ہے شوق شہادت کس قدر۔۔۔

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

(پاکستان نیوی)

چھ ستمبر 2014 کو جب دشمن نے اس ملک کے یوم دفاع پر اس قوم کی غیرت کو للکارا تو وہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ یہ دن تو خود اس قوم کے آہنی عزم اورشجاعت کامنہ بولتا ثبوت ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس وطن کے بہادر سپاہی دشمن کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو نے دیں گے۔ چھ ستمبر کی صبح جب دہشت گردوں نے پاکستان نیوی ڈاک یارڈ پرحملہ کرنے کی کوشش کی تو محمدارشاد ایس این اے 4 پیٹی آفیسر آف دی ڈے کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہیں جوں ہی دہشت گردوں کی موجودگی کا علم ہو ا انہوں نے افسران بالا کو مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پرڈیوٹی پر موجود تمام عملے کو ہدایات دینے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ انہوں نے کمال فرض شناسی اور چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بذات خود ہر سنتری کو ہدایات دیں اورجہاں جہاں ممکن تھا خود جا کر صورت حال کا معائنہ کرتے رہے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پوری ہمت اور دلیری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے انہوں نے ایسی حکمتِ عملی اپنائی کہ دشمن کو زیادہ حرکت کا موقع نہ ملے اور وہ ڈاک یارڈ کے اہم حصوں کی طرف پیش قدمی نہ کرپائے۔دشمن کی طرف سے گولیاں اور ہینڈ گرینیڈ فائر ہونے کے باوجود محمد ارشاد اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرتے رہے کیونکہ دشمن کا کوئی بھی ہتھیار ان کے عزم سے زیادہ طاقتور نہیں تھا۔ان کے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کی بدولت دہشت گرد ایک جگہ محصور ہو کر رہ گئے اوروہ جس بڑی تباہی کے عزم سے آئے تھے‘ اس کے بجائے مدافعانہ حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو گئے تاہم انہیں صرف حصار میں لے لینا کافی نہیں تھا ۔دہشت گردوں کی جانب سے اب بھی فائرنگ جاری تھی۔اپنے فرض کے احساس اورقومی اثاثوں کے تحفظ کی خاطر محمد ارشاد نے دشمن کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے عزم سے اب جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کی جانب سے برستی گولیاں ان کے راستے کی دیوار بن سکیں نہ ہی ہینڈ گرینیڈ ان کے بڑھتے قدم روک سکے ۔وہ آگے بڑھتے رہے اور اپنے ساتھیوں کی ہمت بندھاتے رہے۔ ان کے الفاظ اور بلند حوصلہ ان کے ساتھیوں کا خون گرماتے رہے اور وہ وطن عزیز کی حرمت کی خاطر ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ دشمن کی کمین گاہ تک جا پہنچے اور اسی دوران دشمن کی ایک گولی ان کے سر اور دوسری ان کی گردن کو نشانہ بنا گئی لیکن اپنی آخری سانس تک اس ملک کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے محمد ارشاد نے اپنا عہد نبھایا اور اس وقت تک اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیتے رہے جب تک ان کے جسم میں زندگی کی آخری رمق باقی رہی۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گر گئے اور دوبارہ اٹھ نہ سکے لیکن ان کی اپنی ڈیوٹی سے لگن اور فرض شناسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس ہینڈ ہیلڈ ریڈیو پر وہ اپنے ساتھیوں کو ہدایات دے رہے تھے شہادت کے بعد بھی وہ ریڈیو ان کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ریڈیو پر ان کے ہاتھ کی مضبوط گرفت اس مصمم ارادے اور عزم کا ثبوت تھی جس کی بدولت انہوں نے اپنی جان قربان کر دی لیکن دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام کر دیا۔ان کے جرأت مندانہ اقدامات اور بہترین حکمت عملی کی بدولت آپریشن کرنے والی ٹیم نے بہت جلد دہشت گردوں پر قابو پا لیا اور تمام دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کرقومی اثاثوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچنے دیا۔

hayshadat.jpgمحمد ارشاد مری کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔7 جنوری1975 کو پیدا ہونے والے محمد ارشادچار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے لیکن بڑا بیٹا ہونے کے ناتے ہمیشہ اپنے والدین کے لئے سہارا بنے۔ والد کی ملازمت کے باعث ان کی غیر موجودگی میں محمد ارشاد نے ہمیشہ ایک ذمہ دار بیٹے کی حیثیت سے نہ صرف اپنی والدہ کا ساتھ دیا بلکہ اپنے بہن بھائیوں کے لئے بھی شفیق بھائی کا کردار ادا کیا۔ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جو محبت ،رواداری اور حسن اخلاق ان کی شخصیت کا حصہ تھا‘ اس کی بدولت وہ اپنے اقربا ء میں بے حد مقبول تھے۔ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں گھر کے ایسے سربراہ تھے جن کے بغیر گھر کا تصور ہی محال تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شفقت اور تربیت ان کے بچوں کی شخصیت میں نظر آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ان کا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے خواب اس کے والد کی طرح بہت بڑے اور ارادے بلند ہیں وہ اس ملک کے ان محافظوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوانے کا خواہاں ہے جن کی عظمت کی داستانیں اس خطے میں نسلوں تک دہرائی جاتی رہیں گی۔


محمد ارشاد کے کمانڈنگ آفیسرکیپٹن ہاشم رضا کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی محنتی اور قابل ٹیم ممبر تھے۔ اُن کے مطابق محمد ارشاد پاک بحریہ کے ہر آفیسر اور سیلر کے لئے عزم و ہمت اور فرض شناسی کی ایک زندہ مثال ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ محمد ارشاد کا ذکر ہر نئے آنے والے سیلر اور آفیسر کے سامنے ضرور کرتے ہیں تاکہ ان کی شخصیت میں بھی وہ اوصاف پیدا ہوں جن کی بدولت محمد ارشاد نے اس ملک کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔۔بحری جہازوں پر موجود کیبن ہمیشہ ایک جیسے نمبروں سے پہچانے جاتے ہیں تاہم محمد ارشاد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پاک بحریہ کے ایک جہاز پرسیلر ڈائیننگ ہال کا نام محمد ارشاد شہید کے نام پر رکھا گیا ہے تاکہ اس جہاز پر آنے والے ہر سیلر کے سامنے محمد ارشاد کی شجاعت کی مثال ہمیشہ موجود رہے۔


لیفٹیننٹ کمانڈر عاطف جو محمد ارشاد کے ڈویژنل آفیسر بھی رہے‘ کہتے ہیں کہ محمد ارشاد ان لوگوں میں سے تھے جو اپنے جونیئرز کے لئے ایک قابل تقلید مثال بن کر کام کرتے ہیں۔محمد ارشاد کبھی اپنے جونیئرز کے ساتھ مل کر کام کرنے سے کتراتے نہیں تھے،ان کے اند ر سیکھنے اور کچھ نیا کر دکھانے کا ایک ایسا جذبہ تھا جو انہیں کہیں رکنے نہ دیتا ۔ وہ ہمیشہ نئے افق کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور خوب سے خوب تر کرنے کی جستجو رکھتے تھے۔انہوں نے محمد ارشاد کی فرض شناسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فرض پر کسی اور کام کو ترجیح نہ دیتے حتیٰ کہ اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی کے دل کے آپریشن کے وقت بھی جب انہیں بیٹی اور فرض میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو انہوں نے بیٹی کے آپریشن میں تاخیر گوارا کر لی مگر فرض کو ترجیح دی ۔محمد ارشاد کے سینئر افسران کے مطابق وہ پاک بحریہ کا ایک اہم اثاثہ تھے۔پاک بحریہ کا ہر شخص محمد ارشاد کا مقروض اور شکرگزار ہے کہ انہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کرنہ صرف قومی اثاثوں کا تحفظ کیا بلکہ اس ملک کو ایک بڑی تباہی سے بھی بچا لیا۔


محمد ارشاد نے نہ صرف وطن سے کیا ہوا وعدہ وفا کیا بلکہ اپنے والدین کا سربھی فخر سے بلند کردیا ۔ان کے والدکہتے ہیں کہ میرے بیٹے کی قربانی نے ہمارے علاقے کے لوگوں کا سر بھی بلند کردیا ہے اور آج دیر کوہ ستیاں کی ہر ماں اپنے بچے کو اپنے مُلک کے دفاع کے لئے وقف کرنے کا عزم رکھتی ہے۔تعلیم کے میدان میں ہمیشہ امتیازی کارکردگی دکھانے والے محمد ارشاد نے نہ صرف زندگی کے ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ رہتی دنیا تک ایسے مرتبے پر فائز ہو گئے کہ جس میں ان سے سبقت لے جانا ممکن ہی نہیں۔ ان کی بے مثل شجاعت ، فرض شناسی اور وطن کی خاطر جان قربان کرنے کے اعتراف میں انہیں (بعد از شہادت) ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔

 

کشمیر جل رہا ہے


(کشمیر کے موجودہ تناظر میں لکھی گئی نظم)


کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر میں ہر گام پہ ہوں ظُلم کے پہرے
ہر آن فضاؤں میں رہیں خوف کے سائے
کشمیر کی وادی میں ہوں سہمے ہوئے بچے
کشمیر کے بیٹوں کے اٹھیں روز جنازے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر کی وادی سے ہوں ماؤں کی صدائیں
کشمیر کی بہنوں کے نہیں سر پہ ردائیں
کشمیر کی وادی میں کُہرام مچا ہو
کشمیر کی بیٹی کی ہوں دلدوز صدائیں
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر ترے بیٹے جھکے ہیں نہ جھکیں گے
حق بات سرِ عام سرِ دار کہیں گے
کشمیر کی آزادی کا دِیا جلتا رہے گا
کشمیر کے پروانے سدا جلتے رہیں گے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے
کشمیر کی وادی سے اٹھیں آگ کے شعلے
کشمیر کی وادی سے اٹھیں خون کے چھینٹے
کشمیر کی وادی میں رہے ظُلم مسلسل
گولی کے نشانے پہ ہو ں کشمیر کے بیٹے
کشمیر کی وادی پہ ہو بھارت کا تسلّط
یہ بات کسی طور گوارا نہ کریں گے


غضنفر علی شاہدؔ

*****

 
Read 487 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter