پاکستان۔ بالخصوص کراچی میں امن ہر قیمت پر ۔مگر کیسے

Published in Hilal Urdu June 2017

تحریر: محمود شام

قلم کا قرطاس سے‘ذہن کا انگلیوں سے‘ سوچ کا تحریر سے رشتہ جوڑتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے‘ مگر ایسا انتشار‘ ایسی انارکی اور بے یقینی کبھی نہیں دیکھی تھی‘ نہ اتنی تشویش محسوس کی تھی۔ہر جانے والا دن‘ ہر ڈوبنے والا سورج بہت سی اُمیدیں لے کر ڈوب جاتا ہے۔ آرزوئیں رخصت ہوجاتی ہیں۔ اتنی شدت پسندی پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کی تھی۔ مذہبی انتہا پسندی بھی عروج پر ہے۔ سیاسی وفاداریوں میں بھی انتہائی شدت ہے بلکہ ایک جنون ہے۔ سیاسی لیڈروں کی پالیسیاں غلط ہوں یا درست‘ ان کے کارکن اور عہدیدار ان کی ہر بات پر آمَنَّا و صَدَّقْنَا کہتے ہیں۔ لیڈر دن کو رات کہے تو یہ بھی لازم ہے کہ دن کو رات مانیں۔ اپنے ذہن کا استعمال ممنوع ہے۔ اسی لئے معاشرے میں ہر طرف ایک افراتفری کی کیفیت نظر آرہی ہے۔ نفسا نفسی بھی ہے۔ اکثریت کی زندگی بہت کٹھن ہوگئی ہے۔

bilkhasooskarachi.jpg
ایک طرف تو یہ عدم استحکام ہے۔ کوئی قوم کو ایک سمت میں لے جانے والا نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے قومی مفادات اور قومی روڈ میپ کا تعین نہیں کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جب سرحدوں کے اس پار سے بھی دھمکیاں ملنے لگیں تو دل یہ سوچنے اور ذہن اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہورہا ہے۔ ہم نے جب سے دوسروں کی لڑائیاں لڑنا شروع کی ہیں ‘ جب سے دوسروں کے مفادات کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے‘ جب سے بڑی طاقتوں کے آلۂ کار بننے شروع ہوئے ہیں‘ ہماری سرحدیں مخدوش ہونے لگی ہیں۔ ہمارے شہروں میں شدت پسندی کا غلبہ ہونے لگا ہے۔ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ امن کا دین ہے۔ انسانوں کے درمیان محبت پیدا کرتا ہے۔ ہمارے رسول اکرمﷺ ؐ کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر اتارا ہے۔اسلام کو صوفیائے کرام اور اولیائے عظام نے پیار اور محبت سے دنیا میں پھیلایا۔ اب بھی غیر مسلم پیارے نبیﷺ کے اسوۂ حسنہ اور اچھے مسلمانوں کے کردار کو دیکھ کر اسلام قبول کررہے ہیں۔ لیکن اس مملکت خداد میں مسلمان مسلمان کو جس طرح ہلاک کرنے لگے تھے اور مذہب کا نام استعمال کرکے دوسروں کو تہ تیغ کیا جارہا تھا اس سے بہت زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

 

فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔

یہ فرقہ پرستی مسلک دشمنی اور اپنے عقیدے کو دوسرے پر مسلط کرنے کا سلسلہ بتدریج ہوا ہے‘ اچانک نہیں ہوا۔ اسے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ مختلف مقتدر حلقوں کی طرف سے اس کی سرپرستی بھی کی گئی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے نوجوان اکثریت کی جس نعمت سے نوازا تھا‘ اس کو ہم نے اپنے غلط رویوں ‘ پالیسیوں اور صحیح قیادت نہ ہونے کی بدولت اپنے لیے ایک زحمت بنالیا۔ نوجوان بلا شبہ ایک طاقت ہیں‘ توانائی ہیں‘ ایک دریا ہیں جس میں طغیانی آئی ہوتی ہے۔ اگر اس کے کنارے پختہ نہ بنائے جائیں‘ دریاؤں میں سے ریت نہ نکالی جائے‘ پانی کے لئے گنجائش نہ بڑھائی جائے تو وہ کناروں سے بغاوت کردیتے ہیں‘ چھلک جاتے ہیں‘ آس پاس تباہی مچادیتے ہیں۔ اگر ان کی سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کی جائے ‘ بند باندھے جائیں‘ نہریں نکالی جائیں تو وہ زمین کو زرخیز بنادیتے ہیں۔ نوجوانوں کے ذہن بھی بپھرے ہوئے دریاؤں کی مانند ہیں۔ جہاں ناانصافی بڑھ جائے‘ نفرتوں کے سلسلے ختم نہ ہوں‘ انسانیت کی قدر نہ ہو۔ میرٹ پرروزگار نہ ملے‘ وہاں پھر یہ دریا کناروں سے اچھلنے لگتے ہیں۔ ہر معاشرے میں مقامی طور پر بھی ایسے مافیاز موجود ہوتے ہیں جنہیں دشمن ایجنسیوں کی حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ ان نوجوانوں کو اپنے حلقۂ عاطفت میں لے لیتے ہیں۔ یہ نوجوان کسی ایسی پناہ یا سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کچھ تنظیمیں انہیں نسلی بنیادوں پر گمراہ کرتی ہیں۔ کچھ زبان کا استحصال کرکے انہیں بغاوت پر اُکساتی ہیں۔ جب سے دنیا میں مختلف واقعات کو بہانہ بناکر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جارحیت شروع ہوئی ہے‘ مغرب نے کبھی جمہوریت کے قیام کا عذر تراش کر‘ کبھی شدت پسندی کا الزام لگاکر مختلف اسلامی ملکوں میں فساد برپا کئے ہیں۔ بعض مسلم حکمران مغربی جارح قوتوں کے گماشتے بن گئے۔ مسلم ممالک میں زیادہ تر شہری آزادیاں نہیں ہیں۔ آج کا پڑھا لکھا مسلم نوجوان اپنے حکمرانوں سے خوش نہیں ہوتا۔ وہ بغاوت کرنے کے لیے سڑک پر آتا ہے تو اسے پابہ زنجیر کردیا جاتا ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں تو نصف صدی سے ظلم و ستم ڈھائے جارہے تھے۔ اکثر مسلمان حکمران ہر جبر و تشدد خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔بہت سی تنظیموں نے مسلم نوجوانوں کے ان باغیانہ رُجحانات سے فائدہ اٹھایا اور انہیں شدت پسندی کا راستہ دکھایا۔ بے بس اور بے کس نوجوانوں کو ہتھیار دے کر طاقت ور ہونے کا احساس دلایا اور کہا گیا کہ یہ راستہ جنت کا راستہ ہے۔

 

نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ھیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔

یہ سارے ملے جلے رُجحانات چاہے وہ لسانی حوالے سے شدت پکڑ رہے تھے یا نسلی اعتبار سے یا پھر فرقہ وارانہ وابستگی کے حوالے سے‘ انہوں نے پُر امن شہروں کو تشدد اور ہلاکت خیزیوں کا مرکز بنادیا۔ کراچی میں لسانی حوالہ لاشیں گراتا رہا۔ بلوچستان میں نسلی شناخت۔ کے پی کے‘ فاٹا‘ جنوبی پنجاب میں مذہبی شدت پسندی۔ پھر فوج اور قوم نے مل کر ان ساری شدتوں‘ عصبیتوں کے خاتمے کا پروگرام بنایا ۔ پارلیمنٹ نے بھی اس عزم کی توثیق کی۔ ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔ فاٹا میں اور دوسرے علاقوں میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے فوجی کارروائی سے ختم کئے گئے۔ اس کے لئے فاٹا کے ہزاروں رہائشیوں کواپنے ہی گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ کیمپوں میں زندگی گزارنی پڑی۔ ان قابل فخر پاکستانیوں نے یہ قربانی صرف اسی لئے دی کہ پاکستان پُر امن ہوجائے۔ انسانی خون بہنا بند ہوجائے۔ مسلمان مسلمان کو‘ پاکستانی پاکستانی کو ہلاک نہ کرے۔ ہمارے نوجوان دشمنوں اور غیروں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں۔
اب موجودہ سپہ سالار‘ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں اور بالخصوص کراچی میں ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا۔


ضرب عضب کے ساتھ ساتھ آپریشن ردّالفساد شروع کردیا گیا ہے۔ میں کراچی میں رہتا ہوں۔ میں نے 90کے عشرے میں ایسے دن بھی دیکھے ہیں جب چند گھنٹوں میں ہی پچاس ساٹھ سے زیادہ لاشیں گرادی جاتی تھیں۔ ہم نے حکیم محمد سعید شہید جیسے سچے پاکستانی بھی انہی وحشیانہ وارداتوں میں کھوئے۔ کتنے ہی ڈاکٹر شہید کئے گئے۔ سیاسی شخصیتوں کی جانیں لے لی گئیں۔ بعض تنظیموں نے ایک دوسرے کے کارکن بیدردی سے مارے۔ ہم تو خیر رہتے ہی کراچی میں تھے۔ لیکن ان وارداتوں اور خونریزی کے باعث دوسرے ملکوں سے سرمایہ کاروں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا۔ خاص طور پر کراچی میں کاروباری میٹنگ کرنے سے منع کرتے تھے۔ زیادہ تر دوبئی میں ملنے کو ترجیح دیتے تھے۔
پاک فوج کی طرف سے پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں اور منتخب حکومت سے مشاورت کے بعد کراچی آپریشن نے بہت کامیابیاں حاصل کیں۔ کیونکہ اس میں کراچی کے شہریوں‘ تاجروں ‘ صنعتکاروں‘ دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں‘ علمائے حق اور سیاسی کارکنوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ رینجرز سے مکمل تعاون کیا گیا۔ اس میں رینجرز کو بھی قربانیاں دینا پڑیں۔ مگر رفتہ رفتہ کراچی کی رونقیں بحال ہونے لگیں۔ شہریوں کے دل سے خوف رفتہ رفتہ جاتا رہا ‘اب ساحل پر پھر وہی ہجوم دکھائی دینے لگے ہیں۔ سیمینارز‘ کنسرٹس کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے۔ کتاب میلے منعقد ہورہے ہیں۔ یونیورسٹیوں‘ کالجوں اورسکولوں میں پھر سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔


کراچی ابھی تک 1960 اور 1970 والا تو واپس نہیں آیا ہے لیکن بڑی حد تک شہریوں کا اعتماد واپس آگیا ہے۔ کارخانوں میں ساری شفٹیں کام کررہی ہیں۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں خریداروں کے ہجوم نظر آتے ہیں۔ مگر بہتر حکمرانی کا خواب اب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ صوبائی حکومتیں اپنے لئے تو خود مختاری مانگتی ہیں۔ لیکن بلدیاتی اداروں کی خود مختاری سلب کرلیتی ہیں۔ کراچی میں امن تو بحال ہوگیا ہے‘ لیکن بلدیاتی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنارہی ہے۔ کچرا اٹھانے کا بندوبست نہیں ہورہا ہے۔ شہر کی ساری سڑکیں کھدی پڑی ہیں۔ ٹریفک ہر وقت جام رہتا ہے۔ صبح ہو‘ دوپہر یاشام بڑی بڑی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑتی نہیں‘ رینگنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ کوئی تدبر یا حسن انتظام نہیں ہے۔
شہریوں کا ذہنی سکون برباد ہورہا ہے۔ یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ پاک فوج کے آپریشن۔ رینجرز کی مسلسل کاوشوں سے قائم ہونے والا امن خراب حکمرانی‘ شہریوں کی پریشانی‘ پبلک پرائیویٹ سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث پھر بد امنی میں نہ بدل جائے۔


فوجی کارروائی کے ذریعے وقتی طور پر تو استحکام اور امن آجاتا ہے۔ جیسے کہ کراچی میں آگیا ہے لیکن اگر یہاں کے دو کروڑ باشندوں کو صبح شام ٹریفک کی مشکلات پیش ہوں گی ان کے کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر گزریں گے۔ لاکھوں کا پیٹرول ضائع ہوگا‘ تو ان کے ذہن پھر بپھرے دریا بن جائیں گے۔ دنیا بھر میں اصول ہوتا ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سول ادارے اپنی فرض شناسی اور دیانت داری سے مستحکم کرتے ہیں ۔ اس کا فقدان نظر آرہا ہے۔


اسی طرح ملک بھر میں ضرب عضب پھر ردّالفساد کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بھی متعلقہ صوبائی حکومتیں ہی مستحکم اور دیرپا کرسکتی ہیں۔ ’ردّالفساد‘ کی اصطلاح بہت وسیع معانی رکھتی ہے۔ مذہبی حوالے سے بھی اور انتظامی نکتہ نظر سے بھی۔ جسے بہت سے شدت پسند اپنے نقطۂ نظر سے جہاد کہتے ہیں‘ جنت کا راستہ خیال کرتے ہیں‘ وہ علمائے حق کے نزدیک فساد ہے۔ اسکا ردّ بہت ضروری ہے۔ اس ردّالفساد کے ذریعے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے اور بلوچستان سب جگہ ہی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ بہت سے مقامات پر پہلے سے کارروائی کرکے بڑی مقدار میں گولہ بارود‘ ہتھیار پکڑ کے ان دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے مشکوک افراد پکڑے جاچکے ہیں‘ ان کے خلاف مقدمات تیار کرکے عدالتوں میں پیش کئے جارہے ہیں۔ ان آپریشنوں کی کامیابی کی شہادت اس امر سے مل سکتی ہے کہ اب پہلے کی طرح بم دھماکوں کی وارداتیں نہیں ہورہیں۔ پبلک مقامات‘ مساجد‘ بازار اور حساس تنصیبات اب محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔ پارلیمنٹ کی قرارداد اور سیاسی فوجی قیادت نے ملک کر حکمتِ عملی مرتب کی جسے نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا گیا اس میں سے فوری نوعیت کی کارروائی تو ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی ہورہی ہیں۔ سزائے موت پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔


لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان تمام عوامل اور اسباب کا بھی خاتمہ کیا جائے جن کی وجہ سے فساد برپا ہوتا ہے‘ جن محرومیوں سے مجبور ہوکر نوجوان لسانی‘ نسلی اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کا آلۂ کار بنتے ہیں۔خاص طور پر بے روزگار نوجوان کو ماہانہ معقول تنخواہ بھی دی جاتی ہے اور اس کے اہل خانہ کی مالی مدد بھی کی جاتی ہے۔


پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق قریباً 12کروڑ افراد 15سے 25سال تک کی عمر کے ہیں۔ یہ قدرت کا بہت بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے‘ یہ ہماری طاقت ہیں‘ توانائی ہیں۔ لیکن مقامی حکومتوں کی بے اختیاری‘ صوبائی حکومتوں کی غیر ذمہ داری اور سیاسی قیادت کی لا پروائی سے یہ قیمتی اثاثہ بوجھ بن رہا ہے۔ ہمارے کونسلروں‘ میئروں‘ چیئرمینوں کی ذمہ داری ہے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کا قومی فریضہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں نوجوانوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ ان کی معاشی کیفیت سے آگاہی حاصل کریں۔ان نوجوانوں کو اگر مناسب تعلیم ملے اور موزوں تربیت تو وہ پاکستان کو حقیقت میں ایشیا کا ٹائیگر بناسکتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سیاسی قیادتوں کی ذمہ داری ہے۔ پھرہماری غریب اکثریت کو قدم قدم با اثر افراد کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جاگیردار اپنے علاقے میں سکول نہیں کھلنے دیتے۔ ہر صوبے کے دیہی علاقوں میں کئی ہزار اسکول بند پڑے ہیں۔ عمارتیں ہیں مگر وہاں کچھ اور ہورہا ہے۔ اسکول ہیں‘ طالب علم ہیں مگر ٹیچر نہیں ہیں۔ پولیس‘ مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے کی مرضی سے تعینات ہوتی ہے۔ اس لئے وہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے ایم این اے‘ ایم پی اے کا حکم مانتی ہے جس سے نا انصافی جنم لیتی ہے۔ اکثریت کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے ۔ قانون کا نفاذ یکساں نہیں ہوگا۔نا انصافیوں ‘ زیادتیوں اور ظلم کے شکار خاندان ہی پھر شدت پسندوں کا ہتھیار بنتے ہیں اور جب اس کے ساتھ مذہب کا سہارا مل جائے تو یہ اشتراک خطرناک ہوجاتا ہے۔جہالت اور جذباتیت بڑا خطرناک گٹھ جوڑ ہے۔ ملک میں جہالت بھی بہت ہے اور جذباتیت بھی۔ تعلیم ہی انسان کو دلیل کا استعمال سکھاتی ہے۔ برداشت پیدا کرتی ہے۔تحمل کا درس دیتی ہے۔ پاکستانی قوم مزاجاً جذباتی ہے۔ اس لئے وہ آسانی سے چند خود غرض سیاستدانوں اور مذہبی سوداگروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے۔ شایدحکمران طبقے کا ایک حصہ یہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ یہ قوم پڑھے لکھے ۔ کیونکہ اگر یہ پڑھ لکھ گئی تو ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
پاکستان میں کسی بھی بھائی بہن بزرگ سے پوچھا جائے تو وہ فوج کے اس عزم کی مکمل تائید کرتا ہے کہ ملک میں اور بالخصوص کراچی میں امن ہر قیمت پر۔ امن کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ پُر سکون ماحول بھی سرمایہ کاری اور نئی صنعتوں کے لئے سازگار ہوتا ہے۔ فوج نے اپنا یہ عزم بڑی حد تک پایۂ تکمیل کو پہنچادیا ہے۔ آج 2017 کے نصف میں 2015-2016 اور اس سے پہلے کے پُر آشوب برسوں کی نسبت حالات بہت زیادہ پُر امن اور پُر سکون ہیں۔ لیکن اگر ان عوامل اور محرّکات کے خاتمے کے لیے کوششیں نہ کی گئیں جن کے باعث 90-80 کے عشروں اور اکیسویں صدی کے اوائل میں شدت پسندی اور افراتفری اور انتشار پیدا ہوا‘ جسے بڑی قربانیاں دے کر پاک فوج‘ رینجرز اور پولیس نے بحال کیا ہے۔ جس کے لئے ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ پولیس والے بھی شہید ہوئے ہیں۔ اور عام شہریوں‘ بچوں‘ بزرگوں۔ ماؤں بہنوں کا خون بھی بہا ہے تو یہ خونریزی دوبارہ بھی شروع ہوسکتی ہے۔ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نصاب کا جائزہ لینا ہوگا۔ مساجد اور مدارس کے خطبات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ میڈیا پر بھی نظر رکھنا ہوگی‘ وہاں کوئی تربیت ہے نہ نصب العین‘ وہ مجرموں اور دہشت گردوں کو ہیرو اور شاندار انسان بناکر پیش کرتے ہیں۔ ان کو بہت زیادہ با اثر دکھاتے ہیں۔


نظریات کی کشمکش زوروں پر ہے۔ تنازعات بڑھ رہے ہیں۔عدالتیں تصفیوں میں بہت دیر لگاتی ہیں۔ حکومتوں کی پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سماج میں ٹھہراؤ ہو۔ معاملات پہلے تو پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے طے ہوں۔ بزرگ اپنا کردار ادا کریں۔ پولیس تک بات پہنچے تو وہ مصالحت کروائیں۔ عدالت تک جانے سے گریز کیا جائے ۔ عدالت میں آجائے تو وہ جلد از جلد فیصلے دیں۔
ہر ادارے کو اس قومی جہاد میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم ہر قیمت پر قائم کئے گئے امن سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔ ملک میں استحکام پیداکرسکیں گے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 547 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter