تحریر: موناخان

ہمالیہ کے پہاڑوں کا دور تک پھیلتا ہوا سلسلہ۔۔ سفید ماؤنٹ ایورسٹ جس کو سر کرنے کے لئے ہزاروں کوہ پیما نیپال کا سفر کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا نیپالی نام ’ساگرما تھا‘ ہے۔ ارے نہیں ایسا مطلب بالکل بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ۔ ہم نیپال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ کھٹمنڈو اور لمبینی کی سڑکوں پر خوار ہونے گئے تھے۔ خواری بھی ایسی جس میں دل راضی تھا اور تین بار قبول ہے بول چکا تھا۔ اسلام آباد میں جب نیپال جانے کا پلان بنا تو سوچا ڈائریکٹ فلائٹ ہو گی جلدی پہنچ جائیں گے چھ لوگوں کا قافلہ تھا جو نیپال جانے کے لئے تیار تھا۔۔ ٹکٹ ہاتھ میں آئے تو علم ہوا آٹھ گھنٹے مسقط میں قیام ہے ۔ سوچا آٹھ گھنٹے کیا کریں گے مسقط کے چھوٹے سے ائیرپورٹ پہ جو شروع ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بہرحال سفر شروع تو کرنا تھا۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے سوار ہوئے تو مسقط پہنچ کر ہی دم لیا۔ مسقط اترے تو پہلی دوڑ درمیان میں بنے انفارمیشن ڈیسک کی جانب لگائی۔ وہاں پہنچے تو ایک طویل لائن ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ جی ہاں یہ طویل لائن مفت کا انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تھی جو وائی فائی کا پاس ورڈ لے رہے تھے ۔ ہمارا تو چلو حق تھا آخر آٹھ گھنٹے کیسے گزارتے چھوٹے سے ائیرپورٹ پہ۔ مسقط سے کھٹمنڈو صبح سات بجے پہنچے۔ صبح کی روشنی میں لینڈنگ کو جہاز کی کھڑکی سے دیکھا۔ کھٹمنڈو ائیرپورٹ پر لینڈنگ مشکل لینڈنگز میں سے ہے۔کھٹمنڈو ایئرپورٹ جو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے بیچ قائم ہے پر لینڈنگ کے لئے پائلٹ کو کافی مہارت چاہئے ۔ خیر اللہ اللہ کر کے لینڈ ہوئے۔ ہماری ایمبیسی کے پروٹوکول والے ہمارے انتظار میں تھے کہ ہم پہنچیں اور وہ ہمارا آن آرائیول ویزہ لگوائیں ۔ آخر ہم ڈپلومیٹک کارسپونڈنٹ تھے ‘ اتنا تو حق تھا ہمارا۔ ائیر پورٹ سے ہی سم کارڈز اور انٹرنیٹ پیکج خریدا۔ یہ ہمارا نیپال کا پہلا دورہ تھا۔ ہر طرف پھینی پھینی(چپٹی ناک والی) شکلیں دیکھ کر کچھ دیر بعد شک ہوا کہ آئینہ دیکھ لیں کہیں ہم بھی ’پھینے‘ تو نہیں ہو گئے ۔ چین اور نیپال کی سرحد آپس میں ملتی ہے شائد اس لئے شکلیں اِدھر بھی ویسی ہی ہیں چین کے لوگوں جیسی‘ بس رنگت کا فرق ہے ۔ ہمالیہ کے برفیلے سفید پہاڑوں کا نیپال کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں ۔ رنگت کے لحاظ سے بھارت کے اثرات نیپال پہ زیادہ ہیں اور کیوں نہ ہوں ۔ نیپال اپنی سرحد کا زیادہ حصہ بھارت کیساتھ شئیر کرتا ہے۔ نیپال کی شمالی سرحد جہاں ماؤنٹ ایورسٹ ہے‘ چین سے منسلک ہے۔ جبکہ مشرقی‘ مغربی اور جنوبی سرحد بھارت سے ملتی ہے۔ نیپال کے 74 میں سے 24 اضلاع بھارت سے ملتے ہیں ۔ نیپال میں جا کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا انڈیا ہے۔ اگر مذاہب کی بات کی جائے تو نیپال میں80فیصد ہندو مذہب کے لوگ ہیں ۔ 10 فیصد بدھ مت کے ماننے والے ، چار فیصد مسلمان ، دو فیصد کرسچن جبکہ باقی دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں۔

chalonepalchalain.jpg

یہ ساری معلومات ہم وین ڈرائیور راجیش سے سنتے ہوئے ہوٹل پہنچے۔ یاک اینڈ یٹی نامی چائینیز ہوٹل میں کمرے لئے۔ ہوٹل تو بس ٹھیک تھا لیکن ایک بات کھٹمنڈو میں اترتے ہی محسوس ہوئی اور وہ ہے د ھول مٹی۔ کھٹمنڈو میں ہر دوسرے بندے نے منہ پر ڈسٹ ماسک پہنا ہوتا ہے۔ ہوٹل روم میں اتنی طویل مسافت کے بعدسستانا ضروری تھا۔ تین چار گھنٹے ریسٹ کر نے کے بعدکھٹمنڈو کی گلیوں میں نکل گئے۔ سوچا کہ نیپالی کھانے ہی ٹرائی کریں گے ۔ انڈیا کی طرح نیپال میں بھی سبزی بہت رغبت سے کھائی جاتی ہے۔ اور یہ بات ماننے والی ہے کہ میں نے ایسی مزیدار سبزی کبھی پاکستان میں بھی نہیں کھائی۔ میٹ میں گائے کا گوشت نیپال میں نہیں کھایا جاتا اور نہ گائے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ گائیں نیپال میں بھی مادر پدر آزاد پھر رہی ہوتی ہیں ۔ میٹ کے لئے نیپال میں وائلڈ بور کا گوشت استعمال کیا جاتا جو کہ ہمارے لئے قطعی حرام ہے۔ اس لئے سبزی کھانے میں ہی عافیت جانی۔ کھٹمنڈو چونکہ نیپال کا دارالحکومت ہے اس لئے مہنگائی بھی کافی ہے۔ مہنگا ہونے کی ایک وجہ یہاں پر سیاحوں کی بڑی تعداد ہے۔ نیپال میں اتنے نیپالی نظر نہیں آتے جتنے سیاح نظر آتے ہیں۔ دل میں حسرت سی اٹھی کہ کاش ہمارے ہاں بھی سیاح اس طرح گھومیں پھریں۔ دوسرے روز لمبینی کا رخ کیا اور وہاں ضروری کام نپٹائے۔ تیسرے روز تھامل بازار جو کہ کھٹمنڈو کا مشہور شاپنگ ایریا ہے‘ وہاں کا رخ کیا۔ بازار میں قابل ذکر ایک چیز دیکھی اور وہ یہ کہ نیپال میں خواتین دکانداروں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے اور وہ کمال اعتماد کیساتھ اپنی دکان چلا رہی ہوتی ہیں ۔ لیکن عوامی خوبصورتی یہاں بھی نظر نہیں آئی۔ اب یہ تو ماننا پڑے گا کہ خوبصورتی میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو خاصا نوازا ہے۔ تھامل بازار سے نیپال کی خاص سوغات سنگنگ باؤل یعنی میوزک والا کٹورہ خریدا۔ جس کو بجانے کے لئے خاص پریکٹس چاہئے ۔ یہ اتنی ساری باتیں اس لئے بتائی ہیں تاکہ جب آپ پہلی بار نیپال جائیں تو آپ کو یہ باتیں پہلے سے پتہ ہوں ۔ نیپال میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کا بھی ایک الگ ہی نظام ہے۔ سرکاری نمبر پلیٹ سفید رنگ کی ہوتی ہے اور سرخ ہندسے ہوتے ہیں۔ گرین نمبر پلیٹ کی گاڑی دیکھیں گے تو وہ سیاحوں کے لئے مختص ہے۔ نیلے رنگ کی نمبر پلیٹ ڈپلومیٹس کے لئے ہوتی ہے۔ سرخ رنگ کی نمبر پلیٹ عام شہری کے لئے ہے جبکہ کالے رنگ کی نمبر پلیٹ ٹیکسیوں کے لئے ہے۔ نیپال کے بزنس سے لے کر سیاسی اور حکومتی سطح پر تین اطراف سے لگنے والے ہمسائے بھارت کے بہت اثرات ہیں۔ نیپالی کرنسی کی ویلیو پاکستانی روپے سے ذرا زیادہ ہے۔ سیاحوں کی کثرت کی وجہ سے نیپال میں گھومنے پھرنے میں کوئی ڈر نہیں لگتا۔ لیکن جب آپ صحافی ہوں اور پاکستانی ہوں تو بہت سی ان دیکھی نظریں آپکے تعاقب میں ہوتی ہیں اور وہ نظریں نیپال کی سرحد کے تین اطراف سے لگنے والے ہمسائے کی ہوتی ہیں ۔ پہلے حصے میں نیپال کا تعارف گوش گزار کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مشن نیپال کی تفصیلات بتائی جائیں گی ۔
(...جاری ہے)

مضمون نگار ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ ڈپلومیٹک اینڈ ڈیفنس کارسپانڈنٹ منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 325 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter