پاکستان میں ہاکی کو اس کا کھویا ہوا مقام دلانے کے لئے کوشاں ہوں

Published in Hilal Urdu Jan 2014

قومی ہاکی ٹیم کی ناؤ کو عالمی سطح پر پے در پے شکست کے بھنور سے نکالنا کسی چیلنج سے کم نہیں اور چیلنج قبول کرنا محمد عمران کی فطرت میں ہے۔ 2011 میں ہار اور جیت کے تھپیڑے کھاتی اس ٹیم کی کپتانی محمد عمران کو ملی جسے نہ صرف انہوں نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا بلکہ ایسے حالات میں ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی جیت کر اس ناؤ کو بڑا سہارا دیا ہے۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے محمد عمران نے 2004 میں Debut کیا اور اب تک صرف ایک بار قومی ٹیم سے ڈراپ ہوئے ۔ اب تک 223 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ ہم نے ان سے ایک خصوصی نشست رکھی اور قومی کھیل کے بارے انہوں نے خاصی دلچسپ باتیں کیں‘ جو قارئین کی نذر ہیں۔

س:۔ پاک فوج میں شمولیت کب اختیار کی؟

ج:۔ میں نے 1998 میں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی جس پر مجھے فخر ہے۔

س:۔ پاک فوج سے وابستگی ہاکی کی بنیادپر ہوئی یا ہاکی فوج میں شمولیت کے بعدکھیلنا شروع کی؟

ج:۔ ہاکی سکول اور کالج کے دور سے ہی کھیلتا آ رہا ہوں مجھے ہاکی کا بچپن سے ہی جنون تھا اور یہی ہاکی پاکستان فوج میں آنے کی وجہ بنی۔

س:۔ آپ کب سے قومی ہاکی ٹیم کی کپتانی کررہے ہیں اور کیا پاک فوج کی جانب سے بھی بحیثیت کپتان ہی کھیلتے تھے؟ ج:۔ میں 2006 سے پاک فوج کی ہاکی ٹیم کی کپتانی کر رہا ہوں اور ڈومیسٹک مقابلوں میں کپتانی کے دوران بہت کچھ سیکھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاک فوج میں ہاکی ٹیم کی کپتانی کا تجربہ ہی میرے کام آیا اور میں 2011 میں قومی ہاکی ٹیم کا کپتان بنا اور یہ میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ۔ لیکن اس کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے کہ جس نے میرے اندر کپتانی کرنے کے ہنر کو پہچانا۔

س:۔ آپ کی قیادت میں ٹیم نے اب تک کون سی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں؟

ج:۔ ہر کھلاڑی میدان میں جیتنے کے لئے اُترتا ہے۔ خاص کر آج کے دور میں ہمیں جیت کی بہت ضرورت ہے ۔ میری کپتانی میں قومی ٹیم نے دو بار ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل جیتا۔ ورلڈ چیمپئنز ٹرافی اور ایشیا کپ میں کانسی کے تمغے جیتے۔ اس کے علاوہ آئرلینڈ میں چار ملکی ٹورنامنٹ میں کامیابی بھی ہمارے حصے میں آئی۔ لیکن خواہش ہے کہ قومی ٹیم کو میگا ایونٹس میں بھی جیت سے ہمکنار کروں۔

س:۔ قومی اور بین الاقوامی ہاکی مقابلوں میں آپ کو کن تجربات سے گزرنا پڑا؟

ج:۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر پیشہ ورانہ معیار کے عین مطابق کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ایسے میں ایک ایسی ٹیم کو منظم رکھ کر کھیلنا اس وقت مشکل ہو جاتا ہے جب کہ ٹیم میں شامل کھلاڑی انفرادی کارکردگی دکھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہوں۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں مقامی اور قومی سطح پرتیار شدہ کھلاڑی دستیاب نہیں ہیں جیسا کہ یورپ اور دیگر ممالک میں نچلی سطح سے قومی سطح تک ایک ہی طرح کی تربیت دے کر کھلاڑی تیار کئے جاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل لیول پر ایک سال کھیلنے کے بعد وہ تجربہ ملتا ہے جو کہ انہیں ڈومیسٹک لیول میں ملنا چاہیئے۔ میری کوشش ہے کہ قومی ٹیم کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرکے زیادہ سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جائیں۔

س:۔ جیت کے لئے آپ کی کیا حکمتِ عملی ہوتی ہے؟

ج:۔ کرکٹ کی طرح ہاکی بھی ایک ٹیم گیم ہے۔ لیکن ہاکی میں کوچ میچ سے پہلے پلان دیتا ہے جس پر سب کھلاڑیوں کو عمل کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن میچ کے دوران بحیثیت کپتان حریف ٹیم کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے لئے میں حکمت عملی تھوڑی تبدیل بھی کر دیتا ہوں۔ اور میدان سے باہر کوچ سے ملنے والی ٹپس بھی بڑی کام آتی ہیں پورے میچ میں یہ چلتا رہتا ہے۔ میرے خیال میں اگر سبھی کھلاڑی منصوبہ بندی پر صحیح عمل کر یں تو ہاکی میں کامیابی مشکل کام نہیں۔

س:۔ کوئی دلچسپ واقعہ یا کسی ایسی ٹیم کا ذکر جس نے آپ کو ٹف ٹائم دیا ہو؟

ج:۔ آسٹریلیا میں ہمارا مقابلہ ہندوستان کی ٹیم کے ساتھ تھا ۔ ہماری ممکنہ جیت کو دیکھتے ہوئے ایک ہندوستانی کھلاڑی نے غصے میں ہمارے ایک کھلاڑی کو ہاکی مار دی جس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان جھگڑا ہو۱۔ جس میں میرے دو دانت بھی ٹوٹے ۔ میرے نزدیک کھیل کے میدان میں جیت بہترین بدلہ ہوتا ہے اور پاکستانی ٹیم نے فتح حاصل کر کے ہندوستانی ٹیم کو منہ توڑ جواب دیا۔ ہماری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔

س:۔ ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے آپ کے ذہن میں کیا تجاویز ہیں؟

ج:۔ ہمیں ڈومیسٹک سٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ سکول اور کالج کے ساتھ ساتھ کلبوں کی سطح پر بھی توجہ دینی ہو گی۔ کرکٹ کی طرح ہاکی میں بھی زیادہ سے زیادہ کمرشل ازم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہاکی میں زیادہ پیسہ شامل کر کے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں کیونکہ ہاکی کے فروغ کے لئے جتنا زیادہ پیسہ شامل کیا جائے گا اتنا ہی یہ قومی کھیل عوامی مقبولیت حاصل کر پائے گا۔

س:۔ اب تک کن کن ملکوں میں کھیل چکے ہیں اور کامیابی کا تناسب کیا رہا؟

ج:۔ میں ہاکی کھیلنے والے تمام ممالک میں کھیل چکا ہوں تاہم ایشیائی ممالک میں ہماری کارکردگی اچھی رہی ہے ۔ عالمی مقابلوں میں مجموعی طور پر ہماری کارکردگی چالیس فیصد جبکہ ایشیائی ممالک میں جیت کا تناسب ساٹھ فیصد سے زیادہ رہا۔

س:۔ پاکستا ن ہاکی ٹیم میں کون کون سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں؟

ج:۔ اگر ہم اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیں تو ہم بخوبی جان سکتے ہیں کہ ہمارے بہت سے کھلاڑی انفرادی طور پر کھیلنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور انفرادی کارکردگی پر توجہ مرکوز کئے ہوتے ہیں۔ جبکہ اجتماعی طور پر کھیلنے میں ہی ہماری کامیابی ہے۔

س:۔ بھارت ہاکی میں پاکستان کا روایتی حریف ہے۔ اسکے خلاف میچ میں کیا حکمت عملی ہوتی ہے؟

ج:۔ گو کہ ہم اپنا ہر میچ کوچ کی منصوبہ بندی کے تحت ہی کھیلتے ہیں تاہم ہندوستان کو شکست دینے کے لیئے ہر کھلاڑی بے تاب ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت کے خلاف ہم زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ کھیلتے ہیں تاکہ قوم کو جیت کا تحفہ دیں ۔ ہم ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ قومی ہاکی ٹیم کو ہندوستان سے شکست نہ ہو کیونکہ ہماری قوم ایسی شکست برداشت نہیں کر پاتی۔

س:۔ لوگ ہاکی میچ بہت دلچسپی سے دیکھتے تھے آج ان کی توجہ صرف کرکٹ کی طرف ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

ج:۔ ایک توکمرشل ازم اور پیسے کا زیادہ سے زیادہ بہاؤ ہونے کی وجہ سے کرکٹ کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی ہے دوسرا یہ کہ ہم کافی عرصہ سے کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت پائے۔ ذرائع ابلاغ کا رجحان کرکٹ کی طرف ہونے کی وجہ سے بھی ہاکی کا کھیل مقامی اور قومی سطح پرعدم توجہی کا شکار ہے ۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اشتہاری ادارے کرکٹ پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ٹی وی چینلز ہاکی دکھائیں گے تو اس قومی کھیل کو توجہ ملے گی۔ میرے خیال میں ہاکی کو کمرشلائز کرنے کی ضرورت ہے ۔

س:۔ کھیل کے حوالے سے آپ کی انفرادی کارکردگی کیسی رہی؟

ج:۔ بحیثیت کپتان میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کے سامنے رول ماڈل بنوں۔ مجموعی طور پر میری انفرادی کاکردگی کافی بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ میں ابھی تک نہ صرف فوج کی ہاکی ٹیم بلکہ قومی ٹیم کا بھی کپتان ہوں۔

س:۔ کیا آپ کے پاس پینلٹی کارنر اورپینلٹی سٹروک کے ماہر کھلاڑی موجود ہیں؟

ج:۔ میں خود بھی پینلٹی کارنر کا ماہر ہوں اور دو سو تیئس میچز میں میں نے اب تک ایک سو تراسی گول کئے ہیں۔ پینلٹی سٹروک کا بھی کافی تجربہ ہے۔ تاہم ہماری ٹیم میں توثیق احمدبھی پینلٹی کارنر اسپیشلسٹ ہے ۔

س:۔ کیا پاک فوج کی ہاکی ٹیم میں اور بھی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں؟

ج:۔ موجودہ قومی ٹیم میں پاکستان فوج کی طرف سے دو کھلاڑی کھیل رہے ہیں۔ لیکن میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ فوج کی ٹیم میں ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو مستقبل میں قومی ٹیم کی نمائند گی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں موقع ملے تو ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

س:۔ مستقبل میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کودنیا میں کس مقام پر دیکھتے ہیں؟

ج:۔ عالمی سطح پر اگرچہ قومی ٹیم کی رینکنگ زیادہ بہتر نہیں لیکن بھارت. اور ملائشیا کی موجودگی میں ہم نے ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی جیتی ہے جو بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اگر ہم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہر کھلاڑی کو انفرادی طور پر سخت محنت کرنا ہوگی ۔

قابل اعتماد

ایک خاتون اپنے خاوند کی نئی کار لے کر بازار آ نکلیں جس میں انجن پیچھے لگا ہوا تھا۔ خریداری سے فارغ ہو کر جب کار چلانے لگیں تو کسی وجہ سے کار نہ چلی۔ کئی مرتبہ کوشش کر کے خاتون نے انجن چیک کرنے کے لئے سامنے سے ڈھکنا کھولا تو کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ انجن غائب تھا۔ بے حد پریشانی کے عالم میں قریب ترین چوراہے پر پولیس افسر سے شکایت کی کہ کوئی شخص میری کار کا انجن چرا کر لے گیا ہے۔ متعجب پولیس افسر فوراً موقع واردات پر پہنچا۔ خاتون نے شاہانہ انداز میں ازسرِ نو گاڑی کا سامنے کا ڈھکنا کھولا تاکہ محافظ قانون اپنی آنکھوں سے نقصان کا اندازہ کر لے۔ سراسیمہ افسر ایک لمحے کے لئے تو بھونچکا ۔ وہ پھر معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کار کے پیچھے گیا اور انجن کا ڈھکنا اٹھا دیا۔ انجن نظر آ گیا۔ خاتون بھی ہار ماننے والی نہ تھیں۔ خوشی سے بولیں میں ہمیشہ اس کار کو قابل اعتماد سمجھتی تھی لیکن مجھے قطعی اندازہ نہ تھا کہ اس میں ایک فالتو انجن بھی ہے۔

(مجیب الرحمن مفتی کی کتاب فی سبیل اﷲ سے ایک اقتباس )
Read 1501 times
Rate this item
(0 votes)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter