پاک زمیں کا ناز ہیں ہم

تحریر: یٰسین سروہی

کیپٹن فرحت حسیب حیدر شہید ستارہ جرأت کی داستانِ شجاعت محمد یٰسین سروہی کے قلم سے

کیپٹن فرحت حسیب حیدر نے پاکستان آرمی کی مایہ ناز بٹالین 9 پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ جب آپ نے یونٹ میں شمولیت اختیار کی تو 9 پنجاب رجمنٹ بہاولپور کینٹ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی تھی۔نئے آنے والے مہمان افسرکا فوجی روایات کے مطابق استقبال کیا گیا اور موصوف اس نئے مہمان افسر کی استقبالی ٹیم کا ایک حصہ تھا۔ انتہائی شاندار انداز میں استقبال کرنے کے بعد آپ کو میگزین گارڈ لے جایاگیا۔ ایک دن یہاں کی ڈیوٹیاں جاننے کے بعد آپ کو لانس نائیک کے عہدے پر ترقی دی گئی اور بعد میں آرمی کے تمام رینکس کا تجربہ دلایا گیا روزانہ آپ کا رتبہ تبدیل ہوتا رہا اور آپ کمپنی صوبیدار سے سیکنڈ لیفٹیننٹ بن گئے ،ان چند دنوں میں آپ کو ان تمام مراحل سے گزارا گیا جو ایک جوان کی زندگی کا معمول ہوا کرتا ہے تاکہ جب آپ ترقی کرکے یونٹ کمانڈر یا اس سے بڑے عہدے پر فائز ہوں تو آپ کو جوانوں کے تمام مسائل کا ادراک ہو، بعد ازاں نئے آنے والے ہونہار افسر کو الفا کمپنی میں پوسٹ کیا گیا اور جب یونٹ فیلڈ ایریا میں تربیتی مشقوں کے لئے موج گڑھ گئی تو آپ کو یونٹ انٹیلی جینس افسر متعین کیا گیا۔ بحیثیت نوجوان افسر آپ نے اپنی شاندار عسکری صلاحیتوں کابھر پور مظاہرہ کیا اور ہر چھوٹے اور بڑے تربیتی آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔


1998 کی ابتدا میں آپ کی پوسٹنگ این ایل آئی رجمنٹ میں کی گئی۔ اس وقت 9 پنجاب رجمنٹ کوہاٹ سے کچھ فاصلے پر ایک سرحدی چھاونی ٹل میں تعینات تھی۔کیپٹن فرحت حسیب نے این ایل آئی رجمنٹ میں انتہائی پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور اپنے جوانوں کی اچھے انداز میں تربیت کی۔ 1998 کے آخری ایام میں بھارتی افواج کی ہٹ دھرمی کا جواب دینے کے لئے ہمارے کچھ دستے اپنی سرحدوں کے دفاع کے لئے آگے بڑھے۔ روز بروز بڑھتی ہوئی بھارتی ہٹ دھرمی خطے کا امن و امان تباہ کررہی تھی اس کا بھرپور جواب دینا خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لئے لازمی تھا۔ پاکستانی سربکف سپوتوں نے اپنے آخری مورچوں پر جا کر صف بندی کرلی تاکہ دشمن کی ہر طرح کی جارحیت کا جواب دیا جا سکے۔انہی دستوں میں کیپٹن فرحت حسیب حیدر بھی اپنے جوانوں کے ساتھ اگلے مورچوں میں سینہ سپر تھے۔


کارگل کا علاقہ بھارتی کی فوج کے لئے بہت زیادہ اہمیت کاحامل تھا، ان کو معلوم تھا کہ اگر کارگل پر چند مجاہدین بیٹھ جائیں تو اگلے علاقوں میں متعین انڈین فوج بغیر کسی لڑائی کے ہی مر جائے گی۔ لداخ اور سری نگر کا واحد زمینی راستہ کارگل سے گزرتا ہے۔ سیا چین پر موجود بھارتی فوج کی کمک و رسد اور جوانوں کی تبدیلی کے لئے کارگل سب سے بہتر راستہ ہے۔ یہ راستہ سال کے دس مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ یہاں قائم آرمی چیک پوسٹوں کی اونچائی 5000 میٹر یا اس سے زائد ہے۔ بھارتی فوج کو انہی دو مہینوں میں سیاچن میں زندہ رہنے کے لئے اپنا راشن پانی اور صف بدلی کرنا ہوتی ہے۔ سیاچین جانے والی اس شاہراہ کو این ایچ ون ڈی کہا جاتا ہے۔ اسی شاہراہ سے اگلے مدفوعہ علاقوں کے لئے بھاری سازوسامان لے جایا جاتاہے۔یہاں مجاہدین کے قبضے کے بعد جہازوں کے ذریعے بھی اپنی سپلائیز کو جاری رکھنا انڈیا کے لئے ممکن نہیں تھا۔ اس لئے یہ راستہ انڈیا کے لئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ کارگل کی چوٹیوں پرکشمیری مجاہدین نے یہ آپریشن کرنے کا فیصلہ انڈیا کے سیاچن پر قبضے کرنے کے فوراً بعد کر لیا تھا اور قبضے کرنے کے لئے بالکل انڈیا والا طریقہ اختیار کیا تھا۔ جب موسم کی سختی کے باعث انڈین فوجوں نے اپنی پوسٹیں خالی کیں تو کشمیری مجاہدین نے ان پر قبضہ کر لیا۔ جب بھارتی فوجی واپس مورچوں میں آنے لگے تو ان کااستقبال مجاہدین نے گولیوں سے کیا اور بھارتی قیادت اس سے بوکھلا گئی،خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور دشمنان پاکستان کی حرکتوں کو لگام دینے کے لئے پاک آرمی کے چند سو سپوت اورسرحدی پیرا ملٹری فورسز حرکت میں آئی اوردشمن سے لڑائی شروع ہوگئی۔ 

 

pakzamenkanaz.jpgبھارت کو جب مجاہدین کے اس قبضے کی خبر ملی تو اس نے کشمیری مجاہدین سے کارگل دوبارہ حاصل کرنے لئے اپنی کافی فوج استعمال کی جن کی تعداد 2 لاکھ سے زائد تھی۔ جس کو انڈین ائیر فورس کے 60،70 جنگی طیاروں کی پوری مدد حاصل تھی۔ ان کے مقابلے میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر موجود مجاہدین اورباڈر پر متعین پاک فوج کے پاس دستی ہتھیار ہلکی توپیں اور مارٹر گنیں تھیں۔ بھارت نے دوران جنگ جدید ترین بوفرتوپیں استعمال کیں جو بالکل درست نشانہ لگانے کے لئے مشہور ہیں۔اس کے باوجود ان چوٹیوں کا دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش میں انڈیا کو بہت بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ خاص کر ٹائیگر ہل کی چوٹی پوائنٹ4590 پر حملے میں انڈیا کی تاریخ کی کسی بھی جھڑپ میں سب سے زیادہ فوجی مارے گئے۔انڈیا کو زیادہ کامیابی نہ مل سکی۔اسی دوران پاکستان نے انڈیا کے مگ 27اور مگ21فائٹر جہاز مار گرائے۔ اسی طرح انڈیا کا ایک ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر بھی گرایا گیا جو پاکستانی سٹنگرز کا نشانہ بنا۔ پاک فوج کے دستوں نے ایک انڈین جہاز بٹالک سیکٹر میں بھی گرایا۔


بھارت کی ہٹ دھرمی کو دیکھ کر پاک فوج نے بھی اپنے نیم فوجی دستوں اور پیر املٹری ٹروپس کو حرکت دی تاکہ کشمیری مجاہدین کی مدد کی جاسکے اور اپنی سرحدوں میں بین الاقوامی دہشت گردوں کو گھسنے نہ دیا جائے۔بھارت نے 1971کی جنگ کے بعد پہلی دفعہ اپنی فضائیہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس طرح بھارت کی بری افواج درپیش چیلنجز کے مقابلے پر بہت بڑی تعداد میں مقبوضہ کشمیر میں سال ہا سال سے تعینات ہیں۔ اسی طرح کارگل سیکٹر سے مجاہدین آزادی کے چیلنجزکا مقابلہ کرنے کے لئے بھارت نے درجنوں لڑاکا طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے آپریشن کو وجے کا نام دیا۔ جب دشمن کی جارحیت حد سے زیادہ بڑھ گئی تو پاک آرمی کے سپوتوں نے خود کو پیش کیا اور دشمن کو سبق سکھانے کے لئے دشمن کی طرف رخ کیا۔ 4 جون کو دشمن پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھا تو سامنے فرحت حسیب اور راقم اپنے مورچوں میں مورچہ زن تھے، اس روز ہمارے جوانوں نے جی بھر کر دشمن کو نقصان پہنچایا اور یوں دشمن کا ایک حملہ پسپا ہوگیا اور اب کسی بڑے حملے کی توقع کی جا رہی تھی۔ حسب توقع7جون کو دشمن نے ایک بہت بڑی افرادی قوت کے ساتھ کیپٹن فرحت حسیب کے مورچوں پر حملہ کر ڈالا اس بار دشمن کو آرٹلری اور فضائی حمائت حاصل تھی جس سے پاک آرمی کا کچھ نقصان ہوا مگر ہم اپنی خامیوں کو دور کرکے مزید اچھے انداز میں دشمن کو خوش آمدید کرنے کے لئے تیار ہوگئے مگر اس دورا ن ہماری سپلائی لائن میں کچھ خلل پیدا ہوا اس کا دشمن نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور خوب آتش برسائی۔9 جون کی صبح کو دشمن نے مارٹروں اور بھاری توپ خانے سے دوبارہ حسیب حیدر کی پوسٹ پر بمباری کی اوراسی جھڑپ میں سخت لڑائی کے دوران کیپٹن فرحت اور ان کے ساتھیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جب تک ہمارے شہیدان چمن کی رگوں میں لہو اور آنکھوں میں نور رہا دشمن ہماری طرف آگے نہ بڑھ سکا۔ 29جون کو کچھ فاصلے پر میجر وہاب اور آپ کے ساتھیوں نے وطن عزیز پر اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔گلتری سیکٹر میں لالک جان نے دادشجاعت دی اور مادر وطن پر قربان ہوگیا اور یوں ان فرزندان وطن نے اپنا لہو بہا کر وطن کی مٹی کی حفاظت کا حق ادا کردیا۔


کیپٹن فرحت حسیب حیدر نے جس دلیری، بے باکی اور جرأت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے وطن کی آبرو پر اپنی جان نچھاور کی اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔آپ نے وطن کے دفاع کی خاطر پندرہ سے سترہ ہزار فٹ بلند ی پر واقع برف پوش چوٹیوں اور انتہائی نا مساعد موسمی حالات میں انتہائی جانفشانی سے کام کیا۔ اس معرکے میں آپ اور آپ کے جوانوں نے بے خوفی کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ جھپٹ کر پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا صفاتی اعتبار سے پاکستان کے عساکر کی پہچان بن گیا۔ آپ اپنے مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ اپنے علاقے میں مورچہ زن رہے اور جب تک آپ کی رگوں میں خون دوڑتارہا دشمن آپ کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکا۔ کیپٹن فرحت حسیب حیدر کی جرأت اور بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو بعد از شہادت ستارہ جرأت سے نوازا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 849 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter