تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔

عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سواکچھ نہیں ہوتا۔

bano qudsia1جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔

رزقِ حلال کا پیغام اسلام کو باقی ادیان سے ممتاز کرتا ہے۔ یہی نقطہ راجہ گدھ لکھنے کی تحریک بنا۔

جب معاشرہ مکمل آزادی مانگے گا تو وہ مغرب کے رنگ میں ڈھل جائے گا۔

بانو قدسیہ عصر حاضر میں اردو ادب کی ایک معتبر ادیبہ ہیں۔ ان کی تخلیقات دنیائے ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں جو قارئین کے شعور سے ہم کلام ہوکر انہیں مقصد حیات سے آشنا کرتی ہیں۔ ان کی تحریریں اردو ادب کا حسن اور زندگی کی علامت ہیں۔ ہلال نے اکتوبر کے شمارے میں اشفاق احمد کی یادوں کے حوالے سے بانو قدسیہ کے ساتھ ایک گفتگو شائع کی گئی تھی جس میں ان کی اپنی شخصیت کے متعلق بات چیت نہیں گئی تھی جس کے پیش نظر بانوقدسیہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا جارہا ہے۔ اس انٹرویو میں زندگی اور اس سے منسلک اہم موضوعات پر بانو قدسیہ سے گفتگو کی گئی ہے جسے پڑھ کر بانو قدسیہ کی فکر اور نظریہ حیات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

سوال: کیا آج کا اُردو ادب‘ کلاسیکی ادب سے جُڑا ہوا دکھائی دیتا ہے یا یہ اپنی نئی راہیں متعین کرچکا ہے۔

جواب: اردو ادب نئی راہوں پر چل چکا ہے اوراپنی پچھلی راہوں کے ساتھ بھی متصل ہے۔ کوئی نئی راہ بذات خود نہیں بنتی جب تک پرانی راہ کا وجود نہ ہو۔ یقین کریں اگر آپ تاریخ کو بھلا دیں گے تو چار ہزارسالوں کی روایات اور کہانیاں ختم ہوجائیں گی، یہ باقی نہیں بچیں گی۔ سوجوکچھ آپ آج ہیں، اسی طرح چار ہزار سال پہلے کا آدمی بھی ہوگا ،یہ اس چیز کا عکاس ہے کہ انسان تاریخ سے جڑا ہوا ہے اور علیحدہ اس طرح کہ انسان ہر عہد میں نئی راہوں سے متعارف ہوجاتا ہے، نئی چیزیں سیکھتا ہے اور آگے کی جانب سفر جاری رہتا ہے۔

سوال : آپ کی نظر میں اچھا ادب اور ادیب کن خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے ایک ہی خصوصیت ہے دونوں چیزوں کی اور وہ سچ ہے۔اگر سچ لکھے گا تو سچا ادیب ہوگا۔اس کا اپنا سچ ، مانگا ہوا سچ نہیں کہ فلاں مسلک سے متاثر ہوکر میں نے یہ سچ کہا، سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

سوال:جدید اردو ادب میں تصوف کی آمیزش واصف علی واصف، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی اور آپ کے ہاں نمایاں ملتی ہے۔اس کے محرکات کیا تھے؟

جواب: ادب میں تصوف یا اس کے علاوہ کسی بھی نظریے کی آمیزش کی نہایت سادہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ لکھنے والے کا عملی زندگی میں جس طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا اور رابطہ ہوتا ہے ان کی بودوباش، پرتَو اور عکس کسی نہ کسی سطح پر تخلیق کار کی تحریروں میں ضرور دکھائی دے گا۔ جہاں تک تصوف کی آمیزش کا تعلق ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اس نظریے میں اتنی قوت ہے کہ یہ آنے والے دور میں بھی جاری رہے گا اور خود کو منوائے گا۔

سوال : اردو ادب گروہ بندیوں کا شکار رہا ۔ ترقی پسند تحریک اور پھر دائیں بازو یا بائیں بازو کے دانشور کی اصطلاح بھی رہی۔ آپ پراور اشفاق صاحب پر کسی گروہ کی کوئی خاص چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟

bano qudsia2جواب: اس کی وجہ ہے کہ ہم اپنی سوچ سے منسلک رہے،ہم نے دائیں بائیں نہیں دیکھا کہ تحریکیں کیا چل رہی ہیں، ان کے ساتھ مل کر ہم نے مضبوط ہونے کی کوشش نہیں کی۔ دائیں یا بائیں بازو کی تحریک سے ہم اس لئے بھی منسلک نہیں ہوئے کیونکہ ہماری سوچ آپس میں ایک دوسرے سے منسلک تھی۔ تنقید نگار بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہم پر ایک دوسرے کی چھاپ بھی آئی ہے یا نہیں۔

سوال : اشفاق صاحب اور آپ کا ساتھ ایک عہد کی علامت ہے۔ اشفاق صاحب کی بحیثیت ادیب اور انسان کن خاص خاص یادوں کو ہمارے قارئین سے شیئر کرنا پسند کریں گی؟

جواب: میں نے اشفاق صاحب پرایک پوری کتاب ’’راہ رواں‘‘ لکھی ہے، اس کو پڑھ لیں، میری ساری یادیں، زندگی کے خوبصورت لمحات آپ تک پہنچ جائیں گے، آپ کو پتا چل جائے گا کہ میں ان کو کیسا انسان، ساتھی اور کیسا ادیب سمجھتی ہوں۔انہوں نے ہر لمحے میری رہنمائی کی بلکہ میںیہ کہو ں تو بہتر ہے کہ مجھے بنانے والے ہی اشفاق صاحب ہیں۔ میں اپنی کتاب میں یہ بات بہت تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ایک دن صبح اشفاق صاحب کچن میں آئے، میں وہاں پر کھانا پکا رہی تھی، مجھے کہنے لگے: قدسیہ ذرا میرے پاس باہر آجائیے۔ مجھے لے کرلان میں چلے گئے وہاں دو کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ ہم ان پر بیٹھ گئے، گفتگو شروع ہوئی تو اشفاق صاحب نے مجھے کہا کہ یہ جو سارا دن باورچی خانے میں وقت ضائع کرتی ہوکیا کوئی نوکرانی نہیں ہے ایسی جو کھانا وغیر ہ پکا سکے؟ میں نے کہا: جونی بہن ہیں وہ پکاتی ہیں،میں ان کی مدد کرتی ہوں، کہنے لگے یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ ان کی مدد کرتی ہیں لیکن تم کیا کوئی اور کام کرسکتی ہو؟ میں نے کہا، سوچ کر بتاتی ہوں۔ ایک منٹ میں نے سوچا پھرمیں نے کہا ہاں میں لکھ سکتی ہوں شاید، کہنے لگے تو پھر لکھتی کیوں نہیں؟ میں نے کہا، پانچویں میں مَیں نے آخری افسانہ لکھا تھا۔ کہنے لگے کیا نام تھا اس کا؟ میں نے کہا فاطمہ، تو انہوں نے کہا کہ کل سے دوبارہ لکھنا شروع کرواور باورچی خانہ چھوڑ دو ہمیشہ کے لئے۔میں نے کہا، یہ میں کیسے کرسکتی ہوں تو بولے آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔ کہنے لگے ایک شرط اور ہے جس وقت آپ نے لکھنا ہے اس وقت کسی سے نہیں ملنا۔جس طرح اگر مچھلیوں کو ایک وقت پر کھانا ڈالنا شروع کریں تو وہ روز عین اسی وقت پر پانی کی سطح پر آتی ہیں، اسی طرح خیالات کی بھی روٹین بن جاتی ہے جب آپ چار بجے لکھنے بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کرتے ہیں تو اسی وقت خیالات آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نے اپنی روٹین نہیں توڑنی، اس وقت آپ کا باپ آئے ، والدہ آئے یا بھائی آئے آپ نے کسی سے نہیں ملنا، اسی میں کئی لوگوں کو میں نے ناراض بھی کیا لیکن اپنی روٹین کو میں نے قائم رکھا۔ اب دیکھ لیجئے پچیس کتابیں کیسے لکھی گئیں مجھے نہیں معلوم۔

سوال : راجہ گدھ اردو ادب کی ممتاز تخلیقات میں سے ایک ہے۔ راجہ گدھ میں کردار‘ معاشرہ اور انسانی اقدار ایک شعوری اور لاشعوری ارتقا کی حدود اور سمت کی جانب سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ راجہ گدھ کے پیغام کو کس طرح مختصراً بیان فرمائیں گی۔

جواب: نئی نسل کو تو میں صرف اتنا بتانا چاہوں گی کہ راجہ گدھ عجیب طرح سے میرے اوپر نازل ہوئی۔ یہ اسی (80) کی دہائی کی بات ہے۔ امریکہ نے ہمیں مرعوب کرنے کے لئے ایک ایکسچینج پروگرام دیاجس میں کچھ پاکستانی ادیبوں کو امریکہ لے جایاجاتا اور وہاں کے کلچر سے متعارف کروایا جاتا۔پھر کچھ امریکی ادیب پاکستان آتے اور یہاں کے گھروں میں رہتے۔ اسی طرح اشفاق احمد امریکہ میں ہیس فیملی کے پاس ٹھہرے اور واپسی پر باب ہیس کو اپنے ساتھ لائے جسے ہمارے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ باب ہیس امریکیوں کی طرح اپنے آپ کو اعلیٰ مخلوق تصور کرتا تھا۔ جب صبح ناشتہ ہوجاتا bano qudsia3تو وہ روز مجھ سے سوال کرتا کہ اسلام باقی مذاہب سے اچھا اور برتر کیسے ہے؟ اس میں ایسی کون سی بات ہے جو باقی مذاہب میں نہیں ہے تومیں چونکہ تیار نہیں ہوتی تھی اس طرح کے سوالوں کے لئے، سو میں عورتوں کی طرح غلط سلط جواب دے دیا کرتی جو اس کو متاثر نہ کرپاتے ۔ میں کہتی اللہ ایک ہے تو وہ ہنسا کرتا اور کہتا کہ کیوں دوسرے مذاہب میں اللہ تین چار ہیں‘ میں لاجواب ہوجاتی۔ دوسرے دن کچھ اور اسی طرح کا سوال کرتا جن سے میں پریشان بھی ہوجاتی کہ اس کو کیا مناسب جواب دوں۔ ہمارے باغیچے میں سندری کا ایک درخت ہوتا تھاجس سے سارنگی بنتی ہے۔ ایک دن عصر اور مغرب کے درمیان میں وہاں کھڑی تھی تو میں نے دعا کی کہ اللہ پاک مجھے ایسا علم عطا کر جس سے میں اس کے تمام سوالوں کا جواب دے سکوں تو سندری کے درخت میں سے سارنگی کی آواز بولی: رزق حرام، رزق حرام، رزق حرام۔ میں سمجھ نہیں سکی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ درخت میں سے آواز آئی کہ اگر آپ اپنے بچوں کو رزق حرام کھلائیں گے تو آپ کی آنے والی نسلیں پاگل ہوجائیں گی، دیوانہ ہوجائیں گی۔ جب اگلے دن میری اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام نے ایک ایسا پیغام دیا ہے جو کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا: کہنے لگا بتائیے کون سا، اس نے سر کے اوپر ایرانی ٹوپی پہن رکھی تھی تو میں نے اس کو کہا کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ رزق حرام نہ کھانا ورنہ تمہاری آنے والی نسلیں دیوانی ہوجائیں گی۔اور پھر وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرسکیں گی، وہ شراب بھی پئیں گے، وہ عورتوں کے پاس بھی جائیں گے اور وہ اپنے بچوں سے اچھا سلوک بھی نہیں کریں گے، سارے کام ہوں گے۔وہ کہتا ہے رُک جائیے، رُک جائیے۔ پھر وہ اُٹھا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا، دس منٹ کے بعد اندر آیا اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ سندری کے درخت سے مجھے یہ فیض حاصل ہوا جس کو باب نے بھی مانا اور کہا کہ واقعی کسی اور مذہب میں یہ بات حکم کی صورت میں نہیں آئی۔ دوسرے دن صبح میں چھت پر صفائی کے لئے گئی، وہاں بارش ہورہی تھی۔ میں نے سوچا کوئی چیز بھیگ نہ رہی ہو، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک کاپی پڑی ہوئی تھی جس پر موٹا موٹا خوبصورت لکھا ہوا تھا راجہ گدھ اس کو میں نے اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ سو چھت پر بیٹھ کر میں نے اس کتاب کو لکھا اور نئی نسل کے لئے راجہ گدھ کا پیغام بھی یہی ہے کہ رزق حلال سب سے بڑی نعمت ہے۔

سوال : آپ اپنے اب تک کے ادبی سفر کو کس طرح سے دیکھتی ہیں؟

جواب: یہ کام میرا نہیں ، یہ میرے پڑھنے والے اور تنقید نگاروں کا کام ہے کہ وہ میرے کام کو پرکھیں، اس پر رائے دیں۔اب میرا دل لکھنے کو نہیں کرتا ، میری آنکھیں خراب ہیں اور میرا چھوٹا بیٹا اسیر خان میرے ساتھ رہتا ہے جس کی زندگی میں نے تباہ کر رکھی ہے۔یہ اپنے سارے کام چھوڑ کر مجھے توجہ دیتا ہے اور میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی کیونکہ اس نے اپنا سب سے قیمتی وقت، اپنی جوانی کا وقت میرے اوپر صرف کیا ہے۔

سوال : دورِ جدید میں آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اُردو ادب کی کون سی صنف کا مستقبل زیادہ تابناک ہے۔ نئی نسل کا رجحان کس جانب زیادہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ ’سٹ کام‘ (Sitcom)کی طرف رجوع زیادہ ہے۔کیونکہ لوگ شام تک اپنی مصروفیات سے اس قدر تھک جاتے ہیں کہ وہ ہنسنا چاہتے ہیں، بولنا چاہتے ہیں، بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف ایسی ہی چیزوں سے ہوسکتا ہے اور دوسرے ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ہے توسٹ کام ہی نسبتاًسب سے زیادہ مناسب جا رہا ہے۔ نئی نسل بھی اسی جانب راغب ہے اور نئی سوچ کو دیکھنا چاہتی ہے، موضوعات چاہے مشرق سے آئیں یا مغرب سے۔

سوال : آپ نے اب تک زندگی میں بہت کچھ لکھا بلکہ ماشاء اﷲ بہت زیادہ لکھا۔ کیا کوئی ایسا پراجیکٹ ہے جو آپ لکھنا چاہتی ہیں لیکن اب تک نہ لکھ پائی ہوں۔

جواب: میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ اپنے حساب سے تو میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے لیکن کچھ کتابیں سوجھ جائیں تو اسکے متعلق میں لکھ بھی لوں۔ میں مطالعہ تو کرتی ہوں لیکن اب زیادہ لکھ نہیں پاتی کیونکہ میری آنکھ کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میں اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتی تو زیادہ توجہ سے کوئی کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

سوال : آپ اُردو ادب کے مستقبل کو کیسا دیکھتی ہیں؟

جواب: مستقبل ہمیشہ درخشاں ہوتا ہے کیونکہ اردو بنانے والوں نے اس پر بہت محنت کی ہے اور عرصہ دراز سے اس کی تمام اصناف میں اچھا کام ہورہا ہے تو یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ اردو زبان کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ جس معیار کا ادب تخلیق ہورہا ہے اس کے بارے میں وہ نسل زیادہ بہتر رائے دے سکتی ہے جس کے لئے وہ لکھا گیا ہے۔اگر ان کو پسند آیا اور انہوں نے سمجھا معیاری ہے تو اچھا ادب ہوگا ورنہ نہیں۔شاعری ہو یا نثر دونوں اصناف میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اور ہوتا آیا ہے، اس وقت یہ تنقید نگار بھی نہیں بتا سکتے کہ اچھا کام ہو رہاہے یا برا۔

سوال: ہماری قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عفریت کا سامنا ہے۔ کیا اس جنگ نے بین الاقوامی ادب اور بالخصوص پاکستانی ادب پرکوئی نقوش مرتب کئے ہیں۔؟

جواب: آپ کا کیا خیال ہے اثر نہیں آیا؟ نہیں ایسا بالکل نہیں۔ ہمارا ادیب دہشت گردی کی زد میں آیا ہے لیکن ہمارا ادب بہت متاثر ہونے والا نہیں ہے، وہ اپنی راہیں خود متعین کرلیتا ہے، راستے بنا لیتا ہے اور اپنی راہوں پر آگے نکل جاتا ہے۔بڑی شاہراہ سے چھوٹے راستے جنم لیتے ہیں، یہی صورت حال ہمارے اردو ادب کی ہے، نئے موضوعات نکل رہے ہیں، لیکن اردو ادب اپنی بنیادوں پر بھی قائم و دائم ہے۔

سوال :بانو آپا آپ نے روحانیت اور تصوف پر بہت لکھا۔ آپ اپنی زندگی کے اس حصے میں ہیں جہاں معرفت خدا آشنائی تک لے جاتی ہے۔آپ بتائیے کہ یوں تو حقیقی خدا کی تلاش بہت سے انسانوں کی جستجو رہی ہے ، مگر آپ کے خیال میں خدا تک پہنچنے کا عملی راستہ کیا ہے؟

جواب: خدا تک پہنچنے کا جو عملی راستہ ، صوفیائے کرام کے ہاں ملتا ہے وہ مخلوقِ خدا سے محبت کا راستہ ہے۔اشفاق صاحب کا اور میرا‘ جس طرح کے بزرگوں سے رابطہ رہا اُنہوں نے کبھی بھی ہمیں وظائف نہیں بتائے، چلہ کشی کی طرف راغب نہیں کیا۔وہ صرف ایک ہی بات پر زور دیتے تھے کہ مخلوقِ خدا کا خیال رکھو،وہ فرمایا کرتے تھے ’’تمہارے ہاتھ گندے اور دل صاف ہونا چاہئے۔‘‘مخلوق کی خدمت میں ہاتھ گندے اور دل کی صفائی سے مراد یہ کہ آپ کا دل ہر طرح کے حسد، کینہ، رنجش، گلے شکووں سے پاک ہونا چاہئے۔ حضرت اویس قرنی ؒ سے کسی نے پوچھا’’ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبے سے نوازا ہے ، تو آپ نے کون سے ایسے وظائف کئے ہیں ہمیں بھی بتائیے۔‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ میں نے تو کوئی وظائف نہیں کئے ، میں نے تو ساری زندگی صرف اپنی ماں کی خدمت کی ہے‘‘۔صوفیا کرام فرماتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے کوئی سوال پیش کیا جاتا ہے تو اس سوال کا تعلق علم وادب کے علاوہ ضرورت اور مدد سے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل اس سوال کی صورت میں خدا کا خط آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہوتا ہے ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس سوال کا جواب کس طریقے اور سلیقے سے دیتے ہیں۔

سوال:معیشت ، معاشرت اور روحانیت انسانی زندگی کے اہم جزو ہیں۔ یہ آپس میں کس طرح مربوط ہیں؟

جواب: معیشت، معاشرت اور روحانیت بلاشبہ انسانی زندگی کے بہت اہم جزو ہیں، یہ تمام اجزاء آپس میں کس طرح مربوط ہیں، اس کا فہم و ادراک ہمیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ہم روحانیت کوعملی طور پر اپناتے ہیں۔ عمل کے بغیر بات کرنا فلسفیانہ موشگافیوں کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

سوال:عورت اور مردکا رشتہ آپ کیسے بیان کریں گی؟

جواب: عورت اور مرد کے رشتے سے متعلق میرا بیان میری تحریروں میں واضح طور پر موجود ہے۔ میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے لکھتی آرہی ہوں کہ عورت خالص عارفِ دنیا ہوتی ہے اور مرد عارفِ مولا ہوتا ہے۔ عورت کی دلچسپی اور لگاؤ کا رجحان مرد کی نسبت اپنے بچوں کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ جو مرد، عورت کے بچوں سے لگاؤ کا اظہار کرتا ہے وہ عورت کے دل کا دروازہ کھول کر مکمل طور پر اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ عموماً مرد ایسا نہیں کرتے، مرد کے میلانِ طبع میں لامحدود کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کے سواباقی رشتوں میں عورت، مرد کے رستے میں حائل ہی رہتی ہے۔ اگر مرد کسی طورخانگی زندگی کے بکھیڑوں سے خود کو بچانے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا ۔ اس کی بلند پروازی لامحدود رفعتوں سے آشنا ہوتی جاتی ہے۔

سوال : خاندان کی فعالیت معاشرے کے عمومی توازن کے لئے کتنی ضروری ہے اور موجود ہ دور میں خاندان کو منتشر ہونے سے کیسا روکا جائے؟

جواب: خاندان کی فعالیت معاشرے کے توازن کے لئے بے حد وحساب ناگزیر ہے، مگر موجودہ عہد میں خاندان میں توازن قائم رکھنا دشوار ہو تا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اس مسئلے کو اس نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کنبے بڑے ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے رہنے کے لئے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ تنگی داماں نے وسعتِ نظر پر بڑے بُرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ مگراس سلسلے میں اشفاق صاحب اور میرا نقطہ نظر شروع سے یہی رہا ہے کہ تعلیم کے باوجود تربیت کا فقدان معاشرے اور خاندان دونوں کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ میرے خیال میں ہمارا فوکس تعلیم کے ساتھ تربیت پر ہونا چاہئے ، اس سے توازن بھی برقرار رہے گا ، خاندان اور معاشرہ ہر طرح کے انتشار سے بھی محفوظ رہے گا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سبھی کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے

(آمین)

سوال: نوجوان لڑکیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی جس سے وہ انفرادی اور معاشرتی سطح پر آگے بڑھ سکیں؟

جواب: دیکھیں جو انسان اپنی معاشی یا معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں وہ عموماً حکم نہ ماننے والے لوگ ہوتے ہیں، جب مرد خدا کا حکم نہیں مانتا ہے تو وہ مسائل میں گھر جاتا ہے۔جب عورت اپنے مرد کا حکم نہیں مانتی تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا عورتیں اکثر اپنے شوہروں سے لڑتی جھگڑتی رہتی ہیں، اگر وہ ان کو مجازی خدا سمجھ لیں تو سارے مسائل ہی حل ہوجائیں، اور لڑکیوں کو بھی یہی طرز عمل رکھنا چائیے ، جتنا لڑنا ہے شادی سے پہلے ماں باپ سے لڑلیں کہ میں نے اس سے شادی نہیں کرنی کسی اور سے کرنی ہے۔ لیکن شادی ہوجانے کے بعد لڑائی کرنا ٹھیک نہیں، شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اس کی بات ردکرنا ٹھیک نہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بات ماننے سے زندگی میں برکتیں آ جاتی ہیں۔

اﷲ پاک کی توفیق حاصل ہو تو زندگی میں سلیقہ آ جاتا ہے۔

سچ تو وہ ہے جو انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

Read 1734 times
Rate this item
(0 votes)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter