عربی اور فارسی کے مقابلے میں اُردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے۔ افتخار عارف

انٹر ویو : صبا زیب

افتخار عارف کا نام ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ وہ نہ صرف پاکستان میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی لوگ ان کے مداح ہیں۔ وہ اپنے فن میں پختگی رکھنے والے منفرد ادیب ہیں۔ اپنا تجربہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کوئی تشنگی نہیں رہتی۔ انہوں نے پاکستان میں ادب کی ترویج میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں مہردونیم، حرف بریاب، فیض بنام افتخار عارف اور انتخاب کلام فیض شامل ہیں۔ حال ہی میں وہ 3سال ایران میں ای سی او کے پہلے غیر ایرانی صدر کی خدمات انجام دے کر پاکستان آئے تو انہیں فوراً ہی ادارہ ترقی قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیاہے۔ اس سے پہلے وہ اس ادارے کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے طور پر بھی پاکستانی ادب اور ادیبوں کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ہم نے اپنے قارئین کے لئے افتخار عارف سے گفتگو کی جو قارئین کے لئے یقیناًدلچسپی کا باعث ہوگی۔

 

intiftakhararif.jpgسوال : ہمارے قارئین کے لئے اپنے بارے میں بتائیں خاص طورپر ادبی حوالے سے کہ یہ سفر کب اور کیسے شروع ہوا ؟
جواب: میری پیدائش21 مارچ1943 کو لکھنو میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم درسِ نظامی کے مدرسہ نظامیہ فرنگی محل سے حاصل کی۔ جوبلی سکول لکھنو سے سکول کی تعلیم حاصل کی یہ اس زمانے کا بہت مشہور سکول تھا۔ اس سکول میں شوکت صدیقی(ادیب، ڈرامہ نویس) نے بھی پڑھا تھا۔ انٹر میڈیٹ کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے وہاں بہت قابل اور بڑے اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا جن میں پرویز احتشام، نور الحسن ہاشمی، رادھا مکھر جی وغیرہ شامل ہیں۔
ایم اے کرنے کے بعد 1965 میں پاکستان آیا۔ غریب گھرانے سے تعلق تھا۔ میری پرورش نانا نے کی۔ والدہ شیعہ جب کہ والد حنفی مسلک سے تھے۔ میں نے اپنی زندگی بہت مشکل حالات میں گزاری۔ لالٹین کی روشنی میں پڑھائی کرتا تھا۔ اسی زمانے میں میری نظر کمزورہوگئی لیکن ان سب مشکلات کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور آخر کار ایم اے کرلیا۔


1965 میں جب میں پاکستان آیا تو سب سے پہلے ریڈیو کی طرف گیا۔ وہاں میں نے اردو اور ہندی میں خبریں پڑھنا شروع کیں‘ہر بلیٹن کے 10 روپے ملتے تھے۔
میری اردو اچھی تھی اور تلفظ بھی صاف تھا ۔آہستہ آہستہ ریڈیو پر مختلف پروگرام ملنے لگے۔ ریڈیو کے لئے خدیجہ نقوی اور ایس ایم سلیم کے ساتھ ایک ڈرامہ کیا۔ جب ٹی وی آیا تو ٹی وی میں چلے گئے وہاں کسوٹی کے نام سے ایک پروگرام کیا جس میں میرے ساتھ ضیاء محی الدین اور قریش پور جیسے بڑے نام تھے۔ اس زمانے میں کسوٹی بہت مقبول ہوا اور کسوٹی کے ساتھ مجھے بھی شہرت ملی۔


جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔ وہاں فارسی میں قوالیاں ہوتی تھیں اور مجھے بھی اس وقت فارسی کے بہت سے شعر یاد تھے۔ پھر جب پاکستان آیا تو اپنا گھر، گھر والے اور اپنا شہر یاد آتا تو اُن کی یاد میں شاعری شروع کردی اس طرح 1984 میں مہر دونیم کے نام سے پہلی شاعری کی کتاب آگئی۔


سوال : آپ آج کل کس پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں؟
جواب: ابھی پچھلے دنوں جب میں ایران میں تھا تو میں نے اپنے نئے شعری مجموعے پرکام کرنا شروع کیا۔ باغ گل سخ کے نام سے یہ شعری مجموعہ مارچ2017 تک مکمل ہو جائے گا۔

intiftakhararif1.jpg
سوال : پچھلے دنوں آپ ایران میں رہے، کیسا لگا آپ کو ایران اور وہاں کے لوگ؟
جواب: ایران میرے مزاج کے بہت قریب ہے وہاں کے لوگوں کی گفتگو، ان کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا سب مجھے بہت پسند ہے۔ وہاں کے لوگ خوش لباس ہیں اور گھر کی آرائش کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی پودے لگائے جاتے ہیں۔ وہاں لوگوں میں کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں لیکن ان میں وطن پرستی بہت زیادہ ہے۔ ملکی مفادپر سب اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو جاتے ہیں اور وہاں کے ادب میں بھی آپ کو یہ سب نمایاں نظر آئے گا۔
سوال : آپ کو لکھنے کے لئے کیا چیز راغب کرتی ہے۔ لکھنے کے لئے کیا خاص موڈ کا ہونا ضروری ہے؟
جواب: ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔
سوال :آپ خود کیا پڑھتے ہیں اور پسندیدہ رائٹرز کون سے ہیں؟
جواب: میں پہلے تو شاعری، اسلامی تاریخ، بڑی تہذیبوں کی تاریخ وغیرہ پڑھتا تھا لیکن آج کل میرا
Biographies
پڑھنے کی طرف رجحان کافی زیادہ ہوگیا ہے۔ بڑے اور مشہور لوگوں کی Biographies
‘ اس کے علاوہ شاعروں اور ادیبوں کی
Biographies
پڑھتا ہوں اور یہ بائیو گرافیز پڑھنے کا اتنا شوق ہے کہ اکثر اپنے دوستوں سے، مختلف ممالک سے منگوا کر پڑھتا ہوں۔ اس کے علاوہ پروگریسو رائٹرز کو بہت پڑھتا ہوں
World Poetry
خاص طور پر
Russian Poetry
کو ،انگلش ترجمے کے ساتھ، بھی پڑھتا رہاہوں۔
سوال : کیا ہمارے ہاں ایسا ادب فروغ پا رہا ہے جو آج سے پچاس سال بعد بھی اپنی شناخت قائم رکھ سکے؟
جواب: ہرزمانے میں بے شمار ادیب اور شاعر لکھ رہے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو 20/30سال بعد بھی باقی رہیں۔ بڑے رائٹرز وہ ہوتے ہیں جو اپنے زمانے سے
relevant
ہوں اور آنے والے وقتوں کو بھی اپنی لکھائی میں
Relate
کریں، جیسے علامہ اقبال کے زمانے میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جو شاعری کرتے تھے لیکن علامہ اقبال کی شاعری اُس وقت اور حالات کے بہت قریب تھی لیکن اس شاعری کو ہم آج بھی پڑھیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ آج کی ہی بات ہو رہی ہے۔بابا بلھے شاہؒ اور سلطان باہوؒ کولوگآج بھی پڑھتے ہیں ۔ لکھا ہوا لفظ ہی باقی رہتا ہے اور اسے ہی دوام حاصل ہے۔ہر لکھنے والا جب لفظ لکھ رہا ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی معجزہ سرانجام دے دیا ہے۔ لیکن یہ ایک
Illusion
ہی ہوتا ہے۔ چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو باقی رہتے ہیں۔
سوال: نئے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر یا شاعر؟
جواب:۔ آج کل بہت سے لوگ اچھا لکھ رہے ہیں جیسے ذیشان ساحل، عباس تابش، یاسمین حمید، حمیرا رحمن اور بہت سے دوسرے۔
سوال:۔ الیکٹرانک میڈیا اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد کہا جاتا ہے کہ کتاب پڑھنے کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کس حد تک سچائی ہے۔ جس معاشرے میں کتاب نہ پڑھی جائے کیا وہاں اچھی شاعری اور نثر فروغ پا سکتی ہے؟
جواب:۔ زمانہ ایک جگہ پر نہیں رہتا۔ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ اس میں توازن آتا جاتا ہے۔ جیسے ایک زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن آیا اس وقت لوگ اس کی نشریات شروع سے لے کر آخر تک دیکھتے تھے۔ پھر وی سی آر کا زمانہ آیا۔ اسی طرح آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اس میں بھی توازن آ جائے گا۔ کتابوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ان کو پڑھنا اچھا لکھنے کے لئے ضروری ہے۔

 

intiftakhararif2.jpg

سوال : آپ اکادمی ادبیات کے چیئرمین بھی رہے ہیں جو ایک مضبوط ادبی حوالہ ہے۔ آپ نے اس ادارے کی ترقی کے لئے کیا اقدامات کئے ؟
جواب: اکادمی ادبیات کے مقاصد طے شدہ ہیں۔ اس کا مقصد ادب اور ادیبوں کے لئے کام کرنا ہے۔ لہٰذا میں نے بڑے منصوبوں پرکام کیا۔ مثلاً 100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں
Pakistani Literature
کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔ اقبالیات کے 100سال کے نام سے ایک کتاب اردو اور انگریزی میں شائع کی۔
سوال : پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جس کے اثرات ہر شعبہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ کیا شعرو ادب بھی اس سے متاثر ہو رہا ہے؟کیا ہمارا ادیب اس لڑائی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے؟
جواب: کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں ہوتا جس کے اثرات قومی ادب پر نہ پڑیں آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی قومی واقعے سے اہلِ قلم دور نہیں رہ سکتے اور معاشرے پر ان کی رائے یقیناًاثر انداز ہوتی ہے۔
سوال : کیا ہمارا ادب صرف سماجی رویوں کی اصلاح تک محدود رہا یا انسان کے سیاسی اور معاشی مسائل کا ادراک بھی رکھتا ہے۔
جواب:ادیب کا کام ہے سماجی رویوں کی اصلاح کرنا وہ تو ادیب اور شاعر کررہے ہیں لوگوں کے معاشرتی ومعاشی مسائل کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے شاعر اور ادیب خود اپنے بہت سیمعاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
سوال : آپ عالمی ادب میں کس سے متاثر ہیں؟
جواب: میری نوجوانی میں ترقی پسند تحریک عروج پر تھی لہٰذا میں نے ترقی پسند ادیبوں کو ہی زیادہ پڑھا۔ غیرملکی ادیبوں کی کتابوں کے ترجمے بھی پڑھے اور انہیں براہ راست بھی پڑھا۔ ترقی پسند ادیب ہی میرے لئے رول ماڈل رہے۔ اقبال کے بعد
Pablo Nerubr
، ناظم حکمت،
Oddan
، فیض احمد فیض اور محمود درویش پسندیدہ شاعر ہیں ۔ ناول نگاروں میں مارکیز، میلان کندیرا، کنتھر گراس اور ڈرامہ نگار وں میں
Brish
اور بیکر پسند ہیں۔ ان سب کو ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی۔
سوال : فارسی اور عربی میں کیا اردو زبان سے بہتر ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا اقدامات کئے جائیں کہ اردو میں بھی دیگر زبانوں کی طرح کا ’’پاورفل‘‘ ادب تخلیق کیا جا سکے۔
جواب: گزشتہ پچاس سالوں میں پاکستان میں بہت اچھا ادب تخلیق کیا گیا۔ شاعری، افسانہ، ناول، مزاح، سوانح اور تحقیقی کتب کا بڑا ذخیرہ سامنے آیا۔ البتہ پڑھنے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کا کتب پڑھنے کی طرف رجحان بہت کم ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ عربی اور فارسی کے مقابلے میں اردو میں زیادہ جاندار ادب تخلیق ہوا ہے اور شائع بھی ہوا ہے۔ اردو ادب کے مواد میں تنوع رہا۔ اس کی وجہ ادب کے لئے آزادانہ فضا بھی ہے۔
سوال : آخر میں ہلال کے قارئین اور فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام؟
جواب : فوج کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ سے ہی بہت اچھا رہا ۔ تقریباً ہر سپہ سالار نے مجھے بہت عزت دی اس لئے ہمیشہ ہی ان لوگوں کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اﷲ سب کو اپنی امان میں رکھے اور انہیں ترقی اور عزت سے نوازے۔

جہاں تک ادبی سفر کی بات ہے تو شعر کہنا بچپن سے ہی شروع کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ شعر یاد آتے ہیں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لکھنو میں ہر شخص شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا۔ بچے بچے کو سیکڑوں کی تعداد میں شعریاد ہوتے تھے۔ مجھے شاعری کا شوق اس وقت ہوا جب میں شاہ عبدالرحمن سندھی کے مزار پر جاتا تھا۔

*****

ہر انسان دوسرے سے جدا ہے اور میرا ایمان ہے کہ لکھنے کی توفیق اﷲ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں کسی موڈ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مجھے لگتاہے کہ میری تقدیر میں تھا کہ میں شاعر ہوتا اور میری تخلیق کا مقصد بھی مجھے یہی سمجھ آتا ہے کہ میں شاعری کرتا اور لکھتا۔۔۔

*****

100 سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت اور فن پر کتابیں لکھوا کر شائع کیں۔ اس سریز کا نام ’’پاکستان کے معمار‘‘ تھا۔ اس میں اُردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، پشتو اور ہندکو زبانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں پر ایک ایک کتاب لکھوائی۔ یہ سیریز طلباء اور طالبات کے ساتھ جہانِ دانش میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ انگریزی میں

Pakistani Literature

کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس میں مختلف زبانوں کے لٹریچر کو انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔

*****

آج کل ہر واقعہ میڈیا پر اتنا زیادہ چل رہا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ادیب، شاعر یا دانشور بولے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس دہشت گردی اور اس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر آج کا شاعر یا ادیب کچھ نہ لکھے۔ بہت سے شاعروں نے کئی نظمیں لکھیں۔ اس پر مضامین بھی چھپے اور ناول بھی لکھے جا رہے ہیں۔

*****

 
Read 1467 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter