فنونِ لطیفہ پرجنگوں کے اثرات

تحریر: اسلم کمال

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں، وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فنون لطیفہ بھی جنگوں کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ زندہ قوموں کے زندہ دل اور بہادر لوگ جنگوں کے دوران فنون لطیفہ کے ذریعے اپنے جذبوں کا اظہار کرتے ہیں۔


1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران صورت حال کچھ ایسی تھی کہ ہماری بہادر افواج سرحدوں پر دشمن سے مصروف پیکار تھی تو سرحدوں کے اندر شاعر، موسیقار اور گلوکار خوبصورت رزمیہ نغمے تخلیق کر کے قوم کا لہو گرما رہے تھے۔ اس دوران کیا کیا کچھ تخلیق ہوا، آیئے اس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے۔

 

6 ستمبر 1965ء کی صبح بھارت نے لاہور کے برکی ہڈیارہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر جارحیت کا مجرمانہ ارتکاب کیا۔ اس کے باوجود کہ یہ حملہ بلا جواز اور اچانک تھااور دشمن ارض پاک میں داخل بھی ہوگیا۔ لیکن پاکستان کی شیر دل فوج نے اپنی بے مثل بہادری اور جانثاری سے نہ صرف اُس کی پیش قدمی روک دی بلکہ اُسے الٹے پائوں پسپا ہوکر اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کردیا۔ صبح گیارہ بجے کے قریب ریڈیو اور ٹی وی پر صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خاں نے رات کے اندھیرے میں در آنے والے بزدل دشمن کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کرتے ہوئے ایک بے مثال تقریر میں اس جارح ہمسایہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا: بھارت کے جنگی نیتا نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ لاہور کے زندہ دل اور بہادر شہریو! عیار دشمن نے اس جنگی آزمائش کے لئے سب سے پہلے تمہارا انتخاب کیا ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ مستقبل کا مورخ تمہیں ان الفاظ میں یاد کرے گا کہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے دشمن کو اپنی بے مثال شجاعت سے وہ سبق دیا جس کو اس کی نسلیں بھی فراموش نہ کرسکیں گی۔ پاکستان کی بہادر افواج اور غیور اہل وطن ! کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کی توپوں کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردو۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان پائندہ باد!


قارئین ! یہ ایک حقیقت ہے کہ ولولہ انگیزی اور جرأت مندی کے باب میں صدر پاکستان کی اس تقریر نے فی الواقعہ آدھی جنگ جیت لی تھی۔ اس تقریر نے پاکستانی قوم کو ایک سیسہ پلائی دیوار بنا دیا۔ ہر ایک شعبہ زندگی میں فرض شناسی اور حب الوطنی کی لہر دوڑ گئی۔ پورے سترہ دنوں اور اور سترہ راتوں کی اس جنگ کے دوران نہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھیں اور نہ ذخیرہ اندوزی ہوئی بلکہ جرائم میں حیرت انگیز کمی واقع ہوگئی۔
صدر ایوب کی، اعلانِ جنگ پر مبنی، تقریر کے ایک ایک لفظ نے سب سے پہلے شعبہ شعروشاعری میں ایک ایسی رجزیہ اور رزمیہ روح پھونک دی کہ ادباء و شعراء اخبارات کے دفاتر ، ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنوں کا رخ کرنے اور بلا معاوضہ اپنی شاعرانہ اور ادیبانہ خدمات پیش کرنے لگے۔ کراچی سے اگلے ہی روز رئیس امروہوی کا لکھا ہوا جانثارانِ لاہور کے لئے شاندار خراج کا ترانہ پاکستان کے طول و عرض میں گونجنے لگا


خطہء لاہور تیرے جانثاروں کو سلام
ارضِ شالا مار راوی کے کناروں کو سلام
لاہور جمخانہ میں شراب پینے کا ارمان لے کر حملہ آور ہونے والے بھارتی جنرل چوہدری اور اس کے فوجی بی آر بی کے بہت اُدھر جب اپنے ہی خون میں نہا رہے تھے اور ٹینکوں کا ایک ٹڈی دل لے کر سیالکوٹ کو روند ڈالنے کے مکروہ عزائم والے جب چونڈہ کے میدان میں عبرت کا نشان بن رہے تھے۔ اس وقت صحافی، دانشور اور شاعر صفدر میر تانگے پر لائوڈ اسپیکر لگا کر مال روڈ پر پاک ٹی ہائوس سے بھاٹی دروازے تک اور بھاٹی دروازے سے پاک ٹی ہائوس تک چکر پہ چکر لگاتے ہوئے اپنی رجزیہ نظمیں ''لاہور سربلند ہے لاہور زندہ باد '' اور ''سیالکوٹ تو زندہ رہے گا '' سنا سنا کر لاہوریوں اور سیالکوٹیوں کے بے مثال صبرو استقلال کو خراجِ عقیدت پیش کررہے تھے۔


راقم (اسلم کمال) 7 ستمبر کی صبح شملہ پہاڑی کے قریب ریڈیو پاکستان لاہور کے سامنے ایمپرس روڈ پر سیر کررہا تھا۔ ریڈیو اور ٹرانسسٹروں پر شکیل احمد کی ولولہ انگیز آواز میں جنگی خبریں نشر ہورہی تھیں کہ ہمارے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن ملک کے اندر گھس کر اس کے ہوائی اڈوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے۔ یہ سن کر راقم پر ایک کیفیت طاری ہوگئی اور 7 ستمبر کی اس صبح 8 بجے اس کے اندر ایک شاعر پیدا ہوگیا۔ اس نے پہلی نظم لکھی

funoonlatifaper.jpg

ایک شاعر تھا میں اک مصور تھا میں
اک تخیل زدہ مضطرب نوجوان تھا جِسے
اپنے خوابوں کی پریوں سے فرصت نہ تھی
جس کے پوروں پہ تھا سایہء برگِ گل
جس کے ہونٹوں پہ تھے پرفشاں کچھ سجل گیت عذرائوں سلمائوں کے
جس کی آنکھوں میں تھا سر مئی چمپئی وادیوں کا فسوں
آج میں بھی نہیں وہ تخیل زدہ
آج ہاتھوں میں بندوق سر پہ کفن
آج ہونٹوں پہ اللہ اکبر کے بول
جنگ ستمبر کی فتح کا جشن مختلف مکتبہ فکر اور شعبوں سے تعلق رکھنے والوںنے اپنے اپنے انداز میں منایا۔ اس کااحوال ذیل میں دیکھئے 


شاعری
صوفی غلام مصطفےٰ تبسم ، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، مشیر کاظمی، طفیل ہوشیاری، قیوم نظر، کلیم عثمانی ، مظفر وارثی ، سیف زلفی، مسرور انور ، سیف الدین سیف، صہبا اختر، محمود شام، تاجدار عادل ، جمیل الدین عالی، ناصر کاظمی، حمائت علی شاعر، الغرض تمام پاکستانی زبانوں کے شاعروں اور ادیبوں نے پاکستان کے دشمن سے دلی نفرت اور پاکستان کے ذرے ذرے سے قلبی محبت اور عقیدت کا اظہار جس جذبے اور جوش سے کیا۔ وہ پاکستانی شعر و ادب کا ایک ناقابل فراموش باب ہے یہی نہیں بلکہ اس جنگ نے پاکستانی فنونِ لطیفہ اور ان سے ماخوذ جن فنون پر گہرے اثرات مرتب کیے وہ بالا ختصار مندرجہ ذیل ہیں۔


موسیقی
1965ء کی جنگ نے پاکستانی ادب میں خاص طور پر شاعری میں جنگی ترانوں اور نغمات کی صورت میں جس رزمیہ اور رجزیہ آہنگ کا اضافہ کیا اُس نے سب سے پہلے پاکستانی موسیقاروں کے سامنے حب الوطنی کا ایک ایسا منظر پھیلا دیا کہ ملی ترانوں اور نغموں کی دھنوں میں، رجزیہ پکار اور رزمیہ للکار سے مملو سُروں کے امتزاج و ایزاد سے ہماری روائتی موسیقی خودبخود ایک پاکستانی موڑ مڑ گئی۔ نثار بزمی، سہیل رانا ، خلیل احمد، خادم حسین، بابا چشتی ، رشید عطرے ، سلیم اقبال، ایم اشرف ، فیروز نظامی ، پروفیسر اسرار جیسے اساتذہ کی ان دھنوں کو ہمارے گلوکاروں نے جس سوزو گداز اور ایقان و ایمان سے گایا اُس کی تاثیر نے قریہ قریہ، بستی بستی، شہر شہر، ہر محاذ پر اس ناگہانی جنگ کا رخ مورچہ مورچہ پاکستان کی فتح مبین کی جانب موڑ دیا۔ یہ ہمارے شعراء کے الفاظ تھے، جو ہمارے موسیقاروں کی دھنوں میں ڈھل کر ہمارے گُلوکاروں کی آواز بن کر سترہ دن اور سترہ راتوں کی اس جنگ میں بری، بحری اور فضائی پاک فوج کے صف شکن اور جان بکف مجاہدوں کے شانہ بشانہ دشمن کے لشکروں کی صفیں الٹتے رہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں ، مہدی حسن، نسیم بیگم، عنایت حسین بھٹی ، احمد رشدی، عالم لوہار، تاج ملتانی، شہناز بیگم، حبیب ولی محمد، علّن فقیر، مسعود رانا، منیر حسین، سلیم رضا، شوکت علی اور غلام علی کی آوازوں کا ایسا لشکر نعرہ زن تھا جس کے آگے خندق خندق اور مورچہ مورچہ ہمارے حق میں اس جنگ کی ہوا ہوگئی تھی۔


اس جنگ میں ملکہ ترنم نور جہاں کا یہ جملہ ہر ایک پاکستانی کے دل پر وطن سے محبت کا ان مٹ نقش بن کر ثبت ہوگیا۔ وہ جب ایک جنگی ترانہ ریکارڈ کروا رہی تھیں تو فضائی حملے کا سائرن بجنے پر ان سے درخواست کی گئی کہ وہ بھی خندق میں پناہ لے لیں۔ ملکہ ترنم نے جواب میں دو ٹوک کہا؛ میں خندق میں پناہ لینے کی بجائے وطن کا گیت گاتے ہوئے مرنا پسند کروں گی۔ اسی جنگ کا یہ بھی ایک کرشمہ ہی تھا کہ پروفیسر اسرار کی دھن پر ملکہ ترنم جیسی شہرہ آفاق گائیکہ ایک بالکل گمنام گلوکار محمد صدیق کے ساتھ منیر نیازی کا کلام گانے پر بخوشی راضی ہوگئیں


اے وطن اے عالمِ اسلام کی تابندگی تجھ پر سلام
اس جہاں کی تیرگی میں اے نظر کی روشنی تجھ پر سلام
صحافت
روزناموں سے لے کر ہفتہ وار ، سہ ماہی اور ماہوار رسائل و جرائد تک سب نے اس جنگ میں اپنا بھرپور قومی کردار ادا کیا۔ فنون، نقوش اور اوراق نے جنگ نمبر نکالے۔ اردو ڈائجسٹ ، سیارہ ڈائجسٹ اور حکایت ڈائجسٹ نے خاص طور پر اس جنگ کی تفصیلات کو پاکستانی قوم کی تاریخ میں ایک امانت کی طرح محفوظ کردیا۔
فلم
1965ء کی جنگ پر ''قسم اُس وقت کی'' کے نام سے پاک فضائیہ کے پس منظر میں ایک فلم بنی۔ جس میں ہیرو کا کردار طارق عزیز نے اور مختصر سا ہیروئن کا کردار شبنم نے ادا کیا۔ سکرپٹ غالباً پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے تیار کیا اور نغمات فیض احمد فیض نے لکھے۔


ٹی وی ڈرامہ
شہدائے وطن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مختلف ڈرامے بھی تشکیل دیئے گئے اور یہ ڈرامے صرف 65ء کے شہداء کے نہیں بلکہ 1948، 1971اور معرکۂ کارگل کے شہداء کے بھی ہیں۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جنگوں میں وطن کے جو سپوت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اُن کے اثرات معاشرے کے لئے فخر اور اعتماد کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔


1۔ کیپٹن سرور شہیدنشان حیدر سرور شہید کا کردار اداکار سلیم ناصر نے ادا کیا۔
2۔ میجر طفیل شہید نشان حیدر میجر طفیل کا کردار اسٹیج ایکٹر ظلِ سبحان نے ادا کیا
3۔ میجر عزیز بھٹی شہیدنشان حیدر میجر عزیز بھٹی شہید کا کردار ایک غیر اداکار ناصر شیرازی نے ادا کیا۔
4۔ راشد منہاس نشان حیدر اس میں ہیروئن کا کردار ٹی وی اداکارہ مرینہ خان نے ادا کیا
5۔ لالک جا ن نشان حیدر


مزاحمتی صداکاری
ریڈیو پاکستان لاہورکے نصیر انور کا پروگرام ''مہاشے'' اشفاق احمد کا ''تلقین شاہ'' نظام دین کا پنجابی پروگرام اور اعجاز بٹالوی کی رزمیہ ڈائری کے صداکاروں نے فنِ صدا کاری میں رجزیہ اور رزمیہ لب و لہجہ متعارف کروایا۔


فنِ تعمیر
رن کچھ سے لے کر چھمب جوڑیاں تک پاکستانی سرحد کی حرمت و عظمت پر اپنی جانیں قربان کرنے والے پاک سرزمین کے بیٹوں کے جنگی کارناموں کی یادگاریں جنگی محاذ بننے والے علاقوں میں جا بجا تعمیر ہوکر اہل وطن کی سلامتی کی ضمانت اور وطن عزیز کی حرمت و عظمت کا نشان بن گئیں۔
1965ء کی اس جنگ کے نشانِ حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی کی شہادت گاہ کی یادگار بی آر بی نہر کے کنارے تعمیر کی گئی۔ اس یادگار کا سنگ بنیاد میجر راجہ عزیز بھٹی کے والد گرامی کے ہاتھوں سے رکھوایا گیا اور اس تقریب کی رواں کمنٹری اس وقت لاہور کے کمشنر مختار مسعود (مصنف آوازِ دوست) کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا جس یادگار کا سنگ بنیاد آج ایک بوڑھے باپ کے دو ہاتھ رکھ رہے ہیں۔ یہ یادگار قیامت تک ایک بیٹے کی بہادرانہ سعادت مندی کی کہانی سنایا کرے گی ۔ انہی کمشنر لاہو رجناب مختار مسعود کی خصوصی دلچسپی کے طفیل لاہور کے ریگل چوک میں 1965ء کی اس جنگ کے شہداء کی یاد میں ''مسجدِ شہدائ'' تعمیر ہوئی۔ اس مسجد کا پورے ڈیزائن پر محیط گول گنبد شہید سپاہی کا ہیلمٹ ہے اور اسکا مخروطی مینار اس کی بندوق کی سنگین ہے۔ اس مینار کی بنیاد میں پاکستانی سِکّے اور نقوش کا لاہور نمبر محفوظ کیا گیا ہے۔ جب یہ مسجد زیر تعمیر تھی اس کے ڈیزائن گنبد اور مینار کی شکل و صورت پر کچھ کچھ لے دے بھی ہوئی تھی ۔ مگر بالآخر یہی تعمیراتی اجتہاد مستقبل کے پاکستانی طرزِ تعمیر کے ابتدائی خدوخال اجاگر کرگیا۔


علم و ادب
سترہ دنوں اور سترہ راتوں کی اس جنگ کے کچھ ماہ بعد پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، مدیروں اور صحافیوں کا ملک گیروفد لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں کی اعلیٰ فوجی کمان کی دعوت پر اپنی بہادر افواج کے ساتھ اظہارِ اعترافِ شجاعت کے لئے گیا تاکہ وطن عزیز کے اہل علم و دانش کا یہ طبقہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے کہ اس وطن کے چپے چپے کا دفاع کس جاں نثاری سے کیا گیا۔ اس وفد میں محمد طفیل مدیر نقوش، جمیل الدین عالی، قتیل شفائی، الطاف حسن قریشی، عبدالقادر حسن، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، ابن انشا، سید قاسم محمود، حبیب کیفوی، بانو قدسیہ، رفعت خواجہ، سائرہ ہاشمی، شیخ رؤف، ڈاکٹر رشید انور، بشیر منذر، حفیظ تائب اور جلیل عالی جیسی شخصیات شامل تھیں۔ برکی ہڈیارہ سیکٹر میں بی آر بی نہر کے کنارے ایک گمنام سپاہی کی قبر کی طرف اشارہ کرکے غازی جنرل سرفراز نے بڑے جذباتی انداز میں بتایا کہ اس مجاہد نے اپنے فرائض اس جانفشانی سے ادا کئے کہ دشمن کی گولیوں کی بوچھاڑ میں اُس کے تن پر پاک فوج کی وردی اور بوٹوں کے چند چیتھڑوں کے سوا کچھ نہ بچا تھا۔ اُس کی یونٹ اور اس کی رجمنٹ بلکہ اس کا نام کیا تھا اس کا بھی کوئی نشان نہ مل سکا۔ اس لئے اس کی قبر کو گمنام سپاہی کی قبر کا نام دیا گیا ہے لیکن میں جب بھی ادھر سے گزرا ہوں جنرل صاحب نے بتایا میرے کانوں نے باقاعدہ اس کے سلیوٹ کرنے کی آواز سنی ہے۔ دراصل وہ مجھے سلیوٹ نہیں کرتا بلکہ بآواز بلند اپنا نام ''ابنِ پاکستان'' بتاتا ہے۔


پاک فوج کے غازیوں کے اعزاز میں شالا مار باغ لاہور میں ایک تقریب ہوئی۔ اس کی نظامت کے فرائض مشہور وکیل ادیب اور دانشور اعجاز بٹالوی مرحوم نے ادا کئے۔ اس تقریب کے مہمانِ اعلیٰ کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ سے ایک غیر ملکی نامہ نگار نے پوچھا کہ جنرل صاحب بھارت کے ساتھ آپ کا باڈر اتنا طویل ہے۔ اس پر دشمن نے کبھی رن آف کچھ، کبھی فاضلکا، کبھی قصور، کبھی لاہور اورکبھی سیالکوٹ پر حملہ کرکے آپ کو پریشان تو خوب کیا ہوگا۔ جنرل موسیٰ نے جواب میں کہا پریشان تو دشمن ہوا کہ اس نے جہاں جہاں بھی سر اٹھایا ہمیں وہاں سر کچلنے کے لئے موجود پایا۔


اسی طرح''نشان حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی'' جیسی اعلیٰ کتاب اصغر علی نے لکھی اور پاکستانی اردو ادب میں مزاحمتی نثر کی بنیاد رکھ دی۔


فنِ خطاطی
بھارت نے 6 ستمبر کی صبح حملہ کیا اور صدر پاکستان نے جواب میں اعلان جنگ کرتے ہوئے اہلِ وطن کو کہا کہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کی توپوں کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردو۔ راقم (اسلم کمال) نے اُسی رات اپنی رہائش کو پوری طرح بلیک آئوٹ کرکے یہ عہد کیا کہ پاک وطن کا سپاہی جب تک میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دے گا میں ہر رات اپنے کینوس پر اُس کے اعترافِ شجاعت میں دادِ تخلیق دوں گا۔ پہلی رات راقم نے کینوس پر کلمہ طیبہ کی آئل پینٹ میں مصورانہ خطاطی کی جو بعد میں ایک تخلیقی تحریک بن گئی۔


فنِ مصوری
اس جنگ کی باقی راتوں میں ہر رات ایک پینٹنگ کی۔ ان 17 پینٹنگز کی نمائش خاص طور پر غیر ملکی نامہ نگاروں کے لئے الحمرا آرٹس کونسل لاہور میںہوئی۔ بعد میں ان کی نمائش پاکستان نیشنل سینٹر الفلاح لاہور میں ہوئی اور ان میں سے کچھ پینٹنگز مشہور ادبی رسالہ نقوش نے اپنے جنگ نمبر میں شامل کیں۔ اس طرح یہ مصوری مزاحمتی مصوری میں بدل گئی۔


جنگی مصوری
شعبہ فنون لطیفہ یعنی فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی جو اب کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن بن چکا ہے۔ اس کی بانی چیئر پرسن مسز اینا مولکا احمد نے جنگ بندی کے فوراً بعد باٹا پور میں بی آر بی کے جی ٹی روڈ پر پل کے قریب گھاس سے لدی ہوئی ایک بیل گاڑی کو ماڈل بنا کر اس کے پیچھے چھپ کر عرفِ عام میں ''رانی توپ ''کی جو نقل و حرکت کی کہانی زبانِ زدِ عام ہوئی تھی اس کو پینٹ کیا۔


مشہور پورٹریٹ پینٹر سعید اختر نے ائیر مارشل نور خاں کا فائٹر پائیلٹ کے لباس میں پورٹریٹ بنایا۔ محمودا لحسن رومی، منان عزمی، خالد لطیف، ظہیر احمد جنجوعہ، جاوید بٹ اور استاد سلیم حسین شریف کو آئی ایس پی آر لاہور نے جنگی فوٹو گراف فراہم کئے جن کو ان مصوروں نے پینٹنگز میں ڈھالا اور الحمرا آرٹس کونسل میں ایک شاندار نمائش ہوئی۔ پاک فضائیہ کے ونگ کمانڈر حسینی اور بہت سارے چینی مصوروں نے اعلیٰ فنی مہارت کے ساتھ پاک فضائیہ کے ایف۔ 86 سیبر اور ایف۔ 104 سٹارفائٹر کو پاک آسمانوں کی نگہبانی کرتے اور بری اور بحری افواج کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے دکھایا۔ خاص طور پر لاہور کے بسنت کی پتنگوں سے بھرئے ہوئے آسمان پر سکواڈرن لیڈر شربت علی چنگیزی کو بھارتی فضائیہ کے بھگوڑے ہنٹر طیاروں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرتے جس طرح چینی مصوروں نے دکھایا۔ وہ قابل صد تحسین تھا۔ یہیں سے دراصل آہستہ آہستہ رفعت پذیر ہوتی ہوئی پاکستان اور چین کے مابین آج کی ہمالیہ جیسی بلند دوستی کی ثقافتی سطح پر بنیاد پڑ گئی تھی۔

سلامتی
یہ اتنے سارے بونے
سروںکی فصل پہ کھڑے
ہمالیہ کی بلندیوں پہ کیوں نظریں جمائے ہیں
یہ کیوں بے خبر ہیں؟
کہ بلندی ،اعلیٰ ظرفی اور جرأت کی متقاضی ہے
یہ بے سمت آوازیں تو صرف اک شور ہے
اور اب کہ گیدڑ بھی دھاڑنے لگ پڑے ہیں
مگر اے ہمالیہ کی گود میں پلنے والے
میرے وطن کے غیور بیٹو!
جب تمہارے گھروں کو بھیڑیئے خوں سے نہلا دیں
تو اُس وقت سے ،بہت پہلے، تم آگے بڑھنا
کہ
کڑے وقتوں میں، دشمنوں کی صف پر حملہ کرنا
جارحیت نہیں، سلامتی ہے

*****

 
Read 267 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter