09
September

دہشت گردی کے خلاف تاریخی معاہدہ

تحریر: علی جاوید نقوی

عوامی جمہوریہ چین کے شہر ارومچی میں چارملکی عسکری قیادت نے انسداد دہشت گردی کے ایک معاہدے پردستخط کئے ہیں۔اسے ایک تاریخی معاہدہ قراردیا جاسکتاہے۔ یہ معاہدہ چین ،پاکستان،افغانستان اورتاجکستان کی مسلح افواج کی قیادت نے کیاہے۔ پاکستان کی سرحدیں چین اور افغانستان سے ملتی ہیں جبکہ افغانستان کی ایک چھوٹی پٹی واخان جوایک راہداری ہے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان واقع ہے۔اس معاہدے سے نہ صرف خطے میں دہشت گردی کوختم کر نے میں مدد ملے گی بلکہ مشترکہ تربیتی مشقوں سے باہمی تعاون اور اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ افغانستان کی بدامنی کے باعث پورا خطہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس معاہدے کے مثبت اثرات پوری دنیا پرپڑیں گے۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ صرف فوجی معاہدے سے حالات کوبہترنہیں بنایاجاسکتا جب تک سیاسی سطح پر بھی اسی فہم وفراست کامظاہرہ نہ کیاجائے۔ میر ا اشارہ افغانستان کی حکومت کی طرف ہے جواس وقت بھارتی اثرورسوخ میں نظرآتی ہے۔کیا افغان حکومت بھارتی دباؤ سے نکل کرہمسایہ ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلے گی؟


معاہدے میں چاروں ملکوں نے انسداد دہشت گردی کامشترکہ میکنزم بنانے پراتفاق کیاہے۔اجلاس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف،چین کے چیف آف جوائنٹ سٹاف جنرل فینگ،افغان نیشنل آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل قدم شاہ شاہیم اورتاجکستان کے چیف آف جنرل سٹاف ، نائب وزیردفاع میجرجنرل ای اے کوبیڈرزودا نے شرکت کی۔اس گروپ کے پہلے اجلاس میں باہمی فوجی تعاون پراتفاق کیا گیا۔یقینی طورپر دہشت گردی علاقائی استحکام کے لئے خطرہ ہے جس کے لئے چارملکی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔ شرکأ نے چاروں ملکوں کی افواج کی انسداددہشت گردی کے لئے کوششوں کی تعریف کی۔ امن واستحکام کے لئے مل کرکام کرنے ،شواہد کی تصدیق اورخفیہ معلومات کے تبادلے میں تعاون کے عزم کااظہارکیا۔اتحاد میں شامل افواج مشترکہ تربیتی مشقیں بھی کریں گی۔اس چارملکی فوجی اتحاد کیوسی سی ایم کے قیام کاسہرا چین کے سرہے جس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مخلصانہ کوششیں بھی شامل ہیں اورانہوں نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔

 

pakcheendhst.jpgخطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ افغانستان جواس وقت دہشت گردوں کے لئے آسان ہدف اورپناہ گاہ ہے، کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ پاکستان اورچین کے فوجی تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں خصوصا داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لئے افغان فوج کی استعداد کارمزید بہتربنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ممبرممالک کے تجربات اورمدد سے زیادہ آسانی اورجلد حاصل کیاجا سکتا ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ چاروں ممالک تمام فیصلے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے کریں گے۔کسی فریق کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ اپنی مرضی اور رائے دوسرے ملک پرمسلط کرسکے۔ باہمی ریاستی احترام قائم رہے گا،چاروں ملک ایک دوسرے کی سلامتی اورخودمختاری کااحترام کریں گے۔یوں یہ معاہدہ برابری کی سطح پرہے۔کوئی ملک دوسرے ملک کوڈکٹیشن نہیں دے گا۔


خصوصی فوجی تربیت اورخفیہ معلومات کے تبادلے سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔چین کواس وقت ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے خطرہ ہے جوچین کے بعض علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی اس دہشت گرد گروپ سے نمٹنے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں۔اس گروپ کے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ضرب عضب کے باعث اس گروپ کے کچھ عناصر کی افغانستان منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چین سمجھتا ہے کہ افغانستان کی خراب صورتحال کے منفی اثرات چین کے مسلم اکثریتی صوبے پرپڑرہے ہیں۔دوسری طرف پاکستان بھی دہشت گردی کاشکارہے ۔تحریک طالبان کے دہشت گرداوراُن سے وابستہ کئی گروپوں نے اپناٹھکانہ افغانستان میں بنارکھا ہے۔یہ دہشت گرد اوران کے ماسٹرمائنڈ پاکستان میں کارروائیاں کرکے افغانستان میں روپوش ہوجاتے ہیں۔افغانستان میں ان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ افغان اورامریکی افواج نے ٹی ٹی پی کے خلاف اب تک جوکارروائیاں کی ہیں وہ ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد،افغان فوج سے زیادہ متحرک اورتجربہ کارہیں۔ امید ہے کہ اس اتحاد اورتربیت سے افغان فوج کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔


اس معاہدے کے مشترکہ اعلامیہ میں یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ یہ چارملکی فوجی اتحاد کسی ملک یا تنظیم کے خلاف نہیں۔ ممبرممالک جن دوسرے علاقائی اور بین الاقوامی معاہدوں کے پابند ہیں، ان کوجاری رکھیں گے۔ایک دوسرے سے تعاون اورمشترکہ اجلاسوں کافائدہ یہ ہوگا کہ ایک دوسرے کے موقف کوسمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔بدقسمتی سے دہشت گردوں نے اپنانیٹ ورک مختلف ممالک تک بڑھا لیاہے۔ داعش اورالقاعدہ کے دہشت گرد افغانستان،عراق ،شام ،تاجکستان اورازبکستان تک پھیلے ہوئے ہیں۔جبکہ ان کے ہمدرد اورسہولت کار مغربی ممالک میں بھی موجود ہیں ۔ بہت سے تاجک اورازبک گروپ افغانستان اوردیگرممالک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔


چین کی قیادت نے بجا طورپراس چیز کومحسوس کیا کہ دہشت گردی پرقابوپانے کے لئے علاقے کے ممالک کاآپس میں مل بیٹھنا اوردہشت گرد گروپوں کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون انتہائی ضروری ہے۔ خطے اورخصوصاً پاکستان میں امن کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں منفی بھارتی اثرورسوخ کوکم کیا جائے۔ افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث خود افغانستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔بھارت ،افغانستان کی سرزمین اورافغان خفیہ ایجنسی کوپاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے ۔افغان آرمی چیف کا پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بیٹھنا خطے کے لئے خوش آئند ہے۔اس سے ہمسایہ ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بھی دورہوں گی۔افغان فورسز کوبھارت کے اثرورسوخ سے نکالنے میں بھی مدد ملے گی۔ افغانستان کے مفادات اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سے وابستہ ہیں نا کہ بھارت سے۔جوامریکہ کی طرح افغان سرزمین کومحض اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہاہے۔ پاکستان اورافغانستان کی منتخب حکومتوں کے درمیان جوبدگمانی ہے، یہ منفی پروپیگنڈے کانتیجہ ہے ۔باہمی ملاقاتوں اورمذاکرات کے ذریعے انھیں دورکیا جاسکتا ہے۔ جب بات چیت شروع ہوتی ہے توغلط فہمیاں بھی دور ہوجاتی ہیں۔افغان سول و فوجی قیادت کویہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کادوست کون ہے اوردشمن کون ہے اور کون افغان سرزمین کو اس کے ہمسایوں کے خلاف استعمال کررہاہے۔


ہمالیہ سے بلنداورشہد سے میٹھی پاک چین دوستی دوسرے ملکوں کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔عوامی جمہوریہ چین اس وقت دنیا کاایک بڑا پاور پلیئر ہے۔ دفاعی صلاحیتیں ہوں یااقتصادی ترقی کی دوڑ چین آگے ہی بڑھتا جا رہا ہے۔ دفاعی میدان خصوصاً دفاعی پیداوار میں چین کی ترقی قابل رشک ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چنددہائیوں میں دفاعی انڈسٹری مزید ترقی کرے گی اورجلد امریکی اورمغربی ممالک کی دفاعی صنعت کوپیچھے چھوڑ دے گی۔ اس حوالے سے چین کی دفاعی منصوبہ بندی قابل رشک ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری، سی پیک، منصوبے کے بعد یہ دوستی یقینی طورپراپنی بلندیوں پرہوگی۔یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی نکتہ ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک یادودن میں پروان نہیں چڑھے بلکہ کئی سال پرمحیط ایک کہانی ہے۔ پاکستان نے عوامی جہوریہ چین سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد چین کے لئے پوری دنیا کے دروازنے کھول دیے۔پاکستان کے ذریعے ہی امریکہ اور چین کے درمیان رابطہ ہوا ۔تاریخی شاہراہ ریشم کی ایک علٰیحدہ کہانی ہے جہاں سے تجارتی قافلے پوری دنیا کورواں دواں ہوتے ہیں۔ اقتصادی راہداری اسی شاہراہ ریشم کی ترقی یافتہ شکل ہوگی جو پورے خطے میں ایک اقتصادی انقلاب برپاکرے گی۔ دونوں ممالک کے مابین دفاعی اور تجارتی معاہدے موجود ہیں۔کئی فوجی تربیتی مشقوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کے خصوصی دستے اور پیپلزلبریشن آرمی آپس میں کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر چکی ہیں۔ اب امید ہے کہ تاجکستان اورافغانستان کے دستے بھی اس معاہدے کے تحت مشقوں میں حصہ لیں گے جس سے دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے ان کی اہلیت اورقابلیت میں اضافہ ہوگا۔


اس چارملکی فوجی معاہدے سے توقع ہے کہ افغانستان اورپاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی۔افغانستان کواپنے کردار کا ازسرنوجائزہ لینے کاموقع ملے گا کہ آیاافغانستان ،بھارت کی پراکسی وار کوجاری رکھنا چاہتا ہے یاخطے میں امن کے لئے پاکستان اورچین کے ساتھ مل کرکام کرتا ہے۔ پاکستان پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہے افغانستان اورتاجکستان سمیت سنٹرل ایشیا کے ممالک اپنی تجارتی سرگرمیوں کے لئے گوادر پورٹ کواستعمال کرسکتے ہیں۔ نیز گوادرپورٹ سے تمام دوست ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


دہشت گردی کے خلاف قائم ہونے والایہ فوجی اتحاد مستقبل میں خطے کے ایک اہم سٹرٹیجک الائنس کی شکل اختیارکرسکتاہے۔یقینابعض ملکوں کویہ اتحاد پسند نہیں آیا ہوگا۔خصوصا بھارت یہ کوشش ضرور کرے گا کہ افغان فوج اس اتحاد کا متحرک حصہ نہ بنے ۔اس مقصد کے لئے بھارت افغانستان کی فوجی امداد اوراسے گولہ بارود کی فراہمی میں اضافہ کرسکتاہے۔ امریکہ کی بھی خواہش ہے کہ افغانستان میں چین اورپاکستان کااثرورسوخ نہ ہو۔ پاکستان نے جب بھی امریکہ کے سامنے افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کامعاملہ اٹھایا ہے، امریکیوں نے ہمارے دفترخارجہ کویہ کہہ کرمطمئن کرنے کی کوشش کی کہ بھارتی سرگرمیاں محدود ہیں، پریشان نہ ہوں۔ عوامی جمہوریہ چین نے پاکستان، افغانستان اورتاجکستان کوایک فوجی پلیٹ فارم پراکٹھا کرکے بڑا کام کیاہے۔ اس الائنس سے نہ صرف خطے میں امن قائم ہوگا بلکہ پورا خطہ ترقی بھی کرے گا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان دنیا کی اقتصادی سرگرمیوں کامرکز بننے جا رہا ہے۔ اس اقتصادی سرگرمی کے دشمن خطے میں دہشت گردی کرکے ہماری توجہ ہٹاناچاہتے ہیں لیکن یقین ہے کہ یہ چارملکی فوجی الائنس اقتصادی راہداری کی طرح مستقبل کی ایک دفاعی لائن ہوگی۔کسی دہشت گرد گروپ یاملک کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ اس میں دڑاڑیں ڈال سکے۔

سینیئرصحافی،مصنف اورکالم نگار علی جاوید نقوی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
September

کوئٹہ بم دھماکا، ایک بڑا سانحہ

تحریر: عفت رضوی

کوئٹہ کے محمد علی جناح روڈ پر واقع سول ہسپتال سالوں سے شہر بھر کے درد کے ماروں کی مسیحائی کرتا تھا۔ پھر ایک ایسا بھی روز آیا جب درد پر مرہم رکھنے والے اس گوشۂ عافیت کو ہی دہشت گردوں کی نظر کھا گئی۔ پیر 8 اگست کی علی الصبح بلوچستان بار کے صدر بلال انور کاسی اپنے کیسز کی پیروی کے لئے بلوچستان ہائی کورٹ جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں گولی کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ بار کے صدر کی شہادت کوئی معمولی بات نہ تھی۔ وکلا جو صبح گھر سے کالا کوٹ پہن کر اور یہ سوچ کر نکلے کہ انصاف کے متلاشیوں کی وکالت کریں گے۔ اپنے مقامی قائد کی شہادت کی خبر سنتے ہی سول اسپتال کوئٹہ پہنچے۔ بڑی تعداد ان وکلا کی تھی جو بلوچستان میں حق و انصاف کا علم بلند رکھتے تھے۔بار کے صدر کی شہادت ہوئے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ سول ہسپتال کے ایمرجنسی گیٹ پر ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دہشت گرد خود تو واصل جہنم ہوا،مگر اس کے سینے سے بندھے بم سے نکلنے والے بال بیرنگز نے آن کی آن میں 70 سے زائد قیمتی جانوں لقمۂ اجل کردیا۔
سانحہ تو گزر گیا، کبھی سوچا بھی ہے کہ کتنے عالی دماغوں سے ہم محروم ہوئے،کتنے خوابوں کا قتل ہوا، کتنے ارمان تھے جن کا دم گھٹا، کتنے حوصلے پگھل گئے، کتنی روحوں کو زخم لگے، کتنے گھر اُجڑے اور کتنی ماؤں کی گودیں۔۔۔۔۔

 

koitabam.jpgسانحہ صرف بارود کی بو سے قبر پر چڑھائی جانے والے پھولوں کی خوشبو تک کا سفر نہیں، سانحہ نوحے،بین، ماتم تک ختم ہوتا ہے نہ رسم چہلم تک۔ سانحہ تو یہ ہے کہ سول اسپتال کوئٹہ میں خون میں نہانے والے پشین کے 30 سالہ ایڈوکیٹ سید ضیا الدین کی 9 بہنیں،ماں ، بیوی اور ایک ننھی بیٹی اب ساری عمر اس ایک لمحے کو روئیں گی جب کسی حیوان صفت نے ان کے پیارے کو چھینا۔ سانحہ میتوں کی گنتی نہیں جس کی شدت شہید ہونے والوں کے ناموں کی تختیوں اور زخمی ہونے والوں کی فہرستوں سے عیاں ہو۔ سانحہ یہ ہے کہ چند کلو وزنی بارود ہم سے وہ 70 سے زائد سپوت چھین لے گیا جنہیں اس مٹی کا قرض چکانا تھا،ان میں کئی قانون دان تھے جنہیں بہت سے لوگوں کو انصاف دلانا تھا،وہ ڈاکٹرز جنہیں بہت سے بیماروں کی مسیحائی کرنا تھی، میڈیا کے نمائندے جو جان ہتھیلی پہ لئے اپنے فرائض انجام دیتے تھے ،ایک دھماکے نے ان سب کے ارادوں کو مٹی میں ملادیا۔ایسے سانحے کی سفاکی یہ ہے کہ وہ نہ عمر دیکھتا ہے نہ یہ کہ اس کا شکار ہونے والا کس قدر خوبرو ہے ، کس بلا کا ذہین ہے۔


سانحے کا بیان اس ماں کی خالی آنکھوں میں جھانک سکو تو جھانک لو جس نے اپنے بیٹے کو بچپنے میں اپنے آنچل کے سائے تلے چھپا لیا تھا کہ کہیں اسے دھوپ نہ لگ جائے،وہ ماں جس کا بیٹا خاک و خون میں لت پت سول اسپتال کے احاطے میں پڑا تڑپ رہا تھا۔سانحے کی تباہ کاری کسی مذمتی بیان سے کم نہیں ہوسکتی،نہ کوئی دلاسہ جانے والوں کو لوٹا سکتا ہے۔ ان سانحات کا خسارہ تو امدادی چیکوں سے بھی پورا نہیں ہوتا۔ ایسے خونی سانحہ کے معنی ان 55 سے زائد وکلا کے چیمبرز میں ڈھونڈیں جہاں رکھی قانون کی کتابوں کو اب کوئی کھولنے والا شاید ہی آئے۔
اس دل خراش واقعے کا ایک لمحہ کتنے برسوں کے انتظار کو بے وقعت کرگیا ان کا غم بیرسٹر عدنان کاسی کے والد شاید بیان کر پائیں جن کا ہونہار بیٹا بلوچستان کے ان چند وکلا میں سے ایک تھا جو بار ایٹ لا کی ڈگری کے لئے لندن گیا اور کامیاب بیرسٹر بن کر وطن واپس آیا، جس کی عدالتوں میں کیسز کی پیروی کے دوران بولی جانے والی فر فر انگریزی اور قانون پر گرفت کو سب دوست رشک سے دیکھتے تھے۔


سانحے کی سنگینی نجی ٹی وی چینل کے کیمرامین شہزاد خان کی اس کانپتی آواز میں محسوس کریں جب اس نے اس وقت کلمہ شہادت بمشکل ادا کیا، کیمرے پر اس کے ہاتھوں کی گرفت ٹوٹتی بکھرتی رہی،اس کے ہاتھ میں موجود کیمرا جنرل ساونڈ ریکارڈ پر تھا،اس کے کیمرے نے پورا منظر عکس بند کرلیا ، وہ شہزاد جو اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے بغیر کسی حفاظتی ڈھال کے کیمرا ہاتھ میں تھامے ہر کٹھن رپورٹنگ میں کود پڑتا تھا۔


سانحہ اب بھی محض ایک واقعہ لگے تو کوئٹہ کے وسط میں واقع ایک اور نجی ٹی وی نیوز چینل کے کیمرامین محمود خان کے گھر چلے جائیں ،ہوسکتا ہے محمود کے ننھے بچے بتا پائیں کہ بابا کی تصویر آٹھ اگست کے دن ٹی وی پر اتنا کیوں آتی رہی، یہی معصوم تھے نا کہ جن کی ہمیشہ یہ ضد رہتی تھی کہ بابا آپ نیوز چینل میں کام کرتے ہیں تو پھر ٹی وی اسکرین پر کیوں نہیں آتے۔
وہ جو سو سے زائد زخمی ہیں ،وہ کراچی اور کوئٹہ کے مختلف اسپتالوں کے بستروں پر آنکھیں بھینچے لیٹے ہیں، اور بار بار ایک ہی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح وہ لمحہ فراموش کردیں جب آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا تھا، کاش جسم کے زخموں کے ساتھ وہ گھاؤ بھی بھر جائیں جو روح کو مجروح کر گئے۔
کاش کہ اب کوئی سانحہ نہ ہو

(مصنفہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس فیلو، سوانح نگار ، قلمکار اور ایک نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وادئ کشمیرہماری


اس مٹی کے فرزند سے مٹی کی قسم لے
اک ہاتھ میں بندوق پکڑ اک میں قلم لے
سو بار اگر دشمنِ ایمان جنم لے
موقع ہی نہ دیں ہم کہ وہ پیکار میں دم لے
ناکام رہیں لشکرِ کفار کے حملے
اے فتحِ مبیں ! بڑھ کے مجاہد کے قدم لے
چلتی ہی چلے جائے ہے شمشیر ہماری
ہر حال میں ہے وادئ کشمیر ہماری
ویرانی پھرا کرتی ہے اب عیش کدوں میں
سو سکتے نہیں رات کو بھی چھاؤنیوں میں
ہیبت سے ہماری وہ چھپے اپنے بلوں میں
دہشت سے لہو جمنے لگا ان کی رگوں میں
یورش سے ہماری وہ اٹھا ہول دلوں میں
پسپائی کے آثار ہیں دشمن کی صفوں میں
تبدیل ہوئی تیر سے تقدیر ہماری
ہر حال میں ہے وادئ کشمیر ہماری
جینے کا سبق ہم نے پڑھا پھٹتے بموں میں
مظلوم کے معصوم دکھوں، اکھڑے دموں میں
اک جوش نیا دیکھتے ہی خستہ تنوں میں
داخل ہوئے بچپن سے جوانی میں دنوں میں
تلوار میں فولاد ڈھلا کارگہوں میں
آزادی کی جھنکار ہے بربط کی دھنوں میں
تکمیل پہ آ پہنچی ہے تصویر ہماری
ہر حال میں ہے وادئ کشمیر ہماری
پیمانوں میں آتی ہیں کہاں خون کی قدریں
پھولوں سے شہیدوں کی لدی رہتی ہیں قبریں
مدت سے لگائی نہیں باندھی ہوئی کمریں
اک روز نکل جائیں گی مفتوح کی سدھریں
روشن سرِ میدان ہوئیں فتح کی فجریں
اخبار میں آزادی کی چھپنے لگیں خبریں
کٹ کے ہے گرا چاہتی زنجیر ہماری
ہر حال میں ہے وادئ کشمیر ہماری


خالد اقبال یاسر

*****

 
07
September

Falsity of Modi's Assertions

Written By: Dr. Ahmad Rashid Malik

On Indian Independence Day on August 15, Prime Minister Narendra Modi, in his third consecutive Independence Day speech celebrating 70th anniversary, once again threatened Pakistan’s territorial integration. Speaking at the Red Fort in New Delhi, he declared that Pakistan glorifies terrorists and the people of Balochistan, Azad Kashmir, and Gilgit-Baltistan have thanked him [for his help].


The question arises that why the people of Balochistan, Azad Kashmir, and Gilgit-Baltistan thanked Modi? Secondly, what kind of assistance is he providing to them? Could he name any notable personalities or popular political parties who have approached? It was simply Modi’s propaganda against Pakistan. For Pakistanis, there was nothing new; the threat was as usual. It was an old mantra in new bottle, only the timing was different. Pakistani people can well identify hate-speech of Indian leaders since the time of their independence. It was Modi’s declaration of war against Pakistan for which he was preparing himself since taking oath in May 2014.


Modi’s mantra negates the Two-Nation Theory. He targeted Balochistan, Azad Kashmir, and Gilgit-Baltistan, which are almost half of Pakistan’s territory. Azad Kashmir has an area of 13,297 sq km or just one-third of the total area of Jammu and Kashmir. The rest is illegally occupied by India by fake accession and force. That is why protests keep on erupting in the Indian-occupied area. Hundreds of thousands of Kashmiris have lost their lives for seeking freedom. Over 68 people have been killed and many injured in the past couple of months.


Kashmir has reached boiling point in the past couple of months. Indian brutalities in the Indian Occupied Kashmir each day expose its hatred towards innocent Kashmiris.
Kashmir is a disputed territory. It is not an “integral part” of India, and therefore the people of Jammu and Kashmir have the right to ascertain their future. India is oppressing people of Kashmir and not allowing them to exercise their right of self determination to choose their future.


The United Nations Security Council not only passed the resolution (38) on January 17, 1948 to allow the people of Kashmir to decide their future, it passed 16 other resolutions until 1965 to ascertain the wishes of the people of Kashmir. However, the Indian Governments never respect the UN mandate on Kashmir. It is a mockery and shame that how Indian Governments have never implemented their international obligations for building peace in South Asia. They have shown that they are not interested in building peace and would continue with their non-compliance propaganda and brutalizing Kashmir.
Pakistan never annexed Azad Kashmir into its territory, but granted it greater autonomy keeping in view the people's aspirations and its own Constitution, President, Prime Minister, Cabinet, and an elected legislative assembly. The freedom of the people of Azad Kashmir speaks of Pakistan’s policy toward them since 1947.


Gilgit-Baltistan has an area of 72,971 sq km. The people of this area joined Pakistan by choice. Pakistan never fought a war in that area for its occupation. Northern Areas became a separate administrative territory in 1970 comprising Gilgit Agency, Baltistan, Hunza, and Nagar. Self-Governance was granted to Gilgit-Baltistan when it was renamed in 2009 to empower the people. Pakistan has also not amalgamated Gilgit-Baltistan on the ground that it would jeopardize the cause of Jammu and Kashmir, which needs to be resolved according to UN resolutions.


Frustrated by this move and what was already going on in Indian-Held Kashmir, Modi made a counter attack on Balochistan. Balochistan joined Pakistan in 1947. It is around 347,190 sq km in area that makes 44 percent of Pakistan’s total land area. Baloch separatists have been covertly assisted by India. Infact India created these separatists, and Modi has just made it clear that India is behind Baloch insurgency.


Indian spy agency RAW’s agent Kulbushan Yadav (alias Hussein Mubarak Patel) is among just many of those agents India has covertly sent to Balochistan to create uncertainty, to break the province from rest of the country, and bury the concept of Gwadar Port and CPEC. India often flaps sectarianism in Balochistan. The hidden agenda was exposed in March this year. In May an incident in Karachi also targeted a Chinese engineer engaged in a CPEC project and exposed RAW’s links with the so-called Sindudesh Liberation Army.


Modi is entangled in troubles for his anti-CPEC policy. He utterly misread CPEC, which has been moving fast and likely to complete a number of connectivity projects linking Kashgar with a number of destinations inside Pakistan soon. Modi could not hide his feelings and on the Day of Independence vociferously expressed his anti-Pakistan sentiments in public.


Pakistan has not been “dropping bombs in Balochistan”. It is conducting a targeted operation in that province which is entirely against terrorists taking refuge from FATA. Modi’s announcements are tantamount to India’s support for Baloch militants, that have been effectively controlled by Pakistan’s security forces. Pakistani military actions have upset their nefarious designs in these areas to create instability and break Pakistan. For them, it is a setback but for Pakistan, it means success as they are nearing the completions of operations.


Modi’s language was hostile, aggressive, provocative, irresponsible, and breached all political and diplomatic norms and damaging Pakistan’s vital interests. The statement seems to be well calculated as Modi is not interested in talks with Pakistan over a number of issues. He wants CPEC to be derailed and frozen. It looks like Modi’s statement was written by RAW and his security team. He has been obfuscating and de-tracking from the real issues and the dispute over Kashmir between the two countries. To strengthen his rule, he is trying to live on anti-Pakistan propaganda. There are indications that he might cancel his Islamabad visit where he is likely to attend SAARC Summit to be held in November this year.


India incites the policy of “State-Sponsored Terrorism”. For example, on every Indian Independence Day, Kashmiri people celebrate “Black Day”. What message does it give to the world? Is Indian leadership not aware of that? India is running the affairs of its occupied part through the deployment of over 700,000 troops, imposing long curfews for decades in a bid to control the State, brutalizing protest movements, killings innocent people, and bringing forth the draconian laws. On this Indian Independence Day, Indian security forces killed at least eight Kashmiris protesting against its rule. They are using pellet guns to blind the people in the Occupied Valley. Modi’s frustration shows that India is running out of options in Occupied Kashmir. Modi is ill-advised by his aides. He is playing the wrong game in a pointless way. He con not put Kashmir in the back-burner. His remarks have rather strengthened Pakistan’s case in Balochistan, the cause of Kashmir liberation, and CPEC.


India has been suppressing the independence movements in northeast of India such as in the States of Tripura, Meghalaya, Mizoram, Manipur, Assam, Nagaland, and Arunachal Pradesh. Hundreds of thousands of people have been killed but the separatist movements have not been wiped out. These ethno-religious political separatist movements are a flashpoint in Indian security. Communal strife in northeast demands the creation of more independent states. A number of insurgencies are active in this region. Modi should tackle these internal issues headache rather than interfering in Pakistan’s internal territorial affairs.

 

The writer is Senior Research Fellow at the Institute of Strategic Studies (ISS), Islamabad.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
September

Balochistan,Kalat State & Baseless Indian Propaganda

Written By: Dr. Yaqoob Khan Bangash

On August 15, 2016 Indian Prime Minister Narendra Modi made the usual Independence Day speech under the shadows of the imposing Red Fort, constructed by Mughal Emperor Shah Jahan. Speaking from the ramparts of fort from where a vast empire was controlled in the seventeenth century, Modi sounded almost like the Mughal Emperor himself – almost like, but not quite the same. However, like Shah Jahan, Modi wanted to speak about Balochistan – the land where the Baloch, Brahui and Pashtun reside. Like Shah Jahan he wanted to lay a claim to it, but like Shah Jahan, who lost the territory irrevocably to the Safavids in 1638, Modi could not make a strong enough case.


Ever since Modi’s speech there has been a flurry of discussion on Indian media about the ‘accession’ of Kalat State and inclusion of Balochistan into Pakistan. Their logic is that since Pakistan disputes that the State of Jammu and Kashmir legally acceded to India, they could find an equivalence in Balochistan, which largely comprises the erstwhile state of Kalat – as that would give them a counterpoise to Pakistan and that can also be used to dampen Pakistan’s attempts to highlight human rights abuses in Indian-Occupied Kashmir. But they are sadly mistaken for various reasons. Balochistan is integral part of Pakistan following all historical and legal basis representing the will of people.

 

balochkalat.jpgFirst, Kalat State was a princely state of India, just like all the other princely states and did not differ in status from others of similar rank. It is true that the last Khan of Kalat, Mir Ahmad Yar Khan disputed this appellation. He claimed that Kalat was a non-Indian state and so should be treated as such. His argument was based on two premises. One premise was that the treaty of 1876 with Kalat of the British Government of India promised to respect the ‘independence’ of Kalat. This, he argued, meant that Kalat was a different state. However, in doing so he conveniently forgot that similar provisions were made in treaties with other Indian states too where it was never disputed that they were an Indian state. Several treaties with the Marhatta states and Hyderabad, for example, refer to their ‘independence.’ Furthermore, the British Government of India clarified this in a note in 1941 stating: “Article 3 of the treaty of 1876, however, expressly saves the provisions of Article 3 of the Treaty of 1854, by which the Khan of Kalat bound himself, his heirs and successors, in all cases to act in subordinate cooperation with the British Government. Thus, the engagement of the British Government to respect the independence of Kalat must be read subject to Khan’s undertaking to act in subordinate cooperation with them, and the position thus arrived at does not differ materially from that reached in the treaties with various other Indian states…” Hence, this argument does not hold correct upon scrutiny.


The second argument put forth by the Khan for a different status was the fact that at the 1877 Durbar (assembly) the Khan of Kalat was treated as a non-Indian prince. This much is true. However, the full story of the 1877 Durbar reveals a rather significant development, which is always missed by Baloch nationalists and others. Lord Lytton, the Viceroy, reported to the Queen-Empress Victoria on Kalat that: “the Khan asked to have a banner given to him. It was explained to His Highness that banners were only given to Your Majesty’s feudatories, and that he, being an independent prince, could not receive one without compromising his independence”. He replied, “But I am a feudatory quite as loyal and obedient as any other. I don’t want to be an independent prince and I do want to have my banner like all the rest. Pray let me have it.” From this it is sufficiently clear that from henceforth the Khanate of Kalat was treated in the same way as the other Indian states, quite simply because the Khan begged the Viceroy for the same. Thus in 1877 the Khan of Kalat accepted paramountcy of the British Crown and became an Indian state. That is why in all the subsequent Durbars, 1903 and 1911, the Khan was treated exactly like an Indian prince without any protestation.


Secondly, Indian media has done mud-slinging on the fact that Pakistan recognized Kalat’s non-Indian status on August 11, 1947. This part is again true that the future Pakistan government did issue a communiqué on August 11, 1947 stating that: “The Government of Pakistan recognizes Kalat as an independent sovereign state in treaty relations with the British Government; with a status different from that of Indian states.” However, what these predjudiced critics do not realize is the legal implication of such a declaration. Succinctly, the British Government of India had leased certain territories – Quetta, Nasirabad, and Nushki, from the Kalat government at various times. With the lapse of paramountcy and the termination of treaties with all princely states, these areas would have automatically returned to Kalat State. However, since the government had spent millions of rupees on their development and as they were strategically very important, both the Pakistan and the British government did not want these areas to revert to Kalat. Now since the Khan had been arguing, without any success, about the different status of Kalat, the Government of Pakistan readily agreed to his definition since if Kalat were a non-Indian state then Pakistan would inherit the leases and they would not terminate. The Pakistan government agreed to this ‘since on August 15, 1947 all princely states would become independent states and so there would be no difference between say Kalat and Hyderabad or Junagarh from then onwards.’ Lord Mountbatten, the last Viceroy, understood this and noted to the Secretary of State for India: ‘it looks as though if the Khan of Kalat insists on his independent status it will cost him the leased territories including Quetta – a high price to pay for vanity.’ Pakistan’s Foreign Secretary, Ikramullah, also noted that the difference of status was only material before August 15, 1947 and said: ‘During his last visit the Khan was told quite clearly that the fact of independence was immaterial because according to our interpretation all states became independent and sovereign on the lapse of Paramountcy. Therefore, even if there was a difference in the position of Kalat in the pre-partition days... after the partition the position changed completely.’ One must note here that the Indians might be confused by this explanation as the Indian National Congress never accepted that the princely states would become completely independent on August 15, 1947, which these legally did, but the Muslim League always accepted this legal reality. Hence, mention of Kalat’s ‘different status’ after that date is immaterial.
Thirdly, the accession of Kalat to Pakistan is entirely legal. While it is true that the Khan of Kalat did not initially want to accede to Pakistan and wanted to continue with a separate existence, in the end he did sign the Instrument of Accession in favour of Pakistan on March 27, 1948. In fact, he was prompted into action not by any move of the Government of Pakistan but by a news report from All India Radio Delhi on the same day which alleged that Kalat had applied for accession to India. As a result, the Khan immediately signed the Instrument of Accession. The Khan explained himself: “My first reaction after hearing the news was that no time be lost to put an end to the false propaganda and to avoid and forestall the possibility of friction between the Moslem brethren in Kalat and Pakistan... It is therefore declared that from 9 p.m. on March 27 – the time when I heard the false news over the air, I forewith decided to accede to Pakistan and that whatever differences now exist between Kalat and Pakistan be placed in writing before Mr. Jinnah ... whose decision I shall accept.” Hence, the Khan’s immediate reason for accession was ironically India!


From the above, it is sufficiently clear that equating Kashmir and Kalat is simply wishful and posinous thinking. It is also clear that unless we understand the historical reality of Kalat – and by extension Balochistan, we cannot comprehend the situation. Kalat/Balochistan after its accession is an internal matter of Pakistan while Kashmir is an international dispute as its accession is contested. The Indian media’s attempts to muddy the waters by beating the dead horse of Kalat’s different status – which even the British Government of India categorically denied – shows sheer desperation to find a ‘Kashmir’ in Pakistan. They better look elsewhere.

 

The writer teaches at IT University Lahore and is the author of ‘A Princely Affair: The Accession and Integration of the Princely States of Pakistan, 1947-55.’

He tweets at @BangashYK.

Ever since Modi’s speech there has been a flurry of discussion on Indian media about the ‘accession’ of Kalat State and inclusion of Balochistan into Pakistan. Their logic is that since Pakistan disputes that the State of Jammu and Kashmir legally acceded to India, they could find an equivalence in Balochistan, which largely comprises the erstwhile state of Kalat – as that would give them a counterpoise to Pakistan and that can also be used to dampen Pakistan’s attempts to highlight human rights abuses in Indian-Occupied Kashmir. But they are sadly mistaken for various reasons. Balochistan is integral part of Pakistan following all historical and legal basis representing the will of people.

*****

 

Follow Us On Twitter