09
May

پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام سی وی ای

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر:خورشیدندیم

پُر تشدد انتہا پسندی کا رد
(Counter Violent Extremism)
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا اور حکمرانوں کے انتخاب کا حق عوام کو منتقل ہو گیا تو بطور ہتھیار تشدد کی پذیرائی کا امکان ختم ہو گیا۔


تشدد انقلابی تحریکوں کا ہتھیار رہا ہے۔ انہوں نے ’’ سٹیٹس کو ‘‘ کو توڑنے کے لئے، غور وفکر کے بعد، تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کیا۔ ماؤزے تنگ اور لینن نے اپنی انقلابی حکمتِ عملی کے تحت تشدد کا ذکر کیا۔اس کی تائید میں دلائل دئیے اور خون بہانے کو انقلاب کی ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکیت کے زیر اثر دنیا بھر میں جو انقلابی تحریکیں برپا ہوئیں انہوں نے اعلانیہ تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ یہ تشدد اگرچہ ریاست کے خلاف تھا لیکن بالواسطہ طور پراس کا ہدف سماج اور عوام بنتے تھے۔


اشتراکیت کی طرح ،اسلام کے نام پرجب انقلابی تحریکیں اٹھیں تو انہوں نے بھی تشدد کو اختیار کیا۔ مصر سے الجزائر تک ہمیں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب اسلامی تحریکوں نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ اشتراکیت میں چونکہ مذہب کی نفی کی جاتی ہے، اس لئے اس کے پُر تشدد بیانیے میں طبقاتی تقسیم کو بنیادی دلیل بنایا گیا۔ ایک بورژوائی طبقے سے نجات کو عوامی فلاح کے لئے ناگزیر سمجھا گیا اور اس کے لئے تشدد کو ناگزیر کہا گیا۔ اسلامی تحریکوں کا بیانیہ مذہبی تھا۔ انہوں نے جہاد کے تصور کی تعبیرِ نو کرتے ہوئے ، ایک نئی فقہ ایجاد کی اور تشدد کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہوئے، اسے بطور حکمت عملی اختیار کر لیا۔


1990ء کی دہائی میں، دنیا بھر میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہونے لگا۔ خلیج کی پہلی جنگ کے نتیجے میں کچھ انتہا پسند گروہ سامنے آئے۔ ان میں سے اکثر وہ تھے جو سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں متحرک رہ چکے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف ان کی جد و جہد کو بین الاقوامی تحفظ حاصل تھا کیونکہ عالمی سطح پر مختلف ریاستوں نے مل کر سوویت یونین کو شکست دینے کی حکمت عملی بنائی اور اس مقصد کے لئے مسلح تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1990ء کی دہائی کے بعد انہیں عالمی سرپرستی حاصل نہ رہی کیونکہ عالمی قوتوں کے مقاصد اور ان تحریکوں کے مقاصد و اہداف یکساں نہیں رہے۔

 

putashadad.jpgتشدد پر ریاست کی اجارہ داری کو ہمیشہ قبول کیا گیا ہے۔مذہب کے علاوہ سیکولرتصورِ ریاست کے تحت بھی،ریاست کے لئے تشدد کو جائزقراردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست اگر کسی کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دے تو اس حق کو چیلنج نہیں کیا جاتا۔ تاہم ریاست یہ کام کسی قانون اور ضابطے کے تحت کرتی ہے، جیسے فوج کے ادارے کا قیام یا پولیس کو مسلح کرنا۔سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، جب غیرحکومتی مسلح تحریکوں کو ریاستوں نے قبول کرنے سے انکارکیا تو انہوں نے مزاحمت کی اور اب ریاستی نظام ان کا ہدف بن گیا۔ اس کو روکنے کے لئے ریاستوں نے کئی طرح کی حکمت عملی اختیار کی۔ اسے ردِ پرتشدد انتہاپسندی
(Counter Violent Extremism)
کا نام دیا گیا۔
پر تشدد انتہا پسندی کو روکنے کے لئے مختلف ممالک نے جو لائحہ عمل اختیار کیا، اُس کے کئی ماڈل ہیں۔ امریکہ کا اپنا ماڈل ہے، برطانیہ کا اپنا۔ دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے مقامی حالات کے پیش نظر اس مسئلے کے اسباب تلاش کئے۔ پھر ان اسباب کی روشنی میں اس کا علاج دریافت کیا۔ ان ممالک میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں اور بعض دیگر بھی۔ چونکہ اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی ایک عالمی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے ، اس لئے ہر ماڈل میں مذہب بطور حوالہ موجود ہے۔


پاکستان میں اس وقت جو تشدد ہے وہ دو طرح کا ہے۔ ایک وہ جو مقامی حالات کے زیر اثر پیدا ہوا اور اس کے اسباب سیاسی وسماجی ہیں۔ اس کے مظاہرکراچی اور بلوچستان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان مخالفت خارجی قوتوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس کی بنیاد ملکی حالات بنے۔ ایک تشدد وہ ہے جو ملک گیر ہے اور اس کی بنیاد مذہب کی ایک خاص تعبیر پر ہے۔تشدد کی ان دو صورتوں کے توڑکے لئے ،ہمیں دو طرح کی انسدادِ تشدد
( Counter Violence)
حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ کراچی کا مسئلہ جرم اور سیاست کا یک جا ہونا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی عمل کو بحال کرتے ہوئے جرم سے نمٹا جائے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ بلوچستان میں محرومیوں کی تلافی اورجائز مطالبات پورا کرتے ہوئے لوگوں کو جمہوری جد و جہد کا راستہ دکھانا ضروری ہے۔ جمہوریت در اصل تشدد کا راستہ روکتی ہے۔


جہاں تک مذہبی تشدد کا معاملہ ہے، وہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے اوراس کی بنیادیں عالمی سیاست میں ہیں۔ دین کی جو تعبیر اس مقصد کے لئے اختیار کی گئی ہے، اس میں جدید قومی ریاست کی نفی کرتے ہوئے مسلمانوں کو عالمی سطح پر ایک سیاسی اکائی تسلیم کیا گیا ہے۔ یوں ان تمام تنظیموں اور افراد کے مابین رسمی یا غیر رسمی اتفاقِ رائے اور تعاون وجود میں آ گیاہے جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں متحرک ہے۔ یہ عوامل پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ہمارے نظمِ اجتماعی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔


اس تشدد کی روک تھام کے لئے دو کام اہم ہیں۔ ایک یہ کہ اس نقطۂ نظر کی فکری بنیادوں کو چیلنج کیا جائے اوریہ بتایا جائے کہ کس طرح دین کی تعلیمات سے غلط استدلال کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ دورِ جدید میں قومی ریاستوں کے وجود کو بین الاقوامی معاہدوں کا تحفظ حاصل ہے اور ہم ان معاہدوں میں شریک ہیں۔ اس لئے ہم ان کو ماننے کے پابند ہیں۔ دوسرا یہ کہ دین میں ایسا حکم موجود نہیں ہے جو مسلمانوں کے لئے یہ لازم قرار دیتا ہو کہ وہ عالمی سطح پر ایک ریاست کی صورت میں منظم ہوں۔ یہ چند بنیادی اجزاء ہیں ورنہ یہ تعبیر بحیثیت مجموعی محلِ نظر ہے۔اس دینی تعبیر کا جائزہ لینے اور اس کا جوابی دینی بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔


دوسرا کام یہ ہے کہ جن لوگوں نے تشدد کو بطور حکمت عملی اختیار کیا ہے، ان کے خلاف اقدام کیا جائے۔ یہ اقدام ظاہر ہے کہ ریاست ہی کر سکتی ہے۔ ضربِ عضب اور پھر ردالفساد کی مہم اسی ریاستی اقدام کے مظاہر ہیں۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ہمیں اس میں کامیابی ہوئی ہے اور ایسے بہت سے لوگوں کا خاتمہ ہو گیا ہے جنہوں نے معاشرے میں تشدد کو پھیلایا اور انسانی جان و مال کو خطرے میں ڈالا۔


اس تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب تک مذہبی انتہا پسندی کا بیانیہ ختم نہیں ہوتا، تشدد کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔اس کے لئے ہمیں ایک واضح حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ پہلے مرحلے میں ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ یہ بیانیہ کیا ہے اور اس کے بعد اگلے مرحلے میں اس کا جوابی بیانیہ تیار کرنا ہے۔اس باب میں یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ ہم اس کوشش میں کوئی نیا دین ایجاد نہیں کر رہے۔اسلام وہی ہے جو اللہ کے آخری رسول ﷺ کی سند سے ثابت ہے۔ ہمیں صرف یہ بتانا ہے کہ کس طرح اس دین کی غلط تعبیر کی گئی ہے۔ اس سے اگلا مرحلہ اس بیانیے کی اساس پر دینی دعوت وتعلیم کے اداروں کی تشکیلِ نو ہے۔یہ مراحل طے کر نے کے بعد ہی ،ایک واضح ایکشن پلان بروئے کار آسکے گا۔
اس وقت نیشنل الیکشن پلان کے تحت نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی
(NECTA)
کے نام سے ادارہ قائم ہے جس کے اہتمام میں ایک جوابی بیانیے کی تشکیل کا کام جا ری ہے۔اس میں سماج کے مختلف طبقات کے نمائندے شریک ہیں۔تاہم اس سے پہلے اس بیانیے کے جائزے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کا باعث ہے۔اِس وقت یہ اس طرح زیرِ بحث نہیں جیسے ہو نا چاہیے۔اس سارے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔


1۔ ایک فکری ادارے کا قیام جو انتہا پسندی کے موجودہ بیانئے کا ہمہ جہتی تجزیہ کرے۔اس کے تحت ان سوالات کے جوابات تلاش کیے جائیں:
اس بیانیے کا دینی استدلال کیا ہے؟اسے دین کے بنیادی ماخذ سے کس طرح اخذ کیا جا تا ہے؟
ب۔ مسلم تاریخ کے کس عہد میں اس کا آغاز ہوا اور وہ کون کون سے داخلی اور خارجی عوامل تھے جنہوں نے اس بیانیے کو جنم دیا؟
ج۔ یہ بیانیہ مقبول کیسے ہوا؟اس کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی گئی ؟
د۔ اس بیانیے کے فروغ میں روایتی سماجی دینی اداروں کا کردار کیا رہا؟
ہ۔ریاست اسے روکنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکی؟
و۔ جدید تعلیم کے ادروں تک یہ بیانیہ کیسے پہنچا اور انتہا پسند تنظیموں کو کیسے یہاں سے افرادی قوت میسر آئی؟
اس کام کے لیے ہمیں معاصر معاشروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔جیسے یہ جانا جائے کہ 9/11کے بعد امریکی حکمتِ عملی کیا تھی۔اس ضمن میں9/11کمیشن کی رپورٹ اہم ہے۔
2۔ یہ فکری ادارہ ان جوابی بیانیوں کا جائزہ لے جو مختلف اہلِ علم نے اپنے طور پر پیش کیے۔ان اہلِ علم کو مدعو کیا جائے اور ان کے استدلال کو پوری طرح سمجھا جائے۔
3۔ اہلِ علم کی مدد سے ایک جوابی بیانیہ تیار کیا جائے۔
4۔ اگلے مر حلے میں ابلاغ کی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔اس میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ مسجدو مدرسہ اور میڈیا جیسے قدیم و جدید ابلاغی ا داروں کو اس جوابی بیانیے کی ترویج کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے؟
5۔ موجودہ دینی و عمومی تعلیمی نظاموں کا جائزہ لیا جائے اوریہ دیکھا جائے کہ جوابی بیانیے کے نکات کس طرح نصاب میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
6.۔ مسجداور مدرسے کے نظام کو ایک ریاستی نظم کے تابع کیا جائے تاکہ ان اداروں کا سوئے استعمال روکا جا سکے۔
7۔ تدریجاً بارہ سال کی بنیادی تعلیم کو یکساں بنا دیا جائے۔اس کے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ کی طرح دینی تعلیم کے تخصص
(specialization)
کے ادارے قائم ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جوابی بیانیے کی تشکیل کے بعد ،اس کی اشاعت اورفروغ کے لیے ہمیں اہلِ دانش کی مدد سے جہاں ایک موثرابلاغی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی وہاں نظام تعلیم کوبھی نئے خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
May

Kashmir's Fight for Freedom

Published in Hilal English May 2017

Written By: Farzana Yaqoob

A land once referred to as paradise, has been hell in the last century for the people of Kashmir. So much has been written about Kashmir. Its history, present condition and the aspirations of Kashmiris have been discussed time and again. Different solutions have also been discussed but nothing seems to be actually happening. We have to start thinking towards a future and then work backwards to the current situation. This exercise would bring clarity as to where we actually are, what do we want to achieve, and how can we shape up future that the people of Kashmir deserve. As easy it might sound but that is easier said than done.


It is a conflict between the most powerful Muslim state and a state which is going to have the largest Muslim population in the world. The idea of land swap or sale and purchase of land is not an exercisable option. Reason being that as much as it is a land issue, people are involved, too. They already feel the pain of divided families. Kashmir can play the pivotal role of harmonizing these two states by being the connection between a Muslim state on the one side and Muslims in a non-Muslim state on the other side.

 

kashirfightfreedom.jpgAll the voices that are discussing Kashmir seem to be more interested in the affairs of the two adjacent states rather than Kashmir itself. The atrocities occurring in Kashmir get covered by an overarching blanket statement that the struggle of freedom fighters is an illustration of aggression. And that these activities are being supported by Pakistan thus, they are separatist activities and have to be dealt firmly by India. The rhetorical battle starts; Kashmiris get ignored and Kashmiris are forgotten. The actual story is that Kashmiris are not happy with the Indian rule and they have never accepted it. For a peaceful exit from this unjust rule, the Kashmiris prefer the UN resolution asking for the plebiscite. Plebiscite was carried out successfully in recent history, like in the case of East Timor. Such exercise needs to be carried out in Kashmir as well, in the presence of UN representatives.


Elections are contested and votes are given in the hope of development. This does not, in any manner, mean that people have given up on their aspirations. The general impression of the elections is that the movement is diluting and dying down. But the fact that every Friday prayer ends with protests, is weekly evidence to the contrary. The Kashmiri educated youth is absorbed in the freedom movement. Young people are aspiring to be freedom fighters. The calendars, printed by the local people, now carry photos of these heroes. Some have perished and some are still struggling, but they have evolved as the icons of hope.


There is a perception among certain thinking quarters that Kashmiris are unable to unite and come up with a solution. Kashmiris are united on the fact that the Indian rule is unjust and they reject the Indian occupation of their homeland. There is a small pocket of intelligentsia, who discuss independence as a solution but most of the people and the leaders consider joining Pakistan as the only workable solution.

kashirfightfreedom1.jpgThere is a strong belief among the Indian strategists, that Kashmir is an integral part of India and if by some miracle independence is achieved, Kashmir will have to face extreme difficulties in protecting itself from the economic challenges in order to survive. Knowing this, the leadership in Kashmir believes that the sustainable solution is to join Pakistan.


For any solution to be practical, assent of both the states is necessary. Pakistan has shown its intentions on different forums but India has persistently resisted any such discussion. The few points that need to be considered in making any solution viable are:


1 Kashmir shall not be divided.
2 Kashmiris shall have the right to return to Kashmir.
3 Kashmir was a Muslim state before partition, although ethnic cleansing is going on and the non-state 4 subjects are becoming residents, but the status of being a Muslim state shall not be changed.
5 Human rights violations should be taken to court and the criminals must be apprehended and punished.
6 The freedom fighters should be considered as political activists.


Kashmiris have shown perseverance. The new generation is committed to the fight for freedom. The desire to have their basic fundamental rights to free movement and choice has been harnessed by the youth. The youth is now leading the cause. Their fervour is giving momentum to the movement and this momentum is receiving coverage and acceptance by the world. Recognition is leading to increase in discussion about Kashmir. Kashmir is becoming more relevant to the global realities, as the truth about Kashmir is spreading globally. The youth of Kashmir is finding new ways to interact with the world. They are connecting through the internet and other telecom tools. It is the youth that is going to decide the future of Kashmir. The freedom movement will gain importance and will be recognized internationally. Recognition will lead to further discussions and then workable solutions will be carried out of existing realites.


Different solutions that have been discussed so far are including: i) plebiscite, ii) independent Kashmir and, iii) the Chenab formula. All the solutions affect the territorial integrity of India or Pakistan. However, Kashmiris always aspire, dream, and struggle to join Pakistan. The people of Kashmir want their struggle for freedom to get more recognition internationally and that will lead to more discussions for finding a permanent solution. The Kashmiri people hope that the international bodies will show more honesty and fairness towards the people of Kashmir to uphold their basic human rights. Pakistan has always stood by this just cause of their Kashmiri brothers. The rest of the world must also come forward and resolve this dispute which is hitherto a stigma for a free and just world's conscience.

 

The writer is the former Minister for Social Welfare and Women Development for the state of Azad Jammu and Kashmir (AJK). Her services have won her the title of “Young Global Leader 2017” by World Economic Forum.

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

ا نتہا پسندی اور بیانئے کی بحث

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: محمد عامر رانا

انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔

 

جب کچھ رجحانات خطرے کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں توان کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور نفسیاتی توجیحات کی جاتی ہیں۔ ان موضوعات پر تحقیق مسلسل جاری ہے لیکن فی الوقت یہ یقین کرنے میں وقت درکار ہے کہ وہ کیا عمل ہے جوکسی فرد کی ذہنی کیفیت یکدم تبدیل کردیتا ہے اور وہ دہشت گردی کا ایندھن بننے پر تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ ایسے افراد دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے منسلک ہونے سے پہلے مذہبی اجتماعیت کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں اور عموماً ان کا یہ سفر غیر عسکری مذہبی جماعتوں اور تحریکوں سے شروع ہوتا ہے۔
غیر عسکری مذہبی قوتیں ابہام کا شکار ہیں اور وہ دہشت گردی کی مکمل مخالفت کرنے سے ہچکچاتی ہیں اور اس ابہام کا الزام اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں۔ جب دینی مدارس یا ان سے منسلک تنظیموں کے وابستگان دہشتگردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو جدید مذہبی ادارے ان سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جدید تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے افراد دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو مدارس کے وابستگان انگشت نمائی دوسری جانب کرتے ہیں۔


یہ مسئلے کے ادراک سے انکار اور راہ فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شدت پسندی کا مسئلہ خاصا پیچیدہ ہے اور ریاست اسے فوری حل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ حل کیا ہو؟ بات گھوم پھر کر بیانیے پر آ کر ٹک جاتی ہے۔ بیانیے کو ایک موم کی ناک سمجھا جاتا ہے کہ جیسے چاہے موڑ لی یا گھما دی۔ نہ صرف حکومت بلکہ دانشور طبقے کا ایک حصہ بھی اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ بیانیے آرڈر پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔ گویا جب ایک بیانیے کی افادیت باقی نہ رہے یا اس سے نقصان ہونے لگے تو فوری طور پر اسے نئے بیانیے سے تبدیل کر دیا جائے۔


اس حوالے سے پاکستان میں دو آراء پائی جاتی ہیں ۔ ان میں پہلا خالصتاً مذہبی بیانیہ ہے اور ریاست نہ صرف اسے قبول کرتی ہے بلکہ خود کو اس اقلیم کا محافظ بھی گردانتی ہے۔ دوسرا بیانیہ سیکولر ہے جسے متبادل بیانیہ بھی کہا جاتا ہے جو کہ جدید اور ترقی پسند سماج کا تصور پیش کرتا ہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے اس مسئلے کا طویل مدتی حل تجویز کیا جاتا ہے جس میں نصابی اصلاحات سے ثقافتی اظہار اور سماج و ریاست کے باہمی تعلقات میں تبدیلی سمیت بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ یقیناًیہ دہشت گردی کے مسئلے کا فوری حل نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’نظریے کی جنگ‘‘میں ریاست مدد کے لئے اپنے مذہبی نظریاتی اتحادیوں کی جانب واپس ہو لیتی ہے۔

 

ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔

دوسری جانب مذہبی طبقہ مقتدر اشرافیہ کا حصہ بن کر اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ تاہم مذہبی رہنما اس مسئلے کا ٹھوس حل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دہشت گردی کے واقعات کی محض’مذمت‘اور ذمہ داروں کو ’بھٹکے ہوئے‘ قرار دینے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ اس سے شدت پسندانہ نظریات کی کشش کم کرنے کے لئے موثر متبادل بیانیہ تشکیل دینے میں بھی کوئی مدد نہیں ملتی۔


شدت پسندوں کے بیانیے کی طاقت ان کی مذہبی دلیل یا اسلام کی مخصوص تشریح میں چھپی ہے۔ اس لئے مذہبی انتہاپسندوں کی اصل طاقت ان کی نظریاتی ساخت میں پوشیدہ ہے جس کی بنیاد مذہبی حجت پر استوار ہے اور اسے سیاسی استدلال سے تقویت ملتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف سطحی بیانیوں کی آویزش نہیں ہے بلکہ اس کا مذہبی استدلال یا اسلامی احکامات کی تشریح سے گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ مذہبی اشرافیہ متبادل بیانیوں کے لئے تیار نہیں ہے یا اس میں نیا بیانیہ پیش کرنے کی اہلیت ہی نہیں پائی جاتی۔حکومت نے نیشنل ایکشن پلان میں نفرت پر مبنی تقاریر پر پابندی کے نکتے کو درست یا غلط طور پر انتہاپسندی کے خاتمے کے اقدامات کا متبادل سمجھا ہے۔ تاہم غور کیا جائے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ربط اور ان پر اعتماد کی کمی تمام مسائل کی جڑ ہے جسے تاحال کمزور نہیں کیا جا سکا۔ یہی خلا پر کرنے کے لئے ’نیکٹا‘کا قیام عمل میں آیا تھا مگر حکام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سامنے آ کر لڑنے کے بجائے بیانیے کنٹرول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔


عموماً ’نیکٹا‘کے غیرموثر ہونے کے لئے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے طاقتور اداروں کی جانب سے عدم تعاون کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے مگر خود حکومت نے بھی ’نیکٹا‘کو مناسب وسائل اور اعانت مہیا نہیں کی۔ اگر ایسا ہوتا تو دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا یہ ادارہ فعال اور موثر کردار ادا کر سکتا تھا۔

 

دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ نیکٹا‘ نے اپنے لئے یہ انتہائی مشکل کام منتخب کرتے ہوئے یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ اسے متبادل بیانیے تخلیق کرنے میں کسی ادارے کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا۔
بیانیے نعرے یا جھنکار نہیں ہوتے۔ بیانیے کسی معاملے پر وسیع تر مطابقت اور کسی قوم کی سوچ کا اظہار ہوتے ہیں۔ ان کی جڑیں کسی قوم کی تہذیبی گہرائی اور افراد و سماج کے رویوں میں پیوست ہوتی ہیں مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بیانیے کی بنیاد ایک معقول ساخت پر قائم ہوتی ہے۔ یہ ساخت یا ڈھانچہ مخصوص اقدار کا حامل ہوتا ہے جن کو اپنانے سے رویے تشکیل پاتے ہیں اور انہیں رہنمائی ملتی ہے۔ ایسے کاموں میں ریاست کا بھی اہم کردار ہے مگر اس کے لئے سماج کی رضامندی اور اتفاق رائے بھی شامل ہوتے ہیں۔


ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔
دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے انسداد دہشت گردی کے صوبائی محکمہ جات کو بہرصورت مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں کام کرنے والے شعبہ جات کو مزید انسانی وسائل، فنڈ، تربیت اور سب سے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں سے تعاون درکار ہو گا۔


پہلے معاملے کا تعلق انتہا پسندی کے بدلتے ہوئے رجحانات سے ہے بالائی متوسط طبقات کے نوجوانوں میں تعلیمی اصلاحات، بالخصوص نصاب کے کلیدی مقاصد کا ازسرنو جائزہ، کسی بھی سی وی ای کاؤنٹر وائیلنٹ ایکسٹریم ازم
Counter Violent Extremism
پالیسی کا انتہائی اہم عنصر ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت سا علمی کام ہوچکا ہے لیکن تیزتر اور مستقل تحقیق اور تعلیمی مراکز کے قیام کی ضرورت باقی ہے۔ ماہرین تنقیدی سوچ کی تعمیر کو تعلیم کا بنیادی مقصد مانتے ہیں۔ شہریت اور’ سوک ایجوکیشن‘ کو بنیادی تعلیم (چاہے نجی یا سرکاری سکول ہو یا مدرسہ)کے دوران نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔ طلبہ کو اچھا شہری بنانے پر زور دیا جانا چاہئے اور آئین اور قانون کی پاسداری کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔
کسی بھی سی وی ای میں داخلی سکیورٹی اصلاحات کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔ یہاں ہمیں اہم سٹریٹجک ترجیحات اور ان کے داخلی سکیورٹی سے تعلق کے دوبارہ جائزے کی ضرورت ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 256 کے مکمل نفاذ کی ضرورت ہے جس میں واضح کہا گیا ہے کہ کوئی نجی تنظیم قائم نہیں کی جائے گی جو کسی فوجی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے کے قابل ہو، ایسی ہرتنظیم غیر قانونی ہوگی۔ اسی کے ساتھ قومی دھارے میں پرتشدد نظریات کو فروغ دینے والے افراد یا گروہوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔


نسلی و سیاسی، سماجی و ثقافتی اور مذہبی اتصال کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال مخصوص ہے۔ ہمارے لئے آئین پاکستان سے وفاداری کی بہت اہمیت ہے۔ آئین ایک جامع عمرانی معاہدہ ہے جس پر مختلف نقطۂ نظر سے تعلق رکھنے والوں کا اتفاق ہے۔ ریاست اور سماج دونوں کو اس سے رہنمائی لینی چاہیے۔ پاکستان کے مثبت بیانیے کا ماخذ اسی کو ہونا چاہئے اور آئین کو دھیرے دھیرے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔
یہ محض چند تجاویز ہیں۔ ماہرین اور دیگر افراد اس میں مزید حصہ ڈال سکتے ہیں اور بہترمشورہ دے سکتے ہیں۔ مشاہدات اور تجاویز جمع کرنے کے لئے حکومت کو کوئی طریق کار مرتب کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار ایک معروف تجزیہ نگار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
May

ہر پاکستانی رد الفساد کا سپاہی

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: جویریہ صدیق

22فروری سے آپریشن رد الفساد ملک بھر میں جاری ہے۔فسادیوں اور ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب لگانے کے لئے جس آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے ابتدائی مراحل کے ثمرات پاکستانی عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اچانک بڑھ گئے تھے جو اب بہت حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے پیچھے پاک فوج‘ انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور رینجرز کی شب و روز کی محنت کارفرما ہے۔


آپریشن رد الفساد کے تحت فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بارڈر مینجمنٹ، ملک سے ناجائز اسلحے اور بارودی مواد کا خاتمہ، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور دہشت گردوں اور خارجیوں کی کمین گاہوں کے خاتمہ پر بھی مثبت پیش رفت جاری ہے۔
آپریشن رد الفساد کے آغاز میں ہی دو مزید چیزیں سامنے آئیں جن سے فوج نبرد آزما ہے وہ ہے انتہا پسندی اور افواہ سازی۔ سوشل میڈیا پر جعلی سرکلر کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ہمارے خودساختہ دانشور بنا کسی تحقیق کے اس سرکلر کو اچھالتے رہے اور دو صوبوں کے درمیان نفرت کو ہوا دیتے رہے۔ہمارے کچھ میڈیا کے بہن بھائی جن کے پاس خبروں کی کمی ہوتی ہے وہ بھی جعلی خبروں کو اچھالنا شروع ہوگئے۔


بعد ازاں یہ بھی پتہ چل گیا کہ سرکلر جعلی ہے پھر بھی پنجاب پولیس نے معذرت کی۔ لیکن اس جعلی سرکلر کی آڑ میں پاکستان اور پاکستان کے عسکری اداروں پر بے تحاشہ کیچڑ اچھالا گیا۔
یہ واقعہ یہاں پر اس بات کو عیاں کرگیا کہ جنگ اور آپریشن اب صرف زمین پر نہیں ہوتے بلکہ جنگیں اب سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاپر بھی لڑی جارہی ہیں۔کسی بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرتے وقت یہ بات پیشِ نظر رکھی جائے کہ اس کے مخالف سوشل میڈیا اور دوسرے میڈیا پر کیا کہا جا رہا ہے؟ تنقید برائے تنقید اور ملک کو بدنام کرنے کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ان کے پیچھے کون سی لابی ہے؟ فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ اس پر بھی ایک رد الفساد کی اشد ضرورت ہے۔


دوسرا اہم پہلو جو رد الفساد کے آغاز کے بعد سامنے آیا وہ ہے انتہا پسندی۔ جوکہ ہمارے معاشرے میں موجود تو پہلے سے ہے لیکن اب اس کا استعمال دہشت گردوں نے منظم طریقے سے شروع کردیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں دہشت گردوں کی مبینہ ساتھی نورین لغاری کی ویڈیو جاری کی۔ جس کو دیکھ کر ہر پاکستانی ماں اور باپ ورطۂ حیرت میں آگئے کہ ہمارے بچے تعلیمی اداروں سے کہاں سے کہاں پہنچ سکتے ہیں۔نورین لغاری کے والد پروفیسر‘ وہ خود میڈیکل کی طالبہ کیسے دہشت گردوں تک پہنچ گئی۔ یہاں پر ذمہ داری فوج یا حکومت پر نہیں والدین پر عائد ہوتی ہے۔فوج نے تو اس کو بازیاب کروایا‘ اس کی بحالی پر کام چل رہا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لڑکی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوگئی اور والدین غافل رہے۔


فوج کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر گھر یا یونیورسٹی میں آکر دیکھے کہ ہماری نئی نسل اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر کیا کررہی ہے؟ ان کے فیس بک فرینڈز کون ہیں؟ وہ ٹویٹر پر کس کس کو فالو کرتے ہیں؟ان کے دوست احباب کون ہیں؟ ان کے اساتذہ کس طرح کے خیالات کے مالک ہیں؟کیا رد الفساد میں بحیثیت پاکستانی ہم سب کا فرض نہیں بنتا کہ اپنا اپنا حصہ ڈالیں؟ کیا پاک وطن کے دفاع کے لئے میرا آپ کا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے اردگرد دہشت گردی اور انتہا پسندی کو رپورٹ کریں؟ جہاں تک ہوسکے اس کا سدباب کرنے کی کوشش کریں؟

 

آپریشن رد الفساد کے تحت فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہے ہیں۔

آپریشن رد الفساد کی ایک اور بڑی کامیابی کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کا ہتھیار ڈالنا ہے۔اپنے اعترافی بیان میں احسان نے طالبان کی حقیقت کو عیاں کردیا ہے طالبان کوئی اسلام کی جنگ نہیں لڑ رہے وہ کرائے کے قاتل ہیں اور اس وقت را اور این ڈی ایس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔انہیں بھارت اور افغانستان سے بھاری فنڈنگ دی جاتی ہے جس کے بعد وہ پاکستان میں آکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہے ۔یہاں تک کے طالبان پاکستان کے خلاف اسرائیل سے بھی مدد لینے کو تیار تھے ۔ایک اور خوفناک انکشاف جو احسان اللہ احسان نے کیا وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر طالبان اسلام کی غلط تشریح کرتے رہے اور نوجوانوں کو بھٹکایا۔اس اعتراف یہ بات مزید عیاں ہوگی کہ ہمارے دشمنوں اور دہشت گردوں کا مین ہدف اب ہماری یوتھ ہے۔وہ انہیں ورغلا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔


فوج اپنی جنگی ڈاکٹرائن کے تحت کامیابی کے ساتھ ردالفساد آپریشن کررہی ہے۔اس سے پہلے ہونے والے ملٹری آپریشنز، المیزان، راہ راست،راہ نجات اور ضرب عضب خالصتاً فوج نے لڑے۔لیکن رد الفساد میں عوام کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا انہیں اسلحہ نہیں اٹھانا، انہیں خود فیصلے کرکے ہجوم کا انصاف نہیں کرنا، انہیں صرف اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے ہیں۔ اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہے کہ ان کے دوست کون ہیں اور وہ اپنا جیب خرچ کہاں صرف کررہے ہیں۔اگر ان کے رہن سہن میں بدلاؤ دیکھیں تو ان سے بات کریں انہیں ماہر نفسیات کو دکھائیں۔ان کو راہ راست پر لائیں۔


مکان کرائے پر دیتے وقت نادرہ کا شناختی کارڈ طلب کریں۔اس کی قریبی نادرہ سینٹر سے تصدیق بھی کروائیں کہ اصلی ہے یا جعلی۔ملازم رکھتے وقت اس کے کوائف کی بھی تصدیق کروائیں۔کسی کو گاڑی کرائے پر دیتے وقت لائسنس اور شناختی کارڈ کی کاپی اپنے پاس رکھیں۔اپنا شناختی کارڈ دیتے وقت اس پر لکھ دیں کس مقصد کے لئے آپ یہ شناختی کارڈ دے رہے ہیں۔کسی بھی شخص، رشتہ دار یا عزیز کو اپنے شناختی کارڈ پر سم خرید کر نہ دیں۔آپ کی کم فہمی سے کہیں ایسانہ ہوکہ آپ دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہوجائیں۔


فسادی اب فساد کا بیج ہمارے تعلیمی اداروں میں بو رہے ہیں۔عسکری طور پر شکست کے بعد اب ان کا ٹارگٹ ہمارے بچے ہیں جنہیں وہ برین واشنگ کرکے ورغلا رہے ہیں۔تعلیمی اداروں میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لئے جامعات میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند ہونا چاہئے۔ وہاں پر سیاسی جماعتوں کے ونگز پر پابندی عائد کی جائے، اسلحے کی ممانعت ہو، درس گاہوں کی انتظامیہ اور اساتذہ کے لئے بھی قوانین مرتب کئے جائیں جس کے تحت نہ تو وہ دائیں اور نہ ہی بائیں بازو کی انتہا پسندی کو فروغ دے سکیں۔نصاب میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ 1980 کا نصاب 2017 میں پڑھانا زیادتی ہے۔ دنیا بدل چکی ہے ہم ٹریکٹر کے چار پہیوں میں پھنسے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کے درمیان ہر ماہ میٹنگ رکھی جائے تاکہ طالب علم کی کارکردگی سے اس کے والدین آگاہ رہیں۔بچوں کے بڑے ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ گھر والے ان کی سرگرمیوں سے غافل ہو جائیں۔


فوجی اپنا کام کررہے ہیں، لیکن، کیا آپ اپنا کام کررہے ہیں؟کچھ فسادی سوشل میڈیا پر ہر وقت پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ہر محب وطن پاکستانی کا بھی فرض بنتا ہے کہ جواب دلیل اور حقائق کے ساتھ دیں۔سوشل میڈیا پر بیٹھے یہ فسادی طالبان اور داعش سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔یہ دہشت گردعالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اگر ان کے خلاف کارروائیاں نہ کی گئیں تو وہ پاکستانی ریاستی اداروں کو مزید متنازعہ بنا کر پیش کرتے رہیں گے۔پاکستانی بلاگرز اور انٹرنیٹ سٹارز کو چاہئے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے سے ملک میں اعتدال پسندی اور پاکستانیت کو فروغ دیں۔


سیاستدان بھی ایک دوسرے کے خلاف سیاسی چپقلش میں نوجوان نسل کو استعمال نہ کریں۔نوجوان ملک کا ساٹھ فیصد ہیں انہیں تعلیم، ثقافت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔شعرائے کرام، فلم، ڈرامہ نگار، ادیب اور دانشور انتہاپسندی کے خلاف لکھیں اور ملک سے محبت کا کلام لکھیں۔صحافیوں کو بھی چاہئے کہ وہ مثبت خبروں پر کام کریں ہر وقت منفی خبریں دیکھنا بھی ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔


عوام سے گزارش ہے چندہ دیتے وقت یہ خیال رکھیں کہ آیا آپ ان پیسوں سے فلاحی کام ہی کررہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنے ہم وطنوں کے خلاف استعمال ہونے والی گولی خرید رہے ہیں۔دہشت گردوں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان، ملا فضل اللہ، مجلس الاحرار، داعش اور لشکر جھنگوی کو بہت بڑی فنڈنگ بھارت سے مل رہی ہے۔ان پیسوں سے یہ سہولت کار خریدتے ہیں۔ سہولت کار بارڈر پار سے نہیں آتے، یہیں موجود ہیں۔کچھ لوگ تو سادہ لوحی میں اور کچھ پیسوں کے لالچ میں ایسا کر جاتے ہیں۔مقامی لوگ دہشت گردوں سے ہوشیار رہیں اور اپنی ہی دھرتی کے خلاف استعمال نہ ہوں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے اور ہمیں مل کر فسادیوں سے اپنا ملک پاک کرنا ہوگا۔ تو آئیے مل کر اپنی فوج کا ساتھ دیں اور ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

مضمون نگار صحافی اور فوٹوگرافر ہیں اور ’سانحہ آرمی پبلک سکول شہداء کی یادداشتیں‘ کتاب کی مصنفہ ہیں ۔

Twitter @javerias

 

Follow Us On Twitter