10
January

مکالمہ۔تشدّدپسندانہ رویوں کا تریاق

تحریر: ڈاکٹر منہاس مجید

جب بھی فرقہ وارانہ تنازعات کی بات ہوتی ہے تو مغربی ممالک اُسے چودہ سو سال پہلے خلفائے راشدین کے انتخاب کو بنیاد بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سنی شیعہ مسلمان صدیوں تک، باوجود اجتہادی اور فقہی اختلافات کے، باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان اختلافات نے عالمِ اسلام میں بالعموم اور رفتہ رفتہ مشرقِ وسطیٰ میں بالخصوص فرقہ واریت کی شکل اختیار کرلی جس کی مثال سولہویں صدی میں سلطنت فارس اور سلطنت عثمانیہ کی آپس میں جنگیں تھیں‘ تاہم وہ محدود تھیں۔ موجودہ شیعہ سنی تنازعات جو کہ ابتدا میں معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں کچھ عرصہ بعد تشدد کی انتہائی شکل اختیار کر لیتے ہیں مگر ختم پھر بھی نہیں ہوتے اور بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ان کے ختم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تنازعہ جو کسی مخصوص جگہ پر محدود لوگوں کے درمیان شروع ہوا تھااس کے بعد بیرونی عناصر کی مداخلت سے بین الاقوامی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کی وجوہات اندرونی اور بیرونی مداخلت دونوں ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ بیرونی مداخلت سے پیشتر ہم عالمِ اسلام میں موجودہ خامیوں کا مشاہدہ کریں۔


تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم سے ہی مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔1919 کے مصری انقلاب سے لے کر ترکی کی جنگِ آزادی (1919-1923)تک، عراق کرد تنازعہ (1919-2003)، سعودی عرب یمن جنگ (1934)، عراقی شیعہ بغاوت(1935-36) اور پھر دوسری جنگِ عظیم سے لے کر عراق ایران جنگ اور اس کے بعد کے واقعات جو مسلم ممالک کے درمیان باعث تنازعات رہے ہیں اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مغربی دنیا آج بھی انہی جنگوں کا حوالہ دیتی ہے اور مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے اواخر میں جبکہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ اختتام کو پہنچ رہی تھی‘ اس سرد جنگ میں مسلم ممالک کو دونوں طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور ان کے قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ کیا۔ سلیم راشد اپنی کتاب ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد مغرب ایک نئے دشمن کی تلاش میں تھا جس پر وہ اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرسکے اور ان کے لئے اسلام اور مسلم امہ سے بہتر دشمن اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی بات کا اعتراف شیرین ہنٹر نے بھی اپنی کتاب’’ دی فیوچر آف اسلام اینڈ ویسٹ‘‘ میں کیا ہے کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد اسلام مغرب کے لئے دشمن ہوگا۔ آج فرقہ واریت کی جب بات ہوتی ہے تو ان مذکورہ باتوں کو نظر انداز کرکے فقط مسلمانوں کے اندرونی تنازعات اور اختلافات کو ہی سبب گردانا جاتا ہے اور داعش یا اس طرح کی مسلح تنظیموں کے وجود کو انہی اختلافات کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔


9/11کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کے ساتھ ساری دنیادہشت گردی کی لپیٹ میں آجاتی ہے لیکن مٹھی بھر دہشت گردوں کا الزام سارے مسلمانوں پرلگایا گیا کیونکہ وہ مٹھی بھر لوگ’’ مسلمان‘‘ تھے۔ عراق پر حملہ ہوا۔ تیونس، لیبیا، شام، مصر، لبنان عرب سپرنگ کی لپیٹ میں آئے لیکن وہاں وہ امن قائم نہ ہو سکا جیسا کہ امریکہ کی بظاہرخواہش تھی کیونکہ امریکہ کی ڈیموکریٹک پیس تھیوری کے مطابق جہاں جمہوریت ہوگی، وہاں امن ہوگا اور جہاں حکمران مطلق العنان
(Autocratic)
ہیں، وہاں نا انصافی ہوگی۔ جہاں تک مذہبی اقلیتوں کا تعلق ہے چاہے وہ شیعہ سنی ہوں یا دیگر غیر مسلم ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور ان کی آپس میں لڑائیاں جاری رہتی ہیں۔ مغربی ممالک نے جہاں جہاں اپنی آزاد اقدارمتعارف کرانے کے لئے مسلح جارحیت کا راستہ اپنایا ہے وہاں امن قائم نہیں ہو سکا بلکہ یہ جارحیت مزید بدامنی پھیلنے کا باعث بنی ہے۔


اگر مشرقِ وسطیٰ کا جائزہ لیا جائے تو عراق اور شام میں حکومتی اختیار ختم ہونے پر فرقہ وارانہ تنازعات کا دوبارہ ظہور ہوا جس کے نتیجے میں داعش منظم ہوئی اور عراق میں سنی صوبوں اور شام کے مشرقی علاقوں میں پھیل گئی۔ داعش نے شام میں ریاستی عملداری کے خاتمے اور عراق میں سنی برادری کو سیاسی دھارے سے علیحدہ کرنے کا بروقت اور پورا فائدہ اٹھایا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں کہیں بھی وہ علاقے جو حکومتی دسترس سے باہر رہے ہیں تو اس خلانے دہشت گرد تنظیموں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہاں وہ اپنے مراکز قائم کریں اور وہیں سے وہ دہشت گردی کو پھیلا سکیں۔ اس کے علاوہ ریاستی عملداری کے ختم ہونے سے بیرونی عناصر فائدہ اُٹھا کر اپنے مقاصد پورا کرتے ہیں جیسا کہ عراق اور شام کی صورت حال میں ایران، سعودی عرب، ترکی، قطر، امریکہ، روس اور دیگر ممالک کی مداخلت ہے۔ جب ہم عرب سپرنگ کی بات کرتے ہیں تو یہ تیونس سے لے کر بحرین تک حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی تحریک کا نام ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ آزادی، انصاف اور خوشحالی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ تحریک بھی فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہوگئی اور اس ناسور نے مختلف ممالک کو فوری طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔اس آگ نے عالمِ اسلام کو دو دھڑوں میں تقسیم کردیا اور ہر ایک فریق دوسرے فریق سے خوفزدہ ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ جب شام میں سنی بشارالاسد کی حکومت سے برسرپیکارہیں تو ان کو سعودی عرب اور قطر کی معاونت حاصل ہے دوسری جانب شامی حکومت کو ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے جس میں مالی اور عسکری دونوں تعاون شامل ہیں۔ اسی طرح غیر ریاستی عناصر حزب اﷲ کو ایران جبکہ لیبیا کی رضاکارانہ فورس کو سعودی عرب کا تعاون حاصل ہے۔ بحرین کی شیعہ آبادی جو حکومت کے خلاف بغاوت کر رہی ہے اس کو ایران اور شام کی مدد حاصل ہے جبکہ بحرین کی حکومت کو سعودی عرب کا تعاون حاصل ہے۔ یاد رہے کہ بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف حکومت کا جانبدارانہ رویہ نیا نہیں ہے لیکن عرب سپرنگ ان پر بھی اثر انداز ہو اہے۔


عراق اور شام کے حالیہ تنازعے نے فرقہ وارانہ وفاداریوں کو عیاں کردیا ہے۔ عموماً سیاسی تنازعات فرقہ واریت کا روپ اختیار کرلیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ جیسا کہ ہم مشاہدہ کررہے ہیں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ڈرامائی انداز میں ایک نئی سرد جنگ کی طرف جارہا ہے۔ جہاں دونوں اس خطے میں اپنی بالا دستی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ اب یہ پراکسی وار کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ہر د و فریق فرقہ واریت کی اس جنگ میں اپنے مخالف فریق کے خلاف مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ شام،یمن، عراق سب جگہ صفِ اول کی جنگ فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑی جارہی ہے یعنی شیعہ بمقابلہ سنی حالانکہ یہ ایک فیکٹر ہے جو ہمیں ہر سطح پر نظر آتا ہے۔ اِن تنازعات کی وجہ دیگر بہت سے سٹریٹیجک ایشوز بھی ہیں اور غیر ملکی مداخلت بھی۔


لبنان اور کویت میں عارضی امن تو قائم ہے لیکن فرقہ واریت کی چنگاری کو کبھی بھی ہوا لگ سکتی ہے۔ مسلم دنیا کا آپس میں اختلاف یعنی شیعہ بلاک اور سنی بلاک میں تقسیم ہونا داعش جیسی تنظیم کو پیدا کرنے کا باعث بنا ہے جو بغیر کسی تفریق کے مغرب، شیعہ سنی، ایران حتیٰ کہ سعودی عرب کو بھی اپنا دشمن سمجھتی ہے۔


ان واقعات کے تناظر میں مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کے بدلتے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ کے صدر اوبامہ نے اعتراف کیا ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہدِ صدارت کی بدترین غلطی تھی۔ عراق پر حملے کو مغربی سکالرز تاریخ کی ایک بہت بڑی غلطی قرار دے چکے ہیں۔ اوبامہ حکومت کے ایران کے ساتھ کئی دہائیوں کے اختلافات اور پابندیوں کے بعد جوہری توانائی اور دیگر امور پر بات چیت اگرچہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے لیکن مذاکرات کے راستے کو اپنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلحے کا استعمال اختلافات کوحل کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اس خطے میں جاری بحران کو حل کئے بغیر نکلنا بھی ان پُر تشدد واقعات اور دہشت گردی کی وجہ ہے۔


المختصر یہ بات تو طے ہے کہ امتِ مسلمہ میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح مختلف مسالک اور فرقے موجود ہیں اور ان کے آپس میں کچھ بنیادی اور کچھ فروعی اختلافات کی وجہ سے تنازعات اور اندرونی چپقلش کا ماحول موجود رہتا ہے مگر موجودہ صورتحال میں اور بالخصوص مشرقِ وسطی میں جاری لڑائیاں کچھ اور خفیہ عوامل کی نشان دہی کرتی ہیں۔ تاہم اب ہم اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے سارا الزام دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ چہ جائیکہ ہم وہ حالات پیدا کریں کہ دوسرے ہماری مدد کے بہانے آکر معاملات کو اور خراب کریں ہمیں چاہئے کہ ہم سب مل کر فی الفور آپس میں مکالمے کا آغاز کریں۔ آپس میں مکالمہ اس نیت کے ساتھ کہ ہم نے مل کر امن و آشتی کے ساتھ رہنا ہے ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات کا احترام کرنا ہے اور اپنی موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کو اندرونی جنگ و جدل سے ہر حال میں بچانا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشروں میں بات کرنے کی روایت کی حوصلہ افزائی اور تشدد کی ہر شکل کی حوصلہ شکنی کریں تو امیدِ واثق ہے کہ مسلم آبادیاں آپس میں بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ
Diversity
یعنی تنوع کو خدا تعالیٰ کی تخلیق کا ایک امر سمجھیں اور یک رنگی‘ یک نسلی اور یک مذہبی ایجنڈے کے بجائے ایک دوسرے کی مثبت صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ معاشرے مختلف طبقات اور رنگ و نسل سے مل کر ہی بنتے ہیں یہ مسلمان علماء کرام‘ دانشوروں اور حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف مسلمانوں میں موجود فرقہ بندیوں کو تشدد اور جنگ کے راستے پر جانے سے روکیں بلکہ اپنے معاشروں میں بسنے والے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا بھی احترام کریں۔ یاد رکھیں کہ اندرونی جنگیں باقی تمام طرح کی لڑی جانے والی جنگوں سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ہوتی ہیں۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور اُس میں جاری پراکسی وارز
(Porxy Wars)
کا بہت گہری نظر سے تجزیہ کرنا چاہئے اور اس طرح کی جنگ کو پاکستان سے ہر حال میں دُور رکھنا چاہئے۔ پاکستان کی افواج نے ابھی تک تمام غیرریاستی دہشت گرد گروپوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے مگر اس خطرے کا سدِباب سماجی اور سیاسی سطح پر بھی نہایت ضروری ہے۔ ہمیں ایک پرامن معاشرہ درکار ہے جو صرف پُر امن بقائے باہمی کے اصولوں پرعمل سے ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے اور مکالمہ ان تمام کوششوں کی کنجی ہے۔ ہمیں مکالمے کی طاقت سے تشدد کے رویوں کو روکنا ہو گا۔ آیئے آپس میں بات کریں اور اس موجودہ ہلاکت خیزی کے طوفان کو روکیں جس سے ہماری دشمن قوتیں مسلسل فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

مضمون نگار یونیورسٹی آف پشاور کے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
January

پاکستان ترکی تعلقات، پس منظر وپیش منظر

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

ترکی کی سرحدیں تو پاکستان سے نہیں ملتیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ترکی اور پاکستان کے دل آپس میں ملتے ہیں۔ ترکیہ جمہوریہ، دنیا کا ایک ایسا منفرد ملک ہے جس کے باسیوں کے تعلقات سرزمینِ پاکستان میں بسنے والے لوگوں سے قیامِ پاکستان 1947ء بلکہ قراردادِ لاہور 1940ء سے بھی پہلے تاریخ میں نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جنگ عظیم اوّل میں تب دیکھنے کو ملا جب بکھرتی سلطنتِ عثمانیہ کو ابھرتی مغربی سامراجی طاقتوں نے ترکوں کو اپنے وطن سے محروم اور ترک قوم کو مٹانے کے لئے سرزمین ترکیہ پر یلغار کردی۔ مختلف مغربی طاقتوں نے بچے کھچے ترکی کو لوٹ کا مال سمجھ کر بندر بانٹ کرنا چاہی اور اس کے لئے جنگ گیلی پولی برپا کی گئی، جس میں غیرمتوقع طور پر ترک لیفٹیننٹ کرنل مصطفی کمال نے مغربی دنیا کی اتحادی افواج کو شکست فاش سے دوچار کردیا اور یہیں سے مصطفی کمال کو پاشا کا لقب ملا۔ اس دوران سرزمینِ متحدہ ہندوستان میں بسنے والے لوگوں نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک یادگار تحریک برپا کی۔ تب ترکی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، اپنی بقا کی آخری اور فیصلہ کن جنگ، جس کی قیادت غازی مصطفی کمال پاشا اتاترک کررہے تھے۔ برصغیر میں چلنے والی اس ترک دوست تحریک کو ’’تحریک خلافت‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ غازی مصطفی کمال پاشا نے جنگی میدانوں میں مغربی استعماری طاقتوں کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔


یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے لوگ اپنی آزادی کے لئے متحد ہورہے تھے اور مسلمانانِ برصغیر کے قائد محمد علی جناحؒ ، تحریک آزادی کو ایک نئے دھارے پر ڈال رہے تھے۔ بعد میں جنم لینے والی ریاستِ پاکستان کی ترکیہ جمہوریہ سے تعلقات کی بنیادیں یہیں سے اُستوار ہوئیں۔ ترکوں نے اپنی جنگ کامیابی سے جیتی اور عوامی جمہوری انقلاب برپا کرکے 1923ء میں ترکیہ جمہوریہ کی بنیاد رکھ دی۔ یہ مسلم دنیا کی واحد جمہوریت ہے جو کسی سامراج یا نوآبادیاتی نظام کی
Legacy
نہیں۔ مصطفی کمال پاشا نے جہاں ایک طرف مغربی استعماری قوتوں کو شکست دی تو دوسری طرف ایک آئینی جمہوری ریاست کا قیام اپنی قیادت کے تحت مکمل کیا۔ علامہ اقبال ؒ جنہیں ہم برصغیر میں مسلمانوں کی ریاست (پاکستان) کا فکری بانی کہتے ہیں، وہ ترکی میں مصطفی کمال پاشا کے تصورِ ریاست سے کس قدر متاثر تھے، اس پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

pakturktal.jpg’’ترکوں کے سیاسی اور مذہبی افکار میں اجتہاد کا جو تصور کام کررہا تھا، اسے عہد حاضر کے فلسفیانہ خیالات سے اور زیادہ تقویت پہنچی اور جس سے اس میں مزید وسعت پیدا ہوتی چلی گئی۔ مثال کے طور پر حلیم ثابت ہی کا نظریہ ہے جو اس نے اسلامی قانون کے بارے میں قائم کیا اور جس کی بنیاد اس نے جدید عمرانی تصورات پر رکھی‘‘ اور’’پھر اگر اسلام کی نشاۃ ثانیہ ناگزیر ہے، جیساکہ میرے نزدیک قطعی طور پر ہے، تو ہمیں بھی ترکوں کی طرح ایک نہ ایک دن اپنے عقلی اور ذہنی ورثے کی قدرو قیمت کا جائزہ لینا پڑے گا۔‘‘
علامہ محمد اقبال
، (The Reconstruction of Religious Thought in Islam)
صفحہ 121 اقبال اپنے بنیادی سیاسی فلسفے میں ترکیہ جمہوریہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ قرار دیتے ہیں۔مفکرِ پاکستان علامہ اقبال اور بانئ ترکی مصطفی کمال پاشا اتاترک کا سالِ وفات 1938ء ہی ہے۔ جب جدید ترکی کے بانی غازی مصطفی کمال پاشا کا انتقال ہوا تو بانئ پاکستان محمد علی جناح ؒ نے اس عظیم رہبر کے انتقال پر آل انڈیا مسلم لیگ کو درج ذیل حکم نامہ جاری کیا۔
"I request Provincial, District and Primary Muslim Leagues all over India to observe Friday the 18th of November as Kemal Day and hold public meetings to express deepest feeling of sorrow and sympathy of Musalmans of India in the irreparable loss that the Turkish Nation has suffered in the passing away of one of the greatest sons of Islam and a world figure and the saviour and maker of Modern Turkey--- Ghazi Kemal Ataturk."
Date: 11-11-1938 (Quaid-e-Azam Papers, National Archives of Pakistan)
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں قوموں کے تعلقات کس قدر گہری سطح پر قائم ہوئے۔ مفکرِ پاکستان اور بانئ پاکستان، جدید ترکی کے قائد مصطفی کمال پاشا کے حامی ہی نہیں بلکہ اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کے مداح بھی تھے، جسے ہمارے رجعت پسند حلقوں نے جان بوجھ کر ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔


قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ ، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے تو ترکیہ جمہوریہ نے اپنے ایک معروف ترک شاعر و ادیب اور دانشور یحییٰ کمال کو پاکستان میں اپنا سفیر نامزد کیا۔ پاکستان میں ترکی کے پہلے سفیر نے بانئ پاکستان کو 4مارچ 1948ء کو سفارتی اسناد پیش کیں۔ اس موقع پر قائد اعظم محمدعلی جناحؒ نے فرمایا:


’’کئی تاریخی میدانِ جنگوں میں آپ کے لیڈر کے کارنامے، آپ کے انقلاب کی کامیابی، عظیم اتاترک کا ابھرنا اور ان کا کیریئر، اپنے اعلیٰ تدبر سے ان کا آپ کو ایک قوم کی تعبیر دینا، حوصلہ مندی اور پیش بینی، ان تمام واقعات سے پاکستان کے عوام بخوبی واقف ہیں۔ درحقیقت برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری کے آغاز ہی سے ، آپ کے ملک میں رونما تبدیلیوں کا یہاں عوام پوری ہمدردی اور دلچسپی سے مشاہدہ کرتے رہے ہیں ۔‘‘
اس کے بعد تاریخی، سماجی اور روحانی طور پر دونوں قوموں کے مابین تعلقات سفارتی سطح پر بھی قائم ہوگئے۔ ترکی اور پاکستان نے ہردور میں ثابت کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اگر ان تعلقات کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب ترک قوم کسی مشکل کا شکار ہوئی تو پاکستانیوں نے بلا جھجک ترکوں کی حمایت کی اور اسی طرح ترکوں نے پاکستان کی۔ ترکی اور یونان کے درمیان قبرص کے مسئلے پر پاکستان نے روزِ اوّل سے ہی ترکوں کو کسی بھی عالمی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر سپورٹ کیا۔ جب 1974ء میں ترکی نے وزیراعظم بلندایجوت (مرحوم) کی حکومت میں قبرصی ترک عوام کو جاری خانہ جنگی سے نجات دلوانے کے لئے آپریشن کیا تو پاکستان نے کھل کر ترک حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ۔ اس وقت پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی اور انہوں نے ترکی کی ہر طرح سے مدد کا سرکاری سطح پر اعلان کیا۔ مسئلہ قبرص پر ترکی کے ساتھ تنازعاتی ملک چونکہ یونان تھا، اس لئے پاکستان کی جانب سے ترکی کی بھر پور حمایت کرنے پر یونان نے ہزاروں پاکستانیوں کو بحری کمپنیوں سے فارغ کردیا۔ ایک ملاقات کے دوران میرے دوست جناب بلند ایجوت (مرحوم) نے مجھے بتایا کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ یونانی بحری کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو یونانیوں نے فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے تو میں نے اسی وقت سرکاری حکم نامہ جاری کیا کہ ان متاثرین کو ترک بحری کمپنیوں میں ملازمتیں دے دی جائیں۔ اسی طرح ترکی، پاکستان کے ساتھ ہر عالمی محاذ پر ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ دونوں پاک بھارت جنگوں 1965ء اور 1971ء اور کشمیر کے مسئلے پر ترکی نے بلالحاظ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔


سرد جنگ کے زمانے میں دونوں ممالک آر سی ڈی اور سینٹو جیسے علاقائی اتحاد میں شامل رہے تو تب بھی دوست تھے اور جب یہ عالمی اتحاد ختم ہوئے تب بھی باہمی دوستی میں کمی نہ آئی۔ آج ترکی، دنیا میں ابھرتا ہوا ایک اہم ملک ہے، اس تناظر میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت مزید مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ انقرہ، جدید ترکی کا دارالحکومت ہے اور اس جدید شہر کے وسط میں سب سے بڑی اور اہم شاہراہ بانئ پاکستان محمد علی جناحؒ کے نام سے منسوب ہے، ’’جناح جاہ دیسی‘‘ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی شاہراہ پر بھارت کا سفارت خانہ ہے۔ ذرا تصور کریں، ترکی میں بھارتی سفارت خانے کی تمام دستاویزات پر جب ’’جناح جاہ دیسی‘‘ لکھنا ہوتا ہے تو بھارتیوں کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔ پاکستان میں مینارِ پاکستان، فیصل مسجد، داتا گنج بخش مسجد سمیت متعدد عمارات ترک معماروں کا کام ہیں اور اسلام آباد سے لے کر لاڑکانہ تک متعدد شاہراہیں، بانئ ترکی اتاترک کے نام سے منسوب ہیں۔


اس بدلتی دنیا میں جو یک محوریت سے مختلف علاقائی، تجارتی اور سٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدل رہی ہے، ترکی اور پاکستان دو اہم ممالک ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیا کا اہم ترین ملک اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور مسلم دنیا کی طاقت ور ترین وار مشینری رکھنے والا ملک ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایک سنگم کی سی ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دہانے پر بدلتی دنیا میں نیا کردار حاصل کررہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تعلقات اور چین کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اِن تعلقات کو اوربھی بڑھا رہا ہے۔ ایسے ہی ترکی مشرقِ وسطیٰ کاایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ملک ہے۔ تعلیم، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بعد دوسری اہم وار مشینری رکھنے والا، نیٹو کا دوسرا بڑا حصہ دار ہے۔ لہٰذا ان دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اب اس بدلتی دنیا میں ایک نیا علاقائی اور عالمی توازن بنانے میں نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔


اگر ہم اس سارے خطے پر سرسری نگاہ دوڑائیں تو اس خطے میں اہم ترین ممالک میں چین، روس، بھارت، پاکستان اور ترکی یک محوریت سے ملٹی پولر دنیا میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے جا رہے ہیں۔ اس میں ترکی اور پاکستان تقریباً تمام علاقائی اور عالمی معاملات میں ایک صف میں کھڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے یہ آئیڈیل تعلقات درحقیقت ایک فطری اتحادی کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگر افغانستان کے مسئلے میں ترکی اپنے ازبک نسلی تعلقات کے حوالے سے اور نیٹو کا رکن ہونے کے ناتے ایک خاص سیاسی مقام رکھتا ہے تو اسی طرح افغانستان، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون ہے۔ 9/11 کے بعد ترکی اور پاکستان، افغانستان کے مسئلے پر ایک دوست اور اتحادی کے طور پر بیشتر معاملات میں ایک موقف پر رہے اور ہم نے دیکھا دونوں دوست ممالک افغانستان میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کے علاوہ اپنے طور پر بھی مصروفِ کارہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک بڑی عالمی طاقتوں کے علاوہ بھی کئی علاقائی اور عالمی معاملات کو سلجھانے میں کوشاں ہیں۔


ترکی اور پاکستان متعدد شعبوں میں شریکِ کار ہیں خصوصاً دفاعی حوالے سے، لیکن ان گہرے تعلقات سے ہم مزید فوائد بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ خصوصاً تعلیم، صحت، صنعت، تجارت اور زراعت کے شعبوں میں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی زراعت کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے ترکی کی زرعی ترقی و صنعت سازی سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں بھی۔ میں پچھلی تین دہائیوں سے ترکی کی سیاست، تاریخ، ثقافت، تہذیب اور معاشرت کو سمجھنے میں مصروف ہوں۔ میرا یہ یقین ہے کہ اگر ہمارے پالیسی ساز، درج بالا شعبوں میں، ایک دوسرے سے تیزرفتاری سے تعاون بڑھائیں تو پاکستان اس منزل کو چند سالوں میں چھو سکتا ہے جس کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا ہے، یعنی ایک جدید تعلیم یافتہ، صنعتی اور مضبوط معیشت رکھنے والا ملک۔ ضرورت صرف سنجیدگی اور فیصلہ کرنے کی ہے۔ اس حوالے سے ترکی میں پاکستان کے سفیر سہیل محمود کا یہ جملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان ترکی تعلقات شان دار تاریخ رکھتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہمہ وقت آبیاری کی ضرورت ہے۔ سہیل محمود، انقرہ میں اور ترک سفیر صادق بابر گرگن پاکستان میں سفارتی حوالے سے بے مثال کردار ادا کررہے ہیں۔ ان دونوں سفارت کاروں کو میں نے ان دو روایتی دوستوں کے تعلقات کو سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے عروج پر پایا لیکن ان سفارتی کوششوں کے علاوہ پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے ان شعبوں میں تعاون کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے جو ہماری حکومت کے ایجنڈے میں زیادہ نمایاں نہیں، یعنی تعلیم، ٹیکنالوجی، علمی وادبی تحقیق، زراعت اور صنعت۔ اور اسی طرح ہم ترکوں کے ساتھ متعدد شعبوں میں اپنے تجربات شیئر کرسکتے ہیں، خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹرز اور آئی ٹی کے شعبے میں۔ اگر دونوں ممالک میں اہل فکر ودانش سے متعلق لوگوں کا
Exchange
پروگرام شروع کر دیا جائے تو دونوں ممالک جلد ہی اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جس سے یہ اہم مسلم ریاستیں دیگر مسلم دنیا کی رہنمائی کرسکتی ہیں۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
January

A New Fairness Needed !

Written By: Syed Muhammad Ali

Obama administration wanted the world to pursue Nuclear Zero while it exceptionally built up India militarily. Similarly, how Donald Trump looks at Obama’s “Pivot to Asia” strategy will not only determine the peace, security and stability of Asia in general and South Asia in particular but also the long-term U.S. economic interests associated with Asia-Pacific.

The tumultuous month of November 2016 will long be remembered in world history. The election victory of Donald Trump in the U.S. Presidential elections led to nationwide protests and stunned Washington’s key allies including the UK, Germany, France and Japan. If Donald Trump manages to keep his promise and actually demands from NATO and other key allies to dig deeper into their own pockets, to ‘do more’ themselves for their individual security needs and depend less on Washington, it would reflect an unprecedented ‘U.S. security commitment fatigue’ and growing significance of domestic economic concerns for the new Republican administration. A declining U.S. security commitment towards both its traditional Western European and East Asian allies by the new Republican administration could encourage them to shed their own nuclear restraint and accelerate their individual efforts towards their heightened national security needs.


Another major event within four days of the U.S. election, somewhat eclipsed by Trump’s historic victory over Mrs. Clinton, is the signing of an extraordinary nuclear deal between Japan and India. The Japanese nuclear deal is unique and extraordinary for five reasons. First, Japan is the only country in the world which has actually suffered two nuclear attacks during war and its sterling commitment towards non-proliferation and principled stance on arms control has traditionally been exemplary. However, the signing of this new deal, despite India possessing the developing world’s largest and oldest unsafeguarded nuclear program, now raises new questions regarding the future of these Japanese commitments. Second, this latest deal would help expedite various additional nuclear deals that the other States have earlier signed with India. Both French company Areva and U.S. nuclear giant Westinghouse use key Japanese components such as reactor vessels for their reactors. Third, this deal has been put together even more hurriedly than the Indo-U.S. nuclear deal by compressing the 123 Agreement, reprocessing, administrative arrangements and NSG into one. This is perhaps to ensure its swift implementation before the Obama administration leaves office. Four, this deal has a cursory mention of principled Indian Non-Proliferation Treaty (NPT) adherence and hardly expects a significant non-proliferation commitment, sans non-testing of nuclear weapons by New Delhi, in return for exceptional Japanese technological access and support. Five, this deal symbolizes the growing strategic Indo-Japanese partnership and reflects their mutual desire to counter-balance China in East Asia and Asia-Pacific.


Another significant and related event was the NSG’s meeting held in Vienna on November 11 to discuss the “technical, legal and political aspects of Non-NPT States’ Participation in the NSG”. According to informed sources, although the U.S. tried its best to gain maximum support for Indian’s NSG membership, a large number of member States including Russia, said that further discussions were still needed before individual membership cases could be evaluated. This indicates that the support for a criteria-based approach for considering additional members is growing and gaining momentum within the 48-nation group managing the international nuclear trade and cooperation.

 

A declining U.S. security commitment towards both its traditional Western European and East Asian allies by the new Republican administration could encourage them to shed their own nuclear restraint and accelerate their individual efforts towards their heightened national security needs.

The impression some observers have attempted to internationally present is that basically the tussle between the U.S. and China will eventually determine the outcome of the new NSG membership cases. However, the outcome of this latest meeting indicates that the reality is far more complex than popularly presented. The divisions between the three camps supporting exceptional membership, criteria-based membership and swing states are starker and deeper than initially anticipated, and achieving consensus by either group is not likely in the foreseeable future. Therefore, Obama administration’s agenda of hurriedly making India an NSG member before the Democrats’ term runs out has essentially failed.


This provides the incoming Republican administration with an opportunity to look at all Democrat-led initiatives and agendas afresh and with skepticism. Obama administration wanted the world to pursue Nuclear Zero while it exceptionally built up India militarily. Similarly, how Donald Trump looks at Obama’s “Pivot to Asia” strategy will not only determine the peace, security and stability of Asia in general and South Asia in particular but also the long-term economic interests associated with Asia-Pacific. Amidst serious domestic economic challenges, militarizing Asia-Pacific excessively and further escalating tensions with China could increase, not reduce threats to the long-term U.S. vital economic interests associated with Asia-Pacific.


Throughout history the Republicans have traditionally maintained a more careful balance in the delicate and complex U.S. relationship with both Pakistan and India than the Democrats. The presidencies of President Nixon, Reagan, Bush Senior and Bush Junior have demonstrated a better U.S. understanding of Pakistan’s regional security concerns towards India, leading to a relatively more stable regional order, reduced tensions, better crisis management and lower nuclear escalation risks.


One hopes that the new Republican administration will seek and shape a fresh and more prudent security agenda towards both Asia-Pacific and South Asia, which can make the nuclear-armed region more stable and less conflict-prone. It should include a comprehensive review of the U.S. policy towards South Asia and a fresh approach based on supporting a robust composite dialogue between New Delhi and Islamabad, sustainable cooperation with Pakistan in its efforts to defeat terrorism and stabilize Afghanistan, and supporting simultaneous NSG membership for both Pakistan and India. This new security agenda will enable the Republican administration to devote its attention, energies, resources and capabilities towards more urgent and graver challenges to the U.S. national security such as terrorism, ISIS, managing relations with China and Russia and putting its own house in order. Like always, ignoring Pakistan instead of working with it, will harm and not improve U.S. long-term national security interests both regionally and globally.

 

The writer is a Senior Research Fellow at the Center for International Strategic Studies, Islamabad.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
January

The Rise of Nationalism in Europe

Written By: Saad Qamar Iqbal

Are EU’s Days Numbered?

Dramatic changes in the social and political landscape of EU pose serious doubts!

Brexit, and a gradual rise of nationalism in Europe is actively challenging the very idea of a merged European Union. The threat always existed in subtle forms of migration, financial and identity crisis. It has taken a more direct form as far-right, eurosceptic parties are gaining dramatic momentum. Far-right nationalists in Austria and Denmark have won their respective elections. Political entities openly denouncing the idea of European Union are gaining crucial support in Germany, Netherlands and elsewhere. Their progress varies across Europe; but France's Marine Le Pen, presently Europe’s most feared far-right politician is taking a good shot at the presidency, summing up the overall grim situation. With nationalism rearing its “ugly head”, is European Union past its partially-achieved prime?

 

theriseinnat1.jpgFrance and Frexit
France is of particular importance to EU’s integrity. Its historical role in the formation of EU in contrast to Britain’s which always appeared rather disgruntled and the current political might it possesses reinstates how Frexit could put EU in all sorts of jeopardy. What makes this even a possibility? Marine Le Pen, the nationalist leader contesting for presidency has openly attacked the idea of Euro and open borders. In 2015, her party, National Front bagged 6.8 million votes – their highest ever. The presidential elections are to be held in April 2017, and Le Pen is not facing a very convincing opposition. Most polls have rated her chances of success high: IPsos giving her a 14 points lead compared to Nicolas Sarkozy. She is known for anti-immigration policies and has often made headlines with her anti-Muslim remarks. The 48-years old re-established her strength as a politician in 2015 when she expelled the founder of the party, Jean-Marie Le Pen for his controversial statements.


Migration Crisis Forging Strong
Refugee influx is arguably the deepest-seated reason behind the consistent surge of nationalism in Europe. It is linked with other economic and social concerns like unemployment, weak law and order, and identity crisis in Europe. “Open borders” form an active part of rhetoric by the far-right politicians. Germany has been the refugee paradise for long, receiving more than a million refugees in 2015 – courtesy Angela Markel, the German Chancellor and apparently the last flag-bearer of Liberal Europe. The public perception is not equally welcoming. Markel will be seeking 4th term as the Chancellor but her party is losing ground to the opponents promising anti-migration policies.

 

theriseinnat.jpgThe refugee crisis is only getting worse with over 60 million people displaced worldwide. Europe is a relatively easy access for Syrians, with Germany being the favourite country. As Syrian crisis has no end in sight, Europe feels pressed to close the borders.


Anti-Establishment Sentiments
A strong public perception can make or break the government. The rising popularity of nationalistic views among people comes as the most discernible symptom of mounting nationalism in Europe. Interestingly, public sentiments do not always portray the situation on ground. They are often triggered taking little reality in account. Consider France as an example: the common belief is that Frenchmen are worse-off today. An overview of France’s performance suggests otherwise with a stable unemployment rate of 10%, lower than many other European nations. The other economic indicators are not bleak as suggested by the prevailing perception.


Mega Terrorist Attacks
The overall negativity in Europe fueling nationalism is largely augmented by major terrorist attacks since 2014. Charlie Hebdo, Paris; Nice and Brussels attacks reinforced the idea that Europe is gravely vulnerable. It fortifies a thorny opinion that this danger comes from the outsiders and has now seeped deep into the society. Revelations such as the Paris attack terrorists hailed from Brussels, reminded people how open borders are doing more harm than good. Nice attacker was a Tunisian-French, weakening the “multicultural Europe” stance and strengthening the anti-immigration belief now widely-held. Hate-incidents and Burkini bans are contributing to an exceedingly hostile atmosphere. The rising sense of insecurity is cashed-in by the far right political players. Terrorism, however, is not a simple phenomenon. It is a result of decades old policies and wars steering the situation into a vicious cycle. And a social boycott of a certain fraction in society is unlikely to get any favourable outcomes.


The Uncertainty of the Future
As evident from the case of Brexit; leaving EU cannot be an overnight matter. Legal obstacles and economic repercussions make it a lengthy bureaucratic process. Nationalist parties try maneuvering Brexit to their advantage, citing it as an example to follow. However, the subsequent economic crunch and the overall “guilt” sentiment in UK – at least in the short-term – may actually thwart their attempts. Frexit may seem a far-fetched idea, but so did Brexit at one time. Even if Frexit realizes, which is still quite improbable, the EU is likely to hold itself with Germany assuming the sole-leader role. Sub-blocs within EU may spring up and EU could lose its prominence in world politics. That being said, this strong wave of nationalism may recede before a major change is realized. In any case, Europeans remain unconvinced by years-old promises of how globalization will make their daily lives better than before. A rollback was thus imminent.

 

The writer is a visiting student at EDHEC Business School, France.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter