Super User

Super User

The Directorate of Inter-Services Public Relations (known by its acronym ISPR) (Urdu: شعبہٴ تعلقات عامہ‎) is an administrative military organization within the Pakistan Defence Forces that coordinates military information with the media and the civil society. The ISPR is now headed by 2-star rank officer Major General Asim Saleem Bajwa who took over from Major General Athar Abbas in June 2012

Website URL: http://www.ispr.gov.pk

12
July
جولائی 2017
شمارہ:7 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ادارے ملکی سلامتی اور بقاء کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔ ملک کا ہر فرد اور سبھی ادارے باہم مل کر ریاست کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ لہٰذا ادارے جتنی تن دہی اور اولوالعزمی سے اپنے اپنے حصے کے فرائض انجام دے رہے ہوں‘ ریاست اُسی طرح سے ترقی اور وقار کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔ افواجِ پاکستان بھی دیگر اداروں کی مانند اپنے حصے کا کام جو کہ وطنِ عزیز کی جغرافیائی....Read full article
 
تحریر: عقیل یوسف زئی
سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت پر متعدد ایسی عالمی اور علاقائی قوتیں اثر انداز ہو رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں۔ جبکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات اور اداروں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ جیسے عوامل کے باعث نہ صرف حملہ آور تنظیمیں پھر سے طاقت پکڑنے لگی ہیں بلکہ حملوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے....Read full article
 
 alt=
تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان
جون کے پہلے ہفتے میں چھ عرب ممالک جن میں سے تین یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا تعلق خلیج تعاون کونسل سے ہے، نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر کے اس کے ساتھ تمام زمینی اور فضائی روابط منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کا ساتھ دینے والے باقی تین عرب ممالک مصر، لیبیا اور یمن ہیں۔ بعد میں تین اور ممالک یعنی جبوتی، نائیجیریا اور مالدیپ بھی اس میں شامل ہو....Read full article
 
تحریر: فرخ سہیل گوئندی
شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں بدلتی صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے طور پر جنم لیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں، سابق سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین مقابلے کے نتیجے میں دونوں طاقتوں نے اپنے ہاں اسلحے کے انبار لگانا شروع کردئیے۔ جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو دنیا کے مختلف ممالک علاقائی اقتصادی....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ظاہر ہے شہ رگ کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ ظلم و ستم کا شکار ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے شہری پُرسکون رہ سکیں۔ گویا ان کی بے قراری ایک فطری امر ہے۔.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انسان زندگی بھر سیکھتا ہی رہتا ہے ۔ اس کے سیکھنے کا عمل یا علم حاصل کرنے کا سلسلہ قبر تک جاری رہتا ہے۔ علم و تحقیق کی دنیا میں کوئی حرف ،حرف آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی انسان کامل علم کے حصول کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ میں ایک معمولی سا طالب علم ہوں ، سیکھنے کی دل میں آرزو ہے اور مکالمے پر یقین رکھتا ہوں۔ البتہ اس بات کا قائل ہوں....Read full article
 
تحریر: عبد الستار اعوان
47ء میں تقسیم کے بعد بھارت کی فضا کبھی بھی مسلمانوں کے لئے سازگار نہیں رہی تاہم جب سے نریندر مودی ا ورا ن کا ٹولہ برسراقتدار آیا ہے مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر نفرتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اوریہ سرزمین ان پر اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ملک میں.....Read full article
 
تحریر: ملیحہ خادم
دریا، پہاڑ، سمندر، صحرا،زر خیز زمین اور چارموسم۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جواگرکسی ملک کے پاس ہوں تو وہاں کے باشندوں کو خوش قسمت خیال کیا جاتا ہے کیونکہ ان چھ عناصر کی موجودگی میں معیشت خود انحصاری کی راہ پر رواں دواں رہتی ہے اور عوام خوشحال رہتے ہیں نیز بہتر طرز زندگی کی ضمانت اور ذرائع روزگار بھی ہمہ وقت میسر ہیں- چونکہ مضبوط اورمستحکم معاشی حالات پرسکون معاشرے کو....Read full article
 
تحریر: یاسرپیرزادہ
خدا نے انسان کو فیصلے کرنے کا کتنا اختیار دیا ہے؟ انسان اپنے معاملات میں کس قدر آزاد ہے؟ اگر سب کچھ کاتب تقدیر نے لکھ ڈالا ہے تو پھر انسان کی آزادی کے کیا معنی ہیں اور اگر اس کی آزادی خدا کی منشا کے تابع ہے تو پھر اس سے بازپرس کیوں کر ہو گی؟ یہ وہ مسائل ہیں جن پر صدیوں سے بحث جاری ہے مگر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس مسئلے پر بہت دلچسپ انداز میں ....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
چُھٹی سے زیادہ دلفریب لفظ شاید فوجی ڈکشنری میں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ چھٹی کی مثال عسکری زندگی کے صحرا میں ایک ہرے بھرے نخلستان کی مانند ہے جس کے تصور سے ہی روزمرہ کی کٹھنائیوں کی شدت کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ سپاہی کی زندگی چچا غالب کی طرح ہزاروں خواہشوں کا مرقع نہیں ہوتی بلکہ لے دے کر اس کی سوچ کا ....Read full article
 
تحریر: حمیرا شہباز
آپ کے ملک میں سب باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں؟میری روم میٹ کی جانب سے انتہائی غیر متوقع سوال تھا ۔ وہ میرے عقب میں دائیں طرف والے بستر پر بیٹھی مجھ سے مخاطب تھی جبکہ میں کل کی کانفرنس کی تیاری میں مقالہ دہرانے کے بجائے اپنے بستر پر بیٹھی نیا جوڑا استری کر رہی تھی۔ ہم دونوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے چوبیس گھنٹے تو ہو چکے تھے لیکن سلام ،صبح بخیر،.....Read full article
 
تحریر : وقاراحمد
مناماٹا کنونشن ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جو انسانی صحت اور قدرتی ماحول کو مرکری کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لئے تشکیل دیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے زیرِ سرپرستی اس معاہدے پر 19 جنوری2013 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط ہوئے اور اسی سال اکتوبر میں جاپان کے شہر کما موٹو میں مناماٹا کنونشن کی باقاعدہ توثیق کردی گئی۔ اس کنونشن میں پاکستان سمیت دنیا کے 128 ممالک دستخط کر چکے.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر عاطف منصورملک
اگر آپ اکبری دروازے سے اندرون لاہو ر میں داخل ہوں تو تنگ بازار سے گزر کر محلہ سریاں والا آتا ہے۔ غازیا علم دین شہید کا گھر اِسی محلے میں تھا، انہی کے نام پر اب وہا ں کا چوک موسوم ہے۔ اس چوک سے بائیں جانب مڑ کر کوچہ چابک سواراں سے گزرتے جائیے تو آگے محلہ ککے زئیاں آتا ہے۔ ککے زئی اسے عرفِ عام میں بڑی گلی کہتے ہیں۔ گو کہ یہ گلی اتنی تنگ ہے کہ کسی مرگ پر جنازہ .....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ہما میر
آج ہم اپنے مضمون میں ایک ایسے تجربے کا ذکرکرنا چاہتے ہیں جو عمر بھر کے لئے ہمارے دل و دماغ پہ ثبت ہوگیا ہے۔ ہمیں وہ دیکھنے کو ملا جس کا ہم شاید کبھی گمان بھی نہ کرسکتے ہوں۔ اگر چہ2015 میں بھی ہم نے اس کی جھلک دیکھی تھی۔ مگر اس بارہم خود اس کا حصہ تھے لہٰذا ہمیں قریب....Read full article

تحریر: مجاہد بریلوی
لندن میں ہوں۔ لاہور کے دفتر سے حکمِ حاکم آیا کہ یہاں کے الیکشن بہت دیکھ لئے اب ذرا برطانوی الیکشن دیکھنے جائیں۔ ایئرپورٹ سے میلوں کا فاصلہ طے کر تے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ راستے میں نہ کوئی جلسہ‘ نہ دھرنا‘ نہ پوسٹر‘ نہ بینر‘ یہ کیسا الیکشن ہے؟
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے........Read full article
 
تحریر: وثیق شیخ
چونڈہ کا محاذ اس لحاظ سے بہت منفرد اہمیت کا حامل ہے کہ باون سال گزرنے کے بعدبھی اس میدان جنگ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ وہ محاذ ہے۔ جہاں 1965 میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی۔ آج بھی قصبہ چونڈہ کے جوان ان ہی میدانوں میں سیر کرتے ہوئے اپنے بزرگوں سے جنگ کی ولولہ انگیز داستانیں سن کر اپنے خون کو گرماتے ہیں۔ جہاں بھارتی اور پاکستانی .....Read full article
 
تحریر: موناخان
نہ تو ہم جیمز بانڈ ہیں اور نہ ہی ہماری پچھلی نسل میں کوئی صحافی رہا ہے۔ یہ جسارت اپنے پورے خاندان میں ہم نے ہی کی ہے۔ یہ صحافت کا کیڑا کب سرایت کر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ جی تو بات ہو رہی تھی مشن نیپال کی۔ گزشتہ شمارے میں جس نیپال کی کتھا آپ کو سنائی تھی، اس کا اصل قصہ تو ابھی باقی ہے۔ فوج سے جلد ریٹائرمنٹ لینے والے بہت سے فوجی سکیورٹی ایجنسیز کھول لیتے ہیں یا کسی بڑے تھنک .....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
میڈم نور جہاں کا فنی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ ان تمام کا ذکریہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ میں اس وقت صرف میڈم نور جہاں کے اُن ملی نغموں کا ذکر کرتا ہوں جو ریڈیو پاکستان میں ہم نے مل کر پروڈیوس کئے۔آج جس نغمے کا ذکر ہے یہ 12 ستمبرکو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے شاعرتنویر نقوی ہیں۔....Read full article
 
تحریر: اسد عباس ملک
یہ مارچ کی ایک سہانی صبح تھی جب ہم کراچی سے براستہ حیدر آباد اور میر پور خاص عمر کوٹ (تھرپارکر) کے لئے روانہ ہوئے۔ میرپور سے گزرتے ہوئے روڈ کے دونوں طرف آموں کے بور بھرے سرسبز باغ ہمیں بیک وقت بہار اور گرمیوں کی آمد کا پتہ دے رہے تھے۔ میلوں پھیلا ہوا سبزہ، ہلکی سنہری چادر اوڑھے گندم کے کھیت اور ان میں رزق حلال کی تپسیا کرنے والے افراد ایک منظر .....Read full article
 
تحریر: عثمان انصاری
پاک بحریہ بحرِ ہندکی ایک طاقتور اور تجربہ کار بحری قوت ہے جو کہ بحرِ ہند میں امن اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ انفرادی سطح پر پاک بحریہ بحر ہند کے شمال میں بحیرہ عرب میں امن و استحکام کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔ بحیرہ عرب کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ سمندر خلیجی اور عالمی ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کا اہم راستہ ہے....Read full article
12
July

تحریر: عثمان انصاری

پاک بحریہ بحرِ ہندکی ایک طاقتور اور تجربہ کار بحری قوت ہے جو کہ بحرِ ہند میں امن اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ انفرادی سطح پر پاک بحریہ بحر ہند کے شمال میں بحیرہ عرب میں امن و استحکام کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔ بحیرہ عرب کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ سمندر خلیجی اور عالمی ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کا اہم راستہ ہے ۔علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے میں پاک بحریہ کی کاوشوں میں اہم ترین چیز دیگر بحری افواج کے ساتھ مشترکہ تعاون ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کثیر الملکی ٹاسک فورس
CTF-150
اور
CTF-151
کی اہم رکن ہے۔ان دونوں ٹاسک فورسز کا مقصد بحیرہ عرب میں میری ٹائم سکیورٹی ، دہشت گردی اور بحری قزاقی کی روک تھام کرنا ہے۔یہ ٹاسک فورسز اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان میں30مختلف ممالک شامل ہیں جو اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ پاک بحریہ کی ان ٹاسک فورسز میں شمولیت خطے میں امن کے استحکام میں ایک اہم ترین کاوش ہے اورپاک بحریہ ان سر گرمیوں میں مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام کو کس قدر اہم تصور کرتی ہے۔ انہی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ایما پر پاک بحریہ کو ان ٹاسک فورسز کی کمانڈ کا تجربہ متعدد بارحاصل ہوا ہے جو کہ پاک بحریہ کی خطے کے لئے خدمات کا ثبوت ہے۔ اگرچہ یہ خطہ عدم استحکام کا شکار ہے تاہم پاکستان نیوی کے کردار اور مشترکہ کوششو ں کی وجہ سے سمندروں میں صورتحال پرسکون ہے اور ہر قسم کی جہازرانی آزادانہ طریقے سے ہو رہی ہے۔ لہٰذا یہاں یہ مناسب ہوگا کہ اس پورے منظر نامے میں پاکستان نیوی کی کاوشوں پر روشنی ڈالی جائے ۔

pakbehriayabehre.jpg
ستمبر 2001ء میں افغانستان جنگ کے دوران بحیرۂ عرب میں بھاری بحری قوت صف بستہ نظر آئی تاکہ اس آپریشن میں مدد فراہم کی جاسکے، تاہم ضرورت اس امر کی بھی تھی کہ کسی بھی دہشت گرد کو فرا ر ہونے اور سمندری راستے سے ممکنہ طور پر خلیجی ممالک یا اس کے اطراف میں پہنچنے سے روکا جاسکے۔ اکتوبر 2002ء میں فرانسیسی رجسٹرڈ آئل سپر ٹینکر لمبرگ پر ہونے والے حملے نے جبکہ لمبرگ یمنی پورٹ آف عدن میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا، علاقائی جہازرانی کو درپیش خطرات اور اس طرح عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کو پوری طرح آشکار کر دیا ، جو کہ اس حملے کا اصل مقصدبھی تھا۔اگر بحری گزرگاہوں اور بندرگاہوں کو محفوظ نہیں بنایا گیا اور سمندروں میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا گیاتو عالمی معیشت کو اس کا شدید نقصان پہنچے گا۔ اس طرح بحیرۂ عرب اور اس کے اطراف کے پانیوں کو خصوصاََ خطرے کی زد میں تصور کیا جاتا تھاکیوں کہ خلیجی ممالک کو جانے والے توانائی اور تجارتی راستے یہیں سے نکلتے ہیں۔ اس لئے پورے خطے کو محفوظ بنایا جانا ضروری تھا تاہم یہ کسی بھی طرح کوئی آسان کام نہیں تھاکیوں کہ اس خطے کی وسعت کے باعث کوئی بھی نیوی تن تنہا اس کی نگرانی اور حفاظت کرنے کی اہل نہیں تھی۔
CTF-150
دراصل امریکی نیول ٹاسک فورس کے طور پرجود میں آیالیکن 2002ء میں یہ ایک کثیر القومی بحری قوت میں تبدیل ہوگیا جو بنیادی طور پر امریکی ، نیٹو کے چند یورپی اتحادیوں اور جاپان پر مشتمل تھی۔
پاکستان نیوی نے 2004ء میں
CTF-150
میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت سے اس کا ایک اہم ترین رکن ہے، پاک بحریہ نے پہلی مرتبہ 2006ء میں
CTF-150
کی قیادت سنبھالی اور اس کے بعد سے تاحال نو مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر چکی ہے۔
CTF-150
ایک وسیع علاقے کی نگرانی کی ذمہ دار ہے جہاں سے جہاز رانی کے مصروف ترین راستے گزرتے ہیں(دنیا کے ایک تہائی خام تیل کی ترسیل انہی راستوں سے ہوتی ہے) ۔ یہ علاقہ
2 Million
مربع میل سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں خلیج عمان، خلیج عدن، بحیرۂ احمر اور شمالی بحیرۂ عرب شامل ہیں۔ اس خطے سے مکمل واقفیت کے سبب پاکستان نیو ی
CTF-150
کا اہم ترین حصہ ہے۔
سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ کے گزشتہ دورۂ بحرین کے دوران امریکی نیول فورسز سینٹرل کمانڈ
(NAVCENT)
کے کمانڈر وائس ایڈمرل کیون ایم ڈونیگن نے اس حقیقت کا واضح الفاظ میں اعتراف کیا۔
NAVCENT
بذاتِ خود امریکی سینٹرل کمانڈ
(CENTCOM)
کا حصہ ہے جس کے تحت کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا قیام عمل میں آیا۔ ایڈمرل ذکاء اللہ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور بشمول دوطرفہ بحری اشتراک اور بحرِ ہند میں سکیورٹی کے معاملے سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایڈمرل ڈونیگن نے پاکستان نیوی کے افسروں اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور علاقائی سکیورٹی اور استحکام کے قیام میں پاک بحریہ کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے اس ضمن میں بیشتر کامیابی کو خطے میں پاک بحریہ کی مسلسل موجودگی سے منسوب کیا جس نے خطے میں آزادانہ جہاز رانی کے لئے محفوظ ماحول برقرار رکھا۔ سکیورٹی کے اعلیٰ معیار کی بدولت نہ صر ف سمندر میں دہشت گردی کے واقعات کا خاتمہ ہوا بلکہ دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے میں اگرچہ
CTF-150
کا اہم کردار رہا ہے تاہم 2000 ء کے درمیانی عشرے میں جنم لینے والے سکیورٹی کے نئے خطرات کے حوالے سے اس میں ایک امر واضح ہوا کہ یہ بحری قذاقی سے نمٹنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔ صومالی بحری قزاقوں کی جانب سے پہلے پہل ہورن آف افریقہ کے اطراف اور بعد ازاں بحرِ ہند میں حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں ایسے واقعات سے نمٹنے کا مطالبہ سامنے آیا۔ جس کے نتیجے میں 2009ء میں ایک خصوصی ٹاسک فورس
CTF-151
کا قیام عمل میں آیا۔
پاک بحریہ نے
CTF-150
میں اپنے کارہائے نمایاں اور خطے کے امن واستحکام کے لئے پاکستان کی ناگزیر حیثیت کو تسلیم کروانے کے لئے ٹاسک فورس 151 میں فوری شمولیت اختیار کی اور ٹاسک فورس کی کمانڈ کرنے والی خطے کی اولین بحری قوت ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور اس کے بعد بھی وہ کئی مواقع پر یہ اہم ذمہ داری ادا کرتی رہی ہے۔
پاک بحریہ نے دھیرے دھیرے بحری قزاقوں کی کارروائیوں کو ناکام بنانا شرو ع کردیاجس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی راہداری جس کا گزر باب المندب سے خلیجِ عمان کی طرف ہوتا تھا، محفوظ ہوتا چلا گیا۔ اس ضمن میں پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کو اقوام متحدہ کے کونٹیکٹ گروپ برائے بحری قزاقی میں باقاعدگی سے شرکت کی دعوت دی جاتی رہی ہے ، جو صومالی بحری قزاقوں سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل
(Contact Group on Piracy)
کی قرارداد1851کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
اگرچہ دونوں کمبائنڈ میری ٹائم فورسز میں پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کی شرکت اکثر خبروں کی زینت بنی رہتی ہے مگر دونوں فورسز میں پاکستان کی شمولیت کا ایک اہم پہلو اس کے میری ٹائم پٹرول کرافٹ کی تعیناتی ہے۔ یہ پاک بحریہ کے نسبتاً غیر معروف اثاثے ہیں جوایک ہی مشن کے دوران سمندر کے وسیع علاقے کی نگرانی کی اہلیت رکھتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران فوری مدد کے لئے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایئر کرافٹ کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا اہم اثاثہ ہوتے ہیں جو صحیح صورتحال کا پتہ لگاتے ہیں، مدد کی ضرورت پڑنے پر متاثر ہ فریق سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور پھر بحرین میں قائم کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے ہیڈ کوارٹرزکو یہ تمام معلومات ارسال کرتے ہیں ۔
سمندری نگرانی کے حوالے سے لانگ رینج پی تھری سی اورین پاک بحریہ کا اثاثہ ہیں ۔ پی تھری سی یا اس کی دوسری اقسام جو کمبائنڈ میر ی ٹائم فورسز کے دیگر پارٹنرز تعینات کرتے ہیں، سے مطابقت کے سبب پاکستانی اورین فلیٹ ایک فطری انتخاب ہے۔
کمبائنڈ میری ٹائم فورسز150-اور151کے آپریشنز میں حصہ لینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان آپریشنز میں حصہ لینے سے مقامی بحری افواج کی استعداد اور تربیت میں اضافہ ہوا ہے جس سے علاقائی بحری افواج کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔اس نقطہ نظر سے پا ک بحریہ ایک تجربہ کار بحری قوت گردانی جاتی ہے کیونکہ پاک بحریہ خلیجی ممالک کی کئی بحری افواج کو تربیت دے چکی ہے اور اس کے تربیتی اداروں میں علاقائی بحری افواج کے کئی آفیسرز آج بھی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دیگر بحری افواج کے ساتھ پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کی انجام دہی کے ذریعے پاک بحریہ کی صلاحیتو ں میں اضافہ ہواہے۔ لیکن کئی علاقائی بحری افواج انفرادی طور پر بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی جیسے جڑواں خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ( اور کچھ افواج اپنے محدود حجم اور وسائل کے سبب یہ اہلیت کبھی بھی حاصل نہیں کرسکتیں) ۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کا میری ٹائم مزاحمتی آپریشنز
(Maritime Interdiction Operations)
کی انجام دہی کے لئے سمال بوٹ انٹرڈکشن ڈرلز،سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز،ہیلی کاپٹرز کے ذریعے انجام پانے والے آپریشنز اور بحری جنگی جہازوں کی مہارتوں جیسی صلاحیتوں پر عبور اہم ہے۔ مزید برآں، زیادہ سے زیادہ باہمی رابطے حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور علاقائی افواج کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جس کے یقیناًمثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں اور پاک بحریہ اس سے بھر پور مستفید ہوئی ہے۔
مختصراً یہ کہ پاک بحریہ کی خطے میں مسلسل موجودگی نے اسے سب کے لئے محفوظ بنادیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی 90فی صد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے تاہم دیگر علاقائی ریاستیں خصوصاً خلیجی ممالک جو اپنی خوراک کا 80فی صد بذریعہ سمندر حاصل کرتی ہیں بھی یقیناًاس بحری امن سے مستفید ہو رہی ہیں۔ یہ صرف پاکستان کے ہی مفاد میں نہیں کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے عزم پر کار بند رہے بلکہ پاک بحریہ کی کاوشیں تمام علاقائی ممالک کے لئے بھی سود مند ہیں۔ پاک بحریہ کی کاوشوں کی بدولت یہ سب پر واضح ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور بحری امن کو یقینی بنانے کے سلسلے میں عالمی سطح پرکی جانے والی مشترکہ کوششوں کا اہم حصہ ہے ۔
اس تمام منظر نامے میں پاکستان کے کردار کے بغیر کمبائنڈ میری ٹائم فورسزکے مشن کی تکمیل ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

 
12
July

تحریر: اسد عباس ملک

یہ مارچ کی ایک سہانی صبح تھی جب ہم کراچی سے براستہ حیدر آباد اور میر پور خاص عمر کوٹ (تھرپارکر) کے لئے روانہ ہوئے۔ میرپور سے گزرتے ہوئے روڈ کے دونوں طرف آموں کے بور بھرے سرسبز باغ ہمیں بیک وقت بہار اور گرمیوں کی آمد کا پتہ دے رہے تھے۔ میلوں پھیلا ہوا سبزہ، ہلکی سنہری چادر اوڑھے گندم کے کھیت اور ان میں رزق حلال کی تپسیا کرنے والے افراد ایک منظر پیش کر رہے تھے۔ شہر کی چکا چوند اور شور سے بھری زندگی سے دور یہ منظر نہایت سکون بخش تھا کہ خالق نے اس دھرتی کو کتنے موسموں، کتنے رنگوں اور کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ انہی نعمتوں سے بینائی کو سیراب کرتے جب ہم عمر کوٹ کے تاریخی شہر پہنچے تو سہ پہر ہو چکی تھی۔ مگر ہمیں اپنا سفر جاری رکھنا تھا اور یوں عمر کوٹ سے شمال کی جانب دو گھنٹے مزید سفر کرنے کے بعد ہم اپنی منزل مقصود یعنی ڈاہری نامی گاؤں پہنچے۔ جہاں ہمارے میزبان ہمارے منتظر تھے۔ دن ڈھل چکا تھا اور پاکستان اور انڈیا کے بارڈر پر واقع صحراے تھر کا یہ گاؤں میلوں پھیلے اونچے نیچے ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک عجیب منظر پیش کر رہا تھا۔۔ مقامی لوگوں کے مطابق 1965 کی جنگ میں اسی بارڈرسے پاکستان کی بری فوج نے انڈیا کے اندر گھس کردشمن کے قریباً 20 کلو میٹر رقبے پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر 1971کی لڑائی میں بزدل دشمن نے جب بارڈر کراس کرتے ہوے اس علاقے پر قبضہ کرنا چا ہا تو مقامی آبادی نے اپنی فوج کے ساتھ مل کر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ایک مقامی بزرگ چاچا جمعن نے اس مڈبھیڑ کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے انہوں نے دشمن کی فوج سے اپنی جان بچائی تھی۔

sehratharkbatchy.jpg
’’میں اس وقت کافی جوان تھا، شاید 25سال کا تھا۔ کیونکہ بارڈر پر فائرنگ ہورہی تھی اس لئے بارڈر کے قریب رہنے والے لوگوں کو عمر کوٹ شہر کی طرف ہجرت کرنے کو کہا گیا تھا، تاکہ دشمن کی کسی بھی جارحیت سے مقامی ہندو اور مسلمان آبادی کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ میں اپنی بکریوں کے ریوڑ کو لے کر آ رہا تھا جب اچانک فائرنگ شروع ہوئی اور دشمن کی طرف سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں میری پانچ بکریاں ہلاک ہو گئی تھیں جب کہ میں نے ریت کے ایک ٹیلے کی اوٹ میں لیٹ کر خود کو فائرنگ سے بچایا تھا ۔‘‘ چاچا جمعن کے مطابق وہ وہاں اس وقت تک لیٹا رہا تھا جب تک پاکستانی فوج کی جوابی فائرنگ سے دشمن کی فائرنگ بند نہیں ہو گئی تھی۔ چاچا جمعن اب ایک دکان چلاتے ہیں ۔ اس دوران جب انہوں نے اپنی بات مکمل کی تو میں نے اپنے آس پاس بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کا بھی ایک ہجوم پایا۔ ان میں سے کچھ میری گود میں پڑے

DSLR

کیمرے کو اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے تو کچھ ماضی کے قصے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے بچوں کو بھی محفل کا حصہ بنانے کی غرض سے جب پوچھا کہ کون کون اردو میں بات کر سکتا تھا تو صرف دو بچوں نے ہاتھ کھڑے کئے۔ ان میں سے ایک کا نام سجاول تھا۔ سجاول ایک مقامی سکول میں پانچویں کلا س کا طالب علم اورمانیٹر تھا۔اس سے رسمی گفتگو کے بعد جب میں نے پوچھا کہ وہ بڑا ہو کر کیا بننا چاہتا ہے تو سجاول نے جواب دیا کہ وہ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اسے مزید کریدتے ہوے پا ک فوج میں شمولیت کی وجہ پوچھی تو سجاول کا جواب تھا کہ اسے پاک آرمی کے جوان بہت پسندہیں۔ کیونکہ وہ بہت بہادرہوتے ہیں اور انہوں نے ہر مشکل وقت میں اس کے گاؤں کے لوگوں کی حفاظت کی ہے۔ سجاول کے مطابق اس کے گاؤں کے باقی سب بچے بھی فوج میں ہی جانا چاہتے ہیں۔ میں نے جب اپنے مقامی میزبان سے کہا کہ وہ تھری زبان میں وہاں کھڑے بچوں سے پوچھے کہ ان میں سے کون کون پاک فوج میں جانا چاہتا ہے تو میری حیرت کی اس وقت انتہاء نہ رہی جب وہاں موجود بچوں میں ایک چھوٹی بچی نے بھی ہاتھ کھڑا کر رکھا تھا۔ میری ٹیم کے سب لوگ بھی یہ منظر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ ہمارے مقامی میزبان نے بتایا کہ تھرپارکر کے علاقے میں بارڈر پر بسنے والی آبادی میں گویا کہ تعلیم و دیگر بنیادی سہولتوں کا اشد فقدان ہے ، مگر اس کے باوجود یہاں نئی نسل میں سے اکثریت فوج میں جانا چاہتی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ معاشی استحصال اور محرومیوں کا شکار ان علاقوں میں صحت ، تعلیم ، روزگار اور پینے کے پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورتوں کے نہ ہونے کے باوجود جو ایک چیز ان لوگوں کو میسر ہے اوروہ ہے اس علاقے کا امن و امان اور تحفظ ۔ انڈیا کے بارڈر پر ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی یہ سمجھتی ہے کہ پاک فوج کی بدولت ہی وہ ان علاقوں میں دشمن کی توپوں کی زد میں ہونے کے باوجودآرام و سکون کی نیند سو سکتے ہیں اور کسی بھی قسم کے خوف اور خطرے کے بغیر اپنی روزمرہ کی معاشی و معاشرتی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ یہاں کے بچے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں اور فوج کو اپنا پسندیدہ ادارہ سمجھتے ہیں۔


ضرورت اس امرکی ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت ان علاقوں کی ترقی کی طرف توجہ دے اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ان علاقوں میں پانی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے۔ ڈاہری گاؤں اور اس کے اطراف میں واقع دوسرے علاقوں میں بھی تعلیمی سہولتوں کاشدیدفقدان ہے۔یہاں پانچویں جماعت کے بعد تعلیم کی سہولت موجود نہیں اور اکثر اوقات بچے بمشکل ہی پانچویں تک تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ جب کہ بچوں ، با لخصوص بچیوں کی ایک بڑی تعداد دن بھر پانی بھر کر لانے میں مصروف رہتی ہے۔ لہٰذا تھرپارکر کے بچوں اور بچیوں کی تعلیمی ضروریات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بچے بھی پڑھ لکھ کر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
12
July

تحریر: محمداعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اُس وقت کے پروڈیوسر ریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

میڈم نور جہاں کا فنی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ ان تمام کا ذکریہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ میں اس وقت صرف میڈم نور جہاں کے اُن ملی نغموں کا ذکر کرتا ہوں جو ریڈیو پاکستان میں ہم نے مل کر پروڈیوس کئے۔آج جس نغمے کا ذکر ہے یہ 12 ستمبرکو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے شاعرتنویر نقوی ہیں۔ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں‘ مجھے بطور پروڈیوسر یہ انتخاب کرناہوتا تھا کہ آج کون سا نغمہ ریکارڈ کیا جائے۔ ملی نغمے تو ہمیں بے شمار موصول ہوتے مگر جنگی حالات و واقعات کے مطابق ہمیں ملی نغمے کا انتخاب روزانہ کرنا ہوتا۔میں ریکارڈنگ کے لئے سارا دن اپنی منتخب ٹیم کے ساتھ مصروفِ عمل رہتا۔بعض اوقات یہ کام رات گئے تک جاری رہتا کیونکہ ملی نغمے کے انتخاب سے لے کر ریکارڈنگ مکمل ہونے تک بہت سی مشکلات درپیش ہوتیں مگر جذبۂ ایمانی اور لگن کی وجہ سے تمام امور بخوبی انجام پاجاتے۔ مجھے میڈم نور جہاں اکثر کہتیں کہ اعظم میاں تم کتنے انتھک انسان ہو‘ کام کرتے چلے جاتے ہو‘ تھکتے نہیں ۔ یہ سب کچھ اﷲ پاک کی مجھ پر مہربانی تھی کہ اتنے بڑے کام کا ذمہ لیا ہوا تھا‘ اس کو پورا کرنا میرا فرض تھا۔ یہ سب کچھ اپنی پیاری‘ نڈر اور بہادر افواجِ پاکستان کے لئے تھا۔ وہ محاذ پر اپنی ڈیوٹی دے رہی تھیں‘ اور میں ثقافتی محاذ پر اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔
تنویر نقوی نے یہ ملی نغمہ ہمیں لکھ کر بھیجا’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ آپ خود دیکھیں کہ کس طرح تنویر نقوی نے شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو۔ یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی
یہ شفق رنگ لہو
جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی‘ جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی
دُور جس صبح درخشان سے اندھیرا ہوگا
رات کٹ جائے گی‘ گل رنگ سویرا ہوگا
اپنی رفتار کو اب اور ذرا تیز کرو
اپنے جذبات کو کچھ اور جنوں خیز کرو
ایک دو گام پر اب منزلِ آزادی ہے
آگ اور خوں کے اُدھر امن کی آبادی ہے
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
میں نے اپنی پوری ٹیم اور میڈم نور جہاں کی مدد سے ان اشعار کو موسیقی کی مدد سے پُراثر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنی اس کوشش میں کامیاب فرمایا۔ بہادر افواج پاکستان کے شہیدوں کالہو رنگ لایا اور ہم ہر محاذ پر کامیاب ہوئے ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا کرم تھا کہ تعداد میں ہم سے زیادہ فوج کی موجودگی کے باوجود ہم نے اور ہماری بہادر افواجِ پاکستان نے اپنے جذبہ ایمانی سے ہر محاذ پر دشمن کو عبرت ناک شکست سے دور چار کیا اور دُنیا نے یہ سب کچھ دیکھا۔ یہ ہماری فوجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے اور ہمیں اپنی اس قربانی کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔ ملک پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور یہاں کا ہر باشندہ اپنے ملک کے لئے خاص نظریات رکھتا ہے ہمیں اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی ہر حالت میں حفاظت کرنی ہے۔ اور عہد کرنا ہے کہ اپنے پاک وطن کے لئے وقت آنے پر اپنی جان تک قربان کردیں گے۔

 
 

Follow Us On Twitter