ہوئے جو وطن پہ قربان

Published in Hilal Urdu March 2018

سیدہ شاہدہ شاہ

نائیک طالب حسین شہید کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی اور اس کے تین بیٹے ہیں۔ سب سے چھوٹا بیٹا ارقم علی اپنے بابا سے بہت پیار کرتا ہے اب بھی اکثر ضد کرتا ہے کہ پاپا کو مس کال دیں وہ میرے ساتھ بات کیوں نہیں کرتے۔

جہلم سے راولپنڈی، اسلام آباد بذریعہ جی ٹی روڈ جائیں تو دینہ، پھر ڈومیلی آتا ہے۔ اس سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر سوہاوہ کا وہ شہر آتا ہے جہاں محلہ نئی آبادی ڈھیری وارڈ نمبر5 کے قبرستان میں 19 پنجاب رجمنٹ کا وہ مایہ ناز اور بہادر سپوت شہادت کا جام پیئے ، سبز ہلالی پرچم کا کفن اوڑھے ایک قبر میں ابدی نیند سو رہا ہے جسے آرمی والے اور اس کے گائوں والے نائیک طالب حسین کے نام سے جانتے ہیں۔ پہلے پہل اُسے اپنے محلے، اپنے بچپن کے ساتھی، اپنے عزیز و اقارب یا19 پنجاب رجمنٹ کے لوگ ہی جانتے تھے مگر شہادت کے رُتبے پر فائز ہوتے ہی اُسے اب پورا پاکستان جاننے لگا ہے اور سوہاوہ شہر کو اب نائیک طالب حسین شہید کی بدولت بھی لوگ برسوں یاد رکھیں گے۔

huyjowatenpey.jpg
نائیک طالب حسین19 اکتوبر 1983کو سوہاوہ میں پیدا ہوا۔ اُسے بچپن سے فوج میں جانے کابے حد شوق تھا۔ میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں میں پاس کیا اور کالج میں داخلہ لے لیا مگر عروسِ شہادت اُسے میدانِ شہادت میں بلا رہی تھی۔ چنانچہ اُس نے تعلیم ادھوری چھوڑدی اور فوج میں بھرتی ہونے کے لئے چلا گیا۔ تاہم کسی وجہ سے وہ مطلوبہ معیار پر پورانہ اُتر سکا۔ اس ناکامی سے وہ مایوس نہ ہوا بلکہ کچھ عرصہ توقف کرکے وہ اپنے کزن یاسر محمود کے ساتھ لاہور چلا گیااور دوبارہ آرمی جوائن کرنے کے لئے پھر سے امتحان دیا۔ جس میں طالب حسین پاس ہوگیا۔ مگر اس کا کزن یاسر محمود فیل ہوگیا۔ طالب حسین اپنی اس خوش قسمتی اور کامیابی پر پھولے نہ سمایا اور ٹریننگ کے لئے پنجاب سنٹرمردان چلا گیا۔


طالب حسین اپنے والدین کا اکلوتااور لاڈلا بیٹا تھاتاہم باوجود لاڈلے پن کے اُس میں کسی قسم کا بھی کوئی بگاڑ نہ تھا۔ انتہائی فرمانبردار اور نیک بچہ تھا۔ ٹریننگ کے بعد طالب حسین کی پوسٹنگ 19 پنجاب رجمنٹ میں ہوگئی۔ وقت گزرتا رہا اور طالب حسین نائیک کے عہدے تک جا پہنچا۔ اوراپنے اگلے عہدے یعنی حوالدار کے لئے بھی کوالیفائی کرلیا۔
یوں تو پاک آرمی کے تمام محاذ انتہائی مشکل سمجھے جاتے ہیں مگر دنیا کا سرد ترین سیاچن گلیشیئر کا محاذ وہ دشوار اور مشکل ترین محاذ سمجھا جاتا ہے جہاں موسم دشمن سے بھی زیادہ مہلک اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ہر لمحہ چلنے والی یخ بستہ ہوائوں کے جھکڑ انسانی اجسام کو چھید ڈالتے ہیں۔ اگر مخصوص قسم کا لباس نہ پہنا جائے تو برفانی ہوائیں جسم کے اس ننگے حصے کو یوں شدید نقصان پہنچاتی ہیں کہ مجبوراً جسم کا وہ حصہ کاٹ ڈالنا پڑتا ہے۔ دن کو سورج کی چمکتی ہوئی دھوپ اس گلیشیئر کو یوں چکا چوند کردیتی ہے کہ اگر مخصوص قسم کی گاگلز نہ پہنی جائیں تو برف پر پڑتی ہوئی سورج کی دھوپ سے آنکھوں کی بینائی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ طالب حسین نے اس سخت ترین اور سرد ترین محاذ پر تین سال گزارے۔ ہر فوجی کی طرح شہادت کا شوق اور وطن سے شدید محبت اس کا بھی طرئہ امتیاز تھی۔


سوات کے آپریشن کے بعد کشمورمیں بھی نائیک طالب حسین نے اپنے فرائض انتہائی تندہی سے انجام دیئے۔کشمور کے بعد یونٹ کی پوسٹنگ وانا (جنوبی وزیرستان) میں ہوگئی۔
'وانا'جانے سے پہلے نائیک طالب حسین ایک ماہ کی چھٹی پر آیا۔ اُس کے گھر والے اور دوست احباب بتاتے ہیں کہ جب وہ اس بار گھر آیا تو خاموش خاموش اور سنجیدہ سا تھا۔ البتہ شہادت کی باتیں پہلے سے زیادہ اُس کے لبوں پر تھیں۔ کچھ ہی دنوںبعد عید تھی۔ نائیک طالب حسین تمام گھر والوں کے ساتھ باہر گھومنے پھرنے اور سیرو تفریح کے لئے نکل گیا خوب گھومنے پھرنے کے بعد ایک ہوٹل میں کھانا کھایا اور ساتھ یہ کہا کہ میں آنے والی عید آپ کے ساتھ نہیں منائوں گا اس لئے میری طرف سے ایڈوانس عید مبارک اور یہ کھانا بھی اسی خوشی میں ہے۔

huyjowatenpey1.jpg
4اگست 2017 کو اس کی چھٹی ختم ہوگئی اور وہ واپس اپنی یونٹ میں چلاگیا اور اُن کی یونٹ ''وانا'' چلی گئی۔
یہ22اگست2017 کا دن تھا۔ آپریشن پر جانے سے پہلے اُس نے صبح سات بجے گھر فون کیا۔ سب سے فرداً فرداً بات کی پھر آپریشن پر جانے کے لئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھا۔ ہیلی کاپٹر کے ٹیک آف سے پہلے اُس نے سب دوستوں کو آخری میسج کیا۔ کہ ''گڈبائے آل فرینڈز'' اس کے بعد موبائل فون آف کردیا۔
آپریشن ایریا میں پہنچ کر نائیک طالب حسین سمیت دوسرے جانبازوں کو رسّے کی مدد سے آپریشن ایریا میں اُترنا تھا۔ سب سے پہلے نائیک طالب حسین کی باری تھی۔ جب ہیلی کاپٹر مطلوبہ بلندی پر آگیا تو نائیک طالب حسین نے دل ہی دل میں اﷲ کو یاد کیا اور کھلے ہوئے دروازے سے رسّے کی کی مدد سے نیچے اُترنا شروع کیا۔ ابھی وہ زمین سے چالیس فٹ اوپر ہی تھا کہ گھات میں بیٹھے ہوئے دہشت گردوں نے فائر کھول دیا اور تین گولیاں نائیک طالب حسین کے جسم میں پیوست ہوگئیں۔ پائلٹ صورتِ حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے ہیلی کاپٹر کو فوراً گولیوں کی رینج سے دُور اُوپر لے گیا۔ ساتھ ہی رسہ کھینچ کر طالب حسین کے زخمی جسم کو اُوپر ہیلی کاپٹر میں لے جایاگیا۔ تین گولیاں لگنے کے باوجود نائیک طالب حسین ہوش میں تھا اور اُس نے پانی مانگا۔ اپنے ہاتھ سے 'واٹربوتل' منہ سے لگائی اورپانی پی کر بوتل واپس کرتے ہوئے لمبے لمبے سانس لئے اور بچپن سے شہادت کے طلبگار نائیک طالب حسین نے 22 اگست 2017کے دن 3بج کر 10 منٹ پر اپنے فرض کی انجام دہی میں جامِ شہادت نوش کیا۔ نائیک طالب کی شہادت کے باوجود مشن کو
Abandon
نہیں کیا گیا اور نئی سمت سے دشمن پر حملہ کیاگیا اور بالآخر اس پہاڑی چوٹی کو دشمن سے خالی کرا یا گیا۔
شہید کی والدہ نے بتایا کہ طالب حسین کے والد محمد یعقوب کی بڑی خواہش تھی کہ اُن کا اکلوتا بیٹا فوج میںشامل ہو کر مادرِ وطن کی خدمت انجام دے۔طالب حسین کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی اور اس کے تین بیٹے ہیں۔ سب سے چھوٹا بیٹا ارقم علی اپنے بابا سے بہت پیار کرتا ہے اب بھی اکثر ضد کرتا ہے کہ پاپا کو مس کال دیں وہ میرے ساتھ بات کیوں نہیں کرتے۔
جس وطن کی دھرتی کے نائیک طالب حسین جیسے جانباز بیٹے ہوں اُسے دُنیا کی کوئی بھی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ کبھی بھی نہیں!!

 
 
Read 182 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter