تحریر: یاسرپیرزادہ

خدا نے انسان کو فیصلے کرنے کا کتنا اختیار دیا ہے؟ انسان اپنے معاملات میں کس قدر آزاد ہے؟ اگر سب کچھ کاتب تقدیر نے لکھ ڈالا ہے تو پھر انسان کی آزادی کے کیا معنی ہیں اور اگر اس کی آزادی خدا کی منشا کے تابع ہے تو پھر اس سے بازپرس کیوں کر ہو گی؟ یہ وہ مسائل ہیں جن پر صدیوں سے بحث جاری ہے مگر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس مسئلے پر بہت دلچسپ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خدا کے پاس اشیاء کا علم ان کے وجود میں آنے سے قبل یعنی ازل سے ہے۔ اور یوں خدا کی منشا اس کے آفاقی فیصلے اور لوح ازل پر لکھی ہوئی تقدیر اسی ابدی علم کے مطابق ہیں۔ خدا کا ابدی فیصلہ فقط تشریحی نوعیت کا ہے۔ حتمی نہیں۔ خدا نے انسان کو فطرت کے مطابق پیدا کیا ہے۔ اسے عقل عطا کی ہے۔ پھر اسے پکارا ہے۔ نبی کے ذریعے اپنا پیغام پہنچایا ہے اور بتایا ہے کہ اسے ایمان لانا ہے اور کفر سے بچنا ہے۔ جب کوئی انسان اس پیغام کو ماننے سے انکار کرتا ہے، سچائی کو نہیں پہچانتا تو اس کی یہ بداعتقادی اس کا اپنا عمل ہے۔ جو اس نے مکمل آزادی کو بروئے کار لاکر اپنایا ہے اور یہ آزادی بھی اسے خدا کی طرف سے ہی ودیعت ہوئی ہے نہ کہ خدا نے انسان پر اپنا فیصلہ مسلط کیا ہے کہ وہ اسی انداز میں سوچے۔ امام ابوحنیفہؒ کا کہنا ہے کہ خدا نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ وہ حق و باطل میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لے۔ جو انسان آفاقی پیغام کو پالیتا ہے وہ خدا کی مدد اور ہدایت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ خدا کسی کو بھی کافر پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے ایک انسان کے طور پر پیدا کرتا ہے۔ ایمان لانا نہ لانا یکسر اس انسان کی اپنی مرضی اور منشا پر منحصر ہے۔ انسان کے تمام اعمال اس کے سونے جاگنے یا حرکت کرنے کے اس کی اپنی مرضی سے ہوتے ہیں مگر خدا ہی ان کا خالق ہے اور وہ خدا کی مرضی، علم، فیصلے اور منشا سے ہی ہو پاتے ہیں۔


امام ابوحنیفہؒ کے ایک پیروکار ابو منصور محمد الماتریدی نے اپنی شہرہ آفاق کتب ’’کتاب التوحید‘‘ اور ’’تاویلات القرآن‘‘ میں ان مسائل پر تفصیلی بحث کی ہے جیسے کہ انسان کا اختیار کتنا ہے؟ خدا کے ابدی فیصلوں کا انسان کے اعمال پر کیا اثر ہے؟ خدا کی حکمت کیا ہے؟ اس دنیا میں برائی کا وجود کیا معنی رکھتا ہے؟ مذہبی ذمہ داری کی کیا بنیاد ہے؟ ماتریدی کا کہنا ہے کہ خدا اور انسان کے مابین تعلق کو ایسا نہ سمجھا جائے جیسا کہ خدا اور مادی دنیا کا تعلق ہے۔ خدا نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا ہے۔ غلط اور صحیح کو پرکھنے کی صلاحیت دی ہے۔ اور اس کو سوچنے، سمجھنے، محسوس کرنے ،فیصلہ کرنے اور اختیار استعمال کرنے کی استعداد دی ہے۔ اس کی مدد کے لئے آسمانی کتب ارسال کی ہیں اور انہیں پیغمبروں کے ذریعے کھول کر بیان کیا ہے۔ انسان اپنے دماغ کو اسی طرف مائل کرتا ہے جہاں سے اسے فائدہ ملنے کا امکان ہو جبکہ اس طرف جانے سے روکتا ہے، جہاں نقصان کا احتمال ہو۔ انسان اپنے عقل اور شعور کی بنیاد پر ان میں سے کسی بھی راہ کا انتخاب کرتا ہے اور پھر اس انتخاب کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کا کلی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔ اب چونکہ انسان سوچتا ہے، خواہش کرتا ہے اور اپنی مرضی سے چیزوں کا انتخاب کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنے آپ کو آزاد ہی سمجھتا ہے اور کبھی یہ نہیں سمجھتا کہ کوئی بیرونی طاقت زور زبردستی سے اس پر اپنے فیصلے مسلط کر رہی ہے۔ یہ شعور آزادی بقول ماتریدی کے ایک ٹھوس حقیقت ہے جس کے انکار کا مطلب انسانی دانش اور علوم کا انکار ہو گا۔ اس انسانی آزادی سے انکار کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ انسان کے اعمال کا ذمہ دار خود انسان نہیں بلکہ خدا ہے اور یوں آخرت کے دن انسان کو اس کے گناہوں کی سزا دینا جس میں اس کا کوئی اختیار نہیں تھا، ایک غیرمنطقی بات ہو گی


ماتریدی انسان کی مختاری اور کبریائی طاقت اور اس کے ابدی فیصلوں اور انسانی اعمال پر خدا کی برتری کے اس دقیق مسئلے کو یوں ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ تخلیق صرف خدا کا اختیار ہے اور تمام انسانی اعمال اچھے، برے، اختیاری، غیراختیاری، سب اسی کے تخلیق کردہ ہیں۔ تخلیق سے مراد وہ اعمال ہیں جن کے بارے میں خدا کو اپنی لامتناہی طاقت اور کامل علم کی بدولت عدم سے وجود میں لانے کا اختیار ہے۔ کوئی بھی انسان ان تمام عوامل،وجوہات اور حالات یا اپنے عمل کے نتائج کا مکمل ادراک نہیں رکھ سکتا۔ اس کے پاس وہ مطلوبہ طاقت ہی نہیں جس کے بل پر وہ ایسا عمل کر سکے۔ چنانچہ وہ اپنے اعمال کا خالق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا کہ خدا ہی تمام انسانی اعمال کا خالق ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان تمام اعمال میں اس کی منشا شامل ہے۔ کیونکہ امر خداوندی کے واقع ہونے سے پہلے منشا الہٰی کا وجود ضروری ہے۔ اس دنیا میں خدا کی مرضی کے بغیر پتّہ بھی نہیں ہل سکتا۔ مگر اس کے ساتھ ہی خدا کو انسان کے اعمال کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ منشاءِ الہٰی کا تعین الوہی علم کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جس عمل کو ہم خدا کا تخلیق کردہ سمجھتے ہیں وہ اصل میں انسان کی اپنی عقل و دانش اور اس کی آزادانہ رائے پر مبنی عمل ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہئے کہ خدا کی مرضی سے ہی اچھا یا برا عمل وجود میں آتا ہے۔ خدا کو اس کا مکمل علم ہے کہ انسان دی گئی عقل استعمال کر کے کس راستے کا انتخاب کرے گا اور جب انسان مکمل آزادی کے ساتھ اپنا راستہ منتخب کرلیتا ہے تو خدا اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اچھائی یا برائی بھی تخلیق کر دیتا ہے۔


صدیوں سے مسلم فلسفیوں نے قضا و قدر کے اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی ہے اور ماتریدی جیسے عظیم سکالر کی کوششیں بھی اسی کا حصہ ہیں لیکن یہ مسئلہ ایسا نہیں جس کا کوئی حتمی جواب تراش کر انسان کو مطمئن کیا جا سکے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان ہرفیصلے کا ذمہ دار ہے تو اس کی تقدیر کا آدھے سے زیادہ فیصلہ تو اس وقت ہو جاتا ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے اور کم از کم اپنی پیدائش کے معاملے میں وہ مجبور ہے۔ اس ضمن میں سائنس کی تحقیق بے حد حیرت انگیز ہے۔ سٹیفن ہا کنز کے مطابق نیوروسائنس میں حالیہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ہمارا دماغ سائنس کے قوانین کے تابع ہمارے اعمال کا تعین کرتا ہے۔ نہ کہ ان قوانین سے باہر کسی قوت کے تابع۔ مثال کے طور پر دماغ کی سرجری کے چند مریضوں پر جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اگر ان کے دماغ کے مخصوص حصوں میں برقی طریقے سے تحریک پیدا کی جائے تو ان میں اپنے ہاتھ پیر یا بازؤں کو حرکت دینے حتیٰ کہ لب ہلانے اور بولنے کی خواہش بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہاکنز کہتا ہے کہ اگر ہمارا طرزعمل ہی طبعی قوانین کے تابع ہے تو انسان کی آزادی کا تصور ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ طبعی قوانین کو بروئے کار لا کر انسانی طرز عمل کی پیش گوئی تو کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ اس قدر پیچیدہ کام ہے کہ فقط ایک معمولی عمل کو جاننے کے لئے ہمیں انسانی جسم میں کھربوں مالیکیولز کے ملاپ سے متعلق مساوات کو حل کرنا پڑے گا جس کے لئے اربوں برس درکار ہوں گے۔


ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی۔
نوٹ:۔ اس کالم کو لکھنے میں اے، کے، ایوب علی کے مضامین

Tahawism
اور
Maturidism
سے استفادہ کیا گیا ہے۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہو صداقت کے لئے
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
زندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیدا کرے
خاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرے
سوئے گردوں نالۂ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے
(علامہ اقبال)

*****

 
Read 152 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter