چاچا مکھن کا پشاور

تحریر: میجر ناصرہ انجم

پشاور کا شمار ایشیا کے ان تاریخی شہروں میں ہوتا ہے جنہوں نے وقت کے مختلف ادوار میں کئی نامور ہستیاں پیدا کیں۔شاعر ، ادیب ، مصنف اور بلند پایہ مفکر اسی شہر کی گُندھی مٹی کی مرہونِ منت ہیں۔مر حوم احمد فراز ، خاطر غزنوی اور دلیپ کمار(یوسف خان) کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔سیانے اس شہر کو پھولوں کا دیس اور مہمان نوازی کا شہر گردانتے ہیں۔پشتون ثقافت ہو یا ہندکو تمدن‘ اس شہر کی خوبصورتی اس کے باسیوں ہی کے دم سے ہے۔اس شہر کو دیکھ کر گویا ایک عظیم الشان تہذیب کا سا گمان ہوتا ہے۔ اللہ نے اس شہر کو کئی نامور ہستیوں سے نوازا ہے انہی میں سے ایک شخصیت چاچا مکھن ہیں۔اپنے نام ہی کی طرح نرم وملائم، حلیم الطبع، غریب پروراور مرنجان مرنج شخصیت رکھنے والے چاچا مکھن گویا علم وادب کا ایک خزانہ ہیں۔
پشاور کا خاصہ اس کے باسیوں کی خوبصورتی ہے چاہے وہ ظاہری شکل وصورت میں ہو یا اخلاق و اقدار میں ہر لحاظ سے یہ شہر ’’ شہر نمایاں‘‘ کا درجہ رکھتاہے۔چا چا مکھن کا شمار پھولوں کے دیس کے ان مکینوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پرت در پرت اس شہرکو مختلف سانچوں میں ڈھلتے دیکھا۔

 

chachamakh.jpgوہ کہتے ہیںیہ شہر میرے لئے ایک ماں کا درجہ رکھتا ہے۔ ا س نے مجھے پالا پوسا، جوان کیا اور اس مقام تک پہنچا یا۔چا چا مکھن بچوں کی سی معصومیت سے بولے: کیا وقت تھاکہ شہر کے ایک کونے میں کسی کو تکلیف کی خبر ملتی تو لمحہ بھر میں پور ا شہر امڈ پڑتا۔ہمسایہ پروری، مہمان نوازی اور خوش اخلاقی پشاوریوں کا طرۂ امتیاز ہے اور رہے گی۔
وقت بہت خوبصورتی سے ایک رواں ندی کی طرح گزرگیا۔ہم جوان ہو گئے بچپن کی لا اُبالی فطرت جوانی کی گرمجوشی میں تبدیل ہوگئی، ذمہ داریاں بڑھتی گئیں اور وقت گزرتا گیا۔


چاچا مکھن کی پیدائش ویسے تو مری کے ایک دورافتادہ گاؤں کی ہے لیکن پشاور سے ان کا رشتہ تاریخ کی کئی ان مٹ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ وہ کہتے ہیں میں 1959ء میں فوج میں ریگولر ہوا 1965،1971ء کی جنگ دیکھی پاکستانیوں کا جذبہ حب الوطنی دیکھا۔اس وقت ہمارے پاس کچھ نہیں تھاصرف جذبہ اور ایمان تھا۔آج وقت بہت بدل چکا ہے۔ میں نے فوج کی خدمت کی اور فوج نے ہمیشہ مجھے یاد رکھا۔ مجھے دو میڈلز سے نوازا۔ فوج میرے لئے ایک خاندان کی طرح ہے۔فوج کے افسران اب بھی میرے پاس آتے ہیں، بیمار ہوجاؤں تو عیادت کرتے ہیں اور خبر گیری کے لئے آتے ہیں۔ میں اُن کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتا ہوں ۔

 

11کور میرے سامنے کھڑی ہوئی۔ کئی کور کمانڈر آئے اور گئے ۔ پشاور کور کے سابقہ کورکمانڈرجنرل ہدایت الرحمان ایک سینئر ترین فوجی افسر ہونے کے باوجود مجھ سے کھڑے ہو کر مصافحہ کرتے تھے۔ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔ مجھے 38 بار عمرہ اور دوبار حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی فوج نے میری خدمت کے لئے ایک سولجر مہیا کیا ہے جو میرا 24گھنٹے خیال رکھتا ہے۔ میں پشاور میں رہ کر اپنے گاؤں سے بھی زیادہ خوشی محسوس کرتا ہوں ۔

مجھے یاد ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ لگتا تھا کہ جیسے میرے پشاور شہر کی خوشیوں کو نظر لگ گئی ہو۔ یہ وقت دہشت گردی کی جنگ کا دَور تھا۔ جا بجا دھماکے اور قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ کوئی اُن ظالموں سے پوچھے کہ محض چند روپوں کے عوض کیوں اپنے بھائی کی زندگی کے درپے ہو۔میں 16دسمبر 2014کے واقعے کو کبھی نہیں بھول سکتا، میں مسلسل کئی راتوں تک روتا رہا ۔ اُن ماؤ ں کی گریہ وزاری اور ماتم کسی بھی ذی ہوش کے حواس گم کرنے کے لئے کافی تھا۔ میں نے پھولوں کے اس شہر میں پھولوں ہی کے جنازے دیکھے ۔ چاچا مکھن کی آوازبھرائی ہوئی اور آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ بولے : میں ہر لمحہ ہر پل خدا سے اس شہر جاوداں کی خوشیوں کی دعا کرتا ہوں۔
عجیب نفسانفسی اور بیگانگی کا دور آگیا ہے، عجب گھٹن آلود لا تعلقی ہے جس کا اظہار لفظوں میں ممکن ہی نہیں ۔ خون ارزاں یا پانی۔۔۔ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ قرآن کی یہ آیت بڑی تقویت دیتی ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے گو یا مشکلات کا وقت ہمیشہ نہیں رہے گا۔


اب تو اللہ کا شکر ہے کہ حالات پہلے کی نسبت بہت بہتر ہوگئے ہیں ۔ آہستہ آہستہ اس شہر کا حُسن لوٹ رہا ہے۔ ایک پرُ اطمینان سی فضا قائم ہو رہی ہے۔لوگ اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ میں اس شہر کو ویساہی دیکھنا چاہتا ہوں جیسے یہ پہلے تھا ۔اُجلا ، نکھرا اور محبت سے بھر پور۔

 
Read 1755 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter