خلیج تعاون کونسل کا بحران اور خطے پر اثرات

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان

جون کے پہلے ہفتے میں چھ عرب ممالک جن میں سے تین یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا تعلق خلیج تعاون کونسل سے ہے، نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر کے اس کے ساتھ تمام زمینی اور فضائی روابط منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کا ساتھ دینے والے باقی تین عرب ممالک مصر، لیبیا اور یمن ہیں۔ بعد میں تین اور ممالک یعنی جبوتی، نائیجیریا اور مالدیپ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس اقدام کی وجہ قطر کی طرف سے دہشت گرد، انتہاپسند اور جہادی تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام ہے۔ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے بعض گروپوں کو ایران کی حمایت بھی حاصل ہے۔صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بائیکاٹ کے اعلان کے بعد سعودی عرب نے قطر کو دس شرائط پوری کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا ہے جن میں اخوان المسلمین ، حماس ، حزب اﷲ اور شام میں صدر اسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات ختم کرنا، بین الاقوامی سطح پر خصوصاً عرب ملکوں میں مقبول ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’’الجزیرہ‘‘ کی نشریات پر پابندی اور اس کے عملے کو قطر سے نکل جانے کا حکم بھی شامل ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے واضح کہا ہے کہ جب تک قطر کی طرف سے ان شرائط کو پورا نہیں کیا جاتا، نہ صرف اس کا بائیکاٹ جاری رہے گا بلکہ قطر کے خلاف سخت اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف قطر نے ان اقدامات کو جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی ملک کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ کیا جائے گا۔ قطر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قطر میں جس کی 28لاکھ آبادی میں سے 80فیصد غیرملکیوں پر مشتمل ہے، عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے لیکن حکومت کا ساتھ دینے اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔

 

خلیج فارس کے اس بحران کا تعلق اگرچہ بنیادی طور پر دو برادر عرب ممالک یعنی قطر اور سعودی عرب سے ہے، لیکن اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تیل اور گیس جیسے قیمتی ذخائر کا مالک ہونے کی وجہ سے خلیج فارس کا یہ بحران نہ صرف اس میں براہ راست ملوث ہے، بلکہ علاقے میں واقع دیگر ممالک اور بین الاقوامی سطح پر بھی دوررس مضمرات کا حامل ہے۔

خلیج فارس کے اس بحران کا تعلق اگرچہ بنیادی طور پر دو برادر عرب ممالک یعنی قطر اور سعودی عرب سے ہے، لیکن اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تیل اور گیس جیسے قیمتی ذخائر کا مالک ہونے کی وجہ سے خلیج فارس کا یہ بحران نہ صرف اس میں براہ راست ملوث ہے، بلکہ علاقے میں واقع دیگر ممالک اور بین الاقوامی سطح پر بھی دوررس مضمرات کا حامل ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، قطر کا موجودہ بحران تین وجوہات کی بنا پر اس کے لئے خصوصی توجہ کا متقاضی ہے ایک یہ کہ پاکستان خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے۔ اس بحران میں شدت کے باعث اگر کسی تصادم کی نوبت آتی ہے تو پاکستان فوری طور پر اس کی لپیٹ میں آئے گا۔ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی ، تجارتی اور دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ لاکھوں پاکستانی وہاں محنت مزدوری اور دیگر قسم کے روزگار کے لئے مقیم ہیں۔ ان کی وطن کو بھیجے جانے والی زرمبادلہ کی رقوم پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل ہیں اس لئے پاکستان آخری ملک ہو گا جو خلیج فارس اور خاص طور پر اس خطے میں واقع ممالک کے درمیان کسی قسم کے تصادم کا خواہشمند ہو گا۔ دوسرے پاکستان کے سعودی عرب اور قطر دونوں کے ساتھ اہم اور قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک خصوصاً سعودی عرب میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اوورسیز ورکرز کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ قطر اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات قائم ہیں اور ان ممالک کی دفاعی افواج کو تربیت دینے کے لئے پاکستان کے فوجی دستے ان ممالک میں تعینات ہیں۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے ساتھ دو طرفہ بنیادوں پر ہمیشہ قریبی تعلقات کے قیام کی کوشش کی ہے لیکن ان کے باہمی جھگڑوں سے دور رہنے کی کوشش کی ہے۔ اسی روائتی پالیسی کے تحت پاکستان نے دو سال قبل اپنی فوج کو یمن بھجنے سے انکار رکر دیا تھا۔ تاہم اس وقت پاکستان کو قدرے پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ کیونکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم 34اسلامی ملکوں کے اتحاد میں پاکستان بھی بحیثیت ایک رکن کے شامل ہے، بلکہ ہمارے ایک سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل(ر) راحیل شریف اسی اتحاد کے تحت قائم ہونے والی فوج کے کمانڈر بھی ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس بحران میں پاکستان کا جھکاؤ سعودی عرب کی طرف زیادہ ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو قطر کی طرف سے پاکستان کو اس بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل نہ کی جاتی اور اس مقصد کے لئے قطر کا سرکاری وفد پاکستان کا دورہ نہ کرتا۔ خود وزیراعظم محمدنوازشریف نے 12جون کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم اور ان کے وفد نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات کے علاوہ سابق ولی عہد شہزادہ نائف اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد جو ملک کے وزیردفاع بھی ہیں، سے ملاقات کی تھی اور سعودی عرب کی اپنی آزادی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی یقین دہانی کرانے کے علاوہ اس بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کروانے میں اپنی خدمات کی پیش کش بھی کی تھی۔

 

khaleejtawan.jpg

پاکستان کی موجودہ حکومت بڑی دانشمندی اور احتیاط کے ساتھ ایک درست مؤقف اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس مؤقف کا مقصد اس بحران کو مزید شدید ہونے سے روکنا اور سعودی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنا ہے۔ اس خطے میں پاکستان کو جو اہم مقام حاصل ہے اس کی بنا پر پاکستان اس کردار کے ادا کرنے کا پوری طرح اہل ہے۔ دیگر اسلامی ممالک مثلاً کویت اور ترکی بھی اس بحران کا جلد از جلد خاتمہ چاہتے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ تینوں ممالک اگر مل کر مصالحت کی کوششوں کا آغاز کریں تو یہ کوششیں بارآور ثابت ہوں گی۔ کیونکہ قطر نے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ اگر سعودی عرب اور اس کا ساتھ دینے والے ممالک لچک کا مظاہرہ کریں تو بات چیت کا آغاز ہو سکتا ہے جوکہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لئے تیسرا چیلنج یہ ہے کہ اس میں ایران کو بھی ملوث کیا گیا ہے۔ بلکہ بعض تجزیہ نگاروں کی رائے میں اس بحران کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسداددہشت گردی کی آڑ میں سعودی عرب کی قیادت اور اس کی برملا حمایت سے جو اسلامی فوجی اتحاد ایران کے خلاف قائم کیا گیا ہے، قطر نے اس کا ہم نوا بننے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اس اتحاد کی سربراہی کانفرنس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اسے الگ تھلگ کرنے کی اپیل کی تھی۔ قطر نے اس اپیل پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ قطر سے پرخاش کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ قطر شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اور روس کے تعلقات میں بہتری لا رہا ہے۔ قطر کی علاقائی پالیسی میں ان تبدیلیوں کی وجہ یہ ہے کہ خلیج فارس میں پانی کے نیچے قطر کی گیس کے سب سے بڑے ذخیرے کا ایک حصہ ایران کی سمندری حدود کے اندر واقع ہے۔ اس سے استفادہ کرنے کے لئے قطر کو ایران کے تعاون کی ضرورت ہے۔ جہاں تک امریکہ اور سعودی عرب کی مرضی کے برعکس قطر کی جانب سے شام اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوشش کا تعلق ہے، تو اس کی وجہ بھی قطر کی گیس ہے۔ جسے قطر روس کی مدد سے پیداوار میں اضافہ کر کے شام اور ترکی کے راستے یورپ کو بیچنا چاہتا ہے۔ یورپ کے ممالک اس منصوبے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ کیونکہ اس کی تکمیل سے ان کا روس کی گیس پر انحصار کم ہو جائے گا۔ چونکہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے خوشگوار رہے ہیں اس لئے پاکستان کے لئے کسی ایسے اقدام کی حمایت کرنا بہت مشکل ہو گا، جس کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانا ہو۔ پاکستان نے قطر کے ساتھ مائع قدرتی گیس خریدنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ پاکستان کبھی نہیں چاہے گا کہ یہ معاہدہ کسی خطرے سے دوچار ہو۔


مستقبل میں یہ بحران کیا شکل اختیار کرے گا؟اس سلسلے میں ایک بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ قطر اور سعودی عرب میں تصادم یا خلیج کے خطے میں کسی بڑی جنگ کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی بھی تین وجوہات ہیں۔ اول سعودی عرب اور دیگر ممالک کی طرف سے مکمل ناکہ بندی کے باوجود قطر نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا ہے۔ قطر کے وزیر خارجہ نے ایک دفعہ پھر کہا ہے کہ اس کا ملک کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ دوئم تمام دنیا کے خلیج فارس کے ساتھ اس قدر اہم مفادات وابستہ ہیں کہ وہ نہیں چاہیں گے کہ اس خطے میں کنوؤں سے تیل اور گیس کی بجائے آگ کے شعلے بلند ہوں۔ خلیج فارس میں تصادم سے عالمی معاشی نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ سوئم قطر میں امریکہ کا اس علاقے میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں سے افغانستان اور شام میں امریکہ کے فضائی حملے کئے جا سکتے ہیں، کسی بڑے تصادم کی صورت میں امریکہ کے لئے اس اڈے کو استعمال کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ امریکی فوج کی طرف سے موجودہ کشیدہ صورت حال پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پھر حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟


اگرچہ کویت، ترکی اور پاکستان کی جانب سے بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم فوری طور پر بات چیت کے آغاز کا کوئی امکان نہیں اور یہ بحران موجودہ شکل میں طویل عرصے تک قائم رہ سکتا ہے۔ یہ صورت حال قطر برداشت کر سکتا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی گیس کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ میں گیس کی ترسیل پر پابندی شامل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک خود قطر کی گیس استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً متحدہ عرب امارات (یو۔ اے۔ ای) اپنی گیس کی ضروریات کا 40فیصد حصہ قطر سے درآمد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین اور فضا سے قطر کے ساتھ رابطے تو بند کر دیئے گئے ہیں لیکن پائپ لائنوں میں قطر کی سپلائی جاری ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر قطر اس بحرانی کیفیت سے ایک طویل عرصہ تک عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 310 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter