17
December
دسمبر 2015
شمارہ:6 جلد :52
تحریر: یوسف عالمگیرین
قوموں کی تاریخ لازوال قربانیوں اور شجاعت سے لبریز داستانوں سے مزین ہوتی ہے۔ دنیاکی کوئی قوم ایسی نہیں جس نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لئے مشکلات کا سامنا نہ کیاہو۔بے حوصلہ اور بزدل اقوام کبھی بھی اپنی سالمیت اور بقاء کو یقینی نہیں بناسکتیں۔ پاکستانی قوم کا شمار بہادر....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسفزئی
کراس بارڈر ٹیررازم یا مسلح گروپوں کی سرحد پار تخریبی کارروائیوں سے متعلق شکایات کا دنیا کے متعدد ممالک کو سامنا ہے۔ تاہم پاکستان اور افغانستان یا پاکستان اور بھارت غالباً وہ تین ممالک ہیں جن کو اس مسئلے نے گزشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے کافی متاثر کیا ہے....Read full article
 
تحریر : ملک جہانگیر اقبال
بچپن سے ہم ایک منقولہ سنتے آئے ہیں کہ ’’انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے‘‘ اور تاریخ انسانی شاہد ہے کہ جس نے بھی اس قول پر عمل کیا، وہ کامیاب رہا۔ اگر آپ کامیاب شخصیات یا اقوام کی تاریخ کا جائزہ لیں تو جہاں آپ کو جا بجا ان کی تاریخ میں کی جانے والی غلطیاں ملیں گی وہیں....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ اور دیگر ایسے تجارتی معاہدوں کی وجہ سے پاکستانی برآمدات کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے چین، سری لنکا، ملائیشیاء سمیت چند فری ٹریڈ اور ترجیحی معاہدے ہیں لیکن ایک کے سوا تمام معاہدوں میں تجارتی....Read full article
 
تحریر: محمد امجد چوہدری
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ آپریشن کے بہت سے اہم ہداف حاصل کر لئے گئے ہیں۔ پاک سرزمین پر دہشت گردوں کو دوبارہ قدم نہ رکھنے دینے کے عزم کے ساتھ حکومت اور افواج پاکستان کی جانب.....Read full article
 
تحریر: سینیٹر (ر) محمد اکرم ذکی
ڈھاکہ یونیورسٹی میں پروفیسرز اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے احساس تفاخر میں انتہائی رعونت کے ساتھ اعلان کیا کہ بھارت نے سب سے پہلے اپنی کمانڈو فورس مکتی باہنی کی شکل میں پاکستانی فوجوں سے لڑنے کے لئے مشرقی پاکستان میں داخل کی تھی۔بھارت.....Read full article
 
تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے بھارت نے مکتی باہنی کی ذہنی و عسکری تربیت کی۔ انہیں ہتھیار فراہم کئے اور اُن کے ذریعے مشرقی پاکستان میں امن عامہ کی صورت حال تہہ و بالا کر کے رکھ دی....Read full article
 
تحریر: رابعہ رحمن روہی
رابعہ رحمن روہی کی اے پی ایس پشاور کے سانحے میں شہید ہونے والے چندبچوں کی ما ؤں سے ملاقات اور شہداء کی یادوں کے حوالے سے ایک پُر سوز تحریر....Read full article
 
تحریر: میجر کنول کیانی
سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے افسوس ناک واقعے کے تقریباً ایک سال بعد ہلال ٹیم جرأت و بہادری کے ان استعاروں سے ملنے گئی۔ ہم نے اے پی ایس میں بچ جانے والے طلبأ اور اساتذہ کے ساتھ ایک دن گزارا جنہوں نے اپنے ساتھیوں اور بچوں کو ا س سانحے میں کھو دیا.....Read full article
 
تحریر : مریم ارشاد
مبین شہید،ڈاکٹر فاروق شاہ آفریدی کا اِکلوتابیٹا تھا،دو بہنوں کا اکلوتابھا ئی مبین شاہ آفریدی16دسمبر کو اے پی ایس پشاور پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوا۔ وہ 28 ستمبر1998 کو پشاور میں پیدا ہوا۔ وہ آرمی پبلک سکول پشاور میں دسویں جماعت کا طالبِ علم تھا....Read full article
 
تحریر: جبار مرزا
پاکستان کے حصے میں آنے والی فوج کے بارے میں کوئی ملک ماننے کے لئے تیار نہیں تھا‘ اور کانگرس کو تو بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ افواجِ پاکستان دنیا کی بہترین فوج بن کے ابھریں گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ برِ صغیر کی تقسیم کے بعد وہ....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
سکول وین میں گیس سلنڈر دھماکے سے پھٹ گیا‘ سترہ معصوم بچے جھلس کر ہلاک۔ ریلوے پھاٹک عبور کرتے ہوئے موٹر سائیکل رکشے کو ٹرین نے روند ڈالا‘ پندرہ افراد ہلاک۔ ایک سکول بس حادثے کا شکار‘ بچوں سمیت سینتیس افراد جاں بحق۔ ایک مکان میں شارٹ سرکٹ سے آتشزدگی‘ تین بچیاں....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر نعمان نیر کلاچوی
انسان ایک خالص جذباتی وجود ہے اور جذبہ ہمیشہ خیر و شر کے فہم سے بالاتر ہوتا ہے۔ اگر جذبات کا محاسبہ ترک کر دیا جائے تو انسان حیوان سے بدتر ہو جاتا ہے۔ جذبہ عقل کو ڈرائیو کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ذہین قومیں بڑی دلیری سے شرور کو عقلانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں.....Read full article

تحریر: حبیب گوہر
کہوٹہ شہر کے پہلو میں واقع چھنی اعوان اپنی ہموار ی اور زرخیز ی میں بے مثال ہے۔ اس کی مٹی سونا اور پانی امرت ہے۔اس کے کنویں منڈیروں سے چھلکتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں آج بھی زعفران کاشت کیا جاتا ہے۔اس کے نظاروں میں شادابی اور وسعت ہے جو آزادی کا تاثر دیتی ہے ....Read full article
 
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ!
اِ ک طرز جہاں ثباتی اِک عالمگیریتِ آفاقی
سرائے عالمگیر کے ملٹری کالج ....Read full article
 
(تحریر: ثبات بابر(ماہر غذائیات
عام صحت کے لئے خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار ایک معین سطح پر ہوتی ہے۔ خون میں شوگر کی سطح کو مناسب رکھنے کے لئے لُبلُبے یا پینکریاز نامی غدود سے پیدا کردہ انسولین ضروری ہوتی ہے....Read full article
 
تحریر: محمد ظہیر قندیل
14 اگست 1988 کو اٹک کے ڈاکٹر سید فیاض بخاری کے گھر جنم لینے والا بچہ کوئی معمولی بچہ نہ تھا، وہ اسفند یار تھا، جس کا مطلب لطفِ خدا اور قدرتِ حق ہے۔ والدین نے اسے اسفند یار کا نام دیا۔ یہ بچہ بہت کم عرصے کے لئے جیا ،لیکن جتنا جیا، سر اٹھا کر....Read full article
 
تحریر: کوکب علی
سوویت یونین کی تقسیم کے بعد1991 میں یوکرائن کو ایک الگ ملک کی حیثیت دی گئی ۔لہٰذا 23 اگست کو یوکرائن کا قومی دن نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور اس دن یوکرائن کے عوام بہت اہتمام سے....Read full article
 
تحریر: بشریٰ رحمن
آج تیسرا دن تھا۔ سرکاری کارندے باقاعدہ ان کی گلی میں آ رہے تھے۔ اس آنے جانے نے گلی کی صورت ہی بدل کر رکھ دی تھی۔ اس چھوٹے سے قصبے کی تنگ سی گلیوں کے درمیان۔۔۔ ایک پتلی گلی کے اندردو دو تین تین مرلوں کے مکانوں کے ساتھ ساتھ یہ مکان تھا۔ گلی اتنی تنگ تھی کہ اس میں سے ایک چارپائی....Read full article
 
تحریر: گوہر آفتاب
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
اُسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی
برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون....Read full article
17
December

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

اُسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی
برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں‘ نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں
اور زندگی کے کہرے دیواروں میں لرزاں ہیں
اُسے کہنا شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو کیسے برف پگھلے گی
اسے کہنا کہ لوٹ آئے

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی عرش صدیقی کی یہ نظم ذہن میں گونجنے لگتی ہے۔ دسمبر سال کا آخری مہینہ ہونے کے سبب جہاں یہ احساس دلاتا ہے کہ موجودہ سال کتنی تیزی سے

گزر گیا وہیں نئے سال کی آمد کی بھی خبر دیتا ہے۔ ہمیشہ ہر برس کے اختتام پر ہم یہی سوچتے ہیں کہ یہ سال کتنی تیزی سے گزر گیا۔ بات تو یہ سچ ہے مگر کچھ باتیں اور واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بھلے کتنا ہی وقت گزر جائے‘ انسان نہیں بھولتا اور ماہ و سال کا ان پر اثر نہیں ہوتا۔ سانحہ پشاور کو ایک برس گزر گیا مگر اس کا زخم ابھی تک تازہ ہے۔ میرا دل رکنے لگتا ہے جب میں ان ماؤں کے بارے میں سوچتی ہوں جن کے جگر گوشے دہشت گردوں نے خون میں نہلا دیئے۔ معصوم بچوں کی لاشوں کا تصور اور ان کے عظیم اساتذہ کی قربانی جھنجھوڑ کے رکھ دیتی ہے۔ وہ بچے جو زخمی ہوئے‘ وہ بچے جن کے سامنے یہ واقعہ رونما ہوا‘ ان کے ننھے اذہان جانے کیا سوچتے ہوں گے؟ جانے ان معصوموں کے ذہن و دل پر اس خوفناک واقعے کا کیا اثرہوا ہو گا؟ مگر مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ ہماری قوم کے یہ معمار عزم و ہمت کا پیکر ہیں۔ سانحے کے بعد جب تعطیلات ہوئیں اور پھر دوبارہ جب اسکول کھلے تو جس طرح بچوں نے نئے حوصلے سے تعلیمی سفر شروع کیا وہ قابل تعریف ہے اور ایسا بھلا کیوں نہ ہو۔ جب ملک عزیز کی بہادر افواج کا جری سپہ سالار خود سکول کے پہلے دن بچوں کو خوش آمدید کہنے اور انہیں اسناد دینے موجود ہو تو کیوں ان کو دشمنوں اور دہشت گردوں کا خوف ہو۔ آفرین ہے ہمارے آرمی چیف پر جنہوں نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ اُن بچوں کے سر پر دست شفقت رکھا اور ان کی ہمت بندھائی۔


میں سوچتی ہوں جیسے آرمی پبلک سکول کا واقعہ کسک دیتا ہے ایک اور سانحہ ایسا ہے جو پاکستانیوں پر قیامت بن کے ٹوٹا۔ وہ ہے 26اکتوبر کو آنے والا زلزلہ۔ دس سال قبل بھی اکتوبر میں پاکستان میں زلزلہ آیا تھا جس سے بہت جانی او رمالی نقصان ہوا تھا۔ 2015میں آنے والے زلزلے سے خاصی تباہی ہوئی مگر خدا کا شکر ہے کہ 2005 کے مقابلے میں نقصان کم ہوا۔اس سال حج کے موقع پر ہونے والے کرین حادثے اور منٰی میں بھگدڑ کے باعث سیکڑوں عازمین حج جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ 2015میں اگرچہ بہت سی المناک باتیں ہوئیں‘ تاہم کچھ ایسے واقعات اور اقدامات ہیں جو باعث تقویت ہیں۔ مثلاً پاک چین اقتصادی راہداری کا معاہدہ‘ کراچی میں رینجرز کا آپریشن اور شہر میں امن و امان کی بحالی۔ کراچی میں گزشتہ سات برسوں سے جاری قتل و غارت گری رینجرز کی کارروائی کے باعث تھم گئی ہے اور اہلیان کراچی نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔


کینیڈا کی بات کریں تو موجودہ سال قومی الیکشن کا سال تھا۔ یہاں کے الیکشن‘ امیدواروں کی انتخابی مہم‘ ووٹنگ اور ہار جیت پہ ردِ عمل ہمارے یہاں سے ذرا مختلف ہے۔ کینیڈا میں ہر سیاسی جماعت اپنا منشور عوام کے سامنے رکھتی ہے۔ ہر حلقے میں ایسے امیدوار الیکشن لڑتے ہیں جو اخلاق و کردار کے لحاظ سے معزز ہوں‘ ان پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکتا ہو۔ چور ڈاکو‘ ٹیکس چور یا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد انتخابات میں نہ تو حصہ لے سکتے ہیں اور نہ انہیں کوئی پسند کرتا ہے۔ انتخابی مہم میں ہر امیدوار اپنے حلقے کے گھروں پر بذات خود جا کے ووٹ کے طلبگار ہوتے ہیں۔ووٹ مانگنے والے امیداروں کے ساتھ کوئی چمچے‘ اسلحہ بردار محافظ‘ پروٹوکول کی گاڑیاں یا دیگر خرافات نہیں ہوتیں۔ وہ بے چارا ہر دروازہ کھٹکھٹاتاہے اور نہایت ادب سے اپنے لئے ووٹ مانگتا ہے۔ دھونس دھمکی‘ رشوت یا لالچ دے کے ووٹ حاصل نہیں کیا جاتا۔


میں کئی انتخابی جلسوں میں گئی اور وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ امیدوار کی تقریر‘ دلائل اور منشور غور سے سنتے ہیں۔ امیدوار بھی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے‘ کردار کشی کرنے کے بجائے اپنے آپ کو بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔ تواضع کے موقع پر کوئی افراتفری دیکھنے میں نہیں آتی۔ سب لوگ اطمینان سے قطار میں لگ کر کھانا لیتے ہیں۔ کوئی ہلڑ بازی‘ دیگیں الٹنے یا چھینا جھپٹی کا منظر دیکھنے کو نہ ملا۔


انتخابی ریلی میں شرکت کا بھی مجھے تجربہ ہوا۔ یہاں اگرچہ لوگ بسوں میں بھر کے جلسہ گاہ پہنچتے ہیں مگر ان کو فی کس نہ تو پیسوں کی ادائیگی ہوتی ہے اور نہ روٹی پانی کا آسرا‘ سب اپنے خرچے پہ رہنماؤں کی تقاریر سننے جاتے ہیں۔ ایک ریلی ونکوور کے ڈاؤن ٹاؤن میں تھی۔ وہاں میں نے دیکھا پارٹی کی مرکزی اور علاقائی قیادت عام لوگوں میں گھل مل گئی۔ کوئی ہٹو بچو نہ ہوا۔ کوئی بڑا سا اسٹیج یا پولیس پہرا نہ تھا۔ ایک سادہ سا روسٹرم تھا جس پر سب نے پہلے سے طے شدہ لکھی ہوئی مختصر ترین تقریریں کیں۔ نہ تو کسی نے جوش جذبات میں مکے مار کے مائیک گرایا نہ گریبان چاک کر کے گلا پھاڑ پھاڑ کے للکارا۔ اب میں الیکشن والے دن پولنگ اسٹیشن کا احوال بھی ذرا لکھ دوں۔ اگرچہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر ہر پارٹی کے رضاکار موجود تھے مگر کسی کی کسی سے تلخ کلامی نہ ہوئی۔ ونکوور میں صبح سات بجے پولنگ شروع ہوئی اور شام سات بجے تک جاری رہی۔ عملہ صبح چھ بجے سے وہاں موجود تھا۔ تاکہ وقت پر پولنگ شروع ہو سکے۔پولنگ کا عمل نہایت سکون سے ہوا۔ نعرے‘ شورشرابا‘ دھکم پیل یا غل غپاڑہ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔


سب سے زیادہ قابل تعریف رویہ نتائج آنے کے بعد تھا جب ہارنے والوں نے دھاندلی کاالزام لگانے کے بجائے جیتنے والوں کومبارکباد دی۔ جیتنے والوں نے بھی خوشی میں ہوائی فائرنگ کے بجائے تدبر کا ثبوت دیا۔ وزیراعظم منتخب ہونے والے جسٹن ٹروڈو جیت کے اگلے دن صبح ہی صبح لوکل ٹرین اسٹیشن پہنچ گئے۔ جہاں وہ کئی گھنٹے کھڑے رہے اور ہر آنے جانے والے سے مصافحہ کر کے اس کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ مجھے یقین ہے ان کے لئے مناسب سکیورٹی ہو گی۔ مگر محافظ آس پاس نظر نہ آئے۔ نہ ہی کوئی چیلے چماٹے‘ نہ مشیر نہ وزیر‘ نہ کارکن نہ حمائتی‘ نہ پولیس نہ غنڈے‘ غرضیکہ جمہوری عمل اور حقیقی جمہوریت مجھے نظر آئی۔


جمہوریت کا نعرہ ہمارے یہاں بھی لگتا ہے۔ مگر قارئین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا واقعی جو کچھ ہمارے یہاں ہوتا ہے وہ جمہوریت کی تعریف پر پورا اترتا ہے؟
میری تمنا ہے کہ ہم بھی اپنے اندر اخلاق و کردارکی بلندی پیدا کریں۔ تحمل اور برداشت کا رویہ اپنائیں‘ دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنے اندر بہتری لائیں۔ تعلیم و تربیت پر زور دیں۔ یہ سب خصوصیات اس وقت پیدا ہوں گی جب ہمارے پاس کوئی رول ماڈل ہو گا۔ وہ لوگ‘ وہ شخصیات جن سے ہم متاثر ہیں۔ ہمارے رہنما‘ جن کے لئے ہم نعرے لگاتے ہیں‘ جب وہ ہمارے آئیڈیل ہیں تو انہیں اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو قوم کے لئے صحیح معنوں میں ہیرو بنانا ہو گا۔ ایسا نہیں کہ ہمارے پاس اقدار و روایات موجود نہیں یا ہم تہذیب یافتہ نہیں۔ بس ذرا سا ہمیں یہ احساس ہو جائے کہ قومی ذمہ داری یا قانون کی بالادستی کیا ہوتی ہے تو ہمارا شمار بھی مہذب دنیا میں ہو گا۔ خدا کرے آنے والا سال ہمارے لئے‘ ہمارے وطن کے لئے بہتری‘ ترقی اور خوشحالی کا سال ہو۔ نئے سال کی آمد ہمارے لئے باعث مسرت و شادمانی ہو۔ آمین

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
سب سے زیادہ قابل تعریف رویہ نتائج آنے کے بعد تھا جب ہارنے والوں نے دھاندلی کاالزام لگانے کے بجائے جیتنے والوں کومبارکباد دی۔ جیتنے والوں نے بھی خوشی میں ہوائی فائرنگ کے بجائے تدبر کا ثبوت دیا۔ وزیراعظم منتخب ہونے والے جسٹن ٹروڈو جیت کے اگلے دن صبح ہی صبح لوکل ٹرین اسٹیشن پہنچ گئے۔ جہاں وہ کئی گھنٹے کھڑے رہے اور ہر آنے جانے والے سے مصافحہ کر کے اس کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ مجھے یقین ہے ان کے لئے مناسب سکیورٹی ہو گی۔ مگر محافظ آس پاس نظر نہ آئے۔ نہ ہی کوئی چیلے چماٹے‘ نہ مشیر نہ وزیر‘ نہ کارکن نہ حمائتی‘ نہ پولیس نہ غنڈے‘ غرضیکہ جمہوری عمل اور حقیقی جمہوریت مجھے نظر آئی۔

*****

 
17
December

تحریر: بشریٰ رحمن

آج تیسرا دن تھا۔ سرکاری کارندے باقاعدہ ان کی گلی میں آ رہے تھے۔ اس آنے جانے نے گلی کی صورت ہی بدل کر رکھ دی تھی۔ اس چھوٹے سے قصبے کی تنگ سی گلیوں کے درمیان۔۔۔ ایک پتلی گلی کے اندردو دو تین تین مرلوں کے مکانوں کے ساتھ ساتھ یہ مکان تھا۔ گلی اتنی تنگ تھی کہ اس میں سے ایک چارپائی بھی نہیں گزر سکتی تھی۔ گلی کے بیچوں بیچ ایک نالی بہتی تھی۔ یہ نالی بنانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ ہر گھر کی گندگی اس میں جمع ہوتی رہے۔ یہی نہیں سارا دن ننگ دھڑنگ پھرنے والے بچے اس نالی کو بوقت ضرورت بیت الخلاء کے طور پر استعمال کر لیتے تھے۔ بلکہ انہیں ایمر جنسی حاجت روائی کے لئے اسی نالی کو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی تھی کیونکہ ان گھروں کے اندربھی بیت الخلا بنانے کا رواج نہیں پڑا تھا۔ قریب ہی کھیت تھے جو ہر ایک کا پردہ رکھنے کو کافی تھے۔ اس گلی کے اندر تقریباً بیس پچیس گھرانے تھے جو بچوں سے بھرے ہوئے تھے۔ مرد ملازمت مزدوری کے لئے گھر سے نکل جاتے تھے اور عورتیں دور کھیتوں میں کام کرتی تھیں۔ بچوں کے لئے یہ دنیا آزاد تھی۔ کھیتوں سے گھر تک اور گلی سے گلی تک کچھ اوپر سے ننگے کچھ نیچے سے ننگے‘ سرگرم کھیل تماشا رہتے تھے۔
گلی کے باہر نکڑ پر کوڑا کرکٹ کی سیل لگی رہتی تھی۔ یعنی گھروں کا گند‘ سبزی کے چھلکے‘ ٹوٹے پھوٹے برتن‘ کپڑوں کی دھجیاں اور منوں کے حساب سے مکھیاں اس ڈھیر پر ’گنگناتی‘ رہتی تھیں۔ بدبو اور گندگی کے ڈھیروں میں پلتے بڑھتے بچوں کی قوت شامہ اس گندگی کی عادی ہو چکی تھی۔ اس گلی میں رہنے والا ہر فرد اس قسم کے آلودہ ماحول کا پروردہ تھا۔ نہ یہ ماحول ان کے لئے تکلیف دہ تھا نہ غلاظتوں اور گلیوں کے اندر سے اٹھتی ہوئی بساند ان کے لئے نامانوس تھی۔ البتہ تین دن سے جو کچھ اس گلی میں ہو رہا تھا وہ نیا بھی تھا‘ حیران کن بھی، اور تجسس آمیز بھی۔


پہلے تو پولیس کے کچھ سپاہی ڈنڈے پکڑے ہوئے آ گئے۔ اپنی جیپ دور کھڑی کی۔۔۔ اور آ کر غلام ربانی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ پتا نہیں اندر جا کر انہوں کیا بات کی۔۔۔۔ کہ ڈھڑا دھڑ اس گلی میں صفائی ہونے لگی۔ جھاڑو لگائے جانے لگے۔ بندے سامان لے کر آ گئے۔ نالی صاف کرائی گئی۔ اس میں کئی فنائل کی بوتلیں انڈیلی گئیں۔ دیواروں پر سفید چونا پھیرا گیا۔ چار بندے روزانہ صبح آ کر اس گلی کی نالی کو صاف کرتے تھے۔ مشکوں سے دھوتے تھے۔ نالی کے کناروں پر خشک چونا بچھا کر اس کی مانگ چونے سے بھر دیتے تھے۔ یہ چونا دور تک سڑک کے آخری موڑ تک بچھایا جاتا تھا اور تو اور انہوں نے اندر جا کر غلام ربانی کے گھر کو بھی خوب صاف کیا تھا۔ ایک کمرے اور ایک برآمدے کے اس میلے کچیلے گھر کے سارے جالے اتارے تھے اور دیواروں پر سفیدی پھیر دی تھی۔ صبح کو جب پولیس کے کارندے صفائی کرنے والی ٹیم ساتھ لے کر آتے توگھر بیٹھنے والی عورتیں باقاعدہ چھتوں پر چڑھ کر ان کا نظارہ کرتی تھیں۔ ان گھروں میں کسی کسی کے پاس ٹیلی ویژن بھی تھا۔


مگر اندھیری گلی میں شہر کے لوگوں کا آ کر صفائی کرنا ٹیلی ویژن کے ہر پروگرام سے زیادہ قابل توجہ اور دلچسپ تھا۔
یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ غلام ربانی کے گھر کی گلی کے بھاگ یکایک کیوں جاگ گئے تھے؟ وہاں تو پوری گلی کی ہمدردیاں غلام ربانی اور اس کی بیوی مائی فیضاں کے ساتھ ہو گئی تھیں۔ غلام ربانی کی دو ہی بیٹیاں تھیں بڑی بیٹی نگہت دس سال کی تھی اور دوسری بیٹی طلعت چھ سال کی تھی۔


پچھلے ہفتے کسی جاگیردار کے لونڈے نے کھیتوں میں سے گزرتے ہوئے نگہت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ اور بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ یہ بھی شنید تھی کہ اس کا گاؤں کے نمبردار سے کوئی ناتا بھی تھا۔ تھانے میں شنوائی نہ ہونے پر یہ لوگ سوشل میڈیا پر پہنچ گئے تھے۔ گاؤں والوں نے دھرنا بھی دیا تھا۔
اسی دن سے ان کی گلی میں سرکاری کارندوں کا آنا جانا شروع ہو گیا تھا۔۔۔ جب گلی اور محلہ اچھی طرح صاف ہو چکا تو ایک دن صبح ہی صبح ایک جیپ میں کچھ لوگ آئے وہ میز کرسیاں اور کھانے کی چیزیں لائے۔ غلام ربانی کے چھوٹے سے آنگن میں انہوں نے میز کرسیاں لگا دیں۔ میز کے اوپر اشیائے خوردنی و مشروبات سجا دیئے۔ غلام ربانی اور اس کی بیوی نے نہا دھوکر صاف ستھرے کپڑے پہنے۔ نگہت کو خاص طور پر صاف کپڑے پہنا کر ایک بستر پر لٹا دیا گیا۔ کپڑے تو طلعت کے بھی بدلے گئے۔ مگر اسے اپنے بستر پر چپ چاپ آنکھیں موند کر لیٹنے کی ہدایت کی گئی گویا کہ اس نے سونے کی ایکٹنگ کرنا تھی۔
باہر سے یوں لگ رہا تھا جیسے غلام ربانی کے گھر میں کوئی شادی رچنے والی ہے۔۔۔ لوگ آ رہے تھے۔۔۔ لوگ جا رہے تھے۔۔۔ سڑک بند کی جا رہی تھی۔۔۔ ٹریفک روکا جا رہا تھا۔۔۔


آبے لونڈے۔۔۔ جا بے لونڈے۔۔۔
بھاگ بے لڑکے۔۔۔
ایک شور تھا منظم سا۔۔۔

سارے دن کے انتظار کے بعد دوپہر کے وقت موٹروں کی ایک قطار سامنے والی سڑک پر نمودار ہوئی۔ تو سارا گاؤں چونک اٹھا۔ یہ تو بادشاہ سلامت کی سواری تھی۔ جو ان کے پسماندہ اور درماندہ گاؤں میں قدم رنجا فرما رہے

تھے۔۔۔ کیوں ۔۔۔ کیوں۔۔۔ اندازہ لگاتے دیر نہ لگی۔۔۔ وہ غلام ربانی کی اشک شوئی اور اس کی مظلوم بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے آ رہے تھے۔
دس موٹروں کا قافلہ کسی نے کاہے کو اس گاؤں میں دیکھا تھا۔۔۔ سب سے آگے ہوٹر تھا۔ آگے پیچھے پولیس کی گاڑیاں تھیں۔ بڑے طمطراق سے بادشاہ سلامت اترے۔۔۔ چھتوں پر بیٹھی عورتوں نے سروں پر آنچل ڈال لئے اور سڑک کے کنارے مرد تالیاں بجانے لگے۔ بادشاہ سلامت کے ساتھ ان کے وزیروں مشیروں کا ایک جتھا سا اترا۔۔۔ پولیس کی راہبری میں بادشاہ سلامت اس گندی گلی کو پار کر کے غلام ربانی کے کچے گھر میں داخل ہو گئے۔ جس کی چھت اور چاردیواری کا پہلے ہی سفید کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی والے احاطہ کر چکے تھے۔
بادشاہ سلامت کو دیکھ کر غلام ربانی اور مائی فیضاں کھڑے ہو گئے۔ غلام ربانی نے دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھ لئے اور مائی فیضاں ان کے قدم چھو کر کر پھوں پھوں رونے لگی۔
نگہت اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔ بادشاہ سلامت نے بازو سے پکڑ کر بچی کو قریب بلایا۔۔۔ سینے سے لگایا۔۔۔ سر پر ہاتھ پیرا۔
کیمرے آن ہو گئے۔۔۔ ماحول میں موسیقی گھل گئی۔


بادشاہ سلامت نے اپنے ہرکارے سے پانچ لاکھ کا چیک پکڑا اور غلام ربانی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’ان پیسوں سے اس بچی کا علاج کروائیں! اسے تعلیم دلوائیں۔۔۔ ہم آپ کو پورا پورا انصاف دلوائیں گے۔ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔ خواہ وہ کتنے ہی اثر و رسوخ والے کیوں نہ ہوں۔ ہمارے قانون سے بچ نہیں سکتے۔۔۔ وغیرہ۔۔۔ وغیرہ۔


عبرتناک سزا دیں گے۔ ہم اپنی بچیوں کے لئے اس ملک کو محفوظ بنائیں گے۔۔۔ ہم نے سوچ لیا ہے۔۔۔ ہم۔۔۔ ہم۔۔۔
شدت جذبات سے غلام ربانی کانپتا جاتا تھا اور مائی فیضاں قدموں میں جھکتی جا رہی تھی۔ باہر میز پر کھانے کی اشیاء چنی ہوئی تھیں۔
موقع غنیمت جان کر سارے پولیس والے ان چیزوں پر ٹوٹ پڑے۔۔۔


اس سے بہتر موقع انہیں نہیں ملا تھا۔ کیونکہ اندر بڑا جذباتی سین چل رہا تھا۔ دلاسے کی شیرینی سے بھری ہوئی باتیں کر کے بادشاہ سلامت یکایک کھڑے ہو گئے۔منظر نامہ پھر بدل گیا۔۔۔
اپنا منہ پونجھتے ہوئے سب درباری یوں ان کے آگے پیچھے چلنے لگے جیسے ایمرجنسی نافذ ہونے والی ہو۔ باہرکا میدان ایک دم صاف ہو گیا۔۔۔
اس وقت غلام ربانی نے ہاتھ میں پکڑا ہوا چیک عینک لگا کر دیکھا۔ ماں نے اٹھ کر نگہت کا منہ چوم لیا اور پوچھا۔۔۔
اصلی ہے ناں۔۔۔


پگلی ہے۔۔۔ غلام ربانی بولا۔۔۔ کبھی بادشاہ بھی جھوٹا چیک دیتے ہیں۔
اب تو جلدی سے اپنا گھرٹھیک کرالے۔ بلکہ پکا کرا لے یہاں بڑے بڑے لوگ آتے ہیں جھلی ہے ابھی تو نمبردار سے زمین چھڑانی ہے اور ایک نیا کلہ بھی لینا ہے۔ اب نگہت کا رشتہ مل جائے گا۔ اس کی شادی کے لئے پیسے بچا لینا۔ پانچ لاکھ بڑی رقم ہوتی ہے۔


ہاں ہاں میں جانتا ہوں۔ مجھے مشورے نہ دے۔ بیٹی کی وجہ سے جو برادری میں بدنامی ہوئی ہے کیا اس کا داغ پانچ لاکھ سے دھل جائے گا۔ جدھر بھی خرچ کریں گے لوگ باتیں بنائیں گے۔۔۔
روپے پیسے سے سب داغ دھل جاتے ہیں مائی فیضاں اسے سمجھانے کے انداز میں بولی وہ دونوں باتیں کر رہے تھے۔ انہیں پتا بھی نہ چلا کہ چھوٹی سی بیٹی طلعت۔۔۔ جسے انہوں نے جبراً آنکھیں بند کر کے لیٹا دیا تھا اٹھ کر کھسکتے کھسکتے باپ کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ کبھی وہ باپ کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چیک کو دیکھتی۔۔۔ کبھی ماں کے خوشی میں ڈوبے چہرے کو دیکھتی۔۔۔ اور کبھی اپنی بہن نگہت کو دیکھتی جسے باپ نے ابھی تک سینے سے لگا رکھا تھا۔


حقیقت میں اس وقت کسی کو طلعت کا خیال تک نہیں تھا نہ اس کی موجودگی کا احساس تھا۔۔۔
وہ خود ہی باپ کے گھٹنے سے لگ گئی اور اس کا گھٹنا ہلا ہلا کر بولی۔
ابا۔۔۔ ابا۔۔۔
ابا۔۔۔ میری باری کب آئے گی؟

 
17
December

تحریر: کوکب علی

سوویت یونین کی تقسیم کے بعد1991 میں یوکرائن کو ایک الگ ملک کی حیثیت دی گئی ۔لہٰذا 23 اگست کو یوکرائن کا قومی دن نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور اس دن یوکرائن کے عوام بہت اہتمام سے اپنا قومی لباس زیب تن کرتے ہیں ۔جو سفید رنگ کی خوبصورت کڑھائی والی شرٹس پر مشتمل ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گاکہ کمیونسٹ دور نے یوکرائنی ثقافت پر خاطر خواہ اثرات مرتب کئے ہیں جو آج بھی کہیں کہیں واضح انداز میں نظر آتے ہیں۔ یہاں کی ثقافت متنوع اقسام کی حامل ہے ۔مگر گزشتہ چند سالوں کے دوران اپنے مشرقی اور مغربی ہمسایہ ممالک کی رفاقت کی وجہ سے کچھ تبدیلی کا شکار ہے۔

 
دسویں صدی میں یوکرائنی کلچر کی تاریخ میں عیسائیت کو قبول کیا گیا ۔۔۔ چنانچہ دو طرح کے عقائد رکھنے والے لوگ موجود ہیں کیتھالکس اور آرتھوڈاکس مگر یہاں یہ امر حیران کُن ہونے کے باوجود عام پایا جاتا ہے کہ سوویت یونین کی تقسیم کو ایک مدت گزر جانے کے باوجود بھی وہ ریاستیں جہاں مسلمان آباد ہیں‘ اپنے مذہب کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے۔یوکرائن کے لوگ سادہ طبیعت اور نرم مزاج ہیں ۔واقف اور ناواقف سے سلام دعا میں پہل کرتے ہیں۔ انجان بندے کو ’’دراست وچے‘‘ جبکہ دوست، عزیز کو ’’پریوویت‘‘کہہ کر بات چیت کا آغاز کیا جاتا ہے ۔

youkrinekisak.jpg
یوکرائن میں عمومی طور پریوکرائنی اور روسی دو زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ یوکرائنی زبان قدیم ہے ۔ جبکہ روسی زبان جدید تصورات کی حامل ہے اور تہذیب یافتہ خیال کی جاتی ہے۔ دونوں زبانوں کی ساخت اورلہجوں میں نمایاں فرق موجود ہے۔ یہ لوگ اپنے تہواروں کو نہایت جوش و خروش سے منانا اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ نئے سال کی آمد پر تقریبات کی رنگا رنگی کے علاوہ 7 جنوری کو عید کی خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں 23 فروری کو یہاں مینز ڈے منانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔جس کے لئے تمام مرد برادری انتہائی جوش و جذبے کا مظاہرہ کرتی ہے۔یہاں کے لوگ تحائف لینا اور دینا بہت پسند کرتے ہیں۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر پاسیبا کہہ کر شکریہ ادا کیا جاتا ہے جو سننے والے کی طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔وقت کی پابندی ان لوگوں کے مزاج کا اہم ترین حصہ ہے۔جانوروں سے خوب پیار کیا جاتا ہے اور گھر میں نمایاں جگہ دی جاتی ہے۔


یوکرائن کی زمیں خا صی زرخیز ہے۔ اکژ موسمِ بہار کی بارش کے بعد قریبی ساحلی علاقوں میں زمیں خوبصورت سیپیاں اُگلتی ہے۔ موسمِ گرما کا دورانیہ مختصر ہے۔جبکہ شدید سردی کے باعث دسمبر میں برف باری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور کاروبارِ زندگی جامد نظر آتا ہے ، لیکن کبھی کبھی سورج بھی ٹھنڈی دھوپ کے ساتھ استقبال کرتاہوا دکھائی دیتا ہے۔ 
یوکرائنی کھانوں میں کوسائین کو سپیشل ڈش کا درجہ حاصل ہے ،جبکہ ان کی رسومات کی طرف نگاہ کی جائے تو نئی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے یہ لوگ اکثر توہمات کا شکار رہتے ہیں۔ شادی کے روز دولہا، دلہن کے گھر جا کر اس کی سہیلیوں سے پیسوں کے معاملات طے کرتا ہے تا کہ دلہن کو حاصل کیا جا سکے۔ مگر دلہن کے گھر بیٹھنے اور کھانے پینے کی ممانعت سمجھی جاتی ہے ، کیونکہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی آنے والی نسلیں دیر سے چلنا شروع کریں گی یا مختلف بیماریوں کا شکار رہیں گی۔۔۔اگریوکرائنی ادب کی طرف نگاہ کی جائے تو دوسرے یورپی ممالک کی طرح یوکرائن کا بھی ادبی حلقہ موجود ہے۔بہت سی کہانیاں جو زبانی کہی اور سنی جاتی تھیں‘ وہ آج یوکرائنی ادب کا حصہ ہیں۔ افسانہ نگاری، شاعری اور بچوں کا ادب مشہور اصناف ہیں۔ تاہم یہاں کا ادب انسانی کوششوں کا عکاس ہے جو معاشرے کی بہتری کے لئے کی گئیں ہیں۔

waleedsher.jpg
یوکرائن میں مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ انہیں یہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی بھرپُور آزادی اور اجازت ہے۔ پاکستانی بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں ،ولیدشیر حسین جو کہ انجینئرنگ کے طالبعلم ہیں‘ اُن کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس لوٹ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،۔۔۔ 
drzafar.jpg
ڈاکٹر ظفر اقبال بھی یوکرائن سے طب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان لوٹ کر اپنے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
alimasoood.jpg
علی مسعود ایک بزنس مین ہیں جو 12 سال سے یہاں مقیم ہیں اور پُرسکون انداز میں روزگار کا سامان کر رہے ہیں۔ 

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یوکرائن میں 18 سال تک کی عمر کے نوجوانوں کو جنگی تربیت دی جاتی ہے تا کہ ضرورت پڑنے پر ملک کی حفاظت کے لئے جنگ میں شامل کیا جاسکے۔تاہم ان دنوں نئی نسل کا رجحان بری افواج میں شمولیت کی طرف زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ برس یوکرائن اور روس کی خانہ جنگی کی وجہ سے کچھ علاقے توڑ پھوڑ کا شکارہوئے مگر حالات اب تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

 
17
December

(تحریر: ثبات بابر(ماہر غذائیات

عام صحت کے لئے خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار ایک معین سطح پر ہوتی ہے۔ خون میں شوگر کی سطح کو مناسب رکھنے کے لئے لُبلُبے یا پینکریاز نامی غدود سے پیدا کردہ انسولین ضروری ہوتی ہے۔ جب کسی وجہ سے یہ غدود کم انسولین بناتی ہے یا پھر انسولین صحیح طور پر اثر نہیں کرتی تو خون میں گلوکوز کی سطح صحیح طور پر کنٹرول میں نہیں رہتی۔ کھانے کے ساتھ یہ سطح زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس عرصے میں جب خون گردوں سے گزرتا ہے تویہ زائد گلوکوز پیشاب کے ذریعے خارج ہوتا ہے اور اسی طرح شوگر کی بیماری کا آغاز ہوتا ہے۔


ذیابیطس کی تشخیص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو طرح طرح کے کئی صحت مندانہ کھانوں سے بدستور لطف اندوز ہونے کے معاملے میں محتاط ہونا چاہئے۔ شروع میں یہ چیلنج سا لگے گا لیکن آپ کی غذا کے انتخاب اور آپ کے کھانے کی عادتیں آپ کے لئے اپنی ذیابیطس پر قابو پانے اور لمبی مدت کے لئے صحت کے سلسلے میں ضروری ہے۔


ذیابیطس میں خوراک کا اصول
ذیابیطس میں ایسی خوراک استعمال کرنی چاہئے جس سے خون میں گلوکوز کی سطح یک دم بہت زیادہ نہ ہو جو متعلقہ غدود یعنی پینکریاز سے سنبھالی نہ جا سکے۔
غذائیں جن سے پرہیز ضروری ہے
گڑ‘ چینی‘ بیکری کی اشیاء (کیک‘ پیسٹری‘ بسکٹ) آم‘ انگور‘ کھجور‘ تازہ پھلوں کا رس‘ گنا‘ آئسکریم‘ مشروبات‘ (کولڈڈرنکس‘ ڈبے کا جوس) کشمش‘ انجیر‘ پڈنگ‘ جیلی‘ چاکلیٹ‘ بند ڈبوں والے پھل‘ خشک دودھ اور میٹھی ٹافیاں وغیرہ۔
ان کے علاوہ شہد‘ شکرقندی‘ کیلا‘ خربوزہ‘ تربوزہ‘ انجیر‘ آڑو‘ چقندر‘ مائیونیز‘ سٹرابیری‘ لیچی‘ ٹماٹر اور چاول وغیرہ۔
غذائیں جو حسب ضرورت استعمال کر سکتے ہیں
کھیرا‘ گاجر‘ سفید مولی‘ پالک‘ بھنڈیاں‘ چکوترا‘ کینو‘ چیری‘ جامن‘ فالسے‘ ناشپاتی‘ سیب‘ امرود‘ دودھ اور دودھ سے بنی تمام اشیاء (بغیرملائی کے)‘ دالیں‘ سفید چنے‘ بھنے ہوئے چنے‘ تازہ سلاد‘ جو‘ مکئی‘ پاپ کورن‘ بادام‘ اخروٹ اور پستے وغیرہ۔
ضروری ہدایات
اپنی خوراک کو بجائے 3دفعہ کھانے کے چار یا چھ دفعہ کھائیں۔ تھوڑی تھوڑی مقدار میں خوارک لیں۔ کھانا پکانے کے لئے سبزیوں والا تیل استعمال کریں۔ مثلاً کینولا آئل‘ سورج مکھی کا تیل‘ زیتون کا تیل وغیرہ
پیاس کو بجھانے کے لئے برف کے ٹکڑے یا ٹھنڈے پانی کی کلیاں کریں۔ ہر کھانے کے ساتھ تازہ سبزیوں کا سلاد استعمال کریں۔ روزانہ چہل قدمی اور ہلکی پھلکی ورزش کو اپنے دن بھر کے پروگرام میں شامل کریں۔
وزن ضرورت سے زیادہ ہے تو کھانوں میں چربی‘ آئل‘ گھی‘ مکھن‘ مارجرین‘ مٹھائیاں‘ نمکو‘ خشک میوہ اور بیکری کی کی بنی ہوئی اشیاء سے گریز کریں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
17
December

گرامی قدر جناب یوسف عالمگیرین صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ!
اِ ک طرز جہاں ثباتی اِک عالمگیریتِ آفاقی
سرائے عالمگیر کے ملٹری کالج کے بندۂ وجدان عالمگیرین بہ شناخاتی
اﷲ کی رحمت ہو آپ پر!
سر! میرے نام کے ساتھ اتنا عظیم لاحقہ یعنی شہید کی ماں
بلاشبہ۔۔۔ وَتُعِزُّمَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ
میرے دو بچے بھی ملٹری کالج جہلم میں گئے
جو بچہ آٹھویں کلاس میں ملٹری کالج میں چلا جائے اُس کا سونا جاگنا ‘ کھانا پینا‘ پڑھنا لکھنا‘ اور کھو جنا‘ سبھی کچھ فوج نے دیا۔ فوج نے کہا
کبھی سختی کبھی نرمی‘ کبھی ڈانٹ ‘ کبھی انعام


پھرملٹری کالج سے جے . سی.بی اور پی.ایم.اے ایسے میں اماں کہاں کھڑی ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ میری ریاکاری ہوگی۔ کہ میں یہ ٹائیٹل اوڑھ لوں اتنے سارے موسموں میں بارش دھوپ میں کڑا کے کی سردی میں‘ طبیعت کی ناسازی میں۔
کبھی کبھی حالات کی ناسمجھی اور ناگواری میں بس نے اُسے اٹھایا ‘ دلاسہ دیا اور حوصلہ بخشا۔ برسات کی رم جھم میں کینٹین کا بن سموسہ‘ چنے کی دال کا حلوہ‘ بڑا کھانا یہ سب میں نے تو نہیں فوج نے دیا۔


میں کیسی ہوں میں نے جی بھر کے اس کے کپڑے بھی دھوئے؟ سکھائے نہیں۔ یونیفارم سجائے؟ نہیں۔ کریڈٹ تو ملٹری کالج جہلم سرائے عالمگیر کو جاتا ہے پھر جے . سی.بی اور پی.ایم.اے کو۔میرے پاس تو مہمانوں کی طرح آتے تھے۔ پہلا بیٹا ڈاکٹر امیر محسن عباس آرمی میڈیکل کور اور دوسرا حسین عباس بریگیڈیر حسین عباس۔


خلیل جبران نے کہا تھا کہ اپنی اولاد پہ اپنا حق نہ جتاؤ یہ فطرت کی اولاد ہیں یعنی اس کائنات میں نظمِ کائنات میں بس رحمان کی ترتیب و تخلیق‘ نسب کا نساب بھی اُسی کی دین ہے۔ بس ہماری اولادیں ایک ہی ذات‘ ذاتِ خداوندی کا احسان ہیں۔ انہوں نے نسب کو ممتاز کردیا اور حسب کو بھی۔ یہ تربیت گاہوں کا بھی احسان ہے ہم پر۔


میں اس قابل تو نہیں کہ ’’ہلال‘‘ کے لئے لکھوں بس کچھ عاجزانہ سا خیال اے پی ایس پشاور کے شہید بچوں کی نذر کررہی ہوں۔ رب العزت سے دعا ہے کہ ہماری ’ماں‘ جیسی پاک فوج جس کی کوکھ میں ہزاروں حسین شہید موجود ہ ہیں‘ کو سلامت تاقیامت رکھے۔ آمین

درِ شہوارحسین

اے پی ایس پشاورکے شہید بچوں کے لئے ایک نظم

کل یہیں تھے وہ دلبرانِ چمن

کمسنی بن گئی بجھارت سی

میرے آنگن میں چہچہاتے تھے

رب کی مجھ پر بڑی عنایت تھی

کہکشاؤں میں کیوں سدھارے ہو

لوٹ آؤ کہ ماں بلاتی ہے

اشک آنکھوں میں جھملاتے ہیں

تیری بہنا بلبلاتی ہے

ہاتھ سینے پہ ضبط و اضطراب دل میں لئے

اپنے بیٹے کو درمیان لاشوں کے یا

جسم کے اُڑتے ہوئے چیتھڑوں کے

ڈھونڈتا ہے تجھے تیرا بابا

’’اے نورِ نظر دینا آواز کہ کہاں ہے تو؟

میرے آنگن کے بیل بوٹے بھی

گھاس بھی سبزہ و دیواریں بھی

ہیں ترستے تیری صداؤں کو‘

تیری مہکار سے پرے ہم ہیں

تو مگر ہے کہاں بتا تو سہی

تیرے غم میں ہوائیں روتی ہیں

اور بادل تڑپ برستے ہیں

کونسی کہکشاں کے تارے ہو

سورۃ البروج القرآن کی آیات کے امین

درِّ شہوار حسین

(والدہ محترمہ بریگیڈیئر حسین عباس شہید)

 
17
December

تحریر: حبیب گوہر

کہوٹہ شہر کے پہلو میں واقع چھنی اعوان اپنی ہموار ی اور زرخیز ی میں بے مثال ہے۔ اس کی مٹی سونا اور پانی امرت ہے۔اس کے کنویں منڈیروں سے چھلکتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں آج بھی زعفران کاشت کیا جاتا ہے۔اس کے نظاروں میں شادابی اور وسعت ہے جو آزادی کا تاثر دیتی ہے اور نیلگوں فضاؤں میں پرندے کی طرح تیرنے پر ابھارتی ہے۔ فضائی اڑان کا ایک ایسا ہی خواب چھنی اعوان کے فلائٹ لیفٹیننٹ ملک غلام مرتضیٰ( شہید) نے دیکھا اور تمغہ جرأت حاصل کیا جو نشان حیدر، ہلال جرأت اور ستارہ جرأت کے بعد چوتھا سب سے بڑا ملٹری اعزاز ہے۔

aikfizaimuha.jpg

پوٹھوہار کے لوگ روایتاً سپہ گر ہیں۔ یہ لوگ بیرونی حملہ آوروں کی فوج میں شامل ہونے کے لئے انتظار میں رہتے تھے۔ دو عالمگیر جنگوں میں بڑی تعداد میں یہاں کے لوگ شامل ہوئے۔قیام پاکستان کے بعد بری فوج کے ساتھ ساتھ نیوی اور ائیرفورس میں جانے کا رحجان بڑھ گیا۔ غلام مرتضیٰ نے بھی 19جون 1958 کو پاک فضائیہ میں بطورِ ائر کرافٹ ٹیکنیشن شمولیت اختیار کی۔ جنوری 1963 میں انہیں پاک فضائیہ کی رسالپوراکیڈمی میں آفیسر ٹریننگ کے لئے منتخب کیا گیا۔ انہیں 30جنوری 1968میں کمیشن ملا اور وہ آپریشنل نیویگیٹربن گے۔

 

5دسمبر1971کو فلائٹ لیفٹیننٹ جاوید اقبال کے ساتھ انہیں تیسرے جنگی مشن امرتسرائیربیس کو غیر فعال بنانے کا ٹارگٹ دیا گیا‘ لیکن وہ لوٹ کر نہیں آئے۔ پاک فضائیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کا جہاز حادثے کا شکار ہو گیا ہے اور انہیں لاپتا قرار دے دیا گیا۔ ملک غلام مرتضیٰ شہید کی بیوہ ’’بشیراں بی بی‘‘ اپنے دوبچوں 4ماہ کے عثمان اور 4 سال کے بابرکے ساتھ اُن کی واپسی کی آس لگائے بیٹھی رہیں۔

 

انتظار کا کرب بھی جان لیوا ہوتا ہے۔ ’’بشیراں بی بی‘‘ کو کچھ سال بعد ہلالِ احمر کی جانب سے ایک خط کی صورت میں اُن کی شہادت کی اطلاع ملی۔ شہادت کے اطمینان کے باوجود ایک اضطراب دامن گیر تھا کہ انہیں ایک خوش خبری جناب نظام الدین اولیا کے قبرستان کے متولی کے خط سے ملی جس کے مطابق غلام مرتضیٰ شہید کوتمام اسلامی آداب کے ساتھ دفن کر دیا گیا ہے۔

 

شہید کی زوجہ کی عمر گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں تدریس میں گزر گئی۔ عثمان انجم فوج میں میجر ہو گئے اور بابر اقبال مرتضیٰ ایک اچھے عہدے پرپہنچ گئے۔ زندگی پرسکون گزر رہی تھی کہ پچھلے سال جذبات کے پرسکون تالاب کو ایک کتاب نے چھلکا دیا۔

 

43 برس بعد کرنل (ر) اعظم قادری اور گروپ کیپٹن محمد علی کی 1971 کے ایک سو بے نام شہداء اور غازیوں کے بارے میں کتاب ’’سینٹینلزان دی اسکائی‘‘ سے یہ منکشف ہوا کہ امر تسر ائربیس کو تباہ کرنے کے مشن میں فلائٹ لیفٹیننٹ جاوید اقبال اور فلائٹ لیفٹیننٹ ملک غلام مرتضٰی کامیاب ہو گئے تھے لیکن دشمن کی جوابی کارروائی میں زخمی ہو گئے۔۔۔طیارے سے چھلانگ لگا دی۔۔۔ پکڑے گئے۔۔۔ انہیں دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔۔۔ 16 دسمبر کو پاکستان دولخت ہوا اوراگلے دن غلام مرتضیٰ کی جان قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ انہیں سعودی سفارت خانے سے حاصل کردہ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر تمام اعزاز کے ساتھ قبرستان نظام الدین اولیا ء کے احاطے میں دفن کر دیا گیا۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
17
December
17
December
Page 1 of 25

Follow Us On Twitter