کوششیں ہونی چاہئیں کہ بحالی تعلقات کی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ تلخی یا کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان کے مخالف ممالک کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ افغانستان یا اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں۔


سنٹرل ایشیا کے دروازے پر واقع افغانستان کے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں کئے گئے طالبان حملے میں 150 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے جس کے بعد افغانستان کی سکیورٹی سے متعلق سوالات شدت سے سراٹھانے لگے تو ان کے وزیرِ دفاع اور آرمی چیف نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیئے جو کہ افغان صدر اشرف غنی نے قبول بھی کئے۔ افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جو کہ اس جانب واضح اشارہ ہے کہ طالبان کی نہ صرف یہ کہ قوت بڑھتی جارہی ہے بلکہ ان کی کارروائیاں جنوبی اور مشرقی افغانستان یا پشتون بیلٹ تک محدود نہیں رہی ہیں۔ اس سے قبل قندوز میں طالبان نے جہاں ایک طرف چار بار کامیاب حملے کئے وہاں انہوں نے کئی روز تک صوبائی دارالحکومت کو اپنے قبضے میں بھی لئے رکھا۔ جبکہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور یہاں پر اب بھی حملے اور جوابی حملے جاری ہیں۔ یہ تینوں صوبے اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کو سنٹرل ایشیا اور ایران کے گیٹ ویز کے پس منظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ مزار شریف‘ بلخ‘ قندوز اور پنج شیر کو نہ صرف انتہائی جغرافیائی اہمیت حاصل ہے ‘بلکہ افغانستان کی 50 فیصد سے زائد بیورو کریسی کا تعلق بھی ان ہی صوبوں سے رہا ہے اور اکثر نان پشتون لیڈروں کے نہ صرف یہ آبائی علاقے ہیں بلکہ یہ ان کی قوت کے مراکز بھی ہیں۔ روس کے ساتھ جنگ کے علاوہ نائن الیون اور اس سے قبل طالبان کے داخلے جیسے اہم ادوار کے دوران بھی مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقے جنگوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ علاقے تعلیم‘ سہولیات اور ترقی کے حوالے سے دوسرے صوبوں سے کافی آگے ہیں۔ شمالی افغانستان کے لیڈروں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ان علاقوں کو جنگوں اور حملوں سے دور رکھا جائے اور سال2015 کے وسط تک وہ اس کام میں کامیاب بھی رہے تاہم 2016 کے دوران طالبان اور ان کے اتحادیوں نے ان علاقوں کا نہ صرف رخ کیا بلکہ یہاں پر خوفناک حملے بھی کرائے اور حالیہ حملے اسی سلسلے کی کڑی ہیں اس بار فرق یہ سامنے آیا ہے کہ طالبان نے علاقے کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں بغیر کسی مزاحمت کے گھس کر 150 سے زائد افراد کو زندگی سے محروم کردیا۔ حملہ آوروں نے کئی گھنٹوں تک چھاؤنی کے اندر رہ کر فورسز سے مقابلہ کیا اور یہ مقابلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آخری حملہ آور زندہ رہا۔افغان طالبان کے ہاتھوں‘ مساجد‘ مزارات اور تعلیمی اداروں کو اس نوعیت کے حملوں کا نشانہ بنانے کی روایت بہت کم رہی ہے تاہم اس بار انہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے والوں کو بطورِ خاص ٹارگٹ کیا اور اس سے قبل بھی بعض ایسے حملے مشاہدے میں آئے ہیں جن سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرح اب وہاں بھی ماضی کی روایات کے برعکس کوئی بھی طبقہ حملوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔


افغانستان کے علاوہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں نہ صرف یہ کہ اس حملے کی شدید مذمت کی گئی بلکہ دو اعلیٰ ترین ریاستی ذمہ داران کے استعفوں کا عوامی سطح پر خیرمقدم بھی کیاگیا تاہم کابل کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ استعفے افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ اور شمال کے طاقتور کمانڈر رشید دوستم کے کہنے پر اور دباؤ پر دیئے گئے ہیں۔ مزار شریف کو جغرافیائی اور دفاعی ماہرین پورے خطے کا جغرافیائی مرکز سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے کچھ فاصلے پر ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں واقع ہیں جبکہ یہ کابل‘ ہرات اور قندوز کو آپس میں ملانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سال2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ میں 60 فیصد تک تاجک جبکہ 15 فیصد اُزبک رہ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ترکمان اور پشتون دس دس فیصد کے تناسب سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ رواں برس کے دوران دونوں سنٹرل ایشین سٹیٹس نے مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقوں کے لئے بڑے اہم منصوبے منظور کئے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس بیلٹ کو جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں غیر معمولی توجہ اور ترقی دی جارہی ہے۔ حالیہ حملے نے اس تمام عمل کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور عالمی میڈیا کے بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں حملوں کی تعداد میں اضافہ ایک عالمی اور علاقائی گیم کا حصہ ہے اور اس گیم کو بیرونی طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ کابل میں قائم کولیشن گورنمنٹ کی وزارتوں کی عجیب و غریب تقسیم‘ ان کے درمیان کوآرڈینیشن کے فقدان اور شمال کو شیئرز سے زیادہ حکومتی عہدے دینے کے فارمولے جیسے اقدامات کو بھی افغان اداروں اور فورسز کی ناکامی کے اسباب میں شامل کیا جارہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے کہ اس قسم کے حملوں کی آڑ میں امریکہ یا بعض دیگر طاقتیں افغانستان کو پھر سے میدانِ جنگ بنانے تو نہیں آرہی ہیں؟ ننگر ہار پر عین ماسکوکانفرنس کے دوران مدر آف آل بم گرانے کا امریکی اقدام اور کانفرنس میں امریکہ کی شرکت سے انکار کے علاوہ بعض دیگر اقدامات اور بیانات کو بھی اسی تناطر میں دیکھا جارہا ہے۔ بظاہر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ افغانستان کے تقریباً تمام صوبوں یا علاقوں تک پھیلایاگیا ہے اور پانچ سرحدیں ایسی ہیں جہاں طالبان نہ صرف یہ کہ پہنچ چکے ہیں بلکہ وہ اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا رہے ہیں اور کامیاب حملے بھی کررہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے بعد اب ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہوگئی ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو اس کے اثرات بعض دیگر سنٹرل ایشین سٹیٹس کے علاوہ روس پر بھی پڑیں گے۔


یہ حالات ایک ایسے افغانستان کا منظر نامہ پیش کررہے ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ سول وار کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے بلکہ یہ یقینی خطرہ بھی موجود ہے کہ شاید امریکہ اپنی فورسز اور ان کے اختیارات میں مزید اضافہ کرے اور اس کے نتیجے میں دوسری عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے میدان میں اُترآئیں۔ دوسری طرف داعش کا پھیلاؤ اور پاکستان‘ افغانستان کی نئی نسل میں مقبولیت کی اطلاعات بھی پریشان کن ہیں۔ حملوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ان ریاستوں کے علاوہ عالمی طاقتیں کیا حکمت عملی طے کرتی ہیں‘ مستقبل کے منظر نامے اور صورتحال کا انحصار اسی پر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ضرب عضب کے جوان


دیکھو مرے وطن کے جوانوں کو اِک نظر
سینہ ہے یا فولاد یا پھر شیر کے جگر
باطل ٹھہر نہ پائے کبھی ان کے سامنے
لڑتے ہیں کیسے جم کے ماؤں کے یہ پسر
سایہ ہو میری فوج پہ ربِّ جلیل کا
ہوتی رہے یہ کامراں، تا عمر، تاحشر
کیسے ہوں یہ صفات بیاں اِن کی اے حکیمؔ
ہیبت ہے بس عدو کے لئے ان کی اک نظر

حکیم شہزاد

*****

 
16
May
مئی 2017
شمارہ:5 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قومیں پرعزم ہوں اور اپنے نظریے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں تو وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما قوم ایک طویل اور کٹھن جنگ میں کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اب الحمدﷲ اس مقام پر ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا عمومی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب وہ فساد بپا کرنے....Read full article
 
تحریر:خورشیدندیم
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر....Read full article
 
 alt=
تحریر: محمد عامر رانا
انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
22فروری سے آپریشن رد الفساد ملک بھر میں جاری ہے۔فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب لگانے کے لئے جس آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے ابتدائی مراحل کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اچانک بڑھ گئے تھے جو اب بہت حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے پیچھے پاک....Read full article
 
تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ امریکہ کے جنگی اخراجات کو کم کرکے اسی سرمائے کو امریکی شہریوں کی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں گے۔امریکہ کے اندر وہ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتے ہیں، اس بارے تو کچھ کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔ تاہم شام اور افغانستان کو ملٹر ی انڈسٹریل کمپلیکس کی خوفناک.....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے.....Read full article
 
تحریر: فاران شاہد
پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی....Read full article
 
تحریر: محمدمنیر
کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ مغربی تعلیم، آزادئ فکر اور میڈیا کی تانوں اور اڑانوں کے باوجود حکومتیں اور معاشرے کے طاقت ور طبقے مذہبی شخصیات کے تیوروں سے کیوں خائف رہتے ہیں اور....Read full article
 
تحریر: شاہد نسیم
ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ہربار ہمیشہ ہر بلند آواز یا ہر نئی کوشش کو’ اپنے‘ اسلام کے لئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں جن کے خیال میں بین المذاہب ہم آہنگی یا مکالمہ ایک ایسی شاطرانہ اختراع یا ایک ایسا نیا دین گھڑنے کی بھونڈی سی کوشش ہے۔ جس کا شریعت میں کوئی بھی تصور موجود نہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کی پُرفریب اصطلاح سے نہ تو کوئی سے دو مذاہب کے درمیان معاہدہ مراد ہے....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
بلاشبہ یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ پچیس برس قبل لاہورمیں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ سرکاری نہیں ہے۔ اس لئے اس کا معیار آج بھی قائم ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر (موجودہ نہیں) جو اس وقت پچیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے تھے کے خلاف خاکروب حضرات نے ہڑتال کر دی۔ یہ خاکروب اپنے حالات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے کام.....Read full article
 
تحریر: حجاب حبیب جالب
مئی، یا مزدوروں کا عالمی دن، ہم کیوں مناتے ہیں؟ صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کی زندگی بہت مشکل تھی اور ان سے ایک دن میں 16,16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدورکے ذمہ ہوتے۔ ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ مزدور کے زخمی ہونے کی صور ت میں اس کا علاج کروایا جاتا، مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدید پرتھا.....Read full article
 
تحریر: کوکب علی
ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔.....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا....Read full article

تحریر: میجر مظفر احمد
لاہور میں خود کش حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے جوان اور متعین سول شمار کنندگان مردم شماری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ سول شمار کنندگان اور فوج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ایک عظیم قربانی ہے۔ مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان قیمتی جانوں کی قربانی سے ہمارے عزائم مزید مضبوط ہوں گے........Read full article
 
تحریر: عبدالستاراعوان
ستمبر1965ء کے معرکہ چھمب جوڑیا ں میں ہمارے جن قومی ہیروز نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اُن دلیر فرزندان وطن میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا بھی ہے غلام مہدی خان شہید کا شمار اُن جانبازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت جرأت ،بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان اس دھرتی پر نچھاور کر دی۔ غلام مہدی خان کا.....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
6ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں پانچویں نغمے ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یک جان تھی۔ ہر ایک محاذ پر افواج پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے.....Read full article
 
تحریر: رابعہ رحمن
عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر....Read full article
 
تحریر: محمدامجد چوہدری
اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم کا جو بھی فرد افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑتا ہے، ’’سروس فار ایور‘‘ہمیشہ کے لئے اس کا عزم بن جاتا ہے۔ وہ یونیفارم میں ہوتو اسی جذبے کے تحت جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے، ملکی یکجہتی کی علامت بن کر قریے قریے میں ڈیوٹی کے لیے لبیک کہتا ہے، قوم کے آرام و چین کے لئے سرحدوں پرپہرہ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال مقرر ہے جس سے ہم ابھی بھی تقریباً دو سال کے فاصلے پر تھے۔ ایک سینئر بزرگوار سے مشورہ کیا تو انہوں نے پہلے تو جلدی شادی کرنے کے نقصانات تفصیل سے بیان کئے اور پھر دیر تک ہمیں ....Read full article
 
تحریر: انوار ایوب را جہ
یہ 1983-84کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی.....Read full article
 
تحریر: فہیم خان
صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ.....Read full article
 
تحریر: میجر حسان جاوید
مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک....Read full article
11
May
دوہری سیٹ والے جے ایف سیون ٹین بی تھنڈر کی پہلی کامیاب اڑان

newsdohriuran1.jpg

گزشتہ دنوں ڈبل سیٹ جے ایف سیون ٹین بی تھنڈ ر نے چینگڈو (چین) میں اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز کی ۔پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان اس تاریخی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
Aviation Industry Corporation of China (AVIC)
. کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ،
Mr. Li Yuhai
اس پروقار تقریب کے میزبان تھے۔ پاک چین مشترکہ کاوش ڈبل سیٹجے ایف سیون ٹین بی تھنڈ ر اپنی آزمائشی پروازکے ابتدائی مرا حل سے گزر رہا ہے۔ جے ایف سیون ٹین بی تھنڈر کی شمولیت خود انحصاری کی طرف ایک سنگِ میل کی حیثیت کی حامل ہے۔ اس طیارے کی شمولیت سے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی بہترین
combat training
ممکن ہو سکے گی۔ جے ایف سیون ٹین تھنڈر طیارے کی پاک فضائیہ میں شمولیت کا آغا ز2007 سے ہو ا جوکہ مسلسل جاری ہے۔ اب تک پاک فضائیہ میں جے ایف سیون ٹین کے پانچ سکواڈرنز خدمات انجام دے رہے ہیں جو کہ ہر طرح کے آپریشن سر انجام دیتے ہیں۔ جے ایف سیون ٹین تھنڈر ایک بہترین جنگی جہاز ہے جس کا موازنہ دنیا کے جدید طیاروں سے کیا جا سکتا ہے۔
کور ہیڈکوارٹرز ملتان میں مردم شماری کے حوالے سے اجلاس

newsdohriuran2.jpg 

گزشتہ دنوں کمانڈرملتان کورلیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار کی زیر صدارت کور ہیڈ کوارٹرز ملتان میں چھٹی قومی خانہ مردم شماری فیز 2کے سلسلے میں آرمی اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا اجلاس ہوا۔ جس میں مردم شماری کے حوالے سے کئے
جانے والے انتظامات کامکمل جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اپنے متعلقہ محکموں کی جانب سے کئے جانے والے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار نے خانہ مردم شماری کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی بہتری کے لئے ضروری ہدایات دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور خوش اسلوبی کے تسلسل پر زور دیا۔ اجلاس میں ملتان، خانیوال، ساہیوال اور اوکاڑہ کے اضلاع میں ہونے والی خانہ مردم شماری کے حوالے سے لائحہ عمل بھی طے کیا گیا۔ کمانڈر ملتان کور نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خانہ مردم شماری میں ملتا ن کور سول انتظامیہ اور محکمہ شماریات کے حکام کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں خدمات سر انجام دے گی۔
11
May

تحریر: کوکب علی

ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔
ماں گویا کتابِ زیست کا وہ دلچسپ باب ہے جس کی محبتوں اور قربانیوں سے گندھی تحریر سے صرفِ نظر ممکن نہیں ۔۔۔گو کہ ماں سے محبت کسی مخصوص دن کی مختاج نہیں مگر پھر بھی زمانے کے بدلتے رواجوں کے ساتھ چلتے ہوئے مئی کے دوسرے اتوار کوجہاں دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن جوش وخروش سے منایا جاتا ہے وہاں یوکرائن میں بھی یہ دن پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس دن کا باقاعدہ آغاز امریکی کانگریس کی جانب سے 8 مئی 1914 کو کیا گیا ۔ پھر سویڈن ، ناروے جرمنی اور لندن میں منایا گیا ۔ یوکرائن میں اس دن کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ۔سن 2000ء سے اس دن کو منانے کا آغاز کیا گیا ۔
اس دن باقاعدہ طور پر پھولوں کی خریداری کی جاتی ہے ۔ وہ جن کی مائیں حیات ہیں انہیں گلابی اور سرخ پھول پیش کئے جاتے ہیں اور جن کی مائیں حیات نہیں وہ سفید پھول ان کی قبروں پر لے جاتے ہیں۔ یوکرائن میں اس روز خوب چہل پہل ہوتی ہے ، ریسٹورنٹس خصوصی طور پر
mother's breakfast' mother's lunch
اور
mother's dinner
کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔ بچے ماؤں کو کارڈز اور خصوصی تحائف دیتے ہیں ۔ ماؤں کو خاص طور پر اس دن کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے کہ کب بچھڑے بچے ان کوآ کر صورت دکھائیں گے یا فون پر ایک مدت بعد اپنی آواز سنوائیں گے ، کیونکہ بہرحال مشرقی اور مغربی قدروں میں فرق ہے ، دوسرے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی خاندانی نظام مضبوط نہیں اور ماں یا باپ بچوں کے کچھ بڑے ہوتے ہی اکیلے زندگی گزارنے پر مجبورہو جاتے ہیں۔ اس دن کے حوالے سے یوکرائنی میوزک میں بھی تنوع موجود ہے ،مدرز ڈے پر تفریحی مقامات بھی پُررونق دکھائی دیتے ہیں۔
یوکرائنی ادب میں بھی ماں کی عظمت کے حوالے سے لفظوں کے رنگ بکھیرے گئے ۔ یوکرائنی شاعر
Sova
نے خاص طور پر اپنی نظم

The Owl
میں اپنی دھرتی یوکرائن کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے
Is there on earth a son more fine'
In all Ukraine? Good people, gaze,
اس نظم میں ماں کی اس محبت کا ذکر ہے جو وہ اپنے خوبصورت بیٹے کی پیدائش پر اُس سے رکھتی ہے ۔ ماں چاہتی ہے کہ وہ اُسے دنیا کی ہر خوشی دے۔ اس کے باپ کی وفات پر وہ زندگی کے اُتار چڑھاؤ کو دیکھنے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی سب خواہشیں پوری کرتی ہے اور ایک دن وہ آرمی میں جا کر ملک کی خدمت کرتا ہے یہ لمحہ ماں کے لئے فخر کا باعث ہے ،، مگر ملک کی حفاظت کرتے کرتے وہ ایک بار لاپتہ ہوجاتاہے ۔ دس برس گزر جاتے ہیں ،، مگر ماں اس کی تلاش جاری رکھتی ہے یہاں تک کہ بوڑھی ہو کرگلیوں بازاروں میں اپنے بیٹے کو آوازیں دیتی ہے۔ گلی کے شریر بچے اس کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ ماں کے حوالے سے اس طویل نظم نے پڑھنے والوں پر پُر سوز اثرات مرتب کئے ہیں ۔
ماں کی لازوال محبتوں کی یہ داستانیں رہتی دنیا تک قائم رہیں گی ۔سر زمین کوئی بھی ہو ماں کااپنی اولاد کے لئے پیاراور اس کے رنگ ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
 
11
May

تحریر: فہیم خان

صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ جیسے جیسے نورینہ بڑی ہوتی گئی اس کی دلچسپی خلاء میں موجود ستاروں اورسیاروں کے بارے میں بڑھتی گئی۔ وہ کائنات میں موجود ستاروں سیاروں کے بارے میں بہت سے جواب طلب رازوں کو جاننا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں ایک انٹرنیشنل ادارے سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا اس ادارے کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس بچی کا تعلق پاکستان کے اس علاقے سے ہے جہاں امن وامان کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ بچی ستاروں پر کمند ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جلدہی نورینہ شاہ نے انٹرنیشنل میڈیا پر اپنی جگہ بنا لی۔ یو این کے سابقہ سیکرٹری بان کی مون نے بھی نورینہ کی تعریف کی۔ اسی طرح برطانیہ کے میگزین ایڈ زون نے نورینہ کا نہ صرف تفصیلی انٹرویو شائع کیابلکہ اس کو ایشیا کی کم عمر ترین سفیر بھی مقرر کیا۔

balchkachamkta.jpg
راقم اس باصلاحیت طالبہ سے ملنے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں واقع نورینہ شاہ کے گھر پہنچا۔ نورینہ شاہ نے اپنے بارے میں بتایا کہ ابھی وہ سیکنڈ ائیر کی طالبہ ہے۔ لیکن وہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنی جدوجہد کو آگے لے جانا چاہتی ہے۔ اس نے کہا کہ پاکستان کے عام لوگ آسٹرونومسٹ کو پامسٹ سمجھتے ہیں۔ جب بھی میں کسی سیمینار میں گئی وہاں لوگ مجھے اپنے ہاتھوں کی لکیریں دکھانا چاہتے تھے لیکن لوگوں کو بڑی مشکل سے سمجھانا پڑتاہے کہ میرا یہ کام نہیں۔ تحقیق کے سلسلے میں مجھے ایک بین الاقوامی ادارے نے ایک دوربین بھی گفٹ کی تاکہ میرے علم میں مزید اضافہ ہوسکے۔ گو کہ یہ میری تحقیق کا اگلا ہدف ستاروں کے ٹوٹنے کے عمل سے پیدا ہونے والے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے ناکافی ہے۔ ابھی میری منزل کافی دور ہے اور مجھے بہت محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے اللہ پاک کی ذات پر پختہ یقین ہے کہ انشاء اللہ ایک روز میری محنت رنگ لائے گی اور بلوچستان کی بیٹی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے گی۔نو رینہ نے مزید بتایا کہ میرے ابو نے وسائل کی کمی کے باوجود میری بھرپور رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی اور آج میں جس مقام پر ہوں اس کا سارا کریڈٹ میرے والدین کو جاتا ہے۔ نورینہ نے ارباب اختیار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے جیسے دیگر طلبہ و طالبات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔


نورینہ کے والد حفیظ اﷲ صاحب ‘جو ایک گورنمنٹ ملازم ہیں، نے اپنی بیٹی کے بارے میں بتایا کہ اس کو کم عمری سے ستاروں کے بارے میں جاننے کا شوق تھا جو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ اس کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی کی۔ کئی انٹرنیشنل ادارے نورینہ شاہ سے رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اداروں نے ایوارڈ اورسرٹیفکیٹ بھی دئیے ہیں۔ یہ بچی بڑے عزائم اور ارادے رکھتی ہے جس کے لئے نورینہ کو آگے بہت کچھ کرنا ہے۔ لیکن خلاء بینی کے لئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ این جی اوز نے یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن ابھی تک این جی او یا حکومتی سطح پر عملی طورپر کچھ نہیں کیا گیا۔ بہر حال آج ہمیں اپنی بچی پر فخر ہے اوریقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد سے یہ بچی اپنی محنت اور سچی لگن کی بدولت دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرے گی۔


اس طالبہ سے ملاقات کے بعد ایک پاکستانی ہونے کے ناتے سرفخر سے بلند ہوتا ہے کہ نورینہ شاہ جیسی باصلاحیت اور بلند حوصلہ طالب علم اس خطے میں موجود ہیں۔ ہمارے ارباب اختیار کو اس طالبہ کے لئے خصوصی دلچسپی لے کر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ایسے باصلاحیت نوجوان اس دھرتی کے چمکدار ستارے بن کر ساری دنیا میں پوری آب وتاب سے چمکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
May

تحریر: میجر حسان جاوید

مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک کی سب سے اونچی چوٹی ہے جو سطح سمندر سے 3200 فٹ بلند ہے۔ ٹلہ جوگیاں جہلم شہر سے مغرب میں مشہور تاریخی قلعہ روہتاس سے تقریباً25 کلومیٹر کی مسافت پر موجود ہے۔ بلند مقام ہونے کی بدولت جوگیاں کا پہاڑ میلوں دور سے اپنی جانب توجہ مبزول کراتا ہے اور شام کے اوقات میں انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کا موسم سردیوں میں شدید اور گرمیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے۔


ٹلہ جوگیاں سیکڑوں صدیوں سے جوگیوں اور فقیروں کی آماجگاہ رہاہے۔ اس مقام کو قدیم ہندو‘ بدھ اور سکھ مذاہب میں ایک تعلیمی اور تربیتی درسگاہ کا درجہ حاصل تھا۔ جہاں پورے ہندوستان سے جوگی اور فقیر تربیت کے لئے آتے تھے۔

خانقاہوں اوٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔


ایک روایت کے مطابق ٹلہ جوگیاں کی بنیاد تقریباً سو سال قبل مسیح جوگیوں کی ایک قدیم شاخ کن پترا (کانوں کو چھدوانے والے) جوگیوں کے پیشوا گورو گورکھ ناتھ نے رکھی۔ اس قدیم پہاڑی کے ساتھ بہت سی دیومالائی اور لوک داستانیں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق پنجاب کی مشہور لوک داستان ’ہیر رانجھا‘ کے مرکزی کردار رانجھا نے اس پہاڑی پر آکر قیام کیا۔ اپنے کان چھدوائے اور جوگی کا روپ اختیار کیا۔ ایک روایت کے مطابق سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک نے تقریباً پانچ سو سال قبل ٹلہ جوگیاں پر چالیس دن قیام کیا اور اپنی عبادت کی۔ اسی عقیدت کی بدولت پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ نے یہاں پانی کا ایک تالاب بھی تعمیر کروایا۔ مشہور ہے کہ عظیم مسلمان فلسفی اور ریاضی دان ابوریحان البیرونی نے تقریباً ایک ہزار سال قبل اس پہاڑ پر قیام کیا اور پھر پنڈدادن خان کے مقام پر بیٹھ کر زمین کا قطر معلوم کیا۔

 

tallajogiyan.jpgمغلیہ دور میں اس جگہ کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ مغل بادشاہ لاہور سے کشمیر کی طرف سفر کرتے ہوئے اس پہاڑ پر عارضی قیام کرتے تھے۔ پہاڑ پر موجود پانی کے تالاب مغلیہ دور کی یاد دلاتے ہیں۔ انگریز دورِ حکومت میں ٹلہ جوگیاں کو ایک پہاڑی مقام کا درجہ حاصل تھا جہاں شدید گرمیوں میں انتظامیہ کے دفاترمنتقل ہوجاتے تھے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔ پہاڑ کے اوپر ریسٹ ہاؤس کی عمارت بھی موجود ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل تک یہاں پورے ہندوستان سے فقیر اور جوگی آتے اور وجدان حاصل کرتے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ جن میں ایک قلعہ روہتاس اور دوسرا دریائے جہلم کے کنارے سنگھوئی گاؤں سے نکلتا ہے جبکہ ایک راستہ جی ٹی روڈ پر ڈومیلی گاؤں سے ٹلہ جوگیاں کے نزدیک گاؤں بھیت تک جاتا ہے۔ الغرض ٹلہ جوگیاں ایک انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے اور اس کو سیر و سیاحت کے لحاظ سے ترقی دی جاسکتی ہے۔

مضمون نگار کا تعلق آرمی ایجوکیشن کور سے ہے وہ ان دنوں ملٹری کالج جہلم میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
 
10
May

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی اسکرین پر نظر دوڑائی تو ایک دہلا دینے والے منظر کو چیختی چلاتی سرخیوں سے مسلسل دکھایا جا رہا تھا۔ سانحہ یا واقعہ۔۔ مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ہوا تھا مگر لاہور سے کہا گیا کہ یونیورسٹی بند ہو چکی ہے اس لئے صوابی روانہ ہو جاؤ۔ صوابی۔۔ اسلام آباد سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ ایک مقامی سینئر صحافی‘ جو ہمارے ساتھ ہو لئے تھے‘ تفصیل سے بتا رہے تھے۔ ولی خان یونیورسٹی کا طالب علم مشعال خان یونیورسٹی میں اپنی بزلہ سنجی اور بے باکی کے سبب بڑا مشہور تھا۔ بحث و مباحثہ کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ولی خان یونیورسٹی گزشتہ تین ماہ سے وائس چانسلر سے محروم تھی جس پر طلبہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور ہر روز ایڈمنسٹریٹو بلاک کے سامنے صبح ہی سے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیتے۔ مشعال بھی اُن طلباء میں شامل تھا جو یونیورسٹی کے ’’وائس چانسلر‘‘ کے حوالے سے احتجاج میں آگے آگے تھے۔ اس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ خوش نہیں تھی۔ دوسری جانب مشہور سیاسی رہنما ولی خان سے منسوب یونیورسٹی کے بارے میں مقامی صحافی نے بتایا کہ کمین گاہوں میں چھپی عسکری تنظیموں نے ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت کے پی کے کی یونیورسٹیوں میں ایک بڑی تعداد میں ایسے طلباء کو داخل کروایا ہے جو ’’لبرل اور روشن خیال‘‘ طلباء پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اِن یونیورسٹیوں کی انتظامیہ میں بھی یہ نقب لگانے میں مصروف ہیں۔مقامی صحافی کی گفتگو جاری تھی کہ سرسبزوشاداب صوابی میں ہم داخل ہو گئے۔ صاف ستھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسا مقام آیا کہ جہاں سے آگے گاڑی کا گزر نہیں ہوتا۔ گاڑی سے اُتر کر ابھی چار قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے ویل چیئر پر بیٹھے ادھیڑ عمری کی طرف مائل سرخ و سفید چہرے والے مقامی رہنما نے چلاتے ہوئے کہا ’’مجاہد صاحب!‘‘۔ یہ عبد الرحمٰن تھے جو یاد دلا رہے تھے کہ ہم کراچی یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ تیز تپتی دھوپ میں عبد الرحمٰن دکھ بھری آواز میں کہنے لگے ’’میں مشعال اور اُس کے پورے خاندان کو جانتا ہوں۔ یہ بچہ میرے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے۔ مشعال اور اُس کا خاندان کیا پورے صوابی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی حضورؐ کی شان میں گستاخی کرنا تو کیا اس بارے میں سوچنے کا بھی تصور کرے‘‘۔ رات گئے جب مشعال کے دوستوں نے بتایا کہ ایک گروپ مسلسل مشعال کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ اُس کے نام سے ایک جعلی آئی ڈی بھی طلبہ کو دکھائی جاتی۔ سانحے کے روز ہم دیکھ رہے تھے کہ یہ گروپس جن میں یونیورسٹی انتظامیہ کے چند اساتذہ بھی شامل تھے۔ سرگوشیوں میں ہمیں سازش کا جال بُنتے نظر آرہے تھے۔ مگر یہ ہمیں یقین نہ تھا کہ ہم اپنے سامنے درندگی اور بربریت کا اتنا بڑا سانحہ بھی دیکھیں گے۔ مشتعل گروپ میں سے ایک جس نے اپنا نام اور اپنے باپ کا بھی نام بتایا باقاعدہ سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر حلف لیا کہ ’’مشعال کو ایک ایسی بدترین مثال بنائیں گے کہ آئندہ کوئی روشن خیال، ترقی پسند اور لبرل ہونے کی جراّت بھی نہیں کر سکے گا‘‘۔ ابتداء میں یہ کوئی سو سوا سو تھے مگر ہاسٹل پہنچتے پہنچتے تعداد ہزار سے اوپر پہنچ گئی۔ ’’اوہ میرے خدا!‘‘ عبد الرحمٰن کی آواز آنسوؤں اور سسکیوں میں ڈوب گئی۔’’ مشعال کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اسکے دوستوں نے جو کچھ بیان کیا اُس کے تصور ہی سے خود کو پختون اور مسلمان کہتے ہوئے شرم آتی ہے‘‘۔ پولیس اور انتظامیہ اُس وقت آئی جب مشعال کی برہنہ لاش پر لاٹھیاں برسائی جا رہی تھیں۔ ہاں! پولیس کو اس کارنامے پر ضرور داد دینی چاہئے کہ مشعال کی لاش کو آگ لگانے سے پہلے ہی اُنہوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ لیکن ایک بھی۔۔ جی ہاں! وہاں پر موجود ایک بھی فردکو پولیس کی تحویل میں نہیں لیا گیا۔ میرا جی چاہا کہ واپس اُنہیں قدموں سے لوٹ جاؤں مگر مشعال کے والد اور بہن کی ہمت اور جراّت کے بارے میں سن چکا تھا اس لئیے حجرے میں داخل ہوا جہاں مشعال کا باہمت باپ سر جھکائے پُرسہ لے رہا تھا۔ میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو عزیز و اقارب پُرسہ دیتے ہوئے صبر کی روایتی تلقین کر رہے تھے۔ میرے بوڑھے والد نے پُر نم آنکھوں سے کہا ’’جس کی انگلی کٹتی ہے وہی دل چیرتے دکھ کو محسوس کر سکتا ہے‘‘۔ مشعال کے والد کے آگے بھی مجھے چُپ لگ گئی۔جُھریوں بھرے سرخ و سفید چہرے پر بیٹے کا دکھ سمیٹے مشعال کے والد نے صرف اتنا کہا ’’میرا مشعال تو چلا گیا مگر خدا کے واسطے میرے وطن کے کسی دوسرے مشعال کے ساتھ یہ بربریت اور درندگی کا وحشیانہ کھیل نہ کھیلا جائے‘‘۔
یہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لئے۔ اختافاتِ رائے کا انجام وحشیانہ موت نہیں۔ ہم سب کو قائد کا پاکستان واپس لانا ہے۔ پُرامن پاکستان، خوشحال اور مسکراتا پاکستان!

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

تحریر: انوار ایوب را جہ

یہ 84-1983 کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب تھی ‘روتی ہوئیں ویگن سے نکلیں اور کار میں سوار ہو گئیں۔ وہ اپنی والدہ کواسلام آباد ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہی تھیں۔ ان کے سب بہن بھائی برطانیہ میں رہتے تھے۔ بس وہ یہاں پاکستان میں اپنے بچوں اور خاوند کے ساتھ رہتی تھیں جو ایک فوجی افسر تھے۔


ان تین بچوں کے لیے کار میں بیٹھنے کا یہ پہلا تجربہ تھا ، اس سے پہلے یہ تا یا محبوب کی سبز ویگن میں بیٹھ کر اپنی ماں کے ساتھ گاؤں سے میرپور جاتے جو خود میں ایک تفریح تھی۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ سے ان تین بچوں اور ان کی ماں کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔ ایک اور سبز رنگ کی گاڑی میں جس سفر کا آغاز ہوا ‘وہ آج بھی جاری ہے۔اس سفر کے دوران بہت سے پڑاؤ ان پانچ مسافروں کی زندگی میں آئے اور اس سفر کا کمال یہ ہے کہ اس کا ہر لمحہ یادگار ہے۔ اس رات وہ کار راولپنڈی صدر میں کپڑوں کی دکان پر رکی۔ ان بچوں اور ان کی ماں کے لئے کپڑے خریدے گئے اور یہ کار آخر کار رات کی تاریکی میں تربیلا پہنچی جہاں ان چار مسافروں کی زندگی کا آغاز ہونا تھا۔


دوسرے روز جب صبح کا آغاز ہوا تو یہ تین بچے اور ان کی والدہ ایک نئے ماحول میں آنکھ کھول رہے تھے۔ بچے اردو کا ایک لفظ نہیں بول سکتے تھے ، ان کی ماں پہاڑی زبان کے علاوہ تھوڑی بہت اردو بول سکتی تھیں مگر ان کے لئے ابھی تک یہ تبدیلی ایک بہت بڑا تعجب تھا۔ اس روز یہ بچے جاگے۔ ان کے پاس راولپنڈی سے خریدے ہوئے نئے کپڑے تھے۔ ایک اردلی ایک ٹرے میں کچھ ناشتہ لایا اور ڈائننگ ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔ مجھے یاد ہے اس گھر کے باہر ایک تختی لگی تھی جس پر لکھا تھا ، کیپٹن محمد ایوب اور یہ وہی صاحب تھے جنہوں نے ایک رات قبل ان تین بچوں اور ان کی والدہ کو کشمیر کے پہاڑوں سے ایس ایس جی کی چھاؤنی میں لا کر محصور کیا تھا۔ یہ کہانی میری ہے ، یہ کہانی میری والدہ اور اور میرے بھائیوں کی ہے ، مگر اب جب میں زندگی کی چار دہایاں پوری کرنے والا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ کہانی میری یا میرے خاندان کی نہیں بلکہ ہر اس خاندان کی ہے جس کا تعلق فوج سے ہے۔ ابو جی اس وقت ایس ایس جی میں تھے اور یہ سبز رنگ کی فییٹ کار ہماری پہلی فیملی کار تھی اور یہ ہمار ا فوج کی زندگی میں شامل ہونے کا وہ یادگار دن تھا جس کی چھاپ آج تک ہماری زندگیوں پر ہے۔انگریزی میں کہتے ہیں
Once  a  Soldier, Always  a  Soldier
کچھ ایسا ہی معاملہ ان خاندانوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اس فوجی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جو ان کا بھائی، باپ یا خاوند ہوتا ہے۔ وردی اور سپاہی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے روح اور جسم۔ یہ رشتہ جو ایک سپاہی کے لئے ریکروٹمنٹ سینٹر سے اور افسر کے لئے کاکول سے شروع ہوتا ہے مگر اس کا اختتام کبھی نہیں ہوتا ، یہ رشتہ زندگی ختم ہونے تک ڈی این اے کا حصہ بن کر ساتھ چلتا ہے اور اس رشتے کو ایک فوجی کے ساتھ ساتھ اس کا خاندان بھی اپنا لیتا ہے جیسے ہم نے اپنایا۔


ان تین بچوں میں سب سے بڑا میں تھا اور دو چھوٹے میرے بھائی تھے۔ ایک اب کینیڈا میں آباد ہے اور دوسرا پاکستان میں ہائی کورٹ کا وکیل ہے اور میں یہاں برطانیہ میں رہتا ہوں جبکہ ابو جی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور اب تختی پر کیپٹن نہیں بلکہ لیفٹیننٹ کرنل(ر ) لکھا ہوا ہے۔ بہت سا وقت گزر گیا ، بہت سی نسلیں جوان ہو گئیں ، بہت سی ایس او پیز میں تبدیلیاں کی گئیں ، خاکی کی جگہ کیمو فلاج نے لے لی، ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی ساخت اور استعمال میں تبدیلی آئی مگر ان سب کے ساتھ جڑا سپاہی نہیں بدلا، اس کا جذبہ ماند نہیں پڑا، اس کے ڈی این اے کے جرثوموں میں کل بھی سبز لہو موجود تھا اور آج بھی وہی سبز لہو موجود ہے جس میں ایمان ، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ لہو سرخ ہوتا ہے مگر سپاہی کے لہو میں سبز ہلالی پرچم اپنا رنگ ایسے اتار دیتا ہے کہ اس کی وردی اس کا کفن بن جاتی ہے۔ میں وردی نہیں پہن سکا ، شائد میرے مقدر میں یہ نہیں تھا ، مگر میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ وردی کے پاس اور وردی کے ساتھ گزارا اس لئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ وردی میرے لئے بھی اتنی اہم ہے جتنی ابو جی کے لئے تھی۔ ایس ایس جی کچھ دیوانوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو کسی نام ، ایوارڈ اور میڈل کے لئے اس کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ ایک مختلف سوچ ہے ، ایک الگ مائنڈ سیٹ ، ایک مکمل اور دیوانہ وار عشق یعنی ’’من جانبازم ‘‘ ہم جب فوج کی زندگی کا حصہ بنے تو ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہماری زندگی میں سب سے پہلے فوج اعتماد کا ٹیکہ لگائے گی ، ہمیں وہ پاکستان کا ہر علاقہ دکھائے گی، ہمیں ایران سے افغانستان اور انڈیا سے چین کی سرحدیں دکھائے گی۔ ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہمارے پڑوس میں بریگیڈیر ٹی ایم جیسے جنگجو ہوں گے ، ہمیں ہر گز یہ پتہ نہیں تھا کہ شاہراہ دستور پر ’’ا ﷲ ہو‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے جب ہمارے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ 23 مارچ کی پریڈ میں شامل ہوں گے تو جذبے اور جوش سے ہمارے آنسو نکلا کریں گے۔ ہمیں نہ کسی ایف جی سکول کا علم تھا اور نہ ہی کبھی آرمی پبلک سکول کا سوچا تھا ، یہ کبھی بھی ہمارے گمان میں نہیں تھا کہ ہم تیراکی سیکھیں گے یا ہمیں کبھی دنیا کے بلند ترین محاذجنگ پر ہیلی کاپٹر سے لٹک کر جانے والے کیپٹن نوید اور ہوا بازی کی عالمی تاریخ کے عظیم ہیرو ایم ایم عالم سے ملنے کا موقع ملے گا اور پھر یہ کس نے سوچا تھا کہ کارگل کی جنگ میں شہداء کی فہرست میں ایک نام کیپٹن جاوید اقبال کا ہو گا جو میری والدہ کے بھائی ہوں گے اورکسے معلوم تھاکہ اسی فوج میں ہمارے ہم عصر بھی وہی وردی پہنیں گے جو ان کے بھی ڈی این اے کا حصہ تھی ، کسے علم تھا کہ ان میں سے کچھ ہم سب کو پیچھے چھوڑ جائیں گئے اور سبز ہلالی پرچم کا انتخاب اپنے کفن کے طور پر کریں گے۔ بس یہ فوج کا کمال ہے اور فوج کی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر کوئی لکھتا نہیں اور شائد کوئی بولتا بھی نہیں مگر میں آج ایسا کیوں سوچ رہا ہوں؟ میں تو مکمل سویلین ہوں۔


بس یوں ہی کبھی کبھار غیر ارادی طور پر جب پاکستان جاتا ہوں تو ان گلیوں میں چلتا ہوں جہاں بچپن گزرا اور جہاں آج بھی تندرست جسموں اور بلند جذبوں والے سپاہی رہتے ہیں ، بس ایک رشتہ ہے جو خود ہی قائم ہے، بس وہ پرانے دوست جو کبھی اسکول میں ساتھ پڑھتے تھے۔ اب کرنیل بن گئے ہیں اور ان کو مل کر کچھ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں ؟


محمد میرا بیٹا ہے جو ماشاء اللہ تین سال کا ہونے والا ہے اور اب وہ باتیں بھی کرتا ہے ، محمد اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک تین بار پاکستان جا چکا ہے۔ وہ ایک برٹش پاکستانی/کشمیری بچہ ہے اس کا تعلق اس مٹی سے ہے جس میں وہ پیدا ہوا مگر اسے میں نے اور میری بیگم نے ہمیشہ وہ چار دیواری دکھائی ہے جس سے ہمارا تعلق ہے۔ محمد کو اس کی ماں نے بہت محنت سے اپنی زبان کے کچھ لفظ سکھائے جیسے ’’ابو جی‘‘، ’’پاکستان زندہ باد‘‘، ’’دل دل پاکستان‘‘ اور’’اﷲ جی کرم کرو۔‘‘ میری سٹڈی میں ابو جی کی ایک تصویر لگی ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور اس تصویر سے باتیں کرتا ہے ، مجھے اس کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی مگر وہ اپنی ماں کو سب کچھ سمجھا لیتا ہے ، شائد ایسا ہم سب نے کیا ہو۔ آج ہم گاڑی میں کہیں جا رہے تھے ، محمد متواتر کچھ کہہ رہا تھا اور میری بیگم فرنٹ سیٹ پر بیٹھی رو رہی تھی ، میں نے پوچھا تو وہ بولی کہ محمد نے ٹی وی پر ایک نغمہ سنا ہے اور کل سے بے دھیانی میں گنگنا رہا ہے۔ میں نے بیگم سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ بولی کہ محمد کہہ رہا ہے ’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی میری آنکھیں بھی تر ہو گئیں مگر نہ جانے کیوں منہ سے شکر کا کلمہ ادا ہوا، مجھے اتنے سالوں بعد یہ احساس ہوا کہ وردی ابھی بھی ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: محمدامجد چوہدری

اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم کا جو بھی فرد افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑتا ہے، ’’سروس فار ایور‘‘ہمیشہ کے لئے اس کا عزم بن جاتا ہے۔ وہ یونیفارم میں ہوتو اسی جذبے کے تحت جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے، ملکی یکجہتی کی علامت بن کر قریے قریے میں ڈیوٹی کے لیے لبیک کہتا ہے، قوم کے آرام و چین کے لئے سرحدوں پرپہرہ دیتا ہے، موسم کی چیرہ دستیوں کوبرداشت کرتا ہے، سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کو عبور کرتا حتیٰ کہ جان کی پروا کئے بغیر ملک و قوم کے خلاف برسرپیکار ہر قوت سے جا ٹکراتا ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد وہ یونیفارم کو تو خیر باد کہہ دیتا ہے تاہم قومی خدمت اور سرفروشی کا لباس پوری عمر زیب تن کئے رکھتا ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں:
Once a Soldier, Always a Soldier
اپنے اسی وصف کے عملی اظہار کے لئے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیتے ہیں۔ ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن(ڈی ایف وی اے) کا قیام بھی اسے جذبے کے تحت عمل میں آیا۔ اس کے بانیوں میں افواج پاکستان کے ممتاز ویٹرنز لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد اعظم خان(مرحوم)، ائرمارشل(ر) ظفر چوہدری، لیفٹیننٹ جنرل (ر)عتیق الرحمن، لیفٹیننٹ جنرل(ر) کے ایم اظہراور کمانڈر(ر) عابد اقبال(نیوی) شامل ہیں۔ بری ، بحری اور فضائی افواج کے کسی بھی رینک کے ریٹائرڈ ملازمین اس کے رکن بن سکتے ہیں۔ اس طرح افواج پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو یکجا کرکے ان کی آواز بلند کرنے میں یہ انتہائی مؤثر اور متحرک کردار ادا کررہا ہے۔

servicefoever.jpg
اس میں بھی کوئی دو آراء نہیں کہ ایک سپاہی جب فوج میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوتا ہے تواسے کبھی بھی انتظامی مسائل کا سامنا نہیں کرناپڑتا۔ فوج اس کا گھر ہوتی ہے اورسپاہی سے لے کر جنرل تک اسی خاندان کے فرد ہوتے ہیں۔ ہر سینئر افسر اپنے ماتحت افراد کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پوری یکسوئی اور توجہ سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جونہی وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتا ہے اسے اپنی پنشن کے حصول اور اس سے جڑے بہت سے دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان تمام الجھنوں سے نبردآزما ہونے اور ان کی دادرسی کے لئے پر ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ان کی ترجمان بن کر ان کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ تنظیم اجتماعی فلاح و بہبود کے کئی اہداف حاصل کرچکی ہے۔ اس سلسلے میں یہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے مرکزی دفاتر سے مسلسل رابطے میں رہ کر ان کاموں پر مؤثر انداز سے عمل درآمد کروا چکی ہے۔یہ ملک کی 13پنشنر تنظیموں کی بھی رکن ہے جس میں 12وفاقی اور صوبائی پنشنر تنظیمیں شامل ہیں۔ ان سب کا مجموعی اتحاد و الحاق پاکستان فیڈریشن آف سول اینڈ ملٹری پنشنرز ایسوسی ایشنز کہلاتا ہے۔ڈی ایف وی اے نہ صرف اس کی اہم ترین رکن ہے بلکہ اس کے صدر کو اس اتحاد کا صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوتا ہے۔


لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد نصیر اخترڈیفنس اس وقت فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) فاروق احمد خان اس کے صدر ہیں۔دیگر عہدیداروں میں سینئر نائب صدر ائر وائس مارشل(ر) انور محمود خان ، جنرل سیکرٹری (ر)بریگیڈیئر صفدر حسین اعوان، سیکرٹری کرنل(ر) چوہدری محمد اسلم، سیکرٹری خزانہ کرنل(ر) طاہر حسین کاردار اور سیکرٹری اطلاعات و نشریات سپاہی (ر)مبارک احمد اعوان شامل ہیں۔ادارے کا سالانہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے ممبران کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔ گزشتہ اجلاس میں کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اورادارے کی خدمات اور کارکردگی کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا ۔


اس طرح ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن سے وابستہ افراد اپنی یکجہتی کے ذریعے نہ صرف اپنے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں بلکہ معاشرے میں ہم آہنگی کے فروغ کے لئے بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔یہ تنظیم پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے بھی ایک قابل تقلید مثال ہے جواسی جذبے کے تحت اپنے اجتماعی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی اور خوشحالی میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 
10
May

تحریر: رابعہ رحمن

عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر پہ گامزن ہوچکی ہے۔ پھر یہ سفر اس کی آخری سانس تک جاری رہتاہے۔ وہ اس سفر کے دوران آنے والے ہرموڑ اور اونچے نیچے راستوں پر اپنی محبت اور معصومیت کے پروں کو پھیلائے اڑتی چلی جاتی ہے اس کے پر اگر کاٹ بھی دیئے جائیں تو وہ نئے پر اُگالیتی ہے اس کے پروں کی اُڑان اور آنچل کے سائے میں نسلوں کی نسلیں پھلتی پھولتی ہیں۔


انہی نسلوں میں پلنے بڑھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں‘ ان میں بہت سے پرائیویٹ اداروں اور گورنمنٹ سیکٹر کے میدان میں ہیں۔ ڈگریاں حاصل کرنے اور نوکریاں ملنے تک سب افراد شام کو واپس گھر میں اپنی ماں،بہن، بیٹی یا بیوی یعنی کہ کسی نہ کسی روپ میں وہ عورت کے سائے میں آجاتے ہیں۔ دن بھر کی مشکلات، واقعات، تجربات آکر بیان کرتے ہیں۔ گھر کی گرم روٹی بھی کھاتے ہیں اورپھر اگلے دن اپنی محبتوں اور خدمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی کی ڈگر پر، شام کو لوٹ آنے کے لئے، چل پڑتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایسا ادارہ ہے جسے دنیا کا بہترین ادارہ کہاجاتاہے وہ ہے افواج پاکستان کا ادارہ۔ اس ادارے میں جانے کے لئے تقریباً ہرپاکستانی نوجوان جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تو لڑکپن کے دیکھے ہوئے، وردی پہننے کی آرزو سے بھرپور، خوابوں کی تعبیر چاہتاہے۔ ایک عورت جب اس ادارے میں اس نوجوان کو بھیجتی ہے کہ اے میرے لال، میرے بھائی، میرے بابا میرے شوہر تمہارے حصے کی چولہے کی آگ تمہارے لوٹ آنے تک جلتی رہے گی‘ تمہارے حصے کی روٹی بھی میرے آنچل میں لپٹی گرم ہی رہے گی‘ تمہاری ساری باتیں سننے کو میری سماعتیں ہمیشہ منتظر رہیں گی۔ زندگی وقت کا نام ہے، وقت فیصلے کا اور فیصلہ جب صحیح وقت پر ہوا ہو تو تقدیر بھی ساتھ دیتی ہے۔ اسی طرح ایک فیصلہ فوجی افسر کے گھر میں ایک بار انگڑائی ضرور لیتاہے۔ بریگیڈئیر بابر علاؤ الدین کے گھر میں بھی بیٹے مُھد حیدر کے لئے فوج میں بھیجے جانے کے لئے چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ مُھد ابھی ایف اے میں تھا۔ دوستوں کا شیدائی اور زندگی کو ہنسی مذاق میں گزارنے والا کسی بھی بات پہ سنجیدہ نہیں ہوتا تھا۔ ماں کہتی کہ مُھد ایف اے کے پیپرز آنے والے ہیں‘ میں تمہیں اپنے والد اور شوہر کی طرح ایک کامیاب فوجی افسر دیکھنا چاہتی ہوں مگر تم نے وقت کو مذاق سمجھ لیا ہے تمہارے دوست خود پڑھ کر بے وقت تمہارے گھر آجاتے ہیں اور تم اس بات سے قطع نظر کہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاؤ گے ‘ ان کے ساتھ موج مستی میں لگ جاتے ہو اور کل کو آج کے تمہارے یہ دوست تمہیں مڑ کر آواز بھی نہیں دینگے اور ہاتھ پکڑ کر تمہیں اپنے ساتھ لے کر بھی نہیں چلیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ مُھد کے تینوں دوست ایف اے میں کامیاب ہوئے اور مُھدجس کا خواب صرف اور صرف پی ایم اے جانا تھا‘ ٹوٹ گیا۔ وہ کامیاب نہ ہوسکا‘وہ انتہائی شرمندہ تھا۔ رزلٹ میں ناکامی کی خبر سنا کر ماں کی گود میں سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اللہ نے ماں کو جذبات کی ندی کی طرح بنایاہے‘ مگر مُھد کی ماں جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی جہاندیدہ خاتون ہیں۔ زندگی کے اس اہم موڑ پر جہاں مُھد کے ساتھ ساتھ بریگیڈئیر بابر اور دیگر اہل خانہ بھی شکست وریخت کا شکار ہورہے تھے‘ وہاں ایک ماں نے اہم فیصلہ کیا کہ کوئی میرے بیٹے کو ناکامی کا احساس نہیں دلائے گا ۔کوئی ذومعنی چبھتا ہوا جملہ اس کو مذاق میں بھی نہیں کہاجائے گا ۔مُھد کی ذمہ داری میں لیتی ہوں۔ ماں نے مُھد کو دلی جذبات کے ساتھ ساتھ عقل کو بھی نگہبان مانتے ہوئے کہا‘ بیٹا زندگی کی اس ٹھوکر کو اللہ کا انعام سمجھ کر قبول کرو‘ بے شک انسان کی خطائیں اسے ایسے مقام پر لے آتی ہیں کہ اگر وہ سمجھداری سے کام نہیں لیتا اوربیرونی عوامل کے منفی رجحانات کو اپنا لیتاہے تو وہ پہاڑ سے گرنے والے پتھر کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جاتاہے۔ اگر وہ زندگی کی پہلی ناکامی کو چیلنج سمجھ کر قبول کرتاہے‘ اللہ پہ یقین رکھتا ہے، بڑوں کی نصیحتوں کا مذاق نہیں اڑاتا اور نہ ان کو اپنا دشمن سمجھتاہے تویقین کرو وہ اس بھٹی کی طرح ہوجاتاہے جس میں سے کوئلے ہیرے بن کے نکلتے ہیں۔ وہاں کچی مٹی سے اینٹیں پک کر گھروں کو تعمیر کرتی ہیں۔ مُھد نے ایسے میں ماں سے وعدہ کیا کہ وہ آج کے دن کی شرمندگی کو بابا کی آنکھوں کے فخر میں بدل کے چھوڑے گا۔پھر وہ دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو یاد کرنے لگا ۔اس کی آنکھوں میں مایوسی اور تکلیف کا عکس تھا۔ ایسے میں ماں نے کہا: نہ بیٹا دوست کبھی بُرے نہیں ہوتے، تم کو ہی دوستی اور زندگی کے دیگر معاملات میں توازن رکھنا نہیں آیا‘ کبھی کسی پر الزام مت دینا اور جب بھی کوئی فیصلہ کرو بزرگوں کی عزت کو معتبر کرنے کا راستہ چننا سب کچھ حاصل ہوجائے گا۔


مُھد کو دیکھتے ہی دیکھتے کتابوں سے عشق ہوگیا ۔انتہائی معصوم سادہ دل انسان تھا۔ گھر میں موجود تناؤ کاشدت سے احساس کرتا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اس کے والد کو کتنا شوق ہے کہ ان کا بڑا بیٹا فوج جوائن کرے اور جب وہ ریٹائر ہوں تو ان کی بیلٹ اور ٹوپی اس کے بدن پر سجی ہوئی دیکھیں۔ وقت (اپنی رفتارکو) پر لگائے اڑئے جارہا تھا۔ پھر مقدر سے وہ دن آگیا جب مُھد نے گریجویشن میں پوزیشن لی اور ساتھ ہی اس نے فوج کا امتحان بھی پاس کرلیا مگر ان چار سالوں میں اس نے اپنے بابا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی اور اکثر اوقات ایسا بھی ہوا کہ وہ نماز پڑھتی ماں کی گود میں سررکھ کر رویا کرتا۔آج وہی مُھد حیدر سیکنڈلیفٹیننٹ ہے اور جب گھر آتا ہے اور دروازے میں کھڑے ہوکر بابا کو سیلوٹ کرتاہے تو بابا دونوں بازو کھول کر کہتے ہیں’آج میری جوانی میرے سامنے کھڑی ہے‘ اب میں اس کو انجوائے کرتاہوں‘ اور مھد کو سینے سے لگالیتے ہیں۔ فوج کے ادارے میں جہاں وطن کی خاطر قربانی کا سبق دیاجاتاہے ، جو عزت یہ ادارہ معاشرے میں دلاتاہے کوئی اور نہیں۔ چمکتی پیشانی، روشن آنکھوں،سمارٹ جسم اور مضبوط ارادوں سے بھرپوریہ نوجوانان پاکستان ملک کی خدمت حفاظت کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔عمومی خیال یہ ہے کہ فوجی افسر بہت مزے کی زندگی گزارتے ہیں ۔بے شک یہ کسی حد تک سچ بھی ہے لیکن وہ کس طرح فوجی افسر بنا‘ یہ معاشرے کے باقی لوگ نہیں جانتے۔ فوجی افسر کے اندر سب سے پہلے اپنے خاندان سے رابطہ منقطع کرنے کا حوصلہ پیدا کیاجاتاہے ۔جب یہ افسر اٹھارہ بیس سال کی عمر میں دو سے ڈھائی ماہ تک اپنے ماں باپ کی آواز تک بھی نہیں سن سکتے لیکن ان کی سخت ترین ٹریننگ ان کو اجازت اور وقت ہی نہیں دیتی کہ وہ ماں کی پکائی ہوئی گرم روٹی کو یاد کرسکیں۔ صبح صادق کی موسم کی سختی کو نظرانداز کرتے ہوئے پی ٹی کلاسز، فرنٹ رول، سینیئرز کے ’’رگڑے‘‘ اور ڈرل اس تسلسل کے ساتھ کرائی جاتی ہے کہ رات کااندھیرا چھانے لگتاہے اور ماں کی گود سے نکلا ہوا یہ لڑکپن کی دہلیز، یہ کرکٹ کھیلتا، مستیاں کرتا اور موج مناتالڑکا ایسے بستر پر تھک کے گرتاہے کہ پھر صبح ہوجاتی ہے ڈنکا بجتاہے اورپھر اسی تواتر سے زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔

OK SIR,YES SIR
ان کی زندگی کا خاصہ بن جاتاہے ایسے میں اگر گھر سے کوئی خط آجائے تو باتھ روم میں گھس کر پڑھتے ہیں اور گھروالوں کو یاد کرتے ہیں ۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں گھر جانا ہے یا ماںیاد آرہی ہے۔ یہ مشینی زندگی کا عرصہ کوئی ماہ دوماہ کا نہیں ہے بلکہ لانگ اور شارٹ کورس کے مطابق سالوں پر محیط ہوتاہے۔ اس میں کوئی بیمار ہے تو اسے اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ ایکسرسائز پر جانا ہے تو وہاں کی تمام سختیاں برداشت کرکے خود کو اچھا فوجی بنانے کے لئے تیار کرناہے۔ گلہ شکوہ، منت سماجت اور حیلے بہانے۔۔۔۔۔ وہاں کچھ نہیں چلتا‘ یہ جذبہ فوجی افسر ساری عمر اپنا اندر شمع کی طرح جلتا رکھتے ہیں۔ ان کا فخر اس وقت اور بھی بڑھ جاتاہے جب وہ ایک دن اپنے ہی بیٹے کو پی ایم اے کے گیٹ کے اندر چھوڑ کر واپسی کے قدم لیتے ہیں۔ ان کو اپنا سخت ترین گزارا ہوا وقت مشقت اور تنہائیوں کے تمام موسم بھول جاتے ہیں۔ یہاں سے پھر ایک نیا عہد وطن، ماں اور وردی سے نبھانے کیلئے تحریر کیاجاتاہے۔ ایسی افواج اور وطن کو شکست کا سامنا کیسے ہوسکتاہے جو طوفانوں کے تھپیڑوں میں وطن کی مٹی کو ماں کی گود سمجھ کر سوجاتے ہیں اور وطن کی مٹی بھی انہیں لوریاں سنا کر میٹھی نیند سلاتی ہے۔۔۔۔۔ ماں مٹی اور افواج پاکستان کو پوری قوم کا سلام۔ پھر یہی نوجوان اس وطن کے لئے بے پناہ قربانی دیتے ہیں اپنا وقت، جوانی، خاندان، خواہشیں سب قربان کردیتے ہیں اور ایک دن غازی یا شہید ہوکر اپنی ماں یا بچوں کے پاس لوٹ آتے ہیں۔ والدین کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ غلطی بچے ہی کرتے ہیں اگر ہم ان غلطیوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیں اور وطن کے ان معماروں کو مستقبل کا قیمتی اثاثہ جان کر بنا کسی حیل وحجت اور تفن بازی کے بغیر سہارا دیں گے تو پوری ایک نسل کو بچالیں گے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May
شمالی وزیرستان میں پاکستان کا سب سے بڑا پرچم
شمالی وزیرستان میں پاکستان کا سب سے بڑا پرچم بنایا گیا۔ اس پرچم کی لمبائی 210 فٹ اور چوڑائی 150 فٹ ہے۔ اس پرچم کو چھوٹے پتھروں سے بنایا گیا ہے۔ عثمان خان جو کہ مقامی علاقے شیوا

(Shewa)

کا رہائشی ہے‘ نے اس پرچم کو تیار کیا۔ عثمان خان نے اپنی اس کاوش کو وطن سے محبت کا اظہار قرار دیتے ہوئے پرچم کو قوم کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے نام کیا ہے۔ پرچم کی افتتاحی تقریب میں آرمی افسران‘ سیاسی قائدین‘ طلباء اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newsshumaliwazirstanmain1.jpg 

10
May

لیفٹیننٹ راجہ خاور شہاب کی شہادت پر لکھی گئی ایک نظم

راجہ محمد سلیم عادل

2مارچ 2017کو لیفٹیننٹ راجہ خاور شہاب نے جانی خیل بنوں میں شدت پسندوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ اس مایہ ناز سپوت کا تعلق کھوئی رٹہ موضع دھڑہ کے راجپوت خاندان سے تھا۔ شہادت کے وقت شہید کی عمر صرف 23برس تھی۔

pegham.jpgبہار آنے کو ہے
خزاں کا طلسم
ٹوٹنے کو ہے
تہہِ خاک ہے ابھی لیکن
فصلِ بہار پھوٹنے کو ہے
تم درندۂ صفت ہو تو کیا غم
دھرتی کے سینے سے نغمہ
جھرنا بن کر بہتا ہے
ہمیں آواز دیتا ہے
وہ ہم سے اب بھی کہتا ہے
میرے نغمے یہ میرا جلترنگ
وقت کے دھارے پہ رکھا
کب سے ہے
لہو پیتے درندوں سے
میں آشنا پرانا ہوں
انہیں کہہ دو کہ میں تو
وقت کے دھارے پہ رکھا
اِک زمانہ ہوں
اس ارض وطن کی خاطر
جو موت ملی ہے مجھ کو
اس موت کا میں دیوانہ ہوں

10
May

تحریر: محمد اعظم خان

6ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں پانچویں نغمے ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یک جان تھی۔ ہر ایک محاذ پر افواج پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار تھیں اور دشمن کو دندان شکن شکست دینے کے لئے صف آراء تھیں ایک طرف ریڈیو پاکستان ثقافتی ابلاغ کے محاذ پر اپنے قومی جذبے سے سرشار کام میں مصروف تھا تو دوسری طرف افواج پاکستان کے تینوں شعبے ایئرفورس، بحری اور بری تمام محاذوں پر دشمن کو پے درپے شکست سے دوچار کررہے تھے اور ہمیں ان کی بہادری کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ایک ایسا نغمہ ریکارڈ کیا جائے جس میں تینوں شعبوں کا ذکر ہو اور افواج پاکستان کا مورال بلند ہو۔ چنانچہ یہ نغمہ’’ یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ ریکارڈ کیا گیا۔ ملکہ ترنم نے مجھے ایک دھن سنائی جو کہ انہوں نے بیرون ملک سنی تھی اور ان کو اس کی کمپوزیشن بہت پسند تھی۔ میں نے اورمیڈم نورجہاں نے محترم صوفی تبسم صاحب کو گنگنا کر سنائی اور گزارش کی کہ اسی دھن پر تینوں افواج کے شعبوں پر مبنی نغمہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کمال مہارت سے یہ استھائی لکھ کر دی۔ ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ ملکہ ترنم صوفی صاحب کے اس مصرعے پر بہت خوش ہوئیں کہ میری بتائی ہوئی دھن پر یہ بول کتنے اچھے فٹ ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنی پوزیشن کے مطابق اس نغمے کی ریہرسل شروع کر دی۔ یہ نغمہ بھی ایک ہی دن میں لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور شام کو اس کی ریکارڈنگ مکمل ہوئی۔ اس نغمے کی ریکارڈنگ کے دوران بھی ہمیں اپنی فوج کی فتوحات کی اطلاعات ملتی رہی ہیں خاص کر ایئرفورس اور بحری افواج کی۔ رات کو جب یہ ملی نغمہ نشر ہوا تو ہمیں بے شمار ٹیلیفون موصول ہوئے۔ ملکہ ترنم نے خواہش ظاہر کی کہ میں فوجی بھائیوں کے پروگرام میں خود بات کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے ہمارے فوجی بھائیوں کے جذبہ حب الوطنی میں اضافہ ہو گا۔ اس کو ریڈیو پر خاص اعلان کے ساتھ نشر کیا گیا کہ میڈم نورجہاں اپنے پیارے بھائیوں کو مخاطب کریں گی۔ فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئر یاسمین طاہر نے ان کا بہترین استقبال کیا۔ میں بھی ملکہ ترنم نورجہاں کی اس گفتگو میں شامل تھا۔ فوجی بھائیوں نے میڈم نورجہاں سے میریا ڈھول سپاہیا گانے کی فرمائش کی جو کہ میڈم نورجہاں نے فوراً پوری کی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ موسیقی انسانی فطرت کا ازلی رجحان ہے اور اس کا دل و دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی افواج نے ہر محاذ پر ان نغموں سے متاثر ہو کر زیادہ جوش و جذبے سے جنگ لڑی ۔ مختلف محاذوں سے فتوحات کی خبریں سن کر میری ریکارڈنگ ٹیم کا حوصلہ بھی بلند ہوتا۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ نغمہ ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ تینوں افواج کے شعبوں کی کارکردگی کا عکاس ہے۔ میں نے دوران ریکارڈنگ یہ سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا کہ ہمیں جنگ کی تمام خبروں سے آگاہ رکھا جائے تاکہ ہم حالات و واقعات کے مطابق نغمے ریکارڈ کریں۔ یہ وقت کی اشد ضرورت تھی اور بطور پروڈیوسر میرا ہر وقت یہی مشن تھا کہ خوبصورت شاعری اور موسیقی سے مزین نغمے تخلیق کروں۔ اﷲ پاک نے میری اس کوشش میں میری پوری مدد کی ۔ میں اپنی ریکارڈنگ ٹیم کا بھی بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ اس پوری کوشش میں سب سے زیادہ میڈم نورجہاں کے جذبہ حب الوطنی کو داد دیئے بغیرنہیں رہ سکتا کہ انہوں نے اپنا پورا تن من دھن نغمے گانے میں صرف کیا اور ایک عظیم فنکارہ ہونے کا ثبوت دیا۔

(جاری ہے)

 
 
10
May

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:16

بِل وِل
مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال مقرر ہے جس سے ہم ابھی بھی تقریباً دو سال کے فاصلے پر تھے۔ ایک سینئر بزرگوار سے مشورہ کیا تو انہوں نے پہلے تو جلدی شادی کرنے کے نقصانات تفصیل سے بیان کئے اور پھر دیر تک ہمیں اس بھیانک غلطی پر سرزنش کرتے رہے ۔ جواب میں ہم نے دیر سے شادی کرنے کے نقصانات گنوانا شروع کئے جو ان کے بیان کئے گئے نقصانات سے کہیں زیادہ تھے۔ بات بڑھنے لگی تو ہم نے جلدی سے ان کے لئے چائے کا آرڈر دیا اور کہا کہ مقدر میں جو لکھا تھا وہ ہو گیااب آپ ہمیں مشورہ دیں کہ اس مشکل کا حل کیسے نکالا جائے۔

 

bilwil.jpgبزرگوار نے خشمگیں نگاہوں سے ہمیں گھورا اور ویٹر کو ہمارے حساب میں چائے کے ساتھ سموسے اور مٹھائی بھی لانے کے لئے کہا ۔ انہوں نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور فرمانے لگے ’’برخوردار !تمہارا مسئلہ صرف جی او سی ہی حل کر سکتا ہے۔‘‘ ہم نے عرض کی کہ جی او سی کے کرنے کے لئے ہزاروں کام ہیں یہ بات ان تک کیسے پہنچائی جائے کہ ایک نوآموز کیپٹن کتنی بڑی مشکل میں گرفتار ہے۔ بزرگوار پورا سموسہ یکبار منہ میں ڈالتے ہوئے بولے ’’اس کے لئے جی او سی کو اپلیکیشن دینا پڑے گی۔‘‘ ہم نے ان سے یہ نیک کام بھی اپنے مبارک ہاتھوں سے کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے قبول کر لی۔ چنانچہ کیپٹن ضیا شہزاد کی جانب سے میجر جنرل منیر حفیظ کو خط تحریر کیا گیا جس میں تمام مصائب و آلام کا ذکر کرتے ہوئے ان سے ایک عدد گھر الاٹ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔


چند دنوں بعد جنرل صاحب کا جوابی خط موصول ہوا جس میں ہمیں شادی کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ گھر الاٹ کرنے کی خوشخبری بھی سنائی گئی تھی۔ یہ سن کر ہم پر تو شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ فوراً ڈیو ہیڈکوارٹرز سے رابطہ کر کے گھر کا الاٹمنٹ لیٹر لیا ۔ جب موقع پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ گھر قدامت اور جسامت دونوں کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھا۔ انگریزوں کے زمانے کا تعمیر شدہ یہ گھر ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ اس کا لان ہی طول و عرض میں فٹبال گراؤنڈ سے کیا کم ہو گا۔ کمروں کی تعداد اور ان کی لمبائی چوڑائی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ پتہ چلا کہ لوگ اس گھر کو لینا اس لئے بھی پسند نہیں کرتے کہ اس کی دیکھ بھال اور سجاوٹ کے لئے بہت زیادہ تردد درکار تھا۔ ہم چونکہ انکار کرنے کی پوزیشن میں بالکل بھی نہیں تھے۔ اس لئے ہم نے ان باتوں کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں دیا اور گھر میں شفٹ ہو گئے۔ اب یوں تھا کہ اس گھر میں موجود دس کمروں میں سے ہم بمشکل ایک کمرہ اور کچن استعمال کر رہے تھے۔


دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ تقریبا دو ماہ کے بعد گیس کا بل موصول ہوا جو کہ پورے 8ہزار روپے پر مشتمل تھا۔ان دنوں کپتان کی تنخواہ تقریباً چار ہزار کے قریب ہوا کرتی تھی۔ یہ بل دیکھ کر تو ہم بلبلا اٹھے کیونکہ جتنی گیس ہم استعمال کر رہے تھے اس کے مطابق تو بل پچاس روپے سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔میٹر گھر سے باہر نصب تھا وہاں جا کر میٹر ریڈنگ چیک کی جو کہ درست تھی۔ میٹر سے کچن تک کا فاصلہ کوئی سو فٹ کے قریب تھا۔ پائپ لائن کو چیک کروانے پر معلوم ہوا کہ وہ درمیان میں ایک جگہ سے لیک تھی جس کی بنا یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا۔ہم نے پائپ لائن کی مرمت تو فورا کروالی۔ اب دوسرا مرحلہ بل ٹھیک کروانے کا تھا۔ یونٹ کے کوارٹر ماسٹر اور سی او سے بات کی۔ انہوں نے بریگیڈ اور بریگیڈ والوں نے ڈیو ہیڈکوارٹر کا راستہ دکھایا۔ پورا ہفتہ ایک آفس سے دوسرے آفس کے چکر لگاتے گزر گیا ۔ ہر طرف سے ایک ہی جواب ملتا کہ اس بل کا کچھ نہیں ہو سکتا،یہ تو آپ کو ادا کر نا ہی ہو گا ۔
قریب تھا کہ اس بل کی فکر میں ہمارا دل کام کرنا چھوڑ دیتا کہ انہی بزرگوار سے دوبارہ ملاقات ہو گئی۔ ہم نے اپنی پریشانی کا ذکر ان سے کیا تو انہوں نے ہمیں جتایا کہ وہ ان نقصانات سے ہمیں پہلے ہی خبردار کر چکے تھے۔ہم نے ان سے معافی طلب کی ، آئندہ کے لئے محتاط رہنے کا وعدہ کیا اور مدد کی درخواست کی۔ ان کے لئے دوبارہ چائے، سموسے اور مٹھائی منگوائی گئی۔ انہوں نے پورا کیس تفصیل سے سننے کے بعد ہمیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا۔ وہاں سے ہم سیدھے صدر بازار گئے اور بیکری سے دو پونڈ کا کیک پیک کروایا۔ اب ہماری گاڑی کا رخ سوئی گیس کے ریجنل آفس کی طرف تھا۔ وہاں پہنچ کر ہم نے ریجنل مینیجر کے پی اے کے توسط سے ملاقات کی اجازت طلب کی جو فوراً مل گئی۔ ہم نے کیک ان کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد اپنی بپتا تفصیل کے ساتھ بیان کی۔ انہوں نے فرمایا کہ اتنے معمولی کام کے لئے آپ کو خودچل کر آنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے بعدانہوں نے بل پر 8ہزار کو کاٹ کر 80 روپے لکھا اور دستخط کر دئے ۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور شاداں و فرحاں واپس گھر پہنچ گئے۔ شام کے قریب بیل ہوئی ، باہر نکل کر دیکھا تو سوئی گیس کے محکمے کا لائن مین تھا، کہنے لگا کہ سر آپ کا بل تو کم ہو گیا ہے لیکن میٹر پر ریڈنگ ابھی بھی وہی ہے، صاحب کا حکم ہے کہ اسے بھی ایڈجسٹ کر دیا جائے۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس مرد مومن نے یہ کام بھی بخوبی سر انجام دے دیا۔ اس دن کے بعد سے ہم جب بھی سوئی گیس کے آفس کے باہر سے گزرتے ہیں تودونوں ہاتھوں سے سیلوٹ کرنا نہیں بھولتے۔


لاعلمی ہزار نعمت ہے
بڑے بوڑھے کہتے آئے ہیں کہ فوج میں اچھی کمانڈ کے لئے باخبر رہنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ کمانڈر ہر جگہ خود تو موجود نہیں ہوتا لیکن اسے ہر معاملے کی خبر ہونا لازم ہے۔ کسی بڑے واقعے کے پیش آنے سے پہلے کچھ اشارے مل جائیں تو مناسب حفاظتی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں اور اگر کوئی غلط حرکت وقوع پذیر ہو جائے تو اس کے اصل ذمہ داروں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اب یہ کمانڈر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کرتا ہے ۔
ہم نے جب یونٹ میں آنکھیں کھولیں اور اپنے سے سینیئر افسران کے بیچ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا تو خود کو اس معاملے میں ہمیشہ ایک احساس کمتری کا شکار پایا۔ باقی افسر تو بڑی تفصیل کے ساتھ یونٹ میں پیش آنے والے واقعات کے ماہرانہ تجزئیے بیان کرتے پائے جاتے جبکہ ہمارا یہ حال کہ ہمیں تفصیل تو درکنار سرے سے ان واقعات کا علم ہی نہ ہوتا اور ہونقوں کی مانند بیٹھے ان کے منہ تکا کرتے۔ ہم دل ہی دل میں حیران بھی ہوتے کہ ان بزرگوں کو اتنی خبریں کہاں سے ملتی ہیں ۔ کئی مرتبہ یہ راز جاننے کی کوشش بھی کی لیکن بھلا کوئی اپنی کامیابی کا گر بھی دوسروں سے شیئر کرتا ہے لہٰذا یہ کوشش ہمیشہ بے سود ہی ثابت ہوئی۔


جب اس قسم کی بے کیف زندگی گزارنا مزید دوبھر ہوگیا تو ہم نے سوچا کہ اب کوئی نہ کوئی راہ نکالنی ہی پڑے گی۔ کافی غور و فکر کے بعد ہم نے اپنا ذاتی خفیہ نیٹ ورک تشکیل دینے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ اس کام کے لئے ہم نے اپنی کمپنی کے دو سپاہیوں کو تیار کیا جن کا کام ہمیں اندر کی خبریں مہیا کرنا تھا۔ ان ہرکاروں کو تعینات کر کے ہمیں یک گونہ سکون حاصل ہوا کہ آج کے بعد ہمیں کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا بلکہ ہمیں بھی باخبر اور ہوشیار افسر وں میں گنا جائے گا۔ جیسا ہم نے سوچا تھا ویسا ہی ہوا ۔ہمارے موکل ہمیں وقتاً فوقتاً تمام خبریں مہیا کر دیا کرتے اور ہم اگلے روز افسروں کے درمیان بیٹھ کر ان خبروں کا تجزیہ کرکے داد وصول کرتے۔


کچھ دن اسی طرح گزرے لیکن پھر ہمیں احساس ہونا شروع ہو گیا کہ ہم نے خود اپنے ساتھ کتنی بڑی دشمنی مول لے لی ہے۔ ہمارے کارندے دن دیکھتے نہ رات ،خبریں لے کر پہنچ جاتے اور چھوٹی چھوٹی فضول باتوں پر ہمارا گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ضائع کرتے۔ ان کی فراہم کی گئی خبروں میں شاذ و نادر ہی کوئی کام کی بات ہوا کرتی بلکہ یہ زیادہ تر دوسرے لوگوں کی شکایتوں پر ہی مشتمل ہوا کرتی تھیں۔ ہوتے ہوتے ایک وقت ایسا آگیا کہ ہمیں اپنی یونٹ کے جوانوں میں خرابیوں کے پہاڑ دکھائی دینے لگے۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ہم نے انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ اپنے جاسوسوں کی پہنائی ہوئی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ نتیجتاًہم کسی جوان کو کوئی ذمہ داری سونپنے لگتے تو فوراً اس کی منفی خصوصیات نظروں کے سامنے گھیرا ڈال لیتیں۔ہزار سوچ بچار کے بعد اگر کسی کو کوئی کام دے بھی دیتے تو ہر لمحہ یہی خیال رہتا کہ شاید اس شخص کو کام دے کر کہ ہم سے کوئی بھاری غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ اسی کش مکش میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد بالآخر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ زیادہ معلومات کا حصول فائدہ کے بجائے اُلٹا نقصان کا باعث ہوتا ہے ۔ شاید اسی لئے کسی بڑے بوڑھے نے یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ بے علمی بھی خوش نصیبی ہے
اسی بڑے بوڑھے کی بات پر عمل کرتے ہوئے ہم نے اپنے مخبروں کو فی الفور برخواست کردیا اور دوبارہ کبھی اس چکر میں پڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بعد زندگی میں جو سکون میسر آیا وہ آج تک جاری و ساری ہے۔


پتیلے اور کڑاہیاں
یو این مشن پرپوسٹ ہونے سے پہلے ہمارا خیال تھا کہ کانگو پہنچ کر دن رات راوی کے ساتھ مل کر چین لکھا کریں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر تو گویا چین وین سب اجڑ کر رہ گیا۔ چیف آپریشنزآفیسر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ہم تھے اور دن رات کی دفتری مشقت۔ نئے بریگیڈ کمانڈر پوسٹ ہو کر آئے تو ہمیں ان کے لئے بریفنگ تیار کرنا تھی۔ پرانی بریفنگ نکال کر دیکھی تو اس میں کانگو کی تاریخ کا آغاز 1960 سے کیا گیا تھا۔ ہم نے اپنی ایفیشنسی دکھانے کے لئے سوچا کہ تاریخ ذرا جامع قسم کی ہونی چاہئے لہذا تاریخ کا تذکرہ 1908 سے شروع کیا گیا۔ سلائیڈیں تیار کر کے بریفنگ دینے بیٹھے ، کمانڈر کو کانگو کی تاریخ 1908سے بتانا شروع کی اور چلتے چلتے 2015 تک پہنچے۔ یہ سن کر کمانڈر بولے کہ وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ بتا کہ 1908 سے پہلے یہاں کیا تھا؟ ہمارے فرشتوں کو بھی اس کا جواب معلوم نہیں تھا۔ کمانڈر نے سخت جھاڑ پلائی جو ہم نے اچھے جونئیرز کے طورپر وصول کی اور کہا کہ سر آپ کو چیک کر کے بتائیں گے۔
گوگل سے رجوع کیا تو پتہ چلاکہ یہ تو عین وہی جگہ ہے جہاں پر ڈارون کی تھیوری کے مطابق ہزاروں برس پہلے بندروں نے انسانی شکل اختیار کی تھی۔ اگلے روزہم نے تاریخ کو بیس ہزار قبل مسیح سے شروع کر کے سن 2015 تک پہنچایا تو کمانڈر کہنے لگے کہ یار یہ تو کچھ زیادہ نہیں ہو گیا۔ میرے خیال میں 1960 تک ہی ٹھیک ہے۔ ہم نے وہ سلائیڈیں ڈیلیٹ کرنے کے بجائے ہائیڈ کر دیں تاکہ ہمارے بعد آنے والے افسروں کو کانگو کی ہسٹری تلاش کرنے اورنئے آنے والے کمانڈروں کو مطمئن کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہ آئے۔نئے کمانڈر کے آتے ہی زور و شور سے کام کا آغاز ہوا۔ تمام پرانے سامان کی لسٹیں ترتیب دی گئیں تاکہ اس کی جگہ پاکستان سے نیا سامان منگوا یا جا سکے۔تمام لسٹیں تیار ہو کر آرڈیننس افسر کی وساطت سے پاکستان بھجوا دی گئیں۔


چند دنوں کے بعد جی ایچ کیو سے ایک خط موصول ہوا جس میں ہماری لسٹوں کو اعتراض لگا کر واپس کیا گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جلدی میں ہم سے انجینئرنگ کے سامان کی لسٹ میں پتیلوں اور کڑاہیوں کا اندراج ہو گیا تھا۔
جاری ہے ۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: عبدالستاراعوان

ستمبر1965ء کے معرکہ چھمب جوڑیا ں میں ہمارے جن قومی ہیروز نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اُن دلیر فرزندان وطن میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا بھی ہے غلام مہدی خان شہید کا شمار اُن جانبازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت جرأت ،بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان اس دھرتی پر نچھاور کر دی۔ غلام مہدی خان کا تعلق علاقہ کوٹیڑہ بھٹیاں تلہ گنگ ضلع چکوال سے تھا، والدکا نام احمد خان تھا۔ وہ بچپن ہی سے محنتی اور جفاکش تھے،فوج میں آنے کے بعد فوجی مہارت‘ بہت لگن اور شوق سے سیکھی۔ان کا شمار اپنی یونٹ کے مایہ ناز سپاہیوں میں ہوتا تھا،بڑے خوش مزاج اور بہادر انسان تھے ۔ جس وقت انہوں نے جام شہادت نوش کیا اس وقت پاک آرمی کی آرمڈ کور میں بطور ایکٹنگ لانس دفعدار
(ALD)
خدمات انجام دے رہے تھے ۔ آرمڈ کور میں انہوں نے عسکری اور حربی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا۔شہیدباسکٹ بال کے معروف کھلاڑی تھے ۔

markahechamp.jpg
جس وقت بزدل ہندو دشمن فوج نے رات کی تاریکی میں پاک وطن پر حملہ کیاتو ان دنوں غلام مہدی خان چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے ۔ جنگ شروع ہوتے ہی انہیں اپنی یونٹ سے بلاواآیا اور وہ دیوانہ وار اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھے ۔ جب وہ یونٹ میں پہنچے تو حکم ملا کہ آپ ایک کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ایڈمن ڈیوٹی کریں گے اور محاذ پر نہیں جائیں گے ۔ غلام مہدی خان (شہید) نے اپنی فطری بہادری اور جرأت کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم پرآنے والی اس کڑی آزمائش میں دشمن کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑیں گے اور اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کر تے ہیں ۔ ان کی ذاتی خواہش اور بھرپور اصرار پر ایک خصوصی اجازت نامے کے تحت انہیں چھمب جوڑیاں سیکٹر بھیج دیا گیا ۔


شہید کے پوتے کیپٹن عاقب شہزاد بھٹی بتارہے تھے کہ جب میری دادی اماں ان کی جرأت مندانہ داستان سناتیں تو کانپ سی جاتی تھیں، وہ بیان کرتیں کہ جنگ چھڑی تو آپ کے دادا کو اس میں شمولیت کا از حد شوق تھا اور جب انہیں محاذ پر جانے کی اجازت ملی تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے تھے ۔ وہ اس لئے خوش تھے کہ ان کا وہ دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہونے والا تھا جس کے لئے انہوں نے آرمی جوائن کی تھی۔غلام مہدی شہید کے قریبی دوست زور خان کہتے ہیں کہ جب وہ محاذِ جنگ پر جانے لگے تو ان سے آخری ملاقات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اب جنگ کے بعد ملاقات ہوگی ۔ میری یہ بات انہیں ناگوار گزری اور بڑے جذبے سے کہنے لگے کہ آپ یہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہو جاؤں۔معرکہ چھمب جوڑیاں میں اُن کا حوصلہ اور عزم نہایت بلند رہا اور دشمن کی گولہ باری اور شیلنگ کی پروا نہ کرتے ہوئے انہوں نے اس محاذ پر بڑی ثابت قدمی دکھائی ۔
غلام مہدی اپنے ٹینک پر سوار جنگ میں حصہ لے رہے تھے کہ ایک اینٹی ٹینک مائین مارٹر نے ان کے ٹینک کو نشانہ بنایا جس سے اس کی چین ٹوٹ گئی ۔ غلام مہدی اور ان کے ساتھیوں نے ٹینک سے نیچے اتر کر آڑ ڈھونڈنے کی کوشش کی تاکہ دشمن کے خلاف ہلکے ہتھیاروں سے لڑا جا سکے ۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک اوٹ میں ہو گئے جب کہ ان کا ایک ساتھی ٹینک سے اترتے ہی شدید زخمی ہو گیا ۔ غلام مہد ی خان اپنے اس زخمی سپاہی کو یوں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے‘ چنانچہ وہ ایک بار پھر آگے بڑھے ، برستی گولیوں میں اس کے پاس پہنچے اور اسے سہارا دے کر تیزی کے ساتھ اپنے مورچے کی جانب پلٹے اور اسے محفوظ جگہ پر پہنچایا ۔ اسی اثنا میں ایک سنسناتی گولی آئی جوانہیں شدید زخمی کر گئی جس کے نتیجے میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔


اے ایل ڈی غلام مہدی خان شہید نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ساتھی کی جان بچائی تھی اس غیر معمولی بہادری اور دلیری کی بنا پرانہیں تمغہ جرأت عطا کیا گیا ۔ شہید کے پوتے کیپٹن عاقب شہزاد بھٹی بتاتے ہیں کہ میرے داداغلام مہدی خان شہید کا یہ میڈل میرے لئے ایک بہت بڑی تحریک کاباعث بنا ہے ، میں اپنے دادا کے کارہائے نمایاں سے متاثر ہو کر فوج میں شامل ہوا ہوں اورمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس دھرتی کے تحفظ کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مَقامِ اقبالؒ

صاحبِ عرفاں‘ خودی کا رازداں اقبال تھا
جذبۂ عشق و جنوں کا ترجماں اقبال تھا
مردِ مومن‘ خیر خواہِ ملتِ اسلامیہ
علم و آگاہی کا بحرِ بے کراں اقبال تھا
جس کے ہر اِک لفظ میں غلطاں ہے پیغامِ حیات
عظمتِ اسلاف کی وہ داستاں اقبال تھا
اُس متاعِ شوق سے محروم کیوں سینے ہیں آج
رات دن جس کے لئے گرمِ فغاں اقبال تھا
صاحبِ فکر و نظر‘ شیریں سخن‘ شعلہ بیاں
آبروئے شاعری کا پاسباں اقبال تھا
اس کی دولت حُبِّ شاہِ انبیاء تھی اے جلالؔ
آشنائے روحِ اسرارِ نہاں اقبال تھا
ڈاکٹر سید قاسم جلال

*****

 
10
May

تحریر: جبار مرزا

مشیت الرحمن ملک تمغۂ قائداعظم کے ذکر سے پہلے مجھے جوان دنوں کا اپنا ہی قول یاد آ گیا کہ ’’مر جانا کوئی بڑی بات نہیں زندہ رہنا کمال ہے۔‘‘ بعض لوگ کبھی نہیں مرتے۔ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔


کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا سکھا رہے تھے، پن نکالی ہی تھی کہ بم کیپٹن مشیت الرحمن کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا۔ سی ایم ایچ ملتان میں ان کی بیگم عصمت، جو ان کی پھوپھی زاد بھی تھیں، جن سے 1960میں جھنگ میں شادی ہوئی اور دونوں کی ثمر نامی بیٹی بھی تھی، کی اجازت سے کیپٹن مشیت کی زندگی بچانے کے لئے ان کے دونوں بازو کاٹ دیئے گئے ۔ کٹے ہوئے بازو اور آنکھوں پر بندھی پٹی کے ساتھ کیپٹن ملک کو راولپنڈی سی ایم ایچ شفٹ کر دیا گیا۔ جب پٹی کھلی تو کیپٹن مشیت پر کھلاکہ وہ آنکھوں جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ کسی بھی انسان کے لئے کس قدر کربناک لمحات ہیں جب اسے پتہ ہو کہ وہ آدھے سے زیادہ کٹ چکا ہے اور بچا ہوا جسم اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے، جو دن اور رات میں امتیاز کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے کہ اﷲ پاک کسی شخص کو بھی اس کی برداشت سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتے۔
کیپٹن مشیت الرحمن ملک ایک حوصلہ مند جوان اور روائتی فوجی تھے جن کا مقصد ہی خطرات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ناموس وطن اور دھرتی کی حفاظت کے لئے دشمن کے خلاف مورچوں میں اترے ہوتے ہیں۔ کیپٹن مشیت الرحمن کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ وہ فوج کے چھوٹے مورچے سے نکل کر زندگی کے بڑے محاذ پر اولوالعزم شخصیت کا روپ دھار چکے تھے۔ ہرے زخم جب بھر گئے تو ایک آنکھ میں روشنی کی واپسی کی امید پیدا ہوئی۔ آئی سپیشلسٹ بریگیڈیئر پیرزادہ نے کیپٹن مشیت لرحمن کی برطانیہ روانگی کا اہتمام کیا۔ فوج اپنے غازیوں اور شہیدوں کو بہت عزیز رکھتی ہے۔ قرنیہ لگا دیا گیا۔ رتی برابر دکھائی دینے لگ گیا جب دروبام چمک اٹھتے تو وہ جان جاتے کہ صبح ہو گئی ہے اور بقول فیض صاحب زندگی کا زندان تاریک ہوتا تو وہ سمجھ جایا کرتے کہ اب میرے وطن کی مانگ ستاروں سے بھر گئی ہے۔

zindagiebadta.jpg
کیپٹن مشیت الرحمن ملک برطانیہ سے پلٹے تو مصنوعی بازو لگے ہوئے تھے۔ فوج نے جھنگ میں ایک کنال کا رہائشی پلاٹ الاٹ کیا تو انہوں نے وہ پلاٹ اپنی بیگم عصمت کے نام کر دیا۔ اسی عرصے میں بیٹے حمیت الرحمن کی ولادت ہوئی۔ کیپٹن مشیت کی بیگم عصمت ڈاکٹر تھیں۔ جن سے بعدازاں اُن کی علیٰحدگی ہوگئی۔ بہرکیف کیپٹن مشیت نے معاشتی طور پر خود کو سنبھالا دینے کی بہت کوششیں کیں۔ فوج کی طرف سے معقول پنشن ملنے کے باوجود دیگر ضروریات سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف کاروبار کرنے کی کوشش کی‘ پرنٹنگ پریس لگائی کیونکہ فوج میں کمشن حاصل کرنے سے پہلے مشیت الرحمن فیصل آباد کے روزنامہ’سعادت وغریب‘ اور ’عوام‘ کے ساتھ وابستہ رہ چکے تھے۔ جہاں وہ لائیلپور کی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اس تمام مہارت تجربے اور صحافتی جان پہچان کے باوجود وہ پرنٹنگ پریس بھی نہ چلا سکے۔ فوج میں جانے سے پہلے وہ لاہور باٹاپور شو کمپنی میں ملازمت بھی کرتے رہے۔ یعنی زندگی کی ساری دھوپ چھاؤں سے گزرے مگر کوئی بھی کام وہ پورا نہ کر پائے۔ آخرکار 1965میں انہوں نے فیصل آباد میں اپنے گھر کے گیراج میں ہی نابیناؤں کے لئے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کا نام پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ رکھا۔ اس کی بنیاد رکھنے میں کراچی کی ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے بہت ساتھ دیا۔ فاطمہ شاہ جو1916 میں بھیرہ میں پیدا ہوئی تھیں، میڈیکل ڈاکٹر تھیں۔ 1948میں اپوا کی سیکرٹری ہیلتھ رہیں۔ 1956میں ان کی بینائی یک دم ختم ہو گئی تھی۔ انہوں نے 1960میں پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ قائم کی اور اس کی بانی ہونے کے ساتھ ساتھ 19سال تک اس کی صدر رہیں۔ سکولوں کالجوں میں بریل
(Braille)
کواضافی مضمون کی طرح پڑھنے کا انتظام کروایا۔ 1974میں پیرس اور برلن میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف بلائنڈ کی صدر منتخب ہوئیں۔ الغرض ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے کیپٹن مشیت الرحمن کا بہت ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ کیپٹن مشیت الرحمن جن کی زندگی میں اندھیروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا، وہ فاطمہ شاہ کی حوصلہ افزائی سے پھر سے توانا ہو گئے اور 1965میں گیراج میں شروع کئے گئے پاکستان ایسوسی ایشن آف دا بلائنڈ سرگودھا ڈویژن کے بعد 1967 میں فیصل آباد کی جناح کالونی میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر نابیناؤں کے لئے کرسیاں بنائی کی تربیت شروع کر دی۔ یوں کیپٹن مشیت الرحمن دن بھر بازاروں اور گلیوں میں بھیک مانگتے نابینوں کو اکٹھا کرتے اور انہیں مختلف ہنر سکھاتے اور معاشرے میں باعزت زندگی اور محنت میں عظمت کی تحریک دینے لگ گئے۔ کیپٹن ملک نے اپنا ادارہ رجسٹر بھی کروا لیا تھا پھر 1970 میں باقاعدہ تعلیمی شعبے کا آغاز کر دیا گیا۔ نابینا بچوں اور بالغوں کے لئے بریل کے ذریعے تعلیم کا حصول ممکن بنایا۔ 1971 میں مقامی لائنز کلب کی مدد سے صوتی کتب
(Electronic Books)
کی لائبریری قائم کی جس میں پہلی نابینا بچی کا داخلہ ہوا۔ پھر فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج اور دیگر سکولوں میں مربوط تعلیم پروگرام شروع کیا۔ 1977میں محکمہ اوقاف نے گورونانک پورہ چک نمبر 279نادر خان والی میں ایک گرودوارے کی عمارت کیپٹن مشیت الرحمن کے حوالے کر دی۔ جہاں جناح کالونی والا ایک کرائے کا کمرہ چھوڑ کر وہ اپنا ادارہ گرودوارے میں لے گئے اور اس کا نام اتحاد مرکز نابینا رکھا جو بعد میں المینار مرکز نابینا ہو گیا۔


جنرل ضیا الحق 1978 میں فیصل آباد گئے تو کیپٹن مشیت الرحمن کی محنت اور نابیناؤں کی زندگی سنوارنے کے عمل سے بہت متاثر ہوئے اور فیصل آبادمیں ادارے کے لئے کوئی مناسب جگہ دینے کا حکم دیا۔ یوں پھر فیصل آباد کے اقبال سٹیڈیم کے نزدیک 1979 میں کیپٹن مشیت الرحمن کچھ اراضی اور ادارے کی تعمیر کے لئے رقم بھی دی گئی۔ علاقے کے مخیر لوگوں نے بھی ادارے سے مالی تعاون کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم کا علیحدہ شعبہ اور قیام کے لئے گرلز ہاسٹل بھی تعمیر کیا گیا۔ نابیناؤں کو پہلے میٹرک تک باقاعدہ تعلیم و تربیت اور ہنر سکھانے کا آغاز ہوا۔ مقامی طلباء کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی ادارے نے دینا شروع کر دی اور دوسرے شہروں کے طلباء و طالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ ہاسٹل بنائے گئے۔ ادارے کا نظام ایک بورڈ کے سپرد کیا گیا۔


کیپٹن مشیت الرحمن نے نہ صرف نابیناؤں کو ہنر اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ بے روزگار نابیناؤں کو سرکاری ملازمتیں بھی دلوائیں ۔ بعضوں کی آپس میں شادیوں کا بندوبست اور ان کی اگلی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے بھی اقدامات کئے۔ کیپٹن مشیت الرحمن جنہیں نصف درجن سے زیادہ زبانوں پر عبور حاصل تھا، جو کئی مذاہب اور ثقافتوں کا مطالعہ بھی کر چکے تھے۔ ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ پہلی نظر میں انہیں دیکھ کر گوشت پوست کا معذور سا شخص سمجھ کر ہر کوئی اپنے تئیں ترس کھانے لگتالیکن جب ان سے گفتگو کرتا اوران کے عزائم سے آگاہی پاتا تو ترس کھانے والا شخص عقیدت سے ان کے ہاتھ چوم کر رخصت ہوتا۔


8جون 1974 کو کیپٹن مشیت نے خالدہ بانو سے دوسری شادی کرلی۔ انہوں نے شادی کے بعد اپنی اہلیہ کو ایم اے اردو اور بی ایڈبھی کروایا۔
ان کے دو بیٹے ہیں۔ ودیعت الرحمن بیٹا اور سحر مشیت بیٹی ہے جو اسلام آباد میں بحریہ کالج میں گونگے بہروں کو پڑھاتی ہیں وہ شاعر ادیب اور معروف قانون دان رائے اظہر تمغۂ شجاعت کی شریک سفر ہیں۔


خالدہ بانونے شادی کے بعد جہاں کیپٹن مشیت کی دیکھ بھال کی ان کے اداروں کا انتظامی کنڑول سنبھالا، اپنی تعلیم مکمل کی وہاں ایران، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ ملکوں ملکوں کیپٹن مشیت کے ساتھ بین الاقوامی نابیناؤں کی کانفرنسز اور خصوصی اجلاسوں میں شریک بھی ہوئیں اور فروری 1977میں کیپٹن مشیت کے ہمراہ شاہ فیصل سے بھی ملیں۔ آٹھ غیرملکی دوروں کی طویل کہانی، کامیابیاں اور کارنامے اور بھی طولانی ہیں۔ کیپٹن مشیت نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ ’’انسانی آنکھیں‘‘ یہ آنکھوں کی ابتدائی بیماریوں اور مسائل سے لے کر نابیناپن اور بصارت کی بحالی تک محیط ہے اور مستند مانی جاتی ہے۔ خالدہ بانو دو کتابوں کی مصنفہ ہیں ایک ان کی سوانح ہے’ سفر حیات‘ اور دوسری اس طویل اور ضخیم کتاب کی تلخیص ہے۔ کیپٹن مشیت الرحمن ملک صدارتی تمغۂ قائداعظم پانے والے معذور ہوتے ہوئے بھی بھرپور زندگی گزارنے اور اپنے مشن کی تکمیل کے بعد 20نومبر2011 کو اکیاسی برس کی عمر میں رحلت فرماگئے اور فیصل آباد کے محمد پورہ والے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نعت

آقاؐ میری بس اتنی تمنا قبول ہو
مجھ پہ تیری نگاہِ کرم کا نزول ہو
دیکھوں میں جس طرف نظر آئے تُو مجھے
عشقِ نبیؐ کا لازم یہ مجھ پر اصول ہو
آلِ رسولِؐ پاک کا ہوجائے یوں کرم
بخشش میری جو ہو تو وصیلہ بتول ہو
ہو جائے یوں علاج میرا اے شافیِ اُمم
خاکِ شفا میری تیرے قدموں کی دھول ہو
گرمجھ سے طلب ہو اِ ک نذرانہ حضورؐ کو
ہاتھوں میں میرے گلشنِ زہرہ کا پھول ہو
حاصل میری وفاؤں کا اے کاتبِ تقدیر
لکھ دے مِرا نصیب میں خدا کا رسولؐ ہو
مسکن میرا ہو گنبدِ خضریٰ کے آس پاس
پیشِ نظر پھر میرے سجدوں کا طول ہو
وقعت کہاں ہے مجھ میں کہ مدحت کروں تری
بخش دیجئے گا مجھ سے سرزد جو بھول ہو
اِ ک نعتِ رسولِ کبریاؐ میری پہچان ہے عتیقؔ
رحمتوں کا کیوں نہ میرے سخن میں شمول ہو
میجر عتیق الرحمن

*****

 
10
May

تحریر: حجاب حبیب جالب

مئی، یا مزدوروں کا عالمی دن، ہم کیوں مناتے ہیں؟ صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کی زندگی بہت مشکل تھی اور ان سے ایک دن میں 16,16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدورکے ذمہ ہوتے۔ ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ مزدور کے زخمی ہونے کی صور ت میں اس کا علاج کروایا جاتا، مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدید پرتھا۔ وہ جس کو چاہتا ملازمت پر رکھتا جس کو چاہتا ملازمت سے ہٹا دیتا۔ ہفتے میں ساتوں دن ہی کام کرنا پڑتا چھٹی کا کوئی تصور ہی نہ تھا ان تمام مسائل کے حل کے لئے امریکہ اور یورپ میں مزدوروں نے مختلف تحریکیں چلائیں۔ سن 1884 ء میں فیڈریشن آف آرگنائز ڈ اینڈ لیبر یونینز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔ قراداد میں کچھ مطالبے رکھے گئے۔ جن میں سب سے اہم مطالبہ تھا کہ مزدوروں کے اوقات کاروں کو 16گھنٹو ں سے کم کرکے 8گھنٹے کیا جائے۔ مزدوروں کا کہنا تھا کہ آٹھ گھنٹے کام کے لئے آٹھ گھنٹے آرام کے لئے اور آٹھ گھنٹے ہماری مرضی کے۔ یہ مطالبہ یکم مئی سے لاگوکرنے کی تجویز پیش کی گئی لیکن اس مطالبے کوتمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی کو ہی ہڑتال کا علان کیا گیا اور جب تک مطالبا ت نہ مانے جاتے یہ تحریک جاری رہتی۔ 16,16گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں آٹھ گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا اسی وجہ سے اپریل 1886تک اڑھائی لاکھ سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے اس تحریک کا آغاز امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوا۔ ہڑتال سے نمٹنے کے لئے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعدا د شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے فراہم کیا تھا۔ تحریک کا آغاز یکم مئی سے ہو گیا پہلے دن ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی 2مئی کو بھی ہڑتا ل بہت کامیاب اور پُر امن رہی لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پُر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے چار مزدور ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے خلاف تحر یک کے منتظمین نے اگلے ہی روز چار مئی کو احتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ پُر امن جلسہ جاری تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کر کے بہت سے مزدور ہلاک و زخمی کر دئیے پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں اس حملے کو بہانہ بنا کر پولیس نے گھر گھر چھاپے مارے اور بائیں بازوں اور مزدور راہنماؤں کو گرفتا ر کر لیا۔ ایک جعلی مقدمے میں 8مزدور راہنماؤں کو سزائے موت دے دی گئی۔

worldlabourd.jpg
البرٹ یارس، آگسٹ سپائز ،ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11نومبر 1887 کو پھانسی دے دی گئی لوئس لنگ نے جیل میں خود کشی کر لی اور باقی تینوں کو 1893میں معافی دے کر رہاکر دیا گیا۔ مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا۔ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا کہ ’’ مئی 1886کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہو ں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہوئی ہے۔‘‘
البرٹ پارسن نے کہا ’’دنیا کے غریبوں کو چاہئے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو ان کی غربت کے ذمہ دار ہیںیعنی سرمایہ دار طبقہ‘‘جب مزدوروں پر فائرنگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپنا سفید جھنڈا ایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کر کے ہوا میں لہرا دیا۔ اس کے بعد مزدور تحریک کا جھنڈ اہمیشہ سرخ رہا۔سن 1889ء میں ریمنڈلیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔ اس کے بعد سوائے امریکہ ، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کے‘ یہ دن عالمی یوم مزدور کے طور پر منایا جانے لگا۔


جنوبی افریقہ میں بھی غالباً نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی منایا جانے لگا۔ مزدور طبقے اور دیگر استحصال زدہ طبقات کی حکومت لینن کی سربراہی میں اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم ہوئی اس کے بعد مزدور طبقے انقلابی سرخ پرچم لہرائیں گے۔


ماضی کی اس کامیاب جدوجہد کے باعث فیکٹری اور مل کے ملازمین کو کسی حد تک تحفظات مل گئے لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے۔ جو صبح مزدوری کرتا ہے اور رات کو اس کا چولہا جلتا ہے کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ چھٹی کے ساتھ ہی اس کے گھر میں فاقے کی آمد ہوتی ہے۔ ایسے مزدوروں کی زندگی میں یکم مئی کی کیا اہمیت ہو گی ؟ یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یومِ مئی صرف اس حادثے کی یاد منانے کا نام نہیں جس میں بہت سے مزدور مارے گئے۔ بلکہ یہ ایک
Resolve
ہے کہ مزدور کی زندگی کو ایک آرام دہ انسانی زندگی کے لیول پر لانے کی جدوجہد کامیابی تک جاری رہے گی۔


اگر ہم اپنے ملکِ عزیز پاکستان کی صورتِ حال کا جائزہ لیں توایک عام مزدور کی زندگی کافی مشکلات کی شکار نظر آئے گی۔ ہمارے ملک میں آبادی کی زیادتی‘ فنی تعلیم کی کمی‘ صنعتی ترقی کے کم مواقع اور معاشی بدحالی کی وجہ سے بے روزگاری عام ہے۔ مزدوروں کی فراوانی ، سپلائی اور ڈیمانڈ کے اصول کے مطابق
(Laissez Faire)
مارکیٹ میں مزدور کی اُجرت کو کم کرنے کا باعث بنتی ہے۔ گورنمنٹ اپنے تئیں مزدور کی کم سے کم یومیہ اورماہانہ اُجرت مقرر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر اُس پر عمل درآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کو چاہئے کہ نہ صرف مجموعی طور پر معاشی حالت کو بہتر بنائے اور بے روزگاری کا خاتمہ کرے بلکہ کم سے کم اُجرت کی حد کو مزید بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو یقینی بھی بنائے۔ ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی تشدد اور دہشت پسندی کا شکار ہے اُس میں انتہائی غربت جلتی پر تیل کاکام دیتی ہے۔ بھوک کے ہاتھوں انفرادی یا پورے خاندان کی خودکشی کے واقعات تمام سماج کے منہ پر دھبہ ہیں۔ یہ انسانیت کی تذلیل ہے جس کی اجازت نہ مذہب دیتا ہے نہ عام اخلاقیات۔ بلاشبہ پاکستان تبھی ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے گا جب اس میں بسنے والے غریب اور مزدور بھی عزت کی زندگی گزارنے کے ذرائع کے مالک ہوں گے۔


حکومت کی جانب سے کم سے کم اُجرت مقررکرنے کے علاوہ مزدوروں کے لئے صحت‘ تعلیم اور سماجی انصاف کے حصول کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم سب کی ترجیح ایک بہترین سماج کی تشکیل ہو۔ عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مزدور کی شان میں یکم مئی کے دن قصیدے تو پڑھے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ تاہم ہمارا معاشرہ اب غربت اور پَُرتشدد انتہاپسندی کے امتزاج کا شکار نظرآتا ہے جو یقیناً ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت غربت کے خاتمے اور مزدور کی بہتری کے لئے ایک دور رس جامع پالیسی کا اعلان کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: شاہد نسیم

ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ہربار ہمیشہ ہر بلند آواز یا ہر نئی کوشش کو’ اپنے‘ اسلام کے لئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں جن کے خیال میں بین المذاہب ہم آہنگی یا مکالمہ ایک ایسی شاطرانہ اختراع یا ایک ایسا نیا دین گھڑنے کی بھونڈی سی کوشش ہے۔ جس کا شریعت میں کوئی بھی تصور موجود نہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کی پُرفریب اصطلاح سے نہ تو کوئی سے دو مذاہب کے درمیان معاہدہ مراد ہے، نہ مناظرہ، نہ مباہلہ، نہ دعوت و تبلیغ بلکہ مکالمے یا ہم آہنگی کا کھیل سوائے ایک نئے فتنے کے اور کچھ نہیں ۔ ہادی برحق محمدﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ میری اُمت میں مسلمانوں کے اندر ایک گروہ ہو گا، جو عیسائیوں سے دوستی کرنے کے جنون میں اُن کے کے نقش قدم پر چلنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرے گا اور آج ہم اُس گروہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے عیسائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود دیکھ رہے ہیں۔


اور دوسرے‘ ہم میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے خیال کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کا مطلب کبھی بھی ایمان لانا یا یہودو نصاریٰ کے ساتھ ہر اختلاف کا خاتمہ کر کے دوستی کرلینا نہیں ہوتابلکہ ہم آہنگی کے فروغ کی کوششوں کا مطلب اختلاف کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھنا ہوتاہے اور ایک د وسرے کو جاننے اور سمجھنے کے بعد مل جل کر رہنے کی کسی سبیل پر اتفاق رائے کرنا ہوتاہے او ر خاص طور پر آ ج جب ہماری بہت بڑی دنیا ، بہت چھوٹی دنیا میں سکڑ چکی ہے، اب اس چھوٹے سے گلوبل ویلج میں بین المذاہب ہم آہنگی بنائے رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے ہر سطح پر مکالمہ کرنا تمام انسانوں اور تمام مذاہب کی ضرورت بن چکی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب ہماری دنیا بہت تیزی کے ساتھ صرف دو بلاک مسلم ورلڈ اور نان مسلم ورلڈ میں تقسیم ہوتی دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ سے مسلم بلاک کے حق میں توازنِ طاقت تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی صورتحال اس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے کہ کوئی ایک واقعہ باقی تمام دنیا کو مسلم دنیا کے مخالف لا کر کھڑا کر سکتا ہے اور مسلم ورلڈ کے لئے ایک ایسے ناقابلِ تلافی نقصان کی وجہ بن سکتا ہے، جسے پاٹنے میں ہماری آنے والی نسلوں کی صدیاں لگ سکتی ہیں۔کیا یہ سب آنکھوں کے سامنے موجود تلخ حقیقتیں ہم سے یہی تقاضہ نہیں کرتیں کہ اِس صورتحال سے نکلنے کے لئے سوچنا، سمجھنا اور پھر ایک روڈ میپ تیار کرنا سب سے پہلے ہم مسلمانوں کی ہی ضرورت ہے؟؟


اور تیسرے ‘ہم میں وہ لوگ ہیں، جن کے خیال کے مطابق یہ صرف ایک موضوع ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے لئے ایک بڑا چیلنج بھی ہے انہوں نے جہاں ایک طرف اپنے روشن دلائل سے اُن حجتوں، مکروں اور نفرتوں سے بھرے لوگوں کو بھی لاجواب کرنا ہے ، جو قرآن و سنت پرعمل پیرا ہونے کے بجائے اپنے صدیوں پرانے بزرگوں کی فکر سے آگے پیچھے نکل کر کچھ بھی دیکھنے، سوچنے پر تیار نہیں ہوتے اور ہر بلند آواز یا کوشش کو ’اپنے‘اسلام کے لئے خطرہ سمجھ کر شور مچا دیتے ہیں، گھات لگا لیتے ہیں، مرنے یا مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے اہلِ کتاب کو اپنے مقام پر اور ہم سے صرف اولادِ آدم کا رشتہ رکھنے والے باقی تمام انسانوں کو اپنے مقام پر اُن ادھورے سوالات کے بھی جواب دینے ہیں، جن کے جواب پانے کے لئے جدید دور کی انسانیت تڑپ رہی ہے، سسک رہی ہے کیونکہ جدید دور کی ترقیاں زندگی، موت اور پھر زندگی کے تصور سے تعلق رکھنے والے بنیادی سوالات کو آسان کرنے کے بجائے مشکل کرتی جا رہی ہیں اور یہ چیلنج تنگ دائروں میں قیدکوئی مسلمان کبھی قبول نہیں کر سکتا، اِس چیلنج کو تو وہی مسلمان قبول کر سکتا ہے ، جو ربُّ العالمین کا بندہ اور رحمت اللعالمین ﷺکا اُمتی بن کر دیکھ، سوچ اور محسوس کر تے ہوئے پوری انسانیت کو اسلامی تعلیمات کی آغوش میں لانے کی فکر کرے۔


جس اُمت نے باقی انسانوں کے معاملات دستور کے مطابق طے کرانے تھے، وہ آپس میں ہی ہر ہم آہنگی اور مکالمے کی نعمت سے محروم ہو کر بیٹھ گئی اور ایک دوسرے کو ہی کافر، بدعتی یا مُرتد ثابت کرنے کے لائق رہ گئی اور یہ بھی بین المذاہب ہم آہنگی سے دوری ہی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے جس اُمت کو تمام انبیاء اور تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا پابند کیا جا رہا ہے، وہ اُمت تفرقہ بازی میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کے فرقوں کی مقدس ہستیوں کا نام احترام سے لینے کی صلاحیت سے محروم ہو کر رہ گئی۔ خود ہادی برحق محمد مصطفیؐ کی سیرت مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہے کہ وہ اگر اپنی گفتگو میں پانچ مرتبہ یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے تھے تو اُس میں سے تین مرتبہ ان کو اہلِ کتاب کہہ کر مُخاطب کرتے تھے حالانکہ اُس دور میں یہی یہودو نصاری خانہ کعبہ میں بت رکھ کراُن کی پوجا کیا کرتے تھے، بالکل برہنہ ہو کر اُن کے سامنے ناچا کرتے تھے اور کائنات کے سب سے پاک لوگوں کی جماعت پر ظلم و ستم کی انتہا کر دیا کرتے تھے لیکن ان تمام مظالم اورزیادتیوں کے باوجود امن، فلاح و سلامتی کے پیغمبر نے کبھی اگر ان کو مشرک، کافر یا یہود و نصاریٰ کہا تو اِس سے زیادہ مرتبہ اہلِ کتاب کہہ کر بھی مُخاطب کیا تا کہ ہم آہنگی بھی بنی رہے۔اور خاص طور پر اُس مکالمے کی گنجائش بھی باقی رہے ، جس میں مسلمان باقی تمام مذاہب کے لوگوں کا دھیان اُس ’’ایک اللہ‘‘ کی طرف دلاتا ہے جو علم و حکمت سے لبریز رب انسانوں سے صرف کتاب کے ذریعے ہی بات کرنے کا عادی ہے۔ کاش آج کا مسلمان تصور کرے کہ ہمارے نبیﷺ جو کہ قرآن کی عملی تفسیر ہیں مکہ میں کھڑے ہو کر اہلِ کتاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں : اے اہلِ کتاب آؤ اُس کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں، کسی شے کو اس کا شریک قرار نہ دیں اور نہ ہم میں سے کوئی اللہ کے بجائے دوسرے کا پیدا کرنے والا بننے کی کوشش کرے۔


یہ وہ پکارِنبوت تھی، جس نے دنیا کی ہر باطل قوت کو لرزا کر رکھ دیا تھا ،یہ ہم سب کے جان سے پیارے نبیﷺ کا اندازِ گفتگو تھا، جس کا تجربہ اللہ کی کتابیں تھام کر گھومنے والوں کو کبھی نہ ہوا تھا۔پھر اس پاک کام کی مخالفت کرنے والوں کے خیال میں ہمارے نبی ﷺ کی یہ پکار، یہ اندازِ گفتگو اور یہ دعوتِ ہم آہنگی اور مکالمے کی ابتدا نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ کاش ہمارے علماء حق اور بزرگانِ دین نے بروقت اِن ضد، نفرت سے بھرے’’ علماءِ سُو‘‘ کو بھی اللہ اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق یہود و نصاریٰ کو پانچ میں سے تین مرتبہ اہلِ کتاب کہنے پر مجبورکیا ہوتا تو ہم مسلمان کبھی بھی آپس میں ایک دوسرے کو مُرتد، منافق، بدعتی یا لبرل فاشسٹ ثابت کر کے ایک دوسرے کے قتل خود پر حلال کرنے کا سوچ بھی نہ سکتے لیکن افسوس جس اسلوبِ گفتگو کو ہم اہلِ الکتاب کے مقام پر باقی نہ رکھ سکے، اُس کو آگے چل کر ہم آپس میں اپنے اختلافات میں بھی قائم نہ رکھ سکے اور القرآن کے ذریعے انسانوں کو اندھیرے سے نور کی طرف نکالنے والی اُمت، خود ہی گھپ اندھیروں میں بھٹکتی آنکھوں کے سامنے ہے اور و جہ یہی تفرقہ بازی، جس نے ہمیں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں اتنا مصروف کر دیا کہ ہم باقی دوسرے فرائض سے غافل ہوتے چلے گئے ، جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرے کے کئی علمی و فکری شعبوں میں زوال کی طرح بین المذاہب مکالمہ بھی تحقیق و جستجو سے محروم رہا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے تحقیق کی جگہ اندھی تقلید کرنے والوں نے لی اور پھر اندھی تقلید کرنے والوں کی جگہ دین میں زبردستی کرنے والوں نے لے لی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِس معاملے میں آزادی عطا کی ہے کہ وہ جو چاہے ، دین اختیار کرے، اپنی پسند کا دین اپنانے کا اختیار دینا اسلامی تعلیمات کا وہ منفردضابطہ ہے جو ایک طرف انسانوں کو خوب اچھی طرح سوچنے، سمجھنے اور پھر فیصلہ کرنے کا بھی حق دیتا ہے اور دوسری طرف انسانوں کو اُس اللہ کا تعارف بھی دیتا ہے، جس لائق تعریف رب نے اگر دین میں زبردستی کرنی ہوتی تو وہ ابھی سارے انسانوں کو ایمان بخش دے بلکہ انسان پیدا ہی باقی مخلوقات کی طرح ایک مخصوص سوچ کے ساتھ ہوں اور اُس کے علاوہ نہ کچھ کر سکیں اور نہ کچھ سوچ سکیں لیکن اللہ تو چاہتا ہے کہ انسان خود سوچ، سمجھ کر اپنے شوق سے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف آئیں اور دین میں پورے کے پورے داخل ہونے کے لئے آئیں تاکہ طریقوں سے شروع ہو کر طریقوں پر ختم ہو جانے والی نماز نہیں بلکہ وہ نماز قائم کریں جو نمازی کو ذہنوں میں چھپی فحاشی سے بھی اور دل میں چھپے منکر سے بھی باز رکھتی ہے اور روزے بھی وہ رکھنے آئیں جو باقی اُمتوں کی طرح صرف مخصوص وقت سے مخصوص وقت تک بھوکے، پیاسے رہنے کا نام نہ ہوں بلکہ تقویٰ میں اضافے کا سبب بھی بنتے ہوں اور کسی اندھی تقلید کرنے والے یا زبردستی دین میں آنے والا بھلا یہ تمام پاک کام کیسے کر سکتا ہے، اُسے کوئی بھی کیسے زبردستی ان کاموں پر مجبور کر سکتا ہے ؟ اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے مقدس اور پاک کام کی مخالفت کرنے والا دوسرا طبقہ وہ ہے، جس نے اِقامتِ دین سے مراد دنیا سے تمام ادیان کا خاتمہ لے لیا ہے اور ساری انسانیت کو مسلمان بنانا اور دنیا سے غیر مسلموں کا خاتمہ سمجھ لیا ہے یہی تصور ان کی گمراہی کا باعث بن گیا ہے ۔ یہ تصور دین فطرت کے بھی خلاف ہے اور اللہ کے احکامات سے بھی روگردانی ہے۔

naseemshahid7@gmailcom
 
10
May

تحریر: یاسرپیرزادہ

بلاشبہ یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ پچیس برس قبل لاہورمیں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ سرکاری نہیں ہے۔ اس لئے اس کا معیار آج بھی قائم ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر (موجودہ نہیں) جو اس وقت پچیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے تھے کے خلاف خاکروب حضرات نے ہڑتال کر دی۔ یہ خاکروب اپنے حالات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ یعنی وہ دن میں بارہ بارہ گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے پر مجبور تھے۔ ان کی ملازمت کے کنٹریکٹ میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یعنی ایسا نہیں تھا کہ انہیں سال میں مخصوص تعداد میں تنخواہ سمیت چھٹیاں کرنے کی اجازت ہو۔ یہ ان کے سپروائزر کی صوابدید تھی کہ اگر وہ چاہے تو انہیں کام سے ایک آدھ دن رخصت دے اس سے زیادہ کی صورت میں تنخواہ کی کٹوتی اور پھر ’’مکمل چھٹی‘‘ یونیورسٹی کے دیگر سٹاف کے برعکس انہیں ہفتے کے روز بھی چھٹی کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ کسی قسم کی علاج معالجے کی سہولت یا بچوں کے تعلیمی اخراجات کی مد میں ا نہیں کوئی الاؤنس، بیمہ یا فنڈ نہیں دیا جاتا تھا۔ دس ہزار روپے میں زندگی گزارنا ان کی ذمہ داری تھی۔ ان حالات میں جب ہڑتال ہوئی تو پچیس لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے وی سی صاحب نے موقف اختیار کیا کہ خاکروب حضرات کی ملازمت کی سختیوں کا یونیورسٹی سے کوئی سروکار نہیں۔ کیونکہ یونیورسٹی نے کیمپس کی صفائی کا انتظام ایک پرائیویٹ کمپنی کے سپرد کر رکھا ہے جو ان خاکروبوں کو ملازمت دیتی ہے۔ لہٰذا وہ جانے اور اس کا کام۔ ’’مینوں کی لگے‘‘ تاہم جب دباؤ زیادہ بڑھا تو یونیورسٹی نے اس کمپنی سے بات کی اور کمپنی نے خاکروبوں کی تنخواہ میں چند روپوں کا اضافہ کر دیا مگر کچھ ہی عرصے بعد تقریباً ایک چوتھائی افراد کو ملازمت سے بھی فارغ کر دیا کیونکہ تنخواہ بڑھانے کے بعد کمپنی کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا تھا۔ وی سی صاحب نے آنکھیں بند کر لیں۔ خاکروب ٹھنڈے پڑ گئے اور اس کے بعد سب ہنسی خوشی زندگی گزرانے لگے۔

 

قابل لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے خوف سے جان چھڑا بھی لیں تو اپنی انا کے خول سے نہیں نکل پاتے۔ ملک کی خدمت کرنے کے لئے وہ اتنی کڑی شرائط رکھتے ہیں کہ نہ نومن تیل ہوتا ہے نہ کوئی رادھا نا چتی ہے۔ انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول چاہئے۔

دنیا میں ایک تصور ’’ٹیلنٹ اکا نومی‘‘ کا ہے۔ سیدھے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ میں ٹیلنٹ ہے تو آپ وی سی صاحب کی طرح پچیس لاکھ روپے ماہوار تنخواہ لے سکتے ہیں۔ گویا محنت کر حسد نہ کر‘ اور اگر ٹیلنٹ نہیں تو دس ہزار روپوں میں خاکروب بھرتی ہو جائیں گے۔ مسلسل بیس برس تک بغیر کسی چھٹی کے کام کرنے کے بعد آپ پچیس لاکھ کے عدد کو چھو پائیں گے۔ مگر اس وقت تک وی سی صاحب جس عدد پر بیٹھیں ہوں گے اس تک پہنچنے کے لئے کسی خاکروب کو غالباً کئی نوری سال درکار ہوں گے۔ یہ بات درست ہے کہ قابل اور محنتی افراد زیادہ مشاہیر کے حقدار ہوتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن افراد کو قدرت نے نہیں نوازا یا ان کی پیدائش ہی ایسے حالات میں ہوئی جہاں ان کی صلاحیتوں کو پھل پھولنے کا موقع نہیں مل سکا تو اس کی سزا انہیں ٹیلنٹ اکانومی کا نام لے کر دی جائے۔

qabliyatkaimiya.jpg
گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹیلنٹ اکانومی کے اس تصور نے لوگوں کا استحصال کیا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے
CEOs
کو تو اس کی قابلیت اور اپنی ضرورت کے تحت لاکھوں کی تنخواہ دیتی ہیں مگر لیبر کلاس کا کوئی پرسان حال نہیں ’کیوں‘ اس لئے کہ ان میں کوئی ایسا جوہر نایاب نہیں جو مارکیٹ میں نہ ملتا ہو۔ اسی لئے ان کا استحصال کیا جاتا ہے اور اسے ٹیلنٹ اکانومی کا خوبصورت نام دے کر آنکھیں پھیر لی جاتی ہیں۔ دنیا کی فلاحی ریاستوں نے (یونیورسٹی میں جن کی مثالیں دیتے ہوئے وی سی صاحب تھکتے نہیں تھے) اس مسئلے کا حل یوں نکالا کہ جس ’ٹیلنٹڈ شخص‘ کی آمدن میں جتنا اضافہ ہو اس پر اسی زائد شرح سے ٹیکس عائد کر دیا اور پھرا س پیسے کو معاشرے کے کم خوشحال طبقے پر یوں خرچ کیا کہ کم آمدن والے لوگوں کے صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے اخراجات صفر کے برابر ہو جائیں ۔ دوسرا اُن ریاستوں نے لیبر لاز کا سختی سے نفاذ کیا۔ کم سے کم تنخواہ اتنی رکھی جس میں ایک شریف آدمی کا گزارا ہو سکے اور پھر اس تنخواہ کو یقینی بھی بنایا۔ وہاں کسی ادارے کا سربراہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتا کہ میں نے تو صفائی کا انتظام ’’آؤٹ سورس‘‘ کر رکھا ہے۔ لہٰذا سویپرز کی تنخواہوں سے میرا کیا لینا دینا۔ تیسرا ان معاشروں میں ظاہری کرو فر اور شان و شوکت دکھانے والے امراء کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ محل نما گھر بنانے والوں پر میڈیا میں تنقید کی جاتی ہے اور لوگ عموماً ایسی حرکتوں سے باز ہی رہتے ہیں تاہم یہ روایت فلاحی ریاستوں میں ہے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں نہیں۔ نتیجہ ان اقدامات سے یہ نکلا کہ معاشرے میں طبقاتی فرق تو رہا مگر اتنا زیادہ نہیں کہ ایک شخص پچیس لاکھ اور دوسرا دس ہزار۔


اس سارے قصے کا تکلیف دہ پہلو صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں لیبر لاز کا نفاذ نہیں ہے۔ زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ ملک کی بہترین درس گاہ کا سب سے قابل وی سی جسے دنیا کے کامیاب مینجمنٹ ماڈلز زبانی یاد ہیں اس کے سامنے جب استحصالی نظام کا چھوٹا سا نمونہ آیا تو اس نے ویسے ہی ردعمل دکھایا جیسے کوئی بھی سرمایہ دار اپنے کارخانے میں مزدوروں کی ہڑتال کی صورت میں دکھاتا ہے۔ کیا فائدہ ایسی دیدہ بِینا کا، کس کام کی یہ ڈگریاں ! بلاشبہ المیہ ہماری اشرافیہ کا ہے۔ ہماری اخلاقیات کا ہے اور ہماری قابلیت کا ہے۔ ہم میں سے جو لوگ قابل ہیں بدقسمتی سے وہ ڈرپوک بھی ہیں۔ انہیں اس آرام اور آسائش کے کھو جانے کا ڈر ہے۔ جسے انہوں نے اتنی محنت کے بعد حاصل کیا ہے۔ کیا ضرورت ہے کسی خاکروب کے حق کے لئے لڑنے کی۔ اگر یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مجھے فارغ کر دیا تو میرے پچیس لاکھ تو گئے لہٰذا مجھے کیا پڑی ہے اس قضیئے میں چی گویرا بننے کی! دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہر کروڑ پتی اپنی شخصیت میں انقلابی ہے۔ مگر یہ انقلاب وہ اپنے ادارے میں لانے کی ہمت نہیں کرتا۔ یہاں لوگ کھرب پتی بننے کے بعد بھی یہی رونا روتے ہیں کہ انہیں اس ملک میں کاروبار نہیں کرنے دیا گیا۔ نہ جانے اور کتنا استحصال کرنے کی حسرت تھی ان کے دل میں جو ہزاروں ارب روپے کمانے کے بعد بھی پوری نہیں ہوئی۔


قابل لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے خوف سے جان چھڑا بھی لیں تو اپنی انا کے خول سے نہیں نکل پاتے۔ ملک کی خدمت کرنے کے لئے وہ اتنی کڑی شرائط رکھتے ہیں کہ نہ نومن تیل ہوتا ہے نہ کوئی رادھا نا چتی ہے۔ انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول چاہئے۔ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری ہردم ان سے ایک فون کے فاصلے پر موجود ہیں۔ جونہی بیورکریسی کوئی رکاوٹ ڈالے آن ہی آن میں وزیراعلیٰ صاحب اسے دور کریں ان کے پروٹوکول کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔ ان تمام نزاکتوں کے بعد اگر ذرا سی بات بھی ان کی طبع نازک پر گراں گزرے تو وہ اطمینان سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں واپس چلے جائیں اور پھر باہر بیٹھ کر ٹویٹ کرتے رہیں کہ میں نے تو اس ملک کے لئے بہت کرنا چاہا مگر ہمیں کرنے نہیں دیا گیا۔


ایسے قابل لوگوں سے بس اتنی درخواست ہے کہ اس ملک کو فقط اپنی محبوبہ جتنی اہمیت دے دیں‘ باقی حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

قومیں پرعزم ہوں اور اپنے نظریے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں تو وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما قوم ایک طویل اور کٹھن جنگ میں کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اب الحمدﷲ اس مقام پر ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا عمومی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب وہ فساد بپا کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کا آغاز کر چکی ہے۔


بلاشبہ آپریشن ردالفساد انتہائی موثر انداز سے جاری ہے اور آئے روز ملک کے مختلف علاقوں سے فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں کو تلاش کر کے اُنہیں ٹھکانے لگایا جارہا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ قوم کا ہر فرد ردالفساد کا سپاہی ہے۔ گویا ہر پاکستانی شہری چاہے وہ کسی بھی طور سے ملک کی خدمت کر رہا ہے اسے آپریشن ردالفساد میں ریاست کا ہاتھ بٹانا ہے اور اس پاک سرزمین کو صحیح معنوں میں فساد اور شدت پسندی سے پاک کرنا ہے اور اسے ایسی سرزمین بنانا ہے جس کے باشندے ملکی قانون اور اپنے اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق رکھتے ہوں۔ یہ تبھی ممکن ہے جب قوم افواج اور دیگر ادارے پوری دلجمعی سے آپریشن ردالفساد کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ قوم اور افواج پاکستان کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے پاکستان دشمن عناصر کبھی مردم شماری میں مصروف ٹیموں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں توکبھی کوئی دوسرا سافٹ ٹارگٹ تلاش کر کے اپنی ’’دہشت‘‘ بٹھانے کی ناکام

 

کوشش کرتے ہیں۔ قوم بھاگتے ہوئے فسادیوں کا ان کی کمین گاہوں تک پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ اب اس دھرتی اور سرزمین پر ان فسادیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا خاتمہ ان کا مقدر بن چکا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور آپریشن ردالفساد کے حوالے سے واضح طور پر قوم کو آگاہ کر چکے ہیں کہ ردالفساد درحقیقت پہلے کئے گئے آپریشنز کے حاصل کردہ اہداف کو یکجا
(Consolidate)
کرنا ہے اور یہ صرف فوج کا آپریشن نہیں اس میں پولیس، رینجرز اور دیگر ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ جنگ صرف افواج پاکستان نے تنہا نہیں پوری قوم نے مل کر جیتنی ہے۔ اور ہر ادارے نے کام کرنا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے خیالات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب پوری قوم اور تمام ادارے پوری یکسوئی کے ساتھ کسی چیلنج سے نمٹنے کے لئے برسرپیکار ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ریاست کسی بھی عفریت کا قلع قمع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ الحمد ﷲہماری قوم مکمل کامیابی کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ قوم کا ہر ایک فرد ملک دشمنوں کی سرکوبی کے لئے پرعزم رہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی معاونت ایک قومی فریضہ سمجھ کر کرے تاکہ اس مقدس دھرتی سے شدت پسندی اور فساد کی بیخ کنی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کی جا سکے۔

10
May

تحریر: محمدمنیر

کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں بہت سے درے واقع ہیں جن میں مالاکنڈ‘ خیبر‘ گندھاب ‘ کرم‘ گومل اور ٹوچی زیادہ مشہور ہیں۔ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدو رفت کا ذریعہ ہیں اور تاریخی اعتبار سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔


قبائلی علاقہ جات میں پانچ مشہور دریا‘ سوات‘ کابل‘ کرم ‘ ٹوچی اور گومل بہتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والے پشتون ہیں۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے لوگ بہت بہادر اور غیور ہیں۔ برطانوی حکومت‘ جو کہ برصغیر میں1849 تا1947 مسلط رہی‘ نے فاٹا کے قبائل پر مختلف طریقوں سے قابو پانے کی کوشش کی۔تاہم جنوب مغربی سرحدوں میں واقع قبائل نے برطانوی حکومت کے لئے بہت سے مسائل پیدا کئے۔


برطانوی حکومت کو بنیادی طور پر دو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو یہ کہ مقامی طور پر قبائل کو برطانیہ کے زیرِ اثر علاقوں پر قبضہ کرنے سے کیسے روکا جائے اور دوسرا یہ کہ بیرونی سطح پر روس کی مداخلت کا کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ مختلف اوقات میں برطانوی حکومت نے قبائل کے خلاف جنگیں بھی کیں لیکن وہ ان پر اپنا تسلط قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے قبائل کے ساتھ کبھی سختی اور کبھی ترقی کی پالیسی اختیار کی۔ تا ہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تاجدارِ برطانیہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی اور صنعتی ترقی کے لئے کوئی کام نہ کرسکی۔ لیکن 1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا تو ان علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے کچھ اقدامات ضروراٹھائے گئے۔


قائدِاعظم کے ایک قریبی ساتھی میاں جعفر شاہ ‘جو شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں وزیرِ تعلیم بھی رہ چکے ہیں‘ کے مطابق خان عبدالغفار خان نے جون 1947 میں قائدِاعظم سے ملاقات کے دوران قیامِ پاکستان کی حمایت کے لئے تین اہم شرائط رکھیں جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں ضم کردیا جائے۔ قائدِاعظم نے خان عبدالغفار خان کی اس تجویز کو فوراً تسلیم کرتے ہوئے خان سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں قبائلی عوام کو ہمنوا بنانے کے لئے عملی اقدامات کریں تاکہ متفقہ طور پر اس تجویز کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ بابائے قوم قبائلیوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس مسئلے کو جمہوری اور آئینی انداز میں غیور قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہتے تھے۔ قبائلی علاقوں سے متعلق نوزائیدہ پاکستان کی پالیسیوں کا اندازہ بابائے قوم کی ان باتوں سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپریل1948میں قبائلی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے قبائلی سرداروں کو یقین دلایا کہ پاکستان ان علاقوں کی ترقی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا اور ان علاقوں کی اقتصادی خوشحالی کے لئے ہر قسم کی مالی و فنی معاونت فراہم کرے گا‘ تاکہ قبائلی بھائیوں کی زندگیوں کو بہتربنایاجائے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستان قبائلی نظام زندگی کے اندر کسی قسم کی غیرضروری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے یہاں تعلیمی اور سماجی ترقی کے لئے کوشاں رہے گا اور مالی مدد بھی جاری و ساری رکھی جائے گی۔ قائدِاعظم کی یہ دلی خواہش تھی کہ ان علاقوں کی مروجہ حیثیت کو بدلا جائے تاکہ ان قبائل کی زندگی کو بہتر اور آسان بنایا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ قبائلی علاقوں کو صرف امداد سے چلایا جائے اور وہ ہر سال بھکاریوں کی طرح حکومتِ پاکستان سے امداد کے طلبگار رہیں‘ بلکہ اس صورت حال کو بدلنا ہوگا تاکہ غیور قبائلی عوام بھی ملکی وسائل میں حصہ دار بن سکیں۔


یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قائدِاعظم کی وفات کے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں نے قائد کی خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا اور ان علاقوں کے لئے برطانوی حکمرانوں کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو جاری رکھا جس کے تحت قبائلی عوام کو بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ان کو وکیل‘ اپیل اور دلیل جیسے بنیادی حق تک بھی رسائی نہ دی گئی۔ فاٹا میں رہنے والے قبائلیوں کو ایف سی آر جیسے قوانین کے تحت چلایاجاتا رہا اور اُنہیں پولیٹیکل ایجنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ یہاں کے نمائندوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی دی گئی لیکن بدقسمتی سے یہ نمائندگان اپنے علاقوں کے لئے قانون سازی نہ کروا سکے۔


یہ بات خوش آئند ہے کہ2014 میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فاٹا میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں8 نومبر کو وزیرِاعظم پاکستان نے پانچ رُکنی فاٹا ریفارمز کمیٹی تشکیل دی۔ جس کی سربراہی ان کے مشیر برائے اُمورِ خارجہ سرتاج عزیز کو سونپی گئی۔ کمیٹی نے تمام قبائلی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ وزیرِاعظم کو پیش کی۔ وفاقی کابینہ نے 2 مارچ2017 کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے پانچ سال کے عرصے میں بتدریج انضمام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے بہت سی توقعات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی کابینہ نے فاٹا کمیٹی کی تمام شفارشات کو من و عن تسلیم کیا ۔ ان سفارشات میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ آڈٹ کے نظام کو فاٹا تک توسیع دی جائے۔ راہداری پرمٹ ختم کئے جائیں‘ بینکنگ سسٹم اور اعلٰی عدلیہ کو فاٹاتک توسیع دی جائے‘ رواج ایکٹ نافذ کیا جائے جس کے ذریعے فاٹا کا اپنا جرگہ کا نظام نافذ رہے گا۔ بہرحال رواج ایکٹ کے تحت جو قاضی کام کریں گے وہ بنیادی طور پر سیشن جج ہوں گے جن کے کسی بھی فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ سے رجوع کیا جاسکے گا۔


یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ ہماری قیادت فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پر متفق ہے۔ علاوہ ازیں فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام بھی اس فیصلے پر خوش ہیں کہ ان کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ مزید یہ کہ قومی اور صوبائی سطح کی کم و بیش تمام جماعتیں فاٹا میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں۔ البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ چند ایک جماعتیں اصلاحات کے نفاذ کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر جے یو آئی کا موقف ہے کہ اصلاحات نافذ کرنے سے پہلے فاٹا میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے فاٹا کے لوگوں کی رائے لے لی جاتی تو بہتر ہوتا۔ جبکہ پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ پانچ سال کے بجائے جتنا بھی جلدی ممکن ہو سکے فاٹا کا انضمام عمل میں لایا جائے۔ اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کرنے میں جلدی سے کام نہ لیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے
(TDPs)
کی بحالی کا کام مکمل کیا جائے اور افغانستان جانے والے قبائلیوں کو واپس لایا جائے۔ فاٹا کی تعمیرِ نو کی جائے اور اس کی بحالی کے لئے قومی وسائل کا پانچ فیصد مختص کیا جائے۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ فاٹا کو ضم کرنے کے حوالے سے آئینی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کا نفاذ ایک مشکل مرحلہ ہوگا اس لئے اصلاحات کے نفاذ کا ایک طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے تاکہ اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور ٹیکنیکل مسائل کا حل نکالا جاسکے۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے عوام کو ان اصلاحات سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خیبر پختونخوا سے ان کے الحاق کے بعد فاٹا میں اقتصادی ترقی کا عمل تیز ہوگا اور ان علاقوں میں گورننس بہتر ہوگی اور دہشت گردی پر بہترانداز میں قابو پایا جاسکے گا۔ فاٹا کے لوگ چاہتے ہیں کہ اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ فاٹا میں بلدیاتی/ لوکل باڈی الیکشنز(انتخابات) جلد کروائے جائیں۔


موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو انتہائی شفافیت اور مقامی قبائل کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھایا جائے۔ نیز یہ کہ ان اصلاحات اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کئے جانے سے متعلق توقعات اور تحفظات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ فاٹا میں کی جانے والی اصلاحات ملکی ترقی اور سلامتی کی ضامن ہوں اور پاکستان کی دشمن قوتیں ان معمولی اختلافات کو اپنے مذموم عزائم کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بطورِ ریسرچ فیلو کام کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

تحریر: فاران شاہد

پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی ایک رپورٹ مجریہ مارچ 2016ء میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی جوہری پروگرام کو بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ 2014ء میں بھارت کے اٹامک پاور اسٹیشن کے ہیڈٖ کانسٹیبل نے اپنی سروس رائفل سے تین افراد کو قتل کر دیا تھا۔ لیکن یہ ایک واقعہ نہیں، 1991ء سے 2003ء تک تو بھارت کے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں بلنڈرز اور کولپیسز ہوتے رہے ہیں، جہاں ہائیڈروجن لیکس، آئل لیکس، اٹامک پاور اسٹیشنز کا کولنگ سسٹم بند ہو جانا، فائر الارم بجنا، پائپ لیک ہونا، ری ایکٹرز اور ایٹمی پاور اسٹیشنز میں کئی کئی ٹن پانی بھر جانے جیسے واقعات کئی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے سائنس دان اور اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان محتاط سائنس دانوں کا دبے الفاظ میں کہنا ہے کہ بھارت میں ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی بھارتی ایٹمی اثاثوں کے عدم تحفظ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بھارت چونکہ ایک سیکولر ملک ہے اس لئے یہاں سیکولر اور جمہوریت پسند سیاستدانوں کے خیالات بھی دفاعی ماہرین سے ملتے جلتے ہیں۔ دریں اثناء متذکرہ بالا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور روس کے ایٹمی اثاثے بھارت سے زیادہ محفوظ ہیں جبکہ بھارتی انتظامات نہایت کمزور ہیں۔


دی ٹائمز آف انڈیا نے بھارت کی پالیسیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے خبر دی تھی کہ بھارت کی عسکری و سیاسی قیادت ہنگامی بنیادوں پر بڑی تعداد میں اسلحے کی خریداری کر رہی ہے۔ روس، فرانس اور اسرائیل سے تیار حالت میں جنگی ہتھیار خرید لئے گئے ہیں جو مارچ تک بھارت کو مل جائیں گے۔ علاوہ ازیں خریداری کے لئے دو اعلیٰ سطح کی بااختیار کمیٹیوں نے سامان حرب کی پڑتال کر کے اسی وقت فیصلہ کر لیا۔ اسرائیل سے فضا سے زمین میں مار کرنے والا
SAM
بارک 8 میزائل، روس سے S-400 اینٹی بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم، سخوئی 30ایم کے آئی، میخایان مگ29سی، ٹرانسپورٹ طیارے200کاموف، 2267ہیلی کاپٹرز، فضا میں تیل بھرنے والے طیارے اور دیگر حربی ساز و سامان کے معاہدے کئے ہیں۔ علاوہ ازیں T-90,T-72 ٹینک، کونکورس اور اینٹی میزائل اور سمیرج راکٹ اور بارود سے بھرے بم بھی خریدے ہیں۔ روس جو اس وقت معاشی طور پر کافی کمزور ہے اس خریداری سے اس میں خوش حالی کی لہر دوڑ گئی ہے۔


گزشتہ برس بھارتی مسلح افواج کے سربراہان نے مودی سرکار کو باور کروایا تھا کہ بھارت جنگ میں صرف سولہ دن تک ہی اپنا اسلحہ استعمال کر سکتا ہے، مزید گنجائش و صلاحیت نہیں۔ غالباً اسی لئے یہ استعداد بڑھا کر چالیس دن تک کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس نے یہ صلاحیت 1991ء میں ہی حاصل کر لی تھی۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت خفیہ جنگی تیاریاں اس لئے کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے پاس موجود ہتھیاروں سے خوفزدہ ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی یہاں سے بھی ملتی ہے کہ بھارتی افسر نے جرمنی کی ہوفنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے بھارت کے پاس زیادہ سے زیادہ اسلحہ ہونا چاہئے۔ بھارتی مصنفین غزالہ وہاب اور پراوین سباوہتی نے کتاب
Dragon at the Door
میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’’پاکستان نے اپنے آپ کو فوجی طاقت بنا لیا ہے جبکہ بھارت نے خود کو محض ملٹری فوج بنایا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک فوجی طاقت کا مطلب ہے کہ کوئی فوج فوجی طاقت کو مؤثر انداز میں ان اہداف اور ان جگہوں پر ایسے استعمال کرے کہ دشمن کے دانت کھٹے ہو جائیں۔ ملٹری فوج کے معنی یہ ہیں کہ صرف ہتھیاروں کو جمع کیا جائے۔ انہی کے بقول پاکستان فوجی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جب کہ بھارت جیو اسٹریٹیجک کھلاڑی بھی نہیں بن سکا۔ یعنی بھارت اپنی فوج کو اپنی سرحدوں سے آگے لے جانے کی صلاحیت سے عاجز ہے۔ بھارتی جنگی پالیسیوں پر پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ کیا اس نے ازبس اپنے آپ کو چین اور پاکستان تک ہی محدود کر رکھا ہے؟

 

bharatkikufiya.jpgدسمبر2015ء میں ’’فارن پالیسی‘‘ نامی جریدے نے یہی انکشافات کئے تھے جو ’’دی ٹائمز آف انڈیا‘‘نے فروری 2017ء میں کئے ہیں۔ متذکرہ رپورٹ میں یہ پول کھلا تھا کہ بھارت اپنی جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے جلاکیرے میں ایک "نیوکلیئر سٹی"کی تعمیر میں مصروف ہے۔ یہ برصغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جوہری شہر ہو گا۔ اس جوہری شہر میں ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے یورینیم کی افزودگی کی جائے گی، جس کا واضح مطلب جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے۔ نیوکلیئر سٹی میں ہی ایٹمی ریسرچ لیبارٹریاں اور ایٹمی ہتھیار بنائے جائیں گے۔ نیز اس سے بڑے پیمانے پر ائیر کرافٹنگ کی سہولیات بھی میسر آ سکیں گی۔ اور یہ شہر 2017ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کا جنگی جنون صرف پہلی مرتبہ ابھرکر سامنے نہیں آرہا بلکہ گزشتہ کئی عشروں سے خوف ناک ہتھیار بنانے اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی تگ و تاز کر رہاہے۔ برس ہا برس دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے اور حال ہی میں بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ کو پھر بڑھایا ہے۔ جس کا اولین مقصد جدید ہتھیاروں کے انبار لگانا ہے۔ آخر کار بھارت اتنے خوفناک ہتھیار کیوں جمع کر رہا ہے؟ درحقیقت ہمارا روایتی حریف ایشیا کی سب سے بڑی جنگی طاقت بننے کے خبط میں مبتلا ہے وہ اپنی اس بالاداستی کی راہ میں چین اور پاکستان کو بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور اس رکاوٹ کو جلد از جلد عبور کرنا چاہتا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ایک بڑے جوہری شہر کی تعمیرکے بارے میں رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد کسی بڑی طاقت نے تشویش کا اظہار کیا نہ ہی کوئی واویلا مچایاہے۔ دوسری جانب پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا کے بارے میں ان طاقتوں کا رویہ منافقانہ ہے۔ دوہری پالیسی کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ خود امریکہ پاکستان پر متعدد بار دباؤ ڈال چکا ہے کہ وہ (پاکستان) اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرے۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اسلامی ایٹم بم کا نام دے کر پوری دنیا میں پروپیگنڈا کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر عالمی طاقتیں بھی اس کے خلاف متحرک ہو گئیں۔ نتیجتاً ایران پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ المختصر اسلامی ممالک کو اس ایٹم بم سے دور کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ جبکہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ سمیت دیگر اسلام دشمن طاقتیں اسی ایٹم بم سے کھلونے کی طرح کھیل رہی ہیں۔ اس ضمن میں عراق پر بھی الزامات لگائے گئے کہ اس کے پاس مہلک ہتھیار ہیں اور اسی بات کو لے کر اس کا چیستان بنایا گیا۔ بعد میں امریکہ نے خود ہی ڈھٹائی سے تسلیم کر لیا کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیار ہونے کی اطلاع مصدقہ نہیں تھی۔ گویا ایک غیرمصدقہ اطلاع کو بنیاد بنا کر ایک ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا اور اس کے سربراہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ادھر لیبیا نے ایٹمی قوت بننے کی کوشش کی تو اسے نشان عبرت بنا کر ہی دم لیا گیا۔ ان تمام حقائق و شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تر صورت حالات کے مضمرات میں جھانکنے سے حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ چنانچہ بھارت کا جنگی جنون بالخصوص جوہری ہتھیاروں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاریوں سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کے خدشات بدرجہ اتم موجود ہیں اور پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے۔وہ پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کے لئے ہاتھ پاؤں بھی مار رہا ہے۔ تاہم اب تک بھارت پر عالمی طاقتوں کا کوئی دباؤ محسوس نہیں ہو رہا۔ مزید برآں اگر اس خاموشی کے پس منظر میں پاک بھارت تنازعات کا عمل دخل ہے تو پاکستان اس میدان میں بھی لڑنے کے لئے ہردم تیار ہے۔ پاکستان نے تو متعدد بار مذاکرات کی پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ تراشا اور راہ فرار لی۔ بھارت کی جانب سے ایل او سی کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ اس کی بلا اشتعال فائرنگ کی زد میں آنے والے شہداء کی تعداد چار سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس بات کا خیال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ بھارت کے ساتھ خفیہ طور پر ایشیا کی بڑی ایٹمی قوت بننے میں معاونت کر کے خوف ناک کھیل کھیل رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف خطے کا توازن بگڑے گا بلکہ (لازمی طور پر) خطرے سے دوچار ہو گا۔ اقوام متحدہ اور امریکہ نے اگر بھارت کے اس خفیہ ایٹمی پروگرام کی طرف توجہ نہ دی تو اس کا خمیازہ انہیں بھی بھگتنا پڑے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر: میجر مظفر احمد

بیدیاں روڈ(لاہور) پر مردم شماری ڈیوٹی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے جری سپوتوں کا احوال

 

لاہور میں خود کش حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے جوان اور متعین سول شمار کنندگان مردم شماری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ سول شمار کنندگان اور فوج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ایک عظیم قربانی ہے۔ مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان قیمتی جانوں کی قربانی سے ہمارے عزائم مزید مضبوط ہوں گے۔ ہم پوری قوم کے ساتھ مل کر اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی اس لعنت سے پاک کریں گے۔ ’’مجھے سوگواران خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں اُن جوانوں کو جنہوں نے اپنے فرض کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔‘‘

جنرل قمرجاوید باجوہ

چیف آف آرمی سٹاف

 

5اپریل 2017 کو خوشگوار صبح میں ابھرتی ہوئی سورج کی کرنیں پاک سرزمین کو روشن کر رہی تھیں۔ بھٹہ چوک اور اس کے نواح میں انسانی چہل پہل میں اضافہ ہو چکا تھا۔ علیٰ الصبح، حوالدار محمد ریاض کی قیادت میں جوان محفوظ شہید کینٹ سے بیدیاں روڈ(لاہور) مانانوالہ چوک کے علاقے میں مردم شماری پر مامور سول انتظامیہ کے شمار کنندگان کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے نکلے۔ پورے دن کی دوڑ دھوپ کے لئے زاد راہ اور انصرام ہمراہ تھا۔ سول شمار کنندگان سے ملاپ کرنے کے بعد دن کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ سڑکوں پر علاقہ مکین، بشمول سکولوں کے طالبعلم، اپنی پیشہ ورانہ کاروباری مصروفیات اور تعلیمی سرگرمیوں کے لئے رواں دواں تھے۔ اسی اثنا میں، خبثِ باطن کی حیلہ گری میں مبتلا دشمن نے ایک بار پھر قوم کے ان سرفروشوں کا راستہ روکنے کے لئے وار کر ڈالا۔ آہستہ آہستہ چلتی گاڑی کے عقب سے ایک خودکش بمبار تقریباً سات بج کر پچپن منٹ پر نمودار ہوا اور قریب آ کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ جس کے نتیجے میں 2سندھ رجمنٹ کے 4جوان حوالدار محمد ریاض، لانس نائیک محمد ارشاد، لانس نائیک ممشاد احمد اکرم، سپاہی ساجد علی اور 10این ایل آئی رجمنٹ کے سپاہی عبداﷲ نے جامِ شہادت نوش کیا اور 10جوان زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں 3راہ گیر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ مگر یہ امر قابلِ ذکر ہے، یہ جوان جب تک زندہ رہے انہوں نے سول شمارکنندگان سٹاف کا بال بھی بیکانہ ہونے دیا۔

watenkimati.jpg


دشمن کے اس وار کے باوجود بھی جذبۂ فرض شناسی و خدمت کسی قدر بھی کم نہ ہو سکا اور چند ہی منٹوں میں میجر زبیر احمد اور لیفٹیننٹ فیروز کی قیادت میں کمک آن پہنچی، صورت حال پر قابو پایا گیا اور وہ ایک بار پھر سونپے گئے کام کو پورا کرنے کے لئے نکل پڑے۔ حقیقتاً یہ محض جو ابی ہمت و عزم کے اقدامات نہ تھے بلکہ بزدل

دشمن کی شکست تھی۔
اے شہیدان وطن تم پر سلام
تم نے روشن کر دیا ملت کا نام
اس مضمون میں لکھے گئے چند پیرائے گو ان شہداء کی قربانیوں کو سمو نہیں سکتے مگر ہمارے اپنے شہیدوں کو خراج تحسین کی ایک معمولی جسارت ہے۔


hav_riaz.jpgسب سے پہلے ذکر حوالدار محمد ریاض (شہید ) کا جو ضلع فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کے نواحی گاؤں 410گ ب کے ایک زمیندار گھرانے میں 20مئی 1979کو پیدا ہوئے۔ان کے والدین کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کے باوجود متانت کے ساتھ گُزر بسر کرتے تھے جو ریاض کی اوائل عمری ہی میں رحلت کر گئے۔ دراز قد حوالدار محمد ریاض بچپن ہی سے ذہین اور خوش طبع تھے۔ گاؤں سے اپنی ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں کی تکمیل کے بعد فنِ سپاہ گری کے شوق کی ترویج کے لئے فوج میں جانے کی ٹھانی۔ ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ریاض نے ابتدائی تربیت سندھ رجمنٹل سنٹر حیدرآباد سے حاصل کی۔ دوران ابتدائی تربیت انھوں نے ہر ایونٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، خصوصاً پریڈ ڈرل میں امتیازی شیلڈ حاصل کی۔ ابتدائی تربیت کے اختتام پر جنوری 1995 کو 2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ یونٹ کے ساتھ چھمب، سیالکوٹ اور باگسر کے محاذوں اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ و شمالی وزیرستان میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ڈیوٹی سرانجام دی۔ عسکری تربیتی کورسز خصوصاً
ATGM Course
انفنٹری سکول اور یونٹ کے تربیتی مقابلوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ انہی خوبیوں کے پیشِ نظر سندھ رجمنٹ سنٹر میں بطور انسٹرکٹر تعینات ہوئے اور وہاں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ریاض کے ساتھیوں اور خصوصاً کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل ناصر محمود نے ان کی شخصیت کاتذکرہ اس انداز میں کیا ہے۔ ’’حوالدار ریاض میں ایک مخصوص احساس ذمہ داری تھا جو نہ صرف ان کے عسکری معمولات زندگی میں نظر آتا تھا بلکہ اپنی اہلیہ سمیت بچوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور مسائل کے بارے میں پائی جانے والی فکر مندی میں بھی جھلکتا تھا۔‘‘ روزِ شہادت، مردم شماری کی ڈیوٹی میں بحیثیت پارٹی کمانڈر مکمل سکیورٹی و انصرامی تیاریاں اور اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی ان کی خوبیوں کی غمازی کرتی ہیں۔ حوالدار ریاض کے لواحقین میں اہلیہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن کے لئے پدرانہ شفقت کا خلاء تو ضرور رہے گا مگر اس باہمت خاندان نے ریاض کی شہادت پر نہایت فخر کا اظہار کیا ہے۔


2سندھ رجمنٹ کے ایک اور جوان لانس نائیک محمد ارشاد (شہید) ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کے نواحی گاؤں بھلومار میں 13 جنوری 1991کو پیدا ہوئے۔ درمیانے قد کے حامل ارشاد بچپن سے ہی سنجیدہ ذہن کے مالک اور قدرے خاموش طبع تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی سے حاصل کی اور میٹرک کے بعد فوج میں ملازمت اختیار کی۔ ابتدائی تربیت کے بعد جولائی 2010 میں بطور سپاہی 2سندھ رجمنٹ میں تعینات ہو گئے۔ دوران سروس یونٹ کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر باگسر اور دہشت گردی کے خلاف باجوڑ ایجنسی میں بڑی جانفشانی اور ایمانداری سےln_m_arshad.jpg اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ حالیہ مردم شماری ڈیوٹی میں اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر یونٹ نے انہیں لانس نائیک کے رینک پر ترقی دی۔ ارشاد نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا اور 5اپریل 2017کو اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر کے امر ہو گئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اُن میں اپنے اہل و عیال سے محبت اور ان کی ضرورتوں کا احساس بھی بدرجۂ اتم تھا۔ اس کا اظہار انہوں نے ایک روز قبل اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کیا تھا کہ اُس نے اگلے روز اپنے والدین کو کچھ رقم منی آرڈر کرنا ہے۔ ان کی شہادت پر ان کے جسد خاکی کے ساتھ لپٹی اس رقم کی موجودگی نے ان کے ساتھیوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ درحقیقت ارشاد نے اپنے اہل و عیال کے لئے ازلی کامیابی کا سامان مہیا کر دیا جس پر ان کے ضعیف والدین کو فخر ہے۔ ایسے والدین قابل ستائش ہیں جو اپنے لخت جگر قوم پر نچھاور کر دیتے ہیں۔


ln_mashmad.jpgلانس نائیک ممشاد احمداکرام (شہید) ضلع خانیوال کی تحصیل کبیر والا کے نواحی گاؤں کوہی والا میں 10 اکتوبر 1988 کو ایک کاشتکارگھرانے میں پیدا ہوئے۔ درمیانے قد کے ممشاد خوش اخلاق اور وسیع ذہن کے مالک تھے۔ گاؤں سے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی اور جولائی2010 کو2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ایل او سی پر باگسر سیکٹر اور باجوڑ ایجنسی میں محنت و جانفشانی کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ یونٹ کے کھیلوں اور تربیتی مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یونٹ کا علم بلند رکھنے میں پیش پیش رہے۔ مردم شماری کی ڈیوٹی کے دوران5 اپریل2017 کو شدید زخمی ہوگئے۔13 دن تک سی ایم ایچ لاہور میں زندگی موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر 17 اپریل کو خالقِ حقیقی سے جا ملے اور شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔ لواحقین میں اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں جنہیں ان کی شہادت پر ناز ہے۔


2sip_sajid.jpgسندھ رجمنٹ کے تیسرے بہادر سرفروش سپاہی ساجد علی (شہید) ضلع میرپور خاص سندھ کی تحصیل کوٹ غلام محمد کے نواحی گاؤں 285 دیہہ میں 10مارچ 1989کو ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ساجد علی شروع ہی سے ذہین اور حسِ مزاح سے مالامال تھے۔ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ والدین کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر ہاتھ بٹاتے تھے۔ مخصوص ثقافتی ٹوپی و اجرک پہن کر کلہاڑی کندھے پر رکھے مویشیوں کی نگہبانی کرتے تھے۔ فوج سے محبت انہیں سپاہ گری کے شعبے میں کھینچ لائی اور ابتدائی ٹریننگ کے بعد جنوری 2009میں 2سندھ رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے۔ یونٹ میں بڑی بہادری کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑی۔ مختلف مقابلوں میں نام کمایا اورخصوصاً ڈرائیونگ کے شعبے کو اپناتے ہوئے ایک اچھے ڈرائیور بنے۔ بالآخر فرائض منصبی کی بجاآوری میں مردم شماری کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔ ان کے لواحقین میں بیوہ اور والدہ شامل ہیں جو ساجد کی شہادت کو اپنے لئے اﷲ رب العزت کی مہربانی گردانتی ہیں۔

 

10این ایل آئی رجمنٹ کے سپاہی عبداﷲ (شہید) 1992کو ضلع چترال کے گاؤں کریم آباد میں پیدا ہوئے۔ عبداﷲ بچپن سے ذہین اور جسمانی طور پر تیز و پھرتیلے sip_abdullah.jpgتھے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول شوغور چترال سے حاصل کی اور میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد 13اکتوبر 2010کو فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے۔

یونٹ میں پوسٹنگ پر ایل او سی (لیپہ سیکٹر) اور وزیرستان میں خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔ آپریشن ضرب عضب میں عبداﷲ میران شاہ سے دتہ خیل تک ہر مشکل کارروائی میں صف اول کے دستہ میں شامل رہے۔ سپاہی عبداﷲ کو موت سے شناسائی ہو چکی تھی۔ بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر سپاہی 2015 میں وادی بویا میں دہشت گردوں سے مقابلے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ اس بہادر سپوت نے بہادری اور دلیری سے دہشت گردوں کے کئی خطرناک حملوں کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مزیدبراں یونٹ کے فٹ بال اور دیگر تربیتی مقابلوں میں نام کمایا۔ عبداﷲ کو حالیہ 23مارچ 2017شکرپڑیاں کی پریڈ میں اعلیٰ ڈرل کی وجہ سے پیادہ دستے میں نشاندار کی ڈیوٹی سونپی گئی۔ عبداﷲ کے عزم ، بہادری اور چہرے پر ہمیشہ رہنے والی مسکراہٹ کی وجہ سے ان کے ساتھیوں اور خصوصاً ان کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عرفان احمد کو عبداﷲ سے ایک ذاتی لگاؤ تھا۔


قومی فریضہ مردم شماری 2017کی ڈیوٹی کو سرانجام دینے کے لئے سپاہی عبداﷲ نے اسی جذبہ ایمانی کے تحت اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ شہادت سے دو دن قبل شہید کے چھوٹے بھائی سیف اﷲ نے ٹیلیفون پر چھٹی آنے کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ بھائی ہماری یونٹ ایک اہم مشن پر مامور ہے اور میں ڈیوٹی کے اختتام پر ہی چھٹی آؤں گا۔ اسی جذبے کا اظہار عبداﷲ نے دوران ٹریننگ کیاجب ان کے والد محترم کی رحلت ہوئی لیکن اپنے والد کے آخری دیدار کے لئے بھی نہ پہنچ سکے۔یہ عبداﷲ کا شوق شہادت ہی تھا جو اسے مردم شماری کی ڈیوٹی کی صورت میں اپنی خواہش کی تکمیل کی راہ پر لے گیا۔یوں بوڑھی ماں کا سہارا چھن گیا اور 10 این ایل آئی رجمنٹ ایک بہادر جوان سے محروم ہو گئی۔ مگر اپنے پیچھے بہادری اورعزم کی لازوال داستان چھوڑ دی۔ عبداﷲ کے دل کا حال اس کی ڈائری میں کچھ ان الفاظ میں درج تھا۔


جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا


ملک کا دفاع اور سونپے گئے قومی فریضوں کی تکمیل پاکستان فوج کا ہر شخص اپنی ذات سے بھی زیادہ مقدم رکھتا ہے۔ یہی وہ سوچ اور جذبہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے دشمن ہمیں زیر نہیں کر سکے اور ہر دفعہ خود ہی اپنی شکست خوردگی کے زخم چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے

 

ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
یہی دیوار‘ یہی چھت‘ یہی سایہ ہے

جس کی تعمیر میں ہر ہاتھ ہے شامل لوگو
اس کے باعث ہی دھڑکتا ہے ہر اِک دل لوگو
یہی دولت‘ یہی عزت‘ یہی سرمایہ ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
گہری نظروں سے عدو دیکھ رہا ہے جس کو
ایک مدت کا فَسوں دیکھ رہا ہے جس کو
اس سے پہلے بھی تفرقوں سے ہی غم پایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
چال چلنے نہیں دیں گے یہ قسم کھاتے ہیں
جال بُننے نہیں دیں گے یہ قسم کھاتے ہیں
پھر سے طوفانوں نے اِک بار سَر اٹھایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے
لَم یَزل کی یہ امانت ہے بچانی سب کو
اپنی آزاد فضا بھی ہے سبحانی سب کو
موسمِ گل نے‘ چمن زار یہ سجایا ہے
ہم نے قربانیاں دے کر یہ وطن پایا ہے

سعیدالزمان

*****

 
09
May

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ مغربی تعلیم، آزادئ فکر اور میڈیا کی تانوں اور اڑانوں کے باوجود حکومتیں اور معاشرے کے طاقت ور طبقے مذہبی شخصیات کے تیوروں سے کیوں خائف رہتے ہیں اور آج بھی ان کی رائے کو کیوں اہمیت دی جاتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ ادراک ضروری ہے کہ بارہویں صدی سے لے کر بیسیویں صدی کے آغاز تک مسلمانوں کی قیادت علمائے کرام کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ 1192-93 میں قطب الدین ایبک نے ہندوستان میں پہلی مسلم حکومت کی بنیاد رکھی اور یہ سلسلہ انگریزوں کی 1857 میں بالادستی اور حکومت تک جاری و ساری رہا۔ مسلمانوں کے اس آٹھ سو سالہ دور حکومت کے دوران علماء کو ہمیشہ دربار میں اہم حیثیت حاصل رہی۔ سبھی مسلمان بادشاہ اُن سے مشاورت کرتے رہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال بھی کرتے رہے۔ گویا ایک طرح سے علماء شریک اقتدار تھے اور بعض اوقات بادشاہ گر کا رول بھی ادا کرتے رہے۔ ضرورت پڑنے پر یہی علماء مزاحمت کے علمبرداربھی بنے۔ اکبر بادشاہ سب سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور حکمران تھا اور اس کی بادشاہت 49برس یعنی نصف صدی پر محیط ہے۔ لیکن جب اس نے دین الہٰی کی جسارت کی تو نہ صرف مجدد الف ثانی بلکہ ان کی قیادت میں بڑے بڑے علماء نے بھی مزاحمت کی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ درباری مسلمانوں نے بادشاہ کی خوشنودی کے لئے دین الہٰی قبول کر لیا۔ اس طرح اورنگزیب کے انتقال کے بعد جب مسلمانوں کے اقتدار کا شیرازہ بکھرنے لگا اور مرہٹوں، جاٹوں اور طاقت ور ہندومہاراجوں نے

کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار تھا اور پاکستان بننے کے بعد وہ نظریہ ختم ہو گیا۔ حالانکہ اگر آپ تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان ایک تصور کی پیداوار تھا اور دو قومی نظریہ اس تصور
(Ideology)
کا اہم ترین حصہ تھا جب کہ وہ تصور محض دو قومی نظریہ تک محدود نہ تھا۔ اس تصور کا پہلا حصہ دو قومی نظریہ تھا جو ایک حقیقت ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا تھا۔ جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ وہ ملکی وسائل کے مالک ہوں اور انہیں اپنی ترقی خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لئے استعمال کر سکیں۔ وہ اپنانظام حکومت اور نظام تعلیم واضح کریں اور عالمی سطح پرعزت کمائیں۔
مسلمانوں کا ناطقہ بند کر نا چاہا تو شاہ ولی اﷲ نے تحریک جہاد کا بیج بویا جسے بعد ازاں ان کے عزیزان، مریدین اور شاگردوں نے عملی تحریک کی شکل دی۔ یہ تحریک 1731سے 1831تک تقریباً ایک سو سال جاری رہی اور بالاکوٹ میں اپنوں ہی کے ہاتھوں دم توڑ گئی۔ سراج الدولہ نے 1757ء میں اور ٹیپو سلطان نے 1799میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی غداری کے سبب شکست کھائی اور یوں انگریزوں کے اقتدار کی راہ ہموار ہوئی۔ انہی ہزیمتوں اور شکستوں نے مسلم ہندوستان میں دوننگ وطن علامتیں یعنی میرجعفر اور میر صادق متعارف کرائیں جن کی غداری کا ماتم آج بھی کیا جاتا ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی لڑی گئی تو اس میں بھی سب سے زیادہ قربانیاں علمائے کرام نے دیں اور سب سے زیادہ گردنیں کٹوانے والے بھی وہی تھے۔ انگریزوں کا طوق غلامی اتار پھینکنے کے لئے جو آخری منظم کوشش کی گئی وہ ریشمی رومال کی تحریک تھی، اس تحریک کی قیادت بھی علمائے کرام کے پاس تھی۔ اس تحریک کی تفصیلات نہایت دلچسپ ہیں۔ منصوبے کے مطابق ترکی کی عثمانی فوج نے بلوچستان کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہونا تھا لیکن افغانستان کے شاہی خاندان کے چند افراد کی مخبری نے یہ راز فاش کر دیا اور یوں انگریزوں نے اس تحریک کو کچل دیا۔ اس تمام عرصے میں جتنے لوگوں کو سزا کے طور پر کالے پانی بھیجا گیا۔ قیدوبند میں ڈالا گیایا جلاوطن کیا گیا ان سب کا تعلق علمائے کرام اور مذہبی حلقوں سے تھا۔ یوں بیسویں صدی کے طلوع تک ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی و فکری قیادت زیادہ تر علمائے کرام کے ہاتھوں میں تھی۔ ریشمی رومال تحریک کی ناکامی کے بعد حصول آزادی یا حصولِ حقوق کے لئے عسکری اندازترک کر دیا گیا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق جمہوری سیاسی حکمت عملی اپنائی گئی۔ جس کی ذمہ داری مغربی تعلیم یافتہ حضرات نے سنبھال لی یوں تاریخی عمل نے تقریباً نو صدیوں کے بعد مدرسوں کو پیچھے دھکیل دیا اور مغربی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو سیاسی قیادت کا فرض سونپ دیا۔ اس کے باوجود علمائے کرام اور مذہبی طاقتیں پس پردہ رہ کر نہ صرف اپنا کردار سرانجام دیتی رہیں بلکہ انہوں نے خود کو ہر تحریک کی صف اول میں شامل کئے رکھا کیونکہ مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ان کے وسیع اثر روسوخ کاپورا ادراک رکھتا تھا اور ان کی سیاسی اہمیت کا قائل تھا۔

 

pakkinazriyati.jpg1934-35میں انگلستان سے واپسی پر جب قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی تنظیم نو کا بِیڑ ااٹھایا تو اس وقت مسلم لیگ ایک بے جان سیاسی قوت بن چکی تھی جس پر وڈیرے، جاگیردار، گدی نشین اور کمزور سیاسی شخصیات چھائی ہوئی تھیں۔ مسلم لیگ کے تن مردہ میں جان اس وقت پڑنا شروع ہوئی جب انتخابات کے بعد کانگریس نے 1937 میں چھ اکثریتی صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائیں اور مسلمانوں نے ڈیڑھ برس تک ہندو راج کا مزہ چکھا تو ان کی آنکھیں کھلیں۔ کانگریسی دور حکومت میں نہ صرف مسلمانوں پر ملازمتوں اور زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع بند کر دیئے گئے بلکہ سکولوں میں مسلمان دشمن ترانہ ’بندے ماترم‘ بھی لازمی قرار دے دیا گیا اور گاندھی جی کے بت کی پرارتھنا کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ تفصیل دیکھنی ہو تو پیرپور رپورٹ پڑھئے۔ مسلم لیگ صحیح معنوں میں عوامی تحریک اس وقت بنی جب مسلم لیگ نے مارچ 1940میں قرارداد لاہور (پاکستان) منظور کر کے ہندوستان میں بھی پھیلے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کر دی۔ لنڈن ٹائمز کے مطابق اس اجلاس میں تقریباً ایک لاکھ مسلمان عوام نے شرکت کی جو کہ ایک سیاسی کرامت تھی۔


مذہب مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور تحریک پاکستان کے دوران کلیدی عنصر کی حیثیت سے موجود رہا۔ 1935سے لے کر 1947 تک قائداعظم نے باربار اپنی تقریروں کے ذریعے مسلمانوں میں علیحدہ قومیت کا احساس بیدار اور پھر مضبوط کرنے کی کوششیں کیں اور علیحدہ قومیت کے شعور کی بنیاد ہمیشہ مذہب اور کلچر کو قرار دیا۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد ان کا سارا زور ہی دوقومی نظریے پر تھا اور وہ مسلسل مسلمان عوام کو بڑی دردمندی سے یہ سمجھانے اور باور کرانے کی کوششیں کرتے رہے کہ ہم اس لئے مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک آزاد مملکت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مسلمان اپنے مذہب، کلچر، روایات اور انداز کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے پیش نظر مسلمانوں کے معاشی، اقتصادی اور معاشرتی مفادات بھی تھے اس لئے علامہ اقبال مسلمانوں کی
Fuller Development of Personality
پر زور دیتے تھے۔ یعنی مسلمان شخصیت کی مکمل نشوونما کے لئے ایک آزادوطن کا قیام ضروری سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب مکمل نشوونما کی بات کی جاتی ہے تو اس میں معاشی، سیاسی، فکری، تعلیمی اور مذہبی تمام عوامل شامل ہوتے ہیں۔
چنانچہ میں جب پاکستان کی تاریخ اور ہندوستان میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کی سیکڑوں برسوں پر محیط زندگی کا بغور مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے اسلام پاکستان کے خمیر اور باطن میں شامل نظر آتا ہے اور پاکستان کی بنیاد کا مؤثر ترین محرک دکھائی دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر قائداعظم نے اسلام کا نام نہ لیا ہوتا تو وہ نہ کبھی مسلمانوں کی اکثریت کے لیڈر بنتے نہ 1945-46 کے انتخابات میں مثالی فتح حاصل کرتے اور نہ ہی پاکستان بنتا۔ اور ہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس سے قائداعظم کا کوئی ذاتی مفاد ہر گز وابستہ نہیں تھا۔ وہ خلوص نیت سے بات کرتے تھے اور انہوں نے زندگی کا معتدبہ حصہ مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ ہمارے بعض دین سے بیزار اور بیگانہ حضرات ’’وکیلانہ‘‘ بحث کی طرز پر بال کی کھال اتارتے ہوئے کہتے رہتے ہیں کہ قائداعظم کا مقصد مسلمان ریاست کا قیام تھا نہ کہ اسلامی ریاست۔ اول تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مسلمان اور اسلام دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دوم یہ کہ خود قائداعظم نے پاکستان کو پریمیئر اسلامی ریاست قرار دیا جسے سیکولر حضرات مانتے نہیں کیونکہ انہوں نے قائداعظم کو پڑھا ہی نہیں۔ تیسری بات یہ کہ قائداعظم نے کوئی سوبار سے زیادہ کہا کہ پاکستان کے سیاسی نظام کی بنیاد اسلام پر ہو گی۔ یہ حضرات کیوں نہیں سمجھتے کہ جس ریاست کے نظام کی بنیاد اسلام پر ہو وہی اسلامی ریاست ہوتی ہے۔ لیکن اس سے ہرگز مراد مذہبی ریاست نہیں کیونکہ اسلامی ریاست اپنے شہریوں پر مذہب نافذ نہیں کرتی۔ وہ اقلیتوں کی حفاظت کے علاوہ انہیں پوری مذہبی آزادی او رپورے حقوق دیتی ہے۔ یہی منشا قائداعظم کی تھی اور اسی لئے وہ اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا تصور پیش کرتے تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام پاکستان کے خمیر اور باطن میں شامل ہے۔ قائداعظم نے اسلامی قوتوں یا مذہبی جماعتوں کو شکست دے کر پاکستان نہیں بنایا تھا۔ بلکہ انہیں کئی مذہبی جماعتوں مذہبی شخصیات بڑے بڑے مذہبی اور روحانی گھرانوں اور پیروں کی حمایت حاصل تھی۔ رہی مذہبی انتہا پسندی تو وہ سیاست کا شاخسانہ اور عالمی سیاسی ایجنڈے کا نتیجہ ہے نہ کہ مذہب کا۔ کیونکہ ہر مسلمان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ برداشت، مذہبی رواداری، عفو و درگزر، حق گوئی، قانون کا احترام اور انصاف اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور نبی کریمﷺ ان کی عملی مثال تھے۔ انتہاپسندی، جذباتیت اور قانون شکنی کے رحجانات کا مقابلہ کرنے کے لئے انہی اسلامی اصولوں کو فروغ دینے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔ (ملاحظہ کریں قائداعظم کا براڈ کاسٹ پیغام بنام امریکی عوام فروری 1948 ء ، خورشید احمد یوسفی
(Speeches of Quaid e Azam)
جلد
IV
کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار تھا اور پاکستان بننے کے بعد وہ نظریہ ختم ہو گیا۔ حالانکہ اگر آپ تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان ایک تصور کی پیداوار تھا اور دو قومی نظریہ اس تصور
(Ideology)
کا اہم ترین حصہ تھا جب کہ وہ تصور محض دو قومی نظریہ تک محدود نہ تھا۔ اس تصور کا پہلا حصہ دو قومی نظریہ تھا جو ایک حقیقت ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا تھا۔ جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ وہ ملکی وسائل کے مالک ہوں اور انہیں اپنی ترقی خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لئے استعمال کر سکیں۔ وہ اپنانظام حکومت اور نظام تعلیم واضح کریں اور عالمی سطح پرعزت کمائیں۔ میں نے اس تصور کو مختصر ترین الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ورنہ اگر آپ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں، مسلم لیگ کی قراردادوں اور مسلم لیگ کے اجلاسوں میں کی گئی تقریروں کو غور سے پڑھیں تو ان میں آپ کو پاکستان کا ایک واضح تصور ملتا ہے اور ایک ایسا خواب نظر آتا ہے جو آج بھی تشنۂ تکمیل ہے اور جسے منزل کے طور پر ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ قائداعظم کی تقاریر ہوں، قراردادیں یا مسلم لیگی رہنماؤں کی تقریریں ان سب کے مرکزی نکات اور تصورات کا خلاصہ یہی ہے کہ چونکہ مسلمان اور ہندو الگ الگ قومیں ہیں جو ہزاروں برس اکٹھے رہنے کے باوجود متوازی دھاروں میں بہہ رہی ہیں۔ ان کا مذہب ، رسم و رواج ، بودوباش ، تاریخ ، ذہنی پس منظر اور سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور متضاد ہیں اور مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں اقلیت ہونے کے سبب ہندو اکثریت کے مستقل غلام رہیں گے۔ انہیں معاشرے میں کبھی بھی باعزت مقام حاصل نہیں ہو سکے گا اور نہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں گے۔ اس لئے وہ ایک الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جسے ہم نظریہ پاکستان کہتے ہیں وہ صرف یہاں تک محدود نہیں ہے۔ کیونکہ آزاد وطن کا قیام اس کا فقط پہلا حصہ تھا جب کہ پاکستان کے قیام کے مقاصد اس کا ناگزیر اور دوسرا حصہ ہیں۔ کیونکہ جب بھی قائداعظم نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا اور وضاحت کی کہ وہ پاکستان کیوں اور کیسا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ وہ کہتے تھے وہ مسلمان عوام کے احساسات اور اُمنگوں کی ترجمانی تھی اور ان کے مطالبات و تصورات کو مسلمانوں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور اسی تصور پاکستان کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے مسلمان عوام نے نہ صرف مسلم لیگ کی حمایت کی، 1946-47 کے انتخابات میں پاکستان کے حصول کے لئے ووٹ دیئے بلکہ اس مقصد کے لئے بے پناہ قربانیاں بھی دیں۔ اس جذبے کو سمجھنے کے لئے مسلم لیگ کے اجلاسوں میں کی گئی ان تقاریر کو بھی غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ جو اقلیتی صوبوں کے لیڈروں نے بار بار کیں۔ ظاہر ہے کہ وہ صوبے جہاں مسلمان اقلیت میں تھے وہ کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتے تھے اور انہیں بہرحال ہندوستان ہی میں رہنا تھا لیکن ان صوبوں کے لیڈروں نے ہمیشہ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے قیام کی زور دار حمایت کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان کی راکھ پر ایک مسلمان مملکت، ایک اسلامی ریاست قائم ہو گی جہاں مسلمان اپنے دین، آدرش اور تصورات کے مطابق آزادانہ زندگی گزاریں گے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور بحیثیت قوم پھلنے پھولنے کے لئے تمام مواقع میسر ہوں گے۔ جو بہرحال ہندوستان میں دستیاب نہیں ہو سکتے۔ اس لئے یہ سمجھنا اور کہنا کہ قیام پاکستان کے بعد نظریہ پاکستان بے کار اور بے معنی ہو کر رہ گیا ہے اپنی تاریخ سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اگر کوئی نظریہ کامیاب ہو جائے تو وہ مرتا نہیں بلکہ اپنی سچائی کے سبب مزید مضبوط ہوتا ہے۔ دوم تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ نظریات اُبھرتے ڈوبتے رہتے ہیں لیکن کبھی مرتے ہیں اور نہ بے معنی ہوتے ہیں۔


یوں تو ہماری تاریخِ آزادی کا ہر صفحہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے لیکن اس وقت مسلم لیگ کے 1941کے سالانہ اجلاس منعقدہ مدراس کی کارروائی یاد آ رہی ہے جو قائداعظم کی زیرصدارت اپریل 1941 میں ہوا اور یہ اجلاس اس لئے اہم تھا کہ یہ قرارداد لاہور (مارچ 1940ء) منظور کرنے کے بعد منعقد ہو رہا تھا۔ اس اجلاس میں مسلم لیگی رہنما عبدالحمید خان چیئرمین استقبالیہ کمیٹی نے مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کو کانگریسی دور حکومت (1937-1939) کی یاد دلائی اور کہا کہ کانگریسی صوبوں میں مسلمان بچوں کو بندے ماترم جیسا مسلمان دشمن ترانہ پڑھنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور گاندھی کی تصویر کی پوجا کی جاتی تھی۔ جب کہ مسلمان ہر قیمت پر اپنے مذہب، کلچر اور زبان کو قائم و دائم رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تصور سے خدشات میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اس سارے عرصے میں قائداعظم بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ایک روشن خیال اسلامی جمہوری ریاست ہو گی۔ جس میں انسانی مساوات، سماجی و معاشی عدل اور قانون کی حکمرانی کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوقومی نظریے اور اسی خواب کی تکمیل کے لئے ووٹ دیئے تھے۔ چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ ہم نے نظریہ پاکستان کے پہلے حصے پر عمل کر کے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان تو قائم کر دیا لیکن اس کا دوسرا حصہ تشنہ تکمیل ہے۔ جسے عملی جامہ پہنائے بغیر پاکستان کے تصور کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
کچھ دوستوں کا اصرار ہے کہ قائداعظم نے پاکستان کے حوالے سے کبھی نظریہ
(Ideology)
کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دو قومی نظریے کی بات کی۔ ان دوستوں سے گزارش ہے کہ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں صرف مدراس کے 1941جلسہ عام میں قائداعظم نے مسلم لیگ کے نظریے کے حوالے سے تین بار آئیڈیالوجی کا لفظ استعمال کیا۔ اسی تقریر میں قائداعظم نے واضح طور پر کہا ہماری منزل پاکستان ہے۔ اسی تقریر میں انہوں نے قومی ترقی کے لئے نظام تعلیم وضع کرنے اور معاشرتی ترقی کے لئے حکمت عملی بنانے کی بات کی اور اسی اجلاس میں عبدالحمید خان نے خطبہ استقبالیہ میں قرار دادا لاہور کو قرارداد پاکستان قرار دیا۔ حالانکہ 1940کی قرارداد میں پاکستان کا لفظ استعمال نہیں ہوا تھا۔


کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نظریہ پاکستان محض دو قومی نظریے کی بنیاد پر قیام پاکستان تک محدود نہ تھا بلکہ اسے ایک مخصوص ریاست بنانا بھی اس نظریے کا ناگزیر حصہ تھا۔ آئیڈیالوجی کا لفظ تحریک پاکستان کے دوران بار بار استعمال ہوا جس کے ذریعے تصور پاکستان کی وضاحت کی جاتی رہی۔


براہ کرم یہ بات یاد رکھیں کہ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ نظریہ پہلے موجود تھا ملک بعد میں معرض وجود میں آیا۔ گویا پاکستان کا جغرافیہ اس کی تاریخ کا مرہون منت ہے۔ میں اس اصول کا قائل ہوں کہ جو قوم اپنی تاریخ فراموش کر دیتی ہے اس کا جغرافیہ اسے فراموش کر دیتا ہے۔ اس لئے جغرافیے کی حفاظت کے لئے نظریے کو زندہ رکھنا ناگزیر ہے۔


میں سمجھتا ہوں کہ نظریہ پاکستان کی ترویج حکومت کا فرض ہے اور اسے نصاب کا حصہ بنانا حکومت پر لازم ہے۔ تصور پاکستان کے شعور کو زندہ رکھنے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کا استعمال بھی ضروری ہے۔ 14اگست، 23مارچ، 25دسمبر جیسے قومی ایام پر نظریہ پاکستان کی نشرواشاعت ہمارا قومی فریضہ ہے جسے ہمارا میڈیا پوری طرح نہیں نبھا رہا۔ اپنے ملک کی نظریاتی اساس کو مضبوط بنا کر ہی قومی اتحاد اور ملکی استحکام کے مقاصد پورے کئے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک لابی موجود ہے جو نظریہ پاکستان کے ضمن میں بدگمانیاں اور شکوک پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس لابی کے پس پردہ غیرملکی ہاتھ اور وسائل موجود ہوں۔ ان کی کارستانیوں کا توڑ کرنے کے لئے ایک ’’سیل‘‘ کی ضرورت ہے جو سکالرز پر مشتمل ہو اور میڈیا میں جہاں جہاں نظریہ پاکستان، قائداعظم اور تحریک پاکستان کے حوالے سے ابہام یا کنفیوژن پیدا کیا جائے یہ ’’سیل‘‘ اس کا مدلل جواب دے۔ میرے نزدیک یہ وطن سے محبت اور وفا کا تقاضا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
May

تحریر: علی جاوید نقوی

غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے۔

 

مقبوضہ کشمیر میں انڈین الیکشن ڈرامہ بُری طرح فلاپ ہوگیاہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کی نگرانی میں ان نام نہادضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار بھی منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی سرکار نے مقبوضہ وادی میں انتخابی ماحول بنانے کے لئے پیسے دے کر جعلی امیدوارکھڑے کئے،انتخابی مہم چلانے کے لئے بھی انھیں بھاری رقوم فراہم کی گئیں تاکہ غیرملکی میڈیا اورمبصرین کویہ تاثردیا جاسکے کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل امن ہے اورکشمیری انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں۔


ضمنی انتخابات کے موقع پربہت سخت انتظامات کئے گئے تھے۔بھارتی فوج نے ڈرادھمکا کرلوگوں کوپولنگ سٹیشنزلانے کی کوشش کی ۔کئی جگہ اعلانات کئے گئے کہ سیکورٹی فورسز چیک کریں گی کس نے ووٹ ڈالااورکس نے نہیں۔لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود الیکشن کاڈرامہ بری طرح فلاپ ہوگیا۔خود بھارتی میڈیا اورتجزیہ نگاروں کوبھی یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیربھارت کے کنٹرول میں نہیں رہا۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج تمام ترطاقت استعمال کرنے کے باوجود، کشمیریوں کوغلام بنانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جوبھارتی غلامی کے لئے تیارہو۔ہرشخص کی زبان پرآزادی کانعرہ ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن بھی کم ترین ٹرن آؤٹ اورعوامی بائیکاٹ سے پریشان ہے ، جس کے بعداننت ناگ میں ہونے والاضمنی الیکشن ملتوی کرکے اب 25مئی کوکرانے کااعلان کیاگیاہے۔

 

1غیرملکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ووٹنگ والے دن پولنگ اسٹیشنز سنسان پڑے تھے۔
2ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواربھی منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔
3بوڑھے، نوجوان بیٹوں کی نعشیں اٹھارہے ہیں لیکن ان کے چہروں پرخوف اورمایوسی کی بجائے آزادی کی امید ہے۔
4مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے بھارت،امریکہ سمیت، تمام ممالک کی پیشکشیں مستردکرچکاہے۔
5عالمی برادری کوطے کرناچاہئے بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل نہیں کرتاتواس کے ساتھ کیاسلوک کیا جائے،دوہرا معیارختم ہوناچاہئے۔
6بھارت ایک نام نہاد سیکولرریاست سے انتہاپسندہندوریاست کی طرف بڑھ رہاہے۔
7پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہاتھاکہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔کوئی اپنی شہہ رگ سے کیسے دستبردار ہوسکتاہے۔آج مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ پاکستانی پرچم لہرارہے ہیں،کشمیریوں کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں۔ کشمیری عوام نے بھارتی تشدداورخوف وہراس پھیلانے کے باوجود ان نام نہاد ضمنی انتخابات کاحصہ بننے سے انکارکردیاہے۔مقبوضہ کشمیرکے نوجوانوں کامقبول نعرہ ’’پاکستان زندہ باد،کشمیر بنے گاپاکستان‘‘ بن چکا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی محبت کا عالم یہ ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑمیں پاکستانی قومی ترانے کوانتہائی جوش وجذبے کے ساتھ پڑھتے ہیں،پاکستانی کرکٹرز جیسا یونیفارم پہنتے ہیں اورسبزہلالی پرچم اپنے گھروں پرلہراتے ہیں۔بھارتی فوج انھیں مارتی پیٹتی ہے، گرفتارکرتی ہے،اٹھالے جاتی ہے، لیکن وہ باربارپاکستان سے اپنی محبت کااظہارکررہے ہیں۔ایک کشمیری نوجوان نے الجزیرہ ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ’’ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہماری ماؤں،بہنوں کی عزت محفوظ نہیں، وہ ہمارے مذہب ’اسلام‘ سے نفرت کرتے ہیں،ہم سے نفرت کرتے ہیں، ہم بھارت کے ساتھ نہیں رہ سکتے‘‘۔بی بی سی سے گفتگوکرتے ہوئے ایک نوجوان نے کہا’’ہمیں الیکشن نہیں آزادی چاہئے‘‘۔کٹھ پتلی سیاست دان بھی اب اس بات کوسمجھ گئے ہیں کشمیری نوجوان الیکشن نہیں،حق خودارادیت چاہتے ہیں۔کشمیری نوجوان مختلف طریقوں سے بھارت سے اپنی نفرت کااظہارکررہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم جس کشمیری نوجوان کودہشت گرد کہتے ہیں وہ برہان وانی شہید ،کشمیری نوجوانوں کاہیرو ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے و الے احتجاج میں اب تک ایک سوسے زیادہ کشمیری شہید اور سولہ ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ نام نہادانتخابات رکوانے کے لئے احتجاج میں شہیداورزخمی ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

maqboozakashmirmain.jpg
بھارت میں ہندوقوم پرستی کواُبھارکرووٹ لینے والی بھارتیہ جنتاپارٹی ،مقبوضہ کشمیر میں بے بس نظرآتی ہے۔بی جے پی نے کامیابی کے لئے سرکاری مشینری کے ساتھ ساتھ لالچ اوردھونس سمیت ہرحربہ آزمایا لیکن وہ کشمیر ی حریت پسندوں اورحریت کانفرنس کورام نہ کرسکی ۔الیکشن کے دن بھارتی فوج اور دیگر فورسز کشمیریوں کوزبردستی ووٹ ڈالنے کے لئے مجبور کرتی رہیں ،لیکن کشمیریوں نے انھیں مسترد کردیا۔ کئی جگہ ووٹ ڈالنے کے لئے نوجوانوں کوتشدد کانشانہ بنایاگیا۔ ایسا لگ رہاتھا مقبوضہ کشمیر میں انتخابات نہیں ہورہے بلکہ فوجی مشقیں ہورہی ہیں۔ جگہ جگہ ناکے ،فوج کی گشت اورووٹ ڈالنے کے لئے کشمیریوں سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے۔کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جس نے احتجاجاََ ووٹ بھی نہیں بنوایا ہوا،وہ موجودہ بھارتی انتخابی عمل اورکٹھ پتلی ریاستی حکومت کوتسلیم ہی نہیں کرتے۔وہ جماعتیں اورکٹھ پتلی حکومت جوکل تک ریاستی جبراورتشددمیں برابرکی شریک تھیں ،کشمیری عوام کی ہمدردیاں اورووٹ حاصل کرنے کے لئے اب تشدد اورقتل عام کی مذمت کررہی ہیں۔چند سال پہلے بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کوکمزورکرنے کے لئے ایک نیا حربہ استعمال کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لئے دوسری ریاستوں سے بھارتی شہریوں کولاکرآبادکیاگیا،انھیں خصوصی مراعات دی گئیں۔ لیکن پھربھی بھارت اپنی برتری قائم نہ کرسکا۔
اس وقت ہزاروں کشمیر ی نوجوان بھارتی قید میں ہیں۔ جن کاجرم بھارتی تسلط سے آزادی اورجعلی انتخابات کابائیکاٹ ہے،یہ نوجوان چاہتے ہیں کہ انھیں حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرسکیں۔ خود بھارتی میڈیا اس بات کوتسلیم کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اکثریت بھارت سے آزادی چاہتی ہے۔ماضی میں بھارت سے وفادری دکھانے والے فاروق عبداللہ بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ’’ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکاہے اوربھارت کومقبوضہ کشمیر پرپاکستان سے بات کرنا ہوگی ،ورنہ کچھ نہیں بچے گا‘‘۔سوشل میڈیااور ٹی وی چینلزپروہ فوٹیج بہت دیکھی گئیں جن میں بھارتی فوجوں کودیکھ کرخواتین اوربچے گھروں میں چھپنے کے بجائے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوں اورسڑکوں پرنکل آئے،جواب میں بھارتی فوجیوں نے ان نہتے کشمیریوں پرپیلیٹ گن کاظالمانہ استعمال کیا۔اس پیلیٹ گن کے بارے میں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ’’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنادیتی ہے ‘‘۔ان پیلٹ گنوں کے باعث درجنوں بچے اورنوجوان عمر بھر کے لئے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مؤثرآوازنہیں اٹھائی،میرے خیال میں پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔


بھارت ایک طرف سلامتی کونسل میں مستقل نشست اورویٹو پاور کاامیدوار ہے تو دوسری طرف اس کی حالت یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمد کرنے کوتیارنہیں۔کیاعالمی برادری کوبھارت پراعتماد کرناچاہئے؟ہرگز نہیں، بھارت عالمی برادری کااعتماد کھوچکا ہے۔اس کارویہ جارحانہ اورعلاقائی بالا دستی کاہے۔وہ نیپال،بھوٹان اوربنگلہ دیش کی طرح دیگرریاستوں کوبھی اپنی سٹیٹس بناناچاہتاہے۔بھارت کایہ جارحانہ رویہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے بڑاخطرہ ہے۔


یہ وقت ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کوبھی سوچناچاہئے کہ اتنی زیادہ امریکی نوازشات کے باوجود ،بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے امریکہ کی پیشکش بھی قبول کرنے کوتیارنہیں۔ جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ سمیت تمام دوست ممالک کی پیشکش کوقبول کرتارہاہے۔بھارتی رویہ عجیب وغریب ہے۔عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی مصالحت کی پیشکش کرتی ہے توبھارت کہتا ہے یہ دوطرفہ مسئلہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر حل کرنے کاکہتاہے تو بھارت پینترا بدل کرموقف اختیارکرتا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اوروہ اس پر بات چیت نہیں کرے گا۔ لیکن کیایہ بھارتی چالاکیاں عالمی امن اورجنوبی ایشیاکے لئے تباہ کن نہیں؟عالمی برادری کوخاموشی اختیارکرنے کی بجائے اپنامؤثررول ادا کرناچاہئے۔ جوملک، چاہے وہ بھارت ہویاکوئی اور،اقوام متحدہ کی قراردادوں کوتسلیم نہیں کرتا اس پرپابندیاں عائد کردینی چاہئیں تاکہ دوسرے ممالک کوبھی نصیحت ہو۔ مسئلہ کشمیر یابھارت کے معاملے میں دوہرامعیار ،پوری دنیا کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔


دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر پربھارتی کنٹرول بھارتی فوجیوں کے جبروتشدد کی وجہ سے ہے۔جس دن بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا،مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنافیصلہ سنا دیں گے ۔کشمیریوں کے دل، دلی کے لئے نہیں اسلام آباد کے لئے دھڑکتے ہیں۔

 

سوشل میڈیااور ٹی وی چینلزپروہ فوٹیج بہت دیکھی گئیں جن میں بھارتی فوجوں کودیکھ کرخواتین اوربچے گھروں میں چھپنے کے بجائے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوں اورسڑکوں پرنکل آئے،جواب میں بھارتی فوجیوں نے ان نہتے کشمیریوں پرپیلیٹ گن کاظالمانہ استعمال کیا۔اس پیلیٹ گن کے بارے میں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ’’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنادیتی ہے ‘‘۔ان پیلٹ گنوں کے باعث درجنوں بچے اورنوجوان عمر بھر کے لئے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مؤثرآوازنہیں اٹھائی،میرے خیال میں پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔

بھارتیہ جنتاپارٹی کی فرقہ وارانہ اورقومیت پرمبنی سوچ نے بھی نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت کی دیگرمذہبی اقلیتوں کویہ سوچنے پرمجبورکردیا ہے کہ بھارت میں ان کامستقبل کیاہے؟مذہبی اقلیتیں عملاً دوسرے درجے کی شہری بن چکی ہیں۔آج بھارت میں آپ کسی مسلمان یاغیرہندوپرالزام لگادیں کہ اس نے گائے ،جسے سرکاری طورپرمقدس جانور قرار دے دیا گیاہے ، ’’بے حرمتی‘‘ کی ہے۔بس انتہاپسند ہندو اورریاست دونوں فورا حرکت میں آجائیں گے۔ اخبارات روزانہ ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں ،مسلمان نوجوانوں کوگائے کے معاملے میں کس طرح تشدد کانشانہ بنایاجاتاہے ۔بھارتی لوک سبھا کے بعض اراکین کھلے لفظوں میں کہہ رہے ہیں ’’انسانی جان کی قیمت گائے سے زیادہ نہیں ‘‘۔ بھارت بہت تیزی سے ایک نام نہاد سیکولرریاست سے ہندوریاست کاسفر طے کررہاہے۔جہاں کروڑوں انسانوں کی زندگیاں غیرمحفوظ ہوگئی ہیں۔ہمیں اس خدشے کوبھی مدنظررکھناہوگاکہ ہندووانہ پالیسیوں اورمظالم سے تنگ آ کر روہنگیا مسلمانوں کی طرح، بھارتی مسلمان اورغیرہندوبڑی تعدادمیں پاکستان اوربنگلہ دیش ہجرت کرسکتے ہیں۔حادثاتی طورپروزیراعظم کامنصب سنبھالنے والے کسی شخص سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ وہ جواقدامات کررہاہے اسے اُن کے سائیڈایفیکٹس کااندازہ بھی ہوگا۔
کچھ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے،ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے کیاکررہے ہیں،سرکاری طورپرکشمیریوں کی شہادت پراخباری ردعمل جاری کردیاجاتاہے اس کے بعد اس وقت تک ایک خاموشی ،جب تک مزید کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی خبرنہیں آجاتی۔ہمیں اپنے رویے کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے اندریہ احساس پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کشمیریوں کی امیدوں کامرکز ہیں۔کیاہمیں علم نہیں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ،مسئلہ کشمیر عالمی سطح پراجاگرکرنے کے لئے کیا اقدامات کررہے ہیں۔ سوائے خاموش رہنے کے۔ مجھے یاد ہے جب اُس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے بزرگ سیاست دان اوربابائے اپوزیشن نواب زادہ نصراللہ خان کوکشمیر کمیٹی کاچیئرمین بنایاتوانہوں مسئلہ کشمیر کواپنااوڑھنابچھونابنالیا۔کئی ممالک کے دورے کئے،ان کی ہرگفتگو،ہرخطاب اورہرانٹرویو کاآغاز مسئلہ کشمیر کواجاگرکرنے سے ہوتاتھا۔ ان کی بیٹھک کے دروازے کشمیریوں اورکشمیری رہنماؤں کے لئے کھلے رہتے تھے۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اب تک کئی فارمولے اورحل پیش کئے جاچکے ہیں،بہت سے بیک ڈورچینلز اورڈپلومیسی اختیارکی جاچکی ہے۔لیکن ان سب کوششوں کے باوجود مسئلہ کشمیر جوں کا توں اپنی جگہ موجود ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار بھارت کاہے ،جومیں نہ مانوں والی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔بہت سے حکمرانوں کادعوی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پہنچ گئے تھے لیکن پھرکوئی نہ کوئی ایساواقعہ ہوگیا کہ ساری محنت پرپانی پھرگیا۔


بھارت سرکار نے الیکشن کے انعقاد کوکامیاب بنانے کے لئے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کوجیلوں میں ڈال دیا، سیکڑوں کارکنوں کوگرفتارکرلیا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کامؤقف واضح ہے ’’نام نہاد انتخابات، حق خود ارادیت کامتبادل کسی صورت نہیں ہوسکتے‘‘۔ ایک طرف بھارتی مراعات اورپیشکشیں ہیں اوردوسری طرف مشکلات ،اذیتیں اورصعوبتیں ہیں۔ کشمیر ی، بھارتی غلامی سے آزادی کے لئے جان ومال کی قربانی دینے کاعزم کرچکے ہیں۔آج بوڑھے کشمیر ی اپنے جوان بیٹوں کی نعشیں اٹھارہے ہیں لیکن ان کے چہروں پرملال اورافسردگی نہیں ایک نئی صبح اوربھارت سے آزادی کی امید ہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ امریکہ کے جنگی اخراجات کو کم کرکے اسی سرمائے کو امریکی شہریوں کی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں گے۔امریکہ کے اندر وہ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتے ہیں، اس بارے تو کچھ کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔ تاہم شام اور افغانستان کو ملٹر ی انڈسٹریل کمپلیکس کی خوفناک جنگی ایجادات سے نواز کر دنیا کو بڑا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو تختہ مشق بنائے رکھنے کا امریکی وطیرہ برقرار رہے گا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ شام کے ائیربیس کو نشانہ بنانا اور افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانا ، ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پالیسی ہے یا اس نے اپنے اقتدار کے دوام اور کاروباری مفادات کی خاطر جنگی پالیسی کے سامنے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ گرچہ دونوں حملوں کا نشانہ براہ راست دو اسلامی ملک بنے ہیں تاہم بالواسطہ طور پر دونوں حملوں میں نہ صرف روس کے مفادات کو چوٹ پہنچی بلکہ باالفاظ دیگر اسے متنبہ کیا گیا ہے۔


صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے فوراً بعد سی آئی اے نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے، اس الزام کے تحت دونوں کے مابین سفارتی تعلقات میں تناؤ اتنا بڑھاکہ امریکہ نے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر بھی کردیا ، گرچہ اس وقت روس کی جانب سے بھی سخت ردعمل متوقع تھا مگر صدر پیوٹن نے اعلان کیا کہ روس ردعمل میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کریگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کہ جنہوں نے بطور صدر ابھی حلف نہیں لیا تھا، روس کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور امریکہ روس تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس سے قبل کہ نومنتخب امریکی صدر کی اس خواہش کو عالمی میڈیا میں پذیرائی ملتی متعدد ممالک کے کئی شہروں میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ جسے عالمی میڈیا کی بھرپور توجہ ملی۔ ان ہنگامہ خیز خبروں میں جنگی پالیسیوں میں بدلاؤ، حریف ممالک سے تعلقات میں بہتری جیسی امیدیں گم ہوکر رہ گئیں۔ نتیجتاً دو ملکوں شام اور افغانستان میں امریکہ نے انتہائی غیر متوقع اور غیر ضروری حملے کئے ہیں۔


7 اپریل 2017 کو علی الصبح مشرقی بحیرہ روم میں تعینات امریکی بحری بیڑے نے شام پر ٹوماہاک کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔ حملے میں امریکی بحری بیڑے نے شام کے صوبے حمص میں واقع الشعیرات اڈے پر59 ٹوماہاک کروز میزائل داغے۔الشعیرات اڈے کا جو کہ صوبہ حمص میں شہر حمص سے 31 کلو میٹر جنوب مشرق میں تدمر روڈ پر واقع ہے، شامی افواج اور باغیوں یا دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں اہم کردار رہا ہے ۔ حال ہی میں روس سے لئے جانے والے سخوئی اورمِگ 40 طیارے اسی بیس پر ہی رکھے گئے ہیں۔ روس اور شام نے ایس400 میزائل سسٹم کے لئے بھی اسی اڈے کا انتخاب کیا تھا۔ باالفاظ دیگر شام میں امریکہ نے جس اڈے کو نشانہ بنایا وہ شام اور روس کے مشترکہ زیراستعمال تھا۔
دوسرا بڑا حملہ مریکہ نے پاک افغان سرحد سے متصل صوبہ ننگرہار کے قریب اچین ضلع میں کیا۔ جس میں دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہر ی بم کو استعمال کیا گیا۔اس خوفناک بم کو ماسو آرڈننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) بم کہا جاتا ہے ، جس میں 11 ٹن وزنی بارودی مواد تھا۔ اپنے نام کے مخفف کے لحاظ سے، امریکی فضائیہ میں عرف عام میں اِسے ’’مدر آف آل بمز‘‘کہا جاتاہے ۔ یہ بم امریکی فضائیہ کے سی 130 طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے گرایا گیا۔ یہ 30فٹ لمبااور 40 انچ چوڑا ہے اور اس کا وزن 9500کلوگرام ہے ، وزن میں یہ ہیروشیما ایٹم بم سے دوگنا بڑاتھا۔عینی شاہدین کے مطابق بم پھٹتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ جیسے قیامت آگئی ہو۔ اس بم کی قیامت خیزی کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دواضلاع میں دور تک اس بم کی آواز سنی گئی اور اس کے اثرات افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بھی مرتب ہوئے۔متعدد علاقوں کی بیشتر عمارات میں دراڑیں آگئیں۔ اچین اور قریبی اضلاع میں پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے اور زمین میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ’’موآب‘‘ اس وقت چلایا گیا جب روس کے دارالحکومت ماسکو میں افغانستان کے مستقبل سے متعلق کانفرنس جاری تھی۔ اس کانفرنس میں خطے کے گیارہ ممالک چین، روس، ایران، ہندوستان، پاکستان، ازبکستان، قازقستان، ترکمانستان، کرغزستان،ا فغانستان اور تاجکستان شامل تھے۔

 

khitymainamank.jpgماسکو کانفرنس افغانستان کے امن سے متعلق اس تین رکنی فورم کا تسلسل تھی کہ جس میں پہلے ابتدائی طور پر چین ، روس اور پاکستان شامل تھے، بعد ازاں اس میں خطے کے تمام ممالک کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایسی کانفرنس کہ جس میں خطے کے تمام ممالک شریک تھے اس کا امریکہ نے بائیکاٹ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں خطے کے اندر روس کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا۔ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ امریکہ نے افغان امن سے متعلق ہونے والے سنجیدہ اقدامات یا مذکرات کو سبوتاژ کیا ہو۔ ماضی قریب میں بھی امریکی رویہ اس امر کا عکاس ہے کہ امریکہ بشمول نیٹو افغانستان میں پائیدار قیام امن کی کوششوں کو اپنے مفادات کے منافی سمجھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل چین نے بھی پاکستان اور افغانستان کو ساتھ لے کر ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا۔ امن کے حوالے سے کچھ پیش رفت بھی ہوئی کہ امریکی خواہش پر امریکہ کو اس میں شامل کرکے تین رکنی سے چار رکنی فورم کردیا گیا۔ امریکہ نے خود شامل ہونے کے بعد اس پلیٹ فارم سے بھی کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہونے دی بلکہ اقوام متحدہ میں جاکر افغانستان اور ہندوستان کو ساتھ ملاکر افغانستان کے مستقبل سے متعلق ایک نئی مثلث تشکیل دے دی۔ امریکہ کا یہ طرز عمل کم از کم اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ افغانستان میں سب کچھ امریکی ترجیحات میں شامل ہے ، ماسوائے امن کے۔


قرائن بتاتے ہیں کہ اکتوبر 2001ء میں نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ افغانستان میں امن کے دیپ روشن کرنے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے حصول اور خطے میں اپنی چودھراہٹ کا خواب لے کر آیا تھا۔ امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا تھا۔ ابھرتی ہوئی طاقت چین کا راستہ بھی روکنا تھا۔ ایران اور روس کے قریب بھی رہنا تھا اور پاکستان کے جوہری پروگرام پر بھی نگاہ رکھنا چاہتا تھا۔ بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قیام کے بعد افغانستان یا پاکستان میں امریکہ اپنا عسکری وجود بھرپور قوت کے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔اپریل 1996ء میں شنگھائی فائیو کی بنیاد رکھی گئی ۔جس میں روس اور چین دونوں شامل تھے۔ جبکہ ازبکستان شامل نہیں تھا۔ جون2001ء میں ازبکستان نے شمولیت اختیار کی۔جب شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وجود میں آنے کے تھوڑے ہی عرصے میں نائن الیون کا حادثہ برپا ہوا۔ گرچہ اس واقعے میں کوئی ایک حملہ آور بھی افغان نہیں تھا مگر اس کے باوجود افغانستان پہ امریکہ نے نیٹواور دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ چڑھائی کی۔ افغانستان جو کہ ایک طویل جنگی اور خانہ جنگی کی تاریخ اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ امریکہ کے لئے اتنا ہی آسان ہدف ثابت ہوا کہ آج سولہ سالہ قبضے کے بعد بھی امریکہ کو افغانستان میں دنیا کے سب سے بڑے بم چلانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔


اپنے وقت کی تین بڑی طاقتوں نے یکے بعد دیگرے افغانستان کوترنوالہ بنانے کی کوشش کی ہے مگر بالآخر تینوں کی کوششیں ناکامی پہ منتج ہوئیں۔ سلطنت برطانیہ ،کہ جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، نے دو دفعہ افغانستان سر کرنے کی کوشش کی۔ 1838سے 1842، 1870سے 1880،اینگلو افغان جنگوں میں افغان قبائل کے بیچ پھوٹ ڈالنے کے باوجود بھی برٹش افواج کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ 1979ء میں کمیونسٹ روس افغانستان میں داخل ہوا۔ افغانستان میں پندرہ ہزار روسی فوجوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔افغانستان سے نکلنے والے آخری روسی فوجی کے الفاظ تھے کہ نو سالہ جنگ کے بعد آج ایک بھی روسی فوجی افغانستان میں موجود نہیں ہے۔ اکتوبر2001 میں امریکہ نے نیٹو ممالک کے ساتھ حملہ کیا۔ 16سالہ جنگ کے بعد اسی افغانستان میں امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانا پڑا ۔ 2013 ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے جریدے میں عراق اور افغان جنگ پر امریکی اخراجات کا تخمینہ چار سے چھ ٹریلین یو ایس ڈالر لگایا گیا۔
گزشتہ تیس سال سے افغانستان منظم اداروں سے محروم ملک چلا آرہا ہے، جس کے باعث اپنے وسائل اور آبادی کے اعداد و شمارکے حوالے سے بھی دوسروں کا دست نگر ہے۔ اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق پختون افغانستان کی کل آبادی کا تقریباً42فیصد، تاجک27فیصد،ہزارہ 11فیصد، ازبک9فیصد ہیں جبکہ ایمق، ترکمن،بلوچ، نورستانی اور قزلباشوں کی بھی قابل ذکر تعداد افغان آبادی کا حصہ ہے۔ مشرقی اور جنوبی افغانستان کو خالصتاً پشتونوں کا علاقہ قرار دیا جاتا ہے ۔کابل کے جنوب مغرب میں واقع علاقے بھی روایتی طور پر پختونوں ہی کا خطہ تصور کئے جاتے ہیں ۔تاجک زیادہ تر کابل شہر ، بدخشان اور کاپیسا کے صوبوں میں مقیم ہیں ، لیکن دوسری طرف انتہائی جنوبی صوبے یعنی ہرات میں بھی تاجکوں کی کافی بڑی تعداد نے سکونت اختیار کررکھی ہے ۔ ہزارہ نسل کے لوگ وسطی افغانستان میں مقیم ہیں ۔ ان کے اس علاقے کو ہزارہ جات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور بامیان صوبے کو اس کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے ۔ ایمق افغانستان

کے وسطی پہاڑی سلسلے کے مغربی علاقوں میں بس گئے ہیں ۔ کوہ ہندوکش کے شمال کا علاقہ ازبک قوم کا علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور مزار شریف کو ان کے مرکز اور اہم شہر کا درجہ حاصل ہے ۔


ایک طرف طویل جنگی تاریخ اور جنگ کو بطور پیشہ اپنائے رکھنے والے وہ افغان ہیں، جو نسلی، مسلکی اور لسانی اعتبار سے منقسم ہیں اور پاور شیئرنگ پہ بھی یقین نہیں رکھتے۔ دوسری طرف افغانستان پرامریکہ اور نیٹو کی صورت میں وہ قوت مسلط ہے کہ جو اپنا مفاد آج بھی جنگ اور بدامنی میں کھوجتی ہے۔ جس کے باعث مستقبل قریب میں افغانستان کے حالات میں بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔حتیٰ کہ امریکہ و نیٹوفورسز کا افغانستان سے فوری اور مکمل انخلابھی افغانستان میں پائیدار قیام امن کی ضمانت نہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان سرزمین پر متحارب قبائل و گروہ ہوں کا پاور شیئرنگ پر یقین نہ ہونا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف مختلف جہادی گروہ برسرپیکار تھے جو کہ امریکی مفاد کی جنگ لڑ رہے تھے جسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے ’’جہاد‘‘ ڈکلیئر کیا گیا ۔ ’’مجاہدین ‘‘ اپنی دانست میں ’’جہاد‘‘ اور حقیقت میں مختلف ممالک کے مفادات کی لڑائی میں مصروف رہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوویت یونین کے افغانستان میں آنے سے انخلاء تک امریکی مفاد کی جنگ لڑی گئی۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے نائن الیون تک خطے کے بالخصوص پڑوسی ممالک کے مفادات کی جنگ افغان و بیرونی گروہوں نے لڑی۔ اکتوبر 2001سے تاحال دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر قبضے اور عزائم کے حصول کی جنگ جاری ہے۔ان تمام جنگوں کے باوجود یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کوئی ایک بھی مسلح گروہ دوسرے کی بالادستی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ یہ مسلح گروہ دوسرے ممالک کی مفاد کی جنگ بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، جس کو بنیاد بناکر مستقبل کے نئے نقشے ترتیب دینے کی چہ میگوئیاں ہیں۔


سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، جبکہ امریکہ کے افغانستان پہ حملے و قبضے میں پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اور نان نیٹو اتحادی تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ افغانستان کی تعمیر و ترقی بالخصوص شعبہ جاتی و ادارہ جاتی تعاون میں پاکستان کو مقدم رکھتا ، اس کے برعکس امریکہ نے افغانستان میں نہ صرف بھارت کے قدم مضبوط کئے، بلکہ پاکستان کی تمام تر قربانیوں اور تعاون کو فراموش کرتے ہوئے دہشتگردوں سے تعاون کا الزام عائد کیا۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کو وار زون ڈکلیئر کرتے ہوئے پاکستانی علاقے میں کارروائیاں بھی کیں۔ افغانستان سے ماضی کے ’’مجاہدین‘‘ اور حال کے ’’دہشتگردوں‘‘ کو فاٹا میں دھکیلا گیااور پھر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فاٹا میں آپریشن کرے۔ پاکستان سے اس میں کچھ توقف ہوا تو تحریک طالبان پاکستان بن گئی ۔ جس کا مرکز پہلے فاٹا اور فاٹا میں فوجی آپریشن کے بعد افغانستان شفٹ ہوا۔ جہاں سے براہ راست یہ بھارتی سرپرستی میں چلی گئی۔بھارت نے بھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ مشرقی سرحد پر جنگ کے ذریعے کبھی بھی پاک فوج کو زیر نہیں کرسکتا، اس نے مغربی سرحد پہ بھی پاک فوج کو انگیج کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کے دفاع و سلامتی پر دہشتگردانہ حملوں کی افغانستان کی زمین سے براہ راست سرپرستی بھی کی۔ دوسری جانب امریکہ افغان طالبان کی قوت توڑنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکا۔ سولہ سالہ جنگ کے بعد بھی افغان طالبان ایک حقیقت ہیں اور کئی علاقوں میں اپنا مسلمہ وجود رکھتے ہیں۔گرچہ پاکستان افغان طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی تھا، اس کے باوجود آج بھی امریکہ و افغان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز تک لائے۔ حالانکہ اس تاثر کو اب ختم ہونا چاہئے کہ افغان طالبان پاکستان کے زیر اثر ہیں اور پاکستان کی بات مانتے ہیں، یہاں تک کہ جب ملا عمر برسراقتدار تھے تو اس وقت انہوں نے جنرل مشرف کی بات نہیں مانی تھی اور جنرل محمود کو خالی لوٹا دیا تھا۔


یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ داعش کا جنم اس وقت عراق میں ہوا جب امریکہ عراق میں موجود تھا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ داعش کے بنانے میں امریکی کردار کارفرما تھا۔داعش نے انتہائی مختصر عرصے میں یورپ سمیت کئی ممالک میں اپنے وجود کا احساس دلایا۔ بالخصوص یورپ کے ان ممالک کو داعش نے زیادہ نشانہ بنایا ،جنہوں نے عراق و شام میں بمباری کے لئے امریکہ کا ساتھ دینے سے معذوری اختیاری کی، جیسا کہ فرانس۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح افغانستان میں بھی داعش نے اپنی موجودگی کا اعلان کیا اور داعش میں سب سے پہلے ان دہشت گردوں نے شمولیت کا اعلان کیا، جنہیں بھارتی یا اس کے سرپرستوں کی چھتر چھایا حاصل تھی۔ جس سے اس خیال کو تقویت ملی کہ اب طالبان کی قوت کو توڑنے اور افغانستان کو ’’کنٹرولڈ ڈسٹرب‘‘
(Controlled Chaos)
میں رکھنے کے لئے باقاعدہ طور پر افغانستان میں داعش کی سرپرستی کی جارہی ہے ۔خطے میں اس نئے وبال سے افغان حکومت سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑی اور داعش کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کی فضا میں روس، ایران، چین ، پاکستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں سے روابط بھی کھل کرسامنے آئے۔ یہ وہی دور تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے مری مذاکرات کا اہتمام کیا، مگر ’’دوستوں‘‘ کو کہاں گوارا تھا کہ افغانستان میں امن سے پورا خطہ پرسکون ہو اور تعمیر و ترقی کی شاہراہ پہ چلے۔ چنانچہ مختصر وقفے سے طالبان امیر ملا اختر منصور کو بلوچستان میں نشانہ بنایاگیا، جس کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان مذاکرات کے ذریعے امن کا قیام ایک خواب بن کررہ گیا۔


بھارت میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ ویل نے چند برس قبل اپنی حکومت کو افغانستان میں امن سے متعلق ایک تجویز پیش کی تھی، گرچہ اس تجویزکے مطابق رابرٹ ویل نے امریکی حکومت اورنیٹو کو مشور ہ دیا تھا کہ پختون افغانستان اور غیر پختون افغانستان کوتقسیم کردیا جائے۔ بیرونی افواج (امریکہ، نیٹو) غیر پختون افغانستان (شمالی افغانستان) میں اپنا مرکز رکھیں۔ گرچہ طالبان کا گڑھ پختون علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم طالبان ، یا بیرونی افواج کے خلاف متحرک گروہ لسانی طور پر منقسم نہیں ہیں۔ مختلف لسانی گروہ افغانستان کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر شمال میں واقع قندوز صوبے میں پختونوں کی اکثریت ہے تو دوسری طرف جنوبی صوبے ہرات میں تاجک، ازبک، ہزارہ اکثریت میں ہیں جبکہ لوگر جیسے پختون علاقوں کے درمیان واقع صوبے میں بھی بڑی تعداد میں تاجک بستے ہیں ۔ ایسا بھی نہیں کہ شمال میں رہنے والے صرف ایک قومیت کے لوگ ہیں، یا جنوب میں صرف ایک ہی زبان کے بولنے والے موجود ہیں۔ چنانچہ لسانی بنیادوں پر تقسیم یا امن کی خواہش شائد اتنی سود مند نہ ہو ، تاہم انتظامی بنیادوں پر تقسیم اور پاور شیئرنگ کے ذریعے کسی حد تک افغانستان میں امن ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ شام کی طرز پر افغانستان میں بھی ’’پیس زونز‘‘ قائم کرکے کئی علاقوں میں امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ شاعر مشرق افغانستان کو ایشیا کا قلب مانتے تھے۔ قلب میں بے سکونی ہو تو جسم میں سکون ممکن نہیں، لہٰذاخطے کے امن کے لئے پرامن افغانستان ضروری ہے۔ جس کے لئے خطے کے تمام ممالک کو نیک نیتی سے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔


آسیا یک پیکرِ آب و گِل است
ملتِ افغاں در آں پیکر دل است
از گشادِ او گشادِ آسیا
از فسادِ او فسادِ آسیا

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
May

تحریر: جویریہ صدیق

22فروری سے آپریشن رد الفساد ملک بھر میں جاری ہے۔فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب لگانے کے لئے جس آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے ابتدائی مراحل کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اچانک بڑھ گئے تھے جو اب بہت حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے پیچھے پاک فوج‘ انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور رینجرز کی شب و روز کی محنت کارفرما ہے۔


آپریشن رد الفساد کے تحت فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بارڈر مینجمنٹ، ملک سے ناجائز اسلحے اور بارودی مواد کا خاتمہ، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور دہشت گردوں اور خارجیوں کی کمین گاہوں کے خاتمہ پر بھی مثبت پیش رفت جاری ہے۔
آپریشن رد الفساد کے آغاز میں ہی دو مزید چیزیں سامنے آئیں جن سے فوج نبرد آزما ہے وہ ہے انتہا پسندی اور افواہ سازی۔ سوشل میڈیا پر جعلی سرکلر کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ہمارے خودساختہ دانشور بنا کسی تحقیق کے اس سرکلر کو اچھالتے رہے اور دو صوبوں کے درمیان نفرت کو ہوا دیتے رہے۔ہمارے کچھ میڈیا کے بہن بھائی جن کے پاس خبروں کی کمی ہوتی ہے وہ بھی جعلی خبروں کو اچھالنا شروع ہوگئے۔


بعد ازاں یہ بھی پتہ چل گیا کہ سرکلر جعلی ہے پھر بھی پنجاب پولیس نے معذرت کی۔ لیکن اس جعلی سرکلر کی آڑ میں پاکستان اور پاکستان کے عسکری اداروں پر بے تحاشہ کیچڑ اچھالا گیا۔
یہ واقعہ یہاں پر اس بات کو عیاں کرگیا کہ جنگ اور آپریشن اب صرف زمین پر نہیں ہوتے بلکہ جنگیں اب سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاپر بھی لڑی جارہی ہیں۔کسی بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرتے وقت یہ بات پیشِ نظر رکھی جائے کہ اس کے مخالف سوشل میڈیا اور دوسرے میڈیا پر کیا کہا جا رہا ہے؟ تنقید برائے تنقید اور ملک کو بدنام کرنے کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ان کے پیچھے کون سی لابی ہے؟ فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ اس پر بھی ایک رد الفساد کی اشد ضرورت ہے۔


دوسرا اہم پہلو جو رد الفساد کے آغاز کے بعد سامنے آیا وہ ہے انتہا پسندی۔ جوکہ ہمارے معاشرے میں موجود تو پہلے سے ہے لیکن اب اس کا استعمال دہشت گردوں نے منظم طریقے سے شروع کردیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں دہشت گردوں کی مبینہ ساتھی نورین لغاری کی ویڈیو جاری کی۔ جس کو دیکھ کر ہر پاکستانی ماں اور باپ ورطۂ حیرت میں آگئے کہ ہمارے بچے تعلیمی اداروں سے کہاں سے کہاں پہنچ سکتے ہیں۔نورین لغاری کے والد پروفیسر‘ وہ خود میڈیکل کی طالبہ کیسے دہشت گردوں تک پہنچ گئی۔ یہاں پر ذمہ داری فوج یا حکومت پر نہیں والدین پر عائد ہوتی ہے۔فوج نے تو اس کو بازیاب کروایا‘ اس کی بحالی پر کام چل رہا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لڑکی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوگئی اور والدین غافل رہے۔


فوج کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر گھر یا یونیورسٹی میں آکر دیکھے کہ ہماری نئی نسل اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر کیا کررہی ہے؟ ان کے فیس بک فرینڈز کون ہیں؟ وہ ٹویٹر پر کس کس کو فالو کرتے ہیں؟ان کے دوست احباب کون ہیں؟ ان کے اساتذہ کس طرح کے خیالات کے مالک ہیں؟کیا رد الفساد میں بحیثیت پاکستانی ہم سب کا فرض نہیں بنتا کہ اپنا اپنا حصہ ڈالیں؟ کیا پاک وطن کے دفاع کے لئے میرا آپ کا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے اردگرد دہشت گردی اور انتہا پسندی کو رپورٹ کریں؟ جہاں تک ہوسکے اس کا سدباب کرنے کی کوشش کریں؟

 

آپریشن رد الفساد کے تحت فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہے ہیں۔

آپریشن رد الفساد کی ایک اور بڑی کامیابی کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کا ہتھیار ڈالنا ہے۔اپنے اعترافی بیان میں احسان نے طالبان کی حقیقت کو عیاں کردیا ہے طالبان کوئی اسلام کی جنگ نہیں لڑ رہے وہ کرائے کے قاتل ہیں اور اس وقت را اور این ڈی ایس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔انہیں بھارت اور افغانستان سے بھاری فنڈنگ دی جاتی ہے جس کے بعد وہ پاکستان میں آکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہے ۔یہاں تک کے طالبان پاکستان کے خلاف اسرائیل سے بھی مدد لینے کو تیار تھے ۔ایک اور خوفناک انکشاف جو احسان اللہ احسان نے کیا وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر طالبان اسلام کی غلط تشریح کرتے رہے اور نوجوانوں کو بھٹکایا۔اس اعتراف یہ بات مزید عیاں ہوگی کہ ہمارے دشمنوں اور دہشت گردوں کا مین ہدف اب ہماری یوتھ ہے۔وہ انہیں ورغلا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔


فوج اپنی جنگی ڈاکٹرائن کے تحت کامیابی کے ساتھ ردالفساد آپریشن کررہی ہے۔اس سے پہلے ہونے والے ملٹری آپریشنز، المیزان، راہ راست،راہ نجات اور ضرب عضب خالصتاً فوج نے لڑے۔لیکن رد الفساد میں عوام کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا انہیں اسلحہ نہیں اٹھانا، انہیں خود فیصلے کرکے ہجوم کا انصاف نہیں کرنا، انہیں صرف اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے ہیں۔ اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہے کہ ان کے دوست کون ہیں اور وہ اپنا جیب خرچ کہاں صرف کررہے ہیں۔اگر ان کے رہن سہن میں بدلاؤ دیکھیں تو ان سے بات کریں انہیں ماہر نفسیات کو دکھائیں۔ان کو راہ راست پر لائیں۔


مکان کرائے پر دیتے وقت نادرہ کا شناختی کارڈ طلب کریں۔اس کی قریبی نادرہ سینٹر سے تصدیق بھی کروائیں کہ اصلی ہے یا جعلی۔ملازم رکھتے وقت اس کے کوائف کی بھی تصدیق کروائیں۔کسی کو گاڑی کرائے پر دیتے وقت لائسنس اور شناختی کارڈ کی کاپی اپنے پاس رکھیں۔اپنا شناختی کارڈ دیتے وقت اس پر لکھ دیں کس مقصد کے لئے آپ یہ شناختی کارڈ دے رہے ہیں۔کسی بھی شخص، رشتہ دار یا عزیز کو اپنے شناختی کارڈ پر سم خرید کر نہ دیں۔آپ کی کم فہمی سے کہیں ایسانہ ہوکہ آپ دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہوجائیں۔


فسادی اب فساد کا بیج ہمارے تعلیمی اداروں میں بو رہے ہیں۔عسکری طور پر شکست کے بعد اب ان کا ٹارگٹ ہمارے بچے ہیں جنہیں وہ برین واشنگ کرکے ورغلا رہے ہیں۔تعلیمی اداروں میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لئے جامعات میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند ہونا چاہئے۔ وہاں پر سیاسی جماعتوں کے ونگز پر پابندی عائد کی جائے، اسلحے کی ممانعت ہو، درس گاہوں کی انتظامیہ اور اساتذہ کے لئے بھی قوانین مرتب کئے جائیں جس کے تحت نہ تو وہ دائیں اور نہ ہی بائیں بازو کی انتہا پسندی کو فروغ دے سکیں۔نصاب میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ 1980 کا نصاب 2017 میں پڑھانا زیادتی ہے۔ دنیا بدل چکی ہے ہم ٹریکٹر کے چار پہیوں میں پھنسے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کے درمیان ہر ماہ میٹنگ رکھی جائے تاکہ طالب علم کی کارکردگی سے اس کے والدین آگاہ رہیں۔بچوں کے بڑے ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ گھر والے ان کی سرگرمیوں سے غافل ہو جائیں۔


فوجی اپنا کام کررہے ہیں، لیکن، کیا آپ اپنا کام کررہے ہیں؟کچھ فسادی سوشل میڈیا پر ہر وقت پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ہر محب وطن پاکستانی کا بھی فرض بنتا ہے کہ جواب دلیل اور حقائق کے ساتھ دیں۔سوشل میڈیا پر بیٹھے یہ فسادی طالبان اور داعش سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔یہ دہشت گردعالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اگر ان کے خلاف کارروائیاں نہ کی گئیں تو وہ پاکستانی ریاستی اداروں کو مزید متنازعہ بنا کر پیش کرتے رہیں گے۔پاکستانی بلاگرز اور انٹرنیٹ سٹارز کو چاہئے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے سے ملک میں اعتدال پسندی اور پاکستانیت کو فروغ دیں۔


سیاستدان بھی ایک دوسرے کے خلاف سیاسی چپقلش میں نوجوان نسل کو استعمال نہ کریں۔نوجوان ملک کا ساٹھ فیصد ہیں انہیں تعلیم، ثقافت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔شعرائے کرام، فلم، ڈرامہ نگار، ادیب اور دانشور انتہاپسندی کے خلاف لکھیں اور ملک سے محبت کا کلام لکھیں۔صحافیوں کو بھی چاہئے کہ وہ مثبت خبروں پر کام کریں ہر وقت منفی خبریں دیکھنا بھی ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔


عوام سے گزارش ہے چندہ دیتے وقت یہ خیال رکھیں کہ آیا آپ ان پیسوں سے فلاحی کام ہی کررہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنے ہم وطنوں کے خلاف استعمال ہونے والی گولی خرید رہے ہیں۔دہشت گردوں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان، ملا فضل اللہ، مجلس الاحرار، داعش اور لشکر جھنگوی کو بہت بڑی فنڈنگ بھارت سے مل رہی ہے۔ان پیسوں سے یہ سہولت کار خریدتے ہیں۔ سہولت کار بارڈر پار سے نہیں آتے، یہیں موجود ہیں۔کچھ لوگ تو سادہ لوحی میں اور کچھ پیسوں کے لالچ میں ایسا کر جاتے ہیں۔مقامی لوگ دہشت گردوں سے ہوشیار رہیں اور اپنی ہی دھرتی کے خلاف استعمال نہ ہوں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے اور ہمیں مل کر فسادیوں سے اپنا ملک پاک کرنا ہوگا۔ تو آئیے مل کر اپنی فوج کا ساتھ دیں اور ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

مضمون نگار صحافی اور فوٹوگرافر ہیں اور ’سانحہ آرمی پبلک سکول شہداء کی یادداشتیں‘ کتاب کی مصنفہ ہیں ۔

Twitter @javerias

 
09
May

تحریر: محمد عامر رانا

انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔

 

جب کچھ رجحانات خطرے کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں توان کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور نفسیاتی توجیحات کی جاتی ہیں۔ ان موضوعات پر تحقیق مسلسل جاری ہے لیکن فی الوقت یہ یقین کرنے میں وقت درکار ہے کہ وہ کیا عمل ہے جوکسی فرد کی ذہنی کیفیت یکدم تبدیل کردیتا ہے اور وہ دہشت گردی کا ایندھن بننے پر تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ ایسے افراد دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے منسلک ہونے سے پہلے مذہبی اجتماعیت کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں اور عموماً ان کا یہ سفر غیر عسکری مذہبی جماعتوں اور تحریکوں سے شروع ہوتا ہے۔
غیر عسکری مذہبی قوتیں ابہام کا شکار ہیں اور وہ دہشت گردی کی مکمل مخالفت کرنے سے ہچکچاتی ہیں اور اس ابہام کا الزام اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں۔ جب دینی مدارس یا ان سے منسلک تنظیموں کے وابستگان دہشتگردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو جدید مذہبی ادارے ان سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جدید تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے افراد دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو مدارس کے وابستگان انگشت نمائی دوسری جانب کرتے ہیں۔


یہ مسئلے کے ادراک سے انکار اور راہ فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شدت پسندی کا مسئلہ خاصا پیچیدہ ہے اور ریاست اسے فوری حل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ حل کیا ہو؟ بات گھوم پھر کر بیانیے پر آ کر ٹک جاتی ہے۔ بیانیے کو ایک موم کی ناک سمجھا جاتا ہے کہ جیسے چاہے موڑ لی یا گھما دی۔ نہ صرف حکومت بلکہ دانشور طبقے کا ایک حصہ بھی اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ بیانیے آرڈر پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔ گویا جب ایک بیانیے کی افادیت باقی نہ رہے یا اس سے نقصان ہونے لگے تو فوری طور پر اسے نئے بیانیے سے تبدیل کر دیا جائے۔


اس حوالے سے پاکستان میں دو آراء پائی جاتی ہیں ۔ ان میں پہلا خالصتاً مذہبی بیانیہ ہے اور ریاست نہ صرف اسے قبول کرتی ہے بلکہ خود کو اس اقلیم کا محافظ بھی گردانتی ہے۔ دوسرا بیانیہ سیکولر ہے جسے متبادل بیانیہ بھی کہا جاتا ہے جو کہ جدید اور ترقی پسند سماج کا تصور پیش کرتا ہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے اس مسئلے کا طویل مدتی حل تجویز کیا جاتا ہے جس میں نصابی اصلاحات سے ثقافتی اظہار اور سماج و ریاست کے باہمی تعلقات میں تبدیلی سمیت بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ یقیناًیہ دہشت گردی کے مسئلے کا فوری حل نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’نظریے کی جنگ‘‘میں ریاست مدد کے لئے اپنے مذہبی نظریاتی اتحادیوں کی جانب واپس ہو لیتی ہے۔

 

ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔

دوسری جانب مذہبی طبقہ مقتدر اشرافیہ کا حصہ بن کر اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ تاہم مذہبی رہنما اس مسئلے کا ٹھوس حل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دہشت گردی کے واقعات کی محض’مذمت‘اور ذمہ داروں کو ’بھٹکے ہوئے‘ قرار دینے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ اس سے شدت پسندانہ نظریات کی کشش کم کرنے کے لئے موثر متبادل بیانیہ تشکیل دینے میں بھی کوئی مدد نہیں ملتی۔


شدت پسندوں کے بیانیے کی طاقت ان کی مذہبی دلیل یا اسلام کی مخصوص تشریح میں چھپی ہے۔ اس لئے مذہبی انتہاپسندوں کی اصل طاقت ان کی نظریاتی ساخت میں پوشیدہ ہے جس کی بنیاد مذہبی حجت پر استوار ہے اور اسے سیاسی استدلال سے تقویت ملتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف سطحی بیانیوں کی آویزش نہیں ہے بلکہ اس کا مذہبی استدلال یا اسلامی احکامات کی تشریح سے گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ مذہبی اشرافیہ متبادل بیانیوں کے لئے تیار نہیں ہے یا اس میں نیا بیانیہ پیش کرنے کی اہلیت ہی نہیں پائی جاتی۔حکومت نے نیشنل ایکشن پلان میں نفرت پر مبنی تقاریر پر پابندی کے نکتے کو درست یا غلط طور پر انتہاپسندی کے خاتمے کے اقدامات کا متبادل سمجھا ہے۔ تاہم غور کیا جائے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ربط اور ان پر اعتماد کی کمی تمام مسائل کی جڑ ہے جسے تاحال کمزور نہیں کیا جا سکا۔ یہی خلا پر کرنے کے لئے ’نیکٹا‘کا قیام عمل میں آیا تھا مگر حکام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سامنے آ کر لڑنے کے بجائے بیانیے کنٹرول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔


عموماً ’نیکٹا‘کے غیرموثر ہونے کے لئے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے طاقتور اداروں کی جانب سے عدم تعاون کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے مگر خود حکومت نے بھی ’نیکٹا‘کو مناسب وسائل اور اعانت مہیا نہیں کی۔ اگر ایسا ہوتا تو دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا یہ ادارہ فعال اور موثر کردار ادا کر سکتا تھا۔

 

دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ نیکٹا‘ نے اپنے لئے یہ انتہائی مشکل کام منتخب کرتے ہوئے یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ اسے متبادل بیانیے تخلیق کرنے میں کسی ادارے کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا۔
بیانیے نعرے یا جھنکار نہیں ہوتے۔ بیانیے کسی معاملے پر وسیع تر مطابقت اور کسی قوم کی سوچ کا اظہار ہوتے ہیں۔ ان کی جڑیں کسی قوم کی تہذیبی گہرائی اور افراد و سماج کے رویوں میں پیوست ہوتی ہیں مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بیانیے کی بنیاد ایک معقول ساخت پر قائم ہوتی ہے۔ یہ ساخت یا ڈھانچہ مخصوص اقدار کا حامل ہوتا ہے جن کو اپنانے سے رویے تشکیل پاتے ہیں اور انہیں رہنمائی ملتی ہے۔ ایسے کاموں میں ریاست کا بھی اہم کردار ہے مگر اس کے لئے سماج کی رضامندی اور اتفاق رائے بھی شامل ہوتے ہیں۔


ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔
دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے انسداد دہشت گردی کے صوبائی محکمہ جات کو بہرصورت مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں کام کرنے والے شعبہ جات کو مزید انسانی وسائل، فنڈ، تربیت اور سب سے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں سے تعاون درکار ہو گا۔


پہلے معاملے کا تعلق انتہا پسندی کے بدلتے ہوئے رجحانات سے ہے بالائی متوسط طبقات کے نوجوانوں میں تعلیمی اصلاحات، بالخصوص نصاب کے کلیدی مقاصد کا ازسرنو جائزہ، کسی بھی سی وی ای کاؤنٹر وائیلنٹ ایکسٹریم ازم
Counter Violent Extremism
پالیسی کا انتہائی اہم عنصر ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت سا علمی کام ہوچکا ہے لیکن تیزتر اور مستقل تحقیق اور تعلیمی مراکز کے قیام کی ضرورت باقی ہے۔ ماہرین تنقیدی سوچ کی تعمیر کو تعلیم کا بنیادی مقصد مانتے ہیں۔ شہریت اور’ سوک ایجوکیشن‘ کو بنیادی تعلیم (چاہے نجی یا سرکاری سکول ہو یا مدرسہ)کے دوران نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔ طلبہ کو اچھا شہری بنانے پر زور دیا جانا چاہئے اور آئین اور قانون کی پاسداری کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔
کسی بھی سی وی ای میں داخلی سکیورٹی اصلاحات کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔ یہاں ہمیں اہم سٹریٹجک ترجیحات اور ان کے داخلی سکیورٹی سے تعلق کے دوبارہ جائزے کی ضرورت ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 256 کے مکمل نفاذ کی ضرورت ہے جس میں واضح کہا گیا ہے کہ کوئی نجی تنظیم قائم نہیں کی جائے گی جو کسی فوجی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے کے قابل ہو، ایسی ہرتنظیم غیر قانونی ہوگی۔ اسی کے ساتھ قومی دھارے میں پرتشدد نظریات کو فروغ دینے والے افراد یا گروہوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔


نسلی و سیاسی، سماجی و ثقافتی اور مذہبی اتصال کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال مخصوص ہے۔ ہمارے لئے آئین پاکستان سے وفاداری کی بہت اہمیت ہے۔ آئین ایک جامع عمرانی معاہدہ ہے جس پر مختلف نقطۂ نظر سے تعلق رکھنے والوں کا اتفاق ہے۔ ریاست اور سماج دونوں کو اس سے رہنمائی لینی چاہیے۔ پاکستان کے مثبت بیانیے کا ماخذ اسی کو ہونا چاہئے اور آئین کو دھیرے دھیرے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔
یہ محض چند تجاویز ہیں۔ ماہرین اور دیگر افراد اس میں مزید حصہ ڈال سکتے ہیں اور بہترمشورہ دے سکتے ہیں۔ مشاہدات اور تجاویز جمع کرنے کے لئے حکومت کو کوئی طریق کار مرتب کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار ایک معروف تجزیہ نگار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

تحریر:خورشیدندیم

پُر تشدد انتہا پسندی کا رد
(Counter Violent Extremism)
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا اور حکمرانوں کے انتخاب کا حق عوام کو منتقل ہو گیا تو بطور ہتھیار تشدد کی پذیرائی کا امکان ختم ہو گیا۔


تشدد انقلابی تحریکوں کا ہتھیار رہا ہے۔ انہوں نے ’’ سٹیٹس کو ‘‘ کو توڑنے کے لئے، غور وفکر کے بعد، تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کیا۔ ماؤزے تنگ اور لینن نے اپنی انقلابی حکمتِ عملی کے تحت تشدد کا ذکر کیا۔اس کی تائید میں دلائل دئیے اور خون بہانے کو انقلاب کی ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکیت کے زیر اثر دنیا بھر میں جو انقلابی تحریکیں برپا ہوئیں انہوں نے اعلانیہ تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ یہ تشدد اگرچہ ریاست کے خلاف تھا لیکن بالواسطہ طور پراس کا ہدف سماج اور عوام بنتے تھے۔


اشتراکیت کی طرح ،اسلام کے نام پرجب انقلابی تحریکیں اٹھیں تو انہوں نے بھی تشدد کو اختیار کیا۔ مصر سے الجزائر تک ہمیں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب اسلامی تحریکوں نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ اشتراکیت میں چونکہ مذہب کی نفی کی جاتی ہے، اس لئے اس کے پُر تشدد بیانیے میں طبقاتی تقسیم کو بنیادی دلیل بنایا گیا۔ ایک بورژوائی طبقے سے نجات کو عوامی فلاح کے لئے ناگزیر سمجھا گیا اور اس کے لئے تشدد کو ناگزیر کہا گیا۔ اسلامی تحریکوں کا بیانیہ مذہبی تھا۔ انہوں نے جہاد کے تصور کی تعبیرِ نو کرتے ہوئے ، ایک نئی فقہ ایجاد کی اور تشدد کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہوئے، اسے بطور حکمت عملی اختیار کر لیا۔


1990ء کی دہائی میں، دنیا بھر میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہونے لگا۔ خلیج کی پہلی جنگ کے نتیجے میں کچھ انتہا پسند گروہ سامنے آئے۔ ان میں سے اکثر وہ تھے جو سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں متحرک رہ چکے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف ان کی جد و جہد کو بین الاقوامی تحفظ حاصل تھا کیونکہ عالمی سطح پر مختلف ریاستوں نے مل کر سوویت یونین کو شکست دینے کی حکمت عملی بنائی اور اس مقصد کے لئے مسلح تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1990ء کی دہائی کے بعد انہیں عالمی سرپرستی حاصل نہ رہی کیونکہ عالمی قوتوں کے مقاصد اور ان تحریکوں کے مقاصد و اہداف یکساں نہیں رہے۔

 

putashadad.jpgتشدد پر ریاست کی اجارہ داری کو ہمیشہ قبول کیا گیا ہے۔مذہب کے علاوہ سیکولرتصورِ ریاست کے تحت بھی،ریاست کے لئے تشدد کو جائزقراردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست اگر کسی کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دے تو اس حق کو چیلنج نہیں کیا جاتا۔ تاہم ریاست یہ کام کسی قانون اور ضابطے کے تحت کرتی ہے، جیسے فوج کے ادارے کا قیام یا پولیس کو مسلح کرنا۔سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، جب غیرحکومتی مسلح تحریکوں کو ریاستوں نے قبول کرنے سے انکارکیا تو انہوں نے مزاحمت کی اور اب ریاستی نظام ان کا ہدف بن گیا۔ اس کو روکنے کے لئے ریاستوں نے کئی طرح کی حکمت عملی اختیار کی۔ اسے ردِ پرتشدد انتہاپسندی
(Counter Violent Extremism)
کا نام دیا گیا۔
پر تشدد انتہا پسندی کو روکنے کے لئے مختلف ممالک نے جو لائحہ عمل اختیار کیا، اُس کے کئی ماڈل ہیں۔ امریکہ کا اپنا ماڈل ہے، برطانیہ کا اپنا۔ دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے مقامی حالات کے پیش نظر اس مسئلے کے اسباب تلاش کئے۔ پھر ان اسباب کی روشنی میں اس کا علاج دریافت کیا۔ ان ممالک میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں اور بعض دیگر بھی۔ چونکہ اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی ایک عالمی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے ، اس لئے ہر ماڈل میں مذہب بطور حوالہ موجود ہے۔


پاکستان میں اس وقت جو تشدد ہے وہ دو طرح کا ہے۔ ایک وہ جو مقامی حالات کے زیر اثر پیدا ہوا اور اس کے اسباب سیاسی وسماجی ہیں۔ اس کے مظاہرکراچی اور بلوچستان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان مخالفت خارجی قوتوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس کی بنیاد ملکی حالات بنے۔ ایک تشدد وہ ہے جو ملک گیر ہے اور اس کی بنیاد مذہب کی ایک خاص تعبیر پر ہے۔تشدد کی ان دو صورتوں کے توڑکے لئے ،ہمیں دو طرح کی انسدادِ تشدد
( Counter Violence)
حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ کراچی کا مسئلہ جرم اور سیاست کا یک جا ہونا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی عمل کو بحال کرتے ہوئے جرم سے نمٹا جائے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ بلوچستان میں محرومیوں کی تلافی اورجائز مطالبات پورا کرتے ہوئے لوگوں کو جمہوری جد و جہد کا راستہ دکھانا ضروری ہے۔ جمہوریت در اصل تشدد کا راستہ روکتی ہے۔


جہاں تک مذہبی تشدد کا معاملہ ہے، وہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے اوراس کی بنیادیں عالمی سیاست میں ہیں۔ دین کی جو تعبیر اس مقصد کے لئے اختیار کی گئی ہے، اس میں جدید قومی ریاست کی نفی کرتے ہوئے مسلمانوں کو عالمی سطح پر ایک سیاسی اکائی تسلیم کیا گیا ہے۔ یوں ان تمام تنظیموں اور افراد کے مابین رسمی یا غیر رسمی اتفاقِ رائے اور تعاون وجود میں آ گیاہے جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں متحرک ہے۔ یہ عوامل پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ہمارے نظمِ اجتماعی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔


اس تشدد کی روک تھام کے لئے دو کام اہم ہیں۔ ایک یہ کہ اس نقطۂ نظر کی فکری بنیادوں کو چیلنج کیا جائے اوریہ بتایا جائے کہ کس طرح دین کی تعلیمات سے غلط استدلال کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ دورِ جدید میں قومی ریاستوں کے وجود کو بین الاقوامی معاہدوں کا تحفظ حاصل ہے اور ہم ان معاہدوں میں شریک ہیں۔ اس لئے ہم ان کو ماننے کے پابند ہیں۔ دوسرا یہ کہ دین میں ایسا حکم موجود نہیں ہے جو مسلمانوں کے لئے یہ لازم قرار دیتا ہو کہ وہ عالمی سطح پر ایک ریاست کی صورت میں منظم ہوں۔ یہ چند بنیادی اجزاء ہیں ورنہ یہ تعبیر بحیثیت مجموعی محلِ نظر ہے۔اس دینی تعبیر کا جائزہ لینے اور اس کا جوابی دینی بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔


دوسرا کام یہ ہے کہ جن لوگوں نے تشدد کو بطور حکمت عملی اختیار کیا ہے، ان کے خلاف اقدام کیا جائے۔ یہ اقدام ظاہر ہے کہ ریاست ہی کر سکتی ہے۔ ضربِ عضب اور پھر ردالفساد کی مہم اسی ریاستی اقدام کے مظاہر ہیں۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ہمیں اس میں کامیابی ہوئی ہے اور ایسے بہت سے لوگوں کا خاتمہ ہو گیا ہے جنہوں نے معاشرے میں تشدد کو پھیلایا اور انسانی جان و مال کو خطرے میں ڈالا۔


اس تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب تک مذہبی انتہا پسندی کا بیانیہ ختم نہیں ہوتا، تشدد کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔اس کے لئے ہمیں ایک واضح حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ پہلے مرحلے میں ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ یہ بیانیہ کیا ہے اور اس کے بعد اگلے مرحلے میں اس کا جوابی بیانیہ تیار کرنا ہے۔اس باب میں یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ ہم اس کوشش میں کوئی نیا دین ایجاد نہیں کر رہے۔اسلام وہی ہے جو اللہ کے آخری رسول ﷺ کی سند سے ثابت ہے۔ ہمیں صرف یہ بتانا ہے کہ کس طرح اس دین کی غلط تعبیر کی گئی ہے۔ اس سے اگلا مرحلہ اس بیانیے کی اساس پر دینی دعوت وتعلیم کے اداروں کی تشکیلِ نو ہے۔یہ مراحل طے کر نے کے بعد ہی ،ایک واضح ایکشن پلان بروئے کار آسکے گا۔
اس وقت نیشنل الیکشن پلان کے تحت نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی
(NECTA)
کے نام سے ادارہ قائم ہے جس کے اہتمام میں ایک جوابی بیانیے کی تشکیل کا کام جا ری ہے۔اس میں سماج کے مختلف طبقات کے نمائندے شریک ہیں۔تاہم اس سے پہلے اس بیانیے کے جائزے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کا باعث ہے۔اِس وقت یہ اس طرح زیرِ بحث نہیں جیسے ہو نا چاہیے۔اس سارے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔


1۔ ایک فکری ادارے کا قیام جو انتہا پسندی کے موجودہ بیانئے کا ہمہ جہتی تجزیہ کرے۔اس کے تحت ان سوالات کے جوابات تلاش کیے جائیں:
اس بیانیے کا دینی استدلال کیا ہے؟اسے دین کے بنیادی ماخذ سے کس طرح اخذ کیا جا تا ہے؟
ب۔ مسلم تاریخ کے کس عہد میں اس کا آغاز ہوا اور وہ کون کون سے داخلی اور خارجی عوامل تھے جنہوں نے اس بیانیے کو جنم دیا؟
ج۔ یہ بیانیہ مقبول کیسے ہوا؟اس کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی گئی ؟
د۔ اس بیانیے کے فروغ میں روایتی سماجی دینی اداروں کا کردار کیا رہا؟
ہ۔ریاست اسے روکنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکی؟
و۔ جدید تعلیم کے ادروں تک یہ بیانیہ کیسے پہنچا اور انتہا پسند تنظیموں کو کیسے یہاں سے افرادی قوت میسر آئی؟
اس کام کے لیے ہمیں معاصر معاشروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔جیسے یہ جانا جائے کہ 9/11کے بعد امریکی حکمتِ عملی کیا تھی۔اس ضمن میں9/11کمیشن کی رپورٹ اہم ہے۔
2۔ یہ فکری ادارہ ان جوابی بیانیوں کا جائزہ لے جو مختلف اہلِ علم نے اپنے طور پر پیش کیے۔ان اہلِ علم کو مدعو کیا جائے اور ان کے استدلال کو پوری طرح سمجھا جائے۔
3۔ اہلِ علم کی مدد سے ایک جوابی بیانیہ تیار کیا جائے۔
4۔ اگلے مر حلے میں ابلاغ کی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔اس میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ مسجدو مدرسہ اور میڈیا جیسے قدیم و جدید ابلاغی ا داروں کو اس جوابی بیانیے کی ترویج کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے؟
5۔ موجودہ دینی و عمومی تعلیمی نظاموں کا جائزہ لیا جائے اوریہ دیکھا جائے کہ جوابی بیانیے کے نکات کس طرح نصاب میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
6.۔ مسجداور مدرسے کے نظام کو ایک ریاستی نظم کے تابع کیا جائے تاکہ ان اداروں کا سوئے استعمال روکا جا سکے۔
7۔ تدریجاً بارہ سال کی بنیادی تعلیم کو یکساں بنا دیا جائے۔اس کے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ کی طرح دینی تعلیم کے تخصص
(specialization)
کے ادارے قائم ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جوابی بیانیے کی تشکیل کے بعد ،اس کی اشاعت اورفروغ کے لیے ہمیں اہلِ دانش کی مدد سے جہاں ایک موثرابلاغی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی وہاں نظام تعلیم کوبھی نئے خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
25
April
اپریل 2017
شمارہ:4 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
وطنِ عزیز میں امن کی بحالی کے لئے افواجِ پاکستان اور قوم باہم مل کر دہشت گردی کے جس عفریت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما تھیں‘ الحمدﷲ اس میں کافی حد تک کامیابی مل چکی ہے اوراُس کے ثمرات کا اندازہ امن عامہ کی عمومی صورتحال اور عوام کے دمکتے چہروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ الحمدﷲعوام الناس دہشت گردی کے خوف سے نکل چکے ہیں ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں
دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص....Read full article
 
 alt=
تحریر: طاہرہ جالب
کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر....Read full article
 
تحریر: جاوید حفیظ
مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت.....Read full article
 
تحریر: غزالہ یاسمین
23مارچ ہماری قومی تاریخ میں غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا پیمان باندھ کر اس کے حصول کی باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اس عہد کو تاریخ....Read full article
 
تحریر: فرح حسین
23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
کوئی بھی فوجی یا ریاستی اہلکار اپنی جان اس لئے قربان نہیں کرتا کہ اسے جان قربان کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ بلکہ وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر دشمنوں کے خلاف لڑتا ہے کہ اگر ملک کی حفاظت کے لئے جان بھی دینی پڑی تو پروا نہیں۔ یہ جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنے کا کیا طریقہ ہے اور کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ یہی جذبہ تمام سکیورٹی اداروں کے ہر اہلکار میں موجزن رہے۔....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
وہ ایک خوبصورت صبح تھی۔ شفاف‘ روشن دن30جولائی، میری اٹھارویں سالگرہ تھی۔ میں اور میرا بھائی گھر پر اپنے والدین کے منتظر تھے۔ میں بہت خوش اور پرجوش تھی۔سینیلا بول رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسکراہٹ اتر اتر کر اس کے ہونٹوں تک بکھر رہی تھی۔ اس کی ہوا میں کہیں تیر تی ہوئی نظر شاید ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کے خوابوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔.....Read full article
 
تحریر: طاہر محمود
23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج.....Read full article
 
تحریر: طاہر محمود
بوسنیا کے ایک جنگی ترانے کا ترجمہ
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں میں نے جانا ہے
اس خاموشی میں صرف اک صدا ابھرتی ہے
اﷲ اکبر
سردیوں کی ایک لمبی رات.....Read full article
 
تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ
جہلم شہر سے رانجھا میرا نامی گاؤں کی طرف جائیں تو چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلال ٹاؤن آتا ہے۔ اسی بلال ٹاؤن میں محلہ شاہ پور ہے۔ جہاں مادر وطن کا وہ جانباز (شہید) پیدا ہوا اور اسی قبرستان میں پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ دفن ہوا۔....Read full article

انٹرویو : او یس حفیظ
عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس........Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرہمامیر
سرکس میں تماشا نہیں لگاتا۔ یہ بات کیوں اور کیسے مشہور ہوئی معلوم نہیں لیکن مجھے ان بھیڑیوں کا خیال ضرور آیا جنہیں ایک کینیڈین جوڑا بڑی محبت سے ایسے پال رہا ہے جیسے وہاں کتے یا بلی پلتی ہے۔ ونکوور کے شمال مشرق میں پہاڑوں کے دامن میں 1.25 ایکڑ کے وسیع رقبے پر....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر وقار احمد
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان توانائی کے مستقل اور شدید بحران کا شکار رہا ہے اور اس کے حل کے لئے مختلف تجاویز، منصوبے اور حکومتی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سلسلے کو اگر ہم ملک کی تیزرفتار ترقی اور خصوصاً سی پیک جیسے بڑے منصوبوں سے جوڑیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور حقیقی اور پائیدار ترقی کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔یہ بہت نازک وقت ہے جب پاکستان....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان کے ساتھ بطورِ آرٹلری آبزرور موجود تھے۔ یہاں دن رات تیر کر دریا پار کرنے کی پریکٹس کی جاتی تھی۔ ستم بالائے ستم ....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی....Read full article
25
April


بوسنیا کے ایک جنگی ترانے کا ترجمہ
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں میں نے جانا ہے
اس خاموشی میں صرف اک صدا ابھرتی ہے
اﷲ اکبر
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں ‘ میں نے جانا ہے
میرے بزرگوں کی دھرتی آج مدد کو پکارتی ہے
میری ماں
اگر میں نہ لوٹ سکا
تو میرے انتظار میں گھڑیاں نہ ضائع کرنا
تیری پلکوں سے ایک آنسو
خامشی سے ڈھلک جائے
اور پھر فاتحہ مجھے الوداع کہے
یہ میری قربانیوں کا ثمر ہوگا
میری ماں
میں دیکھ سکتا ہوں
کہ اذاں کی صدا کے پروں کی سواری
مجھے جنت کے دروازے کو لے جارہی ہے
اور وہاں

میرے شہر سے آنے والی رمضان کی خوشبوئیں
مجھے خوش آمدید کہہ رہی ہیں
میری ماں
میں نے جانا ہے
کہ میری دھرتی مجھے پکارتی ہے
مگر تجھے اِک عہد کرنا ہوگا
کہ تومیری بہنوں کے آنچل کی لاج رکھے گی
اور میں
قبر کی اتھاہ گہرائیوں سے دیکھنا چاہوں گا
کہ میری بہنیں
بوسنیا کے غازیوں کو جنم دے رہی ہیں
میری ماں! الوداع
میری بہنو ! الوداع
میرے بوسنیا! الوداع
میں نے جانا ہے
کہ جنت کی صدائیں مجھے پکارتی ہیں
اﷲ اکبر، اﷲ اکبر
(ترجمہ :طاہر محمود۔ فروری 1995)

*****

14
April

23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج سے محبت جسم سے روح تک کے سارے سفر کا احاطہ کرتی ہے۔ فوجی کے دل و دماغ میںیہ دونوں جذبے یوں گڈ مڈ ہوتے ہیں کہ ان کی علیحدہ علیحدہ شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ ملک اور فوج ، فوج اور ملک بس یہ دو شناختیں مل کر ایک ہو جاتی ہیں اور فوجی کی اپنی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ بس صرف جذبہ زندہ رہ جاتا ہے۔
انسان محبت کرتا ہے کہ زندہ رہ جائے اور زندگی حسین ہو جائے۔ فوجی محبت کرتا ہے کہ زندگی قربان کر دے اور محبوب تا قیامت زندہ رہ جائے۔ ایسی محبت کی مثالیں کہاں ملیں گی کہ جسم کو توانا رکھاجاتا ہے کہ قربانی کے ثمر رائیگاں نہ جائیں۔ قربانی کرنے والا اپنے لہو کا خراج صرف کامیابی چاہتا ہے اپنے ملک کی کامیابی۔ اور اگرکامیابی ممکن نظر نہ آتی ہو اور موت کا سامنا ہو تو وہ خوشی خوشی موت کو گلے لگاتا ہے۔ اسے اپنی جدوجہد پر فخر ہوتا ہے کہ
Honour
اور
Pride
کے عَلم اس کی موت تک بلند تھے۔
یہ جذبے، یہ لوگ، یہ جسم، یہ آنکھیں یہ حوصلے سب 23مارچ کی پریڈمیں زندہ شکل میں ہوتے ہیں۔ مگر وقت پڑنے پر یہ ملک کے لئے اپنی آخری قربانی سے بھی چنداں دور نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر آنکھیں ہر لمحہ نم نہ ہوں تو اور کیا ہو۔ فوجی کب روتا ہے۔ شاید بہت کم، ہاں مگر وطن سے محبت کے جذبے ضرور اس کی آنکھوں کو ہمیشہ نم کرتے ہیں۔
(طاہر محمود)

11
April

معروف اداکارہ اور یومِ پاکستان پریڈ کی کمنٹیٹر فرح حسین کی وطن سے محبت میں لبریز ایک تحریر

23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے وہ شاید اپنا وجود یا اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے۔ جس کو دیکھو وہ انسانیت کا، سرحد کے غیر اہم ہونے کا اور دوستی کا گیت گاتا نظر آتا ہے۔ ان باتوں سے کسی ذی عقل انسان کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن سوال صرف ایک ہے کس قیمت پر اور یہی نقطہ اختلاف ہے۔


23مارچ کی سب سے بڑی مصروفیت صبح سے ہی پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی پریڈ ہوتی تھی۔ ایک جوش و خروش اور ولولہ پیدا ہوتا تھا مارچ پاسٹ اور سلیوٹ کرتے ہوئے فوجیوں کو دیکھ کر ایک احساس تفاخر پیدا ہوتا تھا اور احساس ہوتا تھا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔


اس پریڈ کے انعقاد کا سلسلہ موقوف ہو گیا اور 23مارچ کا دن بھی بہت سے چھٹی والے دنوں میں سے ایک ہو گیا۔ یہ چھٹی کیوں ہے؟ اس دن کی اہمیت کیا ہے؟ کیسے ہم نے اس ولولہ اس جذبہ کو زندہ رکھنا ہے جو ہمارے اسلاف کی میراث اور ہمارے تشخص کی بنیاد ہے؟ نہ تو کاروباری سکولز کے پاس اس کے لئے وقت اور نہ ہی مختلف لبرل و آزادئ اظہار کے قائل ٹی وی چینلز کے ہاں اس کی ضرورت۔ ہمارے ہاں وطن دوستی کے جذبات اور اظہار کو ایک خاص انداز سے دیکھا جاتا ہے اور وطن مخالف نظریات کی تشہیر کو آزادی رائے واظہار مانا جاتا ہے۔ جس نے ہمارے بچوں کے ذہنوں میں اپنی شناخت کے اعتبار سے بہت سے ایسے سوال پیدا کر دیئے ہیں جو درست نہیں ہیں۔


آج بچے وہ ملی جذبہ محسوس نہیں کر پاتے جو ہمارے بچپن کا خاصہ تھا۔ کیونکہ آج بچوں کو صرف یہ پتہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر ایک کرپٹ ہے۔ ہر کام رشوت سے ہوتا ہے اور ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ جس نے ایک خاص طرح کے احساس کمتری کو جنم دیا ہے اور جذبہ سرشاری کو ختم کر دیا ہے اور جس ملک کے جوان اپنے پرچم، اپنے ملک پر فخر کرنے کا جذبہ کھونے لگیں اس ملک کو پھر بیرونی دشمنوں سے نہیں اندرونی خلفشار سے زیادہ خطرہ رہتا ہے۔مارچ 2015میں دس سال کے تعطل کے بعد 23مارچ کو پریڈ کے دوبارہ انعقاد نے اس دن کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا اوراب ہر سال منعقدہونے والی یہ پریڈ صرف افواج پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے تجدید عہد کا دن ہے۔


کمنٹری بوتھ میں بیٹھ کر افواج پاکستان کے جوانوں کو ’’اپنی قوت اپنی جان جاگ رہا ہے پاکستان‘‘ اور ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘ پر مارچ پاسٹ کرتے دیکھا۔ اس تقریب کا حصہ بننا میرے لئے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ قوم کی نظریاتی اساس اور وحدت کا احساس اجاگر کرنا بھی اہم ہے۔ یہ شیرجوان جو کھلے قرآن کے سامنے ہاتھ اٹھا کر وطن کی حرمت اور دفاع کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کا عہد کرتے ہیں انہیں دیکھ کر میرے دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے۔


’’میریا شیر جواناں تینوں رب دیاں رکھاں۔‘‘
میں کیوں نہ اپنی قوم کے ان بیٹوں پرفخر کروں کہ یہ وہ جوان ہیں جو دفاعِ وطن کے لئے جان کی بازی لگادینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پریڈ کی کمنٹری کا ایک ایک لفظ ادا کرتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں اپنے مجاہدوں کے شانہ بشانہ اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہوں۔ پریڈ کے وہ لمحے مجھے میرے ہونے کا یقین دلارہے تھے۔ میری آنکھوں میں فخر کے آنسوتھے اور لفظوں میں بلا کی جرأت اور شجاعت تھی۔ یقیناًپریڈ کے یہ لمحات میری زندگی کے انمول خزانوں میں سے ایک تھے کہ مجھے یوں لگا کہ آج میں بھی اپنے وطن اور اپنی قوم کے لئے کوئی ایسا کام کررہی ہوں جس پر میں باقی زندگی میں فخر کرتی رہوں۔

 
11
April

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی سنجیدہ اخبار کی نمائندہ کتاب کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہتی ہیں۔ فی زمانہ ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا کے اینکروں کاجو ’’حال احوال‘‘ ہے اور جس میں خود میں بھی شامل ہوں۔ اُس میں کہاں کتاب پڑھنا کہاں لکھنا۔۔ زبانیں اتنی بدزبان بلکہ بد لگام ہو چکی ہیں۔ اور جو بازاری زبان میں بک بھی رہی ہیں تو کسے فرصت اور ضرورت کہ کتاب خریدے اور پڑھے۔یہ ساری تمہید باندھنے کا سبب یہ ہے کہ خیرسے عزت سادات رہ گئی یعنی ہم نے ماضی حال میں جن کتابوں کے اوراق اُلٹے اُن پر جو سیر حاصل گفتگو ہوئی اُسے اگلے دن پرنٹ کی صورت میں

دیکھ کر خوشی ہوئی کہ
شہر میں اعتبار ہے اپنا
مہ کدے میں ادھار ہے اپنا

پہلا سوال تو یہی ہوا کہ ان دنوں کون سی کتاب زیرِ مطالعہ ہے؟ اب ادھر ہماری یہ عادت ہوگئی ہے کہ دن بھر کی مشقت کے بعد رات کے دوسرے پہر میں میز پر دھری کتابوں کو ٹٹولنا شروع کرتے ہیں۔ اور ذہنی کیفیت سے ہم آہنگ کتاب اُٹھا کر کوشش ہوتی ہے کہ اُسے اختتام تک پہنچایا جائے مگر یہ ذرا کم ہی ہوتاہے۔ مگر اپنی عزیز دوست اور انتہائی پڑھی لکھی ادیبہ اور شاعرہ ’’فہمیدہ ریاض‘‘کی حال ہی میں آکسفورڈ سے شائع ہونے والی کتاب ’’تم کبیر‘‘کے چند اوراق اُلٹنے کے بعد ہی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور یوں پھر کسی دوسری کتاب کی طرف ہاتھ نہیں جاتا ہے۔ ’’تم کبیر‘‘ فہمیدہ ریاض کی وہ طویل نظم ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے نام لکھی ہے۔ جو 2010 میں امریکہ میں ایک تالاب میں ڈوب گیا تھا۔ کسی ماں کا بیس اکیس سال کا جوان بیٹا اُس سے اچانک چھن جائے تو جس کرب و آلام سے وہ گزرتی ہوگی اُس کا بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے اُس کا بیان ممکن نہیں۔ میں خود اس تجربے سے گزرا ہوں۔ بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو میری والدہ محترمہ کو ایک طویل چُپ لگ گئی تھی۔ مگر فہمیدہ کی شاعرانہ عظمت اورتخلیقی صلاحیت دیکھیں کہ انہوں نے اس ’ذاتی‘غم کو ایک بڑی یادگاری تخلیق میں ڈھال دیا۔

 

kitabedostan.jpgدوسرا سوال ہوا ایسی کون سی کتاب ہے جسے آپ ختم نہیں کر پاتے؟ میں نے انتہائی تفصیل سے بتایا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی ذاتی زندگی پر ممتاز اسکالر خالد نظیر صوفی نے دو جلدوں میں ایک کتاب مرتب کی ہے ’’اقبال درونِ خانہ‘‘ جس میں کوئی سو مضامین ہوں گے اُن کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے۔ بعض انتہائی دلچسپ اور بعض بس ذرا سر سری۔ سو یہ کتاب مہینے بعد بھی ختم نہیں ہورہی۔ تیسرا سوال بھی بڑا دلچسپ تھا کہ وہ کون سی دو تین کتابیں ہیں جو آپ بار بارپڑھنا چاہتے ہیں؟ میرا جواب تھا فیض احمد فیض کا مجموعہ کلام ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ اور دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کی ’’آخرشب کے ہمسفر‘‘۔۔پوچھا گیا۔ ۔کیوں؟ اختصارسے لکھ رہا ہوں کہ ایک تو فیض صاحب کی شاعری ہمارے کام بہت آتی ہے۔ قلم گھستے ہوئے جب الفاظ غریب ہونے لگتے ہیں تو فیض صاحب کا ایک مصرعہ یا شعر ساری بات بڑی خوبصورتی سے سمیٹ دیتا ہے۔ دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کا ناول ’’آخر شب کے ہمسفر‘‘ ہے۔ ویسے تو قرۃالعین حیدر کا سب سے بڑا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہے اور جسے بلا شبہ اردو کا بھی سب سے بڑا ناول سمجھا جاتا ہے مگر ’’ آخر شب کے ہمسفر‘‘ برصغیر پاک وہند کی اشتراکی تحریک کے بارے میں ہے جس کا بڑا المناک انجام ہوا اور جسے عینی آپا نے اپنے منفرد اسٹائل میں اس خوبصورتی سے لکھا ہے کہ یہ ناول ہوتے ہوئے بھی ایک عظیم سیاسی تاریخ کا نوحہ بن گیا ہے۔یوں گزشتہ آٹھ دس برسوں میں کوئی بیس پچیس بار تو اس کو پڑھ ہی چکا ہوں۔ سوال ہوا آئندہ کس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ ہے؟بے ساختہ نام آیا
"Debriefing The President" by John Nixon
صدام حسین کے بارے میں یہ کتاب مشرق وسطیٰ کی حالیہ سیاسی ہنگامہ خیزی کو سمجھنے کے لئے بڑی اہم ہے۔ سابق صدر کو جب انتہائی ناگفتہ حالت میں پکڑا گیا اور اُن تصاویر کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جس میں شیو بڑھا۔۔ بوڑھا ہوتا ‘تھکا ہارا صدام حسین دکھایا گیا۔تو اُس وقت مسلم دنیا کا ردعمل مختلف تھا وہ بھول چکی تھی کہ خود صدام حسین نے اپنی قوم پر کیا مظالم ڈھائے تھے۔ جون نے اپنی کتاب میں صدام حسین کی ڈی بریفنگ کا ذکر بڑے متاثر کُن انداز میں کیا ہے۔ جون لکھتا ہے میرے ساتھ ایک اور امریکی اہلکار بھی تھا۔ صدام نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا۔ پہلے آپ اپنا تعارف کرائیں کہ آپ کون ہیں اس پر انتہائی درشت لہجے میں امریکی اہلکار نے جواب دیا ہم یہاں تمہارے سوالوں کا جواب دینے نہیں آئے ہیں جو کچھ ہم پوچھ رہے ہیں اُس کا جواب دو۔ تم ہماری قیدمیں ہو اور تمہارا مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس پر صدام حسین کا جواب تھا کہ میں ایک ملک کا صدر ہوں اگر تمہارے ملک امریکہ کے صدر کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا تو تمہارے ملک کے عوام کا کیا ردِعمل ہوتا۔ صدام نے امریکوں کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ تم ’’عرب اور خاص طور پر عراقی‘‘ سائیکی نہیں سمجھتے۔ اب تم مشرق وسطیٰ میں پھنس چکے ہو تم یہاں سے آسانی سے نہیں نکل سکتے۔ یقیناً یہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ افسوس کہ میں اسے ختم نہیں کر پارہا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ ایک انگریزی اخبار کی نمائندہ نے کتابوں کے حوالے سے گفتگو کیا کی آپ اپنے مطالعے کا رُعب جمانے لگے ۔یقین کیجئے جس مشقت میں سارا دن گزرتا ہے اس کے بعد سب سے زیادہ افسوس رات کے آخری پہر میںیہ ہوتا ہے کہ سارے مہینے میں درجن بھر کتابیں خریدیں یا تبصرے کے لئے ملیں مگر مشکل سے دو تین مکمل‘ دو تین ادھوری اور بقیہ کا تو ایک ورق بھی نہیں اُلٹ سکا۔ مگر ایک بات یقیناً خوش آئند ہے کہ حالیہ برسوں میں نہ صرف وطنِ عزیز میں اردو، انگریزی اور مادری زبانوں میں کتابوں کی اشاعت میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے بلکہ لٹریری فیسٹول اور جو کتاب میلے ہورہے ہیں اُس سے اطمینان ہوتا ہے کہ وہ جو اپنی خوف و دہشت اور کلاشنکوفوں سے اپنی شریعت کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کروڑوں عوام کو ازمنہِ وسطیٰ کے دور میں دھکیلنا چاہتے تھے۔ جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں اسکولوں کو نذرِ آتش کیا تھا انہیں اس جراّت مند قوم نے شکست دے دی ہے۔ یوں بھی کلاشنکوف کا سب سے مؤثر جواب کتاب ہی ہو سکتی ہے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ذرا نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو کتنا اونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی اس پر سے گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ بعض لوگ آسمان سے گرتے ہیں تو کھجور میں اٹک جاتے ہیں، وہیں بیٹھے کھجوریں کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن کھجوریں بھی تو کہیں کہیں ہوتی ہیں، ہر جگہ نہیں ہوتیں۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں آسمان اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔ غالبؔ نام کا شاعر جو دو سو سال پہلے ہوا ہے، ایک جگہ کسی سے کہتا ہے۔
؂ کیا آسمان کے برابر نہیں ہوں میں؟
جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اونچی ہوتی گئیں، آسمان ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر اٹھتا گیا۔ اب نہ چیزوں کی قیمتیں نیچے آئیں نہ آسمان نیچے اترا۔
ایک زمانے میں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے پھر ہماشما جانے لگے۔ جو خود نہیں جا سکتے تھے ان کا دماغ چلا جاتا تھا۔ یہ نیچے دماغ کے بغیر ہی کام چلا لیتے تھے۔ بڑی حد تک اب بھی یہی صورت حال ہے۔
پیارے بچو! راہ چلتے میں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے تاکہ ٹھوکر نہ لگے۔ جو زمین کی طرف دیکھ کر چلتا ہے اسے ٹھو کر نہیں لگتی۔
(ابن انشاء کی تصنیف ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ سے انتخاب)

*****

 
11
April

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے‘ ریہرسل ہوئی اور پھر ریکارڈ ہونے کے بعد فوری طور پر نشر ہوئے۔ آج کے اس نغمے ’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ میں نے صوفی صاحب سے گزارش کی کہ قصور بارڈر پر بھی لڑائی ہو رہی ہے اور ملکہ ترنم نورجہاں قصور کی رہنے والی ہیں۔ اس لئے قصور پر بھی نغمہ ہونا چاہئے جس پر صوفی صاحب نے کافی سوچ بچار کے ساتھ مجھے یہ استھائی لکھ کر دی۔


’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘
میں یہ استھائی لے کر اپنی ریکارڈنگ ٹیم کے پاس اسٹوڈیو نمبر2میں چلا گیا اور یہ استھائی ملکہ ترنم نورجہاں کو دی۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے بولوں کی مناسبت سے اس کو راگ دیس میں موزوں کیا۔ تھوڑی ریہرسل کے بعد میڈم نورجہاں نے کہا کہ اعظم صاحب اس کے انترے لائیں۔ چنانچہ میں پھر صوفی صاحب کے پاس اپنے کمرے میں گیا۔ محترم صوفی تبسم میرے کمرے میں ہی بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت وہ اقبال کا ایک شعر اور اس کی تشریح میں مصروف عمل تھے میں نے بڑے ادب سے معافی مانگی کہ صوفی صاحب آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔ میری مجبوری ہے کہ آج بھی ایک نیا نغمہ ریکارڈ کرنا ہے۔ اس نغمے کی استھائی تو آپ نے دے دی ہے۔ اب تین انترے چاہئیں۔ صوفی صاحب نے از راہ کرم کچھ دیر سوچنے کے بعد انترے عطا فرما دیئے۔ ان دنوں صوفی صاحب کی آمد بھی کمال تھی۔ حالات اور وقت کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمے لکھ کر دیتے۔ میڈم نورجہاں اس خاص نغمے کو پڑھ کر بہت خوش ہوئیں کیونکہ یہ نغمہ ان کے شہر پر لکھا گیا تھا۔ سارے دن میں نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور رات کو ریکارڈ ہوا۔ اپنے پڑھنے والوں کو بتا دوں کہ نغمے کی بنیادی دھن
Melody
کہلاتی ہے۔ اور جو باقی
Orchestra
ہوتا ہے اس کو
Harmony
کہتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کو جب ترتیب سے اکٹھا کرتے ہیں تو تب نغمہ تخلیق پاتا ہے۔ باقی رہ گئی ریکارڈنگ تو اس کے لئے بھی بہت علم اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا م کے لئے میں نے بطور میوزک پروڈیوسر بہت محنت اور کوشش کی ہے۔ ہر کوئی ریکارڈنگ نہیں کر سکتا اور پھر اتنی بڑی آرٹسٹ کی ریکارڈنگ۔ میری ریکارڈنگ کو میڈم نورجہاں اتنا پسند کرتی تھیں کہ میرے بغیر ریکارڈنگ نہیں کراتی تھیں۔ ہمیشہ کہتی اعظم بھیا، ریکارڈنگ پر آپ خود بیٹھیں۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ تمام نغموں کی ریکارڈنگ کوالٹی کتنی عمدہ ہے حالانکہ اس وقت ریکارڈنگ کے آلات اتنے جدید نہیں تھے۔ میں صرف تین مائیکروفون استعمال کرتا تھا۔ بیلنس کرنے میں مجھے کافی وقت لگتا تھا تاکہ بہترین ریکارڈنگ ہو جائے۔ ستمبر65 کی جنگ کے دوران پروڈیوسر، میوزیشنز، گلوکار سب کے درمیان ایسی انڈر سٹینڈنگ پہلے یا بعد میں کبھی بھی دیکھنے میں نہیںآئی جتنی ان سترہ دنوں میں دیکھنے کو ملی۔ بھارتیوں کا خیال تھا کہ ہم نے یہ ملی نغمے جنگ سے پہلے ریکارڈ کئے ہیں لیکن جب جنگ کا اختتام ہوا تو یہ حقیقت ان پر کھلی اور ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ ملی نغمے جنگ کے دوران ہی ریکارڈ ہوئے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کو صبح میں اپنی جیپ پر لے کر آتا۔ وہ سارا سارا دن میرے پاس ریکارڈنگ کے لئے موجود رہتیں بعض اوقات جب باہر خطرے کا سائرن ہوتا تو میڈم نورجہاں اسٹوڈیو میں ہی اپنی ٹیم کے ساتھ موجود رہتیں۔ میڈیم نورجہاں کہتی کہ اعظم صاحب اگر موت اسٹوڈیو میں لکھی ہے تو کوئی بات نہیں ہم اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑ سکتے۔ جنگ ستمبر کے دوران پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے۔ ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ فضائی حملوں کے دوران پور لاہور بلیک آؤٹ میں ڈوب جاتا تو لاہورئیے اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر ’’فائٹ‘‘ دیکھتے۔ اور اپنے پائلٹوں کو باقاعدہ داد دیتے۔ انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا کہ وہ حملوں کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ فائٹ کا نظارہ میں نے ایک مرتبہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح آگے بھارتی طیارے اور ان کے پیچھے ہمارے جہاز ہوتے۔ لوگ سڑکوں پر دشمنوں کے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لئے بلند نعرے لگاتے۔ عوام کے جذبات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہر شہری کا رخ بارڈر کی طرف ہوتا۔ ان میں سے کوئی ہاکی اور کلہاڑی اٹھائے تو کوئی اپنے فوجی بھائیوں کے لئے کھانے اور دیگر اشیاء لے کر بارڈر کی طرف جا رہا ہوتا۔ یہ کیسا جذبہ تھا ہمارے ملی نغمے ہتھیار کا کام کر رہے تھے۔ ہمارے فوجی جوان ان کو سن کر بہادر ی اور دلیری سے لڑتے،یقیناًفوج اور عوام کا ساتھ بہت کام آتاہے۔

 
11
April

تحریر: صائمہ جبار

بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں کی گئی۔
بھارتی فلم سنسر بورڈ نے اسی لئے فلم کے پروڈیوسر کو اس ڈیکلیئریشن کو ہٹانے کا آرڈر دیا ہے جس میں کہا گیا کہ فلم حقائق پر مبنی ہے۔
Censor Board Of Film Certification (CBFC)
کے مطابق فلم ساز کو ایک ڈیکلیئریشن دکھا نا پڑے گا جس میں لکھا جائے کہ فلم کچھ افسانوی ہے اور کچھ حقائق پر مبنی۔ یہ خبر بھارتی اخباروں دکن کرونیکل اور ڈیلی نیوز انیلیسزمیں شائع کی گئی ہے۔
اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان کو اس وقت بہت سے چیلنجز در پیش ہیں۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی اہمیت بھی پاکستان کے لئے گیم چینجر کی سی ہے۔خطے کے سٹریٹجک حالات کا تقاضا ہے کہ سی پیک کی نہ صرف زمینی بلکہ بحری سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔


دشمن کی سازشوں اورپروپیگنڈے کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب صحیح اور حقیقی معنوں میں ماضی کے متعلق معلومات نہ صرف نوجوان نسل بلکہ ہر عمر کے افراد اورطبقے تک پہنچیں گی۔ پاکستان پر کی گئی سرجیکل سٹرائیکس کا جھوٹا دعوی اس کی ایک مثال ہے۔ جس پر نہ صرف بھارت میں ایک بڑے طبقے اوردنیا نے بلکہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی کمیشن نے بھی یقین نہیں کیا اور مشکوک قرار دیا۔مودی حکومت کو اپنے ہی لبرل طبقے نے اس جھوٹ پر مذاق کا نشانہ بنایا۔


قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاک بحریہ دشمن کی ہر سازش کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کر تی آئی ہے۔ اس کی ایک روشن مثال 1965اور 1971میں پاک بھارت جنگوں میں پاک بحریہ کا کردار رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ایک بڑا حصہ رہا ہے۔ کوئی بھی فورم ہو بھارت اپنی سازشوں سے باز نہیں آتا۔

pnsghazib.jpgدرحقیقت آبدوز ’غازی‘ پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جس نے بھارت کے ساتھ لڑی گئی 1965ور1971کی جنگوں میں حصہ لیا۔پاکستان نیوی نے خود سے کئی گناہ بڑی بھارتی نیوی کے سامنے سخت مذاحمت کی اور بھر پور دفاع کیا۔ بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے پانیوں تک پھیلی ہوئی سمندری حدود کی حفاظت پاک بحریہ کی ذمہ داری رہی ہے اور ان دونوں جنگوں کے دوران پاک بحریہ کے یونٹس گہرے پانیوں تک گئے تا کہ تجارتی آمدورفت بحفاظت جاری رہ سکے۔اس دوران پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہرنہیں آنے دیا۔یہ پی این ایس غازی آبدوز ہی تھی جس کے باعث دشمن 1965 میں اپنے بحری فلیٹ کو باہر نہ نکال سکا۔ پی این ایس غازی پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جسے امریکہ سے لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 1945 سے 1963تک یہ امریکی نیوی کا حصہ رہی ۔چار ستمبر 1964 کو یہ آبدوز کراچی کے نیول ڈاک یارڈپہنچی اور پاک نیوی میں پہلی تیز رفتار آبدوز بنی۔ اس کا نام غازی 1964میں رکھا گیا اس کا پرانا نام
USS Diablo (SS-479)
تھا۔
1965 کی جنگ میں غازی کا کردار
اعلانِ جنگ کے فوری بعد بحری یونٹس کو اپنے اپنے اہداف کی جانب روانہ کیا گیا۔ دفاع کے ساتھ ساتھ پٹرولنگ شروع ہوئی۔بھارت کے تجارتی جہاز ’’سرسوتی‘‘اور دوسرے کئی جہازپاکستان میں کراچی بندر گاہ پر زیرِ حراست رہے۔ سات ستمبر کامیابی کا دن تھا۔ اس روز پی این ایس غازی سمیت پاک بحریہ کا بیڑا بھارت کے ساحلی علاقے دوارکاپر حملے کے لئے روانہ ہوا۔کیونکہ اس مقام پر نصب کیا گیا ریڈار پاک فضائیہ کے راستے میں رکاوٹ تھا۔پاک بحریہ کے فلیٹ نے 20منٹ میں دوارکا کو تباہ کر دیا۔بعد میں بھارت نے اپنے جہاز تلوار کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کو بھیجا لیکن وہ پی این ایس غازی کے خوف سے کہیں اور نکل گیا۔


جنگ میں بہترین کارکردگی کی وجہ سے پی این ایس غازی کے عملے نے 10ایوارڈ حاصل کئے جن میں دو ستارۂ جرأت بھی شامل ہیں۔
1971 کی جنگ میں غازی کا کردار
14نومبر 1971 کمانڈرظفر محمد خان اپنی سربراہی میں 93بہادر جوانوں کو لے کر پی این ایس غازی میں کراچی بندرگاہ سے ایک بے حد مشکل مشن پر روانہ ہوئے۔ آبدوز غازی کو مشن دیا گیا تھا کہ مغربی بھارت کے دفاعی سمندروں سے گزرتے ہوئے اپنی بیس سے 3000میل دور خلیج بنگال کے شمال میں جائے۔ اس علاقے کی صورتحال بے حد کشیدہ تھی۔جس کے باعث آبدوز غازی کو ہدایات دی گئی تھیں کہ ریڈیو پر مکمل خاموشی رکھی جائے اور صرف رات کے وقت ہی بیٹریاں وغیرہ چارج کی جائیں۔جو مشکل مشن غازی کو دیا گیا تھا وہ بھارتی نیوی بیس وشاکاپتنام میں نقل و حرکت روکنے کے لئے بندرگاہ کے آس پاس پانی میں بارودی سرنگیں بچھانے کا تھا۔


غازی آبدوز نے بہت مہارت سے یہ کام شروع کیا اور بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں۔لیکن قیاس ہے کہ یہ آبدوز بد قسمتی سے اپنی ہی بچھائی ہوئی ایک بارودی سرنگ کی زد میں آ کر ڈوب گئی۔دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ بندرگاہ بھی کانپ اٹھی۔ یہ علاقہ بھارتی حدود میں تھا لیکن بہت دیر تک بھارت کو پتا نہیں چل سکا کہ ہوا کیا ہے؟ تاہم ایک بھارتی مچھیرے نے پانی میں پی این ایس ’غازی‘ کے عملے میں لائف جیکٹس دیکھی جس کے بعد بھارت نے غازی کو تباہ کرنے کا دعوی کر دیا ۔ یہی نہیں بلکہ کچھ بھارتی افسروں نے تو اس بات پر تمغے بھی وصول کئے۔


غازی کے ساتھ رونما ہونے والا واقعہ تین اور چار دسمبر کی درمیانی شب پیش آیا جبکہ بھارت نے اس کو تباہ کرنے کا دعویٰ نو تاریخ کو کیا۔ اگر بھارت نے غازی کو تباہ کیا تھا تو اسے اتنے دن تک پتا کیوں نہیں چلا ۔اور اگر پتا تھا تو اتنے دن تک اس کو چھپا کر کیوں رکھا؟


بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی دعوے جھوٹے تھے۔ بھارتی وائس ایڈمرل میہیر رائے نے حال ہی میں اپنی ایک شائع کردہ کتاب میں کہا کہ غازی آبدوزپہلے وشکاپتنام بندرگاہ سے کافی دور تعینات تھی اور غالباً دو یا تین دسمبر 1971کو بارودی سرنگیں بچھانے آئی تھی اور قریب ہی دو تین سرنگیں بچھا چکی تھی اور ایک بارودی سرنگ سے تباہ ہو گئی تھی۔ ایڈمرل میہیر رائے نے یہ بھی لکھا کہ پانی میں بارودی سرنگیں ایک لائن کے پیٹرن میں 150میٹر کے فاصلے اور 30میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی تھیں جس کی تصدیق آبدوز ریسکیو ویسل نیسٹارکے پانی کے نیچے موجود ٹی وی سے کی گئی۔ ان کے مطابق سونار ٹرانسمیشن اور اس کے شور کو جانچتے ہوئے پاکستانی آبدوزاس علاقے سے نکل کر محفوظ گہرے پانیوں میں جا چکی تھی۔اور آدھی رات کے قریب جب پیٹرولنگ کشتیاں واپس بندرگاہ لوٹ گئیں تو غازی آبدوز پھر سے بارودی سرنگیں بچھانے کا کام مکمل کرنے نکل پڑی تاکہ بھارت کے مشرقی فلیٹ کو وشاکا پتنام کی پورٹ پر محدود کرنے کی اسائینمنٹ مکمل کی جائے۔اس مشن کو مکمل کرنے کی بے چینی میں اپنے ہی پہلے سے بچھائی ہوئی سرنگ والے ٹریک میں غلطی سے مڑ گئی۔جس کی وجہ شائدساحل پرمون سون کے موسم کے بعد چلنے والی تیز ہواؤں سے اُٹھنے والی تندوتیز لہریں تھیں۔


دشمن کی اپنی گواہی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غازی اس وقت تباہ ہوئی جب وہ اس بات کو یقینی بنا رہی تھی کہ بھارت کے مشرقی بیڑے کو بند کرنے کے لئے بارودی سرنگوں کوبچھانے کا کام ٹھیک طور پر ہو رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی جنگ میں تباہ ہونے والی یہ پہلی آبدوز تھی۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین کی درخواست کے باوجود بھارتی حکومت غازی کے ڈوبے ہوئے حصوں کو سمندر سے نکالنے پر راضی نہ ہوئی۔2010میں بھارت کی مشرقی کمانڈ نے 1971کی جنگ کا سارا ریکارڈ ضائع کر دیا ۔ غازی کی تباہی کا ریکارڈ بھی اسی میں شامل تھا۔
1971 میں بھارتی فوج کی مشرقی کمانڈ کے چیف آف سٹاف جے ایف آر جیکب نے مئی2010 میں ایک آرٹیکل

THE TRUTH BEHIND THE NAVY'S 'SINKING' oF GHAZI "
میں واضح کیا کہ غازی آبدوز ایک حادثے کا شکار ہوئی،اور بھارتی نیوی کا اس کے ڈوبنے سے کوئی تعلق نہیں۔اسی لئے تمام ریکارڈ ختم کر دیا گیا۔
پاکستانی انگریزی اخبار میں محمد عادل ملکی نے
"warriors of the waves''
کے نام سے لکھے ایک آرٹیکل میں بتایا کہ انہوں نے غازی کے ڈوبنے کے حوالے سے ایک ایسے تجربہ کار عملے کے فرد سے رابطہ کیا جس نے غازی میں کام کیا تھا جب وہ امریکہ میں یو ایس ایس ڈائیبلو کے نام سے ہوا کرتی تھی۔مصنف ایک آزادانہ رائے لینا چاہتا تھا۔ مصنف کے مطابق جب ڈوبے ہوئے ملبے کی تصاویر اور خاکوں کا مشاہدہ کیا گیا تو اس بات کاپتا چلا کہ
forward torpedo room
میں ہونے والے ایک دھماکے کی وجہ سے آبدوز تباہ ہوئی۔یہی رائے ایک بھارتی صحافی سندیپ یونیتھین کی تھی جو کہ ملٹری اور سٹریٹیجک تجزیوں کا ماہر ہے۔اس بات کا یقین اس ویڈیو سے بھی ہوتا ہے جو غوطہ خوروں نے بنائی تھی۔


غازی کے ڈوبنے کے کچھ روز بعد بھارتی غوطہ خوروں نے اس میں سے قیمتی اور اہم معلومات حاصل کرلیں۔ان میں سے چند اشیا آج بھی بھارتی وار ٹائم میوزیم میں سجائی گئی ہیں۔
آج 1971کو 45 برس گزر چکے ہیں اور بھارت نے غازی کے ڈوبنے کا کریڈٹ لینے کے لئے ایک جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی فلم بنائی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے بھارت کو اس کا ہوش کیوں نہیں آیا؟ اتنے برس گزرنے کے بعد اچانک اس موضوع پر فلم بنانے کا خیال کیوں آ گیا؟بھارتی حکومت اور نیوی اپنے جھوٹے مؤقف کو فروغ دینے کے لئے بالی وڈ کا استعمال کرنے سے کبھی بھی دریغ نہیں کر تا۔مگر جھوٹ اور حقائق کو توڑ مروڑ کرپشن کرنے کی بھارتی روش کا نقصان سب سے زیادہ بھارت کے غریب عوام کو ہے جو خود تو غربت کی چکی میں ہمیشہ پسے ہوئے ہیں مگر اس نام نہاد پروپیگنڈے کی وجہ سے کبھی بھی بھارتی نیتاؤں اور نام نہاد سورماؤں کے جھوٹے دعوؤں اور جھوٹے خوابوں کے چنگل سے خود کوآزاد نہ کراسکے۔

 

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.