تحریر: حمیرا شہباز

آپ کے ملک میں سب باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں؟میری روم میٹ کی جانب سے انتہائی غیر متوقع سوال تھا ۔ وہ میرے عقب میں دائیں طرف والے بستر پر بیٹھی مجھ سے مخاطب تھی جبکہ میں کل کی کانفرنس کی تیاری میں مقالہ دہرانے کے بجائے اپنے بستر پر بیٹھی نیا جوڑا استری کر رہی تھی۔ ہم دونوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے چوبیس گھنٹے تو ہو چکے تھے لیکن سلام ،صبح بخیر، اور گیلان کے خنک موسم پر سرسری تبصرے کے علاوہ ہماری کوئی خاص بات نہیں ہوپائی تھی۔ اور یہ اجتماعی نوعیت کا نہایت ذاتی سوال باقاعدہ باہمی گفتگو کا آغاز تھا۔


میں اسلام آباد، کراچی، دبئی اور تہران سے ہوتی تقریباً اٹھائیس گھنٹوں کی طویل مسافت کے بعد رات آٹھ بجے کے قریب گیلان یونیورسٹی کے خصوصی مہمان سرا کی تیسری منزل کے کمرہ نمبر اڑتیس میں پہنچی تھی۔ بستروں کی تعداد بتا رہی تھی کہ اس میں تین مہمانوں کے سمانے کی جگہ ہے۔ جو بندہ کمرے میں میرا سامان چھوڑنے آیا‘ اس نے ساتھ ہی زبانی دعوت نامہ بھی پیش کیا کہ نیچے بسیں تیار ہیں‘ سب کو کھانے پر کہیں جانا ہے۔ہمیں کوئی بیس منٹ کی مسافت پر رشت کی شہرداری میں جانا پڑا کیونکہ ناظمِ شہر پہلی فرصت میں ہماری میزبانی کا شرف حاصل کرنا چاہتا تھا۔ناظمِ رشت کا خطاب ، کانفرس کے منتظمین کی تقاریر، ایران کے مختلف شہروں اور دیگر ممالک سے آئے محققین کا استقبال، مہمان اسکالرز کے لئے تحائف، گیلان کی موسیقی، روایتی کھانا اور بہت کچھ تھا اس محفل میں۔ جو نام میرے ذہن میں رہ گیا ،وہ تھامرزا قاسمی ۔ میں اپنی پسندیدہ ایرانی غذا چلو کباب سے انصاف کر رہی تھی کہ ساتھ بیٹھی ایک میزبان نے مجھے پیشکش کی کہ آپ مرزا قاسمی بھی لیں، اس کے ہاتھ میں تھامی پلیٹ میں بینگن کا بھرتا تھا!!یقیناًمرزا قاسمی بہت لذیذ تھا۔


اس خوش آمدی عشائیہ سے واپسی تک اس کمرے کی واحد باسی میں ہی تھی جبکہ سیڑھیاں چڑھتے تقریباً ہر کمرے میں ہی میں نے دو دو ، تین تین خواتین یا کسی دانشورجوڑے کو داخل ہوتے دیکھا۔ شکر ہے میں اتنی تھک چکی تھی کہ کمرے میں اکیلے گھبرانے کی کچھ خاص فرصت نہ ملی۔مارے تھکاوٹ کے مجھے نیند نہیں آ رہی تھی بلکہ بے ہوشی طاری ہو رہی تھی۔ دھڑ دھڑ دھڑ۔ میری آنکھ کھلی تو سوچا کیا سورج میرے کمرے میں نکلا ہے؟ اتنی روشنی!!پھر یاد آیا کہ میں نے لائٹ خود ہی جلتی چھوڑ دی تھی۔ رات کا ایک تو بج رہا ہو گا۔ کوئی میرے کمرے کا دروازہ پِیٹ رہا تھا۔دھڑکتے دل سے دروازے کے پاس جا کر میں نے پوچھا : کون؟ لیکن جواب سمجھ نہیں آیا۔ دروازہ پھر کھٹکا۔ دروازہ کھولا تو وہی کارمند جو میرا سامان کمرے میں لایا تھا ‘ کسی کا بیگ لئے کھڑا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک خاتون کمرے میں وارد ہوئی۔ صاف ظاہر تھا اس نیم شب میں وارد ہونے والی یہ محترمہ میری روم میٹ تھی۔ میں نے اس سے صرف اتنا کہا کہ ٹکٹ دروازے میں لگی ہے، اس کو بند کردینا۔ البتہ سوتے سوتے مجھے اتنا اندازہ ضرور ہوا کہ میں نے اپنی روم میٹ پر اپنی فارسی دانی ثابت کر دی ہے کیونکہ شاید چابی کو میں غلطی سے ٹکٹ کہہ گئی تھی ۔


آج پورا دن بھی ہماری کوئی خاص بات نہ ہو سکی، کانفرنس کی ابتدائی تقریب، شام و نہار، اور پھر رشت کے ماڈل ویلیج کی سیر۔اب جو وہ سونے کی تیاری کر رہی تھی اور میں بستر پر اڑھائی گز کا دوپٹہ پھیلائے استری کر رہی تھی تو اس نے یہ سوال کیا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ آخر یہی سوال کیوں؟ میں نے ذہن میں اپنے پورے ملک کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔ اتنے وسیع پیمانے کا سوال تھا؟ میرے ملک کے سب لوگ۔۔۔؟ پھر میں نے اپنے اردگرد کے لوگوں، اہل خانہ، رشتہ داروں، محلے والوں، دوست احباب کو چشم تصور سے نماز پڑھتے دیکھا۔ جمعہ کے اجتماعات، خبروں میں ملک گیر عید کی نمازوں کے مناظر، مسجدوں میں شہید ہونے والے نمازیوں کی خبریں مجھے یا د آگئیں۔ میں اس کو جواباً روانی میں ہاں! کہہ ہی چکی تھی اور اس ہاں کی تصدیق میرے یہ خیالات بھی کر ہے تھے۔


اس کی اگلی بات نے مجھے اور بھی حیران کردیا۔ لیکن تم نے تو کوئی نماز نہیں پڑھی؟ جیسے کہہ رہی ہو کہ کیا سب میں تمہارا شمار نہیں ہوتا؟ میں کپڑے استری کر چکی تھی اور کمبل تان کر اسی کی طرح تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکی تھی۔ میں نے ذہن میں فارسی کا لمبا چوڑا جملہ سیدھا کر لیا تھا لیکن اسے صرف اتنا کہہ سکی: صبح پڑھوں گی۔ اس نے فوراً ایک چھوٹی سی بچی کی طرح مجھے پکا کرنے کی کوشش کی :اچھا! میں بھی تمہارے ساتھ پڑھوں گی۔میں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیا اس نے یہ ساری تمہید اسی لئے باندھی ہے ؟


تمہارا نام کیا ہے؟ اس کے سوال سے مجھے خیال آیا کہ ہم نے واقعی ایک دوسرے کا نام ابھی تک نہیں پوچھا تھا۔ اس نے میرے بتانے پر میرا نام دہرایا اور سوچتے ہوئے ہوا میں نظر گھمائی اور کہا: ہاں یہ نام ایرانیوں کا بھی ہوتا ہے۔ شاید یہ ایران کی زمین کی تاثیر تھی کہ وہ بھی ایرانیوں کی طرح ہر بات کو گھما پھرا کر ایران سے جوڑ رہی تھی۔میں نے اپنے نام کی حضرت عائشہؓ سے نسبت کی بنا پر اس کو بتایا کہ یہ عربی نام ہے۔ اس نے اپنا نام وفا بتایا’وفا ‘ اس نے اپنے اوپر کے دانت نچلے ہونٹ پر گاڑھتے ہوئے ’ف ‘کی تشدید کو واضح طور پر ادا کرتے ہوئے کہا وفا بھی عربی نام ہے۔ اور پھر وہ مزید بتاتی چلی گئی کہ و ہ ریسرچ ایسوسی ایٹ ہے، فارسی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی حامل ہے ،عربی زبان بہت اچھی طرح سے جانتی ہے اور پہلے بھی کئی بار ایران آچکی ہے ۔ یہ بات تو خیر صبح ہی پتا چل گئی تھی کہ وہ آذربائیجان باکو سے ہے۔ چونکہ آذربائیجان سے بائی روڈ آ رہی تھی اس لئے رات دیر سے پہنچ کر زحمت دینے پر وہ معذرت خواہ بھی تھی۔


ایرانیوں کی گرمجوشی سے وہ بہت متاثر تھی۔ خاص طور پر اس کے نزدیک ایرانی مرد بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ وہ خواتین کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اچھے ہونے کا یہ پیمانہ اس نے اس لئے طے کیا تھا کہ وہ کچھ عرصہ ماسکو میں کام کے سلسلے میں رہ چکی تھی اور بقول اس کے، روسی مرد بہت ’’سرد‘‘ہوتے ہیں جب کہ ایرانی ’’گرم‘‘۔ اس نے پھر سے ایرانی مردوں کی گرم جوشی اور خلوص کی وکالت کی۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ شاید زمین کا اثر ہے۔ سرد زمین ، سرد لوگ؛ گرم زمین، گرم لوگ‘ اس نے پوچھا کہ پاکستانی مرد کیسے ہوتے ہیں؟ اس کے اچھائی کے پیمانے کو میں نے مدنظر رکھتے ہوئے بس اتنا کہا:گرم تر۔ وہ ہنس دی ۔ وہ میرے لئے خوش تھی کہ میں ایسے ملک میں رہتی ہوں جہاں کے مرد عورتوں سے عزت سے پیش آتے ہیں۔
تم نے یہ جو کپڑے استری کئے ہیں بہت خوبصورت ہیں۔تمہارا لباس کتنا الگ ہے ، صاف لگتا ہے خواتین کے کپڑے ہیں، ان کا رنگ، ان کا انداز۔لیکن میرے کپڑوں اور مردوں کے کپڑوں میں کوئی فرق نہیں۔ پینٹ شرٹ، کوٹ۔ اور یہ اسکارف تو میں صرف ایران میں لیتی ہوں۔اس نے کرسی کی پشت پر ٹکائے ہوئے اسکارف کو بے نیازی سے دیکھتے ہوئے کہا۔وفا کی بات سن کر مجھے کل رشت کی شہر داری میں ایک میزبان ایرانی خاتون کا سوال یاد آگیا جو اس نے میرے صرف دو رنگ کے کپڑوں کو دیکھ کر پوچھا تھا : کیا آپ کے ملک میں خواتین دفتروں میں بھی ایسے ہی رنگ برنگے کپڑے پہنتی ہیں؟ اس کو میرے جواب سے بہت خوشی ہوئی کہ میں کسی بھی رنگ کا جوڑا پہن کر یونیورسٹی جاسکتی ہوں۔ اس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی کبھی کسی کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئے گی اور ایسے ہی رنگدار ملبوسات زیب تن کرسکے گی۔


تم جب نماز پڑھتی ہو تو کیا تمہارا دھیان پوری طرح نماز پر ہوتا ہے؟ وفا پھر سے میری نمازوں کا تنقیدی مطالعہ کرنے کے موڈ میں تھی۔ میں سمجھ گئی کہ وہ میرے خشوع و خضوع کی سطح کی پیمائش کر کے ہی رہے گی ۔ میں نے کہا:ہمیشہ نہیں۔ اور یہ سچ بھی تھا۔


کیا تمہیں نماز پڑھنے میں مزہ آتا ہے؟میرا مطلب ہے تمہیں لگتا ہے کہ تم اللہ سے باتیں کر رہی ہو؟وفا نے مزید جاننا چاہا۔ بس مجھے لگا کہ میری نمازوں کا حساب تو دنیا میں ہی ہو رہا ہے۔ وہ اپنی ظاہری وضع قطع سے اتنی مسلمان نہیں لگتی تھی جتنا اس کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ شاید جو کچھ اس کے ظاہری اطوار یا لباس کا حصہ تھا وہ اس کی علاقائی ثقافت کا ترجمان تھا جب کہ اس کی سوچ امت مسلمہ کی ایک مشترک تہذیب کی آئینہ دار تھی۔ دو الگ ثقافتی پس منظر رکھنے کے باوجود فارسی جاننے کے علاوہ ہم دونوں میں ایک اور قدر جومشترک تھی وہ ہمارا دین اسلام تھا۔ بہر حال میں نے اس کو بڑی تسلی سے بتایا کہ میرے لئے نماز پڑھنا اہم ہے کیونکہ خدا مجھ سے چاہتا ہے کہ میں یہ فرض ادا کروں اور میں بھی چاہتی ہوں کیونکہ میرے خالق کایہ حق بنتا ہے۔ لیکن ہر بار کی نماز ایک سی نہیں ہوتی۔ کوئی سوال درپیش ہو تو دعا لمبی ہو جاتی ہے۔ جبکہ شکر ادا کرنا ہو تو طویل سجدے اچھے لگتے ہیں۔ کبھی تو


بحرفی می توان گفتن تمنای جہانی را
من از ذوق حضوری طول دادم داستانی را


کبھی نماز محض ایک روٹین ورک ہوتی ہے اورکبھی ذہن اتنا منتشر ہوتا ہے کہ یاد ہی نہیں ہوتا کونسی رکعت پہ ہوں۔ اگر وفا اردو جانتی ہوتی تو میں اس کو یہ شعر ضرور سناتی
غضب کیا تیری یاد نے مجھے آ ستایا نماز میں
میرے وہ بھی سجدے قضا ہوئے جو ادا کئے تھے نماز میں
وفا نے کہا:ایسی نماز کا فائدہ؟ میں نے اس کو یاد کروایا کہ صبح کانفرنس کا سیشن جلدی شروع ہونا ہے اور نیند بھی آیا ہی چاہتی تھی۔


مجھے صبح وفا نے اٹھایا، وہ ایک دم تیار کھڑی تھی اور نیچے بسیں بھی غذا خوری کے ہال کے چکر کاٹ رہی تھیں‘ مہمانوں کو ناشتے کے لئے لے جا رہی تھیں۔ اس نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ وہ میرا وعدہ شب کیا ہوا؟ صبح کی نماز میں نے کیسے ادا کی اور کب ادا کی؟ میں نے بھی ذکر نہیں چھیڑا۔ اتفاق سے دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کا موقع مل گیا۔ میں کمرے میں پہنچی تو وفا پہلے سے ہی موجود تھی۔ میں نے وضو کیا اور اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔آؤ نماز پڑھیں۔ قبلہ کا رخ میں نے نیچے استقبالیہ سے پوچھ لیا تھا۔ اور اس رخ پر جائے نماز بچھائی تو اتفاق سے سامنے وفا کا بستر تھا۔میرا خیال تھا جتنی دیر میں میں اپنا قبلہ درست کروں گی وہ وضو کرکے میرے برابر کھڑی ہوگی۔ لیکن وفا ایک دم وفا نا آشنالگ رہی تھی، ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ میں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی اس نے بنا کسی تاثر کے کہا: تم پڑھو میں پھر پڑھوں گی۔ میں نے ایک لمحے کو سوچا کہیں ناراض تو نہیں ہو گئی میں نے فجر جو اس کے ساتھ نہیں پڑھی تھی۔ خیر اصرار تو میں کر نہیں سکتی تھی۔ جائے نماز تھوڑی کھینچ کر ایک طرف کی تاکہ وہ سامنے نہ آئے۔ ابھی میں نیت ہی باندھ رہی تھی کہ وہ بیچ میں بول پڑی۔تم اونچی آواز میں نماز پڑھ سکتی ہومیرے لئے؟ میں نے دل میں سوچا یہ کیوں میری نمازوں کے پیچھے پڑ گئی ہے پھر میرے دل میں ایک اور بھولا بھٹکا خیال بلکہ ایک بھولی بسری یاد نجانے کہاں سے آ گئی جس کو میں نے فورا ہی جھٹک دیا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور نماز شروع کر دی۔ زندگی میں کئی ایسی بے حضور نمازیں پڑھیں ہیں ۔ لیکن آج پہلا تجربہ تھا کہ میں اللہ میاں کے ساتھ کسی اور کے لئے بھی نماز پڑھ رہی ہوں۔ میں بآوازِ بلند نماز پڑھتی رہی۔ بہت عرصہ بعد میں نے دوران نماز تلاوت کرتے ہوئے اپنی آوازسنی تھی۔ سفر کی نماز کا مزہ بھی کچھ الگ ہوتا ہے۔ حالانکہ مجھے اس وقت بھی کسر نماز ادا کرنی تھی لیکن نماز پڑھنے میں مزہ آرہا تھا اس لئے میں نے پورے فرض پڑھے۔ اور اس میں مجھے کوئی شک نہیں کہ جتنی دیر میں نے اس وقت چار رکعتیں فرض کی پڑھی ہیں، بصورت دیگر پوری بارہ رکعتیں ادا کر چکی ہوتی۔ سلام پھیر کر میں نے وفا کی طرف دیکھا وہ بہت مطمئن بیٹھی ہوئی تھی۔ میں جائے نماز پر بیٹھی انگلیوں پر تسبیح پڑھ رہی تھی کہ وفا اٹھ کر بستر کے کنارے پر آئی جو جائے نماز کے قریب تھا۔ یہ تو مجھے آتی ہے؟ اس کے منہ سے جملہ نکلا۔ میں منہ اٹھائے اسے دیکھتی رہی لیکن سمجھ نہ پائی کہ اس کو کیا چیز آتی ہے۔ پھر اس نے کہا:بس پڑھ لی؟ اتنی ہی پڑھنی تھی؟ اس کی باتوں سے مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ اس نے خود ہی وضاحت شروع کر دی: تمھیں شاید یاد ہو کہ تم نے پہلی بار نماز کب پڑھی تھی لیکن مجھے تو یہ بھی نہیں یاد کہ میں نے آخری بار نماز کب پڑھی تھی۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی یقین نہیں تھا کہ مجھے نماز آتی بھی ہے یا نہیں۔میں نے تم سے بلند آواز میں پڑھنے کوبھی اسی لئے کہا تھا کہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ کیا تم بھی ویسے ہی پڑھتی ہو جیسے کہ میں جانتی ہوں۔


اُف!! یہی وہ سوچ تھی جس کو میں نے نماز پڑھنے سے قبل جھٹکا تھا۔ اس وقت مجھے اپنی سوچ پر افسوس تھااور اب شدید حیرت۔ اور یہ حیرت اس لئے نہیں تھی کہ اس پی ایچ ڈی شدہ ، فارسی دان، عربی فہم ، پکی عمر کی مسلمان خاتون کو نمازکیونکر نہیں آتی بلکہ مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ تاریخ خود کو ایسے کیسے دہرا سکتی ہے۔ یہی جملے، ایسی ہی باتیں میں نے سولہ سال قبل اسی ایران زمین پر سنی تھیں تب بھی وہ ایک آذری خاتون تھی جو کہ آذربائیجان سے فارسی زبان کا ایک ریفریشر کورس کرنے تہران آئی تھی۔ مہرآباد کی مہمان سرا کی پانچویں منزل پر جو سویٹ ہمیں ملا تھا اس کا ایک کمرہ میرے اور میری ترک نژاد جرمن روم میٹ کے پاس تھا جبکہ دوسرے کمرے میں دو آذری خواتین تھیں جو باکو یونیورسٹی کی استاد تھیں۔ ان میں سے ایک لیلیٰ تھی، بہت خوب صورت، باوقار، قدرے عمر رسیدہ (اس کا بتانا تھا کہ وہ نانی بن چکی ہے) میں جب صبح کی نماز پڑھا کرتی تھی تو وہ اپنا سیگریٹ سلگائے لاؤنج میں کھڑکی کے پاس بظاہر باہر تہران کے شمالی پہاڑوں سے پرے کوہ دماوند پر جمتی برف کی تہوں کو دیکھتی رہتی تھی۔ اور ایک دن اس کے اِس سوال نے مجھ پر واضح کر دیا کہ وہ مجھے نماز پڑھتے دیکھتی رہتی ہے۔ میں ابھی جائے نماز پر ہی بیٹھی تھی کہ لیلیٰ خانم نے مجھ سے پوچھا تھا: کیا نماز کے دوران اشکبار ہونا ضروری ہے؟ ۔ نہیں، ایسی کوئی شرط نہیں ہے میں نے مسکرا کر کہا تو پھر تم نماز میں روتی کیوں ہو؟ میری تو جیسے چوری پکڑی گئی۔نہیں تو، بس کبھی اداس ہو جاتی ہوں۔ گھر والے یاد آ جاتے ہیں۔ سار ا دن تو آپ کو پتا ہے یہ ایرانی ہمیں پڑھاتے نہیں تھکتے۔بس نماز میں ذرا فرصت مل جاتی ہے۔ مجھے لیلیٰ خانم بہت اچھی لگتی تھی لیکن کبھی اس سے بہت بات نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے ہم دونوں اکثر صبح سویرے باتیں کرتے تھے۔ایک دن اس نے مجھ سے کہا :کیا میں تمہارے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہوں؟ ہاں کیوں نہیں ۔مجھے سن کر بہت اچھا لگا۔ وفا کی طرح اس نے بھی مجھ سے اونچی آواز میں نماز پڑھنے کو کہا تھا لیکن وہ خود بھی میرے برابر کھڑی ہو جاتی تھی اور میرے پیچھے نماز دہراتی تھی۔ ہم نے کئی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں۔


میں نے وفا سے پوچھا کہ لیلیٰ خانم تو کہتی تھی کہ آذربائیجان چونکہ تازہ تازہ سوویت یونین سے الگ ہوا ہے اس لئے غلامی کے اتنے سالوں بعد نئے اسلامی ملک میں اسلامی اقدار ابھی اتنی عام نہیں۔ لیلیٰ کا دکھ صاف دکھائی دیتا تھا کہ وہ صحیح سے نماز بھی نہیں جانتی۔ لیکن یہ تو سولہ سال پرانی بات ہے اور آج وفا بھی وہیں کھڑی ہے جہاں لیلیٰ تھی۔ اتنے برسوں بعد بھی آذربائیجان کے مسلمان بنیادی عبادات سے نا آشنا ہیں؟ کیا قوموں کی زندگی میں سولہ سال کوئی معنی نہیں رکھتے؟


میں جو تحائف ساتھ لائی تھی اس میں سے وفا کو ایک ان سِلا جوڑا دیا اور اس کو بتایا کہ وہ اس کو میرے کپڑوں کی طرح سلوائے اور اس میں نماز ضرور پڑھے۔ چاہے وہ نماز کنتی ہی بے حضور کیوں نہ ہو۔ اسے چاہے لگے یا نہ لگے، وہ اللہ میاں کے ہی سامنے ہو گی۔ وفا نے اس سوٹ کا دوپٹہ کھول کر اوڑھ لیا اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں خود کے لئے ستائش تھی۔ کیسری باتِک کا دوپٹہ واقعی اس پر جچ رہا تھا۔


اس کا جذبہ ، نماز سیکھنے کی تڑپ بہت شدید تھی۔ وفا نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں آیندہ برس ہونے والی کانفرنس میں ایران ضرور آؤں ۔ پھر ہم دونوں مل کر نماز پڑھا کریں گے۔وہ اگلی نماز پڑھنے کے لئے ایک سال تک کے انتظار پر آمادہ تھی۔اس نے کہا اگر آذربائیجان میں کوئی فارسی کی کانفرنس ہوئی تو وہ مجھے ضرور دعوت دے گی۔ ایسے ہی کچھ وعدے میں نے بھی اس سے کئے۔


نماز کے مختلف اوقات میں صج کی بیداری ، دوپہر کے کھانے کا خمار، شام کی مصروفیت، رات کی نیند کا نشہ مقابل ہوتا ہے۔ بیشک یہ سب جہاد بالنفس ہے لیکن اب لیلیٰ اور وفا کی تڑپ ، ان کا شوقِ قیامِ نماز مجھے شکر پر ضرور آمادہ کرتا ہے کہ شاید بے حضور ہی سہی لیکن میں نماز پڑھ تو سکتی ہوں۔ان دونوں کو سوچوں تو اب مجھے نماز کے سجدے گراں نہیں لگتے۔

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم‘ جواں ہیں لات و منات
یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!
(علامہ اقبالؒ )

*****

 
Read 153 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter