سعادت کی زندگی شہادت کی موت

تحریر: رسالدار (ریٹائرڈ) بغداد شاہ

سپاہی سہیل خان کے والدگرامی رسالدار (ریٹائرڈ) بغداد شاہ کی آپریشن المیزان میں شہید ہونے والے اپنے بیٹے کے بارے میں ایک تحریر

زندہ قوموں کی ایک پہچان قوم کے بہادر اور بے باک بیٹے ہیں جو اپنے وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ایسے بیٹے قوم کے سر کا تاج ہوتے ہیں اور قوم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہے۔ ایسا ہی ایک بیٹا سپاہی سہیل خان ہے جنہوں نے اپنی جان وطن کی حرمت پر قربان کر دی۔


سہیل خان نے میٹرک تک تعلیم آبائی گاؤں محب بانڈہ میں حاصل کی۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کا بھی بہت شوقین تھا اور والی بال کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ سہیل خان پاک فوج میں شامل ہونے کا از حد متمنی تھا۔ کبھی کبھی مجھے کہتا تھا کہ ابو مجھے فوج میں بھرتی کروائیں کیونکہ آپ توخود بھی آرمی میں رسالدار ہیں۔ میں نے اُس کو کہا کہ ٹھیک ہے چونکہ میں خود اس وقت کوئٹہ ڈویژن میں 13لانسرز (آرمڈکور) میں سروس کررہا تھا تو میں نے سہیل خان کی پری ٹریننگ کے لئے یونٹ کمانڈنٹ سے بات کی۔ انہوں نے مجھے اجازت دے دی۔ پھر سہیل خان میری یونٹ سے پری ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد گھر واپس چلا گیا۔ میرے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سہیل خان نے بھی وطن کے محافظوں کی صف میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور کوہاٹ بھرتی دفتر چلا گیا۔ تربیت کے دوران ایبٹ آباد ریکروٹمنٹ سنٹر کے مختلف ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔ جس میں سہیل خان نے بہترین کارکردگی پر سنٹر کمانڈنٹ سے انعامات بھی حاصل کئے۔

 

sahadatkizin.jpgپاسنگ آؤٹ کے بعد جب سہیل خان اپنے فرائض پر مامور ہوئے اس وقت اس کی یونٹ 16ایف ایف رجمنٹ پشاور کینٹ میں تھی جب کرم ایجنسی میں حالات خراب ہوئے تو ملک کے دفاع کے لئے 16ایف ایف کو کرم ایجنسی جانے کا حکم ملا۔ وہ کرم ایجنسی میں تعینات اپنی یونٹ کے ساتھ پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتا رہا۔ وہ وہاں سے ایک ماہ کی چھٹی آیا تو ہم نے اُس کی شادی کرا دی۔ وہ اپنی چھٹی گزار کر واپس چلا گیا۔ میرے بیٹے نے جاتے وقت اپنی والدہ محترمہ سے کہا تھا کہ ماں ہمیں دعاؤں میں یاد رکھنا انشاء اﷲ والدہ کی دعاؤں سے ضرور کامیاب ہوں گے۔ یہ میرے بیٹے کے والدہ محترمہ سے آخری الفاظ تھے۔ سپاہی سہیل خان جب اپنی یونٹ کے ساتھ آپریشن ایریا پہنچا تو کچھ دن گزرنے کے بعد ہمارے ملک کے خلاف شدت پسندوں نے چوگی قلعہ پرحملہ کیا جس کا پاک فوج نے ان شرپسندوں کو مؤثر جواب دیا اس وقت سخت سردی کا موسم تھا اور اس جوابی کارروائی کے دوران کچھ سپاہی زخمی بھی ہوئے۔ مگر میرے بیٹے نے اپنے حوصلے کو بلند رکھا اوردشمن کو مزید آگے نہیں بڑھنے دیا۔ سپاہی سہیل خان شدت پسندوں سے ڈٹ کر مقابلہ کر رہا تھا۔ اس دوران دشمن کی طرف سے شدید فائرنگ جاری رہی۔ خراب موسم کی وجہ سے ہتھیاروں کی رکاوٹیں پیش آتی رہیں جو بھی ہتھیار فائر نگ کے دوران رک جاتا تھا تو سپاہی سہیل خان ان ہتھیاروں کی صفائی اور رکاوٹیں دور بھی کرتا تھا۔اس نے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند رکھا اور دشمن کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔


31جنوری2012 کو شدید فائرنگ جاری تھی۔ اس دوران دشمن کی جانب سے کی گئی گولیوں کی بوچھاڑ سپاہی سہیل خان کو شہادت سے ہمکنار کر گئی۔ سپاہی سہیل خان (شہید) میرا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ جب مجھے شہادت کی خبر ملی تومیری زبان پرالحمد ﷲ اور انا ﷲوانا الیہ راجعون کے الفاظ تھے۔


وہ وقت اور دن کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش دن تھا۔ اس دن مجھے اپنے بیٹے سپاہی سہیل خان کی شہادت کی اطلاع موبائل فون پر رجمنٹ کے صوبیدار میجر نے دی تھی۔
قومی پرچم میں ملبوس شہید کے جسدِ خاکی کو تدفین کے لئے گاؤں محب بانڈہ لایا گیا تو پاک فوج کے ایک چاق چوبند دستے نے اسے سلامی دی۔ مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے‘ موت تو برحق ہے اور سب نے مرنا ہے لیکن شہادت والی زندگی ہر ایک کامقدر نہیں ہوتی۔ اگرچہ مجھے بیٹے کی جدائی کا دُکھ ضرور ہے مگر مجھے ملک اور قوم کے لئے اپنے بیٹے کی شہادت کا رتبہ اور بھی اچھالگا میری دعا ہے اﷲ تعالیٰ ایسے بیٹے سب ماؤں کو دے۔میرے بیٹے کی بہادری پر حکومت پاکستان نے اعتراف کرتے ہوئے ان کو بعد از شہادت تمغۂ بسالت عطا کیاہے۔

 
Read 431 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter