صحرائے تھر کے بچے اورپاک فوج

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: اسد عباس ملک

یہ مارچ کی ایک سہانی صبح تھی جب ہم کراچی سے براستہ حیدر آباد اور میر پور خاص عمر کوٹ (تھرپارکر) کے لئے روانہ ہوئے۔ میرپور سے گزرتے ہوئے روڈ کے دونوں طرف آموں کے بور بھرے سرسبز باغ ہمیں بیک وقت بہار اور گرمیوں کی آمد کا پتہ دے رہے تھے۔ میلوں پھیلا ہوا سبزہ، ہلکی سنہری چادر اوڑھے گندم کے کھیت اور ان میں رزق حلال کی تپسیا کرنے والے افراد ایک منظر پیش کر رہے تھے۔ شہر کی چکا چوند اور شور سے بھری زندگی سے دور یہ منظر نہایت سکون بخش تھا کہ خالق نے اس دھرتی کو کتنے موسموں، کتنے رنگوں اور کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ انہی نعمتوں سے بینائی کو سیراب کرتے جب ہم عمر کوٹ کے تاریخی شہر پہنچے تو سہ پہر ہو چکی تھی۔ مگر ہمیں اپنا سفر جاری رکھنا تھا اور یوں عمر کوٹ سے شمال کی جانب دو گھنٹے مزید سفر کرنے کے بعد ہم اپنی منزل مقصود یعنی ڈاہری نامی گاؤں پہنچے۔ جہاں ہمارے میزبان ہمارے منتظر تھے۔ دن ڈھل چکا تھا اور پاکستان اور انڈیا کے بارڈر پر واقع صحراے تھر کا یہ گاؤں میلوں پھیلے اونچے نیچے ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک عجیب منظر پیش کر رہا تھا۔۔ مقامی لوگوں کے مطابق 1965 کی جنگ میں اسی بارڈرسے پاکستان کی بری فوج نے انڈیا کے اندر گھس کردشمن کے قریباً 20 کلو میٹر رقبے پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر 1971کی لڑائی میں بزدل دشمن نے جب بارڈر کراس کرتے ہوے اس علاقے پر قبضہ کرنا چا ہا تو مقامی آبادی نے اپنی فوج کے ساتھ مل کر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ایک مقامی بزرگ چاچا جمعن نے اس مڈبھیڑ کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے انہوں نے دشمن کی فوج سے اپنی جان بچائی تھی۔

sehratharkbatchy.jpg
’’میں اس وقت کافی جوان تھا، شاید 25سال کا تھا۔ کیونکہ بارڈر پر فائرنگ ہورہی تھی اس لئے بارڈر کے قریب رہنے والے لوگوں کو عمر کوٹ شہر کی طرف ہجرت کرنے کو کہا گیا تھا، تاکہ دشمن کی کسی بھی جارحیت سے مقامی ہندو اور مسلمان آبادی کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ میں اپنی بکریوں کے ریوڑ کو لے کر آ رہا تھا جب اچانک فائرنگ شروع ہوئی اور دشمن کی طرف سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں میری پانچ بکریاں ہلاک ہو گئی تھیں جب کہ میں نے ریت کے ایک ٹیلے کی اوٹ میں لیٹ کر خود کو فائرنگ سے بچایا تھا ۔‘‘ چاچا جمعن کے مطابق وہ وہاں اس وقت تک لیٹا رہا تھا جب تک پاکستانی فوج کی جوابی فائرنگ سے دشمن کی فائرنگ بند نہیں ہو گئی تھی۔ چاچا جمعن اب ایک دکان چلاتے ہیں ۔ اس دوران جب انہوں نے اپنی بات مکمل کی تو میں نے اپنے آس پاس بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کا بھی ایک ہجوم پایا۔ ان میں سے کچھ میری گود میں پڑے

DSLR

کیمرے کو اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے تو کچھ ماضی کے قصے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے بچوں کو بھی محفل کا حصہ بنانے کی غرض سے جب پوچھا کہ کون کون اردو میں بات کر سکتا تھا تو صرف دو بچوں نے ہاتھ کھڑے کئے۔ ان میں سے ایک کا نام سجاول تھا۔ سجاول ایک مقامی سکول میں پانچویں کلا س کا طالب علم اورمانیٹر تھا۔اس سے رسمی گفتگو کے بعد جب میں نے پوچھا کہ وہ بڑا ہو کر کیا بننا چاہتا ہے تو سجاول نے جواب دیا کہ وہ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اسے مزید کریدتے ہوے پا ک فوج میں شمولیت کی وجہ پوچھی تو سجاول کا جواب تھا کہ اسے پاک آرمی کے جوان بہت پسندہیں۔ کیونکہ وہ بہت بہادرہوتے ہیں اور انہوں نے ہر مشکل وقت میں اس کے گاؤں کے لوگوں کی حفاظت کی ہے۔ سجاول کے مطابق اس کے گاؤں کے باقی سب بچے بھی فوج میں ہی جانا چاہتے ہیں۔ میں نے جب اپنے مقامی میزبان سے کہا کہ وہ تھری زبان میں وہاں کھڑے بچوں سے پوچھے کہ ان میں سے کون کون پاک فوج میں جانا چاہتا ہے تو میری حیرت کی اس وقت انتہاء نہ رہی جب وہاں موجود بچوں میں ایک چھوٹی بچی نے بھی ہاتھ کھڑا کر رکھا تھا۔ میری ٹیم کے سب لوگ بھی یہ منظر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ ہمارے مقامی میزبان نے بتایا کہ تھرپارکر کے علاقے میں بارڈر پر بسنے والی آبادی میں گویا کہ تعلیم و دیگر بنیادی سہولتوں کا اشد فقدان ہے ، مگر اس کے باوجود یہاں نئی نسل میں سے اکثریت فوج میں جانا چاہتی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ معاشی استحصال اور محرومیوں کا شکار ان علاقوں میں صحت ، تعلیم ، روزگار اور پینے کے پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورتوں کے نہ ہونے کے باوجود جو ایک چیز ان لوگوں کو میسر ہے اوروہ ہے اس علاقے کا امن و امان اور تحفظ ۔ انڈیا کے بارڈر پر ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی یہ سمجھتی ہے کہ پاک فوج کی بدولت ہی وہ ان علاقوں میں دشمن کی توپوں کی زد میں ہونے کے باوجودآرام و سکون کی نیند سو سکتے ہیں اور کسی بھی قسم کے خوف اور خطرے کے بغیر اپنی روزمرہ کی معاشی و معاشرتی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ یہاں کے بچے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں اور فوج کو اپنا پسندیدہ ادارہ سمجھتے ہیں۔


ضرورت اس امرکی ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت ان علاقوں کی ترقی کی طرف توجہ دے اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ان علاقوں میں پانی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے۔ ڈاہری گاؤں اور اس کے اطراف میں واقع دوسرے علاقوں میں بھی تعلیمی سہولتوں کاشدیدفقدان ہے۔یہاں پانچویں جماعت کے بعد تعلیم کی سہولت موجود نہیں اور اکثر اوقات بچے بمشکل ہی پانچویں تک تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ جب کہ بچوں ، با لخصوص بچیوں کی ایک بڑی تعداد دن بھر پانی بھر کر لانے میں مصروف رہتی ہے۔ لہٰذا تھرپارکر کے بچوں اور بچیوں کی تعلیمی ضروریات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بچے بھی پڑھ لکھ کر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 66 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter