عظیم انسان عظیم شہادت

تحریر: ناصر اقبال خٹک

لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ خٹک

پاک فوج کا ہر جوان اپنی زندگی اپنے ملک و قوم کی حفاظت کے لئے وقف کر دیتاہے۔ اسے اپنی اِس زندگی سے زیادہ اُس زندگی کی خواہش ہوتی ہے جو اُسے شہادت کے بعد ملتی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ خٹک ایسے ہی انسان تھے جن کی زندگی کا مقصد اپنے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرنا تھا۔


فیض اﷲ 10فروری 1962میں ضلع کرک کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ فیض اﷲ بچپن ہی سے ذہین اور کسی حد تک شرارتی تھے۔ فیض کو اُن کے والد محترم نے گورنمنٹ پرائمری سکول متوڑ میں داخل کروا دیا۔ ننھا فیض ہر کلاس میں ہر سال بہتر سے بہتر کارکردگی دکھاتا رہا۔ پڑھائی کے ساتھ مال مویشی بھی چراتا تھا۔ غلیل ہی اس کا پہلا ہتھیار تھا اور چھوٹے پرندے اس کا شکار تھے اور شکار میں اس کا کتا اس کا ساتھی تھا۔ کچھ عرصے تک بھیڑ بکریاں بھی چرائیں لیکن اس کے والد محترم نے زیادہ توجہ اس کی تعلیم پر ہی دی۔ پھر ایک دن فیض نے گورنمنٹ ہائی سکول صابر آباد سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ گورنمنٹ کالج کرک سے 1980 میں ایف ایس سی کیا۔ ایک دن اچانک فیض نے اپنے والد صاحب سے فوج میں جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے بھی انکار نہیں کیا کیونکہ والد پہلے ہی ملک کا سپاہی تھا۔ پھر اپنے بیٹے کو کیسے منع کر سکتا تھا۔ 1982کو آرمی میں بحیثیت کمیشنڈ آفیسر 69پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی۔ دو سال کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد
29FF
میں پوسٹ کر دیئے گئے۔ جہاں سے بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ عسکری زندگی شروع کی۔ وہ شروع ہی سے بہت محنتی تھے۔ ایمانداری ان کی رگوں میں شامل تھی۔ وہ ہمیشہ اچھی سوچ کے مالک رہے،ان کا ملٹری کیریئر ہمیشہ شاندار رہا۔ وہ دن بھی آ گیا جب وہ کمانڈنگ آفیسر بن گئے۔ اپنی ہی پیرنٹ یونٹ کے کرنل بن گئے۔ ان کے کرنل بننے پر پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ صدقے خیرات بھی کئے ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا۔ جب میجر تھے تو شادی کے بندھن میں بھی بندھ گئے۔ کرنل بننے پر اﷲ نے لخت جگر حمزہ کے روپ میں دیا اور اُن کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔ حمزہ ان کی پہلی نرینہ اولاد تھی۔ جس کا نام فیض نے خود حمزہ رکھا تھا۔ فیض بہت محبت کرنے والے باپ تھے۔ ہمیشہ اولاد کی اچھی پرورش اور بے لوث محبت کرنے والوں میں سے تھے۔

azeeminsanltcol.jpg
2002میں گوجرانوالہ میں اپنی یونٹ کی کمانڈ ختم کرنے کے بعد بحیثیت سٹاف آفیسر
(UN)
سیرالیون میں سلیکٹ ہوئے۔ بالآخر یو این مشن سرالیون چلے گئے۔ وہاں وہ پوری ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ وہ اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی کبھی نہیں کرتے تھے۔وہ اپنے فرض کو اچھی طرح نبھاتے تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ اپنی قابلیت پر بھرتی ہوا ہوں۔ نہ سفارش کروائی ہے اور نہ سفارش مانتا ہوں۔ جو بہتر لگے گا جو قانون کہے گا وہی مانوں گا۔ ہمیشہ سے سفارش کے خلاف تھے۔ سب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے۔ سپاہی سے آفیسر تک سب طبقوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے تھے۔ 29جون 2004 کی صبح فوجی مورچوں کے ایریا کی آسمانی نگرانی کے لئے
(MI-8)
ہیلی کاپٹر پر جانا تھا۔ صبح ٹھیک 9بجے ہیلی کاپٹر نے اپنے ہدف کی طرف پرواز کی۔ 45منٹ کے بعد ہیلی کاپٹر کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ لینڈ کرتے وقت ہیلی کاپٹر اچانک حادثے کا شکار ہوا اور جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا۔ بروقت کارروائی بھی نہ ہو سکی کیونکہ اچانک بارش بھی شروع ہو گئی اور ہیلی کاپٹر میں ایک فیض اﷲ کے ساتھ 16فیض اور بھی شامل تھے۔


غرض شہادت فیض کا مقدر ٹھہری۔ وہ فرض کی ادائیگی میں پاک فوج کے اس امن دستے کا حصہ تھے جسے اقوام متحدہ کے زیرنگرانی عالمی امن کو یقینی بنانا تھا۔ فیض کی فرض سے لگن اور شہادت نہ صرف پاکستان کے لئے سرمایہ افتخار ہے بلکہ پوری دنیا کے امن پسندوں کے لئے بھی باعث افتخار ہے۔ وہ جس گاؤں کے رہنے والے تھے اُس کی زیادہ تر آبادی غریب لوگوں پر مشتمل تھی اور اُن کی اپنے گاؤں میں روشنیاں بحال کرنے کی امیدیں فیض سے ہی تھیں۔ جس نے اس گاؤں میں جنم لیا تھا۔ جب اس کی لاش اس کے آبائی گاؤں لائی گئی تو ہر طرف غم کا ماحول اور مایوسی کے بادل تھے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی ہر طرف لاالہ الا اﷲ کا ورد تھا۔ لیکن ایک ان کے والد شاہ جہاں تھے جو اس منظر کو چپ چاپ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا لخت جگر ایک نئے سفرپر گامزن ہو چکا تھا اور انہیں اس پر فخر تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل فیض اﷲ کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں انتہائی فخر اور شان سے ادا کی گئی اوراُنہیں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کر دیاگیا۔

 
Read 1215 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter