شادی میرے ویر کی

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: خدیجہ محمود

میجر ہرچرن سنگھ پاکستان آرمی کا پہلا سکھ کمیشنڈ آفیسر جس سے میرا پہلا تعارف

IDEAS 2014 Defence Expo

کی کوریج کے دوران ہوا جہاں افواج پاکستان کے سپوت مختلف وردیوں میں گھوم رہے تھے۔ وہیں خاکی وردی میں سبز پگڑی باندھے ایک سردار سینے پر سبز ہلالی پرچم سجائے ساری دنیا کے سامنے فخر سے پاک فوج کی ترجمانی کر رہا تھا۔ جی یہ کیپٹن ہرچرن سنگھ تھا۔ چہرے پر دلیری اور بے خوفی، آنکھوں میں للکار اور پہلی ملاقات میں ہی ان کی کہی ہوئی یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے کہ ''بہن! ہر ادارے میں نوکری ہوتی ہے۔ آرمی وہ ادارہ ہے جو ایک طرز زندگی، ایک لائف سٹائل کا نام ہے۔ یہ اس جذبے کا نام ہے جس میں ایک فوجی اپنی جان اس وطن عزیز پر نچھاور کرنے کا حلف لیتا ہے اور اس کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور میرے لئے یہ باعث فخر ہے کہ میں پاکستان آرمی کا پہلا سکھ آفیسر ہوں۔'' اپنے سردار بھائی کی اس ارض پاک سے اور اپنے ادارے سے محبت دیکھ کر دل سے دعا نکلی۔ ''جیئومیرے ویر''


اس دن کے بعد سے دوسروں کے لئے تو وہ کیپٹن یا میجر ہرچرن سنگھ تھا لیکن میرے لئے میرا ویر بن گیا۔ ملاقات تو کم رہی مگر گاہے بگاہے ٹیلی فون پر اس کی خیریت اور مصروفیت کے بارے میں خبر ملتی رہی پھر وہ دن آیا کہ جب مجھے میرے ویر کی شادی کا دعوت نامہ ملا۔
شادی میجر ہرچرن سنگھ ہمراہ ڈاکٹر امیکا کور مورخہ 3دسمبر 2017 بمقام گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال اور دعوت نامے کے آخر میں مدعو کرنے والی شخصیت کا نام دیکھ کر دل میں خوشی اور عزت کے جذبات میں مزید اضافہ ہو گیا کہ یہ میری پاک فوج ہی تو ہے جس نے اس ادارے کے ایک ایک فرد کو اکائی کی طرح رکھا ہوا ہے۔ جی وہ نام تھا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (موجودہ چیئرمین واپڈا) جن کے ساتھہرچرن سنگھ گوجرانوالہ کور میں

ADC

رہ چکے ہیں۔ بھائی کی شادی کا ارمان کس بہن کو نہیں ہوتا، بس اسی مان کے ساتھ رخت سفر باندھا اور اپنے شوہر جن کا تعلق بھی پاک فوج سے ہے، کے ساتھ کراچی سے اسلام آباد روانہ ہو گئی۔

shadimereveerki.jpg
3دسمبر کی صبح راولپنڈی سے حسن ابدال کا رخ کیا اور تقریباً گھنٹے بھرکی مسافت کے بعد گردوارہ پنجہ صاحب ،جو کہ سکھ مذہب کے پیروکاروں کا مقدس مقام ہے، پہنچے۔ گردوارے کے داخلی دروازے پر خوبصورت رنگوں کی پگڑیاں باندھے سردار بھائیوں کی ایک ٹولی نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ گردوارہ پنجہ صاحب کی بلنداورباوقار تاریخی عمارت کی رونقیں عروج پر تھیں۔ ابھی اندر پہنچے ہی تھے کہ سامنے ایک باوقار سردارنی نظر آئیں۔ انتہائی گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ ''میں ہرچرن سنگھ کی بڑی بہن ہوں۔'' پھر انہوں نے اشارے سے بتایا ۔ ''وہ رہا ہرچرن سنگھ۔'' ہم ہرچرن بھائی کے پاس پہنچے ،سرمئی، پینٹ کوٹ اور سرخ رنگ کی پگڑی پہنے ہاتھ میں تلوار تھامے، میرا بھائی کسی راجہ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ ''ہرچرن بھائی'' میں نے آواز دی۔ بھائی ایک دم پلٹے اور چہرے پر حیرانی اور خوشی لئے ہماری طرف بڑھے۔ میرے شوہر سے گلے ملے ۔ میرے سر پر ہاتھ رکھا اور میرے شوہر سے مخاطب ہوئے۔
Thank you very much sir for coming
میں نے بہت جوش سے خوشی کا اظہار کیا۔ ''دیکھیں بھائی ہم آ گئے ہیں۔'' ''آنا کیسے نہیں تھا۔ بھائی کی شادی جو تھی۔'' اسی مان سے جواب آیا۔
اسی دوران ایک آواز آئی۔ ''ہرچرن '' مڑ کر دیکھا تو جنرل مزمل اپنی فیملی اور باقی یونٹ افسران کے ساتھ نظر آئے اور بھائی کو زور سے گلے لگاکر مبارک باد اور دعائیں دیں۔ باقی افسران اور ان کی فیملیز سے بھی ملاقات ہوئی۔ شادی کی رسموں کا وقت ہونے والا تھا۔ ہم نے گردوارے کے اندر والے حصے جہاں شادی کی رسم ہونی تھی، وہاں کا رخ کیا۔ سنگ مرمر کی سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے وہ حصہ جہاں پانی بہہ رہا تھا اپنے پائوں دھوئے اور اندر داخل ہو گئے۔ گردوارے کا وہ حصہ جہاں عبادت ہوتی ہے، بغیر سر ڈھکے جانے کی ممانعت ہے جیسے ہی اندر داخل ہوئے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نظر آئے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ اتنے میں لاوان کی رسم کی تیاری شروع ہو گئی۔ (جیسے ہمارے ہاں نکاح ہوتا ہے) گرو گرنتھ صاحب کے مقدس کلام سے آغاز ہوا اور ہرچرن بھائی اور ساتھ ہی سرخ جوڑے میں ملبوس چادر میں مکمل چھپی ہوئی ان کی دلہنیا کی آمد ہوئی۔ سکھ مذہب کے مقدس کلام میں دولہا اور دلہن نے پھیرے لئے اور شادی کے مقدس بندھن میں بندھ گئے۔ مبارک سلامت کی صدائیں گونجیں، پھر اعلان ہوا کہ اب باہر'' گتکا'' کھیلا جائے گا۔ یہ سکھ مذہب کا ایک قدیم کھیل ہے جس میں تلوار بازی اور دیگر آلات حرب سے ایک خاص قسم کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔گردوارے کے اس حصے سے باہر نکلے تو گتکا پارٹی زنجیر والی تلواروں کو گھما رہی تھی اور ایک سردار بھائی للکار کر کھلاڑیوں کو دائرے میں بلا رہے تھے۔ باری باری خاص لباس میں ملبوس گتکے کے کھلاڑی آئے اور اپنے جوہر دکھائے۔ جیسے ہی گتگا ختم ہوا ایک سردار بھائی نے مائیک تھاما اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد ہرچرن بھائی کے تمام یونٹ آفیسرز آ گئے اور گردوارے کے دروبام نعروں سے گونج اٹھے۔ پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، 12بلوچ زندہ باد (ہرچرن بھائی کا تعلق 12بلوچ رجمنٹ سے ہے)۔ گردوارے کی فضا میں پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد کے یہ نعرے اس شدید سردی میں خون کو گرما گئے۔ بین المذاہب یکجہتی کا جو عظیم الشان منظر اس دن دیکھنے میں آیا وہ قابل ستائش تھا۔ پھر گروپ فوٹو کھینچے گئے۔سردار بھائیوں نے جنرل (ر)کیانی، جنرل (ر) علی قلی خان، کے ساتھ خوب تصویریں کھنچوائیں۔
پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی، جنرل (ر) علی قلی خان، کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل، لیفٹیننٹ جنرل جاوید بخاری،میجر جنرل اظہر عباس جی او سی 12 ڈیو ، پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) آصف سندھیلہ، میجر جنرل ظفر ڈی جی ایچ آر ڈی، میجر جنرل عابد ممتاز(ایس پی ڈی)، لیفٹیننٹ جنرل افضال ڈی جی ایف ڈبلیو او، اسفند یار بھنڈرا (ایم این اے) اور دیگر حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کے علاوہ چیئرمین اوقاف صدیق الفاروق یہ سب ہی میجر ہرچرن سنگھ کی نئی زندگی کی خوشیوں میں شریک تھے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے بھی نوبیاہتا جوڑے کے لئے دعائیں اور مبارکباد کے پیغام آئے۔
دوسری طرف لنگر کا انتظام تھا- لذیز طعام کے بعد دولہا دولہن کو نئی زندگی کی مبارک باد دی۔ تصاویر کھینچوائیں اور اس دعا کے ساتھ کہ اﷲ پاک میرے بھائی اور بھابھی کو بے پناہ خوشیاں عطا فرمائے،ان سے اجازت طلب کی اور واپسی کا سفر اختیار کیا۔

مضمون نگارمیڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بعد مدت اُسے دیکھا، لوگو

بعد مدت اُسے دیکھا لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا لوگو

خوش نہ تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پر لکھا تھا، لوگو

اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا، لوگو

اجبنی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کسی وقت میں اپنا، لوگو

دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا، لوگو

رات وہ دَرد میرے دل میں اُٹھا
صبح تک چَین نہ آیا، لوگو

پیاس صحرائوں کی پھر تیز ہوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا، لوگو
(پروین شاکر)

 

محبت پانے والا کبھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوتا کہ اسے ایک دن کے لئے مکمل محبت حاصل ہوئی ہے۔ محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے، روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا، جس روز محبت کا آفتاب طلوع نہ ہو، رات رہتی ہے، یہ دل اور جسم بڑے بیری ہیں، ایک دوسرے کے، جسم روندا جائے تو یہ دل کو بسنے نہیں دیتا، دل مٹھی بند رہے تو یہ جسم کی نگری تباہ کردیتا ہے۔
ان دونوں کو کبھی آزادی نصیب نہیں ہوتی۔
(بانوقدسیہ کے ناول ''راجہ گدھ'' سے اقتباس)

*****

 
Read 994 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter