یارو میرا یا ر نہ رہا

yaromerayar.jpg

لیفٹیننٹ ارسلان ستی شہید کے والد خالقِ حقیقی سے جاملے
دکھ کی کوئی زبان ہوتی تو دُکھ بھی رو دیتا۔ واقعہ ہی عجیب ہے، سانحہ بھی عظیم ہے۔ خدا کی عظمت، مصلحت اور محبت کے سوا کوئی توجیہہ بھی نہیں ہے۔ بیٹے کی وطن سے محبت۔باپ کی بیٹے سے محبت۔ لیفٹیننٹ ارسلان شہید، اپنے والد کا اکلوتا بیٹا 23ستمبر 2017 کو وادیٔ راجگال میں ملک دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان نثار کرگیا۔ وطن کی مٹی میں دفن ہوگیا۔ بوڑھے باپ نے جوان بیٹے کی پرچم میں لپٹی لاش مسکراتے ہوئے وصول کی۔ غم میں ڈوبی یہ مسکراہٹ شہید کی عظمت کے احترام میں تھی۔ کہ شہید مٹی سے آنسو مٹانے کے لئے جانیں قربان کرتے ہیں تو پھر رونا کیسا! روح کے گہرے گھائو کہاں مٹتے ہیں۔ دل کی لگی تو جان لے کے چین لیتی ہے۔ سنو دل جیت گیا، محبت جیت گئی۔ ٹھیک 67دنوں کے بعد بوڑھا باپ دل کے ہاتھوں جان ہار کر اپنے بیٹے ارسلان کے ساتھ قبر میں جا سویا۔محبت،مٹی اور خون یکجاں ہو گئے۔

سب لے گیا وہ آنکھ کا پانی
ہر آنسو اب یاد وہ آئے
وہ مجھ میں سیدھا چلتا تھا
اب چلتا ہوں کمر جھکائے
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس بات کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
جس مٹی کے ساتھ وہ کھیلا
اس مٹی کو دے آیا ہوں
قرض چکا کر خون سے اپنے
سارے خواب بچا لایا وہ
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس باپ کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
جن کے ایسے بیٹے ہوں وہ کر کے سر اونچا چلتے ہیں
پھول ضروری تھے کچھ جانے
تب جا کے گلشن کھلتے ہیں
کیا پوچھتے ہو حال میرا
اس باپ کا چین قرار نہ رہا
او یارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،
اویارو۔ میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا، میرا یار نہ رہا،

Read 184 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter