تحریر : پروفیسر ارشاد حسین شاہ

میجرواصف حسین شاہ شہیدستارہ بسالت کے حوالے سے ان کے والد محترم پروفیسر ارشاد حسین شاہ کی خصوصی تحریر

 

اس وقت افواج پاکستان ملک کی سلامتی اور بقاء امن کے لئے دہشت گردی اورشدت پسندی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ پاکستانی افواج کے جوان اور افسران جتنی بہادری، دلیری، ولولے، حب الوطنی، حکمت عملی اور کامیابی سے نامساعد حالات میں دشمنان پاکستان کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کی تاریخ میں مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ ہمارے پاس ہمارے جوانوں اور افسران کی ان گنت مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے دشمن کے خلاف لڑائی کے دوران، یہ جانتے ہوئے کہ ابھی کچھ دیر بعد ہم اس دنیا فانی میں نہیں ہوں گے، انتہائی جانفشانی اور دلیری کا مظاہرہ کیا اور شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے انہوں نے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی اس ملک کی آبیاری کے لئے بہا دیا۔ ایسے لوگ اللہ کی طرف سے چنے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ زندہ و تابندہ ہو تے ہیں۔ میجر واصف حسین شاہ نے اسی جذبے کے تحت ملک کی سلامتی اور فرائض منصبی کو پورا کرنے اور اسلام کی سربلندی کے لئے دتہ خیل وزیر ستان میں 15نومبر 2014ء کو تقریباً 400تخریب کاروں کے ساتھ مقابلے میں جام شہادت نوش فرمایا۔

 

pakkbetty.jpgمیجر واصف حسین شاہ شہید 2مئی 1981ء کو تربیلہ ڈیم کے پی کے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایف ایس سی کا امتحان اچھے نمبروں کے ساتھ ایف جی کالج منگلا کینٹ سے پاس کیا۔ وہ ایک اچھے مقرر، خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ہر دل عزیز انسان تھے۔ ان کا منگلا کینٹ میں والدین کے ساتھ رہائش کی وجہ سے فوج کے ساتھ کافی لگائو تھا۔ ایف ایس سی کے فوراً بعد تمام متعلقہ امتحانات پاس کر کے 106پی ایم اے لانگ کورس جوائن کیا۔ پی ایم اے کاکول میں ٹریننگ کے دوران اپنی خداداد صلاحیتوںکا بہترین مظاہرہ کرتے رہے۔وہ 2002 میں پی ایم اے کاکول سے پاس آئوٹ ہوئے۔ انہوں نے باغ پیر کنٹھی، گوجرنوالہ، بالاکوٹ، سکردو اور سوات میں ڈیوٹی سرانجام دی۔ سوات میں آپریشن راہ نجات میں بڑی بہادری سے ملک و قوم کا دفاع کیا۔ سوات سے کامیابی کے ساتھ فرائض انجام دینے کے بعد غازی بن کر لوٹے۔


میجر واصف حسین شاہ شہید بچپن ہی سے بڑے ملنسار، خوش اخلاق اور مدبر انسان تھے۔ انہیں کبھی غصہ میں نہیں دیکھا گیا۔ اُن کے چہرے پر ہر وقت ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہوتی تھی اور یہ مسکراہٹ ہم نے ان کے چہرے پر تابوت میں بھی دیکھی۔


انہیں کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اپنے والد کی چشمہ میانوالی پوسٹنگ کے دوران پاکستان اٹامک انرجی سکول میں زیر تعلیم تھے۔ تب انہوں مقامی آفیسرز کے بچوں کے ساتھ مل کر ایک کرکٹ ٹیم بنائی۔ جب وہ پاکستان اٹامک انرجی سکول میں تیسری جماعت کے طالب علم تھے تو اس وقت سکول میں دوڑ کے مقابلہ میں ان کی دوسری پوزیشن آئی۔ اُنہیں زندگی کی پہلی ٹرافی ملی جو آج بھی محفوظ ہے۔


میجر واصف کے والد صا حب کی منگلا تبدیلی پر انہیں ایف جی پبلک سکول منگلا کینٹ داخل کروایا گیا۔ اس سکول میں وہ تقاریر اور نعت خوانی میں حصہ لیتے رہے۔ منگلا کینٹ میں رہائش کی وجہ سے پاکستان آرمی کے ساتھ واپڈا کے آفیسرز کا کافی میل جول تھا۔ یہ پاکستان آرمی کا تعاون تھا کہ وہ واپڈا کے تمام آفیسرز کو جو منگلا کینٹ برال کالونی میں رہتے تھے ہر وہ سہولت میسر کرتے تھے جو کہ وہ اپنے سویلین آفیسرز کو مہیا کرتے تھے۔ اس طرح منگلا کینٹ میں رہائش پذیر آرمی اور واپڈا کے آفیسرز ایک فیملی کی طرح تھے۔ میجر واصف شاہ نے ایف جی کالج منگلا کینٹ میں تعلیم کے دوران ہی تن سازی، ویٹ لفٹنگ، تیراکی اور گھڑ سواری میں مہارت حاصل کر لی تھی جو کہ ان کو عملی زندگی میں بھی کام آئی۔ان کی پی ایم اے کاکول میں ٹریننگ کے دوران جسمانی طاقت، ذہانت اور برداشت کی کافی مثالیں ہیںجن میں سے دو کا ذکر کریں گے۔


فیلڈ میں یرموک ایکسرسائز کے دوران ضروری سامان کے علاوہ پی ایم اے کاکول سے اُنہوں نے ایل ایم جی اٹھائی۔ یہ ایل ایم جی پوری ایکسرسائز کے دوران اٹھائے رکھی اور پانچویں دن پی ایم اے کاکول میں جمع کرا دی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ جب سب کیڈٹس یرموک سے پی ایم اے واپس آئے تو فطرتی طور پر سب میں تھکاوٹ، کمزوری اور لاغر پن تھا۔ اس دوران پلاٹون کمانڈر نے کہا کہ کیا آپ سب کیڈٹس میں سے کسی میں دم خم ہے کہ وہ پش اپس نکال سکے تو میجر واصف شاہ رضاکارانہ طور پر پش اپس کے لیے تیار ہو گئے اور کوئی پچاس پش اپس نکالیں۔ میجر واصف شاہ کی اس طاقت، برداشت اور حوصلہ کو دیکھ کر سب دھنگ رہ گئے۔
میجر واصف حسین شاہ نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے کانگو میں ایک سال خدمات انجام دیں۔ وہاں پر ان کی بہت سی خصوصیات کی وجہ سے ان کو
King of Mwanga
کہا جاتا تھا۔ موانگا میں انہوں نے ایک مسجد بھی تعمیر کروائی۔ واپسی پر ان کی
Attachment
کوئی دوسال کے لئے
Azad Kashmir Regmental Center
مانسر کیمپ میں ہوئی۔ مگر تقریباً آٹھ ماہ بعد یہاں سے ان کو ا پریشن ضرب عضب میں حصہ لینے کے لئے شمالی وزیرستان بھیج دیا گیا۔ میجر واصف حسین شاہ نے شمالی وزیر ستان میں بہت سے آپریشنز کی کمانڈ کی اور کامیابی سے انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے بہت کم نفری اور اسلحے کے ساتھ مشکل، بلندترین اور دفاعی اعتبار سے بہت اہم اور دہشت گردوں کی اہم پناہ گاہ زرم سر اور سپیر اغر پر قبضہ جما کر 3چوکیاں قائم کر دیں۔ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک درہ تھا جس کو تخریب کار افغانستان آنے جانے اور اسلحہ کی رسدکے لئے استعمال کرتے تھے۔ یہ علاقہ بہت عرصے سے ملک دشمن عناصر کے قبضے میں تھا اور یہاں سے تخریب کار دتہ خیل پر راکٹ پھینکتے تھے اور افواج پاکستان پر حملہ کرتے تھے۔ اس قبضے کی وجہ سے ان کوفاتح زرم سر اور سپیراغر کہتے ہیں۔ میجر واصف حسین شاہ
Bravo Company
کی کمانڈ کر رہے تھے کہ 15نومبر2014 شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے تقریباً چار سو تربیت یافتہ، منظم اورجدید اسلحے سے لیس تخریب کاروں نے پوسٹ نمبر 3پر حملہ کردیا۔ میجرواصف حسین شاہ نے دفاعی اعتبار سے اپناہیڈکوارٹر پوسٹ 2پر بنایا تھا۔ان کو اطلاع ملی کہ پوسٹ 3پر حملہ ہو گیا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ میں ان کو سبق سکھائو ںگا۔ اور پوسٹ 2سے بمعہ چار سپاہیوں کے وہ برق رفتاری سے پوسٹ 3پر پہنچے اور فرنٹ لائن پر پوزیشن سنبھا ل کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ چونکہ چاروں اطراف سے دشمن کا فائر آرہا تھا جس کی وجہ سے کچھ جوان زخمی ہوئے، تاہم میجر واصف حسین شاہ نے تخریب کاروں کو پیچھے دھکیل دیا اسی مقابلے کے دوران ان کو دو گولیاں بائیں کندھے اور ہنسلی کی ہڈی پر لگیں مگر پھر بھی انہوںنے اس کی پروا نہ کی اور بڑی بہادری سے تخریب کاروں کا مقابلہ کرتے رہے۔ انہیں نفری کی کمی، اسلحے کی قلت، بروقت کمک نہ پہنچنے اور دشمن کے بارے میں فوجی اعتبار سے متعلقہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔میجر واصف کی فرنٹ لائن پر موجودگی سے جوانوں کے مورال میں اضافہ ہوا۔ شام تقریباً سات بجے میجرواصف حسین شاہ کے بنکر کو ملک دشمن عناصر نے تین اطراف سے گھیر لیا۔ ان حالات میں بھی میجر واصف حسین شاہ پورے جذبۂ ایمانی، شجاعت اور حوصلے سے لڑے۔ اسی دوران نزدیک سے آر پی جی کا فائر کیا گیا اس کے ٹکڑے میجر واصف کے اوپروالے جبڑے کو چیرتے ہوئے گردن سے نکل گئے جو ان کی شہادت کا سبب بنے۔ان کے ساتھ ہی نائیک جاویداختر، سپاہی محمد نواز،سپاہی نذیر احمداور سپاہی ایاز نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ میجر واصف کی شہادت کے بعد صوبیدار جہانگیر احمد بڑی بہادری سے لڑے اور دشمن کے ساتھ دست بدست لڑائی میں شہید ہوگئے۔ میجر واصف حسین شاہ کو غیرمعمولی جرأت اور شجاعت کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی اور ملک سے بے پناہ محبت اور ایک مثالی، نڈر اور باہمت کمانڈرہونے کے سبب ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔ میجر واصف حسین شاہ شہید کی نمازجنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ پشاور سٹیڈیم پشاور میں اداکی گئی جس میں اس وقت کے کور کمانڈر پشاور، لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور گورنر صوبہ خیبرپختونخوا نے بھی شرکت کی۔ میجر واصف شہید کی دوسری نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے شیخ آباد مانسہرہ میں ادا کی گئی۔ جس میں علاقے کی عوام کے علاوہ اعلیٰ سول و فوجی افسران اور اہلکاران نے بھی شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد پاک فوج کی بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے شہیدکو سلامی دی اور اانہیں قومی و فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 159 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter