15
December
دسمبر 2016
شمارہ:12 جلد :53
تحریر: یوسف عالمگیرین
سال2016 اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ یہ وطنِ عزیز اور بالخصوص سکیورٹی فورسز کے لئے کامیابیوں کا سال رہا۔ جون 2014میں شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب کے ثمرات کچھ ہی عرصے میں دکھائی دینے لگے تھے،لیکن رواں سال تک اس حد تک کامیابیاں نصیب ہوئیں کہ وزیرستان کے وہ علاقے جو کبھی شدت پسندوں کے قبضے میں تھے وہاں شاہراہیں اور کمرشل مارکیٹیں تعمیر ہورہی ہیں تاکہ عارضی طور پر بے گھر....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان
روس کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ دریائے وولگا ایک رات میں منجمد نہیں ہوتا۔ وادئ کشمیر کے طول و عرض میں اس وقت جو ولولہ انگیز جدوجہدِ آزادی جاری ہے وہ اچانک شروع نہیں ہوئی۔ وہ ایک حادثے کی پیدا وار ہے۔ یہ سچ ہے کہ برہان وانی کی شہادت سے تحریک نے ایک شدید اور نیا رخ اختیار کیا....Read full article
 
تحریر: اویس حفیظ
گزشتہ دنوں یہ خبر سننے کو ملی کہ بھارتی پارلیمینٹ میں ایک
Geospatial Information Regulation Bill
پیش کیاجارہاہے جسے قانونی شکل دئیے جانے کی صورت میں جموں و کشمیر ، اروناچل پردیش سمیت بعض دیگر متنازع علاقوں کوبھارت کے نقشے کا حصہ نہ دکھانے پر 7سال تک قید اور 100کروڑ روپے تک کا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے....Read full article
 
تحریر: خورشید ندیم
8نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوئے۔ کیا یہ تاریخ 9/11کی طرح انسانی تاریخ کو قبل از اور بعد از دو ادوار میں تقسیم کر دے گی؟
تاریخ میں پیش آنے والا کوئی واقعہ منفرد نہیں ہوتا۔ یہ سلسلۂ روز و شب کی ایک کڑی ہوتا ہے۔ ناگہانی آفات کا معاملہ دوسرا ہے۔ زلزلہ اور سونامی جیسے واقعات بھی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں لیکن ان کا تعلق کائنات میں....Read full article
 
تحریر: جاوید حفیظ
سفارت کاری اور دفاع بظاہر بالکل مختلف پیشے نظر آتے ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ دونوں اہم پیشے اس وقت وجود میں آئے جب اقوام کا تصور اجاگر ہوا۔ قومی ریاستیں بنیں۔ ان ریاستوں میں مسابقت کا عنصر لازمی امر تھا۔ لہٰذا جارحیت اور دفاع دونوں کا آغازہوا اور دفاع کے لئے منظم عسکری قوت لازمی ٹھہری۔ جنگوں کو روکنے کے لئے سفارت کاری کا استعمال.....Read full article
 
تحریر: فرخند اقبال
اس وقت ساری دنیا کی نظریں امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے وا لے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز ہیں۔ جنوری میں باضابطہ طور پر امریکہ کے 45ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے وقت میں عنان اقتدار سنبھال رہے ہیں جب امریکہ کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی کے منفرد.....Read full article
 
تحریر: پروفیسر فتح محمد ملک
برطانوی استعمار مسلمانوں کو ایک الگ قوم اور اپنی جداگانہ مسلمان قومیت کی بنیادپر پاکستان کے قیام کی اجازت دینے سے انکاری تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اقلیت کے بجائے ایک جداگانہ ، منفرد اور مہذب قوم علامہ اقبال نے قرار دیا تھا۔ اِسی محکم استدلال کی ہر آن تازہ تر تشریح قائداعظم کے حصے میں آئی تھی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آزاد اور خود مختار مملکت کے اِس تصور کو آل....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
17دسمبر 1971 کو سقوطِ ڈھاکہ ہوا اور مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ اس تاریخ کے ساتھ ماضی قریب کی ایک اور انتہائی دکھی یاد وابستہ ہے جس نے ہر پاکستانی کی آنکھ نم کر دی۔ 2014کی اسی تاریخکو آرمی پبلک اسکول پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کو قوم کیسے بھلا سکتی ہے جب کمسن ،بے گناہ اور نہتے بچوں کے خون....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
پچھلے دنوں کسی نے یہ اقتباس لارڈ میکالے کی برطانوی پارلیمنٹ میں دو فروری 1835 میں کی گئی تقریر کے حوالے سے مجھے بھیجا۔ لارڈمیکالے کی یہ تقریر ہمارے مخصوص حلقوں میں کافی مشہور ہے اور ہم بچپن سے اس تقریر کی گونج سنتے آرہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی 11اگست کی تقریر یار....Read full article
 
رپورٹ: غزالہ یاسمین
پاک فوج ایک مضبوط اور مستحکم ادارہ ہے اس ادارے کی روایات بھی بہت مضبوط ہیں۔ اس کے اپنے اصول اور قاعدوضوابط ہیں۔ اس ادارے میں ذمہ داریاں نبھانے والے اس کی مضبوطی میں اپنا اپنا حصہ ڈال کر سبکدوش ہوجاتے ہیں اور دوسرا شخص اس کی جگہ لے کر اس ادارے کے استحکام اور عزت میں اضافہ کرنے کے لئے اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کا آغاز کردیتا ہے جواس منفرد....Read full article
 
تحریر: محمد شاہد
ضلع کوٹلی آزادکشمیر کا ایک ایسا علاقہ ہے جو اپنی زرخیزی میں بے مثال ہے جس کی مٹی سونا، اور پانی امرت ہے۔ جہاں آج بھی زعفران کاشت کیا جاتا ہے اور جس کے نظاروں میں شادابی اور وسعت ہے۔ اسی سرزمین پر 24جنوری 1985 کو راجہ کرم داد کے گھر ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس کا نام راجہ تنویر احمد رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ راجہ کرم داد کے غریب سے گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ بچہ آنے....Read full article
 
تحریر: رابعہ رحمن
وطنِ عزیز پچھلے دس سالوں سے دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے، اس جنگ میں بلا مبالغہ جتنی قربانیاں افواجِ پاکستان نے دی ہیں، بیان سے باہر ہیں۔ وردی اور اُس کا فخر، وردی اور اُس کا عزم، وردی اور اُس کی لازوال محبت، وردی اور وطن کی حفاظت یہ جذبہ عشق صرف افواجِ پاکستان کی میراث ہے۔ وہ سپاہی ہے یا افسر اُس کی نگاہ اقبالؒ کے شاہین کی طرح بلند ہے۔ وہ کامل محافظ ہے۔ اُس کی فکری.....Read full article

تحریر : میجر (ر) ندیم نصیب
خود اعتمادی اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی وہ نعمت ہے جو انسان کو مثبت سوچ اور آگے بڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہ سوچ اپنے وطن کے لئے ہو توعظیم قوم کو جنم دیتی ہے اور ایسے سپوت پیدا کرتی ہے جو ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں اپنے ملک و ملت کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ میجر نصیب اﷲ خان (شہید) بھی اس قوم کے ایک ایسے ہی بہادر سپوت ہیں جنہوں........Read full article
 
تحریر: محمد یاسر
اصغر علی کا شمارپاک بحریہ کے اُن سپوتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاک سرزمین کے خلاف برسرپیکار دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اصغر علی نے پاک بحریہ کی شیف برانچ میں 2006 میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن اس بہادر اور نڈر سیلر کی فطرت میں خطروں سے لڑنے اور ملکی دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے جذبہ نے اسے ہمیشہ بے چین رکھا ۔ وہ اپنے آپ کو صف....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
ماسٹر ایوب جو پیشے کے اعتبار سے اُستاد نہیں تھے نے لفظ ماسٹر کو اتنا معتبر کر دیا ہے کہ اب ہر کوئی احتراماً انہیں ماسٹر ایوب کے نام سے پکارتا ہے۔ ماسٹر ایوب آگ بجھانے والے محکمے میں بطور فائرمین ملازم ہیں۔ پندرہ سال تک اسلام آباد کے پاک سیکرٹریٹ کی سیڑھیوں تلے راتیں گزاریں جہاں نہ کوئی دروازہ تھا اور نہ ہی چھت اور آج کل اسلام آباد کی کرسچین کالونی کے نالے پر کچے کمرے....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
اسلامی ملکوں کی بادشا ہتوں کو چھوڑ کر ساری دنیا میں جو جمہوریتیں موجود ہیں اُن میں دوہی نظام رائج ہیں ایک صدارتی ہے تو دوسرا پارلیمانی نظام۔ برصغیر پاک وہند میں پارلیمنٹ کا سربراہ ہی چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے جبکہ’’ صدر‘‘کا عہدہ بس علامتی ساہی ہے۔ امریکہ میں بظاہر صدارتی نظام ہی ہے اور اس کے لئے براہِ راست ووٹ بھی پڑتے ہیں....Read full article
 
تحریر: خدیجہ محمود
ویسے تو دیو مالائی کہانیوں کو انسانی تخیل کی اختراع سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کو دیکھ کر، ان سے مل کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دیومالائی کہانیوں کے کسی کردار نے حقیقت کا روپ لے لیا ہے اور انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ قدرت نے ان کو کتنے حسین رنگ اور کتنے دلکش روپ سے نوازا ہے۔ ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب یونٹیں دو دو تین تین مہینے لگاتار ایکسرسائز ایریا میں گزارا کرتی تھیں۔ خانہ بدوشی کا عالم ہوتا ۔ کبھی تو چل سو چل اس طرح سے ہوتی کہ سامان ابھی کھلنے بھی نہ پاتا کہ پوزیشن تبدیل کرنے کے احکامات موصول ہو جاتے اور کبھی ہفتوں ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے گزر جاتے۔ جنگل بیابانوں میں آبلہ پائی کرتے کرتے.....Read full article
 
تحریر: اکرم ذکی
یہ رزمیہ ترانہ سابق سیکرٹری جنرل‘ وزارتِ خارجہ پاکستان اور سینیٹر (ریٹائرڈ)جناب محمداکرم ذکی نے ستمبر1965 کی جنگ شروع ہوتے ہی لکھا۔ جوش و جذبے سے بھرپور یہ اشعار آج بھی اتنے ہی اثر انگیز ہیں جتنے 1965میں تھے یہ اشعار ہمارے لازوال قومی و ملی جذبے اور دفاعِ وطن کے لئے ہمہ وقت تیاری اور قربانی کے جذبے کے عکاس ہیں۔.....Read full article
 
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ مرتب کی۔ جنگ ستمبر 65 کے دوران ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں گیارہ نغمے پیش کئے گئے۔ یہ نغمات نہایت لگن، ایثار، قربانی اور حب الوطنی کی ترجمانی کرتے ہوئے تخلیق کئے گئے۔ یہ نغمے فوجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔ ستمبر ....Read full article
15
December

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:11

مرغے اور تیتر
یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب یونٹیں دو دو تین تین مہینے لگاتار ایکسرسائز ایریا میں گزارا کرتی تھیں۔ خانہ بدوشی کا عالم ہوتا ۔ کبھی تو چل سو چل اس طرح سے ہوتی کہ سامان ابھی کھلنے بھی نہ پاتا کہ پوزیشن تبدیل کرنے کے احکامات موصول ہو جاتے اور کبھی ہفتوں ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے گزر جاتے۔ جنگل بیابانوں میں آبلہ پائی کرتے کرتے دل اکتا جاتا تو یار لوگ فیلڈ میس میں پہنچ کر دل بہلانے کا سامان ڈھونڈتے۔میس کیا کہئے کہ دو چھوٹے ٹینٹوں کا ایک سائبان تھا۔ زمین کو گہرا کھود کر ہموار کیا جاتا اور اس میں چند کرسیاں اور ایک میز رکھ کر اسے میس کا نام دے دیا جاتا۔ یہاں پہنچ کر حفظ مراتب کو بھی کسی حد تک بالائے طاق رکھ دیا جاتا۔ تاش کی لمبی لمبی باریاں لگتیں جن میں سی او اور ٹو آئی سی سمیت سب افسران باری باری حصہ لیتے۔ تاش کی بازی ہو اور شرط کے بغیر، ایسا شاذ و نادر ہی ممکن ہوتا ہے، چنانچہ ہارنے والے کے لئے سالم مرغ کا تاوان تجویز کیا جاتا۔


ان دنوں ایک بہت سخت گیر قسم کے افسر ہمارے ٹو آئی سی ہوا کرتے تھے۔ جونئیر ہونے کے ناتے ہم سارا دن کان دبا کر ان کی ڈانٹ ڈپٹ سنا کرتے ۔ آخر ایک دن ہم سب نے مل کر ٹو آئی سی سے بدلہ لینے کا طریقہ سوچ ہی لیا۔ اس روز سب لوگ میس میں پہنچے اور حسب معمول رات کے کھانے کے بعد تاش کی بازی شروع ہوئی ۔ ہم سب پہلے ہی سے ایکا کر چکے تھے۔ اشاروں کنایوں میں ایک دوسرے کو پیغامات دیئے جانے لگے۔ حسب توقع ٹو آئی سی گیم ہار گئے اور ایک عدد مرغا ان کے نام پر درج ہو گیا۔ دوسری گیم میں پھر یہی ہوا ۔ تیسری گیم میں ٹوآئی سی نے کھیلنے سے انکار کیا تو سی او نے انہیں زبردستی بٹھا دیا۔ وہ پھر ہار گئے، اس طرح تین عدد مرغے ان کے نام پر چڑھ گئے۔ تینوں مرغوں کی نہائت لذیذ کڑاہی اور باربی کیو تیار کیا گیا اور اگلے دن ڈنر کے دوران میس میں پیش کیا گیا۔ کھانا سرو ہوا تو ٹو آئی سی نے اپنی پلیٹ کو پوری طرح سے بھر لیا ۔ یہ دیکھ کر سی او نے دریافت کیا کہ میجر صاحب لگتا ہے کہ آج آپ کو بھوک بہت زیادہ لگی ہوئی ہے تو انہوں نے منمناتی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ ’’سر!بھوک تو اتنی زیادہ نہیں لگی لیکن میں ان مشٹنڈوں سے یہی کچھ بچا سکتا ہوں جو میں نے اپنی پلیٹ میں ڈال لیا ہے۔‘‘


آؤٹ ڈور ایکسرسائز کے دوران اگر وقفہ ہو تو لوگ چھوٹے موٹے شکار سے دل بہلانا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان دنوں ہم سندھ کے دیہی علاقے میں تعینات تھے۔ اس علاقے میں تیتر اور بٹیر کافی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ایک دن ہم نے شاٹ گن سے تیتروں کا شکار کرنے کی کوشش کی تو کافی دیر ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد بھی کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔حوالدار بوٹا ہمارے ساتھ تھا۔ کہنے لگا کہ سر ایک تو شاٹ گن سے تیتر شکار کرنے میں پورا دن لگ جائے گا دوسرے تیتر تو ویسے بھی ننھا سا پرندہ ہے اس کو چھروں سے مارنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ آپ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں۔ بوٹے نے تیتر پکڑنے کی پوری کِٹ تیار کی ہوئی تھی جو وہ ٹینٹ سے فورًا نکال کر لے آیا۔ اس کِٹ میں گائے کی سینگوں سمیت خالی کھوپڑی ، گائے کی کھال ، تنکوں سے بنی ہوئی ٹوکری اور ململ کا دوپٹہ شامل تھے۔


اس نے گائے کی کھوپڑی اپنے سر پر ہیلمٹ کی مانند فٹ کر لی اور کھال جسم پر کوٹ کی طرح پہن لی ۔ اسطرح اس نے ایک ننھی منی سی گائے کا بہروپ دھار لیا۔ تنکوں والی ٹوکری اس نے ایک ہاتھ میں پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے چھپا ئی ہوئی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ میں ململ کا دوپٹہ تھا۔ یہ اہتمام کرنے کے بعد بوٹے نے کھیتوں میں دبے پاؤں چلنا شروع کردیا۔ کچھ فاصلے پر تیتروں کے غول موجود تھے۔ تیتر عام طور پر انسان کو دور سے دیکھتے ہی اڑ جاتے ہیں لیکن گائے بھینسوں سے بالکل نہیں ڈرتے۔ بوٹا چونکہ گائے کے روپ میں تھا اس لئے تیتر خاموشی سے اسے اپنی طرف آتا دیکھتے رہے ۔ بوٹے نے ان کے قریب پہنچ کر یکدم تنکوں والی ٹوکری نکال کر تیتروں کے ایک غول پر رکھ دی۔یکلخت چار تیتر اس کے اندر قید ہو گئے۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے ململ کا دوپٹہ ٹوکری کے اندر داخل کیا اور تیتروں کو دوپٹے میں ڈھانپ کر گرہ لگا دی۔ یہ عمل تین دفعہ مزید دہرایا گیا اور اس طرح کچھ ہی دیر میں درجن بھر تیتر پکڑنے کا آپریشن کامیابی سے مکمل ہوگیا۔


اس کے بعد ہم فاتحانہ انداز میں میس میں داخل ہوئے اور تیتروں کو میس حوالدار کے حوالے کیا ۔ رات کے کھانے میں سب لوگ انتہائی لذیذ باربی کیو سے لطف اندوز ہوئے۔ سب افسروں کی جانب سے نشانہ بازی میں ہماری مہارت کی بہت تعریف کی گئی جو ہم نے خوب سینہ چوڑا کر کے وصول کی ۔ لیکن اس شکار کی اصل حقیقت کا تو صرف ہمیں علم تھا یا اب آپ جان گئے ہیں۔


کورس میٹ سپرٹ اور لانگ ویک اینڈ
فوج شاید واحد پروفیشن ہے جس میں سب سے زیادہ دوست بنائے جاتے ہیں۔ پی ایم اے میں داخلے سے لے کر ریٹائرمنٹ تک ہر مرحلے پر بے شمار دوست بنتے اور جدا ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگ ایک انوکھے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے طاقت حاصل کر کے موت کو للکارتے ہیں اور بجلی بن کر طوفانوں سے ٹکرا جاتے ہیں ۔فوج میں آنے کے بعد علاقہ ، ذات، نسل ، زبان یا دیگر حوالے بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ شناخت ہوتی ہے تو پی ایم اے کے کورس یا پھر یونٹ کے نام سے۔پی ایم اے کی تربیت سختیوں سے بھرپور ہوتی ہے لیکن ان سختیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی انہی سنگی ساتھیوں سے ملتا ہے جوعرف عام میں کورس میٹ کہلاتے ہیں۔


کورس میٹ شپ کے اصول کسی کتاب میں تو درج نہیں لیکن برطانوی آئین کی مانند اسے فوجی افسروں کے غیر تحریر شدہ قاعدے قانون سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ اس کے تحت ہر افسر اپنے کورس میٹ کا ہر حال میں ساتھ دینے کا پابند ہوتا ہے۔ ہم نے کورس میٹس کو ایک دوسرے کا الزام اپنے سر لے کر پنشمنٹ لیتے بھی دیکھا اور کورس میٹ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مشکل سے مشکل کام کو ہنسی خوشی سر انجام دیتے ہوئے بھی۔ ایک عظیم کورس تو ایسا بھی گزرا ہے کہ ایک افسر نے اپنے ان چار ساتھیوں کے بغیر پاس آؤٹ ہونے سے انکار کر دیا تھا جنہیں ایک رات پہلے ریلیگیٹ کر دیا گیا تھا۔ اسی کورس میٹ شپ میں کچھ واقعات ایسے بھی ہو جاتے ہیں جو ڈسپلن کے خلاف لیکن اسپرٹ ڈی کور کے عین مطابق ہوتے ہیں ۔


پاسنگ آؤٹ پریڈ پی ایم اے کا ایک امتیازی موقع ہوتا ہے۔ یہ پریڈ سال میں دو مرتبہ اپریل اور اکتوبر کے مہینوں میں منعقد ہوتی ہے۔ مہینوں پہلے سے اس کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے۔تیسری اور چوتھی ٹرم کے کیڈٹس اس میں حصہ لیتے ہیں۔ ہم ان دنوں تیسری ٹرم کے کیڈٹ ہوا کرتے تھے اور ہمارا کورس بھی سینئیر کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شامل تھا۔پریڈ کی تیاری پورے زور و شور سے جاری تھی اور پورا دن ڈرل سکوائر میں پریڈ کرتے ہوئے ہی گزر تا تھا۔ ڈرل سٹاف بھرپور جولانی پر تھا اور کورس کو ایک لمحہ کے لئے بھی نظروں سے دور کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا تھا۔ ان دنوں جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی کا رواج تھا لیکن آرمی میں مہینے کے پہلے ہفتے میں جمعرات کی چھٹی دے کر اسے لانگ ویک اینڈ کا نام دے دیا جاتا تھا۔ لانگ ویک اینڈ جوں جوں قریب آ رہا تھا کیڈٹس کی بیقراری انتہا کو چھو رہی تھی۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ ہم سب کی امیدوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب بدھ کے روزصبح کو یہ اعلان سننے کو ملا کہ لانگ ویک اینڈ بند ہے اور اس کے بجائے جمعرات اور جمعہ کو بھی پاسنگ آؤٹ کی ریہرسل کی جائے گی۔


دونوں کورسز پر یہ اعلان بجلی بن کر گرا جس کے نتیجے میں سب کا مورال ٹخنوں کو چھونے لگا۔ پریڈ فالن ہوئی اور ایس ایم صاحب نے زوردار آواز میں کاشن دیا۔ جواب میں کیڈٹس نے مریل گھوڑوں کی طرح مارچ کا آغاز کیا۔ پریڈ میں پہلے والا جوش و جذبہ سرے سے مفقود دکھائی دے رہا تھا۔ ڈرل سکوائر میں داخل ہو ئے تو کورس ایک تھکا ماندہ قسم کا چکر لگا کر ڈھیلا ڈھالا سا رک گیا جسے دیکھتے ہی ایس ایم صاحب اور ڈرل سٹاف کا غصہ ساتویں آسمان تک پہنچ گیا۔ انہوں نے بلند آواز سے کاشن دینے شروع کئے لیکن کیڈٹس نے حرکت کرنے کے بجائے آلتی پالتی مار کر زمین پر بیٹھنا شروع کر دیا۔ چشم فلک نے یہ منظر نہ پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ شاید دوبارہ دیکھے گی۔ سٹاف نے پہلے تو معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن یہ شاید ان کے بس کی بات نہ تھی لہٰذا اکیڈمی ایڈجوٹنٹ کو بلایا گیا۔ کیڈٹس اس بات پر بضد تھے۔ ان سے کیا گیا لانگ ویک اینڈ کا وعدہ ہر صورت پورا کیا جائے بصورت دیگر وہ ہر قسم کی سزا کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ایسا ہرگزنہیں تھا کہ لانگ ویک اینڈ کوئی بہت ضروری چیز تھی جس کے بغیر گزارا ممکن نہیں تھا بلکہ یہاں پر تو بلا سوچے سمجھے کورس میٹ سپرٹ کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔
بات بنتی نظر نہ آئی تو بٹالین کمانڈر بذات خودتشریف لے آئے۔ انہوں نے کورس کو یہ بات سمجھانے کے لئے ایک طویل تقریر ارشاد فرمائی کہ پریڈ کی ریہرسل ویک اینڈ سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے اعلان کیا کہ اب بھی جس کسی کو ویک اینڈ چاہئے وہ پانچ قدم لے کر آگے آ جائے۔ یہ سننا تھا کہ سب کے سب کیڈٹس پانچ قدم لے کر آگے آ گئے۔ یہ منظردیکھ کر وقت گویا تھم سا گیا ۔بٹالین کمانڈر کو بھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ کچھ دیر اسی کیفیت میں رہنے کے بعد انہوں نے غصے میں آ کر ڈرل سٹاف کو حکم دیا کہ دونوں کورسز کو رائفلز سر سے اوپر کروا کر ڈرل سکوائر کے چکر لگوائے جائیں اور اگر کسی کی رائفل نیچے آئی تو اسے فی الفور ریلیگیٹ کر دیا جائے گا ۔ڈرل سٹاف نے فی الفور ہمیں رائفل سر سے اوپر اٹھوا کرگرانڈ کے چکر لگوانے شروع کر دیئے۔


اسی اثنا میں ہم نے دیکھا کہ ایک حوالدار دو کیڈٹس کو بٹالین کمانڈر کے روبرو لے جا رہا ہے ۔ یہ دیکھ کر ڈرل صوبیدار میجر نور رخمت فوراً آڑے آ گئے اور اس سٹاف کی یہ کہتے ہوئے سخت سرزنش کی کہ یہ تمام کیڈٹ میرے بچوں کی طرح ہیں، یہ بڑی محنت کے بعداس مقام تک پہنچے ہیں اور میں ان کا نقصان ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ نور رخمت صاحب نہ جانے اب کہاں ہوں گے لیکن ان کی یہ بات یاد آتی ہے تو بے اختیار دل سے ان کے لئے دعائیں نکلتی ہیں۔کچھ دیر لگاتار ڈرل سکوائر کے چکر لگانے کے بعدبٹالین کمانڈر کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا اور ہمارے سر وں سے بھی لانگ ویک اینڈ کا بھوت اتر گیا لہٰذا پریڈ کا دوبارہ آغاز ہو گیا۔


ہم یہ تو نہیں جانتے کہ وہ لانگ ویک اینڈ کی خواہش تھی یا کورس میٹ سپرٹ جس کے باعث پورا کورس اپنا کمیشن داؤ پر لگانے پر آمادہ ہو گیا تھا ہاں اتنا یقین ضرورہے کہ اگر آج وقت کا پہیہ واپس گھوم جائے اور وہی آپشن دوبارہ دی جائے تو بھی سب لوگ اپنے کورس کا ساتھ دیتے ہوئے پانچ قدم آگے ہی لیں گے۔


گدھے اور گھوڑے
جنوری 1996 کی ایک سہانی شام کو ہمارا نوشہرہ پہنچنے کا مقصد سکول آف آرٹلری سے چھ ماہ کے بیسک کورس کی تکمیل تھا۔ ہم پی ایم اے کے ہنگاموں سے نکل کر کسی گوشہ عافیت کی تلاش میں تھے جو ہمیں سکول آف آرٹلری کی صورت میں میسر آ گیا۔ اس مہربان مادرِ علمی میں پہنچ کر ہمیں اپنے افسر ہونے کا کچھ کچھ احساس ہونا شروع ہوا۔ اگرچہ ہم ابھی تک سیکنڈ لفٹین ہی تھے لیکن ہمیں جرنیلوں والی پذیرائی کا مستحق سمجھا جاتا۔چند دنوں تک تو یوں لگا کہ شاید یہ سب کچھ کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے لیکن پھر اپنا فائدہ سمجھ کر خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ سٹاف اور انسٹرکٹرز کی شستہ زبان، عالیشان میس اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سٹوڈنٹس پرکسی قسم کی غیر ضروری قدغن کا وجود نہیں۔ کلاسز ایک لگے بندھے شیڈول کے مطابق ہوا کرتیں اور اس کے بعد ہر کسی کی اپنی مرضی تھی کہ دل چاہے تو کتابوں سے سر کھپائے ، شہر کا چکر لگائے یا پھر میس میں بیٹھ کردل پشوری کرے۔


کورس کا آغاز تھا اور زیادہ تر لوگ اپنی آنکھوں میں کورس ٹاپ کرنے کے خواب سجائے دن رات کتابیں رٹنے میں مصروف تھے چنانچہ میس میں صرف کھانے کے وقت ہی رونق ہوا کرتی تھی، علاوہ ازیں نوشہرہ، پشاور روٹ پر ٹریفک بھی برائے نام ہی تھی۔ بہت سے جغادری قسم کے گنر حضرات کھانا بھی کمرے میں منگوا کر کھاتے تاکہ پڑھائی میں غیر ضروری تعطل سے بچا جا سکے ۔ یہ راز البتہ کچھ عرصے بعد کھلا کہ اس سکون کی تہہ میں بھی کئی ہنگامے پوشیدہ تھے۔ ایک ماہ بعد پہلا پیپر ہوا تو ہاتھی کے کھانے والے دانت صاف نظر آگئے۔ پتہ چلا کہ سکول والے انگریزی کے محاورے
mean business
کے مصداق پڑھائی اور اس سے متعلقہ امور میں چنگیز خانی قبیلے سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔ پیپر میں دو تین جدی پشتی ٹائپ کے آرٹلری افسر ہی بمشکل پاس ہونے میں کامیاب ہو سکے۔رزلٹ نے پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے دونوں قبیلوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا تھا۔


رزلٹ کے بعد پیپر شو کرنے کے لئے تمام کورس کواختر ہال میں اکٹھا کیا گیا۔ سب کے نامہ ہائے اعمال ان کے ہاتھوں میں تھمائے گئے تاکہ اپنی آنکھوں سے اپنا کیا دھرا ملاحظہ کر لیں۔ جن میجر صاحب نے یہ پیپر تیار کر کے ہمارے ارمانوں کا قتل عام کیا تھا وہ تشریف لائے اور روسٹرم پر کھڑے ہوگئے۔ ان کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آویزاں تھی جو مہاتما بدھ کے مجسموں کو غور سے دیکھنے پر نظر آتی ہے۔ ہمارے کورس سینیئر لیفٹیننٹ جمیل جن کے نمبر سب سے کم تھے کھڑے ہوئے اور شکوہ شکایت کا آغاز کیا’’سر اتنا مشکل پیپر تو ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔آپ کے بنائے ہوئے اس پیپر کو تو کمانڈنٹ اور چیف انسٹرکٹر کو بھی دے دیا جائے تو وہ بھی حل نہ کر سکیں۔ ہم جیسے کل کے لفٹین بھلا کیا توپ چلا سکتے ہیں۔ ‘‘
میجر صاحب مونچھوں کو تاؤ دے کر فرمانے لگے ’’برخوردار! آخر ہم نے گدھے اور گھوڑے بھی تو علیحدہ کرنے ہوتے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ جمیل بھی انتہا کے دل جلے تھے ،بولے: سر!معاف کیجئے ، وہ تو پی ایم اے میں ہی علیحدہ ہو جاتے ہیں۔‘‘
(........جاری ہے)

فوج شاید واحد پروفیشن ہے جس میں سب سے زیادہ دوست بنائے جاتے ہیں۔ پی ایم اے میں داخلے سے لے کر ریٹائرمنٹ تک ہر مرحلے پر بے شمار دوست بنتے اور جدا ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگ ایک انوکھے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے طاقت حاصل کر کے موت کو للکارتے ہیں اور بجلی بن کر طوفانوں سے ٹکرا جاتے ہیں ۔فوج میں آنے کے بعد علاقہ ، ذات، نسل ، زبان یا دیگر حوالے بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ شناخت ہوتی ہے تو پی ایم اے کے کورس یا پھر یونٹ کے نام سے۔پی ایم اے کی تربیت سختیوں سے بھرپور ہوتی ہے لیکن ان سختیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی انہی سنگی ساتھیوں سے ملتا ہے جوعرف عام میں کورس میٹ کہلاتے ہیں۔

*****

 
15
December

تحریر: خدیجہ محمود

ویسے تو دیو مالائی کہانیوں کو انسانی تخیل کی اختراع سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کو دیکھ کر، ان سے مل کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دیومالائی کہانیوں کے کسی کردار نے حقیقت کا روپ لے لیا ہے اور انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ قدرت نے ان کو کتنے حسین رنگ اور کتنے دلکش روپ سے نوازا ہے۔ میں بات کر رہی ہوں اداکار شکیل کی جن کا اصل نام یوسف کمال ہے۔ یوسف کمال سے شکیل تک کے سفر کی روداد ہلال کے قارئین تک پہنچانے کے لئے ہم نے اُن سے جو گفتگو کی وہ پیش خدمت ہے۔

 

intyousafkamal.jpgسوال: شکیل ہمیں اپنے اب تک کے سفر کے حوالے سے کچھ بتائیے؟
جواب: میرا پیدائشی نام یوسف کمال ہے۔ جب شوبز میں آیا تو اﷲ بخشے میرے استاد یوسف صاحب جنہوں نے مجھے فلموں میں متعارف کروایا تھا انہوں نے مجھے یہ نام دیا جس سے آپ سب مجھے جانتے ہیں۔ دنیا مجھے شکیل کے نام سے جانتی ہے ماسوائے میرے گھر والوں کے۔ پیدائش میری بھوپال کی ہے۔ آبائی وطن میرا لکھنؤ ہے۔ والدہ کی طرف سے میں آدھا پٹھان ہوں۔ ننھیال کا بتاتا چلوں کہ میرے چارماموں ہیں اور سب کے سب فوجی، اس کے بعد ان کی اولاد وہ بھی فوج میں ہے۔ تو میرے خانوادے کا ایک بڑا حصہ فوج سے تعلق رکھتا ہے۔ میرے نانا جان کا تعلق بھوپال سے تھا۔ ایک خاص عرصے کے بعد وہ بھوپال کے
Army Chief
ہو گئے تھے۔ اس زمانے میں اس عہدے پر
Brigadier General
رینک کے افسر کو فائز کیاجاتا تھا۔کہا جاتا تھا میرے نانا بریگیڈیئر جنرل عبدالقیوم خان عرف صولت تھے،آج بھی بھوپال میں میراآبائی مکان صولت منزل آباد ہے۔ میرے تایا بھی فوج میں میجر تھے۔ شادی ہوئی تو وہ بھی فوجی خاندان میں ہوئی۔ میری بیوی ایک فوجی کی intyousafkamal1.jpgبیٹی اور ایک شہید کی بہن ہیں۔ 1952 میں ہم ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ اس کے بعد سے اب تک سارا وقت کراچی میں گزارا۔ یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر اس پیشے سے وابستہ ہو گیا۔ ابتدا ریڈیو پاکستان میں بچوں کے پروگرام سے کی۔ اس کے بعد پھر تھیٹر۔ ریڈیو میں میرے استاد مشہور کالم نگار اور ڈرامہ نگار مرحوم نصراﷲ خان صاحب تھے۔ میں بہت خوش قسمت رہا ہوں کہ مجھے زندگی کے ہر موڑ پر بہترین لوگ ملے۔ اساتذہ، دوست سبھی بہت قابل ملے۔ یہ بھی اﷲ کا بڑا کرم ہے کہ کالج لائف کے بعد تشہیر کے شعبے سے بھی وابستہ رہا۔ ریڈیو اور تھیٹر میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کے بعد فلم میں قدم رکھا۔ میں نے فلم میں کام کرنے سے پہلے اپنے استاد کے سامنے یہ شرط رکھی تھی کہ میں اپنی جاب نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ مجھے نہیں پتا تھا کہ میں فلم میں کامیاب ہوتا ہوں کہ نہیں لہٰذ اس وقت میری بات مان لی گئی۔ فلم کا نام تھا ’’ہونہار‘‘ اس فلم میں میرا کردار بگڑے بھائی کا تھا بڑا بھائی پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد میں ٹیلی ویژن میں آیا اور اب تک جو میری شناخت ہوئی ہے وہ ٹی وی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ کیونکہ شوبزکے اندر کئی شعبے ہیں ریڈیو، تھیٹر، فلم، ٹی وی، ماڈلنگ وغیرہ۔اﷲ تعالیٰ نے بہت عزت سے نوازا ہے۔ اس تمام سفر میں لوگوں سے بہت محبت اورعزت ملی۔ان پانچ دہائیوں میں جو میں نے کام کئے اس کے صلے میں حکومت پاکستان سے مجھے تمغہ حسن کارکردگی، اس کے بعد لائف ٹائم، اس کے بعد ستارۂ امتیاز اور اب اسی سال صدر پاکستان نے اعترف فن کا ایوارڈ دیا۔ یہ سب اﷲ کا کرم ہی تو ہے زندگی بہت اطمینان سے گزر رہی ہے۔


سوال: یہ تو پروفیشنل زندگی کی بات ہو گئی۔ ذاتی زندگی کے بارے میں بھی قارئین ہلال کو بتائیے۔
جواب: میرے دو بچے ہیں حرا اور حیدر، دونوں ماشاء ﷲ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ شادیاں ہو گئی ہیں۔ اب صرف اتنی خواہش ہے کہ جتنی زندگی باقی رہ گئی ہے اس میں اﷲ کو راضی کروں۔ اور اﷲ کو راضی کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی خلق کو راضی کرو۔ ویسے میں اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بننا چاہتا۔ لیکن گاہے بگاہے میں فلاحی کاموں میں حصہ لیتا رہا ہوں۔ اس ملک پر جب بھی افتاد پڑی اپنے تئیں، اپنی بساط کے مطابق میں نے ہاتھ پیر مارے۔ جب 2005 میں زلزلہ آیا تو اس وقت بھی اپنی پاک فوج کے تعاون سے ہی میں مختلف علاقوں میں گیا۔
کوئی میری اس بات سے اتفاق کرے یا نہ کرے مجھے اس کی کوئی پروا بھی نہیں ہے کہ اگر اس ملک میں کوئی ادارہ ہے جو جو ادارہ کہلانے کے لائق ہے تو وہ فوج ہے۔ یہ سب میں اپنے ذاتی تجربات کی بناء پر ہی کہہ رہا ہوں ہماری فوج میں لوگ بہت پروفیشنل ہیں ذہنی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی۔ زبان کے بھی پکے اور عمل کے بھی۔ اور یہ سب میں نے آزمایا ہوا ہے۔ میرا فوج سے لگاؤ اور ان کی جانب جھکاؤ اسی وجہ سے ہے۔

intyousafkamal2.jpgسوال: آپ کا اتنا لگاؤ اور جھکاؤ فوج کی طرف ہے تو آپ نے خود فوج کیوں نہیں جوائن کی۔
جواب: یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ اگر میں نے فوج جوائن نہیں کی تو میرالگاؤ اور جھکاؤ فوج کی جانب نہیں ہو سکتا۔ میرے سسر کی بڑی خواہش تھی کہ ان کے تینوں بیٹے فوج میں جائیں کیونکہ وہ خود فوجی تھے بڑا بیٹا فوج میں بھیج دیا۔ جو 22سال کی عمر میں 71کی جنگ میں شہید ہو گیا۔ اس کے باوجود ان کا اصرار تھا کہ وہ دوسرے بیٹے کو بھی فوج میں بھیجیں گے اور انہوں نے دوسرے بیٹے کو بھی بھیج دیا۔ وہ کور آف سگنلز میں میجر تھے کہ بیماری کی وجہ سے اﷲ کو پیارے ہو گئے۔ میرے سسر بلوچ رجمنٹ کے سب سے سینئر آفیسر تھے۔ ان کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ بلوچ رجمنٹ نے ان کو ان کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل بلایا تھا۔ اور ان کے لئے بہت بڑی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ فوج اپنے سینئرز کو بے تحاشا عزت دیتی ہے اور پھر جب ان کا انتقال ہوا تو آخری رسومات کا سارا انتظام بلوچ رجمنٹ نے سنبھالا اور ہمیں کچھ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے خود اپنے فوجی کو جس شان سے اﷲ کے سپرد کیا وہ شاید الفاظ میں بیان نہ ہو پائے۔


سوال: آپ اپنے شعبے سے کسی حد تک مطمئن ہیں جس سے آپ وابستہ ہیں؟
جواب: اپنے پروفیشن میں کام کرتے ہوئے مجھے ایک اندرونی اطمینان سا ہوتا ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں
Inner Satisfaction
جو آپ کے اندر تسکین کی خواہش ہوتی ہے تو مجھے بھی تسکین کا احساس ہوتا ہے کیونکہ میں جو کام کرتاہوں دل سے کرتا ہوں۔ اگر آپ کسی کام میں انوالو نہ ہوں اور اُس میں آپ کا جنون شامل نہ ہو تو بات نہیں بنتی۔


سوال: ایک ڈرامہ ’’اس گلی نہ جاویں‘‘ پرفارم کرتے ہوئے آپ پر ایک کیفیت طاری ہو گئی تھی ایسے لگتا تھا جیسے آپ اس کردار میں کھو گئے ہوں۔ ایسا کوئی اور کردار بھی ہے جس کو کرتے ہوئے آپ اسی طرح کھو گئے ہوں۔؟
جواب: جب پی ٹی وی واحد چینل ہوا کرتا تھا تو اس وقت کم و بیش میں نے جتنے بھی کھیل کئے ان میں سے کوئی بھی کھیل ایسا نہیں کہوں گا کہ جبراً کیا ہو۔ جو کردار بھی کیا دل سے کیا اور اﷲ کا ہمیشہ مجھ پر یہی کرم رہا ہے کہ مجھے ہمیشہ بہترین رائٹر اور بہترین ڈائریکٹر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ میری خوش قسمتی رہی ہے کہ مجھے ہمیشہ اچھے کردار ملے۔ اتنے عرصے میں کبھی یکسانیت کا شکار نہیں ہوا مجھ پر ایک خاص قسم کی چھاپ نہیں لگی۔

intyousafkamal3.jpg
سوال: چھاپ تو نہیں لیکن پرنس چارمنگ، چاکلیٹی ہیرو اس طرح کے القابات تو ہمیشہ ہی آپ کو ملے ہیں۔
جواب: ہاں چھاپ لگی بھی تھی کہہ سکتی ہو۔ جب میں نے کام کی ابتدا کی تھی یعنی ٹی وی اور فلموں میں آیا تو اس وقت عمر کے حساب سے ہیرو کے ہی زمرے میں آتے تھے اس لئے میں نے ہمیشہ ہیرو کا ہی رول کیا۔ اس کے بعد جب مستقل ہی یہ رول ملے تو میں تنگ آ گیا جو ابھی آپ سے کہا کہ جو القابات تھے، چاکلیٹی ہیرو اور دوسرے القابات تو اس زمانے میں ایک چینل پی ٹی وی ہی تھا اور پرنٹ میڈیا بہت
Strong
تھا انہوں نے مجھ پر یہ لیبل چسپاں کرنا شروع کر دیئے ۔ گلیمربوائے ، رومانٹک پرنس چارمنگ، میں کہتا تھا کہ بھائی میں ایک سنجیدہ ایکٹر ہوں اﷲ تعالیٰ نے یہ کرم کر دیا کہ ان دنوں اﷲبخشے شیریں عظیم کو وہ حسینہ معین کا ایک سیریل کر رہی تھیں، ’انکل عرفی‘ اس میں انہوں نے مجھے کاسٹ کر لیا۔


سوال: سب سے پہلا کھیل کون سا تھا، وہاں سے شروع کرتے ہیں۔
جواب: سب سے پہلا ٹی وی پر میرا کھیل محترمہ حسینہ معین کا لکھا ہوا تھا، ’’نیا راستہ‘‘۔ نیلوفر عباسی جو اس زمانے میں نیلوفر علیم ہوتی تھیں، وہ میرے ساتھ رول میں تھیں پھر حسینہ کاہی لکھا ہوا’’تمہیں عید مبارک‘‘ کیا پھر ’شہزوری‘ کیا وہ بھی حسینہ معین کا ہی لکھا ہوا اور ان تینوں میں میرے ساتھ نیلوفر عباسی ہی تھیں۔ میرا اور حسینہ کا ٹی وی کا سفر ایک ساتھ ہی شروع ہوا۔ ان کا سب سے پہلا کھیل میں نے کیا۔ سب سے پہلا سیریل بھی میں نے کیا اور بحیثیت اداکار ان کے لکھے ہوئے سب سے زیادہ کھیل میں نے ہی کئے تو جب انکل عرفی کی باری آئی تو اس زمانے میں میری عمر انکل والی تو تھی ہی نہیں۔ مگر میں داد دیتا ہوں ان لوگوں کو کہ ان کی سوچ تھی کہ ایک ایسے آدمی کو ہم نے لے کر آنا ہے جو انکل بھی لگے اور اس میں ایک خاص قسم کی رومانیت بھی ہونی چاہئے۔ جب مجھ سے یہ کردار ڈسکس کیا گیا تو میں نے نام تجویز کئے کہ محمود علی بھائی ہیں۔ قوی خان صاحب ہیں تو شیریں عظیم نے مجھے کہا کہ شکیل اگر آپ نے یہ تجاویز دینی ہیں توآپ باہر چلے جائیں۔ ہم سوچ لیتے ہیں۔ آپ جا سکتے ہیں۔ میں باہر چلا آیا۔ یہ سوچتا ہوا کہ کمال کی خواتین ہیں۔ مشورہ بھی لے رہی ہیں اور جب میں نے مشورہ دیا تو یہ سننے کو ملا۔ ایک ہفتے کے بعد مجھے پی ٹی وی سے فون آیا۔ جب میں پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ انکل عرفی کا رول آپ کر رہے ہیں۔ میں حیرت زدہ تھا کہ اب یہ کیا ہوا۔ خیر پھر سب کچھ طے ہوا کہ کیا کرنا ہے۔ میک اپ کیا ہو گا ۔

Get up

intyousafkamal4.jpg

کیا ہو گا۔ انکل عرفی کا جو کردار تھا اس نے میرے کیریئر کو بدل کر رکھ دیا۔ چھاپ جو مجھ پر تھی وہ اﷲ کے کرم سے مٹ گئی اور میں لوگوں کو یہ بتانے میں کامیاب ہو گیا کہ میں صرف ایک رومانٹک ہیرو ہی نہیں ہوں بلکہ ایک سنجیدہ اداکار بھی ہوں۔ وہ سیریل بھی بہت ہٹ ہوا۔ جو میری فرنچ کٹ تھی وہ فیشن میں آ گئی اور لوگ فرنچ کٹ ڈاڑھی رکھنے لگے۔ بس پھر سلسلہ چلتا ہی رہا۔ مجھے مختلف قسم کے کردار ملے اور ایک سے ایک بڑھیا لکھے والے جن میں اشفاق احمد‘ بانو قدسیہ‘ فاطمہ ثریا بجیا‘ حسینہ معین‘ امجد اسلام امجد‘ اصغر ندیم سید ہیں اور ایک نام انور مقصود۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ اداکار جن کو اس طرح کے لوگوں کے تخلیق کئے ہوئے کردار کرنے کو ملتے ہیں اس طرح ہر کردار ایک پہچان بن جاتا ہے۔ آنگن ٹیڑھا کے محبوب صاحب اور انور مقصود کا ہی ایک اور تحریر کردہ کھیل ’کالونی 52‘ میں نانا خالو کا رول کیا تھاجس نے میرے گلیمر کی چھاپ کو مٹا دیا اور نہایت ہی خوفناک قسم کا آدمی نانا خالو بنا دیا اور یقین مانیں کہ وہ کردار کرتے ہوئے مجھے بے انتہا لطف آیا۔ میرے کیرئیر کے بہترین کرداروں میں نانا خالو ایک یادگار کردار ہے۔ لیکن باقی کردار بھی اﷲ کے فضل سے بہترین تھے۔ شہزوری کا طیفی‘ زیر زبر پیش کا کھلنڈرا سا لڑکا‘ انکل عرفی، ان کہی کا تیمور، لیکن میںیہ سارا کریڈٹ اپنے ساتھیوں کو دوں گا کیونکہ مجھے ٹیم لاجواب ملی اور ان سب سے مجھے اتنی محبتیں ملی ہیں۔ فن اور عشق میں سچائی ضروری ہے۔ سچائی اور لگن وہ جذبے ہیں جو ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ ڈرامہ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے مگر اس کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج ضروری ہے کہ فن کی دنیا امن کی دنیا کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔


سوال: ساتھی فنکاروں میں سب سے زیادہ کس سے سیکھنے کا موقع ملا۔
جواب: بیگم خورشید مرزا کے ساتھ کے میں نے بہت کام کیا تھا اور میں نے ان کو بہت
Idealize
کیا تھا۔ اﷲ بخشے اس عمر میں بھی ان کی بہت
Professional
اپروچ تھی جب
Set
پر آتی تھیں تو ان کو پورا ڈرامہ ازبر ہوتا تھا صرف اپنا کردار ہی نہیں پورا ڈرامہ، اس کے علاوہ اﷲ بخشے کمال احمد رضوی صاحب کے ساتھ میں نے بہت کم کام کیا ہے۔ دو اسٹیج ڈرامے کئے۔ میرے ٹی وی کیرئیر میں دو خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے اور ان پر اعتراضات بھی ہوئے کہ یہ ان کا من پسند ہیرو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسینہ نے جتنے بھی کھیل لکھے ہیں ان میں سب سے زیادہ کھیل میں نے ہی کئے ہیں اور سب ہی کھیل مقبول ہوئے اور حسینہ کا ہی تحریر کردہ کھیل پرچھائیاں جو پاکستان ٹیلی ویژن کا سب سے پہلا کلرڈ کھیل بھی ہے، میں نے ہی کیا۔ یعنی جب بھی پی ٹی وی کی تاریخ لکھی جائے گی کہیں نہ کہیں میں ضرور ہوں گا۔ اسی طرح سے بجیا کے کھیل جو میں نے کئے افشاں، انا، عروسہ، آگہی، ساوری ، سسی پنوں اور بہت سارے سٹیج کے کھیل۔


سوال: کس ساتھی فنکار کے ساتھ کام کرتے آپ کو زیادہ اچھا لگا۔
جواب: سب سے پہلے تو نیلوفر عباسی کے ساتھ کام کیا تو بہت ہی مختصر وقت میں ہماری اتنی اچھی
Chemistry
اور ذہنی ہم آہنگی ہو گئی تھی کہ میں یہ اعتراف فخریہ کرتا ہوں کہ میں نے نیلوفر عباسی سے بہت کچھ سیکھا ہے کیونکہ نیلوفر ریڈیو کی بہت اچھی آواز ہے۔ ان کی ادائیگی میں جو بے ساختگی تھی اس نے مجھے بڑا
Inspire
کیا۔ ایک بات میں ضرور شیئر کروں گا اپنے پڑھنے والوں سے کہ جب ہم شروع شروع میں ٹی وی پر آئے تو بطور ہیرو ہیروئن آئے، اس وقت کنور آفتاب صاحب نے کہا کہ یہ فلم انڈسٹری نہیں ہے کہ جوڑی ہٹ جا رہی ہے بلکہ کیوں نہ یہ کہا جائے کہ یہ
Pair
بہت مقبول ہو گیا ہے۔ تو تھوڑے دنوں کے بعد ہی ہمیں ایک ڈرامے میں کاسٹ کیا گیا اور اس میں ہم بطور بہن بھائی کے سامنے آئے تو ہم نے وہ کردار بھی اتنی ہی خوبی سے نبھائے۔ بعد میں انکل عرفی میں شہلا اور ان کہی میں شہناز شیخ کے ساتھ بھی اچھی ہم آہنگی رہی۔

intyousafkamal5.jpg
سوال: آج کے ڈرامے اور اس وقت کے ڈرامے میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں۔
جواب: میں نے اس وقت بھی کام کیا ۔ اﷲ کا کرم ہے۔ میں آج بھی کام کر رہا ہوں۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ
Black and White
والا فرق ہو گیا ہے۔ اس وقت سب لوگ اس بات سے بے نیاز ہو کر کام کرتے تھے کہ اس کا بڑا رول ہے اور اس کی زیادہ مقبولیت ہے یا میری مقبولیت ہے۔ مطلب نمبر 1 کی دوڑ اور ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کیا جاتا تھا۔ سب ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے تھے اور سب کے ذہن میں یہی بات ہوتی تھی کہ پروگرام اچھا ہونا چاہئے۔ اب بھی اچھا کام ہو رہا ہے نئے لکھنے والے آ رہے ہیں اوربہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی اس پرانے وقت کا ٹیم ورک جو تھا اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔


سوال: آپ شوبز میں تھے جہاں آپ کے پاس مواقع تھے کہ شادی پسند کی کر سکتے کیا آپ نے شادی اپنی پسندسے ہی کی؟
جواب: خالص ارینج میرج ہے۔ میری والدہ کی پسند سے ہوئی لیکن میری والدہ حیات نہیں رہیں میری شادی تک۔ میں اﷲ کا بہت شکرگزار ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے زندگی کا بہترین ہمسفر عطا کیا ہے۔ بہت اچھا ساتھ مل گیا۔ دونوں بچوں کی شادی ہو گئی۔ ماشاء اﷲ میرے 3نواسے نواسیاں ہیں۔ بڑی نواسی
O-level
کر رہی ہے ۔ 14سال کی ہے۔ اﷲ نے زندگی میں سب کچھ عطا کیا ہے کسی چیز کی کمی نہیں ہے زندگی میں۔


سوال: فون پر آپ نے بتایا تھا کہ آپ نے پاک فوج کے لئے بھی کھیل کئے ہیں وہ کون سے ہیں؟
جواب : ہاں اچھا یاد دلایا۔ پی ٹی وی نے جب یہ سلسلہ شروع کیا تو نشانِ حیدر کا جو سب سے پہلا کھیل تھا کیپٹن سرور شہید اس میں لیڈنگ رول سلیم ناصر نے کیا تھا۔ ہم اس بات پر فخر کر رہے تھے کہ ہم اس کھیل میں کام کر رہے ہیں جو ہماری پاک فوج کے ایک شہید پر بن رہا ہے۔ میں تھا طلعت حسین تھے، عثمان پیرزادہ تھے۔ پھر پاکستان نیوی کے لئے دو کھیل تھے۔ ایک سیریل تھا، سمندر جاگ اٹھا اور دوسرا ہماری 1965 کی فتح کا معرکہ ’’آپریشن دوارکا‘‘ ہاں ایئرفورس کے لئے میں نے ابھی تک کوئی کھیل نہیں کیا۔ خواہش ضرور ہے لیکن مجھے یہ خوشی ہے کہ یہ تھوڑا بہت جو میر
اContribution
ہے یہ ایک طرح سے میری پاک فوج کے لئے اظہار عقیدت ہے۔


سوال: کیا محسوسات تھے آپریشن دوارکا کرتے ہوئے کیونکہ ایک تو پاک افواج سے آپ کی عقیدت اور پھر اس ڈرامہ میں کمانڈنٹ کا رول اور وہ بھی اپنی فتح کی داستان۔
جواب : محسوسات کیا بتاؤں ایک تو میں 1965کی جنگ دیکھ چکا تھا۔ 71کی جنگ دیکھ چکا تھا۔ وہ ولولہ اور جوش جو اس زمانے میں میں نے دیکھا تھا اور خود
Experience
کیا تھا وہ ساری چیزیں میرے ذہن میں تھیں۔ میں خوفناک حد تک
Nationalist
ہوں، ابھی بھی اگر کہیں پاکستان کی بات آ جاتی ہے کوئی ملی نغمہ جس میں میرے پاکستان کی بات ہو۔ قومی ترانہ ہو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔میں اپنے ملک کے لئے بہت جذباتی انسان ہوں۔


سوال: پاک فوج کے لئے آپ کا کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: (مسکراتے ہوئے) اپنوں کے لئے پیغام نہیں دیا جاتا ان کو دعائیں دی جاتی ہیں۔ اﷲ کے بعد اگر کوئی اس ملک کی حفاظت کر رہا ہے تو وہ ہے ہماری پاک فوج اور میرا رواں رواں ان کے لئے دعا گو ہے۔

خدیجہ محمود میڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

کوئی میری اس بات سے اتفاق کرے یا نہ کرے مجھے اس کی کوئی پروا بھی نہیں ہے کہ اگر اس ملک میں کوئی ادارہ ہے جو جو ادارہ کہلانے کے لائق ہے تو وہ فوج ہے۔ یہ سب میں اپنے ذاتی تجربات کی بناء پر ہی کہہ رہا ہوں ہماری فوج میں لوگ بہت پروفیشنل ہیں ذہنی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی۔ زبان کے بھی پکے اور عمل کے بھی۔ اور یہ سب میں نے آزمایا ہوا ہے۔ میرا فوج سے لگاؤ اور ان کی جانب جھکاؤ اسی وجہ سے ہے۔

*****

فن اور عشق میں سچائی ضروری ہے۔ سچائی اور لگن وہ جذبے ہیں جو ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ ڈرامہ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے مگر اس کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج ضروری ہے کہ فن کی دنیا امن کی دنیا کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔

*****

 
15
December

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلامی ملکوں کی بادشا ہتوں کو چھوڑ کر ساری دنیا میں جو جمہوریتیں موجود ہیں اُن میں دوہی نظام رائج ہیں ایک صدارتی ہے تو دوسرا پارلیمانی نظام۔ برصغیر پاک وہند میں پارلیمنٹ کا سربراہ ہی چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے جبکہ’’ صدر‘‘کا عہدہ بس علامتی ساہی ہے۔ امریکہ میں بظاہر صدارتی نظام ہی ہے اور اس کے لئے براہِ راست ووٹ بھی پڑتے ہیں مگر پاپولر یعنی عام ووٹروں کے مقابلے میں صدر کی کامیابی اُن 270ووٹوں پر منحصر ہوتی ہے جو 50امریکی ریاستوں کے الیکٹورل سے اُسے ملتے ہیں۔ اب یوں تو ہیلری کلنٹن پاپولر ووٹ میں 2لاکھ کے مارجن سے کامیاب ہوئیں مگر ریاستوں کے مختص الیکٹورل ووٹروں سے وہ بڑے مارجن سے پیچھے رہ گئیں۔ ٹرمپ جیسے
Out Sider
یعنی باہر کے آدمی کی پہلے مرحلے میں یعنی انٹرا پارٹی الیکشن میں 14پرانے آزمودہ کار ریپبلیکن کوشکست دے کر صدارتی نامزدگی حاصل کرنا اور پھر پاپولر ووٹنگ میں دولاکھ کم یعنی ہیلری کلنٹن کے 47.7فیصد (5کروڑ97لاکھ94ہزار ووٹ) کے مقابلے میں 47.5 فیصد (5کروڑ95لاکھ84ہزار ووٹ)لینے کے باوجود ریاستوں کے الیکٹورل ووٹ کی بنیاد پر ٹرمپ کی کامیابی نے امریکی انتخابی سسٹم پر بڑے سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے پنڈت کھل کر اسے جمہوریت کے منافی قرار دے رہے ہیں اور ٹرمپ کی کامیابی کے فوراً بعد ملک بھر میں جو مظاہرے اور پولیس سے تصادم ہورہے ہیں‘ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امریکی عوام
popular
ووٹنگ میں جیتنے کے باوجود محض الیکٹوریل ووٹ کی بنیاد پر کسی صدارتی امیدوار کی کامیابی سے اتنے بددل اور مشتعل ہیں کہ انہوں نے امریکی انتخابی تاریخ میں پہلی بار سڑکوں اور چوراہوں پر اپنے شدید ردِعمل کااظہار کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ بارک اوبامہ دونوں بار یعنی 2008 اور 2012 میں بھاری اکثریت سے الیکٹورل ووٹ سے ہی کامیاب ہوئے اور شاید اسی سبب الیکشن کی رات ہیلری کلنٹن نے اپنی شکست کے بعد اپنی
popular
ووٹ سے جیت کا ذکر نہیں کیا۔ ڈونلڈٹرمپ کی بد زبانیوں بلکہ بدلگامیوں کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہومگر اس پر یوایس اور کانگریس یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کا بڑا سخت چیک ہوتا ہے۔ کانگریس کی احتسابی کمیٹی کسی بھی صدر کو کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے جس کی مثال بل کلنٹن کے مشہورِزمانہ اسکینڈل سے ملتی ہے۔ امریکی انتخابات کومہینہ ہونے کو آرہا ہے مگر 8نومبر کو جو
" upset"
ہوا ہے۔اُسے سامنے رکھتے ہوئے ساری دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ ’’ٹرمپ‘‘نے انتخابی مہم میں جو امیگریشن کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹ کی بنیادی پالیسی میں تبدیلی کے دعوے کئے تھے کیا وہ اس پر عمل بھی کریں گے؟


IDENTITY CRISIS
mahvharat.jpgصحافت اورسیاست کے طالب علم کی حیثیت سے امریکی انتخابات کے حیران کن نتائج پر اگر ’’طویل‘‘ تبصرے اور تجزیئے کو دو لفظوں میں سمیٹنا چاہیں تواسے
Identity Crisis
یعنی ’’تشخص کا بحران‘‘ کہا جائے گا۔سال رواں میں چوتھی بار امریکہ آنا ہوا۔ مارچ میں نیویارک کی ایک تقریب میں تین دہائی سے مقیم پاک امریکن لائر کے صدر رمضان رانا نے پیشگوئی کی کہ اگر ڈیموکریٹ نے برنی سینڈرز کو صدرِ نامزد نہ چنا تو ری پبلیکن کا ممکنہ نامزد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ
Clean Sweep
سے جیتے گا کہ امریکی عوام ان دونوں یعنی میاں بیوی کلنٹن سے سخت بیزار ہیں!چار ماہ بعد جب باقاعدہ امریکی انتخابات کے پہلے مرحلے کی کوریج کے لئے
OHIO
میں ری پبلیکن کے کنونشن میں تین دن اور پھر فلاڈلفیا میں ڈیموکریٹ کے چار روزہ کنونشن کو لمحہ بہ لمحہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان ڈیموکریٹس کو ہیلر ی سے شدید برہم پایا تو اُس وقت بھی یہ اندازہ لگانے میں مشکل پیش نہیں آئی کہ صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں 45 فیصد پارٹی کے پاپولر ووٹ حاصل کرنے والے برنی سینڈرز کو کلنٹن خاندان نے انتہائی چالبازی سے صدارتی نامزدگی سے باہر کیا ہے۔ کنونشن کے آخر میں برنی سینڈرز نے اپنے پُرجوش خطاب میں اپنے حامیوں سے درخواست کی کہ وہ ہیلری کی انتخابی مہم میں اپنا سارا زور لگادیں ورنہ ٹرمپ کی جیت کی صورت میں امریکہ کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ’’ٹرمپ‘‘آج کے دور کا ہٹلر ہے اور جو امریکی قوم کو
Vertical
اور
Horizontal
بنیادوں پر تقسیم کردے گا۔اگر اس تقسیم کو مزید واضح کیا جائے تو اس کے لئے
Polarization
سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے جو اس سے قبل امریکی انتخابات میں نہیں دیکھا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جس کی شہرت اُس کی بے پناہ دولت، امیگرنٹس اور خواتین سے نفرت کے حوالے سے تھی۔ بہرحال ’’وہ آیا،اُس نے دیکھااور فتح کرلیا۔‘‘ ہیلری کلنٹن اور صدر بارک اوبامہ کے بارے میں واشنگٹن کے پنڈت یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے سارے دورمیں
Deliver
نہیں کیا۔ دولت اور طاقت سے مالا مال وائٹ ہاؤس کے مکین نے جہاں امریکہ کو معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑاکر دیا، جس کے سبب ایک کروڑ سے زیادہ امریکی غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے،وہیں خارجی محاذ پر لیبیا،عراق اور شام پر جس طرح چڑھائی کی گئی، اُس کے ردِعمل میں
ISIS
جیسی دہشت گرد تنظیم کا جن بوتل سے باہر آیا اور جو آج اُسامہ کی القاعدہ سے زیادہ بڑا خطرہ امریکہ، بلکہ ساری مغربی دنیا، کے لئے بن گیا۔ جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو انہوں نے کبھی اپنے خیالات چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ اُن کے اس نعرے نے کہ ’’امریکہ کو واپس اپنا وقار دلائیں گے‘‘واقعی ہفتوں مہینوں میں امریکیوں کو جگادیا۔ اُس کے بعد انہوں نے ٹرمپ کی بڑھکوں،بلکہ گالیوں تک کو مخصوص انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے
So What
کہہ کر درگزر کر دیا۔ نیویارک،واشنگٹن میں الیکشن سے ہفتہ بھر پہلے جو بھی افریقن،ہسپانوی، میکسیکن، عرب یا پاکستانی ملتا، اُس کا ایک ہی جواب ہوتا
’’ Trump‘‘
سوال ہی پیدا نہیں ہوتااُن کے مقابلے میں سفید فام امریکی اول تو بہت زیادہ
Vocal
نہیں ہوتے۔ اگر جواب بھی آتاتو ایک معنی خیز مسکراہٹ اور اس جملے کے ساتھ
’’Let's see‘‘
امریکی انتخابات کے نتائج جیسا کہ میں نے ابتداء میں لکھا ’’حیران کن‘‘ ہی نہیں ’’ششدر‘‘ کردینے والے تھے۔ 8نومبر یعنی انتخابات کی شام جب ابتدائی انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے توانڈیانا میں تو80/20کا فرق تھا ہی کہ یہ ری پبلیکن کاروایتی گڑھ تھا مگر جب ڈیموکریٹ کے گڑھ فلاڈلفیا میں فرق صرف ایک دوفیصد کا آنا شروع ہوا تویہ ٹرینڈرات گئے تک جاری رہا۔ امریکہ کی 50میں سے 30ریاستوں میں ٹرمپ الیکٹورل ووٹنگ میں ساری شب سر پٹ دوڑتے رہے۔الیکشن میں کامیابی کے اگلے ہی دن ٹرمپ نے اپنے پہلے خطاب میں دوٹوک الفاظ میں کہا’’30لاکھ امیگرنٹس کو جیل جانا پڑے گا یا اپنے گھر‘‘ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکی سوسائٹی میں واضح طور پر نسلی،لسانی اورمذہبی دراڑیں پڑتی نظر آرہی ہیں۔یہ ایک
National Identity Crisis
ہے۔امریکی معاشرے پر ا س کے دیرپا اور دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ زیادہ بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان سمیت مسلم دنیا ابھی تک اس بات کا ادراک ہی نہیں کر پارہی کہ وہ ٹرمپ کی جیت پر ’’قہقہے‘‘ لگائیں یا آنسوبہائیں۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو انہوں نے کبھی اپنے خیالات چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ اُن کے اس نعرے نے کہ ’’امریکہ کو واپس اپنا وقار دلائیں گے‘‘واقعی ہفتوں مہینوں میں امریکیوں کو جگادیا۔ اُس کے بعد انہوں نے ٹرمپ کی بڑھکوں،بلکہ گالیوں تک کو مخصوص انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے

So What

کہہ کر درگزر کر دیا۔

*****

 
14
December

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ مرتب کی۔ جنگ ستمبر 65 کے دوران ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں گیارہ نغمے پیش کئے گئے۔ یہ نغمات نہایت لگن، ایثار، قربانی اور حب الوطنی کی ترجمانی کرتے ہوئے تخلیق کئے گئے۔ یہ نغمے فوجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران پاک فوج نے دشمن کو تاریخ ساز شکست سے دوچار کیا۔ جنگ ستمبر65کا جب بھی ذکر ہوتا ہے بہادر پاکستانی افواج کے ساتھ ساتھ پاکستانی فنکاروں اور شعراء کا ذکر بھی از حد ضروری ہے اس فرض میں سرفہرست ملکہ ترنم نورجہاں ہیں۔ ملکہ ترنم نورجہاں نے میرے ساتھ بطور میوزک پروڈیوسر لازوال نغمے تخلیق کئے۔ ان تمام نغموں کو پیش کرنے کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ 6ستمبر کو جب بھارت نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا توہمارے پاس میوزک کے حوالے سے جنگی اور ملی نغموں کا کوئی خاص میٹریل نہیں تھا۔ اس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر مرحوم شمس الدین بٹ نے میرا انتخاب کیا۔ یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز اور امتحان تھا۔ ملکہ ترنم نورجہاں 8ستمبر کو ریڈیو اسٹیشن تشریف لائیں اور میٹنگ میں طے پایا کہ آج کا دن بھی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ میرے لئے بطور پروڈیوسر بہت بڑا امتحان تھا کہ کون سا نغمہ ریکارڈ کیا جائے۔ میں نے اﷲ پاک سے دعا مانگی ۔ یامالک مدد فرما۔ نعرہ تکبیر لگایا۔ مجھے فوراً ہی صوفی تبسم صاحب کا خیال آ گیا جو ہمارے سٹاف پر تھے۔ میری درخواست پر انہوں نے پہلا نغمہ میریا ڈھول سپاہیا لکھ دیا۔ اس کی کمپوزیشن میرے دوست موسیقار سلیم اقبال نے ترتیب دی۔ صرف ایک دن میں یہ نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور جب رات کو فوری طور نشر کیا تو اس کا بہت اچھا ریسپانس ملا۔ دوسرے دن میں نے سوچا کہ کچھ کرنیل جرنیل کی بات بھی ہو جائے چنانچہ دوسرے دن ہم نے ’’میرا ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی ‘‘ ریکارڈ کیا۔ چوتھے پانچویں دن جب ہمیں اپنے بہادر فوجیوں کی شہادت کی اطلاعات ملیں تو ہم نے اسی مناسبت سے یہ مقبول عام نغمہ ’’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے‘‘ ریکارڈ کیا۔ ریکارڈنگ کے بعد جب یہ نغمہ میں نے، میڈم نورجہاں اور صوفی صاحب نے سنا تو ہم رونے لگ گئے۔ اس نغمے کو نشر کرنے کے بعد ہمیں بے شمار ٹیلیفون اور خطوط موصول ہوئے کہ کس قدر زبردست اور جذبات سے لبریز یہ نغمہ ریڈیو لاہور نے پروڈیوس کیا ہے۔ ان تمام نغموں کی موسیقی ملکہ ترنم نورجہاں اور میں نے مل کر ترتیب دی۔ ہمارا یہی جذبہ تھا کہ ہر حالت میں فوج کے شانہ بشانہ دشمن کو شکست سے دوچار کریں گے۔ اس وقت کے انجینئر ایم بی جیلانی نے گھر سے اپنا قیمتی مائیکروفون لا کر دیا جس سے ریکارڈنگ کی کوالٹی بہت بہتر ہو گئی۔ میڈم نورجہاں کہتی تھیں کہ اعظم صاحب میں تو ایک کمرشل آرٹسٹ تھی۔ آپ نے یہ نغمے پروڈیوس کر کے مجھے قوم کی نظروں میں ہیرو بنا دیا ہے۔ میں نے کہا میڈم آپ کے جذبے نے بھی قوم کا سرفخر سے بلند کر دیا ہے۔ بعض اوقات اچانک ہوائی حملے کا اعلان ہوتا سب لوگ ریڈیو سٹیشن کی گراؤنڈ میں خندق کے اندر چلے جاتے مگر ہم اپنے میوزیشن اور میڈم کے ساتھ اسٹوڈیو میں موجود رہتے اور اسی جذبے سے کام کرتے کہ موت جہاں بھی آنی ہے ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔ موسیقی سے فطرتِ انسانی کا ازلی لگاؤ ہے اور اس کا دل و دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ افواج پاکستان اپنے مقدس کام کی انجام دہی میں مصروف تھیں تو ہم اپنے ثقافتی محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے۔ روزانہ ایک نیا نغمہ ماحول کے مطابق پروڈیوس کرنا میر ے لئے بہت بڑا امتحان تھا اور ملک کی سب سے بڑی فنکارہ کے ساتھ کام کرنابہت بڑا اعزاز تھا۔ سارا سارا دن یہ کام جاری رہتا۔ اکثر اوقات دیر کی وجہ سے مجھے ریڈیو اسٹیشن پر ہی سونا پڑتا۔ یہ سب کچھ وطن کی محبت کا صلہ تھا۔ ستمبر کی جنگ کے دوران تمام نغموں کی ایک مکمل کہانی ہے کہ کس طرح یہ نغمے لکھے گئے کس طرح ریکارڈ ہوئے اور کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا احوال ہلال کے آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیے گا۔
(جاری ہے)

 
14
December

تحریر: جبار مرزا

ماسٹر ایوب جو پیشے کے اعتبار سے اُستاد نہیں تھے نے لفظ ماسٹر کو اتنا معتبر کر دیا ہے کہ اب ہر کوئی احتراماً انہیں ماسٹر ایوب کے نام سے پکارتا ہے۔ ماسٹر ایوب آگ بجھانے والے محکمے میں بطور فائرمین ملازم ہیں۔ پندرہ سال تک اسلام آباد کے پاک سیکرٹریٹ کی سیڑھیوں تلے راتیں گزاریں جہاں نہ کوئی دروازہ تھا اور نہ ہی چھت اور آج کل اسلام آباد کی کرسچین کالونی کے نالے پر کچے کمرے میں قیام پذیر ہیں۔ 2015 میں حسن کارکردگی کا صدارتی ایوارڈ بھی انہیں مل چکا ہے۔ جولائی 2016 میں بلوچستان کی حکومت کی دعوت پر کوئٹہ میں ایک ہفتہ اُن کے مہمان رہے۔ ماہ رواں کے آغاز پر بیکن ہاؤس سکول سسٹم کی دعوت پر لاہور میں بین الاقوامی ایجوکیشن کانفرنس میں مندوب کی حیثیت میں شرکت بھی کی۔ وہ اب تک 6ہزار بچوں کو میٹرک اور ایف اے کروا چکے ہیں۔ جس طرح ٹھیلے والے، ردی اخبار کی خریداری کی آوازیں گلی محلوں میں لگاتے پھرتے ہیں اسی طرح ماسٹر ایوب نے اسلام آباد کی گلیوں میں پھرتے، ہوٹلوں میں کام کرتے ناخواندہ بچے اور گھروں میں کام کرتی خواتین کے بچوں کو آوازیں دے دے کر اور گھوم پھر کر اکٹھا کیا اور پڑھایا۔ ماسٹر ایوب کی کوئی سکول بلڈنگ نہیں۔ کمرہ چاردیواری ڈیسک یونی فارم نہ بچوں کے ہاتھوں میں لنچ بکس۔ نہ انٹری ٹیسٹ نہ فیس حتیٰ کہ میرٹ سفارش اور عمر کی بھی قدغن نہیں۔

isbkapark.jpgعجیب کرشماتی سکول ہے۔ بس جو ماسٹر ایوب کو بے کار اور آوارہ پھرتا مل گیا وہ داخل ہو گیا۔ رجسٹر میں نام درج ہوا پڑھائی شروع۔ بارہ سال کا ایک لڑکا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اسلام آباد کی سپرمارکیٹ کے مکئی فروشوں کو فروخت کیا کرتا تھا۔ ماسٹر ایوب نے اسے پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس نے گھر کی ضرورتوں اور مجبوریوں کا رونا رویا۔ ماسٹر نے کہا ٹھیک ہے۔ آئندہ میں بھی تمہارے ساتھ لکڑیاں کاٹنے جاؤں گا اور یوں میری مدد سے تمہارا جو وقت بچے گا میں اس وقت تمہیں پڑھاؤں گا۔ گزشتہ دنوں میری جب اس فرحت عباس نامی لڑکے سے ملاقات ہوئی تو اس کا بی اے کا داخلہ جا چکا تھا۔


ماسٹر ایوب نے اس قول کو ثابت کر دکھایا ہے کہ علم پیسے سے نہیں جذبے سے حاصل ہوتا ہے اور جذبے صادق ہوں تو راستے آسان ہو جاتے ہیں۔ ماسٹر ایوب کو شروع شروع میں بہت مشکلات درپیش رہیں۔ مگر حوصلے، استقامت اور صبر سے صبر ایوبؑ کی سنت ادا کر دی۔


ماسٹر ایوب کے سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں نہ بڑے دنوں کی۔ نہ احتجاج نہ یونین۔ نہ ٹاٹ نہ بجلی ہاں بارش ہو توپھر چھٹی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ماسٹر ایوب کھلے آسمان تلے پڑھاتے ہیں۔ ان کا سکول پارک سکول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امتحان کے دنوں میں صبح 5سے سات بجے تک سپیشل کلاس بھی ہوتی ہے۔ البتہ معمول کی کلاسیں روزانہ ساڑھے تین بجے سے سات بجے تک ہوتی ہیں۔ مغرب کے بعد کلاسیں سٹریٹ لائٹ کے نیچے چلی جاتی ہیں اور لوڈ شیڈنگ کی صورت میں مغرب کے بعد چھٹی ہو جاتی ہے۔


سکول کا آغاز کلام پاک سے ہوتا ہے اور پھر قومی ترانہ پڑھایا جاتا ہے۔ لڑکوں میں اتوار کو کرکٹ اور فٹ بال کے مقابلے ہوتے ہیں اور مہینے کے دوسرے اور آخری اتوار کو لڑکیوں میں بیڈ منٹن بقول ماسٹر جی چڑی چھکا کے مقابلے ہوتے ہیں۔ کمپیوٹر کسی نے تحفہ دیا تھا جس پر بچوں کو کھولنا بند کرنا اور کمپیوٹر کی نویں دسویں کی کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ کمپیوٹر کی بیٹری ماسٹر جی گھر سے چارج کر کے لاتے ہیں۔ البتہ کمپیوٹر لیبارٹری نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے سائنس کے داخلے نہیں جاتے۔ صرف میٹرک آرٹس اور ایف اے کے داخلے جاتے ہیں۔ جو بچے میٹرک ایف اے کر جاتے ہیں کوئی بانڈ تو نہیں بھرتے مگر اخلاقی پابندی ہوتی ہے کہ وہ روزانہ شام اپنے سکول پڑھانے آیا کریں گے اس طرح اب ماسٹر ایوب اکیلے نہیں بلکہ درجنوں ٹیچرز کی انہیں خدمات حاصل ہیں۔ بعض دفعہ اسلام آباد میں قائم یونیورسٹیوں کے طلبا اور اساتذہ بھی ماسٹر ایوب کے کام سے متاثر ہو کر بچوں کو ایک دو پیریئڈ پڑھانے آ جاتے ہیں۔


1982میں ایک لڑکے سے شروع ہونے والے سکول میں اب قریب قریب تین سو تک بچے زیر تعلیم رہتے ہیں۔ ماسٹر ایوب کا اوپن ائیر سکول بڑی بڑی فلاحی تنظیموں، انسانیت کی بھلائی کی دعویدار این جی اوز کے لئے چیلنج ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیکستھ تھری میں قائم بغیر کسی بنیادی سہولت کے اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والی اس عظیم درس گاہ میں سردی گرمی سے بے نیاز پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایسے بچے پڑھنے آتے ہیں جنہیں پیٹ بھر کے کھانا بھی میسر نہیں ہوتا۔ بچے اپنی اپنی چٹائیاں ساتھ لاتے ہیں بعض ایسے بھی ہیں جو چٹائیاں لانے کی سکت نہیں رکھتے ماسٹر ایوب کے سکول کی جنوبی گلی نمبر10 میں قیام پذیر عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی بشیر بلور، ماسٹر ایوب سے وعدہ کر گئے تھے کہ وہ ان کے سکول کے لئے پشاور سے چٹائیاں لے کر آئیں گے مگر وہ پشاور سے واپس نہ آ سکے۔ دہشت گردی کا شکار ہو کر دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔


ماسٹر ایوب نے نومبر 1982 میں اپنے سکول کا آغاز اسلم نامی ایک ایسے لڑکے سے کیا تھا جو اسلام آباد کی سپرمارکیٹ میں کاریں دھویا کرتا تھا۔ ماسٹر جی نے اس کے حالات زندگی جانے تو اس نے بتایا کہ وہ پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں وہ بھی بہن بھائیوں کی کفالت کے لئے دن بھر محنت مزدوری اور شام کو پڑھا کرتا تھا۔ انہیں لگا،کار دھونے والا لڑکا کوئی دوسرا میسر نہیں وہ خود ہیں اور یوں اسے پڑھانا شروع کر دیا۔ کاپی پنسل لے دی ۔ وہیں سڑک پر ہی سکول کا افتتاح ہو گیا۔ اگلے روز دو تین مزید مل گئے مگر انہیں وہاں سے اٹھا دیا گیا۔ بعضوں نے جاسوس سمجھا چند ایک نے قبضہ گروپ کا سرغنہ کہا ان کی حرکات پر نگاہیں گاڑ دیں۔ ماسٹرایوب اپنے وہ چند بچے لے کر سڑک کنارے سے اٹھ کر سپرمارکیٹ پوسٹ آفس کے سامنے چلے گئے۔ وہاں سے مارکیٹ والوں نے اٹھا دیا۔ وہ پھر ایف جی پرائمری سکول نمبر9کی دیوار کے پاس گئے تو وہاں گھروں کی تو تکار اورجاروب کشوں کی آزادنہ ’’اناٹومی آفیسر‘‘ گالیوں سے عاجز آ کر ماسٹر ایوب فیلڈ مارشل ایوب خان سے منسوب ایوب چوک میں اپنا بے سروسامان سکول لے گئے۔ ایسے میں بعض لوگوں نے جنونی اور پاگل کہا مگر وہ ڈٹے رہے۔ آخر کب تک۔۔۔ وہاں سے بھی انتظامیہ نے اٹھا دیا۔ اس اٹھنے اور بیٹھنے میں دو برس بیت گئے۔ بچے تیسری چوتھی جماعت تک پہنچ گئے۔ مگر کسی نے ڈھنگ اور سکون سے ایک جگہ بیٹھنے نہ دیا۔ ماسٹر ایوب اس بات پر غم ناک رہتے تھے کہ امراء اور رؤسا کے بچے تو پڑھ رہے ہیں مگر عام اور غریب آدمی کے بچے گلیوں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔۔۔ ماسٹر جی کا جذبہ صادق تھا۔ ہمت نہ ہاری اور وہ اپنے سکول کو ایف سیکستھ تھری گلی نمبر 9میں لے گئے۔ وہاں سڑک کنارے ایک چھوٹا سابے کار گراؤنڈ تھا جس میں لوگ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے۔ ماسٹر ایوب نے وہاں کلاسوں کا آغاز کیا اس گراؤنڈ کے سامنے ممتاز شاعر احمد فراز کا گھر تھا۔ انہوں نے کھلے آسمان تلے کلاسیں دیکھیں تو ماسٹر ایوب سے ملے ان کی ہمت بندھائی بچوں سے ملے۔ نیشنل عوامی پارٹی کے بشیر احمد بلور نے کہا ماسٹر صاحب آپ کے آنے سے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ گراؤنڈ آپ نے صاف کروا دی، اب یہاں کوئی کوڑا کرکٹ نہیں پھینکتا۔ ماسٹر ایوب کا ایک بلیک بورڈ تھا۔ جو احمد فراز صاحب نے کہا کہ چھٹی کے بعد روزانہ جو ساتھ لے جاتے اور لاتے ہو اُن کے گھر رکھ جایا کرو۔ ایک کرسی بھی ہے جس پر ماسٹر ایوب خود بیٹھتے ہیں گاہے بہ گاہے احمد فراز وہاں آ کے بیٹھنے لگ گئے۔ بعض دفعہ بچوں سے سوال و جواب بھی کیا کرتے تھے۔


احمد فراز صاحب کی بیگم ریحانہ گل کیبنٹ ڈویژن میں جوائنٹ سیکرٹری تھیں وہ بھی کبھی کبھار بچوں کے لئے بسکٹ ٹافیاں پھل وغیرہ بھجوایا کرتیں تھی۔ لیکن ماسٹر ایوب کی مشکلات ابھی کم نہیں ہوئی تھیں۔ ماسٹرجی کی انسان دوستی پر ایک بار پھر شک کیا گیا۔۔۔ کہا گیاکہ سکول کے نام پر گراؤنڈ پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ عنقریب یہاں شیڈ ڈالے جائیں گے۔ پھر پلازہ بنے گا اور ماسٹر ایوب کے پیچھے چھپا چہرہ (قبضہ مافیا) سامنے آ جائے گا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ، کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے کان کھڑے ہوئے اور انفورس منٹ ڈائریکٹوریٹ نے ماسٹر ایوب کو وہاں سے بھی اٹھا دیا۔ چند دن جب وہاں ماسٹر ایوب دکھائی نہ دیئے تو کبھی کبھار علم کے متلاشی بچے آتے اپنی درس گاہ کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے اور چلے جاتے۔


احمد فراز صاحب نے علاقے کے لوگوں سے ایوب ماسٹر کے بارے معلوم کروایا تو کہا گیا وہ قبضہ مافیا کا مہرا تھا۔ سی ڈی اے نے اٹھا دیا۔ احمد فراز بولے یار اسے ڈھونڈ کے لاؤ۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ قوموں میں ایسے لوگ کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں۔ جو معاشرے ایسے لوگوں کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں وہ بھانجھ ہوجاتے ہیں۔ خیر دو تین دن کی تگ و دو سے ماسٹر ایوب تلاش کر لئے گئے۔ سی ڈی اے کے چیئرمین کو بھی بلوایا گیا علاقے کے ایس ایچ او کی بھی طلبی ہوئی۔ تھانیدار نے کہا اس نے نہیں اٹھایا چیئرمین نے کہا انہیں علم نہیں ہے اور یوں 1984میں ماسٹر ایوب نے سکھ کا سانس لیا۔ پھر احمد فراز صاحب کی تجویز پر سی ڈی اے نے کچے گراؤنڈ کو پکا کروایا۔ اونچا بھی ہوا پہلے بارش کا پانی کھڑا ہو جایا کرتا تھا مگر اب خوبصورت فرش سے مزین ہے۔ آر کائیو کے اس وقت کے چیئرمین جناب زیدی صاحب نے اپنے گھر سے بجلی کے ایک بلب کی سہولت دی۔ چندے کے بغیر غریبانہ این جی اوز چلانے والے ماسٹر ایوب زندگی کے آخری سانس تک پڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ اگر اسے گلی محلوں تک نہ پھیلایا گیا تو ہماری بحیثیت قوم شناخت کمزور پڑ جائے گی۔


ماسٹر ایوب کے یہاں آنے والے 45فیصد بچے کسی نہ کسی ملازمت میں ہیں اس اوپن ائیر گراؤنڈ سکول میں 60فیصد بچے کچی آبادی سے اور 40فیصد سرونٹ کوارٹروں سے آتے ہیں۔ہفتے میں انہیں ایک دن شہری دفاع کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ ماسٹر ایوب بظاہر تہی دست ہیں، بے سروسامانی اور بے وسیلہ بھی ہیں، مگر وہ اس قدر مطمئن ہیں کہ رشک آتا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ سارا کچھ کیوں کرتے ہیں دن میں سرکاری نوکری شام کو سکول مغرب کے بعد بڑی لڑکیوں کو ایک گھر میں جمع کر لینا اور کہنا کہ میں اپنی جن بیٹیوں کو گراؤنڈ میں نہیں بلا سکتا کہ وہ بڑی ہوگئی ہیں۔ انہیں ایک جگہ کسی بھی طالب علم لڑکی کے گھر اکٹھا بٹھا کر پڑھاتا ہوں۔۔۔ آرام کرنے کو دل نہیں کرتا۔ کبھی گھومیں پھریں خاندان میں دوستوں میں آئیں جائیں تو ماسٹر ایوب صاحب نے کہا کہ زندگی کا کوئی مقصد ہونا چاہئے۔ کھانا پینا سونا جاگنا اور مر جانا زندگی ہے؟ زندگی تو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے یہ تو پڑاؤ ہے۔


ماسٹر ایوب کے چند طلبا میں سے عریبہ عباسی نے بتایا کہ وہ دن میں سکول جاتی ہے اور شام کو یہاں پڑھتی ہے۔ ٹیچر محمد رخسار نے بتایا کہ وہ پہلے ماسٹر ایوب سے پڑھ چکا ہے اور اب یہاں پڑھا رہا ہے۔ وہ گزشتہ 23سال سے اول سے آٹھویں تک کی کلاسیں لیتا ہے۔ ایک ٹیچر زینہ صداوا نے کہا کہ وہ خود بھی یونیورسٹی میں بائیو کی طالبہ ہے اور شام کو یہاں پڑھانے آتی ہے۔ زینہ صداوا نے کہا وہ اپنے ملازمین کے بچوں کو بھی پڑھاتی ہے۔ روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث سی ڈی اے کے ایک کلرک انور کا بایاں بازو اور ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔ ابھی بچہ تھا بے کار گھر میں پڑا رہتا تھا۔ ماسٹر جی نے اسے پڑھانے کا بیڑہ اٹھایا اور ایف اے کروا دیا۔ یوں وہ کلرک بن گیا۔ زعفران نامی لڑکے کی والدہ گھروں میں کام کرنے جاتی تھی تو زعفران کو گھر چھوڑ جاتی تھی۔ اگر ساتھ لے جاتی تو وہ لوگ پسند نہیں کرتے تھے۔ گھر چھوڑتی تو پانچ چھ سال کا بچہ کیسے چھوڑا جاتا ماسٹر ایوب نے اسے بھی سکول بلوا لیا یوں اوپن ایئر ڈے کیئر بھی ہو گیا اور زعفران ایف اے بھی کر گیا۔ یاسمین نواز نامی لڑکی ایک چوکیدار کی بیٹی ہے اس کا والد لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں نہیں تھا۔ ماسٹر ایوب نے قائل کیا اور وہ بارہویں تک تعلیم یافتہ ہو گئی۔ یاسمین کی خالہ نے دیکھا تو وہ بھی پڑھنے آ گئی۔ وہ بھی ایف اے کر گئی۔ اسے پی ٹی سی بھی کرایا آج کل وہ تحصیل فتح جنگ کے علاقے کتھرہل میں ایک سرکاری پرائمری سکول کی ہیڈمسٹریس ہے۔ جو لڑکے ہوٹلوں میں بیرے تھے وہ پڑھ لکھ کر اکاؤنٹنٹ اور منیجر بن گئے۔


ماسٹر ایوب کے دادا بھارت کے ضلع کرنال میں موٹر مکینک تھے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے لئے ہجرت کی اور منڈی بہاؤالدین میں آ کر آباد ہو گئے۔ ماسٹر ایوب کے والد محمد حنیف واہ فیکٹری میں ملازم تھے۔ مغل قبیلے کے ماسٹر جی کو گاؤں میں مرزا شاہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے اور میٹرک منڈی بہاؤالدین کے ایم بی مسلم بوائے ہائی سکول سے اور ایف اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے وقت جذباتی انداز میں فوج میں سپاہی بھرتی ہو گئے۔ آرٹلری میں انتخاب ہوا مگر 1973میں ایک ایکسیڈنٹ میں زخمی ہوئے اور کیٹیگری ’سی‘ کے ساتھ فوج سے ڈسچارج کر دیئے گئے۔ 1976میں فائرمین بھرتی ہو گئے۔ 1982سے 1988تک پاکستان ڈے پریڈ میں حصہ بھی لیتے رہے۔ پانچویں گریڈ سے شروع ہونے والی نوکری گیارہویں گریڈ میں فائر انچارج ہو گئے۔ چودھویں گریڈ میں انسٹرکٹر کے لئے فائل چلی ہوئی ہے اور سروس ڈیڑھ سال باقی ہے۔ لیکن ماسٹر ایوب اب گریڈوں اور کاغذی ترقیوں کے محتاج نہیں رہے۔ بے شک ان کے اثاثے میں ایک سائیکل کے سوا کچھ بھی نہیں مگر وہ علم و نور کی صورت میں قوم کو وہ پیغام دے چکے ہیں کہ کم از کم چھ ہزار ایسے افراد ہیں جو اب چھ ہزار خاندانوں کے سربراہ ہیں۔ ماسٹر جی نے اُن کے گھروں میں جہالت کے اندھیرے ختم کر دیئے اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ نومبر کے آغاز میں داغ مفارقت دینے والے اسلم کولسری نے کہاتھا کہ
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
مگر اس شعر کا اطلاق ماسٹر ایوب سے پڑھنے والوں پر نہیں ہوتا بلکہ ماسٹر جی اپنی تنخواہ سے پینسلیں، ربڑ، کا پیاں لے کر بچوں کو دیتے رہتے ہیں۔ ماسٹر ایوب کو اب تک عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر
UNESCO
کے زیراہتمام عالمی تنظیم نے پروفیسر انیتا غلام علی، پروفیسرخواجہ مسعود اور رضا کاظم سے منسوب ایوارڈ کے لئے ماسٹر ایوب کو پہلی پوزیشن کا حق دارقرار دیا تھا۔ بہترین ٹیچر کا ایوارڈ 2010 بھی انہیں دیا گیا۔ عالمی ادارے کی جانب سے گولڈ میڈل ایک لاکھ کیش ایوارڈ بھی دیا گیا۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

عجیب کرشماتی سکول ہے۔ بس جو ماسٹر ایوب کو بے کار اور آوارہ پھرتا مل گیا وہ داخل ہو گیا۔ رجسٹر میں نام درج ہوا پڑھائی شروع۔ بارہ سال کا ایک لڑکا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اسلام آباد کی سپرمارکیٹ کے مکئی فروشوں کو فروخت کیا کرتا تھا۔ ماسٹر ایوب نے اسے پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس نے گھر کی ضرورتوں اور مجبوریوں کا رونا رویا۔ ماسٹر نے کہا ٹھیک ہے۔ آئندہ میں بھی تمہارے ساتھ لکڑیاں کاٹنے جاؤں گا اور یوں میری مدد سے تمہارا جو وقت بچے گا میں اس وقت تمہیں پڑھاؤں گا۔ گزشتہ دنوں میری جب اس فرحت عباس نامی لڑکے سے ملاقات ہوئی تو اس کا بی اے کا داخلہ جا چکا تھا۔

*****

 
13
December

تحریر: محمد یاسر

پاکستان نیوی کے شہید اصغر علی

اصغر علی کا شمارپاک بحریہ کے اُن سپوتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاک سرزمین کے خلاف برسرپیکار دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اصغر علی نے پاک بحریہ کی شیف برانچ میں 2006 میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن اس بہادر اور نڈر سیلر کی فطرت میں خطروں سے لڑنے اور ملکی دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے جذبہ نے اسے ہمیشہ بے چین رکھا ۔ وہ اپنے آپ کو صف اول کے ان جانبازوں میں دیکھنا چاہتا تھا جوکسی بھی جنگی محاذ پر ہراول دستہ کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ 2008 میں اصغر علی کو بالآخر اس وقت اپنی خواہش کو پورا کرنے کا موقع مل ہی گیاجب انہوں نے پاک بحریہ کی سپیشل سروسز گروپ کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا اور تمام جسمانی اور طبی امتحانات پاس کرنے کے بعد سپیشل سروسز گروپ میں شمولیت اختیار کر نے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ دن اصغر علی کی پیشہ ورانہ زندگی کی صبح نو تھی۔ اپنی اس کامیابی پر وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔ آج وہ اپنی سابقہ برانچ کے ساتھیوں سے مبارکبادیں وصول کر رہا تھا۔ اس نے یہ خوش خبری اپنے والدین کو بتانے میں بھی کوئی تاخیر نہیں کی جنہوں نے اس کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے بہت دعائیں کی تھیں۔

 

tumharekhoon.jpgاصغر علی کی پیشہ ورانہ زندگی میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی۔ وہ آنے والے دنوں میں تربیت کے انتہائی کٹھن مراحل اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے پر عزم تھا۔ پاک بحریہ کے اسپیشل آپریشنز ٹرینگ سینٹر سے ابتدائی تربیت کے بعد 2009 میں اصغر علی نے چراٹ میں پاک فوج کے اسپیشل آپریشنز سکول سے کمانڈو کورس اور پیرا ٹرینگ سکو ل، پشاور سے ہوابازی کا بنیادی کورس کیا۔ اصغر علی انتہائی پروفیشنل، محنتی اور سخت جان ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ملنسار، رحمدل ، خدا ترس اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک ماہر سنائپر شوٹر تھا اور مختلف مقابلوں میں ایوارڈ زبھی حاصل کر چکے تھا۔ دوران تربیت ہر موقع پر پہل کرنے اور کسی بھی خطرے کوخاطر میں نہ لانے کے وصف کے باعث اللہ رکھا کے عرف سے مشہور تھا۔ شام کے اوقات میں وہ اپنے دوستوں کی مجلس میں اس شمع کی مانند تھا جس کے گرد پروانے حلقہ کناں رہتے ہیں۔ انہیں لطیفہ گوئی اور مزاحیہ نقالی میں خاص ملکہ حاصل تھا۔ وہ اپنی باتوں سے دن بھر کی سخت ٹرینگ سے ٹوٹے پھوٹے جسموں میں نئی جان ڈال دیتا تھا اور ذ ہنی تناؤ کا شکار اذہان کا ہر غم غلط کر دیتا تھا۔ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان میں ہمدردی اور دوسروں کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ 2011 میں ایک افسوس ناک حادثے میں پاک بحریہ کے ایک سیلر صابر محمد کی شہادت ہوئی تو اصغر علی نے اس کے والدین کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے طور پر اپنے حلقہ احباب سے ایک اچھی خاصی رقم جمع کر کے شہید کے والدین کی مالی امدداد کا بندوبست کیا۔ اصغر علی اور صابر محمد کا باہمی تعلق صرف اتنا تھا کہ وہ ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور خاندانوں کی مالی حیثیت میں بھی کوئی خاص فرق نہ تھا۔


خداداد صلاحیتوں کے مالک اور باکمال اوصاف سے مزیّن یہ نوجوان سخت تربیت کی بھٹی سے نکل کر ایک جوہر نایاب بن چکا تھا۔ اصغر علی اب پاک بحریہ کے اسپیشل سروسز گروپ کے ہیڈکواٹر پی این ایس اقبال میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا۔ 22 مئی 2011 کو رات کی تاریکی میں دہشت گردوں کے ایک گروہ نے پاک بحریہ کے ائیر بیس پی این ایس مہران پر حملہ کر دیا۔ اصغر علی اس وقت پی این ایس اقبال کی بیرکس میں اپنے معمولات میں مصروف تھا جب پاک بحریہ کے کمانڈوز کو دہشت گردوں کو ختم کرنے اور قیمتی اثاثوں کو محفوظ بنانے کا مشن سونپا گیا۔ بیرکس میں موجود کمانڈوز کال ہوتے ہی پریڈگراؤ نڈ میں جمع ہو گئے جہاں سے ٹیموں کی شکل میں انہیں جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہونا تھا ۔ اصغر علی گزشتہ رات اپنی یونٹ میں ڈیوٹی پر مامور رہا تھا جس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈیوٹی انچارج نے اسے ایک طرف کرتے ہو ئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اسے دوسری پارٹی میں روانہ کر دیا جائے گا۔ مگر ہر مشن میں پہل کرنے والے اصغر علی کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ آج جب وطن کے دفاع کے لئے دشمن کا سامنا کرنے کا وقت آیا تو وہ کسی سے پیچھے رہ جائے۔ اصغر علی نے پہلی پارٹی میں روانہ ہونے کے لئے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا اور اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرأت و بہادری اور جواں مردی کو دیکھتے ہوئے اسے پہلی کمانڈو پارٹی میں روانہ کر دیا گیا۔


اس وقت تک جائے وقوعہ پر دہشت گرد سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کی جوابی کارروائی کی وجہ سے بیس پر موجود عمارتوں میں پناہ لے چکے تھے۔ آپریشن انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ دہشت گردتاریک عمارتوں کے نامعلوم کمروں میں کمین گاہیں بنانے کے بعد عام نگاہوں سے اوجھل ہو چکے تھے جبکہ وہ چاندنی رات میں باہر ہونے والی ہر نقل و حرکت کو آسانی کے ساتھ دیکھ سکتے تھے۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس سے نمٹنا صرف اسپیشل سروسز گروپ کا ہی خاصا ہے۔ کمانڈوز کو مہران بیس پر پہنچتے ہی تمام تر صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اصغر علی ہمہ تن گوش ہو کر آپریشن کمانڈر کی ہدایا ت سن رہا رہا تھا۔ لیکن دل میں ایک عجیب بے قراری محسوس کر رہا تھا۔ ایک ایک لمحہ اس کے لیے سالوں پر محیط ہو چکا تھا۔ آج وہ وقت آن پہنچا تھا جس کے لیے اس نے اسپیشل سروسز گروپ کے لئے اپنے آپ کو پیش کیاتھا۔ وہ انتہائی بے چینی کے ساتھ انتظار کر رہا تھا کہ کمانڈ کی طرف سے حکم صادر ہو اور وہ دہشت گردوں پر ٹوٹ پڑے۔ احکامات ملتے ہی اصغر علی غازی یا شہید کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے ساتھ اس عمارت کی طرف بڑھا جس میں دہشت گرد پناہ لے چکے تھے۔ اصغر علی نے نہایت جواں مردی کے ساتھ دہشت گردوں پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ اس باصلاحیت ،پیشہ ور، بلند حوصلہ اور نڈر کمانڈونے دہشت گردوں کو عمارت کے ایک کونے تک محدود کر دیا تھا۔ بالآخر پسپائی اختیار کرتے ہوئے دہشت گرد ایک سکواڈرن کی فلائٹ لائین میں چھپنے پر مجبور ہو گئے۔ اصغر علی دہشت گردوں کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ان پر فیصلہ کن وار کرنے کے لئے آگے بڑھا کہ اپنی موت کو یقینی دیکھتے ہوئے دہشت گردوں نے بے بسی کے عالم میں ہینڈ گرنیڈ سے اس پر حملہ کر دیا۔ اصغر علی اپنے ساتھیوں کے آگے ڈھال بن گیا لیکن اس دوران وہ شدید زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔


اصغر علی کی شہادت نے پاک بحریہ کے کمانڈوز کو ایک ولولۂ تازہ بخشا۔ انہوں نے مزید شدت کے ساتھ دہشت گردو ں کی کمین گاہوں پر یلغار کی اور انہیں واصل جہنم کردیا۔ اصغر علی نے اپنی جوانی میں جان کا نذرانہ پیش کر کے وطن دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس عظیم قربانی کے اعتراف میں اصغر علی شہید کو ستارہۂ بسالت سے نوازا گیا۔


اصغر علی شہید 18 مئی 1987کو خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے ایک گاؤں بلند خیل میں شادی خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ اصغر علی کے والد بہت غریب تھے اور کھیتی باڑی کر کے گھر کا چولہا جلانے کا سامان کرتے تھے۔جوان بیٹے کا جسد خاکی جب آبائی گھر پہنچا تو غموں کے پہاڑ ٹوٹنا تو ایک فطری عمل تھا۔ بوڑھے والدین کا سہارا ظاہراً ان سے جدا ہو چکا تھا۔ مگررنج و غم کے ساتھ ساتھ ایک اُمید، ایک حوصلہ ، ایک جذبہ، ایک چمک اور ایک احساسِ تفاخر بوڑھی آنکھوں میں دیکھا جا سکتا تھا۔ اصغر علی کی شہادت نے انہیں اک نئے یقین، حوصلے اورفخرسے ہمکنار کر دیا تھا۔ وہ فخرتھااس سلطنت خداداد کے تحفظ کا جس کی گواہی ان کے بیٹے نے اپنی جان کی قربانی پیش کر کے دی تھی۔ انہیں اپنے بیٹے کی جرأت اور بہادری پر فخر تھا جس نے ارض پاک کے دفاع کے لئے دشمنوں کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا اور تاجِ شہادت اپنے سر پر سجا لیا۔ شہید کے والد کا کہنا ہے کہ پاکستان پر میرا ایک بیٹا تو کیا چاروں قربان ہو جائیں تو غم نہیں۔ اصغر علی کی شہادت کے بعد اس باہمت والد نے اپنے دوسرے بیٹے کو بھی مادرِ وطن کے دفاع کے لئے وقف کر دیا۔ اصغر علی کے چھوٹے بھائی ہستی خان نے اپنے بھائی کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے پاک بحریہ میں شمولیت اختیار کی جو آج وطن کی بحری سرحدوں کی پاسبانی کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ پاکستانی قوم اور پاک بحریہ کے آفیسرز ، سی پی اوز/سیلرز اور سویلینز نہ صرف ان بہادر بیٹوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں بلکہ ان عظیم حوصلہ مند والدین کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جن کی کوکھ سے ان سپوتوں نے جنم لیا اور جن کی آغوش محبت میں وہ پروان چڑھے۔ یہ وہ عظیم والدین ہیں جو اپنی محبتوں اور چاہتوں کے عین بامِ عروج پر لٹ جانے کے باوجود نہ شکستہ دل ہوئے اور نہ پست حوصلہ ہوئے۔

 
13
December

تحریر: محمد شاہد

ایک فضائی محافظ۔ سکواڈرن لیڈر راجہ تنویر احمد شہید

aikfzai.jpg

ضلع کوٹلی آزادکشمیر کا ایک ایسا علاقہ ہے جو اپنی زرخیزی میں بے مثال ہے جس کی مٹی سونا، اور پانی امرت ہے۔ جہاں آج بھی زعفران کاشت کیا جاتا ہے اور جس کے نظاروں میں شادابی اور وسعت ہے۔ اسی سرزمین پر 24جنوری 1985 کو راجہ کرم داد کے گھر ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس کا نام راجہ تنویر احمد رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ راجہ کرم داد کے غریب سے گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ بچہ آنے والے دنوں میں محنت کے بل بوتے پر پاک فضائیہ میں ایک پائلٹ کی حیثیت سے شامل ہو گا اور پاک سرزمین کی فضاؤں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان جاں آفرین کے حوالے کر کے جام شہادت نوش کرے گا۔
راجہ تنویر کو بچپن ہی سے جہازوں سے خاص لگن تھی اس شوق کی تسکین کے لئے وہ کاغذ کے ایف سولہ اور میراج طیارے بناتے اور جو انہیں پسند آتا اپنے سٹڈی روم میں رکھ لیتے۔ کاغذ کے جے ایف سولہ بنانے کے شوق نے انہیں
JF-17
تھنڈر چلانا سکھایا اور وہ ایک بہترین پائلٹ بن کر ابھرے۔ ایف ایس سی تک کی تعلیم کشمیر سے ہی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے بچپن کے شوق کے حصول کے لئے پاک فضائیہ کا رخ کیا۔


راجہ تنویر احمد نے اپریل 2003 میں پاک فضائیہ میں بطور پائلٹ آفیسر شمولیت اختیار کی اور ملک اور قوم کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ یہ داستان ایک بہادر اور نڈر آفیسر کی ہے۔ جس نے ابتدائی ٹریننگ میں ہی اعلیٰ انداز سے فضاؤں کو عبور کیا۔ دوران ٹریننگ بے شمار انعامات بھی حاصل کئے۔ رسال پور فضائیہ ٹریننگ سنٹر میں اپنا لوہا منوایا اور 117 جی ڈی پی کورس سے بطور فلائنگ آفیسر نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہوئے پاس آؤٹ ہوئے۔
خدا کی وحدانیت پر یقین رکھنے، شریعت محمدیؐ پر عمل پیرا ہونے اور جذبہ جواں رکھنے والے اس فرزند خاص کی بھی ایسی داستان حیات ہے جس نے اپنے نصب العین کو سامنے رکھتے ہوئے باقاعدہ فلائنگ کا آغاز کیا۔ جذبہ شہادت سے سرشار اس مجاہد ملت نے خوش اسلوبی سے اپنے فرائض عسکری سرانجام دینے شروع کئے۔ راجہ تنویر احمد نے جنگی تدبیروں اور فضاؤں میں قلابازیاں لگانے کی مختلف مہارتیں سیکھیں اور اپنے آپ کو فنی تربیت کے حصول سے مزین کیا تاکہ جب مادروطن کی سرحدوں کو کوئی خطرہ درپیش ہو توملکی فضاؤں کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے سکے۔
راجہ تنویراحمد پاک فضائیہ کے ایک منجھے ہوئے پائلٹ تھے۔ ترقی کا زینہ چڑھتے ہوئے وہ اب ایک سکواڈرن لیڈر تھے۔ انہوں نے مختلف قسم کی ایکسرسائز میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی قابلیت کے بھرپور جوہر دکھائے۔ وہ میراج طیارے سے لے کر
JF-17
تھنڈر تک مختلف طیارے ہوا میں اڑانے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر بہت سے کورسز کئے اور نمایاں پوزیشنز حاصل کیں۔
ایک روز سکواڈرن لیڈر راجہ تنویراحمد معمول کی پرواز پر تھے ان کا میراج طیارہ فضاؤں کا سینہ چیرتا اور بادلوں کے در میان فراٹے بھرتا ہوا محو پرواز تھا کہ اچانک اس میںaikfzai1.jpg فنی خرابی پیدا ہو گئی۔ اس فنی خرابی کو ٹھیک کرنے کے لئے پائلٹ نے سرتوڑ کوشش کی۔ اس بہادر سپوت کے پاس یہ چوائس موجود تھی کہ وقت پر طیارے سے
Eject
کر جاتا اور اپنی جان بچا لیتا۔ تاہم اس صورت طیارے کے آبادی کے اوپر گرنے کے بہت امکانات تھے اور کئی معصوم جانوں کے ضیاع کا اندیشہ تھا۔ سکواڈرن لیڈر راجہ تنویر کے پاس چند لمحے تھے اور کٹھن فیصلہ۔ اپنی جان کا بچاؤ تھا یا معصوم جانوں کی حفاظت۔ پاک افواج کی ٹریننگ اور جذبہ غالب آیا۔ فرض کی پکار جیت گئی۔ شہادت کی لگن نے غلبہ پایا اور سکواڈرن لیڈر راجہ تنویر نے آخری لمحے تک جہاز کو قابو کرنے کی اور آبادی سے دُور رکھنے کی کوشش جاری رکھنے کا فیصلہ کیاآخرکار گڈاب کے مقام پر مسرور بیس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں کے قریب جا گرا اور سکواڈرن لیڈر راجہ تنویراحمد اپنی زندگی کا سفر مکمل کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔


سکواڈرن لیڈر راجہ تنویراحمد شہید اکثر اپنے دوستوں سے جہاد کا تذکرہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کی ہر خواہش پوری کرنے کے لئے ترجیحاً مجاہدانہ زندگی پسند کرتے تھے۔ اﷲتعالیٰ نے اُن کی خواہش کو پورا کیا اور شہادت کا تحفہ نصیب کیا۔ اﷲسبحانہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین! شہید کی فیملی کے لئے خراج تحسین اور ان کی اہلیہ کی بہادری اور جرات کو سلام جس نے کم عمری میں یہ صدمہ برداشت کیا۔
سکواڈرن لیڈر راجہ تنویراحمد شہید کا جسد خاکی سی - 130 پر راولپنڈی چکلالہ ائیر بیس لایا گیا۔ جہاں شہید کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ پھر راجہ تنویراحمد کا جنازہ راولپنڈی سے آبائی گاؤں کوٹلی آزادکشمیر کے لئے روانہ ہوا۔ لوگ شہید کی عظمت کو سلام پیش کر رہے تھے۔ کوٹلی میں سول انتظامیہ کی جانب سے جنازہ پڑھانے کا بندوبست کوٹلی شہر کے سب سے بڑے ہوائی گراؤنڈ میں کیا گیا۔ کوٹلی آزادکشمیر میں یہ ایک تاریخی جنازہ تھا جس میں پاک فوج‘ پاک فضائیہ اور پاک نیوی کی بڑی تعداد کے علاوہ متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔


اس کے بعد شہید کا جسد خاکی ہوائی گراؤنڈ سے آبائی گاؤں ساردہ میں لایا گیا۔ جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی اور شہید کی روح کو سلام پیش کر رہی تھی۔ شہید کو پاک آرمی کے 3 اے کے بریگیڈ اور اسٹیشن ہیڈکوارٹر کی طرف سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاک فضائیہ کی سپیشل گارڈ نے بھی شہید کو سلامی پیش کی او رپھر شہید کو لحد میں اتار دیا گیا۔ شہید کے والد محترم کو شہید کے میڈل اور کیپ دی گئی اور شہید کے مزار پر پھول چڑھائے گئے۔ اور فاتحہ خوانی کی گئی۔
شہادت کے بعد انہیں صدر پاکستان کی طرف سے تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔

 
13
December

تحریر: رابعہ رحمن

سانحہ اے پی ایس پشاور کے حوالے سے رابعہ رحمن روہی کی ایک پُراثر تحریر

وطنِ عزیز پچھلے دس سالوں سے دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے، اس جنگ میں بلا مبالغہ جتنی قربانیاں افواجِ پاکستان نے دی ہیں، بیان سے باہر ہیں۔ وردی اور اُس کا فخر، وردی اور اُس کا عزم، وردی اور اُس کی لازوال محبت، وردی اور وطن کی حفاظت یہ جذبہ عشق صرف افواجِ پاکستان کی میراث ہے۔ وہ سپاہی ہے یا افسر اُس کی نگاہ اقبالؒ کے شاہین کی طرح بلند ہے۔ وہ کامل محافظ ہے۔ اُس کی فکری اور تخیّلاتی جمالیات میں وطن اور ماں ایک برابر ہے۔ ایک المیہ جو ظہور پذیر ہو چکا ہے وہ ہے دہشت گردوں کا مساجد ،سول علاقوں اور عوام کو نشانہ بنانا۔ اس پر یہ کہ سفاکیت کی ایک المناک مثال جو 16دسمبر 2014 کو پشاورکے آرمی پبلک سکول میں علم حاصل کرتے معصوم بچوں کو نشانہ بناکر قائم کی گئی۔

 

nageenajan.jpgظلم کرنے والا کتنا بھی ظالم کیوں نہ ہو ،جب اُس کے سامنے پھول کی طرح نرم و نازک معصوم بچہ آجاتا ہے، تو اُس کے ظلم کرتے ہاتھ رُک جاتے ہیں، مگر نجانے وہ کیسے ظالم لوگ تھے جن کے سینے میں دل پتھر ہو گیا تھا کہ معصوموں کے یونیفارم میں ملبوس جسموں کو اُنہوں نے گولیوں اور بارود سے داغ دیااور وہ معصو م کہنے لگے وہ جو آنکھیں میری روشن روشن اور میرے گالوں پہ گہرا ڈمپل تو ہر وقت اُتارتی تھی میری بلائیں ماں، پھر کہاں سے آگئیں یہ سزائیں ماں، بارود پھٹنے لگاتھا، گولیوں کی چھنکار سے کان بہرے ہوئے، شور مچنے لگا کہ ہمیں اب مرنا ہو گا۔ مگر موت سے کب ڈرنا سکھایا تو نے، جب بھی بات چلی گھر میں سرحدوں کی شہادت کا ہی رتبہ بتایا تو نے۔ اب تو سرحدیں ہیں اُس پار جنت کی، بس درمیان میں وہ وحشت زدہ چہرے ہیں۔ وہی ابلیس کی آوازیں ہیں۔ وہی سفاکیت، ظلم و ستم اور قتل و غارت، وہ دیکھو! دیوار سے لگا کر اُس کے جسم کو بارود سے اُڑا ڈالا ہے۔ کون جوڑے گا ٹکڑے اس کے، کون کفن پہنائے گا۔ کیسے ماں سینے سے لگا کے لے گی آخری بوسہ، کیسے بیٹا کہہ کر اُس سے لپٹیں گے بابا۔
عمیش کی والدہ کا جنون تھا کہ وہ عمیش کو ملٹری کالج بھیجیں۔ اپنے فوج کے شوق میں ماں نے بیٹے کو 2سال پہلے آرمی پبلک سکول میں داخل کروایا تاکہ اُس کا آئی کیو لیول بڑھے اور اُسے محنت کرنے کی عادت پڑے۔ عمیش اپنے خاندان میں بڑا پوتا تھا،گھر بار کا لاڈلا سب نے اُسے پونم بنا رکھا تھا، جس کو وہ کبھی بھی گھٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ سمیعہ کا اپنا کوئی بھائی نہ تھا اس لئے بیٹا ملنے پر سمیعہ کی بھائی پانے کی شدید خواہش بھی پوری ہو گئی۔ کبھی کبھی تو جب دونوں ساتھ میں ہوتے تو چھوٹی چھوٹی نوک جھونک ایسے کرتے جیسے واقعی اوپر تلے کے بھائی بہن کی ہوتی ہے۔


’’عمیش یار جلدی سے آؤ ہمارے کمرے کا فیوز ٹھیک کر دو۔‘‘عمیش بابا کے کمرے میں گیا، بجلی کا بورڈ چیک کرنے کے لئے کہ ماں کی آواز ’’عمیش باہر بیل بجی ہے دیکھو تو کون آیا ہے‘‘ اچھا اماں۔۔۔کہ اتنے میں دادی کی آواز آتی ہے۔ ’’عمیش میری عینک نہیں مل رہی بیٹا‘‘ عمیش نے نجانے کس طرح سب کے کام کر دئیے، نہ دروازے پہ بیل دوبارہ بجی، نہ عینک ڈھونڈنے میں دیر لگی اور بابا کے کمرے کی بجلی بھی ٹھیک ہو گئی۔ نجانے کیا کمال تھا عمیش سلمان شہید میں وہ خوبصورت تھا، مسکراتا ہوا، آسمان سے زمین پہ اُترا ہوا چاند لگتا تھا۔
عمیش اپنے بستر کو
Royal Bed
کہتا تھا۔ اُس کی بات کتنی صحیح تھی وہ جس مٹی میں سویا ہے وہ
Royal Bed
بن گئی، اُس بستر کو، اُس لحد کو اور اُس کی آخری آرام گاہ کو سلامی دی گئی، وہ شہزادہ تھا، وہ جان تھا اپنی دادی اماں کی،وہ بے تحاشہ رو رہی تھیں، کہتی ہیں وہ تو میری آنکھیں تھا، دل تھا اور میرا جسم تھا، دادی اماں کی ہچکی بندھ گئی وہ اُن کی اگلی نسل کا پہلا چراغ تھا، اُس چراغ میں اُنہوں نے اپنا لہو ڈالا تھا اُسے اپنے پسینے کی خوشبو عطا کی تھی وہ کیسے نہ روتیں،کیسے نہ تڑپتیں۔۔۔وہ میرا شیر جوان تھا، اس گھر میں روشنی اُسی سے تھی۔ مسلسل ہچکیوں سے اُن کا جسم لرز رہا تھا۔
24 دسمبر کو عمیش کی خالہ کی شادی تھی۔23دسمبر کے دن عمیش کی سالگرہ بھی تھی۔ عمیش نے کہا کہ میں بہت بڑا کیک بناؤں گا اور شاندار تقریب کریں گے اور 24 کو کاٹیں گے اور اُس شادی کے لئے عمیش نے ماما بابا کے ساتھ 2 دن پہلے ہی جا کے اپنی پسند کی ہر چیز خریدی اور یہ زندگی میں اُس کا پہلا موقعہ تھا کہ اُس کے بابا سلمان اور ماما نے کہا کہ جو خریدنا ہے آج سب کچھ لے لو، کسی کو پتہ نہیں تھا کہ عمیش تو جانے کی تیاری میں ہے، صرف وقت جانتا تھا اور زمانے کے آئینے سے وقت مسکرا مسکرا کے اس ہونے والے شہید کو پیار سے دیکھ رہا تھا، اُس کے واری جا رہا تھا، کہ یہ ننھا شہید بہت جلد وقت کا مہمان بننے کو جانے والا تھا۔عمیش جب باورچی خانے میں جاتا تو سب کے لئے پراٹھے بناتا اور نوالے بنا بنا کے منہ میں ڈالتا، ڈرم سٹکس بنانا اور بار بی کیو کرنا اُس کے پسندیدہ مشاغل تھے۔ ماں ہمیشہ کہتی عمیش بس تم یونہی کام کرتے رہنا نہ پڑھتے ہو اور نہ محنت کرتے ہو تو اپنا سینہ پھُلا کے کہتا اللہ کے بندوں کی خدمت کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے اور سمیعہ چُپ کر جاتیں اُنہیں کیا پتا تھا کہ اُسے اِن خدمتوں کا کتنا عظیم صلہ ملنے والا ہے کہ وہ شہید کہلائے گا اور سمیعہ ایک شہید کی والدہ۔ ایسے انعام کا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ سمیعہ نے کہا میں عمیش پہ تھوڑا سختی رکھتی تھی، اُس کے زیادہ ناز نخرے بابا (سلمان) اور چچا(رضا) اُٹھاتے تھے مگر اُسے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے، کچھ اصول و ضوابط سکھانا ماں ضروری سمجھتی تھی۔ عمیش کی فیس بُک، لیپ ٹاپ اور موبائل پر ماں کی گہری نظر تھی، اس لئے عمیش ہمیشہ کہتا دوسروں کی ماؤں کی دو آنکھیں ہیں آپ کی تو 4 ہیں، کاش مجھے پتا ہوتا کہ میرا عمیش یوں خاموشی سے چلا جائے گا تو میں اُس سے اونچی آواز میں بات بھی نہ کرتی، اُس کو پھولوں کی طرح چوم چوم رکھتی اور کسی متبرک چیز کی طرح سجا کر رکھتی۔ وہ سوئمنگ ، سائیکلنگ اور ڈرائیونگ ہر چیز میں تیز تھا۔ گھر کی گلی میں سائیکل چلانے کی آواز آتی تو کمرے سے دادی اماں آواز دیتیں تو عمیش وہاں سے ہی دادی سے بات کرنے لگ جاتا مگر اب دادی کو سائیکل چلانے کی آواز نہیں آتی تو بھی وہ آوازیں دیتی ہیں۔ آجا عمیش میری جان میری عینک ڈھونڈ دے۔۔۔مگر پھر خود ہی کہتیں مجھے پتا ہے تو نہیں آئے گا کبھی نہیں آئے گا۔


ساون کیا برستا ہو گا کہ جس طرح ان شہداء کے لواحقین کی آنکھیں برستیں ہیں۔ کہیں دادی کا پوتا تھا کہیں ماں کا دوست، کہیں باپ کی روشن اُمید، کہیں بھائی کا سہارا ، کہیں بہنوں کا لاڈلا نخریلا چاند سا، کہیں اُستاد کا بہترین شاگرد ، کہیں گھر بھر کی خوشیوں کا محور اور کہیں وطن کے قابل اور ذہین معمار۔


کیا ملا اے دہشت گردو تمھیں ان معماروں کو مسمار کرنے میں وہ شان سے گئے تم کو تو لحد بھی نصیب نہ ہوئی۔ عمیش اپنے چچا رضا کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اور اُن کے تمام باہر کے سلسلے اور سفر کی منصوبہ بندی کر کے دیا کرتا تھا۔ اُسے آزادی پسند تھی مگر حکمرانی نہیں۔ وہ سب کے جذبات اُن کے رشتے کے مطابق سمجھ کے اُنہیں ساتھ لے کے چلتا تھا، اب رضا نے عمیش کے جانے کے بعد بے ترتیب سی زندگی کو اپنا لیا ہے، اپنے کام محدود کر دئیے ہیں، کہ ہر کام میں ہر راہ میں اُن کے عمیش کی یادیں بکھری پڑی ہیں، وہ کن کن یادوں کو سمیٹے، وہ یادیں کانچ کے ٹکڑوں کی طرح اُن کے پاؤں، اُن کے ہاتھ زخمی کرتی ہیں اور لہو آنکھوں سے بہتا ہے۔


جب سکول پہ حملے کی خبر ملی تو ہر طرف ایک بھونچال سا آگیا۔ فون کی بیل اُس دن پشاور شہر کے ہر موبائل پہ بج رہی تھی، ہر کوئی خبر لے رہا تھا اور خبر دے رہا تھا۔ چار بجے تک عمیش کا کچھ پتہ نہ چلا، بہت افرا تفری تھی۔ چچا رضا سی ایم ایچ میں کھڑے تھے۔ عمیش کے کئی دوست وہاں ملے۔ ایک نے کہا کہ جب آڈیٹوریم میں حملہ ہوا تو ہم سب نیچے لیٹ گئے پھر جب دہشت گرد پہلی کارروائی کر کے باہر نکلے تو ہم گھٹنوں کے بل چلنے لگے، عمیش بہت تیز آگے جا رہا تھا وہ ہال سے باہر نکل گیامگر میں نے دیکھا کہ وہ گھبرایا ہوا دوبارہ اندر آرہا تھا، اُس کو گولی لگی ہوئی تھی۔ اُس کے بعد میں بے ہوش ہو گیا پھر مجھے پتا نہیں کہ عمیش کہاں گیا؟ اتنے میں رضا کو سفید چادر میں لپٹا ہوا اُس کا عمیش نظر آیا مگر اُس نے سلمان (بابا) کو فون کیا کہ وہ عمیش کی طرح ہے، مگر عمیش نہیں ہے، کیونکہ اُس کا جوتا مجھے بہت بڑا لگ رہا ہے وہ خود کو ہی دلاسہ دے رہا تھا۔ کہاں ماننے کو دل کرتا ہے کہ وہ جو سامنے سفید چادر میں لپٹا پڑا ہے وہ میرا جگر گوشہ ہو گا، مگر سلمان کو یاد آیا کہ ایک دن پہلے ہی مرغی والے کی دکان پہ عمیش نے مرغی ذبح کی تھی تو اُس کی انگلی پہ کٹ لگ گیا تھا اُنہوں نے اُس کے ہاتھ سے پٹیاں اُتاریں، دیکھا اور سکتے کے عالم میں چلے گئے وہ زخم ابھی بھی تازہ تھا اُسی زخم نے پہچان کرائی کہ میں ہوں بابا تمہارا عمیش مجھے تم گھر لے چلو۔


زعیم وقار
zaheemwaqar.jpgبریگیڈئیر وقار اعوان سی ایم ایچ کے ڈپٹی کمانڈنٹ ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ مجھے بیگم کی کال آئی کہ زعیم (بیٹا) کا فون آیا ہے سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے میں فوراً سی ایم ایچ سے ایمبو لینس لے کر سکول پہنچا، زعیم کو فون کیا، اُس نے کہا بابا آپ سکول کے اندر نہ آئیں میں اپنی اور اپنے دوستوں کی حفاظت کر لوں گا اندر فائرنگ ہو رہی ہے کوئی محفوظ نہیں ہے۔ زعیم جانتا تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ بہادر بچہ تھا۔ اُس کی آواز میں کوئی لرزہ نہیں تھا۔ بریگیڈئیر طارق بھی وہاں موجود تھے اُنہوں نے بے بسی سے کہا کہ میری بیگم بھی اندر ہی ہیں مگر کوئی راستہ نہیں اُن تک پہنچے کا میں نے پرنسپل کو کال کی۔ نمبر مصروف تھا وہ بہت شفیق بردبار اور محبت کرنے والی خاتون تھیں وہ ضرور سب کی حفاظت کریں گی۔ میں نے دوبارہ زعیم کو فون کیا جنگ کا سا سماں تھا۔ فائرنگ کا اتنا شور تھا کہ کان پڑی آواز سُنائی نہیں دیتی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے دو سرحدوں کے درمیان کھڑاہوں، اتنے میں اندر جانے کا موقعہ مل گیا تو میں وہاں سب کے حالات دیکھ کر لرز گیا، دیکھنے سے لگتا تھا کہ یہاں کوئی بچ ہی نہیں سکتا اتنے میں پھر بیٹے سے بات ہوئی تو اُس نے کہا کہ آپ ہماری فکر نہ کریں آپ دوسروں کو بچائیں ہم محفوظ ہیں پھر زعیم نے ملاقات کے دوران بتایا کہ ہم پیپر دے رہے تھے کہ گولیوں کی آواز آئی۔ ٹیچر نے کہا کہ تم لوگ آپس میں باتیں نہ کرو اور آرام سے پیپر کرو نیچے ڈرل ہورہی ہے، مگر زعیم نے کہا نہیں،مجھے لگ رہا ہے کہ ہم پہ دہشت گردوں کا حملہ ہو گیا ہے۔ میں ایک فوجی کا بیٹا ہوں مجھے اس حملے کی بو محسوس ہو رہی ہے، ساتھ ہی دھماکوں کی آواز آئی تو سب کو زعیم نے نیچے لیٹنے کے لئے کہا۔ وہ ذرا بھی خوفزدہ نہیں تھا، اُسے لگا جیسے وہ کمانڈو ہے اور اب اس مشکل میں اُس نے اپنے ساتھیوں کو بچانا ہے، پھر واقعی وہ اُن بچوں پر چیخ پڑا جو خوفزدہ ہو کر رونے چیخنے اور باہر کو بھاگنے لگے تھے اور کہا ایک لڑکا بھی آواز نہیں نکالے گا، باہر نہیں جائے گا ورنہ وہ ہم سب کو مار دیں گے۔ زعیم نے تمام لڑکوں کو دیوار کے ساتھ نیچے لٹا دیا اور دروازوں کی کُنڈیاں لگا دیں، اُن کی ساتھ والی لیب میں دہشت گردوں نے ایک طالبعلم بھی زندہ نہیں چھوڑا تھا اور پھر وہ گولیاں برساتے زعیم کی لیب کی طرف آئے اور اُنہوں نے دیکھنے کے لئے کہ اندر کوئی ہے کہ نہیں کھڑکیوں پہ گولیاں برسائیں مگر اندر سے ایک بچے نے بھی آواز نہ نکالی وہ سمجھے کہ یہ خالی کمرہ ہے اور وہ اپنی دہشت پھیلانے کے لئے آگے نکل گئے، اتنے میں زعیم نے بریگیڈئیر وقار کو فون کر کے بتایاکہ وہ لوگ کس جگہ پر ہیں۔ اتنے میں ایس ایس جی والے بھی آگئے تھے اور ان سب کو ایک سپاہی نے کہا کہ پچھلی دیوار سے باہر پھلانگ جائیں جب یہ باہر نکلے تو اُن کے پاؤں میں اُن کے ساتھیوں کے بے جان جسم پڑے ہوئے تھے، کچھ زخمی بھی تھے، سب پیچھے کو پھلانگے اور باہر نکل گئے، ابھی بریگیڈیئر وقار سوچ ہی رہے تھے کہ وہ اپنے بیٹے کے پاس جائیں کہ اُن کو سامنے اُن کی زندگی، اُن کے دل کا ٹکڑا زعیم آتا دکھائی دیا نجانے اُس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی تھی کہ وہ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد اپنے قدموں پہ چل کے اپنے بابا کے سینے سے لگ گیا، بریگیڈئیر وقار کے بازو کھُلے اور اُنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ بھینچ لیا، اُس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد تھا پہلے تو بریگیڈئیر وقار کو یقین ہی نہ آیا کہ زعیم بالکل محفوظ ہے۔


nageenajan1.jpgبریگیڈئیر وقار نے زعیم کے ساتھ کھڑے دوسرے بچوں کو بھی ایمبولینس میں ڈالا کچھ بچے اپنا ذہن حاضر نہیں کر پا رہے تھے، اُن سب کو ہسپتال چھوڑا، تو بریگیڈئیر وقار سی ایم ایچ میں حالات دیکھ کر سوچنے لگے کہ ان حالات میں تو دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ یہاں بھی بڑھ گیا ہے، کمانڈنٹ نے حکم دیا کہ تمام ڈیڈباڈیز او پی ڈی میں رکھ دیں اور والدین وہاں سے اُن کو پہچان کر لیتے جائیں۔ ہسپتال میں بھی سکیورٹی الرٹ کر دی گئی۔ سی ایم ایچ کے تمام افسران چاہ رہے تھے کہ وہ والدین کے جذبات کی تو قیر کریں اور کسی سے بھی ایسی کوئی بات نہ ہو کہ اُن کے جذبات مجروح ہوں، پل بھر میں قطاریں بڑھ گئیں والدین اپنے بچوں کے لئے بلک رہے تھے، ڈاکٹرز آپریشن تھیٹر میں دھڑا دھڑ آپریشن کر رہے تھے، کوریڈور تک زخمی بچوں کی مرہم پٹیاں ہو رہی تھیں، جو جہاں تھا جس حالت میں تھا مدد کو پہنچ رہا تھا،ڈاکٹرز جس طرح کام کر رہے تھے اُن کے حوصلے اور ہمت کی داد کے لئے کوئی الفاظ لکھے ہی نہیں جا سکتے کہ سی ایم ایچ میں ساری رات کچھ کھائے پیئے بنا ڈاکٹرز معصوم زندگیوں کو بچانے اور جسم کے ٹکڑوں کو جوڑ کر والدین کو اُن کے شہید بچے سلامت دیتے رہے۔ پیشہ ورانہ مہارت کی اس سے بڑی مثال کہیں نہیں ملتی، کمانڈنٹ خود وہاں کھڑے رہے، آنے والے والدین رشتہ داروں کو چائے پانی دیتے، دلاسہ دیتے ،محبت سے گلے لگاتے اوراُن کے ساتھ آنسو بہاتے رہے۔اس سانحے کے بعد افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ قوم کا ہر فرد اس بات پہ مصر ہے کہ ہم ان معصوموں کا بدلہ ضرور لیں گے۔اس ناپاک دہشت گردی کا خاتمہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ کرہ ارض سے شیطانیت کا خاتمہ۔


آج اس سانحے کو دوسال گزر چلے مگر محمد علی خان کے والد شہاب الدین کہتے ہیں بے شک ہمارے لئے ہر روز 16دسمبر2014ء جیسا ہے میرا ایک ہی بیٹا تھا جو شہید ہوگیا میرا اس کی شہادت سے پہلے نام یا پہچان نہیں تھی مگر میرے شہید بیٹے نے مجھے ہر جگہ معتبر کردیا اور اسفند خان کی والدہ شہانہ کہتی ہیں کہ میں خوش ہونا بھول گئی ہوں میری زندگی کے تمام ناز نخرے ختم ہوگئے ہیں ہر جگہ اسفند شہید نظرآتاہے اس نے شہید ہوکر مجھے جس مقام پر لاکھڑا کیا اب تو صرف اس سے ملنے کی حسرت باقی ہے میرے وہ تمام کام جو اپنی زندگی میں کرتا وہ آج بھی وہ ویسے ہی کرتا ہے میں کسی پریشانی کا شکار ہوجاؤں تو میرے مسئلے کا حل خودبخود اس طرح نکل آتا ہے کہ میں حیران ہوتی ہوں اور ایک ہی سوچ ذہن میں آتی ہے یہ تم ہی ہو میرے اسفند میری جان جو اوپر شہیدوں کی جنت میں بیٹھ کر میرے کام ادھورے نہیں رہنے دیتے۔زندگی ایسے بہت سے حقائق اور سانحوں سے بھری پڑی ہے مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ ان معصوم شہیدوں کے والدین اور اہل خانہ نہ صرف بلند حوصلہ ہیں بلکہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ اپنے تمام صبر واستقامت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ قوم نہ کبھی دہشت گردوں کے سامنے جھکی تھی‘ نہ جھکے گی بلکہ شکستِ فاش ان دشمنانِ دین اور ننگِ وطن کا آخری مقدر ہے۔

 

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
December

تحریر: یاسرپیرزادہ

''I have traveled across the length and breadth of India and I have not seen one person who is a beggar, who is a thief. Such wealth I have seen in this country, such high moral values, people of such calibre, that l do not think we would ever conquer this country, unless we break the very backbone of this nation, which is her spiritual and cultural heritage, and, therefore, l propose that we replace her old and ancient education system, her culture, for if the Indians think that all that is foriegn and English is good and greater, than their own, they will lose their self esteem, their native self-culture and they will become what we want them, a truly dominated nation.''
پچھلے دنوں کسی نے یہ اقتباس لارڈ میکالے کی برطانوی پارلیمنٹ میں دو فروری 1835 میں کی گئی تقریر کے حوالے سے مجھے بھیجا۔ لارڈمیکالے کی یہ تقریر ہمارے مخصوص حلقوں میں کافی مشہور ہے اور ہم بچپن سے اس تقریر کی گونج سنتے آرہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی 11اگست کی تقریر یار لوگوں کو اتنی پسند نہیں جتنی لارڈمیکالے کی یہ تقریر۔ کیونکہ اس تقریر کی مدد سے ہم نہایت اطمینان سے اپنے تعلیمی نظام کی ناکامی کا ذمہ دار لارڈ میکالے کو ٹھہرا کر یوں بری الذمہ ہو جاتے ہیں جیسے سرکار اخبارات میں اپنی کارکردگی سے متعلق نصف صفحے کا اشتہار دے کر مطمئن ہو جاتی ہے کہ لوگ اس پر اعتبار کر لیں گے۔ لارڈمیکالے کی اس تقریر کو اپنے ہاں کے دانشور بڑھ چڑھ کر حوالے کے طور پرپیش کرتے ہیں کیونکہ یہ تقریر ان کی نفرت اور سازش سے بھرپور بیانئے کو بڑھاوا دیتی ہے اور ہمارے ان دانشوروں پر ہی کیا موقوف، بھارتی جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر ایل کے ایڈوانی نے ایک کتاب پر تبصرہ کرتے وقت بھی یہ اقتباس نقل کیا ہے۔ اس تقریر کے علاوہ ہمارے دانشور ایک اور بات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ انگریزوں نے ہماری اعلیٰ تہذیبی اقدار کا بیڑا غرق کیا۔ ہماری زبان ہم سے چھین لی اور ہمیں ایک جاہل قوم بنا کر رکھا تاکہ ان کے غلام بن کر رہ جائیں اور اپنے ان دعوؤں کا ثبوت وہ یہ فراہم کرتے ہیں کہ 1879میں ہندوستان کی شرح خواندگی نوے فیصد تھی اور 1947میں جب انگریز یہ ملک چھوڑ کر گیا تو یہ شرح صرف پندرہ فیصد تک رہ گئی تھی۔
پہلے لارڈمیکالے کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کی بات ہو جائے جس اقتباس کو زوروشور سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق لارڈمیکالے کی کوئی تقریر دو فروری 1835کے ریکارڈ میں نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میکالے صاحب اس وقت پارلیمنٹ کے رکن ہی نہیں تھے۔ لارڈ میکالے 1830-1834‘ 1840-1847 اور 1852-1857 تک رکن پارلیمنٹ تھا اور جس اقتباس کا حوالہ دیا جاتا ہے موصوف اس سے پہلے ہی اپنی نشست سے مستعفی ہو کر انڈیا جا چکے تھے۔ جہاں انہیں سپریم کونسل کا رکن بننا تھا۔ ہاں لارڈمیکالے کا ایک مشہور زمانہ
Minute on Indian Education
ضرور ہے۔ مگر اس کے پورے متن میں کہیں یہ بات نہیں کہی گئی اور یہ پورا متن بھی کولمبیا یونیورسٹی امریکہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ مزید لطیفہ یہ ہے کہ بطور ایک متعصب انگریز میکالے نے اس
Minute
میں جو باتیں کی وہ اس سے بالکل الٹ تھیں جو اس اقتباس میں اس سے منسوب کی جاتی ہیں۔ میکالے نے نہ صرف ہندوستانی تہذیب، ثقافت اور ادب کو کمتر قرار دیا بلکہ یہاں تک کہا کہ ہند اور عرب کا تمام ادب یورپ کی لائبریری کی ایک شیلف میں سما سکتا ہے۔
لارڈمیکالے کو فی الحال یہیں چھوڑتے ہیں اور ہندوستان میں شرح خواندگی کی بات کرتے ہیں جس پر فخر کر کے ہم پھولے نہیں سماتے کہ برصغیر میں انگریز سے پہلے ہم اس قدر پڑھے لکھے تھے کہ شرح خواندگی نوے فیصد کو چھو رہی تھی۔ (حیرت کی بات ہے کہ ایسی تعلیم یافتہ قوم کو بھی غلام بنا لیا گیا)حقیقت جاننے کے لئے میں نے
Census of India 1911. Punjab
از پنڈت ہری کشن کول‘ سپرنٹنڈنٹ سینسس آپریشنز
‘ Results of the Census Punjab, 1891, West Pakistan Secretariat Library Copy Census of Punjab, 1881by Denzil Charles
کا جائزہ لیا مگر کہیں بھی شرح خواندگی نوے فیصد والی بات ثابت نہیں ہوئی بلکہ ان سرکاری دستاویزات کے مطابق 1911 میں (متحدہ) پنجاب کی کل آبادی 24,187,750 میں سے 899,195 خواندہ افراد تھے یعنی ایک ہزارمیں سے صرف سینتیس پڑھے لکھے (شرح خواندگی تین اعشاریہ سات فیصد) اور 1871-72 کا احوال جاننے کے لئے خاکسار نے
Memorandum on the Census of British India
کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اگرچہ اس وقت ہندوستان کے بعض علاقوں میں مردم شماری نہیں ہو سکی تھی اور یوں اس کے نتائج اس حد تک درست نہیں کہے جا سکتے کہ ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاسکے مگر نو صوبوں کے 123ملین افراد سے جب گوشوارے پُر کروائے گئے تو معلوم ہوا کہ صرف چار ملین خواندہ ہیں یعنی تیس میں سے ایک فرد لکھ پڑھ سکتا ہے۔

(گویا شرح خواندگی تین اعشاریہ تین فیصد)


تاریخی حقائق کو مسخ کرنا ہمارا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ تاریخ کی بات کیا کریں ہم تو صبح شائع ہونے والی خبر کا شام تک تیاپانچا کر دیتے ہیں۔ پورے انگریز دور حکومت میں کیا ایسا کوئی قانون، سرکاری حکم نامہ، دستاویز یا خط پتر جاری ہوا جس میں ہندوستانیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے باز رکھنے کا کہا گیا ہو۔ فورٹ ولیم کالج کی بنیاد 1800میں رکھی گئی اس کالج سے ہمیں اردو، ہندی، فارسی اور سنسکرت کی پہلی لغت ملی۔ آج جسے ہم اردو کا کلاسیکی ادب کہتے ہیں یعنی میرامن کا قصہ چہاردرویش اور رجب علی سرور کا فسانہ عجائب، وہ بھی اسی کالج کی مرہون منت ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ملک میں لارڈمیکالے کا تعلیمی نظام رائج ہے، کیونکہ اسے فوت ہوئے ڈیڑھ سو سال ہو گئے کیا اس کی روح ہمیں اپنا نظام تبدیل کرنے سے روکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے بیانیے کو بڑھاوا دینے کے لئے جھوٹ کا پرچار کرتے ہیں، انہیں عقلی استدلال اور سائنسی طریقہ کار قبول ہی نہیں، سوال اٹھانے سے انہیں کوفت ہوتی ہے اور علمی تحقیق سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ابن رشد کو کافر کہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں میں کوئی ابن رشد، فارابی یا بوعلی سینا پیدا نہیں ہوتا۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

lordmick.jpg

*****

 
13
December

تحریر: جاوید حفیظ

سفارت کاری اور دفاع بظاہر بالکل مختلف پیشے نظر آتے ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ دونوں اہم پیشے اس وقت وجود میں آئے جب اقوام کا تصور اجاگر ہوا۔ قومی ریاستیں بنیں۔ ان ریاستوں میں مسابقت کا عنصر لازمی امر تھا۔ لہٰذا جارحیت اور دفاع دونوں کا آغازہوا اور دفاع کے لئے منظم عسکری قوت لازمی ٹھہری۔ جنگوں کو روکنے کے لئے سفارت کاری کا استعمال ضروری تھا۔ کسی بڑی اور جارحانہ ریاست کا مقابلہ کرنے کے لئے دو یا زیادہ ملک دوستی کا معاہدہ کرتے تھے۔ ایسے معاہدوں کے لئے دوسرے ملکوں میں ایکچی بھیجے جاتے تھے۔ انسانی تاریخ میں یہ اولین سفیر تھے۔ مصر میں دریافت کی گئی چکنی مٹی کی تختیوں کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے فراعین مصر نے ایسے ایلچی کنعان( فلسطین) اور دیگر ریاستوں میں بھیجے۔ یہ ایلچی اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد واپس آ جاتے تھے۔ مستقل سفارت خانے بہت عرصے کے بعد یورپ میں شروع ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترکی زبان میں سفیر کے لئے آج بھی ایلچی کا لفظ مستعمل ہے۔


جس طرح دفاع کا شعبہ تیر اور تلوار سے ہوتا ہوا ایٹمی ہتھیاروں اور سٹار وارز تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح سے سفارت کاری بھی ارتقاء کی کئی منازل سے گزری ہے۔ آج کے اکثر سفارت خانے ہمہ وقت میزبان ملک میں موجود رہتے ہیں جس طرح سے افواج میں مختلف رینک یعنی لیفٹیننٹ، کیپٹن اور میجر وغیرہ تمام دنیا میں تقریباً یکساں ہیں اسی طرح سے سفارت کاروں کے عہدے بھی مشابہت رکھتے ہیں۔ جونیئر ترین سفارت کار، تھرڈ سیکرٹری ہوتا ہے جبکہ سب سے سینئر سفیر۔


سفارت کار دو ملکوں کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ سفیر کا بنیادی کام اپنے میزبان ملک کے بارے میں رپورٹیں بھیجنا ہوتا تھا۔ پچھلے پچاس سال میں کمیونیکیشن کے ذرائع میں انقلاب آیاہے۔ آج کا الیکٹرانک میڈیا ہمیں دنیا کے کونے کونے سے پل پل کی خبریں دیتا رہتا ہے۔ لہٰذا سفارت خانے کا رول خاصا بدل گیا ہے۔ آج کے سفارت خانے تجارت کے فروغ کے لئے کام کرتے ہیں۔ دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے میں مشغول نظر آتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے تعلقات استوار کر کے اپنے ملک کا امیج بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے کلچر کی تشہیر کے لئے فلم فیسٹیول اور میوزک کنسرٹ کراتے ہیں۔ اپنی کمیونٹی کی ویلفیئر کے لئے کام کرتے ہیں۔ سفارت کار کا بنیادی کام زمانہ قدیم سے ایلچی کا رہا ہے۔ دو ملکوں کے درمیان پیغام رساں کا کام کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ اسے مکمل تحفظ حاصل ہو۔ یوں تو سفارتی مشن کا تصور پرانا ہے لیکن 1961 میں دیانا کنونش کے ذریعے اسے باقاعدہ معاہدے کی شکل دے دی گئی۔ یہ معاہدہ خاصا جامع ہے لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ سفارت کاروں کو مکمل تحفظ دینا میزبان ریاست کا فرض ہے اور مقامی فوجداری قوانین سفارت کاروں پر لاگو نہیں ہوں گے۔ اس معاہدے کی روح یہی ہے کہ سفارت کار بلاخوف خطر اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ سفارت کاروں کا براہ راست تعلق فارن منسٹری سے ہوتا ہے جو بوقت ضرورت انہیں بلانے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔
دفاع اور قومی سلامتی کا تصور بھی خاصا بدل گیا ہے۔ آج اقتصادی ترقی نیشنل سکیورٹی کا اہم جزو ہے۔ اگر اقتصادی حالت اچھی ہو گی تب ہی کوئی ملک جدید ہتھیار خریدنے کے قابل ہو گا۔ اپنے فوجی دستوں کی اچھی ٹریننگ کر سکے گا۔ دوست ممالک کے ساتھ اعلیٰ لیول کی مشترکہ حربی مشقیں باقاعدگی سے کر سکے گا۔


ایک اور غلط تصور یہ بھی ہے کہ افواج کا کام صرف جنگ یا جنگ کی تیاری ہے۔ آج کل امن دستے اقوام متحدہ کے تحت مختلف ممالک میں بھیجے جاتے ہیں جہاں تناؤ زیادہ ہو اور امن کو خطرات درپیش ہوں۔ پاکستان دنیا بھر میں امن دستے بھیجنے والے ممالک میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ اسی طرح سے نیول جہاز مختلف ممالک میں دوستانہ دورے کرتے رہتے ہیں۔ ان دوروں کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں لیکن سب سے بڑا مقصد باہمی دوستی اور تعاون کا فروغ ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں سلطنت عمان میں سفیر تھا تو سمندری طوفان سونامی آیا تھا۔ اس طوفان سے تھائی لینڈ اور سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں بڑی تباہی آئی تھی۔ ہمارا نیول جہاز پی این ایس طارق اُن دنوں خیرسگالی کے دورے پر جزائر مالدیپ کے آس پاس تھا۔ مالدیپ کے جزیروں میں طوفان نے تباہی پھیلا دی کئی لوگ سمندر کی خوفناک لہروں کی نذر ہوئے۔ اس خطرناک صورت حال میں پی این ایس طارق کے کپتان اور عملے نے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر سیکڑوں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ یہ انسانی دوستی کا شاندار مظاہرہ تھا۔ چند روز بعد ہمارا جہاز مسقط کی پورٹ پر لنگر انداز ہوا تو سفارت خانے نے نہ صرف جہازوں کے کپتان اور دیگر افسروں کے لئے شاندار ڈنر کا اہتمام کیا بلکہ لوکل میڈیا کے ذریعے ان کے کارنامے کی تشہیر بھی کی۔


ایک اہم سوال یہ ہے کہ اچھا سفارت کار کن خوبیوں کا حامل ہونا چاہئے۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ برطانیہ کے ایک سفیر نے یورپ کے کسی ملک میں کہا کہ سفیر وہ جنٹلمین (شریف آدمی) ہوتا ہے جو اپنے ملک کے فائدے کے لئے دوسرے ملک میں جھوٹ بولتا ہے۔ روایت ہے کہ سفیر صاحب کی اس بات کو لندن میں بالکل پسند نہیں کیا گیا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ سفارت کار اگر ہمہ وقت جھوٹ بولنے لگیں تو ان کا بھرم یعنی اعتماد
(credibility)
ختم ہوجائے۔ اچھا سفیر ہمہ وقت اپنے ملک کے مفادات کے حصول میں سرگرم نظر آتا ہے۔ وہ میزبان ملک میں حکمران طبقے میڈیا سرمایہ کاروں اور اہم فوجی افسروں سے قریبی تعلقات استوار کرتا ہے۔ دوطرفہ بات چیت کے لئے بنائے گئے اداروں مثلاً جائنٹ وزارتی کمشن یا فارن سیکرٹری لیول پر بنائی گئی کمیٹی کو مصروف رکھتا ہے۔ سفارت کار کے ہتھیار اس کی دوستانہ شخصیت، اعلیٰ علمی قابلیت، لوکل کلچر اور زبان کا علم ہوتے ہیں۔ اچھے سفیر کو درجنوں اہم شخصیات کے نہ صرف نام اور کوائف معلوم ہونا چاہئیں بلکہ اُن تک رسائی حاصل کرنا بھی ضروری ہوتاہے۔


کسی بھی اہم ملک میں سفیر کا کام ہے کہ وہ رسمی دو طرفہ بات چیت کا لیول سٹریٹیجک ڈائیلاگ تک لے جائے۔ امریکہ اور یورپی یونین میں ہمارے سفیروں نے یہ ہدف حاصل کیا ہے۔ سول میںیہ کام فارن سروس سرانجام دیتی ہے۔ مسلح افواج کی جانب سے جائنٹ چیفس کمیٹی کے چیئرمین مختلف ممالک کا دورہ کر کے علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور دو طرفہ دفاع مضبوط کرنے کی بات بھی دوستانہ ممالک میں کرتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ دفاعی طرز کی یہ اعلیٰ لیول کی ملاقاتیں بے حد مفید ہوتی ہیں اور ا گر اس ملک میں سفیر اور ڈیفنس اتاشی اچھے پروفیشنل افسر ہوں اور سفارت خانے نے اپنا ہوم ورک اچھا کیا ہو تو یہ ملاقاتیں مفید تر ہو جاتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ وہ میزبان ملک جس کا رویہ مخاصمانہ ہو وہاں سفارت کار کیا کر سکتا ہے اور جواب یہ ہے کہ سفارت کار دشمن ملک میں بھی دوست ڈھونڈتا ہے۔ اچھا سفارت کار ٹھنڈے مزاج کا دانا شخص ہوتا ہے۔ وہ 1965کی جنگ کے فوراً بعد تاشقند معاہدے کے لئے کام شروع کر دیتا ہے۔ 1971 کی جنگ کے بعد شملہ معاہدے کی تیاری کرتا ہے۔ کوئی تین عشرے پہلے کی بات ہے کہ نئی دہلی میں منیر شیخ مرحوم ہمارے انفارمیشن کونسلر تھے۔ وہ خود شاعر تھے اور انڈین شعراء کو باقاعدگی سے گھر بلا کر شعر و شاعری کی محفلیں سجاتے تھے۔ آہستہ آہستہ انڈیا کی ادبی تنظیمیں بھی شیخ صاحب کو مدعو کرنے لگیں۔ جب اُن کی نیو دہلی سے پاکستان ٹرانسفر ہوئی تو انڈین ادیبوں نے الوداعی فنکشن کیا۔ ایک انڈین ادیب نے اپنی تقریر میں کہا کہ شیخ صاحب کے پاکستانی ہائی کمیشن میں آنے سے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ وہاں صرف ویزے ایشو ہوتے ہیں۔


جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کس بھی سفیر کا اولین فرض اپنے ملک کے مفادات کا ممکنہ حصول ہوتا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں تمام افسر بشمول فرسٹ سیکرٹری قونصلر ڈیفنس اتاشی ٹریڈ اتاشی انفارمیشن قونصلر سب سفیر کی معاونت کرتے ہیں۔ 2002کی بات ہے کہ پی آئی اے نے نئے جہاز خریدنا تھے۔ چوائس بوئنگ اور ایئربس کے درمیان تھی۔ بوئنگ ایئر بس سے خاصا مہنگا جہاز ہے۔ ایئر بس کے انجن بھی بوئنگ 777سے زیادہ تھے۔ لہٰذا فلائٹ سیفٹی کے اعتبار سے بھی ایئربس بہتر تصور ہوتا تھا۔ پی آئی اے کے انجینئر بھی ایئربس کی حمایت کر رہے تھے۔ لیکن اسلام آباد میں مقیم امریکی سفیر حکومت پاکستان سے بار بار کہہ رہے تھے کہ بوئنگ کہیں بہتر طیارہ ہے۔ بالآخر حکومت پاکستان نے بوئنگ طیارے خریدے۔


ایک زمانہ تھا کہ فرنچ کو سفارت کاری کی زبان کہا جاتا تھا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اکثر سفیرحضرات بادشاہوں کے قریبی عزیز ہوتے تھے۔ اپنے اپنے ممالک کی شان و شوکت ثابت کرنے کے لئے وہ بڑے بڑے گھروں میں رہتے تھے۔ شاندار ڈنر کرتے تھے۔ اکثر کہا جاتا تھا کہ سفیر کی کامیابی میں ماہر باورچی کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔ اب حالات کافی بدل گئے ہیں۔ سفارت کار مقابلے کے امتحان کے ذریعے سیلیکٹ ہوتے ہیں لہٰذا اس پیشے میں بھی اب مڈل کلاس کے لوگ عام ہیں۔ فرانسیسی زبان کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے۔ میں نے یونان میں چند سفیروں کو اپارٹمنس میں رہتے بھی دیکھا ہے۔


مشہور مقولہ ہے کہ اچھی عسکری تیاری امن کی بہترین ضمانت ہے اور اگر اچھی عسکری تیاری کے ساتھ اعلیٰ پائے کی سفارت کاری بھی میسر ہو تو دفاع اور بھی مضبوط ہو جاتاہے۔ اسی وجہ سے سفارت خانوں کو فرسٹ لائن آف ڈیفنس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات بھی اب راز نہیں رہی کہ بعض اہم سفارت خانوں میں حساس اداروں کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے کام میں ماہر ہوں تو سفیر کی خاصی مدد ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب اچھے سفیر ان افسران کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ سفارت کار دنیا کی سیر کرتے ہیں اور مزے کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پیشے کو بھی اب خطرات لاحق ہیں مگر صرف اُن ملکوں میں جہاں حالات خراب ہیں۔ چند سال پہلے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکہ کے سفیر مارے گئے تھے۔ لیکن خطرات تو ہر پیشے میں ہوتے ہیں ملک کے سپاہی مادر وطن کے دفاع کے لئے ہر وقت جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں۔


اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔ اسی طرح سے وہ ہمیں دنیا میں تنہا کرنا چاہتا ہے۔ ان عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ملکی سلامتی کے ادارے اور وزارتِ خارجہ دن رات مل کر کام کریں۔

مضمون نگار مختلف ممالک میں پاکستان کے سفیررہے ہیں اور آج کل کالم نگاری کرتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
December

سال2016 اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ یہ وطنِ عزیز اور بالخصوص سکیورٹی فورسز کے لئے کامیابیوں کا سال رہا۔ جون 2014میں شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب کے ثمرات کچھ ہی عرصے میں دکھائی دینے لگے تھے،لیکن رواں سال تک اس حد تک کامیابیاں نصیب ہوئیں کہ وزیرستان کے وہ علاقے جو کبھی شدت پسندوں کے قبضے میں تھے وہاں شاہراہیں اور کمرشل مارکیٹیں تعمیر ہورہی ہیں تاکہ عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد جب جب اپنے گھروں کو لوٹیں‘ اُنہیں وہاں کاروبار کرنے اور روزمرہ کے معاملات چلانے میں دِقّت کا سامنا نہ ہو۔ مغربی سرحدوں کی جانب بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنایا جارہاہے۔افواجِ پاکستان نہ صرف دفاعِ وطن کے لئے سرگرداں ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی جہاں جہاں ضرورت ہے تخریب کاروں کی سرکوبی کے لئے ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ کراچی کے اندر رینجرز آپریشن سے حاصل کی گئی کامیابیاں اور ان کے نتیجے میں قائم پُرامن فضائیں ان کامیابیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
افواجِ پاکستان کا چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور سی پیک کی تقریباً ایک ہزار کلومیٹر پر مشتمل شاہراہ کی بروقت تکمیل میں کلیدی کردار بھی ہمیشہ یاد رہے گا۔ دریں اثنا افواج پاکستان نے اس شاہراہ کی حفاظت کا جو بِیڑہ اٹھایا ہے اسے بھی بدرجۂ اتم نبھایا جا رہاہے اور نبھایا جاتا رہے گا۔


2016ہی میں پاک فوج کے سربراہ کی تبدیلی عمل میں آئی ہے۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل قمرجاوید باجوہ پاک فوج کے نئے سربراہ مقرر ہوئے ہیں جو پیشہ ورانہ اعتبار سے پاک فوج کے انتہائی منجھے ہوئے جرنیل ہیں۔ ان کی قیادت میں پاک فوج اسی طرح سے دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے سمیت مغربی اور مشرقی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ پاک فوج کے سپہ سالار کی تعیناتی کے ساتھ ہی بعض حلقوں کی جانب سے اڑائی جانے والی افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں جو مختلف حوالوں سے پھیلائی جا رہی تھیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھالنے کے پہلے روز ہی شمالی وزیرستان کا دورہ کیا اور وہاں تعینات ٹروپس سے ملے اور ان کے حوصلے بڑھائے جو اس امر کی نشاندہی ہے کہ افواج پاکستان اسی طرح سے دہشت گردوں کی سرکوبی جاری رکھیں گی۔


آنے والا سال اس حوالے سے اہم ہے کہ پاک فوج اپنے نئے سربراہ کی قیادت میں مزید کامیابیاں سمیٹنے کے لئے پرعزم ہی نہیں پیشہ ورانہ اعتبار سے ان چیلنجز پر قابو پانے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہے۔ یوں نیا سال قوم کے لئے ایک نئی امید اور نئی امنگ لے کر طلوع ہو گا کہ زندہ اور بہادر قومیں ایسی صلاحیتوں سے لبریز ہوتی ہیں جن کی بدولت وہ کٹھن سے کٹھن مراحل سے کامیابی سے نکل آتی ہیں۔ الحمدﷲ آج پاکستان بھی اُنہیں عظیم بہادر قوموں کی صف میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔


پاکستان ہمیشہ زندہ باد

13
December

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان

روس کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ دریائے وولگا ایک رات میں منجمد نہیں ہوتا۔ وادئ کشمیر کے طول و عرض میں اس وقت جو ولولہ انگیز جدوجہدِ آزادی جاری ہے وہ اچانک شروع نہیں ہوئی۔ وہ ایک حادثے کی پیدا وار ہے۔ یہ سچ ہے کہ برہان وانی کی شہادت سے تحریک نے ایک شدید اور نیا رخ اختیار کیا ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال اُسی تحریکِ آزادی کا تسلسل ہے جس کا آغاز1947میں ریاست جموں و کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت سے ہوا تھا۔ اُس وقت سے لے کر آج تک کشمیری عوام کی جدو جہدِ آزادی جاری ہے۔ ہاں اس میں کبھی تیزی اور کبھی کمی ہوتی رہی ہے۔ تاہم کشمیری عوام نے آزادی کی منزل کو کبھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ اسے جاری رکھنے میں جن عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے وہ بھارت کی طرف سے الحاق کے نام پر کشمیریوں سے دھوکہ بازی اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیری عوام سے بھارت کی وعدہ خلافیوں اور دھوکے بازیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ اس مضمون میں ان میں سے چندایک کا ذکر کریں گے۔ مقصدیہ بتانا ہے کہ بھارت نے کتنی چالاکی اور ہوشیاری سے کشمیر پر قبضہ کیا اور پھر اس قبضے کو دوام بخشنے کے لئے کسی طرح اپنے ہی کئے ہوئے وعدوں کی دھجیاں اُڑادیں۔


1947 میں برصغیر کی تقسیم اور پاکستان اور بھارت کا قیام اس فارمولے کے مطابق عمل میں آیا تھا کہ شمال مغرب اور مشرق میں واقع مسلم اکثریت کے صوبے پاکستان کا حصہ بنیں گے اور ہندو اکثریت کے صوبے ‘ بھارت کہلائیں گے۔ جہاں تک565 کے قریب ریاستوں کا تعلق تھا اُن کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ ان ریاستوں کے فرمانرواؤں کو اختیار ہوگا کہ وہ بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں ۔ مگر یہ فیصلہ کرتے وقت ریاست کی آبادی کا مذہب، اس کے جغرافیائی محل وقوع اور معاشی اور تجارتی روابط کو ملحوظ خاطر رکھاجائے گا۔ ان عوامل کے پیشِ نظر کشمیر کے لئے سوائے پاکستان میں شمولیت کے اور کوئی آپشن نہیں تھا۔ لیکن ریاست کا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ لیت و لعل سے کام لے رہا تھا‘ جس پر ریاست کے عوام نے مہاراجہ کے خلاف بغاوت کردی۔ اس سے گھبرا کر مہاراجہ نے بھارت سے فوجی امداد مانگی۔ اس کے جواب میں نئی دہلی کی حکومت نے مہاراجہ کو پیغام بھیجا کہ بھارت مہاراجہ کی مدد کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق نہ ہو جائے اور مہاراجہ کو خود اس کے لئے خط لکھ کر درخواست کرنا پڑے گی۔ اس عمل کو یقینی بنانے کے لئے بھارت نے مہاراجہ سے الحاق کا ڈاکو منٹ اپنا سپیشل نمائندہ وی پی‘مینن کوبھیج کر حاصل کیا۔ یاد رہے کہ وی پی مینن ایک نہایت قابل مگر ہندو ذہنیت کے مطابق جوڑ توڑ اور سازباز کے تمام قانونی پہلوؤں سے کما حقہ آگاہ سول سرونٹ تھے۔ آپ ہندوستان کے آخری تین انگریز وائسرائے کی
Constitutional Adviser
اور
Political Reform Commissioner
رہے ۔ اپنی اس حیثیت سے انہوں نے کانگرس کے اکھنڈبھارت کے ایجنڈے کو اس طرح پروموٹ کیا کہ بہت ساری وہ ریاستیں جو علیحدہ رہنا چاہتی تھیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتی تھیں ان کو ہندوستان کے الحاق پر مجبور کیا۔ انہیں کرشنا مینن نے بھارتی مؤرخوں کے مطابق الحاق کا پروانہ لیا۔ تاہم متعدد آزاد اور غیر جانب دار مؤرخوں کے مطابق جن میں
Alastar Lamb
نمایاں ہیں‘ ہندوستان نے الحاق کا ڈاکو منٹ بعد میں قبول کیا مگر اپنی فوجیں 27 اکتوبر کو کشمیر میں اتار دی تھیں۔ یعنی الحاق سے پہلے ہی ہندوستان کشمیر میں مداخلت کی مکمل تیاری کرچکا تھا۔نیزیہ کہ الحاق عارضی ہوگا اور اس کا حتمی فیصلہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی کی روشنی میں ہی کیا جائے گا اور کشمیری عوام کی یہ مرضی رائے شماری کے ذریعے معلوم کی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں سے پہلے ہی (اصولی طور پر) تسلیم کرلیا تھا۔ اسی طرح بھارت کو اُس وقت کے انگریز گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بھی بھارتی حکومت پر واضح کردیا تھا کہ ریاست کی (مسلم) آبادی کے پیش نظر یہ الحاق ریاست کے عوام کی مرضی سے مشروط ہوگا جسے امن وامان کی صورتِ حال بہتر ہوتے ہی استصوابِ رائے کے ذریعے معلوم کیا جائے گا۔


ایک اور مشہور مصنف کیمپ بیل جانس نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’مشن ود ماؤنٹ بیٹن‘‘ میں بھی اس حقیقت کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے حوالے سے لکھا ہے کہ1947 میں ریاست جموں وکشمیر کا الحاق عارضی اور ریاست کے عوام کی مرضی سے مشروط تھا۔ 27 اکتوبر1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ کے خط کے جواب میں لکھا کہ یہ الحاق مکمل طور پر عارضی ہے اور یہ کہ پاکستان اور بھارت میں سے ریاست کا الحاق کس سے ہوگا؟ اس کا فیصلہ ریاست کے عوام کریں گے۔ گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور بھارتی حکومت کو یہ وضاحتیں بار بار پیش کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہو رہی تھی کیونکہ مہاراجہ کے خط پر ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں جارحیت کے ارتکاب کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہدفِ تنقید بنایا جارہا تھا کیونکہ یہ سراسر غیرقانونی اقدامات تھے۔ برطانیہ، جس کے اقتدار کا سایہ اگرچہ برصغیر کے سر سے اٹھایا گیا تھا، بھی اُن ممالک میں شامل تھا جہاں کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا جارہا تھا۔ اس نکتہ چینی سے گھبرا کر بھارت کے وزیرِاعظم پنڈت نہرو نے اپنے برطانوی ہم منصب کو ٹیلی گرام بھیجا جس میں بھارت نے ایک دفعہ پھر واضح طور پر یقین دہانی کروائی کہ بھارت کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کا الحاق عارضی ہے اور اس کا حتمی فیصلہ ریاست کے عوام کریں گے۔ پنڈت نہرو اپنے خط میں لکھتے ہیں:’’ہمارا موقف یہ ہے اور اس موقف کو ہم نے بار ہا دنیا کے سامنے بیان کیا ہے کہ ہندوستان کی کسی بھی ریاست یا متنازعہ علاقے کے الحاق کا حتمی فیصلہ اُس ریاست یا علاقے کے عوام کی مرضی سے طے کیا جائے۔ ہم (یعنی بھارتی حکومت) اب بھی اسی موقف پر قائم ہیں۔‘‘ خیر بھارتی حکومت نے مہاراجہ جموں و کشمیر کو مختلف ہتھکنڈوں سے اس بات پر مجبور کیا کہ وہ بھارتی حکومت کو مدد کے لئے خط لکھے اور اس کے عوض ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کی درخواست کرے۔


جب بھارت نے اس غیر قانونی کارروائی کو مکمل کرنے کے بعد ریاست میں فوجیں داخل کیں اور ان کے ذریعے نہتے کشمیری عوام کو کچلنا شروع کردیا تو پاکستان میں اس پر نہ صرف سخت تشویش کا اظہار کیا جانے لگا بلکہ تمام ملک میں شدیدبے چینی کے آثار پیدا ہونے شروع ہوگئے۔ اس پر پنڈت نہرو نے پاکستان کے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کو 31 اکتوبر1947 کو خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو یقین دہانی کروائی کہ:


’’مہاراجہ (جموں وکشمیر) نے ریاست کے الحاق کے لئے جو درخواست کی ہے (بھارتی حکومت نے) اُسے اس شرط پر منظور کیا ہے کہ جونہی امن و امان کی صورتِ حال بہترہو جائے گی اور حملہ آوروں کو ریاست سے نکال دیا جائے گا، کشمیر کے عوام فیصلہ کریں گے کہ وہ (پاکستان اور بھارت) دونوں میں سے کس کے ساتھ الحاق کریں گے۔‘‘ امن و امان کی بحالی کے بعد ہم ریاست سے فوجیں نکال لیں گے۔ ہمارا یہ وعدہ نہ صرف کشمیری عوام سے ہے بلکہ پوری دنیا سے ہے۔‘‘ بھارتی وزیرِاعظم نے اسی قسم کی یقین دہانی بھارت کی آئین ساز اسمبلی میں بھی کروائی تھی۔21 نومبر1947 کو اسمبلی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پنڈت نہرو نے کہا: ’’ہم نے شیخ عبداﷲ اور مہاراجہ (جموں و کشمیر) کے نمائندے‘ دونوں پر واضح کردیا ہے کہ اگرچہ ہم الحاق کے لئے مہاراجہ کی درخواست کو قبول کرلیا ہے لیکن ہم اسے جموں وکشمیر کے عوام پر زبردستی مسلط نہیں کریں گے۔ بلکہ ہم اس کے لئے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔‘‘


بھارت کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں جب ریاست میں حالات خراب ہوئے اور پاکستان نے بھی اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تو بھارتی حکومت نے خود کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا۔ اس پر بحث کے دوران بھارتی نمائندے گوپال سوامی آیا نگر نے اپنے بیان میں کہا: ’’بھارتی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کے حکمران کو بتادیا ہے کہ ریاست کے الحاق کا فیصلہ ریاست کے عوام استصوابِ رائے کے ذریعے کریں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی بھارتی نمائندے نے یہ بھی کہا کہ یہ استصواب بین الاقوامی نگرانی میں کروایا جائے گا۔


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے20 جنوری1948کو بحث کے اختتام پرمسئلہ کشمیر کے حل کے لئے قرار داد منظور کی۔ اسی قرار داد کے حق میں سلامتی کونسل کے تمام مستقل اراکین نے اپنا ووٹ ڈالاتھا جن میں امریکہ اور روس بھی شامل تھے۔ قرار داد میں سلامتی کونسل نے تین ارکان پر مشتمل ایک کمیشن قائم کرنے کی سفارش کی۔ان تین ارکان میں سے دو پاکستان اور بھارت نے نامزد کرنا تھے اور تیسرے کا انتخاب بھارت اور پاکستان کی طرف سے نامزد ممبران نے کرنا تھا۔21 اپریل1948 کو سلامتی کونسل نے ایک اور قرار داد منظور کی جس کے ذریعے کمیشن کے ارکان کی تعداد5 کردی گئی۔ اس قرارداد میں سلامتی کونسل کی طرف سے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ریاست سے الحاق کے مسئلے کو ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے حل کرنے پر متفق ہیں۔ اس قرارداد میں سلامتی کونسل نے ریاست سے پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے انخلاء اور رائے شماری کے انعقاد کے لئے ایک مفصل پروگرام بھی وضع کیا تھا لیکن اس دوران بھارت کی حکومت نے چند ایسے اقدامات کئے جن سے اس کی کشمیر کے بارے میں بدنیتی صاف ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھی۔ 1949میں کشمیر پر پاکستان اور عالمی رائے عامہ کو کرائی گئی یقین دہانیوں کے برعکس بھارت نے اپنی دستورساز اسمبلی میں کشمیر سے چارنمائندوں کو شامل کر لیا۔ عارضی الحاق کی آڑ میں بھارت کا اپنی دستور ساز اسمبلی میں کشمیر کو ہڑپ کرنے کے منصوبے کا یہ پہلا حصہ تھا۔ اس کے بعد بھارتی آئین میں کشمیر کے لئے مخصوص آرٹیکل 370 شامل کیا گیا جس کے تحت ریاست کو بھارت کا حصہ قرار دے کر اسے داخل معاملات میں وسیع اختیارات دیئے گئے۔ لیکن دفاع‘ امور خارجہ اور مواصلات کے شعبے کو بھارتی حکومت کی ذمہ داری قرار دے دیا گیا۔ جب پاکستان کی طرف سے اس اقدام پر احتجاج کیا گیا تو بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے پاکستان کو یہ جواب بھیجا گیا۔


’’اس قسم کے اقدامات کا مقصد بھارت کی کشمیر کے الحاق کے بارے میں پالیسی کو تبدیل کرنا نہیں جس کے تحت ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کو آزادنہ طور پر کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ کشمیری عوام کو اس سلسلے میں اپنی مرضی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ماحول میں ظاہر کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اگر کشمیری عوام ایک آزادانہ غیرجانبدارانہ اور آئینی رائے شماری میں بھارت کے ساتھ الحاق کو رد کر دیں گے تو بھارتی آئین میں کشمیر کے بارے میں دفعات اور بھارت کے ساتھ کشمیر کے تعلقات بھی ختم ہو جائیں گے۔‘‘ ایک طرف یہ بیان اور دوسری طرف بھارت کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ بنانے کے لئے بتدریج اقدامات کر رہا تھا۔ ان میں کشمیر میں ایک دستورساز اسمبلی کا قیام بھی تھا۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کو اس قسم کے اقدامات کا کوئی اختیار نہیں کیا تھا۔ لیکن بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے مارچ 1951میں پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے الحاق کے بارے میں بھارتی حکومت کے موقف کو دہرایا اور یقین دلایا کہ بھارت کسی بھی صورت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ 31اکتوبر 1951 کو کشمیر کی دستورساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ 24جولائی 1952کو نئی دہلی میں شیخ عبداﷲ کی قیادت میں کشمیر کی نئی حکومت اور بھارتی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے دہلی معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے تین شعبوں یعنی دفاع، امور خارجہ اور مواصلات کے علاوہ باقی تمام شعبوں میں ریاست کو اندرونی طور پر مکمل خودمختاری دی گئی تھی لیکن 1947میں مہاراجہ کو ریاست کا بھارت کے ساتھ زبردستی الحاق کرنے اور فوجوں کو ریاست میں داخل کرنے کے بعد بھارت نے ریاست کے بارے میں جتنے بھی اقدامات کئے ان سب کا مقصد کشمیر پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنا تھا ۔ الحاق کو عارضی قرار دینا اور کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنی مرضی کے اظہار کا موقع دینے کے بارے میں تمام دعوے اور اعلانات کا مقصد دنیا اور کشمیری عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔ دراصل بھارت شروع سے ہی کشمیر کو ہڑپ کرنے کے ایجنڈے پر عمل کر رہا تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب شیخ عبداﷲ اور ان کی پارٹی کی نیشنل کانفرنس نے بھارت کو کشمیر کے بارے میں اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے کہا تو 8اگست 1953 کو شیخ عبداﷲ کو گرفتار کر لیا۔ ان پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ ریاست کی آزادی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔بھارت ایسے الزامات لگا کر اپنے جرم پر ہمیشہ سے پردہ ڈالتا آرہا ہے۔ آج تک بھارت نے کشمیر سے متعلق اپنا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا اور کشمیر پر اپنا تسلط طاقت کے بل بوتے پر قائم رکھنے پر تُلا ہوا ہے جو اب تا دیر ممکن نہیں ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

1947 میں برصغیر کی تقسیم اور پاکستان اور بھارت کا قیام اس فارمولے کے مطابق عمل میں آیا تھا کہ شمال مغرب اور مشرق میں واقع مسلم اکثریت کے صوبے پاکستان کا حصہ بنیں گے اور ہندو اکثریت کے صوبے ‘ بھارت کہلائیں گے۔ جہاں تک565 کے قریب ریاستوں کا تعلق تھا اُن کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ ان ریاستوں کے فرمانرواؤں کو اختیار ہوگا کہ وہ بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں ۔ مگر یہ فیصلہ کرتے وقت ریاست کی آبادی کا مذہب، اس کے جغرافیائی محل وقوع اور معاشی اور تجارتی روابط کو ملحوظ خاطر رکھاجائے گا۔

*****

بھارت کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں جب ریاست میں حالات خراب ہوئے اور پاکستان نے بھی اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تو بھارتی حکومت نے خود کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا۔ اس پر بحث کے دوران بھارتی نمائندے گوپال سوامی آیا نگر نے اپنے بیان میں کہا: ’’بھارتی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کے حکمران کو بتادیا ہے کہ ریاست کے الحاق کا فیصلہ ریاست کے عوام استصوابِ رائے کے ذریعے کریں گے۔‘‘

*****

 
13
December

تحریر: خورشید ندیم

8نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوئے۔ کیا یہ تاریخ 9/11کی طرح انسانی تاریخ کو قبل از اور بعد از دو ادوار میں تقسیم کر دے گی؟
تاریخ میں پیش آنے والا کوئی واقعہ منفرد نہیں ہوتا۔ یہ سلسلۂ روز و شب کی ایک کڑی ہوتا ہے۔ ناگہانی آفات کا معاملہ دوسرا ہے۔ زلزلہ اور سونامی جیسے واقعات بھی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں لیکن ان کا تعلق کائنات میں جاری ان قدرتی قوانین سے ہوتا ہے جو سماجی زندگی میں اپنی کوئی اساس نہیں رکھتے۔ مذہبی تعبیرات اگرچہ ان واقعات کو بھی سماج کے اخلاق سے متعلق کرتی ہیں لیکن اس وقت ما بعد الطبیعاتی پہلو اس مضمون کا موضوع نہیں۔ یہاں ان واقعات کا بیان مقصود ہے جن کا تعلق سماجی زندگی سے ہے اور جن کا صدور معاشرتی تبدیلیوں کے جلو میں ہوتا ہے۔
کارل مارکس نے اپنے عہد میں سرمایہ داری نظام کا تجزیہ کیا اور یوں اسے اس طبقاتی کشمکش کے پس منظر میں دیکھا جو اس کے خیال میں تاریخ کے عمل پر ہر دور میں اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح مذہبی سکالرز نے تاریخی عمل کو مابعد الطبیعاتی پہلو سے دیکھا۔ آدم سمتھ جیسے اہل علم نے سرمائے کی مرکزیت کو بیان کیا۔ مارکس بھی اگرچہ ہیگل کی روایت ہی سے متعلق ہے لیکن کچھ لوگوں نے خالصتاً فلسفے کے تناظر میں تاریخی عمل کو نظریہ یاردِ نظریہ اور پھرامتزاج کے حوالے سے بیان کیا ہے۔دور حاضر پر جب اس تصور کا اطلاق کیا گیا تو کہا گیا کہ انسان کے سماجی ارتقاء کا سفر ایک سرمایہ دارانہ جمہوری معاشرے کی تشکیل پر تھم جانا چاہئے۔ اگرچہ ’’ اختتامِ تاریخ ‘‘ کا تصور پیش کرنے والوں کو خود اس پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہوئی۔


9/11کا دن اس لئے اہم شمار ہوتا ہے کہ ایک عالمی قوت کے علاماتی مراکز کو ہدف بنا کر یہ پیغام دیا گیا کہ یہ نظام ناقابل تسخیر نہیں ہے۔یہ بھی زوال آشنا ہو سکتا ہے اور خود اس کے داخل میں اتنے خلا ہیں جو اس کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔جن لوگوں نے ان واقعات کا تجزیہ کیا، انہوں نے اسے زیادہ تر انتظامی پہلو سے دیکھا۔ امریکہ میں اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس میں انسانی آزادی پر قدغنیں لگائی گئیں۔ سکیورٹی کے لئے نئے ادارے بنے۔ موجود اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا اور اس بات کو بڑی حد تک یقینی بنایا گیا کہ کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جو اس سرمایہ دارانہ نظام کے لئے کسی طرح بھی خطرے کا باعث ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ امریکہ اس میں بڑی حد تک کامیاب رہا۔ دنیا ایسے واقعات کی زد میں رہی لیکن امریکہ میں 9/11 کے بعد کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔
11/8کو لیکن امریکہ میں ایک اور دھماکہ ہو گیا۔ یہ بھی اس کے اندر سے ہوا۔ اس کا سبب بھی اس کے داخلی نظام کے خلا تھے جن سے ایک ایسا فرد منصب صدارت تک پہنچ گیا، جس کا راستہ روکنے کے لئے امریکی ریاستی نظام نے ممکن حد تک کوشش کی تھی۔ وہ تمام قوتیں جو موجودہ امریکی نظام کی بقا اور تسلسل کے لئے سرگرم ہیں، وہ اس دھماکے کو روک نہیں سکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گئے اور ریاستی نظام9/11 کے بعد ایک بار پھر بے بس دکھائی دیا۔ سوال یہ ہے کہ کسی خارجی تائید کے بغیر یہ واقعہ کیسے ہو گیا؟


یہ ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکہ میں خود احتسابی کا عمل آگے بڑھے۔ 9/11 کے بعد جو کمیشن بنا اور اس کے بعد بھی تحقیقات کے لئے جو کوششیں ہوئیں، ان میں خارجی قوتوں یا پھر داخلی سطح پر انتظامی معاملات کے نقائص کو موضوع بنایا گیا۔ ’سیاسی اسلام‘ کے تصور میں اس واقعے کے اسباب تلاش کرتے کرتے لوگ ابن تیمیہ تک جا پہنچے، لیکن وہ اس پر غور کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے کہ ان کی وہ کون سی حکمت عملی ہے جس نے انہیں اس حادثے سے دوچار کیا۔ صدارتی انتخابات چونکہ سو فی صد داخلی واقعہ ہے، اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ یہ امریکہ پر خود احتسابی کا دروازہ کھول دے۔


واقعہ یہ ہے کہ امریکہ میں جو کچھ ہوا، وہ محض ایک ملک تک محدود عمل نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں موجود اس پیدائشی نقص کا نیا ظہور ہے جو غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر کرتا ہے۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں محدود کر دیتا ہے۔ عام آدمی چونکہ فلسفیانہ بحثوں میں نہیں الجھتا اس لئے جب کوئی سرمایہ دارانہ نظام کے اس نقص کو نمایاں کرتا اور عوام کو سبز باغ دکھاتا ہے تو وہ اس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کا نجات دہندہ آگیا۔ حالانکہ وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ نجات دہندہ خود اس نظام کی عطا ہے، وہ جس کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔


9/11 کے حادثے کے بعد امریکہ میں ذمہ دار لوگوں نے جس طرح اسباب کا کھوج لگانے میں غلطی کی‘ اسی طرح معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس بار عامۃ الناس نے بھی غلطی کی۔ صدر ٹرمپ نے امریکی مسائل کے جو اسباب تلاش کئے، ان میں وہ تارکین وطن سر فہرست ہیں جو ان کے خیال میں امریکی معیشت پر بوجھ ہیں۔ اسی طرح وہ مسلمانوں اور عربوں کو ہدف بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی اشرافیہ ایک بار پھر تجزیے میں غلطی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اگر اپنے اس تجزیے کی بنیاد پر ریاستی حکمت عملی تشکیل دینے کی کوشش کی تو یہ عمل امریکہ کو نئی طرز کے مسائل سے دوچار کر دے گا۔


سرمایہ دارانہ نظام کو پہلا چیلنج اشتراکیت کی صورت میں پیش آیا۔ اس کا سامنا کرتے وقت کم از کم اس حد تک مسئلہ کا درست تجزیہ کیا گیا کہ مزدور اور کسان کو اگر کارخانے اور کھیت کی آمدن سے حصہ نہ دیا گیا تو اس کے نتیجے میں پھیلنے والی بغاوت اہل سرمایہ کو لے ڈوبے گی۔ لہٰذا انہوں نے ویلفیئر ریاست کا تصور دے کر کارخانے اور کھیت کے منافع میں مزدور اور کسان کو اس حد تک شریک کر لیا کہ وہ زندہ رہنے کے قابل ہو گیا۔ یوں اس بغاوت کا خطرہ ٹل گیا جو سرمایہ داری کے سفینے کو ڈبونے کے درپے تھی۔ اس بار ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر اس نظام کے داخلی نقائص کو دور کرنے کے بجائے، امریکی مسائل کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینے کی کوشش جاری رہی تو امریکہ کو داخلی سطح پر بڑی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی سرمایہ دارانہ نظام اپنے تحفظ میں کامیاب ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ وہ کچھ نہیں کر پائیں گے جن کا انہوں نے وعدہ کیا۔ زمینی حقائق انہیں مجبور کریں گے کہ وہ ان کا لحاظ رکھیں۔ تارکین وطن کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے، امریکی صدر کو داخلی اصلاح پر توجہ دینا ہو گی۔ ان عوامل کو تلاش کرنا ہو گا جنہوں نے امیر لوگوں کو امیر تر بنا دیا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ یہ سب کچھ کر پائیں گے، جب کہ خود ان کا اپنا تعلق اسی سرمایہ دار استحصالی گروہ سے ہے۔ اس سوال کا جواب تاریخ کے پاس ہے لیکن قوموں کے باب میں ایک سنت مسلسل کار فرما ہے جسے علامہ اقبال نے بیان کیا ہے۔


صورتِ شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی قوم اپنے عمل کا حساب کرتی ہے یا نہیں۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شہدائے وطن کی نذر


ہے پیشِ نظر، یہ کیا مَنظر
اِک مردِ مُجاہد، لَڑ لَڑ کر
بازخمی دل و باخُونیں جگر
کہتا ہے سُنو! یہ رَہ رَہ کر
لو جامِ شہادت پیتا ہوں
اب تا بہ قیامت جیتا ہوں!
یہ جان تو آنی جانی ہے
یہ گویا ایک کہانی ہے
یہ دُنیا دارِ فانی ہے
اِک دائم ذات رَبانی ہے
اے پیکر جُود و صدق و صفا!
اے جانِ وفا! تسلیم و رضا!
یہ لالہ و گُل،یہ رنگِ چمن
یہ سُنبل و ریحاں، سَرو و سمن
یہ اِن کی مہک، یہ اِن کا پھبن
سب تیرا ہی صدقہ، تیری لگن
اے فخرِ وطن! اے شانِ سپاہ!
باحُکمِ خدا، تو اَمر ہوا!


خواجہ اصغر پرےؔ

*****

 
13
December

تحریر: اکرم ذکی

یہ رزمیہ ترانہ سابق سیکرٹری جنرل‘ وزارتِ خارجہ پاکستان اور سینیٹر (ریٹائرڈ)جناب محمداکرم ذکی نے ستمبر1965 کی جنگ شروع ہوتے ہی لکھا۔ جوش و جذبے سے بھرپور یہ اشعار آج بھی اتنے ہی اثر انگیز ہیں جتنے 1965میں تھے یہ اشعار ہمارے لازوال قومی و ملی جذبے اور دفاعِ وطن کے لئے ہمہ وقت تیاری اور قربانی کے جذبے کے عکاس ہیں۔

yehjangeazeem.jpg 

1965کی جنگ کے دوران لال بہادرشاستری وزیراعظم، نندا وزیرِداخلہ، چون وزیرِ دفاع اور کامراج صدر کانگریس تھے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
December

تحریر : میجر (ر) ندیم نصیب

1971 کی جنگ میں شہادت کا رتبہ پانے والیمیجر نصیب اﷲ خان شہید کی شہادت کے حوالے سے اُن کے بیٹے میجر (ر) ندیم نصیب کی تحریر

ayjazbadil.jpg

خود اعتمادی اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی وہ نعمت ہے جو انسان کو مثبت سوچ اور آگے بڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہ سوچ اپنے وطن کے لئے ہو توعظیم قوم کو جنم دیتی ہے اور ایسے سپوت پیدا کرتی ہے جو ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں اپنے ملک و ملت کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ میجر نصیب اﷲ خان (شہید) بھی اس قوم کے ایک ایسے ہی بہادر سپوت ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے نہصرف مقام بنایا بلکہ وقت آنے پر اپنی مٹی کو اپنے خون سے بھی سینچا۔

 

میجر نصیب اﷲ خان (شہید) 21جون 1939کو آزادکشمیر کوٹلی کے ایک گاؤں کنیات میں پیدا ہوئے۔ 1951 میں آٹھویں جماعت میں ملٹری کالج جہلم سرائے عالمگیر میں منتخب ہوئے۔ تاہم ابتدا میں انہوں نے آرمی میں اپنی خدمات کا آغاز سگنل کور میں بطورسپاہی کیا۔ مگر آگے بڑھنے کی لگن رنگ لائی اور 1962میں اُنہیںآئی ایس ایس بی کلیئر کرنے کے بعد پی ایم اے کاکول بھیج دیا گیا۔ پی ایم اے کاکول سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد سی او ڈی کالا، پوسٹ کر دیئے گئے۔ عملی زندگی کے عسکری ادارے سے آغاز اور پی ایم اے کی ٹریننگ کے بعد ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہو چکا تھا۔ اayjazbadil1.jpgس سوچ کی بنا پر انہوں نے پاک آرمی کے ایس ایس جی گروپ کو اپنانے کا فیصلہ کیا اور 9ماہ کی پُرمشقت تربیت کے بعد وہ اب بطور کمانڈو وطن کی خدمات انجام دینے کے لئے تیار تھے۔ جب مشرقی پاکستان کے حالات روزبہ روز ابتر ہوتے جا رہے تھے تب میجر نصیب اﷲ (شہید) کو آرڈر ملا کہ وہ ایس ایس جی کمپنی کے ساتھ موو کریں۔ جسے انہوں نے بخوشی قبول کر لیا۔


مجھے یاد ہے وہ دن جب میرے والد مشرقی پاکستان جا رہے تھے۔ میری ماں بہنیں بھائی اور سب احباب بہت پریشان تھے۔ میرے والد نے کھڑے ہو کر مجھے اپنے سینے سے لگایا۔ میرے دادا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بولے کہ ابوجان آپ تو پدری محبت کی بدولت آنکھوں میں آنسو لئے بیٹھے ہیں مگر میرا کردار آپ کی تربیت کا نتیجہ ہے جس نے مجھے یہ سکھایا تھا کہ وقت پڑنے پر اپنے ملک و قوم کے لئے جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ آج میرا دیس مجھے پکار رہا ہے تو میں کیسے رُک سکتا ہوں میں اپنے بچے بھی آپ کے حوالے کرکے جارہاہوں اور یوں وہ یکم دسمبر 1971کو مشرقی پاکستان چلے گئے۔ میجر نصیب اﷲ خان (شہید) کمال کمپنی ایس ایس جی کی کمانڈ کر رہے تھے۔ جنگ چھڑنے کے بعد اپنے دشمن کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے رہے لیکن آخر کار 16دسمبر 1971کے موقع پر بہت سے پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا اُن میں میرے والدِ محترم میجر نصیب اﷲخان (شہید) بھی شامل تھے۔ ان کو بھارتی فوج نے گرفتار کیا اور کیمپ نمبر 44 میں بھیج دیا۔ پہلے ہی ہفتے انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے ایک سرنگ کھودی جو مکمل ہونے کے آخری مرحلے میں پکڑی گئی۔ میجر نصیب اﷲ خان کو کیمپ میں سینئر آفیسر ہونے کی بنیاد پر اس پلان کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا اور خطرناک ترین قیدیوں کی فہرست میں شامل کر کے انہیں اعلیٰ کمانڈ کے کہنے پر 40دن کے لئے کوٹھڑی میں بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ جون 1972کو انڈین حکام نے اُنہیں مزید محفوظ جیل رانچی ریل گاڑی کے ذریعے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں ان کے ایک ساتھی قیدی کیپٹن شجاعت جن کا تعلق 15 ایف ایف سے تھا واش روم گیا۔ اس امید پر کہ ہو سکتا ہے کہ فرار کی کوئی راہ ممکن ہو۔ اس نے ریل کی کھڑکی کی گرل کاٹی اور باہر چھلانگ لگا دی۔ یہ 30جون 1972کا دن تھا۔ میجر نصیب اﷲ خان (شہید) نے وضو کیا اور نماز ادا کرنے لگے۔ انڈین گارڈز نے اس کا ذمہ دار میجر نصیب اﷲ خان (شہید) کو ٹھہرایا کہ انہوں نے کیپٹن شجاعت کو فرار کرنے میں اس کی مدد کی ہے اور اب یہ بھی موقع پاتے ہی فرار ہوجائیں گے ۔ بھارتی فوج نے تمام بین الاقوامی قوانین کو بالاطاق رکھتے ہوئے دوران نماز ہی اُن پر فائر کھول دیا اور ان کے سینے کو چھلنی کر دیا۔ ا ن کے جسد خاکی کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا گیا۔ہمارے ابو میجر نصیب تو شہید ہوگئے لیکن اُن کی شہادت کے بعد جس طرح ہماری والدہ محترمہ نے ہماری تربیت کی اور ہر کٹھن وقت میں ہمارے لئے ایک آہنی دیوار ثابت ہوئیں وہ بے مثال ہے۔ یہ امی جان کی تربیت ہی تھی کہ میری دو بہن ڈاکٹر بنیں۔ بڑی بہن ڈاکٹر ناہید نصیب نے کھاریاں میں نصیب شہید میموریل ہسپتال قائم کیا۔ چھوٹی بہن نبیلہ پاک فوج میں میجر ڈاکٹر ہیں۔ ہم دونوں بھائی میں اور کیپٹن ریٹائرڈ نعیم نصیب ملٹری کالج جہلم کے لئے سلیکٹ ہوئے اور پاک فوج میں کمیشن حاصل کیااور ملک کی اُسی انداز میں خدمت کی جس طرح ہمارے والد چاہتے تھے۔ میرا بیٹا ساھم نصیب بھی ملٹری کالج سے ابتدائی تعلیم حاصل کرکے پی ایم اے کے لئے سلیکٹ ہوا اور اب الحمدﷲ پاک فوج میں بطورِ سیکنڈ لیفٹیننٹ خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جسے ہم اپنے ابومیجر نصیب شہید کے اُس جذبے کے رکھوالے ہیں جو وہ اپنے ملک اور قوم کے لئے رکھتے تھے۔ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے ہمارے خاندان کے خون کا ایک ایک قطرہ اس کی حفاظت کے لئے حاضر ہے۔

 
13
December

رپورٹ: غزالہ یاسمین

پاک فوج ایک مضبوط اور مستحکم ادارہ ہے اس ادارے کی روایات بھی بہت مضبوط ہیں۔ اس کے اپنے اصول اور قاعدوضوابط ہیں۔ اس ادارے میں ذمہ داریاں نبھانے والے اس کی مضبوطی میں اپنا اپنا حصہ ڈال کر سبکدوش ہوجاتے ہیں اور دوسرا شخص اس کی جگہ لے کر اس ادارے کے استحکام اور عزت میں اضافہ کرنے کے لئے اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کا آغاز کردیتا ہے جواس منفرد ادارے کی مضبوطی کا ضامن ہے۔


وزیراعظم کی جانب سے ہفتہ بمورخہ 26نومبر کی شام نئی فوجی قیادت کا اعلان کردیا گیا اور یوں مہینوں سے جاری انتظار اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔
فوج کے 16ویں سپہ سالار کی کمان سنبھالنے کی تقریب 29 نومبر 2016ء کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد مہمان خصوصی کو سلامی دینے والے دستے جن میں این ایل آئی ، فرنٹیر فورس اور سندھ رجمنٹ شامل تھیں میدان میں داخل ہوئیں۔ جن کی نمائندگی میجر حارث اسلم کر رہے تھے۔اس کے بعد ملٹری بینڈمیدان میں داخل ہوا۔ جس نے اپنی خوبصورت قومی اور علاقائی دھنوں سے حاضرین کومحظوظ کیا۔پھر ملٹری بینڈنے بگل بجا کر نامزد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی آمد کا اعلان کیا۔ اس کے بعد مہمان خصوصی جنرل راحیل شریف کی آمد کا اعلان بھی ہوااور وہ میدان میں داخل ہوئے توحاضرین نے تالیاں بجا کر اوراحتراماً کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔
پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔گارڈ کمانڈر سلامی کے چبوترے کی جانب بڑھے اور مہمان خصوصی کو اعزازی گارڈ کے معائنے کی دعوت دی۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ معائنہ مکمل کرنے کے بعد جنر ل راحیل شریف واپس سلامی کے چبوترے پر آ کر جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔بعدازاں مہمان خصوصی چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنے الوداعی خطاب میں جو چیدہ چیدہ پیغام دئیے ۔جو کچھ اس طرح سے تھے :
*’’بھارت ہماری تحمل کی پالیسی کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔‘‘
*’’نیشنل ایکشن پلان کو ملک میں مکمل امن قائم رکھنے کے لئے جاری رکھا جائے گا۔‘‘
*’’سی پیک کے دشمن دشمنی ترک کرکے اس کے ثمرات میں شریک ہوں۔ ‘‘
جنرل راحیل شریف نے اپنے الوداعی خطاب کے آخر میں مسلح افواج کے لئے دعائیہ کلمات کہے اوراللہ تعالی کا شکر ادا کیااور کہا مجھے فخر ہے کہ میں نے دنیا کی ’’بہترین آرمی ‘‘ کی تین سال قیادت کی۔
خطاب کے بعد جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کے نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ’’کمان سِٹک‘‘ سونپی۔تبدیلی کمان کے بعد دونوں سالار سلامی کے چبوترے پر پہنچے۔ جہاں پاک فوج کے دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔


تبدیلی کمان کی اس پروقار تقریب میں چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات‘پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکااللہ ‘ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان، ان کے علاوہ مسلح افواج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کے ساتھ ساتھ وفاقی وزر ا ء ،قومی اوربین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اورسفارتکاروں کی بہت بڑی تعداد نے اس پُروقار تقریب میں شرکت کی۔


پاک فوج کی نئی قیادت بہترین پیشہ ورانہ اور قائدانہ صلاحیت کی حامل ہے۔ آج قوم کو بھارت کے جارحانہ طرز عمل‘ لائن آف کنٹرول پر مسلسل اشتعال انگیزی‘ مقبوضہ کشمیر کی سلگتی ہوئی صورت حال‘ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے مودی سرکار کی سازشوں‘ ملک کے بعض علاقوں خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات‘ ضرب عضب کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کی باوقار طور پر بحالی‘ کراچی آپریشن کی حتمی تکمیل اور افغانستان سے روابط بہتر بنانے کی ضرورت کی شکل میں داخلی اور بیرونی محاذوں پر جو سنگین چیلنجز درپیش ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے میں یہ قیادت نتیجہ خیز کردار ادا کرے گی۔ انشاء اﷲ

tabdeelikaman.jpg

 

 
13
December

تحریر: صائمہ جبار

16دسمبر کی تاریخ کے ساتھ پاکستانیوں کی تلخ اور افسردہ یادیں وابستہ ہیں

17دسمبر 1971 کو سقوطِ ڈھاکہ ہوا اور مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ اس تاریخ کے ساتھ ماضی قریب کی ایک اور انتہائی دکھی یاد وابستہ ہے جس نے ہر پاکستانی کی آنکھ نم کر دی۔ 2014کی اسی تاریخکو آرمی پبلک اسکول پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کو قوم کیسے بھلا سکتی ہے جب کمسن ،بے گناہ اور نہتے بچوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور 136کے قریب معصوموں کو شہید کر دیا گیا۔


سوال یہ اٹھتا ہے کہ 16دسمبر کو ہونے والا آرمی پبلک اسکول حملہ کیا محض اتفاق تھا یا اس کے پیچھے بھی وہی عناصر تھے جنہوں نے 16دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان کے قیام میں کردار ادا کیا؟اس کے بارے میں کوئی ڈاکومنٹری ثبوت تو نہیں ہے مگر شواہد کاِ سرا انڈین اور افغان خفیہ ایجنسیوں سے جا ملتا ہے۔ گاہے بہ گاہے بھارت کے وزرا اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزرنے اپنی تقریروں میں اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ بھارت پاکستان میں موجود اپنے اثاثوں کو استعمال کرے گا ۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہ تحریکِ طالبان پاکستان کو کوئی بھی اپنے مفاد میں پیسہ دے کر استعمال کر سکتا ہے ۔ اور یہ بات تو منظرِ عام پر آ چکی ہے کہ پشاور حملے میں ٹی ٹی پی کا ہی ایک گروپ شامل تھا اور حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔


مکتی باہنی کس نے بنائی؟

مکتی باہنی ایک چھاپہ مار گوریلا تنظیم تھی جس نے بنگلا دیش کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔بھارت کی مدد سے تخلیق کردہ اس،دہشت گرد بنگلالیوں پر مشتمل، گروہ نے 1971میں قتلِ عام اورخواتین کی عصمت دری کی۔اس میں نہ صرف بنگالی بلکہ بھارتی فوج کے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے خصوصی گوریلاجنگ کی تربیت حاصل کر رکھی تھی۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گزشتہ برس بنگلا دیش کا دورہ کیا اور اپنی ایک تقریر میں برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرقی پاکستان کے قیام میں شامل بنگالی گوریلا فورس مکتی باہنی کو بھارت کی مدد حاصل تھی۔ مودی نے کہا کہ بھارتی فوج نے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر اپنا خون گرایا اور آنے والی نسلوں کو یہ معلوم ہو نا چاہئے کہ بھارتی فوج ہی تھی جس نے مکتی باہنی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملایا ۔


پاکستان کی نوجوان نسل کو بھی اس حقیقت کے بارے میں جاننا نہایت ضروری ہے۔ عام طور پر دنیا میں جو غلط تاثر دیا جاتا ہے اور بہت سے پاکستانی بھی اس پر یقین رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ شاید پاکستان کی فوج نے بنگالیوں پر ظلم کیااور یہ کہ اگر 1971میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمن اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو میں اتفاق ہو جاتا اور یکم مارچ 1971کے روز اسمبلی کا سیشن ہو جاتا تو پاکستان کبھی دولخت نہ ہوتا۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔تاریخ کے مطالعے سے اور مختلف مصنفوں کی تحریروں سے اس بات کے ٹھوس ثبوت ملتے ہیں کہ بھارت تو بہت عرصے سے 1971کی جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ اس نے تو سالوں سے مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کروانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔سوال یہ ہے کہ بھارت نے یہ منصوبہ کب بنایا تھا؟ جب خانہ جنگی شروع ہوئی تو کس کس نے کیا کردار ادا کیا؟
نہ صرف نریندر مودی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مکتی باہنی کے ساتھ مل کر بھارتی فوج نے بنگلا دیش قائم کیا بلکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایک سابق افسر آر کے یادیو اور 2014میں لکھی ایک کتاب
''Mission R&AW''
کے مصنف نے حال ہی میں اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ مکتی باہنی ’را‘ کی ایک بے بی تھی اور بھارتی ایجنسی ’را‘ اور مکتی باہنی نے مل کر پاکستان کو کٹ ٹو سائز کیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکتی باہنی نے جو قتلِ عام کیا اس کی ذمہ داری بھی بھارت پر ہی آتی ہے۔


1971کی جنگ کاریکارڈ کہاں گیا؟
مئی 2010میں بھارت کے ایک مشہور اخبار
"Times of India" Truth lost? Most military records of Bangladesh war missing) (
اپنے مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 1971کی جنگ کا تمام ریکارڈ تلف کیا جا چکا ہے۔ جب ٹائمز آف انڈیا نے دو سابق بھارتی مشرقی کمانڈ کے افسروں سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ 1971 کے مشرقی کمانڈ کے چیف جے ایس ارورا کے کہنے پر تمام جنگی ریکارڈ ضائع کیا جا چکا ہے۔
اسی آرٹیکل میں بتایا گیا کہ اس جنگی ریکارڈ میں مکتی باہنی کی تخلیق،قیام کا وقت، ان کو دئیے گئے آرڈرز،کیمپوں کی جگہوں اور تمام حساس معلومات شامل تھیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی تھا کہ کون ان کو ہدایات دے رہا تھا اور ان کی ٹریننگ کیسے کی جاتی تھی۔1971 کی جنگ کا ریکارڈ اس طرح غائب ہو جانا ایک حیرت انگیز بات ہے۔جبکہ اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے 1971کی جنگ کی وضاحت دیتے ہوئے اپنے ایک انٹر ویو میں برملا کہا کہ مکتی باہنی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔اور اس طرز پر کوئی گوریلامشرقی پاکستان میں نہیں تھے۔اور یہ بھی کہا کہ بھارت نے یکم مارچ 1971کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی وجہ سے مداخلت کی تھی۔


بھارتی سازش کب اور کیسے بنائی گئی؟
اب یہ بات واضح ہونا شروع ہو چکی ہے کہ مشرقی پاکستان کو الگ کروانا بھارت کی پرانی سازش اور منصوبہ تھا۔ بھارت اس سے اپنے سٹریٹیجک ہدف حاصل کرنا چاہتا تھا۔1970میں گنگا جہاز کے اغوا کی جھوٹی کہانی بنائی گئی، اس میں دو کشمیری نوجوانوں کو استعمال کیا گیا۔ اس کا بہانہ بنا کر بھارت نے پاکستان کا بھارت کے اوپر سے مشرقی پاکستان جانے کا راستہ بند کروا دیا۔اس کے بعد پاکستان کا مشرقی پاکستان کے ساتھ رابطہ قائم رکھنا نہایت مشکل تھا۔
درحقیقت اس خانہ جنگی کا منصوبہ تو بھارت نے مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ کے صدر شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ 25دسمبر 1962میں ہی بنا لیا تھا۔ڈھاکہ میں بھارتی سفارت خانے میں 1962کے دورانِ تعینات ایک بھارتی سفارت کارایس بینر جی نے لندن سے اپنی کتاب شائع کروائی جس کا نام
"India, Mujibur Rahman, Bangladesh Liberation and Pakistan"

ہے اس کتاب میں انہوں نے بتایا کہ تفضل حسین نامی مشرقی پاکستان کے اخبار کے ایک ایڈیٹر کی مدد سے شیخ مجیب الرحمن نے ایس بینرجی سے ان کے دفتر میں 25دسمبر 1962کے روز ملاقات کی اور ایک خفیہ خط بھارتی وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو کے نام بھجوایا۔ جس میں شیخ مجیب نے بھارت سے مدد مانگی تھی۔اور مشرقی پاکستان کی آزادی کی بات کی تھی۔اور اس بات کی خواہش کی تھی کہ وہ خود لندن منتقل ہو کریکم مارچ 1963 تک مشرقی پاکستان کی آزادی کی تحریک کا اعلان کرنا چاہتے ہیں۔ اس خط کا جواب اگرچہ بہت دیر سے دیا گیا لیکن بھارتی وزیرِ اعظم نے جواب میں شیخ مجیب کو ہدایات دیں کہ اس وقت حالات سازگار نہیں اور شیخ مجیب ڈھاکہ میں ہی رہ کر اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کریں۔ اسے عطیات دینے والی پارٹی بنائیں۔ ممبر شپ بڑھائیں،ہر علاقے میں جلسے ریلیاں کریں ۔اور جب لوگ ان کو گاندھی جی کی طرز پر سراہنے لگیں گے تو مناسب وقت آنے پر حملہ کر کے مشرقی پاکستان کو آزاد کروایا جائے گا۔
2013 میں امریکی مصنف جیری باس کی کتاب
"Blood Telegram"
اور بھارتی مصنف سری ناتھ راگھوان کی کتاب دی 1971میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے بھارت کی 1971کی جنگ میں اسلحہ سمیت ہر ممکن مدد کی تھی۔اور پروپیگنڈا کرنے میں بھی پیش پیش تھا۔
1971 میں کتنی اموات ہوئیں اور مرنے والے کون تھے؟
گزشتہ برس ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلا دیش نے پاکستان سے تعلیمی روابط ختم کرنے کا اعلان کیا اور شرط عائد کی کہ جب تک پاکستان 1971 میں کئے گئے قتلِ عام کی معافی نہیں مانگتا تب تک تعلیمی روابط استوار نہیں کئے جائیں گے۔ لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسی ڈھاکہ یونیورسٹی میں جگن ناتھ ہال کے باہر جو اجتماعی قبر ہے اسے گزشتہ 44برس سے نہ تو یونیورسٹی اور نہ ہی حکومت نے کھدوایا اور اس بات کا پتا کیوں نہیں لگایا کہ یہاں کتنی لاشیں دفن ہیں اور ان کی شناخت کیا ہے؟در اصل ایسا نہ کرنے کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ اسی یونیورسٹی میں شریش تولہ کے مقام پر ایک میموریل ہے جس میں لگی لسٹیں بتاتی ہیں کہ 1971کے سال میں 149لوگ مارے گئے جن کا تعلق یونیورسٹی سے تھا۔ جن میں استاد،سٹاف اور طالب علم شامل ہیں۔
اسی تعداد کے حوالے سے بھارتی نژاد آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والی مشہور مصنفہ شرمیلا بوس نے اپنی کتاب
"Dead Reckoning"
میں 1971 کی جنگ سے متعلق بہت سے انکشافات کئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 25مارچ کو یونیورسٹی میں مارے گئے افراد کی تعداد ہزاروں میں تو نہیں تھی مگر پاکستان آرمی کے بریگیڈ یئر اور کیپٹن کی وائرلیس بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ اس جگہ 300 کے قریب اموات ہوئیں۔ تو شرمیلا بوس سوال اٹھاتی ہیں کہ اگر یونیورسٹی میموریل میں 70سے 80 لوگ صرف یونیورسٹی کے تھے تو باقی 200لوگ کون تھے؟کیا وہ مکتی باہنی کے گوریلے تھے جنہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں رات کو پناہ لے رکھی تھی؟عوامی لیگ،بھارتی حکومت اور میڈیا اور مغربی زرائع ابلاغ گزشتہ 45سالوں سے جو نسل کشی کا الزام لگا رہے ہیں اس میں بہت بڑا ابہام ہے۔
شیخ مجیب الرحمن نے پہلی مرتبہ جنوری 1972میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ پاکستانی فوج نے 30لاکھ بنگالیوں کا قتلِ عام کیا۔ اسی مہینے 29جنوری میں شیخ مجیب نے ایک کمیٹی قائم کی جس کا کام ریکارڈ جمع کرنا تھا کہ کتنے لوگ مارے گئے اور کتنے زخمی ہوئے۔
امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائم کے ایک رپورٹر
(Wililam Drummond)
ولیم ڈرومونڈ نے ایک آرٹیکل
"The Missing Millions"
میں تحریر کیا کہ شیخ مجیب کی بنائی ہوئی تحقیقاتی کمیٹی نے مارچ 1972 کو جب کام کا آغاز کیا تو محض 2000 شکایات بنگلا دیش کی وزراتِ داخلہ کو (مارے گئے افراد کے حوالے سے) موصول ہوئیں۔اسی معاملے پر ایک بنگالی سکالر ڈاکٹر عبدالمومن چوہدری نے اپنی کتاب
"Behind the myth of three million"
میں حقائق سے پردہ اُٹھایا ۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ 30اپریل کو دینا تھی لیکن وہ تعطل کا شکار ہوئی۔ جب جولائی 1972میں 12رکنی کمیٹی نے شیخ مجیب کو رپورٹ پیش کی تو اس میں بتایا گیا کہ 1971میں مارے گئے افراد کی تعداد 56سے 57 ہزار کے قریب تھی۔جس میں بنگالی،مکتی باہنی کے لوگ، بہاری، مغربی پاکستان کے لوگ اور رضا کار بھی شامل تھے۔ شیخ مجیب اس رپورٹ کو دیکھ کر غصے میں آگیااور بولا کہ میں نے 30لاکھ افراد کے مارے جانے کی بات کی ہے اور رپورٹ میں تو تین لاکھ بھی نہیں بتائے گئے۔اس انکوائری رپورٹ کو کبھی پبلک نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس ذوالفقار بھٹو کے بنائے گئے حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1971میں 26 ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے۔جن میں ساڑھے چار ہزار پاکستانی فوجی بھی تھے۔یہ رپورٹ اس اعدادو شمار پرمبنی تھی جو مشرقی پاکستان کمانڈ‘ جی ایچ کیو راولپنڈی بھیج رہی تھی۔


نسل کشی کس نے کی؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1971میں ہونے والا قتلِ عام اور نسل کشی کس نے کی؟بہت سے انٹرویوز ، آڈیوز اور ویڈیو زریکارڈ کا حصہ ہیں جس میں عینی شواہدین نے بتایا کہ مکتی باہنی نے قتلِ عام کیا۔جنگ کی کوریج کرنے والا ایک امریکی صحافی برٹ کوینٹ کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ جب ہمیں دریا کا دورہ کروایا گیا تو ہم نے بے شمار تیرتی لاشوں کو دیکھا اور وہاں موجود دیہاتیوں نے بتایا کہ یہ لوگ جنگ کے دوران نہیں مارے گئے بلکہ ان کو بعد میں قتل کیا گیا جب پاکستانی فوج علاقے سے واپس جا چکی تھی۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج کی تعداد مشرقی پاکستان میں کتنی تھی؟


امریکی سی آئی اے اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹس سمیت بیشتر رپورٹس کے مطابق 25مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان میں پاکستان کی فوج کی تعداد 20ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ بھارت نے پاکستان سے مشرقی پاکستان کا ہوائی راستہ بند کر رکھا تھا۔ نومبر دسمبر 1971میں فوجیوں کی کل تعداد 41ہزار کے لگ بھگ تھی۔جبکہ بھارت جو بات کرتا ہے کہ اس کے پاس 93ہزار جنگی قیدی تھے تو ان میں صرف 34ہزار پاکستانی سپاہی اور افسر تھے جبکہ باقی قیدیوں کا تعلق پولیس، کسٹم اور دوسرے سول اداروں سے تھا۔


اب اگر دیکھا جائے کہ صرف چند ہزار پاکستانی فوج تھی۔جس پر چاروں اطراف سے حملے ہو رہے تھے اور وہ ایک گوریلا جنگ لڑ رہے تھے۔تو کیسے یہ الزام تراشی کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں نسل کشی کی یا عصمت دری کی۔نسل کشی کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ نسل، رنگ، اور مذہب کی بنیاد پر عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو مارنا۔
شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ پاکستانی فوج پر جن علاقوں میں مارنے کے الزام لگے ان میں تھانہ پرا، چپ نگر، بورائے تولا،جن جیرا اور ڈھاکہ یونیورسٹی شامل ہیں۔ یہاں پاکستانی فوج نے جنگجو نوجوانوں کو نشانہ بنایا جن پر مکتی باہنی کا گوریلا ہونے کا شک تھا۔یہ لوگ آبادی میں گھل مل جاتے تھے۔ جبکہ پاکستانی فوج نے عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
اس کے برعکس مکتی باہنی اور عوامی لیگ نے قتلِ عام کیا۔انہوں نے بلا تفریق مغربی پاکستان کے آباد کاروں، بہاریوں اور پاکستان کے ہمدرد قوم پرستوں کو مارا۔ حتیٰ کہ بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کو بھی نہ بخشا۔


اس کے ثبوت بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ دریاؤں، ندیوں اور نالوں میں بہنے والی ہزاروں لاشیں بہاریوں کی تھیں جن کو مکتی باہنی اور عوامی لیگ نے نشانہ بنایا۔جہاں بھارت اور بنگلا دیش دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ہر طرح کی الزام تراشی کر رہے ہیں وہاں پاکستان میں رہنے والے ہر طبقے کو چاہئے کہ وہ تاریخی حقائق کومدِ نظر رکھے اور خطے میں بھارتی عزائم کو نظر اندازنہ کرے۔ بھارت نے ماضی میں بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے مختلف علاقوں میں خانہ جنگی کروانے کی کوشش کی ہے ۔ جیسے کہ 1948 میں حیدر آباد میں آپریشن پولو،گووا ہو یا سقم، تامل گوریلہ موومنٹ ہو یا گزشتہ برس کی جانے والی نیپال کی ناکہ بندی بھارت اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حد سے آگے جا سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بھارت کے ان منصوبوں کو اور بھارتی شاطر چالوں کو سمجھا جائے اور بچنے کی کوشش کی جائے۔ بھارت بلوچستان اور کراچی میں کچھ گروہوں کو استعمال کر کے بد امنی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بھارت کی سرگرمیاں ابھی بھی پاکستان میں موجود اپنے اثاثوں کے ذریعے جاری ہیں تاہم اب پاکستانی خفیہ ادارے کافی حد تک چوکنے ہیں اور بھارتی ایجنٹ کل بھوشن یادیود کی گرفتاری اس کا ایک ثبوت ہے۔

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

نہ صرف نریندر مودی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مکتی باہنی کے ساتھ مل کر بھارتی فوج نے بنگلا دیش قائم کیا بلکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایک سابق افسر آر کے یادیو اور 2014میں لکھی ایک کتاب

''Mission R&AW''

کے مصنف نے حال ہی میں اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ مکتی باہنی ’را‘ کی ایک بے بی تھی اور بھارتی ایجنسی ’را‘ اور مکتی باہنی نے مل کر پاکستان کو کٹ ٹو سائز کیا۔

*****

 
13
December

تحریر: پروفیسر فتح محمد ملک

برطانوی استعمار مسلمانوں کو ایک الگ قوم اور اپنی جداگانہ مسلمان قومیت کی بنیادپر پاکستان کے قیام کی اجازت دینے سے انکاری تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اقلیت کے بجائے ایک جداگانہ ، منفرد اور مہذب قوم علامہ اقبال نے قرار دیا تھا۔ اِسی محکم استدلال کی ہر آن تازہ تر تشریح قائداعظم کے حصے میں آئی تھی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آزاد اور خود مختار مملکت کے اِس تصور کو آل انڈیا مسلم لیگ کا سیاسی پروگرام بنا کر مسلمانوں کو ایک عوامی جمہوری تحریک کے پرچم تلے جمع کر لیا تھا۔ ایسے میں اُس وقت کے برطانوی وزیراعظم مسٹر ایٹلی کا 15۔مارچ 1946ء کو برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں کابینہ مشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے وقت بڑی رعونیت کے ساتھ یہ کہنا بہت معنی خیز تھا کہ
"We are mindful of the rights of the minorities. On the other hand we cannot allow a minority to place a veto on the advance of a majority."
برطانوی وزیراعظم کی یہ دھمکی کہ وہ مسلمان ’’اقلیت ‘‘کو ہندو اکثریت کے مفادات پر ویٹو کا حق ہرگز نہ دیں گے قابل غور ہے۔ اِس پُرفریب جملے کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ برطانوی استعمار برصغیر کے مسلمانوں کوکسی صورت میں بھی پاکستان قائم کرنے کی اجازت نہ دے گا۔ برطانوی استعمار کی اپنے اِس مذموم مقصد کے حصول میں ناکامی صرف ایک شخص کے ایمانِ محکم اور ندرتِ کردار کا نتیجہ تھی۔ اِس عظیم شخصیت کو دُنیا قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے پہچانتی ہے۔

quaidaurrsatr.jpg
قائداعظم برطانوی استعمار کے مکر و فریب سے بھی آگاہ تھے اور اُس کی اندرونی کمزوریوں سے بھی خوب واقف تھے۔ اپنے ایک انٹرویو میں قائداعظم نے کابینہ مشن کے عیار ترین اور طاقتور ترین رُکن سرپیتھک لارنس کو ایک ایسا مداری

(that ingenious juggler of words)

قرار دیا تھا جولفظوں کے گورکھ دھندوں سے فریب کے جال بننے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ایک برطانوی سیاسی مؤرخ لیونارڈ موزلے اپنی کتاب بعنوان

The Last Days of the British Raj

میں لکھتا ہے کہ قائداعظم سے ملاقات کے تصور ہی سے کابینہ مشن کے ارکان کی جان جاتی تھی
"Jinnah depressed them by his cold, arrogant, insistant demand for Pakistan or nothing. An encounter with Jinnah cast them down."
چنانچہ قائداعظم نے مذاکرات کی میز پر بھی ہتھیار پھینک دینے کی بجائے دادِ شجاعت دینے کی حکمت عملی اپنائی۔ نتیجہ یہ کہ جب کابینہ مشن پلان منظر عام پر آیا تو کانگرسی حلقوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ غُل مچا کہ ہم ایک پاکستان پر بھی تیار نہیں مگر آل انڈیا کانگریس کے لیڈر ابوالکلام آزاد نے دو پاکستان دے دیئے ہیں۔ چنانچہ بلا تاخیر مولانا آزاد کو مسندِ صدارت سے ہٹا کر جواہر لعل نہرو کو کانگریس کا صدر مقرر کر دیا گیا۔ پنڈت نہرو نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کابینہ مشن پلان کے لفظ تو وہی رہنے دیئے مگر معنی تبدیل کر کے رکھ دیئے۔حر ف و معنی کے اِس تصادم پر قائداعظم کے ردِعمل کو لیونارڈ موزلے درج ذیل لفظوں میں بیان کرتے ہیں
"Mr. Jinnah reacted to Nehru's statement like an army leader who has come in for armistic discussion under a flag of truce and finds himself looking down the barrel of a cocked revolver."
جلد وہ وقت آ پہنچا جب قائداعظم نے اپنی جیب سے بھرا ہوا پستول باہر نکالا اور برطانوی سامراج کے سینے پر تان دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب ہم بند کمرے میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر وقت برباد کرنے کے بجائے زندگی کے کھلے میدان میں مسلمان قوم کی عوامی عدالت میں جائیں گے۔ چنانچہ 16اگست کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے (راست اقدام کے آغاز کا دن )قرار دے دیا گیا۔ جولائی کے آخری ہفتے میں مسلم لیگ کونسل کے اجلاس منعقدہ بمبئی میں اپنے خطاب کے دوران قائداعظم نے اعلان فرمایا کہ
"....All these prove clearly beyond a shadow of doubt that the only solution of India's problem is Pakistan. I feel we have exhausted all reasons. It is no other tribunal to which we can go. The only tribunal is the Muslim nation."
چنانچہ مسلم لیگ کونسل نے ایک قرارداد میں مسلمان عمائدین سے مطالبہ کیا کہ برطانوی سامراج کی مسلمان دشمن حکمتِ عملی پر احتجاج کے طور پر وہ تمام برطانوی خطابات واپس کر دیں اور برطانوی ہند کی انگریز حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کریں:
"The time has come for the Muslim nation to resort to direct action to achieve Pakistan and to get rid of the present slavery under the British and contemplated future Caste Hindu domination".
بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے برطانوی حکومت کے خلاف مسلمان عوام کے اس راست اقدام کو قیامِ پاکستان سے برطانوی حکومت کے انکار پر احتجاج کا نام دیا۔یہ راست اقدام کلکتہ سے لے کر پشاور تک پورے برصغیر میں قیامِ پاکستان کے حق میں ایک ریفرنڈم ثابت ہوا۔ کلکتہ کے جلوس سے بلند ہونے والا یہ نعرہ کہ’’ لڑ ،کے لیں گے پاکستان‘‘مسلم ہندوستان کے گلی کوچوں میں گونجنے لگا اور بالآخر مسلمان قوم کے اِس عوامی جمہوری احتجاج کے سامنے برطانوی حکومت نے ہتھیار پھینک دیئے اور یوں پاکستان وجود میں آ گیا۔

پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
December

تحریر: فرخند اقبال

اس وقت ساری دنیا کی نظریں امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے وا لے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز ہیں۔ جنوری میں باضابطہ طور پر امریکہ کے 45ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے وقت میں عنان اقتدار سنبھال رہے ہیں جب امریکہ کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی کے منفرد دور کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں خارجی سطح پر امریکہ کے چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کا فوکس یورپ، ایشیاء اور مشرق وسطیٰ پر ہے جہاں وہ عالمی منظرنامے پر تیزی سے اُبھرتی ہوئی دو طاقتوں روس اور چین کے ساتھ طاقت کے موجودہ توازن کو قائم رکھنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔یہ ا یک ایسا موضوع ہے جس پر دنیا بھر میں سیاسی مبصرین نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع خارجہ پالیسی کے تناظر میں تبصرے کررہے ہیں لیکن اس جنگ کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر اس کی اہمیت کے مطابق بحث نہیں کی جارہی۔ دراصل یہ ممالک اس جنگ کو اب کرہ ارض سے بہت دور خلاء میں منتقل کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت لے جاکر مستقبل میں جنگی مقاصد کے لئے خلاء پر اپنا کنٹرول جمانے کی کوششیں کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں زمین کے بعد اب خلاء میں بھی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس وقت خلاء میں ان ممالک کے ایسے سیاروں کی موجودگی میں اضافہ ہورہا ہے جو کسی بھی تنازعے کی صورت میں مخالف ملک کے سیاروں کو تباہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نیچے زمین اور سمندروں میں موجود ان کی جنگی تنصیبات اور جہاز ایسے طاقتور راکٹوں اور میزائلوں سے لیس ہیں جو کہ چند لمحوں میں خلاء میں موجود دشمن کے خلائی جہازوں اور سیٹلائٹس کو تباہ کرسکتے ہیں۔ یہ ممالک ہر سال خلائی دفاعی بجٹ پر اربوں ڈالر کی رقوم خرچ کرتے ہیں جس میں بدستور اضافے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ فی الوقت امریکہ کو اس میدان میں بھی برتری حاصل ہے اور وہ دیگر دو ممالک سے بہت آگے ہے۔معتبر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی مئی 2016کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگان خلائی پروگرام پر سالانہ 22بلین ڈالر کی رقم خرچ کرتا ہے اور وہ اس سال اس مد میں 5بلین ڈالر کی مزید رقم کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس میں خلاء پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے جنگی مقاصد کے بہت خفیہ رکھے جانے والے پروگرامز شامل ہیں جس کے لئے 2بلین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔

khlaihatyar.jpgامریکہ کی خلا ء میں برتری کئی عشروں سے قائم ہے اور وہ سول مقاصد کے علاوہ جنگی مقاصدکے حصول کے لئے ہمیشہ اس سے استفادہ کرتا رہا ہے۔امریکہ نے 2001میں افغانستان جنگ میں انٹیلی جنس سیاروں کی مدد سے نہ صرف فوٹوگرافی اورریڈار تصاویرکے ذریعے طالبان پر کڑی نظر رکھی بلکہ جدید خلائی دفاعی نظام کے ذریعے جنگ کے دوران میدان میں موجود اپنے فوجیوں کوان کی کارروائیوں پر اثرانداز ہونے والی اچانک موسمی تبدیلیوں سے بھی باخبر رکھا، جبکہ میدانِ جنگ میں ان کے درمیان منظم روابط برقرار رکھنے اور انھیں دشمن کی موجودگی کے مقامات بتانے کے ساتھ ساتھ اسے ہدف بنانے میں بھی مدد فراہم کی۔ اس کے بعد امریکہ نے جب 2003میں عراق پر حملہ کیا تو بحیرہ احمر اور خلیج فارس میں موجود امریکی جنگی جہازوں نے ہزاروں میل اوپر خلاء میں رکھے گئے جی پی ایس سیٹلائٹس کی مدد سے کروز میزائلوں سے دشمن کے اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اسی نظام کی مدد سے خاموشی سے کارروائی کرنے والے جنگی طیاروں سے ٹھیک نشانے پر بم برسائے گئے جس نے چند ہی دنوں میں عراقی افواج کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس کے بعد بھی صدر باراک اوبامہ کے اقتدار کا ایک طویل دورانیہ خلاء میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے کنٹرول ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کے واقعات سے بھرپور رہا ( یہ حملے افغانستان، پاکستان، لیبیا، عراق، صومالیہ اور یمن میں کئے گئے) ا مریکہ اپنی خلائی طاقت میں اضافہ کرنے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے اور وہ وقتاً فوقتاً خلاء میں مختلف مشنز بھیجتا رہتا ہے جس میں زیادہ تر کا تعلق اس کے خلائی دفاعی نظام کے ساتھ ہوتا ہے۔ خلائی امور پر نظر رکھنے والے معروف ادارے
Space.com
کے مطابق امریکہ کی جانب سے 20مئی 2015کو خلاء میں لانچ کئے جانے والا خلائی جہاز بوئنگ -ایکس 37کو بھی خلاء میں موجود سیاروں کو تباہ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ امریکی خلائی طاقت کی صرف چند مثالیں ہیں جسے بیان کرنے کے لئے اس مضمون کا دامن ناکافی ہے۔لیکن اب روس اور چین اس میدان میں بھی امریکہ کی برتری چیلنج کرنے کے لئے کمر کس رہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 21ویں صدی کی بین الاقوامی سیاست میں عالمی طاقت بننے کے لئے زمینی، بحری اور فضائی طاقت کے ساتھ ساتھ اب ایک بھرپور خلائی طاقت بننا بھی لازمی ہے۔انھیں بخوبی احساس ہے کہ مستقبل قریب میں ایک مضبوط خلائی دفاعی نظام کی عدم موجودگی ان کی روایتی طاقتوں (زمینی، بحری اور فضائی افواج)کو غیر متعلق بنا سکتی ہے اور انھیں اس دوڑ میں بہت پیچھے رکھنے کا باعث بن سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ خلاء کو ہتھیاروں سے لیس کرنے یا وہاں سول مقاصد کے لئے پہلے سے موجود سیاروں کو جنگی مقاصد کے لئے تیار کرنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو رہے ہیں جو کہ مستقبل میں ناقابل تصور خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ان خدشات کے پیش نظر امریکی فضائی فوج کی میجر جنرل نینا ارمانگو نے اکتوبر میں
US Air Force Space Command
کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ روس اور چین2025 میں خلاء میں امریکی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی اہلیت حاصل کر لیں گے اس لئے امریکہ کو چاہئے کہ وہ اپنے اس نظام کے تحفظ کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے۔


دیکھا جائے تواس وقت چین کا سالانہ خلائی بجٹ 3بلین ڈالر ہے۔ سال 2015 میں خلاء میں 19کامیاب مشن بھیجنے کے بعد چین نے اس سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2016میں 20سے زائد سویلین اور ملٹری خلائی مشن بھیجے گا۔ ان مشنزمیں نئے راکٹوں کے تجربات کرنا، خلائی لیبارٹری قائم کرنا، خلابازوں کو خلاء میں بھیجنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور نئے سیارے بھیجنے کے منصوبے شامل ہیں۔اس کے علاوہ چین اینٹی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے جس کا مقصدکسی تنازعے کی صورت میں خلاء میں موجود مخالف فریق کے سیاروں ودیگر اہداف کو تباہ کرنا یا بے کار بنانا ہے،اس میں زمین سے چھوڑے جانے والے راکٹ شامل ہیں جس کے ذریعے خلاء میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا جبکہ لیزرز اور سگنل جیمرزکے ذریعے سیاروں کو بے کار بنایا جائے گا۔
US Strategic Command
کے سابق کمانڈر سیسل ڈی ہینی نے 25فروری 2015 کو امریکی کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ چین خلائی جنگ کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے جو کہ امریکی سٹریٹجک سیٹلائٹ نظام کے لئے خطرہ ہے۔ ان کے مطابق ’’ہم خلاء میں انتہائی پریشان کن رجحانات دیکھ رہے ہیں، بالخصوص چین اور روس کی جانب سے، جو کہ خلاء میں اپنی جنگی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کو فروغ دینے کی کارروائیوں کا کھلے عام اظہار کرتے ہیں۔‘‘ اس سے قبل امریکی کانگریس کی امریکہ،چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیٹی نے بھی دسمبر 2014میں اپنی سالانہ رپورٹ میں چین کے خلاء میں جنگی پروگرام میں توسیع کرنے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔اس کے علاوہ مختلف امریکی دفاعی عہدیدار وقتاً فوقتاً چین کی خلاء میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
اس خطرناک کھیل کا تیسرا بڑا کھلاڑی روس ہمیشہ سے خلائی میدان میں امریکہ کے لئے درد سر رہا ہے۔ روس سویت یونین کے زمانے میں خلائی پروگرام میں کسی وقت امریکہ سے بھی آگے تھالیکن وہ1991میں افغان جنگ میں شکست کے نتیجے میں کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور میں داخل ہوگیا جس کے بعد اس کے لئے اپنا خلائی پروگرام اس شد و مد سے جاری رکھنا ناممکن ہوگیا تھا۔لیکن صدر پیوٹن کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے 2006 میں اپنا یہ ادھورا سفر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ پیوٹن کی حکومت اس وقت سے خلائی بجٹ میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے اور اب وہ بالآخر ایک بار پھر امریکہ کو چیلنج کرنے کے لئے خلاء میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہورہا ہے۔ 2012 میں سیٹلائٹس بنانے والی بڑی کمپنی آئی ایس ایس ریشٹنیوف میں روس کے 85فیصد ملٹری سیٹلائٹس کو مزید ترقی یافتہ بنایا گیا۔اسی کمپنی نے رواں سال کے وسط میں ایک بیان دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت خلاء میں روس کے 91سیارے گردش کر رہے ہیں۔ 17 نومبر 2015کو روس کی وزارت دفاع نے شام میں جاری ماسکو کی فوجی مہم میں مدد فراہم کرنے کے لئے استعمال ہونے والے اپنے خلائی اثاثوں کی تفصیلات جاری کیں۔ چیف آف جنرل سٹاف ویلری جیراسموف کے مطابق اس مہم میں دس خلائی جہاز استعمال کئے جارہے ہیں۔نومبر 2015 میں ہی روس نے اپنے پہلے ا ینٹی سیٹلائٹ میزائل )نیوڈل میزائل ( کا بھی کامیاب تجربہ کیا۔ روس اپنی خلائی طاقت میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔ مشکلات میں گھری ہوئی صنعت کے باوجود روس کی وفاقی حکومت نے 16مارچ 2016 کو ایک سال کے طویل انتظار اور بحث و مباحثے کے بعد اگلے دس سال تک خلائی پروگرام کے لئے 20.5بلین ڈالر کا بجٹ منظور کرلیا۔اس موقع پر روسی وزیر اعظم ڈمرٹی میدویدوف نے بیان دیا کہ ’’یہ ایک بڑا پروگرام ہے لیکن ہمیں ایسے حالات میں بھی اس قسم کے بڑے پروگرامز کی ضرورت ہے جبکہ ہماری معیشت مشکل حالات سے دوچار ہے۔‘‘ اس کے بعد اگست میں
Russian Aerospace Forces
کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل وکٹر گومنی نے اعلان کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب خلا میں برتری حاصل کرنے کی جنگ عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کے لئے نئی طرز کے ہتھیاروں کی ضرورت ہے ، حکومت عنقریب کرہ ارض سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل میزائل نظام فوج کے حوالے کرے گی۔ان چند مثالوں سے روس کی اس نئی خلائی جنگ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


دوسری جانب امریکہ اس ساری صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔بے شک وہ اس وقت ہر لحاظ سے کرہّ ارض کی سب سے بڑی طاقت ہے جس کی حیثیت مسلمہ ہے لیکن اب شاید تہذیبوں کے عروج و زوال کا وہ چکر دوبارہ شروع ہوچکا ہے جس میں کبھی چین تہذیبوں کا گہوارہ رہا تھا اور روس کو وہ ریچھ کہا جاتا تھا جو کسی جگہ پر اپنے پنجے گاڑ لیتا تھا تو پھر اسے کوئی طاقت وہاں پر قبضہ جمانے سے نہیں روک سکتی تھی۔صاف نظر آرہا ہے کہ خلاء میں ہتھیاروں کی یہ نئی دوڑ بہت تیزی سے آگے بڑھے گی۔ا مریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتہائی جارحانہ عزائم رکھنے والے راہنماکے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اپنی انتخابی مہم میں انھوں نے ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے‘‘کے نعرے کے ذریعے امریکی عوام کی بڑی تعداد کو اپنی جانب کھینچا ہے۔ امریکی عوام صدر باراک اوبامہ کی خارجہ پالیسی سے کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آئے ،وہ عالمی منظرنامے پر کسی بھی تنازعے یا کشمکش میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو قابو نہیں کرسکے۔ڈونلڈ ٹرمپ خارجہ پالیسی میں اس خلاء کو پرکرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ یورپ، ایشیا، مشرق وسطی کے ساتھ ساتھ خلاء میں اپنی برتری قائم رکھنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اس وقت چین کا سالانہ خلائی بجٹ 3بلین ڈالر ہے۔ سال 2015 میں خلاء میں 19کامیاب مشن بھیجنے کے بعد چین نے اس سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2016 میں 20سے زائد سویلین اور ملٹری خلائی مشن بھیجے گا۔ ان مشنزمیں نئے راکٹوں کے تجربات کرنا، خلائی لیبارٹری قائم کرنا، خلابازوں کو خلاء میں بھیجنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور نئے سیارے بھیجنے کے منصوبے شامل ہیں۔اس کے علاوہ چین اینٹی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے جس کا مقصدکسی تنازعے کی صورت میں خلاء میں موجود مخالف فریق کے سیاروں ودیگر اہداف کو تباہ کرنا یا بے کار بنانا ہے۔

*****

 
13
December

تحریر: اویس حفیظ

گزشتہ دنوں یہ خبر سننے کو ملی کہ بھارتی پارلیمینٹ میں ایک
Geospatial Information Regulation Bill
پیش کیاجارہاہے جسے قانونی شکل دئیے جانے کی صورت میں جموں و کشمیر ، اروناچل پردیش سمیت بعض دیگر متنازع علاقوں کوبھارت کے نقشے کا حصہ نہ دکھانے پر 7سال تک قید اور 100کروڑ روپے تک کا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم پاکستان نے اس پر فوری ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اور وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر سے متنازع بل کی بھارتی پارلیمان سے منظوری کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے خطوط کے ذریعے اقوامِ متحدہ کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کروائی ہے کہ یہ بل تو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کے بھی خلاف ہے جس میں کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا ہے۔

kasmiryounkab.jpgمیری دانست میں بھارت کی جانب سے اس طرح کے اقدام کا مقصد کشمیر میں جاری آزادی کی نئی لہر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے کیونکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی جنگ ر بروز تیز ہو رہی ہے اور کشمیریوں کی نئی نسل نے ہتھیار ڈالنے کے بعد مذاکرات اور گفت و شنید کے کھیل کا انجام بھی دیکھ لیا ہے کہ کشمیریوں کو گزشتہ 7دہائیوں میں سوائے وعدۂ فردا اور گمنام قبروں کے کچھ حاصل نہیں ہو سکا۔یہ آزادی کی جنگ میں شدت کا اثر ہی ہے کہ کشمیر میں ہر روز، چار نوجوانوں کو شہید کر کے انہیں مختلف قسم کی جہادی تنظیموں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ا بھی حال ہی میں آزادکشمیر کی وادئ نیلم میں بھارتی فوج نے مسافر بس کو نشانہ بنایا جس میں کئی مسافر شہید ہو گئے۔ عام اور نہتے کشمیریوں پر چھرے فائر کر کے سیکڑوں افراد کو نابینا اور معذور بنا دیا گیا ہے۔ شاید بھارت یہ خیال کر رہا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے وہ کشمیریوں کو دبانے میں کامیاب ہو جائے گا مگر جن لوگوں کی تمام عمر ہی جہدسے عبارت ہو، انہیں اس قسم کے حربوں سے کیا فرق پڑتا ہے اور ویسے بھی اب کشمیریوں کے پاس کھونے کے لئے بچا ہی کیا ہے؟ جب ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے شہید کئے جا رہے ہوں، ان کی بہنوں کی عصمت دری کی جارہی ہو تو وہ کیونکر امن اور مذاکرات کی بات کریں۔ پھر طرفہ تماشا یہ کہ بھارتی دانشور اور پالیسی ساز ادارے اب تک یہ ہی نہیں جان پائے کہ وادی میں’’شدت پسندی‘‘ میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟


بھارت یہ سارے اقدام گزشتہ کچھ عرصہ سے ہونے والی پے درپے خفتوں کے ازالے کے طور پر کر رہا ہے کیونکہ اب کشمیر کا مسئلہ نہ صرف عالمی برادری میں انتہائی نمایاں طور پر اجاگر ہو رہا ہے بلکہ عالمی برادری میں بھارت روز بروز تنہا بھی ہوتا جا رہا ہے ۔ کچھ ہفتے قبل معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ ’’ٹوئٹر ‘‘پر دنیا کا نقشہ جاری کیا گیا تھا جس میں کشمیر کو چین اور جموں کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا تھا، اس پر بھارت نے شدید واویلا مچایا ، پھر گزشتہ برس اپریل میں عرب ٹی وی چینل ’’الجزیرہ ‘‘نے کشمیر کو نقشے میں چین اور پاکستان کا حصہ دکھایا تھا جس پر بھارت بہت سیخ پا ہوا اور الجزیرہ کی نشریات پانچ دن کے لئے بند کر دی ۔اس سے قبل ستمبر 2014ء میں چینی صدر کے دورۂ بھارت کے دوران بھی اسے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں خفت کا سامنا کرنا پڑا جب ریاست گجرات کی حکومت کی طرف سے احمد آباد میں ایک معاہدے پر دستخط کے وقت چینی صدر چی چن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک نقشہ تقسیم کیاگیا، جس میں اروناچل پردیش اور جموں کشمیر کو متنازع علاقے کے طور پر دکھایا کیا گیا تھا(اور حقیقت بھی یہی ہے) مگر اس پر بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا اور یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ حکومت اور وزیراعظم قوم سے معافی مانگیں۔ شاید بھارت یہ فراموش کر رہا ہے کہ اس نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کو ایک ’’متنازع علاقہ‘‘ تسلیم کر رکھا ہے۔اس آرٹیکل کی روسے جموں کشمیر کو دوسری ریاستوں کے مقابلے میں خصوصی درجہ دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ بھارتی قوانین کے بارے میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ یہ جموں کشمیر کی ریاست کے علاوہ پورے بھارت میں لاگو ہوں گے، جموں وکشمیر کا اپنا آئین ہے جس کے مطابق وہاں کی اسمبلی ریاست کشمیر کے لئے قانون بنانے کی مجا ز ومختار ہے۔ یہ آرٹیکل 370ہی ہے جس کے ذریعے کسی نہ کسی صورت میں، بھارت بھی کشمیر کی ایک جداگانہ حیثیت تسلیم کرتا ہے۔اگرچہ اس وقت بھارت میں یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ مذکورہ آرٹیکل بلا ضرورت ہے اور اسے بھارت کے آئین کا حصہ بنانے والوں نے دانشمندی سے کام نہیں لیا لہٰذا اسے ختم کردینا چاہئے اور اس حوالے سے بسا اوقات مختلف بھارتی عہدیداروں اور وزراء کے بیانات بھی سننے کو ملتے ہیں مگر کیا بھارت نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ آرٹیکل 370ختم کرنے کے مضمرات کیا ہیں، اس کو ختم کرنے کے بعد کیا ہو گا؟

kasmiryounkab1.jpg


بھارت کشمیر پر اپنا حق جتانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا مگر خود کشمیریوں کی جانب سے اسے ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال حال ہی میں کشمیر میں منعقد ہونے والا شہید خالد کرکٹ لیگ کا انعقاد ہے جس میں حصہ لینے والی اکثر ٹیموں کے نام مجاہدینِ آزادی کے نام پر رکھے گئے تھے۔


شہید خالد کرکٹ لیگ کا انعقاد جنوبی کشمیر کے علاقے ترال میں کیا گیا تھااور دو ماہ تک چلنے والے اس کرکٹ ٹورنامنٹ میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا تھا جن میں کم از کم 3ٹیمیں ایسی تھیں جنہوں نے اپنے نام حریت پسند کمانڈرز کے نام پر رکھے تھے جبکہ باقی ٹیموں کانام پاکستان سپر لیگ اور آئی پی ایل کی طرز پر رکھا گیا تھا۔ ایک ٹیم کا نام ’’حزب المجاہدین‘‘ کے شہید ایریا کمانڈر ’’برہان وانی‘‘ کے نام پر ’’برہان لائنز‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ برہان وانی مقامی ہیڈ ماسٹر کے بیٹے تھے جنہیں کرکٹ سے بہت شغف تھا مگر 2010ء میں انہوں نے گھر بار چھوڑ کر حزب میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ایک دوسری ٹیم کا نام برہان ہی کے شہید بھائی ’’خالد مظفر وانی‘‘ کے نام پر ’’خالد آرئنز‘‘رکھا گیا تھا۔اس ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم بھی یہی تھی اور ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی شہید خالد مظفر کے نام پر ہی کیا گیا تھاجو گزشتہ برس پلوامہ میں اس وقت شہید کر دئیے گئے جب وہ اپنے بھائی سے ملنے جا رہے تھے۔ایک اور ٹیم ’’عابد قلندرز‘‘ کا نام 2014 میں شہید ہونے والے حزب کمانڈر عابد خان کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کو خالد ظفر کے ایک دوست نے ان کی یاد میں منعقد کروایا تھا اور اس کے حوالے سے بھارت کی آنکھوں میں چبھنے والی باتیں یہ تھیں کہ ایک تو اس کی افتتاحی و اختتامی تقریبات میں ’’چیئرلیڈرز گرلز‘‘ کے بجائے آزادی کے نغمے نشر کیے گئے ، دوسری یہ کہ ہندواڑہ میں ہونے والی شہادتوں پر جب شٹرڈاؤن کی کال دی گئی تو ان دنوں میچز کا انعقاد بھی نہیں کروایا گیا۔اس طرح 22فروری سے شروع ہونے والا 31میچوں کا یہ ٹورنامنٹ جو اپریل کے دوسرے ہفتے میں ختم ہو جانا تھا، 24اپریل تک چلتا رہا۔


بھارتی و مقامی میڈیا جہاں اس سپورٹس ایونٹ میں بھی حزب المجاہدین کا سراغ تلاش کرتے رہے وہیں مغربی میڈیا اس بات کو لے کر پریشان دکھائی دیا کہ ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ سپورٹس ٹیموں کے نام بھی ’’حریت پسند کمانڈروں‘‘کے نام پر رکھے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ امر جہاں ایک طرف کشمیریوں کی جانب بھارت سے اظہار نفرت ہے وہیں پر باقی دنیا کو بھی ایک پیغام ہے کہ کشمیر کہاں پر اور کس کے ساتھ کھڑا ہے۔ ’’کشمیری میڈیا سروس‘‘ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ’’کرکٹ ٹیم کا نام حریت پسند کمانڈروں کے نام پر رکھنے کا یہ چلن ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری ان کو کس حد تک چاہتے ہیں‘‘ جبکہ بھارتی میڈیا گروپ ’’ون بھارت‘‘ نے اس حوالے تجزیہ کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ ’’یہ کشمیر کے لوگوں کی طرف سے جاری ’’سول نافرمانی‘‘ کی طرف ہی ایک اور اشارہ ہے‘‘۔ دیر آید درست آید، اب دنیا کو علم ہونے لگا ہے کہ بھارت نے کشمیر پر بزورِ بندوق اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ گزشتہ اڑسٹھ سال سے بھارت کشمیر پر ’’دراندازوں‘‘ کا جو الزام لگا رہا تھا، اب اس غبارے سے بھی ہوا نکل رہی ہے۔ کشمیری عوام کی جانب سے بھارتی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے افراد کے جنازوں میں بڑی تعداد میں شرکت کے بعد کرکٹ ٹیم کا نام شہیدوں کے نام پر رکھا جا نا، کشمیر کے حالات کی خوب غمازی کر رہا ہے مگر بھارت ہے کہ ابھی تک ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
November
نومبر 2016
شمارہ:11 جلد :53
تحریر: یوسف عالمگیرین
آپریشن ضرب عضب کے ثمرات جہاں اس قوم کو امن و امان کی صورت حال، معمولاتِ زندگی اور کاروبار بہتر ہونے کی صورت میں دکھائی دیئے ہیں وہاں دنیا بھر میں ریاست پاکستان اور اس کی افواج کا وقار بھی بلند ہوا ہے کہ کس طرح سے گزشتہ 14برس سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو انتہائی کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نیٹو اور امریکی افواج مل کر بھی اتنی کامیابیاں نہیں....Read full article
 
تحریر: محمود شام
ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت، بے روزگاری، اخلاقیات و آداب کی پامالی، حکمران طبقوں کی بد دیانتی، زندگی کی معقول سہولتیں نہ ہونے کے سبب مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جس سے نفسیاتی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ سیاستدانوں کی آپس کی چپلقش اور ٹاک شوز میں بے ہنگم شور و غل اوربے نتیجہ بحثوں کی وجہ سے عام شہری اور خاص طور پر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
افغانستان کی سیکورٹی کے متعلق حالات نے غیرمتوقع طور پر بہت خطرناک شکل اختیار کر لی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ یہ شورش زدہ ملک ایک بار پھر بدترین بدامنی کا شکار ہونے والا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے نصف سے زائد صوبوں (تقریباً 18) میں طالبان نے ماہ اکتوبر کے دوران حملے کئے۔ جس کے نتیجے میں فریقین کے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور حالات اتنے خراب ....Read full article
 
تحریر:سمیع اللہ خان
دنیاآج پانی کا قطرہ قطرہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت خرچ کررہی ہے جبکہ ہم ہر برس 36ملین ایکڑفٹ پانی کو اپنی ہنستی بستی آبادیوں اورکھڑی فصلوں کو تباہ کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں اورپھروہ ہمیں منہ چڑاتاہوا بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ سترکھرب....Read full article
 
تحریر: عرفان صدیقی ، ٹوکیو
جہاں چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی دفاعی اور معاشی طاقت نے طاقت کے تواز ن کو کافی حد تک متاثر کیا وہاں جاپان کو’جس کے چین کے ساتھ تاریخی سیاسی و جغرافیائی تنازعات موجود تھے‘ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ایک طاقت ور دفاعی اتحادی کی ضرورت تھی۔ لہٰذا جس طرح دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اسی طرح جاپان کی نظریں بھارت پر پڑیں جس کے چین کے ساتھ .....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم
امریکہ، بھارت کے درمیان
Logistic Exchange Momorandum of Agreement
کے تحت فوجی تعاون کے معاہدے پر واشنگٹن میں دستخط ہوئے۔
LEMOA
معاہدے کے مطابق امریکہ اور بھارت نہ صرف ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کر سکیں گے بلکہ ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو مشترکہ دشمن اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف بھی استعمال کریں گے۔ بھارتی.....Read full article
 
تحریر: میمونہ حسین
بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت انتقامی رویوں کو ہوا دیتے ہوئے نہ صرف پاکستان کا نام اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے۔ بلکہ پاکستان سے محبت کرنے کی پاداش میں دھڑادھڑ پھانسیاں دے کر ظلم و ستم کی گھناؤنی مثالیں بھی قائم کر رہی ہے۔....Read full article
 
تحریر: شمع خالد
میں وہیل چیئر پر بیٹھی ڈرائنگ روم میں سجی ایک سورڈ آف آنر کو دیکھ رہی تھی جو میرے سُسر کو ملی تھی۔ میرے سُسر‘ جب پاکستان بنا تو آرمی میں کپتان تھے۔ پاک آرمی میں انہوں نے میجر تک ترقی کی اور پھر انہیں ایک جان لیوا بیماری ایسی چمٹی کہ وہ ساری عمر معذور رہے۔ وہ ایک سچے اور کھرے پاکستانی فوجی تھے۔ ان دنوں ٹی وی نشریات محدود وقت کے لئے نشر ہوا کرتی تھیں۔ جب نشریات کا....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
پی ایم اے کی حیدرپلاٹون اس لحاظ سے ایک منفرد مقام کی حامل تھی کہ اس میں زمانے کے ستائے ہوئے کیڈٹ حضرات کی اکثریت تھی۔ زیادہ تر دوستوں کو من موجی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کسی نہ کسی وجہ سے ہم سب کاسینئرز، سٹاف اور پلاٹون کمانڈر کے زیر عتاب رہنا ایک لازمی امر تھا۔ ہاں ہمارے دوست....Read full article
 
تحریر: زینب ماہ نور
بابا نور حسین پتھر سے ٹیک لگائے گہری سوچ میں گم تھے۔ آج کئی مہینوں بعد اُنہوں نے اپنی داڑھی کو مہندی لگائی تھی۔ دریائے ٹوچی کے کنارے آباد گاؤں عیدِک‘ تحصیل میر علی‘ شمالی وزیرستان کے چند خوبصورت اور گنجان آباد دیہاتوں میں سے ایک ہے۔....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
سویت یونین یا معروف معنوں میں اشتراکی روس کا بکھرنا اور ٹوٹنادنیا بھر کے لاکھوں نہیں کروڑوں عوام کے خوابوں کا بکھرنا اور ٹوٹنا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ابھرنے والا اشتراکی روس دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک سپر پاور بن گیا تھاجس کا مقابلہ بعد کے برسوں میں دوسری بڑی سپر پاور امریکہ سے ہوا۔ اشتراکی روس ساری دنیا کے قوم پرستوں، جمہوریت پسندوں اور آزادی کے متوالوں کی آواز.....Read full article

تحریر: پرویز قمر
اﷲتعالیٰ نے ہماری زمین کو نہایت ہی خوبصورت اور دلفریب انداز میں سجایا ہے۔ جہاں ان گنت جھیلیں‘ آبشاریں‘ دریا‘ وادیاں اور طویل ترین صحرا اپنے پورے جوبن کے ساتھ موجود ہیں۔ سمندروں کا نیلا پانی اور بلند و بالا برف پوش چوٹیاں اس کی شان کی ادنیٰ مثال ہیں........Read full article
 
تحریر: زبیر طوروالی
آج میرے ساتھ کھانا کھانے آئیے گا۔ میں نے کچھ ٹماٹر کئی مہینوں بعد خریدے ہیں ۔ کاگا نے اپنے دوست کے کان میں کہا۔ کاگا کو کئی مہینوں بعد ٹماٹر ملے تھے۔ دوست نے وہیں سے اپنے گھر اطلاع دی اور کاگا کے ساتھ ان کے گھر ٹماٹر کھانے چلتا بنا۔....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر عفت مسعود
یہ قانونِ فطرت ہے کہ جب تک ہماری زندگی کی نبض اپنی نارمل رفتار سے چل رہی ہوتی ہے تو ہم مصروفیات میں گم زندگی کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں اور مختلف شعبوں کے بارے میں محدود نظریات رکھتے ہیں۔اور جب ربِ کائنات نبضِ زندگی کو تھوڑا سا مشکل کر دیتے ہیں تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ اَرحمَ الرّٰحمین اس بیماری یا پریشانی کے بدلے ہمیں زندگی کے نئے حقائق سے....Read full article
 
تحریر: عبدالسلام وزیر
موضوع تھوڑا سا عجیب لگے گا۔ میں سوچ رہا تھا کہ وزیرستان میں بی ایم (یعنی برگیڈ میجر۔ یہ برگیڈ کمانڈر کا پرنسپل سٹاف آفیسر ہوتا ہے) کا عنوان دوں یا بی ایم کا وزیرستان، بہرحال میرے آج کے مضمون کا محور پاک فوج کے ایک برگیڈ کا ایک عدد بی ایم ہے اور وہ بھی وزیرستان میں۔ اس سے پہلے تمہید عرض کروں کہ بعض توصیفی نام مثلاً ماموں، چچا وغیرہ تو رشتوں کے لحاظ سے معلوم ہوتے ہیں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
کینیڈا میں موسم سرد ہوگیا ہے‘ ہیٹر جل رہے ہیں‘ لوگ گرم کوٹ پہنے اونی مفلر لپیٹے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں جب مینہ برستا ہے تو ہوا میں خنکی بڑھ جاتی ہے۔
پچھلے دنوں میرا ایک ہفتے کے لئے ایڈمنٹن جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ شہر صوبہ البرٹا میں واقع ہے اور وہاں کا صوبائی دارالحکومت ہے۔ ونکوور سے ایڈمنٹن بائی روڈ بارہ گھنٹے کا سفر ہے۔ پہلے تو میں اتنی طویل مسافت کا سن کر ....Read full article
 
تحریر: ملک فداالرحمن
ہندوستان گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستا ن کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے پاکستان پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔بلوچستان میں آرمی اور فرنٹیئرکور( ایف سی) کو مصروف رکھنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔میں نے مسلسل چھ ماہ بلوچستان میں گزارنے، دیکھنے ، سمجھنے اور پرکھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیاکہ بلوچستان کے اندر سے اگر بھارتی مداخلت ختم ہو جائے تو وہاں کسی.....Read full article
 
تحریر: میجر حسان جاوید
میرچاکر خان رِند 1468عیسوی میں بلوچستان کے تاریخی شہر سبی کے نزدیک بلوچ قبیلہ رِند کے سردار کے گھر پیدا ہوئے۔ بلوچستان کی تاریخ میں سولہویں صدی کی ایک خاص اہمیت ہے۔ اس صدی میں بے شمار ایسے واقعات رونما ہوئے کہ جس نے آنے والے وقتوں میں اس خطے کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ بلوچی معاشرہ ایک قدامت پسند معاشرہ ہے جس کی بنیاد عظیم روایات، قبائل رسم و رواج.....Read full article
 
تحریر: زاہد حسین
امن ایک خواب ہے‘ یہ خواب شاعر‘ ادیب اور دانشور معلوم انسانی تاریخ سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔ معاشروں کی ترقی اور ترویج میں شاعروں اور ادیبوں کی طرف سے دیکھے گئے خوابوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ امریکہ یا افریقی ممالک میں سیاہ فام لوگوں پر روا رکھے جانے والے ....Read full article
10
November

تحریر: زاہد حسین

امن ایک خواب ہے‘ یہ خواب شاعر‘ ادیب اور دانشور معلوم انسانی تاریخ سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔ معاشروں کی ترقی اور ترویج میں شاعروں اور ادیبوں کی طرف سے دیکھے گئے خوابوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ امریکہ یا افریقی ممالک میں سیاہ فام لوگوں پر روا رکھے جانے والے مظالم ہوں‘ فرانس میں بادشاہت کا کردار ہو یا روس میں زار شاہی عہد‘ وہاں کے لکھنے والوں نے معاشروں کو ساکت و جامد اور مردہ ہونے سے بچایا اور انہیں ترقی کی روشن راہوں پر گامزن کیا۔ اس ضمن میں مولئیر‘‘ خلابیئر‘ روسو‘ ملارمے‘ ژان پال سارتر‘ میکسم گورکی‘ چیخوف اور جوزف کانریڈ سمیت دیگر بے شمار لکھنے والوں کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کی تخلیقات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ادب نہ صرف زندگی میں نئے امکانات کی دریافت اور ترویج و اشاعت کا نام ہے بلکہ انسان کے زندگی کے مسائل اور معاملات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے درکار حوصلے کانام بھی ہے۔ اس کے ڈانڈے اٹھارویں صدی میں پھوٹنے والی روشن خیالی کی تحریک سے شروع ہو کر آج کی مابعدالطبیعاتی اور نفسیاتی تحریکوں سے بھی ملتے ہیں اور اس کے اثرات ہماری آج کی سائنسی اور میکانکی زندگی پر بھی برابر پڑتے محسوس ہوتے ہیں۔۔۔ تبدیلی اور ترقی کے ان بنیادی نکات میں علم دوستی‘ استحصال کی جگہ پیداوار کے نئے ذرائع دریافت کرنے‘ ان ذرائع پیداوار سے شغف رکھنے اور اسے بنی نوعِ انسان کے لئے قابلِ استعمال بنانے جیسے رجحانات شامل ہیں۔۔ ہر عہد میں انسان کی بہتری‘ خوشحالی‘ ترقی اور ترویج کے لئے خواب دیکھنے‘ لکھنے اور ان پر ٹھوس اقدامات کئے جانے کی تمنا رکھنے والے شاعروں اور ادیبوں نے انسانی تاریخ کو کسی لگے بندھے سانچے میں اسیر ہونے کی بجائے نئی راہیں دکھائی ہیں۔ یہ راہیں‘ نئی صبحوں اور ارتقاء کی راہیں ہیں۔ ان کی طرف سے قوم کے لئے عمل میں لائی جانے والی فکری راہنمائی نے ہی اجتماعی تہذیب کا روپ دھارا ہے۔
ایک معاشرہ جس میں بے راہ رو انسانوں کی زندگیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سرسیداحمدخان نے لکھا ہے ’’روز پٹتے ہیں‘ کپڑے جھاڑتے ہیں‘ سر سہلاتے ہیں۔ لیکن اپنی ہی امید کے برخلاف اپنی راہ نہیں لگتے۔ روز پٹنے کے لئے واپس آجاتے ہیں۔‘‘ ایسے لوگوں کے لئے ہی علم‘ شعور‘ آگہی‘ تجربے اور دریافت کی بھٹیاں سلگائی جاتی ہیں‘ تعلیم و تربیت کے سانچے میں ڈھلنے کے بعد ترقی کی نئی راہیں متعین ہوتی ہیں‘ اور ان راہوں پر قدم سے قدم ملا کر چلنے سے ایک نئی اور جدید تہذیب تشکیل پاتی ہے۔


علم ‘ شعور اور تہذیب کا لفظ اور حرف کے ساتھ گہرا تعلق بنتا ہے۔ ان سب اشیاء کا مرکب ہے‘ کتاب اور مکتب۔ ادباء و شعراء اور دانشور ایک طرح سے استاد کے منصب پر ہی فائز ہوتے ہیں۔ استاد کی ایک معاشرے میں اہمیت و افادیت مسلمہ ہے۔ اس حوالے سے میکسم گورکی نے عظیم افسانہ نگار چیخوف کے ساتھ اپنا ایک مکالمہ درج کیا ہے۔ کیا خوب صورت اور من لگتی بات ہے جو چیخوف نے کہی:


’’کیا تمہیں اندازہ ہے روس کے دیہی علاقوں میں سب سے زیادہ ضرورت کس کی ہے۔ پڑھے لکھے‘ اچھے اور سمجھدار اساتذہ کی۔ روس میں ہمیں فوری طور پر غیر معمولی ماحول تیار کرنا ہوگا۔ کیوں کہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ روس کی ریاست تباہ ہو جائے گی اگر ایسے اساتذہ اس معاشرے میں نہیں ہوں گے جو قریب قریب سب علوم کو جانتے ہوں۔‘‘ ایک شاعر‘ ایک ادیب‘ ایک دانشور بھی معاشرے کے ان پڑھ اور نہ جاننے والی اکثریت کے لئے استاد کی ہی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ ایک عظیم اور بڑے لکھنے والے کی نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں سفاکیت‘ ظلم و جبر اور توڑ پھوڑ کی جگہ امن و محبت‘ بھائی چارے‘ روا داری اور قدرت کی قائم کی ہوئی رنگا رنگی اور فطرت کی بوُقلمونی میں مزید وسعت اور کشادگی پیدا کرتا ہے۔ ناروے کے عظیم دانشور اور سماجی مصلح فریڈرک ایس ہیفرمیہل نے اپنی ایک تحریر میں انتہائی خوب صورت اور پتے کی بات کہی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’ہم کائنات کے واحد سبز سیارے پر رہائش پذیر ہیں۔ جہاں پر دل موہ لینے والی بے انتہا خوب صورتی اور فطرت کی رنگا رنگی اور زندگی کی بہت سی صورتیں پائی جاتی ہیں۔ کسی بھی انسانی نسل کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ معاشروں اور ثقافتوں میں موسیقی‘ رقص‘ مصوری‘ فلسفہ‘ پکوان‘ نگہداشت‘ سائنس‘ تعمیر اور ہنر مندی میں کامیابیوں کی طویل انسانی تاریخ کو ضائع کرے یا اسے کسی خطرے سے دوچار کرے۔ تاریخ کی ایک مخصوص مدت میں ٹیکنالوجی کی بے راہ رو ترقی کے ساتھ چند نظریاتی اختلافات کے میل کا اس کرّۂ ارض پر زندگی کے خاتمے کا سبب بن جانا وسیع تر تناظر میں اور منطقی لحاظ سے نہایت احمقانہ بات ہے۔‘‘


فریڈرک ایس ہیفر ہمیں یہ سمجھانے کی بات کررہے ہیں کہ انسانی ذہن اور آنکھوں نے برس ہا برس پر محیط خوابوں سے دنیا کو جس خوب صورتی اور ترقی کے زینے پرلاکھڑا کیا ہے‘ اس کے پیچھے سبھی معاشروں اور تمام تر جغرافیوں پر آباد انسانوں میں سے منتخب لوگوں نے جنہیں ہم شاعروں‘ ادیبوں ‘ فنکاروں اور صورت گروں کے طور پر جانتے ہیں‘ نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ زندگی کی معنویت اور حقیقت نے اُنہیں جہاں اور جس رنگ میں بھی بلایا ہے‘ یہ آئے ہیں اور اسے بہتر بنانے کے لئے اپنا مقدور بھر حصہ ڈال کر گئے ہیں۔ احمدفراز کا کیا خوب شعر ہے:


آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے


یہ حقیقت ہے کہ ادب معاشرے کی تہذیب وترقی کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ زندگی اور معاشرے کو ساکت و جامد نہیں ہونے دیتا‘ خود متحرک رہتا ہے اور افراد میں تحرک پیدا کرتا رہتا ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو قدیم یونانی‘ مصری‘ اطالوی‘ فرانسیسی اور عرب معاشروں میں تبدیلی کا یہ عمل جاری و ساری رہاہے۔ بعینہٖ ہمارے یہاں اردو ادب میں اور یہاں کی قومی زبانوں میں بھی ہماری تہذیب اور معاشرت پر بھی وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ شعراء و ادباء کے یہاں بدلتے رویوں اور رُجحانات کے واضح اثرات مرتب ہوئے جنہیں ہم نے بعد ازاں تحریکوں کا نام دیا۔ ہمارے اُردو ادب میں ترقی پسند تحریک‘ ایک اہم حوالہ ہے۔ اگرچہ یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ ترقی پسند تحریک سے وابستگی کا واحد مقصد یہ نہیں کہ گزری ہوئی ہر بات کا انکار کردیا جائے۔ تاہم سب کچھ تقدیر اور قدرت پر چھوڑ دینا اور پھر نتائج کا انتظار کرتے رہنا کہیں کی عقل مندی نہیں ہوگی۔ یہی سبب ہے یہاں کے ادباء اور شعراء اپنی شاعری اور ادب میں یہاں کے لوگوں کی تہذیب کے لئے مختلف اوقات میں مختلف اصناف میں اس امرکا اظہار کرتے رہے ہیں کہ انسانی سفر کے ارتقاء میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رفتہ رفتہ اپنے خمیر کی شدت پسندانہ رویوں اور اور ترقی پسند لکھنے والوں کی جانب سے لچک نہ دکھانے کے سبب تحریک انتشار کا شکار ہوتی گئی اور بالآخر ماند پڑنے لگی۔ اس سے بھی پہلے سرسید کی عقلی تحریک‘ شاعرِ رومان اخترشیرانی کی رومانی تحریک‘ بعض حقیقت پسند ادیبوں کی جانب سے چلائی جانی والی حقیقت نگاری کی تحریک‘ محمدحسن عسکری کی احساسی تحریک‘ اسلامی فکر و تفہیم سے وابستہ اسلامی ادب کی تحریک یہ سب وہ تحریکیں ہیں جن کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نثری و شعری ادب نیز دیگر علوم و فنون پر گہرے اثرات مرتب ہوئے اور لازمی طور پر ادب کے توسط سے ہماری معاشرت متاثر ہوئی اور فرد معاشرے کا جزو لاینفک ہونے کے سبب اس سے گہرے طور پر متاثر ہوا۔ ہم دیکھتے ہیں ہمارے لکھنے والوں نے مثبت قدروں کو پیشِ نظر رکھا اور لکھتے ہوئے اپنے خیالات‘ اپنی سوچ‘ اپنے رویوں کو معاشرے کے دوسرے افراد پر تھوپنے کے بجائے انسان دوست اور عالمگیر رنگا رنگی کو سچائی‘ انصاف اور حقیقت کا روپ دے کر پیش کیا۔ یہ بتایا کہ فطرت کے لاتعداد رنگ ہماری دنیا کاحسن ہیں‘ یہ انسانی حسن میں اضافے کا سبب ہیں۔ اس رنگا رنگی‘ کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی ارتقاء پذیر رہتی ہے۔ ہمارے رہن سہن‘ طور اطوار‘ لباس‘ علوم و فنون اور تجارتی اور معاشی لائحہ عمل میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں۔ لہٰذا ان تبدیلیوں کا احساس بھی ادب اور شاعری کے ذریعے گہرے طور پر ہوتا رہتا ہے۔ گزشتہ صدی میں کچھ لوگ کارل مارکس کے فلسفے کو زندگی کی آخری سچائی سمجھ رہے تھے۔ بعض لوگ دنیا کے ہر ایک مسئلے کو فرائیڈ اور ژونگ کے خیالات کی روشنی میں حل کرنا چاہتے تھے۔ جنوبی افریقہ میں گوری حکمران اقلیت‘ انسانی وجود کی رنگت کو معاشرتی سچائی کا پیمانہ قرار دے رہی تھی۔ ہندوستان کے باشندے لاتعداد صدیوں سے ذات پات کی تقسیم کو الہامی اور غیر متبادل سچائی مانتے رہے۔ نازی جرمنی کے رہنما نسل پرستی کے فلسفے کو حتمی حقیقت قرار دیتے رہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے خیالات اور ان پر سختی سے کاربند رہنا‘ کسی بھی حقیقی انسانی سچائی تک رسائی میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں اور ان سب سچائیوں سے ہمیں شاعروں‘ ادیبوں اور دانشوروں نے آگاہ کیا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ شاعری اور ناول نگاری کے تمام شعبے اس یقین کے ساتھ نشوو نما پاتے ہیں کہ حُسن‘ بقائے باہمی اور ہم آہنگی کائنات کی بقا کے لئے اور انسان کی تہذیب اور ارتقاء کے لئے جزو لازم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
موجودہ پاکستانی معاشرہ جن خطوط پر استوار رہے‘ دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ہمارے صوفیائے کرام‘ جنہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے یہاں بسنے والے ان لوگوں کے ذہنوں کی آبیاری اپنی فکر اور سوچ کے ذریعے کی۔ بابا فرید‘ سلطان باہو‘ بلھے شاہ‘ وارث شاہ‘ خواجہ غلام فرید‘ میاں محمدبخش‘ غلام رسول عالمپوری‘ شاہ لطیف بھٹائی‘ سچل سرمت‘ روحل فقیر‘ مست توکلی‘ جام درک‘ رحمان بابا اور خوش حال خان خٹک‘ وہ عظیم شعراء ہیں جنہوں نے اس خطے میں آباد لوگوں کی اخلاقی اور سماجی حوالے سے بہت زیادہ تربیت کی۔


دیکھا جائے تو فکرِ اقبالؒ کے اثرات بھی نمایاں ہیں‘ ان کی شاعری نے پاکستانی معاشرت اور سماج کی تشکیل میں تو گہرا کردار ادا کیا ہی ہے تاہم ان کی نثر نے بھی کچھ کم اثر نہیں ڈالا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے خطاب میں بھی گہری بصیرت موجود تھی جس کی روشنی میں یہاں کے مسلمانوں نے اپنے مستقبل سے جُڑے کئی اہم فیصلے کئے۔ مثال کے طور پر خطبہ الٰہ آباد میں ایک جگہ انہوں نے کہا :
’’مسلمانانِ ہندوستان کو اپنی روایات و تمدن کے ماتحت اس ملک میں آزادانہ نشو ونما کا حق حاصل ہو تو وہ اپنے وطن کی آزادی کے لئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔‘‘ اسی طرح اُن کے اشعار نے بھی ہمارے لئے رہنمائی کاکام کیا۔


سچ کہہ دوں اے برہمن ! گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
کچھ فکر پھوٹ کی کر‘ مالی ہے تو چمن کا
غنچوں کو پھونک ڈالا اس میں بھری ہوا نے


اسی دوران ہم دیکھتے ہیں کہ سعادت حسن منٹو‘ غلام عباس‘ احمدندیم قاسمی‘ عبداﷲ حسین ‘ انتظار حسین‘ میرا جی‘ ن م راشد‘ مجید امجد‘ فیض احمدفیض‘ منیر نیازی اور محمدسلیم الرحمن جیسے نابغہ ہائے روزگار نے ہماری نظم و نثر میں جدید اور انقلاب آفرین خیالات پیش کئے۔ ان افکار کی روشنی میں پاکستانی معاشرہ اپنے خطوط متعین کررہا ہے‘ اپنے وجود کو تشکیل دے رہا ہے۔ ذیل میں ہم ن م راشد‘ فیض‘ منیر نیازی اور محمدسلیم الرحمن کی نظموں کے کچھ اقتباسات دیکھتے ہیں‘ جو سبق آموز بھی ہیں اور حیات افروز بھی ۔


؂ اے عشق ازل گیرو ابد تاب
میرے بھی ہیں کچھ خواب
وہ خواب جو آسودگی ءِ مرتبہ و جاہ سے
آلودگئ گرد سرِ راہ سے معصوم
(خود زیست کا مفہوم۔ن م راشد)
؂ عرصۂ دہر کے ہنگامے تۂ خواب سہی
گرم رکھ آتشیں پیکار سے سینہ اپنا (فیض احمد فیض)
؂ ستارے جو دمکتے ہیں‘
کسی کی چشمِ حیراں میں‘
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں‘
جمالِ ابروباراں میں‘
یہ نا آباد وقتوں میں‘
دلِ ناشاد میں ہوگی‘
محبت اب نہیں ہوگی‘
۔۔۔۔۔۔
؂ یہ کچھ دن بعد میں ہوگی‘‘ (منیر نیازی)
’’ایک بڑے پچھتاوے کے کنارے
آج نہیں توکل یا پرسوں
دل کہتا ہے‘
اس دنیا کی جاگنے والی
آنکھوں میں پھوٹے گی سرسوں
پکے رنگوں کی مخموری اور حضوری
جوت جگائے رکھے گی
جل تھل میں برسوں۔

(محمدسلیم الرحمن)


یہ حقیقت ہے کہ شاعری‘ فکشن اور دانش کے ذریعے جہاں ہمیں قدیم تہذیب اور معاشرت کے بارے میں علم ہوتا ہے وہاں پر ہی معاصر ادب‘ مستقبل کے لئے تہذیبی اور تعمیری حوالے سے صورت گری کررہا ہوتا ہے اس لئے یاد رکھنا چاہئے کہ ادب کا معاشرے کی تہذیب اور تعمیر میں نمایاں کردار رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ شاعروں اور ادیبوں نے اس کردار کو بھرپور طریقے سے بنایا ہے۔ آخر میں علامہ اقبالؒ کے ذیل کے اشعار دیکھیں اور سوچیں کہ ہمیں اپنی معاشرت میں ان کے رنگ اور اثرات مل رہے ہیں یا نہیں؟


؂ اٹھائے کچھ ورق لالے نے‘ کچھ نرگس نے‘ کچھ گل نے
چمن‘ میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ

مضمون نگار شاعر‘ کہانی کار اور ناول نگار ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
November

تحریر: میجر حسان جاوید

پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کا قصبہ ستگھرہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اوکاڑہ شہر سے 18کلومیٹر دور مین اوکاڑہ فیصل آباد روڈ پر واقع یہ تاریخی قصبہ ایک عظیم بلوچی سردار میرچاکر خان رِند کی آخری آرام گاہ ہے۔ میرچاکر خان رِند کو تاریخ میں چاکر اعظم کا خطاب بھی دیا جاتا ہے۔ چاکر اعظم کی اپنے آبائی علاقے سبی سے سیکڑوں میل دُور وسطی پنجاب کے قصبہ ستگھرہ میں آمد اور تدفین تاریخ کا ایک حیران کن واقعہ ہے۔

aikzeemblocji.jpg

میرچاکر خان رِند 1468عیسوی میں بلوچستان کے تاریخی شہر سبی کے نزدیک بلوچ قبیلہ رِند کے سردار کے گھر پیدا ہوئے۔ بلوچستان کی تاریخ میں سولہویں صدی کی ایک خاص اہمیت ہے۔ اس صدی میں بے شمار ایسے واقعات رونما ہوئے کہ جس نے آنے والے وقتوں میں اس خطے کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ بلوچی معاشرہ ایک قدامت پسند معاشرہ ہے جس کی بنیاد عظیم روایات، قبائل رسم و رواج اور اصول پرستی پر رکھی جاتی ہے۔ خاندانی اور قبائلی دشمنی کی بنیاد پر لڑی جانے والی طویل جنگیں کئی دہائیوں تک جاری رہتی تھیں۔ ایسے میں بلوچوں کے دو بڑے قبائل رِند اور لاشاریوں کے درمیان 30سال پر محیط ایک طویل جنگ لڑی گئی۔ جس میں دونوں قبائل کے ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ بالآخر میرچاکر خان رِند اس جنگ و جدل سے تنگ آکر وسطی پنجاب کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان پر خاندان مغلیہ کی حکومت تھی اور خطہ پنجاب اس کا ایک اہم حصہ تھا۔ اسی اثنا میں تاریخ نے ایک اہم موڑ لیا اور ہندوستان کے نئے بادشاہ شیرشاہ سوری نے مغلوں کے خلاف جنگ میں میرچاکر خان رِند سے مدد چاہی مگر اس عظیم بلوچ سردار نے اپنے اصولوں کے عین مطابق مغلوں کے خلاف شیرشاہ سوری کی کسی بھی قسم کی مدد سے انکار کر دیا۔ مشہور ہے کہ جب مغل بادشاہ واپس دہلی کے تخت پر براجمان ہوا تو اس عظیم بلوچ سردار کو ستگھرہ کے آس پاس کا وسیع علاقہ بطور انعام پیش کیا۔


ستگھرہ کی وجہ تسمیہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ اس کے بارے میں کئی روایات مشہور ہیں۔ ایک روایت کے مطابق جب میرچاکر خان یہاں آ کر آباد ہوا تو اس کے ہمراہ سات خاندان تھے جو سات گھروں میں آباد ہوئے۔شاید اسی لئے اس کو ستگھرہ کہا جاتا ہے۔ جہاں مسافر اپنی پیاس بجھاتے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ خطہ سیلاب سے سات دفعہ تباہ ہو کر دوبارہ آباد ہوا۔ ستگھرہ اور گوگیرہ اس علاقے کے دو مشہور قصبے تھے اور موجودہ شہروں ساہیوال اور اوکاڑہ کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا۔


اس عظیم بلوچی سردار کا انتقال 1565 عیسوی میں ہوا اور اسے ستگھرہ میں دفن کیا گیا۔ البتہ اس کی وفات کے فوری بعد اس کے خاندان کے بیشتر لوگ واپس بلوچستان ہجرت کر گئے اور آج اس قصبے میں کوئی بلوچی خاندان آباد نہیں۔
اس عظیم بلوچی سردار کے مزار کی حالت گزرتے زمانے کے ساتھ ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ حالانکہ چند سال پہلے ہی اس کی تعمیر نو کی گئی ہے۔ عمارت کی موجودہ زبوں حالی ایک بار پھر توجہ کی متقاضی ہے۔ میرچاکرخان رِند کو بلوچی ادب میں بھی ایک خاص مقام حاصل ہے اور وہ بہت سی بلوچی رومانوی داستانوں اور شاعری کا ایک اہم کردار ہیں۔

میجر حسان جاوید کا تعلق ایجوکیشن کور سے ہے اور آج کل بطور انسٹرکٹر ملٹری کالج جہلم میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
 
09
November

تحریر: ملک فداالرحمن

پاکستان اورصوبہ بلوچستان میںآگ بھڑکانے والے دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہونے کی خواہاں صوبہ بلوچستان کی ایک بیٹی کے حب الوطنی سے سرشار جذبوں کی کہانی

ہندوستان گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستا ن کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے پاکستان پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔بلوچستان میں آرمی اور فرنٹیئرکور( ایف سی) کو مصروف رکھنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔میں نے مسلسل چھ ماہ بلوچستان میں گزارنے، دیکھنے ، سمجھنے اور پرکھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیاکہ بلوچستان کے اندر سے اگر بھارتی مداخلت ختم ہو جائے تو وہاں کسی قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کی کوئی واردات نہیں ہو سکتی۔اس بھارتی مداخلت کو ختم کرنے میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں، ایف سی اور بلوچستان حکومت کافی حد تک کامیاب ہو چکی ہیں۔لیکن افغانستان اور ایران کے ساتھ ایک طویل اور غیر محفوظ بارڈر ہونے کی وجہ سے وہ کسی حد تک بلوچستان کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اب اللہ کے فضل و کرم سے بلوچستان کے اندرونی حالات بھی اس ڈگر تک پہنچ چکے ہیں کہ دہشت گردوں کو وہاں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔بلوچستان میں بہت زیادہ بیداری آ چکی ہے۔خاص طور پر بلوچستان کی یوتھ یا طالب علموں کی قوت اس حد تک مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ وطن کی محبت میں اب دہشت گردوں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر خودسامنے آ جائیں گے۔وہاں سوائے چوروں کی طرح چھپ کر وار کرنے کے کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ہندوستان نے بلوچستان میں اپنی ناکامی دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے مشرقی محاذ پر نئے ڈرامے شروع کر دئیے ہیں۔لیکن وہ1965ء کی طرح شاید اب بھی بھول رہے ہیں کہ وہ اس ملک کے ساتھ یا اس قوم کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہے ہیں جو موت کو ہی اصل زندگی سمجھتے ہیں۔(شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے) اور پھر ہندو جیسے کافر ملک یا مذہب کے لوگوں سے لڑ کر مرنا تو مسلمان کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے۔ہندوستان کے جھوٹے پروپیگنڈے پر لوگ اس لئے کان نہیں دھرتے کہ ان کے لئے جھوٹ بولنا ایک فن ہے گناہ نہیں۔اس لئے اس کے پاس جھوٹ ایجاد کرنے اور جھوٹ بولنے کے لئے سربراہ حکومت نریندر مودی سمیت بہت بڑے بڑے فنکار ہیں۔ہندوستان اپنی چالوں اور سازشوں میں مسلسل ناکامی کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ اس کی عوام کا مورال بہت زیادہ گرگیا ہے۔ اس لئے وہ اپنی ذہنی پستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھوٹے پروپیگنڈے کرتا ہے کہ آج ہم نے فلاں آپریشن کیا ۔

 

jamzadi.jpg

 آج ہمارے ہیلی کاپٹر پاکستان میں یہ کارروائی کر کے واپس آگئے۔شاید وہ بھول گئے ہیں کہ اب پاکستانی قوم کا جذبہ 1965ء سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔بھارت کو چونڈہ میں ٹینکوں کا قبرستان تو یاد ہوگا۔کھیم کرن تک پاکستانی فوج کا قبضہ بھی یاد ہوگا۔اس ہندوستان کے ٹینکوں کے نیچے اپنے جسم کے ساتھ بم بارود باندھ کر لیٹنے والے صرف پاکستان فوج کے بہادر سپوت تھے لیکن خدا کی قسم اب اگر ایسا موقع آیا کہ ہندوستان کے ساتھ جنگی مقابلہ کرنا پڑا تو پاکستان کا ہر شخص بم ثابت ہو گا۔اور ہزاروں لوگ اپنے جسموں کے ساتھ بم وبارود باندھ کر ہندوستان میں گھس جائیں گے۔ہماری پاکستان کی خواتین بھی محاذوں پر جا کر ہندوستان کے خلاف بارود برسائیں گی۔اس کا عملی ثبوت مجھے کچھ دن پہلے ضلع کوہلو بلوچستان میں ایف سی کے سکول میں جا کر ملا ۔ بلوچستان میں جگہ جگہ ایف سی نے تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم کئے ہوئے ہیں ۔میں نے کوئٹہ سے واپسی پر ایک رات کے لئے کوہلو میں قیا م کیا اور صبح اٹھ کر بلوچستان کے تعلیمی اداروں کا معیار دیکھنے کے لئے کوہلو میں ایف سی کے سکول کا معائنہ کیا۔یہ سکول انٹرمیڈیٹ تک ہے۔وہاں کلاس میں بیٹھی فرسٹ ائیر کی ایک طالبہ سے میں نے پوچھا کہ تعلیم سے فارغ ہو کر مستقبل میں آپ کیا بننا چاہتی ہیں تو اس نے بغیر کسی جھجھک یا سوچ کے کہا کہ میں پاک فوج میں جانا چاہتی ہوں۔میں نے اگلا سوال کیا کہ کیا آپ میڈیکل کے شعبے میں جا کر آرمی ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں ؟ تو اس نے پھر اپنے ترو تازہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا نہیں میں ریگولر فائٹر آرمی میں جانا چاہتی ہوں۔میں پاکستان اور بلوچستان میں آگ بھڑکانے والے دشمنوں کے ساتھ دوبدو جا کر لڑنا چاہتی ہوں۔میں اپنے ہاتھ ملک دشمنوں کے خون سے رنگنا چاہتی ہوں۔میں نے اپنے ہاتھوں پر کبھی عید یا شادی کے موقع پر بھی مہندی نہیں لگائی۔میری خواہش ہے کہ میں اپنے ہاتھوں کو ملک دشمنوں، دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خون سے سرخ کروں۔اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اور کہنے لگی کہ میں ایک غریب باپ کی بیٹی ہوں ۔ میٹرک میں، میں نے 80فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔سائنس کی طالبہ ہوں۔

اس نے پھر اپنے ترو تازہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا نہیں میں ریگولراور فائٹر آرمی میں جانا چاہتی ہوں۔میں پاکستان اور بلوچستان میں آگ بھڑکانے والے دشمنوں کے ساتھ دوبدو جا کر لڑنا چاہتی ہوں۔میں اپنے ہاتھ ملک دشمنوں کے خون سے رنگنا چاہتی ہوں۔میں نے اپنے ہاتھوں پر کبھی عید یا شادی کے موقع پر بھی مہندی نہیں لگائی۔میری خواہش ہے کہ میں اپنے ہاتھوں کو ملک دشمنوں ، دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خون سے سرخ کروں۔اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اور کہنے لگی کہ میں ایک غریب باپ کی بیٹی ہوں ۔

 

آپ میرے لئے دعا کریں کہ میری پاک فوج میں سلیکشن ہو جائے۔ میرے اندر پاکستان اور بلوچستان کے دشمنوں کے خلاف آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ دہشت گردوں اور ہندوستان کے ایجنٹوں نے ہمارا بہت نقصان کیا ہے۔میرا چونکہ ایف سی سکول کا اچانک اور بغیر اطلاع کے دورہ تھا اور پھر پوری کلاس میں کسی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میں کس سے کیا سوال کروں گا۔ کلاس روم کے بالکل درمیان میں بیٹھی ہوئی لڑکی کے یہ جذبات سن کر میری اپنی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے کہ جس ملک کی نوجوان نسل اور خاص کر طالبات اس جذبے سے سرشار ہوں تو اس ملک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اس موقع پر مجھے سکول کی پرنسپل محترمہ مرینہ امجد کو بھی داددینی پڑی جنہوں نے اپنے سکول کے بچوں کی اس خوبصورتی، دلیری اور جرأت مندی سے تربیت کی۔ پورے کالم میں اس طالبہ کا نام اور تعارف لکھنا بھول گیا لیکن اس کو لکھنا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ جن حالات میں رہ کر وہ بچی تعلیم حاصل کر ررہی ہے وہ اپنی جگہ قابلِ فخر بات ہے۔ بچی کا نام جام زادی اور والد کا نام شمین خان ہے۔وہ سات بہن بھائی ہیں ۔ سب سے بڑی جام زادی ہے اور اس کے والد کی تنخواہ صرف 8000روپے ماہوار ہے۔ایسے حالات میں ان جگہوں پر ایسی معیاری تعلیم دینا ایف سی بلوچستان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔میں امید رکھتا ہوں ایف ایس سی کے بعد بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے ایف سی اس کے اخراجات کا ذمہ اٹھائے رکھے گی۔کیونکہ اس سے پہلے سیکڑوں ایسے بچے ایف سی کے خرچ پر پاکستان کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے میرا دھیان اس بچی‘ جام زادی‘ کی طرف چلا گیا۔ مشکل وقت آنے پر پاکستان کی ہر بیٹی جام زادی جیسے جذبات لے کر سامنے آئے گی۔

 

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
November

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

کینیڈا میں موسم سرد ہوگیا ہے‘ ہیٹر جل رہے ہیں‘ لوگ گرم کوٹ پہنے اونی مفلر لپیٹے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں جب مینہ برستا ہے تو ہوا میں خنکی بڑھ جاتی ہے۔
پچھلے دنوں میرا ایک ہفتے کے لئے ایڈمنٹن جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ شہر صوبہ البرٹا میں واقع ہے اور وہاں کا صوبائی دارالحکومت ہے۔ ونکوور سے ایڈمنٹن بائی روڈ بارہ گھنٹے کا سفر ہے۔ پہلے تو میں اتنی طویل مسافت کا سن کر پریشان ہوگئی مگر دوستوں نے بتایا کہ یہاں بائی روڈ سفر سہل ہے‘ خوبصورت اور دلکش مناظر راستے میں دل لبھاتے ہیں۔ سڑکیں کشادہ ہیں۔ دورانِ سفرپٹرول بھروانے‘ کافی پینے‘ یا واش روم جانے کی تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ ہرتھوڑی تھوڑی دور جاکے گیس اسٹیشن‘ کیفے اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔ اگرچہ میں اس سے قبل
Kelowna
بائی روڈ جا چکی ہوں جو ونکوور سے چار گھنٹے کی ڈرائیو ہے مگر 12 گھنٹے کا سن کر مجھے پسینہ ہی آگیا تھا۔ میں سوچ رہی تھی لمبے سفر میں بیٹھے رہو تو کمر دُکھنے لگتی ہے‘ پاؤں سوج جاتے ہیں‘ بوریت ہوجاتی ہے۔ مگر صاحبو میرے تمام خدشات غلط ثابت ہوئے بارہ گھنٹے کی ڈرائیو بہت شاندار رہی۔ ہم تین لوگ تھے‘ گاڑی ہمارے پاس بڑی تھی جیسے پاکستان میں پراڈو ہوتی ہے۔ طے یہ پایا کہ ڈرائیونگ کی باری لگے گی‘ تین چار گھنٹے کے بعد ڈرائیونگ سیٹ دوسرا شخص سنبھالے گا۔ پہلے سوچا علی الصبح سفر پہ نکلا جائے تاکہ شام تک منزلِ مقصود تک پہنچ جائیں۔ مگر پھر فیصلہ ہوا کہ آرام سے نیند پوری کرکے اٹھیں اور پھر روانہ ہوں۔ اس آرام کے چکر میں دوپہر ہوگئی۔ پھر سوچا لنچ کرلیں تو چلیں‘ چنانچہ نکلتے نکلتے ہمیں تین‘ ساڑھے تین بج گئے۔ سفر شروع ہوا‘ راستے بھر کھیت‘ پہاڑ‘ جھیلیں دیکھتے رہے۔ جی کرتا تھا گاڑی سے اُتر کر یہیں پکنک منانا شروع کردیں۔ مویشی نظر آئے جو گھاس چر رہے تھے۔ کہیں کہیں میں نے دیکھا بھوسے کی جیسی گول ڈھیریاں پڑی تھیں۔ معلوم ہوا یہ خاص گھاس ہے جسے مشین سے کاٹ کے مشین کے ذریعے ہی لپیٹ دیا گیا ہے‘ اس کو جانوروں کے چارے کے طور استعمال کیا جائے گا۔ بہت سے لوگوں کا ذریعہ معاش یہی چارا ہوتا ہے جسے بیچ کے وہ گزر بسر کرتے ہیں۔ ہماری گاڑی فراٹے بھرتی چلی جارہی تھی۔ شام ہونے لگی تو میں نے پیشکش کی کہ اندھیرا پھیلنے سے پہلے میں گاڑی چلالیتی ہوں۔ ہمارے دوستوں نے کہا کہ چونکہ آپ نے پہلے ہائی وے پر اتنی سپیڈ پہ گاڑی نہیں چلائی اور ویسے بھی بارش کی وجہ سے سڑک پر پھسلن ہے لہٰذا آپ آرام سے بیٹھیں نظارے کریں۔ ایک غلطی ہم سے یہ ہوئی کہ کوئی گانوں کی سی ڈی گاڑی میں نہیں رکھی لہٰذا موسیقی کی کمی محسوس ہو رہی تھی‘ اس کا حل یہ نکالا کہ خود ہی گانے کا مظاہرہ کیا۔ بہت لطف آیا‘ کوئی پنجابی گیت‘ کوئی غزل‘ کوئی درد بھرا گیت‘ گاتے رہے۔ حلق خشک ہوا تو راستے میں رُکنے کا سوچا‘ مگر چونکہ
Kamloops
پہنچنے والے تھے تو سوچا اب وہیں رُکیں گے۔
Kamloops
پہنچے‘ ایک دیسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا‘ کھانا اچھا تھا۔ کھانے کے بعدمصالحہ چائے منگوائی جو بے حد بے ذائقہ تھی۔ سوچا چائے راستے سے پی لیں گے۔ چائے کا یہاں مسئلہ ہے۔ یہاں دیسی ریسٹورنٹ میں تو اچھی کڑک ہمارے انداز کی چائے ملتی ہے مگر باقی جگہوں پر پیپر کپ میں ایک ٹی بیگ ڈال دیتے ہیں جس میں نہ رنگ ہوتا ہے نہ خوشبو‘ اوپر سے دودھ ڈالو تو چائے سفید ہو جاتی ہے اس لئے لوگ کافی زیادہ پیتے ہیں۔
Kamloops
سے نکلے تو اندھیرا پھیل چکا تھا‘ کھانا کھاچکے تھے نیند کا غلبہ ہو رہا تھا‘ مگر سویا نہیں جارہا تھا سمجھئے اونگھ آرہی تھی۔ مجھے خوف ہوا کہ رات کی تاریکی میں سفر مناسب ہوگا یا نہیں۔ مگر معلوم ہوا کہ کینیڈا میں چور ڈاکو کا تصور موجود نہیں‘ رات کو ہائی وے پہ اطمینان سے سفر کریں کوئی بندوق بردار کہیں قریبی جھاڑی سے نمودار نہیں ہوگا۔

 

candamaminaik.jpgکینیڈا کی حکومت لوگوں کی جان و مال کی محافظ ہے۔ یہاں جنگلوں‘ بیابانوں میں لوگ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جہاں میلوں تک آبادی نہیں ہوتی مگر نہ تو کوئی واردات ہوتی ہے نہ لُٹیرے آتے ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھلے آپ جنگل میں رہتے ہوں جہاں سوائے آپ کے دُور دُور تک کچھ نہ ہو پھر بھی وہاںآپ کو بجلی‘ پانی‘ گیس‘ فون اور کیبل سب سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے قصبے میں مارکیٹیں ہیں جہاں وہی دکانیں اور اسٹور ہیں جو بڑے شہروں میں ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے‘ سکول ہوں یا بازار‘ امن وامان ہو یا ضروریاتِ زندگی کی اشیا‘ حکومتِ کینیڈا لوگوں کا خیال رکھتی ہے‘ اُن کے ٹیکس کے پیسے کو انہیں کے کام میں لاتی ہے۔ اب ہائی وے پر ہی دیکھیئے کہ سڑک پر اسٹریٹ لائٹیں نہیں مگر سڑک پر ایسی پٹیاں یا دھاریاں پینٹ کی گئی ہیں جو گاڑی کی لائٹ پڑنے سے اندھیرے میں چمکتی ہیں جس سے سڑک روشن نظر آتی ہے‘ اسی طرح سڑک کے کنارے ایسے
Reflectors
ہیں جو بلب کی طرح چمکتے ہیں۔ ایک اور کمال یہ ہے کہ دو طرفہ سڑک کو تقسیم کرنے والی اور اطراف کی چمکدار پٹی پہ سڑک کی سطح کچھ ایسی گراری دار ہے کہ اگر گاڑی چلاتے ہوئے ڈرائیور کی آنکھ لگ جائے یا بے خیال میں گاڑی ٹریک سے باہر جانے لگے تو اس ناہموار پٹی پر ٹائر کی رگڑ سے زور دار آواز پیدا ہوتی ہے جس سے ڈرائیور فوراً ہوشیار ہوجاتا ہے۔
ہمارا سفر جاری تھا‘ بارش تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی‘ راستے سے ہم پٹرول ڈالواتے‘ کافی پیتے چلے جارہے تھے۔ یہاں پٹرول کو گیس کہتے ہیں، عموماً ہر گیس اسٹیشن پر سٹور ہوتا ہے جہاں سے ضرورت کی چیزیں مل جاتی ہیں‘ صاف ستھرے واش روم ہوتے ہیں‘ یہ سب 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ رات کو دو بجے تھے‘ ہم سفر میں تھے‘ میں نے غور کیا گاڑی کی سپیڈ زیادہ نہیں تھی۔ وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ رفتار کی حد جو سڑک کے کنارے لکھی ہے اسی پر گاڑی چلانی ہوگی ورنہ چالان ہوسکتا ہے۔ مجھے بڑی ہنسی آئی کہ بیابان میں کوئی چالان کرے گا مگر میری حیرت کہ اس وقت انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ راستے میں پولیس کی گاڑی کونے میں کھڑی اپنے فرائض ادا کرنے کے لئے موجود ہے۔
بارہ گھنٹے کا سفر کیسے طے ہوا پتہ ہی نہیں چلا‘ ایڈمنٹن پہنچے تو صبح ہو رہی تھی۔ یہاں کا ٹائم ونکوور سے آگے ہے سفر کی تھکن کے باعث نیند بھرپور آئی۔
صبح اٹھے تو گھومنے کا پروگرام بنایا۔ ہمارے پاس تفریح کے لئے ایک ہی دن تھا کیونکہ اس کے بعد
Hearing
شروع ہونی تھی۔ یہ
Hearing
کیا ہے۔ اس کا ذکر بعد میں‘ پہلے ایڈمنٹن شہر کے بارے میں بتا دوں‘ یہ البرٹا کا صوبائی دارالخلافہ ہے‘ یہاں تیل کے ذخائر اور ہیرے کی کانیں ہیں۔ یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے‘ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت17ڈگری سینٹی گریڈ پر رہتا ہے‘ جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت منفی میں ہوتاہے۔ برفباری خوب ہوتی ہے۔1972 میں یہاں درجہ حرات منفی 48.3 سینٹی گریڈ تک گرگیا تھا۔ بس اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ یہاں کتنی ٹھنڈ پڑتی ہے۔
یہاں کا سب سے بڑا شاپنگ مال
West Edmonton Mall
ہے جو شمالی امریکا کا سب سے بڑا اور دنیا کا دسواں بڑا مال ہے اور لوگوں کی دلچسپی و تفریح کا سامان خوب ہے۔
مال میں ہم گھومے پھرے‘ شام میں شہر میں گاڑی دوڑاتے رہے‘ یہاں سڑکیں خاصی چوڑی چوڑی ہیں۔ مکانات بھی بڑے بڑے ہیں‘ اچھا خاصا خوبصورت شہر ہے مگر ونکوور جیسی ہریالی نہیں۔ ونکوور میں تو سمندر بھی ہے اور دریا بھی‘ جھیلیں بھی ہیں اور آبشاریں بھی‘ سبزہ بھی ہے اور کھیت بھی‘ موسم نہایت معتدل۔ اس کے مقابلے میں ایڈمنٹن میں شدید سردی پڑتی ہے‘ یہاں بھی دریا ہے‘ جھیل ہے‘ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہاں تیل نکلتا ہے‘ لہٰذا یہاں کی اکانومی مستحکم ہے۔ پیسا کمانا ہو تو یہ صوبہ یعنی البرٹا لاجواب ہے۔ قدرت کے حسین نظارے دیکھنا ہوں تو صوبہ برٹش کولمبیاسب سے بہترین ہے اور مجھے خوشی ہے کہ کینیڈا میں میرا قیام بھی برٹش کولمبیا ہی میں ہے۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
November

تحریر: زبیر طوروالی

آج میرے ساتھ کھانا کھانے آئیے گا۔ میں نے کچھ ٹماٹر کئی مہینوں بعد خریدے ہیں ۔ کاگا نے اپنے دوست کے کان میں کہا۔ کاگا کو کئی مہینوں بعد ٹماٹر ملے تھے۔ دوست نے وہیں سے اپنے گھر اطلاع دی اور کاگا کے ساتھ ان کے گھر ٹماٹر کھانے چلتا بنا۔


یہ اگست 2009 تھا۔ کاگا اور ان کا دوست سوات کے مضافاتی قصبے بحرین کے بازار میں کئی دنوں بعدملے تھے۔ کاگا اور اس کے دوست کی طرح علاقے کے لوگوں نے چار مہینوں سے بازار میں سبزی نہیں دیکھی تھی۔ بازار سے آٹا ختم ہو چکا تھا۔ چاول کے ذخیرے بھی ختم ہوچکے تھے۔ کئی لوگ بھوکے سوتے تو بہت سوں نے اپنے مویشی ذبح کرنے شروع کر دیئے۔ سوات کی تاریخ میں ایسا انسان کا پیدا کردہ قحط پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔
اس واقعے کے ماہ و سال سے آپ کو اندازہ ہوا ہوگا کہ اس سال سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن جاری تھا۔ آپریشن سے پہلے سوات کے مرکزی علاقوں مینگورہ، بریکوٹ، مٹہ، کبل، خوازہ خیلہ وغیرہ سے لوگ صوبے کے دیگر علاقوں میں منتقل ہوچکے تھے لیکن بالائی سوات سے لوگ طویل کرفیو کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکے تھے اور کئی مہینوں تک ایسی خوفناک زندگی گزاری تھی کہ جس سے ہماری آئندہ نسلوں کو خدا بچائے۔ کئی مہینوں بعد جب تھوڑا راشن علاقے میں براستہ شانگلہ آنے لگا تو کاگا جیسے خوش قسمتوں کو ٹماٹر اور پیاز بھی ملنے لگے جس پر وہ بجا طور پر اتراتے، اور اپنے ہمنواؤں کو کھانے پہ بلاتے تھے۔
میں یہ تمہید باندھنا نہیں چاہتا لیکن کیا کریں اب جب بھی سوات کے حسن، امن یا جشن کی بات کرتے ہیں تو ماضی ایک ڈراؤنے خواب کی طرح آکر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ یوں جب سوات میں خوش خوراکی کا خیال آیا تو لامحالہ کاگا اور اس کے دوست کا واقعہ یاد آ گیا۔

swatkratoran.jpgعلامہ اقبال کے بقول ان کو پوری زندگی میں چند شاندار ضیافتیں ہمیشہ یاد رہتی تھیں۔ ان ضیافتوں میں سے ایک علامہ صاحب نے افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ کے ہاں تناول فرمائی تھی اور علامہ کو افغانی خوراک بہت پسند آئی تھی۔
صوبہ خیبرپختون خوا نسلی اور جغرافیائی لحاظ سے افغانستان سے ہمیشہ جڑا رہا ہے۔ البتہ سیاسی طور پر افغانستان سے الگ رہنے کی وجہ سے یہاں کئی چیزیں بدل چکی ہیں تاہم اس صوبے میں افغان مہاجرین کی رہائش اور فاٹا کے پختون قبائل کی آمدورفت کی وجہ سے کئی افغانی روایات کا احیاء ہوا ہے۔ ان روایات میں ایک خوراک کی روایت بھی شامل ہے۔


ریسٹورانٹ میں دسترخوان بچھانے کا عمل ہو یا پھر پکوان ہمیں ہر جگہ یہ افغانی رنگ نظر آنے لگے ہیں۔ اب تو پنجاب اور سندھ میں بھی کئی ریسٹوران افغانی یا شنواری لکھ کر اپنی دکان اونچی کرنے لگے ہیں۔
ہندوکش اور سلیمان کے لوگ گوشت خور زیادہ ہیں۔ یہاں اچھا کھانا گوشت کا ہی ہوتا ہے۔ افغانیوں کو دُنبے کا گوشت بہت مرغوب ہے۔ اس کے گوشت کی کڑاہی ہو یا پھر دم پخت و روش سب دنبے کے گوشت کا ہی بنا ہوتا ہے۔ بڑے گوشت کا بھی استعمال زیادہ ہے۔ چپل کباب بھی خیبر پختون خوا کا اہم پکوان ہے۔


مگر ایسی خوراک کے اچھے ریستوران پہلے اتنے عام نہیں تھے۔ سوات میں تو حالت ابتر ہی تھی‘ جو چند ریستوران ہوا کرتے وہاں بیٹھنے کا نظام اور اردگرد کا ماحول دلپذیر نہیں ہوتا۔
میرے ایک ساتھی کے مطابق خوراک سستی ہو یا مہنگی بس بیٹھنے کا انتظام اچھا ہونا چاہئے تاکہ لوگ کھانے سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ان کے نزدیک خوش خوراکی ایک سلیقہ ہے۔ اس سے خوراک کا معیار مقصود نہیں۔۔۔ ان کی بات میں وزن ہے۔ تین سال پہلے جاپان کے مرکزی شہر ٹوکیو میں کچھ عرصہ رہنے کا موقع ملا۔ اس شہر میں مقامیوں کے مطابق کل آٹھ لاکھ ریستوران ہیں۔ میں نے وہاں بین الاقوامی فوڈز فرنچائز کو کم دیکھا۔ ہر ریستوران ایک ثقافتی نمونہ لگتا تھا جہاں لوگ عشائیہ کرتے ہیں‘ وہاں لنچ کا رواج اتنا نہیں البتہ لوگ ٹولیوں کی شکل میں ڈنر کرتے ہیں اور اس پر دو تین گھنٹے صرف کرتے ہیں اور اپنی خوراک سے بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں۔
سوات میں پچھلے دو تین سالوں میں اچھے خاصے ریستوران بنے ہیں۔ مینگورہ شہر میں بائی پاس روڈ، جو دریائے سوات کے کنارے ایک دو کلومیٹر چلتی ہے پر اچھے اچھے ریستوران بنے ہوئے ہیں۔ یہ تازہ پانی کی ایک نہایت دلکش بیچ نظر آتی ہے۔


اسی طرح مینگورہ سے آگے بحرین اور کالام کی سڑکوں پر بھی مختلف جگہوں پر نئے نئے ریستوران بنے ہیں۔ سب میں ایک بات مشترک ہے۔ ان ریستورانوں کے لئے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا گیا ہے جو حسن کے لحاظ سے پُرکشش ہیں۔ ان ریستورانوں میں مقامی کھانے ملتے ہیں۔ یہاں وہ لوگ ضرور مایوس ہوں گے جن کو ملٹی نیشنل کمپنیوں اور فائیو سٹار ہوٹلوں کے کھانوں کی لت پڑی ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ سرسبز کھلیانوں کے بیچ یا دریا کنارے آپ کو سستی مچھلی کے ڈھابے بھی ملیں گے۔ یہاں آپ کو مقامی مچھلی ملے گی۔ ٹراؤٹ مچھلی کے لئے آپ کو مدین، بحرین یا پھر کالام جانا ہوگا۔


ہمارے بہت سے شہری دوست فائیوسٹار ہوٹلوں پر ان ڈھابوں یا کھلے کچن والے ریستورانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہاں آپ کو کھانے والی چیز سامنے نظر آتی ہے اور آپ اپنی مرضی سے اس کا آرڈر دے سکتے ہیں اور پھر وہ آپ کے سامنے ہی پکائی جاتی ہے۔ کاگا کہتے ہیں کہ پاکستان میں گدھے کا گوشت کھانے سے بچنے کا واحد راستہ یہی ریستوران ہیں جہاں گوشت کا سالم دنبہ یا بکرا ریستوران کے ایک کونے میں لٹک رہا ہوتا ہے اور آپ اس میں سے ایک ٹکڑے کا آرڈر دیتے ہیں جسے متعلقہ باورچی آپ کے سامنے پکاتا ہے۔


منگورہ شہر سے آگے بحرین، کالام کی طرف جاتے ہوئے بھی آپ کو اچھے ریستوران ملتے ہیں۔ مدین پہنچ کر آپ کو ٹراؤٹ مچھلی فارم سے دستیاب ہوتی ہے۔
بحرین ریستوران چپلی کباب میں کافی انوکھا ہے۔ یہاں چائے خانے ہوں یا عام ریستوران سب میں صوفے رکھے گئے ہیں۔ ایسا سوات میں بہت کم ہے۔ بیٹھنے کے لئے اچھے صوفے آپ کو صرف بحرین کے ریسٹوران میں ملیں گے۔ یہاں کی دودھ پتی (چائے) بہت مشہور ہے۔ اسی طرح بحرین کے چپلی کباب کے لئے پورے سوات سے لوگ آتے ہیں۔ ایک غیر ملکی سیاح کے مطابق بحرین کا مختصر بازار پورے سوات میں صاف ستھرا ہے۔ یہاں آپ کو دریائی اور فارمی دونوں قسم کی ٹراؤٹ مچھلی ملے گی۔


بحرین سے کالام تک اس خستہ سڑک پر بھی آپ کو دریا کے کنارے خوراک اور سستانے کی جگہیں ملیں گی جن میں ایک آدھ میں تو بہت اچھے طریقے سے خوراک پیش کی جاتی ہے۔
کالام میں البتہ ریستورانوں کی کمی ہے۔ یہاں رہائش کے لئے بڑے بڑے ہوٹل ہیں مگر کوئی اچھا ریستوران نہیں ہے۔


ان ریستورانوں کے علاوہ بھی اب سوات کے لوگ گھر سے نکل کر دریا کے کنارے کھانا کھانے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اس رمضان میں آپ کو روزانہ دریا کے کنارے کئی گروپس نظر آئے ہوں گے جو خود خوراک تیار کرتے ہیں اور پھر ٹھنڈی لہروں کی لائیو دھنوں کے ساتھ ساتھ اس کا مزا لیتے ہیں۔
خوشی اس بات کی ہورہی ہے کہ سوات کے لوگ اب آہستہ آہستہ اُس صدمے سے نکل رہے ہیں جس کا وہ بُری طرح سے شکار رہے ہیں۔ چشم بددور!

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
November

تحریر: پرویز قمر

اﷲتعالیٰ نے ہماری زمین کو نہایت ہی خوبصورت اور دلفریب انداز میں سجایا ہے۔ جہاں ان گنت جھیلیں‘ آبشاریں‘ دریا‘ وادیاں اور طویل ترین صحرا اپنے پورے جوبن کے ساتھ موجود ہیں۔ سمندروں کا نیلا پانی اور بلند و بالا برف پوش چوٹیاں اس کی شان کی ادنیٰ مثال ہیں۔
بے پناہ صنعتی ترقی‘ کیمیائی فضلوں کا دریاؤں اور سمندروں میں گر کر صاف و شفاف پانی کے ذخیروں کو زہر آلود کرنا‘ لاتعداد گاڑیوں کے دھوئیں کا فضا کو کثیف بنانا‘ نظام قدرت سے لڑنے کے مترادف ہے۔ جس سے نہ صرف انسان خود متاثر ہو رہا ہے بلکہ اس سے آبی جانور‘ چرند‘ پرند‘ شجر و ہجر‘ پہاڑ‘ دریا‘ سمندر‘ الغرض نہ صرف اس کرہ ارض کی تمام چیزیں بلکہ دوسرے جہانوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔


ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے ضرورت محسوس کی گئی کہ کیوں نہ ایسی جگہوں کو جو قدرتی حسن جنگلی حیات اور فطرت کی رعنائیوں سے مالا مال ہوں‘ ان کے اصل رنگ کے ساتھ محفوظ بنایا جائے اور یہاں بسنے والے جانوروں‘ پہاڑوں‘ دریاؤں‘ صحراؤں‘ سبزہ زاروں اور سمندروں کو انسان کی بے جا مداخلت سے باز رکھنے کے لئے قانون سازی کی جائے۔
چنانچہ اس ضمن میں نیشنل پارک کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ دنیا میں نیشنل پارک کا خاکہ سب سے پہلے ولیم ورڈز ورتھ نے 1810میں دیا اور پہلے نیشنل پارک
(Yellow Stone National Park)
کا قیام 1872 میں عمل میں آیا جس کی منظوری امریکی صدر ابراہام لنکن نے دی۔

paknationpark.jpg
اس وقت دنیا بھر میں 6555 نیشنل پارک موجود ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا نیشنل پارک گرین لینڈ نیشنل پارک جس کا رقبہ 972000مربع کلومیٹر ہے۔ جب ہم اپنے ملک پاکستان کی بات کرتے ہیں تو پاکستان کے پاس تقریباً 28 نیشنل پارکس موجود ہیں۔ سب سے بڑا نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک ہے جو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ‘ آواران اور گوادر میں واقع ہے۔ جس کا رقبہ 1650 مربعکلومیٹر ہے۔ ایوب نیشنل پارک پاکستان کا سب سے چھوٹا نیشنل پارک ہے جو کہ ایبٹ آباد‘ خیبرپختونخوا میں واقع ہے۔ پاکستان کے 22نیشنل پارک صوبوں کے زیر کنٹرول ہیں جبکہ باقی پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے 10نیشنل پارک 1993سے 2005کے درمیانی عرصے میں قائم ہوئے۔
دنیا کا سب سے منفرد نیشنل پارک دیوسائی نیشنل پارک ہے جہاں نایاب بھورے ریچھ کی نسل کو بچانے کے لئے انتھک محنت کی جا رہی ہے۔


ہنگول نیشنل پارک
ہنگول نیشنل پارک صوبہ بلوچستان کے تین اضلاع آواران‘ لسبیلہ اور گوادر میں واقع ہے۔ کراچی سے اس پارک کا فاصلہ تقریباً 190کلومیٹر ہے۔ ہنگول نیشنل پارک مکران کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ہی واقع ہے۔ پارک کا ایک کنارا بحیرہ عرب سے ملتا ہے۔ ہنگول نیشنل پارک رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا پارک ہے۔ ہنگول نیشنل پارک کا قیام 1988 میں عمل میں لایا گیا۔ پارک کا ٹوٹل ایریا 1650مربع کلومیٹر ہے۔ ہنگول نیشنل پارک جنگلی حیات اور رینگنے والے جانوروں کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ اس پارک میں بہت سے رینگنے والے جاندار ایسے بھی ہیں جو پانی اور خشکی دونوں میں رہتے ہیں۔ دریائے ہنگول پارک کے درمیان سے ہی گزرتا ہے۔ جو اس پارک کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا باعث ہے۔


ہنگول نیشنل پارک کی حدود میں موجودپہاڑی سلسلے اور ان میں موجود بے شمار غار پاکستان کے کسی اور نیشنل پارک میں موجود نہیں ہیں جو کہ اس پارک کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ شماریات کے سروے کے مطابق پارک میں 3000 کے قریب آئی بیکس، 1500کے لگ بھگ اڑیال اور 1200کے قریب لومڑیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سندھی چیتے‘ انڈین لومڑی‘ جنگلی بلی اور دوسرے جانور بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔دریائے ہنگول میں مچھلیوں اور دوسرے آبی جانوروں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں خاص کر مہاشیر‘ نیلا پیا اور کوی مچھلی مشہور ہے۔ مگر مچھوں کی بھی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہاں کا ہرا کچھوا نایاب تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چھپکلیوں کی بھی کئی اقسام یہاں موجود ہیں۔پارک میں ہر طرف جنگلی درختوں کی بہتات ہے جو کہ پارک کی خوبصورتی میں چارچاند لگاتے ہیں۔ دسمبر سے مارچ تک پارک میں جنگلی حیات دیکھنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔


دیوسائی نیشنل پارک
دیوسائی نیشنل پارک کا قیام 1993میں عمل میں لایا گیا۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 13497 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک گلگت بلتستان کے شہر سکردو کے قریب واقع ہے۔ دیوسائی کو دنیا کا سب سے اونچا سطح مرتفع ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک پہنچنے کا سب سے آسان اور قریب ترین راستہ سکردو شہر سے ہے یہاں سے دیوسائی نیشنل پارک کا فاصلہ تقریباً 30کلومیٹر ہے۔ آپ استور شہر سے بھی براستہ چلم یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ دیوسائی نیشنل پارک کے قیام کا مقصد دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ نایاب ہمالین بھورے ریچھ کی نسل اور اس کے مسکن کو بچانا ہے۔ چنانچہ دیوسائی نیشنل پارک کے قیام کے وقت اس نسل کے ریچھوں کی تعداد تقریباً 19کے لگ بھگ تھی لیکن انتھک محنت اور جانفشاں کوششوں اور اس کو نیشنل پارک کا علاقہ قرار دیئے جانے کے بعد اب ان ریچھوں کی تعداد تقریباً 55کے قریب پہنچ چکی ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک میں پائے جانے والے قابل ذکر جانوروں میں ہمالیائی بھورے ریچھ‘ ہمالین آئی بیکس‘ لال لومڑی‘ گولڈن مارموٹ جو کہ مقامی زبان میں پھیا کہلاتی ہے، اس کے علاوہ لداخ اڑیال ‘ برفانی چیتا قابل ذکر ہے۔ کثیر تعداد میں رنگ برنگے پرندوں کی آماجگاہ ہے۔
دیوسائی نیشنل پارک میں نوع بہ نوع جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں جو کہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ دیوسائی نیشنل پارک کی ایک خصوصیت جو اسے دوسرے پارکس سے منفرد مقام دلاتی ہے وہ شیوسر جھیل ہے جس کے لفظی معنی اندھی جھیل کے ہیں۔ یہ جھیل سطح سمندر سے تقریباً 13589 فٹ بلند ہے دنیا کی بلندترین جھیل تصور کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی لمبائی 2.3کلومیٹر چوڑائی 1.8کلومیٹر اور گہرائی تقریباً 130فٹ ہے۔ سردیوں میں شدید برفباری کی وجہ سے دیوسائی نیشنل پارک تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پارک تک پہنچنے والے تمام راستے بند ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایسے موسم میں بھورے ریچھ اور دوسرے جاندار دنیا کے ہنگاموں سے دور پرسکون ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جب موسم قدرے بہتر ہوتا ہے تو پارک کے تمام جاندار اور اس میں کھلنے والے پھول گرمجوشی سے ان سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ اس سہانے موسم میں مارموٹ اٹکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ الغرض ساری دنیا میں دیوسائی سب سے خوبصورت پارک تصور کیا جاتا ہے۔


کیرتھر نیشنل پارک
کیرتھر نیشنل پارک کا قیام 1974میں عمل میں لایا گیا۔ جو کہ سندھ کے ضلع دادو کی حدود میں واقع ہے۔یہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا پارک ہے۔ کراچی کے شمال میںیہ 80کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس پارک کا آخری سرا سندھ اور بلوچستان کے پہاڑی سلسلے کیرتھر سے جا کر ملتا ہے۔ کیرتھر نیشنل پارک کا مرکزی حصہ کرچاٹ کراچی سے تقریباً 160کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کیرتھر نیشنل پارک تفریح‘ معلومات‘ شماریات اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لئے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہاں شکار کرنا ممنوع ہے۔ کیرتھر نیشنل پارک میں شامل کیرتھر کی پہاڑیاں اڑیال‘ آئی بیکس‘ جنگلی بلیوں‘ لومڑیوں کے لئے جنت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نیشنل پارک کے بعض حصوں میں جنگلی بھیڑیے اور چیتے بھی پائے جاتے ہیں۔ مختلف اقسام کے سانپ‘ نیولے‘ چھپکلیاں اور دوسرے رینگنے والے جانور بھی اس پارک کا حصہ ہیں۔کیرتھر نیشنل پارک کا ایک حصہ حب ڈیم پر مشتمل ہے اور جس کی وجہ یہ نیشنل پارک دوسرے پارکوں سے جداگانہ مقام رکھتا ہے۔ ڈیم کے نیلگوں پانی پر اڑنے والے قیمتی پرندے اور پانی پر بیٹھے سفید بگلے تیرتی ہوئی بطخیں اس کے پانی سے سیراب ہونے والے کھیت منظر و دلکش و دلفریب بناتے ہیں۔


سینٹرل قراقرم نیشنل پارک
سینٹرل قراقرم نیشنل پارک دنیا کا بلند ترین نیشنل پارک ہے۔ اس پارک کی خصوصیت جو کہ دنیا کے دوسرے نیشنل پارکوں سے اسے منفرد مقام دلاتی ہے وہ یہاں پر موجود دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے اور گلیشیئر ہیں۔
دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K-2 اس پارک کا حصہ ہے اور پارک کو منفرد و اعلیٰ مقام دلاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ تین 8000میٹر سے زائد بلند چوٹیاں بھی یہیں موجود ہیں۔ جن میں گیشر بروم‘ براڈ پیک شامل ہیں۔ کے ٹو کا بیس کیمپ بھی اسی پارک میں واقع ہے۔ سینٹرل قراقرم نیشنل پارک کو دنیا کے تین بڑے گلیشیئرز رکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ جس میں سیاچن گلیشیئر بلتوروگلیشیئر اور ہسپر بیافوگلیشیئر اپنی پوری سج دھج کے ساتھ اس پارک اور پاکستان کے لئے فخر کا باعث ہیں۔ پاکستان کے لئے سب سے زیادہ صاف و شفاف پانی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی یہی پارک ہے۔ پارک میں مارکو پولو بھیڑیے‘ مارخور‘ لداخ اڑیال‘ لال لومڑی اور ایشیائی سیاہ ریچھ قدرتی ماحول میں خوش باش زندگی گزار رہے ہیں۔ سینٹرل قراقرم نیشنل پارک میں طرح طرح کے رنگ برنگے پرندوں کی بہتات ہے جو سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ موسم کے لحاظ سے پارک انتہائی سرد تصور کیا جاتا ہے۔ الغرض قدرتی حیات اور قدرتی مناظر اس پارک کا طرہ امتیاز ہیں۔


لال سوہانرا نیشنل پارک
لال سوہانرا نیشنل پارک پنجاب کے شہر بہاولپور سے تقریباً 35کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ لال سوہانرا نیشنل پارک کا قیام 1972 میں عمل میں لایا گیا۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا نیشنل پارک ہے۔
لال سوہانرا نیشنل پارک کا ایک حصہ چھانگامانگا طرز کا ہے۔ برطانوی دور حکومت میں یہاں کئی نسل کے جنگلات لگائے گئے تاکہ ریلوے لائن بچھانے کے لئے اس کی لکڑی استعمال کی جا سکے۔ یہ اپنی نوعیت کا پاکستان میں واحد پارک ہے جہاں ریگستان بھی ہے، جھیلیں بھی، اور سرسبز و شاداب علاقے بھی۔ پارک میں کثیر تعداد میں جانور پائے جاتے ہیں۔ جن میں خرگوش‘ جنگلی بلی‘ لومڑی اور ہرن قابل ذکر ہیں۔ رینگنے والے جانوروں میں انڈین کوبرا‘ سانپ‘ چھپکلیاں اور نیولے پائے جاتے ہیں۔اس پارک کی جھیلوں اور جنگلات میں لاتعداد پرندے پائے جاتے ہیں۔ جن کی چہچہاہٹ سے سارا پارک گونجتا رہتا ہے۔ موسم سرما میں دوردراز سے پرندے ان جھیلوں کو اپنی آماجگاہ بناتے ہیں سفید مرغابیاں جابجا نظر آتی ہیں۔ حکومت پنجاب نے اس پارک کو وائلڈ لائف سفاری میں تبدیل کر دیا ہے۔ جس میں خصوصی طور پر شیر کو بھی اس پارک کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ہمارے یہ نیشنل پارک دنیا بھر میں اپنی انفرادیت اور محل وقوع کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے قدرتی مناظر اور حیات کو اپنی اصل حالت میں برقرار رکھنے کے لئے ہم سب مل جل کر اپنے اپنے شعبے میں کام کریں تاکہ ہماری یہ خوبصورت وادیاں‘ پہاڑ‘ دریا‘ چشمے‘ صحرا اور سمندر قدرتی رنگ بکھیرتے رہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
November

تحریر: عبدالسلام وزیر

موضوع تھوڑا سا عجیب لگے گا۔ میں سوچ رہا تھا کہ وزیرستان میں بی ایم (یعنی برگیڈ میجر۔ یہ برگیڈ کمانڈر کا پرنسپل سٹاف آفیسر ہوتا ہے) کا عنوان دوں یا بی ایم کا وزیرستان، بہرحال میرے آج کے مضمون کا محور پاک فوج کے ایک برگیڈ کا ایک عدد بی ایم ہے اور وہ بھی وزیرستان میں۔ اس سے پہلے تمہید عرض کروں کہ بعض توصیفی نام مثلاً ماموں، چچا وغیرہ تو رشتوں کے لحاظ سے معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم بالحاظ عہدہ اور حیثیت نام اخذ کرنا اور پھر مخاطب کو اسی نام سے مخاطب کرنا وزیرستان جیسے معاشرے میں قدرے مشکل ہوتا ہے۔ ویسے بھی ہم اہل وزیرستان اس لحاظ سے قدرے زیادہ مشکل میں ہیں۔ فوج کے آنے سے پہلے ہر بارعب شخصیت کو ’’ملک‘‘ یا ’’حاجی صاحب‘‘ کہنا ہوتا تھا۔ اگر ’’ملک‘‘ کو ’’حاجی‘‘ اور ’’حاجی‘‘ کو ملک کہا تو معاملہ گڑ بڑ ہو جاتا۔ اسی طرح سرکاری دفاتر میں تحصیل دار کو خان کہنا اور وہ بھی تحصیل کے نام کا لاحقہ لگا کے مثلاً ’’دوسلی کا خان‘‘ اور ’’رزمک کا خان‘‘ وغیرہ۔ اسی طرح ہیڈکوارٹرمیں بیٹھے گریڈ سترہ کے افسر کو خان بہادر کہنا تھا۔ پٹھان چونکہ عموماً ہر تگڑی اور معزز شخصیت اور عہدے کا نام اپنے بچوں کے لئے تجویز کرتا ہے۔ لہٰذا بہت سے نام تحصیل دار خان اور پولیٹیکل خان ہمارے بڑوں نے اپنے بیٹوں کے نام رکھے ہیں۔ میں خود بھی حیران ہوں کہ میرا نام کم از کم گورنر خان تو ہونا چاہئے تھا حالانکہ اڑوس پڑوس میں بہت سے نام وزیراعظم خان اور صدر گل رکھے گئے ہیں۔ ہمارے رشتہ داروں میں دو لڑکوں کے نام قائداعظم کے نام سے ہیں جبکہ میرے ایک استاد کا نام پاکستان خان اور ان کے دو بیٹے افغانستان اور ترکستان میرے کلاس فیلو بھی رہ چکے ہیں۔ بات دوسری طرف نکل گئی لہٰذا اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں۔ آپریشن ضرب عضب سے پہلے ہر دوسرے بڑے طالب کو امیر صاحب کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اگر امیر صاحب نہ کہا جاتا تو طالبان اسے بہت محسوس کرتے بلکہ کبھی کبھی تو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا تھا۔ لہٰذا ہم بہت مشکل میں تھے کہ کس کو امیر صاحب اور کس کو صرف ملک صاحب کہیں۔ بہرحال جب فوج نے وہاں پر باقاعدہ طور پر انتظام سنبھالا تو جہاں پر ہمارے دوسرے مسائل حل ہونے لگے تو وہیں ہمیں یہ امید بیدار ہو چلی کہ اب ہم پروٹوکول کے اس بندھن سے بھی آزاد ہو جائیں گے جس نے ہمیں صدیوں سے بری طرح متاثر کیاتھا۔ جس سے ہمارے نام تحصیل دار خان، پولٹیکل گل اور گورنر خان بھی بن گئے تھے۔

 

wazirbm.jpgفوج کے آنے کے بعد فوجی افسر اور جوان کو بلاامتیاز حوالدار کہہ کر مخاطب کیا۔ فوجی افسروں اور جوانوں نے بھی ابتدا میں تو کچھ خاص رد عمل نہیں دیا مگر اب دھیرے دھیرے ہم ایک نئی مشکل میں پھنس گئے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب کی بار ہماری الجھن مزید بڑھ گئی یہاں تو خود حوالداروں کی بہت ساری قسمیں ہیں مثلاً گھڑی نما چیز پہننے والے کو سی ایچ ایم یا بی ایچ ایم کہنا ہوتا ہے۔ پھر صوبیداروں کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً نائب صوبیدار، صوبیدار اور پھر صوبیدار میجر وغیرہ اسی طرح کپتان‘ میجر‘ کرنل اور بریگیڈئیر وغیرہ کو آپ اس کے رینک کے مطابق پروٹوکول دیں گے جو کہ انتہائی مشکل کام ہے۔ کیونکہ معاشرہ اَن پڑھ ہے اور اتنے ڈھیر سارے نام یاد کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ پھر ان سب ناموں اور عہدوں میں سب سے خطرناک شخصیت بی ایم یعنی بریگیڈمیجر کا ہونا ہے۔ فوج کی کسی بھی بریگیڈ کا کرتا دھرتا بی ایم ہی ہوا کرتا ہے۔ وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد وزیرستان سے باہر جانا ہو یا واپس گھر دونوں صورتوں میں بی ایم کے پاس انٹری ضروری ہوتی ہے۔ اس لئے ہر چھوٹا بڑا بی ایمکے نام سے واقفیت رکھتا ہے۔ بی ایم صاحب سے میری پہلی ملاقات اچانک اور دھماکہ خیز ہوئی۔ ایک دن بی ایم نے ایک سرکاری سکول پر اساتذہ کی حاضری کے حوالے سے چھاپہ مارا صرف میں ہی اتفاقاً وہاں موجود تھا۔ ایک شخص نے اساتذہ کی غیرحاضری سے متعلق شکایت کی تو انہوں نے بی ایم کو امیر کہہ کر مخاطب کیا جسیبی ایم نے (شائد دل میں) سخت محسوس کیا قریب بیٹھے ایک اور پڑھے لکھے استاد نے کہا کہ یہ حوالدار صاحب ہیں جبکہ ان کا کمانڈر امیر صاحب ہوتا ہے یہ سن کربی ایم کے چہرے پر ایک بامعنی مسکراہٹ پھیل گئی۔ حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے میں نے مداخلت کی اور غور سے ان کے کندھوں پر لگے چاند تاروں کی طرف دیکھا۔ آنکھیں مل کر پھر دیکھا‘ کہ غلطی کا احتمال نہ ہو۔ میں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کہا کہ یہ میجر صاحب ہیں۔ تاہم میجر صاحب نے اس کو بھی محسوس کیا اور مجھ سے پوچھا کہ صاحب آپ کتنے پڑھے لکھے ہیں۔ عرض کیا کہ میں کچھ خاص نہیں پھر بولے کہ (آئی ایم ناٹ اے کامن میجر، آئی ایم بی ایم پلیز) اس دن سے اگر کبھی غلطی سے بھی کسی میجر سے ملا تو پہلے اُن سے معلوم کیا کہ آپ عام میجر ہیں یا خاص یعنی بی ایم والے۔


مسئلہ بہت گھمبیر ہے کیونکہ عام میجر اور خاص میجر یعنی بی ایم دونوں کے کندھوں پر چاند تاراہی ہوتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ آپ بی ایم کو رینک سے نہیں بلکہ چال چلن سے معلوم کریں گے۔ مثلاً بی ایم کا لہجہ عموماً حاکمانہ ہوتا ہے۔ بات میں کسی حد تک دھمکی اور ہاتھ میں نوٹ پیڈ ہوتا ہے۔ ان کی خاص خوبی یہ ہے کہ وہ کمانڈر کے سامنے بالکل خاموش رہتے ہیں۔ مگر اکیلے میں ملیں تو مولاجٹ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ عموماً کمانڈر کے پیچھے پیچھے جو شخصیت میجر کے رینک میں نظر آئے وہ بی ایم ہی ہوتا ہے۔ تاہم خیال رکھیں کہ ہاتھ میں پیڈ ہو اور شخصیت باوقار ہو۔ یا اگر وہ کمانڈر کے ساتھ ایک ہی گاڑی میں ہو اور ڈرائیونگ سیٹ پر ہو۔ البتہ اس میں بھی غلطی کی گنجائش ہے۔ کیونکہ ان کی غیرموجودگی میں ایک اور شخصیت ہوتی ہے۔ جسے جی تھری کہا جاتا ہے۔ یقین کریں کہ فوجیوں کی جی تھری بندوق تو دیکھی تھی مگر جی تھری کپتان پہلی دفعہ دیکھا ہے۔ وہ بھی بی ایم کی طرح کوئی عام کپتان نہیں ہوتا۔ ان کا ذکر پھر کبھی سہی۔
بی ایم کو کس طرح رام کیا جائے اس حوالے سے بہت سا کام ہوا۔ مشاورت کی طویل بیٹھک چلی۔ فارمولے بنائے گئے مگر بی ایم ایک زیرک اور چالاک پرندے کی مانند مشکل ہی سے ہاتھ آتا ہے۔بی ایم کی اس شہرت کی وجہ سے وزیرستان میں بہت سے بچوں کے نام بی ایم رکھے گئے ہیں۔ پچھلے ماہ اپنے گاؤں گیا تو دور کے رشتہ داروں میں کسی کے ہاں بیٹا بیدا ہوا۔ اﷲتعالیٰ نے انہیں سات بیٹیوں کے بعد بیٹا دیا تھا۔ اس لئے اس گھر میں خوشی دیدنی تھی۔ میں بھی اپنی والدہ کی پرزور خواہش پر مبارک باد دینے ان کے گھر گیا۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ بچہ بیمار ہے اور اسے فوری طور پر علاج کی ضرورت ہے۔ میں نے قریبی پہاڑی چوٹی سے موبائل پر بی ایم کو فون کیا اور انٹری کی درخواست کی۔ بی ایم نے انٹری عنایت فرمائی۔ قصہ مختصر بچے کو علاج کے لئے بنوں لے جایا گیا۔ بیٹے کے والد نے کہا اس بیٹے کا نام ’’بی ایم خان‘‘ ہی رکھ دیا۔ کیونکہ بی ایم کی بروقت اجازت سے بچہ صحت یاب ہو گیاتھا۔ میں نے سمجھانے کے لئے کہا کہ اجازت تو میری وجہ سے ملی لہٰذا بچے کا نام میرے نام پر رکھا جائے۔ مگر بچہ کے والدین ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ مزید انکشاف یہ بھی ہوا کہ بچے کی ایک بہن کا نام بھی ’’بریگیڈیئر‘‘ ہے۔


میں نے تجویز دی کہ کچھ سابقہ اور لاحقہ لگا کر بچی کا نام بریگیڈئرہ بی بی رکھ دیں مگر والدین نے میری یہ تجویز بھی سختی سے رد کر دی۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ضرب عضب سے متاثر ہو کر بکاخیل متاثرین کیمپ میں ایک بچے کا نام عضب خان اور بچی کا نام متاثرینہ رکھا گیا تھا۔ بہر حال آج کل وزیرستان میں ہر طرف بی ایم کے چرچے ہیں۔بی ایم ہر بریگیڈ کا مغز اور روح رواں ہوتا ہے۔ انتہائی زیرک، باریک بین، چست اور چالاک میجر ہوتا ہے۔ جس نے نہ صرف بریگیڈ کے معاملات کو چلانا ہوتا ہے بلکہ عام لوگوں کے ساتھ ایک مؤثر اور مربوط رابطہ اور لین دین کرنا ہوتا ہے۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں کہ اگر وزیرستان میں رہنا ہے تو ’’جیوے بی ایم کہنا ہے‘‘ البتہ اس بات کو ان کے کمانڈر نے محسوس کیا تو میں ذمہ دار نہ ہو ں گا۔


اور میں اس کا اظہار بھی برملا کرنا چاہوں گا کہ وزیرستان میں پاک فوج کے داخلے سے قبل یہاں کے لوگ فوج کے حوالے سے عجیب و غریب خیالات رکھتے تھے لیکن جب پاک فوج یہاں آئی تو اس کا کام دیکھ کر اور وزیرستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے محبت دیکھ کر احساس ہوا کہ یہ بہت محب وطن ادارہ ہے۔ اگر پاک فوج وزیرستان میں نہ آتی تو ہمیں ظلم اور جبر جسے مذہب کے نام پر نافذکیا گیا تھا ہم پر مزید مسلط رہتا۔ پاک فوج نے وزیرستان میں آپریشن کر کے نہ صرف ہم سب کو دہشت گردی کے چنگل سے چھڑایا ہے بلکہ ہمارے لئے تعلیم اور ترقی کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ بلاشبہ اگر پاک فوج وزیرستان میں نہ آتی تو یہاں اتنے سارے سکول اور سڑکیں کہاں بنتیں۔ اب یہاں باقاعدگی سے اہل علاقہ کے لئے میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں اور طرح طرح سے مقامی لوگوں کو معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس سے کوئی شک نہیں کہ پاک فوج نے وزیرستان کے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔

 

مضمون نگار پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے سے وابستہ ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: مجاہد بریلوی

سویت یونین یا معروف معنوں میں اشتراکی روس کا بکھرنا اور ٹوٹنادنیا بھر کے لاکھوں نہیں کروڑوں عوام کے خوابوں کا بکھرنا اور ٹوٹنا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ابھرنے والا اشتراکی روس دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک سپر پاور بن گیا تھاجس کا مقابلہ بعد کے برسوں میں دوسری بڑی سپر پاور امریکہ سے ہوا۔ اشتراکی روس ساری دنیا کے قوم پرستوں، جمہوریت پسندوں اور آزادی کے متوالوں کی آواز بن کر اگر ایک طرف ابھرا تو دوسری طرف سپرپاور امریکہ استعماریت،سامراجیت اور سرمایہ داری کا منبع بن کر بالادست طبقوں کا سرپرست اعلیٰ بنا۔ ان دو سپرپاوروں یعنی اشتراکی روس اور متحدہ ریاست ہائے امریکہ کے درمیان کم وبیش نصف دہائی تک شدید محاذ آرائی رہی جسے سرد جنگ یا
Cold War Era
کہا جاتا ہے۔ کمیونسٹ دشمنوں کی خوش قسمتی اور کمیونسٹوں کی بدقسمتی کہ 90 کی دہائی میں خود اشتراکی روس میں میخائل گور بوچوف کمیونزم کے لئے خودکش بمبار بن جاتے ہیں۔خود سوویت یونین ہی نہیں دنیا بھر کی اشتراکی ریاستیں تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہیں باقی سب سامنے کی تاریخ ہے۔ آپ سوچتے ہوں گے میں یہ کیا کہانی سنانے لگا۔۔۔ تو اے عزیزو! لندن واپسی کے بعد ابھی دم لیا ہی تھا کہ اسلام آباد سے فون آیا کہ آذربائیجان کے لئے 13 اکتوبر کو تیار رہنا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی ’’میڈیا ‘‘ ٹیم میں آپ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پہلے تو یقین نہیں آیا۔۔۔zraazrbijan1.jpg مگر بعد میں جب ایک معتبر نام سے تصدیق ہوئی تو صحیح معنوں میں ’’دل خوش باش ہوا‘‘ کہ ایک عرصے سے خواہش تھی کہ سوویت یونین یعنی اشتراکی روس کے خاتمے کے بعد ذرا اُن ریاستوں کی زیارت کی جائے کہ جہاں۔۔۔ اشتراکی قبضے سے پہلے مسلمانیت کے پھریرے لہراتے تھے اور جو اشتراکی روس کے خاتمے کے بعد پھر سے مشرف بہ اسلام ہو گئے ہیں۔ آذربائیجان سینٹرل ایشیا کی چھ ریاستوں میں سے ایک ہے جو1991 میں آزاد ہوئیں اور جس کا سہرا موجودہ صدر الہام علیوف کے والدِ محترم کو جاتا ہے جو بابائے آذربائیجان کہلائے جاتے ہیں۔ ایک کروڑ آبادی کے ملک آذربائیجان کے شہر ’’باکو‘‘ ایئرپورٹ پر جب جہاز نے لینڈ کیا تو یہی خیا ل تھا کہ ’’بے چارے‘‘ آذربائیجانیوں کا جس طرح 70 برس بدبخت روسیوں نے استحصال کیا ہے اُس کے بعد وہ کسی موہنجوداڑو یا ٹیکسلا سے اگر بدتر نہیں تو ہمارے شہر کراچی سے تو بہتر نہیں ہو گا۔ مگر عزیزو! جیسے جیسے ہمارا قافلہ شہر کی جانب رواں دواں ہوا۔ ہمیں لگا کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے نکل کر دریائے ٹیمز سے ہوتے ہوئے آکسفورڈ اسٹریٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہئے ہئے دریائے ٹیمز کا نام زبان پر آیا تو شاعرِ بے مثال مصطفٰی زیدی یاد آگئے۔


ساحلِ ٹیمز پہ سنگم کا صنم یاد رہا
مجھ کو لندن میں تیرا دیدہِ نم یاد رہا

zraazrbijan.jpg
آپ کہتے ہوں گے مبالغہ آرائی کی بھی حد ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم کے قافلے میں کیا شامل ہوئے کہ الفاظ آپے سے باہر ہو رہے ہیں جواب میں اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ بھئی’’باکو‘‘ آجاؤ زندگی بھر اپنی بانہوں سے نکلنے نہیں دے گا۔سو عزیزو! باکو کے پنج ستارہ 4سیزن ہوٹل میں پہنچتے ہی یہ خوشخبری ملی کہ ساری شام اور شب ہم فارغ ہیں جب اور جہاں چاہیں گھومیں، پھریں،موج اُڑائیں،ہوٹل کے لاؤنج میں۔ ’’ہم کراچی شہر‘‘کے ماروں نے بے خبری بلکہ بھول پن میں اسلام آباد میں مقیم آذربائیجان کے سفیر سے یہ پوچھ لیا کہ جناب ہم کتنی دیر رات تک سڑکوں پر آوارگی کر سکتے ہیں؟ سفیر صاحب نے بے ساختہ ایسا قہقہہ لگایا کہ ’’شرم سے ڈوبنا‘‘ تو ممکن نہ تھا اس لئے زبان پر چُپ کی مُہر لگا لی اور سفیر صاحب کی آذربائیجان اور اُس کے دارالحکومت باکو کے بارے میں معلومات سے مستفید ہونے لگے۔باکو شہر کی آبادی کوئی 40 لاکھ کے قریب ہے۔ 70 فیصد آبادی اہلِ تشیع ہونے کے سبب آذربائیجان کو شیعہ مسلم ریاست کہا جاتا ہے۔ ترکی اور ایران سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ ترکیوں پر آذربائیجانی فدا اور ایرانیوں سے خاصے خفا رہتے ہیں جبکہ حیرت ناک طور پر پاکستانیوں سے حالیہ برسوں سے شدید محبت میں مبتلا ہیں اور اس بات کی شدید خواہش رکھتے ہیں کہ کوئی تین اتحادی ’’سارک‘‘ وجود میں آجائے یعنی آذربائیجان، پاکستان اور ترکی جو اس خطے میں ’’خوشحالی اور امن‘‘ کی نوید بنے۔ سفیر صاحب ہمارے جماہی لینے سے پہلے ہی کہہ اُٹھے ارے یہ میں کیا آپ کو بور کرنے بیٹھ گیا۔ باہر نکلیں اور ذرا بحیرہ قلزم کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کریں۔ شام کا پہلا پہر تھا۔ خُنک خوشگوار ہوا کو کھینچتے جب دائیں بائیں نظر پڑی تو اُس کی منظر کشی نہیں ہو سکتی اس لئے شاعرخرابات عبدالحمید عدم کا سہارا لیتا ہوں۔


گلے ملتے ہیں جب آپس میں دو بچھڑے ہوئے ساتھی
عدم ہم بے سہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے


سو اے عزیزو! ہم جو اُٹھتے بیٹھتے ان دنوں ’’ہائے لندن وائے لندن‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوتے ہیں محض باکو میں 24گھنٹے گزارنے کے بعد ’’ہائے باکو وائے باکو‘‘ کا ورد کر رہے ہیں کہ کیا شہر ہے کیا اس کی شاہراہیں کیا اس کے لہلہاتے سرسبزو شاداب جھومتے درخت اور پھر ان شاہراہوں اور چوکوں پر مسکراہٹ بکھیرتے خوش رنگ گلاب جیسے چہرے لئے آذربائیجانی۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: میمونہ حسین

بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت انتقامی رویوں کو ہوا دیتے ہوئے نہ صرف پاکستان کا نام اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے۔ بلکہ پاکستان سے محبت کرنے کی پاداش میں دھڑادھڑ پھانسیاں دے کر ظلم و ستم کی گھناؤنی مثالیں بھی قائم کر رہی ہے۔
اس وقت تک جماعت اسلامی کے پانچ رہنماؤں کو پھانسیاں دی جا چکی ہیں جن میں مولانا مطیع الرحمن نظامی‘ عبدالقادر ملا‘ محمدقمرالزمان‘ علی احسن مجاہد اور میرقاسم شامل ہیں جبکہ بی این پی کے رہنما صلاح الدین قادر کو بھی پھانسی دی گئی۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم اور مولانا عبدالکلام محمدیوسف کو جیل میں تشدد کرکے شہید کردیا گیا۔ ان پھانسی پانے والے رہنماؤں سے یہ کہا گیا کہ آپ کی سزا معاف ہو سکتی ہے اگر آپ یہ بات لکھ کر دیں کہ ہمیں پاکستان اور افواجِ پاکستان سے نفرت ہے جوبے گناہ بنگالیوں کے قتل میں ملوث تھی اور ہم پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سب کے سب سچ ہیں تو آپ صدرِ مملکت سے رحم کی اپیل کرسکتے ہیں۔ لیکن سب رہنماؤں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ جو الزامات عائد کئے گئے ہیں سب جھوٹ ہیں۔ رحم کی اپیل کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام جھوٹ کو سچ مان لیاگیا۔ اس لئے ہم اس جھوٹ کو نہیں مانتے ہمیں پھانسی ہی منظور ہے۔
عبدالقادر ملا‘ جو جماعت اسلامی کے مرکزی اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ 1996سے2008 تک رکنِ پارلیمنٹ رہے اور دنیا کے 500مؤثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں ان کا نام شامل رہا ان کو 2دسمبر2013 میں پھانسی دے دی گئی۔ محمدقمرالزمان بھی جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری رہے۔ انہوں نے ہمیشہ سچ کابول بالا کیا۔ پیشے کے لحاظ سے یہ صحافی اور مصنف تھے۔ ان کو 11 اپریل 2015 کو پھانسی دی گئی۔

 

چوہدری معین الدین پر ان کی غیرحاضری میں مقدمہ چلایا گیا ان کو 3نومبر 2013 کو سزائے موت سُنا دی گئی۔ وہ عالمی اسلامی ادارہ مسلم ایڈ کے سابق چیئرمین اور برطانوی ادارے نیشنل ہیلتھ سروسز کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔ پروفیسر غلام اعظم جو بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق امیرتھے، کو 15جون 2013 کو 90 سال کی قیدسنائی گئی مگرپروفیسر غلام اعظم تشدد برداشت نہ کرسکے اور91 برس کی عمر میں 23اکتوبر2014 کو جیل ہی میں انتقال کرگئے۔ جماعت اسلامی کے ایک اور سابق جنرل سیکرٹری علی احسن مجاہد کو17 جولائی 2013 کو سزائے موت سنائی گئی۔ جبکہ22 نومبر2015 کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ علی احسن مجاہد 2007 تک بنگلا دیش کے رکن پارلیمنٹ اور سوشل ویلفیئر کے وفاقی وزیر رہے۔ صلاح الدین چوہدری جو بی این پی کے رہنما اور7 بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ان کو یکم اکتوبر2013 کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ22نومبر2015 کو ان کو بھی پھانسی دے دی گئی۔ وہ اپنی پارٹی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے رُکن اور پارٹی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کے پارلیمانی امور کے مشیر بھی رہے۔

 

bangladesh.jpgعلم حدیث کے ممتاز ماہر اور جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر مولانا عبدالکلام محمدیوسف پر ابھی مقدمہ چل رہا تھا کہ وہ جیل کی اذیتیں برداشت نہ کر پائے اور2 فروری 2014 کو جیل میں ہی انتقال گئے۔2نومبر2014 کو جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور اسلامی بینک کے ڈائریکٹر اور ڈگانتا میڈیا کارپوریشن کے چیئرمین ابنِ سینا ٹرسٹ کے بانی‘ رابطہ عالمی اسلامی کونسل کے ڈائریکٹر میرقاسم کو سزائے موت سنا دی گئی اور انہیں 3 ستمبر2016 کو پھانسی دے دی گئی۔ ان سب رہنماؤں پر غداری‘ قتلِ عام‘ خواتین کی بے حرمتی‘ زنا اور لوٹ مار سمیت نہایت بیہودہ الزامات عائد کرکے انہیں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ نام نہاد وار کرائم ٹربیونل قائم کیا گیا اور پھر اس میں مقدمات چلائے گئے۔ لیکن مقدمات میں بھی یہ ثابت ہوا کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ اسی وجہ سے بنگلہ دیشی حکومت نے حکومتی مشینری کا استعمال کرتے ہوئے جعلی گواہ تیار کرکے ان رہنماؤں کو دفاع کے حق سے محروم کرکے اپنی منشا کے مطابق عدالتوں سے فیصلے کروائے۔ وہ مقدمات جو انٹرنیشنل وار کرائم ٹربیونل میں چلائے گئے، عالمی قوانین و انصاف سے تصادم ہیں۔ غیر ملکی حکومتوں اورانسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے غیرقانونی قرار دیا ہے۔ اس ٹربیونل کا پہلا چیف جسٹس محمدنظام الحق جو ایک متعصب شخص تھا وہ پہلے ہی دن سے اُن رہنماؤں کے خلاف تھا۔20 سال پہلے جب وہ وکیل تھا تو اس نے عوام کے سامنے ایک ڈرامہ کیا‘ خود ہی عدالت لگائی اور خود ہی پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے تمام رہنماؤں کو سزائے موت دینے کا اعلان کردیا۔ اس وقت تولوگ اس کے اس ڈرامے پر ہنسے لیکن 20 سال بعد اس کا یہ خواب پورا ہو گیا جب اُسے اس ٹربیونل کا صدر بنایاگیا تو وہ بے حد خوش تھا۔ مگر اچانک ہی اس سے استعفیٰ لے لیاگیا۔ کیونکہ حسینہ واجد یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے منصوبے کی قلعی کھلے۔ حقیقت یہ تھی کہ جسٹس نظام الحق اور بنگالی قانون دان ضیاء الدین کے درمیان
SKYPE
پر ٹربیونل گفتگو اور ای میلز غیر ملکی جریدے تک پہنچ گئیں اور انہوں نے تمام گفتگو اورای میلز شائع کردیں۔ جس میں جسٹس نظام نے واضح طور پر کہا کہ حسینہ واجد بھارت کی مدد سے حکومت چاہتی ہے تاکہ وہ بھارت مخالف رہنماؤں کا خاتمہ کرکے اپنے باپ کا بدلہ لے سکے۔گفتگو تو بہت لمبی ہے جو یہاں ایک مضمون میں لکھنا ممکن نہیں لیکن سب سے بڑی بات42 برس بعدقائم ہونے والا یہ ٹربیونل‘ مقدمات اور پھانسیاں19 اپریل 1974 کو طے پانے والے سہ طرفی معاہدے کی خلاف ورزیاں ہیں جن کے فریقین پاکستان‘ بھارت اور بنگلہ دیش تھے۔


اس معاہدے میں واضح طور پر یہ طے پایا تھا کہ 195 جنگی قیدی جو گرفتار ہیں ان پر بنگلہ دیشی حکومت غداری کا مقدمہ چلا سکتی ہے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دے سکتی ہے۔ مگر اب جن لوگوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں ان کا نام نہ تو ان 195 جنگی قیدیوں میں شامل ہے نہ ہی ان کے خلاف کئی عشروں تک کوئی مقدمہ درج نہ ہوا بلکہ یہ تو رکن پارلیمنٹ بھی رہے اور خالدہ ضیاء کے دور میں اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حسینہ واجد نے ان اہم رہنماؤں پر اچانک مقدمات درج کرکے انہیں پھانسیاں دینے کا سلسلہ کیوں شروع کردیا؟


اس کا جواب یہ ہے کہ سابق بھارتی وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے بنگلہ دیش کا دورہ کرنے سے پہلے 30 جون2011 میں نئی دہلی میں بنگلہ دیشی اور بھارتی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں لیکن ہمیں اس چیز کا لحاظ رکھنا پڑے گا کہ بنگلا دیش کی کم از کم 25فیصد آبادی اعلانیہ طور پر اسلام پسندوں سے وابستہ ہے اور یہ لوگ بھارت کے مخالف اور پاکستان کے حق میں ہیں اس لئے بنگلہ دیش کا سیاسی منظرنامہ کسی وقت بھی تبدیل ہوسکتا ہے اس لئے ان رہنماؤں کو گرفت میں لانے کی ضرورت ہے اس کے بعد بھارت نے بنگلہ دیش کے اندر اپنی کارروائیاں اور مداخلت مزید تیز کردی اور بھارت کی ایماء پر ان معزز رہنماؤں کو گرفتار کرکے پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کردیا۔


اگر ہم اس صورت حال کا جائزہ لیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حسینہ واجد کی حکومت، بنگلہ دیش کی سب سے منظم اور بڑی سیاسی جماعت، جماعتِ اسلامی سمیت تمام مخالف قوتوں کو ختم کرنے کی کوشش کرکے خود کشی کرنے جارہی ہے۔ اگر ان قوتوں کو ملک کے سیاسی منظر نامے سے باہر رکھا گیا تو یقیناًان کے کارکن زیرِ زمین چلے جائیں گے اورایسی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں جس سے پورا ملک عدمِ استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش کی ایک اہم سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے ساتھ ساتھ تعصبانہ اور انتقامی رویہ حسینہ واجد کی حکومت کے خطرناک ایجنڈے کو ظاہر کرتا ہے۔سب سے پہلے بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیوں کی فہرست سے جماعت اسلامی کا نام خارج کردیا ہے اور حکومت نے جماعتِ اسلامی کو کالعدم قرار دے کر اس کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے اور اب بنگلہ دیش کے لوگوں کے پاس اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کے سوا کوئی آپشن نہیں اور اسی وجہ سے کچھ اسلام پسند حلقے پاکستان سے الحاق کی باتیں کررہے ہیں۔
بنگالی حکومت بنگلہ دیش میں آج جو نفرت کے بیچ بوئے جا رہی ہیں کل آنے والی نسلوں کو یہ فصل کاٹنا ہوگی۔ تب اس خونریزی کو روکنا مشکل ہو گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

امریکہ، بھارت کے درمیان
Logistic Exchange Momorandum of Agreement
کے تحت فوجی تعاون کے معاہدے پر واشنگٹن میں دستخط ہوئے۔
LEMOA
معاہدے کے مطابق امریکہ اور بھارت نہ صرف ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کر سکیں گے بلکہ ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو مشترکہ دشمن اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف بھی استعمال کریں گے۔ بھارتی حکومت نے فوجی اور سیاسی تجزیہنگاروں سے گزارش کی کہ اس معاہدے کو مستقل بنیادوں پر فوجی معاہدہ نہ سمجھا جائے۔ بلکہ یہ صرف ایک لاجسٹک سہولت ہے جو امریکی، بری، بحری اور فضائی جہازوں کو دی جائے گی۔ جس سے دونوں ممالک کی خودمختاری کم نہ ہو گی۔ امریکہ بھارت میں نہ ہی کوئی فوج اور نہ ہی کوئی فوجی جہاز مستقل طور پر کھڑا کرے گا۔ یعنی جو بھی سہولت ہو گی وہ وقتی یا وقت پڑنے پر استعمال کی جائے گی۔ آج کے سائنسی دور میں کوئی بھی زمین کا ٹکڑا جو صرف لاجسٹک سہولت دے وہ وقت پڑنے پر فوجی اڈے کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس پوری لاجسٹک سہولت میں ایندھن کی فراہمی کے علاوہ اور بھی لاتعداد اشیاء جو باہمی آپریشن‘ انسانی ہمدردی کے طور پر مددیا ریلیف آپریشن میں چاہئیں ہوں‘ موجود ہوتی ہیں۔ یعنی لاجسٹک سہولت کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر کیا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ لاجسٹک سہولت دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے کسی بھی فوجی تعاون کے معاہدے کا پہلا قدم ہے۔
1950کی دہائی میں جب پاکستان امریکہ کے ساتھ فوجی معاہدے میں شامل ہوا تھا تو بھارت نے ایک سفارتی مہم کے ذریعے پاکستان کا غیرجانبدار تحریک
(NAM)
میں راستہ روکا تھا اور آج بھارتی حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ وقتی سہولیات ہیں۔ امریکہ نے 20ویں صدی کے دوسرے حصے میں دنیا کے معاشی اور
Strategic
اُفق پر اسی طرح کے تقریباً 800فوجی اڈوں سے حکمرانی کی تھی۔ مستقل فوجی اڈے امریکہ کے لئے زیادہ سودمند نہ ثابت ہوئے۔ اس لئے امریکہ نے لاجسٹک سہولیات کاطریقہ استعمال کیا۔ بھارت میں
LEMOA
پر اس لئے زیادہ تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ اس سے امریکہ کو زیادہ فائدہ ہو گا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ رسائی دونوں ممالک کو حاصل ہو گی۔ لہٰذا اس سہولت کے ذریعے اپنی مرضی کی طاقت کا توازن اس خطے میں قائم کیا جا سکتا ہے۔


اس معاہدے سے جنوبی ایشیا پرہونے والے اثرات جلد ہی سامنے آجائیں گے۔ ماضی میں کی گئی تمام کوششیں اب کامیاب ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ایک ملک جو پہلے ہی اپنے آپ کو سکیورٹی مہیا کرنے والا سمجھتا ہو اورجس کی خطے کے باقی چھوٹے ممالک سے تعلقات برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک پولیس مین جیسے ہوں تو آنے والے وقت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایک عالمی طاقت سے معاہدے کے بعد بھارت نے اپنے اس رول کی تصدیق بھی کر دی۔
صورتحال مزید تشویشناک اس لئے بھی ہے کہ امریکہ اور بھارت نے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان پر دہشت گردوں کی سرحدی دراندازی کا الزام لگایا ہے۔ ان سب کے بعد امریکہ یا دنیا یہ کیسے امید کر سکتی ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات میں لچک دکھائے گا۔ بلکہ اس کی پالیسی میں زیادہ خود سری اور سختی آ جائے گی۔ پہلے بھی تمام رابطے اور کوششیں پاکستان ہی کی طرف سے کی جاتی رہی ہیں اور وہ بھارت کی غیرلچکدار پالیسی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ یعنی جنوبی ایشیا میں آج تک کی جانے والی کوششیں ضائع ہوتی نظرآرہی ہیں۔
اس غیرمتوازن طاقت میں افغانستان، بھارت اور امریکہ کا ساتھی ہے۔ پاکستان سے ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں میں ملوث افراد کے خلاف مزید اقدامات کا مطالبہ دراصل امریکہ بھارت ہم آہنگی اور پاکستان کو خطے میں تنہا کرنے کی طرف ایک قدم ہے اور اس میں افغانستان کی موجودہ حکومت ان کے ساتھ ہے۔ سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان کو شامل نہ کرنا افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کو خراب کرے گا۔ افغانستان میں برسرپیکار افغان گروپس کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اور مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں پاکستان کی جگہ بھارت کو دینا ایک بہت سنگین غلطی ہونے جا رہی ہے۔ بھارت، امریکہ اور افغانستان حکومت کو یہ ماننا چاہئے کہ افغانستان مزید خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے یہ چار بلکہ پانچ فریقی مذاکرت ہونے چاہئیں۔ خانہ جنگی سے سب سے زیادہ متاثر افغانستان ہو گا اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو گے۔ تو کیا یہ تجزیہ بالکل ٹھیک نہیں ہو گاکہ امریکہ دراصل افغانستان میں چین اور روس پر نظر رکھنے کے ارادے سے آیا تھا ۔ نہ ہی امریکہ کو کبھی افغانستان کے معاملات کو ٹھیک کرنے میں دلچسپی رہی ہے اور نہ ہی اس وجہ سے پھیلنے والی دہشت گردی سے امریکہ براہ راست متاثر ہوا۔ امریکہ کی پالیسی چین فوکسڈ ہے اور یہی ایک مشترکہ مفاد ہے جو بھارت اور امریکہ کو اتنا قریب لے آیا ہے۔


کشمیر میں بھارت کی ظالمانہ پالیسی کو مزید تقویت ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ دنیا کا الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی مظالم کی رپورٹنگ کر رہی ہیں جبکہ پاکستان اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھاچکا ہے۔ ایسے میں بھارت امریکہ کے دفاعی معاہدے کا سیاسی فائدہ اٹھائے گا۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی بھارت کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ نہ بنائیں تو پاکستان کی کوششوں کو آسانی سے پس پشت ڈال دیا جائے گا۔ یہیں بھارت کو مزید موقع مل جائے گا کہ وہ سفاکیت سے کشمیریوں کی تحریک کو دبائے۔ یعنی بھارت نے ایک دفاعی معاہدے سے کتنی بڑی سیاسی چال چلی ہے امریکہ اس نئے تعلق کے بعد بھارت کی کسی بھی پالیسی پر اعتراض نہیں اٹھائے گا چاہے وہ انسانی حقوق کی کتنی ہی خلاف ورزی کیوں نہ کر رہا ہو۔ جیسا کہ اب بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ لیکن بڑی طاقتوں خاص کر امریکہ کو اپنا سیاسی مفاد زیادہ اہم نظر آتا ہے۔ اس لئے نہ پہلے اور نہ اب مسئلہ کشمیر یا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر امریکہ اور اس کے اتحادی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کی حمایت نہیں کریں گے۔ یہ مفادات کی سیاست ہے نہ کہ اصولوں کی۔ بھارت اس معاہدے کے ذریعے امریکہ کو جانبدار کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس طرح اسے اپنی دوسری پالیسیوں میں بھی گرین سگنل مل جائے گا۔ چاہے وہ کشمیری ہوں یا خطے کے دوسرے چھوٹے ممالک ۔ چین اور بھارت دونوں عالمی طاقت بننے کے خواہش مند ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے دونوں کی جانب سے یہ دوڑ جاری ہے۔ چنانچہ آنے والے سالوں میں دونوں کے مفادات کا ٹکراؤ لازم ہے۔ خاص کر اس وقت جب چین ون بیلٹ‘ ون روڈ پالیسی کے تحت سی پیک منصوبے پر اربوں ڈالر لگا رہا ہے۔ امریکہ سی پیک پر نظر رکھنے کے لئے بھارت کے ان فوجی اڈوں کی سہولت کو بآسانی استعمال کر سکے گا اور چین کی گوادر اور
South China Sea
میں بحری آمدورفت پر بھی نظر رکھ سکے گا۔
امریکہ
Pacific
خطے کی طرف ایک ایسے عظیم اتحاد کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں جاپان، فلپائن اور آسٹریلیا پہلے ہی موجود ہیں۔ امریکہ بھارت اتحاد ایک دو طرفہ معاہدہ ہے۔ لیکن یہ معاہدہ اس اتحادی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا۔ جبکہ پاکستان چین روس اور جنوبی کوریا اس اتحاد سے باہر ہیں۔ یہ اس لئے بھی تشویشناک ہے کہ اس سے ملتی جلتی صورت حال جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم سے پہلے پیدا ہوئی تھی۔ جب یورپ کے ممالک دو بڑے عظیم اتحادوں میں بٹ گئے تھے۔ امریکہ کو چین اور روس کی بڑھتی ہوئی دوستی اور دونوں ممالک کا دنیا میں ابھرتا ہوا کردار دراصل عظیم اتحاد کی طرف لے جا رہا ہے۔ لیکن اس سے جنوبی ایشیا کے ممالک اور دنیا کے دوسرے ممالک کیا بھگتنے جا رہے ہیں کسی کو اس کی پروا نہیں ہے۔


فوجی اڈے کسی بھی قسم کی فوری پیش قدمی خاص کر دشمن تک آسانی اور برق رفتاری سے پہنچنے کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ دشمن کو دباؤ میں رکھنے کا یہ ایک کارآمد حربہ ہے۔ بھارت میں اس طرح کی سہولت امریکہ کو بین الاقوامی
Strategic System
پر حاوی کر دے گی او رکسی بھی مدمقابل خاص کر چین اور روس کو ابھرنے سے روکنے میں اہم ہو گی۔ امریکہ کے لئے مستقل اڈے زیادہ سودمند ثابت نہ ہوئے اس لئے امریکہ نے لاجسٹک سہولت کا حل تلاش کیا۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ
LEMOA
سے امریکہ کو زیادہ فائدہ ہو گا ایسا نہیں ہے یہ
Operational Excess
دونوں ممالک کو ہو گی۔ اس کے ذریعے خطے میں اپنی مرضی کا طاقت کا توازن بنایا جا سکتا ہے۔ اور بھارت مستقبل میں اس سہولت کا خطے میں استعمال کر سکتا ہے۔
اس معاہدے کی مزید مضبوطی اور اس تعاون میں پیش رفت آنے والے ردعمل سے بھی تقویت پائے گی۔ ردعمل روس اور ممکن ہے شمالی کوریا کی جانب سے کسی قسم کے اتحاد کی صورت میں آئے۔ ایسے ردعمل میں حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں امریکہ کو دی گئی سہولیات صرف
Operational
حد تک ہی محدود رہیں گی یا ان میں مزید گہرائی بھی آ سکتی ہے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔

شہداء کے نام

 

تمہارے لہو کی خوشبو مہک رہی ہے چار سُو
میرے من کی آرزُو چہک رہی ہے چار سُو
*
اس وطن کی آن کو تم نے جو شان دی
اے میرے مجاہدو! تم نے اپنی جان دی
*
تم نے ملک کے نام کو سر بلند کر دیا
ہم کو اس بات کا پھر پابند کر دیا
*
ہم نے اس ملک کو اِک نکھار دینا ہے
چار سُو محبت کا یہ پیغام دینا ہے
*
حوالدار قاضی محمد اخلاق 

*****

 
08
November

آپریشن ضرب عضب کے ثمرات جہاں اس قوم کو امن و امان کی صورت حال، معمولاتِ زندگی اور کاروبار بہتر ہونے کی صورت میں دکھائی دیئے ہیں وہاں دنیا بھر میں ریاست پاکستان اور اس کی افواج کا وقار بھی بلند ہوا ہے کہ کس طرح سے گزشتہ 14برس سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو انتہائی کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نیٹو اور امریکی افواج مل کر بھی اتنی کامیابیاں نہیں سمیٹ پائیں جس قدر کامیابیاں پاکستانی افواج نے سمیٹی ہیں۔ افواج پاکستان نے مغربی سرحدوں اور ملک کے اندر سے شدت پسندوں کا خاتمہ کر کے امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ظاہر ہے دشمن کو یہ کامیابیاں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ اسی لئے پاکستان میں دہشت گردی کے کُچھ واقعات ہو جاتے ہیں۔ ان واقعات سے قانون نافذ کرنے والے ادارے آہنی ہاتھوں سے نمٹتے ہیں، لیکن ظاہر ہے یہ واقعات قوم کے دلوں میں گہرے زخم لگا جاتے ہیں۔


قوم کے لئے بہرکیف طمانیت کا باعث ہونا چاہئے کہ دہشت گردی کے واقعات میں بہت حد تک کمی آ چکی ہے۔ لیکن پھر بھی کہیں کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو ہمارے جری سپوت کہیں کیپٹن اسفند یار بن کر، تو کہیں کیپٹن روح اﷲ کی صورت میں دہشت گردوں پر بجلی بن کر گرتے ہیں۔ قوم کے یہ بچے اپنی جانیں نچھاور کر کے اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور بیو ی بچوں کو غمگسار کر کے چلے جاتے ہیں لیکن قوم کے کروڑوں شہریوں کو ہنسنے مسکرانے اور سراُٹھا کر زندگی جینے کے معنوں سے آشنا کرجاتے ہیں۔ پولیس ٹریننگ اکیڈمی کوئٹہ پر دہشت گردانہ حملے کے پیچھے بھی وہی دشمن، وہی نیٹ ورک اور اُس کے وہی گھناؤنے عزائم ہیں جن کا اظہار اب وہ ببانگ دہل کرنے لگا ہے۔ حیران کن امر ہے کہ کس طرح پڑوسی ملک کی حکمران قیادت چھاتی بجا بجا کر اس امر کا اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ ہم بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ بہرکیف پاکستانی قوم اور افواج جس طرح سے دشمن کی سازشوں سے نمٹ رہی ہیں اس سے دشمن شدید مایوس ہوا ہے اور اب وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق دھمکیوں اور جعلی سرجیکل سٹرائیک کے پراپیگنڈے کر کے دنیا کے سامنے اپنا وقار بحال کر نے کی کوشش کر رہا ہے۔
دشمن جو ایک عرصے سے صوبہ بلوچستان کے بعض عناصر کی پشت پناہی کر کے پاکستان کو گزند پہنچانے کا خواہاں تھا، اب یہ جان چکا ہے کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کے خاتمے میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا ہے بلکہ اپنے اندرونی مسائل پر قابو پانے میں بھی سرخرو ہو رہا ہے لہٰذا اب اس نے دہشت گردی کے حملے کروا کر پاکستانی عوام کو ہراساں کرنے کی راہ اپنائی ہے۔


دشمن کا کام ہی بہرطور وار کرنا ہے۔ دشمن سے کس طرح نمٹنا ہے اور کس انداز میں اسے شکست دینا ہے، یہ کام ہماری افواج کا ہے اور وہ بطریق احسن اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں جس سے دہشت گردی کے ان اِکادُکا واقعات سے بھی چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔ الغرض اب تک کی حاصل کردہ اپنی کامرانیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے قوم کو مزید مضبوط، پُرعزم اور باحوصلہ ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر قوم کے لئے ملک کو درپیش کسی بھی چیلنج سے نمٹنا مشکل نہیں رہے گا۔ پاکستان ہمیشہ رہنے کے لئے قائم ہوا ہے اور اس کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سربلند رہے گا۔ انشاء اﷲ

08
November

تحریر: عرفان صدیقی ، ٹوکیو

(جاپان)

جہاں چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی دفاعی اور معاشی طاقت نے طاقت کے تواز ن کو کافی حد تک متاثر کیا وہاں جاپان کو’جس کے چین کے ساتھ تاریخی سیاسی و جغرافیائی تنازعات موجود تھے‘ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ایک طاقت ور دفاعی اتحادی کی ضرورت تھی۔ لہٰذا جس طرح دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اسی طرح جاپان کی نظریں بھارت پر پڑیں جس کے چین کے ساتھ کئی تنازعات موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سن باسٹھ میں جنگ بھی لڑی جاچکی ہے۔ دوسری جانب جس طرح چین نے دفاعی و معاشی میدان میں ترقی کی ہے اسی طرح بھارت بھی تیز رفتاری سے معاشی و دفاعی میدان میں ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ جہاں جاپان نے چین کے تناظر میں بھارت کے ساتھ روابط استوار کئے ہیں وہیں بھارت نے چین اور پاکستان کے تناظر میں جاپان کے ساتھ گہرے اور اسٹرٹیجیک تعلقات کے فروغ کے لئے کام کیا ہے ، لیکن جاپان اور چین کے تعلقات میں اور پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں خاصا گہرا تضاد موجود ہے ، جاپان اور چین کے تعلقات میں پہلی جنگ عظیم کے بعد سے کشیدگی موجود تھی۔ کیونکہ پہلی جنگ عظیم کے بعد جاپان نے چین کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرکے اس کو اپنی کالونی میں تبدیل کرلیا تھا اور تاریخی حوالوں سے دیکھا جائے تو اپنے قبضے کے دوران جاپانی افواج نے چینی عوام پر کافی ظلم و ستم بھی کئے تھے تاہم دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست کے بعد چینی عوام کو مکمل آزادی ملی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چین ایک عظیم قوم کی صورت میں سامنے آیا۔ تاہم جاپانی افواج کے چین پر قبضے کے دوران کئے جانے والے ظلم و ستم کی یادیں آج بھی چینی قوم کے دلوں میں موجود ہیں اور ماضی کے زخم آج تک چینی عوام کو تکلیف پہنچارہے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ممالک نے ماضی کے تلخ سیاسی تعلقات کو حال کے بہترین معاشی تعلقات پر حاوی نہیں ہونے دیا اور آج چین اور جاپان بہترین معاشی پارٹنر ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت کا حجم دو سو أرب ڈالر سالانہ سے زائد ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کی زندگیوں پر انتہائی گہرے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دوسرے کے قیام کے وقت شروع ہونے والی تلخیاں آج تک باقی ہیں جبکہ مسئلہ کشمیر کی صورت میں یہ تلخیاں کب تک باقی رہتی ہیں اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ انہی مسائل کے سبب دونوں ممالک کے درمیان آج تک گہرے معاشی تعلقات قائم نہیں ہوسکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جہاں تک جاپان کی جانب سے بھارت کو بہترین تجارتی و دفاعی پارٹیز بنانے کی بات ہے تواس میں امریکہ کا بھی اہم کردار موجودہے۔

 

حقیقت یہی ہے کہ جاپان کا بھار ت کے ساتھ کسی بھی طرح کادفاعی معاہدہ چاہے وہ چین کے تناظر میں ہی کیوں نہ ہو اس سے پاکستان کا متاثر ہونا لازمی امر ہے۔ کیونکہ بھارت کے پاس جو بھی ہتھیار ہونگے وہ صرف چین کے خلاف ہی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی استعمال ہوسکتے ہیں

جب سے بھارت روسی بلاک سے نکل کر امریکی بلاک میں شامل ہوا ہے تب سے ہی جاپان کی نظریں بھی بھارت پر ہیں۔ شروع میں دونوں ممالک کے درمیان بہترین تجارتی تعلقات کا آغاز ہوا ، بھارت نے دہلی میں میٹرو ریل کی تعمیر کا ٹھیکہ جاپان کو دیا تو دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئی۔ گزشتہ تین سالوں میں اگر جاپانی وزیر اعظم تین دفعہ بھارت کے دورے پر جاچکے ہیں تو دودفعہ بھارتی وزیر اعظم بھی جاپان کے دورے پر آچکے ہیں۔ بھارت نے جاپان کو دہلی سے ممبئی تک ہائی وے کی تعمیر کا ٹھیکہ دے کر دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دیا ہے۔ دوسری جانب جاپان نے بھارت سے دس ہزار آئی ٹی ماہرین کو کاروباری و ملازمتی ویزے دے کر ان تعلقات کو فروغ دیا ہے اور اب بھارت جاپان کی جانب سے امداد حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی بن گیا ہے۔ اب جاپان کے درجنوں امدادی منصوبے بھارت میں پایہ تکمیل کے قریب ہیں۔ تجارتی تعلقات میں پیش رفت کے بعد دونوں ممالک نے دفاعی تعلقات میں فروغ کے لئے کام شروع کیا تو سب سے پہلے امریکہ کی رضامندی کے بعد جاپان نے بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر سپلائر گروپ کے حوالے سے معاہدہ کرکے خطے کے دونوں اہم ممالک پاکستان اور چین کو پریشانی میں مبتلا کردیا۔ جاپان کے اس فیصلے سے جہاں چین اور پاکستان کو تشویش لاحق ہوئی تو اس سے زیادہ جاپان کے اندر سے ہی اپوزیشن جماعتوں نے جاپانی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کیونکہ جاپانی آئین کے مطابق جاپان ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف کوئی بھی کام نہیں کرے گا۔ جبکہ بھارت نے آج تک ایٹمی عدم پھیلاؤ کے منصوبے این پی ٹی پر دستخط ہی نہیں کئے ہیں۔ لہٰذا اگر جاپان بھارت کے ساتھ کسی بھی طرح کا ایٹمی معاہدہ کرتا ہے تو یہ جاپانی آئین کی خلاف ورزی شمار ہوگا جس کے بعد جاپانی حکومت نے فوری طور پر بھارت کے ساتھ کوئی بھی ایٹمی معاہدہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ تاہم حال ہی میں جاپانی حکومت کی جانب سے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی لاگت کے بارہ انتہائی جدید ترین جنگی جہاز
US-2i ShinMaywa
جو سمندر میں کسی بھی جنگی جہاز کو ڈھونڈنے اور ریسکیو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کی بھارت کو فروخت کا اعلان کیا تو پاکستان اور چین نے اس ڈیل پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کو جاپان اور بھارت کے ریاستی تعلقات پر اعتراض نہیں ہے تاہم جاپان نے یہ جہاز انتہائی کم قیمت پر بھارت کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو صرف چین کی سلامتی کے خلاف اقدام کے طور پر کیا گیا ہے جس کی چین مذمت کرتا ہے۔ ایک طرف توچین کی جانب سے سرکاری سطح پر اظہار تشویش دوسری جانب بھارت میں اندرونی سطح پر بھی اس معاہدے کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں جس کے بعد اب معلوم ہوا ہے کہ ایک اعشاریہ تین أرب ڈالر کی یہ ڈیل منسوخ ہوتی نظر آرہی ہے۔ کیونکہ بھارتی بحریہ نے بھی ان جہازوں کو نہ خریدنے کے حق میں فیصلہ دیا ہے جس کی کچھ تکنیکی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔جبکہ بعض خبروں کے مطابق بھارت میں دفاعی سودوں پر انتہائی بھاری کمیشن اور کک بیک وصول کیا جاتا ہے جبکہ جاپان کے ساتھ ہونے والی اس ڈیل میں کسی بھی طرح کا کمیشن اور کک بیک حاصل ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ لہٰذا بھارتی حکام نے اس سودے کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ تاہم دیکھا جائے تو حقیقت یہی ہے کہ جاپان کا بھار ت کے ساتھ کسی بھی طرح کادفاعی معاہدہ چاہے وہ چین کے تناظر میں ہی کیوں نہ ہو اس سے پاکستان کا متاثر ہونا لازمی امر ہے۔ کیونکہ بھارت کے پاس جو بھی ہتھیار ہونگے وہ صرف چین کے خلاف ہی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی استعمال ہوسکتے ہیں لہٰذا پاکستان کا ایسی کسی بھی دفاعی ڈیل سے متاثر ہونا لازمی ہے۔ جاپان اور بھارت کا ایک اور مشترکہ مفاد دونوں ممالک کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا امیدوار ہونا بھی ہے جس کے لئے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے لیکن جہاں جاپان کے روس ، شمالی و جنوبی کوریا اور چین کے ساتھ سرحدی تنازعات موجود ہیں تو وہیں بھارت کے پاکستان کے ساتھ کشمیر کے ایشو پر انتہائی اہم تنازعات بھی بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بننے میں رکاوٹ ہیں۔ جبکہ چین یہ بھی کبھی نہیں چاہے گا کہ جاپان اور بھارت میں سے کوئی بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنے۔ جس کے لئے چین اپنا ویٹو پاور بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔جبکہ پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں کسی طرح کے اضافے کی مخالفت ہی کی ہے۔ جاپان کے پاکستان کے ساتھ کتنے ہی بہتر معاشی تعلقات کیوں نہ ہوں، جاپان پاکستان کو کتنی ہی امداد کیوں نہ فراہم کرتا ہو ، جاپان اور پاکستان کے عوام کے درمیان کتنے ہی اچھے تعلقات کیوں نہ ہوں لیکن جب جاپان کے بھارت کے ساتھ بہترین دفاعی و معاشی تعلقات ہوں گے تو پاکستان اور پاکستانی عوام پر ان کے اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان اور بھارت کے عوام کے لئے معاشی تعلقات اور دفاعی تنازعات کو جاپان اور چین کی طرح علیحدہ علیحدہ رکھنا انتہائی مشکل کام ہے جو شاید مستقبل قریب میں بھی ممکن نہ ہوسکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان، بھارت، چین اور جاپان جو ایشیا کی اہم ترین طاقتیں ہیں، باہمی مسائل کو حل کرتی ہیں یا چاروں ممالک کے درمیان موجود تنازعات خطے کے دو ارب سے زائد عوام کے بہتر مستقبل کے لئے خطرے کا سبب ہی بنے رہتے ہیں ۔

مضمون نگار ان دنوں جاپان میں مقیم ہیں۔ آپ پاکستان کے ایک قومی اخبارکے ساتھ بطور کالم نگار بھی منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:10

خالی کھوکھا
پی ایم اے کی حیدرپلاٹون اس لحاظ سے ایک منفرد مقام کی حامل تھی کہ اس میں زمانے کے ستائے ہوئے کیڈٹ حضرات کی اکثریت تھی۔ زیادہ تر دوستوں کو من موجی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کسی نہ کسی وجہ سے ہم سب کاسینئرز، سٹاف اور پلاٹون کمانڈر کے زیر عتاب رہنا ایک لازمی امر تھا۔ ہاں ہمارے دوست منصور اس باب میں ایک علیحدہ شناخت رکھتے تھے۔ ان کا تعلق کیڈٹس کی اس کیٹیگری سے تھا جسے عرف عام میں ’’پَھٹو‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہر معاملے میں احتیاط سے کام لینا ان کی عادت ثانیہ تھی اور فرمانبرداری تو گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ اول تو وہ کسی کو شکایت کا موقع دیتے نہیں تھے لیکن اس کے باوجود اگر بھولے سے کبھی کوئی غلطی ہو بھی جائے تو پنیشمنٹ بھی اتنی ذمہ داری سے کرتے کہ سب عش عش کر اٹھتے۔ انہی گوناگوں خصوصیات کی بنا پروہ تمام سینئرز، سٹاف اور پلاٹون کمانڈروں کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے تھے۔ اس انتہا کو چھوتی ہوئی فرمانبرداری اور احتیاط پسندی کی وجہ سے کبھی کبھی تو ان پرانسان کے بجائے روبوٹ کا گمان ہونے لگتا تھا۔
ان دنوں کیڈٹس کو معمول کی جنگی مشقوں کے دوران ڈمی راؤنڈ ایشو کئے جاتے تھے۔ یہ راؤنڈ دیکھنے میں اصلی راؤنڈ کی طرح ہوتے تھے لیکن ان میں گولی نہیں ہوتی تھی۔ان کو رائفل میں ڈال کر نارمل طریقے سے فائر کیا جاتا تھا۔ فائر کی آواز بالکل اصلی راؤنڈ کی مانند آتی تھی اور خالی کھوکھا رائفل سے باہر نکل کر گر جاتا تھا ۔یہ خالی کھوکھے بہت اہمیت کے حامل تھے کیونکہ ان کو اکٹھا کر کے اپنے پاس جمع کر لیا جاتا اور واپس پہنچ کر ایمونیشن این سی او کے پاس جمع کروادیا جاتا تھا۔ اگر کوئی خالی کھوکھا کسی وجہ سے گم جائے تو کیڈٹ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی متوقع ہوتی تھی۔


ایک بار پورے کورس کو ایک دن پر مشتمل جنگی مشق کے لئے اکیڈمی سے باہر کیمپ کرنا تھا۔ ایک ہفتہ پہلے ہم سب نے تیاریاں شروع کر دیں ۔ مقررہ روز ہر کیڈٹ نے اپنی اپنی رائفل اور ساتھ میں دس دس ڈمی راؤنڈ ایشو کروائے۔ فیلڈ ایریا میں پہنچ کر پلا ن کے مطابق کورس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ آدھی پلاٹونوں کو دفاعی مورچے تیار کرنے کا حکم ملا جب کہ باقی کی پلاٹونوں کو حملہ کر کے دفاعی پوزیشنز پر قبضہ کرنے کا ٹاسک سونپا گیا۔ہماری پلاٹون ایسی ہی ایک پوزیشن کے دفاع کی ڈیوٹی سر انجام دے رہی تھی ۔ ہم سب نے سکھائے گئے طریقے کے مطابق دفاعی اقدامات کا بندوبست کیا۔ پورا دن لگا کر مورچے کھودے گئے اور ان کو دشمن کی نظروں سے بچانے کے لئے کیموفلاج کا اہتمام بھی کیا گیا۔ ہر طرف سے مطمئن ہو کر ہم نے ان مورچوں میں پوزیشنز سنبھال لیں اور رائفلوں میں ڈمی راؤنڈز بھر کر حملہ آور پلاٹونز کا انتظار کرنے لگے۔


شام کے قریب اچانک ایک طرف سے حملہ آوروں کا شور سنائی دیا ۔ ہم پر لگاتار ڈمی راؤنڈ فائر کئے جارہے تھے۔ جواباہم نے بھی متواتر ڈمی راؤنڈ فائر کرنا شروع کئے۔تھوڑی دیر میں دونوں جانب کا اسلحہ ختم ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی جنگی مشق کا یہ مرحلہ بھی اختتام پذیر ہوا۔ پلاٹون کمانڈروں نے اپنی اپنی پلاٹون کو اکٹھا کیا اور ڈی بریفنگ سیشن کا آغاز کر دیا جس کا مقصد مختلف مراحل میں ہونے والی غلطیوں کا جائزہ لینا اور ان کی درستی کروانا تھا۔ آخر میں ایس او پی کے مطابق انہوں نے تمام کیڈٹس کو حکم دیا کہ اپنی رائفلز اور ایمونیشن کے بارے میں آل اوکے کی رپورٹ دیں تاکہ پیک اپ کر کے واپس اکیڈمی کی جانب روانہ ہوا جائے۔ سب کیڈٹس نے اپنے اپنے ہتھیاروں کا جائزہ لیا اور خالی کھوکھوں کی گنتی مکمل کی ۔ باری باری ہر کیڈٹ نے بلند آواز میں آل اوکے رپورٹ دینا شروع کی۔ ہوتے ہوتے جب منصور کی باری آئی تو سلسلہ وہیں رُک گیا۔ منصور نے یہ ہولناک انکشاف کیا کہ ان کا ایک خالی کھوکھا گم ہو چکا ہے۔
یہ سن کر پلاٹون کمانڈر سمیت سب نے اپنا اپنا سر تھام لیا،کیونکہ کھوکھا ڈھونڈے بغیر ہمارا واپس جانا ممکن نہ تھا۔ ہم چند لمحے پہلے خیالوں ہی خیالوں میں میس کے مرغن کھانوں سے زور آزمائی کر رہے تھے، ہاتھوں میں ٹارچیں پکڑ کر جنگل سے خالی کھوکھا برآمد کرنے میں جت گئے۔ اس جنگل بیابان میں اندھیرے کے عالم میں دو انچ کا خالی کھوکھا برآمد کرنا آنکھوں پر پٹی باندھ کربھوسے کے ڈھیر سے سوئی برآمد کرنے کے مترادف تھا۔ ہم سب پورا دن کے تھکے ہوئے تھے لیکن پھر بھی انتہائی جانفشانی سے اس کٹھن کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے تھے۔منصور کے مورچے کے دور و نزدیک نہایت باریک بینی سے چپہ چپہ چھان مارا گیا لیکن خالی کھوکھے نے ملنا تھا نہ ملا۔ پریشانی تھی کہ حل ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔خدا جانے اس کم بخت کھوکھے کو زمین کھا گئی تھی یا آسمان۔ اسی تگ و دو میں رات کے بارہ بج گئے ۔


پلاٹون کمانڈر نے ایک بارپھر ہم سب کو اکٹھا کیا اور منصور سے تفتیش کا آغاز کیا۔ انہوں نے منصور سے پوچھا کہ اس نے رائفل میں کتنے راؤنڈلوڈ کئے تھے تو اس نے جواب دیا ’صرف ایک۔‘ اس پر پلاٹون کمانڈر نے سر پیٹ لیا اور منصور کو رائفل کاک کرنے کا حکم دیا۔ منصور نے رائفل کاک کر لی تو پلاٹون کمانڈر نے پورے کورس کو اکٹھا کیا اور موصوف کو سب کے سامنے رائفل کا رخ آسمان کی جانب کر کے ٹریگر پریس کرنے کا حکم دیا۔ منصور نے جونہی ٹریگر پریس کیا تو فائر کی آواز سنائی دی اور خالی کھوکھا چیمبر سے باہر ہوا میں بلند ہوا جسے پہلو میں کھڑے شکیل نے قلابازی لگا کر دبوچ لیا۔ پورے کورس کی زبان سے ایک ساتھ
Thanks God
کے الفاظ برآمد ہوئے۔ ہوا یوں تھا کہ منصور نے اس ڈر سے دس کی جگہ صرف ایک راؤنڈ ایشو کروایا تھا کہ کہیں راؤنڈ یا خالی کھوکھے گم نہ ہو جائیں ۔ اس نے وہ ایک راؤنڈ رائفل میں لوڈ تو کیا لیکن فائر کرنا بھول گیا۔ وہ راؤنڈ رائفل کے اندر ہی موجود رہا جبکہ اس کا خالی کھوکھا پورا کورس سات گھنٹوں تک تلاش کرتا رہا۔
واپس پہنچ کر میس کا رخ کرنے سے قبل منصور کی کمبل پریڈ کا شاندار اہتمام کیا گیا جس میں پورے کورس نے نہائت اہتمام سے حصہ لیا۔


سیاچن اور ریڈیو
ریڈیو پاکستان کی قدر و قیمت کا جتنا احساس سیاچن میں خدمات سرانجام دینے والے فوجیوں کو ہوتا ہے اتنا شائد ہی دنیا میں کسی اور کو ہو گا۔ گئے وقتوں میں ریڈیو کو معاشرے میں ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔ ریڈیو کے پروگرام تمام اہل خانہ اکٹھے بیٹھ کر سنا کرتے اور اس سے پہلے غیر معمولی اہتمام کیا جاتا۔سرِشام صحن میں خوشبو ملے پانی کا چھڑکا ؤکرنے کے بعد چارپائیاں ترتیب سے بچھا دی جاتیں اور درمیان میں ریڈیو سیٹ کو دلہن کی مانند سجا کر ایک اونچی میز پر رکھ دیا جاتا۔ ریڈیو پاکستان کے ساتھ ساتھ بی بی سی کے پروگرام بھی بڑے شوق سے سنے جاتے۔ ریڈیو کے فنکار اور کردار جیسے تلقین شاہ، نظام دین، جیدی وغیرہ اس دور میں افرادِ خانہ کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔ لیکن ایک وقت آیا کہ یہ سہانا دور اختتام پذیر ہوا اور آہستہ آہستہ ٹی وی نے ریڈیو کی جگہ لے لی۔


ہم نے ہوش سنبھالا تو پی ٹی وی اپنے سنہری دور سے گزر رہا تھا لیکن ریڈیو کی اہمیت ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی تھی۔ پی ٹی وی کی نشریات ان دنوں شام پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک ہو اکرتی تھیں۔ چنانچہ باقی کا تمام وقت ریڈیو کے ساتھ بسر کیا جانا ایک مجبوری بھی تھی اور ذوق اور شوق کا تقاضا بھی۔ تازہ خبروں کے حصول، فلمی نغمات اور میچوں کی کمنٹری کے لئے اب بھی ریڈیو پر ہی انحصار کیا جاتا تھا۔ ریڈیو سے ہماری محبت کا آغاز بچپن سے ہی ہو گیا تھا جس میں بعد میں اور تیزی آتی چلی گئی۔ پی ایم اے پہنچے تو وہاں بھی ریڈیو سے لو لگائے رکھی لیکن 1995 میں ہمارے پاس آؤٹ ہونے کے بعددنیا یکسر ہی بدل گئی۔ ڈش کا آفتاب پوری آب و تاب سے طلوع ہو چکا تھا ۔ اب سیٹلائٹ ٹی وی چوبیس گھنٹے لائیو کوریج اور چینلز کی ورائیٹی کے ساتھ میدان میں موجود تھا چنانچہ ریڈیو کو منظر عام سے اچانک غائب ہوتے ہی بنی ۔


1998 میں جب سیاچن کا قرعہ فال ہمارے نام نکلا تو سینئر حضرات نے بتایا کہ سیاچن میں کھائے پئے بغیر گزارا ممکن ہے لیکن ریڈیو کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی محال ہے۔ ہم نے بازار میں ریڈیو سیٹ کی تلاش شروع کی اور بڑی مشکل سے ایک عدد مناسب سائز کا ریڈیو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ پوسٹ پر پہنچنے تک تو یہ ریڈیو سیٹ ہمیں فالتو بوجھ کی طرح لگتا تھا لیکن پوسٹ پر پہنچ کر ہم ان حضرات کو لاکھ لاکھ دعائیں دیا کرتے جنہوں نے ہمیں اسے ساتھ لانے کا مشورہ دیا۔ وہاں پہنچ کر ریڈیو ہمارے لئے لائف لائن کی شکل اختیار کر گیا جو سیاچن کے جگر پاش ماحول کو گرمانے کا واحد ذریعہ تھا۔ ان دنوں معمول کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان سے سیاچن پر موجود سپاہیوں کے لئے جاگتا پاکستان کے نام سے خصوصی پروگرام بھی نشر کیا جاتا تھا۔ سیاچن کے باسیوں کے لئے یہ پروگرام سننا گویا فرض العین تھا۔صبح ہی سے اس پروگرام کا بے تابی سے انتظار شروع کردیا جاتااوراس سے قبل تمام ضروری امور نمٹا لئے جاتے۔ رات گیارہ بجے پوسٹ پر موجود تمام لوگ اکٹھے بیٹھ جاتے اور انتہائی والہانہ انداز میں یہ پروگرام سنتے۔ پروگرام کے بعد اس پر تبصرے کئے جاتے اور اپنا نام اور فرمائش اس میں شامل کروانے کے لئے خطوط بھی لکھے جاتے۔
یہ پروگرام ویسے تو ہر لحاظ سے دلچسپی کا حامل تھا لیکن اس کی حد درجہ مقبولیت کی اصل وجہ کچھ اور تھی اور وہ یہ کہ اس پروگرام میں ایک فون نمبر دے دیا جاتا جس پر سیاچن میں موجود لوگوں کے افراد خانہ پہلے سے بات کر کے اپنی آواز میں پیغام ریکارڈ کروادیا کرتے۔ یہ پیغامات اس پروگرام کے دوران نشر کئے جاتے۔ سیاچن پر موجود جس شخص کے لئے بھی یہ میسج آن ائیر ہوتا اس کوباقی سب کی جانب سے خصوصی مبارکباد دی جاتی۔ افراد خانہ کی خیریت معلوم ہونے سے دوریاں اور فکریں چھٹ جاتیں اور یک گونہ قلبی سکون حاصل ہوتا۔ ہر شخص کو اپنا نام پکارے جانے کا نہایت شدت سے انتظار ہوتا۔ پورا پروگرام اسی شوق سے سنا جاتا اور اگر نام شامل نہ ہو تو مزید شدت سے اگلے دن کے پروگرام کا انتظار شروع کر دیا جاتا۔ ہماری شادی کو ان دنوں چار پانچ ماہ کا عرصہ ہوا تھا اورسر منڈواتے ہی قسمت ہمیں سیاچن کی برفیلی وادیوں میں اولوں اور گولوں کا مزہ لینے کے لئے کھینچ لائی تھی۔ایسے میں اگر جاگتا پاکستان نہائت غور سے سننے والوں میں ہمارا نام سرفہرست تھا تو اس میں اچنبھے کی ہرگزکوئی بات نہیں تھی ۔


کچھ دنوں بعد ہمارے ایک کورس میٹ کیپٹن ارشد بھی سیاچن میں ہمارے ساتھ والی پوسٹ پر پہنچ گئے۔ ہماری ان سے روزانہ فون پر بات چیت رہا کرتی۔موصوف ابھی غیر شادی شدہ تھے ۔ایک دن ان کے لئے جاگتا پاکستان میں یہ میسج نشر کیا گیا ’’ارشد بھائی السلام علیکم !میں آپ کا چھوٹا بھائی بول رہا ہوں۔ آپ ہماری طرف سے بالکل بھی پریشان نہ ہوں۔ سب گھر والے خیریت سے ہیں اور آپ کو یاد کر رہے ہیں ۔ سامنے والے بھی خیریت سے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ آپ کب واپس آئیں گے۔‘‘ پروگرام ختم ہوا اور ہم نے انہیں مبارکباد کے لئے فون کیا توان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔’’سامنے والوں‘‘کے بارے میں ہم نے بہت دریافت کیا لیکن موصوف کچھ بتانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ البتہ اس قسم کے پیغامات نشر ہونے کا سلسہ بعد میں بھی تواتر کے ساتھ جاری رہا۔
سولہ سال کے وقفے کے بعدہماری ایک سٹیشن پراکٹھے پوسٹنگ ہو گئی۔ ہم نے انہیں اپنے گھر فیملی سمیت کھانے پر مدعو کیا تو وہ اس شرط پر آمادہ ہوئے کہ ہم سیاچن والے پیغامات کا ذکر ان کی بیگم کے سامنے ہرگز نہیں کریں گے۔


بیس آف فائر
ہم ان دنوں پی ایم اے کی آخری ٹرم میں اور پاسنگ آؤٹ سے دو چار قدم کے فاصلے پرتھے ۔ انہی دنوں ایک فیلڈ ایکسرسائز کے لئے کورس نے دس دنوں کے لئے مانسہرہ کی نواحی پہاڑیوں پر کیمپ کیا۔ ایکسرسائز کے اختتام پر کورس کو دشمن کی ایک پہاڑی پر قبضہ کرنے کا ٹاسک ملا۔ دو کمپنیوں نے اس پہاڑی پر یکے بعد دیگرے حملہ کر کے اپنی فتح کا جھنڈا گاڑنا تھا۔ ہماری پلاٹون کو سامنے والی پہاڑی پر موجود رہ کر مارٹر اور مشین گنوں کی مدد سے فائری امداد مہیا کرنا تھی۔ اب اس قسم کی جنگی مشق کے دوران اسلحہ تو اصل استعمال کیا جاتا ہے لیکن حفاظتی تقاضوں کی بنا پر اصل گولہ بارود کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ تاہم جنگی ماحول، گھن گرج اور مطلوبہ تاثر پیدا کرنے کے لئے کئی اور طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہمیں کافی تعداد میں فائر کریکر مہیا کئے گئے تھے۔ جب ہماری کمپنی دشمن کے مورچوں پر حملہ آور ہو رہی ہوتی تو ہم نے وہ کریکر چلا کر فائر بیس سے فائر ی امداد مہیا کرنے کا تاثر پیدا کرنا تھا۔
پانچ کلومیٹر پیدل چل کر ہم سب مطلوبہ جگہ تک پہنچے۔ حملہ آور کمپنیوں نے پہاڑی سے کچھ دور پوزیشن سنبھال لی اور ہماری پلاٹون نے فائری امداد مہیا کرنے کے لئے دوسری پہاڑی پر قبضہ جما لیا۔ سب کچھ پلان کے مطابق درست طریقے سے ہو رہا تھا۔ ٹھیک اسی وقت کمانڈنٹ پی ایم اے بھی ایکسرسائز کا معائنہ کرنے کے لئے پہنچ گئے۔ ادھر حملہ آور پلاٹون نے طے شدہ ہدف کی جانب رینگنا شروع کیا اور اِدھر ہم نے اپنے پٹاخوں کو تیلی دکھانا شروع کی ۔ہمارے پٹاخے شاید زیادہ زرخیز ہونے کی خاطر ذرا سے نم ہو چکے تھے لہٰذا ہماری انتھک کوشش کے باوجود انہوں نے جلنے کا نام تک نہیں لیا ۔ وقت ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر ہمیں اور کچھ نہیں سوجھا تو تمام کے تمام پٹاخے ایک جگہ جمع کئے اور انہیں تیلی دکھا دی۔ نتیجتاًیکے بعد دیگرے زوردار دھماکے ہونے شروع ہوگئے ۔


ہمارا مطلوبہ مقصد تو حاصل ہو گیا لیکن یکایک ان پٹاخوں سے نکلنے والی چنگاریاں دور دور تک پہنچنا شروع ہو گئیں۔ پورے علاقے میں سرکنڈے اگے ہوئے تھے جنہوں نے فورا آگ پکڑ لی جو بڑی سرعت کے ساتھ پوری پہاڑی پر پھیل گئی۔ یہ سب دیکھ کر ہمارے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور ہم سب کچھ بھول بھال کر آگ بجھانے میں مشغول ہو گئے۔ ہمارے پاس آگ بجھانے کے لئے پانی کی بوتل میں موجود چلو بھر پانی کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا سو سب سے پہلے اسی کی قربانی دی گئی۔ لیکن اس سے بھلا کیا فرق پڑسکتا تھا۔ بیلچوں کی مدد سے ریت بھر کر آگ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن اس سے بھی کچھ افاقہ نہ ہوا۔بہرحال آگ کافی دیر تک جلنے کے بعد خود بخود بجھ گئی۔


اتنی دیر میں اٹیک بھی اختتام پذیر ہو چکا تھا۔ پورے کورس کو ایک جگہ پر اکٹھا ہونے کا حکم ملا۔ ہم بھی مرے مرے قدموں سے سوئے مقتل روانہ ہوئے۔ اتنی ’’شاندار‘‘ کارکردگی کے نتیجے میں ہمیں اپنی موت صاف نظر آرہی تھی۔کمانڈنٹ نے خطاب شروع کیا۔ انہوں نے کورس کی کارکردگی کو سراہا اور بالخصوص ہماری پلاٹون کو شاباش دی۔ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہم کیا سن رہے ہیں کیونکہ اس کے برعکس ہم تو اپنے بارے میں سخت برا بھلا سننے کے منتظر تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اٹیک کے دوران جب کمانڈنٹ کو بریفنگ دی جا رہی تھی تو ہماری پہاڑی پر ہونے والے زور دار دھماکوں اور اس کے بعد جلنے والی آگ نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ فائر بیس کا علاقہ ہے اور جنگ کا ماحول پیدا کرنے کے لئے لڑکوں نے ادھر آگ جلائی ہے۔ اس پر کمانڈنٹ بہت خوش ہوئے کہ اس پلاٹون نے جنگی ماحول تشکیل دینے میں خاصی محنت کی ہے اور اس میں پوری طرح سے کامیاب بھی ہوئے ہیں۔
ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ کمانڈنٹ کی جانب سے تعریف ہونے کے بعد ہر کسی نے ہماری کارکردگی کو سراہا ، لیکن اصل بات تو ہمارا دل ہی جانتا تھا یا اب آپ جان گئے ہیں۔
..... (جاری ہے)

 
 
08
November

تحریر: ڈاکٹر عفت مسعود

یہ قانونِ فطرت ہے کہ جب تک ہماری زندگی کی نبض اپنی نارمل رفتار سے چل رہی ہوتی ہے تو ہم مصروفیات میں گم زندگی کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں اور مختلف شعبوں کے بارے میں محدود نظریات رکھتے ہیں۔اور جب ربِ کائنات نبضِ زندگی کو تھوڑا سا مشکل کر دیتے ہیں تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ اَرحمَ الرّٰحمین اس بیماری یا پریشانی کے بدلے ہمیں زندگی کے نئے حقائق سے روشناس کراتا ہے اور نئے لوگوں سے ملواتا ہے۔ اور ہم ان لوگوں کی خدمات کو دیکھتے ہوئے ربِ جلیل کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں کتنی نعمتوں سے نوازا ہے اور کتنے لوگ دن رات اپنی زندگی مشکل بنا کر ہماری بہتری کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اپنی زندگی کا ایسا ہی ایک تجربہ بیان کرنا چاہتی ہوں۔


ہمارے وطن کے سجیلے جوان ہماری سرحدوں کے محافظ وردی پہننے کے بعد اپنے ملک سے کئے گئے وعدے کو ایفا کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کبھی سیا چین کی بر ف پوش چوٹیوں پر،کبھی تھر کے لق ودق صحراؤں اور ریگستانوں میں،کبھی سنگلاخ پہاڑوں کی گھا ٹیوں میں،کبھی سمندروں اور کبھی فضاؤں اور کبھی آگ، گو لیوں، توپوں کے سا ئے میں گزرتی ہے اور اب تو ملک کے اندر بھی کو ئی نا گہا نی آفت، سیلاب، زلزلہ ہو یا دہشت گردی، تما م قو م کی نظریں افواج پاکستان کی طرف مدد کو اٹھتی ہیں۔


جہاں پیارے فوجی اپنے فرا ئض منصبی نبھاتے ہو ئے مو ت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جان تک کی بازی لگادیتے ہیں وہاں دوسری طرف اُن کے اہل خانہ بھی زندگی کے تما م نشیب و فراز میں بر ا بر کے شریک رہتے ہیں۔ ہم سب ایک ہی طرح کی کمیونٹی کی طرز کی زندگی گزارتے ہیں۔ہما ری خو شیاں، ہمارے غم، دکھ سکھ، مصائب سب سا نجھے ہو تے ہیں۔ہر وقت ایک دوسرے کے مد دگار اور ڈھارس بندھا تے زندگی گزرتی ہے۔ مگر پاک افواج کا کما ل ہے کہ افتادہ ترین چھاؤنی میں بھی وہ اپنے فو جیوں کے خاندانوں کو بے آسرا نہیں چھوڑتیں۔ زندگی کی تمام بنیادی سہولیات ان کے لواحقین کومیسر ہو تی ہیں تا کہ ہمارے جوان ان غموں اور فکروں سے آزاد ہو کر یکسوئی کے سا تھ اپنا فر ض منصبی ادا کر سکیں۔ علاج کے لئے اسلام آباد میں رہنے والوں کے لئے پی این ایس حفیظ اورپی اے ایف کے دو بہترین ہسپتال ان فو جیوں کے لئے مخصو ص ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے کارڈ پر ملک کے کسی حصے میں واقع سی ایم ایچ میں آپ علاج کر واسکتے ہیں۔ اسی طرح ملک کے ہر حصے میں جہاں سی ایم ایچ موجود ہیں وہاں آپ اپنا علاج پوری تشفّی سے کرا سکتے ہیں۔
اس بارے میں اپنا ذاتی تجربہ بتانا فرض سمجھتی ہوں اور کہناچاہتی ہوں کہ کس طرح ایمانداری، خلوصِ نیت، ترقی کا جذبہ اور آگے بڑھنے کا عزم شا ملِ حال ہو توادارے بنتے ہیں اور بڑھتے ہیں۔ گزشتہ چار پانچ سال سے میں جنرل افتخار صاحب سے، جوآج کل
Director General Medicine,
اور
Advisor Oncology
ہیں، کے زیر علاج ہوں ۔ نہا یت نیک شفیق، شائستہ اور اپنے شعبے سے مخلص شخصیت کے حامل ہیں۔ اتنے عرصے میں ایک مر یض اور ڈاکٹر کا بہترین تعلق قا ئم ہو چکا ہوتا۔ ہر ماہ جا کر یو ں لگتا ہے جیسے میں اپنے خاندان میں آگئی ہوں۔ سب خندہ پیشا نی سے ملتے ہیں۔ ہر فرد کمپیوٹر کی طر ح اپنا اپنا فر ض ادا کر رہا ہو تا ہے۔ صاف ستھرا ما حول، لیبار ٹری کی سہولت جہاں فوراً رپورٹ تیار ہو جاتی ہے۔ہنستی مسکراتی نرسیں، ان سب انتظا ما ت کا سہرا اُن لوگوں کو جا تا ہے جو اس شعبے کی سر پر ستی کر تے ہیں اور اُن کے ہا تھ میں اس کو چلانے کا نظام ہے اور وہ جذبہ ہے کہ اس کو بہتر سے بہترین بنا ئیں۔ میری بیماری کی نو عیت ایسی ہے کہ اس میں کئی اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ جنر ل صاحب کی مصروفیات نئی ذمہ داریوں کی وجہ سے اور بڑھ گئی ہیں۔ اُن کی فراخ دلی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنے پرانے مریضوں کو شام کوبھی بلا کر دیکھ لیتے ہیں۔ چند روز قبل میری حالت اچانک خراب ہوگئی۔ جنرل صاحب کو فون کیا کہافوراً آ جاؤ۔ میری حالت کے پیش نظر فوراً داخلے کا مشورہ دیا۔ داخلے کے نام سے دل بیٹھ گیا۔ جا نے کیا دُرگت بنے گی۔ مگر انکار کی کو ئی گنجائش نہ تھی۔ نہا یت بے دلی کے ساتھ فیملی وارڈ کی طرف روانہ ہو ئی۔ میر ی حالت کے پیش نظر مجھے الگ کمرے میں شفٹ کیا گیا۔ دس منٹ میں کاغذی کارروائی کے بعد ڈاکٹروں، نر سوں اور اٹینڈ نٹس کی ٹیم میر ے اِردگرد جمع ہوگئی۔ مانیٹر لگ گیا۔

 

نیبولائیزنگ شروع ہو گئی ٹیکے لگ گئے لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے بلڈ لے لیا گیا۔ آدھے پونے گھنٹے بعد میں پُر سکون ہو گئی اور گردوپیش کا جائزہ لیا۔ کمرہ نہایت صاف چمکتی ٹا ئلیں، بسترصاف ستھرا، سامنے ٹی وی ، فریج، اے سی ہر چیز نفیس، غسل خانہ صاف ستھرا، اتنی صفا ئی، آرام و سکون اور جس طریقے سے ہاتھوں ہا تھ میر ا علاج شروع ہوا نہا یت قا بل تعریف ہے۔ ہر کام ایک منظم طریقے سے خود بخود ہو رہا ہے اور نہا یت احسن طر یقہ سے۔۔۔ میں دس روز رہی اور فخریہ کہتی ہو ں کہ وارڈ انچارج صاحبہ اور بر یگیڈئیر رخسانہ صا حبہ اور تمام عملہ، چھوٹے سے لے کر بڑے تک، نہا یت خلوص، محنت اور جذبے کے سا تھ وارڈ کو چلا رہے ہیں۔ صبح 8 بجے ڈاکٹرز راؤنڈ پر آتے ہیں تو تما م رپو ٹیں سامنے ہوتی ہیں۔ مریضوں کو
AFIC Radiology
وغیرہ لانے لے جا نے کا بہترین انتظام،متعلقہ سٹاف مدد گار اور راہنما بھی اور قا بل ذکر بات یہ کہ مر یض کی حالت کو تر جیح دی جا تی ہے نہ کہ کسی کے عہدے کو۔میڈیکل وارڈ کا عملہ ہر جگہ بہت مصروف ہوتا ہے۔ یہ اس عملے کی محنت اور انتظام کا کما ل ہے کہ انہوں نے ایک اعلیٰ معیار قائم کر رکھا ہے۔ یہ اتنا آسان کا م نہیں۔
سی ایم ایچ راولپنڈی با وجود بہت زیادہ رش کے نہایت خو بصورت، مضبوط اور ماڈرن ہسپتال کے طرز پر الگ الگ بلاک تعمیر کر رہا ہے۔ اس کے سا تھ سا تھ انہوں نے ہر شعبے کو جدید طریقے پر استوار کر رکھا ہے۔ سٹاف، مشینیں، لیبارٹریاں سب قا بل اعتما د اور جد ید ہیں ، یہ سب فو جیو ں کی اعلیٰ کارکردگی، خلوصِ نیت، آگے بڑھنے کا جذبہ اور ملک سے بے لوث محبت کا منہ بو لتا ثبوت ہے۔ نہ با قی ہسپتالوں کی طر ح جن کی تما م ضروری مشینیں خراب پڑی ہیں نہ لیبا رٹریوں کے لئے باہر ٹیسٹ بھیجے جاتے ہیں۔ہر جگہ ٹوکن سٹم ہے۔ نہ دھکم پیل، نہ سفارش۔ ہر انسا ن اپنے ٹو کن پر چلا جا تا ہے ، سوا ئے ایمر جنسی کے ۔کو ئی شک نہیں اس وقت


سی ایم ایچ راولپنڈی سے اچھا پا کستان کا کو ئی اور ہسپتال نہیں اور یہ جن کے ہا تھوں میں ہے وہ ایمانداری اور خلوص نیت سے اس کو آگے سے آگے بڑھا رہے ہیں۔
میں پاک فوج کے اس جذبے، ولولے اور وطن سے محبت کے عملی اظہار کو تہہ دل سے خراج تحسین پیش کرتی ہوں اور انہیں سیلوٹ کرتی ہوں۔
پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد

ہم غازی ۔۔۔۔!!


ہم لعل جواہر مٹی کے
ہم رِم جھم رِم جھم برکھا میں
ہم چاندنی پیارے چندا کی
ہم بامِ فلک کا تارا ہیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر
ہم قربان اپنی دھرتی پہ
اس ملک کے ہم رکھوالے ہیں
ہم اپنے وطن کے غازی ہیں
ہم ہوش و خرد کے پالے ہیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر
یہ دھرتی ماں تو سانجھی ہے
ہم مل کے اس کو شاد کریں
ہاتھوں میں دے کے ہاتھ چلیں
اور آہنی اِک دیوار بنیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر

سمیعہ نعمت

*****

 
08
November

تحریر: زینب ماہ نور

ابلاغ عامہ کی طالبہ زینب ماہ نور کے قلم سے شمالی وزیرستان میں بھرپور زندگی کا احوال ہلال کے قارئین کے لئے

بابا نور حسین پتھر سے ٹیک لگائے گہری سوچ میں گم تھے۔ آج کئی مہینوں بعد اُنہوں نے اپنی داڑھی کو مہندی لگائی تھی۔ دریائے ٹوچی کے کنارے آباد گاؤں عیدِک‘ تحصیل میر علی‘ شمالی وزیرستان کے چند خوبصورت اور گنجان آباد دیہاتوں میں سے ایک ہے۔
بابا نور حسین کے آباء واجداد صدیوں سے یہاںآباد تھے۔ کئی سالوں بعد مجھے آج بابا نور حسین کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ اور خوشی کے آثار دکھائی دیئے۔
گاؤں کے لوگ اُنہیں ’بابا جی‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ میں نے بابا جی کو سلام کیا اور اُن کے پاس بیٹھ گئی۔


موقع جان کر بابا جی سے اُن کے چہرے پر خوشی کی وجہ پوچھی۔ باباجی نے شفقت سے میرے سرہاتھ رکھا اور کچھ بولنے سے پہلے اُن کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بہنے لگی۔ بابا جی نے فوراً اپنی پگڑی سے آنسو صاف کردیئے۔ مجھے لگا جیسے میرے سوال نے باباجی کا دل ہی توڑ دیا ہو۔ میں نے معذرت کرنے کے لئے لب کشائی کرنا چاہی تھی کہ انہوں نے جھٹ سے جواب دیا کہ یہ غم اور خوشی کے ملے جلے آنسو ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے شمالی وزیرستان میں ایک عشرے زائد سے لگی دہشت گردی کی آگ اور پھرآپریشن ضربِ عضب کے ثمرات کا ذکر کرنا شروع کردیا۔ بحیثیت ابلاغ عامہ کی طالبہ میں نے غور سے بابا جی کی باتیں سُنناشروع کردیں۔ ایک سرد آہ بھرنے کے بعد‘ باباجی نے کچھ توقف کیا اور پھر بتانا شروع کیا’9/11 کے بعد امریکہ اور اُس کی اتحادی افواج نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو اُس کے اثرات ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں پر بھی پڑنا شروع ہوئے۔2002 کے اوائل میں شمالی وزیرستان بھی اس خوفناک صورت حال کی زد میں آنا شروع ہوگیا ۔ میران شاہ اور میرعلی کے پُر رونق بازاروں میں ملکی و غیر ملکی دہشت گرد نظر آنے لگے۔ آغاز میں تومقامی آبادی نے اُنہیں مسلمان سمجھ کر خوش آمدید کہا۔ لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے مقامی امن پسند آبادی کو اپنے سفاکانہ رویے اور کارروائیوں سے خوفزدہ کرنا شروع کردیا۔
بابا نور حسین کی نگاہ سامنے کچے مکان پر مرکوز تھی اور حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ بے اختیار رو پڑے۔ تھوڑی حالت سنبھلی تو بتایا کہ اُنہیں وہ دن بھلائے نہیں بھولتا جب چند دہشت گرد رات کو ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے بڑے بیٹے کو تعاون نہ کرنے کی پاداش میں اُن کی آنکھوں کے سامنے شہید کردیا گیا۔ وہ گھر کا واحد کفیل اور تین بچوں کا باپ تھا۔ اُس کے جانے کے بعد ہمارا گھر اُجڑ گیاہے۔ یہ کہتے ہوئے بابا جی مسلسل دہشت گردوں اور اُن کے حمایتیوں کو بُرا بھلا کہے جا رہے تھے۔ بابا جی نے چاروں اطراف اپنی نظر دوڑاتے ہوئے بتایا کہ یہاں ہر طرف دہشت و وحشت کا راج رہا ہے۔

 

naveedshear.jpg

شاید ہی کوئی خاندن ایسا ہو گا جن کے افراد کو دہشت گردوں نے قتل اور خواتین کی عصمت دری نہ کی ہو۔ ان حالات میں مقامی انتظامیہ بے بس نظر آنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے پر دہشت گردوں کا راج ہوگیا۔ معصوم لوگوں کا قتل تو گویا کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔ سرکاری اہل کاروں کو اغوا کرنے کے بعد ذبح کرنا معمول کی بات تھی۔ لوگوں کی املاک پر قبضہ کرکے دہشت گردوں نے اپنے لئے ٹھکانے بنا لئے تھے۔ جگہ جگہ چوکیاں قائم کرکے مقامی لوگوں سے بھتہ وصول کیا جاتا تھا۔ سکولوں کو بند کردیا گیا اور سکول جانے والے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں سرعام ملنے لگیں۔ اکثر و بیشتر رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھنے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا کر دعائیں مانگتا کہ’ ’اے آسمانوں کے رب! ہمیں اس اذیت ناک زندگی سے آزادی دے ‘ اے ربِ کعبہ! یہاں ایسی قوت بھیج جو ان سفاک درندوں کا خاتمہ کرکے زندگی کی رونقیں بحال کردے۔‘‘ یہ کہہ کر بابا جی کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور والہانہ انداز میں بتانے لگے کہ اﷲنے ان کی دعا قبول کی اور پاک فوج نے جون2014 میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا اور دو سال کے قلیل عرصے میں نہ صرف دہشت گردوں کو عبرت ناک شکست ہوئی بلکہ اُن کے ٹھکانوں کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا۔ بارود بنانے والی فیکٹریاں‘ دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور رسد کے ذخیروں کو تہس نہس کردیا۔


الحمد ﷲ ! آج سارا شمالی وزیرستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بحالی کے کاموں کو بھی انتہائی سُرعت سے مکمل کیا۔ بابا جی کی آنکھوں میں خوشی جھلک رہی تھی۔ وہ بہت فخریہ انداز میں بتانا شروع ہوگئے کہ پاک فوج نے میرعلی کے گاؤں خدی میں ایک بہت خوبصورت مارکیٹ بنائی ہے جہاں علاقے کے مستحق لوگوں کو دکانیں دی گئی ہیں۔ رات گئے تک وہاں کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا انہوں نے ذکر کرتے ہوئے پاک فوج کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔ ہسپتال میں جدید طرز کی، علاج معالجے کی، سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔


میر علی کے مضافاتی علاقوں میں مزید مارکیٹیں بھی تعمیر ہو رہی ہیں جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ان منصوبوں سے علاقے کے لوگوں کو روزگار کے مواقعے میسر آئیں گے اور تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوگا۔ بابا جی سے بات چیت کے دوران گاؤں کے مزید لوگ جس میں نوجوانوں اور بچوں کی بھی خاصی تعداد تھی، وہاں جمع ہوگئے۔ نوجوان بہت پُرامید اور جذبۂ حب الوطنی سے سر شار نظر آرہے تھے۔ وہ مسلسل پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان میں سے چند نوجوان ایسے بھی تھے جو پاکستان کے دیگر شہروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے تھے اور ان دنوں گرمیوں کی چھٹیاں منانے اپنے علاقے میں آئے ہوئے تھے۔ پاک فوج نے تعلیمی معیار کے فروغ کے لئے بھی بہت کام کیا۔ درجنوں سکولوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ تین ہائی سکول اپنے وسائل سے تعمیر کئے۔ ان سکولوں کا معیار دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اسلام آباد یا راولپنڈی کے کسی علاقے میں موجود ہوں۔ ان سکولوں میں بچوں کی بڑی تعداد زیرِ تعلیم ہے جنہیں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔


سکول دیکھنے کے بعد ہم لوگ بوبلی گاؤں پہنچے جہاں ایک خوبصورت کرکٹ گراؤنڈمیں مقامی ٹیموں کے مابین میچ کھیلاجارہا تھا اور تماشائیوں کی بڑی تعداد لطف اندوز ہو رہی تھی‘نوجوان علاقائی رقص کررہے تھے اور بزرگ بیٹھے محظوظ ہو رہے تھے۔ میری آنکھیں یہ مناظر دیکھ کر حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ شمالی وزیرستان کے ان پسماندہ علاقوں میں اس قدر بھرپور زندگی کے مناظر کسی طلسماتی دنیا کے رنگوں سے کم نہ تھے۔ وہاں موجود نوجوانوں سے بات کرکے اندازہ ہوا کہ شمالی وزیرستان اَب پاکستان کے کسی بھی علاقے سے امن اور سکیورٹی کی صورت حال میں بہت بہتر ہے۔ میں کچھ دیر کے لئے ماضی میں کھو گئی اور میرے ذہن میں سیکڑوں افسروں اور جوانوں کی شہادتوں اور اس سے کہیں بڑی تعداد میں زخمی بہادر سپوتوں کا خیال آیا۔ جن کی قربانیوں کی بدولت آج وزیرستان کے عوام امن کی زندگی کی طرف لوٹ چکے ہیں۔

 
08
November

تحریر: شمع خالد

میں وہیل چیئر پر بیٹھی ڈرائنگ روم میں سجی ایک سورڈ آف آنر کو دیکھ رہی تھی جو میرے سُسر کو ملی تھی۔ میرے سُسر‘ جب پاکستان بنا تو آرمی میں کپتان تھے۔ پاک آرمی میں انہوں نے میجر تک ترقی کی اور پھر انہیں ایک جان لیوا بیماری ایسی چمٹی کہ وہ ساری عمر معذور رہے۔ وہ ایک سچے اور کھرے پاکستانی فوجی تھے۔ ان دنوں ٹی وی نشریات محدود وقت کے لئے نشر ہوا کرتی تھیں۔ جب نشریات کا اختتام ہوتاتو قومی ترانہ بجتے ہوئے قومی پرچم لہرایا جاتا تو وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے پوتوں کو حکم دیتے کہ تم تینوں کھڑے ہو جاؤ۔ اس وقت میرے تین بیٹے تھے اور وہ سلیوٹ کے انداز میں کھڑے ہو کر ترانہ سنتے اور پرچم کو سلام کرتے۔ بچوں کے پرائمری پاس کرنے کے بعد اعلان کیا کہ میں اپنا ورثہ آج اپنے پوتوں کی کامیابی کی خوشی میں تحفے کی صورت میں دے رہا ہوں۔ انہوں نے اپنی دُور بین میرے بڑے بیٹے عامر کو دی اور ساتھ ہی اپنا کوڈک کیمرہ‘ جو آٹومیٹک تصویر کھینچتا تھا وہ‘ بھی عامر کو دے دیا۔ فیصل کے حصے میں یہ سورڈ آف آنر اور کچھ میڈلز اور ایک بندوق آئی اور اسے پیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ میرے فوجی بیٹے کے لئے ہیں۔ جب فیصل پی ایم اے میں جانے کے لئے تیار ہوا تو اس سے پوچھا گیا کہ آپ فوج کیوں جائن کرنا چاہتے ہو تو اس نے وثوق کے ساتھ کہا میرے دادا ابو میرے آئیڈیل تھے اور وہ مجھے ہمیشہ فوجی کہا کرتے تھے۔ میں ان کا یہ خواب پورا کرنے کے لئے فوج میں آیا ہوں۔ میں نے ان میڈلز کی طرف دیکھا جنہیں فیصل نے فریم کروا کے سورڈ آف آنر کے ساتھ ہی سجایا ہوا تھا۔ میں نے اپنی نوکرانی سے کہا کہ میری وہیل چیئر کو باہر لے چلو۔ باہر بہت خوبصورت دھوپ نکلی ہوئی تھی اور میرا ہرا بھرا لان میری محنت کی گواہی دے رہا تھا۔

 

parsal.jpgمیری جب شادی ہوئی تو میں انیس برس کی خالد اکیس برس کے تھے۔ بی ایس سی کرنے کے بعدخالد نے بینک جوائن کر لیا۔ جب کہ میں میٹرک میں ڈبل پروموٹ ہونے کے بعد ایف اے کا امتحان دے کر آئی تھی۔ خالد نے مجھے بی اے میں داخل کروا دیا اور ہم میاں بیوی گھر چلانے کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ خالد نے بینک میں نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ شام کو پنجاب یونیورسٹی میں ایم پی اے (پبلک ایڈمنسٹریشن) میں داخلہ لے لیا اور مجھے لاہور کالج فاروویمن میں بی اے میں داخل کروا دیا اور یوں جب میں نے بی اے پاس کیا تو وہ ایم اے کر چکے تھے اور ساتھ ہی بینک میں منیجر بھی بن چکے تھے۔ اسی دوران ان کی ٹرانسفر حیدرآباد میں ہو گئی۔ جب ہم حیدرآباد پہنچے تو عامر دو سال کا اور فیصل تین مہینے کا تھا۔ یوں ہماری عملی زندگی کا آغاز ہوا۔ میں گھرگرہستی کے ساتھ ساتھ اخبارات اور رسائل میں لکھتی رہی اور خالد بینک کے ساتھ لاء کرنے لگے۔ جب ان کی لاء کی ڈگری مکمل ہوئی تووہی کتابیں میرے حصے میں آئیں۔ حیدرآباد سے اس وقت ٹرانسفر ہونے کے بعد ہم ماشاء اﷲ پانچ بچوں کے والدین بن چکے تھے۔ اب ہمارے درمیان ایک عجب سا مقابلہ تھا۔ خالد کتابیں خریدتے ، ایم اے کرتے، اور دوسری طرف میرا داخلہ بھجوا دیتے۔ یوں میں نے تین ایم اے کر لئے اور ساتھ ہی لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ان دنوں میں ریڈیو میں فوجی بھائیوں کا پروگرام پروڈیوس کرتی تھی اور اخبارات اور رسائل کے لئے بھی لکھتی تھی۔ ایک دفعہ فیصل نے بتایا کہ اس نے چکوٹھی جانے کا پروگرام بنایا ہے۔ چکوٹھی جانے کا سفر میری زندگی کا ایک اور سنگ میل تھا۔ جب ہم مظفر آباد کی حدود سے چکوٹھی کی طرف روانہ ہوئے تو ایک طرف سے دریا بہتا تھا اور دوسری طرف سے ایک چھوٹی سی سڑک ہمیں چکوٹھی لے جاتی تھی۔ فیصل ماشاء اﷲ کیپٹن بن چکا تھا۔ چکوٹھی قدرت کے نظاروں سے مزین ایک ایسی خوبصورت جگہ تھی جسے میں ایک خوبصورت خواب کی طرح اپنی یادوں میں سجائے ہوئے ہوں۔ چکوٹھی کی یونٹ میں جو بورڈ لگا ہوا تھا وہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ جس پر لکھا تھا: ہم آپ کے کل کے لئے اپنے آج کو قربان کر رہے ہیں۔ چکوٹھی جس قدر خوبصورت تھا اتنے ہی خوبصورت اس کے بنکر اور لان تھے جہاں فوجیوں نے مختلف سبزیاں اگا رکھی تھیں۔ حوض میں مچھلیاں تیر رہی تھی۔ سامنے پہاڑیاں تھیں۔ یونٹ کا ایک سپاہی ہمارے لئے روٹی لے کر آیا۔ ایک چنگیر میں دال اور گرم گرم روٹی تھی۔ میں نے ہمیشہ یہ سنا تھا کہ لنگر کی چنے کی دال بہت مزے دار اور کمال ہوتی ہے اور واقعی ہی وہ بہت مزیدار تھی۔ میں نے اپنا ٹیپ ریکارڈ نکالا اپنے پروگرام کے لئے ایک دستاویزی پروگرام ریکارڈ کیا او رپھر ہم نے چکوٹھی کے بارڈر سے انڈیا کی طرف جھانکا۔ دونوں سرحدوں کے درمیان ایک پل تھا بچے وہاں بے حد خوش ہوئے کیونکہ ابھی فیصل کا چھوٹا سا بیٹا ہمارے ساتھ تھا۔ ہم ہنسی خوشی وہاں سے واپس آ گئے۔


دھوپ میں بیٹھے بیٹھے میری یاد کا ریلا مانسر کیمپ کی طرف چلا گیا۔ مانسر کیمپ میں میرے بہنوئی کرنل رزاق کمانڈر تھے۔ انہوں نے پاکستان کی 1965 اور 1971 کی دونوں جنگیں لڑی تھیں۔ جب وہ اَٹھ مقام پر تعینات تھے تو انہوں نے ایک عظیم فوجی کی طرح ایک ایسی سڑک بنائی جو پہاڑ سے ہوتی ہوئی نیچے آتی تھی۔ مانسر کیمپ میں بھی بھائی رزاق کمانڈر تھے اور فوجی مشقیں کروایا کرتے تھے۔ اس خوبصورت جگہ پر جا کر میں نے ایک درگاہ پر منت مانی تھی۔ یااﷲ میرے بچوں کو ایک بہتر مستقبل اور فیصل کو فوجی بنانا۔ شاید وہ قبولیت کا وقت تھا اور وہ فوج میں چلا گیا۔ اس کے فوج میں جانے کا ایک فائدہ تھا کہ میری بیوگی کو ایک مشن مل گیا تھا۔ صبح شام اس کی سلامتی کی دعائیں کرنا اور اس دہشت گردی کے مسئلے کے بارے میں سوچنا جس نے ہمارے آج کو ہم سے چھین لیا تھا۔ وہ فوج جو ہمارے کل کو بچا رہی تھی اس نے ہمارے آج کے لئے اپنے آپ کو مکمل قربانی کے لئے تیار کر لیا تھا۔ دہشت گرد ہمارے بچوں تک پہنچ گئے تھے۔ وہ انسان تھے یا حیوان۔۔۔۔۔ جن کے نزدیک بچوں اور عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں کو مارنا ایک کھیل تھا۔ پیارے نبی ؐ ہمیشہ جنگ پر جاتے ہوئے صحابہؓ اور سپاہیوں سے یہ عہد لیا کرتے تھے کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور سبزے پر کبھی وار نہ کرنا۔ یہ کیسے دشمن تھے جنہوں نے یہ اصول ہی بھلا دیئے۔ ساتھ ہی میرے ذہن میں ایک خوف سا آیا۔ اﷲ خیر کرے فیصل کافی دنوں سے مجھ سے رابطہ نہیں کر رہا۔ جانے وہ کہاں ہے۔ کس مصروفیت میں ہے یااﷲ میرے بچے کو اور میرے تمام فوجیوں کو اپنی امان میں رکھنا۔میرے شہروں کو جانے کس بدنظر کی نظر لگ گئی ہے کہ اب یہ بھی محفوظ نہیں۔ شہر، گاؤں، سرحدیں، ہر جگہ آگ ہی آگ جل رہی ہے۔ خدایا رحم۔۔۔یہ ہماری قوم پرکیسا عذاب اترا ہے کہ نہ مرنے والے کو پتا ہے نہ مارنے والے کو، نہ عمر کی قید ہے نہ جنس کی، دہشت گرد جب چاہیں جہاں چاہیں لوگوں کو بھون ڈالتے ہیں۔ ایک خودکش جیکٹ پہننے والا اپنے ساتھ پچاس ساٹھ بندوں کو لے جاتا ہے۔

 

پچاس ساٹھ سے اندازہ لگائیں کہ یہ پچاس ساٹھ فرد نہیں بلکہ پچاس ساٹھ گھرانے ہیں جو زخمی ہو جاتے ہیں۔ جو نہ زندوں میں رہتے ہیں نہ مُردوں میں، اگرچہ اب حالات بہت بہتر ہو چکے ہیں۔ اب ملک پر دہشت گردی کا منحوس سایہ کم ہو گیا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ وطن دشمن جانے کب سر اٹھا لیں کوئی نہیں جانتا۔ میں نے یہ سوچتے ہوئے آنکھیں بند کیں اور میرے سامنے بے شمار ایسے خط تبصرے اور مضامین آ گئے جس میں پاک فوج کو سلام عقیدت پیش کیا گیا تھا۔
میں نے اپنے آپ کو اس تپتی دھوپ میں دعاؤں کے سائے میں دے دیا اور جلدی جلدی وظیفہ پڑھنے لگی۔ ڈور بیل جانے کب سے بج رہی تھی کہ میری نوکرانی نے آ کر کہا۔ اماں جی باہر ڈاکیہ آیا ہے۔ یہ پیکٹ ہے وہ کہہ رہا ہے کہ آپ اس پر دستخط کر دیں۔ میں نے ڈاکئے کو بلایا اس کے سامنے دستخط کر کے ایک پیکٹ لیا۔ شاید کسی پبلشر نے مجھے کتاب بھیجی ہے۔ لیکن جب پارسل اٹھایا تو وہ بہت بھاری نہ تھا۔ میں نے نوکرانی کو کہا کہ اوپر کا گتہ پھاڑ دو۔ پارسل کے اندر سے ایک خوبصورت گفٹ نکلا۔ جی ہاں یہ پیکٹ نہیں دھوپ میں چمکتی شعاعوں کا ایک ریلا تھا جس نے میری آنکھوں کو خیرہ کر دیا اور میں ان چمکتی روشنیوں میں تھی۔ پارسل پکڑ کر دیکھا۔ میرے نام کا ایک کارڈ اس پر لگا ہوا تھا جس پرلکھا تھا بیگم اور جنرل راحیل کی طرف سے اور میں حیرت سے سوچ رہی تھی کہ میں نے میڈیا میں آدھی سے زیادہ زندگی گزار دی۔ صدر اور وزراء کے گھر کھانے اور مختلف تقریبات میں جانے کے باوجود مجھے کوئی نہیں جانتا تھا۔ پھر یہ جنرل راحیل صاحب کی طرف سے یہ شال۔ میں نے پارسل کھول کر وہ شال اوڑھی تو مجھے یوں لگا کہ جیسے میں ایک محفوظ پناہ گاہ میں آ گئی ہوں۔ یہ اعزاز صرف وہی ماں جان سکتی ہے جس نے اپنے بیٹے فوج میں بھیج رکھے ہیں۔ میرے بہنوئی اپنے شہید فوجیوں کے گھر جایا کرتے تھے۔ اکثر میں پوچھتی کہ بھائی جان آپ کے دوست اس دنیا میں نہیں رہے پھر بھی آپ اُن کے گھر ایسے ہی جاتے ہیں جیسے وہ آپ کے سگے رشتہ دار ہیں۔ تو وہ کہتے تم نہیں سمجھو گی۔ ہم فوجیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ موت کا رشتہ ہے اور ہمارا مشن وطن کا دفاع اور اپنے وطن میں رہنے والوں کی زندگی کی ضمانت اور حفاظت دینا ہے۔ یہ شال صرف گرم دھاگوں اور خوبصورت کڑھائی سے بنی ہوئی نہیں تھی بلکہ یہ شال استعارہ تھی ہماری قوم کی جو ہماری فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اس پر بنے پھول بوٹے وہ دعائیں ہیں جو ہم جیسی مائیں ہر لمحہ مانگتی رہتی ہیں۔ پاک فوج ہی تو ہے جس نے دشمن کو سرنگوں کر دیا ہے۔ جن میں میرے بیٹے فیصل کی بھی کاوش شامل ہے ۔جنرل راحیل شریف کے ساتھ ان کی سربراہی میں دوسرے فوجی بیٹوں کی طرح میرا بیٹا بھی اس محاذ پر ہر دم تازہ دم اور نئے جذبے کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے ضرب عضب کو کامیاب بنانے میں ان غازیوں کی ماؤں کو یہ شال کا تحفہ بھیج کر انہیں یاد دلایا ہے کہ آپ جیسی مائیں ہی قوم کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ آج میں بجا طور پر پاک آرمی، جنرل راحیل شریف اور اپنی فوج کے تمام سپاہیوں، فوجیوں، کو سلیوٹ کرنا چاہتی ہوں جو ضرب عضب کو ایک خاص جذبے سے لڑ کر کامیابی کی طرف گامزن کر رہے ہیں۔ شکریہ پاک فوج کے سپاہی راحیل شریف ، ایک ماں کی طرف سے یہ شال بھجوانے کا شکریہ قبول کرو۔ اﷲ تم کو اپنی پناہ میں رکھے اور جس فرض کی پکار کے لئے آپ نے ضرب عضب شروع کی ہے اس کی کامیابیاں آپ کے قدم چومیں اور ہمارے وطن کوخدا اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین!!

 

 
08
November

تحریر:سمیع اللہ خان

دنیاآج پانی کا قطرہ قطرہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت خرچ کررہی ہے جبکہ ہم ہر برس 36ملین ایکڑفٹ پانی کو اپنی ہنستی بستی آبادیوں اورکھڑی فصلوں کو تباہ کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں اورپھروہ ہمیں منہ چڑاتاہوا بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ سترکھرب کایہ پانی سندھی ‘بلوچی ‘پٹھان ‘پنجابی وسرائیکی کی تمیزکئے بغیرسب کو چکمہ دے جاتاہے کیونکہ ہمارے عاقبت نااندیش رہنمادشمن کی بچھائی ہوئی شطرنج کی چال سمجھنے سے قاصرہیں ۔کاش! کسی کوتوفیق ہوکہ کالاباغ ڈیم کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے والی پہلی فائل کی تحقیق کرے کہ وہ کہاں سے بن کے آئی ؟کون سی ریاست ہے جو انسانوں سمیت آبی جانوروں اورتھر کے موروں کوبھی نہیں بخش رہی ؟کون سا ضمیر ہے جو چند میگاواٹ بجلی کی خاطرکراچی میں بسنے والے انسانوں کی حبس بے جاسے ہونے والی اموات کا ذمہ دار ہے ؟کون ہے جسے ’’تاراسنگھ‘‘ بسترمرگ پر بھی مکار قراردیتے ہوئے بے چینی سے پہلو بدلتے رہے؟کون ہے جو بنگلہ دیش کو بھی پاکستان دشمنی میں ڈبوکراس کے حصے کہ
Teesta
اور
Feni
دریاؤں کے پانی پرقبضہ جمائے بیٹھاہے؟ کون ہے جو
Barrage Farakkha
سے بنگلہ دیش کو پانچ سوملین ڈالرکے سالانہ نقصان سمیت سیلابوں اورخشک سالی کابھی نظارہ کرارہاہے؟
افسوس! صدافسوس! کہ ایسا بے ضمیروبے حس ملک ہماری ہمسائیگی میں آبادہے ۔جس نے ہمارے وجودمیں آنے کے پہلے برس ہی پانی کا بہاؤ کاٹ دیا۔ پھر 4مئی 1948کو
Inter-Dominion
معاہدے کے تحت بھارت‘ پاکستان کو اس کی ضرورت کے مطابق پانی دینے کا پابند ہواجس کی پاکستان نے قیمت اداکی۔اس ساری کہانی کا اصل محرک وہ ملک ہے جس نے پاکستان میں بہنے والے دریاؤں راوی اورستلج کے ہیڈورکس ‘مادھوپوراورستلج بھارت کی جھولی میں ڈال دیئے کیونکہ عیاردشمن نے
Miss Edwina
کواپنے اثرورسوخ کے لئے استعمال کیا اور باؤنڈری کمیشن کے انچارج ریڈکلف پر اثراندازہوا۔اس کے بعد گورداسپورکامسلم اکثریت کاعلاقہ بھارت کی ملکیت قراردینا بھی اسی سازش کی کڑی تھا کہ اس طرح بھارت کو کشمیر تک زمینی رسائی حاصل ہوگی ‘جس سے اسے پاکستان میں بہنے والے مغربی دریاؤں سندھ ‘چناب اورجہلم پر بھی مکمل کنٹرول حاصل ہوجائے گااوردونوں ممالک الجھے رہیں گے۔

 

bhartiabii.jpgبھارت نے آبی جارحیت کا دوسراپرزوردوربگلیہارڈیم سے شروع کیاجس میں 19ستمبر 1960کوعالمی ورلڈبینک کی سربراہی میں کراچی میں ہونے والے معاہدے سندھ طاس کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑاواٹرسٹوریج قائم کیا گیا۔جس سے وہ پاکستان کے حصے کا 34لاکھ کیوسک پانی ہڑپ کرگیا۔اس ڈیم کی ورکنگ کے پہلے ہی برس پاکستانی زراعت کو ایک کھرب سے زائد نقصان ہوا۔ پاکستان دریائے چناب سے 92لاکھ ایکڑاراضی کوسیراب کرتاہے جبکہ ڈیم کی تعمیرکے پہلے ہی برس پاکستان دریائے چناب سے محض 25لاکھ ایکڑاراضی کوسیراب کرسکا کیونکہ 35ہزارکیوسک کی جگہ ان دنوں تیرہ ہزارکیوسک آنے لگا۔جھوٹے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے ساتھ ساتھ ستمبر 2016میں بھارت نے بگلیہارڈیم پر دوسری مرتبہ چناب کاپانی روک دیا اور ہیڈمرالہ پرپانی کی آمدانتیس ہزار‘تین سوبیاسی کیوسک رہ گئی۔صرف دریائے چناب کا پانی اکیس ہزارآٹھ سوانیس کیوسک ہے لیکن اس وقت آنے والے انتیس ہزار میں دریائے مناورتوی کادوہزارنوسوسترکیوسک اوردریائے جموں توی کا 4,804کیوسک بھی شامل ہے۔


بگلیہارڈیم کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے تو اس کی تعمیر کاآغاز انڈیانے 1999میں کیا۔پاکستان کاموقف تھاکہ یہ سندھ طاس کی خلاف ورزی ہے اورانڈیااس کے ذریعے جنگ یا تناؤ کی کیفیت میں پاکستان کا پانی روک سکتاہے (جوکہ آج سچ ثابت ہوا)۔ اس تنازعے پر 1999سے 2004تک پاک بھارت مذاکرات کے کئی دورہوئے جوبھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بغیرکسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔18اپریل 2005کوناکام مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان نے ورلڈبینک کے سامنے چھ اعتراضات اٹھائے۔پھر اپریل 2005 میں پاکستان نے اس معاملے کے حل کے لئے سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل ixکی شق 2 کے تحت ورلڈبینک سے نیوٹرل ایکسپرٹ کی راہنمائی میں معاملہ سلجھانے کی گزارش کی۔مئی 2005میں ورلڈبینک نے
Lafitte Raymond
کی سربراہی میں اس مسئلے کے حل کے لئے ٹیم تشکیل دی جس نے فروری 2007کو اپنافیصلہ سناتے ہوئے بھارتی موقف کو تسلیم کیا اور بگلیہارڈیم پر معمولی اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسکی تعمیر کی اجازت دے دی۔ اگرسندھ طاس معاہدے سے لے کر بگلیہارڈیم تک دیکھاجائے تو جہاں پاکستان کوناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں اس کی متعلقہ ٹیم کی کمزوریاں بھی ابھر کر سامنے آتی ہیں۔
پاکستان میں پانی کوسٹورکرنے کی قوت تیس دن ہے جبکہ اس وقت انڈیا کے پاس پانی کومحفوظ کرنے کی قوت ایک سوبیس سے لے کر دوسودنوں تک ہے۔


سکھ نوجوانوں کوچاند ماری کے لئے استعمال کرنے والے بھارت نے 2007 میں ’’کشن گنگاڈیم‘‘ کا 330 میگاواٹ کامنصوبہ شروع کیا جس سے پاکستان میں قائم ہونے والے 969میگاواٹ کے ’’ نیلم جہلم پراجیکٹ ‘‘ سمیت پاکستان کے حصے کے پانی کو زبردست نقصان پہنچااوریہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 4کی شق 3 کے کلاز تھری ‘پیراگراف نمبرپانچ اورآرٹیکل سیون ‘ون ‘بی کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے۔دریائے نیلم ‘جہلم ریورکامعاون ہے۔۔ہیگ کی عالمی عدالت نے کشن گنگاپرفیصلہ سناتے ہوئے فروری 2013میں بھارت کو کہاتھا کہ وہ پانی کے ماحولیاتی بہاؤ کوبرقراررکھنے کے لئے نوکیوبک میٹرفی سیکنڈ پانی چھوڑنے کا پابندہوگامگر بھارت اپنی راویتی روش کے مطابق عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے محض 4.25کیوبک میٹرفی سیکنڈ کے حساب سے پانی چھوڑ رہاہے ۔انڈیانے انیس سوسترمیں کشمیری دریاؤں پر تینتیس ڈیم بنانے کااعلان کیاتھا جس میں سے بہت سے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
اسی طرح پاکستان کے حصے کے مغربی دریا‘ دریائے چناب کے پانی پر ریٹل پاورپراجیکٹ کے ذریعے ایک بڑی قدغن لگائی جارہی ہے ۔ آبی ماہرین کی رائے کے مطابق ریٹل پاورپراجیکٹ اگر بھارت کی خواہش کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچتاہے تو اس سے دریائے چناب کے قدرتی بہاؤ میں اکیس سے چالیس فیصد تک کمی متوقع ہے۔ جو پاکستانی پنجاب سمیت سندھ کی زمینوں کو بنجرکرنے کا ایک خطرناک منصوبہ ہے۔کشن گنگاکاپانی چوبیس کلومیٹرطویل ایک پاورپروڈکشن کینال کے ذریعے موڑاجائے گا جبکہ بقیہ پانی وولرجھیل سے جاملے گا‘اوردوسوتیرہ کلومیٹرطویل دریائے نیلم کونقصان پہنچائے گا۔۔انرجی کے ضمن میں 141ملین ڈالرسالانہ اورعلاقے میں زراعت کو 420 ملین ڈالرتک نقصان ہو سکتاہے۔ اس کے علاوہ
Nimoo-Bazgo
پراجیکٹ میں کاربن کریڈٹیس بھی بھارت کی مکارانہ صلاحیت اورپاکستانی آفیشلزکے غیرذمہ دارانہ رویہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
انڈیا 2012سے 2017تک 72ڈیمز کی تعمیر کاعندیہ دے چکاہے جس کے ذریعے وہ 15208میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا خواہش مندہے۔ان میں
Bursar Hydroetectric Project
میں پانی کوسٹورکرنے کی
2.2 MAF (Million Acre Feet)
قوت ہے جبکہ معاہدہ کے تحت دریائے چناب کے پانی کو بھارت 1.7
MAF
سے زیادہ سٹورکرنے کاحق دار نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکلvi کے تحت بھارت اس بات کا پابند ہے کہ منصوبوں کے متعلق ڈیٹااورمعلومات پاکستان کے ساتھ شیئرکرے لیکن وہ ہمیشہ ہی بادشاہوں کی اولادکی طرح اپنے آپ کو کسی قانون کاپابند تصورنہیں کرتا۔
(International Commission on Large Dams) ICOLD
کے ممبرہونے کی وجہ سے بھارت پر لازم ہے کہ بڑے ڈیمز کی معلومات پاکستان کے ساتھ شیئرکرے لیکن بھارت ایساکرنااپنی توہین سمجھتاہے۔
ICOLD
کے تحت 15میٹرسے اوپرکاہرڈیم‘ بڑا ڈیم ہی تصورہوگا ۔بھارت نے تفصیلی طورپر کسی بھی انجینئر پراجیکٹ کی مکمل معلومات کاتبادلہ نہیں کیا جبکہ بالخصوص
Pakal Dul 1000mw‘Ratle 780mw‘Kirthal 990 mw‘Seli 715
اور
Sawalkot
کے 1020 میگاواٹ جیسے بڑے ڈیمز کی مکمل معلومات چھپانے کے جرم کابھی مرتکب ٹھہرا ہے۔
2012کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں نوڈیمزتباہی کاشکار ہوئے۔ یہ تمام منصوبے ایسے ہیں کہ ان کونقصان پہنچنے کی صورت میں پاکستان کے ڈاؤن سٹریم کے علاقے میں انفراسٹریکچرکوشدید نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے‘ خصوصاً کشمیری دریاؤں پربننے والے ڈیمززیادہ خطرناک صورتحال کی غمازی کر رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی کٹھ پتلی حکومت نے بھی 1055 میگاواٹ کی قوت کے حامل سات ڈیمزکی تعمیر کاعندیہ 2012میں دیاتھاجس میں سے پانچ دریائے سندھ پرجبکہ ایک دریائے سرواوردوسرادراس پر۔انڈیاکااپنے دوسرے ہمسایہ ممالک سے بھی یہی رویہ ہے جواس کے استعماری عزائم کی بھرپورعکاسی کر رہا ہے۔
Farakka Barrage
کی تعمیرنے جہاں بنگلہ دیش کے زمینی پانی کو سترفیصدسے زیادہ آلودہ کرکے اسے پانچ سوملین ڈالرسالانہ کانقصان پہنچایاوہیں مون سون میں سیلاب کی آمداورخشک موسم میں خشک سالی بھی بنگلہ دیشیوں کامقدرٹھہری مگربنگلہ دیش ہے کہ بھارت کے ساتھ پیارکی پینگیں بڑھاتا ہی جارہاہے۔حسینہ واجدکی آنکھوں پرتوپاکستان دشمنی کے ایسے دبیز پردے ہیں کہ اسے اپنے ملک کی عوام کا خیال تک نہیں آتا۔2015میں جب مودی ‘بنگال کی وزیراعلیٰ ممتازبینرجی کو استعمال کرتے ہوئے ٹریفک اورسڑکوں کی تعمیرکے منصوبوں پردستخط کرواچکے تو حسینہ واجد نے ممتاز بینرجی کے ساتھ دریائے
Fani
اور
Teesta
کامعاملہ اُٹھایاتو انھوں نے محض چانکیانہ مسکراہٹ اچھال کرحسینہ واجد کے لبوں پرمہرلگادی ۔


بھارت دریائے جہلم پر مقبوضہ کشمیرمیں بارہ مولاکے مقام پر سری نگرسے سات کلومیٹر دورشمال میں وولربیراج بنارہاہے ۔اس پر بھی بھارت نے پہلے مذاکرات باربار بے نتیجہ ختم کئے اوراب وولربیراج پربات کرنے کے لئے ہی تیار نہیں۔ بھارت یہ ڈیم وولرجھیل کے دہانے پربنارہاہے۔ جہاں وہ مقبوضہ وادی میں نیلم جہلم دریامیں گرتی ہے۔اس کی سٹوریج قوت تین لاکھ ایکڑفیٹ ہے جوکہ سندھ طاس کے ضمیمہ ڈی کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے ۔شنید ہے کے دریائے جہلم پرمزید 54ڈیم زیرتعمیرہیں۔بھارت ‘دریائے سندھ کاپانی کارگل کے مقام پر دریائے برہم پترمیں ڈال رہاہے لیکن جب خطے کے اس بے مروت ملک کاپانی چین نے روکاتو اسے دن میں تارے نظرآگئے۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران چین نے تبت میں ایک ڈیم کے لئے برہم پترسے نکلنے والے ایک معاون دریاکاپانی بند کردیا۔چینی نیوزایجنسی کے مطابق تبت سے نکلنے والے دریائے یارلنگ زینگبو سے نکلنے والے معاون دریا ‘شیبوقوکاپانی لالہوڈڈیم کی تعمیرکی وجہ سے بندکیاگیا۔چین سے نکل کر یہ دریا بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں اروناچل پردیش اورآسام سے ہوتاہوا بنگلہ دیش تک جاتاہے۔یہ ڈیم295ملین کیوبک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ پانی کی حالیہ بندش سے برہم پترمیں 36 فیصد پانی کی کمی کاسامنادیکھنے میں آیا۔جس سے بھارت کی پانچ ریاستیں متاثر ہوئیں۔ چین کاکہناہے کہ اس کے بھارت سے پانی پر کوئی معاہدے نہیں ہیں اس لئے وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزادہے جبکہ اس سے قبل 2015 میں جب چین نے ایک پرانے ڈیم کو بحال کیاتودوسروں کاپانی ہڑپ کرنے والابھارت بلبلااُٹھا‘ اس کے ساتھ ساتھ چینی حکومت برہم پتر یعنی یارلنگ زینگبو پر مزید تین ڈیم کی تعمیرکاارادہ بھی رکھتی ہے۔بھارتی میڈیاکے ماہرین نے چین کے اس عمل کو ایک سفارتی اشارہ قراردیتے ہوئے کہاکہ یہ بھارت کے اس عمل کاردعمل ہے جواس نے سندھ طاس کی خلاف ورزی کرکے انجام دیاہے۔چین کوپانی کے حقوق سمجھانے والے بھارت پروہی مثال صادق آتی ہے کہ ’’اوروں کونصیحت خودمیاں فضیحت‘‘۔
بھارت کی ریاست راجستھان میں موجودکوئلے سے چلنے والے پاورپلانٹس تھرکے موروں سمیت گزشتہ برس کراچی میں ہونے والی اموات کے ذمہ دارہیں کیونکہ چمنیوں کارخ سندھ کی جانب کیا گیاہے۔ایسے حالات میں پاکستان کو چاہئے کہ اپنے حقوق کی جنگ عالمی فورم پرلڑے۔بھارت جوکہ کسی کو خاطرمیں نہیں لاتا‘ اور ورلڈبینک کی سربراہی میں ہونے والے معاہدے سے بھی بے نیازی کااظہارکررہاہے ۔اس کی اصل صورت ہمیں دنیاکے سامنے رکھناہوگی۔
اٹھارہ ستمبر کوہونے والے اُڑی حملے کے بعد بھارت نے انڈس واٹر کمشنرزکے ششماہی مذاکرات معطل کردیئے ۔جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہرچھ ماہ بعد مذاکرات ضروری قراردیئے گئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر بھارتی وزیراعظم نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنی کابینہ کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ ’’پانی‘‘کوخارجہ پالیسی کے ہتھیارکے طورپراستعمال کیاجائے گا۔اس قبیح حرکت پر پاکستان نے بھارت کویاددہانی کروائی کہ ’’ویاناکنونشن‘‘سمیت تمام عالمی قوانین بھارت کے اس اقدام کی حمایت نہیں کرتے کہ وہ نچلے علاقوں کی جانب پانی کا بہاؤ روک دے۔بھارت کی اسی مذموم کاوش پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کو چاہئے کہ 50برس سے قائم پرامن شراکت داری کے معاہدے پرسختی سے کاربندرہتے ہوئے باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔


سمجھوتہ ایکسپریس سے لے کرپٹھان کوٹ تک ‘ کلبھوشن سے لے کراڑی حملے تک، بھارت کی نیکوکاری کے جتنے بھی ثبوت ہیں، ببانگ دہل اقوام عالم کودکھاناہوں گے ۔ایسابھی دیکھنے میں آیاہے کہ کشمیرسمیت پانی کے مسئلہ پرپاکستان سے انصاف نہیں برتاگیاتاہم پاکستانی سفارت کاری کوبھی بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اُٹھناہوگا۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں دنیامیں ہونے والی جنگوں کی بنیادپانی ہوگا اوراس جنگ میں پاک بھارت نہیں بلکہ عالمی امن کو بھی خطرہ ہو گا۔ لہٰذا اقوام عالم کے ذمہ دارممالک کا فرض ہے کہ بھارت کوخطے میں بدکرداری سے روک کر اس خطے کی بدقسمتی کی لکیر کومزیدگہراہونے سے بچائے۔ اس حقیقت میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کاپانی بندکرناایک ’’حملہ ‘‘ ہی ہے جو پاکستان کوزراعت‘صنعت‘انرجی سمیت متعدد شعبوں میں کمزورترکرنے کی سازش کاحصہ ہے۔آبی ماہرین کے مطابق اگر بھارت اسی تواترسے ڈیم بناتارہاجن کا مقصد توانائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کروڑوں انسانوں کامعاشی قتل بھی ہے تو آنے والے پانچ برس میں ممکن ہے کہ پاکستان کوپانی کی دستیابی آٹھ سوکیوبک میٹرتک گر جائے۔ یہ ہیں بھارت کے وہ مکروہ اورگھٹیاعزائم جن کے ساتھ وہ پاکستان کے خلاف زہربھی اگلتاہے۔شایداستعمارکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اس کے پاس ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جس کی وجہ سے کھلی آنکھیں بھی کشمیرسے بے اعتنائی برت رہی ہیں۔ حیرت ہے کہ مسلمانوں کاقاتل دبئی میں کھڑے ہوکرپاکستان کوللکارتاہے اورپھر متحدہ عرب عمارات سے 75ارب ڈالرکی سرمایہ کاری بھی لے اُڑتاہے ۔یہ ہے وہ عالمی منظرنامہ جس میں پاکستان کو اپنی جنگ سفارت کاری کے میدان میں لڑنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بھارت کی آبی جارحیت کے ساتھ ساتھ اس کے مکروہ پراپیگنڈے کابھی پوری قوت کے ساتھ جواب دیاجاسکے۔

مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

تحریر: عقیل یوسف زئی

افغانستان کی سیکورٹی کے متعلق حالات نے غیرمتوقع طور پر بہت خطرناک شکل اختیار کر لی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ یہ شورش زدہ ملک ایک بار پھر بدترین بدامنی کا شکار ہونے والا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے نصف سے زائد صوبوں (تقریباً 18) میں طالبان نے ماہ اکتوبر کے دوران حملے کئے۔ جس کے نتیجے میں فریقین کے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور حالات اتنے خراب ہونے لگے ہیں کہ ایک حالیہ اجلاس کے دوران نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈروں نے افغان حکومت کو تجویز پیش کی کہ اگر ان کی فورسز طالبان کی پیش قدمی روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں تو عالمی فورسز کو پھر سے مختلف صوبوں میں طلب کیا جائے۔ ایک اور ذرائع کے مطابق نیٹو کے سربراہ نے اپنے ہیڈکوارٹر کو لکھے گئے ایک خط یا رپورٹ میں حالات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر طالبان کی حالیہ پیش قدمی جاری رہی تو ملک پھر سے انارکی کی لپیٹ میں چلا جائے گا اور انٹرنیشنل فورسز کو پھر سے میدان میں اترنا پڑے گا۔ مذکورہ مراسلے میں نیٹو حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں کوئی مؤثر قدم اُٹھائیں۔ امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن کے کابل میں واقع دفتر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف معتبر امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک کے چار پانچ مہینوں کے دوران افغانستان میں ناقابل یقین حد تک ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ان چند مہینوں کے اندر افغان فورسز، پولیس اور طالبان کے درمیان دو طرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 7000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ سال 2001 کے بعد جاری جنگ کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں قرار دی جا رہی ہیں۔ چار مختلف مواقع پر پولیس نے طالبان کے گروپوں کے سامنے ہتھیار بھی ڈالے ہیں۔

 

afghanmojoda.jpg

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ نے ایک حالیہ اجلاس کے دوران صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے بین السطور میں یہ بتانے کی کوشش بھی کی کہ انٹرنیشنل فورسز کی تعداد یا مراکز کم کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حملوں اور قبضوں کی تعداد میں اضافہ اس معاہدے کے بعد دیکھنے میں ملا جو کہ حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان طے پایا ہے۔ حملوں ہی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے حزب اسلامی کو متعدد مراعات دینے اور اخراجات کے لئے 40لاکھ ڈالرز کے مطالبے کی 10لاکھ کی پہلی قسط ادا کرنے کے باوجود پارٹی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کابل آنے سے گریزاں ہیں اور ان کے آنے میں تاخیر کی بنیادی وجہ سیکورٹی سے متعلق وہ خدشات ہیں جن سے کابل جیسا مرکزی شہر بھی محفوظ یا مبرا نہیں ہے۔ اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کا قطر دفتر پھر سے فعال ہونے لگا ہے اور طالبان افغان حکومت کے نمائندوں کی بعض اہم ملاقاتوں کی خبریں بھی زیرگردش ہیں مگر کارروائیاں پھر سے کم یا ختم نہیں ہو پا رہیں۔

 

اور ایک درجن سے زائد صوبے بدامنی اور حملوں کی زد میں ہیں۔ قطر پر اسس کے بارے میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں ملاعمر کے بھائی ملا عبدالمنان اور افغان انٹیلی جنس کے سربراہ معصوم ستانکزی کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ان ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فریقین نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور یہ کہ اس ملاقات میں ایک امریکی نمائندہ بھی موجود تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امن لانے کی ایک بڑی مگر آخری کوشش ہے اور اگر یہ ناکام ہوئی تو جنگ کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ یہ بات انتہائی خطرناک ہے کہ اس دوران افغانستان بدترین بدامنی اور دوطرفہ حملوں اور کارروائیوں کی زد میں رہا جبکہ طالبان نے سال 2015 اور 2016 کے دوران پہلی بار اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر نہ صرف یہ کہ تین صوبوں کے کئی اہم شہر اور علاقوں پر قبضہ کیا بلکہ بیک وقت ایک درجن سے زائد صوبوں میں کارروائیاں بھی کیں اور مختلف صوبوں میں ان کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس اور وزارت داخلہ کی تفصیلات کے مطابق ان حملوں میں اس وقت شدت آ گئی جب افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان مفاہمتی فارمولے کے تحت معاہدہ ہوا اور یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ گلبدین حکمت یار چند روز میں کابل پہنچنے والے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران طالبان نے جن صوبوں میں موثر کارروائیاں کیں ان میں فراہ، پکیتا، خوست، ننگرہار، غزنی، بغلان، بادغیس، پنچ شیر، قندوز خازیاں، ہلمند اور متعدد دیگر صوبے شامل ہیں۔ طالبان نے عرصہ دراز کے بعد پہلی دفعہ پنج شیر پر بھی حملے کئے۔ حالانکہ یہ وہ صوبہ رہا ہے جہاں مثالی امن رہا۔ اور حالت یہ رہی کہ یہاں نیٹو یا امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ دوسری طرف طالبان نے ترکمانستان کی سرحد پر واقع صوبہ یعنی بادغیس میں گزشتہ دنوں کے دوران اتنے حملے کئے کہ افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان آمدورفت اور اشیا کی ترسیل کا سلسلہ بھی روک دیا گیا۔

 

امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن کے کابل میں واقع دفتر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف معتبر امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک کے چار پانچ مہینوں کے دوران افغانستان میں ناقابل یقین حد تک ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ان چند مہینوں کے اندر افغان فورسز، پولیس اور طالبان کے درمیان دو طرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 7000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اور ترکمانستان نے سرحد پر اپنی فورسز کی تعداد بھی بڑھائی۔ بادغیس ہی میں درجنوں پولیس اہلکاروں نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور کئی چیک پوسٹیں رضاکارانہ طور پر ان کے حوالے کیں۔ یہی صورت حال ایک اور صوبے قندوز میں بھی دیکھنے کو ملی۔ جہاں پر مرکزی شہر کے علاوہ نصف سے زائد اضلاع پر عملاً طالبان قابض ہو چکے ہیں اور صوبائی دارالحکومت کے متعدد علاقے بھی ان کے قبضے میں ہیں ۔قندوز کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ اتحادی افواج کے سربراہ جنرل جان نکسن نے اتوار کے روز افغان فورسز کے چیف جنرل عبداﷲ جبسبی کے ساتھ قندوز کا دورہ کیا اور صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ قندوز چند ماہ قبل بھی تقریباً 10روز تک طالبان کے قبضے میں رہا تھا۔ قندوز، بادغیس، فراہ اور پنج شیر جیسے اہم اور سرحدی صوبوں میں طالبان کی کامیاب کارروائیوں نے افغان فورسز کے علاوہ تاجکستان اور ترکمانستان جیسے پڑوسی ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایرانی سرحد کے ساتھ واقع اہم صوبہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ۔ اس صوبے کے متعدد علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں اور یہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار بھی داعش اور طالبان کے مسلسل حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورت حال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر طالبان کی سرگرمیاں اور کارروائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دوسری طرف وزارت داخلہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران افغان اور اتحادی فورسز نے 68بڑے آپریشن کئے جس کے نتیجے میں 1895طالبان اور داعش جنگجو مارے گئے جبکہ 3000زخمی ہوئے۔ دفاعی ماہرین طالبان کی حالیہ کارروائیوں کو بڑی تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق افغانستان سمیت متعدد دیگر ممالک میں جاری بدامنی اور بعض عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والی شورشوں نے دنیا کے امن اور مستقبل کے بارے میں نہ صرف متعدد سوالات پیدا کئے ہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 2015-16 کے دوران عالمی دہشت گردی کے واقعات میں جہاں ایک طرف 30فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

 

ایرانی سرحد کے ساتھ واقع اہم صوبہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ۔ اس صوبے کے متعدد علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں اور یہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار بھی داعش اور طالبان کے مسلسل حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورت حال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر طالبان کی سرگرمیاں اور کارروائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔

 

عالمی طاقتیں باہمی دشمنیاں نبھانے کے لئے کمزور اور پسماندہ اقوام ممالک کو بے دردی کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں جبکہ دنیا کی سیاست اور معیشت کا رخ موڑنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس ڈرٹی گیم میں پورا حصہ ڈالتی آ رہی ہیں۔ ہمارے خطے میں جاری جنگ کی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔

وہاں دنیا کے تقریباً 20ممالک مسلسل حملوں کی زد میں رہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اب بھی یہ ہے کہ اہم اور متاثرہ ریاستوں کی سطح پر ان عوامل اور اسباب کے خاتمے کے لئے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے جس کے باعث عالمی اور علاقائی امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ عالمی طاقتیں باہمی دشمنیاں نبھانے کے لئے کمزور اور پسماندہ اقوام ممالک کو بے دردی کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں جبکہ دنیا کی سیاست اور معیشت کا رخ موڑنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس ڈرٹی گیم میں پورا حصہ ڈالتی آ رہی ہیں۔ ہمارے خطے میں جاری جنگ کی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔ آثار بتا رہے ہیں کہ ہم ایک بار پھر انٹرنیشنل پراکسی وارز کی سیریز کا نشانہ بننے والے ہیں۔ کیونکہ ہماری جغرافیائی اہمیت خطے میں بڑی طاقتوں کی موجودگی اور خطے میں قدرتی وسائل کے لامحدود ذخائر وہ عوامل اور ذرائع ہیں جن کے باعث ہماری اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض عالمی کردار اور ان کے سپانسرز اس کوشش میں ہیں کہ عدم استحکام کی صورت حال کو قائم رکھ کر ان لامحدود وسائل پر ان کے قبضے کے امکانات کو کسی نہ کسی صورت میں یقینی بنایا جائے۔ متعدد عالمی سروے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے فاٹا، پختونخوا اور بلوچستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 6سے 8 ٹریلین ڈالرز کے ناقابل یقین قدرتی وسائل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کے قدرتی ذخائر کا حجم بھی تقریباً اتنا ہی بتایا جاتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے چھپے خزانوں کا تخمینہ 10ٹریلین ڈالرز بھی لگایا جائے تو یہ اس جانب اشارہ ہے کہ یہ دنیا کا امیرترین خطہ ہے۔ دوسری طرف یہی حالت وسطی ایشیائی ریاستوں کی بھی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے کے ساتھ عالمی معیشت کا نہ صرف مستقبل وابستہ ہے بلکہ عالمی معیشت کے ٹھیکیدار یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہاں امن ہو اور یہ ممالک ان ذخائر سے فائدہ اٹھا کر دنیا کی توجہ کا مرکز بننے کے علاوہ لیڈنگ رول نبھانے کے قابل ہو جائیں۔خطے میں روس، امریکہ، چین اور ہندوستان جیسے اہم ممالک کی موجودگی بھی امن اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بادی النظر میں دکھائی یہ دے رہا ہے کہ اس تناظر میں بھی افغانستان کی صورت حال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس صورت حال نے پاکستان کے لئے بھی خطرات بڑھا دیئے ہیں اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ پاک افواج افغانستان کے ساتھ بارڈر میکنزم کو مکمل فعال بنانے میں بہت سنجیدہ دکھائی دیتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وطن کا ناز


عسکر پاک، دنیا میں، عجب اک آن رکھتی ہے
یہ اعلیٰ ظرف رکھتی ہے، یہ اونچی شان رکھتی ہے
یہ سب افواج عالم سے الگ پہچان رکھتی ہے
ہر اک ساعت یہ باندھے جنگ کا سامان رکھتی ہے
کہ شاعر اور نغمہ خواں اسے رخشندہ کہتے ہیں
یہ مہروماہ سے روشن اسے تابندہ کہتے ہیں
وطن کا ناز ہے یہ قوم کی آنکھوں کا تارا ہے
یہ ارض پاک کے ہر فرد کا مخلص سہارا ہے
جہاں مشکل گھڑی میں دیس نے اس کو پکارا ہے
وہاں لبیک حاضر ہوں فقط اس کا یہ نعرہ ہے
اسے دیکھو میدانِ جنگ میں کیسے یہ لڑتی ہے
یہ پوچھو جا کے دشمن سے گلا کیسے پکڑتی ہے
سبھی کو عزم و ہمت کا کٹھن رستا دکھایا ہے
وفا کا درس، غیرت کا سبق اس نے پڑھایا ہے
امن میں جنگ میں ہر کام کا بِیڑا اٹھایا ہے
یہ وہ چھکا ہے جس نے ہار سے سب کو بچایا ہے

 

نائب صوبیدار ریاض عاقب کوہلر

*****

 
08
November

تحریر: محمود شام

ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت، بے روزگاری، اخلاقیات و آداب کی پامالی، حکمران طبقوں کی بد دیانتی، زندگی کی معقول سہولتیں نہ ہونے کے سبب مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جس سے نفسیاتی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ سیاستدانوں کی آپس کی چپلقش اور ٹاک شوز میں بے ہنگم شور و غل اوربے نتیجہ بحثوں کی وجہ سے عام شہری اور خاص طور پر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت زیادہ افسردہ ہوجاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اُمید کی خوشبو‘ روشن مستقبل کی نوید اور ملکی کامیابیوں کی بشارت صرف فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات سے آتی ہے۔ ہر پاکستانی فوج کی طرف دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔


بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کے خلاف جو پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں۔ جس طرح کے بیانات دئیے جارہے ہیں یہ خلاف توقع نہیں ہیں کیونکہ نریندر مودی کی پرورش جس مسلمان دشمن اور ہندو عصبیت کے ماحول میں ہوئی ہے۔اس کے نتیجے میں اسی قسم کا متعصب، انسانیت سے متصادم اور امن و سلامتی کا قاتل کردار ہی تیار ہونا چاہئے تھا۔ میں نے نریندر مودی کے خاندان‘بچپن‘ لڑکپن‘ پنڈتوں‘ سنیاسیوں کے ساتھ گزرے لمحات کے بارے میں کتابیں پڑھی ہیں۔ اس بھیانک ماضی سے اسی قسم کی لڑاکااور شدت پسند پروڈکٹ بننے کی اُمید کی جاسکتی تھی۔ تعجب ہوتا اگر ان غاروں‘ جنگلوں‘ کچی بستیوں اور گندگی بھرے محلوں سے کوئی اچھی اقدار والا انسان برآمد ہوتا۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی شعبہ‘ کوئی ادارہ یا کوئی یونیورسٹی بھارت کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔ کیا کسی نے قبل از وقت یہ اندازہ کیا تھا کہ ایک ایسا مسلمان دشمن اور انسانیت سے نفرت کرنے والا ’’ہندوتوا‘‘ کا پر چارک بھارت کا سیاہ و سفید کا مالک بننے والا ہے۔ اس سے خطے میں کتنی وحشتیں رونما ہوں گی‘ طاقت کا توازن بگڑے گا اورانسانیت کی اعلیٰ اقدار خطرے میں پڑیں گی۔ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ کہ وہ ایسے امکانات سے عوام کو، اور متعلقہ اداروں کو با خبر بلکہ خبردار بھی کرتے رہیں۔ بھارت میں الیکشن سے بہت پہلے مودی کے بارے میں کافی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ کچھ اپنے طور پر اور کچھ بی جے پی نے خود غیر ملکی اخبار نویسوں اور مصنفوں سے لکھوائی بھی تھیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت بھارت کی طرف سے جو جارحانہ پالیسی اختیار کی جارہی ہے وہ صرف بھارتی وزیر اعظم کی ذاتی نفرتوں تک محدود ہے یا پورا بھارت اسی خود کش موڈ میں ہے۔ یہ بھی کہ اس اشتعال اور دیوانہ پن کے کیا اسباب ہیں۔

 

بھارت کی فوجی پیش قدمی کا جواب تو پاکستان کی فوج پوری طرح دے سکتی ہے۔ بھارت کے پس پردہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی سیاسی قیادت‘ یونیورسٹیوں‘ علماء‘ تاجر تنظیموں اور صنعتی اداروں کو سرگرم ہونا ہے۔ وہ سیکٹر نامزد کرنے ہوں گے، جہاں پاکستان بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سر فہرست دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً ریکوڈک وغیرہ سے معدنیات کی دریافت اور برآمد‘ جاگیرداری اور سرداری کا خاتمہ اور زیادہ انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے

پاکستان کی طرف سے کامیاب ایٹمی تجربات اور بعد میں میزائلوں کے ایک لا متناہی سلسلے نے پاکستان کو باہ سے محفوظ کردیا تھا۔ اس لیے جنوبی ایشیا میں بھی اور عالمی سطح پر یہ باور کیا جارہا تھا کہ بھارت اب سرحدوں پر کسی چھیڑ چھاڑ کا متحمل نہیں ہوگا۔ لیکن بھارت کا ایک بڑا حصّہ پاکستان کو دل سے ایک الگ وحدت تسلیم نہیں کرتا۔ وہاں باقاعدہ یہ فکر پائی جاتی ہے کہ پاکستان بھارت ماتا کے جسم کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس لیے وہ ایک طرف اپنی نئی نسلوں کو مسلمانوں کے بارے میں گمراہ کن خیالات سے متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کو اپنے لئے ایک مستقل خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس کے لئے مسلسل نئی نئی کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ فلمیں بنائی جاتی ہیں اور ٹی وی ڈرامہ سیریل تخلیق کئے جاتے ہیں۔


پاکستان جب باہر سے محفوظ ہوگیا۔ اس کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ جنہوں نے آج سے 42سال پہلے یہ یقین کرلیا تھا کہ پاکستان بھی ایٹم بم بناسکتا ہے۔ 1998میں اس کے عملی مظاہرے سے یہ حقیقت پوری دنیا پر اجاگر ہوگئی۔ اب ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے سیاسی قائدین تو اس کے بعد ایسے مطمئن ہوئے کہ انہوں نے وطن کی فکر ہی ترک کردی۔ اپنے خزانے بھرنے لگے۔ پاکستان کے عوام کو جو مسائل درپیش تھے۔ بجلی کی کمی‘ پانی کی قلّت‘ بیشتر صنعتوں کا فقدان اور روزگار کے معقول مواقع نہ ملنا وہ ان سب سے بے نیاز‘ اپنے کارخانے بیرون ملک لگاتے رہے۔ اپنے کروڑوں پاؤنڈ بیرونی ملکوں میں جمع کرواتے رہے۔


لیکن دوسری طرف بھارت نے پاکستان کو باہر سے محفوظ ہونے پر پاکستان کو اندر سے غیر محفوظ کرنے کی ٹھان لی۔ جس کے لیے پاکستان میں فرقہ ورانہ تقسیم‘ لسانی تفریق اور علاقائی نا انصافی نے بہت ہی سازگار فضا تعمیر کر رکھی تھی۔ مغربی ملکوں نے وہاں کی یونیورسٹیوں اور میڈیا نے بھی پاکستان کے ایک بڑے حلقے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ بھارت کو پاکستان پر بہت سبقت حاصل ہے کیونکہ وہاں حکومت کی تبدیلی ہمیشہ انتخاب سے ہوتی ہے۔ وہاں فوج کبھی خود اقتدار پر قابض نہیں ہوتی۔ پاکستان میں بہت سی ایسی تنظیمیں، این جی اوز، سامنے آگئیں جو پاکستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار فوجی آمریت کو ٹھہراتی تھیں۔ اس طرح بھارت کو بہت آسانی سے ایسا ماحول مل گیا جس میں وہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرسکتا تھا۔ اس کے لیے افغانستان سے بھی بہت مدد مل گئی۔ افغان عوام اور مہاجرین کے لئے پاکستان کی طرف سے بہت کچھ کرنے کے باوجود افغان شہریوں میں پاکستان کے خلاف نفرتیں پیدا کی گئیں۔ اس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا بھی بہت دخل ہے مذہبی شدت پسندی کو سیاسی اسلام کہا گیا۔ لیکن ان غارت گروں کے پیچھے بھی پاکستان دشمنوں کا پراپیگنڈہ اور مالی تعاون شامل ہے۔

 

بھارت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بلکہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘ کتنی سادگی معصومیت ہے۔ انڈیا کی فلمیں تو پاکستان کے سنیما گھروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں لیکن پاکستانی فلموں کو انڈیا کے سنیما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل پاکستان کی فلمیں نہیں دکھاتے۔

جمہوریت اور آمریت کے درمیان مقابلے کا ذہنی تاثر بہت ہی منطقی‘ سیاسی‘ اور اخلاقی طور پر پھیلایا گیا۔ اس میں میڈیا‘ اینکر پرسنزاور کالم نویسوں سب کا دخل ہے۔ اس بحث میں ہم پاکستان کا تاریخی‘ عمرانی اور سماجی پس منظر بھول جاتے ہیں۔ یہاں کی مختلف وحدتوں کی سرشت اور فطرت کونظر انداز کردیتے ہیں۔ سیاسی حکمرانوں کی ناکامی اور نا اہلی کو فراموش کردیتے ہیں جب انتظامی خلا پیدا ہوتا ہے تو کسی نہ کسی طاقت ور ادارے کے لئے اس خلا کو پُر کرنا عین فطری ہوتا ہے۔ یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ 1947سے اب تک یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آنے والی قومی سیاسی جماعتوں نے مستحکم سیاسی جمہوری معاشرہ تعمیر نہیں کیا۔ خود ان جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ بد ترین قسم کی آمریت ہے۔ تو یہ جماعتیں ملک میں مستحکم جمہوری ماحول کیسے تخلیق کرسکتی ہیں۔ اس طرز استدلال سے میں یہ بتانے کی کوشش کررہا ہوں کہ جمہوریت اور آمریت میں یا سیاسی پارٹیوں اور فوج میں مقابلے کی تکرار نے ہمارے ہاں بھارت کو ایک جمہوری آئیڈیل کے طور پر منوایا۔ وہاں کے میڈیا کو ہم مثالی آزاد میڈیا قرار دینے لگے۔ وہاں کی عدلیہ کو مثالی انصاف گاہیں سمجھنے لگے۔ وہاں کے تعلیمی اداروں کو رول ماڈل خیال کرنے لگے۔ وہاں کی فلمی صنعت کو دُنیا کی کامیاب ترین فلم انڈسٹری ماننے لگے۔


اتنا دھواں پھیلادیا گیا‘ اتنی دُھند بکھیر دی گئی کہ ہم دُنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں غربت کی دلدل میں پھنسے کروڑوں انسانوں کو بھول گئے۔ کشمیر میں اس جمہوریت کے لگائے گئے زخموں‘ بسائے گئے قبرستانوں اور گرائی گئی لاشوں کو جمہوریت اور آمریت کی بحث میں پس پشت ڈالتے گئے۔
میں معافی چاہتا ہوں کہ یہ زخم ہرے کررہا ہوں لیکن یہ حقیقت ہے۔ انہی مباحث میں ہم نے پاکستان کو اندر سے کمزور کیاہے۔ آج کے حقائق یہ ہیں کہ پاکستان پر ہزاروں ارب کے قرضے ہیں۔ ہم ابھی ان قرضوں پر لگے سود کی قسطیں ادا کررہے ہیں۔ اصل زر ہماری آنے والی نسلیں واپس کریں گی۔ غربت کا عالم یہ ہے کہ کئی کروڑ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ کرپشن میں ہم سر فہرست ملکوں میں ہیں۔ بجلی کی قلّت کے باعث صنعتیں دوسرے ملکوں کو منتقل ہورہی ہیں۔ بڑے ڈیم بنانا ہماری ضرورت تھی اسے سیاسی مسئلہ بناکر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ حالانکہ اربوں روپے اس کی امکانی رپورٹوں پرخرچ کئے گئے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ زوروں پر ہے۔ یہ کون لوگ تھے جو اس شدت پسندی کا شکار ہوئے۔ ہم نے اندازہ نہیں کیا ۔ شروع میں ان کی سرپرستی کی وہ اب ہماری سا لمیت کے در پے ہوگئے۔


شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن ابھی حتمی نتائج کا انتظار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی حکومتوں کو ان علاقوں میں کام کرنا چاہئے تھا۔ جہاں خود کش بمباروں کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں وہاں دل اور دماغ جیتنے چاہئیں تھے لیکن اس حوالے سے بہت کم کام ہورہا ہے۔
بھارت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بلکہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘ کتنی سادگی معصومیت ہے۔ انڈیا کی فلمیں تو پاکستان کے سنیما گھروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں لیکن پاکستانی فلموں کو انڈیا کے سنیما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل پاکستان کی فلمیں نہیں دکھاتے۔ اسی طرح بھارت کے فلمی اداکاراؤں کو تو ہمارے ٹی وی چینلوں پر اشتہارات میں مختلف مصنوعات فروخت کرتے دکھایا جارہا ہے، ہمارے شہروں میں بھی ان کے ہورڈنگز لگے ہوئے ہیں۔ بھارتی اداکار‘ اداکارائیں پاکستان میں مقبول کروائی جارہی ہیں لیکن بھارت کے کسی ٹی وی چینل یا کسی شہر کی دیواروں پر پاکستان کے اداکار و اداکارائیں نظر نہیں آتے ہیں ٹھیک ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن اس طرح فن یک طرفہ بھی نہیں ہوتا۔ کیا پاکستان کی سر زمین، شعر و ادب، افسانہ نویسی اور کردار نگاری کے حوالے سے بانجھ ہوگئی ہے؟کیا ہمارے ہاں حسین ماڈل لڑکے لڑکیاں نہیں ہیں؟


اس طویل تمہید کے ذریعے میں نے اپنا درد اس لیے بکھیرا ہے کہ بھارت کو ہر پہلو سے سمجھنا ضروری ہے۔ یقیناًوہاں بھی انسان بستے ہیں۔ انہیں نیست و نابود کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اللہ کاشکر ہے کہ ہم باہر سے محفوظ ہیں۔ سمجھنا یہ ہے کہ بھارت اب چھیڑ چھاڑ کررہا ہے تو اس کے سیاسی مقاصد کیا ہیں۔ کیا وہ کشمیر میں مزاحمت سے دُنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ کیا وہ بڑھتی ہوئی غربت سے دنیا کی توجہ کسی اور طرف مرکوز کرنا چاہتا ہے؟ بھارت اگر فوجی جارحیت کرے گا تو کیا ہماری فوج اس کے لئے پوری طرح تیار ہے؟ ہمارے پاس جذبے کی کمی ہے نہ اسلحے کی۔ پھر ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں۔ آج کل کے دَور میں دُنیا کسی بھی بین الاقوامی سرحد پر کسی فوجی جھڑپ کے حق میں نہیں ہے۔ یہ بھارت بھی بخوبی جانتا ہے ۔ اس لئے پاکستان پر بھارت کا بڑے پیمانے پر فوجی حملہ اس کا مقصد ہو ہی نہیں سکتا۔


بھارت کا اصل ہدف پاکستان کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی تیز رفتار تعمیر سے روکنا ہے کیونکہ اس کی تعمیر اور اس پر تجارتی آمدورفت سے پاکستان اندر سے بھی محفوظ ہوجائے گا۔بھارت کا مقصد پاکستانی قوم کو مزید تقسیم کرنا ہے۔ ثقافتی یلغار کو جاری رکھنا ہے، پاکستان کے عوام کو یہ احساس دلانا ہے کہ باہر سے محفوظ ہونے کے باوجود آپ اندر سے غیر محفوظ ہیں۔


بھارت کی فوجی پیش قدمی کا جواب تو پاکستان کی فوج پوری طرح دے سکتی ہے۔ بھارت کے پس پردہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی سیاسی قیادت‘ یونیورسٹیوں‘ علماء‘ تاجر تنظیموں اور صنعتی اداروں کو سرگرم ہونا ہے۔ وہ سیکٹر نامزد کرنے ہوں گے، جہاں پاکستان بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سر فہرست دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً ریکوڈک وغیرہ سے معدنیات کی دریافت اور برآمد‘ جاگیرداری اور سرداری کا خاتمہ اور زیادہ انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے۔
باہر سے محفوظ اور مستحکم پاکستان اسی وقت تک دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہ سکتا ہے جب تک اس کی دوسری دفاعی لائن مستحکم ہے۔ دوسری دفاعی لائن کا استحکام سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔ اس طرف جتنی توجہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔ زیادہ تر وہ میگا پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں جن میں بہت زیادہ فنڈز لگتے ہیں، اس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ ہمارے شہریوں کی اکثریت مایوس اور غیر مطمئن ہے اور نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں یعنی بلدیاتی اداروں کو اختیارات کے ساتھ اقتدار دیا جائے۔ ان کی بہترین کارکردگی شہریوں کو مطمئن کرے گی اور مایوسیوں کو بڑی حد تک ختم کرے گی۔ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں زندگی کو آسان بنایا جائے‘ مفت اور لازمی تعلیم‘ مفت علاج اور اچھی محفوظ سرکاری ٹرانسپورٹ بلدیاتی ادارے فراہم کریں۔


ہماری یونیورسٹیوں کو اپنے اپنے علاقوں کے خام مال‘ فصلوں‘ روایات اور میراث پر تحقیق کرنی چاہئے۔ روزگار کے وسائل پیدا کرنے کی سفارشات دینی چاہئیں۔ تاکہ مختلف علاقوں سے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ کم ہو۔ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد پر دباؤ نہ بڑھے۔
مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لئے سیکورٹی اور طاقت کا استعمال دائمی نہیں ہوسکتا۔ اصل ہدف یہ ہے کہ دل اور دماغ جیت کر شدت پسندی کی طرف جانے کے رُجحانات روکے جائیں۔ سیاسی جماعتوں اور علماء کو مل کر اس ہدف کو حاصل کرنا چاہئے۔


زیادہ صوبے بناکر بہتر انتظامی وحدتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ نا انصافی کے مواقع کم کئے جاسکتے ہیں۔
یہ تاثر دل سے نکال دینا چاہئے کہ ہم انڈیا کے مقابلے میں رقبے میں‘ آبادی میں اور فوجی طاقت میں بہت چھوٹے ہیں۔ دُنیا میں بہت چھوٹی چھوٹی قومیں بڑے ہمسایوں کے برابر زندہ ہیں اور ترقی کررہی ہیں۔ اصل طاقت اکیسویں صدی میں علم ہے‘ ٹیکنالوجی ہے، رقبہ، آبادی اور بڑی فوج نہیں ہے۔ پاکستان جس علاقے میں واقع ہے اس کی اپنی صدیوں پر محیط تاریخ ہے۔ وہ زیادہ دیر بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے۔اس حصّے کی اپنی الگ اور خود مختار معیشت رہی ہے۔ ہم اپنے ادب‘ تاریخ‘ ثقافت اور تمدّن کا جائزہ لیں تو ہم مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے زیادہ قریب رہے ہیں۔


ہمارا محل وقوع بھارت سے کہیں بہتر اور حساس ہے۔ پاکستان میں نوجوان آبادی کا تناسب بھارت سمیت کئی ملکوں سے بہتر ہے ۔اپنے اپ کو پہچانیے۔ ترجیحات کے تعین اور اس پر برق رفتاری سے عمل کی ضرورت ہے۔پاکستان، ہماری عظیم سرزمین، صدیوں سے ایک الگ جغرافیائی وحدت ہے جسے انڈس ویلی کہا جاتا ہے۔ 5ہزار برس کی قدیم تہذیبیں ہڑپّہ، ٹیکسلا، موہنجو دڑو، اسی خطّے میں ہیں۔ 8ہزار سال پرانی تہذیب مہرگڑھ بھی اسی علاقے میں ہے۔ ہماری اپنی صدیوں پرانی شناخت ہے۔ آخری دینِ متین، اسلام، سے ہمکنار ہونے کے بعد ہماری یہ تہذیب اور زیادہ مستحکم اور مالا مال ہوگئی ہے۔ اس میں عرب ادب و ثقافت کے رنگ بھی شامل ہوگئے۔ اس لئے ہمیں اپنی تہذیب پر اپنے آپ پر مکمل اعتماد اور فخر ہونا چاہئے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

لفظ امید ہوتے ہیں


آؤ ایک بات سمجھ لیں
کہ لفظ صرف لکھنے کے نہیں ہوتے
آرائش نہیں ہوتے‘ زیبائش نہیں ہوتے
عمل کی برکتوں سے خالی
فن کی آلائش نہیں ہوتے
لفظ تو مقدس سپوت ہوتے ہیں
زمین پر زندہ وجود ہوتے ہیں
فکر و فقر کے مارے‘ حب الوطنی کے شہ پارے
آسمانوں پر نہیں‘ ہم میں موجود ہوتے ہیں
لفظ امید ہوتے ہیں
وطن کی فصیل ہوتے ہیں
لفظ کی حرمت کی قسم
آؤ کے تن بیچ دیں۔ من بیچ دیں
ایستادہ صلیبوں پر جسم بیچ دیں۔ جاں بیچ دیں
کہ میرے وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے
آؤ کہ سب غرض کی آلائشوں کے انبار
کہیں دور جا کے دفن کر آئیں
اپنی خلوتوں کی آسائشوں اور جسم کی آسانیوں کو
وطن کی خاک وخوں کر آئیں۔ وطن کے نام کر آئیں
آؤ قربان ہو جائیں
کہ میرے وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے

طاہر محمود

*****

 
14
October
اکتوبر 2016
شمارہ:10 جلد :53
تحریر: یوسف عالمگیرین
قومیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتیں اور وطن کے دفاع کے لئے کبھی بھی گریز پا نہیں ہوتیں۔ دفاعِ وطن کو یقینی بنانے کے لئے افواجِ پاکستان ہر دم تیاری میں مصروف رہتی ہیں اور جنگی تیاری سپاہ کے روز مرہ معمول کا حصہ ہوا کرتی ہیں....Read full article
 
تحریر: منیر بلوچ
ایک سوال جو بار بار میرے ذہن میں آ رہا ہے کہ دنیا بھر کی ہر فوجی مہم چاہے وہ چند گھنٹوں کی ہو یا طویل مدت کی، وہ کوئی معمولی سا فوجی مشن ہو یا غیر معمولی، اس کے لئے ایک خفیہ کوڈ نام لازمی مقرر کیا جاتا ہے اور یہ اس آپریشن کو انجام دینے کے لئے روانہ ہوتے وقت نہیں بلکہ اس آپریشن کے خدو خال تیار کرتے ہوئے آغاز ہی میں منتخب کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کے بارے میں کسی....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان
رواں سال اگست کے مہینے میں چین کے صوبہ سنکیانگ کے دارالحکومت اُورومچی میں پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، چین کے سنٹرل ملٹری کمیشن کے رکن جنرل فینگ فنگ ہوئی افغان فوج ....Read full article
 
تحریر: فرخند اقبال
بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کی خاطر قائم نیو کلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ اس گروپ میں شمولیت کے ذریعے اپنے پر امن سول نیوکلئیر پروگرام کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔اس قسم کے دعوے وہ 1974سے پہلے امریکہ اور فرانس کے ساتھ اپنے معاہدوں کے بارے میں بھی کرتا رہا ہے یہاں تک کہ اس نے ایٹمی....Read full article
 
تحریر: محمد اویس الحسن خان
جنت نظیر وادئ کشمیر کے بارے میں زبانِ زد عام سیکڑوں کہانیوں اور کہاوتوں سے قطع نظر تاریخی طور پر یوسف شاہ چک وہ آخری کشمیری حکمران تھا جسے مغلوں نے شکست دے کر کشمیر فتح کیا۔ جب18ویں صدی عیسوی میں مغلیہ شہنشاہیت کا سورج غروب ہونے لگا تو افغانوں نے درانی عہد میں کشمیر ان کے ہاتھوں سے چھین لیا۔ بعد میں یہی افغان سکھ فوج سے شکست کھا گئے اور یوں کشمیر پر.....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
دنیا کے بیس بڑوں جی 20 کا سالانہ اجلاس گزشتہ ماہ 4-5ستمبر کو چین کے شہر ہونگ زو میں منعقد ہوا۔ جی 20 کا یہ اجلاس پچھلے سال ترکی کے ساحلی شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والے اجلاس سے کہیں زیادہ مختلف منظر نامہ پیش کررہا تھا۔ پچھلے سال کے اجلاس میں روسی صدر پیوٹن بڑے تندوتیز لہجے میں مختلف ثبوتوں کے ساتھ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آئے.....Read full article
 
تحریر: حماس حمید چوہدری
آج پوری دنیا کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہیں جہاں جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے دواہم ممالک پاکستان اوربھارت واقع ہیں۔ اگر بھارت کی بات کی جائے تو جب سے نریندر سنگھ مودی نے وزارت عظمٰی کا قلمدان سنبھالا ہے تب سے لے کر اب تک بھارتی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح خطے میں عدم توازن پیدا کرنا ہے چاہے وہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرنے....Read full article
 
تحریر: خاور سعید
جب سے نریندر مودی کی بھارت پر حکومت آئی ہے تب سے اس نے اپنے مقرر کردہ دفاعی مشیروں کی مشاورت سے پاکستان کے خلاف ’جارحانہ دفاع‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ اس پالیسی کی بازگشت ہمیں قبائلی علاقہ جات، کراچی اور بلوچستان میں مسلح دہشت گرد جتھوں کی صورت میں، پشاور، کوئٹہ، سوات، چارسدہ، مردان وغیرہ میں دھماکوں اور دہشت گردانہ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اس کی تاثیر پورے مضمون سے بڑھ کر ہے۔ فوجی زندگی میں کبھی کبھار ایسا وقت بھی آ جاتا ہے جب طبیعت کی ناسازی اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ سی ایم ایچ تشریف لے جا کر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔اگر صحت کی صورتحال....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز
چھ ستمبر 2014 کو جب دشمن نے اس ملک کے یوم دفاع پر اس قوم کی غیرت کو للکارا تو وہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ یہ دن تو خود اس قوم کے آہنی عزم اورشجاعت کامنہ بولتا ثبوت ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس وطن کے بہادر سپاہی دشمن کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو نے دیں گے۔ چھ ستمبر کی صبح جب دہشت گردوں نے پاکستان نیوی ڈاک یارڈ پرحملہ کرنے کی کوشش کی.....Read full article

تحریر: صائمہ صفدر
مادی اور روحانی زندگی میں تمام کامیابیوں کی بنیادی شرط صحت ہے اور اچھی صحت کے لئے متوازن غذا کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش نہایت ضروری ہے۔ دنیا میں جسمانی ورزشوں کے متعدد نظام پائے جاتے ہیں جن میں ایروبک، زُونبا اور یوگا مشہور ہیں لیکن یوگا کا نظام ان میں مکمل ترین اور بے مثال ہے۔ عام جسمانی ورزشیں جسم کے سطحی یا بیرونی پٹھوں کو مضبوط بناتی ہیں لیکن یوگا........Read full article
 
تخصوصی رپورٹ: صبا زیب
پہاڑوں میں گونجتی ہوئی گاڑی کی آواز اور اس کی بازگشت بل کھاتے راستوں میں دل کی دھڑکن کو مزید تیز کر رہی تھی۔ اپنے ملک کے ایس ایس جی کے جوانوں کو دیکھنے کی خواہش اور جوش دل و ماغ کو کسی اور ہی دنیا کی سیر کروا رہا تھا۔ کانوں میں ابھی سے اپنے ہی....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
راولپنڈی کے الشفا آئی ٹرسٹ کی بنیاد ایک بہت ہی دلچسپ مکالمے پر رکھی گئی تھی۔ یہ 17اپریل 1984کے تھوڑا بعد کی بات ہے جب جنرل جہانداد خان سندھ کے گورنر تھے۔ اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیأالحق کراچی گئے تو رات کے کھانے پر جب کوئی تیسرا نہیں تھا جنرل جہانداد خان نے ضیأالحق سے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کیا کریں گے؟ اس اچانک سوال پر جنرل ضیأالحق.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
12اور 13 مارچ 1993 کی درمیانی شب کا لمحہ لمحہ آج بھی یاد ہے کہ اس دن پاکستان کے کروڑوں عوام کے دلوں میں دھڑکنے والی آواز، برسوں اسپتالوں کے بیڈوں پر سسکتے اور کراہتے ہوئے یہ کہہ کر خاموش ہوگئی کہ
اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے.....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
ایک سینئر افسر کا دفتر تھا‘ میں اور میری ایک کولیگ میٹنگ کے لئے موجود تھے‘ اچانک دفتر میں ایک مزید سینئر افسر داخل ہوئے‘ انہیں دیکھ سب احتراماً کھڑے ہوگئے۔ موصوف کا اپنے بارے میں خیال تھا کہ ان کی شخصیت میں راجیش کھنہ جھلکتا ہے‘ اسی لئے اکثر اوقات ان کے پہناوے بھی ویسے ہوتے۔ اس روز بھی....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
کہتے ہیں عید کا مزا وطنِ عزیز پاکستان میں ہی ہے۔ عید کا لطف اپنوں کے ساتھ ہے۔ مجھ جیسے وہ تمام لوگ جو دیارِ غیر میں ہیں کوئی اُن سے پوچھے کہ عید منانا کِسے کہتے ہیں۔ چونکہ بقر عید حال ہی میں گزری ہے تو اس کا تذکرہ کرتی ہوں۔ پاکستان میں ذی الحج کا مہینہ شروع ہونے سے قبل ہی مویشی منڈی جانوروں سے سج جاتی ہے۔ دُور دراز علاقوں سے لوگ قربانی کے لئے جانو....Read full article
14
October

تحریر: یاسر پیرزادہ

ایک سینئر افسر کا دفتر تھا‘ میں اور میری ایک کولیگ میٹنگ کے لئے موجود تھے‘ اچانک دفتر میں ایک مزید سینئر افسر داخل ہوئے‘ انہیں دیکھ سب احتراماً کھڑے ہوگئے۔ موصوف کا اپنے بارے میں خیال تھا کہ ان کی شخصیت میں راجیش کھنہ جھلکتا ہے‘ اسی لئے اکثر اوقات ان کے پہناوے بھی ویسے ہوتے۔ اس روز بھی موصوف کسی قبررسیدہ ہیرو کے انداز میں سگریٹ کے کش لیتے ہوئے کرسی پر براجمان ہوئے‘ میٹنگ کی کارروائی چند لمحوں کے لئے رک گئی‘ انہوں نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور پھر نظر بھر کر میری کولیگ کی طرف دیکھا اور پھر آنکھوں کو نیم وا کرتے ہوئے پوچھا’’آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا‘ آپ کس کامن سے ہیں؟‘‘ میری کولیگ نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا’’سر‘ میں 1996 بیچ کی ہوں ۔‘‘ اس پر موصوف نے خا لصتاً تماش بینی کے انداز میں آنکھوں کو گھمایا اور بولے ’’کمال ہے‘ آپ بہت ینگ لگتی ہیں ۔‘‘ یہ سن کر میری کولیگ نے کسی قسم کا تاثر دیئے بغیر فائلیں اٹھائیں‘ اپنے افسر سے اجازت مانگی اور دفتر سے نکل گئی۔


جس خاتون افسر کی میں بات کررہا ہوں ‘وہ ایک ذہین اور قابل عورت ہے‘ اپنے کام سے کام رکھتی ہے‘ اچھے گھرانے سے تعلق ہے‘ ایک محکمے میں اعلیٰ افسر ہے‘ نہایت باوقار انداز میں دفتر کاکام کرتی ہے‘ غیر ضروری طور پر خوش مزاج ہے نہ خشک مزاج‘ ایماندار بھی ہے اور فرض شناس بھی۔ اس کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ بظاہر معمولی نوعیت کا ہے‘ لیکن یہ اس بے بسی کا اظہار ہے جو ہمارے معاشرے میں عورت کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے‘ چاہے وہ کتنی بھی آزاد اور خود مختار کیوں نہ ہوجائے۔ ایک عرصے تک ہم یہ سمجھتے رہے (اور اب یہ بھی سمجھتے ہیں) کہ ہمارے ہاں عورتوں کو جو حقوق میسر ہیں وہ مغربی ممالک میں بھی نہیں اور ثبوت کے طور پر ہم خود کو باپ‘ شوہر اور بیٹے کے مثالی روپ میں پیش کرتے ہیں جبکہ مغرب میں عورت کو ہم صرف ایک ہی روپ میں دیکھتے ہیں اور وہ بھی غیر اخلاقی فلموں میں اور یوں جھٹ سے نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں کہ ہمارے ہاں عورت کی عزت کہیں زیادہ ہے۔

 

tlaqkbaasd.jpgہمارے ہاں عورتوں کی بے بسی کے تین درجے ہیں‘ پہلے درجے میں وہ عورتیں ہیں جو مکمل طور پر مرد کے تابع ہیں‘ ان کا تعلق نچلے طبقے سے بھی ہو سکتا ہے اور جاگیر دار کلاس سے بھی‘ ان کی تمام عمر مرد کی محتاجی میں بسر ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس ڈھنگ کی ڈگری ہوتی ہے نہ کوئی ہنر‘ ان کی زندگی کا ا نحصار مرد کی خوشنودی پر ہوتاہے‘ اگر مرد چاہے تو انہیں رکھے نہ چاہے تو اچانک صبح اُٹھ کر طلاق کا کاغذ ان کے منہ پر دے مارے‘ اُس کے بعد وہ عورت دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے زندہ رہے گی۔ ہاں‘ اگر اس کا تعلق ذرا متمول طبقے سے ہو تو شائد اس کی مالی مشکلات کم ہوجائیں مگر اس سفاک معاشرے میں کسی مرد کے نام کی تختی کے بغیر زندگی گزارنا کس قدر جو کھم کا کام ہے‘ یہ اندازہ ہم مردوں کو کبھی ہو ہی نہیں سکتا‘ بالکل اس پنجابی سنی العقیدہ شخص کی طرح جس کے ذہن میں کبھی یہ تصور نہیں آسکتا کہ ملک میں وہ لوگ کیسے جیتے ہیں جن کا تعلق اقلیت سے ہو اور وہ کسی پسماندہ علاقے میں بستے ہوں


دوسری کیٹیگری میں وہ عورتیں آتی ہیں جو آزاد ہیں‘ پڑھی لکھی ہیں‘ اچھی ملازمت کرتی ہیں یا گھر بار چلاتی ہیں‘ بظاہر یہ عورتیں مرد کی محتاج نہیں لیکن اگر انہیں ایکتنگ نظر شوہر مل جائے تو ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے‘ شوہر سے طلاق کا فیصلہ ہمارے جیسے معاشروں میں آسان نہیں ہوتا‘ اور اگر کوئی عورت ہمت کرکے یہ فیصلہ کرلے تو اس صورت میں اس کے پاس واپس میکے جانے کا آپشن نہ ہونے کے برابر ہوتاہے۔ ماں باپ لڑکی کو بیاہنے کے بعد سمجھتے ہیں کہ اب ان کی ذمہ داری ختم‘ شادی میں چونکہ جہیز دے دیا اس لئے جائیداد میں حصہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں‘ حیرت ہے یہ کلیہ بیٹوں پر لاگونہیں ہوتا‘ بیٹا اگر کاروبار میں چالیس پچاس لاکھ لگا دے تو بھی جائیداد کے اپنے حصے کا حقدار ٹھہرے گا جبکہ بیٹی سے لکھوا لیا جاتا ہے کہ وہ بھائیوں کے حق میں دستبردارہوتی ہے ! اور یوں بھی طلاق کے بعد اس گھر میں واپس جانا قریباً ناممکن ہوجاتا ہے جہاں بھائیوں کی بیویاں ڈیرے جمالیتی ہیں۔


تیسری کیٹیگری میں وہ عورتیں ہیں جو خود کو مرد کے شکنجے سے آزاد کرنے میں کامیاب ہیں‘ وہ پُراعتماد ہیں‘ پڑھی لکھی ہیں اور ان کے پاس ایسا ہنر اعلیٰ ڈگری یا اپنا کاروبار ہے جس کی مدد سے وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنی زندگی پُرآسائش انداز میں گزار سکتی ہیں۔ اگر ان کا شوہر انسان کا بچہ ہو تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہ ہو تو وہ بغیر کسی جھنجھٹ کے اس سے چھٹکارا پا کر بھی اپنی زندگی گزار سکتی ہیں‘ انہیں میکے کی ضرورت ہے نہ بھائیوں کی مدد کی کیونکہ انہوں نے زندگی میں کامیابی پالی ہے‘ اب وہ کسی کی محتاج نہیں۔ ہمارے ہاں ایسی عورتوں کی تعداد فی الحال بہت کم ہے‘ تاہم ان عورتوں کے دو مسائل ہیں‘ پہلا حد سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے بعض اوقات یہ اپنے شوہر کو زچ کردیتی ہیں اور یوں خواہ مخواہ اپنی ازدواجی زندگی کو مشکل میں بنا دیتی ہیں۔ دوسرا مسئلہ ان کی آزاد خیالی ہے جس کی بنا پر وہ ان اقدار کو بھی خاطر میں نہیں لاتیں جوکسی بھی عورت کی پروقار شخصیت کے لئے ضروری ہیں۔ آزادی کامطلب ہمارے ہاں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ جب تک عورت مرد سے گلے لگ کر نہیں ملے گی‘ سگریٹ نہیں سلگائے گی اور مکمل مغربی لباس نہیں پہنے گی اس وقت تک اُسے آزاد نہیں کہا جاسکتا۔ حالانکہ عورت کی آزادی کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں مرد کی محتاج نہیں اور یوں حجاب میں لپٹی ایک عورت بھی پُراعتماد اور آزاد ہوسکتی ہے۔


ایک زمانے میں بک سٹورز پر جس قسم کی کتابیں دستیاب ہوتی تھیں وہ شادی کے مسائل سے معلق ہوا کرتی تھیں۔ یہ تو میں نہیں جانتا کہ ان کتابوں کی کیا افادیت تھی تاہم جس کتاب کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے وہ ہے ’’ طلاق کے بعد کیا ہوتا ہے؟‘‘ کیونکہ ہم جس سفاک معاشرے میں سانس لے رہے ہیں وہاں عورتیں شادی کے بعد صرف ایک ہی صورت میں خوش رہ سکتی ہیں کہ ان کے شوہر کم ’’خبیث‘‘ ہوں یا وہ خود سمجھدار ہوں اور اگر ایسا نہ ہو تو طلاق کے بعد ایسی عورتوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے‘ یہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ مردوں کو عورتوں کا میک اپ کرکے معاشرے میں پھینک دیا جائے اور کہاجائے کہ ایک باعزت زندگی گزار کر دکھاؤ۔ یقیناً مردوں کو یہ باتیں آسانی سے ہضم نہیں ہوں گی‘ اس کی وجہ وہی کہ ہم پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھنے والی کسی بھی مخلوق کی جگہ خود کو رکھ کر نہیں سوچتے۔ جو حضرات اپنے آپ کو بے حد مہربان ‘ عادل اور شفیق شوہر سمجھتے ہیں‘ اگر ان سے کہا جائے کہ کیا وہ خود کو اپنی بیوی کی جگہ رکھ کر زندگی گزارنے کے لئے تیار ہیں جبکہ ان کی بیوی مہربان‘ عادل اور شفیق خاوند کا روپ دھار لے؟ اس کا جواب جاننے کے لئے کسی جوتشی کی ضرورت نہیں‘ جو اب ہم مردوں کو بخوبی معلوم ہے!!

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
October

تحریر: صائمہ صفدر

مادی اور روحانی زندگی میں تمام کامیابیوں کی بنیادی شرط صحت ہے اور اچھی صحت کے لئے متوازن غذا کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش نہایت ضروری ہے۔ دنیا میں جسمانی ورزشوں کے متعدد نظام پائے جاتے ہیں جن میں ایروبک، زُونبا اور یوگا مشہور ہیں لیکن یوگا کا نظام ان میں مکمل ترین اور بے مثال ہے۔ عام جسمانی ورزشیں جسم کے سطحی یا بیرونی پٹھوں کو مضبوط بناتی ہیں لیکن یوگا ان تمام داخلی اعضا اور عضلات کی بھرپور ورزش زیرعمل لاتا ہے جو صحت برقرار رکھنے میں نظام ہضم و جذب میں، نشوونما میں اور جسم کے مختلف خلیوں اور بافتوں کے ٹھیک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آسن، مدرائیں اور کریائیں ایک مضبوط اعصابی نظام تعمیر کرتے ہیں۔


ذہن یا شعور کے پیچھے موجود ذہانت یا روشنی صرف اس وقت اپنا آپ دکھاتی یا ظاہر کرتی ہے جب ذہن اور شعور پُرسکون اور ہم آہنگ ہوں اور یوگا یہ کیفیت پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ایک صحت مند جسم اور شفاف ذہن زندگی میں ہر طرح کی جدوجہد کے لئے ضروری اور بنیادی شرط ہے۔ ایک صحت مند جسم صحت مند ذہن کو یقینی بناتا ہے۔ یوگا کی باقاعدہ مشقیں چاہے روزانہ صرف پندرہ منٹ کے لئے ہوں بے پناہ توانائی‘ پٹھوں کی طاقت‘ اعصابی قوت‘ پرکشش شخصیت اور طویل زندگی مہیا کرتی ہیں۔ یوگا کے آسن (انداز) تمام بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں اور مشق کرنے والے کو جسمانی، ذہنی طاقت اور قوت فراہم کرتے ہیں۔ یوگا کی مشقیں کرنے والے چاق چوبند اور چست ہوتے ہیں ان کی ریڑھ کی ہڈی اور کمر لچک دار ہوتی ہے۔

 

yogasbkliay1.jpgیوگا‘ خواتین و حضرات‘ دونوں‘ کے لئے ایک جیسا فائدہ مند ہے۔ عمومی ہدایات میں یوگا کو باقاعدگی سے کرنا چاہئے اس کے علاوہ وقت، مقام، رویے اور حدود کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ یوگا شروع کرنے سے پہلے آپ اپنے ذہن کو یہ پیغام دے دیں کہ یوگا کے دوران آپ اپنی ساری توجہ یوگا پر ہی رکھیں گے۔ آپ yogasbkliay.jpgکو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کیا کر رہے ہیں یا کر رہی ہیں۔ کیونکہ اس کا اثر جسم کے کسی ایک حصے پر نہیں پڑتا بلکہ پورے جسم پر پڑتا ہے۔ یوگا ہر عمر کے لوگوں کے لئے اور زندگی کے ہر مرحلے سے گزرنے والوں کے لئے آئیڈیل ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ان یوگیوں کو دیکھتے ہیں جو اس کام میں بہت پختہ ہو چکے ہیں اور یوگا کی سخت قسم کی مشقیں کرتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص فِٹ نہیں ہے تو وہ بھی یوگا شروع کر سکتا ہے۔ اگر آپ صبر اور مستقل مزاجی سے یوگا کریں گے تو آپ کی جسمانی لچک بہتر ہو سکتی ہے۔ یوگا ایک دلچسپ ذریعہ ہے جس کی مدد سے ہم اپنی زندگی بہتر اور پرمسرت بنا سکتے ہیں۔یوگا کرتے ہوئے کبھی بھی جسم کو جھٹکا نہ دیں خاص کر جب ریڑھ کی ہڈی تناؤ میں ہو۔ اسی طرح یوگا مشقوں کے دوران طاقت لگا کر یا زور لگا کر کوئی عمل نہ کریں۔ اور نہ جسم کو تناؤ میں لائیں۔


غذا کا خاص طور پر خیال رکھیں غذا ہمیشہ سادہ ہونی چاہئے۔ غذاؤں میں توازن اور اعتدال رکھیں کھانا کھاتے وقت آدھا پیٹ صحت بخش غذاؤں سے بھریں۔ ایک چوتھائی پیٹ پانی سے اور بقیہ جگہ ہوا کی نقل و حرکت کے لئے رہنے دیں۔ کبھی بھی اپنا معدہ بوجھل نہ کریں۔ بے تحاشا کھانا صحت نہیں بیماریاں دیتا ہے۔ دن کا کھانا خاص طور پر ہلکا پھلکا اور کم مقدار میں کھانا چاہئے۔ یوگا کے مطابق اعتدال بہت ضروری ہے۔ اس ہدایت پر یوگا مشقیں کرنے والوں کو سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ صحت مند زندگی کے لئے کچھ چیزوں کو اپنائیں اور کچھ کو چھوڑیں ۔

 

اچھی خوراک یوگا کے آسنوں کو کرنے میں بہت فائدہ مند ہے۔ وزن میں کمی بھی اچھی خوراک اور یوگا سے ممکن ہے کیونکہ 80فیصد وزن کم کرنے میں
Balance Diet
کا کمال ہے۔ اس لئے اس بات کوسمجھنا نہایت ضروری ہے کہ 20فیصد ورزش اور 80فیصد خوراک ہوتی ہے جسم سے چربی پگھلانے کے لئے لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بیس فیصد ورزش انسانی جسم پر عجیب کمالات دکھاتی ہے۔
صبح کی سیر، ورزش، یوگا کے بے شمار آسن کرنے سے دماغی تناؤ ختم ہوتا ہے اور انسان زیادہ ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔ یوگا کے آسن کرنے سے آپ مثبت سوچ رکھتے ہیں اور دوسروں کے نظریے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بلاوجہ کا چڑچڑاپن اور غصہ ختم ہو جاتا ہے جوکہ وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتاہے۔

رائٹر مختلف اداروں میں فٹنس انسٹرکٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
14
October

تحریر: ڈاکٹر ہمامیر

کہتے ہیں عید کا مزا وطنِ عزیز پاکستان میں ہی ہے۔ عید کا لطف اپنوں کے ساتھ ہے۔ مجھ جیسے وہ تمام لوگ جو دیارِ غیر میں ہیں کوئی اُن سے پوچھے کہ عید منانا کِسے کہتے ہیں۔ چونکہ بقر عید حال ہی میں گزری ہے تو اس کا تذکرہ کرتی ہوں۔ پاکستان میں ذی الحج کا مہینہ شروع ہونے سے قبل ہی مویشی منڈی جانوروں سے سج جاتی ہے۔ دُور دراز علاقوں سے لوگ قربانی کے لئے جانور خریدنے آتے ہیں۔ اُونٹ، گائے، بیل، بکرا، بھیڑ، دنبہ توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔


جانور کو سجانے کے لئے بھی دیدہ زیب اشیاء دستیاب ہوتی ہیں۔ نیز ان کے لئے چارہ وغیرہ کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ عید سے پہلے گلی محلوں میں بچے جانور لے کے پھرتے ہیں۔ ہر دوسرے گھر سے بکرے کی مَیں مَیں سنائی دیتی ہے۔ نئے کپڑے، نئے جوتے، شاپنگ، مہندی، چوڑیاں سبھی خوب تیاریاں کرتے ہیں۔ عید کے موقع پر قصابوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بہت سے موسمی قصائی بھی اچانک نمودار ہو جاتے ہیں۔ وہ حضرات جنہوں نے کبھی کھانے کی کٹلری والی چھری کانٹا بھی نہ پکڑا ہو وہ بھی عید پہ قصائی کا روپ دھار کے مال کمانے آ جاتے ہیں۔ ایسے ہی اناڑی قسم کے حضرات کی وجہ سے اکثر قربانی ناقص ہو جاتی ہے۔ چونکہ قربانی کے چند اصول ہوتے ہیں اور اسلامی احکامات کے مطابق جانور حلال کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جہالت کے سبب نہ تو جانور کو صحیح رُخ پر لٹاتے ہیں نہ انہیں چھری پھیرنا آتا ہے۔ قربانی کرنے والے اکثر لوگوں کی نیت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ دنیا دیکھ لے ہم نے کتنا مہنگا جانور خریدا ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر فریج اور ڈیپ فریزر بھی ایسے بکتے ہیں جیسے ریڑھی پہ چنے بک رہے ہوں۔ حریص حضرات گوشت تقسیم کرنے کے بجائے گھر میں جمع کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں اور اگر بانٹنا ہو بھی تو عمدہ حصہ اپنے پاس ہی رکھ لیتے ہیں۔ شوقین حضرات سوشل میڈیا پر جب تک اپنے بکرے یا گائے کی تشہیر نہ کر لیں قربانی نہیں کرتے۔ بکرے کے ساتھ سیلفی جب تک فیس بک پر نہ لگے عید کا مزا نہیں آتا۔ پھر عید مبارک کے پیغامات بھیجنا بھی اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے لئے بکرے کی تصویر والے کارڈ ہوتے تھے۔ آج کل بہت سے لوگ بکرے کی جگہ اپنی فوٹو لگا کر عید مبارک کے پیغامات فون پر میسج بھیج رہے ہوتے ہیں۔

eidkamza.jpg
عید الاضحی پر چٹورے افراد کی تو چاندی ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ جیب میں چورن کی ڈبی رکھ کر ہر جگہ گھومتے ہیں۔ جہاں گوشت ڈکارا ایک چٹکی ہاضمے کا چورن بھی ساتھ پھانک لیا۔ باربی کیو کے متوالے تو سبھی ہوتے ہیں مگر اپنا پیٹ سمجھ کے کباب یا تکے کھانے کا ظرف کسی کسی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ لوگ گوشت کی بنی ڈشوں پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں جیسے پھر زندگی میں دوبارہ یہ موقع کبھی نہ ملے گا۔


اب کچھ حال ہمارے ٹی وی چینلز کا جہاں عید ہو یا نہ ہو۔ چوبیس گھنٹے تماشا لگا رہتا ہے۔ تفریح کے نام پر امسال بھی ٹھمکے جھمکے جھٹکے مٹکے سب چلا رہے تھے۔ تین چار دن عید کا ہنگامہ برپا رہا۔ اس عرصہ میں آلائشوں کا ڈھیر ہر گلی کوچے میں لگتا رہا۔ کروڑوں لوگوں نے قربانی کی مگر انتظامیہ نے آلائشیں ٹھکانے لگانے کے لئے کسی غیبی امداد کا انتظار کیا۔ اسے یہ نہیں معلوم کہ کچرا کیسے اٹھے گا۔ کہاں جائے گا۔ نہیں جائے گا تو تعفن پھیلے گا، بیماریاں پھیلیں گی مگر ہوٹل والوں کا بھلا ہو گا جوان آلائشوں کو بروئے کار لائیں۔میڈیا نے تاہم اس حوالے سے نیک کام یہ کیا کہ آلائشوں کے ڈھیر دکھائے تاکہ غافلوں کو ہوش آ جائے۔ مگر صاحبو! یہاں عید کا مطلب ہوتا ہے ہفتہ دس دن کی لمبی تعطیلات لہٰذا بھلے دنیا چیختی رہے بھلے مانسوں کے کانوں پہ جوں تک نہ رینگی۔ یہ دس دس دن کی چھٹیاں تو ٹھیک ہے مگر ان چھٹیوں میں کسی کو تو کام کرنا ہی ہو گا مگر کام کے نام سے ہمارے لوگوں کو بخار چڑھ جاتا ہے۔ بہرحال جو بھی ہو پاکستان میں بقر عید کی رونق لاجواب ہوتی ہے۔ یہاں کینیڈا میں تو پتہ ہی نہیں چلا کہ عید کب آئی کب گزر گئی۔ چونکہ عید ورکنگ دنوں میں تھی۔ لہٰذا سبھی کام کرتے رہے۔ تاہم بعض لوگوں نے عید کے پہلے دن آدھی یا پورے دن کی چھٹی لی۔ مجھے تو کہیں کسی بھی گائے بکرے کے دیدار کا موقع نہ ملا۔ یہاں کوئی مویشی منڈی تو ہوتی نہیں نہ ہی گھر کے صحن میں جانور لا کر باندھنے کا رواج ہے۔ یہاں عید پر حلال گوشت کی دکانوں پر جا کر قربانی کی بکنگ کراتے ہیں وہ قربانی کر کے گوشت کے پارچے بنا کر دے دیتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فارم پر جا کے بکرا خرید کے ذبح کریں پھر بعد میں اس کے حصے بنوا لیں۔ زیادہ مقبول حلال گوشت کی دکانوں کا سسٹم ہے۔ زیادہ تر لوگ تو قربانی پاکستان میں ہی کرواتے ہیں۔ وہ بہتر اور آسان رہتا ہے۔


میری چند سہیلیوں نے عید سے پہلے ہی ویک اینڈ پر عید ڈنر کا اہتمام کر دیا۔ کیونکہ وہ جاب کرتی ہیں اور شام میں تھک کے واپس آنے کے بعد دعوت کرنا ممکن نہیں۔ ویسے تو یہاں تقریباً سبھی لوگ کام کرتے ہیں لیکن بعض بہادر لوگوں نے عید کے دن بھی دعوت کا اہتمام کیا۔ عید سے پہلے عید ڈنر کو چاند رات ڈنر کا نام دیا گیا۔ بڑا مزا آیا۔ لڑکیوں نے مہندی لگائی۔ گفٹ بھی دیئے گئے۔ تاہم جو ہلا گلا پاکستان میں ہوتا ہے اس سے مقابلہ نہیں۔ ویسے بھی جب سے موسم تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے گھر کے باہر جیسے ہو کا عالم ہوتا ہے۔ پاکستان میں عید پر سب دوست احباب ایک دوسرے کے گھر عید ملنے جاتے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں پہلے فون کر کے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم آ جائیں؟ اور ویسے بھی عید، بقر عید پر تو جس کو بلایا جائے وہی وزٹ کرتا ہے۔ بغیر بلاوے کسی کے گھر کوئی نہیں جاتا۔ مجھے تو حیرت بھی ہوتی ہے اور ڈپریشن بھی۔ ہم تو ساری زندگی اپنے رشتہ داروں کے گھر جب جی چاہا منہ اٹھائے چلے گئے۔ یہاں تہواروں پر بھی کوئی تصور نہیں کہ اچانک پہنچ جاؤ۔ عید پر جب کوئی مدعو کرے تبھی جاؤ اور اگر بالغرض محال بہت قریبی تعلق ہے اور ملاقات ضروری ہے تو پہلے فون کریں۔ وہ فارغ ہوں گے تو اٹینڈ کر لیں گے ورنہ فون پہ پیغام ریکارڈ کروا دیں۔ بہت زیادہ تڑپ ہو رہی ہے تو ایس ایم ایس کر دیں کہ آپ عید ملنے آنا چاہتے ہیں۔ ویسے یہاں پر عید پر بھی لوگ مصروف ہوتے ہیں۔ دس دس دن کی کیا ایک دن کی چھٹی بھی مشکل سے ہی ملتی ہے۔ اسے لوگ صحیح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عید پر بھی بیشتر افراد دفتر میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں مہمان نوازی کا تصور بھی محال ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کی عید یاد آنا فطری ہے۔ عید ، باسی عید، تباسی عید سب پاکستان میں۔ یہاں صرف یاسِ عید ہے۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
14
October

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

(پاکستان نیوی)

چھ ستمبر 2014 کو جب دشمن نے اس ملک کے یوم دفاع پر اس قوم کی غیرت کو للکارا تو وہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ یہ دن تو خود اس قوم کے آہنی عزم اورشجاعت کامنہ بولتا ثبوت ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس وطن کے بہادر سپاہی دشمن کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو نے دیں گے۔ چھ ستمبر کی صبح جب دہشت گردوں نے پاکستان نیوی ڈاک یارڈ پرحملہ کرنے کی کوشش کی تو محمدارشاد ایس این اے 4 پیٹی آفیسر آف دی ڈے کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہیں جوں ہی دہشت گردوں کی موجودگی کا علم ہو ا انہوں نے افسران بالا کو مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پرڈیوٹی پر موجود تمام عملے کو ہدایات دینے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ انہوں نے کمال فرض شناسی اور چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بذات خود ہر سنتری کو ہدایات دیں اورجہاں جہاں ممکن تھا خود جا کر صورت حال کا معائنہ کرتے رہے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پوری ہمت اور دلیری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے انہوں نے ایسی حکمتِ عملی اپنائی کہ دشمن کو زیادہ حرکت کا موقع نہ ملے اور وہ ڈاک یارڈ کے اہم حصوں کی طرف پیش قدمی نہ کرپائے۔دشمن کی طرف سے گولیاں اور ہینڈ گرینیڈ فائر ہونے کے باوجود محمد ارشاد اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرتے رہے کیونکہ دشمن کا کوئی بھی ہتھیار ان کے عزم سے زیادہ طاقتور نہیں تھا۔ان کے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کی بدولت دہشت گرد ایک جگہ محصور ہو کر رہ گئے اوروہ جس بڑی تباہی کے عزم سے آئے تھے‘ اس کے بجائے مدافعانہ حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو گئے تاہم انہیں صرف حصار میں لے لینا کافی نہیں تھا ۔دہشت گردوں کی جانب سے اب بھی فائرنگ جاری تھی۔اپنے فرض کے احساس اورقومی اثاثوں کے تحفظ کی خاطر محمد ارشاد نے دشمن کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے عزم سے اب جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کی جانب سے برستی گولیاں ان کے راستے کی دیوار بن سکیں نہ ہی ہینڈ گرینیڈ ان کے بڑھتے قدم روک سکے ۔وہ آگے بڑھتے رہے اور اپنے ساتھیوں کی ہمت بندھاتے رہے۔ ان کے الفاظ اور بلند حوصلہ ان کے ساتھیوں کا خون گرماتے رہے اور وہ وطن عزیز کی حرمت کی خاطر ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ دشمن کی کمین گاہ تک جا پہنچے اور اسی دوران دشمن کی ایک گولی ان کے سر اور دوسری ان کی گردن کو نشانہ بنا گئی لیکن اپنی آخری سانس تک اس ملک کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے محمد ارشاد نے اپنا عہد نبھایا اور اس وقت تک اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیتے رہے جب تک ان کے جسم میں زندگی کی آخری رمق باقی رہی۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گر گئے اور دوبارہ اٹھ نہ سکے لیکن ان کی اپنی ڈیوٹی سے لگن اور فرض شناسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس ہینڈ ہیلڈ ریڈیو پر وہ اپنے ساتھیوں کو ہدایات دے رہے تھے شہادت کے بعد بھی وہ ریڈیو ان کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ریڈیو پر ان کے ہاتھ کی مضبوط گرفت اس مصمم ارادے اور عزم کا ثبوت تھی جس کی بدولت انہوں نے اپنی جان قربان کر دی لیکن دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام کر دیا۔ان کے جرأت مندانہ اقدامات اور بہترین حکمت عملی کی بدولت آپریشن کرنے والی ٹیم نے بہت جلد دہشت گردوں پر قابو پا لیا اور تمام دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کرقومی اثاثوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچنے دیا۔

hayshadat.jpgمحمد ارشاد مری کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔7 جنوری1975 کو پیدا ہونے والے محمد ارشادچار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے لیکن بڑا بیٹا ہونے کے ناتے ہمیشہ اپنے والدین کے لئے سہارا بنے۔ والد کی ملازمت کے باعث ان کی غیر موجودگی میں محمد ارشاد نے ہمیشہ ایک ذمہ دار بیٹے کی حیثیت سے نہ صرف اپنی والدہ کا ساتھ دیا بلکہ اپنے بہن بھائیوں کے لئے بھی شفیق بھائی کا کردار ادا کیا۔ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جو محبت ،رواداری اور حسن اخلاق ان کی شخصیت کا حصہ تھا‘ اس کی بدولت وہ اپنے اقربا ء میں بے حد مقبول تھے۔ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں گھر کے ایسے سربراہ تھے جن کے بغیر گھر کا تصور ہی محال تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شفقت اور تربیت ان کے بچوں کی شخصیت میں نظر آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ان کا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے خواب اس کے والد کی طرح بہت بڑے اور ارادے بلند ہیں وہ اس ملک کے ان محافظوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوانے کا خواہاں ہے جن کی عظمت کی داستانیں اس خطے میں نسلوں تک دہرائی جاتی رہیں گی۔


محمد ارشاد کے کمانڈنگ آفیسرکیپٹن ہاشم رضا کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی محنتی اور قابل ٹیم ممبر تھے۔ اُن کے مطابق محمد ارشاد پاک بحریہ کے ہر آفیسر اور سیلر کے لئے عزم و ہمت اور فرض شناسی کی ایک زندہ مثال ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ محمد ارشاد کا ذکر ہر نئے آنے والے سیلر اور آفیسر کے سامنے ضرور کرتے ہیں تاکہ ان کی شخصیت میں بھی وہ اوصاف پیدا ہوں جن کی بدولت محمد ارشاد نے اس ملک کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔۔بحری جہازوں پر موجود کیبن ہمیشہ ایک جیسے نمبروں سے پہچانے جاتے ہیں تاہم محمد ارشاد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پاک بحریہ کے ایک جہاز پرسیلر ڈائیننگ ہال کا نام محمد ارشاد شہید کے نام پر رکھا گیا ہے تاکہ اس جہاز پر آنے والے ہر سیلر کے سامنے محمد ارشاد کی شجاعت کی مثال ہمیشہ موجود رہے۔


لیفٹیننٹ کمانڈر عاطف جو محمد ارشاد کے ڈویژنل آفیسر بھی رہے‘ کہتے ہیں کہ محمد ارشاد ان لوگوں میں سے تھے جو اپنے جونیئرز کے لئے ایک قابل تقلید مثال بن کر کام کرتے ہیں۔محمد ارشاد کبھی اپنے جونیئرز کے ساتھ مل کر کام کرنے سے کتراتے نہیں تھے،ان کے اند ر سیکھنے اور کچھ نیا کر دکھانے کا ایک ایسا جذبہ تھا جو انہیں کہیں رکنے نہ دیتا ۔ وہ ہمیشہ نئے افق کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور خوب سے خوب تر کرنے کی جستجو رکھتے تھے۔انہوں نے محمد ارشاد کی فرض شناسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فرض پر کسی اور کام کو ترجیح نہ دیتے حتیٰ کہ اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی کے دل کے آپریشن کے وقت بھی جب انہیں بیٹی اور فرض میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو انہوں نے بیٹی کے آپریشن میں تاخیر گوارا کر لی مگر فرض کو ترجیح دی ۔محمد ارشاد کے سینئر افسران کے مطابق وہ پاک بحریہ کا ایک اہم اثاثہ تھے۔پاک بحریہ کا ہر شخص محمد ارشاد کا مقروض اور شکرگزار ہے کہ انہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کرنہ صرف قومی اثاثوں کا تحفظ کیا بلکہ اس ملک کو ایک بڑی تباہی سے بھی بچا لیا۔


محمد ارشاد نے نہ صرف وطن سے کیا ہوا وعدہ وفا کیا بلکہ اپنے والدین کا سربھی فخر سے بلند کردیا ۔ان کے والدکہتے ہیں کہ میرے بیٹے کی قربانی نے ہمارے علاقے کے لوگوں کا سر بھی بلند کردیا ہے اور آج دیر کوہ ستیاں کی ہر ماں اپنے بچے کو اپنے مُلک کے دفاع کے لئے وقف کرنے کا عزم رکھتی ہے۔تعلیم کے میدان میں ہمیشہ امتیازی کارکردگی دکھانے والے محمد ارشاد نے نہ صرف زندگی کے ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ رہتی دنیا تک ایسے مرتبے پر فائز ہو گئے کہ جس میں ان سے سبقت لے جانا ممکن ہی نہیں۔ ان کی بے مثل شجاعت ، فرض شناسی اور وطن کی خاطر جان قربان کرنے کے اعتراف میں انہیں (بعد از شہادت) ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔

 

کشمیر جل رہا ہے


(کشمیر کے موجودہ تناظر میں لکھی گئی نظم)


کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر میں ہر گام پہ ہوں ظُلم کے پہرے
ہر آن فضاؤں میں رہیں خوف کے سائے
کشمیر کی وادی میں ہوں سہمے ہوئے بچے
کشمیر کے بیٹوں کے اٹھیں روز جنازے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر کی وادی سے ہوں ماؤں کی صدائیں
کشمیر کی بہنوں کے نہیں سر پہ ردائیں
کشمیر کی وادی میں کُہرام مچا ہو
کشمیر کی بیٹی کی ہوں دلدوز صدائیں
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر ترے بیٹے جھکے ہیں نہ جھکیں گے
حق بات سرِ عام سرِ دار کہیں گے
کشمیر کی آزادی کا دِیا جلتا رہے گا
کشمیر کے پروانے سدا جلتے رہیں گے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر کی وادی سے اٹھیں آگ کے شعلے
کشمیر کی وادی سے اٹھیں خون کے چھینٹے
کشمیر کی وادی میں رہے ظُلم مسلسل
گولی کے نشانے پہ ہو ں کشمیر کے بیٹے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے


غضنفر علی شاہدؔ

*****

 
13
October

تحریر: مجاہد بریلوی

پہلا خط
12اور 13 مارچ 1993 کی درمیانی شب کا لمحہ لمحہ آج بھی یاد ہے کہ اس دن پاکستان کے کروڑوں عوام کے دلوں میں دھڑکنے والی آواز، برسوں اسپتالوں کے بیڈوں پر سسکتے اور کراہتے ہوئے یہ کہہ کر خاموش ہوگئی کہ
اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے
سو گئے، خواب سے، لوگوں کو جگانے والے
اگلے دن لاہور سے واپسی پر ڈاکو منٹری فلموں کے ممتاز ڈائریکٹر مشتاق گزدر کے ڈرائنگ روم میں شام کے پچھلے پہر سے پہلے ہی، ہم سب جالب صاحب کی جدائی کا غم غلط کررہے تھے کہ ٹورنٹو سے اشفاق حسین نے جوشاید ہم سے پہلے ہی شام شروع کر چکے تھے، خبر دی کہ اگلے مہینے مانٹر یال، ٹورنٹو ،نیویارک اور لندن میں بیادِ حبیب جالب تقار یب رکھ لی ہیں اور ان میں مجھے شرکت کرنی ہے۔ ایک تو جالب صاحب کے جانے کا غم پھر مادرِ مدہوشی کو بے دریغ گلے سے اتارنے کے بعد آدھا سویا اورآدھا جاگا ہوا تھا۔ بس اتنا ہی سمجھ میں آیا کہ باقاعدہ دعوت نامہ اور ٹکٹ جلد ہی بھیج دیا جائے گا۔
اس زمانے میں یورپ اور امریکہ جانے کی جو باتیں رات کو ہوا کرتی تھیں وہ بھلا صبح کو کہاں یادرہا کرتی تھیں کہ قلم پیٹ سے لگا ہے، جوتے کی گھسائی سے گھر کا چولھا جل رہا ہے، کراچی سے سکھر جانے کے پیسے نہیں اور یاد منانے چلے ہیں ’’پوور‘‘جالب صاحب کی۔ وہ بھی ان ملکوں میں جن کے خلاف ساری زندگی جالب صاحب علمِ بغاوت بلند کرتے رہے۔
مغرب کے چہرے پر یارو اپنے لہو کی لالی ہے
لیکن اب اس کے سورج کی نا ؤ ڈوبنے والی ہے
مشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے چھائے ہیں
اپنی جنگ رہے گی


یہ تو خیر سے معلوم تھا کہ اشفاق جو 80 کی دہائی کے ابتدائی ایام میں صدر ضیاالحق مرحوم کے مارشل لا کی پابندیوں بلکہ بندشوں سے بیزار ہوکر نہ صرف ٹورنٹو میں اپنے قدم جماچکے ہیں بلکہ اردو انٹرنیشنل کے ذریعے شمالی امریکہ اور اس کے ارد گرد تو اتر سے ادبی ہنگامے برپا کررہے ہیں، سووہ تو رات گئی بات گئی والی دعوت نہیں دے سکتے۔ چنانچہ صبح شام زادِراہ کے منتظر رہتے۔ اب اس زمانے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی وبا تو چلی نہیں تھی اس لئے ہمہ وقت دفتر کے فون پر نظر رہتی۔ سو ایک دن سارے سفری لوازمات کے ساتھ اشفاق نے خبر دی کہ پہلا پڑاؤ مانٹریال اور پھر اس کے بعد ٹورنٹو، نیویارک اورلندن کا دو ہفتے کا پروگرام ہے۔
اس وقت تک ہم جالب صاحب پر کوئی باقاعدہ تحریر نہیں لکھ پائے تھے۔ دو تین صفحے کی ’’نعرہ بازی‘‘ سے ان کی زندگی میں کام چل جاتا تھا۔ یوں بھی جالب صاحب کی جو تقریب ہوتی، اس میں ان کو سننے اور دیکھنے کے علاوہ میں شاید کوئی دو چار منٹ ہی کسی اور کو برداشت کر پاتا تھا۔
دوستو! یہ تمہید اس لئے باندھی کہ وہ اشفاق حسین ہی کی دعوت تھی جس کے سبب ہم نے جالب صاحب پر اپنا پہلا تفصیلی مضمون باندھا جو جالب صاحب پر ہماری تصنیف کی بنیاد بنااور جس کے اب تک پانچ ایڈیشن آچکے ہیں۔


23 سال پہلے مانٹریال سے ٹورنٹو کی سرسبزوشاداب وادیوں سے گزرتے ہوئے پر پیچ راستے یاد ہیں، اور نہ ہی ان شہروں میں پہلی بار روشن سڑکوں کے کلبوں میں گزری شامیں۔مگر یہ ضرور یاد ہے کہ ان شہروں میں جالب صاحب کے حوالے سے ہمیں جو پذیرائی ملی تو اس کا نہ رکنے والا سلسلہ گزشتہ 23 سال سے مستقل جاری ہے۔ یہ جالب صاحب کی ذاتی اور فکری وابستگی کا ہی اعجاز ہے کہ جس نے ہم کو ’’قلم کے سودے‘‘ میں لگا دیا۔


تمہید طویل ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ 23 برس تک کینیڈا نہ آنے کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ رہے اشفاق تو ان کے تو سال میں دو تین پھیرے ہمارے شہر کے ہوتے ہی رہتے ہیں اور ہر پھیرے میں وہ آنے کی دعوت بھی دیتے رہتے ہیں مگر اس بار جو دعوت ملی تو جالب صاحب تو حوالہ تھے ہی مگر یہ بھی سوچا کہ بھر پور جوانی میں وطنِ عزیز کو سرخ سلام کہتے ہوئے جو یار عزیز یہاں آگئے ہیں تو ذرا دیکھا جائے کہ وہ ہماری طرح بوڑھے ہوتے ہوئے ابھی بھی عشاقِ انقلاب کے قافلے میں شامل ہیں یا ’’بیوی بچوں‘‘ کے مستقبل کے لئے جوتیاں گھسیٹتے، پیر لہولہان کئے، انگلیاں فگار کئے، اولڈ ایج ہوم جانے کے دن گن رہے ہیں۔ ادھر ادھر سے خبریں ملتی رہیں کہ اشفاق کے ساتھ ساتھ پریس کلب کے یارانِ عزیز لطافت صدیقی، نجم الحسن رضوی، افسر نقوی اور انتظار زیدی ابھی تک انقلابی قبیلے کے اسی طرح وفادار ہیں۔ پھر سندھ کی افسانہ نگار شہناز شورو اور سندھی ادبی سنگت کے بارے میں بھی اچھی ہی خبریں ملیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ شام جی کا بھی ان دنوں ٹورنٹو ہی میں قیام ہے بلکہ وہ امیگریشن لے کراب یہاں کے باقاعدہ شہری بھی بن چکے ہیں۔ یوں جب ٹورنٹو ایئرپورٹ پر ایک ہی سانس میں نام بہ نام اشفاق سے ان سب کی خیریت معلوم کی تو یہ عقدہ کھلا کہ وہ ان سب سے ملاقات کا پروگرام پہلے ہی بنائے بیٹھے ہیں۔


یہ لیجئے پہلی شام تو مسی ساگا کے اسکوائرون کے ایک شاندار کینیڈین تفریح گاہ جامِ شب میں گزر گئی جہاں ’’چہار درویشوں‘‘ یعنی لطافت، اشفاق، نجم اور انتظار کے ساتھ خوب باتیں ہوئیں۔ دوسرا دن اپنے بدایوں بریلی کے سسرالی مگر نظریاتی دوست سلمان قریشی کی ہمراہی میں شہر کی رونقوں سے آنکھوں کو تروتازہ کیا۔ ارے تیسرا دن آنے والا ہے۔ چوتھے دن روانگی ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کینیڈا آیا جائے اور نیاگرافال نہ دیکھی جائے؟
23 سال پہلے کی وہ شام یاد آرہی ہے جو نیاگرافال کے پہلو سے لگے بار میں گزری تھی۔ نیاگرافال کے شور میں ہم مشربوں کے ساتھ شاداں و فرحاں اشفاق کے مترنم شعر ذہنوں میں گونجنے لگے:
کئی موسم گئے پر ہجرتوں کا دکھ ابھی تک ہے
یہ سناٹا میرے اندر کا میری زندگی تک ہے
سکوں ملتا ہے بے آنگن گھروں میں میرے بچوں کو
کھلے دالان کی خواہش تو میری ہی نسل تک ہے


دوسرا خط
جن روزوں ہم درویش ہوئے
میر تقی میر یاد آ رہے ہیں:
جن روزوں درویش ہوئے ہم، پاس ہمارے دولت تھی

میر کے اس مصرعے کی مناسبت سے ٹورنٹو پہنچے تو یہ خیال آیا کہ روزوں یعنی رمضان میں ہمارے یارِ عزیز اشفاق حسین ہمارے لئے کیسے کوئی تقریب برپا کر سکیں گے کہ ادھر ان ملکوں میں جو دہائی اوپر سے آنے کا تجربہ ہوا تو معلوم ہوا کہ مغرب کے پاکستانیوں میں بھی یہ معیوب ہی سمجھا جاتا ہے۔ ادھر ہمیں یہ برسوں سے عادت بلکہ علت لگی ہے کہ شام آئی تو یہ سمجھے کہ پری آئی ہے۔یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ7 بج گئے 8 بج گئے بلکہ 9 بجنے والے ہیں مگر سورج ہے کہ ڈوبتا ہی نہیں کہ شاعرِ خرابات عبد الحمیدعدمؔ کی پیروی میں خرابات کا دروازہ کھلے اور زہرہ جبینوں کی مناجاتوں کے ساتھ محفل برپا کی جائے۔ ہئے ہئے کیسے اس شاعرِ بے مثال کو پی آر نہ ہونے کے سبب نقادانِ ادب کھا گئے اور عدم سے پہلے اور بعد کے دوسرے اور تیسرے درجے کے شعرا کو محض پی آر اور نظریاتی گروپ بندی کے کھاتے میں فیض اور فراق سے بھی بڑے ادبی منصب پر فائز کر دیا۔
یہ لیجئے جس سبب آنا ہوا وہ پھر پیچھے رہ گیا کہ آنا تو رمضان سے پہلے مرحوم جمیل الدین عالی کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب میں تھا مگر ہمیں کینیڈا کا ویزا اس تقریب کے دو دن بعد ملا۔ ادھر اشفاق نے طے کر لیا تھا کہ اگر عالی جی کی تقریب میں شرکت نہیں ہو رہی تو میں اپنی تازہ تصنیف ’’غالب جالب‘‘کے ساتھ آجاؤں۔۔۔۔۔
یہ بھی بتاتا چلوں کہ ادھر امریکہ اور یورپ کے مختلف شہروں سے جو بلاوے آتے ہیں، ان میں پہلا خوف وہاں کے ایئر پورٹوں پہ ہونے والے امیگریشن کے سخت چہروں اور کھردری انگلیوں کا ہوتا ہے کہ نہ جانے کتنی دیر میں مہر لگائیں۔ مگر ٹورنٹو کا ایئرپورٹ ایک تو نسبتاًچھوٹا ہے پھر ہماری فلائٹ کے وقت قطار بھی انتہائی مختصر تھی۔ امیگریشن پہ بیٹھی خاتون نے بھی مسکراتے ہوئے دو منٹ میں فارغ کر دیا۔ کسٹم والے سرے سے تھے ہی نہیں۔ اگلے دس منٹ میں اشفاق اپنی کشادہ بانہوں سے ٹورنٹو میں ہمیں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔
جالب صاحب کے حوالے سے دنیا میں جہاں بھی کوئی تقریب ہو وہاں ہمیشہ جتنوں کو دعوت دی جاتی ہے اس سے دُگنی حاضری ہوتی ہے۔ اشفاق کے پرشکوہ بنگلے کا کشادہ بیسمنٹ دوستوں سے چھلکا پڑ رہا تھا۔ صدارت اپنے شام جی کی تھی جن کے بارے میں اشفاق پہلے ہی خوشخبری دے چکے تھے کہ کچھ دنوں قبل ہی وہ کینیڈا میں امیگرنٹ ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ مجھے فکر یہ ہو رہی ہے کہ کیا شام جی اب یہیں کے ہو رہیں گے؟ ان کی ساری صحافتی معرکہ آرائیاں تو وطن عزیز ہی میں ہیں۔
تقریب کے بعد کینیڈا میں آن بسے بھولے بسرے یارانِ انقلاب دعوتیں دے رہے تھے کہ شام ان کے ساتھ گزاری جائے۔ اب ادھر معاملہ یہ ہے کہ:
راتاں چھوٹیاں تہ یار بہت
تو کِنوں کِنوں کا مان رکھے
پہلا حق تو یونیورسٹی کے زمانے اور پیغمبری دور کے دوستوں کا تھا ’سو افسر نقوی، لطافت علی صدیقی، انتظار زیدی اور نجم الحسن کے لئے پہلی شام رکھی۔ پھر ہمارے واجد شمس الحسن صاحب کے حوالے سے قریب آنے والے سابق سیکریٹری راشد لطیف اور ان کے بھائی ذاکر انصاری کے لئے ایک شام مخصوص کی۔ ہاں پہلے بھی لکھا تھا کہ ٹورنٹو میں شام 9بجے ہوتی ہے اس لئے کچھ ایسا اہتمام رکھا کہ ایک شام میں دو شامیں ہو جائیں۔ ذرا خشک شام ان بزرگ دوستوں کے ساتھ کہ جن کا احترام واجب ہوتا ہے اور پرکشش تادیر شام اپنے شہر کے یارانِ آوارگان کے ساتھ ہر شام میں اشفاق حسین اور انتظار زیدی کی شرکت لازمی ٹھہرتی تھی۔خشک شام سے مراد زاہدانِ خشک کے زمرے میں نہیں لیجئے گا۔ پر کشش شاموں کی تفصیل میں اس لئے نہیں جاؤں گاکہ آئندہ بھی ٹورنٹو جانا ہے۔ ان دوستوں کی بیویوں کی نظر سے یہ خط گزر گئے تو گھر کے بیسمنٹ تو کیا برآمدے میں بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔


تیسرا خط
ذرا نیا گرافالز چلتے ہیں
روانگی اگلے دن ہے مگر نیا گرافالز کے لئے کوئی شام نہیں نکل پارہی ہے۔ ٹورنٹو میں میرے مستقل میزبان اشفاق حسین نے جب یہ جملہ لگایا کہ اگر نیاگرافالز دیکھے بغیر کینیڈا سے چلے گئے تو مجھ پر تہمت لگے گی پھر تمہاری ذہنی حالت پر بھی شبہ کیا جائے گا کہ ایک تو ہفتہ بھر کے لئے کینیڈا گئے ،وہ بھی ٹورنٹو میں رہے مگر ایک گھنٹے کے فاصلے پر دنیا کے سات بڑے عجوبوں میں سے ایک عجوبہ نیاگرافالز نہ دیکھ سکے کہ جس کو دیکھنے کے لئے ساری دنیا سے خاص طور پر لوگ آتے ہیں۔ سو اشفاق نے جانے سے ایک دن پہلے یہ اہتمام کیا کہ یہاں کی مقامی سندھی ادبی سنگت کے دوستوں کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ ہمیں بحفاظت نیا گرافالز لے جائیں اور شب کے آخری پہر سے پہلے واپس لے آئیں ۔ صحافی ممتاز شرنا راض تھے کہ کراچی میں ہمارے ٹی وی چینل کے بیوروچیف اور مشترک دوست رفیق بھٹو کی تواتر سے ڈانٹیں پڑ رہی ہیں کہ ابھی تک سندھی دوستوں سے سنگت کیوں نہیں کرائی؟ سو بدھ کی شام روہڑی سے تعلق رکھنے والے احمد ملک کی پجیرو میں ڈاکٹرشاہد،ڈاکٹر مرلی، ممتاز شر اور اپنے انتظار زیدی کے ساتھ نیاگرافالز کے لئے روانگی ہوئی۔
احمد ملک سے ہماری پہلی ملاقات تھی مگر گھنٹے بھر کے سفر میں جب کچہری ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کے والدِ محترم اور ہمارے ماموں اخلاق علی روہڑی سیمنٹ فیکٹری میں ساتھ کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر مرلی اور ملک صاحب سے چند گھنٹوں میں وہ محفل جمی کہ لگتا تھا کہ برسوں سے نہیں بلکہ دہائیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ پھر احمد ملک جو میڈیکل سرجیکل سپلائی کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ ٹورنٹو بلکہ اس کے اطراف کے شہروں اور ان سے ملنے اور بچھڑنے والی شاہراہوں کی تاریخ ایسے بیان کر رہے تھے کہ جیسے پشت ہا پشت سے یہاں کے باسی ہوں۔ 23 سال پہلے نیاگرافالز کو محض ایک رخ سے دیکھا تھا۔ سیکڑوں فٹ کی بلندی سے گرتے ہوئے پانی کی ہیبت نے ایک عجیب سماں پیدا کر دیا تھا۔ اس بار ملک صاحب نے ایک نہیں بلکہ ہر رخ سے نیاگرافالز کے اردگرد کی نہ صرف تفصیل سے سیر کروائی بلکہ تاکید کی کہ امریکہ میں داخل ہونے کے لئے آئندہ نیاگرافالز سے جانے والا راستہ پکڑیں جو کار یا ریل سے آٹھ نو گھنٹے کا ہے۔


نیاگرا سے واپسی پر ملک صاحب نے مکیش کے ایسے ایسے بھولے بسرے گیت سنوائے کہ جنہیں اب وطن عزیز میں سننے کا کہاں وقت ملتا ہے۔میں نے ملک صاحب سے کہا کوئی اپنے ہاں کا بھی گیت ہے؟ ملک صاحب کی انگلیوں نے حرکت کی اور سروربارہ بنکوی مرحوم کی غزل مشہور موسیقار روبن گھوش کی موسیقی میں رونا لیلیٰ کی آواز میں گونجی:
ہمیں اپنا نہیں جانِ تمنا غم تمہارا ہے
کہ تم کس پہ ستم فرماؤ گے جب ہم نہیں ہوں گے


ضبط کے باوجود آنکھوں نے ساتھ نہیں دیا، بہتے ہوئے آنسوؤں میں سرور صاحب کی یاد نے بہت تڑپایا۔ کیسے خوبصورت شاعر اور وضع دار انسان تھے۔ سقوطِ ڈھاکہ ایک بہت بڑا المیہ تھا۔ اسی المیے نے سرور صاحب کو دوسری ہجرت سے دوچار کیا۔ اس المیے نے کیسے کیسے ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور دانشوروں پر ایسے غم و اندوہ کے پہاڑ توڑے کہ 1947کی ہجرت بھی پیچھے رہ گئی۔ نیاگرافالز سے رخصت ہوتے وقت سرور صاحب کی یاد نے وطنِ عزیز کی یاد کو اور بھی تازہ کر دیا۔ یوں بھی اگلے دن وطنِ عزیز کو واپس لوٹنا ہے سو خدا حافظ ٹورنٹو۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ
وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ
یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں
کسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤ
وہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوری
اُنہیں میں بھی کیوں سُناؤں انہیں تم بھی کیوں سُناؤ
یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا وہ پھر نہ آیا مری بات مان جاؤ
کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فرازؔ کب تک
جو تمہیں بھُلا چکا ہے اُسے تم بھی بھول جاؤ

احمد فراز

*****

 
13
October

تحریر: فرخند اقبال

بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کی خاطر قائم نیو کلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ اس گروپ میں شمولیت کے ذریعے اپنے پر امن سول نیوکلئیر پروگرام کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔اس قسم کے دعوے وہ 1974سے پہلے امریکہ اور فرانس کے ساتھ اپنے معاہدوں کے بارے میں بھی کرتا رہا ہے یہاں تک کہ اس نے ایٹمی دھماکے کرکے خود کو ایٹمی طاقت ثابت کردیا۔اب کی بار وہ اس انتہائی اہم گروپ کو استعمال کر کے پہلے سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہائیڈروجن بم پروگرام پر جاری کام کی رفتار تیز کرنا چاہتاہے۔بھارت کی اس وقت سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ کسی طرح خود کو ایک عالمی طاقت ثابت کردے جس کے لئے اس نے خارجی سطح پر انتہائی جارحانہ پالیسی اختیار کی ہوئی ہے جس کی ایک اہم مثال امریکہ کے ساتھ اس کا حالیہ دفاعی معاہدہ
Logistics Exchange Memorandum of Agreement (LEMOA)
ہے جبکہ داخلی سطح پر وہ مبینہ طور پر ہائیڈروجن بم پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ 20جون 2014کو دفاعی و سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے انتہائی معتبر جریدے
IHS Jane146s
نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارت خفیہ طور پر ہائیڈروجن بم بنا رہا ہے جس کے لئے بھارتی ایٹمی سائنسدان میسورمیں واقع
Indian Rare Metals Facility
میں خفیہ طریقے سے یورینیم ہیکسا فلورائیڈ افزودہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو ہائیڈروجن بم بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔اس کے بعد دسمبر 2015میں معروف امریکی ادارے
Center for Public Integrity
نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ بھارت جنوبی ریاست کرناٹکا میں واقع برصغیر کی سب سے بڑی نیوکلیئر تجربہ گاہ میں دیگر ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ہائیڈروجن بم کی تیاری کر رہا ہے، اسی ماہ انتہائی معتبر امریکی جریدے
Foreign Policy
نے بھی ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں بھارت کے ہائیڈروجن بم پروگرام کے بارے میں مختلف انکشافات کئے گئے۔بھارت کے ہائیڈروجن بم پروگرام پر اس کے علاوہ بھی مختلف حلقوں میں گاہے بگاہے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن جوہری عدم پھیلاؤ کی ٹھیکیدار عالمی طاقتیں ایک بار پھر ماضی کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور کسی بھی جانب سے اس معاملے پر سنجیدہ ردّعمل دیکھنے میں نہیں آرہا،اس کے بر عکس امریکہ سمیت کئی اہم ممالک بھارت کو نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔


تاریخ ہمیشہ ہی بھارت کے نیوکلیئر پروگرام پر مہربان رہی ہے۔ بھارت جب ایٹم بم بنانے کی کوششیں کر رہا تھا تو اس وقت کی دو سپر پاورز امریکہ اورسابقہ سویت یونین کے درمیان سرد جنگ جاری تھی، اس وقت دونوں عالمی طاقتیں اس خطّے میں اتحادیوں کی تلاش میں تھیں اور باوجود اس کے کہ امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے اور روس کی کے جی بی اپنی حکومتوں کو بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں وقتاً فوقتاً خفیہ رپورٹس دیتے رہے لیکن اس وقت دونوں میں کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ بھارت کے خلاف کوئی سخت موقف اختیار کر کے اسے مخالف کیمپ میں ڈال دے جو کہ اپنی آبادی، معیشت اور جغرافیے کے باعث جنوبی ایشیاء میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔بھارت نے ان حالات کا بھرپور فائدہ اُٹھایا اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرلی۔اب جبکہ وہ ہائیڈروجن بم پر کام کر رہا ہے تو اس وقت بھی خطّہ ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور وہ ایک بار پھر بھرپور طریقے سے عالمی طاقتوں کی ضرورت بنتا جارہا ہے ۔خطّے میں نئے تعلقات استوار ہو رہے ہیں اور وہ
Pivot to Asia
اور
China Containment
جیسی بڑی پالیسیوں کا مہرہ بن رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی طاقتیں اس کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں ’’سب اچھا ہے‘‘کا ورد کر رہی ہیں اور اسے مکمل ڈھیل دے رہی ہیں۔
اب ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہر سطح پر تعطل کا شکار ہیں پاکستان نے 16اگست کو بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات نہ کرنے کے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کرنے کی پیشکش کی ، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ یہ معاہدہ نہ صرف خطّے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے بہت اہم ہوگا ،ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے جنوبی ایشیاء میں اسلحے کی دوڑ سے بچنے کے لئے مزید اقدامات کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے نہ صرف نئے امکانات پیدا ہوں گے بلکہ اس کے ساتھ نیو کلیئر سپلائیرز گروپ میں بھی مثبت پیغام جائے گا جس کی رکنیّت حاصل کرنے کے لئے دونوں ممالک نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔لیکن بھارت نے پہلے کی طرح اس پیشکش کا بھی مثبت جواب نہیں دیا ۔ پاکستان نے 1998میں بھی دونوں ممالک کی جانب سے ایٹمی تجربات کرنے کے بعد بھارت کو
Comprehensive Test Ban Treaty (CTBT)
پر دستخط کرنے کی پیشکش کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس معاہدے پر دستخط کرکے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ لیکن بھارت نے اس وقت بھی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔


اس وقت پاکستان کی جانب سے ایٹمی تجربات نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش اور بھارت کی جانب سے اس پیشکش کا استرداد کرنا ہر گز کوئی چھوٹا یا معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کی خطّے کے مستقبل کی شکل ترتیب دینے کے لئے جاری پالیسیوں کا عکاس ہے۔ یہ اس بات کا عکاس ہے کہ جنوبی ایشیاء کی دو بڑی طاقتیں اس وقت کس قسم کی علاقائی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور وہ خطّے کے سیاسی و اسٹریٹیجک مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس میں بیک وقت ایڈجسٹ ہونے اور اسے اپنے حق میں ڈھالنے کے لئے کون کون سے حربے استعمال کریں گے۔ اگر بھارت کی خارجہ پالیسی کا بغور جائزہ لیا جائے تو وہ ایک بہت بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والاغیر وابستگی کا عنصر اب تاریخ کا ذکر بن چکاہے، وہ بھارت جو ماضی قریب میں صرف اس خدشے کی بناء پر امریکہ اور ویت نام کے زیادہ قریب نہیں جارہا تھا کہ اس کی وجہ سے چین اور روس کی ناراضگی مول لینا پڑسکتی ہے ،وزیر اعظم نریندرامودی کی حکومت آنے کے بعدبھارت اس راہ میں بہت بولڈ اقدامات اٹھا رہا ہے۔بھارت کے چین کے ساتھ پائے جانے والے تنازعات پہلے سرحدی سے اقتصادی اور اب اسٹریٹیجک تنازعات میں بدل رہے ہیں۔اب وہ نہ صرف امریکہ بلکہ ایک عرصے سے جاری چین اور امریکہ کے کشمکش میں امریکہ کے حلیف ممالک جاپان اورآسٹریلیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔اس گٹھ جوڑ کی دو اہم مثالیں مئی میں صدر باراک اوبامہ کا امریکہ اور چین کے درمیان بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں شامل اہم کردار ویت نام کا دورہ ہے جو کہ امریکہ،ویت نام جنگ کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان نئے سرے سے تعلقات شروع کرنے کا عہد کیا گیا،جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں اپنے دورہ ویت نام میں ویت نام کو بھارتی ساختہ براہموس میزائل لے جانے کی اہلیت رکھنے والے بحری جہاز خریدنے کے لئے 500ملین ڈالر کا قرضہ دے دیا جسے ویت نام بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں چین کے خلاف استعمال کرسکتا ہے، واضح رہے کہ بھارت اس سے قبل جنوری میں بھی ویت نام کو 100ملین ڈالرکا قرض دے چکا ہے جس کا زیادہ تر مقصد بھی دفاعی تھا۔اس کے علاوہ بحر ہند میں پاکستان اور چین کی شدید مخالفت کے باوجود فوجی موجودگی بڑھانا بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک الگ اور ایک اہم باب ہے، جبکہ افغانستان میں اثرورسوخ کو وہ خطّے میں اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کے لئے لازمی سمجھتا ہے اور وہاں بھی امریکہ اس کی پشت پر آچکا ہے جو کہ خطّے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت کو اپنا مہرہ بنانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے ۔


اس پورے منظرنامے میں بھارت کا ہائیڈروجن بم پروگرام اور اس کی خارجہ پالیسی کا نئی اپروچ کوئی الگ الگ معاملات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔بھارت اس خطّے کی ایک بالادست طاقت بننا چاہتا ہے اور وہ جس قسم کی جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کی تعمیل کے لئے وہ لازم سمجھتاہے کہ ایٹم بم رکھنے والے ممالک کی گروپ میں شامل ہونے کے بعد اب ہائیڈروجن بم رکھنے والے ممالک کے گروپ میں بھی شامل ہو کرخود کو دفاعی طور پر ایک انتہائی طاقتور ملک ثابت کرکے دیگر ممالک پر نفسیاتی برتری حاصل کرے اور اپنا کھیل کھل کر کھیلے۔بھارت خطّے میں اسلحے کی نئی دوڑ کا آغاز کرکے دیگر ممالک کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا چاہتاہے تاکہ وہ خطّے میں اپنی بالادستی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کا خاتمہ کرسکے۔ ایٹم بم اور ہائیدروجن بم جیسے ہتھیار پوری دنیا کی تباہی کا موجب بننے کے سبب حالیہ تاریخ میں پراکسی وارز کا باعث بن رہے ہیں جس کی اہم مثال شام اور عراق کے تنازعات ہیں جہاں آپس میں برسر پیکار ان ہتھیاروں سے لیس بڑی طاقتیں ایک دوسرے پر براہ راست حملے سے تو گریز کرتی ہیں لیکن طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے لئے دوسرے ممالک کے میدانوں میں ایک دوسر سے نبرد آزما ہیں، اس اصول کے پیش نظر بھارت کے ایسے اقدامات خطّے کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے اور وہ خطّے کو نئے تنازعات میں الجھا دے گا۔یہ صورتحال مزید مخدوش ہوجائے گی اگر بھارت کے نیوکلیئر پروگرام کے جنگی مقاصد کو نظرانداز کرکے اسے نیو کلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت دے دی گئی ۔بھارت اس گروپ کے ذریعے درآمد کرنے والا کچھ فیول دنیا کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کے لئے اپنے سویلین ری ایکٹرز میں استعمال کرے گا اور ملک میں پہلے سے موجودفیول کو ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے استعمال کرے گا ، یہ اس کی کوئی نئی پالیسی نہیں ہے اس پالیسی پر وہ 2008میں ہونے والے امریکہ-بھارت سول نیوکلئیر معاہدے کے بعد سے عمل پیرا ہے۔

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بحر ھند میں پاکستان اور چین کی شدید مخالفت کے باوجود فوجی موجودگی بڑھانا بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک الگ اور ایک اہم باب ہے، جبکہ افغانستان میں اثرورسوخ کو وہ خطّے میں اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کے لئے لازمی سمجھتا ہے اور وہاں بھی امریکہ اس کی پشت پر آچکا ہے جو کہ خطّے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت کو اپنا مہرہ بنانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے ۔

*****

اس پورے منظرنامے میں بھارت کا ہائیڈروجن بم پروگرام اور اس کی خارجہ پالیسی کا نئی اپروچ کوئی الگ الگ معاملات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔بھارت اس خطّے کی ایک بالادست طاقت بننا چاہتا ہے اور وہ جس قسم کی جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کی تعمیل کے لئے وہ لازم سمجھتاہے کہ ایٹم بم رکھنے والے ممالک کی گروپ میں شامل ہونے کے بعد اب ہائیڈروجن بم رکھنے والے ممالک کے گروپ میں بھی شامل ہو کرخود کو دفاعی طور پر ایک انتہائی طاقتور ملک ثابت کرکے دیگر ممالک پر نفسیاتی برتری حاصل کرے اور اپنا کھیل کھل کر کھیلے۔

*****

 
13
October

قومیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتیں اور وطن کے دفاع کے لئے کبھی بھی گریز پا نہیں ہوتیں۔ دفاعِ وطن کو یقینی بنانے کے لئے افواجِ پاکستان ہر دم تیاری میں مصروف رہتی ہیں اور جنگی تیاری سپاہ کے روز مرہ معمول کا حصہ ہوا کرتی ہیں۔ افواج زمانۂ جنگ میں کس قدر کامیاب ہوتی ہیں‘ اس کا انحصار زمانۂ امن میں کی گئی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ الحمدﷲ ! افواجِ پاکستان نے قیامِ پاکستان کے فوری بعد سے ہی پیشہ ورانہ مہارت کے حصول اور میدانِ جنگ میں درپیش مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لئے خود کو تیار کرنا شروع کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے ایک برس بعد ہی محاذِ کشمیر اور پھر صرف اٹھارہ برس بعد 1965میں دشمن کی جارحیت کا جس اندازمیں جواب دیا گیا اُس سے دشمن کو اندازہ ہوگیا کہ پاکستان کو فوجی طاقت کے زور پر زیر نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اُس کے بعد اکہتر اور معرکہ کارگل میں بھی جس بہادری سے ہماری افواج لڑیں‘ اس کا اقرار دشمن نے بھی کیا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے جس طرح افواجِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں وہ اس امر کی عکاس ہیں کہ زمانۂ امن میں افواجِ پاکستان نے کس طرح خود کو تیار رکھا۔ افواجِ پاکستان جدید اسلحہ سے لیس ایسی افواج ہیں جو کٹھن وقت میں کسی بھی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ شومئ قسمت کہ پاکستان کے پڑوس میں ایک ایسا کم ظرف دشمن ملک بھی ہے جو ہمیشہ سے سازشوں اور جارحیت کی زبان بولتا چلا آیا ہے۔ وہ پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار اور مہذّب ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے اور بین الاقوامی اصول و قوانین کی پاسداری کی ہے‘ لیکن نہ تو کبھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا ہے اور نہ ہی کسی دشمن سے خوف زدہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنی ایک تقریر میں برملا کہا تھا ’’افواجِ پاکستان تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ چاہے وہ روایتی جنگ ہو یا غیر روایتی‘ کولڈ سٹارٹ یا ہاٹ سٹارٹ‘ ہم تیار ہیں۔‘‘


حال ہی میں دشمن نے اپنے ایک فوجی بیس کیمپ پر حملے کو بنیاد بنا کر دھمکیوں اور جارحیت کی زبان بولنا شروع کی ہے تو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ پا کستان بہترین ایٹمی طاقت اور میزائل سسٹم سے لیس ایک مضبوط ملک ہے جس کی افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یوں دشمن کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ اس کی شاطرانہ چالیں اُسی پرلوٹا دی جائیں گی۔ ہم دشمن کو حملے میں پہل کی حماقت سے تو نہیں روک سکتے مگر ایک بھیانک شکست ضرور اس کا مقدر بنا دیں گے ۔ انشاء اﷲ !


زمانۂ جنگ ہو یا زمانۂ امن افواج پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ اور تربیتی ضرورتوں سے کبھی چشم پوشی نہیں برتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ماضی میں جہاں چینی‘ امریکی‘ ترک اور دیگر ممالک کی افواج کے ساتھ مل کر مشترکہ مشقیں کرچکی ہیں تو حال ہی میں اُس نے روسی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقیں کی ہیں جن کا مقصد افواج پاکستان کو دنیا کی دیگر بہترین افواج کے جنگی اور تربیتی علوم سے آگاہ رکھنا ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ عسکری تربیت ہی کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان کی کامیابیاں دیگر ممالک کی افواج سے کہیں زیادہ ہیں۔ افواجِ پاکستان ایک طرف مغربی سرحدوں کی جانب بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے ہوئے ہیں تو دوسری جانب مشرقی سرحدوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سمندری اور فضائی اعتبار سے بھی ہماری افواج کسی دوسرے ملک سے ہر گز کم نہیں اور ان کے ہوتے ہوئے دشمن کسی سازش یا ایڈونچر کی جرأت نہیں کرسکتا۔ الحمدﷲ! افواج اور قوم اپنی ذمہ داریوں سے کماحقہ‘ آگاہ اور تیار ہیں۔


افواجِ پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

13
October

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

دنیا کے بیس بڑوں جی 20 کا سالانہ اجلاس گزشتہ ماہ 4-5ستمبر کو چین کے شہر ہونگ زو میں منعقد ہوا۔ جی 20 کا یہ اجلاس پچھلے سال ترکی کے ساحلی شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والے اجلاس سے کہیں زیادہ مختلف منظر نامہ پیش کررہا تھا۔ پچھلے سال کے اجلاس میں روسی صدر پیوٹن بڑے تندوتیز لہجے میں مختلف ثبوتوں کے ساتھ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آئے جس کا سبب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شام میں جاری پالیسی ہے۔ پچھلے سال کا میزبان ملک ترکی اس بار ہونگ زو کے جی 20 اجلاس میں اپنے عالمی اتحادی سے کہیں مختلف نقطۂ نظر کے ساتھ شامل نظر آیا۔ اس دوران ترکی نے اپنی سرحدوں کی مخالفت کرتے ہوئے روسی جنگی طیارہ مارگرایا تو روس ترکی مخاصمت اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد جب ترکی کو اس حقیقت کا اندازہ ہوا کہ وہ اپنے عالمی اتحادی امریکہ اور ناٹو کو اپنے ساتھ کھڑا نہیں پا رہا تو ترکی نے شام کے حوالے سے اپنی علاقائی پالیسی میں اچانک تبدیلی کا فیصلہ کیا اور روس کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دَور کا آغاز کیا۔ اپریل 2016ء سے ترکی نے بیک ڈور ڈپلومیسی سے روسی فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا آغاز کیا اور یوں 9اگست کو ترک صدر جناب رجب طیب اردگان روس کے دورے پر گئے۔


شام کا تنازع عالمی سیاست میں ایک محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ پچھلے سال انطالیہ میں جی 20 کی سمٹ اور ہونگ زو میں منعقد ہونے والی جی 20 کی حالیہ سمٹ میں عالمی سیاست ایک نئی کروٹ لے رہی ہے۔ جی 20 گو دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کی ایک تنظیم ہے جو دنیا میں اپنے معاشی، اقتصادی اور کاروباری معاملات کو زیربحث لانے اور مختلف اقدامات اٹھانے کے لئے منعقد ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات عالمی سیاست میں طے ہے کہ تنازعات، عالمی تجارت، معیشت اور اقتصادیات پر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ چین جو عالمی معیشت میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، وہ پچھلی ایک دہائی میں اہم سٹریٹجک طاقت کے طور پر بھی ابھر رہا ہے، یعنی معیشت اور سٹریٹجک مفادات عالمی سطح پر باہم جڑ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن اہم پلیٹ فارم ہے، جس میں روس اور چین، دنیا میں نیا سیاسی، معاشی، اقتصادی اور سٹریٹجک توازن قائم کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں پاکستان ایک اہم سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر رکنیت لینے میں کامیاب ہوا ہے۔ ہونگ زو جی 20 میٹنگ میں دنیا کے بیس بڑے ممالک اس پس منظر میں ایک نئے موقف کے ساتھ شامل ہوئے۔ چین ا ور روس کے علاوہ اب ترکی خطے میں بدلتی خارجہ پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور امریکہ کا علاقائی اور عالمی کردار شدید بحران کا شکار ہے۔ جیساکہ روسی صدر پیوٹن نے شام میں روس کی فوجی مداخلت پر کہا تھا کہ اب دنیا یونی پولر نظام سے نکل آئی ہے۔ ہونگ زو سمٹ نے اڑتالیس نکات پر ایک قرارداد پاس کی جس میں پینتالیس نکات عالمی معیشت، تجارت اور منڈیوں کے حوالے سے تھے جبکہ ایک نکتہ عالمی دہشت گردی کے حوالے سے ہے جوکہ درحقیقت پینتالیس قراردادوں کو تحفظ دینے کے زمرے میں آتا ہے کہ ہم مل کر دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کریں گے۔ اس میں انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2253 کا حوالہ دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحدہ کارروائیوں پر غور کیا۔

 

g20smit.jpgبھارت میں جب سے نریندر مودی وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں، اُن کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرکے پاکستان کو اپنے قدموں میں گرنے پر مجبور کردیں۔ گزشتہ تین سالوں میں وہ اس حوالے سے کبھی چین اور کبھی امریکہ کے نہ صرف قریب ہونے کی سعی کررہے ہیں بلکہ وہ اس تگ ودو میں بھی ہیں کہ امریکہ اور چین یہ یقین کر لیں کہ خطے میں پاکستان سے زیادہ اہم ملک بھارت ہے۔ اگرچہ بھارت عالمی معیشت میں ایک اہم کھلاڑی ہے، اسی سبب وہ جی 20 جیسے اہم فورم کا رکن بھی ہے، لیکن وزیراعظم ہندوستان یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں معیشت کے تحفظ کے لئے سٹریٹجک سیاست کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ستمبر میں ہونے والے جی 20 سمٹ میں اپنے طور پر ایک بھرپور کوشش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو خطے میں تمام دہشت گردی کا سرپرست بھی ہے اور گڑھ بھی۔ انہوں نے نہایت طفلانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ وہ دہشت گردی کو ریاست کی پالیسی کے طور پر اپنائے ہوئے ہے جبکہ بھارت
’Zero Tolerance to Terrorism‘
کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ یقیناًوہ یہ پیغام خصوصی طور پر چین اور امریکہ کو دینا چاہتے تھے۔ ان کو علم ہونا چاہئے کہ امریکہ اور چین، پاکستان کو دہشت گردی کا Victim
تصور کرتے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے کسی نہ کسی طور پر اتحادی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کو یقیناًیہ بھی علم ہونا چاہئے کہ پاکستان خطے میں امریکہ کا اتحادی بھی ہے اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات معیشت سے لے کر سٹریٹجک معاملات تک منسلک ہیں۔ امریکہ اس بدلتی عالمی صورتِ حال میںیقیناًپاکستان کو کسی بھی صورت کھونا نہیں چاہے گا۔ چین، پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے صرف اقتصادی حوالے سے ہی مزید قریب نہیں ہورہا بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قدرتی سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر مزید مستحکم منصوبہ بندی کررہے ہیں۔


جی 20 گو دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کی نمائندگی کرتا ہے لیکن دنیا کے سیاسی تجزیہ نگار اسے جی 2 قرار دیتے ہیں۔ یعنی امریکہ اور چین، دنیا کے دو بڑے، جوکہ واقعی ایک حقیقت ہے۔ چین دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت ہے، ایک ایسی معیشت جس نے اشتراکیت کی کوکھ سے جنم لیا اور اب عالمی سرمایہ داری نظام میں مقابلے کا پارٹنر ہے۔ چین کا بڑھتا ہوا عالمی سرمایہ داری کردار ہی اس کے عالمی سٹریٹجک کردار کو جنم دے رہا ہے۔ چین عالمی سطح پر پھیلتی معیشت کو وسعت دینے کے لئے نئے بحری راستوں کو استعمال میں لانے کے لئے تیزی سے سرگرم ہے۔
South China Sea
تنازعہ، عالمی طاقتوں کی سیاست میں سرفہرست ہے۔ اس حوالے سے جاپان کے ساتھ اس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ بھارت اس کشمکش میں جاپان کی طرف داری میں پیش پیش ہے۔ اسی لئے چین نے جاپان کے اس معاہدے کی شدید مذمت کی ہے جس میں اس نے بھارت کو
Search and Rescue Aircraft
کی فروخت کا معاہدہ کیا ہے۔ چینی دفتر خارجہ کی ترجمان ہوچُن پنگ نے 1.6 ارب ڈالر کے اس یو ایس -2 جاسوس طیاروں کی فروخت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم قیمت پر بھارت کو طیاروں کی فروخت اس سازش کو بے نقاب کرتی ہے جس سے
South China Sea
کی نگرانی کی جانی مقصود ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین جناب مشاہد حسین نے بھارت اور امریکہ کے درمیان ’’لاجسٹکس ایکسچینج‘‘ معاہدے پر کہا ہے کہ ہمیں دو خودمختار ممالک کے درمیان اس معاہدے پر کوئی اعتراض تو نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے ملک کے فوجی اڈوں میں ہتھیاروں کی مرمت کے بہانے اترنے کا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں جوکہ اس معاہدے کی حقیقی وجہ ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت عملاً پاک چائنا راہداری سے خوف زدہ ہے جو دونوں دوست ممالک پاکستان اور چین کو مزید قریب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ لیکن ہم کسی توسیع پسندی کے منصوبے نہیں بلکہ علاقائی تعاون کے لئے سرگرم ہیں، اسی لئے ہم (چار ملکی) ترکمانستان، پاکستان، افغانستان اور بھارت پائپ لائن بھی بنا رہے ہیں جو علاقائی اقتصادی تعاون کا ایک منصوبہ ہے۔ یہ باتیں انہوں نے گزشتہ ماہ وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہیں۔

 

g20smit1.jpgاس سارے تناظر میں حالیہ جی 20 اجلاس کو دنیا بھر کے تجزیہ نگار بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس میں روسی فیڈریشن ایک نئے انداز میں عالمی معیشت اور سٹریٹجک حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ خصوصاً شام میں جاری تنازعے کے پس منظر میں روسی فیڈریشن کے شامی حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے تحت جس میں روس کو شام میں فوجی مداخلت کا حق دیا ہے اور اس کے بعد روس کا عالمی کردار اجاگر ہوا ہے۔ یادرہے کہ شام کے تنازعے میں عملاً روس اور چین ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں، اسی لئے روس کے علاوہ چین نے امریکی مؤقف کو سلامتی کونسل میں ویٹو کے ذریعے ناکام بنایا۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن عملاً ایک یوروایشین تنظیم ہے جس کے بانی عوامی جمہوریہ چین، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور روسی فیڈریشن ہیں۔ 2001 ء میں معرضِ وجود میں آنے والا یہ اتحاد سیاسی، معاشی اور سٹریٹجک بنیادوں پر کھڑا کیا گیا۔ اس کے بانی چین اور روس نے اس کو وسعت دے کر اب اس میں پاکستان اور بھارت کو بھی شامل کرلیا ہے۔


2017 ء میں بھارت اور پاکستان شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے مکمل رکن کے طور پر اس تنظیم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس اتحاد نے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں، خصوصاً یونی پولر طاقت کا اثر ختم کرنے میں۔ لیکن یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ اس تنظیم میں بھارت جیسی بڑی معیشت اور ریاست کی شمولیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی شمولیت اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان کے بغیر علاقائی توازن برقرار نہیں رہ سکتا ۔ لہٰذا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا یہ خواب کہ پاکستان کو عالمی اور علاقائی طور پر تنہا کردیا جائے، پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ پاکستان، خطے کے علاوہ مسلم ممالک میں بھی اپنی ایک حیثیت رکھتا ہے اور ایک ایسا ملک جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہے، جو پاک چین راہداری سے خطے میں گیم چینجر بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ایک طاقتور وار مشینری اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک اور اس ریاست کے خلیجی اور دیگر ریاستوں کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات اور دیگر لاتعداد وجوہات ہیں جو ریاست پاکستان کے بارے میں مودی صاحب کے خواب کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ اور بھارتی وزیراعظم کی یہ خواہش کہ چین کو یہ ثابت کردیں کہ خطے میں چین کے لئے بھارت اہم ہے پاکستان نہیں، اس پر یہ کہنا کافی ہے کہ جس قدر چین پاکستان کے لئے اہم ہے، اس سے کہیں زیادہ پاکستان چین کے لئے اہم ہے۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

جی20 گو دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کی ایک تنظیم ہے جو دنیا میں اپنے معاشی، اقتصادی اور کاروباری معاملات کو زیربحث لانے اور مختلف اقدامات اٹھانے کے لئے منعقد ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات عالمی سیاست میں طے ہے کہ تنازعات، عالمی تجارت، معیشت اور اقتصادیات پر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ چین جو عالمی معیشت میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، وہ پچھلی ایک دہائی میں اہم سٹریٹجک طاقت کے طور پر بھی ابھر رہا ہے، یعنی معیشت اور سٹریٹجک مفادات عالمی سطح پر باہم جڑ جاتے ہیں۔

*****

بھارتی وزیراعظم کو یقیناًیہ بھی علم ہونا چاہیے کہ پاکستان خطے میں امریکہ کا اتحادی بھی ہے اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات معیشت سے لے کر سٹریٹجک معاملات تک منسلک ہیں۔ امریکہ اس بدلتی عالمی صورتِ حال میںیقیناًپاکستان کو کسی بھی صورت کھونا نہیں چاہے گا۔ چین، پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے صرف اقتصادی حوالے سے ہی مزید قریب نہیں ہورہا بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قدرتی سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر مزید مستحکم منصوبہ بندی کررہے ہیں

*****

ہونگ زو سمٹ نے اڑتالیس نکات پر ایک قرارداد پاس کی جس میں پینتالیس نکات عالمی معیشت، تجارت اور منڈیوں کے حوالے سے تھے جبکہ ایک نکتہ عالمی دہشت گردی کے حوالے سے ہے جوکہ درحقیقت پینتالیس قراردادوں کو تحفظ دینے کے زمرے میں آتا ہے کہ ہم مل کر دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کریں گے۔

*****

 
13
October

تحریر: حماس حمید چوہدری

آج پوری دنیا کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہیں جہاں جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے دواہم ممالک پاکستان اوربھارت واقع ہیں۔ اگر بھارت کی بات کی جائے تو جب سے نریندر سنگھ مودی نے وزارت عظمٰی کا قلمدان سنبھالا ہے تب سے لے کر اب تک بھارتی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح خطے میں عدم توازن پیدا کرنا ہے چاہے وہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرنے سے ہو یا بلوچستان میں ’را‘ کے ذریعے بغاوت کی تحریکوں کو جنم دینے سے ہو، بہرحال جو ریاست اپنی حدود کے اندر مذہب ، لسانیت یہاں تک کہ انسانیت کا بنیادی توازن بھی برقرار نہ رکھ سکے اس سے خیر کی امید رکھنا محال ہے۔


اگر پاکستان کی بات کی جائے تو 2008ء کے بعد سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہوچکاہے جوکہ ایک حدتک درست بھی تھا اور اس کی وجوہات ما ضی میں ہماری ناکام سیاسی پالیسیاں اور اندرونی دہشت گردی کا بڑھتا ہوا رجحان تھا۔ لیکن پچھلے دو سالوں سے حالات قدرے مختلف ہیں جس کی ایک وجہ خارجہ و قومی سلامتی کے امور پر تمام قومی اداروں کا ایک پیج پر ہونا ہے اور دوسری وجہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے منظور شدہ قومی ایکشن پلان ہے جس کے تحت پاک فوج نے ملک کے چپے چپے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور اب جبکہ وہ آپریشن کامیابی کے حتمی مراحل میں ہے تو ملک کے طول و عرض میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی سرکوبی کے لئے بلا امتیاز کومبنگ آپریشن بھی شروع کیا جا چکا ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ کی بطور مشیر قومی سلامتی تقرری بھی ایک کامیاب فیصلہ ثابت ہوا ہے جن کی عسکری و سفارتی کامیابیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

 

pakrustalaq.jpgدنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر پاکستان نے نہ صرف اپنے اندرونی حالات کی بہتری میں بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بھی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سے ایک قدم خطے کے ایک مضبوط ملک روس کے ساتھ تعلقات کو سفارتی سطح پر نیا موڑ دینا ہے۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی علاقائی طاقتوں سے بہتر تعلقات کے قیام کی جانب گامزن ہے جس کا نتیجہ سی پیک کی صورت میں ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ اور روس کے ساتھ تاریخی مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد ہے۔ بھارت کے متعدد بار درخواست کرنے کے باوجود روس نے اپنے فوجی جنگی مشقوں میں حصہ لینے کے لئے پاکستان بھیجے ہیں جس کا سہرا پاکستان کی کامیاب فارن پالیسی کو جاتا ہے۔ ان فوجی مشقوں کو سلواکیہ زبان کے لفظ ’’دروزھبا 2016ء‘‘ یعنی ’دوستی 2016 ء‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔


روس اور پاکستان کے تعلقات پچھلی کئی دہائیوں سے سرد مہری کا شکار تھے جس کی ایک بڑی وجہ افغان جنگ اور دوسرا پاکستان کی امریکہ سے ریاستی قربت تھی لیکن حالات نے اس وقت نازک صورت حال اختیار کی جب جون 2015ء میں امریکہ اور بھارت نے دس سالہ دفاعی معاہدے پردستخط کئے اور حالات نے پلٹا اس وقت کھایا جب 2016ء کے آغاز میں امریکی کانگرس نے پاکستان کو ایف۔16 جنگی طیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پاس کی اور یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ پاکستان یہ جنگی طیارے بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کا رخ علاقائی طاقتوں بالخصوص روس کی جانب کر دیا۔
پاکستان اور روس کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں جہاں ماضی میں تعلقات پیچیدہ رہے ہیں تو وہاں دونوں ممالک نے خوشحال سفارتی دور کاتجربہ بھی کیا ہواہے۔1991ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلی بار روس نے پاکستان کی جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی قرار داد کی مخالفت نہیں کی تھی۔اس کے علاوہ 1993ء میں جموں و کشمیرکی تحصیل بجبھرا میں بھارتی افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر روس نے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے باعث بھارتی حکام کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔2003ء میں سابق صدر پاکستان جنر ل پرویز مشرف نے روسی صدر کی دعوت پر روس کا ایک کامیاب سرکاری دورہ کیا تھاجس میں دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر کامیاب بات چیت ہوئی اور بہت سے معاشی و تجارتی معاہدوں اور یاد داشتوں پر دستخط بھی ہوئے تھے۔ اس کے علا وہ کچھ عرصہ قبل 2014ء میں پاکستان اور روس نے باہمی فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت 2015ء میں پاکستان نے مشرقی روس میں منعقد ہونے والی روسی وار گیمز میں بھی حصہ لیا تھا اور دوستی 2016 ء جنگی مشقیں بھی اسی معاہدے کا نتیجہ ہیں جبکہ روسی کمپنی ’’روسٹیک کارپوریشن‘‘ 2017 ء میں پاکستان میں ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے 680 میل لمبی گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔


اس تمام صورت حال کو دیکھ کر بھارتی و امریکی صفوں میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان اور روس کے ایک دوسرے کے ساتھ وسیع تر مشترکہ سیاسی و عسکری مفادات جڑے ہوئے ہیں۔یوکرائن اور کریمیا کے مسئلے کی وجہ سے روس کے مغرب سے تعلقات میں بگاڑ چل رہا ہے جس کی وجہ سے اسے خطے میں نئے دوستوں کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کو خطے میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت کو روکنے کے لئے نئی بین الا قوامی دوستیاں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ نیز بین الاقوامی برادری میں پاکستان، روس اور چین کی صورت میں ایک نیا بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے جس کی د و اہم وجوہات ہیں ایک تو بحر ہند اور بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک براہ راست رسائی اور دوسرے روس کی وسطی ایشیا سے ہوتے ہوئے واخان بارڈر کے ذریعے افغانستان تک رسائی ہے۔ اس کے علاوہ اگر روس کو اکنامک کوریڈور سے منسلک کر دیا جائے تو پاکستان کو وسطی ایشیا ئی ممالک اور روسی منڈیوں تک براہ راست رسائی ملنا ممکن ہے ۔ اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے آئے روز پاکستان کی عسکری امداد روک دی جاتی ہے یا کبھی عسکری تجارتی معاہدے معطل کر دیے جاتے ہیں تو اس صورت میں روس کوعسکری ٹیکنالوجی کے حوالے سے مغرب کے متبادل کے طورپر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دنیا میں قیام امن کے لئے پاکستان نے بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں اور مزید بھی دینے کے لئے تیار ہے لیکن اب پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت سمجھ چکی ہے کہ ہمیں
Proactive
سفارتکاری کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کی سفارتکاری میں پچھلے چند برسوں میں ایک سیاسی پختگی رونما ہوئی ہے۔ روس کے ساتھ حیرت انگیز طور پر چند سالوں میں اتنے قریبی عسکری تعلقات پیدا کرنا ہماری عسکری پالیسی کی کامیابیوں کا ایک اہم سنگ میل ہے ۔ پاکستان، چین اور روس کا اتحاد اس خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں بے حد مددگار ثابت ہوگا۔ سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعدسے دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ گیا تھا اور امریکہ واحد سپر پاور بن کر ابھرا تھا جس کے باعث ایک خلا پیدا ہوگیا تھا جو آج تک پُر نہیں ہو سکا۔ چین ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے اور روس بھی بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے جبکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے لیکن یہ تینوں تن تنہا اس عدم توازن کے خلا کو پُر نہیں کر سکتے اگرچہ تینوں مل کر کام کریں اور ایک بلاک کی شکل اختیار کر لیں تو یہ خلا پُر ہوسکتا ہے اور یہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لئے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر پاکستان نے نہ صرف اپنے اندرونی حالات کی بہتری میں بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بھی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سے ایک قدم خطے کے ایک مضبوط ملک روس کے ساتھ تعلقات کو سفارتی سطح پر نیا موڑ دینا ہے۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی علاقائی طاقتوں سے بہتر تعلقات کے قیام کی جانب گامزن ہے جس کا نتیجہ سی پیک کی صورت میں ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ اور روس کے ساتھ تاریخی مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد ہے۔

*****

روس اور پاکستان کے تعلقات پچھلی کئی دہائیوں سے سرد مہری کا شکار تھے جس کی ایک بڑی وجہ افغان جنگ اور دوسرا پاکستان کی امریکہ سے ریاستی قربت تھی لیکن حالات نے اس وقت نازک صورت حال اختیار کی جب جون 2015ء میں امریکہ اور بھارت نے دس سالہ دفاعی معاہدے پردستخط کئے اور حالات نے پلٹا اس وقت کھایا جب 2016ء کے آغاز میں امریکی کانگرس نے پاکستان کو ایف۔16 جنگی طیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پاس کی اور یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ پاکستان یہ جنگی طیارے بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کا رخ علاقائی طاقتوں بالخصوص روس کی جانب کر دیا۔

*****

 
13
October

خصوصی رپورٹ: صبا زیب

پاکستان اور روس کی پہلی مشترکہ جنگی مشقوں کے بارے میں سپیشل سروسز گروپ کے تربیتی مرکز چراٹ سے صبا زیب کی خصوصی رپورٹ

mushtirka.jpgپہاڑوں میں گونجتی ہوئی گاڑی کی آواز اور اس کی بازگشت بل کھاتے راستوں میں دل کی دھڑکن کو مزید تیز کر رہی تھی۔ اپنے ملک کے ایس ایس جی کے جوانوں کو دیکھنے کی خواہش اور جوش دل و ماغ کو کسی اور ہی دنیا کی سیر کروا رہا تھا۔ کانوں میں ابھی سے اپنے ہی کمانڈوز کے بوٹوں کی دھمک اور ’’من جانبازم‘‘ کی گونج ان پہاڑوں میں سنائی دے رہی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ یہ راستے جلد از جلد ختم ہو جائیں اور میں ان جوانوں سے ملوں، جو اس ملک کی خاطر جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں جن کی زندگی کا مقصد صرف ملک کی خاطر کچھ کرگزرنا ہے۔ آج ہم چراٹ جا رہے تھے جہاں پاکستان اور روس کے فوجی جوان مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے تھے۔ ہمارا یہ مختصر قافلہ یوسف عالمگیرین (ایڈیٹر ہلال اردو)، ماریہ خالد (ایڈیٹر ہلال انگلش)، راقم (ڈپٹی ایڈیٹر ہلال اردو) پر مشتمل تھا۔ چراٹ کو دیکھنے کی خواہش بہت عرصے سے تھی کیونکہ یہاں پاکستان کے سپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی)کا بیس کیمپ تھا۔ چراٹ کو 1956 میں ایس ایس جی کے قیام کے بعد ’کمانڈوز کے گھر‘ کا درجہ ملا لیکن اس سے پہلے آرمڈ کور کے بوائز ونگ نے بھی کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ چراٹ میں سپیشل سروس گروپ نے جہاں اپنے ملک کے جوانوں کی تربیت کی وہاں بہت سی غیرملکی فوجوں کو بھی اپنی مہارتیں سکھائیں۔ روسی حکومت نے بھی پہلی بار اپنے فوجی جوانوں کو پاکستان کے اس پہاڑی مقام پر مشترکہ فوجی مشقوں کے لئے بھیجااور پاکستان نے بھی ان کا دل سے استقبال کیا۔ایسے وقت میں جہاں انڈیا امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں طاقت کے توازن میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہاں پاکستان اور روس کی یہ مشترکہ فوجی مشقیں خطے میں امن لانے کی طرف ایک اچھی پیش رفت ہے۔ ماضی میں پاکستان کی طرح روس کو بھی علاقائی دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان مشقوں کے ذریعے خطے میں دہشت گردی کے واقعات کو بھی کم کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔
پاک روس مشترکہ مشقوں کی اہمیت کے پیش نظر ہلال کی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ ان مشقوں کو دیکھا جائے اور قارئین کو بھی ان مشقوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جائے نیز یہ بھی بتایا جائے کہ روسی فوجیوں کے شب و روز یہاں، پاکستان میں، کیسے گزر رہے ہیں۔


مشترکہ مشقوں کے لئے آئے ہوئے روسی فوجیوں میں تقریباً15مسلمان فوجی بھی شامل ہیں۔ ہمارے
Liaison Officer
ltsajad.jpgاور ایس ایس جی ٹریننگ کے ذمہ دار افسر لیفٹیننٹ کرنل سجاد نے ہمیں بتایا کہ ان مشقوں کے دوران ہم ایک دوسرے سے چھوٹے پیمانے پر ایکشن لینا، پہاڑوں میں جنگی تربیت اور ایریا کلیئرنس کے علاوہ ایک دوسرے سے ٹارگٹس کو نشانہ لگانے کی مختلف ٹرکس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ہتھیار بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان مشقوں میں جسمانی فٹنس کی مشقیں، ہدف کو نشانہ بنانے،رسی کے ساتھ اور بغیر رسی کے، ہیلی کاپٹر سے چھلانگ، شامل ہیں۔ کرنل سجاد نے بتایا کہ اس ٹریننگ کا مقصد دونوں ممالک کی فوجوں کو ایک دوسرے کی جنگی مہارتیں سکھانا ہے۔ اس کے علاوہ اس ٹریننگ کے آخری روز پاکستان ایئرفورس کو بھی اس ٹریننگ کا حصہ بنایا جائے گا۔ ہم لیفٹیننٹ کرنل سجاد سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک میری نظر تھوڑے فاصلے پر روسی اور پاکستانی فوجیوں پر پڑی جو جمگھٹا بنا کر کھڑے تھے۔ اپنی ساتھی ماریہ (انگلش ایڈیٹر) کی توجہ اس طرف دلائی اور ہم فوراً ہی اس طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ایک روسی فوجی زمین پر لیٹا ہوا تھا اور دو روسی فوجی اپنے سینئر فوجی کی ہدایات پر اس لیٹے ہوئے فوجی کو رسیوں سے ایک مخصوص انداز میں باندھ رہے تھے۔ ہمارے کچھ فوجی جوان بھی انہیں دیکھ رہے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر ایک روسی مترجم نے ہمیں بتایا کہ ہم زخمی فوجی کو پہاڑوں سے نیچے محفوظ طریقے سے ایسے ہی لے کر جاتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس یہ رسیاں موجود نہ ہوں تو ہم
Sleeping bags
استعمال کرتے ہیں۔ باندھے جانے والے فوجی کا ایک ہاتھ رسیوں سے باہر تھا جس کا مقصد خون کے بہاؤ میں روانی تھی۔ ہمارے فوجی رسیوں کی بجائے بانس اور لکڑی استعمال کرتے ہیں ۔روس چونکہ سرد علاقہ ہے وہاں لکڑی اور بانس نہیں andry.jpgملتے اس لئے رسی استعمال کی جاتی ہے۔ اسی دوران ہمارے مترجمین صوبیدار نصیر احمد اور نائب صوبیدار محمد ریاض نے ہمیں بتایا کہ ان مشقوں کے دوران ایک روسی فوجی بیمار ہو گیا اور جب اسے ہسپتال لے جایا گیا تو اس نے کہا کہ مجھے واپس مشقوں والی جگہ پر لے کر جاؤ میں یہاں آرام کرنے نہیں آیا بلکہ کچھ سیکھنے آیا ہوں۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ روسی فوجی بہت محنتی ہیں اور ان کا اخلاق بھی بہت اچھا ہے اور واقعی جب ہم نے ان سے بات کرنا شروع کی تو ہمیں ان سے بالکل بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے چہروں سے ہی ان کی خوشی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا تھا۔ وہاں پر موجود ہر جوان پر جوش اور پُراعتماد نظر آ رہا تھا روسی کمانڈر اور کرنل سجاد کی ایک میٹنگ کا وقت تھا۔ اس لئے ہم نے سوچا کہ پہلے جوانوں سے بات کی جائے لہٰذا ہم نے وہیں کھڑے کھڑے روسی جوانوں سے بات چیت کرنا شروع کر دی۔ آندرے نے جو کہ روس کی فوج میں ایک سارجنٹ کے عہدے پر ہے، ہمیں بتایا کہ اسے یہاں پر آنا بہت ہی اچھا لگا۔ یہاں کے لوگ اور خاص طور پر یہاں کے فوجی بہت اچھے ہیں۔ ان کی ضیافت اور مہماں داری مجھے بہت پسند آئی ہے۔

rajabali.jpg
رجب علی بھی روسی فوج میں ایک سارجنٹ ہے کا کہنا تھا کہ یہ مشترکہ مشقیں ہمارے لئے بہت فائدہ مند ہیں اور یہ ایک اچھا تجربہ ہے۔ اس طرح کی مشقیں آئندہ بھی ہونی چاہئیں۔ رجب علی نے بتایا کہ اس نے اس ٹریننگ میں بہت سی نئی چیزیں سیکھیں۔ خاص طور پر ایک مخصوص جمپ جسے پاکستان میں ٹائیگر جمپ کہا جاتا ہے۔ رجب علی نے کہا کہ وہ اس جمپ کو اپنی ٹریننگ میں باقاعدہ شامل کرے گا۔ پاک روس مشترکہ مشقوں کے حوالے سے ہماری روسی فوجیوں کے بریگیڈ کمانڈر کرنل
Dmitriev
Sergie Alexandrovich
سے بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے بہت خوش نصیبی کی بات ہے کہ میں پاکستان میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ ہمارا مقصد آپس میں اچھے تعلقات قائم کرنا ہے۔ پاکستانی فوجیوں کے بارے میں بات کرتے sargie.jpgہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بہت اچھے تربیت یافتہ ہیں اور ان کا رویہ بھی ہمارے ساتھ نہایت پیشہ ورانہ ہے۔ ان کے اخلاق نے بھی ہمیں بہت متاثر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حالات کے بارے میں میرے خیالات ہمیشہ سے مثبت رہے ہیں۔ یہ صرف میڈیا پروپیگنڈا ہے جس نے پاکستان کا تاثر اتنا غلط دیا ہوا ہے جبکہ یہاں آ کر میرے خیالات پاکستان کے بارے میں مزید مثبت ہو گئے ہیں۔ یہاں ہمارے لئے خاص طور پر اتوار کے دن چرچ میں عبادت کا انتظام کیا گیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ اقلیتوں کو ان کی عبادت گاہوں میں جانے سے منع نہیں کرتے بلکہ انہیں آزادی سے عبادت کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقوں کے حوالے سے
Dmitriev Sergie
نے کہا کہ یہاں کے سولجرز پیشہ ورانہ انداز سے تربیت دے اورلے رہے ہیں۔ ویسے تو زیادہ تر مشقیں پوری دنیا میں ایک جیسی ہوتی ہیں لیکن کچھ مشقیں جگہوں کے لحاظ سے منفرد ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہم نے یہاں چراٹ کے علاقے میں بہت mushtirka1.jpgسی منفرد ٹیکنیکس سیکھی ہیں۔ یہاں کے انسٹرکٹرز اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ اس لئے ہم ان سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں اور بدلے میں انہیں بھی سکھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی ایسی مشقیں ہونی چاہئیں ۔ یہ دونوں ممالک، پاکستان اور روس کی، مشترکہ فوجی مشقیں اس خطے کے لئے ایک بہت بڑا بریک تھرو ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے باہمی تعاون سے ہمیں دہشت گردوں سے نپٹنے میں آسانی ہو گی اور امن ضرور قائم ہو گا۔ موجودہ مشترکہ فوجی مشقیں روس اور پاکستان کو قریب لے آئی ہیں اور خطے میں ایک توازن کی فضا قائم ہو رہی ہے جو اس خطے کے تمام ممالک میں امن کی صورت حال بہتر کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔ میں چاہوں گا کہ پاکستانی فوج کے جوان بھی ہمارے ملک میں آئیں۔ ہم انہیں ضرور خوش آمدید کہیں گے۔ یہاں کے کلچر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور ہماری فوج میں بھی کافی مسلمان موجود ہیں۔ لہٰذا یہاں کے لوگوں کا رہن سہن ہمارے لئے اجنبی نہیں ہے۔
بریگیڈکمانڈر سے بات کرنے کے بعد ہم نے روسی اور پاکستانی نوجوانوں کی مشقیں دیکھنے کا ارادہ کیا۔ ان جوانوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک گروپ پہاڑ پر چڑھنے کی مشق میں مصروف تھا دوسرا گروپ پہاڑ میں چھپے دہشت گردوں کی تلاش کی تیاری میں تھا اور تیسرا گروپ
Fighting in Builtup Area
یعنی کسی آبادی میں چھپے ہوئے دشمن کو ڈھونڈنے کی تیاری میں تھا۔ سب سے پہلے ہم نے فوجی جوانوں کی پہاڑ پر چڑھنے کی مشق دیکھی۔ دونوں ملکوں کے فوجی جوان بڑی مہارت اور پھرتی کے ساتھ پہاڑ پر کمند کی مدد سے چڑھے ۔ کچھ دیر بعد دو دو اور تین تین کی ٹولیوں میں اپنی مہارتیں دکھاتے ہوئے برق رفتاری سے فائرنگ کرتے ہوئے پہاڑ سے نیچے اترے۔ ایک گروپ پاکستان اور روس کے پرچم بھی اپنے ساتھ اوپر سے نیچے لایا۔ اس کے بعد ہلال ٹیم کو اس جگہ لے جایا گیا۔ جہاں دونوں ممالک کے فوجی جوان
Ambush
کرنے کی مشقوں میں مشغول تھے۔ایکسرسائز کی جگہ پہنچے جہاں دوسرے گروپ نے پہاڑ میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی تیاری مکمل کی ہوئی تھی۔ اس آپریشن میں کچھ فوجی جوان سڑک کی اطراف میں چھپ کر دہشت گردوں کی گاڑی کا انتظار کرنے لگے۔ اچانک گاڑی ایک موڑ سے نمودار ہوئی اور چھپے ہوئے فوجیوں نے اس گاڑی پر اچانک حملہ کیا۔ اس وقت دہشت گردوں نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے کچھ فوجیوں کو مارگرایا۔ لیکن پھر بھی دہشت گردوں پر فوجیوں نے قابو پا لیا۔ یہ مشق اتنی حقیقی لگ رہی تھی کہ اگر ہمیں پہلے سے معلوم نہ ہوتا کہ اس میں بلینک فائر استعمال کیا گیا ہے تو ہم کبھی بھی یہ سب اتنے قریب سے نہ دیکھتے۔اسی طرح تیسری ایکسرسائیز جو گھر کو دشمنوں سے کلیئر کرنے کی تھی۔ اس مشق کے لئے ان فوجی جوانوں نے مٹی اور اینٹوں سے گھر بنائے ہوئے تھے۔ جن میں انہوں نے یہ مشق کامیابی کے ساتھ پوری کی۔ پاکستانی فوجی تو تھے ہی ہمارے اپنے لیکن روس کے فوجیوں کے ساتھ بھی اجنبیت کا احساس تک نہیں ہوا۔ ان فوجیوں سے ملاقات ہمارے لئے خاص طور پر ایک منفرد تجربہ تھا۔ ہم نے اپنے میزبان میجر کفیل کا شکریہ ادا کیا اوراس احساس تفاخر کے ساتھ چراٹ سے واپس روانہ ہوئے کہ ہماری افواج پاکستان اور بالخصوص ہمارے سپیشل سروسز گروپ کے جوان دنیا بھر کی کسی بھی پیشہ ورانہ جدید ہتھیاروں سے لیس افواج سے

mushtarka2.jpg

چنداں کم نہیں۔ اور ہم اس احساس کے ساتھ بھی واپس آئے کہ ہماری پیشہ ور افواج کے ہوتے ہوئے کوئی بھی دشمن پاکستان کی جانب میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا کہ پاکستان خطے کے ایک اہم اور مضبوط ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے۔

 
13
October

تحریر: جبار مرزا

راولپنڈی کے الشفا آئی ٹرسٹ کی بنیاد ایک بہت ہی دلچسپ مکالمے پر رکھی گئی تھی۔ یہ 17اپریل 1984کے تھوڑا بعد کی بات ہے جب جنرل جہانداد خان سندھ کے گورنر تھے۔ اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیأالحق کراچی گئے تو رات کے کھانے پر جب کوئی تیسرا نہیں تھا جنرل جہانداد خان نے ضیأالحق سے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کیا کریں گے؟ اس اچانک سوال پر جنرل ضیأالحق حیران ہوئے اور کوئی جواب نہ دے پائے لیکن تھوڑے سے توقف کے بعد جنرل ضیأالحق نے جہانداد خان سے پوچھا۔ آپ نے کیا سوچ رکھا ہے؟ وہ بولے۔ میرا ارادہ ایک فلاحی ٹرسٹ قائم کرنے کا ہے۔ جو امراض چشم کے علاج معالجہ کی تدابیر کرے گا۔ اس سلسلے میں راولپنڈی میں عالمی معیار کا ایک ہسپتال سب سے پہلے قائم کیا جائے گا۔ کیا خیال ہے؟ آپ اپنی نجی حیثیت میں اس کارخیر کے لئے بورڈ آف ٹرسٹی میں شامل ہوں گے؟ جنرل ضیأالحق نے فوراً حامی بھر لی اور کہا کہ میں اور میری بیگم ہم دونوں ٹرسٹ میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ راولپنڈی میں کسی مناسب جگہ پر سرکاری زمین کا اہتمام بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ ضیأالحق نے حکومت کی طرف سے پندرہ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا۔
جنرل جہانداد خان نے فوج سے ریٹائرمنٹ پر پنشن کی۔
Commutation
پر جو رقم ملی تھی وہ دس لاکھ روپے بھی اپنی طرف سے الشفاء ٹرسٹ میں دے دیئے۔ اسی اثنا میں، یہ 23مارچ 1985 کی بات ہے کہ، کراچی گورنر ہاؤس میں سیٹھ داؤد سے جب جنرل جہانداد نے بات کی تو انہوں نے بخوشی 15لاکھ روپے ٹرسٹ کو دے دیئے۔ یہ ان کی طرف سے پہلی قسط تھی۔ اس طرح ٹرسٹ کے اراکین کا پہلا اجلاس 20جون 1985کو ایوان صدر میں ہوا اس اجلاس میں متفقہ طور پر جنرل جہانداد خان کو ٹرسٹ کا صدر اور صدر پاکستان جنرل محمد ضیأالحق کو ٹرسٹ کا سرپرست اعلیٰ اور آئندہ کے لئے ٹرسٹ کے آئین میں شامل کر لیا گیا کہ جو کوئی بھی پاکستان کا صدر ہو گا وہ الشفاء آئی ٹرسٹ کا سرپرست اعلیٰ بھی ہو گا۔ ٹرسٹ کے پہلے اجلاس میں 6نکات پر اتفاق ہوا تھا جو اس کے اغراض و مقاصد ٹھہرے۔ جن میں نابینا پن کے خاتمے اور امراض چشم کے علاج کے لئے غرباء اور مستحقین کو علاج کی مفت سہولیات مہیا کرنا، ٹرسٹ نہ منافع کمائے گا اور نہ ہی سرکاری اور سیاسی نوعیت کا ہو گا۔ پہلے مرحلے میں راولپنڈی میں 250بستروں کا ہسپتال قائم کرنا اور بعد میں سکھر، ڈی آئی خان اور خضدار میں اسی معیار کے تین ہسپتالوں کا قیام اور پھر اسی طرح ہر صوبے میں الشفاء کا ایک ہسپتال قائم کرنا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف آفتھلمالوجی (ادارہ بصریات) کا قیام تاکہ ضروری افرادی قوت کو فروغ حاصل ہو اور جامع تحقیق کی جا سکے۔ مزید برآں دیہی علاقوں میں مریضوں کو ان کے دروازے پر طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے کمیونٹی پروگرام مہیا کرنا۔ اس پہلی میٹنگ کی آخری شق جس پر اتفاق ہوا تھا وہ یہ تھی کہ ٹرسٹ کے انتظامی ڈھانچے کو ایسی ادارتی بنیاد پر بنایا جائے گا جہاں ہر ٹرسٹی صرف اہلیت کی بنیاد پر منتخب ہو گا اور صدر پاکستان عہدے کے لحاظ سے ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ ہوں گے۔

alshifaitrust.jpgجنرل محمد ضیأالحق کے بعد الشفاء آئی ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان بنے تھے۔ الشفاء کی جب بلڈنگ تیار ہوئی اور ہسپتال نے باقاعدہ آغاز کیا تو 28اپریل 1991کو اس کا افتتاح بھی غلام اسحاق خان نے ہی کیا تھا۔
موجودہ صدر پاکستان جناب ممنون حسین ٹرسٹ کے آٹھویں سرپرست اعلیٰ ہیں۔ جبکہ ٹرسٹ کے بانی صدر جنرل محمد جہانداد خان کے بعد لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید(ر) الشفاء آئی ٹرسٹ کے صدر ہیں۔
18اگست 2016کو ورلڈ کالمسٹس کلب نادرن زون کے کالم نگاروں کا الشفاء آئی ٹرسٹ کے مطالعاتی دورے کے موقع پر جنرل حامد جاوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی مصروفیات کے بارے سوچ و بچار کر رہا تھا اور کئی اداروں کی طرف سے پیشکش بھی تھیں۔ مگر دل چاہ رہا تھا کہ کوئی ایسا ادارہ ہو جہاں زندگی رشک کرے۔ انہی دنوں جنرل جہانداد خان کا فون آیا ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ میرے لئے اعزاز تھا میں خود ملنے جانا چاہتا تھا مگر انہوں نے روک دیا اور خود اگلے روز گھر آ گئے۔ مجھ سے کہا میں چاہتا ہوں آپ ہمیں جوائن کریں۔ میں دوسرے روز الشفاء پہنچا سوچ رہا تھا مجھے کہاں رکھیں گے کہ اتنے میں جنرل جہانداد نے مجھے اپنی کرسی پر بٹھاتے ہوئے کہا کہ آج سے آپ الشفاء آئی ٹرسٹ کے صدر ہوں گے۔ میں اب آرام کرنا چاہتا ہوں اور پھر اس جملے کے ساتھ ہی جنرل حامد جاوید کی آواز بھرا گئی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اس لمحے اگر مجھ جیسا گارے کا بنا کوئی نحیف سا شخص ہوتا تو وہیں ڈھیر ہو جاتا۔ مگر جنرل حامد نے خود کو سنبھالا دیتے ہوئے جنرل جہانداد خان کے وجدان اور ادراک کے حوالے سے کہا کہ شاید جنرل جہانداد خان کو اپنے عدم سدھارنے کی خبر ہو گئی تھی۔ کیونکہ مجھے اپنا جانشین مقرر کرنے کے ایک ہفتے بعد وہ وفات پا گئے تھے۔


الشفاء آئی ٹرسٹ ہر سال پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کرتا ہے۔ جنوبی امریکہ کے آئی بینک سے معاہدے کے بعد ہر ماہ کم و بیش 120آئی ٹرانسپلانٹس ہوتے ہیں۔ پاکستان میں جدید طرز کا ایسا ادارہ بڑی غنیمت ہے۔ ٹیم ورک اور ویلیوز کی پاسداری الشفاء کی پہچان ہے۔ روزانہ کم از کم 100آپریشن ہوتے ہیں۔ 80فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ مریضوں کو تین کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک وہ جو روپیہ پیسہ دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، دوسرے وہ جو سفید پوش ہیں تھوڑا بہت دینے کی سکت رکھتے ہیں اور تیسری کیٹگری ان مریضوں کی ہے جو علاج معالجے کی ساری رقم دے سکتے ہیں البتہ کسی کیٹگری سے امتیازی سلوک نہیں ہوتا۔ بطور مریض سب سے ایک سا سلوک ہوتا ہے۔ جنوبی امریکہ سے عطیہ کی گئی آنکھ کا خرچ یعنی منگوانے کا کرایہ 600 ڈالر ہے جو الشفاء کو ہر حال میں دینا پڑتا ہے۔ اب تک الشفاء آئی ٹرسٹ لاکھوں لوگوں کو بینائی جیسی نعمت دے چکا ہے۔ پوری رقم ادا کر کے علاج کرانے والے مریضوں کی تعداد 5فیصد سے بھی کم ہے۔ایک دن میں جتنے مریض رجسٹر ہوتے ہیں ان سب کو اسی روز دیکھنا ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی صاحب حیثیت شخص لاکھ سوا لاکھ روپے خرچ کر کے آنکھیں جیسی نعمت حاصل کر لیتا ہے تو اس کے لئے فائدہ ہی فائدہ ہے۔


الشفاء آئی ٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق 80فیصد نابینا لوگوں کا بروقت علاج کر کے ان کی بینائی بحال کی جا سکتی ہے۔ لیکن نامساعد حالات اور لاپروائی لوگوں کو بینائی سے محروم کر دیتی ہے۔ بسااوقات عدم آگاہی بھی مسائل کا باعث بن جاتی ہے۔ کئی مریض محض اس لئے آپریشن سے گھبراتے ہیں کہ مبادا جو تھوڑا بہت دکھائی پڑتا ہے کہیں اس سے بھی محروم نہ ہو ناپڑ جائے۔ اس سلسلے میں الشفاء کا شعبہ کلینیکل سائیکالوجی کے ماہرین تمام مراحل میں مریضوں کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے کسی مریض کی بینائی ہمیشہ کے لئے چلی جائے تو ایسے میں مریض کے لواحقین کو اعتماد میں لینا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ امر بھی کسی المیے سے کم نہیں ہے کہ بعض والدین اپنے بچوں کے علاج کی بجائے پیروں فقیروں کے چکر میں پڑ جاتے ہیں اس میں شک نہیں کہ الشفاء آئی ٹرسٹ میں آنکھوں کے علاج کے لئے ہر طرح کی سہولت موجود ہے مگر مستقل طور پر نابیناؤں کی تعلیم کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں اور یہ صرف الشفاء کا ہی نہیں ب