باہمی تعاون مگر پاکستان کی قیمت پر نہیں

تحریر: ڈاکٹر ماریہ سلطان

نیوکلیئر سپلائیرز گروپ اگرچہ ایک غیر روایتی نظام ہے تاہم ٹیکنالوجی کو کنٹرول میں رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔روایتی طور پر اس سے نہ صرف حساس ٹیکنالوجی کی تجارت کو منضبط کیا جاتا رہا ہے بلکہ اسی نظام کے ذریعے تمام ہائی ٹیک مواد کی بین الاقوامی تجارت بھی ضابطہ کار میں لائی جاتی رہی ہے۔ دو الگ الگ فہرستوں میں تقسیم اس نظام کا ایک حصہ نیوکلیائی ٹیکنالوجی اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی صراحت کرتا ہے جب کہ دوسرے حصے میں بنیادی خام مال اور اہم مادوں ،جیسے بسمتھ، ایلومینیم وغیرہ، کی تجارت کا کنٹرول شامل ہے۔ مذکورہ دھاتیں اور دیگر نیوکلیائی مواد اور ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی ہائی ٹیک صنعت کی بقا کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس لئے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی اہمیت اور اندیشے ان دونوں درجوں میں آزادانہ تجارت سے جڑے ہوئے ہیں۔


تاہم گزشتہ چند سالوں سے اس ادارے کی غیر جانب داری اور موثر رہنے کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ ان شکوک کی بنیادی وجہ ہندوستان کو اس گروپ کا ممبر بنانے کے لئے کی جانے والی امریکہ کی جانب سے کوششوں کا بہت عمل دخل ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں امریکہ نے انتہائی جانبداری اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ نہ صرف نیوکلیئر کے میدان میں باہمی تعاون کے معاہدے کئے اور اس کو نیوکلیئرسپلائیر گروپ کی ممبر شب دلانے کے لئے پہلے سے طے شدہ قوانین کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی بلکہ اس باہمی تعاون کے منفی اثرات پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر بھی پڑنے شروع ہو گئے۔اب نہ صرف پاکستان کو نیوکلیئرسپلائیر گروپ کا ممبر بنانے کی، میڈیا بشمول سوشل میڈیا کے ایک مذموم مہم شروع کر دی گئی ہے بلکہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام، جس کی سکیورٹی ایک مسلمہ امر ہے، اس پر بھی حملے کئے جا رہے ہیں۔


ایک طرف تو بھارت کو نیوکلیئر سیفٹی کے ضمن میں بدترین ریکارڈ اور جوہری عدمِ پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود نیوکلیئرسپلائیر گروپ کی رکنیت دی جارہی ہے جب کہ دوسری طرف پاکستان کے صنعتی اداروں کو غیرروایتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپاہج کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا اور غیر روایتی پروپیگنڈے کا مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ صرف شرمناک بلکہ معتبر عالمی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان کا باعث بھی بنے گا۔ پاکستان کے لئے یہ قطعی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر منصفانہ طرزِ عمل ہے۔ اس سے جہاں ہماری مختصر اور طویل مدتی صنعتی ضروریات اور توانائی کے حصول کی کوششوں کو زِک پہنچے گی اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دفاع کے لئے انتہائی اہم نیوکلیئر صلاحیت کو مذموم پروپیگنڈے کے ذریعے داغ دار کرنے کی کوشش اور نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی اتفاقِ رائے کی روایت ، اس کی دوہری ٹیکنالوجی کی تجارت کو متاثر کرنے کی اہلیت اور بھارت امریکہ کا گٹھ جوڑ، پاکستان کی ترقی کی کوششوں پر بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔دونوں ملکوں کی جانب سے نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے یہ خدشات نہ صرف ترقی کے لئے ہمارے مشرق کے ساتھ اشتراک کو متاثر کریں گے بلکہ ہمارے ملک کی مستقبل میں تجارت نیز پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر بھی بُرے اثرات ڈالیں گے۔


جنیوا میں این ایس جی کے حوالے سے گفت و شنید اور بھارتی وزیرِاعظم کی این ایس جی میں شمولیت کی شاطرانہ کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب یہ انکشاف ہوا کہ نو بھارتی ادارے نیوکلیئرٹیکنالوجی کے حوالے سے خلاف ورزیوں کی وجہ سے حالیہ عرصے میں امریکہ کی درآمدی کنٹرول کی فہرست کا حصہ تھے۔ اس تمام کے باوجود موجودہ اوبامہ انتظامیہ اپنے آخری ایام میں بھارت کی نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت کے حصول میں مدد کر رہی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کے خلاف کسی معتبر شہادت کے بغیر ہی سوشل میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پرپاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اہم اقدامات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔


نیوکلیئرسپلائیر گروپ میں شمولیت ہو یا دیگر نیوکلیئر سے متعلق معاملات پاکستانی قوم کے خدشات بے بنیاد نہیں بلکہ اس کی ایک تازہ مثال اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے سات پاکستانی گروپس اور اداروں پر پابندی کا اعلان ہے۔ یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف کامرس نے ان سات
Entities
کو ایک نوٹیفکیشن کے تحت
Export Administration Regulations (EAR)
کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ تاہم یہ امر باعث تشویش اورمجرمانہ تعصب کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس پابندی کا باعث بننے والی کسی بھی وجوہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اپنے آخری مہینوں میں برتے گئے اس تعصب سے مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لئے پاکستانی اداروں کی فہرست میں شمولیت کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔


غیرمصدقہ اور مشکوک ذرائع جیسا کہ سوشل میڈیا، تجارتی ویب سائٹوں، انٹیلی جنس رپورٹوں اور وکی لیکس کی بنیاد پر تیار کردہ الفا پروجیکٹ پر شکوک کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس مشکوک رپورٹ کی بنیاد پاکستان کے پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات اور خدشات پیدا کئے جار ہے ہیں۔ ایسی رپورٹوں سے نہ صرف پاکستان کی نیوکلیئرسپلائر گروپ میں شمولیت کا کیس پیچیدہ ہوجائے گابلکہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ باہمی تعاون کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایسے ذرائع پر بھروسہ کرکے تشکیل دی گئی رپورٹ میں کالعدم اداروں کی فہرست میں شمولیت یا پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کے بارے میں تشویش پیدا کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہئے۔ پاکستانی کمپنیوں کی امریکہ کے کالعدم اداروں کی فہرست میں شمولیت ، جیسا کہ الفا رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا، پاکستان کی دفاعی ، نیوکلیائی اور عمومی صنعتوں کو بری طرح متاثر کرے گی۔


مذکورہ پروجیکٹ کا بظاہر مذموم مقصد مخصوص عناصر کے ایما پر پروپیگنڈا کو بنیاد بنا کر پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی صنعتوں کو نشانہ بنانا ہے۔ مزید برآں یہ رپورٹ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مستقبل کی امریکی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدہ تر بنانے کی کوشش بھی ہے۔
پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند ہے اور پاکستان نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کے معیارِ اہلیت پر پورا اترتا ہے۔ بے بنیاد،کمزور اور مشکوک معلومات کو بنیاد بنا کر امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے شکار اداروں کی فہرست میں توسیع پاکستان کی تجارت اور ترقی پر منفی اثرات ڈالے گی۔ اس طریقے سے بغیر کسی اصول اور معیار کے بین الاقوامی برآمدی کنٹرولز کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا باعثِ تشویش ہے۔ اسی طرح اگر بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کا قانوناً پابند نہیں کیا جاتا تو اس سے سب سے زیادہ نقصان نان این پی ٹی ممالک کو ہی ہو گا۔


پروجیکٹ الفا کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو این ایس جی کی ممبرشپ نہ دی جائے اور یہ بے بنیاد تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پروجیکٹ الفا نہ صرف ٹھوس مواد سے محروم ہے بلکہ اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور بظاہر اس پروجیکٹ کے ذریعے امریکہ۔ بھارت دفاعی صنعتوں کے مابین تعاون میں اضافے کے لئے راہ ہموار کرنا اور بھارت کو نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی کوشش ہے۔غیر روایتی نیٹ ورکس اور میڈیا میں چلائی جار ہی اس مسلسل مہم کا مقصد پاکستان کے دفاع،نیوکلیئر اور ہائی ٹیک صنعت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے جو کہ اصل حقائق سے قطعی مختلف ہے۔


بدقسمتی سے بھارت اور امریکہ کا باہمی تعاون بھارت کے لئے این ایس جی کی رکنیت کی درخواست تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کاپس پردہ محرک دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تجارت اور ٹیکنالوجی میں تعاون بھی ہے۔ اس تعاون کی چار جہتیں ہیں یعنی یو اے ویز
(Unmanned Aerial Vehicles)
کی بھارت میں پیداوار،بحرِ ہند میں بھارتی بالادستی کے لئے اقدامات،ایف سولہ کی فراہمی کا دفاعی معاہدہ اور جیٹ پروپلژن سسٹم جس سے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ کے لئے دفاعی معاہدہ تشکیل پا جائے گا۔


اسی طرح بھارت اور اسرائیل کا بری ،فضائی اور بحری فوجی تعاون بشمول انٹیلی جنس کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ موساد اور را کے مابین تعاون صرف انٹیلی جنس کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل بھارتی فوجیوں کو سرجیکل سٹرائیکس کا اہل بنانے کے لئے تربیت بھی دے رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے دفاعی اور سکیورٹی مفادات مشترکہ ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ملک وسیع پیمانے پر تعاون کررہے ہیں۔ جن میں بھارتی فضائیہ کے لئے جدید لڑاکا سسٹمز کی فراہمی،طویل فاصلے تک نشاندہی کرنے والے ٹریکنگ راڈار، زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل،بحریہ کو جدید جنگی کشتیوں کی فراہمی اور بہتری میں تعاون، اینٹی سب میرین ہیلی کاپٹروں کے لئے تعاون،جاسوس سٹیلائٹ اور اینٹی بالسٹک میزائل ٹیکنالوجی میں تعاون شامل ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور ہائی ٹیک صنعتوں میں تعاون تقریباً نو ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دونوں ملک کشمیر میں مشترکہ طور پرپُر امن جدوجہدِ آزادی کو دبانے کے لئے کوشاں ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کو نیوکلیئر دھمکیاں انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پروپیگنڈا مہم اور سوشل میڈیا کواستعمال کرنے میں ماہر اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو چاہئے تھا کہ اسلام آباد کی طرف سے ردِ عمل آنے سے قبل ہی پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیتی۔ تاہم جس
Website
نے اسرائیلی دھمکی والی خبر دی تھی اس کی تردید کرنے میں اسرائیل نے 96گھنٹے کی تاخیر کی۔ یہ تاخیر معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے بلاوجہ نہیں تھی بلکہ حالیہ دھمکی سوشل میڈیا کو بطورِ ذریعہ استعمال کرنے اور اسے علمی مباحثے کا حصہ بنا کر حقیقی صورتِ حال کا تاثر دینے کی بہترین مثال ہے۔


پاکستان کے دفاع، ہائی ٹیک صنعتوں اور نیوکلیئرپروگرام کے خلاف ایسے غیرمحفوظ ذرائع سے قائم کیا گیا تاثر قطعی ناقابلِ قبول ہے۔ سیاسی بنیادوں پر پابندیوں کو وسعت دینا اور بھارت امریکہ اور بھارت اسرائیل دفاعی تعاون پاکستان کے لئے مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ کا یہ تعاون اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کسی بھی ملک کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بنانے کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ مزید برآں امریکہ کی جانب سے بھارت کو ہائی ٹیک تجارت اور حساس ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون فراہم کیا جارہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کو نان ٹیرف اور ٹیرف رکاوٹوں کے ذریعے ننانوے اعشاریہ آٹھ فیصد رسائی سے محروم کیا جا رہاہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کے اصرار پر ان نو بھارتی اداروں کو پابندی کے شکار اداروں کی فہرست سے نکال دیا ہے جونیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ جس سے بھارت پر عائد تجارتی پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں۔ یہ تمام ادارے بھارت کے میزائل اور خلائی پروگرام پر دن رات عمل پیرا ہیں۔
بھارت کی این ایس جی میں شمولیت کے لئے امریکہ اس لئے بھی بھرپور کوششیں کر رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کی صنعت مشترک ہوگی جس سے بھارت کے بغیر ایس سی او ممالک کے مابین دفاعی تعاون کم موثر ہوجائے گا۔لگتا یہی ہے کہ ایشیاکی سطح پر بھارت کے ساتھ امریکہ اور دیگر چائنا مخالف ممالک کا ایک علاقائی بلاک بننے جا رہاہے۔ موجودہ امریکہ انتظامیہ کا بھارت کی طرف بے پناہ جھکاؤ امریکہ کے اپنے مفادات کو بھی ساؤتھ ایشیا میں زک پہنچائے گا کیونکہ اس خطے میں امریکہ تیزی سے صرف ایک ملک کے ساتھ تعاون کی جانب بڑھ رہا ہے۔


ماضی میں بھارت کو این ایس جی میں دی گئی رعایت عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے لئے اچھی ثابت ہوئی، نہ ہی اس سے جنوبی ایشیا میں استحکام آسکا۔ ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤکو یقینی بنانے کے لئے علاقائی استحکام اہم ترین عنصر ہے۔ نان این پی ٹی ممالک کو رکنیت دینے کے حوالے سے اس کلب کے تمام (اڑتالیس) ممالک کو غیر امتیازی طریقہ کار اپنانا چاہئے۔ نہ کہ صرف ایک ملک کو استثنا دینے کی کوشش۔ پاکستان دیگر نان این پی ٹی ممالک کے ساتھ بیک وقت این ایس جی میں شمولیت کا خواہش مند ہے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ رکنیت کے لئے نان این پی ٹی ممالک کی جانب سے دی گئی دونوں درخواستوں کا منصفانہ اور بیک وقت جائزہ لیا جائے۔ ایسا منصفانہ اور بے تعصبانہ طریقہ اختیار کرنے سے نیوکلیائی پھیلاؤ کو روکنے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔ پاکستان تقریباً ایک عشرے سے این ایس جی کے ساتھ کام کر رہاہے اور اب باقاعدہ طور پر گروپ میں شمولیت کے لئے تیار ہے۔


اس تمام صورت حال میں جس کو نیوکلیئر سکیورٹی اور تجارت کے نام پر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ایک اور پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ وہ پہلو پاکستان کی صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبے کو صرف تجارتی راہداری کے معنوں میں نہیں لیا جانا چاہئے بلکہ پاکستان، آنے والی دہائیوں میں، اس کو ایک مکمل معاشی و صنعتی منصوبہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان میں صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کا حصول بہت اہم ہو گا اور کسی طرح کی قدغن ہمارے بہتر مستقبل میں ایک رکاوٹ تصور کی جائے گی۔

مضمون نگار ساؤتھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ اور

SASSI

یونیورسٹی کی ڈائریکٹر جنرل اور چیئرپرسن ہیں۔ مصنفہ جنوبی ایشیا کے نیو کلیئر آرمز کنٹرول اور ڈس آرمامنٹ معاملات اور دفاع کی ماہر تجزیہ نگارہیں۔ ان کے تحقیقی مضامین مختلف جرنلز‘ اخبارات اور کتابوں میں شائع ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وجیکٹ الفا کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو این ایس جی کی ممبرشپ نہ دی جائے اور یہ بے بنیاد تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پروجیکٹ الفا نہ صرف ٹھوس مواد سے محروم ہے بلکہ اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور بظاہر اس پروجیکٹ کے ذریعے امریکہ ۔بھارت دفاعی صنعتوں کے مابین تعاون میں اضافے کے لئے راہ ہموار کرنا اور بھارت کو نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی کوشش ہے۔غیر روایتی نیٹ ورکس اور میڈیا میں چلائی جار ہی اس مسلسل مہم کا مقصد پاکستان کے دفاع،نیوکلیئر اور ہائی ٹیک صنعت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے جو کہ اصل حقائق سے قطعی مختلف ہے۔

*****

 
Read 1062 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter