سنہری ققنس

Published in Hilal Urdu March 2017

اعظم معراج

اے وطنِ عزیز کے محروم و بے شناخت بیٹو!
اپنے سماج سے بیگانو!
دھرتی سے اپنی نسبت سے لاعلم دھرتی واسیو!
اس ارضِ پاک کو بنانے
سنوارنے ... سجانے
اور بچانے میں اپنے اجداد کے کردار سے بے بہرہ معصومو!
اپنے آبا کی سرزمین پر اجنبیوں کی طرح رہتے اور
نفرت انگیز سماجی رویوں کے وار سہتے
اپنے روشنی کے میناروں کو
اپنی محرومیوں کے اندھیروں میں ... گم کرتے خاک نشینو!
خود رحمی، احساس کمتری و برتری کی
چکی کے پاٹوں میں پسے ہوئے راندہ درگاہ
ہم وطنو
ہزاروں لوگ
تمہاری ان محرومیوں کا نوحہ کہتے ... اور سینہ کوبی کرتے ہیں
تمہاری ان کمزوریوں اور پستیوں کو بیچتے ہیں
بے شک اس ظلمت شب میں
امید کے دیے جلانے والے
تمہیں دھرتی سے نسبت بتانے والے
اور یہ منترہ
تمہیں رٹانے والے
کہ تم وارث ہو اس سر زمیں کے
اور اس ارضِ پاک کو
اپنے خون پسینے سے سینچنے والے وطن کے معماروں
اور روشنی کے میناروں سے
تمہارا ناتا جوڑنے والے
شہدائے وطن کے پاک لہو کے رنگ سے
تمہاری بے رنگ روحوں میں
رنگ بھرتے مرد قلندر
بہت سے صبح نو کی نوید سنانے والے ہوں گے
یاد رکھنا
ان بہت سوں میں سے ایک میں بھی ہوں
لیکن اگر
کبھی لمبی اندھیری رات کے سیاہ گھپ
اندھیروں سے گھبرا کر یہ دیوانے
صرف چند بھی رہ گئے تو
ان چند میں ایک میں بھی ضرور ہوں گا
پھر اگر
امید سحر میں ان میں سے صرف ایک بچا
تو وہ
یقیناًمیں ہی ہوں گا
لیکن اگر
گھنے پیڑوں کے جھنڈ میں سے
سورج کوچھوتے درختوں پر
امیدِحیاتِ نو میں نغمہ مرگ گاتے ہوئے
ققنسوں کے مہک دار شاخوں سے بنے گھونسلوں میں سے
سنہری ٹھنڈی ہوتی ہوئی آگ میں سے
کئی نوجوان
سورج کی طرح چمکتے
قرمزی سنہرے ققنس
اپنی ہزاروں سال کی پستیوں، ذلتوں اور
محرومیوں کے بھاری بوجھ
اپنے توانا سنہری پروں سے جھٹکتے ہوئے
اپنی چونچوں میں
اپنی قابلِ فخر شناخت کے علم دبائے
امیدوں کی روشن شمعیں دلوں میں جلائے
عزم و حوصلے اور امنگیں
جن کے سینوں میں موجزن ہوں
جن کی نظر
روشنی کے میناروں سے اٹھتی ہوئی
دور آسمانوں پر ہو
اور
وہ دن کے اجالوں میں
سورج کی طرف
لمبی اڑانیں بھریں
تو سمجھ لینا
جن مہک دار گھونسلوں سے
جوان ققنس اڑتے ہیں
ان گھونسلوں میں
میرے بدن کی راکھ تھی

 
Read 444 times

1 comment

  • Comment Link Mohammad Ilyas Mohammad Ilyas 04 April 2017

    Asslam-o-Elikum.
    Hilal refreshes my Eiman,I solut departed soilders souls and their parents.

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter