12
July
جولائی 2017
شمارہ:7 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ادارے ملکی سلامتی اور بقاء کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔ ملک کا ہر فرد اور سبھی ادارے باہم مل کر ریاست کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ لہٰذا ادارے جتنی تن دہی اور اولوالعزمی سے اپنے اپنے حصے کے فرائض انجام دے رہے ہوں‘ ریاست اُسی طرح سے ترقی اور وقار کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔ افواجِ پاکستان بھی دیگر اداروں کی مانند اپنے حصے کا کام جو کہ وطنِ عزیز کی جغرافیائی....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے....Read full article
 
 alt=
تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان
جون کے پہلے ہفتے میں چھ عرب ممالک جن میں سے تین یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا تعلق خلیج تعاون کونسل سے ہے، نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر کے اس کے ساتھ تمام زمینی اور فضائی روابط منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کا ساتھ دینے والے باقی تین عرب ممالک مصر، لیبیا اور یمن ہیں۔ بعد میں تین اور ممالک یعنی جبوتی، نائیجیریا اور مالدیپ بھی اس میں شامل ہو....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں بدلتی صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے طور پر جنم لیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں، سابق سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین مقابلے کے نتیجے میں دونوں طاقتوں نے اپنے ہاں اسلحے کے انبار لگانا شروع کردئیے۔ جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو دنیا کے مختلف ممالک علاقائی اقتصادی....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ظاہر ہے شہ رگ کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ ظلم و ستم کا شکار ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے شہری پُرسکون رہ سکیں۔ گویا ان کی بے قراری ایک فطری امر ہے۔.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انسان زندگی بھر سیکھتا ہی رہتا ہے ۔ اس کے سیکھنے کا عمل یا علم حاصل کرنے کا سلسلہ قبر تک جاری رہتا ہے۔ علم و تحقیق کی دنیا میں کوئی حرف ،حرف آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی انسان کامل علم کے حصول کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ میں ایک معمولی سا طالب علم ہوں ، سیکھنے کی دل میں آرزو ہے اور مکالمے پر یقین رکھتا ہوں۔ البتہ اس بات کا قائل ہوں....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
47ء میں تقسیم کے بعد بھارت کی فضا کبھی بھی مسلمانوں کے لئے سازگار نہیں رہی تاہم جب سے نریندر مودی ا ورا ن کا ٹولہ برسراقتدار آیا ہے مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر نفرتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اوریہ سرزمین ان پر اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ملک میں.....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
دریا، پہاڑ، سمندر، صحرا،زر خیز زمین اور چارموسم۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جواگرکسی ملک کے پاس ہوں تو وہاں کے باشندوں کو خوش قسمت خیال کیا جاتا ہے کیونکہ ان چھ عناصر کی موجودگی میں معیشت خود انحصاری کی راہ پر رواں دواں رہتی ہے اور عوام خوشحال رہتے ہیں نیز بہتر طرز زندگی کی ضمانت اور ذرائع روزگار بھی ہمہ وقت میسر ہیں- چونکہ مضبوط اورمستحکم معاشی حالات پرسکون معاشرے کو....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
خدا نے انسان کو فیصلے کرنے کا کتنا اختیار دیا ہے؟ انسان اپنے معاملات میں کس قدر آزاد ہے؟ اگر سب کچھ کاتب تقدیر نے لکھ ڈالا ہے تو پھر انسان کی آزادی کے کیا معنی ہیں اور اگر اس کی آزادی خدا کی منشا کے تابع ہے تو پھر اس سے بازپرس کیوں کر ہو گی؟ یہ وہ مسائل ہیں جن پر صدیوں سے بحث جاری ہے مگر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس مسئلے پر بہت دلچسپ انداز میں ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
چُھٹی سے زیادہ دلفریب لفظ شاید فوجی ڈکشنری میں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ چھٹی کی مثال عسکری زندگی کے صحرا میں ایک ہرے بھرے نخلستان کی مانند ہے جس کے تصور سے ہی روزمرہ کی کٹھنائیوں کی شدت کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ سپاہی کی زندگی چچا غالب کی طرح ہزاروں خواہشوں کا مرقع نہیں ہوتی بلکہ لے دے کر اس کی سوچ کا ....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
آپ کے ملک میں سب باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں؟میری روم میٹ کی جانب سے انتہائی غیر متوقع سوال تھا ۔ وہ میرے عقب میں دائیں طرف والے بستر پر بیٹھی مجھ سے مخاطب تھی جبکہ میں کل کی کانفرنس کی تیاری میں مقالہ دہرانے کے بجائے اپنے بستر پر بیٹھی نیا جوڑا استری کر رہی تھی۔ ہم دونوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے چوبیس گھنٹے تو ہو چکے تھے لیکن سلام ،صبح بخیر،.....Read full article
 
تحریر : وقاراحمد
مناماٹا کنونشن ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جو انسانی صحت اور قدرتی ماحول کو مرکری کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لئے تشکیل دیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے زیرِ سرپرستی اس معاہدے پر 19 جنوری2013 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط ہوئے اور اسی سال اکتوبر میں جاپان کے شہر کما موٹو میں مناماٹا کنونشن کی باقاعدہ توثیق کردی گئی۔ اس کنونشن میں پاکستان سمیت دنیا کے 128 ممالک دستخط کر چکے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر عاطف منصورملک
اگر آپ اکبری دروازے سے اندرون لاہو ر میں داخل ہوں تو تنگ بازار سے گزر کر محلہ سریاں والا آتا ہے۔ غازیا علم دین شہید کا گھر اِسی محلے میں تھا، انہی کے نام پر اب وہا ں کا چوک موسوم ہے۔ اس چوک سے بائیں جانب مڑ کر کوچہ چابک سواراں سے گزرتے جائیے تو آگے محلہ ککے زئیاں آتا ہے۔ ککے زئی اسے عرفِ عام میں بڑی گلی کہتے ہیں۔ گو کہ یہ گلی اتنی تنگ ہے کہ کسی مرگ پر جنازہ .....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
آج ہم اپنے مضمون میں ایک ایسے تجربے کا ذکرکرنا چاہتے ہیں جو عمر بھر کے لئے ہمارے دل و دماغ پہ ثبت ہوگیا ہے۔ ہمیں وہ دیکھنے کو ملا جس کا ہم شاید کبھی گمان بھی نہ کرسکتے ہوں۔ اگر چہ2015 میں بھی ہم نے اس کی جھلک دیکھی تھی۔ مگر اس بارہم خود اس کا حصہ تھے لہٰذا ہمیں قریب....Read full article

تحریر: مجاہد بریلوی
لندن میں ہوں۔ لاہور کے دفتر سے حکمِ حاکم آیا کہ یہاں کے الیکشن بہت دیکھ لئے اب ذرا برطانوی الیکشن دیکھنے جائیں۔ ایئرپورٹ سے میلوں کا فاصلہ طے کر تے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ راستے میں نہ کوئی جلسہ‘ نہ دھرنا‘ نہ پوسٹر‘ نہ بینر‘ یہ کیسا الیکشن ہے؟
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے........Read full article
 
تحریر: وثیق شیخ
چونڈہ کا محاذ اس لحاظ سے بہت منفرد اہمیت کا حامل ہے کہ باون سال گزرنے کے بعدبھی اس میدان جنگ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ وہ محاذ ہے۔ جہاں 1965 میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی۔ آج بھی قصبہ چونڈہ کے جوان ان ہی میدانوں میں سیر کرتے ہوئے اپنے بزرگوں سے جنگ کی ولولہ انگیز داستانیں سن کر اپنے خون کو گرماتے ہیں۔ جہاں بھارتی اور پاکستانی .....Read full article
 
تحریر: موناخان
نہ تو ہم جیمز بانڈ ہیں اور نہ ہی ہماری پچھلی نسل میں کوئی صحافی رہا ہے۔ یہ جسارت اپنے پورے خاندان میں ہم نے ہی کی ہے۔ یہ صحافت کا کیڑا کب سرایت کر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ جی تو بات ہو رہی تھی مشن نیپال کی۔ گزشتہ شمارے میں جس نیپال کی کتھا آپ کو سنائی تھی، اس کا اصل قصہ تو ابھی باقی ہے۔ فوج سے جلد ریٹائرمنٹ لینے والے بہت سے فوجی سکیورٹی ایجنسیز کھول لیتے ہیں یا کسی بڑے تھنک .....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
میڈم نور جہاں کا فنی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ ان تمام کا ذکریہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ میں اس وقت صرف میڈم نور جہاں کے اُن ملی نغموں کا ذکر کرتا ہوں جو ریڈیو پاکستان میں ہم نے مل کر پروڈیوس کئے۔آج جس نغمے کا ذکر ہے یہ 12 ستمبرکو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے شاعرتنویر نقوی ہیں۔....Read full article
 
تحریر: اسد عباس ملک
یہ مارچ کی ایک سہانی صبح تھی جب ہم کراچی سے براستہ حیدر آباد اور میر پور خاص عمر کوٹ (تھرپارکر) کے لئے روانہ ہوئے۔ میرپور سے گزرتے ہوئے روڈ کے دونوں طرف آموں کے بور بھرے سرسبز باغ ہمیں بیک وقت بہار اور گرمیوں کی آمد کا پتہ دے رہے تھے۔ میلوں پھیلا ہوا سبزہ، ہلکی سنہری چادر اوڑھے گندم کے کھیت اور ان میں رزق حلال کی تپسیا کرنے والے افراد ایک منظر .....Read full article
 
تحریر: عثمان انصاری
پاک بحریہ بحرِ ہندکی ایک طاقتور اور تجربہ کار بحری قوت ہے جو کہ بحرِ ہند میں امن اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ انفرادی سطح پر پاک بحریہ بحر ہند کے شمال میں بحیرہ عرب میں امن و استحکام کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔ بحیرہ عرب کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ سمندر خلیجی اور عالمی ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کا اہم راستہ ہے....Read full article
12
July

تحریر: عثمان انصاری

پاک بحریہ بحرِ ہندکی ایک طاقتور اور تجربہ کار بحری قوت ہے جو کہ بحرِ ہند میں امن اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ انفرادی سطح پر پاک بحریہ بحر ہند کے شمال میں بحیرہ عرب میں امن و استحکام کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔ بحیرہ عرب کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ سمندر خلیجی اور عالمی ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کا اہم راستہ ہے ۔علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے میں پاک بحریہ کی کاوشوں میں اہم ترین چیز دیگر بحری افواج کے ساتھ مشترکہ تعاون ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کثیر الملکی ٹاسک فورس
CTF-150
اور
CTF-151
کی اہم رکن ہے۔ان دونوں ٹاسک فورسز کا مقصد بحیرہ عرب میں میری ٹائم سکیورٹی ، دہشت گردی اور بحری قزاقی کی روک تھام کرنا ہے۔یہ ٹاسک فورسز اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان میں30مختلف ممالک شامل ہیں جو اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ پاک بحریہ کی ان ٹاسک فورسز میں شمولیت خطے میں امن کے استحکام میں ایک اہم ترین کاوش ہے اورپاک بحریہ ان سر گرمیوں میں مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام کو کس قدر اہم تصور کرتی ہے۔ انہی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ایما پر پاک بحریہ کو ان ٹاسک فورسز کی کمانڈ کا تجربہ متعدد بارحاصل ہوا ہے جو کہ پاک بحریہ کی خطے کے لئے خدمات کا ثبوت ہے۔ اگرچہ یہ خطہ عدم استحکام کا شکار ہے تاہم پاکستان نیوی کے کردار اور مشترکہ کوششو ں کی وجہ سے سمندروں میں صورتحال پرسکون ہے اور ہر قسم کی جہازرانی آزادانہ طریقے سے ہو رہی ہے۔ لہٰذا یہاں یہ مناسب ہوگا کہ اس پورے منظر نامے میں پاکستان نیوی کی کاوشوں پر روشنی ڈالی جائے ۔

pakbehriayabehre.jpg
ستمبر 2001ء میں افغانستان جنگ کے دوران بحیرۂ عرب میں بھاری بحری قوت صف بستہ نظر آئی تاکہ اس آپریشن میں مدد فراہم کی جاسکے، تاہم ضرورت اس امر کی بھی تھی کہ کسی بھی دہشت گرد کو فرا ر ہونے اور سمندری راستے سے ممکنہ طور پر خلیجی ممالک یا اس کے اطراف میں پہنچنے سے روکا جاسکے۔ اکتوبر 2002ء میں فرانسیسی رجسٹرڈ آئل سپر ٹینکر لمبرگ پر ہونے والے حملے نے جبکہ لمبرگ یمنی پورٹ آف عدن میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا، علاقائی جہازرانی کو درپیش خطرات اور اس طرح عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کو پوری طرح آشکار کر دیا ، جو کہ اس حملے کا اصل مقصدبھی تھا۔اگر بحری گزرگاہوں اور بندرگاہوں کو محفوظ نہیں بنایا گیا اور سمندروں میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا گیاتو عالمی معیشت کو اس کا شدید نقصان پہنچے گا۔ اس طرح بحیرۂ عرب اور اس کے اطراف کے پانیوں کو خصوصاََ خطرے کی زد میں تصور کیا جاتا تھاکیوں کہ خلیجی ممالک کو جانے والے توانائی اور تجارتی راستے یہیں سے نکلتے ہیں۔ اس لئے پورے خطے کو محفوظ بنایا جانا ضروری تھا تاہم یہ کسی بھی طرح کوئی آسان کام نہیں تھاکیوں کہ اس خطے کی وسعت کے باعث کوئی بھی نیوی تن تنہا اس کی نگرانی اور حفاظت کرنے کی اہل نہیں تھی۔
CTF-150
دراصل امریکی نیول ٹاسک فورس کے طور پرجود میں آیالیکن 2002ء میں یہ ایک کثیر القومی بحری قوت میں تبدیل ہوگیا جو بنیادی طور پر امریکی ، نیٹو کے چند یورپی اتحادیوں اور جاپان پر مشتمل تھی۔
پاکستان نیوی نے 2004ء میں
CTF-150
میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت سے اس کا ایک اہم ترین رکن ہے، پاک بحریہ نے پہلی مرتبہ 2006ء میں
CTF-150
کی قیادت سنبھالی اور اس کے بعد سے تاحال نو مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر چکی ہے۔
CTF-150
ایک وسیع علاقے کی نگرانی کی ذمہ دار ہے جہاں سے جہاز رانی کے مصروف ترین راستے گزرتے ہیں(دنیا کے ایک تہائی خام تیل کی ترسیل انہی راستوں سے ہوتی ہے) ۔ یہ علاقہ
2 Million
مربع میل سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں خلیج عمان، خلیج عدن، بحیرۂ احمر اور شمالی بحیرۂ عرب شامل ہیں۔ اس خطے سے مکمل واقفیت کے سبب پاکستان نیو ی
CTF-150
کا اہم ترین حصہ ہے۔
سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ کے گزشتہ دورۂ بحرین کے دوران امریکی نیول فورسز سینٹرل کمانڈ
(NAVCENT)
کے کمانڈر وائس ایڈمرل کیون ایم ڈونیگن نے اس حقیقت کا واضح الفاظ میں اعتراف کیا۔
NAVCENT
بذاتِ خود امریکی سینٹرل کمانڈ
(CENTCOM)
کا حصہ ہے جس کے تحت کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا قیام عمل میں آیا۔ ایڈمرل ذکاء اللہ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور بشمول دوطرفہ بحری اشتراک اور بحرِ ہند میں سکیورٹی کے معاملے سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایڈمرل ڈونیگن نے پاکستان نیوی کے افسروں اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور علاقائی سکیورٹی اور استحکام کے قیام میں پاک بحریہ کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے اس ضمن میں بیشتر کامیابی کو خطے میں پاک بحریہ کی مسلسل موجودگی سے منسوب کیا جس نے خطے میں آزادانہ جہاز رانی کے لئے محفوظ ماحول برقرار رکھا۔ سکیورٹی کے اعلیٰ معیار کی بدولت نہ صر ف سمندر میں دہشت گردی کے واقعات کا خاتمہ ہوا بلکہ دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے میں اگرچہ
CTF-150
کا اہم کردار رہا ہے تاہم 2000 ء کے درمیانی عشرے میں جنم لینے والے سکیورٹی کے نئے خطرات کے حوالے سے اس میں ایک امر واضح ہوا کہ یہ بحری قذاقی سے نمٹنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔ صومالی بحری قزاقوں کی جانب سے پہلے پہل ہورن آف افریقہ کے اطراف اور بعد ازاں بحرِ ہند میں حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں ایسے واقعات سے نمٹنے کا مطالبہ سامنے آیا۔ جس کے نتیجے میں 2009ء میں ایک خصوصی ٹاسک فورس
CTF-151
کا قیام عمل میں آیا۔
پاک بحریہ نے
CTF-150
میں اپنے کارہائے نمایاں اور خطے کے امن واستحکام کے لئے پاکستان کی ناگزیر حیثیت کو تسلیم کروانے کے لئے ٹاسک فورس 151 میں فوری شمولیت اختیار کی اور ٹاسک فورس کی کمانڈ کرنے والی خطے کی اولین بحری قوت ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور اس کے بعد بھی وہ کئی مواقع پر یہ اہم ذمہ داری ادا کرتی رہی ہے۔
پاک بحریہ نے دھیرے دھیرے بحری قزاقوں کی کارروائیوں کو ناکام بنانا شرو ع کردیاجس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی راہداری جس کا گزر باب المندب سے خلیجِ عمان کی طرف ہوتا تھا، محفوظ ہوتا چلا گیا۔ اس ضمن میں پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کو اقوام متحدہ کے کونٹیکٹ گروپ برائے بحری قزاقی میں باقاعدگی سے شرکت کی دعوت دی جاتی رہی ہے ، جو صومالی بحری قزاقوں سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل
(Contact Group on Piracy)
کی قرارداد1851کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
اگرچہ دونوں کمبائنڈ میری ٹائم فورسز میں پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کی شرکت اکثر خبروں کی زینت بنی رہتی ہے مگر دونوں فورسز میں پاکستان کی شمولیت کا ایک اہم پہلو اس کے میری ٹائم پٹرول کرافٹ کی تعیناتی ہے۔ یہ پاک بحریہ کے نسبتاً غیر معروف اثاثے ہیں جوایک ہی مشن کے دوران سمندر کے وسیع علاقے کی نگرانی کی اہلیت رکھتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران فوری مدد کے لئے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایئر کرافٹ کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا اہم اثاثہ ہوتے ہیں جو صحیح صورتحال کا پتہ لگاتے ہیں، مدد کی ضرورت پڑنے پر متاثر ہ فریق سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور پھر بحرین میں قائم کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے ہیڈ کوارٹرزکو یہ تمام معلومات ارسال کرتے ہیں ۔
سمندری نگرانی کے حوالے سے لانگ رینج پی تھری سی اورین پاک بحریہ کا اثاثہ ہیں ۔ پی تھری سی یا اس کی دوسری اقسام جو کمبائنڈ میر ی ٹائم فورسز کے دیگر پارٹنرز تعینات کرتے ہیں، سے مطابقت کے سبب پاکستانی اورین فلیٹ ایک فطری انتخاب ہے۔
کمبائنڈ میری ٹائم فورسز150-اور151کے آپریشنز میں حصہ لینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان آپریشنز میں حصہ لینے سے مقامی بحری افواج کی استعداد اور تربیت میں اضافہ ہوا ہے جس سے علاقائی بحری افواج کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔اس نقطہ نظر سے پا ک بحریہ ایک تجربہ کار بحری قوت گردانی جاتی ہے کیونکہ پاک بحریہ خلیجی ممالک کی کئی بحری افواج کو تربیت دے چکی ہے اور اس کے تربیتی اداروں میں علاقائی بحری افواج کے کئی آفیسرز آج بھی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دیگر بحری افواج کے ساتھ پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کی انجام دہی کے ذریعے پاک بحریہ کی صلاحیتو ں میں اضافہ ہواہے۔ لیکن کئی علاقائی بحری افواج انفرادی طور پر بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی جیسے جڑواں خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ( اور کچھ افواج اپنے محدود حجم اور وسائل کے سبب یہ اہلیت کبھی بھی حاصل نہیں کرسکتیں) ۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کا میری ٹائم مزاحمتی آپریشنز
(Maritime Interdiction Operations)
کی انجام دہی کے لئے سمال بوٹ انٹرڈکشن ڈرلز،سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز،ہیلی کاپٹرز کے ذریعے انجام پانے والے آپریشنز اور بحری جنگی جہازوں کی مہارتوں جیسی صلاحیتوں پر عبور اہم ہے۔ مزید برآں، زیادہ سے زیادہ باہمی رابطے حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور علاقائی افواج کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جس کے یقیناًمثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں اور پاک بحریہ اس سے بھر پور مستفید ہوئی ہے۔
مختصراً یہ کہ پاک بحریہ کی خطے میں مسلسل موجودگی نے اسے سب کے لئے محفوظ بنادیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی 90فی صد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے تاہم دیگر علاقائی ریاستیں خصوصاً خلیجی ممالک جو اپنی خوراک کا 80فی صد بذریعہ سمندر حاصل کرتی ہیں بھی یقیناًاس بحری امن سے مستفید ہو رہی ہیں۔ یہ صرف پاکستان کے ہی مفاد میں نہیں کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے عزم پر کار بند رہے بلکہ پاک بحریہ کی کاوشیں تمام علاقائی ممالک کے لئے بھی سود مند ہیں۔ پاک بحریہ کی کاوشوں کی بدولت یہ سب پر واضح ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور بحری امن کو یقینی بنانے کے سلسلے میں عالمی سطح پرکی جانے والی مشترکہ کوششوں کا اہم حصہ ہے ۔
اس تمام منظر نامے میں پاکستان کے کردار کے بغیر کمبائنڈ میری ٹائم فورسزکے مشن کی تکمیل ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

 
12
July

تحریر: اسد عباس ملک

یہ مارچ کی ایک سہانی صبح تھی جب ہم کراچی سے براستہ حیدر آباد اور میر پور خاص عمر کوٹ (تھرپارکر) کے لئے روانہ ہوئے۔ میرپور سے گزرتے ہوئے روڈ کے دونوں طرف آموں کے بور بھرے سرسبز باغ ہمیں بیک وقت بہار اور گرمیوں کی آمد کا پتہ دے رہے تھے۔ میلوں پھیلا ہوا سبزہ، ہلکی سنہری چادر اوڑھے گندم کے کھیت اور ان میں رزق حلال کی تپسیا کرنے والے افراد ایک منظر پیش کر رہے تھے۔ شہر کی چکا چوند اور شور سے بھری زندگی سے دور یہ منظر نہایت سکون بخش تھا کہ خالق نے اس دھرتی کو کتنے موسموں، کتنے رنگوں اور کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ انہی نعمتوں سے بینائی کو سیراب کرتے جب ہم عمر کوٹ کے تاریخی شہر پہنچے تو سہ پہر ہو چکی تھی۔ مگر ہمیں اپنا سفر جاری رکھنا تھا اور یوں عمر کوٹ سے شمال کی جانب دو گھنٹے مزید سفر کرنے کے بعد ہم اپنی منزل مقصود یعنی ڈاہری نامی گاؤں پہنچے۔ جہاں ہمارے میزبان ہمارے منتظر تھے۔ دن ڈھل چکا تھا اور پاکستان اور انڈیا کے بارڈر پر واقع صحراے تھر کا یہ گاؤں میلوں پھیلے اونچے نیچے ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک عجیب منظر پیش کر رہا تھا۔۔ مقامی لوگوں کے مطابق 1965 کی جنگ میں اسی بارڈرسے پاکستان کی بری فوج نے انڈیا کے اندر گھس کردشمن کے قریباً 20 کلو میٹر رقبے پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر 1971کی لڑائی میں بزدل دشمن نے جب بارڈر کراس کرتے ہوے اس علاقے پر قبضہ کرنا چا ہا تو مقامی آبادی نے اپنی فوج کے ساتھ مل کر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ایک مقامی بزرگ چاچا جمعن نے اس مڈبھیڑ کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے انہوں نے دشمن کی فوج سے اپنی جان بچائی تھی۔

sehratharkbatchy.jpg
’’میں اس وقت کافی جوان تھا، شاید 25سال کا تھا۔ کیونکہ بارڈر پر فائرنگ ہورہی تھی اس لئے بارڈر کے قریب رہنے والے لوگوں کو عمر کوٹ شہر کی طرف ہجرت کرنے کو کہا گیا تھا، تاکہ دشمن کی کسی بھی جارحیت سے مقامی ہندو اور مسلمان آبادی کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ میں اپنی بکریوں کے ریوڑ کو لے کر آ رہا تھا جب اچانک فائرنگ شروع ہوئی اور دشمن کی طرف سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں میری پانچ بکریاں ہلاک ہو گئی تھیں جب کہ میں نے ریت کے ایک ٹیلے کی اوٹ میں لیٹ کر خود کو فائرنگ سے بچایا تھا ۔‘‘ چاچا جمعن کے مطابق وہ وہاں اس وقت تک لیٹا رہا تھا جب تک پاکستانی فوج کی جوابی فائرنگ سے دشمن کی فائرنگ بند نہیں ہو گئی تھی۔ چاچا جمعن اب ایک دکان چلاتے ہیں ۔ اس دوران جب انہوں نے اپنی بات مکمل کی تو میں نے اپنے آس پاس بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کا بھی ایک ہجوم پایا۔ ان میں سے کچھ میری گود میں پڑے

DSLR

کیمرے کو اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے تو کچھ ماضی کے قصے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے بچوں کو بھی محفل کا حصہ بنانے کی غرض سے جب پوچھا کہ کون کون اردو میں بات کر سکتا تھا تو صرف دو بچوں نے ہاتھ کھڑے کئے۔ ان میں سے ایک کا نام سجاول تھا۔ سجاول ایک مقامی سکول میں پانچویں کلا س کا طالب علم اورمانیٹر تھا۔اس سے رسمی گفتگو کے بعد جب میں نے پوچھا کہ وہ بڑا ہو کر کیا بننا چاہتا ہے تو سجاول نے جواب دیا کہ وہ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اسے مزید کریدتے ہوے پا ک فوج میں شمولیت کی وجہ پوچھی تو سجاول کا جواب تھا کہ اسے پاک آرمی کے جوان بہت پسندہیں۔ کیونکہ وہ بہت بہادرہوتے ہیں اور انہوں نے ہر مشکل وقت میں اس کے گاؤں کے لوگوں کی حفاظت کی ہے۔ سجاول کے مطابق اس کے گاؤں کے باقی سب بچے بھی فوج میں ہی جانا چاہتے ہیں۔ میں نے جب اپنے مقامی میزبان سے کہا کہ وہ تھری زبان میں وہاں کھڑے بچوں سے پوچھے کہ ان میں سے کون کون پاک فوج میں جانا چاہتا ہے تو میری حیرت کی اس وقت انتہاء نہ رہی جب وہاں موجود بچوں میں ایک چھوٹی بچی نے بھی ہاتھ کھڑا کر رکھا تھا۔ میری ٹیم کے سب لوگ بھی یہ منظر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ ہمارے مقامی میزبان نے بتایا کہ تھرپارکر کے علاقے میں بارڈر پر بسنے والی آبادی میں گویا کہ تعلیم و دیگر بنیادی سہولتوں کا اشد فقدان ہے ، مگر اس کے باوجود یہاں نئی نسل میں سے اکثریت فوج میں جانا چاہتی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ معاشی استحصال اور محرومیوں کا شکار ان علاقوں میں صحت ، تعلیم ، روزگار اور پینے کے پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورتوں کے نہ ہونے کے باوجود جو ایک چیز ان لوگوں کو میسر ہے اوروہ ہے اس علاقے کا امن و امان اور تحفظ ۔ انڈیا کے بارڈر پر ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی یہ سمجھتی ہے کہ پاک فوج کی بدولت ہی وہ ان علاقوں میں دشمن کی توپوں کی زد میں ہونے کے باوجودآرام و سکون کی نیند سو سکتے ہیں اور کسی بھی قسم کے خوف اور خطرے کے بغیر اپنی روزمرہ کی معاشی و معاشرتی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ یہاں کے بچے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں اور فوج کو اپنا پسندیدہ ادارہ سمجھتے ہیں۔


ضرورت اس امرکی ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت ان علاقوں کی ترقی کی طرف توجہ دے اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ان علاقوں میں پانی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے۔ ڈاہری گاؤں اور اس کے اطراف میں واقع دوسرے علاقوں میں بھی تعلیمی سہولتوں کاشدیدفقدان ہے۔یہاں پانچویں جماعت کے بعد تعلیم کی سہولت موجود نہیں اور اکثر اوقات بچے بمشکل ہی پانچویں تک تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ جب کہ بچوں ، با لخصوص بچیوں کی ایک بڑی تعداد دن بھر پانی بھر کر لانے میں مصروف رہتی ہے۔ لہٰذا تھرپارکر کے بچوں اور بچیوں کی تعلیمی ضروریات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بچے بھی پڑھ لکھ کر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
July

تحریر: محمداعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اُس وقت کے پروڈیوسر ریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

میڈم نور جہاں کا فنی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ ان تمام کا ذکریہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ میں اس وقت صرف میڈم نور جہاں کے اُن ملی نغموں کا ذکر کرتا ہوں جو ریڈیو پاکستان میں ہم نے مل کر پروڈیوس کئے۔آج جس نغمے کا ذکر ہے یہ 12 ستمبرکو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے شاعرتنویر نقوی ہیں۔ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں‘ مجھے بطور پروڈیوسر یہ انتخاب کرناہوتا تھا کہ آج کون سا نغمہ ریکارڈ کیا جائے۔ ملی نغمے تو ہمیں بے شمار موصول ہوتے مگر جنگی حالات و واقعات کے مطابق ہمیں ملی نغمے کا انتخاب روزانہ کرنا ہوتا۔میں ریکارڈنگ کے لئے سارا دن اپنی منتخب ٹیم کے ساتھ مصروفِ عمل رہتا۔بعض اوقات یہ کام رات گئے تک جاری رہتا کیونکہ ملی نغمے کے انتخاب سے لے کر ریکارڈنگ مکمل ہونے تک بہت سی مشکلات درپیش ہوتیں مگر جذبۂ ایمانی اور لگن کی وجہ سے تمام امور بخوبی انجام پاجاتے۔ مجھے میڈم نور جہاں اکثر کہتیں کہ اعظم میاں تم کتنے انتھک انسان ہو‘ کام کرتے چلے جاتے ہو‘ تھکتے نہیں ۔ یہ سب کچھ اﷲ پاک کی مجھ پر مہربانی تھی کہ اتنے بڑے کام کا ذمہ لیا ہوا تھا‘ اس کو پورا کرنا میرا فرض تھا۔ یہ سب کچھ اپنی پیاری‘ نڈر اور بہادر افواجِ پاکستان کے لئے تھا۔ وہ محاذ پر اپنی ڈیوٹی دے رہی تھیں‘ اور میں ثقافتی محاذ پر اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔
تنویر نقوی نے یہ ملی نغمہ ہمیں لکھ کر بھیجا’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ آپ خود دیکھیں کہ کس طرح تنویر نقوی نے شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو۔ یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی
یہ شفق رنگ لہو
جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی‘ جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی
دُور جس صبح درخشان سے اندھیرا ہوگا
رات کٹ جائے گی‘ گل رنگ سویرا ہوگا
اپنی رفتار کو اب اور ذرا تیز کرو
اپنے جذبات کو کچھ اور جنوں خیز کرو
ایک دو گام پر اب منزلِ آزادی ہے
آگ اور خوں کے اُدھر امن کی آبادی ہے
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
میں نے اپنی پوری ٹیم اور میڈم نور جہاں کی مدد سے ان اشعار کو موسیقی کی مدد سے پُراثر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنی اس کوشش میں کامیاب فرمایا۔ بہادر افواج پاکستان کے شہیدوں کالہو رنگ لایا اور ہم ہر محاذ پر کامیاب ہوئے ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا کرم تھا کہ تعداد میں ہم سے زیادہ فوج کی موجودگی کے باوجود ہم نے اور ہماری بہادر افواجِ پاکستان نے اپنے جذبہ ایمانی سے ہر محاذ پر دشمن کو عبرت ناک شکست سے دور چار کیا اور دُنیا نے یہ سب کچھ دیکھا۔ یہ ہماری فوجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے اور ہمیں اپنی اس قربانی کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔ ملک پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور یہاں کا ہر باشندہ اپنے ملک کے لئے خاص نظریات رکھتا ہے ہمیں اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی ہر حالت میں حفاظت کرنی ہے۔ اور عہد کرنا ہے کہ اپنے پاک وطن کے لئے وقت آنے پر اپنی جان تک قربان کردیں گے۔

 
 
12
July
تربت میں پاک بحریہ کا نیا ا ئیر اسٹیشن فعال کر دیا گیا

گزشتہ دنوں تربت میں قائم نیول ائیر اسٹیشن پی این ایس صدیق کی فعالی کی تقریب تربت بلوچستان میں منعقد ہوئی۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس نیول ائیر اسٹیشن کی فعالی پاک بحریہ کو نہ صرف وقت کے تقاضوں کے عین مطابق میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز میں مدددے گی بلکہ سمندری دہشت گردی اوربحری قذاقی کی روک تھام کے لئے کی جانے والی پاک بحریہ کی کاوشوں میں بھی معاون ثابت ہو گی۔ اس ائیر اسٹیشن کے نو تعمیر شدہ رن وے کو جدید تقاضوں کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے اور یہ پاک بحریہ اور دیگر فوجی اداروں سمیت سول ایئرلائنز کے بڑے جہازوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر کہا کہ یہ اہم نیول بیس وطنِ عزیز کے دفاع کے حوالے سے پاک بحریہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کا باعث ہوگی جس کی بدولت بحیرہ عرب میں مزید بحری استحکام پیدا ہوگا اور خصوصاََمغرب کی سمت ہمارے اسٹریٹجک پھیلاؤ میں معاونت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیول ایئر اسٹیشن تربت کا دہرا استعمال بحری دفاع کے ساتھ ساتھ اقتصادی طور پر بھی مفید ثابت ہوگا۔ تقریب کے دوران ایک شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ بھی پیش کیا گیا جس میں پاک بحریہ کے پی تھری سی ایئر کرافٹ ، زیڈ نائن ای سی اور سی کنگ ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔ تقریب میں پاک بحریہ سمیت دیگر اعلی فوجی حکام اور اعلی سول شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

newspakbehriaster.jpg

12
July
چیف آف آرمی اسٹاف کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات
گذشتہ دنوں برطانوی ہائی کمشنر مسٹر تھامس ڈریو ؂ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ سے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں شخصیات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔

newsukhighcommisioner.jpg

ماحولیات کا عالمی دن
پاک بحریہ ہر سال باقاعدگی سے ماحولیات کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس سلسلے میں متعدد سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن کا مقصد پاکستان میں ماحولیات کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور عوام الناس اور متعلقہ اداروں میں ماحولیات بالخصوص سمندری ماحول کے حوالے سے آگاہی پید ا کرنا ہے۔ ان سرگرمیوں میں اس دن کی اہمیت پر لیکچرز، خصوصی بینرز کی تیاری، مضمون نویسی، نقشہ نویسی کے مقابلے ، بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں صفائی کی مہمات شامل تھیں جن میں پاک بحریہ کے علاوہ مقامی افراد نے بھی حصہ لیا۔ رواں برس ماحولیات کے عالمی دن سے متعلق منعقدہ تقریبات کے موقع پر چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ ماحولیات خصوصاََبحری ماحول کی بہتری کے لیے ہر ممکن کاوشیں جاری رکھے گی۔

newsukhighcommisioner1.jpg

12
July
پاک افغان بین الاقوامی سرحد حفاظتی باڑ لگانے کا عمل شروع

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر پاک افغان سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلے میں باجوڑ‘ مہمند اور خیبر ایجنسیوں میں باڑ لگائی جارہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں جہاں پاک افغان سرحدی علاقہ ہے‘ وہاں حفاظتی باڑ لگائی جائے گی۔ حفاظتی باڑ کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور ایف سی کے پی پاک افغان سرحد پر پوسٹیں اور قلعے بھی تعمیر کررہی ہے جس کا مقصد سرحدی نگرانی کو مزید بہتربنانا ہے۔ محفوظ سرحد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ امن و استحکام کے لئے بارڈر کوآرڈینیشن میکنزم ضروری ہے۔

newspakafghanhifbar.jpg

چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ پارا چنار

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار کُرم ایجنسی کا دورہ کیا۔ جہاں اُنہیں سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعہ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف قبائلی عمائدین اور دھرنے کے نمائندوں سے ملے اور شہداء کے ایصالِ ثواب کے لئے دعاکی۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرون ملک تھے اور واپسی پر خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر اُن کا دورہ پاراچنار تاخیر کا شکار ہوا۔ انہوں نے کمانڈر پشاور کور اور آئی جی ایف سی کومتاثرین کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور ہم ان شاء اﷲ کامیاب بھی ہوں گے۔ دشمن ہمیں تقسیم نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہمارے عزم کو پست کرسکتا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے ایف سی کے پی اور مقامی انتظامیہ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ایف سی کے 126 بہادر جوان کرم ایجنسی میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی فرائض میں 387 زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایف سی کے پی ایک پیشہ ور فورس ہے جس میں تمام قبیلوں اور فرقوں کی نمائندگی ہے اور وہ بے لوث انداز میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔
اس موقع پر قبائلی عمائدین نے پاک فوج پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں اور ہمارا خون اپنی سرزمین پر قربان ہے۔ ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں۔
چیف آف آرمی سٹاف نے احتجاجی دھرنے کے شرکاء کا موقف سنا اور انہیں یقین دلایا کہ سلامتی سے متعلق عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی مسائل ایگزیکٹو باڈی کے ذریعے حل کئے جائیں گے جبکہ سکیورٹی امور کے متعلق تجاویز پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ ہم اسی صورت میں مؤثرثابت ہوسکتے ہیں جب مقامی افراد بھی سکیورٹی اور نگرانی کا حصہ ہوں گے۔

اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے درج ذیل اعلانات کئے۔انہوں نے کہا کہ
* اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں، جن کے مقامی سہولت کاروں اور اعانت کرنے والوں کو گرفتار کرلیاگیا ہے اور ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
* پارا چنار میں سکیورٹی بڑھانے کے لئے اضافی فوج کے دستے تعینات کردئیے گئے ہیں جبکہ پاک افغان بارڈر کو مؤثر انداز میں سیل کرنے کے لئے ایف سی کے اضافی دستے بھی تعینات کئے جارہے ہیں۔ طوری رضاکاروں کو بھی چیک پوسٹوں پر سکیورٹی کے لئے ساتھ ملایا جارہاہے۔
* لاہور اور اسلام آباد کی طرح پارا چنار میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے سیف سٹی‘ منصوبے کا آغاز کیا جائے گا۔
* سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے۔ فاٹا کے زیادہ حساس علاقوں میں پہلے مرحلے میں باڑ لگائی جائے گی جبکہ بلوچستان سمیت پاک افغان سرحد پر مکمل طور پر دوسرے مرحلے میں باڑ لگائی جائے گی۔
* ایف سی کے دستوں کی جانب سے دھماکے کے بعد مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لئے فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور ذمہ داران کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ایف سی کمانڈنٹ کو پہلے ہی تبدیل کیا جاچکا ہے زندگی کا کوئی متبادل نہیں مگر فائرنگ سے شہید اور زخمی ہونے والوں کو ایف سی کی جانب سے علیحدہ زر تلافی ادا کیا جائے گا۔
* آرمی پبلک سکول پارا چنار کا نام میجر گلفام شہید کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے اور اس کو کیڈٹ کالج تک اپ گریڈ کیا جائے گا۔
* پارا چنار میں پاک آرمی کی جانب سے ٹراما سنٹر قائم کیا جائے گا جبکہ سول انتظامیہ کی جانب سے بہتر طبی سہولیات کے لئے مقامی سول ہسپتال کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
* حکومت نے متاثرین پارا چنار کے لئے ملک کے دیگر حصوں کے متاثرین کی طرح معاوضے کا اعلان کیا ہے کیونکہ تمام پاکستانی برابر ہیں۔
* پاک فوج فاٹا کو مرکزی دھارے میں لائے جانے کی پوری حمایت کرتی ہے جس کا آغاز ہوچکا ہے اور امن و استحکام کے لئے اس پر جلد عمل درآمد ضروری ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے مزید کہاکہ ملک میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے پاک فوج اپنی کوشش جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کی دوسری طرف افغانستان میں خطرہ اب بھی موجود ہے کیونکہ داعش وہاں اپنے قدم جما رہی ہے۔ ہمیں فرقہ واریت کے خلاف متحد، ثابت قدم، تیار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز قومی اتحاد اور اتفاق کی عکاس ہیں اور ہم ایک قوم ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے پاک افغان بارڈر حکام کے درمیان روابط اور سکیورٹی کے تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

newspakafghanhifbar1.jpg

12
July
چیف آف آرمی سٹاف کاعیدالفطر پر لائن آف کنٹرول کا دورہ
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عید الفطر لائن آف کنٹرول پر فرائض انجام دینے والے جوانوں کے ساتھ منائی۔ انہوں نے نماز عید لائن آف کنٹرول پر تعینات افسران اور جوانوں کے ساتھ ادا کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کی خوشحالی کے لئے دعائیں کی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے لائن آف کنٹرول پر تعینات دستوں کے بلند حوصلے‘ عزم و ہمت اور آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہا۔

newscoaseidloc.jpg

11
July
چیف آف آرمی سٹاف کا ایس ایس جی ٹریننگ ایریا تربیلا کا دورہ

گذشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایس ایس جی ٹریننگ ایریا کا دورہ کیا۔ اس ٹریننگ میں نائیجیرین سپیشل فورسز بٹالین کو پاک فوج ایس ایس جی ٹیم نے آٹھ ہفتوں پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی تربیت فراہم کی۔ ٹریننگ میں 440 بشمول 26 افسران شامل تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے ٹریننگ کے معیار کو سراہا اور کہا کہ دہشت گردی ایک لعنت ہے جس کا سب کو مل کر سدِباب کرنا ہوگا۔

newscoasvisittossgtarbela.jpg

11
July
چیف آف آرمی سٹاف کا دورہ لائن آف کنٹرول
گذشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول مظفر آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں سرحد پار سیز فائر کی خلاف ورزی اور لائن آف کنٹرول سے متعلق اہم معاملات پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جوانوں سے ملے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بلند حوصلوں کو سراہا۔

newscoasviscontrloline.jpg

کمانڈر پشاور کور کا کرم اور خیبر ایجنسی کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کرم اور خیبر ایجنسی کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں علاقے کی صورت حال سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ بعدازاں کور کمانڈر جوانوں سے ملے اور اُن کے بلند حوصلوں اور عزم کی تعریف کی۔

newscoasviscontrloline1.jpg

11
July

تحریر: مونا خان

آخری حصہ

نہ تو ہم جیمز بانڈ ہیں اور نہ ہی ہماری پچھلی نسل میں کوئی صحافی رہا ہے۔ یہ جسارت اپنے پورے خاندان میں ہم نے ہی کی ہے۔ یہ صحافت کا کیڑا کب سرایت کر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ جی تو بات ہو رہی تھی مشن نیپال کی۔ گزشتہ شمارے میں جس نیپال کی کتھا آپ کو سنائی تھی، اس کا اصل قصہ تو ابھی باقی ہے۔ فوج سے جلد ریٹائرمنٹ لینے والے بہت سے فوجی سکیورٹی ایجنسیز کھول لیتے ہیں یا کسی بڑے تھنک ٹینک کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں ۔ فوج ایک نوکری ہی نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، جب فوجی ریٹائرڈ ہو جاتا ہے تو بسا اوقات بندے سے نوکری ڈھونڈنے میں بھول چوک ہو جاتی ہے۔ اور یہی بھول ہوئی 2014میں فوج سے ریٹائرڈ ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر سے۔ اسلام آباد بحریہ ٹاؤن میں رہنے والے کرنل صاحب نے اپنا سی وی نوکری کی تلاش میں انٹرنیٹ پر ڈالا ۔ ان کے سی وی میں کچھ اتنی مزیدار چیزیں تھیں جو کوسوں دور بیٹھے کچھ لوگوں کو بہت بھائیں ۔ جس میں سرفہرست یہ تھا کہ کرنل صاحب پاکستان کی خفیہ ایجنسی میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں ۔اب بندہ پوچھے جب ایجنسی تھی ہی خفیہ تو پھر سی وی میں لکھنے کی کیا ضرورت تھی لیکن بات وہی ہے کہ جب برا وقت آتا ہے تو ایسی ہی غلطیاں ہو جاتی ہیں جن کا پھر خمیازہ بھگتنا پڑ جاتا ہے۔سٹریٹ سلوشن نامی کمپنی نے کرنل حبیب سے رابطہ کیا اور آٹھ ہزار ڈالر تک ماہانہ کا پرکشش پیکج آفر کیا۔ جنوری 2017 سے ای میلز کا سلسلہ شروع ہوا۔ ای میلز میں مارک تھامسن نامی شخص نے خود کوسٹریٹ اسٹریٹجک سلوشن نامی کمپنی کا سینئر ریکروٹر ظاہر کیا۔ مارک تھامسن نے حبیب ظاہر کی سی وی موصول ہونے کے بعد انہیں انٹرویو کے لئے کھٹمنڈو بلایا۔ کرنل حبیب ظاہر کو کھٹمنڈو آنے کے لئے بزنس کلاس کی ٹکٹ دی گئی۔ حبیب ظاہر کو پرکشش مراعات کا جھانسہ دے کر باقاعدہ پھنسایا گیا۔ ای میلز کیرئیرز ایٹ سٹریٹ سلوشنز ڈاٹ بز
(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)
کے ای میل ایڈریس سے بھیجی گئیں۔ مارک تھامسن نے حبیب ظاہر کی رہائش کے لئے کھٹمنڈو میں حیات ریجنسی نامی ہوٹل میں بکنگ کروائی۔
حبیب ظاہر کو ای میل کے ذریعے ہوٹل بکنگ کنفرمیشن نمبر 226339 بھیجا گیا۔ حبیب ظاہر کے لئے کھٹمنڈو میں 6 سے 9 اپریل تک ہوٹل میں بکنگ کرائی گئی۔


لیفٹیننٹ کرنل( ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی کے بعد سے مارک تھامسن بھی منظر عام سے غائب ہوگیا اور سٹریٹ سلوشنز کی ویب سائٹ بھی بند ہے۔ واقعے کے بعد جب تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا گیا تو پتہ چلا کہ سٹریٹ سلوشنز ویب سائٹ کاہوسٹ سرور بھارت میں تھا۔ ویب سائٹ کو پروٹیکشن پرائیویسی پروٹیکٹ آسٹریلیا نامی کمپنی دے رہی تھی۔ جس برطانوی نمبر سے کرنل حبیب کو نوکری کے سلسلے میں کالز موصول ہوتی رہیں وہ برطانوی موبائل نمبر بھی جعلی نکلا۔ تب جا کر عقدہ کھلا کہ یہاں معاملہ کوئی اور ہے۔ سیدھا سادا جھانسہ اور مکمل معلومات کے بعد کسی کوپھنسانا کیا ہوتا ہے؟ یہ اِس ساری کہانی سے واضح ہو گیا۔ ایک کام کرنل صاحب ٹھیک کر گئے جو انھوں نے کھٹمنڈو ائیرپورٹ اور لمبینی ائیرپورٹ سے اپنے گھر والوں کو تصویر اور میسیج بجھوا دیا جس سے ان کا نیپال پہنچنا ثابت ہوا۔ کرنل حبیب ظاہر نے کھٹمنڈو ایئرپورٹ اور اپنے بورڈنگ پاس کی تصاویر واٹس ایپ کے ذریعے اہل خانہ کو بھیجیں۔ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کی ای میلز کا ڈیٹا جب چیک کیا گیا تو ساری ٹائم لائن سامنے آ گئی۔ 8 فروری کو موصول ای میل میں حبیب ظاہر کو 10 روز میں ایئرٹکٹ و دیگر دستاویزات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ 22 فروری کو ای میل کے ذریعے انٹرویو کا پہلا مقام تبدیل کرنے کی اطلاع دی گئی۔

 

missionnepal.jpgحبیب ظاہر کو انٹرویو کے نئے مقام سے بروقت آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ایک ای میل میں حبیب ظاہرکو بتایا گیا کہ انٹرویو پینلسٹ کوالالمپور پراجیکٹ میں مصروف ہے۔ عہدیدار کی مصروفیت کے باعث حبیب ظاہر کو مارچ کے تیسرے ہفتے تک انتظار کا کہا گیا۔ 4 اپریل کی ای میل کے ذریعے حبیب ظاہر کو موبائل پر انٹرنیٹ آن رکھنے کا کہا گیا۔ چار اپریل کی ای میل میں حبیب ظاہر کو اپنی لوکیشنز سے متعلق مسلسل آگاہ رکھنے کا کہا گیا۔ سولہ مارچ کو بھیجی گئی ای میل میں حبیب ظاہر کو اومان ایئرلائن کا بزنس کلاس ٹکٹ فراہم کیا گیا۔ ای میل میں حبیب ظاہر کو کھانے پینے اور سفری اخراجات کے بل سنبھال کر رکھنے کا بھی کہا گیا۔ بدھا ائیر ویز کے جہاز کے سامنے بنائی گئی تصویر کے بعد کرنل حبیب کو دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔ یہ وہ آخری تصویر تھی جو انھوں نے اپنے گھر والوں کو وٹس ایپ کی تھی۔


ہمارا نیپال جانے کا مقصد تھا کہ جو معلومات سامنے آئی ہیں اسکے فٹ پرنٹس سامنے رکھ کر یہ ثابت کرنا کہ کرنل حبیب کو کس نے پھنسایا اور کس نے اغوا کیا۔ کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر کو اغوا کرانے والے تینوں اہم کردار بھارتی نکلے۔ سفل چوہدری نامی بھارتی شہری نے حبیب ظاہر کے لئے ٹکٹ خریدا۔ یہ ٹکٹ پریشیسزٹریولز اینڈ ٹوورز کھٹمنڈو سے خریدا گیا۔ سفل چوہدری نامی بھارتی شہری نیپال میں لوکل ٹورسٹ گائیڈ ہے۔ صابو رجورا نامی بھارتی شہری نے حبیب ظاہر کے لئے ہوٹل میں بکنگ کرائی۔ صابو رجورا جلجلے نامی کمپنی میں مارکیٹنگ منیجر کے روپ میں کام کرتی ہے۔ ڈولی رینچن نامی بھارتی شہری نے کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر کو ایئرپورٹ سے ساتھ لیا تھا۔ یہ وہ معلومات تھیں جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھیں کہ کرنل حبیب کی گمشدگی اور اغوا میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے۔


ہم جب نیپال پہنچے تو آن ارائیول ویزہ لینے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پہلے سے ہی وہاں موجود’لوگ‘ الرٹ نہ ہو جائیں اور جس مقصد کے لئے ہم وہاں گئے ہیں وہ اس میں ہماریلئے رکاوٹیں کھڑی نہ کر دیں ۔ ائیرپورٹ پہنچ کر ہم چھ لوگوں نے آن ارائیول ویزہ لیا اور ہوٹل کی جانب گامزن ہوئے۔ نیپال میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے ہمارا کافی ساتھ دیا اور ہر ممکن مدد بھی کی۔ لیکن نیپال میں بھارت کا اثر بہت زیادہ ہے۔ نیپال کی سیاست میں بھی بھارت کا عمل دخل ہے۔ نیپال جیسا لینڈ لاکڈ ملک جو کھانے پینے کی اشیاء بھارت کے ساتھ زمینی راستوں سے درآمد کرتا ہے، وہاں بھارت آنے جانے کے لئے کسی ویزہ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی بھارتی شہری کو نیپال آنے کے لئے ویزہ کی ضرورت ہے۔ بھارت نیپال سرحد پر کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی امیگریشن نہیں، بس دو چوکیاں آمنے سامنے بنی ہوئی ہیں ۔ پہلے دن صرف گھوم پھر کر جگہ کا جائزہ لیا۔ دوسری صبح کھٹمنڈو سے لمبینی کے لئے فلائٹ لی۔ مقصد یہ تھا کہ جو بھارت کے ساتھ سرحدی مقام ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر جائزہ لیں اور کچھ وڈیوز بنا لیں ۔ ہچکولے کھاتی فلائٹ لمبینی پہنچی تو بھیروا ائیرپورٹ جس کو گوتم بدھا ائیر پورٹ بھی کہا جاتا ہے ‘کی تصاویر بنائیں ۔ پھر معلومات کے مطابق سنولی کراسنگ پوائنٹ ، جو ائیر پورٹ سے صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا، وہاں جانے کے لئے ٹیکسی ہائر کی۔ سنولی سرحد کے قریب پہنچے تو شکر ہے ٹیکسی والے نے بروقت بریک لگا ئی کیونکہ اگر وہ کراس بھی کر لیتا تو ہمیں تب پتہ چلتا جب ویلکم ٹو انڈیا کا بورڈ نظر آتا۔ خیر وہاں اتر کر تصاویر بنائیں ۔ بھارت آنے جانے والے لوگوں کی وڈیوز بنائیں ۔ ہمارے اور بھارت کی سرحد کے درمیان صرف چند فٹ کا ہی فاصلہ تھا۔ اتنے میں سرحدی چوکی پر موجود پولیس والے کی نظر ہم پر پڑی۔ ایک تو ہم دیکھنے میں نیپالی یا بھارتی نہیں لگ رہے تھے اور دوسرا ہم وڈیو بنا رہے تھے۔ اس نے آکر پوچھا کہ سرحد پر آپ کس کی اجازت سے وڈیوز بنا رہے ہیں؟ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ بھیا تمہاری وڈیو بنا رہے ہیں اس لئے کہانی بنانے میں ہی عافیت جانی اور کہا کہ سارک ممالک کی تجارت پر سٹوری کر رہے ہیں اس لئے بارڈر فوٹیج بنا رہے ہیں۔‘‘ اس کو جواب تھوڑا تسلی بخش لگا اور وہ چلا گیا۔ لیکن پانچ منٹ بعد ہی اس کو سامنے والی چوکی (بھارت) کی جانب سے اشارہ ہوا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ تو وہ دو تین مزید پولیس افسران کے ساتھ آیا اور بولا آپ کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر جانا پڑے گا اجازت لے کر آئیں ،معاملہ تھوڑا سنجیدہ ہو رہا تھا۔ رسک بھی تھا۔ ہمیں سرحد پار لے جانے میں ان کو دو منٹ بھی نہ لگتے اور ہم جو آئے تھے کرنل حبیب کی رپورٹنگ کرنے، کوئی ہماری گمشدگی کی رپورٹ کر رہا ہوتا۔ ہم نے اسے یقین دلایا کہ ہم ابھی ڈی سی آفس جا کر اجازت لے کر آتے ہیں۔ بس وہاں سے جان چھڑا کر بھاگے اور لمبینی گیٹ پر پہنچ کر دم لیا۔ وہاں جا کر ایز لائیو ریکارڈ کروائے جو ٹی وی پر چلنے تھے۔ اس کے بعد رخ کیا ’کالی دہا‘نامی سرحدی چوکی کا۔ وہاں جانے کا خیال اس لئے آیا کیونکہ کرنل حبیب کے پاس جو نیپال کا موبائل نمبر موجود تھا اس کے آخری سگنل ’کالی دہا‘نامی سرحد کے قریب مایا دیوی مندر کے احاطے میں لگے ٹاور سے ملے تھے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ ڈولی رینچن نامی بھارتی شہری نے جب کرنل حبیب کو ائیر پورٹ سے لیا تو بجائے اس کے کہ وہ سنولی سرحد سے جاتا اس نے لمبا رستہ اختیار کیا جو کہ ائیرپورٹ سے تقریباً 25کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مندر تک تو ہم آرام سے پہنچ گئے۔ مندر سے ’کالی دہا‘ سرحد کا فاصلہ سات منٹ کا تھا لیکن ٹیکسی ڈرائیور سے جب کہا کہ ’کالی دہا‘ جانا ہے تو اس کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ ہم وہاں جائیں۔ ہم چھ لوگ دو ٹیکسیوں میں سوار تھے۔ ایک ٹیکسی والے نے تو سیدھا انکار کر دیا کہ میں ادھر نہیں جا سکتا اور نہ جانے کی اس نے وجہ نہیں بتائی۔ جس ٹیکسی میں ہم سوار تھے اس ٹیکسی والے نے بھی یہی کہا کہ ’’میڈم!کچا سا راستہ ہے اور ادھر اتنی آمدورفت بھی نہیں ہے ، اگر آپ لوگ جائیں گے تو فوراً نظر میں آ جائیں گے اور کچھ ہوا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘ اس نے بہت واضح الفاظ میں تنبیہہ کر دی تھی۔ تحقیقاتی صحافت کا جذبہ اتنا تھا کہ رسک کی پروا کئے بغیر میں وہاں جانا چاہتی تھی، لیکن میرے ساتھ آئے پانچ صحافیوں نے مجھ اکیلی لڑکی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے سمجھایا کہ جب ٹیکسی والا لے کر نہیں جا رہا تو ہم کیسے جا سکتے ہیں؟ اور ایسے میں ہم بھی تمہیں نہیں جانے دیں گے۔ ’’لو بات ہی ختم ہو گئی۔ ایک تو ہمارے معاشرے میں لڑکی کا انویسٹیگیٹو صحافی ہونا بھی اچنبھا ہے ساتھ والے آپ کی حفاظت میں ہی لگے رہتے ہیں۔ خیر میں نے زیادہ بحث نہیں کی اور ٹیکسی والے سے کہا کہ بھیا پیسے لے لو مجھ سے اور ہمیں ائیرپورٹ چھوڑ کر تم کالی دہا کی تصاویر بنا کر مجھے وٹس ایپ پر بھیجنا ‘‘ ٹیکسی والا بھی یقیناًان کی ایجنسی والا ہی تھا وہ اس بات پر بھی نہیں مانا۔ ہم ائیر پورٹ پہنچے واپس کھٹمنڈو کی فلائٹ لی۔ کھٹمنڈو پہنچ کر اگلی صبح پاکستانی سفیر کا انٹرویو کیا اور اس کے بعد تھامل نامی بازار جہاں بہت سے دفاتر بھی قائم تھے، وہاں کا رُخ کیا۔ بھارتی کردار جن دفاتر میں کام کرتے تھے، ان کی ریکی کی، باہر سے جاکر اور تصاویربنا کر جگہ کو اسٹیبلیش کیا تاکہ جب رپورٹ بنائیں تو تمام تصاویری اور وڈیو ثبوت کے ساتھ دیں ۔ یہ ہمارا نیپال میں آخری دن تھا۔ صرف ایک خلش تھی کہ کالی دہا سرحد پر نہیں جا سکی لیکن پھر سوچا جو ہوتا ہے اچھا ہوتا ہے۔

 

بہرحال تمام معلومات اور پھر اس کے بعد آنکھوں دیکھے حال کے بعد بھارت کا اثرو رسوخ، بھارتی ایجنسیوں کا نیپال میں کردار، کھلی سرحدیں، کرنل حبیب ظاہر کو پھنسانے میں بھارتی ویب سائٹ، بھارتی کردار، موبائل فون کا بھارتی سرحد کے قریب جا کر سگنل ختم ہونا یہ تمام ثبوت یہ ثابت کرنے کے لئے بہت تھے کہ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کو’ را‘ نے باقاعدہ جال بچھا کر پھنسایا اور اس کا مقصد کرنل حبیب کو پاکستانی جاسوس ظاہر کر کے کلبھوشن کیس میں کلبھوشن یادیو کو بچانے کے لئے یہ ہتھکنڈا استعمال کرنا تھا لیکن کرنل حبیب کے گھر والوں کی بروقت ایف آئی آر اور پاکستانی میڈیا پر کرنل حبیب کی نیپال سے گمشدگی کی خبر سے بھارت اس کہانی پر کھیل نہیں سکا۔ نیپال میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے بھی بروقت نیپالی دفتر خارجہ کے ساتھ معاملہ اٹھا لیا۔ نیپالی پولیس رپورٹ کے مطابق کرنل حبیب نیپال میں نہیں ہیں اور وہاں موجود خفیہ ایجنسیز ان کے اغوا میں ملوث ہیں۔ لیکن نیپال نے سرکاری طور پر پاکستانی سفارت خانے کو ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں دی اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے۔ کیونکہ2010 میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک اہلکار کو سفارت خانے سے صرف چند قدم کے فاصلے پر آٹھ گولیاں ماری گئیں اور اس واقعے کی رپورٹ آج تک نیپالی حکومت کی جانب سے نہیں دی گئی کہ گولیاں کس نے ماریں۔ کرنل حبیب کے کیس میں بھارت کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ لیکن میڈیا نے اس واقعے کو اسٹیبلش کرنے میں کردار ادا کر دیا کہ کرنل حبیب ظاہر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے قبضے میں ہی ہیں ۔

مونا خان ایک نجی نیوز چینل سے منسلک ہیں۔ فارن افیئرز اور ڈیفنس کارسپونڈنٹ ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
July

تحریر: وثیق شیخ

چونڈہ کا محاذ اس لحاظ سے بہت منفرد اہمیت کا حامل ہے کہ باون سال گزرنے کے بعدبھی اس میدان جنگ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ وہ محاذ ہے۔ جہاں 1965 میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی۔ آج بھی قصبہ چونڈہ کے جوان ان ہی میدانوں میں سیر کرتے ہوئے اپنے بزرگوں سے جنگ کی ولولہ انگیز داستانیں سن کر اپنے خون کو گرماتے ہیں۔ جہاں بھارتی اور پاکستانی افواج آٹھ روز تک ایک دوسرے سے نبردآزما رہیں۔


چند روز پہلے سٹاف کالج کوئٹہ کے زیرِ تربیت میجر رینک کے ساٹھ افسران پر مشتمل ایک وفد نے چونڈہ کا دورہ کیا۔ چونڈہ کے نوجوانوں نے اپنے بزرگوں کے ہمراہ پاک فوج کے آفیسرز کا پرتپاک خیرمقدم کیاا وراُنہیں محاذ چونڈہ کا دورہ کروایا۔ ہر مقام پر بزرگ جنگ کا آنکھوں دیکھا حال سناتے اور فوجی جوان چشم تصور میں ان مناظر کو دیکھتے جب ان میدانوں میں حق وباطل کا معرکہ لڑا جا رہا تھا۔ خوبصورت سفید داڑھی اور گورے چٹے 81سالہ رحمت اﷲ بٹ سٹاف کالج کی ٹیم کے ہمراہ اسی ریلوے لائن پر آہستہ آہستہ چھڑی ہاتھ میں لئے چہل قدمی کر رہے تھے۔ ایک فوجی افسر نے کہا ’’جناب جنگ کے بارے میں کچھ بتائیے۔‘‘ بزرگ نے ایک لمبا سانس لیا، آنکھیں نیم وا کیں جیسے چشمِ تصور سے محاذ جنگ پر جا پہنچے ہوں اور یوں گویا ہوئے: ’’صبح سویرے اہلیان قصبہ چونڈہ کی آنکھ ٹینکوں کے فائر کی آواز سے کھلی۔ لوگ ہڑبڑا کر اُٹھ گئے اور اپنے اہلِ خانہ کو اکٹھا کر کے تسلیاں دینے لگے کچھ نہیں ہو گا، لیکن اندر سے کچھ پریشان ہو گئے۔ گھر سے باہر صورت احوال جاننے کے لئے نکلے تو پاک آرمی کے جوان گلی گلی قصبہ خالی کرانے کا کہہ رہے تھے۔ مساجد میں اعلان ہو رہا تھا کہ بھارت نے حملہ کر دیا ہے، سب لوک قصبہ خالی کر دیں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ نوجوانوں نے اپنے اہل و عیال کو روانہ کیا اور خود قصبے کے باہر دفاع پر تعینات فوج کے شانہ بشانہ وطن پر جان دینے کے لئے شامل ہو گئے۔ فضا دھول اور دھوئیں سے تاحد نظر دھندلا گئی تھی۔‘‘

chwindakmahaz.jpg
’’اﷲ اکبر کے نعروں سے گونجتی فضا میں فوجی جوان فائر کرنے میں مصروف تھے۔ ہر فوجی جوان اپنی جگہ ہمت و شجاعت کی ایک مثال بنا ہوا تھا۔ اہلیان قصبہ اپنے جوانوں کی ہر طرح مدد کر رہے تھے۔ سامنے بھارتی ٹینک قطار در قطار آہنی دیوار بنائے چلے آ رہے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ بھارتی ٹینکوں نے دھوکہ دینے کے لئے اپنے ٹینکوں پر پاکستانی پرچم لگائے ہوئے تھے۔ تاکہ پاک فوج کو دھوکہ ہو کہ پاکستانی ٹینک ہیں۔ بہت جلد پاک فوج نے بھانپ لیا یہ دشمن کی چال ہے۔‘‘


بٹ صاحب مزید بولے کہ ’’پاک فوج کا ایک سپاہی بشیر جب پھلورہ کے پاس بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوا تو اس کو گرفتار کرنے والا بھارتی کرنل سپاہی بشیر کا کلاس فیلو تھا۔دونوں دوست بہت جذباتی طریقہ سے ملے، لیکن دشمن دشمن ہوتا ہے۔ بھارتی کرنل نے سپاہی بشیر کو کہا کہ افسوس میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔ سپاہی بشیر نے کہا مجھے کوئی گلہ نہیں اپنا فرض ادا کرو۔ لیکن دوسرے دن سپاہی بشیر بھارتی قید سے فرار ہو گیا اور دوبارہ اپنی فوج کے ساتھ مل گیا۔ چونڈہ کے اندر مساجد سے مسلسل سائرن کی آواز بلند ہو رہی تھی۔ جنگ کا ماحول چھایا ہوا تھا۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’بٹ صاحب کیا ٹینکوں کے نیچے بم باندھ کر لیٹنے والی کہانی سچی ہے؟ بٹ صاحب کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے گویا وہ ماضی میں اس لمحے کو دیکھ رہے تھے۔ بٹ صاحب نے اپنی سفید ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرا اور بتایا: ’’میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب 17ستمبر 1965 کو دوپہر کے وقت بھارتی حملہ بھرپور طریقے سے جاری تھا اور لگتا تھا کہ بھارتی فرسٹ آرمڈ ڈویژن اب ریلوے لائن عبور کر لے گا تو پاکستانی کمانڈر بریگیڈیئر عبدالعلی نے اپنے جوانوں کو ریلوے اسٹیشن پر اکٹھا کیا اور ایک مختصر تقریر میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اﷲ کی نصرت کے لئے اپنے وطن پر جان قربان کر دیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل دیں۔ کون کون اپنے وطن پر جان قربان کرنا چاہتا ہے؟ تمام فوجی جوانوں نے بیک وقت ہاتھ اٹھا دیئے۔ کمانڈر صاحب نے چند جوانوں کا انتخاب کیا اور ان کو دشمن کی صفوں میں گھس جانے کا ہدف دیا۔ پلک جھپکتے وہ سرفروش آنکھوں سے اوجھل ہو گئے اور دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ فضا بھاری دھماکوں سے گونج اٹھی اور بھارتی سنچورین ٹینکوں کے پرخچے اڑنے لگے۔ دشمن کا حملہ اچانک رک گیا وہ جگہ آج بھی نشان عبرت ہے جہاں بھارتی تین سو فوجی اجتماعی طور پر دفن کئے گئے جن کی لاشیں بھارتی فوج اٹھانا بھول گئی اور ان کی لاشیں گدھ اور کوے نوچتے رہے۔ جب تعفن زیادہ پھیلنے لگا تو پاک فوج نے وقتی طور پر ایک بڑا سا گڑھا کھود کر ان بھارتی سورماؤں کی لاشیں ایک ہی جگہ دبا دیں۔ چونڈہ ریلوے اسٹیشن کے پاس آج بھی وہ جگہ جوں کی توں موجود ہے۔‘‘ بعد میں ان لاشوں کو پورے فوجی احترام سے واپس کیا گیا۔
جنگی نقطہ نظر سے چونڈہ کی جنگ کا اگر تجزیہ کیا جائے تو داستان کچھ یوں ہے۔


8ستمبرکو بھارتی فرسٹ آرمڈ ڈویژن نے چھ ماؤنٹین ڈویژن، 14انفنٹری ڈویژن اور کئی انفنٹری بریگیڈز کی مدد سے تین کالم کی فارمیشن بناتے ہوئے چار واہ، باجرہ گڑھی اور نخنال سے پاک سرزمین پر اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ حملہ کر دیا۔ رینجرز کے محافظ چند گھنٹے داد شجاعت دے کر پیچھے ہٹ گئے۔ بھارتی ابھی چند سو گز کا فاصلہ طے کر پائے تھے کہ پاک فوج کے شیردل مجاہد قہر بن کر اپنے وطن کے دفاع کے لئے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ جنرل جگن ناتھ چوہدری (جس نے کبھی محاذ کا دورہ تک نہیں کیا تھا) کا بنایا گیا وار پلان جو چند گھنٹوں میں سیالکوٹ ڈسکہ روڈ پر پہنچنے کا تھا، اس کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوا۔ پاک فوج کے تین ہزار فوجی جوان ہزاروں بھارتی فوجیوں اور چار سو ٹینکوں کے آگے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے سینہ سپر ہو گئے۔ نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی کا جذبہ دل میں لئے شہادت کے طلب گار یہ جوان وہ کارنامہ سرانجام دینے جا رہے تھے کہ تاریخ کا طالب علم ہمیشہ انگشت بدنداں رہے گا۔ 325ٹینک اور ساری فوجی قوت صرف چند ہزار گز کا فاصلہ طے کر کے رک گئی اور بھارتی فوجی اپنے افسروں کا منہ دیکھنے لگے۔ گویا یہ سوال پوچھ رہے ہوں سر آپ تو کہتے تھے کہ پاکستانی اتنی بڑی قوت کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کریں گے، یہ تو ہمارے ہی ٹینکوں پر سوار ہو گئے ہیں، سر اَب کیا کریں؟


بھارتی کمانڈر پی کے دون نے مزید فوجی اور ٹینک ری انفورس کرنے کی اپیل کی جو منظور کر لی گئی۔ بھارتی فوج دو دن کی جنگ کے بعد گڈگور تک پہنچ گئی۔ پاک فوج اپنے کم وسائل اور کم نفری کے باوجود’’ لاسٹ مین لاسٹ بلٹ‘‘ کا ماٹو لئے دفاع کر رہی تھی۔ کرنل عبدالرحمن اپنی بٹالین کے شانہ بشانہ میدان میں ڈٹے ہوئے تھے اور لمحہ بہ لمحہ اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ گڈگور سے آگے پھلورہ کے مقام پر بھارتی سورماؤں اور پاک فوج کے شیروں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ کرنل عبدالرحمن نے اپنی جان وطن پر قربان کر دی اور ستارۂ جرأت حاصل کیا۔ بھارتی 17پونا ہارس کو پھلورہ حاصل کرنے کا ہدف ملا۔ کرنل تارہ پوری نے دو دن سرتوڑ کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی۔ پاکستانی ایئرفورس نے اپنی فوج کا بھرپور ساتھ دیا اور دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچائے رکھی۔ پھلورہ حاصل کرنے کے بعد بھارتی فوج نے چونڈہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ وہ کہاں جانتے تھے کہ چونڈہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بننے جا رہا ہے۔


چونڈہ کی جنگ اپنے اندر ہزاروں داستانیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ایسی داستانیں جن پر یقین کرنا محال ہے لیکن ہر داستان کے پیچھے صرف اور صرف حقیقت اور سچائی ہے۔چونڈہ کی جنگ جو سات دن جاری رہی اور یہ تو دنیا نے دیکھا کہ کس طرح افواج پاکستان اور چونڈہ کے نوجوان شانہ بشانہ دفاع کرتے رہے اور جب وقت آیا تو فوجی جوان اپنے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے۔


14 تاریخ صبح چھ بجے لڑائی شروع ہوئی۔ 17پونا ہارس نے بھرپور حملہ کر دیا اور مدمقابل تھی پاک فوج کی 25کیولری
(Men of Steel)
پھلورہ کو بھارتی فوج نے کمان ہیڈکوارٹر بنا لیا۔ بریگیڈیئر علی اپنی تین رجمنٹوں اور تین بہادر کمانڈروں کے ساتھ چونڈہ کے دفاع کے لئے موجود تھے۔ بریگیڈیئر علی چونڈہ کے دربار کے ٹیلے پر کھڑے سارا میدان جنگ دیکھ رہے تھے اور اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ کرنل جمشید مغربی سمت کی طرف اپنی کمان سنبھالے ہوئے تھے تاکہ دشمن سیالکوٹ کی طرف بڑھنے کی جرأت نہ کر سکے۔ مشرقی طرف سے بھی افواج پاکستان نے بھارتی فوج کو گھیر رکھا تھا۔ فرسٹ آرمڈ ڈویژن جو بھارت کی سب سے بڑی جنگی مشین تھی، کسی سہمے ہوئے پرندے کی طرح چونڈہ کے پاس سے ریلوے لائن عبور کر نے کی سرتوڑ کوشش کر رہی تھی جو کسی طور کامیاب نہ ہو رہی تھی۔


بھارتی 17پونا ہارس رجمنٹ نے جو فرسٹ آرمڈ ڈویژن کا حصہ تھی، تین بڑے حملے کئے اور ہر بار کرنل نثار کی 25کیولری نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لہٰذا 17پونا ہارس اپنے تیس ٹینک صرف ان تین حملوں میں تباہ کروا کر ہانپنے لگی۔ کرنل تارہ پوری چونڈہ ریلوے سٹیشن کے پاس کرنل نثار کے ٹینک کے فائر کی زد میں آیا اور جان گنوا بیٹھا۔ جنگ کے بعد بھارت نے اپنی خفگی مٹانے کے لئے ناکام کمانڈر کرنل تارہ پوری کو بھارتی فوج کا سب سے اعلیٰ اعزاز ’’پرم ویر چکرا‘‘ دیا۔


سرزمین چونڈہ کے وہ میدان اور ریلوے لائن آج بھی جوں کی توں موجود ہیں جو بھارتی کمانڈر اور فورس کو ماضی کی عبرتناک شکست کی یاد دلاتے ہیں۔
اے سرزمین چونڈہ تجھے سلام!
پاک فوج تیری عظمت کو سلام!
اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے!

مضمون نگار چونڈہ کے قصبہ کے مستقل رہائشی ہیں۔

نگہبانِ وطن
یہ ہیں شانِ وطن
اور ہیں آنِ وطن
مہرباں ہے سخن
نیک تر ہے چلن
غازی یہ صف شکن
وار دیں گے بدن
نگہبانِ وطن
نگہبانِ وطن
یہ وطن کے امیں
واریں جانِ زریں
صف بہ صف ہم نشیں
آفریں‘ آفریں
یہ ہیں نعرہ زن
یہ ہیں مانِ وطن
نگہبانِ وطن
نگہبانِ وطن
سخت جان ‘ مہرباں
ہم نوا‘ ہم نشاں
پاک تن‘ پاک جاں
رب کی حفظ و اماں
وار کے تن بدن
سوئے دارِ عدن
نگہبانِ وطن
نگہبانِ وطن

سمیعہ نعمت

*****

 
11
July

تحریر: مجاہد بریلوی

لندن میں ہوں۔ لاہور کے دفتر سے حکمِ حاکم آیا کہ یہاں کے الیکشن بہت دیکھ لئے اب ذرا برطانوی الیکشن دیکھنے جائیں۔ ایئرپورٹ سے میلوں کا فاصلہ طے کر تے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ راستے میں نہ کوئی جلسہ‘ نہ دھرنا‘ نہ پوسٹر‘ نہ بینر‘ یہ کیسا الیکشن ہے؟
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
بات لندن میں الیکشن کے حوالے سے ہو رہی تھی اور اس پر مزید بات نہیں ہو گی کہ الیکشن کہیں کے بھی ہوں مدیر اعلیٰ ’’ہلال‘‘ سے طے ہو چکا ہے کہ کم از کم آپ کے جریدے میں یہ موضوع ممنوعہ رہے گا۔ لندن شہر کے حوالے سے جو میں کہہ بیٹھا کہ ’’کوئی ویرانی سی ویرانی ہے‘‘ تو اس پر مشہور اسکالر ڈاکٹر جانسن یاد آگئے جنہوں نے برسوں پہلے لندن پر کیسا تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’جو زندگی سے بیزار ہو وہ لندن چلا آئے‘‘۔ کسی بدبخت کی جہالت چٹخی تو جوابی سوال کیا ’’اور اگر لندن ہی سے بیزار ہو جائے تو؟‘‘ ڈاکٹر جانسن نے بڑی بیزاری سے جواب دیا ’’تو پھر سمجھیں وہ زندگی سے بیزار ہے‘‘۔ کہا جاتا ہے محبوب کا مزاج، لندن کا موسم اور پاکستان کی۔۔؟ یہ لیجئیے پھر اس کے آگے وہ لفظ آنے والا تھا جس پر پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ ’’شجر ممنوعہ‘‘ ہے۔ جہاں تک محبوب کے مزاج کا تعلق ہے تو عمر کے اس پہر میں ساری توجہ بیوی کے مزاج پر رہتی ہے۔ اور جو ہمارے شہر سے نکلتے ہی بے رحمی کی حد تک برہم رہتا ہے۔ حالانکہ وہ دن کب کے ہوا ہوئے کہ
؂ کیا زمانہ تھا اِدھر شام اُدھر ہاتھ میں جام
اب تو رستے بھی رہے یاد نہ میخانوں کے
اگر ان میخانوں یعنی پبوں کے پاس سے گزر بھی ہوتا ہے تو اس میں بیٹھی خوش جمالوں کو دور سے سلام کرتے ہوئے اپنی راہ پکڑتے ہیں۔ جو یوں بھی ان دنوں صراطِ مستقیم پر چل رہی ہے کہ ماہِ رمضان ہے۔ جی ہاں لندن بلکہ سارے برطانیہ میں ماشاء اللہ جس پاکستانی سے ملنا ہوا، اور جن کی تعداد اب 10 لاکھ کے لگ بھگ ہے‘ ایک دو کو چھوڑ کر سارے الحمدللہ روزے سے ہوتے ہیں۔ اور تو اور ہمارے مستقل میزبان بیرسٹر صبغت اللہ قادری کوئن کونسل یعنی
Q.C
کا اعزاز رکھنے والے کہ جو لندن میں اپنی شام کی دعوتوں کی شہرت رکھتے ہیں روزے سے ہیں۔ روزے اور پھر لندن میں۔۔ جی ہاں یہاں ساڑھے اٹھارہ گھنٹے کے روزے ہوتے ہیں۔
Scandinavian
ممالک میں تو یہ کھنچ کر 21 گھنٹے کے ہو جاتے ہیں۔ ایک ویب سائٹ پر پڑھ رہا تھا کہ برصغیر بلکہ ایشیائی ممالک سے آنے والے مسلمان جو 14/15 گھنٹے کا روزہ رکھنے کے عادی ہیں‘ مستند علماء کرام سے رجوع کر رہے ہیں کہ فن لینڈ میں تو معاملہ 22 گھنٹے تک آپہنچا ہے۔ یعنی کیا فرماتے ہیں علماء دین کہ ’’سحری اور افطار‘‘ کے وقت میں فرق بس گھنٹے کا ہی ہے۔ خوفِ خلقِ خدا کے سبب اس موضوع کو یہیں چھوڑتا ہوں کہ لندن کا موسم ’’ہائے لندن۔۔ وائے لندن‘‘۔۔ ایک زمانہ تھا کہ جس دن یہاں سورج نکلتا وہ گوروں کے لئے روزِ عید ہوتا مگر ادھر چند برسوں سے لندن کو بھی گرمی نے آلیا ہے۔لندن کی 38 ڈگری کی جھلستی گرمی میں جب ایئر پورٹ سے باہر نکلا سورج سوا نیزے پر تو نہیں تھا مگر اتنا ضرور تھا کہ سوئیٹر‘کوٹ اُتار پھینکے۔ مگر یہ صورتحال محض شام تک تھی۔ شام ڈھلتے ہی ہلکی بارش اور خُنکی اور پھر رات کے پہلے پہر میں پھر سے سوئیٹر پر کوٹ۔ جب تک یہ سطرآپ پڑھ رہے ہوں گے انتخابی نتائج آچکے ہونگے۔ 24 گھنٹے پہلے تک تو امریکہ کی طرح برطانوی الیکشن کے بارے میں سارے سروے اور میڈیا کے سرخیل ایک بڑے
Upset
کے منتظر تھے۔ یعنی مہینے بھر پہلے جو لیبر پارٹی 24 پوائنٹ پیچھے تھی، الیکشن سے ایک دن پہلے صورتحال یہ ہے کہ ٹوری 45.5 تو لیبر 44.5 ۔ ایک پرسنٹ کا فرق۔ یہ تو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ برطانوی الیکشن کی ہلکی سی بھی جھلک یہاں کے چوراہوں، سڑکوں اور بازاروں میں نظر نہیں آتی۔ سارا انتخابی معرکہ اخباروں اور اسکرینوں پر ہوتا ہے۔ جس روز لندن پہنچا اُس شب دونوں وزرائے اعظم کے درمیان
Debate
تھی۔ نامزد وزرائے کرام ایک طرف کھڑے تھے دوسری طرف اینکر اور اُن کے ساتھ سو کے لگ بھگ شرکاء جنہوں نے براہ راست بڑے چبھتے ہوئے سوال کئے اور بہرحال جواب بھی بڑے برجستہ آئے۔ الیکشن کے حوالے سے یہ دلچسپ بات بھی بتاتا چلوں کہ یہ گزشتہ 85 سال سے چاہے ضمنی ہوں یا قبل از وقت یا پھر 5سال بعدجمعرات ہی کے دن ہی کیوں ہوتے ہیں اس بارے میں مختلف کہانیاں بتائی جاتی ہیں مگر ایک مستند لندن والے دانشور نے بتایا کہ گورے پانچ دن ڈٹ کر کام کرتے ہیں جمعہ کی شام تنخواہ ملنے کے بعد اگلے دو دن ساری کمائی تفریح پر لٹا دیتے ہیں اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ چھٹی کے دو دنوں میں گوروں کی پہلی ترجیح تفریح ہی ہوتی ہے اور اگر ان دنوں الیکشن ہوں تو 25 فیصد بھی پولنگ کی طرف رخ نہ کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کے دن چھٹی بھی نہیں ہوتی۔ اسکول ، کالج اور بازار سب کھلے ہوتے ہیں۔ صبح سات بجے سے رات دس بجے تک کسی بھی وقت ووٹ کاسٹ کرلیں۔ اُس سے بھی زیادہ حیرت ناک بات میرے لئے یہ تھی کہ پولنگ ختم ہوتے ہی یعنی دس بجے بی بی سی نے اپنے
Exit
Poll
میں جو نتائج بتائے وہی اگلے دن سرکاری طور پر بھی سامنے آئے۔ اور جیسا کہ ابتداء میں لکھ چکا ہوں کہ یہ ساری دنیا کے لیئے
Upset
تھے
Poor
وزیراعظم تھریسا مئے کی ٹوری پارٹی بھاری اکثریت لینے کے بجائے سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر سکی۔ یعنی 326 ووٹ جو حکومت بنانے کے لئے اُسے چاہئے تھے اُس سے آٹھ ووٹ پیچھے جبکہ لیبر پارٹی جس کے 2015 کے انتخاب میں 223 امیدوار کامیاب ہوئے تھے اُس کے 262 امیدوار کامیاب ہوئے۔
Poor

ٹوری وزیراعظم اس تحریر لکھنے تک حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ یہ لیجئیے برطانوی انتخابات کی تفصیل میں میں اتنا آگے چلا گیا تو یہ بتانا بھول گیا کہ وہ گرمی جس کا میں نے ذکر کیا تھا اُس کی جگہ کھڑکی کے باہر سے خنک ہوائیں اور پھواریں پڑتی دیکھ رہا ہوں۔ ایسے میں اب کیا الیکشن ولیکشن کا ذکر۔۔ سوئیٹر پر کوٹ ڈال لیا ہے اور لندن برج کی جانب قدم بڑھ رہے ہیں۔ اور ہاں معاف کیجئیے گا ایک بار پھرخوفِ خلقِ خدا کے سبب اپنے ٹھکانے کی جگہ نہیں بتاؤں گا مگر کون نہیں جانتا کہ لندن کے اس خوشگوار موسم میں دو ہی مقام ایسے ہوتے ہیں جو بانہیں کھولے کھڑے ہوتے ہیں ایک پارک اور دوسرے ۔۔۔۔ جانے دیجیئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
July

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

آج ہم اپنے مضمون میں ایک ایسے تجربے کا ذکرکرنا چاہتے ہیں جو عمر بھر کے لئے ہمارے دل و دماغ پہ ثبت ہوگیا ہے۔ ہمیں وہ دیکھنے کو ملا جس کا ہم شاید کبھی گمان بھی نہ کرسکتے ہوں۔ اگر چہ2015 میں بھی ہم نے اس کی جھلک دیکھی تھی۔ مگر اس بارہم خود اس کا حصہ تھے لہٰذا ہمیں قریب سے اس پورے نظام کو سمجھنے کاموقع ملا۔


یہ ساری تمہید اس لئے ہے کہ قارئین جان سکیں کہ جمہوریت دراصل ہے کیا؟ انتخابات، ووٹ کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدوار کو چننا پولنگ کا عمل، گنتی، بیلٹ بکس، نتائج، یہ سارا عمل کیسے شفاف ،مہذب اور عمدہ طریقے سے ہوتا ہے، وہ ہم بیان کریں گے، نیز ہم یہ بھی عرض کردیں کہ اب ہمیں واقعی پتہ چل گیا کہ جمہوریت کتنی خوبصورت چیز ہے‘ اگر حقیقی ہو۔ ورنہ جمہوریت کا ڈراما تو ایک بھیانک عفریت سے کم نہیں جو غریب کی جان کے درپے ہے۔


9 مئی کو کینیڈا کے صوبے برٹش کو لمبیا میں صوبائی الیکشن تھے۔ اس الیکشن کی بازگشت تو مہینوں پہلے سے سنائی دے رہی تھی جب اُمیدواراپنے اپنے حلقوں میں مستعدی کے ساتھ متحرک تھے۔ امیدوار اپنے الیکشن آفس کا افتتاح کرتے ہیں جس میں اپنے ووٹرز اور حامیوں کو مدعو کرتے ہیں، تواضع ہوتی ہے۔ امیدوار ہر ایک سے نہایت عاجزی سے ملتا ہے، اپنا منشور بتاتا ہے اور یوں لوگ اپنا ذہن بنانے لگتے ہیں۔ یہ دعوتِ عام ہے مگر لوگ زیادہ تر اُسی امیدوار کے آفس جاتے ہیں جس پارٹی سے اُن کا تعلق ہو۔ اُمیدوار کے آفس میں اس کے ورکرز دن رات کام کرتے ہیں۔ لوگوں کو فون کرنا، ان کوپولنگ سٹیشن بتانا، یہ تمام کام رضاکارانہ طور پر ہوتا ہے یعنی رضاکار کوئی پیسہ نہیں لیتے، مفت میں ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کے آفس ہر الیکشن میں الگ ہوتے ہیں کیونکہ یہ کرایہ پر حاصل کئے جاتے ہیں۔ سڑکوں پر کیمپ لگانا یہاں کا رواج نہیں۔ ان بیچاروں کو معلوم ہے کہ سڑکوں پر تمبو گاڑ کر‘ کیمپ لگا کر ‘اونچی آواز میں ٹیپ چلا کر اپنی پارٹی کے گانے یاترانے لگانے سے کیا ہوتا ہے؟ٹرکوں پر چڑھ کر ہنگامہ آرائی کا بھی انہیں معلوم نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے جلسے بھی ہوتے ہیں مگر کسی ہال میں جہاں لوگ خوب جوش و خروش سے شریک ہوتے ہیں۔


9 مئی2017 کے الیکشن میں ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جو حکومت میں ہیں یعنی وزیر وغیرہ، مگر یہاں عجیب سسٹم ہے یعنی اگر کوئی حکومت میں ہے اور اگلے الیکشن میں حصہ لے رہا ہے تو وہ اپنی کرسی، اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتا۔ ایسے لوگ بھی جلسے کرتے ہیں مگر ان کے جلسوں میں امیدوار فرعون کے بجائے مسکین بنا نظر آتا ہے۔ ہر ایک کے پاس جا کر ہاتھ ملانا، اس کی خیریت معلوم کرنا اور رسمی گفتگو کرنایہاں کا طریقہ ہے۔ امیدوار کے چمچے ہوتے ہیں مگر اس کو گھیرے میں لے کر عوام کو دھتکار تے نہیں۔ حیرت انگیز طور پر اسلحہ نہیں ہوتا۔ پولیس بھی نہیں ہوتی نہ سیکورٹی گارڈ ز ہوتے ہیں۔2015 کے فیڈرل الیکشن میں ہم کئی تجربات سے گزرے تھے۔ اس بار سوچا کہ خود اس عمل میں حصہ لیں اور دیکھیں کہ یہاں انتخابات کیسے ہوتے ہیں۔ ہم نے الیکشن بی سی2017 کی ویب سائٹ کھولی تو وہاں الیکشن سٹاف کی اسامیاں خالی تھیں۔ واضح رہے کہ الیکشن سٹاف الیکشن سے بہت پہلے ہی چنا جاتا ہے۔ ویب سائٹ پر پوری تفصیل درج ہوتی ہے، ہر حلقہ، ہر حلقے کا الیکشن دفتر، وہاں کا فون نمبر، ای میل ایڈریس، افسر کا نام، سب درج ہوتا ہے۔ نیز معاوضہ بھی لکھا ہوتا ہے۔ ہم نے کئی حلقوں کے نمبر نوٹ کئے پھر سوچا خود جا کے اپنا
Resume
پیش کریں اوردیکھیں کہ بھرتی کیسے ہوتی ہے۔ ہم نے انٹرنیٹ سے فارم ڈاؤن لوڈ کیا، ساتھ اپنا
Resume
لگایا اور قریبی الیکشن آفس پہنچ گئے۔ انہوں نے ہم سے کاغذات لئے اور پوچھا انٹر ویو کے لئے کب آسکتی ہیں؟ ہم نے جھٹ کہا ابھی کرلیں انٹرویو۔ انہوں نے نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، ایک فارم پُرکرنے کو کہا اور پوچھا ہم کس دن ڈیوٹی دے سکتے ہیں؟

heqeeqihusneint.jpg
آپ حیران ہوں گے کہ الیکشن 9 مئی کو ہے تو پھر یہ کیسا سوال ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ایڈوانس پولنگ بھی ہوتی ہے، یعنی 9مئی کو جنرل الیکشن ڈے ہے باقی کچھ دن ویک اینڈ پر ایڈوانس پولنگ ہوتی ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم کسی بھی دن کام کرسکتے ہیں، دس منٹ کے بعد ہمیں انٹرویو کے لئے بلالیا گیا۔ اگر چہ ویب سائٹ پہ لکھا ہے کہ تجربہ ضروری نہیں لیکن اگر ہو تو اچھا ہے، پھر بھی انٹرویو میں پوچھتے ہیں کوئی تجربہ؟ ہم نے بتایا ہمیں کوئی تجربہ نہیں۔ دوچار سوالات کئے اور ہمیں 9مئی کے لئے ووٹنگ آفیسر منتخب کر لیا گیا۔ ووٹنگ آفیسر کی کیا ڈیوٹی ہوتی ہے، یہ ہم بعد میں بتائیں گے۔لیکن یہ ضرور بتادیں کہ ہم پر واضح کردیا گیا کہ الیکشن سٹاف کے لئے ضروری ہے کہ وہ آن لائن ٹریننگ حاصل کریں پھر ایک دن کلاس روم ٹریننگ لیں اس کے بعد ہی وہ الیکشن سٹاف بن سکتے ہیں۔ اگر آن لائن یا کلاس روم ٹریننگ نہیں لی تو ان کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان دونوں ٹریننگ کے لئے معمولی سی رقم بھی ملتی ہے۔ الیکشن کے دن ڈیوٹی14-16 گھنٹے کم از کم ہوتی ہے جس کا معقول معاوضہ ملتا ہے۔ اگر پہلے الیکشن میں کام کرنے کا تجربہ ہو، پھر بھی آن لائن اور کلاس روم ٹریننگ لازمی ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ الیکشن کے دن ڈیوٹی پر کالے، سفید یا سرمئی رنگ کے کپڑے پہنیں کیونکہ ایسا نہ ہو کوئی رنگ کسی پارٹی کے رنگ سے ملتا ہو لہٰذا اپنے آپ کو مکمل نیوٹرل رکھیں۔ ہم نے تمام کاغذی کارروائی مکمل کی اور خوشی خوشی گھر آگئے۔ ہمیں یہ پتہ چلا کہ سٹاف کی بھرتی میرٹ پر ہوتی ہے اور ہمیں سختی سے یہ بھی باور ہوگیا کہ ہم کسی پارٹی کو سپورٹ نہیں کرسکتے۔ اگر ہمارا ووٹ ہے تو ہم ڈیوٹی کے علاوہ کسی اور دن جاکے ڈال آئیں کیونکہ ڈیوٹی والے دن ہم اپنی جگہ سے ہِل بھی نہ سکیں گے۔


ہم نے آن لائن اور کلاس روم ٹریننگ لی، ہمیں ایک کیو آر جی دیا گیا، یہ ایک گائیڈہے جس سے ہمیں کام میں مدد ملتی ہے۔ الیکشن کی ڈیوٹی سے قبل سپروائزر کی بار بار ای میل آتی رہی جس میں لکھا ہوتا کہ کیا کرنا ہے مثلاً پھر دہرایا گیا کہ لباس کا رنگ کیا ہو، پھر بتایا گیا کہ اپنا کھانا پانی ساتھ لائیں جو14-16 گھنٹے کے لئے کافی ہو، وہاں نہ مائیکرو ویو اوون ہوگا نہ فریج، یہ ذہن میں رکھیں۔ پارکنگ کہاں ہوگی، موسم کے حساب سے سوئیٹر ، شال رکھیں، طویل دورانیہ کے لئے کرسی پر بیٹھنا ہوگا لہٰذا جب موقع ملے تھوڑا بہت کرسی پہ بیٹھے بیٹھے کھالیں۔ واش روم بلااجازت نہیں جاسکتے۔ سپروائزر کو بتائیں وہ آپ کا سٹیشن اتنی دیر بند کرے گا جب تک آپ واپس نہ آجائیں۔ یہ تمام باتیں کلاس روم میں سمجھا دی گئی تھیں۔ پھر بھی ای میل کے ذریعے ان کو دہرانے کا مقصد یہ تھا کہ سٹاف مکمل تیاری سے آئے تاکہ اسے پریشانی نہ ہو۔


ہمیں پہلے تو ہنسی آ رہی تھی کہ ایک دن کی پولنگ کے لئے اتنے جھمیلے، اتنی تیاری، آن لائن سمجھو، پھر کلاس روم میں پریکٹس کرو۔ عجیب بے وقوفی لگ رہی تھی مگر الیکشن والے دن ہمیں پتا چل گیا کہ جسے ہم بے وقوفی سمجھ رہے تھے، وہ دراصل ہماری ہی آسانی اور سہولت کے لئے تھے۔


ہمارا پولنگ اسٹیشن ایک اسکول میں تھا۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے لے کر رات آٹھ بجے ہونی تھی۔ پولنگ کے عملے کو صبح ٹھیک7بجے پہنچنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ہم اپنی دانست میں 7:15 بجے یہ خیال لے کر پہنچے کہ وہاں الو بول رہا ہو گا۔ مگر یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہم پندرہ منٹ لیٹ تھے۔ ساراعملہ ٹھیک 7بجے پہنچ گیا تھا۔ سپروائزر تو ساڑھے چھ بجے سے موجود تھی۔ جلدی جلدی ہم نے اپنے ووٹنگ کلرک کے ساتھ مل کر ٹیبل سیٹ کی۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ ٹیبل سیٹ کرنا کیا ہوتا ہے۔ تو بھئی یہ بات ہے کہ تمام سٹیشن ایک ہی طرح سیٹ ہوتے ہیں۔ بیلٹ بکس، ووٹرز لسٹ، بیلٹ پیپر سبھی اپنے مقررہ مقام پر ہی رکھنے ہوتے ہیں۔ بیلٹ بکس ہمیشہ دائیں طرف، بیلٹ پیپر ووٹنگ افسرکلرک کے آگے۔ کیو آر جی یعنی تصویری گائیڈبک درمیان میں۔ بیلٹ پیپر کا
Counter Bail
رکھنے کے لئے کاغذ کی تھیلی ٹیپ سے کونے میں چپکے گی۔ ہم عملے کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔


ہر میز پر ایک ووٹنگ افسر اور ایک ووٹنگ کلرک بیٹھتا ہے۔ دو انفارمیشن آفیسرز ہوتے ہیں جو عمارت کے بیرونی حصے میں کھڑے ہو کر ووٹرز کو گائیڈ کرتے ہیں کہ انہیں کس میز پر جانا ہے۔ واضح رہے کہ ہر میز کا نمبر ہوتا ہے۔ ووٹر کو گھر پر ووٹنگ کارڈ بھیجا جاتا ہے جسے وہ اپنی تصویری شناخت کے ساتھ پولنگ اسٹیشن لے کر جاتا ہے۔ متعلقہ میز پر جا کے ووٹنگ کلرک کو اپنی شناخت، پتہ کارڈ وغیرہ دکھاتا ہے۔ جسے کلرک ووٹرز لسٹ میں تلاش کر کے نشان لگاتا ہے اور ووٹر سے دستخط کروانا ہے۔ ووٹر کا نام جس نمبر پر ہوتا ہے وہی نمبر ووٹنگ افسر بیلٹ پیپر پر دو جگہ درج کرتا ہے اور بیلٹ پیپر ووٹر کو تھماتا ہے تاکہ وہ ایک دوسری میز پر جا کے اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے آگے نشان لگا دے۔ ووٹرز کی سہولت کے لئے اس میز پر گتے کی آڑ رکھی ہوتی ہے تاکہ وہ خفیہ ووٹنگ کرے اور کوئی دیکھ نہ لے۔ بیلٹ بکس بھی لوہے کے بجائے گتے کا ہوتا ہے اور اس پر
Seal
کاغذی ہوتی ہے۔ ہم پر تو ہر بار حیرت کے پہاڑ ہی ٹوٹ رہے تھے۔ سپروائزر نے ہمیں کہہ دیا تھا کہ کوئی مسئلہ ہو اس کو آواز دے لیں وہ فٹافٹ آ کے مسئلہ نمٹا دے گی۔


9مئی کو ساڑھے سات بجے تک ہم میزیں وغیرہ سیٹ کر چکے تھے۔ پونے آٹھ بجے سپروائزر نے کہا پانی وغیرہ پی لیں۔ کچھ کھا لیں ٹھیک آٹھ بجے پولنگ شروع ہو جائے گی۔ گھڑی نے آٹھ بجائے تو ایک سیکنڈ کی دیر کے بغیر پولنگ کا عمل شروع ہو گیا۔ ووٹر قطار بنا کے کھڑے تھے، جیسے ہی آٹھ بجے وہ داخل ہو گئے۔ پولنگ کا عمل اسکول کے جمنازیم میں ہو رہا تھا۔ ہمارا خیال تھا لیکشن والے دن عام تعطیل ہو گی مگر تعطیل کا یہاں ویسا تصور نہیں جیسا ہمارے ہاں ہے۔ کوئی چھٹی نہیں تھی، اسکول بھی لگا ہوا تھا۔ مگر پولنگ اس طرح ہو رہی تھی کہ نہ بچے ڈسٹرب ہوئے نہ ہمیں احساس ہوا کہ اسکول میں تدریس جاری ہے۔ عجیب لوگ ہیں یہ۔ نہ کسی کے یوم پیدائش پر چھٹی، نہ موت پر، نہ برسی پر چھٹی، نہ الیکشن پر، کا م کام اور کام۔ یہ بھی کوئی بات ہے۔ اوپر سے وقت کی پابندی، ہمیں تو عادت کچھ اور ہی پڑی ہے۔ برس ہا برس ہم اپنے یہاں ہونے والے الیکشن کی خصوصی نشریات کی میزبانی کرتے رہے ہیں۔ ہم نے پولنگ اسٹیشنوں پر جا کے لائیو رپورٹنگ بھی کی ہے۔ کتنی بار ایسا ہوا کہ دوپہر بارہ بجے تک بھی بعض علاقوں میں پولنگ کا عمل شروع نہ ہو سکا۔ کتنی بار عملہ دیر سے پہنچا کیسے کیسے جعلی ووٹ بھگتائے گئے۔ لگے ہاتھوں ہم بتا دیں کہ یہاں جعلی یا دو دفعہ ووٹ دینا یا کوئی فراڈ ایسا جرم ہے جس پر 20ہزار ڈالر جرمانہ اور دو سال قید ہے۔ لہٰذا ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ دوم یہاں ووٹر کے انگوٹھے پر سیاہی بھی نہیں لگائی جاتی۔ اعتبار کی بھی کوئی انتہاہوتی ہے۔


اب ذرا لیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے حامیوں کا بھی حال جان لیجئے۔ بغیر کاغذی اجازت نامے کے کوئی کارکن کوئی حمایتی وہاں داخل نہیں ہو سکتا۔ اسے رجسٹر میں اندراج کروانا پڑتا ہے۔ وہ پولنگ کے عمل کا جائزہ تو لے سکتے ہیں مگر مداخلت نہیں کر سکتے۔


اب ایک جماعت کی کارکن اس پر معترض ہو گئیں کہ ضعیف ماں ووٹ ڈالتے ہوئے اپنی بیٹی کی مدد کیوں لے رہی ہے۔ یا کوئی بچہ کیوں نشان لگاتے وقت موجود ہے۔ یہ سب نہایت حیرت انگیز ہے۔ اوپر سے ایک عجیب و غریب قانون یہ کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندے سے پولنگ کا عملہ کچھ لے نہیں سکتا۔ یعنی کوئی کھانے کی چیز۔ ان کے لئے کبھی پیزا آ رہا ہے تو کبھی مصالحہ چائے ،سموسے، کبھی پراٹھے تو کبھی برگر۔ مگر سپروائزر نے واضح کر دیا تھا کہ نہ ہم ان کو کھانا پینا دے سکتے ہیں نہ وہ کوئی اشیاء ہمیں دے سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ نمائندے ہم سے یعنی عملے سے براہ راست گفتگو نہیں کر سکتے کوئی مسئلہ ہے تو وہ سپروائزر کو آگاہ کریں گے۔ کمال ہے ہمارے وطن میں تو ایک خاتون امیدوار نے الیکشن والے دن پولنگ اسٹاف کی دھنائی کر دی تھی۔ یہاں کینیڈا میں تو پولنگ کے عملے کی بڑی عزت ہے۔ یہاں ہر ایک کی عزت و وقار کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ اونچی آواز یا ذرا تلخ لہجے میں تو کیا براہ راست ہی بات کر لیتا۔ نہ کوئی پولیس تعینات تھی نہ گارڈ۔ دراصل لوگوں کو معلوم ہے کہ دنگا کریں گے تو فرض شناس پولیس قانون کے تقاضے پورے کرے گی۔ کوئی کسی کو نہیں کہہ رہا تھا کہ کسے ووٹ دو۔ کوئی بینر، کوئی پوسٹر بھی نہیں تھے۔ کوئی مشورہ بھی نہیں کر رہا تھا کہ کسے ووٹ دیں۔ ہر کوئی اپنا مختار تھا۔ پولنگ کا عمل بغیر شورشرابے کے خاموشی کے ساتھ 12گھنٹے جاری رہا اور ٹھیک آٹھ بجے رات دروازے بند کر دیئے گئے۔ گنتی کے وقت امیدواروں کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ ویسے پورا عمل اتنا شفاف اور بے عیب ہوتا ہے کہ گڑبڑ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تبھی تو لوہے کے بجائے گتے کا ڈبہ بیلٹ بکس ہوتا ہے۔ ہم رات کے دس بجے تک مصروف رہے۔ ہارنے والے امیدواروں کے حمایتی اور جیتنے والے امیدواروں کے حمایتی کے تاثرات یکساں ہوتے ہیں، نہ چیخ و پکار، نہ ہنگامہ نہ زندہ باد کے نعرے۔جیتنے والے کسی ہال میں جمع ہو کر خوشیاں مناتے ہیں اور ہارنے والے گھر جا کے سو جاتے ہیں۔ وہ بیلٹ بکس چھیننا نہیں جانتے۔ وہ اسے ہاتھ تک نہیں لگا سکتے۔ گنتی صرف عملہ کرتا ہے۔ 9مئی صوبائی الیکشن کا دن تھا۔ ہمیں یہ دن ہمیشہ یاد رہے گا۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ قانون اگر سخت ہو، سب کے لئے یکساں ہو‘ لوگوں کو اعتبار ہواور ان کی جان و مال محفوظ ہو۔ انہیںیہ معلوم ہو کہ وہ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں جو ان کے امیدوار کو ایوان میں لے جائے گا۔ جہاں وہ ان کے مسائل حل کروا سکے گا تو اس سے زیادہ طمانیت بخش بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت عوام سے ہے عوام اصل طاقت ہے عوام کی رائے کتنی اہم ہے۔یہ سب یہیں آ کے معلوم ہوا۔ واقعی جمہوریت بہت عمدہ چیز ہے۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اِک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک گھر ہے تنہایادوں کا اور ہم سب اُس میں رہتے ہیں
اِک آنکھ ہے دریا آنکھوں کا‘ ہر منظر اُس میں ڈوب گیا
اِ ک چہرہ صحرا چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک خواب خزانہ نیندوں کا وہ ہم سب نے برباد کیا
اِک نیند خرابہ خوابوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک لمحہ لاکھ زمانوں کا وہ مسکن ہے ویرانوں کا
اِک عہد بکھرتے لمحوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک موسم ہرے پرندوں کا وہ سرد ہوا کا رزق ہوا
اِک گلشن خالی پیڑوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک رستہ اس کے شہروں کا‘ ہم اس کی دھول میں دھول ہوئے
اِک شہر اس کی اُمیدوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں

ڈاکٹراجمل نیازی

*****

 
11
July

تحریر: ڈاکٹر عاطف منصورملک

فلائیٹ لیفٹیننٹ وقاص شمیم شہید کے بارے میں ونگ کمانڈر (ر)ڈاکٹر عاطف منصورملککی ایک یادوں بھری تحریر

اگر آپ اکبری دروازے سے اندرون لاہو ر میں داخل ہوں تو تنگ بازار سے گزر کر محلہ سریاں والا آتا ہے۔ غازی علم دین شہید کا گھر اِسی محلے میں تھا، انہی کے نام پر اب وہا ں کا چوک موسوم ہے۔ اس چوک سے بائیں جانب مڑ کر کوچہ چابک سواراں سے گزرتے جائیے تو آگے محلہ ککے زئیاں آتا ہے۔ ککے زئی اسے عرفِ عام میں بڑی گلی کہتے ہیں۔ گو کہ یہ گلی اتنی تنگ ہے کہ کسی مرگ پر جنازہ بھی آسانی سے نہ نکل پائے ۔ کہتے ہیں کہ سلطان محمود غز نوی کے ساتھ حملہ آور لشکر میں یہ قبیلہ تھا۔ فاتح قوم کے طور پر انہوں نے مفتوح علاقے کو اپنا مسکن بنا یا۔ صدیا ں گزر گئیں مگر ککے زئی اپنے رنگ کے ساتھ جڑے رہے۔ ککے زئی ایک لڑاکا قوم ہے۔ اندرون لاہو ر میں محلہ ککے زئیاں کی لڑا ئیاں اور شادیاں دونوں ضرب المثل ہیں۔ یہ عجب رنگ کے لوگ ہیں، ایک طرف لڑنے کو تیار، دوسری جانب یار باش، مہمان نواز ، کھل کر کِھلانے والے۔ آپ سے محبت بھی کھل کر کریں گے اور لڑیں گے بھی کھل کر۔
وقاص شمیم ککے زئی تھا، ٹھیٹ ککے زئی۔ لڑنے مرنے کو تیار، کھل کر پیا ر کرنے والا ۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ شرارت کی چمک تھی، اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ رہتی تھی ایسے کہ ابھی کوئی حرکت کرے گا، کوئی طوفان لائے گا۔ وہ ایک بے چین روح تھا، کبھی نہ بیٹھنے والا، جس کو کسی طور چین نہ آئے۔ آتے جاتے کو ئی بات کرنے والا، ایک معرکے سے نکل کر اگلے معرکے کی تلاش میں رہنے والا ۔

 

jansaranwaten.jpgاس کی آواز اس کی آنکھوں کی طرح اندر اترنے والی تھی۔ وہ عجب شخص تھا ، اس کی آ نکھیں، اس کا چہرہ ، اس کا اندر باہر ایک تھا۔ ہما را اس سے عجب تعلق تھا، کبھی اس کی حرکتوں سے ہم زچ ہو جاتے تھے ، کبھی وہ ہما را محبوب تھا۔ وہ ہما ری زندگیوں میں غیر محسوس انداز میں داخل ہو گیا، اس کا ظاہری دکھاوا ایک لاپروا ، لااُبالی، سر پھرے کا تھا، مگر اس کی عجب خا صیت تھی وہ آپ کے درد کو خود بخود محسوس کر لیتا تھا بغیر بتائے جان لیتا تھا اور پھر وہ اپنی بسا ط سے بڑ ھ کر جو کچھ کر سکتا تھا کرتا تھا۔ کورس میٹ، افسر، ائیر مین، بیٹ مین سب کے لئے اس کے دل کے دروازے کھلے تھے، اور کھلے بھی چار چوپٹ تھے، بلکہ وقا ص کی شخصیت کے لحاظ سے تو اس نے دروازے کے کواڑ ہی اتار کر پھینک دئیے تھے کہ کسی کو آنے میں پریشانی نہ ہو۔


میں نے بچپن سے اپنے بزرگوں سے ککے زئیوں کی کئی باتیں سنی تھیں، نعرہ تھا، ’’ککے زئی، ہائے جان گئی۔‘‘ وقا ص کو جب میں نے کہا، ’’ککے زئی، میں نے سنا ہے کہ درانتی کے ایک طرف دندے ہوتے ہیں، مگر ککے زئی کے دو طرف دندے ہوتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا، ’’ملک جا نے دے۔‘‘


مجھے نہیں علم کہ کب وقاص کے بزرگ اندرون لاہور سے نکلے اور بیگم روڈ پر آ کر رہنے لگے۔ بیگم روڈ مزنگ اڈہ سے شروع ہوتی ہے اور جین مندر پر ختم ہوتی ہے۔ اس کے گھر میں داخل ہوں تو کھلاصحن تھا، جہاں ہر روز اس کی والدہ ہر شام نوکروں کے اور محلے کے بچوں کو پڑھا تی تھیں۔ اس کی والدہ ایف جی سکول میں تعلیم دیتی تھیں، جبکہ اس کے والد کرنل شمیم پی ایم اے کاکول میں شعبہ ریا ضی کے سربراہ تھے۔ یہ اسا تذہ کا گھر تھا۔ بے لوث، کھرے، مخلص۔ وقا ص خود کیڈٹ کالج حسن ابدال سے پڑھا تھا۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں وقا ص میں مزنگ اڈے کے تھڑے پر فارغ بیٹھے لوگوں کی یار باشی اور جین مندر میں گائے گئے بھجنوں کا رنگ نظر آتا تھا۔ سرگودھا میں پوسٹنگ کے وقت اس نے ایک کنٹینر قابوکیا ہوا تھا اور اس میں اکیلا رہتا ۔ اس کی طبیعت کی سیمابی اس کی متحمل نہ تھی کہ وہ کسی اور کے ساتھ کمرے میں رہتا۔ شام کو وہ اپنے بیٹ مین کے بچے کو پڑھاتا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کے پیچھے چلتے اپنے حصے کی تعلیم کی شمع کو روشن کئے ہوئے تھا۔


وہ ایک بے چین روح تھا، ہر کام جلد کرنے والا، ہر دم تیزی میں رہنے والا، شاید اسے علم تھا کہ اس کے پاس وقت کم ہے۔ اکیڈ می میں چھٹیوں پر جا نے کے لئے جب بک شدہ فلائنگ کوچیں آتی تھیں تو وقا ص ہمیشہ اچک کر ڈرائیور کے ساتھ والی سب سے اگلی سیٹ پر بیٹھتا تھا، اب کوئی جو مرضی کر لے وہ سیٹ کسی اور کو نہیں مل سکتی تھی۔ یہ ہر دفعہ کا معاملہ تھا۔ میں اسے کہتا تھا، ’’ککے زئی، اگلی سیٹ پر بیٹھ کر کیا تو کوچ سے پہلے لاہور پہنچ جائے گا۔‘‘ وہ ہنستا تھا اور کہتا تھا،’’ملک، جانے دے۔‘‘


وقاص خود دار تھا، بلا کا خود دار۔ یہ صفت اس کے خون میں شامل تھی۔ جب اس کا بڑا بھائی جنید شمیم پی ایم اے کاکول سے پاس آؤٹ ہو رہا تھا تو وقاص نے پریڈ پر جانے کے لئے چھٹی کی درخواست دی جو کہ نہ ملی۔ جنید پی ایم اے کا سب سے بڑا اپائٹمنٹ ہو لڈر تھا، پا سنگ آؤٹ پریڈ کمانڈ کر رہا تھا، پا سنگ آؤٹ پر اسے اعزا ز مل رہا تھا۔ وقا ص کے والد پی ایم اے کے شعبہ ریا ضی کے ہیڈ تھے۔ اکیڈمی سے کیڈٹ سرکاری طور پر پریڈ دیکھنے پی ایم اے جا رہے تھے، مگر وقا ص اس گریجویشن پریڈ پر نہیں گیا۔ کرنل شمیم کی خودداری یہ اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ کسی کو ایک فون ہی کر لیتے۔


جب وقا ص کی سرکاری جیپ سرگودھا کے کرانہ پہاڑ سے گری وہ اپنے دو ساتھی افسروں کے ہمراہ بیس کے میڈیکل سکواڈرن سے سالانہ طبی معائنہ کر وا کر پہاڑ کی چوٹی پر لگے ریڈار پر جا رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ جب موت کا فر شتہ اس کے سامنے آیا ہوگا تو وقا ص نے آ نکھوں میں شرارت کے سا تھ اس سے پوچھا ہوگا، ’’بھائی، آپ لینے تو آگئے ہیں مگر ریکارڈ چیک کر لیں کسی اور کی جگہ تو مجھے غلطی سے نہیں لے جا رہے۔ اچھا اب آپ آ ہی گئے ہیں تو یو نیفا رم میں ڈیوٹی پر ہوں، پہاڑ کی اتنی بلندی سے گرا ہوں، شہادت کا رتبہ لکھنا نہ بھولئے گا۔ صبح کا نا شتہ بھی نہیں کیا، دیکھیں یہ اخبار میں لپٹا ساتھ ہے، روزہ دار کا درجہ بھی لکھ لیں۔‘‘


مغرب کے قریب میانی صاحب کے قبرستان میں وقا ص کو دفنا کر میں اس کے گھر پہنچا۔ اس کے والد غم پر قابو پانے کی کوشش کرتے لوگوں کی تواضع کے بارے میں فکر مند تھے، اس کی والدہ اس کے کورس میٹوں کو لپٹا کر چوم رہی تھیں۔ میں چپ چا پ اپنے موٹر سائیکل کو سٹا رٹ کئے بغیر گھسیٹتا جین مندر تک آ گیا، روح میں دور تک دکھ اتر آیا تھا۔ آدھا فر لانگ چل کر موٹر سائیکل کو کک مار ی اور اپنے گھر کو چل پڑ ا، آگے ڈیوس روڈ سے ٹھنڈی سڑک کو جا مڑا۔


ٹھنڈی سڑک ویسے بھی ایک فسوں رکھتی ہے، ایک جانب ا یچی سن کالج ا ور زمان پارک دوسری جانب انگریز دور کے بنے ریلوے افسران کے بڑے بڑے بنگلے۔ درخت اتنے کہ سخت گرمی میں بھی اِس سڑک پر داخل ہوں تو ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے، اِسی وجہ سے لاہور کے باسی سندر داس روڈ کو عرفِ عام میں ٹھنڈی سڑک کہتے ہیں۔ طبیعت پر بوجھ اتنا تھا کہ موٹر سائیکل سڑک کے کنارے ایک طرف روک دی اور آ نکھوں سے بے ساختہ آ نسو جاری ہو گئے، رومال اور دامن دونوں تر تھے۔ اچا نک درختوں میں تیز ہوا چلنے لگی اور آواز آئی،’’ملک جانے دے۔‘‘


ککے زئی، جانے دیا۔ پر کیا کرو ں برسوں گزر گئے مگر جانے نہیں دیا جاتا۔ تیری تصویریں البم سے نکا ل کر رکھ دی ہیں مگر تو بڑا سخت جان ہے، دل پر تیرا نقش ماہ و سا ل کی گرد کے باوجود روشن ہے۔ ابھی تو آئے گا، کسی نئی حرکت، کسی نئے چٹکلے کے ساتھ۔ خوش رہ، امید ہے کہ تو نے وہاں بھی خوب ادھم مچا رکھا ہوگا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
July

تحریر : وقاراحمد

مناماٹا کنونشن ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جو انسانی صحت اور قدرتی ماحول کو مرکری کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لئے تشکیل دیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے زیرِ سرپرستی اس معاہدے پر 19 جنوری2013 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط ہوئے اور اسی سال اکتوبر میں جاپان کے شہر کما موٹو میں مناماٹا کنونشن کی باقاعدہ توثیق کردی گئی۔ اس کنونشن میں پاکستان سمیت دنیا کے 128 ممالک دستخط کر چکے ہیں۔ جبکہ50 ممالک قومی سطح پر اس کا اطلاق کر چکے ہیں۔ پاکستان میں ابھی اس کا اطلاق ہونا باقی ہے۔ اس معاہدے کا نام جاپان کے شہر مناماٹا کے نام پر کیوں رکھا گیا اور اس کی تاریخ مرکری سے کیسے جڑی؟ یہ ایک دلچسپ واقعہ ہے۔


گو کہ پارا (مرکری) ایک قدرتی دھات ہے، اور زمین یا چٹانوں میں پایا جاتا ہے، تاہم عصرِ حاضر میں اس کے صنعتی استعمال کی وجہ سے ماحول میں اس کی آمیزش ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے۔ دنیا نے سب سے پہلے اس کی زندہ مثال جاپان میں دیکھی۔ جاپان کے شہر مناماٹا میں ہونے والا واقعہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا یہاں 1908 میں چسسو کارپوریشن نامی ایک کیمیکل فیکٹری لگی جس نے 1932 میں پارے سے کچھ کیمیکلز تیار کرنا شروع کر دئیے اور اس سے آلودہ پانی مناماٹاکی خلیج میں ڈالنے لگی۔ اس کی وجہ سے وہاں کی آبی حیات پارے سے متاثر ہونے لگی اور وہاں کے سمندر میں مچھلیوں اور دیگر آبی حیات، انسانوں اور جانوروں کو متاثر کرنے لگی۔ پارے میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اگر ایک بار اس کو قدرتی ماحول میں پھینک دیا جائے تو وہ سالہا سال وہاں رہتا ہے اور حیاتیاتی انواع کو متاثر کرتا رہتا ہے۔یہ سمندر کے پودوں اور مچھلیوں وغیرہ کے جسم میں جذب ہو جاتا ہے، جب ان مچھلیوں، جھینگوں وغیرہ کو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے تو انسانی جسم میں داخل ہوکر لوگوں کو دماغی طور پر معذور کرنے لگتا ہے۔چنانچہ جاپان کے شہر مناماٹا میں بھی ایسا ہی ہوا خصوصاً وہ بچے جو اپنی پیدائش سے قبل شکم مادر میں ہی اس سے متاثر ہو چکے تھے، وہ طرح طرح کی ذہنی اور جسمانی معذوریوں کے ساتھ اس دنیا میں آنے لگے۔


رفتہ رفتہmanamataconve.jpg یہ صورتحال خطرناک ہوتی گئی اور 1956 میں کماموٹو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ’’مناماٹا ڈزیز‘‘ کے نام سے اس بیماری کی تشخیص کی جس میں مرکری کی وجہ سے طرح طرح کی اعصابی اور دماغی کمزوریاں، جیسا کہ ذہنی معذوری، رعشہ، سماعت، گویائی اور بینائی کا متاثر ہونا، اور دیگر اعصابی بیماریاں شامل ہیں‘ اور نہ صرف انسان اس کے اثرات سے متاثر ہوئے بلکہ جانوروں میں بھی ایسے ہی اثرات نظر آئے اور لوگوں نے دیکھا کہ وہاں کی بلیاں پاگل ہو گئیں اور وہ چلتے ہوئے ناچتی تھیں۔ اس بیماری سے 1784 انسان اور بیشمار جانور ہلاک ہوگئے، جبکہ ہزاروں لوگ مذکورہ بیماریوں سے متاثر ہوئے۔ عدالتی حکم نامے کے تحت چسسو کارپوریشن نے کل 86 ملین ڈالر متاثرین کو ادا کئے اور ماحول کو صاف کرنے کے اقدامات کئے۔


مناماٹا کنونشن کے ذریعہ پارے کی ماحول میں بڑھتی ہوئی مقدار اور تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماریوں کی طرف اقوامِ عالم کی توجہ مبذول کروائی جارہی ہے۔ پارا ایک ایسی دھات ہے جو کہ خالص حالت میں مائع کی شکل میں ہوتا ہے جیسا کہ تھرمامیٹر میں‘ تاہم دیگر عناصر مثلاً آکسیجن، کلورین وغیرہ سے جڑنے کے بعد اس کی کیمیاوی شکلیں اور خصوصیات مختلف ہوجاتی ہیں، جس کے باعث اس کو روزمرہ کے استعمال کی بیشمار چیزوں میں شامل کیا جاتا ہے مثلاً انرجی سیور بلب، تھرمامیٹر، اس کے مرکبات کی دانتوں میں فلنگ، الیکٹرانک اشیا میں استعمال، بیٹریز، رنگ گورا کرنے کی کریمیں، پینٹس کے علاوہ اور دیگر بیشمار صنعتی ذرائع جیسا کہ کوئلہ پاور پلانٹس، سونے کی نجی کانیں وغیرہ شامل ہیں میں استعمال ہوتاہے۔ لہٰذا ان اشیا کی پیداوار سے لے کر استعمال اور پھر فضلہ میں پھینکے جانے سے ہوا اور پانی میں اس کی مقدار بڑھ رہی ہے اور پودوں، جانوروں اور انسانوں پر اس کے زہریلے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ نجانے آج کے دور میں کتنی ایسی بیماریاں ہیں جو اس دھات یا اس جیسی دیگر ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔


پارے کے زہریلے اثرات کے بڑے واقعات جاپان کے علاوہ عراق اور پیرو وغیرہ میں بھی سامنے آچکے ہیں جس کا تفصیلی ذکر ایک امریکی سائنسدان مائیکل گوچفیلڈ اپنے2003 کے مضمون میں کر چکے ہیں. جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ میں اس دھات کو نہایت کم مقدار میں بھی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے اور خصوصاً چھوٹے بچوں کے لئے یہ انتہائی مضر ہے۔ اس کے ساتھ ہی کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اب یہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے۔


مرکری زمین یا چٹانوں سے کانوں کے ذریعہ نکالا جاتا ہے لہٰذا اس معاہدہ میں مرکری کے پھیلا کو روکنے کے لئے جن اقدامات کا فیصلہ ہوا ہے ان میں مرکری کی نئی کانوں پر پابندی، موجودہ کانوں کا بتدریج خاتمہ، اس دھات کا مختلف اشیاء میں استعمال ختم کرنا، مختلف صنعتوں میں اس کے استعمال کو دیگر متبادل عناصر سے تبدیل کرنا، صنعتوں سے ہوا، پانی اور زمین سے اس کے اخراج کو کم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ مزید یہ کہ معاہدے کی رُو سے موجودہ مرکری ملی اشیاء احتیاط سے ذخیرہ کرنا اور اس کے فضلے کو حفاظت کے ساتھ ٹھکانے لگانے کے اقدامات کرنا بھی ہے۔


اپریل میں یورپی پارلیمنٹ اس معاہدے کو منظور کر چکی ہے اور 18 مئی 2017 کو آٹھ یورپی ممالک اس معاہدے کو اپنے ہاں نافذ کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کی ماحولیاتی بیورو کی پروجیکٹ مینجر الینا لیمبریڈی کا کہنا ہے ’’یورپ نے ایک بار پھر اپنے عالمی قیادت کے کردار کو قائم رکھا ہے، اور اب اس معاہدے کو نافذ کرنے والے ممالک پچاس سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ بین الاقوامی سطح پر ایک امید افزا بات ہے۔ اسی طرح بھارتی ماہرین نے رواں سال میں ہونے والے اجلاس میں اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ پارے کے استعمال پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے۔ یہی صورتحال دنیا کے دیگر ممالک کی ہے۔


مناماٹا کنونشن کو قابلِ عمل بنانے اور ماحول میں اس دھات اس کے موجودہ پھیلا ؤکا صحیح اندازہ لگانے کے لئے ایک اور منصوبہ شروع کیا گیا جس کا نام
Innitial Assessment (MIA) Minamata
ہے. پاکستان میں کنونشن کو لاگو کرنے اور ایم ائی اے منصوبے پر عمل کرنے کی ذمہ داری کلائمیٹ چینج کی وزارت کو ملی ہے۔اس منصوبے کے نیشنل پروجیکٹ کوارڈینٹر ڈاکٹر ضیغم عباس کا کہنا ہے کہ ایم ائی اے منصوبہ 30 ستمبر 2017 تک مکمل کر لیا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ 2009 میں ایک سروے کے مطابق ملک میں مرکری کا اخراج 36900 کلوگرام تھا تاہم اس منصوبے کے تحت بعض کیمیکل فیکٹریوں میں مرکری کے متبادل پیش کئے گئے اور اس طرح مرکری کے اخراج کو 21000 کلوگرام کم کردیا گیا۔ تاہم ایم ائی اے منصوبے پر ابھی کام ہو رہا ہے، ملک بھر میں مرکری کی کتنی مقدار استعمال اور اخراج ہو رہی ہے اس کا صحیح اندازہ منصوبے کی تکمیل پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔


ایم ائی اے منصوبے کی تکمیل کے بعد اس معاہدے کو قومی اسمبلی سے منظور کروانے اور ملک میں نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔ معاہدے میں کل 35 آرٹیکل ہیں، پہلا آرٹیکل معاہدے کے مقصد کو بیان کرتا ہے، جبکہ باقی آرٹیکلز مرکری کے ماحول میں آنے کے ذرائع سے لے کر تجارتی تفصیل، اس دھات سے بنی اشیاء، اس کے صنعتی استعمال، ہوا پانی اور دیگر ماحول میں اس کے اخراج کی تفصیل کو بیان کرتے ہیں۔ معاہدے میں پارے کی ماحول میں آمیزش کی روک تھام اور اس کے لئے کئے جانے والے ممکنہ اقدامات کی مکمل ہدایات موجود ہیں۔ غرض یہ کہ 59 صفحوں پر مشتمل یہ مسودہ پارے کے متعلق ہر قسم کی تفصیل اور اس سے حفاظتی اقدامات مہیا کرتا ہے۔ یہ مسودہ ویب سائٹ پر موجود ہے اور کوئی بھی شخص اس کی تفصیل پڑھ سکتا ہے۔


لوگوں کو چاہئے کہ ایسی تمام اشیاء جن میں مرکری ملا ہو ان کے استعمال سے گریز کریں اور ان کا متبادل تلاش کریں، مثلا رنگ گورا کرنے کی کریمیں اور دیگر میک اپ کے سامان میں اجزا پڑھ کر بغیر مرکری والی اشیاء خریدیں، دانتوں کی فلنگ کے مرکب بھی اب بغیر مرکری کے تقریباً اتنی ہی قیمت میں مل ر ہے ہیں لہٰذا ان کا انتخاب کریں. اس سلسلے میں معلومات کو عام کیا جانا چاہئے۔


عوام کی صحت کی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ نہ صرف مرکری بلکہ اس جیسی دیگر دھاتیں جن میں سیسہ، تانبہ اور کیڈمیم وغیرہ شامل ہیں، ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں اور نہ صرف انسانی صحت بلکہ دیگر جانداروں کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ ان کی ماحول میں روک تھام کے لئے زہریلے مادوں پر جامع حکمتِ عملی تیار کرے اور اپنی عوام کو بہتر ماحول اور صحت مند زندگی دے۔

مضمون نگار جامع کراچی میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
July

تحریر: حمیرا شہباز

آپ کے ملک میں سب باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں؟میری روم میٹ کی جانب سے انتہائی غیر متوقع سوال تھا ۔ وہ میرے عقب میں دائیں طرف والے بستر پر بیٹھی مجھ سے مخاطب تھی جبکہ میں کل کی کانفرنس کی تیاری میں مقالہ دہرانے کے بجائے اپنے بستر پر بیٹھی نیا جوڑا استری کر رہی تھی۔ ہم دونوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے چوبیس گھنٹے تو ہو چکے تھے لیکن سلام ،صبح بخیر، اور گیلان کے خنک موسم پر سرسری تبصرے کے علاوہ ہماری کوئی خاص بات نہیں ہوپائی تھی۔ اور یہ اجتماعی نوعیت کا نہایت ذاتی سوال باقاعدہ باہمی گفتگو کا آغاز تھا۔


میں اسلام آباد، کراچی، دبئی اور تہران سے ہوتی تقریباً اٹھائیس گھنٹوں کی طویل مسافت کے بعد رات آٹھ بجے کے قریب گیلان یونیورسٹی کے خصوصی مہمان سرا کی تیسری منزل کے کمرہ نمبر اڑتیس میں پہنچی تھی۔ بستروں کی تعداد بتا رہی تھی کہ اس میں تین مہمانوں کے سمانے کی جگہ ہے۔ جو بندہ کمرے میں میرا سامان چھوڑنے آیا‘ اس نے ساتھ ہی زبانی دعوت نامہ بھی پیش کیا کہ نیچے بسیں تیار ہیں‘ سب کو کھانے پر کہیں جانا ہے۔ہمیں کوئی بیس منٹ کی مسافت پر رشت کی شہرداری میں جانا پڑا کیونکہ ناظمِ شہر پہلی فرصت میں ہماری میزبانی کا شرف حاصل کرنا چاہتا تھا۔ناظمِ رشت کا خطاب ، کانفرس کے منتظمین کی تقاریر، ایران کے مختلف شہروں اور دیگر ممالک سے آئے محققین کا استقبال، مہمان اسکالرز کے لئے تحائف، گیلان کی موسیقی، روایتی کھانا اور بہت کچھ تھا اس محفل میں۔ جو نام میرے ذہن میں رہ گیا ،وہ تھامرزا قاسمی ۔ میں اپنی پسندیدہ ایرانی غذا چلو کباب سے انصاف کر رہی تھی کہ ساتھ بیٹھی ایک میزبان نے مجھے پیشکش کی کہ آپ مرزا قاسمی بھی لیں، اس کے ہاتھ میں تھامی پلیٹ میں بینگن کا بھرتا تھا!!یقیناًمرزا قاسمی بہت لذیذ تھا۔


اس خوش آمدی عشائیہ سے واپسی تک اس کمرے کی واحد باسی میں ہی تھی جبکہ سیڑھیاں چڑھتے تقریباً ہر کمرے میں ہی میں نے دو دو ، تین تین خواتین یا کسی دانشورجوڑے کو داخل ہوتے دیکھا۔ شکر ہے میں اتنی تھک چکی تھی کہ کمرے میں اکیلے گھبرانے کی کچھ خاص فرصت نہ ملی۔مارے تھکاوٹ کے مجھے نیند نہیں آ رہی تھی بلکہ بے ہوشی طاری ہو رہی تھی۔ دھڑ دھڑ دھڑ۔ میری آنکھ کھلی تو سوچا کیا سورج میرے کمرے میں نکلا ہے؟ اتنی روشنی!!پھر یاد آیا کہ میں نے لائٹ خود ہی جلتی چھوڑ دی تھی۔ رات کا ایک تو بج رہا ہو گا۔ کوئی میرے کمرے کا دروازہ پِیٹ رہا تھا۔دھڑکتے دل سے دروازے کے پاس جا کر میں نے پوچھا : کون؟ لیکن جواب سمجھ نہیں آیا۔ دروازہ پھر کھٹکا۔ دروازہ کھولا تو وہی کارمند جو میرا سامان کمرے میں لایا تھا ‘ کسی کا بیگ لئے کھڑا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک خاتون کمرے میں وارد ہوئی۔ صاف ظاہر تھا اس نیم شب میں وارد ہونے والی یہ محترمہ میری روم میٹ تھی۔ میں نے اس سے صرف اتنا کہا کہ ٹکٹ دروازے میں لگی ہے، اس کو بند کردینا۔ البتہ سوتے سوتے مجھے اتنا اندازہ ضرور ہوا کہ میں نے اپنی روم میٹ پر اپنی فارسی دانی ثابت کر دی ہے کیونکہ شاید چابی کو میں غلطی سے ٹکٹ کہہ گئی تھی ۔


آج پورا دن بھی ہماری کوئی خاص بات نہ ہو سکی، کانفرنس کی ابتدائی تقریب، شام و نہار، اور پھر رشت کے ماڈل ویلیج کی سیر۔اب جو وہ سونے کی تیاری کر رہی تھی اور میں بستر پر اڑھائی گز کا دوپٹہ پھیلائے استری کر رہی تھی تو اس نے یہ سوال کیا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ آخر یہی سوال کیوں؟ میں نے ذہن میں اپنے پورے ملک کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔ اتنے وسیع پیمانے کا سوال تھا؟ میرے ملک کے سب لوگ۔۔۔؟ پھر میں نے اپنے اردگرد کے لوگوں، اہل خانہ، رشتہ داروں، محلے والوں، دوست احباب کو چشم تصور سے نماز پڑھتے دیکھا۔ جمعہ کے اجتماعات، خبروں میں ملک گیر عید کی نمازوں کے مناظر، مسجدوں میں شہید ہونے والے نمازیوں کی خبریں مجھے یا د آگئیں۔ میں اس کو جواباً روانی میں ہاں! کہہ ہی چکی تھی اور اس ہاں کی تصدیق میرے یہ خیالات بھی کر ہے تھے۔


اس کی اگلی بات نے مجھے اور بھی حیران کردیا۔ لیکن تم نے تو کوئی نماز نہیں پڑھی؟ جیسے کہہ رہی ہو کہ کیا سب میں تمہارا شمار نہیں ہوتا؟ میں کپڑے استری کر چکی تھی اور کمبل تان کر اسی کی طرح تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکی تھی۔ میں نے ذہن میں فارسی کا لمبا چوڑا جملہ سیدھا کر لیا تھا لیکن اسے صرف اتنا کہہ سکی: صبح پڑھوں گی۔ اس نے فوراً ایک چھوٹی سی بچی کی طرح مجھے پکا کرنے کی کوشش کی :اچھا! میں بھی تمہارے ساتھ پڑھوں گی۔میں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیا اس نے یہ ساری تمہید اسی لئے باندھی ہے ؟


تمہارا نام کیا ہے؟ اس کے سوال سے مجھے خیال آیا کہ ہم نے واقعی ایک دوسرے کا نام ابھی تک نہیں پوچھا تھا۔ اس نے میرے بتانے پر میرا نام دہرایا اور سوچتے ہوئے ہوا میں نظر گھمائی اور کہا: ہاں یہ نام ایرانیوں کا بھی ہوتا ہے۔ شاید یہ ایران کی زمین کی تاثیر تھی کہ وہ بھی ایرانیوں کی طرح ہر بات کو گھما پھرا کر ایران سے جوڑ رہی تھی۔میں نے اپنے نام کی حضرت عائشہؓ سے نسبت کی بنا پر اس کو بتایا کہ یہ عربی نام ہے۔ اس نے اپنا نام وفا بتایا’وفا ‘ اس نے اپنے اوپر کے دانت نچلے ہونٹ پر گاڑھتے ہوئے ’ف ‘کی تشدید کو واضح طور پر ادا کرتے ہوئے کہا وفا بھی عربی نام ہے۔ اور پھر وہ مزید بتاتی چلی گئی کہ و ہ ریسرچ ایسوسی ایٹ ہے، فارسی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی حامل ہے ،عربی زبان بہت اچھی طرح سے جانتی ہے اور پہلے بھی کئی بار ایران آچکی ہے ۔ یہ بات تو خیر صبح ہی پتا چل گئی تھی کہ وہ آذربائیجان باکو سے ہے۔ چونکہ آذربائیجان سے بائی روڈ آ رہی تھی اس لئے رات دیر سے پہنچ کر زحمت دینے پر وہ معذرت خواہ بھی تھی۔


ایرانیوں کی گرمجوشی سے وہ بہت متاثر تھی۔ خاص طور پر اس کے نزدیک ایرانی مرد بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ وہ خواتین کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اچھے ہونے کا یہ پیمانہ اس نے اس لئے طے کیا تھا کہ وہ کچھ عرصہ ماسکو میں کام کے سلسلے میں رہ چکی تھی اور بقول اس کے، روسی مرد بہت ’’سرد‘‘ہوتے ہیں جب کہ ایرانی ’’گرم‘‘۔ اس نے پھر سے ایرانی مردوں کی گرم جوشی اور خلوص کی وکالت کی۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ شاید زمین کا اثر ہے۔ سرد زمین ، سرد لوگ؛ گرم زمین، گرم لوگ‘ اس نے پوچھا کہ پاکستانی مرد کیسے ہوتے ہیں؟ اس کے اچھائی کے پیمانے کو میں نے مدنظر رکھتے ہوئے بس اتنا کہا:گرم تر۔ وہ ہنس دی ۔ وہ میرے لئے خوش تھی کہ میں ایسے ملک میں رہتی ہوں جہاں کے مرد عورتوں سے عزت سے پیش آتے ہیں۔
تم نے یہ جو کپڑے استری کئے ہیں بہت خوبصورت ہیں۔تمہارا لباس کتنا الگ ہے ، صاف لگتا ہے خواتین کے کپڑے ہیں، ان کا رنگ، ان کا انداز۔لیکن میرے کپڑوں اور مردوں کے کپڑوں میں کوئی فرق نہیں۔ پینٹ شرٹ، کوٹ۔ اور یہ اسکارف تو میں صرف ایران میں لیتی ہوں۔اس نے کرسی کی پشت پر ٹکائے ہوئے اسکارف کو بے نیازی سے دیکھتے ہوئے کہا۔وفا کی بات سن کر مجھے کل رشت کی شہر داری میں ایک میزبان ایرانی خاتون کا سوال یاد آگیا جو اس نے میرے صرف دو رنگ کے کپڑوں کو دیکھ کر پوچھا تھا : کیا آپ کے ملک میں خواتین دفتروں میں بھی ایسے ہی رنگ برنگے کپڑے پہنتی ہیں؟ اس کو میرے جواب سے بہت خوشی ہوئی کہ میں کسی بھی رنگ کا جوڑا پہن کر یونیورسٹی جاسکتی ہوں۔ اس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی کبھی کسی کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئے گی اور ایسے ہی رنگدار ملبوسات زیب تن کرسکے گی۔


تم جب نماز پڑھتی ہو تو کیا تمہارا دھیان پوری طرح نماز پر ہوتا ہے؟ وفا پھر سے میری نمازوں کا تنقیدی مطالعہ کرنے کے موڈ میں تھی۔ میں سمجھ گئی کہ وہ میرے خشوع و خضوع کی سطح کی پیمائش کر کے ہی رہے گی ۔ میں نے کہا:ہمیشہ نہیں۔ اور یہ سچ بھی تھا۔


کیا تمہیں نماز پڑھنے میں مزہ آتا ہے؟میرا مطلب ہے تمہیں لگتا ہے کہ تم اللہ سے باتیں کر رہی ہو؟وفا نے مزید جاننا چاہا۔ بس مجھے لگا کہ میری نمازوں کا حساب تو دنیا میں ہی ہو رہا ہے۔ وہ اپنی ظاہری وضع قطع سے اتنی مسلمان نہیں لگتی تھی جتنا اس کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ شاید جو کچھ اس کے ظاہری اطوار یا لباس کا حصہ تھا وہ اس کی علاقائی ثقافت کا ترجمان تھا جب کہ اس کی سوچ امت مسلمہ کی ایک مشترک تہذیب کی آئینہ دار تھی۔ دو الگ ثقافتی پس منظر رکھنے کے باوجود فارسی جاننے کے علاوہ ہم دونوں میں ایک اور قدر جومشترک تھی وہ ہمارا دین اسلام تھا۔ بہر حال میں نے اس کو بڑی تسلی سے بتایا کہ میرے لئے نماز پڑھنا اہم ہے کیونکہ خدا مجھ سے چاہتا ہے کہ میں یہ فرض ادا کروں اور میں بھی چاہتی ہوں کیونکہ میرے خالق کایہ حق بنتا ہے۔ لیکن ہر بار کی نماز ایک سی نہیں ہوتی۔ کوئی سوال درپیش ہو تو دعا لمبی ہو جاتی ہے۔ جبکہ شکر ادا کرنا ہو تو طویل سجدے اچھے لگتے ہیں۔ کبھی تو


بحرفی می توان گفتن تمنای جہانی را
من از ذوق حضوری طول دادم داستانی را


کبھی نماز محض ایک روٹین ورک ہوتی ہے اورکبھی ذہن اتنا منتشر ہوتا ہے کہ یاد ہی نہیں ہوتا کونسی رکعت پہ ہوں۔ اگر وفا اردو جانتی ہوتی تو میں اس کو یہ شعر ضرور سناتی
غضب کیا تیری یاد نے مجھے آ ستایا نماز میں
میرے وہ بھی سجدے قضا ہوئے جو ادا کئے تھے نماز میں
وفا نے کہا:ایسی نماز کا فائدہ؟ میں نے اس کو یاد کروایا کہ صبح کانفرنس کا سیشن جلدی شروع ہونا ہے اور نیند بھی آیا ہی چاہتی تھی۔


مجھے صبح وفا نے اٹھایا، وہ ایک دم تیار کھڑی تھی اور نیچے بسیں بھی غذا خوری کے ہال کے چکر کاٹ رہی تھیں‘ مہمانوں کو ناشتے کے لئے لے جا رہی تھیں۔ اس نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ وہ میرا وعدہ شب کیا ہوا؟ صبح کی نماز میں نے کیسے ادا کی اور کب ادا کی؟ میں نے بھی ذکر نہیں چھیڑا۔ اتفاق سے دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کا موقع مل گیا۔ میں کمرے میں پہنچی تو وفا پہلے سے ہی موجود تھی۔ میں نے وضو کیا اور اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔آؤ نماز پڑھیں۔ قبلہ کا رخ میں نے نیچے استقبالیہ سے پوچھ لیا تھا۔ اور اس رخ پر جائے نماز بچھائی تو اتفاق سے سامنے وفا کا بستر تھا۔میرا خیال تھا جتنی دیر میں میں اپنا قبلہ درست کروں گی وہ وضو کرکے میرے برابر کھڑی ہوگی۔ لیکن وفا ایک دم وفا نا آشنالگ رہی تھی، ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ میں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی اس نے بنا کسی تاثر کے کہا: تم پڑھو میں پھر پڑھوں گی۔ میں نے ایک لمحے کو سوچا کہیں ناراض تو نہیں ہو گئی میں نے فجر جو اس کے ساتھ نہیں پڑھی تھی۔ خیر اصرار تو میں کر نہیں سکتی تھی۔ جائے نماز تھوڑی کھینچ کر ایک طرف کی تاکہ وہ سامنے نہ آئے۔ ابھی میں نیت ہی باندھ رہی تھی کہ وہ بیچ میں بول پڑی۔تم اونچی آواز میں نماز پڑھ سکتی ہومیرے لئے؟ میں نے دل میں سوچا یہ کیوں میری نمازوں کے پیچھے پڑ گئی ہے پھر میرے دل میں ایک اور بھولا بھٹکا خیال بلکہ ایک بھولی بسری یاد نجانے کہاں سے آ گئی جس کو میں نے فورا ہی جھٹک دیا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور نماز شروع کر دی۔ زندگی میں کئی ایسی بے حضور نمازیں پڑھیں ہیں ۔ لیکن آج پہلا تجربہ تھا کہ میں اللہ میاں کے ساتھ کسی اور کے لئے بھی نماز پڑھ رہی ہوں۔ میں بآوازِ بلند نماز پڑھتی رہی۔ بہت عرصہ بعد میں نے دوران نماز تلاوت کرتے ہوئے اپنی آوازسنی تھی۔ سفر کی نماز کا مزہ بھی کچھ الگ ہوتا ہے۔ حالانکہ مجھے اس وقت بھی کسر نماز ادا کرنی تھی لیکن نماز پڑھنے میں مزہ آرہا تھا اس لئے میں نے پورے فرض پڑھے۔ اور اس میں مجھے کوئی شک نہیں کہ جتنی دیر میں نے اس وقت چار رکعتیں فرض کی پڑھی ہیں، بصورت دیگر پوری بارہ رکعتیں ادا کر چکی ہوتی۔ سلام پھیر کر میں نے وفا کی طرف دیکھا وہ بہت مطمئن بیٹھی ہوئی تھی۔ میں جائے نماز پر بیٹھی انگلیوں پر تسبیح پڑھ رہی تھی کہ وفا اٹھ کر بستر کے کنارے پر آئی جو جائے نماز کے قریب تھا۔ یہ تو مجھے آتی ہے؟ اس کے منہ سے جملہ نکلا۔ میں منہ اٹھائے اسے دیکھتی رہی لیکن سمجھ نہ پائی کہ اس کو کیا چیز آتی ہے۔ پھر اس نے کہا:بس پڑھ لی؟ اتنی ہی پڑھنی تھی؟ اس کی باتوں سے مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ اس نے خود ہی وضاحت شروع کر دی: تمھیں شاید یاد ہو کہ تم نے پہلی بار نماز کب پڑھی تھی لیکن مجھے تو یہ بھی نہیں یاد کہ میں نے آخری بار نماز کب پڑھی تھی۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی یقین نہیں تھا کہ مجھے نماز آتی بھی ہے یا نہیں۔میں نے تم سے بلند آواز میں پڑھنے کوبھی اسی لئے کہا تھا کہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ کیا تم بھی ویسے ہی پڑھتی ہو جیسے کہ میں جانتی ہوں۔


اُف!! یہی وہ سوچ تھی جس کو میں نے نماز پڑھنے سے قبل جھٹکا تھا۔ اس وقت مجھے اپنی سوچ پر افسوس تھااور اب شدید حیرت۔ اور یہ حیرت اس لئے نہیں تھی کہ اس پی ایچ ڈی شدہ ، فارسی دان، عربی فہم ، پکی عمر کی مسلمان خاتون کو نمازکیونکر نہیں آتی بلکہ مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ تاریخ خود کو ایسے کیسے دہرا سکتی ہے۔ یہی جملے، ایسی ہی باتیں میں نے سولہ سال قبل اسی ایران زمین پر سنی تھیں تب بھی وہ ایک آذری خاتون تھی جو کہ آذربائیجان سے فارسی زبان کا ایک ریفریشر کورس کرنے تہران آئی تھی۔ مہرآباد کی مہمان سرا کی پانچویں منزل پر جو سویٹ ہمیں ملا تھا اس کا ایک کمرہ میرے اور میری ترک نژاد جرمن روم میٹ کے پاس تھا جبکہ دوسرے کمرے میں دو آذری خواتین تھیں جو باکو یونیورسٹی کی استاد تھیں۔ ان میں سے ایک لیلیٰ تھی، بہت خوب صورت، باوقار، قدرے عمر رسیدہ (اس کا بتانا تھا کہ وہ نانی بن چکی ہے) میں جب صبح کی نماز پڑھا کرتی تھی تو وہ اپنا سیگریٹ سلگائے لاؤنج میں کھڑکی کے پاس بظاہر باہر تہران کے شمالی پہاڑوں سے پرے کوہ دماوند پر جمتی برف کی تہوں کو دیکھتی رہتی تھی۔ اور ایک دن اس کے اِس سوال نے مجھ پر واضح کر دیا کہ وہ مجھے نماز پڑھتے دیکھتی رہتی ہے۔ میں ابھی جائے نماز پر ہی بیٹھی تھی کہ لیلیٰ خانم نے مجھ سے پوچھا تھا: کیا نماز کے دوران اشکبار ہونا ضروری ہے؟ ۔ نہیں، ایسی کوئی شرط نہیں ہے میں نے مسکرا کر کہا تو پھر تم نماز میں روتی کیوں ہو؟ میری تو جیسے چوری پکڑی گئی۔نہیں تو، بس کبھی اداس ہو جاتی ہوں۔ گھر والے یاد آ جاتے ہیں۔ سار ا دن تو آپ کو پتا ہے یہ ایرانی ہمیں پڑھاتے نہیں تھکتے۔بس نماز میں ذرا فرصت مل جاتی ہے۔ مجھے لیلیٰ خانم بہت اچھی لگتی تھی لیکن کبھی اس سے بہت بات نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے ہم دونوں اکثر صبح سویرے باتیں کرتے تھے۔ایک دن اس نے مجھ سے کہا :کیا میں تمہارے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہوں؟ ہاں کیوں نہیں ۔مجھے سن کر بہت اچھا لگا۔ وفا کی طرح اس نے بھی مجھ سے اونچی آواز میں نماز پڑھنے کو کہا تھا لیکن وہ خود بھی میرے برابر کھڑی ہو جاتی تھی اور میرے پیچھے نماز دہراتی تھی۔ ہم نے کئی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں۔


میں نے وفا سے پوچھا کہ لیلیٰ خانم تو کہتی تھی کہ آذربائیجان چونکہ تازہ تازہ سوویت یونین سے الگ ہوا ہے اس لئے غلامی کے اتنے سالوں بعد نئے اسلامی ملک میں اسلامی اقدار ابھی اتنی عام نہیں۔ لیلیٰ کا دکھ صاف دکھائی دیتا تھا کہ وہ صحیح سے نماز بھی نہیں جانتی۔ لیکن یہ تو سولہ سال پرانی بات ہے اور آج وفا بھی وہیں کھڑی ہے جہاں لیلیٰ تھی۔ اتنے برسوں بعد بھی آذربائیجان کے مسلمان بنیادی عبادات سے نا آشنا ہیں؟ کیا قوموں کی زندگی میں سولہ سال کوئی معنی نہیں رکھتے؟


میں جو تحائف ساتھ لائی تھی اس میں سے وفا کو ایک ان سِلا جوڑا دیا اور اس کو بتایا کہ وہ اس کو میرے کپڑوں کی طرح سلوائے اور اس میں نماز ضرور پڑھے۔ چاہے وہ نماز کنتی ہی بے حضور کیوں نہ ہو۔ اسے چاہے لگے یا نہ لگے، وہ اللہ میاں کے ہی سامنے ہو گی۔ وفا نے اس سوٹ کا دوپٹہ کھول کر اوڑھ لیا اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں خود کے لئے ستائش تھی۔ کیسری باتِک کا دوپٹہ واقعی اس پر جچ رہا تھا۔


اس کا جذبہ ، نماز سیکھنے کی تڑپ بہت شدید تھی۔ وفا نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں آیندہ برس ہونے والی کانفرنس میں ایران ضرور آؤں ۔ پھر ہم دونوں مل کر نماز پڑھا کریں گے۔وہ اگلی نماز پڑھنے کے لئے ایک سال تک کے انتظار پر آمادہ تھی۔اس نے کہا اگر آذربائیجان میں کوئی فارسی کی کانفرنس ہوئی تو وہ مجھے ضرور دعوت دے گی۔ ایسے ہی کچھ وعدے میں نے بھی اس سے کئے۔


نماز کے مختلف اوقات میں صج کی بیداری ، دوپہر کے کھانے کا خمار، شام کی مصروفیت، رات کی نیند کا نشہ مقابل ہوتا ہے۔ بیشک یہ سب جہاد بالنفس ہے لیکن اب لیلیٰ اور وفا کی تڑپ ، ان کا شوقِ قیامِ نماز مجھے شکر پر ضرور آمادہ کرتا ہے کہ شاید بے حضور ہی سہی لیکن میں نماز پڑھ تو سکتی ہوں۔ان دونوں کو سوچوں تو اب مجھے نماز کے سجدے گراں نہیں لگتے۔

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم‘ جواں ہیں لات و منات
یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!
(علامہ اقبالؒ )

*****

 
11
July

ادارے ملکی سلامتی اور بقاء کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔ ملک کا ہر فرد اور سبھی ادارے باہم مل کر ریاست کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ لہٰذا ادارے جتنی تن دہی اور اولوالعزمی سے اپنے اپنے حصے کے فرائض انجام دے رہے ہوں‘ ریاست اُسی طرح سے ترقی اور وقار کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔ افواجِ پاکستان بھی دیگر اداروں کی مانند اپنے حصے کا کام جو کہ وطنِ عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے‘ بخوبی انجام دے رہی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ وقت پڑنے پر افواجِ پاکستان سیلاب اور زلزلوں ایسی قدرتی آفات سمیت ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی داد رسی کے لئے اپنا کردار کرتی ہیں‘پاک افواج صرف بیرونی ہی نہیں اندرونی خلفشار سے نمٹنے کے فرائض بھی سرانجام دے رہی ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال کراچی آپریشن ہے جس کے ذریعے پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی مرکز اور صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت ملک کے بعض دیگر علاقوں میں امن و امان کی بحالی میں پاک فوج کا مثالی کردار سامنے آیا ہے۔اسی طرح دہشت گردی کے عفریت پر کافی حد تک قابو پانے کے بعد اب پاک فوج فسادیوں کی سرکوبی کے لئے مصروفِ عمل ہے جس کا مقصدملک کے کونے کونے میں موجود فسادیوں اور ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اُنہیں ٹھکانے لگانا ہے تاکہ وطنِ عزیز کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔


افواجِ پاکستان اس مقصد کے لئے کہ مادرِ وطن کے شہری سکون اور امن کی زندگی بسر کرسکیں‘ مسلسل کام کرتی ہیں۔ وہ جہاں سیاچن کی یخ بستہ وادیوں میں دشمن سے نبر د آزما ہیں وہیں لائن آف کنٹرول سمیت مشرقی اور مغربی سرحدوں کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کرانجام دے رہی ہوتی ہیں۔پاک افواج ان دنوں بھی چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی ہیں جب اس ملک کے شہری اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ قومی اور مذہبی تہوار منارہے ہوتے ہیں۔ اس دوران افواجِ پاکستان کے جری سپوت اپنے اپنے گھروں اور خاندانوں سے ہزاروں میل دور دفاعِ وطن کے فریضے پر مامور ہوتے ہیں کہ بلاشبہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کسی بھی شہری کی ذاتی خوشیوں اور منفعتوں سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہے۔ اس طرح سے عسکری خدمات صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مقدس فریضہ ہے۔ یقیناًپاک افواج کے ہر شخص کی خوشیاں اپنی قوم اور اپنے شہریوں کی خوشیوں اور ان کے چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ جُڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ مسلح ا فواج کے جانبازوں کی عیدیں‘ تہوار اور دیگر خوشیاں اُن کے محاذ پر ڈٹے رہنے کے جذبوں کے اندر موجود اطمینان اور اعتمادمیں پنہاں ہوا کرتی ہیں۔ بقول یاور عباس
؂ کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
مری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا
مری سرحدوں کے اندر نہ قدم بڑھا سکو گے
مری سرحدوں تک آئے تو نہ بچ کے جا سکو گے
مری ضربِ حیدری ہے کہاں تاب لا سکو گے
کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

11
July

تحریر: یاسرپیرزادہ

خدا نے انسان کو فیصلے کرنے کا کتنا اختیار دیا ہے؟ انسان اپنے معاملات میں کس قدر آزاد ہے؟ اگر سب کچھ کاتب تقدیر نے لکھ ڈالا ہے تو پھر انسان کی آزادی کے کیا معنی ہیں اور اگر اس کی آزادی خدا کی منشا کے تابع ہے تو پھر اس سے بازپرس کیوں کر ہو گی؟ یہ وہ مسائل ہیں جن پر صدیوں سے بحث جاری ہے مگر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس مسئلے پر بہت دلچسپ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خدا کے پاس اشیاء کا علم ان کے وجود میں آنے سے قبل یعنی ازل سے ہے۔ اور یوں خدا کی منشا اس کے آفاقی فیصلے اور لوح ازل پر لکھی ہوئی تقدیر اسی ابدی علم کے مطابق ہیں۔ خدا کا ابدی فیصلہ فقط تشریحی نوعیت کا ہے۔ حتمی نہیں۔ خدا نے انسان کو فطرت کے مطابق پیدا کیا ہے۔ اسے عقل عطا کی ہے۔ پھر اسے پکارا ہے۔ نبی کے ذریعے اپنا پیغام پہنچایا ہے اور بتایا ہے کہ اسے ایمان لانا ہے اور کفر سے بچنا ہے۔ جب کوئی انسان اس پیغام کو ماننے سے انکار کرتا ہے، سچائی کو نہیں پہچانتا تو اس کی یہ بداعتقادی اس کا اپنا عمل ہے۔ جو اس نے مکمل آزادی کو بروئے کار لاکر اپنایا ہے اور یہ آزادی بھی اسے خدا کی طرف سے ہی ودیعت ہوئی ہے نہ کہ خدا نے انسان پر اپنا فیصلہ مسلط کیا ہے کہ وہ اسی انداز میں سوچے۔ امام ابوحنیفہؒ کا کہنا ہے کہ خدا نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ وہ حق و باطل میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لے۔ جو انسان آفاقی پیغام کو پالیتا ہے وہ خدا کی مدد اور ہدایت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ خدا کسی کو بھی کافر پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے ایک انسان کے طور پر پیدا کرتا ہے۔ ایمان لانا نہ لانا یکسر اس انسان کی اپنی مرضی اور منشا پر منحصر ہے۔ انسان کے تمام اعمال اس کے سونے جاگنے یا حرکت کرنے کے اس کی اپنی مرضی سے ہوتے ہیں مگر خدا ہی ان کا خالق ہے اور وہ خدا کی مرضی، علم، فیصلے اور منشا سے ہی ہو پاتے ہیں۔


امام ابوحنیفہؒ کے ایک پیروکار ابو منصور محمد الماتریدی نے اپنی شہرہ آفاق کتب ’’کتاب التوحید‘‘ اور ’’تاویلات القرآن‘‘ میں ان مسائل پر تفصیلی بحث کی ہے جیسے کہ انسان کا اختیار کتنا ہے؟ خدا کے ابدی فیصلوں کا انسان کے اعمال پر کیا اثر ہے؟ خدا کی حکمت کیا ہے؟ اس دنیا میں برائی کا وجود کیا معنی رکھتا ہے؟ مذہبی ذمہ داری کی کیا بنیاد ہے؟ ماتریدی کا کہنا ہے کہ خدا اور انسان کے مابین تعلق کو ایسا نہ سمجھا جائے جیسا کہ خدا اور مادی دنیا کا تعلق ہے۔ خدا نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا ہے۔ غلط اور صحیح کو پرکھنے کی صلاحیت دی ہے۔ اور اس کو سوچنے، سمجھنے، محسوس کرنے ،فیصلہ کرنے اور اختیار استعمال کرنے کی استعداد دی ہے۔ اس کی مدد کے لئے آسمانی کتب ارسال کی ہیں اور انہیں پیغمبروں کے ذریعے کھول کر بیان کیا ہے۔ انسان اپنے دماغ کو اسی طرف مائل کرتا ہے جہاں سے اسے فائدہ ملنے کا امکان ہو جبکہ اس طرف جانے سے روکتا ہے، جہاں نقصان کا احتمال ہو۔ انسان اپنے عقل اور شعور کی بنیاد پر ان میں سے کسی بھی راہ کا انتخاب کرتا ہے اور پھر اس انتخاب کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کا کلی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔ اب چونکہ انسان سوچتا ہے، خواہش کرتا ہے اور اپنی مرضی سے چیزوں کا انتخاب کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنے آپ کو آزاد ہی سمجھتا ہے اور کبھی یہ نہیں سمجھتا کہ کوئی بیرونی طاقت زور زبردستی سے اس پر اپنے فیصلے مسلط کر رہی ہے۔ یہ شعور آزادی بقول ماتریدی کے ایک ٹھوس حقیقت ہے جس کے انکار کا مطلب انسانی دانش اور علوم کا انکار ہو گا۔ اس انسانی آزادی سے انکار کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ انسان کے اعمال کا ذمہ دار خود انسان نہیں بلکہ خدا ہے اور یوں آخرت کے دن انسان کو اس کے گناہوں کی سزا دینا جس میں اس کا کوئی اختیار نہیں تھا، ایک غیرمنطقی بات ہو گی


ماتریدی انسان کی مختاری اور کبریائی طاقت اور اس کے ابدی فیصلوں اور انسانی اعمال پر خدا کی برتری کے اس دقیق مسئلے کو یوں ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ تخلیق صرف خدا کا اختیار ہے اور تمام انسانی اعمال اچھے، برے، اختیاری، غیراختیاری، سب اسی کے تخلیق کردہ ہیں۔ تخلیق سے مراد وہ اعمال ہیں جن کے بارے میں خدا کو اپنی لامتناہی طاقت اور کامل علم کی بدولت عدم سے وجود میں لانے کا اختیار ہے۔ کوئی بھی انسان ان تمام عوامل،وجوہات اور حالات یا اپنے عمل کے نتائج کا مکمل ادراک نہیں رکھ سکتا۔ اس کے پاس وہ مطلوبہ طاقت ہی نہیں جس کے بل پر وہ ایسا عمل کر سکے۔ چنانچہ وہ اپنے اعمال کا خالق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا کہ خدا ہی تمام انسانی اعمال کا خالق ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان تمام اعمال میں اس کی منشا شامل ہے۔ کیونکہ امر خداوندی کے واقع ہونے سے پہلے منشا الہٰی کا وجود ضروری ہے۔ اس دنیا میں خدا کی مرضی کے بغیر پتّہ بھی نہیں ہل سکتا۔ مگر اس کے ساتھ ہی خدا کو انسان کے اعمال کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ منشاءِ الہٰی کا تعین الوہی علم کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جس عمل کو ہم خدا کا تخلیق کردہ سمجھتے ہیں وہ اصل میں انسان کی اپنی عقل و دانش اور اس کی آزادانہ رائے پر مبنی عمل ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہئے کہ خدا کی مرضی سے ہی اچھا یا برا عمل وجود میں آتا ہے۔ خدا کو اس کا مکمل علم ہے کہ انسان دی گئی عقل استعمال کر کے کس راستے کا انتخاب کرے گا اور جب انسان مکمل آزادی کے ساتھ اپنا راستہ منتخب کرلیتا ہے تو خدا اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اچھائی یا برائی بھی تخلیق کر دیتا ہے۔


صدیوں سے مسلم فلسفیوں نے قضا و قدر کے اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی ہے اور ماتریدی جیسے عظیم سکالر کی کوششیں بھی اسی کا حصہ ہیں لیکن یہ مسئلہ ایسا نہیں جس کا کوئی حتمی جواب تراش کر انسان کو مطمئن کیا جا سکے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان ہرفیصلے کا ذمہ دار ہے تو اس کی تقدیر کا آدھے سے زیادہ فیصلہ تو اس وقت ہو جاتا ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے اور کم از کم اپنی پیدائش کے معاملے میں وہ مجبور ہے۔ اس ضمن میں سائنس کی تحقیق بے حد حیرت انگیز ہے۔ سٹیفن ہا کنز کے مطابق نیوروسائنس میں حالیہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ہمارا دماغ سائنس کے قوانین کے تابع ہمارے اعمال کا تعین کرتا ہے۔ نہ کہ ان قوانین سے باہر کسی قوت کے تابع۔ مثال کے طور پر دماغ کی سرجری کے چند مریضوں پر جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اگر ان کے دماغ کے مخصوص حصوں میں برقی طریقے سے تحریک پیدا کی جائے تو ان میں اپنے ہاتھ پیر یا بازؤں کو حرکت دینے حتیٰ کہ لب ہلانے اور بولنے کی خواہش بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہاکنز کہتا ہے کہ اگر ہمارا طرزعمل ہی طبعی قوانین کے تابع ہے تو انسان کی آزادی کا تصور ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ طبعی قوانین کو بروئے کار لا کر انسانی طرز عمل کی پیش گوئی تو کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ اس قدر پیچیدہ کام ہے کہ فقط ایک معمولی عمل کو جاننے کے لئے ہمیں انسانی جسم میں کھربوں مالیکیولز کے ملاپ سے متعلق مساوات کو حل کرنا پڑے گا جس کے لئے اربوں برس درکار ہوں گے۔


ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی۔
نوٹ:۔ اس کالم کو لکھنے میں اے، کے، ایوب علی کے مضامین

Tahawism
اور
Maturidism
سے استفادہ کیا گیا ہے۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہو صداقت کے لئے
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
زندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیدا کرے
خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے
سوئے گردوں نالۂ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے
(علامہ اقبال)

*****

 
11
July

تحریر: ملیحہ خادم

دریا، پہاڑ، سمندر، صحرا،زر خیز زمین اور چارموسم۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جواگرکسی ملک کے پاس ہوں تو وہاں کے باشندوں کو خوش قسمت خیال کیا جاتا ہے کیونکہ ان چھ عناصر کی موجودگی میں معیشت خود انحصاری کی راہ پر رواں دواں رہتی ہے اور عوام خوشحال رہتے ہیں نیز بہتر طرز زندگی کی ضمانت اور ذرائع روزگار بھی ہمہ وقت میسر ہیں- چونکہ مضبوط اورمستحکم معاشی حالات پرسکون معاشرے کو جنم دیتے ہیں اس لئے عوام کی فلاح کو ذہن میں رکھتے ہوئے جہاں تجارت، کاروبار اور افراط زر کے حوالے سے پالیسی بنانی ضروری ہے وہیں قدرتی وسائل کادرست استعمال بھی بے حد ضروری ہے ۔


قدرت نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازاہے۔ ہمارے پاس یہ سب چیزیں بھی ہیں اور صلاحیتوں سے مالامال قوم بھی۔ لیکن پھر بھی ہمارے معاشی حالات ابتر ہیں اور بحیثیت مجموعی ہم اور ہمارا ملک بیرونی امداد کے محتاج ہوتے جارہے ہیں۔ ہم بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ جھیل رہے ہیں، ہمارے ذرائع آمدن اورروزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ جہاں اوربہت سے عوامل اس صورتحال کو پیدا کررہے ہیں وہیں ہماری اپنی تساہل پسندی اور مستقبل پر نظر نہ رکھنے کی غلطی پاکستان کو نقصان پہنچارہی ہے۔


افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر ہمارے ارباب اختیار کی توجہ اس طرف کم ہے تو عام پاکستانی بھی کوتاہ اندیشی سے کام لے رہے ہیں۔ ہم قدرتی وسائل کو اندھادھند بغیر کسی منصوبہ بندی کے استعمال کررہے ہیں۔ ہم نے کل کے لئے سوچنا اور محنت کرنا کم کردیا ہے اس کے بجائے ہماری توجہ صرف آج سے وابستہ ہو کر رہ گئی ہے۔ تیل، پٹرولیم اور گیس کے ذخائر، قیمتی پتھر اور دھاتوں سے ہٹ کر اگر صرف قدرت کی طرف سے عطا کردہ وسائل کوہی اچھے طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان ترقی کرسکتا ہے۔

qudartiwasail.jpgدریا، پہاڑ جنگلات اور صحرا وغیرہ سیاحوں کے لئے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ وہ خدا کی خدائی دیکھنے کے لئے ایسے مقامات کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جس کا فائدہ نچلی سطح سے لے کر اوپر تک معیشت کو پہنچتا ہے۔ اس لئے ایسے مقامات کی حفاظت اور خوبصورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔


گزشتہ چند دہائیوں میں بدامنی اور دہشت گردی نے سیاحوں کو پاکستان سے خوفزدہ کردیا تھا لیکن اب جب کہ ہمارے ملک میں امن واپس آرہا ہے تو ہمیں سیاحت پر پوری توجہ دے کر پاکستان کو سیاحوں کی جنت بنا دینا چاہئے۔ اس سے معاشی حالات تو بہتر ہوں گے ہی ساتھ میں پاکستان اور پاکستانیوں کا اصل روشن اور مہمان نواز چہرہ بھی دنیا کے سامنے آئے گا۔ مناسب انتظامات اور بہتر منصوبہ بندی سے ہم مزید بہتری لا سکتے ہیں۔


پانی زندگی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ تیل کے بعد پانی پرجنگیں شروع ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ اس وقت ساری دنیا میں پانی کم ہورہا ہے۔ بیشتر ممالک نے اس بحران کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ پانی کے ذخائر بڑھانے کے علاوہ وہاں کی حکومتوں نے پانی کے بے جا استعمال اور زیاں کی روک تھام کا بندوبست بھی شروع کردیاہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں اس مسئلے کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نہ ڈیم بنارہے ہیں جو پانی ذخیرہ کرکے بجلی اور دیگر ضروریات کو پورا کریں اور نہ ہی ہماری توجہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی طرف ہے۔ بارشوں کے بعد وہ تمام پانی جو ہماری بہت سی ضروریات پوری کرسکتا ہے، سیلاب کی نظر ہوجا تا ہے اور عوام بجلی اورپانی کو ترستے رہ جاتے ہیں۔ ہم دریاؤں اور سمندرکے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بھگت رہے ہیں اور پانی کی کمی کا رونا بھی رورہے ہیں لیکن اس دہری مصیبت کے تدارک کی کوششیں سرکاری اورعوامی سطح پرآٹے میں نمک کے برابرہیں ۔ اگر ایک طرف ہماری موجودہ اور سابقہ تمام حکومتیں پانی کے ذخائر بنانے میں سستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں تو دوسری طرف عوام بلا ضرورت گھروں کے صحن، کپڑے اور گاڑیاں دھو کر پانی ضائع کرنے میں اکثر اوقات چستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔


پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی نصف سے زیادہ آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے،لیکن نااہلی اورناقص حکمت عملی نے ہمارے ملک کے زرعی شعبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کسانوں کی جدید خطوط پر تربیت نہ ہونے کے باعث کسان کاشتکاری کے نئے طریقوں سے واقف نہیں ہیں جس کی وجہ سے فصل کی کاشت کے لئے پرانے اور روایتی طریقے اپنائے جاتے ہیں، نتیجہ زرعی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے ۔ اس کی وجہ سے زراعت میں ہماری خودانحصاری کم ہورہی ہے اور ہم سبزیاں درآمد کرنا شروع کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی کمی اورزرعی اراضی کی سیرابی کے مروجہ طریقہ کارجو اکثر ملکوں میں متروکہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں، بھی کسانوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔


گزشتہ کچھ سالوں سے دنیا بھرمیں موسمیاتی تبدیلیاں رونماہورہی ہیں جن کی لپیٹ میں پاکستان بھی آیا ہوا ہے۔ اب پاکستان کا موسم بھی زیادہ گرم ہوتا جارہا ہے اور سیلاب سمیت دیگر قدرتی آفات جن میں خشک سالی، زلزلے اور طوفانی بارشیں شامل ہیں، پہلے کی نسبت زیادہ وقوع پذیر ہونے لگے ہیں۔ اس موسمیاتی تبدیلی نے زرعی پیداوار کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ بارش کی کمی‘ زیادتی یا شدید گرمی اور سردی فصلوں کونقصان پہنچارہی ہے اور چونکہ ہمارا کسان موسم کے ان تغیرات سے آگاہی نہیں رکھتا اس لئے وہ اپنی فصل کو موسمی تبدیلیوں سے بچا نہیں پاتا‘ لہٰذا اس کی محنت اور کمائی ضائع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔


ہم نے صنعتوں سے خارج ہونیوالی گیس اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے جو فضا کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی میں شامل ہوکر انسانی زندگی کی لئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ اکثر فیکٹریاں اپنا صنعتی فضلہ غیر محفوظ طریقے سے پھینک دیتی ہیں اور چونکہ سرکاری سطح پر یہاں بھی ناقص منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا دوردورہ ہے اس لئے اکثر یہ زہریلا مواد صنعتی علاقوں کے قرب و جوار کی آبادیوں میں متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کا ایک سبب یہ زہریلی اور مضر صحت گیس اور مادہ بھی ہیں جس کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے۔


گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث ہر سال قیمتی انسانی زندگیاں ضائع ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی ہماری حکومت کی حکمت عملی نہیں بن پارہی ۔ ماہرین موسمیاتی تغیرات سے بچنے کا آسان ترین حل شجر کاری کو قرار دیتے ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں نئے درخت لگانا تو درکنار لگے ہوئے درخت بھی کاٹے جارہے ہیں۔ دریاؤں کے کناروں پر موجود درخت سیلاب سے بچاو کابہترین اور قدرتی ذریعہ ہیں لیکن یہاں بھی ہم کوتاہ اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان درختوں کو کاٹ دیتے ہیں۔ ہر سال کتنے ہی ایکڑ زرعی ا راضی، رہائشی مکانات، مویشی اور انسانی جانیں سیلاب کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں لیکن ہم بیرونی امدد کے آسرے پر حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔


بجلی کے بحران، طوفا نی بارش، سیلاب سمیت ان تمام نقصانات کا خمیازہ ہماری معیشت کو بھگتنا پڑتا ہے اور ہم مزید بیرونی قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں۔ ضرورت وقت ہے کہ حکومت ان بنیادی مسائل پر خصوصی توجہ دے اور سب سے پہلے ملک میں پانی کے ذخائر میں اضافہ کرے تاکہ بجلی اور زراعت کا شعبہ مستحکم ہوسکے نیز ہر سال آنیوالے سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں سے بھی بچاجا سکے۔ نیز شجرکاری پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ گرمی کی شدت کا تدارک ہوسکے۔ دریاؤں، چشموں کے پانی کو استعمال میں لا کر اس سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ تھرکے صحرا کو پانی پہنچا کر وہاں قحط اور خشک سالی کی شکار معصوم زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب بہت زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہیں، بس ذرا سی منصوبہ بندی اور عزم درکار ہے تاکہ معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکے اور قدرتی وسائل سے استفادہ حاصل کیا جاسکے ۔

ملیحہ خادم فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
11
July

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط نمبر 18

چُھٹی اور تعزیت
چُھٹی سے زیادہ دلفریب لفظ شاید فوجی ڈکشنری میں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ چھٹی کی مثال عسکری زندگی کے صحرا میں ایک ہرے بھرے نخلستان کی مانند ہے جس کے تصور سے ہی روزمرہ کی کٹھنائیوں کی شدت کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ سپاہی کی زندگی چچا غالب کی طرح ہزاروں خواہشوں کا مرقع نہیں ہوتی بلکہ لے دے کر اس کی سوچ کا واحد محور چھٹی ہی ہوا کرتی ہے جس پہ اس کا دم بھی نکلتا ہے اور ارمان بھی ۔ جیسا کہ مرزا سے کسی نے ان کی پسند دریافت کی تو یکلخت بولے ’’آم ہوں اور عام ہوں‘‘ٹھیک ویسے ہی کسی فوجی سے اس کی دلی مراد پوچھیں تو فوراً نعرہ بلند کرے گا ’’چھٹی ہو اور کھلی ہو۔‘‘


چھٹی کا حصول ویسے تو اتنا مشکل نہیں ہوتا تاہم جب کبھی یونٹ کوئی اہم ذمہ داری سر انجام دے رہی ہویا جنگی مشقوں میں مصروف ہو تو اکثر یک انار صد بیمار والا معاملہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسے میں زیادہ ترلوگ تو صبر و شکر کا دامن تھام کر دن گزارتے ہیں لیکن کچھ مردانِ قلندر ایسے بھی ہوتے ہیں جوان بے جا پابندیوں کو خاطر میں لانا گوارا نہیں کرتے اور ہر قیمت پر چھٹی کے حصول کے لئے سرگرداں رہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ان کی جانب سے طرح طرح کے عذر بھی تراشے جاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ جب بات ’’کوئی صورت نظر نہیں آتی، کوئی امید بر نہیں آتی‘‘تک جا پہنچے تو جھوٹ بول کر کسی قریبی رشتہ دار کو اس جہان فانی سے کوچ کرو انے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ایسی صورتِ حال میں مجاز افسران کو بھی گرہ ڈھیلی کر کے مذکورہ جوان کو چھٹی کا پروانہ عطا کرنا ہی پڑتا ہے۔


یہ 1998کے موسم گرما کا ذکر ہے۔ یونٹ ان دنوں سالانہ جنگی مشقوں کے لئے جہلم کے نزدیک ٹلہ فائرنگ رینج پر کیمپ کئے ہوئے تھی۔ ایک دن ہم معمول کے کاموں میں مصروف تھے کہ سپاہی بشیر نے ہمیں اپنے والد صاحب کے انتقال کی خبر سنائی۔سپاہی بشیر کافی دنوں سے چھٹی جانے کی درخواست کر رہا تھا لیکن فارمیشن کی ہدایت کے مطابق مشقوں کے اختتام تک چھٹی پر پابندی عائدتھی اس لئے اس کی درخواست کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ بہرحال والد کی وفات کی اطلاع ملتے ہی اس کی چھٹی فوراً منظور کرلی گئی ۔ یونٹ سے ایک گاڑی روانہ کی گئی جو اسے بس میں بٹھا کر واپس لوٹی۔ دو تین دن بعد مشغولیت قدرے کم ہوئی تو سی او کے ذہن میں خیال آیا کہ بشیر کا گاؤں قریب ہی واقع ہے چنانچہ اس کے گھر والوں سے تعزیت کے لئے کسی افسر کو بھیجا جانا چاہئے۔ چونکہ اس کا تعلق ہماری کمپنی سے تھا اس لئے اس نیک کام کاقرعہ فال ہمارے نام نکلا۔ اگلے دن پروگرام کے مطابق ہم سپاہی بشیر کے گاؤں کی جانب روانہ ہوئے۔ پہلے سے اطلاع اس لئے نہیں کی جاسکی کہ اس کے لئے مطلوبہ ذرائع ہی میسر نہ تھے کیونکہ اس زمانے میں موبائل فون اس قدر عام نہیں ہوتے تھے۔


قصہ مختصر، رستہ پوچھتے پاچھتے دوپہر کے قریب بشیر کے گاؤں پہنچے ۔مطلوبہ گھر کے باہر ایک بزرگ بیٹھے ملے ۔ ہم نے ان سے بشیر کے والد کی وفات پر دلی تعزیت کی اور یونٹ کے سی او کی جانب سے سوگواران کے لئے ہمدردی کا پیغام بھی پہنچایا۔ پوری بات سن کر بابا جی نے فرمایا کہ بشیر تو میرا بیٹا ہے اور میں زندہ سلامت آ پ کے سامنے موجود ہوں۔ یہ جان کر ہمیں جو شرمندگی ہوئی، سو ہوئی لیکن ایک زندہ آدمی سے اسی کی وفات کی تعزیت کر کے ہم ایک انوکھے ریکارڈ کے حامل ضرور ہو گئے۔ ہم نے بابا جی سے بشیر کو حاضر کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ بشیر تو ابھی تک یونٹ سے گھر نہیں پہنچا۔یہ سن کر ہمارا غصہ دوچند ہوگیا۔ تلملاتے ہوئے واپس پہنچے اور بشیر کا انتظار شروع کردیا۔وہ ناہنجار پورے دس دن کی چھٹی گزار کر اٹھلاتا ہوا یونٹ واپس پہنچا۔ ہم بھی بھرے بیٹھے تھے لہٰذا اسے لے کر فی الفور سی او کے سامنے پہنچ گئے ۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی اس نے آناً فاناً سی او کے پاؤں پکڑ لئے اور کہنے لگا کہ سر! والد صاحب کی وفات کے بارے میں تو میں نے جھوٹ بولا تھا لیکن آپ یقین مانیں کہ میری والدہ بہت سخت بیمار ہیں۔ لہٰذا ان کی دیکھ بھال کے لئے مجھے دس دن کی چھٹی بھجوا دیں۔
ہمارے سی او بھی انتہائی خدا ترس انسان واقع ہوئے تھے انہوں نے نہ صرف بشیر کو معاف کردیا بلکہ اس کی بات پر یقین کرتے ہوئے مزید دس دن کی چھٹی بھی عنایت فرمادی۔


کس قیامت کی یہ کالیں
گئے وقتوں میں حضرتِ داغ کو ’’قیامت کے نامے‘‘ موصول ہوا کرتے تھے جبکہ فی زمانہ فوجی افسران کا واسطہ قیامت کی فون کالوں سے پڑتا ہے ۔آج سے بیس برس قبل موبائل فون اتنے عام نہیں ہوئے تھے اور گلشن کا تمام کاروبار یونٹ میں موجود اکلوتے سرکاری فون کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔ یہ فون دفتری اوقات میں ایڈجوٹنٹ کے تصرف میں ہوتا تھا لہٰذا نامہ بر کا کردار بھی اکثر و بیشتر وہی ادا کرتا تھا۔حسبِ روایت مرحلہ شوق کے طے ہونے تک دو چار مشکل مراحل سے گزرنا لازم تھا جن کے دوران نامہ بر کے رقیبِ روسیاہ کی صورت اختیار کرنے کا احتمال بھی ہمہ وقت موجود رہتا تھا۔


یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب آتش جوان تھا اور پشاور چھاؤنی میں عسکری خدمات سر انجام دے رہا تھا جبکہ کیپٹن ندیم ان دنوں یونٹ ایڈجوٹنٹ کے عہدہ پر فائز تھے۔ جولائی 1999 کی ایک گرم دوپہر میں ہم ایک عدد ضروری کام کے سلسلے میں ان کے آفس میں موجود تھے ۔موصوف سی او سے تازہ تازہ عزت افزائی کروانے کے بعد دفتر لوٹے تھے اوراس کیفیت میں فوج سے استعفے دینے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے تھے۔ اسی دوران فون کی گھنٹی بجی ، پتہ چلا کہ دوسری جانب ایک محترمہ موجود تھیں جو ان سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرنے کی خواہشمند تھیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ اس قسم کی شریفانہ گفتگو کا وقت تھا نہ موقع لہٰذا انہوں نے شائستگی سے معذرت فرمائی اور سر جھکا کر اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔ کچھ ہی دیر بعد گھنٹی دوبارہ بجی اور اس مرتبہ بھی دوسری جانب وہی محترمہ موجود تھیں۔ کیپٹن ندیم نے ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے ذرا درشت لہجہ میں بات کی اور فون بند کردیا لیکن یہ سلسلہ اس کے باوجود بھی نہ رکا۔ تیسری بار گھنٹی بجی ، فون اٹھایا گیا اور کیپٹن ندیم کی جانب سے پہلے سے زیادہ سخت سست سنانے کے بعد فون رکھ دیا گیا۔


اس کے بعد کیپٹن ندیم نے ہمیں ہدایت دی کہ اب اگر فون آئے تو آپ اٹینڈ کریں اور ان خاتون کو سختی سے منع کیجئے کہ وہ بار بار فون کر کے ہمیں ڈسٹرب نہ کریں۔ مشکل یہ تھی کہ ایک تو ہمیں اس طرح کے معاملات کا خاطر خواہ تجربہ نہ تھا اور دوسرے کسی خاتون سے بے رخی سے بات کرنا ہماری طبیعت شاعرانہ کو گوارا نہ تھا۔ بہرحال ایک اچھے جونئیر کی طرح دل کڑا کر کے ہم نے سینئر کے حکم کی پاسداری کرنا ضروری خیال کیا۔حسب معمول کچھ ہی دیر کے بعد فون کی گھنٹی بجی ۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، فون اٹھاتے ہی کھری کھری سنانا شروع کر دیں۔ہم اپنی دھن میں بولے چلے جا رہے تھے جبکہ دوسری جانب مکمل خاموشی طاری تھی۔ کچھ دیر بعدہم جیسے ہی سانس لینے کے لئے رکے تو ایک بھاری مردانہ آواز کانوں میں گونجی ’’بیٹا میں کمانڈر بول رہا ہوں۔ آپ فوراً سے پہلے میرے دفتر میں تشریف لے آئیں۔‘‘ اب ہماری یہ حالت کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ ہم نے انجانے میں کمانڈر کو بُرا بھلا کہہ کر گویا قیامت کو آواز دے لی تھی۔ بہرحال مرتے کیا نہ کرتے‘ کیپٹن ندیم کو ساتھ لے کر ڈرتے کانپتے کمانڈر کے آفس میں جاپہنچے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے ہم نے معافی مانگ کر تمام معاملہ ان کے گوش گزار کر دیا۔ اگرچہ کمانڈر عمر کے لحاظ سے بزرگ تھے لیکن ان کے سینے میں ایک جوان دل دھڑک رہا تھا۔ ہماری بات سن کر انہوں نے ایک زور دارقہقہہ لگایا اور مزید کچھ کہے بغیر ہمیں دفتر سے جانے کی اجازت دے دی۔ اس طرح غالب کے پرزے اڑنے سے بچ گئے ۔ اس دن کے بعد سے ہم فون پر بات کرنے سے پہلے یہ اچھی طرح یقین کر لیتے ہیں کہ کہیں دوسری جانب کمانڈر یاکوئی خاتون تو موجودنہیں۔


فوجی گاڑیاں، ڈرائیور اور انسپکشن
فوجی گاڑیوں کو اونچے نیچے پہاڑی راستوں ، دریاؤں اور صحراؤں میں رواں دواں رکھنا انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے کیونکہ یہ پٹرول سے کم اور دعاؤں سے زیادہ چلتی ہیں۔ہماری نظر میں اگر کوئی طبقہ بغیر حساب کتاب کے جنت میں جانے کا حقدار ہے تو وہ ہے فوجی ڈرائیور جو لاکھ مشکلات کے باوجود ان گاڑیوں کو صحیح سلامت منزل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ صحرا میں ہونیوالی ایک جنگی مشق کے دوران کسی فوجی گاڑی کا ایک درخت کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہو گیا۔یہ اس علاقے میں موجود تن تنہا درخت تھا اور اس کے قرب وجوار میں میلوں میل کسی اور درخت کا نام و نشان تک نہیں پایا جاتا تھا۔ ڈرائیور سے دریافت کیا گیا کہ بھلے آدمی تمہیں پورے صحرا میں گاڑی ٹکرانے کے لئے یہی اکیلا درخت ملا تھا تو اس نے جواب دیا کہ سر میں آخر تک یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس درخت کے دائیں سے گزروں یا بائیں سے ۔ یہ سوچتے سوچتے وقت ہاتھ سے نکل گیا اور گاڑی درخت سے جا ٹکرائی۔ ایک مرتبہ ہمیں گاڑیوں کے ایک قافلے کے ہمراہ کشمیر کے بلند و بالاپہاڑوں میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ اونچی نیچی پہاڑیوں اور تنگ راستوں پر سفر خاموشی سے جاری تھا کہ ہم نے وقت گزاری کے لئے ڈرائیور سے گپ شپ لگانے کا سوچا۔ ڈرائیور سے اس کے گاؤں، خاندان، یونٹ اور ادھر ادھر کی دوسری چیزوں کے بارے میں سوالات پوچھے جن کے جواب وہ دیتا گیا۔ کچھ دیر بعد جب پوچھنے کے لئے کچھ اور باقی نہیں بچا تو ہم گویا ہوئے ’’بشیر!اورتو سب ٹھیک ٹھاک ہے ناں‘‘اس پر ستم ظریف بولا ’’سر!باقی سب تو ٹھیک ہے بس گاڑی کی بریکیں کام نہیں کر رہیں۔‘‘


فوجی گاڑیوں کی دیکھ بھال ای ایم ای کور کے ذمہ ہوا کرتی ہے۔ ہر سال ایک لگے بندھے شیڈول کے مطابق گاڑیوں کی ٹیکنیکل انسپکشن بھی ای ایم ای والے ہی کرتے ہیں۔ یعنی وہی ذبح کرے اور وہی لے ثواب الٹا۔ سال بھر میں گاڑیوں کے جو نقائص ٹھیک ہونے سے رہ جاتے ہیں وہ ای ایم ای کی انسپکشن ٹیم بے دھڑک اپنی رپورٹ میں درج کرتی ہے۔ یہ موقع عموماً یونٹ کے لئے سخت امتحان کا ہوتا ہے۔ یونٹ کی کوشش ہوتی ہے کہ گاڑیوں کے نقائص انسپکشن سے پہلے کسی بھی طرح سے دور کروائے جائیں، چاہے اس کے لئے جتنا بھی خرچ یا جیسے بھی جتن کیوں نہ کرنے پڑیں۔لیکن لاکھ کوشش کے باوجود حضرت خضر کی ہم عمر کچھ گاڑیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی مسیحائی کے لئے جس ’پیمبرانہ‘ استعداد کی ضرورت ہوتی ہے وہ آج کل کے معمولی مستریوں اور مکینکوں میں کہاں مل سکتی ہے۔ اس طرح انسپکشن ٹیم کو زیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا اور ان پیرانہ سال گاڑیوں کے نقائص کی صورت میں کاغذوں کا پیٹ بھرنے کے لئے مطلوبہ مواد آسانی سے میسر آ جاتا ہے۔ یہ رپورٹ بعد میں برے بھلے ریمارکس کے ساتھ بالا ہیڈکوارٹر کو روانہ کر دی جاتی ہے جس کی سنگینی کی بنا پر بسا اوقات سی او کو کمانڈر کی جانب سے وارننگ کی صورت میں ’’خصوصی محبت نامہ‘‘بھی ارسال کر دیا جاتا ہے۔


ہم نے یونٹ کی کمانڈ سنبھالی تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ پرانی ٹیکنیکل انسپکشن رپورٹس نکلوا کر اپنے سامنے رکھ لیں۔ اس کے بعد جملہ ڈرائیوران کا اجلاس طلب کیا اور ان کو رپورٹس میں درج تمام نقائص دور کرنے پر آمادہ کیا۔ ڈرائیور حضرات نے ہمارے حکم پر دل و جان سے کام شروع کیا اور دو مہینے کے قلیل عرصے میں گاڑیوں میں موجود وہ تمام نقائص دور کرنے میں کامیاب ہو گئے جو کہ پرانی رپورٹوں میں درج تھے۔ اس کے بعد ہم نے نوٹ کیا کہ ایک پوائنٹ بڑے تواتر کے ساتھ چلا آر ہا تھا اوروہ یہ کہ یونٹ میں گاڑیاں کھڑی کرنے کے لئے شیڈ موجود نہیں جس کے باعث دھوپ، بارش اور موسم کی سختیاں گاڑیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت دن رات ایک کر کے نہ صرف تمام گاڑیوں کے لئے پکے شیڈ کھڑے کر دیئے بلکہ ساتھ ہی ساتھ ایک خوبصورت سی ورکشاپ بھی تعمیر کروادی۔ یہ سب کارنامے سرانجام دینے کے بعد ہم اپنے تئیں ایسے اترا رہے تھے کہ جیسے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔
انسپکشن کے لئے کمانڈرای ایم ای بنفس نفیس یونٹ میں تشریف لائے۔ ہم نے ان سے عرض گزاری کہ حضور ہم نے پچھلی رپورٹوں میں موجود تمام پوائنٹس جو کہ باوا آدم کے زمانے سے چلے آتے تھے، قلیل مدت میں ختم کر دیئے ہیں کیا اس کارنامے پر ہمیں کوئی شاباش ملنے کی توقع ہے؟ موصوف نے یہ سن کر کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ،سگریٹ کا لمبا کش لیا اور فرمانے لگے ’’بھائی صاحب! ہمارے پرفارمے میں کسی قسم کی تعریف کا خانہ سرے سے موجودہی نہیں ہے اس لئے آپ کی فرمائش پوری کرنا ہمارے لئے یکسرممکن نہیں ۔ الٹا آپ نے یہ کام کر کے ہمیں ایک گھمبیر مشکل کا شکار کر دیا ہے ،وہ یہ کہ پہلے تو پرانے پوائنٹس سے ہمارا کام بخوبی چل جاتا تھا جبکہ اب ہمیں تازہ پوائنٹس ڈھونڈنے کے لئے نئے سرے سے محنت کرنا پڑے گی۔‘‘

جاری ہے۔۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
July

تحریر : ڈاکٹر صفدر محمود

میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انسان زندگی بھر سیکھتا ہی رہتا ہے ۔ اس کے سیکھنے کا عمل یا علم حاصل کرنے کا سلسلہ قبر تک جاری رہتا ہے۔ علم و تحقیق کی دنیا میں کوئی حرف ،حرف آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی انسان کامل علم کے حصول کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ میں ایک معمولی سا طالب علم ہوں ، سیکھنے کی دل میں آرزو ہے اور مکالمے پر یقین رکھتا ہوں۔ البتہ اس بات کا قائل ہوں کہ بحث یا تبادلہ خیال علمی انداز میں اور تہذیب کے دائرے میں ہونا چاہئے اور طعن و تشنیع ، تنقیص اور طنز سے بچنا چاہئے کیونکہ اس سے علمی تکبر کا اظہار ہوتا ہے اور سچا علم تکبر نہیں، عاجزی سکھاتا ہے۔صرف اقتدار، اختیار ، دولت، عہدے اور شہرت ہی تکبر میں مبتلا نہیں کرتے، میں نے لوگوں کو ’’علم‘‘ کے تکبر میں مبتلا دیکھا ہے۔


سوال یہ ہے کہ پاکستان کس دن وجود میں آیا؟ میں اپنی بات بعد میں کروں گا پہلے دو معتبر حوالے ملاحظہ فرما لیجیے۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب ’پاکستان کرونیکل‘ مرتبہ عقیل عباس جعفری ہے۔ کتاب میں پاکستان کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات جمع کردی گئی ہیں۔اس لحاظ سے یہ پاکستان کی روزمرہ کی تاریخ ہے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 1پر قائداعظم کو 14اگست 1947کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سٹیج پر ہندوستان کے آخری وائسرائے ماؤنٹ بیٹن بیٹھے ہیں۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے 14اگست بروز جمعرات صبح 9بجے دستور ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن نے آزادی اور انتقال اقتدار کا اعلان کیا۔ قیام پاکستان کے لئے درمیانی شب یعنی مڈ نائٹ کا وقت طے ہوا تھا۔ پاکستان کرونیکل کے صفحہ نمبر 1کے مطابق:’’14اگست اور 15اگست کی درمیانی شب مطابق 27رمضان المبارک 1366 ہجری رات ٹھیک بارہ بجے دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار اور دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی مملکت کا اضافہ ہوا جس کا نام پاکستان ہے۔ ‘‘
( ’پاکستان کرونیکل‘ عقیل عباس جعفری ، فضلی سنز (2010) صفحہ نمبر 1)
آزادی کا اعلان صبح دستور ساز اسمبلی میں ہوچکا تھا۔ پاکستان کے پرچم کی منظوری دستور ساز اسمبلی سے 12اگست کو حاصل کی جاچکی تھی۔ 14اگست کو قائداعظم قومی پرچم کشائی کے لئے کراچی گئے تو مولانا شبیر احمد عثمانی کو اپنے ساتھ لے گئے اورانہی سے پرچم کشائی کی رسم ادا کروائی۔ڈھاکہ میں قائداعظم کے حکم پر مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہرزادے مولانا ظفر احمد عثمانی نے یہ رسم سرانجام دی۔ پرچم کشائی کا تذکرہ بھی پاکستان کرونیکل کے صفحہ نمبر 1پر موجود ہے۔ پاکستان کی پرچم کشائی کی پہلی تقریب میں دو نامور علماء اور مولانا اشرف علی تھانوی کے قریبی حضرات کو دعوت دینے اور ان سے پرچم لہروانے میں ایک پیغام پنہاں ہے۔ اس پر غور کیجئے اور سمجھنے کی کوشش کیجئے کیوں کہ قائداعظم کاہر فیصلہ سوچا سمجھا اور گہرے تدبر کا نتیجہ ہوتا تھا۔ مختصریہ ہے کہ آزادی اور انتقالِ اقتدار کا اعلان اور پاکستان کے پرچم لہرانے کی رسم 14اگست کو ہوئی اور 14 اگست کے دن چھبیس رمضان المبارک تھا۔ دوپہر دو بجے ماؤنٹ بیٹن دہلی روانہ ہوگئے جہاں اسی رات 12 بجے بھارت کی آزادی کے اعلان کے ساتھ انھیں بھارت کے گورنر جنرل کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔


اسی کتاب کے صفحہ نمبر 2پر ریڈیو پاکستان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے: ’’15-14 اگست کی درمیانی شب لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو سٹیشنوں سے رات گیارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔ 12 بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذرکی آواز میں انگریزی اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئے گی۔ رات کے ٹھیک بارہ بجے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں یہ الفاظ گونجے: ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔‘‘ ۔ فوراً بعد مولانا زاہد القاسمی نے سورہ فتح کی آیات کی تلاوت فرمائی۔ 15 اگست کو جمعتہ الوداع تھا۔ اسی دن پاکستان کا پہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا۔ اسی روز جمعتہ الوداع کے حوالے سے قائداعظم کا پیغام جاری ہوا۔


15اگست کو رمضان کی ستائیسویں تھی ۔ چنانچہ 15-14اگست کی درمیانی شب لیلتہ القدر تھی۔
اس سلسلے کا دوسرا حوالہ سید انصار ناصری کی کتاب ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ہے۔ سید انصار ناصری ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھے اور تاریخ ساز ایام اور فیصلہ کن ایام کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے 3جون کے تقسیم ہندکے اعلان کے بعد قائداعظم کی تقریر کا اردو ترجمہ اپنی زبان میں آل انڈیا ریڈیو سروس سے نشر کیا اور تقریر کے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ وہ 11اگست سے 14 اگست تک قائداعظم کی تقاریر کے تراجم ریڈیو سے نشر کرتے رہے۔ وہ اپنی کتاب ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے صفحہ نمبر 198 پر لکھتے ہیں :’’رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ نزول قرآن پاک کی مقدس رات لیلتہ القدر کی نورانی صبح، جمعتہ الوداع کا مقدس دن، ایسا قران السعدین تھا، جب رب ذوالجلال والاکرام نے اپنے محبوب ، مکرم حضرت محمد ﷺ کے طفیل ان کے کروڑوں امتیوں کے جذبہ ایمانی اور مثالی اتحاد وبرکت سے، پاکستان کی وسیع و عریض مملکت کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ ‘‘
(پاکستان زندہ باد، سید انصار ناصری،دیا پبلی کیشنز، اسلام آباد (1993)

 

اسی کتاب کے صفحہ نمبر 2پر ریڈیو پاکستان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے: ’’15-14 اگست کی درمیانی شب لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو سٹیشنوں سے رات گیارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔ 12 بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذرکی آواز میں انگریزی اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئے گی۔ رات کے ٹھیک بارہ بجے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں یہ الفاظ گونجے: ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔‘‘ ۔ فوراً بعد مولانا زاہد القاسمی نے سورہ فتح کی آیات کی تلاوت فرمائی۔ 15 اگست کو جمعتہ الوداع تھا۔ اسی دن پاکستان کا پہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا۔ اسی روز جمعتہ الوداع کے حوالے سے قائداعظم کا پیغام جاری ہوا۔

بلاشبہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں آزادی کا اعلان چودہ اگست کو ہوا، اسی روز پاکستان کے پرچم سرکاری طور پر لہرائے گئے۔ چودہ پندرہ اگست کی نصف شب پاکستان کا قیام عمل میں آگیا چنانچہ پہلا یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا گیا۔
رمضان المبارک کی آخری راتیں قرآن مجید کے نزول کے حوالے سے اہم اور مقدس ہیں۔ رہا لیلتہ القدر کا مسئلہ تو وہ ستائیسویں رمضان کے ساتھ منسلک نہیں۔ اس مقدس رات کے حوالے سے تمام احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور رات بھر عبادت کرو۔ ہم نے لیلتہ القدر کو ستائیسویں رمضان کے ساتھ وابستہ کرلیا ہے، جو کہ صحیح نہیں۔


یہ بات درست ہے کہ بھارت اسی رات کو آزاد ہوا۔ لیکن کیا بھارت مسلمان ملک ہے؟ کیا بھارت اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے؟ اور کیا بھارت رمضان، ستائیسویں رمضان اور نزول قرآن کے تقدس کو سمجھتا ہے؟ چودہ پندرہ اگست کی شب بے شمار واقعات ہوئے ہوں گے لیکن ہم بات کر رہے ہیں پاکستان کی ، جسے قائداعظم نے پریمئر اسلامی ریاست اور عالم اسلام کا حصار قراردیا تھا۔
(Speeches, Statements of Quaid e Azam vol (iv) Khurshid Ahmad Yusufi, Bazm-e-Iqbal, Lahore, p 2692 & p 2643)
بھارت تو پہلے سے موجود تھا ، بھارت کو تقسیم کرکے جو ملک دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا اس کا نام پاکستان ہے۔ یہ ایک تاریخی ، منفرد اور عظیم الشان کارنامہ تھا جو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے سرانجام دیا گیا۔ اس لئے میرے درویش استاد اوربزرگ پروفیسر منور صاحب کہا کرتے تھے کہ پاکستان پر اللہ پاک کی رحمت کا سایہ ہے۔ میرے محترم ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ پاکستان اللہ کا انعام ہے۔ وہ قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ جب انعام الہٰی کی قدر نہ کی جائے تو سزا بھی ملتی ہے۔ بہرحال یہ اپنے اپنے نقطہ نظر، احساسات اور تصورات کا معاملہ ہے۔


نعمتوں پر شکرکی بات ہوئی ہے تو مجھے پروفیسر مرزا منور صاحب کے الفاظ یاد آرہے ہیں ، جو انہوں نے اپنی کتاب حصار پاکستان کے صفحہ نمبر 194 پر لکھے ہیں:’’لاکھ لاکھ شکراس خدائے مہرباں کا جس نے اولاد آدم کی دائمی ہدایت کے لئے قرآن الفرقان ماہ رمضان کی آخری متبرک راتوں میں سے ایک میں نازل کرنا شروع کیا ، اسی طرح لاکھ لاکھ شکر خدائے رحمن کا جس نے رمضان ہی کے ماہ مبارک کی آخری مقدس راتوں میں سے ایک میں امت مسلمہ کو پاکستان کی عظیم الشان نعمت غیر مترقبہ سے نوازا۔‘‘


پاکستان رمضان المبارک کے آخری مقدس عشرے میں معرض وجود میں آیا۔ کچھ حضرات ابہام پیدا کرنے کے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 14اگست 1947کو 27 واں روزہ تھا۔ اس لئے 13اگست اور 14اگست کی درمیانی شب لیلتہ القدر تھی۔ ریکارڈ کی درستی اور تاریخ پاکستان کو مسخ ہونے سے بچانے کے لئے عرض کرتا ہوں کہ کراچی سے شائع ہونے والا ڈان کا پہلا پرچہ دیکھ لیں۔ اس کی پیشانی پر 15اگست کے ساتھ واضح طور پر 27 رمضان المبارک چھپا ہوا ہے۔ میں نے مزید تصدیق کے لئے لاہور سے شائع ہونے والا پاکستان ٹائمز بھی دیکھا۔ اس کی پیشانی پر بھی 15 اگست کے ساتھ 27رمضان المبارک چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب 15 اگست کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس روز رمضان کا ستائیسواں روزہ تھا اور جس رات پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا وہ ہمارے ہاں مروجہ تصور کے مطابق میں لیلتہ القدر تھی۔

 

بھارت تو پہلے سے موجود تھا ، بھارت کو تقسیم کرکے جو ملک دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا اس کا نام پاکستان ہے۔ یہ ایک تاریخی ، منفرد اور عظیم الشان کارنامہ تھا جو اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے سرانجام دیا گیا۔ اس لئے میرے درویش استاد اوربزرگ پروفیسر منور صاحب کہا کرتے تھے کہ پاکستان پر اللہ پاک کی رحمت کا سایہ ہے۔ میرے محترم ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ پاکستان اللہ کا انعام ہے۔ وہ قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ جب انعام الہٰی کی قدر نہ کی جائے تو سزا بھی ملتی ہے۔ بہرحال یہ اپنے اپنے نقطہ نظر، احساسات اور تصورات کا معاملہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے پہلا یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا تو پھر چودہ اگست کو یوم آزادی منانے کا فیصلہ کیونکر ہوا؟سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی مرکزی کابینہ نے وزیراعظم لیاقت علی خان کی زیر صدارت 29 جون 1948 کو فیصلہ کیا کہ آئندہ پاکستان کا یوم آزادی چودہ اگست کو منایا جائے گا۔ یہ فیصلہ کیوں کر ہوا،؟کس کی تجویز تھی؟ یہ معلوم نہ ہوسکا۔ لیکن بظاہر مقصد پاکستان کے یوم آزادی کو ہندوستان کے یوم آزادی سے الگ رکھنا تھا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں چودہ اگست کو ہندوستان ہندوستانی وائسرائے اور برطانوی حکومت کا نمائندہ ماؤنٹ بیٹن پروانۂ آزادی دے گیا تھا اور پاکستان کے پرچم بھی اسی تاریخ کو لہرا دیئے گئے تھے۔ چنانچہ چودہ اگست کو یوم آزادی منانے کا جواز موجود تھا۔ بہرحال کابینہ کے اس فیصلے کی منظوری جولائی 1948ء میں گورنر جنرل سے لی گئی اور اس حوالے سے سرکاری طور پر فوری ہدایات جاری کردی گئیں۔ چنانچہ دوسرا یوم آزادی چودہ اگست کو منایا گیا۔
میری گزارش ہے کہ ہمارے لئے ستائیسویں رمضان بہت اہم او رمقدس ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم چودہ اگست کے ساتھ ساتھ 27ویں رمضان کو بھی ذہن میں رکھیں اور نئی نسلوں کو اس تاریخی حقیقت سے آگاہ کریں۔ ستائیسویں رمضان کے ذکر سے قوت ایمانی کو تقویت ملتی ہے اور پاکستان کے مستقبل پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔


سوال یہ ہے کہ آزادئ ہند اور قیام پاکستان کے لئے چودہ اگست 1947ء کا دن کیونکر طے ہوا، کیونکہ اس تاریخ کا اعلان کرنے والوں کو ہر گز علم اور احساس نہیں تھا کہ یہ رمضان کا مبارک مہینہ ہوگا، جس رات بارہ بجے قیام پاکستان کا اعلان ہوگا، وہ شب قدر ہوگی جسے مسلمان مبارک ترین رات سمجھتے ہیں اور جس صبح پاکستان میں سورج طلوع ہوگا وہ جمعتہ الوداع ہوگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انگلستان کے وزیراعظم اٹیلی نے فروری 1947ء میں پارلیمینٹ میں اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کو جون 1948ء میں آزادی دی جاسکتی ہے۔ انگلستان کے وزیراعظم کا اعلان اپنی جگہ ، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ہونا وہی تھا جو قدرت کو منظور تھا۔ اگر لارڈ ویول ہندوستان کا وائسرائے رہتا تو شاید آزادی میں تاخیر کا سبب بنتا۔ مارچ 1947ء میں ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے بن کر آیا تو اس نے حالات کا جائزہ لینے اور ہندوستانی لیڈروں سے ملاقاتیں کرنے کے بعد محسوس کیا کہ ہم آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھے ہوئے ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ کر تباہی لاسکتا ہے۔ وہ جب دورے پر پنڈی کہوٹہ کے قریب ایک گاؤں دیکھنے کے لئے گیا تو یہ دیکھ کر صدمے سے نڈھال ہوگیا کہ سارا گاؤں فرقہ وارانہ فسادات کے سبب تباہ ہوچکا تھا۔ ’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ کی ایک تصویر میں اسے گھروں کے ملبے پر چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ پشاور پہنچا اور قلعے کی فصیل سے نیچے نظر ڈالی تو حد نظر تک برقعہ پوش خواتین کا جلوس دیکھا جو آزادی کے لئے نعرے لگارہی تھیں۔ سیاسی اور معاشرتی صورت حال کا بغور جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ہندوستان کو جلد از جلد آزاد کردینا اور یہاں سے برطانوی اقتدار کا جلد رخصت ہوجانا ہی برطانیہ اور ہندوستان دونوں کے مفاد میں ہے۔ دوسری جانب جنگ عظیم دوم نے کچھ اس طرح کا معاشی دباؤ انگلستان پر ڈالاتھا کہ انگلستان کے لئے اپنی کالونیوں پر تسلط قائم کررکھنا ممکن نہ رہا۔ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم کا منصوبہ بنایا ، حکومت سے منظوری لی اور 2 جون1947ء کو ہندوستان کے لیڈروں قائداعظم، نہرو، سردار بلدیو سنگھ سے ملاقات کرکے ٹرانسفر آف پاور کے منصوبے کو منظور کروالیا۔چنانچہ 3جون کو انتقال اقتدار کا سرکاری اعلان بھی کردیا لیکن اس میں انتقال اقتدار اور قیام پاکستان کی تاریخ اور دن کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ معاملات کو ڈھالنے کا قدرت کا اپنا انداز ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا لیکن اپنا کام کرجاتا ہے۔ 3جون کو تقسیم ہند اور انتقال اقتدار کا اعلان کرتے وقت ماؤنٹ بیٹن نے اپنی نشری تقریر میں صرف یہ کہا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی۔ اسی حوالے سے ماؤنٹ بیٹن نے 4 جون کو پریس کانفرنس کی۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ ہندوستان کے کسی وائسرائے نے پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ اس میں کوئی تین سو سے زائد ملکی اور غیر ملکی پریس نمائندے شریک تھے۔


پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد اسمبلی چیمبر دہلی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اسی گونج میں ماؤنٹ بیٹن نے سوالات کی دعوت دی۔ لطف کی بات ہے کہ سوالات کا سارا رخ انتقال اقتدار کی تفصیلات کی جانب تھا۔ آخر میں ایک ہندوستانی نمائندے نے سوال پوچھا:’’سر، ٹرانسفر آف پاور کے لئے دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے ذہن میں اس کے لئے کوئی تاریخ بھی ہوگی؟‘‘ ماؤنٹ بیٹن خود اعتمادی کے گھوڑے پر سوار تھا۔ جواب دیا ’’ہاں ہے‘‘۔ اخباری نمائندے نے پوچھا تو پھرسر، کون سی تاریخ ہے؟ ماؤنٹ بیٹن نے فریڈم ایٹ مڈ نائٹ کے مصنفین کو بتایا کہ میں انتقال اقتدار کی تاریخ کے بارے میں واضح نہیں تھا کیونکہ ابھی برطانوی پارلیمینٹ نے آزادئ ہند کا قانون پاس کرنا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ جب یہ سوال پوچھا گیا تو ماؤنٹ بیٹن یہ تاثر بھی نہیں دینا چاہتا تھا کہ فیصلے کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ وہ لمحہ بھر سوچ میں پڑگیا کہ تاریخ کا مخمصہ کیسے حل کرے۔ ماؤنٹ بیٹن جنگ عظیم دوم میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا کا کمانڈر تھا اور اس نے برما کے جنگلوں میں دشمن کو شکست دی تھی۔ جنگ عظیم دوم یورپ میں تو مئی 1945ء میں ختم ہوگئی تھی لیکن جاپان کی فوجیں مزاحمت کرتی رہیں اور لڑائی جاری رہی۔ جاپان نے چودہ اگست 1945ء کو شکست تسلیم کی اور ہتھیار ڈالنے کے لئے شرائط اپنے فیلڈ کمانڈر کو پہنچائیں۔ چنانچہ جنگ عظیم دوم سرکاری طور پر چودہ ،پندرہ اگست 1945ء کی نصف شب ختم ہوئی ۔ یہ تاریخ ماؤنٹ بیٹین کے ذہن ، قلب اور لاشعور میں کندہ تھی۔ کیونکہ یہ انگلستان کی عظیم فتح کا دن تھا۔ چنانچہ اس نے پریس کانفرنس کے آخری سوال کے دباؤ کے جواب میں فوراً اعلان کردیا ’’ہندوستان کو انتقال اقتدار 15 اگست 1947ء کو کردیا جائے گا۔ ‘‘اسے اندازہ تھا، نہ برطانوی حکمرانوں کو علم تھا کہ پندرہ اگست مسلمانوں کے ستائیسویں رمضان کا مبارک دن ہے اور 15-14 اگست کی شب ، شب قدر ہے۔ یہ قدرت کا فیصلہ تھا اور یقین رکھئے کہ قدرت کے فیصلے بلاوجہ نہیں ہوتے۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: عبد الستار اعوان

47ء میں تقسیم کے بعد بھارت کی فضا کبھی بھی مسلمانوں کے لئے سازگار نہیں رہی تاہم جب سے نریندر مودی ا ورا ن کا ٹولہ برسراقتدار آیا ہے مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر نفرتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اوریہ سرزمین ان پر اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ملک میں جس انداز سے اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں اگر یہ پالیسی ترک نہ کی گئی تو اس سے خود ریاست بہت بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے ۔ مودی سرکار کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے جونہی کوئی بہانہ ہاتھ آتا ہے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کی منافقت دیکھئے کہ وہ ایک طرف ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘ (وکاس ہندی زبان میں ترقی کو کہتے ہیں) کے نعرے لگاتے ہیں اور دوسری جانب مسلمانوں کے خلاف تعصب‘ تنگ نظر ی اور نفرتوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔آج کل ریاست آسام کے ایک کروڑ مسلمان نریندر مودی کے نشانے پر ہیں اور انہیںآسام سے بے دخل کرنے کے لئے نام نہاد قانونی جواز تلاش کرنے کی تیاریاں جار ی ہیں ۔آسام کی وزارت اعلیٰ پر مسلسل 16برس تک ترون گوگوئی جیسا متعصب شخص براجمان رہا جس کے دور میں مسلمانوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو ا اور اس نے انہیں پریشان کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،آج کل آسام کے وزیراعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے راہنما سبرانند سونووال ہیں جو 2016ء میں اس منصب پر فائز ہوئے ‘ان کے دور میں بھی مسلمانوں کے حصے میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں آیا۔


ریاست آسام بھارت کے شمال مشر ق میں واقع ہے ، اس کا دارالحکومت دسپور ہے ۔ یہ ریاست گھنے جنگلوں اور سرسبز پہاڑوں کی سرزمین کہلاتی ہے ۔ آسام کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب چونتیس فیصد بتایا جاتا ہے۔ آسام کے اکثر مسلمان بنگالی زبان بولتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بنگالی ہیں۔آسام میں مسلمانوں کی شہریت کا معاملہ گزشتہ39برس سے انتہائی سنگین چلاآ رہا ہے ۔ ماضی میں ایسے لاتعداد واقعات رونماہو چکے ہیں جب ریاستی اداروں کی ہلہ شیری سے متشدد ہندو تنظیموں نے مسلمان آبادیوں پر حملے کئے جن میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ا ور ان کی جائیدادیں برباد ہوئیں۔ مسلمانوں کو مختلف ادوار میں بنگالی ہونے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتاراجاتا رہا ہے ۔آسام کے مظلوم مسلمان 1983ء کے فسادات کو یاد کر کے آج بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں جب ہندو تنظیموں نے صرف چند دنوں میں چار ہزار کے قریب مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، عورتوں کی عصمت دری کی اور ان کی املاک کو لوٹاگیا ۔ اس واقعے کے متاثرین آج تک خوارہو رہے ہیں لیکن بھارتی عدالتیں انہیں انصاف فراہم کرنے سے کلی طور پر انکاری ہیں ۔

 

narindramodi.jpgکچھ عرصہ قبل جب آسام میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوا توعالمی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا:’’ آسام میں گزشتہ ہفتوں کے دوران بہت بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری ہوئی ہے۔ آزادی کے بعد غالباً یہ سب سے بڑا فساد ہے جس میں تقریباً چار لاکھ لوگ بے گھر ہو ئے۔ بھارت کے قومی اقلیتی کمیشن کے مطابق منظم حملوں کے بعد مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹا گیا اور اس کے بعد ان کی آبادیوں کو پوری طرح خاکستر کر دیا تاکہ یہ دوبارہ کبھی اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔غیر قانونی تارکین وطن کا سوال خطے کا ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس میں مذہبی نفرت کا پہلو بھی شامل رہا ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے آسام کے بھیانک مظالم کی خبریں کبھی شائع نہیں کی جاتیں۔‘‘
اگر ہم اس معاملے کا مختصر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شہریت کے عنوان پر آسامی مسلمانوں کے خلاف یہ مہم 1978ء میں آل آسام سٹوڈنٹس اور دیگر ہند و تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی۔ ان تنظیموں کا نعرہ تھا کہ یہ لوگ آسامی نہیں بنگالی ہیں اور انہیں ملک بدر کیا جائے ۔بعد ازاں یہ مہم مسلمانوں کے خلاف زبردست تحریک میں بدل گئی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔ جمعیۃ علما ئے ہند آسامی مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سب سے پرانی اور نمائندہ تنظیم ہے ۔اس جماعت نے دیگر اقلیتی پارٹیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کے خلاف جاری اس پرتشدد ہندو تحریک کو روکنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا اورمسلمانوں کے خلاف 1978ء سے جاری اس مہم کو 1985ء میں
Accord Assam
معاہدے کی صورت میں ختم کرانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ معاہدہ اس وقت کی راجیو گاندھی مرکزی حکومت ، آسام حکومت ، مسلمان مخالف تحریکوں اور جمعیۃ علمائے ہند کی باہمی رضامندی سے ہو ا۔ اس میں طے پایا کہ1971ء کو بنیاد بنایا جائے گا اور اس سے پہلے آسام میں آکر سکونت اختیار کرنے والوں کو بھارتی شہری تسلیم کیاجائے گا۔ بعد ازاں اس معاہدے کو پارلیمنٹ سے بھی پاس کروایا گیا اور ملک بھر کی جماعتوں نے اسے قبول کیا۔1985ء سے اب تک سب کچھ ٹھیک تھا لیکن چند سال پیشتر یہ معاہدہ اس وقت متنازع بنانے کی کوشش کی گئی جب سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کے دورِحکومت میں ہندو تنظیموں نے بھارتی عدالتوں میں رٹ دائر کر دی کہ 1971کے بجائے 1951ء کی ووٹر لسٹوں کو بنیادبنا کر شہریت کا فیصلہ کیا جائے، اس رٹ میں آسام اکارڈمعاہدے کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کر دیا گیا جس کی وجہ سے اب آسام کے لاکھوں مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیاہے ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر مسلمانوں کی نمائند ہ سیاسی جماعت جمعیۃ علمائے ہند اپنی دو حامی جماعتوں آل آسام مینارٹیز سٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی کے تعاون سے میدان میں آ کر آسام اکارڈ کا بھرپور دفاع کررہی ہے۔


اس وقت یہ کیس بھارتی سپریم کورٹ میں ہے جسے آسام کی 14مسلمان مخالف ہندوجماعتوں کی بھرپور تائید حاصل ہے جبکہ دوسری جانب تین جماعتیں جمعیۃ علمائے ہند ، آل آسام مینارٹیز سٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی اپنے حق کے لئے لڑ رہی ہیں۔یہ مقدمہ پہلے سپریم کورٹ کے ڈویژن بنچ کے پاس تھا جس نے فریقین سے سوالات کر کے انہیں جواب داخل کرنے کا حکم دیا ،بعد میں یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ کے حوالے کر دیاگیا ۔ یکم مئی 17ء کو جمعیت علمائے ہند اور اس کی حامی جماعتوں نے ان سوالات کے جوابات اور دیگر دستاویزات بنچ کے رو بروپیش کیں۔ اب سپریم کورٹ میں ان مقدمات کی باقاعد ہ سماعت کا آغا ز ہو چکا ہے اور آسام کے لاکھوں مسلمانوں کی نظریں اس فیصلے پر ہیں جو ان کے مستقبل پر اثر انداز ہونے جا رہا ہے ۔


مسلمان راہنما ؤں کا موقف بڑا واضح اور مدلل ہے کہ حکومت آسام اکار ڈ 1985کی پاسداری کرے اور اس کے مطابق ہی شہریت کا فیصلہ کیا جائے۔ آسام میں مذہب کی بنیاد پر شہری تفریق قابل قبول نہیں۔شہریت کے لیے مذہب کو بنیاد بنا نا متحدہ قومیت اوراُس سیکولراز م کے بھی سراسر منافی ہے جس کا بھارت دعویدار ہے۔ آسام میں کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے تو اسے ملک سے فوراً نکالا جانا چاہیے خواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہولیکن کسی حقیقی شہری کو بلا وجہ پریشان نہ کیا جائے۔


مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ ہندو تنظیمیں ریاستی آشیر باد سے مسلمانوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھڑا کر رہی ہیں کیونکہ آسام اکارڈ میں شہریت کا جو پیمانہ مقرر کیا گیا تھا اور جس کے تحت قومی شہری اندراج(‘ نیشنل سٹیزن رجسٹریشن) کا کام تقریباً مکمل ہوچکا تھا ،اس میں چونکہ مسلمانوں کے حوالے سے بنگلہ دیشی مسئلہ دم توڑتا ہوا نظرآیا اس وجہ سے حکومت نے یہ نئی ساز ش تیار کی اوراب وہ عدالتوں کاسہارا لے کر 71ء کے مقرر کردہ اپنے ہی وضع کردہ پیمانے کو کالعدم قرار دے کر مسلمانوں کے لئے نئی مشکلات پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ آسامی مسلمانوں کے ممتاز لیڈراور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ آسام کے مسلمانوں کے خلاف سازش چل رہی ہے کہ ان سے شہریت کے حقوق چھین لئے جائیں ، ان سے ووٹنگ کا حق سلب کر لیا جائے لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔


اس ضمن میں معروف بھارتی صحافی عابد انور اور عمران عاکف خان کہتے ہیں کہ ’’ا فسوسناک بات یہ ہے کہ آسام کی سابق ترون گوگو ئی حکومت اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے بجائے محض سیاسی مفادات کی خاطر لٹکاتی رہی۔ آسام کے مسلمانوں کے استحصال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریاستی حکومت نے آسام میں بارڈر پولیس بناکر اسے مکمل اختیا دے دیا ہے کہ وہ جسے چاہے غیر ملکی قرار دے کر عقوبت خانوں میں ڈال سکتی ہے۔ ہزاروں معصوم لوگ بارڈر پولیس کے ظلم و ستم کا شکار ہو چکے ہیں۔بھارتی صحافی برادری کا کہنا ہے کہ نئی دلی سرکار کا دوہرا پیمانہ دیکھئے کہ ایک طرف تو حکومت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر چکی ہے جس کے پاس ہوتے ہی لاکھوں غیر ملکی ہندو پناہ گزینوں کو بھارتی شہریت مل جائے گی جبکہ دوسری جانب بھارت کے لاکھوں حقیقی شہریوں کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے بھارتی شہریت سے محروم کر دیاجائے گا ‘‘۔


دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ آسام میں شہریت کے حوالے سے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ظالمانہ فیصلے سے براہ راست پچاس لاکھ مسلمان خواتین کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ آسام کے حقیقی شہری اور بنگالی مہاجر کے درمیان فرق کرنے کے لئے قومی شہری رجسٹریشن کا فارمولہ اختیار کیا گیا تھا اور اس میں شہریت کو ثابت کرنے کے لئے جودستاویزات درکار تھیں ان میں ایک پنچایت سرٹیفکیٹ بھی شامل تھا ۔ یہ سرٹیفکیٹ پنچایت سیکرٹری کی جانب سے اس لڑکی کو دیاجاتا ہے جو شادی کر کے دوسرے گھر چلی جاتی ہے، یہ سرٹیفکیٹ اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ لڑکی بنگالی نہیں آسامی شہریت کی حامل ہے ۔گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک تازہ فیصلے میں قومی رجسٹر برائے شہریت نامی اس سرٹیفکیٹ اور اس کی معاون دستاویزات کو واضح طور پربے حیثیت ،بے معنی اور غیر مستند قرار دے دیا ہے جس سے 50لاکھ سے زائد خواتین کی شہریت منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔آسام کی مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں اب تک 80فی صد کام مکمل ہو چکا تھا کہ گوہاٹی ہائی کورٹ نے اس کے خلاف فیصلہ دے ڈالا۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کی شہریتی جانچ پڑتال کے لئے ایک ٹربیونل بھی کام کر رہاہے جس کی جانب سے مسلمانوں کولاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے آسامی مسلمانوں کے نمائند ہ سیاسی وفد نے حال ہی میں وزیراعلیٰ آسام سے ملاقات کر کے کہا کہ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کو روکاجائے لیکن تاحال وزیراعلیٰ کی جانب سے کسی قسم کے اقدامات سامنے نہیں آئے۔ایک طرف ہندو تنظیموں نے آسام اکارڈ کے خلاف درجنوں مقدمات دائر کر رکھے ہیں تو دوسری جانب مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ پریشان کن امریہ ہے کہ پولیس نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلمان خواتین کو گرفتار کر ناشروع کر دیا ہے ۔


بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس قدر خطرنا ک ہے کہ عموماً مسلمان خواتین کو رات کے وقت گرفتار کر کے انہیں حراستی مراکز
(Detention Camps)
میں قید کر دیاجاتا ہے جبکہ یہ گرفتاریاں سراسر غیر قانونی ہیں۔بھارتی آئین کی روسے کسی خاتون کی گرفتاری رات کے وقت اور بغیر لیڈی پولیس کے نہیں کی جاسکتی لیکن آسام میں اس کی واضح خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے جب ان حراستی مراکز میں جانے کے لئے اجازت چاہی تو کہا گیا کہ وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہوگی، جب انہوں نے وزارت داخلہ سے رجوع کیا تو انہیں وہاں سے بھی کوئی اجازت نامہ نہ ملا ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ حراستی مراکز میں خواتین کے ساتھ کیا ہورہاہے کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا لیکن جو تھوڑی بہت اطلاعات ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ بہت لرزہ دینے والی ہیں۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مسلمان خواتین کو مجرموں کے ساتھ رکھا جارہا ہے اوردرندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عصمت دری کی جارہی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان کیمپوں میں ہزاروں مسلمان خواتین تڑپ رہی ہیں لیکن ’’سیکولر بھارت ‘‘ اور ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘کی دعویدار مودی سرکار انہیں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔


آسام کے گزشتہ ادوار اور تازہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ سراسر بی جے پی حکومت اور نریندر مودی کی مسلم دشمنی کا شاخسانہ ہے ، چونکہ آسام اکارڈ اور قومی شہری رجسٹریشن کی رو سے بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف مہم دم توڑ چکی تھی اور ان کی شہریت کا مسئلہ تقریباً حل ہو چکا تھا جبکہ مودی حکومت اور ہندو تنظیمیں نہیں چاہتیں کہ مسلمان اس سے نجات حاصل کریں چنانچہ نئی دلی سرکار ایک بار پھر ہندو تنظیموں کو تھپکی دے کر قومی شہریت کی منسوخی کا یہ ڈرامہ کھیل رہی ہے اور اپنی عدالتوں اور اپنے ہی وضع کردہ قانون اور آئینی پیمانے کے ذریعے اخلاقی جواز تلاش کرکے یہ مسئلہ دوبارہ تازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آسام کے ایک کروڑ مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ اس ضمن میں غالب گمان یہی ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کافیصلہ بھی آسام کے مسلمانوں کے خلاف آئے گا کیونکہ ماضی کے لاتعداد فیصلے گواہ ہیں جو ان نام نہادعدالتوں نے واضح طور پر جانبدار ی اور ہندو نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف دیئے ۔ خاکم بدہن‘ اگر یہ فیصلہ بھی آسام اکارڈ کے خلاف آتا ہے تو اس سے ایک کروڑ مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگنے کا خدشہ ہے۔شہریت کے حوالے سے آسامی مسلمانوں کو اس وقت آسام سول کورٹس، گوہاٹی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں درجنوں مقدمات کا سامنا ہے اور اب یہ لاکھوں فرزندان اسلام حسرت و یاس بھری نگاہوں سے ان عدالتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جن کے فیصلوں سے ان کا مستقبل روشن یا پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریک ہو جائے گا .......


بہر کیف معاملہ گولڈن ٹیمپل کا ہو ، بابری مسجد ، گجرات قتل عام یا آسام کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی حالتِ زار کا‘ یہ سب بھارتی حکمرانوں کی تنگ نظری کے مظاہر ہیں۔ جب تک بھارتی حکمران ،فوج اور ہندو لیڈراپنے اندر سے تعصب کے میل کو ختم نہیں کرتے ،اپنی اصلاح پر توجہ نہیں دیتے، اقلیتوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کی طرح زندگی گزارنے کے مواقع نہیں دیتے ‘بھارت مسائل کی دلدل میں دھنستا جائے گا اور بقول بھارتی صحافی خشونت سنگھ بالآخر اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ‘پاکستان یا دنیا کا کوئی بھی ملک اسے تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے تعصبانہ رویوں کی بدولت ہی خود کشی کا ارتکاب کر ے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: صائمہ جبار

قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ظاہر ہے شہ رگ کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ ظلم و ستم کا شکار ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے شہری پُرسکون رہ سکیں۔ گویا ان کی بے قراری ایک فطری امر ہے۔


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظلم و بربریت انتہا پر ہے ۔ ضلع بڈگام میں لوگوں کے پتھراؤ سے بچنے کے لئے ایک نوجوان کو فوجی جیپ کے آگے باندھ دیا گیا۔سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہونے والی اس ویڈیونے دنیا کو بھارتی بربریت کی صحیح تصویر دکھا ئی تو بھارت چکرا کر رہ گیا اوردنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہو نے کا دعویٰ کرنے والے بھارت نے26 اپریل 2017 کوکشمیر میں انٹر نیٹ مہیا کرنے والی تمام کمپنیوں کو فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ جیسی تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ گزشتہ پانچ برس میں بھارت 30 سے زائد کشمیریوں کا انٹر نیٹ بند کر چکا ہے۔جبکہ گزشتہ برس کشمیری کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد تو انٹرنیٹ بلیک آوٹ چھ ماہ تک جاری رہا۔برہان وانی کی شہرت بھی سوشل میڈیا سے ہی پھیلی تھی۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر کشمیری پنڈتوں کی علیٰحدہ بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ اور برہان وانی نے اپنی سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے ویڈیو پیغامات میں بھارت کے اس منصوبے کو بے نقاب کیا تھا۔ نوجوان کشمیری اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مظاہروں کی ویڈیو بناتے ہیں اور انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے اس کا جواز یہ دیا ہے کہ سماج دشمن عناصر سوشل میڈیا کو قومی مفاد کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

Software Freedom Law Centre
کی رپورٹ کے مطابق 2012 سے 2016 تک 31 سے زائد مرتبہ انٹرنیٹ کو کشمیر میں بلاک کیا گیا ہے ۔ تاہم اب پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹس پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تقریباً آٹھ لاکھ فوجی تعینات ہیں جو دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ فوجی موجودگی والا علاقہ بن چکا ہے۔ نیو یارک میں قائم کمیٹی’’ ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ ‘‘نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سوشل میڈیا پر عائد پابندی اٹھائی جائے۔رپورٹرز ودآؤٹ بارڈر کی عالمی تنظیم نے بھی کشمیر میں سوشل میڈیا بین پر تشویش کا اظہار کیا ہے،اور بھارت کو فوری طور پر یہ بین ختم کرنے کا کہا ہے۔


آج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار کرنا نا ممکن ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور وہ سوشل میڈیا کا استعمال کر کے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھا رہے ہیں۔ پیلٹ گن فائرنگ سے متاثر افراد کی تصاویر شاید ہم تک کبھی نہ پہنچتیں کیونکہ روایتی میڈیا پر تو پہلے سے پابندیاں تھیں۔ یہ تو سوشل میڈیا ہی تھا کہ جس کے ذریعے دنیا تک وہ تصاویر پہنچیں جو کہ بھارتی غنڈا گردی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔کشمیری نوجوان نہ صرف سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ احتجاج کی کال دینے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے رہے ہیں۔لوکل انتظامیہ اس بات سے خوفزدہ ہو کر سوشل میڈیا سایٹس پر پابندی لگا رہی ہے۔ٹویٹر،فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ کو بند کیا جا چکا ہے۔


لیکن ہمت ہے ان کشمیری نوجوانوں کی جنہوں نے ہار نہ ماننے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔انیس سالہ طالب علم عزیر جان نے کشمیریوں کے رابطے کے لئے فیس بک کا ایک لوکل ورژن بنا ڈالا۔جس کا نام کیش بک ہے۔کچھ ہی روز میں اس سائٹ پر سات سے آٹھ ہزار لوگوں نے اپنے آپ کو رجسٹر ڈکیا ہے اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔عزیر جان کے مطابق یہ سائٹ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ جب باقی تمام سوشل نیٹ ورکس کو بند کر دیا گیا ہے تو کشمیری آپس میں کیسے رابطے کریں گے۔ یہ سائٹ ان کو یہی سہولت دے گی۔بیانیے کی یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر بھی پھیل چکی ہے۔


آج کشمیر پہلے سے زیادہ بھارت کے خلاف ہے۔کشمیریوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے اورکشمیر میں حقِ خود ارادیت کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ مطالبہ 1947 سے چلا آ رہا ہے۔
مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا قدیم ترین بین الاقوامی حل طلب مسئلہ ہے۔بھارت پاکستان میں پہلی جنگ اسی مسئلے پر ہوئی۔بھارت اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں یکم جنوری 1948میں لے کر گیا۔کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے فوجی تعینات ہو گئے تھے۔اقوامِ متحدہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر بھارت کے ساتھ الحاق کرے گا یا پاکستان کے ساتھ اس کا فیصلہ ایک جمہوری طریقے سے حقِ خود ارادیت کے تحت کیا جائے گا۔بعد میں 3 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اس قرارداد پر پھر سے زور دیا گیا۔


اب تک کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ پیلٹ فائرنگ کا نیا ہتھیار بھارتی فوج کے ہاتھ آ گیا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کی بینائی جا چکی ہے۔ خواتین کی عصمت دری ، ماؤں کے سامنے جوان بیٹوں کا قتل بھارتی فوج کے لئے ایک عام سی بات ہے۔بھارتی افواج نے انسانی حقوق کی پامالی کا ریکارڈ کشمیر میں قائم کیا ہے۔


پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی محبت کا سلسلہ بہت پرانا اور تاریخی ہے۔ کشمیری شہدا کو پاکستانی جھنڈے میں دفنایا جاتا ہے۔ جنازوں میں پاکستان زندہ باد اور ہم لے کے رہیں گے آ زادی کے نعرے گونجتے رہتے ہیں۔
قدرتی حسن سے مالا مال وادی جموں وکشمیر انیسویں صدی میں مشہور سیاحتی مقام ہوا کرتی تھی۔ اس کا موسم اور دلکش مناظر سیاحوں کی نگاہ کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ لیکن اس حسین وادی کو ایسی نظر لگی کہ یہاں امن و امان ناپید ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ وادی کسی دیو کے تسلط میں ہے جس کی آزادی کے لئے وہاں کے مقیم اپنے خون کا نذرانہ دے رہے ہیں۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھارت کی ان سفاکانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کا نوٹس لے تا کہ کشمیر کو فلسطین بننے سے روکا جا سکے۔پاکستان کی طرف سے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کو خوش آمدید کہا گیا ہے لیکن بھارت کسی صورت اس مسئلے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی ماننے پر تیار نہیں ہوتا۔


بہرکیف جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھارت کے لئے ناممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے مظالم کو دنیا سے چھپائے رکھے۔ لہٰذا بھارت جس قدر بھی کوشش کرلے‘ ظلم و ستم کا بازار گرم کرے یا پھر سوشل میڈیا پر پابندیاں لگائے ۔ اب یہ بات طے ہے کہ جلد یا بابدیر بھارت کو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا اور کشمیریوں کو بھارت سے نجات مل کر رہے گی۔

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں بدلتی صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے طور پر جنم لیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں، سابق سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین مقابلے کے نتیجے میں دونوں طاقتوں نے اپنے ہاں اسلحے کے انبار لگانا شروع کردئیے۔ جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو دنیا کے مختلف ممالک علاقائی اقتصادی اتحادوں میں جڑنے لگے۔انہی میں سے ایک اتحاد شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ہے۔ چین ایک عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر تیزرفتار‘ زور پکڑتا ہوا ملک جانا جانے لگا اور روسی فیڈریشن، اقتصادی اور نئے عسکری اتحادوں میں اہم کردار ادا کرنے لگی۔ چین کو علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لئے نئے راستے درکار تھے۔ آج ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ چین اپنے ان اہداف میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کا قیام اِن اہداف کے لئے ہی تھا جس میں روسی فیڈریشن علاقائی توازن میں اپنا برابر حصہ ڈال رہی ہے۔


سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن کر سامنے آیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گردی کا مرکز، مشرقِ وسطیٰ بن کر ابھرا۔ عراق، شام اور لیبیا جیسی اہم ریاستوں کو جیسے کھوکھلا کیا گیا، اگر اس کو غور سے دیکھا جائے تو معاملہ سمجھ میں آتا ہے کہ دہشت گردی کو ان ممالک میں کیوں کر اور کن طاقتوں نے پلنے ‘بڑھنے اور پنپنے کے مواقع فراہم کئے۔ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے جس کو دہشت گردی کے ذریعے کھوکھلا کرنے کی عالمی سازش کارفرما تھی، جسے پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور طریقے سے ناکام بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ پاکستان اس تناظر میں ایک اہم ترین ملک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اور نئی عالمی اقتصادی طاقت عوامی جمہوریہ چین کا دیرینہ دوست اور اتحادی ہے۔ حال ہی میں چین کو راہداری دینے کے منصوبے نے پاکستان کی علاقائی طاقت کو مضبوط تر کردیا ہے۔ پاکستان سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایک نیا کردار بنانے میں کوشاں ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں 2005ء سے ایک آبزرور کی حیثیت سے اس کی شمولیت اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ اور اب جون 2017ء میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی سربراہ کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کو مکمل رکنیت دے دی گئی ہے۔ یہ پاکستان کا خطے میں ایک اہم ملک ہونے کا بڑا ثبوت ہے اور یہ کہ پاکستان کے بغیر علاقائی اتحاد نامکمل سمجھے جارہے ہیں۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے اہم ملک ہے بلکہ اس کی جیو سٹریٹجک اہمیت کو بھی کوئی علاقائی اور عالمی طاقت نظرانداز نہیں کرسکتی۔

scoorgoniz.jpg
آستانہ میں ہونے والی اس سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے شرکت کی اور کانفرنس میں شامل رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ کانفرنس میں ایک اہم توجہ دینے والی بات روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کی انہوں نے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی ایک اہم مسئلہ ہے جس سے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے رکن ممالک کو نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں پُراسرار طریقے سے جنم لینے والی دہشت گرد تنظیم
ISIS
مشرقِ وسطیٰ کے بعد وسطی ایشیا اور جنوبی روس میں دہشت گردی پھیلا کر اِن خطوں کے ممالک کو
Destabilize
کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یقیناًیہ ایک اہم مسئلہ ہے اور سوال یہ ہے کہ
ISIS
اُن ہی ممالک کو کیوں اپنے نشانے پر رکھ رہی ہے جو کسی حوالے سے عالمی سرمایہ داری کے سرخیل امریکہ کے زیادہ کہنے میں نہیں۔ شنگھائی کوآپریشن میں شامل روس اور چین کے علاوہ قازقستان، کرغستان، تاجکستان اور ازبکستان رکن ممالک ہیں۔ اگر روسی صدرپیوٹن کے اس بیان کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو وہ گمبھیر صورتِ حال سمجھ میں آتی ہے جس کی طرف انہوں نے آستانہ کانفرنس میں اشارہ کیا ہے۔ پاکستان جہاں ایک طرف ایسی ہی دہشت گردی کا شکار ملک ہے، وہیں پاکستان علاقے میں اقتصادی راہداریوں کے ذریعے اپنی حیثیت بھی منوا رہا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان میں روسی سفیر نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری سے روسی فیڈریشن مستفید ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔ بھارت اس صورتِ حال میں پیچیدگی کا شکار ہے۔ لیکن ان بدلتے ہوئے حالات میں وہ جہاں پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہا، وہاں وہ پاکستان چین راہداری منصوبے میں، جس میں روس بھی دلچسپی رکھتا ہے، اب روڑے اٹکانے کے بجائے فوائد حاصل کرنے کا خواہاں بھی ہے۔ لیکن بھارتی حکومت اس حقیقت کو حلق سے نگلنے میں بڑی تکلیف محسوس کررہی ہے۔


بہرطور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں بھارت اور پاکستان کی مکمل رکنیت کے بعد یہ تنظیم عالمی سطح پر ایک نئی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ جہاں اس میں چین اور روس جیسی اقتصادی اور عسکری طاقتیں شامل ہیں، وہیں پاکستان اور بھارت کی رکنیت نے اس تنظیم میں دنیا کی آدھی آبادی کو شامل کردیا ہے۔ اس تنظیم میں دنیا کی چار ایٹمی طاقتیں، چین، روس، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔ ایسے میں یہ ایک اقتصادی اور عالمی طاقت میں توازن میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والا علاقائی اتحاد بنتا چلا جا رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جنم لینے والے اتحادوں میں ایک اتحاد ثابت ہونے جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت خطے کے دو اہم ممالک روس اور چین ہیں اور اس کے بعد پاکستان اور بھارت دوسرے اہم ممالک ہیں۔ اس اتحاد میں پاکستان کی مکمل رکنیت پاکستان کی ایک
Powerful State
ہونے کا ثبوت ہے۔ پاکستان دھیرے دھیرے جس طرح امریکی چنگل سے باہر آرہا ہے، اس نے پاکستان کی اہمیت کو مزید مضبوط کردیا ہے۔ اگر سفارتی حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان اس اتحاد کے اندر بھی ایک طاقت ور ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ دوستی اور لاتعداد منصوبوں میں شمولیت اور خصوصاً اب پاک چین اقتصادی راہداری ، پاکستان کے‘ اس تنظیم کے اندر‘ ایک انتہائی اہم ملک ہونے کی دلیل ہے۔ روس، پاکستان کی اس اہمیت سے جس قدر آگاہ ہے، اس کا اندازہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے مابین مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات سے لگایا جا سکتا ہے۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان

جون کے پہلے ہفتے میں چھ عرب ممالک جن میں سے تین یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا تعلق خلیج تعاون کونسل سے ہے، نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر کے اس کے ساتھ تمام زمینی اور فضائی روابط منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کا ساتھ دینے والے باقی تین عرب ممالک مصر، لیبیا اور یمن ہیں۔ بعد میں تین اور ممالک یعنی جبوتی، نائیجیریا اور مالدیپ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس اقدام کی وجہ قطر کی طرف سے دہشت گرد، انتہاپسند اور جہادی تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام ہے۔ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے بعض گروپوں کو ایران کی حمایت بھی حاصل ہے۔صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بائیکاٹ کے اعلان کے بعد سعودی عرب نے قطر کو دس شرائط پوری کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا ہے جن میں اخوان المسلمین ، حماس ، حزب اﷲ اور شام میں صدر اسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات ختم کرنا، بین الاقوامی سطح پر خصوصاً عرب ملکوں میں مقبول ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’’الجزیرہ‘‘ کی نشریات پر پابندی اور اس کے عملے کو قطر سے نکل جانے کا حکم بھی شامل ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے واضح کہا ہے کہ جب تک قطر کی طرف سے ان شرائط کو پورا نہیں کیا جاتا، نہ صرف اس کا بائیکاٹ جاری رہے گا بلکہ قطر کے خلاف سخت اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف قطر نے ان اقدامات کو جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی ملک کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ کیا جائے گا۔ قطر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قطر میں جس کی 28لاکھ آبادی میں سے 80فیصد غیرملکیوں پر مشتمل ہے، عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے لیکن حکومت کا ساتھ دینے اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔

 

خلیج فارس کے اس بحران کا تعلق اگرچہ بنیادی طور پر دو برادر عرب ممالک یعنی قطر اور سعودی عرب سے ہے، لیکن اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تیل اور گیس جیسے قیمتی ذخائر کا مالک ہونے کی وجہ سے خلیج فارس کا یہ بحران نہ صرف اس میں براہ راست ملوث ہے، بلکہ علاقے میں واقع دیگر ممالک اور بین الاقوامی سطح پر بھی دوررس مضمرات کا حامل ہے۔

خلیج فارس کے اس بحران کا تعلق اگرچہ بنیادی طور پر دو برادر عرب ممالک یعنی قطر اور سعودی عرب سے ہے، لیکن اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تیل اور گیس جیسے قیمتی ذخائر کا مالک ہونے کی وجہ سے خلیج فارس کا یہ بحران نہ صرف اس میں براہ راست ملوث ہے، بلکہ علاقے میں واقع دیگر ممالک اور بین الاقوامی سطح پر بھی دوررس مضمرات کا حامل ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، قطر کا موجودہ بحران تین وجوہات کی بنا پر اس کے لئے خصوصی توجہ کا متقاضی ہے ایک یہ کہ پاکستان خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے۔ اس بحران میں شدت کے باعث اگر کسی تصادم کی نوبت آتی ہے تو پاکستان فوری طور پر اس کی لپیٹ میں آئے گا۔ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی ، تجارتی اور دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ لاکھوں پاکستانی وہاں محنت مزدوری اور دیگر قسم کے روزگار کے لئے مقیم ہیں۔ ان کی وطن کو بھیجے جانے والی زرمبادلہ کی رقوم پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل ہیں اس لئے پاکستان آخری ملک ہو گا جو خلیج فارس اور خاص طور پر اس خطے میں واقع ممالک کے درمیان کسی قسم کے تصادم کا خواہشمند ہو گا۔ دوسرے پاکستان کے سعودی عرب اور قطر دونوں کے ساتھ اہم اور قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک خصوصاً سعودی عرب میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اوورسیز ورکرز کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ قطر اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات قائم ہیں اور ان ممالک کی دفاعی افواج کو تربیت دینے کے لئے پاکستان کے فوجی دستے ان ممالک میں تعینات ہیں۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے ساتھ دو طرفہ بنیادوں پر ہمیشہ قریبی تعلقات کے قیام کی کوشش کی ہے لیکن ان کے باہمی جھگڑوں سے دور رہنے کی کوشش کی ہے۔ اسی روائتی پالیسی کے تحت پاکستان نے دو سال قبل اپنی فوج کو یمن بھجنے سے انکار رکر دیا تھا۔ تاہم اس وقت پاکستان کو قدرے پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ کیونکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم 34اسلامی ملکوں کے اتحاد میں پاکستان بھی بحیثیت ایک رکن کے شامل ہے، بلکہ ہمارے ایک سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل(ر) راحیل شریف اسی اتحاد کے تحت قائم ہونے والی فوج کے کمانڈر بھی ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس بحران میں پاکستان کا جھکاؤ سعودی عرب کی طرف زیادہ ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو قطر کی طرف سے پاکستان کو اس بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل نہ کی جاتی اور اس مقصد کے لئے قطر کا سرکاری وفد پاکستان کا دورہ نہ کرتا۔ خود وزیراعظم محمدنوازشریف نے 12جون کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم اور ان کے وفد نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات کے علاوہ سابق ولی عہد شہزادہ نائف اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد جو ملک کے وزیردفاع بھی ہیں، سے ملاقات کی تھی اور سعودی عرب کی اپنی آزادی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی یقین دہانی کرانے کے علاوہ اس بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کروانے میں اپنی خدمات کی پیش کش بھی کی تھی۔

 

khaleejtawan.jpg

پاکستان کی موجودہ حکومت بڑی دانشمندی اور احتیاط کے ساتھ ایک درست مؤقف اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس مؤقف کا مقصد اس بحران کو مزید شدید ہونے سے روکنا اور سعودی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنا ہے۔ اس خطے میں پاکستان کو جو اہم مقام حاصل ہے اس کی بنا پر پاکستان اس کردار کے ادا کرنے کا پوری طرح اہل ہے۔ دیگر اسلامی ممالک مثلاً کویت اور ترکی بھی اس بحران کا جلد از جلد خاتمہ چاہتے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ تینوں ممالک اگر مل کر مصالحت کی کوششوں کا آغاز کریں تو یہ کوششیں بارآور ثابت ہوں گی۔ کیونکہ قطر نے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ اگر سعودی عرب اور اس کا ساتھ دینے والے ممالک لچک کا مظاہرہ کریں تو بات چیت کا آغاز ہو سکتا ہے جوکہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لئے تیسرا چیلنج یہ ہے کہ اس میں ایران کو بھی ملوث کیا گیا ہے۔ بلکہ بعض تجزیہ نگاروں کی رائے میں اس بحران کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسداددہشت گردی کی آڑ میں سعودی عرب کی قیادت اور اس کی برملا حمایت سے جو اسلامی فوجی اتحاد ایران کے خلاف قائم کیا گیا ہے، قطر نے اس کا ہم نوا بننے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اس اتحاد کی سربراہی کانفرنس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اسے الگ تھلگ کرنے کی اپیل کی تھی۔ قطر نے اس اپیل پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ قطر سے پرخاش کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ قطر شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اور روس کے تعلقات میں بہتری لا رہا ہے۔ قطر کی علاقائی پالیسی میں ان تبدیلیوں کی وجہ یہ ہے کہ خلیج فارس میں پانی کے نیچے قطر کی گیس کے سب سے بڑے ذخیرے کا ایک حصہ ایران کی سمندری حدود کے اندر واقع ہے۔ اس سے استفادہ کرنے کے لئے قطر کو ایران کے تعاون کی ضرورت ہے۔ جہاں تک امریکہ اور سعودی عرب کی مرضی کے برعکس قطر کی جانب سے شام اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوشش کا تعلق ہے، تو اس کی وجہ بھی قطر کی گیس ہے۔ جسے قطر روس کی مدد سے پیداوار میں اضافہ کر کے شام اور ترکی کے راستے یورپ کو بیچنا چاہتا ہے۔ یورپ کے ممالک اس منصوبے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ کیونکہ اس کی تکمیل سے ان کا روس کی گیس پر انحصار کم ہو جائے گا۔ چونکہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے خوشگوار رہے ہیں اس لئے پاکستان کے لئے کسی ایسے اقدام کی حمایت کرنا بہت مشکل ہو گا، جس کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانا ہو۔ پاکستان نے قطر کے ساتھ مائع قدرتی گیس خریدنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ پاکستان کبھی نہیں چاہے گا کہ یہ معاہدہ کسی خطرے سے دوچار ہو۔


مستقبل میں یہ بحران کیا شکل اختیار کرے گا؟اس سلسلے میں ایک بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ قطر اور سعودی عرب میں تصادم یا خلیج کے خطے میں کسی بڑی جنگ کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی بھی تین وجوہات ہیں۔ اول سعودی عرب اور دیگر ممالک کی طرف سے مکمل ناکہ بندی کے باوجود قطر نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا ہے۔ قطر کے وزیر خارجہ نے ایک دفعہ پھر کہا ہے کہ اس کا ملک کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ دوئم تمام دنیا کے خلیج فارس کے ساتھ اس قدر اہم مفادات وابستہ ہیں کہ وہ نہیں چاہیں گے کہ اس خطے میں کنوؤں سے تیل اور گیس کی بجائے آگ کے شعلے بلند ہوں۔ خلیج فارس میں تصادم سے عالمی معاشی نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ سوئم قطر میں امریکہ کا اس علاقے میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں سے افغانستان اور شام میں امریکہ کے فضائی حملے کئے جا سکتے ہیں، کسی بڑے تصادم کی صورت میں امریکہ کے لئے اس اڈے کو استعمال کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ امریکی فوج کی طرف سے موجودہ کشیدہ صورت حال پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پھر حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟


اگرچہ کویت، ترکی اور پاکستان کی جانب سے بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم فوری طور پر بات چیت کے آغاز کا کوئی امکان نہیں اور یہ بحران موجودہ شکل میں طویل عرصے تک قائم رہ سکتا ہے۔ یہ صورت حال قطر برداشت کر سکتا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی گیس کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ میں گیس کی ترسیل پر پابندی شامل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک خود قطر کی گیس استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً متحدہ عرب امارات (یو۔ اے۔ ای) اپنی گیس کی ضروریات کا 40فیصد حصہ قطر سے درآمد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین اور فضا سے قطر کے ساتھ رابطے تو بند کر دیئے گئے ہیں لیکن پائپ لائنوں میں قطر کی سپلائی جاری ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر قطر اس بحرانی کیفیت سے ایک طویل عرصہ تک عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

تحریر: عقیل یوسفزئی

سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جب بھی کوئی بڑا حملہ سامنے آ جاتا ہے افغانستان روائتی انداز میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے جس کے باعث تلخی اور کشیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔

 

کچھ عرصہ قبل تک توقع کی جا رہی تھی کہ بدلتے حالات اور متوقع چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری واقع ہو گی۔ مگر لگ یہ رہا ہے کہ ابھی ایسا ہونے یا کرنے میں مزید وقت لگے گا اور کشیدگی بدستور برقرار رہے گی۔ مسلسل بداعتمادی اور کشیدگی کی تاریخ کئی دہائیوں پر مشتمل ہے اور اس کے متعدد عوامل اور اسباب ہیں۔ تاہم موجودہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے برسراقتدار آنے کے بعد جو جذبہ خیرسگالی تھا اور اعتماد سازی کا جو ماحول بنتا دکھائی دے رہا تھا بدقسمتی سے وہ سلسلہ بوجوہ برقرار نہ رہ سکا اور کابل میں منعقدہ ایک حالیہ کانفرنس کے دوران جناب غنی نے پھر سے وہی مسئلہ دہرایا ہے کہ ان کے بقول پاکستان نے افغانستان پر غیراعلانیہ جنگ مسلط کی ہے۔ بعض صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق افغان صدر نے 32ممالک کی مذکورہ کانفرنس کے لئے جو تقریر تیار کی تھی اس کے نکات کے بارے میں جب بعض عالمی طاقتوں کو معلوم ہوا کہ اس سے پاک افغان تعلقات میں مزید تلخی آئے گی تو انہوں نے ایک معتبر عالمی ادارے کے ذریعے جناب غنی کو پیغام بھیجوایا کہ وہ ایسی باتیں کرنے سے گریز کریں جس کے نتیجے میں ان کی کوششوں کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہوجو کہ عالمی سطح پر دونوں ممالک کو قریب لانے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ تاہم عجب صورت حال اس وقت پیدا ہو گئی جب ایوان صدر کے بعض پاکستان مخالف لوگوں نے ایک پڑوسی ملک کے زیراثر افغان میڈیا کے ذریعے وہ تقریر لیک کروائی جس میں پاکستان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسی لیک تقریر کو ری پروڈیوس یا فالو کر کے چلایا۔ ذرائع کے مطابق یہ واردات انہی لوگوں نے کی جنہوں نے مری ڈائیلاگ کے پہلے مرحلے کے بعد ایوان صدر ہی سے طالبان رہنما ملا محمدعمر کی ہلاکت کی خبر چلوائی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انتظامی طور پر افغان اداروں میں ڈسپلن کا سخت فقدان ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کرنے میں صرف بھارت ملوث نہیں ہے بلکہ بعض دیگر پڑوسی ممالک بھی اپنے اثر و رسوخ کے باعث اسی رویے پر گامزن ہیں۔ جس کا مظاہرہ بھارت کرتا آ رہا ہے۔ اشرف غنی کے مذکورہ الزام یا بیان کا پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بذات خود یہ کہہ کر جواب دیا کہ افغان صدر نے ایسا کہہ کر غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام لیا ہے اور یہ کہ پاکستان ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان کا نہ صرف خواہش مند ہے بلکہ اس کے لئے عملی کوششیں بھی کر رہا ہے۔ کور کمانڈر اجلاس میں بھی اس معاملے اور بیان کا نوٹس لیا گیا جبکہ وزارت خارجہ نے بھی اس الزام کو بلاجواز قرار دے دیا۔ جناب اشرف غنی کے اس یک طرفہ بیان نے واقعتا فاصلوں میں مزید اضافے کا راستہ ہموار کر دیا اور اس کی بازگشت کئی روز تک اسلام آباد اور کابل میں سنائی دی۔ اس کے فوراً بعد جب کابل سمیت متعدد صوبوں میں حملے ہوئے تو حسب معمول افغان میڈیا اور بعض پاکستان مخالف حلقوں نے پھر سے پاکستان پر الزامات لگائے اور صورت حال میں مزید کشیدگی واقع ہونے لگی۔ اسی تناظر میں آستانہ کانفرنس کے دوران جب افغان صدر اور پاکستان کے وزیراعظم محمدنوازشریف کی ملاقات ہوئی تو اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیراعظم پاکستان نے مختصر بات چیت کے دوران افغان صدر کو مشورہ دیا کہ وہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے ذمہ داری سے کام لیا کریں تاکہ کشیدگی اور بداعتمادی میں کمی لائی جا سکے۔ اس تمام صورت حال اور وضاحتوں کے باوجود نہ تو تاحال اعتمادسازی کا ماحول قائم ہوا ہے اور نہ ہی طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا کوئی امکان پیدا ہوا ہے۔

 

یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انتظامی طور پر افغان اداروں میں ڈسپلن کا سخت فقدان ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب کرنے میں صرف بھارت ملوث نہیں ہے بلکہ بعض دیگر پڑوسی ممالک بھی اپنے اثر و رسوخ کے باعث اسی رویے پر گامزن ہیں۔ جس کا مظاہرہ بھارت کرتا آ رہا ہے۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونو ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جب بھی کوئی بڑا حملہ سامنے آ جاتا ہے افغانستان روائتی انداز میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے جس کے باعث تلخی اور کشیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔


المیہ یہ ہے کہ افغان حکام اور میڈیا کی سوئی ابھی تک پاکستان اور حقانی نیٹ ورک پر اٹکی ہوئی ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان کی جنگ میں نہ صرف یہ کہ متعدد دیگر پراکسی ٹولز داخل ہو گئی ہیں بلکہ داعش کی صورت حال میں ایک خطرناک جنگی مشین نے بھی جڑیں پکڑ لی ہیں۔ عالمی سطح پر داعش کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے امریکہ کی آشیرباد حاصل ہے۔ تاہم افغانستان میں مشکوک امریکی کردار اور پالیسیوں پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ حالانکہ داعش نے نہ صرف افغان طالبان اور القاعدہ کو پیچھے دھکیلنے کی قوت حاصل کر لی ہے بلکہ رواں برس کے دوران سب سے زیادہ اور خطرناک حملے بھی داعش ہی نے کرائے ہیں اور صوبہ ننگرہار سمیت متعدد صوبوں میں یہ تنظیم لمبے عرصے تک قابض بھی رہی ہے۔ حال ہی میں ننگرہار میں مقامی لوگوں نے طالبان کے ساتھ مل کر داعش کے ٹھکانوں پر لشکر کشی کی جبکہ حکومت کا اس پر یہ رد عمل آیا کہ لشکر کشی اس لئے کی گئی کہ مذکورہ علاقوں میں افغان فورسز تعینات یا موجود نہیں ہیں۔ طالبان کے ساتھ اگر شہریوں نے ہاتھ ملا کر داعش پر لشکر کشی کی تو اس کو عوام کی بے بسی اور فورسز کی ناکامی ہی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اور یہی وہ بنیادی نکتہ یا مسئلہ ہے جس سے نمٹنے میں افغان حکومت کوشش کے باوجود ناکام رہی ہے کہ داعش نے اب تک سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا ہے۔


کابل کے سفارتی علاقے میں ایک ٹینکر کے ذریعے جس طریقے سے بارودی مواد پہنچایا گیا اور اس عمل کو جس انداز میں سکیورٹی کے بعض ذمہ داران کی مبینہ معاونت حاصل رہی اس پر عالمی قوتوں اور برادری نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ بعض ماہرین اس تمام صورت حال کو نئی امریکی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن کے قیام میں ناکام رہا ہے اور اب چاہتا ہے کہ ایک بار پھر اس جنگ زدہ ملک میں اپنی فورسز کی تعداد بڑھائے۔ افغانستان کے حکمران اور عوام یہ بھی بھول رہے ہیں کہ داعش نے سال 2001 کے دوران برطانیہ سمیت یورپ اور مڈل ایسٹ کے تقریباً ایک درجن ممالک کو کامیابی سے نشانہ بنایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عالمی دہشت گردی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے افغانستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تاہم حقانی نیٹ ورک کے روائتی کردار کی آڑ میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور یہی وہ رویہ ہے جس نے مسئلے کو گھمبیر بنا دیا ہے۔

 

نیٹو کے انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغان فوج میں شامل بعض اہم عہدیداران اور حلقے نہ صرف یہ کہ پسِ پردہ طالبان اور دیگر حملہ آور قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں بلکہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھی انہی لوگوں نے طالبان اور دیگر کو بعض اطلاعات، گائیڈ لائن اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ معتبر سفارتی ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ اس بات کا انکشاف حال ہی میں کابل میں موجود بعض سفاتکاروں نے اسلام آباد کی ایک متعلقہ یورپی مشن کے سربراہ کو ایک خفیہ مراسلے کے دوران کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق سال 2017 کے دوران کابل سمیت افغانستان کے 13صوبوں میں خودکش حملوں سمیت 100سے زائد حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد نشانہ بنے۔ جن میں فورسز اور پولیس کے 300 سے زائد افراد کے علاوہ تقریباً ایک درجن غیرملکی اور سفارتکار بھی شامل ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق سی آئی اے اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے جب ان حملوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا اکثر حملے اس وجہ سے کامیاب ہوئے اور حملہ آور آسانی کے ساتھ اس لئے حساس مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے کہ انہیں افغان فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کی معاونت حاصل رہی اور بعض حلقے حملہ آوروں کے ساتھ بوجوہ نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ انہوں نے خودکش بمباروں اور بارودی مواد کو ٹارگیٹڈ ایریاز میں پہنچنے کی سہولتیں بھی فراہم کیں۔ کہا جا رہا ہے کہ قندھار، ہرات، کابل اور قندوز میں حساس مقامات اور ملٹری ایریاز پر کئے گئے حملوں کی سہولت کاری کے فرائض بھی ایسے ہی عناصر نے انجام دیئے۔ جو حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود طالبان اور دیگر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل قندھار کے گورنر ہاؤس پر کئے گئے خوفناک دھماکے کے بعد بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ اس حملے کی جب نیٹو اور متحدہ عرب امارات کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ حملہ آوروں کو بعض سکیورٹی حکام کی معاونت حاصل تھی۔ جبکہ مزار شریف کے فوجی ہیڈکوارٹرز پر کئے گئے حملے میں بھی اندرونی ہاتھ ملوث پایا گیا تھا۔ حال ہی میں جب کابل کے سفارتی علاقے کو ٹینکر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور اس میں 100 افراد جان بحق اور 400زخمی ہوئے تو اس کی تحقیقات کے بعد بھی یہی صورت حال سامنے آئی اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹ میں پھر سے نشاندہی کی کہ اس حملے میں بھی حملہ آوروں کو مذکورہ افغان حلقوں یا حکام کی درپردہ معاونت حاصل تھی۔

کابل حملوں کے بعد 10جون کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کھل کر مذمت کی اور کہا کہ طالبان کی جنگ عوام یا سفارت کاروں کے بجائے امریکی اور نیٹو ٹروپس کے خلاف لڑی جا رہی ہے اور ان کی کبھی یہ پالیسی نہیں رہی کہ عوام یا بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جائے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ افغانستان عالمی اور علاقائی پراکسی وارز کا پھر سے مرکز بن گیا ہے اور صورت حال سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے بجائے ابھی تک روائتی الزامات اور بیانات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ افغان صدر اور چیف ایگزیکٹو کے تعلقات ر کا یہ عالم ہے کہ دونوں کئی ماہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے جبکہ وزراء بھی کابینہ کے اجلاسوں اور اپنے دفاتر سے غائب رہتے ہیں۔ دوسری طرف میڈیا کے علاوہ افغان سفارتی امور میں پروفیشنلز کے بجائے ایسے لوگ بٹھائے گئے ہیں جو کہ حدود و قیود اور صورتحال کی نزاکت کا خیال رکھے بغیراور اصل پراکسی ٹولز کا نام لئے بغیر پورے کا پورا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کابل کے خوفناک حملے کی ذمہ داری نہ تو داعش نے قبول کی اور نہ طالبان نے۔ مگر اس کے ڈانڈے پاکستان سے ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ حالانکہ افغان حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ چند اور طاقتور قوتیں بھی اس گیم کا عملی حصہ بنی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں افغانستان میں کئی برسوں تک فرائض سرانجام دینے والے ایک برطانوی فوجی آفیسر رابرٹ گیلی مور کا انٹرویو سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بعض دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ بھارت ہی افغان عوام اور فوج میں پاکستان کے خلاف بدگمانیاں پھیلا رہا ہے۔ اور یہ کہ افغانستان میں آئی ایس آئی یا پاکستان کی مداخلت ایک فسانہ ہے ان کے مطابق کابل میں بھارت کا بڑھتا ہوا اثرو رسوخ خطے کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور بھارت پاکستان کے خلاف لابنگ اور پراپیگنڈے کے لئے معقول فنڈنگ کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی افغانستان میں طالبان کے خلاف کئی جنگیں لڑی ہیں۔ مگر اس دوران ان سمیت کسی کو بھی پاکستان کی براہ راست مداخلت کے ثبوت نہیں ملے۔ ان کے بقول اس وقت افغانستان میں بھارت، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تیسری گریٹ گیم جاری ہے جس کا محرک اور فعال کردار بھارت ہے۔ افغانستان کے عوام پچھلے 40برسوں سے بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب ان کی قوت برداشت بھی جواب دے گئی ہے۔ ایسے میں اگر وہ کسی کے بھی خلاف رد عمل دکھاتے ہیں تو اس میں زیادہ حیرت کی کوئی بات نہیں۔ تاہم ریاستی ذمہ داران، سیاست دان اور حکمران جتنی جلد اس بات کا ادراک اور احساس کریں کہ معاملات تیزی کے ساتھ ان کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں اتنا ہی ان کے لئے افغانستان کے لئے اور خطے کے لئے بہتر ہو گا۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی عملی اور سفارتی سطح پر یہ مزید یقین دلانا ہو گا کہ اس کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور بھارت یا دیگر قوتیں افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال کر رہی ہیں تو اس کی بھی روک تھام کی جائے تاکہ علاقائی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔


نیٹو کے انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغان فوج میں شامل بعض اہم عہدیداران اور حلقے نہ صرف یہ کہ پسِ پردہ طالبان اور دیگر حملہ آور قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں بلکہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھی انہی لوگوں نے طالبان اور دیگر کو بعض اطلاعات، گائیڈ لائن اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ معتبر سفارتی ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ اس بات کا انکشاف حال ہی میں کابل میں موجود بعض سفاتکاروں نے اسلام آباد کی ایک متعلقہ یورپی مشن کے سربراہ کو ایک خفیہ مراسلے کے دوران کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق سال 2017 کے دوران کابل سمیت افغانستان کے 13صوبوں میں خودکش حملوں سمیت 100سے زائد حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد نشانہ بنے۔ جن میں فورسز اور پولیس کے 300 سے زائد افراد کے علاوہ تقریباً ایک درجن غیرملکی اور سفارتکار بھی شامل ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق سی آئی اے اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے جب ان حملوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا اکثر حملے اس وجہ سے کامیاب ہوئے اور حملہ آور آسانی کے ساتھ اس لئے حساس مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے کہ انہیں افغان فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کی معاونت حاصل رہی اور بعض حلقے حملہ آوروں کے ساتھ بوجوہ نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ انہوں نے خودکش بمباروں اور بارودی مواد کو ٹارگیٹڈ ایریاز میں پہنچنے کی سہولتیں بھی فراہم کیں۔ کہا جا رہا ہے کہ قندھار، ہرات، کابل اور قندوز میں حساس مقامات اور ملٹری ایریاز پر کئے گئے حملوں کی سہولت کاری کے فرائض بھی ایسے ہی عناصر نے انجام دیئے۔ جو حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود طالبان اور دیگر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل قندھار کے گورنر ہاؤس پر کئے گئے خوفناک دھماکے کے بعد بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ اس حملے کی جب نیٹو اور متحدہ عرب امارات کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ حملہ آوروں کو بعض سکیورٹی حکام کی معاونت حاصل تھی۔ جبکہ مزار شریف کے فوجی ہیڈکوارٹرز پر کئے گئے حملے میں بھی اندرونی ہاتھ ملوث پایا گیا تھا۔ حال ہی میں جب کابل کے سفارتی علاقے کو ٹینکر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور اس میں 100 افراد جان بحق اور 400زخمی ہوئے تو اس کی تحقیقات کے بعد بھی یہی صورت حال سامنے آئی اور نیٹو کے انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹ میں پھر سے نشاندہی کی کہ اس حملے میں بھی حملہ آوروں کو مذکورہ افغان حلقوں یا حکام کی درپردہ معاونت حاصل تھی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
13
June
جون 2017
شمارہ:6 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ملکی دفاع کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہوا کرتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اگر کوئی ریاست دفاعی اعتبار سے کمزور ہو اور اس کی سپاہ اس قابل نہ ہو کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے تو پھر ایسی ریاست کی سالمیت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام نے معاشرت اور سماجی اعتبار سے ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی لائن کو بھی....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس کے باوجود بہتر نہیں ہوپارہے کہ دونوں ممالک کو نہ صرف ایک جیسے حالات خصوصاً دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ ان کے درمیان بہتر تعلقات علاقے اور خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ حال ہی میں جب لندن اجلاس کے تناظر میں طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے رابطے بحال ہونا شروع ہوگئے تو پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ایک....Read full article
 
 alt=
تحریر: حماس حمید چودھری
206 قبل مسیح میں ہان خاندان چین میں برسر اقتدار آیا۔ہان خاندان کی چار سو سالہ حکومت چین کی معاشی تاریخ میں سنہرے دور کے طور پر یاد کی جاتی ہے کیونکہ ہان خاندان نے تاریخ میں پہلی بار ایشیا کو افریقہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی مقاصد کے لئے براہ راست جوڑنے کا سوچا اور پھریہی سوچ بنیاد بنی شاہراہ ریشم کی۔ اس قدیم شاہراہ ریشم(سلک روڈ) کی....Read full article
 
تحریر: محمود شام
قلم کا قرطاس سے‘ذہن کا انگلیوں سے‘ سوچ کا تحریر سے رشتہ جوڑتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے‘ مگر ایسا انتشار‘ ایسی انارکی اور بے یقینی کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ اتنی تشویش محسوس کی تھی۔ہر جانے والا دن‘ ہر ڈوبنے والا سورج بہت سی اُمیدیں لے کر ڈوب جاتا ہے۔ آرزوئیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ اتنی شدت پسندی پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کی تھی۔ مذہبی ....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہونے والی امریکہ ،عرب اسلامی سربراہی کانفرنس اپنی نوعیت کے حوالے سے ایک منفردکانفرنس تھی، کانفرنس کے کیانتائج برآمد ہوں گے ،یہ آنے والاوقت بتائے گا۔ حیرت کی بات ہے امریکی صدر کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں نظر نہ آئیں ،انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کوفروغ دینے والے بھارت کودہشت گردی سے متاثرہ ملک قراردے دیا۔اس کانفرنس سے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں دانشوروں کا ایک ایسا منظم گروہ متحرک ہوگیا ہے جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے بارے میں شکوک و شبہات اور کنفیوژن پیدا کررہا ہے بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کررہا ہے۔ ان کے ایجنڈے کا ایک اہم نقطہ قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا ہے تاکہ پاکستان کی اسلامی ثقافت پر سیکولرازم کا غلاف چڑھایا جاسکے۔ ان حضرات کو قائداعظم کی سیکڑوں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
بھارت کا دفاعی بجٹ یکم فروری2017 کو پیش کیاگیا۔ اس سال 359,854کروڑ روپے وزارتِ دفاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجودبھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ سوال بدستور موجود تھا کہ کیا مختص کی گئی رقم ملک کی سکیورٹی کے لئے کافی ہے؟ دوسرے الفاظ میں اتنی بڑی رقم کے باوجود بھارت کی خود ساختہ دفاعی ضروریات مکمل نہیں ہورہی ہیں۔ حالانکہ اس سال دفاعی.....Read full article
 
تحریر : صبا زیب
رویے جب شدت اختیار کرنے لگ جائیں تو انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے بھی اعتدال اور میانہ روی کو زندگی کے ہر معاملے میں پسند کیا ہے۔ جب ہم اپنے رویوں میں شدت پسند ہوجاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہماری زندگی میں بے چینی آجاتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے بھی اس سے....Read full article
 
تحریر: میجر مظفراحمد
دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دینے والے ملک اور خطے میں امن کے خواہاں پاکستان کو اس کی مردم شماری کی مہم کے دوران 5مئی 2017 کو ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تناؤ دراصل کوئی نیا واقعہ نہیں تھا بلکہ پس منظر میں پاک افغان بارڈر تناؤ کی صورت میں پوشیدہ تلخ تاریخ کا شاخسانہ تھا۔ قومی فریضے کی انجام دہی کے لئے مردم شماری کے دوسرے....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
رات کا وقت فوجی کارروائیوں کے لئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے کیونکہ رات کی تاریکی میں دشمن کے خلاف سرپرائز حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر فوجی تربیت میں رات کے وقت آپریٹ کرنے پرخصوصی توجہ دی جاتی ہے اور عسکری مشقوں کے دوران بھی فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے لئے زیادہ تر رات کے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔آجکل تو ایک سے....Read full article
 
تحریر: خدیجہ محمود
جس طرح ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ اسی طرح میری نظر میں پاک فوج سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ سپاہی ہو یا جرنیل آسمانِ شجاعت کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس کے سینے پر کسی نہ کسی قربانی کا تمغہ سجا ہوا ہے اور وہ قربانی صرف دفاعِ وطن کے مقدس فریضہ کے دوران رتبۂ شہادت پر فائز ہونے کی ہی نہیں بلکہ خون کو جماتی ہوئی سیاچن گلیشیر جسے برف کا صحرا.....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
بھارت کا جنگی جنون اور خطے میں برتری کی شدید خواہش ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں بھارتی ایئر فورس کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پہلی بار اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے بارہ ہزار سے زائد افسروں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہیں کسی بھی وقت کسی بھی چیلنج کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اخبارات کو اس خط کی اطلاع پہنچی تو زیادہ تر ماہرین نے اسے.....Read full article
 
تحریر: عفت حسن رضوی
تحریر کو پڑھنے سے پہلے وہ قارئین جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے ذرا گوگل سرچ کریں "بیتھنی موٹا" ، اکیس سالہ امریکی ویب اسٹار جو وڈیو بلاگر ہے ، اس وقت یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد فالوئرز رکھتی ہے جو کسی بھی عالمی سیاسی لیڈر یا ہالی وڈ اسٹار سے زیادہ ہیں ، بیتھنی نہ کوئی اداکارہ ہے نہ کسی سیاسی شخصیت کی بیٹی اور نہ ہی کوئی علمی ادبی پس منظر۔ بیتھنی نے دوہزار نو میں جب وہ.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
میں آپ کو ذرا تھر یعنی سندھ کے اُس علاقے میں لئے چلتا ہوں جو غربت کے اعتبار سے سندھ کے 29 اضلا ع میں آخری نمبروں پرآتا ہے ۔ مگر یقین کیجئے کہ ہفتے بھر پہلے تھر جانا ہوا تو پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اور برسوں کا مطلب روایتی طور پر دہائیاں نہیں حقیقتاً دسمبر 2017 میں سندھ اینگروکول اینڈ پاور پروجیکٹ کے چیف ایگزیکٹیوشمس الدین احمد شیخ کے....Read full article

تحریر: یاسر پیرزادہ
کتنا اچھا ہو اگرآپ کی زندگی میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ ہو!آپ کی جنم پرچی سے لے کر ایم اے کی سند تک اور پنگھوڑے میں انگوٹھا چوسنے کی تصویر سے لے کر شادی میں دودھ پلائی کی تصویر تک ہر شے ایک پرفیکٹ طریقے سے........Read full article
 
26مئی 2017کو اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائداعظم یونیورسٹی میں مذہبی برداشت و ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس میں جید علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر متفقہ فتویٰ اور اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر ملک کے.....Read full article
 
تحریر: موناخان
ہمالیہ کے پہاڑوں کا دور تک پھیلتا ہوا سلسلہ۔۔ سفید ماؤنٹ ایورسٹ جس کو سر کرنے کے لئے ہزاروں کوہ پیما نیپال کا سفر کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا نیپالی نام ’ساگرما تھا‘ ہے۔ ارے نہیں ایسا مطلب بالکل بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ۔ ہم نیپال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ کھٹمنڈو اور لمبینی کی سڑکوں پر خوار ہونے گئے تھے۔ خواری بھی ایسی جس میں دل راضی تھا.....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر 1965 کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے میں 16ستمبر کو ریکارڈ ہونے والے ملی نغمے کی کہانی بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ دشمن کا یہی پراپیگنڈہ تھا کہ یہ نغمے پاکستان نے پہلے سے تیار کر رکھے تھے۔ مگر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ نغمے....Read full article
 
تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع
ماہِ رمضان درحقیقت رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہے ، اس میں خزاں کے پتوں کی طرح گناہ جھڑتے اور موسم بہار کی طرح خیر و بھلائی کی تازہ کونپلیں پھوٹتی ہیں ،مغفرت کی ہوائیں چلتی اور رحمت کی پھوار برستی ہے ، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا پھل جنت ہے ، یہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ، اس میں نوافل کا ثواب فرضوں جتنا.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرہما میر
وقت کا پہیہ تیزی سے گھومے جارہا ہے‘ دن ہفتوں میں‘ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ 24 گھنٹے اتنے جلدی کیسے گزر جاتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں تو لگتا تھا دن بہت لمبے ہوتے ہیں‘ صبح سکول جانا‘ دوپہر میں گھر واپس آکر ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانا‘ پھر ذرا آرام کرنا۔ سہہ پہر میں ٹیوشن پڑھنا....Read full article
13
June

تحریر: ڈاکٹرہما میر

وقت کا پہیہ تیزی سے گھومے جارہا ہے‘ دن ہفتوں میں‘ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ 24 گھنٹے اتنے جلدی کیسے گزر جاتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں تو لگتا تھا دن بہت لمبے ہوتے ہیں‘ صبح سکول جانا‘ دوپہر میں گھر واپس آکر ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانا‘ پھر ذرا آرام کرنا۔ سہہ پہر میں ٹیوشن پڑھنا‘ ہوم ورک کرنا‘ پھر شام میں گھر سے باہر جاکرکھیلنا‘ رات کا کھانا کھانا اور پھر مزے سے سو جانا۔ اس دوران گھومنا پھرنا اور رشتہ داروں کے گھر ملنے جانا بھی ہوتا تھا۔ سب کچھ کتنی جلدی بیت گیا۔ بچپن میں خواہش تھی کہ بس جلدی سے بڑے ہو جائیں‘ جلدی سے تعلیم کا سلسلہ مکمل ہو اور پھر زندگی میں بس آرام ہی آرام ہو۔


کیا خبر تھی کہ اصل زندگی تو وہی تھی‘ وہی بچپن کا سنہری دور تو سب سے خوبصورت تھا جب نہ کوئی فکر تھی نہ پریشانی‘ نہ غم ‘ نہ اداسی‘ نہ کوئی ذمہ داری ‘ نہ کوئی ٹینشن۔ یہ سب عارضے تو اس وقت لاحق ہوتے ہیں جب ہم اپنی عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں‘ صحیح معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجاتا ہے۔


ایسا عموماً سبھی کے ساتھ ہوتا ہے‘ مگرایک خاص طبقہ ایسا بھی ہے جن کے نہ یہ معمولات ہوتے ہیں نہ مسائل‘ یہ وہ اشرافیہ ہے جن کی گھٹی میں صرف مال بنانا ہوتا ہے۔ (میں نے مال کمانا نہیں بلکہ مال بنانا لکھا ہے) ایسے لوگوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں دوسروں کو حقیر فقیر سمجھنا اور خود کو شہزادہ سمجھنا ہوتا ہے۔ یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ انہیں ماں باپ کی وہ توجہ اور محبت نہیں ملتی جو ایک عام آدمی کے بچے کو ملتی ہے۔ لہٰذا ان کی محبت و توجہ کا مرکز صرف پیسہ ہوتا ہے۔ ان کی کردار سازی کی ذمہ داری کسی نے پوری نہیں کی ہوتی اس لئے یہ ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی کے مسائل میں اپنے کنبے کی پرورش کرنا‘ محنت سے روزی روٹی کمانا اور زندگی کی گاڑی کو آبرومندانہ طریقے سے کھینچنا ہوتا ہے۔


جب سے میں کینیڈا آئی ہوں میرے اندر یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ عوام کا کیا حق ہے اور اُنہیں اپنے جائز حقوق سے محروم رکھنا کتنا تکلیف دہ عمل ہے۔ جب میں دیکھتی ہوں کہ یہاں تعلیم و صحت سمیت لوگوں کو بہترین سہولیات حاصل ہیں تو مجھے اپنے سرکاری سکولز اور سرکاری ہسپتال یاد آنے لگتے ہیں‘ میں نے بطورِ ڈاکٹر وطنِ عزیز میں سرکاری ہسپتال میں کام کیا ہے اور مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ وہاں کیا حالتِ زار ہے۔ سکولوں کے حوالے سے بھی حقیقت سب پر عیاں ہے۔ بس جی کُڑھتا رہتا ہے۔ ابھی ہمارے ایک دوست کو عارضۂ قلب لاحق ہوا تو اُنہیں ڈاکٹروں نے بائی پاس آپریشن کا مشورہ دے ڈالا۔ انہوں نے یہاں ونکوور کے ایک مقامی ہسپتال میں اپناآپریشن کروایا۔ میں ان کی عیادت کے لئے ہسپتال گئی۔ ہسپتال کیا تھا کسی سیون سٹار ہوٹل جیسا شاندارماحول تھا۔ مریض کے آپریشن کو دو روز گزر چکے تھے مگر وہ نقاہت کے باعث زیادہ بات چیت نہیں کرپا رہے تھے‘ ان کی بیگم نے بتایا کہ آپریشن کے بعد پانچ چھ دن ہسپتال میں رکھتے ہیں پھر چھٹی مل جائے گی۔ اب گھر پر دو مہینے آرام کریں گے۔


کینیڈا کے ہسپتال میں سٹریچر بھی ہیں اور مناسب بستر بھی‘ لہٰذا مریضوں کو ٹھنڈے فرش پر لٹا کے مارنے کا بھی کوئی واقعہ درپیش نہیںآیا۔ ڈاکٹروں کی تنخواہ لاکھوں کروڑوں میں ہوتی ہے جس وجہ سے ڈاکٹر بڑے خوشحال ہیں۔ جب میں نے ڈاکٹری مکمل کی تو ایک ہسپتال میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے گئی‘ انہوں نے کہا چار ہزار وپے ماہانہ میں آپ کام شروع کردیجئے‘ میں نے بتلایا جناب اس سے دُگنی تنخواہ میں اپنے ڈرائیور کو دیتی ہوں‘ انہوں نے کہا تو کیا ہوا ہم اپنے چوکیدار کو 10 ہزارروپے ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں۔ آج اتنے برس بیت گئے مگر وہ کرب میں اب بھی محسوس کرتی ہوں کہ کس طرح عمرِ عزیز کے کئی قیمتی سال پڑھائی میں صرف کرکے اتنی محنت کرکے ڈاکٹر بنی اور پھر تنخواہ کے نام پر ایسی تذلیل ہوئی کہ انسان توبہ کرے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کو اپنا مشن سمجھنے والوں کی ایسی بے قدری کے باعث ہی قابل ڈاکٹر ملک سے باہر جاکر کما رہے ہیں کہ اپنے ہاں گارڈ یا ڈرائیور ان سے زیادہ خوشحال ہیں۔
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
June

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر 1965 کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے میں 16ستمبر کو ریکارڈ ہونے والے ملی نغمے کی کہانی بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ دشمن کا یہی پراپیگنڈہ تھا کہ یہ نغمے پاکستان نے پہلے سے تیار کر رکھے تھے۔ مگر جب اسے معلوم ہوا کہ یہ نغمے روزانہ کی بنیاد پر حالات و واقعات کی مناسبت سے لکھے گئے اور پروڈیوس ہوئے ہیں تو دشمن بے حد شرمندہ ہوا۔۔۔ یہ سب کچھ پاکستانی قوم اور پاک فوج کے جذبہ حب الوطنی سے ممکن ہو سکا۔ ایک طرف پاکستانی فوج ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف عمل تھی تو دوسری طرف ریڈیوپاکستان لاہور اپنے ثقافتی محاذ پر دن رات نت نئے نغمے تخلیق کرنے میں مصروف تھا۔


جنگ ستمبر1965 کے دوران پوری قوم کا ایک ہی تبصرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ مختلف محاذوں سے جب ہمیں کامیابی کی اطلاعات ملنی شروع ہوئیں تو پھر میں نے حالات و واقعات سے متاثر ہو کر اس نغمے کا انتخاب کیا۔ ’’اُمید فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو‘‘ یہ نغمہ ہمیں کراچی سے محترم رئیس امروہوی سے موصول ہوا۔ اس نغمے میں فتح کی امید اور مصروف عمل رہنے کی تلقین ہے۔ اس کی کمپوزیشن بھی میں نے اور ملکہ ترنم نور جہاں نے مل کر بنائی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ مجھے دفتر کی جانب سے ایک جیپ اور ڈرائیور ملا ہوا تھا۔ جو مجھے صبح صبح گھر سے لیتا اور پھر میں گلبرگ میں میڈم نور جہاں کو لینے چلا جاتا۔ سارے دن میں نغمے کی تیاری ہوتی رہتی، میری یہی کوشش ہوتی کہ ملکہ ترنم نورجہاں کو پوری طرح مصروف رکھوں،کھانا میڈم نور جہاں کے گھر سے بھی آتا اور میرا نائب قاصد فضل بھی میرے گھر سے کھانا لاتا۔ ہم اکٹھے بیٹھ کر اپنے کمرے میں کھانا کھاتے اور پھر فوراً اسٹوڈیو ہی میں گانے کی ریہرسل کے لئے چلے جاتے۔ یہ عمل سارا دن جاری رہتا۔ کوشش ہوتی کہ وقت ضائع نہ جائے اور نغمہ ریکارڈ ہو جائے۔ یقین مانیں ان دنوں میرے ساتھ تمام سازندوں نے جو میری اس خاص ٹیم میں شامل تھے، میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سارا سارا دن ملی نغمے کی ریہرسل کرتے اور شام کے وقت ریکارڈنگ ہوتی۔ ریکارڈنگ میں بھی بہت وقت لگتا۔ کیونکہ میوزک
Balance
کرنے میں بہت محنت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ریکارڈ کے آلات بھی بڑے محدود تھے۔ بڑی مشکل سے میں میوزک کو ریکارڈ کر پاتا۔ پھر ہیڈفون لگا کر
Track
کے ساتھ میڈم کو گانے کے لئے کہتا۔ ریہرسل کے دوران تمام ریکارڈنگ کے لوازمات طے ہو جاتے یہی وجہ ہے کہ ملی نغمہ بہت اچھے طریقے سے ریکارڈ ہوتا۔ ریکارڈنگ کرنے کے بعد میڈم نورجہاں اور میں ریکارڈنگ کو دو تین مرتبہ سنتے اور جب تک تسلی نہ ہوتی ریکارڈنگ چلتی رہتی۔ یہ عمل کافی دیر تک چلتا۔ ریہرسل ایک ایسی چیز ہے جو کسی بھی نغمے کو کامیاب کرنے میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آج کل کے سنگر ریہرسل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ نغمے اچھے نہیں ہوتے۔ کسی بھی کام میں نیت، محنت اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے اور میڈم نور جہاں نے جس خلوص اور محنت سے یہ نغمے ریکارڈ کئے ہیں یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ میڈم نورجہاں کا سارا دن میرے ساتھ ریڈیو اسٹیشن پر رہنا ایک بہت بڑی بات تھی۔ انہوں نے بچوں اور گھر کی بھی پروا نہیں کی۔ میں نے اپنے بیوی بچوں کو سیالکوٹ بھیج دیا تھا۔ ان کو کہا کہ میرا کچھ پتہ نہیں، میں رات کو کب فارغ ہوتا ہوں۔ بعض اوقات مجھے ریڈیو اسٹیشن پر ہی سونا پڑ جاتا اور صبح سویرے گھر جا کر تیار ہو کر پھر ریڈیو اسٹیشن آتا اور میڈم نور جہاں کو لینے چلاجاتا۔ میڈم نورجہاں جیسی فنکارہ نے بھی میرے ساتھ بہت تعاون کیا یقین مانیں ان نغموں کی ریکارڈنگ کے دوران ہماری بہت انڈر سٹینڈنگ ہو گئی تھی مجھے کہتی تھیں اعظم بھیا تم تھکتے نہیں اور تم کس قدر جنون سے کام کرتے ہو۔ ان نغموں کی وجہ سے میڈم نورجہاں کا میرے گھر بھی آ نا جانا ہو گیا۔ وہ میرے بچوں کی شادیوں میں شامل ہوئیں۔ ایک دفعہ میرے گھر کا راستہ بھول گئیں تو معروف گلوکار مسعود رانا کو لے کر میرے گھر پہنچ گئیں۔ مجھے کہتیں کہ اعظم صاحب مجھے کسی چیز کی پروا نہیں، نہ پیسے کی نہ شہرت کی، میں تو کمرشل سنگر تھی ان ترانوں نے قوم میں میری عزت بڑھا دی ہے۔ میں یہی جواب دیتا کہ میڈم آپ تو خود ہی ملکہ ہیں فن موسیقی میں آپ کا کوئی جواب نہیں، میری اور آپ کی اس خدمت کو پوری قوم بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

 
13
June

تحریر: مفتی محمد وقاص رفیع

ماہِ رمضان درحقیقت رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہے ، اس میں خزاں کے پتوں کی طرح گناہ جھڑتے اور موسم بہار کی طرح خیر و بھلائی کی تازہ کونپلیں پھوٹتی ہیں ،مغفرت کی ہوائیں چلتی اور رحمت کی پھوار برستی ہے ، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا پھل جنت ہے ، یہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ، اس میں نوافل کا ثواب فرضوں جتنا اور فرضوں کا ثواب ستر گنا بڑھادیا جاتا ہے، اس کا پہلا عشرہ رحمت کہلاتاہے ، دوسرا مغفرت کہلاتا ہے اور تیسرا جہنم کی آگ سے خلاصی کہلاتا ہے ۔
(صحیح ابن خزیمہ ، سنن بیہقی)
اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے اسی مبارک مہینہ میں نازل فرمائے ہیں ، چنانچہ قرآنِ مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ دُنیا پر تمام کا تمام اسی مہینہ میں نازل ہوا اور وہاں سے حسب موقع تھوڑا تھوڑا تیئس (23) سال کے عرصہ میں آنحضرت ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوا ۔ اس کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسی ماہ کی یکم یا تین تاریخ کو صحیفے عطاء کئے گئے ، حضرت داؤد علیہ السلام کو بارہ یا اٹھارہ رمضان میں ’’ زبور ‘‘ عطاء کی گئی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھ رمضان میں’’تورات‘‘ عطاء کی گئی ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بارہ یا تیرہ رمضان میں ’’انجیل‘‘ عطاء کی گئی ، اور حضور نبی پاک ﷺ کو چوبیس رمضان میں’’ قرآن مجید‘‘ جیسی مقدس کتاب عطاء کی گئی۔
(مسند احمد، معجم طبرانی)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہِ مبارک کو کلام الٰہی کے ساتھ ایک خاص قسم کی مناسبت حاصل ہے ، اسی وجہ سے قرآنِ پاک کی تلاوت کی کثرت اس مہینہ میں منقول ہے اور مشائخ کا معمول ہے۔ چنانچہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہرسال رمضان میں تمام قرآن شریف نبی کریم ﷺ کو سناتے تھے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺسے سنتے تھے ۔ علماء نے ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے قرآنِ پاک کے (مروّجہ) باہم دَور کرنے کے مستحب ہونے پر استدلال کیا ہے ۔
(فضائل رمضان بحذف و تغیر)
مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں اکسٹھ (61) قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے ، ایک دن کا ، ایک رات کا اور ایک تمام رمضان شریف میں تراویح کا۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں ساٹھ (60) قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے ، اس طرح کہ روزانہ دو قرآنِ مجید پڑھ لیتے تھے اور اس کے علاوہ عام دنوں میں روزانہ ایک قرآنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے ۔(فضائل قرآن)اس کے علاوہ روزانہ دس ، پندرہ پارے پڑھنا تو عام مشائخ کا معمول رہا ہے کہ رمضان نزولِ قرآن کی سالگرہ اور جشن عام کا مہینہ ہے۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے (تمام) دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے (تمام) دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔‘‘
(صحیح بخاری)
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ : ’’(رمضان کی آمد پر ) رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‘‘

(صحیح مسلم)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’ریّان‘‘ ہے ، اس دروازہ سے قیامت کے دن صرف روزہ دار لوگ داخل ہوں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام روزہ داروں کا نام لے کر بلایا جائے گا ، وہ اس دعوت پر کھڑے ہوں گے اور اُن کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا ، پس جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا، پھر اس دروازہ سے اس کے بعد کوئی داخل نہیں ہوسکے گا۔‘‘

(بخاری و مسلم)
‘‘ ایک روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسولِ پاک ﷺکا رنگ بدل جاتا، نماز میں اضافہ ہوجاتا ، دُعاء میں آہ و زاری بڑھ جاتی اور آپؐ کا رنگ سرخ ہوجاتا۔‘‘
(شعب الایمان للبیہقی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ سے پوچھا گیا کہ : ’’رمضان (کے روزہ) کے بعد کون سا روزہ افضل ہے ؟ ‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ رمضان کی تعظیم کی وجہ سے شعبان کا روزہ رکھنا افضل ہے ۔‘‘ پھر سوال کیا گیا کہ : ’’کون سا صدقہ افضل ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا کہ : ’’رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے۔‘‘
(جامع ترمذی)
حضرت اُم معقل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر (فضیلت رکھتا) ہے ۔
(جامع ترمذی)
ایک حدیث میں آتا ہے ، حضرت ابو ہریرہؓ نے حضورِ اکرم ﷺسے نقل کیا ہے کہ : ’’ میری اُمت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر عطاء کی گئی ہیں جو پہلی اُمتوں کو نہیں ملیں :
1۔ان کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے یہاں مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
2۔ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دُعا کرتی ہیں اور افطار تک کرتی رہتی ہیں۔
3۔جنت ہر روز اُن کے لئے آراستہ کی جاتی ہے ، پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ : ’’ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دُنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آجائیں ۔‘‘
4۔اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں اُن برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف اور دنوں میں پہنچ سکتے ہیں۔
5۔رمضان کی آخری رات میں ( تمام ) روزہ داروں کی مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ ’’شبِ مغفرت‘‘ ’’شبِ قدر‘‘ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ نہیں! بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے۔‘‘
(مسند احمد ، مسند بزار ، سنن بیہقی)
چونکہ رمضانُ المبارک کی راتوں میں ’’شبِ قدر‘‘ سب سے افضل رات ہے ، اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خیال فرمایا کہ اتنی بڑی فضیلت اسی رات کی ہوسکتی ہے ، مگر حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : ’’اس کے فضائل مستقل علیٰحدہ چیز ہیں ۔‘‘
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے ، اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور (جہنم کی) آگ سے چھٹکارا پانے کا سبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی طرح اس کو بھی ثواب ہوگا ، مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ’’ یارسول اللہ! ( ﷺ) ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’(اس سے پیٹ بھر کر کھلانا مراد نہیں ہے ) بلکہ یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ کسی کو ایک کھجور سے روزہ افطار کرادینے سے ، ایک گھونٹ لسی کا پلادینے سے بھی عطا فرمادیتے ہیں۔
( صحیح ابن خزیمہ)
ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورِ اقدس ﷺ نے رمضان المبارک کے قریب ارشاد فرمایا کہ : ’’رمضان کا مہینہ آگیا ہے جو بڑی برکت والا ہے ، حق تعالیٰ شانہ اس میں تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتے ہیں ، خطاؤں کو معاف فرماتے ہیں ، دُعاء کو قبول کرتے ہیں ، تمہارے ’’تنافس‘‘ (یعنی نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے) کو دیکھتے ہیں اور ملائکہ سے فخر کرتے ہیں ، پس تم اللہ تعالیٰ کو اپنی نیکی دکھلاؤ! ، بد نصیب ہے وہ شخص جو اس مہینہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔
(معجم طبرانی)
رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات ’’شبِ قدر‘‘ کہلاتی ہے جو بہت ہی خیر و برکت والی رات ہے ، قرآنِ پاک میں اس کو ہزار مہینوں سے افضل بتلایا گیا ہے ، ہزار مہینوں کے تراسی برس اور چار ماہ ہوتے ہیں ، خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے ۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : ’’شبِ قدر‘‘ اللہ تعالیٰ نے (صرف ) میری اُمت کو مرحمت فرمائی ہے ، پہلی اُمتوں کو نہیں ملی ۔‘‘
(دُرّمنثور)
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آنحضرت ﷺ عادت شریفہ اعتکاف کی ہمیشہ رہی ہے ، اس مہینے میں تمام مہینے کا اعتکاف فرمایا اور جس سال وصال ہوا ہے اس سال بیس روز کا اعتکاف فرمایا تھا ، لیکن اکثر عادت شریفہ چونکہ اخیر عشرہ ہی کے اعتکاف کی رہی ہے اس لئے علماء کے نزدیک’’سنت مؤکدہ‘‘ اعتکاف اخیر عشرہ ہی کا ہے ۔ اور چوں کہ اس اعتکاف کی بڑی غرض ’’شبِ قدر‘‘ کی تلاش ہے اس لئے حقیقت میں اعتکاف اس کے لئے بہت ہی مناسب ہے۔
(فضائل رمضان)
ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد وارد ہوا ہے کہ اعتکاف کرنے والا شخص گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اُس کے لئے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کہ کرنے والے کے لئے۔

(سنن ابن ماجہ)
مطلب یہ ہے کہ بہت سے نیک اعمال جیسے جنازہ میں شرکت ، مریض کی عیادت وغیرہ ایسے اُمور ہیں کہ اعتکاف میں بیٹھ جانے کی وجہ سے اعتکاف میں بیٹھنے والا شخص ان کو نہیں کرسکتا ، اس لئے اعتکاف کی وجہ سے جن عبادتوں سے وہ رُکا رہتا ہے اُن کا اجر بغیر کئے بھی اُسے ملتا رہتا ہے۔
(فضائل رمضان)
کتنے خوش قسمت اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مبارک مہینے کے ایک ایک لمحہ کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں ، اُن کے شب و روز میں خوف خدا سے آہوں اور سسکیوں کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے اور اُن کے اشک ہائے ندامت دل کی میل اور اُس کی کدورتوں کو بہاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بلاشبہ ماہِ رمضان ۔۔۔ روحانیت اور نیکیوں کا موسم بہار ہوتا ہے ، یہ مہینہ رحمت و مغفرت کی معطر ہواؤں سے مشک بار ہوتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
June
پاسنگ آؤٹ پریڈ آرمڈ کور سنٹر
گزشتہ دنوں آرمڈ کور سنٹر نوشہرہ میں ریکروٹوں کی تقریب حلف برداری اور پاسنگ آؤ ٹ پریڈ منعقد ہوئی ۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل چنگیز دل خان ڈائریکٹر جنرل آرمڈ کور تھے ۔ پریڈ گراؤنڈ پہنچنے کے بعد ریکروٹوں کے چاق و چوبند دستے نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی بعدازاں انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی میجر جنرل چنگیز دل خان نے کورس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ریکروٹوں میں انعامات بھی تقسیم کئے ۔

newspoutkorecent.jpg

فر نٹیئر کور خیبر پختونخواہ ریکروٹس پا سنگ آؤٹ پر یڈ
گزشتہ دنوں سکاؤٹس ٹر یننگ اکیڈ می وارسک میں فرنٹئیر کور کے 24 ویں بیچ کے ریکروٹس کی پا سنگ آؤٹ پریڈ ہو ئی ۔ اس تقریب کے مہما ن خصو صی وز یر داخلہ چو ہدر ی نثار علی خان تھے۔مہما ن خصو صی کا اکیڈ می پہنچنے پر آئی جی ایف سی (نارتھ )میجر جنر ل شا ہین مظہر محمود، آئی جی ایف سی (ساؤتھ) میجر جنر ل خالد جاوید اور کما نڈ نٹ سکا ؤٹس ٹر یننگ اکیڈ می کر نل رفیق احمدنے استقبال کیا۔ مہمان خصو صی نے پر یڈ کا معا ئنہ کیا اور جوانوں کی تربیت کے اعلیٰ معیار کو سراہا۔ تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے مہمان خصوصی وزیر داخلہ چو ہدری نثار علی خان نے پا س آؤٹ ہو نے والے ریکروٹس کو مبا رک پیش کی اور ملک و قوم کی دفاع کے لئے فر نٹئیر کور کے کر دار کی تعریف کی ۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے مختلف شعبوں میں اعلٰی کا ر کردگی دکھا نے والے کا میاب ریکروٹس میں انعاما ت بھی تقسیم کئے گئے۔

newspoutkorecent1.jpg

12
June

جید علماء کا فتویٰ

26مئی 2017کو اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائداعظم یونیورسٹی میں مذہبی برداشت و ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس میں جید علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر متفقہ فتویٰ اور اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر ملک کے معروف 31 علماء کرام و مشائخ عظام کے دستخط موجود ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفا ق المدارس پاکستان‘ وفاق المدارس العربیہ‘ رابطۃ المدارس پاکستان‘ پاکستان علماء کونسل اور دارالعلوم کراچی سمیت مختلف اداروں ‘ مسالک اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور مشائخ عظام نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کرتے ہوئے محاذ آرائی‘ فساد‘ دہشت گردی‘ شریعت کے نام پر طاقت کے استعمال کو حرام قرار دے دیا اور کہا کہ اسلام اوربرداشت کے نام پر قتل و دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں‘ دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کو کوتاہی کی بناپر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کرنا کسی صورت درست نہیں۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت‘ فوج یا دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں‘ ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم ہے‘ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال‘ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی‘ تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں حرام قطعی‘ شریعت کی روسے ممنوع اور بغاوت ہیں‘ ریاست کے ملک دشمن عناصر کو کچلنے کے لئے شروع کئے گئے آپریشنز ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء ومشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فتویٰ
یہ تحریر اس دہشت گردی اور خودکش حملوں سے متعلق ہے جن سے پاکستان اور اہل پاکستان سخت بے چین اور لہولہان ہو رہے ہیں اور جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہم متفقہ طور پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور مفتیان حضرات یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ

jayadulmaka.jpg
-1 اسلامی جمہوریہ پاکستان، آئینی و دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق قرارداد مقاصد سے ہوتا ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے استعمال کرنے کا حق ہے وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔


-2ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں یہ فکری سوچ جس جگہ بھی ہو، ہماری دشمن ہے اور اس کے خلاف فکری و انتظامی جدوجہد دینی تقاضا ہے۔
-3 ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک قومی و ملی جرم ہے۔ اس لئے ہم ریاستی اداروں کی جانب سے ایسی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کی درخواست کرتے ہیں۔
-4 پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب وفساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا ہے۔
-5 ہم پاکستان کے تمام مسلکوں اور مکاتب فکر کے نمائندہ علماء شرعی دلائل کی روشنی میں اتفاق رائے سے خود کش حملوں کو حرام قرار دیتے ہیں اور ہماری رائے میں خودکش حملے کرنے والے، کروانے والے اور ان حملوں کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون پاکستانی اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست پاکستان شرعی طور پر اس قانونی کارروائی کی مجاز ہے جو باغیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔
-6دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لئے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔
-7جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں، کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ ریاست سے بالاتر کسی گروہ کی ایسی کارروائی فساد اور بغاوت ہے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین اور واجب تعزیر جرم ہے۔
-8 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری، دستوری و آئینی میثاق کے پابند ہیں جس کی رو سے ان پر لازم قرار پاتا ہے کہ وہ بہرصورت حب الوطنی اور ملکی و قومی مفادات کا تحفظ پہلی ترجیح کے طور پر کریں اور اس پر کسی صورت آنچ نہ آنے دیں۔ ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کو کسی بھی عنوان سے نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی اور غدر قرار پاتی ہے جو دینی نقطہ نظر سے سنگین جرم اور لائق تعزیر ہے۔
-9 ریاست پاکستان میں امن و سکون قائم کرنے اور دشمنان پاکستان کے خلاف جو جدوجہد ضرب عضب اور رد الفساد کے نام سے شروع کی گئی ہے، ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔


متفقہ اعلامیہ
قرآن و سنت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ دستور کے تقاضوں کے عین مطابق پیغام پاکستان کے ذریعے درج ذیل اقدامات کا اعلامیہ پیش کیا جاتا ہے:
-1 پاکستان کا 1973کا دستور اسلامی اور جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان سماجی اور عمرانی معاہدہ ہے جس کی توثیق تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ نے متفقہ طور پر کی ہوئی ہے۔ اس لئے اس دستور کی بالادستی اور عمل درآمد کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا نیز ہر پاکستانی ریاستِ پاکستان کے ساتھ ہر صورت میں اپنی وفاداری کا وعدہ وفا کرے۔
-2 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی رو سے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت حاصل ہے۔ ان حقوق میں قانون و اخلاق عامہ کے تحت مساوات حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل ، اظہار خیال، عقیدہ ، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہے۔
-3 اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق سے ہوتا ہے: اﷲتبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
-4 پاکستان کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و سنت کے احکام کے نفاذ کی پرامن جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا دینی حق ہے۔ یہ حق دستور پاکستان کے تحت اسے حاصل ہے اور اس کی ملک میں کوئی ممانعت نہیں ہے جبکہ بہت سے ملی اور قومی مسائل کا سبب اﷲتعالیٰ سے کئے ہوئے عہد سے رو گردانی ہے۔ اس حوالے سے پیش رفت کرتے ہوئے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلنٹ بینچ کو مزید فعال بنایا جائے۔
-5 دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کوتاہی کی بنا پر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کسی صورت درست نہیں۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت، فوج یا دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو غیرمسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے اور ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم قرار پاتا ہے۔ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب وفساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، حرام قطعی ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت ہیں۔ یہ ریاست، ملک و قوم اور وطن کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ لہٰذا ریاست نے ان کو کچلنے کے لئے ’’ضرب عضب‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کے نام سے جو آپریشن شروع کر رکھے ہیں اور قومی اتفاق رائے سے جو لائحہ عمل تشکیل دیا ہے ان کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔
-6 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علما اور مشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور پوری قوم قومی بقاء کی اس جنگ میں افواج پاکستان اور پاکستان کے دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کرتی ہے۔
-7 تمام دینی مسالک کے نمائندہ علما نے شرعی دلائل کی روشنی میں قتل ناحق کے عنوان سے خودکش حملوں کے حرام قطعی ہونے کا جو فتویٰ جاری کیا تھا اس کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔ نیز لسانی، علاقائی، مذہبی اور مسلکی عصبیت کے نام پر جو مسلح گروہ ریاست کے خلاف مصروف عمل ہیں، یہ سب شریعت کے احکام کے منافی اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب ہیں، لہٰذا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ان تمام گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں۔
-8 فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالف اور فساد فی الارض ہے نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی رو سے ایک قومی اور ملی جرم ہے۔
-9 وطن عزیز میں قائم تمام درسگاہوں کا بنیادی مقصد تعلیم و تربیت ہے۔ ملک کی تمام سرکاری و نجی درسگاہوں کا کسی نوعیت کی عسکریت نفرت انگیزی انتہا پسندی اور شدت پسندی پر مبنی تعلیم یا تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ اس میں ملوث ہے تو اس کے خلاف ثبوت و شواہد کے ساتھ کارروائی کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
-10 انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی کے خلاف فکری جہاد اور انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ گزشتہ عشرے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہ منفی رجحان مختلف قسم کے تعلیمی اداروں میں پایا جاتا ہے۔ سو یہ فکر جہاں کہیں بھی ہو، ہماری دشمن ہے۔ یہ لوگ خواہ کسی بھی درسگاہ سے منسلک ہوں، کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
-11 ہرمکتبہ فکر اور مسلک کو مثبت انداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے اجازت ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص، مسلک یا ادارہ کے خلاف اہانت اور نفرت انگیزی، اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر کی اجازت نہیں۔
-12 صراحت، کنایہ، اشارہ، تعریض اور توریہ کے ذریعے کسی بھی صورت میں نبی کریم ﷺ انبیائے کرام و رُسل عظام علیہم السلام، امہات المومنین و اہل بیت اطہار، صحابہ کرام، شعائر اسلام کی اہانت کے حوالے سے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 295 کی تمام دفعات کو ریاستی اداروں کے ذریعہ لفظاً اور معناً نافذ کیا جائے اور اگر ان قوانین کا کہیں غلط استعمال ہوا ہے تو اس کے ازالے کی احسن تدبیر ضروری ہے، مگر قانون کو کسی صورت میں کوئی فرد یا گروہ اپنے ہاتھ میں لینے اور متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا مجاز نہیں۔
-13 عالم دین اور مفتی کا منصبی فریضہ ہے کہ صریح کفریہ کلمات کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی حکم بتائے۔ البتہ کسی کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ آیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، یہ عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔
-14 سرزمین پاک اﷲتعالیٰ کی مقدس امانت ہے۔ اس کا ایک ایک چپہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے فروغ، دہشت گرد ی کے گروہوں کی فکری و عملی تیاری، دہشت گردی کے لئے لوگوں کی بھرتی، دیگر ممالک میں دہشت گردی، مداخلت اور اس جیسے دوسرے ناپاک عزائم کے حصول کے لئے ہرگز استعمال نہ ہونے دی جائے۔
-15 مسلمانوں میں مسالک و مکاتب فکر قرون اولیٰ سے چلے آ رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ ان میں دلیل و استدلال کی بنیاد پر فقہی اور نظریاتی ابحاث ہمارے دینی اور اسلامی علمی سرمائے کا حصہ ہیں اور رہیں گی۔ لیکن یہ تعلیم و تحقیق کے موضوعات ہیں اور ان کا اصل مقام درس گاہیں ہیں۔ درس گاہوں میں اختلاف رائے کے اسلامی آداب (آداب مراعاۃ الخلاف) یعنی
(ethics of disagreement)
کو تمام سرکاری و نجی درسگاہوں کے نصاب میں شامل کرنا چاہئے۔
-16 اسلامی تعلیمات اور 1973 کے متفقہ دستور کے مطابق حکومت اور عوام کے حقوق و فرائض طے شدہ ہیں، جس طرح عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض درست اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق انجام دیں، اسی طرح ریاستی ادارے اور ان کے عہدیدا ر بھی اپنے فرائض اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ادا کرنے کے پابند ہیں۔
-17 اسلام کے اصولوں کے مطابق جمہوریت، حریت، مساوات، برداشت، رواداری، باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی پاکستانی معاشرے کی تشکیل جدید ضروری ہے تاکہ پرامن بقائے باہمی کے لئے فضا سازگار ہو۔
-18 احترام انسانیت ، اکرام مسلم نیز بزرگوں، عورتوں، بچوں، خواجہ سراؤں، معذوروں الغرض تمام محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اسلامی احکام کا نفاذ ضروری ہے۔ نیز پاکستانی معاشرے میں انسانی اقدار اور اخوت اسلامی پر مبنی اسلامی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
-19 پاکستان میں رہنے والے پابند آئین و قانون تمام غیرمسلم شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو پابند آئین و قانون مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ نیز یہ کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور ان کے تہواروں کے موقع پر اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
-20 اسلام خواتین کو احترام عطا کرتا ہے اور ان کے حقوق کی پاسداری کرتاہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں بھی عورتوں کے حقوق کی پاسداری کی تاکید فرمائی ہے نیز رسول اﷲ ﷺ کے دورسے اسلامی ریاست میں خواتین کی تعلیم وتربیت جاری رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کو حق رائے دہی‘ حصولِ تعلیم اور ملازمت کا حق حاصل ہے۔ خواتین کے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنا اور خواتین اساتذہ و طالبات پر حملے کرنا انسانی اقدار‘ اسلامی تعلیمات اور قانون کے منافی ہے۔ اسی طرح اسلامی تعلیمات کی رو سے غیرت کے نام پر قتل ‘ قرآن سے شادی‘ وٹہ سٹہ‘ ونی اور خواتین کے دیگر حقوق کی پامالی احکامِ شریعت میں سختی سے ممنوع ہے۔ حکومت قانونِ قصاص و تعزیر کے علاوہ دیگرحق تلفیوں کے بارے میں قانون سازی کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وراثت میں عورتوں کا حق یقینی بنائے۔
-21 لاؤڈ سپیکر کے ہر طرح کے غیر قانونی استعمال کی ہر صورت میں حوصلہ شکنی کی جائے اور متعلقہ قانون پر من و عن عمل کیا جائے اور منبر و محراب سے جاری ہونے والے نفرت انگیز خطابات کو ریکارڈ کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ نیز ٹیلیویژن چینلوں پر مذہبی موضوعات پر مناظرہ بازی کو قانوناً ممنوع اور قابلِ دست اندازی پولیس قرار دیا جائے۔
-22 الیکٹرانک میڈیا کے حقِ آزادی اظہار کو قانون کے دائرے میں لایا جائے اور اس کی حدود کا تعین کیا جائے اور ہر اس پروگرام پر پابندی لگائے جائے جو پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔
متفقہ اعلامیہ کے اہم نکات
-1۔ دستورپاکستان 1973 اسلامی جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان ایسا عمرانی معاہدہ ہے جس کو تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ کی حمایت حاصل ہے اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان میں قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہونا چاہئے اورنہ ہی اس دستور کی موجودگی میں کسی فرد یا گروہ کو ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف کسی قسم کی مسلح جدوجہد کا کوئی حق حاصل ہے۔
-2۔ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ‘ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی نیزلسانی‘ علاقائی‘ مذہبی‘ مسلکی اختلافات اور قومیت کے نام پر تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں احکامِ شریعت کے خلاف ہیں اور پاکستان کے دستور و قانون سے بغاوت ہیں۔ طاقت کے زور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کی مخالفت اور فسا د فی الارض ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور قانون کی روسے ایک قومی اور ملی جرم بھی ہے۔ دفاعِ پاکستان اور استحکام پاکستان کے لئے ایسی تخریبی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس لئے ان کے تدارک کے لئے بھرپور انتظامی‘ تعلیمی ‘ فکری اور دفاعی اقدامات لازم ہیں۔
-3۔ دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق پاکستانی معاشرے کی ایسی تشکیلِ جدید ضروری ہے جس کے ذریعے سے معاشرے میں منافرت ‘ تنگ نظری‘ عدم برداشت اور بہتان تراشی جیسے بڑھتے ہوئے رجحانات کا خاتمہ کیا جاسکے اور ایسا معاشرہ قائم ہو جس میں برداشت و رواداری‘ باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی حقوق و فرائض کا نظام قائم ہو۔

12
June

تحریر: موناخان

ہمالیہ کے پہاڑوں کا دور تک پھیلتا ہوا سلسلہ۔۔ سفید ماؤنٹ ایورسٹ جس کو سر کرنے کے لئے ہزاروں کوہ پیما نیپال کا سفر کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا نیپالی نام ’ساگرما تھا‘ ہے۔ ارے نہیں ایسا مطلب بالکل بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ۔ ہم نیپال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ کھٹمنڈو اور لمبینی کی سڑکوں پر خوار ہونے گئے تھے۔ خواری بھی ایسی جس میں دل راضی تھا اور تین بار قبول ہے بول چکا تھا۔ اسلام آباد میں جب نیپال جانے کا پلان بنا تو سوچا ڈائریکٹ فلائٹ ہو گی جلدی پہنچ جائیں گے چھ لوگوں کا قافلہ تھا جو نیپال جانے کے لئے تیار تھا۔۔ ٹکٹ ہاتھ میں آئے تو علم ہوا آٹھ گھنٹے مسقط میں قیام ہے ۔ سوچا آٹھ گھنٹے کیا کریں گے مسقط کے چھوٹے سے ائیرپورٹ پہ جو شروع ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بہرحال سفر شروع تو کرنا تھا۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے سوار ہوئے تو مسقط پہنچ کر ہی دم لیا۔ مسقط اترے تو پہلی دوڑ درمیان میں بنے انفارمیشن ڈیسک کی جانب لگائی۔ وہاں پہنچے تو ایک طویل لائن ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ جی ہاں یہ طویل لائن مفت کا انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تھی جو وائی فائی کا پاس ورڈ لے رہے تھے ۔ ہمارا تو چلو حق تھا آخر آٹھ گھنٹے کیسے گزارتے چھوٹے سے ائیرپورٹ پہ۔ مسقط سے کھٹمنڈو صبح سات بجے پہنچے۔ صبح کی روشنی میں لینڈنگ کو جہاز کی کھڑکی سے دیکھا۔ کھٹمنڈو ائیرپورٹ پر لینڈنگ مشکل لینڈنگز میں سے ہے۔کھٹمنڈو ایئرپورٹ جو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے بیچ قائم ہے پر لینڈنگ کے لئے پائلٹ کو کافی مہارت چاہئے ۔ خیر اللہ اللہ کر کے لینڈ ہوئے۔ ہماری ایمبیسی کے پروٹوکول والے ہمارے انتظار میں تھے کہ ہم پہنچیں اور وہ ہمارا آن آرائیول ویزہ لگوائیں ۔ آخر ہم ڈپلومیٹک کارسپونڈنٹ تھے ‘ اتنا تو حق تھا ہمارا۔ ائیر پورٹ سے ہی سم کارڈز اور انٹرنیٹ پیکج خریدا۔ یہ ہمارا نیپال کا پہلا دورہ تھا۔ ہر طرف پھینی پھینی(چپٹی ناک والی) شکلیں دیکھ کر کچھ دیر بعد شک ہوا کہ آئینہ دیکھ لیں کہیں ہم بھی ’پھینے‘ تو نہیں ہو گئے ۔ چین اور نیپال کی سرحد آپس میں ملتی ہے شائد اس لئے شکلیں اِدھر بھی ویسی ہی ہیں چین کے لوگوں جیسی‘ بس رنگت کا فرق ہے ۔ ہمالیہ کے برفیلے سفید پہاڑوں کا نیپال کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں ۔ رنگت کے لحاظ سے بھارت کے اثرات نیپال پہ زیادہ ہیں اور کیوں نہ ہوں ۔ نیپال اپنی سرحد کا زیادہ حصہ بھارت کیساتھ شئیر کرتا ہے۔ نیپال کی شمالی سرحد جہاں ماؤنٹ ایورسٹ ہے‘ چین سے منسلک ہے۔ جبکہ مشرقی‘ مغربی اور جنوبی سرحد بھارت سے ملتی ہے۔ نیپال کے 74 میں سے 24 اضلاع بھارت سے ملتے ہیں ۔ نیپال میں جا کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا انڈیا ہے۔ اگر مذاہب کی بات کی جائے تو نیپال میں80فیصد ہندو مذہب کے لوگ ہیں ۔ 10 فیصد بدھ مت کے ماننے والے ، چار فیصد مسلمان ، دو فیصد کرسچن جبکہ باقی دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں۔

chalonepalchalain.jpg

یہ ساری معلومات ہم وین ڈرائیور راجیش سے سنتے ہوئے ہوٹل پہنچے۔ یاک اینڈ یٹی نامی چائینیز ہوٹل میں کمرے لئے۔ ہوٹل تو بس ٹھیک تھا لیکن ایک بات کھٹمنڈو میں اترتے ہی محسوس ہوئی اور وہ ہے د ھول مٹی۔ کھٹمنڈو میں ہر دوسرے بندے نے منہ پر ڈسٹ ماسک پہنا ہوتا ہے۔ ہوٹل روم میں اتنی طویل مسافت کے بعدسستانا ضروری تھا۔ تین چار گھنٹے ریسٹ کر نے کے بعدکھٹمنڈو کی گلیوں میں نکل گئے۔ سوچا کہ نیپالی کھانے ہی ٹرائی کریں گے ۔ انڈیا کی طرح نیپال میں بھی سبزی بہت رغبت سے کھائی جاتی ہے۔ اور یہ بات ماننے والی ہے کہ میں نے ایسی مزیدار سبزی کبھی پاکستان میں بھی نہیں کھائی۔ میٹ میں گائے کا گوشت نیپال میں نہیں کھایا جاتا اور نہ گائے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ گائیں نیپال میں بھی مادر پدر آزاد پھر رہی ہوتی ہیں ۔ میٹ کے لئے نیپال میں وائلڈ بور کا گوشت استعمال کیا جاتا جو کہ ہمارے لئے قطعی حرام ہے۔ اس لئے سبزی کھانے میں ہی عافیت جانی۔ کھٹمنڈو چونکہ نیپال کا دارالحکومت ہے اس لئے مہنگائی بھی کافی ہے۔ مہنگا ہونے کی ایک وجہ یہاں پر سیاحوں کی بڑی تعداد ہے۔ نیپال میں اتنے نیپالی نظر نہیں آتے جتنے سیاح نظر آتے ہیں۔ دل میں حسرت سی اٹھی کہ کاش ہمارے ہاں بھی سیاح اس طرح گھومیں پھریں۔ دوسرے روز لمبینی کا رخ کیا اور وہاں ضروری کام نپٹائے۔ تیسرے روز تھامل بازار جو کہ کھٹمنڈو کا مشہور شاپنگ ایریا ہے‘ وہاں کا رخ کیا۔ بازار میں قابل ذکر ایک چیز دیکھی اور وہ یہ کہ نیپال میں خواتین دکانداروں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے اور وہ کمال اعتماد کیساتھ اپنی دکان چلا رہی ہوتی ہیں ۔ لیکن عوامی خوبصورتی یہاں بھی نظر نہیں آئی۔ اب یہ تو ماننا پڑے گا کہ خوبصورتی میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو خاصا نوازا ہے۔ تھامل بازار سے نیپال کی خاص سوغات سنگنگ باؤل یعنی میوزک والا کٹورہ خریدا۔ جس کو بجانے کے لئے خاص پریکٹس چاہئے ۔ یہ اتنی ساری باتیں اس لئے بتائی ہیں تاکہ جب آپ پہلی بار نیپال جائیں تو آپ کو یہ باتیں پہلے سے پتہ ہوں ۔ نیپال میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کا بھی ایک الگ ہی نظام ہے۔ سرکاری نمبر پلیٹ سفید رنگ کی ہوتی ہے اور سرخ ہندسے ہوتے ہیں۔ گرین نمبر پلیٹ کی گاڑی دیکھیں گے تو وہ سیاحوں کے لئے مختص ہے۔ نیلے رنگ کی نمبر پلیٹ ڈپلومیٹس کے لئے ہوتی ہے۔ سرخ رنگ کی نمبر پلیٹ عام شہری کے لئے ہے جبکہ کالے رنگ کی نمبر پلیٹ ٹیکسیوں کے لئے ہے۔ نیپال کے بزنس سے لے کر سیاسی اور حکومتی سطح پر تین اطراف سے لگنے والے ہمسائے بھارت کے بہت اثرات ہیں۔ نیپالی کرنسی کی ویلیو پاکستانی روپے سے ذرا زیادہ ہے۔ سیاحوں کی کثرت کی وجہ سے نیپال میں گھومنے پھرنے میں کوئی ڈر نہیں لگتا۔ لیکن جب آپ صحافی ہوں اور پاکستانی ہوں تو بہت سی ان دیکھی نظریں آپکے تعاقب میں ہوتی ہیں اور وہ نظریں نیپال کی سرحد کے تین اطراف سے لگنے والے ہمسائے کی ہوتی ہیں ۔ پہلے حصے میں نیپال کا تعارف گوش گزار کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مشن نیپال کی تفصیلات بتائی جائیں گی ۔
(...جاری ہے)

مضمون نگار ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ ڈپلومیٹک اینڈ ڈیفنس کارسپانڈنٹ منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June

تحریر: یاسر پیرزادہ

کتنا اچھا ہو اگرآپ کی زندگی میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ ہو!آپ کی جنم پرچی سے لے کر ایم اے کی سند تک اور پنگھوڑے میں انگوٹھا چوسنے کی تصویر سے لے کر شادی میں دودھ پلائی کی تصویر تک ہر شے ایک پرفیکٹ طریقے سے
organized
ہو ۔آپ کی سٹڈی میں کتابوں کی کیٹیلاگ ہو اور تمام کتابیں یوں نمبروں کے ساتھ ترتیب میں لگی ہوں جیسے لائبریری آف کانگریس ہو۔ آپ کی ذاتی فائلیں انڈیکس کے ساتھ الماری میں سجی ہوں اور ان میں موجود تمام کاغذ تاریخ کی ترتیب سے موجود ہوں تاکہ کوئی بھی کاغذ ڈھونڈنے میں تیس سیکنڈ سے زائد کا وقت نہ لگے ،یہی نہیں بلکہ یہ انڈیکس آپ کے کمپیوٹر میں بھی محفوظ ہو۔آپ کی فلموں اور پسندیدہ گانوں کی کلیکشن بھی اسی طرح مائیکرو سافٹ آفس کے کسی پروگرام میں محفوظ ہو اور ایک کلک پر آ پ اپنی مرضی کی فلم یا گانا ڈھونڈیں اور انجوائے کریں ۔آپ کی فیملی کی تصاویر،پاسپورٹ ،شناختی کارڈ ،بچوں کے رزلٹ کارڈ ،گھر کے بل ،مختلف اوقات میں خریدی گئیں اشیا کے گارنٹی کارڈز،کریڈٹ کارڈ بل ،بینک سٹیٹمنٹ،پرانے اخبارات کی فائل ،ٹیکس کے کاغذات ،کمپیوٹر کا ڈیٹا ۔۔۔غرض ہر شے یوں ترتیب میں ہو کہ اگر کوئی سرکاری اہلکار آپ سے پوچھ لے کہ سن 1933ء میں آپ کے نانا جان نے سرکاری ملازمت کی درخواست جمع کرواتے وقت جس اوتھ کمشنر سے تصدیق کروائی تھی اس کی باجی کا نام بتاؤ تو آپ فوراً اپنے لیپ ٹاپ میں جائیں ،نانا جان کا ’’پروفائل‘‘ کھولیں اور مطلوبہ انفارمیشن ڈھونڈ کر اس اہلکار کے منہ پر ماریں ۔کاش کہ ہماری زندگی اتنی پرفیکٹ ہو جائے !
ایک پرفیکٹ زندگی کی خواہش کرنے والا شخص پرفیکشنسٹ کہلائے گا ۔ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے مزاج اور استطاعت کے مطابق پرفیکشنسٹ ہے مگر یہ کام نہایت جوکھم کا ہے ۔دن کے چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے کام کرنا ،ان اٹھارہ میں سے دو گھنٹے جاگنگ کرنا، متوازن غذا کھانا‘ فیملی کو کوالٹی ٹائم دینا ،دفتر میں مثالی کارکردگی دکھانا ،دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ،روزانہ کسی کتاب کے پچاس صفحات کا مطالعہ کرنا ،فلم دیکھنا، اخبار پڑھنا ،دن میں تین دفعہ دانتوں میں برش کرنا،مہینے میں ایک دفعہ ڈاکٹر سے جنرل چیک اپ کروانا ،چھ مہینے بعد اپنے تمام ٹیسٹ کروانا،اپنے کتّے کو سیر کروانا، تھوڑا بہت ٹی وی دیکھنا ،عبادت کرنا، ہمسایوں سے میل جول رکھنا‘ نوکروں سے حسن سلوک کرنا اور ان تمام امور کی انجام دہی کے دوران ماتھے پر شکن نہ آنے دینا اور ہر کسی سے خوامخواہ خوش اخلاقی سے پیش آنا
perfectionism
کی معراج ہے ۔ یہی نہیں بلکہ گھر میں ہر چیز کو ایک پرفیکٹ اندازمیں اس کی جگہ رکھنا بھی پرفیکشنسٹ بندے کی مجبوری ہوتی ہے ۔لیکن کیا کرہ ارض پر ایسا کوئی پرفیکشنسٹ بندہ پایا جاتا ہے ؟

نہیں ۔ایسا کوئی شخص نہیں جو ہر کام کو اس قدر پرفیکٹ انداز میں کرنے کا اہل ہولیکن اس کے باوجود انسان میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ اس کا ہر کام پرفیکٹ طریقے سے ہو ۔ایسے ہی ایک مہربان نے آج سے تین سال قبل مجھے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں اس قدر
organized
ہیں کہ اگر سر درد کی گولی بھی خریدیں تو اس کا بل سنبھال کے رکھتے ہیں ،انہوں نے ہیلتھ کئیر کی ایک فائل بنائی ہوئی ہے جس میں وہ ایسے تمام بل لگادیتے ہیں ۔اس مر د مومن نے یہ بھی بتایا کہ اس نوع کی لگ بھگ پچاس فائلیں وہ
maintain
کرتے ہیں جنہیں ہر اتوار کو اپ ڈیٹ بھی کیا جاتا ہے ۔ظاہرہے یہ باتیں کسی بھی شخص کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھیں لہٰذااس دن کے بعد میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ اپنی زندگی میں ایسا ہی پرفیکٹ انقلاب لے کر آؤں گا ۔اس انقلاب کے اہداف میں وہ تمام امور شامل تھے جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے۔ الحمد اللہ، آج تین سال گزرنے کے بعد میں پورے اطمینان سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ان میں سے ایک بھی بات پر عمل نہیں کیا !
پرفیکشنسٹ انسان کے ساتھ سب سے بڑی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ چونکہ اس نے ہر کام پرفیکٹ انداز میں کرنے کا تہیہ کیا ہوتا ہے اس لئے وہ کوئی کام شروع ہی نہیں کر پاتا ۔کسی بھی کام کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ وہ کام شروع کریں ،جب کام شروع ہوگا تو ختم بھی ہوگا اور جب ختم ہو گا تو اس دوران اس کام کی فائن ٹیوننگ کی جائے گی اور اسے ممکنہ حد تک پرفیکٹ بنایا جائے گا ۔لیکن پرفیکشنسٹ انسان کام شروع کرنے سے پہلے ہی اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کام کو پرفیکٹ انداز میں کرنا کس قدر مشکل ہے چنانچہ وہ کام شروع ہی نہیں کر پاتا ۔اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے یہ سوچا ہو کہ گھر کی ہر چیز ایک ترتیب کے ساتھ اپنی جگہ آئیڈیل طریقے سے یوں موجود ہو کہ اگر آپ نیویارک میں بیٹھے ہوں اور کوئی آپ سے جنم پرچی مانگ لے تو آپ نے پہلے سے اسے سکین روا کے آن لائن رکھا ہو اور آپ وہیں دریائے ہڈسن کے کنارے بیٹھے بیٹھے اسے اپنے آئی فون کے ذریعے شئیر کردیں۔ یہ کرنا بالکل مشکل نہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ ہم اس پرفیکٹ ماڈل کو صرف سوچتے ہیں اس پرکام کوئی نہیں کرتے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں اگر کوئی پچھلے مہینے کا بجلی کا بل بھی مانگ لے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو قمیض کی جیب میں رہ گیا تھا جودھل کر استری بھی ہو چکی ہے،بجلی کا فیوز اڑ جائے تو لگانے کے لئے تار کا ٹکڑا نہیں ملتا ،شناختی کارڈ ایکسپائر ہو چکا ہے،ڈرائیونگ لائسنس بنوایا ہی نہیں ،پچھلے ماہ جو مائیکرو ویو اوون لیا تھا وہ خراب ہو گیا ہے مگر اس کا گارنٹی کارڈ نہیں مل رہا اور ایک بنک آپ کو ہر ماہ غلط کریڈٹ کارڈ بل بھجوا دیتا ہے مگر آپ بے بس ہیں کیونکہ آپ نے اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں رکھا !
ذاتی زندگی میں ہمارا یہ حال ضرور ہے مگر قومی معاملات میں ہم کوئی رعایت دینے کے عادی نہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ایک پرفیکٹ جمہوری نظام راتوں رات قائم ہو جائے جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں ۔
آمریتوں کودس دس بار ہ بارہ سال دینے کے بعد جب ہم بادل نخواستہ جمہوریت قبول کرتے ہیں تو فوراً
perfectionism
کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پانچ سال کی بچہ جمہوریت کسی گھبرو جوان کی مانند
behave
کرے ۔اور جب ایسا نہیں ہوتا تو ہم کسی جھگڑالو ساس کے انداز میں جمہوری نظام کو طعنے دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ہم ،جو اپنے گھر کی چار چیزیں ترتیب سے نہیں رکھ سکتے،چاہتے ہیں کہ انتخابی سسٹم اس قدر آئیڈیل ہو کہ سوائے چند خود ساختہ راست بازوں کے کوئی بھی اس کی چھاننی سے گزر نہ پائے ۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمارے پولنگ بوتھ بھی کسی فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے کی طرز پر بنائے جائیں ،الیکشن کمیشن کے پاس جادو کی چھڑی ہو جس سے وہ ہر امیدوار کا کچھا چٹھا ایک کلک پر کھول سکے اور جب الیکشن کے نتائج آئیں تو ایسی صالح قیادت سامنے آئے کہ قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہو جائے ۔کسی پرفیکشنسٹکی طرح ہم یہ سب چاہتے ضرور ہیں مگر اس کام کو شروع کرنے کے لئے گھر سے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کو تیار نہیں ۔ہم ’’دو نمبر‘‘ پرفیکشنسٹ ہیں !

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
June
دروش چھاؤنی چترال میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب

گزشتہ دنوں چترال سکاؤٹس، دیر سکاؤٹس اور باجوڑ سکاؤٹس پر مشتمل فرنٹئیر کور کے نادرن سیکٹر کے نوجوانوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ دروش چھاؤنی ، چترال میں منعقد ہوئی۔ کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔

اس موقع پرجوانوں سے خطاب کر تے ہو ئے کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور نے ملک پر حملہ آور ہو کر اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی مزموم کوشش کی ہے ۔لیکن پاکستانی قوم اور پاک فوج نے پر عزم ہو کر اس ناسور کا مکمل طور پر صفایا کر دیا ۔ مہمانِ خصوصی نے جوانوں پر زور دیا کہ وہ کٹھن اور مشکل تربیت کے بعد پاک فوج کا حصّہ بننے جا رہے ہیں بلاشبہ قوم کو آپ پر فخر ہے۔

بعد ازاں اس موقع پر مہمان خصوصی نے کورس میں نمایاں کارگردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعامات تقسیم کیے ۔

newsderwishchaoni.jpg

کمانڈر پشاور کور کا دورہ کرم ایجنسی
گزشتہ دنوں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کرم ایجنسی کا دورہ کیاجہاں اُن کو علاقے میں جاری آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے آرمی پبلک سکول پاراچنار کا سنگِ بنیاد رکھا ، جس کا اعلان چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورہ پارا چنار کے موقع پر کیا تھا ۔ اس موقع پر کور کمانڈر نے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی اور قیام امن کے لیے اُن کی قربانیوں کی تعریف کی۔ کورکمانڈر نے اگلے مورچوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر تعینات فوجی جوانوں سے ملاقات اور ان کے جذبے کی تعریف کی۔

newsderwishchaoni1.jpg

12
June
افغان نیشنل آرمی کی چمن بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ اور پاک فوج کی موثر جوابی کاروائی

گزشتہ دنوں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے سول ہسپتال میں چمن میں افغان بارڈر فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستان میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلیگ میٹنگ کا نتیجہ ضرور نکلے گا لیکن پاکستان کی سرزمین کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوسکتی ۔ جو کوئی پاکستان کے علاقہ میں آکر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کرے گا اس کا پہلا جواب یہی ہے جو کچھ روز قبل ہم نے ان کو دیا۔ جنرل عامر ریاض نے سول ہسپتال چمن میں مریضوں کی عیادت کی اور ان کو یقین دلایا کہ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ ہے اور ان کی ہر ممکن مددجاری رکھے گی۔

بعد ازاں کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل عامر ریاض نے چمن بارڈر پر موجود ڈیوٹی پر تعینات پاکستان آرمی اور ایف سی کے جوانوں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے ، ہمت ، عزم اور جواں مردی کو سراہا۔

nerwsafgahnnationchaman.jpg

12
June
کمانڈر پشاور کور کا شمالی وزیرستان کا دورہ
گزشتہ دنوں کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے میران شاہ، شمالی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا۔ ان کے دو روزہ دورے کے دوران انہیں علاقے میں سیکورٹی صورتحال اور پاک فوج کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کیا گیا، اس موقع پر وہ تعلیمی اور تربیتی اداروں میں بچوں سے ملے اور تعلیم کے فروغ پر مزید زور دیا۔

newsfirstshoting.jpg 

فرسٹ کراچی شوٹنگ چیمپئن شپ
گزشتہ دنوں کراچی گیریژن میں پہلی کراچی شوٹنگ چمپیئن شپ منعقد ہوئی، اس چمپیئن شپ میں پاکستان آرمی، نیوی، ایئر فورس، اے ایس ایف اور رینجرز نے حصہ لیا۔ کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا تقریب کے مہمان خصوصی تھے، پاکستان نیوی سب سے زیادہ پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہی۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔

newsfirstshoting1.jpg

12
June
پاک بحریہ کے سربراہ کی چمن فائرنگ واقعہ کے زخمیوں کی عیادت

گذشتہ دنوں چمن میں پاک افغان سرحد کے قریب فائرنگ کا ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جب افغان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے سرحدکے قریب فرنٹیئر کانسٹیبلری ،سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور مردم شماری کی ٹیم کو نشانہ بنایا۔

newspakbehriachaman.jpg

فائرنگ کے واقعہ میں شہادتوں کے ساتھ سا تھ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے اس افسوسناک واقعہ کی سخت مزمت کی اور زخمیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لئے سی ایم ایچ کوئٹہ میں زیرِ علاج زخمیوں کی عیادت کی۔

 

اسپیشل سروس گروپ (نیوی)کے بیچ بی- 2016کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

گزشتہ دنوں پاک بحریہ کے اسپیشل سروس گروپ (نیوی ) کے بیچ بی - 2016 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ نیول اسپیشل آپریشنز ٹریننگ سینٹر میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈر کوسٹ رئیر ایڈمرل عبدالعلیم تھے ۔ پاس آؤٹ ہونے والے بیچ ،جس میں بحرین کوسٹ گارڈز کے پرسنیل بھی شامل تھے ،نے 33 ہفتے کی کٹھن تربیت کامیابی سے مکمل کی۔اس تربیت میں سوئمنگ، پیراٹروپنگ، کمبیٹ ڈائیونگ، اَنڈرواٹر آپریشنز، ، اسپیشل وارفئیر آپریشنز، لینڈ وارفئیر، اسپیشل فائر آرم ٹیکنیکس اور ایکسپلوزیو ہینڈلنگ جیسی مہارتیں شامل تھیں۔ مہمانِ خصوصی نے پریڈ کے معائنے کے بعد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جوانوں میں انعامات تقسیم کئے ۔

newspakbehriachaman1.jpg

12
June

تحریر: مجاہد بریلوی

میں آپ کو ذرا تھر یعنی سندھ کے اُس علاقے میں لئے چلتا ہوں جو غربت کے اعتبار سے سندھ کے 29 اضلا ع میں آخری نمبروں پرآتا ہے ۔ مگر یقین کیجئے کہ ہفتے بھر پہلے تھر جانا ہوا تو پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اور برسوں کا مطلب روایتی طور پر دہائیاں نہیں حقیقتاً دسمبر 2017 میں سندھ اینگروکول اینڈ پاور پروجیکٹ کے چیف ایگزیکٹیوشمس الدین احمد شیخ کے دعوے کے مطابق کوئلہ نکلنا شروع ہوگیا تو جون 2018 میں یہاں سے 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں جانا شروع ہوجائے گی۔

therkasafarj.jpg


بیس برس تو گزر ہی گئے مگر آج بھی یاد ہے کہ اسلام کوٹ کا کٹھن سفر ایک پرانی جیپ میں اس طرح طے کیا تھا کہ جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا کے جس کا جوڑ جوڑ نہ ہل گیا ہو۔ ادھر برسوں سے تھر میں کوئلے کے اربوں روپے کے خزانے کے ساری دنیا میں چرچے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ میں آنے والی ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اگلے سال اتنے ’’کروڑ ٹن کوئلہ‘‘ اور اُس سے اگلے سال اتنے ’’سو میگاواٹ بجلی‘‘ کی پیدوار شروع ہوجائے گی ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین اس بات کا برسوں سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’’تھر‘‘ اور اُس کے اطراف کا علاقہ کول یعنی کوئلے کا اتنا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے کہ اُسے دنیا کے دس بڑے ملکوں کی صف میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز میں اگر 187 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز ہیں تو اس میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز صرف تھر میں ہیں۔ مئی کے پہلے ہفتے میں ’’سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘‘ کے سربراہ شمس الدین احمد شیخ کی جانب سے دعوت ملی کہ ذرا تھر میں ایک دن ہمارے ساتھ گزاریں۔تو کانوں کو ہاتھ لگایا کہ عمر کے اس حصّے میں کراچی کی گرمی برداشت نہیں ہوتی آپ دنیا کے گرم ترین علاقے کے لق و دق صحرا میں اور وہ بھی اُس وقت جب سورج سوا نیزے پر ہوتا ہے اور گرمی کا پارہ 50 ڈگری کو چھو رہا ہوتا ہے‘ سارا دن گزارنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر شمس الدین احمد شیخ جس اصرار اور محبت سے بُلا کر ہمیں مستقبل کی نوید دے رہے تھے‘ اُس پر انکار ممکن نہ تھا۔ حالیہ برسوں میں وطنِ عزیز ہو یا وطن سے باہر ‘’’خواہشِ سفر‘‘ کا سودا سر میں ایسا سمایا ہے کہ ادھر کوئی دعوت ملتی نہیں ادُھر ’’بسترا‘‘ بندھنا شروع ہو جاتا ہے۔ جھوٹ کیوں بولوں ’’ کول یعنی کوئلے‘‘ میں ہاتھ سیاہ کرنے سے زیادہ ’’تھر‘‘ میں شام گزارنے کا خیال غالب تھا۔ سال بھر پہلے جب تھر کے لق ودق صحرا میں بڑی مشکل سے ایک کنویں کے ساتھ لگے درخت کی چھاؤں ملی تو شیخ صاحب نے ایک بینچ پر نقشہ جما کر دسمبر 2017 میں کوئلہ اورجون 2018 میں 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں دینے کاانکشاف اور اس کے لئے ’’اعداد و شمار‘‘ کا جو دفتر کھولا تو شیخ صاحب کے احترام میں سُن تولیا مگر یقین کرنے کو جی نہ چاہا۔ سات گھنٹے کا سفر طے کر کے اسلام کوٹ پہنچے اور پھر وہاں پروجیکٹ کے ایک رہائشی بلاک میں شام تو اُسی طرح گزاری کہ جو برسوں سے گزرتی ہے مگر اُس کی تفصیل میں خوفِ خلقِ خدا کے سبب نہیں جاؤں گا۔ کوئلہ نکالنے کے لئے سندھ حکومت نے پانچ بلاکس مختلف کمپنیوں کو دیئے تھے۔ سندھ اینگرو تھر پروجیکٹ کو بلاک 2 دیا گیا ہے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 2 ارب ٹن کوئلے کے ذخائز ہیں جس سے 5 ہزار سالانہ میگاواٹ بجلی 50 سال تک فراہم ہوسکے گی۔

مجموعی طور پر پانچ میں سے یہ واحد بلاک ہے جس پر اتنی تیزی سے کام جاری ہے کہ شیخ صاحب کے دعوے کے مطابق ہم مرحلہ وار ٹارگٹس کے حوالے سے 4 ماہ آگے ہیں۔ شیخ صاحب نے اعتراف کیا کہ اگر سی پیک نہ آتا تو ہمارا پروجیکٹ اتنی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے نہ کر پاتا۔ ہماری درخواست پر وزیراعظم پاکستان نے خصوصی طور پر اس پر توجہ دی اور پھر غالباً پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی اقتصادی منصوبے کے حوالے سے یہ پہلا پروجیکٹ ہے جس کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں پہلی بار سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا کہ یہ ایک ’’قومی پروجیکٹ‘‘ ہے۔ شیخ صاحب نے سندھ تھر کول پروجیکٹ کے حوالے سے ہماری روایت کے بر خلاف سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ وعدے کے مطابق دس منٹ بعد شیخ صاحب کی ہمراہی میں‘ میں پتھریلی سڑکوں کے دائیں بائیں چینیوں اور تھّریوں کو 50 ڈگری ٹمپریچر میں جس طرح جتے دیکھا اُس پر اُن کی استقامت اور عظمت کو بے ساختہ سلام پیش کیا۔ سال بھر پہلے پروجیکٹ پر دس بارہ گاڑیاں‘ ٹریکٹر اور مشینیں اور اُن پر سو ڈیڑھ سو افراد سر گرم نظر آتے تھے۔ شیخ صاحب نے تھر کول پروجیکٹ کے عین قلب میں ایک انتہائی گہری کھائی کی طرف انگلی سے اشارا کرتے ہوئے بتایاکہ اگر مزید اتنی ہی گہرائی میں گئے تو کوئلے کی پہلی کھیپ اگلے سات ماہ بعد بیلٹ سے پلانٹ کو روانہ ہوگی۔گہرائی سے نکلی مٹی کو دیکھنے کے لئے مشکل سے بس دو تین منٹ گاڑی سے باہر گزرے کہ لگا ایک قیامت ٹوٹ رہی ہے۔ واپس لوٹا تو دوپہر کا آخری پہر تھا ۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز کا یہ پہلا پرائیوٹ‘پبلک پروجیکٹ اُن مخالفین کے لئے ایک جواب ہوگا جنہیں سندھ میں وڈیرہ شاہی‘ اداروں کی تباہی اور بچوں کی اموات ہی نظر آتی ہیں ۔۔۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June

تحریر: عفت حسن رضوی

تحریر کو پڑھنے سے پہلے وہ قارئین جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے ذرا گوگل سرچ کریں "بیتھنی موٹا" ، اکیس سالہ امریکی ویب اسٹار جو وڈیو بلاگر ہے ، اس وقت یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد فالوئرز رکھتی ہے جو کسی بھی عالمی سیاسی لیڈر یا ہالی وڈ اسٹار سے زیادہ ہیں ، بیتھنی نہ کوئی اداکارہ ہے نہ کسی سیاسی شخصیت کی بیٹی اور نہ ہی کوئی علمی ادبی پس منظر۔ بیتھنی نے دوہزار نو میں جب وہ صرف پندرہ سال کی تھی یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا اور اپنی روزمرہ کی وڈیوز موبائل سے بنا کر انٹرنیٹ پر لگانے لگی ، جلد ہی نو عمر لڑکے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد بیتھنی کی گرویدہ ہوگئی، اب حال یہ ہے کہ وہ ویب ریٹنگ میں امریکی پاپ گلوکارہ کیٹی پیری اور میڈونا سے کئی درجے اوپر ہے۔


بیتھنی جیسے کتنی ہی نو عمر لڑکے لڑکیاں ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنی شناخت ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگے ہیں ، یہ وہ خو ہے جو انہیں اپنے والدین ، خاندان اور اپنے معاشرے سے الگ اپنی پہچان بنانے کے لئے اکساتی ہے، یہ کوئی منفی جذبہ نہیں ، اپنا نام بنانے کی خاطر تو اللہ جانے سیانے لوگ کئی زمانوں سے کیا کیا جتن کر رہے ہیں۔ اب دور اور ہے ، اب ہاتھوں میں چمکیلے اسمارٹ فونز وہ آفت کے پرکالے ہیں جو انگلیوں کی پوروں سے کلک ہوتے ہی ان نوجوانوں کو ایک نئی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں۔


ہم جیسے عام سے لوگ اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ ایک تصویر فیس بک پر لگانے کے بعد ہماری جبلت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ دیکھیں کتنے لوگوں نے لائک کیا، کوئی اچھوتا کام کرکے اس کی تفصیل سوشل میڈیا پر ڈالتے ہی اشتیاق ہوتا ہے یہ جاننے کا کہ کتنے لوگوں نے میرا کارنامہ پسند کیا اورکس کو پسند نہیں آیا ۔

socialmediaper.jpg
حیدرآباد کی نورین لغاری ، اچھی خاصی زندگی اور ایم بی بی ایس کی پڑھائی چھوڑ کر ایک دہشت گرد گروپ سے جا ملی ، بغیر کسی کے زور زبردستی کے خود اپنے والدین‘ دوستوں اور اساتذہ کو دھوکا دے کر لاہور جا نکلی ، لاہور جا کر اس لڑکے علی طارق سے شادی کرلی جو شدت پسند تھا، نورین نے خود کو تیار کرلیا کہ وہ مسیحیوں کے اہم دن ایسٹر پر ، خود کو کسی چرچ میں دھماکے سے اڑا لے گی۔ یہ سب اپنی پہچان ، اپنی شناخت ڈھونڈنے کے سوا کیا ہے؟ نورین کو ایک دہشتگرد لڑکے کی باتوں میں اپنے لئے اہمیت نظر آئی ، حیدرآباد کے علاقے حسین آباد کے رہائشی ، سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالجبار لغاری کی بیٹی نورین کو اپنے بل بوتے پر حیدرآباد سے لاہور جانے میں ایڈونچر محسوس ہوا ، ایسا نہیں کہ نورین کو معلوم ہی نہیں تھا کہ علی طارق ایک شدت پسند لڑکا ہے ،جس کے منصوبوں میں معصوم افراد کا قتل عام شامل ہے ، بس نورین علی طارق کی شخصیت کے حصار میں تھی۔


میں یہ تحریر کسی عمومی رائے کے طور پر نہیں لکھ رہی ،2015 میں میرا امریکی ریاست کالوراڈو کے شہر ڈینور میں کافی عرصے تک قیام رہا، ڈینور میں میری دوستی فرینک اینیلو سے ہوئی ، فرینک کالوراڈو میں پراجیکٹ ورتھ مور نامی این جی او چلاتے ہیں جوکہ سیاسی پناہ حاصل کرنے والے مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کرتی ہے۔ فرینک سے ہی پتا چلا کہ 2014 میں ڈینور میں مقیم ایک سومالی پناہ گزین فیملی کی دو نو عمر بچیاں گھر سے ہائی اسکول گئیں‘ واپس نہ آئیں ، کچھ دیر بعد انہوں نے گھر والوں کو اطلاع دی کہ وہ شام میں جاری جنگ کے لئے دہشت گرد تنظیم داعش میں شامل ہونے جارہی ہیں۔ اگرچہ بروقت کارروائی کرکے ان کم سن لڑکیوں کو جرمنی سے پکڑ لیا گیا مگر یہ واقعہ ایک بڑے سوال کے طور پر ابھر کر سامنے آیا کہ آخر کیوں ان بچیوں کو پر سکون زندگی چھوڑ کر داعش میں شمولیت کا خیال سوجھا۔


اس حوالے سے ڈینور کی انٹیلی جنس سروسز نے جب کریدا تو معلوم ہوا کہ دونوں بہنیں سوشل میڈیا پر ایسے دوستوں کے ساتھ رابطے میں تھیں جو داعش کو کسی ایڈونچر رائیڈ کے طور پر پیش کرتے تھے ، انہیں کم عمری میں یورپین مسلمان لڑکوں سے شادی کا جھانسہ دیا گیا، فرینک اینیلو کی مدد سے میری ملاقات ان بچیوں کے والد سے ہوئی، اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا تھا، بچیوں کے والد علی فرح مجھے مسلمان اور پاکستانی جان کر خاصے خوش تھے ، کچھ بات ہوتی رہی پھر جب فرینک نے میرا تعارف پاکستانی صحافی کے طور پر کرایا تو علی فرح مکمل طور پر ناگواری کے ساتھ خاموش ہوگئے بس اتنا ہی بتا سکے کہ ایک سیاہ فام پناہ گزین لڑکی کے لئے انٹرنیٹ پر خوش شکل گورے یورپی مسلمان لڑکے کی داعش جوائن کرنے کی آفر کتنی اہمیت رکھتی ہوگی ، اندازہ خود لگا لیں۔


گزشتہ چند برسوں میں تقریبا ایک ہزار برٹش نیشنل شام اور عراق جاچکے ہیں جن میں بعض تو مسلمان بھی نہیں،اچھی خاصی تعداد کالجز اور ہائی اسکول طالبات کی ہے۔ پاکستان میں کسی پڑھی لکھی لڑکی کا گھر بار چھوڑ کر شدت پسند تنظیم میں شامل ہونا اگرچہ عمومی مسئلہ تو نہیں مگر نورین لغاری کامعاملہ ٹیسٹ کیس ہے۔ یہ واقعہ پہلا ہے مگر آخری نہیں۔
ایسی خبریں روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں کہ اسلام آباد کی لڑکی کو قصور کے لڑکے نے شادی کا جھانسہ دے کر قتل کردیا ، کراچی کے کسی امیر خاندان کی لڑکی کی لاش چک اٹھائیس جنوبی پنجاب کے ایک ہوٹل سے ملی، انٹرنیٹ کی دوستی جان کو پڑگئی سرگودھا کے لڑکے کو اٹک میں لوٹ لیا گیا۔ یہ فرضی نام سہی مگر ایسی خبریں ہم صحافیوں کی روزمرہ رپورٹنگ کا حصہ ہیں۔ کیا بعید ہے جو محض شادی کا جھانسہ تھا وہ کسی شدت پسند تنظیم میں شمولیت کا پیغام ہو۔
یہ کوئی زیب داستان نہیں،آج کل کی حقیقت ہے کہ نو عمر بچے بچیوں کو شیشے میں اتارنے کے لئے دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کو بہت فعال طریقے سے استعمال کررہی ہیں ، خوش شکل لڑکے لڑکیاں سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شئیر کرتے ہیں، یہاں مذہبی عقائد ڈسکس ہوتے ہیں ، نوجوان اپنی نفسیاتی الجھنوں پر بات کرتے ہیں ، رفتہ رفتہ صنف مخالف میں کوئی ایک ایسا ٹکر جاتا ہے جو محبت میں مذہبی عقائد کی آمیزش کرکے ایسا رومانوی پلان بناتا ہے جس کی انتہا کوئی بم دھماکہ اور معصوموں کا قتل عام ہوتا ہے۔


اس آنے والے طوفان کا صرف ایک بند ہے ، اس مرض کا علاج اگر کسی کے پاس ہے تو وہ ہیں والدین، ایڈونچرز کے اس سونامی میں والدین ہی اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر، سنبھل کر چلنا اور اپنی شناخت بنانا سکھا سکتے ہیں۔
دنیا کی طاقتور عسکری قوت امریکہ اوربرطانیہ کی فوجیں بھی کسی کے گھر میں گھس کر یہ نہیں جان سکتیں کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے والدین سے تعلقات کیسے ہیں، وہ کن سے ملتے ہیں ، کہاں جاتے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر جو گھنٹوں طویل نشستیں چلتی ہیں تو یہ کس سے بات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا سرویلنس کے ہزار ہا طریقے ایجاد ہو بھی جائیں تب بھی پوری دنیا میں موجود دو ارب ٹین ایجرز اور نوجوانوں پر مکمل طور پر نگاہ رکھنا ناممکن ہے۔
جس طرح بھوک لگنا فطری فعل ہے مگر اس کے لیئے کھانا کھانے کی ایک حد ہے ، جیسے بیماری کا علاج کرنا فطری ہے مگر اس کے لئے دوا لینے کی بھی اپنی حدود ہیں ایسے ہی ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات حاصل کرنے کی خُو اچھی اور فطری ہے، مگر اس کی بھی اب حدود و قیود واضح کرنا ہوں گی، جس یوٹیوب کی ویب سائٹ پر بچوں کی اے بی سی اور ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار کی نظم وڈیو کی شکل میں موجود ہے وہیں عمر کی حد ملحوظ خاطر رکھے بغیر جہادی ، شدت پسند اور عصبیت پسندوں کی پروپیگنڈہ وڈیوز ایک کلک کی دوری پر ہیں، حکومت چاہے تو اس سلسلے میں پالیسی لا سکتی ہے ،" ایج ریسٹرکشن " کی اصطلاح ایسی بھی کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ روزانہ رات کو آپ اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی کے ہاتھ سے موبائل چھین کر اس کی سیکورٹی اسکروٹنی کرکے واپس کردیں اور وہ ردعمل میں اپنی معمولی باتیں بھی آپ سے چھپا نہ سکے۔میرے خیال میں تو اب والدین کو اپنے نوجوان بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال پر طعن و تشنیع دینے کے بجائے ان کی فیملی لسٹ کے ساتھ ساتھ فرینڈ لسٹ میں بھی شامل ہونے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگار نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ بلاگر اور کالم نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
12
June
کمانڈر لاہور کور کا سینسس کنٹرول ہیڈ کوارٹر قصور کا دورہ
شتہ دنوں کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے فوج اور سول انتظامیہ کی زیر نگرانی قصور شہر میں جاری مردم شماری مہم کا جائزہ لینے کے لئے سینس کنٹرول ہیڈکوارٹر قصور

Census

کا دورہ کیا۔ جہاں اُنھیں خانہ شماری اور مردم شماری کے حوالے سے اب تک کی مرحلہ وار پیش رفت کے بارے میں مفصل بریفینگ دی گئی۔ بعد ازاں کور کمانڈر ،قصور شہر کے مختلف وارڈز میں گئے اور مردم شماری ٹیموں اور شہریوں سے گفت و شنید کی اور مہم کے حوالے سے اُن کا نقطہ نظر اور ردِعمل معلوم کیا ۔ اُنھوں نے دوران مہم عام شہریوں کے تعاون کو بے حد سراہااور شکریہ ادا کیا۔ کور کمانڈر نے سول اور قومی اداروں کے باہمی اشتراک سے کامیابی سے جاری اس مہم اور اس میں حصہ لینے والی ٹیموں کی کار کردگی کی بھی تعریف کی۔

newsjune17commandcorecensus.jpg

کمانڈر کراچی کور کا کیڈٹ کالج گڈاپ کا دورہ

گزشتہ دنوں کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے کیڈٹ کالج گڈاپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فیکلٹی ممبرز اور طلباء سے ملاقات کی اور کالج میں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طلباء کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں اپنے وطن عزیز کا نام روشن کریں گے۔

newsjune17commandcorecensus1.jpg

12
June
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کوئٹہ گریژن کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ گریژن اور دیگر تنصیبات کا دورہ کیا۔ کوئٹہ پہنچنے پر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض اور آئی جی ٹی اینڈ ای لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کا دورہ کیا اور وہاں مختلف کورسز میں زیر تعلیم نوجوان افسروں سے تبادلہ خیال کیا ۔

آرمی چیف نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے طلباء سے سالانہ خطاب کیا۔اس موقع پر انہوں نے بیرونی اور اندرونی سیکیورٹی صورتحال اور فوج کی جواب حکمت عملی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ملک میں قیام امن کے لئے فوج کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج استحکام کے آپریشنز میں نہایت فعال کردار اد کر رہی ہے ۔بعد ازاں آرمی چیف نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا بھی دورہ کیااورچمن واقعہ میں زخمی ہونیوالوں کی عیادت کی ۔

newsurdujunecoasquetagar.jpg

12
June
چیف آف آرمی اسٹاف کا لائن آ ف کنٹرول کا دورہ

گزشتہ دنوں چیف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر نکیال سینٹر کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں موجودہ حالات سے مکمل آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے جوانوں کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بلند حوصلوں کو سراہا۔ بعد ازاں چیف آف آرمی اسٹاف بنوں آپریشن میں شہادت پانے والے لیفٹیننٹ خاور شہید کے گھر بھی گئے۔ انہوں نے شہید آفیسر اور اس کے خاندان کی وطن عزیز کے لئے اس عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر کمانڈر راولپنڈی کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا بھی ان کے ہمراہ تھے۔

newsurducoasvicitloc.jpg

ہیڈ کوارٹر سدرن کمانڈ کوئٹہ کینٹ میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس

گزشتہ دنوں ہیڈکوارٹر سدرن کمانڈ کوئٹہ میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض ،صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس سمیت دیگر سینئر فوجی اور سول حکام نے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا ء نے صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبے میں مربوط رسپانس کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جائے گا۔

newsurducoasvicitloc1.jpg

12
June
چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دور

گزشتہ دنوں ، چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمودحیات نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر انہیں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جس میں انہیں پاک فضائیہ کے تنظیمی ڈھانچہ اور پیشہ ورانہ کردار سے آگاہ کیا گیا۔

بعد ازاں جنرل زبیرمحمودحیات نے ائیر چیف سے ان کے آفس میں ملاقات کی اور پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ ء خیال کیا ۔

newscharmantjointscome.jpg

ترک سفارتکار کا جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
گزشتہ دنوں ترکی کے سفارتکار

Sadik Babur Girgin

نے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دو طرفہ دفاعی اور سیکورٹی کے معاملات پر مزید تعاون کو بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔

newscharmantjointscome1.jpg

09
June

تحریر: خالد محمود رسول

بھارت کا جنگی جنون اور خطے میں برتری کی شدید خواہش ڈھکی چھپی نہیں۔ حال ہی میں بھارتی ایئر فورس کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پہلی بار اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے بارہ ہزار سے زائد افسروں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہیں کسی بھی وقت کسی بھی چیلنج کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اخبارات کو اس خط کی اطلاع پہنچی تو زیادہ تر ماہرین نے اسے بھارتی سیکیورٹی کو درپیش مسائل کے پس منظر میں ایک سنگین اشارہ سمجھا۔ بھارت اس وقت کشمیر میں جاری مزاحمت اور تحریک آزادی کو دبانے کے لئے ہر حربہ آزما رہا ہے۔ مزاحمت کی شدت بھارتی افواج کی جارحیت سے شدید تر ہے جس پر بھارت کو ملک کے اندر اور ملک سے باہر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے مسلسل پاکستان کی سرحدوں اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کووطیرہ بنایا ہوا ہے تاکہ دنیا کی نظر کشمیر کے نہتے شہریوں پر توڑنے والے مظالم سے ہٹا سکے۔


ابھی اس غیر معمولی خط پر تبصرے جاری تھے کہ ایک اور خبر نے دفاعی حلقوں کی توجہ مبذول کرا لی۔ اسرائیل کے سرکاری ادارے اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز نے بھارتی نیوی کے لئے 630 ملین ڈالرز کے میزائیل ڈیفنس سسٹم اور دفاعی ساز و سامان کی فروخت کا معاہدہ کیا۔ یہ خریداری اپریل میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والے اسرائیل بھارت کے درمیان اب تک ہونے والے سب سے بڑے خریداری معاہدے کے تحت ہوئی۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل ٹیکنالوجی سے لیس دو ارب ڈالرز کے ہتھیار اور سازو سامان بھارتی نیوی کو فراہم کرے گا۔ اسرائیل کے دفاعی حلقوں میں اس معاہدے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اسرائیل کے اس اسلحہ ساز ادارے کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اسلحہ بیچنے کا معاہدہ تھا۔

bharatkajangijnoon.jpgبھارت آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ دنیا بھر میں انتہائی غریب افراد کی سب سے زیادہ تعداد بھارت میں ہے۔ اس تلخ حقیقت کے باوجود یہ بھی ایک سنگین حقیقت ہے کہ بھارت کا جنگی جنون اسے چین نہیں لینے دے رہا ۔ دفاعی اخراجات کے اعتبار سے اب بھارت دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ دنیا بھر کے نمایاں ممالک کے ملٹری اخراجات پر مبنی ایک حقائق نامہ یعنی
Fact Sheet
ترتیب د یتا ہے۔ اس ادارے کی 2016کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زائد ملٹری اخراجات امریکہ نے کئے یعنی 611 ارب ڈالر جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا3.3% تھا۔ دوسرے نمبر پر چین، تیسرے نمبر پر روس، چوتھے نمبر پرسعودی عرب اور پانچویں نمبر پر بھارت تھا۔ بھارت کے کل ملٹری اخراجات کا اندازہ 55.9 ارب ڈالر لگایا گیا جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 2.5 %تھا۔ اس کے برعکس پاکستان کے ملٹری اخراجات کا تخمینہ اس فیکٹ شیٹ کے مطابق فقط 9.9 ارب ڈالر لگایا گیا۔
بھارت کا بجٹ 2017-18 یکم فروری کو پیش کیا گیا۔ بھارت کے تمام دفاعی اداروں کے لئے بشمول پنشن اخراجات وزیر خزانہ ارون جیتلی نے 3,59,854 کروڑ بھارتی روپوں کا دفاعی بجٹ پیش کیا یعنی 53.3ارب ڈالر کے برابر۔ پنشن کے لئے مختص 85,740کروڑ بھارتی روپے کے بعد اس دفاعی بجٹ کا حجم 2,74,144کروڑ بھارتی روپے ہے یعنی چالیس ارب ڈالرز سے کچھ زائد۔ یہ بجٹ گزشتہ سال کے بجٹ سے 5.54% زیادہ ہے۔ اس بجٹ کے ساتھ ایک تین سالہ میڈیم ٹرم
Fiscal Policy Statement
بھی پیش کی گئی جس کے مطابق دفاع کے لئے مختص جاری اخراجات میں 2018-19میں آٹھ فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ 019-20 میں اسے مزید 11%بڑھایا جائے گا۔
دفاعی اخراجات اصل میں کتنے ہیں؟ اسے عام آدمی کی نظر سے چھپانے کے لئے گزشتہ سال سے بجٹ میں اسے پیش کرنے کا انداز بدل دیا گیا ہے ۔ سالہاسال سے بجٹ میں دفاعی اخراجات کی مختلف مدوں کے لئے ایک
Demand of Grant Format
رائج تھا۔ اس سال کے بجٹ میں گزشتہ سال کی طرح اس میں تبدیلی روا رکھی گئی جس کی وجہ سے دفاعی تحقیقی اداروں کو بھی اصل دفاعی اخراجات کا کھوج لگانے میں دقت پیش آئی۔
گزشتہ سال کے اخراجات کے گوشوارے بجٹ کے ساتھ پیش کئے گئے تو یہ حیران کن امر سامنے آیا کہ گزشتہ سال دفاع کے لئے مختص وسائل کا8.11% استعمال نہ کیا جا سکا یعنی 6,970کروڑ بھارتی روپے استعمال نہ کئے جانے کی صورت میں یہ رقم واپس حکومتی خزانے میں چلی گئی یعنی
Surrender
کر دی گئی۔
بھارتی دفاعی بجٹ کی مختلف افواج اور دفاعی اداروں میں تقسیم کچھ یوں ہے ؛ انڈین آرمی پر کل دفاعی بجٹ کا 57% خرچ ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا سب سے بڑا حصہ بھارتی ایئر فورس کے لئے مختص ہوتا ہے یعنی 22 % ۔ نیوی کے لئے چودہ فی صد، ڈیفنس ریسرچ ایند ڈیویلپمنٹ ادارے کے لئے چھ فی صد اور آرڈی نینس فیکٹریوں کے لئے ایک فی صد مختص کیا گیا۔ دفاعی صلاحیتوں کی اپ گریڈیشن کے لئے مختص بجٹ میں آرمی اور نیوی کے بجٹ میں فی صدی اضافہ نہیں کی گیا البتہ بھارتی ایئر فورس کو جدید بنانے کے لئے مختص بجٹ میں 12 % اضافہ کیا گیا۔ اس نمایاں اضافے کا مقصد بھارتی ایئر فورس کے لئے نئے رافیل جنگی طیارے، اپاچی اور چینوک ہیلی کاپٹرز کی مزید خریداری کو ممکن بنانا ہے۔


بھارت کی معیشت گزشتہ تین سالوں کے دوران عالمی معیشت میں مشکلات کے باوجود سات فی صد سالانہ کے لگ بھگ شرح نمو کے ساتھ بڑھتی رہی۔ اس سے قبل کئی سال تک مسلسل بھارت کی معیشت دس گیارہ فی صد سالانہ کی رفتار سے نمو پاتی رہی۔ اس وقت عالمی معیشت میں شرح افزائش میں اضافہ واجبی سا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دنیا کے اکثر ممالک میں فری مارکیٹ کے خلاف ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ یورپ میں پاپولر سیاست دان یورپی یونین اور آزادانہ عالمی تجارت سے اپنے ملکوں کے لئے مناسب
Protection
کے حامی ہیں۔ امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں بھی عالمی تجاری معاہدوں پر کڑی تنقید کی گئی۔ بلکہ نئے صدر نے پہلے سے تقریباٌ طے شدہ معاہدے ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ میں شمولیت سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں یورپ اور امریکہ کے درمیان زیرِ غور معاہدے ٹرانس انٹلانٹک ٹریڈ اینڈ ایویسٹمنٹ پارٹنرشپ کے مذاکرات بھی معطل کر دئیے ہیں۔ بھارتی معیشت برآمدات ، درآمدات اور سرمایہ کاری کے بھاری حجم کی وجہ سے عالمی معیشت کے ساتھ بہت مربوط ہے۔ بھارت کے ماہرین معیشت بھارت کی گزشتہ عشرے کی نسبت حالیہ تین فی صد کم شرح نمو پر اکثر تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے اندر غربت، کرپشن اور کم ہوتی ہوئی شرح نمو بھارتی معیشت کے لئے بہت بڑے چیلنجز ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کئے جا رہا ہے۔ بلکہ علاقائی برتری کے خبط میں مبتلا اکثر ماہرین اس بجٹ کو مزید بڑھانے کے لئے مشورے دیتے رہتے ہیں کہ بقول ان کے بھارت کی افواج کے موجودہ سازو سامان کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور بڑی طاقتوں کے ہم پلّہ بنانے کے لئے موجودہ بجٹ ناکافی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت نے تین سالہ پالیسی پیپر میں اگلے سال مزید آٹھ فی صد اور اس سے اگلے سال مزید گیارہ فی صد کا عندیہ ابھی سے ظاہر کر دیا ہے۔


بھارت کے جنگی جنون کا سب سے بڑا اور مسلسل نشانہ پاکستان ہے۔ پاکستان کی طویل سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود پاکستان پر دراندازی کے الزامات لگانے کا سلسلہ بھارت میں اپنی سکیورٹی کی ناکامی کے ہر نئے واقعے کے ساتھ پھر سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہو یا اڑی کیمپ پر حملہ، ابھی گولیوں کی تڑتڑاہت ختم نہیں ہوتی کہ بھارتی میڈیا کی انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور زبانیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک دبانے میں ناکامی اور وہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج کی موجودگی اور بربریت کے باوجود کشمیریوں کی حیران کن مزاحمت نے بھارتی انا اور برتری کے تفاخر کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ افغانستان میں پاکستان دشمنی پر مبنی کارروائیوں، پاکستان کی سرحدوں پر اور پاکستان کے اندر مکروہ خفیہ کارروائیوں کے سامنے پاکستان کی افواج نے کامیابی سے بند باندھ رکھا ہے۔ سی پیک منصوبے پر بھارت دنیا بھر میں واویلا مچا رہا ہے۔ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے والا بھارت اس وقت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا جب گزشتہ ماہ بیجنگ میں ون بیلٹ اینڈ ون روڈ منصوبے کے لئے کانفرنس میں انچاس سربراہان مملکت سمیت 130ممالک نے شرکت کی لیکن بھارت نے عین آخری وقت پر سی پیک پر اپنے اعتراض کو بہانہ بنا کر شرکت سے کنارہ کشی کر لی۔


بھارت کا جنگی جنون پاکستان کے خلاف ہمیشہ کی طرح مصروفِ عمل ہے لیکن اب سی پیک کے منصوبے کے بعد بھارت کا جنون نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ سرحدوں پر مسلسل گولہ باری اور پاکستان میں غیر اعلانیہ اور خفیہ کارروائیوں کا واحد ہدف پاکستان کو معاشی اور عسکری طور پر الجھانا اور کمزور کرنا ہے۔ پاکستان نے بجا طور پر اپنی دفاعی پیداوار میں مسلسل خود انحصاری پر توجہ دے کر اپنے دفاع کو مزید محفوظ اور مضبوط کرنے کا عمل کامیابی سے جاری رکھا ہے۔ بھارت کے حالیہ دفاعی بجٹ میں مزید اضافے ، نئے جنگی سازو سامان کی خریداری اور اپنے افسران کی ہمہ وقت تیار رہنے کی ہدایت ظاہر کر رہی ہے کہ بھارت کا جنگی جنون ٹھنڈا ہونے کی بجائے مسلسل بھڑک رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے ہمیشہ کی طرح چوکس اور دفاعی سازو سامان میں برتری یا کم از کم توازن رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہنے کی ضروت ہے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: علی جاوید نقوی

سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ہونے والی امریکہ ،عرب اسلامی سربراہی کانفرنس اپنی نوعیت کے حوالے سے ایک منفردکانفرنس تھی، کانفرنس کے کیانتائج برآمد ہوں گے ،یہ آنے والاوقت بتائے گا۔ حیرت کی بات ہے امریکی صدر کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں نظر نہ آئیں ،انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کوفروغ دینے والے بھارت کودہشت گردی سے متاثرہ ملک قراردے دیا۔اس کانفرنس سے ہمیں ایک سبق ضرور ملا ہے کہ آنکھیں بند کرکے کسی پراعتماد کرنے کے کیانتائج ہوسکتے ہیں۔پاکستان عالم اسلام کی قیادت کی نہ صرف اہلیت رکھتاہے،بلکہ پاکستان ہی وہ واحداسلامی ملک ہے جس پرمشرق وسطی تنازعے کے تمام فریق اعتماد کرتے ہیں۔ہم اپنی غیرجانب دارانہ حیثیت برقراررکھتے ہوئے ،مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے مؤثرکردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کانفرنس کی صدارت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے کی ۔ تمام مسلم ممالک کادہشت گردی اوردہشت گردو ں کے خلاف مل کرجنگ لڑنا ایک سنہرا خواب ہے ۔کیا ہی اچھاہوتا اس’’عرب اسلامک امریکن سمٹ‘‘ میں دیگربرادر اسلامی ممالک کو بھی مدعوکرلیاجاتا ۔اس کانفرنس میں دعوت نامے کے باوجود ترکی کے صدررجب طیب اردگان نے شرکت نہیں کی ،ترکی کی نمائندگی ترک وزیرخارجہ نے کی۔


امریکہ ،عرب اسلامی کانفرنس کے اختتام پرجومشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’’ عالمی اورعلاقائی سطح پردہشت گردی،انتہاپسندی کی روک تھام اورامن واستحکام وترقی کے لئے عرب واسلامی ممالک اورامریکہ قریبی پارٹنرشپ قائم کریں گے۔ فریقین نے مشترکہ کارروائیوں اورتعلقات کی مضبوطی کے لئے تعاون بڑھانے اوراقدامات اٹھانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے پراتفاق کیا‘‘۔مشترکہ کارروائیوں کالفظ اپنے اندربہت سے معنی لئے ہوئے ہے۔ کیا ان مشترکہ کارروائیوں میں پاکستان شامل ہوگا؟ امریکہ اورخلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے درمیان دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لئے بھی ایک سمجھوتہ طے پایا ۔اس حوالے سے امریکہ اورچھ خلیجی ممالک کے حکام نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ۔ سربراہ اجلاس کے بعدصدرٹرمپ نے ریاض میں انتہاپسندی کے انسداد کے لئے قائم ہونے والے خصوصی انسٹی ٹیوٹ’گلوبل سنٹرفارکومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘‘ کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔یہ سنٹرانتہاپسندانہ نظریات سے لڑنے کے لئے حکمت عملی بنائے گا۔اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرزمیں مختلف ممالک سے بارہ نمائندے منتخب کئے جائیں گے۔


دہشت گردی اوردہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے مسلم ممالک کی مشترکہ فوج ایک اچھاآئیڈیاہے۔اس پرمزید کام کیاجاناچاہیے ۔اس اسلامی فوج کوپوری امت مسلمہ کی فوج بنانے کی ضرورت ہے۔امت مسلمہ کادشمن تویہ ہی چاہتا ہے کہ ہم فرقہ وارانہ اختلافات کاشکارہوجائیں۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی پاکستان کے لئے یقینی طورپرایک اعزاز ہے اورامید ہے جلد ایک پیشہ ور فوج تیارہوجائے گی،جوداعش اورالقاعدہ جیسی دہشت گردتنظیموں سے نمٹ سکے گی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اس کانفرنس میں موجود تھے۔

badaltyhalatmuslim.jpg
یہ پاکستان کے امتحان کابھی وقت ہے ،سعودی عرب اورایران دونوں پاکستان کے دوست ہیں۔دونوں ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیا۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ ان دونوں دوستوں کواہمیت دی اوربھائی سمجھا۔اب ہمارے ان دونوں دوستوں میں بعض امورخصوصاشام اوریمن کے معاملے پرسخت کشیدگی ہے۔پاکستان کی اسلامی ممالک کی اتحادی فوج میں شرکت پربرادرملک ایران کے تحفظات ہیں۔جبکہ ہم مشکل وقت میں سعودی عرب کوبھی تنہانہیں چھوڑسکتے۔اس کانفرنس میں ایران کانام لے کراسے تنہاکرنے کی باتوں نے پاکستان کوآزمائش میں ڈال دیا ہے۔بہترہوتااس کانفرنس سے پہلے پاکستان، سعودی عرب اورایران کواپنے اختلافات کم کرنے اوربات چیت کے ذریعے طے کرنے پرراضی کرلیتا۔جہاں تک طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کامعاملہ ہے تودنیا کے سامنے امریکہ کی مثال موجودہے جوآج تک افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکا۔


کانفرنس میں امریکی صدرنے جوکچھ کہا،ہماری طرف سے یہ پیغام ضرور جاناچاہئے تھاکہ ہماراامریکی پالیسیوں سے سوفیصد متفق ہوناضروری نہیں،خاص کر بھارت کی شان میں صدرٹرمپ نے جو فرمایاہے۔ سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیزنے اپنے خطاب میں اسلامی عسکری اتحاد کابھی ذکرکیااورکہا کہ یہ اتحاددہشت گردی کوشکست دینے کے لئے بنایاگیاہے۔ دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کااتحاد ایک اچھااقدام ہے لیکن اگراس اتحادمیں امریکہ بھی شامل ہوگاتوبہت سے سوالات اورغلط فہمیاں پیداہوں گی ۔ مشرق وسطی میں ہمارا کردار ایک ثالت کاہوناچاہیے فریق کانہیں۔داعش اورالقاعدہ جیسی تنظیمیں مسلم ممالک میں انتشار اورتباہی کاباعث بن رہی ہیں۔داعش نوجوانوں کوورغلاکراپنے منفی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔تاہم داعش اورعلاقے کی اسرائیل مخالف مزاحمتی تنظیموں میں فرق ہے۔
امریکی صدرٹرمپ جن کی کرسی صدارت خطرے میں ہے اوران کے مواخذے کی باتیں ہورہی ہیں۔ٹرمپ نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کا آغاز اسلام کے مرکزسعودی عرب سے کرکے اپنے مسلم دشمن ہونے کے الزام کو دھونے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس کے لئے انھیں زبانی جمع خرچ کے علاوہ بہت کچھ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ سعودی عرب کے بعد اسرائیل اورویٹی کن سٹی بھی گئے۔ان کا دیوارگریہ جانابھی متنازعہ عمل ہے ،عربوں کے اس علاقے پراسرائیل نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ڈونلڈٹرمپ نے اسرائیل کے دورے کے موقع پرکھل کرکہاکہ’’ اسرائیل سے محبت ہے اوراس کااحترام کرتے ہیں ،وہ اسرائیل کے ساتھ ہیں‘‘۔اگرٹرمپ اسرائیل کے ساتھ ہیں تووہ مسلم ممالک کے ساتھ کیسے ہیں؟بات اتنی سادہ نہیں ہے۔


ٹرمپ اپنے دورے سے یہ بھی ثابت کرناچاہ رہے تھے کہ وہ دنیاکے تین بڑے مذاہب مسیحیت،اسلام اوریہودیت کوساتھ لے کرچلناچاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ مذاہب کی جنگ توہرگز نہیں ہے۔دہشت گردوں کانشانہ تمام مذاہب اورفرقے ہیں۔مشرق وسطی سمیت دنیا بھرمیں جوقتل وغارت جاری ہے اس کی ایک وجہ امریکی پالیسیاں بھی ہیں۔امریکہ کوایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کاقیام جلدازجلد عمل میں آسکے اوراسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بندباندھا جائے ۔


ٹرمپ نے اس کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف تقریر کی ،انہوں نے ایران کی پالیسیوں پرتنقید کی اوراُسے تنہاکرنے کی بات کی ۔پاکستان ،امریکہ کے ساتھ مل کردہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہاہے،لیکن صدرٹرمپ نے ہماری قربانیوں کااعتراف نہ کیا،جس پرہماراشکوہ بنتاہے۔ سابق صدراوبامہ کے دور میں امریکہ اورسعودی عرب کے تعلقات سردمہری کاشکارتھے،جس کی وجہ سے مشرق وسطی امریکی ترجیحات میں نچلی سطح پرآگیاتھا۔اب ان تعلقات میں ایک نئی گرم جوشی آگئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اورخلیجی ممالک کی اس نئی فرینڈ شپ کے خطے پرکیااثرات ہوں گے۔بعض عرب دوستوں کے گوادرپورٹ کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں۔امریکہ اوربھارت بھی نہیں چاہتے کہ گوادرپورٹ کے راستے خطے میں چین کااثروروسوخ بڑھے۔


ٹرمپ ایک بزنس مین ہیں انہوں نے امریکی معیشت کومستحکم کرنے اورنوجوانوں کے لئے روزگارکے نئے مواقع پید اکرنے کے لئے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لئے سعودی عرب کاانتخاب کیا۔ وہ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالرکے معاہدے کرنے میں کامیاب رہے۔امریکی پالسیی سازوں کواندازہ تھاکہ یہ سعودی عرب کوامریکی اسلحہ بیچنے کابہترین موقع ہے۔سعودی عرب جوپہلے ہی معاشی دباؤ کاشکارہے، اربوں ڈالرکے اسلحے کی خریداری معیشت پرمزیدبوجھ ڈالے گی، جبکہ امریکی اسلحہ سازکمپنیوں کی چاروں انگلیاں گھی میں ہوں گی۔


سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدرٹرمپ کوسعودی عرب کے سب سے بڑے اعزازسے نوازا۔اب ظاہر ہے میڈل پہننے کے لئے میڈل دینے والے کے آگے سرجھکاناپڑتا ہے۔صدرٹرمپ پر بداعتمادی کایہ حال ہے کہ صدرٹرمپ کی اس تصویرپرامریکہ میں ہنگامہ کھڑاہوگیا۔چندسال پہلے امریکی صدراوبامہ نے بھی اسی طرح جھک کرمیڈل پہنا تھا،اس وقت ٹرمپ کی طرف سے اوبامہ کوشدید تنقید کانشانہ بنایاگیا۔اب ٹرمپ کواسی تنقید کاسامناکرناپڑا ہے۔


اہم سوال یہ ہے کہ کیاامریکی صدرٹرمپ کے دورے کے اثرات دیگرمسلم ممالک پرمرتب ہوں گے اورکیاصدرٹرمپ مسلم ممالک کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کریں گے؟ہمارا خیال ہے یہ سب زبانی جمع خرچ ہے ۔صدرٹرمپ کی مسلم ممالک کے حوالے سے پالیسی تبدیل نہیں ہوگی ۔مسلم دنیا کابھی صدرٹرمپ سے یہ امیدیں وابستہ کرلیناکہ وہ امت مسلمہ کے مفادات کاتحفظ کریں گے ایک لطیفہ ہی ہے۔امریکہ کی اپنی ترجیحات ہیں اوردیگرممالک کی اپنی ترجیحات اورمفادات ہیں ۔ہماری پالیسی ہے کہ ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ،اورنہ پاکستان کسی ملک کے اندرمہم جوئی کاارادہ رکھتاہے۔ کسی مسلح گروپ کے ذریعے کسی ملک کی حکومت کو ہٹانے کارحجان کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔اس پالیسی کے تحت پاکستان،شام میں صدربشارالاسد کی حکومت کوتسلیم کرتاہے اوریمن میں حوثی باغیوں کی مسلح جدوجہد کی مخالفت کرتاہے۔یوں اگردیکھاجائے توشام کے مسئلے پرپاکستان ،ایران کے قریب ہے جبکہ یمن کے معاملے پرپاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے۔پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے موجود ہیں۔پاکستان ان دفاعی معاہدوں پرعمل کرنے اورکسی غیرملکی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کی مدد کاپابند ہے،تحفظ حرمین شریفین بھی ہم سب کی ذمہ دار ی ہے۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ پاکستان کوکسی کے کہنے پرکسی تیسرے ملک میں مہم جوئی شروع کردینی چاہئے۔ہم اس وقت خود ایک مشکل صورتحال کاشکارہیں،دہشت گردوں کے خلاف ایک ایسی لڑائی لڑرہے ہیں۔جس میں ٹی ٹی پی اورداعش جیسی تنظیموں کوغیرملکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔یہ بھی واضح ہے کہ ملکوں کے تعلقات باہمی مفادات پرہوتے ہیں ناں کہ مذہب اورفرقے کی بنیادپر۔ امریکہ اورایران کے درمیان مخاصمت چالیس سال سے جاری ہے۔یہ ایران اورامریکہ کی مرضی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کس طرح رکھتے ہیں ۔ہم نے اب تک اپنادامن بچاکررکھا ہواہے۔ہمارے دشمن کی شروع سے کوشش ہے کہ پاکستان کوکسی طرح فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلاجائے۔لیکن پاکستان کے عوام نے مل کراس سازش کوناکام بنایاہے،سب کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں۔ہمیں کسی نئی سازش کاشکارہونے کی بجائے بھائی چارے اورامن کی فضا کوقائم رکھنا ہے۔پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں۔مختلف فرقوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں،جب کسی ایک بھائی کوتکلیف ہوتی ہے اس کادرد دوسرا بھی محسوس کرتاہے ۔ہمارامفاد یہ ہے کہ مسلم ممالک بھی فرقہ واریت کاشکارنہ ہوں۔


سفارتی امورکے بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ہمارے عرب دوستوں نے جلدبازی میں اپناوزن امریکی پلڑے میں ڈال کرگھاٹے کاسوداکیاہے۔انھیں امریکہ ،روس اورچین تینوں عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے چاہئیں۔اگراس کانفرنس میں روسی صدرپیوٹن بھی آجاتے توبہترہوتا۔سارے انڈے امریکہ کی باسکٹ میں ڈالنے کافیصلہ دانشمندانہ نہیں۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے علاوہ بحرین،کویت،قطر،متحدہ عرب امارات،اومان اورمصرکے سربراہان مملکت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دفترخارجہ کی کوششوں کے باوجود وزیراعظم نوازشریف اورڈونلڈٹرمپ کے درمیان ون ٹوون ملاقات نہ ہوسکی۔نائن الیون کے بعد پاکستان دہشت گردی کاسب سے زیادہ شکارہواہے۔اب تک ہزاروں لوگ اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرچکے ہیں۔پاکستانی معیشت کواربوں روپے کانقصان ہوا ہے لیکن امریکی صدرٹرمپ نے اپنی تقریرمیں پاکستان کی قربانیوں کاذکرنہیں کیا۔یہ بات طے ہے کہ مشرق وسطی میں اس وقت تک امن نہیں آسکتاجب تک تمام برادرممالک بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔سعودی عرب اورایران کے اختلافات اتنے سنگین نہیں کہ انھیں دورنہ کیاجاسکے ۔اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے مسائل کاحل کسی دوسرے سے لینے کی بجائے آپس میں بات چیت کا آغاز کریں۔ اس ضمن میں پاکستان ثالثی کاکرداراداکرسکتاہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

سرنگوں کبھی نہ ہوپرچم تیرا


زندگی تیرے نام ہے
شہادت مرا انعام ہے
میری عیدیں اور شبراتیں
اے وطن تیرا دوام ہے
تری عظمت و شان و شوکت
مرا سکھ چین آرام ہے
سرنگوں کبھی نہ ہوپرچم تیرا
اسلحہ مرا بے نیام ہے
ترے نظریے کے لئے
پینا شہادت کا جام ہے
تو رہے پائندہ و تابندا
فوج کا بس یہی کام ہے
دنیا میں تُو ہو سربلند‘ اس لئے
لیاقت حاضر صبح و شام ہے
بریگیڈیئرلیاقت محمود

*****

 
09
June

تحریر: حماس حمید چودھری

206 قبل مسیح میں ہان خاندان چین میں برسر اقتدار آیا۔ہان خاندان کی چار سو سالہ حکومت چین کی معاشی تاریخ میں سنہرے دور کے طور پر یاد کی جاتی ہے کیونکہ ہان خاندان نے تاریخ میں پہلی بار ایشیا کو افریقہ اور یورپ کے ساتھ تجارتی مقاصد کے لئے براہ راست جوڑنے کا سوچا اور پھریہی سوچ بنیاد بنی شاہراہ ریشم کی۔ اس قدیم شاہراہ ریشم(سلک روڈ) کی کچھ جھلکیاں آج بھی گلگت شہرسے قراقرم روڈ کے ذریعے خنجراب بارڈر کی طرف جاتے ہوئے دریا کی دوسری جانب دیکھی جاسکتی ہیں۔قدیم زمانے میں شاہراہ ریشم مشرق میں جاپانی جزیروں تک اور مغرب میں بحیرہ روم تک پھیلی ہوئی تھی لیکن بعد میں مختلف وجوہات کے باعث یہ عظیم الشان تجارتی سلسلہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ ایشیا اور یورپ کو ایک سڑک کے ذریعے جوڑنے کاسنہری خواب تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو گیا۔


سیکڑوں سالوں بعد آج جب ہم نے اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم جمالئے ہیں تو ایک بار پھر سے ایشیا کو افریقہ اوریورپ سے ایک سڑک کے ذریعے جوڑنے کا خیال زبان زد عام ہے۔اس خیال کی باز گشت اس وقت سنائی دی جب ستمبر اور اکتوبر 2013ء میں ایشیا اور یورپ کی مختلف ریاستوں کے دورے کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے مَیری ٹائم سلک روڈ اور سلک روڈ اکنامک بیلٹ کا تصور پیش کیا گیا۔ اس خیال نے اس وقت حقیقت کا روپ دھارنا شروع کیا جب نومبر2014ء میں چینی حکومت نے سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان میں 46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا اس معاہدے پر دستخط 20 اپریل 2015ء کو چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کئے لیکن یہ صرف ابتداء تھی چین کے اس بین البر اعظمی منصوبے کی، جس نے ایشیا کو افریقہ اور یورپ سے براہِ راست جوڑنا تھا‘ 14اور15 مئی 2017ء کو چین نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو فروغ دینے کے لئے بیجنگ میں ایک بہت بڑے اجلاس کی میزبانی کی جس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے سربراہان بشمول روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوان اور مختلف نمائندوں نے علاوہ مختلف عالمی اداروں ‘ آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے سربراہان اور مندوبین نے بھی شرکت کی۔اس دو روزہ اجلاس کے دوران پاکستان اور چین نے تقریباً 500 ملین ڈالر کے بھاشا ڈیم، 333 ملین ڈالر کے گوادر ایئر پورٹ، حویلیاں ڈرائی پورٹ اور ریلوے ٹریک کے منصوبوں کے چھ اضافی معاہدوں پر دستخط کئے جس سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی مالیت اب تقریباً 75بلین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا بین الصوبائی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کے درجنوں ممالک کو براہ راست جوڑنے کے لئے چین سمندری اور زمینی راستوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کرنا چاہتا ہے جس پر تقریباً ایک کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔ چین 2014ء سے اب تک ون بیلٹ ون روڈ سے ملحقہ ممالک کے ساتھ تقریباً 400 ارب ڈالر کے منصوبے سائن کر چکا ہے اور 2017ء میں ہی مذکورہ منصوبوں کے لئے تقریباً 90 ارب ڈالر اپنے تین سرکاری بینکوں میں منتقل کر چکا ہے۔


چین کی ایک کھرب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری سے پاکستان اور سری لنکا میں بندرگاہوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں تیز رفتار ٹرینوں اور وسطی ایشیا سے گزرنے والی گیس پائپ لائنوں ، سنکیانگ سے گوادرکی گہرے پانی کی بندرگاہ تک57 ارب ڈالر کی لاگت کا زمینی راستہ، ایک ارب ڈالر کی لاگت سے سری لنکا کے شہر کولمبو میں ایک پورٹ سٹی کی تعمیر، سنکیانگ سے سنگاپور تک تین ہزار میل لمبی تیز رفتار ٹرین کی پٹری بچھانے کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے ساتھ بھی بیشتر منصوبوں پر عمل درآمد شامل ہے۔اس کے علاوہ چین کا ایگزم بینک افریقہ کے کئی ممالک میں ریلوے نیٹ ورک کے لئے بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

onebeltroadpak.jpg
امریکہ کی بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے امریکہ سے فاصلے پیدا ہو چکے ہیں۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور پاکستان کا قریبی دوست اور ہمسایہ ہے۔فوربز کے مطابق چین 2018ء تک معاشی میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون پر چلا جائے گا اور حالات بھی کچھ ایسے ہی دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ فوکس بزنس کے مطابق ایک امریکی اوسطاً 62ہزار ڈالر قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ دنیا کا مستقبل ہے اور یہ بین البراعظمی منصوبہ دنیا کو ایک نئی شکل اور ترتیب دے گا۔


مشہور کورین دانشورجے ہو چنگ کا کہنا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جب مکمل ہوگا تو تقریباً60 ممالک اس کا حصہ ہوں گے اور دنیا کی دو تہائی آبادی اس سے منسلک ہوگی جبکہ یہ عالمی جی ڈی پی کے 55فیصد اور عالمی توانائی کے75فیصد حصے پر مشتمل ہوگا۔ہانگ کانگ کے اخبار ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ انسانی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم منصوبہ ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا اب امریکہ کی امریکہ فرسٹ پالیسی سے تنگ آکر چین کی جانب جھکتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ چین کی پالیسیاں باہمی تعاون ، باہمی دلچسپی اور باہمی منافع پر مبنی ہیں۔چین ایشیائی سپر پاور بننے کے بعد اب عالمی سپر پاور بنتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ دوسری عالمی طاقتوں روس اور امریکہ کی جنگی پالیسیوں کی نسبت چین کی پرامن معاشی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے دنیا چین کی جانب دیکھ رہی ہے۔


اس عالمی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے اورواشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کا اشارہ بھارت کی جانب تھا کیونکہ بھارت نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کے بار ہا احتجاج کے باوجود چین نے بھارت کو اعتماد میں لئے بغیر پاکستان میں سی پیک کا آغاز کر دیا جوکہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ہی حصہ ہے ۔ حالانکہ حالیہ دنوں میں ہی بھارت میں چین کے سفیر لیو ژو ہیو نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں پاک چین اقتصادی راہداری پر وضاحت دی کہ سی پیک منصوبہ کسی لحاظ سے بھی بھارت کی ترقی کے خلاف نہیں اور وہ ون بیلٹ ون روڈ کے اس عظیم منصوبے میں بھارت کی شمولیت چاہتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی سفیر کے مذکورہ بیان پر پاکستانی حلقوں نے اعتراضات کئے تھے جس کے بعد چینی سفیر کو سی پیک کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے دیا گیا اپنا بیان واپس لینا پڑا۔


اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی کامیابی کا دارومدار پاک چین اقتصادی راہداری کی کامیابی سے منسلک ہے کیونکہ سی پیک ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے اور اس کی کامیابی کو چین دنیا کے سامنے بطور مثال پیش کرے گا۔جب بھی کسی بڑے منصوبے کا آغاز کرنا ہو تو اس سے پہلے ایک پائلٹ منصوبہ بنایا جاتا ہے جس کی کامیابی کی بنیاد پر بڑے منصوبے کا آغاز کیا جاتا ہے اس لحاظ سے دنیا کی نظریں سی پیک پر مرکوز ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں سات لاکھ نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں تو ون بیلٹ ون روڈ کی وجہ سے ستر لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا اور یہ باتیں ہمارے دشمنوں کو بھاتی نہیں ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا مقصد بھی سی پیک کو سبو تاژ کرنا تھا۔بارڈر کے اس پار بیٹھے دشمن اور ہماری صفوں میں موجود منافق کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان میں معاشی استحکام اور خوشحالی آئے جس کے لئے وہ کسی بھی اخلاقی حد سے گر جانے میں قباحت محسوس نہیں کرتے ۔


اس ساری صورتحال میں افواج پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل اور فیصلہ کن ہے کیونکہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی دہشتگردی کا شکار ہے جبکہ افواج پاکستان پچھلے سولہ سالوں سے حالت جنگ میں ہیں اگرچہ حالات بتدریج کامیابی کی جانب گامزن ہیں تاہم حکومت کی ناکام فلاحی پالیسیاں اور سیاسی عدم استحکام اس امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ دشمن کبھی جاسوس ایجنسیوں کے ذریعے بلوچستان کے معصوم لوگوں کو ورغلاتا ہے تو کبھی افغان بھائیوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بو تا ہے، کبھی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے گوادر منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی کراچی کے حالات خراب کرتا ہے۔بارڈر کے اس پار بیٹھا دشمن بد امنی اور دہشتگردی کو بنیاد بنا کر سی پیک منصوبے کو دنیا کی نظر میں ناکام دکھانا چاہتاہے لیکن اس کے ناپاک مقاصد کے حصول کی راہ میں افواج پاکستان سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہیں۔


ایک اور بات قابل غور ہے کہ چین او بی او آر سے منسلک ممالک کو آسان قرضوں کی صورت میں سرمایہ دے گا اور ایک وقت پر ان ممالک کو یہ قرضہ اتارنا ہوگا تو پاکستان کو چاہئے کہ مکمل پلاننگ کے ساتھ اس منصوبے کے ساتھ چلے تاکہ آج کا دوست کل کا آقا نہ بن جائے۔دوستی اپنی جگہ ہوتی ہے لیکن جہاں مفادات کی بات آجاتی ہے تو عقلمند سب سے پہلے اپنے مفادات محفوظ کرتا ہے اور پھر دوسروں کے ۔ اپنے دوست چین کی طرح ہمیں بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔


سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے اگر چین کا زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور پاکستان کا کم تو بھی یہ گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ اس وقت پاکستان کے عوام کی معاشی حالت بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ گیلپ کے مطابق پاکستان کی چالیس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے اور نو جوانوں میں بے روزگاری کی شرح روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔اس موقع پر ہمیں بحیثیت قوم مل کر سی پیک کو کامیاب بنا کر ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی جنگی بنیادوں پرانتہائی محتاط انداز میں راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

خودی کی زندگی


خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیان و حریر
نہنگِ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد
نہنگ مُردہ کو موجِ سراب بھی زنجیر

*****

 
09
June

ملکی دفاع کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہوا کرتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اگر کوئی ریاست دفاعی اعتبار سے کمزور ہو اور اس کی سپاہ اس قابل نہ ہو کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے تو پھر ایسی ریاست کی سالمیت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام نے معاشرت اور سماجی اعتبار سے ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی لائن کو بھی مضبوط خطوط پر استوار رکھا ہے۔ مضبوط دفاع اور ملکی سالمیت کو یقینی بنانے کے پیش نظر وطنِ عزیز پاکستان نے بھی بطورِریاست کبھی اس پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمارا دین بھی ہمیں اپنا دفاع مضبوط رکھنے اور خود کو تیار رکھنے کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ پاک کی آیت کا مفہوم ہے ۔


’’اور(مسلمانوں) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں اُن سے مقابلے کے لئے تیار کرو جن کے ذریعے تم اﷲ کے دشمن اور اپنے(موجودہ) دشمن پر ہیبت طاری کرسکو‘ اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے‘ (مگر) اﷲ اُنہیں جانتا ہے۔ ‘‘
(سورۃ الانفال آیت 60)
افواج پاکستان ’الحمدﷲ‘ پیشہ ورانہ اہلیت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں۔ ہماری بری‘ بحری اورفضائی افواج نے ہر ہر معرکے میں اپنی اہلیت اور قوت دونوں ثابت کی ہیں۔ ظاہر ہے ریاست کو اس امر کا ادراک ہے کہ ملکی سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا کس قدر اہم ہے۔ لہٰذا ہر سال دفاع کے لئے بجٹ مختص کیا جاتا ہے ۔ رواں برس بھی بجٹ2017-18 کے47کھرب اور 52 ارب کے وفاقی بجٹ میں سے928 ارب دفاعی بجٹ کے لئے مختص کئے گئے ہیں جو مجموعی بجٹ کا تقریباً16 فیصدبنتا ہے۔مختص کردہ بجٹ کا اگر پڑوسی ملک ہندوستان اور بعض دیگر بڑی طاقتوں سے موازنہ کیاجائے تو یہ نہایت قلیل ہے لیکن ریاست کی تینوں افواج اس مختص کردہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ اہلیت اور صلاحیتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی سعی کرتی ہیں بلکہ وقت پڑنے پر کسی بھی چیلنج سے نبرد آزما ہو کر ملکی دفاع کو یقینی بناتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما ہے جس میں بری‘ بحری اور فضائی افواج نے اپنی اپنی ذمہ داریاں اس انداز سے نبھائی ہیں کہ ایک دنیا ان کااعتراف کرتی ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی وطنِ عزیز کو خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے اور پاکستان دشمن عناصر ملک کے خلاف کارروائیاں کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن ہماری فورسز کی جانب سے نہ صرف ایسی کارروائیوں کا مؤثرجواب دیا جاتا ہے بلکہ ان عناصر کا پیچھا اُن کی کمین گاہوں تک کیا جاتاہے۔افواجِ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے نہ صرف کماحقہ‘ آگاہ ہیں بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت سے بھی مالامال ہیں اور وہ اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ صرف امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ترقی اور خوشحالی حاصل کی جاسکتی ہے۔بلاشبہ دیرپا امن کے حصول کے لئے پاکستان کو ایک طاقت ور اور مضبوط ریاست کے طور پر خود کو منوانا ہے جس کے لئے پاکستان کے عوام اور اس کی افواج مل کر کام کررہی ہیں کہ باہمی اتحاد و یگانگت ہی میں ریاست کا امن اور وقار پنہاں ہیں۔

09
June

تحریر: خدیجہ محمود

جس طرح ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ اسی طرح میری نظر میں پاک فوج سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ سپاہی ہو یا جرنیل آسمانِ شجاعت کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس کے سینے پر کسی نہ کسی قربانی کا تمغہ سجا ہوا ہے اور وہ قربانی صرف دفاعِ وطن کے مقدس فریضہ کے دوران رتبۂ شہادت پر فائز ہونے کی ہی نہیں بلکہ خون کو جماتی ہوئی سیاچن گلیشیر جسے برف کا صحرا کہیں تو مناسب ہوگا کی سردی میں توکبھی جھلسا دینے والی ریگستان کی گرمی میں اپنے تمام پیاروں سے دوری‘ دورانِ تربیت زخمی ہو کر یا کسی آپریشن میں جسم کے کسی حصے کی تاعمر معذوری کی صورت میں بھی شامل ہے اور پھر بھی وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ:’’ اے وطن! ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں‘‘
بظاہر یہ چمکتی ہوئی کلف زدہ بے شکن فوجی وردی ہے لیکن اپنے اندراَن گنت داستانیں سموئے ہوئے خاموشی کی زبان میں بہت کچھ سناتی ہے جو شاید صرف چند اہلِ دل ہی سمجھ پاتے ہیں۔
آج کا مضمون ان
Unsung Heroes
کوخراج تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کاوش ہے جو اس پاک وطن کے عشق میں چُور‘ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
زمانے میں ادا کرتے ہیں جب بھی رسمِ شبیری
تو نوکِ خنجرِ باطل پہ بھی سررقص کرتا ہے
اپنی اس تحریر میں میں چاہ کر بھی لفاظی نہیں کرپاؤں گی کیونکہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی جن کے سینوں میں دل کی جگہ پاکستان دھڑک رہا ہے‘ وہ کسی ستائش کی پروا کئے بغیر اس ملک کی خدمت کررہے ہیں۔ ان کا صرف ایک ہی جنون‘ ایک ہی عشق اور ایک ہی ایمان ہے ۔ جس کا نام پاکستان ہے۔

shukriayapakfoj.jpg
کچھ صحافی اور اینکر حضرات پرنٹ ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے مختلف میڈیم پر پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان سب سے مخاطب ہو کر یہ کہنے اور لکھنے کی جسارت کررہی ہوں کہ پاکستان میں ایک ہی تو ادارہ ہے جس کے نمائندگان نہایت یقین سے اس ملک کے شہریوں کو اعتماد دلاتے ہیں کہ ’’تم سکون کی نیندسو لو‘ پاک فوج جاگ رہی ہے۔‘‘


کچھ حب الوطنی کے دعوے داروں کا اعتراض ہے کہ ملک کے بجٹ کا 70فیصد حصہ پاک فوج پر خرچ ہوتا ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ ذرا غور سے اعداد و شمار کو دیکھیں۔ پالیسیوں پر نظردوڑائیں اور عینک کے دھندلائے شیشے صاف کریں تو صاف نظر آجائے گا کہ50 فیصدسے اوپر بجٹ تو قرض اتارنے کی مد میں صرف ہوتا ہے اور باقی تمام اخراجات کے بعد دفاعِ وطن پر ملک کا 17 فیصد سے بھی کم بجٹ تینوں افواج پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اگر اس دعوے پر کسی کوشبہ یا اعتراض ہے تو وہ کسی بھی سینئر تجزیہ کار صحافی یا اکانومسٹ جو اس مضمون میں کمال رکھتے ہیں اعداد و شمار کے حوالے سے تصدیق کرسکتے ہیں۔ ہمارے چند دانشور یہ بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ پاک فوج اپنے فرائض کی انجام دہی کی تنخواہ لیتی ہے تو سرکار پھر یہ بھی بتا دیں کہ آپ کے بازار میں خون کن داموں فروخت ہوتا ہے؟ سہاگنوں کی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی کیا قیمت ہے؟ وہ نو بیاہتا دلہن جس کے ہاتھوں کی مہندی بھی ابھی پھیکی نہیں ہوئی اور جس کی آنکھوں میں لمبی راتوں میں نیند کی جگہ انتظار جم گیا ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والا انتظار اس کی کیا بولی لگائیں گے آپ؟


ایک بوڑھی ماں جس کا جوان بیٹا اس دھرتی کی مٹی کو سیراب کرگیا اپنے لہو سے۔۔۔ اس کی خالی کوکھ کی قوتِ خرید کی جرأت کرسکتے ہیں آپ؟ وہ بچے جن کے باپ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ وہ اس آس میں دن گزارتے ہیں کہ نئے کپڑے ملیں گے۔ ان کو کپڑے ملتے ہیں لیکن باپ کے‘ وہ بھی لہو سے تر اور سبز ہلالی پرچم۔۔۔ اس ٹوٹی ہوئی آس کو آپ کتنے میں خریدسکتے ہیں؟
پوچھنے پر آؤں تو نہ جانے ان صاحبانِ علم و دانش سے کتنی چیزوں کے دام پوچھ سکتی ہوں لیکن جانے دیجئے صاحب آپ کی ان باتوں کے باوجود سلام ہے ان مٹی کے بندوں کی دیوانگی پر جو کسی نہ کسی آپریشن یا تربیتی مراحل میں ہونے والی ساری عمر کی معذوری کے باوجود بھی اپنے اندر سے جذبۂ حب الوطنی ختم نہ کرسکے۔

 

ایک بوڑھی ماں جس کا جوان بیٹا اس دھرتی کی مٹی کو سیراب کرگیا اپنے لہو سے۔۔۔ اس کی خالی کوکھ کی قوتِ خرید کی جرأت کرسکتے ہیں آپ؟ وہ بچے جن کے باپ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ عید کے کپڑے لے کر آئیں گے۔ وہ اس آس میں دن گزارتے ہیں کہ نئے کپڑے ملیں گے۔ ان کو کپڑے ملتے ہیں لیکن باپ کے‘ وہ بھی لہو سے تر اور سبز ہلالی پرچم۔۔۔ اس ٹوٹی ہوئی آس کو آپ کتنے میں خریدسکتے ہیں؟

گفتارکے ان غازیوں پر حیرانی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس مملکت خدا داد پاکستان کے ٹوٹنے کی بات کس منہ سے کرتے ہیں۔ اس کی برائیوں کو محدب عدسے سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور پھر ایک نہ ہونے والی ہولناک تباہی کی خوفناک عکاسی کرتے ہیں۔ جب زلزلہ آتا ہے‘ سیلاب آتا ہے یا کوئی اور مشکل وقت تواس کاسامنا پاک فوج کو کرنا پڑتا ہے اور یہ محبِ وطن کسی اخبار یا چینل پر دُکھ کا اظہارکرتے ہوئے اس ملک سے محبت کا ثبوت نہیں دیتے بلکہ ایمرجنسی میں فوری طور پر امدادی کارروائی کے لئے پہنچتے ہیں مخیر حضرات اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے ضرورت کا سامان ضرور فراہم کردیتے ہیں لیکن خطرناک مقامات پر پہنچاتا کون ہے؟ پاکستان اور افواج میں خامیاں نکالنے والوں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ان کے علم میں نہیں کہ برادر اسلامی ممالک کہ جن کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے اور وسائل کے انبار ہیں کیا وہ جدید آلاتِ حرب میں باقی دنیا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ اﷲ کے فضل وکرم سے ہر قسم کا جدید اسلحہ ٹینک‘ میزائل‘ جہاز ماشاء اﷲ نہ صرف پاکستان میں بنتے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ اسلحہ جات برآمد بھی کئے جاتے ہیں۔کیا ان کے کان اس نعرۂ تکبیر کی گونج سے محروم ہیں جو بھارت کے پرتھوی میزائل کے جواب پر غوری میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد پوری دنیا کو سنائی دیا تھا۔


1965 میں جب امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر دی تھی تو کیا پاکستان مفلوج ہوگیا تھا؟ بالکل نہیں۔ سپر پاور کا دعویٰ کرنے والا ملک روس جس نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی مدد کی آج وہ خود کئی ریاستوں میں بٹ چکا ہے‘ تقسیم ہو چکا ہے لیکن بفضلِ تعالیٰ پاکستان جو خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ وہ تھا‘ وہ ہے اور انشاء اﷲ قیامت تک رہے گا۔ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتی رہے گی‘ زندہ رکھے گی۔ غوری کے سامنے ہمیشہ پرتھوی شکست کھائے گا۔
پاکستان کا دفاع یقیناًناقابلِ تسخیر ہے۔ اب دشمن ہم پر براہِ راست وار نہیں کر پارہا لیکن معصوم عوام کے ذہنوں میں خوف پھیلانے کی مجرمانہ کوشش ضرور کررہا ہے اور نہ جانے کیوں کچھ لوگ کم علمی اور کچھ بددیانتی کی وجہ سے پروپیگنڈا کا حصہ بن جاتے ہیں اور جس کی ایک مثال یہ جعلی سکیورٹی الرٹس ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچائے جارہے ہوتے ہیں۔ اس بارے میں بھی عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاک فوج کا ادارہ آئی ایس پی آر کبھی بھی

WhatsApp
پر عوام کو ایسی خبریں نہیں دیتا۔ الحمدﷲ ! پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نپٹنا جانتی ہے اور ان ناعاقبت اندیش جو اس پروپیگنڈا کا حصہ بن رہے ہیں‘ ان سے دست بستہ التجا ہے کہ خدا را آنکھیں کھولیں کیونکہ اگر آپ اب بھی نہ جاگے تو
؂تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اس مضمون کو لکھنے کے دوران ہی مجھے میری پاک فوج کی دوہستیوں کے بارے میں خبر ملی کہ لیفٹیننٹ خاور اور کیپٹن جنید فضل جسم پر تازہ لہو کے چھینٹے لئے جنونِ عشق اور حدودِ عشق کی تمام منازل طے کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرکے حیاتِ جاودانی پاچکے ہیں۔
شہیدو! تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اگر میرے اس مضمون کو پڑھ کر دل پر مادرِ وطن کے ان جاں نثاروں کے لئے کسی ایک دھڑکن کی سلامی بھی محسوس کریں تو میں اس کو اپنی پاک فوج کے شہیدوں اور غازیوں سے عقیدت کا ثمر سمجھوں گی اور ایک بار پھر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے :
شکریہ ۔ پاک فوج

مصنفہ میڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:17

چاچا کمپس
رات کا وقت فوجی کارروائیوں کے لئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے کیونکہ رات کی تاریکی میں دشمن کے خلاف سرپرائز حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر فوجی تربیت میں رات کے وقت آپریٹ کرنے پرخصوصی توجہ دی جاتی ہے اور عسکری مشقوں کے دوران بھی فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے لئے زیادہ تر رات کے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔آجکل تو ایک سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے جی پی ایس اورگوگل میپ وغیرہ کی مدد لی جاتی ہے جنہیں ایک بچہ بھی بخوبی استعمال کر سکتا ہے لیکن گزرے وقتوں میں یہ معاملہ اتنا آسان نہیں تھا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے نقشے اور کمپاس کے ساتھ ساتھ ستاروں کی چالوں سے بھی مدد لی جاتی تھی۔ دن کے وقت تو ’’چاچا کمپس‘‘یعنی راہ چلتے سیانے بندوں سے پوچھ پاچھ کر بھی کام چلا لیا جاتا تھا لیکن رات کو صورتحال اکثر قابو سے باہر ہو جایا کرتی تھی ۔ عموماً ایسا ہوتا کہ فوجی قافلے ایسے بھٹکتے کہ ڈھونڈے سے بھی نہ ملتے اورصبح ہونے کے بعد احساس ہوتاکہ جس جگہ پہنچنا تھا اس سے بالکل 180 ڈگری الٹ سمت میں جا نکلے ہیں۔ ۔


ایک مرتبہ کچھ یوں ہوا کہ ہم صحرا میں جنگی مشقوں کے لئے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ ایک روز ہمیں تیرہ گاڑیوں کے ایک کانوائے کے ساتھ پندرہ کلومیٹر دور ایک کمپنی پوزیشن پر پہنچنے کا ٹاسک ملا۔ہم نے نقشے پر روٹ مارک کیا ، تمام گاڑیوں کی فٹنس چیک کی اور رات ہوتے ہی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔ صحرا میں پکی سڑکیں تو ہوتی نہیں بس گاڑیوں کے چلنے کی وجہ سے کچھ ٹریک بن جاتے ہیں۔ دوسری مشکل یہ ہوتی ہے کہ تمام علاقہ تقریباً ایک سا ہی ہوتا ہے۔ کوئی ایک بھی نشانی ایسی نہیں مل پاتی جس کے ریفرنس سے اپنی پوزیشن معلوم کی جاسکے۔ کچھ دور چلنے کے بعد ہم اسی مشکل کا شکار ہوئے۔ نقشے کی مدد سے اپنی پوزیشن معلوم کرنا چاہی تو کامیابی نہ ہوئی۔بہرحال اندازے سے سفر جار ی رکھا۔


سفر شروع کئے ہوئے پانچ گھنٹے سے زائدگزر چکے تھے اور اب تک ہمیں اپنی منزل پرپہنچ جاناچاہئے تھا لیکن دور دور تک منزل کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ وائرلیس پر کال کر کے ہم نے اپنی خیریت کی اطلاع دی اور اپنے کھو جانے کے بارے میں بھی آگاہ کر دیا۔ہمیں موومنٹ روک دینے کا حکم دیاگیا اور ہماری تلاش میں ٹیمیں روانہ کی گئیں جو کچھ دیر بعد تھک ہار کر واپس آ گئیں۔ہم نے خود بھی بہتیری بھاگ دوڑ کی لیکن راہ راست پرواپس آنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بالآخر مجبور ہو کر ہمیں اپنے کانوائے کے ہمراہ وہ شب تاروں کی چھاؤں میں بسر کرناپڑی۔
صبح اٹھ کر فضا میں لنگر کے تازہ کھانوں کی مہک محسوس ہوئی تو پتہ چلا کہ ہم نے جس کمپنی میں پہنچناتھا وہ ٹیلے کے عین دوسری جانب خیمہ زن تھی۔


پنوں پاگل
یہ ان دنوں کا ذکرہے جب آتش جوان تھا اور بحیثیت کیپٹن آرٹلری سکول نوشہرہ میں عسکری خدمات سرانجام دے رہا تھا۔دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ اچانک ہماری پرسکون زندگی کو پنوں عاقل پوسٹنگ کی صورت میں ایک بھونچال کا سامناکرنا پڑا ۔ لوگوں سے طرح طرح کی باتیں سننے کو ملیں ۔ کسی نے کہا کہ وہاں سال کے گیارہ مہینے سخت گرمی پڑتی ہے اور دسمبر کے مہینے میں ذرا سی کم۔ کوئی بولا کہ پنوں عاقل پہنچ کر اور واپسی پر، دونوں مرتبہ رونا آتا ہے۔ ہم بھی یہ باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑاتے رہے۔ بالآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمیں نوشہرہ کو الوداع کہہ کر پنوں عاقل کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ہم نے سامان ٹرک پر روانہ کیا اور خود اپنی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے فیملی کے ہمراہ پنوں عاقل پہنچ گئے۔ اگست کا مہینہ تھا، رات ہو چکی تھی اور ہم تمام دن ڈرائیونگ کر نے کے بعد تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے۔ غسل کے لئے واش روم کا رخ کیا۔ ٹونٹی کھولی تو اس سے کھولتا ہوا بھاپ نما پانی برآمد ہوا۔غلطی سے پانی کی حدت کا اندازہ لگانے کے لئے ہم نے ایک ڈونگا اپنے ہاتھ پر انڈیل لیا جس کے فورا بعد ہماری آنکھوں سے آنسو اور حلق سے ایک فلک شگاف چیخ برآمد ہوئی ۔ اسطرح بزرگوں کی کہی ہوئی بات کا پہلا حصہ درست ثابت ہوگیا جو پنوں عاقل پہنچ کر رونے سے متعلق تھا۔

 

panoopagal.jpgہم نے سوچا کہ سارا دن تیز دھوپ پڑتی رہی ہے تھوڑی دیر میں گرم پانی بہہ جائے گا اور نسبتاً ٹھنڈا پانی آنا شروع ہو جائے گا جو نہانے کے لئے موزوں ہو گا۔اسی امیدمیں انتظار کرنا شروع کیا لیکن پانی کی تپش میں کمی واقع ہونا تھی نہ ہوئی۔ آدھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد ہم غسل کا ارادہ ترک کر نے پر مجبور ہو گئے۔ گیسٹ روم کے انچارج حوالدار کو بلا کر اسے اپنی داستانِ غم سنائی تو وہ بولا ’’سر! اچھا ہوا آپ نے مجھے بلا لیا اگر آپ پوری ٹینکی بھی خالی کردیتے تو بھی ٹونٹی سے کھولتا ہوا پانی ہی باہر آتا۔ اس کا واحدحل یہ ہے کہ نہانے سے پہلے پانی کی بالٹی میں برف ڈال کر اسے ٹھنڈا کیا جائے۔‘‘


چند دن گیسٹ روم میں رہنے کے بعد ہم نے گھر الاٹ کروانے کے لئے سنجیدگی اختیار کی۔ڈ ی کیو سے رابطہ کیا تو بولے کہ پنوں عاقل میں گھروں کے بارے میں فکرمند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہ واحد کینٹ ہے جہاں پر گھر وافر تعداد میں موجود ہیں ۔ چونکہ افسر کم اور گھر زیادہ ہوتے ہیں اس لئے ہر نئے آنے والے افسر کو تین چار گھروں میں سے ایک کے انتخاب کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ سن کر ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ حسبِ روایت ہمیں بھی چار گھروں میں سے ایک گھر منتخب کرنے کا آپشن دیا گیا۔ ہم نے شام ہوتے ہی فیملی کے ہمراہ گھروں کی ریکی سٹارٹ کی اور چاروں گھروں میں سے جو ایک ہمیں زیادہ بہتر محسوس ہوا‘ اگلے دن اس میں شفٹ ہوگئے۔ کچھ عرصے کے بعد سننے میں آیا کہ ہر نئے افسر کو یہ چاروں گھر ضرور آفر کئے جاتے ہیں ۔مشہور تھا کہ ان گھروں میں بھوت پریت کا بسیرا ہے۔ وہاں رہتے ہوئے ہمارا سانپوں سے تو اکثر آمنا سامنا ہوجایا کرتا لیکن بھوتوں سے ملاقات کی حسرت ہی رہی۔ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصے تک باقی تین گھر بھی آباد ہو گئے۔ اب یار لوگوں نے ان گھروں کو تو بھوتوں سے کلئیر قرار دے دیا البتہ بھوتوں کو خالی ہونے والے دیگر گھروں میں شفٹ کردیا۔


ان دنوں ہمارا برخوردار عظیم صرف تین سال کاتھا اور اپنی توتلی زبان میں پنوں عاقل کو پنوں پاگل کہا کرتاتھا جسے سن کر سب یونٹ افسر بہت محظوظ ہوتے تھے۔موسم کی سختیوں اور دوسری مشکلات کے باوجود کچھ ہی دنوں میں پنوں عاقل میں ہمارا دل لگ گیا۔بیگم نے بھی وقت گزاری کے لئے لیڈیز کلب جوائن کر لیا اورٹی ایف ڈبلیو سی میں بھی باقاعدہ حاضری دینا شروع کر دی۔ پنوں عاقل میں ڈیڑھ سال گزار کر ہم پروموٹ بھی ہوگئے۔
اب دل میں نئی پوسٹنگ کے ارمان جنم لینے لگے۔ ایک روز دوپہر کو یونہی دل لگی سوجھی اور بیٹھے بٹھائے ایم ایس برانچ میں فون کر دیا۔ خوش قسمتی سے متعلقہ افسر سے بات ہوگئی۔ ان سے اپنی پوسٹنگ کے بارے میں دریافت کیا۔ کہنے لگے کہ سکردو میں ایک پوسٹ خالی ہے، لیکن ہم وہاں آپ کو پوسٹ نہیں کر سکتے کیونکہ آپ پہلے ہی سیاچین میں کافی وقت گزارچکے ہیں۔ البتہ اگر آپ کو ایک مرتبہ پھر وہاں جانے میں دلچسپی ہے تو اپنے سی او سے ایک سرٹیفیکیٹ سائن کروا کر ہمیں فیکس کر دیں۔ ہم نے فوراً سے پہلے سی او سے سرٹیفیکیٹ سائن کروا کرایم ایس برانچ میں فیکس کر دیا اور آدھے گھنٹے کے بعد جوابی فیکس کے ذریعے ہمیں سکردو کی پوسٹنگ موصول ہو گئی۔ایم ایس برانچ سے اتنی پھرتی کی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی تھی اس لئے آج تک ہم اس بات کو معجزے کے خانے میں ہی شمار کرتے ہیں۔


شام کو گھر پہنچ کر یہ خوش خبری بیگم کے گوش گزار کی تو گھر میں بجائے خوشی کے الٹا کہرا م مچ گیا۔ بیگم نے جھٹ سے ہمیں اپنی خوشیوں کا قاتل قرار دے دیا۔ ان کی دانست میں ان کے جمے جمائے آشیانے پر ایم ایس برانچ نے نہیں بلکہ ہم نے کلہاڑیاں چلائی تھیں۔ان دنوں اتفاق سے والد صاحب بھی ہمارے پاس مقیم تھے۔ انہوں نے کوئی پندرہ بیس سال قبل دوستوں کے ہمراہ اپنی ذاتی جیپ پر شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ فرمایا تھا۔ اپنی معلومات و مشاہدات کی روشنی میں انہوں نے سکردو کو ایک انتہائی ہیبت ناک جگہ ثابت کیا اور حسب روایت ہمیں انتہائی سخت سست قرار دیا۔ہر چند کہ ہم نے لاکھ صفائیاں پیش کیں کہ سکردو ایک فیملی سٹیشن ہے اور وہاں پہنچ کراور کچھ ہو نہ ہو لیکن پنوں عاقل کی گرمی سے ضرور نجات مل جائے گی لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی۔ غرض وہ رات بیگم نے روتے ہوئے بسر کی اور ہم رات بھر ان کے آنسو پونچھنے کا نیک کام سر انجام دیتے رہے۔
سکردو جا کر ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا یہ تو ایک علیحدہ موضوع ہے البتہ اپنے تجربے کی روشنی میں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ پنوں عاقل جاتے ہوئے تو رونا لازم ہے البتہ وہاں سے واپسی پر رونا اس صورت میں آتا ہے اگر آپ کی پوسٹنگ سکردو ہو جائے۔


خوبیاں خامیاں
فوج میں قدم رنجہ فرمانے کے لئے ہر افسر کو آئی ایس ایس بی کے گیٹ سے گزرنا لازمی ہے۔آئی ایس ایس بی میں کیا کچھ دیکھا اور پرکھا جاتا ہے اس کے بارے میں تو واقفانِ حال ہی کچھ بہتر بتا سکتے ہیں۔ ہم تو صرف اتنا کہیں گے کہ اس گورکھ دھندے کی سمجھ نہ تو سیلیکٹ ہونے والوں کو آتی ہے اور نہ ہی ریجیکٹ ہونے والوں کو۔ ہر امیدوار کو آئی ایس ایس بی کے لئے دو مواقع دیئے جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک امیدوار جو کہ پہلی دفعہ میں ریجیکٹ ہو جاتا ہے دوسری بار سیلیکٹ ہو کر گوہر مراد حاصل کر لیتا ہے۔ ہمارے ایک کورس میٹ بھی اسی زمرے میں شامل تھے۔ وہ پہلی کوشش میں سیلیکٹ ہونے میں ناکام رہے تھے لیکن دوسری بار ان کی کوئی ادا آئی ایس ایس بی والوں کو ایسی بھائی کہ انہیں کامیابی کاپروانہ عطا کر کے سیدھا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول روانہ کر دیا گیا۔


موصوف ایک دن موڈمیں تھے کہ موقع غنیمت جان کر ہم نے ان سے آئی ایس ایس بی کی سیلیکشن پر روشنی ڈالنے کی درخواست کی۔ یہ سن کر انہوں نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ،سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور گویا ہوئے ’’آپ تو جانتے ہیں کہ آئی ایس ایس بی میں امیدواروں کو اپنی پانچ خوبیاں اور خامیاں لکھنے کے لئے کہا جاتا ہے۔خوبیاں تو ہر کوئی بڑھا چڑھا کر بیان کر دیتا ہے لیکن خامیوں تک پہنچ کر فہم اورقلم دونوں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔ پہلی مرتبہ جب ہم آئی ایس ایس بی گئے تو مذکورہ کالم میں اپنی تمام خامیاں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایس ایس بی والوں نے ہمیں ناٹ ریکمینڈ کر کے گھر کی راہ دکھا دی۔(ہم معذرت چاہتے ہیں کہ ان کی بیان کی گئی خامیوں کو احاطہ تحریر میں لانا بوجہ خوف فساد خلق ہمارے لئے ممکن نہیں۔) دوسری بار چونکہ ہم تمام کشتیاں جلا کر آئی ایس ایس بی پہنچے تھے لہٰذا غلطی کی گنجائش بالکل بھی نہیں تھی۔ چنانچہ اس بار ہم نے پانچ خامیاں کچھ اس طرح تحریر کیں۔ ’’غلط کام ہوتا دیکھ کر شدیدغصہ آ جاتا ہے، کتاب لیٹ کر پڑھتا ہوں، سائیکل تیز چلاتا ہوں، گانے اونچی آواز میں سنتا ہوں۔۔۔ اور۔۔۔۔ کبھی کبھار عصر کی سنتیں چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ اب آپ ہی بتائیں کہ اس مومنانہ جواب کے بعد کون کافر ہوگا جو انہیں سیلیکٹ نہ کرتا۔
جاری ہے۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
June

تحریر: میجر مظفراحمد

(قربانیوں کا گراف بلندی کی جانب گامزن، پاک فوج کا ایک اور سپاہی اور گیارہ سول جانفروش شہید اورچالیس افراد زخمی )

دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دینے والے ملک اور خطے میں امن کے خواہاں پاکستان کو اس کی مردم شماری کی مہم کے دوران 5مئی 2017 کو ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تناؤ دراصل کوئی نیا واقعہ نہیں تھا بلکہ پس منظر میں پاک افغان بارڈر تناؤ کی صورت میں پوشیدہ تلخ تاریخ کا شاخسانہ تھا۔ قومی فریضے کی انجام دہی کے لئے مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں 87اضلاع میں گنتی کی مہم جا ری تھی۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداﷲ کے سرحدی علاقہ چمن کی کِلّی لقمان اور کِلّی جہانگیر، جہاں پاکستانی بلوچ اور پشتون آبادیاں مقیم ہیں، ان علاقوں میں مردم شماری کے لئے تیاریاں شروع ہوئیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور فوج کے اعلیٰ حکام نے افغان حکام کو قبل ازوقت مطلع کیا تو جواباً ان دیہات کے شرپسند عناصرنے واویلا شروع کر دیا اور افغان حکام نے بلاتصدیق ان دو دیہاتوں کو افغان حدود کے اندر قرار دیتے ہوئے انہیں متنازعہ بنا دیا۔ مزید برآں افغان اقدامات صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ 30اپریل 2017کے بعد سے افغان بارڈر پولیس نے باقاعدہ رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کر دیں۔ بالآخر 5مئی 2017کو افغان بارڈر پولیس نے کِلّی جہانگیر میں مردم شماری پر تعینات فرنٹیئر کور کے 57ونگ کے جوانوں اور سول شمارکنندگان کی ٹیم پر بہیمانہ فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 23بلوچ رجمنٹ کی امدادی فورس کا ایک جوان اورگیارہ سول افراد شہید اور چالیس افراد (فرنٹیئر کور اور سول) زخمی ہو گئے۔

afwajepakka.jpg افواج پاکستان کو مجبوراً جوابی کارروائی کرناپڑی۔ اس جوابی کارروائی سے افغان بارڈر پولیس کے کئی افراد مارے گئے اور اس کی 3-4چوکیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ نتیجتاً باب دوستی بھی ہر طرح کی آمدورفت کے لئے بند کر دیا گیا۔ افغان بارڈر پولیس کے نقصان پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے برملا افسوس کا اظہار کیا اور افغان حکام کی ہٹ دھرمی کے باوجود انہیں علاقائی حدود کی وضاحت کے لئے اور ملکیتی تصدیق کے لئے سروے کا مشورہ بھی دیا۔

اسی دوران میں کِلّی جہانگیر کے ایک سربراہ حاجی جہانگیر اچکزئی کا بیان سامنے آیا جس کے مطابق انہوں نے کِلّی جہانگیر کے پاکستان کے ساتھ شروع سے ملحقہ ہونے کی تصدیق کی۔


موجودہ علاقائی کشیدگی اور تناؤ کی صورت حال میں بھارت کے کردار کو کسی طور پر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغان بھارت گٹھ جوڑ اور پاکستا ن کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے اقدامات دراصل بین الاقوامی قوتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونے چاہئیں، جن سے تاحال وہ غافل نظر آتے ہیں۔


لازوال قربانیاں
مردم شماری کے انعقاد میں ہمارے سپاہیوں اور سول انتظامیہ کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ شہید ہونے والوں میں پاک فوج کی 23بلوچ رجمنٹ کے سپاہی حسن علی کے جام شہادت نوش کرنے کا احوال درج ذیل ہے۔

sipahihasanali.jpg
سپاہی حسن علی (شہید) 8مارچ 1996 کو تحصیل کلرسیداں کے گاؤں کلربدھال میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم کلرسیداں سے حاصل کی۔انہیں اوائل عمری سے ہی سپاہ گری کے شعبہ سے رغبت تھی اور یہی دلچسپی انہیں فوج میں ملازمت کی طرف کھینچ لائی۔ ایبٹ آباد کے بلوچ رجمنٹل سینٹر میں ابتدائی عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد25اکتوبر 2016 کو چمن کے مقام پر 23بلوچ رجمنٹ میں تعینات ہوئے۔ آپ شروع سے ہی بہت مستعد، چوکس اور ذہین تھے۔بلوچ رجمنٹل سنٹر میں تربیت کے دوران بہت نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں بلوچ رجمنٹ سینٹر انٹر کمپنی
PACES
اور 100میٹر ، 400میٹر ایتھلیٹکٹس مقابلوں میں سلور میڈل قابل ذکر ہیں۔
یونٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد بہت محنت سے کام کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں۔ جنوری 2017 کے 41 ڈویژن کے انٹر یونٹ
PACES
مقابلوں میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ لورالائی میں حالیہ مردم شماری2017 میں حصہ لیا۔


ذاتی مشاغل میں انہیں تصویر کشی کا بہت شوق تھا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ گھل مل کر رہتے تھے اور دوسروں کے ساتھ ہمدردانہ رویے کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔پاک افغان سرحدی تناؤ کے موقع پر مردم شماری کی ڈیوٹی کے دوران آپ یونٹ کی ذخیرہ کمپنی کا حصہ تھے۔ 5مئی 2017کو جب اطلاع موصول ہوئی کہ مردم شماری پر تعینات فرنٹیئر کور کے جوان اورسول شمارکنندگان کی ٹیم افغان بارڈر پولیس کی فائرنگ کی زد میں آگئی ہے تو ان کی کمپنی کو میجر عیس ولی کے زیر کمان کِلّی جہانگیر میں بطور امداد ، کمک کی ڈیوٹی انجام دینے کا حکم ملا۔ تقریباً آٹھ بج کر پندرہ منٹ کا وقت تھا، حالات بہت کشیدہ ہو چکے تھے، افغان بارڈر پولیس کے فائر سے کئی سول پاکستانی شہید اورزخمی ہو چکے تھے۔ سپاہی حسن علی کی کمپنی کی کِلّی جہانگیر میں پیش قدمی جاری تھی۔ آگے بڑھتے ہوئے ایک پلاٹون کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پلاٹون کمانڈر کی ہدایت پر ایک اونچی پوزیشن سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سپاہی حسن علی متاثرہ پلاٹون کو غلافی فائر دینے لگے۔ اسی اثنا میں ایک راکٹ ان کی عارضی دفاعی پوزیشن کے سامنے آ کر پھٹ گیا جس سے ان کی چھاتی پر گہرے زخم آ گئے۔ زخموں کے باوجود یہ جرأت مند سپاہی تندہی کے ساتھ غلافی فائر دیتا رہا اور متاثرہ پلاٹون کو افغان فائر کے اثر سے باہر نکالا۔ بہت زیادہ خون رسنے کی وجہ سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی اور بالآخر مردم شماری کی مہم کی کامیابی اور ملکی سالمیت کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے کا ایک اور باب رقم ہو گیا۔ان کے لواحقین میں والدین، چھ بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں جنہیں ان کی شہادت پر فخر ہے۔


جب تک ہمارے وطن اور فوج میں سپاہی حسن علی شاہ جیسے بہادر ، جوانمرد، ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کرنے والے جوان موجود ہیں اس وقت تک کوئی بھی ہمارے ملک کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔

تم روشن چہروں والے ہو

 

اس دیس کی اِک پہچان ہو تم
وردی میں مُلک کی شان ہو تم
گھر چھوڑے اپنے کس کے لئے
سب ناتے توڑے کس کے لئے
کیا جذبہ ہے کہ لڑنے چلے
ہاں وطن کی خاطر مرنے چلے
قسمت کے دھنی متوالے ہو
تم روشن چہروں والے ہو
گر لوٹ آؤ تو غازی ہو
شہدائے حق جو نہ آؤ


کیپٹن محمد ارحم طارق

*****

 
09
June

تحریر : صبا زیب

رویے جب شدت اختیار کرنے لگ جائیں تو انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے بھی اعتدال اور میانہ روی کو زندگی کے ہر معاملے میں پسند کیا ہے۔ جب ہم اپنے رویوں میں شدت پسند ہوجاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہماری زندگی میں بے چینی آجاتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے بھی اس سے متاثرہوتے ہیں‘ کیونکہ انتہا پسندی انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف بڑھتی ہے اور افراد سے معاشرے میں پھیلتی ہے اور اس طرح معاشرہ بدامنی کی طرف بڑھتا ہے۔

 

youthrejectexter.jpgآج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انتہا پسندی کو تیزی سے فروغ حاصل ہو رہا ہے کیونکہ انتہا پسند تعلیم اور جدید علوم میں عام لوگوں سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں وہ بھی اس جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہے ہیں اور خاص طور پر نوجوانوں کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اس انتہا پسندی کے خاتمے کے لئیے جہاں ہماری پاک فوج انتہاپسندوں اور دہشت گردوں سے لڑائی لڑ رہی ہے وہاں اس نے نوجوانوں‘ خاص طور پر طالب علموں‘ کو ان دہشت گردوں سے بچانے کے لئے انہیں آگاہی دینے کا عزم بھی کررکھا ہے۔ اسی سلسلے میں18 مئی2017 کو پاک فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے ’’انتہا پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کا کردار ‘‘
(Role Of Youth in Rejecting Extremism)
کے موضوع پر ایک سیمینار جی ایچ کیوکے آڈیٹوریم میں منعقد کیا جس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی ۔ ان کے علاوہ ملک کی تقریباً ایک سو سے زائد یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ز نے بھی شرکت کی۔

youthrejectexter1.jpg 

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد‘ سابق آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل‘ غازی صلاح الدین‘ ڈاکٹر فرخ سلیم‘ اور پروفیسر احمدرفیق اختر نے بطورِ سپیکر اس سیمینار میں شرکت کی۔ جبکہ نوجوان طالب علموں کی نمائندگی حریم ظفر نے کی جن کا تعلق پشاوریونیورسٹی سے ہے۔سیمینار کاآغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے معاشرے سے انتہا پسندی کو ختم کریں۔ان کا کہنا تھا کہ داعش نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی ہے اور اپنی تنظیم کے لئے نوجوان نسل کو ہدف بنا رہی ہے۔ نوجوانوں کو دہشت گردی سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا آپریشن رد الفساد کا مقصد ملک میں کئے گئے تمام آپریشنز کے مقاصد کا حصول اور ملک میں امن و استحکام قائم کرنا ہے۔ اس آپریشن کا ایک مقصد معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس شدت پسندی کا نشانہ بننے سے بچائیں۔ دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ ہماری کامیابیاں نوجوانوں کی مرہونِ منت ہیں وردی میں ملبوس پاکستانیوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں میں سے90 فیصد نوجوان سپاہیوں اورینگ افسران کی ہیں آخر میں انہوں نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ سپیکرز اور مہمانوں کے درمیان بات چیت سود مند ثابت ہوگی۔
سیمینار کے پہلے سپیکر سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل تھے انہوں نے
Threat and Fault-lines
پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی پاکستان میں ایک اہم سیکیورٹی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے محرکات میں اندرونی اور بیرونی دونوں عناصر شامل ہیں۔ اندرونی عناصر میں پاکستان میں موجود مذہبی اور جہادی تنظیمیں‘ جبکہ بیرونی عناصر میں غیرملکی ایجنسیز‘ جن میں ’’را‘‘ اور این ڈی ایس ہیں شامل ہیں۔ انتہا پسندی کے بڑھنے کی وجہ انہوں نے ملک کے اداروں کی ناکامی کو قرار دیا انہوں نے خاص طور پر محکمہ پولیس کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نورین لغاری‘ مشال خان اور لال مسجد کے واقعات کی مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے کہا انتہاپسندی سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے آئین اور نصاب میں کچھ ترامیم کرنی چاہئیں۔ ایچ ای سی کو چاہئے کہ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی سے متعلق مضامین کو بھی شامل کیا جائے۔

youthrejectexter2.jpg
ڈاکٹر سڈل کے بعد حریم ظفر‘ جو طالب علموں کی نمائندگی کر رہی تھیں‘ نے کہا کہ ہمارے دشمن اس وقت نہ ہندو ہیں نہ عیسائی اور نہ مسلمان بلکہ ہمارا دشمن انتہاپسند ہے‘ اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر کے اس کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سب سے زیادہ خطرہ نوجوان طالب علموں کو ہے۔ دہشت گردی کے اس عفریت سے نوجوان طالب علموں کو بچانے کے لئے تعلیم‘ والدین‘ میڈیا اور خود نوجوان اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حریم نے کہا کہ آج کے نوجوان کو آرٹ کی طرف لے کر آنا بہت ضروری ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری میں یہ شامل ہے کہ وہ انتہاپسندی کو سختی سے مسترد کریں۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے
Role of Economy in Forging Extremisn ک
ے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی ایک تعریف یہ بھی ہے :’’ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے شہریوں کے خلاف تشدد کا غیرقانونی استعمال ‘‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک درخت ہے اور درخت کی جڑیں ہوتی ہیں لہٰذا دہشت گردی کی بھی جڑیں ہیں جیسے درخت کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں ویسے ہی دہشت گردی کی بھی ہیں۔ دہشت گردی کی شاخوں میں معاشرتی ناانصافیاں اور سیاسی ناانصافیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت عرصے کی ریسرچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مذہب سے براہِ راست تعلق نہیں۔ کبھی کبھار یہ وجہ بن سکتاہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو مذہب کو گہرائی سے جانتا ہے دہشت گردی کو نہیں اپناتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم صرف دہشت گردی کی شاخوں کو نہ کاٹیں بلکہ ان کی جڑوں کو بھی ختم کریں۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کے بعد میڈیا سے متعلق بات کرتے ہوئے ممتاز رائٹر اور صحافی غازی صلاح الدین نے کہا پرانا میڈیا نئے میڈیا میں تبدیل ہو رہا ہے اور نئے میڈیا میں سوشل میڈیا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے میڈیا میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے ہمارے میڈیا کو دانشور لوگوں کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں
Academia
کی ضرورت ہے۔ میڈیا پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ یہ ایسی خبریں زیادہ چلاتا ہے جس کے اثرات منفی ہوتے ہیں۔میڈیا دکھاتا ہے لیکن جب اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا تو مسائل بڑھنے لگ جاتے ہیں۔ انوسٹی گیٹورپوٹنگ ختم ہوتی جارہی ہے۔ یونیورسٹیوں میں اخبارات نہیں ملتے کوئی کتابوں کی دکان نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا سب سے پہلاکام
rational debate
کروانا ہے ۔ ہم نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی یہ لڑائی سب سے پہلے دماغوں میں لڑنی ہے۔


ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے سیمینار میں
Extremism-Role of Faculties/Instituitions
کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ پہلے ہماری یونیورسٹیوں کے نام ٹاپ رینکنگ میں نہیںآتے تھے لیکن اب آتے ہیں۔ ذمہ داری کا آغاز گھر سے شروع ہوتا ہے ‘پھر سکول آتا ہے ‘ پھر کالج آتا ہے اور پھر یونیورسٹی۔ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ ہم نے اپنی دیواریں مضبوط کرنی ہیں ہمیں ان دیواروں کی بنیادیں رکھنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خود غرضی‘ لالچ اور غصے کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ ایچ ای سی یونیورسٹیوں کے طالب علموں کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ طالب علموں کو نہ صرف نصابی بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھیں۔ سب ڈیپارٹمنٹس کو اکٹھا کرنا ہے‘ سیمینار منعقد کروانے ہیں اور اس کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو اکٹھا کرکے انہیں ملک کے مختلف علاقوں کی سیر کروانی ہے اور بتانا ہے کہ ہمارا ملک کتنا خوبصورت ہے۔


پروفیسر احمدرفیق اختر نے ڈاکٹر مختار کے بعد مذہب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر استاد اور شاگرد کے درمیان رابطہ نہ رہے تو دہشت گردی اور انتہا پسندی فروغ پاتی ہے۔ ایک لمبے عرصے سے ہمارے مدرسوں کے تعلیمی نظام میں تبدیلی نہیں آئی چند الفاظ جاننے والا اپنے آپ کو مفکر ماننے لگتا ہے اور دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے ۔ کسی دوسرے کی کہی ہوئی بات کی نفی کردیتا ہے۔ آج تک کسی سائنس دان نے اپنے سے پہلے والے سائنس دان کو کبھی مسترد نہیں کیا۔


ان سب سپیکرز کی تقریر کے بعد مہمانوں نے سپیکرز سے سوالات کئے۔ یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کراچی کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سوال کیا۔ جس کا جواب انہوں نے اُسی وقت کھڑے ہو کر دیا۔

youthrejectexter3.jpg
سوال و جواب کے سیشن کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے سے نوجوانوں کا استحصال ہو رہاہے۔ نوجوان نسل ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہے لیکن بے چہرہ اور بے نام قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو مسلسل گمراہ کر رہی ہیں۔ ضرورت ہے کہ نوجوانوں کو بامقصد زندگی میں مصروف کیا جائے‘ دہشت گردوں کو شکست دینے کے بعد ان کے بیانیے کو بھی شکست دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا سکیورٹی خدشات کم کرنے ہی سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا‘ فوج اکیلے کچھ نہیں کرسکتی‘ سب کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی‘ دہشت گردی کی وجوہات ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو پوری دنیا نے سراہا ہے‘ پاکستان کی فوج دنیا کی بہادر ترین فوج ہے جس نے دہشت گردوں کے خلاف انتہائی منفرد جنگ لڑی ہے‘ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ہمارا روشن مستقبل ہے اورہم اپنے مستقبل کو دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دیں گے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہم ہے‘ نوجوان نسل کو صحیح راہ پر گامزن کرنا ہوگا‘ شدت پسندی کسی نظریے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مائنڈسیٹ ہے جو عدم برداشت پیدا کرتا ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا انتہائی غلط اور افسوسناک ہے‘ دہشت گردی کی بڑی وجہ ناانصافی اور عدمِ برداشت ہے‘ والدین‘ اساتذہ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے نوجوانوں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھیں گے‘ ریاست کی رٹ کو مکمل طور پر بحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی کا 50 فیصد سے زائدحصہ25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اورہمارے ملک کا مستقبل ان ہی نوجوان کے ہاتھوں میں ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں‘ آج سے 10 سال بعد یا تو ہم پھل کاٹ رہے ہوں گے یا پھر یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح ہمارے نوجوان شدت پسندی کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ آرمی چیف نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں پراکسی وار میں ہندوستانی قیادت کا ملوث ہوناکوئی راز نہیں اور اب بلوچستان میں بھی ان کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے انتہا پسندی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں‘ انتہاپسندی کو اب معمول کی بات سمجھ لیا گیا ہے۔ نفرت بھارت کے مرکزی دھارے میں آچکی ہے اور بھارت کا قومی چہرہ مسخ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اور اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔ جنرل قمر جاوید جاجوہ نے مزید کہا کہ آپریشن ردالفساد نئے دور کا آغاز ہے اور سکیورٹی خطرات ختم کرکے ترقی کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک بہادر‘ پیشہ ور‘ محب وطن فوج کی قیادت کرنے کا اعزاز بخشا ہے جس پر مجھے فخر ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں معاشرے کے تمام طبقات‘ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کوخراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دہشت گردوں کے خاتمے میں تسلسل کے ساتھ ہماری مدد کی۔ آج ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اہم ترین مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہم بتدریج دہشت گردی کے خلاف بڑے آپریشنز سے ٹارگٹڈ آپریشنز کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ آپریشن رد الفساد کے ساتھ ساتھ ہمیں نیشنل ایکشن پلان میں ایسے طریقِ کار کو بھی اپنانا ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کے اسباب کو بھی حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے پروگرام کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اجتماعی حل تلاش کرنا ہے‘ جس سے ہم سب متاثر ہو رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ‘نوجوان نسل بھی اس سے متاثر ہے‘پوری قوم اور ان نوجوانوں کے والدین کو چاہئے کہ انہیں نہ صرف تعلیم یافتہ بنائیں بلکہ ایک متوازن شخصیت ‘ تعمیری شہری اور مستقبل کالیڈر بھی بنائیں۔ نوجوان اپنی ذہانت ‘ مہارت اور لیاقت سے پاکستان کے لئے حیران کن کارنامے انجام دے سکتے ہیں جس طرح سے پاکستان محفوظ ہو رہا ہے ‘ یہ ضروری ہے کہ ہم ذہین نوجوانوں کو ملک میں محفوظ بنائیں کیونکہ پاکستان کو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ان کی ضرورت ہے۔


اس کے ساتھ ہی چیف آف آرمی سٹاف نے اپنا خطاب ختم کیا ۔ خطاب کے بعد قومی ترانے کی دھن بجائی گئی جس کے احترام میں ہال میں موجود سب لوگ کھڑے ہوگئے ۔ قومی ترانے کے بعد مہمانوں کو پُرتکلف لنچ کروایا گیااور یوں اس اہم تقریب کا اختتام ہوا۔

 
09
June

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

بھارت کا دفاعی بجٹ یکم فروری2017 کو پیش کیاگیا۔ اس سال 359,854کروڑ روپے وزارتِ دفاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجودبھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ سوال بدستور موجود تھا کہ کیا مختص کی گئی رقم ملک کی سکیورٹی کے لئے کافی ہے؟ دوسرے الفاظ میں اتنی بڑی رقم کے باوجود بھارت کی خود ساختہ دفاعی ضروریات مکمل نہیں ہورہی ہیں۔ حالانکہ اس سال دفاعی بجٹ میں 2.74ٹریلین روپے بڑھائے گئے ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔2016-17 میں یہ رقم2.49ٹریلین روپییعنی تقریباً12.78 فیصد کی شرح سے جو کہ تقریباً21.47 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔ اس طرح سے یہ لگا تار دوسرے سال دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ بقول بھارتی وزیرِ خزانہ ترقی اورجدیدیت کی کوشش ہے جس کی وجہ سے ہتھیاروں کی خریداری کے لئے زیادہ رقم درکار ہوگی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیرمالیات نے موجودہ بجٹ کو غریبوں کا بجٹ بھی قرار دیا ہے۔


بھارت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا خریدار ہے۔ بھارت کا دفاعی خرچہ تقریباً100 گنا بڑھ چکا ہے۔ اگر اس کے پچھلے دس سالوں کے دفاعی بجٹوں کا بھی موازنہ کیا جائے تو اس وقت بھارتی ہتھیاروں کی خریداری دنیا کی ٹوٹل ہتھیاروں کی خریداری کا 14فیصد ہے۔ بھارت اس وقت سب سے زیادہ ہتھیار روس سے خریدتا ہے‘ اس کے بعد امریکہ اورپھر اسرائیل سے جبکہ
IHS Jane
‘ جو کہ ایک مشہور بین الاقوامی جرنل ہے‘ کے ڈیٹا کے مطابق بھارت امریکہ کا اس کے ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے جس کا ٹوٹل حجم 1.9 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جب کہ 2013 تک بھارت امریکہ خرید و فروخت صرف سات فیصدتک پہنچ سکی تھی۔ یعنی پچھلے چار سال میں بھارتی دفاعی خریداری حد سے زیادہ بڑھی ہے۔

 

bharatkadfaibudg.jpgسی این این کی طرف سے کئے گئے ایک سروے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی میں کئے جانے والے زیادہ تر سروے دو انتہاؤں پر مرکوز رہے۔ جو ایک دوسرے سے بالکل مخالف تھے۔ یعنی کچھ نے تو بھارت کے بارے میں ڈیٹا دکھایا جو خلائی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اس میں بہت آگے جانے کا خواہش مندبھی ہے جہاں بلین ڈالرز انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے سروے میں اس بھارت کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد‘ تقریباً 92ملین افراد‘ اپنی زندگی کی گاڑی معمولی اور انتہائی کم اُجرت مزدوری پر چلا رہے ہیں۔ یہ سروے بھوک اور افلاس ‘ پانی کی کمی ‘ صحت اور تعلیم کی ضروریات کے فقدان کی نشاندہی کررہے ہیں۔ جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد انتہائی کسمپرسی سے زندگی کی گاڑی چلا رہے ہیں اور یہی بھارت کی اصل تصویر ہے۔


بھارتی میڈیا اور خاص کر بھارتی فلمیں زیادہ تر ایک ایسے بھارت کی خوبصورت تصویر دکھاتے ہیں جس میں خوشحالی‘سکون اور ایک آئیڈیل سوسائٹی نظر آتی ہے لیکن حقیقت اس ڈرامائی تصویر کے بالکل برعکس اورانتہائی بھیانک ہے۔
سی این این کے ایک سروے سے شروع کرتے ہیں۔ اس سروے نے 300 ملین گھریلو افراد سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق تقریباً73 فیصد افراد کا تعلق کسی گاؤں یا دیہات سے تھا۔ ان میں سے صرف2.5 فیصد کے پاس چار پہیوں کی سواری موجود تھی اور دس فیصد سے کم افراد باقاعدہ نوکری پیشہ تھے جن کو ہر مہینے تنخواہ کی یقین دہانی ہوتی ہے۔ اس سروے کے مطابق دیہی علاقوں کے اعداد و شمار نہ صرف بدترین تھے بلکہ ان افراد کی تعلیمی قابلیت انتہائی کم تھی۔ تقریباً 35.7 فیصد مکمل طور پر ناخواندہ تھے اور اس کے مطابق یہ قطعاً حیرت انگیز نہیں ہے کہ بھارت کی بیشتر آبادی انتہائی غریب ہے۔
World Bank
کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں تقریباً 58 فیصد آبادی 3.10ڈالر کی کم آمدنی پر گزارہ کررہی ہے۔ یعنی تقریباً آدھی سے زیادہ آبادی صرف300 روپے کی آمدن پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے اور اگر اس وقت اس دفاعی بجٹ کا خیال آجائے کہ وہ359,854 کروڑ روپے ہے تو حکومت کا جنگی جنون واضح ہوجاتا ہے۔ صرف یہی نہیں یو این کی مزدوروں کی تنظیم آئی ایل او کی رپورٹ میں واضح بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں بے روز گاری کا گراف مستقل بڑھ رہا ہے ۔ یہ سال 2016 میں17.7 ملین تھا 2019 میں بڑھ کر17.8 ملیناور 2018 میں18 ملین ہوجائے گا۔ یعنی 2017-18 میں بیروزگاری کی شرح 3.4 فیصد تک ہو جائے گی۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے گراف سے عام آدمی کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


ایک طرف بھارت کے دفاعی بجٹ میں ہر سال بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور دوسری طرف
(World Toilet Day)
کے موقع پر عالمی بنک نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی آبادی والے ملک میں60.4 فیصد افراد کو صاف‘ محفوظ اور ذاتی بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں ہے ۔ بھارت کی سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ نے بھی اس سہولت کے شدید فقدان کی بارہا نشاندہی کی ہے لیکن بدقسمت قوم کے چالاک حکمران نے ملک کے عوام کو ان کی انتہائی انسانی ضرورت کو پس پشت ڈال کرملک کو ایک نہ ختم ہونے والی ہوسناک دوڑ میں شامل کردیا ہے۔ نومبر 2015 میں مشہور بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ تک کہا کہ اگربھارت کے وہ744 ملین افراد جو بیت الخلا میں جانے کے لئے انتظار کرتے ہیں‘ ایک قطار بنالیں تو یہ قطار زمین سے چاند تک طویل ہو گی۔ غربت اور افلاس کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات کی عدم فراہمی اور پھر اس کے ساتھ ایک انتہائی عظیم الشان فوجی بجٹ بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔


بھارت میں پیدائش کے وقت بچوں کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے۔ طبی سہولیات شہروں اور قصبوں تک محدود ہیں لیکن گاؤں دیہات میں ان کا شدید فقدان ہے۔ بلکہ زچہ و بچہ کی اموات کی بڑی وجہ غیر معیاری پانی اور صابن اور غیر صحت بخش فضا ہے۔ حالانکہ پیدائش کے لئے استعمال ہونے والے اوزار نہ صرف کم قیمت بلکہ سادہ بھی ہوتے ہیں مگر غیرتربیت یافتہ نرسوں اور مڈوائف یا ان کی مسلسل غیر موجودگی کی وجہ سے بھارت میں زچہ بچہ کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔


صحت کی سہولیات کا شدید بحران ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پانچ سال سے کم عمر 14000 بچے ہیضہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہیضہ عام طور پر غیر معیاری اور گندے پانی کی وجہ سے ایک وبائی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ماضی میں بھی بھارت کے بڑے دیہی علاقوں میں ہیضے نے ہزاروں بچوں کی جانیں لے لی تھیں۔ بھارت میں بہنے والے دریا گنگا‘ جمنا کا پانی انتہائی کثیف اورآلودہ ہو چکا ہے لیکن بھارتی حکومت ان مسائل سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے اور سی این این ہی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر ہزاربچوں میں سے38 بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے ہی اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 763.4 ملین افراد کو پینے کا صاف پانی میسرنہیں ہے جو کہ پنجاب‘ ہریانہ اور اترکھنڈ کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
June

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں دانشوروں کا ایک ایسا منظم گروہ متحرک ہوگیا ہے جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے بارے میں شکوک و شبہات اور کنفیوژن پیدا کررہا ہے بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کررہا ہے۔ ان کے ایجنڈے کا ایک اہم نقطہ قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا ہے تاکہ پاکستان کی اسلامی ثقافت پر سیکولرازم کا غلاف چڑھایا جاسکے۔ ان حضرات کو قائداعظم کی سیکڑوں تقاریر میں سے صرف ایک تقریر پسند ہے جو انہوں نے گیارہ اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد کی۔ حالانکہ اس تقریر میں بھی اسلامی رواداری، انسانی مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کا ذکر ہے جو میثاق مدینہ کی روح کے عین مطابق ہیں لیکن مذہب بیزار دانشوروں نے اسے سیکولرازم کا منشور قرار دے دیا ہے۔ یہ ایک طویل تقریر تھی جس میں سیاسی، انتظامی اور معاشرتی زندگی کے مختلف شعبوں کا ذکر کیا گیا تھا لیکن اس گروہ کو اس میں صرف چار فقرے پسند ہیں جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر اچھالتے رہتے ہیں اور مسلسل لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان فقروں میں اقلیتوں کے لئے جس برابری، شہری حقوق اور مذہبی آزادی کا تصور ملتا ہے اس کی خلافت راشدہ اور خاص طور حضرت عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور میں سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن دین بیزار گروہ انہیں اسلامی ورثے کا حصہ قرار دینے کے بجائے اپنی سیکولرازم کی اساس قرار دیتا ہے۔ مقصد پاکستان کو اسلام سے آزاد کرا کے سیکولر ریاست بنانا ہے کیونکہ اسلام ان کی مادر پدر آزادی کے راستے میں دیوار چین بنا ہوا ہے۔ اب تو یہ گروہ اس قدر مضبوط اور بولڈ ہوگیا ہے کہ ڈھٹائی سے پاکستان میں شراب نوشی اور عصمت فروشی کا مطالبہ کرنے لگا ہے۔ اس مطالبے کی ایک شکل انگریزوں کے دور کی رنگین یادوں کا رومانوی انداز میں تذکرہ کرنا، دوسرا دبئی جیسے برادر ملک میں ایسی آزادیوں کا حسین نقشہ پیش کرنا اور تیسرا مغربی ممالک کی ترقی کو تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے بجائے ان آزادیوں کا مرہون منت ثابت کرنا ہے۔

tarekkkomasah.jpg

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صدر ضیا الحق کی اسلامائزیشن یعنی اسلام کی سختی کے خلاف ردعمل ہے جب کہ صاحبان نظر اسے بیرونی ایجنڈے کا حصہ سمجھتے ہیں جس کا مقصد اسلامی قدروں کو مٹا کر اور سیکولرازم کے لئے راہ ہموار کرکے اکھنڈ بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔ اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ دانشوروں اور لکھاریوں کا یہ گروہ بھارت سے خفیہ تعلقات اور این جی اوز کے بہانے بیرونی امداد کی شہرت رکھتا ہے جس کی آج تک صحیح معنوں میں تحقیق و تفتیش نہیں کی گئی۔ ہماری کمزوری اور بدقسمتی سے ایسے دانشور میڈیا میں ایک طاقت ور لابی بن چکے ہیں اور تعلیمی اداروں میں گفتگو اور لیکچروں کے ذریعے نوجوانوں نسل کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔اصل بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور ہماری نوجوان نسل کو یہ علم ہی نہیں کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا، تحریک پاکستان کے پسِ پردہ کیا عوامل اور محرکات کارفرما تھے، ہمارے بزرگوں، قائدین اور قائداعظم کا تصور پاکستان کیا تھا۔ اسلام بیزار گروہ نے ایک منظم تحریک کے ذریعے یہ تاثر پیدا کردیا ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دور میں پڑھائی جانے والی تاریخ اور مطالعہ پاکستان کی درسی کتب میں تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات بے بنیاد اور خبث باطن کا اظہار ہے۔ مطالعہ پاکستان کا مقصد محض طلبہ کو پاکستان سے متعارف کرانا تھا۔ یہ لازمی مضمون محض تعارفی کتاب تھی اور اس میں تفصیل نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاکر روشن خیالی کی آڑ میں ایک محاذ بنادیاگیاجس نے مسلسل پروپیگنڈہ جاری رکھا چنانچہ نصاب سے وہ سارا لوازمہ نکال دیا گیا جس کا تعلق پاکستان کی نظریاتی بنیاد، ہندوؤں کے طرزِ عمل اور مطالبۂ پاکستان سے تھا۔


یہ گروہ وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتا رہتا ہے۔ ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ قائداعظم نے ترانہ پاکستان ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا اور اسے چودہ اور پندرہ اگست کی نصف شب آزادی کا اعلان ہوتے ہی ریڈیو پاکستان سے سنایا اور بجایا گیا۔ مقصد قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا اور نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنا ہے۔ افسوس کہ اس جھوٹ کی اتنے تواتر سے تشہیر کی گئی ہے کہ بہت سے سادہ لوح پاکستانی اسے بلا تحقیق تسلیم کرنے لگے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک صاحب اس موضوع پر ایم فل کا مقالہ لکھ کر اور کامیاب ہوکر اپنی کتاب بھی چھپواچکے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم کا جگن ناتھ آزاد سے ترانۂ پاکستان لکھوانا اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ بے بنیاد دعوے اور جھوٹ کو پھیلانے میں انگریزی اخبارات اورکم علم اینکروں نے کلیدی کردا ر ادا کیا ہے۔ اورایک انتہائی پرانا اورمعتبراخبار اس بارے میں مضامین چھاپتا رہا ہے جس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے کہ اس اخبار کی بنیاد بانئ پاکستان نے رکھی تھی۔ ان عالم فاضل مدیران نے جھوٹ چھاپنے سے قبل تحقیق کی ذرا بھی زحمت گوارانہ کی اور اس طرح گمراہ کرنے والوں کے ہاتھ میں کھلونا بن گئے۔


اس مضمون کا مقصد اس جھوٹ کا پردہ چاک کرنا اور سچ کو سامنے لانا ہے۔ میں نے اس افسانے کی تہہ در تہہ تحقیق کی ہے اور دوڑ دھوپ کے ساتھ ساتھ اسے اپنا وقت دیا ہے اور خون جگر پلایاہے۔میں اس وقت کھلے ذہن کے ساتھ سچ کی تلاش کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔

 

یہ گروہ وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتا رہتا ہے۔ ایک شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ قائداعظم نے ترانہ پاکستان ایک ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا اور اسے چودہ اور پندرہ اگست کی نصف شب آزادی کا اعلان ہوتے ہی ریڈیو پاکستان سے سنایا اور بجایا گیا۔ مقصد قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنا اور نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنا ہے۔

کچھ عرصہ قبل بھی میڈیا(پرنٹ اور الیکٹرانک) پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 9 اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلا کر پاکستان کا ترانہ لکھنے کو کہا۔ انھوں نے پانچ دنوں میں ترانہ لکھ دیاجو قائداعظم کی منظوری کے بعد آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا اور پھر یہ ترانہ 18ماہ تک پاکستان میں بجتا رہا۔ جب 23فروری1949کو حکومت پاکستان نے قومی ترانے کے لئے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کردیا گیا۔ اس انکشاف کے بعد مجھے بہت سے طلبہ اور بزرگ شہریوں کے فون آئے جو حقیقت حال جاننا چاہتے تھے۔ لیکن میرا جواب یہی تھا کہ بظاہر یہ بات قرینِ قیاس نہیں ہے لیکن میں تحقیق کے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے ان سکالروں سے رابطے کئے جنھوں نے قائداعظمؒ پر تحقیق کرنے اور لکھنے میں عمر گزار دی ہے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ یہ محض شوشہ اور بالکل بے بنیاد اور ناقابل یقین دعویٰ ہے۔ لیکن میں ان کی بات بلاتحقیق ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ قائداعظم اور جگن ناتھ آزاد کے حوالے سے یہ دعوے کرنے والے حضرات نے انٹرنیٹ پر کئی ’’بلاگز‘‘ میں اپنا نقطۂ نظر اور من پسند معلومات فیڈ کرکے محفوظ کردی تھیں تاکہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کو کنفیوز کیا جاسکے۔ ان ساری معلومات کی بنیاد کوئی ٹھوس تحقیق نہیں تھی بلکہ سنی سنائی یا پھر جگن ناتھ آزاد کے صاحبزادے چندرآزاد کے انکشافات تھے جن کی حمایت میں چندر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔


سچ کی تلاش میں میں جن حقائق تک پہنچا ان کا ذکر بعد میں کروں گا پہلے تمہید کے طور پر جگن نات آازاد کے بارے میں چند سطور لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔جگن ناتھ آزاد معروف شاعر تلوک چند کا بیٹا تھا، وہ 1918 ء میں عیسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوا۔ اس نے 1937ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور 1944ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی کیا۔ مختصر سا عرصہ ’’ادبی دنیا‘‘ سے منسلک رہنے کے بعد اس نے لاہور میں ’’جئے ہند‘‘ نامی اخبار میں نوکری کر لی۔ قیام پاکستان کے بعد ستمبر میں بھارت ہجرت کر گیا۔ اکتوبر میں ایک بار لاہور آیا لیکن فرقہ وارانہ فسادات کے خوف سے مستقل طور پر بھارت چلا گیا۔
Wikipedia
اور
All Things Pakistan
کے بلاگز میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ قائداعظم نے اپنے دوست جگن ناتھ آزاد کو 9اگست کو بلا کر پاکستان کا ترانہ لکھنے کے لئے پانچ دن دئیے۔ قائداعظم نے اسے فوراً منظور کیا اور یہ ترانہ اعلان آزادی کے بعد ریڈیو پاکستان پر چلایا گیا۔ چندر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت پاکستان نے جگن کو 1979میں صدارتی اقبال میڈل عطا کیا۔


میرا پہلا ردعمل کہ ’’یہ بات قرین قیاس نہیں ہے‘‘،کیوں تھا؟ہر بڑے شخص کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ایک تصویر ہوتی ہے اور جو بات اس تصویر کے چوکھٹے میں فٹ نہ آئے انسان اسے بغیر ثبوت کے ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ قائداعظم سرتاپا قانونی اور آئینی شخصیت تھے۔ اس لئے یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ قائداعظم کسی کو ترانہ لکھنے کے لئے کہیں اور پھر کابینہ، حکومت یا ماہرین کی رائے لئے بغیر اسے خود ہی آمرانہ انداز میں منظور کرلیں۔ جبکہ ان کا اردو، فارسی زبان اور اردو شاعری سے واجبی سا تعلق تھا۔ میرے لئے دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کا معتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا، ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی یا سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29سال کے غیر معروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار جئے ہند کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

 

دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کا معتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا، ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی یا سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29سال کے غیر معروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار جئے ہند کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔

پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو محض تخیلاتی باتیں ہیں۔ مجھے تحقیق کے تقاضے پورے کرنے اور سچ کا کھوج لگانے کے لئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔ ذہنی جستجو نے رہنمائی کی اور کہا قائداعظم کوئی عام شہری نہیں تھے جن سے جو چاہے دستک دے کر ملاقات کر لے۔ وہ مسلمانانِ ہند و پاکستان کے قائداعظم اور جولائی 47ء سے پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کا کہیں نہ کہیں ریکارڈ موجود ہوگا۔ سچ کی تلاش کے اس سفر میں مجھے 1989ء میں چھپی ہوئی پروفیسر احمد سعید کی ایک کتاب مل گئی۔ جس کا نام ہے۔
"Visitors of the Quaid-e-Azam"
۔ احمد سعید نے بڑی محنت سے قائداعظم کے ملاقاتیوں کی تفصیل جمع کی ہے۔ جو 25اپریل1948ء تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں قائداعظم کے ملاقاتیوں میں جگن ناتھ آزاد کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے مصنف سید انصار ناصری نے بھی قائداعظم کی کراچی آمد 7 اگست شام سے لے کر 15اگست تک کی مصروفیات کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں بھی آزاد کا ذکر کہیں نہیں۔دل نے کہا جب 7اگست 1947کو قائداعظم بطور گورنر جنرل دلی سے کراچی آئے تو ان کے ساتھ ان کے اے ڈی سی بھی تھے۔ اے ڈی سی ہی ملاقاتوں کا سارااہتمام کرتا اور اہم ترین عینی شاہد ہوتاہے اور صرف وہی اس سچائی کی تلاش پر مہر ثبت کرسکتا ہے۔ جب قائداعظم کراچی اترے تو عطا ربانی بطور اے ڈی سی ان کے ساتھ تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس وقت وہ زندہ تھے لیکن ان تک رسائی ایک کٹھن کام تھا۔ خاصی جدوجہد کے بعد میں بذریعہ نظامی صاحب ان تک پہنچا۔ جناب عطا ربانی صاحب کاجچا تلا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نامی شخص نہ کبھی قائداعظم سے ملا اور نہ ہی میں نے کبھی قائداعظم سے اس کا نام سنا۔ اب اس کے بعد اس بحث کا دروازہ بند ہوجانا چاہئے کہ جگن ناتھ آزاد کو قائداعظم نے بلایا۔ اگست 1947 میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کے سبب جگن ناتھ آزاد لاہور میں مسلمان دوستوں کے ہاں پناہ لیتے پھر رہے تھے اور ان کوجان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں ان کی کراچی میں قائداعظم سے ملاقات کا تصور بھی محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود جگن ناتھ آزاد نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا حالانکہ وہ پاکستان میں کئی دفعہ آئے حتیٰ کہ وہ علامہ اقبال کی صد سالہ کانفرنس کی تقریبات میں بھی مدعو تھے۔ جہاں انہوں نے مقالات بھی پیش کئے جو اس حوالے سے چھپنے والی کتاب میں شامل ہیں۔ عادل انجم نے جگن ناتھ آزاد کے ترانے کا شوشہ چھوڑا تھا۔ انھوں نے چندر آزاد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جگن ناتھ آزاد کو 1979میں صدارتی اقبال ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے صدارتی ایوارڈ کی ساری فہرست دیکھی ہے اس میں آزاد کانام نہیں ہے۔ پھر میں کابینہ ڈویژن پہنچا اور قومی ایوارڈ یافتگان کا ریکارڈ کھنگالا۔ اس میں بھی آزاد کا نام نہیں ہے۔’ وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آجائے‘۔


اب آئیے اس بحث کے دوسرے حصے کی طرف۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز گواہ ہیں کہ جگن ناتھ آزاد کا کوئی ترانہ یا ملی نغمہ یا کلام 1949 تک ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں ہوا۔ 14اور 15اگست کے درمیانی شب جب آزادی کے اعلان کے ساتھ پہلی بار ریڈیو پاکستان کی صدا گونجی تو اس کے بعد احمد ندیم قاسمی کا یہ ملی نغمہ نشر ہوا:
’پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو‘


ان دنوں قاسمی صاحب ریڈیو میں سکرپٹ رائٹر تھے۔ 15 اگست کو پہلا ملی نغمہ مولانا ظفر علی خان کا نشر ہوا جس کا مصرعہ تھا 
توحید کے ترانے کی تانیں اڑانے والے


میں نے یہیں تک اکتفا نہیں کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ میں نے 14اگست سے لے کر اواخر اگست تک کے اخبارات دیکھے۔ جگن ناتھ آزاد کا نام کسی پروگرام میں بھی نہیں ہے۔ سچ کی تلاش میں، ریڈیو پاکستان کے آرکائیو سے ہوتے ہوئے ریڈیو کے سینئر ریٹائرڈ لوگوں تک پہنچا۔ ان میں خالد شیرازی بھی تھے جنہوں نے 14اگست سے 21اگست1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انھوں نے سختی سے جگن ناتھ کے حوالے سے اس دعویٰ کی نفی کی۔ پھر انھوں نے ریڈیو پاکستان کا رسالہ آہنگ ملاحظہ کروایاجس میں سارے پروگراموں کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں۔ یہ رسالہ 1948سے باقاعدگی سے چھپنا شروع ہوا۔


18 ماہ تک آزاد کے ترانے بجنے کی خبر دینے والے براہِ کرم ریڈیو پاکستان اکادمی کی لائبریری میں موجود آہنگ کی جلدیں دیکھ لیں اور اپنے موقف سے تائب ہوجائیں۔ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ اگر آزاد کا ترانہ ہمارا قومی ترانہ تھا اور وہ 1949 ء تک نشر ہوتا رہا تو پھر اس کا کسی پاکستانی کتاب، کسی سرکاری ریکارڈ میں بھی ذکر کیوں نہیں ہے اور اس کے سننے والے کہاں چلے گئے؟اگر جگن ناتھ آزاد نے قائداعظم کے کہنے پر ترانہ لکھا تھا تو انھوں نے اس منفرد اعزاز کا کبھی ذکر کیوں نہ کیا۔ جگن ناتھ نے اپنی کتاب’’آنکھیں ترستیاں ہیں ‘‘ 1982 میں ضمناً یہ ذکر کیا ہے کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا اس کا ذکر موجود نہیں۔ اگر قائداعظم کے فرمان پر لکھاتو وہ یقیناًاس کا ذکر کرتا۔ آزاد کے والد تلوک چند نے نعتیں لکھیں۔ جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کے لئے ملی نغمہ لکھا جو ہوسکتا ہے کسی وقت ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا ہو لیکن یہ بات طے ہے جگن ناتھ آزاد کبھی قائداعظم سے ملے، نہ انھوں نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا اور نہ ہی ان کا قومی ترانہ 18ماہ تک نشر ہوتا رہایا قومی تقریبات میں بجتا رہا۔


قائداعظم بانئ پاکستان اور ہمارے عظیم محسن ہیں۔ ان کے احترام کا تقاضا ہے کہ بلاتحقیق اور بغیر ٹھوس شواہد ان سے کوئی بات منسوب نہ کی جائے اور انھیں سیکولر ثابت کرنے کے جنون میں نہ تو غلط بیانی کا گناہ کیا جائے اور نہ ہی تاریخ کو مسخ کیا جائے۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسرارِ پیدا


اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
ناچیز جہانِ مہ و پرویں ترے آگے
وہ عالمِ مجبور ہے، تو عالمِ آزاد
موجوں کی تپش کیا ہے؟ فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے وہ دولت ہے خداداد
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُردَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ افتاد

 

سلطان ٹیپو کی وصیت


تُو رہ نوردِ شوق ہے؟ منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تندو تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں
محفل گداز! گرمئ محفل نہ کر قبول
صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
علامہ اقبال

*****

 
09
June

تحریر: محمود شام

قلم کا قرطاس سے‘ذہن کا انگلیوں سے‘ سوچ کا تحریر سے رشتہ جوڑتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے‘ مگر ایسا انتشار‘ ایسی انارکی اور بے یقینی کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ اتنی تشویش محسوس کی تھی۔ہر جانے والا دن‘ ہر ڈوبنے والا سورج بہت سی اُمیدیں لے کر ڈوب جاتا ہے۔ آرزوئیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ اتنی شدت پسندی پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کی تھی۔ مذہبی انتہا پسندی بھی عروج پر ہے۔ سیاسی وفاداریوں میں بھی انتہائی شدت ہے بلکہ ایک جنون ہے۔ سیاسی لیڈروں کی پالیسیاں غلط ہوں یا درست‘ ان کے کارکن اور عہدیدار ان کی ہر بات پر آمَنَّا و صَدَّقْنَا کہتے ہیں۔ لیڈر دن کو رات کہے تو یہ بھی لازم ہے کہ دن کو رات مانیں۔ اپنے ذہن کا استعمال ممنوع ہے۔ اسی لئے معاشرے میں ہر طرف ایک افراتفری کی کیفیت نظر آرہی ہے۔ نفسا نفسی بھی ہے۔ اکثریت کی زندگی بہت کٹھن ہوگئی ہے۔

bilkhasooskarachi.jpg
ایک طرف تو یہ عدم استحکام ہے۔ کوئی قوم کو ایک سمت میں لے جانے والا نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے قومی مفادات اور قومی روڈ میپ کا تعین نہیں کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جب سرحدوں کے اس پار سے بھی دھمکیاں ملنے لگیں تو دل یہ سوچنے اور ذہن اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہورہا ہے۔ ہم نے جب سے دوسروں کی لڑائیاں لڑنا شروع کی ہیں ‘ جب سے دوسروں کے مفادات کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے‘ جب سے بڑی طاقتوں کے آلۂ کار بننے شروع ہوئے ہیں‘ ہماری سرحدیں مخدوش ہونے لگی ہیں۔ ہمارے شہروں میں شدت پسندی کا غلبہ ہونے لگا ہے۔ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ امن کا دین ہے۔ انسانوں کے درمیان محبت پیدا کرتا ہے۔ ہمارے رسول اکرمﷺ ؐ کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر اتارا ہے۔اسلام کو صوفیائے کرام اور اولیائے عظام نے پیار اور محبت سے دنیا میں پھیلایا۔ اب بھی غیر مسلم پیارے نبیﷺ کے اسوۂ حسنہ اور اچھے مسلمانوں کے کردار کو دیکھ کر اسلام قبول کررہے ہیں۔ لیکن اس مملکت خداد میں مسلمان مسلمان کو جس طرح ہلاک کرنے لگے تھے اور مذہب کا نام استعمال کرکے دوسروں کو تہ تیغ کیا جارہا تھا اس سے بہت زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

 

فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔

یہ فرقہ پرستی مسلک دشمنی اور اپنے عقیدے کو دوسرے پر مسلط کرنے کا سلسلہ بتدریج ہوا ہے‘ اچانک نہیں ہوا۔ اسے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ مختلف مقتدر حلقوں کی طرف سے اس کی سرپرستی بھی کی گئی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے نوجوان اکثریت کی جس نعمت سے نوازا تھا‘ اس کو ہم نے اپنے غلط رویوں ‘ پالیسیوں اور صحیح قیادت نہ ہونے کی بدولت اپنے لیے ایک زحمت بنالیا۔ نوجوان بلا شبہ ایک طاقت ہیں‘ توانائی ہیں‘ ایک دریا ہیں جس میں طغیانی آئی ہوتی ہے۔ اگر اس کے کنارے پختہ نہ بنائے جائیں‘ دریاؤں میں سے ریت نہ نکالی جائے‘ پانی کے لئے گنجائش نہ بڑھائی جائے تو وہ کناروں سے بغاوت کردیتے ہیں‘ چھلک جاتے ہیں‘ آس پاس تباہی مچادیتے ہیں۔ اگر ان کی سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کی جائے ‘ بند باندھے جائیں‘ نہریں نکالی جائیں تو وہ زمین کو زرخیز بنادیتے ہیں۔ نوجوانوں کے ذہن بھی بپھرے ہوئے دریاؤں کی مانند ہیں۔ جہاں ناانصافی بڑھ جائے‘ نفرتوں کے سلسلے ختم نہ ہوں‘ انسانیت کی قدر نہ ہو۔ میرٹ پرروزگار نہ ملے‘ وہاں پھر یہ دریا کناروں سے اچھلنے لگتے ہیں۔ ہر معاشرے میں مقامی طور پر بھی ایسے مافیاز موجود ہوتے ہیں جنہیں دشمن ایجنسیوں کی حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ ان نوجوانوں کو اپنے حلقۂ عاطفت میں لے لیتے ہیں۔ یہ نوجوان کسی ایسی پناہ یا سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کچھ تنظیمیں انہیں نسلی بنیادوں پر گمراہ کرتی ہیں۔ کچھ زبان کا استحصال کرکے انہیں بغاوت پر اُکساتی ہیں۔ جب سے دنیا میں مختلف واقعات کو بہانہ بناکر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جارحیت شروع ہوئی ہے‘ مغرب نے کبھی جمہوریت کے قیام کا عذر تراش کر‘ کبھی شدت پسندی کا الزام لگاکر مختلف اسلامی ملکوں میں فساد برپا کئے ہیں۔ بعض مسلم حکمران مغربی جارح قوتوں کے گماشتے بن گئے۔ مسلم ممالک میں زیادہ تر شہری آزادیاں نہیں ہیں۔ آج کا پڑھا لکھا مسلم نوجوان اپنے حکمرانوں سے خوش نہیں ہوتا۔ وہ بغاوت کرنے کے لیے سڑک پر آتا ہے تو اسے پابہ زنجیر کردیا جاتا ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں تو نصف صدی سے ظلم و ستم ڈھائے جارہے تھے۔ اکثر مسلمان حکمران ہر جبر و تشدد خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔بہت سی تنظیموں نے مسلم نوجوانوں کے ان باغیانہ رُجحانات سے فائدہ اٹھایا اور انہیں شدت پسندی کا راستہ دکھایا۔ بے بس اور بے کس نوجوانوں کو ہتھیار دے کر طاقت ور ہونے کا احساس دلایا اور کہا گیا کہ یہ راستہ جنت کا راستہ ہے۔

 

نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ھیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔

یہ سارے ملے جلے رُجحانات چاہے وہ لسانی حوالے سے شدت پکڑ رہے تھے یا نسلی اعتبار سے یا پھر فرقہ وارانہ وابستگی کے حوالے سے‘ انہوں نے پُر امن شہروں کو تشدد اور ہلاکت خیزیوں کا مرکز بنادیا۔ کراچی میں لسانی حوالہ لاشیں گراتا رہا۔ بلوچستان میں نسلی شناخت۔ کے پی کے‘ فاٹا‘ جنوبی پنجاب میں مذہبی شدت پسندی۔ پھر فوج اور قوم نے مل کر ان ساری شدتوں‘ عصبیتوں کے خاتمے کا پروگرام بنایا ۔ پارلیمنٹ نے بھی اس عزم کی توثیق کی۔ ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔ فاٹا میں اور دوسرے علاقوں میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے فوجی کارروائی سے ختم کئے گئے۔ اس کے لئے فاٹا کے ہزاروں رہائشیوں کواپنے ہی گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ کیمپوں میں زندگی گزارنی پڑی۔ ان قابل فخر پاکستانیوں نے یہ قربانی صرف اسی لئے دی کہ پاکستان پُر امن ہوجائے۔ انسانی خون بہنا بند ہوجائے۔ مسلمان مسلمان کو‘ پاکستانی پاکستانی کو ہلاک نہ کرے۔ ہمارے نوجوان دشمنوں اور غیروں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں۔
اب موجودہ سپہ سالار‘ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں اور بالخصوص کراچی میں ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا۔


ضرب عضب کے ساتھ ساتھ آپریشن ردّالفساد شروع کردیا گیا ہے۔ میں کراچی میں رہتا ہوں۔ میں نے 90کے عشرے میں ایسے دن بھی دیکھے ہیں جب چند گھنٹوں میں ہی پچاس ساٹھ سے زیادہ لاشیں گرادی جاتی تھیں۔ ہم نے حکیم محمد سعید شہید جیسے سچے پاکستانی بھی انہی وحشیانہ وارداتوں میں کھوئے۔ کتنے ہی ڈاکٹر شہید کئے گئے۔ سیاسی شخصیتوں کی جانیں لے لی گئیں۔ بعض تنظیموں نے ایک دوسرے کے کارکن بیدردی سے مارے۔ ہم تو خیر رہتے ہی کراچی میں تھے۔ لیکن ان وارداتوں اور خونریزی کے باعث دوسرے ملکوں سے سرمایہ کاروں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا۔ خاص طور پر کراچی میں کاروباری میٹنگ کرنے سے منع کرتے تھے۔ زیادہ تر دوبئی میں ملنے کو ترجیح دیتے تھے۔
پاک فوج کی طرف سے پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں اور منتخب حکومت سے مشاورت کے بعد کراچی آپریشن نے بہت کامیابیاں حاصل کیں۔ کیونکہ اس میں کراچی کے شہریوں‘ تاجروں ‘ صنعتکاروں‘ دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں‘ علمائے حق اور سیاسی کارکنوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ رینجرز سے مکمل تعاون کیا گیا۔ اس میں رینجرز کو بھی قربانیاں دینا پڑیں۔ مگر رفتہ رفتہ کراچی کی رونقیں بحال ہونے لگیں۔ شہریوں کے دل سے خوف رفتہ رفتہ جاتا رہا ‘اب ساحل پر پھر وہی ہجوم دکھائی دینے لگے ہیں۔ سیمینارز‘ کنسرٹس کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے۔ کتاب میلے منعقد ہورہے ہیں۔ یونیورسٹیوں‘ کالجوں اورسکولوں میں پھر سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔


کراچی ابھی تک 1960 اور 1970 والا تو واپس نہیں آیا ہے لیکن بڑی حد تک شہریوں کا اعتماد واپس آگیا ہے۔ کارخانوں میں ساری شفٹیں کام کررہی ہیں۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں خریداروں کے ہجوم نظر آتے ہیں۔ مگر بہتر حکمرانی کا خواب اب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ صوبائی حکومتیں اپنے لئے تو خود مختاری مانگتی ہیں۔ لیکن بلدیاتی اداروں کی خود مختاری سلب کرلیتی ہیں۔ کراچی میں امن تو بحال ہوگیا ہے‘ لیکن بلدیاتی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنارہی ہے۔ کچرا اٹھانے کا بندوبست نہیں ہورہا ہے۔ شہر کی ساری سڑکیں کھدی پڑی ہیں۔ ٹریفک ہر وقت جام رہتا ہے۔ صبح ہو‘ دوپہر یاشام بڑی بڑی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑتی نہیں‘ رینگنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ کوئی تدبر یا حسن انتظام نہیں ہے۔
شہریوں کا ذہنی سکون برباد ہورہا ہے۔ یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ پاک فوج کے آپریشن۔ رینجرز کی مسلسل کاوشوں سے قائم ہونے والا امن خراب حکمرانی‘ شہریوں کی پریشانی‘ پبلک پرائیویٹ سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث پھر بد امنی میں نہ بدل جائے۔


فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔


اسی طرح ملک بھر میں ضرب عضب پھر ردّالفساد کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بھی متعلقہ صوبائی حکومتیں ہی مستحکم اور دیرپا کرسکتی ہیں۔ ’ردّالفساد‘ کی اصطلاح بہت وسیع معانی رکھتی ہے۔ مذہبی حوالے سے بھی اور انتظامی نکتہ نظر سے بھی۔ جسے بہت سے شدت پسند اپنے نقطۂ نظر سے جہاد کہتے ہیں‘ جنت کا راستہ خیال کرتے ہیں‘ وہ علمائے حق کے نزدیک فساد ہے۔ اسکا ردّ بہت ضروری ہے۔ اس ردّالفساد کے ذریعے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے اور بلوچستان سب جگہ ہی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ بہت سے مقامات پر پہلے سے کارروائی کرکے بڑی مقدار میں گولہ بارود‘ ہتھیار پکڑ کے ان دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے مشکوک افراد پکڑے جاچکے ہیں‘ ان کے خلاف مقدمات تیار کرکے عدالتوں میں پیش کئے جارہے ہیں۔ ان آپریشنوں کی کامیابی کی شہادت اس امر سے مل سکتی ہے کہ اب پہلے کی طرح بم دھماکوں کی وارداتیں نہیں ہورہیں۔ پبلک مقامات‘ مساجد‘ بازار اور حساس تنصیبات اب محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔ پارلیمنٹ کی قرارداد اور سیاسی فوجی قیادت نے ملک کر حکمتِ عملی مرتب کی جسے نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا گیا اس میں سے فوری نوعیت کی کارروائی تو ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی ہورہی ہیں۔ سزائے موت پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔


لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان تمام عوامل اور اسباب کا بھی خاتمہ کیا جائے جن کی وجہ سے فساد برپا ہوتا ہے‘ جن محرومیوں سے مجبور ہوکر نوجوان لسانی‘ نسلی اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کا آلۂ کار بنتے ہیں۔خاص طور پر بے روزگار نوجوان کو ماہانہ معقول تنخواہ بھی دی جاتی ہے اور اس کے اہل خانہ کی مالی مدد بھی کی جاتی ہے۔


پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق قریباً 12کروڑ افراد 15سے 25سال تک کی عمر کے ہیں۔ یہ قدرت کا بہت بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے‘ یہ ہماری طاقت ہیں‘ توانائی ہیں۔ لیکن مقامی حکومتوں کی بے اختیاری‘ صوبائی حکومتوں کی غیر ذمہ داری اور سیاسی قیادت کی لا پروائی سے یہ قیمتی اثاثہ بوجھ بن رہا ہے۔ ہمارے کونسلروں‘ میئروں‘ چیئرمینوں کی ذمہ داری ہے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کا قومی فریضہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں نوجوانوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ ان کی معاشی کیفیت سے آگاہی حاصل کریں۔ان نوجوانوں کو اگر مناسب تعلیم ملے اور موزوں تربیت تو وہ پاکستان کو حقیقت میں ایشیا کا ٹائیگر بناسکتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سیاسی قیادتوں کی ذمہ داری ہے۔ پھرہماری غریب اکثریت کو قدم قدم با اثر افراد کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جاگیردار اپنے علاقے میں سکول نہیں کھلنے دیتے۔ ہر صوبے کے دیہی علاقوں میں کئی ہزار اسکول بند پڑے ہیں۔ عمارتیں ہیں مگر وہاں کچھ اور ہورہا ہے۔ اسکول ہیں‘ طالب علم ہیں مگر ٹیچر نہیں ہیں۔ پولیس‘ مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے کی مرضی سے تعینات ہوتی ہے۔ اس لئے وہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے ایم این اے‘ ایم پی اے کا حکم مانتی ہے جس سے نا انصافی جنم لیتی ہے۔ اکثریت کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے ۔ قانون کا نفاذ یکساں نہیں ہوگا۔نا انصافیوں ‘ زیادتیوں اور ظلم کے شکار خاندان ہی پھر شدت پسندوں کا ہتھیار بنتے ہیں اور جب اس کے ساتھ مذہب کا سہارا مل جائے تو یہ اشتراک خطرناک ہوجاتا ہے۔جہالت اور جذباتیت بڑا خطرناک گٹھ جوڑ ہے۔ ملک میں جہالت بھی بہت ہے اور جذباتیت بھی۔ تعلیم ہی انسان کو دلیل کا استعمال سکھاتی ہے۔ برداشت پیدا کرتی ہے۔تحمل کا درس دیتی ہے۔ پاکستانی قوم مزاجاً جذباتی ہے۔ اس لئے وہ آسانی سے چند خود غرض سیاستدانوں اور مذہبی سوداگروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے۔ شایدحکمران طبقے کا ایک حصہ یہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ یہ قوم پڑھے لکھے ۔ کیونکہ اگر یہ پڑھ لکھ گئی تو ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
پاکستان میں کسی بھی بھائی بہن بزرگ سے پوچھا جائے تو وہ فوج کے اس عزم کی مکمل تائید کرتا ہے کہ ملک میں اور بالخصوص کراچی میں امن ہر قیمت پر۔ امن کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ پُر سکون ماحول بھی سرمایہ کاری اور نئی صنعتوں کے لئے سازگار ہوتا ہے۔ فوج نے اپنا یہ عزم بڑی حد تک پایۂ تکمیل کو پہنچادیا ہے۔ آج 2017 کے نصف میں 2015-2016 اور اس سے پہلے کے پُر آشوب برسوں کی نسبت حالات بہت زیادہ پُر امن اور پُر سکون ہیں۔ لیکن اگر ان عوامل اور محرّکات کے خاتمے کے لیے کوششیں نہ کی گئیں جن کے باعث 90-80 کے عشروں اور اکیسویں صدی کے اوائل میں شدت پسندی اور افراتفری اور انتشار پیدا ہوا‘ جسے بڑی قربانیاں دے کر پاک فوج‘ رینجرز اور پولیس نے بحال کیا ہے۔ جس کے لئے ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ پولیس والے بھی شہید ہوئے ہیں۔ اور عام شہریوں‘ بچوں‘ بزرگوں۔ ماؤں بہنوں کا خون بھی بہا ہے تو یہ خونریزی دوبارہ بھی شروع ہوسکتی ہے۔ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نصاب کا جائزہ لینا ہوگا۔ مساجد اور مدارس کے خطبات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ میڈیا پر بھی نظر رکھنا ہوگی‘ وہاں کوئی تربیت ہے نہ نصب العین‘ وہ مجرموں اور دہشت گردوں کو ہیرو اور شاندار انسان بناکر پیش کرتے ہیں۔ ان کو بہت زیادہ با اثر دکھاتے ہیں۔


نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ہیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹھہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔
ہر ادارے کو اس قومی جہاد میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم ہر قیمت پر قائم کئے گئے امن سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔ ملک میں استحکام پیداکرسکیں گے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
June

افغان امور کے ماہر‘ ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کی تحریر

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس کے باوجود بہتر نہیں ہوپارہے کہ دونوں ممالک کو نہ صرف ایک جیسے حالات خصوصاً دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ ان کے درمیان بہتر تعلقات علاقے اور خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ حال ہی میں جب لندن اجلاس کے تناظر میں طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے رابطے بحال ہونا شروع ہوگئے تو پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ایک طرف نہ صرف سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کابل بھیجا بلکہ اعلیٰ ترین سطح کے عسکری وفود بھی کابل گئے جہاں انہوں نے اعلیٰ حکومتی عہدے داران‘سیاستدانوں اور حکمرانوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے اس پڑوسی اور برادر ملک کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پارلیمانی وفد میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شامل تھے جن میں تین کا تعلق پشتون قوم پرست جماعتوں سے تھا‘ تاہم اس دورے کے بھی وہ نتائج سامنے نہیں آئے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ وفد میں شامل قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ کے مطابق دورے کے اختتام پر طے پایا تھا کہ افغان حکومت نیک خواہشات اور خیرمقدمی کلمات پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کرے گی تاہم افغان حکومت نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ وفد کے بعض ارکان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ان کی تقریباً پانچ گھنٹے پر مشتمل طویل نشست ہوئی جس کے دوران انہوں نے متعدد بار سخت لہجہ اور رویہ بھی اپنایا تاہم وفد کے ارکان ان کو مسلسل یہ یقین دہانی کراتے رہے کہ ماضی کی شکایات کے بجائے موجود حالات اور مستقبل کے چیلنجز کے تناظر میں آگے بڑھا جائے۔ ان ارکان کے مطابق سینٹ کے چیئرمین نے تو میزبانی کے آداب کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملاقات کے دوران سخت رویہ اپنایا اور یکطرفہ الزامات لگائے‘ تاہم پاکستانی وفد نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ مثبت اور دوستانہ طرزِ عمل اپنائیں۔ وفد نے حکومت پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر اشرف غنی اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کو دورہ پاکستان کی الگ الگ دعوتیں بھی دیں اور وزیر اعظم کا خصوصی پیغام بھی سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے افغان صدر کو پہنچایا۔ حامدکرزئی نے خلافِ توقع یہ دعوت قبول کرلی اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں گے تاہم ابھی وفد کی واپسی ہوئی ہی تھی کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک بیان میں مؤقف اپنایا کہ وہ پاکستان کا دورہ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک پاکستان‘ ان کے بقول‘ بعض ان افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا وعدہ پورا نہیں کرتا جو کہ افغان حکومت ایک فہرست کی صورت میں دے چکی ہے۔ حالانکہ ایسی ہی ایک فہرست پاکستان بھی افغان حکومت کو دے چکا ہے۔ جناب اشرف غنی کے اس غیرلچک دار رویے اور مشروط طرزِ عمل نے اعلٰی سطحی پاکستانی وفد کے دورۂ کابل کی امیدوں اور نتائج پرپانی پھیر دیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا جانے لگا کہ افغان حکمران شاید مصالحت یا مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اسی دوران جب افغانستان کے نمائندہ صحافیوں کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو دوسروں کے علاوہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا جس کے دوران انہوں نے دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں کئی گھنٹوں تک افغان صحافیوں کی شکایات اور تجاویز کو بڑے غور سے سنا اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے افغانستان کے امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس نشست کے علاوہ ایسے ہی جذبات کا اظہار مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی کیا تھا۔ یہ طرزِعمل اس کوشش کا ایک اظہار تھا جس کے ذریعے افغان حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور میڈیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان بہت سے تحفظات اور خدشات کے باوجود اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔


ابھی اس تمام پیشرفت پر تبصرے اور تجزیئے جاری تھے کہ چمن بارڈر پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں جبکہ اسی شام افغان فورسز نے طورخم بارڈرپر بھی حملے کئے۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں متعدد شہریوں کے علاوہ فورسز کے کئی اہلکار جاں بحق ہوگئے اور پاکستان کو ایک بار پھر چمن بارڈر بند کرنے کا اقدام اٹھانا پڑا۔ افغان حکام خصوصاً قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اس نازک ایشو پر ایک ذمہ دار عہدیدار کے رویے کے برعکس ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مصالحت اور متوقع مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر معدوم ہوگئے۔ تصادم کے بارے میں دونوں ممالک کے الگ الگ بیانات اور الزامات پر بحث کئے بغیر اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ قندھار کے سکیورٹی انچارج نے اپنی فورسز کے علاوہ عوام کو مشتعل کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہ ایک حکومتی عہدیدار کے بجائے ایک ایسے راہنما دکھائی دیئے جو کہ جلتی آگ پر مٹی کا تیل ڈالنے کا ماہر ہو۔ افغان حکام نے اس موقع پر حد بندی یا سرحدی حدود کا ایشو بھی اٹھایا جو کہ مزید تلخی کا سبب بن گیا اور معاملات بگڑتے رہے۔ اس تمام معاملے کے دوران افغان میڈیا نے بھی ایشوز کو مزید بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یوں یکطرفہ طور پر کشیدگی کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ دو مطالبات پھر سے دہرائے گئے ۔ ایک تو یہ کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور بعض دیگر کے خلاف مزید کارروائیاں کرے اور دوسرا یہ کہ لسٹ میں شامل ان 90 افراد کی حوالگی یا گرفتاری کا اقدام اٹھاجائے جو کہ بقول افغان حکومت کے پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں اس کے جواب میں پاکستان کا موقف یہ رہا کہ مطلوب افراد پاکستان کے بجائے افغانستان میں ہیں‘ اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور یہ کہ اگر ایسے افراد یہاں پائے گئے جو کہ افغانستان پر حملوں میں ملوث ہیں تو کارروائی سے قطعاً گریز نہیں کیا جائے گا۔ ایک اور مسئلے کو بھی شدت کے ساتھ میڈیا اور عوامی حلقوں کی سطح پر اٹھایا گیا اور وہ یہ تھا کہ ڈیورنڈ لائن کے سٹیٹس پر بحث کا آغاز کیا گیا۔ شعوری طور پر کوشش کی گئی کہ اس معاملے پر افغانستان کے علاوہ پاکستان کے بعض قوم پرست حلقوں کو بھی اشتعال دلایاجائے۔ اس طرزِ عمل نے مسئلے کو اور بھی خراب کرکے رکھ دیا کیونکہ پاکستان بارڈر مینجمنٹ کے معاملے پر افغان حکام کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرچکا تھا اور اس ضمن میں عملی اقدامات بھی کئے جاچکے ہیں۔


دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان کا یہ طرزِ عمل اپنا ایک مضبوط پس منظر رکھتا ہے اور اس کے متعدد اسباب اور عوامل ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اب بھی ایک سے زائدلابیاں اس کوشش میں ہیں کہ دونوں ممالک کو قریب نہ آنے دیا جائے بلکہ کشیدگی کوبھی ہوا دی جائے اور اس کے لئے مختلف قسم کے الزامات اور اقدامات کے ذریعے راستہ بھی ہموار کیا جائے۔ ان ماہرین کے مطابق ان لابیوں یا حلقوں کو بھارت کے علاوہ بعض دیگر ممالک کی سرپرستی بھی حاصل ہے جو کہ افغانستان کے راستے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تعلقات کشیدہ رہیں۔ اس قسم کے لوگ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہیں بلکہ ان کا میڈیا میں بھی بہت اثر و رسوخ ہے اور میڈیا کے بعض اداروں کو اسی مقصد کے لئے باقاعدہ سپانسر بھی کیا جاتا ہے۔

 

افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔

حال ہی میں کابل کادورہ کرنے والے ممتاز صحافی ہارون الرشید نے اس ضمن میں رابطے پر بتایا کہ کابل میں انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ‘ حنیف اتمراور حامدکرزئی سمیت دیگر اعلی عہدیداران سے بات چیت کی ۔اکثریت کا خیال تھا کہ افغانستان کے خراب حالات کی ذمہ داری محض پاکستان پرہی عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ ان کو بتایا گیا کہ جب بھی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوتا ہے یا پاکستان افغان طالبان کو میز پر بٹھانے کی کوشش کرتا ہے‘ ایوانِ صدر یا ایسے دوسرے کسی دفتر سے کوئی ایسا بیان جان بوجھ کر جاری کردیا جاتا ہے جو کہ اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ہارون الرشید کے مطابق اس تاثر میں افغان میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے اور اس کے ذریعے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ہی خرابی کا سبب ہے۔ اس پراپیگنڈے کو بھارت کے علاوہ ایران اور امریکہ کی آشیربادبھی حاصل ہے تاہم پاکستان کے سفارتی حلقے اس کو کاؤنٹر کرنے میں بوجوہ ناکام دکھائی دیتے ہیں اور یوں 80 فیصد لوگ پاکستان کے خلاف ہوگئے ہیں۔
سینئر تجزیہ نگار اور اینکر حسن خان کے مطابق ان کے دورۂ کابل کے دوران معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف افغان حکمرانوں اور عوام کی نفرت میں پہلے کے مقابلے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اور چمن تصادم کو نہ صرف بہت زیادہ اچھالا گیا بلکہ ڈیورنڈ لائن(انٹرنیشنل بارڈر) کو متنازعہ بنانے کی مسلسل کوشش بھی کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں حسن خان کا کہنا تھا کہ اس بار انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ اور حامدکرزئی کو پاکستان کے بارے میں کافی بہتر اور مثبت پایااوردونوں لیڈروں نے ملاقاتوں کے دوران اس بات کو تسلیم بھی کیا کہ ہر خرابی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا رویہ شاید درست نہیں ہے بلکہ بعض دیگر عوامل بھی بدامنی اور عدمِ استحکام کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق حامد کرزئی پاکستان کے بارے میں مثبت بات کررہے تھے اور ان کی توپوں کا رخ امریکہ کی جانب تھا۔


دونوں سینئرصحافیوں کے مطابق بدامنی اور عدمِ استحکام کی ایک بڑی وجہ افغانستان کے اداروں کی غیر فعالیت اور مخلوط حکومت کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کا فقدان بھی ہے تاہم افغان حکمران اور عوام اس کے اعتراف یا اصلاح کے بجائے پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے رویے پر گامزن ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی کوششیں ہونی چاہئیں کہ بحالی تعلقات کی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ تلخی یا کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان کے مخالف ممالک کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ افغانستان یا اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں۔


سنٹرل ایشیا کے دروازے پر واقع افغانستان کے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں کئے گئے طالبان حملے میں 150 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے جس کے بعد افغانستان کی سکیورٹی سے متعلق سوالات شدت سے سراٹھانے لگے تو ان کے وزیرِ دفاع اور آرمی چیف نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیئے جو کہ افغان صدر اشرف غنی نے قبول بھی کئے۔ افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جو کہ اس جانب واضح اشارہ ہے کہ طالبان کی نہ صرف یہ کہ قوت بڑھتی جارہی ہے بلکہ ان کی کارروائیاں جنوبی اور مشرقی افغانستان یا پشتون بیلٹ تک محدود نہیں رہی ہیں۔ اس سے قبل قندوز میں طالبان نے جہاں ایک طرف چار بار کامیاب حملے کئے وہاں انہوں نے کئی روز تک صوبائی دارالحکومت کو اپنے قبضے میں بھی لئے رکھا۔ جبکہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور یہاں پر اب بھی حملے اور جوابی حملے جاری ہیں۔ یہ تینوں صوبے اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کو سنٹرل ایشیا اور ایران کے گیٹ ویز کے پس منظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ مزار شریف‘ بلخ‘ قندوز اور پنج شیر کو نہ صرف انتہائی جغرافیائی اہمیت حاصل ہے ‘بلکہ افغانستان کی 50 فیصد سے زائد بیورو کریسی کا تعلق بھی ان ہی صوبوں سے رہا ہے اور اکثر نان پشتون لیڈروں کے نہ صرف یہ آبائی علاقے ہیں بلکہ یہ ان کی قوت کے مراکز بھی ہیں۔ روس کے ساتھ جنگ کے علاوہ نائن الیون اور اس سے قبل طالبان کے داخلے جیسے اہم ادوار کے دوران بھی مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقے جنگوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ علاقے تعلیم‘ سہولیات اور ترقی کے حوالے سے دوسرے صوبوں سے کافی آگے ہیں۔ شمالی افغانستان کے لیڈروں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ان علاقوں کو جنگوں اور حملوں سے دور رکھا جائے اور سال2015 کے وسط تک وہ اس کام میں کامیاب بھی رہے تاہم 2016 کے دوران طالبان اور ان کے اتحادیوں نے ان علاقوں کا نہ صرف رخ کیا بلکہ یہاں پر خوفناک حملے بھی کرائے اور حالیہ حملے اسی سلسلے کی کڑی ہیں اس بار فرق یہ سامنے آیا ہے کہ طالبان نے علاقے کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں بغیر کسی مزاحمت کے گھس کر 150 سے زائد افراد کو زندگی سے محروم کردیا۔ حملہ آوروں نے کئی گھنٹوں تک چھاؤنی کے اندر رہ کر فورسز سے مقابلہ کیا اور یہ مقابلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آخری حملہ آور زندہ رہا۔افغان طالبان کے ہاتھوں‘ مساجد‘ مزارات اور تعلیمی اداروں کو اس نوعیت کے حملوں کا نشانہ بنانے کی روایت بہت کم رہی ہے تاہم اس بار انہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے والوں کو بطورِ خاص ٹارگٹ کیا اور اس سے قبل بھی بعض ایسے حملے مشاہدے میں آئے ہیں جن سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرح اب وہاں بھی ماضی کی روایات کے برعکس کوئی بھی طبقہ حملوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔


افغانستان کے علاوہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں نہ صرف یہ کہ اس حملے کی شدید مذمت کی گئی بلکہ دو اعلیٰ ترین ریاستی ذمہ داران کے استعفوں کا عوامی سطح پر خیرمقدم بھی کیاگیا تاہم کابل کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ استعفے افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ اور شمال کے طاقتور کمانڈر رشید دوستم کے کہنے پر اور دباؤ پر دیئے گئے ہیں۔ مزار شریف کو جغرافیائی اور دفاعی ماہرین پورے خطے کا جغرافیائی مرکز سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے کچھ فاصلے پر ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں واقع ہیں جبکہ یہ کابل‘ ہرات اور قندوز کو آپس میں ملانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سال2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ میں 60 فیصد تک تاجک جبکہ 15 فیصد اُزبک رہ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ترکمان اور پشتون دس دس فیصد کے تناسب سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ رواں برس کے دوران دونوں سنٹرل ایشین سٹیٹس نے مزار شریف اور بعض دیگر شمالی علاقوں کے لئے بڑے اہم منصوبے منظور کئے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس بیلٹ کو جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں غیر معمولی توجہ اور ترقی دی جارہی ہے۔ حالیہ حملے نے اس تمام عمل کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور عالمی میڈیا کے بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں حملوں کی تعداد میں اضافہ ایک عالمی اور علاقائی گیم کا حصہ ہے اور اس گیم کو بیرونی طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ کابل میں قائم کولیشن گورنمنٹ کی وزارتوں کی عجیب و غریب تقسیم‘ ان کے درمیان کوآرڈینیشن کے فقدان اور شمال کو شیئرز سے زیادہ حکومتی عہدے دینے کے فارمولے جیسے اقدامات کو بھی افغان اداروں اور فورسز کی ناکامی کے اسباب میں شامل کیا جارہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے کہ اس قسم کے حملوں کی آڑ میں امریکہ یا بعض دیگر طاقتیں افغانستان کو پھر سے میدانِ جنگ بنانے تو نہیں آرہی ہیں؟ ننگر ہار پر عین ماسکوکانفرنس کے دوران مدر آف آل بم گرانے کا امریکی اقدام اور کانفرنس میں امریکہ کی شرکت سے انکار کے علاوہ بعض دیگر اقدامات اور بیانات کو بھی اسی تناطر میں دیکھا جارہا ہے۔ بظاہر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ افغانستان کے تقریباً تمام صوبوں یا علاقوں تک پھیلایاگیا ہے اور پانچ سرحدیں ایسی ہیں جہاں طالبان نہ صرف یہ کہ پہنچ چکے ہیں بلکہ وہ اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا رہے ہیں اور کامیاب حملے بھی کررہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے بعد اب ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہوگئی ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو اس کے اثرات بعض دیگر سنٹرل ایشین سٹیٹس کے علاوہ روس پر بھی پڑیں گے۔


یہ حالات ایک ایسے افغانستان کا منظر نامہ پیش کررہے ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ سول وار کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے بلکہ یہ یقینی خطرہ بھی موجود ہے کہ شاید امریکہ اپنی فورسز اور ان کے اختیارات میں مزید اضافہ کرے اور اس کے نتیجے میں دوسری عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے میدان میں اُترآئیں۔ دوسری طرف داعش کا پھیلاؤ اور پاکستان‘ افغانستان کی نئی نسل میں مقبولیت کی اطلاعات بھی پریشان کن ہیں۔ حملوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ان ریاستوں کے علاوہ عالمی طاقتیں کیا حکمت عملی طے کرتی ہیں‘ مستقبل کے منظر نامے اور صورتحال کا انحصار اسی پر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ضرب عضب کے جوان


دیکھو مرے وطن کے جوانوں کو اِک نظر
سینہ ہے یا فولاد یا پھر شیر کے جگر
باطل ٹھہر نہ پائے کبھی ان کے سامنے
لڑتے ہیں کیسے جم کے ماؤں کے یہ پسر
سایہ ہو میری فوج پہ ربِّ جلیل کا
ہوتی رہے یہ کامراں، تا عمر، تاحشر
کیسے ہوں یہ صفات بیاں اِن کی اے حکیمؔ
ہیبت ہے بس عدو کے لئے ان کی اک نظر

حکیم شہزاد

*****

 
16
May
مئی 2017
شمارہ:5 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
قومیں پرعزم ہوں اور اپنے نظریے کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوں تو وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما قوم ایک طویل اور کٹھن جنگ میں کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اب الحمدﷲ اس مقام پر ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا عمومی طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب وہ فساد بپا کرنے....Read full article
 
تحریر:خورشیدندیم
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر....Read full article
 
 alt=
تحریر: محمد عامر رانا
انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔....Read full article
 
تحریر: جویریہ صدیق
22فروری سے آپریشن رد الفساد ملک بھر میں جاری ہے۔فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب لگانے کے لئے جس آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے ابتدائی مراحل کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اچانک بڑھ گئے تھے جو اب بہت حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے پیچھے پاک....Read full article
 
تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ امریکہ کے جنگی اخراجات کو کم کرکے اسی سرمائے کو امریکی شہریوں کی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں گے۔امریکہ کے اندر وہ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتے ہیں، اس بارے تو کچھ کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔ تاہم شام اور افغانستان کو ملٹر ی انڈسٹریل کمپلیکس کی خوفناک.....Read full article
 
تحریر: علی جاوید نقوی
غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے.....Read full article
 
تحریر: فاران شاہد
پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی....Read full article
 
تحریر: محمدمنیر
کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ مغربی تعلیم، آزادئ فکر اور میڈیا کی تانوں اور اڑانوں کے باوجود حکومتیں اور معاشرے کے طاقت ور طبقے مذہبی شخصیات کے تیوروں سے کیوں خائف رہتے ہیں اور....Read full article
 
تحریر: شاہد نسیم
ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ہربار ہمیشہ ہر بلند آواز یا ہر نئی کوشش کو’ اپنے‘ اسلام کے لئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں جن کے خیال میں بین المذاہب ہم آہنگی یا مکالمہ ایک ایسی شاطرانہ اختراع یا ایک ایسا نیا دین گھڑنے کی بھونڈی سی کوشش ہے۔ جس کا شریعت میں کوئی بھی تصور موجود نہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کی پُرفریب اصطلاح سے نہ تو کوئی سے دو مذاہب کے درمیان معاہدہ مراد ہے....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
بلاشبہ یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ پچیس برس قبل لاہورمیں اس کی بنیاد رکھی گئی۔ سرکاری نہیں ہے۔ اس لئے اس کا معیار آج بھی قائم ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر (موجودہ نہیں) جو اس وقت پچیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتے تھے کے خلاف خاکروب حضرات نے ہڑتال کر دی۔ یہ خاکروب اپنے حالات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار کے قریب تھی۔ ان کے کام.....Read full article
 
تحریر: حجاب حبیب جالب
مئی، یا مزدوروں کا عالمی دن، ہم کیوں مناتے ہیں؟ صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کی زندگی بہت مشکل تھی اور ان سے ایک دن میں 16,16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدورکے ذمہ ہوتے۔ ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ مزدور کے زخمی ہونے کی صور ت میں اس کا علاج کروایا جاتا، مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدید پرتھا.....Read full article
 
تحریر: کوکب علی
ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔.....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
کیپٹن مشیت الرحمن ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے۔ 1952 میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں گئے کوہاٹ ٹریننگ سے فارغ ہوئے تو پہلی پوسٹنگ ہزارہ ڈویژن کے مارشل ایریا شنکیاری میں ہوئی جہاں وہ جون 1957 تک کیپٹن ایڈجوٹنٹ رہے۔یکم جون 1961 میں وہ ملتان میں تھے۔وہاں وہ نوجوان افسروں کو دستی بم کی ٹریننگ دے رہے تھے۔ پن نکالنا....Read full article

تحریر: میجر مظفر احمد
لاہور میں خود کش حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے جوان اور متعین سول شمار کنندگان مردم شماری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا انعقاد ایک قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ سول شمار کنندگان اور فوج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ایک عظیم قربانی ہے۔ مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ ان قیمتی جانوں کی قربانی سے ہمارے عزائم مزید مضبوط ہوں گے........Read full article
 
تحریر: عبدالستاراعوان
ستمبر1965ء کے معرکہ چھمب جوڑیا ں میں ہمارے جن قومی ہیروز نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اُن دلیر فرزندان وطن میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا بھی ہے غلام مہدی خان شہید کا شمار اُن جانبازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت جرأت ،بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان اس دھرتی پر نچھاور کر دی۔ غلام مہدی خان کا.....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
6ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پر میڈم نورجہاں کی آواز میں پانچویں نغمے ’’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی‘‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یک جان تھی۔ ہر ایک محاذ پر افواج پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے.....Read full article
 
تحریر: رابعہ رحمن
عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر....Read full article
 
تحریر: محمدامجد چوہدری
اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم کا جو بھی فرد افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑتا ہے، ’’سروس فار ایور‘‘ہمیشہ کے لئے اس کا عزم بن جاتا ہے۔ وہ یونیفارم میں ہوتو اسی جذبے کے تحت جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے، ملکی یکجہتی کی علامت بن کر قریے قریے میں ڈیوٹی کے لیے لبیک کہتا ہے، قوم کے آرام و چین کے لئے سرحدوں پرپہرہ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال مقرر ہے جس سے ہم ابھی بھی تقریباً دو سال کے فاصلے پر تھے۔ ایک سینئر بزرگوار سے مشورہ کیا تو انہوں نے پہلے تو جلدی شادی کرنے کے نقصانات تفصیل سے بیان کئے اور پھر دیر تک ہمیں ....Read full article
 
تحریر: انوار ایوب را جہ
یہ 1983-84کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی.....Read full article
 
تحریر: فہیم خان
صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ.....Read full article
 
تحریر: میجر حسان جاوید
مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک....Read full article
11
May
دوہری سیٹ والے جے ایف سیون ٹین بی تھنڈر کی پہلی کامیاب اڑان

newsdohriuran1.jpg

گزشتہ دنوں ڈبل سیٹ جے ایف سیون ٹین بی تھنڈ ر نے چینگڈو (چین) میں اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز کی ۔پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان اس تاریخی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
Aviation Industry Corporation of China (AVIC)
. کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ،
Mr. Li Yuhai
اس پروقار تقریب کے میزبان تھے۔ پاک چین مشترکہ کاوش ڈبل سیٹجے ایف سیون ٹین بی تھنڈ ر اپنی آزمائشی پروازکے ابتدائی مرا حل سے گزر رہا ہے۔ جے ایف سیون ٹین بی تھنڈر کی شمولیت خود انحصاری کی طرف ایک سنگِ میل کی حیثیت کی حامل ہے۔ اس طیارے کی شمولیت سے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی بہترین
combat training
ممکن ہو سکے گی۔ جے ایف سیون ٹین تھنڈر طیارے کی پاک فضائیہ میں شمولیت کا آغا ز2007 سے ہو ا جوکہ مسلسل جاری ہے۔ اب تک پاک فضائیہ میں جے ایف سیون ٹین کے پانچ سکواڈرنز خدمات انجام دے رہے ہیں جو کہ ہر طرح کے آپریشن سر انجام دیتے ہیں۔ جے ایف سیون ٹین تھنڈر ایک بہترین جنگی جہاز ہے جس کا موازنہ دنیا کے جدید طیاروں سے کیا جا سکتا ہے۔
کور ہیڈکوارٹرز ملتان میں مردم شماری کے حوالے سے اجلاس

newsdohriuran2.jpg 

گزشتہ دنوں کمانڈرملتان کورلیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار کی زیر صدارت کور ہیڈ کوارٹرز ملتان میں چھٹی قومی خانہ مردم شماری فیز 2کے سلسلے میں آرمی اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا اجلاس ہوا۔ جس میں مردم شماری کے حوالے سے کئے
جانے والے انتظامات کامکمل جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اپنے متعلقہ محکموں کی جانب سے کئے جانے والے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار نے خانہ مردم شماری کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی بہتری کے لئے ضروری ہدایات دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور خوش اسلوبی کے تسلسل پر زور دیا۔ اجلاس میں ملتان، خانیوال، ساہیوال اور اوکاڑہ کے اضلاع میں ہونے والی خانہ مردم شماری کے حوالے سے لائحہ عمل بھی طے کیا گیا۔ کمانڈر ملتان کور نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خانہ مردم شماری میں ملتا ن کور سول انتظامیہ اور محکمہ شماریات کے حکام کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں خدمات سر انجام دے گی۔
11
May

تحریر: کوکب علی

ماں گھر کی رونق۔۔۔۔ امن اور سکون کی علامت۔۔۔
خاندانی قدروں کی پاسدار۔۔۔
محبت و الفت کی امین۔۔۔
مہر ووفا کا گہوارہ۔۔۔
ماں کی دعا ہر مشکل میں کامیابی کی ضمانت ۔۔۔
ماں کا بوسہ رفعت و الفت کا مظہر ۔۔۔۔
اور جنہوں نے ماں کے پیروں کو چوم لیا ، انہوں نے دنیاجہان کی راحیتں اپنے حصے میں لکھوا لیں۔۔
ماں گویا کتابِ زیست کا وہ دلچسپ باب ہے جس کی محبتوں اور قربانیوں سے گندھی تحریر سے صرفِ نظر ممکن نہیں ۔۔۔گو کہ ماں سے محبت کسی مخصوص دن کی مختاج نہیں مگر پھر بھی زمانے کے بدلتے رواجوں کے ساتھ چلتے ہوئے مئی کے دوسرے اتوار کوجہاں دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن جوش وخروش سے منایا جاتا ہے وہاں یوکرائن میں بھی یہ دن پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس دن کا باقاعدہ آغاز امریکی کانگریس کی جانب سے 8 مئی 1914 کو کیا گیا ۔ پھر سویڈن ، ناروے جرمنی اور لندن میں منایا گیا ۔ یوکرائن میں اس دن کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ۔سن 2000ء سے اس دن کو منانے کا آغاز کیا گیا ۔
اس دن باقاعدہ طور پر پھولوں کی خریداری کی جاتی ہے ۔ وہ جن کی مائیں حیات ہیں انہیں گلابی اور سرخ پھول پیش کئے جاتے ہیں اور جن کی مائیں حیات نہیں وہ سفید پھول ان کی قبروں پر لے جاتے ہیں۔ یوکرائن میں اس روز خوب چہل پہل ہوتی ہے ، ریسٹورنٹس خصوصی طور پر
mother's breakfast' mother's lunch
اور
mother's dinner
کا اہتمام کرتے ہیں۔۔۔ بچے ماؤں کو کارڈز اور خصوصی تحائف دیتے ہیں ۔ ماؤں کو خاص طور پر اس دن کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے کہ کب بچھڑے بچے ان کوآ کر صورت دکھائیں گے یا فون پر ایک مدت بعد اپنی آواز سنوائیں گے ، کیونکہ بہرحال مشرقی اور مغربی قدروں میں فرق ہے ، دوسرے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی خاندانی نظام مضبوط نہیں اور ماں یا باپ بچوں کے کچھ بڑے ہوتے ہی اکیلے زندگی گزارنے پر مجبورہو جاتے ہیں۔ اس دن کے حوالے سے یوکرائنی میوزک میں بھی تنوع موجود ہے ،مدرز ڈے پر تفریحی مقامات بھی پُررونق دکھائی دیتے ہیں۔
یوکرائنی ادب میں بھی ماں کی عظمت کے حوالے سے لفظوں کے رنگ بکھیرے گئے ۔ یوکرائنی شاعر
Sova
نے خاص طور پر اپنی نظم

The Owl
میں اپنی دھرتی یوکرائن کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے
Is there on earth a son more fine'
In all Ukraine? Good people, gaze,
اس نظم میں ماں کی اس محبت کا ذکر ہے جو وہ اپنے خوبصورت بیٹے کی پیدائش پر اُس سے رکھتی ہے ۔ ماں چاہتی ہے کہ وہ اُسے دنیا کی ہر خوشی دے۔ اس کے باپ کی وفات پر وہ زندگی کے اُتار چڑھاؤ کو دیکھنے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی سب خواہشیں پوری کرتی ہے اور ایک دن وہ آرمی میں جا کر ملک کی خدمت کرتا ہے یہ لمحہ ماں کے لئے فخر کا باعث ہے ،، مگر ملک کی حفاظت کرتے کرتے وہ ایک بار لاپتہ ہوجاتاہے ۔ دس برس گزر جاتے ہیں ،، مگر ماں اس کی تلاش جاری رکھتی ہے یہاں تک کہ بوڑھی ہو کرگلیوں بازاروں میں اپنے بیٹے کو آوازیں دیتی ہے۔ گلی کے شریر بچے اس کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ ماں کے حوالے سے اس طویل نظم نے پڑھنے والوں پر پُر سوز اثرات مرتب کئے ہیں ۔
ماں کی لازوال محبتوں کی یہ داستانیں رہتی دنیا تک قائم رہیں گی ۔سر زمین کوئی بھی ہو ماں کااپنی اولاد کے لئے پیاراور اس کے رنگ ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
 
11
May

تحریر: فہیم خان

صوبہ بلوچستان جو کہ کئی عشروں سے شورش کا شکار رہا، خاص کر صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دہشت گردوں کا نشانہ بنا رہا ‘جس سے یقیناًیہاں کے لوگ خصوصاً نوجوان ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ لیکن اسی ماحول میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں جنم لینے والی ایک لڑکی نورینہ شاہ منفر دصلاحیت کی حامل ہے۔ نورینہ شاہ بچپن سے ہی ستاروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی چنانچہ جیسے جیسے نورینہ بڑی ہوتی گئی اس کی دلچسپی خلاء میں موجود ستاروں اورسیاروں کے بارے میں بڑھتی گئی۔ وہ کائنات میں موجود ستاروں سیاروں کے بارے میں بہت سے جواب طلب رازوں کو جاننا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں ایک انٹرنیشنل ادارے سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا اس ادارے کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس بچی کا تعلق پاکستان کے اس علاقے سے ہے جہاں امن وامان کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ بچی ستاروں پر کمند ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جلدہی نورینہ شاہ نے انٹرنیشنل میڈیا پر اپنی جگہ بنا لی۔ یو این کے سابقہ سیکرٹری بان کی مون نے بھی نورینہ کی تعریف کی۔ اسی طرح برطانیہ کے میگزین ایڈ زون نے نورینہ کا نہ صرف تفصیلی انٹرویو شائع کیابلکہ اس کو ایشیا کی کم عمر ترین سفیر بھی مقرر کیا۔

balchkachamkta.jpg
راقم اس باصلاحیت طالبہ سے ملنے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں واقع نورینہ شاہ کے گھر پہنچا۔ نورینہ شاہ نے اپنے بارے میں بتایا کہ ابھی وہ سیکنڈ ائیر کی طالبہ ہے۔ لیکن وہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنی جدوجہد کو آگے لے جانا چاہتی ہے۔ اس نے کہا کہ پاکستان کے عام لوگ آسٹرونومسٹ کو پامسٹ سمجھتے ہیں۔ جب بھی میں کسی سیمینار میں گئی وہاں لوگ مجھے اپنے ہاتھوں کی لکیریں دکھانا چاہتے تھے لیکن لوگوں کو بڑی مشکل سے سمجھانا پڑتاہے کہ میرا یہ کام نہیں۔ تحقیق کے سلسلے میں مجھے ایک بین الاقوامی ادارے نے ایک دوربین بھی گفٹ کی تاکہ میرے علم میں مزید اضافہ ہوسکے۔ گو کہ یہ میری تحقیق کا اگلا ہدف ستاروں کے ٹوٹنے کے عمل سے پیدا ہونے والے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے ناکافی ہے۔ ابھی میری منزل کافی دور ہے اور مجھے بہت محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے اللہ پاک کی ذات پر پختہ یقین ہے کہ انشاء اللہ ایک روز میری محنت رنگ لائے گی اور بلوچستان کی بیٹی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے گی۔نو رینہ نے مزید بتایا کہ میرے ابو نے وسائل کی کمی کے باوجود میری بھرپور رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی اور آج میں جس مقام پر ہوں اس کا سارا کریڈٹ میرے والدین کو جاتا ہے۔ نورینہ نے ارباب اختیار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے جیسے دیگر طلبہ و طالبات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔


نورینہ کے والد حفیظ اﷲ صاحب ‘جو ایک گورنمنٹ ملازم ہیں، نے اپنی بیٹی کے بارے میں بتایا کہ اس کو کم عمری سے ستاروں کے بارے میں جاننے کا شوق تھا جو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ اس کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی کی۔ کئی انٹرنیشنل ادارے نورینہ شاہ سے رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اداروں نے ایوارڈ اورسرٹیفکیٹ بھی دئیے ہیں۔ یہ بچی بڑے عزائم اور ارادے رکھتی ہے جس کے لئے نورینہ کو آگے بہت کچھ کرنا ہے۔ لیکن خلاء بینی کے لئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ این جی اوز نے یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن ابھی تک این جی او یا حکومتی سطح پر عملی طورپر کچھ نہیں کیا گیا۔ بہر حال آج ہمیں اپنی بچی پر فخر ہے اوریقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد سے یہ بچی اپنی محنت اور سچی لگن کی بدولت دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرے گی۔


اس طالبہ سے ملاقات کے بعد ایک پاکستانی ہونے کے ناتے سرفخر سے بلند ہوتا ہے کہ نورینہ شاہ جیسی باصلاحیت اور بلند حوصلہ طالب علم اس خطے میں موجود ہیں۔ ہمارے ارباب اختیار کو اس طالبہ کے لئے خصوصی دلچسپی لے کر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ایسے باصلاحیت نوجوان اس دھرتی کے چمکدار ستارے بن کر ساری دنیا میں پوری آب وتاب سے چمکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
11
May

تحریر: میجر حسان جاوید

مملکتِ خدادادِ پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس چھوٹے سے ملک میں موسمیاتی اور جغرافیائی لحاظ سے پایا جانے والا تنوع شاید ہی دنیا کے کسی اورخطے میں ہو۔ پاکستان میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور خوبصورت لیکن نظروں سے اوجھل ہیں۔ اِنہی میں سے ایک مقام ٹلہ جوگیاں ہے۔ٹلّہ جوگیاں کا پہاڑخطہ پوٹھوہار میں کوہِ نمک کی سب سے اونچی چوٹی ہے جو سطح سمندر سے 3200 فٹ بلند ہے۔ ٹلہ جوگیاں جہلم شہر سے مغرب میں مشہور تاریخی قلعہ روہتاس سے تقریباً25 کلومیٹر کی مسافت پر موجود ہے۔ بلند مقام ہونے کی بدولت جوگیاں کا پہاڑ میلوں دور سے اپنی جانب توجہ مبزول کراتا ہے اور شام کے اوقات میں انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کا موسم سردیوں میں شدید اور گرمیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے۔


ٹلہ جوگیاں سیکڑوں صدیوں سے جوگیوں اور فقیروں کی آماجگاہ رہاہے۔ اس مقام کو قدیم ہندو‘ بدھ اور سکھ مذاہب میں ایک تعلیمی اور تربیتی درسگاہ کا درجہ حاصل تھا۔ جہاں پورے ہندوستان سے جوگی اور فقیر تربیت کے لئے آتے تھے۔

خانقاہوں اوٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔


ایک روایت کے مطابق ٹلہ جوگیاں کی بنیاد تقریباً سو سال قبل مسیح جوگیوں کی ایک قدیم شاخ کن پترا (کانوں کو چھدوانے والے) جوگیوں کے پیشوا گورو گورکھ ناتھ نے رکھی۔ اس قدیم پہاڑی کے ساتھ بہت سی دیومالائی اور لوک داستانیں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق پنجاب کی مشہور لوک داستان ’ہیر رانجھا‘ کے مرکزی کردار رانجھا نے اس پہاڑی پر آکر قیام کیا۔ اپنے کان چھدوائے اور جوگی کا روپ اختیار کیا۔ ایک روایت کے مطابق سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک نے تقریباً پانچ سو سال قبل ٹلہ جوگیاں پر چالیس دن قیام کیا اور اپنی عبادت کی۔ اسی عقیدت کی بدولت پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ نے یہاں پانی کا ایک تالاب بھی تعمیر کروایا۔ مشہور ہے کہ عظیم مسلمان فلسفی اور ریاضی دان ابوریحان البیرونی نے تقریباً ایک ہزار سال قبل اس پہاڑ پر قیام کیا اور پھر پنڈدادن خان کے مقام پر بیٹھ کر زمین کا قطر معلوم کیا۔

 

tallajogiyan.jpgمغلیہ دور میں اس جگہ کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ مغل بادشاہ لاہور سے کشمیر کی طرف سفر کرتے ہوئے اس پہاڑ پر عارضی قیام کرتے تھے۔ پہاڑ پر موجود پانی کے تالاب مغلیہ دور کی یاد دلاتے ہیں۔ انگریز دورِ حکومت میں ٹلہ جوگیاں کو ایک پہاڑی مقام کا درجہ حاصل تھا جہاں شدید گرمیوں میں انتظامیہ کے دفاترمنتقل ہوجاتے تھے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر ایک درجن سے زائد مندروں خانقاہوں اور استھانوں کی باقیات موجود ہیں۔ زیادہ تر عمارات پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مغلیہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنا ہوا پانی کا ایک تالاب بھی موجودہے جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا۔ پہاڑ کے اوپر ریسٹ ہاؤس کی عمارت بھی موجود ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل تک یہاں پورے ہندوستان سے فقیر اور جوگی آتے اور وجدان حاصل کرتے۔


ٹلہ جوگیاں کے پہاڑ پر پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ جن میں ایک قلعہ روہتاس اور دوسرا دریائے جہلم کے کنارے سنگھوئی گاؤں سے نکلتا ہے جبکہ ایک راستہ جی ٹی روڈ پر ڈومیلی گاؤں سے ٹلہ جوگیاں کے نزدیک گاؤں بھیت تک جاتا ہے۔ الغرض ٹلہ جوگیاں ایک انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے اور اس کو سیر و سیاحت کے لحاظ سے ترقی دی جاسکتی ہے۔

مضمون نگار کا تعلق آرمی ایجوکیشن کور سے ہے وہ ان دنوں ملٹری کالج جہلم میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
 
10
May

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد کے ادبی میلے میں تھا۔ علم اور کتاب کے ہزاروں متلاشیوں کے ذوق و شوق کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی کہ دہائی سے اوپر اپنی شریعت کی اسلام آباد میں دہشت مسلط کرنے والوں کے خواب پورے نہیں ہوئے۔ ابھی شام کے ایک سیشن سے نکلا ہی تھا کہ چینل سے مسلسل کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عموماً جب کبھی بے وقت فون پر کالیں آتی ہیں تو پہلے ٹی وی کی طرف دوڑتا ہوں۔ قریبی اسکرین پر نظر دوڑائی تو ایک دہلا دینے والے منظر کو چیختی چلاتی سرخیوں سے مسلسل دکھایا جا رہا تھا۔ سانحہ یا واقعہ۔۔ مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ہوا تھا مگر لاہور سے کہا گیا کہ یونیورسٹی بند ہو چکی ہے اس لئے صوابی روانہ ہو جاؤ۔ صوابی۔۔ اسلام آباد سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ ایک مقامی سینئر صحافی‘ جو ہمارے ساتھ ہو لئے تھے‘ تفصیل سے بتا رہے تھے۔ ولی خان یونیورسٹی کا طالب علم مشعال خان یونیورسٹی میں اپنی بزلہ سنجی اور بے باکی کے سبب بڑا مشہور تھا۔ بحث و مباحثہ کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ولی خان یونیورسٹی گزشتہ تین ماہ سے وائس چانسلر سے محروم تھی جس پر طلبہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور ہر روز ایڈمنسٹریٹو بلاک کے سامنے صبح ہی سے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیتے۔ مشعال بھی اُن طلباء میں شامل تھا جو یونیورسٹی کے ’’وائس چانسلر‘‘ کے حوالے سے احتجاج میں آگے آگے تھے۔ اس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ خوش نہیں تھی۔ دوسری جانب مشہور سیاسی رہنما ولی خان سے منسوب یونیورسٹی کے بارے میں مقامی صحافی نے بتایا کہ کمین گاہوں میں چھپی عسکری تنظیموں نے ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت کے پی کے کی یونیورسٹیوں میں ایک بڑی تعداد میں ایسے طلباء کو داخل کروایا ہے جو ’’لبرل اور روشن خیال‘‘ طلباء پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اِن یونیورسٹیوں کی انتظامیہ میں بھی یہ نقب لگانے میں مصروف ہیں۔مقامی صحافی کی گفتگو جاری تھی کہ سرسبزوشاداب صوابی میں ہم داخل ہو گئے۔ صاف ستھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسا مقام آیا کہ جہاں سے آگے گاڑی کا گزر نہیں ہوتا۔ گاڑی سے اُتر کر ابھی چار قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے ویل چیئر پر بیٹھے ادھیڑ عمری کی طرف مائل سرخ و سفید چہرے والے مقامی رہنما نے چلاتے ہوئے کہا ’’مجاہد صاحب!‘‘۔ یہ عبد الرحمٰن تھے جو یاد دلا رہے تھے کہ ہم کراچی یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ تیز تپتی دھوپ میں عبد الرحمٰن دکھ بھری آواز میں کہنے لگے ’’میں مشعال اور اُس کے پورے خاندان کو جانتا ہوں۔ یہ بچہ میرے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے۔ مشعال اور اُس کا خاندان کیا پورے صوابی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی حضورؐ کی شان میں گستاخی کرنا تو کیا اس بارے میں سوچنے کا بھی تصور کرے‘‘۔ رات گئے جب مشعال کے دوستوں نے بتایا کہ ایک گروپ مسلسل مشعال کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ اُس کے نام سے ایک جعلی آئی ڈی بھی طلبہ کو دکھائی جاتی۔ سانحے کے روز ہم دیکھ رہے تھے کہ یہ گروپس جن میں یونیورسٹی انتظامیہ کے چند اساتذہ بھی شامل تھے۔ سرگوشیوں میں ہمیں سازش کا جال بُنتے نظر آرہے تھے۔ مگر یہ ہمیں یقین نہ تھا کہ ہم اپنے سامنے درندگی اور بربریت کا اتنا بڑا سانحہ بھی دیکھیں گے۔ مشتعل گروپ میں سے ایک جس نے اپنا نام اور اپنے باپ کا بھی نام بتایا باقاعدہ سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر حلف لیا کہ ’’مشعال کو ایک ایسی بدترین مثال بنائیں گے کہ آئندہ کوئی روشن خیال، ترقی پسند اور لبرل ہونے کی جراّت بھی نہیں کر سکے گا‘‘۔ ابتداء میں یہ کوئی سو سوا سو تھے مگر ہاسٹل پہنچتے پہنچتے تعداد ہزار سے اوپر پہنچ گئی۔ ’’اوہ میرے خدا!‘‘ عبد الرحمٰن کی آواز آنسوؤں اور سسکیوں میں ڈوب گئی۔’’ مشعال کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اسکے دوستوں نے جو کچھ بیان کیا اُس کے تصور ہی سے خود کو پختون اور مسلمان کہتے ہوئے شرم آتی ہے‘‘۔ پولیس اور انتظامیہ اُس وقت آئی جب مشعال کی برہنہ لاش پر لاٹھیاں برسائی جا رہی تھیں۔ ہاں! پولیس کو اس کارنامے پر ضرور داد دینی چاہئے کہ مشعال کی لاش کو آگ لگانے سے پہلے ہی اُنہوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ لیکن ایک بھی۔۔ جی ہاں! وہاں پر موجود ایک بھی فردکو پولیس کی تحویل میں نہیں لیا گیا۔ میرا جی چاہا کہ واپس اُنہیں قدموں سے لوٹ جاؤں مگر مشعال کے والد اور بہن کی ہمت اور جراّت کے بارے میں سن چکا تھا اس لئیے حجرے میں داخل ہوا جہاں مشعال کا باہمت باپ سر جھکائے پُرسہ لے رہا تھا۔ میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو عزیز و اقارب پُرسہ دیتے ہوئے صبر کی روایتی تلقین کر رہے تھے۔ میرے بوڑھے والد نے پُر نم آنکھوں سے کہا ’’جس کی انگلی کٹتی ہے وہی دل چیرتے دکھ کو محسوس کر سکتا ہے‘‘۔ مشعال کے والد کے آگے بھی مجھے چُپ لگ گئی۔جُھریوں بھرے سرخ و سفید چہرے پر بیٹے کا دکھ سمیٹے مشعال کے والد نے صرف اتنا کہا ’’میرا مشعال تو چلا گیا مگر خدا کے واسطے میرے وطن کے کسی دوسرے مشعال کے ساتھ یہ بربریت اور درندگی کا وحشیانہ کھیل نہ کھیلا جائے‘‘۔
یہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لئے۔ اختافاتِ رائے کا انجام وحشیانہ موت نہیں۔ ہم سب کو قائد کا پاکستان واپس لانا ہے۔ پُرامن پاکستان، خوشحال اور مسکراتا پاکستان!

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

تحریر: انوار ایوب را جہ

یہ 84-1983 کی بات ہے۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ پر ایک فییٹ گاڑی نے ایک ویگن کا راستہ روکا۔ ویگن میں سے پہاڑی زبان بولنے والے تین بچے اور ایک پرانے طرز کے لباس میں ملبوس خاتون جن کی عمر اس وقت پچیس یا چھبیس سال کے قریب تھی ‘روتی ہوئیں ویگن سے نکلیں اور کار میں سوار ہو گئیں۔ وہ اپنی والدہ کواسلام آباد ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہی تھیں۔ ان کے سب بہن بھائی برطانیہ میں رہتے تھے۔ بس وہ یہاں پاکستان میں اپنے بچوں اور خاوند کے ساتھ رہتی تھیں جو ایک فوجی افسر تھے۔


ان تین بچوں کے لیے کار میں بیٹھنے کا یہ پہلا تجربہ تھا ، اس سے پہلے یہ تا یا محبوب کی سبز ویگن میں بیٹھ کر اپنی ماں کے ساتھ گاؤں سے میرپور جاتے جو خود میں ایک تفریح تھی۔ منگلا ایم پی چیک پوسٹ سے ان تین بچوں اور ان کی ماں کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔ ایک اور سبز رنگ کی گاڑی میں جس سفر کا آغاز ہوا ‘وہ آج بھی جاری ہے۔اس سفر کے دوران بہت سے پڑاؤ ان پانچ مسافروں کی زندگی میں آئے اور اس سفر کا کمال یہ ہے کہ اس کا ہر لمحہ یادگار ہے۔ اس رات وہ کار راولپنڈی صدر میں کپڑوں کی دکان پر رکی۔ ان بچوں اور ان کی ماں کے لئے کپڑے خریدے گئے اور یہ کار آخر کار رات کی تاریکی میں تربیلا پہنچی جہاں ان چار مسافروں کی زندگی کا آغاز ہونا تھا۔


دوسرے روز جب صبح کا آغاز ہوا تو یہ تین بچے اور ان کی والدہ ایک نئے ماحول میں آنکھ کھول رہے تھے۔ بچے اردو کا ایک لفظ نہیں بول سکتے تھے ، ان کی ماں پہاڑی زبان کے علاوہ تھوڑی بہت اردو بول سکتی تھیں مگر ان کے لئے ابھی تک یہ تبدیلی ایک بہت بڑا تعجب تھا۔ اس روز یہ بچے جاگے۔ ان کے پاس راولپنڈی سے خریدے ہوئے نئے کپڑے تھے۔ ایک اردلی ایک ٹرے میں کچھ ناشتہ لایا اور ڈائننگ ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔ مجھے یاد ہے اس گھر کے باہر ایک تختی لگی تھی جس پر لکھا تھا ، کیپٹن محمد ایوب اور یہ وہی صاحب تھے جنہوں نے ایک رات قبل ان تین بچوں اور ان کی والدہ کو کشمیر کے پہاڑوں سے ایس ایس جی کی چھاؤنی میں لا کر محصور کیا تھا۔ یہ کہانی میری ہے ، یہ کہانی میری والدہ اور اور میرے بھائیوں کی ہے ، مگر اب جب میں زندگی کی چار دہایاں پوری کرنے والا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ کہانی میری یا میرے خاندان کی نہیں بلکہ ہر اس خاندان کی ہے جس کا تعلق فوج سے ہے۔ ابو جی اس وقت ایس ایس جی میں تھے اور یہ سبز رنگ کی فییٹ کار ہماری پہلی فیملی کار تھی اور یہ ہمار ا فوج کی زندگی میں شامل ہونے کا وہ یادگار دن تھا جس کی چھاپ آج تک ہماری زندگیوں پر ہے۔انگریزی میں کہتے ہیں
Once  a  Soldier, Always  a  Soldier
کچھ ایسا ہی معاملہ ان خاندانوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اس فوجی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جو ان کا بھائی، باپ یا خاوند ہوتا ہے۔ وردی اور سپاہی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے روح اور جسم۔ یہ رشتہ جو ایک سپاہی کے لئے ریکروٹمنٹ سینٹر سے اور افسر کے لئے کاکول سے شروع ہوتا ہے مگر اس کا اختتام کبھی نہیں ہوتا ، یہ رشتہ زندگی ختم ہونے تک ڈی این اے کا حصہ بن کر ساتھ چلتا ہے اور اس رشتے کو ایک فوجی کے ساتھ ساتھ اس کا خاندان بھی اپنا لیتا ہے جیسے ہم نے اپنایا۔


ان تین بچوں میں سب سے بڑا میں تھا اور دو چھوٹے میرے بھائی تھے۔ ایک اب کینیڈا میں آباد ہے اور دوسرا پاکستان میں ہائی کورٹ کا وکیل ہے اور میں یہاں برطانیہ میں رہتا ہوں جبکہ ابو جی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور اب تختی پر کیپٹن نہیں بلکہ لیفٹیننٹ کرنل(ر ) لکھا ہوا ہے۔ بہت سا وقت گزر گیا ، بہت سی نسلیں جوان ہو گئیں ، بہت سی ایس او پیز میں تبدیلیاں کی گئیں ، خاکی کی جگہ کیمو فلاج نے لے لی، ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی ساخت اور استعمال میں تبدیلی آئی مگر ان سب کے ساتھ جڑا سپاہی نہیں بدلا، اس کا جذبہ ماند نہیں پڑا، اس کے ڈی این اے کے جرثوموں میں کل بھی سبز لہو موجود تھا اور آج بھی وہی سبز لہو موجود ہے جس میں ایمان ، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ لہو سرخ ہوتا ہے مگر سپاہی کے لہو میں سبز ہلالی پرچم اپنا رنگ ایسے اتار دیتا ہے کہ اس کی وردی اس کا کفن بن جاتی ہے۔ میں وردی نہیں پہن سکا ، شائد میرے مقدر میں یہ نہیں تھا ، مگر میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ وردی کے پاس اور وردی کے ساتھ گزارا اس لئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ وردی میرے لئے بھی اتنی اہم ہے جتنی ابو جی کے لئے تھی۔ ایس ایس جی کچھ دیوانوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو کسی نام ، ایوارڈ اور میڈل کے لئے اس کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ ایک مختلف سوچ ہے ، ایک الگ مائنڈ سیٹ ، ایک مکمل اور دیوانہ وار عشق یعنی ’’من جانبازم ‘‘ ہم جب فوج کی زندگی کا حصہ بنے تو ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہماری زندگی میں سب سے پہلے فوج اعتماد کا ٹیکہ لگائے گی ، ہمیں وہ پاکستان کا ہر علاقہ دکھائے گی، ہمیں ایران سے افغانستان اور انڈیا سے چین کی سرحدیں دکھائے گی۔ ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہمارے پڑوس میں بریگیڈیر ٹی ایم جیسے جنگجو ہوں گے ، ہمیں ہر گز یہ پتہ نہیں تھا کہ شاہراہ دستور پر ’’ا ﷲ ہو‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے جب ہمارے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ 23 مارچ کی پریڈ میں شامل ہوں گے تو جذبے اور جوش سے ہمارے آنسو نکلا کریں گے۔ ہمیں نہ کسی ایف جی سکول کا علم تھا اور نہ ہی کبھی آرمی پبلک سکول کا سوچا تھا ، یہ کبھی بھی ہمارے گمان میں نہیں تھا کہ ہم تیراکی سیکھیں گے یا ہمیں کبھی دنیا کے بلند ترین محاذجنگ پر ہیلی کاپٹر سے لٹک کر جانے والے کیپٹن نوید اور ہوا بازی کی عالمی تاریخ کے عظیم ہیرو ایم ایم عالم سے ملنے کا موقع ملے گا اور پھر یہ کس نے سوچا تھا کہ کارگل کی جنگ میں شہداء کی فہرست میں ایک نام کیپٹن جاوید اقبال کا ہو گا جو میری والدہ کے بھائی ہوں گے اورکسے معلوم تھاکہ اسی فوج میں ہمارے ہم عصر بھی وہی وردی پہنیں گے جو ان کے بھی ڈی این اے کا حصہ تھی ، کسے علم تھا کہ ان میں سے کچھ ہم سب کو پیچھے چھوڑ جائیں گئے اور سبز ہلالی پرچم کا انتخاب اپنے کفن کے طور پر کریں گے۔ بس یہ فوج کا کمال ہے اور فوج کی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر کوئی لکھتا نہیں اور شائد کوئی بولتا بھی نہیں مگر میں آج ایسا کیوں سوچ رہا ہوں؟ میں تو مکمل سویلین ہوں۔


بس یوں ہی کبھی کبھار غیر ارادی طور پر جب پاکستان جاتا ہوں تو ان گلیوں میں چلتا ہوں جہاں بچپن گزرا اور جہاں آج بھی تندرست جسموں اور بلند جذبوں والے سپاہی رہتے ہیں ، بس ایک رشتہ ہے جو خود ہی قائم ہے، بس وہ پرانے دوست جو کبھی اسکول میں ساتھ پڑھتے تھے۔ اب کرنیل بن گئے ہیں اور ان کو مل کر کچھ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں ؟


محمد میرا بیٹا ہے جو ماشاء اللہ تین سال کا ہونے والا ہے اور اب وہ باتیں بھی کرتا ہے ، محمد اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک تین بار پاکستان جا چکا ہے۔ وہ ایک برٹش پاکستانی/کشمیری بچہ ہے اس کا تعلق اس مٹی سے ہے جس میں وہ پیدا ہوا مگر اسے میں نے اور میری بیگم نے ہمیشہ وہ چار دیواری دکھائی ہے جس سے ہمارا تعلق ہے۔ محمد کو اس کی ماں نے بہت محنت سے اپنی زبان کے کچھ لفظ سکھائے جیسے ’’ابو جی‘‘، ’’پاکستان زندہ باد‘‘، ’’دل دل پاکستان‘‘ اور’’اﷲ جی کرم کرو۔‘‘ میری سٹڈی میں ابو جی کی ایک تصویر لگی ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور اس تصویر سے باتیں کرتا ہے ، مجھے اس کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی مگر وہ اپنی ماں کو سب کچھ سمجھا لیتا ہے ، شائد ایسا ہم سب نے کیا ہو۔ آج ہم گاڑی میں کہیں جا رہے تھے ، محمد متواتر کچھ کہہ رہا تھا اور میری بیگم فرنٹ سیٹ پر بیٹھی رو رہی تھی ، میں نے پوچھا تو وہ بولی کہ محمد نے ٹی وی پر ایک نغمہ سنا ہے اور کل سے بے دھیانی میں گنگنا رہا ہے۔ میں نے بیگم سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ بولی کہ محمد کہہ رہا ہے ’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی میری آنکھیں بھی تر ہو گئیں مگر نہ جانے کیوں منہ سے شکر کا کلمہ ادا ہوا، مجھے اتنے سالوں بعد یہ احساس ہوا کہ وردی ابھی بھی ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
May

تحریر: محمدامجد چوہدری

اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم کا جو بھی فرد افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑتا ہے، ’’سروس فار ایور‘‘ہمیشہ کے لئے اس کا عزم بن جاتا ہے۔ وہ یونیفارم میں ہوتو اسی جذبے کے تحت جان ہتھیلی پر رکھے ملک و قوم کی حفاظت اور خدمت کا فریضہ انجام دیتا ہے، ملکی یکجہتی کی علامت بن کر قریے قریے میں ڈیوٹی کے لیے لبیک کہتا ہے، قوم کے آرام و چین کے لئے سرحدوں پرپہرہ دیتا ہے، موسم کی چیرہ دستیوں کوبرداشت کرتا ہے، سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کو عبور کرتا حتیٰ کہ جان کی پروا کئے بغیر ملک و قوم کے خلاف برسرپیکار ہر قوت سے جا ٹکراتا ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد وہ یونیفارم کو تو خیر باد کہہ دیتا ہے تاہم قومی خدمت اور سرفروشی کا لباس پوری عمر زیب تن کئے رکھتا ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں:
Once a Soldier, Always a Soldier
اپنے اسی وصف کے عملی اظہار کے لئے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیتے ہیں۔ ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن(ڈی ایف وی اے) کا قیام بھی اسے جذبے کے تحت عمل میں آیا۔ اس کے بانیوں میں افواج پاکستان کے ممتاز ویٹرنز لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد اعظم خان(مرحوم)، ائرمارشل(ر) ظفر چوہدری، لیفٹیننٹ جنرل (ر)عتیق الرحمن، لیفٹیننٹ جنرل(ر) کے ایم اظہراور کمانڈر(ر) عابد اقبال(نیوی) شامل ہیں۔ بری ، بحری اور فضائی افواج کے کسی بھی رینک کے ریٹائرڈ ملازمین اس کے رکن بن سکتے ہیں۔ اس طرح افواج پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو یکجا کرکے ان کی آواز بلند کرنے میں یہ انتہائی مؤثر اور متحرک کردار ادا کررہا ہے۔

servicefoever.jpg
اس میں بھی کوئی دو آراء نہیں کہ ایک سپاہی جب فوج میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوتا ہے تواسے کبھی بھی انتظامی مسائل کا سامنا نہیں کرناپڑتا۔ فوج اس کا گھر ہوتی ہے اورسپاہی سے لے کر جنرل تک اسی خاندان کے فرد ہوتے ہیں۔ ہر سینئر افسر اپنے ماتحت افراد کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پوری یکسوئی اور توجہ سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جونہی وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتا ہے اسے اپنی پنشن کے حصول اور اس سے جڑے بہت سے دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان تمام الجھنوں سے نبردآزما ہونے اور ان کی دادرسی کے لئے پر ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ان کی ترجمان بن کر ان کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ تنظیم اجتماعی فلاح و بہبود کے کئی اہداف حاصل کرچکی ہے۔ اس سلسلے میں یہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے مرکزی دفاتر سے مسلسل رابطے میں رہ کر ان کاموں پر مؤثر انداز سے عمل درآمد کروا چکی ہے۔یہ ملک کی 13پنشنر تنظیموں کی بھی رکن ہے جس میں 12وفاقی اور صوبائی پنشنر تنظیمیں شامل ہیں۔ ان سب کا مجموعی اتحاد و الحاق پاکستان فیڈریشن آف سول اینڈ ملٹری پنشنرز ایسوسی ایشنز کہلاتا ہے۔ڈی ایف وی اے نہ صرف اس کی اہم ترین رکن ہے بلکہ اس کے صدر کو اس اتحاد کا صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوتا ہے۔


لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد نصیر اخترڈیفنس اس وقت فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) فاروق احمد خان اس کے صدر ہیں۔دیگر عہدیداروں میں سینئر نائب صدر ائر وائس مارشل(ر) انور محمود خان ، جنرل سیکرٹری (ر)بریگیڈیئر صفدر حسین اعوان، سیکرٹری کرنل(ر) چوہدری محمد اسلم، سیکرٹری خزانہ کرنل(ر) طاہر حسین کاردار اور سیکرٹری اطلاعات و نشریات سپاہی (ر)مبارک احمد اعوان شامل ہیں۔ادارے کا سالانہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے ممبران کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔ گزشتہ اجلاس میں کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اورادارے کی خدمات اور کارکردگی کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا ۔


اس طرح ڈیفنس فورسز ویٹرنز ایسوسی ایشن سے وابستہ افراد اپنی یکجہتی کے ذریعے نہ صرف اپنے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں بلکہ معاشرے میں ہم آہنگی کے فروغ کے لئے بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔یہ تنظیم پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے بھی ایک قابل تقلید مثال ہے جواسی جذبے کے تحت اپنے اجتماعی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی اور خوشحالی میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 
10
May

تحریر: رابعہ رحمن

عورت کا رتبہ بے شک بلند ہے مگر اس کی عظمت کی معراج کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ قربانیوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے نکل کر سامنے آتی ہے۔معصوم بچی جب گھرکے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے‘ اسے اپنے والد کے جوتے صاف کرنے اور بھائی کیلئے گرم روٹی پکانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عورت کی قربانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر پہ گامزن ہوچکی ہے۔ پھر یہ سفر اس کی آخری سانس تک جاری رہتاہے۔ وہ اس سفر کے دوران آنے والے ہرموڑ اور اونچے نیچے راستوں پر اپنی محبت اور معصومیت کے پروں کو پھیلائے اڑتی چلی جاتی ہے اس کے پر اگر کاٹ بھی دیئے جائیں تو وہ نئے پر اُگالیتی ہے اس کے پروں کی اُڑان اور آنچل کے سائے میں نسلوں کی نسلیں پھلتی پھولتی ہیں۔


انہی نسلوں میں پلنے بڑھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں‘ ان میں بہت سے پرائیویٹ اداروں اور گورنمنٹ سیکٹر کے میدان میں ہیں۔ ڈگریاں حاصل کرنے اور نوکریاں ملنے تک سب افراد شام کو واپس گھر میں اپنی ماں،بہن، بیٹی یا بیوی یعنی کہ کسی نہ کسی روپ میں وہ عورت کے سائے میں آجاتے ہیں۔ دن بھر کی مشکلات، واقعات، تجربات آکر بیان کرتے ہیں۔ گھر کی گرم روٹی بھی کھاتے ہیں اورپھر اگلے دن اپنی محبتوں اور خدمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی کی ڈگر پر، شام کو لوٹ آنے کے لئے، چل پڑتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایسا ادارہ ہے جسے دنیا کا بہترین ادارہ کہاجاتاہے وہ ہے افواج پاکستان کا ادارہ۔ اس ادارے میں جانے کے لئے تقریباً ہرپاکستانی نوجوان جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تو لڑکپن کے دیکھے ہوئے، وردی پہننے کی آرزو سے بھرپور، خوابوں کی تعبیر چاہتاہے۔ ایک عورت جب اس ادارے میں اس نوجوان کو بھیجتی ہے کہ اے میرے لال، میرے بھائی، میرے بابا میرے شوہر تمہارے حصے کی چولہے کی آگ تمہارے لوٹ آنے تک جلتی رہے گی‘ تمہارے حصے کی روٹی بھی میرے آنچل میں لپٹی گرم ہی رہے گی‘ تمہاری ساری باتیں سننے کو میری سماعتیں ہمیشہ منتظر رہیں گی۔ زندگی وقت کا نام ہے، وقت فیصلے کا اور فیصلہ جب صحیح وقت پر ہوا ہو تو تقدیر بھی ساتھ دیتی ہے۔ اسی طرح ایک فیصلہ فوجی افسر کے گھر میں ایک بار انگڑائی ضرور لیتاہے۔ بریگیڈئیر بابر علاؤ الدین کے گھر میں بھی بیٹے مُھد حیدر کے لئے فوج میں بھیجے جانے کے لئے چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ مُھد ابھی ایف اے میں تھا۔ دوستوں کا شیدائی اور زندگی کو ہنسی مذاق میں گزارنے والا کسی بھی بات پہ سنجیدہ نہیں ہوتا تھا۔ ماں کہتی کہ مُھد ایف اے کے پیپرز آنے والے ہیں‘ میں تمہیں اپنے والد اور شوہر کی طرح ایک کامیاب فوجی افسر دیکھنا چاہتی ہوں مگر تم نے وقت کو مذاق سمجھ لیا ہے تمہارے دوست خود پڑھ کر بے وقت تمہارے گھر آجاتے ہیں اور تم اس بات سے قطع نظر کہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاؤ گے ‘ ان کے ساتھ موج مستی میں لگ جاتے ہو اور کل کو آج کے تمہارے یہ دوست تمہیں مڑ کر آواز بھی نہیں دینگے اور ہاتھ پکڑ کر تمہیں اپنے ساتھ لے کر بھی نہیں چلیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ مُھد کے تینوں دوست ایف اے میں کامیاب ہوئے اور مُھدجس کا خواب صرف اور صرف پی ایم اے جانا تھا‘ ٹوٹ گیا۔ وہ کامیاب نہ ہوسکا‘وہ انتہائی شرمندہ تھا۔ رزلٹ میں ناکامی کی خبر سنا کر ماں کی گود میں سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اللہ نے ماں کو جذبات کی ندی کی طرح بنایاہے‘ مگر مُھد کی ماں جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی جہاندیدہ خاتون ہیں۔ زندگی کے اس اہم موڑ پر جہاں مُھد کے ساتھ ساتھ بریگیڈئیر بابر اور دیگر اہل خانہ بھی شکست وریخت ک