پتھروں میں سوئی آوازیں

تحریر: محمد طارق علی

غلامی سے چھٹکارا پا کر آزادی کا نعرہ لگانے کی پاداش میں بوسنیا کے مسلمانوں کو جو قیمت چکانا پڑی، اس کی تفصیلات اتنی شرم ناک اور غم ناک ہیں کہ انسانیت اسے ابھی بھول نہیں پائی۔ بوسنیا کو آزاد ہوئے پچیس برس بیت چکے لیکن آج کا بوسنیائی ادب اس خوں چکاں آزادی کی دردناک چیخیں اور لہو رنگ خراشیں ابھی تک سنبھالے ہوئے ہے۔
بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام قریباً چار سال (1992-95)جاری رہا۔ خون کی ندیاں بہہ گئیں، عصمتیں لُٹیں، گھربار جلے لیکن وہ اپنے نعرۂ آزادی پر ڈٹے رہے۔ اس خوں ریز دور سے اکیس برس قبل ایک شاعر ''میک دِزدار'' ،جسے آج کے بوسنیا کا ''قومی شاعر'' ہونے کا اعزاز حاصل ہے، نے اپنے غلام وطن کی آزادی کے گیت گائے تھے، اسے اپنے وطن اور ہم وطنوں سے بے حد پیار تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ (بوسنیائی) بھی ایک زندہ قوم کی طرح سر اٹھا کر جیئیں۔


میک دِزدار نے اپنی درد بداماں شاعری مادر وطن کی آزادی سے کوئی تقریباً اکیس برس پہلے کی تھی۔ وہ حساس تھا، وطن کی آزادی اس کے قلب و روح کا حصہ تھی۔ وہ خاموش قوم کی لُٹی عزت کو دیکھتا اور گہرا درد دل میں چھپائے پھرتا رہتا لیکن پھر آخر ایک دن گرمٔ جذبات اس کے قلم سے ٹپک پڑی۔ وہ جانتا تھا کہ دن ضرور بدلیں گے۔ اس نے وطن کی ہوائوں کے بدلتے رخ کو محسوس کر لیا تھا اور اس کی سرسراہٹوں میں اسے آزادی کی ہلکی ہلکی سرگوشیاں سنائی دینے لگی تھی۔ لیکن آزادی کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا، اس کے لئے وہ چاہتا تھا کہ پہلے اس کی خوابیدہ قوم غفلت چھوڑے اور اس کی کرب بھری پکار کو سنے۔ اس کی شہرہ آفاق تصنیف
STONE SLEEPERS
پتھروں میں سوئی آوازیں سب سے پہلے 1966 میں شائع ہوئی۔ بعدمیں نظر ثانی کر کے اس نے اس میں کافی تبدیلیاں کیں لیکن پھر اس کی عمر نے وفا نہ کی اور وہ1971میں چل بسا۔ نظرثانی شدہ کتاب اس کی وفات کے دو سال بعد یعنی 1973 میں مُنَصَّۂ شہود پر آئی۔ کچھ عرصہ بعد اسی ایڈیشن کاا سی عنوان سے انگریزی میں ترجمہ شائع ہوا۔ اس ترجمے کو ڈاکٹر محمد حامد نے ''پتھروں میں سوئی آوازیں'' کے عنوان سے اردو زبان کے قالب میں بہت خوبصورتی سے ڈھالا۔ وہ خود بھی ایک عمدہ شاعر ہیں اور ادبی جرائد میں اُن کی نگارشات چھپتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میک دزدار کی اثر انگیز شاعری کا ترجمہ کرتے ہوئے مجھے اکثر یوں محسوس ہوا کہ گویا میں خود یہ اشعار لکھ رہا ہوں۔ ان کی مذکورہ کتاب نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد نے شائع کی ہے۔

patronmainsoiawazain.jpg
میک دزدار نے پُرسوز شعروں میں بین السطور جو پیغام چھپا رکھا تھا قوم نے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اسے پا لیا۔ اس کا پیغام تھاکہ آزاد وطن سے بڑی نعمت اور کچھ نہیں۔ ملک چاہے غریب ہو یا کم زرخیز، قوم کے لئے بہرحال باعث فخر ہوتاہے۔


بوسنیا کی سرزمین انہی دنوں پاکستانیوں کے دلوں میں بھی آ سمائی تھی جب وہاں کے مسلمان اپنی آزادی کی جنگ میں دشمنوں سے نبرد آزما تھے اور پورا بوسنیا آگ اور خون میں لت پت تھا۔ دشمن قوتیں اُنہیں اُن کے پیدائشی حق سے محروم کرنے پر تُلی ہوئی تھیں۔ یہ جنگ بڑی شدید تھی۔ مسلمان تقریباً نہتے اور غیرتربیت یافتہ تھے لیکن شمعِ آزادی کی لَو اُن کے دِلوں میں کسی طرح بھی کم نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کسی سرزمین کو سمجھنا ہو تو پہلے وہاںکے باسیوں اور اُن سے بھی زیادہ وہاں کے مفکروں اور لکھاریوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے کہ یہ اپنی قوم کے شعور و دانش اور تہذیب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ کسی قوم میں آزادی کا جذبہ اہلِ قلم ہی ابھارتے ہیں اور جب ہم نے بوسنیائی لوگوں کے دامنِ علم و دانش کو دیکھا تو وہ خالی ہر گز نہ تھا۔ میک دزدار ایسا دانش مند شاعر جو بعد میں ان کا قومی شاعر کہلایا، اُن کے ہاں موجود تھا۔ اس نے ہلکے ہلکے ملال بھرے انداز میں شاعری کی، جو کچھ کہا بین السطور کہا تاکہ لوگ اسے پڑھ کر تفکر کریں۔ پھر قلب میں بسا کر خود آگاہی حاصل کریں کہ آزادی کی روشنی کی تلاش اسی طرح ممکن ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اپنی پہچان کے بغیر بوسنیائی مسلم قوم حصول آزادی کے لئے خون کے دریا سے گزر کر منزل تک جا نہیں پائے گی۔


بے شک میک دزدار کے ترسیدہ تر سیدہ سے مصرعوں میں آنے والے وقت کی تصویریںدھندلی ہیں لیکن اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قومی شاعری تفصیلی مستقبل نامہ نہیں ہوتی۔ اس کی شاعری ایسی شاعری تھی جو ایک دردمند دل سے نکل کر قوم کے دھڑکتے دل میں جا سمائی تھی۔ اس کا پیغام واضح تھا ،دل نشیں تھا اور اَنمٹ تھا۔ اس نے سرگوشی کے سے انداز میں یوں کہا تھا۔


''شہ سوارو ں کا سردار بن کے
شمالی پہاڑوں سے نیچے اتر کے
مرے شہر کو ایسے تاراج کر کے
کہو گے کہ مَیں نے اُسے
ڈھیر ملبے کا کرکے
سبھی بدعقیدہ سے لوگوں کا سر توڑ ڈالا ہے
تمہیں جان کر سخت حیرت سی ہو گی
کہ مَیں شہر میں سر اُٹھا کر
ابھی پھر رہا ہوں
تم مرے گھر کو مسمار کر دو
یہ گر جائے گا
اور تم گالیاں دو گے
اور یہ کہو گے کہ میں اس گھروندے کے ہر شخص کو مار ڈالوں گا
پھر بھی میں اس سرزمین پر
وہی خواب تکتا رہوں گا
تم میرے سارے چشموں کو زہریلا کر دو گے
اور تم ہنسو گے
کہ تم نے مجھے موت کے گھاٹ اتارا
مرے انگور کے باغ کو چاہے جڑ سے اکھاڑو
کہ میں نرم سایوں سے محروم ہو جائوں
اور قحط سالی ہمارے گھروں پر مسلط ہو
چاہے جیسے بھی ہو
میں حقائق کا اظہار کرتا رہوں گا
تمھیں کیا خبر باغباں اور گلشن کا
رشتہ ہے کیا؟''
صاف ظاہر ہے کہ میک دزدار نے ''باغ'' اور ''گلشن'' کے الفاظ کااستعمال استعاروں کے طور پر کیا ہے۔ یقینا اس نے یہ اشعار قوم کے رُو بہ رُو ہو کر دشمن سے مخاطب ہو کر کہے۔ آگے چل کر اُس نے قدرے کھل کر دشمن کو للکارا اور کہا کہ میں کم زور سہی پھر بھی مجھے مٹانا آسان نہیں۔ لفظ ''مَیں''کے ذریعے اُس نے پوری قوم کو گواہ بنا کر اپنے ایک مصمم ارادے کا اظہار کیا۔
''مجھے اس سرزمین پر بہت کم ٹھہرنا ہے
پھر بھی مجھے ختم کرنا کچھ آساں نہیں ہے
پَر یاد رکھنا کہ میں
دار پر بھی یوں مسکرائوں گا
جیسے کہ میں بزم ِ یاراں میں ہوں
آہنی عزم کے ساتھ میں
دار کو چومتا
موت کی وادیوں میں اتر جائوں گا
مرا جسم تو ایک لمحے کا گھر تھا
اس پہ قبضہ تمھارا ہوا ہے
مگر جسم تو بندی خانہ تھا
تمہیں کیا بتائوں کہ
تمہیں میرے تیروں کی
ڈھالوں کی، شمشیروں کی
کچھ خبر ہی نہیں
تمھیں کب یہ معلوم ہے
کہ یہ فولاد میرا بہت تیز ہے
مجھے یہ خبر ہے کہ اک روز تم آئو گے
تم نے اپنی صلیبوں کے آگے قسم کھائی ہے آگ سے ایسے کھیلو گے کہ
میرا نشاں تک نہ باقی رہے گا
چلو آ رہو
مَیں تمہاری غارت گری اور مصائب
کو سہنے کو تیار ہوں۔''


قومی شاعری میں کسی بھی غلام قوم کی آزادی کا کوئی لگا بندھا ضابطہ کار تو نہیں ہوتا لیکن جذبات میں گھلے ملے الفاظ میک دزدار کے قلم سے نکلتے اور قوم کے دل کو گرماتے رہے۔ وہ کبھی غافل نہ بیٹھا۔ نابغہ شخص تھا، الفاظ اور خیالات کی فراوانی تھی۔ وہ وقتاً فوقتاًقوم کو جھنجھوڑتا او ربتاتا کہ وقت کم ہے اور کام زیادہ۔ اس نے جہاں بوسنیا کے اُجڑے ماضی کے ساتھ ساتھ موت کے رقص کا ذکر کیا، وہیں وطن کے گیت اور ترانے بھی پیش کئے لیکن دھیمے انداز میں اس لئے کہ جن دنوں وہ سر ہتھیلی پر رکھ کر اپنی سلگتی شاعری کو کاغذ پر بکھیر کر خوابیدہ مسلم قوم کو جگانے کی کوشش کر رہا تھا، انہی دنوں کمیونسٹ یوگوسلاویہ اپنی وفاقی ریاستوں بشمول بوسنیا اچھی خاصی آب و تاب کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود تھا۔ میک دزدار نہیں چاہتا تھا کہ اس کی طلبِ آزادی والی شاعری کی گونج حکومتی ایوانوں تک جا پہنچے۔


میک دزدار کا اصل نام محمد علی ہے۔ وہ 1917میں پیدا ہوا۔ یوں اس نے اپنا بچپن، لڑکپن پہلی جنگ عظیم اور اس کے مابعد اثرات کے زیرسایہ گزارا۔ جب یورپ میں دوسری جنگ عظیم (1939-45) لڑی گئی تو وہ اس وقت ایک باشعور نوجوان تھا۔ وہ قلم کی طاقت کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے فاشسٹوں کے خلاف لکھنا شروع کیا لیکن میک دزدار کا فرضی نام اپنا کر۔ بوسنیائی زبان میں ''میک '' کا لفظی مطلب ''پوست کا پھول'' ہے جسے اس ملک میں زمین ، نیند اور موت کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا فرضی نام ''زمین'' یعنی وطن سے اس کے دلی لگائو اور آزادی یا موت کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دنوں عظیم جنگوں کے ہول ناک اثرات کو پوری دنیا نے عمومی اور یورپ نے خصوصی طور پر محسوس کیا۔ خود محمدعلی کے وطن بوسنیا کو نئے نئے ناموں، جغرافیائی حد بندیوں اور ان کے منفی اثرات سے گزرنا پڑا۔ بوسنیائی مسلمانوں کی آزادی اور قومی شناخت کچل کر رکھ دی گئی تھی۔ بوسنیا کی جغرافیائی تبدیلیوں اور اس کے سماجی ڈھانچے میں ردوبدل اور توڑ پھوڑ میں وہاں کے مسلمانوں کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ انہوں نے بہرحال اس آشوب کے ساتھ جینے کا قرینہ سیکھ لیا تھا۔ اُن کے ہاں لیڈر شپ کا فقدان تھا اور وہ ایسے خوابوں کے تعاقب میں نہ تھے جن کی کوئی تعبیر نہ ہو۔


محمد علی خاموشی سے اپنے وطن کے حالات کا پیش منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ قوم کی عزلت کا ملال اور درد دل میں چھپائے پھرتا تھا۔ اس نے شعروں میں حال کی عکاسی کی اورلٹی ہوئی عظمت کے گیت بھی گائے لیکن زیادہ نہیں اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ ماضی جیسا بھی تھا گزر گیا۔ ہمیں صرف حال یعنی آج کو سامنے رکھنا ہے۔ اس کے کلام میں مذہب کا بھی کہیں کہیں ہلکا سا ذکر ملتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتا تھا مذہب تو اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ مسئلہ صرف قوم کی بقا کا ہے۔ سو غیرملکی استعمار نے بوسنیا کی فضائوں میں جو درد و کرب بو دیا تھا، اس نے اپنے قلم سے اسی کی نشان دہی کی۔ لیکن اس نے اپنے مسلم اہلِ وطن سے یہ نہیں کہا کہ تم نے کب اٹھنا اور کب دشمن سے دست وگریباں ہونا ہے۔ ہاں بین السطور یہ ضرور کہا کہ ذلّت کی زندگی سے موت بہتر ہے۔ تاکہ قوم کے دل میں تبدیلی کا خیال نمو پائے اور وہ خواب غفلت سے جاگے۔


محمد علی کے شعروں میں درد بھری پکار تھی۔ بعض اوقات ایسا لگتا تھا کہ وہ خود کلامی میں مصروف ہے اور کبھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ تن تنہا کسی مرتفع زمین پر کھڑا اپنی سوز بھری آواز میں کوئی حزنیہ گیت الاپ رہا ہے۔ کبھی کبھی اس کا عارفانہ انداز کچھ یوں بتاتا ہے کہ جیسے وہ دنیا سے بے گانہ کوئی صوفی یا مفکر ہے۔ یا بہت درد مند مصلح ہے جو اپنی سوئی ہوئی قوم کو جگانے اور آنے والے وقت سے باخبر کرنا چاہتا ہے۔ ایک بار اس نے بہت تیّقن سے کہا


''وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بابت سوچیں
موجیں طوفان کی بڑھتی چلی آ رہی ہیں
آئیں اس سے پہلے کہ ہم بہہ جائیں ان میں
وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بات سوچیں
آندھیاں پھر اچانک بڑھیں گی
وقت کے تند شعلے نگل جائیں گے
وقت ہے، آئیں ہم وقت میں جا رہیں
وقت تھوڑا سا ہے
یہ ہمیشہ نہ ہو گا
وقت پھر آ گیا ہے کہ ہم وقت کی بات سوچیں۔''
آزادی کا بُلاوا محمد علی یا میک دزدار کے نزدیک ہر جسمانی آسائش سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا آج پُرآشوب ضرور ہے۔ تاہم اس کی آرزو تو غیرمغلوب ہے۔ آج کی اذیت میںکل کی خوشی کا پیغام چھپا ہے۔ اگر آج انسان حالات کے جبر کے باعث نیچے گرا ہے تو کوئی بات نہیں۔ وہ اسے حوصلہ دیتا اور نوید سناتا ہے کہ اے انسان تو عظیم ہے اور یہ عظمت خود تیرے اندر چھپی ہوئی ہے۔
روشنی کے فقط تین مینار ہیں
انسانِ کامل ہے، سورج ہے اور چاند ہے
جو کہ قوت ہیں
اس دور تک پھیلی دنیا کی
آئیں سبھی جان لیں
بادشاہت بہشتوں کی خود اپنے اندر ہے۔''
اس کے نزدیک سب لوگ پاک ہیں۔ ان کی روحیں پاک ہیں پھر وہ چشم باطن سے کچھ دیکھتا اور انہیں خبردار کرتا ہے۔
''آہوئوں کی قطاریں
گئی رات کے اس سمے میں
نہ جانے کہاں جا رہی ہیں
انہیں یہ خبر ہے
کہ صیاد جنگل میں ہے
اس کے ترکش میں وہ تیر ہیں
جو کہ آہو کے خوں کے لئے سخت بے تاب ہیں
اور ہرنیاں اپنے بچوں کو پھر دیکھنے کی طلب
اپنی آنکھوں میں ڈھانپے ہوئے
اس جہاں سے گزر جائیں گی۔''
وہ پاک (مسلم) لوگوں کو آنے والے وقت کے لئے خود کو تیار رہنے کو بھی کہتا ہے۔
''تمھیں کچھ عذابوں کے تشدد سے
اور دار کے رشتوں سے گزرنا پڑے گا
زندگی کو دکھ اور درد کی بھینٹ
چڑھنے نہ دینا
اپنی ساری زرہیں اور بکتر لئے
وحشتوں کو فنا کر دو تلوار سے
موت کو موت کے گھاٹ اتار دو
وقت نزدیک ہے
آئو بینائیوں کو نئی تاب دیں
ساحلوں اور پہاڑوں پہ
سب دیدبان اور محافظ کھڑے ہوں
ہر اک سمت تکتے ہوں
آئیں کہ ہم اپنے اندر بھی جھانکیں
وقت نزدیک ہے
وقت نزدیک ہے۔''


پھر ایک دن آیا کہ محمدعلی یا میک دزدار اپنی قوم کو جگاتے جگاتے خودابدی نیند، سو گیا۔ وہ 1971 میں اس دنیائے فانی سے وہاں چلا گیا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ لیکن بہرحال آزادی کی خوش خبری والا پرتیقن پیغام وہ قوم کے نام چھوڑ گیا تھا اور ٹھیک اکیس سال بعد اس کا جاگتی آنکھوں دیکھا خواب اس وقت پورا ہوا جب کمیونسٹ نظام والا ملک یوگوسلاویہ (قائم شدہ 1945) صدرمارشل ٹیٹو کے مرنے کے بعد زیادہ دیرٹھہر نہ سکا اور اپنے قیام 1945 کے سینتالیس سال بعد 1992 میں ٹوٹ گیا۔ اس کی وفاقی ریاستیں یکے بعد دیگرے آزاد ہو گئیں ۔ یکم مارچ 1992 کو بوسنیا کے مسلمانوںنے بھی آزادی کا اعلان کر دیا۔
لیکن معاملہ ذرا پیچیدہ تھا۔ بوسنیا میں 43 فی صد مسلمان، 33فیصد سرب، 17فیصد کروٹس اور 7فیصد دیگر اقوام کے لوگ تھے۔ سربوں کی خواہش تھی کہ بوسنیا سربیا کا حصہ بنے جبکہ بوسنیا میںکروٹس بھی بطور ایک طاقتور گروپ موجود تھا۔ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک خوں ریز محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ دشمن قوتوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ بوسنیائی مسلمان اصلاً ترک ہیں لہٰذا انکی نسل کشی ضروری ہے۔ ویسے بھی یورپی یونین، نیٹو اور امریکہ کی مداخلت کے بعد ایک معاہدے ''ڈیشن کارڈ'' کے تحت جنگ روک دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں ستر فی صد سے زائد لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔ اس وقت تک یہ ملک بالکل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ ایک آزاد اسلامی مملکت (بوسنیا) کے قیام میں پاکستان بھی بوسنیائی عوام کی امداد میں پیش پیش رہا اور یو این او کے پروگرام کے تحت پاکستانی فوجی دستے وہاں گئے اور امن کی بحالی میں خاطر خواہ کردار ادا کیا۔ آج کل دونوں ملکوں کے مابین نہایت خوش گوار تعلقات ہیں۔ مذکورہ ترجمہ شدہ کتاب اسی دوستی کی ایک خوبصورت مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔


کتاب میں ایک جگہ محمد اسلم رائو نے لکھا ہے کہ ''کہا جاتا ہے کہ میک دزدار (یامحمدعلی) علامہ اقبال کے خیالات سے بہت متاثر تھے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اردو کے قالب میں ڈھلے محمدعلی کے اشعار پڑھیں تو کئی مقامات پر یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم اقبال کے اشعار کو ذرا مختلف انداز میں پڑھ رہے ہیں۔ ان میں وہی 'عزت نفس، خودی، آزادی کی تڑپ اور قوت ایمانی کا جذبہ نظر آتا ہے' جو محکوم قوموں کو متحرک بناتا اور ان میں جذبۂِ حریت جگاتا ہے۔ دونوں شاعروں نے اپنے اپنے زمانوں میں دو قومی نظریے کے تحت متاثر کن شاعری کی اور اپنے اپنے وطن میں 'قومی شاعر' کا درجہ حاصل کیا۔''

مضمون گار مختلف اخبارات اور جرائد کے لئے لکھتے ہیں۔
 
Read 268 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter