25
April
اپریل 2017
شمارہ:4 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
وطنِ عزیز میں امن کی بحالی کے لئے افواجِ پاکستان اور قوم باہم مل کر دہشت گردی کے جس عفریت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما تھیں‘ الحمدﷲ اس میں کافی حد تک کامیابی مل چکی ہے اوراُس کے ثمرات کا اندازہ امن عامہ کی عمومی صورتحال اور عوام کے دمکتے چہروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ الحمدﷲعوام الناس دہشت گردی کے خوف سے نکل چکے ہیں ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں
دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص....Read full article
 
 alt=
تحریر: طاہرہ جالب
کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر....Read full article
 
تحریر: جاوید حفیظ
مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت.....Read full article
 
تحریر: غزالہ یاسمین
23مارچ ہماری قومی تاریخ میں غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا پیمان باندھ کر اس کے حصول کی باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اس عہد کو تاریخ....Read full article
 
تحریر: فرح حسین
23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
کوئی بھی فوجی یا ریاستی اہلکار اپنی جان اس لئے قربان نہیں کرتا کہ اسے جان قربان کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ بلکہ وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر دشمنوں کے خلاف لڑتا ہے کہ اگر ملک کی حفاظت کے لئے جان بھی دینی پڑی تو پروا نہیں۔ یہ جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنے کا کیا طریقہ ہے اور کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ یہی جذبہ تمام سکیورٹی اداروں کے ہر اہلکار میں موجزن رہے۔....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
وہ ایک خوبصورت صبح تھی۔ شفاف‘ روشن دن30جولائی، میری اٹھارویں سالگرہ تھی۔ میں اور میرا بھائی گھر پر اپنے والدین کے منتظر تھے۔ میں بہت خوش اور پرجوش تھی۔سینیلا بول رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسکراہٹ اتر اتر کر اس کے ہونٹوں تک بکھر رہی تھی۔ اس کی ہوا میں کہیں تیر تی ہوئی نظر شاید ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کے خوابوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔.....Read full article
 
تحریر: طاہر محمود
23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج.....Read full article
 
تحریر: طاہر محمود
بوسنیا کے ایک جنگی ترانے کا ترجمہ
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں میں نے جانا ہے
اس خاموشی میں صرف اک صدا ابھرتی ہے
اﷲ اکبر
سردیوں کی ایک لمبی رات.....Read full article
 
تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ
جہلم شہر سے رانجھا میرا نامی گاؤں کی طرف جائیں تو چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلال ٹاؤن آتا ہے۔ اسی بلال ٹاؤن میں محلہ شاہ پور ہے۔ جہاں مادر وطن کا وہ جانباز (شہید) پیدا ہوا اور اسی قبرستان میں پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ دفن ہوا۔....Read full article

انٹرویو : او یس حفیظ
عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس........Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرہمامیر
سرکس میں تماشا نہیں لگاتا۔ یہ بات کیوں اور کیسے مشہور ہوئی معلوم نہیں لیکن مجھے ان بھیڑیوں کا خیال ضرور آیا جنہیں ایک کینیڈین جوڑا بڑی محبت سے ایسے پال رہا ہے جیسے وہاں کتے یا بلی پلتی ہے۔ ونکوور کے شمال مشرق میں پہاڑوں کے دامن میں 1.25 ایکڑ کے وسیع رقبے پر....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر وقار احمد
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان توانائی کے مستقل اور شدید بحران کا شکار رہا ہے اور اس کے حل کے لئے مختلف تجاویز، منصوبے اور حکومتی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سلسلے کو اگر ہم ملک کی تیزرفتار ترقی اور خصوصاً سی پیک جیسے بڑے منصوبوں سے جوڑیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور حقیقی اور پائیدار ترقی کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔یہ بہت نازک وقت ہے جب پاکستان....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان کے ساتھ بطورِ آرٹلری آبزرور موجود تھے۔ یہاں دن رات تیر کر دریا پار کرنے کی پریکٹس کی جاتی تھی۔ ستم بالائے ستم ....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی....Read full article
25
April


بوسنیا کے ایک جنگی ترانے کا ترجمہ
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں میں نے جانا ہے
اس خاموشی میں صرف اک صدا ابھرتی ہے
اﷲ اکبر
سردیوں کی ایک لمبی رات
میری ماں ‘ میں نے جانا ہے
میرے بزرگوں کی دھرتی آج مدد کو پکارتی ہے
میری ماں
اگر میں نہ لوٹ سکا
تو میرے انتظار میں گھڑیاں نہ ضائع کرنا
تیری پلکوں سے ایک آنسو
خامشی سے ڈھلک جائے
اور پھر فاتحہ مجھے الوداع کہے
یہ میری قربانیوں کا ثمر ہوگا
میری ماں
میں دیکھ سکتا ہوں
کہ اذاں کی صدا کے پروں کی سواری
مجھے جنت کے دروازے کو لے جارہی ہے
اور وہاں

میرے شہر سے آنے والی رمضان کی خوشبوئیں
مجھے خوش آمدید کہہ رہی ہیں
میری ماں
میں نے جانا ہے
کہ میری دھرتی مجھے پکارتی ہے
مگر تجھے اِک عہد کرنا ہوگا
کہ تومیری بہنوں کے آنچل کی لاج رکھے گی
اور میں
قبر کی اتھاہ گہرائیوں سے دیکھنا چاہوں گا
کہ میری بہنیں
بوسنیا کے غازیوں کو جنم دے رہی ہیں
میری ماں! الوداع
میری بہنو ! الوداع
میرے بوسنیا! الوداع
میں نے جانا ہے
کہ جنت کی صدائیں مجھے پکارتی ہیں
اﷲ اکبر، اﷲ اکبر
(ترجمہ :طاہر محمود۔ فروری 1995)

*****

14
April

23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج سے محبت جسم سے روح تک کے سارے سفر کا احاطہ کرتی ہے۔ فوجی کے دل و دماغ میںیہ دونوں جذبے یوں گڈ مڈ ہوتے ہیں کہ ان کی علیحدہ علیحدہ شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ ملک اور فوج ، فوج اور ملک بس یہ دو شناختیں مل کر ایک ہو جاتی ہیں اور فوجی کی اپنی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ بس صرف جذبہ زندہ رہ جاتا ہے۔
انسان محبت کرتا ہے کہ زندہ رہ جائے اور زندگی حسین ہو جائے۔ فوجی محبت کرتا ہے کہ زندگی قربان کر دے اور محبوب تا قیامت زندہ رہ جائے۔ ایسی محبت کی مثالیں کہاں ملیں گی کہ جسم کو توانا رکھاجاتا ہے کہ قربانی کے ثمر رائیگاں نہ جائیں۔ قربانی کرنے والا اپنے لہو کا خراج صرف کامیابی چاہتا ہے اپنے ملک کی کامیابی۔ اور اگرکامیابی ممکن نظر نہ آتی ہو اور موت کا سامنا ہو تو وہ خوشی خوشی موت کو گلے لگاتا ہے۔ اسے اپنی جدوجہد پر فخر ہوتا ہے کہ
Honour
اور
Pride
کے عَلم اس کی موت تک بلند تھے۔
یہ جذبے، یہ لوگ، یہ جسم، یہ آنکھیں یہ حوصلے سب 23مارچ کی پریڈمیں زندہ شکل میں ہوتے ہیں۔ مگر وقت پڑنے پر یہ ملک کے لئے اپنی آخری قربانی سے بھی چنداں دور نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر آنکھیں ہر لمحہ نم نہ ہوں تو اور کیا ہو۔ فوجی کب روتا ہے۔ شاید بہت کم، ہاں مگر وطن سے محبت کے جذبے ضرور اس کی آنکھوں کو ہمیشہ نم کرتے ہیں۔
(طاہر محمود)

11
April

معروف اداکارہ اور یومِ پاکستان پریڈ کی کمنٹیٹر فرح حسین کی وطن سے محبت میں لبریز ایک تحریر

23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے وہ شاید اپنا وجود یا اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے۔ جس کو دیکھو وہ انسانیت کا، سرحد کے غیر اہم ہونے کا اور دوستی کا گیت گاتا نظر آتا ہے۔ ان باتوں سے کسی ذی عقل انسان کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن سوال صرف ایک ہے کس قیمت پر اور یہی نقطہ اختلاف ہے۔


23مارچ کی سب سے بڑی مصروفیت صبح سے ہی پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی پریڈ ہوتی تھی۔ ایک جوش و خروش اور ولولہ پیدا ہوتا تھا مارچ پاسٹ اور سلیوٹ کرتے ہوئے فوجیوں کو دیکھ کر ایک احساس تفاخر پیدا ہوتا تھا اور احساس ہوتا تھا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔


اس پریڈ کے انعقاد کا سلسلہ موقوف ہو گیا اور 23مارچ کا دن بھی بہت سے چھٹی والے دنوں میں سے ایک ہو گیا۔ یہ چھٹی کیوں ہے؟ اس دن کی اہمیت کیا ہے؟ کیسے ہم نے اس ولولہ اس جذبہ کو زندہ رکھنا ہے جو ہمارے اسلاف کی میراث اور ہمارے تشخص کی بنیاد ہے؟ نہ تو کاروباری سکولز کے پاس اس کے لئے وقت اور نہ ہی مختلف لبرل و آزادئ اظہار کے قائل ٹی وی چینلز کے ہاں اس کی ضرورت۔ ہمارے ہاں وطن دوستی کے جذبات اور اظہار کو ایک خاص انداز سے دیکھا جاتا ہے اور وطن مخالف نظریات کی تشہیر کو آزادی رائے واظہار مانا جاتا ہے۔ جس نے ہمارے بچوں کے ذہنوں میں اپنی شناخت کے اعتبار سے بہت سے ایسے سوال پیدا کر دیئے ہیں جو درست نہیں ہیں۔


آج بچے وہ ملی جذبہ محسوس نہیں کر پاتے جو ہمارے بچپن کا خاصہ تھا۔ کیونکہ آج بچوں کو صرف یہ پتہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر ایک کرپٹ ہے۔ ہر کام رشوت سے ہوتا ہے اور ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ جس نے ایک خاص طرح کے احساس کمتری کو جنم دیا ہے اور جذبہ سرشاری کو ختم کر دیا ہے اور جس ملک کے جوان اپنے پرچم، اپنے ملک پر فخر کرنے کا جذبہ کھونے لگیں اس ملک کو پھر بیرونی دشمنوں سے نہیں اندرونی خلفشار سے زیادہ خطرہ رہتا ہے۔مارچ 2015میں دس سال کے تعطل کے بعد 23مارچ کو پریڈ کے دوبارہ انعقاد نے اس دن کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا اوراب ہر سال منعقدہونے والی یہ پریڈ صرف افواج پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے تجدید عہد کا دن ہے۔


کمنٹری بوتھ میں بیٹھ کر افواج پاکستان کے جوانوں کو ’’اپنی قوت اپنی جان جاگ رہا ہے پاکستان‘‘ اور ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘ پر مارچ پاسٹ کرتے دیکھا۔ اس تقریب کا حصہ بننا میرے لئے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ قوم کی نظریاتی اساس اور وحدت کا احساس اجاگر کرنا بھی اہم ہے۔ یہ شیرجوان جو کھلے قرآن کے سامنے ہاتھ اٹھا کر وطن کی حرمت اور دفاع کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کا عہد کرتے ہیں انہیں دیکھ کر میرے دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے۔


’’میریا شیر جواناں تینوں رب دیاں رکھاں۔‘‘
میں کیوں نہ اپنی قوم کے ان بیٹوں پرفخر کروں کہ یہ وہ جوان ہیں جو دفاعِ وطن کے لئے جان کی بازی لگادینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پریڈ کی کمنٹری کا ایک ایک لفظ ادا کرتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں اپنے مجاہدوں کے شانہ بشانہ اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہوں۔ پریڈ کے وہ لمحے مجھے میرے ہونے کا یقین دلارہے تھے۔ میری آنکھوں میں فخر کے آنسوتھے اور لفظوں میں بلا کی جرأت اور شجاعت تھی۔ یقیناًپریڈ کے یہ لمحات میری زندگی کے انمول خزانوں میں سے ایک تھے کہ مجھے یوں لگا کہ آج میں بھی اپنے وطن اور اپنی قوم کے لئے کوئی ایسا کام کررہی ہوں جس پر میں باقی زندگی میں فخر کرتی رہوں۔

 
11
April

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی سنجیدہ اخبار کی نمائندہ کتاب کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہتی ہیں۔ فی زمانہ ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا کے اینکروں کاجو ’’حال احوال‘‘ ہے اور جس میں خود میں بھی شامل ہوں۔ اُس میں کہاں کتاب پڑھنا کہاں لکھنا۔۔ زبانیں اتنی بدزبان بلکہ بد لگام ہو چکی ہیں۔ اور جو بازاری زبان میں بک بھی رہی ہیں تو کسے فرصت اور ضرورت کہ کتاب خریدے اور پڑھے۔یہ ساری تمہید باندھنے کا سبب یہ ہے کہ خیرسے عزت سادات رہ گئی یعنی ہم نے ماضی حال میں جن کتابوں کے اوراق اُلٹے اُن پر جو سیر حاصل گفتگو ہوئی اُسے اگلے دن پرنٹ کی صورت میں

دیکھ کر خوشی ہوئی کہ
شہر میں اعتبار ہے اپنا
مہ کدے میں ادھار ہے اپنا

پہلا سوال تو یہی ہوا کہ ان دنوں کون سی کتاب زیرِ مطالعہ ہے؟ اب ادھر ہماری یہ عادت ہوگئی ہے کہ دن بھر کی مشقت کے بعد رات کے دوسرے پہر میں میز پر دھری کتابوں کو ٹٹولنا شروع کرتے ہیں۔ اور ذہنی کیفیت سے ہم آہنگ کتاب اُٹھا کر کوشش ہوتی ہے کہ اُسے اختتام تک پہنچایا جائے مگر یہ ذرا کم ہی ہوتاہے۔ مگر اپنی عزیز دوست اور انتہائی پڑھی لکھی ادیبہ اور شاعرہ ’’فہمیدہ ریاض‘‘کی حال ہی میں آکسفورڈ سے شائع ہونے والی کتاب ’’تم کبیر‘‘کے چند اوراق اُلٹنے کے بعد ہی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور یوں پھر کسی دوسری کتاب کی طرف ہاتھ نہیں جاتا ہے۔ ’’تم کبیر‘‘ فہمیدہ ریاض کی وہ طویل نظم ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے نام لکھی ہے۔ جو 2010 میں امریکہ میں ایک تالاب میں ڈوب گیا تھا۔ کسی ماں کا بیس اکیس سال کا جوان بیٹا اُس سے اچانک چھن جائے تو جس کرب و آلام سے وہ گزرتی ہوگی اُس کا بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے اُس کا بیان ممکن نہیں۔ میں خود اس تجربے سے گزرا ہوں۔ بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو میری والدہ محترمہ کو ایک طویل چُپ لگ گئی تھی۔ مگر فہمیدہ کی شاعرانہ عظمت اورتخلیقی صلاحیت دیکھیں کہ انہوں نے اس ’ذاتی‘غم کو ایک بڑی یادگاری تخلیق میں ڈھال دیا۔

 

kitabedostan.jpgدوسرا سوال ہوا ایسی کون سی کتاب ہے جسے آپ ختم نہیں کر پاتے؟ میں نے انتہائی تفصیل سے بتایا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی ذاتی زندگی پر ممتاز اسکالر خالد نظیر صوفی نے دو جلدوں میں ایک کتاب مرتب کی ہے ’’اقبال درونِ خانہ‘‘ جس میں کوئی سو مضامین ہوں گے اُن کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے۔ بعض انتہائی دلچسپ اور بعض بس ذرا سر سری۔ سو یہ کتاب مہینے بعد بھی ختم نہیں ہورہی۔ تیسرا سوال بھی بڑا دلچسپ تھا کہ وہ کون سی دو تین کتابیں ہیں جو آپ بار بارپڑھنا چاہتے ہیں؟ میرا جواب تھا فیض احمد فیض کا مجموعہ کلام ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ اور دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کی ’’آخرشب کے ہمسفر‘‘۔۔پوچھا گیا۔ ۔کیوں؟ اختصارسے لکھ رہا ہوں کہ ایک تو فیض صاحب کی شاعری ہمارے کام بہت آتی ہے۔ قلم گھستے ہوئے جب الفاظ غریب ہونے لگتے ہیں تو فیض صاحب کا ایک مصرعہ یا شعر ساری بات بڑی خوبصورتی سے سمیٹ دیتا ہے۔ دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کا ناول ’’آخر شب کے ہمسفر‘‘ ہے۔ ویسے تو قرۃالعین حیدر کا سب سے بڑا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہے اور جسے بلا شبہ اردو کا بھی سب سے بڑا ناول سمجھا جاتا ہے مگر ’’ آخر شب کے ہمسفر‘‘ برصغیر پاک وہند کی اشتراکی تحریک کے بارے میں ہے جس کا بڑا المناک انجام ہوا اور جسے عینی آپا نے اپنے منفرد اسٹائل میں اس خوبصورتی سے لکھا ہے کہ یہ ناول ہوتے ہوئے بھی ایک عظیم سیاسی تاریخ کا نوحہ بن گیا ہے۔یوں گزشتہ آٹھ دس برسوں میں کوئی بیس پچیس بار تو اس کو پڑھ ہی چکا ہوں۔ سوال ہوا آئندہ کس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ ہے؟بے ساختہ نام آیا
"Debriefing The President" by John Nixon
صدام حسین کے بارے میں یہ کتاب مشرق وسطیٰ کی حالیہ سیاسی ہنگامہ خیزی کو سمجھنے کے لئے بڑی اہم ہے۔ سابق صدر کو جب انتہائی ناگفتہ حالت میں پکڑا گیا اور اُن تصاویر کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جس میں شیو بڑھا۔۔ بوڑھا ہوتا ‘تھکا ہارا صدام حسین دکھایا گیا۔تو اُس وقت مسلم دنیا کا ردعمل مختلف تھا وہ بھول چکی تھی کہ خود صدام حسین نے اپنی قوم پر کیا مظالم ڈھائے تھے۔ جون نے اپنی کتاب میں صدام حسین کی ڈی بریفنگ کا ذکر بڑے متاثر کُن انداز میں کیا ہے۔ جون لکھتا ہے میرے ساتھ ایک اور امریکی اہلکار بھی تھا۔ صدام نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا۔ پہلے آپ اپنا تعارف کرائیں کہ آپ کون ہیں اس پر انتہائی درشت لہجے میں امریکی اہلکار نے جواب دیا ہم یہاں تمہارے سوالوں کا جواب دینے نہیں آئے ہیں جو کچھ ہم پوچھ رہے ہیں اُس کا جواب دو۔ تم ہماری قیدمیں ہو اور تمہارا مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس پر صدام حسین کا جواب تھا کہ میں ایک ملک کا صدر ہوں اگر تمہارے ملک امریکہ کے صدر کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا تو تمہارے ملک کے عوام کا کیا ردِعمل ہوتا۔ صدام نے امریکوں کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ تم ’’عرب اور خاص طور پر عراقی‘‘ سائیکی نہیں سمجھتے۔ اب تم مشرق وسطیٰ میں پھنس چکے ہو تم یہاں سے آسانی سے نہیں نکل سکتے۔ یقیناً یہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ افسوس کہ میں اسے ختم نہیں کر پارہا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ ایک انگریزی اخبار کی نمائندہ نے کتابوں کے حوالے سے گفتگو کیا کی آپ اپنے مطالعے کا رُعب جمانے لگے ۔یقین کیجئے جس مشقت میں سارا دن گزرتا ہے اس کے بعد سب سے زیادہ افسوس رات کے آخری پہر میںیہ ہوتا ہے کہ سارے مہینے میں درجن بھر کتابیں خریدیں یا تبصرے کے لئے ملیں مگر مشکل سے دو تین مکمل‘ دو تین ادھوری اور بقیہ کا تو ایک ورق بھی نہیں اُلٹ سکا۔ مگر ایک بات یقیناً خوش آئند ہے کہ حالیہ برسوں میں نہ صرف وطنِ عزیز میں اردو، انگریزی اور مادری زبانوں میں کتابوں کی اشاعت میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے بلکہ لٹریری فیسٹول اور جو کتاب میلے ہورہے ہیں اُس سے اطمینان ہوتا ہے کہ وہ جو اپنی خوف و دہشت اور کلاشنکوفوں سے اپنی شریعت کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کروڑوں عوام کو ازمنہِ وسطیٰ کے دور میں دھکیلنا چاہتے تھے۔ جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں اسکولوں کو نذرِ آتش کیا تھا انہیں اس جراّت مند قوم نے شکست دے دی ہے۔ یوں بھی کلاشنکوف کا سب سے مؤثر جواب کتاب ہی ہو سکتی ہے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ذرا نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو کتنا اونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی اس پر سے گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ بعض لوگ آسمان سے گرتے ہیں تو کھجور میں اٹک جاتے ہیں، وہیں بیٹھے کھجوریں کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن کھجوریں بھی تو کہیں کہیں ہوتی ہیں، ہر جگہ نہیں ہوتیں۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں آسمان اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔ غالبؔ نام کا شاعر جو دو سو سال پہلے ہوا ہے، ایک جگہ کسی سے کہتا ہے۔
؂ کیا آسمان کے برابر نہیں ہوں میں؟
جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اونچی ہوتی گئیں، آسمان ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر اٹھتا گیا۔ اب نہ چیزوں کی قیمتیں نیچے آئیں نہ آسمان نیچے اترا۔
ایک زمانے میں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے پھر ہماشما جانے لگے۔ جو خود نہیں جا سکتے تھے ان کا دماغ چلا جاتا تھا۔ یہ نیچے دماغ کے بغیر ہی کام چلا لیتے تھے۔ بڑی حد تک اب بھی یہی صورت حال ہے۔
پیارے بچو! راہ چلتے میں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے تاکہ ٹھوکر نہ لگے۔ جو زمین کی طرف دیکھ کر چلتا ہے اسے ٹھو کر نہیں لگتی۔
(ابن انشاء کی تصنیف ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ سے انتخاب)

*****

 
11
April

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے‘ ریہرسل ہوئی اور پھر ریکارڈ ہونے کے بعد فوری طور پر نشر ہوئے۔ آج کے اس نغمے ’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ میں نے صوفی صاحب سے گزارش کی کہ قصور بارڈر پر بھی لڑائی ہو رہی ہے اور ملکہ ترنم نورجہاں قصور کی رہنے والی ہیں۔ اس لئے قصور پر بھی نغمہ ہونا چاہئے جس پر صوفی صاحب نے کافی سوچ بچار کے ساتھ مجھے یہ استھائی لکھ کر دی۔


’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘
میں یہ استھائی لے کر اپنی ریکارڈنگ ٹیم کے پاس اسٹوڈیو نمبر2میں چلا گیا اور یہ استھائی ملکہ ترنم نورجہاں کو دی۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے بولوں کی مناسبت سے اس کو راگ دیس میں موزوں کیا۔ تھوڑی ریہرسل کے بعد میڈم نورجہاں نے کہا کہ اعظم صاحب اس کے انترے لائیں۔ چنانچہ میں پھر صوفی صاحب کے پاس اپنے کمرے میں گیا۔ محترم صوفی تبسم میرے کمرے میں ہی بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت وہ اقبال کا ایک شعر اور اس کی تشریح میں مصروف عمل تھے میں نے بڑے ادب سے معافی مانگی کہ صوفی صاحب آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔ میری مجبوری ہے کہ آج بھی ایک نیا نغمہ ریکارڈ کرنا ہے۔ اس نغمے کی استھائی تو آپ نے دے دی ہے۔ اب تین انترے چاہئیں۔ صوفی صاحب نے از راہ کرم کچھ دیر سوچنے کے بعد انترے عطا فرما دیئے۔ ان دنوں صوفی صاحب کی آمد بھی کمال تھی۔ حالات اور وقت کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمے لکھ کر دیتے۔ میڈم نورجہاں اس خاص نغمے کو پڑھ کر بہت خوش ہوئیں کیونکہ یہ نغمہ ان کے شہر پر لکھا گیا تھا۔ سارے دن میں نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور رات کو ریکارڈ ہوا۔ اپنے پڑھنے والوں کو بتا دوں کہ نغمے کی بنیادی دھن
Melody
کہلاتی ہے۔ اور جو باقی
Orchestra
ہوتا ہے اس کو
Harmony
کہتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کو جب ترتیب سے اکٹھا کرتے ہیں تو تب نغمہ تخلیق پاتا ہے۔ باقی رہ گئی ریکارڈنگ تو اس کے لئے بھی بہت علم اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا م کے لئے میں نے بطور میوزک پروڈیوسر بہت محنت اور کوشش کی ہے۔ ہر کوئی ریکارڈنگ نہیں کر سکتا اور پھر اتنی بڑی آرٹسٹ کی ریکارڈنگ۔ میری ریکارڈنگ کو میڈم نورجہاں اتنا پسند کرتی تھیں کہ میرے بغیر ریکارڈنگ نہیں کراتی تھیں۔ ہمیشہ کہتی اعظم بھیا، ریکارڈنگ پر آپ خود بیٹھیں۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ تمام نغموں کی ریکارڈنگ کوالٹی کتنی عمدہ ہے حالانکہ اس وقت ریکارڈنگ کے آلات اتنے جدید نہیں تھے۔ میں صرف تین مائیکروفون استعمال کرتا تھا۔ بیلنس کرنے میں مجھے کافی وقت لگتا تھا تاکہ بہترین ریکارڈنگ ہو جائے۔ ستمبر65 کی جنگ کے دوران پروڈیوسر، میوزیشنز، گلوکار سب کے درمیان ایسی انڈر سٹینڈنگ پہلے یا بعد میں کبھی بھی دیکھنے میں نہیںآئی جتنی ان سترہ دنوں میں دیکھنے کو ملی۔ بھارتیوں کا خیال تھا کہ ہم نے یہ ملی نغمے جنگ سے پہلے ریکارڈ کئے ہیں لیکن جب جنگ کا اختتام ہوا تو یہ حقیقت ان پر کھلی اور ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ ملی نغمے جنگ کے دوران ہی ریکارڈ ہوئے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کو صبح میں اپنی جیپ پر لے کر آتا۔ وہ سارا سارا دن میرے پاس ریکارڈنگ کے لئے موجود رہتیں بعض اوقات جب باہر خطرے کا سائرن ہوتا تو میڈم نورجہاں اسٹوڈیو میں ہی اپنی ٹیم کے ساتھ موجود رہتیں۔ میڈیم نورجہاں کہتی کہ اعظم صاحب اگر موت اسٹوڈیو میں لکھی ہے تو کوئی بات نہیں ہم اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑ سکتے۔ جنگ ستمبر کے دوران پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے۔ ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ فضائی حملوں کے دوران پور لاہور بلیک آؤٹ میں ڈوب جاتا تو لاہورئیے اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر ’’فائٹ‘‘ دیکھتے۔ اور اپنے پائلٹوں کو باقاعدہ داد دیتے۔ انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا کہ وہ حملوں کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ فائٹ کا نظارہ میں نے ایک مرتبہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح آگے بھارتی طیارے اور ان کے پیچھے ہمارے جہاز ہوتے۔ لوگ سڑکوں پر دشمنوں کے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لئے بلند نعرے لگاتے۔ عوام کے جذبات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہر شہری کا رخ بارڈر کی طرف ہوتا۔ ان میں سے کوئی ہاکی اور کلہاڑی اٹھائے تو کوئی اپنے فوجی بھائیوں کے لئے کھانے اور دیگر اشیاء لے کر بارڈر کی طرف جا رہا ہوتا۔ یہ کیسا جذبہ تھا ہمارے ملی نغمے ہتھیار کا کام کر رہے تھے۔ ہمارے فوجی جوان ان کو سن کر بہادر ی اور دلیری سے لڑتے،یقیناًفوج اور عوام کا ساتھ بہت کام آتاہے۔

 
11
April

تحریر: صائمہ جبار

بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں کی گئی۔
بھارتی فلم سنسر بورڈ نے اسی لئے فلم کے پروڈیوسر کو اس ڈیکلیئریشن کو ہٹانے کا آرڈر دیا ہے جس میں کہا گیا کہ فلم حقائق پر مبنی ہے۔
Censor Board Of Film Certification (CBFC)
کے مطابق فلم ساز کو ایک ڈیکلیئریشن دکھا نا پڑے گا جس میں لکھا جائے کہ فلم کچھ افسانوی ہے اور کچھ حقائق پر مبنی۔ یہ خبر بھارتی اخباروں دکن کرونیکل اور ڈیلی نیوز انیلیسزمیں شائع کی گئی ہے۔
اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان کو اس وقت بہت سے چیلنجز در پیش ہیں۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی اہمیت بھی پاکستان کے لئے گیم چینجر کی سی ہے۔خطے کے سٹریٹجک حالات کا تقاضا ہے کہ سی پیک کی نہ صرف زمینی بلکہ بحری سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔


دشمن کی سازشوں اورپروپیگنڈے کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب صحیح اور حقیقی معنوں میں ماضی کے متعلق معلومات نہ صرف نوجوان نسل بلکہ ہر عمر کے افراد اورطبقے تک پہنچیں گی۔ پاکستان پر کی گئی سرجیکل سٹرائیکس کا جھوٹا دعوی اس کی ایک مثال ہے۔ جس پر نہ صرف بھارت میں ایک بڑے طبقے اوردنیا نے بلکہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی کمیشن نے بھی یقین نہیں کیا اور مشکوک قرار دیا۔مودی حکومت کو اپنے ہی لبرل طبقے نے اس جھوٹ پر مذاق کا نشانہ بنایا۔


قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاک بحریہ دشمن کی ہر سازش کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کر تی آئی ہے۔ اس کی ایک روشن مثال 1965اور 1971میں پاک بھارت جنگوں میں پاک بحریہ کا کردار رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ایک بڑا حصہ رہا ہے۔ کوئی بھی فورم ہو بھارت اپنی سازشوں سے باز نہیں آتا۔

pnsghazib.jpgدرحقیقت آبدوز ’غازی‘ پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جس نے بھارت کے ساتھ لڑی گئی 1965ور1971کی جنگوں میں حصہ لیا۔پاکستان نیوی نے خود سے کئی گناہ بڑی بھارتی نیوی کے سامنے سخت مذاحمت کی اور بھر پور دفاع کیا۔ بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے پانیوں تک پھیلی ہوئی سمندری حدود کی حفاظت پاک بحریہ کی ذمہ داری رہی ہے اور ان دونوں جنگوں کے دوران پاک بحریہ کے یونٹس گہرے پانیوں تک گئے تا کہ تجارتی آمدورفت بحفاظت جاری رہ سکے۔اس دوران پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہرنہیں آنے دیا۔یہ پی این ایس غازی آبدوز ہی تھی جس کے باعث دشمن 1965 میں اپنے بحری فلیٹ کو باہر نہ نکال سکا۔ پی این ایس غازی پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جسے امریکہ سے لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 1945 سے 1963تک یہ امریکی نیوی کا حصہ رہی ۔چار ستمبر 1964 کو یہ آبدوز کراچی کے نیول ڈاک یارڈپہنچی اور پاک نیوی میں پہلی تیز رفتار آبدوز بنی۔ اس کا نام غازی 1964میں رکھا گیا اس کا پرانا نام
USS Diablo (SS-479)
تھا۔
1965 کی جنگ میں غازی کا کردار
اعلانِ جنگ کے فوری بعد بحری یونٹس کو اپنے اپنے اہداف کی جانب روانہ کیا گیا۔ دفاع کے ساتھ ساتھ پٹرولنگ شروع ہوئی۔بھارت کے تجارتی جہاز ’’سرسوتی‘‘اور دوسرے کئی جہازپاکستان میں کراچی بندر گاہ پر زیرِ حراست رہے۔ سات ستمبر کامیابی کا دن تھا۔ اس روز پی این ایس غازی سمیت پاک بحریہ کا بیڑا بھارت کے ساحلی علاقے دوارکاپر حملے کے لئے روانہ ہوا۔کیونکہ اس مقام پر نصب کیا گیا ریڈار پاک فضائیہ کے راستے میں رکاوٹ تھا۔پاک بحریہ کے فلیٹ نے 20منٹ میں دوارکا کو تباہ کر دیا۔بعد میں بھارت نے اپنے جہاز تلوار کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کو بھیجا لیکن وہ پی این ایس غازی کے خوف سے کہیں اور نکل گیا۔


جنگ میں بہترین کارکردگی کی وجہ سے پی این ایس غازی کے عملے نے 10ایوارڈ حاصل کئے جن میں دو ستارۂ جرأت بھی شامل ہیں۔
1971 کی جنگ میں غازی کا کردار
14نومبر 1971 کمانڈرظفر محمد خان اپنی سربراہی میں 93بہادر جوانوں کو لے کر پی این ایس غازی میں کراچی بندرگاہ سے ایک بے حد مشکل مشن پر روانہ ہوئے۔ آبدوز غازی کو مشن دیا گیا تھا کہ مغربی بھارت کے دفاعی سمندروں سے گزرتے ہوئے اپنی بیس سے 3000میل دور خلیج بنگال کے شمال میں جائے۔ اس علاقے کی صورتحال بے حد کشیدہ تھی۔جس کے باعث آبدوز غازی کو ہدایات دی گئی تھیں کہ ریڈیو پر مکمل خاموشی رکھی جائے اور صرف رات کے وقت ہی بیٹریاں وغیرہ چارج کی جائیں۔جو مشکل مشن غازی کو دیا گیا تھا وہ بھارتی نیوی بیس وشاکاپتنام میں نقل و حرکت روکنے کے لئے بندرگاہ کے آس پاس پانی میں بارودی سرنگیں بچھانے کا تھا۔


غازی آبدوز نے بہت مہارت سے یہ کام شروع کیا اور بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں۔لیکن قیاس ہے کہ یہ آبدوز بد قسمتی سے اپنی ہی بچھائی ہوئی ایک بارودی سرنگ کی زد میں آ کر ڈوب گئی۔دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ بندرگاہ بھی کانپ اٹھی۔ یہ علاقہ بھارتی حدود میں تھا لیکن بہت دیر تک بھارت کو پتا نہیں چل سکا کہ ہوا کیا ہے؟ تاہم ایک بھارتی مچھیرے نے پانی میں پی این ایس ’غازی‘ کے عملے میں لائف جیکٹس دیکھی جس کے بعد بھارت نے غازی کو تباہ کرنے کا دعوی کر دیا ۔ یہی نہیں بلکہ کچھ بھارتی افسروں نے تو اس بات پر تمغے بھی وصول کئے۔


غازی کے ساتھ رونما ہونے والا واقعہ تین اور چار دسمبر کی درمیانی شب پیش آیا جبکہ بھارت نے اس کو تباہ کرنے کا دعویٰ نو تاریخ کو کیا۔ اگر بھارت نے غازی کو تباہ کیا تھا تو اسے اتنے دن تک پتا کیوں نہیں چلا ۔اور اگر پتا تھا تو اتنے دن تک اس کو چھپا کر کیوں رکھا؟


بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی دعوے جھوٹے تھے۔ بھارتی وائس ایڈمرل میہیر رائے نے حال ہی میں اپنی ایک شائع کردہ کتاب میں کہا کہ غازی آبدوزپہلے وشکاپتنام بندرگاہ سے کافی دور تعینات تھی اور غالباً دو یا تین دسمبر 1971کو بارودی سرنگیں بچھانے آئی تھی اور قریب ہی دو تین سرنگیں بچھا چکی تھی اور ایک بارودی سرنگ سے تباہ ہو گئی تھی۔ ایڈمرل میہیر رائے نے یہ بھی لکھا کہ پانی میں بارودی سرنگیں ایک لائن کے پیٹرن میں 150میٹر کے فاصلے اور 30میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی تھیں جس کی تصدیق آبدوز ریسکیو ویسل نیسٹارکے پانی کے نیچے موجود ٹی وی سے کی گئی۔ ان کے مطابق سونار ٹرانسمیشن اور اس کے شور کو جانچتے ہوئے پاکستانی آبدوزاس علاقے سے نکل کر محفوظ گہرے پانیوں میں جا چکی تھی۔اور آدھی رات کے قریب جب پیٹرولنگ کشتیاں واپس بندرگاہ لوٹ گئیں تو غازی آبدوز پھر سے بارودی سرنگیں بچھانے کا کام مکمل کرنے نکل پڑی تاکہ بھارت کے مشرقی فلیٹ کو وشاکا پتنام کی پورٹ پر محدود کرنے کی اسائینمنٹ مکمل کی جائے۔اس مشن کو مکمل کرنے کی بے چینی میں اپنے ہی پہلے سے بچھائی ہوئی سرنگ والے ٹریک میں غلطی سے مڑ گئی۔جس کی وجہ شائدساحل پرمون سون کے موسم کے بعد چلنے والی تیز ہواؤں سے اُٹھنے والی تندوتیز لہریں تھیں۔


دشمن کی اپنی گواہی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غازی اس وقت تباہ ہوئی جب وہ اس بات کو یقینی بنا رہی تھی کہ بھارت کے مشرقی بیڑے کو بند کرنے کے لئے بارودی سرنگوں کوبچھانے کا کام ٹھیک طور پر ہو رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی جنگ میں تباہ ہونے والی یہ پہلی آبدوز تھی۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین کی درخواست کے باوجود بھارتی حکومت غازی کے ڈوبے ہوئے حصوں کو سمندر سے نکالنے پر راضی نہ ہوئی۔2010میں بھارت کی مشرقی کمانڈ نے 1971کی جنگ کا سارا ریکارڈ ضائع کر دیا ۔ غازی کی تباہی کا ریکارڈ بھی اسی میں شامل تھا۔
1971 میں بھارتی فوج کی مشرقی کمانڈ کے چیف آف سٹاف جے ایف آر جیکب نے مئی2010 میں ایک آرٹیکل

THE TRUTH BEHIND THE NAVY'S 'SINKING' oF GHAZI "
میں واضح کیا کہ غازی آبدوز ایک حادثے کا شکار ہوئی،اور بھارتی نیوی کا اس کے ڈوبنے سے کوئی تعلق نہیں۔اسی لئے تمام ریکارڈ ختم کر دیا گیا۔
پاکستانی انگریزی اخبار میں محمد عادل ملکی نے
"warriors of the waves''
کے نام سے لکھے ایک آرٹیکل میں بتایا کہ انہوں نے غازی کے ڈوبنے کے حوالے سے ایک ایسے تجربہ کار عملے کے فرد سے رابطہ کیا جس نے غازی میں کام کیا تھا جب وہ امریکہ میں یو ایس ایس ڈائیبلو کے نام سے ہوا کرتی تھی۔مصنف ایک آزادانہ رائے لینا چاہتا تھا۔ مصنف کے مطابق جب ڈوبے ہوئے ملبے کی تصاویر اور خاکوں کا مشاہدہ کیا گیا تو اس بات کاپتا چلا کہ
forward torpedo room
میں ہونے والے ایک دھماکے کی وجہ سے آبدوز تباہ ہوئی۔یہی رائے ایک بھارتی صحافی سندیپ یونیتھین کی تھی جو کہ ملٹری اور سٹریٹیجک تجزیوں کا ماہر ہے۔اس بات کا یقین اس ویڈیو سے بھی ہوتا ہے جو غوطہ خوروں نے بنائی تھی۔


غازی کے ڈوبنے کے کچھ روز بعد بھارتی غوطہ خوروں نے اس میں سے قیمتی اور اہم معلومات حاصل کرلیں۔ان میں سے چند اشیا آج بھی بھارتی وار ٹائم میوزیم میں سجائی گئی ہیں۔
آج 1971کو 45 برس گزر چکے ہیں اور بھارت نے غازی کے ڈوبنے کا کریڈٹ لینے کے لئے ایک جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی فلم بنائی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے بھارت کو اس کا ہوش کیوں نہیں آیا؟ اتنے برس گزرنے کے بعد اچانک اس موضوع پر فلم بنانے کا خیال کیوں آ گیا؟بھارتی حکومت اور نیوی اپنے جھوٹے مؤقف کو فروغ دینے کے لئے بالی وڈ کا استعمال کرنے سے کبھی بھی دریغ نہیں کر تا۔مگر جھوٹ اور حقائق کو توڑ مروڑ کرپشن کرنے کی بھارتی روش کا نقصان سب سے زیادہ بھارت کے غریب عوام کو ہے جو خود تو غربت کی چکی میں ہمیشہ پسے ہوئے ہیں مگر اس نام نہاد پروپیگنڈے کی وجہ سے کبھی بھی بھارتی نیتاؤں اور نام نہاد سورماؤں کے جھوٹے دعوؤں اور جھوٹے خوابوں کے چنگل سے خود کوآزاد نہ کراسکے۔

 

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
April

انٹرویو : او یس حفیظ

خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتاہے ‘ جسے وقت پر نہ اُتارا جائے تو زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے

عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس ‘ شاعر اور کامیاب منتظم بھی ہیں۔ ویسے تو آپ کی جائے پیدائش امرتسر ہے اور اس نسبت سے آپ ’’امبر سریے‘‘ ہیں مگر آپ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی نے مکمل لاہورئیے کو دیکھنا ہے تو آپ کو دیکھ لے کیونکہ ذات اور شخصیت کے اعتبار سے آپ پر اندرون لاہورئیے کا گمان ہوتا ہے۔ آپ ’’کھلے ڈُلے‘‘ مزاج کے آدمی ہیں اور اپنے منفرد شگفتہ اندازِ گفتگو سے محفل کو کشتِ زعفران بنانے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہلال کے لئے آپ کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔


سوال: اپنے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: میں یکم فروری 1943کو امرتسر کے ایک کشمیری علمی گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے سے پہلے کئی بیٹیاں تھیں اس وجہ سے میں بہت لاڈلا تھا، اتنا لاڈلا کہ میرا نک نیم ’’شہزادہ‘‘160پڑ گیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ میں نے اپنی ابتدائی زندگی شہزادوں ہی کی طرح بسر کی۔ میرے والد مولانا بہاء الحق قاسمی مشہور عالم دین تھے جو قیامِ پاکستان کے وقت امرتسر سے ہجرت کر کے وزیرآباد آگئے اور یہاں پر سکول ٹیچر مقرر ہو گئے۔

interattraullhaq.jpgمیری زندگی کے دس سال وزیر آباد کے بکریانوالہ کوچہ میر چونیاں میں گزرے اور پھر باقی زندگی لاہور میں۔ اس باقی زندگی میں دو سال امریکا کے شہر سینٹ لوئیس میں بطور فوڈ اینڈ بیوریجزمنیجر، دوسال اوسلو (ناروے) میں بطور سفیر اور تین مہینے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں بطور سفیر اپنی خدمات انجام دیں۔ لاہور تقریباً 25سال ماڈل ٹاؤن میں گزارے۔ کچھ عرصہ اچھرہ کے ونڈسر پارک میں ایک کرائے کے مکان میں رہا۔ تقریباً 25سال ہی اقبال ٹاؤن میں اپنے تعمیر کردہ گھر میں ہنسی خوشی بسر کئے اور اب تقریباً پندرہ برس سے ڈیفنس کے ای ایم ای سیکٹر میں رہائش پذیر ہوں۔ وزیر آباد کے ایم پی پرائمری اسکول غلہ منڈی سے پانچ جماعتوں کے بعد چھٹی جماعت میں گورو کوٹھا کے ہائی سکول میں داخلہ لیا اور اس کے بعد ہم لاہور شفٹ ہوگئے۔ میٹرک ماڈل ہائی سکول ماڈل ٹاؤن سے کیا۔ بی اے، ایم اے او کالج لاہور سے کیا جبکہ ایم اے (اردو ادب) پنجاب یونیورسٹی اوریئنٹل کالج سے کیا۔ 35سال نوائے وقت سے منسلک رہا اور اس کے ساتھ ساتھ ایم اے او کالج میں لیکچرار شپ بھی کی۔ اب ایک طویل عرصے سے جنگ میں کالم لکھ رہا ہوں اس تمام عرصے میں پوری دنیا میں بسلسلہ تقریبات شرکت کے لئے جاتا رہا ہوں۔ آٹھ سال الحمراء آرٹس کونسل میں بطور چیئرمین اپنی خدمات انجام دی ہیں اور اب گزشتہ ایک برس سے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی ) کا چیئرمین ہوں۔


سوال: اپنے بچپن اور فیملی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، چھ بہنیں اور دو بھائی۔ والد اور والدہ کو ملا کر ہم دس افراد تھے۔ بڑے بھائی اور دو بہنیں وفات پا چکی ہیں۔ میں فرسٹ ائیر میں تھا جب میری والدہ کا انتقال ہوا اور والد کا انتقال 1987میں ہوا تھا۔ میری والدہ کافی بیمار رہتی تھیں انہوں نے کئی سال علالت میں گزارے اور ابا جی کا ہاتھ کافی بھاری تھا (مسکراتے ہوئے) وہ چونکہ استاد تھے اس لئے ڈنڈا بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن میں بہت لاڈلا تھا، اس لئے میری تمام تر نالائقیوں کے باوجود انہیں مجھ سے بہت محبت تھی۔ ذرا سی بیماری کی صورت میں وہ مجھے اپنے کندھوں پر بٹھا کر ہسپتالوں کے چکر لگاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میرے پاؤں پر پھوڑا نکل آیا تو انہوں نے مجھے زمین پر پاؤں نہیں رکھنے دیا لیکن اپنی والدہ کا سوچ کر آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے میری نالائقی کے دن تو بہت دیکھے لیکن عین جوانی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے ہمیشہ یہ پشیمانی رہی کہ وہ مجھے ترقی کرتا دیکھنے کے لئے اس دنیا میں موجود نہ تھیں۔


سوال: آپ کا والد کے ساتھ دہرا رشتہ تھا، محبت کا بھی اور ڈانٹ ڈپٹ کا بھی؟
جواب : ان کی ڈانٹ میں بھی پیار تھا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی ڈانٹ نے ہی مجھے صحیح راستہ دکھایا، ان کی محبت کے منظر آج بھی میری آنکھوں سے نہیں ہٹتے، میرے والد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ انہوں نے زندگی سادگی سے گزاری اور ہمیں بھی سادگی کا درس دیا۔ وہ ہمیں اپنی اور اپنے خاندان کی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے قصے سناتے تھے، پرانی تاریخ سے ایسے ایسے واقعات ڈھونڈ کر لاتے جن سے ہم میں انسانیت بیدار ہو، ہم اچھی اقدار کو اپنائیں۔ وہ ایک قدآور عالم دین اور پرجوش خطیب تھے۔ جب وہ وزیر آباد میں سکول ٹیچر تھے توجامعہ اشرفیہ کے بانی مفتی محمد حسن نے جو کہ میرے والد کے استاد بھی تھے اور دادا کے شاگرد بھی، انہوں نے میرے والد سے کہا کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی جامع مسجد میں آپ کی ضرورت ہے، آپ یہاں آ جائیں۔ چنانچہ میرے والد صاحب نے پیشکش قبول کر لی اور ہم لاہور ماڈل ٹاؤن میں آ کر آباد ہو گئے اور میرے والد ماڈل ٹاؤن مسجد میں خطیب مقرر ہو گئے۔ یہیں ماڈل ٹاؤن میں ایک واقعہ بھی پیش آیا، ہوا یوں کہ میرے والد نے مسجد میں کچھ سخت خطبات دیئے، جس پر چند لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ آپ بس نماز پڑھا دیا کریں باقی کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے والد نے ان سے کہا کہ ’’میں صبح ناشتے میں چائے کا ایک کپ اور رس لیتا ہوں، دوپہر کو بھی روکھی سوکھی کھاتا ہوں، رات کو دال چاول کھا کر سو جاتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور جس دن میری ضروریات میں اضافہ ہو جائے گا اس دن میں آپ کی بات پر غور ضرور کروں گا‘‘۔ ابا جی کی باتوں کا لوگوں پر بہت اثر ہوا،نتیجتاً مسجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ ابا جی کی ایک ذاتی لائبریری تھی جس میں ہر مذہب اور ہر مسلک کی کتابیں تھیں اور یہیں سے مجھے کتابوں کا شوق بھی ہوا، میں نے وہ ساری کتابیں پڑھیں جس کے بعد خدا نے ذہن کشادہ کر دیا۔ ابا جی کی خودداری اور عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ کچھ سال قبل ماڈل ٹاؤن کے قبرستان کی تحقیق کرنے کے لئے ایک محقق بھیجے گئے۔ انہوں نے قبرستان کی تاریخ کا جائزہ لیا، پرانی دستاویزات کو کھنگالا، وہاں انہیں بہت سے دیگر کاغذات کے ہمراہ میرے اباجی کا ایک خط بھی ملا۔ لکھا تھا ’’آپ مجھے جو تنخواہ دیتے ہیں وہ میری ضروریات سے بہت زیادہ ہے براہِ کرم اس میں تخفیف کر دی جائے‘‘۔ انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہو گی، اندازہ لگا لیجئے وہ اس پر بھی خوش تھے اور اسے بھی زیادہ تصور کرتے تھے۔ آج کے مادہ پرست دور میں انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے مگر نیت نہیں بھرتی۔ دل بھر جاتا ہے مگر اکاؤنٹ نہیں بھرتے اور اسی پیسہ کمانے کی دوڑ نے ملک میں بدعنوانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔


سوال: ادبی سفر کا آغاز کب اور کہاں سے کیا، پہلا شعر کب کہا، کہاں شائع ہوا؟
جواب: ادب کی طرف رحجان تو شروع سے ہی تھا، پہلی کوشش سکول کے زمانے میں ہی کی تھی، پہلا شعر کب کہا یہ تو یاد نہیں لیکن ادبی زندگی کا آغاز ساتویں یا آٹھویں جماعت سے ہو گیا تھا، جب اسکندر مرزا کے دور میں ہونے والی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے پس منظر میں میرے اندر چھپے ہوئے مزاح نگار نے انگڑائی لی اور میں نے ’’ہلال پاکستان‘‘ کے ایڈیٹر کے نام ایک شگفتہ سا مراسلہ بھیج دیا جو من و عن چھپ گیا۔ اس سے بہت حوصلہ ملا۔ پہلی باقاعدہ نثری تحریرغالباً 1959ء میں مولانا کوثر نیازی کے اخبار روزنامہ شہاب میں شائع ہوئی تھی اور پھر ہم کسی شہاب ثاقب کی طرح ان کے صفحات پر ٹوٹ پڑے۔ میں اس وقت سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا جب شہاب کے صفحات پر میرا کالم ’’کچھ یوں ہی سہی‘‘ کے عنوان سے چھپنا شروع ہو گیا تھا۔


سوال: شاعری میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں، اپنی تحریروں میں کبھی اصلاح لی؟
جواب: ہر گز نہیں کیونکہ میں مانتا ہوں کہ شاعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ میں نے شاعری میں کبھی کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی، کسی سے آج تک اصلاح نہیں لی۔ مجھے یہ بھی علم نہیں کہ شعری اوزان اور تقطیع وغیرہ کیا ہیں لیکن ان سب کے باوجود میں نے بہت کم بے وزن شعر کہا ہے۔


سوال: کیا چیز لکھنے کی جانب راغب کرتی ہے؟
جواب: خیال، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتا ہے، جسے وقت پر نہ اتارا جائے تو یہ زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے۔ جب میرے ذہن میں کوئی اچھا آئیڈیا آتا ہے، میں فوراً اسے نوٹ کر لیتا ہوں اور اس پر لکھنے لگ جاتا ہوں۔ میرے لئے سب سے زیادہ مشکل کام فرمائشی لکھنا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی میرے پاس آ کر کہتا ہے کہ فلاں موضوع یا فلاں چیز پر آپ کو لکھنا چاہئے لیکن میرے سے نہیں لکھا جاتا اور اس کے برعکس کبھی کبھی کوئی پوری چیزکوئی غزل،کالم، تحریر وغیرہ خود بخود نازل ہو جاتی ہے۔


سوال: آپ شاعر بھی ہیں، ادیب بھی ہیں، ڈرامہ رائٹر بھی ہیں، کالم نگاری بھی کرتے ہیں اور سفارت کاری بھی کر چکے ہیں۔ خود کو کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟
جواب: بنیادی طور پر میں صرف ایک طنز و مزاح نگار ہوں۔ میرے ہر کام‘ خواہ وہ کالم ہوں، خاکے ہوں، ڈرامے ہوں یا کچھ اور، ان میں آپ کو طنز و مزاح ہی نظر آئے گا۔ شگفتہ تحریریں میرا جنون ہیں، میں لکھتا بھی شگفتہ ہوں، پڑھتا بھی شگفتہ ہوں باتوں میں بھی شگفتگی ہی ملے گی البتہ میری تحریروں کی شگفتگی کے نیچے اداسی بھی چھپی ہوتی ہے اور اس میں طنز بھی ہوتا ہے۔


سوال: سکول کے زمانے میں ذہین طالب علم تھے یا بس نارمل تھے؟
جواب: میں اصل میں انتہائی نالائق طالب علم تھا، (نہایت پرجوش لہجے میں) میٹرک میں بڑی مشکل سے پاس ہوا، سیکنڈ ڈویژن آئی تھی، ایف اے میں تھرڈ ڈویژن تھی، بی اے میں سپلی آ گئی تھی، جب ایم اے میں تھا تو اردو کے ایک پرچے میں فیل ہو گیا تھا مگر پھر دوبارہ امتحان دے کر کلیئر کیا۔
سنا ہے کہ سعادت حسن منٹو بھی اردو میں فیل ہو گئے تھے۔ اپنے شعبے کا ماسٹر اپنے ہی شعبے کے امتحانات میں ناکام ضرور ہوتا ہے۔ سجاد باقر رضوی ہمارے استاد تھے۔ ایک روز انہیں پتہ نہیں کیا سوجھی انہوں نے ایم اے اردو کے لئے فیس جمع کرا دی۔ پھر وہ اُسی پرچے میں فیل ہو گئے جو وہ ہمیں پڑھاتے تھے۔


سوال: اس سے تو یہ مطلب ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں خامیاں موجود ہیں جو بچوں کی ذہانت کا پتا چلانے میں ناکام رہتا ہے؟
جواب: میں خود بھی استاد رہا ہوں، مجھے علم ہے کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ نوجوانوں کی تعلیمی صلاحیتوں کے یکسر الٹ ہے۔ ہمیں اب اس سسٹم کو ختم کر دینا چاہئے۔ اب معروضی سسٹم وقت کا تقاضا ہے۔ اس میں طالب علم کو وسیع معلومات حاصل کرنا پڑتی ہیں، اس کا دماغ تیز ہوتا ہے، کسی بھی نکتے کے ہر پہلو پر غور کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔


سوال: آج تو آپ پر اردو میں مقالے لکھے جا رہے ہوں گے؟
جواب: جی بالکل، کم از کم 8 طالب علم میری شخصیت، کالم نگاری اور دوسرے کئی پہلوؤں پر ایم فل کا تھیسز لکھ کر ڈگری لے چکے ہیں، کئی تو پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں۔


سوال: آپ خود ادیب ہیں، آپ کے بھائی (ضیاء الحق قاسمی) مشہور مزاحیہ شاعر تھے،آپ کا بیٹا بھی رائٹر ہے، کیا ادب آپ کے خون میں شامل ہے؟
جواب: بالکل، میں یہی سمجھتا ہوں کہ ادب ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔ میری تین پھپھیاں (پھوپھیاں) تھیں اور تینوں کشمیری زبان کی شاعرہ تھیں۔ ادب تو ہمارا ورثہ ہے۔ اس سے محبت ہمارے خون میں شامل ہے۔ ایک ہزار سال سے ہمارا خاندان ادب کی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ’’تاریخ اقوام کشمیر‘‘ ایک مستند ترین دستاویز قسم کی کتاب ہے جس میں بہت سے دوسرے صاحبان ادب کے ساتھ میرے جد امجد سے لے کر والد تک سب کا ذکر محفوظ ہے۔ مجھ پر آ کر یہ سلسلہ اس حد تک بدلا ہے کہ اب مذہبی اور معاشرتی سنجیدگی میں مزاح نگاری کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔ میرا بڑا بیٹا یاسر (پیرزادہ) بھی لکھتا ہے، دوسرا بیٹا علی قاسمی بھی رائٹر ہے۔


سوال: کیا ہمارا موجودہ ادب یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اپنی افادیت برقرار رکھ سکے؟
جواب: میرے خیال میں یہ ایک مشکل سوال ہے اور فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ میں یہ مانتا ہوں کہ کچھ ادب وقتی بھی ہوتا ہے جسے فی زمانہ پر تو بہت پذیرائی ملتی ہے مگر وہ جب وقت کے دھارے میں آتا ہے تو اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال میرزا ادیب کے خطوط کی ہے جسے اُس زمانے میں تو بہت شہرت ملی مگر آج ان کا اتنا ذکر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنے دور میں بہت نظر انداز ہوتے ہیں جیسے نظیر اکبر آبادی مگر بعد میں نقادوں نے ان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جیسے ان سے بڑا کوئی شاعر ہی پیدا نہ ہوا ہو لیکن آج پھر ان کی شاعری پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ گلہ کرتے بھی پائے جاتے ہیں کہ ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے حالانکہ یہ فیصلہ عوام کرتے ہیں اور اچھا ادب کبھی بھی نظر انداز نہیں ہو سکتا۔


سوال: موجودہ شاعروں، ادیبوں میں آپ کو کون پسند ہے؟
جواب: میرے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر تو علامہ اقبالؒ ہیں جن سے مجھے عشق ہے۔ پھر سنجیدہ شاعری میں منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض اور جون ایلیا پسند ہیں۔ مزاحیہ شاعری میں دلاور فگار، ضمیر جعفری، انور مسعود اور اکبر الٰہ آبادی پسند ہیں۔ مزاح نگاروں میں سب سے زیادہ تو مشتاق احمد یوسفی صاحب پسند ہیں، خدا ان کی عمر دراز کرے لیکن وہ آج کل لکھ نہیں رہے اور قرۃ العین حیدر بھی پسند ہیں۔


سوال: عالمی ادیبوں میں کون پسند ہے، کسے پڑھتے ہیں؟
جواب: میں زیادہ تر مزاح ہی پڑھتا ہوں۔ عالمی ادیبوں میں ٹی ایس ایلیٹ اور مارک ٹوئن پسند ہیں۔بالخصوص مارک ٹوئن کا وہ جملہ بے حد پسند ہے کہ ’’بچپن میں ہم اتنے غریب تھے کہ ایک کتا بھی نہیں خرید سکتے تھے، رات کو جب کوئی آہٹ ہوتی تھی تو ہم سب گھر والوں کو باری باری بھونکنا پڑتا تھا‘‘۔


سوال: ہمارے ہاں کتاب اور مطالعے کی روایت کم کیوں ہو گئی ہے؟
جواب: میں اس بیان کو سرے سے ہی رد کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں کتاب نہیں بکتی یا اس کی روایت کم ہو گئی ہے۔ اس طرح کی باتیں صرف وہ لوگ یا وہ شاعر کرتے ہیں جن کی اپنی کتابیں نہیں بکتیں۔ ہمارے ملک میں اتنے زیادہ ’’بک فیئرز‘‘ اور کتاب میلے ہوتے ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں اور ہر کتاب میلے میں کروڑوں کی کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔


سوال: کیاہمارا موجودہ ادب ہمارے منفی سماجی رویوں کی اصلاح کر رہا ہے؟
جواب: ادب ہمیشہ ’’اِن ڈائریکٹ‘‘ بات کرتا ہے، یہ کبھی بھی ڈائریکٹ بات نہیں کرتا۔ یہ
’between the lines‘‘
بات کرتا ہے اور دنیا کا کوئی ادب ایسا نہیں ملے گا جس میں کوئی نہ کوئی پیغام نہ چُھپا ہو۔ دنیا میں جتنے انقلاب آئے ان کے پیچھے بہت بڑا ہاتھ ادب کا بھی ہے البتہ ادب کے اصلاح کرنے کا طریقہ ہومیو پیتھک ہے۔


سوال: حال ہی میں عدلیہ کی جانب سے اردو کو دفتری زبان بنانے اور مقابلے کے امتحان اردو میں لینے کے فیصلے سامنے آئے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے ادب کی ترویج و ترقی پر بھی کوئی اثر ہو گا؟
جواب: ہمارے ادیب تو اردو میں ہی لکھتے ہیں، وہ انگریزی میں تو لکھتے نہیں کہ اس فیصلے سے کوئی فرق پڑے لیکن میں دل و جان سے اس فیصلے کی تائید کرتا ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ محض انگریزی کی وجہ سے بہت سے قابل افراد روند دئیے جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر نہایت نالائق لوگ اوپر آ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی صرف انگریزی ہی اچھی ہوتی ہے اور پتا انہیں ’’ککھ‘‘ نہیں ہوتا۔


سوال: باقاعدہ کالم نگاری کب شروع کی؟
جواب: کالم نگاری تو شہاب کے زمانے میں ہی شروع ہو گئی تھی، بعد میں نوائے وقت جوائن کر لیا، وہاں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ سنڈے میگزین میں فیچر بھی لکھتا تھا، ہر مہینے باقاعدگی سے اس کام کے 323 روپے ملتے تھے۔


سوال: آپ کے فکاہیہ کالم کو آپ کے والد صاحبہ کی تائید حاصل تھی؟
جواب: ویسے تو میرے والد میرے کالم کو ’’خرافات‘‘ کہتے تھے لیکن پڑھتے بھی ضرور تھے۔ ایک دفعہ جب میں امریکا میں تھا تو میں نے ایک کالم لکھا جس میں مَیں نے لکھاکہ ’’ہماری ہاں جنسی گھٹن بہت زیادہ ہو گئی ہے جس کا مظاہرہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر عام دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ جانوروں کی عصمت بھی محفوظ نہیں رہی‘‘۔ جب یہ کالم چھپا تو میرے والد میرے سے ناراض ہو گئے، وہ فوراً مجید نظامی مرحوم کے پاس گئے کہ آپ نے یہ کالم شائع ہی کیوں کیا، انہوں نے سمجھایا کہ میں نے ایک نوجوان کے خیالات سمجھ کر اسے چھاپ دیا ہے، اس کے بعد انہوں نے مجھے خط لکھا کہ فوری طور پر اپنے ان خیالات سے توبہ کرو۔ آخر کو میں بھی انہی کا بیٹا تھا، میں نے انہیں 26صفحوں پر مشتمل خط لکھا جس میں ان کی لائبریری میں موجود کتابوں سے بے شمار حوالے دئیے اور اپنے موقف کا اعادہ کیا، جس پر وہ مان گئے۔ جہاں تک بات تائید کی ہے تو مجھ سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب کالموں میں دس پندرہ دن کا ناغہ ہو جاتا تو مجھے بلا کر پوچھتے ’’یار تیری وہ خرافات ان دنوں نہیں چھپ رہیں‘‘ میں سمجھ جاتا کہ انہیں میرا کالم پسند ہے لیکن حوصلہ افزائی کا انداز دوسروں سے مختلف ہے۔


سوال: کالم نگاری کے حوالے سے کوئی دلچسپ واقعہ جو آپ سنانا چاہیں؟
جواب: ویسے تو بے شمار واقعات ہیں لیکن میں آپ کو اپنے ’’لمبریٹا‘‘ سکوٹر کا واقعہ سناتا ہوں جو میں نے 70sمیں قسطوں پر لیا تھا، مگر قسطیں پوری ہونے سے پہلے ہی یہ سکوٹر چوری ہو گیا۔ اس پر میں نے ’’محترم چور صاحب‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھ دیا۔ یہ کالم اتنا مقبول ہوا کہ پاکستان کے ہر بڑے کالم نگار نے اس پر کالم لکھا۔ ابنِ انشاء نے لکھا، احمد ندیم قاسمی نے لکھا، انتظار حسین نے لکھا۔ اس زمانے میں مساوات اخبار میں سہیل ظفر نے بھی اس پر کالم لکھا۔ چور گھبرا گیا کہ ’’میں نے کس قوم کو للکارا ہے‘‘ اور وہ میرا سکوٹر واپس کر گیا۔ جس پر میں نے بعد میں ایک اور کالم لکھا ’’چور صاحب آپ کا شکریہ!‘‘۔ اس کالم میں مَیں نے لکھا کہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے سکوٹر واپس کر دیا، میں نے تو ابھی اس کی قسطیں بھی پوری نہیں دی تھیں لیکن میں پریشان ہوں کہ آپ نے کس کا کالم پڑھ کر سکوٹر واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ’’مساوات‘‘ میں سہیل ظفر کا کالم پڑھ کر اسے پارٹی کا حکم سمجھا اور سکوٹر واپس کر دیا۔ وہ زمانہ اتنا رواداری کا تھا کہ کسی نے بھی اسے مائنڈ نہیں کیا بلکہ جب سہیل ظفر مجھے ملے تو ہم ہنس ہنس کر دہرے ہو گئے۔


سوال: امریکا کیوں جانا ہوا تھا؟
جواب: اگر صحیح پوچھیں تو آوارہ گردی کرنے گیا تھا۔ اس زمانے کے میرے سارے دوست امریکا چلے گئے تھے میں اکیلا ہی تھا جو اس ’’جوگا‘‘ نہیں تھا کہ ٹکٹ بھی خرید سکتا۔ نوائے وقت کی سب ایڈیٹری کے دوران میں نے ایک ففٹی سی سی موٹرسائیکل خرید لی تھی۔ اس سواری کو موٹرسائیکل میں نے خود قرار دیا ہے ورنہ اسے ’’پھٹپھٹی‘‘ کہا جاتا تھا۔ میں نے پندرہ سو روپے میں یہ بائیک فروخت کی۔ کچھ پیسے والد محترم سے اور کچھ بھائی جان ضیاء الحق قاسمی سے لئے اورپیدل ہی یورپ کے لئے روانہ ہو گیا۔ پیدل ان معنوں میں کہ جہاز کی بجائے بسوں، ٹرینوں، ٹرکوں اور لفٹ وغیرہ لے کر لکسمبرگ تک پہنچا اور وہاں سے ایک جہاز کی سستی ترین ٹکٹ لی اور امریکا جا اترا۔ لاہور سے نیویارک پہنچنے پر میرے چھ ہزار روپے یعنی چھ سو ڈالر خرچ ہوئے۔ اس زمانے میں ایک ڈالر دس روپے کا تھا۔

interattaulhaq1.jpg
پردیس میں جاتے ہی روٹی، کپڑا اور مکان کی ضرورت پڑتی ہے۔ قریب ہی ایک ہسپتال میں بلڈ ٹیکنیشن کی سیٹ خالی تھی، میں وہاں انٹرویو کے لئے چلا گیا۔ ڈاکٹر نے پوچھا نام کیا ہے، میں نے نام بتایا، پھر اس نے پوچھا کتنے پڑھے لکھے ہو۔ میں نے کہا، ایم اے اردو لٹریچر۔ اس نے کہا کل سے نوکری جوائن کر لو۔ (زوردار قہقہہ) مجھے امریکی نظام صحت پر آج بھی ہنسی آتی ہے۔ایمبولینسیں، حادثات یا فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو ایمرجنسی میں وہاں لایا کرتی تھیں اور میں انہیں خون لگاتا تھا۔ انتہائی نازک کام تھا لیکن اللہ نے مجھےُ سرخرو کیا۔ شاید ابا جی کی دعائیں تھیں جنہوں نے مجھے محفوظ رکھا۔ کچھ عرصہ بعد ایک ہوٹل جوائن کر لیا۔ پھر امریکہ میں بڑے ہوٹل میں فوڈ اینڈ بیوریجز منیجر کی نوکری مل گئی۔


مگر امریکہ میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ میری عدم موجودگی میں میرے والد (والدہ تو پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں)کو کچھ ہوگیا تو میں کیسے خود کو معاف کروں گا۔ پھر یہ سوچ بھی بے چین کرتی تھی کہ اگر مجھے خود کو کچھ ہو گیا تو یہاں گوروں کے قبرستان میں دفن ہونا پڑے گا جبکہ میں تو اپنے ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں دفن ہونا چاہتا تھا جہاں درود و سلام کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ پھر ایک سوچ یہ بھی تھی کہ میں امریکا میں شادی کرتا ہوں تو ممکن ہے کل کو میری نسل میں سے کسی کا نام ’’پیرزادہ پیٹر قاسمی‘‘ ہو اور ہمارے خاندان کی ایک ہزار سالہ دینی پس منظر کی تاریخ کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے۔ حالانکہ ہمارے خاندان کے شاگردوں میں ماضی بعید میں حضرت مجدد الف ثانیؒ اور ماضی قریب کی تاریخ میں امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور بانی جامعہ اشرفیہ مفتی محمد حسنؒ کے علاوہ سیکڑوں علما و مشائخ کا نام شامل ہے۔ چنانچہ دو سال امریکا میں رہنے کے بعد میں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ وہاں میں نے جو کمایا تھا وہ وہیں سیر و سیاحت پر خرچ کر دیا تھا۔ دوستوں نے کافی سمجھایا لیکن میں نے ایک نہیں سنی اور واپسی کا رخت سفر باندھ لیا۔ واپسی کے لئے بھی میں نے مشکل راستہ چنا اور امریکا سے بائی ایئر یورپ اور یورپ سے بائی روڈ پاکستان کے لئے روانہ ہو ا۔ ملکوں ملکوں گھومتے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے میں یورپین ملکوں سے ہوتا ہوا ترکی اور ترکی سے ایران پہنچا جس کے سرحدی قصبے سے ٹرین کے ذریعے میں کوئٹہ اور پھر کوئٹہ سے لاہور پہنچا۔ میں نے گھر والوں کو سرپرائز دینے کا سوچا تھا۔ اس وقت شام کا وقت تھا جب میں نے اپنے گھر کی بیل پر انگلی رکھی اور تھوڑی دیر بعد میرے اباجی نے دروازہ کھولا۔ انہوں نے مجھے اچانک اپنے سامنے پایا تو خوشی سے ان کا چہرہ دمک اٹھا۔اس وقت ابا جی کے چہرے پر جو خوشی اور مسکراہٹ تھی، وہ مجھے آج بھی نہیں بھولی۔


سوال: کالج میں پڑھانے کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
جواب: مجھے دلی طور پر تو شروع سے ٹیچنگ سے لگاؤ تھا کیونکہ نوجوان ذہنوں کو پروان چڑھانے میں جو سکون اور مسرت ہے وہ میں نے کسی اور کام میں نہیں محسوس کی۔ بچوں کی ذہنی تربیت کرنا بنیادی فرائض کا حصہ سمجھتا ہوں۔ جب مجھے ٹیچنگ کی پیشکش ہوئی تو میں نے اپنے ایک دوست سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیکچرر شپ اور کالم نگاری کے اوقات الگ الگ ہیں، دونوں میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یوں میں بیک وقت کالم نگار اور لیکچرر بن گیا۔ میں تو خود بھی یہی چاہتا تھا چنانچہ ہم آہنگی اور یکسانیت کے باعث دونوں ملازمتیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔


سوال: پہلی کتاب کب منظر عام پر آئی۔
جواب: روزنِ دیوار کے نام سے میرے کالموں کا پہلا مجموعہ غالباً 1972-73میں منظر عام پر آیا تھا۔ میں نے کبھی اپنے کالموں کی کتاب میں وقتی نوعیت کے کالم شامل نہیں کئے۔ چراغ حسن حسرت اگرچہ واقعتا بہت بڑا نام ہے۔ میں نے بہت شوق سے ان کے انتخاب کی کتاب خریدی مگر مجھ سے پڑھی نہیں گئی کیونکہ تمام حوالے اور واقعات پرانے زمانے کے تھے۔ میں ان کے طنز کے پیچھے چھپے ہوئے واقعے کو سمجھ ہی نہ سکا۔ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے میں نے ہمیشہ اپنے کالموں کی کتاب میں تخلیقی نوعیت کے کالم شامل کئے ہیں۔ اب تک میری کوئی ڈیڑھ درجن کتابیں آ چکی ہیں، جن میں طنز و مزاح کی کتابیں بھی ہیں اور سفرنامے بھی۔


سوال: ڈرامہ نگاری کی طرف کیسے آئے۔
جواب: اتفاق سے۔ (مسکراتے ہوئے) اور یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ میں نے زندگی میں کوئی کام پلاننگ سے نہیں کیا۔ لوگ پوچھتے ہیں آپ کو ٹی وی کے لئے لکھنے میں کون کون سی مشکلات پیش آئیں مگر میرے ساتھ یہ معاملہ بالکل نہیں تھا۔ میں کالم لکھتا تھا جب میرے ایک دوست نے ٹی وی کے لئے ڈرامہ لکھنے کو کہا میں نے انکار کر دیا اورکہا کہ میں ڈرامہ نگار نہیں ہوں۔ وہ ہمیشہ ڈٹے رہتے، بار بار اصرار کرتے کہ ایک بار ڈرامہ لکھ کر تو دیکھیں۔ پھر مجھے کہا گیا کہ آپ کے کالموں میں ڈائیلاگ اور ڈرامہ موجود ہوتا ہے۔ ان کے اصرار پر میں نے پہلا ڈرامہ علی بابا چالیس چور لکھا۔ ویسے تو یہ بچوں کا ڈرامہ تھا لیکن بڑے بھی اسے بڑے شوق سے دیکھتے تھے، اس کے بعد میں نے ایک ڈرامہ ’’اپنے پرائے‘‘ لکھا مگر اس کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا کیونکہ اس وقت حکومت کی جانب سے پی ٹی وی پر خاصی سختی کی گئی تھی، ضیاء جالندھری اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے، ایک روز انہوں نے لاہور اور کراچی کا دورہ کیا۔ لاہور سٹیشن سے میرا ڈرامہ چل رہا تھا اورکراچی میں انور مقصود کے ڈرامے ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ انہوں نے میرے ڈرامے کے ایک کردار اور آنگن ٹیڑھا میں سلیم ناصر کے کردار پر اعتراض کیا کہ آپ قوم کو بدتمیزی سکھا رہے ہیں۔ خوب ’’کھچائی‘‘ کے بعد انہوں نے دونوں کرداروں کو نکالنے کا حکم دیا۔ لاہور سٹیشن والوں نے فوری طور پر مان لیا اور ڈرامے پر قینچی پھیر دی مگر کراچی سٹیشن نے دلیری دکھائی، اور چونکہ، چنانچہ سے کام لیتے ہوئے قطع برید کرنے کے بجائے ڈرامے کو اپنے حساب سے آن ایئر کیا۔ ’’اپنے پرائے‘‘ کے بعد میں نے نہ لکھنے کی ٹھان لی لیکن پھر مجھے لکھنا پڑ گیا۔ پھر خواجہ اینڈ سنز لکھا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ ڈالے، اس کے بعد میں نے شب دیگ لکھا جس کے کرداروں ’’کاکا منا‘‘ اور ’’انکل کیوں‘‘ کو بہت شہرت ملی، ایک اور ڈرامے کے کردار پروفیسر اللہ دتا اداس کو بھی لوگوں نے بہت پسند کیا۔ پھر ’’حویلی‘‘ لکھا، ’’شیدا ٹلی‘‘ لکھا، کچھ اور ڈرامے اور لانگ پلے لکھے، اس کے بعد دو ڈرامے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے بھی لکھے۔ میرے سارے ڈرامے سفید پوش طبقے کی نمائندگی کرتے تھے، میں نے کبھی ڈراموں میں بڑی کوٹھیاں، لمبی گاڑیاں نہیں دکھائیں بلکہ میں تو اس طرح کے گلیمر کو میڈیا کی دہشت گردی سمجھتا ہوں۔


سوال: سفارت کاری کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ جہاں بھی جاؤں، جو بھی کروں کچھ ایسا کروں کہ پتا لگے کچھ تبدیلی آئی ہے، ناروے میں میرے ہوتے ہوئے سفارت خانے کے دروازے ہر پاکستانی کے لئے کھلے تھے اور لوگ بلا جھجک میرے پاس آیا کرتے تھے بلکہ ایک بار تو یہ افواہ اڑی کہ سفیر صاحب ’’گرون لینڈ‘‘ میں جو کہ اوسلو کا نواحی علاقہ ہے اور پاکستانیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں۔ ناروے میں سفیر کو صدر جتنا درجہ حاصل ہوتا ہے اور یہ بات ملک کے وقار کے خلاف سمجھی گئی۔ پہلے پہل تو میں خاموش رہا مگر جب بات زیادہ بڑھ گئی تو ایک دن جمعے کو میں شہر کی سب سے بڑی مسجد میں چلا گیا اور وہاں جا کر اپنا آبائی کام کیا یعنی خطبہ دیا۔ میں نے کہا کہ جب سے میں اوسلو آیا ہوں، تب سے کوئی نہ کوئی سیکنڈل سننے کو ملتا ہے، اب کی بار میرا سیکنڈل سامنے آیا ہے کہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ کھانا کھاتے پایا گیا ہوں۔ میں یہاں کوئی صفائی دینے نہیں آیا بلکہ یہ بتانے آیا ہوں کہ میری ساری زندگی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزری ہے، میری زندگی کا یہ حصہ بھی انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزرے گا اور جب میں پاکستان واپس چلا جاؤں گا تو انہی لوگوں کے پاس جاؤں گا اور میری دعا ہے کہ جب میں مروں تو جاگیرداروں اور وڈیروں کے ساتھ اٹھائے جانے کی بجائے انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ اٹھایا جاؤں۔ میں آج بھی اکثر پیدل اندرون لاہور میں چلا جاتا ہوں تاکہ مجھے میرا ماضی نہ بھولے۔ ناروے کی سفارت کاری کے دوران پوری پاکستانی کمیونٹی ہر کام کے لئے میرے ساتھ کھڑی تھی، آج جب مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے پاکستانی ناروے میں کتنے منظم اور کتنے متحد ہیں۔ وہ اپنے ملک سے کس قدر محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ یہاں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔


سوال: آپ آٹھ سال تک الحمراء آرٹس کونسل کے چیئر مین رہے، وہاں ایسا کیا کام کیا جسے آپ اپنا امتیازی کام کہہ سکیں؟
جواب: وہاں تو بہت سارے کام کئے لیکن اگر کام کا ذکر کرنا مقصود ہو تو میں دو بڑے کام گنواؤں گا۔ اول تو میں نے انٹرنیشنل لٹریری فیسٹیولز کروائے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، دوسرا یہ کہ میں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں ایوارڈز شروع کروائے۔ اس کے علاوہ میں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کام شروع کیا اور پہلے ایک اشتہار شائع کیا کہ 35سال کی عمر تک کے افراد اپنا کلام بھیجیں۔ پورے پاکستان سے نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا، ہم نے ان میں سے اچھے شاعروں کا انتخاب کیا، انہیں لاہور بلوایا، ان کا مشاعرہ کروایا، ان کو معاوضہ دیا، ان کے لئے ورکشاپس کروائیں جس میں انہیں شعری اصناف کے بارے میں تعلیم دی گئی، پھر ان کے منتخب کلام کو ان کی تصویر اور مختصر سوانح پر مشتمل خاکے کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کیا گیا جسے ’’ذرا نم ہو‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن جس کام کی مجھے ذاتی خوشی ہے وہ یہ کہ مجھے چونکہ اقبالؒ سے عشق ہے، اس لئے میں نے الحمراء میں اقبال کا مجسمہ بنوا کر نصب کروایا۔ پہلے پہل اس کی بے پناہ مخالفت دیکھنے میں آئی مگر آج لوگ وہاں جا کر سیلفیاں لے رہے ہوتے ہیں۔


سوال: اب پی ٹی وی کے لئے آپ کیا کام کرنا چاہ رہے ہیں؟
جواب: پی ٹی وی میں میری ساری توجہ پروگرامنگ پر ہے۔ میرے نزدیک پی ٹی وی کا سب سے پلس پوائنٹ ’’ناسٹلجیا‘‘ ہے چنانچہ ایک تو ہم نے پرانے کلاسیک ڈرامے شروع کئے ہیں لیکن جو اس سے بڑا کام میں نے کیا اور جس کا میں نے آتے اعلان کیا تھا وہ یہ تھا کہ میرا وَن پوائنٹ ایجنڈا ’’اِن ہاؤس‘‘ پروڈکشن ہے۔ میرے سے پہلے 26سٹوڈیو ویران پڑے تھے، ملازم بے کار تھے، پی ٹی وی میں الو بولا کرتے تھے، سارا کام باہر سے لے کر چلا رہے تھے، میں نے سارے سٹوڈیو کھلوائے اور اِن ہاؤس پروڈکشن شروع کی۔ اب جو سہ ماہی آن ائیر ہے اس میں سارے پروگرام ہمارے اپنے چل رہے ہیں۔


سوال: موجودہ حالات میں آپ پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: میں تو بے پناہ پُر امید شخص ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ زندگی میں مجھے جو کچھ ملا ہے، صرف اس لئے ملا ہے کہ نہ تو میں کبھی اداس ہوا ہوں اور نہ کبھی مایوس ہوا ہوں۔ اور اب تو میں اپنی آنکھوں سے پاکستان کو ترقی کرتا دیکھ رہا ہوں۔ آپ دیکھئے کہ آزادی کے وقت ہمارے پاس کیا تھا اور آج ہم کہاں ہیں، غریب سے غریب شخص کے حالات میں بھی کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ ایک وقت تھا ہم لوگوں کے پاس جوتے نہیں ہوتے تھے، سڑکیں نہیں تھیں، ہسپتال نہیں تھے، آج آپ عالمی سروے رپورٹیں اٹھا کر دیکھ لیں وہ یہ کہتی ہیں کہ اگر یہ تسلسل جاری رہا تو 2025میں پاکستانی معیشت یورپی ممالک کے مدمقابل کھڑی ہو گی۔ اگر جمہوری تسلسل برقرار رہا اور تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے رہے تو یہ ملک بہت ترقی کرے گا۔


سوال: ابھی حال ہی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات دیکھنے کو ملے، پنجاب اسمبلی کے باہر خود کش حملہ ہوا، سندھ میں لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر حملہ ہوا، آپ اس نئی لہر کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ ہمارے کچھ طالع آزماؤں کے بوئے ہوئے بیج ہیں، ماضی میں جان بوجھ کر مذہبی منافرت کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔ اگرچہ اس میں غیرملکی طاقتوں اور پڑوسی ملک کی سازشیں بھی شریک ہیں لیکن استعمال ہمارے اپنے لوگ ہو رہے ہیں۔ اب بھی کچھ ایسے فکری مراکز موجود ہیں جہاں مذہب کی غلط تشریحات سے نوجوانوں کے کچے ذہنوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں ہمارے ہی خلاف استعمال کیا جاتا ہے مگر ہمارے ریاستی اداروں بالخصوص فوج نے جس قدر قربانیاں دی ہیں اس سے حالات بہت پُر امید ہیں۔


سوال: اپنا کون سا شعر سب سے زیادہ پسند ہے؟
جواب: اپنے شعروں میں مجھے ایک شعر بہت پسند ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری ساری زندگی کا نچوڑ یہ شعر ہے، میں نے اپنی پوری زندگی اس شعر کے مطابق گزاری ہے۔
اک صدا دے کے میں لوٹ آیا عطاؔ
اس نے اندر سے جب یہ کہا، کون ہے؟
(پنجابی میں) نہیں تے ناں سہی،

(زوردار قہقہہ)


سوال: آپ کا پسندیدہ لیڈر کون سا ہے؟
جواب: یقیناًمیرے پسندیدہ لیڈر قائداعظم محمد علی جناح ہی ہیں جن کے پاس ایک ویژن تھا، ایک لگن تھی، لیکن اگر موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو آپ کے پاس بہت محدود آپشن ہے۔ کچھ جماعتیں لسانیت کی بنیاد پر چل رہی ہیں، کچھ مذہب کا نعرہ لگا رہی ہیں، کچھ قومیت کے پردے میں چھپی ہوئی ہیں، میں ان سب لوگوں کے ساتھ تو چل نہیں سکتا۔ ہمارے کچھ اچھے اور ٹیلنٹڈ سیاستدان بھی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہیں جس وجہ سے آپ کی آپشن بہت محدود ہو جاتی ہے اور میری سیاسی وابستگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔


سوال: ماشاء اللہ آپ ایک ہمہ جہت اور بہت کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، اپنی زندگی کی روشنی میں نوجوانوں کو کیا پیغام دیں گے؟
جواب: میں ہمیشہ ایک ہی پیغام دیا کرتا ہوں کہ اپنے وسائل میں خوش رہیں، اگرچہ دولت ایک بڑا وسیلہ ہے مگر اس کی غیر موجودگی میں بھی خوش رہنے کی ہزار ہا چیزیں ہیں، آپ کے پاس آنکھیں ہیں، ہاتھ، پیر ہیں، عقل ہے، سوچ ہے، فکر ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس پر اکتفا کر کے بیٹھ جائیں بلکہ زیادہ کے لئے کوشش کرتے رہیں لیکن کسی خواہش کے غلام نہ بنیں جب آپ خواہشوں کی غلامی پر اتر آئے تو پھر آپ گھٹیا سے گھٹیا کام بھی کریں گے۔


سوال: فوجی بھائیوں اور ہلال کے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: فوجی بھائی جس طرح ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
ایک دعائیہ غزل
خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہئے
اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہئے
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم
جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئے
خواہشوں کو خوب صورت شکل دینے کے لئے
خواہشوں کی قید سے آزاد سے ہونا چاہئے
ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے
عرض کرتے عمر گزری ہے عطاؔ صاحب جہاں
آج اُس محفل میں کچھ ارشاد ہونا چاہئے

 
11
April

تحریر: ڈاکٹر وقار احمد

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان توانائی کے مستقل اور شدید بحران کا شکار رہا ہے اور اس کے حل کے لئے مختلف تجاویز، منصوبے اور حکومتی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سلسلے کو اگر ہم ملک کی تیزرفتار ترقی اور خصوصاً سی پیک جیسے بڑے منصوبوں سے جوڑیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور حقیقی اور پائیدار ترقی کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔یہ بہت نازک وقت ہے جب پاکستان اپنے پڑوسی ممالک سے نہ صرف اقتصادی بلکہ تکنیکی اور دفاعی اعتبار سے بھی ایک بھرپور مقابلے میں شامل ہے۔اس تناظر کو اگر گلوبل وارمنگ کے عمل اور موسمیاتی تبدیلی سے جوڑدیں تو ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارے وسائل کیا ہیں اور ہمیں ان میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے اور یہ اس فیصلے کا انتہائی اہم وقت ہے۔


اگر ہم اپنے ملک کا موازنہ دیگر ممالک سے کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہم بہت کم توانائی استعمال کر رہے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ ہمارا معیار زندگی ہے۔توانائی اگر بجلی کی صورت میں ہو تو اس کا شمار یونٹس میں کیا جاتا ہے۔ایک کلو واٹ بجلی اگر ہم ایک گھنٹے تک خرچ کریں تو یہ ایک یونٹ کہلاتا ہے۔دنیا بھر میں اوسطاً بجلی کا استعمال 2700 یونٹ سالانہ ہے جبکہ پاکستان میں اس میں یہ شرح صرف 450 یونٹ سالانہ ہے۔تاہم واضح رہے کہ پاکستان کی یہ اوسط دیہی اور شہری آبادیوں کو ملا کر ہے اور صرف شہروں کو دیکھا جائے تو یہ شرح کہیں زیادہ ہوگی۔اس صورتحال میں جہاں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ہمیں اور بہت ترقی کرنی ہے، وہیں ایک اور بات ثابت ہوتی ہے کہ ہم ایک سادہ طرزِ زندگی والی قوم ہیں، ہم بہت کم وسائل کا ضیاع کرتے ہیں اور اس طرح اپنے ماحول کو کسی حد تک تحفظ دیتے آئے ہیں۔


پائیدار ترtwaaikabuhran.jpgقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے معیارِزندگی کو بہتر نہ کریں بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اپنی ترقی کو ماحول سے ہم آہنگ کیا جائے اور آنے والی نسلوں کے لئے قدرتی وسائل بچا کر رکھے جائیں اور ان کے لئے ایک سازگار ماحول چھوڑا جائے۔لہٰذا دنیا بھر میں صنعتی ترقی اور بالخصوص توانائی کے شعبے سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کئی بین الاقوامی اور عالمی معاہدوں‘ جیسا کہ1997 میں جاپان میں ہونے والے کیوٹو پروٹوکول سے لے کر 2015 میں پیرس معاہدے تک کئی بار اقوام عالم اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے عملی اقدامات تیز تر کئے جائیں۔ چنانچہ پیرس معاہدہ میں گلوبل وارمنگ کو زیادہ سے زیادہ 2 درجے سینٹی گریڈ پر روکنے کے لئے اقوام عالم کو کاربن اخراج کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اب اس کام کے لئے بڑے منصوبے بنا رہے ہیں۔


پیرس معاہدے کے تحت ہر ملک اپنی کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو کم کرنے کے لئے قومی اہداف مقرر کرے جس کو

(Nationally Determined Contribution (NDC)

کہا جاتا ہے اور اس کے لئے قومی سطح کے منصوبوں کو عمل میں لانا پڑا ہے۔لہٰذا پاکستان نے بھی اپنا این ڈی سی کا معاہدہ جمع کروادیا ہے اور اس کے تحت ہمیں 2030 کے اہداف میں کاربن کے اخراج کو20 فیصد کم کرنا ہوگا۔
ہمارے شمالی علاقوں میں پن بجلی کے لئے جو قدرتی مواقع موجود ہیں وہ کسی بھی ترقی پسند قوم کے لئے ایک خواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی طرح توانائی کے متبادل ذرائع جیسے ہوا اور شمسی توانائی وغیرہ اور روایتی ذرائع مثلاً کوئلہ اور گیس وغیرہ کا نہ صرف اقتصادی موازنہ ضروری ہے بلکہ ان کے دُور رَس ماحولیات اور صحت پر پڑنے والے اثرات کا تجزیہ بھی نہایت اہم ہے اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دنیا کے دیگر ممالک اس وقت کس سمت میں جارہے ہیں اور سائنسی بنیادوں پر کیا چیز ہمارے لئے بہترین ثابت ہوگی۔ جب تک ہم تمام صورت حال کا جائزہ نہیں لے لیتے ہمیں یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ ہم کس ذریعے کو اختیار کرتے ہوئے ترقی کریں۔


اس وقت پاکستان میں توانائی کی کل ضرورت تقریباً 22000 میگاواٹ ہے جبکہ اس کی پیداوار سترہ سے اٹھارہ ہزار میگاواٹ ہے۔اس طرح 4000 سے 5000 میگاواٹ کی کمی ہے چنانچہ ہمیں نہ صرف سستے بلکہ ماحول دوست اور مستقبل میں فائدہ مند ذرائع کو کام میں لانا ہوگا۔بجلی دو طریقوں سے بن سکتی ہے، ایک تو جنریٹر چلانے سے جس کے لئے ٹربائن کو گھومنا پڑتا ہے۔دوسرا شمسی توانائی کے ذریعے، ٹربائن گھومنے والا ذریعہ کئی طریقوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً پانی سے، بھاپ یا ہوا کے زور پر اس کو گھما سکتے ہیں۔ ہوا، شمسی توانائی اور کچھ نئے ذرائع کو متبادل ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔تو آئیے ان ذرائع کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔


پن بجلی
توانائی کا سب سے سستا ذریعہ
hydropower
یعنی پن بجلی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس پر اتنی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس کے ماحولیاتی اثرات بھی دیگر روایتی ذرائع کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں۔پن بجلی کے منصوبے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن میں ڈیم
(Reservoir)
بنایا جاتا ہے۔ اس کے ابتدائی اخراجات اور قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ قیمت وصول ہو جاتی ہے۔دوسرا سٹریمنگ ہائیڈرو پاور ہے جس میں ڈیم بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بجلی، ندی یا دریا کے بہاؤ کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔اس کے چھوٹے چھوٹے بہت سے جنریٹرز لگ سکتے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان کو چھوٹے ندی نالوں پر بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ ایک درمیانہ جنریٹر ایک ہزار سے زائد گھروں کو بجلی فراہم کر سکتا ہے اور یہ ماحول پر کوئی منفی اثرات بھی نہیں ڈالتے ہیں۔


2003 میں بھارت نے ایک بڑا منصوبہ بنایا جس میں پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے 162 ذیلی منصوبوں کو منظور کیا گیا۔اگر ہم پاکستان کے شمالی علاقوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے پن بجلی کے لئے نہایت موزوں ہیں اور ان کے بہتے دریاؤں میں پانی کا قدرتی طور پر تیز بہاؤ اور دریا کی ڈھلان ہمیں بڑے ڈیم بنائے بغیر، چھوٹے ڈیمز اور اسٹریمنگ ہائیڈرو پاور سے اتنی بجلی پیدا کر کے دے سکتے ہیں جو ملکی ضرورت سے تین گنا زیادہ ہوگی۔چنانچہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں 65000 میگاواٹ بجلی کے منصوبے بن سکتے ہیں۔مثال کے طور پر صرف تین منصوبے بونجی ہائڈرو پاور پروجیکٹ جس سے 7500 میگاواٹ اور دیامر،بھاشا ڈیم جس سے 4500 میگاواٹ پیدا ہوسکتے ہیں اور داسو ڈیم بھی 4500 میگاواٹ پیدا کر سکتا ہے۔ان میں چند منصوبے سی پیک سے بھی جڑے ہیں۔دیگر چھوٹے بڑے منصوبوں کے ذریعے موجودہ اور مستقبل کی ملکی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔


پن بجلی میں چونکہ ایندھن استعمال نہیں ہوتا، اس لئے اس کے ماحولیاتی اثرات کوئلے اور تیل کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور ان سے ہمالیہ اور قراقرم کے پگھلتے ہوئے گلیشئیرز کو بھی بچایا جا سکے گا کیونکہ یہ پہاڑوں پر موسم سازگار بنانے میں مدد دیتے ہیں۔تاہم ڈیم سازی کے عمل سے سمندروں میں مٹی کی ترسیل رکتی ہے اور پہاڑوں کا خاصا رقبہ زیرآب آجاتا ہے جس سے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔


واپڈا کو ڈیمز سے اس وقت سات ہزار میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔جو کہ 2014 میں 1.5 روپے فی یونٹ پڑتی تھی اور داسو ڈیم جیسے منصوبے 50 پیسے فی یونٹ کی قیمت پر بجلی مہیا کریں گے۔یہی بجلی اگر اسٹریمنگ ہائیڈرو پاور سے بنائی جائے تو اس کی قیمت تقریبا 10 سے30 پیسے فی یونٹ پڑے گی۔جبکہ 31 دسمبر 2016 کو واپڈا کی پریس ریلیز کے مطابق مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمتیں کچھ یوں رہیں، پن بجلی 2.15، گیس 9.07، فرنس آئل 11.05، ہائی اسپیڈ ڈیزل 17.96، کوئلہ 12.08، نیوکلیئر 6.87، سولر 17، ہوا سے بجلی 16.63 روپے فی یونٹ۔ لہٰذا عوام کو اس وقت اوسط قیمت ساڑھے گیارہ (11.50) روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی ترسیل کی جارہی ہے اگر پن بجلی کا تناسب بڑھا دیا جائے تو یہ مزید سستی ہو سکتی ہے۔


ہوا سے بجلی
ہوا سے بجلی بنانے کا عمل اس وقت دنیا بھر میں کافی مقبول ہو رہا ہے اور کئی یورپی ممالک ہوا کو استعمال کر رہے ہیں۔اس وقت ملک میں جو بڑے منصوبے چل رہے ہیں وہ گھارو اور جھمپیر پر ہیں۔ہوا کی اس راہداری میں ہوا کی رفتار نہایت تیز ہے اور یہاں کل پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس وقت ملک میں صرف 590میگاواٹ بجلی ہوا سے بن رہی ہے۔ہوا جو کہ مفت حاصل ہوتی ہے، اس سے بجلی بنانے کو ایک ماحول دوست عمل سمجھا جاتا ہے تاہم ہوا کے زور پر ٹربائن یا جنریٹر چلانے کے لئے جو ٹیکنالوجی درکار ہے وہ اس وقت خاصی مہنگی ہے اور اس کے بھی ماحول پر کچھ نہ کچھ منفی اثرات ہوتے ہیں۔مثلاً شور وغیرہ‘ اور یہ سردیوں میں آنے والے پرندوں کے لئے بھی مضر ہوسکتے ہیں۔اس وقت موجودہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یہ ذریعہ مہنگا ہے اور وہاں زیادہ قابل استعمال ہے جہاں دیگر ماحول دوست ذرائع موجود نہ ہوں۔


شمسی توانائی
شمسی توانائی پر بھی دنیا بھر میں بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی سامنے آرہی ہے جو پہلے سے سستی بھی ہے اور دیرپا بھی۔اس کو ماحول دوست اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں بغیر کسی ایندھن کے محض سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔پاکستان چونکہ سب ٹروپیکل ممالک میں آتا ہے، لہٰذا ہمیں دھوپ کئی گھنٹے خاصی شدت کے ساتھ ملتی ہے۔ لہٰذا شمسی توانائی کے مواقع ہمارے ہاں خوب ہیں۔اس وقت بازاروں میں ہر سائز کی چھوٹی بڑی سولر پلیٹیں دستیاب ہیں۔ان کی اوسط 25 سال تک گارنٹی ہوتی ہے۔ تاہم بظاہر مفت نظر آنے والی شمسی توانائی چونکہ صرف دن میں بجلی مہیا کر سکتی ہے، اس لئے رات میں بجلی حاصل کرنے کے لئے اس کو ذخیرہ کرنا پڑتا ہے (جو کہ ایک مہنگا کام ہے) یا پھر رات کو دیگر ذرائع سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔مثال کے طور پر اس وقت ملک میں قائد اعظم پاور پلانٹ اور بہاولپور جیسے بڑے منصوبے کام کر رہے ہیں۔یہ پلانٹ صرف 100 میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے اور اس وقت موجود ذرائع میں سب سے مہنگا ہے۔یہ ذریعہ صرف اس جگہ کارآمد ہے جہاں بجلی کی قومی ترسیل (نیشنل گرڈ) نہ ہو یا بجلی کا کوئی اور متبادل نہ ہو مثلاً دُور دراز کے گاؤں دیہات وغیرہ میں چھوٹے پیمانے پر بجلی کے استعمال کے لئے یہ موزوں ہے۔لیکن یہ بات واضح رہے کہ آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ توانائی کا یہ وسیلہ سب سے کارآمد ہوگا۔


تھرمل پاور
اس وقت پاکستان میں ملکی پیداوار کا ایک بڑا حصہ تھرمل پاور پر منحصر ہے، اب تک ہم گیس یا تیل سے ہی بجلی بناتے آئے ہیں۔جبکہ کوئلے کا استعمال قومی پیداوار کا صرف ایک فیصد رہا ہے۔ کوئلہ کا استعمال انسانی تاریخ میں نیا نہیں۔ اس کا شمار حیاتیاتی ایندھن میں ہوتا ہے اور اس کو ڈرٹی فیول کے نام سے جانا جاتا ہے۔لہذا دنیا بھر میں تھرمل پاور کو عموماً اور کول پاور کو خصوصاً بتدریج ترک کیا جارہا ہے۔خود امریکا، چین اور ترقی یافتہ یورپی ممالک اپنے ملک میں اس سے پیدا ہونے والی آلودگی سے پریشان ہیں۔یہ بات صحیح ہے کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ توانائی تھرمل پاور اور خصوصاً کوئلے سے حاصل کی جارہی ہے۔لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس سے ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کی قیمت بہت زیادہ ہے اور دنیا بھر میں اب اِسے ترک کرنے کے لئے کھربوں ڈالر کے منصوبے عمل میں لائے جا رہے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور ماحول کی تباہی کو روکنا ہے۔جیساکہ امریکہ میں 2015 میں ایک بڑا منصوبہ ’’کلین پاور پلان‘‘ کا صدر اباما نے نے خود اعلان کیا، جس میں کول پاور پلانٹس سے کاربن اور آلودگی کے اخراج کو کم کیا جارہا ہے۔اسی طرح گزشتہ تین سالوں سے چین اپنے کوئلے کے استعمال کو کم سے کم تر کرتا جارہا ہے۔کوئلے سے ہونے والی آلودگی ماحول کوبے حد نقصان پہنچاتی ہے۔


اس وقت پاکستان میں سی پیک کے تحت فوری دس منصوبے
Early Harvest Energy Projects
کے نام سے شروع کئے گئے ہیں جو 2018 تک دس ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کریں گے۔اس کے علاوہ کئی منصوبے اور ہیں۔ ان میں بیشتر منصوبے کول پاور کے ہیں جن میں کئی پلانٹ بیرون ملک سے کوئلہ درآمد کریں گے اور کچھ تھر کا کوئلہ استعمال کریں گے۔تمام پاور پلانٹس چین سے درآمد کئے جا رہے ہیں۔ان میں آلودگی‘ جیسے کہ بیشتر گیسیں اور خطرناک دھاتیں مثلاً مرکری (پارہ) اور سیسہ جو ذہنی معذوری اور دیگر خطرناک امراض کا باعث بنتے ہیں، کو روکنے کا کوئی خاص تدارک نہیں ہے۔


دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس وقت جہاں بھی کول پاور پلانٹس استعمال ہورہے ہیں وہاں سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی متعارف کرائی جاچکی ہے اور کئی ممالک میں اس کو مزید جدید بناکر الٹرا سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے جس سے نہ صرف خطرناک گیسوں بلکہ خطرناک دھاتوں کا اخراج بھی کم کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے اور اس سے بجلی کی قیمت بڑھ جائے گی۔ لہٰذا پاکستان میں نئے لگنے والے کول پاور پلانٹس میں سے صرف چند ہی اس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے اور اس سے بجلی کی قیمت 12 روپے فی یونٹ سے بھی بڑھ جائے گی۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں
Minamata Convention
پر دستخط کئے ہیں، جس کے
Annex D
کے مطابق حکومت اس بات کی پابند ہے کہ ملک میں کوئلے کے ذریعے مرکری کی آلودگی کو روکنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرے گی۔
اب اس ضمن میں دیکھنا یہ ہوگا کہ ہماری دیرپا ترقی کے لئے کون سے ذرائع ہمارے لئے مفید ہیں؟ کیا ہمارے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں جو ماحول دوست بھی ہوں اور سستے بھی؟ کیا ہم اپنی عوام کو بہتر ماحول اور ایک بلند معیار زندگی، معاشی کامیابی کے ساتھ دے سکتے ہیں؟ توانائی کے بغیر ترقی ناممکن ہے، لہٰذا حکومت کو ایسی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس میں توانائی کے وہ ذرائع استعمال کئے جائیں جو لوگوں کی صحت کو نقصان نہ پہنچائیں، کم قیمت ہوں، کاربن کا اخراج بھی نہ کریں اور سی پیک جیسے عظیم منصوبوں کے ذریعہ لمبے عرصے تک ملک اور قوم کی بقا اور خوشحالی کا باعث بنے۔


پاکستان اگر اپنی قومی توانائی کا صرف ۱یک فیصد کوئلہ سے پیدا کر رہا ہے تو یہ نہایت خوشی کی بات ہے، جس سمت میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جانا چاہ رہے ہیں ہم پہلے ہی وہاں موجود ہیں ہمیں پیچھے جانے کے بجائے اکیسویں صدی کی اس دوڑ میں آگے کی طرف جانا چاہئے۔ایسے منصوبوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جو مہنگے بھی ہوں اور ماحول کے لئے نقصان دہ بھی۔اس صورتحال میں اگر حکومت پن بجلی پر توجہ دے اور اس کے نظام ترسیل پر رقم خرچ کرے، ساتھ ہی شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کے شعبے میں تحقیق کو تیز کرے، تو کوئی بعید نہیں کہ ہم توانائی میں ناصرف خودکفیل ہوجائیں گے بلکہ اپنی ترقی کے خواب بھی پورے کر سکیں گے۔

ڈاکٹر وقار احمد ایک ماہر ماحولیات ہیں اور جامعہ کراچی میں اپنی خدمات تدریس و تحقیق کی صورت میں انجام دے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ایڈہاک

ہیں مسلسل اشک آنکھوں میں‘ ہنسی ایڈہاک پر
غم ملے ہیں مستقل ہم کو‘ خوشی ایڈہاک پر
اور آجائے گا کوئی جیب جب خالی ہوئی
چل رہی ہے اُن سے اپنی دوستی ایڈہاک پر
مستقل شے کیا ملے دُنیائے فانی میں ہمیں
دوستو! ہم کو ملی ہے زندگی ایڈہاک پر
حادثوں کی بارشیں ہوتی ہیں متواتر جلالؔ
ہم اگر کر لیں ذرا سی دل لگی ایڈہاک پر

ڈاکٹرسیدقاسم جلالؔ

*****

 
10
April

تحریر: ڈاکٹرہمامیر

سرکس میں تماشا نہیں لگاتا۔ یہ بات کیوں اور کیسے مشہور ہوئی معلوم نہیں لیکن مجھے ان بھیڑیوں کا خیال ضرور آیا جنہیں ایک کینیڈین جوڑا بڑی محبت سے ایسے پال رہا ہے جیسے وہاں کتے یا بلی پلتی ہے۔ ونکوور کے شمال مشرق میں پہاڑوں کے دامن میں 1.25 ایکڑ کے وسیع رقبے پر
Casey & Shelley
نامی میاں بیوی نے بھیڑیوں کو بڑے ناز سے پالا ہے۔ لوگ ہرن پالتے ہیں، بھیڑ ، بکری، گائے، دنبے، بیل، اونٹ، گھوڑے، گدھے، مور، پرندے، کتا، بلی پالتے ہیں۔ جانے یہ بھیڑئیے پالنے کا خیال کیونکر آیا اور یہ کیا ایک نئی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ یعنی بھیڑیے سے متعلق جتنی باتیں یا کہاوتیں مشہور ہیں، ان کے حساب سے تو بھیڑیا ایسا درندہ ہے جس کے بارے میں کبھی پہلے نہیں سنا کہ اسے پالا جائے۔ لوگ سانپ جیسے موذی کو پال لیتے ہیں مگر زہر نکال کے۔ یہ بھیڑیا پالنا آخر کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ سب میری سمجھ سے تو باہر ہے تاہم میں آپ کو ان پالتو بھیڑیوں کے tazahawabaharki.jpgبارے میں بتاتی ہوں جو
Casey
اور
Shelley
نے پالے ہیں۔ یہ تعداد میں کل 7ہیں۔ ان میں سے ایک مادہ ہے جس کا نام مایا ہے۔ وہ سب سے بڑی ہے اس کی عمر 17برس ہے
Wiley
نامی بھیڑیا خوب تندرست و توانا ہے۔ اس کی عمر14برس ہے اور وزن 110پاؤنڈ ہے۔
Aspen
نامی بھیڑیا ہے جو سب سے پہلے پلا تھا۔
Aspen
چھوٹا سا بچہ تھا جب اسے لایا گیا تھا۔ ان کے علاوہ
Dave
اور
Flora
بھی ہیں۔ یہ سب بھیڑئیے مل جل کر رہتے ہیں۔ ان کے مالک
Shelley
اور
Casey
نے باقاعدہ وولف سینٹر بنایا ہے جہاںیہ سات بھیڑیے خوب گھومتے پھرتے عیش کرتے ہیں۔
Shelley
اور
Casey
مختلف سکولوں میں جا کر بھیڑیوں کے حق میں تقاریر کرتے ہیں۔ بچوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ ان کے وولف سینٹر کا دورہ کریں تاکہ بھیڑیوں کے حوالے سے ان کے ذہن تبدیل ہو سکیں۔ یہ دونوں میاں بیوی بھیڑیوں کی پبلسٹی میں آگے آگے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ بھیڑیوں سے خوف کھانے یا ان کو برا سمجھنے کے بجائے ان سے محبت کریں، ان کو گھروں میں پالیں اور بھیڑیوں کو درندہ سمجھنے کے بجائے پالتو جانور سمجھیں۔


چلیں اب ختم کریں یہ بھیڑیوں کی باتیں بہت ہو گئیں۔ ذرا سیاسی درجہ حرات پر بات ہو جائے۔ اس بار موسم سرما میں عالمی سیاست گرم رہی۔ نئے قوانین، نئے اصول، نئی باتیں سامنے آئیں۔ دنیا کے دیگر مسلمان ممالک میں بسنے والوں کی ہمدردی اور اظہار یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالنے والے کسی اشارے کے منتظر رہے اور نئی پالیسیوں پر ان کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کہیں کوئی صدا سنائی نہ دی۔ بس اتنا ضرور ہوا کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی بین الاقوامی مقبولیت میں ضرور اضافہ ہوا۔ ٹروڈو بہت باصلاحیت نوجوان وزیراعظم ہیں۔ وہ تمام مذاہب اور مسالک کا احترام کرتے ہیں۔ غیرملکی تارکین وطن اور مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کے حق میں بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح مسلمانوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا اور جس طرح تارکین وطن کو گلے لگایا، لوگ ان کے مداح ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر انہیں سراہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ٹرکوں کے پیچھے ان کے پورٹریٹ نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل سابق صدر ایوب خان کی تصاویر ہمیں ٹرک کے پیچھے نظر آتی تھیں۔ جسٹن ٹروڈو کے والد بھی سیاستدان تھے، وہ بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ کمال بات ہے کہ یہ خاندان نہایت ایماندار اور محنتی ہے۔ ان پر ایک پائی کی بھی کرپشن کا الزام نہیں۔ یہ ایسے وی آئی پی ہیں جو اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں۔ ان کے چہرے پر کوئی رعونت یا فرعونیت نہیں۔ ٹروڈو کا مسکراتا چہرہ، ان کے مثبت بیانات، عملی اقدامات، اختلافات و اقدار کا لحاظ ان کو ایک آئیڈیل سیاستدان کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ جسٹن ٹروڈو کی اہلیہ نہایت حسین وجمیل خاتون ہیں۔ یہ سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ ذاتی جیپ سے شاپنگ کرتی ہیں۔ ٹروڈو کے بچے ابھی پڑھ رہے ہیں اور کسی سیاسی کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ بچے کسی کی تقرری، ٹرانسفر، یا کسی قسم کی دیگر ذمہ داریوں سے مبرا ہیں۔ نیز ان کو یہ بھی نہیں باور کرایا گیا کہ ان کے باپ کے بعد اقتدار انہی کا حق ہے۔کینیڈا کی دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ یہ سب جمہوری روایات کے امین ہیں اور جمہوریت کے مفہوم سے نہ صرف آشنا ہیں بلکہ اپنے طرز عمل سے ثابت بھی کرتے ہیں۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

تحریر: سیدہ شاہدہ شاہ

جہلم شہر سے رانجھا میرا نامی گاؤں کی طرف جائیں تو چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلال ٹاؤن آتا ہے۔ اسی بلال ٹاؤن میں محلہ شاہ پور ہے۔ جہاں مادر وطن کا وہ جانباز (شہید) پیدا ہوا اور اسی قبرستان میں پوری فوجی شان و شوکت کے ساتھ دفن ہوا۔


سپاہی وقاص احمد 20جولائی 1989کو جہلم میں پیدا ہوا۔ اس کے والد افتخار احمد حکمت کا کام کرتے ہیں اور حکیم کے طور پر مشہور ہیں۔چھ بہن بھائیوں میں وقاص احمد کا تیسرا نمبر ہے۔ بچپن سے ہی وقاص احمد وقت کا انتہائی پابند تھا اور اپنی اسی خوبی کی وجہ سے سارے گھر والے وقاص احمد کو چھوٹی عمر میں ہی فوجی کہنے لگے تھے۔وقاص احمد انتہائی نرم دل اور رحمدل تھا۔ اپنے تو کیا وہ کسی غیر کو بھی معمولی سی بھی تکلیف میں دیکھتا تو تڑپ اٹھتا اور حتی الامکان اپنی بساط سے بھی بڑھ کر اس کے کام آنے کی کوشش کرتا۔ وقاص احمد کے خاندان میں کوئی بھی فوجی نہ تھا۔ مگر اس کی امی کی بڑی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پاک فوج کا حصہ بنے۔ چنانچہ میٹرک کرنے کے بعد وقاص احمد ریکروٹنگ آفس گیا اور آرمی میں بھرتی ہو گیا۔ یقیناًاﷲتعالیٰ نے اسے شہادت کے لئے چن لیا تھا۔ اس لئے بغیرکسی معمولی سی بھی رکاوٹ کے وہ پنجاب رجمنٹ میں بھرتی ہو گیا۔ ضروری عسکری ٹریننگ کے بعد اس کی ٹرانسفر 55پنجاب رجمنٹ میں ہو گئی۔ اپنے حسن اخلاق اور اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت وہ جلد ہی 55پنجاب رجمنٹ کے سپاہی سے لے کر کمانڈنگ آفیسر تک ہرایک کی آنکھ کا تارا بن گیا۔

 

sipahiwaqashusain.jpgانہی دنوں ارض وطن پر دہشت گردی کا خون آشام آسیب نجانے کہاں سے در آیا۔ روازنہ سیکڑوں ہزاروں لوگوں کو دوچار انسانی قالب میں چھپے ہوئے درندے خودکش جیکٹس اور طرح طرح کے خوف ناک آتشیں ہتھیاروں سے خون میں نہلانے لگے۔ مسجد یں، امام بارگاہیں، چرچ غرضیکہ کوئی بھی عبادت گاہ محفوظ نہ رہی۔ پررونق مقامات، تفریحی گاہوں اور پرہجوم مقامات پرخوف کے سائے منڈلانے لگے۔ لوگ سکولوں، کالجوں اور کھیل کے میدانوں میں بچوں کو بھیجنے سے ڈرنے لگے۔ اس پرہو اور خوف سے بھرپور فضا کا طلسم توڑنے کے لئے پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے انتہائی دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اور ان خون آشام درندوں کو نکیل ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ پوری فوج اپنے سپہ سالار کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان موت کے ہر کاروں کے خلاف سینہ سپر ہو گئی۔ آرمی نے بلاامتیاز دہشت گردوں کو پوری قوت سے کچلنا شروع کر دیا۔ ملک بھر میں جہاں جہاں ان دہشت گرد درندوں کی کمین گاہیں تھیں انہیں ان کمین گاہوں سے ایک چوہے کی طرح بلوں سے نکال کر تباہ وبرباد کرنا شروع کر دیا۔ وقاص احمد کو 55پنجاب رجمنٹ سمیت دہشت گردوں کے مستقر جنوبی وزیرستان بھیج دیا گیا اور وانا میں آپریشن شروع کر دیا گیا۔


یہ غالباً وقاص کی شہادت سے ایک دن پہلے کی بات ہے کہ اس نے سارے گھروالوں سے خوب جی بھر کر باتیں کیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم انشاء اﷲ دو ماہ بعد واپس آ جائیں گے۔ مگر خدا نے اسے اپنی راہ میں شہادت کے عہدے پر فائز کرنے کے لئے چن لیا تھا۔ یہ بارہ جولائی 2013 دو رمضان المبارک اور جمعہ کا دن تھا۔ دشمن کی گھات کی وجہ سے کمیونیکیشن کا سلسلہ اچانک منقطع ہو گیا۔ عسکری زندگی میں اور خاص کر میدان جنگ میں کمیونیکیشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ وقاص احمد کے تین ساتھی رابطہ بحال کرنے کے لئے اپنی جگہ سے نکلے۔ سپاہی وقاص احمد نے انہیں دیکھا تو وہ بھی ساتھ ہو لیا۔ حالانکہ یہ اس کی ڈیوٹی نہیں تھی۔ فوج میں ہر کام کے لئے مخصوص افراد ہوتے ہیں۔ ساتھیوں نے اسے منع بھی کیا۔ مگر شہادت اسے اپنی بانہوں میں بھرنے کے لئے اسے جائے شہادت پربلا رہی تھی۔ چنانچہ وہ ضد کر کے ساتھ چلا گیا۔ کچھ دور انہیں وہ پول (کھمبا)نظر آ گیا۔ جہاں سے ٹیلی فون تار ٹوٹ کر لٹک رہی تھی۔ جس کی وجہ سے کمیونیکیشن بریک ہو گیا تھا۔فوجی حکمت عملی کے مطابق ایک ساتھی ان سے دور چلا گیا۔ تاکہ دشمنوں کی طرف سے فائرنگ کی صورت میں
Cover
فائر دے سکے۔ دو ساتھی کھمبے سے تھوڑی دُور پوزیشن لے کر بیٹھ گئے۔ جبکہ وقاص احمد کھمبے پر چڑھ کر تاریں جوڑنے لگا۔ تاریں جوڑنے کے بعد وہ نیچے اترنے ہی لگا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ قریب ہی گھات لگائے دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔ کھمبے سے ہی وقاص نے دیکھا کہ اس کے تینوں ساتھی خاک و خون میں نہا چکے تھے۔ وقاص احمد کے دل میں رائی برابر بھی خوف نہ تھا۔ اس نے تیزی سے کھمبے سے چھلانگ لگائی اور دشمن پر فائر شروع کر دیا۔ وقاص کی جوابی فائرنگ سے دہشت گردوں کی فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ تب وقاص نے اپنے قریبی دونوں ساتھیوں کو جو کہ شہید ہو چکے تھے اپنے کندھوں پر لاد کر کیمپ کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر ابھی دو قدم بھی نہ اٹھا پایا تھا کہ آتش و آہن کا ایک برسٹ آیا اور اکتالیس گولیاں اس کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔ اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گیا۔ ایک گولی اس کے موبائل فون پر بھی لگی یوں وہ اپنے گھر سے دور ارض وطن پر اپنی جوانی کی سوغات لوٹا کر امر ہو گیا۔ شہادت کے تین ماہ بعد اﷲتعالیٰ نے اسے بیٹے سے نوازا جس کا نام حیدر وقاص رکھا گیا جو اب ،جنوری 2017میں، تین سال کا ہو گیا ہے۔ راہ حق میں جانیں لٹا دینا بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ مگر جن ماؤں کے جوان کڑیل بیٹے یوں چپ چاپ دنیا والوں سے ناتا توڑ کر راہ حق کے مسافر بن جائیں اور اس پار ستاروں اور کہکشاؤں کے دیس جا بسیں، ان ماؤں کی آنکھوں کے سوتے کبھی بھی خشک نہیں ہوتے۔ سپاہی وقاص احمد شہید ہو کر زندہ جاوید ہو گیا۔ جس چارپائی پر وقاص احمد سویا کرتا تھا اس کی ماں اس کی طرف دیکھ کر آج بھی روتی رہتی ہے۔ وہ موٹر سائیکل جو وقاص سواری کے لئے استعمال کرتا تھا۔ وہ آج بھی کمرے میں کھڑی اپنے مالک کی آمد کی منتظر ہے۔ کاش کوئی اسے بتائے کہ سپاہی وقاص احمد تو دنیاوی رشتوں سے بے نیاز ستاروں اور کہکشاؤں کے دیس کا وہ باسی بن چکا ہے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیںآیا کرتا۔ وہ وطن کی حرمت پر قربان ہو گیا۔ وہ وطن کا نام باقی رکھنے کے لئے خود تو مٹ گیا مگر اس کے پائے استقامت میں ایک لمحے کے لئے بھی لغزش نہیں آئی۔ وہ جا چکا ہے مگر ارض وطن کے ہر نقش میں اس کا پَرتو ہے۔ یقیناًسب سے بڑی قربانی خاک وطن میں ہنستے کھیلتے اپنا لہو سینچنا ہے۔ جب تک ہمارے بہادر سپاہی اپنے لہو سے یہ آبیاری کرتے رہیں گے ارض وطن پر یوں ہی پھول کھلتے رہیں گے۔

 
10
April

وطنِ عزیز میں امن کی بحالی کے لئے افواجِ پاکستان اور قوم باہم مل کر دہشت گردی کے جس عفریت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما تھیں‘ الحمدﷲ اس میں کافی حد تک کامیابی مل چکی ہے اوراُس کے ثمرات کا اندازہ امن عامہ کی عمومی صورتحال اور عوام کے دمکتے چہروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ الحمدﷲعوام الناس دہشت گردی کے خوف سے نکل چکے ہیں اور وہ دہشت گردی کے ہونے والے اِکا دُکا واقعات سے نمٹنے کے لئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ افواجِ پاکستان نے جس انداز ہے دہشت گردی کے جن پر قابو پایاہے اس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔


اب باقی ماندہ فسادیوں اور سہولت کاروں کے خلاف’ آپریشن رد الفساد‘ کامیابی سے جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس سرزمین سے فسادکی مکمل بیخ کنی نہیں ہوجاتی۔ عوام کے حوصلے کس قدر بلند اور جذبے کس طور جواں ہیں ‘اس کا اندازہ حالیہ یومِ پاکستان پریڈ سے لگایا جاسکتا ہے۔ رواں برس پریڈ کی خاصیت یہ تھی کہ برادر ممالک چین اور سعودی عرب کے فوجی دستے اور برادر ملک ترکی کے مہتر بینڈ نے شریک ہو کر پاکستان اور پاکستانیوں کا مان بڑھایا۔ دریں اثناء شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سمیت ملک بھر میں پاکستان ڈے منایا گیا جس میں بچوں ‘ بوڑھوں اور جوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ لوگوں کے چہرے تمکنت اور خوشی سے دمکتے دکھائی دیئے جو یہ پیغام دے رہے تھے کہ پاکستان تاریک راہوں سے نکل آیا ہے اور اب ایک روشن اور تابناک مستقبل پاکستان اور اس کے باسیوں کا مقدر ہے۔ عوام کو صرف اس حدتک ذمہ دارہونے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کرنے اور اپنے حصے کی شمع جلانے میں بخل سے کام نہ لیں کیونکہ پاکستان صرف اسی صورت میں ترقی کرسکتا ہے جب تمام ادارے اپنے اپنے حصے کاکام اس انداز سے کریں کہ جس سے ملک میں ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہو۔


زندہ قومیں اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتیں اور اپنے حوصلے پست نہیں ہونے دیتیں کہ اُمید ہی میں روشن و تابناک مستقبل کے راز پنہاں ہوا کرتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم رواداری اور باہمی یگانگت کو یقینی بنانا ہوگا۔ بانئ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے 11 ستمبر1947 کو دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا ’’ پاکستان کی عظیم ریاست کو اگر ہم آسودہ ‘ خوشحال اور ثروت مند بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام کی فلاح پر تمام تر توجہ مرکوز کرنی پڑے گی اور ان میں بھی عام لوگوں بالخصو ص نادار آبادی کی فلاح مقدم ہے۔ اگر آپ نے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے‘ ناگواریوں کو دفن کرکے باہم تعاون سے کام کیا تو آپ کی کامیابی یقینی ہے اگر آپ نے ماضی کی روش بدل دی اورآپس میں مل جل کر اس جذبہ کے ساتھ کام کیا کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ و ہ کسی بھی فرقے سے ہو‘ خواہ ماضی میںآپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کچھ بھی رہی ہو‘ اس کا رنگ ذات یا مسلک خواہ کچھ بھی ہو‘ وہ شخص اول آخر اس ریاست کا شہری ہے اور اس کے حقوق‘ مراعات اور فرائض برابرکے ہیں‘ تو یاد رکھئے کہ آپ کی ترقی کی کوئی حد وانتہا نہ ہوگی۔‘‘


الغرض قوم اور اداروں کو پوری تندہی کے ساتھ اپنی خدمات کو اس اُمید سے یقینی بنانا ہے کہ آنے والے وقتوں میں وطنِ عزیز پاکستان دنیا کے بہترین اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکے۔

10
April

تحریر: جاوید حفیظ

مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں منافع کماتی ہیں۔ نئے کارخانے لگتے ہیں۔ سڑکیں بنتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور انشورنس کا بزنس فروغ پاتا ہے۔ تجارتی روابط ٹورازم کو ترقی دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ تجارت ملکوں کے مابین امن اور خطے میں استحکام لاتی ہے۔ کیونکہ اقتصادی تعاون کے بین الاقوامی فروغ کے لئے امن اور استحکام اہم شرط ہے۔


علاقائی اقتصادی تعاون سے وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملتی ہے مثلاً پاکستان ٹیکسٹائل اور چاول برآمد کرتا ہے اور ہمسایہ ملک ایران یہ دونوں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ایران اگر یہ دونوں چیزیں کسی دورکے ملک سے منگوانے کے بجائے پاکستان سے خریدے تو اسے سستی بھی پڑیں گی کیونکہ ٹرانسپورٹ کرنے میں لاگت کم آئے گی۔ اسی طرح ایران تیل اور گیس برآمد کرتا ہے جبکہ اس کے ہمسایہ ممالک ترکی اور پاکستان کی انرجی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں ان تین ملکوں کے باہمی تعاون سے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے 1964 میں آر سی ڈی
(Regional Cooperation For Development)
بنائی گئی۔ اس تنظیم کا مقصد تینوں ملکوں کے مابین تجارت کا فروغ اور شاہراہ کے ذریعے سفر کو آسان بنانا تھا۔ یہی وہ شاہراہ تھی جو پاکستان کو یورپ سے منسلک کر سکتی تھی۔ ایران میں 1979 میں انقلاب آیا تو آر سی ڈی غیرفعال ہو گئی۔ 1985میں تینوں ممالک نے اسے نئے نام یعنی ای سی او
(Economic Cooperation Organisation)
کے ذریعے دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1992 میں افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے چھ ممالک اس تنظیم میں شامل ہو گئے۔ بیسیویں صدی نے علاقائی تعاون کا عروج دیکھا ہے اور بہت سے ممالک باہمی اشتراک سے مستفید ہوئے۔ اس تعاون کی سب سے بڑی مثال یورپی یونین ہے۔ تعاون اور اتحاد کی اس شکل میں سرمایہ اور لیبر آزادانہ ایک ملک سے دوسرے ممبر ملک جا سکتے ہیں۔ مثلاً فرانس کا شہری جرمنی، یونان، ہالینڈ کسی بھی ملک میں نہ صرف جاب کر سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں سے تھکے ہوئے یورپ کے لئے یہ بہت خوشگوار تجربہ تھا۔ اسی طرح کا ایک اور کامیاب تجربہ ایشیا میں آسیان کی صورت میں سامنے آیا۔ یہاں علاقائی تعاون سے سنگاپور، ملائشیا اور دیگر ممبر ممالک کو بہت فائدہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے معیار زندگی بہتر ہوا۔ ان ممالک نے نہ صرف باہمی تجارت کو خاصی حد تک بڑھایا بلکہ تعلیم صحت اور ریسرچ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کی معاونت کی، بالآخر خارجہ پالیسی کے امور میں بھی تعاون دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف یورپ کے کئی ممالک مشترکہ ویزہ پالیسی کا حصہ ہیں اور ایک کامن کرنسی یعنی یورو معرض وجود میں آئی۔ ان دو کامیاب علاقائی تنظیموں کے علاوہ چند ایسی مثالیں بھی مشاہدے میں آئیں جن میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور ان میں ایک تنظیم سارک بھی ہے۔

ecoaurpakistan.jpg
اس بات کا تعین بھی ضروری ہے کہ سارک ناکام تنظیم کیوں ہے۔ کسی بھی علاقائی تعاون تنظیم کی کامیابی کے لئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ ممبر ممالک کی سوچ اور مقاصد میں ہم آہنگی ہو۔ صاف ظاہر ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے ہدف مختلف ہیں۔ مثلاً انڈیا ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جو اس کا تابع فرمان ہو۔ مگر انڈیا اپنا یہ ہدف حاصل نہیں کر سکا اور 1998 کے ایٹمی تجربوں کے بعد تو پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ لیکن اس بات کا کیا علاج ہے کہ انڈیا نے اپنا برتری اور رعب جمانے کا ہدف ترک نہیں کیا۔ پھر انڈیا اور پاکستان کے مابین کئی حل طلب مسائل ہیں جن میں کشمیر سرفہرست ہے۔ ای سی او ممالک کے درمیان ایسے جھگڑے نہیں لہٰذا اس تنظیم کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔معیشت کا تنوع اور ایک دوسرے پر انحصار علاقائی تعاون کی کامیابی کی دوسری شرط ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں ٹیکسٹائل گڈز برآمد کرتے ہیں بین الاقوامی منڈی میں دونوں میں مقابلے کی فضا رہتی ہے۔ اسی طرح انڈیا، پاکستان اور سری لنکا تینوں چاول برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین باسمتی چاول برآمد کرنے کے سلسلے میں سخت مسابقت رہتی ہے۔ ای سی او کے ممبر ممالک میں ایسی کوئی مشکل نظر نہیںآتی۔ پاکستان اور ترکی بہت ساری ایسی چیزیں بناتے ہیں جن کی سنٹرل ایشیا میں کھپت ہے۔ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے اور ہمیں گرمیوں میں تاجکستان سے بجلی مل سکتی ہے۔ ایک منصوبہ جسے کاساایک ہزار
(CASA-1000)
کا نام دیا گیا ہے پر دستخط ہو چکے ہیں۔


عام طور پر کہا جاتا ہے کہ علاقائی تعاون اور تجارت کے فروغ کے لئے مذہبی اور کلچرل ہم آہنگی اور یکسانیت لازمی شرط نہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ترکی مسلمانوں کا ملک ہے۔ پوری کوشش کے باوجود ترکی ابھی تک یورپی یونین کی ممبر شب حاصل نہیں کر سکا۔ سارک ممالک کے لوگ تین چار مذاہب کے پیروکار ہیں۔ جن میں ہندو مت، اسلام، بدھ مت اور عیسائیت نمایاں ہیں۔ ان کے برعکس ای سی او ممبر ممالک میں ہر جگہ مسلمان اکثریت میں ہیں اور اس وجہ سے ای سی او کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔


ای سی او نے اب تک کیا اہداف حاصل کئے ہیں۔ اس تنظیم کا ریکارڈ کیسا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ریکارڈ دیکھنے کے بعد میں ای سی او کو نیم کامیاب تنظیم کہوں گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اس تنظیم کا مستقبل روشن ہے۔ ای سی او ممالک نے 2005ء میں سرکردہ اشخاص کا ایک پینل بنایا تھا تاکہ مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جائے۔ اس پینل کا کہنا تھا کہ اگر کسٹم ڈیوٹی کم کی جائے اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا ازالہ کیا جائے تو ای سی او ممبرز اپنی باہمی تجارت کو ٹوٹل ٹریڈ کے بیس فیصد تک لے جا سکتے ہیں۔ 2015 گزر گیا لیکن باہمی تجارت آٹھ فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ آئیے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تنظیم اپنے مکمل اہداف حاصل کرنے سے کیوں قاصر رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو افغانستان کی غیرمستحکم صورت حال نظر آتی ہے جو تاحال قائم ہے۔ دوسری بڑی وجہ ایران پر ایٹمی پروگرام کی وجہ سے لگنے والی عالمی اقتصادی پابندیاں تھیں تیسری وجہ یہ ہے کہ سنٹرل ایشیا کے کئی ممالک اپنے انفراسٹرکچر کی وجہ سے روس کی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔ ای سی او کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ان ملکوں کو روس کی معیشت اور تجارت سے دور کیا جائے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر گیس پائپ لائنز بن جائیں اور ممبر ممالک کا ایران پاکستان اور ترکی کے ساتھ زمینی سفر آرام دہ ہو جائے تو سنٹرل ایشین ممالک کو بہت فائدہ ہو گا۔ راقم الحروف جب دو شنبے میں سفیر تھا تو اس بات کا این ایچ اے کی مدد سے تعین کر لیا گیا تھا کہ اسلام آباد سے براستہ پشاور جلال آباد کابل تاجکستان کا سفر آسانی سے دس گھنٹے میں ممکن ہے۔ دو شنبے سے بائی روڈ ماسکو جانے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہے۔ اور اب آتے ہیں یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی ای سی او سمٹ کانفرنس کی جانب۔ فروری کے مہینے میں پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر دیکھنے میں آئی۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ای سی او سمٹ کانفرنس کو سبوتاژ کر دے گا لیکن دشمن اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کانفرنس میں چھ صدور ایک وزیراعظم اور دو نائب وزیراعظم آئے۔ ایران کے صدر حسن روحانی اور ترکی کے صدر طیب رجب اردوان
(Recep Tayyip Erdogan)
نمایاں رہے۔ یہ پاکستانی سفارت کاری کی واضح کامیابی تھی۔ اس سے پاکستان کی علاقائی اہمیت کا پھر سے اقرار ہوا ہے۔ انڈیا کا یہ دعویٰ کہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں تنہا ہے۔ غلط ثابت ہوا۔
اسلام آباد کی سربراہ میٹنگ کا شعار تھا۔
(Connecting for regional prosperity)
یعنی خطے میں خوشحالی لانے کے لئے ممبر ممالک کو جوڑا جائے، قریب تر لایا جائے۔ فارن سیکرٹری اعزازچوہدری نے اس کی وضاحت یوں کی کہ سڑکوں کے ذریعے سفر کو آرام دہ اور کم خرچ بنایا جائے تاکہ ممبر ممالک کے لوگ آسانی سے سارے خطے میں آ جا سکیں اور اس کے علاوہ مال بردار ٹرک اور ٹرالر بڑی تعداد میں روزانہ بارڈر کراس کریں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب سڑکوں کی حالت بہت اچھی ہو، ریلوے کا نظام فعال ہو، اور مال کی ٹرانسپورٹ کم قیمت ہو۔ سڑکوں اور ریلوے کے علاوہ پائپ لائن انرجی کی ٹرانسپورٹ کا آسان اور کم خرچ ذریعہ ہے۔ تیل کی نقل و حرکت کا یہ طریقہ ٹینکرز کے مقابلے میں آسان بھی ہے۔


اسلام آباد کی سربراہ کانفرنس میں وژن 2025ء کو ممبر ممالک نے اتفاق رائے سے پاس کیا۔ یہ مستقبل قریب کا روڈ میپ ہے۔ اس روڈ میپ کا ایک اہم نکتہ اگلے پانچ سال میں ممبر ممالک کے مابین تجارت کو دوگنا کرنے کا عزم ہے۔ اس کامیاب کانفرنس نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی پاکستان کو دنیا میں یا ہمارے خطے میں تنہا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ چین کے نائب وزیرخارجہ نے ہمارے وزیراعظم کی دعوت پر کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کی۔ کانفرنس کے اعلامیے میں سی پیک کا باقاعدہ ذکر ہے اور اس بات کا اقرار بھی ہے کہ یہ منصوبہ تمام خطے کی اقتصادی ترقی کو مہمیز کرے گا۔


دراصل سی پیک کا مقصد بھی ٹرانسپورٹ کو آسان بنانے کے لئے خنجراب سے گوادر تک سڑکیں اور اقتصادی ترقی کے پروجیکٹ بنانا ہے۔ تیل کی درآمد کے لئے چین تک پائپ لائن بچھانا ہے۔ پاکستان کی انرجی کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سی پیک کے منصوبے کی وجہ سے پاکستان میں بیس لاکھ یعنی دو ملین نئے جاب نکلیں گے۔ ای سی او کے ممبر ممالک بڑی آسانی سے سی پیک کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گوادر اور خنجراب کے راستے درآمد اور برآمد کر سکتے ہیں۔ ایران کی اقتصادی پابندیاں اٹھنے سے ای سی او تعاون بڑھے گا۔ تمام ممبر ممالک کو کوشش کرنی چاہئے کہ افغانستان میں امن جلد آئے۔ افغانستان میں امن اور استحکام پورے خطے میں خوشحالی لائے گا۔ دوسری طرف روس نے یوریشین اکنامک یونین اور سی پیک کولنک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ آج کے زمانے میں اقتصادی ترقی اور تجارت کا فروغ بہت اہم ہیں اور علاقائی تعاون ان دونوں اہداف کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ای سی او کی تنظیم نے ہمیں یہ اہداف پورے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

مضمون نگار، متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔

عظیم الشان پاکستان

 

اقوامِ عالم میں ہے اِک پہچان پاکستان
بہت مضبوط پاکستان‘ عظیم الشان پاکستان
جو اِک اشارہ ہو تو رکھ دیں جاں ہتھیلی پر
صفایا کر دیں باطل کا یہ فرزندانِ پاکستان
میری اس قوم نے پھر سے نئے پیمان باندھے ہیں
سلامت تاقیامت باصفا مردانِ پاکستان
میرے شہروں کی رونق بس انہی کے دم سے ہے قائم
میرا اِ ک اِک سپاہی واری و قربان پاکستان
شہیدوں‘ غازیوں کا قرض میں کیسے چکا پاؤں
میرے ہر گیت‘ ہر اک نظم کا عنوان پاکستان

عالیہ عاطف

*****

 
10
April

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں

دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص وقفے کے بعد باقاعدہ طور پر مردمِ شماری کی جاتی ہے۔ اس کے لئے حکومت میں ایک الگ شعبہ ہوتا ہے جس کا کام نہ صرف مردم شماری کے لئے مطلوبہ انتظامات کرنا بلکہ مردم شماری سے حاصل اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی تجزیئے کی بنیاد پر حکومت مکمل ترقی اور قوم کی فلاح و بہبود کی خاطر طویل المیعاد بنیادوں پر پالیسیاں متعین کرتی ہے۔ پاکستان میں آزادی کے فوراً بعد1950میں مردم شماری کے لئے ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا تھا۔ ابتداء میں یہ شعبہ مرکزی وزارتِ داخلہ کا حصہ تھا اور اسی کے تحت پاکستان میں1951 میں ملک کی پہلی مردم شماری کا اہتمام کیاگیا تھا۔ لیکن متحدہ ہندوستان کے وہ علاقے جو اب پاکستان کا حصہ ہیں‘ میں پہلی مردم شماری 1881 میں منعقد ہوئی تھی۔1951 میں پہلی مردم شماری کے بعددوسری مردم شماری1962 میں ہوئی۔ تیسری مردم شماری1971 میں ہونی چاہئے تھی لیکن مشرقی پاکستان کے سیاسی بحران اور بھارت کے ساتھ جنگ کی وجہ سے1972 میں مردم شماری کا انعقاد کیا گیا۔ چوتھی مردم شماری اپنے دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد یعنی 1981 میں ہوئی لیکن اس سے اگلی یعنی پانچویں مردم شماری1991 کے بجائے 1998 (سات سال کی تاخیرسے) کرائی گئی۔ اس تاخیر کی وجہ بھی ملک کے بعد غیر معمولی سیاسی حالات اور خاص طور پر افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی مداخلت اور اس مداخلت کے خلاف افغان تحریک مزاحمت کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان میں آمد تھی۔ ان مہاجرین کی غالب اکثریت کا تعلق پشتون نسل سے تھا۔ اس لئے وہ پاکستان کی پشتون آبادی میں اس طرح گھل مل گئے کہ اُنہیں مردم شماری کے دوران علٰیحدہ شمار کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا لیکن چونکہ مردم شماری کو زیادہ دیر تک مؤخر نہیں کیا جاسکتا تھا‘ اس لئے1998 میں پاکستان کی پانچویں مردم شماری کا انعقاد ہوا۔ یہ مردم شماری ملک کی متنازعہ ترین مردم شماری تھی۔ کیونکہ پاکستان کے بعض علاقوں خصوصاً بلوچستان کے بعض حصوں میں مردم شماری کے عملے کو کام کرنے سے روک دیاگیا تھا۔ اس کی بھی بڑی وجہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں آباد افغان مہاجرین کی موجودگی تھی جو پاکستان میں اپنے طویل قیام کے دوران نہ صرف جائیداد ‘ روزگار اور کاروبار کے مالک بن چکے تھے‘ بلکہ متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے اُنہوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ بھی حاصل کر لئے تھے۔ بلوچستان کی بلوچ آبادی کو خدشہ تھا کہ ان افغان مہاجرین کو پاکستان کے شہری شمار کرکے صوبے میں پشتون آبادی کو زیادہ ظاہر کرکے بلوچ آبادی کو اقلیت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ بلوچستان میں غیربلوچ پاکستانی باشندوں مثلاً پنجابی اور کراچی سے اُردو بولنے والے لوگوں کی آباد کاری کی وجہ سے صوبے کی بلوچ آبادی میں پہلے ہی بہت تشویش پائی جاتی تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کے قیام کی وجہ سے بلوچ آبادی میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی تھی۔ کیونکہ بلوچیوں کو ڈر تھا کہ اگر ان افغان مہاجرین کو پشتون آبادی کا حصہ ظاہر کیا گیا تو صوبے میںآباد دو بڑے لسانی گروپوں یعنی پشتون اور بلوچوں کے درمیان آبادی کا توازن اول الذکر گروپ کے حق میں چلا جائے گا۔

mardamshumarihamara.jpg
کسی بھی ملک میں جہاں وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی اداروں میں نمائندگی اور وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ اہمیت آبادی کو حاصل ہو‘ وہاںآبادی میں کمی بیشی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے۔ اس کے دو صوبوں یعنی سندھ اور بلوچستان دو دو لسانی گروپوں یعنی بالترتیب سندھی اور اُردو زبان بولنے والے اور پشتو اور بلوچی بولنے والے علاقوں میں منقسم ہیں۔ سندھ میں یہ تقسیم دیہی اور شہری علاقوں میں تقسیم کی صورت پائی جاتی ہے جہاں بالترتیب سندھی اور اُردو بولنے والوں کی اکثریتی آبادی قیام پذیر ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت(آرٹیکل (3)51 ملک کی قومی اسمبلی کی نشستیں‘ صوبوں‘ فاٹا اور اسلام آباد کی کیپیٹل ٹیرٹری
(Capital Territory)
کے درمیان آخری مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر الاٹ کی جاتی ہیں۔ اس لئے ہر دس برس بعد قومی اسمبلی میں نہ صرف صوبوں بلکہ فاٹا اور اسلام آباد کے لئے بھی مختص نشستوں میں رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ آبادی کو انتخابات کے ذریعے صرف قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لئے بنیاد کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ صوبوں اور وفاق کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں بھی آبادی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی محکموں میں صوبوں کے لئے مختص کوٹے میں سرکاری ملازمتوں کو بھی آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس لئے ہر صوبہ اور وفاقی یونٹ اپنی اپنی آبادی کے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور مردم شماری کے موقع پر اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ صرف قومی اسمبلی میں مختص ان کی نشستوں میں اضافہ ہوسکے بلکہ وفاقی فنڈز کی تقسیم اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹے میں اُنہیں زیادہ سے زیادہ حصہ مل سکے۔1998 میں سات سال کی تاخیر کے بعد مردم شماری کے پیچھے بھی یہی محرکات کار فرما تھے۔ ان میں افغان مہاجرین کا مسئلہ سب سے نمایاں تھا لیکن 1998 کے بعد دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد2008 کے بجائے2017 میں چھٹی مردم شماری کے انعقاد میں تاخیر کی وجوہات میں وہ حالات بھی شامل تھے جن کا9/11 کے بعد خصوصاً افغانستان پر امریکی فضائی حملوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے تعلق تھا۔ اس دوران دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں خاندان خصوصاً پاکستان کے شمال میں واقع قبائلی علاقوں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اگرچہ بے گھر ہونے والے ان افراد کی اکثریت اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکی ہے لیکن بحالی اور آباد کاری کا عمل نامکمل ہونے کی وجہ سے ان بے گھر افراد کی خاصی تعداد ابھی تک اپنے گھروں سے دور رہائش پذیر ہے اور اس وجہ سے اُنہیں موجودہ مردم شماری میں شمار کرنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ اس طرح بلوچستان میں بھی امن و امان کی خراب صورت حال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شرپسندوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے بھی بعض بلوچ علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ان حالات کی وجہ سے بعض سیاسی جماعتوں نے موجودہ مردم شماری کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری سے پہلے افغان مہاجرین کو واپس اپنے گھروں کوبھیجا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعدادو شمار متنازعہ رہیں گے۔


پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی اگرچہ ایک بڑی تعداد نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہروں‘ قصبوں یا آباد علاقوں میں پناہ لی لیکن ان میں بیشتر نے ملک کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز کراچی کا رُخ کیا تھا۔ کراچی میں پشتون نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پہلے ہی ایک خاصی بڑی تعداد موجود ہے۔ قبائلی علاقوں سے مزید پشتون افراد کی آمد پر ایم کیو ایم نے احتجاج کیا اورمطالبہ کیاکہ یا تو کراچی میں بے گھر ہونے والے اِن پشتونوں کی آمد پر پابندی عائد کی جائے یا ان کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں اضافے کی بنیاد پر شہری علاقوں کے لئے مختص فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔ صاف ظاہر تھا کہ ایم کیو ایم ایک انسانی مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی تھی لیکن ایم کیو ایم کی سیاست صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ موجودہ مردم شماری کے اعلان کے بعد جب عملے نے اپنے کام کا آغاز کیا تو ایم کیوایم نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صوبے میں شہری آبادی کے مقابلے میں دیہی آبادی کو زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ نہ صرف صوبہ سندھ کے حصے میں وصول ہونے والے فنڈز کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں کو ملے بلکہ دیہی علاقوں میں ملازمتوں کے کوٹے 60 سے40 فیصد کو برقرار رکھا جاسکے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں ہر لسانی گروپ کوشش کررہا ہے کہ اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاسکے تاکہ سیاسی قوت‘ اختیارات اور قومی آمدنی میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیا جاسکے۔ حالانکہ یہ ایک خالصتاً انتظامی عمل ہے جس میں پیشہ ورانہ مہارت کے مالک اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ لوگ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔


ان حالات میں مردم شماری کے عمل کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پاک فوج سے مدد لی گئی۔ چونکہ پاکستان آرمی کی ایک بڑی تعداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغربی سرحدوں پر تعینات تھی اور مشرقی بارڈر پر بھارت کے غیرذمہ دار اور جارحانہ رویے کی وجہ سے بھی حالات غیر معمولی صورت حال کی متقاضی ہیں اس لئے مردم شماری میں فرائض کی انجام دہی کے لئے فوجی جوانوں کو فارغ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ موجودہ مردم شماری میں تاخیر کی وجوہات میں پاک فوج کے جوانوں کی عدم دستیابی بھی شامل تھی۔ تاہم جب سپریم کورٹ نے اگلے یعنی 2018 کے انتخابات سے قبل ہر حال میں مردم شماری کا حکم دیا تو موجود حکومت کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مردم شماری کا عمل فی الفور شروع کردے۔ یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہے اور دو مراحل میں اگلے دو ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اسے تحفظ فراہم کرنے اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے پاک فوج کے دو لاکھ سپاہی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ پروگرام کے مطابق ہر شمار کنندہ کے ساتھ فوج کا ایک سپاہی ہوگا۔ اس سے نہ صرف شمار کنندگان کو تحفظ حاصل ہوگا بلکہ فوج کی شراکت سے موجودہ مردم شماری کے پورے عمل پر قوم کے ہر طبقے اور ملک کے ہر حصے کا اعتماد بحال ہوگا۔ مردم شماری کا عمل شروع ہونے کے چند دن کے اندر مردم شماری کے عملے پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ایسے مزید واقعات کا خدشہ موجود ہے اور اس کے پیش نظر مردم شماری کے عمل میں فوج کی شرکت اور معاونت کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مردم شماری کے دوران شمار کنندگان کے ہمراہ فوجی جوانوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج قومی اہمیت کے ہر عمل پر سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ ملک کی خدمت کے لئے تیار ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:15

آئی ایم نان سوئمر
جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان کے ساتھ بطورِ آرٹلری آبزرور موجود تھے۔ یہاں دن رات تیر کر دریا پار کرنے کی پریکٹس کی جاتی تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ نان سوئمر حضرات کو خصوصی طور پر تختہ مشق بنایاجاتا تھا۔ دن یونہی گزر رہے تھے کہ ایک دن اچانک پتہ چلا کہ بریگیڈ کمانڈر مشقوں کا جائزہ لینے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔

targitapril17.jpg
یہ سننا تھا کہ پریکٹس کو گویا پر لگ گئے۔ سی او نے چن چن کر اچھے سوئمر علیحدہ کئے ۔ ان سب کو پہلے ہلے میں دریا عبور کر کے دوسرے کنارے پر موجود فرضی دشمن سے دو بدو جنگ کر نا تھی۔مقررہ روز بریگیڈ کمانڈر تشریف لائے۔ انہیں نقشوں اور چارٹ کی مدد سے اس مشق کی غرض و غایت سمجھائی گئی۔ عملی مظاہرے کا وقت ہوا تو کمپنی نے ایک جگہ اکٹھا ہونا شروع کیا۔ کمپنی کمانڈر نے ایک ولولہ انگیز تقریر کرکے اپنے جوانوں کا لہو گرمایا اور ان کو بلاخوف و خطر آتشِ نمرود میں کود پڑنے کی تلقین کی۔ کمانڈر سمیت سب نے تالیاں بجا کر داد دی۔ جوانوں کا مورال آسمان کو چھو رہا تھا۔ سب لوگ بھاگ کر کنارے پر پہنچے اور دریا میں چھلانگیں لگا دیں۔ چشمِ زدن میں سب دریا کے پار تھے اور وہاں پر دشمن پر حملہ کر کے دادِ تحسین وصول کر رہے تھے۔
اچانک بریگیڈ کمانڈر کی نظر کمپنی کمانڈر پر پڑی جو کہ ابھی تک اسی کنارے پر موجود تھے۔ کمانڈر نے حیران ہو کر پوچھا’’میجر اسلم! آپ ابھی تک ادھر ہی کیوں موجود ہیں‘‘جواب آیا ’’سر ، آئی ایم نان سوئمر‘‘۔ اس کے بعد چراغوں میں تیل اور روشنی دونوں غائب ہو گئے۔ہوا یوں تھا کہ میجر صاحب ایک روز قبل ہی چھٹیاں گزار کر واپس پہنچے تھے اور پریکٹس میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ سی او نے سمجھا کہ وہ سوئمر ہیں اس لئے ان کو کمپنی کی کمانڈ سونپ دی گئی تھی۔
اس کے بعد پورا مہینہ میجر صاحب نے نیکر پہن کر دریا میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے گزارا۔


گدھوں کا کاروبار
12 اکتوبر 1999 کی شام کو ہم یونٹ کے ہمراہ جہلم کے ایکسرسائز ایریا میں مقیم تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ فوج نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھال لی ہے۔ ایکسرسائز کے اختتام کا اعلان ہوگیا اور ہمیں فی الفور ہری پور پہنچنے کا حکم ملا۔ ہری پور پہنچ کر دو تین دن معاملات پر کنٹرول حاصل کرنے میں گزر گئے۔ کچھ دنوں بعد صورتحال معمول پر آگئی اور یونٹ نے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے کر سرکاری محکموں کی کارکردگی کی براہ راست نگرانی شروع کر دی۔ سول حکومت اور پولیس کے اہلکار بھی ہمارے ساتھ اس ڈیوٹی میں شریک تھے۔مسائل کا ایک انبار تھا، جبکہ وسائل وہی نہ ہونے کے برابر۔دوسری جانب عوام کی توقعات کو ہ ہمالیہ سے بھی بلند ہو چکی تھیں ۔ ان کے نزدیک ہر معاملے کا آسان حل یہی تھا کہ اسے فوج کے روبرو پیش کر دیا جائے۔ چنانچہ ہمارے دفاتر کے باہر ہر وقت ان گنت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ ہم نے اپنے قیام کے دوران بھرپور کوشش کی کہ الجھے ہوئے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جائیں۔اس سلسلے میں ہمیں مقامی انتظامیہ، علاقہ معززین اور عوام کا بھرپور تعاون بھی حاصل رہا۔

targitapril17one.jpg
یہ روٹین یوں تو بے حد تھکا دینے والی تھی لیکن بسا اوقات اس میں سے بھی ایسے ایسے شگوفے کھلتے ہوتے کہ ہم ہنستے ہنستے چکرا کر گرجاتے۔ ایک دن ایک پچاس پچپن سالہ خاتون تشریف لائیں اور شکایت کی کہ میں جب گلی سے گزرتی ہوں تو چار افراد مجھے چھیڑتے ہیں۔ آپ انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ہم نے بی بی سے تفصیل پوچھنے کے بعد انسپکٹر بشیر کو طلب کیا اور اسے فی الفور ان چاروں افراد کو ہمارے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ بشیر اپنے ساتھ پانچ سپاہی بھی لے کر گیا اور تھوڑی دیر میں ان چاروں کو لے کر ہمارے روبرو حاضر ہوگیا۔ ہم نے غور سے دیکھا تو چاروں کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان نکلیں۔ ایک بابا تو چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھا اور اس کو چارپائی پر ڈال کر لایا گیا تھا۔ ہم نے سمجھا کہ بشیر کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر غلط بندوں کو پکڑ کر لے آیا ہے لیکن بی بی نے بھی ملزموں کو شناخت کر لیا تو شک کی گنجائش باقی نہ رہی۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ ان بابوں نے اس بی بی کو کہیں بیس تیس سال پہلے چھیڑا تھا جس کا حساب وہ آج چکانا چاہتی تھی۔ مقدمہ دلچسپ تھا اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا فیصلہ کیا جائے۔ بہرحال کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے یونٹ کے خطیب صاحب کو بلایا اور چاروں بابوں کو اس حکم کے ساتھ ان کے حوالے کیا کہ ان سے دعائے قنوت سن کر چھوڑ دیا جائے۔خود سننے کی جسارت اس لئے نہیں کی کہ ہمیں خود بھی اچھی طرح سے نہیں آتی تھی۔
ایک روز ہمیں ایک شخص کے خلاف شکایت موصول ہوئی کہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ہم نے فوراً اس علاقے کے ایس ایچ او کو طلب کیا اور مذکورہ شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ایس ایچ او کہنے لگا ’’سر اس شخص کو گرفتار کرنا خطرے سے خالی نہیں وہ انتہائی بااثر آدمی ہے‘‘۔
ہم نے غصے سے پوچھا ’’آخر یہ بااثر آدمی کیا کاروبار کرتا ہے۔‘‘ جواب ملا ’’سر وہ گدھوں کا کاروبار کرتا ہے۔‘‘


بیچلر سی او
یہ ان دنوں کی بات ہے جب لوگ سیر و تفریح اور شاپنگ کے لئے پشاور کا رخ کیا کرتے تھے۔ پی ایم اے میں جب ہماری پوسٹنگ اناؤنس کی گئی تو ساتھ ہی سٹیشن پشاور کینٹ بتایا گیا۔ یار لوگوں نے پشاور کی دلکشی کے قصے خوب مزے لے لے کر سنائے اور ہمارے شوق کو اور مہمیز کیا۔ لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ خلیل خان جب فاختہ اڑانے کے لئے پشاور پہنچے تو ہاتھوں کے طوطے فی الفور اڑ گئے۔ یہ جان کر ہمارے بن کھِلے ارمانوں پر منوں اوس پڑ گئی کہ ہمارے سی او بیچلر ہیں۔ فورسڈ بیچلر نہیں بلکہ سچ مچ کے، اصلی والے بیچلر۔ ان کے پاس پروفیشن کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا۔ ہم صبح سے لے کر شام تک یونٹ میں ان سے عزت افزائی کروانے کے بعد کمرے کا رخ کرتے تو احتیاط کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے کہ ساتھ والا کمرہ ان کا تھا۔ کھانا کھانے کے لئے میس کا رخ کرتے تو وہاں پر بھی ان کی پرہیبت شکل نظر آتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے اپنی سروس کا زیادہ تر حصہ انٹیلی جنس میں گزارا ہوا تھا اور ہر بات کی ٹوہ لگانا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ آرٹلری کا یہ کریلا جاسوسی کی نیم چڑھ کر حد درجہ کڑوا ہو چکا تھا۔

targitapril17two.jpg
عام طور پر ان کو یہ خدشہ لاحق رہا کرتا تھاکہ افسران ان کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ عنایات صرف افسروں کے لئے خاص نہ تھیں بلکہ سارا زمانہ ان کے قدموں میں تھا کیا جے سی او، کیا این سی او اور کیا سپاہی کوئی بھی ان کی مہربانیوں سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ان کی کوشش ہوتی کہ لوگوں کو ہر وقت ڈرا سہما کر رکھا جائے اور اس قسم کا نظام تشکیل دیا جائے کہ ان کو پل پل کی خبر ملتی رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کوئی بھی طریقہ روا رکھنے کے قائل تھے۔


ایک مرتبہ ہم میس کے ٹی وی روم میں بیٹھے کھانا لگنے کا انتظار کر رہے تھے۔ یکایک ایک ویٹر نے چپکے سے آکر کان میں بولا کہ آپ کو سائیڈ روم میں کیپٹن جمیل اور لیفٹیننٹ کبیر یاد کر رہے ہیں۔ یہ دونوں افسران ہم سے دو ڈھائی سال سینئر تھے اور ان کا تعلق ایک دوسری یونٹ سے تھا۔ہم پہلے تو شش و پنج میں پڑ گئے کہ ان کو ہم سے آخرکیا کام آن پڑا ہے جو ہمیں تخلیے میں طلب کیا جا رہا ہے۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے سائیڈ روم میں پہنچے تو دیکھا کہ دونوں افسران ایک صوفے پر براجمان ہیں۔ ہم نے سلام کیا تو سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد لیفٹیننٹ کبیر نے پوچھا کہ سنا ہے کہ آج کل آپ کے سی او آپ پر بہت ظلم رو ا رکھے ہوئے ہیں۔ کیپٹن جمیل بھی ساتھ میں گویا ہوئے کہ آپ لوگ تو بہت سختی جھیل رہے ہیں۔ ایسے سی او کے ساتھ کام کرنا تو انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔ ہم کچھ دیر تو سنتے رہے پھر بولے ’’سر آپ لوگ ہوتے کون ہیں میرے سی او کے خلاف کوئی بات کرنے والے۔ ان جیسا قابل اور محنتی افسر روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہے۔ ہم انہیں دل و جان سے پیار کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات سننا ہمیں ہرگزگوارا نہیں۔معاف کیجئے گا !آپ لوگ مجھ سے بہت سینئر ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سینئر آفیسر کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس طرح سے بات کرنا اخلاقی اور قانونی تقاضوں کے عین منافی ہے اور اگر میں ان کو اس بارے میں مطلع کر دوں تو آپ دونوں کے خلاف سخت ایکشن بھی لیا جا سکتا ہے۔‘‘


ان دونوں افسران کو ہم سے اس قسم کی حق گوئی و بیباکی کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو ہم سے سی او کی برائیاں سننا چاہ رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ بالکل الٹ نکلا۔ بہرحال ہم تو اپنے سی او کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد سکون سے ڈائننگ روم میں پہنچ گئے۔ کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ سی او کا بیٹ مین پیغام لے کر پہنچ گیا کہ ہمیں یاد فرمایا جا رہا ہے۔ ہم سی او کے کمرے میں پہنچے تو انہوں نے کھڑے ہو کر ہمارا استقبال کیا۔ ہمارے لئے چائے منگوائی گئی اور جاتے ہوئے پندرہ دن کی چھٹی بھی عنائت فرمائی۔ بات دراصل یہ تھی کہ جب ہمارا انٹرویو لیا جا رہا تھا تو موصوف بنفسِ نفیس پردے کے پیچھے چھپ کر ساری باتیں سن رہے تھے اور انہوں نے خود ہی ان دونوں افسروں کو اس واہیات کام کے لئے تیار کیا تھا۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ وہ ساری برائیاں جو ہم ان کی پیٹھ پیچھے کیا کرتے تھے، وہ اپنے کانوں سے سن سکیں۔ لیکن ہمارے منہ سے برائی کے بجائے اپنی اس قدر تعریف سننے کے بعد ہمارے بارے میں ان کا موقف یکسر تبدیل ہو گیا۔ اب ان کو پوری یونٹ میں ہم سے زیادہ لائق افسر کوئی اور نظر نہیں آتا تھا۔


(اب آپ سے کیا چھپائیں کہ ویٹر نے ہمیں پیغام دیتے ہوئے کان میں یہ بھی کہہ دیا تھا’’سر! سی او صاحب پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ آپ بات چیت کرتے ہوئے احتیاط کیجئے گا۔)

...جاری ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
April

تحریر: حمیرا شہباز


وہ ایک خوبصورت صبح تھی۔ شفاف‘ روشن دن30جولائی، میری اٹھارویں سالگرہ تھی۔ میں اور میرا بھائی گھر پر اپنے والدین کے منتظر تھے۔ میں بہت خوش اور پرجوش تھی۔سینیلا بول رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسکراہٹ اتر اتر کر اس کے ہونٹوں تک بکھر رہی تھی۔ اس کی ہوا میں کہیں تیر تی ہوئی نظر شاید ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کے خوابوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔ پھر یکدم اس کا چہرہ سرخ تر ہوگیا۔ یہ سرخی غیر معمولی تھی، اب گویا اس کی آنکھیں خون آلود ہو رہی تھیں اور ان کی سرخی چھلک چھلک کر گالوں تک اتر آئی تھی۔میں نے سوچا تھا آج تو ضرور میں گھر سے باہر جا سکوں گی لیکن کسی کو میری سالگرہ یاد نہیں تھی شاید اس لئے کہ 15 مئی سے بوسنیا میں اعلان جنگ جو ہوچکا تھا۔سینیلا میرے برابر بیٹھی بول رہی تھی۔
سبز چائے اور کھجور کے بسکٹوں کے ساتھ ہم دونوں نئے سال کی پہلی شام منانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں سینیلا کو سولہ سال سے جانتی ہوں یہ الگ بات ہے کہ چوبیس گھنٹے قبل میں اس سے پہلی بار ملی تھی اور آج ہم دونوں بیٹھے ایک دوسرے کو کھوج رہے تھے۔ وہ سراپا زباں تھی اور میں ہمہ تن گوش۔


سال 1992 میں، میں توزلا کے گرامر سکول کے آخری سال میں تھی۔ اس دن جب جنگ چھڑی تو ہم سکول میں تھے۔ کلاس میں طلبا کی تعداد غیر معمولی طور پر کم تھی۔ بہت سے بچوں کے والدین ،جو کہ سرب اور کروشیائی تھے جانتے تھے کہ یوگوسلاویائی فوج شہر پر قبضہ کرنا چاہے گی، وہ راتوں رات کسی کو بتائے بنا شہر چھوڑ چکے تھے‘ میرے والدین کو اندازہ نہ تھا اور انہوں نے مجھے خبردار کئے بنا سکول بھیج دیا۔ ہمارے گھر کے نیچے ایک تہ خانہ تھا۔سکول سے گھر پہنچی تو اس دن سے ہم زیر زمین چلے گئے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر دنیا کتنی بدل چکی ہے۔ میں خود کو یقین نہیں دلا پا رہی تھی میری اٹھارویں سالگرہ کا دن یوں گزرے گا۔ امی ابو اس روز بھی خالی ہاتھوں اور لبریز آنکھوں کے ساتھ لوٹے۔ پورے اڑھائی ماہ... وہ سپاٹ لہجے میں کہتے کہتے رک گئی۔ اب وہ میری نمناک آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔اس نے گہرا سانس لے کر پھر سے کہا۔ میں پورے اڑھائی ماہ اس تہ خانے میں رہی۔ میں اور میرا بھائی مختلف میوزک سن کر اور گیمزکھیل کر اپنا وقت گزارتے۔ اس نے میرا نام لے کر بڑی سادگی سے کہا: میں نے ابھی تک جنگ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔

 

میں جو اس بوسینیائی مترجم کی زبانی پاکستانی فوج کی کارکردگی کے جواب میں شکریے کے طویل کلمات، بلکہ باقاعدہ قصیدہ خوانی کی منتظر تھی اس کی اس کاوش نے مجھ پر واضح کردیا کہ پاک فوج بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ سینیلا سوچ رہی تھی اور اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا:ہم شاید پاکستانی فوج سے بہتر خدا سے کچھ اور نہیں مانگ سکتے تھے۔

سینیلا نے بہت کچھ بتایا، ان لفظوں کی شدت مجھ میں باقی رہ گئی ہے۔ کیسے اس کے ماں باپ یوگوسلاویائی فوج کی بمباری کے باوجود روز کام پر جاتے تھے اور کیسے وہ ہر روز اس امید پر سو جاتی کہ کل وہ ضرور سورج سے نظر ملا سکے گی۔اس نے بتایا کہ اگست کے آخر تک طے پا چکا تھا کہ سکول بند رہیں گے۔اس کا مطلب تھا کہ گھر بیٹھ کر اسے جنگ بندی کا انتظار کرنا تھا یا باہر نکل کر موت کا سامنا کیونکہ رہائشی علاقے شدید حملے کی زد میں تھے۔


مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔ گھر کا بچا کھچا راشن بھی ختم ہو رہا تھا۔ میں سخت مایوسی کا شکار تھی۔ پھر میرے ہاتھ ایک کتاب لگی، جس کا عنوان تھا:
'In Pursuit of Happiness'
۔ آخر کب تک گھر بیٹھے کچھ ہونے کا انتظار کیا جائے۔ پھر ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے یہ خانہ زندانی قبول نہیں۔ میں کب تک یوں اپنے ہی گھر میں قیدی بنی رہوں گی۔ مجھے اپنے لئے کام ڈھونڈنا ہو گا۔اس کتاب نے میری بہت مدد کی۔ میں نے اپنی تمام تر ہمت کو یکجا کیا اور جنگ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سینیلا کا جوش اب تک اس کے وجود میں زندہ تھا۔
میری ایک سہیلی اور میرے ایک ہم جماعت نے مجھ سے علاقے کے ایک ہسپتال میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے پوچھا۔ بہت سا طبی عملہ شہر چھوڑ کر جا چکا تھا جبکہ فوجی اور سول زخمیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ گولہ باری میں مارے جانے کے قوی امکان کے باوجود میں نے ہسپتال میں زخمیوں کی امداد کا فیصلہ کر لیا۔ وہاں چھ ماہ تک میں نے زخمیوں کی نگہداشت کا کام کیا لیکن مارچ 1993 میں یہ کام چھوڑ دیا۔ میں بہت جذباتی ہوں۔شاید اب میں مزید درد کی داستانیں اور خون کے منظر برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے تو اس کے چھ ماہ تک یہ کام کرنے پر بھی حیرت تھی۔

pakfojaurbosniya.jpg
لیکن میں اپنے ملک اپنے لوگوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں ایک مہاجر کیمپ میں چلی گئی۔یواین ایچ سی آر کی گاڑیاں سرب مہاجرین کو بھر بھر کر توزلا کیمہاجر کیمپوں میں لا رہی تھیں۔ ہمارے ملک میں مختلف ممالک کی امداد آرہی تھی لیکن امدادی عملے کی کارکردگی میں سب سے بڑا مسئلہ زبان کا تھا۔ وہ ہمارے مسائل کو دیکھ تو پا رہے تھے لیکن جان نہیں پا رہے تھے۔ میں اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ان کی معاونت کرتی رہی اور پھر میں نے وہ انگریزی زبان سیکھنا شروع کردی جس کو زمانہ طالب علمی میں میں غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کرتی آرہی تھی۔ وہ نہایت شکستہ انگریزی میں کہے چلی جارہی تھی۔


حکومت نے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے جنگ کے حالات میں اپنی تعلیم کو پھر سے جاری کرنے کا سوچا۔ میں ریاضی میں بہت ماہر تھی۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے حصول کی غرض سے میں نے ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ بہت سخت سردیوں کے دن تھے، خستہ حال عمارت اور ٹوٹی چھتوں والی کلاس میں بنا چھتری کے بارش عذاب سے کم نہیں لگتی۔ میں بنا جرابوں ،ٹوپی اور دستانوں کے ٹھٹھرتی رہتی لیکن باقاعدگی سے کلاس میں حاضر ہوتی۔میرے جوتے پھٹ چکے تھے۔۔۔ اس نے جملہ مکمل نہیں کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مجھے معلوم ہے وہ نئے جوتے کیوں نہ لے سکی یا اس کو اپنی بیچارگی کا اظہار کرنا اچھا نہیں لگا۔


لیکن ایک دن میرا انجینئر بننے کا خواب منفی پندرہ ڈگری تک سرد پڑگیا۔ میں امتحان دے رہی تھی کہ میری ہاتھوں کی رگوں میں خون یخ ہوگیا۔ میں لکھ نہیں پا رہی تھی۔ میری انگلیاں الفاظ کی بناوٹ میں قلم کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھیں۔ میں نے اپنے ہاتھ آپس میں رگڑنے چاہئے لیکن بے سود۔ موسم کی سردمہری اور جنگ کی سختی نے میرے وجود سے تمام حرارت نچوڑ لی تھی۔میں نے خود سے سوال کیا کہ آخر میں یہ کیا کر رہی ہوں؟ سردی تو گزر ہی جانی ہے لیکن جنگ ؟؟ جنگ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں! سینیلا کے لفظوں میں چھپی سفاک سردی میرے اندر بھی سرایت کر رہی تھی۔


اقوام متحدہ کی طرف سے مترجمین کی کچھ اسامیوں کا اعلان ہوا۔ میرے لئے اس وقت وہ نوکری حاصل کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ میں نے کتابوں کی مدد سے خود انگریزی زبان سیکھی اور امتحان بھی پاس کرلیا۔ وہ نظریں زمین پہ گاڑھے سوچ بھی رہی تھی اور مسکرا بھی رہی تھی کہ کیسے کیسے وہ حالات سے مقابلہ کرتی چلی گئی۔ اس نے بتایا: اس وقت میری نوکری بہت معنی رکھتی تھی۔ میں اپنے گھر میں میں اکیلی کمانے والے تھی۔ امی، ابو اور بھائی کی فعالیت جنگ سے بہت متاثر ہوئی۔ مجھے اقوام متحدہ کی ملازمت سے جو پیسے ملتے ہم اس سے اپنی ضرورت کے علاوہ محلے بھر کی ضرورتوں کو ممکنہ حد تک پورا کرتے۔


پاکستانی فوج بھی تو بوسنیا میں امن مشن پر آئی تھی؟ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا۔ " 1994میں پہلی بار میں نے اقوام متحدہ کی باقاعدہ مترجم کی حیثیت سے پاکستانی فوج کے ساتھ کام شروع کیا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ میں نے سکول میں پڑھتے ہوئے انڈیا کانام سن رکھا تھا کیونکہ یوگوسلاویہ کے لیڈر مارشل ٹیٹو کے نہرو کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، لیکن میں پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔میں چاہتی تو ڈچ یا سویڈش فوج کا انتخاب کر سکتی تھی لیکن میں نے پاکستانی فوج کو چنا کیونکہ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ پاکستانی مسلمان ہوتے ہیں۔ بوسنیا کے مسلمانوں کی بقا کا مسئلہ تھا اس لئے مسلمان فوج کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ مجھے مناسب لگا"۔اس فیصلے کا اطمینان اس کے لہجے سے جھلک رہا تھا۔
پاک فوج کی امن مشنز میں کارکردگی کوئی پوشیدہ امر نہیں لیکن میں خود ،سینیلا کے منہ سے سننا چاہتی تھی جو کہ خود بھی جنگ سے متاثر تھی کہ آخر اس کا پاک فوج کے لئے مترجم کے فرائض انجام دینا کیسا رہا؟


مجھ سمیت دیگر مترجم خواتین کے لئے پاکستانی فوج کے ساتھ کام کرنا آسان نہ تھا۔ بہت سے کلچرل شاک سہنے پڑے۔ ہمارے لئے بہت عجیب تھا کہ پاکستانی مرد لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملاتے، ان کی طرف دیکھتے نہیں، بلکہ ان کو باقاعدہ نظر انداز کرتے ہیں اوروہ مردوں کے مقابلے میں خواتین سے مختلف رویہ رکھتے ہیں۔ مثلا ہیڈکوارٹرز میں رات کو جس مترجم کی ڈیوٹی ہوتی وہ اکثر کامن روم یا ٹی وی روم میں فوجیوں کے ساتھ بیٹھتی تھی۔ گپ شپ لگانا، کوئی گیم کھیلنا یا ٹی وی دیکھنا معمول تھا۔ لیکن جب ہم خواتین ٹی وی روم میں داخل ہوتیں تو تمام پاکستانی فوجی اٹھ کر چلے جاتے تھے۔ شروع شروع میں یہ رویہ ہمیں مضحکہ خیر بلکہ ہتک آمیز بھی لگتا تھا۔ کئی مترجمین نے تو ہیڈکوارٹر میں اس امتیازی سلوک کی شکایت بھی کی۔ میں اس کی بات سن کر مسکرا رہی تھی۔


پھر آہستہ آہستہ ہم اس صورت حال کے عادی ہو گئے اورہم نے جان لیا کہ یہ رویہ ان کی ثقافتی اقدار کا حصہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم نے مل کر کام کرنا تھا اور ہم دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی، پاکستانی فوج نے ہماری ہر ممکن مدد کی۔ اپنے فرائض منصبی سے بڑھ کر۔ انہوں نے جنگی زخمیوں کے لئے ہسپتال بنایا اور بہت سے بوسنیا ئی لوگوں کوروزگار کے مواقع فراہم کئے۔ بعد میں ان ’ڈیزرٹ ہاکس‘(18پنجاب رجمنٹ) کی کوششوں سے پاکستان میں میری والدہ کا علاج بھی عمل میں آیا۔ اس اوپن ہارٹ سرجری کے بعد سے میری امی کے سینے میں پاکستانی دل دھڑکتا رہا۔وہ بہت ممنون تھیں۔


اور وہ پاکستانی بٹالین کی یادگار کا کیا معاملہ تھا؟ میں نے سنی سنائی بات کی تصدیق چاہی۔ہاں !بوسنیا میں پاک فوج کی بٹالین 17 پنجاب ،نے اپنے مشن کے دوران1996 میں ایک یادگار بھی بنائی تھی جو کہ بہادر فوج کی کارکردگی اور ان کے بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کی علامت تھی۔ یہ یادگار توزلا شہر کے بیچوں بیچ ایک پارک میں نصب تھی۔کچھ سال قبل میرا خیال ہے 2011 میں شاید ایک دن میر ے والد نے بوسنیا سے مجھے ہالینڈ فون کر کے بتایا کہ موجودہ ناظمین شہر نے اس یادگار کو وہاں سے ہٹا دیا ہے۔ اور اب وہاں وہ بوسنیا کی ہزاروں سال پرانی بادشاہت کی یاد میں ایک رائل تھیم پارک بنانے جا رہے ہیں جو کہ ہمارے شاہانہ ماضی کی یادگار ہو گا۔یہ امر میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا کہ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ہزاروں سال پرانی حقیقت کو زندہ کرنے کے لئے ہم چند سال پرانی حقیقت کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ سینیلا سخت نالاں دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے مجھ سے استفسار کیا:انسان اتنا زود فراموش کیسے ہو سکتا ہے؟ بلکہ احسان فراموش؟ ہم اتنی جلد اپنوں کے دیئے گئے زخموں اور غیروں کے مرہم کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ اس بادشاہت نے ہمیں کیا دیا؟ جب ہم خاک و خون میں ڈوبے تھے تو کیا یہ بادشاہت ہمارے کام آئی ؟نہیں! وہ میری طرف دیکھے بنا بات کر رہی تھی جیسے اپنی قوم کی احسان فراموشی پر مجھ سے نظر نہ ملا پا رہی ہو۔


یہ بات میرے لئے ناقابل برداشت تھی۔ میں نے پاکستانی فوج کی تین یونٹوں کے ساتھ بطور مترجم کام کیا تھا۔ میرا اس یادگار سے جذباتی لگاؤ تھا۔ میں نے فیس بک پر تحریک چلائی ، ہم خیال لوگوں کو یکجا کیا تاکہ اس یادگار کو بحال کیا جائے۔ خودچھٹی لے کر بوسنیا گئی اور آخر کار انتظامیہ کو قائل کیا جس کے نتیجے میں اس یادگار کو توزلا شہر میں ایک اور پارک میں نمایاں جگہ پرپھر سے نصب کردیا گیاجو کہ آج بھی افواج پاکستان کی بوسنیا کے مسلمانوں کی مشکل وقت میں ساتھ نبھانے کی یادگار ہے۔


میں جو اس بوسینیائی مترجم کی زبانی پاکستانی فوج کی کارکردگی کے جواب میں شکریے کے طویل کلمات، بلکہ باقاعدہ قصیدہ خوانی کی منتظر تھی اس کی اس کاوش نے مجھ پر واضح کردیا کہ پاک فوج بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ سینیلا سوچ رہی تھی اور اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا:ہم شاید پاکستانی فوج سے بہتر خدا سے کچھ اور نہیں مانگ سکتے تھے۔ اب سینیلابوسنیا کی ایک مترجم ،میرے لئے پاکستان کی ترجمان بھی ہے۔

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

تحریر: یاسرپیرزادہ

کوئی بھی فوجی یا ریاستی اہلکار اپنی جان اس لئے قربان نہیں کرتا کہ اسے جان قربان کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ بلکہ وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر دشمنوں کے خلاف لڑتا ہے کہ اگر ملک کی حفاظت کے لئے جان بھی دینی پڑی تو پروا نہیں۔ یہ جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنے کا کیا طریقہ ہے اور کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ یہی جذبہ تمام سکیورٹی اداروں کے ہر اہلکار میں موجزن رہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی برس ہو گئے ہمیں دہشت گردی کی جنگ لڑتے ہوئے مگر آج تک ہم کوئی جامع اور مربوط پروگرام نہیں بنا سکے جس کے تحت جنگ میں شہید ہونے والوں کے خاندان کی کفالت کی جا سکے (لفظ ’’کفالت‘‘ یہاں کس قدر بے معنی لگ رہا ہے)۔ فوج میں تو شہدا کے لئے ایسے کوئی پروگرام موجودہیں مگر پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار اگر دہشت گردوں سے نبردآزماہوتے ہوئے جام شہادت نوش کر جائیں تو ان کے خاندان کو فقط چند لاکھ روپے معاوضہ ملتا ہے۔ اس معاوضے کو بڑھانے کی سمری حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی ہے جس میں شہید کے خاندان کے لئے کم از کم معاوضہ پندرہ لاکھ روپے تجویز کیا گیا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیے کہ اس سے پہلے کیا معاوضہ ہو گا۔ کیا ہم معاوضے سے بہتر کوئی لفظ تلاش کر سکتے ہیں۔ کیا جنگیں اس قسم کے ’’معاوضوں‘‘ سے جیتی جاتی ہیں۔


جنگ صرف ٹی وی پر جنگی ترانے چلانے کا نام نہیں۔ یقیناًان جنگی ترانوں کی اپنی افادیت ہوتی ہے اور شہداء کی یاد میں چلنے والے ترانے اور پروگرام جنگ میں فوجیوں کا لہو گرمائے رکھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ سیاسی قیادت اورفوجی کمانڈروں کا محاذ جنگ پر جا کر جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں یقین دلانا کہ یہ قوم ان کی قربانیوں کی دل و جان سے قدر کرتی ہے، از حد ضروری ہے۔ تاہم یہ کافی نہیں۔ ایک لمحے کو فوج، پولیس، لیویز، ایف سی یا خاصہ دار فورس کے اس جوان کے بارے میں سوچئے جس نے اپنی جان صرف اس لئے قربان کر دی تاکہ آپ اور میں اس ملک میں محفوظ رہ سکیں لیکن اگر وہ محاذ جنگ یا اپنی فراض کی ادائیگی کے دوران یہ سوچنے لگے کہ اس کے بعد اس کے بیوی بچوں کا کیا بنے گا، کیا اس کی بیٹیاں دوسروں کی محتاج ہو جائیں گی، کیا گھر بار چلانے کے لئے اس کی پردہ دار بیوی کو دربدر ہونا پڑے گا، کیااس کے بچوں کی تعلیم مکمل ہو جائے گی، کیا اس کے والدین کا علاج جاری رہ سکے گا۔۔۔ تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس کا مورال کیسا ہو گا۔۔۔ دہشت گردی کی یہ خونی جنگ ہزاروں بچوں کویتیم کر چکی ہے، عورتوں سے ان کے سر کا تاج چھین چکی ہے، بہنوں سے ان کے ہیرے جیسے بھائی لے چکی ہے اور ماؤں سے ان کے جگر کے ٹکڑے لے کر کھا چکی ہے۔ بے شک یہ قیمتی جانیں واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ کوئی ایسا جادو نہیں جو پھول سے معصوم بچوں کے ذہنوں سے باپ کی یاد بھلا کر ان کا دل بہلاسکے مگر ایک ایساکام ہم ضرور کر سکتے ہیں جو بطور قوم نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ اس سے ہمارے جوانوں کے حوصلے بھی بلند رہیں گے اور یہ جنگ بھی جیتی جا سکے گی اور وہ کام ہے شہدا کے لئے جنت کی تعمیر۔ ایک جنت تو وہ ہے جس کا ہمارے رب نے شہیدوں سے وعدہ کیا ہے اور ایک جنت وہ ہو جو ہم ان شہدا کے بچوں کے لئے اسی دنیا میں تعمیر کر دیں۔


جنت کا استعارہ یہاں استعمال کیا گیا ہے۔ اصل میں اس سے مراد وہ مکمل پیکج ہے جو شہید کے خاندان کو دیا جانا چاہئے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی مثال لیتے ہیں فرض کریں کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران یہاں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی تعداد پانچ سو تھی۔ اگر ان پانچ سو شہداء پر دو کروڑ روپے فی کس بھی خرچ کیا جائے تو کل رقم دس ارب روپے بنتی ہے۔ یعنی سال کے فقط دو ارب ذرا سوچئے کہ ان روپوں سے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو حکومت ایک علاقے میں زمین مختص کر سکتی ہے۔ جہاں صرف شہداء کے خاندانوں کے گھر ہوں اسے ڈی ایچ اے کی طرز پر تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت صرف زمین دے تو دو چار مخیر کاروباری شخصیات ہی شہداء کے لئے یہ ہاؤسنگ سکیم ڈیویلپ کر سکتی ہیں۔ اس ہاؤسنگ سوسائٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور یہاں خود کارپاور پلانٹ سمیت وہ تمام سہولیات موجود ہوں جو کسی بھی مہنگی ترین سوسائٹی میں ہوتی ہیں۔ اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کروڑ روپے سے شاندار گھر تعمیر کیا جائے جو ہر شہید کی فیملی کو الاٹ کیا جائے۔ شہید کے بچوں کے لئے یہ سہولت موجود ہو کہ اگر وہ مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں بھی پڑھنا چاہیں تو اس ضمن میں کوئی مالی رکاوٹ حائل نہ ہو، پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی طرز پر ایک فنڈ ان بچوں کی تعلیم کے لئے بآسانی بنایا جا سکتا ہے۔ جو بچے نوکری کے قابل ہوں، انہیں نوکری دی جائے یا باقی ماندہ ایک کروڑ روپے کی سرمایا کاری کی سہولت فراہم کی جائے جس سے ان کا ماہانہ خرچہ بغیر ذہنی تناؤ کے پورا ہوتا رہے۔ اسی ہاؤسنگ سکیم میں ایک جدید ترین ہسپتال ہو جہاں شہدا کے لواحقین کا مکمل علاج معالجہ مفت ہو، انہیں خصوصی کارڈ جاری کئے جائیں جو انہیں مختلف مراعات کے حصول میں مدد دیں جیسے کہ ہوائی اڈے پر وی آئی پی لاؤنج کی سہولت، ریل یا جہاز کے ٹکٹ میں ترجیحی سلوک اور رعایت، سرکاری تقریبات میں شمولیت وغیرہ یہ تمام کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے شہداء کے لئے زمین پر جنت بنا دی یا اس کی شہادت کا قرض چکا دیا کیونکہ اصل جنت تو وہی ہے جو خدا نے اس کے لئے تیار کی ہے۔ اور جہاں وہ امر ہو چکا تاہم ان اقدامات سے کم از کم اس تاثر کی نفی ہو گی کہ ہماری قوم بالکل بانجھ ہو چکی ہے۔


دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی درست تعداد کا مجھے علم نہیں پورے ملک میں یہ تعداد یقیناًہزاروں میں ہو گی اور ان اقدامات کے لئے اربوں روپے درکار ہو گے لیکن ان اربوں روپوں کا حصول دو طریقوں سے ممکن ہے۔ ایک اگر حکومت اسے بھی میٹرو کی طرح ایک میگاپراجیکٹ سمجھے تو اربوں روپوں کا بجٹ منٹوں میں مختص ہو سکتا ہے۔ دوسرے اندرون و بیرون ملک لاتعداد ایسے پاکستانی ہیں جنہیں اگر اس بات کا یقین ہو کہ ان کا پیسہ شفاف انداز میں صرف شہداء کے خاندانوں پر خرچ کیا جائے گا تو وہ اس کارخیر کو ہفتوں میں نہیں تو مہینوں میں نمٹا دیں گے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت زمین الاٹ کرنے اور سالانہ بجٹ مختص کرنے کے بعد اس منصوبے سے علیحدہ ہو جائے اور اس کے انتظام وانصرام دس ایسے افراد کے سپرد کر دیا جائے جن کی نہ صرف دیانت اور اہلیت شک و شبے سے بالاتر ہو بلکہ وہ اس کام کو سرانجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کی آبادی ماشاء اﷲاٹھارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اٹھارہ کروڑ سے دس افراد تو ضرور ایسے نکل آئیں گے جو اب تک سوشل میڈیا کی لعن طعن سے محفوظ ہوں گے۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ

خودی کے سوز سے روشن ہیں اُمتوں کے چراغ

یہ ایک بات کہ آدم ہے صاحبِ مقصود

ہزار گونہ فروغ و ہزار گونہ فراغ

(اقبالؔ )

*****

 
10
April

تحریر: غزالہ یاسمین

23مارچ ہماری قومی تاریخ میں غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا پیمان باندھ کر اس کے حصول کی باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اس عہد کو تاریخ نے ’’قرارداد پاکستان‘‘ کا نام دیا اور تحریک پاکستان کا یہ نقطہ عروج کہلایا۔اسی مناسبت سے یہ دن ہر سال پاکستان کی قومی خوشیوں کا بھی نقطہ عروج ہوتا ہے۔ خاص طور پر جہاں برّی، بحری اور فضائی افواج کی مشترکہ پریڈ قومی جذبوں اور ولولوں کو جلا بخشتی ہے وہیں ہمارے اس عہد کی تجدید بھی کرتی ہے کہ ہم وطن عزیز کی آزادی، وقار اور حرمت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس سال یوم پاکستان کی تقریب اس لئے بھی یادگار تھی کہ اس میں ہماری افواج کے شانہ بشانہ ہمارے دوست ممالک، سعودی عرب اورعوامی جمہوریہ چین، کے فوجی دستوں نے بھی حصہ لیا اور قومی فضائیں قدیم ترک ملٹری بینڈ کی خوبصورت دھنوں سے مہک اٹھی تھیں۔جیوے جیوے پاکستان کی دھن بکھیر کر نہ صرف انہوں نے پاکستان سے اپنی دوستی کا اظہار کیا بلکہ ہمارے جذبوں کو بھی مہمیز لگا دی۔


اس مرتبہ یہ دن اس عہد کی تجدید کے طور پر بھی منایا گیا کہ پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کو ہر صورت میں شکست دینا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ نے اس موقع پر پاکستان کو فسادیوں سے پاک کرنے کے عہد کی تجدید کے طور پر ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ کا جو سلوگن دیا اس کی جھلکیاں مسلح افواج کی شاندار پریڈ ، شاہینوں کی بلند پرواز، ملک بھر میں قومی نغموں کی گونج اور سبز ہلالی پرچموں کی بہار میں نمایاں طور پر نظر آئیں۔ مگر سب سے زیادہ اس نعرے کا رنگ اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں کے پریڈ ایونیو میں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں نظر آیا۔ جس کا آنکھوں دیکھا حال ہم اپنے قارئین سے بیان کرتے ہیں۔

23marchparade2017one.jpg
راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں جو گزشتہ تین سال سے پریڈایونیو ہے وہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ پریڈ گراؤنڈ میں سب سے پہلے تینوں مسلح افواج کے سربراہان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وائس چیف آف ایئر سٹاف اسد لودھی جوچیف آف ائر سٹاف ایئر چیف مارشل سہیل امان کی فلائی پاسٹ کی کمانڈ کرنے کی وجہ سے سٹیج پر ان کی نمائندگی کررہے تھے اور نیول چیف ایڈمرل محمد ذکاء اﷲ سلامی کے چبوترے پر موجود تھے۔ اس کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور وزیردفاع خواجہ محمد آصف پریڈ وینیو میں پہنچے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کی آمد پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ صدر مملکت ممنون حسین جو پریڈ کے مہمان خصوصی تھے، ان کی آمد کا اعلان بگل بجا کر کیا گیا۔ وہ پریذیڈنٹ باڈی گارڈز کے جلو میں روایتی بگھی میں سوار ہو کرتقریب میں پہنچے تووزیراعظم اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔


پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر عامر حسین نواز نے صدر مملکت کو پریڈ میں شامل پنجاب رجمنٹ، فرنٹیئرفورس ، ناردرن لائٹ، انفنٹری، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، مجاہد فورس، فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا، پاکستان رینجرز پنجاب، پاکستان پولیس، ٹرائی سروسز لیڈیز آفیسرز، آرمڈ فورسز نرسنگ آفیسرز، بوائز سکاؤٹس، گرلز گائیڈز اورسپیشل سروسز گروپ کے دستوں کا معائنہ کرایا۔


پریڈ کے معائنے کے بعدپاک فضائیہ کا فلائی پاسٹ شروع ہوا جس کی قیادت ایئر چیف مارشل سہیل امان کررہے تھے۔ ایئر چیف ایف 16 طیارے میں سوار سلامی کے چبوترے پرسے گزرے تو طیارے کی گھن گرج نے ایک سماں باندھ دیا۔ ایف 16،جے ایف تھنڈر طیاروں کے شاندار پاسٹ نے حاضرین کا لہو گرما دیا۔ حاضرین نے زبردست مظاہرے پر دل کھول کر داد دی۔ کچھ دیر کے بعد ایئر چیف مارشل سہیل امان بھی سلامی کے چبوترے پر پہنچ تو پریڈ گراؤنڈ تالیوں سے گونج اٹھا۔اس کے بعد صدر پاکستان ممنون حسین نے پریڈ سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کا دفاع مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے۔ ہم تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ امن دوستی اور بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ بھارت کے غیرذمہ دارانہ طرز عمل لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ صدر پاکستان نے مزید کہا کہ پاکستان چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس جنگ میں ہماری افواج اور سکیورٹی اداروں نے کمال بہادری کے ساتھ کام کیا۔ ہمارے ان شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستان پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔ انہو نے واضح کیا کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد ردالفساد کے تحت کارروائیاں بچے کھچے دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔

صدرِ مملکت کے خطاب کے بعد مسلح افواج کے دستے باوقار انداز سے سلامی کی چبوترے کی طرف بڑھے۔ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے دستے نے بھی اپنے مخصوص انداز میں پریڈ کرتے ہوئے چبوترے پر موجود مہمانِ خصوصی کو سلامی دی۔ اس کے بعد آرمڈ کور کا دستہ جو الخالد ٹینک اور الضرار ٹینکوں پر مشتمل تھا، سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا۔ اس کے بعد بکتر بند (اے پی سیز) آرٹلری، آرمی ایئر ڈیفنس ‘ میزائل اور ٹریکنگ ریڈار سسٹم سے لیس ایف ایم90 کور آف انجینئرنگ‘ کور آف سگنلز کے دستوں نے بھی صدر ممنون حسین کو سلامی دی۔ پریڈ میں پاکستان کے جدید ترین نصر میزائل سسٹم، بغیر پائلٹ طیارے شہپر اور براق سمیت دفاعی سامانِ حرب کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔


اس پریڈ کی سب سے خاص بات سعودی عرب اور چین کے مسلح افواج کے دستوں کی پریڈ تھی۔ جنہوں نے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ چینی فوجی دستہ جب سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا تو حاضرین نے پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ترکی فوجی بینڈ نے ’’دل دل پاکستان‘‘اور ’’جیوے جیوے پاکستان ‘‘ دھن بجا کرپاکستان سے اپنی دوستی کا دم بھرا۔


آرمی اور بحریہ ایوی ایشن کے کوبرا۔ ایم ٹی17- پیونک ہیلی کاپٹروں پر مشتمل دستوں نے تین سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شاندار فضائی مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔ شیردل ٹیم، جے ایف 17تھنڈر اور ایف- 16 طیاروں کے فلائی پاسٹ نے فضا میں خوبصورت رنگ بکھیرے اور طیاروں کو آواز سے دوگنی اور کم رفتار سے دائروں میں گھومتے‘ اُلٹی پروازوں‘ ورٹیکل رول بناتے اور تھنڈر ٹرن سمیت مختلف مظاہرے کرکے حاضرین کو ورطۂ حیرت میں ڈالے رکھا۔ کمانڈوز کا 10 ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال کا مظاہرہ بھی شاندار تھا۔ تینوں مسلح افواج کے پیرا شوٹرز میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ کی قیادت میںیکے بعد دیگرے سلامی کے چبوترے کے سامنے اُترے تو صدرِ مملکت نے فرداً فرداً تمام پیرا شوٹرز سے مصافحہ کیا۔


پاکستانی ثقافت کے سب رنگ بھی پریڈ کا نمایاں حصہ تھے جنہوں نے لوگوں سے خوب داد وصول کی۔ کشمیر فلوٹ میں لوک فنکاروں نے کشمیری لباس پہن رکھا تھا۔ بلوچستان کا فلوٹ بلوچیوں کی روایتی تہذیب کی عکاسی کرتا ہوا جب سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا تو بلوچی لوک فنکار اپنے صوبے کی ثقافت کو اجاگر کررہے تھے۔ اس کے علاوہ سندھ‘ پنجاب‘ گلگت بلتستان کے فلوٹس نے بھی اپنے اپنے علاقوں کی ثقافت کو بہت خوبصورتی سے اُجاگر کیا۔
پریڈ کے اختتام پر مختلف سکولوں کے بچوں نے راحت فتح علی خان کے ساتھ قومی و ملی نغمہ ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ پیش کیا اور حاضرین کے جوش و جذبے میں اضافہ کیا اور اپنی موجودگی کا احساس دلایا کہ پاکستان کی نئی نسل بھی اپنے بڑوں کی طرح اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔یوں جوش اور جذبے کا عزم دل میں لئے وفاقی وزراء، پارلیمنٹ کے ارکان‘غیر ملکی مندوبین ‘ سفیروں اور ہائی کمشنروں کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے پریڈ میں شرکت کی۔وفاقی دارالحکومت میں اس ولولہ انگیز پریڈ کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں میں متعدد تقریبات کا انعقاد ہوا۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے خصوصی پروگرام اور ایڈیشنز کا اہتمام کیا۔ جس میں تحریک پاکستان اور جدو جہدِ پاکستان کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ہیروز کو شاندار انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

23marchparade2017two.jpg

 
10
April

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرلی ہے۔ خاص کر موجودہ بنگلہ دیشی حکومت گزشتہ تمام حکمرانوں پر بازی لے گئی ہے۔


مارچ کے پہلے ہفتے میں حکومت بنگلہ دیش نے پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پیش کی جو بلا مخالفت منظور ہوگئی۔ اس قرارداد میں25 مارچ کا دن ’’یومِ نسل کشی‘‘ کے طور پر منانے کی منظوری دی گئی۔یہ دن 25 مارچ 1971 کے دن کی یاد میں منایا جائے گا جب بقول حکومتِ بنگلہ دیش افواجِ پاکستان نے آپریشن سرچ لائٹ کے تحت بنگالیوں کا قتل عام کیا اور بلاامتیاز بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔


25مارچ کو افواجِ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی حقیقت کیا ہے۔ بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے لگایا گیا یہ الزام کہ تین لاکھ نہتے بنگالیوں کا قتل عام کیا گیا۔ کیا واقعی یہ حقیقت ہے یا فسانہ۔۔۔ ان سب سوالات کے جوابات کے لئے بہتر ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ اور غیر جذباتی تحقیق کی جائے اور پوری دیانتداری سے گزرے ہوئے حالات کا جائزہ لیا جائے۔

Genocide
یا نسل کشی کا مطلب ایک منظم سازش کے تحت کسی گروہ یا قوم کی پوری نسل کو ختم کردیناہے۔ اس گروہ کی بنیاد نسلی یا مذہبی ہو سکتی ہے۔ جن کو بے دریغ اور بلاتفریق صرف ایک خاص گروہ سے تعلق کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اُتار دیاجائے تاکہ اس گروہ کا خاتمہ ہو سکے۔ 90 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد سربیا اور کروشیا نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ بنگلہ دیش میں یہ خیال 1990 کی دہائی کے بعد زیادہ شدو مد سے اُبھرا۔


اب جبکہ تین لاکھ بنگالیوں کے نام نہاد قتل عام کی یاد میںیومِ نسل کشی منانے کا اعلان کیاگیا ہے بذاتِ خود ناقابلِ یقین ہے۔ یہ تین لاکھ کی تعداد کا حوالہ بنگلہ دیش کے سابق صدر مجیب الرحمن کے ڈیوڈفراسٹ کو دیئے گئے انٹر ویو میں استعمال کیا گیا تھا جو آج کے بنگلہ دیش میں آسمانی صحیفے کے طور پر بار ہا استعمال کیا جاتا ہے۔ روزنامہ ہندو نے بھی حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ تعداد 26,000 ہے۔ کلکتہ سے تعلق رکھنے والی شرمیلا بوس
نے اپنی کتاب
Dead Reckoning:Memories Of 1971
میں تیکنیکی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ یک طرفہ تصویر ہے۔ کیونکہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ اس طرح ہوا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں کہاں گئیں۔ انہوں نے تین لاکھ کی تعداد کو ایک جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں کسی سطح پر ثابت نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی سرکاری رپورٹ میں اس تعداد کا حوالہ یا ثبوت موجود ہے۔ خاص کر ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے کے بارے میں شدید تحفظات موجود ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا سے بھی اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹر سجاد حسین جو کہ ڈھاکہ یونیورسٹی اور راج شاہی یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر تھے انہوں نے اپنی یادداشتیں
The Wastes of Time
کے نام سے شائع کرائی ہیں۔ انہوں نے یہ واضح نشاندہی کی ہے کہ اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی میں تاریکی اور سائے کا راج تھا۔ اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ اگر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو معاملات، خاص کر بنگالی طلبہ کا جنون اور نفرت بہت واضح طور پر سمجھ آتے ہیں۔ بنگالی عوام کا قتلِ عام اور ملک میں انتشار کی اس پوری کہانی میں بھارت کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ بھارت کا پوری تحریک میں انتہائی اہم اور فعال رول تھا۔ اس بات کا اعادہ مختلف بھارتی لیڈران نے عوام اور ذرائع ابلاغ کے سامنے کیا ہے، جس میں مرار جی ڈیسائی‘ راہول گاندھی‘ بنگلہ دیش کے سابق سپیکر شوکت علی اور بھارتی ڈی جی ایف آئی میجر جنرل زیڈ اے خان شامل ہیں، کہ بھارت کا بنگلہ دیش تحریک میں مدد کرنے کا مقصد پاکستان توڑنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ شدید انتشار پھیلانا- عوامی رائے کو پاکستان مخالف کرنے کے لئے آسان ہدف نہتے عوام ہی بنے کیونکہ جب عوام کے جان و مال کو خطرہ ہوگا تب ہی نفرت کی آگ زیادہ بھڑکے گی اور مخالفت زیادہ پھیلے گی۔ اس انتشار کی ذمہ داری، جیسا کہ اس معاملے میں ہوا اگر پاکستان پر ڈال دی جائے تو ایسی نفرت اور انتشار پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔


ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔ پاکستان کو توڑنا بھارت کا اولین ہدف رہا ہے۔ کیا آج کے بنگالی اسکالر کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا اس ہدف کی تکمیل میں بھارت نے ہر ممکن حربے استعمال نہ کئے ہوں گے چاہے اس کے لئے کتنے ہی بنگالیوں کو قتل کرنا پڑا ہو یا عورتوں کی بے حرمتی کرنی پڑی ہو۔


مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں مکتی باہنی کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مکتی باہنی کی فوجی تربیت اور اسلحہ کہاں سے آیا۔ یہی نہیں مکتی باہنی کی صورت میں ایک بہت بڑی تعداد میں بھارتی فوجی لڑائی میں شامل تھے۔ مکتی باہنی وہ دہشت گرد تنظیم تھی جس نے عوام کا بے دریغ قتل عام اور لوٹ مار کی۔ خاص کر دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں میں اور دور دراز علاقوں میں جہاں وہ بے یارومددگار تھے۔ کئی شہری علاقوں میں نہتے بنگالیوں کو پاک فوج نے بچایا۔ ڈھاکہ گزٹ کے اگست‘ دسمبر1971 کاReview کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 76,000 کی تعداد میں بنگالی مرد اور عورتوں کو مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے کارکنوں نے موت کے گھاٹ اتارا ( منیراحمد
‘(Bangla Desh Myth Exploded
سب سے اہم بات جس کی نشاندہی شرمیلابوس نے بھی کی ہے کہ مرنے والوں کی زیادہ تعداد بہاریوں یا غیر بنگالیوں کی تھی جو یقیناًپاکستان فوج کا نشانہ نہیں بنے تھے۔ بقول بنگلہ دیشی حکام کے پاک فوج بنگالیوں کا قتل عام کررہی تھی تو کیا اس تین لاکھ کی تعداد میں زیادہ تر بہاریوں یا غیر بنگالوں کی ہے جو کہ بلاشبہ مکتی باہنی کے تعصب کا شکار ہوئے۔


ایک اور اہم نکتہ جو بارہا اٹھایا جاتا ہے۔ وہ نہتے اور غیر تربیت یافتہ ہونے کا ہے۔ مکتی باہنی کے افراد نہ ہی نہتے اور نہ ہی غیر تربیت یافتہ تھے بلکہ وہ ببانگِ دہل اور مسلح جدو جہد کررہے تھے۔ آج بھی 1971 کی یادداشتوں میں مکتی باہنی کے رضاکاروں کی تربیت اور مسلح کرتے ہوئے تصاویر موجود ہیں۔ جس سے اس تنظیم کی ساخت اور مقاصد کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ اس بات کا اعادہ مجیب الرحمن نے اپنی 9 جنوری1972کی تقریر میں کیا تھا۔ انہوں نے مکتی باہنی کے چھاپہ ماروں سے ہتھیار پھینکنے کی اپیل کی مگر اس یقین دہانی کے ساتھ کہ دشمنوں کا صفایا کرنے کی ذمہ داری باضابطہ فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔ ایک طرف تو بنگلہ دیش ایک مغالطے میں تین لاکھ افراد کے قتل کی ذمہ داری پاک فوج پر ڈال رہی ہے لیکن ان لاتعداد غیر بنگالی‘ پاکستان سے محبت کرنے والے افراد اور ان کے خاندانوں کا جس طرح قتل عام کیا گیا ان کے خون کا حساب کون دے گا جو تعصب کی بھینٹ چڑھ گئے اور جن کی قربانیوں کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ جیسا کہ مجیب الرحمن کی 9 جنوری کی تقریر سے واضح ہے کہ ملکی سطح پر باضابطہ دہشت گردی کا اعلان اور حکم دے دیا گیا تھا۔


اس تعصب اور نفرت کی آگ صرف شہروں اور سویلین علاقوں تک محدود نہ تھی بلکہ بنگالی فوجیوں نے اپنے ساتھی غیر بنگالی فوجیوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا۔ جن کی تعداد بھی تاریخ کے صفحات سے غائب کردی گئی یا وہ بھی پاک فوج کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔


اس تمام معاملے کی ایک غیر جانبدارانہ ریسرچ کی ضرورت ہے لیکن ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے47 سالوں میں بنگلہ دیش میں یہ معاملہ قوم پرستی پر مبنی دیومالائی بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان اور اس کی حمایت میں بات کرنا ایک جرم بنا دیا گیا ہے۔ خاص کر جب حال ہی میں پاکستان سے محبت کے جرم میں سیاسی لیڈران کو تختہ دار تک پر چڑھا دیا گیا۔ جب کہ ان کا جرم بھی ثابت نہ ہو سکا تھا۔ آج بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ کی حکومت ایک جمہوری آمریت کی مثال ہے۔ وہاں حکومت مخالف بڑی سیاسی جماعتیں خاص کر بی این پی اور جماعت اسلامی جن مقدمات میں الجھی ہوئی ہیں اُن میں سے زیادہ تر کا تعلق1971 کے واقعات سے ہے ایسے وقت میں یہ جماعتیں اپنی بقا کی جدو جہد میں ہیں اور خود کو زیادہ محب وطن ثابت کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی دہشت گردی کی فضا قائم ہو‘ پاکستان پر جمع کی ہوئی قرار داد کی مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کے باوجود 350 کے ایوان میں 56 اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔


موجودہ حکومت پاکستان مخالفت پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہے پاکستان مخالف اقدامات کرکے بھارت سے زیادہ تعلقات بڑھائے جارہے ہیں۔ تاکہ نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی فوائد بھی حاصل کئے جاسکیں۔ یہ ایک الگ عنوان ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات آگے جاکر کن کن مسائل اور پیچیدگیوں کا شکار ہونے جارہے ہیں۔بلکہ فی الوقت شیخ حسینہ اپنے آئندہ ماہ اپریل میں شروع ہونے والے دورے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


بھارت اور بنگلہ دیش کا ایک مشترکہ مقصد یقیناًنہ صرف پاکستان کو دنیا بھر کے سامنے ایک
rogue
ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے بلکہ ساتھ ہی پاک فوج کو ناتجربہ کار اور غیر پیشہ ورانہ ادارہ ثابت کرنا بھی ہے۔
موجودہ بنگلہ دیشی حکومت نفرت کا ایک ایسا جال بُن رہی ہیں جس میں آہستہ آہستہ پوری قوم پھنستی جارہی ہے۔ یہ قوم پرستی جس کی بنیاد پر اُنہوں نے پاکستان سے علیحدگی کی اسی طرح کی نفرت ہی کے بل بوتے پر پروان چڑھتی ہے۔ متعصب قوم پرستی کی ایک صاف مثال جرمن قوم اور ہٹلر کی ہے۔ جو اپنے تعصب اور قوم پرستی میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ یہ قوم پرستی دوسری قوموں سے برتری اور انتقام کی صورت اختیار کرگئی کہ جرمن کو تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ حسینہ کا طرزِ حکومت اور ان کی بنگالی قوم پرستی اور نفرت اس ملک و قوم کو کہیں اس نہج پر نہ لے جائے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ بچے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے

*****

ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔

*****

 
10
April

تحریر: عقیل یوسف زئی

ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کے حالیہ دورۂ وزیرستان کے بعد ہلال کے لئے خصوصی تحریر

شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر واقع یہ ایجنسی طویل عرصے تک نہ صرف ریکارڈ درون حملوں بلکہ غیرملکی جنگجوؤں اور جہادی تنظیموں کی آماجگاہ بنی رہی۔ اسی ایجنسی کو اس حوالے سے بھی بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے کہ اس کے آخری سرے پر غلام خان نامی وہ کراسنگ پوائنٹ یا سرحد موجود ہے جس کے ذریعے افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک آسانی کے ساتھ پہنچا جا سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کا ہیڈکوارٹر میران شاں بنوں سے محض 61کلومیٹر جبکہ غلام خان 79کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ غلام خان سے کچھ فاصلے پر خوست صوبہ واقع ہے۔ میران شاہ سے کابل 277، دوشنبہ 860 جبکہ تاشقند 1414کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان کا یہ عالمی روٹ پاکستان‘ بلکہ پورے برصغیر اور وسط ایشیا کے لئے سب سے مناسب اور قریب ترین راستہ ہے۔ 2001کے بعد جب افغانستان میں ایک پیچیدہ اور علاقائی جنگ کا آغاز کیا گیاتو جنوبی اور شمالی وزیرستان پر مشتمل یہ اہم جغرافیائی پٹی اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔ پاکستانی طالبان کے علاوہ عرب‘ ازبک‘ چیچن اور تاجک جنگجو تنظیموں نے اس پورے علاقے کو یرغمال بنا کر رکھ دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے لاکھوں قبائلی باشندوں ان کے مشران‘ تعلیم یافتہ حلقوں اور تاجروں کو دوطرفہ حملوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف ڈرون حملوں کے ذریعے یہاں کے باشندوں کو بدترین عدم تحفظ اور خوف سے دو چار ہونا پڑا۔ اگر یہ کہا جائے کہ شمالی وزیرستان اپنے لوگوں کے لئے کئی برسوں تک نوگوایریا بنا رہا تو غلط نہیں ہو گا۔ ایک وقت میں یہ علاقہ فقیر آف ایپی کی جدوجہد اور مزاحمت کے باعث برطانیہ اور اس کے مخالف کیمپ کے لئے جتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا‘ نائن الیون کے بعد ویسی ہی صورتحال پھر سے بنی رہی۔ اور شمالی وزیرستان اپنوں کے علاوہ غیروں کی سازشی سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز بنا رہا۔ 10تحصیلوں پر مشتمل اس ایجنسی کے اہم مراکز یا علاقوں میں میران شاہ کے علاوہ میر علی‘ رزمک‘ شوال‘دتہ خیل اور غلام خان شامل ہیں۔ یہ ایک پرخطر پہاڑی خطہ مگر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جبکہ یہاں رہنے والے قبیلے نہ صرف صدیوں پر محیط تاریخ رکھتے ہیں بلکہ ان کو خطے کی سیاست اور معیشت کے علاوہ ثقافت کے فروغ میں ہر دور میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ 2002 کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل اصرار کرتے رہے کہ اس ایجنسی میں بھرپور آپریشن کرایا جائے تاہم اس کا آغاز 2014میں کیا گیا۔ جو کہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ اس پر عالمی اطمینان کی شرح بھی تسلی بخش رہی اور اب یہ علاقہ ریاستی رٹ میں لایا جا چکا ہے۔ جون 2014 کو شروع کئے گئے آپریشن کے نتیجے میں 10لاکھ کے لگ بھگ لوگ بنوں‘ ڈی آئی خان‘ کوہاٹ اور پشاور سمیت دیگر علاقوں میں نقل مکانی کر گئے۔ فورسز نے مرحلہ وار مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جہاں پر موجود مضبوط دہشت گرد ٹھکانے تباہ کئے گئے۔ نوگوایریاز کو ریاستی رٹ میں لایا گیا اور ان علاقوں میں مستقل طور پر فورسز تعینات کی گئیں جہاں سے طالبان لشکروں کی دو طرفہ آمدورفت اور سرگرمیاں ممکن تھیں۔ عوام نے حکومت اور فورسزکا ساتھ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ امن اور ریاستی رٹ کی خواہش میں نہ صرف یہ کہ جان و مال دے کے بے مثال قربانیاں دیں بلکہ ڈھائی سال تک مہاجرت کے مصائب بھی خندہ پیشانی سے برداشت کئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تقریباًتمام علاقے میں ریاستی رٹ بحال کی جا چکی ہے۔ لیویز نہ صرف پوری صلاحیت کے ساتھ فوج کی معاونت کر رہی ہیں بلکہ تمام سرکاری ادارے بھی تیزی کے ساتھ فعال ہونے لگے ہیں۔ آپریشن سے قبل سول اداروں کا علاقے میں وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا تھا ۔ 80فیصد علاقے پر لشکروں یا جہادی تنظیموں کا قبضہ اور غلبہ تھا بلکہ سرکاری دفاتر اور اہلکار جان بچانے کے لئے بنوں میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔ آپریشن کے بعد سرکاری اداروں کی بحالی پر توجہ دی گئی اور ویران دفاتر پھر سے بحال ہونے لگے۔ اگرچہ اب بھی حکومت کوسہولیات کی فراہمی اور اداروں کی بھرپور معاونت میں کئی مشکلات اور دشواریوں کے علاوہ فنڈز اور وسائل کی کمی جیسے حالات کا سامنا ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ ریاستی ادارے کی واپسی کے علاوہ زندگی کی رونقیں تیزی کے ساتھ بحال ہوتی نظر آ رہی ہیں اور تعمیر نو کا کام بھی جاری ہے۔ سرکاری سرپرستی میں‘ فوجی حکام کی معاونت کے ساتھ‘ بحالی اور تعمیر کا کام سست ہی سہی مگر کافی حد تک اطمینان بخش قرار دیا جا رہا ہے۔

puramanaurbehter.jpg
23مارچ کی تقریبات کے سلسلے میں میران شاہ کے یونس خان سپورٹس کمپلیکس میں ایک شاندار پریڈ کے علاوہ کھیلوں اور ثقافتی پروگرامز کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ فوجی حکام‘ اہلکاروں کے علاوہ تقریباً 20ہزار مقامی لوگ‘ طلباء اور نوجوان شریک ہوئے۔ اس تقریب میں دوسروں کے علاوہ جنرل آفیسرز کمانڈنگ میجر جنرل اظہر حیات اور پولیٹیکل ایجنٹ کامران آفریدی بطور خاص شریک ہوئے۔ جنرل اظہر حیات نے اس موقع پر کہا کہ وہ امن کے قیام میں فورسز کے کردار کے علاوہ عوام کی معاونت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںٖ جن کے عزم اور کوششوں سے نہ صرف علاقے سے دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہوابلکہ متاثرین کی واپسی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے جرگوں، جنازوں اور سرکاری تنصیبات کے علاوہ تعلیمی مراکز اور ہسپتالوں کو بھی نہیں بخشا۔ تاہم اب ان کو پھر سے یہاں گھسنے نہیں دیا جائے گا اور اس خطے کو امن اور ترقی سے ہمکنار کرکے مثالی اور پرامن علاقہ بنایا جائے گا۔ بعد ازاں صحافیوں سے تفصیلی بات چیت میں پی اے کامران آفریدی نے ان فیصلوں کی تفصیلات بتائیں جو کہ حکومت نے علاقے کی ترقی کے لئے شروع کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکری حکام کی معاونت اور مشاورت سے عوام کے تحفظ اور علاقے کی ترقی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ماضی کے حالات و واقعات کی تلافی کی جا سکے۔


جی او سی میجر جنرل اظہر حیات اور پی اے کامران آفریدی نے صحافیوں کے ساتھ اپنی خصوصی نشستوں کے دورران بتایا کہ افغانستان جانے والے وزیرستانی باشندوں کی واپسی کے لئے بہت جلد ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا تاکہ ان کو باعزت طریقے سے ان کے علاقوں میں واپس لا کر بسایا جائے۔ ان کے بقول تقریباً 90فیصدآئی ڈی پیز واپس آ چکے ہیں۔ اب ان کی بحالی اور علاقے کی تعمیر نو پر توجہ دی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے کو تیز کرنے کے لئے اسلام آباد اور پشاور کے اعلیٰ حکام اور اداروں کو زیادہ سے زیادہ وسائل کی فراہمی پر قائل کیا جائے تاکہ عملی اقدامات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ برسوں تک حالات کے جبر کا شکار ہونے والے لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں بلکہ ان کو یہ باورکرایا جائے کہ حکومت امن کے قیام اور سہولیات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے۔ دونوں اعلیٰ حکام نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے لوگوں کے اقتصادی مسائل حل کرنے اور غلام خان سرحد کو دوبارہ کھولنے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ اس روٹ کو پھر سے فعال بنایا جائے اور اس کے ذریعے مقامی آبادی کو کاروبار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ دونوں اعلیٰ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ جن لوگوں کے گھر، مارکیٹیں اور دکانیں متاثر ہو ئیں ان کی از سر نو تعمیر کا کام شروع ہے اور حکومت اس سلسلے میں نقصانات کے ازالے کے لئے قابل ذکر اور اطمینان بخش اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوشش کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان کے ٹی ڈی پیز کو مردم شماری کے دوران وزیرستان ہی کے شہری قرار دینے کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ایک فارمولے کے پلان کے ذریعے یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے شہری حقوق اور وسائل کا حصہ دار بننے کا راستہ ہموار کر کے انہیں ہر قسم کے وسائل اور حقوق سے مستفید کیا جائے۔ ان کے مطابق سول اور عسکری ادارے باہمی مشاورت کے ذریعے جہاں ایک طرف علاقے کے امن اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لئے یکسو ہو کر کام کر رہے ہیں وہاں تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں میں بھی مشاورت سے کام لیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ وزیرستان کے انتظامی ڈھانچے کے علاوہ یہاں کی معاشرت اور معیشت کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔


قبل ازیں مقامی عمائدین، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امن کے قیام پر مکمل اعتماد اور اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں اور کاموں کو مستقل امن کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کی شکایات اور ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے شمالی وزیرستان کے لئے جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے اور جن لوگوں کے گھروں، مارکیٹوں اور کاروبار کو نقصان پہنچا ہے اس کی فوری تلافی کی جائے ان کے مطابق وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ شدت پسند یا ان کے حامی پھر سے ادھر کا رخ کریں کیونکہ یہ لوگ انسانیت، پاکستانیت اور قبائل کے دشمن رہے ہیں اور ان کے منفی عزائم نے اس خطے کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو وہ حقوق اور وسائل دیئے جائیں جو کہ پاکستان کے دوسرے شہریوں اور علاقوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے 23مارچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے پروگرامز ہوتے رہیں گے تاکہ اس جنگ زدہ وزیرستان کے باسیوں کو خوشی اور تفریح کے مواقع ملتے رہیں اور ایسے پروگرامز کے ذریعے عوام اور ریاستی اداروں کو یکجا ہونے کا موقع بھی ملتا رہے ۔


قدرتی وسائل میں قبائل برابر کے حصہ دار
فاٹا اور وزیرستان کی تاریخ میں غالباً پہلی دفعہ یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ قدرتی وسائل یا معدنیات جن علاقوں میں دریافت ہوں گے وہاں کے مقامی باشندوں یا عوام کو نہ صرف ایک مناسب رائلٹی دی جائے گی بلکہ ترجیحی بنیادوں پر ان کو ملازمتیں بھی دی جائیں گی۔ اس سلسلے میں شمالی وزیرستان کے متعلقہ حکام نے گزشتہ دنوں تحصیل بویہ کے علاقے محمد خیل میں دریافت کے گئے قیمتی معدنیات (کاپر) کی آمدن میں سے مقامی قبائل یا لوگوں میں 18فیصد کی رائلٹی کے چیک تقسیم کئے۔ حکام کے مطابق معدنیات اور دیگر قدرتی ذخائر جس بھی علاقے میں دریافت ہوں گے‘ وہاں کے عوام کو 18فیصد کے حساب سے رائلٹی دی جائے گی اور لیزنگ کمپنیوں کو باقاعدہ اس فیصلے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک فارمولے کے تحت یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جس علاقے میں معدنیات کا کوئی مرکز دریافت ہو گا وہاں کے عوام کو ملازمتیں دی جائیں گی اور لیبر اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی ان کو دی جائیں گی تاکہ اس طریقے سے مقامی آبادی کو نہ صرف پروڈکشن میں حصہ دار بنایا جائے بلکہ ان کو روزگار اور ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔ حکام کے مطابق وزیرستان میں کرومائیٹ ، کاپر‘ کوئلے، تیل،جپسم اور متعدد دیگر قدرتی معدنیات کے لامحدود وسائل، ذخائر موجود ہیں اور ان ذخائر کی لیزنگ کا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ دیگان نامی علاقے میں بھی رائلٹی کی مد میں گزشتہ دنوں لوگوں میں چیک تقسیم کئے گئے۔


شمالی وزیرستان میں 60ہزارسکیورٹی اہلکار متعین
اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوج اور پیراملٹری فورسز کی بڑی تعداد متعین کی گئی ہے جبکہ اہم علاقوں کے پہاڑوں پر درجنوں مورچے بھی بنائے گئے ہیں تاکہ علاقے اور یہاں کے عوام کو محفوظ بنایا جائے۔ حکام کے مطابق اس وقت اس اہم ایجنسی میں تقریباً 60ہزار سکیورٹی اہلکار موجود ہیں جن میں 35000 لیویز بھی شامل ہیں۔ لیویز‘ فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ سڑکوں اور چوٹیوں پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ان کی فعالیت اور کارکردگی کو عوام کے علاوہ فوجی حکام بھی سراہتے آ رہے ہیں۔


آپریشن ضرب عضب کے باقاعدہ آغاز سے قبل شمالی وزیرستان سے غلام خان کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے افغانستان والے ہزاروں خاندانوں کی پاکستان واپسی کا دوبارہ آغاز اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران متوقع ہے اس مقصد کے لئے اعلیٰ سول اور فوجی حکام کے درمیان ایک باقاعدہ شیڈول کے لئے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ اعلیٰ فوجی اور سول حکام نے گزشتہ روز میران شاہ میں غیررسمی بات چیت کے دوران بتایا کہ افغانستان جانے والے متاثرین کی واپسی میں تاخیر اس لئے ہوئی کہ ایک تو ان کی غیرمعمولی چیکنگ لازمی تھی جس کے لئے غیرمعمولی وقت درکار تھالہٰذا واپسی دو تین مراحل میں مکمل ہوئی ان مراحل کے دوران لوگوں کے درمیان تعداد کم رہی جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں مسلسل حملوں کی وجہ سے سرحد سیل کی گئی اور متاثرین کی بحالی میں بعض انتظامی رکاوٹیں حائل رہیں تاہم توقع کی جانی چاہئے کہ متاثرین کی واپسی کا سلسلہ پھر سے شروع ہو سکے گا اور اب کی بار کوشش کی جائے گی کہ تمام لوگ واپس آ جائیں ۔متعلقہ حکام نے استفسار پر بتایا کہ آپریشن سے قبل یا اس کے دور ان شمالی وزیرستان سے تقریباً 12000 خاندان غلام خان کے راستے افغانستان کے سرحدی صوبے خوست منتقل ہو گئے تھے۔ آپریشن کی تکمیل اور ٹی ڈی پیز کی واپسی کے اعلان کے بعد دو تین مراحل کے دوران تقریباً 1800سے زائدخاندان اپنے علاقوں میں واپس آ گئے۔ تاہم 9000 کے قریب خاندان اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔ حکام کے مطابق اگر ملک میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ نہیں چل پڑتا اور حالات نارمل رہتے تو اب تک ان خاندانوں کو واپس لایا جا چکا ہوتا۔ اگر چہ غیرمعمولی صورت حال کے باعث یہ سلسلہ تاخیر کا شکار ہوا تاہم اب ان کی واپسی کے لئے ایک اور فیز کا آغاز ہونے والا ہے جس کے دوران ان کی واپسی اور بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ غلام خان کے کراسنگ پوائنٹ کو دوبارہ کھولنے کے آپشن اور امکان کا بھی اعلیٰ سطحی جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ہزاروں افراد کا روزگار اور کاروبار اس روٹ سے وابستہ ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ایک مربوط طریقہ کار کے مطابق دونوں جانب کی عام آمدورفت کے علاوہ تجارت کا سلسلہ بھی جلد بحال ہو سکے۔


بنوں اور بعض دیگر علاقوں میں آباد ٹی ڈی پیز کی مکمل واپسی کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ٹی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کا سلسلہ جاری ہے تاہم دوسری طرف مقامی عمائدین صحافیوں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے باوجود ٹی ڈی پیز کی واپسی سست روی کا شکار ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں گھر مسمار کئے جا چکے ہیں اور گھروں کی تعمیر کے لئے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس میں چند خامیاں بھی ہیں۔ ان کے مطابق اب بھی تقریباً 40فیصد ٹی ڈی پیز واپسی کے منتظر ہیں جو واپس آ گئے ہیں ان میں سے کچھ یا تو رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں یا عارضی بنیادوں پر خیمے لگا کر حکومتی امداد کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق ابھی حکومتی کارندوں کے مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاک فوج نے اپنا رول ادا کردیا ہے۔ اب باقی اداروں پر منحصر ہے کہ وہ روایتی سست روی اور بیوروکریٹک ڈیلے کی وجہ سے حاصل شدہ کامیابیوں کے ثمر حاصل کریں‘ نہ کہ اپنے عمل سے اُن کے حُسن کو گہنا دیں۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش ک رتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

’’اے مری سَر زمیں !‘‘
کس قدر پُرکشش‘ کس قدر دلنشیں‘ یہ بہاریں تری‘ یہ نظارے ترے
تُو ہے کتنی حسیں‘ اے مری سَرزمیں‘ کوہ و صحرا تلک کتنے پیارے ترے
تُوہے ماں کی طرح مُونس و مہرباں‘ تجھ سے آباد و شاداں ہمارا جہاں
تُو نسیمِ سحر از کراں تا کراں‘ تُجھ میں اُڑتے پھریں ہم غبارے ترے
تُجھ سے جب بھی کبھی دُور جانا پڑا‘ دل جدائی میں تیری تڑپتا رہا
ہم سراپا وفا‘ بندگانِ صفا‘ تُوہے دریا تو ہم ہیں کنارے ترے
تجھ کومیلی نظر سے جو دیکھے کوئی‘ تُجھ سے دَست و گریباں جو ہو مُدعی
اُس سے ہو جائے اپنی لڑائی کھلی‘ ہم ہیں شمشیر کے تیز دھارے ترے
تیری بنیاد دینِ مبیں پر پڑی‘ تو عطائے خدا‘ تو دعائے نبیﷺ
فکرِ اقبالؒ ‘ و قائدؒ کے صدقے ملی‘ تیرا اصغر پرےؔ جائے وارے ترے
خواجہ محمداصغر پرے

*****

 
10
April

تحریر: طاہرہ جالب

کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں۔ خوراک، زراعت، صنعتی ترقی اور افرادی قوت کیا ہے ؟ غرضیکہ ہر شعبے کی تنظیم و تشکیل کے لئے دیگر عوامل کے علاوہ مردم شماری پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے ملک کا مستقبل یقینی اورمحفوظ ہو جاتا ہے۔ ملک کی ترقی و تعمیر کا انحصار بھی مردم شماری پر ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک سیاسی ، سماجی ، معاشرتی اور معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ اپنے اندر بسنے والوں کی تعداد ، تعلیم، سماجی حیثیت اور معاشی کیفیت کے بارے میں بنیادی معلومات نہ رکھتا ہو۔ درست اعداد و شمار حاصل کرنے کے بعد حکومت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین پلاننگ کرتی ہے۔ مثلاً تعلیم کے شعبے میں تعلیمی پلاننگ جس سے معلوم ہو گا کہ کتنے افراد خواندہ ہیں اور کتنے ناخواندہ، کتنے مرد تعلیم یافتہ ہیں، کتنی خواتین تعلیم یافتہ ہیں اورکتنے افراد زیر تعلیم ہیں۔ جو سہولیات تعلیمی اداروں میں میسر ہیں اس کے اعداد و شمار سے الگ معلومات ملیں گی۔ مردم شماری کے ذریعے ہنر اور فنی مہارتوں کے بارے میں رحجان کا اندازہ لگا کر ملک میں ایسی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے جن کے لئے مستقبل میں افرادی قوت دستیاب ہو سکے۔ ذرائع آمد و رفت کے منصوبے بنانے کے لئے حکومت انہی اعداد و شمار کو استعمال کرتی ہے تاکہ ضرورت کے مطابق نقل و حمل کی ترقی کا پروگرام ترتیب دے کر معاشی اور معاشرتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔


اس کے علاوہ شرح افزائش کا اندازہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر زرعی پیداوار کی طلب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور غذائی قلت اور گرانی کو دور کیا جا سکتاہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی مردم شماری کے صحیح اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے جو منصوبہ بندی کی جاتی ہے مردم شماری اس کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔

 

milkaragybehna.jpgاگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے دو ہجری میں مدینہ شہر میں مردم شماری کرائی گئی۔ عہدِ رسالتؐ میں وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام قائم کیا گیا جس کے تحت صاحبِ حیثیت افراد سے خیرات و صدقہ لے کر معاشرے کے ضرورت مند افراد میں منصفانہ طور پر تقسیم کئے گئے۔ اس کے بعد 15 ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ نے باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ قبلِ مسیح رومن سلطنت نے فوجی اور سیاسی مقاصد اور جائیداد کی رجسٹریشن کے لئے پہلی مرتبہ رومن تہذیب میں باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ پھر باب الایران ، مصر ، چین اور جنوبی امریکہ میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مردم شماری کروائی گئی۔ مسلم ممالک میں شہر کوفہ میں بھی مردم شماری کے شواہد ملتے ہیں۔ جرمنی میں چودھویں صدی عیسوی میں بہت منظم طریقے سے مردم شماری کروائے جانے کا ریکارڈ ملتا ہے۔ پندرھویں صدی عیسوی میں سپین میں باقاعدہ مردم شماری کی گئی۔ کینیڈا ، امریکہ اور سویڈن اس مردم شماری کے مؤجد ہیں جو آج کل ہوتی ہے۔ مردم شماری ہر دس سال بعد لازمی قرار دی گئی ہے۔


19 سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں چھٹی مردم شماری ہو رہی ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے بعد 2008 میں یہ عمل ضروری تھا۔ مگر اب تک یہ مسئلہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گیند کی طرح اچھالا جاتا رہا ہے۔ آخر کار سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہو چکا ہے جوملک کی معیشت کو بہتر طور پر چلانے کے لئے ممد و معاون ثابت ہو گا۔ ملک بھر میں 15مارچ 2017 سے شروع ہونے والی مردم شماری 2 مراحل میں مکمل ہو گی۔ چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 63اضلاع پہلے مرحلے میں 15 مارچ سے 13اپریل تک خانہ اور مردم شماری ہو گی۔ باقی 88 اضلاع اور علاقوں میں مردم شماری دوسرے مرحلے میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


19 سال بعد ہونے والی مردم شماری پر اعتراضات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان ایک دوسرے کی نسبت زیادہ کی جنگ ہے تو بلوچستان میں افغان مہاجرین کو شمار کرنے پر بھی اعتراضات موجود ہیں۔ گویا چھٹی مردم شماری کا انعقاد پھر ایک مرتبہ چند شبہات کے ماحول میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس امر میں دو لاکھ فوجی اور ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب سول ملازمین کی شمولیت کافی حد تک شفافیت لائے گی۔ اس بار مردوں اور عورتوں کے علاوہ خواجہ سراؤں کو بھی گنا جائے گا۔ اگر اس بار مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا تو نہ صرف منصوبہ بندی کرنا آسان ہو گی بلکہ صوبوں اور اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم بھی درست اور منصفانہ ہو گی۔
موجودہ مردم شماری کا فیصلہ اوراس کی
Execution
ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے مگر اس تمام کوشش میں پاک آرمی کے رول کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ موجودہ حالات میں پاک فوج کو بہت سے محاذوں پر بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں روایتی اور غیر روایتی دونوں شامل ہیں۔ ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد کا آغاز کردیاگیا ہے جس کے اہداف یقینی طور پر ایک بھرپور عمل کے متقاضی ہیں۔ موجودہ آپریشن صر ف پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں فسادیوں کے تمام نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو لائن آف کنٹرول پر جارحانہ رویوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ یہ ہماری افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ قابلیت ہی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی’’ سرجیکل سٹرائیک‘‘ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہی رہا۔ مگر ہمیں یہ دشمن کے عزائم کی خبر ضرور دیتا ہے کہ اگر بس چلے تو دشمن کوئی بھی کارروائی کرنے سے باز نہیں رہے گا۔ ان تمام کمٹمنٹس کے ساتھ جو پاکستان دشمنوں کی پیدا کردہ ہیں۔ پاک فوج کی ایک نہایت مناسب تعداد ہمیشہ اپنی ٹریننگ میں بھی مصروف عمل رہتی ہے۔ غرضیکہ ان حالات میں دو لاکھ فوج کو سپیئر کرنا دراصل ان کی ایک اضافی ذمہ داری بن جاتا ہے جس کو اٹھانے کے لئے پاک فوج کی ہائی کمان سے لے کر ایک سپاہی تک سب نے خیر مقدم کیا ہے۔


موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی مردم شماری کے بارے میں مشترکہ پریس کانفرنس جس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں‘ ایک قومی یکجہتی اور سول ملٹری تعلقات میں مثالی ہم آہنگی کی غماز بھی تھی۔ میجر جنرل آصف غفور نے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مردم شماری کی افادیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پاک آرمی اور عوام کے درمیان ایک لازوال رشتہ ہے۔ اس مردم شماری کے دوران پاک فوج کے جوان ہر گھر کے دروازے تک آئیں گے۔ اس عمل کے دوران بے شک
Data Collection
بھی ہوگی مگر یہ پاک فوج کی طرف سے اپنی عوام کے لئے ایک جذبہ خیرسگالی کا پیغام بھی ہوگا۔ اب جب کہ مردم شماری کی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے جو کامیابی سے جاری ہے، تو ہمیں اطمینان رکھنا چاہئے کہ حکومت اور افواج کی یہ کاوش ضرورآنے والے دنوں میں پاکستان کی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
14
March
مارچ 2017
شمارہ:3 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قوم رواں برس ستترواں یوم پاکستان ان حالات میں منا رہی ہے کہ جب اسے اپنے حوصلے اور بھی بلند رکھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن گھناؤنی سازشوں اور دہشت گردی کے ذریعے اس وطن کی سالمیت کے درپے ہے۔ 23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں جب قرارداد پاکستان پاس ہوئی تب پاکستان صرف ایک خواب تھا لیکن ٹھیک 7برس بعد برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
پاک فوج نے ملک بھرسے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ شروع کردیاہے،اوریہ کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن کااعلان ہوا توملک بھرمیں اس کاخیرمقدم کیاگیا۔عوام کے تمام طبقات کی خواہش اورمطالبہ تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کوکسی خاص علاقے تک محدود نہ رکھاجائے، دہشت گرد جہاں اورجس علاقے میں بھی چھپے ہوں انھیں نشانہ بنایا جائے ....Read full article
 
تحریر: سمیع اللہ خان
دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
سات قبائلی ایجنسیوں پر مشتمل پاکستان کے سرحدی علاقے یعنی فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور مختلف ادوار میں اس مقصد کے لئے حکومت کی جانب سے تبدیلیاں یا اصلاحات لانے کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل محض اعلانات تک محدود رہا اور کسی بھی حکومت نے عملاً ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس اہم ترین جغرافیائی یونٹ کو....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں اور چیختی بلبلاتی بچیوں سے.....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
دہشت گردی کی نئی لہر نے عوام کو شدید رنج و غم میں مبتلا کردیاہے۔گزشتہ دنوں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ایک سو بائیس سے زائد افراد شہید ہوئے اور تین سو کے قریب زخمی ہوئے۔ فروری میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے ان واقعات نے عوام کو نشانہ بنایاہے۔ضرب عضب کی کامیابی کے بعد عوام اپنے روزمرہ زندگی کے معمولات کو سر انجام دے رہے تھے کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میں اُن مغربی مورخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہور پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میں وجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنماؤں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوؤں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی....Read full article
 
تحریر:محمود شام
یہ آسمان چومنے کے لئے بے تاب مینار پاکستان ہم سے کچھ کہہ رہا ہے۔
اس کے گرد پھیلا ہوا سبزہ زار۔ ہمیں کہانیاں سنانے کے لئے بے چین ہے۔
کبھی دوڑتی بھاگتی۔ زر کی طلب میں گزرتی ساعتوں سے چند لمحات نکال کر اس کے سائے میں آکر بیٹھیں اور دل کے کان لگاکر سنیں کہ یہ زبان حال سے کیا کہہ....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
نظریہ قوموں کی فکری اساس ہے۔ نظریہ اس جذبے کو جلا بخشتا ہے جس کی بنیاد پر ہجوم میں سے قوم بنتی ہے اور پھر اسی جذبے کی آبیاری کرتے ہوئے قوم اپنی سرحدوں کا تعین کرتی ہے۔ لہٰذا نظریے سے جڑے رہنا ہی ملک و قوم کی بقا کی ضمانت ہے۔ کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جذبہ سرد پڑنے لگتا ہے۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ زندگی کے جھمیلوں سے لڑتے ہوئے وہ اپنے تمام جذبات کو....Read full article
 
تحریر: خورشیدندیم
>یہ تاریخی واقعہ ہے کہ انسان اجتماعی صورت میں رہتے ہیں۔ ابنِ آدم کی معلوم تاریخ اسی کی تائید کرتی ہے۔ سماج کا نام ذہن میں آتے ہی اجتماعیت کا تصور سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اجتماعیت کیسے وجود میں آئی؟َ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل عارف محمود
کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین شہید اور موت میں شناسائی بہت پہلے قائم ہو چکی تھی، بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر آفیسر 2013 میں کوئٹہ پولیس لائن میں جنازے کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ جنازے پہ جاتے ہوئے اچانک سید مبین کی ماں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور وہ جنازہ چھوڑ ....Read full article
 
تحریر: شوکت نثار سلیمی
یہ 6جون 1989کی ایک سعید گھڑی تھی جب میری گود میں تم نے آنکھ کھولی۔ یوں لگا تھا جیسے چاند میرے آنگن میں اتر آیا ہو۔ خوشبو، روشنی ہماری رگ و پے میں سرائت کر گئی۔ زندگی کی کرنیں جگمگا اٹھیں۔ تال، رقص اور سرور کی کئی شمعیں ضوفشاں ہو گئیں۔ بربط زندگی کی لے پر نغمے پھوٹنے لگے۔ روش روش بہار تھی۔ زندگی اتنی .....Read full article

انٹرویو: صبا زیب
کسی بھی ملک یا علاقے کی ثقافت کو جاننے کے لئے وہاں کے لوگوں کا رہن سہن، زبان اور طور طریقے دیکھنے پڑتے ہیں۔ ملک کی پہچان ثقافت ہوتی ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے اسے فخر کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی ثقافت کا پرچار دنیا کے ہر کونے میں عزت اور وقار کے ساتھ کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب........Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز
دنیا میں امن و آشتی کے فروغ اور اقوام عالم کے مابین تعاون اور اعتماد بڑھانے کے لئے پاک بحریہ نے2007 میں ’’امن‘‘ کے نام سے جن کثیرالملکی بحری مشقوں کا سلسلہ شروع کیاتھا’امن17‘ اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔ 2007 کے بعد سے پاک بحریہ ہر دو سال بعدامن مشقوں کا انعقاد کرتی رہی ہے اس برس....Read full article
 
تحریر: میجر مظفر احمد
حوالدار (ر) تاج مسیح مارچ 1939کو ضلع بہاولپورکی تحصیل حاصل پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مارٹن پرائمری سکول کرسچین کالونی حاصل پور میں حاصل کی۔ وہ پست قد مگر نہایت ہی چاق چوبند اور پھرتیلے تھے۔ بچپن سے ہی کھیلوں سے رغبت تھی اور سپورٹس میں نام کمانا چاہتے تھے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انہوں نے ہاکی کے کھیل کو چنا اور اُس ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
اگست 2012 میں جب ہم نے مجاہد آرٹلری کی ایک مایہ ناز فیلڈ یونٹ کی کمانڈ سنبھالی تو وہ کشمیر جنت نظیر کے حسین پہاڑوں پر ڈیپلائے تھی۔ ہمارا ہیڈکوارٹر ایک الگ تھلگ جگہ پر واقع تھا۔ نہایت دلکش لینڈ سکیپ پر مشتمل وادی کے بیچوں بیچ واقع ہمارا میس بھی اپنی مثال آپ تھا۔ فیملی کا جھنجھٹ بھی....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
فی زمانہ زندگی گزارنے کا ایک پرفیکٹ ماڈل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس ماڈل کے تحت آپ کسی اربن مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوں( اس ضمن میں آپ کو کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیدائش کے بعد شروع ہو گا) اپنے والدین کے خرچے پر کھیلیں کودیں، سکول جائیں، بہت اچھے نمبروں میں میٹرک یا او لیول کا امتحان پاس کریں، کالج میں داخلہ لیں، ابا سے حسب توفیق گاڑی یا موٹر سائیکل....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آج ہم تیسرے نغمے کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ نغمہ 10ستمبر 1965کو ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستانی افواج اپنے جنگی محاذ پر دشمن کو تاریخ ساز شکست دینے کے لئے کوشاں تھیں۔ ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے کچھ فوجی جوان زخمی ہو کر لاہور سی ایم ایچ میں داخل ہوئے ہیں۔ میں،میڈم نورجہاں .....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
لاہور، پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن تاریخی، علمی، ادبی، سیاسی، فکری اور ثقافتی حوالے سے اسے پاکستان کا دِل کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے آباد اس شہر کی تاریخ پُراسرار بھی ہے اور سحرانگیز بھی۔ مؤرخ اسے ڈیڑھ ہزار سال قدیم شہر قرار دیتے ہیں۔ لیکن ماہرینِ آثارِقدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ.....Read full article
 
تحریر : محمد امجد چودھری
وہ چشم تصور میں سرحدوں پر ڈٹے، دشمن سے برسرپیکار پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب قسم کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ ارشد جبار کو فخر ہے کہ دفاع وطن پر قربان ہونے والے افواج پاکستان کے بہت سے شہداء اور غازیوں کی وردی ان کے ہاتھوں سے سلی تھی۔ بہت سوں نے ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والی یونیفارم زیب تن کی ہوگی جس کی صورت میں وہ خود کو ان....Read full article
14
March

اعظم معراج

اے وطنِ عزیز کے محروم و بے شناخت بیٹو!
اپنے سماج سے بیگانو!
دھرتی سے اپنی نسبت سے لاعلم دھرتی واسیو!
اس ارضِ پاک کو بنانے
سنوارنے ... سجانے
اور بچانے میں اپنے اجداد کے کردار سے بے بہرہ معصومو!
اپنے آبا کی سرزمین پر اجنبیوں کی طرح رہتے اور
نفرت انگیز سماجی رویوں کے وار سہتے
اپنے روشنی کے میناروں کو
اپنی محرومیوں کے اندھیروں میں ... گم کرتے خاک نشینو!
خود رحمی، احساس کمتری و برتری کی
چکی کے پاٹوں میں پسے ہوئے راندہ درگاہ
ہم وطنو
ہزاروں لوگ
تمہاری ان محرومیوں کا نوحہ کہتے ... اور سینہ کوبی کرتے ہیں
تمہاری ان کمزوریوں اور پستیوں کو بیچتے ہیں
بے شک اس ظلمت شب میں
امید کے دیے جلانے والے
تمہیں دھرتی سے نسبت بتانے والے
اور یہ منترہ
تمہیں رٹانے والے
کہ تم وارث ہو اس سر زمیں کے
اور اس ارضِ پاک کو
اپنے خون پسینے سے سینچنے والے وطن کے معماروں
اور روشنی کے میناروں سے
تمہارا ناتا جوڑنے والے
شہدائے وطن کے پاک لہو کے رنگ سے
تمہاری بے رنگ روحوں میں
رنگ بھرتے مرد قلندر
بہت سے صبح نو کی نوید سنانے والے ہوں گے
یاد رکھنا
ان بہت سوں میں سے ایک میں بھی ہوں
لیکن اگر
کبھی لمبی اندھیری رات کے سیاہ گھپ
اندھیروں سے گھبرا کر یہ دیوانے
صرف چند بھی رہ گئے تو
ان چند میں ایک میں بھی ضرور ہوں گا
پھر اگر
امید سحر میں ان میں سے صرف ایک بچا
تو وہ
یقیناًمیں ہی ہوں گا
لیکن اگر
گھنے پیڑوں کے جھنڈ میں سے
سورج کوچھوتے درختوں پر
امیدِحیاتِ نو میں نغمہ مرگ گاتے ہوئے
ققنسوں کے مہک دار شاخوں سے بنے گھونسلوں میں سے
سنہری ٹھنڈی ہوتی ہوئی آگ میں سے
کئی نوجوان
سورج کی طرح چمکتے
قرمزی سنہرے ققنس
اپنی ہزاروں سال کی پستیوں، ذلتوں اور
محرومیوں کے بھاری بوجھ
اپنے توانا سنہری پروں سے جھٹکتے ہوئے
اپنی چونچوں میں
اپنی قابلِ فخر شناخت کے علم دبائے
امیدوں کی روشن شمعیں دلوں میں جلائے
عزم و حوصلے اور امنگیں
جن کے سینوں میں موجزن ہوں
جن کی نظر
روشنی کے میناروں سے اٹھتی ہوئی
دور آسمانوں پر ہو
اور
وہ دن کے اجالوں میں
سورج کی طرف
لمبی اڑانیں بھریں
تو سمجھ لینا
جن مہک دار گھونسلوں سے
جوان ققنس اڑتے ہیں
ان گھونسلوں میں
میرے بدن کی راکھ تھی

 
14
March

تحریر: یاسرپیرزادہ

فی زمانہ زندگی گزارنے کا ایک پرفیکٹ ماڈل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس ماڈل کے تحت آپ کسی اربن مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوں( اس ضمن میں آپ کو کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیدائش کے بعد شروع ہو گا) اپنے والدین کے خرچے پر کھیلیں کودیں، سکول جائیں، بہت اچھے نمبروں میں میٹرک یا او لیول کا امتحان پاس کریں، کالج میں داخلہ لیں، ابا سے حسب توفیق گاڑی یا موٹر سائیکل کی فرمائش کریں، گریجویشن کریں، جتنے نمبر آئیں اس حساب سے انجینئرنگ، میڈیکل یا ایم بی اے وغیرہ میں داخلہ لیں یا پھر سی ایس ایس کی تیاری کریں، کینیڈا آسٹریلیا، یو کے یا امریکہ میں پڑھنے کے لئے پر تولیں، تعلیم مکمل کریں، ملازمت تلاش کریں یا ابا کی فیکٹری سنبھال لیں، شادی کروائیں (اپنی)، بچے پیدا کریں اور پھر ان بچوں کو اسی ماڈل کے تحت بڑا کریں، ان کے سکول کالج کے فیسوں کی ٹینشن لیں، ان کے لئے ملازمت کا بندوبست کریں،ان کی شادیاں کریں۔۔۔۔ اور باقی زندگی خدا کی یاد میں بسر کر دیں


اس ماڈل میں بظاہر کوئی خرابی نہیں سوائے اس کے کہ ایک روز جب آپ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر کے دالان میں آرام کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہوں گے تو یہ گزری ہوئی زندگی ایک فلم کی طرح آپ کی آنکھوں کے سامنے چلے گی۔ اس وقت آپ کو یوں نہیں لگنا چاہئے کہ آپ نے زندگی میں بس جھک ہی ماری! ہر امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے سکول کی کلاس کے پچاس بچوں میں سے وہ نہ ہوں جن کا نام ہی استاد کو یاد نہیں رہتا، جسے کبھی سزا ہی نہ ملی ہو، جس کے سوالات سے ٹیچرز گھبراتے نہ ہوں، جو صرف پڑھائی میں ہی اے گریڈ نہ لیتا ہو بلکہ ہاکی میں سینٹر فارورڈ بھی کھیلتا ہو، جس نے کالج میں کبھی کوئی کلاس ’’بنک‘‘ نہ کی ہو جو اپنے دوستوں کی پراکسی لگانے سے گھبراتا ہو، جس نے کینٹین پر بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گپیں نہ لگائی ہوں، جس نے ہاسٹل کے کمرے میں صبح چار بجے تک تاش نہ کھیلی ہو، جسے کالج میں عشق نہ ہوا ہو، جس کا یونیورسٹی میں کوئی جھگڑا نہ ہوا ہو، جس نے اپنی کلاس فیلو کوخط نہ لکھا ہو، جس نے فرسٹ ایئر میں سگریٹ نہ پیا ہو، جسے دوستوں کے ساتھ لاہور سے مری جانے کی اجازت نہ ملی ہو، جس نے ’’ڈیٹ‘‘ پر جانے کے لئے دوست سے موٹر سائیکل نہ مانگی ہو۔۔۔

 

zindagiguzarny.jpgعجیب بات یہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں یہ یادیں انمول ہیں مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے، یہ باتیں ہماری زندگی سے آؤٹ ہوتی چلی جاتی ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہو پاتا، جن دوستوں کے ساتھ گھنٹوں ہم بے تکی باتیں کیا کرتے تھے وہ دوست چھوٹ جاتے ہیں، کچھ ملک سے باہرسیٹل ہو جاتے ہیں ،کچھ شہر چھوڑ جاتے ہیں، کچھ کو زندگی کی دھوپ جھلسا دیتی ہے اور کسی کی دوٹکے کی نوکری جان نہیں چھوڑتی، کچھ دوست رابطے میں رہتے ہیں مگر رسمی انداز میں، کچھ کو ہم رابطہ نہیں کرتے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی کی دوڑ میں ہم ان سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ گویا جن باتوں کو ہم اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں، ان باتوں کو زندگی کی دوڑ دھوپ کے نام پر خود ہی اپنی زندگیوں سے نکال باہر کرتے ہیں اور پھر کافی کا مگ ہاتھ میں لے کر یاد کرتے ہیں کہ ہائے وہ بھی کیا دور تھا، لڑکیوں کا حال تو اور بھی عجیب ہے۔ سکول کالج کے زمانے میں جن سہیلیوں کی ایک دوسرے میں جان ہوتی ہے، شادی کے بعد برسوں ان میں ملاقات ہی نہیں ہو پاتی۔ آج وہ مہ جبیں چار بچوں بمعہ ایک ہونق قسم کے خاوند کے ساتھ ملتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی نے اس کے اور اس نے زندگی کے ساتھ کیا سلوک کیا


لیکن ہم بھی کیا کریں جب سائیکل ملتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کب وہ دن آئے گا جب اپنی موٹر سائیکل کو کک لگا کر سٹارٹ کریں گے۔ جب موٹر سائیکل ملتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کیا وہ دن بھی آئے جب اپنی گاڑی ہو گی۔ جسے جب چاہیں گے سٹارٹ کرکے کہیں بھی لے جائیں گے۔ جب پانچویں جماعت میں تھے تو حسرت بھری نگاہوں سے سینئر سیکشن کو دیکھا کرتے تھے کہ کب ہمارا یونیفارم بھی ان بڑے بچوں جیسا ہو گا۔ جب سینئر سیکشن میں پہنچتے تو میٹرک کے امتحان کی ٹینشن جینے نہیں دیتی تھی۔کیونکہ فلموں میں دیکھا کرتے تھے کہ ہیروفقط دو تین کتابیں لے کر سارا وقت کینٹین میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ مستیاں کرتا ہے اور کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی اس پر فدا ہوتی ہے۔ کالج پہنچے تو پتا چلا کہ ایف ایس سی کرنے والوں کے لئے کالج میں بھی سکول جیسا ماحول ہے۔ پھر بی اے کے لئے دن گننے شروع کئے کہ بی اے میں یقیناًایسی پڑھائی ہو گی، جس کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا، بی اے میں پہنچے تو احساس ہوا کہ اصل موج تو یونیورسٹی میں ہے جہاں لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں یونیورسٹی میں سوچتے تھے کہ کب یہاں سے نکلیں گے اور اچھی سی نوکری کریں گے۔ اپنے پیسے کمائیں گے۔ جب نوکری ملی تو سوچا کب امیگریشن ملے گی اور اس ملک سے جان چھوٹے گی اور جب امیگریشن ملی تو سوچتے ہیں کہ کیوں نہ فیس بک پر ایک گروپ بنا کر اپنے سکول کالج کے دوستوں سے رابطہ کر کے پرانی سنہری یادوں کو تازہ کیا جائے۔


اپنی زندگی کو پرفیکٹ بنانے کے چکر میں کہیں ہم اسے

imperfect

تو نہیں بنا دیتے؟ شاید ہاں اور شاید نہیں۔ نہیں اس لئے کیونکہ باعزت طریقے سے زندہ رہنے کے لئے اچھا تعلیمی ریکارڈ، آگے بڑھنے کی لگن، ڈسپلن، اچھی ملازمت، کاروبار، ازدواجی زندگی سب ضروری ہے مگر زندگی اس سے بڑھ کر بھی کچھ مانگتی ہے۔ کروڑوں لوگ امتحانات میں اچھے گریڈ لیتے ہیں، کروڑوں لوگ دنیا میں بزنس کرتے ہیں، مگر زندگی صرف ملازمت کرنے یا کاروبار کرنے کا نام نہیں۔ زندگی صرف سولہ جماعتیں پاس کر کے نوکری ڈھونڈ کر شادی کرنے کا نام نہیں، زندگی یقیناًاس سے بڑھ کر کچھ مانگتی ہے۔ سو زندگی میں کوئی ایک ایسا کام ہمیں کر جانا چاہئے کہ جب زندگی کی فلم ریوائنڈ کر کے دیکھیں تو یہ نہ سوچیں کہ کاش میں نے کالج میں اس لڑکی سے اظہار محبت کر دیا ہوتا جو مجھے پسندتھی۔ کاش میں محکمہ جنگلات میں ملازمت کرنے کی بجائے وائلڈ لائف فوٹو گرافر بن جاتا، کاش میں اتنی دولت کمانے کے ساتھ ساتھ کوئی دو چار فلاحی ادارے بھی بنا دیتا، کاش مجھ میں سچ کہنے کی جرأت ہوتی اور میں دوٹکے کے ذاتی مفاد کی خاطر کسی کے سامنے نہ جھک جاتا۔ کاش میں اتنی پھیکی اور بے مزہ زندگی نہ گزارتا!

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

فوجی وردیاں تیار کرنے کے ماہر ارشد جبار سے محمد امجد چودھری کی گفتگو

وہ چشم تصور میں سرحدوں پر ڈٹے، دشمن سے برسرپیکار پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب قسم کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ ارشد جبار کو فخر ہے کہ دفاع وطن پر قربان ہونے والے افواج پاکستان کے بہت سے شہداء اور غازیوں کی وردی ان کے ہاتھوں سے سلی تھی۔ بہت سوں نے ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والی یونیفارم زیب تن کی ہوگی جس کی صورت میں وہ خود کو ان کے درمیان محسوس کرتے ہیں۔ یقیناان کے لئے یہ بات ایک اعزاز سے کم نہیں کیونکہ فوجی وردی کسی بھی سپاہی کے لئے ایک خاص معنی رکھتی ہے ۔ یہ نظم و ضبط اور ذمہ داریوں کا ایک ایسا سانچا ہے جس میں ایک سپاہی کو تربیت اور آزمائش کی بھٹی میں سے گزر کر خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ اس کی چمک دمک ایک سپاہی کے وطن کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھنے کے عزم کی عکاسی کررہی ہوتی ہے۔ اس پر سجے میڈلز اس کی جرات و بہادری ، قربانی اور خطرات سے ٹکرانے کی داستان سنا رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ قوم کی یکجہتی، عزت و وقار اور آزادی کی علامت ہے۔ ارشد جبار کو اس کے تقدس کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ایک خاص جذبے اور شوق سے اس کی تیاری کے فرض کو انتہائی سلیقے سے انجام دیتے ہیں۔

 

 

arshadjabarseguf.jpgارشد جبار نے جب آنکھ کھولی تو ان کے والد عبدالجبار کو یہ پیشہ اختیار کئے ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا۔ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل 1945ء میں راولپنڈی میں کشمیر روڈ پر ایک دکان کے باہر چھوٹے سے کام سے آغاز کیا۔ وہ اپنے کام میں مہارت سے جلد ہی اپنے گاہکوں میں مقبول ہو گئے۔ 1947ء میں ایک دکان کرائے پر حاصل کی۔ معروف بیوروکریٹ، ادیب اور دانشور قدرت اللہ شہاب اور ان کے بھائی اس دکان کے مالکان تھے۔ارشد جبار نے اپنی یادوں کو کریدتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دکان کا کرایہ دوسو روپے تھا اور ان کے والد دونوں بھائیوں کوسو سو روپے کے دو علیحدہ چیک کی صورت میں ادائیگی کرتے تھے۔1983ء میں ان کے والد نے یہ دکان خرید لی۔


ارشد جبار بارہ جماعتیں پاس ہیں۔ انہوں نے میٹرک پبلک سکول ایبٹ آباد سے کیا۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ انہوں نے جو کام شروع کیا ہے اسے مزید بہتر طریقے سے آگے بڑھائیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ارشد جبار کو اسی شعبے میں جدید مہارت کے لئے برطانیہ بجھوایا۔ 1972ء میں انہوں نے انگلینڈ ٹیلر اینڈ کٹر اکیڈمی ویلز سے ڈپلومہ حاصل کیا۔ 1973ء میں وطن واپسی پر انہوں نے اپنے والد کے کام کو مزید مہارت اور جدت سے کرنا شروع کیا اور خاص طور پر فوجی یونیفارم کی تیاری کے حوالے سے خوب نام کمایا۔ افواج پاکستان کی بہت سی اہم شخصیات نے ان کے ہاتھوں سے تیارہونے والی وردی زیب تن کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت سے افسر سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان سے یونیفارم تیار کروانے آئے جو آج جنرل کے رینک تک پہنچ چکے ہیں اور طویل عرصے سے انہی کی تیار کردہ یونیفارم پہن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کامیابی میں مہارت اور جدت کے علاوہ اخلاص، وقت کی پابندی اور وعدے کی پاسداری نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ان اصولوں کو کسی بھی شعبے اور کاروبار کی کامیابی قراردیا ہے کیونکہ گاہک کا اعتماد اسی سے بڑھتا ہے اوروہ طویل عرصے تک آپ کی خدمات سے استفادہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ نسلوں تک یہ تعلق چلتا ہے۔ بعض افراد کی تو تیسری نسل ان سے لباس تیار کروا رہی ہے۔


ارشد جبار کو وردی کے تمام لوازمات اور اقسام کا بخوبی علم ہے۔ انہیں رجمنٹل لوگوز، انسگنیاز، میڈلز، ٹائٹلز اور دیگر اشیاء میں کبھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ارشد جبار کو اپنے کام اور ہنر پر فخر ہے۔ ان کے تیارکردہ لباس کو گاہک زیب تن کر کے جب اطمینان کا اظہار کرتا ہے تو یہی ان کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا اس سے مجھے اپنے کام میں ایک عجیب سرشاری محسوس ہوتی ہے۔ میں اور بھی زیادہ محنت اور لگن سے کام کرنا شروع کردیتا ہوں۔ ان کی مہارت کے دلدادہ افراد کی ایک طویل فہرست ہے۔ ایک سپاہی سے لے کر جنرل تک اور ایک عام آدمی سے لے کر ممتاز سیاستدان ، بیوروکریٹ، کاروباری شخصیات ان میں شامل ہیں۔ ارشد جبار کے ایک بھائی خرم جبار اور بیٹا جنید جبار بھی اُن کے ساتھ اُن کے والد کی مہارت اور فن کی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جس کا آغاز 1945میں اُن کے والد نے کیا۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

لاہور، پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن تاریخی، علمی، ادبی، سیاسی، فکری اور ثقافتی حوالے سے اسے پاکستان کا دِل کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے آباد اس شہر کی تاریخ پُراسرار بھی ہے اور سحرانگیز بھی۔ مؤرخ اسے ڈیڑھ ہزار سال قدیم شہر قرار دیتے ہیں۔ لیکن ماہرینِ آثارِقدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ ’ہڑپائی‘ شہر ہے۔ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے زمانے کا شہر۔ اس حوالے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ دریاکے اس طرف جہاں یہ شہر آج آباد ہے، قدرتی اور انسانی آفات کے سبب یہ شہر کئی مرتبہ اجڑا اور آباد ہوا۔ پنجاب بھر میں ماہرینِ آثارِقدیمہ نے ہڑپائی بستیوں کے جو آثار دریافت کئے ہیں، اس میں چند آثار دریائے راوی کے دوسرے کنارے سے بھی ملے ہیں جوکہ اسی بستی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ماہرین آثارِقدیمہ کے دعووں کو تسلیم کیا جائے تو لاہور برصغیر کا وہ واحد شہر ہے جسے موہنجوداڑو دَور کا زندہ وآباد شہر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔


لاہور صدیوں سے اُن واقعات کو اپنے سینے میں دفن کئے بیٹھا ہے جس نے اس شہر ہی نہیں بلکہ خطے کی تاریخ پر انمٹ اثرات مرتب کئے۔ اسی لئے اس شہرِاسرار کو اس خطے کا علمی وفکری، ادبی وسیاسی ، ثقافتی وسماجی گہوارہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ہم لاہور کی گزشتہ چند صدیوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بڑے دلچسپ حقائق بے نقاب ہوتے ہیں۔ مغل شہنشاہ ہمایوں، چودہ سال ہندوستان کے تخت وتاج سے محروم رہا اور اسے اس دوران جلاوطن ہونا پڑا۔ 1554ء میں ہمایوں نے لاہور کو درحقیقت دوبارہ فتح کیا۔ وہی لاہور جسے شیرشاہ سوری اور اس کا بیٹا خاک میں ملا دینا چاہتے تھے۔ جب ہمایوں کی آمد لاہور ہوئی تو لاہور کے باسیوں نے پورے شہر میں چراغاں کرکے اُس کا استقبال کیا۔ ہمایوں کے انتقال کے بعد 1556ء میں اکبر اعظم کی تخت نشینی کے دوران لاہور اپنے دورِعروج میں داخل ہوا۔ اس دوران لاہور برصغیر کی طلسماتی بستی بن گیا۔ اسی لئے اکبر 1584ء سے 1598ء تک لاہور میں مقیم رہا۔ یورپی سیاح اس دوران لاہور کی شان وشوکت دیکھنے آتے تھے۔ متعدد یورپی سیاحوں سمیت ابوالفضل نے بھی اس شہر کے اس طلسماتی عہد کو سپردِقلم کیا۔

 

sherlahorekishan.jpgمغل دَورِحکمرانی میں اس شہر نے برصغیر سے لے کر وسطی ایشیا تک اپنے سیاسی وفکری اثرات مرتب کئے۔ اسی دَور میں دریائے راوی میں بحری جہازوں سے سندھ اورپھر بحیرۂ عرب تک تجارتی راستہ قائم تھا۔ عہدِ جہانگیری میں لاہور کی سیاسی، فکری اور ادبی زندگی کو مزید طاقت ملی۔رنجیت سنگھ کے زمانے میں لاہور کو اگر تلاش کیا جائے تو مزید دلچسپ حقائق اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس کے دَور میں فوجی تربیت کے لئے یورپ سے فوجی انسٹرکٹر یہاں آئے۔ اسی لئے اُس کے دربار میں پنجابی اور فارسی کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی رائج تھی۔ 1821ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر ولیم مور کروفٹ نے جب رنجیت سنگھ کے لاہور کو دیکھا تو ورطۂ حیرت میں ڈوب گیا کہ اس پنجابی حکمران نے فوج کے نظم ونسق کو کس جدید انداز میں جدید تقاضوں کے مطابق قائم کررکھا ہے۔


لاہوریوں کی انگریز سامراج کے خلاف پہلی بغاوت بھی اس شہر کی تاریخ کا جھومر ہے۔ 1849ء میں چیلیاں والا (گجرات) میں برطانوی سامراج نے برصغیر میں کالونائزیشن کی تکمیل کے لئے آخری جنگ لڑی جس میں پنجاب کے سپوتوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ بدقسمت پنجابی سپاہی، انگریز افواج کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔ اس کے بعد انگریزوں نے اس طلسماتی بستی (لاہور) میں قیام کے انتظامات شروع کر دئیے اور مسیحی عبادت کے لئے بھی کوششیں شروع کردیں۔ اس کے لئے یہاں پر موجود مقبرہ انارکلی کو انگریزوں نے جون 1851ء میں ’’سینٹ جیمز چرچ‘‘ قرار دے دیا اور عمارت کے گرد خاردار تار لگا دئیے۔ جب لاہوریوں کو انارکلی کے مقبرے کو گرجاگھر میں بدلنے کی خبر ملی تو اہلیانِ لاہور اس (گرجاگھر قرار دی گئی) عمارت کی طرف چڑھ دوڑے۔ اس دوران برطانوی سامراج کے مسلح اہلکاروں نے نہتے شہریوں پر بے دریغ گولیاں برسائیں جس سے متعدد لاہوری شہید ہوگئے۔ اس کے بعد 1857ء کی جنگِ آزادی میں بھی لاہور چھاؤنی میں موجود دیسی جوانوں نے علمِ بغاوت بلند کیا۔ اس شہر کے لوگوں نے جو تحریکیں برپا کیں وہ اپنی جگہ، لیکن اس شہر کے باسیوں نے کئی ایسے واقعات بھی دیکھے کہ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ہاتھیوں، گھوڑوں، اونٹوں اور دیگر جانوروں سے چلنے والی سواریاں تو یہاں عام تھیں۔ لیکن 1862ء میں لاہوریوں نے پہلا سٹیم انجن جب راوی کنارے اترتے دیکھا تو اُن کے لئے یہ’ سیاہ جن‘ ایک عجوبہ تھا۔ (انڈس سٹیم فلوٹیلا کمپنی اسے کراچی کی بندرگاہ سے دریائی راستے سے لاہور لائی تھی۔) سٹیم انجن راوی کنارے اتارنے کے بعد لاہور ریلوے سٹیشن پہنچایا جانا بھی حیران کن منظر تھا۔ ایک سو دو بیل اور دو ہاتھی اس انجن کو لاہور ریلوے سٹیشن تک کھینچ کر لائے۔ سٹیم انجن کا راوی کنارے اترنا، پھر چوبرجی سے ہوتے ہوئے ریلوے سٹیشن تک جانا، اس موقع پر شہر میں میلے جیسی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔


اسی شہرِ لاہور میں پیسہ اخبار اور زمیندار اخبار جیسے اخباروں کے اجراء نے برصغیر بھر میں دھوم مچا دی اور صحافت کے شعبے میں ناقابل فراموش نام بھی پیدا کئے۔ ان اخبارات سمیت دیگر اخبارات نے ہی تحریکِ آزادی کے چراغ جلائے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران یہاں پر بغاوت برپا تھی۔ پنجاب بھر سے لوگ جنگ عظیم، جنگ بلقان میں برطانوی سامراج کی چیرہ دستیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کررہے تھے۔ عبیداللہ سندھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کابل منتقل ہو چکے تھے جن میں لاتعداد نوجوان شامل تھے۔ ان باغیوں میں مسلمان، ہندو اور سکھ سب ہی لوگ شامل تھے۔ وہاں جلاوطن حکومت بھی قائم کی گئی۔ آزادی کے یہ متوالے اس وقت روس، افغانستان، جرمنی اور سلطنت عثمانیہ کے ساتھ رابطوں میں تھے۔ میرے مطالعے میں اس دَور کی ایسی سرکاری دستاویزات آئی ہیں جن میں لاہور میں انٹیلی جینس والوں کو خاص ہدایت نامہ جاری کیا گیا کہ اُن سیاسی، سماجی، ادبی اور متحرک لوگوں پر نظر رکھیں جو کابل میں موجود آزادی پسندوں، باغیوں کے ساتھ یا پھر روس، جرمنی، افغانستان اور سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جن لوگوں پر نظر رکھے جانے کی ہدایت کی گئی، اُن میں علامہ محمد اقبالؒ بھی شامل تھے کہ وہ ایسی محفلوں میں شامل ہوتے تھے جو برطانیہ سے آزادی چاہتے تھے اور محمد اقبالؒ ان محفلوں میں باغیانہ شاعری کرکے بغاوت پر آمادہ کرتے تھے۔ اسی لئے برطانوی سامراج نے 1919ء میں رولٹ ایکٹ پاس کیا۔ اس کا نام تھا
The Anarchical and Revolutionary Crimes Act 1919

اس ایکٹ کے تحت، برٹش سرکار نے اختیارحاصل کیاکہ آزادی، انقلاب اور برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو بغیر مقدمہ چلائے گرفتار کیا جاسکے۔ اس سیاہ قانون کے خلاف لاہور کے شہریوں نے شدید احتجاج شروع کیا تو 13اپریل 1919ء کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر مائیکل ایڈوائر نے لاہور میں مارشل لاء نافذ کرکے احتجاج کرنے والوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد لاہور اور امرتسر احتجاجی مظاہروں کا گڑھ بن گئے۔ اس دوران لاہور کی سڑکیں خون سے سرخ ہوگئیں کہ یہ لاہوریئے آزادی چاہتے تھے۔ انہی مظاہروں کے سلسلے میں جلیانوالہ باغ کا سانحہ برپا ہوا جس میں 380نہتے پُرامن آزادی پسندوں کو برٹش راج نے موت کی نیند سلا دیا۔


لاہور متعدد علمی، فکری، ادبی اور سیاسی تحریکوں کا مرکز اور نقطۂ آغاز بننے کا اعزاز بھی رکھتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی تعلیمی آبیاری تو مختلف سکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہوئی۔ مگر یہ لاہور شہر ہے جس نے اس فلسفی اور شاعر کو شاعرِ مشرق اور مفکر پاکستان جیسی معراج پر پہنچایا کہ لاہور میں ان کی فکر، شاعری اور سیاسی سوچ پروان چڑھی اور اسی شہر سے اُن کی دھاک پورے ہندوستان میں پھیلی۔ 6جنوری 1923ء کو مقبرہ جہانگیر پر ایک گارڈن پارٹی میں گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میکلیگن کی صدارت میں علامہ اقبالؒ کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی جہاں انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس تقریب میں چھے سو سے زائد معززینِ شہر شریک ہوئے جن میں رنجیت سنگھ کی پوتی (بمبا سدر لینڈ) اور سر فضل حسین بھی شامل تھے۔


قراردادِ لاہور جس نے مسلمانانِ برصغیر کے مقدر کا فیصلہ کیا، اسی شہرِ لاہور میں پیش ہوئی۔ 22سے 24مارچ تک منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانانِ برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہوا۔ لاہور شہر میں پیش ہونے والی اس قرارداد نے برصغیر میں ایک نئی ریاست کے وجود کی بنیاد رکھی۔ لیکن ایک اور بڑی حقیقت ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوچکی ہے کہ اسی شہر لاہور میں آل انڈیا کانگریس نے ایک اجلاس میں تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ 31دسمبر 1929ء کو راوی کنارے آل انڈیا کانگریس نے مرحلہ وار آزادی کے مطالبات کی بجائے مکمل آزادی کے لئے ایک اعلامیہ جاری کیا جسے ’’پورنا سوراج‘‘ یعنی مکمل آزادی قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے ہوم رُول، ڈومینین رُول جیسے مطالبات کئے جاتے تھے۔ اسی شہرِ اسرار میں کانگریس نے برطانوی سامراج سے مکمل آزادی کا عہد کرکے یہ ثابت کیا کہ جو فیصلے لاہور میں کئے جائیں، وہی سیاسی مقدر ہوتے ہیں۔ 31دسمبر 1929ء نئے سال کے آغاز کے وقت نہرو نے دریائے راوی کنارے نصف شب تین رنگوں کے جھنڈے کشائی کرکے اس تحریک کی بنیاد رکھی جس نے آزادئ ہند اور بعد میں آزادئ پاک وہند کے راستے متعین کئے۔


لاہور نے 20فروری 1974ء کو اسلامی تاریخ میں ایک ایسا نظارہ کیا کہ جہاں عالمِ اسلام کے چالیس سے زائد حکمران اور لیڈر اکٹھے ہوئے۔ اسلامی کانفرنس کے اس اجلاس میں آزادئ فلسطین کے سرکردہ رہنما یاسر عرفات اور اُن کی تنظیم پی ایل او کو آزادئ فلسطین اور فلسطین کی نمائندہ تنظیم قرار دیا گیا اور یاسرعرفات کو پہلی مرتبہ بحیثیت سربراہِ حکومت کے پروٹوکول کے تحت ریسیو کیا گیا۔ اس وقت پی ایل او کو اسرائیل اور اس کی ہمنوا عالمی طاقتیں دہشت گرد قرار دیتی تھیں۔ اسی کے نتیجے میں، اقوامِ متحدہ میں یاسر عرفات کو خطاب کی دعوت دی گئی جہاں سے تحریک آزادئ فلسطین ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اس تاریخ ساز فیصلے کی بنیاد لاہور میں ہی رکھی گئی۔


لاہور نے اپنے ہاں دنیا کے نامور سپوتوں کو جنم بھی دیا اور اپنی جھولی میں ان نامور سپوتوں کی پرورش بھی کی۔ اس شہر کے پانچ سپوتوں کے سینے پر دنیا کا سب سے بڑا عالمی اعزاز نوبل پرائز بھی سجا۔ ان پانچ سپوتوں نے اس بستی میں پرورش پائی اور اپنے شعبے میں کامیابی کا آغاز کیا۔ رڈیارڈ کپلنگ، سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر اور نامور ادیب کو اپنے مشہورِعالم ناول
Kim
پر 1907ء میں نوبل انعام ملا۔ وہ ایک عرصہ لاہور میں مقیم رہے اور لاہور میوزیم کے سامنے رکھی توپ آج تک
Kim
سے منسوب ہے۔آرتھر کومپٹن، جنہیں 1927ء میں کیمسٹری میں ایک نئی شاخ
Magnetochemistry
کی بنیاد رکھنے پر نوبل انعام ملا، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے وابستہ رہے۔ ہرگوبند کھرانہ جنہیں 1968ء میں جینیات میں نوبل انعام ملا، برٹش دَور میں لاہور میں پیدا ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی۔ ڈاکٹر عبدالسلام جنہیں 1979ء میں فزکس ہی میں نوبل انعام سے نوازا گیا، پیدا تو جھنگ میں ہوئے لیکن انہوں نے اسی شہر لاہور میں اپنے علمی اور تحقیقی کاموں کو پروان چڑھایا اور گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہیں پڑھاتے بھی رہے۔ 1983ء میں فزکس میں نوبل انعام پانے والے سبھرامنائن چندرشیکھر بھی یہیں پیدا ہوئے، ان کے والد ریلوے ورکشاپ مغل پورہ میں انجینئر تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور یہیں پڑھاتے بھی رہے۔ لاہور اپنے کئی حوالوں سے جس قدر تاریخ ساز شہر ثابت ہوا ہے، اس کی مثال برصغیر کے کسی دوسرے شہر میں نہیں ملتی۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
March

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آج ہم تیسرے نغمے کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ نغمہ 10ستمبر 1965کو ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستانی افواج اپنے جنگی محاذ پر دشمن کو تاریخ ساز شکست دینے کے لئے کوشاں تھیں۔ ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے کچھ فوجی جوان زخمی ہو کر لاہور سی ایم ایچ میں داخل ہوئے ہیں۔ میں،میڈم نورجہاں اور میوزک کمپوزر حسن لطیف فوری طور پر پھول لے کر ان زخمی جوانوں کو ملنے سی ایم ایچ گئے۔ میڈم نورجہاں اور میں نے ان تمام جوانوں کی عیادت کی، پھول پیش کئے۔ میڈم نورجہاں نے وہاں پر ایک اور ملی نغمہ گا کر سنایا تاکہ ان زخمی جوانوں کی ہمت افزائی ہو سکے۔ ایک جوان ایسا تھا جس کی بم لگنے سے ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں دوبارہ محاذ پر جانا چاہتا ہوں۔ میری زندگی اس قوم کی امانت ہے۔ اپنے ملک اور قوم کے لئے جان کی قربانی دینے کے لئے ہم سب ہر وقت تیار ہیں۔ ہم نے دشمن کو کسی صورت آگے نہیں بڑھنے دینا۔ واپس ریڈیو سٹیشن آ کر میں نے صوفی تبسم کو اس واقعے کے متعلق بتایا اور گزارش کی کہ ان جذبات کے لحاظ سے کوئی خوبصورت ترانہ ہونا چاہئے۔ صوفی تبسم نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ استھائی لکھ دی۔


اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
کیہہ لبھ نی ایں وچ بازار کڑے


اس استھائی کو لے کر میں پوری ٹیم کے ساتھ اسٹوڈیو نمبر2چلا گیا۔ اور اس کی دھن راگنی بھیرویں میں موزوں کی۔ راگ بھیرویں تمام کومل سروں کا مجموعہ ہے اور اس کا تاثر دوسرے راگ راگنیوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس شہرہ آفاق نغمے کی بنیادی دھن میں نے ترتیب دی اور اس کے انترے میڈم نورجہاں اور ماسٹر مھنوں نے مل کر بنائے۔ نہایت عمدہ دھن بن گئی۔ تمام دن میں یہ شہرہ آفاق نغمہ لکھا گیا۔ کمپوز ہوا اور شام کے وقت اس کی ریکاڈنگ مکمل ہوئی۔ میڈم نورجہاں نے اس کے بولوں کے مطابق ایسے دل گداز انداز میں اس کو گایا کہ یہ نغمہ امر ہو گیا۔ یقین مانیں جب یہ نغمہ ریکارڈ ہونے کے بعد میں نے میڈم نورجہاں اور صوفی تبسم سے سنا تو ہم سب کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں۔ کہ کس کمال کا نغمہ تخلیق ہوا ہے۔ حالات اور جنگی محاذ کے منظر کو بیان کرنے میں اس نغمے کے ہر بول اور دھن نے دلوں پر بہت مثبت اثر کیا۔ یہ نغمہ نشر ہونے کے بعد ہمیں متعدد ٹیلیفون موصول ہوئے کہ آپ نے کیسا خوبصورت نغمہ پروڈیوس کیا ہے۔ یہ سب ہماری ٹیم کی مشترکہ کوشش تھی کہ ریکارڈنگ کے درمیان صوفی تبسم ہمارے پاس رہے۔ ایک استھائی اور انترہ مکمل ہونے کے بعد نغمے کی شکل نکل آئی۔ ہم نے اس کی تیاری میں کافی وقت لیا۔ جوں جوں صوفی صاحب انترے لکھ کر دیتے ہم ان کو بڑے اچھے انداز میں شامل کرتے جاتے۔ ایک استھائی اور تین انترے تھے۔ ان انتروں کے ہر بول میں وقت کی صورت حال اور ہمارے جوانوں کا جذبہ نمایاں تھا۔ یعنی موت سے نہ ڈرنا اور جذبہ شہادت سے سرشاری، ان بہادر جوانوں کا طرہ امتیاز تھا جیسا کہ اس انترے میں نمایاں ہے۔


ایہہ شیر بہادر غازی نیں۔ ایہہ کسے کولوں وی ہردے نئیں
ایہناں دشمناں کولوں کیہہ ڈرنا۔ ایہہ موت کولوں وی ڈر دے نئیں
ایہہ اپنے دیس دی عزت توں جان اپنی دیندے وار کڑے

دھن بھاگ نے اوہناں مانواں دے جناں مانواں دے ایہہ جائے نئیں
دھن بھاگ نیں بہن بھرانواں دے جناں گودیاں ویر کھڈائے نئیں
ایہہ مان نیں ماناں والیاں دے۔ نئیں ایس دی تینوں کار کڑے

ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے کی لبھ نی ایں وچ بزار کڑے
ایہہ دین اے میرے داتا دی ۔ ناں ایویں ٹکراں مار کڑے

ایہہ پتر وکاؤ چیز نہیں، مل دے کے جھولی پائیے نی
ایہہ ایناں سستا مال نئیں۔ کتوں جا کے منگ لیایئے نی
ایہہ سودا نقد وی نئیں وگدا تو لبھدی پھریں اُدھار کڑے
ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے کی لبھ نی ایں وچہ بزار کڑے


اس نغمے میں شیربہادر جوانوں کے ذکرکے ساتھ ان ماؤں اور بہنوں کا بھی ذکر ہے جن کی گود میں انہوں نے پرورش پائی، یہ شیرجوان ان ماؤں کا مان ہیں۔ صوفی تبسم صاحب نے کمال مہارت سے ترانہ لکھا اور ہم نے اپنی پوری پوری صلاحیت کے ساتھ اس کی دھن بنائی اور میڈم نے بولوں کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمہ گایا۔


میرے اپنے خیال میں میرے تمام پروڈیوس کئے ہوئے نغموں میں یہ سب سے اعلیٰ نغمہ ہے۔ باقی تمام نغمے بھی وقت کی مناسبت سے اچھے ہیں مگر اس نغمے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اسی نغمے کی ریکارڈنگ کے دوران میڈم نورجہاں کے گھر سے ظل ہما کا ٹیلیفون آتا کہ اماں ہوائی حملے کا اعلان ہو رہا ہے۔ فوراً گھر آ جائیں۔ مگر میڈم اور میرا یہی کہنا ہوتا تھا کہ موت جہاں بھی آنی ہے اس کا ایک وقت مقرر ہے‘ ہم اپنا آج کا کام نہیں چھوڑ سکتے۔ باقی زیادہ تر لوگ باہر گراؤنڈ میں کھودی ہوئی خندق میں چلے جاتے اور ہم سب کو آنے کا کہتے۔ مگر میرا اپنی ریکارڈنگ ٹیم کو یہی کہنا تھا کہ ہم میں سے کوئی نہیں جائے گا۔ ریکارڈنگ چلتی رہے گی ہم اپنے کام میں مگن پوری توجہ کے ساتھ ریکارڈنگ کرتے رہتے۔ صوفی صاحب کا یہ مصرعہ ہماری بہت ہمت افزائی کرتا۔


ایہہ شیربہادر غازی نیں ایہہ کسے کولوں وی نیں ہردے نئیں
ایناں دشمناں کولوں کِیہہ ڈرنا ایہہ موت کولوں وی ڈر دے نئیں


پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی خبریں بھی ملتیں مگر ان کی ثابت قدمی اور فتح کے پیغام بھی خبروں میں ملتے رہتے۔ اسی مناسب سے ہم اگلا نغمہ صوفی صاحب سے لکھواتے اور اس کی دھن بنا کر ریکارڈ کرتے اور فوری طور پر نشر کر دیتے۔ ہمیں ہمارے سٹیشن ڈائریکٹر (مرحوم) شمس الدین بٹ کا یہی حکم تھا۔ اﷲ پاک کے فضل و کرم سے کسی دن کوئی ناغہ نہیں کیا۔ ہر روز نیا نغمہ لکھوانا یا منتخب کرنا اور اس کو ریکارڈ کر کے نشر کرنا میری ڈیوٹی میں شامل تھا۔ میں نے دن رات محنت کر کے اس کام کو پوری ذمہ داری سے نبھایا۔ اس کے لئے مجھے کیا کچھ کرنا پڑتا یہ میرا اﷲ ہی جانتا ہے۔


مجھے بہت مشکلات پیش آئیں مگر میں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ اور پوری قوت اور جذبہ ایمانی سے اپنے کام کو پورا کیا۔ میڈم نورجہاں مجھے کہتیں کہ اعظم میاں تم کس قدر محنتی انسان ہو تھکتے نہیں۔ یہ سب اﷲ پاک کی مجھ پر مہربانی تھی کہ میں نے اپنی قوم اور ملک کے لئے انتھک محنت اور کوشش کی یہی وجہ تھی کہ اﷲپاک نے مجھے اپنے کام میں کامیابی عطا فرمائی۔
(جاری ہے)

ڈاکٹر نثار ترابی

اپنے مان اپنے پاکستان کے نام
(۲۳؍ مارچ کے تناظر میں)

سورج چمکے بن کر تیری گلیوں کا بنجارا
تیرا جوگی ہو کر نکلے ‘ شام کا پہلا تارا
تو ہے مان ہمارا
تیری شامیں خوشبو تھامیں ‘ نس نس جوت جگائیں
تیرے نام پہ قریہ قریہ پھیل گیا‘ اجیارا
تو ہے مان ہمارا
تیری دُھن میں رنگ جمائیں ‘ چار سُروں کے پالے
تیری موج میں گاتا جائے ‘ تیرا راوی دھارا
تو ہے مان ہمارا
کیوں نہ تیری آن ہمیں ہو ‘ اپنی جان سے پیاری
ہم نے ڈوب کے دریا دریا تیرا نقش ابھارا
تو ہے مان ہمارا
تیرے خواب سجا کے پلکیں ‘ قوس قزح شرمائیں
تیری مٹی کو چومے تو جگنو بن جائے تارا
تو ہے مان ہمارا
تو آنکھوں میں ٹھہرا سپنا ‘ تجھ پہ نازاں جیون اپنا
تو ہی ناؤ ‘ تو ہی دریا ‘ تو ہی آس کنارا
تو ہے مان ہمارا

*****

 
14
March

تحریر: میجر مظفر احمد

حوالدار (ر) تاج مسیح مارچ 1939کو ضلع بہاولپورکی تحصیل حاصل پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مارٹن پرائمری سکول کرسچین کالونی حاصل پور میں حاصل کی۔ وہ پست قد مگر نہایت ہی چاق چوبند اور پھرتیلے تھے۔ بچپن سے ہی کھیلوں سے رغبت تھی اور سپورٹس میں نام کمانا چاہتے تھے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انہوں نے ہاکی کے کھیل کو چنا اور اُس میں مہارت حاصل کرنا شروع کی۔ انہی اوصاف کی وجہ سے انہوں نے اوائل عمری میں ضلع بہاولپور کی ہاکی ٹیم میں اپنی جگہ بنالی اور ٹیم کے ہر دلعزیز کھلاڑی بن گئے۔
جب انہوں نے جوانی میں قدم رکھا تو پاک فوج میں بطور سینٹری ورکر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں 15جنوری 1957کو پاکستان آرمی کی 3پٹھان رجمنٹ کا حصہ بن گئے (جو بعد میں12ایف ایف رجمنٹ کہلائی)۔

 

22فرنٹیر فورس رجمنٹ جانباز بٹالین جب مشرقی پاکستان جیسور میں تعینات تھی توان کی پوسٹنگ مئی 1970کو اس میں کر دی گئی۔ یونٹ نے جلد ہی ان کی اسپورٹس کی صلاحیتوں کو جانچ لیا اور بھرپور مواقع فراہم کرنا شروع کر دئیے۔ انہوں نے یونٹ کے اعتماد پر پورا اُترتے ہوئے نہ صرف کھیل کو ترجیح دی بلکہ بطور سینٹری ورکر اور دفاعِ وطن کے لئے بحیثیت سپاہی بھی پیش پیش رہے۔ ان جیسے بہادر اور فرض شناسوں کی وجہ سے ہی 22فرنٹئیر فورس رجمنٹ اپنے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سمین جان بابر کی سربراہی میں مکتی باہنیوں کی بغاوت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہی۔مزید برآں جب انڈین لڑاکا طیارے، ٹینک،آرٹلری اور راکٹ بارش کی طرح برس رہے تھے، تب بھی حوالدار تاج مسیح یونٹ کے ساتھ دشمن کے خلاف محاذ پر برسرپیکار رہے۔ یہاں یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ 8دسمبر ( یونٹ بیٹل ڈے) کو جانباز بٹالین نے بینا پول - جگرگاچا روڈ پر

Y

جنکشن جے مقام پر دشمن کی پیش قدمی کو نہ صرف روکا بلکہ اُس کے ٹینکوں اور توپ خانے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مزید برآں 16دسمبر 1971کو دشمن کے آگے ہتھیار نہ ڈالے اور18دسمبر1971کو ہتھیار ناکارہ بنا کر کھلنا دریا میں بہانے کے بعد حکومتی احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے جنگی قیدی بن گئے۔
تذکرہ کتاب
"The Warden of Marches"
(لیفٹیننٹ جنرل (ر) عتیق الرحمن)
حوالدار تاج مسیح مسلسل دو سال تک آگرہ کی جیل میں دشمن کے مظالم اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد 1973کے آخر میں رہا ہو ئے۔

khamoshspihai.jpg
1974میں جانباز بٹالین کی تنظیم نو کے موقع پر وہ دوبارہ ملتان کینٹ میں یونٹ کا حصہ بنے اور یونٹ کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں نئی روح ڈالنی شروع کی۔ انہوں نے 1975میں شب وروز محنت کرتے ہوئے 17ڈویژن کھاریاں کے حصہ کے طور پر یونٹ کو کھیلوں میں رنر اپ کی ٹرافی دلوائی ۔ انہوں نے صحیح معنوں میں مختلف اسٹیشنوں پر یونٹ کے پرچم کو کھیلوں میں بالعموم اور ہاکی میں بالخصوص سرنگوں نہ ہونے دیا۔
ان کی سروس سا ل 1976میں اختتام پذیر ہوئی۔ ان کی خداداد صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اپریل1977میں جانباز بٹالین نے ان کو بحیثیت ہاکی کوچ منتخب کر لیا۔ 19سال تک کوچنگ کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے انہوں نے یونٹ کے عَلم کوکسی بھی ڈویژن میں نیچے نہ آنے دیا ۔انہی خدمات کو سراہتے ہوئے سال 2003کے14ڈویژن اوکاڑہ کے ہاکی مقابلوں کے موقع پر اُس وقت کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل احتشام ضمیر جعفری نے ان کو انعام سے نوازا اور تعریف کی۔


یہ یونٹ کے ساتھ ان کی لگن تھی کہ اپنی بگڑتی ہوئی صحت اور لیفٹیننٹ کرنل ملک محمد انور اقبال سی او جانباز بٹالین کے آرام کے مشورے کے باوجود انہوں نے2004-2006تک آپریشن المیزان میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں یونٹ کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔ ان کی موجودگی سروکئی، وانا، جنڈولا، ٹل، شیوہ اور سپین وام جیسی پر خطر جگہوں پر بھی یونٹ کے جوانوں کے لئے حوصلے کی بلندی کا باعث تھی۔ عمر زیادہ ہونے کے باوجود بھی وہ 2007-2009 تک آپریشن راہِ راست میں یونٹ کے ساتھ ساتھ رہے ۔
سال2010 میں جب ان کی صحت انتہائی خراب ہو گئی اور ان کا جسم بیماری سے لاغر ہو گیا تو یونٹ نے ان کو دوبارہ گھر میں آرام کرنے کا مشورہ دیااور ان کی خدمات کے صلے میں یونٹ نے ان کے بیٹے جمیل مسیح کو بطو ر سینٹری ورکر بھرتی کر لیا۔


اس عظیم، جرأت مند اور محب وطن خاموش سپاہی کا انتقال 20دسمبر 2016 کو ہواانہیں کرسچن کالونی قبرستان حاصل پور میں سپردخاک کر دیا گیا۔حوالدار تاج مسیح کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور پاکستان کے تمام بیٹوں نے بلاامتیاز مذہب، رنگ، نسل اور زبان کے اس کی خدمت اور حفاظت کرنی ہے۔

 
14
March

انٹرویو: صبا زیب

کسی بھی ملک یا علاقے کی ثقافت کو جاننے کے لئے وہاں کے لوگوں کا رہن سہن، زبان اور طور طریقے دیکھنے پڑتے ہیں۔ ملک کی پہچان ثقافت ہوتی ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے اسے فخر کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی ثقافت کا پرچار دنیا کے ہر کونے میں عزت اور وقار کے ساتھ کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب اور ثقافت کو دنیا میں زندہ رکھا۔ یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ثقافت میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے اور یہ تبدیلی اسے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ جب بات ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کی ثقافت کی کریں تو یہ کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہو گا کہ یہاں کی ثقافت اپنے اندر ایک جہاں کو سموئے ہوئے ہے ۔ اس کی وسعت اور زرخیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں 70سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان میں سے کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جو پوری دنیا میں کہیں اور نہیں بولی جاتیں۔ اپنی اس ثقافت کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے ہمارے ملک کے بہت سے لوگ اور ادارے کام کر رہے ہیں انہی میں ایک معتبرنام فوزیہ سعید کا ہے جو آج کل لوک ورثہ میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کام کر رہی ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم نے ان سے ثقافت کے حوالے سے کچھ سوالات کئے ہیں جو یقیناًدلچسپی کا باعث ہوں گے۔
سوال: آپ ثقافت یا کلچر کو کیسے ڈیفائن کریں گی؟
جواب: ثقافت یا کلچر کے دو حصے ہیں۔
Tangible
اور
Intangible Intangible
ثقافت کا وہ حصہ ہے جسے ہم چھو نہیں سکتے۔ مثلاً زبان، رسم و رواج، رہن سہن وغیرہ اور
Tangible
میں لباس شامل ہے جسے ہم چھو سکتے ہیں تو بنیادی طور پر کلچر میں یہی چیزیں شامل ہیں۔

hamryhanapnykachar.jpg
سوال: پاکستانی کلچر کی تعریف کیسے کریں گی؟
جواب: میں یہی کہوں گی کہ صدیوں سے اس دھرتی‘ اس سرزمین پرجو مختلف تہذیبیں آتی رہی ہیں اور مختلف مذاہب آتے رہے ہیں ان کا
Composite
کلچر ہے میں یہ کبھی نہیں کہوں گی کہ ہمارا کلچر 1947میں آیا۔ اس سے پہلے بھی جو اس دھرتی پر آیا سب ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔ اس میں انڈس ویلی ہے گندھارا ہے۔ جو اس سرزمین پر ہوا ہم اس سب کو اون کرتے ہیں کیونکہ اس سب کی جھلک ہمارے کلچر میں ہے۔ ہم پاکستانی ہیں۔ اس سرزمین کا جو ماضی ہے اس سب کے ساتھ ہم پاکستانی ہیں۔ اکثر ہم اپنے کلچر کو صرف عرب مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت محدود تعریف ہے جو کچھ یہاں ہوا وہ سب ہمارے کلچر پر اثرانداز ہوا اور وہ سب ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔
سوال: ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں دیہات زیادہ ہیں۔ ہمارا کلچر بھی دیہی ہے۔ اگر ہم ماڈرن کلچر، جو صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی سے تشکیل پا رہا ہے، کی بات کریں تو آپ اس کے ہمارے دیہی کلچر پر کیااثرات دیکھتی ہیں؟
جواب: بہت زیادہ فرق پڑتا ہے جو بھی آپ کی ویلیوز ہیں وہ تبدیل ہوتی ہیں۔ جب لوگ دیہاتوں سے شہروں کی طرف آتے ہیں تو اس میں اکنامک فیکٹر زیادہ ہوتا ہے اس وقت لوگوں کو لگتا ہے کہ جب تک ہم اچھی اردو نہیں بولیں گے یا اچھی انگریزی نہیں بولیں گے ہمیں اچھی نوکری نہیں ملے گی تب ہم اپنے کلچر سے
Disassociate
کرتے ہیں۔ اپنی زبان سے
Disassociate
کرتے ہیں لباس سے کرتے ہیں اور پھر جب ہمیں ایسی جگہ نوکری ملتی ہے تو وہاں کا ماحول ہمارے کلچر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس وقت اگر ہم انگریزی کو کسی اور کے لہجے میں بولیں گے تو لوگ ہم پر ہنسیں گے تب ہمارے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم انگریزی سمجھیں، بولیں اس طرح ہماری ترجیحات میں انگریزی سب سے پہلے ہے۔ پھر اردو۔۔۔ اور وہ بھی ایک خاص لہجے والی اور پھر ایک لمبے گیپ کے بعد علاقائی زبانوں کی باری آتی ہے۔ ایک زمانہ تھا، ہمارے ہاں شہروں میں بھی بڑے آرام سے کڑھائیاں، سلائیاں ہوتی تھیں۔ سکول کی چھٹیوں میں بچیاں بڑے آرام سے سلائیاں کڑھائیاں کرتی تھیں۔ تحائف بھی اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے دیئے جاتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ ہوا کہ جب آپ نے بازار سے خرید کر کوئی چیز تحفہ دی تو اس کی قدر زیادہ کی جانے لگی بہ نسبت اس کے جو گھر میں ہاتھ سے بنا کر دی جاتی ۔ جیسے پہلے ہم
Potato
پینٹگ سے کارڈز گھروں میں بناتے تھے پھر ان کی قدر بازار کے کارڈز نے ختم کر دی۔ اسی طرح ہمارا کلچر تبدیل ہوتا گیا۔ یہاں یہ بات بہت افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ ہمارے ہاں اپنے کلچر کوبرا کہنا ہی ایک کلچر بن گیا ہے۔ ہم اپنے کلچر کو عزت کے ساتھ اپناتے ہی نہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کلچر کے ساتھ ہماری عزت کم ہو جائے گی۔ جدت پسندی کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ آپ اپنے کلچر کو پیچھے چھوڑ دیں۔
سوال: پاکستانی کلچر کو فروغ دینے کے لئے ہم ماڈرن ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گی کہ کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ بات کبھی نہیں سوچنی چاہئے کہ کلچر جامد ہے۔ مثال کے طورپر آپ اپنے ذہن میں لے کر آئیں کہ ایک بڑے پیڑ کے نیچے ایک چرواہا بانسری بجا رہا ہے۔ اب اس تصویر میں رومانس بہت ہے لیکن فوک کلچر یہ بھی ہے کہ بھرے بازار میں لوگ ہیں اور کسی گھر کی اوپر والی منزل سے ٹوکری نیچے لٹکائی جاتی ہے اور اس میں سامان ڈالا جاتا ہے یہ بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے، یہ حقیقت ہے کہ ہمارا کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے گیت تبدیل ہوتے ہیں۔ ہمارے ہیروز تبدیل ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے کلچر اپنی ثقافت کو تبدیل کرنا ہے۔ اسے ترجیح دینا ہے، جب چیزوں کے بارے میں آگاہی بڑھتی ہے توہم کچھ چیزوں کو اپنے کلچر سے نکال دیتے ہیں۔ اسے میں
Pruning
کا عمل کہتی ہوں۔ جیسے پودوں اور درختوں کی بہتر نشوونما کے لئے ان کی کانٹ چھانٹ ضروری ہوتی ہے اسی طرح اپنے کلچر میں سے بری چیزیں نکالنا اس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ اپنے کلچر کو ہم نے ایسے ہی گروم کرنا ہے۔ ہمیں ایسی چیزوں کو نکالنا ہے جو ہمارے لئے ٹھیک نہیں جو ہمیں کہتی ہیں کہ اس بات پر ماں کو مار دو۔ بہن کو مار دو وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ بدعتیں اور جڑی بوٹیاں ہیں جن کو نکالنا بالکل جائز ہے۔ مجھے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوک ورثہ کاروکاری کو پروموٹ کرنے کے لئے کیا کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے لیکن ہم اسے آگے لے کر نہیں جا سکتے۔ ہماری ہیومن رائٹس کی اتنی معلومات ہو گئی ہیں۔ جس سے ہمیں یہ پتا چل گیا ہے کہ
Discrimination
کیا ہے تو اب ہم ان آلات سے اپنے کلچر کی
Pruning
کرتے ہیں ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے جب آگاہی بڑھتی ہے تو ان Measures
کے مطابق آپ اپنے کلچر کو ٹھیک کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ
Collective
Wisdom سے ہوتا ہے ۔ میرا تعلیم حاصل کرنا مجھے نہیں روکتاکہ میں اپنی ثقافت پر عمل نہ کروں۔ میں ایک پی ایچ ڈی پاکستانی خاتون ہوں اور میں اپنی روایات سے پیار کرتی ہوں۔ بہت سے ینگ لوگوں کولگتا ہے کہ ثقافت کو اپنانا قدامت پسندی ہے اور ان کو لگتا ہے کہ اگر ماڈرن ہونا ہے تو ثقافت کو چھوڑنا ہے لیکن میں کہتی ہوں کہ ثقافت کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے اس کو کھڑکی سے باہر نہیں پھینکنا چاہئے۔ مثال میں دیتی ہوں لباس کی، ایک زمانہ تھا جب ہمارے ہاں غرارے اور شرارے چلتے تھے۔ بہت وزنی زیورات پہنے جاتے تھے لیکن وقت بدلتا گیا۔ اب عورتیں ملازمت کرتی ہیں وہ غرارے شرارے نہیں پہنتیں لیکن ہماری شلوارقمیض میں اتنی گنجائش تھی کہ اس میںآرام سے کام کر سکتے ہیں۔ اپنی ثقافت کو
Transform
کر لیں گے تو یہ ہمیں
Modernization
میں مدد کرے گی۔ دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ جیسے ماضی میں جاپان میں کیمونوز پہنے جاتے تھے لیکن یہ ایسا لباس تھا جو ان کے کام میں مشکل پیدا کرتا تھا۔ اس لباس میں تبدیلی لانے کے بجائے انہوں نے اسے استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا۔ آہستہ آہستہ وہ بہت کم نظر آنے لگا۔ اب آپ جاپان میں بھی وہی یورپی اور امریکن لباس دیکھتے ہیں۔ جب آپ اپنے کلچر کو
Modify
نہیں کریں گے تو پھر ایک بالکل الگ چیز آپ کے معاشرے میں نظرآنے لگے گی۔ اس سے نقصان بہت ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عورتوں کے لباس میں کافی تبدیلی نظر آتی ہے لیکن مردوں کے لباس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور بالکل نئی چیز یعنی وہی مغربی لباس نظر آتا ہے کیونکہ مردوں نے اپنے لباس میں تبدیلی نہیں کی۔

 

hamryhanapnykachar1.jpgسوال: پاکستانی کلچر کے سٹرانگ پوائنٹس کیا ہیں؟
جواب: اگرلوگ اسے اپنا لیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے کلچر میں سب سے مضبوط چیز رشتے ہیں اور پھر جو یہ گروپ
Orientation
ہے یہ مجھے بہت پسند ہے۔ ہم بچپن سے ہی لفظ’ ہم‘ استعمال کرتے ہیں ہم لوگ ’ہم‘ کر کے سوچتے ہیں۔ میں جب لوک ورثہ کی بات کرتی ہوں تو ہم کر کے سوچتی ہوں۔ اپنی فیملی کی بات کرتی ہوں تو ہم کر کے سوچتی ہوں جبکہ بہت سے مغربی ممالک ایسے ہیں جنہیں ہم کر کے سوچنے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ وہ ’میں‘ سے شروع ہوتے ہیں اور ’میں‘ پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ جبکہ ہم لوگ گروپ کی بقاء کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اپنوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکیں۔ اگر ہم اپنے کلچر کا مغربی کلچر سے موازنہ کر کے دیکھیں تو اس میں جو چیز بالکل فرق نظر آئے گی وہ یہی ہے یعنی رشتوں کو نبھانا۔
سوال: آپ نے کہا کہ کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ آپ ہمیں بتائیں کہ ہمیں اپنے کلچر کو کن لائنز پر
Evolve
کرنا چاہئے؟
جواب: سب سے پہلے تو یہ کہ ہمیں اپنے کلچر کی عزت کرنی چاہئے۔ کلچر کو ہم نے ایک ہوّا بنا دیا ہے جتنی بھی بری چیزیں ہیں وہ ہم نے کلچر کے نام لگا دی ہیں اور اچھی چیزیں
Modernization
کے نام کر دی ہیں۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم اپنے کلچر کی مثبت چیزوں کو سامنے لے کر آئیں اور اس کی عزت بڑھائیں۔ عزت کے ساتھ اس میں تبدیلی لے کر آئیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ تبدیلی لانا مشکل ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر پیار اور محبت سے یہ سب کیا جائے تو کچھ بھی مشکل نہیں۔ بہت سی ایسی چیزیں ہمارے کلچر کا حصہ بن چکی ہیں جن کا پہلے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جیسے جیسے آگاہی بڑھتی ہے مہذب معاشرے ویسے ویسے پروان چڑھتے ہیں۔ ہمارے کلچر کے مستقبل کی سمت بھی یہی ہو گی۔ نئی رِیت، نئے رواج ایسے ہی جنم لیتے ہیں جیسے پہلے زمانے میں عورتیں کنویں پر اکٹھی ہوتی تھیں اور آپس میں باتیں شیئر کرتی تھیں وہی کچھ اب فیس بک پر ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جو
Hangout
گروپ بنتے ہیں یہ ویسے ہی ہیں جو کنویں پر ہوتے تھے۔
سوال: ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی بہت عام ہوگئی ہے اپنے معاشرے کو پرامن بنانے کے لئے کلچر کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
جواب: کلچر بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ کلچر لوگوں کے دلوں تک پہنچتاہے۔ جیسے بلھے شاہ، یا بابا فرید کی کافی ہو تو وہ سیدھی دل پر اثر کرتی ہے۔ کلچر میں بہت طاقت ہے یہ دلوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے۔ برصغیر میں اسلام تلوار کے زور پر نہیں آیا تھا بلکہ ان صوفیائے کرام نے پیار اور محبت کا درس دے کر اسلام کو پھیلایا۔ ہم ان جیسے عقلمند نہیں ہیں ہم انہی سے سیکھ سکتے ہیں کہ تبدیلی کیسے لانی ہے۔ اس کے علاوہ تخلیقی اظہار اور ابلاغ
(Creative Expression)
بہت ضروری ہے۔ یہ عسکریت پسند اس سے دور بھاگتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کی اینٹی بائیوٹک ہے یا یوں کہیں کہ ان کی ویکسین ہے میرے خیال سے جوبندہ ساز اٹھاتا ہے وہ ہتھیار نہیں اٹھا سکتا۔ جو
Creative
آدمی ہے وہ جان نہیں لے سکتا۔ یہ بم دھماکے کرنے کے لئے دلوں کو سخت کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے معاشرے میں تخلیقی عمل کو بڑھا کر اسے امن پسند بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی تخلیقی کو دوبارہ حاصل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں کوئی کمیونٹی ایسی نہیں جن کی اپنی زبان نہ ہو، موسیقی نہ ہو، رقص نہ ہو۔ اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ یہ چیزیں نیچرل ہیں تخلیقیہمارے ڈی این اے میں ہے اگر ہم اسے دبائیں گے تو پھر جنگلی جانور ہی بنیں گے اور اگر اسے ابھاریں گے تو انسانیت کی طرف آئیں گے۔
سوال: اکثر انڈین دانشور کہتے ہیں کہ ہمارا کلچر ایک ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ گنگا،جمنا اور دریائے سندھ کی تہذیبوں میں بہت فرق ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
جواب: گئے وقتوں میں کہ ساؤتھ ایشیئن ممالک میں بہت سی چیزیں ایک جیسی ضرور تھیں۔ تاہم اب سب کی اپنی اپنی شناخت ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارا منفی امیج بن ساگیا ہے جبکہ پاکستان کا نام سنتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیں کیونکہ ہم نے دنیا کو اپنا کلچر بندوق والا زیادہ بتایا ہے اور باقی چیزوں پر ہم نے پابندی لگا رکھی ہے۔ ہم میں
Similarities
ہیں لیکن ہم بہت منفردبھی ہیں اپنی اس انفرادیت کو ہم نے ابھی تک استعمال نہیں کیا نہ کبھی ہم نے فخر کے ساتھ اپنی کسی ثقافت کو اپنایا۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ انڈیا ہماری انڈس ویلی کو بھی اپنا کہہ رہا ہے دنیا میں لوگ انڈس ویلی کو پاکستان کے بجائے انڈیا کی وجہ سے پہچان رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم کبھی فخر سے بتاتے ہی نہیں کہ ہم اس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں یہاں تک کہ مہر گڑھ کو نہیں پوچھتے۔ ہمارے نصاب میں وہ شامل ہی نہیں، نہ ہمارے بچوں کو اس کے بارے میں کچھ پتا ہے۔ جب آپ اپنی چیز کی رکھوالی نہیں کرتے تو پھر اسے لوگ ہتھیا لیتے۔ اب انڈیا اور پاکستان کی عورتوں کے مسائل ایک جیسے ہیں لیکن دنیا میں انڈیا کی عورتوں کو بہادر مانا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کی عورت کو مظلوم تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنا
image
ہی ایسا بنایا ہے ۔
سوال: پاکستان کی ثقافت دنیا کی باقی ثقافتوں سے کیسے منفردہے؟
جواب: ہماری ثقافت بہت زرخیز ہے ہماری 70زبانوں میں سے 25 کے قریب ایسی زبانیں ہیں جن میں باقاعدہ ادب موجود ہے۔ اب جیسے میں کہتی ہوں کہ مجھے اپنی ثقافت میں رشتے بہت پسند ہیں۔ رشتے اور بھی بہت جگہوں پر اہم ہیں لیکن ہمارے ہاں ایک الگ انداز ہے۔ جیسے آپ ماں کے رشتے کو لے لیں کہ آپ بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن ماؤں کے ساتھ وابستگی ویسی ہی رہتی ہے۔ یہ بہت منفرد چیز ہے۔ پھر ہمارا میوزک ہے، قوالی ہے، ہماری تربیت ہے۔ ہمارے گلگت بلتستان میں یاک پولو کھیلی جاتی ہے جو اور کہیں نہیں کھیلی جاتی۔
سوال: لوک ورثہ ہمارے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کیا کر رہا ہے؟
جواب: مجھے یہاں آئے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں ہم نے اپنی ترجیحات سیٹ کیں۔ ہماری پہلی ترجیح نوجوان نسل اور بچے ہیں ہم نے انہیں اپنی ثقافت سے روشناس کروانا ہے۔ دوسری ترجیح یہ کہ پہلے
Documentation
اور
Publications
پر زیادہ زور دیا گیا مگر
Dissemination
پرکم زور دیا۔ اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ جو بھی ہم کام کریں گے اس کی پراڈکٹ بنا کر معاشرے میں پھیلانی ہے۔ میڈیا کے ذریعے اسے آگے لے کر جائیں گے تاکہ وہ ہمارے بچوں کے کام آئے اور آنے والی نسل اپنی شناخت زیادہ بہتر طریقے سے کر سکے۔ اس کے علاوہ اب ہم ہر سال سمر کیمپ لگاتے ہیں جس کی
Theme
کوئی بھی قومی یا علاقائی زبان ہوتی ہے۔ پہلے سال ہم نے بلوچی زبان کی
Theme
استعمال کی جس میں بچوں کو بلوچی زبان میں ایک گیت بھی سکھایا گیا۔ اس سمر کیمپ میں ہر قسم کا
Fun
اور
Games
بھی ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ’رباب‘ پر بہت کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ ہماری ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں خیبرپختوخواہ کے لوگوں سے کہتی ہوں کہ تم لوگ چاہے جتنے مرضی ماڈرن ہو جاؤ لیکن رباب بجانا نہ چھوڑنا کیونکہ یہ ہمارے کلچر کا نشان ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دہشت گردی کو توڑتا ہے۔ اس کے بجانے سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے ہم نے لوک ورثہ میں رباب بجانے کا مقابلہ کروایا اور اس مقابلے میں جیتنے والوں میں ایک رکشہ ڈرائیور تھا اور ایک پھل فروش۔
ہم نے لوک ورثہ میں چھوٹے بچوں کاٹیلنٹ ہنٹ کروایا جو بہت کامیاب رہا۔ لوک ورثہ اپنے ہیروز کو پروموٹ کر نے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حبیب جالب، احمد فراز، جون ایلیا ان کے بارے میں ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں۔ پھر ہم
"Dying Instruments"
پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انڈس ویلی کی تہذیب میں ایک ساز ہوتا تھا۔
Brindio
اس کو ہم بنوا رہے ہیں۔ لوک ورثہ میں اب میلوں کا انعقاد بہت زیادہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں میل ملاپ بڑھ رہا ہے۔
سوال: متوازن معاشرے کے لئے مرد اور عورت کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
جواب: اس کے لئے میں یہی کہوں گی کہ ہمیں رِیت اور رواج کوآہستہ آہستہ
Modify
کرنا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں سے عورتوں کے ایسے رول تلاش کرنے ہیں جن میں عورت مضبوط رہی ہو۔ اس میں میں ایک مثال ہیر کی دوں گی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک بہت بہادر خاتون تھی اور اپنے سارے فیصلے خود کرتی تھی۔ وارث شاہ نے ہیر لکھی۔ ہیر کے مزار میں رانجھے کی قبر بھی ہے۔ لیکن لوگ اسے ہیر کا مزار ہی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ میں ایک مومل کا کردار تھا جسے زیادہ تر لوگ صرف ایک طوائف کے طور پر جانتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایک بہت بہادر عورت تھی اس نے اپنے باپ کا بدلہ لیا تھا۔ اس لئے میں کہتی ہوں کہ ہم نے معاشرے میں توازن اپنی ہی جڑوں سے لے کر آنا ہے۔
سوال: آپ کو اپنا مقام حاصل کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: میری کہانی بھی عام عورتوں کی طرح ہے۔ ابتدا میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر میں پابندیاں بھی تھیں۔ پہلی بار جب میں ٹیلی ویژن پر آئی تو اس وقت میں کالج میں پڑھتی تھی۔ اس وقت میری دادی گھر پر ٹیلی ویژن لگانے ہی نہیں دیتی تھیں کہ اگر دادا نے دیکھ لیا تو بہت برا ہو گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آئی۔ مجھے لگتا ہے کہ پیار اور محبت سے اگر ان رشتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے تو سب کام آسان ہو جاتے ہیں آپ کے والدین بھی آپ کے ساتھ ساتھ
Grow
کرتے ہیں۔ میری اپروچ یہ ہے جو کہ میں ہر بچی کو بتاتی ہوں کہ اپنے لئے
Elbow-room
بنائیں۔ اس میں کسی بھی اصول کو توڑا نہیں جاتا بلکہ آہستہ آہستہ اپنے لئے جگہ بنائی جاتی ہے۔

hamryhanapnykachar2.jpg

 
13
March

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

(پاک نیوی)

Together For Peace

 

دنیا میں امن و آشتی کے فروغ اور اقوام عالم کے مابین تعاون اور اعتماد بڑھانے کے لئے پاک بحریہ نے2007 میں ’’امن‘‘ کے نام سے جن کثیرالملکی بحری مشقوں کا سلسلہ شروع کیاتھا’امن17‘ اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔ 2007 کے بعد سے پاک بحریہ ہر دو سال بعدامن مشقوں کا انعقاد کرتی رہی ہے اس برس’امن17‘ میں 37ممالک کی بحری افواج کے نمائندوں اور بحری اثاثوں کی شرکت جہاں پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال کی عکاس ہے وہاں میری ٹائم سیکٹر میں امن کے قیام کے لئے پاک بحریہ کی طرف سے کی جانے والی جہد مسلسل کا ثمر بھی ہے۔ امن2017 کی بحری مشقوں کا انعقاد اور بین الاقوامی بحری افواج کی شرکت بھی اسی اعتماد کا مظہر ہے۔
Together for Peace
کے اصولِ عمل کے ساتھ ان مشقوں کا مقصد یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے دنیا کے مسائل کے بہتر اور قابل عمل حل تلاش کئے جا سکتے ہیں۔
یہ مشقیں ہاربر اور سی فیز
(Harbour & Sea Phase)
پر مشتمل ہوتی ہیں ہاربر فیز کا مقصد باہمی دلچسپی کے امور اور نئے خیالات پر غور و فکر ہے جبکہ سی فیز میں مختلف آپریشنز مشترکہ طور پر کئے جاتے ہیں۔امن مشقیں نہ صرف مختلف ممالک کی بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث ہیں بلکہ باہمی اعتماد میں بہتری کا سبب بھی ہیں۔ ان مشقوں میں شریک تمام ممالک نئے تجربات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اور اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید نکھارتے ہیں۔
یہ مشقیں صرف آپریشنل نوعیت کے معاملات پر مشتمل نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد ایک ایسا ماحول پروان چڑھانا ہے جہاں اقوام عالم کے مابین اعتمادکی فضا قائم ہو۔اسی لئے امن میں شریک ممالک کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں آگہی بھی ان مشقوں کا ایک اہم حصہ ہے۔امن مشقوں کے دوران ہونے والاثقافتی شو شریک ممالک کی ثقافت اور تہذیب کی عکاسی کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کو باہمی اخوت اور محبت کا درس بھی دیتا ہے۔ جس کی بدولت انسانی ہمدردی اور محبت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔امن مشقوں میں شریک بحری افواج کے نمائندے مختلف ممالک کی ثقافت کے رنگ دیکھ کر نہ صرف ان ممالک کے ساتھ ایک نئی وابستگی محسوس کرتے ہیں بلکہ دنیا میں امن کے سفیر کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔


امن مشقیں جہاں اقوام عالم کے مابین روابط کو فروغ دیتی ہیں وہیں پاکستان کے بارے میں دیگر ممالک کا تصور تبدیل کرنے میں بھی نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔اقوام عالم میں پاکستان کا ایک امن پسند تصور پیش کرنے میں ان مشقوں کا اہم کردار ہے۔’امن 17‘ میں37 ممالک کے نمائندوں کی شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان پراقوام عالم کونہ صرف اعتماد ہے بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر امن کے فروغ کے لئے کام کرنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔
’امن 2017‘ کی کامیابی صرف پاک بحریہ یا شرکت کرنے والی بحری افواج کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی خواہشِ امن کی کامیابی ہے۔ ایسی جنگوں کے اہتمام کا آغاز ہے جو میدان کشت وخوں سے باہر برتری کے فیصلے کریں،جہاں مقصدخون بہانا نہیں بلکہ صرف اور صرف تقویتِ امن کا حصول ہو ۔

pneewsamanmask.jpg

 
13
March

تحریر: شوکت نثار سلیمی

کیپٹن اسامہ شہید کے حوالے سے ان کے والدِ محترم شوکت نثار سلیمی کے قلم سے ہلال کے لئے ایک خصوصی تحریر

یہ 6جون 1989کی ایک سعید گھڑی تھی جب میری گود میں تم نے آنکھ کھولی۔ یوں لگا تھا جیسے چاند میرے آنگن میں اتر آیا ہو۔ خوشبو، روشنی ہماری رگ و پے میں سرائت کر گئی۔ زندگی کی کرنیں جگمگا اٹھیں۔ تال، رقص اور سرور کی کئی شمعیں ضوفشاں ہو گئیں۔ بربط زندگی کی لے پر نغمے پھوٹنے لگے۔ روش روش بہار تھی۔ زندگی اتنی مسحور لگنے لگی تھی جیسے مسرت و شادمانی کی اوک سے خوشبوؤں کا رس پی رہی ہو۔

 

merashahedbeta1.jpgکاروان حیات اپنے جلو میں کتنی ہی گردشوں کے ساتھ رواں دواں تھا کہ 15دسمبر 2015 کو ہوا کے ایک ہی جھونکے سے امیدوں کے چراغ گل ہو گئے۔ میرے چٹکی چٹکی تمام خواب سراب بن گئے۔ عروس وقت نے کالی قبا پہن لی۔ اجل کا یہ پیغام آ گیا کہ ہم نے تمہارا جواں سال اکلوتا بیٹا اسامہ تم سے چھین لیا ہے۔ اب تم اکیلے بیٹھ کر یادوں کے پرنوچتے رہنا۔ دل پر لگے کاری زخم کی تمازت میں چپ چاپ سلگتے رہنا۔ صبح کو رو رو کر شام کیا کرنا اور اپنی آرزوؤں کو کفن پہنا کر پیوندِ خاک کر دینا۔ اسامہ بن نثار میرا لخت جگر، اپنی ماں کا نور نظر اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی، خاندان کے ہر فرد کی آنکھ کا تارا تھا۔ قدرت نے اسے بے پناہ ذہانت، زبان کی حلاوت اور ہاتھ کی فیاضی سے نوازا تھا۔ تعلیم کا آغاز ڈویژنل پبلک سکول فیصل آباد سے کیا۔ چہارم تک سی ڈی اے ماڈل سکول اسلام آباد کا طالب علم رہا۔ پانچویں جماعت انتہائی نمایاں پوزیشن کے ساتھ لاسال ہائی سکول فیصل آباد سے پاس کی۔ چھٹی سے ایف ایس سی تک اسلام آباد کالج فار بوائز F-8/4 اسلام آباد میں تعلیمی کیئرئر کی شاندار کامیابیاں سمیٹیں۔ اعلیٰ تعلیمی مدارج اور گولڈ میڈل حاصل کئے۔ 2007 میں بہت ہی اعلیٰ پوزیشن میں میڈیکل مضامین کے ساتھ ایف ایس سی کیا اور آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں ایم بی بی ایس کے بتیسویں کورس میں بطور ملٹری کیڈٹ داخلہ لیا۔ کالج کی قاسم کمپنی کا یہ مکیں اپنی تحریروں، تقریروں اور نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں سے ہر جگہ تموج پیدا کرتا رہا۔


سینئر کمپنی انڈر آفیسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ 20اپریل 2013 کو کاکول اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد بطور کیپٹن ڈاکٹر میڈیکل کور جوائن کی اور اڑھائی سال کے مختصر ترین پیشہ ورانہ عرصے میں اپنی یادوں کے انمٹ نقوش چھوڑ کر 15دسمبر 2015کو ڈیوٹی کے دوران دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ سیاچن کے بلتورو سیکٹر میں شہادت کے بلند مرتبے پر سرفراز ہو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

 

میرے شہید! تمہاری تُربت پر جا کر عہد کرنا ہے کہ وطن کا جو تصور تمہارے ذہن میں تھا اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہ دھرتی اب تک تقریباً ہزاروں شہیدوں کا لہو جذب کر چکی ہے۔ ہمیں یہ پیماں باندھنا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ساتھیوں کے روکنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ سامنے موت باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ آگے ہی بڑھتے رہنے کے عزم پر کاربند رہے تاکہ وطن کا پرچم سرنگوں نہ ہو۔ ہمیں بھی اس پرچم کو بلند رکھنا ہے۔


میرے شام! تم ہمیشہ چہکتے رہتے تھے۔ لیکن ستمبر 2015کے آخری ہفتے سیاچن جانے کے آرڈر موصول ہوئے۔ حج کی غرض سے سعودی عرب کے قیام کے دوران ہماری عدم موجودگی میں ہی تم نے اپنے دوستوں سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ مجھے شہادت بلا رہی ہے اور اپنے دوستوں کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ سرجری پارٹ ون کے پیپر نہیں دے سکوں گا کیونکہ میری تیاری کہیں اور کی ہے۔ بیٹے تم نے ہمیں خبر تک نہ ہونے دی کہ تم نے اگلے سفر کی تیاری کر لی ہے۔
تمہاری روحانی آرزوؤں کا مجھے کچھ کچھ اندازہ تھا جو اس وقت یقین میں بدل گیا جب میں نے باتوں باتوں میں ازراہ مذاق آپ سے کہا بیٹا اسامہ! اگر اﷲ سے پیار کرنا ہے تو پہلے عشق مجازی کا روگ بھی پال کر دیکھ لینا چاہئے جس کے جواب میں آپ نے کہا، پاپا جی! جب اﷲ سے ہی پیار کرنا ہے تو دنیا کو بیچ میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ براہ راست کیوں نہ کیا جائے۔ تمہارے چہرے پر اس سے پہلے ایسی سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ دراصل تم اپنے اﷲ سے سودا کر چکے تھے اور میں کورے ذہن کا خاکی انسان تمہاری شہادت کی تڑپ کو جان ہی نہ پایا۔ تم اپنی تمناؤں میں مولانا رومی اور اقبال ؔ کے فلسفہ فنا فی اﷲ کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے جن کے بے پناہ مطالعے نے تمہاری روح کو بالیدگی عطاکردی تھی۔


تمہاری سہرہ بندی یا سالگرہ ہوتی تو گھر کی منڈیروں پر دیئے جلاتا۔ خوشبوؤں کا چھڑکاؤ کرتا خوشیوں کی لَے اور تال پر تمہارا استقبال کرتا آنکھوں میں امیدیں جاگ اٹھتیں۔ لیکن اب تو تمہاری برسی آتی ہے اسے کس طرح سے مناؤں جس گھر میں تمہارے قہقہے بکھرتے تھے اب وہاں اداسی ڈیرے جمائے رہتی ہے۔ ہم دونوں رات ہوتے ہی دروازوں کی کنڈیاں چڑھا کر اپنی اپنی تنہائیوں میں کھو جاتے ہیں۔ تمہارے متعلق لکھنے لگتا ہوں ہوں تو پور پور جل اٹھتی ہے۔ تمہارا رابطہ نمبر بند ہو گیا، اس نمبر کو ملاتا ہوں تو کوئی جواب نہیں آتا۔ کلیجہ شق ہے۔ گریۂ شب کون دیکھے، نالۂ شب گیر کو کون دیکھے۔ چہرے پر آنکھیں نہیں دو دہکتے انگارے ہیں جو زخموں کی صورت تمہاری راہ تکتی ہیں ۔ چشم خوں بستہ سے لہو ٹپکتا ہے۔ آنسوؤں کا سیلِ رواں مجھے شرمسار کرتا ہے۔ ضبط غم کے سارے بندھن آپ ہی آپ ٹوٹ جاتے ہیں لوگ حوصلہ دینے آتے ہیں تو غم اور بڑھا جاتے ہیں۔ ٹیس ایسے اُٹھتی ہے کہ دیوارِ جاں ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہے۔ بیٹے ! تمہارے سوا میرا رازدان تھا بھی کون، کس کو پکاروں؟ ایسی دیوارِ خستہ ہوں جو کسی بھی وقت گرا چاہتی ہے۔ بہار جاں فزا ہے۔ جس زندگی کو مہمیز دیتی تھی وہ اب اک بے زبان باندی کی طرح ہے۔ شکن آلود وقت کی پیشانی کی جھریاں بہت گہری ہو چکیں اور آئینوں کے عکس یوں دھند لا گئے ہیں کہ ہم اپنی ہی صورت نہیں پہچان پاتے۔


شہید بیٹے! رات ڈھل چکی، پو پھٹنے والی ہے۔ ابھی تمہاری تُربت پہ جا کر پھول رکھنے ہیں۔ یہ پھول تمہارا سہرا باندھتے وقت اس گھر کی دہلیز پر رکھنے تھے جو تنکا تنکا جوڑ کر تمہاری آرزوؤں کے مطابق تعمیر کیا تھا۔ عمر بھر کی جمع پونجی سے تمہارے لئے جو آشیاں بنایا تھا وہاں رہنا تمہارے نصیب میں نہ تھا۔ اب وہاں میں اور تمہاری ماں ہیں اور سلگتی یادوں کے بے پناہ ہجوم اور تنہائیوں کے عفریت۔


میرے شہید! تمہاری تُربت پر جا کر عہد کرنا ہے کہ وطن کا جو تصور تمہارے ذہن میں تھا اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہ دھرتی اب تک ہزاروں شہیدوں کا لہو جذب کر چکی ہے۔ ہمیں یہ پیماں باندھنا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ساتھیوں کے روکنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ سامنے موت باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ آگے ہی بڑھتے رہنے کے عزم پر کاربند رہے تاکہ وطن کا پرچم سرنگوں نہ ہو۔ ہمیں بھی اس پرچم کو بلند رکھنا ہے۔
میرے شہید بیٹے! آپ کے ساتھ ساتھ اور بھی کتنی ہی ماؤں کے جگر گوشے، جوانِ رعنا، مہوشوں کے سہاگ، بہنوں کے بھائی اور نازک اندام بچوں کے باپ اپنی جوانی اس مٹی کی نذر کر چکے ہیں۔ دشمن عددی برتری کے زعم میں مبتلا ہے اور خبث باطن کی حیلہ گری ہمارا راستہ روکے کھڑی ہے۔ لیکن اسے خبر ہونی چاہئے کہ پاکستان کی بہادر اور جری افواج کا ہر سربکف جوان اور افسر، سرفروشی کی داستانیں رقم کر نے کو ہمہ وقت تیار ہے۔ تاکہ وطن عزیز کے گل رنگ سویروں پر کبھی تاریکی کے سائے نہ پڑیں۔


اسامہ بیٹے! آپ نے جس ایثار، جرأت، فرض شناسی اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، آپ کو ایسا ہی کرناچاہئے تھا۔ آپ اس سفر میں اکیلے نہیں افواج پاکستان کا ہر فرد شہادت کے ایسے ہی جذبے سے سرشار ہے۔

 
13
March

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل عارف محمود

( ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹا ئرڈ سید احمد مبین شہید)

کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین شہید اور موت میں شناسائی بہت پہلے قائم ہو چکی تھی، بارہا قضا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے والا یہ نڈر آفیسر 2013 میں کوئٹہ پولیس لائن میں جنازے کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے میں معجزاتی طور پر بچا تھا۔ جنازے پہ جاتے ہوئے اچانک سید مبین کی ماں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور وہ جنازہ چھوڑ کر اپنی ماں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے واپس آگئے تھے ، اس دھماکے میں ان کے قریبی ساتھی ڈپٹی انسپکٹر جنرل فیاض احمد سنبل نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ انھیں اب موت کا کچھ خوف نہ تھا،ابھی دوہفتے قبل انھوں نے اپنی سماجی رابطے کی سائیٹ فَیس بک پر ایک نظم میں دشمنانِ امن و انصاف کو یہ دعوتِ عام دی تھی کہ وہ تو حق کی راہ سے ہٹنے والے نہیں ،جو لوگ محض اس جرم پرا ن کی جان کے در پے ہیں وہ بے شک اپنا وار آزما ڈالیں۔

mujymaffkerdj.jpgزندہ رہا تو کرتا رہوں گا، ہمیشہ پیار!
میں صاف کہہ رہا ہوں، مجھے مار دیجیے
( شہید کی فَیس بک۔23 جنوری2017)
اس دن بھی وہ پیارکا عَلَم لئے لاہور کی مال روڈ کو عوام کے لئے کھلوانے چلے تھے،


’’میں خود جا کر لوگوں سے بات کرتا ہوں کہ وہ مال روڈ کو عوام کے لئے کھول دیں‘‘ یہ تھے وہ الفاظ جو انھوں نے مقتل میں جانے سے پیشتر ادا کئے تھے۔ لوگوں سے بات چیت کے دوران انھیں اپنے ایک خیر خواہ ڈی آئی جی نے فون پر بہت اصرار کیا تھا کہ وہ مظاہرے کی جگہ سے چلے جائیں،کیوں کہ انہیں واضح الفاظ میں دہشت گردوں کی طرف سے حملے کی دھمکیاں بھی موصول ہو چکی تھیں لیکن ان کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ موت کی دھمکیوں کی ذرا بھی پروا نہ کرتے تھے بلکہ ہر حساس اور اہم آپریشن کی قیادت رضاکارانہ طور پر خود کرتے، جعلی ادویہ سے متعلق احتجاجی مظاہرے میں بھی وہ از خود لوگوں کو منتشر کرنے چلے آئے تھے، جبکہ یہ ان کی ذمہ داری بھی نہ تھی۔ سید احمد مبین کی والدہ بتاتی ہیں 


شہادت کے دن میرا بیٹاصبح گھر سے روانہ ہوتے ہوئے کہنے لگا: ’’ امی آج مجھے تھکاوٹ ہو رہی ہے، بس یہ کام نبٹا کر آتا ہوں پھر آرام کروں گا۔‘‘ میں نے کہا: ’’بیٹا اگر تھکے ہو تو مت جاؤ، تمھارا جانا ضروری تو نہیں۔‘‘ کہنے لگا ’’بس یہ کام کر کے آرام کروں گا۔‘‘ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ ابدی آرام کی بات کر رہا تھا۔


دہشت گرد شکاری کتوں کی طرح سید احمد مبین کی تاک میں رہتے تھے، اس دن بھی چار دہشت گردوں نے فیصل چوک مال روڈ لاہور کا رخ کیا تو ان کا ہدف دیگر معصوم جانوں کے علاوہ سید مبین خصوصی طور پر تھے، احتجاج کے مظاہرین کی حفاظت پر مامور ایس ایچ او عابد بیگ نے بعد میں انکشاف کیا کہ اس نے جب مشکوک افراد کو مقامِ احتجاج کی طرف بڑھتے دیکھا تو رکنے کا اشارہ کیا جس پرایک مشکوک شخص خار دار تاریں پھلانگ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا اور مظاہرین میں شامل ہو گیا جبکہ تین بھاگ گئے۔ یہی 22 سالہ نوجوان دراصل خود کش بمبار تھا جو مظاہرین کے جھرمٹ میں گھرے ہوئے سید احمد مبین کے بالکل قریب جا پہنچا تھا۔وہ اپنی فطری بردباری اور انسان دوستی کے ہاتھوں مجبور مسلسل لوگوں کو سمجھا رہے تھے بلکہ ایک عینی شاہد کے مطابق یوں سمجھیے کہ لوگوں کی منت سماجت کر رہے تھے ،

mujymaffkerdj1.jpg
’’آپ نیک لوگ ہیں ، میں تو گناہگار آدمی ہوں۔۔۔‘‘
ڈپٹی انسپکٹر جنرل کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین کو اکثر اپنی مٹی کی محبت میں ایسے ایسے قرض بھی چکانے پڑے جو کبھی واجب بھی نہیں تھے۔ان کا ایمان تھا کہ احترام انسانیت میں اٹھایا ہوا ہر قدم عبادت ہے ۔ اس عبادت کے لئے وہ ہمہ وقت رضا کارانہ طور پر پیش پیش ہوتے،وہ بے گناہ انسانوں کے قتل پہ بہت کڑھتے تھے،وہ اعلان کر چکے تھے کہ میں اپنے دین اور وطن کے تحفظ میں اپنی صدا بلند کرتے کرتے جہان فانی سے کوچ کر جاؤں گا۔
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ہو کا شور
میں آخری صدا ہوں،مجھے مار دیجیے ۔!
( شہید کی فَیس بک سے)


اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور امن و محبت کا یہ راہی اپنے قریبی ساتھی زاہد گوندل ایس ایس پی آپریشنز، دیگر چار اہل کاروں اور سات مظاہرین سمیت را ہیِ ملک عدم ہوا۔ پاکستان کے دل اور زندہ دلان لاہور کے شہر میں قیا مت صغریٰ بپا ہو چکی تھی، اب کی بار قضا نے سید مبین کو مہلت نہ دی تھی، بس ان کی صدا ئے امن گونج رہی تھی۔
بارود کا نہیں میرا مسلک درود ہے
میں خیر مانگتا ہوں، مجھے مار دیجیے!
( شہید کی فَیس بک۔23 جنوری2017)


ہُو کا شور سچ مچ ناچنے لگا تھا، امن و محبت کے پھول بانٹنے والا اور لوگوں کی خوشیوں کا داعی ،سیکڑوں گھروں کا رازدار کفیل، ماں کا واحد سہارا اور تین بیٹیوں کا بابل،شہید خاندانوں کا ہمراز و غمخواراور اپنی سپاہ کا سگے باپ جیسا سایہءِ عاطفت، بیوی کا کبھی نہ لڑنے والا دوست اور پیا رکرنے والا سرتاج اور ننھے لخت جگر محمد طہٰ فرید کا ہر دلعزیز بابا اب شہادت کا جام پی کر خاموش ہو گیا تھا۔


شہادت کی خبر نشر ہوتے ہی سید احمد مبین شہید کے کورس میٹوں اور ساتھی آفیسرز کا تانتا بندھ گیا تھا، سبھی ماں کے گرد جمع تھے۔ سید احمد مبین کے والد گرامی اور ان کی والدہ کے رفیق حیات ڈاکٹر کرار حسین 15 سال پہلے داغ مفارقت دے چکے تھے لیکن مبین نے اپنی ماں کو ایک پل بھی احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ تنہا ہو گئی ہیں،یہاں تک کہ وہ خود کو بیوہ ہی نہیں سمجھتی تھیں۔اب اکلوتے بیٹے کی شہادت ان کے لئے ناقابل برداشت صدمہ ہونا چاہئے تھا ، اُس لخت جگر کی شہادت جو اُن کا مونس و غم خوار ہی نہیں زندگی کے نشیب و فراز اور مسائل کا واحد امرت دھارا تھا۔ ان کے قریبی دوست اور جے سی بی کے کورس میٹ لیفٹیننٹ کرنل افتخار نے ہمت کر کے ماں سے بیٹے کے کھو جانے کی بات کی تو صبر و استقامت کی دیوی بولیں:’’ کیا ہو ا میرا ایک مبین وطن کے کام آگیا، اللہ نے اتنے سارے مبین، میری قوم کے بیٹے مجھے عطا کر دیے ہیں اورمجھے شہید کی ماں ہونے کا اعزاز بخشا ہے۔الحمد للہ!‘‘
شہید کی اکلوتی بڑی بہن سیدہ ثروت قسیم اور مبین کا ساتھ ایک بہن بھائی سے زیادہ دوستوں جیسا تھا۔ بچپن، لڑکپن اور نوجوانی سے لے کر اتنی بڑی ذمہ داریوں تک سبھی مراحل پر احمد مبین اپنی بہن کی مشاورت کو خاص اہمیت دیتے تھے۔ ’’بھائی کے ساتھ تو میری اتنی یادیں ہیں کے بتانے لگوں تو ہفتوں میں بھی ختم نہ ہوں، مبین کہنے کو تو میرا بھائی تھا لیکن وہ میرا بچپن کا دوست اور ابا جان کی رحلت کے بعد تو بابل بھی وہی تھا۔‘‘


تعزیت کرنے والوں میں عیسائی اور ہندومذاہب کے لوگ بھی موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ ڈی آی جی سید احمد مبین ان کے لئے ایک مہربان اور مددگارشخصیت تھے جو ان کی کمیونٹی کے مسائل بھی حل کرتے اور ذاتی معاملات میں بھی مدد کرتے تھے،وہ صرف مسلمانوں کے نہیں تمام ہم وطن شہریوں کے ہمدرد و غمگسار تھے۔ یہ سید احمدمبین کے والدڈاکٹر کرار حسین کی اعلیٰ تربیت کا کمال تھا کہ سید احمد مبین ایک سعادت مند بیٹے، مخلص بھائی، بہترین شوہر، شفیق باپ اورانتہائی بردبار آفیسر ثابت ہو ئے تھے، ان کا معمول تھا کہ وہ گھر پہنچتے ہی ایک گھنٹہ اپنے ننھے شہزادے کے ساتھ کھیلتے، بیٹیوں کو پیار کرتے اور پھر بچوں کے ساتھ مل کر اپنے ننھے ننھے پیارے پیارے رنگ برنگے پرندوں کی دیکھ بھال کرتے۔ شاعری کے دلدادہ تھے۔فطرت نے مبین کی شخصیت میں ایک خاص جاذبیت اور انسیت پیدا کر دی تھی۔ وہ اپنی اہلیہ سیدہ آمنہ سے کبھی الجھتے نہ تھے، بلکہ اگر کوئی دوسرا دوست اپنے اہل خانہ سے درشت لہجے میں ہمکلام ہوتا تو اسے سمجھاتے اور خاندانوں کو جوڑنے کاکام کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ کو جہاں اپنے سرتاج کی قربانی پر نازہے وہیں ان کا دل اتنے بڑے خلا کو برداشت کرتے کرتے ڈوب سا جاتا ہے، ان کی تو ساری دنیا ہی سید احمد مبین تھے۔ سیدہ آمنہ کہتی ہیں: ’’جو شخص غیروں کے لئے مجسمہ شفقت ومہربانی اور غموں کا مداویٰ ہو اس کا برتاؤ اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ کیسا ہو گا!‘‘


سید مبین کو اپنے متعلقین میں اعتدال رکھنے میں خاص کمال حاصل تھا۔ماں کا مقام،خوشدامن کا وقار، بہن کا پیار،بیوی کا استحقاق،لخت جگر کا لاڈ اور دختران نیک اختر کے ناز نخرے سبھی کی فکر کرتے اور سبھی کے حقوق بدرجہ اتم پورے کرتے تھے۔ اللہ نے انھیں تین بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا تھا۔ بڑی بیٹی حبہ مبین آج ایم بی بی ایس کر رہی ہے جبکہ چھوٹی دونوں عبیرہ مبین اور دعا مبین بنیادی تعلیم کے مراحل طے کر رہی ہیں۔ سیدہ آمنہ بتاتی ہیں : ’’جب اللہ نے یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں عطا کیں تو میرے چہرے پر ملال کی پرچھائیاں پڑھ کرمبین نے فوراً مجھے حوصلہ دیا اور کہنے لگے کہ اللہ نے ہمیں جنت کی سند عطا کی ہے، اللہ کا شکر ادا کرو اور خوب خوشیاں مناؤ۔‘‘


کوئی ساتھی ان سے مشورہ چاہتا یا کسی قسم کی مدد کی درخواست کرتا تو اسے اپنے پاس بلاتے، گھر پر آنے اور قیام کرنے کی دعوت دیتے، اس کا مسئلہ حل کرتے، اگر مالی معاونت مانگے تو بلا تردد اس کی ضرورت پوری کرتے۔ اپنے ساتھی شہید ڈی آئی جی فیاض سنبل کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے اور ان کی ضرورتوں کا بدرجہ اتم خیال رکھتے ۔ ایک بار ایک کانسٹیبل نے انھیں بتایا کہ اس کے بیٹے کے دل میں سوراخ ہے اور بیرون ملک علاج کے لئے 20 لاکھ روپے درکار ہیں تو آپ نے اسے کہا کہ بسم اللہ کرو ، اللہ مدد کرے گا۔چنانچہ آپ کی کوشش سے بچے کا علاج بخیر و خوبی ہو گیا اور جب وہ کانسٹیبل سید احمد مبین کا شکریہ ادا کرنے لگا تو بولے ، ’’ اس رقم کا تعلق نہ تو پولیس فنڈ سے ہے اور نہ کسی ناجائز ذرائع سے اور نہ ہی میں نے جیب سے خرچ کیا ہے یہ تو اﷲ کی مدد سے میرے ایسے مخیر دوستوں نے مہیا کی تھی جو تمھیں جانتے بھی نہیں تم بس ان کے لئے دُعا کر دو۔‘‘ اسی طرح ایک کورس میٹ کے بیٹے کو جب بیرون ملک سنگاپور میں علاج کے لئے رقم کی ضرورت پڑی تو سب سے بڑا حصہ سید احمد مبین نے ڈالااور منتظم کو سختی سے منع کیا کہ کسی کو پتا بھی نہ چلے۔ اپنی فوجی یونٹ 42 بلوچ ’الحاوی‘ بٹالین کے لئے ان کے دل میں خاص مقام تھا۔ الحاوی کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل جمیل نے بتایا کہ ڈی آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین اپنی یونٹ کو کبھی نہیں بھولتے تھے اور سولجر سے لے کر سویلین کنٹریکٹر ز تک سب کو پوری توجہ اور عزت دیتے تھے۔ صوبیدار میجر رخسار بتاتے ہیں کہ جب بھی کوئی کیپٹن مبین کو ٹیلیفون کرتا تو لازمی جواب دیتے اور اگر فوراً فون نہ اٹھا سکیں تو جوابی فون کرتے اور ساتھ معذرت بھی کرتے۔ یونٹ میں ان کے ابتدائی ایام کا ذکر کرتے ہوئے صوبیدار میجر رخسار صاحب کہتے ہیں:’’مجھے کیپٹن مبین صاحب کو ہتھیاروں کی تربیت دینے کی ذمہ داری ملی تو کیپٹن مبین آفیسر ہونے کے باوجود ایک شاگرد کی طرح زمین پر دری بچھا کر میرے سامنے بیٹھ جاتے اور استاد جیسا احترام دیتے تھے۔‘‘ یونٹ کے سبھی آفیسرز اور سولجرز ان پر جان چھڑکتے تھے، جب شہادت کی خبر پہنچی تو ’الحاوی‘ کی اعزازی گارڈ کا دستہ ایک گھنٹے میں شہید کے اعزاز میں پہنچ چکا تھا۔

mujymaffkerdj2.jpgسید احمد مبین نے اسلامیہ ہائی سکول میکانگے روڈ کوئٹہ سے میٹرک کرنے کے بعد 1988 میں جے سی بی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ شروع میں وہ کافی کمزور لیکن ہنس مکھ کیڈٹ تھے۔ بریگیڈیئر ارشد سیال ان کے جے سی بی کے پلاٹون میٹ ہیں، وہ بتاتے ہیں: ’’ہم مبین کو اس کی نازکی پر چھیڑتے تھے، وہ بظاہر ہنس دیتا لیکن اس کی خودی کا کمال تب نظر آیا کہ جب پی ایم اے میں پہنچتے ہی مبین نے ایک نیا رخ اختیار کیا، جیسے اچانک کوئی نئی روح اس کے اندر عود کر آئی ہو،وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑھنے لگا تھا بلکہ جسمانی کھیلوں اور مشقوں میں بھی سب کو مات کرنے لگا تھا ۔ لیکن اپنے ساتھیوں کی طرف اس کا رویہ مثالی تھا، اکثر ان کی جگہ بڑی سے بڑی قربانی پیش کر دیتا، ایک بار اپنی پلاٹون کے ایس جی سی ( سینیئر جنٹلمین کیڈٹ) کے طور پر پوری پلاٹون کی غلطی کو اپنے سر لے لیا اور سزا کے طور پر رات بھر گورکھا حالت میں رہنا پڑا ، ایک اور موقع پر جب سینیئرز کے رگڑے سے کمر پر گہرے زخم خراب ہو گئے اور ڈاکٹر نے جاننا چاہا کہ زخم کیسے ہوئے تھے تو ڈٹ گیا اور سزا دینے والے کیڈٹس کے نام نہ بتائے ۔‘‘


سینئر ٹرم میں سید احمد مبین سی ایس ایم (کمپنی سارجنٹ میجر) بن گئے، ان کے ایک اور کورس میٹ میجر ارمغان نعیم نے بتایا کہ ’’جب ہم جونیئر ٹرم میں تھے تو اکثر مبین بھاگتا ہوا آتا اور کہتا ، ’’ اوئے بھاگو ! سی ایس ایم آ رہا ہے‘‘ اور پھر ایسا غائب ہوتا کہ سی ایس ایم کبھی ڈھونڈ نہ پاتا۔ جب خود سی ایس ایم بنا تو کوئی اس سے بچ نہ سکتا تھا۔‘‘


سید احمد مبین نے 17ِ اپریل1992 بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ پاک فوج کی مایہ ناز ’الحاوی‘ بٹالین ، بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور پھر یکے بعد دیگرے اپنے تربیتی کورسوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرتے گئے۔ کپتانی کے ستارے سجانے کے بعد 1995 میں سیدہ آمنہ بخاری کے ساتھ رشتہء ازدواج میں منسلک ہوئے۔ اسی دوران آپ کے انٹیلی جنس کورس کی وجہ سے آپ کو پاکستان رینجرز سندھ میں شر پسند عناصر کے خلاف فیلڈ سکیورٹی کی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ یہ دراصل آپ کی بنیاد تھی جس میں آپ نے انتہائی کامیابی سے سکیورٹی کے فرائض ادا کرتے ہوئے اعلیٰ تجربہ حاصل کیا۔ یہاں آپ کے کوڈ نام کیپٹن کاکڑ کی دھاک بیٹھ گئی تھی،۔ اس دوران آپ کو گولیاں بھی لگیں اور شدید زخمی ہوئے لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، آپ کے آپریشنز جاری رہے ۔ اگلے ہی سال آپ سول سروس کمیشن کا معیار پورا کرتے ہوئے سول سروس اکیڈمی چلے گئے اور پھر پاکستان پولیس میں اے ایس پی کے طور پر لاہور میں تعینات ہو گئے۔ آپ کی اگلی اہم تعیناتی کوئٹہ میں تھی جہاں بطور پولیس آفیسر اغوا برائے تاوان کے متعدد کیس حل کئے۔ در اصل بلوچستان کی سرزمین کا یہ سپوت وطن عزیز کی محبت کا استعارہ بن چکا تھا،سید مبین اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی معمول کے ایک دن میں 18 گھنٹے تک ادا کرتے۔ بعض اوقات تو تین تین دن تک مسلسل آپریشنز میں گزر جاتے اور چھٹی کے دن بھی کام کر رہے ہوتے۔ آپ نے کوئٹہ پولیس کو مایوسی کے اندھیروں اور خوف کی اتھاہ گہرائیوں سے نکالا، ان کی تربیت نو کی، ہر جگہ خود قیادت کرتے ہوئے ان کے اندر سے موت کا ڈر دور کیا ، انھیں ہمت و جرأت عطا کی اور مورال بلند کیا، اپنے زخمی سپاہیوں کے ساتھ پوری پوری رات بِتا دیتے، المختصریہ ان کی غیر معمولی قیادت کا اعجاز تھا کہ کوئٹہ پولیس صرف چھ ماہ کے عرصے میں نہ صرف اپنے پاؤں پہ کھڑی ہو گئی بلکہ علیحدگی پسندوں اور فرقہ واریت پھیلانے والوں حتیٰ کہ دہشت گردوں کے خلاف فوج کی مدد کے بغیر آپریشنز کرنے کے قابل ہو گئی ۔ ان کے قریبی ساتھی بریگیڈئیر فیصل نصیر جو ایک طویل دورانیے تک ان کے ہمراہ آپریشنز کرتے رہے اور ابتدائی طور پر بھی ان کے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کورس میٹ ہیں ایک ملاقات میں بتاتے ہیں ۔


’’سید مبین زیدی دہشت گردوں کے خلاف ایک ہزار سے زائد آپریشنز میں اپنی سپاہ کی قیادت کر چکے تھے،جن میں سے سب سے زیادہ آپریشنز ان کی جنم بھومی بلوچستان میں ہوئے تھے،2012 میں پشتون آباد (بلوچستان ) میں شرپسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی دھاک بٹھانے کے بعد کوئٹہ شہر میں مبین (شہید )نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی تھی۔ کوئی رات ایسی نہ تھی جب سید مبین ہمارے ساتھ پوری رات بنفس نفیس باہر نہ ہوں۔ 2013 کے قومی انتخابات کو ممکن بنانے میں مبین (شہید) نے اپنی سپاہ کے ہمراہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت کوئٹہ اور نواحی علاقوں میں انتخابات کا انعقاد جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا،ہماری خفیہ اطلاعات کے مطابق مشرقی بائی پاس کوئٹہ اور نواح میں دہشت گرد پرامن رہائشی علاقوں میں سرطان کی طرح سرایت کر چکے تھے، آئے دن چھوٹے موٹے دھماکے معمول بن چکا تھا،سید مبین شہید نے میرے دست راست کے طور چار ہزار سپاہ کے ہمراہ چار کلومیٹر تک گھر گھر تلاشی لیتے ہوئے پورے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرایا، اگرچہ اس وقت انھیں راکٹ حملوں کی واضح اطلاعات بھی مل چکی تھیں لیکن وہ عوام اور انتخابی عملے کی حفاظت کے لئے دن رات خود موجود رہتے حتیٰ کہ انتخابات بخیر و خوبی انجام پائے اور اگلا پورا سال کوئٹہ کا امن مثالی رہا۔ سید مبین فرائض کو ذاتی ذمہ داری سمجھ کر نبھاتے تھے،ایک بار ہمارے کچھ لوگ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنس گئے تو مبین ذاتی طور پر رات کے تین بجے میرے ہمراہ ان لوگوں کو چھڑا کر لائے۔‘‘


کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے قیام میں آپ کی خدمات لاجواب تھیں۔ اس ادارے کو پنجاب اور بلوچستان میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور فعال بنانے کے لئے سید مبین شہید نے ترکی اور امریکہ سے جا کر تربیت حاصل کی اور اس ادارے میں جدید ترین اصلاحات نافذ کر کے انھیں عملی جامہ پہنایا۔ کوئٹہ کے بعد آپ کو پنجاب میں کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔ آپ وزیراعلیٰ پنجاب کے مانیٹرنگ سیل کے بھی انچارج رہے اور پھر تا وقت شہادت ٹریفک پولیس میں ڈی آئی جی کے طور پر فرائض ادا کر رہے تھے۔


ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین زیدی شہید کی نماز جنازہ میں ملک کی اعلیٰ ترین قیادت ، فوج اور پولیس کے سپاہ سالاروں اور ملک بھر کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی اور24 گھنٹے کے اندر اندر خود کش بمبار کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا۔ دہشت گردوں کے اس گروہ کا تعلق افغانستان سے تھا جبکہ ان کا گرفتار شدہ سہولت کار انوارالحق باجوڑ کا رہنے والا تھا۔ پاک فوج اور پولیس نے نہ صرف ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف ’آپریشن رد الفساد‘کے نام سے بھر پور آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے بلکہ افغانستان حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ملک میں پناہ گزیں دہشت گردوں کی سر کوبی کی جائے۔ پاک فوج کے حالیہ آپریشن کو ’آپریشن ردالفساد‘ کا نام دیا گیا ہے۔

 
13
March

تحریر: جویریہ صدیق

دہشت گردی کی نئی لہر نے عوام کو شدید رنج و غم میں مبتلا کردیاہے۔گزشتہ دنوں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ایک سو بائیس سے زائد افراد شہید ہوئے اور تین سو کے قریب زخمی ہوئے۔ فروری میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے ان واقعات نے عوام کو نشانہ بنایاہے۔ضرب عضب کی کامیابی کے بعد عوام اپنے روزمرہ زندگی کے معمولات کو سر انجام دے رہے تھے کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لاہور میں اعلان کے بعد یک دم دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آگئی۔ ان واقعات کے بعد عوام کی نظریں پاک فوج کی طرف مرکوز ہوگئیں کہ کس طرح مسلح افواج انہیں دہشت گردی کے اس نئے عذاب سے بچائیں گی۔


حالیہ دہشت گردی کے فوری بعد طورخم بارڈر کو سیل کردیا گیاجس کا عوام نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر خیر مقدم کیا۔جن گروپس نے حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ان میں تحریک طالبان، جماعت الاحرار، داعش اور الافامی گروپ شامل ہیں اور یہ گروپ افغانستان سے آپریٹ کئے جارہے ہیں۔ طورخم بارڈر سیل کرنے کے بعد افغان سفارت خانے سے منسلک آفیشلز کو جی ایچ کیو راولپنڈی طلب کرکے انہیں 76 مطلوب دہشت گردوں کی فہرست دی گئی جو افغانستان میں چھپے بیٹھے ہیں۔17 فروری کو پاکستان نے افغانستان میں کنڑ اور ننگرہار میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی‘ جماعت الاحرار کے تربیتی کیمپ تباہ کئے جس میں متعدد دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔


پاکستانی عوام کی تکلیف اور بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے 22فروری کوچیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک بھر میں آپریشن ’رد الفساد‘ کا اعلان اور آغاز کر دیا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان آرمی، نیوی ،فضائیہ،رینجرز،پولیس، سول آرمڈ فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس آپریشن کا حصہ ہوں گی۔ اس آپریشن کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، ملک سے ناجائز اسلحے کا خاتمہ، باڈر سکیورٹی مینجمنٹ اور انسداد دہشت گردی ہے۔ پنجاب میں رینجرز کا آپریشن بھی ’رد الفساد‘ کا حصہ ہے۔


آپریشن ’رد الفساد‘ سے پہلے بھی پاکستان آرمی مختلف آپریشنزبھرپور کامیابی سے سرانجام دے چکی ہے‘جس میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں آپریشن المیزان، جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میںآپریشن راہ راست اور راہ نجات، جنرل راحیل شریف کے دور میں ’ضرب عضب‘ شامل ہیں۔ ان آپریشنز کے دوران وانا‘ سوات اور وزیرستان سے دشمن کی کمین گاہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ان علاقوں میں ریاستی رٹ قائم کی گئی اور ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد شروع ہوا۔آپریشن رد الفساد میں پورے ملک کے ساتھ ساتھ پنجاب کے ان علاقوں کو فوکس کیا جائے گا جن کے حوالے سے بہت عرصے سے آواز بلند کی جارہی تھی کہ ان علاقوں میں بہت سے دہشت گرد اور ان کے سہولت کار مقیم ہیں۔ کراچی میں سندھ رینجرز کی طرح آپریشن پنجاب رینجرز کرے گی جس سے صوبے بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ ہوسکے گا۔


آپریشن رد الفساد کا نام بہت معنی خیز ہے۔قرآن پاک میں لفظ ’’تفسدوا‘‘ استعمال ہوا ہے جوکہ فساد سے اخذ کیا ہے۔فساد کرنے والوں کو ’’المفسدون‘‘ کہا گیا ہے۔
سورۃ البقرہ کی آیت نمبر گیارہ اور بارہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
اورجب ان سے کہا جاتاہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔’’ سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں‘‘۔
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 33 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔


ترجمہ:۔ وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیئے جائیں یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔


ان آیات مبارکہ کی روشنی میں دہشت گردوں اور خوارجیوں کے خلاف آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا ہے۔ پاکستان فوج اور رینجرز کے جوان ملک بھر میں سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے افغان اور ازبک باشندوں سمیت 30 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پنجاب میں لیہ،کروڑ اور راولپنڈی میں آپریشن کے دوران جماعت الاحرار کے سہولت کاروں،افغان باشندوں سمیت 600 افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔4 دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔اس دوران بہت سے موبائل سیٹ، ٹیلی فونز، جہادی لٹریچر اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیاہے۔اس کے ساتھ پنجاب پولیس بھی مشکوک افراد کے کوائف کی بائیو میٹرک تصدیق کررہی ہے۔پشاور‘ مرادن‘ صوابی اور ہنگو سے بھی ’’جہادی ‘‘مٹیریل اور اسلحہ برآمد کیا گیاہے۔ پشاور سے 80، مردان سے 27، چارسدہ سے 20 اور صوابی سے بھی 4مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا۔بلوچستان میں رد الفساد کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے لورالائی میں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کی۔پاکستان آرمی اور پاکستان رینجرز نے ایم ون اور ایم ٹو موٹروے پر مشترکہ چیک پوسٹیں بھی قائم کردی ہیں۔


تاہم فوج اور رینجرز کے آپریشن کے ثمرات تب ہی عوام تک پہنچ سکتے ہیں جب ساتھ ساتھ فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ’ فساد فی الارض‘ کرنے والوں کو سزا دیئے جانا بہت ضروری ہے۔اگر ہمارے ملک کا ایک جوان اپنی جان پر کھیلتے ہوئے ایک دہشت گرد کو پکڑتا ہے تو اس دہشت گرد کو فوری طور پر سزا ملنی چاہئے۔اس کے ساتھ ان افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جائے جو ان دہشت گردوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ایسے لٹریچر اور سوشل میڈیا پر موجود مواد کو تلف کرناہوگا جوکہ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ہو۔


آپریشن رد الفساد کے اعلان کے بعد ہی سوشل میڈیا پر ایک فیک سرکلر کے ذریعے سے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خوا میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ شاید پشتونوں کے خلاف امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔اس طرح کے زہریلے پروپیگنڈے اور افواہوں کے لئے بھی آپریشن رد الفساد کی ضرورت ہے ایک ایسے سوشل میڈیا کی بھی ضرورت ہے جو وطن مخالف پروپیگنڈے کا سدِباب کرے۔ سوشل میڈیا پر نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ اب جنگیں صرف میدان میں ہی نہیں‘ سوشل میڈیا پر بھی لڑی جارہی ہیں۔ اس لئے اب یہ نہایت ضروری ہے کہ صرف زمین پر نہیں بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی جنگ لڑی جائے ،پاکستان کی بقا کی جنگ۔


اس کے ساتھ ساتھ معاشی دہشت گردی کے لئے بھی آپریشن رد الفساد کی ضرورت ہے۔ہنڈی ’حوالہ‘ منی لانڈرنگ سے پیسے دہشت گردوں کو بھیجے جاتے ہیں۔ دہشت گردوں کی معاشی طور پر کمر توڑنے کے لئے ان کے پیسوں کی سپلائی ختم کرنا ہو گی۔ ان افراد سے بھی بازپرس ہونی چاہئے جو اب تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہونے دے رہے تھے۔ان لوگوں سے بھی چھان بین کرنی چاہئے جو رینجرز آپریشن کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے جن کی وجہ سے حالیہ دہشت گردی کی لہر میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔


سی پیک اور گوادر بندرگاہ کو دشمنوں سے بچائے رکھنے کے لئے بھی زمینی قوت کے ساتھ سفارتی اور سوشل میڈیا کی قوت کی اشد ضرورت ہے۔ہم ہر جنگ اسلحے کے زور پر نہیں لڑ سکتے۔ دنیا بھر سے ممالک سی پیک میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں جو وطن دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا اس لئے وطن عزیز کے خلاف مختلف سازشیں کی جارہی ہیں۔جس میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ کل بھوشن بھارت کے خلاف ہمارے پاس سب سے بڑا ثبوت ہے۔لیکن اب تک کی خاموشی سمجھ سے باہر کہ اس معاملے کو عالمی سطح پر کیوں نہیں اٹھایا جارہا۔ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے بھارت ہے جو افغانستان میں داعش کو سپورٹ کررہا ہے نہ جانے ہماری سفارت کاری گونگی کیوں ہوکر رہ گئی ہے۔


رد الفساد کی ضرورت مدارس اور این جی اوز میں بھی ہے اس چیز پر کڑی نظر رکھی جائے کہیں کوئی وطن دشمنی تو نہیں کی جارہی۔ہمارے بچے مدارس میں خودساختہ ’’جہادی‘‘ لٹریچر تو نہیں پڑھ رہے، انہیں جدید تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسی طرح این جی اوز پر مکمل اکاونٹیبیلیٹی ہونی چاہئے کہ وہ فنڈنگ کا پیسہ کہیں پاکستان کے خلاف تو نہیں استعمال کررہے۔


ایک اور اہم سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کیا دہشتگرد صرف طورخم باڈر سے ہی آرہے ہیں یا وہ پہلے سے پاکستان میں اپنے سہولت کاروں کی کمین گاہوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔اگر ایسا ہے تو سب سے پہلے ان سہولت کاروں کو پکڑا جانا چاہئے۔ ان کی وابستگی کسی بھی سیاسی پارٹی‘ تنظیم ‘ گروہ ‘ فرقے یا صوبے سے ہو بنا کسی تفریق کے کارروائی کریں۔ملک کے اندر بیٹھے دہشتگردوں کا خاتمہ سب سے پہلے ضروری ہے۔اس آپریشن میں وقفہ نہیں آنا چاہئے کسی بھی دہشتگرد کو بھاگنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔افغانستان کے ساتھ سرحد پر چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا دی جائے اور کسی کو بنا کاغذات کے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔افغان مہاجرین کو باعزت طور پر ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔اسی طرح ہم ملک میں فسادیوں کے خلاف رد الفساد کرسکتے ہیں۔

جویریہ صدیق ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ ہے

@javerias

نغمہ

خاکی وردی پہنے جوان
دیکھ کے جذبے سب حیران
یہ ہیں اللہ کی بُرہان
اِن سے قائم پاکستان
پربت، رائی اِن کو لگے ہے
دریا خود قدموں میں گِرے ہے
دھاک ہے اِن کی ہیبت واللہ
دشمن ڈر کے دَبتا چلے ہے
ہر اک اِن میں سیفِ خدا ہے
اِن کا نہ کوئی وار ٹلے ہے
جیت کے آئیں ہر میدان
اِن سے قائم پاکستان
برق و تَلاطُم میں یہ پلے ہیں
موت کے آگے جا کے ڈٹے ہیں
بڑھتے ہیں تو برق سے بڑھ کر
جھپٹیں تو شاہین لگے ہیں
جگمگ جگمگ تارے ہیں یہ
سینوں پر جو تمغے سجے ہیں
یہ ہیں غازی شیر جوان
اِن سے قائم پاکستان
وقت کٹھن جب آن پڑا ہے
ہر اک آگے بڑھ کے کھڑا ہے
تان کے سینہ ،جگر فولادی
ہر طوفان سے ڈٹ کے لڑا ہے
دشمن میں کہُرام مچا کر
تیغوں میں بھی آگے بڑھا ہے
ملک و قوم کا یہ ہے مان
اِن سے قائم پاکستان


awais_khalid.jpg
(شاعر : اویسؔ خالد)
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

*****

 
13
March

قوم رواں برس ستترواں یوم پاکستان ان حالات میں منا رہی ہے کہ جب اسے اپنے حوصلے اور بھی بلند رکھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن گھناؤنی سازشوں اور دہشت گردی کے ذریعے اس وطن کی سالمیت کے درپے ہے۔ 23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں جب قرارداد پاکستان پاس ہوئی تب پاکستان صرف ایک خواب تھا لیکن ٹھیک 7برس بعد برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک حسین تعبیر مل چکی تھی جو اس امر کی علامت ہے کہ جب کسی قوم کے جذبے جواں ہوں تو وہ ضرور کامیاب ٹھہرتی ہے۔ اس وقت قوم کے سامنے قیام پاکستان کی منزل تھی آج اس منزل کی تکمیل اور حفاظت ہے۔ قوم نے قربانیاں دے کر وطن عزیز حاصل کیا اور اب قربانیاں دے کر اس عظیم تحفہ خداوندی کی حفاظت بھی کر رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد جس ثابت قدمی سے پاکستانی قوم اور اس کی افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپریشن راہ راست، آپریشن راہ نجات اور پھر جون 2014میں شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب نے جس طرح سے دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کو کمزور بنانے میں کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے۔

 

ظاہر ہے دہشت گرد اکیلے نہیں ہیں۔ان کے مذموم عزائم کے لئے انہیں بعض دشمن ممالک کی سرپرستی حاصل ہے۔ اُنہیں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے فنڈنگ کی جاتی ہے۔ دشمن سے پاکستانی قوم اور اس کی افواج کی کامیابیاں اور ملک میں قائم ہوتا امن نہیں دیکھا جاتا لہٰذا وہ اس تاک میں رہتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے پاکستانی قوم کے حوصلوں کو لرزاں کر دے اور افواج پاکستان کے قیام امن کے دعوؤں کو سبوتاژ کر کے قوم کی رواں دواں زندگی کو تکلیف دہ بنا دے۔ قوم کو ان سازشوں سے کماحقہ‘ آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان سازشوں کو اپنے غیرمتزلزل حوصلوں کے ساتھ ناکام بھی بنانا ہے۔


قوم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کس طرح ایک دشمن ملک ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی ہم کروا رہے ہیں۔ ایسے معاملات میں بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ کوئی ملک دوسرے ملک میں کیونکر دہشت گردی کروا سکتا ہے۔ لاہور اور سیہون شریف ایسے ناقابل برداشت سانحات دشمن کے اس مائنڈ سیٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ مقامی عناصر دشمنوں کا آلہ کار نہ بنیں اور اپنی ہی سرزمین کی تباہی کے لئے سہولت کار کے طور پر استعمال نہ ہوں۔ عام لوگ اپنے آس پاس مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد پر نظر رکھیں اور یقین ہونے پر سکیورٹی حکام کو مطلع کریں۔


سکیورٹی فورسز اور ریاست اس وقت تک دم نہیں لیں گی جب تک اس ملک میں بسنے والے ایک ایک فردکی حفاظت کو یقینی نہیں بنادیا جاتا۔ اسی ضرورت کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ شروع کیا ہے جس کے تحت افواج، رینجر ز اور سول سکیورٹی ادارے ملک بھر میں کومبنگ آپریشن کر کے فسادیوں اور شرپسندوں کو نشان عبرت بنانے کے لئے سرگرداں ہیں تاکہ یہ پاک سرزمین پھر سے خوبصورتیوں اور روشنیوں کی ایسی علامت بن سکے جس کی قوم ترقی کر کے دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑی ہو سکے۔ اس کے لئے قوم کو اپنے اعصاب مضبوط رکھتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑے رہنا ہو گا کہ قوم جتنی مضبوطی اور حوصلے کا مظاہرہ کرے گی اس کی افواج اور سکیورٹی سے متعلق ادارے اتنی ہی تندہی اور جذبے کے ساتھ ملک دشمنوں کا قلع قمع کر سکیں گے۔

13
March

تحریر: مجاہد بریلوی

مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں sehwansharif.jpgاور چیختی بلبلاتی بچیوں سے لہو لہان ہو گئی۔ ابتدائی خبریں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اشارہ نہیں دے رہی تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمیوں نے دم توڑنا شروع کیا تو رات کے آخری پہر میں یہ تعداد 88کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ایک پروفیشنل صحافی کے ناتے، اور اس سے زیادہ افسردگی اور غم زدگی نے ایسا بے سکون اور بے چین کیا ہوا تھا کہ رات ہی کو سیہون جانے کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ایک تو کراچی سے حیدرآباد اور پھر سیہون تک اُدھڑی ہوئی سڑکیں اور اُن پر دیو قامت ٹرکوں اور ٹرالروں کا ایسا ہجوم تھا کہ سیہون پہنچتے پہنچتے دوپہر کا ایک بج گیا۔ سیہون شریف کا سارا بازار بند تھا اور مقامی آبادی سہمے ہوئے چہروں سے لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے ارد گرد سر جھکائے آنسو بہاتے نظر آئی۔ مگر جیسے ہی کیمرہ اُنکے سامنے آیا ڈرے سہمے سوگ میں ڈوبے لوگوں کی زبانیں دہشت گردوں کے خلاف آگ اُگلنے لگیں۔ میڈیا کی دی ایس این جی گاڑیاں اور مائیک بھی بس بریکنگ خبریں چلا رہے تھے۔ یہ اپیل نہیں کر رہے تھے کہ ڈاکٹر آئیں، خون دیں، ایمبولینسیں پہنچیں۔ ’’سائیں‘‘ ہم برباد ہو گئے، گھر اُجڑ گئے۔ چہار جانب سے یہی صدائیں آ رہی تھیں۔ مزار شریف کے اندر داخل ہوا تو مائیک کے سامنے زبان گنگ ہو گئی۔ خونی اعضاء کے لوتھڑے، اجرکیں، چادریں، جوتے اور چپلیں خون آلود۔۔۔ بتایا گیا کہ سکیورٹی کے اداروں نے سختی سے کہا ہے کہ کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو حتیٰ کہ فرش پر بُو دیتے خون کے دھبے بھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا کہ سرکٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ سخت سکیورٹی سے لگا کہ وزیر اعظم لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری بھی دیں گے۔ مگر گھنٹے بھر بعد معلوم ہوا کہ انٹیلی جنس نے اجازت نہیں دی۔


وزیر اعظم کی مزار شریف نہ آنے کی تصدیق ہوئی تو گھنٹوں سے انتظار کرتے زائرین کے لئے دروازے کھول دئیے گئے۔ ٹھیک اُسی وقت یعنی 24 گھنٹے پہلے 6 بج کر58 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھمال ڈالنے والوں کو خون میں نہلا دیا تھا۔ لعل شہباز کے عقیدت مند وجدمیں آکر اُسی وسیع وعریض احاطے میں دھمال ڈال رہے تھے۔ سخی شہباز قلندر۔۔۔ دما دم مست قلندر۔۔۔ یہ پیغام تھا دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کو جو ایک دہائی سے تعلیمی اداروں، بازاروں، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خودکش حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ’’اپنی شریعت‘‘ کی دہشت سے پوری قوم کو موت کی نیند سلا دیں گے۔ لعل شہباز قلندر کا مزار ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں عام دنوں میں تین چار ہزار اور جمعرات اور جمعے کو آٹھ دس ہزار زائرین محض اندورن سندھ ہی نہیں،سارے ملک سے آتے ہیں جو 88 زائرین شہید ہوئے اُن میں صرف 13کا تعلق سیہون شریف سے تھا۔ 35کا تعلق سندھ کے دیگر شہروں سے جبکہ باقی 40کا تعلق جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے تھا۔ خودکش حملوں میں ساڑھے تین سو زخمیوں میں سے بھی بیشتر کا تعلق سندھ سے باہر کے شہروں سے تھا اور یہ بات بھی اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہو کر موت کی نیند سونے والوں میں چار افراد کا تعلق ہندو اقلیت سے تھا۔ لعل شہباز قلندر کے مزار کے بیرونی احاطے سے نکل کر جب اندورنی دروازے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لعل شہباز قلندر کے مزار شریف پر کوئی آنچ آئی نہ ہی چھت پر لگے جہازی سائز فانوس کا کوئی شیشہ ٹوٹا۔ اتنے بڑے سانحے کے محض 20گھنٹے بعد سارا ماحول تبدیل ہوچکا تھا۔ خوف و دہشت کی جگہ دھمال ڈالتے زائرین کے تمتماتے چہرے اور سخی شہباز قلندر کی سر شاری میں ڈوبے زائرین کی دل دوز صدائیں۔ یہاں میں اپنے قبیلے یعنی میڈیا کے دوستوں سے یہ شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ اپنی ہر بریکنگ خبر میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کی تو ایک ایک بات پر لعنت ملامت کر رہے تھے مگر خود کش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کے بارے میں مصالحانہ اور عاجزانہ حد تک رویہ معذرت خواہانہ تھا اور یہ محض اس سانحہ کی بات نہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں ہونے والے 450 خودکش حملوں کے بعد
TALIBAN APOLOGIST
کایہی رویہ کم وبیش دیکھنے میں آیا۔ اب سے سال بھر پہلے تک تو یہ حال تھا کہ نام نہاد طالبان اور القاعدہ کے ترجمانوں کے باقاعدہ لائیو انٹرویوز گھنٹوں چلتے تھے جن میں وہ ہماری حکومتوں اور عوام کو درس دیتے کہ وہ اُن کی دہشت کی شریعت کے آگے سر خم کرلیں۔ میڈیا کا
TALIBAN APOLOGIST
حلقہ گو ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ایک حد تک حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنے لگا ہے مگر ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری قوم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہوچکے ہیں کہ یہ خود کش حملہ آور مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تو پھر ’’میڈیا‘‘ کے سرخیلوں کو بھی اپنی سوچ کو
Revisit
کرنا چاہئے کہ کم از کم دہشت گردی کے سوداگروں پر میڈیا اور قوم کو ایک آواز ہوناچاہئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

تحریر: سمیع اللہ خان

دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے کاثبوت بھی ہے۔ 2015-16 کے دوران ضرب عضب سے دہشت گردی میں 70فیصدکمی واقع ہوئی۔ اس سے قبل 2007اور 2009 میں سوات آپریشن اور 2011-12میں جنوبی وزیرستان آپریشن کے ذریعے بھی ان کی سرکوبی کی گئی۔ محدودوسائل‘ ازلی دشمن کی موجودگی‘ معاشی ناہمواریوں سمیت عالمی استعمارکی آنکھ میں کھٹکتے سی پیک منصوبے پردجالی قوتوں کے ناپاک عزائم سمیت ہرمشکل پر پاکستان کی بہادر افواج نے خوش اسلوبی سے قابو پایااوردیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں امن کی بحالی نظر آنے لگی۔ مگرہرسوپھیلی امن کی خوشبوانسانیت کے دشمنوں کونہ بھائی اورانہوں نے چیئرنگ کراسنگ لاہور‘کوئٹہ ‘مہمندایجنسی ‘ پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان آواران‘ چارسدہ اور سیہون شریف جیسے مقامات کو اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھا کر معصوم جانوں کے لہوسے ایسی ہولی کھیلی کہ انسانیت خون کے آنسورونے لگی۔ 5 دنوں میں ہونے والے ان 8واقعات میں سوسے زائد پاکستانی شہید ہوئے مگر پاکستانی باہمت ہیں۔ وہ جوابی وار بھی کریں گے اور جیت کر بھی دکھائیں گے۔
ٹونی موریسن امریکن ناول نگارہیں۔ ان کے ناول
Beloved
میں ایک کردار بے بی سگزکاہے جوسفید چمڑی والے جابروں کے خلاف اپنے ہم نسل کالوں کو اس بات پراکساتی ہے کہ وہ ان کے ظلم کا مسکراکرجواب دیں ۔ان کامسکرانا درحقیقت غاصبوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہوتاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دھماکے کے دوسرے روز شہباز قلندرکے عقیدت مندوں کادھمال
laughter as a resistance
ہے ۔جواس بات کابین ثبوت ہے کہ اس قوم کا مورال بلند ہے۔ گیارہویں صدی کا قلندرخود ہی فرماگیا


تو آں قتل کہ از بہر تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِخنجرِخوں خوارمی رقصم
(تم وہ قاتل ہو کہ محض تماشارچانے کو میراخون بہاتے ہو اورمیں وہ بسمل ہوں کہ خنجرِ خوں خوار تلے بے نیازی سے رقص کرتاہوں)

 

dehshatgerdikinai.jpgدہشت گردی کی اس نئی لہرکے تانے بانے جوڑنے کے لئے اگر واقعات کی کڑیاں ملائی جائیں توحقیقت کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ ان بہیمانہ کارروائیوں کے پیچھے کون سے بے حس ہاتھ کارفرماہیں۔ اتوارکوکراچی میں میڈیاکارکن کی شہادت کے بعد تیرہ فروری کو مال روڈ پر دھماکہ کیا گیا۔ اسی دن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ذریعے دوپولیس اہلکاروں کی شہادت اوراس کے کچھ ہی دیربعد بھمبرسیکٹرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ سے تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ دشمن کس قدرمنظم انداز میں پاکستان کے جسم کوایذاء پہنچارہاہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی مداخلت کے جوثبوت امریکہ اور اقوام متحدہ کو دیئے گئے تھے‘ ان پرتاحال کوئی تسلی بخش ایکشن نہیں لیا گیا جس کامطلب بھارت سمجھ گیا ہے ۔


مقبوضہ کشمیرمیں جاری اندرونی عوامی تحریک سے دلبرداشتہ بھارتی آرمی چیف کا بے بسی سے اسے اندرونی شورش تسلیم کرنا‘ پاک چائنا اکنامک کاریڈورہرحال میں سبوتاژکرنے کے بھارتی ممبران اسمبلی کے تابڑتوڑ بیانات‘ اپنے طفیلی ممالک سے پاکستان کے خلاف زہراگلوانے کی حالیہ بھارتی پالیسی یہ سب ثابت کررہے ہیں کہ دشمن فائنل راؤنڈکھیلناچاہتاہے۔ اس کے تمام ترارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی تمام تر کوششیں فزوں ترکرناہوں گی۔ پولیس‘ سی ٹی ڈی‘ سپیشل فورس اور نیکٹاکو ازسرنوتشکیل دینا ہو گا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکوریٹنگ کے چکرسے نکل کرعوام کو آگاہی دیناہوگی۔


لاہورسانحہ میں ڈی آئی جی مبین احمداورایس ایس پی زاہد گوندل سمیت پندرہ افراد شہید ہوئے۔ان افسران کی شجاعت اوربہادری نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔پنجاب حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان کا نیٹ ورک تلاش کیابلکہ سہولت کار انوارالحق کوبھی گرفتارکرلیاجس کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جبکہ حملہ آور کا تعلق افغانستان کے علاقہ کنٹر سے ہے ۔ اسی طرح پشاورکے حیات آباد کے حملہ آور کی ملافضل اللہ کے ساتھ تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔ جمعرات کوسیہون شریف میں لعل شہباز قلند رکے دربار پر خود کش حملے میں 88 افراد کی شہادت ہوئی اور343زخمی ہوئے۔دھماکے میں مسلمانوں سمیت 3 ہندو بھی چل بسے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی صوفی درگاہیں ہر مذہب کے پیروکاروں کوروحانی تسکین پہنچاتی ہیں اور یہ بھی کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتاوہ بغیرکسی تمیزکے حملہ کرتے ہیں۔ اس قدر شدید نقصان کاازالہ توممکن نہیں لیکن اس سانحۂ عظیم نے قوم کے حوصلے مزید بلند کر دیئے ہیں اوروہ فوری اوربے رحم کارروائی کے متمنی دکھائی دے رہے ہیں ۔


پاکستان میں زیادہ تردہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور انڈس ہائی وے کااستعمال کرتے ہوئے دوسرے علاقوں تک پہنچتے ہیں ۔یہی انڈس ہائی وے اندرون سندھ سے گزرتی ہے ۔
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا ایک دھڑا جماعت الاحرارملوث ہے جوکہ ببانگ دہل اپنی مذموم کارروائیوں کا اعتراف کررہاہے ۔اس کی لیڈرشپ افغانستان میں موجودہے ۔اسے پاکستان میں لشکرجھنگوی کی اعانت حاصل ہے اور کچھ حصہ داعش سے بھی مددلیتاہے جبکہ دوسری جانب اس کی کڑیاں تحریک طالبان افغانستان تک بھی جاتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ داعش کاپھیلتاہوانیٹ ورک الاحرارکی دیدہ دلیری اور ہمسایہ ملک کی ریشہ دوانی ہمیں اس بات پر مجبورکررہی ہے کہ ہم افغانستان کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوارکریں اوراس کے ساتھ ساتھ عالمی استعمارکی شطرنج کی بازی اوردورُخے پن سے بھی خبرداررہیں۔ لیکن ہمیں ایک قومی بیانیہ اپنانے کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔راقم گزشتہ برس کے دوران مختلف مقامات پر دینی وعصری علوم کی درسگاہوں کے طلباء سے دہشت گردی کے موضوع پر گفتگو کرتا رہا ہے۔ ان میں سے بیشترایسے تھے جو ٹی ٹی پی کو تو غلط قراردے رہے تھے لیکن شام‘ عراق اوردیگرمسلم ممالک میں متحرک عسکری گروہوں کودبے لفظوں میں حق بجانب قرار دے رہے تھے۔ان کے ذہنوں سے ابہام دورکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ریاست کی حفاظت کرنی ہے یامسلم امہ کی ؟مسلم امہ کی حفاظت سرحدوں کی محتاج نہیں اوریہی وہ بیانیہ ہے جس کی بنیاد پر نجی عسکری گروہ معاشی‘ اخلاقی وافرادی قوت حاصل کرتے ہیں ۔جب تک ہم اس بیانیے کامتبادل قومی بیانیہ دین میں تلاش نہیں کرلیتے ان گروہوں کوشعوری و لاشعوری مدد ملتی رہے گی۔ دوسرے، پاکستان میں کچھ مسلم ممالک فرقہ واریت کی بنیاد پر اپنی اپنی پراکسی وارلڑ رہے ہیں ۔ اس کاسدباب مذہبی لٹریچر کی کڑی نگرانی اور مدارس کا ایک نصاب بنا کر کی جاسکتی ہے۔ہمیں سخت ایکشن لیتے ہوئے فقہ کی کتابوں میں سے کسی بھی مذہبی گروہ کی اکابرہستیوں کے خلاف نازیباالفاظ کو کتاب بدر کرنا ہو گا۔ مساجدمیں سرکاری خطیب ومؤذن کی تقرری سمیت تعلیمی اداروں میں ایسی فضا قائم کرنا ازحدضروری ہے جس سے انتہاپسندی کے ناسورکوپنپنے کی جگہ نہ ملے۔


پاکستان آرمی چیف قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ ہم خون کے ایک ایک قطرے کاحساب لیں گے ۔انہوں نے افغانستان میں موجودریزولیوٹ سپورٹ مشن
(Resolute Support Mission)
کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن کوپاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کاکہناہے کہ افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیومیں طلب کرکے ان 76دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جو پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ انھیں واضح اور دوٹوک اندازمیں کہا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں وگرنہ پاکستان خود کارروائی کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں مجرموں کے باہمی تبادلے پرمستقل قانون سازی کی جائے تاکہ اس عفریت کے پنپنے کے تمام راستے ہمیشہ کے لئے مسدودکئے جاسکیں۔


افغانستان کی اسمبلی ہم آواز ہوکرپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے۔ یہ صرف سابق صدرحامدکرزئی اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ کی ہی پالیسی نہیں بلکہ اس میں بھارت کی ایک عشرے کی چانکیانہ پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ پاکستان 2004کے بعد افغانستان کی تمام تر پالیسی امریکہ پر چھوڑ کربے نیازہوگیامگربھارت نے اپنااثرورسوخ بڑھاناشروع کردیا۔ویزہ پالیسی میں نرمی کی افغان طالب علموں کو اپنی جامعات میں جگہ دینے کے ساتھ ساتھ افغان کابینہ کے اخراجات برداشت کرنے کا بِیڑا بھی اٹھایااوراس طرح پاکستان مخالف کابینہ اورپالیسی کی تشکیل میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا۔


جبکہ دوسری جانب پاکستان کی مسلسل پکارکے باوجود افغانستان نے ٹی ٹی پی کے گروہوں کے خلاف ایکشن نہیں لیاکیونکہ وہ چانکیانہ دلدل میں دھنستے جارہے تھے اورپاکستان بھی طالبان اورافغان حکومت کے درمیان متوازن پالیسی پر کاربند رہنے پرمجبورتھا۔پاکستان اورافغانستان کے مابین 124برس پہلے کی کھینچی گئی ڈیورنڈلائن پربارڈرسیفٹی مینجمنٹ کے نام سے پابندیوں نے دوریوں میں مزید اضافہ کیا لیکن پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہ تھا کیونکہ افغان حکومت مسلسل بے نیازی برت رہی تھی۔ 2014میں بھی پاکستان نے افغانستان کو کمیونیکیشن ٹاورزکی معلومات شیئرکرنے کی درخواست کی لیکن اس پر بھی تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ افغانستان اس ضمن میں ہاتھ بڑھائے تاکہ دونوں ممالک میں امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ ہردوممالک کاامن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ افغان مہاجرین کی نقل وحمل کی کڑی نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس میں موجود را کے ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔

 

اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔


عالمی منظرنامے پرنظردوڑائی جائے تو ماضی قریب میں افغانستان اورپاکستان سمیت اس خطے میں بلیک واٹرنامی امریکن تنظیم کے ہزاروں کارکن امریکن مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گئے۔اس تنظیم کے مالک ایرک پرنس جسے جیرمی سکاہل جیسے لکھاری جنونی عیسائی کہتے ہیں اس وقت ڈونلڈٹرمپ کابینہ کی تشکیل میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔ ان کی بہن وزیرتعلیم جیسااہم عہدہ پر فائز ہیں۔اس سارے منظرنامے میں جہاں امریکہ میں سچ اورجھوٹ کے درمیان لکیرواضح ہوتی جارہی ہے وہیں ٹرمپ کی داعش کے خلاف شام اورعراق میں کارروائیاں اسے افغانستان اور پاکستان کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔ اس باراستعماری قوتیں پاکستان کے محروم وپسماندہ طبقات کواپناآلہ کاربناتے ہوئے لسانی وعلاقائی تعصبات سے بھی افرادی قوت حاصل کرسکتی ہیں۔ ہمیں ہرحال میں نیکٹاکوفعال کرناہوگا۔وزیراعظم کو اس کے باقاعدگی سے اجلاس بلاکرکارکردگی کوبہتربنانے کے لئے مثبت جامع اور دیرپالائحہ عمل تشکیل دیناہوگا۔


اگر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تو سندھ وپنجاب سمیت پورے ملک میں اس کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے ۔ کوئی ایسا دن نہیں جب اس نے کارروائی نہ کی ہو۔ مرکزی حکومت نے صوبائی سطح پرسویلین کاؤنٹر ٹیررازم فورس بنائی ہے جو آٹھ ہزارنفوس پرمشتمل ہے۔سی ٹی ڈی نے بروزجمعہ پنجاب کے شہرسرگودھامیں دودہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔ اسی طرح کراچی میں دہشت گردوں کوپکڑ کربڑی مقدارمیں اسلحہ برآمدکیا۔ ہفتہ کے روزلیہ میں الاحرارگروپ کے پانچ دہشت گردوں کوہلاک کرکے اسلحہ برآمدکیاگیا۔


اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔ فوجی عدالتوں کو ایکسٹینشن دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں ججز کے لئے سکیورٹی کا انتظام اوراس سسٹم میں مزید بہتری کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اپناناہوگی تاکہ آنے والی حکومتوں کو ان عارضی عدالتوں کے سہارے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
فاٹاکوکے پی کے میں ضم کئے بغیرچارہ نہیں ۔ہم کب تک 27ہزارمربع کلومیٹرکے اس علاقے کو انگریز حکومت کی طرح چلائیں گے جس کی ایک کروڑ قبائلی آبادی پاکستان سے والہانہ محبت کرتی ہے ۔ہمیں فاٹامیں عصری علوم کو اس قدرعام کرناہوگاکہ دنیاکی رائے اس کے متعلق بدل جائے اورکوئی بش، کوئی مائیکل ہیڈن (سابق ڈائریکٹرسی آئی اے)یامائیک مولن اس خطے کے متعلق ہرزہ سرائی نہ کرسکے۔


جمعے کے روز پاکستان نے افغانستان میں پہلی کارروائی کرتے ہوئے مہمند اور خیبرایجنسی کے دوسری طرف بنائے گئے الاحرارگروپ کے تربیتی مرکزسمیت چار کیمپوں کو نشانہ بنایاجس میں متعدد دہشت گردمارے گئے۔جماعت الاحرارکے ڈپٹی کمانڈرعادل باچہ کے کیمپ پربھی ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔ اندرون ملک کارروائی کرتے ہوئے سوسے زائد دہشت گردوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی طرح ہفتے کے روز کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے خودکش بمباروں کے تربیت کار رحمان باباسمیت بیس کے قریب دہشت گردافغانستان کی سرحدمیں ہلاک کردیئے۔ افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر ابرارحسین کو طلب کرکے کنٹراورننگرہارمیں ہونے والے حملے پر تشویش کااظہارکیاجسے پاکستانی سفیرابرارحسین نے مستردکرتے ہوئے پاکستانی موقف کومدلل اندازمیں پیش کیا کہ کس طرح علاقائی مفاد کی خاطرایک شرپسند ملک پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال کررہاہے۔افغان نائب وزیرخارجہ نے پاکستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے طورخم اورچمن سے پاک افغان سرحدکھولنے کے ساتھ ساتھ150 افغان باشندوں کی رہائی کامطالبہ بھی کیا۔ یاد رہے ہفتے کی رات کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے 330 مشتبہ افراد کوگرفتارکیاتھا جن میں غیرملکی بھی شامل ہیں ۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی


نیٹوکے ترجمان نے پاک افغان کشیدگی پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اس کے مناسب حل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔امریکی دفترخارجہ کے قائم مقام ترجمان مارک ٹونرنے بھی دہشت گردی سے ہونے والے پاکستانی نقصانات پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔


آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی ۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں افواج اور ملک کی عوام مل کر لڑاکرتے ہیں اورجس ملک کی عوام میں غیورباہمت اوردادشجاعت دینے والے افراد، سپاہی اور افسرموجود ہوں وہ کبھی بھی دہشت گردوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکتی۔ دہشت گردی کی حالیہ لہران بچے کچھے دہشت گردوں کی موت ثابت ہورہی ہے جو اپنی بلوں میں گھسے ہوئے تھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
13
March

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:14

پکے راگ
اگست 2012 میں جب ہم نے مجاہد آرٹلری کی ایک مایہ ناز فیلڈ یونٹ کی کمانڈ سنبھالی تو وہ کشمیر جنت نظیر کے حسین پہاڑوں پر ڈیپلائے تھی۔ ہمارا ہیڈکوارٹر ایک الگ تھلگ جگہ پر واقع تھا۔ نہایت دلکش لینڈ سکیپ پر مشتمل وادی کے بیچوں بیچ واقع ہمارا میس بھی اپنی مثال آپ تھا۔ فیملی کا جھنجھٹ بھی نہ تھا کہ دو ہفتے کے بعد ویک اینڈ پر دو دن کے لئے گھر کا رخ کرنے کی اجازت ملا کرتی تھی۔ غرض قدرت کی عنایات کی کمی نہ تھی لیکن مسئلہ فقط یہ تھا کہ ان سب نعمتوں سے استفادہ کیسے کیا جائے۔ شمشیر و سناں پر کافی وقت صرف کر نے کے باوجود بھی ہمارے پاس بہت سا فارغ وقت بچ جاتا تھا جسے ہم نے حسبِ قاعدہ طاؤس و رباب میں صرف کرنے کا فیصلہ کیا۔


پہلے قدم کے طور پر شام کو تمام افسروں پر میس میں حاضری لازم قرار دے دی گئی ۔ میس میں کسی قسم کی فائل یا موبائل فون لانا بھی سختی سے منع قرار پایا تاکہ یکسوئی کا ماحول پیدا کیا جاسکے۔ لارج سکرین ایل سی ڈی میس میں پہلے ہی سے موجود تھی جسے انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک کر کے اس پر من پسند نغمے چلائے جانے کی سہولت بہم پہنچائی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ ایک کنگ سائز کی لکڑ ی کی سکرین بھی بنوائی گئی جس پر سفید پینٹ کر کے باہر لان میں نصب کر دیا گیا۔ شام کے وقت پروجیکٹر کی مدد سے اس سکرین پر بھی پرانے گیت اور غزلیں چلائی جانے لگیں۔ غرض چند ہی دنوں میں میس میں پکے راگوں اور پرانی فلموں کا دور دورہ ہوگیا۔

targittargitmarch17.jpg
ہمارے ہردلعزیز ٹو آئی سی کو بھی موسیقی سے خصوصی شغف تھا اور یہ تمام کارروائی انہی کی سرکردگی میں ہوا کرتی۔شمشیر و سناں اور طاؤس و رباب کا یہ حسین امتزاج کچھ اس طرح سے رنگ لایا کہ اچانک یونٹ نے فارمیشن میں پے درپے مقابلے جیتنا شروع کر دئے۔ چند ماہ بعد ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یونٹ بریگیڈ سے لے کر کور تک تمام مقابلوں میں فاتح قرار پائی۔ باقی یونٹوں کے افسران ہماری یونٹ کی شاندار اور چھپر پھاڑ قسم کی کامیابیوں پر رشک کرتے اور اس کے پیچھے چھپے راز سے پردہ اٹھانے کی کھوج میں مبتلا رہتے۔ ہم بھی انہیں مزید پریشان کرنے کے لئے کہہ دیا کرتے کہ قدرت کی یہ خاص عنایت پکے راگوں کی بدولت ہے جسے وہ بظاہر سچ سمجھ لیتے۔


اس علاقے میں دو ایک مقامی گلوکار بھی پائے جاتے تھے جن کو خاص خاص مواقع پر میس میں لائیو پرفارم کرنے کے لئے بلایا جاتا تھا۔ ایک دن ایسے ہی ایک خاص موقعے پر ہم نے پورے بریگیڈ کے افسروں اور فیمیلیز کو کمانڈر کے ہمراہ کھانے پر مدعو کیا۔جس مقامی گلوکار کو پرفارم کرنے کی دعوت دی گئی اس نے عین وقت پر طبیعت کی خرابی کے باعث آنے سے معذرت کرلی البتہ طبلہ نواز کو بھجوا دیا۔فنکشن شروع ہونے والا تھا اور ہمارے پاس کوئی آپشن باقی نہیں بچا تھا۔ مشکل کو بھانپتے ہوئے ہمارے ٹو آئی سی نے ایک دوسرے بیٹری کمانڈر کے ساتھ مل کر یہ مہم سر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ مہمان خصوصی تشریف لائے تو ہم نے انہیں آگاہ کردیا کہ گلوکاری کا مظاہرہ ہمارے اپنے گلوکار کریں گے۔


ٹو آئی سی نے جب ’’یاد پیا کی آئے‘‘کی تان اٹھائی تو ایک نرالا سماں بندھ گیا اور استاد بڑے غلام علی خان کی یاد تازہ ہو گئی۔انہوں نے دو عدد ٹھمریاں گا کر بریک لی تو دوسرے میجر صاحب نے مہدی حسن اور غلام علی کی غزلیں گا کر داد سمیٹنا شروع کردی۔رات گئے تک غزلوں ، ٹھمریوں اور دادروں کا سلسلہ جاری رہا۔ آخر میں طبلہ نواز ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور بولا’’حضور ہم جدی پشتی خان صاحب لوگ ہیں لیکن آپ جیسی تانیں تو ہمارے دادا پردادا بھی نہیں لگا سکتے۔‘‘ ہماری کمانڈ کے دوران بے شمار شیلڈز ، ٹرافیاں اور انعامات یونٹ کے نام ہوئے جن پر ہم آج بھی فخر کرتے ہیں لیکن ایک صاحبِ فن کی جانب سے یہ منفردخراجِ تحسین بھی بہت بڑے اعزاز کی بات ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ہاں مگر سچائی اور فن کا معیار اپنا اپنا


مشین کا دل
بچپن میں بڑے بوڑھوں سے سنا تھا کہ کسی کا دل دکھانا بہت بری بات ہے۔ یہاں تک تو ہم مانتے ہیں کہ اس ’’کسی‘‘ میں انسانوں کے ساتھ ساتھ بے زبان جانوروں کا بھی شمار کیا جاتا تھا لیکن یہ یاد نہیں پڑتا کہ کسی مشین کا دل دکھانے کے بارے میں کبھی کسی بزرگ نے ہمارے سامنے بھولے سے بھی کچھ ارشاد فرمایا ہو۔ ہم بہرحال خود ایک ایسی ہی صورتحال کا شکار ہوئے جس میں ہم نے ایک مشین کا دل دکھایا اور اس کے فوری نتائج بھگتنا پڑے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کے پاس ایک عدد سوزوکی موٹر سائیکل تھی جو انہوں نے ہماری پیدائش سے بھی پہلے خریدی تھی۔ سن 2003 میں یہ موٹر سائیکل اپنی عمر کی تیس بہاریں دیکھ چکی تھی اور اس لحاظ سے اسے بزرگ موٹر سائیکلوں کی کیٹیگری میں شامل ہوئے بھی ایک عرصہ بیت چکا تھا۔ والد صاحب کی اس موٹر سائیکل سے محبت اور اپنائیت دیدنی تھیں اور وہ اسے جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔


ہمارا معاملہ البتہ ذرا سا مختلف تھا۔ زمانہ طالب علمی کے دوران جب ہم اس موٹر سائیکل پر بیٹھ کر دوستوں کے گھر جاتے تو وہ آواز سن کر دودھ والے برتن اٹھا کر باہر آ جاتے۔ اب بھلا اس میں ہمارا کیا قصور کہ ہماری موٹر سائیکل کی آواز ان موٹر سائیکلوں سے ملتی جلتی تھی جو ان دنوں زیادہ تر گوالوں کے زیرِ استعمال ہوا کرتی تھیں۔جب اس طرح کے واقعات کثرت سے وقوع پذیر ہونے لگے تو ہم نے عوام الناس کومزید شبہے میں ڈالنے کے بجائے موٹر سائیکل کی سواری سے کنارہ کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔البتہ والد صاحب سے ہم نے کئی مرتبہ اصرار کیا کہ آپ نئی موٹر سائیکل خرید لیں، جس کا جواب ان کی طرف سے یہ آتا کہ ’’برخوردار! میری موٹر سائیکل جاپان اسمبلڈ ہے اور اس میں اصلی جاپانی پرزے لگے ہوئے ہیں۔ اس کا آج کل کی پاکستان اسمبلڈ موٹر سائیکلوں سے بھلا کیا مقابلہ۔‘‘ ان کی اس دلیل کے سامنے ہم اور موٹر سائیکل بنانے والے ادارے دونوں یکساں طور پر بے بس تھے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اس ’’عفیفہ‘‘ کے اصلی جاپانی پرزوں میں سے شاید ہی کوئی اپنی اصل صورت میں باقی بچا ہو۔


ہمارے شہر میں ان دنوں ایک پرانا مستری ہوا کرتا تھا جو اس قسم کی موٹرسائیکلوں کی مرمت کیا کرتا تھا۔ ہماری موٹر سائیکل سال میں سے چھ مہینے اس مکینک کے زیرِ علاج رہ کر گزارتی۔ والد صاحب اس مستری پر اعتماد تو بہت کرتے تھے لیکن مرمت کا کام ہمیشہ اپنے سامنے بیٹھ کر ہی کرواتے۔ دراصل ان کو یہ خوف لاحق تھا کہ مستری موٹر سائیکل کے اصلی پرزے نکال کر ان کی جگہ نقلی پرزے فٹ نہ کر دے۔ اس موٹر سائیکل کو والد صاحب نے کبھی تالا لگوانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ دن ہو یا رات اس کو چوروں سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔بالفرض محال اگر کوئی چور اسے اٹھانے کی غلطی کر بھی لیتا تو ہاتھ جوڑ کر واپس کرجاتا۔ ٹریفک کے سپاہی بھی اس کو دور سے ہی سلیوٹ کرنے کے بعد راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ کبھی کبھار والد صاحب اپنی موٹر سائیکل کا ایک اور فائدہ بھی گنوایا کرتے تھے ،وہ یہ کہ سن رسیدگی کے باعث اس کی سالانہ ٹوکن فیس بھی معاف ہو چکی تھی جبکہ ظاہر ہے کہ یہ شاندار سہولت بھی نئی موٹر سائیکلوں کو ہرگز حاصل نہیں تھی۔


2002 کے اوائل میں ہماری پوسٹنگ سکول آف آرٹلری میں ہوگئی۔ ہم نے قبلہ والد صاحب سے گزارش کی کہ ہمارے ساتھ رہ کر خدمت کا موقع دیا جائے۔ وہ پہلے تومصروفیات کا بہانہ بنا کر ٹالتے رہے لیکن پھر اس شرط پر رضامند ہوئے کہ پہلے ان کی عزیز از جان موٹرسائیکل کوبھی نوشہرہ منتقل کیا جائے۔ ہم نے ریلوے والوں کے تعاون سے ان کی یہ خواہش پوری کی تبھی والد صاحب نے نوشہرہ آنے کی ہامی بھری۔ موٹر سائیکل نوشہرہ تو پہنچ گئی لیکن یہاں پر اسے شدید اکیلے پن کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ نہ تو وہاں اس قبیل کی کوئی اور موٹرسائیکل موجود تھی اور نہ ہی اس کے دکھ درد جاننے والا کوئی مستری۔ سن رسیدگی کے باعث اس میں اور مسائل تو پیدا ہوئے ہی تھے ایک مرضِ شدید نے نوشہرہ پہنچ کر اسے آن لیا۔ وہ یہ کہ موٹر سائیکل کے انجن سے قطرہ قطرہ انجن آئل ٹپکنا شروع ہو گیا۔ ہم نے والد صاحب کے ساتھ مل کر بہتیری کوشش کی لیکن کسی بھی طرح اس کا علاج ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ موٹر سائیکل کو استعمال کے بعد عموماً گھر کے باہر برآمدے میں کھڑا کیا جاتا تھا۔ کچھ ہی دنوں میں برآمدے کی سطح انجن آئل کے داغوں سے بھر گئی۔ بیگم صاحبہ کو اس پر شکایت پیدا ہونا قدرتی امر تھا لیکن حفظِ مراتب کی وجہ سے اس بات کا اظہار کھلے عام نہیں کیا جا سکتا تھا چنانچہ دل ہی دل میں بھڑاس نکال لیا کرتی تھیں شاید


ان دنوں ایک عدد سیکنڈ ہینڈ سوزوکی مہران ہمارے زیر استعمال ہوا کرتی تھی۔ بیگم کا اصرار تھا کہ ان کو بھی ڈرائیونگ سکھائی جائے تاکہ وہ بچوں کو سکول سے لانے‘ لے جانے اور دیگر روزمرہ کے امور ہماری غیر موجودگی میں سہولت کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔ ہم نے جان چھڑانے کی ازحد کوشش کی لیکن بیگم کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہی بنی اور ایک دن ہم انہیں ڈرائیونگ سکھانے کے لئے اے ایس سی سکول کے ڈرائیونگ ٹریک پر لے جانے کے لئے راضی ہو ہی گئے۔ گھر سے قدم باہر نکالا تو برآمدے میں کھڑی موٹر سائیکل پر نظر پڑی جس سے انجن آئل رس رس کر فرش پر بہہ رہا تھا۔ بیگم کو موقع ہاتھ آ گیا اور انہوں نے چلتے چلتے موٹر سائیکل کو سخت سست سنانا شروع کردی۔ ہم نے انہیں چپ کروایا اور گاڑی میں بٹھا کر ڈرائیونگ ٹریک کی راہ لی۔ ڈرائیونگ ٹریک شہر کے مضافات میں پتھریلے علاقے کو صاف کر کے بنایا گیا تھا۔ ہم نے بیگم کو سٹیئرنگ ، کلچ، گئیر ، ایکسیلیٹر اور بریک وغیرہ کے بارے میں کچھ دیر سمجھانے کے بعد گاڑی ان کے حوالے کر دی۔ انہوں نے ہماری ہدایات کے مطابق آہستہ آہستہ چلاتے ہوئے ٹریک کے دو چکر مکمل کئے۔ تیسرے چکر میں نہ جانے کیوں گھبرا کر انہوں نے ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا جس کے باعث گاڑی نے رفتار پکڑ لی۔ جس کے نتیجے میں سٹیئرنگ بھی قابو میں نہ رہ سکا اور گاڑی آناً فاناً ٹریک سے اتر کر سائیڈ پر موجود بڑے بڑے پتھروں پر چڑھ کر رک گئی۔


ہم نے وہاں موجود گارڈ کی مدد سے گاڑی کو دھکا لگا کر پتھروں سے نیچے اتارااور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی۔ گاڑی کو بظاہر تو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا لیکن اتنا شدید دھچکا کھانے کی وجہ سے اس کی چال ڈھال میں فرق ضرور آ گیا تھا۔ ہم نے وہاں سے سیدھا ایک ورکشاپ کا رخ کیا۔ معائنے کے بعد انکشاف ہوا کہ باقی سب تو ٹھیک تھا لیکن غیر معمولی رگڑ کھانے کے باعث گاڑی کے انجن آئل والے کنٹینر میں معمولی سا کریک پڑ گیا تھا جس سے انجن آئل قطرہ قطرہ رِسنا شروع ہو چکا تھا۔ مستری نے بہرحال تین گھنٹے اس کی مرمت میں صرف کرنے کے بعد ہمیں تسلی دی۔ ہم واپس گھر پہنچے اور گاڑی کو گیراج میں کھڑا کر دیا۔


صبح آفس جانے کے لئے گاڑی میں بیٹھنے لگے تو یہ دیکھ کر ہم نے سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا کہ گیراج کا فرش انجن آئل کے نشانات سے بھر چکا تھا۔ اس کے بعد ہم نے دور نزدیک کے مستریوں سے اس گاڑی کا بہتیرا علاج کروایا لیکن وہ مرض دور ہونا تھا، نہ ہوا۔ اس بات سے ہمیں یقین ہو گیا کہ ہو نہ ہو ہماری موٹرسائیکل ولایت کے درجے پر فائز ہو چکی تھی جس کا ذرا سا دل دکھانے کی اتنی بڑی سزا ہمیں بھگتنا پڑی۔
اس کے بعدسے ہم نے موٹر سائیکلوں سمیت جملہ اقسام کی مشینوں کا دل دکھانے سے توبہ کر لی۔ اس نیک فیصلے میں ہماری بیگم بھی ہم سے پوری طرح متفق تھیں۔


بیچلر سی او
یہ ان دنوں کی بات ہے جب لوگ سیر و تفریح اور شاپنگ کے لئے پشاور کا رخ کیا کرتے تھے۔ پی ایم اے میں جب ہماری پوسٹنگ اناؤنس کی گئی تو ساتھ ہی سٹیشن پشاور کینٹ بتایا گیا۔ یار لوگوں نے پشاور کی دلکشی کے قصے خوب مزے لے لے کر سنائے اور ہمارے شوق کو اور مہمیز کیا۔ لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ خلیل خان جب فاختہ اڑانے کے لئے پشاور پہنچے تو ہاتھوں کے طوطے فی الفور اڑ گئے۔ یہ جان کر ہمارے بن کھِلے ارمانوں پر منوں اوس پڑ گئی کہ ہمارے سی او بیچلر ہیں۔ فورسڈ بیچلر نہیں بلکہ سچ مچ کے، اصلی والے بیچلر۔ ان کے پاس پروفیشن کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا۔ ہم صبح سے لے کر شام تک یونٹ میں ان سے عزت افزائی کروانے کے بعد کمرے کا رخ کرتے تو احتیاط کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے کہ ساتھ والا کمرہ ان کا تھا۔ کھانا کھانے کے لئے میس کا رخ کرتے تو وہاں پر بھی ان کی پرہیبت شکل نظر آتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے اپنی سروس کا زیادہ تر حصہ انٹیلی جنس میں گزارا ہوا تھا اور ہر بات کی ٹوہ لگانا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ آرٹلری کا یہ کریلا جاسوسی کی نیم چڑھ کر حد درجہ کڑوا ہو چکا تھا۔


عام طور پر ان کو یہ خدشہ لاحق رہا کرتا تھاکہ افسران ان کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ عنایات صرف افسروں کے لئے خاص نہ تھیں بلکہ سارا زمانہ ان کے قدموں میں تھا کیا جے سی او، کیا این سی او اور کیا سپاہی کوئی بھی ان کی مہربانیوں سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ان کی کوشش ہوتی کہ لوگوں کو ہر وقت ڈرا سہما کر رکھا جائے اور اس قسم کا نظام تشکیل دیا جائے کہ ان کو پل پل کی خبر ملتی رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کوئی بھی طریقہ روا رکھنے کے قائل تھے۔


ایک مرتبہ ہم میس کے ٹی وی روم میں بیٹھے کھانا لگنے کا انتظار کر رہے تھے۔ یکایک ایک ویٹر نے چپکے سے آکر کان میں بولا کہ آپ کو سائیڈ روم میں کیپٹن جمیل اور لیفٹیننٹ کبیر یاد کر رہے ہیں۔ یہ دونوں افسران ہم سے دو ڈھائی سال سینئر تھے اور ان کا تعلق ایک دوسری یونٹ سے تھا۔ہم پہلے تو شش و پنج میں پڑ گئے کہ ان کو ہم سے آخرکیا کام آن پڑا ہے جو ہمیں تخلیے میں طلب کیا جا رہا ہے۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے سائیڈ روم میں پہنچے تو دیکھا کہ دونوں افسران ایک صوفے پر براجمان ہیں۔ ہم نے سلام کیا تو سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد لیفٹیننٹ کبیر نے پوچھا کہ سنا ہے کہ آج کل آپ کے سی او آپ پر بہت ظلم رو ا رکھے ہوئے ہیں۔ کیپٹن جمیل بھی ساتھ میں گویا ہوئے کہ آپ لوگ تو بہت سختی جھیل رہے ہیں۔ ایسے سی او کے ساتھ کام کرنا تو انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔ ہم کچھ دیر تو سنتے رہے پھر بولے ’’سر آپ لوگ ہوتے کون ہیں میرے سی او کے خلاف کوئی بات کرنے والے۔ ان جیسا قابل اور محنتی افسر روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہے۔ ہم انہیں دل و جان سے پیار کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات سننا ہمیں ہرگزگوارا نہیں۔معاف کیجئے گا !آپ لوگ مجھ سے بہت سینئر ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سینئر آفیسر کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس طرح سے بات کرنا اخلاقی اور قانونی تقاضوں کے عین منافی ہے اور اگر میں ان کو اس بارے میں مطلع کر دوں تو آپ دونوں کے خلاف سخت ایکشن بھی لیا جا سکتا ہے۔‘‘


ان دونوں افسران کو ہم سے اس قسم کی حق گوئی و بیباکی کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو ہم سے سی او کی برائیاں سننا چاہ رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ بالکل الٹ نکلا۔ بہرحال ہم تو اپنے سی او کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد سکون سے ڈائننگ روم میں پہنچ گئے۔ کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ سی او کا بیٹ مین پیغام لے کر پہنچ گیا کہ ہمیں یاد فرمایا جا رہا ہے۔ ہم سی او کے کمرے میں پہنچے تو انہوں نے کھڑے ہو کر ہمارا استقبال کیا۔ ہمارے لئے چائے منگوائی گئی اور جاتے ہوئے پندرہ دن کی چھٹی بھی عنائت فرمائی۔ بات دراصل یہ تھی کہ جب ہمارا انٹرویو لیا جا رہا تھا تو موصوف بنفسِ نفیس پردے کے پیچھے چھپ کر ساری باتیں سن رہے تھے اور انہوں نے خود ہی ان دونوں افسروں کو اس واہیات کام کے لئے تیار کیا تھا۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ وہ ساری برائیاں جو ہم ان کی پیٹھ پیچھے کیا کرتے تھے، وہ اپنے کانوں سے سن سکیں۔ لیکن ہمارے منہ سے برائی کے بجائے اپنی اس قدر تعریف سننے کے بعد ہمارے بارے میں ان کا موقف یکسر تبدیل ہو گیا۔ اب ان کو پوری یونٹ میں ہم سے زیادہ لائق افسر کوئی اور نظر نہیں آتا تھا۔


(اب آپ سے کیا چھپائیں کہ ویٹر نے ہمیں پیغام دیتے ہوئے کان میں یہ بھی کہہ دیا تھا’’سر! سی او صاحب پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ آپ بات چیت کرتے ہوئے احتیاط کیجئے گا۔)

...جاری ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
13
March

تحریر: خورشیدندیم

یہ تاریخی واقعہ ہے کہ انسان اجتماعی صورت میں رہتے ہیں۔ ابنِ آدم کی معلوم تاریخ اسی کی تائید کرتی ہے۔ سماج کا نام ذہن میں آتے ہی اجتماعیت کا تصور سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اجتماعیت کیسے وجود میں آئی؟َ


انسانی تاریخ کا مطالعہ ایک دوسری حقیقت کی نشان دہی بھی کرتا ہے۔ جیسے جیسے انسانی سماج ارتقاء کے مراحل سے گزرتا گیا، انسانوں کے ایک سے زیادہ اجتماع پیدا ہوئے۔وقت آگے بڑھاتوانسانوں کے کئی گروہ بن گئے اور یہ ایک دوسرے سے متصادم بھی ہوئے۔ ہمیں ایک خطۂ زمین میں لوگوں کے کئی گروہ ملتے ہیں جو ایک طرف ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور دوسری طرف مخالف۔ گروہ سے گروہ برسر پیکار ہے اور یہ بات بھی ہمارے مشاہدے اور تجربے میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا قدرِ مشترک ہے جو انسانوں کو ایک گروہ کی شکل دیتی ہے اور انہیں کسی دوسرے گروہ سے ممتاز کرتی ہے؟


عمرانیات اور سیاسیات میں یہ سوال صدیوں سے زیر بحث ہے۔ عمرانیات کے ماہرین نے جب قدیم انسانی سماج کا مطالعہ کیا تو اس کے اسباب تلاش کیے کہ لوگ کیسے ایک گروہ کی صورت میں منظم ہوئے، قدیم قبائلی معاشرت کیسے وجود میں آئی۔ ارسطو جیسے لوگوں نے انسان کو سماجی حیوان قرار دے کر ، اجتماعیت کی خواہش کو انسان کا فطری وصف قرار دیا۔ اہل علم کے نزدیک یہ ضروریات ہیں یا بقا کی جبلت ہے جس نے انسان کو انسان کے قریب کیا۔ اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ اجتماعیت کی صورتیں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ قبیلے سے ایک جدید قومی ریاست تک، اس تبدیلی اور ارتقاء کے مختلف مدارج، مراحل اور صورتیں ہیں۔ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ اس اجتماعیت نے اگر انسانوں کو کسی مشترکہ مفاد کی خاطر جمع کیا ہے تو انسانوں کے مختلف گروہوں کے مفادات میں پیدا ہونے والے تصادم نے انسانوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ دو عالمی جنگیں ایک طرف کروڑوں افراد کے لئے موت کا پیغام لے کر آئیں اور دوسری طرف بعض اقوام نے اس پر فتح کے جشن بھی منائے۔

 

جغرافیے کی طرح مذہب بھی تاریخ میں اجتماعیت کی ایک اہم اساس رہا ہے۔ دور جدید میں پاکستان اسی اجتماعی اساس پر قائم ہوا۔ ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں، ایک خود مختار سیاسی اجتماعیت کی خواہش، جس کی بنیاد مذہب پر تھی، ایک اجتماعی شناخت کی بنیاد بن گئی۔ چنانچہ علاقائی عصبیتوں پر اس بڑی عصبیت نے غلبہ پا لیا۔

اس باب میں تو دوسری رائے نہیں کہ اجتماعیت امر واقعہ ہے، لیکن یہ وجود میں کیسے آتی ہے؟ اس کا کوئی واضح جواب ابھی تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ابن خلدون نے عصبیت کو اجتماعیت کی اساس قرار دیا لیکن یہ عصبیت کیسے وجود میں آتی ہے، اس کا کوئی جواب ان کے پاس بھی نہیں تھا۔ اس سے پہلے یونانیوں نے انسانی نسل کو اجتماعیت کی اساس مانا۔ ’ نیشن کا تصور یونانی لفظ نیشو سے وجود میں آیا، جس کے لغوی معنی، پیدا ہونا ہے۔ ان کے ہاں نسل اور جائے پیدائش کا اشتراک اجتماعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ فرانسیسی مفکر رینان کو اس سے اتفاق نہیں۔ وہ زبان یا نسل کو ’ نیشن ‘ یا اجتماعیت کی بنیاد نہیں سمجھتا۔ اس کے نزدیک جو امر لوگوں کے اجتماع کو ایک ’ نیشن ‘ بناتا ہے وہ یہ ہے کہ ماضی میں کچھ لوگوں نے متحد ہو کر کسی عظیم مقصد کو حاصل کیا ہو اور مستقبل میں وہ اس کا ارادہ رکھتے ہوں۔ سپینگلر بھی مادی اساسات کے مقابلے میں روحانی اساس کو اجتماعیت کی مضبوط تر بنیاد قرار دیتا ہے۔


اہل علم کے یہ نظریات اگر پیش نظر رہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسانوں کے مابین کئی طرح کی اقدار مشترک ہوتی ہیں۔ ان میں رنگ ، نسل، جائے پیدائش اور مذہب شامل ہیں۔ یہ بعض تاریخی عوامل اور واقعات ہیں جو کسی ایک قدر کو ایک مضبوط بندھن کی صورت دے دیتے ہیں۔ یہ بندھن انسانوں کے ایک گروہ کو جمع کر دیتا ہے اور وہ ان کی دوسری مشترکہ اقدار پر غالب آ جاتا ہے۔ یوں وہ اس مشترکہ قدر کو اپنی اجتماعی شناخت کے طور پر قبول کر لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کا کوئی دو ٹوک جواب موجود نہیں، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ایسا ہوتا ہے اور یوں لوگ منظم ہو جاتے ہیں۔

 

انسانی تاریخ میں ایک مذہب کو ماننے والے ،اس سے پہلے بھی ایک اکائی کی صورت میں منظم رہے ہیں۔ اسلام بھی اسی اجتماعیت کو تسلیم کرتا اور اس اجتماعیت کو ملت قرار دیتا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا ہے کہ ملت ایک روحانی وحدت ہے یا سیاسی وحدت؟ عملاً تو یہ ایک روحانی وحدت ہے۔ مسلمان عرب کا ہو یا عجم کا، ایک ملت کا رکن ہے۔ اسی طرح مسیحی کہیں بھی رہتا ہو، دوسرے مسیحی کے ساتھ مل کر ایک ملت بناتا ہے۔ سیاسی وحدت ایک الگ عمل ہے جو حالات کے تابع ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ’ قومی ریاست‘ کا جو تصور ابھرا، اس میں ’وطن‘ کو اجتماعیت کی اساس کے طور پر قبول کر لیاگیا۔ دنیا بھر میں اس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور ایک دوسرے کے قریب بھی۔ بعض علاقوں میں زمین اور نسل، دونوں عصبیتیں مل گئیں جس نے ایک زیادہ مضبوط بندھن کو جنم دیا۔ وقت نے ارتقاء کے مراحل طے کئے اور لوگوں نے مختلف اسباب سے نقل مکانی اختیار کی تو جدید ریاست میں ’ شہریت ‘ کا تصور پیدا ہوا۔ ریاست کے عناصر ترکیبی میں جغرافیے کے علاوہ ایک عمرانی معاہدے کو بنیادی حیثیت حاصل ہو گئی۔ یہ کہا گیا کہ جو ایک ریاست کے جغرافیے اور اجتماعی مفاد کے ساتھ وفادار ہے اور عمرانی معاہدے کو قبول کرتا ہے ، وہ ریاست کا شہری ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ اس نے کہاں جنم لیا، اس کا رنگ کیا ہے، اس کا تعلق کس مذہب سے ہے اور اس کے آباء واجداد کون تھے۔ جدید ریاست اسی تصور پر کھڑی ہے۔


جغرافیے کی طرح مذہب بھی تاریخ میں اجتماعیت کی ایک اہم اساس رہا ہے۔ دور جدید میں پاکستان اسی اجتماعی اساس پر قائم ہوا۔ ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں، ایک خود مختار سیاسی اجتماعیت کی خواہش، جس کی بنیاد مذہب پر تھی، ایک اجتماعی شناخت کی بنیاد بن گئی۔ چنانچہ علاقائی عصبیتوں پر اس بڑی عصبیت نے غلبہ پا لیا، جس کا اظہار تحریک پاکستان کی صورت میں ہوا۔ برصغیر ، جو مروجہ معنوں میں کوئی ’ قومی ریاست‘ نہیں تھا، اس میں ’ مسلم شناخت‘ نے ایک عصبیت کی صورت اختیار کر لی۔ اب یو پی سے بنگال اور سندھ سے خیبر تک، جو اس شناخت سے وابستہ تھا، اس نے ایک خود مختار سیاسی اکائی کو بطور اجتماعی شناخت قبول کر لیا۔ اس اکائی کا نام ’ پاکستان‘ ہے۔

 

آج انسان کے لئے اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس حد تک اجتماعی شناخت کے اس عمل کو سمجھتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ ممالک کے مابین تصادم کی ایک وجہ مفادات کا تضاد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی اجتماعی شناخت کو ماننے سے انکار کر دیا جائے،

انسانی تاریخ میں ایک مذہب کو ماننے والے ،اس سے پہلے بھی ایک اکائی کی صورت میں منظم رہے ہیں۔ اسلام بھی اسی اجتماعیت کو تسلیم کرتا اور اس اجتماعیت کو ملت قرار دیتا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا ہے کہ ملت ایک روحانی وحدت ہے یا سیاسی وحدت؟ عملاً تو یہ ایک روحانی وحدت ہے۔ مسلمان عرب کا ہو یا عجم کا، ایک ملت کا رکن ہے۔ اسی طرح مسیحی کہیں بھی رہتا ہو، دوسرے مسیحی کے ساتھ مل کر ایک ملت بناتا ہے۔ سیاسی وحدت ایک الگ عمل ہے جو حالات کے تابع ہے۔ پاکستان اس کی ایک مثال ہے۔ برصغیر کے غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی مرضی سے پاکستان کا انتخاب کیا۔ یوں وہ مسلمانوں کے ساتھ اس سیاسی شناخت میں شریک ہو گئے جس کا نام پاکستان ہے۔ جس طرح نسل اور جغرافیہ کہیں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور کہیں الگ ہو جاتے ہیں، اسی طرح جغرافیہ اور مذہب کہیں ساتھ ساتھ ہیں جیسے سعودی عرب میں اورکہیں الگ ہیں جیسے انڈونیشیا اور پاکستان میں۔ یہ فطری بات ہے کہ جہاں ایک مذہب کے ماننے والوں کا غلبہ ہو گا، وہاں اسی مذہب کا تہذیبی رنگ نمایاں ہو گا۔ تاہم یہ سیاسی وحدت کو متاثر نہیں کرے گا۔، جس کی بنیاد شہریوں کے مفادات کا یکساں اعتراف اور احترام ہے۔
آج دنیا میں اجتماعی عصبیت کی کئی بنیادیں ہیں۔ خطہ زمین ہے جیسے یورپ کے لوگ خود کو ایک شناخت دیتے ہیں۔ خطہ زمین اور نسل ہے جیسے کشمیر کے لوگ ایک قوم ہیں۔ مذہب ہے، جیسے پاکستان۔ ایک عمرانی معاہدہ ہے جیسے امریکہ۔ اس کے ساتھ آج بین الاقوامی عصبیت کا تصور بھی سامنے آرہا ہے جسے عالمگیریت کا ایک منظقی نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔


آج انسان کے لئے اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس حد تک اجتماعی شناخت کے اس عمل کو سمجھتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ ممالک کے مابین تصادم کی ایک وجہ مفادات کا تضاد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی اجتماعی شناخت کو ماننے سے انکار کر دیا جائے، جیسے کشمیر میں ہو رہا ہے۔ پہلی وجہ کو معاہدوں کے ذریعے ایک نظم کا پابند کر دیا جاتا ہے تاکہ تصادم کی صورت پیدا نہ ہو۔ دوسری وجہ خاتمے کے لئے جدوجہد کی جاتی ہے جیسے کشمیر کی تحریک آزادی ہے۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اگر مان لیا جائے تو جنوبی ایشیا میں امن آ سکتا ہے۔ کشمیر میں اس اجتماعیت سے انکار دراصل سماجی عمل سے متصادم ہے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ جب کوئی اجتماعی عصبیت وجود میں آ جائے تو اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ بصورت دیگر تاریخ کے جبر سے جنگ کا نتیجہ بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

تحریر: ملیحہ خادم

نظریہ قوموں کی فکری اساس ہے۔ نظریہ اس جذبے کو جلا بخشتا ہے جس کی بنیاد پر ہجوم میں سے قوم بنتی ہے اور پھر اسی جذبے کی آبیاری کرتے ہوئے قوم اپنی سرحدوں کا تعین کرتی ہے۔ لہٰذا نظریے سے جڑے رہنا ہی ملک و قوم کی بقا کی ضمانت ہے۔ کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جذبہ سرد پڑنے لگتا ہے۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ زندگی کے جھمیلوں سے لڑتے ہوئے وہ اپنے تمام جذبات کو روزمرہ زندگی سے ہم آہنگ کرلیتا ہے۔ یہی معاملہ قوموں کے ساتھ ہے یعنی جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے اور ایک نسل کی جگہ دوسری نسل لیتی جاتی ہے تو وہ جذبہ اور نظریہ جس نے انہیں یکجا کیا ہوتا ہے، وہ یا تو ماند پڑنے لگتا ہے یا کسی مقدس چیز کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر صرف اہم دنوں پر ہی اس کی زیارت اور تجدید کرلی جاتی ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن ہمیشہ نظریات پر شکوک و شبہات کی گرد چڑھادیتے ہیں۔ اور ایک بار یہ گرد جم جائے تو اسے ہٹانے کی قیمت قوموں کو اپنی آزادی اور خون سے چکانی پڑتی ہے کیونکہ اگر بنیاد ہی ہل جائے تو عمارت زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ اس لئے تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن اقوام نے اپنے نظریات کی جڑیں کھوکھلی کرلیں انہیں سنبھلنے کا موقع مشکل سے ہی ملا یا یوں کہہ لیں کہ نظریات کے دفاع کے لئے جان دی اور لی جاتی ہے کیونکہ اگر نظریہ دم توڑ جائے تو ولولہ اور امنگ بھی باقی نہ رہے اور ان دو چیزوں کے بغیر قوم میں زندگی کی رمق باقی رہنا بھی مشکل ہے ۔


پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے نے رکھی اور دو قومی نظریے کی وجہ برصغیر میں ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور معاندانہ رویہ بنا۔ یہ دو قومی نظریہ ہی تھا جس نے پہلے قرارداد پاکستان کی شکل اختیار کی اورپھر پاکستان کو ناگزیر قرار دیا۔ بد قسمتی سے ہمارے اپنے نادان دوست اس نظریے کو متنازعہ بنا کر دانا دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے رہتے ہیں۔ دو قومی نظریہ کہتا ہے ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جن کا مذہب، تہذیب، معاشرت سب الگ الگ ہے۔ آج ہمارے اپنے بہت سے وہ پاکستانی جن کی رسائی قومی اور بین الاقوامی فورمز اور میڈیا تک ہے، ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی تہذیب اور معاشرت ایک جیسی ہے۔ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کبھی کوئی فنکار بالی وڈ میں کام ملنے کی آس میں یہ پرچار کرتا ہوا پایا جاتا ہے تو کبھی کوئی صحافی یا دانش ور کسی انڈین کا مہمان یا میزبان بنتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے کلچرکو ایک ہی بنادیتا ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہے کہ دو قومی نظریئے کی آڑ میں کوئی گروہ پاکستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے لوگوں کو مذہبی تعصب کا نشانہ نہ بنا سکے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں بسنے والے تمام شہری بغیر کسی مذہبی، لسانی یا زبان کی تخصیص کے برابر کے شہری ہیں۔

پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے نے رکھی اور دو قومی نظریے کی وجہ برصغیر میں ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور معاندانہ رویہ بنا۔ یہ دو قومی نظریہ ہی تھا جس نے پہلے قرارداد پاکستان کی شکل اختیار کی اورپھر پاکستان کو ناگزیر قرار دیا۔ بد قسمتی سے ہمارے اپنے نادان دوست اس نظریے کو متنازعہ بنا کر دانا دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے رہتے ہیں۔

اس سوچ نے نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا شروع کیا ہوا ہے۔ ہم کتابوں سے دور ہوچکے ہیں اور چونکہ مطالعہ اور تحقیق متروک کرچکے ہیں لہٰذا جو بھی غلط سلط معلومات ہم تک پہنچائی جاتی ہیں ہم یا تواسے صحیح مان لیتے ہیں یا پھر الجھ جاتے ہیں۔ اذہان میں پلتی اور بڑھتی سوچ کی اس الجھن کا فائدہ بھارت خوب اٹھاتا ہے اور اپنی ثقافتی یلغار کے سہارے غیر محسوس طریقے سے مزید زہریلی تبلیغ کا عمل جاری رکھتا ہے۔ حالات اب یہاں تک آ پہنچے ہیں کہ کچھ فنکار بھارت مخالف کوئی بھی پروجیکٹ کرنے سے گھبراتے ہیں کہ مبادا انہیں انڈیا میں کام ملنا بند نہ ہوجائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے کے بعد بالی وڈ نے پاکستانی فنکاروں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکال پھینکا حالانکہ ’’بیچارے‘‘ ہمارے فنکار، بھارت کے آگے بچھ بچھ کر صفائیاں بھی دیتے رہتے ہیں لیکن بند دروازے اب تک نہیں کھل پائے۔


درحقیقت چار جنگوں کے تجربے نے بھارت کو سکھادیا ہے کہ پاکستان کو روایتی جنگ میں ہرانا آسان نہیں ہے اس لئے اب اس نے چومکھی لڑائی شروع کررکھی ہے۔ وہ ایک طرف جغرافیائی سرحدوں پر جارحیت کررہا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک میں دہشت گردی کرکے معصوم لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ ماننے کی بات ہے کہ اس کھیل میں میں ہماری اپنی کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں لیکن زیادہ بڑے پیمانے پر افغانستان بھارت کی لاٹھی بنا ہوا ہے جو تیس سال تک پاکستانیوں کی جانب سے کی گئی میزبانی کا قرض یوں پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اتار رہا ہے۔ لیکن اس سب سے زیادہ خطرناک وہ جنگ ہے جو انڈیا نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف چھیڑ رکھی ہے اور ہماری اپنی صفوں میں موجود لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ طریقے سے اس جنگ کو ایندھن فراہم کررہے ہیں۔ مودی سرکار بالادستی اور طاقت کی خواہش میں حقائق اور تاریخ کو مسخ کرکے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے ایسے عزائم کو چھپانے کا تردد بھی بھارت کی طرف سے نہیں کیا جاتا بلکہ ہر اس چیز کی پشت پناہی کی جاتی ہے جو پاکستان کے مثبت تاثر اور نظریات پر ضرب لگائے۔ طارق فتح جیسے پاکستان بدر کئے گئے خود ساختہ دانشور کی سرکاری سرپرستی اور ریاستی حمایت اس کی واضح مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس مقصد کے لئے خوب سرمایہ کاری کی ہے اور جن پر کی ہے وہ قتا فوقتا اپنی کمائی حلال بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ الزام نہیں ہے بلکہ بہت سے لوگوں کے قول و فعل چیخ چیخ کر خود کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔

 

درحقیقت چار جنگوں کے تجربے نے بھارت کو سکھادیا ہے کہ پاکستان کو روایتی جنگ میں ہرانا آسان نہیں ہے اس لئے اب اس نے چومکھی لڑائی شروع کررکھی ہے۔ وہ ایک طرف جغرافیائی سرحدوں پر جارحیت کررہا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک میں دہشت گردی کرکے معصوم لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ ماننے کی بات ہے کہ اس کھیل میں میں ہماری اپنی کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں۔

صدرمشرف دور کے آخری سالوں سے جس گروہ نے سول سوسائٹی کا لقب اپنایا ہے، اُس میں سے بعض عناصر نے بد قسمتی سے ان دوہی چیزوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ ان میں سے پہلے نمبر پر ہمارے عسکری ادارے ہیں اوردوسرے نمبر پر قیام پاکستان کی بنیاد اور عوامل ہیں۔ بظاہر ہمسایوں سے دوستی کا خواہاں یہ گروہ بھارت نوازی میں اس حد تک آگے چلا گیا ہے کہ انڈیا کی پاکستان دشمنی کی تاریخ ہی مسخ کرنا شروع کردی ہے۔ سول سوسائٹی اور لبرل طبقہ ہونے کے دعویدار کچھ لوگ جانتے بوجھتے ہر اس بات پر’ درست ہے‘ کا ٹھپہ لگارہے ہیں جو انڈیا کے حق میں جائے۔


اس گٹھ جوڑ نے منظم طریقے سے نظریہ پاکستان اور ریاست پاکستان کے خدوخال پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ اس نے پاک بھارت جنگوں کی وجوہات اور نتائج کو چیلنج کردیا ہے۔ اس نے تقسیم کے وقت ہونے والے قتل عام کی ذمہ داری قیام پاکستان پر ڈال دی ہے۔ اس نے پاکستان میں جاری دہشت گردی سے بھارت کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔ ان کی اس جزوی کامیابی کے پیچھے جدید مواصلاتی اوزاراور انگریزی زبان کا دخل ہے کیونکہ اب دنیا انہی دو چیزوں پر کھڑی ہے اور پاکستان دنیا سے الگ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے ان دو چیزوں کے سہارے اپنا متبادل نظریہ بمع بیانیہ اندرون اور بیرون ملک بیچنا شروع کردیا ہے۔ اندرون ملک تو نظریات کی پیروی کرنے والوں کی بھی تقسیم در تقسیم ترقی پسند اوررجعت پسند میں، کردی گئی۔ لہٰذا ان کے نووارد نظریات کا خریدار ’’پڑھالکھا‘‘ بن جاتا ہے اور جو اصل نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے ان سے اختلاف کرے وہ سازشی تھیوری کا پرستار قرار دے دیا جاتا ہے۔

 

آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے بیانیے میں خلا پیدا ہوچکا ہے اس لئے درسی کتابوں سے باہر گردش کرتے تمام سوالات کے جواب مبہم ہوتے جارہے ہیں۔ ۔اس کی سب سے بڑی وجہ اس سوچ کے حامل لوگوں کی انگریزی ذرائع معلومات اور سوشل میڈیا پر قلیل تعداد میں موجودگی ہے۔

پاکستان کی آج کی شہری نوجوان نسل پڑھی لکھی ہے۔ وہ ابلاغ اور روابط کے تمام تر ذرائع تک پہنچ رکھتی ہے، آئندہ نسل اوربھی زیادہ باشعور ہوگی۔ انہیں مطمئن کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ یہ معلومات اور علم کو ایک کلِک سے حاصل کرلیتے ہیں۔ ہر چیز کو جزئیات سمیت جاننا ان کا حق ہے لیکن ایک نظریاتی ملک ہونے کے باوجود ہم اپنے بنیادی نظریے کی تعریف اور اس کی توثیق نئی نسل تک منتقل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ نوجوانوں کی اردو کے بجائے انگریزی اور کتب کے بجائے انٹرنیٹ پر انحصار ہے۔ طالبعلم درس گاہوں میں یہ سب پڑھتا تو ہے لیکن صرف مطالعہ پاکستان کا پرچہ پاس کرنے کے لئے۔ اس کے بعد وہ اپنی معلومات کے لئے انٹر نیٹ پرانحصار کرتا ہے اور وہاں پر پایا جانے والا بیشتر مواد پڑھائے گئے حقائق اور تاریخی واقعات کی ضد ہوتا ہے۔


آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے بیانیے میں خلا پیدا ہوچکا ہے اس لئے درسی کتابوں سے باہر گردش کرتے تمام سوالات کے جواب مبہم ہوتے جارہے ہیں۔ ۔اس کی سب سے بڑی وجہ اس سوچ کے حامل لوگوں کی انگریزی ذرائع معلومات اور سوشل میڈیا پر قلیل تعداد میں موجودگی ہے۔ اگر اب بھی ہم نے ثقیل توجیہات کوسینے سے لگائے رکھا اور دور جدید کے طریقوں سے پراپیگنڈے کا جواب دینا نہیں سیکھا تو بہت مشکل ہوجائے گی کیونکہ یہ ہی نوجوان کل والدین، استاد، سیاست دان، سول سرونٹ وغیرہ بنیں گے، مگرجب ان کی اپنی معلومات میں ہی جھول ہوگا تو وہ بھارت کے ساتھ اور دنیا کے سامنے مختلف مسائل پر پاکستان کا دیرینہ موقف کیسے پیش کریں گے۔ وہ اپنی تاریخ کے مقدمے کا دفاع کیسے اور کیوں کر کر پائیں گے اور نئی پود کو کیا سکھائیں گے۔


مکالمہ اور اختلاف معاشرے کی صحت کے لئے ضروری ہے لیکن صرف اس وقت تک جب وہ سرخ لکیر کے پار جاکر ملک و قوم کی وحدت کی اکائی کو نقصان نہ پہنچائے اور اگر کوئی فریق بار بار حد فاضل سے آگے جارہا ہے تو پھر سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایسا کسی خاص مقصد کے تحت یا کسی کے اشارے پر کررہا ہے اور اس صورتحال میں دوسرے فریق کو بھی مقابلے کے لئے اپنی تمام چھوٹی بڑی خامیوں پر قابو پاکر میدان میں اترنا چاہئے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

یومِ پاکستان مبارک

 

اے صبحِ یومِ وطن تیری دلکشی کو سلام
جنابِ بابائے قائدؒ کی آگہی کو سلام
یہ خوابِ حضرتِ اقبالؒ کیسا رنگ لایا
الگ وطن کی فضاؤں کی روشنی کا سلام
بہت کٹھن تھا سفر رب نے کر دیا آسان
جو زخم زخم ہوئے ان کی بے بسی کو سلام
یہ دیس کلمۂ حق کی صدا سے پایا ہے
عجب کمالِ حقیقت کی بندگی کو سلام
مرے وطن تِرا پرچم سدا بلند رہے
تری وفا کے تقاضوں کی تازگی کو سلام
خدا کرے کہ یہ یومِ وطن مبارک ہو
پیامِ امن و اخوت کی چاشنی کو سلام
مرے لہو سے بقائے وطن ہو گر راشد
تو ایسی موت کو اور ایسی زندگی کو سلام

راشد منہاس

*****

 
13
March

تحریر:محمود شام

یہ آسمان چومنے کے لئے بے تاب مینار پاکستان ہم سے کچھ کہہ رہا ہے۔
اس کے گرد پھیلا ہوا سبزہ زار۔ ہمیں کہانیاں سنانے کے لئے بے چین ہے۔
کبھی دوڑتی بھاگتی۔ زر کی طلب میں گزرتی ساعتوں سے چند لمحات نکال کر اس کے سائے میں آکر بیٹھیں اور دل کے کان لگاکر سنیں کہ یہ زبان حال سے کیا کہہ رہا ہے۔
میں تو اس سے اس وقت محو کلام ہوا تھا۔ جب یہ ابھی زیر تعمیر تھا۔ میں اس کی طرح جوان تھا۔ میرے عزائم بہت بلند تھے۔ آفاق تسخیر کرنے کی آرزو بھی رکھتا تھا اور توانائی بھی۔ میں اس کی سیڑھیاں چڑھ کر اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تھا ۔ میں یاد کررہا ہوں کہ 361کے قریب زینے تھے۔ میں اپنے آپ پر فخر بھی کرتا ہوں کہ میں نے مینار پاکستان بنتے دیکھا۔ مزار قائد کے مختلف مراحلِ تعمیر بھی میری نگاہوں سے گزرتے رہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ۔ سپریم کورٹ میری نظروں کے سامنے بنے۔


خوش قسمت بھی خیال کرتا ہوں کہ میں اپنے وطن کا ہم عمر ہوں۔ بلکہ پانچ سال بڑا ہوں۔ میں نے اس وطن کو معرض وجود میں آتے دیکھا۔ میں انبالے سے اپنے والدین اور ایک بھائی کے ہمراہ ایک مال گاڑی کے ذریعے لاہور پہنچا تھا۔ مال گاڑی کے اس ڈبّے کی چھت نہیں تھی ۔دھوپ بہت تیز تھی۔ آس پاس سے بلوائیوں کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ یہ سفر اندھیرے سے روشنی کی جانب تھا۔ غلامی سے آزادی کی طرف اس لئے مجھے یہ سفر کبھی نہیں بھولتا۔


خون کی گردشوں میں شامل تھا
یہ وطن دھڑکنوں میں شامل تھا
بستے گھر چھوڑ۔ چل پڑے تھے سب
اک جنوں ولولوں میں شامل تھا
جسم پہ زخم پھول لگتے تھے
درد بھی لذتوں میں شامل تھا
جب سفر تھا سفر کا حاصل بھی
راستہ منزلوں میں شامل تھا
نقش ہجرت ہیں جن کی تصویریں
میں بھی ان قافلوں میں شامل تھا
اک نیا ملک تھا خیالوں میں
عزمِ نَو بازوؤں میں شامل تھا
مال گاڑی کا وہ کھُلا ڈبہ
ان دنوں جنتوں میں شامل تھا
ماں کی آغوش اس کا حصہ تھی
باپ کی شفقتوں میں شامل تھا
اس کی تعبیر ڈھونڈتے ہیں سبھی
خواب جو رَت جگوں میں شامل تھا


مجھ جیسے بے شُمار بچے، میرے والدین جیسے لاکھوں ماں باپ ان قافلوں میں شامل تھے۔ جن کی تصویریں اخبارات میں 23مارچ اور 14اگست کو شائع ہوتی ہیں۔ جن کی فلمیں ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں۔
1940 میں ہم نے ایک عزم کیا۔ برصغیر، جسے اب جنوبی ایشیا کہتے ہیں کے گوشے گوشے سے لاہور کے اس منٹو پارک میں سارے مسلمان رہنما جمع ہوئے تھے۔ قیادت قائد اعظم محمد علی جناح کی تھی۔ بے لوث، اصولوں کی پرستار، ایک پائی کرپشن کی بھی سوچ نہیں تھی۔ بنگال بھی یہاں موجود تھا یوپی بھی، دہلی بھی، پنجاب، سرحد اور سندھ سب کا ایک نعرہ تھا، ایک عزم مصمم، ایک خواب، آج کل کی اصطلاح میں ایک روڈ میپ۔
کلکتے سے لے کر پشاور تک۔ دہلی سے لے کر دالبندین تک۔ راس کماری سے لے کر کراچی تک۔ ڈھاکے سے لے کر چٹا گانگ تک نوجوان ایک ہی نعرہ بلند کرتے ہوئے نکلتے تھے۔


بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں گے پاکستان


قیادت سچی تھی۔ کسی کے دل میں کھوٹ نہیں تھا۔ اس لئے 7سال میں اس خواب کو تعبیر مل گئی۔ خیال حقیقت بن گیا۔ اس وقت بھی نوجوان پیش پیش تھے۔ کسی تحریک میں نوجوان خون شامل نہ ہو تو وہ اپنی منزل نہیں پاسکتی۔ قائد اعظم نے جو روڈ میپ دیا۔ سب اس پر قدم بڑھاتے رہے۔ 23مارچ 1940کو قرارداد لاہور، منظور ہوئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں میں الگ ملک بنانے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ اور ہم 7سال میں قائد اعظم کی قیادت میں وہ منزل حاصل بھی کرلیتے ہیں۔ دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج 77سال بعد یہ مملکت اسلامی دُنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔
ہم آزاد ہیں۔ ہماری مملکت آزاد اور خود مختار ہے۔ بہت سے مشکل مراحل ہم طے کر آئے ہیں۔ بہت سے المیے بھی رونما ہوئے۔ بہت سے طوفان بھی ہم نے جھیلے۔ ہمارا اکثریتی حصہ، ہمارا ایک بازو، بھی اپنوں کی سازشوں، دشمنوں کی یلغار سے الگ ہوچکا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان آج بھی ایک عزم مصمم رکھتے ہیں۔ آج اگردیکھا جائے تو 1940کی نسبت حالات کہیں زیادہ سازگار، موسم کہیں زیادہ خوشگوار ہے۔ نوجوان جذبۂ تعمیر سے کہیں زیادہ سرشار، البتہ قیادت کے بحران سے دوچار۔ مگر نوجوان اپنی قیادت کے لئے خود تیار۔


اس وقت پاکستان دفاعی حوالے سے ناقابل تسخیر ہے۔ ہماری جغرافیائی حیثیت بے نظیر ہے۔ ساری دُنیا یہ کہتی ہے کہ اقتصادی طور پر یہ ایک مثالی یونٹ ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے بے حساب معدنی دولت سے نوازا ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن سب رہنما اور راہرو پاکستان کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ سب کا خواب یہی ہے۔ مستحکم، طاقت ور پاکستان۔


یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت بھی ہے اور مسلح افواج کی قیادتوں کی مستقل مزاجی، بلند عزمی اور اصولوں کی پاسداری کہ ہماری تینوں افواج، برّی، بحریہ اور فضائیہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی دفاعی قوت کے ہم پلہ ہیں۔ ہمارے پاس جدید ترین ہتھیار بھی ہیں اور جدید ترین عسکری تربیت بھی۔ ان دنوں ہم اسلحے اور فوجی تربیت کے لئے پہلے کی طرح کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ اپنی دفاعی پیداوار کے حامل ہو چکے ہیں۔ خود انحصاری کی منزل گر نہیںآئی تو دور بھی نہیں۔ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں دشمن کے عزائم اب بھی جارحانہ ہیں۔ مشرقی سرحد کے ساتھ اب مغربی سرحد پر بھی ریشہ دوانیاں بڑھ گئی ہیں۔ لیکن ہماری دفاعی قوت اتنی منظم اور مستحکم ہے کہ دشمن کو کسی دخل اندازی کی ہمت نہیں ہوسکتی ہے۔ ساری بڑی طاقتوں سے ہمارے دفاعی تعلقات بھی بہت خوشگوار ہیں۔


1979کی افغان پالیسی کی بدولت ہمارے لئے مشکلات پیدا ہوئیں۔ ہمارے معاشرے میں کلاشنکوف اور ہیروئن کا زہر پھیلا۔ مگر 2001میں نائن الیون کے بعد مملکت اور مسلح افواج نے جو پالیسیاں اختیار کیں اور دہشت گردی کے خلاف جس منظّم انداز میں مزاحمت کی ہے اس کا اعتراف ساری بڑی طاقتوں نے کیا ہے۔
پوری قوم مسلح افواج پر فخر کرتی ہے اور اسے عسکری قیادت پر ہمیشہ ایک اعتماد اور بھروسہ رہتا ہے۔


دفاعی اعتبار سے ہم کسی تشویش میں مبتلا نہیں ہیں۔ اس لئے اب ہماری ساری توجہ اور توانائی پاکستان کو اقتصادی، تہذیبی،تمدنی، علمی، صنعتی حوالے سے مستحکم اور منظّم بنانے کی طرف مبذول اور مرکوز ہوسکتی ہے۔ ہم 1940کی طرح پھر اسی مینار پاکستان کے سائے میں جمع ہوکر ایک نیا روڈ میپ تشکیل دے سکتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں پاکستان کو جہاں ہونا چاہئے وہاں لے جانے کے لئے۔ قیام پاکستان سے استحکام پاکستان کی طرف سفر تیزی سے جاری کرنا ہے۔ درمیان میں کئی غفلتیں ہوچکیں۔ بہت سے سال ضائع ہوچکے ۔ ہم دُنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن یہ خلا پُر کرنا یہ پسماندگی دُور کرنا مشکل نہیں ہے۔
اکیسویں صدی علم کی صدی ہے۔ معلومات، اطلاعات، تیز ترین رابطوں کی۔ ٹیکنالوجی ہمیں ان بحرانوں سے نکلنے میں ہماری مدد کرسکتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ہم خود تجربے کرنے کے بجائے ان کے تجربوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ بے شُمار رول ماڈل ہمارے سامنے ہیں۔ مسلمان ملکوں میں انڈونیشیا، ملائشیا، ترکی اور ڈیڑھ دو گھنٹے کے فاصلے پر دوبئی، کویت، بحرین اور مسلمانوں کا مقدس ترین ملک، سعودی عرب، اور غیر مسلم ملکوں میں ہمارا سب سے قریبی دوست چین، جو ہمارے دو سال بعد آزاد ہوا لیکن آج دُنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوّت بن گیا ہے۔ جس سے سارے بڑے ملک خوف زدہ ہیں۔ ان سب سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
میں تو یوں بھی کہتا ہوں کہ ہم تحریک پاکستان نئے سرے سے چلائیں۔ وہ تحریک قیام پاکستان تھی۔ یہ ہوگی تحریک استحکام پاکستان۔


اللہ تعالیٰ کی ہم پر سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ آج کا پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ دُنیا کے بیشتر ممالک ہم پر رشک کرتے ہیں کہ ہماری قریباً 62فی صد آبادی نوجوان ہے۔ یعنی 15 سے 25سال کی عمر کے درمیان۔ ماہرین کے مطابق 12کروڑ پاکستانی نوجوان ہیں۔ اس عمر میں توانائی بھرپور ہوتی ہے۔ دست و بازو میں بجلیاں۔ ذہنوں میں آفاق کی تسخیر کے عزائم، انہیں جدید ترین ٹیکنالوجی سے بھی مکمل آگاہی ہے۔ وہ انٹرنیٹ پر دیکھتے رہتے ہیں کہ دوسرے ملکوں نے ترقی کیسے کی۔ وہاں کے نوجوان کیا خواب دیکھتے ہیں۔ جہاں خواب دیکھنے، تمنّائیں کرنے، اُمنگوں سے سرشار، جذبوں سے لیس 12کروڑ ہوں اسے ترقی کرنے اور استحکام کی منزل تک پہنچنے سے کون روک سکتا ہے۔ یہ عمر ہوتی ہی خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کی ہے۔ ایک طرف خیال کی طاقت دوسری طرف جسمانی طاقت۔


موسم اچھا، پانی وافر، مٹی بھی زرخیز
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان


قائد اعظم کے افکار ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہیں۔ اقبال کے اشعار گرمئ عشق پیدا کرنے کے لئے دستیاب ہیں۔ ہم نبی آخر الزماںؐ کی اُمت میں سے ہیں۔ اس سر زمین پر اولیاء اللہ کی رُوحانی برکتیں۔ قدم قدم پر ہیں۔ داتا گنج بخشؒ ، فرید شکر گنجؒ ، شاہ لطیفؒ ، خواجہ فریدؒ ، بلھے شاہؒ ، شہباز قلندرؒ ، سلطان باہوؒ ، بری امامؒ ، عبداللہ شاہ غازیؒ کے کلام کا فیض جاری ہے ۔


ہمیں ایک روڈ میپ درکار تھا، پاک چین اقتصادی راہداری نے بڑی حد تک نشاندہی کردی ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں، کالج، دینی مدارس، یہ طے کریں کہ ان کے ہاں سے فارغ التحصیل پاکستانی وہ اہلیت حاصل کرکے نکلیں جس کی پاکستانی معاشرے کو ضرورت ہے۔ پاکستان میں کیا کیا پیدا ہوتا ہے، وہ ہماری ضرورت پوری کررہا ہے یا ہمیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔ پاکستان کو صنعتی شعبے میں کیا کیا تیار کرنا چاہئے جو نہ صرف ہماری اپنی ضرویات پوری کرے بلکہ برآمد بھی ہوسکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لئے کس قسم کے ہُنر مند چاہئیں۔ جن علوم کے اطلاق کی مانگ ہے کیا وہ علوم ہماری درسگاہوں میں پڑھائے جارہے ہیں۔ کیا وہ ٹیکنیکل تربیت دی جارہی ہے۔
ہمارے المیوں نے اوربعض خود غرض، بد عنوان اور ناجائز کمائی کے خواہشمند لیڈروں نے ملک کے نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی ہے۔ انہیں احساس کمتری میں مبتلا کیا ہے۔ وہ بعض اوقات خودکشی جیسے اقدامات کی طرف مائل ہوجاتا ہے یا منشیات کا عادی بن جاتا ہے یا پھر اُسے مسلّح مذہبی اور علیحدگی پسند تنظیمیں اپنا آلۂ کار بنالیتی ہیں۔ اسے اس خبط میں مبتلا کردیا جاتا ہے کہ جنت جانے کا راستا ہمارے مسلک پر یقین نہ کرنے والوں کو ہلاک کرنے میں ہے۔ دشمن ممالک کی خُفیہ ایجنسیاں بھی ہمارے نوجوانوں کو اپنا ایجنٹ بنالیتی ہیں۔


اجتماعی طور پر ایک جامع منصوبہ بندی نہ ہونے اور متعلقہ ذمہ دار قومی اداروں کی کوتاہی کے سبب یہ بہت بڑی قوت بھرپور انداز میں قوم کے استحکام کے لئے استعمال نہیں ہوپارہی ہے۔ بہت سا حصہ ضائع ہورہا ہے۔
ایک روڈ میپ نہیں ہے۔ یہ 12کروڑ پاکستانی صاف شفاف میٹھے پانی کا دریا ہیں۔ جس میں طغیانی بھی آئی ہوئی ہے۔ جس سے بجلی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ بنجر زمین بھی سیراب ہوسکتی ہے۔ لیکن ہم نے اس بڑے دریا پر ضرورت کے مطابق بڑے ڈیم بھی نہیں بنائے ہیں۔ اس دریا کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا اہتمام بھی نہیں کیا ہے۔ اس لئے سیلابی ریلوں کی طرح یہ پانی ضائع بھی ہورہا ہے۔ تباہی بھی مچارہا ہے۔ بستیوں کو تاراج بھی کررہا ہے۔
اس دریا کو قابو میں لانے کے لئے ضرورت ہے ’’ایک نوجوان پالیسی ‘‘ تشکیل دیں۔ سب کے تعاون سے۔ ساری یونیورسٹیوں’ سرکاری اور پرائیویٹ‘ سے مشاورت کی جائے، دینی مدارس بھی اپنی تجاویز دیں، ماہرین تعلیم سے بھی مشورے کئے جائیں۔


کارپوریٹ سیکٹر اور یونیورسٹیاں مل کر ایک ٹاسک فورس تشکیل دے سکتے ہیں جو ملک کی اقتصادی، عمرانی، سماجی، علمی، تہذیبی صورتِ حال، بدلتے رُجحانات کا مسلسل جائزہ لیتی رہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی خبریں، مباحثے، ٹاک شوز نوجوانوں کے ذہنوں کو کس طرح متاثر کررہے ہیں۔ ہماری منزل کیا ہونی چاہئے اور اس منزل کے حصول کے لئے کون سے راستے اختیار کئے جائیں۔
قرار دادِ پاکستان کے 77سال بعد پاکستان کو جہاں ہونا چاہئے تھا، معیشت میں، تعلیم میں، صحت میں، زراعت میں اور ٹیکنالوجی میں آیا کہ وہاں ہے یا نہیں؟ کتنے سال پیچھے ہیں؟ اس تاخیر کو کیسے دور کیا جائے؟


پاکستان کی سر زمین کے پاس وسائل بھی ہیں، حساس حیثیت بھی ۔ اگر قیادت کا بحران ہے تو یونیورسٹیاں اوردرس گاہیں قیادت کرسکتی ہیں۔ قدرتی اور انسانی وسائل دونوں کی طاقت پاکستان کو بڑی اقتصادی، تہذیبی اور علمی قوت بناسکتی ہے۔
23مارچ ہم سے یہی تقاضا کررہی ہے۔ قائد اعظم، شیر بنگال مولوی فضل حق اور دیگر اکابرین کی روحیں ہماری طرف دیکھ رہی ہیں۔ 20لاکھ سے زیادہ شہدائے پاکستان ہمیں آواز دے رہے ہیں۔ نشانِ حیدر پانے والے، سرحدوں کی حفاظت میں اپنی جانیں نثار کرنے والے فوجی افسر اور جوان، سب آج کے نوجوان کے لئے اللہ تعالیٰ سے اقبال کی زبان میں کہہ رہے ہیں


جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کردے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلوں کو مرکز مہرو وفا کر
حریمِ کبریا سے آشنا کر
جسے نان جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر
۔۔۔۔۔۔
77سال پہلے نعرہ تھا
بٹ کے رہے گا ہندوستان
بن کے رہے گا پاکستان
اب یہ نعرہ ہونا چاہئے۔
مستحکم اور طاقت ور
بن کے رہے گا پاکستان

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
13
March

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میں اُن مغربی مورخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہور پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میں وجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنماؤں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوؤں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی مسلمان ہمیشہ ایک آزاد مسلم مملکت کے خواب دیکھتے رہے۔ کیونکہ انہوں نے اس امر کا ادراک کر لیا تھا کہ متحارب اکثریت کے ہاتھوں ان کے دینی، ثقافتی اور سیاسی تشخص کو زبردست خطرات لاحق ہیں۔ اس غیریقینی اور مبہم صورت حال کو قائداعظم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ بارہ صدیوں کی تاریخ ہم میں اتحاد پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس تمام عرصے میں ہندوستان، ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہوتا رہا ہے۔ اس وقت جو مصنوعی اتحاد نظر آتا ہے وہ محض برطانوی اقتدار کا نتیجہ ہے۔‘‘


مسلمانوں میں ایک علیحدہ وطن کی ضرورت کا احساس تدریجاً پیدا ہوا اور جوں جوں ان پر ہندوؤں کے عزائم اور ذہنیت کھلتی گئی‘ اس میں شدت پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس طرح ہندوستان میں سرگرم سیاسی عوام نے انہیں اس منطقی نتیجہ پر پہنچایا ہے۔ چنانچہ 1940کی قرارداد لاہور ان کی انہی اجتماعی خواہشات کا عملی اظہار تھا۔ ایک طرح سے یہ ان کے صدیوں پرانے خواب کی تعبیر تھی اس لئے یہ قرارداد تاریکی میں بھٹکنے والے مسلمان عوام کے لئے روشنی کی کرن ثابت ہوئی اور پھر اسے ہماری تاریخ میں ایک مینارۂ نور کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس قرارداد نے مشکلات سے بھرپور ہماری جہدِ آزادی کی راہوں کو روشن کر دیا۔ قرارداد لاہور (جسے بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا) بڑی تیزی سے مسلمانوں میں مقبول ہو گئی او رمسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے لئے طاقت کا سرچشمہ ثابت ہوئی۔
مسلمان برصغیر میں ایک فاتح کی حیثیت سے آئے تھے لیکن اپنے پیشروؤں کی طرح نہ تو انہوں نے مقامی لوگوں کی تذلیل کی اور نہ ہی ان سے اچھوتوں کا سا سلوک کیا۔ وہ یہیں بس گئے۔ یہاں انہوں نے سلطنتیں قائم کیں اور اپنی نسلوں کو آباد کیا۔ وہ صدیوں ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔ لیکن پُرامن بقائے باہمی کے باوجود مسلمان ہندو ہر لحاظ سے دومختلف اقوام رہیں۔ البیرونی نے صدیوں پہلے کہا تھا۔ ’’ہندواور مسلمان ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں اور انہیں دور سے بھی بآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔‘‘


یہی وہ سیاق و سباق تھے جس کے حوالے سے قائداعظم نے علی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’پاکستان اسی روز قائم ہو گیا جب پہلا ہندو مسلمان ہوا۔‘‘
یہ برصغیر میں مسلم حکومت قائم ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے۔


مسلمانوں کو جب تک فوجی بالادستی حاصل رہی‘ ہندو انہیں برداشت کرتے رہے۔ لیکن جیسے ہی ان کی حکومت میں انحطاط پیدا ہوا وہ سکھوں، جاٹوں اور مرہٹوں سے مل کر ہندوستان میں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تل گئے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریک اور ان کی طرف سے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت کا اصل مقصد بھی مسلمانوں کو ان خطرات سے بچانا تھا جو ہندوستان کے افق پر منڈلا رہے تھے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریروں سے مترشح ہوتا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے دین اور قومی تشخص کو بچانے کے لئے اس علاقہ کے کسی نہ کسی حصے میں مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت اور اقتدار کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ملک اور حکومت کے خواب کی جڑیں ہماری تاریخ میں نہایت گہری تھیں۔ لیکن ہندوستان پر برطانوی اقتدار کے تسلط نے سیاسی منظر ہی بدل دیا لہٰذا مسلمانوں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ چنانچہ وہ مشترکہ دشمن یعنی برطانیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں سوچنے لگے۔ سرسید پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے ہندومسلم اتحاد کے لئے کام کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہندو اور مسلمان ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچا تو دلہن کا حسن ماند پڑ جائے گا۔


لیکن جوں جوں ان پر ہندوؤں کے عزائم کھلے‘ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ دونوں اقوام زیادہ عرصے تک اکٹھی نہیں رہ سکتیں‘ ایک دن انہیں الگ ہونا ہو گا اور یہ امر مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں ہو گا۔ انہوں نے ہندوستان میں برطانوی جمہوری اداروں کے قیام کی اسی لئے مخالفت کی کہ ان سے ہندو اکثریت کے اقتدار کو دوام حاصل ہو جائے گا۔ سرسید کے یہ الفاظ ان کے تاریخی شعور اور فہم کا بہترین ثبوت ہیں۔
’’یہ ممکن نہیں کہ ان میں ایک قوم حاکم رہے اور دوسری محکوم بن جائے۔‘‘


قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز ہندو مسلم اتحاد کے ایک مخلص حامی کی حیثیت سے کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے 1906 میں مسلم لیگ کے قیام اور مسلمانوں کے جداگانہ نیابت کے فیصلہ کی محض اس لئے مخالفت کی کہ ان کے نزدیک مسلمانوں کے اس اقدام سے اتحاد کے تصور کی پیش رفت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ ہندومسلم اتحاد کے لئے ان کی پرجوش مساعی کے نتیجہ میں 1916کے مشہور لکھنو پیکٹ پر دستخط ہوئے اور قائداعظم کو ہندومسلم اتحاد کے سفیر کا خطاب ملا۔ اگلی دو دہائیوں میں انہوں نے اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے اور یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی جس پر معاہدہ لکھنو میں اتفاق رائے ہوا تھا۔ دہلی کی مسلم تجاویز (1917) کل جماعتی مسلم کانفرنس کی قرارداد (1929) جناح کے چودہ نکات (1929) گول میز کانفرنس میں پیش کی جانے والی شرائط (1930-1933) اور کانگرسی رہنماؤں سے مذاکرات کا صرف ایک ہی مقصد اور مدعا تھا کہ مسلمانوں کے لئے ایسے تحفظات حاصل کئے جائیں کہ جن کے ذریعے ان کی جداگانہ دینی اور ثقافتی حیثیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروفیسر شریف المجاہد کے الفاظ میں


’’ان کا مطالبہ تھا۔۔۔۔ آئین وفاقی ہو جس کے تحت فاضل اختیارات صوبوں کے پاس ہوں۔ مرکزی اسمبلی اور کابینہ میں مسلمانوں کی نیابت کم از کم ایک تہائی ہو۔ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی مستقل اکثریت تسلیم کی جائے۔ شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان میں اصلاحات جاری کی جائیں۔ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر دیا جائے۔ مسلمانوں کے لئے جداگانہ نیابت کو اور فرقہ ورانہ امور میں دوہرے ووٹ کی شق کو برقرار رکھا جائے اور آئین میں وفاق میں شامل تمام اکائیوں کی رضامندی کے بغیر کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔‘‘


’’ان تمام مطالبات کے پس منظر میں یہ خواہش کارفرما تھی کہ ایک صحیح وفاقی آئین کے تحت جس میں تحفظ و حقوق کا مناسب اہتمام ہو‘ تو ازن قائم کرنے کے لئے چھ ہندو صوبوں کے مقابلے میں پانچ مسلم صوبے تشکیل دیئے جائیں۔ لیکن ان تمام مطالبات پر کانگریس کا ردعمل شرانگیز‘ غیرمنطقی بلکہ توہین آمیز تھا۔‘‘


دریں اثنا قائداعظم کانگریسی رہنماؤں سے بتدریج مایوس ہوتے چلے گئے۔ اس مایوسی کا آغاز کانگرس کے اجلاس منعقدہ ناگپور 1920 سے ہوا تھا جس میں قائداعظم نے کانگرس کی طرف سے گاندھی کے زیراثر نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کے فیصلے کی نہایت جرأت مندی سے مخالفت کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب قائداعظم ناگپور سے روانہ ہوئے تو ان کی طبیعت میں تلخی اور غم و غصہ پیدا ہو چکا تھا۔ بعد ازاں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شدھی اور سنگھٹن تحریکوں سے شروع ہو کر گاندھی کی ستیہ گرہ، نہرو رپورٹ،کل جماعتی کلکتہ کنونشن اور سات صوبوں میں کانگریس راج کے واقعات نمودار ہوئے‘ جن سے فرقہ ورانہ فسادات کو فروغ ملا اور لکھنو پیکٹ کی پیدا کردہ دوستانہ فضا ختم ہو کر رہ گئی۔ ان واقعات نے مسلمانوں پر ہندوؤں کے اصل عزائم بے نقاب کر دیئے۔


برطانوی راج کے جانشین کی حیثیت سے چونکہ ہندوؤں نے ’’ہندوراج‘‘ قائم کرنے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا اس لئے دونوں قوموں کے درمیان اختلافات میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ قائداعظم نے نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بجاطور پر ’’راستے الگ‘‘ ہونے کی دستاویز قرار دیا تھا۔ اسی طرح کانگریسی وزارتوں نے مسلمانوں میں یہ تکلیف دہ احساس پیدا کیا کہ اگر صوبوں میں کانگریسی راج کے تحت رونما ہونے والے واقعات ہندو قومی حکومت کی ایک تصویر ہیں تو پھر یقیناًاس حکومت میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔ اس صورت حال کا حتمی تجزیہ انتہائی مایوس کن اور تکلیف دہ تھا اور اسی تجزیے نے ہندی مسلمانوں کو مطالبۂ پاکستان پر مجبور کیا۔
ہندی مسلمان ابھی جداگانہ ملک کے دھندلے دھندلے خواب ہی دیکھ رہے تھے کہ علامہ اقبال نے 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس الہ آباد سے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبے میں ایک جداگانہ مملکت کا ایک واضح اور جامع تصور پیش کر دیا۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کا جو تصور پیش کیا وہ جغرافیائی اور نظریاتی عوامل پر مبنی تھا۔ انہوں نے فرمایا۔
’’میرے نزدیک پنجاب، شمالی مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کے صوبوں کو ایک واحد مملکت میں ضم کر دینا چاہئے جسے برطانوی ایمپائریا اس سے باہر مکمل خود مختاری حاصل ہو۔ کیونکہ میرے نزدیک شمال مغربی ہندوستان میں آزاد مسلم ریاست کا قیام ہی شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے لئے واحد ذریعہ نجات ہے۔‘‘
اس ریاست کے نظریاتی جواز پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے کہا


’’مسلم مملکت کا میرا یہ مطالبہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے منفعت بخش ہو گا۔ ہندوستان کو اس سے حقیقی امن اور سلامتی مل جائے گی اور اسلام کو اس سے ایسا موقع میسر آ جائے گا کہ جس سے یہ اپنے قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے زندگی اور حرکت عطا کر سکے اور انہیں عصرِ حاضر کی روح کے قریب آنے کے قابل بنا سکے۔‘‘


گویا علامہ اقبال نے پاکستان کی صورت میں ایک ایسی مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے حقیقی اسلامی سانچے میں ڈھالا اور عصر حاضر کی روح کے قریب لایا جائے گا۔
پاکستان کا تصور یکایک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اچانک آسمان سے اترا تھابلکہ اس نظریئے نے بتدریج ارتقا پایا۔ اکثریتی اور اقلیتی صوبوں کے مسلم رہنماؤں کے اتفاق رائے کے لئے اس پر تفصیلی بحثیں ہوئیں تاکہ اسے ہندی مسلمانوں کا اجتماعی واحد اور آخری مطالبہ قرار دیا جا سکے۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938میں جو قرارداد منظور کی تھی وہ مسلم رہنماؤں کے اذہان کی ٹھیک ٹھیک اور صحیح عکاسی کرتی تھی کہ وہ کیا سوچتے تھے قرارداد میں مسلمانوں کے ساتھ کانگرس کی زیادتیوں اور نانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا۔


’’اس کی فرقہ ورانہ ذہنیت اور مسلم کش پالیسی کے باعث اکثریتی قوم سے کسی نیکی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘
قرارداد میں زور دیا گیا:
’’مسلمانوں کے ہندوؤں سے جو اختلاف ہے‘ اس کا اصل منبع دین، زبان، رسم الخط، ثقافت، معاشرتی قوانین اور زندگی کے بارے میں اندازِ فکر ہے۔‘‘
پروفیسر خالد بن سعید کے الفاظ میں:
’’اس قرارداد میں مسلم لیگ نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں کو دو مختلف اقوام قرار دیا تھا۔‘‘
چنانچہ سندھ مسلم لیگ کانفرنس نے آل انڈیا مسلم لیگ سے سفارش کی کہ وہ ایسی آئینی سکیم تیار کرے جس کے تحت مسلمانوں کو مکمل آزادی حاصل ہو جائے۔ چنانچہ سندھ مسلم لیگ کی 1938 کی اس قرارداد کو 23مارچ 1940 کی قرارداد لاہور سمیت اس مسئلہ پر منظور کی جانے والی تمام قراردادوں پر سبقت اور فوقیت حاصل ہے۔


بہرحال 1939 میں تقسیم ناگزیر نظر آتی تھی۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کی اکثریت اس کی قائل ہو چکی تھی۔ ستمبر 1939میں قائداعظم نے وائسرائے سے دوران گفتگو فرمایا۔’’ وہ قائل ہوچکے ہیں کہ ہندوستان کے مسئلہ کا حل اس کی تقسیم ہے۔ ‘‘آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے اپنے مارچ 1939 کے اجلاس میں قائداعظم کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی‘ تاکہ علامہ اقبال، چودھری رحمت علی، ڈاکٹر سید عبداللطیف اور دوسرے لیڈروں کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز اور مسودوں کا جائزہ لیا جائے۔ شاہ نواز ممدوٹ کے علاوہ اس کمیٹی کے دوسرے دو ممبران عبداﷲ ہارون اور سکندر حیات نے بھی اپنی طرف سے تجاویز پیش کیں۔ لیگ کمیٹی نے ان تمام تجاویز اور منصوبوں پر تفصیل سے غوروخوض کیا جس کے بعد مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے مسلم لیگ کے لاہور اجلاس سے کچھ دیر پہلے ہونے والی میٹنگ میں ایک سکیم کی منظور دے دی جو 23مارچ 1940 کو منظور ہونے والی ’’قرارداد لاہور‘‘ کی بنیاد رکھے۔
قائداعظم نے اجلاس لاہور میں اپنی صدارتی تقریر میں ہندی مسلمانوں کی تاریخ کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے کہا


’’ہندو اور مسلمان الگ الگ فلسفۂ مذہب رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے اور دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان میں باہمی شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ وہ دو الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ ان کا تصور حیات اور طرز حیات الگ الگ ہے۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تاریخوں سے وجدان اور ولولہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا رزمیہ ادب الگ ہے۔ ان کے مشاہیر الگ الگ ہیں اور ان کا تاریخی سرمایہ جدا جدا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور اسی طرح ان کی فتح اور شکست ایک دوسرے کے لئے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔


دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ سلطنت میں جمع کر دینا جہاں ایک قوم عددی لحاظ سے اقلیت ہو اور دوسری اکثریت ہو، نہ صرف باہمی مناقشت کو بڑھائے گا بلکہ بالآخر اس نظام کی بربادی کا باعث ہو گا جو ایسے ملک کی حکومت کے لئے وضع کیا جائے گا۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک مستقل قوم ہیں اور انہیں ان کا الگ وطن، ان کا اپنا علاقہ، اور اپنی حکومت ملنی چاہئے۔‘‘


قراردادِ لاہور مولوی فضل الحق نے پیش کی اور 23مارچ 1940 کو منظور کر لی گئی۔ اس میں ایسی آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کا مطالبہ کیا گیاتھا جو ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں میں جغرافیائی لحاظ سے متصل ایسے علاقوں پر مشتمل ہوں جہاں مسلمان ہر اعتبار سے بہ تعداد آبادی اکثریت رکھتے ہوں۔ اس قرار داد میں ترمیم اس وقت کی گئی جب مسلم لیگ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اجلاس منعقدہ دہلی 1946 میں واحد مسلم ریاست کا مطالبہ کیا۔ بہرحال قرارداد لاہور نے اسلامیان ہند کو تصورات سے نکال کر ان کے سامنے ان کی منزل متعین صورت میں پیش کر دی جو ان کے گزشتہ نصف صدی کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ ابھی تک وہ تاریکی میں بھٹکتے رہے تھے لیکن اب انہیں غار کے دوسرے سرے پر روشنی کی کرن نظر آنے لگی تھی۔


مارچ 1940کے بعد ان کی تمام توانائیاں اس مینارۂ نُور تک پہنچنے کے لئے وقف ہو گئیں اور انہوں نے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا۔ گویا یہ ان کی زندگی میں ایک انقلاب آفریں دَور کا نقطۂ آغاز تھا۔ ان کا یہ کاروانِ شوق اپنے قائد کی قیادت میں ’’اتحاد، ایمان اور تنظیم‘‘ کے جذبہ سے سرشار اس طرح آگے بڑھا کہ بالآخر اپنے تصورات اور اپنے خوابوں کے جزیرے۔۔۔ پاکستان تک پہنچ کر ہی دم لیا۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

تحریر: عقیل یوسف زئی

سات قبائلی ایجنسیوں پر مشتمل پاکستان کے سرحدی علاقے یعنی فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور مختلف ادوار میں اس مقصد کے لئے حکومت کی جانب سے تبدیلیاں یا اصلاحات لانے کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل محض اعلانات تک محدود رہا اور کسی بھی حکومت نے عملاً ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس اہم ترین جغرافیائی یونٹ کو مین سٹریم پالیٹکس یا سسٹم کا حصہ بنایا جائے اور غالباً اسی غفلت یا رویّے کا نتیجہ ہے کہ فاٹا ماضی میں نہ صرف یہ کہ انتہاپسندوں کا مرکز بنا رہا بلکہ یہاں کے لاکھوں عوام بنیادی انسانی حقوق اور ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم رہے۔ برٹش راج نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بعض دیگر نوآبادیات کی طرح فاٹا کو بھی اس مقصد کے لئے بفر زون کے طور پر تخلیق کیا کہ اس سرحدی پٹی کو برٹش انڈیا یعنی ہندوستان اور روس (سوویت یونین) کے درمیان حدِ فاصل کے طور پر استعمال میں لایا جائے اور اس مقصد کے لئے اس علاقے میں خصوصی یا کالونین قوانین بنائے گئے۔ قبائل پر ایسے قوانین اور ضابطے لاگو کئے گئے جن کی آج بھی مہذب دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ 1947 سے قبل متحدہ ہندوستان میں بھی درجنوں ایسے علاقے تھے جہاں اس نوعیت کے قوانین موجود تھے۔ تاہم آزادی کے بعد ایسے علاقوں کو نئی ریاستوں کے مروجہ قوانین کے اندر لایا گیا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے علاقوں جیسے حقوق اور وسائل دیئے گئے۔ بدقسمتی سے فاٹا کو ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں یا اصلاحات سے بوجوہ محروم رکھا گیا اور یہ علاقے تا حال کالونین سسٹم کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے بعض حکمرانوں نے بھی جمہوریت پسند ہونے کے باوجود جمہوری ادوار میں بھی یہاں کے عوام کو کالونین سسٹم سے نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ حالت تو یہ رہی کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر نے اپنے دورِ اقتدار میں فاٹا میں بعض ایسے علاقے بھی شامل کرائے جو کہ ان کی حکومت سے قبل خیبر پختونخوا (صوبہ سرحد) کا حصہ تھے۔ ان کے دورِحکومت تک فاٹامیں ایجنسیوں کی تعداد چار یا پانچ تھی۔ انہوں نے یہ تعداد چھ یا سات کردی مگر اس کی کوئی خاص وجہ بتانے سے گریزکیا اور ایسا کرنے سے قبل متعلقہ علاقوں کے عوام سے ان کی رائے معلوم کرنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ متعدد اہم لیڈروں نے بھی فاٹا کو مین سٹریم میں لانے کی کوشش تو درکنار ان علاقوں میں موجود کالونین قوانین کو آزادی کے باوجود دوسرے علاقوں تک توسیع دینے یا پھیلانے کا رویہ اختیارنہیں کیا اور بعض ایجنسیاں70 کی دہائی میں قائم کی گئیں۔ بعض ماہرین کے مطابق جناب بھٹو نے یہ اقدامات افغانستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اٹھائے تھے۔ فاٹا کے عوام کا یہ کہہ کر جذباتی استحصال کیا جاتا رہا کہ وہ آزاد اور غیور قبائل ہیں یا یہ کہ وہ پاکستانی سرحدوں کے بے تنخواہ سپاہی یا محافظ ہیں۔ مگر ان کے بنیادی حقوق یا ضروریات کا کسی بھی حکومت نے کوئی خیال نہیں رکھا اور ان کی انسانی حقوق کی عملاً حالت یہ رہی کہ وہ 90 کی دہائی تک بالغ رائے دہی کی بنیاد پر الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے حق سے بھی محروم تھے اور یہ حق بھی کسی جمہوری حکومت یا حکمران کی بجائے مرحوم سردار فاروق احمدخان نے نگران وزیرِاعظم کے طور پر ان کو دیا۔ سال1988 کے بعد جمہوری حکومتیں تسلسل کے ساتھ آتی رہیں اور ان حکومتوں کی پارلیمانی ضروریات یعنی تشکیل میں فاٹا کے آزاد ممبران اسمبلی کا ہر دور میں بنیادی کردار رہا۔ تاہم افسوسناک بات یہ رہی کہ ان حکومتوں یا پارلیمانی قوتوں نے نومنتخب قبائلی ارکان کو دوسرے آئینی حقوق کے علاوہ اس حق سے بھی محروم رکھا کہ وہ فاٹا کے لئے کی جانے والی قانون سازی میں حصہ لیں۔ یہ غالباً دنیا کا وہ واحد علاقہ رہا جس کے نمائندے اپنے ہی علاقے یا عوام کے لئے قانون سازی میں حصہ لینے سے محروم تھے اور یہ سلسلہ تا دمِ تحریرکسی تبدیلی کے بغیر جاری ہے۔ ان کے ساتھ دوسرا مذاق یہ ہوتا رہا کہ ان کو مروجہ پارلیمانی سسٹم یا سیٹ اپ کے ذریعے چلانے کے بجائے براہِ راست صدرِ مملکت کے بعض صوابدیدی اختیارات میں دیا گیا اور کسی بھی اہم فیصلے سے قبل فاٹا کے نمائندوں‘ اسمبلی یا عوام سے ان کی رائے لینے کی ضرورت ہی ختم کردی گئی۔ فاٹا کو 70 یا 80کی دہائی میں ایک پالیسی کے تحت ان گروپوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی گئی جو کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے قائم کئے گئے تھے تاہم اس وقت غالباً حکمرانوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کرنے سے فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہوگا اور بعد میں80 کی دہائی میں کرم ایجنسی اور بعض دیگر علاقوں میں بعض ممالک کی پراکسی وارز کے جس سلسلے کا آغاز ہوا اس کے اثرات اور نتائج پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔ کرم ایجنسی میں فرقہ واریت کی ایسی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد کے ادوار میں پورے ملک تک اپنی شاخیں پھیلائیں اور اس علاقے کے فرقہ ورانہ اثرات نے دوسرے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ ڈیورنڈ لائن کے نام نہاد تنازعے کی بنیاد پر فاٹا میں افغانستان کی مبینہ مداخلت کا سلسلہ بھی کسی وقفے کے بغیر جاری رہا اور کئی دہائیوں تک حالت یہ رہی کہ افغانستان کی حکومت سے قبائل کی نہ صرف وزارت قائم رہی بلکہ یہاں کے عوام کے لئے مختلف شعبوں میں کوٹہ سسٹم بھی رکھا جاتا رہا۔ اس طریقہ کار کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی نوعیت کی عجیب وغریب انتظامی حیثیت کی پیچیدگیوں کا شکار رہا اور جب افغان جہاد کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو اس علاقے کو فرنٹ ایریا کی اہمیت حاصل ہو گئی۔

 

1947 سے قبل متحدہ ہندوستان میں بھی درجنوں ایسے علاقے تھے جہاں اس نوعیت کے قوانین موجود تھے۔ تاہم آزادی کے بعد ایسے علاقوں کو نئی ریاستوں کے مروجہ قوانین کے اندر لایا گیا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے علاقوں جیسے حقوق اور وسائل دیئے گئے۔ بدقسمتی سے فاٹا کو ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں یا اصلاحات سے بوجوہ محروم رکھا گیا اور یہ علاقے تا حال کالونین سسٹم کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔

90 کی دہائی میں جب قبائل کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تو آج کی اصلاحات کی طرح اس وقت بھی ’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی عناصر نے شور مچایا کہ قبائل جمہوری نظام سے نابلد ہیں اس لئے یہ تجربہ ناکام ثابت ہوگا۔ تاہم 1997 کے الیکشن میں ریکارڈ امیدوار میدان میں نکل آئے اور تنقید کاروں کے دعوے اس وقت غلط ثابت ہوئے جب باجوڑ ایجنسی کے ایک حلقے میں نہ صرف یہ کہ پورے ملک کی سطح پر ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے بلکہ متعدد قبائلی علاقوں میں خواتین نے بھی ووٹ پول کئے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کامیاب تجربے کے بعد فاٹا میں اصلاحات کے لئے عملی اقدامات کئے جاتے مگر بوجوہ ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاٹا کی تقریباً تمام ایجنسیاں بعد کے حالات کے باعث انتہا پسندی کے مراکز میں تبدیل ہوگئیں اور یہاں کے عوام کو جو محدود حقوق حاصل تھے وہ ان سے بھی محروم ہوگئے۔ سال 2001 کے بعد پھر سے ضرورت اس بات کی تھی کہ نئے حالات اور تقاضوں کے تناظر میں فاٹا کو مین سٹریم پالیٹکس اور سسٹم کا حصہ بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے اور یہاں سے کالونین قوانین اور ظالمانہ رواجوں کا خاتمہ کیا جاتا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ انگریز کے ایف سی آر قوانین کو فوراً ختم کیا جاتا اور اس اہم جغرافیائی علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے حقوق پیکیجز کا اعلان کیا جاتا۔ مگر ایسا کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی اور جب سرحدی تبدیلیوں کے تناظر میں پاک فوج کو پہلی بار فاٹا میں تعینات کیا گیا تو علم ہوا کہ یہاں کا انفراسٹرکچر تباہ حال‘ انتہائی فرسودہ اور ناقابلِ برداشت حالات سے دوچار ہے اور یہ علاقہ (فاٹا) زندگی اور سہولیات کی دوڑ میں ملک کے دیگر علاقوں سے بہت پیچھے ہے۔ سال 2003 میں اقوامِ متحدہ کے ایک ادارے نے فاٹا کو دنیا کا پسماندہ ترین علاقہ قرار دیا اور جب عالمی اداروں نے اس کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے فنڈز دینے شروع کئے تو کرپٹ ترین پولیٹیکل انتظامیہ کے وارے نیارے ہوگئے اور ایک وقت میں حالت یہ رہی کہ پشاور کے گورنر ہاؤس میں پولیٹیکل ایجنٹ اور دیگر افسران کی تعیناتی کے لئے کروڑوں کی باقاعدہ بولیاں لگنی شروع ہوگئیں۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور یہ شرمناک حقیقت سب کو معلوم ہے کہ کسی بھی پولیٹیکل ایجنٹ کی تعیناتی کے لئے تین سے دس کروڑ تک کی بولی لگائی جاتی ہے۔ نائن الیون کے بعد جو امداد آتی رہی وہ متعلقہ حکام کے لئے ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کی گئی اور اس کاروبار میں پشاور اسلام آباد کے متعلقہ افسران‘ قبائلی مالکان اور منتخب نمائندے پولیٹیکل انتظامیہ کے شراکت دار بنے۔ فاٹا کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ کی جاتی رہی کہ اس کو این ایف سی ایوارڈ اور دیگر فورمز کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ انتظامی اور اقتصادی طور پر اسے کوٹہ سسٹم کی طرز پر چلایا جاتا رہا۔2001 کے بعد گزشتہ چند برسوں تک اتنی بڑی آبادی کو نو سے بیس ارب روپے کے انتہائی قلیل بجٹ پر ٹرخایا جاتا رہا اور اس میں بھی آدھا بجٹ کرپٹ انتظامیہ کے اکاؤنٹس میں چلاجاتا تھا۔ ایف سی آر اور ایسے دیگر قوانین کے ذریعے قدم قدم پر عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رہا۔ عدالتی نظام کی حالت اتنی شرمناک رہی کہ اگر کسی باشندے نے کسی فیصلے کے خلاف اپیل کرنا ہوتی تو اسے بھی اس اتھارٹی (پولیٹیکل ایجنٹ) کے پاس جانا پڑتا تھا جس نے اسے سزا سنائی ہوتی ہے۔ عدالتی نظام نہ ہونے کے باعث لاکھوں عوام پولیٹیکل انتظامیہ کے رحم و کرم پر رہے اوراجتماعی ذمہ داری کے انتہائی فرسودہ نظام کے باعث ہر روز سیکڑوں لوگ جبرو ستم کا نشانہ بنتے گئے۔ ترقی کی حالت کیا رہی اس کا اندازہ محض اس ایک مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ 70 لاکھ سے زائد کی آبادی کے اتنے وسیع وعریض علاقے میں آج ایک بھی یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ فاٹا کی سب سے ترقی یافتہ ایجنسی یعنی خیبر ایجنسی کی حالت یہ ہے کہ فروری 2017تک یہاں کے ہسپتالوں میں ایک میں بھی سٹی سکین مشین موجود نہیں تھی۔ یوں پورے فاٹا میں ایک بھی کالج موجود نہیں ہے اور65 فیصد علاقے بجلی جیسی سہولت سے محروم ہیں۔ فوج نے علاقے میں لاتعداد منصوبے شروع کئے ہیں جن میں متعدد بڑے طبی یونٹس‘ سڑکیں اور کیڈٹ کالجز شامل ہیں مگر سول حکومتوں کی کارکردگی انتہائی مجرمانہ رہی اور حالت یہ رہی کہ حال ہی میں پاکستان سے واپس جانے والے یو این ڈی پی کے ایک کنٹری ڈائریکٹر نے اقوامِ متحدہ کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ فاٹا اکیسویں صدی میں بھی دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں میں سرِ فہرست ہے اور یہاں کے عوام افریقہ کے بعد پسماندہ ممالک سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ سال2013 کے الیکشن میں فاٹا کے بعض امیدواروں نے عوام کے مسلسل اصرار پر فاٹا میں وسیع اصلاحات کے ایجنڈے پر حصہ لیا تو عوام نے ان کو بھاری مینڈیٹ سے اسمبلیوں میں بھیجا۔ اسی دوران سال 2014 کے دوران جب نیشنل ایکشن پلان کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کے نکات میں تقریباً تین ایسے نکات تھے جن میں کہا گیا کہ فاٹا سے انتہا پسندی اور پسماندگی ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے اور اسے مین سٹریم کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس عزم کو عوام اور اکثر سیاسی قوتوں کی آشیرباد حاصل رہی۔ تاہم بدقسمتی سے سول حکومت نے اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی اور آپریشن سے لے کر ٹی ڈی پیز اور بحالی کے کاموں تک سب معاملات فوج کے کندھوں پر ڈالے رکھے۔ ممبران اسمبلی نے اس رویے کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مخاطب کیا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا اصرار بڑھتا گیا تو حکومت نے اصلاحات کے لئے ایک پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی جس نے تین ماہ تک فاٹا کی تمام ایجنسیوں کے دورے کرکے عوام‘ منتخب نمائندوں اور صاحب الرائے حلقوں سے ان کی رائے اور تجاویز معلوم کیں اور جب حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی تو اس کا خلاصہ یہ تھا کہ فاٹا میں وسیع تر بنیادی اصلاحات نہ صرف یہاں کے جنگ زدہ عوام بلکہ پاکستان کے امن‘ استحکام اور خوشحالی کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ انتظامی تبدیلی کے بارے میں تین آپریشنز تجویز کئے گئے جن میں الگ صوبے کا قیام اورصوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں تقریباً75فیصد رائے صوبے میں فاٹا شمولیت کے حق میں سامنے آئی اور اس رائے کو اکثریتی عوامی نمائندوں کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہوئی جن میں پیپلزپارٹی‘ تحریکِ انصاف‘ جماعت اسلامی‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ قومی وطن پارٹی‘ نیشنل پارٹی اور متعدد دیگر شامل ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب فاٹا کے ممبران نے ادغام اور دیگر اصلاحات کے لئے کمیٹی کی سفارشات اور عوامی مطالبات کے تناظر میں ایک بل اسمبلی میں پیش کیا اور اس کو تائید حاصل ہوئی تو دوچھوٹی جماعتوں نے بوجوہ اس کی مخالفت شروع کی جس کے باعث حکومت ابہام کا شکار ہوئی اور اپنی دو اتحادی جماعتوں کے دباؤپر مصلحت یا تاخیر کا شکار ہوگئی۔ اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی سے دو قراردادوں کے ذریعے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے کا حصہ بنایا جائے۔ جو اس جانب اشارہ تھا کہ صوبے کے عوام بھی اپنے قبائلی بھائیوں کو گلے لگانے کے لئے تیار بلکہ بے تاب ہیں۔ نئے تقاضوں اور حالات کے تناظر میں جس قومی اتفاقِ رائے کا قیام سامنے آیا ہے اس کو پاکستان کی مقتدر قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہے کیونکہ ان کو حالات کا بخوبی ادراک ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ فاٹا کو پُرامن‘ خوشحال اور محفوظ بنایا جائے تاہم بعض نام نہاد سیاسی قوتوں کے رویے نے معاملے کو متنازعہ بنادیا ہے جس پر قبائلی عوام کا شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق کے لئے پھر سے جدوجہد کرنے نکل آئے ہیں۔

انتظامی تبدیلی کے بارے میں تین آپریشنز تجویز کئے گئے جن میں الگ صوبے کا قیام اورصوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں تقریباً75فیصد رائے صوبے میں فاٹا شمولیت کے حق میں سامنے آئی اور اس رائے کو اکثریتی عوامی نمائندوں کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہوئی

سیاسی مبصرین کا متفقہ خیال اور رائے ہے کہ مزید تاخیر یا بہانوں کے بجائے اکثریتی رائے اور مخصوص حالات کا احترام اور ادراک کرتے ہوئے فاٹا کو اندھیروں‘ فرسودہ قوانین‘ کولونین گورننس اور پسماندگی سے نکالنے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور یہاں کے عوام کو وہ حقوق دیئے جائیں جو کہ پشاور‘ لاہور‘ کراچی اور کوئٹہ کے عوام کو حاصل ہیں۔ جو اقلیتی حلقے ریفرنڈم یا الگ صوبے کا مطالبہ پیش کررہے ہیں۔ ان کے مطالبے کا نہ تو کوئی سیاسی جواز ہے اور نہ ہی ان کی تجاویز کو سیاسی یا عوامی تائید حاصل ہے۔ ان کا مقصد فاٹا کے ایک بہتر مستقبل کو پھر سے سوالیہ نشان بنانا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ حسبِ معمول وارزون بنا رہے اور یہاں کے بے بس ‘ فرسودہ قوانین‘ کرپٹ انتظامیہ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے رحم و کرم پر ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اصلاحات اتفاقِ رائے کی بجائے کثرت رائے کے فارمولے کے تحت عمل میں لائی جائیں اور ایک ایسے فاٹا کی بنیاد رکھی جائے جہاں امن و خوشحالی اور استحکام آئے۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش کرتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

تحریر: علی جاوید نقوی

پاک فوج نے ملک بھرسے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن ردالفساد شروع کردیاہے،اوریہ کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن کااعلان ہوا توملک بھرمیں اس کاخیرمقدم کیاگیا۔عوام کے تمام طبقات کی خواہش اورمطالبہ تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کوکسی خاص علاقے تک محدود نہ رکھاجائے، دہشت گرد جہاں اورجس علاقے میں بھی چھپے ہوں انھیں نشانہ بنایا جائے۔ اب نہ صرف دہشت گردوں کاخاتمہ کیاجائے گا،بلکہ ان کے سہولت کاروں اورغیرقانونی اسلحے کاکام کرنے والوں کوبھی پکڑاجائے گا۔پاکستان کے بیس کروڑ عوام کی نگاہیں فوج پرلگی ہیں اورانھیں یقین ہے اس آپریشن کے بعد امن وامان کی صورتحال میں مزید بہتری آجائے گی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اورسکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اورعزم وہمت کی مثالیں قائم کی ہیں،ان قربانیوں کوپوری دنیا نے سراہا ہے۔عوام کے حوصلے بھی بلند ہیں اور وہ ہرمحاذپرفوج کے ساتھ کھڑے نظرآئے ہیں۔

 

urduoptradufsad.jpgدہشت گردوں کے خلاف اب تک مرحلہ وار کئی کامیاب آپریشن ہوچکے ہیں،یہ آپریشن سوات ،باجوڑ ایجنسی،شمالی اورجنوبی وزیرستان،خیبرایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں کئے گئے ،ضرب عضب کے نتیجے میں کافی بہتری آئی، لیکن نیشنل ایکشن پلان پرسست روی سے عمل ہونے کے باعث بہت سے پہلو باقی رہ گئے۔دہشت گردوں کومکمل شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے چاروں عناصر،مقننہ،عدلیہ، فوج اورمیڈیاایک پیج پرہوں۔قوم ان سب کی پشت پرہو ۔دہشت گردی کے خلاف سب کی سوچ ایک جیسی ہو۔اگرکسی بھی ادارے کاکوئی شخص کسی قسم کی کوتاہی کاذمہ دار ہوتواسے بھی سزادی جائے۔ اگرہم سوفیصد نتائج چاہتے ہیں تو سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ باقی اداروں کوبھی متحرک ہوناہوگا۔خوش قسمتی سے اس وقت پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے ریاست کے تمام عناصر کی سوچ ایک ہے کہ ان دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا جائے اور ایک بے رحم آپریشن کیا جائے، جو دہشت گردوں کی نسلیں اور ان کے سرپرست بھی یاد رکھیں۔ماضی میں ہماری کمزوریوں کا فائدہ ہمارے دشمنوں نے اٹھایا،اب ہمیں اس کاموقع نہیں دیناچاہئے۔دوسری طرف ہمیں دشمن کی کمزوریوں سے بھی فائدہ اٹھا نے کی ضرورت ہے اب اس جنگ کوخود دشمن کے ملک میں دھکیل دینا چاہئے، بعض اوقات اینٹ کاجواب پتھرسے دیناضروری ہوجاتاہے۔ ہم سب اس بات کوبھی بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گرداپنی شکلیں اورطریقہ کاربدل چکے ہیں۔یہ چاہے کسی شکل اورروپ میں ہوں ان کاسدباب ضروری ہے۔ ایک اہم پہلو دہشت گردی کے لئے آنے والا پیسہ ہے۔دہشت گردوں کے مالی وسائل پرضرب لگانابھی ضروری ہے۔ غیرقانونی طریقوں سے پاکستان آنے والے پیسوں کے علاوہ کرپشن ،جرائم اوراسمگلنگ کاپیسہ بھی دہشت گردی میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس پرکنٹرول کرنابھی بہت ضروری ہے۔ غیرقانونی پیسے کی آمد بند ہو جائے تودہشت گردوں کودستیاب وسائل بھی ختم ہوجائیں گے۔غیرقانونی پیسے کے بغیرمنظم دہشت گردی ممکن نہیں۔بہت سے کیسز میں جرائم پیشہ افراد دہشت گردوں کے ساتھی اورسہولت کاربنے ہیں ،وہ بھاری معاوضے کے عوض کچھ بھی کرنے کوتیارہوتے ہیں ۔اُنھیں اس سے غرض نہیں کہ ان دھماکوں سے ملک کو کتنا نقصان ہورہاہے،کتنے بچے یتیم ہو رہے ہیں، اورکتنے سہاگ اجڑ رہے ہیں۔


اس ساری صورتحال میں میڈیا کوبھی دیگراداروں کی طرح اپنا رول متعین کرنا ہو گا،دہشت گرداوران کے سہولت کار کسی ہمدردی کے مستحق نہیں۔بعض اوقات ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے چکرمیں صحافتی اخلاقیات اور اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جاتاہے۔یہ رویہ درست نہیں۔ کارکن صحافی تنظیمیں اورمیڈیا مالکان کواپنے رول کافیصلہ خودکرناہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔ ہم سب کوایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اپنی ذمہ داروں کااحساس کرناہوگا،تب ہی کامیابی ممکن ہے۔


عوامی رائے یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بے رحم آپریشن ہونا چاہئے، اگرفوجی عدالتیں مدت ختم ہونے کے فورًا بعد بحال کردی جاتیں اور دہشت گردوں کوسزائے مو ت دینے کاسلسلہ جاری رہتا توشایدانھیں دوبارہ سر اٹھانے کاموقع نہ ملتا،لیکن بدقسمتی سے بعض حلقوں کی طرف سے نہ صرف سستی کا مظاہرہ کیا گیا بلکہ فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دے کرانہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اورہمدردوں کوبھی سخت سزائیں دی جاسکیں ۔دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے نئی قانون سازی اوربعض قوانین میں تبدیلی ناگزیر ہے۔


پاکستان کے قبائلی عوام اوران کے نمائندے ایک عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔پاکستان کے موجودہ قوانین کادائرہ قبائلی علاقوں تک بڑھا دیا جائے ۔لاہور اورکراچی میں جرائم کی جوسزا ہے ،قبائلی علاقوں میں بھی وہی ہو۔بعض سیاسی جماعتیں اس حوالے سے مصلحتوں کاشکارنظرآتی ہیں۔ دنیا بھرمیں جوممالک دہشت گردی کاشکارہوئے ،وہاں سکیورٹی فورسز کااستعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی وسماجی حوالوں سے بھی اصلاحات لائی گئیں ،قانون سازی بھی کی گئی ۔زندگی کے ہرشعبے نے اس پہلو پرتوجہ دی پھرکہیں جاکردہشت گردی پرقابوپایا گیا۔ ہمارے یہاں بدقسمتی یہ رہی ہے کہ سکیورٹی فورسز سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کوختم کرنے کے ساتھ ساتھ باقی سیاسی وسماجی معاملات کوبھی ٹھیک کریں۔جبکہ ایک مربوط نیشنل ایکشن پلان اوراختیارات کے بغیر ایساممکن ہی نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیاہے کہ چندعلاقوں میں آپریشن شروع کیاگیاتوبچ جانے والے دہشت گرد دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے۔اسے روکنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ پنجاب کے بعض علاقوں کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہاں دہشت گردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں ہیں۔پنجاب میں رینجرز کوآپریشن کے اختیارات ملنے کے بعد امید ہے کہ دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی یہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کردی جائیں گی۔دہشت گرد ملک بھرمیں غیرقانونی طورپرمقیم افغان مہاجرین کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ایسے مہاجرین کوواپس افغانستان بھجوا دیناچاہئے جو پاکستانیوں کی مہمان نوازی کاصلہ دہشت گردی کی شکل میں دے رہے ہیں۔دہشت گردی کی موجودہ لہرکے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،ٹھوس معلومات اورشواہد کے بعد پاک فوج نے دہشت گردوں کے بعض ٹھکانے مکمل طورپرتباہ کردئیے ہیں،لیکن سازشوں کے اس کھیل کے جلد ختم ہونے کی توقع نہیں ۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کوہرجگہ نشانہ بنایاجائے۔

لشکرجھنگوی ،مجلس الاحرار اورٹی ٹی پی کی ڈوریں ،افغانستان اوربھارت سے ہلائی جارہی ہیں۔

دہشت گرد تنظیموں کی سرپرست اعلی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ ہے۔

اس بات کوبھی ذہن میں رکھناچاہیے کہ دشمن ،افغان فورسز کو پاکستان کے خلاف الجھاناچاہتاہے۔

دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ انھیں فنڈنگ کرنے والوں کوبھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی فوج اپنی مہارت اورصلاحیتوں کے باعث دنیا کی بہترینا فواج میں شامل ہے۔

پاکستان کے 20کروڑ عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔

ماضی کی طرح پاکستان کا مستقبل بھی روشن ہے۔

افغانستان اورخطے میں امن قائم رکھنے کے لئے چین، پاکستان،افغانستان اورتاجکستان کے درمیان ایک فوجی معاہدہ اورالائنس موجود ہے ۔اس کاایک اہم اجلاس گزشتہ سال اگست میں ہواتھا،جس میں یہ فیصلہ کیاگیا تھا کہ چاروں ممالک خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کرکام کریں گے۔چین میں ہونے والے اجلاس میں چاروں ممالک کے آرمی چیف موجودتھے۔افغان آرمی چیف نے یقین دلایا تھا کہ وہ دیگرممالک سے تعاون کریں گے۔ تاہم افغان فوج اور حکومت پربھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے باعث اس بات کاخدشہ محسوس کیا جارہاتھا کہ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مؤثراقدامات نہیں کرے گا۔اب بھی اس بات کاامکان زیادہ ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے کیمپ ختم کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کاسلسلہ جاری رکھے ،یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ افغان فوج، بھارتی خفیہ ایجنسی کی کسی چال کاشکارہوجائے اورپاکستان کے خلاف ہی جارحیت کربیٹھے۔یہ خطرہ بہرحال موجودہے۔ہمیں چین کے تعاون سے افغانستان کواس بات کے لئے رضامند کرنا ہو گاکہ وہ الزام تراشی اورکسی دوردراز ملک کے مفادات کاتحفظ کرنے کے بجائے اپنے عوام کے مفادات کودیکھے۔ افغان حکومت کے منفی رویے کاخمیازہ افغان عوام کوبھگتناپڑ ے گا۔افغانستان میں لشکر جھنگوی،ٹی ٹی پی اورجماعت الاحرارکے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ان سب دہشت گردوں کی سرپرست اعلی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ ہے۔افغان حکومت کی غیرسنجیدگی کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے ایک فہرست افغانستان کے حوالے کی توجواب میں افغان حکومت نے اپنی ایک فہرست کابل میں موجود پاکستانی سفارت کارکوپکڑا دی۔


پاکستان کے دشمن پاکستان کی اقتصادی ترقی اورکامیابیوں سے پریشان ہیں۔چین اورپاکستان کے درمیان شروع ہونے والا اقتصادی راہداری منصوبہ، سی پیک ایک گیم چینجرمنصوبہ ہے۔ بعض دشمنوں کاخیال تھا کہ پاکستان اپنے مسائل اورمشکلات پرقابونہیں پاسکے گا ،لیکن معاملہ بالکل الٹ نکلا ،پاکستان نے نہ صرف درپیش چیلنجزکا مقابلہ کیابلکہ خودکومضبوط بھی کیا۔سی پیک منصوبے نے پاکستان کے لئے ترقی کے دروازے کھول دئیے ہیں،جس سے بھارت کی نیندیں اڑگئی ہیں ۔


آپریشن ردالفساد اورپہلے کیے جانے والے آپریشنزمیں ایک بڑا اوربنیادی فرق یہ ہے کہ پہلے تمام آپریشنزٹارگٹڈ آپریشن تھے اورخاص علاقوں تک محدودرہے لیکن ردالفسادملک بھرمیں چھپے ہوئے فسادیوں کے خلاف ہے ۔سیاسی جماعتوں ،رہنماؤں اوردانشوروں اورادیبوں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام نے بھی آپریشن ردالفساد کی حمایت کی ہے ،تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام اس بات پرمتفق ہیں کہ دہشت گردی کرنے والے اورانھیں سہولتیں فراہم کرنے والے یادہشت گردوں کی کسی طرح بھی حمایت کرنے والے فسادفی الارض کے مرتکب ہورہے ہیں، تمام مکاتب فکرکے جید علمائے کرام نے نہ صرف فسادیوں کے خلاف فتوی دیا ہے بلکہ سکیورٹی فورسزکے شانہ بشانہ ان دہشت گردوں سے لڑنے کابھی اعلان کیاہے۔


بائیس فروری کولاہورمیں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔ اس اجلاس میں پنجاب کے تمام کورکمانڈرزاورڈی جی رینجرزبھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات اور دہشت گردی کے چھپے ہوئے خطرے کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے کے علاوہ اب تک کی کارروائیوں میں حاصل ہونی والی کامیابیوں کو مستحکم اور سرحدوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ پاک فضائیہ، بحریہ، سول آرمڈ فورسز اور دیگر سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔پنجاب رینجرز کی طرف سے وسیع البنیاد سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے آپریشن بھی کئے جائیں گے۔ ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے علاوہ سرحدوں کی مؤثر نگرانی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آپریشن ’ردالفساد‘ کے تحت ملک بھر کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا۔ گولہ و بارود پر کنٹرول بھی کیا جائے گا۔اگران تمام نکات اورفیصلوں پرغورکیاجائے تویہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔


دہشت گردوں اورجرائم پیشہ افراد کے خلاف اب تک جتنے آپریشن کیے گئے ہیں اکثر کامیاب ہوئے ہیں۔اگرصرف کراچی آپریشن کاہی تنقیدی جائزہ لیں تویہ آپریشن بھی اپنے اہداف میں کامیاب رہا۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں بھی کمی آئی ہے اورکراچی کی رونقیں بھی لوٹ آئی ہیں۔ جوبازارخوف کے باعث سرشام بندہوجاتے تھے اب وہاں رات گئے تک لوگوں کی چہل پہل رہتی ہے۔ گزشتہ سال 2016 میں 2015 کے مقابلے میں ٹارگٹ کلنگ میں 72فیصد کمی آئی۔ انسپکٹرجنرل سندھ پولیس کی جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ فورسز کے کامیاب آپریشن کے باعث کراچی میں امن وامان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہترہے۔نہ صرف ٹارگٹ کلنگ بلکہ بھتہ خوری ،ڈکیتی اورقتل کے واقعات بھی بہت کم ہوگئے ہیں۔اسی طرح سوات ،شمالی وجنوبی وزیرستان،باجوڑ اورقبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد حالات بہتر ہورہے ہیں ،اگران اعداد وشمار کودیکھا جائے توصورتحال بہت حوصلہ افزأ ہے۔جہاں تک دہشت گردی کی موجودہ لہر کاتعلق ہے یہ ختم ہوتے دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی آخری کوشش ہے ۔ فسادیوں کے خلاف جاری آپریشن ردالفساد سے امید ہے کہ ان کاجلد خاتمہ ہوجائے گا۔قوم پورے جذبے کے ساتھ فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کامستقبل پاکستان کے ماضی کی طرح روشن ہے۔

اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
February
فروری 2017
شمارہ:2 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے آفیسرز اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا عادہ کیا کہ پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے تجربات نے ہمیں جنگی لحاظ سے مزید سخت بنا دیا ہے۔ یہ صلاحیت ہماری آپریشنل تیاری کے سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ پاک فوج کے جوان دنیا کی تمام....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا ....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
جنگی جنون میں مبتلا بھارت، جس کا دفاعی بجٹ 52 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے بلکہ خطے میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے ایک طرف تو 2008 سے 2015 تک اس نے ہتھیار خریدنے کے لئے 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے جبکہ دوسری طرف اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود پر بہت کم خرچ کررہا ہے۔ بدانتظامی اور بے ایمانی اس قدر عروج پر ہے کہ بھارت کے فوجی بھوک، افلاس....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
سوئٹزرلینڈ کے سرمائی تفریحی مقام ڈیووس میں باہر منفی درجہ ء حرارت کے ہوتے ہوئے بھی ورلڈ اکنامک فورم میں ہونے والی زیادہ تر باتوں کی گرمی کا یہ عالم تھا کہ پسینہ چھوٹ جائے۔ اس بار اجلاس کا بنیادی خیال تھا،
Responsive and Responsible Leadership
گزشتہ سال کے بنیادی خیال چوتھے صنعتی انقلاب کا لبِ لباب یہ تھا....Read full article
 
تحریر: حماس حمید چوہدری
کہتے ہیں کہ مسئلہ چاہے کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو اس کا حل مذاکرات کی میز پرہی نکلتا ہے۔پچھلے کچھ سالوں سے اہلِ علم اور سیاسی دانشور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جس پختگی کا ذکر کر رہے تھے اس کا عملی مظاہرہ 27 دسمبر2016ء کو روس کے دارالحکومت ماسکو کی یخ بستہ فضاؤں میں منعقد کئے گئے پاکستان ،چین اور روس کے مشترکہ اجلاس میں نظر آیا۔اس اجلاس کا ایجنڈا.....Read full article
 
تحریر : محمد علی بیگ
شام کی روز بروز بدلتی صورت حال ایک عالمی مسئلہ ہے جو کہ شاید عظیم طاقتوں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ اگر ہم اس غور طلب معاملے پر ایک تنقیدی نظر دوڑائیں تو اس کی جڑیں عرب دنیا میں اٹھنے والے
Spring Revolution
سے ملتی ہیں۔ اس انقلاب نے جہاں عرب دنیامیں کئی دہائیوں سے بیٹھے حکمرانوں کو چلتا کیا وہیں پر یہ شام میں ایک خونریز .....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
گزشتہ دنوں عالمی میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کو اپنی بیوی کی لاش اٹھا کر 10 کلو میٹر تک طویل سفرکرنا پڑا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے پیسے نہ ہونے کے باعث اسے ایمبو لنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ریاست اڑیسہ کے علاقے کالا ہانڈی کا رہائشی دہارا ماجھی ٹی بی کی بیماری کے باعث بیوی کو سرکاری ہسپتال لے کر گیا ....Read full article
 
تحریر: مستنصر کلاسرا
1974میں بھارتی ایٹمی تجربے نے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔ یہ تجربہ اس خطے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور پھراس کی مسلسل بڑھوتری کی پہلی کڑی ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جس نے ایک غیرایٹمی خطے کو ایٹمی دوڑ میں شامل کر دیا۔ بھارت کے اس اقدام نے اقوام....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
سمندر کے ذریعے بڑی تعداد میں نقل و حمل نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضائی نقل و حمل سے تقریباً 163گنا سستی بھی ہے۔ 90 فیصد بین البراعظمی سامان کی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ تقریباً 15ملین کنٹینرز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ کنٹینرز سا لانہ 200ملین سے زائد مرتبہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 38ہزار سے زائد تجارتی جہاز سمندری....Read full article
 
تحریر: حجاب حبیب جالب
تاریخ انسانی جس میں بے شمار المناک واقعات دیکھنے میں آئے ہیں‘ ان میں مسئلہ کشمیر نمایاں اہمیت کا حامل ہے جو کہ روزِ اول سے ظلم وتشدد کی مثال ہے ویسے کہنے کو توہم آزاد ہیں اور ہر سال 14 اگست کو آزادی کا جشن جوش و خروش سے مناتے ہیں لیکن اپنی ان خوشیوں میں ان مظلوم و محکوم لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو ابھی تک ظلم اور جبر کی زنجیروں میں....Read full article
 
تحریر: محمد منیر،پروفیسر اویس خالد
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کی داستان نہ صرف دل دہلا دینے والی ہے بلکہ اقوام عالم کے بنائے گئے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے۔ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد وخواتین غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت سے بچ نہیں سکا۔ بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ اسکے تصور سے ہی....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
فرخ مرزا شہید کو جب لحد میں اُتارا گیا تو وہ پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا‘ اس کی زندگی کا مقصد اور آخری آرزو یہی تھی۔ عجیب وجدانی نوجوان تھا‘ شہادت سے چند دن پہلے سارے بہن بھائیوں‘ عزیز و اقرباء سے ملنے شہروں‘ شہروں اُن کے گھروں کو گیا۔
.....Read full article

تحریر: فرحان نثار
اُس نے جس کھیل کا انتخاب کیا تھا اس کا مستقبل پاکستان میں نہیں تھا۔وہ جس علاقے سے تعلق رکھتی تھی وہاں لڑکیوں کا میدان میں جا کر کھیلنا تو کجا اُن کے لئے گھر سے باہر نکلنا بھی آسان نہ تھا۔وہ لڑکی تھی، صنف نازک تھی مگر اس نے ایسے کھیل کا انتخاب کیا تھا........Read full article
 
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
ونکوور کو پورے کینیڈا میں موسم کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتدل خیال کیا جاتا ہے مگر صاحبو ! اس بار تو اس شہرِ عزیز میں ایسی برف پڑی کہ الامان و الحفیظ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ایسی برف باری نہیں ہوئی جیسی امسال ہوئی ہے۔ اگرچہ نومبر میں پہاڑوں پر برف پڑ جاتی ہے مگر وادی میں دسمبر....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اس بار۔۔۔یہ لیجئیے ابھی ایئر پورٹ سے نکلتے ہی خُنک خوشگوار ہوا کا پہلا ہی جھونکا لگا نہیں کہ ’’بار‘‘ زبان پر آگیا۔۔۔ ’’ بار ‘‘کے حوالے سے یہ بھی سنتے چلیں کہ کلکتہ میں ایک صاحبِ ذوق نے ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
سکول آف آرٹلری سے کورس کر کے واپس یونٹ میں پہنچے تو ہمیں گن پوزیشن آفیسر تعینات کیا گیا۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی یونٹ تین مہینے کے لئے موسم سرما کی جنگی مشقوں کے لئے پشاور سے نوشہرہ کے علاقے میں جا کر ڈیپلائے....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
یہ واقعہ بنکاک میں پیش آیا۔ میں وکٹری مانیومنٹ جانے کے لئے مطلوبہ ویگن تلاش کر رہا تھا۔ اجنبی زبان کی وجہ سے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کون سی ویگن کس روٹ کی ہے۔ ویگن کنڈکٹر تھائی زبان میں آوازیں لگا کر مسافروں کو متوجہ کر رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے یہاں ....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
6ستمبر 1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں دوسرے نغمے ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل.....Read full article
 
تحریر: ملک فداء الرحمن
میں نے پورے بلوچستان میں سڑکوں ڈیموں،محکمہ صحت اور پھر سب سے بڑھ کر محکمہ تعلیم کے نظام کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے پر زیادہ توجہ دی۔ میں تعلیمی نظام میں فرنٹیئر کور بلوچستان (ایف سی) کے سکولوں کا دورہ ضرور کرتا ہوں کیونکہ تعلیم اور صحت ایف سی کا کام نہیں تھا لیکن.....Read full article
 
تحریر : زینب مہ نور
شمالی وزیرستان فاٹا کی انتہائی اہم ایجنسی ہے۔ یہ علاقہ وزیراور داوڑ قبائل کا مسکن ہے۔ افغانستان کے صوبے خوست کے ساتھ ملحقہ اس ایجنسی کی برطانوی راج سے لے کر آج تک خاصی اہمیت رہی ہے....Read full article
13
February

ممتاز صحافی ملک فداء الرحمن کے حالیہ دورہ بلوچستان کے دوران مشاہدات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر

میں نے پورے بلوچستان میں سڑکوں ڈیموں،محکمہ صحت اور پھر سب سے بڑھ کر محکمہ تعلیم کے نظام کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے پر زیادہ توجہ دی۔ میں تعلیمی نظام میں فرنٹیئر کور بلوچستان (ایف سی) کے سکولوں کا دورہ ضرور کرتا ہوں کیونکہ تعلیم اور صحت ایف سی کا کام نہیں تھا لیکنaikbloochfrari.jpg انہوں نے بلوچستان کے عوام کے لئے سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ تعلیم اور صحت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ جگہ جگہ خوبصورت ڈسپنسریاں قائم کیں جہاں سے تمام سویلین اور ان کے بیوی بچوں کو مفت دوائی دی جاتی ہے۔ ہر وقت ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود ہوتا ہے۔ ان ڈسپنسریوں میں مکمل چیک اپ اور صفائی کا پورا انتظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی نے ہائیر سیکنڈری سکول بھی قائم کیے ہیں۔ میں نے ایف سی سکول سوئی کا دورہ کیا ۔ یہ سکول مڈل تک ہے۔ اس کے پرنسپل سعید احمد صاحب اور وائس پرنسپل عائشہ رانا ہیں۔ سکول کی صفائی اور نظم و ضبط بلاشبہ لاہوراور اسلام آباد کے کسی بھی معیاری سکول سے کم نہیں تھا۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں چونکہ حالات بہت ہی خراب تھے فراری جگہ جگہ وارداتیں کرتے اور ڈاکے مارتے پھر رہے تھے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ پھر اس علاقے کو جان بوجھ کر تعلیم سے بھی دور رکھا گیا تھا۔ مجھے بہت سے لوگوں نے بتایا ہے کہ ایف سی بلاتفریق بلوچستان میں ہر بچے کو تعلیم دے رہی ہے۔ ایف سی ان لوگوں کے بچوں کو بھی پڑھا رہی ہے جن کے والدین دن رات ایف سی کے افسروں اور جوانوں پر راکٹ اور گولیاں برسا رہے ہیں۔ یہ ایسی بات تھی کہ جس پر یقین کرنا ذرا مشکل تھا۔ میں نے ایف سی سکول کے پرنسپل سے پوچھا کہ آپ کے سکول میں فراریوں کے بھی بچے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کافی زیادہ ہیں۔ بہر حال وہ تقریباً 20بچوں کو لے کر آ گئے جو سکول کے خوبصورت یونیفارم میں تھے جو ان کوسکول کی طرف سے مفت مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیس نام کی کوئی چیز نہیں۔ ان کو کتابوں سمیت ہر چیز مفت مہیا کی گئی تھی۔ سکول کے بچوں سے گفتگو کا آغاز ہوا تو جس سے پوچھوں کہ آپ کا باپ کیا کرتا ہے وہی کہتا کہ میرا باپ مزدوری کرتا ہے۔ کیا مزدوری کرتا ہے اس کا انہیں بھی علم نہیں تھا۔ ان بچوں سے جب مستقبل کا پوچھا جائے تو زیادہ تر کا ایک ہی جواب تھا کہ میں تعلیم سے فارغ ہو کر استاد بنوں گا اور اپنے علاقے کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے تیار کروں گا۔ مجھے ان کا یہ جذبہ اچھا لگا اور ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے اس جذبے کو دیکھ کر مجھے وہ بچے بہت پیارے لگنے لگے اور ان کے اساتذہ کو بھی داد دینی پڑی جنہوں نے بچوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور ان کی ذہنی صلاحیت کو اجاگر کیا ۔ لیکن اسی دوران مجھے ایک تیسری کلاس کے بچے محمد ارشد ولد رند علی کا جواب سن کر بہت حیرانی ہوئی جب میں نے محمدارشد سے پوچھا کہ تم تعلیم سے فارغ ہو کر کیا بنو گے تو اس نے فوراً کہا میں ایف سی بنوں گا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ میں ایف سی میں افسر بنوں گا۔

 

aikblochfrarri.jpg صرف اتنا کہا کہ میں ایف سی بنوں گا۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ یہ ایک فراری کا بیٹا ہے اس کے باوجود میں نے پوچھا کہ ایف سی کو تو دہشت گردوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ ارشد نے دو ٹوک جواب دیا میں بھی لڑوں گا۔ میرا اگلا سوال یہ تھا کہ اگر دوسری طرف سے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر تمھارا دوسرا بھائی آ کر ایف سی کے ساتھ لڑنے لگا تو پھر کیا کرو گے۔ اس کا جواب پھر ذرا شدت میں تھا کہ میں اس کو مار دوں گا۔ میں نے پھر سوال کیا کہ اگر دوسری طرف تمھارا باپ شدت پسندوں کے ساتھ مل کر ایف سی پر حملہ کرے تو پھر تمھارا کیا ردعمل ہوگا۔ اس کا پھر وہی جواب تھا کہ میں اس کو بھی گولی مار دوں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بچے کے چہرے پر سرخی کچھ زیادہ ہی دکھائی دینے لگی۔ میں نے کہا کہ آپ کو بھائی اورباپ کی طرف گولی چلاتے ہوئے کچھ خیال نہیں آ ئے گا تو ا س نے کہا پاکستان میرا ملک ہے میری ماں ہے۔ بلوچستان میری ماں ہے، یہاں کی مٹی میری ماں ہے۔ جو بھی میرے ملک میری ماں کی شہرت کو نقصان پہنچائے گامیں اسے گولی مار دوں گا۔ان تمام باتوں کے دوران اس بچے کی آنکھیں، چہرے کی سرخی اور غصے سے کاپنتے ہوئے ہونٹ جن جذبات کا اظہار کر رہے تھے ان کو شاید میں ساری زندگی نہ بھلا سکوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ بچہ کس ٹیچر کے پاس پڑھتا ہے تو پتہ چلا کہ اس کی ٹیچر سکول کی وائس پرنسپل محترمہ عائشہ رانا ہیں۔ جنہوں نے اس قدر مہارت اور محنت سے ایسے بچوں کی تربیت کی ہے۔ میں نے عائشہ رانا کی کلاس میں جا کر بچوں کی اس شاندار طریقے سے کوچنگ کرنے پر اُنہیں مبارک دی۔ پرنسپل سعید احمدبھی اس موقع پر ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے ان کی بھی حوصلہ افزائی کی اور گزارش کی کہ مجھے محمد ارشد کی تصویر چاہئے۔ میں اس کے جذبات سے 20کروڑ عوام کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو بلوچستان میں آنے والی نئی تبدیلی سے ابھی تک آگاہ نہیں۔ محمد ارشد کا والد رند علی پٹ فیڈر نہر کی آر ڈی 238پر وارداتیں کرتا تھا اور اس نے عوام اور سرکاری املاک کو بہت نقصان پہنچایا۔ اب جب اس نے دیکھا کہ میرے بچوں کی اس طرح تربیت کی جار ہی ہے کہ میرا خاندان اور میرے علاقے کا آنے والا مستقبل بہت روشن ہوگا تو وہ رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے باقی بچے بھی پڑھ رہے ہیں۔ بلوچستان میں میں نے یہ عجیب نظام دیکھا کہ جس فورس کا کام امن و امان بحال رکھنا ہے وہ امن و امان کے ساتھ تعلیم کا بیڑا بھی اٹھائے ہوئے ہے اور جن کا کام تعلیم دینا تھا وہ تعلیم کے محکمے میں بھرتی تو ہوئے ہیں لیکن کچھ گھر بیٹھے ہوئے ہیں اورکچھ بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہیں اور صرف تنخواہ لے رہے ہیں۔ بلوچستان کے ناگفتہ بہ تعلیمی نظام کو ایف سی نے بہت مضبوط سہارا دیا ہے اور آنے والا ہر دن بہتری کی طرف جا رہا ہے۔ محمد ارشد کے والد کا نام رند علی قبیلہ بگٹی اور قوم بجلانی ہے۔ اس کے مطابق ہمارے گھر میں ہر وقت ایف سی کی تعریفیں ہوتی رہتی ہیں اس لئے میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں بھی بڑ اہو کر ایف سی کی طرح ملک و قوم کی خدمت کروں گا۔

 
13
February

تحریر : زینب مہ نور

شمالی وزیرستان فاٹا کی انتہائی اہم ایجنسی ہے۔ یہ علاقہ وزیراور داوڑ قبائل کا مسکن ہے۔ افغانستان کے صوبے خوست کے ساتھ ملحقہ اس ایجنسی کی برطانوی راج سے لے کر آج تک خاصی اہمیت رہی ہے۔

shamilwaziertan.jpgافغانستان سے ملحقہ علاقہ ہونے کی وجہ سے شمالی وزیرستان افغانستان میں دہائیوں سے جاری خانہ جنگی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ دہشت گردوں کی خاصی بڑی تعداد افغانستان سے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوتی چلی گئی اور یوں سال 2014 تک ایجنسی دہشت گردوں کا محفوظ گڑھ بن چکی تھی۔ پاک فوج نے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کا مصمم ارادہ کیا۔ جون 2014 میں ایک بھرپور کارروائی کی جسے آپریشن ضربِ عضب کا نام دیاگیا ۔ پاک فوج کی انتھک اور بے پناہ قربانیوں کی بدولت آج شمالی وزیرستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ عارضی طور پر منتقل ہونے والی مقامی آبادی اپنے گھروں کو واپس جاچکی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی اور مقامی آبادی کی واپسی کے بعد شمالی وزیرستان میں خصوصاً اور ملک میں عمومی طور پر دیرپاامن کے قیام کے لئے کئی منصوبوں پر کام شروع کیا گیا۔ ان منصوبوں میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور پاک فوج، مقامی انتظامیہ اور فاٹا سیکریٹریٹ کے تعاون سے، اس علاقے میں بہتری لانے میں مصروفِ عمل ہے۔
شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جاری کاوشوں کا تذکرہ کرنے سے قبل قارئین کی آگاہی کے لئے کچھ اعداد و شمار کا بتانا ضروری ہے۔1998 کی مردم شماری کے مطابق شمالی وزیرستان کی کل آبادی 361,246 تھی اور ایک اندازے کے مطابق طلباء و طالبات کی تعداد86233 تھی جن میں لگ بھگ50000 طلباء اور باقی تعداد طالبات کی تھی۔ ایک سروے کے مطابق ایجنسی میں کم و بیش 896 تعلیمی ادارے ہیں جن میں سے604 پرائمری سکول ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعلیمی ادارے ہونے کے باوجود شرح خواندگی 25 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزیدبرآں خواتین کی شرح خواندگی5 فیصد سے بھی کم ہے جسے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ماضی میں سرزد کوتاہیوں کو مدِ نظر رکھ کر پاک فوج نے عملی طور پر تعلیم کو ہر بچے تک پہنچانے کا بِیڑہ اٹھایا اور دن رات اپنے مشن کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہے۔
سال 2016 کے دوران بے شمار ایسے اقدامات اٹھائے گئے جن سے نہ صرف مقامی بچوں اور نوجوانوں میں حصولِ علم کا شوق پیدا ہوا بلکہ معاشرے میں بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کرنے کا رُجحان بھی پیداہونے لگا ہے۔اب صبح کے وقت ایجنسی کے گلی محلوں میں بچوں کی کثیر تعداد سکولوں کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ وہ سڑکیں اور گلیاں جہاں دہشت کا راج ہوتا تھا آج وہاں بچے کتابیں اٹھائے نظر آتے ہیں۔ یہ درحقیقت تبدیلی کی وہ کرن ہے جس کی روشنی سے آنے والے چند سالوں میں شمالی وزیرستان کا چپہ چپہ روشن ہوگا۔ پاک فوج بلاشبہ اپنی اس کاوش پر تعریف کی مستحق ہے۔
پاک فوج کی حالیہ کوششوں سے تعلیمی سرگرمیوں میں لوگوں کی دلچسپی میں روز بروز اضافہ نظر آرہا ہے۔ کئی سالوں سے بند تعلیمی ادارے دوبارہ کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ طلباء کے لئے قائم ڈگری کالج میر علی اور میران شاہ میں بھی تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ، فاٹا سیکریٹریٹ اور عوام الناس آگے بڑھ کر تعلیم کے فروغ کے لئے پاک فوج کا ساتھ دیں۔ پاک فوج نے امن کی بحالی کے ساتھ ساتھ شمالی وزیرستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے جو کام کئے ہیں ان میں چیدہ چیدہ درج ذیل ہیں:۔


پاک فوج کی جانب سے معیاری سکولوں کی تعمیر فرنیچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی۔ *
پہلے سے موجود سکولوں کی حالت کو بہتر کرنے کے لئے ضروری اقدامات۔ *
بچوں میں مفت کتابیں اور سٹیشنری کی تقسیم۔ *
بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائئ*
سکولوں کے مابین کھیلوں کے مقابلے اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کا انعقاد۔ *
تعلیمی سروے کا اجراء تاکہ پتا لگایا جاسکے کہ کتنے بچے سکول نہیں جاتے اور انہیں سکولوں میں داخل کروانے کے عملی اقدامات۔ *
تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ایک بھرپورمہم کا آغاز۔ *
پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی اور انہیں تحفظ کی فراہمی تاکہ وہ تعلیمی معیار اور شرح خواندگی میں بہتری لانے کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹا سکیں۔
پاک فوج کی اولین ترجیح چونکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اور پھر امن کا اجرا ہیں‘ اور اس نے تعلیم کی بحالی کے لئے جو اقدامات اٹھائے ‘ وہ اضافی ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ تمام ذمہ داران جیسے صوبائی حکومت‘ فاٹا سیکریٹریٹ ‘ پولیٹیکل ایجنٹ‘ اساتذہ‘ طلباء اور عوام سب کی سطح پر اپنا اپنا رول ادا کیا جائے۔ ذیل میں چند تجاویز دی جارہی ہیں جن پر عمل درآمد سے یقینی طور پر شمالی وزیرستان میں تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔
تمام اساتذہ صاحبان کا فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پر واپس آکر باقاعدگی سے تعلیمی مہم میں اپنا حصہ ڈالنا۔ اس ضمن میں محکمہ تعلیم اور مقامی آبادی کو بھی اپنا کردارادا کرنا چاہئے تاکہ بند تعلیمی ادارے جلد از جلد اپنا کام شروع کرسکیں۔
لیڈی ٹیچر ز کو تحفظ، قیام اور ٹرانسپورٹ مہیا کرنا۔ *
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور مانیٹرنگ کے عملے کایکسوئی کے ساتھ اپنا فرض نبھانا تاکہ اساتذہ کی باقاعدگی سے حاضری کو یقینی بنایا جاسکے۔ *
اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے علاقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھرتی۔ *
خواتین کی تعلیم کی بہتری کے لئے ایجنسی میں کم از کم دوڈگری کالجز کی تعمیر۔*
ایجنسی کے طلباء کے بہتر مشاہدات اورنئی چیزیں سیکھنے کے لئے پاکستان کے دیگر شہروں کے مطالعاتی دورے ۔ *
ضرب عضب کے اس سفر میں پاک فوج کی انتھک کوششوں اور بے پناہ قربانیوں کی بدولت شمالی وزیرستان آج ایک پُرامن علاقہ بن چکا ہے۔وہاں کے ہر گاؤں اور بستی میں طالب علم تعلیم حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب اس علاقے کے ذہین طلباء پاکستان کے دیگر شہروں کے بچوں اور نوجوانوں کی طرح اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہوں گے۔

 
13
February

تحریر: محمد اعظم خان

6ستمبر 1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں دوسرے نغمے ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ پہلا نغمہ ’’میریا ڈھول سپاہیا‘‘ نشر ہونے کے دوسرے روز مرحوم ایوب رومانی (جو کہ ڈپٹی کنٹرولر تھے) میرے پاس آئے اور کہنے لگے اعظم میاں سپاہی کی بات کی ہے تو اب کرنیل جرنیل کی بات بھی ہونی چاہئے۔ کیونکہ دشمن سے لڑائی میں ساری
Planning
آفیسرز کی ہوتی ہے۔ وہی سپاہیوں کو جنگ کی صورت حال کے مطابق لڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ میں نے محترم صوفی تبسم سے عرض کیا کہ مجھے اس عنوان پر ترانہ لکھ کر دیں۔ صوفی صاحب نے کچھ دیر سوچنے کے بعد یہ استھائی مجھے لکھ کر دی۔ ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی۔‘‘ میں اپنے منتخب کارندوں یعنی صادق علی مانڈو (کلارنیٹ نواز) خادم حسین (بانسری نواز) سردار حسین ہاشمی اور سردار لطیف(وائلن نواز) محمد علی مھنُّوں (ہارمونیم) فیض فرید (سرود) پرویز مہدی (سرمنڈل) حامد حسین (ستار) صابرحسین (طبلہ) رحمت خان (ڈھولک) کو لے کر فوراً سٹوڈیو نمبر2میں اس نغمے کی دھن بنانے کے لئے چلا گیا۔ ستمبر 65کی جنگ کے دوران اﷲ کی مہربانی اور فضل و کرم سے میری اور میڈم نورجہاں کی نغمے کی دھن بناتے وقت بہت ’آمد‘ ہوتی تھی۔ بہت جلدی اس کی دھن میڈم نورجہاں نے خود بنائی ۔ پورے دن باقی نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور شام کو ریکارڈ کیا گیا۔ تمام نغموں کی ریکارڈنگ میں نے خود کی کیونکہ مجھے میوزک کی مکمل سُوجھ بُوجھ ہونے کی وجہ سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ آواز اور سازوں کو کس Level پر رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نغموں کی ریکارڈنگ (جو میں نے خود کی) کا رزلٹ بہت اچھا تھا۔ میں نے ریکارڈنگ کی تربیت اپنے شوق اور ذوق کی وجہ سے کراچی ٹریننگ سکول سے حاصل کی ۔ مجھے ریکارڈنگ کا اتنا شوق تھا کہ کئی کئی گھنٹے میں

ریکارڈنگ کے دوران جب کبھی ہوائی حملے کا اعلان ہوتا تو ریڈیو کا اکثر عملہ باہر گراؤنڈ میں کھودی گئی خندق میں چلا جاتا۔ میڈم کے گھر سے ٹیلیفون آتا اور ان کی بیٹی ظلِ ہما کہتی کہ اماں فوراً گھر آ جاؤ، بڑا خطرہ ہے۔ میڈم کا یہی جواب ہوتا کہ ہم اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے اگر موت آنی ہے تو یہیں ریکارڈنگ کرتے کرتے مر جائیں گے مگر اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے۔

Balance
کرنے کی مشق کرتا تھا۔ ریکارڈنگ ایک بہت بڑا فن ہے۔ اس کے لئے موسیقی کے اسرارورموز جاننے ضروری ہیں۔ میں ریڈیو میں آنے سے پہلے موسیقی کے پروگراموں میں ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے باقاعدہ حصہ لیتا تھا۔ بعد میں جب پروڈیوسر منتخب ہوا تو اپنی تمام توانائیاں موسیقی کے پروگراموں میں صرف کیں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈم نورجہاں میرے بغیر ریکارڈنگ نہیں کرواتی تھی ہمیشہ کہتی اعظم صاحب ریکارڈنگ آپ خود کریں، حالانکہ اس وقت ریکارڈنگ کے آلات بہت محدود تھے مگر محنت اور لگن کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میوزیشن حضرات صبح صبح ریڈیو سٹیشن پہنچ جاتے اور رات تک ریکارڈنگ میں مصروف رہتے۔ یقین مانیں ان دنوں مجھے کبھی کسی میوزیشن نے تنگ نہیں کیا۔ یہ ہم سب کا قومی جذبہ تھا جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ ’’او ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی‘‘ کی دھن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے میڈم نورجہاں نے خود بنائی۔ انتروں میں ماسٹر محمد علی مھنُّوں اور میری کوشش شامل تھی۔ اس نغمے کی دھن بناتے وقت میڈم نورجہاں گانے کے ساتھ ساتھ تالی بجاتی تھی اور بہت اچھے موڈ میں تھی۔ نغمے کی ریکارڈنگ شام کو مکمل ہوئی۔ مجھے اسٹیشن ڈائریکٹر (مرحوم) شمس الدین بٹ کا حکم تھا کہ نغمے کو فوری طور پر خصوصی اناؤنسمنٹ کے ساتھ تسلسل سے نشر کیا جائے تاکہ اس کی آواز ہماری بہادر اور نڈر افواج تک پہنچے۔ نغمہ نشر ہونے کے بعد ہمیں بے شمار ٹیلیفون موصول ہوتے اور ہمارے نغمے کی تعریف کی جاتی۔ میرا یہ معمول تھا کہ میں ہر صبح ملکہ ترنم کو ان کے گھر سے ایک جیپ میں لاتا تھا یہ جیپ مجھے دفتر کی طرف سے مہیا کی گئی تھی جو میرے زیراستعمال ہوتی شا م یا رات کو جب بھی نغمہ ریکارڈ ہو جاتا میں فوراً ملکہ نورجہاں کو اسی جیپ میں گھر چھوڑ آتا۔ مجھے بعض اوقات یہ تمام کام انجام دیتے دیر ہو جاتی تو میں ریڈیو سٹیشن پر ہی سوجاتا۔ صبح صبح گھر سے ہو کر پھر میڈم نورجہاں کو لینے گلبرگ ان کے گھر چلا جاتا۔ دوپہر کے وقت کھانا میڈم نورجہاں کے گھر سے آتا اور میرا کھانا میرا چپڑاسی میرے گھر سے لاتا۔ یہ ہم مل کر اکٹھے کھاتے۔ ملکہ ترنم کے گھر سے جو روٹیاں آتیں نہایت باریک اور چھوٹے سائز کی ہوتیں۔ جن کو ہم پنجابی زبان میں ’’پھلکے‘‘ کہتے ہیں۔ میڈم کو یہ بہت پسند تھے۔ مرغی کے سالن میں چھوٹے وزن کی مرغی ہوتی۔ ریکارڈنگ کے دوران جب کبھی ہوائی حملے کا اعلان ہوتا تو ریڈیو کا اکثر عملہ باہر گراؤنڈ میں کھودی گئی خندق میں چلا جاتا۔ میڈم کے گھر سے ٹیلیفون آتا اور ان کی بیٹی ظلِ ہما کہتی کہ اماں فوراً گھر آ جاؤ، بڑا خطرہ ہے۔ میڈم کا یہی جواب ہوتا کہ ہم اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے اگر موت آنی ہے تو یہیں ریکارڈنگ کرتے کرتے مر جائیں گے مگر اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے۔ میری تمام ریکارڈنگ ٹیم کا یہی جذبہ تھا ہم اپنے کام میں مگن رہتے۔ یہی وہ جذبہ ہے کہ ہم بروقت اتنے اچھے ملی نغمے ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

 

 

عمر کا سفر

کچھ ایسی شان سے رخصت ہوئے ہو دُنیا سے
فلک کے تارے تمہارے سفر پہ نازاں ہیں
’’شہیدسر‘‘ بھی نصیبوں پہ ناز کرتی ہے
ہوائیں اور بگولے بھی محوِرقصاں ہیں
تمہارے قدموں نے ریزہ کیا چٹانوں کو
پہاڑ و سنگ تمہارے عزم سے لرزاں ہیں
لہو سے برگِ وطن اس طرح سے سینچا ہے
کہ اس کی کونپلیں بھی زندہ و جاویداں ہیں
بہت ہی اعلیٰ رفاقت تمہارا حق ٹھہری
ملائکہ عروجِ آدمی پہ حیراں ہیں
مقام بعدِ ازاں نبییّن و صدیقین
کہ صالحین بھی اس معرفت کو ترساں ہیں
اچھوتا بابِ شجاعت کیا رقم تم نے
زمین زادے تری جرأتوں پہ نازاں ہیں
ایئر کموڈور آصف شہزاد

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نظم کے خالق شہید لیفٹیننٹ عمرشہزاد کے والد محترم ہیں۔

عمر شہزاد پشاورکے قریب فضائی حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔

*****

 
13
February

تحریر: یاسر پیرزادہ

یہ واقعہ بنکاک میں پیش آیا۔ میں وکٹری مانیومنٹ جانے کے لئے مطلوبہ ویگن تلاش کر رہا تھا۔ اجنبی زبان کی وجہ سے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کون سی ویگن کس روٹ کی ہے۔ ویگن کنڈکٹر تھائی زبان میں آوازیں لگا کر مسافروں کو متوجہ کر رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے یہاں ’’لوہاری گیٹ‘‘ کی آوازیں لگائی جاتی ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ ایک ویگن کو بھرنے کے بعد کنڈکٹر اس میں سوار نہیں ہوتا تھا بلکہ ڈرائیور سے اس کام کی اجرت لینے کے بعد اگلی ویگن کو بھرنے میں جُت جاتا۔ جب مجھے خوار ہوتے کافی دیر ہو گئی اور میں نے مایوس ہو کر ڈبل ڈیکر برگر کھانے کا فیصلہ کر لیا تو عین اسی لمحے کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر بلایا۔ مڑ کر دیکھا تو ایک معنک لڑکی انگریزی میں مخاطب تھی۔
I think you want to go to Victory Monument?
میں نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔
Follow me
اس نے جواب دیا اور یہ کہہ کر ایک ویگن میں سوار ہو گئی۔ میں نے اس کی تقلید کی۔ ویگن چل پڑی تو کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ مسافروں نے چند روپے ڈرائیور کے ساتھ رکھے ایک ڈبے میں ڈال دیئے ہیں۔ میں نے لڑکی سے اس کا مطلب پوچھا تو و ہ بولی۔ یہاں سے وکٹری مانیو منٹ کا کرایہ بیس بھات ہے۔ سب لوگوں نے اپنا کرایہ اکٹھا کر کے ڈرائیور کے باکس میں ڈال دیا ہے۔ یہ ویگن اب صرف اپنی منزل پر جا کر ہی رکے گی۔ یہ سن کر میں نے ایک خالصتاً پاکستانی سوال کیا۔ فرض کرو اگر کوئی شخص کرایہ نہ دے تو ڈرائیور کو کیسے پتہ چلے گا۔ تمہاری ویگنوں میں تو کنڈکٹر بھی نہیں ہوتا؟ یہ سوال سن کر اس لڑکی کے چہرے پر عجیب تاثرات ابھرے۔ اس نے شدید حیرت سے کہا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کرایہ نہ دے۔ مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔ اس کا رد عمل دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ میں نے کوئی آؤٹ آف کورس سوال پوچھ لیا ہے۔ اپنے سوال پر میں نے معذرت کی جو فوراً خوشدلی سے قبول کر لی گئی۔

defvalnegative.jpgبطور پاکستانی ہماری سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم کسی بات کوفیس ویلیو پر تسلیم نہیں کرتے بلکہ کوئی بھی بات سننے کے بعد ہمارا پہلا ردعمل منفی ہوتا ہے۔ اس رویے کو میں
Default Value Negative
کہتا ہوں۔ مثال کے طور پر دیگر ممالک میں ویگن کا کرایہ ایمانداری سے ادا کرنا عام سی بات ہے مگر ایک پاکستانی کی ڈیفالٹ ویلیو یہ ہو گی کہ اگر کرایہ ادا نہ کیا جائے تو کیا میں پکڑا جا سکوں گا؟ میٹرو اگر کسی مہذب ملک میں بنائی جائے تو وہاں آہنی جنگلوں کے بیچ ایک علیحدہ سڑک بنانے کی بجائے میٹرو بس کے لئے فقط ایک سرخ لکیر کھینچ کر راستہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنے ہاں جنگلے بھی ایسے لگائے گئے کہ ان کو اکھاڑ کرلے جانا ممکن نہ ہو۔ کیونکہ ہمیں علم تھا کہ ہمارے ذہن میں سب سے پہلے یہ منفی سوچ آئے گی کہ کیسے ان جنگلوں کو توڑ کر بیچ میں سے شارٹ کٹ نکالا جائے۔ اسی طرح روزمرہ گفتگو میں کاروباری معاملات میں دفتری امور نمٹاتے ہوئے سیاسی بحث کرتے ہوئے ملکی مسائل پر رائے دیتے ہوئے حتی کہ راہ چلتے سوداسلف خریدتے ہوئے بھی ہمارے دماغ کی سوئی منفی طرز عمل پر ہی اٹکی رہتی ہے۔ مثلاً پھل خریدتے وقت پہلا منفی خیال یہ آئے گا کہ دکاندار گلے ہوئے پھل ڈال دے گا دوسرا یہ کہ کم تولے گا اور تیسرا خیال یہ آئے گا کہ نرخ زیادہ لگائے گا اور چونکہ یہ تینوں باتیں کبھی کبھار درست بھی نکل آتی ہیں۔ اس لئے ہماری ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو پر قائم رہتی ہے۔ روز مرہ زندگی میں ایک دوسرے سے ملتے ہوئے بھی ہم اسی منفی رویے کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں کسی کے ساتھ کاروبار شروع کرنے سے پہلے ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ دوسری پارٹی یقیناًہم سے فراڈ کرے گی ۔ سرکاری دفتر میں داخل ہونے سے پہلے ہم یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ یہاں کوئی جائز کام پیسے لگائے بغیر نہیں ہو گا اور میڈیکل سٹور سے دوا خریدتے وقت ہم شک میں ہی مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں دوا جعلی نہ ہو۔ اس کے برعکس مہذب دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو عموماً ایماندار اور سچا سمجھتے ہیں تاوقتیکہ کوئی بے ایمان یا جھوٹا ثابت نہ ہو جائے۔ جبکہ ہمارے ہاں ہر شخص کو جھوٹا دغاباز سمجھا جاتا ہے تاوقتیکہ وہ فوت نہ ہو جائے۔ مرنے والے کی ہم برائی نہیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں جن لوگوں کو جرائم میں گرفتار کیا جاتا ہے زیادہ تر کیسوں میں وہ اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ نہیں کہتے کہ انہوں نے سرے سے جرم کا ارتکاب ہی نہیں کیا بلکہ وہ ان عوامل کی بنیاد پر اپنے جرم کی سنگینی گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں جن سے مجبور ہو کر جرم کیا گیا۔ دوسری طرف ہمارے ہاں اگر کسی شخص کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جائے اور اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہو تو اس کا وکیل سب سے پہلے مشورہ یہ دیتا ہے کہ تم نے اعتراف جرم نہیں کرنا۔ باقی میں سنبھال لوں گا۔افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ وکیل یہ منفی مشورہ کیوں دیتا ہے۔ بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ اس کا مشورہ مجرم کو سزا سے بچا لیتا ہے۔


ہماری اس ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کے عوام کے ساتھ سچ بولا ہی نہیں گیا۔ اسی لئے لوگ اب کسی بات کو فیس ویلیو پر ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ اس ملک کا نام نہاد دانشور طبقہ بھی ایسی ہی منفی سوچ رکھتا ہے کہ ان کی دانشوری امریکہ کو لتاڑنے سے شروع ہوتی ہے اور وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے ان نوم چومسکیوں نے تاریخ کے ہر مرحلے پر جو بیانیہ اس قوم کو دیا اس کی مرحلہ وار دھجیاں اڑ چکی ہیں لیکن مجال ہے کہ ان کی ڈھٹائی میں فرق آیا ہو۔ آج بھی اس کی ڈیفالٹ ویلیو نیگیٹو ہے۔ یقین نہیں آتا تو ان کی گفتگو سن لیں اس فقرے سے شروع ہوتی ہے جو کروا رہا ہے۔ ’’امریکہ کروا رہا ہے‘‘ اور یہیں ختم ہو جاتی ہے۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

لاہور کا جغرافیہ

حدود اربعہ

کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن طلباء کی سہولت کے لئے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے ا ور روز بروز واقع تر ہو رہاہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہو گا جس کا دارالخلافہ پنجاب ہو گا یوں سمجھئے کہ لاہو ر کا ایک جسم ہے جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہو رہا ہے۔ لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔

(پطرس بخاری)

*****

 
13
February

والدہ محترمہ بریگیڈیئر حسین عباس شہید

ایک ماں کے قلم سے جس کے دو بیٹوں نے پاک فوج کی وردی زیب تن کی۔ ان میں سے ایک بریگیڈیئر حسین عباس شہید نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں عملی طور پر حصہ لیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

 

brighussainabbas.jpg وہ قرار جان ہیں۔ جو نظر سے میری نہاں ہو گئے میرے ایسے فرزند کہاں کھو گئے

میرے ساتھ تھے۔ میری بات بھی اُن کے کانوں سے جو ٹکراتی تھی۔
دلداری و دلبری کے پیکرصبح و شام ہوتے تھے ساتھ وہ۔ اپنے سر تسلیم و رضا میں جھکاتے تھے۔
جو کھلا دیا، وہی کھا لیا۔
جو پہنا دیا، وہی پہن لیا۔
اک کا نام اَحسن شِیَم یعنی محسن۔
اور دوسرا جمیل شِیَم یعنی حسین غریب سا۔
وہ سکول کو بھی تو جاتے تھے۔ کچھ لکھ کے کچھ پڑھ کے گھر کو واپس بھی لوٹ آتے تھے۔
وہ سکول بھی اسی شہر میں تھا۔
اور اب بھی ہے۔ اب حفاظتوں کے حصار میں اُس کے راستے ہیں بدل گئے۔
اسی درس گاہ سے اپنی اپنی باری آنے پر وہ ملٹری کالج جہلم میں چلے گئے۔
وہ عالمگیرین بلیزر پہنتے تھے۔ اسی ادارے کی ٹائی بھی لگاتے تھے۔ کیا خوب وہ چھب دکھلاتے تھے۔
اور اپنی کمر کو بیلٹ سے وہ کس کے دن کا آغاز کرتے تھے۔ جس کے آہنی سرے پر کالج کا نشان ہوتا ہے۔
کیا خوب دن تھے ہمارے وہ۔ دُوریاں اور مسافتیں، کبھی کبھار ملنے کی راحتیں!
زندہ باد ملٹری کالج جہلم!
آج بھی راستوں میں جب لب سڑک یہ کالج آتا ہے، دل دھڑک جاتا ہے۔
کیسے کیسے سپوت اس نے دیئے۔
بشر کے بچے کو آدمیت کی قبا پہنا کر کیسے انسان میں ڈھال دیتا ہے، ملٹری کالج جہلم۔
کچے پکے سے ذہن لے کریہاں ہر سال بہت سے بچے آتے ہیں اور جب وہ پاس آؤٹ ہونے کے بعدنکلتے ہیں آدمیت کا نشان اک جانِ وفا برائے ملک و قوم بن کے ملت میں کھو جاتے ہیں۔
درسگاہ سرائے عالمگیر! ترے بیٹے نشان حیدر تک بھی یہاں سے پہنچے ہیں۔ یہیں تھا میجر اکرم شہیدبھی کہیں، یہیں ناحق سے ان کو لڑنے کا نور تو نے دیا۔ اُن کو مرنے کا بھی شعور دیا۔ حق پہ رہتے ہوئے۔
خون سے اپنے ان مہ رُخوں نے تیرے ،اپنی ملت کو وہ سرور دیا۔ اب بھی زندہ ہے ان کا پاکستان سب کا پاکستان درسگاہ سرائے عالمگیر! تیرے آنگن میں نور کی فصلیں اک فضیلت کے ساتھ پکتی ہیں۔
پرچم ستارہ و ہلال اٹھا کے آگے چلتی ہیں۔
میرے بھی نونہال محسن و حسین تیرے خرمن سے نور چنتے رہے۔ اک جھلک بن کے آرمی میڈیکل کالج میں گیا۔
دوسرا ملٹری اکیڈمی کاکول میں ہی جا پہنچا۔۔۔۔ پھر! اس کے بعد کہنے کو کچھ نہیں ہے میرے پاس
بندے تھے رب کے وہیں پہ لوٹ گئے۔
اپنے ذوق حیات پہ لکھ کر
ہم تو تیرے ہیں اے وطن کی زمیں!
تجھ کو چاہتے ہیں، تجھی پر مرتے ہیں،
کوئی بھی مرض جان لیوا ہو۔ تیری عظمت کو لے کے سوئیں گے
واہ، واہ، آنسو
جاگ کر یہ کہیں گے۔
’’اے اﷲ! پرچم پاکستان سربلند تا ابد زندہ و تابندہ رہے!
کوئی بھی فرض جو ہو میرے سپرد۔ میں اُسے دل سے پیار کرتا ہوں!
اے وطن تیرے لئے زندہ تھا۔
جان! تجھ پر نثار کرتا ہوں!
ایسے بیٹوں پہ صرف مائیں کیوں، تربیت گاہیں کیوں نہ ناز کریں!
جو مصیبت میں صبر سے لیں کام اور مدد مانگیں کے خدا ہی سے وہ!
وادی تیراہ میں اک بیابان بے ضمیری و تنگ نظری سے دوبدو لڑتے ہوئے قائم اک آخری نماز کریں۔
در شہوار حسین

 
13
February

تحریر: حبیب جالب

یہ شعلہ نہ دب جائے یہ آگ نہ سو جائے
پھر سامنے منزل ہے ایسا نہ ہو کھو جائے
ہے وقت یہی یارو ہونا ہے جو ہو جائے
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم
اس وادی پر خوں سے اٹھے گا دھواں کب تک
محکومئ گلشن پہ روئے گا سماں کب تک
محروم نوا ہو گی غنچوں کی زباں کب تک
ہر پھول ہے فریادی آنکھوں میں لئے شبنم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم
ویت نام و فلسطین ہو انگولہ کہ ہو کانگو
انساں کی آنکھوں سے گرتے ہوں جہاں آنسو
اے شام ستم ہو جا توڑیں گے ترا جادو
دیکھا نہیں جاتا اب مظلوم کا یہ عالم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم
اٹھے ہوئے نگاہوں میں تم سوز یقین لے کر
امریکہ کی بندوقیں ہو جائیں گی خاکستر
پروردۂ واشنگٹن جائیں گے کہاں بچ کر
ان جنگ پرستوں سے ہے سارا جہاں برہم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم

 
10
February

تحریر: مجاہد بریلوی

اس بار۔۔۔یہ لیجئیے ابھی ایئر پورٹ سے نکلتے ہی خُنک خوشگوار ہوا کا پہلا ہی جھونکا لگا نہیں کہ ’’بار‘‘ زبان پر آگیا۔۔۔ ’’ بار ‘‘کے حوالے سے یہ بھی سنتے چلیں کہ کلکتہ میں ایک صاحبِ ذوق نے اُس مقام پر جہاں مرزا غالب نے چند روز قیام کیا تھا۔ ’’غالب بار‘‘ کے نام سے ایک بادہ خانہ کھولا ہے اور استقبالیہ پر مرزا غالب کا یہ مصرعہ ثبت کیا ہے ۔۔
’’ہمیں کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا‘‘


مرزا غالب کے ساتھ نہ جانے کیوں شاعرِ عوام حبیب جالب یاد آگئے کہ ہمارے لندن میں نصف صدی سے مقیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے جالب صاحب کے قیامِ لندن کے دوران اُن کی طرح طرح کی فرمائشوں سے تنگ آ کر اپنے ایک دوست شیر شاہ قریشی کے حوالے کر دیا کہ جن کی ساؤتھ ویسٹ لندن میں شاپ تھی۔ ہمار ے عوامی شاعر نے جن کی ساری زندگی ’’دیسی ٹیکنالوجی ‘‘کے سنگ گزری تھی۔۔۔ الماری میں دھری سیکڑوں بادہ صحرائیوں کو حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا ’’سمجھ نہیں آرہا کس کی گردن پکڑوں‘‘۔ سو جالب صاحب ہر دوسرے تیسرے دن شیر شاہ قریشی کی ’’گردن‘‘ پکڑنے پہنچ جاتے۔ شیر شاہ قریشی واقعی شیر کا دل گردہ رکھتے تھے بلکہ ’اللہ انہیں حیاتی دے‘ رکھتے ہیں۔ جالب صاحب کی فرمائشیں پوری کرتے ایک دن شیر شاہ قریشی کہنے لگے: ’’ جالب صاحب ہم آپ کی خدمت اتنے دنوں سے کررہے ہیں اور تاحیات کرتے رہیں گے لیکن ہماری درخواست پرایک شعر ہماری دکان پر بھی لکھ دیں۔ جالب صاحب نے اُسی وقت قلم پکڑا اور شیر شاہ قریشی کے بادہ خانے کے داخلی دروازے کے ماتھے پر یہ شعر لکھ دیا

 

چلے گی اور چلے گی دکانِ بادہ فروش
مکان بِک کے بِکے گی دکانِ بادہ فروش

 

یہ لیجئے جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے ’’بھٹکنے‘‘ کی عادت پختہ ہوتی جا رہی ہے۔ جس طرح کی کراچی میں شب وروز ہنگامہ آرائی برپا رہتی ہے۔۔ اُس میں کراچی چھوڑنا مشکل بلکہ ناممکن لگ رہا تھا مگر لندن میں میرے مستقل میزبان مشتاق لاشاری نے جب زور دے کر یہ مژدہ بھی سنایا کہ مرحوم معراج محمد خان کے لئے لندن میں ہونے والے ریفرنس میں اُستادانِ محترم بیرسٹر صبغت اللہ قادری اور ایمبیسڈر واجد شمس الحسن بھی خواہش رکھتے ہیں کہ میری آمد یقینی ہو۔۔۔ یہ تو خیر پہلے سے ہی طے تھاکہ ائیر پورٹ سے سیدھے بی بی سی کلب جانا ہے جہاں دوستوں نے ہماری پہلی شام کا اہتمام کیا ہوا ہے۔بی بی سی مشہورِ زمانہ بش ہاوس میں ہوتا تھا ۔کیا بات تھی اُس پرانے طرز کی امارت کی۔ بی بی سی کی نئی جائے پناہ دیکھ کر کیسے نابغہ روز گار سینئر صحافی یاد آگئے ۔محمد غیور ،اطہر علی،وقار احمد ،رضا علی عابدی اور آصف جیلانی۔۔


وہ جن کے دم سے تیری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تیری بزمِ خیال سے بھی گئے


جہاں بی بی سی کلب میں داخل ہوتے ہی سینئر جرنلسٹ اطہر کاظمی نے کھُلی بانہوں سے استقبال کیا وہیں واجد بھائی یعنی سابقہ ہائی کمشنر لندن واجد شمس الحسن کو دیکھ کر زیادہ خوشی ہوئی۔۔۔ کہ اِدھر اُن کی صحت کے بارے میں تشویشناک خبریں مل رہی تھیں۔ واجد بھائی کی صحت مندی کا اندازہ ہم اُن کی جملے بازی سے لگاتے ہیں۔ کہ اُن کی شخصیت کا یہ سب سے بڑا خاصہ ہے۔۔۔چھوٹتے ہی کہنے لگے۔۔ کیابھائیوں کے ’’کراچی۔۔ لندن ‘‘ تعلق کا سُراغ لگانے آئے ہو؟ اب یہ تو برسوں پہلے طے ہو ہی چکا تھا کہ واجد بھائی سمیت سارے سینئرز کے آگے محض سر جھکا کر سُنا جاتا ہے بولا نہیں جاتا۔۔۔ کیسے یقین دلاتا کہ کراچی کے بھائیوں کے شوروغوغا سے بھاگ کر آیا ہوں ‘‘۔منفرد لہجے کے شاعر ن م راشد کی زبان میں یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ


زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
اے میری ہم رقص مجھ کو تھام لے


ایک زماzraphilondonse.jpgنے میں اور یہ بات‘اسی بلکہ نوے کی دہائی کی تھی کہ ہم تیسری دنیا کے پسماندہ لوگ اپنے گھر بار کو چھوڑ کر اس خواہش کے ساتھ لندن آتے تھے کہ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی کسی کلب کا رُخ کریں گے اور کسی اپسرا کو ایسا گھیریں گے کہ ٹھکانہ بھی مل جائے اور کھانا پینا بھی۔ہم توخیر سے اُس زمانے میں لندن کیا۔۔۔ پاس پلّے سے سکھر نہیں جاسکتے تھے مگر سنتے تھے کہ کئی دوستوں نے مرادیں پائیں اور ٹھاٹ سے مزے کر رہے ہیں۔ یہ لیجئے ہر خط میں اپنے بھٹکنے کا ذکر کرتا ہوں لیکن اب یہ عادت اتنی پُختہ ہوگئی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی در آتی ہے۔ بش ہاؤس کے باہر شام نے اترنا شروع کردیا ہے۔ پیر مِغاں بیرسٹر صبغت اللہ قادری آواز لگارہے ہیں کہ وقتِ جذبات وخرابات کا وقت آپہنچا ہے اب مزید بے ادبی نہیں ہوسکتی ۔۔ہائے ہائے شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی یاد آگئے۔۔۔


ادب کر اُس خراباتی کا جس کو جوش کہتے ہیں
کہ یہ اپنی صدی کا حافظ و خیام ہے ساقی


مرحوم معراج محمد خان کے لئے تقریب ۔۔۔ایک کمیونٹی ہال میں ہوئی جسے بڑی محنت سے پاکستانیوں نے اپنے سرمایہ سے بنایا ہے جبکہ ہندوستانیوں نے ایک نہیں کئی کمیونٹی سینٹرزبنائے ہوئے ہیں انہیں اُن کی حکومت کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہوتی ہے ۔ پاکستانی کمیونٹی سینٹر لندن کے حساب سے خاصے وسیع رقبے پر پھیلا ہواہے۔ ایک خوبصورت مسجد اور پھر پارکنگ اور ساتھ میں ہال جہاں سو لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام ہے۔ شکر ہے کہ بھٹو کے جا نشین اور آخری وقت میں ایک انقلابی تنظیم قومی محاذ کے سربراہ کا انتقال تو گوشہِ گمنامی میں ہوا مگر بعد مرنے کے ہماری قومی روایت کے مطابق ان کے بڑے تعزیتی جلسے ہورہے ہیں۔ ابھی لندن میں تیسرا دن گزراہے بیشتر وقت پرہیز گاریوں میں ہی گزرا اور یہ لیجئے کراچی سے بلاوا آرہا ہے کہ پا۔۔۔نا۔۔۔ لیجئیے یہ میں کیا بے سمت نکل پڑا یوں بھی خطوں میں سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ اس کے لئے کیا اسکرینیں کم ہیں؟ سو بستر لپیٹنا شروع کردیاہے ۔چلتے چلتے یہ بتاتا چلوں لندن میں پارکوں، پبوں اور فٹ پاتھوں کی سیر کے بعد سب سے دلچسپ مشغلہ
tabolide
ہوتے ہیں معروف معنوں میں انہیں چیتھڑا بھی کہہ سکتے ہیں جو ہر ٹیوب اسٹیشن کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں دھرا ہوتا ہے اور یہ بالکل مفت ملتا ہے اس لئیے منٹوں میں اُٹھ جاتا ہے ۔۔۔ ایسی ایسی رنگین تصویریں اور چیختے چلاتے اسکینڈل ہوتے ہیں کہ انسان دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔یہ
tabolides
صرف بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں انکشافات کرتے ہیں۔ جی تو چاہ رہا ہے کہ ایک آدھ بطور نمونہ مع رنگین تصویر آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئیے پیش کر دوں مگر خوفِ خلقِ خدا اور مدیرِ اعلیٰ کے احترام میں گریز کرتے ہوئے اجازت کا طالب ہوں۔

 

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

ونکوور کو پورے کینیڈا میں موسم کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتدل خیال کیا جاتا ہے مگر صاحبو ! اس بار تو اس شہرِ عزیز میں ایسی برف پڑی کہ الامان و الحفیظ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ایسی برف باری نہیں ہوئی جیسی امسال ہوئی ہے۔ اگرچہ نومبر میں پہاڑوں پر برف پڑ جاتی ہے مگر وادی میں دسمبر‘ جنوری میں معمولی
Frost
آتی ہے۔ اس برس ونکوور میں زبردست برفباری ہو رہی ہے اور درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے گر گیا ہے۔ ٹورنٹو، مانٹریال وغیرہ میں تو کئی کئی فٹ برف پڑنا معمول ہے مگر ونکوور میں ایسی برفباری غیر معمولی بات ہے۔
میں نے برف باری پہلے کئی بار دیکھی ہے، ایک مرتبہ بلوچستان کے علاقے کان مہترزئی میں برف کے طوفان میں پھنس بھی چکے ہیں مگر کینیڈا کی برفباری ذرا مختلف ہے۔


ذرا پہلے کان مہترزئی کا احوال لکھوں۔ قصہ یوں ہے کہ کئی برس پہلے میں کوئٹہ مرکز سے پی ٹی وی کا تاریخی ڈراما سیریل ’پالے شاہ‘ کرنے کوئٹہ گئی تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا، ویسے تو کراچی میں سردی نہیں پڑتی پر جب کوئٹہ سے سرد ہوائیں چلتی ہیں تو کراچی میں ذرا خنکی بڑھ جاتی ہے۔ ڈرامے میں میرے ساتھ جمال شاہ اور سکینہ سموں بھی تھے۔ ہماری شوٹنگ نومبر، دسمبر اور جنوری میں ہوئی۔ وہیں کوئٹہ میں ہی میں نے پہلی بار برفباری دیکھی ورنہ اس سے پہلے صرف تصاویرمیں یا فلموں میں ہی دیکھتے تھے۔ کوئٹہ کے مضافات ہنّہ اور اُڑک میں زیادہ برف پڑتی ہے۔ میرے لئے برفباری دیکھنا شاندار تجربہ تھا۔ میرے ہمراہ میری فیملی بھی کوئٹہ گئی تھی۔ شوٹنگ کے بعد ہم خوب گھوما پھراکر تے تھے۔ اُس زمانے میں کوئٹہ کے بازاروں میں روسی سامان نہایت سستے داموں ملا کرتا تھا۔ ایرانی قالین اور کمبل بھی خوب ہوتے تھے۔شاپنگ کا بہت مزہ تھا۔ باتوں باتوں میں جانے کہاں نکل گئی‘ کان مہترزئی کے بارے میں لکھنا تھا مجھے۔۔۔۔۔۔ہوا یوں کہ شوٹنگ کے لئے ہماری ٹیم کو کوئٹہ سے ژوب جانا پڑا۔ بائی روڈ آٹھ گھنٹے کا سفر ہے۔ جنوری کا مہینہ تھا، خوب ٹھنڈی پڑ رہی تھی، ہمارا قافلہ کئی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ ساراراستہ خوبصورت پہاڑ اور نظارے دیکھتے ہم ژوب پہنچے۔ وہاں کچھ دن قیام کیا‘ ریکارڈنگ مکمل کرکے ہم واپس کوئٹہ کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارے کارواں میں آٹھ یا نوگاڑیاں تھیں، دو پی ٹی وی کی وین تھیں، باقی ڈبل کیبن تھیں، ہمارے ڈرائیور نے کہا موسم سخت ہے، ہم راستے میں کہیں نہیں رکیں گے، اگر رُکے تو ڈیزل جم جائے گا۔ ہم سب روانہ ہوئے، کان مہتر زئی پہنچے تو برف کے طوفان نے آن گھیرا، گاڑی برف میں پھنس گئی، میں نے دیکھا، اطراف میں کئی گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ ڈرائیور نے کہاکہ آپ سب دعا کریں بخیر و خوبی یہاں سے نکل جائیں۔ اﷲ نے کرم نے کیا اور ہم بحفاظت کوئٹہ پہنچ گئے۔ اس زمانے میں موبائل فون نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں اپنے ساتھیوں کی خبر نہیں تھی۔ وہ تو اگلے دن ہمیں معلوم ہوا کہ قافلے کی گاڑیاں برف کے طوفان میں پھنس گئیں اور صرف ہماری گاڑی کوئٹہ پہنچی ہے۔ تین دن ہماری ٹیم کرب میں رہی۔ پتہ چلا کہ ڈائریکٹر نے سورج غروب ہونے کا شاٹ لینے کے لئے گاڑی رکوائی، شاٹ کیا ملتا گاڑی بند ہو گئی اور پھر سٹارٹ نہیں ہوئی۔ سردی سے حالت بری ہوئی، گاڑی کی سیٹیں نکال کر جلائیں کہ کچھ گرمی ملے موت سامنے کھڑی تھی، خدا نے کرم کیا کہ کچھ لوگ مل گئے جو انہیں مسلم باغ لے گئے، وہاں ٹھہرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ تین دن کی اذیت کے بعد ٹیم کوئٹہ پہنچی۔ اس دن معلوم ہوا کہ برف کے طوفان میں پھنس جانے کے سبب کئی اموات ہوئیں۔ الحمدﷲ ہمارے ڈرامے کی ٹیم بحفاظت کوئٹہ واپس پہنچ گئی۔

barfkafizindagi.jpgاب کینیڈا کی برفباری کا حال سنئے۔یہاں بہت زیادہ برف پڑتی ہے۔ کان مہترزئی جیسی برف پڑنا یہاں عام بات ہے۔ مگر یہاں برفباری معمولاتِ زندگی متاثرنہیں کرتی۔ سخت ترین موسم میں بھی لوگ گھروں سے نکلتے ہیں۔ کام پہ جاتے ہیں، کاروبارِ زندگی رواں دواں رہتا ہے۔ میں نے مانٹریال، ٹورنٹو کی برفباری دیکھی ہے، سردی ہڈیوں میں گھُستی محسوس ہوتی ہے مگر یہاں کے لوگ اس کے عادی ہیں۔ ایک مرتبہ میں ایک شو کے سلسلے میں ایڈمنٹن گئی تھی، اتنی برف تھی کہ ہوٹل کے کمرے سے نکل کے لابی تک جانا محال تھا۔ لگتا تھا ہیٹر کام نہیں کررہا، سردی سے قلفی جم رہی تھی۔ شاید اس وقت موسم کی شدت کا احساس یوں زیادہ ہوا کہ کینیڈا وزٹ پر گئی تھی، اب چونکہ وہاں رہائش ہے، لہٰذا سردی کی عادت ہوگئی ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود بہت کوفت ہوتی ہے جب گھر کے سامنے برف صاف کرنی پڑتی ہے، جب گاڑی پہ جمی برف ہٹا کے برفباری میں ڈرائیو کرنا پڑتا ہے، اس وقت کراچی کی سردیاں یاد آتی ہیں جب دسمبر جنوری میں بھی پنکھے اور ایئرکنڈیشنر چالو ہوتے ہیں۔


برف میں مخصوص جوتے پہنے جاتے ہیں، کانوں اور سرکو ڈھانپنا لازمی ہوتا ہے۔ بچے تو برف میں خوب انجوائے کرتے ہیں۔ میں اس موسم میں شام کو اکثر قریبی کافی شاپ میں جا کے بیٹھ جاتی ہوں۔ یہاں انواع و اقسام کی کافی اور چائے دستیاب ہیں۔
Apple Cinnamon tea, Earl grey tea, Peppermint tea, Chai tea, English breakfast tea Orange Pekoe tea, Green tea, Mint tea, Camomile tea
اور دیگر اقسام کی چائے ہوتی ہے مگر اپنی دیسی اسٹائل کی چائے نہیں ملتی۔ کڑک چائے کا مزا توپاکستان میں ہی ہے۔ کینیڈا میں کچھ دیسی ریسٹورنٹ ہیں وہاں البتہ ہمارے
Taste
کی چائے ملتی ہے۔ میں جس کافی شاپ میں جاتی ہوں وہ بین الاقوامی سطح پہ معروف ہے۔ یہاں بہت ساری کافی شاپس کی مشہور
Chains
ہیں۔ لوگ زیاہ تر کافی پیتے ہیں، چائے کم لوگ پیتے ہیں۔ کافی شاپ میں نوجوان ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے گپ شپ کرتے رہتے ہیں۔ ضعیف العمر حضرات بھی یہاں آتے ہیں۔ پولیس والے، فائر بریگیڈ کا عملہ اور پیرا میڈیکس کے عملہ کو چائے کافی مفت ملتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کھڑکی کے ساتھ لگی میز کرسی پر بیٹھوں، باہر نظارہ بھی ہوتا ہے اور اچھا لگتا ہے۔ سکول کالج کے سٹوڈنٹس کو دیکھ کر فیشن کا پتہ چلتا ہے کہ آج کل کیا"in" ہے۔ لڑکیوں کا حالیہ فیشن یہ ہے کہ بال رنگے جائیں، سب سے زیادہ جو کلر بالوں کے رنگنے کے لئے مقبول ہے۔ وہ فیروزی اور کاسنی ہے۔


ہمارے ملک میں سنہرے، بھورے اورکالے رنگ سے بالوں کو رنگا جاتا ہے، مغرب میں سنہرے اور سرخ بال تو عام تھے ہی مگر فیروزی اور کاسنی ذرا مختلف فیشن ہے، مگر یہاں عام ہے۔ لڑکیاں میک اپ بھی کرتی ہیں اور جیولری کی بھی دلدادہ ہیں، یہ تو خیر عالمی سٹائل ہے، دنیا کی ہر لڑکی کو زیب و زینت پسند ہے۔ مگر جو فیشن اب لڑکوں نے کینیڈا میں اپنایا ہوا ہے،وہ ہمارے یہاں سے بالکل مختلف ہے۔ نوجوان لڑکے ہاتھوں پر بریسلیٹ، گلے میں چین اور کانوں میں ٹاپس تو پہلے ہی پہنتے تھے مگر اب جدیدفیشن یہ ہے کہ ناک چھدوائی جائے۔ ناک کی لونگ لڑکوں کا محبوب زیور ہے۔ مختلف ڈیزائن اور سائز کی ناک کی بالیاں لڑکے پہنتے ہیں۔ ہمارے کلچر میں مرد کے لئے یہ گالی ہے مگر وہاں فیشن ہے۔ کانوں میں چھوٹی بالی تو میں نے پاکستان کے لڑکوں کو بھی پہنے دیکھا ہے مگر کینیڈا میں لڑکے ایک بڑی سی بالی جس کا سائز چونّی یا اٹھنی کے برابر ہوتا ہے، وہ کان کی لو میں ایسے پیوست کراتے ہیں کہ کان میں بڑا سا سوراخ ہو جاتا ہے۔ بھنوئیں، ہونٹ، ہونٹ کا اوپری حصہ، یہاں تک کہ زبان تک چھدوانے کا رواج ہے۔


یہاں جس کی مرضی جیسا فیشن کرے، جیسا چاہے لباس زیبِ تن کرے، نہ کوئی کسی پہ جملہ کستا ہے نہ ہوٹنگ کرتا ہے۔ ’لڑکیوں کو چھیڑنا‘ یہ کیا بلا ہے، کسی کو نہیں معلوم، یہاں خواتین بہت محفوظ ہیں، رات کو سنسان سڑک پہ اکیلی لڑکی آرام سے سفر کرسکتی ہے، اسے کوئی خطرہ نہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتی ہے، کوئی انہیں نہیں گھورتا۔ اسکائی ٹرین رات ایک بجے تک چلتی ہے، اکثر خواتین رات کو کام سے واپس ٹرین پہ ہی آتی ہیں مگر کوئی انہیں ہراساں نہیں کرتا۔ کینیڈا میں قانون سخت ہے اور سب کے لئے یکساں ہے، اس لئے جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عوام کی جان و مال محفوظ ہے، پینے کا صاف پانی ہر خاص و عام کو دستیاب ہے، نلوں میں جھیلوں سے صاف پانی آتا ہے جو صحت کے لئے نہایت موزوں ہے، تعلیم سب کے لئے مفت ہے، طبی سہولیات، دیگر سہولیات بھی عوام کو ملتی ہیں۔


دکانیں یہاں صبح سویرے ہی کھل جاتی ہیں، دوپہر ایک بجے کے بعد دکان کھولنے کا یہاں کوئی تصور موجود نہیں۔ ہر چیز پہ بارکوڈ یا اس کی قیمت درج ہوتی ہے اور ’’بارگیننگ‘‘ یعنی قیمت کم کرانے کا کوئی سلسلہ یہاں نہیں۔ کافی شاپس عموماً 24 گھنٹے کھلی رہتی ہیں۔ میں بھی کبھی رات گئے فرنچ ونیلا پینے جاتی ہوں۔
French Vanilla
کافی کی ایک مقبول قسم ہے، زیادہ تر لڑکیاں یہی پیتی ہیں۔ یہ ہاٹ چاکلیٹ اور کافی کا مرکب ہوتا ہے۔ کافی شاپ میں میں نے بعض عجیب و غریب چیزیں بھی دیکھیں، مثلاً لوگ گرین ٹی میں دودھ ڈال کے پیتے ہیں، اکثر لوگ گرم چائے یا کافی میں برف کے چند ٹکڑے یہ کہہ کے ڈال لیتے ہیں کہ گرم مشروب پینے سے منہ جل جاتا ہے کو لڈ کافی کم لوگ پیتے ہیں، گرم کافی میں ہی برف ڈالنا پسند کرتے ہیں۔


کافی شاپ میں ایک کونے پر آتشدان ہے جہاں آرام دہ صوفے پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے وہاں لکھا ہے کہ صوفوں پہ سونا منع ہے اور زیادہ دیر بیٹھنے سے احتراز کریں تاکہ دوسروں کو بھی وہاں بیٹھنے کا موقع ملے۔ لیکن میں نے وہاں صوفوں پہ بعض افراد کو دو دو گھنٹے سوتے دیکھا۔میں نے کاوئنٹر پر موجود لڑکی سے پوچھا کہ آپ ان حضرات کو اٹھاتی کیوں نہیں؟ وہ مسکرا کے بولی ’’ہم کسٹمر سے غیرمہذب رویہ نہیں اپنا سکتے۔‘‘ میرے دل میں کئی بار آیا کہ خود ہی جاکے کہوں کہ اٹھو، اب میں صوفے پہ بیٹھوں گی مگر پھر یہ سوچ کے خیال جھٹک دیا کہ جب باقی لوگوں کو اعتراض نہیں تو مجھے کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔


صوفوں پر سونے والے زیادہ تر معمر افراد ہی ہوتے ہیں اور لوگ ان کی عمر کی وجہ سے احتراماً انہیں نہیں اٹھاتے۔ کافی شاپ وقت گزاری کے لئے بہترین جگہ ہے۔ لوگ گھنٹوں یہاں صَرف کرتے ہیں، لیپ ٹاپ پہ کام کرنا ہو، نوٹس بنانے ہوں، موبائل پر دوستوں سے بات کرنی ہو، احباب سے گپ شپ کرنی ہو، کافی شاپ آئیڈیل ہے۔ سب لوگ اپنا بِل خود ادا کرتے ہیں، کوئی کسی دوسرے کی کافی کا بل نہیں دیتا۔ یہاں دوستوں کا بل دینے کا رواج نہیں۔ آپ کتنے ہی گہرے دوست کیوں نہ ہوں، اپنا بل خود دیں۔ کافی شاپ میں انٹرنیٹ فری ہوتا ہے۔ ویسے یہاں مال میں، ریسٹورنٹ میں، کافی شاپ یا فاسٹ فوڈ ریستوران میں انٹرنیٹ فری ہوتا ہے۔
فری پر یاد آیا
Buy One, Get One Free
آج کل عروج پہ ہے، نیوایئر کی وجہ سے ہر جگہ سیل ہے، پھر ویلنٹائن ڈے بھی زیادہ دور نہیں۔ ویلنٹائن ڈے فروری میں آتا ہے اور اس کی سیل جنوری میں لگ جاتی ہے۔ سیل لگی ہو تو سمجھ میں نہیں آتا کیا خریدیں کیا چھوڑیں۔ ڈالر خرچ کرنا آسان ہے‘ کمانا مشکل ہے۔ دیارِ غیر میں بسنے والے جانتے ہیں کہ روزی روٹی کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں، اگرچہ پاکستان میں بھی کمانے کی فکر سب کو ہوتی ہے مگر ایک خاص ذہنی بے فکری بھی ہوتی ہے، پاکستان میں سب اپنے ہوتے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں کوئی کسی کا نہیں۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

کینیڈا میں قانون سخت ہے اور سب کے لئے یکساں ہے، اس لئے جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عوام کی جان و مال محفوظ ہے، پینے کا صاف پانی ہر خاص و عام کو دستیاب ہے، نلوں میں جھیلوں سے صاف پانی آتا ہے جو صحت کے لئے نہایت موزوں ہے، تعلیم سب کے لئے مفت ہے، طبی سہولیات، دیگر سہولیات بھی عوام کو ملتی ہیں۔

*****

ڈالر خرچ کرنا آسان ہے‘ کمانا مشکل ہے۔ دیارِ غیر میں بسنے والے جانتے ہیں کہ روزی روٹی کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں، اگرچہ پاکستان میں بھی کمانے کی فکر سب کو ہوتی ہے مگر ایک خاص ذہنی بے فکری بھی ہوتی ہے، پاکستان میں سب اپنے ہوتے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں کوئی کسی کا نہیں۔

*****

 
10
February

تحریر: فرحان نثار

اُس نے جس کھیل کا انتخاب کیا تھا اس کا مستقبل پاکستان میں نہیں تھا۔وہ جس علاقے سے تعلق رکھتی تھی وہاں لڑکیوں کا میدان میں جا کر کھیلنا تو کجا اُن کے لئے گھر سے باہر نکلنا بھی آسان نہ تھا۔وہ لڑکی تھی، صنف نازک تھی مگر اس نے ایسے کھیل کا انتخاب کیا تھا جسے ’’طاقت‘‘ کا کھیل کہا جاتا ہے جو مردوں کے لئے بھی اتنا آسان نہیں مگر لڑکی ہونے کے باوجود پورے جوش و خروش کے ساتھ اس میں حصہ لیا اور ’’مردانہ وار‘‘ اپنی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا مقابلہ بھی کیا۔وہ پاکستان میں بہت سی لڑکیوں کے لئے مشعل راہ تھی جسے کھیلتا ہوا دیکھ کر بہت سے والدین نے اپنی بیٹیوں کو کھیلوں کے میدان میں اترنے کا موقع دیا۔ایک گیند اور گول پوسٹ پر نشانہ ...یہ اُس کی زندگی کا مقصد تھا کیونکہ اس کا انداز جارحانہ تھا اور وہ دفاع پر کاربندنہیں ہوسکتی تھی ۔وہ ہر لمحہ فٹ بال کو گول پوسٹ میں پھینکنا چاہتی تھی مگر موت اُس کا نشانہ لے چکی تھی۔موت کے فرشتے کو پنالٹی کک ملی اور اس نے شاہلائلہ بلوچ کی زندگی کو گول پوسٹ میں ڈال دیاجو 16اکتوبر کو محض 20سال کی عمر میں کراچی کے رہائشی علاقے میں کار کے حادثے میں اپنی جان کی بازی ہار گئی۔


شاہلائلہ بلوچ کا تعلق کھیلوں سے محبت کرنے والی فیملی سے تھا جس کی والدہ روبینہ عرفان نہ صرف سینیٹر ہیں بلکہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ویمن ونگ کی چیئرپرسن بھی ہیں جبکہ شاہلائلہ کی ایک بہن سہیلہ زرین انٹرنیشنل کھلاڑی اور دوسری بہن راحیلہ زرمین قومی ٹیم کی مینجر ہیں۔کوئٹہ میں پیدا ہونے والی شاہلائلہ نے محض سات برس کی عمر میں فیفا کی کم ترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ پاکستان کی قومی چمپئن ٹیم بلوچستان یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والی شاہلائلہ نے 2009، 2011 اور 2013 میں پاکستان کی بہترین ویمن فٹبالر کا اعزاز اپنے نام کیا۔ میراڈوناجیسے کھلاڑی کو اپنا آئیڈیل بناکر فٹبال کھیلنا شروع کرنے والی شاہلائلہ کا پسندیدہ کھلاڑی لائل میسی تھا۔شاہلائلہ کو اگر حقیقی پیشہ ورانہ کھلاڑی کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کیونکہ پاکستان میں ویمنز فٹبال کا مستقبل تاریک دیکھنے کے باوجود شاہلائلہ پرعزم تھی کہ پاکستان کو اس میدان میں بہتر مقام دلوائے گی کیونکہ اس کا مقصد فٹبال کھیل کر اپنا شوق پورا کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا خواب عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند کرنا تھا اور اگر زندگی یہ موقع دیتی تو شاہلائلہ اپنا یہ خواب بھی پورا کرسکتی تھی کیونکہ یہ کھیل اس کا جنون تھا،اس کی محبت تھی مگر موت نے زندگی کے میدان میں اسے ’’آف سائیڈ‘‘قرار دے دیا۔

 

shahlalablch.jpgاسٹرائیکر شاہلائلہ بلوچ کا تعلق فٹبال سے وابستہ خاندان سے تھااور اکثر اوقات یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایسے پس منظر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی صلاحیت دب کر رہ جاتی ہے کیونکہ ان کھلاڑیوں کی قومی ٹیم تک آمد کو ہمیشہ خاندانی پس منظر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور ان کی اچھی کارکردگی کو اتنا سراہا نہیں جاتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ شاہلائلہ نے بھی انہی مسائل کے ساتھ پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا اور اس لئے ان پر یہ الزام بھی عائد کیاجاتا تھا کہ وہ اپنی والدہ (فٹبال فیڈریشن کی سربراہ)اور بہن(ٹیم مینجر)کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں لیکن شاہلائلہ نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا کہ والدہ اور بہن کے اہم عہدوں پر فائز ہونے کی وجہ سے انہیں متعدد مرتبہ تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود اس بات کا اثر ان کے کھیل پر نہیں پڑتا بلکہ جب وہ میدان میں اترتی ہیں تو ان کا مقصد محض اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر شاہلائلہ کے مختصر سے کیرئیر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بارہا ثابت ہوئی کہ شاہلائلہ کی موجودگی پاکستانی فٹبال ٹیم کے لئے نہایت سودمند ثابت ہوئی ہے۔ 2014ء کی ساف
(South Asian Football Federation)
ویمنز چمپئن شپ میں بھوٹان کے خلاف مقابلہ شاہلائلہ کا پاکستان کے لئے آخری مقابلہ تھا جس میں 4-1کی فتح میں ایک گول کرکے شاہلائلہ نے اپنا حصہ بھی ڈالا۔اس کے علاوہ پاکستان کی طرف سے بیرون ملک ہیٹ ٹرک اسکور کرنے والی پہلی خاتون فٹبالر کا اعزاز بھی شاہلائلہ بلوچ کو حاصل ہواجس نے مالدیپ کے سن کلب کے لئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مالدیپ میں کلب فٹبال کھیلنے والی شاہلائلہ کا خواب مشہور زمانہ فٹبال کلب بارسلونا کی ویمنز ٹیم کی نمائندگی تھا لیکن وقت سے کون کہے یار ذراآہستہ!


فٹبال کے جوتے اور جرسیاں جمع کرنے والی شاہلائلہ کی پہلی محبت فٹبال کا کھیل ہی تھا ۔سب سے بڑی خوشی بھی شاہلائلہ کے لئے فٹبال کھیلنا ہی تھا جو ڈربلنگ اور ہیڈنگ کے ذریعے مخالف کھلاڑیوں کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا کرتی تھی۔کبھی بھی ہمت نہ ہارنے والی لڑکی کے لئے کار کا حادثہ جان لیوا ثابت ہوا جس نے پلک جھپکتے ہی شاہلائلہ کو آخری سفر پر روانہ کردیا ۔شاہلائلہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ویمنز فٹبال کا سفر بھی عالمی سطح پر شروع ہوا تھاجو یقیناًشاہلائلہ کی ناگہانی موت کے بعد رکے گا نہیں بلکہ جاری رہے گا مگر زندگی سے بھرپور فٹبالر شاہلائلہ بلوچ کی موت سے پیدا ہونے والا خلاء پاکستان میں فٹبال کے میدانوں میں ایک عجب سی اُداسی چھوڑ گیا ہے۔ممکن ہے کہ شاہلائلہ بلوچ نے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت زیادہ دن فٹبال کے میدانوں میں نہ گزارے ہوں مگر سات نمبر کی جرسی پہننے والی اسٹرائیکر ایسا راستہ تراش گئی ہے جو آنے والے عرصے میں نہ صرف اسپورٹس بلکہ ہر شعبے میں اُن پاکستانی لڑکیوں کے لئے منزل کا نشاں ثابت ہوگا۔

 
10
February

تحریر: مستنصر کلاسرا

1974میں بھارتی ایٹمی تجربے نے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔ یہ تجربہ اس خطے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور پھراس کی مسلسل بڑھوتری کی پہلی کڑی ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جس نے ایک غیرایٹمی خطے کو ایٹمی دوڑ میں شامل کر دیا۔ بھارت کے اس اقدام نے اقوام عالم کو ایک ایسا ادارہ بنانے پر مجبور کر دیا جو مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی کاروبار کی شناخت اور پرامن مقاصد کے نام پر پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کو دور کر سکے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام عالم ایک ادارہ بنانے میں کامیاب ہوئیں جسے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا نام دیا گیا۔


نیوکلیئرسپلائرز گروپ کے رکن ممالک میں امریکہ، جاپان، چین، برطانیہ، ترکی اور کینیڈا سمیت کم و بیش 48ممالک شامل ہیں۔ سال 2016-17 کے لئے این ایس جی کی صدارت ریپبلک آف کوریا کے پاس ہے۔ اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے چنداصول و ضوابط بنائے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
i۔ ایٹمی مواد ترسیل کرنے کی مکمل صلاحیت۔
ii۔ این ایس جی کی طرف سے دی گئی تمام ہدایات پر پابندی اور ان پر من و عن عمل کرنا۔
iii۔ ایک یا ایک سے زیادہ نیوکلیئرنان پرولیفریشن معاہدوں کا پابند ہونا۔
iv۔ مقامی برآمدات کے کنڑول سسٹم کی مکمل پاسداری این ایس جی کی مکمل ہدایات کے مطابق کرنا۔
v۔ مہلک ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور ان کی ترسیل کی مشینری کی بیرونی منتقلی کو روکنے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرنا۔
یہ وہ چند بنیادی اصول و ضوابط ہیں جن کے تحت کوئی ملک اس گروپ کا رکن بن سکتا ہے۔ اب اگر کوئی ملک ان ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش کرے گا تو یہ ان ممالک کے ساتھ ناانصافی ہو گی جو ان ضوابط پر عمل کرنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہوئے اور دوسرا اس گروپ کی اپنی شفافیت پر سوال اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔
نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کے لئے بہت ہی سادہ سے اصول و ضوابط وضع کئے گئے ہیں جن پر کوئی بھی ملک پورا ترنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے اس گروپ میں شامل ہونے کی خواہش نے ایک عجیب سازشی فضا پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر 2008 میں بھارت کو دی گئی چند خاص رعایات کے بعد تو یہ صورتحال اور مسموم ہوتی جا رہی ہے۔ دیگر اسباب کے علاوہ سب سے اہم اور بڑی وجہ مغرب میں موجود کاروباری لابی ہے جو کہ مستقبل قریب میں بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ دوسری وجہ رعایات دینے کی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسا کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ کا سب سے بڑا مقصد ایٹمی ٹیکنالوجی کی ترسیل ان ممالک میں روکنا ہے جو یا تو پہلے سے اسے استعمال کر رہے ہیں یا پھر بین الاقوامی ایٹمی تحفظ کے ادارے کے قوانین کے مطابق عمل نہیں کر رہے جن میں بھارت بھی شامل ہے۔ بھارت میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کا ایٹمی مواد یا ری ایکٹر ابھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے۔


نئے بدلتے حالات اور عالمی برتری کی دوڑ میں امریکہ اور بھارت ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ اس بات پر کسی کو شک نہیں کہ امریکہ اور بھارت سول نیوکلیئرڈیل کے بعد اب ایک دوسرے کے سٹریٹجیک پارٹنرز ہیں۔ نیوکلیئرسپلائرز گروپ میں شمولیت کے حوالے سے بھی بھارت کو امریکی پشت پناہی اور حمایت حاصل تھی۔ ایک اور بات جو یہاں قابل ذکر ہے کہ اگرچہ 11اور 12نومبر 2016کو این ایس جی کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی تھی اور مختلف ممالک کی رائے کو اگر مدنظر رکھیں تو بھی بھارت کی مخالفت میں بہت سے ممالک تھے جن میں خاص طور پر آئرلینڈ، چین اور آسٹریا نے بھارت کے خلاف اپناموقف بدلنے سے انکار کیا اور اصول و ضوابط پر اترنے والے تمام ممالک کو اس میں شامل کرنے پر زور دیا۔ یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ نومبر 2016میں این ایس جی کی میٹنگ سے پہلے تک اگر بھارت این ایس جیمیں شمولیت کے لئے بڑے ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس نے دوبارہ سے اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست کیوں دے دی؟ شاید وہ اس لئے کہ نیوکلیئرسپلائرزگروپ میں شامل ہونے کی اپنی خواہش زندہ رکھ سکے۔ بالکل اسی طرح اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل ہونے کی اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔


نیوکلیئرسپلائرزگروپ کے تناظر میں بھارت اور امریکہ کی جانب سے یہ تاثر بھی عام کرنے کی کوشش کی گئی کہ چین نے پاکستان کو این ایس جی میں شمولیت پر اُکسایا اور پاکستان تو جیسے نیوکلیئرگروپ میں شامل ہونا ہی نہیں چاہتا تھا۔ یہ تاثر پروپیگنڈے پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے تو بھارت کی اس گروپ میں شمولیت سے پہلے ہی 2004میں
Export Control Act
پر عمل شروع کر دیا تھا۔ ایک اور تاثر جو پاکستان کے خلاف دیا گیا کہ پاکستان نے صرف بھارت کو دیکھتے ہوئے این ایس جی میں شمولیت کی درخواست دی یہ بھی سراسرجھوٹ کا ایک پلندا اور من گھڑت بات تھی کیونکہ این ایس جیمیں شمولیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کو بتایا گیا کہ کوئی بھی
Non-NPT
ملک اس گروپ میں شامل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن جب بھارت کو امریکہ کی طرف سے مئی میں اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے درخواست دینے کا کہا گیا تو پاکستان نے 6دنوں کے اندر اندر 300صفحات پر مشتمل ایک مکمل دستاویز بنا کر اس گروپ میں شام