29
April
جنوری 2014
شمارہ:7 جلد :50
جبار مرزا
ترکوں کی پاکستان سے اور پاکستانیوں کی ترکوں سے دوستی کا مجھے ذاتی طور پر پہلی دفعہ مارچ 1973ء میں تجربہ ہوا تھا۔ ارزِروم سے استنبول تک کسی نے مجھے ایک لمحے کے لئے بھی تنہا نہ چھوڑا۔ میں بذریعہ ریل انقرہ تک اور پھر بحری جہاز سے بحیرہ اسود پار کر کے استنبول پہنچا تھا۔ (اُس وقت تک ابھی پل کی تعمیر عمل میں نہیں آئی تھی) سارے راستے میں....Read full article
 
محمود شام
میں انٹرنیٹ پر مختلف Websitesپر جا کر نظر ڈال رہا ہوں۔ صفحات کے پرنٹ نکال رہا ہوں۔ باربار سیڑھیاں چڑھ کراپنی لائبریری سے کچھ رپورٹیں‘ کتابیں لے کر آرہا ہوں۔ میری بیگم میری بے چینی دیکھ کر پوچھ رہی ہے کہ آپ کس مخمصے میں ہیں۔ میں ’’امریکہ‘ بھارت....Read full article
 
منیر احمد بلوچ
آج نشان حیدر کا وارث افواج پاکستان کا سپہ سالار ہے وہ جو ماں کی طرف سے میجر عزیز بھٹی شہید اور باپ کی طرف سے میجر شبیر شریف شہید کے نشان حیدر کا امین ہے وہ یقیناََ اپنی وراثت کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا عزم کئے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کی کمان سنبھالتے ہی وہ ہر فرنٹ پر دشمن....Read full article
 
مجید اصغر
صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ تین لاکھ47 ہزارمربع کلو میٹر رقبے پرمحیط پاکستان کایہ بڑا صوبہ زیادہ تربے آب وگیاہ پہاڑوں،تاحد نظر پھیلے ہوئے صحراؤں‘ ریگستانوں اورخشک وبنجر میدانی علاقوں پرمشتمل ہے، قابل کاشت اراضی کل رقبے کا صرف6 فیصد بتائی جاتی ہے،جو آبپاشی کے محدود وسائل کی وجہ سے اناج کی....Read full article
 
سکندر حمید لودھی
پاکستان کو دس بارہ سال کی مسلسل کوششوں کے بعد چند ہفتے قبل یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کا درجہ دے دیاہے یہ سہولت آٹھ نودیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کو بھی ملی ہے جس میں سری لنکا اور بنگلہ دیش قابلِ ذکر ہیں۔ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان 27 ممالک کو اپنی ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر اور دیگر مصنوعات رعایتی....Read full article
 
یاسر پیرزادہ
ایک ایسے شخص کی کہانی جس کو 21 سال کی عمر میں ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ وہ دوتین سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکے گا مگر69 برس کی عمر میں وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ کئی کتابوں کا مصنف بھی ہے....Read full article
 
شیریں حیدر
میں نے چپڑاسی کے ہاتھ سے کارڈ لے کر اسے پڑھا، ’’امبر علی‘‘ نام کے نیچے اس کے کاروبار کی نوعیت درج تھی۔ وہ فوڈ سپلائی کے ایک سلسلے کی انچارج تھیں۔ ’’بھیجو اسے میرے پاس! ‘‘ میں نے اپنے سامنے پھیلی فائلوں کو سمیٹ کر ایک طرف کیا اور اس کے آنے کا انتظار کرنے لگی....Read full article
 
محسن علی
قومی ہاکی ٹیم کی ناؤ کو عالمی سطح پر پے در پے شکست کے بھنور سے نکالنا کسی چیلنج سے کم نہیں اور چیلنج قبول کرنا محمد عمران کی فطرت میں ہے۔ 2011 میں ہار اور جیت کے تھپیڑے کھاتی اس ٹیم کی کپتانی محمد عمران کو ملی جسے نہ صرف انہوں نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا بلکہ ایسے حالات میں ایشین ہاکی....Read full article
 
بریگڈیئر ایس کے شاہ
انسانی تہذیب و تمدن کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ روزِ اول سے جہاں جہاں بھی قدرت نے دریا‘ ندی یا چشمہ بہا دیا وہاں انسانی تہذیب پروان چڑھی۔ بستیاں قائم ہوئیں‘ کچے پکے راستے بنے اور ترقی کی منزلیں طے ہوتی گئیں۔ آج بھی شاہراہیں اپنے کنارے آباد بستیوں‘ شہروں اور ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ معاشی فوائد کی رسی میں تسبیح کے....Read full article
 
تنو یر ظہو ر
جنگِ ستمبر1965ء میں افواجِ پاکستان نے بہادری کے جو باب رقم کئے اور جس جوانمردی سے دشمن کے دانت کھٹے کئے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس موقع پر قومی اتحاد کا جوروح پرور مظاہرہ پیش کیا گیا وہ بلاشبہ ہماری مسلح افواج اور پاکستانی قوم کا مشترکہ سرمایہ اور اعزاز ہے....Read full article
 
فیض احمد فیض
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں‘ کب بات میں تری بات نہیں صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں‘ دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا‘ وہ شان سلامت رہتی ہے....Read full article
 
رابعہ رحمن روہی
زندگی ایک کہانی ہے اور ہم سب اس کہانی کے جیتے جاگتے کردار ہیں۔ان کرداروں میں دھنک کے رنگ بھرنے ہیں یا اماوس رات کے‘ یہ فیصلہ تقدیر کے ذمے لگا دیا جاتا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں۔ ہم ان میں اپنی خواہشات‘ اپنی استطاعت‘ اپنی عادات اور سوچ کے مطابق رنگ بھرتے چلے جاتے ہیں۔ جہاں کہیں خواہشات کی پریوں کے پر کٹنے لگتے ہیں تو....Read full article
 
لیفٹینٹ کرنل عارف محمود
افواجِ پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی اور اخُّوت ملی کی مثالی فضا برقرار رکھی ہے۔ ہماری افواج قومی مساوات و یگانگت کی ایک زندہ تصویر ہیں۔ ان کی صفوں میں ہر صوبے اور خطے کے افرادکی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ افواجِ پاکستان کے افسر اور جوان علاقائی و لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر دفاعِ وطن اور....Read full article
 
عذرا انتظار
پاکستانی کھلاڑی قیصر اقبال نے یونان میں ہونے والی ورلڈ امیچر چیس چیمپین شپ 2013 میں چھٹی پوزیشن حاصل کی اور پاکستان پہلی بار ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل ہو گیا۔اس سلسلے میں ان سے کی جانے والی گفتگوپیشِ خدمت ہے۔....Read full article

 
طارق بابر خا ن
(یہ نظم شاعر کے تخیل پر مبنی ہے جس میں میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر اپنے بھائی (جنرل راحیل شریف) کی پروموشن پر اپنی خوشی کا اظہار بزبان شاعر کرتے ہیں) دی گئی ہے تمہیں ذمہ داری شان سے....Read full article
 
عبدالستار اعوان
دو رویہ کھڑے فوجی جوانوں کی رائفلیں اوپر کو اٹھیں اور فضاء میں اس نعرے اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے عجب سا سماں باندھ کے رکھ دیا۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے چوک سرور شہید کے در و دیوار تک لرز اٹھے ہوں۔ ایسا لگ رہا تھا گویا پورا شہر ہی امڈ آیا ہو، کیا بچے، بوڑھے اور جوان سب پر ایک جوش، جذبہ اور ولولہ سا طاری تھا اور عوام کا جمِ غفیر....Read full article
 
سید شاہدہ شاہ
فنِ حرب و ضرب کا مؤرّخ جب بھی افواج پاکستان کی سگنلزکور کی تاریخ لکھے گا تو جہاں جہاں لڑاکا افواج کا ذکر آئے گا وہاں سگنلز بٹالین میں ’’قاصدان چھمب 1971ء‘‘ کا لقب حاصل کرنے والی اس سگنلز بٹالین کا ذکر بھی تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے ضرور تحریر کرے گا جو اب تک تمام سگنلز بٹالین میں جنگی اعزازات حاصل کرنے والی صف اول کی بٹالین....Read full article
 
خلیق تبسم
یوں تو رسول کریمﷺ کی ذات سراپا اعجاز ہے‘ تاہم آپﷺ نے لوگوں کو بہت سے معجزات بھی دکھائے اور ان میں سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو معجزہ مجھے عنایت کیا گیا وہ وحی (قرآن) ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا۔ اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی....Read full article
 
طارق بابر
غیرمُسلم مشاہیرنے کِس طرح صادق اور امین رسولﷺکی صداقت، امانت، اخلاقِ حسنہ اوراِسلام وقرآن کی حقانیت کی گواہی دی، مضمون ہذا کاموضوع ہے۔ نپولین نے ایک صدی قبل1914ء میں کہا: ’’میں امید کرتا ہوں کہ وقت بہت دورنہیں ہے جب میں اِس قابل ہو سکوں گاکہ تمام ممالک کے تمام دانشوروں اورتعلیم یافتہ مر دوں کومتحدکرکے صرف اورصرف قرآن کے یکتاطورپرسچّے....Read full article
 
لیفٹینٹ کرنل محمد شفق ملک
جنوری کی ٹھٹھرتی صبح پروین بیگم نے بڑے پیار سے اپنے بیٹے کو سکول کے لئے بیدار کیا۔ بچہ لحاف اوڑھے سکول نہ جانے کی ضد کر رہا تھا، شائد کوئی قوت اسے آج گھر سے نکلنے سے روکنا چاہتی تھی لیکن ماں نے بچے کی تعلیم کی خاطر ایک نہ سنی، بچے نے مزیدار ناشتے کی فرمائش کی شائد اسی بہانے ماں اس کی بات مان لے۔پروین بیگم نے بڑے چاؤ....Read full article
 
یوسف علمگیرین
مئی1980 میں ملٹری کالج جہلم کے شیرشاہ ہاؤس کے کورٹ یارڈ میں آٹھویں جماعت کی نئی انٹری کے کیڈٹس جن کا کالج میں پہلا روز تھا سلیقے سے رکھی گئی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور باری باری ڈائس پرآکر اپنا اپنا تعارف کروا رہے تھے۔ انہی کیڈٹس میں پشاور سے آنے والا ایک کیڈٹ ساجد....Read full article
 
کرنل محمد علیم انور
یہ تیس سال پہلے کی بات ہے میں اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا جب میری ملاقات صوبیدار عزیز احمد سے ہوئی۔ اُن کا نام میں نے قارئین کی سہولت کے لئے عزیز احمد رکھ لیا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کے مجھے اُن کا اصلی نام اب یاد نہیں رہا۔ اُن کا تعلق انجینئر کی ایک بٹالین سے تھا۔ یہ واقعہ بہادری یا شجاعت کا نہیں، نہ ہی یہ واقعہ تدبیرات و تزویرات کے....Read full article
 
دل نواز دلؔ
جان لے دلؔ اپنی جو پہچان ہے ملک صرف اور صرف پاکستان ہے آبروہے یہ ہمارا مان ہے آن بان اور یہ ہی اپنی شان ہے نور آنکھوں کا یہی دل کا سُرور دیدہ و دل کا یہی ارمان ہے دہر میں دیتا ہے جو ہم کو پناہ وہ یہی تو آخری دامان ہے....Read full article
 
گلناز خانم
ڈاکٹر یونس بٹ لکھتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نام پڑھ کر لگتا ہے تین آدمی ہیں۔ کام دیکھ کے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ پرانے وقتوں میں بھاری بھر کم اور لمبے چوڑے نام لکھنے کا رواج تھا۔ آج کل ہلکے پھلکے اور مختصر ناموں کا۔ جیسے ٹمی‘ جمی‘ مانی‘ ایک صاحب کے نئے پڑوسی آئے تو بے خبری میں انہوں نے جیکی بھائی ‘ جیکی بھائی....Read full article
30
December

ڈاکٹر یونس بٹ لکھتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نام پڑھ کر لگتا ہے تین آدمی ہیں۔ کام دیکھ کے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ پرانے وقتوں میں بھاری بھر کم اور لمبے چوڑے نام لکھنے کا رواج تھا۔ آج کل ہلکے پھلکے اور مختصر ناموں کا۔ جیسے ٹمی‘ جمی‘ مانی‘ ایک صاحب کے نئے پڑوسی آئے تو بے خبری میں انہوں نے جیکی بھائی ‘ جیکی بھائی پکارنا شروع کر دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ جیکی تو ان کے کتے کا نام ہے۔ ہماری ایک دوست نے اپنے نام ثمینہ کے ساتھ شانی جوڑا ہوا تھا اور کالج میں اسی نام سے مشہور تھیں۔ ایک ہم جماعت ان کے گھر گئیں اور پوچھا ثمینہ شانی ہیں۔ جواب ملا ثمینہ تو یہیں رہتی ہیں شانی اگلی گلی میں۔ نام جوڑنے میں احتیاط کرنی چاہئے۔ نام جڑنے سے نام خراب ہو جاتا ہے اور شادی کے بعد زندگی بھی۔ پاکستان میں ملتے جلتے نام اور نک نیم رکھنے کا بڑا رواج ہے۔ ہماری دو بھانجیوں مہروش اور سہروش کے بعد جب تیسری کی آمد ہوئی تو ہم نے جھٹ اس کا نام خرگوش تجویز کر دیا۔ ایک صاحب کالا کے نام سے کافی مشہور تھے۔ جب وہ گورا چٹا ’’کالا‘‘ ہمارے سامنے آیا تو دنگ رہ گئے۔ہر بندے کا کوئی نہ کوئی نک ضرور ہوتا ہے۔شریف عرف شرفو‘ جگا بدمعاش‘ نام رکھنے کے لئے ڈکشنریاں اور اسلامی نسبت نامے تلاش کئے جاتے ہیں اتنی پیچیدگی کی کیا ضرورت ہے۔ نام تو زلزلہ خان‘ زادہ خان بھی ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی نام میں کیا رکھا ہے۔ ایک نون‘ الف اور میم۔

بعض اوقات مخالف جنس کے نام رکھ دئیے جاتے ہیں۔ ہماری جماعت میں وقار (النساء) اور سرفراز چوہدری تھیں۔ ساری لڑکیاں ان سے دوستی کے چکر میں رہتیں۔ ہوش سنبھالنے تک ہم نسیم (حجازی) اور عشرت (العباد) کو عورت ہی سمجھتے رہے۔ والدین کا فرض ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کا اچھا نام رکھیں‘ ’’اچھو‘‘ نہ رکھیں۔ کچھ لوگ اداروں اور علاقوں کی نسبت سے نام میں اضافہ کرتے ہیں جیسے اوکاڑوی ‘ عیسیٰ خیلوی‘ چنیوٹی وغیرہ۔

نام کمانا

ہمارے معاشرے میں دولت کمانے سے نام کمانازیادہ مشکل ہے۔ عموماً بڑے نام کماتے ہیں اور اگلی نسل پر اس نام کو رکھنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جیسے وہ یوں پورا کرتے ہیں۔ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا اسی طرح نام سنہری حروف میں لکھنا اور نام روشن کرنا ہے۔ جیسے پپو اپنے والد کا نام کاغذ پر لکھ کر بلب پر چسپاں کر رہا تھا۔ والد نے ڈانٹا تو بولا۔ ’’اباجی آپ کا نام روشن کر رہا ہوں۔‘‘ نام بدنام حسد کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اور عاشقی میں ہو جاتا ہے۔ کچھ شخصیات بھی بدنام ہوتی ہیں عموماً سیاسی اور خصوصاً فلمی جیسے منی۔ ہمارے ہاں صرف نامور شخصیات پیدا ہوتی ہیں۔ نامور بننے کا عمل اگر ہو تو وہ اتنا سست ہوتا ہے کہ اس نام کے درمیان ’’کا‘‘ آ جاتا ہے۔

نام کرنا

اس میں دل اور زندگی کا زیادہ حصہ ہے۔ یہ دونوں اکٹھے ہی نام کئے جاتے ہیں اور دو طرفہ بھی ۔جائیداد اور وراثت بھی نام کرنا کے زمرے میں آتے ہیں البتہ یہ یک طرفہ اور متنازعہ ہیں۔ نام بدلنے کی روایت اداکاراؤں میں پائی جاتی ہے جن کے نام مشہور ہونے سے پہلے رامو‘ سیما اور شمیم ہوتے ہیں اور بعد میں بالترتیب رامیلہ‘ شین اور سُشمیتا ہو جاتے ہیں۔ برادری میں Statusبدلنے سے بھی نام بدل جاتے ہیں جو پہلے فیضو اور بعد میں فیاض ملک صاحب ہوتے ہیں۔

نام پیدا کرنا

نام ہمیشہ اچھے کاموں میں پیدا کیا جاتا ہے۔ پتہ نہیں علامہ اقبال نے غریبی میں پیدا کرنے کا کیوں کہا؟ اسی لئے آپ غریبوں میں شرح پیدائش زیادہ ہوتی ہے۔ ویسے نام وہ شے ہے جو آپ بلااعتراض شادی سے پہلے بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

29
December

دل نواز دلؔ

جان لے دلؔ اپنی جو پہچان ہے

ملک صرف اور صرف پاکستان ہے

آبروہے یہ ہمارا مان ہے

آن بان اور یہ ہی اپنی شان ہے

نور آنکھوں کا یہی دل کا سُرور

دیدہ و دل کا یہی ارمان ہے

دہر میں دیتا ہے جو ہم کو پناہ

وہ یہی تو آخری دامان ہے

جو نہ جانے منزلت اس ملک کی

وہ بڑا نادان ہے انجان ہے

ہند میں بننا یوں پاکستان ہے

عدل ہے اﷲ کا احسان ہے

سوز ہے یہ میرے ہر اک ساز کا

یہ ہی میرا کل سَروسامان ہے

فرض اپنا ہے‘ ادا کرنا ہے یہ

عہد دل کا آنکھ کا پیمان ہے

دل کی ہر دھڑکن کہے ہے اک ہی بات

زندگی ہے ملک میری جان ہے

کام کام اور کام کرنا دلؔ سے تم

قائداعظم کا یہ فرمان ہے

29
December

یہ نیا ہے سال اس نئے سال میں آؤ وعدہ کریں

ملک کے واسطے‘ قوم کے واسطے دل کشادہ کریں

وہ جو کمزور ہیں‘ وہ جو نادار ہیں اور بیمار ہیں

اُن کی خدمت کریں اور پہلے سے تھوڑا زیادہ کریں

زلزلے روکنا اپنے بس میں نہیں لیکن اتنا تو ہے

اپنے ٹوٹے گھروں کو نئے عزم سے ایستادہ کریں

کچھ نئی بستیاں‘ کچھ نئے ڈیم بھی اور سڑکیں نئی

ان کو تعمیر کرنے کا دل میں مصمم ارادہ کریں

اپنے قائد نے ہم سے کہا تھا یہی کام کرتے رہو

آؤ محنت کریں اور محنت بھی سب سے زیادہ کریں

اس نئے سال میں اپنے ہر عہد کا پھر اعادہ کریں

آؤ وعدہ کریں‘ آؤ وعدہ کریں‘ آؤ وعدہ کریں

کرامت بخاری

29
December

یہ تیس سال پہلے کی بات ہے میں اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا جب میری ملاقات صوبیدار عزیز احمد سے ہوئی۔ اُن کا نام میں نے قارئین کی سہولت کے لئے عزیز احمد رکھ لیا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کے مجھے اُن کا اصلی نام اب یاد نہیں رہا۔ اُن کا تعلق انجینئر کی ایک بٹالین سے تھا۔ یہ واقعہ بہادری یا شجاعت کا نہیں، نہ ہی یہ واقعہ تدبیرات و تزویرات کے بارے میں ہے ۔ اصل میں یہ واقعہ اس قومی جذبے کا مظہر ہے جس نے بھارت کا جنگی جنون اور طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا تھا۔ آئیے میں یہ قصہ آپ کو صوبیدار عزیز احمد کی ہی زبانی سناتا ہوں۔

میں اس وقت حوالدار تھا اور لاہور سیکٹر میں تعینات تھا۔ غالباً 8 یا 9 ستمبر1965ء کی رات تھی‘ جب ہمیں احکامات ملے کہ بی آر بی نہر کا مشرقی پشتہ توڑ دیا جائے تاکہ نہر کے مشرق میں زمین زیرِ آب آ جائے۔ اسے فوجی اصطلاح میںInundation کہتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی رسالہ نہر پار نہ کر سکے۔ ہم تندہی سے اس کام میں مصروف تھے کہ رات کے پچھلے پہر اچانک ہمارے بلڈوزر کا انجن کام کرنا چھوڑ گیا۔ انجن کا ٹھیک ہونا کسی طور ممکن نہ تھا۔ بارود بھی بہت محدود مقدار میں تھا۔ میں نے انجینئرپارٹی کو بیلچوں اور پھاؤڑوں کی مدد سے کام پر لگا دیا۔ ابھی بہت کام باقی تھا کہ اذانِ فجر سنائی دینے لگی، ادھر دُور مشرق سے دشمن کی توپوں کی گھن گرج اور ٹینکوں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔

اسی دوران ایک بوڑھی عورت پانی کا گھڑا بھرنے نہر پر آئی۔ ہمیں زمین کھودتے دیکھ کر اس نے پوچھا ’’بیٹا ایہہ تُسی کی کر دے ہو‘‘، اسی دوران وہ گھڑا بھی بھر چکی تھی۔ میں نے کہا ماں جی خطرہ ہے کہیں دشمن کے ٹینک نہر پار نہ کر جائیں اس لئے پشتہ توڑ رہے ہیں۔ جب اس طرف پانی بھر جائے گا تو یہ خطرہ نہیں رہے گا۔ یہ سنتے ہی اس نے اپنا بھرا ہوا گھڑا نہر میں انڈیل دیا۔

میرے تمام ساتھی جو تھکن سے چور تھے اور جن کے ہاتھوں میں چھالے پڑ چکے تھے اس بوڑھی عورت کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس کی نگاہ مشرق کی جانب تھی، اُس کی مٹھیاں بھنچ کر سفید ہو گئی تھیں اور آنکھوں میں شعلے تیرتے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ خالی گھڑا لئے وہ تو اپنے گھر کو لوٹ گئی مگر ہم اس جذبے کی لَو سے دہک اٹھے۔ بازوؤں میں جیسے بجلی بھر گئی۔ بیلچے تیز، اور تیز ، اور تیزبلکہ تیز تر ہوتے گئے۔ مجھے ناکامی کا خوف جاتا رہا۔ صبح آٹھ بجے نہر میں شگاف مکمل ہو چکا تھا۔ اس بڑھیا نے جو جذبہِ تازہ ہمیں دیا مجھے آج بھی یاد ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ د شمن کو شکست ہماری توپوں اور ٹینکوں نے نہیں بلکہ اسی جذبے نے دی تھی۔ ورنہ ایک گھڑا پانی تو اس نہر میں کچھ بھی نہیں تھا۔

ہم پر وطن کو ناز ہے

فوجی جوانوں کا رَجز

ہم خواب ہیں اقبال کا

قائد کا ہم ارمان ہیں

ہم آبرو ہیں قوم کی

ہم فخرِ پاکستان ہیں

ہم پر وطن کو ناز ہے

کردار کے غازی ہیں ہم

گفتار میں ہشیار ہیں

ہم ہیں وطن کے پاسباں

ہم قوم کے معمار ہیں

ہم پر وطن کو ناز ہے

ہم ہیں بہاروں کا نشاں

ہم ہیں چمن کی آبرو

ہم سے ہی پھیلی ہے یہاں

خوشبو فضا میں چار سُو

ہم پر وطن کو ناز ہے

گو آج ہیں ہم نوجواں

کل کے ہیں ہم فخرِ جہاں

ہے جان سے پیارا وطن

ہم قوم کے ہیں ترجماں

ہم پر وطن کو ناز ہے

جو بھی مقابل آئے گا

ایٹم سے وہ ٹکرائے گا

چاٹے گا زخموں سے لہو

اور حشر تک پچھتائے گا

ہم پر وطن کو ناز ہے

ناصرزیدی

29
December

مئی1980 میں ملٹری کالج جہلم کے شیرشاہ ہاؤس کے کورٹ یارڈ میں آٹھویں جماعت کی نئی انٹری کے کیڈٹس جن کا کالج میں پہلا روز تھا سلیقے سے رکھی گئی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور باری باری ڈائس پرآکر اپنا اپنا تعارف کروا رہے تھے۔ انہی کیڈٹس میں پشاور سے آنے والا ایک کیڈٹ ساجد شکور بھی تھا۔ اُس نے ڈائس پر آکر اپنا تعارف کرایا اور حسبِ پروگرام ایک گانا

رنگ دِل کی دھڑکن بھی لاتی تو ہوگی

یاد میری اُن کو بھی آتی تو ہوگی

اس انداز سے پیش کیا کہ انٹری کے ہر لڑکے کے ذہن میں وہ دو مصرعے آج بھی اُسی طرح نقش ہیں۔ جس طرح کیڈٹ ساجد شکور نے پشتو انداز والی اُردو میں پیش کئے۔ ساجد شکور ایک مخلص اور ایک انتہائی نفیس شخص کا نام تھا۔ شیرشاہ ہاؤس کی افتخارڈورم میں وہ میراڈورم میٹ تھا۔ اس کا خیال آتے ہی ایک ڈسپلنڈ اورWell mannered کیڈٹ کی تصویر ذہن میں آتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی اُس کا شعار تھا۔ جس تیزی سے وہ ہر کام کرنے کا عادی تھا اُس وقت تو اس امر کا اندازہ نہیں ہوا لیکن اب لگتا ہے جیسے وہ واقعی بہت جلدی میں تھا۔ واش روم سے وضو کر کے تیزی سے کمرے میں داخل ہوتا۔ ساجد شکور اسی پُھرتی سے جائے نماز بچھاتا اورنماز پڑھ کر فوراً اپنی کتابیں لے کر بیٹھ جاتا۔ پڑھائی واحد کام تھا جس کو وہ بہت مزے اور دل سے کرتا تھا اس معاملے میں اس کو کبھی تیزی میں نہیں دیکھا۔ اکثر ٹائی لگاتے‘ بیلٹ باندھنے اور شرٹ پہنتے ہوئے بھی نصاب کی کوئی نہ کوئی کاپی یا کتاب اس کے سامنے پڑی ہوتی جس پر وہ طائرانہ نظر ڈال رہا ہوتا تھا۔ ساجدشکور بہت صاف ستھری اقدار کا حامل ایسا کیڈٹ تھا جسے انٹری میٹس بھی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ساجد شکور آٹھویں میں پشاور بورڈ سے پوزیشن ہولڈر تھا۔ وہاں سے وہ آٹھویں جماعت میں ملٹری کالج جہلم کے لئے سلیکٹ ہوگیا۔ یہاں بھی وہ ہر امتحان میں فرسٹ ہی آتا۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو بچے پڑھاکو ٹائپ ہوتے ہیں وہ Physically اتنے مضبوط نہیں ہوتے جتنے کھیل کود میں مصروف رہنے والے بچے‘ لیکن ساجد کا معاملہ اور تھا وہ نہ صرف امتحان میں فرسٹ آتا بلکہ 5کلو میٹر پر مشتمل کراس کنٹری دوڑمیں بھی ہمیشہ اول آتا۔ وہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگانے کا شوقین تھا لیکن وقت ضائع کرتے ہوئے اُسے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس کی ہینڈرائٹنگ اورڈرائینگ دونوں بہت اچھی تھیں۔ بسا اوقات کیڈٹس ایک دوسرے کو بند کباب یا بند سموسہ اور لسی وغیرہ پلاتے تو کیڈٹ ساجد شکور کہتا یار مجھے ان چیزوں کا شوق نہیں ہے‘ دیگر کیڈٹس Insist کرتے تو ہنستے ہوئے کہتا اچھا اگر تم لوگوں نے میرے پر Investment کرنی ہی ہے تو تم مجھے ان پیسوں کا ’مارکر اور ڈرائینگ شیٹ ‘لے کر گفٹ کردو میں اُس پر اپنا ہاتھ سیدھا کروں گا۔ گویا Fun اور انٹر ٹینمنٹ میں بھی کچھ سیکھنے اور کچھ کرگزرنے کا عمل مدِ نظر رکھتا۔

میٹرک کے بعد ہم لوگوں نے15 جے سی بی کے لئے اپلائی کیا۔ ساجد شکور اُس میں Defer ہوگیا۔ یوں وہ16جے سی بی کے لئے سلیکٹ ہوا اور بعدازاں PMA77 لانگ کورس کے ساتھ اعزازی شمشیر لے کرپاس آؤٹ ہوا۔ جے سی بی کے لئے نہ سلیکٹ ہونے والے کیڈٹس کو مجبوراً ملٹری کالج بھی چھوڑنا پڑا کہ وہاں ایف اے/ایف ایس سی کی جگہ پر جے سی بی کورسز شروع کردئیے گئے تھے یوں مجھ سمیت بعض کیڈٹس کو مجبوراً فرسٹ ایئر میں اپنے اپنے علاقوں کے قریبی کالجوں میں داخلہ لینا پڑا۔ بعد میں ملٹری کالج میں دوبارہ ایف اے/ ایف ایس سی شروع ہوگئی لیکن اس دوران ایک دو انٹریز کو’’ رگڑا‘‘ لگ چکا تھا کہ وہ ایم سی جے سے ایف ایس سی نہیں کرسکے۔ یوں وہ ان کیڈٹس سے کٹ آف ہوگئے جو فوج میں چلے گئے تھے۔ بہر کیف میں ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد 2000ء ؁ میں فیڈرل پبلک سروس کمشن کے ذریعے انٹرسروسز پبلک ریلیشنز میں بطورِ انفارمیشن آفیسر آگیا تو پھر اُن دوستوں کی خیر خبر ملنے لگی جو فوج میں تھے۔ اس وقت کیڈٹ ساجد شکور‘ میجر ساجد شکور تھا اور(بعدمیں بریگیڈیر ساجد شکور) جنرل ہیڈکوارٹرز میں تھا میں نے اُسے فون کیا تو فوراً پہچان گیا اور خوشی سے بولا وہ لمبے والا یوسف ہے نہ تو؟ میں نے کہا نہیں اب چوڑے والا یوسف ہوں۔ میں ملٹری کالج میں تھا تو میٹرک میں میرا قد کلاس کے دیگر لڑکوں سے لمبا تھا اور باسکٹ بال کا کلر ہولڈر بھی تھا۔ گویا دوستوں کے ذہنوں میں وہی پتلا‘ لمبا اور دُبلے والا یوسف ہی تھا۔ اُس کے بعد میجر ساجد شکور سٹاف کورس کرنے کوئٹہ چلا گیا۔ وہاں سے بھی اُس کی کالیں وغیرہ آتی رہتیں۔ وہ سوڈان میں یو این مشن کے لئے روانہ ہواتو بطورِخاص آئی ایس پی آر آیا اور مجھے مل کر گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل ہوگیا اور کھاریاں میں یونٹ کی کمان کی۔ بعد ازاں لاہور میں بطورِ کرنل سٹاف ڈویژن ہیڈ کوارٹرز میں پوسٹ تھا تو اکثر رابطہ کرتا۔ وہ بریگیڈیر بن کر بھی مسلسل رابطے میں رہا بلکہ اس دوران ایک عجیب واقعہ ہوا۔ بریگیڈیرساجد شکور کا ایک یونٹ افسر آئی ایس پی آر میں پوسٹ ہوا تو وہ مجھے ڈھونڈتا ہوا میرے دفتر تک پہنچا اور کہا ’’سر مجھے بریگیڈیر ساجد شکور نے کہاہے کہ یوسف عالمگیرین میرا کلاس فیلو اور دوست ہے اُنہیں جا کر ملنا ہے اور اگر اُنہیں کوئی کام ہو تو آپ نے اُنہیںFacilitate کرنا ہے‘‘ میرے لئے یہ سب حیران کن تھا کہ کسی بھی جگہ پر جہاں کوئی شخص کام کررہا ہوتاہے وہ اپنا مقام خود اپنی محنت اور دلجوئی سے کام کرکے بناتا ہے۔ لیکن ایسے میں دوستوں کی جانب سے اس قسم کےGestures ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں۔ بریگیڈیر ساجد شکور صحیح معنوں میں ہماری انٹری کا مان تھا۔ وہ پوٹینشل جنرل تھا۔ ان دنوں وہ امریکہ کورس کرنے گیا ہوا تھا۔ وہ بچے بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔ کون جانتا تھا کہ وہ بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہونے والا ہے اور اُس کے بچے اُسے وطن واپس لے کر آئیں گے۔

بریگیڈیر ساجد شکور اپنی روٹین کی اچھی لائف گزار رہا تھا۔ جس دن اس کو ہارٹ اٹیک ہوا اُس دن بھی وہ واک کرنے گیا ہوا تھا کہ ہارٹ اٹیک ہوگیا اور اپنے ملک سے کوسوں دور اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا۔ جہاں اس کے بچے ایک شفیق باپ سے محروم ہوگئے وہاں اُس کے انٹری میٹس اور کورس میٹس ایک مخلص اور دردِ دل رکھنے والے دوست اورکو لیگ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئے۔ ریس کورس میں اُس کے جنازے میں جہاں دیگر دوست احباب تھے وہاں اُس وقت کے انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔ بریگیڈیر ساجد شکور کی تدفین اُن کے آبائی علاقے چارسدہ میں ہوئی۔ کہنے کو وہ اپنے چاہنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئے لیکن اُن کے دلوں سے اس کی یادیں کبھی محو نہیں ہوں گی۔ کہ وہ آج تک اُس کے دوست احباب یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ ساجد شکور کے دل کی دھڑکن کبھی یہ رنگ بھی لاسکتی تھی۔ ہمارے ایک اورانٹری میٹ بریگیڈیر محمداحمد علوی نے اپنی فارمیشن میں بریگیڈیر ساجد شکور مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا۔ جس میں لاہور‘ ایبٹ آباد سمیت دیگر شہروں سے انٹری میٹس شریک ہوئے اور اپنی دعاؤں میں ساجد شکورکی بلندی درجات کے لئے دعائیں مانگیں۔ موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو اس کا مزہ چکھنا ہے لیکن اس طرح سے کوئی ہنستا کھیلتا شخص اچانک بچھڑ جائے تو دل گرفتگی اک فطری سا عمل ہے۔ خدا بریگیڈیر ساجد شکور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔

ملکِ عدم توں ننگے پنڈے آوندا ایس جہانے

اِک کفن دی خاطر بندہ کِنا پینڈا کردا اے

(انور مسعود)
29
December

6جنوری کی ٹھٹھرتی صبح پروین بیگم نے بڑے پیار سے اپنے بیٹے کو سکول کے لئے بیدار کیا۔ بچہ لحاف اوڑھے سکول نہ جانے کی ضد کر رہا تھا، شائد کوئی قوت اسے آج گھر سے نکلنے سے روکنا چاہتی تھی لیکن ماں نے بچے کی تعلیم کی خاطر ایک نہ سنی، بچے نے مزیدار ناشتے کی فرمائش کی شائد اسی بہانے ماں اس کی بات مان لے۔پروین بیگم نے بڑے چاؤ سے بیٹے کے لئے پراٹھا اور انڈہ بنا دیا جسے کھا کر ننھا اعتزاز گورنمنٹ ہائی سکول ابراہیم زئی، ہنگو کے لئے روانہ ہوا۔ ضلع ہنگو پاکستان کے شمال میں صوبہ خیبرپختونخوا میں واقع ہے جس کی آبادی قریباً پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، یہ مقام تازہ پانی کے ذخائر اور پھولوں کی کئی اقسام کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اعتزاز جب اپنی والدہ کو الوداع کہہ کر سکول کی جانب روانہ ہوا تو سورج بادلوں کی اوٹ سے نکلنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ہنگو روڈ کوہاٹ پر اِکا دُکا گاڑیاں چل رہی تھیں، قنبر عباس نے ابھی کریانہ سٹور کھولا ہی تھا۔ گورنمنٹ سکول ابراہیم زئی ہنگو کے لان میں ملیشیا شلوار قمیض اور کالی ٹوپی پہنے بچے سکول میں جمع ہو رہے تھے۔

اعتزازحسن، شاہ زیب الحسن اور زاہد علی سکول میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ اعتزازحسن کی نظر26سال کے نوجوان پر پڑی جو چادر اوڑھے مشکوک انداز میں سکول کی طرف بڑھ رہا تھا جس کا ایک ہاتھ چادر سے باہر تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس نے چادر کے اندر کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ ننھے اعتزاز حسن نے جو پچھلے دس سال میں دہشت گردی کے ماحول میں بڑا ہوا تھا اور چھٹی جماعت کا طالب علم تھا فوراً خطرے کو بھانپ لیا، اس نے ایک طرف اپنے سکول کی طرف نظر دوڑائی‘ اظہر سکول اسمبلی کو لیڈ کرنے کے لئے تیار تھا، نوازش، منتظر، ۔۔۔ علی، علی حیدر اور محمد حسین ۔۔۔ پاک سر زمین شاد باد پڑھنے کی تیاری کر رہے تھے جبکہ علی اور حیدر‘ علامہ اقبال کی نظم ’’لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری‘‘ کی ریہرسل کر رہے تھے، دوسری جانب وہ مشکوک نوجوان تیزی سے سکول کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ایک طرف اعتزاز حسن کے ساتھیوں کا ہجوم تھا جو سکول میں مستقبل کے سہانے خواب سجائے سکول کے صحن میں جمع تھے اور دوسری طرف اعتزاز حسن ایک کٹھن مرحلے سے دوچار تھا‘ اسے فیصلہ کرنا تھا کہ اپنی جان بچائے یا سکول کے بیسیوں ساتھیوں کی۔ علی حیدر کی آواز میں اقبال کی نظم اعتزازحسن کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی ’’زندگی شمع کی صورت ہو خُدایا میری‘‘ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ننھا اعتزازحسن مشکوک نوجوان سے لپٹ گیا۔ قنبر عباس ابھی دُکان میں چیزیں ترتیب ہی دے رہا تھا، پروین بیگم نے تو ابھی بچے کے ناشتے کے برتن بھی نہ سنبھالے تھے کہ یکایک دھماکہ ہوا اور اعتزاز کی زندگی کا چراغ بجھ گیا، کلاس میں آخری بینچ پر بیٹھنے والا اعتزاز آج سب پر بازی لے گیا۔ ہنگو کی فضا میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی ’’زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب‘ علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب۔‘‘ اعتزاز حسن خود تو شمع کی مانندجل گیا لیکن ابراہیم زئی کے سابق چیئرمین یونین کونسل پیش فرمان کے مطابق وہ ہمیں ایک نیا عزم اور حوصلہ دے گیا کہ ننھے بچے بھی اب تو دہشت گردی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور انشاء اللہ اِسے ختم کر کے ہی دم لیں گے۔

ننھے اعتزازحسن کا جسم جب ہوا میں اُچھلا تو اُس کی آنکھیں اپنے ہم مکتبوں کی طرف اُٹھیں ان میں چمک تھی جو کہہ رہی تھیں کہ میں نے اپنا آج تمہارے کل کے لئے قربان کر دیا۔ننھے اعتزازحسن نے شائد اپنی عمر اور اپنے قد سے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ مؤرّخ جب بھی ہماری تاریخ لکھے گا تو وہ حیران ہو گا کہ یہ قوم کیسی کیسی مشکلات سے نہیں گزری، 2005کا زلزلہ ہو،2010کا سیلاب ہو یا دہشت گردی اس قوم کے حوصلے پست نہیں ہوئے، یہ قوم کل بھی متحد تھی اور آج بھی متحد ہے، دہشت گرد اس قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکے۔ اس حقیقت سے کسے انکار ہے کہ دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی کمی نہیں لیکن قوم کا حوصلہ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اعتزاز شہید کے واقعے نے پوری قوم میں امید کی ایک نئی لہر پھونک دی ہے۔ اعتزازحسن کی قربانی کا اعتراف جہاں پوری قوم نے کیا ہے وہاں عسکری قیادت نے بھی اس کو قابلِ قدر قرار دیا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف، جنرل راحیل شریف نے بجا طور پر کہا کہ وطن کی خاطر جان نچھاور کرنے سے بڑی قربانی کوئی نہیں ہو سکتی۔ عالمی و ملکی ذرائع ابلاغ، پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان نے بجا طور پر اس ننھے ہیرو کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیاہے۔شہید کی موت دراصل قوم کی حیات ہے اور زندہ قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ عموماً سوگ صرف 3 روز تک منایا جاتا ہے لیکن آج اتنے دنوں بعد بھی اعتزازحسن کا ہر زبان پر تذکرہ ہے۔ گورنمنٹ بوائز سکول ابراہیم زئی کے صحن میں پرنسپل لعل صاحب کے ارد گِرد طالب علم جمع ہیں۔ اظہر تلاوت کر چکا ہے، علی حیدر اور محمد حسین ڈائس پر اقبال کی نظم پڑھ رہے ہیں، شائد ایسے لگتا ہے

ننھا اعتزاز حسن بھی پڑھ رہا ہو،

دُور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے

ہر جگہ میرے چمکنے سے اُجالا ہو جائے

ہو میرے دم سے یُونہی میرے وطن کی زینت

جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

میرے اللہ ہر بُرائی سے بچانا مجھ کو

نیک جو راہ ہے اس راہ پہ چلانا مجھ کو

پورا سکول اشک بار ہے۔ محمد ہلال، ریاض علی کی گالوں پر آنسو بہہ رہے ہیں لیکن یہ آنسو کمزوری کے آنسو نہیں بلکہ یہ تشکر کے آنسو ہیں۔ درحقیقت یہ ایک نئے ولولے اور نئے عزم کا آغاز ہے اس مشن کو تکمیل تک پہنچایا جائے جس کے لئے اعتزاز حسن نے جان دی ہے۔ ماسٹر حبیب علی ویسے تو معمول کے مطابق کلاس ششم میں داخل ہوا کرتے تھے لیکن آج وہ ایک نئے عزم کے ساتھ کرسی پر براجمان ہیں‘ لیکن اعتزاز کا بنچ خالی ہے، شان اور عاکف بائیں جانب اعتزاز کی خالی نشست کی طرف دیکھتے ہیں جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ میری قربانی رائیگاں نہیں جانے دینا۔ میں نے اپنے خواب تم سب پر قربان کر دئیے ہیں۔ قنبر عباس نےRIO بسکٹ اور Laysجو اعتزاز کو بہت پسند ہیں اور وہ ہر روز اس سے آ کر خریدتا تھا‘ سنبھال کر رکھے ہیں کہ ابھی اعتزاز اس سے لینے آئے گا۔ والدہ نے سبز مرچ کے ساتھ سالن تیار کر رکھا ہے، اعتزاز کے کالے دو تیتر خوش ہیں کہ ابھی اعتزاز انہیں آ کر دانہ کھلائے گا۔ مجتبیٰ، نازیہ اور زرشیہ بھائی کا انتظار کر رہے ہیں اور میں اعتزاز کے کزن آصف رضابنگش کی پشتو نظم کا اردو ترجمہ کر کے اُسے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اورپُر اُمید ہوں کہ یہ قوم اعتزاز کی اس قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ جب سے اعتزاز نے موت کو اپنے گلے لگایا،

اُس کی ماں فخر کرتی ہے اور میں اُس کو سلام پیش کرتا ہوں،

شہید مرتا نہیں یہ قرآن کا فیصلہ ہے،

میں ہر وقت اس قرآنی آیت کو سلام کرتا ہوں،

ساری دنیا جب اعتزاز پہ فخر کرتی ہے،

جب خزاں آتی ہے پھر میں اس کے بعد بہار کو سلام کرتا ہوں،

پاکستان کی فوج نے ہر منزل پہ قربانی دی ہے،

میں اپنی طرف سے پاک فوج کے ہر جوان کو سلام پیش کر تا ہوں

ہم نے پاک فوج کو ماں کا درجہ دیا ہے،

ہم سب کی طرف سے ہر فوجی کو سلام

اس کا کارنامہ رہتی دنیا تک باقی رہے گا

<میں ہر وقت کم سن شہید کو سلام پیش کرتا ہوں

جب اعتزاز کو اللہ نے اعزاز عطا کیا ہے،

میں معصوم کی شہادت کو سلام پیش کرتا ہوں،

اے علی خانان اپنے رب سے شہادت مانگو،

میں ہر شہید کے زخمی سینے کو سلام کرتا ہوں

29
December

مرتب : طارق بابر

غیرمُسلم مشاہیرنے کِس طرح صادق اور امین رسولﷺکی صداقت، امانت، اخلاقِ حسنہ اوراِسلام وقرآن کی حقانیت کی گواہی دی، مضمون ہذا کاموضوع ہے۔ نپولین نے ایک صدی قبل1914ء میں کہا: ’’میں امید کرتا ہوں کہ وقت بہت دورنہیں ہے جب میں اِس قابل ہو سکوں گاکہ تمام ممالک کے تمام دانشوروں اورتعلیم یافتہ مر دوں کومتحدکرکے صرف اورصرف قرآن کے یکتاطورپرسچّے اصولوں،جو کہ انسانیت کی خوشی کی طرف راہنمائی کرسکتے ہیں،کی بنیادپرایک ہی حکومت قائم کرسکوں۔‘‘ موہن داس کرم چندگاندھی رقم طرازہُوئے: ’’میں ہمیشہ سے بھی بڑھ کراِس بات کاقائل ہُواکہ اِسلام کیلئے جگہ بنانے کاکام تلوارنے نہیں بلکہ پیغمبرﷺکی کٹرترین سادگی اورمکمل انکساری،اپنے وعدوں کی قابلِ بھروسہ پاسداری اوراپنے پیروکاروں اورمصاحبین کے ساتھ اُن کی پُرخلوص لگن،اُن کی بے خوفی اورخُداپراوراپنے مشن کی سچائی پراُن کے یقینِ کامل اورمطلق اعتمادنے کیاتھا۔یہ تلوارنہیں تھی بلکہ آپﷺکی صفاتِ عالیہ تھیں جنھوں نے آپ کے راستے کی ہرشے کوہٹادیااورہرمصیبت کوفتح کیا۔‘‘

فرانسیسی مصنف اورشاعر الفانسے لیمارٹائن نے لکھا: ’’اگر مقصدکے عظیم ہونے،وسائل کی انتہائی قِلت،اورحیران کن نتائج کوکسی انسان کی عظمت کو ناپنے کا معیارگرداناجائے توکِس میں ہمت ہے کہ جدید تاریخ کے کسی عظیم آدمی کا محمدﷺکے ساتھ موازنہ کیا جاسکے‘‘۔وہ مزید لکھتے ہیں۔ ’’بہت مشہورآدمیوں نے محض ہتھیاربنائے یاقوانین اورسلطنتیں۔ جِس کُچھ کی بھی انھوں نے بُنیاد رکھی وہ محض مادی طاقت کاحصول تھاجواکثراُن کی آنکھوں کے سامنے ہی صفحہء ہستی سے مِٹ گیا۔اِس آدمی(محمدﷺ)نے نہ صرف افواج، قوانین، سلطنتوں اورقبیلوں بلکہ اپنے وقت کی آباددُنیاکے ایک تہائی حِصے کے لاکھوںآدمیوں کوتحریک دی اوراس سے بڑھ کرانھوں نے قُربان گاہوں، دیوتاؤں، مذاہب، خیالات،عقائداورارواح کوبدل کررکھ دیا۔ فتح مندی کے وقت انکسارانہ ضبطِ نفس،اُن کی واضح مقصدیت جوکہ ہرگزکسی سلطنت کے قیام کیلئے نہیں بلکہ مطلقاًصرف ایک نظرئیے کیلئے وقف تھی،اُن کی نہ ختم ہونے والی عبادات،اُن کی خُداکے ساتھ الہامی گفتگو،اُن کی وفات اوروفات سے بھی بعدکی کامیابیاں، یہ سب تصدیق کرتی ہیں کہ یہ کوئی دھوکانہیں بلکہ ایمانِ کامل تھاجِس نے انھیں طاقت عطافرمائی تھی کہ وہ ایک عقیدے (توحیدِالٰہی)کوبحال فرماسکیں‘‘۔

برطانوی تاریخ دانوں ایڈورڈگِبن اورسائمن اوکلے نے لکھا: \"تبلیغ نہیں بلکہ اُن کے مذہب کا استحکام ہماری حیرت کامستحق ہے،اُتناہی خالص اورکامل تاثروالا،کہ جِس قُرآن کوانہوں نے مکہ اورمدینہ میں کُندہ فرمایا، بارہ صدیوں کے انقلابات کے بعدبھی بالکل محفوظ ہے جس دوران بھارتیوں، افریقیوں اور تُرکوں نے اپنامذہب تبدیل کیا (اور اِسلام قبول کیا)۔ مُحمدﷺکے پیروکاروں نے اپنے عقیدے کے مقصدکوکم کرنے کی ہرکوشش اورفتنے کوشعوری عقیدت کے ساتھ یکساں طور پر مسترد کیا۔ \'میں ایک خُداپرایمان رکھتا ہُوں اور مُحمدﷺ خُداکے پیغمبرہیں\'اِسلام کاسادہ اورناقابلِ تبدیل عقیدہ ہے۔ خُداکے اِس دانشورانہ تصورکوکبھی بھی کوئی دکھائی دینے والے دیوی یادیوتاکم نہیں کرسکے اورپیغمبرﷺکے اعزازنے کبھی بھی اِنسان کی فضیلت کوپامال نہیں کیا‘‘۔ امریکی عیسائی بِشپ بوزورتھ سمتھ نے تحریرکیا: ’’وہ (مُحمدﷺ) کسی باقاعدہ فوج کے بغیر،کسی ذاتی محافظ کے بغیر،کسی شاہی محل کے بغیر،کسی مقررہ آمدنی کے بغیر،شہنشاہوں کے جتّھوں کے بغیرایک شہنشاہ اورجھوٹی تقدیس کی نمائش سے پاک ایک مذہبی پیشواتھے۔اگرکبھی کسی آدمی کویہ کہنے کاحق تھاکہ اُس نے صحیح الہامی اصولوں پرحکومت کی تویہ مُحمدﷺتھے۔‘‘

برطانوی مصنفہ اور حقوقِ نِسواں کی علمبردار ’’اینی بیسانت‘‘ نے لکھا: ’’کسی شخص کیلئے یہ ناممکن ہے کہ وہ عرب کے پیغمبرﷺکیلئے تعظیم واحترام کے علاوہ کُچھ اورمحسُوس کرسکے،جوکہ خُدائے بزرگ وبرترکے عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔میں بذاتِ خودجب بھی انھیں دوبارہ پڑھتی ہُوں توایک نئی طرح کااحترام اورتعظیم کا ایک نیاجذبہ عرب کے اُس عظیم معلمﷺکیلئے محسوس کرتی ہُوں‘‘۔ سکاٹِش تاریخ دان وِلیم منٹگمری واٹ لکھتے ہیں: ’’اُن کااپنے عقائدکی خاطرظُلم وستم سہنے کیلئے تیاررہنا،اُن پر ایمان لانے والوں اور انھیں اپنا راہنماتسلیم کرنے والوں کااعلٰی اخلاقی کردار،اوراُن کی حتمی کامیابی کی عظمت،یہ سب کُچھ اُن کی بُنیادی سچائی کی دلیل ہیں۔‘‘ امریکی مصنف مائیکل ایچ ہارٹ نے لکھا: ’’دنیاکے سب سے زیادہ بااثرافرادکی فہرست کی قیادت کیلئے میری طرف سے محمدﷺکاانتخاب کرنابعض قارئین کوورطہء حیرت میں ڈال دے گااورکُچھ دیگراِس بابت پُوچھیں گے۔ مگروہ تاریخ کے وہ اکیلے آدمی تھے جو مذہبی اور سیکولر دونوں سطحوں پر کامل طورپرکامیاب تھے۔‘‘ مشہورہندوستانی شاعرہ سروجنی نایڈومدح خواں ہیں: ’’یہ (اِسلام) پہلا مذہب تھا جِس نے جمہوریت کی تبلیغ کی اوراُس پرعملدرآمد کیا، کیونکہ جب مسجد میں نمازکیلئے اذان ہوتی ہے اور عبادت گُذار اکٹھے ہوتے ہیں تواِسلامی جمہوریت ایک دِن میں پانچ مرتبہ مجسم نظرآتی ہے،جب کِسان اوربادشاہ ساتھ ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اوراعلان کرتے ہیں کہ صرف خُدائے واحدہی بڑاہے۔‘‘

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مرتب: محمدصالح

رسول پاکﷺ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لئے رشدوہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ اگر ہم رسول اﷲﷺ کو تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو آپﷺ کی شخصیت تمام انبیاء اکرام اور تمام مذاہب کے بانیوں میں کہیں زیادہ ممتاز اور نمایاں نظر آتی ہے۔ مسلمانوں کو تو آپﷺ سے گہری عقیدت اور محبت ہے ہی مگر غیرمسلم بھی آپﷺ کی عظمت اور کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے آپﷺ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

’’آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گھریلو سازو سامان معمولی‘ اور خوراک بہت سادہ اور عام قسم کی تھی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ مہینوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں چولہا روشن نہ ہوسکا۔ وہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثار اور پیرو کار تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سچے دل سے اللہ کا نبی تسلیم کیا کرتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ان کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح تھی۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام پر عمل کرنے والے دنیا کے بہترین انسان بن گئے۔

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ہمارا موجودہ قیاس بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذہب محض فریب و نادانی کا ایک مجموعہ ہے، کذب وافتراء کا وہ انبار عظیم جو ہم نے اپنے مذہب کی حمایت میں اس ہستی کے خلاف کھڑا کیا خود ہمارے لئے شرم ناک ہے۔‘‘ (Thomas Carlyleکی کتاب On Heroes, Hero - worship, and Heroic in History سے لیا گیا ایک اقتباس) عظیم المرتبت ہستی

’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں انسانیت کے نجات دہندہ تھے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مذہب کو میں نے ہمیشہ اس حیران کن قوت اور صداقت کی وجہ سے اعلیٰ ترین مقام دیا ہے۔ میرے خیال میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذہب دنیا کا واحد مذہب ہے جو ہر دور کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے لئے کشش رکھتا ہے۔

میری خواہش ہے کہ اس صدی کے آخر تک برطانوی ایمپائر کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات مجموعی طور پر اپنا لینی چاہئیں۔ انسانی زندگی کے حوالے سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افکار و نظریات سے احتراز ممکن نہیں۔ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مذہب کے بارے میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ یہ کل کے یورپ کے لئے بھی اتنا ہی قابل قبول ہے جتنا کہ آج کے یورپ کے لئے کہ جو اسے قبول کرنے کا آغاز کر چکا ہے۔‘‘ جارج برنارڈ شا George Bernard Shaw)) فاتح عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرہ برس جو جدوجہد حوصلہ شکنی، دھمکیوں، خطروں، استبداد اور سزاؤں کے مقابلے میں جا ری رکھی۔ اس کی کوئی مثال تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ ناقابل یقین اذیتوں اور تکالیف کے باوجود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے عقیدے کا پرچم سربلند رکھا اور ایک بار بھی ہم نہیں دیکھتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خدا کے نہ ماننے والوں کے لئے کبھی خدا کے عذاب کی دعا کی ہو۔ جب مدینے سے تحفظ کی یقین دہانی ہو گئی تو بھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود پہلے جانے میں عجلت نہیں برتی بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کو بھجوا کر آخر میں مدینے روانہ ہوئے اور یہ ان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غیرمتزلزل ایمان کی فتح تھی کہ سات برسوں کے بعد جب آپ ﷺمکہ واپس آئے تو فاتح تھے۔‘‘ (Sir William Moor)

کامیاب ترین انسان ’’حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام پیغمبروں اور مذہبی شخصیات میں کامیاب ترین انسان تھے لیکن یہ کوئی حادثاتی کامیابی نہیں تھی۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ آپ (محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے معاصرین کی نظر میں ایک سچے اور کھرے انسان تھے۔‘‘ اسی انسائیکلو پیڈیا میں ایک اور جگہ لکھا ہے: ’’تاریخی ذرائع اور ماخذوں سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے آخری بیس برسوں کے بارے میں جو معلومات جدید تحقیق اور عالموں نے فراہم کی ہیں، ان سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شخصیت بہت واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ آپ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کا حیران کن متاثر کرنے والا پہلو یہ ہے کہ عظیم فتوحات کے باوجود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انسانیت نوازی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔‘‘ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (Encyclopaedia Britanica) محسن اعظم

(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

’’مغربی دنیا اندھیرے میں غرق تھی۔ ایک روشن ستارہ اُفق مشرق سے چمکا اور اس نے بے قرار دنیا کو روشن اور تسلی کا پیغام دیا۔ اسلام جھوٹا دین نہیں۔ ہندوؤں کو کھلے دل سے اس کا مطالعہ کرنا چاہیے، پھر وہ بھی میری ہی طرح اس سے محبت کرنے لگیں گے۔‘‘ ’’سیرۃ النبیؐ کے مطالعے سے میرے اس عقیدے میں مزید پختگی اور استحکام آگیا کہ اسلام نے تلوار کے بل پر رسوخ حاصل نہیں کیا بلکہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اپنے رفقاء کے ساتھ گہری وابستگی، جرأت، بے خوفی، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور اپنے مقصد و نصب العین کی حقانیت پر کامل اعتماد اسلام کی کامیابی کے حقیقی اسباب ہیں۔‘‘ ’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اصلاحِ اخلاق اور سوسائٹی کے متعلق جو کامیابی ہوئی اس کے اعتبار سے آپ کو انسانیت کا ’’محسن اعظمؐ‘‘ ہونا تسلیم کرنا پڑتا ہے۔‘‘مہاتما گاندھی

29
December

یوں تو رسول کریمﷺ کی ذات سراپا اعجاز ہے‘ تاہم آپﷺ نے لوگوں کو بہت سے معجزات بھی دکھائے اور ان میں سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو معجزہ مجھے عنایت کیا گیا وہ وحی (قرآن) ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا۔ اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔

معجزۂ قرآن کے کئی پہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ قرآنِ مجید ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ اس کے الفاظ اور اس کے معانی کی حفاظت کی ذمہ داری اﷲ تعالیٰ نے لی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہودیوں‘ عیسائیوں‘ پارسیوں‘ ہندوؤں وغیرہ کسی کی مقدس کتاب اپنی اصلی صورت میں محفوظ نہیں ہے۔ اس کا اعتراف خود ان مذاہب کے عالم بھی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر مسلم محققین اور عالم بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ قرآن اپنی اصل صورت میں ایک ایک حرف کے ساتھ جوں کا توں محفوظ ہے۔ اس کا یہ محفوظ رہنا ایک عظیم معجزہ ہے۔ اور حضور اکرمﷺ کی صداقت پر گواہ ہے۔ قرآن کے علاوہ دوسری کتب سمادی کے نئے نئے ایڈیشن شائع ہوتے رہتے ہیں اور ہر ایڈیشن دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ لیکن قرآن میں کبھی اور کہیں ایک زِیر زَبر کی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ یہ حفاظتِ قرآن‘ کاغذ اور قلم ہی کی محتاج نہیں کیوں کہ آج دنیا سے کاغذ اور قلم مٹ جائے تب بھی یہ لاکھوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ رہے گا۔

قرآن کا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ اس کی ایک آیت کی بھی نظیر کوئی نہیں بنا سکتا۔ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ہے کہ ’’اے رسول سب سے کہہ دیجئے کہ اگر سب انسان اور تمام جن بھی مل کر چاہیں کہ وہ اس جیسا قرآن بنا لائیں تو وہ ہر گز یہ نہیں کرسکتے۔‘‘ (بنی اسرائیل: 88) دوسری آیات میں کفار کو چیلنج کیا گیا ہے کہ قرآن جیسی ایک ہی سورت بنا کر لائیں اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ وہ ہر گز ہر گز نہیں لائیں گے۔ سورۂ یونس میں ہے: ’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس قرآن کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ ان سے کہہ دیجئے کہ اس جیسی ایک سورت تو تم بنا کر لاؤ۔‘‘ (سورۃ یونس:38) سورۃ البقرہ میں ہے: ’’تو اگر تم ایسی بنا کر نہ لاسکو‘ اور حقیقتاً نہ لاسکو گے‘ تو دوزخ کی اس آگ سے بچو جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں‘‘ (البقرہ: 24) پھر سورۂ طور میں ارشاد ہوتا ہے: ’’کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ اگر وہ سچے ہیں تو اس جیسی ایک بات ہی بنا کر پیش کریں‘‘ (الطور: 34-33)۔ اس چیلنج پر کفار عرب اپنی فصاحت اور بلاغت کے باوجود قرآن کی ایک آیت کے مثل بھی کوئی آیت پیش نہیں کرسکے اور وہ اپنی اس عاجزی کا اعتراف اور اقرار بھی کرتے تھے۔

قرآن مجید کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس کا حفظ کرنا آسان ہے‘ اسی وجہ سے آج بھی ہزاروں لاکھوں حفاظ دنیا میں موجود ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لئے آسان بنا دیا ہے اور یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اتنی ضخیم کتاب اتنی آسانی سے یاد ہوجاتی ہے۔ قرآن کا ایک اور معجزہ اس کی غیر معمولی اور بے مثل فصاحت اور بلاغت ہے جس کو کفار سحر قرار دیتے تھے اور لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس کلام کو نہ سنو ورنہ تم پر بھی اس کا جادو چل جائے گا۔ حضرت عمرؓ (نعوذباﷲ) حضور اکرمؐ کے قتل کے ارادے سے نکلے تھے لیکن قرآن کی چند آیات سن کر ان کے دل و دماغ میں ایسی تبدیلی آئی کہ وہ عمر بھر کے لئے محمدﷺ کے غلام بن گئے۔لبید بن ربعیہ عرب کے نامور شاعر تھے ان کا کلام دوسرے چھ شاعروں کے کلام کے ساتھ خانہ کعبہ کی دیوار پر آویزاں کیا گیا تھا۔ لیکن انہی لبید بن ربیعہ نے جب قرآنی آیات سنیں تو حیران رہ گئے اور اسلام قبول کرنے کے بعد شاعری ہمیشہ کے لئے ترک کر دی وہ کہتے تھے کہ جب خدا نے مجھے سورۃ بقرۃ اور آل عمران سکھا دی ہے تو پھر شعر کہنا مجھے زیب نہیں دیتا۔

حضرت ابوذرغفاریؓ کے بھائی انیس قبیلہ غفار کے شاعر تھے۔ وہ تحقیق حال کے لئے رسول اکرمﷺ کے پاس آئے۔ جب حضورﷺ کی زبان مبارک سے قرآنی آیات سنیں تو زبان گنگ ہو گئی۔ اپنے قبیلے میں واپس آ گئے اور حضرت ابوذرؓ سے کہا۔ ’’خدا کی قسم قریش جھوٹے ہیں۔ جو کلام میں نے سنا ہے وہ عجیب ہی چیز ہے۔ یہ نہ شاعری ہے نہ ساحری ہے نہ کہاوت۔ ان سب سے بہت بلند ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابوذر غفاریؓ بھی مکہ روانہ ہوئے۔ اسی طرح دربار نجاشی میں نجاشی کے سامنے سورۃ مریم کی تلاوت کی گئی تو اس پر رقت طاری ہو گئی۔ پھر کہا: خدا کی قسم یہ کلام الٰہی ہے اور کفار سے کہا کہ تم لوگ جاؤ میں اپنے پاس پناہ لینے والے مسلمانوں کو یہاں سے نہیں نکالوں گا۔ قرآن کی فصاعت و بلاغت سے متاثر ہو کر سینکڑوں افراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ یہ واقعات تفصیل سے تاریخی کتابوں میں درج ہیں اور ان کی تعداد اس قدر ہے کہ ان سب کا نقل کرنا ممکن نہیں۔

معجزاتِ قرآنی کے علاوہ حضور اکرمﷺ کو دوسرے عام معجزات بھی عطا ہوئے تھے۔ہجرت سے کچھ پہلے کفار نے رسول اﷲﷺ کو شہید کرنے کا منصوبہ بڑی رازداری سے تیار کیا۔ لیکن خدا کے فرشتے نے حضور کو اطلاع کر دی اور آپﷺ ہجرت کے لئے تیار ہو گئے۔ ہجرت کے وقت کفار نے آپﷺ کے گھر کا محاصرہ کررکھا تھا۔ لیکن حضورﷺ ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر سورۃ یٰسین پڑھتے ہوئے دشمنوں کے درمیان سے نکل گئے اور کسی نے پہچانا نہیں۔ پھر جب آپﷺ حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ غار ثور میں پناہ گزیں تھے اور کفار تعاقب کرتے ہوئے غار کے منہ تک آپہنچے تو غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا اور کفار یہ سمجھے کہ اس غار میں کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر غار سے نکلنے کے بعد مدینہ جاتے ہوئے راستے میں سراقہ نے تیز رفتار گھوڑے پر آپﷺ کا تعاقب کیا۔ لیکن جب قریب پہنچا تو گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے اور سراقہ معافی مانگ کر واپس چلا گیا۔

میدان جنگ میں بھی حضورﷺ سے کئی معجزات ظاہر ہوئے۔ مثلا بدر کے میدان میں ایک ہزار کافروں کے مقابلے میں تین سو تیرہ مسلمان تھے۔ اس وقت اﷲ نے یہ عجیب معجزہ دکھایا کہ مسلمانوں کو کفار بہت کم نظر آتے تھے۔ تاکہ ان کے حوصلے بلند رہیں۔ اور وہ بے خوف ہو کر لڑیں دوسری طرف کفار کی نظروں میں بھی مسلمان اپنی اصل تعداد سے بہت کم نظر آ رہے تھے۔ یہ اس لئے کہ وہ لڑائی کا ارادہ ترک نہ کردیں اور مسلمانوں کو بہت قلیل دیکھ کر سمجھیں کہ فتح ہماری ہو گی اور میدان جنگ میں موجود رہیں تاکہ اپنے انجام کو پہنچیں۔ سورۃ انفال کی آیت میں اس وقت کی طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے کہ ’’جب تم دشمنوں سے صف آراء ہوئے تو وہ تمہاری نگاہوں میں ان کو تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی آنکھوں میں کم کر کے دکھا رہا تھا کہ اس کام کو جس کا ہونا مقرر ہے طے کر دے۔‘‘

(الانفال44)

 

بدر کے میدان میں یہ ہوا کہ پہلے تو کفار کو مسلمان کم نظر آ رہے تھے مگر جب لڑائی شروع ہوئی تو انہیں مسلمانوں کی تعداد اصل سے دوگنی نظر آنے لگی۔ وہ گھبرا گئے اور حوصلہ ہار کر جنگ ہار دی۔ سورۃ آل عمران میں اس معجزے کا تذکرہ اس طرح ہے۔ ’’ابھی تم نے نشان دیکھ لیا ان دو فوجوں میں جو صف آراء ہوئیں۔ ایک فوج ان میں سے اﷲ کی راہ میں لڑتی تھی اور دوسری خدا کی منکر تھی۔ اور یہ( کافروں کی فوج) صریح آنکھوں سے اپنی مقابل فوج (مسلمانوں کی فوج) کو اپنے سے دو گنا دیکھ رہی تھی اور اﷲ جس کی چاہتا ہے اپنی تائید سے مدد کرتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے جو آنکھیں رکھتے ہیں بڑی عبرت ہے۔‘‘

( آل عمران13)

اسی طرح بعض جنگوں میں اﷲ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتے نازل کئے۔اور یہ آسمانی مخلوق کئی صحابہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ سورۃ انفال میں ہے۔ ’’جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے‘ تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں لگاتار ہزاروں فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا۔ اور یہ تو اﷲ نے صرف خوش خبری دی تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوں ورنہ فتح تو اﷲ ہی کی طرف سے ہے۔ اﷲ زور آور ہے حکمت والا۔‘‘

(الانفال 9)

غزوہ احزاب میں کفار عرب نے مدینے پر یلغار کی تھی اور رسول اﷲﷺ نے مسلمانوں کو اس یلغار کی پہلے ہی سے خبر دے دی تھی اور مقابلے کے لئے خندقیں کھود لی گئی تھیں۔ مسلمانوں نے جب کفار کا سیلاب مدینے پر حملہ آور دیکھاتو ان کے ایمان میں اور پختگی آ گئی کہ اﷲ کے رسولﷺ نے قبل از وقت ہی مطلع کر دیا تھا۔ اس لئے ہم نے تیاری کر رکھی ہے۔ سورۃ احزاب میں اس کا تذکرہ ہے۔’’اور جب مومنین نے ان متحدہ حملہ آور قبیلوں کو دیکھا تو کہنے لگے یہی وہ ہے جس کا وعدہ ہم سے اﷲ اور اس کے رسولﷺ نے کیا تھا۔ اور خدا اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعہ نے ان کو ایمان اور اقرار میں اور زیادہ پختہ کر دیا۔‘‘ (الاحزاب 22)۔ اسی جنگ میں کفار نے بیس دن تک مدینے کا محاصرہ رکھا اس کے بعد معجزہ الہٰی ظاہر ہوا اور ایسے زور کی آندھی چلی کہ محاصرہ کرنے والی کافرفوج کے خیمے اکھڑ گئے۔ پھر اس قدر شدید سردی پڑی کہ دشمن ٹھٹھر گئے اورمحاصرہ اٹھا کر بھاگ نکلے۔ سورۃ الاحزاب میں اس معجزے کا یوں تذکرہ ہے۔ ’’مسلمانو! یاد کرو اپنے اوپر خدا کی اس نعمت کو کہ جب فوجوں نے تم پر حملہ کیا اور ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسی فوجیں بھیجیں جن کو تم نے نہیں دیکھا اور جو تم کر رہے تھے خدا اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘

(الاحزاب 9)

29
December

(یہ نظم شاعر کے تخیل پر مبنی ہے جس میں میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر اپنے بھائی (جنرل راحیل شریف) کی پروموشن پر اپنی خوشی کا اظہار بزبان شاعر کرتے ہیں)

دی گئی ہے تمہیں ذمہ داری شان سے

مبار ک تمہیں شہدا کے باغ سے

بکھری ہے باغ میں خوشبو یہی ہر سو

کررہے ہیں فرشتے یہی گفتگو

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

مبارک تمہیں شہدا کے باغ سے

اگر میں تمہارے درمیاں میں نہیں

نہ سمجھو خدا کی پناہ میں نہیں

جسے اپنے پاس بلاتا ہے وہ

یہ سمجھو اُسے اپنا بناتا ہے وہ

مبارک تمہیں شہدا کے باغ سے

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

وہ اک دن شہادت تو پانا ہی تھا

جنت میں خدا کی تو جانا ہی تھا

درمیاں میں صحابہ کے بہت خوش ہوں

عبادت میں اب بھی میں مصروف ہوں

یہاں جانتے ہیں سب شریف کے نام سے

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

خوشی کی خبر جب یہ میں نے سنی

بہت یاد آئے ابا جان اور امی

امی کی خوشی کا ٹھکانا نہیں

اُنہی کی وجہ سے یہ عزت ملی

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

نماز میں روزانہ جو میں دکھتا نہیں

نہ سمجھو دُعا میں تم شامل نہیں

ہر لمحہ نگہبانی کرے گا خدا

دعا یہی دیتا ہوں تم کو صدا

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

تم نے لاج رکھی ہے حیدر ی نشان کی

اب تم سے بھی پھوٹیں گی داستانیں نئی

کہ اک دن سپہ سالار بنو گے تمہی

دعائیں یہی دیتے ہیں سبھی جنتی

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

خدا نے توازن یہ رکھا ہے خوب

شبیرؔ ہے شہید راحیلؔ غازی کا روپ

بنے ہو کمانڈر نئی آن سے

جیو گے ہمیشہ اب نئی شان سے

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

ہوں گے خدا کے سامنے جب روبرو

ہم دونوں ہی ہوں گے پھر وہاں سرخ رُو

رکھو گے جب تم آج کی بنیاد میجدوں

سونے سے لکھی جائے گی تاریخ خاک و خوں

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

مبارک تمہیں شہداء کے باغ سے

29
December

ورلڈ امیچر چیس چیمپئن شپ میں چھٹی پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی قیصر اقبال کی ہلال سے گفتگو

پاکستانی کھلاڑی قیصر اقبال نے یونان میں ہونے والی ورلڈ امیچر چیس چیمپین شپ 2013میں چھٹی پوزیشن حاصل کی اور پاکستان پہلی بار ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل ہو گیا۔اس سلسلے میں ان سے کی جانے والی گفتگوپیشِ خدمت ہے۔

سوال۔اپنے خاندانی اور تعلیمی پس منظرکے بارے میں بتائیے؟

جواب۔میں ملتان میں پیدا ہوا ۔میرے والد صاحب سول انجینئر تھے۔ میں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔پاکستان ائر فورس کا لج سرگودھا سے ایف ایس سی کیا۔پھر الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کر نے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم رہا۔ان میں ساؤتھ عریبیہ(یمن اور اس سے ملحقہ علاقے)، بنگلہ دیش، امریکہ اور کینیا، کے ممالک شامل ہیں۔ 2010 میں پاکستان واپس آکر نادرا میں بحیثیت ڈائریکٹر ایکسیس کنٹرول سسٹم (DIRECTOR ACCESS CONTROL SYSTEM) جاب شروع کی۔

سوال۔آپ کو شطرنج کھیلنے کا شوق کیسے ہوا؟

جواب۔میرے پر نانا حکیم عبد الکریم آل انڈیا چیس چیمپئن تھے ۔میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ گھرمیں گیارہ بارہ سال کی عمرمیں شطرنج کھیلنا شروع کی۔اس کے بعد کالج اور ڈسٹرکٹ لیول پر کھیلا۔ سوال۔شطرنج(CHESS)کو بادشاہوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے؟اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ جواب۔جی بالکل ایسا ہی ہے۔آپ دیکھیں چین نے شطرنج (CHESS) ایجاد کی انہو ں نے دنیا پر حکومت کی ۔ اس گیم کو عرب،روم،یورپ،اورا مریکہ نے اپنایا اور کھیلا اورانہوں نے دنیا پر حکومت کی۔ اسی طرح اگرآپ نے کسی سوسائٹی کو جج کرناہو کہ ان کی تعلیمی قابلیت و استعداد کیسی ہے تو آپ ان کیCHESSریشو دیکھ لیں کہ وہ کتنا CHESSکھیلتی ہیں۔آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کتنی کامیاب ہے۔

سوال۔پریکٹس کیسے کرتے ہیں؟

جواب۔اسلام آباد‘ راولپنڈی میں چیس ایسوسی ایشن کے کلب ہیں اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر آن لائن گیم کھیلی جاتی ہے۔جس میں دنیا بھر کے کھلاڑی موجود ہوتے ہیں۔

سوال۔آپ نے نیشنل لیول پر کتنے مقابلے جیتے؟

جواب۔پاکستان میں‘ میں تین سال سے جیت رہا ہوں ۔نادرا کا INTERNAL CHESS SPORTS GALLAمیں نے جیتا ۔رحما ن ملک اس وقت ملک کے وزیرِ داخلہ تھے۔انہوں نے مجھے پہلا انعام دیا۔اس کے بعد انٹر نیشنل امیچر چیس آرگنائیزیشن ورلڈ چیمپین شپ 2013میںیونان میں کھیلنے کے لئے مجھے بھیجا گیا۔اس سلسلے میں ،میں دو نام لوں گا۔ان میں سے ایک طارق ملک چیئر مین نادرا اور دوسرے گوہر احمد خان جوکہ ڈائیریکٹر جنرل ہیں جنہوں نے مجھے سپانسر کیا۔

سوال۔انٹرنیشنل لیول پر چیس کھیلنے کے لئے کیا چیز سب سے زیادہ ضروری ہے؟

جواب۔پروفیشنل لیول کی CHESSکے لئے پریکٹس کے ساتھ ساتھ سٹڈی اور نالج بہت ضروری ہے جو کہ انٹر نیٹ پر آسانی سے دستیاب ہے۔چیس کے گرینڈ ماسٹرز نے اپنے تجربات سے کچھ ایسی TECHNIQUES بتائی ہیں جو مخالف کی چال کا مقابلہ کرنے کے لئے کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔جن کا علم ہونا بہت ضروری ہے تا کہ بہترین گیم کھیلی جا سکے۔

سوال۔کھیل کے دوران پریشر میں ہوتے ہیں؟

جواب۔جب تک آ پ فو کس نہ ہوں دنیا کی کوئی گیم بھی نہیں جیت سکتے۔خاص طور پر انٹرنیشنل لیول پر جب آپ اپنے ملک کے لئے کھیل رہے ہوتے ہیں تو تھوڑی ٹینشن تو ہوتی ہے۔

سوال۔انٹرنیشنل امیچرچیمپین شپ 2013میں کتنے ممالک نے شرکت کی؟

جواب۔اس مقابلے میں38ممالک نے شرکت کی۔میں پاکستان کی تاریخ میں پہلا کھلاڑی ہوں جس نے فائنل راؤنڈ کیلئے پہلی مرتبہ کوالیفائی کیا۔ سوال۔مقابلے کے دوران سب سے زیا دہ خوشی کب ہوئی تھی؟ جواب۔جب میں نے سوئیڈن کے کھلاڑی کو ہرایا تو بہت خوشی ہوئی۔لیکن جب میں نے ورلڈ نمبر ون کھلاڑی BINDER OLEG کے خلاف ڈرا کیا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔کیونکہ وہ نا قابلِ شکست کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔

سوال۔ ہمارے ملک میں CHESSمقبول ہو اس کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ج۔بچوں کی ذہنی نشو نماکے لئے اسے سکول لیول پر شروع کرنا چاہئے کیونکہ CHESS IS THE BEST MEDICINE FOR BRAIN۔ جرمنی میں ریاضی میں کمزور بچوں کو CHESSکا تین ہفتوں کا کورس کروایا جاتا ہے ۔جس میں وہ صرف CHESS کھیلتے ہیں ۔اس کے بعد انہیں ریاضی کی تعلیم دی جاتی ہے۔سکول لیول پر بچے کھیلیں، مقابلے جیتیں۔اس طرح ٹیلنٹ تلاش کرنے میں آسانی ہو گی اور ہمیں انٹرنیشنل لیول کے کھلاڑی آسانی سے مل جائیں گے۔

سوال۔CHESSکیسا کھیل ہے سستایا مہنگا؟

جواب۔یہ ایک انتہائی سستا کھیل ہے۔اس کے لے آپ کو کسی گراونڈ کی ضرورت نہیں۔آپ کسی بھی جگہ بیٹھ کر گیم شروع کر سکتے ہیں۔

سوال۔ کرکٹ کے کھلاڑیوں کو تو جیتنے پر بہت انعام ملتے ہیں آپ کو بھی کچھ فائدہ ہوا؟

جواب۔جی ہاں مجھے اپنے ادارے اور ایک اور آرگنائزیشن جنہوں نے مجھے سپانسر کیا ان کی طرف سے انعام ملا ۔

سوال۔ مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟

جواب۔2014میں ورلڈ امیچرچیس چیمپین شپ میں دوبارہ شرکت کروں گا اور کوشش ہو گی کہ میں اپنے ملک کے لئے گولڈ میڈل جیت کے لاؤں ۔

سوال۔ CHESSکے علاوہ آپ کو کون سی گیم پسند ہے؟

جواب۔مجھے کرکٹ اور گالف پسند ہے۔ وسیم اکرم اور سچن ٹنڈلکر میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔

سوال۔پڑھنے والوں کے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب۔ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہئیے اور تعلیم کو عام ہونا چاہئے۔ اس کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
29
December

فنِ حرب و ضرب کا مؤرّخ جب بھی افواج پاکستان کی سگنلزکور کی تاریخ لکھے گا تو جہاں جہاں لڑاکا افواج کا ذکر آئے گا وہاں سگنلز بٹالین میں ’’قاصدان چھمب 1971ء‘‘ کا لقب حاصل کرنے والی اس سگنلز بٹالین کا ذکر بھی تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے ضرور تحریر کرے گا جو اب تک تمام سگنلز بٹالین میں جنگی اعزازات حاصل کرنے والی صف اول کی بٹالین مانی جاتی ہے۔ اس بٹالین کے 1971کی جنگ میں چھمب سیکٹر کے محاذپر 16جوان اپنے فرائض منصبی انجام دیتے ہوئے شہید اور چار زخمی ہوئے۔نامساعد حالات میں بھی بارڈر سے مرکز تک بہترین کمیونیکیشن برقرار رکھنے کے اعتراف کے سلسلے میں اس نامور بٹالین کو قاصدانِ چھمب کا لقب دیا گیا۔

وطن عزیز کی خاطر قربانیاں دینے کا یہ سلسلہ 1971کی جنگ کے بعد بھی موقوف نہیں ہوا بلکہ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اس وقت تک جاری و ساری رہے گا جب تک یہ دنیا باقی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مادر وطن کے یہ جانباز سپوت اپنے جواں اور سرخ لہو سے بہادری کی وہ عظیم داستانیں رقم کر رہے ہیں جن پر جری سے جری عساکر بھی ان سرفروشوں کی بہادری کے کارناموں پر انگشت بدنداں ہیں۔ آج ہم ارضِ وطن کے چند ایسے ہی سرفروشوں کا تذکرہ کررہے ہیں۔

سگنل مین محمد عمران شہید

aye putter1محمد عمران کا تعلق ضلع ساہیوال تحصیل چیچہ وطنی سے تھا۔انہوں نے 8دسمبر 2004ء پاکستان کی اس مایہ ناز کور آف سگنلز میں شمولیت اختیار کی۔ اپنی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد وہ قاصدان چھمب کے فرد بنے۔ سگنل مین محمد عمران شہید اپنے پیشے سے انتہائی لگن رکھنے والے جوان تھے۔ 28جون 2009میں آپریشن المیزان جو کہ دہشت گردوں کے خلاف کیا جا رہا تھا‘ میں سگنل مین محمد عمران کانوائے کے ساتھ غرلمے سے ’’وچہ بی بی‘‘ جا رہے تھے۔ وہ کانوائے اور ہیڈکوارٹر کے درمیان ریڈیو کمیونیکیشن بحال رکھنے کے ذمہ دار تھے۔ نواں کلی کے قریب دہشت گردوں نے کانوائے پر حملہ کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران انہیں کئی گولیاں لگیں۔ مگر وہ زخموں کی پروا کئے بغیر ریڈیو سیٹ پر مسلسل ہیڈکوارٹر کے ساتھ رابطے میں رہے اور ایک ایک لمحے کی رپورٹ دیتے رہے۔ سگنلز کور کے یہ کم عمر آپریٹر جن پر چاروں طرف سے آتش و آہن کی بارش ہو رہی تھی ایک لمحے کے لئے بھی موت سے خوفزدہ نہ ہوئے بلکہ زندگی کی آخری سانسوں تک اپنی مخصوص اور جاندار آواز میں ہیڈکوارٹر سے رابطے میں رہے۔ ان کے قریبی ساتھی جو اس معرکے میں بچ گئے تھے ‘ بتاتے ہیں کہ وطن عزیز کے اس جیالے سپوت کا جسم کافی حد تک جل چکا تھا مگر چہرے پر وہی رونق وہی تبسم وہی وقار تھا جو ایک بہادر اور جری انسان کا خاصا ہوا کرتا ہے۔ آخر موت کا فرشتہ اس جری انسان کو نیلے آسمانوں کے اس پار کہکشاؤں کے دیس میں لے جانے کے لئے آن پہنچا۔ اس کم سن شہید اور فخر سگنلز کور محمد عمران نے بلند آواز سے کلمہ پڑھا اور ہنستے مسکراتے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ ان کا جسد خاکی گاڑی کے دروازے کے پاس نیم دراز حالت میں تھا گویا وہ لڑتے لڑتے تھک کر چند لمحوں کے لئے سو گیا ہو۔ محمد عمران سگنلز آپریٹر کو حکومت پاکستان نے اس کی اس بہادری اور فرض شناسی کے سلسلے میں ستارۂ بسالت سے نوازا۔

سگنل مین لانس نائیک محمد اکرم شہید

لانس نائیک محمد اکرم پیشے کے لحاظ سے فٹر سگنلز تھے۔ ان کا تعلق باب الاسلام سرزمینِ سندھ ضلع لاڑکانہ تحصیل رتو ڈیرو سے تھا۔ لانس نائیک محمد اکرم نے 22نومبر 1997میں کور آف سگنلز aye putter2میں شمولیت اختیار کی۔ اپنی بنیادی عسکری تربیت مکمل کرنے کے بعد 5جولائی1999کو اس مایہ ناز یونٹ قاصدان چھمب کا حصہ بنے۔

محمداکرم فنِ سپہ گری سے بہت محبت کرتے تھے اوراپنے فن میں انتہائی ماہر‘ نہایت جفا کش اور بے حد محنتی تھے۔ اُن کو جو بھی ذمہ داری سونپی جاتی وہ اسے دل و جان سے پوری کرنے کی کماحقہ کوشش کرتے۔ اپنی انہی خوبیوں کی بنا پر وہ اپنے سینئرز اور جونیئرز میں یکساں مقبول تھے۔ جون2009 میں لانس نائیک محمداکرم کمیونیکیشن ڈیٹ‘‘ کے ساتھ غرلمے سے’’ وچہ بی بی‘‘ جارہے تھے کہ ’’نواں کلی‘‘ کے قریب دہشت گردوں نے اُن پر حملہ کردیا۔ لانس نائیک محمداکرم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس لڑائی میں بھرپور حصہ لیا۔ دیر تک دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس کارروائی کے دوران ان کے سینے پر تین گولیاں لگیں۔ اوروہ جامِ شہادت نوش کرگئے۔اس جھڑپ میں دہشت گردوں کا بھی کافی نقصان ہوا اوروہ اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ محمداکرم کو بہادری اور اعلیٰ حوصلے کی بدولت ’’تمغۂ بسالت‘‘ سے نوازا گیا۔ اس جری جوان نے اپنے گھر سے سینکڑوں میل دور’’نواں کلی‘‘ کی پتھریلی اور سنگلاخ چٹانوں پر اپنا جواں اور تازہ گرم خون نچھاور کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ پہلے پاکستان کے بیٹے ہیں پھران کا کسی صوبے سے تعلق ہے۔

سگنل مین صالح

’’آپریشن المیزان‘‘ کے تیسرے شہید سگنل مین صالح (ڈرائیور سگنلز) کا تعلق بھی باب الاسلام سرزمین ضلع بدین سے ہے۔ صالح23 نومبر 1995 کو کور آف سگنلز میں شامل ہوئے اور بنیادی تربیت aye putter3مکمل کرنے کے بعد1996 کو ’’قاصدان چھمب‘‘ کے سرفروشوں کے جتھے کا ایک فرد بنے۔ آپ اسم بامسمیٰ تھے یعنی اپنے نام ہی کی طرح انتہائی فرمانبردار‘ فرض شناس‘ بااخلاق اور ہر دل عزیز جوان تھے۔ سگنل مین (ڈرائیور سگنلز) 20 نومبر2009 کو ’’مانا‘‘ سے ’’پش زیارت‘‘ لائن بچھانے کے ایک اہم مشن پر جارہے تھے کہ گھات میں بیٹھے ہوئے دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ ڈیڑھ گھنٹے تک یہ مٹھی بھر جانباز بیسیوں کی تعداد میں انتہائی تربیت یافتہ دہشت گردوں سے نبرد آزما رہے ۔ڈیڑھ گھنٹے کی اس آتش و آہن کی بارش میں سگنل مین صالح نہ صرف دشمن پر فائرنگ کرتا رہا بلکہ کمیونیکیشن کا کام بھی جاری رکھا۔ اس کارروائی کے دوران سگنل مین صالح کو سر میں گولی لگی اور سندھ کے تپتے ہوئے ریگزاروں کا ایک اور مسافر اپنے گھر سے کوسوں دور راہِ حق کا وہ مسافر بن گیا جن کی منزلیں یہ دھرتی نہیں بلکہ کہکشاؤں کا وہ دیس ہوا کرتا ہے جہاں اﷲ رب العزت کے حکم سے حوریں اُن کے جسدِ خاکی کو سمیٹ لینے کے لئے بے قرار و بے تاب ہوا کرتی ہیں۔ شہید صالح کی اس فرض شناسی اور اعلیٰ حوصلے کے اعتراف میں انہیں تمغۂ بسالت سے نوازا گیا۔

حکومتِ پاکستان نے اپنے ان قاصدانِ نامہ بر و قاصدانِ چھمب کوفرض شناسی اور بہادری و جوان حوصلگی کے اعتراف میں ایک ستارۂ بسالت اور تین تمغۂ بسالت دیئے۔ یوں یہ سگنل بٹالین المعروف ’’قاصدانِ چھمب‘‘ کور آف سگنلز میں سب سے زیادہ جنگی اعزازات رکھنے کا شرف رکھتی ہے۔

29
December

دو رویہ کھڑے فوجی جوانوں کی رائفلیں اوپر کو اٹھیں اور فضاء میں اس نعرے اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے عجب سا سماں باندھ کے رکھ دیا۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے چوک سرور شہید کے در و دیوار تک لرز اٹھے ہوں۔ ایسا لگ رہا تھا گویا پورا شہر ہی امڈ آیا ہو، کیا بچے، بوڑھے اور جوان سب پر ایک جوش، جذبہ اور ولولہ سا طاری تھا اور عوام کا جمِ غفیر تھا۔ کیونکہ آج کے دن گیاری سیکٹر میں شہادت کے منصب پر فائز ہونے والے میجر ذکاء الحق شہید کا جسد خاکی ان کے آبائی علاقہ میں لایا جا رہا تھا اور لوگ گروہ در گروہ اپنے اس محبوب اور بہادر فوجی افسر کا آخر ی دیدار کرنے کو بے تاب تھے۔

قوم کے اس بہادر سپوت نے 16جون 1981کو چوک سرور شہید میں زندگی کی پہلی سانسیں لیں۔مظفر گڑھ کے ممتاز تعلیمی ادارے میں آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے ملک کے مختلف کیڈٹ کالجز کے داخلہ ٹیسٹ پاس کئے اور بالآخر مشہورِ زمانہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کی جانب رختِ سفر باندھا۔ ایف ایس سی کرنے کے بعد جب انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشن کا ارادہ باندھا تو یہاں پر بھی کامرانی و کامیابی نے ان کے قدم چومے اور باری تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی مرحلے میں کامیابی سے نوازدیا اور یوں وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکو ل جا پہنچے۔ دوسال پر محیط عسکری تربیت کے مراحل کو نہایت جانفشانی کے ساتھ طے کیا بعد ازاں اپنی یونٹ کے ساتھ ملک کے مختلف مشکل ایریازمیں ڈیوٹی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر انہیں اقوام متحدہ کے امن مشن پر کانگوبھیج دیا گیا۔شہید میجر ذکاء الحق کی ساری زندگی ہی مہم جوئی میں گزری تھی ۔وہ ایک سالہ مشن کے بعد کانگو سے پلٹ کر گھر پہنچے تو دنیا کے بلند اورسرد ترین محاذ جنگ سیاچن گلیشئیرنے انہیں پکار ا۔ چنانچہ انہوں نے پھر سے سامانِ حرب باندھا اور اپنے بہادر جوانوں کے ہمراہ سیاچن محاذ کا رخ کیا۔ شہید کے بڑے بھائی صدام الحق راقم کو بتا رہے تھے کہ سیاچن گلیشئرمیں اس جری سپوت کا جوشِ جنوں اور جذبۂ حب الوطنی قابلِ دید تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ میجر ذکاء الحق شہیدجب بھی گیاری سے چھٹی آتے تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب ان کے اس بلند جذبے کی داد دیئے بغیر نہ رہتے تھے۔ آخری بار جب وہ چھٹی آئے تو انہوں نے بتایا کہ مئی کے آخری دنوں یا جون کے پہلے ہفتے میں ہمارا مشن ختم ہو جائے گا اور ہم گیار ی سے واپس آجائیں گے اوردنیا نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے وعدے کی پاسداری بھی کیاخوب کی اور وہ واقعی جون کے پہلے ہفتے میں گھر آگئے مگر۔۔۔کچھ اس اندازسے کہ ان کے فوجی ساتھیوں نے انہیں سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔سات اپریل 2012کو سانحہ گیاری سیکٹر‘ میں پاکستانی فوج کی پیدل سپاہ ناردرن لائٹ انفنٹری کے یہی وہ جری اور شاہین صفت کمانڈر میجر ذکاء الحق تھے جنہوں نے اپنے ایک سو چالیس (140)جانثار سپاہیوں کے ہمراہ سیاچن کے اس ’’برف زار‘‘ میں اپنی خوبصورت جوانیوں کو لٹا دیا اور 1984ء سے گرم اس محاذ جنگ کو اپنے جواں اور تازہ لہو سے ٹھنڈا کرنے کی ایک سعی اور کر ڈالی، ملک و ملت کا دفاع کر تے ہوئے اپنی جان سے بھی گزر گئے اور تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ وجاوید ہو گئے۔

29
December

افواجِ پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی اور اخُّوت ملی کی مثالی فضا برقرار رکھی ہے۔ ہماری افواج قومی مساوات و یگانگت کی ایک زندہ تصویر ہیں۔ ان کی صفوں میں ہر صوبے اور خطے کے افرادکی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ افواجِ پاکستان کے افسر اور جوان علاقائی و لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر دفاعِ وطن اور مشکل حالات میں فرائض کی ادائیگی کے لئے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ مصروف عمل رہتے ہیں۔عساکرِ پاکستان اپنے ہموطنوں کے لئے تن من دھن کے ساتھ مصروف خدمت ہیں اور اپنے اعلیٰ نظم و ضبط کی بناء پر قومی وحدت اور ملی اتحاد کے لئے منفرد شناخت رکھتی ہیں۔وطن دشمن عناصر خواہ وہ دشمن ممالک کی ایجنسیاں ہوں یا اپنی صفوں میں چھپے ہوئے میر جعفر و میر صادق ، ملکی استحکام کو زِک پہنچانے کے لئے متعدد حربے استعمال کرتے ہیں۔ انہی حربوں میں سے ایک تعصب کا زہر ہے۔ یہ زہر لِسانی ، علاقائی ، قومیتی ، مذہبی یا پھر رنگ ونسل کی بنیاد پر معاشروں میں سرایت کیا جاتا ہے۔ دشمن ہمارے منظم اور بہترین کارکردگی کے اداروں سے بری طرح حاسد ہے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے ان تعصبات کو ہوا دینے کی کو شش کرتا رہتا ہے۔ ان اداروں میں سے ایک افواج پاکستان کا ادارہ ہے جِس کا وقار اور بے لوث خدمات پوری دنیا میں مسّلم ہیں۔ اعدادوشمارسے یہ بات واضح ہے کہ افواجِ پاکستان میں ملک کے پس ماندہ اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں کی نمائندگی پر بھی بھرپور توجہ مبذول کی گئی ہے۔پاک فوج بلوچستان اور فاٹا کے سینکٹروں نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہمکررہی ہے اسی طرح صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو کمیشن حاصل کرنے آسانی بہم پہچانے کے لئے آئی ایس ایس بی کے امتحانات کے انتظامات وہیں پر کئے گئے ہیں جس سے بلوچی نوجوان دفاعِ وطن کے لئے جوق در جوق کمیشن پا کر افواجِ پاکستان کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ فوج جہاں سلامتی کے معاملات کو سنجیدگی سے لیتی ہے، وہیں ان کی توجہ تمام صوبوں کی نمائندگی پر رہتی ہے۔ کیونکہ فوج کے مختلف صیغے پاکستان کے اتفاق واتحاد کا مظہر ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی گزشتہ چندسالوں میں۵۰۰۰سے زائد بلوچ جوانوں کا فوج میں شامل ہونا ہے۔ان جوانوں کی فوج میں شمولیت کے دُور رَس نتائج حاصل ہوں گے۔ پاک فوج کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ بلوچستان کو قومی دھارے میں لے کر چلیں ۔ جہاں یہ عمل ان خاندانوں کی معاشی بہتری کے لیے معاون ثابت ہو گا وہیں اس سے بہت سے وسوسے ختم ہو جائیں گے۔ فاٹا میں۱۵۴۰کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر۱۰۰۰ کے قریب آبی منصوبوں۳۲سکولوں و کالجوں کی تعمیر کے لئے پانچ سال کے دوران ۵ ارب روپے جبکہ صرف کوہلو اور ضلع بگٹی کے اضلاع کی ترقی پردس ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ان علاقوں کے بچوں کے لئے آرمی پبلک سکولوں‘ ملٹری کالجوں‘ کیڈٹ کالجوں‘ پی اے ایف سکو ل سرگودھا اور بعض دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لئے خصوصی نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

سوات میں متعدد سکولوں کی بحالی کے علاوہ ایک بہترین کیڈٹ کالج قائم کیا گیا ہے۔فاٹا میں پاک آرمی نے دہشت گردی کے باعث کئی سالوں سے نامکمل گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے منصوبے کو جدید خطوط پر مکمل کرنے کا منصوبہ بنایاہے۔ تاکہ فاٹا کے نیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تکنیکی وفنی تربیت مہیا کی جاسکے ۔ ’’وائٹ ‘‘نام کے اس تکنیکی تربیتی منصوبے کی تکمیل کا سہرا پاک فوج ، فاٹا، سیکریٹریٹ ، فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پولیٹیکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان کے سر ہے۔یہ سول اور فوجی تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے۔اس کے پہلے کورس کا دورانیہ۴ماہ مقرر کیا گیا اور اس میں فاٹا کے نیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تکنیکی اور فنی تربیت کے لئے کمپیوٹر آپریٹر ، ڈرائیونگ ، آٹو مکینک ، آٹوالیکٹریشن اور بلڈنگ الیکٹریشن کے کورسز کا اجراء کیا گیاہے ۔ دفاع سے متعلق صنعت میں فاٹا اوربلوچستان کو خصوصی طور پر ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔اسی طرح پی ایم اے سے پاس آؤٹ ہونے والے آرمی افسروں میں ایک بڑی تعداد سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے ۔ صوبہ بلوچستان میں کیڈٹ کالجزکی تعداد۱۱ ہونے کو ہے ۔ ملکی خواتین کو پاکستان اےئر فورس میں خواتین لڑاکا پائلٹس اور پاک فوج میں ریگولر کمیشنڈ آفیسرز کے طور پر شامل کرنا پوری قوم کو ایک ہی لڑی میں پرونے کی ایک اور کوشش ہے۔جس سے وطنِ عزیز میں ایک درخشند ہ روایت قائم ہوئی ہے۔ یہ خواتین دفاعِ وطن میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔جو پاکستان کی تاریخ میں سنہری باب کا آغاز ہے۔

الحمدﷲافواجِ پاکستان کا تنظیمی ڈھانچہ عظیم الشان بنیادوں پر استوار ہے۔ جو نہ صرف ملک بھر کے تمام طبقوں کی مکمل نمائندگی کرتا ہے بلکہ اقلیتوں کو بھی مساوی مواقع مہیا کرتا ہے۔ ہمارا یہی اتحاد اور جذبۂ مساوات ہمیں دیگر عساکرِ عالم سے ممیز کرتا ہے۔ بلاشبہ آج ہمارا دفاع مضبوط تر ہے۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہ رکھتے ہوئے ملکی سا لمیت اور وقار کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور یہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔ آج ہم کسی بھی نوعیت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے لیس ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اتفاق واتحاد اور برداشت کے ایسے ہی جذبے کا مظاہرہ کرے اور مخالف قوتوں کی ہر سازش کو قومی یکجہتی کے جذبے سے مات دے دیں۔ عدم برداشت اور معتصّبانہ سازشوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد سے ہی ہم نہ صرف تعصب کے زہر کا تریاق کر سکتے ہیں بلکہ اخُّوتِ ملی کی ایک عمدہ مثال پیش کر سکتے ہیں۔

29
December

زندگی ایک کہانی ہے اور ہم سب اس کہانی کے جیتے جاگتے کردار ہیں۔ان کرداروں میں دھنک کے رنگ بھرنے ہیں یا اماوس رات کے‘ یہ فیصلہ تقدیر کے ذمے لگا دیا جاتا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں۔ ہم ان میں اپنی خواہشات‘ اپنی استطاعت‘ اپنی عادات اور سوچ کے مطابق رنگ بھرتے چلے جاتے ہیں۔ جہاں کہیں خواہشات کی پریوں کے پر کٹنے لگتے ہیں تو خُدا اور تقدیر کا حوالہ دیا جانے لگتا ہے اور جہاں خواہشات کے پر اونچی اُڑان میں رہتے ہیں وہاں انسان اپنے زورِ بازو‘ اپنی ہمت کے کارنامے بیان کرتا ہوا خود کو ہیرو بنا کر پیش کرنے لگتا ہے۔زندگی کے اس سفر میں ایک ایسے انسان سے ملاقات ہوئی جس طرح کے انسان کو مولانا رومی چراغ لے کر سورج کی روشنی میں ڈھونڈ رہے تھے تو خُدا پہ یقینِ واثق اور مضبوط ہوا کہ واقعی اللہ اپنے نبیﷺ کی اُمت سے مایوس نہیں ہے۔

بشیر احمد شاکر 1968 یکم جنوری کو منڈی بہاؤالدین میں محمود خان‘ جو پیشے کے اعتبار سے فوجی تھے‘ کے گھر پیدا ہوا۔ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ ماں کی محبت سے ابھی زندگی کو امرت بنا بھی نہ پایا تھا کہ والدہ دنیا سے رخصت ہو گئیں اور دو سال کا شاکر ممتا کی محبت کے لئے کبھی باپ کی آنکھوں میں جھانکتا،کبھی رشتہ داروں کی گود میں جا بیٹھتا اور کبھی بہنوں کے ساتھ لگ کے سو جاتا۔۔۔۔ماں کی جُدائی کے دُکھ نے شاکر کو خاموش اور صابر بنا دیا تھا۔ وہ ضد کرتے کرتے مان جاتا اور چوٹ لگنے پر خاموشی سے درد اور آنسو چھپا کر رہ جاتا۔ اسی کشمکش میں شاکر سکول میں پڑھتے ہوئے نویں جماعت میں جا پہنچا اور نویں جماعت میں ایک دن سکول سے آتے ہی پتا چلا کہ والد کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے تو وہ صابر سا بشیر احمد شاکر جو بچپن سے ماں بچھڑ جانے کی وجہ سے سب سے آنسو چھپاتا پھرتا تھا، آج پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

حالات کے پیش نظر بشیر احمد شاکر نے فوج میں بھرتی ہونے کا سوچا اور1990 میں جہلم میں بھرتی ہوا اور ایبٹ آباد میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد چونیاں میں تعینات ایک بلوچ رجمنٹ میں چلا گیا۔ 1994 میں لیپا سیکٹر میں رجمنٹ کے ساتھ گیا تو پہاڑ پر چڑھتے ہوئے پاؤں پھسلا‘ ایسا لگتا تھا کہ آج شاید ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائے گا۔ مگر خُدا کی قدرت نے راستے ہی میں سہارا دے کر بچا لیا اور جب بشیر احمد شاکر کے ساتھی اُس کو اُٹھا کر واپس لائے تو کوئی یقین ہی نہیں کر رہا تھا کہ وہ بچ گیا ہے اور شاکر خُدا کا شکر ادا کرتا ہوا پھر زندگی کی طرف چل پڑا۔ باکسنگ کا بے حد شوقین شاکر ایک اچھا باکسر تھا۔ اُس نے اپنی ٹیم کے ساتھ 1993 میں ٹرافی جیتی اور اپنی رجمنٹ کے لئے اعزاز کا باعث بنا۔ 1995 میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوا تو اللہ نے فضہ بشیر اور حنان بشیر جیسے تحفے عطا کئے۔ مگر ابھی قدرت کو بشیر احمد شاکر کا امتحان لینا مقصود تھا۔19 سالہ فوجی زندگی میں 2001 میں اٹک سے گھر چھٹی پہ آیا تو چھت پر گری بجلی کی تاروں نے اس تنومند قد آور سپاہی کے جسم کو لرزا کے رکھ دیا اور جب شاکر کو ہوش آیا تو اُس کا جسم کافی حد تک جل چکا تھا،بایاں بازو آدھا اوردایاں بازو مکمل کٹ چکا تھا۔

شجر تھا میں، میری ٹہنیاں کٹ رہی تھیں

میں پرندوں کے گھونسلے بچاتا کیسے

وہ یہی سوچنے لگا اور پھر اُس نے اپنی صالحہ بیوی بشریٰ اور بچوں کو سسکتے اور دوست احباب کے بہتے آنسو دیکھے تو اپنے اندر حوصلہ پیدا کر کے اُس نے پوچھا ’’کیا تم سب میرے دست و بازو بنو گے‘‘ عجب ایک غم اور اُداسی کا سا سماں تھا ۔۔۔سب خاموش تھے مگر پھر محبت اور دوستی کے تمام رشتوں نے عہد کر لیا اور اُس وقت ایک عہد بشیر احمد شاکر نے اپنے خُدا سے کیا اور کہا۔۔۔۔

" اے رب آج سے پہلے میں انسانیت کے دُکھوں سے بہرہ مند تو تھا مگر دل کسی کے درد پہ تڑپتا نہ تھا مگر آج میں عہد کرتا ہوں کہ تیرے مفلوک الحال اور معذور افراد کے لئے میں اپنی معذوری بھول جاؤں گا اور اُن کے لئے ایسا کا شانہ بناؤں گا کہ جہاں اُنہیں ماں کی محبت بھی ملے گی اور عزت کی زندگی بھی۔۔۔"

اپنے علاج کے دوران بشیر احمد شاکر کو 72 خون کی بوتلیں لگیں ۔ ایک سال زیر علاج رہنے کے بعد جب وہ گھر آیا تو اُس وقت ایک عجیب سماں تھا۔ وہ دروازے اور کھڑکیاں جنہیں وہ رات کو سوتے ہوئے خود بند کیا کرتا تھا اُنہی ہاتھوں کے منتظر تھے مگر اب وہ دونوں ہاتھ اور اُن کا لمس نہیں تھا۔ بشیر احمد شاکر کا دل کچی مٹی کی دیوار پہ جلتے دئیے کی طرح جل رہا تھا مگر یقین اور زندگی کے بچ جانے کی خوشی نے بجھنے نہیں دیا۔

نئی زندگی کی نئی صُبح نئی اُمیدوں اور انتھک مشقتوں کے لئے اپنا دامن دراز کئے ہوئے تھی۔ بشیر احمد شاکر نے فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے اپنے قدم سنگ ریزوں پہ ڈال دئیے۔ دُنیا اور ہجوم آدم کو گہری نظر سے دیکھنے لگا۔ اُس کی معذوری نے اُس کے اندر بصیرت کی شمع روشن کر دی ۔۔ ابھی وہ ایک چوراہے پہ کھڑا ہی ہوا تھا کہ اُس کے پاس سے آواز آئی ۔۔۔۔ \"اللہ کے نام پہ\" صدا آتے ہی شاکر نے مانگنے والے کی طرف دیکھا تو لکڑی کی ریڑھی پر دونوں ٹانگوں سے معذور ایک شخص ہاتھ پھیلا کر مانگ رہا تھا۔ شاکر اُس کے ساتھ ہی فٹ پاتھ پہ بیٹھ گیا اور بولا میرے بھائی میرے تو ہاتھ ہیں نہیں میری جیب سے دس روپے نکال لو۔ مانگنے والے فقیر کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔

بشیر احمد شاکر نے اُس کے بعد گلے میں ٹافیوں اور گولیوں کا تھیلا لٹکا کر بیچنا شروع کیا اور بچوں کے لئے روٹی کمانے کا وسیلہ پیدا کیا۔ ساتھ ہی اُسے اپنے رب سے کیا ہوا وعدہ بھی یاد تھا۔ فوج کی طرف سے کمیوٹ ملا تو اُس نے تین منزلہ مکان لے لیا۔ ایک منزل پہ وہ خود رہنے لگا ایک منزل کرائے پہ دے دی اور نیچے والے دو کمروں میں اللہ کے اس سپاہی نے ایک سکول کھولا جہاں معذور افراد کے لئے فری تعلیم اور غریب لوگوں کے حسبِ توفیق فیس دینے پر تعلیم کا انتظام کیا مگر اتنا کچھ کرنے پر بھی شاکر کے اندر بے سکونی کی کیفیت رواں تھی۔ پھر اُس نے ایک فاؤنڈیشن بنانے کا عزم کیا اور’’ سپرٹ‘‘ کے نام سے معذوروں کی بحالی کے لئے فاؤنڈیشن رجسٹرڈ کرا لی۔ بازوؤں سے محروم اس شخص نے عام انسانوں کی طرح کار چلانی شروع کی۔ کمپیوٹر آپریٹ کرنے لگا، اپنی ویب سائٹ خود بنائی۔ زندگی کے بہت سے وہ کام جو بظاہر لگتا ہے کہ وہ معذوری کی حالت میں نہیں کر سکتا کرنے لگا اور وہ عزم و ہمت اور استقلال و جرأت کے ساتھ طوفانوں سے ٹکراتا ہوا آج اس مقام پہ ہے کہ اپنے جیسے معذوروں کے لئے وہیل چیئرز، واکرز، آلہِ سماعت، ٹرائی سائیکلز اکٹھی کر تا ہے اور مستحقین تک پہنچاتا ہے۔

بشیر احمد شاکر کی ذات کا ایک انوکھا اور روشن پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بہت اچھا شاعر بھی ہے۔ پہلی ملاقات میں جو اپنا شعر اُس نے سنایا وہ یہ تھا کہ ہم زندگی کی جنگ میں مضروب تو ہوئے

لیکن کسی محاذ پہ پسپا نہیں ہوئے

شاکر کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ جیسے تمام ناکامیاں،مصیبتیں،معذوریاں اس عظیم مکتبہ فکر، فکرِ اقبال سے تعلق رکھنے والے کے سامنے شرمندہ ہیں۔ بشیر احمد شاکر کی زندگی کو اتنے بڑے حادثے کے بعد پر سکون رکھنے اور خوشیوں سے مزین کرنے میں اُن کی بیگم بشریٰ اور بچوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اُن کے دوست احباب بھی اُنہیں نہ صرف مفید مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں بلکہ اُن کے لئے ایک منزل کے بعد اگلی منزل تک کے راستے استوار کرتے چلے جاتے ہیں۔ بشیر احمد شاکر کی بہت بڑی خواہش ہے کہ وہ اپنے جیسے افراد کے لئے ایک نیا کیمپس بنائیں جہاں ہوسٹل سے لے کر کاروبار کرنے تک کی ان افراد کے لئے سہولیات موجود ہوں۔ بشیر احمد شاکر کی آج بھی فوج سے عقیدت اور محبت بلا کی ہے۔

راستہ پھولوں سے مزین ہو یا کانٹوں سے فوج کی تربیت گاہ سے نکلا افسر ہو یا سپاہی اور زندگی کی مشقتوں میں پسا ہوا انسان ہو کہ آسانیوں کے شب و روز میں محوِ خواب آدم زاد‘ جب اُس کے اندر کی شمع روشن اور گوہر بصیرت دریافت ہو جاتا ہے تو پھر اللہ کی مخلوق ہی نہیں اللہ کے فرشتے بھی اُس کی مدد کے لئے آسمانوں سے اُتر آتے ہیں۔

29
December

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں‘ کب بات میں تری بات نہیں

صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں

مشکل ہیں اگر حالات وہاں‘ دل بیچ آئیں جاں دے آئیں

دل والو کوچہ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا‘ وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے‘ اس جاں کی کوئی بات نہیں

میدانِ وفا دربار نہیں‘ یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں

عاشق تو کسی کا نام نہیں‘ کچھ عشق کسی ذات نہیں

یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا‘ ہارے بھی تو بازی مات نہیں

فیض احمد فیض

29
December
1965 کی جنگ کے دوران فوجی بھائیوں کے لئے

ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر محمداعظم خان کی باتیں

جنگِ ستمبر1965ء میں افواجِ پاکستان نے بہادری کے جو باب رقم کئے اور جس جوانمردی سے دشمن کے دانت کھٹے کئے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس موقع پر قومی اتحاد کا جوروح پرور مظاہرہ پیش کیا گیا وہ بلاشبہ ہماری مسلح افواج اور پاکستانی قوم کا مشترکہ سرمایہ اور اعزاز ہے۔ 6ستمبر کو دشمن نے رات کی تاریکی میں اس مقدس سرزمین پر جو شب خون مارنے کی کوشش کی پوری قوم اور افواجِ پاکستان نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اس کو نہ صرف روکا بلکہ دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔ پاکستان نیوی دشمن کے سمندروں میں جا کر کاری ضرب لگا کر سلامت لوٹ آئی۔

بھارتی فضائیہ اپنے تیز رفتار اور جدید طیاروں کی برتری سے صرف اس قدر استفادہ کرسکی کہ وہ پاک فضائیہ کے طیاروں کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوتی تھی۔ پورا پاکستان اس اچانک جارحیت کے خلاف پوری مردانگی سے بیدار ہوا اور دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔

پاک فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ کو جنگ کے بعد ایک غیر ملکی اخبار نویس نے لاہور شالامار باغ میں سوال کیا کہ اتنے طویل بارڈر پر بھارتی فوج نے کتنی ہی جگہوں پر محاذ کھولے ۔ آپ کی فوج اس کے مقابلے میں نفری میں بہت کم تھی۔ اس لئے آپ پریشان تو ہوئے ہوں گے؟ جنرل محمد موسیٰ نے برجستہ کہا۔ ’’پریشانی تو بھارتی فوجی قیادت کو ہوئی ہوگی کہ اس نے ہماری سرحدوں پر جہاں جہاں بھی سراٹھایا ہم اس کا سر کچلنے کے لئے ہر محاذ پر موجود تھے۔‘‘ پاکستانی شاعروں‘ ادیبوں‘ مصوروں‘ موسیقاروں اور گلوکاروں نے بھی اپنے اپنے محاذوں پر اپنے جوہر دکھائے۔ محمداعظم خان ان دنوں ریڈیو پاکستان لاہور میں میوزک پروڈیوسر تھے۔ 1965 ہی میں ریڈیو پاکستان ایمپریس روڈ پر اپنی نئی بلڈنگ میں شفٹ ہوا تھا جس کا افتتاح صدرایوب خان نے کیا تھا۔ اس سے پہلے ریڈیو سٹیشن سر فضل حسین کی کوٹھی میں تھا۔ یہ کوٹھی گورنر ہاؤس کے ساتھ تھی۔ محمداعظم خان نے ایک ملاقات میں مجھے بتایا کہ 6 ستمبر1965 کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سٹیشن ڈائریکٹر شمس الدین بٹ نے فوجی بھائیوں کے لئے نغمے اور ترانے ریکارڈ کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی اور میں اس کو اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔ 8 ستمبر کو ملکہ ترنم نور جہاں نے بٹ صاحب کو فون کیا اور اپنی خدمات پیش کیں۔ صوفی غلام مصطفی تبسم ان دنوں ریڈیو پاکستان لاہورمیں سٹاف آرٹسٹ تھے۔ اس لئے فوجی بھائیوں کے لئے زیادہ تر نغمے اور ترانے انہوں نے لکھے‘ ملکہ ترنم نورجہان نے گائے اور میں نے ریکارڈنگ کی۔

صوفی تبسم ریڈیو سٹیشن ہی میں فوجی بھائیوں کے لئے نغمے اور ترانے لکھتے تھے۔ کمپوزنگ کے بعد میں ان کی ریکارڈنگ کرتا تھا۔صوفی صاحب نے یہ ترانہ لکھ کر دیا۔

’’میریا ڈھول سپاہیا‘ تینوں رب دیاں رکھاں۔‘‘ اس کی کمپوزنگ سلیم اقبال نے کی اور ملکہ ترنم نور جہاں نے گایا۔ اس ترانے کی ریکارڈنگ میں پورا دن صرف ہوگیا۔17 دن کی جنگ میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ میں نے کسی ترانے کی ریکارڈنگ نہ کی ہو۔ ترانوں کا انتخاب میں کرتا تھا۔ معاونت ایوب رومانی اور اکرم بٹ کرتے تھے۔ ایک روز میرے پاس کوئی اچھا ترانہ نہیں تھا۔ میں نے صوفی تبسم صاحب سے کہا کہ میڈم نور جہاں‘ قصور کی رہنے والی ہیں۔ قصور سیکٹر پر بھی لڑائی ہو رہی ہے تو آپ قصور کے بارے میں نغمہ لکھ دیں۔ انہوں نے یہ نظم لکھ کر دی۔

میرا سوہنا شہر قصورنی

ایہدیاں دُھماں دُور دُور نی

جب ہمارے سپاہیوں کی لاشیں سی ایم ایچ میں آنا شروع ہوئیں تو صوفی صاحب نے لکھا

ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے

کیہہ لبھنی ایں وچ بزار کڑے

جب یہ نغمہ ریکارڈکرکے ہم سٹوڈیو سے باہر آئے تو میڈم نور جہاں‘ صوفی تبسم اور میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ محمداعظم خان نے بتایا کہ ریڈیو کی طرف سے ہم سی ایم ایچ میں زخمی فوجی بھائیوں کو ملنے گئے۔ انہیں پھول پیش کئے اوران کی صحت یابی کی دعا کی۔ ایک فوجی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ اس نے کہا کہ دعا کرو‘ میں جلد صحت یاب ہوجاؤں۔ محاذ جنگ پر جانا چاہتا ہوں‘ خواہ میری دوسری ٹانگ بھی کام آ جائے اس وقت یہ جذبہ تھا۔ محمداعظم خان نے بتایا کہ میڈم نور جہاں‘ عظیم خاتون تھیں۔ مجھے65ء کی جنگ کے دوران ان کے ساتھ کام کرنے اور قریب رہنے کا موقع ملا۔ سارا دن وہ ریڈیو سٹیشن رہتیں۔ ان کے لئے چائے پانی کا اہتمام بھی میں کرتا تھا۔ میڈم نورجہاں نے مجھے کہا’’اعظم خان صاحب ! میں کمرشل آرٹسٹ ہوں۔ فلموں کے لئے گیت گاتی ہوں۔ فوجی بھائیوں کے لئے نغمے اور ترانے گوا کرآپ نے مجھے ہیرو بنا دیا۔ میں یہ لمحات زندگی بھر نہیں بھول سکتی۔‘‘ ہوائی حملے کا جب سائرن ہوتا تو ریڈیوسٹیشن میں موجود تمام لوگ ریڈیو سٹیشن کے لان میں کھودی گئی خندق( Trench) میں چلے جاتے۔ مگر میڈم نور جہان سٹوڈیو یا میرے کمرے میں ہی رہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنا تو ایک دن ہے۔ میں سٹوڈیو چھوڑ کے نہیں جاسکتی۔ میڈم نور جہاں کی بیٹی ظلِ ہما ان دنوں چھوٹی تھی۔ وہ گھر سے اپنی ماں کو فون کرتی ہیں کہ’’ مما بمباری ہو رہی ہے‘ گھر آجائیں۔‘‘ مگر وہ گھر جانے کے بجائے بیٹی کو حوصلہ دیتیں۔ اعظم خان کا کہنا تھا کہ17 دنوں کے دوران ہم نے کئی راتیں ریڈیو سٹیشن پر گزاریں۔ مجھے محکمے کی طرف سے جیپ ملی ہوئی تھی۔ میڈم نور جہاں کو گھر چھوڑ کر میں ریڈیو سٹیشن آجاتا۔ کام سے فارغ ہو کر وہیں سو جاتا۔ صبح تھوڑی دیر کے لئے گھر جاتا۔ ناشتے کے بعد پھر آجاتا۔ گویا1965ء کی جنگ کے دوران میرے شب وروز ریڈیو سٹیشن پر گزرے۔ ایوب رومانی ان دنوں ڈپٹی کنٹرولر تھے۔ ایک روز انہوں نے مجھے کہا۔ اعظم خان صاحب! نغموں اور ترانوں میں سپاہیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ کرنیل اور جرنیل بھی ان کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں لہٰذا ان کے لئے بھی کوئی نغمہ ریکارڈ کراؤ۔ چنانچہ صوفی تبسم نے یہ نغمہ لکھ کر دیا۔

میرا ماہی چھیل چھبیلا

کرنیل نی جرنیل نی

صوفی صاحب نے بحری اور فضائی افواج کے لئے بھی نغمہ لکھا جس کے بول ہیں۔

یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی

میرے سربکف مجاہد میرے صف شکن سپاہی

صوفی تبسم کے علاوہ بھی دیگر معروف شاعروں نے فوجی بھائیوں کے لئے نغمے اور ترانے لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ مثلاً تنویر نقوی کا یہ نغمہ

’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘

رئیس امروہوی کا یہ نغمہ

’’امیدِ فتح رکھو اورعَلم اٹھائے چلو‘‘

یہ نغمے میں نے ریکارڈ کئے۔ ان دنوں تقریباً گیارہ نغمے میں نے ریکارڈ کئے تھے۔ انہی دنوں علامہ اقبال کی نظم ’’مردِمسلماں‘‘ بھی ملکہ ترنم نور جہان کی آواز میں ریکارڈ کی۔ جس کا پہلا شعر ہے۔

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان‘ نئی آن

گفتار میں‘ کردار میں‘ اﷲ کی برہان !

فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئرنگ یاسمین طاہر کرتی تھیں۔ یہ لائیو پروگرام ہوتا تھا۔ کئی مرتبہ میڈم نور جہاں فوجی بھائیوں سے گفتگو کرتی تھیں۔ فوجی بھائی فون کرتے تھے اور ملکہ ترنم نور جہاں جواب دیتی تھیں۔ محمداعظم خان نے بتایا کہ پنڈی میوزیم میں1965ء کی جنگ کا جو سیکشن بنایا گیا ہے اس میں صوفی تبسم‘ میڈم نور جہاں اور میری تصویریں بھی آویزاں کی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں کرنل عدنان‘ میری اور یاسمین طاہر کی گفتگو بھی ریکارڈ کرکے لے گئے تھے۔ جناب اعظم خان نے مزید کہا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران منیرنیازی کی تخلیقی بصیرت ان کی ذات میں موجود تمام جذبوں میں پراسیس ہو کر ایک بے مثال دعائیہ ترانے میں ڈھل گئی۔

اے وطن اے عالمِ اسلام کی تابندگی‘ تجھ پر سلام

اس جہاں کی تیرگی میں اے نظر کی روشنی تجھ پر سلام

اس ترانے میں پاکستان کے مستقبل میں ایک ایٹمی قوت بن جانے کی پیش گوئی موجود ہے۔ یہ ترانہ ملکہ ترنم نور جہاں اور محمدصدیق نے گایا۔ ان دنوں ڈاکٹر رشید انور کی یہ نظم بہت مقبول ہوئی۔

مہاراج ایہہ کھیڈ تلوار دی اے

جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی

یہ نظم ریڈیو پر پڑھی گئی۔ اس وقت کے سٹیشن ڈائریکٹر سلیم گیلانی نے اس نظم کو بعدازاں تاج ملتانی کی آواز میں ریکارڈ کرایا۔ ڈاکٹر فقیر محمد کی کتاب ’’ستاراں دن‘‘ شائع ہوئی۔ اس کتاب میں شامل تمام نظمیں ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ سے متعلق ہیں۔ اور یہ نظمیں انہی سترہ دنوں میں لکھی گئیں جن میں پاکستانی قوم کے جذبوں کا بھرپور اظہار پایا جاتا ہے۔ یہ کتاب اکتوبر1965ء میں شائع ہوئی۔ اس کا دیباچہ میجر شجاع الدین بٹ نے لکھا۔

ان کے تاثرات تھے’’ستاراں دن کی تمام نظمیں ہمارے مورچوں پر شہیدوں اور غازیوں کے کارناموں کی چلتی پھرتی تصویریں ہیں جن کا مطالعہ ہمارے سپاہیوں کے دلوں کو گرمانے کے ساتھ ساتھ قوم کے ہر طبقے کی روح کو بھی جگاتا رہے گا۔‘‘ ڈاکٹرفقیرمحمدفقیر کی ایک نظم ’’غازی تے شہید‘‘ کے اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

کرکے پیار مریدی شوقوں مرشد بنے مرید

دے کے دل دی دولت جنہاں‘ آندا رب خرید

دن بنیاں عید اونہاں دے لئی‘ رات بنی شبرات

جیوندے جیہڑے بن گئے غازی مر کے بنے شہید

محمداعظم خان 1996ء میں ریڈیو پاکستان سے بطورِ کنٹرولر ریٹائرہوئے۔

29
December

انسانی تہذیب و تمدن کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ روزِ اول سے جہاں جہاں بھی قدرت نے دریا‘ ندی یا چشمہ بہا دیا وہاں انسانی تہذیب پروان چڑھی۔ بستیاں قائم ہوئیں‘ کچے پکے راستے بنے اور ترقی کی منزلیں طے ہوتی گئیں۔ آج بھی شاہراہیں اپنے کنارے آباد بستیوں‘ شہروں اور ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ معاشی فوائد کی رسی میں تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے ہیں۔ سیاچن اور اس کے ملحقہ علاقوں کو جانے والے راستوں کی صرف تیس سالہ پرانی تاریخ پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے جیسے پگڈنڈیاں کچے راستوں میں اور کچے راستے سڑکوں میں تبدیل ہوتے گئے ویسے ویسے ان کے کنارے آباد لوگوں کا ذریعہ معاش اور معیارِ زندگی بہتر ہوتا گیا۔ صوبہ سندھ کے شہر پنوں عاقل کی تاریخ بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔ علاقائی اور معاشی ترقی کے یہ اصول پاکستان کے قبائلی علاقہ جات پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے‘ دشوار گزار راستوں‘ نوکیلے پتھروں‘ سنگلاخ گھاٹیوں اور محدود قابلِ کاشت زرعی اراضی پر مشتمل ہیں۔ قبائلی علاقہ جات کے باسی تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی وجہ سے زیرِ موضوع رہے ہیں۔ کبھی انگریزوں کے خلاف جنگِ آزادی اور کبھی پوست کی کاشت اور افغانستان سے سمگلنگ کے پہاڑی راستوں کا تذکرہ میڈیا کے توسط سے لوگوں تک پہنچتا رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قبائلی علاقہ جات اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے برصغیر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوںیہاں کے معاشرتی اور معاشی حالات سے بہت زیادہ متاثرہوتے ہیں۔ ان علاقوں کے لوگوں نے ماضی میں پاکستان کے دفاع میں اپنا کردار نہایت احسن طریقے سے ادا کیا۔ یہاں کے باسیوں کی حب الوطنی ہمیشہ مثالی رہی ہے مگر بدقسمتی سے ماضی کے ترقیاتی منصوبہ سازوں نے اس علاقے کو کافی حد تک نظرانداز کیا۔ قدرتی وسائل‘ روزگار‘ قابلِ کاشت زمین اور ذرائع آمدورفت کی کمی کے باعث ان علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کے دروازے کھل گئے۔ ماضی قریب میں یہ سرگرمیاں نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لئے بھی مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتی رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں غیر ملکیوں کے قیام کی وجہ سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

کچھ عرصہ پہلے تک افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کے لئے دو شاہراہیں استعمال ہوتی تھیں۔ پہلی کراچی‘ کوئٹہ‘ قلعہ عبداﷲ اور چمن سے افغانستان (قندھار) اور دوسری کراچی‘ پشاور‘ لنڈی کوتل اور طور خم سے افغانستان

(جلال آباد تا کابل)

یہ دونوں تجارتی شاہراہیں باہمی تجارتی سامان کے حجم کے مقابلے میں ناکافی تھیں۔ چنانچہ تجارتی حجم کو بڑھانے اور قبائلی عوام کی معاشی ترقی کے پیشِ نظر سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی خصوصی دلچسپی اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(FWO) کی انتھک محنت اور جانفشانی کی بدولت مشکل ترین حالات و واقعات کے باوجود تیسرے تجارتی راستے کی تعمیر کا بیشتر حصہ نہ صرف مکمل ہو چکا ہے بلکہ اس پر بڑے ٹرک سامانِ تجارت لے کر گزرنا بھی شروع ہوگئے ہیں اور ان ٹرکوں کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے۔ نو تعمیر شدہ شاہراہیں

(سنٹرل ٹریڈ کاریڈور)

شاخ نمبر1:جنوبی وزیرستان کے راستے‘ کراچی سے ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک‘ انگوراڈا اور افغانستان

(برمل‘ گردیز‘ کابل تک)

شاخ نمبر2 شمالی وزیرستان کے راستے‘ کراچی سے بنوں‘ میر علی‘ میرانشاہ‘ غلام خان اور افغانستان (تنی ‘ گردیز‘ کابل) مذکورہ شاہراہ کی تعمیر سے نہ صرف کراچی اور کابل کے درمیان فاصلہ کم ہو گیا ہے بلکہ محسود اور وزیر قبائل کو اپنے اپنے علاقے میں ترقی کے لئے آزاد تجارتی راستہ بھی مل گیا ہے۔ مزیدبرآں مستقبل میںیہ شاہراہ وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے علاوہ یورپ تک زمینی رابطے قائم کر کے علاقے میں ترقی‘ دوستی اور خیرسگالی کی نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔

ایک نئی تجویز کردہ شاہراہ

موجودہ حالات اور بہتر مستقبل کے پیشِ نظر ایک اور شاہراہ جسے ہم Opportunity Corridor بھی کہہ سکتے ہیں‘ کی تعمیر بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس شاہراہ کی شاخیں اس طرح تعمیر ہو سکتی ہیں۔

شاخ نمبر1 (کرم ایجنسی) کوہاٹ‘ ٹل‘ اڑولی‘ علی منگل اور افغانستان (پیوار پاس‘ کوالانگر‘ کابل) پہلے سے موجود شاہراہ کو بہتر کرنے اور اڑولی سے مغرب کی طرف افغان بارڈر تک نئی سڑک کی تعمیر کی ضرورت ہے۔

شاخ نمبر 2 (خیبر‘ اورکزئی اور کرم ایجنسی) پشاور‘ باڑہ‘ سلیمان خیل‘ بھاگ‘ سدہ‘ پارہ چنار‘ علی منگل اور افغانستان۔ (پیوارپاس‘ کولانگر‘ کابل) اس شاخ کے لئے صرف سلیمان خیل سے براستہ بھاگ‘ اڑولی تک 25سے 30کلومیٹر اضافی سڑک تعمیر کرنا پڑے گی اور موجودہ سڑک کو بہتر بنانا ہو گا۔

اس شاہراہ سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔

-1جو معاشی اور معاشرتی فوائد نئی شاہراہ کی تعمیر سے جنوبی وزیرستان (محسود) اور شمالی وزیرستان (وزیر) کے باشندوں کو ملیں گے۔ وہی فوائد مثلاروزگار کی فراہمی اور ترقی کے مواقع وغیرہ کرم‘ اورکزئی اور خیبر ایجنسی کے باشندوں کو بھی میسر ہوں گے۔

-2کسی شاہراہ کے بلاک ہونے پر اس کے پہلو میں ایک متبادل راستہ میسر ہو گا جس پر گاڑیوں کو موڑ کر وقت اور ایندھن کی بچت ہو سکے گی۔

-3 کرم اور اورکزئی ایجنسی کے باشندوں کو پشاور تک رسائی کا ایک چھوٹا اور متبادل راستہ مل جائے گا۔

-4 آپس کی قبائلی اورفرقہ ورانہ لڑائیوں میں ایک دوسرے کا محاصرہ کر کے معاشی قتل عام کرنے کے خطرات کم ہو جائیں گے۔

-5 قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہتر آمدورفت کی وجہ سے کارکردگی بھی بہتر ہو گی اور ان علاقوں میں قانون کی عمل داری ممکن ہو سکے گی۔

-6 ان علاقوں میں پوست کی کاشت اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں پر نظر رکھنا آسان ہو گا جس سے پوری دنیا کو فائدہ ہو گا۔

امید کی جا سکتی ہے کہ اس شاہراہ کی تکمیل نہ صرف ان علاقوں کی قسمت بدلنے میں اہم ثابت ہو گی بلکہ افغانستان‘ پاکستان اور باقی دنیا کے لئے بھی بہت مفید ہو گی۔ انشاء اﷲ

29
December

قومی ہاکی ٹیم کی ناؤ کو عالمی سطح پر پے در پے شکست کے بھنور سے نکالنا کسی چیلنج سے کم نہیں اور چیلنج قبول کرنا محمد عمران کی فطرت میں ہے۔ 2011 میں ہار اور جیت کے تھپیڑے کھاتی اس ٹیم کی کپتانی محمد عمران کو ملی جسے نہ صرف انہوں نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا بلکہ ایسے حالات میں ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی جیت کر اس ناؤ کو بڑا سہارا دیا ہے۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے محمد عمران نے 2004 میں Debut کیا اور اب تک صرف ایک بار قومی ٹیم سے ڈراپ ہوئے ۔ اب تک 223 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ ہم نے ان سے ایک خصوصی نشست رکھی اور قومی کھیل کے بارے انہوں نے خاصی دلچسپ باتیں کیں‘ جو قارئین کی نذر ہیں۔

س:۔ پاک فوج میں شمولیت کب اختیار کی؟

ج:۔ میں نے 1998 میں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی جس پر مجھے فخر ہے۔

س:۔ پاک فوج سے وابستگی ہاکی کی بنیادپر ہوئی یا ہاکی فوج میں شمولیت کے بعدکھیلنا شروع کی؟

ج:۔ ہاکی سکول اور کالج کے دور سے ہی کھیلتا آ رہا ہوں مجھے ہاکی کا بچپن سے ہی جنون تھا اور یہی ہاکی پاکستان فوج میں آنے کی وجہ بنی۔

س:۔ آپ کب سے قومی ہاکی ٹیم کی کپتانی کررہے ہیں اور کیا پاک فوج کی جانب سے بھی بحیثیت کپتان ہی کھیلتے تھے؟ ج:۔ میں 2006 سے پاک فوج کی ہاکی ٹیم کی کپتانی کر رہا ہوں اور ڈومیسٹک مقابلوں میں کپتانی کے دوران بہت کچھ سیکھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاک فوج میں ہاکی ٹیم کی کپتانی کا تجربہ ہی میرے کام آیا اور میں 2011 میں قومی ہاکی ٹیم کا کپتان بنا اور یہ میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ۔ لیکن اس کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے کہ جس نے میرے اندر کپتانی کرنے کے ہنر کو پہچانا۔

س:۔ آپ کی قیادت میں ٹیم نے اب تک کون سی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں؟

ج:۔ ہر کھلاڑی میدان میں جیتنے کے لئے اُترتا ہے۔ خاص کر آج کے دور میں ہمیں جیت کی بہت ضرورت ہے ۔ میری کپتانی میں قومی ٹیم نے دو بار ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل جیتا۔ ورلڈ چیمپئنز ٹرافی اور ایشیا کپ میں کانسی کے تمغے جیتے۔ اس کے علاوہ آئرلینڈ میں چار ملکی ٹورنامنٹ میں کامیابی بھی ہمارے حصے میں آئی۔ لیکن خواہش ہے کہ قومی ٹیم کو میگا ایونٹس میں بھی جیت سے ہمکنار کروں۔

س:۔ قومی اور بین الاقوامی ہاکی مقابلوں میں آپ کو کن تجربات سے گزرنا پڑا؟

ج:۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر پیشہ ورانہ معیار کے عین مطابق کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ایسے میں ایک ایسی ٹیم کو منظم رکھ کر کھیلنا اس وقت مشکل ہو جاتا ہے جب کہ ٹیم میں شامل کھلاڑی انفرادی کارکردگی دکھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہوں۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں مقامی اور قومی سطح پرتیار شدہ کھلاڑی دستیاب نہیں ہیں جیسا کہ یورپ اور دیگر ممالک میں نچلی سطح سے قومی سطح تک ایک ہی طرح کی تربیت دے کر کھلاڑی تیار کئے جاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل لیول پر ایک سال کھیلنے کے بعد وہ تجربہ ملتا ہے جو کہ انہیں ڈومیسٹک لیول میں ملنا چاہیئے۔ میری کوشش ہے کہ قومی ٹیم کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرکے زیادہ سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جائیں۔

س:۔ جیت کے لئے آپ کی کیا حکمتِ عملی ہوتی ہے؟

ج:۔ کرکٹ کی طرح ہاکی بھی ایک ٹیم گیم ہے۔ لیکن ہاکی میں کوچ میچ سے پہلے پلان دیتا ہے جس پر سب کھلاڑیوں کو عمل کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن میچ کے دوران بحیثیت کپتان حریف ٹیم کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے لئے میں حکمت عملی تھوڑی تبدیل بھی کر دیتا ہوں۔ اور میدان سے باہر کوچ سے ملنے والی ٹپس بھی بڑی کام آتی ہیں پورے میچ میں یہ چلتا رہتا ہے۔ میرے خیال میں اگر سبھی کھلاڑی منصوبہ بندی پر صحیح عمل کر یں تو ہاکی میں کامیابی مشکل کام نہیں۔

س:۔ کوئی دلچسپ واقعہ یا کسی ایسی ٹیم کا ذکر جس نے آپ کو ٹف ٹائم دیا ہو؟

ج:۔ آسٹریلیا میں ہمارا مقابلہ ہندوستان کی ٹیم کے ساتھ تھا ۔ ہماری ممکنہ جیت کو دیکھتے ہوئے ایک ہندوستانی کھلاڑی نے غصے میں ہمارے ایک کھلاڑی کو ہاکی مار دی جس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان جھگڑا ہو۱۔ جس میں میرے دو دانت بھی ٹوٹے ۔ میرے نزدیک کھیل کے میدان میں جیت بہترین بدلہ ہوتا ہے اور پاکستانی ٹیم نے فتح حاصل کر کے ہندوستانی ٹیم کو منہ توڑ جواب دیا۔ ہماری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔

س:۔ ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے آپ کے ذہن میں کیا تجاویز ہیں؟

ج:۔ ہمیں ڈومیسٹک سٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ سکول اور کالج کے ساتھ ساتھ کلبوں کی سطح پر بھی توجہ دینی ہو گی۔ کرکٹ کی طرح ہاکی میں بھی زیادہ سے زیادہ کمرشل ازم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہاکی میں زیادہ پیسہ شامل کر کے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں کیونکہ ہاکی کے فروغ کے لئے جتنا زیادہ پیسہ شامل کیا جائے گا اتنا ہی یہ قومی کھیل عوامی مقبولیت حاصل کر پائے گا۔

س:۔ اب تک کن کن ملکوں میں کھیل چکے ہیں اور کامیابی کا تناسب کیا رہا؟

ج:۔ میں ہاکی کھیلنے والے تمام ممالک میں کھیل چکا ہوں تاہم ایشیائی ممالک میں ہماری کارکردگی اچھی رہی ہے ۔ عالمی مقابلوں میں مجموعی طور پر ہماری کارکردگی چالیس فیصد جبکہ ایشیائی ممالک میں جیت کا تناسب ساٹھ فیصد سے زیادہ رہا۔

س:۔ پاکستا ن ہاکی ٹیم میں کون کون سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں؟

ج:۔ اگر ہم اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیں تو ہم بخوبی جان سکتے ہیں کہ ہمارے بہت سے کھلاڑی انفرادی طور پر کھیلنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور انفرادی کارکردگی پر توجہ مرکوز کئے ہوتے ہیں۔ جبکہ اجتماعی طور پر کھیلنے میں ہی ہماری کامیابی ہے۔

س:۔ بھارت ہاکی میں پاکستان کا روایتی حریف ہے۔ اسکے خلاف میچ میں کیا حکمت عملی ہوتی ہے؟

ج:۔ گو کہ ہم اپنا ہر میچ کوچ کی منصوبہ بندی کے تحت ہی کھیلتے ہیں تاہم ہندوستان کو شکست دینے کے لیئے ہر کھلاڑی بے تاب ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت کے خلاف ہم زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ کھیلتے ہیں تاکہ قوم کو جیت کا تحفہ دیں ۔ ہم ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ قومی ہاکی ٹیم کو ہندوستان سے شکست نہ ہو کیونکہ ہماری قوم ایسی شکست برداشت نہیں کر پاتی۔

س:۔ لوگ ہاکی میچ بہت دلچسپی سے دیکھتے تھے آج ان کی توجہ صرف کرکٹ کی طرف ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

ج:۔ ایک توکمرشل ازم اور پیسے کا زیادہ سے زیادہ بہاؤ ہونے کی وجہ سے کرکٹ کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی ہے دوسرا یہ کہ ہم کافی عرصہ سے کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت پائے۔ ذرائع ابلاغ کا رجحان کرکٹ کی طرف ہونے کی وجہ سے بھی ہاکی کا کھیل مقامی اور قومی سطح پرعدم توجہی کا شکار ہے ۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اشتہاری ادارے کرکٹ پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ٹی وی چینلز ہاکی دکھائیں گے تو اس قومی کھیل کو توجہ ملے گی۔ میرے خیال میں ہاکی کو کمرشلائز کرنے کی ضرورت ہے ۔

س:۔ کھیل کے حوالے سے آپ کی انفرادی کارکردگی کیسی رہی؟

ج:۔ بحیثیت کپتان میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کے سامنے رول ماڈل بنوں۔ مجموعی طور پر میری انفرادی کاکردگی کافی بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ میں ابھی تک نہ صرف فوج کی ہاکی ٹیم بلکہ قومی ٹیم کا بھی کپتان ہوں۔

س:۔ کیا آپ کے پاس پینلٹی کارنر اورپینلٹی سٹروک کے ماہر کھلاڑی موجود ہیں؟

ج:۔ میں خود بھی پینلٹی کارنر کا ماہر ہوں اور دو سو تیئس میچز میں میں نے اب تک ایک سو تراسی گول کئے ہیں۔ پینلٹی سٹروک کا بھی کافی تجربہ ہے۔ تاہم ہماری ٹیم میں توثیق احمدبھی پینلٹی کارنر اسپیشلسٹ ہے ۔

س:۔ کیا پاک فوج کی ہاکی ٹیم میں اور بھی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں؟

ج:۔ موجودہ قومی ٹیم میں پاکستان فوج کی طرف سے دو کھلاڑی کھیل رہے ہیں۔ لیکن میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ فوج کی ٹیم میں ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو مستقبل میں قومی ٹیم کی نمائند گی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں موقع ملے تو ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

س:۔ مستقبل میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کودنیا میں کس مقام پر دیکھتے ہیں؟

ج:۔ عالمی سطح پر اگرچہ قومی ٹیم کی رینکنگ زیادہ بہتر نہیں لیکن بھارت. اور ملائشیا کی موجودگی میں ہم نے ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی جیتی ہے جو بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اگر ہم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہر کھلاڑی کو انفرادی طور پر سخت محنت کرنا ہوگی ۔

قابل اعتماد

ایک خاتون اپنے خاوند کی نئی کار لے کر بازار آ نکلیں جس میں انجن پیچھے لگا ہوا تھا۔ خریداری سے فارغ ہو کر جب کار چلانے لگیں تو کسی وجہ سے کار نہ چلی۔ کئی مرتبہ کوشش کر کے خاتون نے انجن چیک کرنے کے لئے سامنے سے ڈھکنا کھولا تو کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ انجن غائب تھا۔ بے حد پریشانی کے عالم میں قریب ترین چوراہے پر پولیس افسر سے شکایت کی کہ کوئی شخص میری کار کا انجن چرا کر لے گیا ہے۔ متعجب پولیس افسر فوراً موقع واردات پر پہنچا۔ خاتون نے شاہانہ انداز میں ازسرِ نو گاڑی کا سامنے کا ڈھکنا کھولا تاکہ محافظ قانون اپنی آنکھوں سے نقصان کا اندازہ کر لے۔ سراسیمہ افسر ایک لمحے کے لئے تو بھونچکا ۔ وہ پھر معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کار کے پیچھے گیا اور انجن کا ڈھکنا اٹھا دیا۔ انجن نظر آ گیا۔ خاتون بھی ہار ماننے والی نہ تھیں۔ خوشی سے بولیں میں ہمیشہ اس کار کو قابل اعتماد سمجھتی تھی لیکن مجھے قطعی اندازہ نہ تھا کہ اس میں ایک فالتو انجن بھی ہے۔

(مجیب الرحمن مفتی کی کتاب فی سبیل اﷲ سے ایک اقتباس )
29
December

میں نے چپڑاسی کے ہاتھ سے کارڈ لے کر اسے پڑھا، ’’امبر علی‘‘ نام کے نیچے اس کے کاروبار کی نوعیت درج تھی۔ وہ فوڈ سپلائی کے ایک سلسلے کی انچارج تھیں۔

’’بھیجو اسے میرے پاس! ‘‘ میں نے اپنے سامنے پھیلی فائلوں کو سمیٹ کر ایک طرف کیا اور اس کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ اگلے ہی لمحے وہ میرے دفتر میں داخل ہوئی۔۔۔ میں نے اس کے بیٹھنے تک اس کا جائزہ لیا، وہ گلابی رنگ کے سادہ سے سوتی لباس میں تھی، نفاست سے بنے ہوئے جوڑا نما بال، دوپٹہ کندھوں پر سے ہوتا ہوا سر کے پچھلے حصے کو ڈھانپتے ہوئے ہاتھ میں سیاہ چرمی بیگ ۔۔۔ وہ سلام کر کے بیٹھ گئی۔ میں نے اس کے سلام کا جواب دیا، سامنے بیٹھے ہوئے اس کے نیل پالش سے بے نیاز ستھرے ناخن بھی نظر آ رہے تھے اور کاجل سے سیاہ‘ بھونرا جیسی آنکھیں‘ ہونٹوں پر کوئی مصنوعی لالی نہ تھی مگر وہ گلابی سے تھے، اس کی عمر کا اندازہ میں نے تیسری دہائی کے آخری برسوں کا لگایا۔ یقیناًاپنے کسی بچے کے داخلے کے سلسلہ میں آئی ہو گی ۔۔۔ اس کا چہرہ مجھے کسی کی معمولی سی شباہت لئے نظر آیا مگر چہروں جیسے چہرے ہوتے ہیں، سوچ کر میں خاموش رہی، ’’کہئے۔۔۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں ! ‘‘ ’’آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔۔۔ جو کچھ آپ نے میرے لئے کیا ہے اس کے بعد تو میں آپ کی ایسی احسان مند ہوں کہ مر کر بھی صلہ نہیں دے سکتی!‘‘ اس کے لہجے میں بہت نرمی تھی، اس کی شخصیت سے بالکل میچ کرتا ہوا لہجہ۔ ’’میں نے؟ ‘‘ میں حیران ہوئے بنا نہ رہ سکی، ’’میں نے آپ کے لئے کیا اور کب کیا؟ ‘‘ مجھے تو یاد ہی نہ آ رہا تھا کہ میں نے اسے پہلے کہاں دیکھا تھا۔

’’آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔۔۔ ‘‘ وہ مسکرائی، ’’پہچان بھی کیسے سکتی ہیں۔۔۔ ‘‘ اس نے خود ہی اپنی تردید کی، ’’جس حال میں آپ نے مجھے پہلے دیکھا تھا، تب میں اور اب میں فرق بھی تو بہت ہے۔۔۔‘‘

’’معذرت چاہتی ہوں مگر واقعی مجھے یاد نہیں آ رہا کہ ہماری پہلی ملاقات کب ہوئی تھی! ‘‘ میں نے شرمندگی کے احساس سے زیر ہو کر کہا۔ ’’مجھے خود اپنے اس تعارف پر اب شرمندگی ہے مگر آپ کو یاد دہانی کے لئے اسے دہرا دیتی ہوں۔۔۔‘‘ اس نے کہا، ’’میری کہانی سننا پسند کریں گی آپ‘ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو؟ ‘‘

میں نے چپڑاسی کو بلا کر چائے منگوائی اور اس سے کہا کہ اس کے بعد کسی کو اندر نہ لائے اور جب تک میں گھنٹی نہ بجاؤں، وہ خود بھی اندر نہ آئے۔ میں نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر خود کو آرام دہ حالت میں کیا اور اس سے کہا کہ وہ اپنی کہانی مختصر کر کے مجھے سنائے۔ ۔

عمر کا اٹھارواں برس لگا تو ماں باپ کو میری شادی کی فکر ستانے لگی، میں اس وقت بارہویں جماعت میں پڑھتی تھی جب گھر میں آئے دن رشتے آنے لگے۔ ماں نے شاید رشتے کروانے والیوں سے کہہ رکھا تھا۔ میرے امتحانوں سے قبل آنے والا ایک رشتہ انہیں پسند آ گیا اور ایک سادہ سی تقریب میں میری منگنی ہو گئی اور ایف اے کا امتحان دیتے ہی گھر میں شادی کا غوغا اٹھا، میرے امتحان کا نتیجہ آنے سے پہلے میری ماں کی کوششوں کا نتیجہ نکل آیا اور میں بیاہ کر نئے گھر میں آ گئی۔ مختصر سی سسرال۔۔۔ ایک ساس اور دو نندیں جو کہ بھائی سے پہلے بیاہی گئی تھیں۔ کبھی کبھار وہ آتیں تو مجھے لگتا کہ میری بہنیں آ گئی ہیں۔ ہمارے مابین محبت کا رشتہ استوار ہو گیا تھا، ساس بھی ماں جیسی، میرا خیال رکھتیں، میری عزت کرتیں اور میں اس سے کئی گنا زیادہ ان کا احترام کرتی، شوہر بھی اچھا تھا۔ اس گھر میں پیسے کی ریل پیل نہ تھی، مالی حالات میرے میکے سے بھی پتلے تھے مگر پھر بھی میں صابر و شاکر تھی اور اپنے حال میں خوش تھی۔

ابا بھی ملازمت پیشہ تھے، کلرک کی ایمانداری کی ملازمت میں اور ہو بھی کیا سکتا تھا مگرا ن کا دل میرے لئے بہت بڑا تھا، اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر وہ میری ننھی ننھی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرتے تھے۔ میں نے بھی کبھی اپنی چادر سے پاؤں باہر نکالنے کا نہ سوچا تھا۔ سسرال میں آ کر ذمہ داریاں بڑھ گئیں اور میں نے انہیں نبھاتے نبھاتے اپنا آپ تج دیا۔ اب مجھے اپنی خواہشات دوسروں کے لئے قربان کرنا پڑتیں مگر جہاں آپ کو محبت اور اہمیت ملتی ہو وہاں قربانی دینا مشکل نہیں لگتا۔ ساس چند برسوں بعد دنیا سے سدھار گئیں، نندیں دونوں دیار غیر میں جا بسیں اور وقت گزرنے کے ساتھ میری گود میں تین بچے آ گئے۔ زندگی بہت آسودہ نہ سہی مگر بہتوں سے بہتر گزر رہی تھی۔ میرے شوہر ایک سٹور پر ملازمت کرتے تھے، ایک دن حسب معمول کام پر گئے تو وہیں پر بجلی کے شارٹ سرکٹ ہونے سے ان کا انتقال ہو گیا،ان کے بھسم شدہ مردہ وجود کو گھر پر لایا گیا تو ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ میں تین چھوٹے بچوں کے ساتھ دنیا میں تنہا رہ گئی۔۔۔ ماں باپ کا سہارا بھی نہ رہا تھا، ایسے میں سٹور کے مالک کی طرف سے کی گئی مالی امداد سے چھہ ماہ بھی نہ گزر سکے کہ نہ چھت اپنی تھی نہ ہی کوئی جمع پونجی۔ محلے میں ہی کسی نے مشورہ دیا کہ لوگوں کے گھروں سے کوئی کام کاج کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کا کچھ سامان کروں ۔ کچھ ہنر ہاتھ میں تھا‘ نہ اتنی تعلیم کہ کچھ گھر بیٹھے کر سکتی۔ جہاں گئی، مردوں کی ہوس زدہ نگاہوں نے اور ان کی پیش رفت نے مجھے گھر رہنے پر مجبور کر دیا۔ اڑوس پڑوس سے مانگ تانگ کر اپنا اور بچوں کا پیٹ بھرنے لگی، جو وقت گزر جاتا وہی غنیمت لگتا، کوئی امید نظر نہ آتی تھی پھر بھی ہر کسی سے یہ کہہ کر رقم مانگتی کہ چند دن میں لوٹا دوں گی۔

حالات میں کوئی بہتری کی رمق نظر نہ آتی تھی، ایک دن میں اس سٹور کے مالک کے پاس مدد کی امید لئے چلی گئی۔۔۔ وہاں اس کے سوا مجھے کیا مل سکتا تھا جو ایک مرد کسی بے بس عورت کو دے سکتا ہے، ذلت، تحقیر اور ہوس کا اظہار۔ میرے سخت رویے پر اس نے مجھے دھتکار دیا اور کہا کہ جا کر سڑکوں پر بھیک مانگو، آسانی سے مل جائے گی۔ اس نے میری مدد تو نہ کی تھی مگر مجھے ایک راہ سجھا دی تھی۔ میں نے گاڑیوں کی صفائی والے کچھ کپڑے ایک ہول سیل والے سے ادھار پر لئے، ا س کی راہ بھی میں نے ایک منگتی (بھکارن) سے حاصل کی تھی۔ یوں میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ایک ہمسائی کے پاس چھوڑ کر ’’کام‘‘ پر چلی جاتی۔۔۔ رات تک بمشکل کبھی سو اور کبھی پچاس روپے ملتے تو اتنا بھی نہ ہوتا کہ ایک وقت کا کھانا ہی کھانے کو رقم ہو جاتی۔ میں نے اپنی دوسری ساتھیوں کی تقلید میں آہستہ آہستہ بھیک مانگنا شروع کر دی، اگر کوئی اشارے پر گاڑی رکنے پر کپڑا نہ خریدتا تو میں منت ترلے (سماجت) پر اتر آتی اور آخر بھیک مانگتی کہ مجھے بچوں کا پیٹ بھرنا ہے۔۔۔ اور ایک روز قسمت نے مجھے ایک فرشتے سے ملا دیا، جس نے ہر کسی کی طرح مجھے ایک پیشہ ور بھکارن نہ سمجھا اور کہا، ’’شکل سے تو تم اچھی خاصی لگتی ہو اور تمہارے ہاتھ پاؤں بھی سلامت ہیں تو پھر بھیک کیوں مانگتی ہو۔۔۔ ’’اوہ۔۔۔ اب سمجھی کہ تمہاری شکل مجھے دیکھی بھالی کیوں لگی! ‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔ ’’ہاں آپ ہی وہ فرشتہ تھیں جنہوں نے چند سال پہلے میری سوچ کی سمت بدل دی، میری زندگی کا رخ آپ کے دئیے ہوئے ان دو ہزار روپوں نے بدل دیا ۔۔۔ ‘‘ اس نے سر ہلا کر کہا۔

’’میری تو عادت ہے کہ لوگوں کو بھیک مانگنے سے منع کرتی ہوں، اگر کوئی بھیک مانگنا چھوڑنے پر تیار ہو تو میں اس کی حتی الامکان مدد کرتی ہوں ۔۔۔ ‘‘ ’’اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزا دے، میں تو آج عرصے کے بعد خوش قسمتی سے آپ کو پا کر آپ سے ملنے کے لئے آئی ہوں کہ آپ کا شکریہ ادا کر سکوں اور آپ کو بتاؤں کہ آپ نے ایک دل میں جو بیج بویا تھا اس کاپھل بھی آپ دیکھ لیں۔۔۔ ‘‘ ’’اچھا مجھے کچھ تفصیل بتاؤ کہ تم نے کس طرح اپنی زندگی بدلی؟‘‘ میں نے اس کی کہانی میں دلچسپی ظاہر کی تو اس کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ ’’اس رقم میں سے میں نے پانچ سو سے گھر کا ضروری سامان خریدا، ایک ہزار روپیہ میں نے ایک طرف سنبھال کر رکھ دیا اور محلے میں سو روپے ماہانہ کی ایک کمیٹی ڈال دی، ان سے درخواست کر کے میں نے پہلی کمیٹی لے لی اور اس سے اپنے گھر کا دو ماہ کا کرایہ ادا کر دیا۔ تین سو روپوں سے میں نے کچھ ضروری سامان خریدا اور ایک کاروبار کا سوچا، تین کلو سفید چنے اور اس کے علاوہ ضروری مسالہ جات وغیرہ لے کر میں نے پہلے دن ایک کلو چنوں کی چاٹ تیار کر کے ایک نزدیکی سکول کی کنٹین پر جا کر دے دی۔ سکول کا وقت ختم ہوا تو میں نے اپنی رقم وصول کی۔۔۔ پہلے ہی دن میری بنائی ہوئی چاٹ ہاتھوں ہاتھ بک گئی اور مجھے پچاس روپے کا منافع بھی ہوا اور زیادہ چاٹ کی فرمائش کی گئی۔۔۔ میں نے کنٹین والے سے کہا کہ وہ اگر مجھے کچھ رقم ایڈوانس دے دے تو میں اس کی مطلوبہ مقدار بنا کر دے دوں گی، اگلے روز میں نے اسی کی رقم سے چنے خرید کر چاٹ بنائی اور اسے اپنا کچھ منافع رکھ کر مہیا کر دی۔ اس طریقے سے مجھے ایک دن میں دو سو روپے کی آمدن ہو گئی۔

میں نے اپنے پاس پڑے چنوں سے دو کلو چنوں کی چاٹ بنا کر دو اور سکولوں کی کنٹین پر سپلائی کر دی اور ان دونوں جگہ سے بھی اسی طرح پذیرائی ہوئی اور مزید کی فرمائش۔۔۔ میں نے اللہ سے مدد مانگی تھی تو اس نے کس کس طریقے سے میری مدد کی تھی، آپ کے دئیے ہوئے ان پیسوں سے میرے لئے ایسی برکت پیدا کی کہ مختصراً ہی آپ کو بتا سکتی ہوں کہ اب میں نے اپنا ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا ہے، میرے تینوں بچے انہی انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھ رہے ہیں جن میں میں چاٹ کے علاوہ بھی کئی چیزیں سپلائی کرتی ہوں ۔۔۔ میں نے اپنی مدد کے لئے اپنی ان چند ساتھیوں کو رکھ لیا ہے جن کے ساتھ میں نے کبھی سڑکوں پر بھیک مانگی تھی، میرے ساتھ اس وقت چودہ ایسی خواتین کام کر رہی ہیں جو عادی بھکاری نہ تھیں مگر حالات کی سختیوں اور مجبوریوں نے انہیں سڑکوں پر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔ مجھے اللہ نے آپ کی صورت فرشتہ بھیج کر راہ سجھائی تھی، میں نے اس شمع کو بجھنے نہیں دیا اور اس سے کئی شمعیں جلائی ہیں۔۔۔

اس وقت میں آپ کے سکول کے کیفے ٹیریا پر بھی سامان سپلائی کر رہی ہوں جب کنٹین والے نے تعریف کی کہ ہماری میڈم کو تمہاری بنائی ہوئی چیزیں بہت پسند آتی ہیں۔۔۔ اور وہ تم سے ملنا چاہتی ہیں، ویسے تو میں اپنی چیزیں کسی نہ کسی کے ہاتھ بھجوا دیتی ہوں کیونکہ سارا دن میرا کام چلتا ہے، حالانکہ ساری سپلائی لوگ اب خود لے کر جاتے ہیں مگر کچھ جگہوں پر خود بھی سپلائی کے لئے جانا پڑتا ہے۔۔۔ ان میں سے ایک آپ کا سکول بھی ہے، آج جب صبح آپ کو آتے دیکھا جب میں آپ سے ملنے کے انتظار میں بیٹھی تھی تو حیران رہ گئی، کب سے آپ کو ڈھوندتی پھر رہی تھی، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس طرح ملاقات ہوگی۔۔۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھے آپ سے ملاقات کا موقع مل گیا ہے۔۔۔!‘‘ میں اٹھ کر اس سے گلے ملی، اس کا جوش دیدنی تھا۔ ’’واقعی تمہارے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے اور تمہاری سپلائی کی ہوئی چیزوں کی کبھی شکایت بھی نہیں آئی، سچ ہے کہ اللہ نے مجھے تمہارے لئے وسیلہ بنایا ہے مگر تمہارے اندر نیکی کی رمق نہ ہوتی اور دل میں رزق حلال کھانے کی خواہش نہ ہوتی تو یہ سب ممکن نہ ہوتا، میں نے تو اس طرح کئی لوگوں کو منع بھی کیا ہے اور حتی الامکان کئی لوگوں کی مدد بھی کی ہے کہ وہ معاشرے کے مثبت افراد بن سکیں مگر ایسا جواب مجھے آج تک تمہارے سوا کسی سے نہیں ملا۔۔۔ ‘‘ میں نے صدق دل سے اعتراف کیا۔

’’اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک بار آپ کے ہاتھ کو چوم لوں ۔۔۔ اسے آپ میری عقیدت کا ادنی سا اظہار سمجھئے گا۔۔۔ ‘‘ اس نے میرا ہاتھ تھام کر اسے میرے جواب دینے سے قبل ہی چوم لیا۔ ’’ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ تم تو مجھے جانے کیا بنا بیٹھی ہو، میں بھی تمہاری طرح ایک عام انسان ہوں! ‘‘ میں نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچا۔ ’’آپ عام انسان نہیں ہیں میڈم۔۔۔ ‘‘ اس کی نظر میں بھی عقیدت تھی۔

’’اب اگر تم اجازت دو تو میں تمہیں گلے لگا کر تمہاری محنت کی عظمت کوسلام پیش کروں۔۔۔ میں نے خلوص دل سے تمہیں سمجھایا، ایک حقیر سی رقم سے تمہاری مدد کی، وہ میں نے کئی لوگوں کی، مگر جس طریقے سے تم نے نیک نیتی سے کام کیا اس میں تمہیں اللہ کی مدد بھی ملی اور آج تم ایک باعزت زندگی گزار رہی ہو، تمہارے بچے کل کو معاشرے کے معزز شہری ہوں گے۔۔۔ تم نے اس ملک میں تین بھکاریوں کو نہیں بلکہ ان تمام عورتوں اور ان کے بچوں کو بھی بھکاری بننے سے بچا کر کئی بھکاریوں کا اضافہ ہونے سے روک دیا ہے۔۔۔ ‘‘ میں نے اسے گلے لگا لیا۔

وہ میرا شکریہ ادا کر کے چلی گئی اور میں بعد میں بھی سوچ رہی تھی کہ میں جب کسی بھکاری کو بھیک مانگنے سے منع کرتی ہوں تو میری نیت اسے شرمندہ کرنے کی ہوتی ہے اور اس کی مدد کرتے ہوئے میں جانتی ہوں کہ دس لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں اور دل سے مجھے اچھا سمجھ رہے ہوں گے، ہم میں سے بہت سے لوگ اس نیت سے نیکی کرتے ہیں کہ اسے دوسرے دیکھیں اور ہماری واہ واہ ہو جائے۔۔۔ جاتے سمے جو کچھ وہ کہہ کر گئی تھی وہ میرے جیسے نما ئشی نیکی کرنے والوں کے لئے شرمندگی کا مقام تھا۔۔۔

’’میڈم آئندہ سے آپ کو کوئی عورت بھیک مانگتی نظر آئے، چاہے وہ آپ کو شوقین بھکاری لگے یا مجبور، بس آپ اسے پیسے نہ دیں، اسے میرا یہ کارڈ دے دیں اور اسے بتائیں کہ مجھے ایک بار اس پتے پر مل لے۔۔۔ اور میڈم، میں اپنے رب سے دعا کرتی ہوں کہ مجھ سے جو بھی نیکی سرزرد ہو اس کا آدھا حصہ اللہ تعالیٰ آپ کے نامۂ اعمال میں لکھے۔۔۔ آمین!!!‘‘ اس کے جانے کے بعد بھی میں اس کے دکھائے ہوئے آئینے میں اپنا دھندلا اور اس کا واضح چمکتا ہوا چہرہ دیکھ رہی ہوں

29
December

ہم حُسنِ ہیں دھرتی کا‘ ہم رنگِ بہاراں ہیں

ہم عزم کے پیکر ہیں‘ ہم شہرِ نگاراں ہیں

ہم جوئے محبت ہیں‘ ہم پیار کے متلاشی

ہم چاند ستارے ہیں کرتے ہیں ضیا پاشی

ہم جذبۂ خدمت سے سرشار ہیں‘ کامل ہیں

ہر شعبے ادارے میں‘ ہم شوق سے شامل ہیں

ہم اپنی ہی دنیا میں گو کرتے اشارے ہیں

ہم کرنیں ہیں سورج کی‘ ہم نور کے دھارے ہیں

ہم ملکی ترقی میں‘ مصروف رہیں ہر دم

ہر فن میں ماہر ہیں‘ ہم کام کریں باہم

ہم دھرتی کے عاشق ہیں‘ توقیر ہیں آنگن کی

ہم پھول بھی‘ کلیاں بھی‘ زینت بھی ہیں گلشن کی

پروفیسر اکرم باجوہ

29
December

ایک ایسے شخص کی کہانی جس کو 21 سال کی عمر میں ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ وہ دوتین سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکے گا مگر69برس کی عمر میں وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ کئی کتابوں کا مصنف بھی ہے۔

ایک ڈیڑھ بالشت کا انسان، جو وہیل چیئر کا محتاج ہے،جس کے ہاتھ بازو کام نہیں کرتے، آواز ساتھ نہیں دیتی اورجسے ڈاکٹروں نے 21سال کی عمر میں ہی بتا دیا تھا کہ وہ دو تین سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکے گا، اگر 69سال کی عمر تک نہ صرف زندہ بچ جائے بلکہ ایک ایسی کتاب بھی لکھ مارے جو سائنسی دنیامیں انقلاب برپا کردے، تو ہم جیسے لوگ اسے معجزہ ہی کہیں گے ! مگر ٹھہریئے ،جس شخص نے یہ کتاب لکھی ہے وہ سرے سے معجزوں پر یقین ہی نہیں رکھتا، اس شخص کانام سٹیفن ہاکنگ ہے اور کتاب کا نام \"The Grand Design\" ہے جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے اور اس مرد عاقل کی یہ آٹھویں کتاب ہے۔کتاب کا بنیادی موضوع کائنات ہے۔ یہ کیسے وجود میں آئی؟ کیا اس کائنات کا کوئی خالق ہے اور کیا وہ خالق خدا ہے؟ انسان کیسے پیدا ہوا؟ اور اس کی کائنات میں کیا اوقات ہے ؟ کیا یہ کائنات چند مخصوص طبعی قوانین کے تابع ہے جن میں کسی خدائی مداخلت کی گنجائش نہیں یا پھرحقیقت اس کے برعکس ہے؟ یہ قوانین کیسے تخلیق ہوئے؟ کائنات، اس کے قوانین اور انسان کی حیثیت سے متعلق یہ تمام گتھیاں کب اور کیسے سلجھیں گی؟ ہاکنگ نے اپنی کتاب میں نہ صرف یہ تمام سوالات اٹھائے ہیں بلکہ ان کاجواب دینے کی کوشش بھی کی ہے ۔

اس کتاب کے انداز بیان کے ضمن میں دو باتیں نہایت دلچسپ ہیں۔ پہلی یہ کہ ہاکنگ نے ان تمام سوالات کا جواب دیتے وقت کسی اندازے، قیاس آرائی یا مفروضے سے کام نہیں لیا بلکہ ٹھوس سائنسی شہادتوں اور تجربات کی مدد سے اپنا نقطہ نظر بیان کیاہے جس کے بعد اسے رد کرنا بے حد دشوار ہو جاتاہے۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ موضوع کی گھمبیرتا کے باوجود ہاکنگ نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ یہ کتاب محض کوانٹم فزکس کے کسی سکالر کے ہی نہیں بلکہ ایک عام آدمی کے پلے بھی پڑ جائے اور اپنی اس کوشش میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ پوری کتاب میں آپ کو ایک بھی Mathematical Equation،سائنسی فارمولا یا کوئی بے ہودہ قسم کی کیمیائی ترکیب نہیں ملے گی۔کتاب کی زبان نہ صرف سادہ ہے بلکہ اکا دکا مقامات پر مصنف نے کسی قدر بزلہ سنجی کا مظاہرہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے تاہم اس میدان میں وہ مار کھا گئے ہیں۔

سٹیفن ہاکنگ کے مطابق جن سوالوں کے جواب اس نے اپنی کتاب میں دینے کی کوشش کی ہے، در حقیقت وہ سوالات فلسفے کا موضوع ہیں لیکن فلسفہ چونکہ ان سوالوں کا جواب دینے کی کوشش میں اپنی موت آپ مر چکا ہے اس لئے اب صرف سائنس ہی ان سوالوں کے جواب دے سکتی ہے جس کے لئے ہمیں تھوڑا صبر اور کرنا ہو گا۔ ہاکنگ نے یہ بات نہایت دلچسپ پیرائے میں بیان کی ہے، اس کاکہنا ہے کہ انسانی تاریخ میں سائنسی تحقیق کو ابھی بہت تھوڑا وقت گزرا ہے۔ اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کی تخلیق کے آثار دولاکھ سال قبل مسیح نمودار ہوئے، انسان نے محض سات ہزار سال قبل مسیح کتابیں لکھنی شروع کیں جبکہ صحیح معنوں میں انسانی تہذیب کا آغاز فقط پانچ سو سال قبل مسیح سے ہوا جب تھیلز نامی ایک فلسفی نے پہلی مرتبہ یہ نظریہ پیش کیا کہ اس دنیا کو سمجھا بھی جا سکتا ہے۔حساب کے چند قوانین کی پہلی باقاعدہ شکل بھی اسی زمانے میں سامنے آئی جنہیں فیثاغورث نے پیش کیا۔اسی طرح ریاضی میں 10کے ہندسے کو بنیاد بنا کر حساب کرنے کا رواج ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا اور جمع اور تفریق کے نشانات کا استعمال پندرھویں صدی کی پیداوار ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسی گھڑیاں جوسیکنڈز تک وقت کا حساب رکھ سکیں، سولھویں صدی سے پہلے ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔ انسانی تہذیب کے ارتقاکا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چرچ نے گیلیلیو (Galileo)پر 1633میں مقدمہ چلایا کہ اس نے کوپرنیکس کی حمایت میں یہ کیوں کہا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے کیونکہ چرچ کے نزدیک یہ بات بائبل کی تعلیمات کے خلاف تھی حالانکہ بائبل میں کہیں بھی یہ واضح طور پر درج نہیں ہے۔ بہر کیف گیلیلیو (Galileo) پر نہ صرف مقدمہ چلا بلکہ اسے ساری زندگی کے لئے اپنے گھر میں نظر بند بھی کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ ہوا مگر رومن کیتھولک چرچ نے اپنے اس اقدام کی غلطی کو صرف اکیس سال پہلے 1992میں تسلیم کیا۔

ان سب مثالوں سے ہاکنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان نے نہایت قلیل مدت میں ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں حساب لگایا جائے تو انسان کی فکر دو اڑھائی ہزار سال سے زیادہ پرانی نہیں اور اگر ہم اتنی مختصر مدت میں یہاں تک پہنچ گئے ہیں تو ذرا سوچئے کہ ایک ایسی عالمگیر تھیوری کا ظہور، جس میں کائنات سے متعلق تمام سوالات کا جواب ہوگا، اب کتنی دیر کی بات ہے؟ ہاکنگ اس عالمگیر تھیوری کو ’’ایم تھیوری‘‘ کا نام دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تھیوری بہت ساری تھیوریز کا مجموعہ ہو گی جس میں کائنات کے تمام حیران کن تجربات کو سمیٹ کر انسانی ذہن کے لئے ایک مربوط جواب تیار کیا جائے گا۔ آئن سٹائن بھی ایسی ہی تھیوری کا متلاشی تھا۔

یوں تو اس کتاب کے اندر سائنسی دلچسپیوں کا ایک جہان آبادہے جن کا احاطہ کسی طور یہاں ممکن نہیں البتہ کم از کم دو باتیں ایسی ضرور ہیں جو ضرورت سے زیادہ دلچسپ اور حیرت انگیز ہیں۔ پہلی، سٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ انسان مختار نہیں بلکہ مجبور ہے اور چند ایسے طبعی قوانین کے تابع ہے جنہیں ثابت کیا جا چکا ہے۔ نیورو سائنس کی روشنی میں انسانی رویہ چند مخصوص قدرتی قوانین کے تحت کام کرتا ہے اور انسان کی خود مختاری محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔ ہاکنگ کہتا ہے کہ ہمیں یہ بات اس لئے ہضم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کسی بھی اقدام کے نتیجے میں انسانی رویّے کی پیشین گوئی نہیں کر سکتے چنانچہ ہم یہ اخذ کر لیتے ہیں کہ انسان خود مختار ہے جبکہ ایسا ہر گز نہیں۔ بظاہر یہ بات نا ممکن سی لگتی ہے مگر ہاکنگ نے اسے جس خوبصورت اندازمیں بیان کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

دوسری دلچسپ بات یہ کہ قدرت کے قوانین نے ایک ایسا نظام تخلیق کیا ہے جوناقابل بیان حد تک fine-tunedہے۔اگر طبعی قوانین کے عمل کے نتیجے میں حیران کن اتفاقات کاایک سلسلہ وقوع پذیر نہ ہوتاجس کا ہم آج کی دنیامیں مشاہدہ کر رہے ہیں تو کسی قسم کی زندگی کا جنم لینا ممکن نہیں تھا۔ یہاں ہاکنگ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہماری کائنات اور اس کے قوانین زندگی کو جنم دینے کے لئے اس طرح ’’ڈیزائن‘‘ کئے گئے ہیں کہ اگر یہ اس طرح سے نہ ہوتے تو پھر ہم بھی نہ ہوتے ۔۔۔ ایسا کیوں ہے اور کس وجہ سے ہے ؟ ہاکنگ صرف سوال اٹھا کر رکھ نہیں دیتا بلکہ جواب بھی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے نزدیک زندگی کے ظہور کے لئے حیران کن اتفاقات کا ایک لا متناہی سلسلہ درحقیقت خدا کے وجود کی دلیل ہے کیونکہ خدا کے بغیر اس نوع کے ناقابل یقین اتفاقات وقوع پذیر نہیں ہو سکتے۔ لیکن ہاکنگ کے نزدیک ایسا نہیں ہے تاہم اس ضمن میں جودلیل وہ رکھتا ہے وہ کسی قدر کمزور ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ ہماری کائنات، ان گنت کائناتوں میں سے ایک ہے، اسی طرح ہمارا نظام شمسی بھی اربوں نظامات شمسی میں سے ایک ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے نظام شمسی کے حیران کن اتفاقات کسی طرح بھی انوکھے نہیں کیونکہ اس طرح کے اربوں نظام نہ صرف چل رہے ہیں بلکہ دوڑ رہے ہیں اور قدرت کے قوانین کی fine-tuningکو ان گنت کائناتوں کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے۔

سٹیفن ہاکنگ خدا پر یقین نہیں رکھتا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے جو بیماری لاحق ہے اس کا مریض تشخیص کے بعد دس سال سے زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہاکنگ وہ واحد انسان ہے جو بیماری کی تشخیص کے 48سال گزرنے کے باوجود اب تک زندہ ہے۔ خدا کی شان ہے

29
December

پاکستان کو دس بارہ سال کی مسلسل کوششوں کے بعد چند ہفتے قبل یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کا درجہ دے دیاہے یہ سہولت آٹھ نودیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کو بھی ملی ہے جس میں سری لنکا اور بنگلہ دیش قابلِ ذکر ہیں۔ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان 27 ممالک کو اپنی ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر اور دیگر مصنوعات رعایتی ڈیوٹی اور ٹیرف پر برآمد کر سکے گا۔اس وقت پاکستان کی کل برآمدات میں ان شعبوں کا حصہ 9.5ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ یورپی ممالک کوبرآمد کا حجم 6 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ تجارتی صنعتوں اورسرکاری حکام کا خیال ہے کہ اس سہولت کے بعد پاکستان کی سالانہ برآمدات میں 1ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے جبکہ حقیقی طور پریہ اضافہ 500ملین ڈالر سے800ملین ڈالر تک متوقع ہے۔ پاکستان میں یورپی یونین کے حکام 1980ء کی دہائی میں پہلے جی ایس پی کا درجہ دینے کے حوالے سے وزارتِ تجارت اور تجارتی حلقوں سے مشاورت کرتے رہے پھر کئی مواقع پر امریکی پالیسیوں اور رویے کی وجہ سے پاکستان کے بارے میں ان کا رویہ بدلتا رہا تاہم سابق صدر پرویزمشرف کے دور میں امریکی حکام کی خواہش پر اس حوالے سے دوبارہ کام کا آغاز کیا گیا ۔ جس کے بعد ماضی کی ہر حکومت کے دور میں اس بارے میں کو ششیں جاری رہیں تاہم اس کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو ملا۔جی ایس پی پلس کی سہولت کا آغاز یکم جنوری 2014ء سے ہو گا لیکن اس سے پاکستان کے حقیقی معاشی مسائل اور معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خدشہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ 2014ء میں پاکستان کو تجارتی طور پرزیادہ فوائد حاصل نہ ہو سکیں کیونکہ پاکستان کو ابھی یورپی یونین کے رکن ممالک کی کئی شرائط کو پورا کرنا ہے جس میں انسانی حقوق، لیبر حقوق وغیرہ کے معاملات پر بین الاقوامی کنونشن کے مطابق عمل درآمد کرنے کے امور قابلِ ذکر ہیں۔

ان سب ایشوز سے ہٹ کر پاکستان کے اندرونِ ملک معاشی اور انتظامی حالات کی بہتری اولین مسائل ہیں۔اس کے لئے وزیراعظم نواز شریف کو چاہئے کہ وہ اے پی سی بلائیں جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی بھی شریک ہوں اس میں پورے ملک میں امن و امان کی بہتری اور توانائی کے بحران کے حل کے لئے جامع حکمتِ عملی بنانے کی طرف پیش قدمی کی جائے اس لئے کہ جی ایس پی پلس سے پہلے انرجی پلس اور امن و امان کی بہتری ازحد ضروری ہے ۔ انرجی پلس میں صرف بجلی نہیں بلکہ گیس اور دیگر تمام متبادل ذرائع بھی آتے ہیں۔ اگر پاکستان میں انرجی وافر اور سستی ہو گی تو پھر ہی ہم عالمی مارکیٹ میں اپنی سستی برآمدات بھجوا سکیں گے تاکہ دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان 27ممالک کو اپنی ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر اور دیگر مصنوعات رعایتی ڈیوٹی اور ٹیرف پر برآمد کر سکے گا۔اس وقت پاکستان کی کل برآمدات میں ان شعبوں کا حصہ 9.5ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ یورپی ممالک کوبرآمد کا حجم 6ارب ڈالر سے زائد ہے۔ تجارتی صنعتوں اورسرکاری حکام کا خیال ہے کہ اس سہولت کے بعد پاکستان کی سالانہ برآمدات میں 1ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے جبکہ حقیقی طور پریہ اضافہ 500ملین ڈالر سے800ملین ڈالر تک متوقع ہے۔

اس سلسلے میں مصنوعات کے معیار اور صحیح مال برآمد کرنے کے حوالے سے قوانین کو مؤثر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ بھارت اور اسرائیل سمیت کئی ممالک کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان یورپی برادری کے ممالک میں اپنا کاروبار بڑھائے جس سے اس کے تجارتی خسارے کا بھی مسئلہ حل ہو اور برآمدی آمدنی سے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو جو اب ہمارے حکام مصنوعی طریقوں سے ایک سطح پر رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان سے اب بھی غیر اعلانیہ طور پر امریکہ اور یورپ کے لاتعداد بڑے برانڈ سٹورز پاکستان سے ٹیکسٹائل گارمنٹس وغیرہ کی مصنوعات تیار کرواتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کا اعلی معیار کا مال ان ممالک میں لوکل مگر بین الاقوامی سطح پر جانے پہچانے سٹورز اپنے TAG کے ساتھ فروخت کرتے ہیں اب ہو سکتا ہے کہ پاکستانیTAG بین الاقوامی مارکیٹ میں براہِ راست جائے اورپاکستان کا نام روشن کرے۔

mahisahat nama1

جی ایس پی پلس سے پہلے انرجی پلس کا مسئلہ حل کرنا ازحد ضروری ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی مقاصد اور خوف کی بجائے ملک میں سستی بجلی کے لئے ہائیڈرل ڈیمزبنانے کی طرف پیش رفت کی جائے۔ اگر پاکستان میں کالا باغ ڈیم اور دیگر میگا پراجیکٹس پر موجودہ حکومت کا م کا آغاز کر دیتی ہے تواس سے ملکی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں کمی اورملک میں صنعتی عمل کو تیز کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح یورپی یونین کے ممالک میں ملکی برآمدات میں اضافے سے پاکستان میں بھی سالانہ سطح پر روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے میں بھی بڑی مدد مل سکتی ہے ۔اس وقت پاکستان کے لاتعداد سیاسی ، معاشی مسائل میں اضافے کا بنیادی سبب بھی بے روزگاری، غربت اور مہنگائی ہے ۔ یہ مسائل اچھی اکنامک گورننس سے حل کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کی ترجیحات کا تعین کرنا بھی ازحد ضروری ہے تاکہ قوم کے معاشی مسائل واضح ہو سکیں ۔ اس وقت عوام کی اکثریت کو دو وقت کی روٹی چاہئے انہیں سیاسی نعروں سے بہلانے کا وقت گزر گیا اب حکمرانوں کو عملی طور پر عوام کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کرنے ہو ں گے ورنہ جی ایس پی پلس یا کسی اور عالمی رعایت سے نہ تو معاشی طور پر زیادہ فوائد حاصل ہو سکیں گے اور نہ ہی انتظامی اور سیاسی طور پرمسائل حل ہوں گے اس لئے معیشت اور سیاست دونوں کے استحکام کے لئے باہمی مشاورت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

29
December

صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ تین لاکھ47 ہزارمربع کلو میٹر رقبے پرمحیط پاکستان کایہ بڑا صوبہ زیادہ تربے آب وگیاہ پہاڑوں،تاحد نظر پھیلے ہوئے صحراؤں‘ ریگستانوں اورخشک وبنجر میدانی علاقوں پرمشتمل ہے، قابل کاشت اراضی کل رقبے کا صرف6  فیصد بتائی جاتی ہے،جو آبپاشی کے محدود وسائل کی وجہ سے اناج کی ضرورت پوری نہیں کرتی حالانکہ یہاں کی آبادی بہت کم ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلوچستان ملک کے تقریباََ44  فیصد رقبے پرمشتمل ہے،مگراس کی آبادی ملک کی کل آبادی کا صرف ساڑھے 6فیصد ہے، اتنی کم آبادی کے لئے بھی زرعی پیداوار کم پڑتی ہے مگر حصول رزق کے لئے یہ کمی نہ صرف بے پناہ قدرتی وسائل سے پوری کی جاسکتی ہے بلکہ فاضل آمدنی سے اس صوبے کو دنیا کا امیر ترین خطہ بھی بنایاجاسکتا ہے،اسی لئے بعض بین الاقوامی طاقتیں اس پرحریصانہ نظر رکھے ہوئے ہیں،اوربلوچستان کو اپنی سازشوں کا گڑھ بنارکھاہے،علیحدگی پسندی اوردہشت گردی کو ہوا دینے والی بھی یہی قوتیں ہیں ان کی دلچسپی کا محور بلوچستان کے غریب اورپسماندہ عوام نہیں بلکہ قدرتی وسائل ہیں جنہیں وہ اپنے تصرف میں لانا چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں اب تک تقریباََچالیس انتہائی قیمتی زیرزمین معدنیات کے ذخائر دریافت ہوچکے ہیں جو محتاط تخمینوں کے مطابق آئندہ پچاس سے سو سال تک ملکی ضروریات پورا کرنے کے لئے کافی ہیں، ان میں تیل،گیس، سونا،تانبا،یورینیئم، کولٹن، خام لوہا، کوئلہ، انٹی مونی، کرومائٹ، فلورائٹ‘ یاقوت، گندھک ، گریفائٹ ، چونے کاپتھر، کھریامٹی، میگنائٹ، سوپ سٹون، فاسفیٹ، درمیکیولائٹ، جپسم، المونیم، پلاٹینم، سلیکاریت، سلفر، لیتھیئم اور اربوں ڈالر کی کئی دوسری قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔ 1952 سے گیس اور کوئلے کی بھاری مقدار بھی بلوچستان سے نکالی جارہی ہے تاہم اس کا زیادہ تر فائدہ سرمایہ کارکمپنیوں یااداروں کو ہورہاہے،مقامی لوگوں کا حصہ اس میں نہ ہونے کے برابر ہے بلوچستان میں ریکوڈک میں تانبے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں جن کے کل معدنی ذخائر 5.9 بلین ٹن تک خام تانبا ہیں۔ جہاں کی آتشی چٹانوں میں 0.41 فی صد تانبا اور 0.22 گرام فی ٹن سونا موجود ہے۔ جو ذخائر معاشی طور پر زیادہ قابل عمل ہیں ان کے ذخائر 2.2بلین ٹن ہیں جن کی چٹانوں میں 0.53 فی صد تانبا اور 0.30 گرام فی ٹن سونا موجود ہے اور جہاں سے سالانہ دو لاکھ ٹن تانبا اور سالانہ اڑھائی لاکھ اونس سونا نکالا جا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ ابھی تنازعات کی زد میں ہے، اسے بروئے کارلانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سینڈک میں بھی سونے کے ذخائر ملے ہیں، جن کی مالیت اربوں ڈالر میں ہے بلوچستان کاساحل اپنے سٹریٹجک محل وقوع کے علاوہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے،گوادر، پسنی، جیوانی او راور ماڑا کے نزدیک سمندر میں تیل اورگیس کے بے پنا ہ ذخائر کی تصدیق ہوئی ہے ساحل مکران کے آس پاس قدرتی گیس کے ذخائر جبکہ بحیرہ عرب کے ساتھ ہماری سمندری حدود میں تیل کے ذخائر موجود ہیں، جنرل ضیاالحق کے دور میں جب محمدخان جونیجو وزیراعظم تھے تو ڈاکٹر محمد اسد خان کومشیر بنا کرانہیں تیل کی تلاش کاٹاسک دیاگیاتھا،تحقیق کرکے انہوں نے بتایا کہ پاکستان تین سال میں تیل کی پیداوارمیں خودکفیل ہوسکتا ہے،اس مقصد کے لئے انہوں نے حکومت کو3 ارب ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا،کراچی کے قریب سمندر میں تیل کی ڈرلنگ بھی شروع ہوگئی،مگر سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل کونہ پہنچ سکا،ا ب پھر سمندر میں تیل اورگیس کی تلاش کاکام جاری ہے،اطلاع یہ ہے کہ پاکستان اوراٹلی اسی سال تیل کے لئے آف شور ڈرلنگ شروع کریں گے، تیل کے کنویں کراچی سے ڈیڑھ سو میل دور سمندر میں کھودے جائیں گے، پہلا کنواں کام شروع ہونے کے بعد تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا، سمندر کی تقریباََ دوہزار میٹر گہرائی میں گیس ملنے کے امکانات بھی ہیں،اس کے علاوہ بھی سندھ اوربلوچستان کے مختلف مقامات پر تیل اور گیس کی تلاش کے نصف درجن منصوبوں پرکام ہورہا ہے،کوئلہ توانائی پیداکرنے کاایک اوراہم ذریعہ ہے۔ صوبہ بلوچستان کے علاقوں ڈھکی‘ ہرنائی‘ کنگری‘ مچھ‘ زیارت‘ چمالانگ اور ابھیگم میں کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں جن کا اندازہ 217 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔  40 کلومیڑ طویل کوئلے کی کنگری کانوں میں اعلیٰ قسم کا کوئلہ موجود ہے۔ جس کے ذخائر کا تخمینہ 6ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ پاکستان جو اپنی توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اربوں ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ اگر کوئلے کے ان ذخائر سے فائدہ اٹھایا جائے تو اس سے توانائی کے مسائل کافی حد تک حل ہو سکتے ہیں۔*

بلوچستان میں اب تک تقریباََچالیس انتہائی قیمتی زیرزمین معدنیات کے ذخائر دریافت ہوچکے ہیں جو محتاط تخمینوں کے مطابق آئندہ پچاس سے سو سال تک ملکی ضروریات پورا کرنے کے لئے کافی ہیں، ان میں تیل، گیس، سونا، تانبا، یورینیئم، کولٹن، خام لوہا، کوئلہ، انٹی مونی، کرومائٹ، فلورائٹ‘ یاقوت،گندھک، گریفائٹ، چونے کا پتھر، کھریامٹی، میگنائٹ، سوپ سٹون، فاسفیٹ، درمیکیولائٹ، جپسم، المونیم، پلاٹینم، سلیکاریت، سلفر، لیتھیئم اور اربوں ڈالر کی کئی دوسری قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔

بلوچستان میں معدنیات کے زیر زمین خزانوں کی تلاش کے لئے کوششیں جاری ہیں مگر عسکریت پسندی‘ دہشت گردی اور بدامنی کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاریہاں آنے سے خوفزدہ ہیں،کوئی آمادہ ہوبھی جائے توایسی شرائط پیش کرتاہے جنہیں تسلیم کرنے کے بعد ان معدنیات کی آمدنی میں سے پاکستان کے لئے کچھ بچتا ہے نہ بلوچستان کے لئے۔ جبکہ بلوچستان کی کچھ سیاسی شخصیات اپنے وسائل پرمکمل اختیار مانگ رہی ہیں،وہ ڈیمانڈ کرتی ہیں کہ سرمایہ کار صرف اپنا محنتانہ وصول کریں اوروفاقی حکومت صرف ٹیکس لے،ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں عرب اوروسطی ایشیائی ممالک کی طرح اپنے منصوبوں میں مقامی سرمایہ کاروں کو شراکت دار بنائیں،اس کے علاوہ تیل ،گیس اوردوسری معدنی دولت کی تلاش کے لئے لائسنس مقامی لوگوں کو جاری کئے جائیں،انہیں صاف کرنے کے لئے خام مال کراچی یا اپنے ملکوں میں لے جانے کی بجائے لسبیلہ خضدار یادوسرے مناسب مقامات پرریفائنریاں اور فیکٹریاں قائم کی جائیں تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار ملے یہ مسئلہ اسی صورت میں حل ہوسکتا ہے جب وفاق کی نگرانی میں صوبائی حکومت کو غیرملکی کمپنیوں سے معاہدوں کا اختیار ملے۔ مگر بلوچستان میں امن وامان کی موجودہ صورت حال میں شاید غیرملکی سرمایہ کار اس کے لئے تیار نہ ہوں اس لئے بلوچستان کے معدنی وسائل سے استفادے کے لئے سب سے زیادہ توجہ یہاں بدامنی کے خاتمے پردینا ہوگی،یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا جب وفاقی اور صوبائی حکومت ایک جامع پالیسی کے تحت بلوچستان کے مسائل کا دیرپا اور پرامن حل تلاش کریں۔ اس سلسلے میں قومی اورصوبائی سطح کی سیاسی پارٹیوں کے مشترکہ اجلاس بلائے جائیں،ان میں قابل عمل سفارشات تیار کی جائیں۔ پہلے صوبائی اسمبلی اورپھر پارلیمنٹ سے ان کی منظوری لی جائے۔ اگرچہ یہ ایک طویل عمل ہے مگر مثبت نتائج کے لئے پوری قوم کو ساتھ لے کرچلنا ہوگا۔

نوٹ: صاحب مضمون ایک معروف روزنامہ کے شعبہ میگزین سے منسلک ہیں۔
29
December

آج نشان حیدر کا وارث افواج پاکستان کا سپہ سالار ہے وہ جو ماں کی طرف سے میجر عزیز بھٹی شہید اور باپ کی طرف سے میجر شبیر شریف شہید کے نشان حیدر کا امین ہے وہ یقیناََ اپنی وراثت کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا عزم کئے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کی کمان سنبھالتے ہی وہ ہر فرنٹ پر دشمن اور اس کے ایجنٹوں کے مقابلے میں مصروف جہاد اپنے جوانوں سے ملنے کے لئے انہیں اپنا دل کھول کر دکھانے کے لئے جا رہے ہیں۔اس ملک کی عوام کبھی نہیں بھولی ہو گی کہ ... ایس ایس جی کے حوالدار زرک خان اور محمد رفیق نیازی، رب نواز، قدرت اﷲ شہید جب وطن دشمن دہشت گردوں کے بنائے گئے حصار میں کودے ہوں گے تو کیا اس لمحے ان کے دلوں میں اپنے جوان ہوتے ہوئے بچوں کا خیال نہ آیا ہو گا ؟جنرل ہیڈکوارٹر سے ملحقہ ایک کمرے میں یرغمال بنائے گئے 39 افراد کی زندگیاں بچانے کے لئے جب ایس ایس جی کے یہ کمانڈو جس لمحے وطن دشمنوں کے بچھائے ہوئے آگ کے سمندر میں داخل ہوئے ہوں گے تو کیا انہیں سفید داڑھیوں اور جھریوں والے اپنے ضعیف باپ نظر نہ آئے ہوں گے؟کیا انہیں سفید چادروں میں لپٹی ہوئی اپنی ماؤں کی ٹھنڈی آنکھوں کا سُرور اور ممتا کی گرم گرم باہوں کا لمس محسوس نہیں ہوا ہو گا؟ کیا انہیں دُور گھروں میں انتظار کرتی ہوئی کھنکناتی چوڑیوں والی اپنی شریک حیات یاد نہ آئی ہوں گی؟.... آگ اور خو دکش بمبار کے تباہ کن بارود سمیت گولیوں کی پہلی بو چھا ڑ میں انہیں سب کچھ یاد آیا ہوگا اور اس وقت ان کی آنکھوں کے سامنے ننھے منے ہاتھ پھیلائے اپنے معصوم بچوں کی کلکاریاں مارتی ہوئی آوازیں اور ان کے اپنی طرف دیکھتے ہوئے معصومانہ چہرے بھی بار بار گھومے ہوں گے اور چھٹی پر گھر واپس جاتے ہوئے ان کی فرمائشیں بھی یاد آئی ہوں گی۔ جب کیپٹن بلال ظفر کیپٹن عمران، میجر عابد مجید اور لیفٹیننٹ عاطف قیوم ، لیفٹیننٹ علی شہید سوات کے آپریشن راہ راست کے سفر میں موت کی وادیوں میں اترے تھے تو ان کے سامنے دنیا کی ہنستی مسکراتی اور تمام سہولتوں سے بھر پور پرکشش زندگی تھی لیکن وہ عہد جو وہ کاکول میں‘ مردان میں اور چراٹ میں خاکی وردی پہنے سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے اپنے اﷲ سے کرتے ہیں وہ عہد انہیں دنیا کی ہر رنگینی سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اﷲ کو گواہ بنا کر پاکستان کی عزت پر مر مٹنے کی قسم انہیں دنیا کے ہر رشتے سے آزاد کر دیتی ہے۔ اس وقت ان کے دلوں میں فقط اﷲ کی عظمت و کبریائی کی روشنی ان کی رہنمائی کر رہی ہوتی ہے۔ وہ عظمت جس کے سائے میں وہ سانس لیتے ہیں۔ وہ عظمت جس کا وہ ورد کرتے ہیں کاکول، مردان کی طرح جب آپ چراٹ چھاؤنی کی حدود میں داخل ہوں تو چار ہزار فٹ سے زائد بلندی پر قائم پر شکوہ مسجد کے مینار آسمان کی بلندیوں کی طرف اُٹھتے نظر آتے ہیں۔ یہی چراٹ کا وہ ہیڈ کوارٹر ہے جس کے سائے میں یہاں تربیت پانے والے جانباز ہر وقت اﷲ کی وحدانیت کے آگے سر جھکا ئے رہتے ہیں۔اس چھاؤنی کی حدود میں ہر طرف ’’اﷲ ہو اﷲ ہو‘‘ کی سرسراہٹ جسموں میں سرائت کرتی ہے یہی وہ سرسراہٹ ہے جو حوالدار زرک خان اور محمد رفیق جیسے ہزاروں جانبازوں کو نمرود کی بچھائی ہوئی آگ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ اے اہل وطن کبھی تصور میں جیتے جاگتے انسان کو ذبح ہوتے دیکھاہے‘ کبھی گردن پر چلنے والی چھری کا احساس ہوا ہے...نہیں ہوا ہو گا ایک ہلکی سوئی کو اپنی انگلی میں چبھو کر دیکھو...اپنی انگلی پر بلیڈ کی دھار کو ہلکا سا دبا کر دیکھو...تمہیں احساس ہو گا بھارت کے وفاداروں نے بھارت کے تنخواہ داروں نے کس طرح لا الہ الا اﷲ کا ورد کرنے والے مسلمان بچے ذبح کئے .... وقت ذبح ان سب بچوں پر کیا بیتی ہو گی ان کی کیا حالت ہوئی ہو گی

وہ جان کنی کا سماں لا الہ الا اﷲ

شہیدوں کی وہ اذاں لا الہ الا اﷲ

وہ ان کا سجدہ آخر وہ حق سے راہ و نیاز

لہو سے اپنے وضو صبح قتل کی نماز

جس طرح اﷲ سبحان تعالیٰ نے مجاہدوں کے گھوڑوں کے سموں کی اڑتی ہوئی دھول کی قسم کھائی ہے۔ میں فوجی بوٹ پہنے ہوئے پاکستان کی حفاظت کرنے والے ان شہیدوں اور غازیوں کے پاؤں کی دھول کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ فوج کو بدنام کرنے والے عناصر وطن کی حفاظت کے لئے جان دینے والے افسروں اور سپاہیوں کے جوتوں کی دھول کے برا بر بھی نہیں ۔۔۔۔۔آپریشن راہ راست میں جو سجدہ شبیری کی پیروی کرتے ہوئے وطن دشمنوں کے ہاتھوں ذبح ہوئے‘ مجھے قسم ہے ان کے لہو کے ایک ایک بوند کی کہ ’’ شہادت ان کی میراث ہے‘‘ ان سے کوئی شکوہ نہیں جو ہماری فوج سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں۔ سالہا سال سے ان کے ہاتھ اور زبا نیں پاک فوج کی کردار کشی میں بے حال رہے ہیں۔ وہ اس فوج کے دوست کیسے ہو سکتے ہیں جن کی دوستی ان کی مقابل بھارتی فوج سے ہے .....ان کی ’’کمانوں سے چھوڑے گئے تیروں‘‘ سے شہیدوں اور غازیوں کے جسم نہ جانے کب سے چھلنی ہو رہے ہیں .... پشاور یا پاکستان کی کسی مارکیٹ اور با زار میں کسی کام کیلئے گھریلو ضروریات کی خریداری کے لئے اپنے اور گھر کے کسی فرد کے علاج کے لئے با ہر نکلنے والے جب بم دھماکوں کا نشانہ بنتے ہیں یا کسی سیکیورٹی چیک پوسٹ یا کسی ناکے پر کھڑے ہوئے بچے بچیوں کو سکول سے لانے کے لئے کسی بس یا ویگن کو جب بارودی سرنگ اور بم دھماکے سے اڑا دیا جاتا ہے تو کیا ان سفاک اور خونخوار درندوں اور ان کے مخبروں کو دیکھ کر ہماری تمام سیکیورٹی فورسز چپ رہیں‘ ان کی کمین گاہوں تک ان کاپیچھا نہ کریں انہیں آزاد چھوڑ دیں اور ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے کیا یہ کہا کریں کہ’’ہم امن کے داعی ہیں تم ظلم بڑھاتے جاؤ‘‘۔

میرے پاک وطن کے پاک شہیدو‘ آپ کے بارے میں جس نے جو بھی کہا ہے اسے بھول جاؤ... تم شہید ہو کیونکہ تم نے لا الٰہ کے نام پر بننے والے ملک کی حفاظت کی قسم کھائی ہے۔ تم شہید ہو کیونکہ تم ایک لاکھ سے زائد کشمیر کی بیٹیوں کی عصمتوں کو لوٹنے والوں کے ساتھ نبرد آزما ہو۔ تم شہید ہو کیونکہ تم پاکستان کی ایک ایک مسجد کے نگہبان ہو۔ تم شہید ہو کیونکہ تم نعرہ تکبیر اﷲ اکبر کی اذان ہو ...میری جان سے پیاری سپاہ وطن کسی بھی قسم کے زہریلے پراپیگنڈے سے محتاط رہنا‘ہوشیار رہنا اور وطن کی حفاظت کے لئے اپنے اٹھنے والے قدم ’’راہ راست‘‘ کی طرح بڑھائے رکھنا

ہوشیار کہ گرِ جائیں نہ قلعوں کی فصیلیں

عقابوں کے نشیمن پر قابض نہ ہوں چیلیں

لٹ جائیں نہ کوثر و زم زم کی سبیلیں

چھن جائیں نہ دریا تیرے چشمے تیری جھیلیں

اے مرد جوان، مرد جواں، مرد جواں دیکھ

سوات، دیر،مالا کنڈ اور مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان بھر کی سڑکوں، مارکیٹوں، بازاروں اور راستوں میں بم دھماکوں میں شہید ہونے والے پولیس‘ ایف سی‘ خاصہ دار فورس اور لیویز کے وہ شہیدان وطن جن کا کہیں ذکر ہی نہیں ان سب کو سلام اور پاکستان کے معصوم بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں، ماؤں اور بہنوں سمیت ان پچاس ہزار سے زائد گمنام شہیدان وطن کو سلام جو کسی بھی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلے اور دشمن کے سدھائے ہوئے دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے

29
December

میں انٹرنیٹ پر مختلف Websitesپر جا کر نظر ڈال رہا ہوں۔ صفحات کے پرنٹ نکال رہا ہوں۔ باربار سیڑھیاں چڑھ کراپنی لائبریری سے کچھ رپورٹیں‘ کتابیں لے کر آرہا ہوں۔ میری بیگم میری بے چینی دیکھ کر پوچھ رہی ہے کہ آپ کس مخمصے میں ہیں۔

میں ’’امریکہ‘ بھارت‘‘ میں پیار کی چڑھتی ہوئی پینگوں پر کچھ جاننا چاہ رہا ہوں۔ ’اوہ! یہ لکھ دیں کہ مرغی ہماری‘ کڑ کڑ اِدھر‘ انڈے اُدھر‘ اس کا یہ جامع اور مختصر محاوراتی تبصرہ‘ پاکستانیوں کی اکثریت کے دل کی بات ہے۔ کہیں بھی‘ کسی سطح پر‘ کسی شہر میں‘ شمال یا جنوب‘ بالائی یازیریں پاکستان میں ہر ایک کا گلہ یہی ہے کہ ساٹھ سال سے دوستی ہمارے ساتھ دہشت گردی سے جنگ میں اتحادی ہم‘ لیکن ساری مہربانیاں انڈیا پر‘ اپنی غزل کا

ایک شعر یاد آتا ہے۔ پہلے اس کا مطلع دیکھ لیں۔

یوں جو کم دام ہوئے چشم خریدار میں ہم

اس سے بہتر تھا کہ آتے ہی نہ بازار میں ہم

حسبِ حال شعر یہ ہے۔

عمر تو کاٹ دی اس شوخ کی دلداری میں

وقت آیا تو شمارے گئے اغیار میں ہم

یہ 1979 کی بات ہے۔ جب ہم سوویت یونین کی مسلّح افواج کو افغانستان سے نکالنے کی امریکی مہم میں پورے مذہبی جوش و خروش اور نظریاتی عقیدت کے ساتھ شامل تھے۔ کمیونزم کے تمام دشمنوں کے لئے ہم نے آنکھیں بچھا دی تھیں۔ دل کے دروازے کھول دےئے تھے۔ عین انہی دنوں‘ بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر ویلنگٹن میں واقع انڈین ڈیفنس سروسز سٹاف کالج میں بھارت کا ارون پرکاش‘ امریکہ کا والٹر ڈوران‘ تربیت کے دوران ایک دوسرے کے قریب آرہے تھے۔ ان کے درمیان کورسز کی تکمیل کے بعد بھی روابط رہے۔ 25 سال بعد دسمبر 2004 میں جب سونامی کی مہیب لہروں نے بحیرہ ہند (Indian Ocean) میں خوفناک تلاطم پیدا کیا۔ آس پاس کے 14 ممالک تباہی اور بربادی کے مناظر پیش کررہے تھے۔ دو لاکھ تیس ہزار انسانی زندگیاں اس کی نذر ہوگئیں۔ انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور سری لنکا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ 25 سال بعد پرکاش اور ڈوران پھر یکجا تھے۔ بحرالکاہل میں امریکی بحری بیڑے کے سربراہ ایڈ مرل والٹر ڈوران تھے اور ارون پرکاش بھارتی بحریہ کے چیف‘ اس تباہی بربادی میں انسانی امداد تو اس وقت کی ضرورت تھی‘ لیکن دونوں دوستوں نے اسی لمحے بحرِہند پر حکمرانی کا خواب بھی دیکھا۔ دونوں مملکتوں کی بحری فوجوں میں قریبی تعاون کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سمندری ملن نے 1999 سے امریکی اور بھارتی حکومتوں کے درمیان جاری سیاسی‘ اقتصادی‘ قربتوں کو مزید مستحکم کردیا۔

یہ ماسکو ہے۔ امریکی صدر جارج بش۔ لارا بش کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ امریکی خاتون اوّل کو بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کے قریب لے جا کر یوں متعارف کروا رہے ہیں۔ ۔

’’یہ ہیں ایک ایسے ملک کے منتخب وزیراعظم‘ جہاں ہمیشہ سے حکومت ووٹ کے ذریعے تبدیل ہوتی آرہی ہے‘ جہاں القاعدہ ہے نہ کوئی اور دہشت گرد تنظیم‘ نہ خودکش بم دھماکے‘‘۔

اس سے پہلے 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن کا دورۂ بھارت ان دونوں ملکوں کے درمیان آئندہ قریبی تعلقات کے قیام کے لئے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوتا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا جاتا ہے کہ انڈو امریکن۔ (بھارت۔ امریکہ) شراکت کو مؤثر طریقوں سے زیادہ گہری جڑیں فراہم کی جائیں گی۔ کلنٹن کا خود یہ کہنا تھا کہ امریکہ نے گزشتہ 20 سال میں بھارت کو نظر انداز کیا۔ اب امریکہ مستقبل میں ایٹمی معاملات کے سبب پیدا ہونے والے منفی اثرات کو ختم کردے گا۔

جولائی 2005 میں وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر بش کہتے ہیں۔ ’امریکہ بھارت کو 21 ویں صدی میں بڑی عالمی طاقت بننے میں بھرپور مدد کرے گا۔‘

چند برس بعد امریکی صدر بارک حسین اوباما یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں: ’’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اصلاحات کے بعد اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں انڈیا ایک مستقل رکن کی حیثیت سے شریک ہو۔‘‘

برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کا کہنا تھا۔ امریکہ بالآخر درست قدم اٹھاتا ہے۔ لیکن جب دوسری سب کوششیں کرچکا ہو۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے ہرچہ وانا کند۔ کند ناواں۔ لیک بعداز خرابی بسیار

واشنگٹن‘ دہلی اور دوسرے عالمی دارالحکومتوں سے اس صدی کے آغاز سے اُبھرنے والی ایسی آوازیں۔ دہشت گردی کی بھیانک وارداتوں سے اپنے داخلی تنازعات سے برسرپیکارپاکستان کے لئے یقیناًخطرے کی گھنٹیاں بجاتی ہیں۔ بار بار کانوں سے یہ الفاظ ٹکراتے ہیں۔ آنکھوں کے سامنے لہراتے ہیں۔ بھارت اور امریکہ Strategic Partners ہیں۔ گزشتہ صدی کے نصف سے آخر تک یہ ایک دوسرے سے متضاد اہداف کے داعی تھے۔ بھارت‘ سودیت یونین اور دوسرے ان تمام ممالک سے ان گنت معاہدوں میں بندھا ہوا تھا۔ جنہیں امریکہ اپنا دشمن قرار دیتا تھا اور جن کے خلاف سرد جنگ میں اربوں ڈالر صرف کرتا رہا ہے۔

1999 سے شروع ہونے والی امریکہ بھارت شراکت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پاکستانیوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ بھی ہے اور انتہائی تحمل سے سوچنے اور کچھ کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔

امریکی صدور‘ تھنک ٹینکس‘ میڈیا کی طرف سے بار بار دو بڑی جمہوریتوں کے القاب استعمال کئے جاتے ہیں۔ امریکہ میں جمہوریت کو دو صدیوں سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا۔ بھارت میں بھی جمہوریت 1947 سے چلی آرہی ہے۔ یہ خیال 1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد کیوں آنا شروع ہوا ہے۔ اس پر زیادہ مصدّقہ‘معتبر اور مستند تحقیق تو بھارتی اور امریکی امور پر مستقل اور مسلسل نظر رکھنے والے ہی کر سکتے ہیں۔ میں تو اپنے اس درد کو کاغذ پر منتقل کرنا چاہتا ہوں‘ جو میرے دل و دماغ میں 21 ویں صدی میں پروان چڑھتے ہوئے اس توسیع پسندانہ عشق سے پیدا ہو رہا ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر اس حوالے سے کوئی مباحث سامنے آتے ہیں‘ نہ تشویش۔ ہمارے پڑوس میں بھی جہاں آج کل امریکہ بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ خیمہ زن ہے۔ وہاں سے اپنے ہزاروں فوجی نکالنے سے پہلے وہ بھارت کو ایک اہم مؤثر اور کسی حد تک کلیدی کردار سونپ رہا ہے۔ ان تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک معنی خیز امر یہ دکھائی دیتا ہے کہ تعلقات کی پیش رفت میں امریکہ کی طرف سے زیادہ بے تابی دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے تامل ہے کہیں احتیاط۔ بحرِہند پر غلبہ وہ بھی اپنا حق سمجھتا ہے۔ لیکن کیا یہ امریکہ کی شراکت میں مناسب ہے یا اکیلے۔ کیا امریکی بحری بیڑے پر بھارتی فوجی قدم رکھیں۔ یا بھارتی بحری بیڑے پر امریکی میرین نظر آئیں۔

پہلے تو میں یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ ایک عام اتحادی اور Strategic Partner (حساس شراکت دار) میں کیا فرق ہے۔ کون زیادہ ترجیح رکھتا ہے۔ کیا فوجی تعاون حساس تعاون نہیں ہوتا۔ عام طور پر تو سٹریٹجک کا مفہوم ایٹمی اسلحہ تصوّر کیا جاتا ہے۔ سٹریٹجک اثاثے ایٹمی اثاثے ہوتے ہیں۔ امریکی دستاویزات کے مطابق حساس شراکت دار سے صرف سفارتی اور فوجی تعاون ہی نہیں بلکہ تعلیم‘ صحت‘ معیشت‘ تجارت‘ سول ایٹمی توانائی‘ تمام شعبوں میں مسلسل اور مستقل معاونت کی جاتی ہے۔ مقصد بھارت کو عالمی معیار کے مطابق ایک کامیاب مستحکم مملکت بنانا ہے۔ تاکہ وہ Indo- Pacific (ہند۔ بحرالکاہل) خطے میں امریکہ سے ہم آہنگ ہوکر معاملات کو سنبھال سکے‘ نام تو لیا جاتا ہے قدرتی آفات کا‘ لیکن اس کے دو رخ ہیں۔ طویل المیعاد مقاصد میں اس خطے میں جہانبانی ہے اور چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور فوجی غلبے کو محدود کرنا ہے۔

تاریخ اور جغرافیئے پر نظر رکھنے والے تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ امریکہ کو پوری دنیا کی فکر کیوں ہے۔ اس خطے میں جو مملکتیں موجود ہیں۔ وہ صدیوں سے یہاں طوفانوں‘ تلاطموں کا مقابلہ کرتی آرہی ہیں۔ یہ سوچ اور اہتمام اگر کسی ادارے کو کرنا ہے تو وہ اقوام متحدہ ہے۔ لیکن امریکہ نے ازخود یہ اختیار اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے۔ اس خطے میں جاپان‘ انڈونیشیا‘ آسٹریلیا‘ ویت نام‘ جنوبی کوریا موجود ہیں۔ لیکن قیادت انڈیا کے حوالے کی جارہی ہے اور اسے بالکل اسی طرح تیار کیا جارہا ہے۔ جیسے ہماری پہلوانی کی روایت میں بڑا پہلوان کسی دوسرے پہلوان کو چمکادمکا کر تیار کر کے اکھاڑے میں اتارتا ہے اور کہا جاتا ہے۔ فلاں پہلوان پٹھہ رستم زماں۔ اب رستم زماں امریکہ انڈیا کو بھی اکھاڑے میں اتار رہا ہے۔ پہلے تجزیہ کیا جاتا تھا کہ امریکہ خطے میں بھارت کا غلبہ نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ پاکستان سے تعاون کرتا ہے۔ اب بش انتظامیہ سے امریکہ کا یہ فلسفہ شروع ہوا ہے کہ وہ انڈیا کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت سمجھتا ہے اور وہ اسے وہ تمام گر سکھانا چاہتا ہے جو ایک ایسی قوت کو آنا چاہئیں۔ وہ اسے ہر شعبے میں مکمل طور پر طاقت ور بنانا چاہتا ہے۔ 2012 میں انڈیا میں امریکہ کی سرمایہ کاری 28 بلین ڈالر رہی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد بھارتی طلبہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ امریکی رپورٹوں کے مطابق بھارت بھی امریکہ میں سرمایہ لگا رہا ہے۔ 2002 میں یہ صرف 227 ملین ڈالر تھا۔ 2012 میں 5.2 بلین ڈالر رہا۔ اسی طرح دونوں کے درمیان تجارت 2009 میں 60 بلین ڈالر سے 2012 میں 92 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ دونوں ملکوں کے پولیس سربراہوں کی میٹنگ بھی اسی ماہ دہلی میں ہوئی ہے۔ امریکہ بھارت کو عالمی صحت کے حوالے سے بھی آگے بڑھا رہا ہے۔ امریکی‘ بھارتی افواج کے اداروں میں بھی براہِ راست تعلقات اور رابطے بڑھ رہے ہیں۔ جس پر بھارتی حکومت اور بیوروکریسی کو بہت تحفظات ہیں۔ لیکن امریکہ بھارتی قیادت کو قائل کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے کہ اگر فوج کی صلاحیت، استعداد اور اہلیت بڑھانی ہے تو وزارتِ دفاع اور بیوروکریسی کی بالادستی کم کرنا ہوگی۔ مشترکہ مفادات میں اس وقت افغانستان میں بھارت۔ امریکہ قریبی تعاون سرِ فہرست ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد بھارت کو وہاں کلیدی حیثیت حاصل ہوسکے۔ اس کے لئے جواز یہ بنایا جارہا ہے کہ خطّے میں عالمی امن کے لئے بھارت اور امریکہ افغانستان کو پر امن اور مستحکم ملک کی حیثیت دینا چاہتے ہیں۔ بھارت لشکر طیبہ کا ڈراوا دیتا ہے اور امریکہ القاعدہ اور طالبان کا۔

بھارت امریکہ کے سامنے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا واویلا مچاتا ہے۔ اور امریکہ کو باور کراتا ہے کہ چین کا روز افزوں اثرو رسوخ امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ اس لئے امریکی عہدیدار یہ کہنے لگے ہیں کہ بھارت کا ایک نتیجہ خیز طاقت ور اداکار کے طور پر ابھرنا امریکی مفادات کے حق میں بھی ہے اور بین الاقوامی نظام اور عالمی معیشت کے لئے بھی۔

آعندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں

تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل

افغانستان میں امریکہ بھارت کو کھل کر موقع دے رہا ہے کہ وہاں اپنے قدم جما سکے۔ بھارتی فوجی افغان فوجیوں کو بھارت میں تربیت دے رہے ہیں فیصلہ سازی میں بھارتی حکومت کرزئی حکومت کی مدد کرتی ہے۔ اکتوبر 2011 میں افغانستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدہ کروایا گیا۔ جس میں معیشت اور تجارت میں وسیع تر تعاون اور خاص طور پر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر زور دیا گیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں بھارت اور افغانستان میں اشتراک عمل میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کی بھر پور آشیرباد دونوں کو حاصل ہے۔ بھارت کو افغانستان میں سڑکوں کی تعمیر کے بہت سے ٹھیکے بھی ملے ہیں۔ امریکی ادارے سنٹر فار سٹرٹیجک انٹرنیشنل سٹیڈیز (مرکز برائے حساس اور بین الاقوامی مطالعات) کی دسمبر 2012 کی رپورٹ کے مطابق افغانستان‘ ایران اور وسطی ایشیا کو ملانے میں زارنج۔ دلآرام (Zaranj-Dalaram) لنک روڈ بھارت نے تعمیر کی ہے۔ اسی طرح بھارت نے ہی ایران کی چاہ بہار بندرگاہ تک سڑک بنوائی ہے۔ جو افغانستان میںآئرن (خام لوہے) کے ذخیروں حاجی گاگ (Hajigag) سے شروع ہوتی ہے۔ اسی طرح بھارت کو اس خطے میں اثر و نفوذ قائم کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ بھارت کے ایران سے بھی خصوصی تعلقات قائم ہیں۔ اگرچہ ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن میں عالمی سطح پر یہ تاثر ملا کہ بھارت نے امریکہ سے سول ایٹمی ٹیکنالوجی لے کر اس پائپ لائن سے عدم تعلق ظاہر کیا۔ ایران اس پر ناراض ہے۔ لیکن اگر مابعد حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت دکھائی نہیں دیتی۔ بعد میں تو امریکہ اور ایران ایٹمی پروگرام پر معاہدہ کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں۔

بھارت امریکہ کے سامنے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا واویلا مچاتا ہے۔ اور امریکہ کو باور کراتا ہے کہ چین کا روز افزوں اثرو رسوخ امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ اس لئے امریکی عہدیدار یہ کہنے لگے ہیں کہ بھارت کا ایک نتیجہ خیز طاقت ور اداکار کے طور پر ابھرنا امریکی مفادات کے حق میں بھی ہے اور بین الاقوامی نظام اور عالمی معیشت کے لئے بھی۔

کشمیر کے مسئلے پر امریکہ نے اگرچہ پاکستان کے موقف کی حمایت میں کوئی نتیجہ خیز کردار ادا نہیں کیا۔ تاہم کبھی کھل کر بھارت کے مؤقف کی تائید بھی نہیں کی تھی۔ امریکہ سے انڈیا کی ناراضگی کا ایک سبب امریکہ کا یہ رویہ بھی تھا۔ لیکن جب 1999 میں بل کلنٹن نے کارگل کے تنازع میں انڈیا کی مدد کی۔ تو امریکی سی آئی اے سے وابستہ بروس رائیڈل (Bruce Riedel) کے مطابق 4 جولائی 1999 کے واقعات نے دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے درمیان مفاہمت کی مضبوط بنیاد رکھی۔ پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہے۔ بل کلنٹن جب دورۂ جنوبی ایشیا پر آئے تو بھارت میں چار دن قیام کے بعد پاکستان میں مشکل سے صرف چند گھنٹے رکے تھے۔

1999 سے شروع ہونے والی امریکہ بھارت شراکت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پاکستانیوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ بھی ہے اور انتہائی تحمل سے سوچنے اور کچھ کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ جنوری 2004 میں واجپائی- بش نے گزشتہ شراکت کا جائزہ لیتے ہوئے‘ Next Step Strategic Partnership (این ایس ایس پی) طے کیا۔ قابل غور امر یہ ہے کہ بی جے پی ہو کہ کانگریس دونوں امریکہ سے دوستی چاہتے ہیں اور اپنے اپنے دور میں پیشرفت بھی کی ہے۔ من موہن سنگھ 2005 میں آئندہ دس سال کے لئے دفاعی تعلقات کے قیام کے لئے متمنی نظر آتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے یہ عزم ظاہر کیا جارہا ہے کہ جدید ترین ایٹمی ٹیکنالوجی رکھنے والی ذمہ دار حکومت کی طرح بھارت کو وہ فوائد اور مراعات حاصل کرنے چاہئیں‘ جو اس صلاحیت کی مالک دوسری قوموں کو میسر آرہی ہے ۔

قرین ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان اس وقت قدر مشترک جمہوریت نہیں بلکہ توسیع پسندی کا جنون ہے یہ عین ممکن ہے کہ اس وقت تعلق کا جو سبب ہے کل وہی تصادم کا سبب بن جائے۔مگر اس کے لئے راہ کون ہموار کرے گا۔کمیونزم کے خاتمے میں پاکستان کا کردار مرکزی اور کلیدی تھا۔ لیکن جب اس سے فائدہ اٹھانے کا وقت آیا تو انڈیا پیش پیش ہے۔ جو کمیو نسٹوں کا سب سے بڑا حلیف تھا۔ اس وقت بھی دنیا کی بڑی اور مؤثر کمیونسٹ پارٹی انڈیا میں ہی ہے۔ ہمیں اب پیچھے مڑ کر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا 1979میں امریکہ۔ روس کی اس جنگ میں کودناپاکستان کے لئے موزوں تھا۔ اگر اس سے کوئی فائدے ہوسکتے تھے تو وہ کیوں نہیں اٹھائے جاسکے اگر یہ موزوں نہیں تھا تو اب اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔بھارت اگر امریکہ سے تعلق بڑھا رہا ہے تو کیا پاکستان کا روس کے قریب آنا اور اس سے زیادہ تعلقات ہمارے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ بھارت امریکہ کے قریب آکر خطے پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے کیا ہم روس سے تعلقات بڑھا کر بھارت کے غلبے سے محفوظ رہ سکتے ہیں یا ہمیں چین سے ہی اپنی دوستی اور گہری کرنی چاہئے۔ امریکہ بھارتStrategic Partnership (حساس شراکت)سے پاکستان کے لئے یقینابہت مشکلات پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں‘ خطرات ابھر رہے ہیں۔ معاشرے میں اس وقت جو ابتری‘ انتشار‘ افراتفری دکھائی دیتی ہے وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ امریکہ و بھارت کا ثقافتی غلبہ بھی اُبھر رہا ہے امریکہ بھارت حساس شراکت پاکستان کے استحکام کی صورت میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لئے اس پس منظر میں بھارت کی طرف امریکہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپیاں ہمارے لئے پریشان کن اور فکر انگیز ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک ایسی پالیسی مرتب کریں جس سے دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ لایا جا سکے۔ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنا‘ تقسیمِ ہندوستان کے خلاف مسلسل بیا ن بازی‘ کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو آئینی حیثیت دینا۔ مگر یہ سب کچھ دنیا تب مانے گی جب ہم اقتصادی‘ تعلیمی‘ تہذیبی‘ طبّی اور دفاعی طور پر مضبوط ہوں گے۔ یعنی امریکہ بھارت کو Strategic Partners (حساس شراکت دار) کے طور پر جن شعبوں یعنی معیشت‘ صنعت‘ تجارت‘ تعلیم‘ صحت‘ سائبر‘ سیکورٹی‘ فوجی استعداد‘ ایٹمی صلاحیت‘ میں مضبوط کر رہا ہے۔ ہم بھی ان شعبوں میں آگے بڑھیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ایک تو معیشت‘ تعلیم‘ صحت‘ میں ہم کمزور ہو رہے ہیں بلکہ زوال کی طرف جا رہے ہیں۔ دوسرے جمہوریت اور آمریت کی بحث میں پاکستان کی مسلح افواج کو جلی اور خفی انداز میں طعن و تشنیع کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ فوج اور عوام میں فاصلے پیدا کئے جا رہے ہیں۔ جمہوریت کی راہ میں حائل جاگیرداری اور انتہا پسندی کو قطعی طور پر نظرانداز کر کے صرف فوج کوجمہوری تسلسل میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ غور کریں کہ ایسی تحریکوں اور رجحانات کا نتیجہ کیا نکلے گا جب امریکہ بھارت کو اقتصادی‘ علمی اور فوجی اعتبار سے بہت طاقتور کر دے گا اور جب خطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا۔ پاکستانی فوج اور عوام‘ سیاسی پاکستان اور فوجی پاکستان‘ میں فاصلے بڑھ جائیں گے۔ تعلیم‘ صحت‘ معیشت‘ ٹیکنالوجی‘ انتظام کے حوالے سے بھی ملک کمزور ہو گا‘ تو اس خطے کا کیا نقشہ ہوگا؟

پہلے تجزیہ کیا جاتا تھا کہ امریکہ خطے میں بھارت کا غلبہ نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ پاکستان سے تعاون کرتا ہے۔ اب بش انتظامیہ سے امریکہ کا یہ فلسفہ شروع ہوا ہے کہ وہ انڈیا کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت سمجھتا ہے اور وہ اسے وہ تمام گُر سکھانا چاہتا ہے جو ایک ایسی قوت کو آنا چاہئیں۔ وہ اسے ہر شعبے میں مکمل طور پر طاقت ور بنانا چاہتا ہے۔ 2012 میں انڈیا میں امریکہ کی سرمایہ کاری 28 بلین ڈالر رہی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد بھارتی طلبہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

امریکہ اور بھارت کے درمیانStrategic Partnership (حساس شراکت) کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایسابھی نہیں ہے کہ یہاں سب اچھا ہے۔ یا امریکہ بھارت سنگم ہو رہا ہے یا ہو چکا ہے۔ ہنوز دہلی دور است‘ والا معاملہ ہے۔ امریکی فوج اور تھنک ٹینکس کے بھی بہت سے تحفظات ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارتی اور امریکی فوجیں براہِ راست ایک دوسرے سے تعاون کریں لیکن ان کا تاثر یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ہر بات کی منظوری وزارتِ دفاع سے لینا پڑتی ہے۔صرف وہ امور تسلیم کئے جاتے ہیں جو سیاسی طور پر بھارت کے حق میں ہوں۔ اس تاخیر سے مؤثرStrategic Partnership نہیں ہو پاتی۔ ایک امریکی دفاعی افسر کا تبصرہ دلچسپ ہے کہ Theoretically (زبانی طور پر) تو ہم جانتے ہیں کہ کیا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ کرنا کیا ہے۔ امریکہ کے نزدیک Strategic Partnership کا مطلب ہے کہ وہ تجارت‘ معیشت اورسیکورٹی کے شعبوں میں وسیع تر تعاون کرے۔ تمام شعبے اپنے اپنے طور پر ہاتھ بڑھائیں۔ ہر معاملے میں سیاسی قیادت کی منظوری لازمی نہ ہو۔ جبکہ انڈیا کے نزدیکStrategic Partnership سے زیادہ بہتر سٹریٹجک خودمختاری ہے۔ انڈیا صرف ایک ملک سے نہیں سب سے تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔امریکہ کے نزدیک اس سوچ کے باعث دونوں کو اپنے تعلقات اگلے منطقی مرحلے تک لے جانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔امریکی رپورٹوں کے مطابق بھارتی بیوروکریسی کا ڈھانچہ‘ ہیئت‘ تربیت اور استعداد۔ ایک عالمی طاقت کے معیار کی نہیں ہیں۔ ان کے ذہن اور صلاحیتیں محدود ہیں۔ وزارتِ دفاع کے بیوروکریٹ عام دفاعی معاملات کی مہارت نہیں رکھتے۔ سٹریٹجک سیکیورٹی تو بہت آگے کی بات ہے۔ فضائیہ ہو بحریہ ہو کہ آرمی۔ ہر معاملے کی توثیق وزارتِ دفاع کے پاس جاتی ہے۔ وزارتِ دفاع کو پہلے وزارتِ خارجہ سے منظوری لینی پڑتی ہے۔اس کے بعد وزارتِ خزانہ ہے۔جس نے اپنا ایک دفاعی محکمہ قائم کر رکھا ہے۔اس کے پاس وزارتِ دفاع کی طرف سے کئے گئے اخراجاتی فیصلوں کی منظوری یا انکار کا اختیار موجود ہے۔ افسروں نے اپنی انتظامیہ کو یہ تاثر بھی دیا ہے کہ مذاکرات اور معاملات کے دوران بھارتی سول افسروں میں زیادہ استعداد اور ذہنی رسائی نظر نہیں آئی۔ جدید ٹیکنالوجی کا مطالبہ ضرور کرتے ہیں مگر اس سے آشنائی ابتدائی سطح کی بھی نہیں ہے۔ امریکی رپورٹوں میں یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ بھارت کی علاقائی سیاسی پارٹیاں اب مرکزی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی حیثیت میں ہیں۔ صوبائی عہدیدارقومی پالیسی کی تشکیل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکہ سے حساس تعلقات کے قیام پر بعض صوبائی حکومتیں اعتراض کر رہی ہیں ۔ یہ بھی فکر طلب امر ہے کہ انڈین ملٹری میں امریکی ملٹری کے ساتھ عملی شراکت کی کتنی اہلیت ہے۔ جدید اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت ہے یا نہیں۔ عالمی جدید سیکورٹی نظریات سے کتنی آشنائی ہے اور کیا اسباب ہیں کہ بھارتی برّی فوج امریکی برّی فوج سے مشترکہ مشقوں میں شمولیت سے ہچکچاتی ہے۔دوسری طرف یہ حقیقت بھی بتائی جاتی ہے کہ انڈیا کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے سبب بھارتی نوجوان فوج میں مطلوبہ تعداد میں بھرتی ہونے نہیں آ رہے ۔برّی‘ فضائی اور بحری افواج تینوں میں تربیت یافتہ افسروں کی کمی ہے‘ امریکی رپورٹیں‘ آرمی اور فضائیہ کی نسبت بحریہ کو زیادہ تربیت یافتہ‘ جدیداسلحے اور ٹیکنالوجی کی اہلیت رکھنے والی بتا رہی ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک یہ تشویش ظاہر کرتے ہیں کہ جموں کشمیر میں شورش‘ مشرقی اور وسطی صوبوں میں نکسلائٹ کی سرگرمیاں‘ انڈین بیورو کریسی کی نااہلی‘ سیاسی قیادت کی ہچکچاہٹ‘ بھارت کی بین الاقوامی سطح کی حساس شراکت کی اہلیت کو محدود کر سکتے ہیں۔ اس لئے امریکہ کو اچھی طرح جائزہ لینا چاہئے کہ اس حساس شراکت کی منزل کیا ہونی چاہئے۔ کیا بھارت وہاں تک جانا بھی چاہتا ہے؟ بھارت صرف مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لینا چاہتا ہے لیکن ایک دوسرے کی فضائیہ‘ بحریہ اور آرمی میں باقاعدہ شرکت کا قائل نہیں ہے۔ حالانکہ دونوں فوجوں کو ایک دوسرے کے بیوروکریٹک سسٹم‘ تربیتی نظام‘ حربے‘ ٹیکنیک‘ طریق کار اور فیصلہ سازی کے مراحل سے آشنا ہوناچاہئے۔ دونوں طرف کے فوجیوں کو چینی فوجی طاقت اور افغانستان میں صورتحال پر اکثر تبادلۂ خیال کرنا چاہئے۔ دوسرے ایشیائی ملکوں اور بحری طاقتوں‘ جاپان‘ آسٹریلیا‘ سنگاپور‘ انڈونیشیااور جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر کثیر القومی سیکیورٹی سرگرمیوں میں شامل رہنا چاہئے۔ دونوں یہ دیکھیں کہ ایک دوسرے کی بندرگاہوں اور انٹیلی جنس سہولتیں کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ انڈیا کے انڈیمان‘ نکوبار‘ جزائر اور امریکی جزیرے ڈیگو گارشیا کے باہمی استعمال کا تجربہ بھی ناگزیر ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس کے مطابق امریکی اور بھارتی فوجیوں‘ افسروں کو ایک دوسرے کے وار (War) اور اسٹاف کالجوں میں بھی ایک معقول عرصہ ساتھ گزارنا چاہئے۔

امریکی دستاویزات کے مطالعے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ یورپ میں صورتحال سے مطمئن ہے۔ اسے وہ اپنا ہمنوا بنا چکا ہے۔ نیٹو افواج امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے کام کرنے میں کسی تامل کا اظہار نہیں کرتی ہیں۔ یورپ سے کسی قسم کی اختلافی، مزاحمتی آواز بلند ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ عالمِ اسلام کے تما م تر سرکش رہنماؤں کی سرکوبی کر دی گئی ہے۔ صدام حسین اور معمر قذافی جیسے امریکہ دشمن۔ حسنی مبارک جیسے طاقت ور حکمراں نہ صرف رخصت کر دیئے گئے ہیں بلکہ عبرت ناک مثال بنا دیئے گئے ہیں۔ اسلامی سربراہ کانفرنس لاہور کے تمام کردار یکے بعد دیگر غیر طبعی موت کے شکار ہوتے گئے ہیں۔ معمر قذافی اس عمل کا آخری ہدف تھے۔ یورپ اور عالم اسلام کے بعد اب امریکہ بحر ہند اور بحرالکاہل کے علاقے کی تسخیر کی فکر میں ہے۔ کیونکہ چین وہاں پر اپنا اثرورسوخ قائم کر رہا ہے۔ برما اور دوسرے علاقوں میں بندرگاہیں‘ سڑکیں بنا رہا ہے۔ اس لئے چین کو گھیرے میں لے کر محدود کرنا ہے۔ یورپ میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی برطانیہ تھا۔ اس خطے میں ہندوستان یہ کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ ایک طرف وہ خود بھی توسیع پسندہے۔ پھر پاکستان سے اس کا تضاد مذہب کی بنیاد پر ہے۔ اسرائیل کو امریکہ تحفظ دیتا ہے جو عالم اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس طرح دشمن کے دشمن دوست کے وفادارہونے پرعمل درآمد ہو رہا ہے۔

سرد جنگ کے دور کا احیاء ہورہا ہے۔ اب یہ سرد جنگ چین کے خلاف ہے۔ پہیلی سر د جنگ میں نظریات تھے، کمیونزم اور سرمایہ داری۔ اب یہ جنگ کمرشل بنیادیں بھی رکھتی ہے اور مذہب سے وابستگی بھی شامل ہے۔ چین کے مقابلے کے لئے فوجی طاقت سے زیادہ اقتصادی قوت کی ضرورت ہے۔ 1995 سے اب تک بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کے مندرجات سے مضمرات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور یہ بھی تعین کیا جاسکتا ہے کہ 2014تک امریکہ بھارت کو تعلیم‘ صحت‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی میں کہاں تک لے جاسکتاہے اور دہشت گردی کے مقابلے کے لئے جن مشترکہ اقدامات کے لئے دستخط کئے گئے ہیں۔ ان میں لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی بھی سرفہرست ہے۔ بھارت کی طرف سے امریکہ پر بار بار واضح کیا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ملنے والا فوجی سازوسامان‘تربیت‘ مستقبل میں بھارت کے خلاف استعمال ہوگی اور یہ کہ افغانستان سے امریکہ نیٹو افواج کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں استحکام خطرے میں پڑے گا۔ 1990کے عشرے کی پراکسی جنگوں کا زمانہ واپس آجائے گا جس کی وجہ سے جموں کشمیر میں پاکستان کی طرف سے سرحدی جھڑپیں اور اندرونی مداخلت بھی شروع ہوسکتی ہے ۔

امریکہ بھارت حساس شراکت کے مقاصداور اہداف بہت واضح ہیں۔ پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان چین کے درمیان حساس شراکت میں تیزی سے اضافہ ناگزیر ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ نتیجہ خیز یہ ہو گا کہ پاکستان تعلیم، تجارت، صنعت، آئی ٹی، صحت، سکیورٹی میں چین اور دوسرے دوست ممالک کی مدد سے اپنی استعداد بڑھائے۔ اس کے لئے اسلامی ملکوں کی تنظیم کو حرکت میں لانا بھی ایک راستہ ہے۔ اسلامی ممالک سے قریبی تعلقات کے ذریعے افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکا جاسکتا ہے۔ انتہائی اہم جغرافیائی محل وقوع اور نوجوان آبادی ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ان کا شعور‘ادراک اور دانشمندانہ استعمال ہمیں خطے میں ہی نہیں دنیا میں باوقار مقام دے سکتاہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے حکومتی اور مملکتی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہن سازی کا دائرہ وسیع کر کے پاکستان کے قومی مفادات کا تعین کیا جائے۔ اپنے داخلی تنازعات کے تصفیے‘ قومی مفادات کے تعین اپنے وسائل کے مؤثر استعمال سے ہی ہم ان توسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بناسکتے ہیں۔ سیاسی پاکستان اور فوجی پاکستان کا ایک ہونا لازمی ہے۔ ورنہ حساس شراکت کے یہ عالمی تجربے ہمیں محدود کرتے جائیں گے۔

دوڑوگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
29
December

ترکوں کی پاکستان سے اور پاکستانیوں کی ترکوں سے دوستی کا مجھے ذاتی طور پر پہلی دفعہ مارچ 1973ء میں تجربہ ہوا تھا۔ ارزِروم سے استنبول تک کسی نے مجھے ایک لمحے کے لئے بھی تنہا نہ چھوڑا۔ میں بذریعہ ریل انقرہ تک اور پھر بحری جہاز سے بحیرہ اسود پار کر کے استنبول پہنچا تھا۔ (اُس وقت تک ابھی پل کی تعمیر عمل میں نہیں آئی تھی) سارے راستے میں وہ سب سے پہلے مجھ سے پوچھتے پاکستانی؟ میں جب اثبات میں جواب دیتا تو وہ اگلا سوال کرتے کہ بھٹو یا مجیب؟ میں جب بھٹو کہتا تو ہر کوئی بے اختیار مجھ سے معانقے کو دوڑتا۔ دو دن کے سفر میں کسی نے بھی مجھے کوئی چیز خرید کر نہ کھانے دی ہر کسی کی کوشش ہوتی کہ وہ مجھے ڈائننگ کار تک ساتھ لے جائے اور جب استنبول پہنچ کر میں نے شاہین پیلس میں قیام کا فیصلہ کیا تو اس ہوٹل کی انتظامیہ نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو پہلی دفعہ 1988میں مدینہ پاک کے لوگوں نے میرے ساتھ کیا تھا۔ بمشکل انہوں نے رات قیام کے پیسے لئے۔ ان کے چہروں کی شفافیت ان کے باطن کی آئینہ دار تھی۔ وہ مجھے اپنا ہم وطن اپنا بھائی سمجھ رہے تھے۔ ایک دو اپنے گھر لے گئے۔ بچوں اور بیگم سے ملوایا۔ آج بھی ترک لوگوں کے دلوں میں پاکستانیوں کے لئے بے پناہ محبت ہے۔ 1965کی پاک بھارت جنگ میں ترکی نے پاکستان کو دفاعی امداد دینے کا اعلان 11ستمبر کو کر دیا تھا۔ اس سے پہلے 30ستمبر 1947کو جب پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بننے والا دنیا کا 56واں ملک بنا تھا تو پاکستان کی حمایت میں ترکی کے مندوب نے بھرپور تقریر کی تھی یہی وجہ تھی کہ اجلاس میں موجود 54ممالک میں سے 53نے پاکستان کی حمایت کی تھی۔ اکیلے افغانستان نے مخالفت کی تھی۔ مزید برآں 20دسمبر 1971کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر مملکت کا حلف اٹھایا تھا تو 24جنوری 1972کو سب سے پہلے جو غیرملکی دورہ انہوں نے کیا تھاوہ ترکی کا تھا۔ وہ اس روز صبح انقرہ پہنچے تھے اور مختصر قیام کے بعد شام واپس آ گئے تھے۔ ترکی نے بھٹو کو مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔ ترک حکمرانوں اور لوگوں کے دلوں میں پاکستانیوں کے لئے بے پناہ محبت ہے۔2005کے زلزلے میں دامے‘ درمے‘ سخنے پاکستان کی مدد کو پہنچ کر ترکوں نے اپنی بے مثال دوستی اور ایثار کی روایت برقرار رکھی۔ گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکی کے وزیر اعظم جناب رجب طیب اردگان نے جب مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔ تو یقیناًانہیں اس دعوے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے صحیح کہا تھا کہ اس میں نہ تو کوئی تصنع کا عمل دخل تھا اور نہ ہی محض لفاظی بلکہ وہ ان کے دل اور روح کی گہرائیوں سے ابھرنے والے جذبات تھے۔

رجب طیب اردگان موجودہ مسلم رہنماؤں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی انسان دوستیقابلِ مثال ہے۔ وہ جس طرح ترکی کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں سرگرم ہیں اس طرح دنیا کے دیگر انسانوں کی کامیابیوں کے بھی متمنی ہیں وہ کسی قسم کے جھمیلوں میں پڑے بغیر مذہب مسلک سے بلند ہو کر انسان کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ بظاہر ان کا تعلق قدامت پسند سیاسی پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی سے ہے۔ لیکن ان کی سوچ لبرل‘ روشن خیال اور ترقی پسند ہے۔ انہی کی کوششوں سے ترکی کو 2005میں یورپی یونین میں آبزرور ممبر شپ دی گئی۔ 2009میں کردوں کے ساتھ پچیس سالہ مسئلہ جس میں قریب قریب 40ہزار جانیں تلف ہوئیں نہایت تدبّر اور دانش کے ساتھ حل کیا۔ جن شہروں اور قصبوں کے نام ترکی زبان میں تھے ان کے نام کردش میں پہلے کی طرح بحال کر دیئے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کو ترکی میں سرمایہ لگانے کی دعوت دی۔ کئی سرکاری ریگولیشنز اٹھا لئے۔ اس سے جی ڈی پی آٹھ فیصد تک بڑھا۔ طیب اردگان جب وزیراعظم بنے تھے تو ترکی نے آئی ایم ایف کا 23.5بلین ڈالر قرض دینا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکیمانہ اقتصادی پالیسی کی وجہ سے بہت سارا قرض اتارا۔ 2009میں وہ قرض 7بلین ڈالر رہ گیا تھا۔انہوں نے آئندہ کسی قسم کا قرض نہ لینے کی ٹھانی جس میں نہ صرف وہ کامیاب رہے بلکہ 2013کے اختتام تک ترکی آئی ایم ایف کے چنگل سے جان خلاصی کرا چکا ہے۔ بے روزگاری کی شرح 2010کے اعداد و شمار 16.1فیصد سے کم ہو کر یورپی یونین کی شرح دس فیصد تک آ گئی ہے۔ یہ اقتصادی میدان میں امید افزا کامیابی ہے۔ رجب طیب اردگان نے افراط زر پر قابو پایا۔ 18سال کی عمر سے تمام افراد کو مفت طبی سہولتیں دی جائیں گی۔ ریٹائرمنٹ کی عمر میں دھیرے دھیرے اضافہ کیا جائے گا۔ 2036سے ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال ہو جائے گی اور 2048میں مرد اور عورت کے لئے یہی عمر برابر ہو جائے گی۔ تمام پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کا قانون بنایا اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا۔ قبرص کے مسئلے پر برسوں سے یونان سے جو تنازعہ چلا آ رہا تھا یونان سے تعلقات کو معمول پر لانے کے علاوہ سیاسی اقتصادی رشتے استوار کئے۔ 2007میں رجب طیب اردگان اور یونانی وزیراعظم کو ستاس کرامن لیس (Kostas Karamanlis) دونوں نے ایورس دریا کے پل پر ملاقات کی۔ یہی دریا دونوں کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ ’’گریک- ترکش‘‘ نیچرل گیس پائپ لائن کا افتتاح کر کے دیرینہ رقابتوں کو ختم کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس عمل سے علاقے میں روس کی توانائی میں برتری متاثر ہوئی۔

رجب طیب اردگان موجودہ مسلم رہنماؤں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی انسان دوستی قابلِ مثال ہے۔ وہ جس طرح ترکی کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں سرگرم ہیں اس طرح دنیا کے دیگر انسانوں کی کامیابیوں کے بھی متمنی ہیں وہ کسی قسم کے جھمیلوں میں پڑے بغیر مذہب و مسلک سے بلند ہو کر انسان کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ بظاہر ان کا تعلق قدامت پسند سیاسی پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی سے ہے۔ لیکن ان کی سوچ لبرل‘ روشن خیال اور ترقی پسند ہے۔

2005میں آرمینیا اور ترکی کے درمیان بین الاقوامی فضائی راستے کھول دیئے۔ عراق کے ساتھ 48تجارتی معاہدے کئے بلکہ 33برسوں میں پہلی بار ترکی کے صدر نے عراق کا دورہ کیا۔ عراقی کردستان کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرنے کے لئے اربیل میں ترکش یونیورسٹی قائم کی۔ موصل میں ترکش قونصل خانہ کھولا۔

شام کے ساتھ تعلقات میں بہتری پیدا کی جس کی وجہ سے 57سال بعد 2004میں شام کے صدر نے ترکی کا دورہ کیا تھا۔ عراق کے ساتھ ترکی ویزہ کی پابندیاں ختم کیں۔ رجب طیب اردگان نے سپین کے دورے کے دوران خواتین کے سر پر سکارف کے حق میں تقریر کی۔ ترکی میں سپریم کورٹ میں مقدمے کی پیروی کر کے سکارف پہننے پر عمل درآمد کرایا۔ 2003میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو لاجسٹک سپورٹ کے لئے ترکی نے امریکہ کی کسی قسم کی مدد کرنے اور عراق کے خلاف اپنی دھرتی استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

رجب طیب اردگان 26فروری 1954کو استنبول کے نواح قاسم پاشا کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ خاندان بنیادی طور پر جارجین تھا۔ جو بطوی سے ہجرت کر کے رزی (Rize) میں سکونت پذیر ہوا تھا۔ اردگان کا بچپن رزی میں گزرا۔ وہاں ان کے والد ترکش کوسٹ گارڈ (Turkish Coast Guard) کے ممبر تھے۔ طیب اردگان نے نوجوانی میں استنبول میں بند‘ ڈبل روٹیاں اور برگر فروخت کر کے والد کی معاشی ضرورتوں میں ہاتھ بٹایا۔ 1965میں قاسم پاشا ایلیمنٹری سکول سے اور 1973میں استنبول رئیلجئس ووکیشنل ہائی سکول (امام ہاتپ سکول) سے گریجوایشن کیا۔ ایوپ ہائی سکول سے ہائی سکول ڈپلومہ اور پھر عسکری سکول آف اکنامکس اور کمرشل سائنسز سے بزنس ایڈمنسٹریشن کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں ادارہ یونیورسٹی بنا دیا گیا۔ طیب اردگان فٹ بال کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ قاسم پاشا فٹ بال کلب ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

1978ء میں ایک کانفرنس میں ایمنی کو دیکھا تو اسے ایمنی اردگان (Emine Erdogan) بنا کر گھر بسا لیا۔ طیب اردگان کی بیگم ایمنی اردگان گلباران سیرت (Siirat) میں 1955میں پیدا ہوئیں۔ اس جوڑے کے دو بیٹے احمد براق اور نجم الدین بلال جبکہ دو بیٹیاں اسریٰ اور سمینہ ہیں۔

پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران رجب طیب اردگان نے پاکستان اور ترکی کے باہمی تعاون‘ بین الاقوامی تعلقات‘ دہشت گردی کے خاتمے اور دفاعی تعاون پر زور دیا ہے انہوں نے پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو دنیا میں بے مثال قرار دیتے ہوئے سٹرٹیجک پارٹنر شپ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے۔ تجارت معیشت‘ سیاحت اور تعلیم و تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

رجب طیب اردگان1994 سے1998 تک استنبول کے میئر رہے۔ اسی عرصے میں انہوں نے دنیا بھر کے میئر صاحبان کی کانفرنس بلوائی۔ یہیں سے میئروں کی گلوبل منظم کانفرنسوں کا آغاز ہوا۔2001ء میں ’’جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی‘‘ قائم کی۔ جسے ترکی زبان میں AK پارٹی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران رجب طیب اردگان نے پاکستان اور ترکی کے باہمی تعاون بین الاقوامی تعلقات‘ دہشت گردی کے خاتمے اور دفاعی تعاون پر زور دیا ہے انہوں نے پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو دنیا میں بے مثال قرار دیتے ہوئے سٹرٹیجک پارٹنر شپ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے۔ تجارت معیشت‘ سیاحت اور تعلیم و تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ دونوں ممالک کے مابین مشترکہ دفاعی پیداوار اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ بھی ہوا۔ اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس میں پاکستانی وزیراعظم میاں محمدنوازشریف اور ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردگان کی ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی مشاورتی عمل کے فروغ کے لئے ارکارنِ پارلیمنٹ‘ سول سوسائٹی‘ تاجر اور میڈیا کے لوگوں کے وفود ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کریں گے۔ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے نجی بینکوں کی برانچیں قائم کی جائیں گی۔ دونوں ممالک کے عوام کی زندگی سنوارنے پر پیش رفت کی جائے گی جمہوری نظم کے فروغ میں تعاون کیا جائے گا۔ ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے میاں محمد نوازشریف کو ترکی کے دورے کی دعوت دی جو بخوشی قبول کرلی گئی۔ انہوں نے اسی مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’حکومت پاکستان کی ترجیح امداد نہیں‘ تجارت ہے۔ ترک سرمایہ کار موقع سے فائدہ اٹھائیں‘‘ جبکہ ترک وزیرِاعظم نے کہا کہ’’ ہم دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانا چاہتے ہیں پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔‘‘

ترکی پہلے ہی ہمیں مواصلات اور توانائی کے شعبوں میں مثالی تعاون فراہم کررہا ہے جس میں بالخصوص وزیرِاعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف کی کوششوں سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں میٹروبس سروس اور سالڈویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں پر عمل درآمد ہے جس سے شہریوں کو بے پناہ سہولتیں حاصل ہیں۔ اگر پاکستان ترکی کی معاونت سے توانائی کے بحران پر قابو پالے تو یہاں موجود قدرتی وسائل کی بدولت ہم اپنے ملک کو سونا اگلنے والی دھرتی میں بدل سکتے ہیں۔ پاکستان اپنے انفرادی محلِ وقوع اور بعض مخصوص عالمی حالات کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس(GSP+) کا درجہ دیا جاچکا ہے۔ پاکستانی مصنوعات کو یورپی ممالک میں اپنی جگہ بنانے کا موقع ملا ہے‘ حکومتِ پاکستان کی طرف سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جی ایس پی سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

جی ایس پی (GENERALISED SYSTEM OF PREFERENCES) دراصل یہ وہ ترجیحی اقدام ہے جس کے تحت یورپی یونین کے ممبر ممالک کو 75 ایسی پاکستانی مصنوعات جن کی تفصیل جی ایس پی معاہدے میں شامل ہے‘ برآمد کرنے پر کوئی ڈیوٹی وصول نہیں کی جائے گی۔ یہ سہولت جی ایس پی پلس میں ہے جو خاص طور سے پاکستان کے لئے ہے ان اشیاء کے علاوہ اگر کوئی چیز پاکستانی صنعت کار یا کارخانہ دار یورپی یونین کو برآمد کرنا چاہے گا تو وہ محض جی ایس پی کی روشنی میں برائے نام ڈیوٹی دے گا۔ موجودہ حکومت تجارت پر فوکس کئے ہوئے ہے قوموں کی زندگی میں تجارت ہی سرخروئی کا باعث ہوا کرتی ہے‘ اﷲ تعالیٰ کو کاشت کاری کے بعد اگر کوئی پیشہ سب سے زیادہ پسند ہے تو وہ تجارت ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ دنیا کے کپاس پیداکرنے والے بارہ بڑے ملکوں میں پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ یہاں سالانہ 75لاکھ ایکڑ پر کپاس کاشت کی جاتی ہے جس سے15 ملین کے قریب روئی کی گانٹھیں پیدا ہوتی ہیں اس وقت دنیا میں تقریباً 800 ارب ڈالر ٹیکسٹائل مصنوعات کی تجارت ہوتی ہے جس میں پاکستان صرف 16ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرتا ہے جو بہت ہی کم ہے ہمارے ہاں جس قدر روئی کی پیداوار ہے اس مناسبت سے بیڈ شیٹس‘ تولیہ‘ بنیانیں‘ جرابیں اور دیگر مصنوعات تیار کرکے کم ازکم ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات ہمیں64 ارب ڈالر تک لے جانی چاہئیں جو دنیا کی ٹیکسٹائل ٹریڈ کا8 فیصد بنتا ہے۔ چاول اور چمڑے کی برآمدات جو فی الحال 25 ارب ڈالر ہے اسے اگر بڑھا کر40 ارب ڈالر تک لے جائیں اور ملکی مصنوعات کو رواج دے کر غیر ملکی مصنوعات میں تھوڑی کمی کرکے موجودہ درآمدات کو43 ارب ڈالر سے کم کرکے 35ارب ڈالر تک لے آئیں تو زرمبادلہ کے لئے ہمیں آئی ایم ایف یا ورلڈ بنک کے ایوانوں تک فریادی بن کے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور جب ملک 64 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کرنے لگ جائے گا تو کم از کم 60 لاکھ بے روزگاروں کو روزگار میسر آئے گا‘ درآمد برآمد اور تجارتی محاسن موجودہ حکومت بہت بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہے کیونکہ موجودہ انتظامی سیٹ اپ تجارت پیشہ افراد پر مشتمل ہے لیکن تجارت کے فروغ کے لئے توانائی کے بحران پر قابو پانا حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہئے پاکستان کی معیشت کی بہتری اور استحکام کے لئے کوئی پارٹی فرد یا ملک کوشش کرے اسے پاکستان کی کامیابی سمجھا جانا چاہئے۔

یورپی یونین میں شامل 27ممالک جن میں آسٹریا‘ بیلجیئم‘ کروشیا‘ قبرص‘ بلغاریہ ‘ چیک جمہوریہ‘ اسٹونیا‘ ڈنمارک‘ فن لینڈ‘ فرانس‘ اٹلی‘ یونان‘ جرمنی‘ ہنگری‘ لتھوینیا‘ آئر لینڈ‘ لیٹویا‘ لگزمبرگ‘ مالٹا‘ پولینڈ‘ پرتگال‘ رومانیہ‘ سلوواکیہ‘ سلووینیہ‘ سپین‘ سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں‘ ان ممالک کے بلاک کی جانب سے عمومی ترجیح سکیم جی ایس پی پلس (جس کا پہلے ذکر آچکا ہے) کا مقصد ترقی پذیر ممالک سے درآمد بڑھا کر ان ملکوں کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ عین اسلامی نظریہ ہے جس پر غیر مسلم عملدرآمد کررہے ہیں‘ نبی آخرالزمان حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے کہ چھوٹے دکاندار سے خریداری کو ترجیح دیا کرو تاکہ وہ بڑے دکانداروں کے برابر پہنچ جائے۔ فی الحال90 فیصد اشیاء پر ٹیرف زیرو فیصد ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق اس سکیم کے ذریعے سالانہ 574 ملین یورو کی مصنوعات پاکستان سے برآمد کی جائیں گی جن میں صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں سکیم کے پہلے سال میں650 ملین امریکی ڈالر کی مصنوعات برآمد کی جائیں گی۔ اس سکیم کا نفاذ نئے سال یکم جنوری2014 سے ہو چکا ہے۔ بدلے میں پاکستان سے 27 انسانی حقوق کے معاہدوں پر عمل درآمد کے لئے کہا گیا ہے جن میں سے بیشتر پر پاکستان پہلے ہی عمل کررہا ہے۔ ملک میں جمہوریت ہے‘ انسانی آزادی ہے۔خواتین کو ملازمتوں میں شریک کیا گیا ہے، دوبار ایک خاتون وزیرِاعظم کے منصب پر فائز رہ چکی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

برآمدات تب بڑھیں گی جب ملک کی انڈسٹری کی بنیادی ضرورتوں گیس‘ بجلی‘ پانی‘ تحفظ کا خیال رکھا جائے گا‘ حکومت کی اس قسم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں مگر دہشت گردی اور توانائی کے بحران پر قابو پانا پہلی ترجیح ہونا چاہئے۔ ان حالات میں ترکی کے ساتھ ساتھ دیگراسلامی ممالک سے بھی تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرکے مسلم امہ کا بلاک بننا چاہئے جس کی آواز دنیا کے ایوانوں میں پذیرائی کی حامل ہو‘ جو نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک اخوت وبھائی چارے اور یکجہتی کی نوید ہو

Follow Us On Twitter