کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: محمد کامران خان


زبان و ادب کی بہت سی ایسی مثالیں ہیں جنہیں ہم روز مرہ زندگی کی عمومی گفتگو میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔یہ ادبی کہاوتیں، کردار، مونو لاگ، ڈائیلاگ، تشبیہات، استعارے اور حوالے انسانی بیان کو نہ صرف رنگین بناتے ہیں بلکہ لفظوں میں چھپے معنی و پیغام کو مزید مؤثر انداز میں سننے والے تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔لیکن دور جدید میں زبان و ادب سے ہٹ کر کچھ ایسی اصطلاحات بھی عام ہو گئی ہیں جن کا استعمال روز مرہ زندگی میں کیا جائے تو پیغام ذو معنی ہو جاتا ہے بلکہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی اصطلاحات ملاحظہ کیجئے۔
ایجنڈا: انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کا کام بالواسطہ طور پر کرے گا تو وہ ایجنٹ کہلائے گا اور اسکا تفویض کردہ کام ایجنڈا کہلائے گا۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ہمارے ہاں یہ لفظ ایجنڈا بھی ایک الزام پر مبنی گالی بن گیا ہے۔ ذرا کسی نے کوئی تیکھی بات کی تو فوری الزام لگا دیا کہ آپ کسی کے ایجنڈے پر ہیں۔ کو ئی آپ کی رائے سے اختلاف کرے تو اس پر ایجنٹ ہونے کا الزام بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ اب تو یہ اصطلاح اتنی عام ہو گئی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر شخص ہی ایجنڈے پر ہے۔
نامعلوم افراد: عمومی طور پر کسی واقعے میں ملوث ملزمان یا اشخاص کا پتہ نہ چلے تو نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے اور یہ اصطلاح لغوی معنی میں ہی استعمال کی جاتی ہے۔لیکن اب اس کے اصطلاحی معنی بھی ہیں۔ یہ نامعلوم افراد معلوم ہو بھی جائیں تو بھی نا معلوم ہی رہتے ہیں۔ اب تو کوئی کسی کی پردہ پوشی چاہے تو یہ اصطلاح استعمال کرتا ہے تاکہ ملزمان کا نام نہ آئے۔ باقی یہ کہ ان نامعلوم افراد کی کوئی شناخت نہیں ہوتی اس لئے ان افراد کو معلوم کرنے کی کوشش عمومی طور پر بے سود ہی رہتی ہے۔ عافیت اسی میں ہے کہ آپ سے کوئی نا معلوم افراد کا پوچھے تو فوری کہہ دیں کہ آپ کو نہیں معلوم۔

kchnasamjy.jpg
ٹرائل: انگریزی لغت میں اس کا مطلب کسی عدالت میں ملزم کے خلاف ہونے والی مکمل کارروائی ہے۔ لیکن اب لغت سے ماورا ہو کر یہ لفظ بہت سی جگہ پر استعمال ہوتا ہے۔ کسی کے خلاف کوئی نا پسندیدہ خبر تواتر کے ساتھ چلے تو کہا جاتا ہے میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔عدالت ہو یا نہ ہو الزامات کے کٹہرے میں جو بھی آئے گا وہ اپنے خلاف ٹرائل کی شکایت کرے گا۔اصل میں تو یہ لفظ عدالت سے منسوب تھا لیکن اس کا استعمال اب ماورائے عدالت بھی ہو رہا ہے۔


قومی مفاد : قوم کے مفاد کو ہر امر میں مقدم رکھا جاتا ہے۔لیکن یہ اصطلاح اتنی مبہم ہے کہ فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ کیا چیز قومی مفاد میں ہے اور کیا چیز نہیں۔ بہت سے امور ایسے ہیں جن پر زباں بندی صرف اس لئے کی جاتی ہے کہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ قومی اور ملکی مفاد چونکہ عزیز تر ہے اس لئے بعض اوقات ذاتی مفاد کو بھی اس پر قربان کرنا پڑتا ہے۔یہاں تو ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کرپشن کا سکینڈل منظر عام پر آنے سے رکوانے کے لئے قومی مفاد کو ڈھال بنا لیا جاتا ہے۔


اینکائونٹر : یہ ضابطہ فوجداری کی بہت ہی خطرناک اصطلاح ہے۔عام طور پر اس کا مطلب پولیس مقابلہ لیا جاتا ہے یعنی پولیس کی زیر حراست کوئی ملزم یا مجرم بھاگنے کی کوشش کرے اور پولیس ملزم کے فرار کو نا ممکن بنانے کے لئے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے فرار ہونے والے کو مار دے تو یہ اینکائونٹر کہلائے گا۔ لیکن یہ اصطلاح بہت بدنام ہو چکی ہے۔ کسی بھی ملزم کو اس کے مجرم قرار دینے سے پہلے ہی اسے وادی عدم میں پہنچانا ہو تو اینکائونٹر کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اب تو پولیس اینکائونٹر کو دھمکی کے طور پر استعمال کرتی ہے۔اور پولیس میں ایسے افسران اور اہلکار موجود ہیں جنہیں اینکائونٹر اسپیشلسٹ کہا جاتا ہے۔ اینکائونٹر میں مارے جانے والے کا مقدمہ کسی کے خلاف نہیں چلتا کیونکہ مرنے والے پر الزام ہوتا ہے کہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی اسی لئے پولیس کی گولی کو جسٹیفائیڈ ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس قتل عمد کا دوسرا نام ماورائے عدالت قتل ہے۔


پیرا شوٹر : اس کا لغوی ترجمہ چھاتہ بردار ہے ویسے تو بلندی سے پیراشوٹ کی مدد سے زمین پر اترنے والے کو پیرا شوٹر کہتے ہیں لیکن یہ لفظ اب اس شخص کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو کسی پیشہ ورانہ فیلڈ میں ابتدائی درس و تربیت لئے بغیر وارد ہو جائے اور اپنی جگہ بھی بنا لے۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ پہلے سے موجود حقداروں کو ہٹا کر اپنی جگہ بنا لے تو اسے پیرا شوٹر کہا جاتا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جہاں عملی صحافیوں کی صفوں میں ایسے پیراشوٹر موجود ہیں جنہوں نے کبھی عملی صحافت نہیں کی لیکن صحافی ہونے کے دعوے دار ہیں۔


مافیا : اس لفظ کا اصل تو اٹلی اور امریکہ میں فعال جرائم پیشہ افراد کے گروہ سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے یہاں تو یہ نام اس قدر زبان زدِ عام ہے کہ جہاں بھی چار لوگوں کا منفی ایجنڈے پر گٹھ جوڑ ہو جائے اسے مافیا سے تعبیر کیا جا تا ہے۔ مافیا صرف چند افراد کا گروہ ہی نہیں بلکہ کوئی شعبہ کوئی ادارہ کوئی بھی پیشہ اس لیبل کا حقدار بن سکتا ہے۔ ہمارے عدالتی ریمارکس میں بھی حکمرانوں کے لئے سسیلین مافیا کا ٹائٹل استعمال کرنا ریکارڈ پر موجود ہے۔بہرحال عام زندگی میں بھی کوئی شخص یا ادارہ استحصال پر اتر آئے تو آپ اسے مافیا ڈیکلیئر کر سکتے ہیں۔


پراکسی : انگریزی کا لفظ ہے۔ اصطلاحاً اس کا مطلب ہے کہ کسی کی غیرموجودگی میں بالواسطہ طور پر اس کی جگہ موجود ہونا۔ اگر اس کے لئے اردو لغت سے معنی اخذ کئے جائیں تو لفظ 'پرایا' زیادہ موزوں نظر آتا ہے۔ ہم کسی اور کے مفاد کے لئے اس کی غیر موجودگی میں مصروف عمل ہوں تو یہ عمل پراکسی کہلائے گا۔ آپ کمرۂ جماعت میں کسی اور کی حاضری لگا دیں تو اسے پراکسی کہا جائے گا۔کسی اور کے مفاد میں چاہے جنگ ہی کیوں نہ ہو اسے پراکسی جنگ کہا جائے گا۔ یعنی کام بے شک پرایا ہو لیکن اس کام میں مفاد اپنا ہے تو پھر اس عمل کو مفاد پرستی کہنا اچھی بات نہیں کیونکہ لفظ 'پراکسی ' اس عمل کو تکریم دینے کے لئے کافی ہے۔
ان اصطلاحات کو ان کے لغوی معنی سے ماوراء ہو کر استعمال کرنا ایک فن ہے لیکن احتیاط لازم ہے۔ ایک نکتہ بھی محرم کو مجرم بنا دیتا ہے۔اس لئے کبھی غلطی سے یا عالمِ شوق میں دعا کی جگہ دغا لکھ بیٹھیں تو پھر یہی دعا کریں کہ 'کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی'۔

 

مضمون نگار ایک نجی ٹی ۔وی چینل سے وابستہ ہیں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام کے میزبان ہیں۔
 
Read 232 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter