Super User

Super User

The Directorate of Inter-Services Public Relations (known by its acronym ISPR) (Urdu: شعبہٴ تعلقات عامہ‎) is an administrative military organization within the Pakistan Defence Forces that coordinates military information with the media and the civil society. The ISPR is now headed by 2-star rank officer Major General Asim Saleem Bajwa who took over from Major General Athar Abbas in June 2012

Website URL: http://www.ispr.gov.pk

09
August
اگست 2017
شمارہ:8 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
14اگست1947کو معرض وجود میں آنے والے وطنِ عزیز پاکستان کو اپنے قیام کے آغاز ہی سے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس نوزائیدہ ریاست نے ہندوستان کی اَن گنت سازشوں کا سامنا کیا۔ لیکن پھر بھی اپنا سفر اعتماد اور وقار کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ پاکستان ایک نظریے اور مقصد کے پیش نظر قائم ہوا جہاں برِصغیر کے مسلمان مذہبی، سیاسی، معاشی و سماجی اعتبار سے....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان
گزشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے بھوٹان سے ملنے والی سرحد پر چین اور بھارت کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ وجہ تنازعہ سطح مرتفع پر مشتمل ایک چھوٹا سا علاقہ ڈوکلم
(Doklam Plateau)
ہے۔ جہاں بھارت، بھوٹان اور چین کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ اصل معاملہ بھوٹان اور چین کے درمیان ہے بھوٹان کا کہناہے کہ یہ علاقہ اُس کا حصہ ہے۔ جبکہ چین کامضبوط دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ زمانہ قدیم ....Read full article
 
 alt=
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
بحیرۂ روم سے بحیرۂ عرب تک پھیلا جس طرح مشرقِ وسطیٰ آج عالمی سیاست کا محور ہے، اگر ہم تاریخ میں جھانک کر دیکھیں تو یہی خطۂ ارض پچھلے تین ہزار برسوں سے زائد عرصے سے ایشیا، افریقہ اور یورپ کی تہذیب و تمدن اور سیاست کا مرکزومحور رہا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے یہیں سے جنم لیا۔ سمیری اور مصری تہذیب، یونانی تہذیب جسے آرکیالوجسٹ، یوریِشین تہذیب کہتے ہیں، انہی خطوں کے قریب....Read full article
 
تحریر: جبارمرزا
پاکستان قائم ہوئے پورے ستر برس بیت گئے۔ البتہ موجودہ 14اگست پاکستان کی تاریخ کا اکہترواں ہے۔ پہلا 14اگست 1947کا تھا جس روز پاکستان قائم ہوا تھا۔ 14اور 15اگست کی درمیانی رات برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک حصہ پاکستان کہلایا اور دوسرا ہندوستان۔ 14اور 15اگست 1947 کی درمیانی رات بارہ بجے پہلے انگریزی میں جناب ظہور آذر نے اور پھر اردو میں جناب مصطفی علی ہمدانی نے ریڈیو....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ حربی صلاحیتوں پر قوم کوہمیشہ نازرہا ہے ۔ محافظانِ وطن کی کامیابیوں ، کامرانیوں اور جرأتوں پر مبنی داستانوں کو قلمبند کرنا آسان نہیں ، بلاشبہ اس قوم کے ایک ایک فرد کے دل میں پاک فوج کی جو محبتیں بسی ہیں، ان کے پیچھے عزم و ہمت اور قربانیوں کی طویل داستانیں ہیں۔ سیلاب اور زلزلہ متاثرین کی بحالی ہو یا سیاچن سے لے کر وزیرستان ، بلوچستان اور ملک کے چپے چپے پر.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں قیام پاکستان کے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالی تھی اور لکھا تھا کہ14-15 اگست کی نصف شب جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہ قدر کی مبارک رات تھی۔ جسے ہم لیلتہ القدر کہتے ہیں۔ 15 اگست 1947ء کو جب پاکستانی قوم نے اپنا پہلا یوم آزادی منایا تو اس روز ستائیسویں رمضان اور جمعتہ الوداع کا دن تھا۔ گویا ساری نیک ساعتیں اس روز یکجا ہوگئی تھیں۔....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
مذہب انسان کی زندگی کا وہ حساس پہلو ہے جس پروہ شاذ ونادر ہی کوئی سمجھوتہ کرتاہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مذہب سے انسان کی دلی یا جذباتی وابستگی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اچھے یا بُرے معنوں میں مذہب کے نام پر آسانی سے جذبات سے کھیلا جاسکتا ہے۔ یہ ہی وہ نکتہ ہے جو انسانی جبلت کے نرم خو یا متشدد پہلو کوابھارتا ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی اجازت نہیں اور نہ ہی ناحق خون بہانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے لیکن پھربھی اس کے اندر موجود.....Read full article
 
تحریر: فتح محمد ملک
آج جب نظریاتی استقامت کو انتہا پسندی کا نام دیا جاتا ہے تو مجھے "ہندوستان ٹائمز" کا وہ خراجِ تحسین یاد آتا ہے جو اس مؤقر روزنامہ نے قائداعظم کو پیش کیا تھا۔ بابائے قوم کی رحلت پر ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے لکھا تھا کہ اُن میں ایسی قوتِ ارادی تھی جو اُن کی راہ میں حائل ٹھوس حقائق کو توڑ پھوڑ کر خوابوں کو جیتے جاگتے حقائق میں منتقل کر سکتی تھی۔....Read full article
 
سروے: زین سرفراز
نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ قوموں پر جب بھی کبھی آزمائش کا دور آتا ہے تو نوجوان نسل اس آزمائش سے نکلنے کے لئے اپنا کردار ادا کر تی ہے۔ تحریکِ آزادئ پاکستان میں بھی نوجوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی نوجوانوں کے دل میں وطنِ عزیز کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا جذبہ موجزن ہے۔ ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) کی کارگل کے محاذ پر شاندار کارکردگی سے سب بخوبی واقف ہیں۔ معرکہ کارگل سے پہلے این ایل آئی کی بٹالینز صرف شمالی علاقہ جات میں عسکری خدمات سر انجام دیا کرتی تھیں۔ بعد ازاں انہیں ریگولر رجمنٹ کا درجہ دے دیا گیااور یوں ان کی خدمات کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہو گیا۔ این ایل آئی یونٹس نے موقع ملتے ہی دوسرے محاذوں پر بھی اپنی جنگی صلاحیتوں کا بخوبی لوہا منوایا....Read full article
 
تحریر: سمیع اﷲ سمیع
سرحدیں دل کی ہوں یا دنیا کی، کبھی ایک سی نہیں رہتیں ۔ پیہم تبدیلی ہی زندگی کی دلیل ہے۔ لفظ تقسیم برا بھی ہے اوراپنے تئیں اچھا بھی ہے۔کانگریسی صدراورسابق بھارتی وزیرداخلہ سردارپٹیل واشگاف الفاظ میں اقرارکرتے تھے کہ اگر دوبھائیوں کے مابین جھگڑا ختم نہ ہورہاہوتو تقسیم یقینی ہوتی ہے اوریہ فطری عمل ہے۔درحقیقت بروقت اورمبنی برانصاف تقسیم ہی کدورتوں کوروکتی ہے لیکن افسوس کہ ماؤنٹ بیٹن کی.....Read full article
 
تحریر: کیپٹن بلال نیازی
اور تم کیا جانو یہ کون لوگ ہیں؟جن کے قدموں کی دھمک سے پہاڑ تھرتھراتے ہیں۔جنہوں نے انسانی لباس پہن رکھاہے مگرجن کی پیشانیوں پرآسمان تحریریں لکھ رہا ہے۔ یہ کون راہرو ہیں جن کے قدم کبھی تھکتے نہیں؟یہ فاتح کون ہیں جنہوں نے بھوک اور پیاس کو یرغمال بنا رکھا ہے؟ جن کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں اچکنے کے لئے فرشتے تیار ہیں۔ایسے جذبے سے سر شار کچھ ایسی ہی داستان حوالدار ظہور احمد.....Read full article
 
اس دنیا میں اربوں لوگ ہیں اور اس میں سے ہر شخص کی کوئی نہ کوئی پسندیدہ شخصیت ہے۔ میری پسندیدہ شخصیت میرے بابا میجر اکبر شہید ہیں۔ وہ اس ملک کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کے لئے جان قربان کر دی۔ مجھے ان کے .....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
آرٹس کونسل کراچی میں تو ایک دن میں کئی ایسے پروگرام ہوتے ہیں اور ان میں شرکت کرکے یا نظامت کرکے بہت اچھا لگتا ہے۔ گزشتہ دنوں ونکوور میں دو ایسی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن سے اپنے دیس کی یاد تازہ ہوگئی۔....Read full article

تحریر: کوکب علی
’’ یوکرائن کی چمکدار زمین۔۔۔ تم ہمیشہ دمکتی رہو۔۔۔متحد اور شبنم کے قطروں کی طرح تابناک رہو۔یہاں تک کہ سورج تمہیں ماند نہ کر دے۔۔۔۔
ہم زمین پر حکومت کریں گے اور اس کو ترقی کی منازل تک پہنچائیں گے۔۔۔
ہم نے اپنی روح تک اس زمین کی آزادی کے لئے قربان کی۔۔ جذبہ اور محنت ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ........Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
ستمبر1965 کی جنگ کے دوران مجھے ہر روز ایک نیاملی نغمہ پروڈیوس کرنے کا حکم تھا اور میری یہی کوشش ہوتی کہ کوئی دن خالی نہ جائے ۔یہ میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھی کہ نور جہاں جیسی بڑی فنکارہ کی ریڈیو پاکستان میں موجودگی سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ روزانہ ایک نئے نغمے کا انتخاب بھی بڑا مشکل کام ہوتا۔ 13 ستمبر1965 کو میرے پاس فائل میں موصول ہونے والے بے شمار نغمے تھے مگر....Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
کدھرکھوئے ہومجاہد؟؟ حیدر نے پیچھے سے آکرپوچھا۔
ادھرہی توبیٹھاہواہوں۔ اس نے مڑے بغیرجواب دیا۔
گھرمیں سب کیسے تھے ؟؟؟
گھر؟؟؟؟ اس نے حیرانی سے حیدرکی طرف دیکھا۔
ہاں یارگھر۔تم گھر گئے تھے نا!آج پانچ دن بعد ہی توآئے ہو۔حیدرمسکراتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں گھر گیاتھامیں۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے بولا۔
تو وہی پوچھ رہا ہوں ناکہ گھرمیں سب کیسے ہیں؟؟....Read full article
09
August

تحریر: محمداعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اُس وقت کے پروڈیوسر ریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

ستمبر1965 کی جنگ کے دوران مجھے ہر روز ایک نیاملی نغمہ پروڈیوس کرنے کا حکم تھا اور میری یہی کوشش ہوتی کہ کوئی دن خالی نہ جائے ۔یہ میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھی کہ نور جہاں جیسی بڑی فنکارہ کی ریڈیو پاکستان میں موجودگی سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ روزانہ ایک نئے نغمے کا انتخاب بھی بڑا مشکل کام ہوتا۔ 13 ستمبر1965 کو میرے پاس فائل میں موصول ہونے والے بے شمار نغمے تھے مگر مجھے کوئی پسند نہیں آرہا تھا۔ میری یہی کوشش ہوتی کہ اپنے محترم استاد صوفی تبسم صاحب سے گزارش کروں کہ ہمیں نیا نغمہ عطا فرمادیں۔ 13ستمبر کو صوفی تبسم ناسازی طبیعت کی وجہ سے دفتر نہیں آئے۔ میرے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا کہ آج کون سا نغمہ ریکارڈ کرایا جائے۔ میں نے نماز پڑھ کر اﷲ پاک سے دعا کی کہ میرے مولامیری مدد فرما۔ اﷲ پاک نے میری دعا قبول کرلی اور میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ علامہ محمداقبال کی مشہور نظم’’ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن‘‘ کو ریکارڈ کیا جائے کیونکہ اس میں مومن مسلمان کی چارصفات کو اجاگر کیا گیا ہے اور پاک فوج کے اکثر جوان ان تمام صفات پر پورے اُترتے ہیں۔ جن کا یہی کہنا ہے کہ اُن کی زندگی ‘مال‘ جان غرض ہر چیز اس قوم پر قربان ہے جب میں نے علامہ اقبال کی یہ نظم میڈم نورجہاں کو دی تو اُنہوں نے فوراً اس کی استھائی بنانا شروع کردی میں نے اس میں اُن کی مدد کی اور کرتے کرتے اس کی خوبصورت استھائی بن گئی پھر محمدعلی مھنوں نے انترے بنانے میں ہماری مدد کی اورہم سب کی کوشش سے شام تک یہ ملی نغمہ مکمل ہوگیا پھر اس کی کمپوزیشن میں اس کے انٹرول اور
Opening
موزوں کی گئی اس تمام صورت حال سے میڈم نور جہاں بہت خوش ہوئیں اور اس نغمے کو بڑی مہارت اور خوبی سے گایا۔ اس کی کمپوزیشن میں میرا اور میڈم نور جہاں کا کچھ اختلاف ہوا ۔ استھائی کو چھوڑنے پر بات ہوتی رہی میرا خیال تھا کہ استھائی کو مکمل کہہ کر چھوڑنا چاہئے مگر میڈم نور جہاں اس کو صرف ’ہر لحظہ ہے مومن کی‘ پر چھوڑنے پر مصر تھیں۔ مجھے یہ کہتیں کہ یہاں چھوڑنا اس کی د ھن کے مطابق ہے اور اچھا لگتا ہے میں اتنی بڑی فنکارہ کے اصرار پر رضامند ہوگیا جب رات کو یہ نغمہ مکمل ہوگیا تو سننے کے بعد بہت اچھا لگا۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں ہر نغمے کے انتخاب سے لے کر ریکارڈنگ مکمل ہونے تک بہت سی مشکلات پیش آتیں مگر میں1965کی جنگ کے تناظر اور اپنی قومی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ہر چیز کو برداشت کرتارہا‘کئی بار کمپوزیشن میں بحث مباحثہ ہوتا میڈم نور جہاں کا کمپوزیشن میں بہت عمل دخل ہوتا‘ اُن کی عظمت اور فنی مہارت کا کمال تھا کہ ہر نغمے کو سنوارنے میں دل سے پوری پوری کوشش کرتیں اور بطورِ پروڈیوسر مجھے ہر چیز کا خیال رکھنا تھا۔ میوزک چونکہ میرا بہت مضبوط
Subject
ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرے اُس وقت کے سٹیشن ڈائریکٹر مرحوم شمس الدین بٹ صاحب نے میرا انتخاب کیا اس وقت سٹیشن پر20 کے قریب پروڈیوسر تھے میرا انتخاب میرے لئے بہت عزت کی بات بھی تھی اور بہت بڑی آزمائش بھی۔ اﷲپاک نے مجھے آزمائش میں سرخرو کیا۔میری کوشش ہوتی کہ میری قوم اور سٹیشن نے مجھ پر جو اعتماد کیا میں اسے بہر صورت پورا کروں۔ ہاں اب بات تھوڑی سی کمپوزیشن پر ہوجائے۔ استھائی میڈم نور جہاں نے بنائی جبکہ اس کے انترے میں نے کمپوز کئے اور کوشش کی کہ ان تمام عناصر یعنی قہاری و غفاری و قدسی و جبروت مسلمان کی یہ چار صفات یعنی غلبہ حاصل کرنا‘بخشنے والا‘ بڑا پاک صاف اور جاہ و جلال یہ وہ صفات ہیں جو علامہ اقبال کی نظر میں اصل مسلمان کی صفات ہیں اس کی تشریح کرنے میں گانے میں پورا پورا اہتمام کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ میڈم نور جہاں استھائی چھوڑنے کے بعد یہ مصرعہ دہراتیں۔ ہر لحظہ ہے مومن کی اور اس کے بعدانٹرول ختم ہونے کے بعد انترا اٹھاتیں اس طرح یہ تمام کمپوزیشن مکمل ہوئی۔ اس قومی نغمے کو فوری طور پرتسلسل کے ساتھ رات کو نشر کیاگیا اور ہمیں اس کا بہت عمدہ رسپانس ملا صبح کے وقت جب صوفی تبسم صاحب دفتر آئے تو مجھے شاباش دی کہ اعظم تم نے کمال کردیا ہے۔ میں کل طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے نہیں آسکا اور تم نے یہ نغمہ ریکارڈ کرکے بہت عمدہ کام کیا ہے۔ صوفی تبسم صاحب کی داد سے میرا حوصلہ مزید بلند ہوگیا اور پھر ہم نے اگلے نغمے کی تیاری شروع کردی۔ یہ نغمہ رئیس امروہوی کا لکھا ہوا تھا۔ ’’امیدِ فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو‘‘ اس نغمے کے بول سے ہمیں حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ میں اپنی پوری ریکارڈنگ ٹیم کے ساتھ ’’امیدِ فتح رکھو اور علم اُٹھائے چلو‘‘ نغمے کی ریکارڈنگ میں مصروف ہوگیااس کی مکمل تفصیل اِنْ شاء اﷲ آئندہ۔۔۔!

افواج پاکستان کا سپاہی

 

ہیں قوم کے محافظ افواج کے سپاہی
اور شان ہیں وطن کی دیتا ہے دل گواہی
حرمت کے پاسباں ہیں یہ فوج کے جیالے
اپنے وطن کا روشن ہیں نام کرنے والے
دشمن کا بھی وطن پر پڑنے دیا نہ سایہ
ہر بار دشمنوں نے آ کر یہ آزمایا
ہر آن ہیں وطن کو آباد کرنے والے
اجڑے ہوئے دلوں کو ہیں شاد کرنے والے
امن و امان قائم رکھتے ہیں یہ وطن میں
فصلِ بہار گویا اِن سے ہی ہے چمن میں
توحید کی بھی دولت ایمان ہے دلوں میں
اور جذبۂ شہادت شامل ہے ولولوں میں
ڈرتے نہیں کسی سے اﷲ سے ڈرنے والے
اسلام کے مجاہد ہیں فوج کے جیالے
دل کی دعا ہے اسلمؔ یہ ملک شادماں ہو
دائم خدا کی رحمت کا سر پہ سائباں ہو


مظفر اسلم

*****

 
09
August

تحریر: حفصہ ریحان

(قسط اوّل)

پاکستان میں دہشت گردی کے پس منظر میں لکھا گیا ناول

کدھرکھوئے ہومجاہد؟؟ حیدر نے پیچھے سے آکرپوچھا۔
ادھرہی توبیٹھاہواہوں۔ اس نے مڑے بغیرجواب دیا۔
گھرمیں سب کیسے تھے ؟؟؟
گھر؟؟؟؟ اس نے حیرانی سے حیدرکی طرف دیکھا۔
ہاں یارگھر۔تم گھر گئے تھے نا!آج پانچ دن بعد ہی توآئے ہو۔حیدرمسکراتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں گھر گیاتھامیں۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے بولا۔
تو وہی پوچھ رہا ہوں ناکہ گھرمیں سب کیسے ہیں؟؟
سب ٹھیک تھے۔۔ہاں ہاں سب ٹھیک تھے۔۔وہ ٹھنڈے موسم میں بھی ماتھے سے پسینہ ہٹاتے ہوئے بولا۔
تمہیں کیاہواہے مجاہد؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟؟
میں؟؟؟ نہیں۔۔میں۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔وہ بہت مشکل سے بولا۔
تم بتائے بغیرچلے گئے تھے اور وہ بھی رات کو۔۔گھرمیں خیریت تھی نا؟؟؟ حیدرکو بھی اس کارویہ پریشان کر رہاتھا۔اس لئے وہ اِدھراُدھرکے سوالات پوچھتا رہا۔
ہاں میں کہہ رہا ہوں ناکہ سب خیریت تھی۔۔ بس میں ویسے ہی گیاتھا۔ اسے تھوڑا سا غصہ آیا۔
اب تم جاؤیہاں سے۔۔میں تھوڑی دیرمیں آجاؤں گا۔
لیکن کیوں یار؟؟ تم بھی چلونامیرے ساتھ۔۔ناشتے کاوقت بھی ہونے والاہے۔۔ حیدر سمجھ گیاتھاکہ وہ کسی وجہ سے پریشان ہے۔لیکن وہ بتانہیں رہاتھا۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔بس تم جاؤ۔میں ناشتے کے لئے آجاؤں گا۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ حیدر اس کی پریشانی کے بارے میں اس سے کچھ پوچھے۔
اچھاٹھیک ہے۔حیدرجانے کے لئے اُٹھ گیا۔لیکن وہ جان چکاتھاکہ کوئی نہ کوئی پریشانی ضرورہے۔
لیکن یہ بات مجاہد کے لئے اطمینان کاباعث ضرورتھی۔حیدرناراض ہی سہی لیکن وہاں سے اُٹھ گیاتھا۔
اس تاحدنگاہ پھیلے ہوئے میدان کے اس کونے میں وہی ایک بڑاساپتھر پڑاتھاجس پراس وقت و ہ بیٹھاہواتھا۔ یہ جگہ اس کی پسندیدہ جگہوں میں سے ایک تھی۔ لیکن آج وہ پانچ دن بعدیہاں آکربیٹھاتھا اورسب کی نظرمیں وہ پانچ دن اپنے گھر گزارکرآیاتھاپر یہ صرف وہی جانتاتھاکہ وہ پانچ دن کہاں گزارکرآیاہے لیکن ایک قفل تھاجو اس کی زبان پرلگادیاگیاتھا۔ بہت بے بس کردیاگیاتھا اسے۔ بے بسی کی ایسی سلاخیں تھی جس کے پارایک تباہی تھی۔ہولناک تباہی۔ اس کے اپنے خاندان کے گیارہ افرادکی تباہی۔۔۔
اس نے گھبراکرآنکھیں بندکرلیں۔ذہن میں یادوں کے دریچے وا ہوئے۔۔۔
***************************************************
وہ آج جلدی گھر پہنچناچاہتاتھا۔لیکن جتنی جلدی وہ جاناچاہ رہاتھااتنی ہی اسے دیرہوگئی تھی۔ وہ مزدورتھا اورمزدوراپنے فیصلے خودکہاں کرتاہے۔اس کی قسمت تومالک کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
وہ گھرپہنچ چکاتھااورجانتاتھاکہ جمیلہ اسی کاانتظارکررہی ہوگی۔کیونکہ اِس گھرکاچولہافضل کی کمائی سے ہی چلتاتھااورجس دن اسے کام نہ ملتااس دن جمیلہ بی بی کے لئے گھرکاچولہاجلانا مشکل ہوجاتاتھا۔

damelahoo.jpg
ظفرکے ابا!!رات کوجب وہ لوگ سونے کے لئے لیٹے تواس نے جمیلہ کی آوازسنی۔
کیا ہوا؟
میرادل کرتاہے کہ اس باراللہ ہمیں بھی ایک بیٹی دے دے۔چاربیٹوں کے بعداب میرابہت دل کرتا ہے کہ ہماری بھی ایک بیٹی ہو۔اس کے لہجے میں ایک خواہش تھی۔
میرا بھی۔فضل آہستہ سے بولا۔
چاربیٹوں کے بعداس بارجمیلہ کے امیدسے ہونے پرفضل بھی کہیں دل کے کسی کونے میں بیٹی کی خواہش جگابیٹھاتھا لیکن اس نے جمیلہ سے اظہارنہیں کیاتھاپرآج جمیلہ نے اس کے دل کی بات کہہ دی تھی۔
اللہ نے چاہاتواس بارہمیں ضروربیٹی دے گا۔۔ جمیلہ نے اپنی خواہش کوالفاظ کاروپ دیا۔
اوراگربیٹی نہ ہوئی تو؟؟؟ فضل نے بغیر کسی وجہ کے پوچھ لیا۔
تومجھے اللہ کے کاموں میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔میں کون ہوتی ہوں اللہ کے کام کے بارے میں بولنے والی۔اللہ جس کوجوچاہتاہے عطاکرتاہے۔۔وہ روانی سے بولی۔
اوروہ عورت ایک بارپھراسے حیران کرگئی تھی۔وہ عورت اکثرہی اس کوحیران کردیاکرتی تھی۔عورت ہی توتھی وہ ۔۔۔اورعورت ہمیشہ حیران ہی کرتی ہے۔
ان دونوں کاساتھ تقریباً پندرہ سال کاتھا۔یہ نہیں تھاکہ وہ دونوں کوئی بہت ہی زیادہ خوشگوار زندگی گزاررہے تھے لیکن اپنی زندگی سے ناخوش بھی نہیں تھے اورویسے بھی خوشی کاتعلق دولت سے کہاں ہوتاہے۔ایک یہی توچیزہے جس میں غریب امیرسے زیادہ امیرہے۔
پندرہ سال کے عرصے میں اللہ نے ان دونوں کوچاربچے دئیے تھے اور اتفاق یاخوش قسمتی یاپھر بدقسمتی سے وہ دونوں ابھی تک اللہ کی رحمت سے محروم تھے اگرچہ نعمت سے اللہ نے ان کو خوب نوازاتھااور اس بارامیدسے ہونے پر جہاں جمیلہ بی بی کے دل میں بیٹی کی خواہش جاگ اٹھی تھی وہاں فضل بھی چپکے چپکے یہی دعاکررہاتھا۔۔۔
*************
پاپاآپ کب آئیں گے ؟؟مجھے آپ کی بہت یادآرہی ہے۔وہ معصوم بچہ فون پر اپنے باپ سے پوچھ رہا تھا۔
بیٹاپاپااتنی جلدی تونہیں آسکتے۔ابھی ڈیڑھ مہینے پہلے ہی توپاپامل کرآئے ہیں آپ سے۔ وہ اسے بہلاتے ہوئے بولے۔
لیکن پاپامیں آپ کومِس کرتاہوں۔وہ معصوم لہجے میں بولا۔
یہ تواچھی بات ہے کہ میرے بیٹے کوپاپایادآرہے ہیں۔وہ ہنوز اسے بہلاتے رہے۔
توپھرآپ آتے کیوں نہیں؟؟
آؤں گابیٹا بہت جلد آؤں گااورآ کربہت سارے دن اپنے بیٹے کے ساتھ گزاروں گا۔اب خوش؟؟
نہیں پاپایہ توآپ ہربارفون پرکہتے ہیں لیکن آتے نہیں ہیں آپ۔وہ انہیں پچھلے وعدے یاددلارہاتھا جووہ ہرباراس سے کرکے ہی اسے بہلاپاتے تھے۔
نہیں بیٹااب مجھے جیسے ہی چھٹی ملے گی پاپاآپ کے پاس آجائیں گے اور بہت سارے دن بھی گزاریں گے۔
پرومس پاپا؟؟
ہاں بیٹاپکاپرومس۔۔
اوکے پاپا۔ یہ لیں نانوویٹ کررہی ہیں ان سے با ت کر لیں اورماماکچن میں ہیں میں پھر ان سے آپ کی بات کرواتا ہوں۔۔۔
****************
ظفرکے ابا! میں نے ایک بات سوچی ہے۔
کیا؟
اگراس بارہمیں اللہ نے بیٹادیاتو میں نے اس کوقاری اِدریس کی طرح بناناہے۔
کیا مطلب؟وہ حیران ہوا۔
مطلب یہی ناکہ میں نے اس کوقاری اِدریس کے پاس بِٹھاناہے، وہ قاری بنے گا،عالِم بنے گا،دین کی باتیں بتائے گااوردین پھیلائے گا،کیاپتہ اللہ ہمیں ایسے ہی بخش دے۔
لیکن اس دن توتم کہہ رہی تھی کہ اللہ ہمیں بیٹی دے دے۔
چاہتی تومیں یہی ہوں لیکن اللہ کے کاموں میں کس کودخل ہے۔ کیاپتاوہ بیٹا ہی دے دے۔
ہاں یہ توہے ۔۔۔۔۔۔ خیریہ تواللہ کی مرضی ہے وہ جس کوچاہتاہے بیٹی دیتاہے اورجس کوچاہے بیٹا۔جوہماری قسمت میں ہوگاہمیں دے دے گا، چلواب سو جاؤ مجھے صبح کام پربھی جاناہے۔فضل لیٹتے ہوئے بولا۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔وہ بھی لیٹ گئی۔
******************
مدرسے میں ناشتے کی گھنٹی بج گئی جواسے سوچوں کی دنیا سے کھینچ کراذیت بھری حقیقی دنیامیں لے آئی۔کتنی تلخ ہوتی ہیں ماضی کی یادیں۔۔۔
قاری ادریس جیسابناؤں گی، دین پھیلائے گا۔۔۔اس کے ذہن میں الفاظ گونجتے رہے جوکسی دن ماں نے اسے یہ ساری باتیں سنائی تھیں۔۔۔ اس کے چہرے پرایک اذیت بھری مسکراہٹ دوڑگئی۔۔۔
************************************** 
فضل اورجمیلہ بی بی کے چاربیٹے تھے۔ سب سے بڑا ظفرگیارہ برس کا،اس کے بعد امان اللہ ساڑھے آٹھ برس کا،پھرچھ برس کاوحید علی اور پھرتین برس کااصغرعلی۔۔
ہرغریب کی طرح فضل کاخاندان بھی اس کی آمدنی سے بڑھ کرتھا۔ وہ غریب تھا، مزدور تھا،شاید اِسی لئے۔۔۔۔۔۔ اورغریب لوگ بچے سوچ سمجھ کرکہاں پیداکرتے ہیں۔
ظفرنے گیارہ برس کی عمرسے کام پرجاناشروع کردیا۔ گھرمیں بڑھتے ہوئے اِخراجات نے اسے سکول کو چھٹی جماعت میں خیربادکہہ کرمزدوری کرنے پرمجبورکر دیاتھا۔ وہ بہت حساس اور فرمانبرداربچہ تھااِسی لئے باپ کی پریشانی اور گھر میں تنگی کوسمجھ گیا تھااور ایک گیارہ سال کے بچے کی سمجھ کی مطابق اس نے یہی فیصلہ کیاکہ وہ سکول چھوڑکرکام کرناشروع کردے۔
وہ گیارہ برس کابچہ بہت سمجھدارتھا۔ اپنے گھرمیں پھیلی غربت نے اسے اپنی عمرسے زیادہ سمجھ اورسنجیدگی دے دی تھی اورغربت ہی تواِنسان کوعقل اورسمجھ دیتی ہے ورنہ بنگلوں میں رہنے اورویڈیوگیمزکھیلنے والے بچے ’سمجھ‘ کوکیاسمجھ سکیں۔
*************
پاپاآپ کل جلدی گھرآجائیں۔عمران باپ سے فرمائش کرنے لگا۔
کیوں جی؟ کوئی خاص بات؟ وہ اس اچانک فرمائش پر حیران ہوئے۔
بس ویسے ہی۔
لیکن پتہ توچلے کہ جلدی کی فرمائش کیوں کی جارہی ہے؟
پاپامیں نے اورطوبیٰ نے پلان بنایاہے کہ ہم سب کل گھومنے جائیں گے آپ کے ساتھ۔ وہ اپنے پلان میں طوبیٰ کانام شامل کرتے ہوئے بولا۔
لیکن یہ پلان بناکب اورکِس کِس نے بنایا؟؟؟
پاپامیں نے اورطوبیٰ نے۔۔
او رطوبیٰ کب اِتنی بڑی ہوگئی کہ وہ پلان بنانے لگی؟؟؟ وہ جانتے تھے کہ اس پلان میں طوبیٰ شامل نہیں تھی۔طوبیٰ کوتووہ پلان بناکربتاتاتھااوروہ خوش ہوجاتی تھی۔۔
ارے پاپا وہ توبہت بڑی ہوگئی ہے، مجھ سے بھی زیادہ بڑی، یہ پلان اسی کاہے۔
چلیں طوبیٰ سے ابھی پوچھ لیتے ہیں۔وہ جا ن بو جھ کرتنگ کررہے تھے حالانکہ جانتے تھے کہ گھومنے پھرنے کاشوق عمران سے زیادہ کسی کونہیں ہے۔
نہیں پاپا۔۔اس سے مت پوچھیں۔
کیوں؟؟؟
پاپاوہ جھوٹ بولتی ہے۔
ہاہاہا۔۔اچھاچلوبیٹانہیں پوچھتے ، جیسی تم لوگوں کی مرضی۔۔
تو آپ کل جلدی آئیں گے ؟؟؟ اس کی آنکھوں میں خوشی تھی۔
کوشِش کروں گابیٹا۔۔
کوشِش نہیں ناپاپاآپ نے ضرورآناہے۔
اورنہ آسکاتو؟؟
توپھرمیں آپ سے ناراض ہوجاؤں گا۔
تم یا طوبیٰ؟؟؟؟انہوں نے مسکراتے ہوئے حیرت سے پوچھا
پاپاہم دونوں۔۔۔
لیکن یہ پلان توطوبیٰ کاہے نا !!!تو ناراض بھی اسے ہی ہوناچاہئے۔وہ اسے پھنساتے ہوئے بولے۔
پاپا! میں آپ سے ناراض ہوں۔وہ ان کے تنگ کرنے پرمنہ بناتے ہوئے بولا۔
ہاہاہا۔۔اچھااچھانہیں تنگ کرتا۔آجاؤں گاکل جلدی اِنشاء اللہ۔۔
یاہووووووووو۔۔۔۔تھینک یوپاپا۔۔ میں ابھی جاکرطوبیٰ اور ماما کو بتاتا ہوں۔ وہ خوشی سے چلاتے ہوئے بھاگا
اچھاسنوتو۔۔۔۔۔۔انہوں نے پیچھے سے بلایا
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ جاچکاتھا۔
گھومنے پھرنے کی خبرسن کروہ کہاں رکنے والاتھا۔
**********
تائی وجیہہ سے بات کرنی ہے مجھے۔آپ کی اجازت چاہتاہوں؟؟ وہ سرجھکائے دھیمی آوازمیں بولا۔
لیکن بیٹاابھی تھکے نہیں ہوتم لوگ؟؟ نصرت چچی حیرانی سے مسکرائی۔
نہیں امی اب تورومی بھیانہیں تھک سکتے۔۔ ملیحہ نے باورچی خانے کے اندرسے آوازلگائی۔ وہ بڑے اباکے لئے چائے بنارہی تھی۔
تائی زیرلب مسکراتے ہوئے وجیہہ کوبلانے چلی گئی جوابھی تھوڑی ہی دیرپہلے دلہن کے ان بھاری بھرکم کپڑوں سے جان چھڑاکرلیٹ گئی تھی۔
صارم صحن میں جاکرمیزکے گردپڑی کرسی پربیٹھ گیا۔
سراج علی کے دوبیٹے اورایک بیٹی تھی۔بڑاسفیرعلی، اس سے چھوٹی فاخرہ اورسب سے چھوٹاشیرعلی۔سراج علی کوباپ کی طرف سے ترکے میں کچھ زمیں ملی تھی جس پر کھیتی کرکے وہ اپنااوربچوں کاپیٹ پالتے تھے لیکن پھرایک دن ان کی اچانک وفات کے بعداس خاندان پرمعاش کے لحاظ سے کافی مشکل وقت پڑا۔ سفیراس وقت بارہویں جماعت کاطالبعلم تھا۔ اس وقت کے حالات میں اس نے اپنی ماں کے مشورے سے ملک سے باہرجاکرقسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔شیرعلی کوآگے پڑھانااس کاخواب تھااورابھی فاخرہ کی شادی بھی کرنی تھی۔ اپنے باپ کے ایک واقف کارکے ذریعے ایک ایجنٹ سے بات کی اورکچھ زمین بیچ کرویزاحاصل کرلیا۔محنتی تووہ تھا ہی۔وہاں جاکرمحنت کی توگھرکے حالات بھی سدھرنے لگے۔ شیرعلی کی پڑھائی بھی چلتی رہی اورفاخرہ کاجہیزبھی جمع ہوتارہا۔ آخروہ وقت بھی آگیاجب شیرعلی نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی اوراچھی نوکری بھی حاصل کرلی اورپھرجب فاخرہ بھی عزت سے اپنے گھرسدھارگئی توفضیلت بیگم کوسفیرکی دلہن بھی گھرلانے کی فکرہوئی۔وہ ابھی شادی کرنانہیں چاہتاتھالیکن ماں کی ضدکے سامنے اس کی چل نہ سکی اورغزالہ اس کی زندگی میں شامل ہوگئی۔شادی کے دومہینے بعدوہ قطراپنے کام پرواپس چلے گئے۔غزالہ ایک بہت اچھی بہو ثابت ہوئی تھی۔ اپنی ساس کواس نے کبھی شکایت کاموقع نہیں دیاتھا لیکن یہ قسمت ہی کی بات تھی کہ اس شادی کے ڈیڑھ سال بعدہی فضیلت بیگم کوبھی اللہ نے اپنے پاس بلالیا۔ غزالہ کی گودمیں اس وقت چھ ماہ کی بچی صبیحہ موجودتھی۔ماں کی تدفین پرآیا توسداکے دردمندسفیرکو اپنے چھوٹے بھائی شیرعلی کی فکرہوئی کیوں کہ اس بار وہ غزالہ اوربچی کواپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ کافی صلاح مشورے کے بعد فیصلہ یہ ہواکہ شیرعلی کی شادی غزالہ کی چھوٹی بہن زبیدہ سے کردی جائے۔ شیرعلی نے تواپنے سارے فیصلے پہلے ہی اپنے باپ جیسے بڑے بھائی کے ہاتھ میں تھمادیئے تھے اوریوں زبیدہ شیرعلی کی زندگی میں شامل ہوگئی۔
(.....جاری ہے)

نا ول ’دام لہو‘ کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔اور کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میں زمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
August

تحریر: کوکب علی

’’ یوکرائن کی چمکدار زمین۔۔۔ تم ہمیشہ دمکتی رہو۔۔۔متحد اور شبنم کے قطروں کی طرح تابناک رہو۔یہاں تک کہ سورج تمہیں ماند نہ کر دے۔۔۔۔
ہم زمین پر حکومت کریں گے اور اس کو ترقی کی منازل تک پہنچائیں گے۔۔۔
ہم نے اپنی روح تک اس زمین کی آزادی کے لئے قربان کی۔۔ جذبہ اور محنت ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ،
ہمارے لباس سے بہتا خون۔۔قوم کے خوشحال لوگوں کو مزید سر بلند کرے گا
اور ہمارے وطن کی ندیاں اور جھرنے بھی آنے والوں کو ہماری کہانیاں سنائیں گے۔ ‘‘

shabnamkitarah.jpg
یوکرائن کے قومی ترانے کے یہ خوبصورت الفاظ اپنے وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور یوکرائنی قوم کے جذبوں کی آماجگاہ بھی۔۔
ماہِ اگست اپنے اندر ایک خوبصورت کشش رکھتا ہے۔ جیسے14 اگست 1947 سے وابستہ دلی جذبات اُس وقت خصوصی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، جب وقت اور زمانوں سے ادھر چشمِ تصور میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے۔۔۔اور اپنی مٹی کی خوشبو، زمین ، موسم ، تہذیب ، تمدن ، تہوار ،، دیارِ غیر میں بھی اپنی محبتوں کے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔۔۔ اسی طرح 24 اگست یوکرائن کی آزادی کا دن ہے۔۔۔جو یہاں کے رہنے والوں کی دلی محبتوں سے عبارت ہے۔۔


ملکی تاریخ میں آزادی کا دن وہ تاریخ ساز دن ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کو زندگی امر کر جاتا ہے اور آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے اس وطن سے محبت اور وفاداری کے امین رہتے ہیں -
ہر سال جیسے 14 اگست پاکستان میں سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے ،کیونکہ یہ دن لا زوال قربانیوں کا مظہر ہے اور انسانی تاریخ کی جدو جہد کا ایک روشن باب بھی۔ اسی طرح یوکرائن میں بھی اگست کا مہینہ اس ملک کے لوگوں کے لئے آزادی کا پروانہ لے کر آ یا اور24 اگست 1991 کو خطۂ ارض پر یوکرائن ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اُجاگر ہوا لہٰذا اس دن کو نہایت جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔۔24 اگست1991 یوکرائن کی تاریخ کا خوبصورت دن خیال کیا جاتا ہے جب یوکرائنی قوم کو آزادی کی نوید سنائی گئی۔۔اور اگلے ہی برس1992 میں ایک آزاد ملک کی حیثیت سے پاکستان اور یوکرائن کے سفارتی تعلقات استوار ہوئے۔۔۔۔اس دن کی مناسبت سے پورے یوکرائن میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔۔
یوکرائن کے دارالحکومت
Kiev
میں فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جاتاہے رضا کار فوجی دستے
March of the Unconquered
پیش کرتے ہیں جو ان لوگوں کی یاد میں پیش کی جاتی ہے جو آزادی کی راہ میں مارے گئے۔۔ اور ان تمام لوگوں کو
Heavenly Hundred
کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نیلے اور پیلے رنگ پر مشتمل یوکرائن کا جھنڈا تھامے مختلف شہروں میں مارچ کیا جاتا ہے۔وطن سے محبت کے گیت گائے جاتے ہیں۔۔ٹیلی ویژن سٹیشن سے نشریات پیش کی جاتی ہیں ، کنسرٹس کئے جاتے ہیں ،نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے ،آتش بازی کے مظاہرے پیش کئے جاتے ہیں اور فری مارکیٹس کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پورا دن اسی طرح پُررونق اور پُر مسرت طریقے سے گزارہ جاتا ہے۔۔مگر سچ تو یہ ہے کہ سرزمین کوئی بھی ہو مٹی کے قرض وہاں کے رہنے والوں پر واجب ہوا کرتے ہیں۔۔۔

مضمون نگار مختلف اخبارات و رسائل کے لئے لکھتی ہیں۔۔ آپ ان دنوں یوکرائن میں مقیم ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter