21
January

باہمی تعاون کے نئے دور کا آغاز

این ایل سی کے دس ریلوے انجنوں کو پاکستان ریلوے کے حوالے کرنے کا معاہدہ طے پایا
پاکستان کو برطانوی سامراج سے آزادی کے وقت ریلوے کا وسیع و عریض اور فعال نظام ورثے میں ملا۔ ریلوے کا یہ مربوط نظام وطن عزیز کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ ہر قسم کے جغرافیائی خطوں میں بچھائی گئی پٹریاں ور برطانوی طرز کے خوبصورت ریلوے اسٹیشن بلا شبہ آج بھی کسی عجوبے سے کم نہیں ہیں تاہم وقت گزرنے اور ٹیکنالوجی میں نت نئی جدتیں آنے کی وجہ سے یہ قومی ادارہ زمانے کے ساتھ اپنی رفتار کو برقرار نہ رکھ سکا نتیجتاً آہستہ آہستہ پاکستان ریلوے انتظامی، عملیاتی اور مالی بحرانوں سے دوچار ہو گیا۔

ریلوے اور این ایل سی کا تعاون 2011 سے جاری ہے گزشتہ دہائیوں پر محیط پاکستان ریلوے کی زبوں حالی سے قومی لاجسٹکس استعداد پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ جون 2011 کو منعقدہ نیشنل لاجسٹکس بورڈ کے اجلاس میں گزشتہ حکومت کے وفاقی وزیر برائے خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی نے این ایل سی کو ریلوے کی بحالی میں معاونت فراہم
کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ این ایل سی نے 2012 میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے سلسلے میں ریلوے کے آئی پی ڈی ایف پی آر کے ٹریک رسائی کے حقوق جیتے۔ این ایل سی نے مال برداری کے لئے کوریل سے دس انجن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم مال بردار ٹرین کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے این ایل سی کے انجنوں کا استعمالہ ممکن نہ رہا۔ ستمبر 2013 میں نیشنل لاجسٹکس بورڈ کے اجلاس میں دونوں اداروں کو ہدائت کی گئی کہ این ایل سی کی سرما یہ کاری کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کیا
جائے۔

نیشنل لاجسٹکس بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں دونوں اداروں کے مابین طویل مشاورت کا آغاز شروع ہوا۔ معروف مالیاتی کنسلٹنسی ادارے" اینٹی گریٹڈ ایکویٹز پرائیویٹ لمیٹڈ "نے دونوں اداروں کو مالیاتی ماڈل پیش کیا جسے کافی غور و حوض اور طویل مشاورت کے بعد معاہدہ کی شکل دی گئی۔ معاہدہ کے مطابق این ایل سی پاکستان ریلویز کو دس انجن فراہم کرے گا۔
ڈرائیور وں اور انجنوں کی دیکھ بھال این ایل سی کے ذمہ ہوگی۔ جبکہ مجموعی آپریشنل انتظام اور مال برداری کی مارکیٹنگ کے لئے پاکستان ریلویز ذمہ دار ہوگا۔

این ایل سی اور پاکستان ریلوے کے درمیان معاہدہ پر دستخط گزشتہ دنوں پاکستان ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ہوئے۔ اس پُروقار تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر برائے ریلوے جناب سعد رفیق اور کوارٹر ماسٹر جنرل اور آفیسر انچارج این ایل سی لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللّٰہ خان کے علاوہ دیگر سینئر حُکام بھی موجود تھے۔ ڈی جی این ایل سی میجر جنرل اصغر نواز اور ریلوے کے جی ایم آپریشنز مُحمدجاویدانور نے اپنے متعلقہ اداروں کی جانب سے معاہدہ پر دستخط کئے۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے نے معاہدہ کو دونوں اداروں کے لئے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مال برداری کے لئے آسان، سستی اور تیز ترین سہولیات فراہم کرنے لئے ریلوے اور این ایل سی میں مزید تعاون بڑھانے کے لئے دوسرے منصوبوں
پر غور کیا جا رہا ہے جنہیں عنقریب حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے این ایل سی کی مجموعی کارکردگی پر ادارے کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس اہم ادارے کی قومی ترقی میں
لازوال خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ انجنوں کے ریلوے اور ایف جی آئی آر کے آزمائشی معیار کے مطابق تفصیلی ٹسٹ کئے گئے اس ضمن میں این ایل سی نے ریلوے کی تمام ضروریات شرائط پوری کیں۔ انجنوں کی مکمل جانچ اور فٹنس کے بعد ہی معاہدہ کو حتمی شکل دی گئی۔معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں کئی رکاوٹیں اور مشکلات سامنے آئیں اور چند ناپسندیدہ عناصر نے منفی تائثر قائم کرنے کے لئے میڈیا کے ذریعے بھرپور پروپیگنڈہ مہم کا سہارا لے کر شکوک و شبہات کو جنم دینے کی مذموم کوشش کی تاہم این ایل سی اور پاکستان ریلوے کی قیادت نے معاملہ فہمی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان عناصر کے منفی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دیا۔ دونوں اہم اداروں نے ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو تحمل اور بردباری سے سمجھا اور مال بردار ٹرین کے نظام کی
بحالی میں اپنامجموعی کردار ادا کیا۔
مُعاہدہ دونوں سرکاری اداروں کے باہمی تعاون کا مظہر ہے۔ ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اور قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے این ایل سی اور پاکستان ریلوے نے ثابت کیا کہ اگر ارادے نیک اور جذبہ حُب الوطنی پر مبنی ہو توکامیابی ضرور قدم چُومتی ہے۔

09
January

CGS Visits Khyber Agency

Published in Hilal English
CGS Visits Khyber Agency
newscjvisit.jpg Chief of General Staff Lt Gen Bilal Akbar visited Khyber Agency and interacted with the troops. He appreciated their resolve and said that ‘the people of Khyber Agency have sacrificed a lot in the war against terror’. He also said, “the TDPs are being provided with maximum assistance during the resettlement process and efforts are being made to complete the rehabilitation process within the stipulated time”. Earlier, Lt Gen Bilal Akbar also visited HQ 11 Corps where he was briefed in detail about the prevalent security situation in KP and FATA, the stablization operations, return of TDPs and the ongoing development work.
 
 
08
January

پاک فضائیہ کے نمبر 11ملٹی رول سکواڈرن نے انٹر سکواڈرن آرمامنٹ مقابلے جیت لئے

پاک فضائیہ کے نمبر 11 ملٹی رول سکواڈرن نے انٹر سکواڈرن آرمامنٹ مقابلے جیت لئے
 
گزشتہ دنوں منعقدہ مقابلوں میں پاک فضائیہ کے نمبر 11 ملٹی رول سکواڈرن نے انٹر سکواڈرن آرمامنٹ مقابلہ جیت لیا۔ اختتامی تقریب پاک فضائیہ کے ایک آپریشنل ایئر بیس پر منعقد ہوئی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ‘ ایئر چیف
مارشل سہیل امان اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ’’یہ مقابلے مختلف جنگی جہازوں کے پائلٹس کو فضا سے زمین پر استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی کارکردگی کو جانچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان مقابلوں کا بنیادی مقصد فائٹر سکواڈرنز کی آپریشنل تیاری‘ پیشہ ورانہ مہارت اور کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔‘‘یاد رہے کہ اس سال JF-17تھنڈر، F-16بلاک 52اور F-16طیاروں کی شمولیت نے اس مقابلے کو خاص بنا دیا۔ مذکورہ مقابلوں کی خاص بات JF-17کی نمایاں کار کردگی تھی ۔
pakkno11news.jpg
09
January

Pakistan Conducts Successful Test of Cruise Missile

Published in Hilal English
Pakistan Conducts Successful Test of Cruise Missile

On December 14, Pakistan conducted a successful test of an enhanced version of the indigenously developed Babur Cruise Missile. Babur Weapon System version-2 incorporates advanced aerodynamics and avionics that can strike targets both at land and sea with high accuracy, at a range of 700 km. It is a low flying, terrain hugging missile, which carries certain stealth features and is capable of carrying various types of warheads.


It is equipped with state-of-the-art navigational technologies of Terrain Contour Matching (TERCOM) and all-time Digital Scene Matching & Area Co-relation (DSMAC) which enable it to engage various types of targets with pinpoint accuracy even in the absence of GPS navigation. Babur Weapon System is an important force multiplier for Pakistan’s strategic defence.


The launch was witnessed by Chairman Joint Chiefs of Staff Committee Gen Zubair Mahmood Hayat, senior officers from Strategic Plans Division, Army Strategic Forces Command, scientists and engineers of strategic organizations. Chairman Joint Chiefs of Staff Committee congratulated the scientists and engineers on achieving yet another milestone of great significance. He appreciated the technical prowess, dedication and commitment of scientists who contributed to the success of the launch.


Expressing his full confidence in the Strategic Command and Control System and the Army Strategic Forces Commands’ operational preparedness, CJCSC stated, “This test has further strengthened Pakistan’s deterrence capability”. The President and the Prime Minister of Pakistan congratulated the scientists and engineers on the successful conduct of the missile test.

newscrusmis.jpg

 

Follow Us On Twitter