11
January
جنوری 2016
شمارہ:1 جلد :53
تحریر: یوسف عالمگیرین
قوموں کی زندگی میں ہر لمحہ اور ہر دن ایک نئی اُمید لے کر طلوع ہوتاہے اور زندہ قومیں اپنے ماضی اور حال کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے سفر جاری رکھتی ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کے اب تک کا سفر بھی اتارچڑھاؤ اور چیلنجز سے عبارت ہے، لیکن اس کے باوجود قوم کے پاؤں نہیں لڑکھڑائے....Read full article
 
تحریر: خورشید ندیم
ء کا پاکستان کیسا ہو گا؟اس سوال کا جواب گزرے ماہ و سال میں ہے۔میرا احساس ہے کہ اس کی بنیاد 2015ء میں رکھ دی گئی ہے۔ ہماری قومی تاریخ میں یہ سال بہت اہم ہے۔16 دسمبر2014 ء کو، جب ہم اپنی تاریخ کے ایک المناک باب....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
افغانستان کے حالات میں 2015 کے دوران جو ابتری واقع ہوئی وہ سال کے آخر تک جاری رہی ۔ اس صورت حال نے جہاں افغان ریاست کو اپنی سکیورٹی کے حوالے سے پریشان کئے رکھا وہاں پڑوسی ممالک اور اہم اتحادی بھی تشویش کا شکار رہے اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ دسمبر کے مہینے....Read full article
 
تحریر: فرخنداقبال
’’جب ہم تہذیب کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟ تہذیب ایک تمدّنی جوہر ہے ۔ دیہات، خطّے، نسلی گروہ، قومیّتیں، مذہبی گروہ یہ سب اپنے اندر مختلف نوعیّت کی ثقافتوں کی آماجگاہیں ہوتی ہیں۔ جنوبی اٹلی کے ایک گاؤں کی ثقافت شمالی اٹلی کے کسی گاؤں کی ثقافت سے مختلف ہو....Read full article
 
تحریر : محمود شام
یہ تو پوری دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔
ایک ایٹمی طاقت ہے۔
اس کی آبادی کا 60 فی صد 15 سے 35 سال کی عمر کے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر یونس جاوید
محلے میں سب سے بڑے دروازے والا گھر سید سردار احمد شاہ کا تھا‘ اس گھر کا صحن بہت کشادہ اور پختہ تھا۔ البتہ کچھ حصہ درختوں ‘ پھولوں اور گلاب کی بیلوں کے لئے مخصوص تھا۔ بائیس مرلوں پہ پھیلا ہوا یہ گھر دومنزلوں پر مشتمل تھا مگر سب لوگ نیچے والی منزل کو ہی استعمال کرتے تھے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ثاقب ریاض
تاریخ عالم کے اوراق اس پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم کے حصول میں مضمر ہے۔ جن قوموں نے حصولِ علم پر توجہ دی اور تعلیم کا فروغ جن کی ترجیح اول رہا‘ ترقی‘ کامیابی اور کامرانی ان قوموں کا مقدر رہا اور جن بدقسمت قوموں نے حصولِ....Read full article
 
تحریر: منیراحمدبلوچ
پٹٹری سے اترے ہوئے معاشروں، قوموں اور کھونٹے سے اکھڑے ہوئے چوپایوں کو پوری طرح سنبھلنے اور ایک بار پھر پوری قوت اور ہمت سے اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہونے کے لئے عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں اور قوموں کی کیفیت تلاطم خیز موجوں سے نبردآزما ہوئی....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
ہر چند ابن آدم نے دنیا کے تقریباً تمام فسادات بلکہ جنگوں کی بنیادی وجہ حوا کی بیٹی کو قرار دیا ہے لیکن اس امر سے بھی مفر نہیں کہ ’’وار وکٹمز‘ یعنی ’’متاثرینِ جنگ‘‘ میں بہت بڑی تعداد خود خواتین کی شمار کی گئی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں عورت کو کہیں.....Read full article
 
تحریر: حیام قیوم
نام محمد، لقب جلال الدین،عرف مولائے رومؔ ،حسین بلغی پردادا اور والد کا لقب بہاء الدین تھا۔ جواہرمضئیہ میں درج ہے کہ ان کا سلسلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ملتا ہے۔مولانا روم بلخ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی....Read full article
 
تحریر: گفتگو: قاسم علی
پی ٹی وی کی صبح کی نشریات میں چاچا جی کازندہ دل کردار مستنصر حسین تارڑ کی شخصیت کا صرف ایک حوالہ ہے کیونکہ ان کی ذات کی سحر انگیزی کو ایک درجے میں مجتمع کرنا ممکن ہی نہیں۔ سفرنامہ، ناول ،کالم، ڈرامہ نگاری اور ٹی وی میزبانی تو ایک....Read full article
 
تحریر: نزاکت علی شاہ
مبشر حسین شاہ 13مارچ 1990کو شب قدر کے موقع پر تحصیل مری کے ایک غریب سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نزاکت علی شاہ پرائمری سکول کے استاد ہیں....Read full article
 
تحریر : عفت حسن رضوی
اس سال کی گرمی امریکا میں کٹی۔ ہم ٹھہرے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مہمان‘ سو انہوں نے امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں رپورٹنگ کا.....Read full article

 
تحریر: یاسر پیرزادہ
حسن البصری اپنے شاگردوں کو مسجد میں لیکچر دے رہے تھے لیکچر اپنے اختتام کو تھا کہ اچانک ایک طالب علم نے عجیب ساسوال داغ دیا ۔کہنے لگا: ’’استاد محترم! ہمارے ہاں ایک جماعت ایسی پیدا ہو چکی ہے جس کا ماننا ہے کہ گناہ کبیرہ کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے جبکہ....Read full article
 
تحریر: طاہر بھٹی
شام ایک دوست کے ساتھ فورسہائیم کی سیر کو نکلے توکئی جگہوں پر کرسمس کی تیاری کے شاندار انتظامات دیکھے جو اس شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا....Read full article
 
تحریر: حمید اختر
سکینہ نے دروازے کے برابر میں عمودی کھڑکی پر لٹکے پردے کو تھوڑا سا ہٹا کر دیکھا تو باہر گہری دھند کی دبیز چادر میں لپٹی ہر شے اُسے دُھندلی دُھندلی دکھائی دی۔ رات سے جاری بارش کے باعث سڑک پر جگہ جگہ پانی کھڑا تھا۔ اس دھندلائے منظر میں کچھ فاصلے پر بجلی ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہمامیر
آداب! قارئین کو نیا سال مبارک ہو۔ 2016 شروع ہو گیا ہے اور اپنے ساتھ نئی امیدیں‘ نئی امنگیں‘ نئی روشنی اور نئی تمنائیں لے کر آیا ہے۔ ہر سال کا آغاز عموماً اسی کیفیت میں ہوتا ہے۔ جب ہم نئی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں، نئے خواب آنکھوں میں بساتے ہیں اور....Read full article
 
تحریر: سارہ صلاح الدین
ہر سال کیلنڈر کے بارہ ماہ گزر جانے کے بعد آخری چند منٹ اور چند سیکنڈ نہایت تجسس بھرے انتظار کے وہ لمحات ہوتے ہیں کہ رات بارہ بج جانے پر وقت کی راہوں پہ چل کرآنے والے نئے سال کا شاندار استقبال....Read full article
11
January

تحریر: سارہ صلاح الدین

ہر سال کیلنڈر کے بارہ ماہ گزر جانے کے بعد آخری چند منٹ اور چند سیکنڈ نہایت تجسس بھرے انتظار کے وہ لمحات ہوتے ہیں کہ رات بارہ بج جانے پر وقت کی راہوں پہ چل کرآنے والے نئے سال کا شاندار استقبال اور آغاز کیا جاتا ہے۔

 

ہر قوم ایک نیا عزم لے کرنئے سال کا استقبال کرتی ہے۔ دنیا بھر میں کہیں آتش بازیاں آسمان چمکاتی ہیں تو کہیں گانا بجانا اور نیوایئررائمز ماحول سجاتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بہت سے افراد نئے سال سے متعلقہ امیدوں سے بھرے دامن کے ساتھ ان کو پورا کرنے میں کوشاں ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے نوجوان‘ مستقبل کے معمار سب سے زیادہ پر عزم اور پرجوش نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں کئے گئے انٹرویوز میںیہ بات واضح نظر آتی ہے۔

 

stdalihassan.jpg

میڈیا سٹوڈنٹ علی حسن

(Honour at Pixel Art)

بدلتے حالات میں آنے والے سال سے بہت پراُمید ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ نیا سال گزشت سالوں کی نسبت زیادہ پرامن ہو گا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہماری فلم انڈسٹری خوب ترقی کرے اور پروان چڑھے تاکہ میڈیا کے طلباء کو بہترین مواقع ملیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں اپنے

Pixel Art Studio

کو بزنس کی شکل دے کر پوری دنیا میں پاکستان کی مثبت تصویر پیش کر کے بحیثیت پاکستانی بھرپور کردار ادا کروں گا۔‘

 

stdfatima.jpg

یوں ہی فاطمہ بھی فن میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں میں اس سال میں پاکستان کی ہر چھوٹی بڑی جانی پہچانی ثقافتوں کو مرتب کر کے ایک ایسی ڈاکومنٹری یا ڈرامہ بنانا چاہتی ہوں جس کو دیکھ کر پاکستان میں لوگ اپنے مذہب اور رسم و رواج کے دائروں سے آزاد ہو کر دل سے پاکستانیت اپنائیں۔

 

stdwajid.jpg

واجد اعوان پڑھائی کے ساتھ ساتھ فوٹو کاپی کی دکان چلاتے ہیں۔ وہ نئے سال میں اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ جاب کے متلاشی ہیں۔ ایک ذمہ دارانہ کردار نبھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں گزشتہ غلطیوں سے  حاصل سبق سے اپنے دوستوں کے کام آؤں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنے ساتھیوں کی تکلیفوں پر ہمدردانہ رویہ اختیار کریں۔ اسی طرح ہم ایک بہتر قوم بن سکتے ہیں

 

stdbyakhan.jpg

تھرڈ ایئر فزیوتھراپی کی طالبہ بیا خان گزشتہ کچھ عرصے سے بچوں کو فری ٹیوشن پڑھا رہی ہیں۔ نئے سال میں وہ پارٹ ٹائم فیشن ڈیزائننگ کی کلاسیں لینے کی شوقین اور پرعزم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے معاشرے کے غریب طبقے کے لئے ڈگری مکمل کر کے فزیوتھراپی کے مفت علاج کا علیحدہ سیٹ اپ بنانا ہے۔ یہ علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں مطلوبہ مقبولیت نہیں رکھتا۔ میں لوگوں میں ورزش کی اہمیت کا شعور پیدا کر کے ان کی زندگیوں کو بہتر بناؤں گی۔

  

zainabbas.jpg

زین عباس 13ماہ سے بک شاپ میں کام کر رہے ہیں، ایک بھائی ہونے کے ناتے نئے سال میں وہ اپنی اور بہنوں کی پڑھائی پر بھرپور طریقے سے متوجہ ہیں۔ اکثر معاشرے میں یتیم بچوں کا خیال رکھتے ہیں اور فکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں یہ سب بچوں کو پڑھائی کی تلقین کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ بچے مجھ سے فائدہ حاصل کریں تاکہ میرا کردار معاشرے میں تسلی بخش ہو۔

 

tallatsatti.jpg

مارکیٹنگ میں ایم بی اے کے ساتھ ساتھ طلعت ستی چند چھوٹے پراجیکٹز کر رہے ہیں‘ میں ویب سائٹ پر ترقیاتی منصوبوں کی ابتدا کر کے بہت اچھے سے انٹرنیشنل فلمز کی مارکیٹنگ کر کے ہماری عوام میں اچھی فلمز کو مقبول بنانا چاہتا ہوں جن کے ذریعے انسانیت کا پیغام اور سبق عوام تک پہنچایا جائے۔

 

sadiabedar.jpg

بیدار این جی او کی سوشل ورکر سعدیہ بی ایس کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں پڑھائی مکمل کر کے اپنی این جی او کے ذریعے تعلیم اور اس تک رسائی ہر بچے کو فراہم کرنا چاہتی ہوں تاکہ نیک کردار ادا کرنے سے مجھے خوشی حاصل ہو۔

 

 

 

sharukh.jpg

کونسٹ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طالب علم شاہ رخ ارشد کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی معیشت جن حالات سے دوچار ہے، اس کی بہت بڑی وجہ ماہرین اقتصادیات کی کمی ہے۔ میں نہ صرف اپنی ڈگری مکمل کرنا چاہتا ہوں بلکہ بہترین ماہر معاشیات کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرکے اعلیٰ مقام پر پہنچانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ ہر قوم کی معیشت اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔

 

ہمارے وطن عزیز کا حق ہے کہ نیا سال اس کی ہر لحاظ سے معاشی اور معاشرتی خوشحالی کا ایک اہم ورق بن جائے۔

بلند حوصلے‘ پرعزم رہ کر جینے کی آرزو

یہی ہے جسے کہتے ہیں ہم ایک حقیقی جستجو

سارہ صلاح الدین مقامی یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں۔
 
08
January

تحریر: ڈاکٹر ہمامیر

آداب! قارئین کو نیا سال مبارک ہو۔ 2016شروع ہو گیا ہے اور اپنے ساتھ نئی امیدیں‘ نئی امنگیں‘ نئی روشنی اور نئی تمنائیں لے کر آیا ہے۔ ہر سال کا آغاز عموماً اسی کیفیت میں ہوتا ہے۔ جب ہم نئی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں، نئے خواب آنکھوں میں بساتے ہیں اور ان کی تعبیر پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیلنڈر میں نیا سال جنوری سے شروع ہوتا ہے مگر شاید اس نئے سال کی مسرت کی کرنیں دسمبر سے ہی دل میں پھوٹنے لگتی ہیں۔


کینیڈا میں دسمبر کا مہینہ کرسمس اور نیوائر منانے سے موسوم ہے۔ اوائل دسمبر سے ہی شاپنگ مال سجائے جاتے ہیں۔ بڑی بڑی سیل لگتی ہے اور سانتاکلاز بچوں میں چاکلیٹ و دیگر تحائف تقسیم کرتے ہیں۔ کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار ہے۔ اس موقع پر اشیاء خاص طور پر سستی کر دی جاتی ہیں تاکہ ہر خاص و عام اس موقعے کو خوشی سے منا سکے۔ 50سے لے کر 70فیصد تک کی کمی عام استعمال کی چیزوں پر کی جاتی ہے۔ نیز تحائف دینے کے لئے چاکلیٹ‘ پروفیوم اور دیگر اشیاء بھی سیل پر ہوتی ہیں۔ گراں فروشی‘ ذخیرہ اندوزی کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہوتا۔


دسمبر میں کینیڈا میں سردی بھی خوب پڑتی ہے۔ برف کی دبیز تہیں موسم کی سختی کا احساس دلاتی ہیں۔ اس ٹھنڈے موسم میں ہم نے وطن عزیز جانے کا قصد کیا اور کراچی جانے کے لئے رختِ سفر باندھا جہاں سال کے بارہ مہینے گرمی پڑتی ہے۔ موسم کو تو ایک طرف رکھئے، ہمارے کراچی جانے کے اصل میں کئی اسباب تھے۔ سب سے پہلے تو ہمیں آرٹس کونسل میں ہونے والی سالانہ اُردو کانفرنس میں شرکت کرنی تھی جو عالمی سطح پر اُردو کے حوالے سے سب سے بڑی کانفرنس ہوتی ہے۔ اس عالیشان کانفرنس کی نظامت ہم پچھلے کئی برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں اور اس مرتبہ بھی یہ ذمہ داری ہمارے کندھوں پر تھی۔ چار روزہ آٹھویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت بے شک ہمارے لئے بڑا اعزاز تھا۔ اس کے علاوہ ہمیں بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی کے ایک میوزک شو کی کمپیئرنگ بھی کرنی تھی۔ ان وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم، اور ہمارا خیال ہے سب سے بڑی وجہ، یہ تھی کہ ہماری شدید خواہش تھی کہ 2015کے آخری غروب آفتاب اور 2016کے پہلے طلوع آفتاب کو اپنی سرزمین‘ اپنے وطن‘ اپنے پیارے پاکستان میں دیکھیں۔
وطن جانے کی خواہش بھی کیا کمال شئے ہے۔ سمجھ میں نہیںآتا کن الفاظ میں اس جذبے کو تحریر کریں جو دل میں ہمک ہمک کر پورے وجود میں سرشاری بھر دیتا ہے۔ قریبی عزیز و اقارب کے لئے تحائف کی خریداری‘ سامان کی پیکنگ‘ اپنوں کے پاس جانے کی لگن سب کا اپنا الگ مزا ہے۔

hamarakarachi.jpg
ہم نے گرم کپڑے کینیڈا میں ہی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ بس ایک چمڑے کی جیکٹ احتیاطاً ساتھ رکھ لی۔ تحائف کی بات کریں تو چاکلیٹ‘ کاسمیٹکس اور پرفیوم ہم نے خوب خریدے اپنی بہن اور بھائی کے لئے دو دو سویٹر بھی لئے۔ پیکنگ مکمل ہونے کے بعد جب ہم نے اپنے دو بھاری سوٹ کیسز کا وزن کیاتو ہم حیران ہی رہ گئے کہ آخر کیا پتھر ہم نے بھر لئے ہیں جو اتنا زیادہ وزن ہو گیا۔ وزن مقررہ حد سے زیادہ ہو تو اضافی پیسے لگتے ہیں جس کی ہماری جیب اجازت نہیں دیتی، لہٰذا ہم بہت کھینچ کھانچ کے بالآخر مقررہ وزن تک اپنے بیگز کو لے آئے۔ بس اتنا ضرور ہوا کہ ہمیں اپنا بہت سا سامان نکالنا پڑا۔ ایک ڈر یہ بھی تھا کہ کہیں خدانخواستہ بیگ اِدھر اُدھر نہ ہو جائے کیونکہ گزشتہ برس ہم اس تلخ تجربے سے بھی گزر چکے ہیں۔ جب ٹورنٹو سے براستہ دبئی کراچی پہنچے تو ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا ایک بیگ لاپتہ ہے۔ ہم نے متعلقہ ایئر لائن میں شکایت درج کرائی مگر بیگ کا سراغ نہ مل سکا۔ خیر ہم صبر کر کے بیٹھ گئے مگر اس بار ہمیں دھڑکا تھا کہ اگر بیگ کھو گیا تو ساری شاپنگ غارت ہو جائے گی۔ رشتہ داروں کو بھی یقین ہو جائے گا کہ یہ خالی ہاتھ آتی ہے اور بہانہ یہ بناتی ہے کہ بیگ کھو گیا۔


خیر صاحبو! ہم ونکوور سے براستہ امریکی شہر سیاٹل اور پھر دبئی سے ہوتے کراچی پہنچ گئے۔ راستے بھر مسلسل جاگنے اور لگاتار فلمیں دیکھنے کے باعث سردرد کر رہا تھا۔ ہوائی جہاز میں ہمیں بالکل نیند نہیں آتی۔ سفر کے دوران ہمیں ان لوگوں پر رشک آ رہا تھا کہ جو ماحول سے بے خبر‘ بچوں کے شور اور رونے دھونے سے غافل آرام سے کمبل تانے خراٹے لے رہے تھے۔


33گھنٹے کے طویل سفر کے بعد جب تھکے ہارے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے تو سوچا ذرا واش روم جا کے فریش ہو جائیں۔ وہاں گئے تو دیکھا فرش پہ پانی پھیلا ہوا تھا۔ کاکروچ چاروں طرف آزادی سے گھوم رہے تھے۔ ٹشو پیپر بھی موجود نہ تھا۔ اور صفائی پر مامور خاتون ایک کونے میں آرام سے لیٹی خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں۔ ان کے اونچے خراٹے سمع خراشی کر رہے تھے۔ ہم نے سوچا کہیں ہمارے آنے سے محترمہ کی نیند خراب نہ ہو جائے اور ویسے بھی واش روم گندگی کے باعث قابل استعمال نہ تھا، چنانچہ ہم الٹے پاؤں باہر نکل آئے۔ امیگریشن سے فارغ ہوئے تو پھر اگلا مرحلہ سامان کی وصولی کا تھا ہم بیلٹ کے پاس کھڑے ہو گئے، کافی دیر ہو گئی ہمارا سامان نہ آیا۔ ہمیں تشویش ہونے لگی سب کا سامان آ گیا ہمارا آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ برا حال تھا ہمارا۔ کہیں پھر غائب نہ ہو گیا ہو۔ ہزار طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔ اور پھر بالآخر یوں ہوا کہ سب سے آخر میں بہت دیر کے بعد ہمارا سامان آ ہی گیا مگر اس حال میں کہ نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔ مال اڑانے کے لئے کسی نے بے دردی سے بیگ کا تیاپانچا کر دیا تھا۔ یہ دوسرا دھچکا تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا کس سے کہیں۔ کیا کہیں۔۔۔۔؟


ہماری فیملی باہر لاؤنج میں ہماری منتظر تھی اور بار بار ہمیں موبائل پہ فون کر رہی تھی۔ ہم دوڑ کے ان کے پاس جانا چاہتے تھے مگر بوجھل قدموں سے بمشکل ٹرالی گھسیٹتے ان کی جانب چلے۔ والدہ سامنے ہی کھڑی نظر آ گئیں۔ ان کو دیکھا تو صحرا سے نخلستان میں آ گئے۔ گلے لگ کر محسوس ہوا کہ روح ہلکی پھلکی ہو گئی ہے۔ سفر کی تھکن‘ سردرد‘ کوفت‘ سب کچھ پل بھر میں غائب ہو گیا۔ اپنے وطن آنے کا‘ اپنے خاندان سے ملنے کا احساس ہر چیز سے زیادہ پیارا ہے۔ دل جیسے خوشی کھل گیا۔
کینیڈا سے کراچی تو ہم پہنچ گئے۔ بس اب ایک مشکل مرحلہ باقی تھا یعنی ہوائی اڈے سے گھر پہنچنا۔ اہلیان کراچی جانتے ہیں کہ رات کو ایئرپورٹ کے راستے میں اکثر مسافر ڈاکوؤں کے ہاتھ لٹ جاتے ہیں۔ الحمدﷲ رینجرز کے آپریشن کے باعث جہاں شہر میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے وہیں راہزنی کی وارداتیں بھی کم ہو گئی ہیں۔ ہم نے آیت الکرسی کا حصار باندھا او رگھر کو روانہ ہوئے۔ راستے بھر سفر کی تفصیلات بتاتے رہے اور لگاتار بولتے رہے۔ آدھے پونے گھنٹے کے بعد گھر پہنچے تو خدا کا شکر ادا کیا کہ سفر بخیروخوبی تمام ہوا۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وطن جانے کی خواہش بھی کیا کمال شئے ہے۔ سمجھ میں نہیںآتا کن الفاظ میں اس جذبے کو تحریر کریں جو دل میں ہمک ہمک کر پورے وجود میں سرشاری بھر دیتا ہے۔ قریبی عزیز و اقارب کے لئے تحائف کی خریداری‘ سامان کی پیکنگ‘ اپنوں کے پاس جانے کی لگن سب کا اپنا الگ مزا ہے۔

*****

ہماری فیملی باہر لاؤنج میں ہماری منتظر تھی اور بار بار ہمیں موبائل پہ فون کر رہی تھی۔ ہم دوڑ کے ان کے پاس جانا چاہتے تھے مگر بوجھل قدموں سے بمشکل ٹرالی گھسیٹتے ان کی جانب چلے۔ والدہ سامنے ہی کھڑی نظر آ گئیں۔ ان کو دیکھا تو صحرا سے نخلستان میں آ گئے۔ گلے لگ کر محسوس ہوا کہ روح ہلکی پھلکی ہو گئی ہے۔ سفر کی تھکن‘ سردرد‘ کوفت‘ سب کچھ پل بھر میں غائب ہو گیا۔ اپنے وطن آنے کا‘ اپنے خاندان سے ملنے کا احساس ہر چیز سے زیادہ پیارا ہے۔ دل جیسے خوشی کھل گیا۔

*****

 
08
January

تحریر: طاہر بھٹی

سردیوں کی شام کو بے منزل آوارگی سے گزارنا ہر کسی کا نصیب بھی نہیں اور ذوق بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔
ہمیں ایک طویل عرصے سے یہ ’علت‘ نصیب ہے۔ کل شام ایک دوست کے ساتھ فورسہائیم کی سیر کو نکلے توکئی جگہوں پر کرسمس کی تیاری کے شاندار انتظامات دیکھے جو اس شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ ان مناظر نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔


جرمنی کے اس شہر کا پرانا نام گولڈ سٹڈ ہے اور اس کی دولت اور ثروت کی وجہ سے جنگ عظیم میں اس کو تباہ کرنے کی خاص کوشش کی گئی جو اس وقت تو کامیاب رہی اور اس کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا مگر جرمن قوم کی تعمیری قوت نے اس تباہی کو شکست دی اور ملبے کو ایک جگہ پہاڑی کی شکل میں اکٹھا کر کے آنے والی نسلوں کے لئے اپنی قوت ارادی کی یادگار بنا دی اور جیتا جاگتا، فعال اور باوقار شہر پھر سے کھڑا کر دیا۔ اسی شہر کے مرکزی بازار کو کرسمس کے لئے سجایا گیا ہے اور تصویریں اسی سر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔
دوسری خاص بات یہ کہ ایسے خوشی کے تہواروں پر سامان ’ضرورت‘ سے سٹور لدے ہوتے ہیں مگر اشیا کی قیمتیں 20% سے لے کر 70% تک کم کر دی جاتی ہیں تا کہ لوگ تہوار کی خوشی کو صرف دیکھیں نہیں بلکہ اس میں سے اپنا حصہ بھی لے سکیں۔


جاپان میں ایک زمانے میں یہ دستور تھا کہ کوئی جاپانی دنیا میں کوئی مفید یا خوشنما پودا بھی دیکھتا تو وہ اس کا بیج یا پنیری اپنے ملک کے لئے ضرور ساتھ واپس لاتا تھا۔۔۔۔۔کچھ ایسا ہی جذبہ خاکسار کا بھی ہے کہ جرمنی کی ہر ترقی اور آسودگی کا بیج اور پودا اہل پاکستان کے لئے بھجوایا جائے۔


کراچی روشنیوں کا شہر،
اسلام آباد خوبصورتی میں بین الاقوامی شہرت کا حامل،
لاہور کلچر کا گہوارہ،
کوئٹہ قبائلی رواج کا امین
پشاور سرحدی رسوم کا گڑھ
کشمیر۔۔۔۔۔جنت نظیر اور

lutfhaykadmi.jpg
شمالی علاقہ جات کے حسن کے بیان کے لئے الفاظ کم پڑ جائیں۔۔۔۔لیکن
کسی لمحۂ نا سپاس میں ہم نے اپنا منہ شکران نعمت سے ناشکری کی طرف موڑ لیا اور اپنے بگڑے ہوئے فہم کا نام اچھا سا رکھ کے پوری قوت سے بربادی کی منزل کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔۔۔۔خدا کا احسان ہے کی ابتدائی قربانیوں اور مخلصین کی دعا سے ہمیں وہ’ منزل‘ ابھی تک نہیں ملی۔۔


بھرا پُرا کراچی۔۔۔مگر رہنے کے لئے غیر محفو٭۔۔۔کھلا ڈلا لاہور۔۔۔مگر دھماکے۔ سر سبز اسلام آباد مگر ناکے اور بیرئیر۔
امن سے رہنے اور محبت سے ملنے والے لوگوں کو کیا ہوا؟


مسجدیں خدا کا گھر کہلا تی تھیں مگر وہاں سے نفرت کی منادی شروع ہو گئی۔۔۔اور خدا اور خدا کے رسول کے نام پر ہوئی۔۔
جہاد مسلمانوں کی قومی اور ملی غیرت کا امتیاز تھا جس کی روح کا رعب ہمیشہ کفار پر پڑتا تھا۔۔۔اب وہ اہم اسلامی امتیاز جہلاء کے ہاتھ کھلونا بن گیا اور ریاست منہ تکتی رہی کہ یا اللہ یہ مسلمان اپنی قوم سے جو لڑ مر رہا ہے اسے جہاد کیسے کہیں۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام رحمت عالم ہے اس کے نام پر انسانوں کا بے دریغ قتل عام؟
جس موت یعنی خودکشی کو اسلام میں حرام کہا گیا ہے اس کو خود کش بمبار جنت کی ضمانت سمجھ رہا ہے۔


اللہ کی تائید نے منہ موڑ لیا۔۔۔
کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطۂ زمیں پر۔
وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں۔


پچھلے کچھ برسوں کا نقشہ ہے۔۔۔میں نے پنسل سکیچ بنایا ہے رنگ جان بوجھ کے نہیں بھرے۔۔۔۔یہی بہت خوفناک ہے!!
میری آنکھوں کے سامنے اس شہر کے مناظر ہیں جو بہت روشن اور ’دل کش‘ ہیں۔ان بازاروں میں بچے بوڑھے، امیر غریب، مومن کافر، لوکل مہاجر، عوام خواص، مسلمان اور عیسائی سب کے سب بے خوف و خطر گھومیں پھریں گے اور ایک دوسرے کو کرسمس کی مبارکبادیں دیں گے۔۔۔ہم عیدوں پہ اب اپنوں کو یہ کہتے ہیں کہ۔۔۔حالات ٹھیک نہیں۔۔رش والی جگہوں پہ نہ جانا۔۔۔اور جلدی واپس آ جانا۔


یہ خوف اپنے گھر میں کیوں؟
یہ وطن ہمارا ہے۔۔۔ہم ہیں پاسباں اس کے۔۔۔
چاند میری زمیں پھول میرا وطن۔۔۔


اس لئے اب ایسا کچھ کریں کہ یہ ترانے سچ لگیں اور پاکستان ہمارا ہو۔۔۔ہر پاکستانی کا۔۔۔۔ہر شہری کا ہر دیہاتی کا۔۔۔ہر مسلمان کا اورہر عیسائی کا۔
ملک قوموں کی ملکیت اور میراث ہوتے ہیں۔۔۔۔دھڑوں، گروہوں اور فرقوں کے نہیں۔اور قوم یکجہتی سے بنتی ہے باہم دست و گریبان ہجوم پر’ قوم‘ جیسا باوقار لفظ اطلاق ہی نہیں پاتا۔
لاہور پہنچنے کا ارادہ رکھنے والا شخص کتنا ہی بڑا مسلمان اور نیک کیوں نہ ہو وہ پشاور کی سمت سفر کر کے لاہور نہیں پہنچ سکتا۔
اپنی سمت درست کریں۔۔۔محبت سب کے لئے۔۔۔عام کریں۔ انسانوں کے لئے رحمت بنیں۔۔۔بلا امتیاز مذہب و ملت دکھ سکھ میں شریک ہونا سیکھیں اور اسلام کی سلامتی کے پیغام کے ساتھ غیر مسلموں کا اعتماد بحال کریں تو ہمارے شہر بھی امن۔سلامتی اور محبت کا گہوارہ بن سکتے ہیں۔۔۔بقول مولانا حالی۔۔


فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ


شہر نفرتوں سے بستے نہیں اجڑتے ہیں اور ملک نفرتوں سے ترقی نہیں کرتے۔ انبیاء علیہم السلام میں سے ایک کا نام بھی نہیں لیا جا سکتا جو اپنی سچائی کی وجہ سے انسانوں پر جبر اور قہر کی تعلیم دیتے ہوں۔۔۔۔تو آپ اگر نفرت کے بیج بو رہے ہیں تو تعارف کروائیں کہ آپ ہیں کون؟ اور اس کام کے لئے آپ نے پاکستان کو کیوں چنا ہے۔
عام پاکستانی جب زلزلے اور آفات میں ننگے پاوں مدد کے لئے بھاگ کھڑا ہوتا ہے تو عام پاکستانی کو درحقیقت نفرت کسی سے نہیں۔۔اس کے جذبات، اس کی محبت، اس کی خیرخواہی کچھ نادیدہ ہاتھ اچک کے لے گئے ہیں۔۔۔ان عیسائی اقوام کے ملکوں میں جب عید آتی ہے تو یہ ہمیں بڑی خوشدلی سے عید مبارک کہتے ہیں۔ پاکستان سب کا ہے اور عام پاکستانی محبت کا متلاشی بھی ہے اور محبت کو عام بھی کرنا چاہتا ہے۔ نئے سال کی آمد آمد ہے۔ ہلال میگزین مسلح افواج ہی کا نہیں پاکستان کے عوام کا بھی نمائندہ ہے۔۔میں اس کی وساطت سے اہل پاکستان کو محبت کو عام کرنے اور نفرت کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ پاکستان کے شہروں اور دیہات میں امن، اخوت،ہمدردی، تعمیر نو، اور باہمی غیر مشروط ہمدردی کی شجر کاری کی مہم چلانے کی دعوت دیتا ہوں۔

یہ جہاد کیوں نہیں کرتے؟؟؟


لطف یہ ہے کہ آدمی عام کرے بہار کو
موجِ ہوائے رنگ میں آپ نہا لئے تو کیا

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
January
ملٹری کالج سُوئی انتہائی شاندار تعلیمی نتائج دے رہا ہے‘ کمانڈنٹ ملٹری کالج سوئی
 
ملٹری کالج سوئی میں تیسرے یوم والدین کی تقریب منعقد کی گئی۔ جس کے مہمان خصوصی گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی تھے ۔ وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ ، انسپکٹر جنرل فرنٹیر کور بلوچستان میجر جنرل شیر
افگن ،ایجوکیشن سیکرٹری بلوچستان عبدا لصبور کاکڑ نے بھی یومِ والدین کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا ۔جس کے بعد کمانڈانٹ ملٹری کالج سوئی بریگیڈئیر ہارون رشید نے کالج کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ اُنہوں نے رپورٹ میں بتایاکہ اپنے قیام کے پہلے سال سے ہی ملٹری کالج سوئی نے انتہائی شاندار نتائج پیش کر کے ملک کے کئی نامور تعلیمی اداروں کو پیچھے چھوڑ دیاہے۔ گذشتہ سال کی مانند اس سال بھی فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کا نتیجہ ۱۰۰ فی صد رہا۔ مجموعی طور پر سیکنڈ ائیر کے ۹۰ کیڈ ٹس نے A 1 گریڈ اور A گریڈحاصل کئے۔جب کہ فرسٹ ائیر کے ۸۹کیڈٹس نے A1گریڈ اور A گریڈ حاصل کئے۔اس کے علاوہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے ملٹری کالج سوئی کی دو انٹریز بھی پاس آؤٹ ہوگئی ہیں۔ جن میں سے ۲۷ کیڈ ٹس، کمیشن حاصل کر کے پاکستان آرمی میں دفاع وطن کے اہم فریضے پر معمور ہیں۔ اور ۵۰ کیڈٹ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں زیر تربیت ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ملٹری کالج سوئی کے اہم پروجیکٹس کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے جن میں کیڈٹس کے لئے جدید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے تقریب میں شامل والدین کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ملٹری کالج سوئی اُن کے بچوں کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔ کمانڈانٹ ملٹری کالج سوئی بریگیڈئیر ہارون رشید کے خطاب کے بعد مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے سال ۱۵۔۲۰۱۴ ء کے اعزاز یافتہ کیڈٹس میں انعامات تقسیم کئے ۔انہوں نے سب سے پہلے انفرادی انعامات جیتنے والے کیڈٹس میں انعات تقسیم کئے، جب کہ اس کے بعد اجتماعی انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ یاد رہے کہ ملٹری کالج سُوئی کا افتتا ح ۳ جنوری ۲۰۱۱ء کوُ اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف نے اس عزم اور وولولے سے کیا کہ بلوچستان کے نوجوان پاک آرمی کے اس اعلیٰ تعلیمی ادارے میں زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر ملک و قوم کی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔آج الحمدللہ پاکستان آرمی کی بے پناہ کوششوں اورسوئی ڈیرہ بگٹی کے قبائلی عمائدین اور بلوچستان حکومت کے تعاون سے تقریباً چار سال کے قلیل عرصے میں ملٹری کالج سوئی کاشمار پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہونے لگا ہے۔ رپورٹ: کیپٹن محمد مبشر فاروق
milcolsuinews.jpg
08
January
08
January
پاک بحریہ کرکٹ ٹیم کی شاندار کارکردگی دوسری مرتبہ انٹرنیشنل ڈیفنس چیلنج کپ پاکستان کے نام

 

پاک بحریہ کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے شہرکینبرا میں منعقدہ انٹرنیشنل ڈیفنس چیلنج کپ ۲۰۱۵ میں شرکت کی۔ یہ چیلنج کپ ٹونٹی ٹونٹی اور ون ڈے فارمیٹ پر کھیلا گیا جس میںآسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، برطانیہ، فجی، ملائیشیا اور پاکستان کی ٹیموں نے شرکت کی۔

پاکستان آرمڈ فورسز کی ٹیم کی نمائندگی پاکستان نیوی کی ٹیم نے کی۔ٹورنامنٹ کے دوران پاک بحریہ کی ٹیم نے انتہائی شاندار کھیل پیش کیا اور اپنے تمام چارٹونٹی ٹونٹی اور پانچ ون ڈے میچوں میں کامیابی حاصل کی۔ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ کینبرا کے مناکا اوول گراؤنڈ میں پاک بحریہ اور ملائشیا کی رائل ایئر فورس کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا ۔ پاک بحریہ کی ٹیم نے ملائشیا کی رائل ایئر فورس کی ٹیم کو شکست دے کر فائنل میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ فائنل میچ کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاک بحریہ کی ٹیم نے یہ فائنل سولہ اوورز قبل جیتا جبکہ اس کا کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ پاک بحریہ کی ٹیم پاکستان کی مسلح افواج کے اعزاز کے دفاع میں مسلسل دوسری بار یہ کامیابی حاصل کررہی ہے۔

pakbehrianews.jpg

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کے لئے پاک فضائیہ کا خراجِ عقیدت

pakbehrianews1.jpg

گزشتہ دنوں پاک فضائیہ کے تمام تعلیمی اداروں میں سانحہ اے پی ایس پشاور کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ جن میں آرمی پبلک سکول پشاور پردہشتگردانہ حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے طلباء اوراساتذہ کی قربانیوں کی یاد منائی گئی۔ اسی سلسلے کی ایک تقریب کا انعقاد فضائیہ کالج اسلام آباد میں بھی کیا گیا جس میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ائیر مارشل سعید محمد خان ، وائس چیف آف دی ائیر سٹاف اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔

08
January
پاک فضائیہ کے نمبر 11 ملٹی رول سکواڈرن نے انٹر سکواڈرن آرمامنٹ مقابلے جیت لئے
 
گزشتہ دنوں منعقدہ مقابلوں میں پاک فضائیہ کے نمبر 11 ملٹی رول سکواڈرن نے انٹر سکواڈرن آرمامنٹ مقابلہ جیت لیا۔ اختتامی تقریب پاک فضائیہ کے ایک آپریشنل ایئر بیس پر منعقد ہوئی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ‘ ایئر چیف
مارشل سہیل امان اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ’’یہ مقابلے مختلف جنگی جہازوں کے پائلٹس کو فضا سے زمین پر استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی کارکردگی کو جانچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان مقابلوں کا بنیادی مقصد فائٹر سکواڈرنز کی آپریشنل تیاری‘ پیشہ ورانہ مہارت اور کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔‘‘یاد رہے کہ اس سال JF-17تھنڈر، F-16بلاک 52اور F-16طیاروں کی شمولیت نے اس مقابلے کو خاص بنا دیا۔ مذکورہ مقابلوں کی خاص بات JF-17کی نمایاں کار کردگی تھی ۔
pakkno11news.jpg
08
January
آرمی چیف کا دورہ اے ایف آئی آر ایم جنرل راحیل شریف کی جنگی زخمیوں سے فرداً فرداً ملاقات
 
قوم کے دفاع کے لئے لڑتے ہوئے ہمارے کئی غیور اور بہادر جوانوں نے اپنے اعضاء ہدیہ کئے۔ انہی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے رواں ماہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف رہیبلیٹیشن
اینڈ میڈیسن تشریف لائے۔ بہبود اور آباد کاری ڈائریکٹوریٹ کی نگرانی میں قائم کئے گئے شہداء سیل کے زیر انتظام جنگی زخمیوں کو فرداً فرداً جنرل راحیل شریف سے ملوایا گیا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مریضو ں کے لئے بنائے گئے جمنیزیم کا افتتاح بھی کیا۔ جوان اپنے سپہ سالار کو اپنے درمیان دیکھ کر انتہائی خوش ہوئے۔ آرمی چیف اپنے ان قابلِ فخر شیروں کے ساتھ گھل مل گئے اور انتہائی غیر رسمی طریقے سے ان کی بیمار پرسی کی۔ جوانوں کا حوصلہ دیدنی تھا اور وہ پرعزم تھے۔ گزشہ چند برسوں میں زخمی جوانوں کے علاج کے لئے ادارے کو جدید طبی آلات سے آراستہ کیا گیا ہے تاکہ جنگی زخمیوں کو بین الاقوامی معیار کا علاج دستیاب ہو۔پاکستان آرمی کی پالیسی میں شامل ہے کہ قوم کے ان محافظوں کی نہ صرف وقتی بہبود کا خیال رکھا جائے بلکہ مستقل طور پر اس طریقے سے رہیبلیٹیٹ کیا جائے کہ ان کو کسی پر بھی انحصار نہ کرنا پڑے۔

رپورٹ: میجر عدنان ظفرسندھو

coaskijanginews.jpg

08
January
08
January

تحریر : عفت حسن رضوی

ایک امریکی خاتون کے ساتھ گزارے حیرت بھرے کچھ دنوں کی داستان

 

اس سال کی گرمی امریکا میں کٹی۔ ہم ٹھہرے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مہمان‘ سو انہوں نے امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں رپورٹنگ کا تجربہ کرنے کو بھیج دیا۔
ڈینور ۔۔۔ یعنی ریچل کا ڈینور ،طلائی رنگ کے بال اور روکھی رنگت پر گلابی گالوں والی ریچل سے میری پہلی ملاقات ایک امریکی تھنک ٹینک ورلڈ ڈینور کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے نہایت متعصبانہ سیمینار میں ہوئی، جس میں سابق امریکی سفیر برائے ایران اور پاکستان مسٹر رابرٹ گلوچی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کسی پٹاخوں کی فیکٹری سے تشبیہہ دے چکے تھے۔ وقفہ سوالات میں مائیک پر ایک خاتون کی آواز ابھری جس نے پہلے جی بھر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اعلیٰ سکیورٹی کے حوالے سے سفیر صاحب کی لاعلمی کو لتاڑا، بعد میں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر امریکی ایٹمی حملے کی یاد دلا کر کئی ناپسندیدہ سوال داغ دیئے۔ بحیثیت پاکستانی صحافی اب اس خاتون سے ملنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر میں نے سیاہ لباس میں ملبوس اس کھلکھلاتی سی امریکی خاتون کو اپنا تعارفی کارڈ دے کر کہا: ’’جی میں ہوں پاکستانی سٹار جرنلسٹ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مہمان خاص، نائن نیوز ڈینور کی مستعد رپورٹر فلاں فلاں‘‘ جواب میں محترمہ نے مجھے جو وزٹنگ کارڈ دیا اس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا ’’ریچل۔۔۔ نوڈلز اسپیشلسٹ‘‘ میرا منہ چڑا رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں لاحول پڑھی، نوڈ لز اسپیشلسٹ سے بھلا ہمارا کیا واسطہ۔


اگلے دن میں ہوٹل کے کمرے کے آرام دہ بستر میں دبکی لیٹی تھی کہ کسی نوڈلز اسپیشلسٹ کی ای میل آئی۔ میں جنک ای میل سمجھ کر اسے مٹانے ہی لگی تھی کہ گزشتہ رات کی اٹامک کانفرنس میں شریک نوڈلز والی خاتون یاد آگئی۔ ’’کیا میرے ساتھ ظہرانہ پسند فرمائیں گی‘‘ اللہ کی نعمت سے انکار توبہ توبہ ، میں تیار ہوتی گئی اور گرما گرم نوڈلز کا تصور میرے اعصاب کو مہکاتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں ریچل میرے ہوٹل آن پہنچی۔ موصوفہ کی گاڑی خود سے بھی زیادہ دل چسپ تھی۔ بچپن میں مسٹر بین کی گاڑی دیکھی تھی اور اگلی ریچل کی یہ لانسر تھی، چھوٹا فریج،کپڑوں کا ڈھیر، باسکٹ میں پھل، کوہ پیماؤں کے مخصوص جوتے، ہیلمٹ، فولڈنگ سائیکل، گاڑی کی سیٹ سے چھت کو چھوتا کتابوں کا ٹاوراور پتا نہیں کیا کیا کچھ۔۔۔ ٹھیک ٹھاک گرمی تھی میں نے گاڑی کے اے سی بٹن کو ہاتھ لگایا تو وہ ہاتھ میں آگیا ۔۔ ریچل نے جھینپ کے کہا ’’ بٹن ایک بار کپڑے بدلتے ہوئے پاؤں لگنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ گاڑی کا سن روف کھلا ہے کیوں نہ ہم تازہ ہوا کا مزہ لیں‘‘ گاڑی دو چار کلو میٹر چلی تو ریچل نے میرے خاندان کے حوالے سے پوچھا، میں نے کہا ’’ایک بہن فرانس میں‘ ایک انگلستان میں‘ ایک پاکستان میں اور ایک آپ کی گاڑی میں ہے ‘‘ ’’کیا پا کستان کے لوگ اپنی لڑکیوں کو اکیلے باہر بھیج دیتے ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں، میں نے محترمہ کی خوب اصلاح فرمائی۔۔۔۔ اگلی باری ریچل کی تھی ’’میرا ایک بھائی شکاگو اور امی ابو واشنگٹن میں ہوتے ہیں‘‘ریچل نے واشنگٹن کے گھر سے لے کر بھائی کے بچوں کے ناموں تک سب سنا ڈالا۔ ریچل نے بتایا کہ اس کی شادی اس کے سیکنڈ کزن سے ہوئی مگر جلد ہی خاندانی جھگڑوں کی نذر ہوگئی۔ اب وہ اکیلی ایک کرائے کے بستر کے بل بوتے پر ڈینور میں ہے کیونکہ اسے پہاڑ کی چوٹیاں سر کرنے کا بلا کی حد تک شوق ہے، سو وہ جب تک میکسیکو اور کولوراڈو کے سب پہاڑ سر نہ کرلے تب تک ڈینور میں رہنے والی ہے۔ ’’اب تم بھی شادی کرلو‘‘ ڈینور ہائی وے کی ایک ڈھلکتی سڑک پر گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے اس نے مجھے مشورہ دیا۔۔۔ مجھے اس وقت وہ ریچل نہیں کوئی رخسانہ باجی لگی ، وہی عام سے مسئلے،ایک سی الجھن اور وہی سلجھن ۔۔ اف خدا میں تو نجانے کیا سمجھتی تھی کہ کیسی طرم خان ہوتی ہوں گی یہ امریکی خواتین ۔۔۔

richalthe.jpg


ظہرانے کا وقت ہوا چاہتا تھا، میرے گمان میں اب بھی گرما گرم نوڈلز تیر رہے تھے، میں نے روایتاً کہا ’’ویسے ہم کسی ریستوران میں کھا لیتے، اتنی تکلف کی کیا ضرورت تھی‘‘ جو جواب ملا وہ ہوش اڑانے کو کافی تھا ، ہماری منزل ڈینور سے ستر کلومیٹر دور بولڈر نامی شہر کے مضافات کا ایک ایسا گھر تھا جس میں سورج کی گرمائش کو پتھروں میں محفوظ کرنے کا ہوم میڈ نظام لگایا گیا تھا، اس گھر میں ہونے والے فنڈ ریزنگ پروگرام میں جو کچھ کھلایا جانا تھا یہ وہی ظہرانہ تھا جس کا وعدہ تھا۔


ابھی بولڈر میں داخل ہی ہوئے تھے کہ پٹرول کا کانٹا صفر پہ آگیا۔ پٹرول پمپ پر کریڈٹ کارڈ ڈال کر پٹرول بھرتے بھرتے ریچل بے ساختہ بولی ’’میرا بال بال قرض میں جکڑا ہے‘‘ (ظاہر ہے یہ انگریزی میں ہی کہا تھا) ریچل نے بتایا کہ وہ سوشیالوجی میں ڈگری یافتہ ہے، کوہ پیمائی تو شوق ہے مگر دو سال کی بے روزگاری سے تنگ آکر حال ہی میں تھائی لینڈ سے نوڈلز میکنگ کا کورس کرکے آئی ہے۔ مگر اب تک اس نوڈلز ایکسپرٹ کو اپنے جوہر دکھانے کا مناسب موقع نہیں مل سکا۔ ریچل نے پھر خالی جیب عیاشی کا ایک نسخہ بتایا، وہ ڈینور کے سماجی حلقوں میں خاصی متحرک ہے ، روز ہی کسی نہ کسی نے کانفرنس، سیمینار فنڈ ریزنگ پروگرام کا انعقاد کر رکھا ہوتا ہے۔ سو وہ وہاں جا کر اچھا کھانا بھی کھا لیتی ہے اور اپنے نوڈلز ایکسپرٹی کی تشہیر بھی ہوجاتی ہے ، کتنا دیسی ٹوٹکہ ہے ویسے۔۔۔


گاڑی ایک بار پھر چلی۔ میں نے ریچل سے آزاد خیال مغربی خواتین، اخلاق باختہ فلموں‘ ثقافت وغیرہ کا سوال کر ڈالا ۔۔ مجھے ریچل کے گھریلو اندازاور دیسی اطوار پریشان ہی تو کر رہے تھے، پھر سوال تو بنتا تھا، ریچل اب اپنے بوسیدہ سے موبائل کے جی پی ایس سسٹم سے رستے تلاش کرنا چھوڑ کر متوجہ ہوگئی۔ ’’جن مغربی عورتوں کو تم نے ہالی وڈ فلموں میں دیکھا وہ شاید تمھیں کسی انگریزی فلم کے سیٹ پر ہی ملیں امریکا کی سڑکوں پہ نہیں‘‘ ریچل نے بتایا کہ تھائی لینڈ میں قیام کے دوران کس طرح ایشیائی حضرات اس کے مغربی لباس کو دیکھ کر یہ مغالطہ کر بیٹھتے تھے کہ وہ کسی ہالی وڈ ہیروئن کی طرح بے باک ہوگی۔ ’’میری پسند، میرے احساسات بالکل تمھاری یا کسی بھی عام ایشیائی خاتون کی طرح ہیں، مجھے بھی اپنی عزت نفس سب سے زیادہ مقدم ہے‘‘۔۔۔ اب کی بار میری آنکھوں کے آگے ڈینور کی ریچل کاریلو، منچن آباد کی باجی رقیہ لگ رہی تھی۔
بولڈر کا وہ عجب سائینٹیفک گھر بھی دیکھ لیا اور وہاں مفتا بھی اڑا لیا۔ اب مجھے ریچل کی صحبت میں ڈینور دریافت کرنے کا مزہ آنے لگا تھا۔


اگلے دن ہم دونوں نے برما سے بے گھر ہوکر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے مہاجر کیمپ جانے کا پلان بنایا۔ یہ پہلی رمضان کی صبح تھی۔ ریچل نے گاڑی سے اتر کر میرا استقبال ایک تحفے کے ساتھ کیا۔ پتہ چلا کہ رات ہی انٹرنیٹ سرفنگ کے دوران اسے رمضان المبارک کا علم ہوا، سو وہ میرے لئے بھی تحفہ لے آئی، وہ تو بعد میں پتا چلا وہ تحفہ بھی کسی فنڈ ریزنگ پروگرام میں ملنے والا گفٹ ہیمپر تھا۔ سارا دن میں ریچل کی گاڑی میں یہاں وہاں گھومتی رہی۔ اپنی رپورٹنگ بھی کی۔ بہت کچھ دیکھا، مغرب کا وقت ہوا تو میں نے افطار کی فکر کی، مگر اب باری میری تھی، بہت تردد کے بعد گوگل سرچ کر کے ایک حلال فوڈ ریسٹورنٹ ڈینور یونیورسٹی کے قریب ملا، بھوک سے بے حال ریچل اور میں کسی فاقہ کش کی طرح عربک ڈنر پہ ٹوٹ پڑے کھانے کے دوران ریچل کی آواز میں اظہار تشکر بھی تھا اور شرمندگی بھی، کہنے لگی! ’’تم بھی سوچ رہی ہوگی کیسی میزبان ہے جو پاکستان سے آئی ایک مہمان کی دعوت اڑا رہی ہے‘‘ میں نے اس کی حساس طبیعت کو بھانپتے ہوئے موضوع ہی بدل دیا۔ ریچل خالی جیب میری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی، میں بھلا کیسے احسان جتاتی۔


اگلا دن ریچل کے ساتھ میں نے پائیکس پیک کی چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش کی ، کیا ہی بہترین دن تھا وہ ، واپسی پر میں نے ایک سپر مارکیٹ سے شاپنگ کی، میری شاپنگ کی تعداد اور مقدار دیکھ کہ ریچل نے کچھ عجیب ہی کہا ’’تم کیا پاکستان کے کسی بادشاہ کی بیٹی ہو جو اتنا کچھ خرید رہی ہو‘‘ اب اسے کیا بتاتی کہ یہاں پورے کنبے اور دوستوں نے فرمائشوں کی فہرست تھما رکھی ہے اور ہم ٹھہرے تکلفات میں تکلیفیں اٹھانے والے لوگ ۔۔۔
یہ رات کے شاید آٹھ بجے تھے، پہلے کوہ پیمائی پھر شاپنگ کی تھکن، جسم چور چور ہورہا تھا۔ ریچل نے ہوٹل کے باہر گاڑی روکی تو میں نے اترتے ہوئے ایک بار پھر گرم کافی کی دعوت دی۔۔ تھوڑا سوچنے کے بعد اس نے عجب فرمائش کرڈالی۔ ’’کیا تمھارے ہوٹل روم میں باتھ ٹب کی سہولت ہے ؟‘‘ میں نے کہا کہ یہ فائیو سٹار ہوٹل ہے یہاں شاہانہ باتھ روم ہے۔ ریچل نے بتایا کہ اسے ڈاکٹر نے پٹھوں کی اینٹھن دور کرنے کے لئے اسٹیم باتھ کا نسخہ دیا ہے۔ میں نے ایک مشرقی میزبان کی طرح اپنی اس مخلص مہمان کی پاکستانی چائے سے تواضع کی تو اس نے ایک وعدہ کیا ’’عفت دعا کرو میری کسی چائینز ریسٹورنٹ پر نوڈلز ایکسپرٹ کے طور پر نوکری لگ جائے ، میں اپنا بینک قرض اتارنے کے بعد، تمھارا پاکستان دیکھنے ضرور آوں گی۔۔۔‘‘ اس وقت تو نہ کہہ سکی مگر اب بھی دل کہتا ہے، ریچل کاریلو ، میرے پاکستان کا دامن بھی تم جیسے فراخ دلوں کے لئے پھیلا ہوا ہے۔

(مصنفہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس فیلو، سوانح نگار ، قلمکار اور ایک نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
January

تحریر: نزاکت علی شاہ

وزیرستان میں فرائض کی انجام دہی کے دوران شہادت کا رتبہ پانے والے مبشرحسین شاہ (شہید) کے حالات زندگی کے بارے میں ایک تحریر

 

مبشر حسین شاہ 13مارچ 1990کو شب قدر کے موقع پر تحصیل مری کے ایک غریب سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نزاکت علی شاہ پرائمری سکول کے استاد ہیں۔ دینی تعلیم گھر میں والدہ

سے حاصل کی اور قرآن مجید پڑھنا سیکھا۔ اپریل 1995 کو گورنمنٹ پرائمری سکول لارنس کالج گھوڑا گلی مری میں داخل ہوئے جہاں سے مارچ2004 کو پرائمری پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول مری میں داخلہ لیا اور میٹرک کا امتحان 2007میں اسی سکول سے پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج مری میں داخل ہو گئے۔


سچ بولنا‘ انسانی ہمدردی‘ محنت‘ دیانتداری‘ ملکی و ملی اخوت اور بے باکی جیسے اوصاف مبشر حسین شاہ کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ ابتدائی عمر ہی سے فرمانبرداری اور فرض شناسی کو اپنا شعار بنا لیا۔ تعلیمی زندگی میں گھریلو کام کاج میں خوب حصہ لیتے اور ہمیشہ ماں باپ کا خیال رکھتے تھے۔ گھر میں بہن بھائیوں سے چھوٹا ہونے کے سبب اکثر والدین اور بہن بھائی گھریلو کاموں کے لئے مبشر کو کہہ دیتے تھے مگر زندگی بھر کبھی کسی کام سے ان کی زبان سے انکار نہ سنا۔


اپنے گھر میں گزاری ہوئی مبشر حسین شاہ کی کوئی رات ایسی نہ تھی جس میں رات سونے سے قبل اور صبح اٹھنے کے بعد اپنے ماں باپ کی خوشنودی نہ حاصل کی ہو۔ رات اپنی چارپائی پر جانے سے پہلے ماں باپ کے پاؤں، ٹانگیں، بازو، کندھے دبا کر سوتے اور صبح جاگتے ہی اس عمل کو دہرانے کے بعد وضو کے لئے پانی لوٹے میں رکھ کر دیتے۔کبھی ماں باپ کو رنجیدہ پاتے تو اُن کے پاؤں پر سر رکھ دیتے اور انہیں خوش کرنے تک سر، پاؤں سے نہ اٹھاتے تھے۔

 

ayjazbaedil.jpgقومی شناختی کارڈ ملتے ہی کالج میں ابھی سال دوم کے طالب علم تھے کہ جون 2008 میں اپنے بابا سے اجازت لے کر پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان بھرتی ہونے چلے گئے۔ مگر اپنے شوق کو ساتھ لئے ناکام واپس ہو کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ پاک آرمی جوائن کرنے کا شوق پورا کرنے کے لئے دسمبر 2008 کو دوبارہ مردان سنٹر پہنچے اور پنجاب رجمنٹ میں بھرتی ہو گئے۔جولائی 2009 میں اپنی تربیت مکمل کر کے 33پنجاب رجمنٹ میں سپاہی کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے لگے۔ 33پنجاب رجمنٹ اس وقت گوادر میں تھی جہاں دوران خدمات ان کا دایاں پاؤں ٹوٹ گیا اور طویل عرصہ تک الشفاء ٹرسٹ کراچی ‘ سی ایم ایچ مری اور سی ایم ایچ اوکاڑہ میں زیرعلاج رہے۔ طویل علاج کے بعد رو بصحت ہوئے اور یونٹ گوادر سے اوکاڑہ چھاؤنی منتقل ہوئی تو 18 پنجاب رجمنٹ کو شمالی وزیرستان جانے اور دشمنان ملک و ملت کے خلاف آپریشنل کارروائی کا حکم ملا۔ اسی عظیم کارنامے کو سرانجام دینے کے لئے 18پنجاب رجمنٹ کو مزید نفری کی ضرورت تھی جو دیگر پنجاب رجمنٹس سے ڈیمانڈ کی گئی۔ ایسی صورت حال میں سپاہی مبشر حسین شاہ نے رضاکارانہ طور پر 18پنجاب رجمنٹ میں شامل ہو کر اس جہاد میں حصہ لینے کا اظہار کیا سینئر افسران نے اسے کم عمری کے باعث اس شوق سے روکا۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے یہ ضد پوری کی اور 18پنجاب رجمنٹ میں شامل ہو کر شمالی وزیرستان چلے گئے۔ اس کارروائی کا حصہ بنے تقریباً پانچ ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ جنوری 2013 کو نصف شب مبشر نے اپنے والد کو زندگی کا آخری فون کیا۔’’جس میں اپنے لئے شہادت کی دعا کرنے کو کہا۔‘‘


پاک آرمی کے سیکڑوں جوان معمول کے مطابق فوجی گاڑیوں میں سوار قافلے کی صورت میں 13جنوری 2013 بروز اتوار وزیرستان سے بنوں جا رہے تھے کہ دن تقریباً دیڑھ بجے اس قافلے کی ایک فوجی گاڑی کو میران شاہ کے مقام پر بم دھماکہ سے اڑا دیا گیا جس میں سپاہی مبشرحسین شاہ کے علاوہ دیگر جوان بھی سوار تھے۔


اس بم دھماکے کے نتیجے میں کئی فوجی جوان موقع پر شہید ہو گئے اور مبشر حسین شاہ سمیت چند جوان شدید زخمی ہوئے۔ شدید زخمیوں کو میران شاہ سے بنوں اور وہاں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اسی شام سی ایم ایچ پشاور لایا گیا جہاں زخمیوں کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی گئی مگر سر پر لگے ہوئے گہرے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 23جنوری2013ء بمطابق 10ربیع الاول 1434ہجری بدھ کی دوپہر سپاہی مبشرحسین شاہ جام شہادت نوش کر تے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔


اسی شام پشاور سی ایم ایچ سے جسد خاکی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے آبائی علاقہ روانہ کر دی گئی۔ 24جنوری بروز جمعرات بوقت دس بجے بوائز سکاؤٹس گراؤنڈ میں فوجی اور سول افسران سمیت ہزاروں کی تعداد نے شہید کی نماز جنازہ ادا کی اور فوجی اعزازات کے ساتھ شہید کو گھر کے قریب دفن کر دیا گیا۔
شہید کے جذبہ حب الوطنی اور بہادری کے اعتراف کے صلہ میں پاک فوج اور حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ بسالت کا اعزاز عطا کیا۔

08
January
08
January

تحریر: گفتگو: قاسم علی

پی ٹی وی کی صبح کی نشریات میں چاچا جی کازندہ دل کردار مستنصر حسین تارڑ کی شخصیت کا صرف ایک حوالہ ہے کیونکہ ان کی ذات کی سحر انگیزی کو ایک درجے میں مجتمع کرنا ممکن ہی نہیں۔ سفرنامہ، ناول ،کالم، ڈرامہ نگاری اور ٹی وی میزبانی تو ایک طرف مستنصر حسین تارڑ نے لگ بھگ تین چار سو ڈراموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھارکھے ہیں ۔ چاچا جی یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں محسوس کرتے کہ وہ بنیادی طور پر آوارہ گرد ہیں اور حادثاتی طور پر ادیب بن گئے۔ نگر نگر گھومنا، پہاڑوں پر جانا، مطالعہ اور تخلیق ان کے من پسند مشاغل ہیں۔ خود ادیب ہونے کے باوجود شاعروں کی مخالفت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تحریر کااسلوب اور اندازِبیان اتنا مسحور کن کہ دنیا کی کئی ممالک کی جامعات میں ان کی نثر اردو نصاب کا حصہ ہے۔ ان کی دو کتابیں زیر تکمیل ہیں جبکہ علالت سے صحتیابی کے بعد وہ آ ج کل پھر پہاڑوں کی سیرکاپروگرام ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ ہلال نے اپنے قارئین کے لئے مستنصر حسین تارڑ کا تفصیلی انٹرویو کیا ہے جو حسب ذیل ہے۔

 

سوال: سعادت حسن منٹو کے آپ ہمسائے رہے ہیں کیا انہیں دیکھ کر یا آئیڈیل سمجھ کر ادبی دنیا سے ناطہ جوڑا؟

جواب:مجھے بچپن میں ادیب بننے کا قطعی طور پر کوئی شوق نہیں تھا۔میں اگر لٹریچر یا میڈیاکی دنیا میں آیا تو یہ محض ایک اتفاق ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ میں حادثاتی ادیب ہوں ، ایک منصوبہ بند یا پلینڈ ادیب نہیں ہوں، بچپن میں مجھے بہت ساری چیزوں کا شوق تھا ، میں سکے جمع کرتا تھا، ڈاک کے ٹکٹ جمع کرتا تھا، فلمی ہیروئنز کی تصاویر جمع کرتا تھا، ایکٹنگ کا شوق تھا حالانکہ اس وقت مجھ میں اداکاری کا زیرو ٹیلنٹ تھا۔ چنانچہ شوق تو بہت سارے تھے لیکن ان میں پڑھنے کا شوق جو تھا وہ بہت شدت کے ساتھ تھا اور وہ ابھی تک اسی شدت کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی ایک دن مطالعے کے بغیر گز ر جائے۔ اس لئے حادثاتی طور پر میں ادیب بن گیا۔ اس کی تفصیل میں کیا جانا‘ بس میں انیس سو اٹھاون میں برطانیہ میں تھا وہاں سے نوجوانوں کا ایک وفد سوویت یونین گیا ، وہاں یوتھ فیسٹیول تھا مجھے بھی اس وفد میں شامل کرلیاگیا۔میں اس وقت شایداٹھارہ برس کا تھا۔ ہم پہلے لوگ تھے جو پاکستان سے سوویت یونین گئے۔ اس زمانے میں سوویت یونین آئرن کرٹن کہلاتا تھااور اس کے اندر پاکستانیوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ہم شروع سے ہی امریکہ کے قریب رہے ہیں ، بہر حال جب میں واپس آیا تو نوائے وقت کے مجید نظامی صاحب کو کسی طرح پتا چلاکہ پاکستانی نوجوان سوویت یونین کا وزٹ کرکے آیا ہے‘ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ آ پ سفر نامہ لکھ کرسوویت یونین میں ہونے والے مشاہدات کو قارئین تک پہنچائیں، مجھے اس کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن میں نے ’’ لندن سے ماسکو تک‘‘ کے نام سے سفرنامہ لکھنے کی کوشش کی۔اس زمانے میں ہفتہ وار رسالہ ’’قندیل‘‘ بہت مقبول تھا جس میں وہ سفرنامہ تصاویر کے ساتھ تین اقساط میں شائع ہوا۔ یہ میری پہلی تحریر تھی، میں کچھ سال مزید برطانیہ رہا اور پھر واپس آگیا۔ بعض اوقات ابتدائی کامیابی بھی آپ کے سفر کو آسان بنادیتی ہے یہی میر ے ساتھ ہوا ، ’’نکلے تیری تلاش میں‘‘ اور ’’ فاختہ‘‘ کے کچھ حصے ماسکو یونیورسٹی کے اردو نصا ب میں شامل ہوگئے جو تیس پینتیس سال سے ہیں ویسے بھی اس کا چرچہ کافی ہوا تو اس سے آہستہ آہستہ آگے چلنا شروع کیا ، پھر آپ کو لت پڑجاتی ہے کیونکہ ادب ایک نشہ سا ہی ہے۔

 

سوال : حادثاتی ادیب سے مشقتی ادیب تک کا سفر کیسے طے کرلیا؟

جواب:میں خود کو مشقتی ادیب اس لئے کہتا ہوں کیونکہ نثر بنیادی طور پر مشقت طلب کام ہے ، میر ے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ میں شاعروں کے خلاف ہوں، بغض رکھتا ہوں۔ یہ بالکل صحیح ہے اور میں اس بات کو ماننے سے انکار نہیں کرتا لیکن میں برے شاعروں کے خلاف ہوں جو زبردستی اپنا کلام سناتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہیں، میرے پاس ہر مہینے لگ بھگ تیس چالیس کتابیں آتی ہیں جن میں ایک یا دو نثر کی ہوتی ہیں باقی سب شاعری کے مجموعے ہوتے ہیں، خود فراز جیسا شاعریہ کہتا تھا کہ یار تارڑ ہم ہوائی جہاز میں سفر کر رہے ہوتے ہیں اورواش روم میں جاتے ہیں تب بھی ہمیں مصرعے موضوع ہونے لگتے ہیں لیکن نثر کے لئے ایسا بالکل نہیں ہے ، نثر لکھنے کے لئے میں چالیس برس سے روزانہ اپنی میز پر شام سات سے رات بارہ بجے تک مشقت کرتا ہوں ، بیٹھنا بھی مشقت سے کم نہیں،پوری توجہ لکھائی پر دینا جبکہ باقی دنیا انجوائے کر رہی ہے، فنکشنز میں جار ہی ہے، میل ملاپ کر رہی ہے اور آپ اپنے پراجیکٹ پر سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بڑی نثر دس فیصد مشاہدہ ہوتی ہے جبکہ باقی نوے فیصد پسینہ ہوتی ہے اس لئے نثر نگار مشقتی ہوتے ہیں۔

 

سوال: آپ بچوں کے پسندیدہ میزبان رہے ہیں ، کچھ اپنی ابتدائی زندگی اور تعلیم کے متعلق بتائیں؟

جواب : میری پیدا ئش یکم مارچ انیس سو انتالیس کو لاہور میں ہوئی۔ پہلے مجھے مسجد میں داخل کروایا گیا جہاں میں نے قرآن پاک پڑھا، نماز سیکھی لیکن حسب معمول مولانا کا جو پرتشدد رویہ تھا اس نے مجھے بہت باغی کردیا، اس کے بعد میں رنگ محل مشن ہائی سکول آیا جہاں ایک بالکل مختلف ماحول ملا۔ وہاں ہمیں انگریز خواتین اساتذہ نے پڑھایا ، کرسیاں اور بنچ میسر آئے ، اس زمانے کے لحاظ سے بہت ماڈرن اسکول تھا۔ اس کے بعد میرے والد صاحب نے گکھڑ میں ایک سیڈفارم ’رچنا نرسری فارم‘ قائم کیا۔گکھڑ میرا ننھیال بھی ہے والد صاحب ہمیں دو سال کے لئے وہاں لے گئے‘ وہاں پر میں سرکاری سکول میں داخل ہوا جو مکمل طور پر ٹاٹ سکول تھا‘ وہاں پر مجھے خاصی پرابلم ہوتی تھی کیونکہ میرا گھرانہ معاشی طور پر قدرے آسودہ تھا، میرے نانا بھی نمبر دار تھے چنانچہ میں سکول میں لٹھے کی شلوار اور اس کے اوپر چھوٹی سی اچکن پہن کر جاتا تھا جبکہ میرے کچھ ہم جماعت لمبی قمیض پہنتے تھے کہ شاید نیچے کچھ نہ پہننا پڑے۔ وہ مجھے چھیڑتے رہتے تھے اور ہمیشہ سونے کی چڑیا کہتے تھے۔ میں روتا ہوا گھر آتا تھا۔ اس کے بعد میں پھر رنگ محل مشن ہائی سکول آیا۔ یہاں پر مجھے پینڈو کہا جانے لگا کیونکہ گاؤں میں رہنے سے میرا لہجہ پنجابی ہو گیا تھا۔ تو میں نے ساری عمر سونے کی چڑیا اور اس پینڈو کے درمیان گزاری ہے ، مجھے کہیں بھی کھلے دل سے قبول نہیں کیا گیا نہ شہر والوں نے کیا نہ گاؤں والوں نے کیا۔ اس کے بعدمسلم ماڈل ہائی سکول پھر گورنمنٹ کالج گیا، پھر انگلینڈ ٹیکسٹائل کے لئے ڈپلومہ کیا ، ڈپلومہ کم اور پانچ چھ سال آوارہ گردی زیادہ کی۔میری تعلیم والدین کی خواہش کے مطابق کچھ زیادہ پختہ نہیں ہوئی۔ لیکن ہوایہ کہ میں نے لوگوں کے نزدیک جو بے مقصد زندگی گزاری کہ ٹینٹ اٹھایا ہوا ہے اور ہائیکنگ ہورہی ہے‘ آوارگی ہی تھی ناں۔کیونکہ ان دنوںیہ (پاکستان میں) نہیں ہوتا تھا ، میں پہلا پاکستانی تھا جو ٹینٹ لے کر نکلا اورلفٹیں لے کر انگلینڈ اور یورپ کی سیر کی‘ پھر باقی زندگی بھی اسی طرح گزرتی رہی تو میرے وہ تجربات لٹریچر میں میرے بہت کام آئے کیونکہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو‘ یہ دعوے کی بات نہیں ہے‘ جتنا میرا دنیا گھومنے کا تجربہ تھا وہ اب جاکر لوگوں کو ہو رہا ہے‘ جب سے باہر کے ممالک میں مشاعرے پڑھے جانے لگے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تارڑ ٹھیک ہی لکھتا تھا۔ نگر نگر گھومنے کے تجربے نے مجھے بہت کچھ دیا، میرے لٹریچر میں یور پ بھی ہے ، ایشیا بھی ہے ، گاؤ ں بھی ہے ،شہر بھی ہے۔ ناول کے لئے آپ کو طوائف سے لے کر ولی اللہ تک کے درمیان انسانیت کے جتنے رنگ ہیں ان کا تجربہ بڑا ضروری ہے، تجربے سے یہ مراد نہیں کہ آپ کوٹھے پر جانا شروع کردیں مطلب کہ آپ کو آگاہی ہو۔۔۔۔۔اور نہ ہی آپ ولی اللہ بن جائیں صرف آگاہی،۔۔۔۔ جب تک آپ کے پاس یہ نہیں ہوگا آپ اچھا یا بڑا ناول نہیں لکھ سکتے۔

 

mustanserhus.jpg

سوال:سفرنامہ ، ناول ، ڈرامہ نگاری ، کالم نویسی اور ٹی وی میزبانی اتنے فرائض کیسے سر انجام دے لئے آپ نے؟

جواب : ہمارے ہاں یہ بڑی پرابلم ہے کہ آدمی پر مہر لگا دی جاتی ہے کہ یہ ناول نگار ہے، کالم نویس ہے یا افسانہ نگار ہے پھر اسے الماری میں بند کردیا جاتا ہے کہ یہ برینڈ ہوگیا ہے۔ جس طرح مویشی کو برینڈ کرتے ہیں اسی طرح ادیب کو بھی برینڈ کرنا چاہتے ہیں، بدقسمتی سے میں اس تقسیم میں آتا نہیں ہوں، میرا ہمیشہ یہی جواب ہوتا ہے کہ اگر آپ نے مجھے برینڈ کرنا ہے تو یہ کہہ لیں کہ میں بنیادی طور پر ایک آوارہ گرد ہوں۔ کبھی میں افسانے کی گلی میں جا نکلتا ہوں (ابھی میرا افسانوی مجموعہ ’’پندرہ کہانیاں‘‘ آیا ہے) کبھی سفرنامے کی جانب ، کبھی ڈرامہ ، کبھی کالم، یہ مختلف گلیاں ہیں جن میں میں گھومتا پھرتا رہتا ہوں لیکن کسی گلی میں زیادہ دیر قیام نہیں کرتا‘ کیونکہ بنیادی طور پر میں آوارہ گرد ہوں۔

 

سوال:روسی ادیبوں سے آپ کی محبت مثالی ہے ان کے انداز بیاں اور اسلوب نے آپ کو کس حد تک متاثر کیا؟

جواب: بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر میں نے سبھی کو پڑھا ہے لیکن روسی ادب کے دو ادیبوں ٹالسٹائی اور دوستووسکی کاکام تو لاجواب ہے‘ مطلب یہ ہے کہ آپ جب دنیا کے دس بہترین ناولوں کی فہرست بناتے ہیں تو ٹاپ پر ’’وار اینڈ پیس‘‘ ہی آتا ہے ، جو ٹاپ پر’ ’’ وار اینڈ پیس‘‘ کو نہیں لاتے وہ ’’ دی برادرز کارمازوف‘‘ کو لے آتے ہیں مگر پہلی پوزیشن روسیوں کے پاس ہی رہتی ہے، میری پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کی روسیوں کا مزاج مشرقی ہے‘ اس میں جو اداسی ہے اور موت کی نزدیکی۔۔۔ یعنی موت کے قریب جا کر زندگی بسرکرنا اور ایک ذلت آمیز زندگی بسرکرنا۔۔۔ یہ آپ کو رشیئن لٹریچر میں بھرپور ملے گا۔ان کے اور ہمارے معاشرتی حالات میں کافی مماثلت ہے۔ ہماری طرح وہ بھی جذباتی ہیں۔ جلدی بھڑک اٹھتے ہیں اور ایک دم محبت میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں‘ شاید یہی وجہ تھی کہ میں ان کی جانب زیادہ متوجہ ہوا کیونکہ وہ میری قلبی واردات کے قریب تھا جبکہ جو مغربی یا امریکی تخلیق کار ہیں وہ ہماری ثقافت سے تھوڑا دور ہیں‘ اگرچہ ان میں بھی میرے بہت سارے پسندیدہ نام ہیں۔ لاطینی امریکہ کے رائٹرز میں بھی مشرقی اداسی موجود ہے۔ بنیادی طور پر ادب اداسی کو مجتمع کرنے کا نام ہے، تمام باب اداسی کی مختلف پرتوں کو کھولیں یہ لٹریچر کی خوبصورتی ہے اور کسی بڑے آدمی نے یہ کہا تھا کہ بڑا ناول وہ ہوتا ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ خود کو اداس محسوس کریں۔ طمانیت محسوس نہ کریں بلکہ ایک خاص اداسی آپ کے اندر آجائے۔

 

سوال: آپ کی تحریریں پاکستانیت کے پیغام سے بھرپور ہیں ، کیا آپ نے تخلیق کے عمل میں کسی نظرئیے کو فالو کیا ہے؟

جواب: میں جوکچھ ہوں اسے پاکستانیت کہہ لیں یا سرزمین سے لگاؤکہہ لیں‘ مگر یہ فطری ہے۔ میں زبردستی یا کسی مفاد کی خاطر نظریات کے پرچار کا قائل نہیں ہوں۔ میرا ماننایہ ہے کہ یہ میری اپنی سرزمین ہے اور اس کے جتنے بھی قدرتی عوامل ہیں ، جو درخت ہیں جو پہاڑ ہیں، ساری سرزمین کے جتنے مناظر ہیں، جتنی خوشبوئیں ہیں،جتنے جانور ہیں، جتنی خوراکیں ہیں وہ سب مجھ پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انہوں نے ہی میرے ناول اور سفرناموں میں آنا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر آ پ مجھے کہیں کہ میں علی گڑھ کے بیک گراؤنڈ کے ساتھ ایک ناول لکھ دوں تو میں نہیں لکھ سکوں گا۔۔۔ہاں گوجرانوالہ ، پنڈی یا کوئٹہ کی بات اور ہے۔ میرا نظریہ صرف یہ ہے کہ اس سرزمین کے ساتھ جو میری وابستگی ہے وہ فطری ہے یعنی مجھے چار پانچ دفعہ برطانیہ براستہ سڑک جانے کا اتفاق ہوا ہے تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ واپسی پر میں طورخم بارڈر پر انٹر ی کے وقت سجدے میں نہ گیا ہوں اور میں نے زمین کو چوما نہ ہو‘ یہ میں پاکستانیت کے لئے نہیں کررہا ، یہ میرے اندر اپنی سرزمین کے لئے اداسی ہے لیکن میں نے اس کی تصویر کبھی نہیں کھنچوائی، یہ کبھی نہیں ہو اکہ میںیو این او گیا ہوں اور وہاں میں نے اپنے ملک کا پرچم تلاش نہ کیا ہو۔

 

سوال: اب تک کتنے ممالک یا براعظموں کے سفر کر چکے ہیں اور سب سے خوبصورت کس کوپایا؟

جواب: میں نے بہت زیادہ سفر نہیں کیا میری بیوی نے ایک دن بہت اچھی بات کہی تھی کہ تم نے اتنے ملک نہیں دیکھے جتنا شور مچایا ہوا ہے، یہ بالکل ٹھیک ہے کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جہا ں بھی گیا ہوں میں نے وہاں کا سفرنامہ لکھ دیا اب باہر کے سفرنامے بیس پچیس تو ہوں گے پھرتیرہ چودہ سفرنامے شمالی علاقہ جات کے بھی ہیں تو لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ یہ ہروقت گھومتا پھرتا رہتا ہے۔ حالانکہ میرا خیال ہے کہ پوری دنیا کا پانچ فیصد بھی میں نے نہیں دیکھا، دنیا بہت بڑی ہے ساؤتھ امریکہ ایک بالکل الگ دنیا ہے میں وہاں گیا ہی نہیں ، افریقہ ہے ، ساؤتھ ایسٹ ایشیا ہے تو یہ واضح ہے کہ میں نے اتنا زیادہ نہیں دیکھا لیکن میری نسل کے جو لوگ تھے ان سے بہت زیادہ دیکھا ہے۔

 

سوال: پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو آپ کا محبوب کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، اس محبت کی وجہ کیا ہے؟

جواب: محبت کی کبھی کوئی توجیہہ نہیں ہوتی ، آپ کسی سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ آپ کو فلاں خاتون یا شے سے محبت کیوں ہوگئی ہے۔ اس ’کیوں‘ کا کوئی جواب نہیں ہوتا بس آپ کے اندرفطری جذبہ آجاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت مجھے لگتا ہے کہ شاید میں نے شگروادی میں دریائے برالڈو کے کنارے کسی چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونا تھا لیکن میں لاہور میں پیدا ہوگیا۔ تو ہر شخص کو مختلف جگہوں پر جاکر احساس ہوتا ہے کہ شاید میں کبھی یہاں پر آیا ہوں اور وہ ایک علیحدہ ہی فلاسفی ہے کہ ایساکیوں محسوس ہوتا ہے۔ میں نے بہت بار یہ محسوس کیا ہے جب میں شمال کی وادیوں میں کسی گاؤں گیا ہوں تو مجھے وہ جانا پہچانا لگا ہے کہ شاید یہ وہی گاؤں ہے جہاں میں نے پیدا ہونا تھا تو ’کیوں‘ کا کوئی جواب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپریشنز کے ایک طویل سلسلے کے بعد ابھی مجھے دوبارہ زندگی دی ہے۔ پچھلے ہفتے میں فائنل چیک اپ کے لئے گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کے اندر ایک بلاکیج ہے اس کو ہم ہٹا دیں گے تو پھر آپ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے، میں نے اس سے پہلا سوال یہی پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ کیا اس کے بعد میں پہاڑوں پر جاسکتا ہوں؟ تو میری صحت مند ی کی خواہش پہاڑوں پر جانے سے منسلک ہے اس سے نہیں کہ میں کھانا پینا کروں گا، مزے کروں گا یا چھٹیاں مناؤں گا بس پہاڑوں پر جانے کی خواہش ہے اور میں نے ہراموش جھیل پر جانے کاپروگرام بنایا ہوا ہے، اس برس اگر زیادہ سردی نہ ہوئی تو ضرور جاؤں گا وگرنہ زندگی نے وفا کی تو اگلے برس لازمی جانا ہے۔

 

سوال: پاک چائنا اکنامک کاریڈور آپ کے محبوب علاقوں سے گزرے گی آپ کے خیال میں اس منصوبے سے وہاں کی ثقافت اور روایات پر کیسے اثرات آئیں گے؟

جواب: دیکھیں جی کوئی بھی سڑک اپنے ساتھ مثبت اور منفی اثرات لے کر آتی ہے۔ اب ماہر معاشیات یا سیاستدانوں کو زیادہ تفصیلات کا پتا ہوتا ہے کہ کیا ہونا ہے ، منصوبے کے درپردہ عوامل کیا ہیں۔آخر چین اتنا پیسہ کیوں خرچ رہا ہے‘ وہ صرف آپ کے لئے یہ سب نہیں کررہا ، اس کے اپنے بھی کوئی نہ کوئی مفاد ہوں گے اور ہونے چاہئیں، لیکن اگر ہم شاہراہ قراقرم کو دیکھیں تو اس نے شمال میں روز مرہ زندگی کو مکمل طورپر تبدیل کردیا ہے۔بالکل الگ علاقے کو دنیا سے جوڑ دیا ہے۔ جب میں پہلی مرتبہ وہاں گیا تھا تو وہاں کوئی چیز نہیں تھی ، نہ بجلی تھی ، نہ فریج تھی ، آپ کو دودھ نہیں ملتا تھا ،آٹا نہیں ملتا تھا لیکن اب جا کر آپ دیکھیں کہ ہنزہ کے نیچے جو شہر آبادہے وہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا لاہور کا شاہ عالم اور وہاں اتنی ہی چیزیں ملتی ہیں جتنی یہاں ممکن ہیں۔ وہاں روزگارکے مواقع بڑھے ہیں‘ لوگوں کو کاروبار کرنے کا پلیٹ فارم ملا ہے اور جب ایک سڑک گزرتی ہے تو اس کے ا وپر سے گزرنے والی ٹریفک معاشی خوشحالی لے کر آتی ہے‘ کیونکہ اس ٹریفک نے وہاں رکناہے ، وہاں سے خریداری کرنی ہے‘کھانا کھا نا ہے ، چائے پینی ہے ، ثقافتوں کا تبادلہ بھی ہونا ہے۔ تومیری رائے میں تو یہ بہت بڑا اور زبردست منصوبہ ہے لیکن میرے خیال میںیہ سارا کاریڈور اتنی جلدی نہیں بنے گا جتنا کہا جا رہا ہے کیونکہ اگر آپ نے شمالی علاقہ جات دیکھے ہیں تو اس میں تعمیراتی کام مکمل ہونے میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں۔عطا آباد جھیل والے علاقے کی مثال سامنے ہے اور خوش قسمتی سے میں نے کاشغر سے کاشغرگان اور کاشغرگان سے خنجراب تک سفر کیا ہوا ہے۔ اِدھر سے بھی اُدھر گیا ہواہوں اور چائنا سے بھی اُدھر آیاہوا ہوں۔ کاشغر سے خنجراب تک کا علاقہ میرے ذہن میں یہ تھا کہ اسی طرح پہاڑی علاقہ ہوگا جیسا پاکستان والی طرف کا ہے، موڑ ہوں گے ، دریا ہوں گے اور بڑا مشکل سفر ہوگالیکن اس کے برعکس وہاں بالکل میدان ہے۔ وہ شاہراہ سیدھی آتی ہے کہیں تھوڑی سی چڑھائی ہے جیسا قراقل جھیل کے علاقے میں دس منٹ کی چڑھائی آتی ہے پھر آپ خنجراب پہنچ جاتے ہیں۔ چنانچہ ادھر کوئی پرابلم نہیں ہے سب کچھ بنا ہوا ہے ، اصل مسئلہ ہمیں یہاں شمالی علاقہ جات میں ہونا ہے، رائے کوٹ تک کا علاقہ تو بنا ہوا ہے‘ رائے کوٹ سے پھر حویلیاں تک اور پھر حویلیاں سے آپ جب گوادر جاتے ہیں تو اس میں وقت لگتا ہے۔ یہ دو تین سال کا کام تو نہیں کم از کم آٹھ دس سال اس منصوبے کے مکمل ہونے میں لگ جانے ہیں۔

 

سوال : پی ٹی وی پر آپ کے مارننگ پروگرام نے ایک جنریشن کو متاثر کیا ہے آج کے مارننگ شو بھی آپ کی نظر سے گزرتے ہیں ، کیا کمی بیشی محسوس کرتے ہیں؟

جواب: میرا یہ نظریہ ہے کہ ہر عہد اپنے ساتھ اپنی اقدار اور ثقافتی روایات لے کر آتا ہے جس کے حساب سے لوگوں کی پسند بھی تبدیل ہوتی جاتی ہے‘ میرے مارننگ شو کا اس زمانے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ ایک تو اس وقت میرا شو اکلوتا تھا اگر کوئی اور ہوتا تو ہم اس سے کمپئیر کرتے۔مجھے یقین ہے کہ جس طرح کا شو میں تب کرتا تھا اگر اب کروں تو کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ نہ تو میں رقص کرسکتا ہوں ، نہ میں نخرے دکھا سکتا ہوں ، میر ے پاس بہت زیادہ لباس بھی نہیں ہیں‘ نہ میں شادی کی رسو م کے بارے میں کچھ جانتا ہوں جو اس وقت مارننگ شو کا مقبول حصہ ہیں۔ جولوگ یہ کر رہے ہیں وہ ٹھیک کررہے ہیں کیونکہ ان کا شو چل رہا ہے اور ہمارے ہاں ریٹنگ ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ ایکٹرز زیادہ بہتر انداز میں شوز کر رہے ہیں کیونکہ کمپئیرنگ کے لئے اداکاری آنا بھی ایک شرط ہے ،اس کے ساتھ آپ کو رائٹر بھی ہونا چاہئے، سکرپٹ رائٹر بھی ہونا چاہئے اس کے بعد انفارمیشن آتی ہے جس کی اب ضرورت بھی نہیں رہی کیونکہ وہ تو آپ کو کمپیوٹر سارا کچھ دے دیتا ہے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ جتنے بھی کمپئیرز ہیں ان کے پاس انفارمیشن ہے بھی نہیں۔ مثلاًایک دفعہ مجھے ایک مارننگ شو میں شرکت کے لئے دبئی بلوایا گیا اور وہاں میرے تعارف ان الفاظ سے ہوا کہ میں پاکستان کے تمام مارننگ شو کا باپ ہوں تو میں نے ان کی تصحیح کچھ یوں کی کہ جتنے بھی مارننگ شوز چل رہے ہیں وہ سب تو میر ے نہیں ہیں صرف ایک آدھ بچہ میرا ہے۔میں ان کی ذمہ داری نہیں لیتا کیونکہ انہوں نے اپنا ہی حساب کتاب کیا ہوا ہے، میں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا ، بات صرف یہ ہے کہ ہمارے شوز گزرے زمانے کے لحاظ سے ٹھیک تھے ، آج کے شوز موجودہ زمانے کے لحاظ سے ہیں، مجھے آپ منہ مانگی رقم بھی دیں تو پھر بھی میں ایسے شوز کا حصہ نہ بنوں جیسے ہمارے ہاں رمضان کے دوران ہوتے ہیں اور عوام کو تحائف کا لالچ دے کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔میں صرف ایسے شو کی میزبانی کرنا چاہوں گا جس سے عوام کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کوئی بہتری آسکے۔ایسا کام نہ ہونے کی وجہ سے میں شو نہیں کررہا دوسرا ٹی وی میڈیم نوجوانوں کے لئے زیادہ موزوں ہے، میں اتنا زیادہ بوڑھا نہیں ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ پرانے لوگوں کو چمٹا نہیں رہنا چاہئے نئی جنریشن کو مواقع اور وقت ملنا چاہئے۔

 

سوال: آپ نے دنیابھر کا سفر کیا۔ آپ نے اپنے سفری تجربات کو سفرناموں کے قالب میں بھی ڈھالا۔ آپ نے سفرکو کس حد تک مفید پایا؟

جواب : میں نے اپنی عمر کے لحاظ سے سفرنامہ لکھا اور وہی جذبات بیان کئے جیسے ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ میں ایک لاابالی کچے ذہن کا فوری طور پر محبت میں مبتلا ہوجانے والانوجوان جوکہ میں تھا‘ بجائے اس کے میں ثابت کرتا کہ میں اس وقت افلاطون تھا اور دریائے سین کے کنارے بیٹھ کر کسی فلسفے پر غورکرتا تھا یہ تو بکواس ہوتی۔پھر جب میری شادی ہوگئی تو سفر نامے میں میرے بچے آنے شروع ہوگئے۔پھر میں نے اپنی فیملی کے ساتھ سفر کیا تو اس عمر کے احساسات کو میں نے سفرنامے میں لکھا۔ پھر جب بچے بڑے ہوکر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوئے تو میں اکیلا ہوگیا او ر میں نے دوستوں کے ساتھ جانا شروع کردیا تو اس احساس کولکھا۔اس طرح لکھنے کا ایک لطف تو یہ ہے کہ آ پ زندگی کے مختلف مراحل کا لطف اٹھاتے ہیں‘ جو اہم چیز میں بتانا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی سفر جو دس دن کا ہوتا ہے یا پندرہ دن کا ، سفرنامے لکھتے ہوئے آپ اس کو دوبارہ سے زندہ کرتے رہتے ہیں، ابھی میرے تین سفرنامے آئے ہیں آسٹریلیا ، امریکہ اور راکا پوشی نگرکا۔ دو تقریباً تیار ہیں‘ ایک سندھ کا اور ایک پنجاب کا، سندھ اور پنجاب کے سفر صرف ایک ایک دن کے ہیں ، میں صبح سویرے دوستوں کے ساتھ نکلا اور شام کو واپسی ہوگئی اب ہوتا یہ ہے کہ سفر کے دوران پیش آنے والا واقعہ ایک لمحے میں رونما ہوجائے لیکن جب آپ اس کو لکھنے بیٹھتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کو بیان کرنے میں آپ کو دو دن لگ جائیں اس کا مطلب ہے کہ وہ چند لمحے دو دنوں پر مشتمل ہیں۔ اس کی واضح مثال میراسفرنامہ’’ غار حرا میں ایک رات‘‘ ہے۔غار حرا میں گزری ایک رات کو میں نے سات آٹھ ماہ میں لکھا، اس کی منصوبہ بندی کی اور پھر ہر لمحے کے جذبے کو محسوس کرکے لکھا تو دینی طورپر، جذباتی طور پر، یا تصوراتی طور پر، میں نے وہاں ایک رات نہیں آٹھ ماہ گزارے۔چنانچہ یہ سفر نامہ لکھنے کی خوبصورتی ہے کہ ہم گزرے لمحات کو دوبارہ سے جیتے ہیں اورپانچ لمحوں کو پانچ دنوں پر محیط کردیتے ہیں۔

 

سوال:ایک دور تھا کہ پاکستان میں ترقی پسند تحریک کا بہت شہرہ تھا۔ کیا آج بھی ادب میں ترقی پسندی کا رواج موجود ہے؟

جواب: دیکھیں یہ ایک قسم کا رویہ ہوتا ہے ، مختلف تحریکیں آتی ہیں جو اپنے انجام کو پہنچ کر ختم ہوجاتی ہیں لیکن ان کے اثرات موجود رہتے ہیں، مثال کے طورپر مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ آپ کے استاد کون تھے ، استاد سے مراد جن کے کام کو پڑھا اور اس سے سیکھا تو وہ سارے کے سارے ترقی پسند تھے کیونکہ ان دنوں بڑے ادیب تھے ہی ترقی پسند۔مثلاً آپ راجندر سنگھ بیدی کو لے لیں ، کرشن چندر کو لے لیں یا جتنے بھی شاعر ہیں ان کو لے لیں وہ سارے کے سارے ترقی پسندہیں اور ان سے ہم نے سیکھا۔ میں کمیونسٹ کبھی نہیں رہا لیکن میں ہمیشہ ترقی پسند رہا ہوں اور باآوازبلند رہا ہوں کیونکہ نبی کریم ؐ کے ساتھ عقیدت کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ مولانا حسرت موہانی کہا کرتے تھے کہ میں مارکسسٹ مسلمان ہوں۔ آج کے ادب میں ترقی پسندی کارواج اس طرح نہیں ہے لیکن اس کے اثرات کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں کیونکہ یہ ایک مثبت تحریک تھی۔ ترقی پسندی تو یہ تھی کہ انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کی جائے ، کولونیئل پاور کے اثر سے نکلا جائے‘ اب یہ نقطہ نظر صحیح ثابت ہورہا ہے ، ترقی پسندی یہی تھی کہ لوگ سوویت یونین کا ساتھ دیتے تھے کیونکہ باقی قوتیں تو قابض قوتیں تھیں اور آپ نے ان کا ساتھ تو نہیں دینا تھا ، سوویت یونین ان طاقتوں کی مخالفت کرتا تھا۔ اب سوویت یونین کے نہ ہونے سے کتنی پرابلمز ہوئی ہیں۔ جیسے امریکہ کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ فلسطینیوں کا یہ حال کبھی نہ ہوتا اگر سوویت یونین موجود ہوتا۔ تو اس لئے وہ مثبت تحریک تھی جس کے اثرات اب بھی موجودہیں۔

 

سوال:آپ کی نظر میں ہمارے ادیب کا سماج کی ترویج‘ ترقی اور اصلاح میں کیا رول رہا ہے؟ اور کیا ادیب کا اس عمل کوئی حصہ ہوتا ہے یا ادیب کا کام خالصتاً ادب کی تخلیق ہے؟

جواب : بنیادی طو رپر ادب انقلاب لاتا نہیں ہے۔ وہ ان عوامل کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے رد عمل میں انقلاب آتا ہے۔ ادب خود تلوار لے کر میدان میں نہیں نکلتا بلکہ اس کا کام تو شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہوتاہے چنانچہ وہ شعور کہاں تک انقلاب کے لئے معاون ثابت ہوتا ہے، لیوٹالسٹائی کی مثال لے لیں‘ میں نے ماسکو میں اس کی ساری ریاست دیکھی ہے‘ایک رات وہ اٹھتا ہے بوری کے کپڑے پہنتا ہے اور کہتا ہے میں کسان کے طورپر زندگی بسر کروں گا۔ مجھے یہ زندگی نہیں گزارنی۔ وہ بڑے لوگ تھے جبکہ آج کل مسائل اور ہیں ، میں ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ میرے دشمن پہلے ہی بہت ہیں۔دوستووسکی نے اپنے معاشرے کے بارے میں جو کچھ لکھا ،چیخوف نے یا دوسرے بڑے رائٹرز نے جو لکھا، اس کو پڑھ کر لوگوں میں شعور آیا کہ تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ واضح ہے کہ ادیب خود میدان جنگ میں نہیں اترتا‘ وہ میدان جنگ میں اترنے کی ترغیب دیتا ہے۔

 

سوال :معیشت‘ معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟

جواب: ان عوامل کو اگر جوڑنا ہوتو یہ ایک بہت بڑا کاروبار بن جاتا ہے۔ روحانیت سب سے زیادہ تیز فروخت ہونے والاجزو ہے۔ میں نے سارا پاکستان دیکھا ہے جس تیزی سے روحانیت فروخت ہورہی ہے اور لوگ متمول ہورہے ہیں‘روحانیت کے فلسفے سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔اشفاق احمد صاحب کے انتقال کے بعد میر ے پاس کچھ لوگ آئے انہوں نے ایک اشارہ سا دیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ہر جمعرات کو آپ کے پاس آجایا کریں اور یہاں پر ایک محفل ہوجائے۔ میں نے انہیں واضح کیاکہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ، میں ایک نارمل انسان ہوں جو چھوٹے موٹے گناہ سے بھی لطف اندوز ہوتا ہوں اور نیکیاں کرنے کی بھی کوشش کرتا ہوں لیکن مجھ میں روحانیت والا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ مجھے اس کرسی پر مت بٹھائیں حالانکہ وہ بڑی منافع بخش سیٹ ہے اور بڑا آسان کام ہے لیکن میں نے انکار کردیا۔ بنیادی روحانیت جس کو ’’سپرچیوئل ازم‘‘ کہتے ہیں اور جو مولانا روم سے آئی ہے اورعلامہ اقبالؒ سمیت سارے پنجابی شاعروں کو ملی ہے‘ وہ ہے کیا‘ وہ عقیدے سے بالاتر ہوکر انسان کو انسان سمجھنا اور اس کی عزت کرنا ہے تو میری کتابیں بھی انسان کو انسان سمجھتی ہیں اور لوگوں کو خوشی سے ہمکنا ر کرتی ہیں۔ یہ تو طے ہے اور اب مجھے اس روحانیت کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اپنی طرز کی روحانیت ہی ہے۔

 

سوال:عورت اور مرد کے رشتے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کیا مغرب جیسی آزادی فیملی یونٹ کو متاثر کرتی ہے۔ توازن کا راستہ کون سا ہے؟

جواب: ایک تو ہم مغرب سے بڑے خوفزدہ ہیں اور اس کے خلاف شوروغل بھی برپا رہتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ مغرب بھی انسانی اقدار پر اسی طرح عمل پیرا ہے جس طرح ہم بلکہ کئی حوالوں سے وہاں ہم سے بھی بہتر انسانی اقدار ہیں۔ ہم ننانوے فیصد تک مغربی زندگی گزار رہے ہیں، ہمارا لباس ، رہن سہن، ناشتے کا انڈا سلائس سب مغربی ہے‘ ہاں لیکن ان کی اخلاقی اقدار اپنی ہیں۔دوسرا فیملی یونٹ کا نظریہ اب پوری طرح ٹوٹتا جارہا ہے کیونکہ گزرتے وقت کے ساتھ معاشی خوشحالی آپ کے اخلاقی کردار میں بھی تبدیلی لاتی ہے۔ آپ ان اخلاقی اقدار پر قائم نہیں رہ سکتے جن پر آپ پہلے تھے۔ چنانچہ اب آپ غور کریں تو زیادہ تر لوگ شادی کے بعد الگ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، ہرعورت کا سب سے بڑا خواب بھی یہی ہے۔جوائنٹ فیملی سسٹم کی خواہش رکھنے والی عورت آپ کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔میں تو ایسی کسی بہو یا بیٹی سے نہیں ملا ، پہلے ایک ایک گھر میں کئی کئی نسلیں چلتی تھیں اب صورت حال بدل گئی ہے ، میرے گھر کی مثال لے لیں‘ اسے میں نے چھتیس برس پہلے اپنے ہاتھوں سے بنایا ، اب میرے بیٹے نے ڈیفنس میں گھر بنایا اور وہاں شفٹ ہوگیا، سب کچھ عارضی سا ہوگیا ہے ، مستقل مزاجی نہ گھروں میں رہی ہے نہ رشتوں میں ، نہ اخلاق میں۔میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہرپچاس برس کے بعد آپ کا فیشن تبدیل ہوجاتا ہے۔ آپ کے کھانے کے طریقے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ آپ کی اخلاقیات تبدیل ہوجاتی ہیں ، سچ کی تعریف تبدیل ہوجاتی ہے ، حتیٰ کہ مذہبی اطوار تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بہت ساری چیزیں ہیں جن میں میرے سامنے تبدیلی آئی ہیں ، میری والدہ برقعہ پہنتی تھیں جب ان کی تھوڑی زیادہ عمر ہوئی تو انہوں نے چادر لے لی‘ اب یہ نہیں ہے کہ خدا نخواستہ ان کے اخلاق میں کوئی مسئلہ ہوگیا ، یہ صرف وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلی ہے۔ اس کے بعدمیری شادی ہوئی تو میری بیوی برقعہ پہنتی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کیا پسندہے میں برقعہ لے لوں یا چادر لے لوں؟ میں نے کہا جس چیز میں تم خوش رہ سکتی ہووہ کرو‘تم ایک کے بجائے دو برقعے پہن لو تو پھر بھی تم مجھے اتنی ہی عزیز رہوگی۔

 

سوال:اپنی زندگی کے تجربے کی روشنی میں آپ نئی نسل کو رہنمائی کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: میں ارتقا پر یقین رکھتا ہوں اور میرا مانناہے کہ ہماری نئی نسل ذہنی اور جسمانی اعتبار سے ہم سے بہت بہتر ہے، وہ اپنے دل سے فیصلے کرتی ہے اور چیزوں کے بارے میں ہم سے زیادہ آگاہ ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو پیغام دیں کہ بابا جی ایسا کیا کریں اور ایسا ہوتا ہے ، میرے دونوں بیٹے سول سروس میں ہیں اور ان کے پڑھنے کا اندازمجھ سے جدا تھا۔ ہم تو پڑھائی کے وقت ریڈیو کے قریب بھی نہیں جاتے تھے لیکن وہ کانوں پر ہیڈ فون لگا کرساتھ ہی جھومتے بھی تھے اورسوالوں کے جواب بھی نکالتے تھے اور سی ایس پی افسر بھی ہوگئے، اگر میں ان پر اپنا طریقہ مسلط کرتا تو وہ غلط ہوتا اسی طرح آگے ان کے بچے اور زیادہ ایڈوانس ہیں۔ نئی نسل کی جدت پسندی اچھی چیز ہے۔ دوسرے پاکستان کا جو بھی نقصان ہوا وہ ہم بزرگوں اور بابوں نے کیا ہے ،نئی نسل کا تو کوئی ہاتھ ہی نہیں۔ اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ آج کے فن کارہمارے عہد کے فن کاروں سے زیادہ بہتر ہیں، آج میں جب ڈرامے دیکھتا ہوں تو ان کے اسکرپٹس بہت برے ہوتے ہیں لیکن فن کار اپنی اداکاری سے ان کو کمال بنا دیتے ہیں۔ ڈائیلاگ ڈلیوری ، پروڈکشن کوالٹی ہر چیز کمال‘ ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں نئی نسل نے ہم سے کیا سیکھنا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
January

تحریر: حیام قیوم

نام محمد، لقب جلال الدین،عرف مولائے رومؔ ،حسین بلغی پردادا اور والد کا لقب بہاء الدین تھا۔ جواہرمضئیہ میں درج ہے کہ ان کا سلسلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ملتا ہے۔مولانا روم بلخ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی ۔ابن خلکان نے لکھا ہے کہ وہ فقیہہ ،کاتب،مفتی،محدث،حافظ اور ادیب تھے۔


مولانا رومؔ نے شمس تبریز کے ہاتھ بیعت کی۔ شمس تبریز کی جدائی کے بعد باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔انہوں نے اپنے معتقد خاص حسام الدین چلبی کے کہنے پر مثنوی معنوی لکھنا شروع کی۔ مولانا کی تصانیف میں فیہ ما فیہ ( خطوط کا مجموعہ)،دیوان ( پچاس ہزار اشعار، غزلوں کا مجموعہ)، مثنوی میں کشف الظنون کے مطابق کل اشعار کی تعداد 26660 ہے۔


مولانا رومؔ نے شاعری میں عالمِ مادی اور عالمِ روحی کا حسین امتزاج پیش کیا۔درا صل انسان عالمِ نفس اور عالمِ آفاق میں زندگی بسر کرتا ہے۔عالمِ نفس میں کیفیات ہوتی ہیں اور کیفیت میں مکانیت نہیں ہوتی۔عالمِ آفاق میں کمیتیں ہوتی ہیں ۔اسی لئے عالمِ نفس کو بیان کرنے کے لئے مکانیت کی اصطلاح کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔مولانا رومؔ نے مکانیت کی اصطلاح میں جدت کو ترجیح دی اور اسے پرتاثیر بنانے کے لئے تشبیہہہ اور مثالوں کا استعمال کیا۔جیسا کے اس مصرعے میں ہے، یہاں محبت کو آگ سے

تشبیہہہ دی ہے ۔
؂آتشِ عشق است کاندر نے فتاد
مولانا رومؔ کا تصوف نظریاتی نہیں بلکہ عملی ہے۔ وہ دماغ کے بجائے دل کو زیادہ متاثر کرتا ہے ۔ان کی تصانیف میں سب سے زیادہ شہرت مثنوی معنوی نے پائی ،مثنوی معنوی کے متعلق کہا جاتا ہے


مثنوی مولوی معنوی ہست قرآن در زبانِ پہلوی
یعنی مولانا روم ؔ کی مثنوی، فارسی زبان میں قرآن مجید ہے۔
مولانا رومؔ کے مطابق، روحِ انسانی جسم میں داخل ہونے سے قبل روحِ مطلق کا حصہ تھی۔ انسانی پیکر میں آ کر یہ روح جسمانی خوبیوں میں گھِر کر روحانی صفات کھو دیتی ہے او ر ہر وقت اپنے اصل کی جانب لوٹنے کو بے تاب رہتی ہے۔ مولانا کا اہم ترین موضوع عشق حقیقی ہے، ان کے نزدیک انسان،عشق و روحانیت کے مراحل طے کرتے ہوئے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ ان کے ہاں فلسفہ ء وحدت الوجود اور وحدت الشہود دونوں کا تذکرہ موجود ہے وہ رہبانیت کے قائل نہیں۔ وہ فرماتے ہیں زندگی گزارنے کے لئے دل میں عشق کا الاؤ جلانا ضروری ہے ورنہ زندگی بیکار ہے۔ وہ کہتے ہیں ،بانسری میں بظاہر ہوا گردش کرتی ہے لیکن یہ ہوا نہیں بلکہ عشق کی آگ ہے۔


آتش است بانگ ناے و نیست آباد
ہرکہ این آتش ندارد نیست باد


جس روح کے اندر عشق کی آگ کی گرمی نہیں اُس کی ہستی سے نیستی بہتر ہے۔ وہ کہتے ہیں روح کی نےَ سے جو لے نکلتی ہے وہ ہی نالۂ فراق ہے۔روحِ انسانی اپنے مرکز کی طرف لوٹنا چاہتی ہے ۔جب تک وصال نہیں ہوتا تب تک یہ آہ وفغاں کرتی رہے گی۔
جان رِپکا کے مطابق؛ مثنوئ مولانا رومؔ دراصل تصوف کی بائبل ہے۔


وحدت الوجود تصوف کی بنیاد ہے۔ لیکن مولانا رومؔ نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود‘ دونوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کر دیا ہے۔ بانسری کی آہ و فغاں اور مختلف سازوں کا کراہنا در اصل انسانی دُکھ کی آواز ہے ،آہ و بکا ہے ، ایسا درد ہے جو محبوب تک رسائی حاصل کرنے کے لئے بیتاب ہے۔


بشنواز نے چون حکایت می کند
وزجدائی ہا شکایت می کند
کزنیستان تا مرا ببریدہ اند
از نفیرم مردو زن نالیدہ اند
ہر کسے گو دور مانداز اصل خویش
باز جوید روزگار وصل خویش


The sigh of flute, is the sigh of soul
Both are meant for each other's goal
If the soul distant from the Creator
It mutters and moans to become together
It weeps and sobs as separation is fatal
Rejoining is elixir for its survival
As distant and rejoining cannot be equal
Though the feeling of both is adorable

انہوں نے معاشرتی اصلاح کے لئے بھی بہت سے اخلاقی نسخے تحریر کئے۔ مثنوی کا موضوع خدا کے وجود ، کائنات، آخرت، حکمت، فلسفہ، اخلاقیات، فقہ اور شریعت پر مبنی ہے۔ انہوں نے علاقائی زبان استعمال کی اور زیادہ تر حکایات کو ترجیح دی۔ انہوں نے مذہبی اور عقلی مسائل کو بھی خوبصورتی سے بیان کیا۔ مشکل اور پیچیدہ موضوعات کو علامت کے ذریعے پیش کر کے روزمرہ کی تشبیہہات اور تما ثیل سے کام لے کر خوب نبھایا۔تصوف کے باریک نکتے سمجھانے کے لئے قصے اور کہانیاں بھی شاعری میں بیان کی ہیں۔ تشبیہہہ، استعارہ، علامت اور تمثیل کے پہلوؤں کو بیان کرنا نہایت مشکل اور پیچیدہ ہوتا ہے لیکن مولانارومؔ نے اسے عام فہم بنا کر پیش کیا۔
نَے کے دو منہ کو کچھ اسطرح تشبیہہہ دی کہ اس کا ایک منہ لب نَے نواز کے منہ میں ہوتا ہے اور دوسرے منہ سے ہوا نکلتی ہے۔


دو دہان داریم گویا ہمچونے
یک دہان پنہاں نست در لب ہائے دے
یک دہان نالان شدہ سوئے شما
ہائے و ہوئے در فگندہ در سما
لیک داند ہر کہ او را منظر است
کاین فغان این سرے ہمزان سراست
ہائے و ہوئے روح از ہیہائے اوست
بالب دمساز خودگر جفتمے
ہمچو نے من گفتنیہا گفتمے


Two are the ends of soul, flute like
One tied to the Creator, other to the life
Melody of flute is a sigh of heart
Whispering the sorrow of being apart
Far away from the Creator, soul is waiting
Heart in trance, is also bewailing
Soul immerses for the sake of eternity
Creator is the eventual reality


مولانا روؔ م کہتے ہیں کہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق اس طرح ہے جیسے سورج اور سایہ۔گو سایہ کمتر ہے لیکن سورج اُس ذات کے ہونے کی دلیل ہے۔ اگر سورج نہیں ہوگا تو سایہ نہیں ہوگا۔صبح کا ہونا بھی اِس بات کی دلیل ہے کہ سورج نکل آیا ہے۔


آفتاب آمد دلیل آفتاب
گر دلیلت باید از وے رومتاب
ازوے از سایہ نشانے می دہد
شمس ہر دم نور جانے می دہد
سایہ خواب آور ترا ہمچوں سمر
چوں براید شمس انشق القمر
نہ شبنم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
ہمہ آفتاب بینم ہمہ آفتاب گویم
خود غریبے در جہان چون شمس نیست
شمس جان باقیست کو را امس نیست
شمس در خارج اگرچہ نیست فرد
مثلِ او ہم می تو ان تصویر کرد
لیک آن شمسے کہ مستش اثیر
بنورش در ذہن و در خارج نظیر
در تصور ذات او را گنج کو
تا در آ ید در تصور مثل او


Shadow is fraction, whole is the sun
Worthless is the shadow, without the luminous sun
Presence of sunshine is the notion of sun
No pattern exists without the subsistence of sun
Life begins with the light of sun
Sleep is the shadow and the shadow is none 133
Journey begins as the inner self awakens
Today and tomorrow are sun's depictions
Moonlit dims, in the sparkling sun
Moon is vain, in the dazzling sun
Vital is the sun, Strength is the sun
Power is the sun, Worth is the sun
But,
Sun depicts the presence of the glory of the Creator
Sun is the shadow in the kingdom of the Creator
Shadow is fraction, whole is the sun
The whole is real, fraction is none133


مولانا رومؔ کہتے ہیں ،آنکھوں کی بصارت روح کی بدولت ہے،لیکن آنکھیں روح کو نہیں دیکھ سکتیں ۔
تن زجان وجان زتن مستور نیست
لیک کس را دید جاں دستور نیست


ایک جگہ وہ لکھتے ہیں ،روح گھوڑے کی مانند ہے اور اس پر سوار انسان سمجھتا ہے کی اس نے روح کو گم کردیا ہے حالانکہ وہ اس پر سوار ہے۔مولانا رومؔ کہتے ہیں انسان جان اور روح کا مرکب ہے۔لیکن اس کے حسِ مادی کے لب خشک ہیں۔انسان روح کو محسوس نہیں کر سکتا کیونکہ حواس روح کو نہ تو محسوس کر سکتے ہیں اور نہ ہی دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی چھو سکتے ہیں۔دنیا میں ہر چیز کی ضد موجود ہے اور یہی ضد پہچان کا سبب بنتی ہے یعنی اگر اندھیرا نہ ہو تو روشنی کا احساس کیسے ہوتا۔ رنج نہ ہوتا تو خوشی کاادراک بھی نہ ہوتا۔چونکہ خدا کی کوئی ضد نہیں اس لئے اس کا ادراک بھی ناممکن ہے۔


Eyes are useless without vision
Vision is impossible without the soul
Like without the horse, rider cannot ride
Ocean's depth is not known without tide
Riding on the horse while ridding fastly
Thinking may be losing it for lastly
Like vessel filled with water
But top remains drier
Senses cannot sense the presence of soul
Senses cannot sense the Creator as a whole
If there is no dark there is no light at all
If there is no sorrow there is no joy at all
No antonyms exist for the Creator
No senses can subsist the Creator


مولانا رومؔ کہتے ہیں انسان دانائی اور فہم سے کام لے تو دل کے بھید تک پہنچ سکتا ہے۔ جب کسی کے پا ؤں میں کانٹا چبھ جاتا ہے تو وہ اپنا پاؤں گھٹنے پر رکھ لیتا ہے اور کانٹے کا سرا سوئی کی نوک سے تلاش کرنے لگتا ہے۔اگر سرا نہیں ملتا تو اپنی تھوک لگا کر اسے نمایاں کرتا ہے، جب پاؤں سے کانٹا نکالنا اتنا دشوار ہے تو پھر دل کاکانٹا انسان کا کیا حال کرتا ہوگا۔دل کے کانٹے کو اگر ہر کوئی دیکھ سکتا تو لوگ اپنے غموں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی گدھے کی دم کے نیچے کانٹا رکھ دے اور گدھا درد اور سوزش سے دولتیاں مارنا شروع کر دے اور خود کو کئی جگہ سے زخمی کر لے ،دولتی سے کانٹا نہیں نکل سکتا۔ اس کے لئے دانائی کی ضرورت ہوتی ہے، ڈوب جانے کی ضرورت ہوتی ہے، تصوف کا بھید تب ہی کھلتا ہے جب انسان اپنے دل میں جھانکتا ہے۔


چوں کسے را خار در پایش خلد
پائے خود را بر سر ذانو نہد
از سرِ سوزن ہمی جوید سرش
در نیا بدمی کند بالب ترش
خار در پا شد چنیں دشوار یاب
خار در دلِ چوں بود گوئی جواب
خارِ دل را گر بدیدے ہر خسے
کے غمان را دست بودے بر کسے
کس بزیر دمِ خَر خارے نہد
خر نداند دفع آں برمی جہد
خَر ز بہرِ دفعِ خار از سوز و درد
جفتہ می انداخت صد جا زخم کرد


مولانا رومؔ نے قاری کی دلچسپی قائم رکھنے کے لئے جس طرح تماثیل کو استعمال کیا اس کی مثال دنیا کے کسی ادب میں نہیں ملتی۔انہوں نے رازِعشق و درد سمجھنے اور سمجھانے کے لئے دل اور دماغ دونوں سے یکساں کام لیا اور اپنے کلام کو آسان بنا دیا۔ وہ تمام انسانی مسائل اور ان کا حل صرف اور صرف اپنے خالق کے قرب میں تلاش کرتے ہیں۔ اُن کا ایمان ہے کہ ’ نیکوں کا ورثہ میٹھا پانی ہوتا ہے جو اَوْرَثْنَا الْکِتَابْ (قرآنِ حکیم ) ہے۔‘


نیکواں را ہست میراث از خوشاب
آنچہ میراث ست اَورَثنا الکتاب

مضمون نگار معروف صحافی اور شاعرہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
January

قوموں کی زندگی میں ہر لمحہ اور ہر دن ایک نئی اُمید لے کر طلوع ہوتاہے اور زندہ قومیں اپنے ماضی اور حال کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے سفر جاری رکھتی ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کے اب تک کا سفر بھی اتارچڑھاؤ اور چیلنجز سے عبارت ہے، لیکن اس کے باوجود قوم کے پاؤں نہیں لڑکھڑائے بلکہ یہ قوم ثابت قدمی سے ہر قسم کی جارحیت اور مشکلات کے سامنے ڈٹ کر کھڑی دکھائی دی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ آج کا پاکستان ایٹمی قوت کا حامل پاکستان ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس کی افواج پیشہ ورانہ اعتبار سے بہترین افواج ہیں۔ اس کی عوام اپنی دھرتی سے پیار کرنے والی عوام ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی بدولت پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرخرو رہا ہے۔ اس کے نتائج یوں سامنے آ رہے ہیں کہ جون 2014میں آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے اب تک پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات ،جو اس آپریشن سے قبل تواتر سے ہو رہے تھے، نہایت کم ہو گئے ہیں۔ دہشت گردی کے جتنے واقعات 2014 میں ہوئے، اتنے 2015 میں نہیں ہوئے۔ 16دسمبر 2014 میں انسانیت کے دشمنوں نے اے پی ایس کے جن معصوم بچوں پر حملہ کر کے ہماری آئندہ نسلوں کو تعلیم اور شعور سے روکنے کی کوشش کی، وہ بچے 16دسمبر 2015 کو اسی طرح سے اپنی درس گاہ میں علم کی شمع بن کر روشنی پھیلاتے دکھائی دیئے۔ ان بچوں کا عزم جواں ہے، قوم کے ولولے تازہ ہیں اور پوری قوم ایک اُمید نو اور ان دعاؤں کے ساتھ 2016میں داخل ہوئی ہے کہ رواں سال بھی یہ قوم کسی شدت اور سفاکیت کو اپنا راستہ نہیں بنانے دے گی۔


قوم جس طرح سے یکجان ہو کر دہشت گردی کے عفریت سمیت دیگر چیلنجز کے سامنے ڈٹ گئی ہے وہ بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دے رہی ہے کہ وطنِ عزیز پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی ’اندرونی یا بیرونی‘ سازشیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ آج افواج پاکستان دہشت گردوں اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے درپے ہیں۔ جو شدت پسند وزیرستان اور دیگر ایجنسیوں میں جبر کا راج قائم کرنے کے خواہاں تھے، اُن کو وہاں سے نکال باہر کیا گیا ہے اورمذکورہ علاقوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ عارضی طور پر بے گھر ہونے والوں کی اپنے اپنے گھروں کو واپسی شروع ہو چکی ہے، جو یقیناًایک خوش آئند امر ہے۔


ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اب ہماری قومی ترجیح معیشت، تعلیم، صحت اور مساوات کے نظام کی بہتری ہونی چاہئے تاکہ ملک و قوم کا ہر ہر شخص ایک مفید اور باشعور شہری بن کر اُبھرے اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل ہو سکے اور پوری قوم رواداری اور مفاہمت کے ساتھ سفر جاری رکھتے ہوئے اس ملک کی فضاؤں کو خوشبوؤں اور محبتوں سے ہمکنار کر کے دنیا کو بتا دے کہ ہم زندہ قوم ہیں‘ پائندہ قوم ہیں اور وطن کو درپیش کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والی قوم ہیں۔ بلاشبہ کسی بھی قوم کے عزم اور اس میں پائی جانے والی اُمید ہی اسے دیگر اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔ الحمدﷲ پاکستانی قوم اور اس کی افواج نے اپنی کارکردگی کے ذریعے دنیا کو باور کرایا ہے کہ پاکستان ایک ایسی مضبوط اور خودمختار ریاست ہے جو اپنی سالمیت اور تشخص کو یقینی بنانے کے لئے ہر لحظہ اور ہرآن تیارومستعد ہے۔

08
January

تحریر: منیراحمدبلوچ

پٹٹری سے اترے ہوئے معاشروں، قوموں اور کھونٹے سے اکھڑے ہوئے چوپایوں کو پوری طرح سنبھلنے اور ایک بار پھر پوری قوت اور ہمت سے اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہونے کے لئے عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں اور قوموں کی کیفیت تلاطم خیز موجوں سے نبردآزما ہوئی کشتی کی سی ہوتی ہے جسے ساحل تک پہنچنے کے لئے نہ جانے کتنے غوطے کھانے پڑتے ہیں اگر اس کشتی کے مسافر افراتفری اور ہڑبونگ سے کام لینے والے نہ ہوں اور اس کے ملاح ہنر مند ہوں تو وہ اسے گرداب سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن اگر وہ اس کشتی میں خود ہی سوراخ کرنے لگیں اور ملاح بھی کام چوری‘ اکتاہٹ اور تھکاوٹ کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کشتی میں سوراخ کرنے والوں کے ہمدرد بننے لگیں تو پھر کوئی بہت بڑا طوفان نہیں ایک معمولی سی شوخ لہر بھی کشتی اور اس کے مسافروں کونگلنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔


بابا جی نے برسوں کی محنت سے ایک بڑا اور خوبصورت سا گھر بنایا لیکن انہیں اس میں زیا دہ عرصہ رہنا نصیب نہ ہوا اور وہ جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی اولادیں ان میں رہنے لگیں۔ وقت گزرتا رہا گھر کا رنگ و روغن اترنا شروع ہو گیا۔ کچھ دیواروں سے پلستر بھی اترنے لگا لیکن گھر والوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی، ان کے اخراجات تھے کہ دن بدن بڑھتے گئے، کام کی جانب توجہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی، جب جمع پونجی ختم ہونے لگی تو گھر کو بینک میں گروی رکھ کر قرضہ لے لیا لیکن بجائے اسے اپنے کاروبار میں لگانے کے اسے بھی اللّوں تللّوں میں ضائع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ با با جی کی برسوں کی محنت نیلامی کے اشتہاروں میں سب کے سامنے آ گئی۔ وہ گھر جس کی بنیادیں اور دیواریں تو مضبوط تھیں لیکن گھر والوں کی عدم توجہ اور فضول قسم کی عیاشیوں سے اس قدر کمزور ہو گئیں کہ آئے دن اس کی خرید میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیاں دندنانے لگیں۔


عرصہ گزراچینی شہنشاہ نے آئے روز کی بیرونی یلغار سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے فیصلہ کیا کہ چین کے گرد ایک اونچی اور مضبوط دیوار بنا ئی جائے۔ شہنشاہی فیصلہ ہوتے ہی پوری قوم اس کی تعمیر میں جت گئی۔ برسوں کی کٹھن محنت اور بھاری سرمائے سے تعمیر کی جانے والی یہ عظیم اور مشہور زمانہ دیوارِ چین اس قدر مضبوط اور بلند تھی کہ کوئی بھی اس کی تسخیر کا تصوّر بھی نہیں کرتا تھا۔ چاروں جانب مشہور ہو گیا کہ اسے پار کرنا کسی بھی بیرونی دشمن کے لئے نا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ چین کی اس وقت کی شہنشاہیت بھی اپنے اس عجوبے پر مطمئن ہو گئی لیکن اس کے با وجود مختلف وقتوں میں تین سے زائد مرتبہ بیرونی حملہ آور چین کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو ئے۔ یہ بیرونی حملہ آور دیوار چین پھلانگ کر یا اسے گرا کر اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ ہر دفعہ حملہ آور ہونے والی فوجوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس دیوار کے مختلف حصوں پر تعینات چینی پہریداروں کو بھاری رشوت دیتے ہوئے اپنے ساتھ ملایا، جنہوں نے ان کے لئے چپکے سے دروازے کھول دیئے... چین کی اس وقت کی اشرافیہ نے اپنے اردگرد حصار قائم کرنے کے لئے عظیم دیوار تو بنا دی لیکن بدقسمتی سے قوم کے کچھ افراد کا وہ کردار تعمیر نہ کر سکی جو انہیں باور کراتا کہ وطن کی محبت اور عزت کی کبھی بھی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی۔

 

gharkihafazat.jpgاپنے گرد حفاظتی حصار اور اسلحے کے ڈھیروں سے کسی ملک کی حفاظت نہیں ہو تی بلکہ غیرت و حمیت اور مضبوط کردار سے ہوتی ہے۔ چین کی اس وقت کی اشرافیہ کے لوگ بھول گئے کہ ملک کے دفاع کے لئے دیوار چین کی تعمیر کے ساتھ اپنے ملک کے شہریوں کا کردار بھی مضبوط اور بہتر بنانا ضروری تھا۔ وہ حکومتیں تومدت ہوئی کب کی گزر گئیں لیکن چین میں ایک عظیم انقلاب کے ذریعے ماؤزے تنگ اور چو این لائی جیسی قیا دت سامنے آئی تو انہوں نے اپنا کردار سب کے سامنے رکھتے ہوئے چین کے ہر ایک فرد کو پیغام دے دیا کہ اس ملک میں جینے اور رہنے کا ایک ہی رستہ ہے کہ اپنے وطن سے، وطن کے اسباب سے، وطن کے دفاع سے اور وطن کے وقار سے دل کی گہرائیوں تک وفاداری نبھانا ضروری ہے۔


روزمرہ کے اپنے کردار اور گفتار کو بہترین معاشرے کا حصہ بنا دو کیو نکہ اس کے بغیر اس ملک میں رہنے اور جینے کا کوئی فائدہ نہیں اور ایسے لوگ جو ملک قوم اور اس کے وقار کا سودا کرتے ہیں انہیں ’ننگِ دین‘ ’ننگِ وطن‘ کے نام سے صدیوں پکارا جاتا ہے ۔ 1850 میں امریکہ کے صدر ہنری کلے نے کہا تھا کہ مجھے امریکہ کی صدارت نہیں بلکہ صداقت چاہئے یہ امریکی صدر صدارت سے دستبرداری کے لئے تو تیار تھا لیکن سچائی کا دامن چھوڑنا اسے قطعی گوارہ نہیں تھا... اور یہی آج کے پاکستان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔


آج خوش قسمتی سے اﷲ سبحانہ‘ وتعالیٰ نے ہمارے گرد ایک زبردست قسم کی ایٹمی دیوار قائم کی ہوئی ہے جس نے ہم کو اس خوف سے بے فکر کیا ہوا ہے کہ دشمن ہماری جانب قدم بڑھا سکتا ہے لیکن اس ایٹمی دیوار کے ساتھ اگر ہم اپنے اردگرد اپنے معاشرے اور ملک کے مجموعی ماحول اور ذرائع ابلاغ کو سامنے رکھیں تو ہر چیز مصنوعی، کھوکھلی اور بنا وٹی سے لگتی ہے۔ اگر کسی قوم کے نظریے اور اس کی تہذیب و تمدن کو تباہ کرنا ہو تو اس کے لئے تین طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس قوم کے خاندانی نظام کو تباہ کر دو ، اس قوم کے تعلیمی نظام کا حشر نشر کر دو اور اس قوم کے رول ماڈل اور ان کی تعلیمات کو دفنا دو۔ مؤرخ کی کہی ہوئی یہ باتیں سامنے رکھیں اور پھر غور کریں ...کہ آج ہم کتنے فرقوں میں بٹ چکے ہیں اور اس کے لئے ہم اور ہمارے اب تک کے تمام حکمران سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ وقت گواہ ہے کہ ہر حکومت اور سیا سی جماعت نے اپنی مخصوص طرزِ سیاست کو سہارا دینے کے لئے اپنے اپنے ملاؤں کو پالا ہوا ہے اور یہ وہ ملا ہیں جنہوں نے اپنی مربی حکومت کے ذریعے اپنے اپنے اداروں میں داخل ہونے والوں کو تعصب اور مقابل سے نفرت کی آگ میں جلاکر کوئلہ بنا دیا ہے یہ ہلکے سے اشارے پر کسی کو بھی بھسم کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور جن کا استعمال ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔


افسوس کہ کسی نے یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ہمارے مدرسوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبأ و طالبات کو کس قسم کا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کے اساتذہ انہیں اجتماعی اور انفرادی محفلوں میں کس قسم کی تعلیم دے رہے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کے پروفیسر کس قسم کا رجحان لئے ہوئے ہیں۔ ان کے زیر مطالعہ کس قسم کی کتابیں رہتی ہیں۔ نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی صورت حال کے بارے میں ان کا نقطہ نظر کس قسم کا ہے۔ سب نے اس سب سے اہم مسئلے سے آنکھیں ہٹائے رکھیں، جن کے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔


ہمارے ملک کے سکالر، مذہبی رہنما، سائنسدان، وہ سیا سی اور قومی رہنما جو بلا کسی شک و شبہ کے اس ملک کا سرمایہ تھے جن کی صداقت اور دیا نت کی مثالیں دی جا تی تھیں، انہیں اس طرح نظر انداز کر دیا گیا کہ وہ معاشرے میں اپنا مقام ڈھونڈنے کے بجائے وہ معاشرہ ہی ڈھونڈتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے جس کا انہوں نے خواب دیکھ رہا تھا، جس کی ترتیب درست کرنے کے لئے وہ ا س کی تراش خراش میں مصروف رہے۔ ہم جنہیں مفتی بنانے کا سو چ رہے تھے وہ مفتے بن کر کسی نہ کسی چوکھٹ پر بکھر گئے۔ہمارا کوئی رہنما ہی نہ رہا، کوئی آئیڈیل اگر تھا بھی تو اس کے بارے میں جو کچھ منہ میں آیا زور شور سے کہنا شروع کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو گہنا کر رکھ دیا گیااور یہ تو کوئی گورکھ دھندے والی بات ہی نہیں ہے کہ جب خاندان کا تصور مٹ جائے، جب استاد کا مقام اور مرتبہ ایک بھیک منگے اور سوالی کا سا ہو جائے، اور جب اس ملک کی فکری اور نظریاتی بنیادوں کے لیڈران اپنی عزت بچانے کے لئے پناہ گاہوں کی تلاش میں مصروف ہو جائیں تو پھر نئی نسل کیا سیکھے گی؟ اور کس سے سیکھے گی؟ اور پھر جن سے وہ نیا سبق لے گی وہ سبق صداقت کا نہیں ہو گا، شجاعت کا نہیں ہو گا اور نہ ہی عدالت کا ہو گا۔ وہ منافقت کا ہو گا صرف منا فقت کا ... آج ہماری قوم جس طرح ایک نئی کروٹ لے رہی ہے اور چھ ستمبر کی رات جنرل راحیل شریف نے راولپنڈی جی ایچ کیو میں بھارتی آرمی چیف اور نریندر مودی کی دھمکیوں کا جس طریقے سے جواب دیا ہے اس سے ملک اور قوم میں ایک حوصلہ پیدا ہوا ہے اور یہی حوصلہ قوموں کی آبیاری کرتا ہے ۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
January

تحریر: ڈاکٹر ثاقب ریاض

تاریخ عالم کے اوراق اس پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم کے حصول میں مضمر ہے۔ جن قوموں نے حصولِ علم پر توجہ دی اور تعلیم کا فروغ جن کی ترجیح اول رہا‘ ترقی‘ کامیابی اور کامرانی ان قوموں کا مقدر رہا اور جن بدقسمت قوموں نے حصولِ علم کو اہمیت نہ دی‘ اپنی تاریخ کا بیشتر حصہ جنگ وجدل میں گزار دیا‘ جہالت ان کا مقدر بنی اور وہ ذلت و رسوائی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب گئیں۔ بدقسمتی سے ملکِ عزیز پاکستان میں تعلیم کو کبھی وہ اہمیت نہیں دی گئی جو ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونے کے لئے آج کے دور میں ضروری ہے۔ ملک کے سیاسی بام ودر میں تعلیم کا ذکر کم ہی ہوتا ہے۔ حکومتی ترجیحات میں بھی تعلیم کا نمبر بعد میں آتا ہے۔ لیکن گزشتہ عشرے میں اس سماجی معاملے کو قومی سطح پر تسلیم کیا گیا‘ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جس کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں میں داخلہ لینے والے طلباء اور طالبات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری سکولوں میں فیس کم ہونے اور باقی تعلیمی اخراجات نہایت کم ہونے کی وجہ سے عوام کی اکثریت کے لئے تعلیم کا حصول ممکن ہوا ہے سکولوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہونے اور ہزاروں سکولوں کی اپ گریڈیشن کے باعث لاکھوں بچوں کے لئے یہ ممکن ہوا ہے کہ اپنے گاؤں‘ قصبے یا شہر میں سکول‘ کالج کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ گزشتہ دس برسوں میں ہزاروں سکولوں کو اپ گریڈیشن دے کر بہت سے کالجز کو اپ گریڈ کرکے یونیورسٹی بنادیا گیا۔ جس سے اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں بہتری آئی ہے۔ 2004 میں مرکزی سطح پر ہائر ایجوکیشن کمشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور پہلے سے قائم ادارے یونیورسٹی گرانٹس کمشن کو نئے قائم ہونے والے ادارے ایچ ای سی میں ضم کر دیا گیا۔ اس ادارے کو ملک میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے اختیارات میں وسیع اضافہ کردیا گیا۔ کمشن نے ہزاروں طلباء وطالبات کو وظائف دے کر پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لئے بیرونِ ملک بھجوایا جن کی بڑی تعداد واپس آکر ملکی جامعات اور کالجز میں تعلیم دے رہی ہے۔ اس طرح ہائر ایجوکیشن کمشن نے لاکھوں طلباء و طالبات کی مالی معاونت کرکے اندرون ملک اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن بنایا۔ گزشتہ چند سالوں میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات کو لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے جس کی بدولت نوجوان نسل کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے حصولِ تعلیم میں مصروفِ عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا ہے۔ آج کی اس چکا چوند کر دینے والی دنیا میں جدید علوم کا حصول کمپیوٹر ٹیکنالوجی نے انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ کسی بھی موضوع پر صرف ایک کلک کے ذریعے ہزاروں صفحات تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فائبرنیٹ ورکنگ‘ انٹر نیٹ براڈبینڈ کی فراہمی‘ ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے ہزاروں جرنلز تک رسائی جیسے بہت سے اقدامات ہائر ایجوکیشن کمشن کے مرہونِ منت ہیں اور کمشن کے ان اقدامات کے مثبت کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

 

taleemiidaron.jpgاعلیٰ تعلیم کے فروغ میں کوشاں ایک اور قومی ادارہ نیشنل ٹیسٹنگ سروس ہے جس نے یونیورسٹیوں میں داخلے سے لے کر وفاقی اور صوبائی محکموں میں بھرتیوں تک مختلف سطح پر مناسب ترین امیدواروں کے انتخاب کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ سروس ایک عالمی معیار کا ادارہ ہے جو مختلف شعبہ جات کے ٹیسٹ انٹر نیشل سٹینڈرڈ کے مطابق تیار کرتا ہے اور ملکی جامعات میں داخلوں کے سلسلے میں معاونت کرتا ہے۔ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے عساکرِپاکستان کے اداروں نے بھی ایک قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔ پاک فوج کے زیرِانتظام چلنے والا اعلیٰ تعلیم کا ادارہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایک عالمی سطح کا ادارہ بن چکا ہے جس کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ اس ادارے میں ہزاروں طلباء و طالبات عالمی معیار کی جدید ترین تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسی طرح پاک فوج کے زیرِ انتظام چلنے والی جامعہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی دفاعی تعلیم کے حوالے سے دنیا کی ایک اہم اور نمایاں یونیورسٹی بن چکی ہے جہاں پر نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ اوریورپی ممالک سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے فوجی افسران دفاعی امور کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا شعبہ گورنمنٹ اینڈ پبلک پالیسی پاکستان کے سول شہریوں کو حکومتی معاملات چلانے اور پالیسیاں بنانے کے حوالے سے ماسٹرز اور ایم فل سطح پر تعلیم کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام چلنے والی بحریہ یونیورسٹی ملک میں اعلیٰ تعلیم کی معیاری درسگاہ بن چکی ہے۔ اسی طرح پاک فضائیہ نے ملک کے مختلف شہروں میں فضائیہ کالج قائم کر رکھے ہیں۔ جہاں ہزاروں طلباء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ ایئر یونیورسٹی کا قیام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں جدید ترین تعلیم کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ ثابت ہوتاہے کہ عساکرِ پاکستان کے اداروں نے ملک میں جدید فنی تعلیم کے فروغ میں ایک نمایاں اور قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔ ان اداروں کے معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء وطالبات نہ صرف دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ دنیا کے اعلیٰ ترین اداروں میں خدمات بھی سرانجام دے رہے ہیں۔


مملکتِ خداداد پاکستان کا ایک اور قومی تعلیمی ادارہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہے جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ہے لیکن اس کے علاقائی کیمپسز اور دفاتر کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلاہوا ہے۔ یہ یونیورسٹی ملک کے طول و عرض میں میٹرک سے لے کرپی ایچ ڈی کی سطح تک کے پروگرام اور کورسز پیش کررہی ہے اور اس میں داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ طلباء کی تعداد کے لحاظ سے یہ دنیا کی میگا یونیورسٹیوں میں شامل ہے جو کہ ایک عالمی اعزاز ہے۔ یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ملک کے معروف ماہرِ تعلیم‘ مصنف‘ ادیب‘ صحافی اور دانشور ڈاکٹر شاہد صدیقی ہیں جن کی قیادت میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بعض بڑے سنگ میل رکھے ہیں اور بڑے اہداف کا حصول ممکن ہوا ہے۔ حال ہی میں اس یونیورسٹی نے ملک بھر کی جیلوں میں بند قیدیوں کے لئے فری ایجوکیشن کا اعلان کیا ہے جس کا فائدہ ہزاروں قیدیوں کو پہنچے گا اور وہ تعلیم یافتہ شہری بن کر معاشرے کے مفید رکن ثابت ہوں گے۔ اسی طرح یونیورسٹی نے حال ہی میں نابینا افراد کو اُن کی ضرورت کے مطابق جدید تعلیم کی فراہمی کے لئے ایسسبیلیٹی سینٹر قائم کیا ہے جس سے معاشرے کے نابینا افراد جدید کمپیوٹرز پر تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ یونیورسٹی نے قومی سطح پر سیمینارز اور کانفرنسز کا ایک سلسلہ شروع کررکھا ہے جو ملک میں تحقیق و تدریس کی روایات کو مستحکم خطوط پر استوار کررہا ہے۔ ان تقریبات میں ملک بھر سے ماہرین تعلیم کو بلایا جاتا ہے اور ان کی تحقیق سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ سینئر صحافیوں اور اہلِ قلم کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں پروگرام ’ملاقات‘ میں مدعو کیا جاتا ہے جہاں پر طلباء و طالبات اور اساتذہ کی بڑی تعداد شریک ہو کر ملک کی نامور شخصیات سے ملاقات اور تبادلۂ خیالات کرتی ہے۔


بلاشبہ سرکاری شعبے میں قائم تعلیمی ادارے ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی کی تعلیمی ضروریات کے پیشِ نظر سرکاری شعبہ یہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ فروغ تعلیم کا ہدف اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ پرائیویٹ سیکٹر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا نہ کرے۔ بڑی حد تک پرائیویٹ سیکٹر نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ہزاروں کی تعداد میں قائم سکول اور کالج علم کی شمع جلانے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ان نجی تعلیمی اداروں نے ملک سے جہالت کے اندھیرے دُور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وطنِِ عزیز کے بہت سے نجی تعلیمی ادارے فروغِ تعلیم کے سلسلے میں حکومتی اداروں کے شانہ بشانہ رہے اور ان سے فارغ التحصیل ہونے والے لاکھوں نوجوان نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی محکموں کے علاوہ پرائیویٹ اداروں میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں لوگ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل ہیں۔ لہٰذا ان اداروں کا کردار اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ تابناک نہیں بلکہ یہ رُخ انتہائی پراگندہ اور تکلیف دہ ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں کمرشلائزیشن کے رجحان نے معاشرے میں شدید انتشار پیداکردیا ہے۔ اُردومیڈیم اور انگلش میڈیم سکولوں کے رجحان نے طبقاتی کشمکش کو جنم دیا ہے جو بڑھتے بڑھتے پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔ افراط و تفریط کے اس رجحان نے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا کردیئے۔ انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھنے والے اشرافیہ کے بچے ہر شعبہ زندگی میں آگے نکلنے لگے اور اُردو میڈیم اور ٹاٹ سکولوں میں پڑھنے والے غریب بچے نظر انداز ہونا شروع ہوگئے۔ یوں اُردو میڈیم اور انگلش میڈیم سکولوں کی تفریق نے معاشرے میں بڑے مسائل پیدا کردیئے۔ معاشرے کے بہت سے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی اپنے بچے انگریزی میڈیم سکولوں میں داخل کرادیئے جس سے پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر حکومتی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں میں انگریزی مضمون کو لازمی حیثیت دے دی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں انگریزی مضمون کے اساتذہ تعینات کر دیئے گئے۔


وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں میں کمرشلائزیشن کی وباء بڑھتی گئی۔ چھوٹے بڑے سکول بن گئے اور پھر بڑے سکولوں نے ملک بھر میں اپنی شاخیں کھول کر تعلیمی شعبے میں تسلط قائم کرنا شروع کردیا۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے سکول میں داخل کرائے۔ پرائیویٹ سکولوں نے لوگوں کی اس خواہش کے پیشِ نظر اپنے سکولوں کی بہت سی شاخیں کھول لیں اور فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کردیا۔ بڑے شہروں میں قائم بڑے اور معروف پرائیویٹ سکول ہر سال فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کردیتے ہیں جس کا براہِ راست اثر والدین پر پڑتا ہے۔ سکول فیس کے علاوہ تعلیمی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ کتابوں‘ کاپیوں‘ سٹیشنری کے اخراجات اور پک اینڈ ڈراپ کے اخراجات شامل کئے جائیں تو یہ فہرست ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ایسالگتا ہے یہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کسی قاعدے اور قانون کے پابند نہیں‘ ان کے اوپر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ یہ اپنی مرضی سے جب چاہیں فیسوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔ ان سکولوں میں آکسفورڈ سلیبس کی انتہائی مہنگی کتب پڑھائی جاتی ہیں جس سے تعلیمی اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔2015 کا تعلیمی سیشن شروع ہوتے ہی بڑے شہروں میں قائم معروف تعلیمی اداروں نے اپنی فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کردیا۔ مزید برآں سکیورٹی چارجز کے نام پر والدین سے اضافی رقم کا مطالبہ کردیا گیا۔ اس صورت حال پر ملک بھر میں احتجاج ہوا‘ معاملات میڈیا سے ہوتے ہوئے حکومتی ایوانوں تک پہنچے لیکن حاصل کچھ بھی نہ ہوا۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر بھاری بھر کم فیسیں دینے پر مجبور ہیں۔ بات فیسوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اضافی اخراجات کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ والدین کے لئے مزید پریشانی کا سبب ہے۔ آئے روز نئے نئے بہانوں سے والدین سے رقوم کی وصولی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بڑے پرائیویٹ سکول اب ایک طرح کی ایمپائر بن چکے ہیں جو ملک بھر میں اجارہ داری قائم کر چکے ہیں۔ ان کے مقابلے میں چھوٹے پرائیویٹ سکول بند ہونے پر مجبور ہیں۔ یہ بڑے پرائیویٹ سکول بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والی نسل پاکستان کی نظریاتی اساس کے بارے میں کتنا علم رکھتی ہے اور مشاہیر اسلام کے بارے میں کتنی آگاہی رکھتی ہے، ان سوالوں کا جواب کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے۔مکمل طور پر مغربی نظامِ تعلیم کے مطابق پروان چڑھنے والی نسل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی‘ ثقافتی اور معاشرتی اقدار کا تحفظ کس طرح سے کر پائے گی؟ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ آخر ہم کس سمت جارہے ہیں۔ اپنی مشرقی روایات اور اقدار سے لاتعلق رہ کر ہم کون سا مقصد اور مشن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ غیرملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے سکولوں اورکالجوں کے نصاب سے اسلام‘ تاریخ اسلام اور نظریہ پاکستان کے اسباق کو نکال کر ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی تعلیم اور سیکنڈری تعلیم، بشمول او لیول اور اے لیول، پر صرف چند ایک بڑے پرائیویٹ سکولوں کا قبضہ ہو چکا ہے اور اُن بڑے گروپوں کا مقصد پیسہ کمانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بھاری بھر کم فیس لینے کے باوجود طلباء کو مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں‘ اساتذہ کو اچھے معاوضے نہیں دیئے جاتے‘ کھیلوں اور دیگر غیرنصابی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔ البتہ آئے روز حیلوں بہانوں سے والدین سے پیسے بٹورلئے جاتے ہیں اور جلد ہی اس سکول کی نئی برانچ کھل جاتی ہے جہاں مزید بچے داخل کرکے مزید کمائی کا دورازہ کھول دیا جاتا ہے۔ بعض بڑے پرائیویٹ سکولوں کی برانچز کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔


اب آتے ہیں ملک میں اعلیٰ تعلیم کی طرف جہاں ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے لئے سرکاری سطح پر102 جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں74 یونیورسٹیاں قائم ہیں جنہیں ہائر ایجوکیشن کمشن نے باقاعدہ طورپر تسلیم کررکھا ہے۔ 20 کروڑ آبادی والے ملک میں سرکاری شعبے میں کام کرنے والی جامعات انتہائی ناکافی ہیں۔ اس کمی کو پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے پورا کیا ہے۔ آج سے 20 سال پہلے کسی یونیورسٹی میں داخلہ بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا لیکن اب ہر نوجوان کسی نہ کسی سرکاری یا پرائیویٹ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتا ہے۔ اس وقت بہت بڑی تعداد میں نوجوان نجی شعبے کی جامعات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ بلاشبہ نجی شعبے کی جامعات نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ کیا ہے اور ان میں سے بعض یونیورسٹیاں عالمی معیار کی جامعات میں شامل کی جاتی ہیں لیکن مجموعی طور پر صورت حال کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں۔


پرائیویٹ یونیورسٹیاں کمرشلائزیشن کے راستے پر گامزن ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا رہ گیا ہے۔ بڑے بڑے تجارتی گروپوں نے صابن اور سیمنٹ کے کارخانے بند کرکے یونیورسٹیاں کھول لی ہیں۔ سرمایہ کار اور صنعتکار اب اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں داخل ہو کر ڈگریاں بانٹ رہے ہیں۔ آخر ان کو یہ حق کس نے دیا؟ بظاہر تو پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہائر ایجوکیشن کمشن کی منظوری سے ان کے قواعد و ضوابط کی پابند ہیں لیکن عملاً وہ اپنے سارے فیصلے خود کرتے ہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالک صنعتکار اور سرمایہ دار ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کی ڈگریوں کی قیمت کیا ہے۔ سرمائے کے بل بوتے پر وہ عالیشان عمارات تعمیرات کرکے اور قیمتی قالین اور فرنیچر رکھ کر طلباء و طالبات کو داخلہ لینے پر مائل کرتے ہیں پھر اپنی مرضی کی فیس لیتے ہیں اور اپنی صنعتوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔ کاروباری لوگوں کی بنائی ہوئی یہ یونیورسٹیاں ملک کے طول و عرض میں قائم ہیں اور بھاری بھر کم فیسیں لے کر طلباء و طالبات کی بڑی تعداد کو داخلہ دے دیا جاتا ہے۔ کمرشلائیزیشن کا یہ عالم ہے کہ بعض یونیورسٹیوں نے مارکیٹوں اور پلازوں میں بھی کیمپس قائم کر رکھے ہیں۔ اور صرف فیس کی رقم لے کر ڈگریاں بانٹی جارہی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمشن نے نجی یونیورسٹیوں کے لئے جو اصول وضوابط مقرر کررکھے ہیں ان پر بہت کم عملدرآمد ہوتا ہے۔ زیادہ تر پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کے لئے میرٹ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ داخلہ لینے کے خواہشمند ہر نوجوان کو داخلہ دے دیا جاتا ہے چاہے اس نے تھرڈ ڈویژن ہی حاصل کر رکھی ہو۔ بعض اوقات تو بی اے اور بی ایس سی میں فیل ہونے والے کو بھی مشروط طور پر ایم اے‘ ایم ایس سی میں داخلہ دے دیا جاتاہے۔


کاروباری سوچ کے حامل سرمایہ داروں اور صنعتکاروں نے تعلیم کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے اور ان کے نزدیک ان کی پرائیویٹ یونیورسٹی پیسہ کمانے کا ویسا ذریعہ ہے جیسا کہ ان کے کارخانے اور یہ لوگ یونیورسٹی بھی کارخانے کی طرز پر چلارہے ہیں۔ کمرشلائزیشن کی اس دوڑ میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں بے وقعت ہو کر رہ گئی ہیں۔ بعض پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام شروع کرکے ہزاروں کی تعداد میں داخلے کر لئے ہیں جب یہ نوجوان اعلیٰ ترین ڈگریاں لے کر ملازمت حاصل نہ کرسکیں گے تو اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہوگا۔


تعلیم کے نام پر کمرشل ازم پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ بڑی تعداد میں انجینئرنگ یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالج پرائیویٹ سیکٹر میں کھل چکے ہیں۔ ان میں سے بعض پرائیویٹ میڈیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں بہت اچھی تعلیم دے رہی ہیں لیکن بہت سے ادارے ایسے بھی ہیں جن کا مقصد لوٹ مار کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کسی زمانے میں میڈیکل کالج میں داخلہ بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا لیکن اب کوئی بھی نوجوان خواہ اس نے تھرڈ ڈویژن لے رکھی ہو پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخلہ لے سکتا ہے۔ پیسے کے بل بوتے پر ڈاکٹر بننے والے لوگ ملک و قوم کی کیا خدمت کریں گے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا فرض بنتا ہے کہ وہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے لئے داخلے کا معیار مقرر کریں اور ان کی فیسوں کو مناسب حد تک کم کریں۔


دوسری طرف ہائر ایجوکیشن کمشن پر اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے بہت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹیوں نے تعلیم کے نام پر لوٹ مارکا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے اس کو روکا جائے۔ ان جامعات میں داخلے کے لئے میرٹ کو یقینی بنایا جائے اورتھرڈ ڈویژن والوں کو داخلہ نہ دیا جائے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے امتحانی نظام کو مربوط بنایا جائے تاکہ ڈگریوں کی تقسیم کا سلسلہ ختم ہو۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے داخلوں کو محدود کیا جائے اور تعلیمی اسناد کو بے وقعت ہونے سے بچایا جائے۔ مارکیٹوں اور پلازوں میں قائم ہونے والی غیر معیاری یونیورسٹیوں کو بند کیا جائے۔ نجی شعبے میں کام کرنے والی یونیورسیٹی کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے طلباء وطالبات کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کریں‘ بہترین لائبریریاں اور لیبارٹریاں قائم کریں جہاں طلبا تعلیم اور تربیت حاصل کریں۔ غیر نصابی سرگرمیوں پر توجہ دی جائے اور کھیلوں کے لئے جگہ مختص کی جائے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور عالمی معیار کے مطابق تحقیقی مقالہ جات لکھوائے جائیں۔ ان مقالہ جات کی ایوالویشن ترقی یافتہ ممالک کے پروفیسروں سے کرائی جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمشن کو چاہئے کہ ملک میں تحقیق کے کلچر کو پروان چڑھایاجائے اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں ریسرچ کے عمل کی نگرانی کی جائے۔ فیسوں کے معاملات کی نگرانی کی جائے اور سالانہ فیسوں کی بالائی حد مقرر کردی جائے۔ افسوس کا مقام ہے کہ دنیا کی ٹاپ500 یونیورسٹیوں میں ہمارے ملک کی کسی بڑی یونیورسٹی کا نام نظر نہیں آتا۔ اس صورت حال کو تبدیل ہونا چاہئے۔ کمرشلائزیشن کے منہ زور گھوڑے کو لگام دی جائے اور تعلیم کے فروغ کو اس کی صحیح روح کے مطابق پروان چڑھایا جائے۔ سرمایہ داروں کو یہ باور کرایا جائے کہ تعلیمی ادارے کو اپنے کارخانوں سے الگ سمجھیں اور تعلیمی اداروں کو صرف تعلیم پھیلانے کے ادارے تک ہی محدود رکھیں۔
توقع ہے کہ ایچ ای سی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے کمرشلائزیشن کے اس سیلاب کے آگے بندباندھے گا اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو اس بات کا پابند کرے گا کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنا صحیح کردار اداکریں۔

مضمون نگار ایک قومی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور عالمی معیار کے مطابق تحقیقی مقالہ جات لکھوائے جائیں۔ ان مقالہ جات کی ایوالویشن ترقی یافتہ ممالک کے پروفیسروں سے کرائی جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمشن کو چاہئے کہ ملک میں تحقیق کے کلچر کو پروان چڑھایاجائے اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں ریسرچ کے عمل کی نگرانی کی جائے۔ فیسوں کے معاملات کی نگرانی کی جائے اور سالانہ فیسوں کی بالائی حد مقرر کردی جائے۔

*****

بڑے پرائیویٹ سکول اب ایک طرح کی ایمپائر بن چکے ہیں جو ملک بھر میں اجارہ داری قائم کر چکے ہیں۔ ان کے مقابلے میں چھوٹے پرائیویٹ سکول بند ہونے پر مجبور ہیں۔ یہ بڑے پرائیویٹ سکول بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والی نسل پاکستان کی نظریاتی اساس کے بارے میں کتنا علم رکھتی ہے اور مشاہیر اسلام کے بارے میں کتنی آگاہی رکھتی ہے، ان سوالوں کا جواب کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے۔

*****

 
08
January

تحریر: فرخنداقبال

’’جب ہم تہذیب کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟ تہذیب ایک تمدّنی جوہر ہے ۔ دیہات، خطّے، نسلی گروہ، قومیّتیں، مذہبی گروہ یہ سب اپنے اندر مختلف نوعیّت کی ثقافتوں کی آماجگاہیں ہوتی ہیں۔ جنوبی اٹلی کے ایک گاؤں کی ثقافت شمالی اٹلی کے کسی گاؤں کی ثقافت سے مختلف ہو سکتی ہے لیکن یہ دونوں اٹلی کی مشترکہ ثقافت میں بہت ساری مشابہتوں کی حامل ہوتی ہیں جو انہیں جرمنی کے کسی گاؤں سے مختلف بناتی ہیں۔اسی طرح یورپی معاشرے اپنے اندر بہت ساری یکساں ثقافتی قدریں رکھتے ہیں جس کی بناء پر یہ معاشرے عرب یا چینی معاشروں سے مختلف قرار پاتے ہیں۔ لیکن یہ عرب، چینی یا مغربی معاشرے آگے چل کر مزید کسی وسیع تر ثقافتی دائرے کا حصّہ نہیں بنتے بلکہ یہ بذات خود ایک تہذیب کو تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب تک آکر انسانی گروپنگ کا عمل رُک جاتا ہے کیونکہ یہ تاریخ، زبان، مذہب، روایات،اداروں اور انسان کی ذیلی سطح پر خود وابستگی جیسے عناصر کواپنے اندر سمو لیتی ہے۔(بعض ماہرینِ سماجیات کے خیال میں اگر ہم تہذیب سے صرف ایک قدم آگے چلے جائیں تو ہم ہیومینیٹی کے دائرے میں پاؤں رکھ دیتے ہیں، لیکن ہم یہاں شناخت کی بات کر رہے ہیں اور یہ شناخت ہیومینیٹی ہی کے دائرے کے اندر کار فرما ہے) یہی وجہ ہے کہ تہذیب اعلیٰ ترین سطح پر ایک انسانی گروہ کو دوسرے انسانی گروہ سے مختلف بنا دیتی ہے۔ اب ہر انسان کی اپنی شناخت کے مختلف لیول ہوتے ہیں ، مثال کے طور پر روم کا ایک باشندہ اپنا تعارف ایک رومن شہری۔۔ایک اطالوی۔۔ ایک کیتھولک۔۔ ایک عیسائی۔۔ایک یورپی۔ یا ایک مغربی باشندے کے طور پر کر سکتا ہے یعنی وہ ایسا کرتے ہوئے اپنی انتہائی ابتدائی سطح کی شناخت سے لے کر انتہائی آخری سطح کی شناخت تک جا سکتا ہے۔‘‘ ( سیموئیل پی۔ ہنٹنگٹن)
’’تہذیبی شناخت کی اہمیّت مستقبل میں بہت بڑھ جائے گی اورسات یا آٹھ بڑی تہذیبوں کے درمیان باہمی عمل دنیا میں بڑی تبدیلیاں لائے گا۔اس میں مغربی، کنفیوشس (چینی)،جاپانی، اسلامی، ہندو، سلیوک آرتھو ڈاکس، لاطینی امریکی اور غالباً افریقی تہذیبیں شامل ہیں۔ مستقبل کے انتہائی اہم تنازعات ان تہذیبوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دینے والی فالٹ لائنز پر پیدا ہوں گے۔‘‘


( سیموئیل پی۔ ہنٹنگٹن)
امریکی پولیٹیکل سائنٹسٹ سیموئیل پی۔ہنٹنگٹن کی تھیوری ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ شاید سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سیاسی حلقوں، بین الاقوامی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور تعلیمی اداروں میں بکثرت زیر بحث رہنے والا موضوع ہے جس نے دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں نصاب کا درجہ حاصل کیا ہے۔بعض سیاسی ماہرین کے مطابق یہ موجودہ دور کے علم سیاسیات کا وہ متنازعہ ترین نظریہ ہے جس سے لاکھ اختلاف کے باوجود مفر ممکن نہیں۔ یہ حقیقت اس سے بھی آشکارا ہوتی ہے کہ جب بھی بین الاقوامی سیاست میں کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو سیاسی مبصرین کے درمیان یہ ایک ہاٹ ٹاپک بن جاتا ہے۔ایسا ہی کچھ ماہ نومبر میں پیش آنے والے واقعات کے بعد ہو رہا ہے۔زیر نظر تحریر میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ یہ تھیوری بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں کہاں پلیس ہوتی ہے؟
امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے کے بعد طاقت کا توازن بگڑنے کے باعث دنیا تیزی کے ساتھ تبدیل ہونے لگی۔9/11 کے بعد امریکہ نے جب مغربی ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تو بین الاقوامی سیاست میں نت نئے تنازعات نے جنم لیا اور نئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔2001 میں جب سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان پر امریکہ اور نیٹو ممالک کے حملے کو نئی صلیبی جنگ کا نام دیا اور اس کے بعد 2003 میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو جواز بنا کر عراق پر چڑھائی کردی تو اس وقت ہی یہ سوچ پروان چڑھنے لگی تھی کہ روس کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف اسلامی دنیا ہے۔اسی امریکی حملے نے آگے چل کر پوری دنیا کا نقشہ بدلنا تھا۔ اس حملے کے بعد افغانستان میں لڑنے والے غیر ملکی ’’جہادیوں‘‘ کی بڑی تعداد نے عراق کا رُخ کیا جبکہ دوسرے خطوں میں لڑنے والے جنگجو بھی عراق میں جمع ہوگئے۔ اس جنگ کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور امریکہ بھی زیادہ دیر تک یہاں ٹک نہیں سکا اور عبوری حکومتوں کے بعداسلامک دعویٰ پارٹی کے سیکرٹری جنرل نوری المالکی کے ہاتھوں میں اقتدار تھما کر وہاں سے اپنی فوجیں نکال لیں۔ یہ حکومت اس اہل نہیں تھی کی ملک میں جاری شورش کا خاتمہ کرتی۔اس دوران ’’عرب بہار‘‘ کی ہوا چلی اور خطّے کے دوسرے ممالک بھی اپنے اپنے مرکزی اقتدار سے محروم ہوگئے جس سے ہر طرف ایک انارکی پھیل گئی اور یوں یہ خطّہ عالمی طاقتوں کے لئے ایک ’’سینڈوچ‘‘ بن گیا۔ تیل و گیس اور دوسرے قدرتی ذخائر سے مالا مال اس خطّے میں اب اگرایک طرف عالمی طاقتیں کھل کر اپنے مفادات کا کھیل کھیلنے لگیں تو دوسری جانب یہ خطّہ دہشت گرد عناصر کا بھی گڑھ بن گیا جہاں داعش جیسی تنظیم نے جنم لیا جس کی طاقت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔نومبر کے پہلے عشرے میں مصر میں ایک روسی طیارے کے گر کر تباہ ہوجانے کے واقعے نے جس میں سوار 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اور اس کے بعد ماہ نومبر ہی کی 13 تاریخ کو اسی گروپ کے جنگجوؤں کا فرانس کے دارالحکومت پیرس کے چھ مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کرنے جن میں 130 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ، ایک بار پھر 20 ویں صدی کے آخری عشرے میں منظر عام پر آنے والی سیموئیل پی- ہنٹنگٹن کی تھیوری ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کو موضوع بحث بنا دیا۔ ان دو واقعات پر مغربی دنیا کی جانب سے شدید ردّ عمل دیکھنے میں آیا۔اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل میں پیرس حملوں پر شدید غم و غصّے کا اظہار کیا گیا اور داعش کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے لئے ایک قرار داد منظور کی گئی۔مغربی ممالک کے رہنماؤں اور عوام نے فرانس کے ساتھ خیر سگالی اور غمگساری کے جذبات کا اظہار کیا، اسی طرح کے مناظر جنوری میں پیرس میں چارلی ہیبڈو میگزین پر ہونے والے حملے کے بعدبھی دیکھنے میں آئے تھے۔ اس اثناء میں جب عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے پیرس حملوں کو تیسری عالمی جنگ کا آغاز قراردے دیا تو مسلم دنیا میں شدّت سے یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ پیرس حملوں سے صرف ایک روز قبل بیروت میں ہونے والے دھماکوں جن میں 43 افراد ہلاک اور ڈھائی سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے ،پر اتنا شدید ردّعمل دیکھنے میں کیوں نہیں آیا؟اس سے صرف ایک ماہ قبل ترکی میں ہونے والے دو بم دھماکوں پر جن میں دو سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ، مغرب نے اتنا واویلا کیوں نہیں مچایا؟ اس کے علاوہ فلسطین ، عراق، لیبیا، شام، مصر، یمن ،کشمیر اور افغانستان میں کئی برسوں سے جاری بے گناہ مسلمانوں کے قتل و غارت پر مغرب نے چپ کیوں سادھی ہوئی ہے؟ یہیں سے پرانی بحث نئی پیرایوں میں شروع ہو گئی۔


اب ایک بار پھر ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کے نظریے پر یقین رکھنے والے سیاسی مبصرین سلسلہ در سلسلہ ہونے والے یہ واقعات اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم کی جانب پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ان کے مطابق دنیا اس زمانے کی دو بڑی تہذیبوں اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ اس کی مثال میں مسلمانوں کے دورِ عروج کے دوران 11ویں صدی سے لے کر 15ویں صدی تک مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہونے والی صلیبی جنگوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں مغرب اسلام کو دنیا پر اپنی حاکمیّت برقرار رکھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ وہ مغرب میں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات کا خصوصی طور سے ذکر کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں مغربی ممالک میں آج کل اسلام مخالف پراپیگنڈا زور پکڑ رہا ہے۔ جنوری کے مہینے میں فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کا اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے خاکے شائع کرنا اور حال ہی میں امریکہ کے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بن کارسن کا یہ بیان کہ ’’کسی مسلمان کو امریکہ کا صدر نہیں بننا چاہئے‘‘اس کی تازہ مثالیں ہیں۔اس گروہ کے مبصرین اپنے دفاع میں نظریہ ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کے خالق سیموئیل پی۔ ہنٹنگٹن کی اسی پیش گوئی کا سہارا لے رہے ہیں جس کے مطابق اس تصادم میں چینی اور روسی تہذیبوں کا جھکاؤ مغرب مخالف فریق کی جانب ہوگا، اگر دیکھا جائے تو دنیا کے موجودہ بدلتے ہوئے منظرنامے میں ان کا جھکاؤ واضح طور پر پاکستان، ایران جو کہ اس زمانے کی طاقتور اسلامی ریاستیں ہیں کی جانب ہے اگرچہ پاکستان کو فی الوقت مغربی ممالک کا ایک اچھا دوست ہی سمجھا جا رہا ہے لیکن اس حلقے کے مطابق عالمی سیاست میں بڑھتے ہوئے چین او ر روس کے کردار کے باعث مستقبل قریب میں پاکستان کا شمار بھی مغرب مخالف بلاک میں ہوگا۔ دوسری جانب اس تھیوری کا ابطال کرنے والے وہ سیاسی مبصرین ہیں جو ’’تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کے نظریے کو عملی شکل میں ڈھلتے ہوئے نہیں دیکھ رہے۔ وہ اپنے دفاع میں مغرب کا مشرق وسطیٰ بالخصوص شامی تنازعے سے فرار اختیار کرنے والے تارکین وطن، جو کہ مذہب کے لحاظ سے مسلمان ہیں ،کو اپنے ہاں پناہ دینے کی مثال پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا میں اگر جاری جنگ و جدل کا تعلق اسلام اور مغرب کے درمیان ٹکراؤ، دوسرے لفظوں میں تصادم سے ہے تو پھر مغرب کیوں ان تارکین وطن کو اپنے ہاں ٹھہرا رہا ہے جبکہ خود مسلمان ملکوں کا اس لحاظ سے کردارکچھ زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ان کی رائے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اس وقت عالم اسلام کے تمام ممالک بھی آپس میں خوشگوار تعلقات نہیں رکھتے بلکہ کئی اہم معاملات میں کچھ اہم اسلامی ممالک ایک دوسرے کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں ہاتھ دئیے کھڑے نظر آتے ہیں۔یہی مکتب فکر یہاں ایک دوسری مثال کا بھی سہارا لیتا ہے۔ ان کے مطابق اگر تہذیبوں کے درمیان تصادم حقیقی ہے تو پھر کیوں ایسا ہے کہ مغرب اور کئی اسلامی ممالک آپس میں قریبی سیاسی، سفارتی، معاشی، تجارتی اور امدادی تعلقات رکھتے ہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ سیموئیل پی۔ ہنٹنگٹن کی بیان کردہ فالٹ لائن کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار نہیں کر لیتے؟


دیکھا جائے تو دونوں ہی گروہ اپنے حق میں مضبوط دلائل پیش کر رہے ہیں لیکن اگر ہم بنظر غائر یہ جائزہ لیں کہ موجودہ عالمی سیاست کا نظام کن بنیادوں پر استوار ہے تو ہمیں فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔دراصل حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بین الاقوامی سیاست پہ چل رہی ہے اور یہ تھیوری صرف اپنے مفاد کو پوجتی ہے۔مذہب، اخلاقیات، انسانی قدریں، یا سیموئیل پی۔ہنٹنگٹن کی زبان میں تہذیب کہہ لیں، یہ سب یہاں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔یہاں ہر ملک اپنے مفادات کے تابع ہے ، یہاں کی خارجہ پالیسی میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دشمن۔ اس تھیوری کی نمائندگی کرنے والے ایک سیاسی مفکر تھامس ہابزنے کہا تھا کہ ’’انسان فطری طور پر خود غرض ہے۔‘‘ یہ اس کی سرشت میں شامل ہے کہ یہ طاقت کے حصول کے پیچھے بھاگے گا۔ لہٰذا ہم کہ سکتے ہیں کہ اس وقت سبھی ممالک اپنی پالیسیاں صرف اور صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر بنا رہے ہیں جس میں اگر کوئی مقصد ہے تو صرف اور صرف طاقت کا حصول اور اپنا مفاد، باقی کچھ نہیں۔

مضمون نگار ایک معروف صحافی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
07
January

تحریر: حمید اختر یو ایس اے

سان برنارڈینو (امریکہ) میں حالیہ پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کے پس منظر میں لکھی جانے والی ایک تحریر

سکینہ نے دروازے کے برابر میں عمودی کھڑکی پر لٹکے پردے کو تھوڑا سا ہٹا کر دیکھا تو باہر گہری دھند کی دبیز چادر میں لپٹی ہر شے اُسے دُھندلی دُھندلی دکھائی دی۔ رات سے جاری بارش کے باعث سڑک پر جگہ جگہ پانی کھڑا تھا۔ اس دھندلائے منظر میں کچھ فاصلے پر بجلی کے کھمبے ٹمٹماتی زرد روشنی کے ہالے کے گرد بارش کے قطرے چھوٹے چھوٹے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی سڑک پر کھڑے پانی کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔


سکینہ نے فوراً پردہ نیچے گرا دیا۔ اُس نے بستر پر رکھے اپنے سیاہ بیگ کا، جسے اُس نے رات کو ہی تیار کرلیا تھا، ایک بار پھر جائزہ لیا۔ سورج طلوع ہونے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے۔ لیکن اُس کی منزل کافی دور تھی لہٰذا اُسے اپنے پروگرام کے مطابق فوراً نکلنا تھا۔ اگرچہ موسم ناموافق تھا لیکن اُس کے مضبوط ارادے کی پختگی کے سامنے کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی تھی۔
وہ بے چینی سے کمرے میں چکر لگاتے ہوئے بارش کے تھمنے کا انتظار کرنے لگی۔ سکینہ کا تعلق پاکستان کے ایک متوسط مذہبی گھرانے سے تھا۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں ہنسی خوشی مگر مطمئن زندگی گزار رہی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کا باپ حال ہی میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوا تھا۔ سکینہ ایک ذہین طالبہ تھی۔ پڑھائی میں ہمیشہ نمایاں رہی۔ کالج کے سالانہ امتحان میں امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد سکینہ کے والدین نے اُس کے مستقبل کے لئے بڑے بڑے خواب دیکھنے شروع کردیئے۔ وہ بیٹی کی خواہش کے مطابق اُسے اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونِ ملک بھیجنا چاہتے تھے۔ سکینہ کی خواہش بھی یہی تھی لیکن اُن کے وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ اکلوتی بیٹی کی خواہش کی تکمیل کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم سے وہ کوئی چھوٹا سا گھر خریدنا چاہتے تھے تاکہ زندگی کے باقی دن سکون و آرام سے گزار سکیں۔ لیکن پھر دونوں میاں بیوی نے باہمی مشورے سے اپنی اس خواہش کا گلا گھونٹ کر ساری جمع پونجی سے سکینہ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھجوانے کا فیصلہ کر لیا۔


اس طرح کچھ ہی عرصے میں سکینہ کے اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ کے باعث اُسے امریکہ کی ایک ممتاز یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اورپھر ضروری دستاویزات کی تیاری کے سارے مراحل طے ہو جانے کے بعد سکینہ والدین کی دعاؤں کے ساتھ امریکہ آگئی۔ اُسے رہنے کے لئے یونیورسٹی ہوسٹل میں ہی جگہ مل گئی۔ اس کا میل جول بہت کم تھا۔ کلاس سے فارغ ہونے کے بعد وہ زیادہ تر وقت ہوسٹل کے اپنے چھوٹے سے کمرے میں ہی گزارتی۔ گو اُس کے اس تنہائی پسند رویے کے باعث اس کے ہم جماعت طلباء و طالبات اُس سے کھنچے کھنچے رہتے لیکن وہ اس صورت حال سے بالکل بے نیاز اپنی پڑھائی میں مگن تھی۔ فارغ اوقات میں قریب ہی واقع اسلامی فلاحی مرکز جا کر اُن کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔

aikthisakeena.jpg
اس طرح اپنے گھر سے کوسوں دور اپنے مقصد کے قریب رہ کر وہ مطمئن زندگی گزار رہی تھی۔ وقت یوں ہی اپنی رفتار سے چلتا رہا۔دن مہینوں اور مہینے سالوں میں ڈھلتے گئے۔ آج گھر سے نکلے اُسے تقریباًتین سال ہو چکے تھے اور اس کی تعلیم مکمل ہونے میں چند ماہ ہی باقی تھے۔ ماں باپ بھی بے صبری سے اُس کا انتظار کررہے تھے۔۔۔
سکینہ نے ایک بار پھر کھڑکی سے پردہ سرکا کر باہر کا جائزہ لیا۔ اب بارش کا زور کسی حد تک کم ہو چکا تھا۔ اُس نے عجلت میں دیوار پر نصب آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے لباس اور سیاہ رنگ کے حجاب کو درست کیا۔ پھر پلٹ کر جلدی سے بیگ اٹھا کر اُسے اپنی کمر پر کس لیا اور دروازہ کھول کر نکل گئی۔


وہ تیز تیز چلنے لگی۔ لیکن کمر پر لٹکے بیگ کی وجہ سے اُسے تیز چلنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی۔ اُسے کچھ ہی فاصلے پر ٹرین پکڑنا تھی۔ ہر سُو پھیلی دھند کے باعث دُھندلائے ماحول میں کہیں کہیں گاڑیوں، اور سٹورز کی مدھم روشنیاں نئی صبح کی نوید دے رہی تھیں۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے گھبراہٹ میں بار بار اپنے دائیں بائیں۔ اور پیچھے مڑ کر دیکھ کر تسلی کرلیتی۔ وہ اس سے پہلے اتنی سویرے کبھی ہوسٹل سے باہر نہیں نکلی تھی۔وہ جلد ہی ٹرین سٹیشن پہنچ گئی اور طویل سیڑھیاں اُتر کر آگئی۔ چھٹی کا دن ہونے باعث پلیٹ فارم پر تقریباً ہُو کا عالم تھا۔ محض چند لوگ کہیں کہیں بینچوں پر بیٹھے تھے۔ وہ بے تابی سے ٹرین کا انتظار کرنے لگی۔


اتنے میں اُس نے دو سیاہ فام درازقد نوجوانوں کو سیڑھیاں اُتر کر پلیٹ فارم پر آتے دیکھا۔ مضبوط جسم کے مالک یہ نوجوان دیکھنے میں کافی مستعد اور چاق چوبند لگ رہے تھے۔ وہ تجسس کے انداز میں پلیٹ فارم پر موجود ہر کسی کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ ایک نے کالے رنگ کا سیاہ دراز کوٹ پہن رکھا تھا جبکہ دوسرا چمڑے کی جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔ اُن کی نظریں سکینہ پر مرکوز ہو گئیں۔ سکینہ اس صورتِ حال سے گھبرا گئی اور کنکھیوں سے اُن کی جانب دیکھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ وہ مسلسل اُسے گھور رہے ہیں۔ اپنی اس گھبراہٹ کو چھپانے کے لئے اُس نے سینہ پُھلا کر ایک لمبی سانس لیتے ہوئے چہرے پر اعتماد لانے کی کوشش کی اور پھر اُن سے ذرا ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔ اتنے میں دور سے اندھیرے میں اُسے روشنی کا ایک ہالہ دکھائی دیا جس کے قریب آتے ہی ایک بے ہنگم شور کے ساتھ ٹرین آکر رُکی۔ دروازہ کھلتے ہی وہ جلدی سے سوار ہوگئی۔ ڈبے میں محض چند مسافر ارد گرد سے بے نیاز اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے اخبار یا پھر کتاب بینی میں مصروف تھے۔ سکینہ بھی الگ سے ایک خالی نشست پر بیٹھ گئی۔


دونوں سیاہ فام نوجوان بھی اس سے ذرا فاصلے پر سامنے کی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ اُن کا رُخ سکینہ کی جانب تھا۔ سکینہ نے اپنا حجاب درست کیا اور ارد گرد کے ماحول سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے دوسری جانب دیکھنا شروع کردیا۔ ٹرین ہر چند منٹ بعد کسی سٹیشن پرچندلمحوں کے لئے رُکتی۔ اس طرح ہر نئے سٹیشن پر مسافروں کی نشست و برخاست کا سلسلہ جاری رہا لیکن وہ دونوں سیاہ فام نوجوان بدستور اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔ بالآخر وہ سٹیشن بھی آن پہنچا جہاں سکینہ نے اُترنا تھا۔ ٹرین رُکتے ہی جیسے ہی دروازے کھلے وہ فوراً اُتر کر تیز تیز قدم اُٹھاتی ہوئی سٹیشن کے صدر دروازے سے نکل کر باہر سڑک پر آگئی۔


صبح صبح سڑک قدرے سنسان تھی۔ کہیں کہیں ہاتھوں میں کافی کے کپ تھامے کوئی اِکا دُکا افراد سرجھکائے پاس سے گزر جاتے۔ سکینہ نے اگر چہ ابھی تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھاتاہم اُس کے چہرے پر پریشانی کے آثار موجود تھے۔ اُس نے حجاب سے ڈھکی اپنی پیشانی پر پسینہ محسوس کرتے ہوئے اپنے بائیں ہاتھ کی پشت سے دبا کر اُسے خشک کرنے کی کوشش کی۔ مرکزی شاہراہ سے ہٹ کر ایک بغلی گلی میں آتے ہی اُس نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی دو سیاہ فام نوجوان جو اُس کا پیچھا کررہے تھے۔ اس صورت حال نے اُسے پریشان کر دیا۔ وہ گھبرا کر تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ اُس نے محسوس کیا پیچھا کرتے افراد اور اس کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔ اُس نے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر یکدم دوڑنا شروع کردیا۔ انہوں نے اُسے رُکنے کو کہا لیکن سکینہ اور بھی تیز بھاگنے لگی۔ انہوں نے ایک بار پھر اُسے رُکنے کو کہا۔ اس بار اُن کے لہجے میں تلخی نمایاں تھی لیکن بجائے رُکنے کے وہ سرپٹ بھاگنے لگی۔ لیکن اُس کی کمر پر لٹکا بھاری بیگ تیز بھاگنے میں رکاوٹ تھا۔ وہ اُسے خود الگ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن ۔۔۔ پھر سناٹے کو چیرتی ہوئی پشت سے آئی اور ایک بے رحم گولی اُس کے سر کے آر پار ہوگئی اور وہ ایک بے جان پتھر کی مانند اوندھے منہ زمین پر گری۔ کچھ ہی دیر میں سارا منظر ایک ہنگامی صورت حال کا نقشہ پیش کرنے لگا۔ ہر جانب سے پولیس کی گاڑیوں نے اپنے چلچلاتے سائرنوں کے ساتھ سارے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ خون میں لت پت سکینہ کی لاش زمین پر پڑی تھی۔ پولیس نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر کسی کو بھی لاش کے نزدیک جانے سے روک دیا۔ سکینہ کی کمر سے جُڑا سیاہ رنگ کا بیگ اور سرپر حجاب سب کی توجہ کا مرکز تھا۔


کچھ ہی دیر میں تمام نیوز چینلز پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح گردش کرنے لگی کہ خفیہ پولیس نے ایک حجاب پوش خود کش حملہ آور نوجوان مسلمان لڑکی کو دھماکا کرنے سے پہلے ہی گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ہر طرف ایک سنسی سی پھیل گئی۔ اگرچہ جائے حادثہ پر کئی گھنٹے تک پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے تحقیقات کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد بالآخر علاقے کو محفوظ قرار دے کر کھول دیا گیا۔ لیکن پورا دن اور رات گئے تک یہی خبر ہرچینل کے نیوز بلٹن کی زینت بنتی رہی ۔ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے لئے یہ ایک کٹھن وقت تھا۔ اگرچہ ابھی تک مقتولہ کی مکمل شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی لیکن پاکستانی میڈیا پر نشر ہونے کے بعد اس خبر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ امریکہ میں مقیم بچیوں کے والدین ایک اضطراب اور بے چینی کی سی کیفیت میں مبتلا ہوگئے۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا۔آخر کون تھی یہ لڑکی۔۔۔۔؟ اضطراب کا یہ سلسلہ تقریباً چوبیس گھنٹے جاری رہا۔


بالآخر اگلے روز صبح امریکی سکیورٹی اداروں نے ایک نیوز بریفنگ میں سکینہ کے بارے میں تمام معلومات کے ساتھ ساتھ اُس کے بیگ سے برآمدہونے والی اشیاء کو دکھاتے ہوئے معذرت کے ساتھ یہ بیان جاری کیا۔
’’کل صبح سکیورٹی اہلکاروں نے ایک لڑکی جو اپنے ساتھ ایک مشکوک بیگ اٹھائے ہوئے تھی کافی دور تک پیچھا کیا۔ اُنہوں نے اُسے بار بار رُکنے کو کہا۔ جب آخری وارننگ پر بھی وہ نہ رُکی تو ریاستی قانون کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کومجبوراً گولی چلانا پڑی۔ یہ ایک افسوسناک عمل تھا۔ لیکن شہر میں ایک حالیہ دہشت گردی کی وار دات کے پیش نظر جس میں دونوجوان مسلمان میاں بیوی نے معذور افراد کی بحالی کے مرکز میں کئی بے گناہ لوگوں کو جس طرح ہلاک کیا اُس کے پیشِ نظر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے اس طرح کا ردِ عمل ضروری تھا۔ پھر انہوں نے سکینہ کے بیگ سے برآمد ہونے والی اشیاء دکھانی شروع کیں جن میں جوس اور دودھ کے چند ڈبوں کے ساتھ ایک پمفلٹ بھی انہوں نے دکھایا جس پر تحریر تھا۔۔


’’کل صبح دس بجے بفلو پارک سان برنارڈینو میں بے گھر اور ضرورت مند افراد کے لئے ایک تقریب میں اُن کی ضرورت کی اشیاء تقسیم کی جائیں گی۔ اُس کے بعد سٹی ہال کے باہر سان برنار ڈینو کے واقعے میں مارے جانے والے بے گناہ افراد کی یاد میں پھول سجانے کے ساتھ ساتھ موم بتیاں روشن کی جائیں گی۔‘‘


یہاں پریس بریفنگ کا اختتام ہوا۔۔ لیکن کیا معلوم کہیں ایسی ہی ایک معصوم سکینہ کی دردناک کہانی کا آغاز ہو چکا ہو۔۔۔ کون ہے سکینہ کا قاتل امریکی سکیورٹی اہلکار یا مذہب کے لبادے میں چھپے وہ گھناؤنے مکروہ چہرے جو نہتے اور معصوم لوگوں کے خلاف دہشت گردی کرکے پوری دنیا میں نفرت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔۔۔ ذرا سوچئے

حمید اختر فلم‘ ریڈیو اور ٹی وی کے حوالے سے ایک معروف نام ہے۔ آپ نے بی بی سی اور وائس آف امریکہ کے لئے بھی کام کیا اور ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
07
January

تحریر: یاسر پیرزادہ

حسن البصری اپنے شاگردوں کو مسجد میں لیکچر دے رہے تھے لیکچر اپنے اختتام کو تھا کہ اچانک ایک طالب علم نے عجیب ساسوال داغ دیا ۔کہنے لگا: ’’استاد محترم! ہمارے ہاں ایک جماعت ایسی پیدا ہو چکی ہے جس کا ماننا ہے کہ گناہ کبیرہ کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے جبکہ دوسری طرف لوگوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والے کے لئے بھی نجات کا دروازہ کھلا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جیسے کسی کافر کی عبادت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح کسی مسلمان کا گناہ اسے کوئی ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتا جس کی تلافی نہ ہوسکے ‘آپ کی رائے میں سچائی کا راستہ کیا ہے ؟‘‘اس سے پہلے کہ حسن البصری جواب دیتے ‘حاضرین میں سے ایک نوجوان اٹھا اور بولا:’’گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والا شخص ایمان کے دائرے سے باہر سمجھا جائے گااور نہ ہی وہ سچا مسلمان مانا جائے گا‘اسے ایمان اور کفر کے درمیان کی ایک ’’منزل‘‘ میں رکھا جائے گا ۔‘‘ یہ کہنے کے بعد وہ نوجوا ن مسجد کے دوسرے سرے کی جانب گیا اور وہاں موجود طلبا کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے لگا۔ نوجوان کا نام واصل ابن عطا تھا۔حسن البصری نے ایک نگاہ اس کی جانب ڈالی اور بولے ’’ یہ شخص ہم میں سے نکل گیا‘‘۔اس وقت سے واصل ابن عطا اور ان کے پیروکاروں کو ’’معتزلین‘‘کہا جاتا ہے ‘ واصل ابن عطا ’’المعتزلہ‘‘ تحریک کا بانی ہے۔

 

یہ شخص بلا کا ذہین تھا ‘ اس نے مذہب کو عقلی بنیاد پر پرکھنے کی روایت ڈالی اور دقیق دینی اور فلسفیانہ موضوعات پر ایسی رائے دی جس نے عام مسلمان کو بے حد متاثر کیا ۔واصل کی گردن ذرا لمبی تھی جسے دیکھ کر عمر ابن عبید نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’ایسی لمبی گردن والے شخص میں کوئی خیر نہیں ہو سکتی۔‘‘واصل عربی کا حرف ’’ر‘‘ نہیں بول سکتا تھا لہٰذا گفتگو میں اس بات کاخاص خیال رکھتا کہ زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ پھسل جائے جس میں ’’ر‘‘ آتا ہو‘ مگر اس کے باوجود اس قدر روانی سے بولتاکہ سننے والے دنگ رہ جاتے۔اس نے ایک ضخیم مقالہ بھی تحریر کیا مگر اس پورے مقالے میں کہیں ایک جگہ بھی ’’ر‘‘ کا استعمال نہیں کیا۔واصل کی عقلیت پسندی اس کے عقائد میں جا بجا جھلکتی ہے۔مثلاً انسان کی مجبوری و مختاری کے مسئلے پر وہ اپنی رائے یوں دیتا ہے کہ خدا عاقل اور انصاف پسند ہے ‘شر اور نا انصافی اس کی صفات میں شامل کی ہی نہیں جا سکتیں ‘اس بات کا جواز کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو جس بات کا حکم دے اس کی مرضی اس کے بر عکس ہو‘ لہٰذا خیر اور شر‘کفر و الحاد‘ فرمانبرداری اور گناہ اس کی مخلوق کے اعمال ہیں ‘یعنی مخلوق ہی اپنے اعمال کی خالق و مختارہے لہٰذا انہی کی بنیاد پر اسے سزا و جزا کا حقدار ٹھہرایا جائے گا‘یہ ناممکن ہے کہ غلام کو آقا کی طرف سے کوئی ایسا حکم بجا لانے کو کہا جائے جو اس کے بس سے باہر ہو‘بندے کو وہی کرنے کو کہا جاتا ہے جس کی وہ استطاعت رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے عظیم مفکر ابن حزم نے واصل کے ان خیالات کے بارے میں کہا تھا کہ معتزلین نے انسان کی مجبوری و مختاری کے مسئلے پر نہایت عمدہ کام کیا ہے ‘اگر انسان کو اپنے معاملات میں کلی طور پر مختار مان لیا جائے تو شریعت کی عمارت کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔

 

معتزلین کی عقلیت پسندی میں بظاہر بڑی کشش نظر آتی ہے مگر ان کے ناقدین کی رائے میں ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے ان تمام تصورات کو رد کر دیا جو عقل کے پیمانے میں سموتے نہیں تھے ۔وہ یہ بات نظر انداز کر گئے کہ عقل انسانی بھی اسی طرح خدا کا ایک تحفہ ہے جیسے انسان کو ودیعت کی گئیں دیگر حسیات۔جس طرح انسان کے دیگر ذرائع علم کی اپنی حدود ہیں اسی طرح عقل کی بھی کچھ حدود ہیں اور ضروری نہیں کہ آفاقی سچائی عقل سے ہی سمجھ میں آ جائے۔ بقول شیکسپئیر :

"There are more things in heavan and earth, Horatio, than are dreamt of in your philosophy"

 

عباسی حکمرانوں ‘خاص طور سے خلیفہ مامون الرشید ‘نے معتزلین کی کافی سرپرستی کی اور عقلیت پسندی کو عوامی سطح پر روشناس کروایا۔معتزلین سچائی اور حقیقت کو محض عقل کی کسوٹی

پر ہی پرکھنے پر مصر رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے ایمان کوبھی خالصتاً فلسفے کے انداز میں جانچنا شروع کر دیا۔ انہوں نے یہ حقیقت یکسر بھلا دی کہ مذہب کے بنیادی عقائد کو کبھی بھی عملاً منطقی اعتبار سے جانچا نہیں جا سکتااور نہ ہی ان کا عقلی ثبوت مہیا کیا جا سکتا ہے ۔مذہب کے بنیادی عقائد کا تعلق چندفوق الادراک سچائیوں سے ہے جنہیں پہلے ہمیں وحی کی بنیادپر ماننا پڑے گا ‘اس کے بعد انسانی عقل کی حدود شروع ہوں گی۔ اگر ہم ہر عقیدے کو ہی عقل کی کسوٹی پر جانچیں گے تو یہ کسوٹی اس کے لئے درست نہیں ہوگی کیونکہ عقل ایمان کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے ۔اس ضمن میں کانٹ کی دلیل دلچسپ ہے۔ ‘کانٹ کے زمانے میں چرچ خدا کے بیٹے کا وجود ثابت کرنے کے لئے عقلی دلائل تلاش کر رہا تھا مگر کامیاب نہیں ہو پایا۔کانٹ نے پادریوں کی مشکل حل کر دی۔ اس نے کہا کہ خدا نے انسان کو پیور ریزن دی ہے پیور ریزن ودیعت نہیں کی‘ پریکٹیکل ریزن ہمارے مسائل تو حل کر سکتی ہے مگر خدا کی ذات کا تعلق پیور ریزن سے ہے اور وہ ہمیں نہیں ملی۔

 

عارف اور عالم دونوں ہی سچائی کے راستے تک لے جاتے ہیں مگر عارف کا ذریعہ عرفان ہے جبکہ عالم کا عقل ‘یہ ذرائع درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی۔ مولانا روم کے بقول عقلی استدلال شیطانی بھی ہو سکتا ہے اور رحمانی بھی ‘مگر غلطی کے امکان کے باوجود انسان نے ترقی کی ہے ۔چونکہ یہ دنیا احساسات کی دنیا ہے اس لئے علم کے اس ذریعے کو فوقیت دی جاتی ہے جو عقل پر مبنی ہے ۔دوسری طرف عرفان کا تعلق صرف مذہب سے نہیں بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی وجدان سے کام لیا جاتا ہے ‘یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہم کوئی فیصلہ عقلی اعتبار سے درست معلوم ہونے کے باوجود اس لئے نہیں کرتے کہ دل نہیں مانتا حالانکہ اس کی کوئی عقلی توجیح نہیں ہوتی۔

 

عقل و عشق کے معرکے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم وجدان کا قائل ہونے کے لئے بھی بہرحال عقلی دلائل کا ہی سہارا لیتے ہیں‘تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عقل اور عشق دونوں کی منزل ایک ہی ہے مگر بقو ل اقبال ‘عقل ہمیں دھیرے دھیر ے اس مقام تک لے جاتی ہے جبکہ عشق ایک ہی جست میں تمام منازل پار کر لیتا ہے ‘ اسی لئے روز مرہ زندگی کے فیصلے ہمیں عقل کی رو سے کرنے چاہئیں جبکہ بڑے فیصلے دل سے کرنے چاہئیں ۔وہ مقام کب آتا ہے جب دل سے فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے ‘اس کا ذکر پھر کبھی۔

نوٹ :اس کالم میں معتزلین کے بارے میں حقائق ‘پروفیسر میر ولی الدین‘ عثمانیہ یونیورسٹی ‘ حیدر آباد دکن‘کے مقالے سے حاصل کئے گئے ہیں۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

aqalbmaqbla.jpg
 
07
January

تحریر: حمیرا شہباز

ہر چند ابن آدم نے دنیا کے تقریباً تمام فسادات بلکہ جنگوں کی بنیادی وجہ حوا کی بیٹی کو قرار دیا ہے لیکن اس امر سے بھی مفر نہیں کہ ’’وار وکٹمز‘ یعنی ’’متاثرینِ جنگ‘‘ میں بہت بڑی تعداد خود خواتین کی شمار کی گئی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں عورت کو کہیں زندگی کی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی درپیش ہے تو کہیں چادر اور چار دیواری سے محرومی کا سامنا ہے ۔ لیکن فقط جنگ کی وجہ‘ اور جنگ کے متاثرین ہونے کے علاوہ جنگ میں دفاعی محاذ پر ڈٹے رہنا بھی عورت کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ بظاہر پاکستان میں کم و بیش گزشتہ ایک دہائی سے دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں ظاہری محاذوں پر پاکستان کی دفاعی افواج کے دلیر جوان سینہ سپر ہیں۔ لیکن ان کے گھروں کی خواتین کو بھی ایک بڑے جہاد کا سامنا ہے۔


کلام اقبال کا معجزہ ہے کہ پڑھنے والے کو اپنے لئے اس سے ربط کا کوئی نہ کوئی حوالہ ضرور مل جاتا ہے۔ ہر محب وطن کو علامہ محمداقبال کی شاعر سے نسبت ضرور ہے۔ دفاع پاکستان میں اگر خواتین کے کردار پر نظر ڈالوں تو مجھے علامہ اقبال کی تین نظمیں خواتین کی شان میں دکھائی دیتی ہیں اور فکر اقبال کے عصری تناظر میں اُن کی اہمیت مجھ پر عیاں تر ہو جاتی ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ نظمیں تقریباً ایک صدی قبل علامہ محترم نے آج کے پاکستان کے دفاع میں خواتین کے عسکری کردار کو ذہن میں رکھ کر لکھی ہوں۔


اگر دفاع پاکستان میں عسکری سطح پر عورت کے براہِ راست عمل دخل پر نظر ڈالی جائے تو وہ اس فوج کی ایک سپاہی معلوم ہوتی ہے جس کی سالار ’’فاطمہ بنت عبداللہ‘‘ ہے، جس کے نصیب میں حیاتِ جاوداں تو اس کی شہادت کے ثمر کے طور پر رقم کردی گئی تھی لیکن اقبال نے اس کو اپنی ایک نظم کا موضوع بنا کر زندہ تر پائندہ تر کردیا۔


فاطمہ! تو آبروئے امتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ سعادت حورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی
غازیانِ دیں کی سقائی تیری قسمت میں تھی
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر
ہے جسارت آفرین شوقِ شہادت کس قدر
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب، اپنی خاکستر میں تھی!

janaurataurallama.jpgفاطمہ بنتِ عبداللہ عرب کے قبیلہ البراعصہ کے سردار شیخ عبداللہ کی گیارہ سالہ بیٹی تھی جو1912 میں جنگ طرابلس میں غازیوں کو پانی پلاتی شہید ہوگئی تھی ۔ یہ قبیلہ اپنے اثرورسوخ میں دیگر قبائل سے بڑھ کر تھا۔ اس قبیلے کے تمام افراد جنگ طرابلس میں شہید ہوئے۔ اگرچہ بہت سی عرب خواتین نے اس جنگ میں حصہ لیا لیکن فاطمہ ان سب میں سے اس لئے ممتاز ہے کیونکہ وہ سب سے کمسن تھی۔ یہ جنگ جون1912 (دوسری روایت کے مطابق ستمبر1911) میں شروع ہوئی۔ جب بارہ ہزار اطالوی سپاہیوں نے زوارہ (طرابلس پر) حملہ کیا تو ان کے مقابلے میں عرب اور ترک سپاہیوں کی تعداد فقط تین ہزار تھی۔ لیکن اطالوی فوج کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ دوران جنگ فاطمہ بنت عبداللہ چار زخمی مجاہدوں کو پانی پلا رہی تھی کہ ایک اطالوی سپاہی نے اس کم سن مجاہدہ کو شہید کر دیا۔ علامہ اقبال نے اس کم سن دختر عرب کی شہادت سے متاثر ہو کر ایک نظم لکھی جو اب ’’بانگ درا‘‘ کی شان ہے۔ اس نظم نے دنیا میں اس کمسن شہید کا نام امر کر دیا۔


آج پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والی ہر لڑکی فاطمہ بنت عبداﷲ کی سپاہ میں شامل ہے اور اس لشکر میں تازہ ترین بھرتی افواج پاکستان کی جنگجو ہواباز مریم مختار کی ہے جس نے اپنی تربیتی پرواز میں طیارے کو فنی خرابی کی بنا پر آبادی سے دور تر گرانے کی کوشش میں جام شہادت نوش کیا اور اقبال کی نظم ’’فاطمہ بنت عبداﷲ‘‘ کے یہ اشعار پاکستان کی فضائی دفاعی سرحدوں میں گونجتے سنائی دیتے ہیں۔


رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے
ذرہ ذرہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے
تازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہور
دیدۂِ انساں سے نامحرم ہے جن کی موج نور
جو ابھی ابھرے ہیں ظلمت خانۂِ ایام سے
جن کی ضَو ناآشنا ہے قیدِ صبح و شام سے
جن کی تابانی میں انداز کہنِ نَو بھی ہے
اور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتوَ بھی ہے


ایک تو یہ بیٹیاں ہیں جو’’ قوموں کے کوکب تقدیر کا پرتوَ‘‘ ہیں اور حب الوطنی میں اپنے فرائض سے بخوبی سبکدوش ہوتی ہیں اور ایک وہ مائیں ہیں جن کے لخت جگر جنگ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ان ماؤں کو تو صبر آ جاتا ہے جن کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے فرائض منصبی کے پیش نظر کسی نہ کسی جنگی محاذ پر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ لیکن ان ماؤں کا کیا جن کے جگر گوشوں کو دہشت گردی کے عفریت نے بے سبب نگل لیا، جن بچوں کی معصومیت پر فرشتے بھی نازاں ہوں اور جن کی نوخیز جوانی پر خزاں کو بھی پیار آتا ہو، ان کی ماؤں کا کیا؟


16دسمبر 2014 کو اے پی ایس پشاور کے سانحے میں ماؤں نے اپنے لال بے سود گنوا دیئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جن ماؤں نے اپنے نور چشم کھوئے ہیں ان کی آنکھوں میں نیند کیوں کر آتی ہو گی۔ لیکن اگر آتی بھی ہو گی تو کچھ ایسے ہی خواب دکھاتی ہو گی جیسا کہ ’’ماں کا خواب‘‘ علامہ اقبال نے قلم بند کیا ہے:


میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
اس تاریک مقام میں اس ماں کو اپنا وہ بیٹا دکھائی دیتا ہے جس کو اس نے بے سبب کھو دیا۔
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیئے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا


اس ماں نے اپنا بیٹا کسی طبعی موت یا آسمانی آفت کے سبب نہیں کھویا بلکہ وہ جو شمع علم کو فروزاں رکھے ہوئے تھا، اس کی زندگی کے چراغ کو سفاکیت اور درندگی نے گل کیا تھا۔ اس بچے کی ماں خواب میں بھی اس بچے کے چراغ کو گل پاتی ہے۔ ماں اپنے بچے سے گلہ کرتی ہے:


کہا میں نے پہچان کر‘ میری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ‘ اچھی وفا تم نے کی!


وہ روشنی کا ہم سفر اس تاریکی میں دھکیلا گیا تھا لیکن وہ مطمئن ہے کہ وہ حیات ابدی کی جانب رواں دواں ہے‘ ہاں مگر اس کا دیا ضرور بجھا ہوا ہے اور وہ اپنی ماں سے یہ کہنے پر مجبور ہے کہ:


جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی میری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے!


علامہ اقبال کی تیسری نظم ’’صبح کا ستارا‘‘ جنگ سے متاثرہ خواتین کے اس طبقے سے متعلق ہے جو شاید سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ اس نظم کے ادبی محاسن اپنی جگہ پر‘ مگر نظم کا مضمون نہایت منفرد اور بے نظیر ہے۔ اقبال کی سوچ کا جہاں بہت وسیع ہے۔ وہ بلندیوں کے مکین‘ سورج‘ چاند‘ ستاروں کے درد آشنا بھی ہیں۔ ’’صبح کے ستارے‘‘ کی داستان کچھ یوں ہے ۔ صبح کا پیامبر‘ صبح کا ستارہ جسے قرآن میں ’’نجم الثاقب‘‘ قرار دیاگیا ہے جو بظاہر اہل جہاں کے لئے ایک نئے روشن دن کی نوید لاتا ہے، کون جانتا ہے کہ اس کا دکھ کیا ہے؟ صبح کی آمد کا اعلان خود اس کے لئے پیام موت ہے۔ نوید سحر کا پیامبر اپنے مقام اور کام دونوں سے مطمئن نہیں۔ وہ اپنی بلندی سے بیزار ہے اور زمین والوں کی پستی پر رشک کرتا ہے۔ ہر روز کا مرنا جینا اس کا مقدر ہے۔


لطف ہمسائیگی شمس و قمر کو چھوڑوں
اور اس خدمت پیغامِ سحر کو چھوڑوں
میرے حق میں تو نہیں تاروں کی بستی اچھی
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی
آسمان کیا‘ عدم آباد وطن ہے میرا
صبح کا دامنِ صد چاک کفن ہے میرا
میری قسمت میں ہے ہر روز کا مرنا جینا
ساقیِ موت کے ہاتھوں سے صبوحی پینا
نہ یہ خدمت‘ نہ یہ عزت‘ نہ یہ رفعت اچھی
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی
میری قدرت میں جو ہوتاتو نہ اختر بنتا
قعر دریا میں چمکتا ہوا گوہر بنتا


صبح کا ستارہ خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ اختر ہوتا‘ گوہر ہوتا‘ اور اک روز دریا کی گہرائیوں سے نکل کر کسی حسیں کے گلے کا ہار بن جاتا۔ یہ صبح کا ستارہ پہلے تو کسی ملکہ کے تاج کی زینت یا بادشاہ سلیمان کے ہاتھ کی انگشتری میں جڑے نگینے کی قسمت پر رشک کرتا ہے مگر پھر وہ سوچتا ہے کہ یہ نگینہ بھی تو آخر پتھر ہی ہے، جس کی قسمت میں ٹوٹنا ہے۔ صبح کا ستارہ ایسی زندگی کا خواہاں ہے جس میں موت کا تقاضا نہ ہو۔ اسے لگتا ہے کہ زینت عالم ہونے سے بہتر ہے کہ میں کسی پھول پر شبنم بن کر گر جاؤں۔


واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا
چھوڑ کر بحر کہیں زیب گلو ہو جاتا
ہے چمکنے میں مزا حسن کا زیور بن کر
زینتِ تاجِ سرِبانوئے قیصر بن کر
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا
خاتمِ دستِ سلیماں کا نگین بن کے رہا
ایسی چیزوں کا مگر دہر میں ہے کام شکست
ہے گہرہائے گراں مایہ کا انجام شکست
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل
کیا وہ جینا ہے کہ ہو جس میں تقاضائے اجل
ہے یہ انجام اگر زینتِ عالم ہو کر
کیوں نہ گر جاؤں کسی پھول پہ شبنم ہو کر!


وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کسی کی پیشانی پر افشاں بن کر چمکوں یا کس مظلوم کی آہوں کا شرارہ بن جاؤں۔ الغرض وہ اپنے لئے بہت سے نئے مقامات تلاش کرتاہے مگر اس کا شوق ’’ابدیت‘‘ کہیں پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ بالآخر آسماں کے اس روشن ستارے کو اپنی منزل زمین پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ اشک بن کر اس بیوی کی آنکھ سے ٹپک جانا چاہتا ہے جس کا شوہر حب الوطنی سے سرشار‘ زرہ میں مستور‘ میدان جنگ کی جانب رواں ہے۔ شوہر کی رضا نے اس بیوی کو تاب شکیبائی دی ہے اور آنکھوں کو حیا نے طاقت گویائی دی ہے۔ صبح کے اس ستارے کو اپنی منزل قریب دکھائی دیتی ہے کہ جب شوہر کو جنگ کے لئے رخصت کرتے ہوئے لاکھ ضبط کے باوجود اس بیوی کے دیدۂ پرنم سے وہ اشک بن کر ٹپک جائے اور خاک میں مل کر ابدی حیات پا جائے اور عشق کاسوز زمانے کو دکھا دے۔


کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں میں رہوں
کسی مظلوم کی آہوں کے شراروں میں رہوں
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں میں
کیوں نہ اس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں میں
جس کا شوہر ہو رواں‘ ہو کے زرہ میں مستور
سوائے میدانِ وغا، حب وطن سے مجبور
یاس و امید کا نظارہ جو دکھلاتی ہو
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو
جس کو شوہر کی رضا تاب شکیبائی دے
اور نگاہوں کو حیا طاقت گویائی دے
زرد، رخصت کی گھڑی، عارضِ گلگوں ہو جائے
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے
لاکھ وہ ضبط کرے پر میں ٹپک ہی جاؤں
ساغر دیدہ پُرنم سے چھلک ہی جاؤں
خاک میں مل کے حیاتِ ابدی پا جاؤں
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں


شاعروں نے عورت کو ماں اور بیٹی کی حیثیت سے تو بہت سراہا ہو گا لیکن کلام اقبال میں ایک بیوی کے سوز عشق کا بیان بے مثال ہے۔ آج پاکستان کے حالات میں افواج پاکستان کا کردار ہمیشہ سے زیادہ متحرک ہے۔ حب الوطنی سے سرشار پاکستان کا ہر وہ محافظ جو اپنی جان ہتھیلی پر سجائے رہتا ہے اور ہر نیا دن اس کے لئے عشق کے اور امتحان لاتا ہے، بے شک اس کا مقام ستاروں کی گزرگاہ سے بہت آگے ہے۔ ان فوجیوں کے بہتے خون کی سرخی ان کے اپنوں کے رخسار تو زرد کر دیتی ہے مگر صبح وطن کا ستارہ ہمیشہ روشن رہتا ہے۔
دفاع وطن تمام اہل وطن کا فریضہ ہے۔ کسی کے لئے یہ فرض منصبی ہیں تو کسی کے لئے نسبی۔ عورت بھی وطن کی بیٹی، محبان وطن کی ماں کی حیثیت سے یا محافظین وطن کی شریک حیات ہونے کی حیثیت میں دفاع وطن کی جنگ کو اپنی زندگی کی جنگ سمجھ کر بہت حوصلے اور ہمت سے لڑتی ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مصروف زندگی میں سے کبھی تھوڑا سا وقت نکال کر یہ سوچ سکے کہ جن والدین نے اپنی جانباز بیٹیاں وطن پر وار دیں‘ جن ماؤں نے اپنے مستقبل کے سہارے درندوں کے ہاتھوں بکھرتے دیکھے ہوں، جن بیویوں نے کمال ضبط سے حب وطن سے سرشار اپنی زندگی کے ساتھی جنگ پر رواں کئے ہوں ان کا کیا مقام ہے؟ اور یہ جان سکے کہ عورت فقط وجہ جنگ اور متاثرین جنگ ہی نہیں بلکہ مقابل و مدافع جنگ بھی ہے

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

janaurataurallama1.jpg
 
07
January

تحریر: ڈاکٹر یونس جاوید

محلے میں سب سے بڑے دروازے والا گھر سید سردار احمد شاہ کا تھا‘ اس گھر کا صحن بہت کشادہ اور پختہ تھا۔ البتہ کچھ حصہ درختوں ‘ پھولوں اور گلاب کی بیلوں کے لئے مخصوص تھا۔ بائیس مرلوں پہ پھیلا ہوا یہ گھر دومنزلوں پر مشتمل تھا مگر سب لوگ نیچے والی منزل کو ہی استعمال کرتے تھے۔ جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا‘ اس گھر کے بارے میں میری معلومات ہلکی ہوتی گئیں۔ سید سردار احمد شاہ کے چار بیٹے تھے۔ ضیا نثار احمد (پی ٹی وی گئے) صادق۔ حامد مختار احمد اور لیاقت اسرار احمد۔


یہ گھر بچپن میں ہی میرے لئے نہایت خوش کن تھا کہ ’’ماں جی‘‘ اس گھر کا مرکز تھیں۔ سب لوگ‘ اپنے پرائے اور ہم بچے سب ان کو ’’ماں جی‘‘ ہی پکارتے تھے۔ وہ ہر ایک سے شفقت بھرا سلوک کیا کرتیں۔ یوں بھی یہ گھرانا باقی تمام گھرانوں سے مہذب اور کلچرڈ تھا۔ سیدسردار احمد شاہ نے تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ اُنہیں مکمل توکیا ہی تھا ان کی تربیت بھی کی تھی۔ سب بچے باپ کے فیصلوں پر عمل کرتے کہ یہ گھرانااتحاد اور یگانگت کا مکمل نمونہ تھا۔ اس گھر کا سب سے چھوٹا بیٹا جو مجھ سے تھوڑا سینئر تھا‘ جب آرمی کے لئے منتخب ہوگیااور ٹریننگ کے بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ کی یونیفارم پہن کر پہلی مرتبہ گھرلوٹا تو سب کو شہزادہ سالگا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ اس کا نام لاکی نہیں (سید سردار احمد شاہ اسے پیار سے ’’لاکی‘‘ بلاتے تھے اور مجھے یونس کے بجائے یونی‘ بعد میں اس کا پورا نام لیاقت اسرار بخاری سامنے آیا۔)


آج کل بریگیڈیر(ر) لیاقت اسرار بخاری (ستارۂ جرأت)ہیں۔ یونیفارم میں لیاقت اسرار بخاری کو دیکھا تو جی مچل کر رہ گیا۔ جی چاہتا ابھی مجھے یونیفارم مل جائے اور میں آرمی جوائن کرلوں۔ اس وقت لیاقت اسرار ہی میرا آئیڈیل تھا۔ میں دن رات آرمی کے خواب دیکھنے لگا۔ تڑپنے لگا۔نماز کے بعد سجدوں میں دعائیں مانگنے لگا۔ یہ سب ممکن تھا مگر میرے ابا جی نے مجھے قرآن پاک حفظ کرانے والے مدرسے میں داخل کروا کے میرے تمام راستے مسدود کر دیئے تھے۔ میرا کیریئر ہی تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ میرے اندر دن رات ابال اٹھتے تھے۔ مگر یہ نہ ہو سکتا تھا۔ بس اتنا ہوا کہ قومی رضاکاروں کی بھرتی شروع ہوگئی ۔ اُنہی قومی رضا کاروں میں جب والد صاحب بھی شامل ہوگئے اور انہوں نے یونیفارم پہن کر پریڈ کرنا شروع کی تو میری ضد بھی کام کر گئی۔ انہوں نے میرے سائز کی چھوٹی یونیفارم سلوا کر مجھے پہنا دی۔ اور پھر انسٹرکٹر تاجے خان کے پاس اچھرہ تھانہ لے گئے۔ تاجے خان انسٹرکٹر نے خوش آمدید کہا اور میرا شوق دیکھتے ہوئے مجھے پریڈ کرنے کی اجازت دے دی۔

aikadhorakh.jpg
ہماری پریڈ تھانہ اچھرہ کے سامنے والی گراؤنڈ میں ہوا کرتی تھی جسے آج کل شریف پارک کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ شریف پارک موجودہ وزیرِاعظم نواز شریف یا ان کے والد کے نام پر نہیں تھا۔ یہ برج السید کے مالک میاں سعیدکے والد میاں شریف کے نام پر بنا تھا جن کی بہت سماجی خدمات تھیں۔


انسٹرکٹر تاجے خان سخت مزاج کا آدمی تھا۔ کھرا کھرا بولتا تھا۔ غلطی کرنے پر سخت بے عزت کرتا مگر پھرمحبت سے برابر بھی کردیا کرتا۔ شام کو وہ انار کلی ہماری دکان پر آجاتا۔ والد صاحب اس کی تواضع کرتے‘ جس طرح وہ اپنے اساتذہ کی کرتے تھے۔ نگینہ بیکری کے مکھن میں بنے ہوئے کیک رس ایک ٹرے میں بھر کر لائے جاتے۔ چائے کی بڑی چائے دانی اور شامی کباب۔ تاجے خان چائے سے زیادہ اس عزت افزائی پر بہت خوش ہوا کرتا۔ جب والد صاحب اُسے بتاتے ’’تاج صاحب آپ میرے استاد ہیں۔ آپ کا ہم پر بہت حق ہے۔ آپ ہمیں ایسے ہنر سکھارہے ہیں جو ہمارے لئے‘ ہمارے وطن کے لئے اور اپنی پاک سرزمین کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں۔ لہٰذا آپ کا حق ہم سے ادا نہ ہوگا۔ یہ تو محبت کا اظہار ہے۔‘‘ تاجے خان بہت زور سے کہا کرتا’’ناں میاں صاحب آپ بہت زیادہ کرتے ہیں۔یہ نہ کیا کریں۔ زیادہ مٹھائی میں کیڑے ہوتے ہیں۔‘‘ ابا جی ہنس کر کر ٹال جاتے۔


میں نے دو مہینوں میں جس شوق‘ لگن اور محنت سے اپنی ٹریننگ مکمل کی اور اپنے اسباق یاد کئے وہ تمام دیگر پریڈ کرنے والوں کے لئے بھی حیران کن تھے۔ تاجے خان کبھی کبھی مثال دیتے ہوئے کہا کرتے ’’شوق پیدا کرو شوق۔ یونس کی طرح شوق۔ ورنہ ڈھیلا کام تو آرمی میں نہیں چلتا۔‘‘ چوتھے مہینے کے بعد ہمارا ٹیسٹ ہوا اور میں زیادہ نمبر لے کر پاس ہوگیا۔ سب سے زیادہ نمبر ہونے کی وجہ سے مجھے فی الحال عارضی طور پر پلاٹون کمانڈر بنادیا گیا۔ میں خوشی سے سرشار ہوگیا۔ اب کسی کسی دن 48 لوگوں کو میرے حوالے کرکے کہا جاتا انہیں کمانڈکرو۔ مثلاً ایک دن آرڈر دیا گیا کہ میں48 لوگوں کو تین منٹ سے ساڑھے چار منٹ کے اندر اندر مسلم ٹاؤن والی نہر کے پل پر لے جاؤں۔ اچھرہ تھانہ سے مسلم ٹاؤن والی نہر ایک میل کے فاصلے پرتھی مگر سمجھ گیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ میں نے سب کو ایکٹو کرکے کیوئیک مارچ کیا۔


’’لیفٹ رائیٹ‘ لیفٹ رائیٹ دو سو گز تو اسی رفتار سے سب کو چلاتا رہا جب جسمانی طور پر پوری پلٹن گرم ہوگئی تو میں نے ڈبل مارچ کا آرڈرکر دیا۔ ڈبل مارچ کی رفتار صاف ظاہر ہے دُگنی بلکہ جوگنگ کی رفتار سے کچھ زیادہ تھی‘ میں تو ہلکا پھلکا دوڑتا رہا مگرپلاٹون میں لگ بھگ تیس لوگ عمررسیدہ تھے‘ وہ ایک منٹ بعد ہی ہانپنے لگے مگر مجھے آرڈر تھا کہ ہر صورت مقرر وقت کے اندر نہر کے پل پر سب کے ساتھ پہنچنا ہے۔ دِس از آرڈر‘ یہی آرمی کی ٹریننگ ہے‘ یہی ڈسپلن ہے۔ یہی آرڈرماننے کی روح ہے۔ جس کی نقل میں قومی رضاکاروں سے کرانا چاہ رہا تھا۔ موسم معتدل ہونے کے باوجود سب پسینے میں نہانے لگے۔ وہ بابے آنکھوں آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارے بھی کر رہے تھے کہ ’’ہالٹ‘‘ کروا کے سانس برابر کرایا جائے۔ مگر میں نے ڈسپلن کو پیشِ نظر رکھا۔ دوسرا یہ ہم سب کا امتحان بھی تھا۔ جس میں، میں ہی نہیں48 کے 48 لوگ کامیاب ہوئے۔ میں نے سب کو ساڑھے تین منٹ میں ہی نہر کے پل پر پہنچایا دیا تھا۔ سب لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔ نہر لبالب نہ تھی۔ آدھی تھی۔ اتنے میں ایک بہت موٹے مگر صحت مند بابا جی نے دھڑام سے نہر میں چھلانگ لگا دی اور سب کو حیران کردیا۔


بعد میں اس نے بتایا کہ ’’مجھے گرمی زیادہ لگ رہی تھی مگر میرے ساتھی نے مجھ سے شرط بھی لگائی تھی کہ جو نہر میں چھلانگ لگائے گا اسے پانچ روپے دوں گا۔(پانچ روپے اس زمانے میں بڑی رقم تھی) لہٰذا ایک تو میں نے خود کو ٹھنڈا کر لیا ہے دوسرا انعام جیت لیا ہے۔‘‘


تاجے خان انسٹرکٹر جو دیر بعد ہمارے تعاقب میں چلا تھا‘ ڈبل مارچ کرتا ہوا آپہنچا۔ اس نے گھڑی دیکھ کر پہلے میرے لئے ’’ویل ڈن‘ ویل ڈن‘‘ پھر سب کو کھل کر داد دی۔ مگر بابوں نے میری سخت مخالفت کی۔ تاجے خان نے سب کو سمجھاتے ہوئے کہ ’’جوانو! اس کے ’’جوانو‘‘ کہنے سے بہت سے بابے خوش ہوگئے ۔ تاجے خان نے بات بڑھا کر انہیں اور بھی خوش کردیااور کہا’’میرے سپاہیو! پلاٹون کمانڈر نے آرڈر کی تعمیل کی ہے اور ملکی دفاع میں آرڈر ہی سب کچھ ہے۔ آرڈر از آرڈر ‘یہ نہ ہو تو ہمارا ڈسپلن‘ ہماری جنگی حکمتِ عملی‘ ملکی دفاع کسی کام کا نہیں اور اگر یہ سب ہو تو پھرکامیابی ہی کامیابی‘ فتح ہی فتح۔ سو یونس نے جو کیا ہے وہ سب درست ہے۔ آپ سب کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے سب کو ’’سٹینڈ ایزی‘‘ کے بعد دوبارہ بتایا ’’دیکھو میرے جوانو! ہر چند کہ تم آرمی کی نقل کررہے ہو تو یہ بات دل پہ نوٹ کر لو آرمی کا مطلب ہے ’’دو ٹوک آرڈر‘‘ یہ تو معمولی بات تھی جس میں آپ نے کامیابی حاصل کر لی۔ یہاں کے امتحان بڑے سخت ہوتے ہیں۔ کوئلوں میں لال انگارہ ہونے والے لوہے کے ٹکڑے کو پکڑنے کا آرڈر ہوسکتا ہے یا اژدھے کے جبڑوں میں ہا تھ ڈالنے کا۔ جو آرڈر ’اوبے‘ کر گیا وہ منزل پا گیا۔ جو ڈر گیا وہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا۔ یہی آرمی ڈسپلن ہے‘ ڈوآر ڈائی۔‘‘کوئی دلیل‘ کوئی جواز‘ کوئی جھجک کوئی اعتراض کوئی رکاوٹ برداشت ہوتی ہے، نہ کوئی متبادل فیصلہ۔ جب آرڈر ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے عمل۔یہی جنگ ہے۔ یہی جیت ہے۔ یہی فاتح کی پہچان ہے۔‘‘ اتنا کچھ سننے کے بعد بابے پھر بھی بڑبڑاتے رہے بلکہ بعض تو ابھی تک ہانپ رہے تھے۔


انسٹرکٹر تاجے خان نے دوسرے دن کے لئے تمام بابوں کو چن کر آرام کے لئے دو دن کی چھٹی دے دی۔ اور پلاٹون کو نئے سرے سے تربیت دے کر جوانوں سے بھر دیا۔ یہ اَن تھک پریڈ کرنے والی پلاٹون تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے چودہ اگست یومِ پاکستان کو شریف پارک اچھرہ سے علامہ اقبال کے مزار تک سارے لاہور کے رضاکاروں کی پلٹنوں کے ساتھ لیفٹ رائیٹ کرتے تسلسل کے ساتھ منٹو پارک (مینارِ پاکستان) پہنچے تھے اور اس کے بعد علامہ اقبال کے مزار پر ۔کوئی نہ تھکا تھا‘ سب پُرجوش تھے‘ کوئی ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔ سب ہشاش بشاش تھے اور میں تو خوش و خرم تھا۔۔مگر سارے جتن کرنے کے باوجود میں آرمی جوائن نہ کرسکتا تھا اور آج تک یہ خواب کانٹا بنائے سینے میں پروئے پھرتا ہوں۔
ایک روز ابا جی مجھے ایک بہت بڑے جلسے میں ساتھ لے گئے۔ چونکہ وہ جلسہ کرنے والوں کی انتظامیہ میں بھی تھے اس لئے انہوں نے بطورِ خاص دو ٹکٹ خریدے تھے جو دس دس روپے کے تھے۔ مگر سب کلاسوں سے مہنگے تھے کہ دریوں پر بیٹھ کر جلسہ سننے والوں کا ٹکٹ چار آنے تھا۔ پنڈال بہت بڑا تھا۔ روشنیاں تھیں اور ہجوم تاحدِ نگاہ۔ میں بچہ ہی تو تھا۔ بچے کی آنکھیں گاؤں کے راستوں کی طرح ہوتی ہیں۔ شام ہوئی اور بند۔ مجھے بہت نیند آرہی تھی‘ مگر مجھے جاگنا پڑ رہا تھا۔ تاہم نیند کا غلبہ شدید تھا۔ اسی اثنا میں شور مچ گیا۔ ’’شاہ جی آگئے‘ شاہ جی آگئے‘‘ پھر نعرے لگنے لگے۔ مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ وہ شاہ جی جن کے لئے لوگ اہلِ جنوں کی طرح منتظر تھے‘ سید عطاء اﷲ شاہ بخاری تھے۔ بہر حال شاہ جی کی تقریر سے پہلے اعلان ہوا کہ فلاں فلاں اپنی نظم کشمیر پر پیش کرے گا۔ دیکھا تو سات آٹھ سال کا بچہ سٹیج پر آکر کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے اس کی نظم کو بے دلی سے سننا شروع کیا۔ بچے کا ترنم مسحور کن تھا پھر بھی لوگوں کو شاہ جی‘ کا انتظار تھا۔ اور لوگ نعرے لگا لگا کر اپنی خواہش کا اظہار کررہے تھے۔


جو نہی لڑکے نے نظم کا یہ مصرعہ پڑھا
کشمیر میں جنت بکتی ہے
کشمیر میں جنت بکتی ہے
سات مرتبہ اس بچے نے مختلف زاویوں سے یہ مصرعہ گا گا کر لوگوں کو گرفت میں لے لیا تھا۔جونہی اس نے اگلا مصرعہ پڑھا یعنی
کشمیر میں جنت بکتی ہے
اور جان کے بدلے سستی ہے


تو لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کے ہجوم میں سمندر کی طرح لہریں جل تھل ہونے لگیں۔ لوگوں نے اس بچے پر نوٹوں اور سکوں کی بارش کردی اور مصرع پڑھنے کے لئے اصرار کرتے رہے۔ سب لوگ اس قدر جوش میں تھے کہ وقتی طور پر سب لوگ اسی نظم میں ڈوب گئے اور شاہ جی کے نعرے مدہم پڑ گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ابھی سارا ہجوم کشمیر کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔ لوگ چیخ رہے تھے‘ نعرے لگا رہے تھے۔ بچے کو سٹیج پر جا جا کر پیار کررہے تھے۔ اتنا ہنگامہ تھا کہ تقریر سے پہلے مجھ پر نیند نے غلبہ پا لیا اور ابا جی نے بھی ہجوم کی جل تھل دیکھتے ہوئے مجھے ملازم کے سپرد کر دیا جس نے مجھے پنڈال سے باہر لا کر ایک چھوٹے خیمے میں سلا دیا جو صرف بچوں کے لئے مخصوص تھا۔ معلوم ہوا کہ شاہ جی کی تقریر رات بھر جاری رہی اور صبح کی اذان ہوتے ہی تمام ہوگئی۔ مگر لوگوں کی پیاس کم نہ ہوئی۔ شاید اسی کا اثر تھا کہ دوسرے ہی دن ایک بہت بڑا جلوس مال روڈ پر آگیا اور ہمارا کاروبار چونکہ انار کلی میں تھا اور والد صاحب کو کشمیر سے خصوصی لگاؤ تھا‘ لہٰذا وہ کشمیر کے لئے ترتیب دیئے گئے اس جلوس کو دیکھنے اور مجھے دکھانے کے لئے مال روڈ پر آگئے۔


میں نے دیکھا جلوس رات والے ہجوم سے کچھ ہی کم تھا۔ ہر عمر اور ہر قبیلے کے لوگ اس میں شامل تھے اور سوائے ہمارے کہ ہمیں اس جلوس کی پہلے سے بالکل خبر نہ تھی‘ سب لوگوں نے سرپر سفید کپڑے لپیٹ رکھے تھے۔ اباجی نے مجھے بتایا کہ ہر شخص نے اپنے سر پر کفن باندھ رکھا ہے اور سب اونچی آواز میں ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے ’’کشمیر کی آزادی یا شہادت‘‘ جلوس آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا‘ میں دیر تک اور دُور تک اس جلوس کو جاتا ہوا دیکھتا رہا اور آج تک دیکھ رہا ہوں۔


ہم وہیں کھڑے ہیں۔ جلوس اسی رفتار سے چل رہا ہے۔ نعرے بھی ہیں۔ کفن بھی ہیں۔ سبھی کچھ جوں کا توں ہے‘ آج بھی میرے تخیل اور تصور میں وہ جلوس تابندہ اور فروزاں ہے‘ جوش بھی ہے‘ حرارت بھی ہے مگر آدھی صدی گزر جانے کے باوجود ہم قدم نہیں اٹھاپائے۔
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ


میری ضد یہ تھی کہ مجھے بھی ایک اپنے سائز کا کفن لے کر دیا جائے جسے میں سر پر باندھ کر ایسے کسی جلوس میں شریک ہو سکوں مگر ابا جی نے مجھے قومی رضا کاروں والی ایک اور یونیفارم سلوا کر خوش کرنے کا جتن کرلیا اور مجھے ہر صبح شریف پارک میں تاجے خان کی شاگردی تک محدود کردیا۔اور میرے وہ خواب جولیاقت اسرار بخاری کو دیکھ کر پروان چڑھے تھے‘ ادھورے ہی رہے اور سسک سسک کر دم توڑ گئے کہ مجھے اس کٹھن راستے پر چلایا ہی نہ گیا جو میرا آئیڈیل تھا۔


میں آج بھی اس چھوٹی سی وردی کونکال کر دیکھتا ہوں اور آہ بھر کر اٹیچی میں کتابوں میں رکھے پھولوں کی طرح بند کر دیتا ہوں۔
اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اُس نے کیا

مضمون نگار ممتازدانشور‘ ادیب اور ’’اندھیرا اجالا‘‘ سمیت کئی معروف ڈارموں کے خالق بھی ہیں۔
انسٹرکٹر تاجے خان نے دوسرے دن کے لئے تمام بابوں کو چن کر آرام کے لئے دو دن کی چھٹی دے دی۔ اور پلاٹون کو نئے سرے سے تربیت دے کر جوانوں سے بھر دیا۔ یہ اَن تھک پریڈ کرنے والی پلاٹون تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے چودہ اگست یومِ پاکستان کو شریف پارک اچھرہ سے علامہ اقبال کے مزار تک سارے لاہور کے رضاکاروں کی پلٹنوں کے ساتھ لیفٹ رائیٹ کرتے تسلسل کے ساتھ منٹو پارک (مینارِ پاکستان) پہنچے تھے اور اس کے بعد علامہ اقبال کے مزار پر ۔کوئی نہ تھکا تھا‘ سب پُرجوش تھے‘ کوئی ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔ سب ہشاش بشاش تھے اور میں تو خوش و خرم تھا۔۔مگر سارے جتن کرنے کے باوجود میں آرمی جوائن نہ کرسکتا تھا اور آج تک یہ خواب کانٹا بنائے سینے میں پروئے پھرتا ہوں۔

*****

سات آٹھ سال کا بچہ سٹیج پر آکر کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے اس کی نظم کو بے دلی سے سننا شروع کیا۔ بچے کا ترنم مسحور کن تھا پھر بھی لوگوں کو شاہ جی کا انتظار تھا۔ اور لوگ نعرے لگا لگا کر اپنی خواہش کا اظہار کررہے تھے۔ جو نہی لڑکے نے نظم کا یہ مصرعہ پڑھا

کشمیر میں جنت بکتی ہے

کشمیر میں جنت بکتی ہے

سات مرتبہ اس بچے نے مختلف زاویوں سے یہ مصرعہ گا گا کر لوگوں کو گرفت میں لے لیا تھا۔جونہی اس نے اگلا مصرعہ پڑھا یعنی

کشمیر میں جنت بکتی ہے

اور جان کے بدلے سستی ہے

تو لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کے ہجوم میں سمندر کی طرح لہریں جل تھل ہونے لگیں۔ لوگوں نے اس بچے پر نوٹوں اور سکوں کی بارش کردی اور مصرع پڑھنے کے لئے اصرار کرتے رہے۔ سب لوگ اس قدر جوش میں تھے کہ وقتی طور پر سب لوگ اسی نظم میں ڈوب گئے اور شاہ جی کے نعرے مدہم پڑ گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ابھی سارا ہجوم کشمیر کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔ لوگ چیخ رہے تھے‘ نعرے لگا رہے تھے۔ بچے کو سٹیج پر جا جا کر پیار کررہے تھے۔

*****

 
07
January

تحریر : محمود شام

یہ تو پوری دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔
ایک ایٹمی طاقت ہے۔
اس کی آبادی کا 60 فی صد 15 سے 35 سال کی عمر کے پاکستانیوں پر مشتمل ہے۔
بہت کم ملکوں کو یہ توانائی، طاقت اور جوانی میسر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر ہم پاکستانی جتنا بھی شکر کریں، کم ہے۔


قوموں کی زندگی میں ساٹھ ستر سال کچھ نہیں ہوتے۔ قوم بننے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ قدرت نے ہمیں بے حساب خزانے عطا کئے ہیں۔ نوجوان آبادی تو اس میں سر فہرست ہے۔ پہاڑوں، ریگ زاروں اور میدانوں میں چھپے تیل، تانبے، سونے، گیس اور قیمتی پتھر انمول ذخیرے ہیں۔ ان معدنیات کو برآمد کرنے کے لئے بھی نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جوان ذہن، جوان جسم، جاں دل سوز۔


آج ہمارے مخاطب ہمارے یہی بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ہیں جنہیں ہم اپنا مستقبل کہتے ہیں، جنہیں اب تک ہم نے وہ پُر سکون، محفوظ، پُرامن اور خیال افروز معاشرہ نہیں دیا۔ جس کے وہ اکیسویں صدی میں حقدار ہیں۔ ہم نے انہیں سفر کے وہ ذرائع اور وسائل نہیں دیئے جو ان کے ہم عمر شہریوں کو امریکہ، یورپ، چین اور دوسرے علاقوں میں میسر ہیں جن کا مشاہدہ وہ اس وقت کرتے ہیں جب بیرونِ ملک جاتے ہیں یا وہ فلموں میں، ٹی وی پر، انٹرنیٹ کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ ہم ان کے قصور وار ہیں۔ وہ ہم سے جواب طلب کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ ہمارا اثاثہ ہیں، ہمارا سرمایہ ہیں، ہمارا روشن مستقبل ہیں۔ ہمیں اُمید نہیں یقین ہے کہ وہ جب عملی زندگی میں قدم رکھیں گے، تو ان کے ذہن جدید علوم سے آراستہ ہوں گے۔ اپنی تعلیم، انٹرنیٹ، ٹی وی چینلوں کے ذریعے وہ درپیش چیلنجوں کے مقابلے کی تربیت حاصل کرچکے ہوں گے۔ وہ مسائل کی شناخت بھی کرچکے ہوں گے۔ ان کے حل کے راستے بھی ان کے سامنے ہوں گے۔ حالات سے پنجہ آزما ہونے کے لئے ہماری یہ نسل ہم سے بہتر ہوگی۔


ہمیں اپنی کوتاہیوں پر شرمندہ بھی ہونا چاہئے، اپنے نوجوانوں سے معذرت بھی کرنی چاہئے۔ ہم ملک کو زیادہ آگے کیوں نہیں بڑھا سکے۔ ہماری گزشتہ نسلوں نے ہمیں ورثے میں بہت کچھ دیا ہے، ہمیں غلط اور صحیح کی تفریق بھی بتائی تھی، یہ بھی سکھایا تھا کہ ترقی کی منزل کو کون سے راستے جاتے ہیں۔


بیسویں صدی کے آغاز میں کیا ہمیں یہ بانگ درا نہیں سنائی دی تھی؟ اس وقت کے فلسفی، شاعر اور دل درد مند رکھنے والے اقبالؔ نے کیا ہمیں خبردار نہیں کیا تھا؟
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سرِ دارا


اقبالؔ ہماری نسل کو براہِ راست بھی مخاطب کرتے تھے۔ بہت سے آزادی کے متوالے، سر فروش، بھی اقبالؔ کا یہ درد ہم تک پہنچاتے تھے۔
تمدّن آفریں، خلّاقِ آئینِ جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتر بانوں کا گہوارا
غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا


ان دو مصرعوں میں کتنی صدیاں سمودی گئی ہیں۔ خلفائے راشدین، بنی اُمیہ، بنو عباسیہ، عثمانیہ، سب کی تگ و دو، بصیرت، سفارت، متانت اس ایک مصرع میں بیان کردی گئی ہے۔ غور کیجئے، یہ لفاظی نہیں ہے، جذباتیت نہیں

ہے، حقیقت ہے، تاریخ ہے، جہاں گیر، جہاں دار، جہاں بان، جہاں آراء۔ کیا ہمیں اب ضرورت نہیں ہے کہ سیکھیں جہاں داری کیا ہے؟ جہاں دار کون ہوتا ہے؟ جہاں بانی کیسے ہوتی ہے؟ جہان آرائی کی حدیں کہاں تک ہیں؟!!!
اقبالؔ ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔ ہمارے دل اور ذہن پر دستک دیتا ہے۔
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
ہماری نسل نے ان مصرعوں میں گونجتے سناٹوں کو محسوس کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دُنیا کے آئینِ مسلّم سے کوئی چارا
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباکی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا


ہمیں تو بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی احساس دلاتے رہے، ہماری توانائی کا‘ فیصلہ سازی میں ہماری اہمیت کا، نئی مملکت خدادادِ پاکستان کو ترقی یافتہ اقوامِ عالم کی صفوں میں لے جانے کی ذمہ داریوں کا۔
ذرا غور سے سنیں۔ 12 اپریل 1948ء کو وہ پشاور میں اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کتنی اہم باتیں کہہ رہے ہیں۔ منزل کی طرف جانے والے اصل راستے دکھارہے ہیں۔ پاکستان بننے کے صرف آٹھ ماہ بعد، اپنی رحلت سے چھ ماہ پہلے۔


’’ اس موقع پر فطری طور پر جو خیال میرے ذہن میں چھایا ہوا ہے، وہ تحریکِ پاکستان کے دوران طالب علم برادری کی طرف سے ملنے والی مدد ہے۔ خاص طور پر اس صوبے سے ( یعنی کے پی کے۔ اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ)۔ میں اس صوبے کے عوام کے اس بے مثال اور بر وقت صحیح فیصلے کی اہمیت نہیں بھول سکتا، جو انہوں نے گزشتہ برس ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت کے لئے دیا تھا، اس میں بھی طلبہ کا ہی زیادہ حصّہ تھا۔ مجھے اس حقیقت پر فخر ہے کہ اس صوبے کے عوام کبھی بھی، کسی طرح بھی، پاکستان کے حصول اور آزادی کی جدوجہد میں پیچھے نہیں رہے۔
اب جب ہم نے اپنی قومی منزل حاصل کرلی ہے۔ آپ یقیناًتوقع کررہے ہوں گے کہ میں آپ کو بتاؤں، نصیحت کروں کہ اب ہمارے سامنے اس نئی مملکت کی تعمیر کا انتہائی مشکل اور اہم چیلنج ہے۔ ہمیں اس کو دُنیا کے چند عظیم ترین ملکوں میں سے ایک بنانا ہے۔‘‘


قائدِ اعظم خطاب تو پشاور میں طلبہ سے کررہے تھے لیکن ان کی مخاطب مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں بازوؤں میں نوجوان برادری تھی۔ وہ قیامِ پاکستان میں ان کی جدو جہد پر بار بار نوجوانوں کا شکریہ بھی ادا کررہے تھے۔ اب وہ چاہتے تھے کہ اس جذبے سے وہ استحکام پاکستان کے لئے بھی اپنی توانائیاں صرف کریں۔


’’ کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے اپنا کردار انتہائی شان سے ادا کیا۔ اب جب آپ نے اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے۔ اب حکومت آپ کی ہے، ملک آپ کا ہے، جہاں آپ ایک آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘


آگے دیکھئے۔ یہ نکتہ بہت ہی اہم ہے۔
’’ اب ملک کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے لئے آپ کی ذمہ داریاں اور نقطۂ نظر تبدیل ہوجانا چاہئے۔ اب وقت کا تقاضا یہ ہے اور یہ مملکت آپ سے توقع رکھتی ہے کہ اب نظم و ضبط کا معقول احساس پیدا کریں۔ آپ کا کردار قابلِ رشک ہو۔ معاملات میں پہل آپ کا شعار ہو۔ اور تعلیمی پس منظر انتہائی ٹھوس۔ ‘‘


غور کیجئے! 67سال پہلے بانئ پاکستان بر صغیر کے بے مثل قائد اس وقت کے نوجوانوں کو کیا سمجھارہے ہیں۔ کن غلط فہمیوں کی نشاندہی کررہے ہیں جو آ ج کے رویوں پر بھی صادق آتی ہے۔
’’ میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے اقدامات، نا پُختہ اطلاعات، نعروں یا لفاظی پر مبنی نہیں ہونے چاہئیں۔ انہیں دل پر نہ لیں، طوطے کی طرح نہ رٹیں۔ آپ کی درسگاہ آپ کو جو تربیت دیتی ہے، اس کا فائدہ اٹھائیں۔ اپنے آپ کو آنے والی نسلوں کے لیڈر بننے کے لئے تیار کریں۔ یہ غلط خیال دل سے نکال دیں کہ طلبہ کو کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ کوئی نئی بات نہیں بتا سکتا کیونکہ وہ پہلے سے بہت کچھ جانتے ہیں، یہ اندازِ فکر بہت نقصان دہ ہے۔‘‘


نوجوانوں کو ان کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے فرمایا۔
’’ آپ کو اندازہ ہونا چاہئے کہ آپ کے لئے نئے شعبے، نئے محکمے اور نئے آفاق انتظار کررہے ہیں، نئے مواقع دستیاب ہیں جہاں لامحدود امکانات ہیں۔ آپ کو اپنی توجہ سائنس،کمرشل بینکنگ، انشورنس، صنعت اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر مرکوز کرنی چاہئے۔‘‘


کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری نسل کو حقیقی مسائل سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ہماری غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ قائدِ اعظم، قائدِ ملّت اور دوسرے اکابرین نے ہمیں ملک کو درپیش چیلنجوں کا شدت سے احساس دلایا تھا، راستے بھی سُجھائے تھے۔


میں اپنی نسل اور اپنے ہم عصروں کی طرف سے آج کے نوجوانوں سے معذرت کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ انتہائی خوش قسمت ہیں کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں، پاکستان میں رہتے ہیں، اس عظیم مملکت کے شہری ہیں، اس حسین، خوبصورت اور فطرت کے خزانوں سے مالا مال وطن کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، نا اُمیدی کا کوئی جواز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت سے نوازا ہے۔ کبھی تدبّر کریں، غور کریں کہ مشرقِ وسطیٰ سے مشرقِ بعید جانے والوں کو پاکستان کے دروازے سے گزرنا پڑتا ہے، ایشیا سے یورپ جانے کے لئے بھی یہی راستہ ہے۔ چین کیوں قراقرم سے گوادر تک اقتصادی راہداری تعمیر کررہا ہے۔ یہ اس کی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اس سے فائدہ تو ہم پاکستانیوں کو ہوگا۔ کئی ہزار کلومیٹر پٹی پر کتنے ہوٹل کھلیں گے۔ کتنے کارخانے تعمیر ہوں گے۔ کتنے پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔
کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں۔ کیا آپ نے چینی زبان سیکھ لی ہے۔


اس راہداری کی تعمیر کے دوران جن شعبوں میں مہارت اور تربیت درکار ہوگی، قائدِ اعظم نے 67 برس پہلے ان کی واضح نشاندہی کی تھی۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ دُنیا میں کئی ملکوں میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، بیلجیم، فرانس، جرمنی، جاپان میں 70 برس سے زیادہ عمر کے مرد اور خواتین اکثریت میں ہیں۔ وہ اگر چہ صحت مند ہیں، بہت سے کام اس بڑھاپے میں بھی کرلیتے ہیں لیکن پھر بھی روزمرہ زندگی میں ایسے کئی ضروری شعبے ہیں جہاں انہیں نوجوانوں کی ضرورت رہتی ہے۔ آپ انٹرنیٹ دیکھتے ہیں، بین الاقوامی ٹی وی چینل دیکھتے ہیں، ریڈیو سنتے ہیں، آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ وہاں کن شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔ یہ سب شعبے 67 سال پہلے بھی نوجوانوں کا انتظار کررہے تھے، اب بھی یہ شعبے نوجوانوں کے منتظر ہیں۔ آپ سارے کام کرلیتے ہیں۔ آپ بہت جدو جہد کرتے ہیں بڑی محنت کرتے ہیں۔ آپ میں بہت توانائی ہے لیکن آپ میں سے اکثر کا تعلیمی اور تربیتی پس منظر مضبوط نہیں ہے۔ الیکٹریشن ہیں مگر سند نہیں ہے۔ پلمبر ہیں مگر ڈپلوما نہیں ہے، آپ کے گھریلو حالات ایسے تھے کہ پڑھائی درمیان میں ہی چھوڑنا پڑی۔ کام شروع کرچکے، اس میں مہارت بھی حاصل ہوگئی۔ لیکن آپ کے پاس کوئی تصدیق نامہ نہیں ہے۔ غیر ممالک میں باقاعدہ اسناد درکار ہوتی ہیں۔ یہ ہماری نسل کی کوتاہی ہے، حکمرانوں کی غفلت ہے کہ ووکیشنل ایجوکیشن (پیشہ ورانہ تربیت) کے ادارے بہت کم تعداد میں ہیں۔ اس لئے ہمارے جو محنت کش دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں، انہیں اُجرت کم ملتی ہے۔ حالانکہ وہ ہُنر مندی میں کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔


میں تو کئی بار لکھ چکا ہوں۔ تمہاری جرأتوں کو داد دے چکا ہوں۔ اے جوانانِ وطن! تم جو اپنے دمکتے چہروں، تمتماتی پیشانیوں، جگمگاتی آنکھوں، لچکتے بازوؤں، ستواں جسموں کے ساتھ کرکٹ سٹیڈیموں کے باہر کبھی ٹکٹوں کے انتظار میں کھڑے نظر آتے ہو، کبھی تماشائیوں کی صورت میں اپنے کھلاڑیوں کی اچھی گیند اور پُر زور ہٹ پر پورے جوش اور محبت سے تالیاں بجاتے دکھائی دیتے ہو، معلوم نہیں تم نے کبھی اپنی طاقت، اپنی اہمیت اور اپنی افادیت کا احساس کیا ہے یا نہیں۔ اس وقت اسٹیڈیموں کی رونق تم سے ہے، کھلاڑیوں کی آمدنی تمہاری آمد سے بڑھتی ہے۔ مثالی نظم و ضبط، تحمل سے قوم کا سر تم نے بلند کیا ہے۔ میں تمہاری آنکھوں میں یہ جوش، یہ عزم، یہ چمک، تمہارے بازوؤں میں یہ برق، تمہارے جسموں میں توانائی، تمہاری پیشانیوں پہ یہ ولولے کتنے برسوں سے دیکھتا آرہا ہوں اور انہیں نہ جانے کس کس کی طاقت بنتے پایا ہے۔ تاریخ میں کتنے موڑ آئے ہیں، کبھی ہم روئے ہیں، کبھی مسکرائے ہیں۔ پتہ نہیں تم نے کبھی مڑ کر دیکھا کہ نہیں۔جب تمہاری طاقت مملکت کے مفاد میں استعمال کی گئی تو ہم سب مسکرائے، خوشیاں ہمارا مقدّر بنیں، جب تمہاری طاقت کسی ذات کے مفاد میں خرچ کی گئی تو وہ شخصیت تو مسکرائی مگر قوم روتی رہی ہے۔ تم ہمارے بازو ہو، ہمارا حوصلہ ہو، تم جہاں بھی ہو، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد، مظفر آباد، ملتان، حیدر آباد، سکھر، سیالکوٹ، فیصل آباد، کوہاٹ، مردان، سبّی، لاڑکانہ، خانیوال، نوابشاہ، گھوٹکی، گجرات، روجھان جمالی، جھنگ۔۔۔۔۔ تمہاری نگاہیں بلند ہیں، سخن دلنواز ہیں، جاں پُر سوز ہے۔ تم کہاں نہیں ہو، تم وہاں بھی ہو جہاں وطن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں، وہاں بھی ہو جہاں ایران کی سرحدیں ہم سے ملتی ہیں، جہاں بھارت کی طویل سرحد ہماری سرحد کے ساتھ چلتی ہے، لائن آف کنٹرول چلتی ہے، وہاں بھی تم ہی ہو، کہیں کھیتوں میں ہریالی تم سے ہے، کہیں ملوں کی مشینیں تمہارے دم سے رواں ہیں، کہیں تمہاری موجودگی اور ہر وقت چوکنّے رہنا کتنی آبادیوں کے لئے تحفظ اور سکون کی ضمانت ہے۔ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دینی مدرسوں میں زندگی تم سے ہے، سرکاری سیکرٹریٹ ہوں، پرائیویٹ کمپنیوں کے دفاتر، سب تمہاری وجہ سے چل رہے ہیں۔ ایک طرف کم سنوں کے لئے تم ایک اُمید ہو، آگے بڑھنے کی وجہ ہو۔ دوسری طرف ڈھلتی عمروں کے لئے تم ایک سہارا ہو۔ اے جوانانِ پاکستان کبھی تم نے جائزہ لیا کہ تمہاری حدّت سے کتنی فصلیں پکیں اور انہیں کاٹ کر کون کون لے گیا۔ مجھ جیسے پاکستانی سیاست کے طالب علم گواہ ہیں کہ کس طرح قائدین تمہارے کندھوں پر سوار ہوکر صدارتی محلّات، وزارتِ عظمیٰ کے ایوانوں میں داخل ہوگئے۔ تم آہنی گیٹوں کے باہر اپنی تمنّاؤں، محرومیوں اور خوابوں کے ساتھ کھڑے رہ گئے۔ تم وطن کی بہار ہو، فصل گل ہو، رنگتیں ہو، خوشبوئیں ہو، مگر ایک دوسرے سے بٹے ہوئے ہو، دور دور ہو۔ قومی سیاسی پارٹیاں ہوں۔ ان کی مقبولیت ہر دلعزیزی تمہارے دم سے ہوتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کا دباؤ تمہاری حمایت سے بڑھتا ہے۔ علاقائی تنظیمیں اپنے پروگرام تمہارے بل بوتے پر پیش کرتی ہیں۔ لسانی تنظیموں کی زبان میں روانی تم سے آتی ہے۔ ان پارٹیوں، جماعتوں، تنظیموں کے سربراہ تو آپس میں ملتے رہتے ہیں لیکن تمہیں کبھی آپس میں ملنے کا موقع نہیں ملتا۔


امیروں کے اونچے علاقے ہوں، وہاں زندگی تم سے ہوتی ہے، کاریں بھگاتے ہوئے، بریکیں لگاتے ہوئے، موبائل فونوں پہ پہروں انگریزیائی اُردو بولتے ہوئے، ایک ہلچل تم سے رہتی ہے۔ متوسط طبقوں میں بغیر سائلنسر کی موٹرسائیکلوں سے اپنے ہونے کا احساس تم ہی دلاتے ہو۔ کبھی ٹیوشنیں پڑھاکر اپنی تعلیم کا خرچ پورا کرتے ہو۔ کچی آبادیوں میں، کچی عمروں میں کبھی خوانچے لگاتے ہوئے، کبھی ہوٹلوں، ریستورانوں پر مصروفِ خدمت، منی بسوں میں لٹکتے، ساتھ ساتھ بھاگتے، ٹرانسپورٹروں کی تجوریاں تم ہی بھرواتے ہو۔ کبھی رکشہ دوڑاتے ہو، کبھی ٹیکسی چلاتے ہوئے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہو، کبھی سیٹھوں، جاگیرداروں، صاحبوں کی لینڈ روورز، کاریں چلاتے، صاف کرتے ہو۔ تم سب ہمارا فخر ہو، ہمارا غرور ہو۔ کبھی تم نے سوچا کہ تم نہ ہو تو یہ سب کچھ چل سکتا ہے؟ زندگی رواں رہ سکتی ہے؟تم وقت کے سینے میں دھڑکتے ہو، جو تم نہ ہو تو زمانے کی سانس رُک جائے، تم جہاں بھی ہو اور تم کہاں نہیں ہو۔ تم ہی پاکستان ہو، تم ہی اس مملکت کا مستقبل ہو۔ اس سفر کی منزل ہو، تحریکِ پاکستان تمہارے عزم سے چلی تھی، پاکستان کا قیام تمہاری پُر جوش شرکت کا نتیجہ تھا اور اب پاکستان کا استحکام بھی تمہاری ہمتوں اور کوششوں سے ہوگا۔ زمانے کے قبیلے کی آنکھ کا تارہ وہی ہے جس کا شباب بے داغ اور ضرب کاری ہے جو ستاروں پر کمند ڈالتا ہے۔


منزلیں بھی منتظر ہیں، ہدف بھی موجود ہیں، ماں کی آغوش بھی ہے، تمہیں شناخت دینے والی مملکت بھی ہے، تمہیں نام دینے والی زمین بھی ہے، دُنیا میں تمہارے کتنے ہم عمر ہیں جو زمین کے لئے ترستے ہیں جن کو وطن کی چھاؤں میسر نہیں ہے۔ تمہیں تو اللہ نے کتنے، کھلے سر سبز میدان، میلوں میل بہتے دریا، ٹھاٹھیں مارتے سمندر، فطرت کے شاہکار ساحل ، سونا اُگلتی زمینیں، گیس، تیل، ریگ زار، برف پوش پہاڑ بخشے ہیں۔ سربراہوں کا کلچر بدلنے کی ضرورت ہے اور تم میں اس کی اہلیت ہے۔ تمہاری آنکھوں میں یہ سپنے ہیں، تمہارے بازوؤں میں یہ بجلیاں ہیں۔
آخر میں پھر اقبال کے الفاظ میں مخاطب ہوکر اجازت چاہوں گا۔


نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
07
January

تحریر: عقیل یوسف زئی

افغانستان کے حالات میں 2015 کے دوران جو ابتری واقع ہوئی وہ سال کے آخر تک جاری رہی ۔ اس صورت حال نے جہاں افغان ریاست کو اپنی سکیورٹی کے حوالے سے پریشان کئے رکھا وہاں پڑوسی ممالک اور اہم اتحادی بھی تشویش کا شکار رہے اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ دسمبر کے مہینے میں ہارٹ آف ایشیا کے عنوان سے اسلام آباد میں جو کانفرنس منعقد ہوئی اس میں عالمی برادری اور پاکستان جیسے ممالک کی غیر معمولی دلچسپی اور سنجیدگی دیکھنے کو ملی اور ایک مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ افغانستان کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کیا جائے گا اور مفاہمتی عمل کے دوران ہر ممکن تعاون کا راستہ اپنایا جائے گا۔ سال 2015 کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے جس کا تمام تر فائدہ حملہ آوروں کو ہوا جبکہ نقصان افغانستان کو اٹھانا پڑا اور اس صورتحال نے دوسروں کے علاوہ بعض عالمی طاقتوں کو بھی خطے کے بدلتے حالات کے تناظر میں مسلسل تشویش سے دوچار کئے رکھا۔

 

افغانستان میں استحکام کے بجائے بدامنی اور عدمِ استحکام میں 2015 کے دوران اضافہ کیوں ہوا۔ ماہرین اس کے مندرجہ ذیل عوامل بتاتے ہیں۔

 -1 افغان فورسز کی صلاحیت اور وسائل کے بارے میں جو دعوے کئے گئے تھے وہ درست نہیں تھے اور جب غیر ملکی فوجیں نکل گئیں تو افغان فورسزنے اس صلاحیت کا مظاہر نہیں کیا جس کی توقع تھی۔

 -2  افغان حکومت کے دو اہم سرابراہان یعنی ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کے درمیان مشترکہ حکومت کی تشکیل کے باوجود وہ ہم آہنگی اور اعتماد سازی پیدا نہ ہو سکی جس کی ریاست کوضرورت تھی اور ان کے باہمی اختلافات ریاستی اُمور اور وزارتوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے رہے جس نے نظامِ مملکت کی فعالیت کو بری طرح متاثر کیا۔

 -3 امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے حسبِ توقع اس سطح کی مالی اور تیکنیکی معاونت فراہم نہیں کی جس کی افغان فورسز اور دوسرے اِداروں کو ضرورت تھی۔ اس عمل کی وجہ سے ریاست کو وسائل کے فقدان کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سوال سراٹھانے لگاکہ ریاستی معاملات مستقبل میں کیسے چلائے جائیں۔

2016kadoranafghan.jpg

 -4 رشید دوستم اور ایسے دیگر کمانڈروں اور اعلیٰ حکام نے اکثریتی آبادی یعنی پشتونوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں پشتونوں کا ریاست پر اعتماد اٹھنے لگا اور وہ ردِ عمل کے طور پر طالبان وغیرہ کی غیرعلانیہ معاونت کرنے لگے۔ افغان صدر بوجوہ وہ مقبولیت برقرار نہ رکھ سکے جو کہ الیکشن سے قبل ان کو حاصل تھی اور معاملات پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ۔

 -5 افغان صدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان اور بعض دیگر اتحادیوں کو الزامات اور مخالفانہ بیانات کا نشانہ بنا کر نہ صرف خود سے دُور کیا بلکہ کشیدگی کا راستہ بھی ہموار کیا جس کا ان قوتوں اور ممالک نے فائدہ اٹھانا شروع کیا جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینا چاہ رہے تھے۔

 -6 طالبان کے ساتھ مذاکرات کے جس سلسلے کا مری پراسس کے دوران آغاز کیا گیا تھا وہ ملا عمر کی ہلاکت کی خبر لیک کرنے سے تعطل کا شکار ہوا اور نئے طالبان سربراہ نے اپنی موجودگی اور صلاحیت ثابت کرنے کے لئے حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ کیا جس نے ریاست کو ہلاکر رکھ دیا۔

 -7 سیاسی عدمِ استحکام اور انتہا پسندوں کے حملوں کے باعث ہزاروں تعلیم یافتہ لوگ افغانستان سے ایک بار پھر سے دوسرے ممالک میں جانا شروع ہوگئے۔ اس رجحان نے دیگر کو بھی  خوفزدہ کردیا جبکہ عام آدمی کی معاشی حالت بھی متاثر ہونا شروع ہوئی۔ اس صورتحال نے عدمِ اطمینان کا راستہ ہموار کیا اور ریاستی معاملات اور معاشی سرگرمیوں کو دھچکے لگنے لگے شروع ہوگئے۔

 

یہ وہ عوامل تھے (یا ہیں) جن کاسال 2015 کے دوران افغان ریاست‘ سیاست اور سوسائٹی کو سامنا کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں ریاست کی گرفت کمزور ہونے لگی اور حالات ابتر ہوتے گئے ۔

 

اب سوال یہ ہے کہ سال 2016 کیسا ہوگا اور اس جنگ زدہ افغانستان کو اس برس کے دوران کون سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واقعات و حالات کے تناظر میں مستقبل کے افغانستان کااگر جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ حالات کوئی بھی کروٹ لے سکتے ہیں اور کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں قندوزپر طالبان کے قبضے اور اس کے بعد کی صورت حال کی مثال دی جاسکتی ہے۔

 

افغان وزارتِ داخلہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق طالبان تقریباً 15 روز تک اس اہم شہر پر قابض رہے۔ انہوں نے اس دوران نہ صرف یہ کہ شہر کو یرغمال بنائے رکھا بلکہ سرکاری عمارات پر بھی قبضہ جمائے رکھا۔ ان رپورٹس کے مطابق ان دو ہفتوں کے دوران تقریباً 300 افراد جاں بحق جبکہ 600 زخمی ہوئے۔ یہ تعداد کافی زیادہ اور پریشان کن ہے تاہم اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ افغان اور اتحادی فورسز دو ہفتوں کے طویل عرصے تک اس محدود شہر کو طالبان کے قبضے سے چھڑانے میں ناکام رہیں اور طالبان یہ پیغام دینے میں عملاً کامیاب ہوئے کہ وہ لمبے عرصے تک مضافات تو ایک طرف اہم شہروں پر قبضہ کرنے اور قابض رہنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

 

جس روز اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا اس سے ایک روز قبل طالبان وغیرہ نے دو صوبوں قندھار اور ہرات پر بیک وقت شدید حملے کئے۔ ان حملوں کے دوران پہلے روز تقریباً 150 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت سکیورٹی اہلکاروں کی تھی۔ حالت یہ تھی کہ طالبان دیگر عمارات کے علاوہ قندھار انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں بھی گھس گئے اور فورسز ان کا راستہ روکنے میں ناکام رہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ افغان ریاست یا اس کی فورسز نے قندوز کے حملے سے یا تو سبق نہیں سیکھا تھا یا اب کی بار بھی ان کی صف بندی درست نہیں تھی۔ جس روز افغان صدر اور ان کی ٹیم کا اسلام آباد میں شاندار استقبال کیا جارہاتھا‘ اُس وقت بھی ان دو صوبوں یا شہروں میں فریقین کے درمیان شدید لڑائی جا ری تھی اور قندھار ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

 

افسوسناک امر یہ تھا کہ اس دوران بھی افغان انٹیلی جنس کے سربراہ نے اپنی ناکامیوں کے اعتراف کے بجائے پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ اپنے علاوہ صدر کو بھی الزامات کی گرفت میں لیا اور اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اگر وہ صدارتی حکم سے قبل خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں تو بہترہوگا۔ موصوف نے ایسا ہی کیا اور افغان صدر نے بھی جواب میں استعفےٰ منظور کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ انٹیلی جنس سربراہ کی جانب سے اپنے صدر کے خلاف جس قسم کا غیرمحتاط اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا گیا وہ اس جانب اشارہ تھا کہ بعض حلقے یا حکام خود کو کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں سمجھتے اور وہ قابو سے باہر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موصوف نے پاکستان پر الزامات لگانے کے علاوہ اپنے سربراہ مملکت کے دورہ پاکستان کے فیصلے کو بھی کھلی تنقید کا نشانہ بنایا تھا حالانکہ مذکورہ کانفرنس ایک عالمی پراسس کا تسلسل تھا اور پاکستان نے صرف اس کی میزبانی کی ذمہ داری نبھانی تھی۔

 

اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے جس جذبے اور عزت کے ساتھ افغان صدر اور ان کی ٹیم کا استقبال کیا اور ان کی باتوں کے علاوہ بعض شکایات کو جس طریقے سنا گیا اس نے دوسروں کے علاوہ افغان حکام کو بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ کانفرنس توقعات سے بھی بڑھ کر کامیاب اور متاثر کن رہی۔ افغان صدر نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ان خطرات کی کھل کر نشاندہی بھی کی جن کا افغانستان کو سامنا ہے یا مستقبل میں سامنا ہوسکتا ہے۔ ردِ عمل میں پاکستانی شخصیات نے ان کو جو یقین دہانیاں کرائیں وہ بڑی حد تک اطمینان بخش تھیں اور افغان صدر نے کابل پہنچنے کے بعد اس پر اطمینان اور اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ ادھر تاپی پراجیکٹ کے آغازنے بھی امن کے امکانات بڑھا دیئے۔

 

کانفرنس کے دوران افغان صدر کی، دوسروں کے علاوہ، پاکستان کے آرمی چیف سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی جو کہ حسبِ توقع کافی خوشگوار ثابت ہوئی اور پاکستانی قیادت نے ماضی قریب کے ان الزامات کو زیرِ بحث لانے سے بھی گریز کیا جو دوسروں کے علاوہ خود افغان صدر کی جانب سے بھی لگائے گئے تھے۔ یہ دراصل اس پیغام کا عملی اظہار تھا کہ پاکستانی قیادت ہر حال میں ایک مستحکم اور پُرامن افغانستان چاہتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔ یہ واضح موقف یا پیغام اس جانب اشارہ تھا کہ پاکستان اور اس کے بعض قریبی اتحادی مستقبل میں ایک اہم رول ادا کرنے جارہے ہیں اور اس رول کے نتیجے میں نہ صرف بداعتمادی میں کمی واقع ہوگی بلکہ خطے کے مجموعی حالات میں بہتری کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ دوسروں کے علاوہ امریکہ ‘ چین اور بھارت جیسے اہم ممالک نے بھی کانفرنس کے انعقاد اور پاکستانی کوششوں یا یقین دہانیوں کا کھل کر خیر مقدم کیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان‘ افغانستان اور امریکہ کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کے بعدجو اعلامیہ جاری کیا گیا وہ بہت جامع اور واضح تھا۔

 

اس کانفرنس کے دوران اشرف غنی نے جو نکات اٹھائے ان میں دو باتیں بہت اہم تھیں‘ ایک یہ کہ افغانستان کے دشمن اس ملک کو توڑنا چاہتے ہیں اور دوسری یہ کہ داعش کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ یہ باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ ان کی جرأت تھی کہ انہوں نے حسبِ سابق ایسے خطرات کی خود نشاندہی کی جن کا مستقبل میں اس جنگ زدہ ملک کو سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ دوسروں کے علاوہ افغان قیادت کو بھی حالات اور خطرات کا بخوبی ادراک اور خوف ہے اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ افغان صدرنے پاکستان سے اس کے رول کے تناظر میں متعدد مطالبات کئے جن کو غور سے سنا گیا اور ان کی، تسلی بخش اور عملی اقدامات پر مبنی، یقین دہانیوں کا جواب بھی دیا گیا۔

 

دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کانفرنس کے کافی مثبت نتائج اور اثرات مرتب ہوں گے اور اگر اس پراسس کو چین جیسے ممالک کا تعاون حاصل رہا تو بہت سے معاملات درست انداز میں آگے بڑھ پائیں گے۔ بہت سے ماہرین دونوں ممالک کو قریب لانے اور غلط فہمیاں دورکرنے میں ان قوم پرست لیڈروں کے کردار کو بھی قدر اور اہمیت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں جنہوں نے کانفرنس سے قبل کابل کا دورہ کیا اور افغان حکمرانوں اور حامد کرزئی جیسے لیڈروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ کشیدگی کو مفاہمت میں تبدیل کیا جائے۔

majmamir.jpg 

  دفاعی تجزیہ کار میجر(ر) محمدعامر نے اس ضمن میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الزامات در الزامات کے رویے کی بجائے اب حقیقت پسندی پر مبنی رویے اختیار کرنے  میں ہی افغان قیادت کا فائدہ ہے اور اس سے پورے خطے کے حالات کو بہتر بھی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق افغان قیادت کو اب بھارت اور ان چند قوتوں کے اثر سے نکلنا پڑے گا جو کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتی آئی ہیں اور غلط فہمیوں اور دوریوں کا راستہ ہموار کرتی رہیں۔ ان کے مطابق افغان قیادت کو عملاً یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ افغان سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگر ایسا کیا گیا تو اس میں سب کا فائدہ ہوگا۔

hassankhan.jpg 

ممتاز صحافی حسن خان نے کہا کہ افغان قیادت‘ میڈیا اور عوام کو اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا ہوگا اور اس بات کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ ہر بات اور ہر کام کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا ان کا رویہ کتنا درست اور حقائق پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں افغانستان کی سول سوسائٹی نے ایک جائزہ ترتیب دیا ہے جس کے 10 میں سے آٹھ نکات میں موجودہ صورت حال کی ذمہ داری کسی اور کے بجائے افغانستان کے داخلی معاملات ‘ پالیسیوں اور کمزوریوں پر ڈال دی گئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے علاوہ اپنی کمزوریوں کا بھی ادراک کیا جائے تاکہ افغانستان کے علاوہ خطے کے امن‘ ترقی اور استحکام کو بھی یقینی بنایا جائے ورنہ 2016 ایک خطرناک سال بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

imtiazgul.jpg 

سینئر تجزیہ کار امتیاز گل کی رائے ہے کہ ریاستی رابطوں کی فعالیت کے علاوہ ٹریک ٹو کے ذریعے دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوششیں کافی سود مند ثابت ہو سکتی ہیں اور اس آپشن کو بھی سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے تاکہ 2016 اور اس کے بعد کے ممکنہ خطرات کا راستہ روکا جاسکے اور مفاہمتی عمل کا آغاز بھی کیا جاسکے۔

 

brigmshah.jpg 

بریگیڈ (ر) محمود شاہ نے اس ضمن میں کہا کہ افغان قیادت کو پڑوسیوں اور مخلص اتحادیوں کی معاونت کے علاوہ اندرونی سطح پر موجود قیادت کے اختلافات کو دُور کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگئی کیونکہ حکمرانوں اور اداروں کے تصادم اور کشیدگی کے منفی نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور اس کا تمام تر فائدہ حملہ آور قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ دوسروں پر انحصارکرنے کے بجائے اب افغانستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔

 

تقریباً سبھی تجزیہ کاروں کی متفقہ رائے ہے کہ سال2016 افغانستان کے لئے کافی بھاری سال ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ساتھ میں اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ اگر افغان ریاست کی اندرونی کمزوریوں پر قابو پایا جاسکے اور پاکستان‘ چین اور امریکہ جیسے ممالک کے رابطوں‘ معاونت اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو حالات بہتری کی جانب جاپائیں گے اور خطہ مزید بربادی سے دو چار ہونے کے بجائے ایک پُرامن اور اچھے مستقبل کی جانب گامزن ہو سکے گا۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے جس جذبے اور عزت کے ساتھ افغان صدر اور ان کی ٹیم کا استقبال کیا اور ان کی باتوں کے علاوہ بعض شکایات کو جس طریقے سنا گیا اس نے دوسروں کے علاوہ افغان حکام کو بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ کانفرنس توقعات سے بھی بڑھ کر کامیاب اور متاثر کن رہی۔ افغان صدر نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ان خطرات کی کھل کر نشاندہی بھی کی جن کا افغانستان کو سامنا ہے یا مستقبل میں سامنا ہوسکتا ہے۔ ردِ عمل میں پاکستانی شخصیات نے ان کو جو یقین دہانیاں کرائیں وہ بڑی حد تک اطمینان بخش تھیں اور افغان صدر نے کابل پہنچنے کے بعد اس پر اطمینان اور اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ ادھر تاپی پراجیکٹ کے آغازنے بھی امن کے امکانات بڑھا دیئے۔

*****

افسوسناک امر یہ تھا کہ اس دوران بھی افغان انٹیلی جنس کے سربراہ نے اپنی ناکامیوں کے اعتراف کے بجائے پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ اپنے علاوہ صدر کو بھی الزامات کی گرفت میں لیا اور اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اگر وہ صدارتی حکم سے قبل خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں تو بہترہوگا۔ موصوف نے ایسا ہی کیا اور افغان صدر نے بھی جواب میں استعفےٰ منظور کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ انٹیلی جنس سربراہ کی جانب سے اپنے صدر کے خلاف جس قسم کا غیرمحتاط اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا گیا وہ اس جانب اشارہ تھا کہ بعض حلقے یا حکام خود کو کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں سمجھتے اور وہ قابو سے باہر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موصوف نے پاکستان پر الزامات لگانے کے علاوہ اپنے سربراہ مملکت کے دورہ پاکستان کے فیصلے کو بھی کھلی تنقید کا نشانہ بنایا تھا حالانکہ مذکورہ کانفرنس ایک عالمی پراسس کا تسلسل تھا اور پاکستان نے صرف اس کی میزبانی کی ذمہ داری نبھانی تھی۔

*****

 
07
January

تحریر: خورشید ندیم

2016 ء کا پاکستان کیسا ہو گا؟اس سوال کا جواب گزرے ماہ و سال میں ہے۔میرا احساس ہے کہ اس کی بنیاد 2015ء میں رکھ دی گئی ہے۔ ہماری قومی تاریخ میں یہ سال بہت اہم ہے۔16 دسمبر2014 ء کو، جب ہم اپنی تاریخ کے ایک المناک باب ’ سقوط ڈھاکہ‘ کو یاد کر رہے تھے، ایک اور سانحہ ہوا جس نے اگرایک طرف دلوں کو دہلا دیا تو دوسری طرف قوم کو فکری یکسوئی عطا کر دی۔ آنسوؤں میں بھیگی قوم نے یہ جان لیا کہ اس کے قومی وجود سے کون سا آسیب آلپٹا ہے۔ سیاسی قیادت اور پاک فوج نے مل کر ایک حکمت عملی بنائی۔ ضربِ عضب کی باگ پاک فوج کے جوانوں نے اپنے ہاتھ میں تھام لی اور یوں پاکستان کے وجود کو اس آسیب سے آزاد کرانے کے لئے فیصلہ کن معرکے کا آغاز ہوا۔ 2015 ء میں اس سمت میں جو پیش رفت ہوئی، اس نے ایک مدت کے بعد قوم کو امید کا پیغام دیا۔ لوگ خوف سے آزاد ہونے لگے۔ امید کی ایک کونپل پھوٹی اور پھر تھوڑی دیر میں ہر طرف گلستان کھل سا اٹھا۔

 

2016ء میں ہمیں بحیثیت قوم نہ صرف اس کام کو آگے بڑھانا ہے بلکہ یہ بھی طے کرنا ہے کہ مستقبل میں قومی وجود کو ایسے آسیبوں سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے‘ وہ کون سے خلا ہیں جہاں سے دہشت گردی کو گھسنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ فوج ہتھیار اٹھانے والوں کو نہتا کر سکتی ہے۔ وہ مزاحمت پر آمادہ ہاتھوں کو توڑ بھی سکتی ہے۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ اگر مزید ایسے ہاتھ سامنے آتے رہیں جو بندوق بردار ہوں‘ ایسے ٹکسال قائم رہیں جہاں اس طرح کے مجرم ڈھلتے ہوں تو پھر دست شکنی کا کام بڑھ جائے گا۔ اب کوئی ملک اپنی فوج کو ہمیشہ داخلی تنازعات میں نہیں الجھا سکتا۔ فوج کا اصل کام تو خارجی اور بیرونی جارحیت سے ملک کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جہاں فوج لوگوں کے ہاتھوں سے ہتھیار چھینے، وہاں وہ لوگ بھی بروئے کار آئیں جو ان ٹکسالوں کو بند کرائیں جہاں دہشت گرد تیار کئے جاتے ہیں۔

 

2016kapak.jpg

اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے نظام تعلیم کی اصلاح کرنی ہے۔ تعلیم اجتماعیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ پروان چڑھتی نسل میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وطن کی محبت فطری ہے اور انفرادی یا علاقائی شناخت کے ساتھ ایک قومی شناخت بھی ہوتی ہے جو دیگر شناختوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ اب ایک نوجوان اپنی شناخت میں پنجابی یا سندھی ہو سکتا ہے‘ تعلیمی اختصاص کے حوالے سے وہ عالم دین ہو سکتا ہے یا طبیعات کا عالم۔ اس فرق کے باوجود سب پر یہ واضح ہونا بھی ضروری ہے کہ وہ ایک جسد واحد کے اعضاء ہیں، جسے پاکستان کہتے ہیں۔ پاکستان کا تحفظ اور سلامتی ان کی انفرادی اور علاقائی سلامتی کی پہلی شرط ہے۔

 

اس باب میں ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تعلیم کے باب میں بہت سے ابہام ہیں۔ تقسیم در تقسیم کا ایک سلسلہ ہے جو نظریاتی اور سماجی سطح پر مختلف نظریاتی اور سماجی بنیادوں پر متصادم طبقات کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ طبقات قومی یکسوئی سے محروم ہیں اور طبقاتی مفادات کے تناظر میں سوچتے ہیں۔ دینی مدارس کے فارغ التحصیل یہ سمجھتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ انہیں مٹانے کے درپے ہے اور جدید پڑھا لکھا طبقہ یہ خیال کرتا ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل سماج کی مادی ترقی میں حائل ہیں۔ اسی طرح جدید تعلیمی نظام میں ایک طرف مراعات یافتہ طبقہ ہے اور دوسری طرف سرکاری سکولوں میں پڑھنے والی اکثریت۔ دونوں کے مفادات بھی ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس تفاوت سے وہ خلا وجود میں آتا ہے، جہاں سے دہشت گردی جیسے آسیب کو گھسنے کی جگہ ملتی ہے۔ طبقاتی تقسیم جہاں محرومی کو جنم دیتی ہے وہاں دوسرے طبقات کے خلاف نفرت بھی پیدا کرتی ہے۔ ہر طبقہ دوسرے طبقے کو اپنے حقوق کا غاصب سمجھتا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے فکری یکسوئی یا قومی یک جہتی پیدا نہیں ہو سکتی۔

 

نظام تعلیم کے ساتھ نظام سیاست کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ جمہوریت کی نتیجہ خیزی کا انحصار نظام سیاست پر ہے۔ نظام سیاست کی بنیاد سیاسی کلچر پر ہے اور سیاسی کلچر کی اکائی سیاسی جماعتیں ہیں۔ سیاسی جماعتیں اگر جمہوری روایات کے ساتھ مخلص ہوں گی تو اس سے جمہوریت ثمر بار ہو گی۔ اگر سیاسی جماعتوں کا نظم میرٹ اور صلاحیت پر استوار ہو گا تو سیاسی نظام میں بھی میرٹ اور صلاحیت فیصلہ کن سمجھے جائیں گے۔ ہماری سیاست ابھی تک برادری ازم، علاقائیت اور گروہی مفادات کی اسیر ہے۔مزید یہ کہ سرمایہ بھی اب فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب سیاسی جماعت کے عہدے یا کسی عوامی فورم کے لئے نامزدگی میں سرمائے کی اہمیت بنیادی ہو گئی ہے۔ اس سے جمہوریت کے اس بنیادی تصور کو نقصان پہنچا ہے جو دراصل ایک عام آدمی کو توانا بناتی ہے۔ اسے موقع دیتی ہے کہ وہ اجتماعی فیصلوں پر اثر انداز ہو۔ اگر سیاسی پارٹیوں کے عہدے اور نامزدگیاں پیسے، اقرباپروری اور مفاد کے تابع ہو جائیں گی تو عام آدمی فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں ہو سکے گا۔ یوں وہ ووٹ دینے کے باوجود خود کو بے بس سمجھے گا۔ اس سے مایوسی پھیلتی ہے جو جمہوری نظام پر عدم اعتماد کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ فضا ان لوگوں کے لئے ساز گار ہوتی ہے جو عوامی جذبات کو مشتعل کر کے، انہیں تشدد اور لاقانونیت پر اکساتے ہیں۔ سیاسی عمل کی ناکامی ان عناصر کو مضبوط کرتی ہے جو ریاستی نظام کو چیلنج کرتے اور یوں سماج کو فساد میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

 

تیسری اہم بات نظامِ مذہب کی اصلاح ہے۔ پاکستان میں ستانوے فی صد مسلمان بستے ہیں اور ان کی اکثریت ایک مسلمان کی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ عوام کو جو مذہبی تعلیم دی جاتی ہے، وہ اس کی ضرورت ہے۔ اس میدان میں بد قسمتی سے وہ لوگ بھی گھس آتے ہیں جو مذہب کی حقیقی تعلیم سے بے خبر ہوتے ہیں۔ وہ عالم یا کسی مستند دینی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے۔ نیم ملا خطرہ ایمان، کے مصداق وہ سماج کی مذہبی تعلیم کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یوں اپنی خواہشات اور مفاد کو وہ ’’مذہب‘‘ کے نام پر سماج پر مسلط کرنے لگتے ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کا ایک بڑا سبب یہی طبقہ ہے۔ ایسے لوگوں کو معاشرے میں گھس آنے کا موقع اس طرح ملتا ہے کہ مسجد یا مدرسے کی تعمیر کے لئے کوئی قانونی یا سماجی قدغن نہیں ہے۔ ہمارے پاس کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے جو یہ بتائے کہ کہاں مدرسے کی ضرورت ہے اور کہاں مسجد کی۔ ایک محلے میں ایک مسجد ہوتی ہے جو مقامی آبادی کے لئے کفایت کرتی ہے۔ لیکن پھر ایک دوسرے مسلک کا فرد آتا اور اپنے مسلک کی مسجد بنانے لگتا ہے۔ یوں محلے میں مسلکی تقسیم کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ اس سے مذہب کے نام پر فرقہ واریت، تقسیم اور فساد پھیلنے لگتا ہے۔ یہ بھی ایک ایسا خلا ہے جو انتہا پسندی کو گھسنے کے لئے جگہ فراہم کرتا ہے۔ اس وقت اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ مذہبی تعلیم و تربیت کے نظام کو کسی نظم کے تابع کیا جائے تاکہ مذہب کے نام پر فساد پھیلانے کا سلسلہ روکا جا سکے۔

 

چوتھی اہم بات آئین اور قانون کی حکمرانی ہے۔ ریاستی اداروں میں اس سوچ کا پختہ ہونا ضروری ہے کہ ملک کا آئین سب کے لئے حدود کا تعین کرتا ہے۔ جب لوگ اس کا خیال نہیں کرتے تو پھر تصادم کی فضا جنم لیتی ہے۔ ہمارے آئین میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے حوالے سے ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض غیر رسمی ادارے جیسے میڈیا، بھی ریاستی ادارے ہی شمار ہونے لگے ہیں۔ قومی مفاد اور یک جہتی کے حوالے سے ان میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ جہاں ریاستی ستونوں میں ہم آہنگی نہیں ہوتی وہاں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ سرمایہ دار سے لے کر عامی تک، بے یقینی میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس سے ایک طرف تومعاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف سماجی بد امنی۔ اس سے بھی وہ خلا جنم لیتا ہے جو سماج کو مضطرب کر دیتا ہے اور اہل فساد کو نظام میں گھسنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

 

2015ء میں ہم نے معاشرتی اصلاح کے لئے جس تاریخ ساز عمل کا آغاز کیا، اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ 2016ء میں ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے۔ نظام تعلیم، نظام سیاست، نظام مذہب اور احترام آئین کے دائرے میں ہمیں ایک مربوط پروگرام تشکیل دینا ہو گا تاکہ ہم اہل پاکستان کو ایک متحد قوم بنا سکیں۔ جذبہ یقیناً موجود ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اسے ایک تعمیری اور نتیجہ خیز قوت میں بدل ڈالیں۔ اگر ہم ان چار شعبوں میں اصلاحات لاتے ہوئے انہیں باہمی ربط دے سکیں تو ہمارے قومی وجود میں کوئی ایسا نمایاں خلا باقی نہیں رہے گا جہاں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے عفریت کو گھسنے کی جگہ مل سکتی ہے۔پاک فوج، پولیس اور سلامتی کے دوسرے اداروں کے لہو سے اُمید کاایک چراغ روشن ہو چکا۔ اب ہم نے2016 ء میں اسے چراغوں کے قافلے میں بدلنا ہے۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پاک فوج، پولیس اور سلامتی کے دوسرے اداروں کے لہو سے اُمید کاایک چراغ روشن ہو چکا۔ اب ہم نے2016 ء میں اسے چراغوں کے قافلے میں بدلنا ہے۔

*****

 
06
January

Written By: Prof. Sharif al Mujahid

(On the occasion of 84th death anniversary of Maulana Muhammad Ali Jouhar who died on Jan 4, 1931)

And, Maulana Muhammad Ali, was one such nerve-centre in Indo-Muslim society during the second and third decades of the twentieth century. Indeed, he was one such strategic point in the onward march of Indo-Muslim politics that eventually found culmination and crystallization in the emergence of Pakistan. Actually, no one else represented the tone, tenor and temper of the romanticist, Khilafatist era (in the 1910s and 1920s) as he did in his hectic life, his revolutionary activities, his numerous discomfitures, and in his tragic death.


Whether he led a hectic life, whether he took recourse to a revolutionary path, or whether he goaded himself to die a tragic death outside the frontiers of his motherland cataclysmically, in whatever he did, consciously or unconsciously, he carried forward the campaign of Indo-Muslim history: the redemption of Islam in India and abroad. In other words, he stood above all, for an honourable existence for Muslims in India and in the rest of the troubled Muslim world in the existential crisis that convulsed Muslim India and that world.


This campaign he had headed during the post-loyalist, Khilafat era, immediately before and after the First World War; and to this campaign he had dedicated himself wholeheartedly all through his life. "And of his greatness consists in [just] being there", in courageously directing it, in zealously dedicating himself to it, in joyously suffering for it – physically, psychologically and materially.


Early Phase
Born (Rampur, 1878) in purple, but cradled in adversity (his father having died a year later), young Muhammad Ali was educated and trained under the benign influence of his stolid and stoic mother, the Bi Amma of the Khilafat movement. After the fashion of the age in which he was born, he received education at the Maktab, later at the M.A.O. School and College at Aligarh, and, still later, at Oxford, but failed to secure a place in the Indian Civil Service.


Till 1911, when he entered public life, he held a number of important posts in various states, and was deeply involved with his alma mater, having belonged to its first generation. He was also associated with the All India Muslim League (AIML) since its founding in 1906 and had helped to popularize it. Much later (1913), he collaborated with Muhammad Ali Jinnah (1876-1948) and Wazir Hasan (1874-1947), the indefatigable and long serving AIML Secretary, to get the Muslim League disenchanted from its erstwhile loyalist embrace and, at Jinnah’s instance, got the twin goals of self government and Hindu-Muslim unity incorporated in its plank. Thus, the AIML was brought in line with the Indian National Congress (f. 1885).
Early in 1911 Muhammad Ali launched his weekly Comrade – "comrade of all and partisan of none" – from Calcutta, the then capital of India. Remarkably though, it was immediately acclaimed as a "new star in the firmament of Indian journalism". Later, he also founded the Hamdard to reach his message to the Urdu knowing public – the Muslim middle class. For their free and frank criticism of the bureaucracy and its "mad ways”, both these papers were first black-listed and, subsequently, their open and bold espousal of the Turkish cause during the First World War got them officially subjected to their suppression.


Radical Transformation
Interestingly though, Muhammad Ali did not start out on his public career with bitterness towards the British. But, erelong, he lost faith in British promises, British justice, British conduct, even as his co-religionists did. In retrospect, the annulment of the Partition of Bengal (1911), the British complicity in the Italo-Turkish (1911) and the Balkan (1912-14) wars, British opposition to the upgrading of the Aligarh Muslim College (1910-12) to university status, and, finally, the Cawnpore Mosque affair (1913) – all these had a hugely deleterious impact on Anglo-Muslim relations in India. The breaking of a plighted word on the partition issue, the gross injustice to the Turks, the setback to the onward march of Muslim education, and the misconduct in Cawnpore finally and irrevocably conspired to wean the Muslims away from Sir Syed Ahmad Khan and Muhsin-ul-Mulk’s loyalist plank and hurtled them headlong onto an unchartered anti-

 

British, pan-Islamic-cum-nationalist course.
The radical transformation that Indian Muslims had undergone during 1911-14 had turned Muhammad Ali into a revolutionary and the foremost symbol and spokesman of their revolutionary fervour. For good or ill, he was now in clash and conflict with the government, more often than not, and to his end. And he came to be widely acknowledged as the stormy petral of Indian politics.


Inevitably, he whole heartedly took up the cause of the Turks which, he thought, was Islam's, too. To its espousal he dedicated himself and his papers. The fate and choice of the Turks became the sole determinant of his future policy and programme. And he was obsessed with this and the dismaying fortunes of the fast crumbling Ottoman empire to a point that it goaded him inevitably and inexorably to a fire-eating revolutionary role, reach incomparable dizzy heights, and, consequently, to a hectic life of storm, strife and sacrifice.


Supreme Leader
This new phase came in the wake of the First World War when he (along with his brother, Shaukat Ali) was interned, and his paper suppressed for his bold, fiery and brilliant reply to the London Times’ leading article, "The Choice of the Turks". And by the time they were released on December 15, 1919, the Khilafat agitation was already in full swing. No wonder, they decided to ride the crest of the movement and were, in turn, readily accepted as the leaders. For the next four years Muhammad Ali became the supreme leader, and an idol par excellence. inspiring Muslims to endless strivings and supreme sacrifices in the cause of Islam, the Khilafat and Indian independence.


In 1920 he led a delegation to England to present the Indian Muslim viewpoint on the Allied Turkish treaty of Severs and the Khilafat. Disappointed in his mission and back from the continent, he, in concert with Mahatma Gandhi (1869-1948), launched the Khilafat-cum-non-cooperation movement. He toured the country far and wide, reaching the Khilafat message to the farthest corner, and the people readily responded to his call as never before. Indeed, a revolution had overtaken India: people not only said quit to government sponsored educational institutions, to government service, to courts, to titles, but they also demonstrated, and joyously courted arrests. Muhammad Ali himself was arrested, tried for “sedition" at Khaliqdina Hall, Karachi, and gaoded.


However, romantic and out of tune with the objective realities as the movement was, it was in its very nature that it should not succeed. To his eternal credit, Gandhi, to whom the Muslims had deliberately surrendered the movement’s supreme leadership, if only in order to win over Hindu cooperation, kept the emotion-laden movement peaceful and non-violent, keeping a close check on violence, whether physical or verbal. And when it did finally go out of hand, as in the bloody Chauri Chaura incident on February 5, 1922, when an agitated mob burnt alive a dozen or more policemen who had taken refuge in a police station, he had to call off the movement on February 12. Once disbanded, however temporarily, the movement lost its tempo, and could never be revived. Most of Gandhi’s colleagues have disagreed with him, for his critical decision, castigating him for having lost a moment of opportunity for dismantling the British citadel. But, in retrospect, Gandhi was not too far wrong in his assessment, and in damming the movement in time, to preclude its spiralling itself into unmitigated violence and unremitted anarchy.


But, perhaps, what pained Muhammad Ali more was the bleak situation as it presently developed in India and in the rest of the Muslim world. For, by 1924, the Turks had decided upon a nationalist dispensation for themselves while the Arabs had opted for such a dispensation eight years earlier – in the Arab Revolt of 1916. For now, the Arabs faced a division of their lands between France and Britain (under whose inspiration and encouragement the Arabs had insisted upon their separation from the Ottoman Empire during the First World War) and the spectre of the creation of a Jewish national home in Palestine, while Ghazi Mustafa Kemal Pasha, the hero of the Turkish "war of liberation" (1919-22), abolished the institution of Khilafat itself and sent the last caliph into exile, with bag and baggage, on March 3, 1924. All this much to the chagrin of Indian Muslims and the rest of the Muslim world. In any case, the Turkish decision (1924) was a stab in the back of the Indian Khilafat Movement, denuding it of its very raison de'etre and the Khilafat leaders of their most basic and telling appeal.


But the Khilafat Conference, of which Muhammad Ali was the supremo, lingered on and met periodically till his death. The Conference in Lahore in late December 1929 caused a stir and registered a major contribution when its Reception Committee Chairman, Nawab Sir Muhammad Zulfikar Ali Khan (1875-1933) proposed exclusion of demographically dominant non-Muslim areas such as Ambala to get the Muslim provinces more homogeneous and more Muslim concentrated. He also called for partition of the subcontinent into Muslim majority and Hindu majority regions. This was the first time that the partition proposal was raised formally from a political platform. Allama Iqbal, besides a host of Muslim luminaries, was present on the occasion. This address, which was reported extensively in Inqilab (Lahore) on January 3, 1930, came one year before the consolidated north-western state proposal was presented by Iqbal at the Muslim League’s Allahabad session in December 1930.


Huseyn Shaheed Suhrawardy’s rise to the echelon of Muslim League’s leadership in Bengal in the 1930s also underlines the popularity of the Khilafat Conference long after Ataturk had aborted the Khilafat institution itself, since Suhrawardy owed his popularity for his role as the Khilafat Committee’s Secretary in Bengal.


Even so much to his dismay, Muhammad Ali found his erstwhile Hindu colleagues and non-cooperators launching upon, or openly supporting, or at least tacitly approving the anti-Muslim Shuddhi and Sanghatan movements. More tragic: the two communities which he, along with Gandhi, had done so much to bring on a common platform in the Khilafat Movement, had become antagonistic as never before, flying at each other's throats on an ever-increasing scale. Above all, he found that the Congress itself had, in the meantime, disowned its "national" credo and grown exceedingly communal.


Dawn of Realism
Tragic indeed was this and his situation. In order to serve Islam, both abroad and inside the country, he had taken up the cause of Khilafat, and of Hindu-Muslim unity, which he along with others considered the condition for Indian freedom. But, for now, in the Muslim world, his Khilafat ideal stood repudiated, and in India, his Hindu-Muslim unity plank surrendered. This two-pronged disillusionment awakened him (and Muslim India) to a new sense of realism. And they finally came to the conclusion that should Muslims wish to carve out a destiny of their own, a destiny commensurate with their due status under the Indian cosmos, they should take to the path of self-reliance and should become the sole arbiters of their destiny. This led to the calling, among others, of the All-Parties Muslim Conference (APMC) on January 1, 1929 under the redoubtable Aga Khan at Lahore, and the formulation of minimum Muslim demands in more precise terms. This as a counter to the Nehru Report (1928), the Congress’ blue print for the future Indian constitution, which inter alia had repudiated the Lucknow Pact of 1916 and the Muslim right to separate electorate. For now the Maulana owned up the APMC resolution and, later, Jinnah’s Fourteen Points (1929). His views on the Hindu-Muslim question and on the future polity of India were succinctly set forth, among others, in his addresses to the (first) Round Table Conference (1930-31) and his letter to the Prime Minister on January 1, 1930.


"It is a misnomer to call the Hindu-Muslim question a question of minorities", he declared. "A community that in India alone must now be numbering more than 70 million", he argued, "cannot easily be called a minority in the sense of Geneva minorities...." Moreover, he demanded that "in Muslim provinces, Muslims should be allowed to have their majority...as the Hindus have everywhere else"; and that "the Central Unitary Government should not over-ride them [Muslims] everywhere."


This was Maulana Muhammad Ali's last political testament, as he discussed the Indian constitutional problem on his death-bed at the Round Table Conference on January 1, 1931. Three days later, this ailing delegate to the Conference was dead. And with him had passed away the foremost Muslim revolutionary of the age. In concurrence with the Mufti of Jerusalem, his mortal remains were later taken to Palestine and buried in the Masjid al-Aqsa; obviously in recognition of his services to Islam, and Palestine.


Conclusion
Great as Maulana Muhammad Ali was as an orator and writer, as a leader of men and as a freedom fighter, he was equally great as a man. The Maulana had such “a juxtaposition of grace and brilliance with tremendous and deadly earnestness” that it induced Sir C. P. Ramswamy Iyer, one-time Dewan of Travancore, to hail him in eloquent terms: “A man of varied learning, a fine and effective speaker, and wielder of a style which can be delicate as well as trenchant, above all, an idealist who strove to revivify Muhammadan public life and breathe reality into its political activities, Muhammad Ali will always be counted as one of the creators of the New Islamic spirit in India”.


The Maulana, it is rightly said, “had the heart of Napoleon, the tongue of Burke and the pen of Macaulay”, but, above all, he was every inch a Muslim. This is the key to his personality, to his achievements as well as to his actions, however misguided they might seem – as, for instance, his agitation for the shut-down of Aligarh, the premier Muslim educational institution. In the early 1920s, no one else had wielded such an enormous influence over the Muslim masses, inspired them to such energetic action and goaded them to such supreme sacrifices. He was the man of the hour, the man of their destiny. And his contribution to the evolution of Indo-Muslim politics was such that.

…till the future dares
Forget the past, his fate and fame shall be,
An echo and a light unto eternity.

The writer is an HEC Distinguished National Professor, who has recently co-edited Unesco's History of Humanity, vol. VI, and The Jinnah Anthology (2010) and edited In Quest of Jinnah (2007), the only oral history on Pakistan's Founding Father.
"A great man", says Justice Oliver Wendell, Jr., "represents a great ganglion in the nerves of society, or to vary the figure, a strategic point in the campaign of history, and part of his greatness consists in being there.”

*****

 

Follow Us On Twitter