11
March
جنوری 2015
شمارہ:7 جلد :51
یوسف عالمگیرین
وطنِ عزیز پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں جہاں افواج پاکستان کے افسر اور جوان جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں وہاں ہزاروں پاکستانی شہری بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے لئے بیس بیس دن کی جنگ لڑنا بھی....Read full article
 
dr_hum_mir.jpg
ڈاکٹر ہما میر
صبح کا وقت تھا‘ پشاور کے آرمی پبلک سکول کے گراؤنڈ میں سارے بچے اسمبلی کے لئے جمع تھے‘ شاعر مشرق علامہ اقبال کی مشہور نظم ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ جوش و خروش سے پڑھی جا رہی تھی....Read full article
 
bushra rehman
بشری رحمن
یہ سب مل کر ان سفاک درندوں کے ٹھکانے کیوں نہیں پھونک دیتے۔ جنہوں نے ہماری زندگیوں کے چراغ گل کئے۔ ماں یہ لوگ ان کو رنگاہ‘ ننگِ انسانیت وحشیوں کی آنکھیں....Read full article
 
mujahid_brelvi.jpg
میجر فاروق فیروز
میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہوں خون کے دھبے جابجا نظر آ رہے ہیں۔ میں اس مقدس خونِ شہداء سے بچ کر گزرنے کی کوشش کرتا ہوں....Read full article
 
mehmood_sham.jpg
اسد ملک
ہم جانتے ہیں، ہماری مٹی کے خمیر میں ڈر جانا شامل ہی نہیں جبھی توہر روز ایک نیا ولولہ لے کر نکلتے ہیں اور نئی منزل کو روانہ ہو جاتے ہیں۔16دسمبرکے واقعے کے بعد ہم جتنے بچوں سے بھی ملے سب نے....Read full article
 
m_akram_zakki.jpg
محمد اکرم ذکی
امریکہ کے عسکری اور سیاسی قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضرب عضب کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان....Read full article
 
shaheen_kosar_dar.jpg
ڈاکٹر رشید احمد خاں
نومبر میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم برائے علاقائی ترقی ’’سارک‘‘کی اٹھارہویں سربراہی کانفرنس کے موقع پر توقع کی جارہی تھی کہ کانفرنس کے باقاعدہ اجلاسوں سے ہٹ کر پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف اور اُن کے بھارتی ہم منصب نریندرامودی....Read full article
 
shaheen_kosar_dar.jpg
عقیل یوسف زئی
دسمبر 2014 کے بعد خطے بالخصوص افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستانی علاقوں کی سیکیورٹی اور دیگر حالات کیسے ہوں گے؟ اس سوال نے ہر کسی کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس بات کا دوسروں کے ....Read full article
 
shahista_aqib.jpg
شا ئستہ عاقب
مہمند ایجنسی میں واقع ایک انتہائی دشوار گزار پہاڑی چوٹی جسے دہشت گردوں نے انتہائی مضبوط حصار میں تبدیل کر دیا تھا‘ پر پاک فوج کے قبضہ کی ایک ایمان افروز روئیداد۔ ’’ولی داد‘‘ نامی اس چوٹی پر قبضہ کے لئے پاک فوج کے کئی سپوتوں کو اپنی جان کا نذرانہ پیش....Read full article
 
muhammad_ali_shah_kaka_khail.jpg
یاسر پیرزادہ
طبیعیات کے نوبل انعام یافتہ سائنس دان سٹیون وینبرگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے 40 برسوں میں طبیعیات یا آسٹرونومی کے موضوع پر کوئی ایک بھی مقالہ ایسا نہیں دیکھا جو کسی مسلمان ملک میں بسنے والے سائنسدان نے لکھا ہو اور قابل مطالعہ ہو۔پتا نہیں کس نے سٹیون وینبرگ کو نوبل انعام دے دیا ہے۔ان صاحب کو اندازہ ہی نہیں کہ مقالہ لکھنے سے کہیں....Read full article
 
shaheen_kosar_dar.jpg
غریدہ فاروقی
اکثر حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر بھی سوال اٹھایا جاتا ہے۔ جو میں نے بھی اپنے دورے کے دوران اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب مجھے الفاظ میں نہیں بلکہ اعمال اور زمینی حقائق کے ساتھ دیا گیا۔ ....Read full article
 
raja_mohsin_shahid.jpg
راجہ محسن شاہد
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ’’سوفٹ پاور‘‘ کسی ایک ملک یا قوم کی اجارہ داری نہیں ہے۔ بلکہ کوئی قوم بھی اپنی بہتر روایات‘ کلچر‘ سسٹم‘ ترقی اور آزادی کی پرکشش علامتوں کے ذریعے دنیا کے معاشروں کو اپنی جانب متوجہ....Read full article
 
iltaf_hassan_qurashi.jpg
الطاف حسن قریشی
رانجن جیوتی بھارت کی وزیر مملکت ہیں،بی بی سی نیوز انڈیا(4دسمبر2014) کے مطابق اُنہوں نے دہلی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں راما کی حکومت اور حرامزادوں کی حکومت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ، حرامزادوں کا لفظ اُنہوں نے اپوزیشن کے علاوہ غیر مسلم بلکہ یوں کہیے....Read full article

jan_urdu_15.jpg

 
shef_zakir.jpg
محمود شام
مذہب کو کسی مملکت سے ماورا نہیں ہونا چاہئے۔ مملکت ایسی مذہبی حدود وقیود کا تعین کرے کہ مملکت اور مذہب متصادم نہ ہوں۔ مذہب کے نام پر مملکت کے ستونوں کو کمزور نہ کیا جائے۔ کسی مذہبی جماعت‘ تنظیم یا لشکر کے سربراہ کو دین کی کامل اتھارٹی حاصل نہیں ہے....Read full article
 
lt_col_arif_mehmood.jpg
قاسم علی
تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے....Read full article
 
maj_gen_m_javaid.jpg
میجر جنرل(ر) محمد جاوید
لہو کی بوندیں جو بو چکے تھے سروں کی اب فصلیں کٹ رہی ہیں بہار موسم میں رہبروں نے خمارِ نخوت سے چُور ہو کر ہمارے مقسوم میں جو لکھ دیئے تھے وہ کشٹ سارے ....Read full article
 
brig_s_shah.jpg
بریگڈئیر ایس کے شاہ
کرچی جیل شہر کے عین وسط میں پُر رونق سڑکوں کے بیچوں بیچ فلک بوس عمارتوں کے سائے اور افواج پاکستان کی طرف سے کراچی کے شہریوں کو دیئے گئے ایک خوبصورت تحفے عسکری پارک کے پہلو میں واقع اس جیل کے کمروں اور کوٹھڑیوں میں چھوٹے موٹے جرائم میں سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی خطرناک پیشہ ور مجرم اور ایک سو سے زیادہ دہشت گرد بھی بند ہیں....Read full article
 
col_arfan_hassan.jpg
کرنل عرفان حسن
دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والی درہ آدم خیل کی ایک طالبہ کی لکھی ہوئی ڈائری سے اقتباسات ایک مشہور کہاوت ہے کہ شکاریوں‘ حواریوں‘ Paratroopers ‘ فوجیوں اور پائلٹوں کے پاس بہت سی دلچسپ سچی کہانیاں ہوتی ہیں۔ میرا تعلق آرمی ایوی ایشن سے ہے....Read full article
 
خلیق تبسم
نیند ہماری نفسیاتی صحت کے لئے بہت ضروری ہے اگر نیند ناکافی ہو تو جسمانی اور نفسیاتی صحت خراب ہو جاتی ہے۔ دماغی توازن اور ذہنی صحت برقرار رکھنے کے لئے صحت مند انسان کے لئے 8گھنٹے نیند بے حد ضروری ہے۔ لیکن عمرکے حساب سے نیند کی مقدار بھی مختلف ہوتی ہے۔ کچھ افراد اس خوف سے بے چین رہتے ہیں کہ انہیں....Read full article
 
میجر عمران رضا
ابھی تم خواب دیکھو فرض میں کچھ سال باقی ہیں تم آنے والا کل ہو اور ہم سب حال باقی ہیں مجھے بے انتہا غصہ ہے دل تک کانپ جاتا ہے....Read full article
 
طاہر پرواز
میرے اسکول کو تم نے، میرا مقتل بنا ڈالا میرے ماں باپ نے مجھ کو، بڑے چاؤ سے تھا پالا صبح جب گھر سے نکلا تو، مجھے ماں نے دیا ....Read full article
 
یوسف عالمگیرین
ربّا سچیا توں تے جان دا ایں ایس غم نے روح نوں کھچ لِتا اے ایہہ غم نہ مڑتُوں ....Read full article
 
ملک اعظم
پاک فوج قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کرتے ہوئے مادرِ وطن کی حفاظت جاری رکھے ہوئے ہے۔خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ، پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ اپنی پاک سر زمین کی حفاظت کو مقدم جانا اور اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔ لیکن 16 دسمبر2014 کو آرمی پبلک سکول پشاور پر‘ جہاں صرف فوجیوں کے ہی نہیں سویلینز کے بچے بھی زیرِ تعلیم تھے....Read full article
21
January
وطنِ عزیز پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں جہاں افواج پاکستان کے افسر اور جوان جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں وہاں ہزاروں پاکستانی شہری بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے لئے بیس بیس دن کی جنگ لڑنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو بھی 1965 کی جنگ میں صرف سترہ دنوں میں گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ افواج پاکستان اور قوم گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہیں اور ان کے حوصلے آج بھی جوان ہیں۔ پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے پہلے وہاں سے عورتوں‘ بچوں‘ بوڑھوں اور دیگر شہریوں کو ٹی ڈی پیز کیمپوں میں منتقل کیا جہاں ان کی خوراک‘ صحت اور دیگر سہولیات کو یقینی بنایا اور پھر متعلقہ علاقوں میں مقیم دہشت گردوں کی سرکوبی کا آغاز کیا۔ جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کسی بھی جنگ سے پہلے جو ہدایات جاری کرتے ان میں یہ واضح بتایا جاتا کہ بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ لیکن گزشتہ ماہ پشاور کے ایک سکول کے بچوں کو جس طرح سے نشانہ بنا کر معصوموں کا خون بہایا گیا ہے تاریخ میں ایسی سفاکیت کی مثال نہیں ملتی۔ سانحہ پشاور نے صرف پاکستانی قوم کو ہی رنجیدہ نہیں کیا بلکہ پوری دنیا بشمول ممتاز قائدین‘ میڈیا‘ سوشل میڈیا اور عام آدمی بھی اس پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی قوم کے ہر ہر فرد نے نہ صرف اس کی بھرپور مذمت کی بلکہ پوری قوم ایک قوت بن کر سامنے آئی ہے۔ لوگوں کی آنکھیں پرنم ضرور ہوئیں لیکن اُن کے دلوں میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکتی دکھائی دی۔ سانحہ پشاور کے بعد وہ لوگ بھی دہشت گردی کے عفریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو تاحال دہشت گردی کو غیروں کی جنگ قرار دے رہے تھے۔ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں اور سرکردہ رہنماﺅں کا دہشت گردی کے خلاف یکجان ہونا اس امر کی علامت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دشمنوں کو پہچان چکی ہے اور یہ تسلیم کر چکی ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گرد پاکستان اور اس کی عوام کے دشمن ہیں۔ جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا پاکستان مہذب اور ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ بلا شبہ پاکستان اور اس کے عوام اس عفریت پر قابو پا کر ہی دم لیں گے کہ عزت سے جینے کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ قوم اسی طرح اتحاد اور یگانگت پر عمل پیرا رہی تو دہشت گردی پر پوری طرح قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی‘ انشاءاﷲ
21
January

نیند ہماری نفسیاتی صحت کے لئے بہت ضروری ہے اگر نیند ناکافی ہو تو جسمانی اور نفسیاتی صحت خراب ہو جاتی ہے۔ دماغی توازن اور ذہنی صحت برقرار رکھنے کے لئے صحت مند انسان کے لئے 8 گھنٹے نیند بے حد ضروری ہے۔ لیکن عمرکے حساب سے نیند کی مقدار بھی مختلف ہوتی ہے۔ کچھ افراد اس خوف سے بے چین رہتے ہیں کہ انہیں نیند نہیں آتی۔ بجائے اس خوف میں مبتلا ہونے کے انہیں چاہئے کہ وہ اپنی غذا میں ردوبدل کریں‘ خود کو جسمانی و ذہنی طور پر مصروف رکھیں اور کوشش کریں کہ وہ اپنی پریشانیوں کو ذہن پر مسلط نہ کریں اور جب بستر پر لیٹیں تو یہ سوچیں کہ مجھے کوئی پریشانی نہیں‘ میں مطمئن ہوں۔ ایسا بار بار سوچتے رہیں‘ نیند کی کیا مجال جو آپ سے بھاگے وہ آپ کے پاس کھچی چلی آئے گی۔ مگر اپنے ذہن و جسم کو مصروف کرنا ورزش اور تازہ ہوا میں سانس لینے کے ساتھ ساتھ غذا میں ردوبدل کرنا مت بھولیں۔ یہ علاج تو ان کے لئے ہے جو نیند نہ آنے کے خوف میں مبتلا ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیند نہ آنے سے دیگر کیا مسائل پیش آتے ہیں اور ان پر کس طرح سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے جسمانی اور نفسیاتی صحت خراب ہونے کے ساتھ ساتھ انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے اور اچھے طریقے سے اپنا کام انجام نہیں دے سکتا۔ ناکافی نیند اور بے خوابی سے بھی نفسیاتی اضطراب پیدا ہوتا ہے اور ایسے افراد کو بے خوابی کی شکایت ہو جاتی ہے۔ یہ بے خوابی دماغ سے گہرا تعلق رکھتی ہے ۔ نیند ایسی حالت ہے جس میں جسمانی مشین سست ہو کر دھیمی پڑ جاتی ہے‘ عضلات ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور جسمانی حرارت اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ نیند کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے کچھ مفید اصولوں پر عمل کیا جائے۔

سب سے پہلے نیند کا ایک شیڈول مرتب کریں اور پھر اس پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی چیز آپ کی نیند کو بہتر بنا سکتی ہے تو صرف نیند کا باقاعدہ شیڈول ہے۔

سگریٹ نوشی سے پرہیز بھی نیند کو بہتر بناتا ہے کیونکہ نکوٹین سے نبض کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جو نیند میں خلل کا باعث بنتی ہے۔

مریض اپنی ادویات کا جائزہ لیں کیونکہ اکثر اوقات بیٹا بلا کر (Beta-blockers) جو عام طور پر ہائی بلڈ پریشیر کے مریض استعمال کرتے ہیں‘ میں بھی ایسے کیمیکل استعمال کئے جاتے ہیں جو نیند کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔

ورزش کے اوقات کار بھی نیند کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آدھے گھنٹے کی ورزش جسم کے درجہ حرارت کو چار گھنٹے تک گرم رکھتی ہے۔ کیونکہ جب آپ کا جسم ٹھنڈا ہونا شروع ہوتا ہے تو آپ پر نیند طاری ہوتی ہے۔ اس لئے نیند کے اوقات سے قبل ورزش نہ کی جائے تو بہتر ہے۔

چائے‘ کافی اور کوک کا استعمال نیند کو متاثر کرتا ہے۔ کیونکہ ان میں موجودکیفین(Caffeine) کے اثرات آٹھ گھنٹے تک برقرار رہتے ہیں جو بے خوابی کا باعث بنتے ہیں۔

کمرے کا درجہ حرارت بھی نیند میں اہم کردار ادا کرتا ہے عام طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر نیند کے لئے کمرے کا درجہ حرارت 65 سے 75 فارن ہائٹ ہونا چاہئے۔

گہرے سانس لینے سے بھی آپ کے دل کی رفتار اور بلڈ پریشیر کم ہو جاتا ہے۔ جس سے آپ پُر سکون محسوس کرتے ہیں اور نیند میں ڈوب جاتے ہیں۔

اگر آپ بیدار ہو جائیں تو فوراً سے اٹھ جائیں اور کچھ ایسا کریں جو آپ کوچست اور ہشیار بنا دے جیسے کھیل یا ورزش وغیرہ کیونکہ بیدار ہو کر لیٹے رہنے سے بھی نیند کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔

بہت سے معالج یہ مشورہ دیتے ہیں کہ سب سے پہلے اپنی نیند کی حفاظت کیجئے پھر آپ کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ غم، تفکرات یا دیگر اقسام کے عصبی کھچاؤ کے باعث اکثر لوگ بے خوابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور بعض مختلف اقسام کی نشہ آور اور خواب آور ادویات کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان دواؤں کی وجہ سے وقتی طور پر تو فائدہ ہو جاتا ہے لیکن ان کے اثرات حقیقت میں صحت کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اور بعد میں وہ ان دواؤں کے ایسے عادی ہو جاتے ہیں کہ ان دواؤں کے بغیر انہیں نیند نہیں آتی۔ جدید تحقیقات نے دماغی سکون بخشنے اور نیند لانے والے برقی آلات ایجاد کئے ہیں جن کا استعمال کافی عرصے سے یورپ اور امریکہ میں کیا جا رہا ہے۔ بلکہ مختلف امراض کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ متوازن غذا کھائیں‘ ورزش کریں‘ تازہ ہوا حاصل کرنے کی کوشش کریں‘ کام لگن سے کریں اور اپنے غموں اور پریشانیوں کو اپنے ذہنوں پر مسلط نہ ہونے دیں۔

21
January

دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والی درہ آدم خیل کی ایک طالبہ کی لکھی ہوئی ڈائری سے اقتباسات

ایک مشہور کہاوت ہے کہ شکاریوں‘ حواریوں‘ Paratroopers ‘ فوجیوں اور پائلٹوں کے پاس بہت سی دلچسپ سچی کہانیاں ہوتی ہیں۔ میرا تعلق آرمی ایوی ایشن سے ہے اور اپنی 21  سالہ ایوی ایشن کی نوکری میں اﷲ نے مجھے بہت اہم اور دلچسپ صورتِ حال سے دوچار ہونے کا موقع دیا۔ گزشتہ ہفتے میری ملاقات ماہنامہ ہلال کے مدیران سے ہوئی۔ اُن کی حوصلہ افزائی اور اصرار پر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ سب واقعات جن سے میں یا میرے قریبی دوست گزرے انہیں قلمبند کرکے آپ سب سے شیئر کروں۔

کرنل کاشف قریشی سے میری پہلی ملاقات 33 Divisionکے ہیڈکوارٹرز میں ہوئی۔ کرنل کاشف اُن چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے میری زندگی پر گہرا اثر چھوڑا۔ کاشف کرنل سٹا ف کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اس لئے ضرورت سے زیادہ مصروف رہا کرتے تھے۔ مگر دن کے گیارہ بجے میرے انٹر کام پر اُن کا فون آنا اور چائے کی دعوت روز کا معمول تھا۔ کیونکہ کاشف چائے کے دوران بھی مصروف رہا کرتے تھے اس لئے وہ اکثر مجھے کوئی دلچسپ چیز پڑھنے کے لئے دے دیا کرتے تھے۔

ایک روز انہوں نے مجھے ایک بوسیدہ سی ڈائری دیتے ہوئے کہا سر! جب تک میں کام ختم کرتا ہوں آپ اس ڈائری کا مطالعہ کریں۔ وہ ایک خستہ حال ڈائری تھی اور ایسالگ رہا تھا جیسے اس ڈائری کاکچھ حصہ زمین میں دفن رہا ہو۔ میں نے بددلی سے ڈائری کو کھول کر Scan کرنا شروع کیا تو کسی بچی کی کمزور اُردو اورگزارے لائق لکھائی میں تحریر تھی۔ کیونکہ اُردو خاصی کمزور تھی اس لئے میں نے چند سطور پڑھ کر ڈائری بند کردی۔ کرنل کاشف نے میری عدم دلچسپی دیکھتے ہوئے اپنی فائل بند کی اور میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا : ’’سر آپ کو اس ڈائری کے بارے میں کچھ بتا دوں پھر اس کو یقیناًآپ دلچسپی سے پڑھیں گے۔‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ کاشف نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’سر جب 38 بلوچ رجمنٹ میری کمانڈ میں وانا اور فاٹا کے مختلف علاقوں میں آپریشن کررہی تھی وہیں ایک تباہ شدہ گھر کے ملبے سے یہ ڈائری میرے ہاتھ لگی۔ بے شک اس ڈائری کی زبان کمزور ہے مگر اس میں چُھپا ہوا پیغام بہت مضبوط ہے آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے بہت مصروف رہتا ہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ آپ اس کا مطالعہ کریں اور اگر ممکن ہو تو ہلال کو بھیج دیں۔ یہ ڈائری ایک آٹھویں یا نویں جماعت کی طالبہ کی لکھی ہوئی ہے جس کا تعلق فاٹا سے ہے۔ آپ اس ڈائری کو جب پڑھ لیں گے تو آپ کے دل میں بہت سے سوال اٹھیں گے جن کا جواب میں اُسی وقت آپ کو دوں گا۔‘‘

ڈائری کے اس مختصر پسِ منظر کو جاننے کے بعد اس ڈائری میں میری دلچسپی بڑھ گئی۔ میں وہ ڈائری لے کر اپنے دفتر آگیا اور پہلے صفحہ سے اُسے پڑھنے لگا۔ نجمہ نے شاید کہیں سے پڑھا‘ یا سیکھا‘ ہوگا کہ ڈائری لکھنے کا کیا طریقہ ہے اس لئے اُس نے سب سے پہلے صفحہ پر اپنا نام اپنے خاندان‘ دادا‘ پردادا کا نام ان کی تاریخِ پیدائش اور اپنے دادا اور والد کی شادی کی تاریخیں بھی لکھ رکھی تھیں۔ دوسرے صفحہ پر اپنے والد‘ والدہ اور بھائی بہنوں کے بارے میں تفصیلاً لکھا۔ اُس نے لکھا کہ وہ ایک سفید پوش خاندان کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے اور ایک درہ آدم خیل کے مقامی سکول کی آٹھویں جماعت کی طالبہ ہے۔ اُس کے بڑے بھائی پشاور میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور صرف چھٹیوں پر اپنے گھر وزیرستان آتے ہیں۔ جن دنوں وہ گھر آتے ہیں تو اُن سب کا خاندان مکمل ہو جاتا ہے۔ عام دنوں میں یہ اپنے روز مرہ کی مصروفیات میں مگن رہنے والا خاندان ہے۔ اِن کے ہمسائے میں 5 یا 6 سالہ بچہ علی رہتا ہے جو کہ زیادہ ترنجمہ کے گھر میں کھیلتا رہتا ہے اور یہ سب گھر والے اُس بچے سے بے پناہ پیار کرتے ہیں۔

اگلے چند صفحوں پر نجمہ نے اس طرح کی معصومانہ باتیں اور اُس بچے کی شرارتوں کا ذکر کیا ہے۔ بیچ بیچ میں نجمہ درہ آدم خیل میں طالبان اور پاکستان کی فوج کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’’سنا ہے طالبان اچھے لوگ ہیں اور لوگوں کو دین کی باتیں بتاتے ہیں اور اچھا مسلمان بننے پر اصرار کرتے ہیں میں نہیں جانتی پھر ان کا پاکستان کی افواج سے کیا جھگڑا ہے کیونکہ پاکستان کی فوج بھی تو مسلمانوں کی فوج ہے۔‘‘ نجمہ کی تحریر‘ طالبان اور پاک فوج کے بارے میں آراء بھی تبدیل ہوتی رہتی۔ آیئے اب میں آپ کو نجمہ کی ڈائری سے چیدہ چیدہ صفحات اور اقتباسات سے روشناس کراتا ہوں۔

صفحہ نمبر10: ’’آج ہم سب بہت پریشان ہیں۔ وہ چھوٹا بچہ علی صبح سے کسی کو نہیں مل رہا۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ اغوا ہوگیا ہے اور کوئی کہتا ہے کہ وہ شاید کھیلتے کھیلتے گاؤں سے دور نکل گیا ہے اور واپسی کا راستہ بھول گیا ہے۔ سچ کیا ہے اﷲ جانتا ہے۔‘‘ صفحہ نمبر11: ’’آج کا دن میری زندگی کا مشکل ترین دن تھا۔ آج معصوم بچے علی کی لاش گاؤں کے قریب پہاڑوں سے ملی۔ کسی ظالم انسان نے اُسے ذبح کرکے پھینک دیا تھا۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ اس کو طالبان نے ذبح کیا کیونکہ یہ شیعہ گھرانے کا بچہ تھا۔ میں صبح سے سوچ رہی تھی کیا معصوم بچے بھی شیعہ یا سنی ہوتے ہیں۔ وہ تو صرف بچے ہوتے ہیں۔ سچ کیا ہے اﷲ جانتا ہے۔

صفحہ نمبر12: ’’ آج کا دن کل کے دن سے بھی تکلیف کا دن تھا۔ آج طالبان ہمارے گاؤں آئے۔ اُن کے پاس معصوم علی کا قاتل تھا۔ طالبان نے پورے گاؤں کو اکٹھا کیا اور کہا کہ اس قاتل نے معصوم علی کو مار کر بُرا کیا ہے اس لئے ہم اس کو پورے گاؤں کے سامنے ذبح کررہے ہیں۔ ایک انسان کو ذبح ہوتا دیکھنا بہت مشکل تجربہ تھا مجھے اُس قاتل پر بھی ترس آرہا تھا۔ میں سمجھی کہ طالبان کو اس طرح گاؤں والوں کے سامنے اُس قاتل کو ذبح نہیں کرنا چاہے تھا۔ ہم سب بچے خوف کی وجہ سے ساری رات سو نہیں سکے۔

صفحہ نمبر15: ’’مجاہدین یا طالبان نے ہمارے گاؤں میں ایک دفتر بنایا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہر غیراخلاقی چیز کو وہ یہاں سے ٹھیک طرح سے دیکھ سکیں گے۔ گاؤں والوں کو یہ بات شاید پسند نہیں آئی۔ کیا ٹھیک ہے کیا غلط ہے اﷲ جانتا ہے۔‘‘ صفحہ نمبر17: ’’ ہمارے گھر میں آج بہت خوشی کا دن ہے میرے دونوں بھائی پشاور کالج سے چھٹی آئے ہوئے ہیں۔ ہمارا خاندان مکمل ہوگیا ہے۔ امی بھائیوں کی پسند کی چیزیں بنابنا کر اُنہیں کھلاتی رہتی ہیں۔ میں اور باجیاں بھی بھائیوں کے ساتھ بہت خوش ہیں۔‘‘ ( اگلے چند صفحوں پر سب بہن بھائیوں کی چھٹیاں گزارنے کے واقعات لکھے ہیں) صفحہ نمبر25: ’’ آج ہم سب لوگ بہت پریشان ہیں۔ ابو امی سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ دراصل آج طالبان ہمارے گاؤں کے لڑکوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے آئے۔ زیادہ تر لڑکوں کے والدین اس بات پر بہت پریشان ہیں۔‘‘

صفحہ نمبر28: ’’ آج ہم سب گھر والے طالبان سے بہت خفا ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ آج صبح9 بجے طالبان ہمارے گھر آئے اورمیرے بھائیوں سے طالبان بننے کی رضامندی پوچھی۔ ابو نے اُن سے صاف صاف کہہ دیا کہ میرے دونوں بیٹے پشاور میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسی لئے ہماری طرف سے معذرت ہے۔ تھوڑی دیر بعد چند طالبان ہمارے گھر آئے اورمیرے دونوں بھائیوں کو زبردستی ساتھ لے گئے اور گاؤں کے چوک پر جا کر میرے بھائیوں کو لوگوں کے سامنے بُرے طریقے سے پیٹا۔ اُن ظالم لوگوں نے پتلی سی چھڑیوں سے میرے بھائیوں کومارا۔ ہمیں مزید دکھ اس بات سے ہوا کہ میرے ابو کی آنکھوں کے سامنے میرے بھائی مدد کے لئے چیختے رہے مگر میرے ابو کوشش کے باوجود بھائیوں کی کچھ مدد نہ کرسکے۔ آخر ہم لوگ کہاں جائیں اگر طالبان بھی ہم پر ظلم کررہے ہیں اور پاک فوج ہماری مدد نہیں کر رہی تو پھر ہمارااپنا کون ہے۔؟

صفحہ نمبر29: ’’ ہمارے گھر والوں نے فیصلہ کیا ہے کہ رات کے اندھیرے میں بھائیوں کو فوراً واپس پشاور بھیج دیں اسی میں اُن کی بھی بھلائی ہے اور ہمارے لئے بھی اچھا ہوگا۔ ابو کا خیال ہے کہ دونوں بھائی ایک ساتھ جائیں۔ امی کا خیال ہے الگ الگ جائیں۔ بہتر کیا ہے اﷲ کی ذات بہتر جانتی ہے۔‘‘ صفحہ نمبر30: ’’بھائیوں کے جانے سے گھر میں بہت اُداسی ہوگئی ہے مگر ہم خوش ہیں کہ میرے بھائی اب محفوظ ہیں۔ میرا خیال ہے طالبان کو اس طرح میرے بھائیوں پر ظلم نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اگر طالبان یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج غلط ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اِن کاطریقہ بھی درست نہیں ہے کسی کے بھائیوں کو اس طرح بُری طرح سے گھر والوں کے سامنے نہیں مارنا چاہئے تھا۔ گاؤں کے لوگ طالبان سے بہت ڈرنے لگے ہیں اور دعاکررہے ہیں کہ جلد یہ اپنا کام ختم کرکے یہاں سے چلے جائیں۔‘‘

صفحہ نمبر34: ’’ہم خاندان والوں نے سوچا کہ ہم کچھ عرصے کے لئے گھر بند کرکے اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے جاتے مگر سنا ہے طالبان نے سختی سے ایسا کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔ جب بھی طالبان کی گاڑیاں گاؤں میں داخل ہوتی ہیں ہمیں وہ دن یاد آجاتا ہے جب انہوں نے میرے معصوم بھائیوں کو پورے گاؤں کے سامنے بے رحمی سے پیٹا تھا۔ ہم سب بچے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔‘‘ صفحہ نمبر36: ’’ آج طالبان نے ہمارے گاؤں کے ایک آدمی کو اس کے گھر کے سامنے کھڑا کرکے گولی ماردی کچھ لوگ کہتے ہیں یہ آدمی لوگوں سے طالبان کے خلاف باتیں کرتا تھا اور کچھ کہتے ہیں اس کا بیٹا فوجی ہے اس لئے اس کو گولی ماردی گئی۔ سچ کیا ہے اﷲ بہتر جانتا ہے۔‘‘ صفحہ نمبر39: ’’آج پاکستان کی فوج ہمارے گاؤں پہنچ گئی ہے تمام طالبان پہاڑوں پر چلے گئے ہیں۔ پہلے تو گاؤں کے لوگ فوجیوں سے ڈر رہے تھے مگر فوجیوں نے کسی کو کچھ نہیں کہا۔‘‘

صفحہ نمبر41: ’’ ہمارے گاؤں کے بچے فوجیوں کے دوست بن گئے ہیں اور اُن کی گاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر فوٹو بنوا رہے ہیں۔ میں نے سُنا ہے کہ یہ فوجی باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں اور بظاہر اچھے لوگ لگ رہے ہیں۔‘‘ صفحہ نمبر43 :’’فوجیوں کے آنے کے بعد طالبان پہاڑوں سے ہمارے گاؤں کے آس پاس راکٹ فائر کرکے فوجیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔‘‘ صفحہ نمبر44: ’’ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے ہیں اور پہاڑوں سے گولیاں چلنے کی آوازیں آرہی ہیں۔ ابو نے ہمیں بتایا ہے کہ فوجی پہاڑوں سے طالبان کو ختم کرنے کے لئے لڑ رہے ہیں۔ اﷲ کرے فوجی کامیاب ہو جائیں۔‘‘

صفحہ نمبر45: ’’آج گاؤں والے بہت خوش ہیں کیونکہ طالبان پہاڑیوں سے بھاگ گئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے اب وہ یہاں پھر نہیں آئیں گے۔ کم ازکم اُس وقت تک جب تک فوجی یہاں ہیں۔ گاؤں والے لوگ فوجیوں کی بہت تعریف کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فوجی ڈاکٹر گاؤں کے بیمار لوگوں کو بغیر فیس لئے دیکھتے بھی ہیں اور دوا بھی دیتے ہیں۔ کل ایک بچے کو فوجی ڈاکٹروں نے ٹانکے لگائے کیونکہ وہ گر کر زخمی ہوگیا تھا۔‘‘ صفحہ نمبر47: ’’کل رات کو ہم سب لوگ اپنی اپنی گاڑیوں میں ایک ساتھ یہاں سے اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے کے لئے نکلے۔ ہمارے ساتھ گاؤں کے سات اور خاندان بھی تھے۔ کچھ کو اندیشہ تھا کہ کہیں راستے میں طالبان یافوجی ہمیں نقصان نہ پہنچائیں مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ بلکہ ایک جگہ پر جب ہمیں فوجیوں نے روکا تو ہم ڈر گئے مگر فوجیوں نے ہمیں بتایا کہ آگے راستہ محفوظ نہیں ہے اور جب تک راستہ کلیئر نہیں ہوگا ہمیں وہیں گاڑیوں میں رہنا ہوگا جب تک ہم وہاں رہے فوجیوں نے ہمارا خیال رکھا ہر گاڑی میں پانی اور بچوں کے لئے دودھ اور کھانے کے لئے کھانا دیا۔ میرا خیال ہے طالبان ہمیں یا تو ان فوجیوں کے بارے میں جھوٹ بتاتے تھے یا پھر وہ بھی فوجیوں کو زیادہ نہیں جانتے۔ سچ کیا ہے اﷲ بہتر جانتا ہے۔‘‘ صفحہ نمبر51: ’’ہم سب اپنی خالہ کے گھر شمالی وزیرستان میں چند دنوں کے لئے ٹھہرے ہیں۔ ابو پشاور میں ہماری رہائش کے لئے انتظام کرنے گئے ہوئے ہیں۔ خالہ کا گاؤں ابھی تک طالبان کے اثر میں ہے اور وہ کبھی کبھی یہاں لوگوں کو نظر آتے ہیں۔ خالہ بتاتی ہیں کہ کبھی کبھی میں سمجھتی ہوں ان پاکستان کے فوجیوں سے ملنا چاہئے کیونکہ وہ اچھے لوگ ہیں ۔‘‘

صفحہ نمبر53: ’’آج جمعہ کا دن ہے اور نمازِ جمعہ کے فوراً بعد بہت زیادہ فائرنگ شروع ہوگئی ہے۔ میں اور امی خالہ کے گھر میں بہت خوفزدہ ہیں۔ ہمیں ڈر لگ رہا ہے۔ خالہ کے گھر کی دیواروں پر بھی گولیاں لگ رہی ہیں۔ اﷲ ہماری مدد کر۔‘‘ یہاں پہنچ کر ڈائری ختم ہوگئی۔ میں نے گھڑی دیکھی تو کافی وقت گزر چکا تھا۔ کرنل کاشف اپنے گھر جاچکے تھے۔ مجھے بہت بے چینی ہو رہی تھی کہ آخر اس سے آگے کیا ہوا۔ اب وہ بچی کہاں ہے اور ایسی سمجھ دار بچی کو جس نے آگ میں سے گزر کر سچائی کا سفر طے کیا تھا جس کو پاکستان اور اُس کی فوج کی حقیقی قدرو قیمت کا اندازہ ہوچکا تھا ہمیں ایسی ہونہار بچی کو سب کے سامنے لانا چاہئے۔

میں کرنل کاشف کے گھر اُسی وقت پہنچ گیا اور اپنی بے صبری پر معذرت کرتے ہوئے اس بچی کے بارے میں کئی سوال کر ڈالے اور اس بچی تک پہنچنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کاشف نے سگریٹ سلگاتے ہوئے ایک گہرا کش لیا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا: ’’سر آپ کی طرح جب میں نے اس ڈائری کو پڑھا تو ایک چیز میں نے واضح طور پر محسوس کی کہ اس بچی کی سوچ وقت کے ساتھ ساتھ کیسے بدلی۔ وہ بچی جو شروع میں پاکستان کی فوج کو گمراہ اور ظالم سمجھتی رہی وہی بعد میں پاکستانی فوج پر فخر کرنے لگی اورطالبان کو ظالم اور گمراہ ہوئے لوگ سمجھنے لگی۔ میں ڈائری پر بچی کے سکول کا نام پڑھ کر اُس سکول پہنچا۔ جو لوگ فاٹا اور درہ آدم خیل سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہاں کے کسی سکول تک رسائی حاصل کرنا کتنا دشوار کام ہے۔ حالات کی خرابی کی وجہ سے سکول بند تھے۔ بڑی تگ و دو کے بعد میں نے سکول کی انتظامیہ سے بچی کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش میں کامیاب ہوا۔ نجمہ کے بارے میں تو کوئی ریکارڈ نہ مل سکا مگر نجمہ کی بہنوں کا ریکارڈ مل گیا۔ میں خوش تھا کہ میرے ہاتھ کوئی تو سِرا آیا ہے جس کی مدد سے شاید اب میں نجمہ تک پہنچ سکوں۔

نجمہ کی بہن تک میں کیسے پہنچا اور کیسے ملا یہ بھی ایک لمبی کہانی ہے مگر مختصر یہ کہ وہ بچی بھی نہایت ذہین اور سنجیدہ نظر آرہی تھی۔ جب میں نے اُسے نجمہ کی ڈائری دکھائی اور اس سے اپنے ملنے کا مقصد بیان کیا تو اُس کی آنکھوں میں حیرت کے جذبات تھے اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ آٹھویں‘ نویں جماعت کی ایک کم سن بچی کی ڈائری کو لے کر آج فوج کا ایک افسر ان کی دہلیز تک آن پہنچا ہے۔ اُس بچی نے میرے ہاتھ سے نجمہ کی ڈائری لے لی اور اسے غور سے دیکھنے لگی۔ پھر کافی دیر کی خاموشی کے بعد میں نے نجمہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا کہ ایسی ذہین بچی کو ملنا چاہتا ہوں جس پر پاکستان فوج کی اصلیت مشکل حالات سے دوچارہونے کے بعد آشکار ہوئی تھی۔ وہ بچی کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی پھر نہایت بوجھل آواز میں بولی جس جمعہ کو نجمہ نے ڈائری کا آخری صفحہ لکھا تھا وہی جمعہ اُس کی شہادت کا بھی دن تھا۔ اُسی روز طالبان کا فائر کیا ہوا راکٹ اُس کمرے کو آکر لگا اور میری والدہ اور چھوٹی بہن جل کر ختم ہوگئے۔ یہ کہہ کر وہ بچی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ کرنل کاشف کے چہرے سے مجھے اداسی نمایاں طور پر ٹپکتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں بھی نجمہ کی ایسی موت کا سُن کر صدمہ میںآگیا‘ مجھے اُس کی ڈائری پڑھتے ہوئے ایسا لگنے لگا تھا جیسے وہ میری بیٹی ہے اور اب میں اداس اور بوجھل دل کے ساتھ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر واپس جارہا تھا۔ لگ رہا تھا کچھ دیر پہلے ہی میری بیٹی کی شہادت کی خبر آئی ہو۔ میرا دل کہتا ہے نجمہ جنت میں شہیدوں کی زندگی گزار رہی ہوگی۔

21
January

کرچی جیل شہر کے عین وسط میں پُر رونق سڑکوں کے بیچوں بیچ فلک بوس عمارتوں کے سائے اور افواج پاکستان کی طرف سے کراچی کے شہریوں کو دیئے گئے ایک خوبصورت تحفے عسکری پارک کے پہلو میں واقع اس جیل کے کمروں اور کوٹھڑیوں میں چھوٹے موٹے جرائم میں سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی خطرناک پیشہ ور مجرم اور ایک سو سے زیادہ دہشت گرد بھی بند ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اچانک خفیہ اداروں کے طرف سے اطلاع آئی کہ کراچی جیل پر حملہ ہو سکتا ہے۔ اس اطلاع پر جیل کے ارد گرد چیکنگ سخت کردی جاتی ہے۔ جیل کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کرکے راستوں کی آمدورفت کو محدود کردیا جاتا ہے۔ جیل کی حفاظت پر مامور سپاہیوں کو تیار رہنے کا حکم دیا جاتا ہے مگر دوسری طرف جیل کے اندر موجودہ دہشت گرد اور جیل سے باہر موجود اُن کے ساتھی کچھ اور پلاننگ میں مصروف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس بار جو منصوبہ انہوں نے بنایا ہے اس کی ناکامی کے کوئی آثار نہیں۔ کسی کے وہم گمان میں بھی نہیں کہ اس جیل پر دھاوا بولنے کا سٹائل مختلف ہوگا۔ جیسے جیسے دن گزر رہے تھے فرار کا انتظام کرنے والوں اور فرار کا انتظار کرنے والوں کی تڑپ اوربے قراری بڑھ رہی تھی۔ جیل انتظامیہ اپنی جگہ پر کسی بھی انہونی کی صورت میں ردِعمل کی منصوبہ بندی کررہی تھی ۔ شہری اور خصوصاً جیل کے قریب رہنے والے لوگ ایک فکر میں مبتلا تھے کہ اگر جیل کے باہر اور اندر سے ایک دم گولیاں چلنی شروع ہو گئیں تو کیا ہوگا۔ یہ کشمکش جاری تھی کہ13اکتوبر 2014 کو اچانک ہر طرف سائرن بجنے لگے۔ کراچی جیل کی چار دیواری کے باہر رینجرز کی بے شمار گاڑیوں نے گشت شروع کردیا ۔ لوگ اپنی اپنی سمجھ اور سوچ کے مطابق رائے دینے لگے کوئی کہتا جیل پر حملہ ہوگیا ہے کوئی کہتا کہ قیدی فرار ہو گئے ہیں کوئی کہتا کہ جیل کے اندر قیدی آپس میں لڑ پڑے ہیں ۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

جیل کے اندر کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔ سب قیدی بے یقینی کی صورت حال میں مبتلا تھے سوائے ان کے جو فرار کے منصوبے سے آگاہ تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے ان کے ساتھیوں نے اُن کے لئے کارنامہ انجام دے ہی دیا ہے ۔ یہ قیدی باہر کے راستوں پر نہیں اپنے بیرک کے نزدیک ایک کنویں پر نظر رکھے ہوتے تھے۔ چند ایک نے تو اپنے ساتھیوں سے کہہ بھی دیا کہ آزادی سے بس چند ضربوں کی دوری پر ہیں۔ مگر ان سب کو اس وقت سخت مایوسی ہوئی جب جیل انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد ان کے کمروں میں گھس آئے اور انِ کے سامان کی تلاشی شروع ہوگئی۔ جو قیدی سب سے زیادہ خوشی کا اظہار کر رہے تھے سب سے زیادہ پریشانی بھی اُن ہی کے چہرے سے عیاں تھی‘ کچھ کوتو جیسے سکتہ ہو گیا تھا۔ تلاشی لینے پر کسی کی جیب سے چاقو تو کسی کے پاس سے ریڈیو‘ کسی کے پاس سے غیر قانونی قرار دی گئی جماعت کا جھنڈا تو کسی کے پاس سے جہادی لٹریچر آمد ہو رہا تھا۔ ایک کمرے سے تو سیڑھی بھی ملی۔ فرار کے منتظر سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ آزادی کے اتنے قریب پہنچ کر بھی وہ آزاد نہ ہو پائیں گے۔ اُن کے ساتھیوں کی تمام منصوبہ بندی تمام محنت اِن کے کسی کام نہ آئے گی۔ سندھ رینجرز کی بر وقت کارروائی سے نہ صرف جیل حکام کی عزت محفوظ رہ گئی بلکہ خطرناک مجرموں اور دہشت گردوں کے فرار کا ایک بہت بڑا منصوبہ ناکا م بنادیا گیا تھا۔

اس خطرناک منصوبے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کراچی جیل میں قید 100 سے زیادہ دہشت گردوں کے ساتھیوں نے جیل کے قریب واقع غوثیہ کالونی میں ایک مکا ن خریدا۔ بڑے شہروں کی عام روٹین کے مطابق کسی محلے دار، دکان دار نے نئے لوگوں کی آمد اور خفیہ حرکات کو محسوس نہ کیا۔ خریدے گئے مکان میں ایک زیر زمین پانی ذخیرہ کرنے کے لئے واٹر ٹینک بنایا گیا تھا۔ منصوبہ سازوں نے اس واٹرٹینک (جس میں اترنے کا راستہ بمشکل 2x2 فٹ تھا) میں سے فرش توڑکر کچی مٹی کھودنا شروع کی۔ دھیرے دھیرے، ہولے ہولے اوزاروں کو استعمال کیااور شور پیدا کئے بغیر اپنا کام جاری رکھا۔ کراچی کی ٹریفک نے اُن کی مدداس طرح کی کہ اس کے شور میں کھدائی کی آواز گھر سے باہر محسوس نہ کی گئی ۔ چار سے پانچ افراد باری باری کھدائی کرتے اور تازہ مٹی کبھی بوریوں میں بھر کے دور پھینکی جاتی اور کبھی گھر کے نزدیک ڈال کر اس پر چونا چھڑک دیا جاتا کہ لوگوں کو شک نہ ہو۔ جب کسی نا معلوم فرد کے گھر کے اندر آنے کا خدشہ ہوتا تو واٹرٹینک پر ڈھکنا ڈال دیا جاتا۔ اس طرح مکان کے فرش سے تقریباً 10 فٹ گہری سرنگ کھودنے کے بعد اس کا رخ جیل کی ایک مخصوص بیرک کی جانب کردیا گیا۔اس مقام سے تین فٹ چوڑی اور 5 فٹ اونچی سرنگ بڑی تیزی کے ساتھ تیار ہونے لگی۔ جیل کی بیرک کے پاس کنواں جہاں جاکر سرنگ نے نکلنا تھا فقط 55 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ جب 80 فی صد سے زیادہ کام مکمل ہو گیا تو کچھ لوگوں نے مکان کے مکینوں کی پر اسرار سرگرمیوں کو محسوس کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی۔ اس طرح سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگوں نے ان پر نظر رکھنی شروع کردی اور پھر بہت جلد چھاپہ مار کر انِ کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔ جب یہ منصوبہ بے نقاب ہوا تو سرنگ اپنے ہدف سے صرف 10 میٹر کی دوری پر تھی۔ اس سرنگ کے راستے قیدیوں نے فرار ہونا تھا۔ اسی سرنگ کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان کی بدنامی ہونا تھی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اُٹھنے تھے۔ مگر سندھ رینجرز نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس خطرناک منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی نہ صرف ناکام بنایا بلکہ ماسٹر مائنڈ سمیت افراد کو گرفتار کرکے اپنی کامیابیوں کی طویل فہرست میں ایک اورکارنامے کا اضافہ بھی کیا۔

21
January

پاک فوج قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کرتے ہوئے مادرِ وطن کی حفاظت جاری رکھے ہوئے ہے۔خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ، پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ اپنی پاک سر زمین کی حفاظت کو مقدم جانا اور اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔ لیکن 16 دسمبر2014 کو آرمی پبلک سکول پشاور پر‘ جہاں صرف فوجیوں کے ہی نہیں سویلینز کے بچے بھی زیرِ تعلیم تھے ، دہشت گردوں نے حملہ کیا اور وحشیانہ‘ سفاکانہ اور بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے ننھے معصوم پھولوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے معصوم بچوں سمیت 149سے زائد لوگوں کو شہید کیا۔ ماؤں کے جگر گوشوں کو لاشوں میں تبدیل کرکے اُن کے کلیجے غم سے پھاڑ دئیے۔ اس طرح کی بربریت اور درندگی کی مثال نظر نہیں آتی۔ سلام اُن شہدائے پشاور کے والدین پر جو پاک فوج میں ملک کی حفاظت کے لئے برسرِپیکار ہیں۔ سلام اُن کی عظمتوں، حوصلوں اور قربانیوں پر جنہوں نے آپریشن ضربِ عضب میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہادت کا مرتبہ پایا۔ ضربِ عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کے لئے زمین تنگ ہونے لگی تو اُنہوں نے اس کا بدلہ بچوں کی معصوم جانوں سے لینے کی کوشش کی۔ سانحہ پشاور پر ہر آنکھ اشکبار، ہر دل غم سے چھلنی ہے۔ لوگ اپنے ضبط کو قابو میں نہ رکھ سکے اور ننھے منے فرشتوں کو خون میں لت پت دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ دہشت گردوں نے یہ سب کچھ پاکستان میں خوف و دہشت پھیلانے اور حکومت و فوج کو دباؤ میں لا کر آپریشن روکنے کی پلاننگ کی تھی۔ وہ تو چاہتے تھے کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات پیدا ہو جائیں گے تواُن کو وقت اور پناہ مل جائے گی مگر یہ کیا ہوا، غم کے پہاڑ ٹوٹنے پر آنسوؤں کے سمندر میں قوم ڈوبنے کی بجائے ایک طاقتور چٹان کی طرح نمودار ہو گئی۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے ملک کے مستقبل اور فوج کی لازوال قربانیوں کی بدولت اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر تاریخی یکجہتی اور اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرکے دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا کہ ہم سب ایک ہیں۔ تمہاری بربادی و خاتمے تک ہم سب ایک ہیں، ملکی سلامتی کے لئے ہم ایک ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ کا ہنگامی دورہ افغانستان اور وہاں پر دو ٹوک الفاظ میں اپنے مؤقف کا اظہار ہی جنرل راحیل شریف کے منصب کا تقاضا تھا۔ وزیراعظم پاکستان کی فوری طور پر سزائے موت کے قانون پر عملداری کی منظوری بھی مثبت قدم ہے۔ بچوں کے خون نے وہ کام کر دکھایا جو اس ملک کے بڑے بھی نہ کر سکے۔ ایک سمت کا تعین، مقصد میں یکسوئی، قوم کا اتحاد بچوں کی شہادت کے طفیل ممکن ہوا۔قوم اسی طرح متحد رہی تو پاکستان انشاء اﷲ دہشت گردی کے عفریت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکے گا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

21
January

لہو کی بوندیں جو بو چکے تھے

سروں کی اب فصلیں کٹ رہی ہیں

بہار موسم میں رہبروں نے خمارِ نخوت سے چُور ہو کر

ہمارے مقسوم میں جو لکھ دیئے تھے

وہ کشٹ سارے

خزاں رتوں

ستم رسیدہ ہجومِ انسان نے کاٹنے ہیں

جو آج تک نہ بکا تھا ارزاں

میرا لہو سکۂ وقت بن چکا ہے

لہو سے رنگین میری آنکھیں

لہو سے خوں ناب میری دھرتی

ہم اپنے جسمِ خزاں رسیدہ سے برسرِ پیکار ہو چکے ہیں

میرے سجیلے جوان بچوں کے جسم نیلام ہو رہے ہیں

لہو میں ڈوبے میرے شہیدوں کے پھولوں جیسے‘ شکستہ جُثّے

مثالِ اشجار‘ تازہ‘ قطار اندر قطار پھیلے

بلادِ پاکیزہ میں اُگ رہے ہیں

حریف انساں‘ ستم شعارو

جنونِ وحشت میں رقص کرتے‘ گلوں کی فصلوں کو کاٹتے

بہیمیت کے سفیر ہو تم

مگر تمہیں یہ نوید ہو کہ ابھی تک دروازۂ مغفرت کھلا ہوا ہے

قہرِ یزداں لانے والے فرشتے اب تک مستعد کھڑے‘ رکے ہو ئے ہیں

کہ شائد اب بھی تمہیں تمہاری گمراہی کا احساسِ شرمندگی

زمین پر منہ کے بل گِرا دے

تمہاری پیشانیاں خاک آلودہ ہو کر خدا سے بخشش کی بھیک مانگیں

ابھی بھی وقت ہے کہ تم لوٹ آؤ

مثالِ فرعون وقتِ حاضر

تمہارے دعوے ہیں کہ اس بار تم نے

جوان ہوتے ہمارے بچوں کو مارنا ہے

کیا سارے بچوں کو مارنا ہے؟

مگر نہ بھولو

مِرا خدائے بزرگ و برتر

ہمیشہ ایک موسیٰ بچا کے رکھتا ہے

 

21
January

تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔

عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سواکچھ نہیں ہوتا۔

bano qudsia1جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔

رزقِ حلال کا پیغام اسلام کو باقی ادیان سے ممتاز کرتا ہے۔ یہی نقطہ راجہ گدھ لکھنے کی تحریک بنا۔

جب معاشرہ مکمل آزادی مانگے گا تو وہ مغرب کے رنگ میں ڈھل جائے گا۔

بانو قدسیہ عصر حاضر میں اردو ادب کی ایک معتبر ادیبہ ہیں۔ ان کی تخلیقات دنیائے ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں جو قارئین کے شعور سے ہم کلام ہوکر انہیں مقصد حیات سے آشنا کرتی ہیں۔ ان کی تحریریں اردو ادب کا حسن اور زندگی کی علامت ہیں۔ ہلال نے اکتوبر کے شمارے میں اشفاق احمد کی یادوں کے حوالے سے بانو قدسیہ کے ساتھ ایک گفتگو شائع کی گئی تھی جس میں ان کی اپنی شخصیت کے متعلق بات چیت نہیں گئی تھی جس کے پیش نظر بانوقدسیہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا جارہا ہے۔ اس انٹرویو میں زندگی اور اس سے منسلک اہم موضوعات پر بانو قدسیہ سے گفتگو کی گئی ہے جسے پڑھ کر بانو قدسیہ کی فکر اور نظریہ حیات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

سوال: کیا آج کا اُردو ادب‘ کلاسیکی ادب سے جُڑا ہوا دکھائی دیتا ہے یا یہ اپنی نئی راہیں متعین کرچکا ہے۔

جواب: اردو ادب نئی راہوں پر چل چکا ہے اوراپنی پچھلی راہوں کے ساتھ بھی متصل ہے۔ کوئی نئی راہ بذات خود نہیں بنتی جب تک پرانی راہ کا وجود نہ ہو۔ یقین کریں اگر آپ تاریخ کو بھلا دیں گے تو چار ہزارسالوں کی روایات اور کہانیاں ختم ہوجائیں گی، یہ باقی نہیں بچیں گی۔ سوجوکچھ آپ آج ہیں، اسی طرح چار ہزار سال پہلے کا آدمی بھی ہوگا ،یہ اس چیز کا عکاس ہے کہ انسان تاریخ سے جڑا ہوا ہے اور علیحدہ اس طرح کہ انسان ہر عہد میں نئی راہوں سے متعارف ہوجاتا ہے، نئی چیزیں سیکھتا ہے اور آگے کی جانب سفر جاری رہتا ہے۔

سوال : آپ کی نظر میں اچھا ادب اور ادیب کن خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے ایک ہی خصوصیت ہے دونوں چیزوں کی اور وہ سچ ہے۔اگر سچ لکھے گا تو سچا ادیب ہوگا۔اس کا اپنا سچ ، مانگا ہوا سچ نہیں کہ فلاں مسلک سے متاثر ہوکر میں نے یہ سچ کہا، سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

سوال:جدید اردو ادب میں تصوف کی آمیزش واصف علی واصف، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی اور آپ کے ہاں نمایاں ملتی ہے۔اس کے محرکات کیا تھے؟

جواب: ادب میں تصوف یا اس کے علاوہ کسی بھی نظریے کی آمیزش کی نہایت سادہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لکھنے والے کا عملی زندگی میں جس طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا اور رابطہ ہوتا ہے ان کی بودوباش، پرتَو اور عکس کسی نہ کسی سطح پر تخلیق کار کی تحریروں میں ضرور دکھائی دے گا۔ جہاں تک تصوف کی آمیزش کا تعلق ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اس نظریے میں اتنی قوت ہے کہ یہ آنے والے دور میں بھی جاری رہے گا اور خود کو منوائے گا۔

سوال : اردو ادب گروہ بندیوں کا شکار رہا ۔ ترقی پسند تحریک اور پھر دائیں بازو یا بائیں بازو کے دانشور کی اصطلاح بھی رہی۔ آپ پراور اشفاق صاحب پر کسی گروہ کی کوئی خاص چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟

bano qudsia2جواب: اس کی وجہ ہے کہ ہم اپنی سوچ سے منسلک رہے،ہم نے دائیں بائیں نہیں دیکھا کہ تحریکیں کیا چل رہی ہیں، ان کے ساتھ مل کر ہم نے مضبوط ہونے کی کوشش نہیں کی۔ دائیں یا بائیں بازو کی تحریک سے ہم اس لئے بھی منسلک نہیں ہوئے کیونکہ ہماری سوچ آپس میں ایک دوسرے سے منسلک تھی۔ تنقید نگار بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہم پر ایک دوسرے کی چھاپ بھی آئی ہے یا نہیں۔

سوال : اشفاق صاحب اور آپ کا ساتھ ایک عہد کی علامت ہے۔ اشفاق صاحب کی بحیثیت ادیب اور انسان کن خاص خاص یادوں کو ہمارے قارئین سے شیئر کرنا پسند کریں گی؟

جواب: میں نے اشفاق صاحب پرایک پوری کتاب ’’راہ رواں‘‘ لکھی ہے، اس کو پڑھ لیں، میری ساری یادیں، زندگی کے خوبصورت لمحات آپ تک پہنچ جائیں گے، آپ کو پتا چل جائے گا کہ میں ان کو کیسا انسان، ساتھی اور کیسا ادیب سمجھتی ہوں۔انہوں نے ہر لمحے میری رہنمائی کی بلکہ میںیہ کہو ں تو بہتر ہے کہ مجھے بنانے والے ہی اشفاق صاحب ہیں۔ میں اپنی کتاب میں یہ بات بہت تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ایک دن صبح اشفاق صاحب کچن میں آئے، میں وہاں پر کھانا پکا رہی تھی، مجھے کہنے لگے: قدسیہ ذرا میرے پاس باہر آجائیے۔ مجھے لے کرلان میں چلے گئے وہاں دو کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ ہم ان پر بیٹھ گئے، گفتگو شروع ہوئی تو اشفاق صاحب نے مجھے کہا کہ یہ جو سارا دن باورچی خانے میں وقت ضائع کرتی ہوکیا کوئی نوکرانی نہیں ہے ایسی جو کھانا وغیر ہ پکا سکے؟ میں نے کہا: جونی بہن ہیں وہ پکاتی ہیں،میں ان کی مدد کرتی ہوں، کہنے لگے یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ ان کی مدد کرتی ہیں لیکن تم کیا کوئی اور کام کرسکتی ہو؟ میں نے کہا، سوچ کر بتاتی ہوں۔ ایک منٹ میں نے سوچا پھرمیں نے کہا ہاں میں لکھ سکتی ہوں شاید، کہنے لگے تو پھر لکھتی کیوں نہیں؟ میں نے کہا، پانچویں میں مَیں نے آخری افسانہ لکھا تھا۔ کہنے لگے کیا نام تھا اس کا؟ میں نے کہا فاطمہ، تو انہوں نے کہا کہ کل سے دوبارہ لکھنا شروع کرواور باورچی خانہ چھوڑ دو ہمیشہ کے لئے۔میں نے کہا، یہ میں کیسے کرسکتی ہوں تو بولے آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔ کہنے لگے ایک شرط اور ہے جس وقت آپ نے لکھنا ہے اس وقت کسی سے نہیں ملنا۔جس طرح اگر مچھلیوں کو ایک وقت پر کھانا ڈالنا شروع کریں تو وہ روز عین اسی وقت پر پانی کی سطح پر آتی ہیں، اسی طرح خیالات کی بھی روٹین بن جاتی ہے جب آپ چار بجے لکھنے بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کرتے ہیں تو اسی وقت خیالات آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نے اپنی روٹین نہیں توڑنی، اس وقت آپ کا باپ آئے ، والدہ آئے یا بھائی آئے آپ نے کسی سے نہیں ملنا، اسی میں کئی لوگوں کو میں نے ناراض بھی کیا لیکن اپنی روٹین کو میں نے قائم رکھا۔ اب دیکھ لیجئے پچیس کتابیں کیسے لکھی گئیں مجھے نہیں معلوم۔

سوال : راجہ گدھ اردو ادب کی ممتاز تخلیقات میں سے ایک ہے۔ راجہ گدھ میں کردار‘ معاشرہ اور انسانی اقدار ایک شعوری اور لاشعوری ارتقا کی حدود اور سمت کی جانب سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ راجہ گدھ کے پیغام کو کس طرح مختصراً بیان فرمائیں گی۔

جواب: نئی نسل کو تو میں صرف اتنا بتانا چاہوں گی کہ راجہ گدھ عجیب طرح سے میرے اوپر نازل ہوئی۔ یہ اسی (80) کی دہائی کی بات ہے۔ امریکہ نے ہمیں مرعوب کرنے کے لئے ایک ایکسچینج پروگرام دیاجس میں کچھ پاکستانی ادیبوں کو امریکہ لے جایاجاتا اور وہاں کے کلچر سے متعارف کروایا جاتا۔پھر کچھ امریکی ادیب پاکستان آتے اور یہاں کے گھروں میں رہتے۔ اسی طرح اشفاق احمد امریکہ میں ہیس فیملی کے پاس ٹھہرے اور واپسی پر باب ہیس کو اپنے ساتھ لائے جسے ہمارے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ باب ہیس امریکیوں کی طرح اپنے آپ کو اعلیٰ مخلوق تصور کرتا تھا۔ جب صبح ناشتہ ہوجاتا bano qudsia3تو وہ روز مجھ سے سوال کرتا کہ اسلام باقی مذاہب سے اچھا اور برتر کیسے ہے؟ اس میں ایسی کون سی بات ہے جو باقی مذاہب میں نہیں ہے تومیں چونکہ تیار نہیں ہوتی تھی اس طرح کے سوالوں کے لئے، سو میں عورتوں کی طرح غلط سلط جواب دے دیا کرتی جو اس کو متاثر نہ کرپاتے ۔ میں کہتی اللہ ایک ہے تو وہ ہنسا کرتا اور کہتا کہ کیوں دوسرے مذاہب میں اللہ تین چار ہیں‘ میں لاجواب ہوجاتی۔ دوسرے دن کچھ اور اسی طرح کا سوال کرتا جن سے میں پریشان بھی ہوجاتی کہ اس کو کیا مناسب جواب دوں۔ ہمارے باغیچے میں سندری کا ایک درخت ہوتا تھاجس سے سارنگی بنتی ہے۔ ایک دن عصر اور مغرب کے درمیان میں وہاں کھڑی تھی تو میں نے دعا کی کہ اللہ پاک مجھے ایسا علم عطا کر جس سے میں اس کے تمام سوالوں کا جواب دے سکوں تو سندری کے درخت میں سے سارنگی کی آواز بولی: رزق حرام، رزق حرام، رزق حرام۔ میں سمجھ نہیں سکی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ درخت میں سے آواز آئی کہ اگر آپ اپنے بچوں کو رزق حرام کھلائیں گے تو آپ کی آنے والی نسلیں پاگل ہوجائیں گی، دیوانہ ہوجائیں گی۔ جب اگلے دن میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام نے ایک ایسا پیغام دیا ہے جو کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا: کہنے لگا بتائیے کون سا، اس نے سر کے اوپر ایرانی ٹوپی پہن رکھی تھی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ رزق حرام نہ کھانا ورنہ تمہاری آنے والی نسلیں دیوانی ہوجائیں گی۔اور پھر وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرسکیں گی، وہ شراب بھی پئیں گے، وہ عورتوں کے پاس بھی جائیں گے اور وہ اپنے بچوں سے اچھا سلوک بھی نہیں کریں گے، سارے کام ہوں گے۔وہ کہتا ہے رُک جائیے، رُک جائیے۔ پھر وہ اُٹھا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا، دس منٹ کے بعد اندر آیا اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ سندری کے درخت سے مجھے یہ فیض حاصل ہوا جس کو باب نے بھی مانا اور کہا کہ واقعی کسی اور مذہب میں یہ بات حکم کی صورت میں نہیں آئی۔ دوسرے دن صبح میں چھت پر صفائی کے لئے گئی، وہاں بارش ہورہی تھی۔ میں نے سوچا کوئی چیز بھیگ نہ رہی ہو، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک کاپی پڑی ہوئی تھی جس پر موٹا موٹا خوبصورت لکھا ہوا تھا راجہ گدھ اس کو میں نے اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ سو چھت پر بیٹھ کر میں نے اس کتاب کو لکھا اور نئی نسل کے لئے راجہ گدھ کا پیغام بھی یہی ہے کہ رزق حلال سب سے بڑی نعمت ہے۔

سوال : آپ اپنے اب تک کے ادبی سفر کو کس طرح سے دیکھتی ہیں؟

جواب: یہ کام میرا نہیں ، یہ میرے پڑھنے والے اور تنقید نگاروں کا کام ہے کہ وہ میرے کام کو پرکھیں، اس پر رائے دیں۔اب میرا دل لکھنے کو نہیں کرتا ، میری آنکھیں خراب ہیں اور میرا چھوٹا بیٹا اسیر خان میرے ساتھ رہتا ہے جس کی زندگی میں نے تباہ کر رکھی ہے۔یہ اپنے سارے کام چھوڑ کر مجھے توجہ دیتا ہے اور میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی کیونکہ اس نے اپنا سب سے قیمتی وقت، اپنی جوانی کا وقت میرے اوپر صرف کیا ہے۔

سوال : دورِ جدید میں آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اُردو ادب کی کون سی صنف کا مستقبل زیادہ تابناک ہے۔ نئی نسل کا رجحان کس جانب زیادہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ ’سٹ کام‘ (Sitcom)کی طرف رجوع زیادہ ہے۔کیونکہ لوگ شام تک اپنی مصروفیات سے اس قدر تھک جاتے ہیں کہ وہ ہنسنا چاہتے ہیں، بولنا چاہتے ہیں، بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف ایسی ہی چیزوں سے ہوسکتا ہے اور دوسرے ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ہے توسٹ کام ہی نسبتاًسب سے زیادہ مناسب جا رہا ہے۔ نئی نسل بھی اسی جانب راغب ہے اور نئی سوچ کو دیکھنا چاہتی ہے، موضوعات چاہے مشرق سے آئیں یا مغرب سے۔

سوال : آپ نے اب تک زندگی میں بہت کچھ لکھا بلکہ ماشاء اﷲ بہت زیادہ لکھا۔ کیا کوئی ایسا پراجیکٹ ہے جو آپ لکھنا چاہتی ہیں لیکن اب تک نہ لکھ پائی ہوں۔

جواب: میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ اپنے حساب سے تو میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے لیکن کچھ کتابیں سوجھ جائیں تو اسکے متعلق میں لکھ بھی لوں۔ میں مطالعہ تو کرتی ہوں لیکن اب زیادہ لکھ نہیں پاتی کیونکہ میری آنکھ کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میں اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتی تو زیادہ توجہ سے کوئی کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

سوال : آپ اُردو ادب کے مستقبل کو کیسا دیکھتی ہیں؟

جواب: مستقبل ہمیشہ درخشاں ہوتا ہے کیونکہ اردو بنانے والوں نے اس پر بہت محنت کی ہے اور عرصہ دراز سے اس کی تمام اصناف میں اچھا کام ہورہا ہے تو یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ اردو زبان کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ جس معیار کا ادب تخلیق ہورہا ہے اس کے بارے میں وہ نسل زیادہ بہتر رائے دے سکتی ہے جس کے لئے وہ لکھا گیا ہے۔اگر ان کو پسند آیا اور انہوں نے سمجھا معیاری ہے تو اچھا ادب ہوگا ورنہ نہیں۔شاعری ہو یا نثر دونوں اصناف میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اور ہوتا آیا ہے، اس وقت یہ تنقید نگار بھی نہیں بتا سکتے کہ اچھا کام ہو رہاہے یا برا۔

سوال: ہماری قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عفریت کا سامنا ہے۔ کیا اس جنگ نے بین الاقوامی ادب اور بالخصوص پاکستانی ادب پرکوئی نقوش مرتب کئے ہیں۔؟

جواب: آپ کا کیا خیال ہے اثر نہیں آیا؟ نہیں ایسا بالکل نہیں۔ ہمارا ادیب دہشت گردی کی زد میں آیا ہے لیکن ہمارا ادب بہت متاثر ہونے والا نہیں ہے، وہ اپنی راہیں خود متعین کرلیتا ہے، راستے بنا لیتا ہے اور اپنی راہوں پر آگے نکل جاتا ہے۔بڑی شاہراہ سے چھوٹے راستے جنم لیتے ہیں، یہی صورت حال ہمارے اردو ادب کی ہے، نئے موضوعات نکل رہے ہیں، لیکن اردو ادب اپنی بنیادوں پر بھی قائم و دائم ہے۔

سوال :بانو آپا آپ نے روحانیت اور تصوف پر بہت لکھا۔ آپ اپنی زندگی کے اس حصے میں ہیں جہاں معرفت خدا آشنائی تک لے جاتی ہے۔آپ بتائیے کہ یوں تو حقیقی خدا کی تلاش بہت سے انسانوں کی جستجو رہی ہے ، مگر آپ کے خیال میں خدا تک پہنچنے کا عملی راستہ کیا ہے؟

جواب: خدا تک پہنچنے کا جو عملی راستہ ، صوفیائے کرام کے ہاں ملتا ہے وہ مخلوقِ خدا سے محبت کا راستہ ہے۔اشفاق صاحب کا اور میرا‘ جس طرح کے بزرگوں سے رابطہ رہا اُنہوں نے کبھی بھی ہمیں وظائف نہیں بتائے، چلہ کشی کی طرف راغب نہیں کیا۔وہ صرف ایک ہی بات پر زور دیتے تھے کہ مخلوقِ خدا کا خیال رکھو،وہ فرمایا کرتے تھے ’’تمہارے ہاتھ گندے اور دل صاف ہونا چاہئے۔‘‘مخلوق کی خدمت میں ہاتھ گندے اور دل کی صفائی سے مراد یہ کہ آپ کا دل ہر طرح کے حسد، کینہ، رنجش، گلے شکووں سے پاک ہونا چاہئے۔ حضرت اویس قرنی ؒ سے کسی نے پوچھا’’ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبے سے نوازا ہے ، تو آپ نے کون سے ایسے وظائف کئے ہیں ہمیں بھی بتائیے۔‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ میں نے تو کوئی وظائف نہیں کئے ، میں نے تو ساری زندگی صرف اپنی ماں کی خدمت کی ہے‘‘۔صوفیا کرام فرماتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے کوئی سوال پیش کیا جاتا ہے تو اس سوال کا تعلق علم وادب کے علاوہ ضرورت اور مدد سے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل اس سوال کی صورت میں خدا کا خط آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہوتا ہے ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس سوال کا جواب کس طریقے اور سلیقے سے دیتے ہیں۔

سوال:معیشت ، معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح مربوط ہیں؟

جواب: معیشت، معاشرت اور روحانیت بلاشبہ انسانی زندگی کے بہت اہم جزو ہیں، یہ تمام اجزاء آپس میں کس طرح مربوط ہیں، اس کا فہم و ادراک ہمیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ہم روحانیت کوعملی طور پر اپناتے ہیں۔ عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

سوال:عورت اور مردکا رشتہ آپ کیسے بیان کریں گی؟

جواب: عورت اور مرد کے رشتے سے متعلق میرا بیان میری تحریروں میں واضح طور پر موجود ہے۔ میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے لکھتی آرہی ہوں کہ عورت خالص عارفِ دنیا ہوتی ہے اور مرد عارفِ مولا ہوتا ہے۔ عورت کی دلچسپی اور لگاؤ کا رجحان مرد کی نسبت اپنے بچوں کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ جو مرد، عورت کے بچوں سے لگاؤ کا اظہار کرتا ہے وہ عورت کے دل کا دروازہ کھول کر مکمل طور پر اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ عموماً مرد ایسا نہیں کرتے، مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کے سواباقی رشتوں میں عورت، مرد کے رستے میں حائل ہی رہتی ہے۔ اگر مرد کسی طورخانگی زندگی کے بکھیڑوں سے خود کو بچانے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا ۔ اس کی بلند پروازی لامحدود رفعتوں سے آشنا ہوتی جاتی ہے۔

سوال : خاندان کی فعالیت معاشرے کے عمومی توازن کے لئے کتنی ضروری ہے اور موجود ہ دور میں خاندان کو منتشر ہونے سے کیسا روکا جائے؟

جواب: خاندان کی فعالیت معاشرے کے توازن کے لئے بے حد وحساب ناگزیر ہے، مگر موجودہ عہد میں خاندان میں توازن قائم رکھنا دشوار ہو تا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اس مسئلے کو اس نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کنبے بڑے ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے رہنے کے لئے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ تنگی داماں نے وسعتِ نظر پر بڑے بُرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ مگراس سلسلے میں اشفاق صاحب اور میرا نقطہ نظر شروع سے یہی رہا ہے کہ تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ میرے خیال میں ہمارا فوکس تعلیم کے ساتھ تربیت پر ہونا چاہئے ، اس سے توازن بھی برقرار رہے گا ، خاندان اور معاشرہ ہر طرح کے انتشار سے بھی محفوظ رہے گا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سبھی کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے

(آمین)

سوال: نوجوان لڑکیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی جس سے وہ انفرادی اور معاشرتی سطح پر آگے بڑھ سکیں؟

جواب: دیکھیں جو انسان اپنی معاشی یا معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں وہ عموماً حکم نہ ماننے والے لوگ ہوتے ہیں، جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا عورتیں اکثر اپنے شوہروں سے لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں، اگر وہ ان کو مجازی خدا سمجھ لیں تو سارے مسائل ہی حل ہوجائیں، اور لڑکیوں کو بھی یہی طرز عمل رکھنا چائیے ، جتنا لڑنا ہے شادی سے پہلے ماں باپ سے لڑلیں کہ میں نے اس سے شادی نہیں کرنی کسی اور سے کرنی ہے۔ لیکن شادی ہوجانے کے بعد لڑائی کرنا ٹھیک نہیں، شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اس کی بات ردکرنا ٹھیک نہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بات ماننے سے زندگی میں برکتیں آ جاتی ہیں۔

اﷲ پاک کی توفیق حاصل ہو تو زندگی میں سلیقہ آ جاتا ہے۔

سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

21
January

گزشتہ دنو ں کمانڈر ملتان کور لیفٹیننٹ جنرل عا بد پر ویز کی خصوصی ہدایت پر ملتان کور کی جانب سے ’’پاک فوج کے ساتھ ایک دن‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں بہاؤ الدین یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی شعبہ جات کے طلباء اور طالبات نے شرکت کی ۔ تقریب کا

اہتمام نوجوانوں خصوصاً طلباء و طالبات کے دلوں میں موجزن جذبہ حُب الوطنی اور پاک فوج سے محبت کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا جس میں طلباء و طالبات نے پاک فوج کی روز مرہ کی پیشہ ورانہ زندگی کے مختلف امور کو قریب سے دیکھا اوراُن کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔

21
January

گزشتہ دنوں NUML لاہور کیمپس کی جانب سے ’’ایک دن پاک فوج کے ساتھ‘‘ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں تقریباً سو سے زائد طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ سب سے پہلے طلباء و طالبات ’’یادگار شہداء‘‘ پر گئے اور شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس کے بعد شرکاء کو محفوظ شہید گیریژن لے جایا گیا جہاں انہوں نے کمانڈو ایکشن اور فائرنگ کا مظاہرہ دیکھا۔ بعدازاں طلباء و طالبات کو نمائش میں رکھے گئے ہتھیاروں کے بارے میں بریف کیا گیا۔

21
January

این ایل سی کے دس ریلوے انجنوں کو پاکستان ریلوے کے حوالے کرنے کا معاہدہ طے پایا
پاکستان کو برطانوی سامراج سے آزادی کے وقت ریلوے کا وسیع و عریض اور فعال نظام ورثے میں ملا۔ ریلوے کا یہ مربوط نظام وطن عزیز کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ ہر قسم کے جغرافیائی خطوں میں بچھائی گئی پٹریاں ور برطانوی طرز کے خوبصورت ریلوے اسٹیشن بلا شبہ آج بھی کسی عجوبے سے کم نہیں ہیں تاہم وقت گزرنے اور ٹیکنالوجی میں نت نئی جدتیں آنے کی وجہ سے یہ قومی ادارہ زمانے کے ساتھ اپنی رفتار کو برقرار نہ رکھ سکا نتیجتاً آہستہ آہستہ پاکستان ریلوے انتظامی، عملیاتی اور مالی بحرانوں سے دوچار ہو گیا۔

ریلوے اور این ایل سی کا تعاون 2011 سے جاری ہے گزشتہ دہائیوں پر محیط پاکستان ریلوے کی زبوں حالی سے قومی لاجسٹکس استعداد پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ جون 2011 کو منعقدہ نیشنل لاجسٹکس بورڈ کے اجلاس میں گزشتہ حکومت کے وفاقی وزیر برائے خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی نے این ایل سی کو ریلوے کی بحالی میں معاونت فراہم
کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ این ایل سی نے 2012 میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے سلسلے میں ریلوے کے آئی پی ڈی ایف پی آر کے ٹریک رسائی کے حقوق جیتے۔ این ایل سی نے مال برداری کے لئے کوریل سے دس انجن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم مال بردار ٹرین کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے این ایل سی کے انجنوں کا استعمالہ ممکن نہ رہا۔ ستمبر 2013 میں نیشنل لاجسٹکس بورڈ کے اجلاس میں دونوں اداروں کو ہدائت کی گئی کہ این ایل سی کی سرما یہ کاری کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کیا
جائے۔

نیشنل لاجسٹکس بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں دونوں اداروں کے مابین طویل مشاورت کا آغاز شروع ہوا۔ معروف مالیاتی کنسلٹنسی ادارے" اینٹی گریٹڈ ایکویٹز پرائیویٹ لمیٹڈ "نے دونوں اداروں کو مالیاتی ماڈل پیش کیا جسے کافی غور و حوض اور طویل مشاورت کے بعد معاہدہ کی شکل دی گئی۔ معاہدہ کے مطابق این ایل سی پاکستان ریلویز کو دس انجن فراہم کرے گا۔
ڈرائیور وں اور انجنوں کی دیکھ بھال این ایل سی کے ذمہ ہوگی۔ جبکہ مجموعی آپریشنل انتظام اور مال برداری کی مارکیٹنگ کے لئے پاکستان ریلویز ذمہ دار ہوگا۔

این ایل سی اور پاکستان ریلوے کے درمیان معاہدہ پر دستخط گزشتہ دنوں پاکستان ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ہوئے۔ اس پُروقار تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر برائے ریلوے جناب سعد رفیق اور کوارٹر ماسٹر جنرل اور آفیسر انچارج این ایل سی لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللّٰہ خان کے علاوہ دیگر سینئر حُکام بھی موجود تھے۔ ڈی جی این ایل سی میجر جنرل اصغر نواز اور ریلوے کے جی ایم آپریشنز مُحمدجاویدانور نے اپنے متعلقہ اداروں کی جانب سے معاہدہ پر دستخط کئے۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے نے معاہدہ کو دونوں اداروں کے لئے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مال برداری کے لئے آسان، سستی اور تیز ترین سہولیات فراہم کرنے لئے ریلوے اور این ایل سی میں مزید تعاون بڑھانے کے لئے دوسرے منصوبوں
پر غور کیا جا رہا ہے جنہیں عنقریب حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے این ایل سی کی مجموعی کارکردگی پر ادارے کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس اہم ادارے کی قومی ترقی میں
لازوال خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ انجنوں کے ریلوے اور ایف جی آئی آر کے آزمائشی معیار کے مطابق تفصیلی ٹسٹ کئے گئے اس ضمن میں این ایل سی نے ریلوے کی تمام ضروریات شرائط پوری کیں۔ انجنوں کی مکمل جانچ اور فٹنس کے بعد ہی معاہدہ کو حتمی شکل دی گئی۔معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں کئی رکاوٹیں اور مشکلات سامنے آئیں اور چند ناپسندیدہ عناصر نے منفی تائثر قائم کرنے کے لئے میڈیا کے ذریعے بھرپور پروپیگنڈہ مہم کا سہارا لے کر شکوک و شبہات کو جنم دینے کی مذموم کوشش کی تاہم این ایل سی اور پاکستان ریلوے کی قیادت نے معاملہ فہمی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان عناصر کے منفی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دیا۔ دونوں اہم اداروں نے ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو تحمل اور بردباری سے سمجھا اور مال بردار ٹرین کے نظام کی
بحالی میں اپنامجموعی کردار ادا کیا۔
مُعاہدہ دونوں سرکاری اداروں کے باہمی تعاون کا مظہر ہے۔ ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اور قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے این ایل سی اور پاکستان ریلوے نے ثابت کیا کہ اگر ارادے نیک اور جذبہ حُب الوطنی پر مبنی ہو توکامیابی ضرور قدم چُومتی ہے۔

21
January

ایوب سٹیڈیم لاہور چھاؤنی میں پاکستان آرمی تائیکوائنڈوچیمپئن شپ کے تین روزہ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک بھر کے9 زون سے آئے ہوئے 81 سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ چیمپئن شپ ٹرافی لاہور زون نے جیت لی جبکہ گوجرانوالہ زون نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان نے تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔

21
January

کمانڈر منگلا کور لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد ہلال حُسین نے جڑی کس میں جار ی تربیتی مشقوں کا دورہ کیا۔اِن تربیتی مشقوں میں منگلا کور کے آزاد کشمیر بریگیڈ کی یونٹوں نے حصہ لیا۔ ان مشقوں میں جنگی مہارت، مختلف صیغوں کے باہمی ملاپ اور دہشت گردوں سے دست بدست لڑائی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ کمانڈر منگلا کور نے جنگی مشقوں میں انفنٹری دستوں کے فیلڈ فائر کا مظاہرہ بھی دیکھا۔

20
January

گزشتہ دنوں آرمی ایئرڈیفنس سینٹر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی میجر جنرل حمود الزمان نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مجموعی طور پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں اعزازی شمشیر اور میڈل تقسیم کئے اور پریڈ کے اعلیٰ معیار کو سراہا۔

20
January

گزشتہ دنوں جہلم کے قریب آرمی فائرنگ رینج پر فائرنگ مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے دو ہفتے پر محیط فائرنگ مقابلوں کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ مقابلوں میں حصہ لینے والے ٹروپس نے رائفلز اور ہلکی مشین گنز سے اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ تقریب کے اختتام پر چیف آف آرمی سٹاف نے جیتنے والی ٹیم اور کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور میڈل تقسیم کئے۔ نائب صوبیدار ثناء اﷲ اور حوالدار نواز نے جی تھری رائفل اور ہلکی مشین گن کے مقابلوں میں اول پوزیشن حاصل کی جبکہ ملتان کور ٹرافی 2014 کی حقدار قرار پائی۔

20
January

کمانڈر لا ہور کور ‘لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان نے لاہور کے قریب جاری موسم ِ سرما کی مشقوں کا دورہ کیا اور فوجی جوانوں کی عسکری تربیت اور تیاری کا جائزہ لیا۔ اِس موقع پر جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنر ل عامر عباسی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ دورے کے دوران اُنھیں جاری مشقوں کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے مُفصل بریفنگ دی گئی اور اُس کا عملی مظاہر دکھایا گیا۔ کور کمانڈر نے فوجی جوانوں کے بلند جذبے اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا ۔

20
January

گزشتہ دنوں چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکا اﷲ نے کریک باڈر ایریا پر پاک میرینز کی آپریشنل تیاریوں کا معائنہ کیا۔ اس دوران کوسٹ کمانڈر ریئر ایڈمرل سید شبیر احمد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر نیول چیف کو آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ایڈمرل محمد ذکا اﷲ نے جوانوں کی کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی محنت ‘ لگن اور حوصلے کو سراہا۔

20
January

گزشتہ دنوں کوئٹہ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ریکروٹوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان قومی یکجہتی کی علامت ہیں اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کے ہزاروں نوجوانوں کو بطور آفیسرز اور سولجرز پاکستان فوج میں شامل کیا گیا ہے اور انشاء اﷲ آئندہ بھی یہ عمل جاری رہے گا۔ یہاں یہ امر بھی باعث مسرت ہے کہ بلوچستان کے ہر علاقے اور ہر زبان بولنے والے لوگوں کی نمائندگی پاک فوج میں جاری ہے۔

چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ پاک فوج حقیقی طور پر آپ کی اپنی فوج ہے اور ہر مشکل وقت میں آپ ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے۔ بلوچستان کی ترقی ہم سب کی اولین ترجیح ہے۔ آج الحمدﷲ ہمارے بلوچستان کے بھائیوں میں یہ احساس اور یقین پیدا ہوچکا ہے کہ ان کی خوشحالی کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کا مستقبل بلوچستان کی ترقی سے وابستہ ہے اور مجھے انتہائی خوشی ہے کہ بلوچستان کے عوام اس حقیقت کو جانتے ہوئے تمام ملک دشمن عناصر کو مسترد کررہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب آپ کی حب الوطنی اور یکجہتی کی بدولت نفرت اور دہشت کو استعمال کرنے والے یہ مٹھی بھر لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور بلوچستان نہ صرف امن کاگہوارا بلکہ ترقی و خوشحالی کی مثال بنے گا۔

چیف آف آرمی سٹاف نے بلوچستان میں پاک فوج کے ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہاکہ معاشی اور سماجی نظام کی بہتری میں علم کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر پاکستان فوج بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔ آج پاکستان فوج کے زیرنگرانی سوئی ایجوکیشن سٹی‘ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے علاوہ کئی سکولز اور کالجز کامیابی سے چل رہے ہیں‘ جن سے اڑتیس ہزار (38,000) طلباء و طالبات مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے پریڈ کے معیار کو سراہا اور آخر میں پاک فوج‘ ایف سی اور پولیس میں شامل ہونے والے ریکروٹس کو مبارکباد دی اور ان کے والدین کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

20
January

مذہب کو کسی مملکت سے ماورا نہیں ہونا چاہئے۔ مملکت ایسی مذہبی حدود وقیود کا تعین کرے کہ مملکت اور مذہب متصادم نہ ہوں۔ مذہب کے نام پر مملکت کے ستونوں کو کمزور نہ کیا جائے۔ کسی مذہبی جماعت‘ تنظیم یا لشکر کے سربراہ کو دین کی کامل اتھارٹی حاصل نہیں ہے۔ کوئی فرد یا ادارہ اگر مذہب کے کسی امر کی خلاف ورزی کررہا ہے تو ریاست سے شکایت کی جائے۔ ریاست یہ فیصلہ کرے کہ کون درست ہے کون غلط۔ کسی فرد کو یا تنظیم کو اجازت نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی دوسرے فرد یا تنظیم کو جسمانی طور پر ختم کردے۔ ایک دوسرے کے مسلک کا احترام کیا جائے۔ جس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا جرم ہے اسی طرح مذہب کو اپنے ہاتھ میں لینا بھی خطرناک ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ قیامت تک آنے والے ادوار کے لئے بھی آخری دین ہے۔ اس لئے اس کا مطالعہ‘ اس میں تحقیق اور اجتہاد اس کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر بناسکتے ہیں۔ اسے چند علمائے کرام اور صرف دینی جماعتوں کے حوالے کرکے اسے غیر مؤثر نہیں بنانا چاہئے۔

قوم ایک ہوگئی ہے۔

تمام سیاسی جماعتیں ہم خیال ہیں۔

سانحۂ پشاور نے سب کے ضمیر جگا دیئے ہیں۔

میں اپنے کانوں میں انگلیاں دے رہا ہوں۔

میں یہ جھوٹ نہیں سن سکتا۔ میں اس منافقت کا عینی شاہد نہیں بن سکتا۔

درسگاہوں کی دیواروں پر تازہ لہو کے چھینٹے۔

تاریخ خون میں ڈوبی کتابوں کے اوراق کھولتی ہوئی۔

سکول یونیفارم میں آخری سانسیں لیتے بچپنے۔

علم کی جنّت کو روندتے جہنّمی۔

بن کھلے غنچوں کو مسلتے درندے۔

میں اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ رہا ہوں۔ ایسے منظر نہیں دیکھے جاتے۔ میں اپنے مستقبل کو یوں ہلاک ہوتے نہیں دیکھ سکتا مگر یہ کیا۔ میں نے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ پھر بھی یہ کمسن‘ خوبصورت‘ چہرے میری طرف دیکھ رہے ہیں۔ چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔ ابّو! آپ کہاں ہیں؟ امی‘ بچاؤ۔ طالبان ہم سب کو مار دیں گے۔

میں نے ہاتھ آنکھوں سے اُٹھا لئے ہیں۔

بٹ کے رہے گا ہندوستان

لے کے رہیں گے پاکستان

میں انہی کی عمر کا ہوں۔ یہ جو بچے بچیاں جان بچانے کے لئے بھاگ رہے ہیں۔ میں بھی اس عمر میں اس طرح بھاگ رہا ہوں۔ مجھ پر کرپانیں اُٹھانے والے‘ تلوار چلانے والے‘ بلّم برسانے والے تو سکھ ہیں‘ ہندو ہیں‘ میں ان سے الگ وطن حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہہ رہے ہیں۔ ہم بھارت ماتا کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے۔

’راج کرے گا خالصہ ۔ ہور کرے نہ کو‘

’مُسلوں کو ہم مار مار کے ختم کردیں گے‘

مال گاڑی کے باہر سے گرتی لاشوں کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔

گھوڑوں کی ٹاپیں۔ ’’بچ کے نہ جائیں مُسلے۔‘‘

میری ماں نے اپنی گرفت مجھ پر مضبوط کردی ہے۔ میرے ابا جی ڈبے کی درز سے آنکھ لگا کر دیکھ رہے ہیں کہ حملہ آور کتنے قریب آگئے ہیں۔

یہاں تو ماں گھر پر میرے لئے کھانا تیار کررہی ہے۔ اس کی گود مجھے نصیب نہیں ہے۔

میرے والد تو شمالی وزیرستان میں ضرب عضب میں گئے ہوئے ہیں۔

اپنے آزاد وطن میں‘ ایٹمی ملک میں‘ میں اکیلا رہ گیا ہوں۔

بندوقیں شعلے اگل رہی ہیں۔

ہماری پرنسپل ہماری ماں بن گئی ہے۔

ہماری پرنسپل ہمارا باپ بن گئی ہے۔

وہ بھیڑیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے۔

یہ ہمارا مستقبل ہے۔ یہ قوم کی امانت ہیں‘ جو میری تحویل میں دی گئی ہے۔ میں انہیں تمہارے انتقام کا ایندھن نہیں بننے دوں گی۔

آگ لگ گئی ہے۔ مسلمانوں کے گھروں کو جلایا جارہا ہے۔

ہماری پرنسپل پر پیٹرول چھڑکا جارہا ہے۔

علم کو شعلہ دکھا دیا گیا ہے۔ دانش کو زندہ جلایا جارہا ہے۔

واہگہ پریڈ میں اپنے عظیم پرچم کی تقریب سے پُرجوش واپس آنے والے خودکش بم دھماکے سے اڑا دیئے گئے ہیں۔

بہادر قابل فخر پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر میں دہشت گرد گھس آئے ہیں۔ مقابلہ جاری ہے‘ ہماری منزل شہادت ہے۔

نماز جمعہ ادا کی جارہی ہے۔ خودکش بم بار نے بٹن دبا دیا ہے۔ نمازی بریگیڈیئر‘ کپتان‘ بچے‘ خون میں لت پت‘ مسجد کی صفیں سرخ ہوگئی ہیں۔

گنج بخش فیض عالم ‘ مظہرِ نورِ خدا

ناقصاں را پیر کامل‘ کاملاں را رہنما

داتا دربار‘ عقیدتمند‘ جسموں کی دھجیاں‘ خون‘ آگ‘ بارُود کی بُو۔

واہ کینٹ‘ جسم فضا میں اُڑ رہے ہیں‘ آگ بھڑک رہی ہے۔

کوئٹہ‘ پھر ایک دھماکا‘ ہزارہ برادری کے نوجوان بزرگ پلک جھپکنے میں ریزہ ریزہ‘ جنازے‘ انصاف کے انتظار میں۔

ڈرون اڑ رہے ہیں‘ میزائل برس رہے ہیں‘ وادیاں خون میں نہا رہی ہیں۔ باجوڑ‘ وانا‘ پارا چنار‘ مالاکنڈ‘ بنوں‘ کوہاٹ‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ایبٹ آباد‘ نوشہرہ‘ کراچی‘ ملتان‘ لاہور‘ پنڈی‘ اسلام آباد‘ کہیں اجل اپنے نشان ثبت کر رہی ہے‘ کہیں تاریخ اوراق سیاہ کررہی ہے۔

داستانِ حرم۔ غریب و سادہ و رنگیں ہے

آرمی پبلک سکول کے درو دیوار نے جس درندگی کا نظارہ کیا۔ آڈیٹوریم نے اپنی آغوش میں اپنے لاڈلوں کو جس طرح خون میں نہائے دیکھا۔ یہ درسگاہ بھی اس صدمے سے سالہا سال باہر نہیں آسکے گی۔ کونسی ماں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنے سامنے زندگی سے محروم ہوتے دیکھ سکتی ہے۔ اس سانحے نے حکمرانوں کو‘ قوم کو‘ دانشوروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میڈیا یہی کہہ رہا ہے۔ وقتی طور پر ایسا ہی محسوس ہورہا ہے۔

لیکن یہ پہلا المیہ تو نہیں ہے۔ 1979ء میں سوویت یونین کی افواج کو افغانستان سے نکالنے کی جنگ میں جب سے ہم نے مغرب کی رفاقت کا فیصلہ کیا تھا‘ اس وقت سے آتش و آہن کا کھیل ہم اس پر امن خطے میں دیکھتے آرہے ہیں۔ روسی فوجیں چلی گئیں‘ سوویت یونین منہدم ہوگیا۔ افغانستان میں خود افغان حکمران بن گئے‘ مگر ہم اندر ہی اندر اس وقت سے منہدم ہورہے ہیں۔ ہمارا انہدام رکنے میں نہیں آتا۔ 11 ستمبر 2001ء کے بعد سے تو دنیا ہی بدل گئی ہے۔ اسلام شدت پسند مذہب کی حیثیت سے جانا جارہا ہے۔ مسلمان ریاستیں‘ مسلم حکمران بے اثر ہیں۔ لیکن مسلمانوں کی انتہا پسند تنظیمیں مہلک ہتھیاروں اور ہلاکت خیز دھماکوں کے ساتھ زیادہ تر مسلمان ملکوں میں سرگرم ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے مرنے والے بھی زیادہ تر مسلمان ہی ہیں۔

آرمی پبلک سکول میں خونریزی‘ الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ یہ 1979ء سے شروع غارت گری کا ایک تسلسل ہے۔ مذہب کے جوش کو جنون میں تبدیل کردیا گیا۔ امریکہ نے اپنے مدّ مقابل کمیونزم سے انتقام کے لئے بوتل سے جو جن نکالا تھا‘ اب باوجود کوشش کے اسے واپس بوتل میں دھکیلنے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ یا وہ اسے بند کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کیونکہ وہ خود تو محفوظ ہے۔ وہ اپنے شہریوں کو تو سب سے قیمتی‘ معزز‘ مقدس انسان سمجھ کر ان کی حفاظت کے لئے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔ نئی نئی ٹیکنالوجی ایجاد کررہا ہے مگر دوسرے ملکوں کے شہری اس کے نزدیک کوئی قیمت نہیں رکھتے۔ اپنے ایک شہری کے تحفظ کے لئے اسے کسی بھی ملک کے سیکڑوں شہری مارنے پڑ جائیں تو یہ اس کے قانون‘ آئین اور اخلاقی اقدار کے عین مطابق ہے۔ لیکن دوسری طرف امریکہ کو دنیا سے نیست و نابود کرنے کی دعوے دار لڑاکا اسلامی انتہا پسند تنظیمیں بھی اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ہلاک کررہی ہیں۔ اپنے ہی مسلم ملکوں کی املاک تباہ کررہی ہیں۔ اپنے ہی مستقبل کو برباد کررہی ہیں۔

یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے۔ اس پر بہت تحقیق ہوچکی۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے کتابیں قلمبند کی جاچکی ہیں۔ سب سے زیادہ دستاویزات تو امریکہ میں طبع ہوئی ہیں۔ اسلام اور قرآن کا مطالعہ‘ تحقیق اور تشریح بھی سب سے زیادہ امریکہ میں ہی کی گئی ہے۔ ہم پاکستان میں رہنے والے تو خود بھی اس تلخ سچائی کا مشاہدہ اور تجربہ کرتے آرہے ہیں۔ حکمران یکے بعد دیگرے جس طرح رسوا ہو کر تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہورہے ہیں۔ ان کی گم گشتگی بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان حکمرانی کے لئے ایک مشکل خطہ بن رہا ہے۔ بعض اوقات تو حکمرانوں کی بے بسی اور عوام کی بے کسی دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ناقابل انتظام اور ناقابل اصلاح بن رہا ہے۔ ہم نے غالب کی طرح یہ سمجھ لیا ہے کہ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں۔۔

اور جب آپ مشکلات کو آسان خیال کرنے لگیں تو آپ مسائل کو مسائل ہی نہیں سمجھتے۔ انگریزی میں تو یہ کہا گیا کہ سارا کوڑا قالین کے نیچے ڈال کر یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ کمرہ بہت صاف ستھرا ہے۔ ایسی مثالیں‘ کہاوتیں‘ محاورے اور ضرب الامثال مہذب ملکوں کے لئے ہوتی ہیں۔ ہمیں تو اس کے بجائے یہ کہنا چاہئے کہ ہم سب گولہ بارود‘ بندوقیں‘ بم‘ پستول‘ قالین کے نیچے رکھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم محفوظ ہیں مگر وہ کبھی اوجڑی کیمپ کی طرح پھٹ جاتے ہیں۔ کبھی حساس تنصیبات ان کا نشانہ بنتی ہیں۔ کبھی سکولوں کے بچے‘ کبھی سربسجدہ نمازی‘ کبھی نماز جنازہ ادا کرتے سوگوار۔ ہم نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اپنے لئے اولین مسئلہ اور سب سے بڑا خطرہ نہیں سمجھا۔ کبھی اسے صرف امریکہ کی جنگ کہہ کر انتہا پسندی کے خاتمے سے گریز کیا گیا۔ کبھی اسے حالات وواقعات کا ردّعمل خیال کیا گیا۔ 1979ء سے اب تک پھر نائن الیون کے بعد آرمی پبلک سکول کے اندوہناک سانحے تک‘ مختلف ادوار کی مختلف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات دیکھ لیں کہ ان کی فہرست میں دہشت گردی کا خاتمہ کس نمبر پر رہا ہے۔ نتیجہ تو اسی کا نکلتا ہے‘ جس کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔

1979ء سے مذہبی شدت پسندی کی باقاعدہ اور باضابطہ طور پر سرکاری سرپرستی کی گئی جس کے نتیجے میں ان رجحانات کو سیاسی‘ مذہبی اور اخلاقی طور پر بہت زیادہ تقویت بھی ملی۔ مذہبی ادارے‘ مذہبی تنظیمیں‘ مذہبی جرائد‘ مذہبی ریڈیو‘ مذہبی ٹیلی ویژن‘ مذہبی لشکر‘ رفتہ رفتہ مملکت یا ریاست یا سٹیٹ سے زیادہ طاقت ور ہوتے گئے ہیں۔ انہیں دوسرے ملکوں سے بھی مالی‘ سیاسی‘ سفارتی اور مذہبی حمایت ملتی گئی ہے‘ جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے بجائے ان ملکوں کے مفادات کو برتری دیتے ہیں۔ ان امور‘ مراحل اور رجحانات پر غیر جانبدارانہ اور غیر جذباتی تحقیق کی ضرورت ہے۔ کس کس علاقے میں انتہا پسندی کی شدت کی سطح کیا ہے۔ کونسا مسلک کہاں زیادہ غالب ہے۔ اپنے حلقۂ عقیدت میں شامل بزرگوں کو کیا ہدایات دی جاتی ہیں۔ نوجوانوں کو کیا ترغیبات دی جاتی ہیں۔ یہ جائزہ فوج کے زیر اہتمام یونیورسٹیاں بھی لیں‘ سرکاری جامعات بھی‘ نمل‘ لمز‘ ہمدرد‘ جناح یونیورسٹی برائے خواتین جیسے پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی۔ اس تحقیق کی روشنی میں مملکتِ پاکستان ایک واضح اور جامع مذہبی پالیسی کا اعلان کرے۔ پھر اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ حکومتی مشینری‘ سیاسی ادارے‘ علمائے کرام سب اس کی روح کے مطابق تعمیل کروائیں۔ یہ خود عظیم مذہب اسلام کی ساکھ کی بحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ اسلام اسلام ہے۔ نہ یہ سیاسی اسلام (Political Islam) ہے۔ نہ یہ انتہا پسند اسلام (Radical Islam) ہے۔

ہم نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اپنے لئے اولین مسئلہ اور سب سے بڑا خطرہ نہیں سمجھا۔ کبھی اسے صرف امریکہ کی جنگ کہہ کر انتہا پسندی کے خاتمے سے گریز کیا گیا۔ کبھی اسے حالات وواقعات کا ردّعمل خیال کیا گیا۔ 1979ء سے اب تک پھر نائن الیون کے بعد آرمی پبلک سکول کے اندوہناک سانحے تک‘ مختلف ادوار کی مختلف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات دیکھ لیں کہ ان کی فہرست میں دہشت گردی کا خاتمہ کس نمبر پر رہا ہے۔ نتیجہ تو اسی کا نکلتا ہے‘ جس کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔

اس واضح مذہبی پالیسی کے ساتھ ساتھ سیکورٹی پالیسی کا بھی اعلان کیا جائے۔ ہم برسوں سے عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ابھی میرے جائزے کے مطابق آئندہ پندرہ بیس برس تک کم از کم یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی جاری رہے گی۔ کیونکہ اس کے لئے لشکر تیار کئے جارہے ہیں‘ ذہن تعمیر کئے جارہے ہیں۔ پاکستان کی مسلّح افواج شمالی وزیرستان میں ’ضرب عضب‘ کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پوری قوم یہ جان چکی ہے کہ سپہ سالار‘ جنرل راحیل شریف دہشت گردوں کے سارے تانے بانے ختم کرنے کا عزم کرچکے ہیں۔ اب اچھے برے طالبان یا پاک فوج کے حامی‘ مخالف گروپ نہیں رہے۔ اب وہ صرف دہشت گرد ہیں۔ اب صرف پاک فوج مسلّح ہونی چاہئے۔ کوئی اور لشکر‘ تنظیم‘ گروپ مسلّح نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان میں بھی یہ کہا جاتا رہا۔ مغرب اور بھارت تو اب بھی کہتے ہیں کہ مسلّح تنظیمیں‘ فوج نے تیار کی ہیں‘ جہاد کو پرائیویٹائز کیا گیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی سپہ سالاری کے دَور سے اس پالیسی میں قطعی تبدیلی آئی۔ انہوں نے بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے صحیح وقت پر صحیح فیصلے کئے۔ اس لئے وہ خود بھی دو بار حملوں کا ہدف بنے اور بال بال بچے۔ مگر اب جنرل راحیل شریف کی قیادت میں یہ پالیسی اور زیادہ واضح ہوگئی ہے‘ اعادہ بھی کیا جارہا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک فوج چین سے نہیں بیٹھے گی۔

قبائلی علاقوں میں تو انتقام کی روایت سالہا سال چلتی ہے۔ اس لئے انتہا پسندی میں شامل قبائلی لشکری اپنی روایت کے مطابق انتقام لے رہے ہیں۔ فوجی تنصیبات پر حملے۔ ٹریننگ پریڈز‘ واہگہ‘ لیفٹیننٹ جنرل مشتاق‘ دوسرے اعلیٰ فوجی افسروں اور اب فوجی افسروں کی اولادوں پر حملے ان ہی انتقامی کارروائیوں کا حصہ ہیں‘ جن کا واحد مقصد پاک فوج کو کمزور کرنا ہے۔ کیونکہ یہی ایک ادارہ ہے جس نے تمام نامساعد حالات ملک میں افراتفری کے باوجود اپنے آپ کو مستحکم کر رکھا ہے۔ تعلیم‘ تحقیق‘ تربیت‘ تنظیم میں رکاوٹ نہیں آنے دی ورنہ ہماری پارلیمنٹ‘ عدلیہ‘ میڈیا‘ تعلیمی ادارے سب ہی زوال کی طرف گامزن ہیں۔

مذہبی پالیسی کی تشکیل اور اعلان کے بعد تمام قومی سیاسی جماعتیں اپنے ملک گیر کارکنوں‘ مذہبی تنظیمیں اپنے عہدیداروں اور کارکنوں کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں‘ خبر دار کریں‘ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ریڈیو‘ ٹی وی‘ اخبارات وجرائد کے ذریعے اس کی اشاعت کی جائے۔ خصوصی طور پر وفاق کے زیر اہتمام علاقوں‘ خیبر پختونخوا‘ جنوبی پنجاب میں دل اور ذہن پنپنے کی تحریک چلائی جائے۔

ایک اور امر بھی انتہائی غور طلب ہے کہ جن نوجوانوں کو کشمیر اور افغان جہاد میں بھیجاگیا اور ان کی مالی کفالت کی گئی۔ جب نائن الیون کے بعد پالیسی بدلی گئی تو ان کو لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ یہ جن سے رابطے میں رہتے تھے‘ ان لوگوں کے تبادلے دوسرے شعبوں میں کردیئے گئے۔ لیکن ان جہادیوں کو کچھ نہیں بتایا گیا کہ اب ان کی ڈیوٹی کہاں ہوگی۔ انہیں پولیس اور خفیہ ادارے تنگ کرتے رہے۔ پھر مختلف انتہا پسند تنظیموں نے اپنا لیا۔ اس بڑی تعداد سے دوبارہ رجوع کیا جائے‘ ان سے خدمات لی جائیں‘ جہاد ان کے نزدیک ایک جذبہ ہے‘ رومان ہے‘ ملک میں ان سے مختلف مشن مکمل کروائے جائیں‘ کرپشن کے خلاف‘ جہالت کے خلاف یہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انتہا پسند ذہنوں کو اعتدال پسند ذہنوں میں تبدیل کرنے کے لئے پاک فوج نے جس De-radicalisation کے پروگرام شروع کر رکھے ہیں‘ ان کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں‘ محکمۂ تعلیم‘ پرائیویٹ یونیورسٹیاں اس پروگرام کو اپنائیں۔ انتہا پسندی کی جڑیں اکھاڑنے کے لئے‘ جہاں جہاں خودکش بمباروں کی فصلیں تیار ہورہی ہیں۔ ان نرسریوں کو ختم کرنے کے لئے یہ پروگرام ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نظام صدیوں سے چل رہا ہے۔ اس میں قہاری و جبروت بھی شامل ہے۔ لیکن ساتھ رحمت و مہربانی بھی۔ فوجی کارروائیاں‘ پھانسیاں بھی اپنی جگہ ضروری ہیں‘ لیکن نوبت یہاں تک کیوں پہنچتی ہے۔ اس لئے پاکستانیوں کو بچپن سے ہی پاکستانیت اور اعتدال کی طرف راغب کرنا لازمی ہے۔ ایسی فضا پیدا کی جائے جس میں پھر انتہا پسندی جڑیں نہ پکڑ سکے۔ یہ تحقیق بھی لازمی ہے کہ فوج کو کمزور کرنے میں کس کا فائدہ ہے۔ انتہاپسند دہشت گرد اسے بم دھماکوں‘ حملوں کے ذریعے کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ سیاسی انتہا پسند‘ جمہوریت اور آمریت کی مباحث میں اُلجھا کر فوج سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر بھی ایسا ہوتا ہے۔ آزاد عدلیہ‘ آئین کی بالادستی کے خوش نما الفاظ اور اصطلاحات کے ذریعے بھی عوام میں فوج کو استبدادی قوت کا تصور دیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر فوجی جنرلوں نے بعض حلقوں کی خوشنودی‘ بین الاقوامی این جی اوز کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے اپنی کتابوں میں اپنی ہی فوج کے ایسے واقعات بیان کئے ہیں۔ بعض سابق سفارت کار بھی اسی جرم کا ارتکاب کرتے آرہے ہیں۔

مذہبی پالیسی کی تشکیل اور اعلان کے بعد تمام قومی سیاسی جماعتیں اپنے ملک گیر کارکنوں‘ مذہبی تنظیمیں اپنے عہدیداروں اور کارکنوں کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں‘ خبر دار کریں‘ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ریڈیو‘ ٹی وی‘ اخبارات وجرائد کے ذریعے اس کی اشاعت کی جائے۔ خصوصی طور پر وفاق کے زیر اہتمام علاقوں‘ خیبر پختونخوا‘ جنوبی پنجاب میں دل اور ذہن پنپنے کی تحریک چلائی جائے۔

اس وقت پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ انسانی زندگیوں کے تحفظ کی لڑائی ہورہی ہے۔ یہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان معرکہ نہیں ہے۔ یہ قانون کی یکساں حکمرانی کی جنگ ہے۔ ایک المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمراں طبقے‘ سیاستدان خود مذہب کا مطالعہ نہیں کرتے‘ حضور اکرمﷺ کے زمانے‘ خلفائے راشدین‘ بنو امیہ‘ بنو عباس‘ عثمانیہ دور کے اوراق میں نہیں جھانکتے کہ وہ حکومتیں کیسے چلتی تھیں۔ مختلف فتنوں کی سرکوبی انہوں نے کیسے کی۔ شریعت کے نفاذ کے نام پر قرآن کی یکجائی اور اس قسم کے امور پر پہلے بھی تنازعات اٹھائے گئے۔ ان کا تدارک کیسے ہُوا۔ کتابیں موجود ہیں۔ سید امیر علی کی تاریخ اسلام۔ ڈاکٹر حمیداللہ کے خطبات بہاولپور۔ علامہ عبدالحئی کتانی کی ’التراتیب الاداریۃ‘ کی تلخیص۔ دور نبوی کا نظام حکومت۔ ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی کی مکّی عہد نبویﷺ میں اسلامی احکام کا ارتقا۔ ابو الحسن بن محمد کی احکام سلطانیہ۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی رسول اللہؐ کی حکمرانی اور جانشینی اور رسول اکرمؐ کی سیاسی زندگی۔ یہ ایسی تصنیفات ہیں جن کا مطالعہ نہایت ضروری ہے اور بھی ایسی تحقیق پر مبنی دستاویزات موجود ہیں جن سے ہم عین شریعت کے مطابق آج کے دور کے لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اچھی حکمرانی (Good Governance) کرسکتے ہیں۔ حضرت علیؓ کی نہج البلاغہ سے بہت رہنمائی مل سکتی ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ خلفشار سیاستدانوں کی کم علمی‘ بے عملی اور نااہلی سے پیدا ہُوا ہے۔جتنی بھی انتہا پسندی اور شدت گیری ہے‘ یہ سیاسی جماعتوں کی اپنے قومی فریضے سے کوتاہی کا نتیجہ ہے‘ یہ مذہب سے ناآشنا ہیں‘ مذہب کی تعلیمات جاننا نہیں چاہتے۔ اس لئے مذہب سے ولولۂ تازہ حاصل کرنے کی بجائے مذہب سے ڈرتے ہیں۔ مذہبی تنظیموں کے سامنے عجز کا شکار ہوجاتے ہیں‘ اپنی خراب حکمرانی اور نااہلی چھپانے کے لئے علماء کے دامن بلکہ بُکل میں پناہ لیتے ہیں اور نتیجے میں اس کی بھاری قیمت چکاتے ہیں۔ مذہب کی مختلف تاویلات روکنے کے بجائے قائداعظم کے بعد آج تک کی حکومتیں مذہبی جماعتوں کے سامنے سر جھکاتی رہی ہیں۔ مک مکا کرتی رہی ہیں۔ اسی لئے آج مذہب مختلف شدت پسند فرقوں اور تنظیموں کی صورت میں 18 کروڑ پاکستانیوں کے لئے آتش فشاں بنا ہُوا ہے۔ عرب دنیا میں سعودی عرب سمیت کوئی مسجد اپنے طور پر انتظام نہیں کرسکتی۔ آئمہ کرام‘ خطیب‘ فقیہہ سب ریاست کے تابع ہیں۔ ترکی اور ملائشیا میں بھی ایسا ہی ہے۔ صرف پاکستان میں یہ ہر قاعدے اور ہر ضابطے سے آزاد ہیں کسی قسم کے ڈسپلن کو نہیں مانتے۔ یہاں جس قسم کی تقریریں ہوتی ہیں جمعہ کے خطبات‘ مملکت‘ حکومت کے خلاف‘ فوج کے خلاف کسی دوسرے مسلم ملک میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا۔ برصغیر میں یہ سلسلہ دراصل انگریز کے دور میں زیادہ مضبوط ہُوا۔ وہ تو غیر ملکی استعمار تھا‘ غیر مسلم بھی تھا۔ اس کے خلاف یہ رویہ یقیناًدرست تھا۔ لیکن ایک آزاد مسلم مملکت وجود میں آنے کے بعد جہاں اپنوں کی اور مسلمانوں کی حکومت تھی‘ وہاں تو اس رویے میں تبدیلی ضروری تھی۔ مل جل کر کوئی ڈسپلن بنانا چاہئے تھا۔ جو اسلام کے اور آج کے تقاضوں کے مطابق ہوتا۔ پاکستان میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسلام کے اجارہ داروں اور ٹھیکیداروں کو ضرور خطرہ ہوسکتا ہے۔

دین کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا خود دین کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ دین اور سیاست اس طرح ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں بار بار ثابت ہورہا ہے۔ پاکستان کے عوام نے انتخابات میں بار بار اس حقیقت پر مہر لگائی ہے کہ انہوں نے کسی مذہبی سیاسی جماعت کو اکثریت دے کر حکومت کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں نہیں دی ہے۔ البتہ ہمارے منتخب حکمراں مذہبی جماعتوں اور پریشر گروپوں سے ڈر کر انہیں حکومت میں شامل کرتے رہے ہیں۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پارلیمانی جمہوریت‘ صدارتی نظام‘ مارشل لاء‘ سرمایہ دارانہ نظام نے اس ملک کے مسائل حل نہیں کئے‘ اچھی حکمرانی نہیں آسکی‘ اس لئے پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ شاید اب شریعت کا نفاذ ہی آخری پناہ گاہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت کی حکمرانی کے نعرے کی وجہ سے ملک میں ایک طبقے میں طالبان کے لئے نرم رویّہ موجود رہا ہے لیکن یہ طبقہ بھی شریعت کا نفاذ‘ بم دھماکوں بچوں کی ہلاکتوں‘ مسجدوں میں نمازیوں کے قتل عام کے ذریعے نہیں چاہتا۔ لاشیں بہت گر چکیں‘ خون بہت بہہ چکا‘ پاکستان کی رسوائی بہت ہوچکی‘ مذہب اسلام بہت بدنام ہوچکا۔

اس وقت پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ انسانی زندگیوں کے تحفظ کی لڑائی ہورہی ہے۔ یہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان معرکہ نہیں ہے۔ یہ قانون کی یکساں حکمرانی کی جنگ ہے۔

اعتدال پسند‘ روشن خیال اور خاموش پاکستانی اکثریت اب یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے سیاستدان‘ دانشور‘ علماء‘ قانون دان اور پاکستان کی مسلّح افواج مل کر آئندہ بیس سال کے لئے ایسا روڈ میپ بنائیں‘ جو ایک قطعی‘ واضح‘ مذہبی اور مملکتی پالیسی تشکیل کرے‘ سارا ملک اس کے تحت چلے‘ سکول‘ یونیورسٹیاں‘ کالج‘ ملکی قوانین کے تحت چلتے ہیں تو مسجدیں‘ دینی مدارس بھی کیوں نہ ریاستی قوانین کے پابند ہوں۔ کسی کو بھی کھلی چھوٹ نہیں مل سکتی۔ تمام کتابیں‘ اخبارات‘ رسائل‘ ٹی وی چینل پر بھی اس مذہبی پالیسی کا اطلاق ہو۔ پاکستان میں انتہائیں بہت زیادہ شدت اختیار کر گئی ہیں‘ فاصلے بڑھ گئے ہیں‘ متوازی حکومتیں چل رہی ہیں‘ مملکت کے اندر بہت سی مملکتیں بن گئی ہیں‘ انتہاؤں کو قریب لانے ان کے درمیان پُل قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ قانون کا یکساں نفاذ سب کے لئے ہو‘ میرٹ کی حکمرانی ہو‘ کلیدی عہدوں پر صرف ان ہی افراد کا تقرر ہو جواِس کی اہلیت رکھتے ہوں‘جہاں حکمران اپنے قریبی دوستوں‘ رشتے داروں کا تقرر نہ کریں۔

مذہب کو کسی مملکت سے ماورا نہیں ہونا چاہئے۔ مملکت ایسی مذہبی حدود وقیود کا تعین کرے کہ مملکت اور مذہب متصادم نہ ہوں۔ مذہب کے نام پر مملکت کے ستونوں کو کمزور نہ کیا جائے۔ کسی مذہبی جماعت‘ تنظیم یا لشکر کے سربراہ کو دین کی کامل اتھارٹی حاصل نہیں ہے۔ کوئی فرد یا ادارہ اگر مذہب کے کسی امر کی خلاف ورزی کررہا ہے تو ریاست سے شکایت کی جائے۔ ریاست یہ فیصلہ کرے کہ کون درست ہے کون غلط۔ کسی فرد کو یا تنظیم کو اجازت نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی دوسرے فرد یا تنظیم کو جسمانی طور پر ختم کردے۔ ایک دوسرے کے مسلک کا احترام کیا جائے۔ جس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا جرم ہے اسی طرح مذہب کو اپنے ہاتھ میں لینا بھی خطرناک ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ قیامت تک آنے والے ادوار کے لئے بھی آخری دین ہے۔ اس لئے اس کا مطالعہ‘ اس میں تحقیق اور اجتہاد اس کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر بناسکتے ہیں۔ اسے چند علمائے کرام اور صرف دینی جماعتوں کے حوالے کرکے اسے غیر مؤثر نہیں بنانا چاہئے۔

اعتدال پسند‘ روشن خیال اور خاموش پاکستانی اکثریت اب یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے سیاستدان‘ دانشور‘ علماء‘ قانون دان اور پاکستان کی مسلّح افواج مل کر آئندہ بیس سال کے لئے ایسا روڈ میپ بنائیں‘ جو ایک قطعی‘ واضح‘ مذہبی اور مملکتی پالیسی تشکیل کرے‘ سارا ملک اس کے تحت چلے‘ سکول‘ یونیورسٹیاں‘ کالج‘ ملکی قوانین کے تحت چلتے ہیں تو مسجدیں‘ دینی مدارس بھی کیوں نہ ریاستی قوانین کے پابند ہوں۔ کسی کو بھی کھلی چھوٹ نہیں مل سکتی۔

پاکستان کے پارلیمانی ارکان‘ سیاستدانوں‘ میڈیا‘ وکلاء‘ این جی اوز سب سے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کئے جانے والے شہیدوں کی روحیں سوال کر رہی ہیں کہ شریعت کے نام پر خون کب تک بہتا رہے گا‘ یہ ہتھیار بند ‘شریعت کا مقدس نام استعمال کر کے‘ اپنی مرضی کا مذہب کب تک مسلط کرتے رہیں گے۔

اسلام کی تعلیمات‘ اسلام کی تاریخ کہیں زیادہ عظیم‘ کہیں زیادہ مقدس ہے۔ جنرل راحیل شریف جس ذہن اور واضح پالیسی کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے میدان میں نکلے ہوئے ہیں‘ یہی کھلا ذہن اب سیاستدانوں کا بھی ہونا چاہئے۔ ریاست اسی صورت میں محفوظ اور مستحکم ہوسکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق ہمیں آواز دے رہے ہیں۔ مدینہ منورہ کی ریاست‘ بغداد کی ریاست‘ دمشق کی ریاست‘ قسطنطنیہ کی ریاست۔ سب ہمارے ذہنوں پر دستک دے رہی ہیں‘ ہلاکتیں‘ قتال اسلام نہیں ہے۔ شریعت مسجدوں میں‘ مدرسوں میں‘ سکولوں میں‘ نمازیوں اور طلبہ وطالبات کو قتل کرنے سے نافذ نہیں ہوسکتی۔ محمدؐ عربی کے خطبات پڑھو‘ ابوبکر صدیقؓ، عمرفاروقؓ، عثمان غنیؓ، علی حیدرؓ کی تقریریں سنو۔ آئمہ کرام کیا کہہ رہے ہیں‘ مجدد الف ثانیؒ کیا فرماتے ہیں۔ قائداعظم کے فرمودات کا مطالعہ کرو۔

پاکستانیوں کی قیادت کے دعویدارو! قرآن پاک قدم قدم پر رہنمائی کے لئے موجود ہے‘ تاریخ کے اوراق مشعل راہ بن سکتے ہیں‘ اچھی حکمرانی کے لئے بھی آج کے دور میں‘ ہر ملک میں مثالیں موجود ہیں۔ تمہیں خود یہ طے کرنا ہے کہ تمہارا نام قاتلوں میں لکھا جائے یا انسانیت کے محافظوں میں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

20
January

رانجن جیوتی بھارت کی وزیر مملکت ہیں،بی بی سی نیوز انڈیا(4دسمبر2014) کے مطابق اُنہوں نے دہلی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں راما کی حکومت اور حرامزادوں کی حکومت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ، حرامزادوں کا لفظ اُنہوں نے اپوزیشن کے علاوہ غیر مسلم بلکہ یوں کہیے کہ مسلمانوں کے لئے استعمال کیا ہے۔ اِسی طرح کے الفاظ بی جے پی کے کچھ دوسرے ارکان بھی انتخابی مہم کے دوران استعمال کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعت کانگریس اِس خاتون وزیر سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے ، مگر اُس نے پارلیمنٹ میں صرف معذرت کی ہے۔ مودی کو اِس معاملے میں زبردست مزاحمت کا سامنا ہے ، مگر سیاسی مبصرین کا اندازہ ہے کہ بی جے پی پر آر ایس ایس حاوی ہوتی جا رہی ہے جو مسلمانوں کی سخت دشمن ہے۔ وہ اِس ذہنیت کی علمبردار ہے جو مسلمانوں کو حملہ آوروں کی اولاد قرار دیتی ہے اور اُن سے نجات پانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ نرانجن جیوتی کے خیالات مجبور کرتے ہیں کہ اُس ہندو ذہنیت کا جائزہ لیا جائے جو وہ دیگر مذاہب اور قوموں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔

بھارت ہماراایسا پڑوسی ہے جس میں پاکستان کے خلاف ایک زہر بھرا ہوا ہے اور وہ اِسے غیر مستحکم کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے۔ ہندو قیادت نے حالات کے جبر کے تحت ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کی تشکیل کو قبول کیا تھا۔ پنڈت نہرو جیسے لبرل لیڈر بھی زہر افشانی میں کچھ کم نہیں تھے۔ اُنہوں نے آزادی کی تقریب پر بیان دیا تھا کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ چھ ماہ چل سکے گا اور ہماری منت سماجت کرے گا کہ دوبارہ اپنے ساتھ ملا لیجئے۔ ائیر مارشل (ر) اصغر خاں کا ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ (اپریل 1968) میں انٹرویو شائع ہوا ، اِس میں اُنہوں نے ہندو ذہنیت کے بارے میں آنکھیں کھول دینے والا انکشاف کیا۔ یہ خوفناک انکشاف اُن کے الفاظ میں پڑھئے:

’’پاکستان بننے سے ایک دو روز پہلے ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جس سے مجھے صورتِ حال کی نزاکت کا شروع ہی سے شدید احساس ہو گیا تھا۔ غالباً یہ گیارہ بارہ اگست کی بات ہے۔ برصغیر آزاد ہونے والا تھا اور پریڈ کے سلسلے میں ہم بھارت کے جنرل تھمیا کے ساتھ کھڑے تھے اور وہاں زیادہ تر غیر مسلم فوجی حکام تھے۔ اتنے میں پارلیمنٹ کا ایک ہندو ممبر جنرل کے پاس آیا اور اِس نے یہ سمجھا کہ یہاں تمام کے تمام غیر مسلم فوجی حکام کھڑے ہیں۔ اُس نے جنرل کا دامن پکڑتے ہوئے پوچھا:

’’مجھے یہ بتاؤ کہ ہم پاکستان کو کتنے گھنٹوں میں فتح کر لیں گے؟ ’’جنرل میری موجودگی میں اُسے ٹالتا رہا ، لیکن اُس شخص نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ بار بار یہی پوچھتا رہا کہ آپ پاکستان پر کب حملہ کر رہے ہیں۔ ’’اِس منظر نے میرے دل پر گہرا اثر کیا اور مجھے یہ یقین ہو گیا کہ پاکستان کو زندہ رہنے کے لئے ہر وقت چاق چوبند رہنا ہو گا، چنانچہ میں نے پاک فضائیہ کی تربیت اِسی اصول پر کی تھی کہ اب حملہ ہوا کہ اب حملہ ہوا۔ ہماری اِسی تیاری نے ستمبر ۱۹۶۵ء میں دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنایا‘‘۔ انڈین نیشنل کانگریس جو بظاہر تمام ہندوستان کی ترجمانی کا دعویٰ کرتی تھی ، وہ حقیقت میں ہندو ذہنیت کی علمبردارہے۔ ہندو ذہنیت ، ہندو سماج کے ایک ایک انگ میں رچی بسی ہے جو تنگ نظری اور تنگ دلی کی بدترین مثال تھی۔ ہندوؤں کے گھر چھوٹے اور تاریک ہوتے ہیں۔ کھانے کی کولیاں(کٹوریاں) بھی بہت چھوٹی ہوتیں کہ اُن کے دل بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور مندر بھی تنگ اور تاریک ۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں برصغیر میں تین بلند قامت اور تاریخ ساز مسلم قائدین پیدا ہوئے۔ وہ سر سید احمد خاں، علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح تھے۔ اُنہوں نے اپنا ذہنی اور سیاسی سفر ہندو مسلم اتحاد سے شروع کیا اور اِن دونوں اقوام کو قریب لانے کے لئے پُرخلوص کوششیں کیں۔ سر سید احمد خاں ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو آنکھوں سے تشبیہ دیتے کہ یہ دونوں انسانی زندگی کے لئے ناگزیر ہیں۔ شاعرِ مشرق حضرت اقبال نے بھی پہلا ترانہ یہی لکھا تھا: سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔ اِسی طرح جناب محمد علی جناح ہندوؤں اور مسلمانوں کی جانب سے ’’امن کے سفیر‘‘ قرار پائے تھے کہ اُنہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ’’میثاقِ لکھنو‘‘ کرایا تھا ، مگر ہندو ذہنیت کی عیاری ، کج نگاہی اور قدم قدم پر تعصبات کے انسانیت سوز مظاہروں نے اِن تینوں عظیم قائدین کو آخر کار مسلمانوں کی تہذیب و تمدن، عقائد، اخلاقیات کے تحفظ اور بقا کے لئے ایک آزاد وطن کے حصول کو اپنا نصب العین قرار دیا۔ اُن کی سرتوڑ کوششوں اور علمائے حق کی بے مثال قربانیوں سے پاکستان کے قیام کا راستہ ہموار ہوا اور دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست وجود میں آئی۔

ہندوؤں کا مذہب چند رسومات کے گرد گھومتا ہے۔ معاشرے کو ذات پات میں تقسیم کر دیا گیا ہے ایک طبقہ حکمرانی کے لئے ہے ، دوسرا طبقہ جنگ آزمائی کے لئے، تیسرا طبقہ زراعت اور تجارت کے لئے جبکہ سب سے نچلا طبقہ اِن تینوں کی خدمت بجا لانے اور غلامی اور محرومی کی زندگی بسر کرنے کے لئے مجبور ہے۔ اِس طبقے کو شودر کہا جاتا ہے جس کے چھو جانے سے انسان پلید ہو جاتا ہے۔ یہ غیر انسانی تقسیم ہزاروں سال گزرنے کے باوجود آج بھی مختلف صورتوں میں موجود ہے اور ہندو سیاست تمام تر نام نہاد ارتقا کے باوجود ’’چانکیہ‘‘ کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ ’’زریں اصول‘‘ دغا بازی ، غداری ، بد عہدی ، عورت اور دولت کے ذریعے حریف پر غلبہ حاصل کرنے کی حکمتِ عملی اور سازش کے ذریعے اقتدار پر قابض ہو جانے کی اسٹریٹجی پر مشتمل ہیں۔ ہندو ذہنیت بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کا دوسرا نام ہے جس نے برصغیر میں نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر دی تھیں اور فضا میں زہر گھول دیا تھا۔ مسلمانوں نے ہندوستان پر ایک ہزار سال تک حکومت کی اور ہندوؤں کے ساتھ نہایت فیاضانہ سلوک روا رکھا۔ اُن کی عبادت گاہوں کا احترام کیا اور اُنہیں حکومت میں اعلیٰ مناصب عطا کیے۔ شہنشاہ اکبر کے نو رتنوں میں زیادہ تر ہندو دماغ شامل تھے۔ ایک ہزار سالہ تاریخ میں کسی ہندو کو زبردستی مسلمان بنانے کی ایک مثال بھی نہیں ملتی ، حالانکہ مرہٹوں کے پیشوا سیواجی نے افضل خاں سے بغل گیر ہوتے ہوئے اُن کے سینے میں خنجر گھونپ دیا تھا اور جنوبی ہند کا امن وامان تباہ کر ڈالا تھا۔

اِس فراخ دلی اور ذہنی کشادگی کے برعکس جب انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کر لیا ، تو ہندوؤں نے اُن کے ساتھ ساز باز کر کے مسلمانوں کو ’’ملیچھ‘‘ بنانے کی مسلسل سازشیں کیں۔ انگریزوں نے چونکہ مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی ، اِس لئے وہ بھی اُنہیں زیادہ سے زیادہ زِک پہنچانا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کی اشرافیہ کا جو لباس تھا ، وہ بیروں ، چپڑاسیوں اورخدمت گزاروں کے لئے مختص کر دیا گیا۔ اُن پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے ایک عرصے تک بند رہے اور جن علمائے حق نے انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی تھی ، وہ سولی پر چڑھا دیے گئے یا کالا پانی بھیج دیے گئے۔ بعد میں انگریز حکمرانوں کو احساس ہوا کہ مسلمانوں کو مکمل نظر انداز کرنے سے اقتدار کا توازن قائم نہیں رہ سکے گا، تو وائسرائے لارڈ کرزن نے ۱۹۰۵ء میں بنگال کی تقسیم کا اعلان کیا جس کی رُو سے مشرقی بنگال کا ایک ایسا صوبہ وجود میں آیا جس کے اندر مسلمانوں کی اکثریت تھی اور اُن کی ترقی کے امکانات روشن ہو گئے تھے۔ ہندوؤں نے اِس تقسیم کے خلاف دہشت گردی کی راہ اختیار کی۔ دھماکے ہونے لگے اور ریل کی پٹریاں اُکھاڑ دی گئیں۔ اِس پُرتشدد احتجاج کے سامنے برطانوی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور بنگال کی تقسیم اگلے ہی سال منسوخ کر دی گئی۔ تب مسلمانوں کے اندر اپنے حقوق اور اپنی جداگانہ شناخت کا شدید احساس پیدا ہوا اور ۱۹۰۶ء میں نواب آف ڈھاکہ سلیم اﷲ خاں کی اقامت گاہ پر آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی جس نے جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کیا جسے وائسرائے ہند نے معقول سمجھ کر منظور کر لیا اور مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ ۱۹۲۸ء میں نہرو رپورٹ میں موتی لال نہرو نے ہندوستان کے لئے جو دستوری خاکہ پیش کیا ، اُس میں مسلمانوں کے جداگانہ انتخابات کا مطالبہ شامل نہیں تھا۔ اِس رپورٹ کو متوازن بنانے کے لئے قائد اعظم نے ۱۴ نکات پیش کیے جو کانگریسی قیادت نے مسترد کر دیے جس پر کانگریس اور قائد اعظم کے راستے جدا ہو گئے اور یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ ہندو اکثریت مسلمانوں کو اپنا غلام بنا کے رکھنا چاہتی ہے۔

۱۹۳۷ء میں گیارہ صوبوں میں انتخابات ہوئے جن میں سے آٹھ صوبوں میں کانگریس نے حکومتیں قائم کیں اور اُسے اپنے ارمان پورا کرنے کا موقع مل گیا۔ اقتدار ملتے ہی حکم صادر ہوا کہ مسلمان آئندہ سے ہندی زبان سیکھیں گے اور اسکولوں میں بندے ماترم پڑھا جائے گا۔ بندے ماترم ہر اعتبار سے مسلمانوں کے عقائد اور تہذیبی اقدار کے خلاف تھا۔ اِس کے علاوہ گائے کی قربانی پر ہندوؤں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے اور مسجدوں کے سامنے نماز کے اوقات میں غل غپاڑہ کرنا اور شادیانے بجانا اُن کا معمول بن گیا۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں سے امتیاز برتا گیا اور اُنہیں معاشی طور پر پس ماندہ رکھنے کے منصوبے تیار کئے گئے۔ ان صوبوں کے اندر مسلم نوجوانوں کا دم گھٹنے لگا اور اُنہیں جائز حقوق سے محروم رکھنے کے بہانے تلاش کئے گئے۔ مسلم لیگ نے کانگریس حکومت کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کے بارے میں ’’پیر پور‘‘ اور ’’شریف‘‘ رپورٹس تیار کیں جن کے ذریعے ہولناک واقعات بڑے پیمانے پر سامنے آئے اور اُنہی تحقیقاتی رپورٹوں کی بنیاد پر مسلم لیگ نے ایک عظیم الشان ملک گیر اجتماع لاہور کے منٹو پارک میں منعقد کیا جس میں قائد اعظم نے قراردادِ لاہور کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان ہر اعتبار سے ایک قوم ہے جو اپنے لئے ایک جداگانہ وطن کا مطالبہ کرتی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں، کیونکہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد اور معاشرتی اقدار ہندو قوم سے بالکل مختلف ہیں۔ ہمارا کیلنڈر ، ہمارے ہیرو، ہماری تاریخ بالکل جدا ہیں۔ ہمارے معاشرتی اور تہذیبی رویے ایک جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں قوموں کے اندر ایک چیز بھی مشترک نہیں، اِس لئے ہم اُن علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، وہاں ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جو ہمارا حق ہے۔

قراردادِ لاہور کی ہندو قیادت نے زبردست مخالفت کی اور اُس نے قائداعظم کو ایک فرقہ پرست لیڈر قرار دیا۔ کانگریس نے انگریزوں کے ساتھ مل کر قراردادِ لاہور کی اسکیم کو ناکام بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ، مگر حالات نے ایک ایسا پلٹا کھایا کہ کانگریس کے برطانوی حکومت سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ ہوا یہ کہ ۱۹۴۲ء میں کانگریس نے ’’ہندوستان چھوڑو‘‘ کی تحریک شروع کر دی۔ یہ وہ دن تھے جب دوسری جنگِ عظیم زوروں پر تھی اور جاپان نے کلکتے پر ہوائی حملے شروع کر دیے تھے اور ہندوستان کی سلامتی کا مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اِس نازک مرحلے پر کانگریس انگریزوں سے ہندوستان چھوڑنے کا مطالبہ کر رہی تھی جبکہ مسلم لیگ قیادت نے ہٹلر کے خلاف برطانوی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ کانگریس کی پالیسی سے تنگ آ کر برطانوی حکومت نے صوبوں میں کانگریس کی حکومتیں ختم کر دیں جس پر قائد اعظم نے یومِ نجات منایا اور مسلم لیگ کے اندر تازہ روح پھونکنے کے لئے اُنہوں نے پورے ہندوستان کے دورے کیے اور ایک ایسی فضا تیار ہو گئی جس میں انگریز حکمرانوں کے لئے مسلم لیگ کی آواز پر دھیان دینا ضروری ہو گیا تھا۔ اِس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے ہندو کمیونٹی میں پُرتشدد گروپ پیدا ہوئے جن میں آر ایس ایس بہت نمایاں تھا۔ اُس نے اپنے جوشیلے نوجوانوں کو اسلحہ چلانے کے تربیتی مراکز قائم کیے۔ اُنہیں بستیوں پر حملہ کرنے ، گھروں کو جلا دینے اور لوگوں کی جان لینے کی تربیت دی جاتی تھی۔ تحریکِ پاکستان جوں جوں طاقت ور ہوتی گئی اور پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اﷲ کا نعرہ بلند ہونے لگا ، تو ماحول میں کشیدگی بڑھتی گئی۔ میں اُس وقت سرسہ ہائی اسکول (مشرقی پنجاب) میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ وہ لڑکے جن کے ساتھ ہم آٹھ سال سے پڑھتے آئے تھے ، اُن کے تیور بدلنے لگے۔ اُنہوں نے ہماری مسلمان بستیوں کو تاراج کرنے کی تربیت لینا شروع کر دی تھی۔ وہ ہمیں اچھوت سمجھتے تھے اور اُنہوں نے ہمیں اپنے گھروں میں لے جانا بند کر دیا تھا۔

ہمارے اسلاف جنہوں نے قائد اعظم کی قیادت میں حصولِ پاکستان کی جنگ سیاسی بنیادوں پر لڑی ، اُنہیں ہندوؤں سے ایک آزاد وطن حاصل کرنے پر کڑی سزائیں دیں۔ لاکھوں لوگ شہید کر دیے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں ہماری خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں اور آر ایس ایس نے آگ اور خون کی ہولی کھیلنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی تھی۔ ہجرت کرنے والے لٹے پٹے قافلوں پر درندے حملے کرتے اور بچوں کو نیزوں میں پرو دیتے۔ ہزاروں نوجوان لڑکیوں نے اپنی عزت بچانے کے لئے کنوؤں میں چھلانگیں لگا دی تھیں۔ ہماری ٹرین جب بھٹنڈہ جنکشن سے ہوتی ہوئی پاکستان کی سرزمین میں داخل ہونے لگی اور ہم نے بلوچ رجمنٹ کے فوجیوں کو دیکھا ، تو اﷲ اکبر کا نعرہ بلند ہوا۔ ہم سب سرزمینِ مقدس پر پہنچتے ہی اپنے رب کے حضور سجدۂ شکر ادا بجا لائے اور یوں محسوس کیا کہ ہم ایک مضبوط قلعے میں داخل ہو گئے ہیں جس کی فصیلیں ناقابلِ تسخیر ہیں۔ ۱۵ ؍اگست ۱۹۴۷ء کو دو آزاد ملک وجود میں آ چکے تھے جو فرقہ ورانہ فسادات اور خونخوار کشیدگی کا واحد حل تھا ، مگر ہندو ذہنیت کی پھنکار کم ہونے کے بجائے بڑھتی گئی اور جب اُس نے ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو فوجی مداخلت کے ذریعے پاکستان کا ایک بازو کاٹ ڈالا ، تو وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بڑے فخر سے کہا کہ ہم نے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ غلامی کا انتقام لے لیا ہے اور دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں بہا دیا ہے۔ مسلمانوں سے انتقام لینے کی ذہنیت آج بھی زندہ ہے جو ہمسائیگی کے تعلقات میں زہر گھول رہی ہے۔ عیار اور مکار ہندو قیادت نے پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے اور ممبئی میں دہشت گردی کے منصوبے خود تیار کیے جن کو وہاں کی عدلیہ اور میڈیا نے آخر کار بے نقاب کر دیا ہے، مگر سارا الزام پاکستان پر لگایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ چانکیہ کے ’’زریں اصولوں‘‘ کے مطابق ہو رہا ہے۔ نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے ، تو فسادات میں دو ہزار سے زائد مسلمان شہید کر دیے گئے۔ ایک صحافی نے اُن سے پوچھا کہ آپ کو مسلمانوں کے قتل پر دکھ تو ہوا ہو گا، تو سفاک مودی نے جواب دیا کہ آپ کی کار کے نیچے اگر کتے کا پلا آ جائے ، تو کچھ احساس تو ہوتا ہے۔ اب یہی صاحب بھارت کے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ اُنہوں نے انتخابات میں کامیابی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کے نتیجے میں حاصل کی ہے اور یہ بار بار کہا کہ ہم پاکستان کو سبق سکھا دیں گے اور اِس کا غرور خاک میں ملا دیں گے۔ مسلمانوں کو شدھی بنانے کی خبریں بھی بھارتی اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں اور نریندر مودی کے وزیروں نے نفرت انگیز تقریریں بھی کرنا شروع کر دی ہیں۔ مضمون کے شروع میں شامل کیا گیا نرانجن جیوتی کا خطاب بھی اسی تناظر میں ہے جس سے ہندو ذہنیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔اِن حالات کے پیشِ نظر ہم اپنے اسلاف کی بصیرت اور عظمت کو سلام کرتے ہیں کہ جنہوں نے انگریزوں اور ہندوؤں کی مخالفت کے باوجود ہمیں ایک آزاد وطن عطا کیا جو اسلام کا قلعہ اور آزادی کا محافظ ہے۔ ہمیں اپنے وطن کو عظیم تر بنانے کے لئے غیر معمولی جانفشانی اور جاں نثاری سے کام لینا اور بھارت کے مذموم ارادوں کو شکست سے دوچار کرنا ہو گا۔ اِس کے لئے سیاسی تدبر کے ساتھ ساتھ عسکری قوت کی اشد ضرورت ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

20
January

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ’’سوفٹ پاور‘‘ کسی ایک ملک یا قوم کی اجارہ داری نہیں ہے۔ بلکہ کوئی قوم بھی اپنی بہتر روایات‘ کلچر‘ سسٹم‘ ترقی اور آزادی کی پرکشش علامتوں کے ذریعے دنیا کے معاشروں کو اپنی جانب متوجہ اور راغب کر سکتی ہے۔ اب روائتی جنگ کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ان غیرروائتی طریقوں سے نہ صرف آگاہی ضروری ہے بلکہ ایک بہتر اور پرامن معاشرہ تشکیل دے کر دنیا کے دوسرے ممالک کے لئے بھی یقیناًبہت سارے لفظوں سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ آج کے موجودہ دور میں ضرورت ہے کہ پاکستان اپنی ’’سوفٹ پاور‘‘ کی صحیح شناخت کرے اور اسے ترویج دے کر سفارت کاری کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کرے۔

پاور یا طاقت اس استعدادکا نام ہے جو کسی شخص‘ گروہ یا معاشرے کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے‘ سوچنے اور عمل کرنے میں استعمال کی جائے۔ اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ قدیم بادشاہی نظام کے اندر یہ استعداد رعایا کو بادشاہی نظام کی بالادستی کو تسلیم کروانے کے لئے استعمال کی جاتی تھی۔ جہاں بادشاہ حاکم وقت ہوتا‘ وہیں پر اس کی رعایا کو مخصوص طرز زندگی‘ اقتدار و افکار اور تہذیب و تمدن اپنانے کی اجازت ہوتی جو حاکم وقت کی طاقت کو مزید تقویت دیتے۔

Imperialism

(استعماریت)

دور کا سب سے بڑا محرک اسی طاقت کا استعمال تھا جس کی بدولت مغربی دنیا سے اٹھنے والی کثیر النسل سلطنتیں اقوام عالم پر قابض ہوئیں ۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب دنیا جدید ہتھیاروں سے لیس ہو رہی تھی۔ جدیدیت کا یہ سلسلہ گو کہ یورپ کے چند ممالک تک محدود تھا لیکن بعد میں آنے والے وقتوں میں یہ عمل سرحدی حدود کا پابند نہ رہ سکا۔ اس کی بنیادی وجہ وہ ذہنی کیفیت یا انسانی فطرت تھی جو انسانی تاریخ میں ایک مخصوص نظام کو تمام دنیا میں لانے کا سبب بنی۔

یورپ کے اندر صنعتی انقلاب برپا ہونے کے پیچھے سب سے بڑا محرک حصول طاقت تھا جہاں جدید خیالات نے جنم لیا وہیں پر ان کی نفی بھی ہوئی۔ اس کا سب سے بڑا نتیجہ گروہی شناخت پر منتج ہوا تھا جو بعد میں نسلی اور پھر قومی شناخت کا محور بن گیا۔ اس قومی شناخت سے یورپی سلطنتوں میں ریاستوں کا وجود قائم ہوا جو بعد میں مقابلے کے رجحان میں تبدیل ہو گیا۔ اس مقابلے کے رجحان کا بڑا مقصد طاقت کا حصول تھا۔ جس کے لئے جدید صنعتی انقلاب میں جنگی جنون کا عنصر نمایاں تھا۔ ہتھیاروں کی دوڑ میں ہر ملک سبقت اور برتری کے لئے پوری کی پوری قومی معیشت اور محنت کو بروئے کار لاتے ہوئے خطے کی اجارہ داری پر گامزن ہو گیا۔ اس کا مقصد طاقت کا حصول تھا جو بعد میں بیسویں صدی کے آغاز میں جنگ عظیم کی صورت میں عفریت بن کے تمام یورپی خطے کو چاٹ گیا۔ لاکھوں جانوں کا ضیاع ہوا اور اس سے دوگنا اپاہج بنے تو دوسری طرف ایک صدی سے پروان چڑھتی قومی معیشتیں تباہ ہو گئیں۔ طاقت کے حصول پر مبنی یہ جنگی جنون پورے یورپ کو کمزور کر گیا۔

طاقت کا حصول دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی جاری رہا۔ یہ سرد جنگ کا زمانہ تھا اور طاقت کا محور تبدیل ہو چکا تھا۔ لیکن اس کے حصول کے اطوار پوری طرح نہیں بدلے تھے۔ طاقت کا اصل سرچشمہ جنگ کے میدان میں برتری کا حصول تھا جو ہتھیاروں سے بڑھ کر ایٹمی ہتھیاروں اور پھر بعد میں خلائی جنگ تک پہنچ گیا۔

اس تمام تر تاریخی پس منظر کا مقصد قارئین کو وہ بات سمجھانا ہے جو اس بحث کا اصل موضوع ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے پر طاقت اور حصول طاقت کے منصوبوں میں تبدیلی رونما ہوئی۔ 1989میں ایک امریکی پروفیسر Joseph Nye نے طاقت کی ایک نئی اصطلاح کی بنیاد ڈالی جس کو سوفٹ پاور کا نام دیا گیا۔ اصطلاح کا مفہوم منصوبوں کی حد تک بدلا لیکن اس کا مقصد وہی تھا جو ماضی قریب میں رائج ہو چکا تھا۔ سو فٹ پاور کا بنیادی مقصد آدھی صدی سے جاری امریکی اجارہ داری کو برقرار رکھنا تھا۔ ایک طرف جدید ریاستیں ہتھیاروں سے لیس تھیں تو دوسری طرف ان ہتھیاروں کا استعمال دونوں اطراف کے لئے نقصان دہ تھا۔ چنانچہ امریکہ نے اپنی قوت اور اثر رسوخ کو قائم کرنے کے لئے مختلف منصوبوں پر کام شروع کیا۔

Joseph کے مطابق امریکی طاقت کا اصل سرچشمہ جنگ اور معیشت تھے۔ مگر اب دوسری ریاستیں معاشی اور جنگی میدانوں میں امریکہ کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ مزید برآں مختلف کثیر الریاستی کارپوریشنز اور Inter Government Organisations (IGOs) and Non Government Organisations(NGOs)کا قیام ریاستوں کے بین الاقوامی کردار کو مزید کمزور کر رہا ہے۔ دوسری طرف ریاستوں کے اندر جنم لینے والا سیاسی شعور اور مقامی شناخت اس قدر پراثر ہیں کہ طاقت کے ذریعے ان پر کنٹرول مشکل اور مہنگا ہو چکا ہے۔ بین الریاستی معاشی تعاون اور تجارت کی وجہ سے اس بات کا غالب امکان ہے کہ ہر وہ ریاست جو جنگ چاہے گی‘ نقصان اٹھائے گی۔ مثال کے طور پر بھارت اور چین کا تجارتی حجم اتنا زیادہ ہے کہ بہت سے سرحدی مسائل کے باوجود دونوں اطراف تجارتی روابط سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اسی طرح یورپ کے تمام ممالک اپنے سرحدی مسائل کو بھول کر تجارتی اور معاشی روابط اتنے مضبوط بنا چکے ہیں کہ طاقت کا استعمال تمام ریاستوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر معاشی تعاون میں تمام ریاستوں کا فائدہ اور جنگ میں تمام کا نقصان ہے تو پھر کون سے اقدامات ایک ریاست کی برتری میں اہم کردار ادا کریں گے جس سے نہ جنگ کا خطرہ ہو اور نہ معاشی تعاون خراب ہونے کا اندیشہ ہو ۔ Joseph Nye اس کا جواب امریکی تمدن میں ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اکیسویں صدی میں امریکہ اپنی طاقت قائم رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی جمہوری روایات‘ قومی تمدن‘ ٹیکنالوجی میں برتری اور بین الاقوامی اداروں کا استعمال عمل لانا ہو گا۔

اگر سوفٹ پاور کے عملی مضمرات پر نظر ڈالی جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ برطانوی سامراج نے بھی نہ صرف ہارڈ پاور بلکہ سوفٹ پاور کی بدولت پوری دنیا میں اپنا تسلط قائم کیا تھا‘ جہاں کہیں بھی تاج برطانیہ کی حکومت تھی‘ وہاں ہر ایک صدی گزر جانے کے باوجود بھی تعلیمی‘ قانونی‘ معاشی اور معاشرتی اقدار کے اثرات موجود ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آج بھی انہی نظریات کی پیروی کی جاتی ہے جو انگریز کے زمانے میں نافذ العمل تھے۔ مثال کے طور پر برصغیر پاک و ہند‘ جو آج پاکستان ‘ بھارت اور بنگلہ دیش پر مشتمل ہے‘ میں تعلیمی نصاب‘ زبان‘ قانون‘ حکومتی طرز عمل‘ فوجی نظام اور نوکر شاہی کے اصول وہی ہیں جو تاج برطانیہ کے دور سے چلے آ رہے ہیں۔

اکیسویں صدی میں اس اصطلاح کا عملی مظاہرہ اگر امریکہ کے دنیا پر کنٹرول کی صورت میں دیکھنا ہے تو پھر ہمیں بین الاقوامی برادری کے اندر امریکی کردار پر نظر دوڑانی ہو گی۔ آج تمام بین الاقوامی مسائل میں امریکہ کا کردار نہ صرف نمایاں ہے بلکہ ان کے مسائل کے حل کے لئے بھی اس کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی اداروں پر امریکہ کا اثر و رسوخ ہے جہاں UN ‘ IMFاور ورلڈ بنک جیسے اداروں کا کنٹرول امریکہ کے پاس ہے۔ وہیں پر یہ امریکی پالیسیوں کا عکس ظاہر کرتے ہیں۔ ان تمام اداروں کے نیچے کام کرنے والے ذیلی ادارے نہ صرف امریکی امداد پر چلتے ہیں بلکہ دنیا کے اندر امریکی تہذیب و تمدن ‘معاشی منصوبوں‘ سائنس و ٹیکنالوجی‘ سیاسی نظریات اور معاشرتی اقدار کی ترویج کرتے ہیں۔ ان تمام تر منصوبوں کا اصل منبع امریکی قوم ہے‘ جو اس مقصد کے لئے امریکی حکومت کو ٹیکس فراہم کرتی ہے تاکہ امریکہ کے قومی نظریات کو پوری دنیا کے اندر پھیلایا جائے۔اگر عملی میدان میں امریکی اثر و رسوخ کا موازنہ کیا جائے تو بین الاقوامی میڈیا اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کی بدولت عالمی قانون سازی کی جاتی ہے۔ مثلاً عراق جنگ کے دوران SKY NEWs, BBC, CNNاور دیگر نے دنیا کو یہ باور کروایا ہے کہ صدام حسین کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں جو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ عراق جنگ کے آغاز سے ہی یہ بات ثابت ہو گئی کہ صدام کے پاس ایٹمی ہتھیار کا وجود نہ تھا اور یہ کہ اصل مقصد تیل کے ذخیروں پر قبضہ کرنا تھا۔

اسی طرح امریکی فلم انڈسٹری Hollywood امریکی سوفٹ پاور کا ایک ایسا ہتھیار ہے جس کی بدولت امریکی نظریات اور جدیدیت کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ Zero Dark Thirty فلمی دنیا کی ایک ایسی مثال ہے جس میں Al-Qaeda اور اسامہ بن لادن کو خطرناک ترین دشمن دکھایا گیا۔ اسامہ بن لادن کا کمپاؤنڈ پاکستان کے اندر دکھایا گیا جہاں پر ایک Covert آپریشن کے ذریعے اسامہ کی ہلاکت عمل میں آئی۔ بعد میں رونما ہونے والے واقعات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس فلم کا اصل مقصد امریکی عوام میں افغان جنگ کی جیت کا تاثر پیدا کرنا تھا۔ اگر دنیا میں پھیلتے امریکی امداد کا جائزہ لیا جائے تو سوفٹ پاور کی اصطلاح مزید آسان ہو جائے گی۔ امریکی امدادی ادارہ USAIDتقریباً 30سے زائد ممالک میں اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے جن میں روس بھی شامل ہے۔ اس ادارے کے تحت مختلف ممالک معاشی‘ انتظامی‘ سیاسی‘ تعلیمی او رمعاشرتی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مقامی لوگوں کو امریکی نظام سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ اس کا سب سے نمایاں پہلو وہ فکری بالیدگی ہے جو مقامی معاشروں کے اندر کی جاتی ہے۔ جس کی بدولت مقامی معاشروں میں امریکی تمدن کو فروغ ملتا ہے اور امریکی پالیسیوں کا مقصد سمجھ میں آ جاتا ہے۔

الغرض سوفٹ پاور کا اصل مقصد پاور کی تعریف میں چھپا ہے جس کے مطابق ایک مخصوص فرد‘ گروہ یا قوم سے وہ کام کروانا ہے جو آپ چاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ’’سوفٹ پاور‘‘ کسی ایک ملک یا قوم کی اجارہ داری نہیں ہے۔ بلکہ کوئی قوم بھی اپنی بہتر روایات‘ کلچر‘ سسٹم‘ ترقی اور آزادی کی پرکشش علامتوں کے ذریعے دنیا کے معاشروں کو اپنی جانب متوجہ اور راغب کر سکتی ہے۔ اب روائتی جنگ کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ان غیرروائتی طریقوں سے نہ صرف آگاہی ضروری ہے بلکہ ایک بہتر اور پرامن معاشرہ تشکیل دے کر دنیا کے دوسرے ممالک کے لئے بھی یقیناًبہت سارے لفظوں سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ آج کے موجودہ دور میں ضرورت ہے کہ پاکستان اپنی ’’سوفٹ پاور‘‘ کی صحیح شناخت کرے اور اسے ترویج دے کر سفارت کاری کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کرے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

20
January

طبیعیات کے نوبل انعام یافتہ سائنس دان سٹیون وینبرگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے 40 برسوں میں طبیعیات یا آسٹرونومی کے موضوع پر کوئی ایک بھی مقالہ ایسا نہیں دیکھا جو کسی مسلمان ملک میں بسنے والے سائنسدان نے لکھا ہو اور قابل مطالعہ ہو۔پتا نہیں کس نے سٹیون وینبرگ کو نوبل انعام دے دیا ہے۔ان صاحب کو اندازہ ہی نہیں کہ مقالہ لکھنے سے کہیں زیادہ مشکل کام سازشی تھیوریوں کو بے نقاب کرنا ہے اور ہماری یونیورسٹیوں کے دانشور سال میں کم از ڈیڑھ درجن ایسی تھیوریوں کا پردہ چاک کرتے ہیں جن کا مقصد عالم اسلام کو بدنام کرنا ہو۔میرے خیال میں پنجاب یونیورسٹی کو سہ ماہی بنیادوں پر ’’سازشی تھیوریوں کا ایک جرنل‘‘ شائع کرنا چاہئے تاکہ مسلم ممالک میں جو قحط الرجال پایا جاتا ہے، اس جرنل کی اشاعت کے بعدوہ ختم ہوسکے۔

اس وقت پوری مسلم دنیا میں ایک ہزار لوگوں کے لئے صرف 9سائنس دان ،انجینئر اور تکنیک کار ہیں جبکہ باقی دنیا کی اوسط اس ضمن میں 41 ہے۔ ان مسلمان ممالک میں کل 1800 یونیورسٹیاں ہیں لیکن ان میں سے فقط 312 ہی ایسی ہیں جن کے محققین کے مقالے کسی جرنل میں شائع ہوتے ہیں ،باقی مقالے مسلم تنوروں پر دستیاب ہیں اور روٹیاں لپیٹنے کے کام آتے ہیں۔پوری مسلم دنیا کی 1.6 ارب کی آبادی میں صرف دو سائنس دانوں کو اب تک نوبل انعام مل سکا ہے ،ایک کو 1979 میں طبیعیات اور دوسرے کو 1999 میں کیمیا کے شعبے میں۔ مسلم ممالک کا پوری دنیا کے سائنسی مواد میں کُل حصہ فقط ایک فیصد ہے۔جبکہ دوسری طرف صرف دو ممالک،سپین اور بھارت کا عالمی سائنسی مواد میں حصہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔مزید اکیلا سپین سال بھر میں اتنی کتب کا ترجمہ کرتا ہے جو پوری عرب دنیا پچھلے ایک ہزار سال میں نہیں کر سکی۔

عرب دنیا اس وقت عالمی آبادی کا 5فیصد ہے جبکہ کتب کی اشاعت میں اس کا حصہ فقط 1.1فیصد ہے۔ 1980 سے 2000 کے درمیان اکیلے کوریا جیسے ملک نے 16,328 patentمنظور کئے جبکہ 9 عرب ممالک نے کل ملا کر فقط 370 اور ان میں سے بھی زیادہ تر غیر ملکیوں کا کام تھا۔1989 کی ایک تحقیق کے مطابق صرف امریکہ میں ایک سال میں 10,481 ایسے سائنسی مقالے شائع ہوئے جن کا تحقیقی میدان میں حوالہ دیا گیا جبکہ پوری عرب دنیا میںیہ تعداد محض 4تھی۔

یہاں بریک پر پیر رکھتے ہیں اور تھوڑی دیر کو ماضی میں جھانکتے ہیں۔آٹھویں سے تیرھویں صدی۔رازی وہ مسلمان سائنس دان تھا جس نے طب کا انسائیکلو پیڈیا تحریر کیا جو 23 جلدوں پر مشتمل تھا۔ہمارے ملک کے سارے دانشور اکٹھے ہو جائیں تو بھی انہوں نے اتنی کتابیں نہیں پڑھی ہوں گی جتنی اس انسائیکلو پیڈیا کے صفحات بنتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود یہ دانشور اپنے آپ کو رازی سے زیادہ قابل سمجھتے ہیں۔ابن سینا نے ’’القانون فی الطب‘‘ جیسی کتاب تحریر کی جو 14 جلدوں پر محیط تھی اور طب کے شعبے کی مستند ترین کتاب سمجھی جاتی تھی۔لاطینی زبان میں ترجمے کے بعد اس کتاب کو 6صدیوں تک مغرب نے سینے سے لگائے رکھا۔جبکہ ہم نے اس کی جگہ جہالت کو جپھی ڈال لی اور یوں مطمئن ہو گئے جیسے آسمان سے نئے ابن سینا خود بخود ٹپکیں گے اور ہماری کھوئی ہوئی علمی میراث واپس لے آئیں گے۔ایک اور عظیم مسلم سپوت ’’الفارابی‘‘ جس کے بار ے میں کہا جاتا ہے کہ ارسطو کے بعد وہ دوسرا عظیم ترین استاد تھا۔اور پھر البیرونی جس نے تقریباً ہر سائنسی شعبے میں  13,000 صفحات پر مشتمل 146 مقالے تحریر کئے۔یہ باتیں فقط سوچنے سے ہی پسینے چھوٹ جاتے ہیں کہ یہ عظیم ترین لوگ کیسے اتنا علمی اور تحقیقی کام سر انجام دیتے تھے اور، وہ بھی فیس بک اور یو ٹیوب کے بغیر۔غالباً اسی لئے یہ کام ہو گیا کہ اس زمانے میں وقت ضائع کرنے والی یہ مشینیں ایجاد نہیں ہوئیں تھی۔اور ہاں ابن رشد کے بغیر تو بات مکمل ہی نہیں ہو سکتی جس نے نہ صرف ارسطو پر کمنٹری تحریر کی بلکہ اپنی زندگی میں 20,000 صفحات لکھے جن میں فلسفے سے لے کر طب اور حیاتیات تک سب شامل ہے۔

عرب یا مسلم دنیا ،جو بھی آپ کہیں ،اپنے اس سنہری دور پر فخر کرنے پر حق بجانب ہے مگر مجھے اس منطق کی سمجھ نہیں آتی کہ ہم یہ واویلہ کیوں کرتے ہیں کہ یہ تمام علمی کارنامے ہماری sole propertyتھی اور مغرب نے اسے چرایا لیا یا پھر مغرب والے اس بات کا اعتراف نہیں کرتے کہ آج کل کی ترقی مسلم سائنس دانوں کی مرہون منت ہے۔دونوں ہی مغالطے ہیں۔خلیفہ ہارون الرشید نے بغداد میں ’’بیت الحکمت‘‘ قائم کیا جہاں دنیا جہان کے علوم کا عربی میں ترجمہ کیا گیا اور یوں ترجمے کی تحریک کا آغاز ہوا۔ بیت الحکمت میں یونانی ،ایرانی اور قدیم ہندی علوم کے ترجمے کئے جاتے جن میں فلسفہ، طب،حیاتیات،طبیعیات ،فلکیات ،جغرافیہ ،کیمیا سبھی کچھ شامل تھا۔افلاطون،ارسطو، فیثاغورث وغیرہ کی کتب کے ترجمے بھی اسی دور میں ہوئے جن سے عرب محققین نے استفادہ کیا اور یوں مسلم ’’گولڈن ایج‘‘ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں نے ’’سکریچ‘‘ سے کام شروع کیا اور آج کل جو بھی ایجاد ہے وہ مسلمانوں کی مرہون منت ہے۔ جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو ان سے یہ علمی شمع مغر ب نے حاصل کر لی، بالکل اسی طرح جیسے مسلمانوں نے یونانیوں سے لی تھی اور پھر اس علم میں حیرت انگیز ترقی کر کے آج دنیا کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں ہم مریخ پر قدم رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

یہ عجیب منطق ہے کہ مغرب نے ہمارا علم چرا کر اپنے نام لگا لیا۔یہ علم تھا یا کسی سیٹھ کی تجوری میں رکھی ہوئی سونے کی ڈلیاں کہ کوئی چرا کر لے گیا۔اس وقت ہمارا علمی ورثہ دنیا میں جہاں کہیں بھی موجود ہے‘ اسے مغربی دنیا نے ہی سنبھال کر رکھا ہے، ہمارے ذمے یہ کام ہوتا تو کب کے اسے ردی میں بیچ کر چار آنے کما کر فارغ ہو چکے ہوتے۔

مسلمانوں کے اس سنہری دور کے زوال پذیر ہونے کی ایک بڑی وجہ آزاد فکر پر پابندی ہے۔ مسلمان دانشوروں کو اپنے علم پر اس قدر قدرت حاصل تھی کہ انہیں کسی بھی قسم کے موضوع پر بحث کا کوئی خوف نہیں تھا۔اس دور میں جن مسائل پر گفتگو ہوتی تھی ان کا تصور بھی آ ج کل کی مسلم دنیا میں محال ہے۔وہ مسلمان سوال پوچھنے والوں کو یہ کہہ کر چپ نہیں کرواتے تھے کہ یہ کفر ہے۔جونہی مسلم دنیا نے آزاد سوچ پر پابندی لگائی ،علم اور تحقیق کا کام رک گیا۔آج کل کے نام نہاد دانشور اور مذہبی سکالرز (ما سوائے اکا دکا ناموں کے) کے پاس چونکہ علم کا فقدان ہے‘ لہٰذا وہ آزاد فکر کو پنپنے نہیں دینا چاہتے۔ ان دولے شاہ کے چوہوں کے پاس آج کل کے ماڈرن ذہن میں اٹھنے والے سوالات اور خدشات کا جواب ہی نہیں۔یہ دور سٹیم سیل،کلوئننگ، گاڈ پارٹیکل اور جنوم کا دور ہے، اس دورمیں اٹھنے والے سوالات کو ڈانٹ ڈپٹ کر چپ نہیں کروایا جا سکتا۔

ہم اپنی کھوئی ہوئی علمی میراث کا ماتم تو کرتے ہیں جس کے بل بوتے پر ہم نے دنیا میں حکمرانی کی تھی‘ لیکن افسوس کہ صرف ماتم سے کا م نہیں چلا کرتے! نوٹ:کالم میں بیان کئے گئے اعداد و شمار ’’ The New Atlantis‘‘ میں شائع شدہ ایک مضمون "Why the Arab World Turned Away from Science" سے لئے گئے ہیں جسے ہلیل اوفک نے تحریر کیا ہے۔

20
January

دسمبر 2014کے بعد خطے بالخصوص افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستانی علاقوں کی سیکیورٹی اور دیگر حالات کیسے ہوں گے؟ اس سوال نے ہر کسی کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس بات کا دوسروں کے علاوہ خود افغان حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی احساس ہے کہ سال 2015 اس جنگ زدہ ملک کے لئے کئی حوالوں سے خطرناک سال بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ افغان لیڈر شپ کے خدشات کو لندن کانفرنس کے دوران بھی قدم قدم پر محسوس کیا گیا تاہم یہ امر قابل ستائش ہے کہ پاکستان‘ برطانیہ‘ امریکہ اور بعض دیگر اہم ممالک نے کانفرنس کے دوران ماضی کے برعکس اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس بار 90کی دہائی کی طرح افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور اس کی امداد اور حمایت جاری رکھی جائے گی۔ لگ یہ رہا ہے کہ کافی تلخی اور تعطل کے بعد اب ایک نئی حکمت عملی کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی کے معاملات عملاً نیٹو اور ایساف کی فورسز کے ہاتھوں میں رہے اور افغان ریاست اپنی سیکیورٹی کے لئے دوسروں کی محتاج رہی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ تیرہ چودہ سال کی عالمی موجودگی کے باوجود افغانستان کی داخلی سیکیورٹی اور استحکام کو اب بھی اطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2014 کے دوران کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں 370کے لگ بھگ حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ صرف گزشتہ تین ماہ کے دوران تقریباً 40بار کابل جیسے شہر کو حملوں کا نشانہ بننا پڑا۔ دوسرے علاقے بھی حملوں کی زد میں رہے۔ افغانستان میں الیکشن کے بعد جب اقتدار کی منتقلی کے معاملے پر اشرف غنی اور عبداﷲعبداﷲ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی اور اس صورت حال نے کافی طوالت اختیار کی تو طالبان نے ان حالات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے حملوں کی تعداد بڑھا دی جس کے باعث فورسز کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کشیدگی کی صورت حال کے باعث افغان فورسز‘ پولیس اور انٹیلی جینس کی باہمی اعتماد سازی اور رابطہ کاری کو بھی نقصان پہنچا کیونکہ فورسز میں اکثریت نان پشتونوں کی ہے اور یہ اکثریت غیر اعلانیہ طور پر عبداﷲعبداﷲ کو سپورٹ کر رہی تھیں۔ لسانی رویوں کے اثرات دوسرے ریاستی اداروں پر بھی اثر انداز ہونے لگے اور شاید یہی وجہ تھی کہ امریکہ اور برطانیہ کو نئی حکومت کے فارمولے کے لئے ہنگامی طور پر خود میدان میں کودنا پڑا کیونکہ حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے اور افغان قیادت تصادم کی راہ پر گامزن تھی۔ افغان عوام نے تمام تر خدشات اور خطرات کے باوجود الیکشن میں ریکارڈ ووٹ ڈال کر ا پنا فرض پورا کیا تھا مگر قیادت نے انتخابات کے نتائج کے معاملے پر بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی عوام کو ضرورت تھی۔ یہ طرز عمل نہ صرف افغانوں کے لئے ایک غیرسنجیدہ رویّے کا پیغام دے رہا تھا بلکہ اس نے امریکہ اور دوسرے اتحادی ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا اور ان کو محسوس ہونے لگا کہ تیرہ چودہ سال کی محنت اور سرمایہ کاری کے باوجود اگر صورت حال پھر بھی ایسی ہی رہی تو اس کے بہت خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہی۔ بلاشبہ یہ چند مہینے بہت مایوس کن ثابت ہوئے۔

ہنگامی رابطہ کاری کے بعد افغانستان کے دو بڑے حریفوں یعنی اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کو شراکت اقتدار کے ایک فامولے پر متفق تو کرایا گیا تاہم اس وقت بھی صورت حال یہ ہے کہ دوڈھائی مہینے کا عرصہ گزرنے کے باوجود مرکزی کابینہ کے قیام کو ممکن نہیں بنایا جا سکا اور اس اہم ترین مرحلے کے دوران بھی افغانستان کو ایڈہاک پر چلایا جا رہا ہے۔ شراکت اقتدار کے فارمولے کے بعد صدر اشرف غنی نے سعودیہ‘ چین‘ پاکستان اور برطانیہ جیسے ممالک کے دورے کئے تاہم ان تمام دوروں کے دوران وہ کابینہ جیسی اہم ضرورت کی موجودگی سے محروم رہے اور معاملات کا سارا بوجھ وہ اپنے کندھوں پر ڈال کر آگے بڑھتے رہے۔ لندن کانفرنس میں وہ 150 افراد پر مشتمل وفد لے کر گئے تھے۔ ان 150افراد میں سے اکثریت کا تعلق این جی اوز سے تھا۔ افغانستان کی این جی اوز کی تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ اپنی رپورٹوں میں افغان سیاستدانوں کے بعد این جی اوز کو کرپشن کاسب سے بڑا ذریعہ بتا چکی ہے اور دیگر رپورٹس میں افغان سیاستدانوں کے بعد این جی او سیکٹر اپنی کرپشن‘ غلط بیانی اور بدانتظامی کے باعث دنیا کا بدترین سیکٹر ہے اور اسی سبب بعض حلقے ان این جی اوز کو افغانستان کے لئے طالبان سے بھی بڑا خطرہ سمجھ رہے ہیں۔

لندن کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں جناب اشرف غنی نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ان دفاعی، ادارہ جاتی اور معاشی مسائل اور ایشوز پر کھل کر اظہار خیال کیا جو کہ ان کے ملک کو درپیش ہیں۔ انہوں نے کھلے دل سے بعض ان مسائل کا اعتراف بھی کیا جو ریاست اور سیاست کے باعث افغانستان کے مستقبل کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ جناب اشرف غنی نے پاکستان کے کردار اور کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان کی شرکت اور یقین دہانیوں کو بطور خاص بہت سراہا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان ایک مستحکم اور پرامن افغانستان کے قیام کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر ے گا۔ انہوں نے اس موقع پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تیرہ برس کے دوران طالبان کے ساتھ جنگ میں نیٹو اور ایساف کے 3400فوجی ہلاک جبکہ 30,000 کے لگ بھگ زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ان فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ حالیہ معاہدے کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی کے لئے اپنی معاونت جاری رکھے گاجبکہ عالمی برادری معاشی ترقی اور معاشرتی استحکام کی مد میں مدد فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اور عبداﷲعبداﷲ بہت جلد کابینہ تشکیل دے دیں گے۔

اعداد و شمار سے قطع نظر اصل حقیقت یہ ہے کہ سال 2001سے اب تک افغانستان میں نیٹو اور ایساف کے تقریباً 6ہزار فوجی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ان میں اکثریت امریکیوں کی ہے جبکہ طالبان کے حملوں اور مقابلوں کے دوران ایک رپورٹ کے مطابق افغان فورسز اور پولیس کے 25,000 سے40,000جوان مارے جا چکے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق عالمی اور افغان فورسز نے گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران تقریباً 95,000طالبان مار ڈالے ہیں جو فورسز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ بہرحال سب سے بڑا ایشو اب بھی یہی ہے کہ 2015اور اس کے بعد کا افغانستان کیسے ہو گا اور عالمی علاقائی طاقتوں کا کردار کس نوعیت کا ہو گا۔ جب تک ان سوالات کا جواب نہیں ڈھونڈا جاتا، ایک مؤثر خاکہ نہیں بن سکے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان، القاعدہ، داعش اور ان کے اتحادی جنوری کے بعد پوری شدت کے ساتھ حملہ آور ہوں گے تاکہ افغان حکومت اور فورسز کی صلاحیت کا امتحان لینے کے علاوہ عالمی سطح پر یہ پیغام بھی دیا جائے کہ وہ خطے کے عوام اور ریاستوں کو اب بھی چیلنج کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعض حلقوں کا موقف ہے کہ نئی عالمی و علاقائی صف بندی کے بعد انتہاپسندوں کے پاس کسی بڑی مزاحمت کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق طالبان جنوری اور اس کے بعد کے دو تین مہینوں کے دوران بھرپور حملوں کی پلاننگ تو کر چکے ہیں تاہم یہ حملے افغانستان پر قبضے کے لئے نہیں بلکہ مجوزہ مذاکرات کے دوران اپنی اہمیت اور طاقت منوانے کے لئے کئے جائیں گے۔ دوسری جانب افغان فورسز کی تعداد بھی اب ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی حالیہ کوششوں اور اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے حالات افغانستان کے مستقبل پر بہت اچھے اثرات مرتب کریں گے۔ ان صاحب الرائے حلقوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اب پہلے والی تلخی اور دوری نہیں رہی اور اس بات کے امکانات اب یقین میں تبدیل ہو رہے ہیں کہ دونوں ہمسایہ اور متاثرہ ممالک مستقبل میں ایک نئے تعلق کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔

سینئر صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق افغان حکومت کی اندرونی کشمکش، طالبان کی قوت‘ حملوں اور مورال میں اضافے کی وجہ بنی ہے جبکہ ریاستی اداروں کی غیرفعالیت بھی طالبان کو فائدہ دے رہی ہے۔ یوسفزئی کے مطابق وزارت داخلہ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور آرمڈفورسز کے درمیان اس سطح کی انڈر سٹینڈنگ اور کوآرڈی نیشن نظر نہیں آرہا جس کی ضرورت ہے۔ اگر ان اندرونی عوامل اور کمزوریوں پر قابو نہیں پایا گیا تو ریاست کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ سمیع یوسفزئی نے یہ بھی بتایا کہ شمالی وزیرستان کے آپریشن کے خوف اور ہلاکتوں سے بچنے کے لئے بے شمار طالبان سرحد پار کر کے افغانستان چلے گئے۔ جنہوں نے افغان طالبان کے لئے ایک بونس کا کام دیا اگر دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے انڈرسٹینڈنگ ہوتی تو صورت حال کافی مختلف ہوتی۔ بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی حالیہ کوششوں اور اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے حالات افغانستان کے مستقبل پر بہت اچھے اثرات مرتب کریں گے۔ ان صاحب الرائے حلقوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اب پہلے والی تلخی اور دوری نہیں رہی اور اس بات کے امکانات اب یقین میں تبدیلی ہو رہے ہیں کہ دونوں ہمسایہ اور متاثرہ ممالک مستقبل میں ایک نئے تعلق کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اشرف غنی سابق صدر جناب حامد کرزئی کے مقابلے میں الزام تراشیوں اور عالمی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے پڑوسی ممالک اور ریجنل پاورز کے ساتھ نہ صرف اچھے تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں بلکہ وہ پاکستان جیسی ان قوتوں کے اہم کردار کے بھی معترف ہیں جن پر افغانستان ماضی میں مسلسل الزامات لگاتا رہا ہے۔ اشرف غنی کے دورہ جی ایچ کیو کو ان کی پالیسی اور نیک خواہشات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جبکہ افغان فورسز کی تربیت پر آمادگی اور یادگار شہداء پر حاضری کے ان کے طرز عمل اوراقدامات کو بھی پاکستان کے اندر طاقتور حلقوں میں بہت سراہا گیا۔ دورہ پاکستان کے دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف ‘ وزیراعظم نوازشریف اور سیاسی لیڈر شپ نے جناب اشرف غنی کا جس انداز میں خیرمقدم کیا اور افغان صدر نے اس گرم جوشی کے جواب میں جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا دونوں ممالک کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے فوراً بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دورہ امریکہ کے دوران دہشت گردی اور پاک افغان تعلقات پر جس واضح اور دوٹوک موقف کا اظہار کیا اس پر بھی امریکہ متعدد دیگر ممالک اور افغانستان کے اندر بڑے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا گیا۔ امریکہ کی جانب سے اس بات کے اعتراف نے اعتماد سازی میں اور بھی اضافہ کیا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے علاوہ حقانی نیٹ ورک اور بعض دیگر گروپ بھی بڑی حد تک بے دخل یا کمزور ہو گئے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آپریشن کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں۔ تینوں ممالک کے اندر چند ہی ہفتوں میں اتنی بڑی پیش رفت اس لئے ممکن ہوئی کہ نئی افغان قیادت اور پاکستانی قیادت ماضی کی غلطیوں کے بجائے مستقبل کے خدشات اور امکانات کا ادراک کر چکی ہیں اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس تمام پراسس کو تینوں ممالک کے عوام کے علاوہ چین‘ ایران اور روس جیسے ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے پشتون لیڈر شپ کے علاوہ شمال کی افغان قیادت کو بھی اعتماد میں لے رکھا ہے جس کے باعث افغان اسٹیبلشمنٹ کے اندر پاکستان کے بارے میں موجود خدشات اور شکایات کم ہوتی جا رہی ہیں۔ افغان حکومت اگرچہ اب بھی اندرونی بحرانوں کی زد میں ہے تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خارجہ پالیسی کے معاملات پر اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کے درمیان غیرمعمولی ہم آہنگی موجود ہے اور پاکستان عرصہ دراز کے بعد بہت سی ایسی تبدیلیاں لے آیا ہے جن کا افغانستان مطالبہ اور تقاضا کرتا آ رہا تھا۔

معروف صحافی اور اینکر سلیم صافی زیر بحث ایشوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ برسوں کی تلخیاں ہفتوں یا مہینوں میں ختم نہیں ہوا کرتیں تاہم یہ بات یقیناًخوش آئند ہے کہ ماضی کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان وہ دوری اور تلخی نہیں رہی جو ماضی خصوصاً حامد کرزئی کے دور میں موجود تھی۔ جناب صافی کے بقول پراکسی وار، بلیم گیم کے بجائے باہمی تعاون کا راستہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ دونوں ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں۔ادھر امریکی سیکرٹری خارجہ کا وہ بیان بھی انتہائی اہم ہے جس میں انہوں نے لندن کانفرنس کے دوران یہ کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قائم نہیں رہنے دیں گے اور یہ کہ دونوں ممالک کے اندر موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔ ان تمام اقدامات‘ اعلانات اور اعتماد سازی کا ماحول تینوں اہم ممالک کے درمیان پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ لگ یہ رہا ہے کہ حالات واقعتا بہتری کی جانب گامزن ہیں اور ایک نئی عالمی اور علاقائی صف بندی ہونے جا رہی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے اندر 70 سے 80 لاکھ تک لوگ براہ راست عالمی امداد کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ اگر عالمی امداد پر انحصار کے بجائے ملکی انتظامات کی راہ ہموار نہیں کی گئی تو یہ مستقبل میں افغان حکومت اور سوسائٹی کے لئے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ اشرف غنی چونکہ خود عالمی سطح کے ماہر معاشیات ہیں اس لئے ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خود انحصاری کے ذرائع ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ان ذرائع کا سب سے زیادہ فائدہ کسی اور کے بجائے پاکستان کو بھی ہو گا۔

دوسری طرف جناب اشرف غنی کی کوشش ہے کہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ افغانستان کی معیشت کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کے لئے وہ نئے معاہدے کر رہے ہیں اور عالمی برادری نئی صف بندی کے بعد پھر سے راغب ہونے لگی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک پرامن افغانستان خطے کی اقتصادی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ یہاں بھی پاکستان کا مفاد اور فائدہ دوسرے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے کیونکہ افغانستان تک رسائی اور پھر سنٹرل ایشیائی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان ہی وہ اہم روٹ اور ذریعہ ہے جس کی سب کو ضرورت ہے۔

سال 2003 سے لے کر سال 2005کے درمیان ساڑھے تین سے لے کے پانچ بلین ڈالرز کی تجارت ہوا کرتی تھی جو بعد میں تلخیوں کے باعث سکڑتی رہی اور اب ایک بلین تک آ گئی ہے۔ حالیہ اعتمادسازی اور رابطوں کے بعد امکان ہے کہ یہ سلسلہ پھر سے چل پڑے گا اور 2015 میں ڈھائی بلین تک پہنچ جائے گا۔ دوسری طرف 20سے زائد معاہدے پائپ لائن میں ہیں جن میں بجلی کا ایک اہم معاہدہ بھی شامل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے اندر 70سے 80لاکھ تک لوگ براہ راست عالمی امداد کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ اگر عالمی امداد پر انحصار کے بجائے ملکی انتظامات کی راہ ہموار نہیں کی گئی تو یہ مستقبل میں افغان حکومت اور سوسائٹی کے لئے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ اشرف غنی چونکہ خود عالمی سطح کے ماہر معاشیات ہیں اس لئے ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خود انحصاری کے ذرائع ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ان ذرائع کا سب سے زیادہ فائدہ کسی اور کے بجائے پاکستان کو بھی ہو گا۔ امریکہ میں مقیم ممتاز افغان صحافی اور تجزیہ کار ابراہیم ناصر افغانستان کے بہتر مستقبل سے بہت پرامید ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 1990اور اب کے افغانستان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ طالبان کی موجودگی اور حملوں کے باوجود آج کا افغانستان ادارہ جاتی‘ دفاعی‘ سیاسی اور اقتصادی سطح پر بہت بہتر اور مستحکم ہے۔ عالمی برادری موجودہ افغانستان کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ ماضی کے برعکس پڑوسیوں کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ اگر پاکستان اور افغانستان کی اعتماد سازی بڑھتی ہے اور افغانستان کے طالبان کے دوبارہ قبضے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ نہ تو افغانی چاہیں گے، نہ پڑوسی اور نہ ہی عالمی برادری اس کی اجازت دے گی۔ حملے بھی جاری رہیں گے مگر ساتھ ساتھ مذاکرات‘ اصلاحات اور اقتصادی و تعلیمی ترقی کے سلسلے بھی چلتے

رہیں گے، میں اس حوالے سے کافی مطمئن اور پرامید ہوں۔ مندرجہ بالا اسباب عوامل اور مباحث کے بعد تمامتر خدشات اور کمزوریوں کے باوجود اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ اگر ریجنل پاورز کے درمیان اعتماد سازی بڑھتی گئی اور اس عمل کو عالمی برادری کی معاونت میسر رہی تو تمام تر رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے بھی نہ صرف ایک بہتر افغانستان کا قیام ممکن ہے بلکہ ایک نئے علاقائی بلاک کا قیام بھی یقینی ہے۔

19
January

مہمند ایجنسی میں واقع ایک انتہائی دشوار گزار پہاڑی چوٹی جسے دہشت گردوں نے انتہائی مضبوط حصار میں تبدیل کر دیا تھا‘ پر پاک فوج کے قبضہ کی ایک ایمان افروز روئیداد۔ ’’ولی داد‘‘ نامی اس چوٹی پر قبضہ کے لئے پاک فوج کے کئی سپوتوں کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا مگر وہ اپنے مقصد سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے اور آخرکار دشمن کو بھاگتے ہی بنی۔

ولی داد مہمند ایجنسی میں سوران اور میٹائی کی وادیوں میں سینہ تانے کھڑا ایک بلند و بالا پہاڑ ہے۔ جس کی اونچائی ہزاروں فٹ ہے اور اس کی مغربی ڈھلوان کا ایک بڑا حصہ افغانستان میں داخل ہوتا ہے۔ مہمند ایجنسی میں شرپسندوں کی کارروائیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی پہاڑی علاقہ تھا۔ مہمندایجنسی نہ صرف اقتصادی اور معاشی طور پر بلکہ ترقیاتی طور پربھی ایک پسماندہ علاقہ ہے۔ یہاں عسکریت پسندوں کا نہ صرف قبضہ تھا بلکہ یہاں پر اسلحہ اور بارود کا استعمال بھی بے دریغ تھا۔ ان عسکریت پسندوں میں تحریکِ طالبان مہمند کے ساتھ ساتھ غیر ملکی گروہ بھی متحرک تھے۔ تحریکِ طالبان یہاں سب سے بڑی فعال تنظیم تھی جس نے یہاں کے مقامی لوگوں کویرغمال بنا رکھا تھا۔

طالبان کے قبضے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کواقتصادی اور معاشی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تعلیم پر پابندیاں عائد کی گئیں‘ لڑکیوں کے سکول تباہ کئے گئے‘ چھوٹی چھوٹی باتوں پرلوگوں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ مختصر یہ کہ عسکریت پسندوں نے نظامِ زندگی کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ علاقے کی سنگین صورت حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے77 بریگیڈ کو ولی داد کا علاقہ شدت پسندوں سے پاک کرنے کا حکم دیا۔ جس کے نتیجے میں6 اپریل 2011 کو35 آزاد کشمیر رجمنٹ کی بلال کمپنی نے میجر خرم احسان کے زیرِ قیادت ولی داد پہاڑ پر پیش قدمی شروع کی۔ پوری رات کی کٹھن مسافت کے بعد خون ریز معرکے کا آغاز ہوا‘ اونچائی پر موجود دشمن کو جنگی لحاظ سے ایڈوانٹج حاصل تھا۔ اس ننگ دھڑنگ عمودی چوٹی پر چھپاؤ اور تلبیس کے لئے درختوں اور پودوں کے نہ ہونے سے دشمن کی نظر سے بچنا مشکل تھا۔ چڑھائی اتنی عمودی تھی کہ کچھ گز طے کرنے کے لئے بہت سا وقت درکار تھا۔ غرض یہ کہ ہر فیکٹر دشمن کے فیور(Favour) میں تھا۔ یہ ’’ولی داد‘‘ کو فتح کرنے کی پہلی کاوش تھی جو کامیاب نہ ہو سکی اور اس کے عوض بلال کمپنی کو 12 شہادتوں کا قیمتی نذرانہ پیش کرنا پڑی اور شدت پسندوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔

azam nain namumkin1اسی معرکے کی دوسری کوشش23 مئی اور تیسری کوشش 25مئی 2011 کوعمل میں آئی۔ اس دفعہ دشمن کے بے پناہ فائر کے باوجود پاک فوج کے جوان آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے۔ دشمن بھی مکمل تیاری میں تھا اور اونچائی پر ہونے کی وجہ سے تمام چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا مہلک فائر کر رہا تھا۔ ہمارے جوانوں کی بہادری‘ لگن اور قربانی کی بدولت چوٹی کا مشرقی حصہ تو قبضے میں آیا مگر چوٹی پر مکمل قبضہ نہ ہو سکا۔ اس معرکے میں 35آزادکشمیر رجمنٹ کے دو آفیسرز سمیت چھ جوانوں نے شہادت کا رتبہ پایا۔ شرپسندوں کو ایک بار پھر بھاری نقصان تو اٹھانا پڑا مگر پاک فوج کو مکمل کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔ اس لڑائی میں اب تک 35AKرجمنٹ کے جوان اور افسر اپنے بہترین آفیسرز کیپٹن خضر ستی اور کیپٹن عابد نوید کو کھو چکے تھے۔ یہ وہ واحد لمحہ تھا جب اُن کی آنکھیں اشک بار ہوئیں‘ مگر وہ جانتے تھے کہ کامیابی کتنی ضروری ہے۔ یہ ان کی پلٹن کی عزت کا مسئلہ بھی تھا۔ تو ان سب نے مل کر عہد کیا کہ ’’اب ہم میں سے اُس وقت تک کوئی نہیں روئے گا جب تک ہم ولی داد کی چوٹی تک پہنچ نہیں جاتے‘ جب ہم اس میں کامیاب ہوں گے تو مل کر اپنے ان پیاروں کی قربانی کو سلام پیش کریں گے۔‘‘ اسی مایہ ناز پلٹن کے جوانوں اور افسروں پر 18شہادتوں کے خون کا قرض تھا جسے چکانے کے لئے انہوں نے خود سے یہ عہد بھی کیا کہ وہ دوبارہ ولی داد آئیں گے اور شرپسندوں کے اس گڑھ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے اور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو اِن کی قبریں ولی داد پر بن جائیں گی۔ اس عہد کی تکمیل کے لئے پہلے وادی سوران کا علاقہ شرپسندوں سے پاک کیا گیا اور پھر ولی داد کی طرف دوبارہ پیش قدمی شروع ہوئی۔

18 جون 2011 کو فیصلہ کن حملے کا منصوبہ بنا اور صحیح معنوں میں پاک فوج کے جوان عسکریت پسندوں پر آسمانی بجلی بن کر گرے۔ شرپسندوں نے ولی داد کو بھرپور طریقے سے اپنے مدفوعہ مقام کے طور پر تیار کررکھا تھا اور اِن کے خیال میں پاک فوج کے لئے دو وجوہات کی بنا پر اس پہاڑ پر قبضہ کرنا ناممکن تھا‘ اول یہ کہ اس پہاڑ کی چڑھائی بہت مشکل تھی اور دوم یہ کہ ولی داد کا قدرتی دفاع بہت مضبوط تھا۔مگر اسی شام آسمان نے ایک عجیب ایمان افروز منظر دیکھا۔ پاک فوج کے بہادر جوان مشرق کی سمت سے حملہ آور ہوئے۔ فیصلہ کن حملے میں جنگی طیاروں‘ گن شپ ہیلی کاپٹروں ‘ توپخانے اور ٹینکوں کے فائر کی مدد بھی حاصل تھی۔ جوان پہلے تو انتہائی خاموشی سے مختلف ٹولیوں میں آگے بڑھتے رہے اور دشمن کے نزدیک جا پہنچے۔ جب دشمن کو خبر ہوئی تو اس نے اندھا دھند فائرکھول دیا۔ بہادر جوانوں نے بھی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے چوٹی کی جانب اپنی پیش قدمی اور تیزی کر دی۔ وہ زخمی ہوتے رہے مگر آگے بڑھتے رہے۔ ان کے ’’اﷲاکبر‘‘ کے نعرے میں اتنی طاقت اور جذبہ تھا کہ ولی داد چوٹی چند لمحوں‘ چند جستوں اور چند قربانیوں کے فاصلے پر کھڑی نظر آئی۔ پاک فوج کا حملہ اتنا شدید اور اتنا تیز رفتار تھا کہ دہشت گردوں کی گولیاں اس کا راستہ نہ روک سکیں۔ بہادر سپاہی گولیاں سینوں پر کھاتے رہے‘ نعرہ تکبیر بلند کرتے رہے اور آگے بڑھتے رہے۔

بالآخر ساڑھے دس گھنٹے کی اس خونی لڑائی کے بعد جب پاک فوج شر پسندوں کے سروں پر جا پہنچی تو دہشت گردوں کے پاس اسلحہ چھوڑٰ کر فرار ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ بہادر سپاہیوں نے بھاگتے ہوئے دہشت گردوں کو نشانہ بنا کر انہیں بھاری جانی نقصان پہنچایااور پھر صبح ساڑھے تین بجے ولی داد کی چوٹی پر الحمدﷲپاکستان کا پرچم لہرادیا گیا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

19
January

ہم جانتے ہیں، ہماری مٹی کے خمیر میں ڈر جانا شامل ہی نہیں جبھی توہر روز ایک نیا ولولہ لے کر نکلتے ہیں اور نئی منزل کو روانہ ہو جاتے ہیں۔16دسمبرکے واقعے کے بعد ہم جتنے بچوں سے بھی ملے سب نے ہمارے ڈوبتے حوصلوں کو نیا بڑھاوا دیا ہے۔ سب کے چہروں پر دکھ، تکلیف تھی لیکن شکست وخوف نہیں ملا۔ محمد ضرغام خان نے میری کھلی بانہوں میں خود کو سمیٹا اور بازوؤں کو لہراتے ہوئے بولا: ’’بابا! ہم ان گندے دہشت گردوں کو مل کر ماریں گے‘‘۔ میری آنکھوں میں عزم کی روشنی عود آئی ۔ حشام بولا:’’ بابا!ہم سکول میں بچوں کے لئے پارٹی کریں، یہ سب بچے آئیں گے ناں!‘‘۔ میں انکار نہ کر سکا اور نہ ہی کر سکتا ہوں کہ یہ معصوم بھی ہیں اور شہید بھی ہیں جن کی رسائی ہر جگہ اور ہر پارٹی میں ہی ہے۔ آج صبح سکول کے بچو ں کو بستوں اور کتابوں کے سنگ تیز تیز قدموں سے اپنے سکول جاتے دیکھا تو میرا یقین اور بھی پختہ ہو گیا کہ بے شک یہ بچے نہیں ڈریں گے۔

بچے معصوم ہوتے ہیں اور جب یہ لفظ معصوم میرے ذہن میں آتاہے تو بے اختیار کربلا کا منظر میرے تخیل میں گھومنے لگتا ہے جہاں ایک معصوم بچے کے گلے میں نوکِ پیکاں اتار دی جاتی ہے ، لہو کا فوارہ ابل پڑتا ہے لیکن معصوم کی آنکھوں میں خوف نہیں اترتا، اس کے گلے سے صدائے التجا نہیں نکلتی اوروہ کفر ویزیدکی آنکھ میں آنکھ ڈالے پلک تک بھی نہیں جھپکتا بلکہ کلمہ حق کی آواز اُٹھانے والے سپہ سالار کی گود میں سجے شہادت کے تخت پر سینہ تان کر بیٹھ جاتا ہے۔کفر ویزید کے سامنے سجی کربلا کب ہٹی ہے۔ ازل سے جاری یہ جنگ کہاں رُکی ہے؟ آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے کر بلا کے خونیں مناظر سجائے جاتے ہیں، ہمارے سامنے وقت کے یزید اتارے جاتے ہیں جن کے چہروں پر موجود سفاکیت معصوموں کی آنکھوں میں خوف اتارنے کی ناکام کوشش میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ لیکن کیا ان آنکھوں میں خوف سما سکتا ہے جن آنکھوں میں محبت گھر کر چکی ہو، جہاں مستقبل کی راہیں جگہ بناچکی ہوں، جہاں امن کے دیپ جگمگاتے ہوں، جہاں اخلاص کے درس چمکتے ہوں ، جہاں بڑوں کا احترام، احترام انسانیت کی پہلی سیٹرھی بن چکا ہو، جہاں فرشتے خواب لے کر اترتے ہوں اور جہاں خیال ، تعبیر بنتے ہوں۔

ہمیں سردیوں کی وہ صبح بھی یاد ہے جب ہنگو کے ایک سکول میں خود کش حملہ آور نے سکول جاتے ہوئے سیکڑوں بچوں کے لہوسے زمین رنگنی چاہی تھی لیکن وہاں موجود ایک دلیر بچے اعتزاز حسن کے سامنے بے بس ہوکر وہیں گیٹ سے دور پھٹ گیا اور اپنے بدبودارلہو سے زمین کالی کرڈالی تھی۔ہنگو کا یہ سکول آج بھی اپنے میر کارواں کو سلامی دیتے ہوئے منزلوں کے تعاقب میں رواں دواں ہے جہاں بچے پہلے سے زیادہ مضبوط اعصاب اور حوصلوں کے ساتھ آنے والے بزدل و خون خوار بھیڑیوں سے ٹکرانے کے لئے پرعزم و تیار ہیں۔ جہاں استاد پہلے سے زیادہ جذبوں کے ساتھ تعلیم اور انسانیت کی تعمیر کے مشن پر کاربند دکھائی دیتے ہیں۔مجھے سردیوں کی وہ دوپہر بھی یاد ہے جب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ایسی ہی ایک بزدلانہ حرکت کے دوران کئی بچے اور بچیاں شہید کر دی گئی تھیں جس پر ہر محبِ وطن پاکستانی کی آنکھ اشکبار ہے ۔ اس واقعے نے معصوم شہیدوں کی فہرست بڑھا دی، درجنوں والدین کو رلا دیا، ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں، باپوں کی اُمیدیں پچھاڑ دیں، بہنیں بھائیوں کے لئے تڑپ گئیں، بھائی بہنوں سے بچھڑگئے الغرض ہر کوئی غم و الم کی تصویر ہو گیا۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں اور ملک کے ماحول کو سوگوار کردیاجس نے ایک انجانے خوف کی لہروں کو نیا راستہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔

جمال نے اپنے بھتیجے کو بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنے پاس بلا رکھا تھا جو اپنے کزن کے ساتھ ہی کلاس میں بھی رہا اور شہادت کے سفر میں بھی اسی کے ساتھ روانہ ہوا۔ رفیق بنگش کی ماں کھانے پر اس کا انتظار کرتی رہ گئی جب بہت دیر تک وہ نہیں آیا تو اس نے خبر چاہی۔ خبر کیا ملتی وہ تو نئے جہانوں کے سفر پر بن بتلائے ہی چلا گیا تھا۔ کیاعمر کے باپ کا انتظار خیالوں میں ملاقاتوں تک ہی رہ جائے گا جسے اپنے بیٹے میں اپناآپ دکھائی دیتا تھا۔ یاسین کے دوست کبھی اس کے سنگ کھیل پائیں گے؟ کیا طاہرہ قاضی اپنے سکول کے بچوں کے سالانہ نتائج نہیں دیکھ پائیں گی جہاں بہت سے پہلی پوزیشن والے ان کے ساتھ ہی تو موجود ہیں۔

وطنِ عزیز نے گزشتہ چند سالوں میں جاڑے کی سردی میں گن، گولی اور بارود کی وہ تپش محسوس کی ہے کہ کہیں اور ہوئی ہوتی تو اب تک بدن کے بدن جھلس چکے ہوتے لیکن ہماری قوم، ہماری افواج نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ان بزدلانہ کارروائیوں سے ڈرنے والے نہیں۔ ہماری تاریخ شہادتوں سے عبارت رہی ہے جہاں لہو کی خوشبو فضاؤں کو مہکاتی ہوئی ملتی ہے۔ اگرچہ مختصر سہی لیکن کیا دنیا والے بھول گئے ہیں کہ 2002 ء میں مشنری سکول کے احاطے میں دہشت گردوں سے نبرد آزما حوصلوں نے فتح پائی تھی، جب 2009 ء میں سوات کے درجنوں سکولوں کے ہمراہ لڑکیوں کے ایک سکول کو نذرِ آتش کیا گیا تاکہ بچیوں میں خوف پیدا کیا جائے اور انہیں حصول تعلیم سے روکنے کی کوشش کی جائے، جب لڑکیوں کے ہی ایک سکول کو مردان کے گنجان آباد علاقے میں دہشت گردی کا نشانہ بنا یا گیا، جب ایک خود کش حملہ آور نے بلوچستان میں موجود لڑکیوں کے ایک سکول کے سامنے خود کو تہس نہس کر ڈالا ، جب 2010 میں سکول کی ایک بس کو دھماکے سے اُڑانے کی کوشش کی گئی، جب 2011 میں پشاور شہر کے بیچوں بیچ موجود ایک سکول میں دن دیہاڑے دہشت گردی کی کارروائی ہوئی، جب 2012 ء میں سوات میں بچیوں پر فائرنگ ہوئی جس میں ملالہ یوسفزئی بھی شامل تھی، جب 2013 ء میں بنوں کے ایک سکول میں طالبان نے خود کش حملہ سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جب 2014 ء کے اوائل میں وزیرستان میں موجود ایک سکول میں دھماکہ کیاگیا اور بچوں، بچیوں کو سکول اور تعلیم سے دور بھگانے کی کوشش ہوئی۔ ہم 16 دسمبر2014 ء کو کیسے بھول جائیں جب معصوموں پر قیامتِ صغریٰ بپا کی گئی۔ آرمی پبلک سکول پشاور میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے معمول کی کارروائیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔اچانک کچھ دہشت گرد سکول کی عقبی دیوار پھلانگتے ہوئے سکول کے احاطے میں اترے اور فائرنگ شروع کردی۔ دریں اثناء ماحول گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اُٹھا۔ دہشت گردوں کے ایک گروہ نے سکول کے ایک ہال پر دھاوا بول دیا۔ دہشت گرد فائرنگ کے ساتھ ساتھ گرینیڈز بھی استعمال کرتے رہے۔معمول کی تعلیمی کارروائی میں مشغول معصوم اور نہتے بچے ان ظالم دہشت گردوں کے سامنے کھڑے تھے۔ فائرنگ نے بھگدڑ مچا دی، بچوں نے ہال کے دروازوں سے نکلنے کی کوشش بھی کی، کئی ایک نے خود کو کمزور لکڑی کے بینچوں تلے محفوظ جانا لیکن ظالموں کی اندھا دھند فائرنگ نے کئی ایک بچوں کو زخمی کیاجب کہ بہت سوں کو شہیدکیا۔ ہر طرف سے مٹی، دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے اور ماحول میں چیخ وپکار کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔کچھ مدد کو پکارنے لگے تو کچھ مدد کو بڑھنے لگے۔پل بھر کا سکتہ زندگیوں پر ایک گہرا اور اَن مٹ زخم چھوڑ گیا۔مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو میں بارود ، گوشت اور لہو کی آمیزش شامل ہو چکی تھی ۔

یہ سب کیا تھا؟ کیسے ہوا؟اور آخر کیوں کر ہوا۔اتنے سوال اور جواب کوئی نہیں‘ زخم بے انتہا اور مداوا کوئی نہیں۔ بے رحم ہاتھ بے شمار اور رکاوٹ کوئی نہیں۔ بے حس انسانوں کی بڑھتی تعداد اور انسانی حس کوئی نہیں۔ منزل منزل‘ نئی منزل کی تلاش اور منزل کوئی نہیں۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اپنی جانوں کے ساتھ ظلم نہ کرو‘‘ لیکن یہاں توکئی قیمتی جانوں کا زیاں ہواتھا۔قیمتی جانیں بھی وہ جو قوم اور ملک کی امانت تھیں جن کا وجود اس قوم کے بچے بچے کی پُر امن نیند کی ضمانت تھا۔ان قیمتی جانوں کا اس بے رحمی سے زیاں‘ جہاں انفرادی سطح پر افراد سے ظلم وزیادتی کا سبب ہے وہاں اجتماعی طور پر ملک وقوم سے غداری کا بھی ارتکاب ہے۔

چند گھڑیوں میں زندگی اور موت کی ہاتھا پائی نے سب کو ششدر کر دیا۔ اس سانحے میں اب تک سکول کی پرنسپل اور اساتذہ سمیت ایک سو اُنچاس معصوموں نے جامِ شہادت نوش کیا جن میں ایک سو چونتیس بچے شامل ہیں‘ جانیں جانِ آفریں کے حوالے کرنے والوں میں جمال کے بیٹے اور بھتیجے بھی ہیں جو اپنے گاؤں سے اتنی دور فقط حصول تعلیم کے لئے ہی تو آئے تھے۔ جمال کے گاؤں میں تعلیمی سہولیات ایسی نہیں ہوں گی جبھی تو اس نے فیصلہ کیا اور بچوں کے ساتھ یہیں آکر رہنے لگا۔ بیٹا باپ کی لاج نبھانے والا تھا جبھی تو اچھے نمبروں کے ساتھ تعلیمی منازل طے کرتا ہوا دسویں جماعت میں پہنچ گیا لیکن شاید اس کی منزل کہیں اور لکھی جاچکی تھی کیوں کہ وہ بھی شہادت کا مرتبہ پانے والوں کے قافلے میں شامل ہو کر کہیں آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوچکا ہے۔ جمال نے اپنے بھتیجے کو بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنے پاس بلا رکھا تھا جو اپنے کزن کے ساتھ ہی کلاس میں بھی رہا اور شہادت کے سفر میں بھی اسی کے ساتھ روانہ ہوا۔ رفیق بنگش کی ماں کھانے پر اس کا انتظار کرتی رہ گئی جب بہت دیر تک وہ نہیں آیا تو اس نے خبر چاہی۔ خبر کیا ملتی وہ تو نئے جہانوں کے سفر پر بن بتلائے ہی چلا گیا تھا۔ کیاعمر کے باپ کا انتظار خیالوں میں ملاقاتوں تک ہی رہ جائے گا جسے اپنے بیٹے میں اپناآپ دکھائی دیتا تھا۔ یاسین کے دوست کبھی اس کے سنگ کھیل پائیں گے؟ کیا طاہرہ قاضی اپنے سکول کے بچوں کے سالانہ نتائج نہیں دیکھ پائیں گی؟ جہاں بہت سے پہلی پوزیشن والے ان کے ساتھ ہی تو موجود ہیں۔ کس کس ستارے کا ذکر کروں اور کس کس ستارے کی جگمگ جگمگ زندگی کا تذکرہ کروں۔ ہر ایک نرالا اور لازوال تھا‘ لازوال رہے گا۔ ہر ایک روشن ستارہ تھا اور تابندہ رہے گا۔ شام کے سائے آنے سے افق پر گہری لالی عود آئی لیکن یہ روشن ستارے اپنی تابانی کے ساتھ جلد ہی اُفق کے پردے چاک کرکے اُبھریں گے۔

ہم جانتے ہیں، ہماری مٹی کے خمیر میں ڈر جانا شامل ہی نہیں جبھی توہر روز ایک نیا ولولہ لے کر نکلتے ہیں اور نئی منزل کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ کل کے واقعے کے بعد ہم جتنے بچوں سے بھی ملے سب نے ہمارے ڈوبتے حوصلوں کو نیا بڑھاوا دیا ہے۔ سب کے چہروں پر دکھ، تکلیف تو تھی لیکن شکست وخوف نہیں ملا۔ محمد ضرغام خان نے میری کھلی بانہوں میں خود کو سمیٹا اور بازوؤں کو لہراتے ہوئے بولا: ’’بابا! ہم ان گندے دہشت گردوں کو مل کر ماریں گے‘‘۔ میری آنکھوں میں عزم کی روشنی عود آئی ۔ حشام بولا:’’ بابا!ہم سکول میں بچوں کے لئے پارٹی کریں، یہ سب بچے آئیں گے ناں!‘‘۔ میں انکار نہ کر سکا اور نہ ہی کر سکتا ہوں کہ یہ معصوم بھی ہیں اور شہید بھی ہیں جن کی رسائی ہر جگہ اور ہر پارٹی میں ہی ہے۔ آج صبح سکول کے بچوں کو بستوں اور کتابوں سنگ تیز تیز قدموں سے اپنے سکول جاتے دیکھا تو میرا یقین اور بھی پختہ ہو گیا کہ بے شک یہ بچے نہیں ڈریں گے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

19
January

(اے پی ایس پشاور دے بچیاں دی یاد وِچ)

ربّا سچیا

توں تے

جان دا ایں

ایس غم

نے

روح نوں

کھچ لِتا اے

ایہہ غم

نہ مڑتُوں

دیویں سانوں

ایہنا ں

دہشت گرداں نوں

موت دے تُوں

جِیہڑے

پُھلاں جئے

بالکاں نوں

وی

دشمن جاپدے نے

نہ ملک دے نے

اوہ

نہ آپ دے نے

ربّا سچیا

ایہہ

کیہڑی جُوہ دے نے

جیہڑے وحشیاں

نوں وی

مات دے گئے

جنہاں قوم دی

رگ نوں ہتھ پایا

جنہاں

بچیاں دے خوں

نال ہتھ رنگے

ایہہ وحشی سَن

کوئی

ست رنگے

اُونہاں

پُھلاں نے

رو رو جان دِتی

توں اونہاں

نوں

ایہہ کیہہ

پہچان دِتی

روندے ماپیاں دے

ول

توں تک تے سئیں

ہنجو

اگے ود کے

ڈک تے سئیں

رُوں ورگے

بچیاں تے

وار

جداُونہاں کیتا

تیرے عرش

دے بوہے

ہِلے کیوں نئیں

جیویں اپنے پیاریاں

نوں بچاوندا ایں

کوئی

رحمت دے فرشتے

گھلے کیوں نئیں

ربّا

تیریاں

بس توں ای

جان داایں

رب ساڈا وی

تے

ساڈے پاکستان

دا ایں

ربّا سچیا

ایہہ غم

نہ مڑ دیویں سانوں

ساڈیاں

مشکلاں نوں

ہُن

توں آسان کردے

ایس دھرتی نوں

’’پاکستان‘‘ کردے

19
January

(پشاور سکول سانحہ کے حوالے سے قلم برداشتہ اشعار)

میرے اسکول کو تم نے، میرا مقتل بنا ڈالا

میرے ماں باپ نے مجھ کو، بڑے چاؤ سے تھا پالا

صبح جب گھر سے نکلا تو، مجھے ماں نے دیا کھانا

لگا کر مجھ کو سینے سے، کہا گھر وقت پر آنا

نجانے کیا ہوا ایسا، مجھے وہ چومے جاتی تھی

مجھے بستہ تھما کر بھی، مجھے واپس بلاتی تھی

کبھی پہلے نہیں اس نے، کہی تھی اس طرح کی بات

مجھے حیرت ہوئی تھی جب، سویرے کو کہا تھا رات

بہت ویران رستہ تھا، تھی گہری دھند بھی چھائی

کسی کا امتحاں تھا آج، کسی کی الوداعی تھی

یکایک خامشی ٹوٹی، ہوا اک شور سا برپا

یہ منظر تو کبھی پہلے، سنا اور نہ کبھی دیکھا

بدن چھلنی ہوئے سارے، لہو جسموں سے جاری تھا

دسمبر کا مہینہ آج، ہم بچوں پہ بھاری تھا

خبر ہم بن گئے سارے، مذمت سب نے کر ڈالی

بھرے تھے ہم سے جتنے گھر، وہ سارے ہو گئے خالی

میرے ماتھے پہ گولی ہے، میرا سینہ بھی چھلنی ہے

مگر اک آگ سینے میں، مری ماں کے بھی جلنی ہے

میں خود تو یاں نہیں آیا، مجھے فوجی یہاں لائے

میری ماں ڈانٹنا نہ اب، کہ گھر کیوں دیرسے آئے

لہو سے سج گیا ہے آج، ترے بیٹے کا یونیفارم

شہادت مل گئی مجھ کو، شہیدوں میں ہے میرا نام

وطن کے ناخداؤں سے، مجھے اک بات کہنی ہے

کہاں تک زخم کھانے ہیں، کہاں تک چوٹ سہنی ہے

کہاں ہیں سرمئی شامیں، کہاں اجلے سویرے ہیں

ہمارے چار جانب کیوں بھلا، ہر سو اندھیرے ہیں

مجھے اب ماں کی بانہوں میں، ذرا آرام کرنے دو

تم اپنی صبح دیکھو گے، مجھے اب شام کرنے دو

مگر اتنا تو بتلا دو، تمہارا کیا بگاڑا ہے

میں اک معصوم بچہ تھا، مجھے کیوں تم نے مارا ہے

19
January

میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہوں خون کے دھبے جابجا نظر آ رہے ہیں۔ میں اس مقدس خونِ شہداء سے بچ کر گزرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ مبادا میرا پاؤں کسی شہید کے مقدس خون پر پڑ جائے۔ آڈیٹوریم میں داخل ہوتے ہی معصوموں کے خون کی مہک میرے نتھنوں سے ٹکراتی ہے اورمیں بمشکل اپنے جذبات کو قابو کرتا ہوں۔ زبان گنگ ہو چکی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں جم چکی ہیں اور میں حیران و پریشان‘ دکھ اور غم کے ساتھ ساتھ ایک نفرت اور غصے کی آگ میں سلگنے لگتا ہوں۔ خدایایہ منظر کیا ہے۔

شام کے سائے گہرے ہوتے ہوئے ملگجے اندھیرے میں ڈھل رہے تھے جب میں آرمی پبلک سکول پشاور کے گیٹ کے سامنے پہنچا ‘ پھولوں کے اس شہر میں کئی بار آ چکا تھا لیکن آج اس کی فضا میں ایک ناقابل بیان اداسی اور سوگواری پہناں تھی۔ میں گاڑی سے نیچے اترتا ہوں۔ گیٹ کے قریب ہی ایک دیوار کے ساتھ شہید بچوں کی تصویروں کے ساتھ پوسٹ کارڈ اور پھول رکھے ہوئے تھے اور شمعیں بھی روشن تھیں۔ بچے‘ عورتیں اور بوڑھے تمام سرجھکائے ہوئے کھڑے تھے۔ میں بمشکل خود پر ضبط کرتے ہوئے جا کر ان کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہوں۔ شمعوں کی تھرتھراتی لو میں ان بچوں کی تصویروں کی طرف دیکھتا ہوں۔ یہ بچے ساری قوم کے بچے دہشت گردوں کی حیوانیت اور بربریت کا نشانہ بن کے جنت الفردوس میں پہنچ چکے تھے۔ دعائیہ کلمات آنسوؤں کے نہ رکنے والے سلسلے میں گڈ مڈ سے ہو گئے تھے۔ میں الٹے پاؤں واپس گاڑی میں بیٹھ جاتا ہوں۔ گاڑی رینگتے ہوئے سکول میں داخل ہو جاتی ہے۔ اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ اب میں اس جگہ کی طرف بڑھ رہا ہوں جہاں تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا خونچکاں واقعہ پیش آیا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ انسانیت میں بڑے بڑے شقی القلب فاتحین اور جنگجو گزرے ہیں‘ تاریخ ظلم اور جابر حکمرانوں کے ادوار سے بھی بھری ہوئی ہے جنہوں نے مفتوح لوگوں کے سروں کے مینار بنائے۔ پھر ہماری گزشتہ ایک دہائی بھی دہشت گرد وں کے ہاتھوں معصوم انسانوں کے خون سے کھیلی گئی ہولی کے واقعات سے بھری ہوئی ہے لیکن اس واقعے‘ جس نے نہ صرف پاکستان بھر کے عوام بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کو رلا دیا ہے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہوں خون کے دھبے جابجا نظر آ رہے ہیں۔ میں اس مقدس خون شہداء سے بچ کر گزرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ مبادا میرا پاؤں کسی شہید کے مقدس خون پر پڑ جائے۔ آڈیٹوریم میں داخل ہوتے ہی معصوموں کے خون کی مہک میرے نتھنوں سے ٹکراتی ہے او رمیں بمشکل اپنے جذبات کو قابو کرتا ہوں۔ میری زبان گنگ ہو چکی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں جم چکی ہیں اور میں حیران و پریشان‘ دکھ اور غم کے ساتھ ساتھ ایک نفرت اور غصے کی آگ میں سلگنے لگتا ہوں۔ خدایا یہ منظر کیا ہے۔ میں چشم تصور سے یہاں معصوم بچوں کو اپنے سکول یونیفارم میں کرسیوں پر بیٹھا دیکھ رہا ہوں۔ ان کی معصوم سرگوشیاں گونج رہی ہیں۔ ان کی اساتذہ ان کو خاموشی کی تلقین کرتی ہوئی آڈیٹوریم میں دیئے جانے والے لیکچر کی طرف دھیان کی تلقین کر رہی ہیں اور پھر اچانک کچھ وحشی دندناتے ہوئے آتشیں اسلحے سے لیس آن پہنچتے ہیں اور معصوم اور کم عمر بچوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ہر طرف ایک قیامت کا منظر ہے۔ یہ 16دسمبر کی ایک سرد صبح تھی۔ آرمی پبلک سکول پشاور کی صبح باقی تمام صبحوں میں ممیز تھی۔ معمول کے مطابق اسمبلی ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ کے کلمات کا اختتام‘ کلاسز کا اجراء اور پھر دس بجے اس آڈیٹوریم میں بچوں کے لئے فسٹ ایڈ کی فراہمی کے موضوع اور طریقہ کار پر ایک معلوماتی لیکچر تھا۔ نائیک ندیم الرحمن اور سپاہی نوید اقبال جن کا تعلق 137میڈیکل بٹالین سے تھا ان بچوں کو لیکچر دینے میں مشغول تھے۔ ابھی پندرہ منٹ ہی گزرے تھے کہ جب درندوں نے اس آڈیٹوریم میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس ہال میں آٹھویں نویں اور گیارھویں کلاسز کے بچے موجود تھے۔ ہال میں بکھرے ہوئے جوتے‘ کاپیاں‘ کتابیں‘ معصوم بچوں کے نظر کے گلاسز اور ان کی دوسری اشیاء اس قیامت خیزلمحے کی داستان کی شاہد تھیں۔ کہیں کہیں اب بھی ان معصوموں کے خون کے چھوٹے چھوٹے تالاب بنے ہوئے تھے۔ دیواریں فائرنگ سے چھلنی تھیں۔

حادثے کے فوراً بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کوئٹہ کا دورہ مختصر کر کے پشاور پہنچ گئے۔ وزیراعظم پاکستان کے ساتھ خصوصی ملاقات میں جیلوں میں بند دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے لئے طریقہ کار وضع کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام ملکی سیاسی قیادت اپنے اختلافات بھلا کر اس سانحے کے غم میں اکٹھے ہو گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیاجائے گا اور پھر ان کے دورہ افغانستان کے بعد دہشت گردوں کے گرد حصار تنگ ہونے لگا۔ اب تک تیراہ وادی سمیت دوسرے علاقوں میں 150سے زائد دہشت گرد واصل جہنم کئے جاچکے ہیں۔

میں وہاں سے سکول کے دوسرے حصوں کی طرف جاتا ہوں ایڈم بلاک میں پرنسپل میڈم طاہرہ قاضی کا دفتر اور اس سے ملحقہ دوسرے دفاتر بھی اس درندگی اور بربریت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ اس دفتر میں طاہرہ قاضی نے دہشت گردوں سے بچوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ا ور پھر اپنے نونہالوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔

16دسمبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں ویسے بھی ایک تاریک باب کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسی دن 1971کو ہمارامشرقی بازو اپنوں کی نادانیوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں کے باعث جدا ہوا۔ دشمن نے گویا ایک بار پھر ہمارے مندمل ہوتے زخم کو کریدا اور ہمارے دل پر وار کر دیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا صرف فوج کی جنگ ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ تین دہائیاں قبل اس خطے کے معروضی حالات کچھ اور تھے۔ آج کے یہ نام نہاد مذہبی گروہ اسلام کی آڑ میں دہشت گردی کے کاروبار سے منسلک ہیں پکڑے جانے والے دہشت گردوں کی اکثریت کو کلمہ طیبہ تک نہیں آتا۔

sanha nwfp1سکول پر حملے کی خبر نے پوری قوم کو ایک سکتے اور صدمے کا شکار کر دیا تھا۔ لوگ اذیت اور کرب کے ساتھ ٹیلی ویژن کی سکرینوں کے ساتھ چپکے ہوئے تھے اور ہر لمحہ شہیدوں کی تعداد میں اضافہ ان کے ہیجان اور کرب کو بڑھا رہا تھا اور پھر آرمی آپریشن کے خاتمے تک اگرچہ تمام حملہ آور واصل جہنم ہو چکے تھے لیکن ہمارے نوخیز پھول بھی مسلے جا چکے تھے جن کی تعداد اس وقت 145تک پہنچ چکی تھی۔ جو بعد ازں 150ہو گئی تھی۔ اس میں سکول کے آٹھ اساتذہ آٹھ سٹاف کے ممبران اور 134بچے ہیں۔

آرمی پبلک سکول کی یہ عمارت بظاہر چاروں طرف سے محفوظ تھی۔ اونچی اونچی دیواروں پر خاردار تاریں لگا کر اس کو مزید محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن درندوں کو روکنے کے لئے غالباً یہ انتظامات کافی نہ تھے۔ وہ افغان کالونی کے ساتھ ایک خالی پلاٹ کے ساتھ منسلک دیوار پر چڑ ھ کر خاردار تار کو کاٹنے کے بعد راستہ میں آنے والے سکول سٹاف کو نشانہ بناتے ہوئے آڈیٹوریم‘ سکول کمپیوٹر لیب اور ایڈم بلاک میں داخل ہو گئے جہاں انہوں نے بلاامتیاز ہر ایک کو نشانہ بنایا۔

افشاں سحر اردو کی ٹیچر تھی۔ جب وحشی درندے آڈیٹوریم میں داخل ہوئے تو وہ بچوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔ دہشت گردوں نے اس کے سر میں گولی مارنے کے بعد پورے جسم پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی لیکن جاں جانِ آفرین کے سپرد کرنے سے پہلے وہ بہادری کی لازوال دانستان رقم کر کے امر ہو گئی۔ بریگیڈیئر طارق سعید کی زوجہ صائمہ‘ جو آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں‘ نے بھی دہشت گردوں کو مسدود کرنے کی اپنی سی سعی و کوشش کی۔ دہشت گردوں نے ان کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئے فاسفورس پھینک کر آگ لگا دی۔ غرضیکہ تمام اساتذہ نے اپنی حتی المقدور کوشش کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو ان درندوں کی بربریت سے بچا سکیں۔ انہی کوششوں کی وجہ سے جونیئر سیکشن کے بچے بحفاظت سکول سے نکال لئے گئے۔ اگرچہ ضرار کمپنی اور QRFکی ہنگامی کوششوں سے نقصان کو محدود کرنے کی تمام کوششیں کی گئیں لیکن پھر بھی قوم کو ایک ناقابل تلافی صدمہ اور نقصان پہنچ چکا تھا۔

سی ایم ایچ اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زخمی بچوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک موجود ہے۔ سکول کے علاوہ اِن جگہوں پر بھی ملاقاتیوں کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا۔ جس میں ملکی و غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کے علاوہ سیاسی و غیرسیاسی حضرات کی بھی ایک کثیر تعداد تھی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان بچوں نے کمال حوصلے اور متانت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے لواحقین نے بھی ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے استدعا کی کہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے دہشت گردوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔

حادثے کے فوراً بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کوئٹہ کا دورہ مختصر کر کے پشاور پہنچ گئے۔ وزیراعظم پاکستان کے ساتھ خصوصی ملاقات میں جیلوں میں بند دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے لئے طریقہ کار وضع کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام ملکی سیاسی قیادت اپنے اختلافات بھلا کر اس سانحے کے غم میں اکٹھی ہو گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیاجائے گا اور پھر ان کے دورہ افغانستان کے بعد دہشت گردوں کے گرد حصار تنگ ہونے لگا۔ اب تک تیراہ وادی سمیت دوسرے علاقوں میں 150سے زائد دہشت گرد واصل جہنم کئے جاچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جیلوں میں بند دہشت گردوں کو بھی پھانسیاں دیئے جانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ لیکن کیا یہ کافی ہے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا صرف فوج کی جنگ ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ تین دہائیاں قبل اس خطے کے معروضی حالات کچھ اور تھے۔ آج کے یہ نام نہاد مذہبی گروہ اسلام کی آڑ میں دہشت گردی کے کاروبار سے منسلک ہیں‘ پکڑے جانے والے دہشت گردوں کی اکثریت کو کلمہ طیبہ تک نہیں آتا۔

لیکن بدقسمتی سے آج بھی ہمارے معاشرے میں کچھ مذہبی طبقات اور پارٹیاں دہشت گردی کا جواز پیش کرتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عالم اسلام کے کسی ملک میں بھی محراب و منبر کو اس قدر آزادی حاصل نہیں جو کہ پاکستان میں ہے۔ آج ہمیں مذہب کے ان ٹھیکیداروں کے خلاف بھی اپنا حصار تنگ کرنا ہو گا جو دہشت گردی اور منافرت کے اس کاروبار میں برابرکے حصے دار ہیں۔ ہمیں اپنی تعلیمی ترجیحات کو درست کرنا ہوگا۔ تمام مدارس کو حکومتی اثر میں لانا ہو گا۔ محراب و منبر کی سمت کی درستی کے لئے خصوصی قوانین لانا ہوں گے۔ بلکہ قوانین تو موجود ہیں بس ہم ان کا اطلاق نہیں کر پا رہے۔ اگر ہم اپنے خطے کے اسلامی ممالک کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں پر لاؤرڈسپیکر کے استعمال اور مسجد کے دوسرے معاملات صریحاً حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ یہاں پر میں ترکی کا ذکر کرنا چاہوں گا جو ایک اسلامی ملک ہے اور ہمارے ساتھ مذہبی‘ سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی معاملات میں صدیوں سے منسلک ہے۔ وہاں پوری طرح سے حکومتی رٹ موجود ہے۔ دنیا بھر میں کسی خطے میں بھی ترک کمیونٹی ‘ ترک حکومت کی اجازت کے بغیر مسجد کی تعمیر نہیں کر سکتی۔ یہ اقدامات مذہب کے خلاف نہیں صرف سوسائٹی میں Regularity لانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

اگر ہم نے فرد‘ معاشرے‘ مذہب اور سیاست کے درمیان ایک متوازن اور پرامن تعلق کی روایت قائم نہ کی تو شہیدوں کا خون ہمیں معاف نہیں کرے گا اور نہ اﷲ۔ نیز ہمارے سارے ملٹری آپریشنز گویا درختوں کی شاخوں کی کٹائی کے مصداق ہوں گے جبکہ دہشت گردی کے تنے اسی طرح بڑھتے اور پھلتے پھولتے رہیں گے ۔

19
January

صبح کا وقت تھا‘ پشاور کے آرمی پبلک سکول کے گراؤنڈ میں سارے بچے اسمبلی کے لئے جمع تھے‘ شاعر مشرق علامہ اقبال کی مشہور نظم ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ جوش و خروش سے پڑھی جا رہی تھی ۔ ایک جانب تمام اساتذہ کرام سنجیدگی اور متانت کے ساتھ کھڑے تھے اور طلبہ و طالبات امید کے دیے آنکھوں میں روشن کئے سنہرے مستقبل کا خواب دیکھ رہے تھے۔ چمکتے دمکتے چہروں کو دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ چند گھنٹوں بعد یہ پھول سے چہرے خاک و خون میں لتھڑ جائیں گے۔ ان کے اجلے یونیفارم ان کے اپنے ہی لہو میں تر ہو کے سرخ ہو جائیں گے اور 43سال بعد پھر 16دسمبر کو قوم کو ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑے گا۔ 1971میں وطن عزیز دولخت ہوا تھا۔ آج اتنے برسوں بعد ٹھیک اسی دن پاکستان کی تاریخ کا بدترین المیہ رونما ہوا۔ ظلم اور درندگی کی ایسی داستان رقم ہوئی کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے آرمی پبلک سکول میں بچوں کا قتل عام کیا گیا۔

آہ! معصوم کلیوں کو مسل دیاگیا‘ غنچوں کو چٹکنے سے پہلے ہی نوچ کے پھینک دیا گیا‘ اساتذہ کو زندہ جلا دیا گیا‘ نازک جسموں کو بموں سے اڑایا گیا اور قوم کے معماروں کو اندھا دھند فائرنگ کر کے خون میں نہلا دیا گیا۔ چشم فلک حیران ہے‘ پوری دنیا گنگ ہے‘ انسانیت منہ چھپاتی پھر رہی ہے‘ دماغ جیسے ماؤف ہو رہاہے‘ کیا کوئی اتنا بھی ظالم ہو سکتا ہے؟ آخروہ کون سا مذہب ہے ‘ وہ کون سا نظریہ ہے‘ وہ کون سا عذر یا تاویل ہے جو اس بھیانک عمل کو درست قرار دیتا ہے؟ جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں‘ اسپتالوں‘ سکولوں‘ عورتوں‘ بچوں‘ بزرگوں‘ کھیت میں کام کرنے والے دہقانوں پر کوئی حملہ نہیں کرتا‘ کوئی چاہے کتنا ہی شقی القلب کیوں نہ ہو‘ ایسی وحشت و درندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ جس کا مظاہرہ پشاور میں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق اس افسوس ناک واقعے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔ حملہ آوروں نے باقاعدہ پلاننگ کے تحت سکول پہ حملہ کیا۔ وہ چوری کی گاڑی میں آئے‘ پہلے گاڑی کو آگ لگا کر لوگوں کی توجہ اس جانب منذول کرائی‘ پھر عقبی دیوار پھلانگ کر سکول کے احاطے میں داخل ہو گئے۔ دہشت گرد غیرملکی تھے اور زبان بھی غیر ملکی بول رہے تھے۔ ان کو افغانستان سے مانیٹر کیا جا رہا تھا اور وہ وہاں سے باقاعدہ ہدایات بھی لے رہے تھے۔ صبح سے شام تک معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ پہلے سکول کے آڈیٹوریم میں گھس کے بچوں کو مارا‘ پھر لیبارٹری‘ کلاس رومز اور کاریڈورز کو مقتل بنا دیا گیا۔ ہر طرف بارود کی بو پھیل گئی‘ معصوم بچوں کے خون سے فرش رنگین ہو گیا‘ جو بچے ڈر کے مارے بنچوں کے نیچے چھپ گئے تھے‘ انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر نکالا گیا۔ ان کے سر اور گردن میں گولیاں ماری گئیں۔ جس بچے پہ شبہ ہوتا کہ اس میں جان باقی ہے۔ اسے ٹھوکر مار مار کے چیک کیا گیا اور اس پر بھی تشفی نہ ہوئی تو مردہ بچوں پر فائرنگ کی گئی۔ ہائے بے بس ماں نے کس پیار سے اپنے جگر کے ٹکڑے کو پالا ہو گا‘ کس محبت سے سکول بھیجا ہو گا‘ اس بدنصیب کو کیا معلوم تھا کہ اس کا لال سکول نہیں بلکہ قتل گاہ جا رہا ہے جہاں سے وہ نہیں بلکہ اس کا خون آلود بستہ اور کتابیں ہی واپس آئیں گی۔

149معصوم زندگیوں کے چراغ بجھا دئے گئے‘ اساتذہ کو بھی نہ بخشا گیا‘ سکول کے عملے کو بھی شہید کیا گیا‘ دہشت گردوں نے خواتین ٹیچرز کو نذر آتش کیا‘ سکول کی پرنسپل جنہوں نے بچوں کو تنہا چھوڑنے سے انکار کیا‘ انہیں بھی شہید کر دیا‘ خدا جانے اس سفاک عمل کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ اس بہیمانہ قتل عام کو کس سے تعبیر کریں‘ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ دہشت گرد انسان نہیں‘ وحشی درندے ہیں‘ ان کی درندگی پر ابلیس نے ان کو اپنے سے بڑا شیطان مان لیا ہے۔ بچوں اور بڑوں کو بے رحمی سے شہید کرنے والے جہنمی یقیناًاپنے حصے کا عذاب بھگتیں گے مگر وہ والدین جن کے بچے اس سانحے میں جاں سے گزر گئے‘ جب تک زندہ ہیں اولاد کی اچانک اور تکلیف دہ موت کا صدمہ جھیلتے رہیں گے۔ اپنے سرمایہ حیات کو یوں دہشت گردوں کے ہاتھ لٹا کر کون سا خاندان سکون سے جی پائے گا۔۔۔؟ جدائی کا داغ مٹ نہ سکے گا‘ خون کے دھبے دھل نہ سکیں گے‘ زندگی کی آخری سانس تک بچوں کی معصوم شکلیں اور ان کے ننھے کفن ماؤں کو رلاتے رہیں گے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ برسوں سے سزائے موت پانے والے قیدیوں کو جیلوں میں رکھا گیا اور پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ خدا کا شکر ہے کہ اب اس سزا کو بحال کر دیا گیا ہے۔ اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ دوسری اہم بات چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی افغانستان روانگی اور افغان صدر سے ملاقات ہے جس میں انہوں نے تمام ثبوت و شواہد مہیا کئے اور مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جائے۔ امید ہے کہ اس حوالے سے قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور آپریشن ضرب عضب کی حمایت کرتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ایسے وقت میں جب پورا ملک سوگ میں ڈوبا ہے سیاسی جماعتیں بھی ایک پلیٹ فارم پہ جمع اور متحد ہیں۔ سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے اب واپس تو نہیں آ سکتے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ فردوس بریں میں ان کا مقام ہو گا۔اﷲتعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ زخمی ہونے والے بچے ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ بہت سے بچے عمر بھر کے لئے معذور ہو چکے ہیں‘ زخموں سے چور معصوم بچوں کے گھاؤ خدا کرے بھر جائیں مگر ان کے ذہن و دل پہ جو وار ہوا ہے وہ جانے کیسے ٹھیک ہو گا؟ یہ بچے پاکستان کے بلند ہمت اور بہادر سپوت ہیں جو گولیاں کھانے کے بعد بھی دہشت گردی سے لڑنے کا‘ علم حاصل کرنے کا اور دوبارہ زندگی کے دھارے میں شامل ہونے کا عزم رکھتے ہیں۔ اے عظیم ماؤں کے عظیم بیٹو! ہمیں تم پر فخر ہے۔

خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پہ اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

19
January

اکثر حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر بھی سوال اٹھایا جاتا ہے۔ جو میں نے بھی اپنے دورے کے دوران اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب مجھے الفاظ میں نہیں بلکہ اعمال اور زمینی حقائق کے ساتھ دیا گیا۔ ان علاقوں اور جگہوں کا دورہ کروایا گیا جہاں حقانی دہشت گرد پناہ رکھتے تھے۔ ان کے تباہ شدہ ٹھکانوں کو دکھایا گیا۔ ان کے زیراستعمال اشیاء اور مختلف سواریاں (جن میں ایک American Humveeاور افغان پولیس کی ایک گاڑی بھی تھی) دکھائی گئیں۔ ہلاک شدہ دہشت گردوں کی تعداد کی فہرست بھی دکھائی گئی۔

15 جون سے شروع ہونے والے آپریشن ضربِ عضب میں اب تک جبکہ یہ سطور لکھی جا رہی ہیں1337 دہشت گرد جہنم واصل کئے جا چکے ہیں اور 226 جری اور غیور فوجی جوان شہادت کے عظیم ترین مقام کو پہنچ چکے ہیں‘216 زخمی ہیں۔ ان 5ماہ کے دوران شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ دہشت گردوں سے صاف کروایا جا چکا ہے جو اس کی کامیابی کی بڑی دلیل ہے۔ شمالی وزیرستان جسے دہشت گردوں کی جنت کہا جاتا تھا اب اُن کے لئے جہنم بن چکا ہے ان کے گھرجہاں وہ معصوم پاکستانیوں کے قتل کے منصوبے تیار کرتے تھے‘ ان کی اپنی قبریں بن چکی ہیں۔ وہ پاک مساجد جہاں وہ ناپاک نیتیں باندھتے تھے وہاں ان کے جنازے پڑھنے والا بھی کوئی نہیں۔ وہ بازار جہاں وہ مہلک ہتھیاروں اور بارود کی خریدو فروخت کرتے تھے اور معصوم قبائلی پاکستانیوں کو اپنی من گھڑت اور من پسند شریعت کی بنا پر سزا و جزا کے فیصلے سناتے تھے‘ اب وہ ان دہشت گردوں کی اپنی تباہی کی داستانیں سناتے ہیں۔

jarri azab kari2یہ تھے وہ تمام حالات جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے جب آپریشن ضربِ عضب کے آغاز سے اب تک بطورِ پہلی خاتون صحافی میں نے میرعلی اور میران شاہ کا دورہ کیا۔ علاقے کا فضائی منظر سوائے پہاڑوں‘ ٹیلوں‘ چٹیل میدانوں‘ پوزیشن سنبھالے چوکس فوجی جوانوں اور سربلند لہراتے سبز ہلالی پرچموں پر مشتمل نظر آتا ہے۔ اور جب آپ زمین پر اتریں تو بھی منظر یہی رہتا ہے۔ فضا میں گہرا سکوت اور ٹھہراؤ جس میں ارتعاش پیدا کرتے فوجی بوٹ اور بھاری بھر کم فوجی گاڑیاں دیکھ کر اچھا لگا کہ اپنے ہی ملک کا وہ علاقہ جہاں کبھی دہشت گرد آزادانہ گھومتے تھے اور فوج کا گشت مشکل تھا وہاں آج صورت حال بالکل الٹ ہے۔ اب دہشت گرد چوہوں کی مانند پہاڑوں کے بلوں میں جائے پناہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ وہ جگہ جہاں ہر دہشت گرد تنظیم کا جھنڈا تو لہراتا تھا لیکن پاکستان کا پرچم نہیں۔ وہاں آج صرف اور صرف سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔

5ماہ کی ان بہترین کامیابیوں اور جوانوں اور افسروں کی عظیم قربانیوں کے باوجود ابھی بھی آپریشن ضرب عضب پر کچھ حلقوں اور افراد کی جانب سے سوالات اور اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ میں یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ آپریشن ضرب عضب میں جہاں جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں وہاں افسران بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہیں۔ ہر12جوانوں کے ساتھ ایک فوجی افسر کی شہادت شامل ہے۔ دنیا کی تاریخ کے کسی بھی آپریشن میں جوانمردی کی ایسی مثال نہیں ملتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان بے مثال قربانیوں کے باوجود آپریشن ضرب عضب پر سوالات اور اعتراضات ؟ اس کے لئے میں آپ کو واپس اپنے کالم کے آغاز میں لے جاؤں گی جہاں شمالی وزیرستان دہشت گردوں کی جنت کہلاتا تھا۔ اور عام پاکستانی کے لئے یہ ناقابل فہم ہے کہ اتنے کم عرصے میں 90فیصد علاقہ صاف کیسے ہو گیا جبکہ تاریخی طور پر یہ بھی ثابت ہے ۔ دہشت گردوں کے حوالے سے ہم سے بھی کوتاہیاں ہوئیں۔ لیکن ماضی میں غلطیاں ہم سے ہوئی ہیں اگر مستقبل ٹھیک کرنا ہے تو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر حال میں ایک دوسرے پر الزام ترشی کئے بغیر خلوص کے ساتھ اکٹھے کام کرنا ہے اورپاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی اور برائی سے پاک کرنا ہے۔ دوسرے ایک لمبے عرصے سے فاٹا اور خاص طور پر وزیرستان ایجنسی میں صحافیوں کا آزاد داخلہ اور رپورٹنگ مشکل ہے۔ جس کی وجہ سے حقائق دوسرے علاقوں کے عوام تک پہنچ نہ پائے۔ اور اس نے بھی بہت سے شکوک کو جنم دیا۔ تیسرے بہت سے ملکی اور غیرملکی عناصر اپنے مختلف مقاصد کے تحت ان شکوک و شبہات کو ہوا دیتے ہیں یا مزید بے بنیاد شکوک کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام وجوہات کا جلد یا بدیر مستقل حل تلاش کیا جائے۔

اکثر حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر بھی سوال اٹھایا جاتا ہے۔ جو میں نے بھی اپنے دورے کے دوران اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب مجھے الفاظ میں نہیں بلکہ اعمال اور زمینی حقائق کے ساتھ دیا گیا۔ ان علاقوں اور جگہوں کا دورہ کروایا گیا جہاں حقانی دہشت گرد پناہ رکھتے تھے۔ ان کے تباہ شدہ ٹھکانوں کو دکھایا گیا۔ ان کے زیراستعمال اشیاء اور مختلف سواریاں (جن میں ایک American Humveeاور افغان پولیس کی ایک گاڑی بھی تھی) دکھائی گئیں۔ ہلاک شدہ دہشت گردوں کی تعداد کی فہرست بھی دکھائی گئی اور آن ریکارڈ بتایا کہ ہلاک‘ زخمی jarri azab kariاور گرفتار دہشت گردوں میں حقانی نیٹ ورک کے لوگ بھی ہیں اور اسی بات کا اعادہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے کامیاب دورہ امریکہ میں بھی کیا کہ آپریشن ضرب عضب میں تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا کسی تفریق کے کارروائی کی جا رہی ہے۔ اب کوئی Good Taliban, Bad Talibanنہیں ہے اور اس کا مزید ثبوت خیبرایجنسی میں جاری آپریشن بھی ہے۔ کہ جن دہشت گردوں نے آپریشن ضرب عضب سے بچنے کی خاطر خیبر میں پناہ لینی چاہی ان کے لئے وہاں بھی دلیر فوجی شیر قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ ایک اور سوال امریکی ڈرون حملوں کا اٹھایا جاتا ہے کہ اگر آپریشن ضرب عضب اتنی کامیابی سے جاری ہے تو پھر ڈرون حملے کیوں؟ اس پر تسلیم کرنا پڑے گا کہ دفتر خارجہ خاص طور پر ترجمان تسنیم اسلم صاحب کو مزید فعال اور دوٹوک انداز میں اس کا مدلل جواب سامنے لانا پڑے گا۔ لیکن ڈرون حملوں کی بنیاد پر پورے آپریشن پر اعتراض کرنا اور اس کی باقی تمام کامیابیوں کو نظر انداز کرنا ناانصافی ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مزید فعال انداز میں میڈیا پر آپریشن ضرب عضب کی رپورٹنگ کی جائے اور مکمل آزادی اور دیانت داری کے ساتھ اس کے ہر پہلو کو اجاگر کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک گرینڈ جرگہ یا قومی کانفرنس بلائی جانی چاہئے جس میں تمام طبقہ کے لوگوں کو مدعو کیا جائے۔ خاص طور پر ان حلقوں کو جنہوں نے آپریشن کی اب تک کی کامیابیوں پر سوالات اُٹھائے ہیں اور کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جائے تاکہ آنے والے دنوں یا مہینوں کی کامیابیوں کو متحد ہو کر ایک عہد کی کامیابی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم ٹی ڈی پیز کی دیکھ بھال اور ان کے گھروں اور علاقوں میں ان کی بحفاظت واپسی‘ محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لئے کوشش کو مزید تیز کرنا ہو گا۔ اس کے لئے حکومت اور فوج دونوں طرف نیت کا اخلاص تو ضرور موجود ہے ضرورت صرف عمل تیز کرنے کی ہے۔ اور آخر میں صرف اتنا کہ جاری عضب کی کاری ضرب ہی پاکستان کے بہتر مستقبل کی نبض ہے۔ ہم سب نے فوجی جوانوں کے ساتھ مل کر اس نبض میں خون رواں کرنا ہے اور اپنی سانسیں پھونکنا ہیں۔

(یہ مضمون سانحہ پشاور سے پہلے لکھا گیا)

19
January

نومبر میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم برائے علاقائی ترقی ’’سارک‘‘کی اٹھارہویں سربراہی کانفرنس کے موقع پر توقع کی جارہی تھی کہ کانفرنس کے باقاعدہ اجلاسوں سے ہٹ کر پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف اور اُن کے بھارتی ہم منصب نریندرامودی کے درمیان بھی ملاقات ہوگی اور اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان امن بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوجائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔بھارت کی طرف سے اس ملاقات میں کسی قسم کی دلچسپی ظاہر نہ کی گئی۔ حالانکہ نیپال کی حکومت کی طرف سے جو اس سربراہی کانفرنس کی میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہی تھی، اس ملاقات کوممکن بنانے کے لئے بھر پور کوشش کی گئی تھی۔ نیپال کے وزیرتجارت سنیل بہادر تھاپا تو اس بارے میں بہت پُر اُمید تھے اور انہوں نے اس بات کی کہ تصدیق کی کہ اس ملاقات کے لئے سازگار ماحول اور موقع پیدا کرنے کے لئے کھٹمنڈو سے باہر دُھلی کھیل کے تفریحی مقام پر کانفرنس میں شریک سربراہانِ مملکت اور حکومت کے لئے ایک غیر رسمی گیٹ ٹو گیدر(Get Together)کا اہتمام کیا جائے گا۔ کانفرنس کے انعقاد سے کئی روز قبل بھارتی میڈیا بھی پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے بارے میں مثبت اشارے دے رہا تھااور یہ کہا جارہا تھا کہ اس ملاقات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیاجاسکتا۔کانفرنس کے باقاعدہ اجلاس سے ایک روز قبل سارک وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سواراج کے درمیان مختصر سی رسمی ملاقات ہوئی تھی۔اجلاس کے خاتمہ کے بعد جب اُن سے اخباری نمائندوں نے سارک کانفرنس کے اگلے روز کے اجلاس کے دوران یا اس سے ہٹ کر نوازشریف مودی ملاقات کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بھی اسے یکسرمسترد نہیں کیا تھا بلکہ اُمید کی ہلکی سی کرن کی جھلکی دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’کل کا انتظار کیجئے‘‘ لیکن جب کانفرنس کا باقاعدہ اجلاس شروع ہوا تو بھارتی وزیراعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب محمدنوازشریف کی جانب انتہائی بے اعتنائی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اس قسم کی ملاقات اور دونوں ملکوں میں جاری ڈیڈ لاک کے خاتمے کی تمام اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔

سارک کی گزشتہ تقریباََ تیس برس کی تاریخ کے دوران سارک کے ممبران ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور اُلجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے میں مدد ملی ہے۔ حالانکہ سارک کا چارٹر تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان دوطرفہ یا متنازعہ مسائل پر بحث کی اجازت نہیں دیتالیکن بھارتی وزیراعظم نے سارک سے وابستہ اس اہم اور مفید روایت کو جاری رکھنے کی بجائے وزیراعظم محمد نوازشریف سے ملاقات نہ کر کے اسے ایک بھاری دھچکا لگایا جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے خطے کے عوام کو سارک سے رہی سہی اُمیدیں بھی ختم ہوگئی ہیں۔

حالانکہ ماضی میں ایسی ایک سے زیادہ مثالیں موجود ہیں جہاں سارک کی سربراہی کانفرنسوں کے موقع پر ایک مقام پر موجود ہونے کی وجہ سے پاکستانی اور بھارتی رہنماؤں نے غیر رسمی اور کانفرنس سے ہٹ کر ملاقات کرکے پاک۔بھارت تعلقات میں پائے جانے والے جمود کو توڑا ہے۔2002میں منعقد کی جانے والی سارک کی بارھویں سربراہی کانفرنس کو اس ضمن میں ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستانی کے اُس وقت کے صدر پرویز مشرف نے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کر کے موجودہ امن مذاکرات کی بنیاد رکھی تھی۔ اس سے قبل ایک اور بھارتی وزیراعظم اندرکمار گجرال اور اُن کے اُس وقت کے پاکستانی ہم منصب محمد نوازشریف نے بھی مالدیپ میں سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کر کے دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کے تعطل کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُن کی اسی ملاقات کے نتیجے میں چار سال کے تعطل کے بعد1997میں پاک۔ بھارت کمپوزٹ ڈائیلاگ کی بنیاد پر مذاکرات کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں نہ صرف 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور تشریف لائے بلکہ ان مذاکرات کو 2004 میں شروع ہونے والے امن مذاکراتی عمل کا پیش خیمہ بھی کہاجاتا ہے۔

اتفاق رائے سے فیصلہ سازی کے عمل کے علاوہ بھارت کے اصرار پر دوطرفہ سیاسی اور متنازعہ مسائل کو بھی سارک سے باہر رکھا گیا ہے۔حالانکہ رُکن ممالک کی اکثریت اس بات کی حامی ہے کہ سارک کو خطے میں موجود تنازعات کو حل کرنے میں مدد گار ہونا چاہیے۔اس مطالبے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جب تک امن نہیں ہوگا،ترقی نہیں ہوگی اور امن صرف اُس صورت میں ہی قائم ہوسکتا ہے جب باہمی تنازعات کو حل کیا جائے۔دنیا میں قائم شُدہ باقی علاقائی تنظیموں کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے پہلے آپس میں سیاسی اختلافات اور دیگر جھگڑے طے کئے‘ لیکن بد قسمتی سے جنوبی ایشیا میں ایسا نہیں ہوسکا۔

سارک کی سربراہی کانفرنسوں میں جنوبی ایشیا کے ملکوں کے رہنماؤں کے اجتماع سے صرف پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے لئے راہ ہموار نہیں ہوئی بلکہ ان مواقع سے بھارت کے سری لنکا اورنیپال کے ساتھ بھی اختلافات اور ناراضگی کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح سارک کی گزشتہ تقریباََ تیس برس کی تاریخ کے دوران سارک کے ممبران ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور اُلجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے میں مدد ملی ہے۔ حالانکہ سارک کا چارٹر تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان دوطرفہ یا متنازعہ مسائل پر بحث کی اجازت نہیں دیتالیکن بھارتی وزیراعظم نے سارک سے وابستہ اس اہم اور مفید روایت کو جاری رکھنے کی بجائے وزیراعظم محمد نوازشریف سے ملاقات نہ کر کے اسے ایک بھاری دھچکا لگایا جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے خطے کے عوام کو سارک سے رہی سہی اُمیدیں بھی ختم ہوگئی ہیں۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سارک کوزیادہ فعال بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اُنہیں یقین ہے کہ سارک کی چھتری تلے خطے کے ممالک اپنی معیشت کو ترقی دے کر غربت اور پس ماندگی کو مٹا سکتے ہیں لیکن بھارت جو شروع میں سارک کا بہت بڑا حامی تھا‘ اس راستے میں رکاوٹ ہے۔سارک کو مضبوط اور زیادہ فعال بنانے میں مدد فراہم کرنے کی بجائے بھارت کی تمام تر توجہ سارک کے خطے سے باہر واقع ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط بڑھانے پر مرکوز ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی کا یہ فعل دراصل سارک کے بارے میں بھارت کے منافقانہ رویے کا نتیجہ ہے۔ایک طرف تو بھارت سارک کا چیمپئین ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی تجارتی اور معاشی تعاون پر مشتمل پالیسیوں کا مرکز جنوبی ایشیا کی بجائے دنیا کے دیگر حصے مثلاََ جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ بعید،مشرقِ وسطیٰ،خلیج فارس، افریقہ، یورپ اور امریکہ ہیں۔کھٹمنڈو میں سارک کی سربراہی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے خود اعتراف کیا کہ بھارتی کمپنیاں دنیا بھر میں سرمایہ کاری کرتی پھرتی ہیں۔لیکن اپنے علاقے یعنی جنوبی ایشیا میں وہ اپنے سرمائے کا ایک فیصد بھی نہیں لگاتیں۔خود مودی نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اُنہوں نے جنوبی ایشیا میں صرف نیپال اور بھوٹان کا دورہ کیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ ان دونوں ملکوں میں چین کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے جس کے آگے بندھ باندھنے کے لئے مودی نے ان دو ممالک کی قیادت سے رابطہ قائم کرنا ضروری سمجھا۔ لیکن اسی دوران بھارتی وزیراعظم نے جاپان اور آسٹریلیا کا دورہ کیا اور ان دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم سے مل کر بھارت کے ساتھ سٹرٹیجک پارٹنرشپ کا رشتہ استوار کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت اور معاشی تعاون کوفروغ دینے کے معاہدات پر دستخط بھی کئے۔

خطے کے چھوٹے ممالک کے ساتھ بھارت کے غیرمنصفانہ تجارتی تعلقات، علاقائی تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو بھارت سے یہی ایک شکایت ہے کہ دوطرفہ تجارت کی آڑ میں بھارت ان ممالک کی معیشت اور منڈیوں پر چھا جانا چاہتا ہے۔پیہم اور متواتر مطالبات کے باوجود بھارت نے ایک غیر ہموار دوطرفہ تجارتی تعلقات کے نظام کو درست کرنے کی طرف ضروری قدم نہیں اُٹھایا اور یہی سارک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

1990کی دہائی کے آغاز سے بھارت جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ بعید کے ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی،معاشی اور ثقافتی روابط کو گہرا کرنے کی ایک پالیسی پر عمل پیرا ہے جسے لُک ایسٹ(Look East)پالیسی کا نام دیاگیا تھا۔سابقہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جو اُس وقت بھارت کے وزیرخزانہ تھے‘ اس پالیسی کے معمار تھے۔اس پالیسی پر عمل پیرا ہوکردراصل بھارت نے سارک کو نظرانداز کیا اور اس پالیسی کی وجہ سے نئی دہلی کو اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک کی تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا۔حالانکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کا تصور اُس نے پیش کیا تھا اس سلسلے میں1948میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والی پہلی ایشین ریلیشنز کانفرنس کا نام لیا جاتا ہے۔اس کانفرنس میں پاکستان نے شرکت نہیں کی تھی کیونکہ اُس وقت پاکستان کی زیادہ توجہ پین اسلام ازم یا اسلامی ملکوں کے ایک متحدہ بلاک کی تشکیل پر مرکوز تھی۔1950کی دہائی میں جب پاکستان امریکہ کی سرکردگی میں تشکیل پانے والے دفاعی معاہدوں یعنی سیٹو اور بغداد پیکٹ (بعد میں سنٹو) میں شامل ہوگیا تو اُس کی توجہ جنوبی ایشیاسے اور بھی ہٹ گئی۔

تاہم1970کی نصف دہائی کے بعد جب بنگلہ دیش کے صدر ضیا ء الرحمن نے جنوبی ایشیائی ممالک کی ایک تنظیم برائے علاقائی تعاون کے لئے کوششوں کا آغاز ہوا تو پاکستان نے ان کی حمایت کی۔جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون کے قیام کے لئے خطے کے چھوٹے ممالک کا جوش وخروش دیکھ کر بھارت بھی ان کوششوں میں شامل ہوگیا۔تاہم اب اُسے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ برابری کی بنیاد پر اگر جنوبی ایشیا کے سات ممالک پر مشتمل ایک تنظیم برائے علاقائی تعاون اور ترقی معرضِ وجود میں آتی ہے تو اہم فیصلوں کی گھڑی میں خطے کے باقی چھ ممالک اکثریت کی بنیاد پر بھارت کے موقف سے مختلف فیصلہ کر سکتے ہیں۔اس کا توڑ نکالنے کے لئے بھارت نے اکثریتMajorityکی بجائے اتفاق رائے Unanimity کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے اصول کو تسلیم کرنے پر زور دیا۔اس کے علاوہ بھارت کے ہی اصرار پر یہ اصول بھی سارک چارٹر میں شامل کیا گیا کہ دوطرفہ یا متنازعہ مسائل تنظیم کے پلیٹ فارم پر زیربحث نہیں لائے جائیں گے۔1985میں جب ڈھاکہ میں سارک کی بنیاد رکھی گئی تھی تو بھارت کے اصرار پر ان دونوں اصولوں کو سارک کے چارٹر میں شامل کر لیا گیااور مبصرین کی نظر میں سارک کی سست روی کا سبب بھی یہی دو اصول ہیں کیونکہ ان کی موجودگی میں بھارت کی رضا مندی کے بغیر سارک علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لئے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرسکتی۔

بھارت کی طرف سے ان دونوں اصولوں کو سارک کے چارٹر کا حصہ بنانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسے ڈر تھا کہ جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک اس کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنالیں گے اور ایسا ہونا عین ممکن تھا کیونکہ جنوبی ایشیا کا کوئی بھی ملک بھارت سے خوش نہیں۔صرف پاکستان سے تنازعات ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک مثلاََ نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ بھی بھارت کے کئی جھگڑے ہیں۔اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ سارک کے فریم ورک میں فیصلہ سازی کے عمل کو خطے کے دیگر رُکن ممالک اکثریت کی بنیاد پر بھارت کے لئے استعمال نہ کرسکیں‘اتفاق رائے کی شق کو سارک کے چارٹر میں شامل کردیاگیا۔جب سارک کا چارٹر تیار ہورہا تھا تو بھارت کے علاوہ جنوبی ایشیا کے دیگر تمام ممالک فیصلہ سازی میں اکثریت کے اصول کے حامی تھے لیکن بھارت نے تنظیم میں اپنی شمولیت کو اتفاق رائے کی شق کی شمولیت سے مشروط کر کے باقی ممالک کے لئے کوئی اور راہ نہ چھوڑی۔لیکن اسی شق کی وجہ سے ابتداء سے ہی بھارت اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے درمیان سارک کی کارکردگی کے مسئلہ پر اختلافات اور بدگمانی کی ایک خلیج پیدا ہوگئی جو وقت گزرنے کے ساتھ وسیع ہوتی جارہی ہے۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سارک کوزیادہ فعال بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اُنہیں یقین ہے کہ سارک کی چھتری تلے خطے کے ممالک اپنی معیشت کو ترقی دے کر غربت اور پسماندگی کو مٹا سکتے ہیں لیکن بھارت جو شروع میں سارک کا بہت بڑا حامی تھا‘ اس راستے میں رکاوٹ ہے۔سارک کو مضبوط اور زیادہ فعال بنانے میں مدد فراہم کرنے کی بجائے بھارت کی تمام تر توجہ سارک کے خطے سے باہر واقع ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط بڑھانے پر مرکوز ہے۔

اتفاق رائے سے فیصلہ سازی کے عمل کے علاوہ بھارت کے اصرار پر دوطرفہ سیاسی اور متنازعہ مسائل کو بھی سارک سے باہر رکھا گیا ہے۔حالانکہ رُکن ممالک کی اکثریت اس بات کی حامی ہے کہ سارک کو خطے میں موجود تنازعات کو حل کرنے میں مدد گار ہونا چاہیے۔اس مطالبے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جب تک امن نہیں ہوگا،ترقی نہیں ہوگی اور امن صرف اُس صورت میں ہی قائم ہوسکتا ہے جب باہمی تنازعات کو حل کیا جائے۔دنیا میں قائم شُدہ باقی علاقائی تنظیموں کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے پہلے آپس میں سیاسی اختلافات اور دیگر جھگڑے طے کئے‘ لیکن بد قسمتی سے جنوبی ایشیا میں ایسا نہیں ہوسکا۔اس سلسلے میں پاک۔بھارت تنازعہ کی مثال دی جاتی ہے۔جنوبی ایشیا کے تمام چھوٹے ممالک کا موقف یہ ہے کہ پاک۔بھارت تنازعات سارک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔اس لئے وہ ہر سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے سربراہان کے درمیان غیر رسمی ملاقات کا اہتمام کر کے ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں سارک کے پلیٹ فارم سے مختلف شعبوں میں فیصلہ کرتے وقت رکاوٹ نہ ہو۔

بین الاقوامی حلقوں کا مؤقف بھی یہ ہے کہ رقبے،آبادی،وسائل،معاشی ترقی اور عسکری قوت کے لحاظ سے خطے کا سب سے بڑا ملک ہونے کی وجہ سے سارک کو فعال اور کامیاب بنانے کی سب سے بھاری ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے اور اس سلسلے میں بھارت کو چین کی مثال سامنے رکھتے ہوئے اُس کی پیروی کرنی چاہئے۔چین نے اپنی قومی معیشت کی ترقی اور افزائش پر تمام تر توجہ مرکوز کرنے سے قبل مشرق بعید،جنوب مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا میں اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی جھگڑے طے کئے اور اس طرح اپنی سرحدوں پر امن کا ماحول قائم کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ چین نے ان تمام ممالک کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کے رشتوں کو اس طرح استوار کیا کہ چین کے ساتھ معاشی تعاون میں ان چھوٹے ممالک کو زیادہ فائدہ ہو۔لیکن جنوبی ایشیا میں صورت حال یہ ہے کہ بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ نہ صرف سرحدی جھگڑے اور دیگر تنازعات بدستور موجود ہیں بلکہ دوطرفہ بنیادوں پر تجارت کا توازن بھی نمایاں طور پر بھارت کے حق میں ہے۔

خطے کے چھوٹے ممالک کے ساتھ بھارت کے غیر منصفانہ تجارتی تعلقات ،علاقائی تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔پاکستان، نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا کو بھارت سے یہی ایک شکایت ہے کہ دوطرفہ تجارت کی آڑ میں بھارت ان ممالک کی معیشت اور منڈیوں پر چھا جانا چاہتا ہے۔پیہم اور متواتر مطالبات کے باوجود بھارت نے ایک غیر ہموار دوطرفہ تجارتی تعلقات کے نظام کو درست کرنے کی طرف ضروری قدم نہیں اُٹھایا اور یہی سارک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان چےئرمین شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات، یونیورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

19
January

امریکہ کے عسکری اور سیاسی قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضرب عضب کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک نقطۂ نظر سے پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوئیں ہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی تحفظ کے لئے باہمی تعاون کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں ۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے افغانستان میں نہ صرف کلیدی کردار پاکستان کو ملا ہے بلکہ تینوں ہمسایہ دوست ممالک چین،افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ جس کا ایک مثبت اشارہ سارک کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے بھی ملا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے ایک ایسے وقت میں امریکہ کا دورہ کیا ، جب جنوبی ایشیا بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ایک جانب 35سال سے جنگ سہنے والے افغانستان سے نیٹو فورسز نکل رہی ہیں مگر سٹریٹیجک فورسز کے نام پردس سے پندرہ ہزار امریکی فوجی اور کنٹریکٹرزافغانستان میں تعینات رہیں گے۔ بیرونی افواج کے انخلا ء کی صورت حال پر چین اور پاکستان کو تشویش بھی تھی، کیونکہ دونوں ممالک افغانستان کے براہ راست ہمسایہ ملک ہیں اور دونوں ممالک کی سرحدپر دہشت گردوں کے منظم ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ افغانستان کے ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے تحفظات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ انخلاء کے بعد بھارت افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنا چاہتا ہے۔دوسری جانب بھارت میں دائیں بازو کی قدامت، انتہا، پسند پارٹی اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوچکی ہے اور اس حکومت نے اگلے دس سالوں میں 130بلین کا اسلحہ خریدنے کا پروگرام بھی بنا لیا ہے ، جس سے اس کی ترجیحات واضح ہوتیں ہیں اور ان میں سرفہرست خطے میں بالادستی کا خبط ہے۔ پاکستان جو کئی سال سے دہشت گردی کانشانہ بن رہا ہے، جون 2014ء میں دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب نامی آپریشن شروع کرچکا ہے۔پاکستان سمیت خطے میں پائیدار قیام امن اور استحکام کے لئے کیا جانے والا یہ آپریشن ان علاقوں میں انتہائی کامیابی سے جاری ہے جو علاقے دہشت گردوں کے مرکز سمجھے جاتے تھے۔ اس آپریشن میں اب تک تقریباً گیارہ سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں اوردو سو سے زائد آرمی کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اس وقت تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار فوج پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود ہے اور دنیا پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ کوئی نمائشی کارروائی نہیں۔ اب جبکہ پاکستان کی افواج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں تو بھارت مشرقی سرحد پر جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کررہا ہے۔کشمیر میں لائن آف کنٹرول (جو متنازعہ علاقہ ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ باؤنڈری جو تسلیم شدہ سرحد ہے ، دونوں پر اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے،جس کے باعث کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی یہ معاملہ اٹھایا،چنانچہ امریکہ کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہی خطے میں امن کی ضمانت ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت میں مودی حکومت آنے کے بعد مشرقی سرحد پربھارتی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس کے باوجود افواج پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سے توجہ نہیں ہٹائی اور غیرملکی دراندازوں ، مقامی دہشت گردوں و شدت پسندوں کے خلاف شبانہ روز عسکری کارروائیاں کرکے انہیں اپنی مذموم سرگرمیاں موقوف کرنے پر مجبور کردیا۔ پاک فوج کے اس آپریشن کی وجہ سے سرحد پار کارروائیاں کرنے و الے گروپس بھی اس حد تک کمزور ہوئے کہ اب ان کے لئے سرحد پار جاکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا ممکن نہیں رہا۔

اب جبکہ پاکستان کی افواج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں تو بھارت مشرقی سرحد پر جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کررہا ہے ۔کشمیر میں لائن آف کنٹرول (جو متنازعہ علاقہ ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ باؤنڈری جو تسلیم شدہ سرحد ہے ، دونوں پر اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے،جس کے باعث کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی یہ معاملہ اٹھایا،چنانچہ امریکہ کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہی خطے میں امن کی ضمانت ہے ۔

جس طرح پاکستان اور افغانستان کو پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پہ تحفظات تھے، اسی طرح چین کو بھی افغان سرحد پہ ہونے والی دراندازی پہ تشویش تھی، کیونکہ صوبہ سنکیانگ میں انتشار پھیلانے والے شدت پسند بھی اسی سرحد کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ تینوں ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لئے ناگزیرجاری آپریشن کے دوران مشرقی سرحد پر بھارت کا جارحانہ رویہ احساس دلاتا ہے کہ بھارت دہشت گردوں کے خلاف اس آپریشن کو اپنے مفادات کے خلاف گردانتا ہے۔امریکہ بھارت کی اس خواہش کا احترام کرتا رہا کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد کلیدی کردار بھارت کا ہو۔یہی وجہ ہے کہ کرزئی دور حکومت میں افغان حکومت کا جھکاؤ بھارت کی جانب رہا۔ 2011ء میں بھارت اور افغانستان کے درمیان سٹریٹیجک معاہد ہ بھی طے پایا، جس کے تحت افغانستان نے روس سے جو اسلحہ خریدا اس کی ادائیگی بھی بھارت نے کی۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بھارتی قونصل خانے زیادہ فعال رہے اور سرحدی کشیدگی و دراندازی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام،مختلف شعبوں میں چین کی سرمایہ کاری ،دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات ،بھارتی جارحانہ رویّے اور پاک عسکری قیادت نے امریکہ کو یہ باور کرایا کہ افغانستان میں بھارت کلیدی کردار اداکرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وہ افغانستان کا براہ راست ہمسایہ بھی نہیں اور نہ ہی افغانستان میں پاکستان جتنے اثرورسوخ کا مالک ہے۔ افغانستان میں انتخابات کے بعد دو بڑی پارٹیوں کی شراکت سے حکومت وجود میں آئی جو کہ ایک دوسرے کی حریف بھی ہیں۔ اگرچہ یہ انتہائی مثبت پیشرفت ہے مگر دیگر امکانات بھی اپنی جگہ موجود ہیں، کیونکہ یہ حکومت ابھی تک کیبنٹ نہیں بنا سکی۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے صدارت چھوڑنے کے بعد پہلادورہ بھارت کا کیا، جبکہ نومنتخب افغان صدر اشرف غنی عمرہ کی ادائیگی کے بعد پہلے چین گئے اور اس کے بعد پاکستان کا دورہ کیا۔ان کے دورہ پاکستان سے قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے پہلے چین کا دورہ کیا اور پھر افغانستان کا ایک روزہ دورہ کرکے حکومتی وعسکری قائدین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں تھیں جس کے بعد افغان صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے جی ایچ کیو میں عسکری قیادت سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں افغان صدر کو یہ پیشکش بھی کی گئی کہ پاکستان افغان فوجیوں کو اپنی تربیت گاہوں میں ٹریننگ دینے کے لئے تیار ہے۔ افغان صدر نے پاکستان کی اس پیشکش کو باضابطہ طور پر قبول کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت افغان فوجیوں کی تربیت کررہا تھا۔چین اور پاکستان کے دوروں کے دوران پاک چین افغان مصالحتی کونسل کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔ یہ تمام حالات و واقعات افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ کم ہونے اور پاکستان کے کردار میں اضافے کی دلیل ہیں۔ افغانستان کے ساتھ نئے سرے سے پروان چڑھنے والے پاکستان اور چین کے تعلقات نہ صرف امن بلکہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہیں۔

چین اور پاکستان کے دوروں کے دوران پاک چین افغان مصالحتی کونسل کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔ یہ تمام حالات و واقعات افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ کم ہونے اور پاکستان کے کردار میں اضافے کی دلیل ہیں۔ افغانستان کے ساتھ نئے سرے سے پروان چڑھنے والے پاکستان اور چین کے تعلقات نہ صرف امن بلکہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہیں۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جہاں شام کی حکومت کو گرانے کے لئے امریکہ اور عرب دنیا کی کوششیں جاری تھیں، وہاں داعش کی صورت میں ایک نئی قوت ابھرکر سامنے آئی ،جس کے باعث فرقہ واریت میں شدت آگئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ داعش کی مکمل سرپرستی کرنے کے بعد داعش کو ہی ختم کرنے کے لئے امریکہ نے ایران کی طرف بھی تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ داعش کے خلاف امریکی سرپرستی میں جو اتحاد قائم ہوا اس میں زیادہ تعداد ان ممالک کی شامل ہے،جو پہلے کسی نہ کسی صورت میں داعش کی معاونت کرتے رہے ہیں۔ اس اتحاد کی تشکیل کے بعد امریکہ کا یہ بیان کہ ہم اگر داعش کے خلاف کارروائی کرتے بھی رہیں تو انہیں مکمل ختم کرنے کے لئے ہمیں بیس سال درکار ہوں گے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگلے بیس سال تک داعش ضرورت ہے اور یہ موجود رہے گی۔داعش کی اگلے بیس برس تک امریکی ضرورت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں ہرسال تیل کی مانگ میں دو فیصد اضافہ ہورہا ہے، جبکہ اگلے چالیس سے پچاس برس میں ایران اور مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر ختم ہوجائیں گے ،یا اتنے کم ہوجائیں گے کہ ان سے استفادہ ممکن نہیں رہے گا۔ جس کے بعد اگلی دوصدیوں کے لئے تیل کا ذخیرہ بحیرہ کیسپئن میں موجود ہے۔ جس پر امریکہ سمیت دنیا کی تما م بڑی طاقتیں نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان ذخائر تک جانے کے لئے واحد زمینی راستہ بلوچستا ن ہے ، جس کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ایک گریٹ گیم جاری ہے۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شام و عراق کے بعد داعش کی پہلی وال چاکنگ بھی بلوچستان کی زمین پر نظر آئی۔ بش انتظامیہ کے مقابلے میں صدر اوبامہ نے یہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی تھی کہ امریکی افواج کو کسی مہم جوئی کے لئے بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔ صدر اوباما نے امریکہ کی فوجی اکیڈیمی Point West میں اعلان کیا تھا کہ اب امریکی فوجیوں کو بیرون ملک مہم جوئی کے لئے نہیں بھیجا جائے گا، لہٰذا افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء 2014ء تک مکمل ہو جائے گا جبکہ عراق سے تو امریکی افواج پہلے ہی واپس بلائی گئی ہیں۔ اب ان ممالک کی افواج اتنی تربیت یافتہ ہو چکی ہیں کہ وہ طالبان یا کسی بھی حکومت مخالف بغاوت کو کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس حکمت عملی کے باوجود بھی امریکہ نے افغانستان سے سٹریٹیجک معاہدہ کرکے اپنے 15000فوجی اور کنٹریکٹرزافغانستان میں اسی طرح رکھے، جس طرح عراق سے انخلاء کے بعد پانچ سو امریکی عسکری مشیر رکھے تھے۔ اب عراق پر نیا اتحاد تشکیل دیکر فوج کشی کی وجہ داعش اور افغانستان میں پندرہ ہزار فوجی رکھنے کی وجہ امریکہ نے طالبان کا خطرہ بتائی ہے۔

جنرل راحیل شریف کے امریکہ جانے سے قبل پاکستان میں سرگرم تحریک طالبان کے کچھ افراد نے بھی داعش میں شامل ہوکر ابوبکر البغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا اور مختلف شہروں میں داعش کی وال چاکنگ بھی منظر عام پر آچکی تھی۔ چنانچہ ان حالات میں جب پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف اپنی اور خطے کی سلامتی کی جنگ میں مصروف ہے،داعش کی صورت میں دہشت گردی کے نئے نیٹ ورک کی خطے میں پنپنے کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ جنگ زدہ افغانستان میں، انخلاء کے باوجود، امریکی افواج بھی موجود ہیں اور داعش کے خلاف امریکی سربراہی میں ایک نیا عالمی اتحاد بھی وجود میں آچکا ہے اور بھارت بھی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ سرگرم ہے تو ان تمام زمینی حقائق اور بدلتے حالات نے آرمی چیف کے دورے کی اہمیت ،حیثیت، افادیت اور اس کے اثرات میں انتہائی اضافہ کیا ہے۔ امریکہ میں دورے کے دوران جنرل راحیل شریف نے جن شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور جن مقامات کا دورہ کیا، ان سے بھی اس دورے کی اہمیت کابخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دورہ امریکہ کے دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اپنے طویل دورے کے دوران انہوں نے امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں میں بڑے ٹھوس انداز میں پاکستان کا موقف پیش کیا۔ وہ سنٹرل کمانڈ کے ہیڈکوارٹر ٹمپافلوریڈا گئے۔ سنٹرل کمانڈ مشرق وسطیٰ،پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکہ کے عسکری امور کا ذمہ دار ہے۔ عراق اور افغانستان جنگ سے متعلق معاملات یہیں سے طے پاتے ہیں۔ٹمپا فلوریڈا میں سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل آسٹن سے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق سنٹرل کمانڈ میں ہونے والی بات چیت میں امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کیلیفورنیا میں قائم امریکی فوج کے اعلیٰ تربیتی مرکز گئے اور وہاں جدید ترین اسلحہ کی تربیت کا معائنہ کیا۔ امریکی آرمی کے سربراہ اور اپنے ہم منصب رئے اوریڈینوسے ملاقات کی۔ اس کے بعد پینٹا گان میں مشترکہ افواج کے سربراہ مائیکل ڈیمپسی سے ملے۔ پاکستان میں بھی جائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ ہوتا ہے مگر ان کے اختیارات آرمی چیف جتنے نہیں ہوتے۔ جبکہ امریکہ میں سب سے بااختیار مشترکہ افواج کا سربراہ ہوتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے دورہ امریکہ کے دوران ڈپٹی ڈیفنس سیکرٹری مسٹر ورک سے بھی ملاقات کی۔ صدر اوبامہ کی سلامتی کی مشیر سوزن رائس سے بھی ملے اور وہاں سے اشارہ ملا کہ اگر صدر اوبامہ موجود ہوتے تو وہ بھی پاک سپہ سالار سے ملاقات کرتے۔ سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری سے ان کی طویل ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستانی فوج کو اتحاد اور سلامتی کی علامت قرار دیا۔ دورہ امریکہ کے دوران جنرل راحیل کو ایک بڑے عسکری اعزاز لیجن آف میرٹ سے نوازا گیا۔دورہ امریکہ کے دوران جنرل راحیل شریف نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ آپریشن سے کلیئر ہونیوالے علاقوں میں شدت پسندوں کو دوبارہ متحرک ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ آرمی چیف کے دورے کے دوران جہاں مشرق وسطیٰ کے حالات اور داعش کے موضوع پر بھی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ امریکہ میں جب جنرل راحیل شریف امریکی عسکری قیادت کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے تو اس دوران پاکستان کے مشیر خارجہ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے گڈطالبان اور بیڈ طالبان کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کی، مگر آرمی چیف نے واضح کر دیا کہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہورہی ہے۔ اسی طرح سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بیان جاری کیا کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلاء پاکستان اور بھارت کو پراکسی وار میں دھکیل سکتا ہے۔ جنرل مشرف کے بیان سے قطع نظر یہ بات طے ہے کہ افغانستان میں پائیدار قیام امن جو خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے‘ کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں موجود قوتیں ہرقسم کی دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کریں۔امریکہ کے عسکری اور سیاسی قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضرب عضب کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک نقطۂ نظر سے پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوئیں ہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی تحفظ کے لئے باہمی تعاون کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے افغانستان میں نہ صرف کلیدی کردار پاکستان کو ملا ہے بلکہ تینوں ہمسایہ دوست ممالک چین،افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ جس کا ایک مثبت اشارہ سارک کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے بھی ملا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ بھارت افغانستان کا ہمسایہ نہیں ہے۔افغانستان سے بھارت کا سٹریٹیجک معاہدہ طے پایا تھا اورروس سے خریدے جانے والے اسلحہ کی ادائیگی بھی بھارت نے کی تھی، مگر اب موجودہ افغان حکومت نے مزید ایسے اسلحہ کی خریداری میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جس کی ادائیگی بھارت کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے سے کئی گنا بڑے ہمسایہ دشمن کے عزائم کے آگے بند باندھنے میں پاکستان کی سلامتی کے ضامن ادارے نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے، اور انشاء اللہ ہمیشہ کرتا رہے گا۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

19
January

ماں

لوگ مسلسل شمعیں کیوں جلا رہے ہیں ماں؟

یہ سب مل کر ان سفاک درندوں کے ٹھکانے کیوں نہیں پھونک دیتے۔ جنہوں نے ہماری زندگیوں کے چراغ گل کئے۔ ماں

یہ لوگ ان کو رنگاہ‘ ننگِ انسانیت وحشیوں کی آنکھیں کیوں نہیں نکال دیتے۔ جنہوں نے معصوم بچوں کی چمکتی آنکھوں پر وار کئے۔ یہ ملک بچوں کے لئے محفوظ کیوں نہیں ہے؟

انسان تو جانوروں کے بچوں پر بھی رحم کھاتے ہیں۔ تو پھر یہ جنگلی جانور کون تھے جنہوں نے فرشتوں جیسے جسموں کو چاک کیا۔ یہ کن کی اولادیں تھیں۔ یہ زہریلے سانپ کہاں سے آئے تھے۔ 16 دسمبر کی اداس صبح کو انسانوں کا روپ دھارن کرکے کون سی مخلوق آئی تھی؟ وہ صبح کتنی گمبھیر چپ گپ اور پراسرار لگ رہی تھی۔ سردی شدید تھی۔ تو نے مجھے یونیفارم پہنا کر تیار کیا تھا۔ ماں! اس روز میرا سکول جانے کو جی بھی نہیں کررہاتھا۔ کچھ کھانے کو بھی جی نہیں کررہا تھا مگر میں تیرے ڈر سے تیار ہوگیا تھا۔ تو بڑی اصولوں والی تھی نا! بغیر وجہ کے چھٹی کرنے پر خفا ہوتی تھی۔ جب تو نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور مجھے خدا حافظ کہا تھا تو یکایک میرا جی چاہا میں تجھ سے لپٹ جاؤں۔ تیرے محبت بھرے سینے میں چھپ جاؤں۔ تیری مامتا کی خوشبو کے اندر سما جاؤں ۔ تیرے بازوؤں میں گم ہو جاؤں۔ چھوٹا سا دودھ پیتا بچہ بن کر تیرے آنچل کے سائے میں آجاؤں۔ نہ جانے کیوں ماں۔۔۔ اس روز میں نے کئی بار تجھے مڑ مڑ کر دیکھا تھا۔ پرتو تو اپنے کام میں مگن رہی ماں۔۔۔ جب میں سکول کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ تو مجھے اپنے پاؤں کے تلے زمیں کانپتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ میں نے پوچھا بھی۔۔۔ دھرتی ماں تو کیوں کانپ رہی ہے سردی تو ہمیں لگ رہی ہے۔ اس صبح مجھے اپنے دوستوں کے چہرے اترے ہوئے لگے تھے۔ میں جس کی طرف دیکھتا تھا وہ مجھے مرجھایا ہوا لگتا تھا۔ ماں میں نے یونہی کئی بار ہنسنے کی کوشش کی مگر میں کسی کے ساتھ ہنس نہ سکا۔ میں کسی کے ساتھ بول نہ سکا۔ کسی کے آگے اپنے دل کی گرہ کھول نہ سکا۔ کلاس شروع ہوئی تو میرا جی چاہا میں بھاگ کر گھر چلا جاؤں۔۔۔ گھر کے لئے میرے اندر تڑپ سی پیدا ہو رہی تھی۔ ماں! میں تیری صورت دیکھنا چاہتا تھا۔ ماں تیری صورت دیکھنے سے ہر بلا ٹل جاتی تھی۔۔۔ تجھے دیکھنے سے ساری مشکلیں حل ہو جاتی تھیں۔ تجھے دیکھنے کی چاہ دل میں پیدا ہو رہی تھی ماں۔۔۔ کاش ماں! میں سکول کے سارے اصول توڑ کر تیرے پاس اپنے گھر آجاتا۔۔۔ اگر مجھے معلوم ہوتاکہ خدا کی اس زمین پر ابلیس کے کارندے انسانیت کے سارے اصول توڑ کر دیواریں پھلانگتے آئیں گے اور شیطانی کھیل شروع کردیں گے۔۔۔ ۔

ماں ہم سب کھڑے ہوگئے تھے کیونکہ ہمیں احترامِ آدمیت کی تربیت دی گئی تھی‘ قسم ہے تیری ماں

ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کہ وہ نامراد اور بد کردار لوگ معصوم بچوں پر وحشیانہ گولیاں برسائیں گے۔ ہمارے یونیفارم لہو لہان کر دیں گے۔ ہمیں ناکردہ گناہوں کی سزا دیں گے۔۔۔۔

ماں! ہم سب جینا چاہتے تھے۔ بڑے ہونا چاہتے تھے۔ ملک و ملت کا نام روشن کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے اندر والدین نے خواب بوئے تھے۔ وردیوں والے خواب۔۔۔ پرچموں والے خواب۔۔۔ فتح مبین والے خواب۔۔۔

ماں کچی آنکھوں کے خواب خون کی ندیوں میں بہہ گئے۔۔۔

ماں یہ زمیں دیکھتی رہی اور آسمان چپ رہا۔۔۔۔۔۔

کیا تم رو دھو کر ان کو معاف کردو گے ماں۔۔۔۔۔۔

کیا تم شمعیں روشن کرنے کے بعد بھی ہماری یادوں کو مدفون کردو گی ماں۔۔۔۔۔۔؟

تمہیں تمہارے لہو لہان بستوں کی قسم۔۔۔

ہماری روتی کُرلاتی کتابوں کی قسم۔۔۔

ہماری چکنا چور قلموں کی قسم۔۔۔

ہمارے ٹکڑے ٹکڑے انگلیوں کی قسم۔۔۔

یہ منظر کبھی بھول نہ جانا۔۔ جب تک تم لوگ پاکستان کے وجود کو ان ناپاک ‘ مکروہ اور درندہ صفت لوگوں سے پاک نہیں کرلیتے۔ ہماری روحیں یونہی بیزار پھریں گی اپنے گھروں کا طواف کرتی رہیں گی۔

اﷲ کے آگے فریاد کرتی رہیں گی۔۔۔

پاکستان کے سارے بچوں کی قسم ماں

پاکستان کے سارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا دو

ماں

میرے فوجیوں سے کہہ دو! قسم ہے ان کو لہو لہان بچوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کی جب تک وہ اسلام کو بدنام کرنے والے ٹولے ملیا میٹ نہ کردیں۔ آرام سے نہ بیٹھیں۔۔۔

ورنہ ہم پاکستان کے جھنڈے سے لپٹ لپٹ کر قائداعظم کو اپنی فریاد سناتے رہیں گے۔

ماں

نیا سال طلوع ہو رہا ہے۔ تو مجھے یاد کرے گی۔ تو کہا کرتی تھی۔ میرا راجہ دولہا بنے گا۔ ماں اگر یہ خوشی تجھے نصیب نہیں ہوئی تو دعا کر پاکستان کی ساری ماؤں کو یہ خوشی نصیب ہو۔۔۔۔

ماں دعا کر ہاتھ اٹھا کے‘ سارا چمن اجڑ جائے۔۔۔ کسی کی کوکھ نہ اُجڑے۔۔۔

کسی کالا ل نہ بچھڑے‘ کسی کو وچھوڑے‘ کا ایسا درد نہ ملے کہ جس کا داغ قیامت تک بھی نہ جائے۔ قیامت سے پہلے اس پاک ملک میں پھر کبھی قیامت بر پا نہ ہو ۔

ہمارا لہو رائیگاں نہ جائے پیاری ماں

19
January

ابھی تم خواب دیکھو فرض میں کچھ سال باقی ہیں

تم آنے والا کل ہو اور ہم سب حال باقی ہیں

مجھے بے انتہا غصہ ہے دل تک کانپ جاتا ہے

ابھی جانے نہیں دوں گا ابھی جو سانپ جاتا ہے

تم اپنے گھر میں پھر ماں سے کئے وعدے نبھاؤ گے

تم اپنی مسکراہٹ سے وہ آنگن پھر سجاؤ گے

کہیں ایسا نہیں ہوتا‘ کوئی ایسا بھی کرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

قلم کی نوک تھی میں نے دکھائی جب وہ آیا تھا

مرا تھا جو بڑا ہتھیار وہ میں نے چلایا تھا

کتاب آدھی پڑھی تھی جو کھلی رکھی ہوئی ہوگی

کتاب اب پڑھنے لائق ہے مرے خوں سے دُھلی ہوگی

کسی جنگل کا لگتا ہے شہر آنے والا ہے وہ

دُھلی لگتی ہیں سب آنکھیں نظر آنے لگا ہے وہ

میں جتنا سوچتا ہوں یہ مِرا اصرار بڑھتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

پتہ کیا پوچھتا ہے وہ کتابوں میں ملوں گا میں

کئے ماں سے ہیں جو میں نے کہ وعدوں میں ملوں گا میں

میں آنے والا کل ہوں وہ مجھے کیوں آج مارے گا

یہ اُس کا وہم ہوگا کہ وہ ایسے خواب مارے گا

تمہارا خون ہوں نا‘ اس لئے اچھا لڑا ہوں میں

بتا آیا ہوں دشمن کو کہ اُس سے تو بڑا ہوں میں

میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے بھی ڈرتا ہے

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

Follow Us On Twitter