Super User

Super User

The Directorate of Inter-Services Public Relations (known by its acronym ISPR) (Urdu: شعبہٴ تعلقات عامہ‎) is an administrative military organization within the Pakistan Defence Forces that coordinates military information with the media and the civil society. The ISPR is now headed by 2-star rank officer Major General Asim Saleem Bajwa who took over from Major General Athar Abbas in June 2012

Website URL: http://www.ispr.gov.pk

09
February
فروری 2018
شمارہ:02 جلد :55
تحریر: یوسف عالمگیرین
قیامِ پاکستان کے وقت برصغیر میں قائم برطانوی حکومت اور کانگریس کی ملی بھگت کی بدولت خطے کے دو اہم ملک پاکستان اور ہندوستان آج بھی مختلف تنازعات میں گِھرے ہوئے ہیں جن میں کشمیر کا تنازعہ سرفہرست ہے۔ ایک سازش کے تحت ضلع گورداسپور کو جو کہ پاکستان کا حصہ بنتا تھا، ہندوستان کو دے دیا گیا، جس سے ہندوستان کے لئے کشمیر میں افواج داخل کر کے قبضہ کرنا بہت آسان ہو گیا....Read full article
 
تحریر : عقیل یوسف زئی
شورش زدہ افغانستان کے حالات تمام تر کوششوں کے باوجود بہتر نہیں ہو رہے اور 2018 کو اس ملک کی سلامتی اور سیکورٹی کے حوالے سے تجزیہ کار کافی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ سال 2002 کے دوران جب امریکہ اور نیٹو کی ایک لاکھ سے زائد فورسز افغانستان میں داخل ہوئیں تو طالبان نے ایک حکمتِ عملی کے تحت پسپائی اختیار کی کیونکہ ہر گوریلا گروپ کی یہی حکمتِ عملی ہوتی ہے....Read full article
 
 alt=
تحریر: علی جاوید نقوی
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکاچھ روزہ دورۂ بھارت بے مقصد یااتفاقیہ نہیں تھابلکہ یہ خطے میں طاقت کاتوازن بگاڑنے کے منصوبے کاحصہ ہے۔ امریکہ، بھارت، اسرائیل ایک غیرعلانیہ گرینڈالائنس بناچکے ہیں،یہ گرینڈالائنس خطے میں قیام امن کے لئے ایک بڑاخطرہ ہے۔تینوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اورپالیسی ساز ایک دوسرے سے بھرپورتعاون کررہے ہیں۔امریکی دباؤ اور بھارتی اثرورسوخ کے ....Read full article
 
تحریر: فرخند اقبال
خطّے کے امن اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ، بھارت کی لائن آف کنٹرول پر جارحےّت میں شدت ہے،جس کے نتیجے میں سرحد پر وطن کی حفاظت کی ذمہ داریاں نبھانے والے ہمارے بہادر فوجی جوانوں اور سرحدی علاقے کے شہریوں کی شہادتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر میں وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا....Read full article
 
تحریر: فتح محمد ملک
کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے باب میں امریکہ بھارت کے ذہن سے سوچنے لگا ہے۔ بالکل اسی انداز میں جس انداز میںمشرق وسطیٰ کی صورت حال کو اسرائیل کی آنکھ سے دیکھتا اور عربوں کے انسانی حقوق کو انتہائی سفاکی کے ساتھ ویٹو کے غیر اخلاقی حق استرداد کے مسلسل استعمال سے پامال کرتا چلا آ رہا ہے۔تنازعۂ کشمیر کے باب میں بھی تمام تر امریکی سفارت کاری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں درپیش ہولناک صورت حال سے نجات بخشنے پر مرتکز ہے.....Read full article
 
تحریر: الطاف حسن قریشی
بھارت ستر برسوں سے کشمیری عوام پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے، مگر وہ ان کے جذبۂ حریت کو ضعف نہیں پہنچا سکا، بلکہ اس میں ہر آن ایک نئی قوت اور ایک نئی شان پیدا ہورہی ہے۔ سربکف نوجوان اور پُرعزم خواتین بھارت کی غلامی کے خلاف صف آرا ہیں اور گولیوں کی بوچھاڑ میں آزادی کے نغمے الاپ رہے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ آزادی کے متوالے برہان ....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
اسی طرح شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد نے بھی چند برس قبل اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جب وہ اپنے والد کے ساتھ لندن کے ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی تو وہاں ہندوستانی را کے افسران آیا کرتے تھے جن سے مل کر بنگلہ دیش کے قیام کے لئے منصوبہ سازی ہوتی تھی۔ کیا دشمن ملک کے ساتھ ساز باز کر کے اپنا ملک توڑنا حب الوطنی ہے؟ جب مجیب نے دعویٰ کیا ہے کہ میں.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹرسیدہ صدف اکبر
موبائل فون ایک ایسی ایجاد ہے جس نے ہماری زندگیوں اور رات دن کے معمول کو اپناغلام بنا لیا ہے۔ جس کے بغیر ہم شاید اب ادھورے ہیں اور کچھ لوگ تو اب اس کے بغیر سانس لینے یا جینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ دنیا بھر میں کسی بھی وقت کسی سے بات کرنی ہو، کوئی پیغام بھیجنا ہو، فوراً اپنا موبائل فون نکالیں اور اپنا کام کریں۔ یہاں تک کہ ریڈیو، ٹی وی ، کیمرہ غرض ہر چیز اس چھوٹے سے آلے....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان
پاکستان بحریہ کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کا تعلق نہ صرف ہمارے بحری راستوں کے تحفظ بلکہ سی پیک کے مستقبل سے ہے اور یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کم وسائل کے باوجود پاکستانی بحریہ نے جس طرح پہلے اس نوع کے چیلنجوں کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اسی طرح بھارتی بحریہ کے نئے ....Read full article
 
تحریر: ہلال احمد
5 فروری کوپاکستان اور آزاد کشمیر میں ایک بار پھر ''یوم یکجہتیٔ کشمیر'' منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیریوں کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد میں مصروف کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور یہ کہ ان کی سیاسی'سفارتی اور اخلاقی سطح پرحمایت ہر قیمت پرجاری رکھی جائے گی ....Read full article
 
حریر: محمد اشرف وانی
کئی دہائیوں پر محیط مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں کئی اتار چڑھائو آئے لیکن کشمیری اپنے بنیادی حق، حق خودارادیت کے مطالبے سے نہ کبھی دستبردار ہوئے اور نہ ہی بھارت اور اس کی قابض فوج کے بے انتہا مظالم ان کی آواز دبانے میں کامیاب ہوسکے۔ وقت اور دنیا کے بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام نے بھی اپنی تحریک میں کئی نئی جہتیں متعارف کرائیں۔ کبھی یہ جدوجہد سیاسی محاذ.....Read full article
 
تحریر: فاروق اعظم
پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے بعد ویڈیو بیان میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا انڈیا اور پاکستان کو سب کچھ بھلا کر کسی مثبت سمت میں جانا چاہئے یا ایک دوسرے کے خلاف ایسے ہی چلتے رہنا ہے؟ اگرچہ سوال بڑا سیدھا ہے، تاہم اس کے جواب کے لئے گزشتہ پون صدی کی تاریخ کھنگالنی ہوگی، کہ آخر سبب کیا ہے کہ ستر سال گزرنے کے.....Read full article
 
تحریر : رابعہ رحمن
زندگی انسان سے کبھی کچھ عطا کر کے، کبھی کچھ چھین کے امتحان لیتی ہے۔ انسان رضائے الٰہی، ایمان کی طاقت، دنیاوی حرص و ہوس میں سے خود کو جس کے زیرِ اثر بھی لاتا ہے اسی کے مطابق اس کا مقابلہ بھی کر تا ہے۔ اس کا یہی فیصلہ اس کی زندگی اس کے خاندان اور وطن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ با ت اظہر من الشمس ہے کہ جہاں بھی معاملہ وردی اور وطن کا ہوتا ہے وہاں.....Read full article
 
تحریر:سید آصف شیرازید
اسفندیار بخاری 14اگست 1988کو اٹک شہر میںپیدا ہوئے۔اُن کے والد محترم سید فیاض بخاری ضلع اٹک کے معروف پیتھالوجسٹ ہیں۔ اُن کے بڑے بھائی سید شہریاربخاری انجینئر ہیں اور آج کل برطانیہ میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ جبکہ برادر خورد سید حسان بخاری میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ اُن کی والدہ اٹک شہر میں عرصہ دراز سے خواتین کو درس قرآن دے رہی ہیں۔ اسفند نے ابتدائی تعلیم اے پی ایس اٹک....Read full article

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
چٹھیاں اور سندیسے کئی اقسام کے ہوا کرتے ہیں۔ محبوب کی چٹھی کے تصور سے ہی چراغ جل اُٹھتے ہیں جبکہ یاروں کے سندیسے خزاں کو بہار میں بدل دیتے ہیں۔ فوج کی دنیا میں البتہ 'محبت ناموں' کا تصور ذرا مختلف سا ہے۔ سرکاری ڈاک کا خاکی لفافہ ہمیشہ''جل تُو جلال تُو'' پڑھتے ہوئے ہی کھولنا پڑتا ہے ........Read full article
 
تحریر: کوکب علی
ماسکو یونیورسٹی میں اردو زبان کی استاد، مترجم، دانشور، فیض احمد فیض کی کولیگ اور حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز کی حامل مصنفہ سے کوکب علی کا ہلال کے لئے خصوصی مکالمہ.....Read full article
 
تحریر: صائمہ بتول
مصنوعی ذہانت مشینوں کے علاوہ جانوروں میں بھی دکھائی جاتی ہے۔ (اے آئی) کے نام سے مشہور ہونے والی یہ صلاحیت قدرتی ذہانت
natural intelligence
کے ہم پلہ ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلقہ علم کو
Intellgence Agent
یعنی ذہین جاسوس بھی کہا جاتا ہے اور زبانی اعتبار سے مشینی نقالی جو انسانی دماغ سے قریب ترین وجدانی.....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
مجھے بتائو کہ دنیا میں کامیاب ترین لوگ کیا اپنی دولت کی وجہ سے کامیاب قرار پائے ؟ہر گز نہیں … ان کی خداد اد صلاحیتیں اور اپنے اپنے شعبوں میں ان کے کارناموں نے ان کو دوسروں سے ممتاز کیا ۔ بل گیٹس، جو دنیا کا دوسرا امیر ترین آدمی ہے ، ''ونڈوز'' جیسا سافٹ وئیر تخلیق کرنے کے باعث دولت مند ہوا، نہ کہ اس نے دولت کے بل بوتے پر.....Read full article
 
تحریر: حماس حمید چوہدری
ایک مشہور قول ہے کہ دنیا ایک کتاب کی مانند ہے اور جو لوگ سفر نہیں کرتے انہوں نے اس کتاب کا صرف ایک صفحہ پڑھا ہوتا ہے۔2009ء میں مجھے بھی شوق ہوا کہ اس کتاب کے باقی صفحوں کو پڑھا جائے۔ بچپن میں جب بھی قدرتی حسن سے مالامال علاقوں کا ذکر ہوتا تھا تو سوئٹزرلینڈ کے دیوقامت پہاڑوں، ناروے کی رنگ برنگی جھیلوں اور یونان کی تاریخی عمارتوں کی.....Read full article
 
تحریر: میجرمحمد قیصر ندیم (ر)، مسزغزل ندیم
آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر
(Autism Spectrum Disorder)
ایسی علامات کا مجموعہ ہے جس سے سماجی تعلقات، بات چیت اور رویے متاثر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس کے اثرات بہت خفیف سے لے کر شدید نوعیت تک ہو سکتے ہیں۔ اس کی علامات پیدائش کے پہلے تین سال میں ظاہر ہو جاتی ہیں جو کہ زندگی بھر کسی نہ کسی صورت رونما ہوتی رہتی ہیں۔ سماجی تعلقات، بات چیت....Read full article
 
تحریر: نورین نجم
ارے بس اب گھر چلتے ہیں۔ اتنے بڑے شہر میں نکلنا بھی کس قدر تھکاوٹ کا باعث ہے۔ میاں نے فوراً موقع دیکھ کر تیر داغ دیا۔ تھکاوٹ کیسی؟ تمہیں توکھانا بھی نہیں بنانا پڑتا ہفتے میں دو تین دن کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔....Read full article
09
February

تحریر: نورین نجم

 

گاڑی کا انڈی کیٹر' ٹک ٹک ٹک !fojikibevi.jpg

ارے بس اب گھر چلتے ہیں۔ اتنے بڑے شہر میں نکلنا بھی کس قدر تھکاوٹ کا باعث ہے۔ میاں نے فوراً موقع دیکھ کر تیر داغ دیا۔ تھکاوٹ کیسی؟ تمہیں توکھانا بھی نہیں بنانا پڑتا ہفتے میں دو تین دن کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔

جی جناب! یہی تو مزے ہیں بڑے شہروں کی پوسٹنگ کے۔

اچھا بیگم' خیر منائو پھر تم۔ پوسٹنگز نکلنے ہی والی ہیں۔ میاںنے فوراً ہی یہ کہہ دینا غنیمت جانا۔ لیکن ہم' کمال بے نیازی کے عروج پہ' اگلے ہی لمحے ان کی نفی کرگئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔

جی ہاں ! کچھ یہی گفتگو کا مرکز ہر فوجی خاندا ن میں رہا کرتا ہے۔ لفظ 'پوسٹنگ' اور وہی ہوا' دھماکہ ہوگیا اور لڑائی شروع ۔

آپ کے فلانے دوست تو بارہ سال سے بیٹھے ہیں' انہیں تو کوئی نہیں ہلا سکا اور وہ حسینہ' ان کے بچے تو اب کالج میں آگئے ہیں وہ کب پوسٹنگ جائیں گے۔ فوج کی اتنی ناانصافی۔ ہم ہی پہ ظلم کیوں ؟ ہم نہیں جائیں گے۔ نوکری جاتی ہے تو جائے۔ سفارش ڈھونڈنی چاہئے تھی۔ گائوں میں پوسٹنگ کردی۔ ہم نے بڑی دیدہ دلیری سے ایک شہر کو گائوں قرار دے دیا۔ اور کیوں نہ کہتے۔ چُن کے سب سے عجیب جگہ بھیج دیا۔ ہائے اﷲ! کیسے رہیں گے نظر بند ہو کے۔ کسی اچھی جگہ ہی بھیج دیتے۔اگر اتنا ہی پوسٹنگ کا ارمان تھاآ پ کی' تو کبھی امریکہ' انگلینڈ نہ آئی پوسٹنگ۔ شام دیر تک تو آپ بھی رہتے ہیں آفس میں، بس اب بندربانٹ مچی ہوئی ہے۔ میں نہیںجائوں گی۔ میرا آدھا جہیز ان آٹھ آٹھ ماہ کی پوسٹنگز میں برباد ہو چکا ہے۔ اتنی چھوٹی سی جگہ ' بڑا شہر؟ کہاںکا بڑا شہر۔ میاں کو ایک جرح کا حق بھی نہ دیا ہم نے۔نام تو کوئٹہ ہے نا! اﷲ میاں کے پچھواڑے۔ اس سے تو چکوال بھیج دیتے ۔ موٹر وے پر پڑے رہتے۔ نہ بابا! میں نہیں جائوں گی۔

احتجاج… کچھ احتجاج یوں بھی ہوتے ہیں۔ جن میں احتجاج کرنے والوں کا سر کچلنے کی ضرورت نہیں پڑتی نہ ہی کوئی مفاہمتی عمل درپیش ہوتا ہے۔ بس احتجاج کرنے والا خود ہی تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ فرق ہے تو اتنا کہ اس بار یہ احتجاج کسی سیاسی جماعت نے نہیں فوجی کی بیوی نے کیا ۔ معصوم سا احتجاج…

جی ہاں فوجی کی بیوی 'یہ ایک ایسی مخلوق کانام ہے جو اپنی نوعیت کا ایک ہی نمونہ ہے۔ یا یوں کہئے کہ ایک چابی سے چلنے والا کھلونا … جو شور مچاتا جاتا ہے اور چلتا جاتا ہے۔ پھر اگلی چابی ' پھر شور' پھر خاموشی' کبھی گرتا' کبھی اٹھتا' کبھی چلتا رہتا ہے اور تماشائی کو محظوظ کرتا ہے۔ ہر نئی جگہ نئے سرے سے گھر بسانا' اسے سجانا' ہنسی کی پھواریں کرنا' پھر بہت سی یادیں اکٹھی کرکے سامان سمیٹ کے' پُھر سے اڑ جانا' فوجی کی بیوی ہی جانتی ہے۔

جی! یہ وہی فوجی کی بیوی ہے جو کل تک اپنے ماں باپ کی ننھی سی کلی تھی۔ نخرے دکھاتی' ہنسی کی کلکاریاں بکھیرتی' ہر بات پہ خوش ہونے والی' اپنے ماں باپ کی ننھی کلیاں' جو خود کو اور اپنے سپاہی کو خوش رکھنا جانتی ہیں۔ کبھی اجنبی پہاڑوں سے' کبھی رنگ برنگ پھولوںسے' کبھی بن موسم برسات سے' تو کبھی برف کے گالوں سے ' مگر افسوس ان کلیوں کو ایک آہ کی اجازت نہیں وگر نہ تمام لوگ دوست' احباب' سسرال ایسے طنز کے تیر برساتے ہیں کہ وہ ننھا سا دل اکیلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ آرام طلبی جیسے طعنے' کبھی کچھ نہ کرنے کے طعنے' مختصر یہ کہ فوجی کی بیوی ہونا ایک اعزاز سے زیادہ معاشرے میں ایک طعنہ بن چلا ہے۔

تو ایسے میں یہ لفظ ''پوسٹنگ'' جلے پر نمک کا کام کرتا ہے۔ کہیں تو فوجی کی بیوی محدود روزگار میں اپنے سپاہی کے شانہ بشانہ چل کے نوکری کرتی ہے کہ رشتے داروں میں افسری کا بھرم قائم رہے۔ تو کہیں اپنے معصوم سے شوق کو قربان کرتی چلی جاتی ہے۔ پھر نئی جگہ ' پھر نیا امتحان' پھر خود کو منوانا' تو کہیں افسران بالا کی بیگمات کو خوش رکھنے کی تگ و دو کرتی ہے۔ گھر کا دسترخوان سجانے سے لے کر نئے ماحول کے خوف سے بچاتی' ان ننھی کلیوں کی ذمہ داریاں اَن گنت ہیں۔ اس کے احتجاج میں دبے ہزاروں سوال۔ ایک جنگ تو فوجی کی بیوی بھی لڑتی ہے اوراسے تو ٹرانسفر بھی نہیں ملتی۔ اسے تو اگلے محاذ پر جا کے پھر اپنی قسمت آزمانی ہے۔ اسے نئے سرے سے اپنی صلاحیتیں گِنوانی ہیں۔ کبھی تو یہ ننھی گڑیا بھی تھکن سے چُور ہو جاتی ہوگی۔ کبھی تو انہیں بھی سُنے کوئی!!

یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو

کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو

واہ! جون ایلیا!!!

ننانوے ناٹ آئوٹ

بڑی مشکلوں سے ہم نے وہ میچ جیتا یا یوں کہئے کہ ہارتے ہارتے بچے۔ سب سے زیادہ سکور مقصود گھوڑے کا تھا۔ اس نے صبح سے کھیلنا شروع کیا، کوئی سٹروک ایسا نہ تھا جو اس نے نہ دکھایا ہو۔ بولرز کو خوب سزا دی اور دو گھنٹے بعد تین رنز بنائیں۔ اس کے بعد جو اچھل اچھل کر کھیلا ہے، تو دوپہر تک تین سے دس تک سکور پہنچا دیا۔ لنچ کے  بعد وہ بے حد تیز کھیلا۔ آگے بڑھ بڑھ کر وہ ہٹیں لگائیں کہ پانچ رنز کا اضافہ اور کر دیا۔ جب ہم شام کو روپیٹ کر جیتے اور آخری کھلاڑی نے آخری ہٹ لگائی تو مقصود گھوڑا بیس رنز بنا چکا تھا۔

ہمارے مخالف بھی کافی گئے گزرے تھے وہ بھی اسی طرح کھیلے تھے۔ ان کی بولنگ کا یہ حال تھا کہ گیارہ کھلاڑیوں میں سے دس نے بولنگ کی تھی اور گیارھواں وکٹ کیپر تھا، لہٰذا مجبور تھا۔ ورنہ وہ بھی حسب توفیق مدد کرتا۔ کھیل دیکھنے والوں کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ دونوں ٹیموں کو یہ ڈر نہیں ہے کہ کہیں ہار نہ جائیں، بلکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں جیت نہ جائیں۔

شفیق الرحمن کی کتاب ''حماقتیں'' سے اقتباس 

*****

 
09
February

تحریر: میجرمحمد قیصر ندیم (ر)، مسزغزل ندیم

آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر
(Autism Spectrum Disorder)
ایسی علامات کا مجموعہ ہے جس سے سماجی تعلقات، بات چیت اور رویے متاثر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس کے اثرات بہت خفیف سے لے کر شدید نوعیت تک ہو سکتے ہیں۔ اس کی علامات پیدائش کے پہلے تین سال میں ظاہر ہو جاتی ہیں جو کہ زندگی بھر کسی نہ کسی صورت رونما ہوتی رہتی ہیں۔ سماجی تعلقات، بات چیت میں مشکلات کے ساتھ ان بچوں میں محدود یاکئی بار دہرائے جانے والے رویے پائے جاتے ہیں۔ اپنے مسائل کی وجہ سے ان بچوں کا دوسروں کی مدد پہ انحصار ایک لمبے عرصے یا پوری عمر تک ہو سکتا ہے۔
آٹزم سے متاثرہ والدین کی مشکلات کا احاطہ کرنا ایک دشوار عمل ہے۔ مگر یہ مشکلات اس وقت مزید بڑھ جاتی ہیں جب دوسرے لوگ ان مشکلات یا مسائل کو نہ سمجھتے ہوں۔ یہ مشکلات خاندان کے ہر رکن پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں جن میں والدین کی ازدواجی زندگی کا متاثر ہونا، دیگر بچوں کی تعلیم و تربیت، کام کاج کے معمولات، مالیاتی مسائل، ذاتی تعلقات اور ذمہ داریاں ہو سکتی ہیں۔ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی بحالی کا عمل ایک لمبے عرصے بلکہ اکثر اوقات پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے۔ اس لئے ان کا کسی نہ کسی کے زیرکفالت رہنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ذمہ داری والدین کی زندگی میں یا ان کے بعد ان بچوں کے بہن بھائیوں
(Siblings)
کو ادا کرنا پڑتی ہے جو ہمارے معاشرے کا ایک نہایت ہی روشن پہلو ہے۔ اس صورت میں ان
Siblings
کی تربیت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ذہنی، معاشی اور معاشرتی دبائو میں پرورش پانے کی وجہ سے ان بچوں کے بہن بھائی اکثر کچھ مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چند اہم مسائل سے آگاہی اور
Siblings
کو مدد بہم پہنچانا اس مضمون کا مقصد ہے جو درج ذیل ہیں۔


شخصی مسائل
بچے کی پیدائش سے لے کر جوانی تک اس کی شخصیت میں کئی حیاتیاتی، نفسیاتی اور جذباتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اس مسلسل عمل کے نتیجے میں بچہ انحصاری سے خود مختاری کی منزلیں طے کرتا ہے۔ بچے میں رونما ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیاں اسے جسمانی ترقی کی طرف لے جاتی ہیں جبکہ اس کے اردگرد کا ماحول اور لوگ اس کی نفسیاتی اور جذباتی نشوونما کے ذ مہ دار ہوتے ہیں۔ ماں باپ کے لئے اولاد کا وجود اور نشوونما ان کی شخصیت کی تکمیل کا باعث ہوتا ہے۔ وہ اپنی بھرپور توجہ اور پیار سے ان کی تربیت کرتے ہیں لیکن جب کبھی انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کا کوئی بچہ خصوصی توجہ کا طالب ہے تو غیرارادی طور پر ان کی زیادہ تر توجہ اس کی طرف مبذول ہو جاتی ہے جس سے ان کے دوسرے بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کم عمری میں خصوصی بچوں کے بہن بھائی یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ان کے والدین ان کی نسبت خصوصی بہن بھائی کو کیوں زیادہ اہمیت اور پیار دے رہے ہیں؟ ان کی ضروریات کو کیوں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے؟ ہماری جانب توجہ کیوں کم ہے؟
جیسے ہی یہ سوالات ان کے ذہن میں ابھرتے ہیں وہ فوراً والدین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کا سامان تیار کر لیتے ہیں۔ جسے عرف عام میں
Attention Seeking Behaviour
کہتے ہیں۔ اگر اس مقام پر والدین خطرے کی گھنٹی نہ سُنیںاور توازن کی طرف نہ آئیں تو یہی بچے الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ الجھن انہیں ذہنی دبائو کی طرف لے جا سکتی ہے جس سے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بچے ماں باپ کے اس رویے پر غصے کا اظہار شروع کر دیتے ہیں جس میں بات بات پر جھگڑا کرنا، اپنے ہم عمر بچوں کو مارنا، چیزیں توڑنا اور پڑھائی پر توجہ نہ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ وجہ صرف والدین کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانا ہوتا ہے۔ یہ رویے تبدیل ہو سکتے ہیں اور پختہ ہونے سے پہلے ان کا تدارک والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔

atermismse.jpg
معاشرتی مسائل
شخصی مسائل کی وجہ سے یہ بچے معاشرتی مسائل میں گھر جاتے ہیں ۔ انہیں اپنے ہم عمر بچوں سے ایڈجسمنٹ میں کافی مشکل آتی ہے۔ ہمارا معاشرہ خصوصی بچوں کو قبول نہیں کرتا۔ انہیں طرح طرح کے القابات اور ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ خصوصی بچوں کے بہن بھائی اس سے اپنے سوشل گروپ میں سبکی محسوس کرتے ہیں اور یہ خصوصی بچے بہن بھائی کی موجودگی میں سماجی میل جول سے گریز کرنے لگتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ گوشہ نشینی کی کیفیت میں بھی جا سکتے ہیں۔
خصوصی بچوں کی اضافی ضروریات والدین کے لئے ذہنی پریشانی کا سبب بنتی ہیں جس سے پورے گھر کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ نارمل بچے والدین کی اس ذہنی کیفیت سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ والدین کی یہ مالی پریشانی ان کی ذات پر کئی طرح سے اثر انداز ہو سکتی ہے۔


تعلقاتی مسائل
خصوصی بچوں کے بہن بھائیوں کو صرف معاشرے میں تعلقات استوار کرنا ہی مشکل نہیں ہوتا بعض اوقات انہیں یہ مسئلہ اپنے خصوصی بہن بھائی کے ساتھ تعلق میں بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ان بچوں سے حسد، مارنا پیٹنا، بہت زیادہ حکم چلانا اور انہیں خود سے کم تر سمجھ کر ناروا سلوک کرنا وغیرہ وغیرہ۔
خصوصی بچوں کے
Siblings
کی تربیت کے حوالے سے والدین کے لئے چند ہدایات۔
-1 سب سے پہلے والدین اپنے تمام بچوں سے برتائو میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ تمام بچے توجہ اور اہمیت کے مستحق ہوتے ہیں۔ خصوصی بچوں کی خصوصی ضروریات اور دوسرے بچوں کی عام ضروریات کو خصوصی توجہ دی جائے۔
-2 چھوٹے بچے جب خصوصی بہن بھائی کے بارے میں کوئی سوال کریں تو ان کی عمر کی مناسبت سے اس کا جواب دیں۔ مثلاً اگر کوئی چار سال کا بچہ آپ سے خصوصی بچے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو آپ اسے زندگی کا فلسفہ نہیں سمجھا سکتے۔
-3 خصوصی بچے کے متعلق اس کے سامنے گفتگو کرنے سے گریز کیا جائے اور دورانِ گفتگو ہمیشہ درست اور مناسب الفاظ کا استعمال کریں۔
یادرکھیں! آپ اپنے بچوں کے بہترین نگران اور وکیل ہیں۔ ان کے حقوق کی حفاظت آپ کا اولین فرض ہے۔ اگر آپ ان کے لئے نامناسب الفاظ یا رویہ اختیار کریں گے تو ان کے بہن بھائی اور عزیزواقارب بھی اسی طرح پیش آئیں گے۔
-4 اپنے نارمل بچوں کے ساتھ کچھ وقت علیحدگی میں گزاریں۔ چھوٹی عمر میں ہم ان میں معاشرتی کہانیوں کے ذریعے خصوصی بچوں کے مسائل سے متعلق آگاہی پید اکر سکتے ہیں۔ ہمارے سکولوں کے نصاب میں چند سبق آموز اخلاقی کہانیوں کی گنجائش موجود ہے۔
-5اپنے نارمل بچوں میں خصوصی بہن بھائی کے لئے قبولیت پیدا کریں۔ انہیں احساس دلائیں کہ یہ ہم سے کچھ مختلف ہیں۔ ان کی ضروریات ہم سے زیادہ ہیں اور یہ ہماری زندگی کا اہم حصہ ہیں اور یہ کہ ان کی اہمیت گھر میں نمایاں ہے۔
-6 بچوں پر خصوصی بہن بھائی کے حوالے سے اضافی بوجھ کم سے کم ڈالیں۔ ان کی ذہنی او رجسمانی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں خصوصی بہن بھائی کی کوئی ذمہ داری دیں۔ (اگر وہ بخوشی قبول کریں تو۔۔۔)
-7 اس سے پہلے کہ آپ ان سے اپنے خصوصی بچے کے لئے کوئی مدد لیں، جہاں مناسب ہو وہاں ان کی بھی مدد کریں۔ مثلاً کوئی اسائنمنٹ، ہوم ورک، خریداری وغیرہ میں۔
-8اپنے نارمل بچوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کریں اور ان کی پسند و ناپسند، جذبات اور احساسات کا ہمیشہ احترام کریں۔
-9 انہیں
Super Sibling
ہونے کا احساس دیں کہ اﷲتعالیٰ نے آپ کو اور انہیں ایک خصوصی بہن بھائی کی نگہداشت کی ذمہ داری دی ہے۔
-10 ایسی گفتگو سے گریز کریں جس میں بچوں کی صلاحیتوں کا موازنہ ہو یا احتمال ہو کہ بچہ احساس کمتری کا شکار ہو جائے گا۔
-11 خصوصی بچوں کے
Siblings
کی طرف سے اُن کے لئے کی جانے والی کسی بھی مدد کو بہت زیادہ سراہیں اور ہو سکے تو انہیں اضافی انعام دیں۔
-12خصوصی بچوں کی تربیت کے سلسلے میں کی جانے والی اپنی کوششوں کا اور
Siblings
کی خدمات کا کبھی موازنہ نہ کریں۔
یاد رکھیں! خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کی بنیادی ذمہ داری والدین پر ہے۔ اس عمل میں
Siblings
آپ کے مددگار بنتے ہیں یا نہیں، یہ ان کی مرضی ہے لیکن ان پر یہ فرض نہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان کو کتنی
Motivation
دے پاتے ہیں اور انہیں خصوصی بہن بھائی کی تربیت میں کتنا
Involve
کر سکتے ہیں۔
-13 Normal Siblings
کی تربیت ایک سلسلہ وار عمل ہے۔ عمر کے ہر حصے میں انہیں بتدریج خصوصی بہن بھائی کی ضروریات اور مسائل سے آگاہی اور مدد کرنے کی تربیت کی ضرورت رہتی ہے۔ تب ہی سمجھدار ہونے پر آپ ان بچوںکو اپنے بعد خصوصی بچوں کے نگران مقرر کر سکتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

آسمان
ذرا نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو، کتنا اونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ بعض لوگ آسمان سے گرتے ہیں تو کھجور میں اٹک جاتے ہیں۔ نہ نیچے اُتر سکتے ہیں، نہ دوبارہ آسمان پر چڑھ سکتے ہیں۔ وہیں بیٹھے کھجوریں کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن کھجوریں بھی تو کہیں کہیں ہوتی ہیں۔ ہر جگہ نہیں ہوتیں۔ کہ
کہتے ہیں پہلے زمانے میں آسمان اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔ غالب نام کا شاعر جو سو سال پہلے ہوا ہے۔ ایک جگہ کسی سے کہتا ہے :
کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں؟
جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اونچی ہوتی گئیں، آسمان ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر اٹھتا چلا گیا۔ اب نہ چیزوں کی قیمتیں نیچے آئیں۔ نہ آسمان نیچے اُترے۔
ایک زمانے میں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے۔ پھر ہما شُما جانے لگے جو خود نہ جاسکتے تھے ان کا دماغ چلاجاتا تھا۔ یہ نیچے زمین پر دماغ کے بغیر ہی کام چلاتے تھے۔ بڑی حد تک اب بھی یہی صورت ہے۔
پیارے بڑو ! راہ چلتے میں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے تاکہ ٹھوکر نہ لگے۔ جو زمیں کی طرف دیکھ کر چلتا ہے اس کو ٹھوکر نہیں لگتی۔ !
ابنِ انشاء کی ''اُردو کی آخری کتاب'' سے اقتباس

*****

 
09
February

تحریر: حماس حمید چوہدری

سفر سے بڑا شائد کوئی استاد نہیں اور دوران سفر آپ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ آپ کی روز مرہ کی زندگی آسان بنا دیتا ہے۔ پاکستان کی قدر کرنی ہے تو سب سے پہلے اسے دریافت کرنا ہوگا اور دریافت کرنے جب نکلو تو صرف ایک خیال رکھنا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور پاکستان ہمارا گھر ہے اور اپنے گھر کو گندہ نہیں کرتے بلکہ صاف رکھتے ہیں۔

ایک مشہور قول ہے کہ دنیا ایک کتاب کی مانند ہے اور جو لوگ سفر نہیں کرتے انہوں نے اس کتاب کا صرف ایک صفحہ پڑھا ہوتا ہے۔2009ء میں مجھے بھی شوق ہوا کہ اس کتاب کے باقی صفحوں کو پڑھا جائے۔ بچپن میں جب بھی قدرتی حسن سے مالامال علاقوں کا ذکر ہوتا تھا تو سوئٹزرلینڈ کے دیوقامت پہاڑوں، ناروے کی رنگ برنگی جھیلوں اور یونان کی تاریخی عمارتوں کی وہ تصاویر جو انٹرنیٹ پر دیکھی ہوتی تھیں دماغ میں گردش کرنا شروع کر دیتیں او ر اس کی وجہ تھی کہ ہمیں بتایا ہی یہ گیا تھا کہ سارا قدرتی حسن اور دماغ اللہ نے مغربی ممالک کو دیا ہوا ہے اور ہم اﷲکے مسکین بندے ہیں۔ اس کے باوجود دل چاہا کہ ایک بار پاکستان کے کچھ علاقے گھوم لئے جائیں، شائد ہمارے پاس بھی یورپ کے مقابلے کی کوئی جھیل، کوئی وادی ، کوئی پہاڑی سلسلہ ہو اور اس طرح آغاز ہوا ایک نہ ختم ہونے والے سفر کا جو کشمیر کی جنت نظیر وادٔ نیلم سے شروع ہوا۔ یہ سلسلہ گلگت بلتستان میں موجود دنیا کے دو بلند ترین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ اور قراقرم کا سینہ چیرتی جدید شاہراہ قراقرم سے ہوتا ہوا، خیبر پختونخوا کی سبز پوش وادیوں، جنت کا ٹکڑا کہلانے والی بلوچستان کی وادی زیارت چولستان کے تاریخی عمارتوں سے بھرے ہوئے صحرا سے ہوتا ہوا ، اولیاء کے شہر ملتان میں داخل ہو ا اور نہ جانے کہاں جارہا ہے، ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔


اب تقریباً آ ٹھ سال ہونے کو آئے اور تجسس ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ خاص طور پر گلگت بلتستان کی توَلَّت سی لگ گئی ہے اور جو کہ جائز بھی ہے۔اب ہر تین چار ماہ بعد جب بھی وقت ملتا ہے تو شمال کی جانب نکل پڑتا ہوں۔ گلگت بلتستان بھی خطۂ کشمیر کی طرح جنت کے ٹکڑے سے کم نہیں۔ کم ازکم مؤرخ تو یہی لکھتے چلے آئے ہیں ۔ جب آپ مانسہرہ سے آگے دریا کنہار کے ساتھ ساتھ وادٔ ناران اور پھر کوہستان سے گزرتے ہوئے اس خطے میں داخل ہوتے ہیں تو منظر یکسر تبدیل ہوجاتا ہے۔ باقی شمالی علاقہ جات میں منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ سڑک کے چاروں جانب درخت اور سبزہ ہوتا ہے اور سڑک کے بالکل ساتھ ساتھ کھائی میں دریا بہہ رہا ہوتا ہے اور دریا کے اس پار پھر سے ایک پہاڑ ہوتا ہے جس پر درخت ہی درخت ہوتے ہیں اور مجموعی طور پر وادی تنگ ہوتی ہے لیکن گلگت بلتستان میں آپ جوں ہی داخل ہوتے ہیں تو ایک دم سے پہاڑوں پر سے درخت ختم ہوجاتے ہیں اور درختوں کی جگہ دیو ہیکل پتھر نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں جبکہ وادی کی چوڑائی بھی کئی کلومیٹر بڑھ جاتی ہے اور دریائے سندھ کی رفتار اور گہرائی بھی بڑھ جاتی ہے۔ درخت نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور جس علاقے کی مٹی میں معدنیات زیادہ ہوں وہاں درخت نہیں اگا کرتے بلکہ نایاب پودے اور قیمتی جڑی بوٹیاں اگتی ہیں۔

gilgitbaltistan.jpg
رائے کوٹ پل کراس کرنے کے بعد دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہلانے والی شاہراہ قراقر م شروع ہو جاتی ہے ، ویسے تو شاہراہ قراقرم مانسہرہ سے ہی شروع ہو جاتی ہے لیکن جو رائے کوٹ سے آگے کی سڑک ہے، وہ اپنے آپ میں ایک معجزے کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ سڑک کئی سالوں سے اس خطے کا سخت موسم اور لینڈ سلائڈنگ کی صورت میں قدرتی عذاب جھیل رہی ہے لیکن ٹس سے مس نہیں ہوئی اور آگے جا کر خنجراب کے مقام پر چودہ ہزار فٹ بلندی تک پہنچ جاتی ہے۔ گلگت شہر کی جانب جاتے ہوئے آپ کو نانگا پربت کی برف پوش چوٹی دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے جبکہ گلگت سے پہلے جگلوٹ کے علاقے میں آپ کو دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلوں ہمالیہ ، قراقرم اور ہندوکش کے ملنے کا مقام بھی نظر آتا ہے۔


اگر آپ خزاں کے موسم میں آئے ہیں تو گلگت سے آگے وادٔ ہنزہ ایسا مسحور کن منظر پیش کر رہی ہوتی ہے کہ انسان الجھن کا شکار ہوجاتا ہے کہ وہ اس توبہ شکن منظر کو دیکھ کر خوش ہو یا اس کی دلفریبی میں ڈوب کر غرق ہو جائے کیونکہ پوری وادٔ ہنزہ پیلے رنگ میں ڈوبی ہوتی ہے جیسے کسی نے آکر مہندی لگا دی ہو۔ جب آپ خنجراب بارڈر کی جانب جا رہے ہوتے ہیں تو سڑک کی دوسری جانب قدیم شاہراہ ریشم کی باقیات واضح انداز میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ تاریخ کے طالبعلم یہ سوچ کر بھی حیران ہوتے ہوں گے کہ سیکڑوں سال پہلے اس قدرخطرناک روٹ سے کیسے جنگی کمانڈر اپنی افواج کے ساتھ سفر کرتے ہوں گے اور کیسے ہزاروں سالوں سے یہاں تجارت کا سلسلہ جاری رہا ہو گا۔ جب آپ خنجراب بارڈر پہنچتے ہیں تو یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ دو ممالک کا بارڈر ہے ، دونوں ممالک کی عوام آپس میں مل رہی ہوتی ہیں ، باتیں کررہی ہوتی ہیں اور ساتھ تصاویر بنوا رہی ہوتی ہیں اور یہ مناظر پاک چین دوستی کی زندہ دلی کی عکاسی کرتے ہیں۔


گلگت بلتستان تاریخی اور ثقافتی پہلو سے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس خطے کی کل آبادی تقریباً اٹھارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں شینا ، بروشسکی اور بلتی زیادہ عام ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش سیاحت سے منسلک ہے۔اس خطے میں آپ کو بہت سی تاریخی عمارتیں بشمول محل اور قلعے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں وادٔ ہنزہ کے بلتت اور التت قلعے، بلتستان میں شِگر اور خپلو کے قلعے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو مختلف مقامات جیسا کہ گوجال،ست پارہ اور وادٔ شگر میں تاریخی اہمیت کے حامل ایسے پتھر ملیں گے جن پر قدیم زبانوں میں جملے لکھے ہوئے ہیں۔ اس خطے کی سب سے خوبصورت بات یہاں کا پُرامن ماحول اور جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہونا ہے۔ یہاں پر مختلف عقائد کے لوگ ایک ساتھ جس طرح امن سے رہتے ہیں اور جس طرح ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہیں اس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔
دنیا کے چودہ بڑے پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ اس خطے میں موجود ہیں جن میں دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ کے۔ٹو بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ بہت سے گلیشئرز اس خطے میں موجود ہیں جو دریائے سندھ میں تازہ پانی کی فراہمی کا ذریعہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ اس خطے میں ان گنت دلکش جھیلیں بھی موجود ہیں۔ وادٔنلتر گلگت سے کچھ فاصلے پر ہے اور اپنی جھیلوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ اس وادی میں ایک ست رنگی جھیل بھی موجود ہے جو دوپہر کے وقت سات رنگوں کا منظر پیش کرتی ہے۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس پورے خطے میں ایسی کون سی جگہ ہے جہاں میں اپنا دل چھوڑ آیا ہوں تو میں کہوں گا کہ وہ دیوسائی ہے۔ میں جب پہلی بار دیوسائی گیا تو وہ اکتوبر کا مہینہ تھا اور میں خدا کے فضل سے لاہور سے دیوسائی موٹر بائیک پر گیا تھا۔دیوسائی سطح سمندر سے تیرہ سے چودہ ہزار فٹ بلند اور ستر ہزار مربع ایکڑ پر مشتمل ایک میدانی سلسلہ ہے جو کہ سال میں تین سے چار ماہ کے لئے کھلتا ہے اور باقی پورا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔


یہاں کی سب سے دلچسپ اور خوبصورت جھیل، گوجال میں واقع عطا آباد جھیل ہے۔ یہ جھیل ایک قدرتی آفت کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ جس وقت یہ جھیل وجود میں آئی تو لوگوں نے اسے منحوس جھیل کا نام دیا کیونکہ اس جھیل کے اندر پورا ایک گائوں دفن ہے او ر اس نے بیس لوگوں کی جان لی ہوئی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اسی جھیل کی وجہ سے خطے کے لوگوں کو روزگار بھی ملا۔ دنیا بھر سے لاکھوںسیاح اس جھیل کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں اور مقامی لوگوں کی روزی روٹی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس جھیل کی لمبائی اکیس کلومیٹر اور گہرائی چار سو فٹ ہے۔ اس جھیل کی وجہ سے شاہراہ قراقرم کا پندرہ کلومیٹر لمبا ٹکڑا ڈوب گیا تھا اور لوگ کشتیوں کے ذریعے اسے پار کرتے تھے لیکن چین کی مدد سے تین سال کی قلیل مدت میں وہاں سرنگیں تعمیر کر کے زمینی راستہ بحال کیا گیا ہے۔


پاکستان کی سب سے چوڑی آبشار منتھوکھا بھی اسی خطے میں ہے۔اس کے علاوہ منتھوکھا سے کچھ فاصلے پر خاموش آبشاربھی موجود ہے جو کہ شام کے وقت انتہائی دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ اس خطے کی سب سے انوکھی چیز جو کہ پاکستان کے دوسرے شمالی خطوں میں موجود نہیں، وہ ہیں سرد صحرا۔ چولستان کے تپتے صحرا کا تو سب کو علم ہے لیکن بلتستان کے خطے میں سرد صحرا موجود ہے اور وادٔ شِگر کے ان سرد صحرائوں کے درمیان موجود روڈ سے جب آپ گزرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی افسانوی فلم کا منظرہو۔


اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس پورے خطے میں ایسی کون سی جگہ ہے جہاں میں اپنا دل چھوڑ آیا ہوں تو میں کہوں گا کہ وہ دیوسائی ہے۔ میں جب پہلی بار دیوسائی گیا تو وہ اکتوبر کا مہینہ تھا اور میں خدا کے فضل سے لاہور سے دیوسائی موٹر بائیک پر گیا تھا۔دیوسائی سطح سمندر سے تیرہ سے چودہ ہزار فٹ بلند اور ستر ہزار مربع ایکڑ پر مشتمل ایک میدانی سلسلہ ہے جو کہ سال میں تین سے چار ماہ کے لئے کھلتا ہے اور باقی پورا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ ادھر جانے کے دو راستے ہیں ایک استور سے اور دوسرا سکردو سے۔ ایڈونچر کے شوقین حضرات کو سکردو والا راستہ زیادہ مزا دے گا جبکہ کمزور دل کے مالک حضرات استور سے جائیں۔ جولائی میں جب برف پگھلتی ہے تو پورا دیوسائی پھولوں سے بھر جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسا کہ آپ جنت کی سیر کر رہے ہوں۔ ستمبر کے بعد خزاں کے آتے ہی تمام پھول مرجھا جاتے ہیں اور ایسے ختم ہوتے ہیں جیسے کبھی یہاں تھے ہی نہیں اور مجھے دیوسائی خزاں میں ہی پسند ہے کیونکہ خزاں کی فضا میں ایک خوبصورت سی پراسراریت کا احساس ہوتا ہے اور لوگوں کا رش تقریباً ختم ہوگیا ہوتا ہے۔


دیوسائی کو نیشنل پارک کا درجہ ملا ہوا ہے کیونکہ یہاں بہت سے نایاب جانور اور پرندے بستے ہیں جن میں برفانی چیتے، بھورے بھالو، کالے بھیڑئیے، مارخور، آئی بیکس وغیرہ شامل ہیں۔ ابھی چند دن پہلے نومبر میں سکردو گیا تو پتہ لگا کہ دیوسائی ابھی تک کھلا ہوا ہے۔ یہ سننے کی دیر تھی اسی وقت دیوسائی جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ نومبر کے مہینے میں دیوسائی کا کھلا ہونا بھی ایک معجزہ ہی ہے۔ سکردو میں بلتستان کانٹیننٹل میں رہائش تھی تو وہاں میرے دوست اشرف نے کہا کہ کیوں نہ ٹرائوٹ کا شکار کیا جائے۔اگلی صبح ہم نے مچھلی پکڑنے کا پرمٹ لیا اور دیوسائی کے لئے نکل پڑے۔دیوسائی پہنچے تو دھوپ کے باوجود درجہ حرارت منفی میں تھا اور پانی منجمد۔ خزاں کی وجہ سے دیوسائی مکمل طور پر سوکھا ہوا تھا اور شائد ہم پانچ انسانوں کے علاوہ پورے دیوسائی میں صرف جانور ہی ہوں گے اور ہمارے اکیلے ہونے کا یہ فائدہ ہوا کہ پہلی بار میں نے بھورے بھالو کو کہیں آزاد گھومتے دیکھا جو کہ کچھ لمحے کے لئے تھا کیونکہ وہ واپس ویرانے میں کہیں غائب ہو گیا لیکن وہ چند لمحے دماغ میں ہمیشہ کے لئے نقش ہو گئے۔ خیر ! کوئی دس گھنٹے لگا کر ہم نے آٹھ کے قریب مچھلیاں پکڑیں اور جوں ہی شام ہوئی تو واپسی کے لئے نکل پڑے کیونکہ درجہ حرارت ناقابل برداشت ہوتا جارہا تھا۔ واپس آکر ہلکی سی کالی مرچ لگا کر ان کو بھون کر کھایا اور یہ میرا گولڈن ٹرائوٹ کا پہلا تجربہ تھا جو کہ انتہائی لذیذ تھا۔


میں نے ان آٹھ سالوں میں قدرت کے جتنے جلوے دیکھے ہیں ان کو محدود الفاظ میں بیان کرنا انتہائی مشکل کام ہے اور جو منظر آپ کی آنکھ دیکھ رہی ہوتی ہے اسے اس انداز میں نہ دنیا کا کوئی کیمرہ قید کر سکتا ہے نہ کوئی قلم تحریر کر سکتاہے۔ اس لئے میں دوست احباب کو بھی یہی کہتا ہوں کہ روز مرہ کے کام ہوتے رہتے ہیں تھوڑا سا وقت نکالیں اور خدا کی قدرت کو ایکسپلور کریں۔ سفر سے بڑا شائد کوئی استاد نہیں اور دوران سفر آپ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ آپ کی روز مرہ کی زندگی آسان بنا دیتا ہے۔ پاکستان کی قدر کرنی ہے تو سب سے پہلے اسے دریافت کرنا ہوگا اور دریافت کرنے جب نکلو تو صرف ایک خیال رکھنا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور پاکستان ہمارا گھر ہے اور اپنے گھر کو گندہ نہیں کرتے بلکہ صاف رکھتے ہیں۔ اللہ میری اس ارض پاک کو سلامت رکھے۔آمین۔

مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter