10
July

ایس سی او۔ پاکستان کی رکنیت اور علاقائی اہمیت

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں بدلتی صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے طور پر جنم لیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں، سابق سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین مقابلے کے نتیجے میں دونوں طاقتوں نے اپنے ہاں اسلحے کے انبار لگانا شروع کردئیے۔ جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو دنیا کے مختلف ممالک علاقائی اقتصادی اتحادوں میں جڑنے لگے۔انہی میں سے ایک اتحاد شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ہے۔ چین ایک عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر تیزرفتار‘ زور پکڑتا ہوا ملک جانا جانے لگا اور روسی فیڈریشن، اقتصادی اور نئے عسکری اتحادوں میں اہم کردار ادا کرنے لگی۔ چین کو علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لئے نئے راستے درکار تھے۔ آج ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ چین اپنے ان اہداف میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کا قیام اِن اہداف کے لئے ہی تھا جس میں روسی فیڈریشن علاقائی توازن میں اپنا برابر حصہ ڈال رہی ہے۔


سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن کر سامنے آیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گردی کا مرکز، مشرقِ وسطیٰ بن کر ابھرا۔ عراق، شام اور لیبیا جیسی اہم ریاستوں کو جیسے کھوکھلا کیا گیا، اگر اس کو غور سے دیکھا جائے تو معاملہ سمجھ میں آتا ہے کہ دہشت گردی کو ان ممالک میں کیوں کر اور کن طاقتوں نے پلنے ‘بڑھنے اور پنپنے کے مواقع فراہم کئے۔ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے جس کو دہشت گردی کے ذریعے کھوکھلا کرنے کی عالمی سازش کارفرما تھی، جسے پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور طریقے سے ناکام بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ پاکستان اس تناظر میں ایک اہم ترین ملک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اور نئی عالمی اقتصادی طاقت عوامی جمہوریہ چین کا دیرینہ دوست اور اتحادی ہے۔ حال ہی میں چین کو راہداری دینے کے منصوبے نے پاکستان کی علاقائی طاقت کو مضبوط تر کردیا ہے۔ پاکستان سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایک نیا کردار بنانے میں کوشاں ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں 2005ء سے ایک آبزرور کی حیثیت سے اس کی شمولیت اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ اور اب جون 2017ء میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی سربراہ کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کو مکمل رکنیت دے دی گئی ہے۔ یہ پاکستان کا خطے میں ایک اہم ملک ہونے کا بڑا ثبوت ہے اور یہ کہ پاکستان کے بغیر علاقائی اتحاد نامکمل سمجھے جارہے ہیں۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے اہم ملک ہے بلکہ اس کی جیو سٹریٹجک اہمیت کو بھی کوئی علاقائی اور عالمی طاقت نظرانداز نہیں کرسکتی۔

scoorgoniz.jpg
آستانہ میں ہونے والی اس سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے شرکت کی اور کانفرنس میں شامل رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ کانفرنس میں ایک اہم توجہ دینے والی بات روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کی انہوں نے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی ایک اہم مسئلہ ہے جس سے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے رکن ممالک کو نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں پُراسرار طریقے سے جنم لینے والی دہشت گرد تنظیم
ISIS
مشرقِ وسطیٰ کے بعد وسطی ایشیا اور جنوبی روس میں دہشت گردی پھیلا کر اِن خطوں کے ممالک کو
Destabilize
کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یقیناًیہ ایک اہم مسئلہ ہے اور سوال یہ ہے کہ
ISIS
اُن ہی ممالک کو کیوں اپنے نشانے پر رکھ رہی ہے جو کسی حوالے سے عالمی سرمایہ داری کے سرخیل امریکہ کے زیادہ کہنے میں نہیں۔ شنگھائی کوآپریشن میں شامل روس اور چین کے علاوہ قازقستان، کرغستان، تاجکستان اور ازبکستان رکن ممالک ہیں۔ اگر روسی صدرپیوٹن کے اس بیان کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو وہ گمبھیر صورتِ حال سمجھ میں آتی ہے جس کی طرف انہوں نے آستانہ کانفرنس میں اشارہ کیا ہے۔ پاکستان جہاں ایک طرف ایسی ہی دہشت گردی کا شکار ملک ہے، وہیں پاکستان علاقے میں اقتصادی راہداریوں کے ذریعے اپنی حیثیت بھی منوا رہا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان میں روسی سفیر نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری سے روسی فیڈریشن مستفید ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔ بھارت اس صورتِ حال میں پیچیدگی کا شکار ہے۔ لیکن ان بدلتے ہوئے حالات میں وہ جہاں پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہا، وہاں وہ پاکستان چین راہداری منصوبے میں، جس میں روس بھی دلچسپی رکھتا ہے، اب روڑے اٹکانے کے بجائے فوائد حاصل کرنے کا خواہاں بھی ہے۔ لیکن بھارتی حکومت اس حقیقت کو حلق سے نگلنے میں بڑی تکلیف محسوس کررہی ہے۔


بہرطور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں بھارت اور پاکستان کی مکمل رکنیت کے بعد یہ تنظیم عالمی سطح پر ایک نئی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ جہاں اس میں چین اور روس جیسی اقتصادی اور عسکری طاقتیں شامل ہیں، وہیں پاکستان اور بھارت کی رکنیت نے اس تنظیم میں دنیا کی آدھی آبادی کو شامل کردیا ہے۔ اس تنظیم میں دنیا کی چار ایٹمی طاقتیں، چین، روس، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔ ایسے میں یہ ایک اقتصادی اور عالمی طاقت میں توازن میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والا علاقائی اتحاد بنتا چلا جا رہا ہے۔ شنگھائی کوآپریشن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جنم لینے والے اتحادوں میں ایک اتحاد ثابت ہونے جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت خطے کے دو اہم ممالک روس اور چین ہیں اور اس کے بعد پاکستان اور بھارت دوسرے اہم ممالک ہیں۔ اس اتحاد میں پاکستان کی مکمل رکنیت پاکستان کی ایک
Powerful State
ہونے کا ثبوت ہے۔ پاکستان دھیرے دھیرے جس طرح امریکی چنگل سے باہر آرہا ہے، اس نے پاکستان کی اہمیت کو مزید مضبوط کردیا ہے۔ اگر سفارتی حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان اس اتحاد کے اندر بھی ایک طاقت ور ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ دوستی اور لاتعداد منصوبوں میں شمولیت اور خصوصاً اب پاک چین اقتصادی راہداری ، پاکستان کے‘ اس تنظیم کے اندر‘ ایک انتہائی اہم ملک ہونے کی دلیل ہے۔ روس، پاکستان کی اس اہمیت سے جس قدر آگاہ ہے، اس کا اندازہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے مابین مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات سے لگایا جا سکتا ہے۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
07
July

Strategic Significance of Sea Trade Regime

Written By: Rear Admiral Pervaiz Asghar (R)

Sea trade has been universally recognized as the principal driver of the global economy. It was however in the Indian Ocean that coastal trade as well as trans-oceanic passages are believed to have originated. This ocean is also unique in the sense that its wide expanse is enclosed on three sides by land, while the southern perimeter is hemmed in by the forces of nature, and indeed during most of its history, ships rarely ventured beyond the Tropic of Capricorn. On closer inspection, one can discern a number of seas and channels on its periphery, which enabled early traders like the Greeks, Egyptians, Phoenicians, Arabs, Indians and even the Chinese to move freely around, and even beyond the ocean, spreading and assimilating cultural and religious influences.


The Chinese Admiral Zheng He was arguably the first outside power to venture into the Indian Ocean, with his massive fleet touching all the major ports from Malacca in the east to Zanzibar in the west during the seven different voyages that he undertook between 1405 and 1433. It was however, only when Vasco da Gama made his way round the Cape of Good Hope to reach Calicut in 1498 that the region was destined never to be the same again. The Portuguese were followed in quick succession by the Dutch, the English and the French and although their methods differed, the intent was the same: trade domination through mastery of the sea. What the colonial era managed to achieve, amongst other things, was the gradual replacement of traditional manufacturing hubs, traditional markets and traditional ports with new ones.


But as Britain was entrenching itself ever so firmly in the heart of the Indian Ocean, it could not have failed to appreciate the strategic and economic advantages that a direct trade route through the Red Sea and the Mediterranean would confer to the empire. The two seas had after all been historically linked for millennia till the eighth century Abbasid Caliph had it closed for supposedly tactical reasons.

 

stratgicsignmfacne.jpgA serious breakthrough in the construction of the canal however, occurred at the hands of a Frenchman in 1858 when Ferdinand de Lesseps, a diplomat as well as an engineer, used both his skills to convince the Egyptian Viceroy, Sa'id Pasha, of the necessity of the project. Construction officially began on April 25, 1859 and when the canal finally opened for traffic around ten years later, it had an immediate and significant impact on world trade.


After assuming full control of the canal in 1962 by buying off the Anglo-French owners, Egypt set up the Suez Canal Authority to regulate its working. Apart from income generation through transit fee, the canal also furnishes livelihood to a number of people, employed both within and outside. From a single sleepy settlement of around 4000 inhabitants when the canal’s construction began, a large number of industries have crept up all along the western flank of the canal, as well as the ports of Said and Suez at either end.


Though the canal is a cash cow for a cash-strapped nation, its working is still plagued by delays and systemic inefficiency. All those who have traversed the waterway would know that each vessel has to stop four times during the 18 hour passage, once at the Port Said outer anchorage, then at Port Said mooring, then at the Great Bitter Lakes anchorage and yet again at Port Suez. Apart from the canal transit fee, each ship owner has to embark and pay for four separate pilots, one at each stop, as well as for a couple of electricians who do nothing but sleep (for if you don’t, the ship’s movement is held up on the pretext of not having the specified lighting arrangements on board). In addition, each pilot unfailingly asks for some gift, even if it is only a pack of cigarettes.


As construction work on the Suez Canal was winding down, the same French entrepreneur, Ferdinand de Lesseps got Colombia, then the parent state of Panama, interested in a canal designed to furnish a much shorter trade route between the Pacific and Atlantic oceans, compared to the 8000 mile longer journey around the southern tip of South America – Cape Horn. But the construction which began in 1881 finally culminated in 1914, with the United States ultimately transferring its management to Panama in 1999. In case you are wondering what the Panama Canal has to do with a discussion on Indian Ocean trade, I’ll revert to that later.


This canal in due course gave rise to a new term, Panamax, which essentially refers to the largest carrying capacity of a ship that can safely transit the canal, 55000 dwt for tankers and upto 3999 TEUs for container ships. Those ships which could carry more than 4000 TEUs came to be referred to as post-Panamax. As ship payloads kept increasing, touching 20,000 TEUs by now, vessels beyond a carrying capacity of 8000 TEUs came to be known as neo-Panamaxes.


The importance of these two canals to the health of the international maritime community and indeed to the global economy did not go unrecognized. The 1888 Constantinople Convention (which Britain was reluctant to sign till 1904) required the Suez Canal to be kept open to ships of all nations in both peace and war, but could not prevent its prolonged closure following the 1967 Arab-Israel war. Similarly, the U.S.-Panama Treaty of 1977 confirmed the status of the Panama Canal as a neutral international waterway where every vessel is guaranteed safe passage at all times.


As ship sizes were seen to be continuously increasing, the Panama Canal Authority (ACP) launched an ambitious $5.4 billion expansion plan in 2007 aimed at garnering a greater share of shipping. Though the ACP was expecting a windfall from this endeavour, with ship-handling capacity having been enhanced from 5000 TEUs to 14000, in actuality it has made little difference thus far. Preliminary assessments show that while the average ship size has risen from 4600 to 6400 TEUs, the number of vessels transiting the canal has correspondingly decreased. Overall, since its completion in June 2016, ship transits are running well below the canal’s current capacity, with less than a third of the available slots being taken. The new lock chambers now allow for an estimated 79% of all cargo carrying vessels to transit the canal, up from 45%.


Strange as it may seem, the two canals, Suez and Panama, although half a world apart, figuratively speaking, are also in competition for that significant chunk of shipping traffic that takes place between the South China Sea region and Western Europe or even the U.S. East coast. In addition, with low bunker prices favouring the use of the longer route round the southern tip of Africa by larger ships, the Suez Canal was faced with another unlikely rival. General Sisi, on taking over the reins of a financially distressed nation, made the canal’s upgrade his topmost priority in a bid to enhance revenue generation. After all, he had history on his side: the number of ships using the canal had risen sharply from 486 transits in 1870 (the first full year of operation) to 17,148 in 2014, with the net tonnage also registering an increase from 444,000 MT to 963 million MT during the same period. Net revenue for the year 2014 was touching $5.5 billion. An ambitious $9 billion upgrade was thus launched with the objective of not only permitting larger ships to transit but also to reduce wait times by allowing both Northbound and Southbound ships to pass simultaneously. This project, completed on August 6, 2015, added nearly 30 km of side channels to its original length of 164 km. The high expectations which the Suez Canal Authority had (the traffic doubling and revenue tripling over next 8 years) doesn’t seem likely to materialize, with revenue generation during 2016 not much different from 2014. The Suez Canal has, in one respect at least, been out-manoeuvred by the Panama Canal: the latter has succeeded in garnering a greater share of the container traffic between the United States and East Asia, raising it from 48% to 57% at present.


The third major waterway, much more natural and far more busier than the two afore-mentioned canals is the Malacca Straits straddling the Malaysian peninsula and the largest Indonesian island of Sumatra. Its importance as the major and most convenient gateway linking the Indian Ocean with the outside world has not faded over the ages. This is the strait that has propelled the rise of Singapore as the greatest port city in the Indian Ocean.


The delicate balancing act between the world’s three major waterways, the Suez Canal, the Panama Canal and the Malacca Straits may face some turbulence in the years ahead if Chinese plans to generate alternate and competing routes to the latter two materialize. Flushed with money, technology and wherewithal, China’s ambitions are unfolding. As part of its maritime Silk Road, which criss-crosses the world’s oceans, China is contemplating a canal across the Kra Isthmus in Thailand which would skirt the congested and pirate-infested Malacca Straits. The $50 billion plan envisages a 30 mile long canal linking the Andaman Sea direct to the South China Sea through southern Thailand, with ports and industrial zones at either end. Apart from the two countries involved, the proposed canal would be extremely beneficial to Indo-China especially Vietnam which is constructing a new Deepwater Port, Hon Khoai, with U.S. help, directly opposite the mouth of the Said Canal. China would however be the major beneficiary, as apart from having upto 4 days of transit time to Chinese ports, the Kra Canal would reduce the vulnerability of Chinese ships transiting the Malacca Straits, aptly termed as the ‘Malacca Dilemma’. Though the Thai government is yet to take a decision in the matter with local politics in play, it is surmised that the opportunity of becoming a regional maritime center, with direct benefits to its impoverished southern region, will be too tempting to pass up. Singapore is obviously not thrilled at all as its entire economy revolves around shipping passing through the Malacca Straits.


The other major project being eyed is a 278 km long canal through Nicaragua as a direct rival to the Panama Canal. Envisaged to be over 3 times the length of the 100 year old Panama Canal, it is expected to be much deeper and wider than the latter, enabling the largest ships to pass through. The United States, which is understandably not pleased at the prospect, has tried to cast doubt on its viability, but there are far more serious concerns about its environmental impact, particularly as it transits through Lake Nicaragua, the largest source of freshwater in Central America. Though Nicaragua appears keen on its implementation, the $50 billion Interoceanic Grand Canal project, as it is known, would not automatically translate into economic prosperity for the impoverished region for the next 50 years at least, much like the Panama Canal.


The Government of China, possibly because of U.S. resentment, is maintaining a safe distance from the project, with a Chinese company, Hong Kong Nicaraguan Development Investment (HKND), led by a flamboyant Chinese billionaire, hogging the limelight. The Nicaraguan government approved the route in July 2014, but despite the construction work having officially begun later that year, there is not much to show for it yet on ground. If and when completed, the new canal is envisaged to attract around 5% of global trade, approximately the same as Panama Canal is drawing these days.


With all this talk and action on the canal fronts, Turkey did not want to be left behind. After all, the Bosphorus Strait controls all the traffic, including warships, to and from the Black Sea. Traffic in the Bosphorus has risen sharply in recent years, owing to increased oil production in the Caspian Sea fields, which is mostly being shipped through the Black Sea. The new 45 km long Istanbul Canal running parallel to the Bosphorus, announced in 2011, is controversial owing again to environmental concerns, but the Turkish President has recently vowed to get the job done. Turkey feels that the requirement of an alternate route is inescapable as the Bosphorus is incapable of handling more than 150 million tonnes of oil annually, and that limit has already been reached. A cost estimate of $10 billion is being floated, though outside experts claim that its construction may well be 4 to 5 times this figure. Its financial viability may thus well depend on which figure is closer to reality.


On the home front, the China Pakistan Economic Corridor, once complete, has the power to transform the Indian Ocean sea trading regime. For one thing, it will propel the rise of China’s impoverished western region into a Special Economic Zone. Though this vast region shares a border with as many as eight countries, the route passing through the entire length of Pakistani territory to the port of Gwadar would furnish it with the most convenient linkage to international shipping lanes and international markets.


So much for shortened trade routes. The next arena where opportunity presented itself was in the field of shipping which rose steadily in the decades following the Second World War. This was the era when most nations still licking their wounds were embarking on the rocky road to recovery, with ships carrying raw materials and manufactured goods serving as the workhorses. Cheap oil from the Middle East, which acted as the catalyst for growth, was most in demand. Until 1956 when war over the Suez Canal resulted in its closure, all tankers conformed to the size restriction imposed by the canal. This crisis, during which tankers had to perforce use the longer route around the Cape of Good Hope, generated a new opportunity, an opportunity that gave birth to the era of the supertankers. So from 47,500 dwt in 1955, the world’s largest individual tankers ballooned in size to 564,763 dwt in 1979. As the new-build order book for huge supertankers kept increasing, fate again intervened in the form of the first oil crisis of 1973, sparked by the Arab-Israeli conflict, which caused oil prices to quadruple overnight. Apart from engineering a drastic slowdown of the booming global economy, it also resulted in a downward spiral of the overall fleet capacity from a peak of 350 million dwt prior to stabilizing in 1987 at 250 million dwt. Much has however admittedly changed in the oil trading patterns over the past four decades, with bulk of the Mid-east oil now making its way eastwards.


The steadily increasing global oil requirements led to the growth of dedicated oil export terminals, the offshore ones becoming capable of handling the biggest supertankers. The Ras Tanurah complex of Saudi Arabia is still counted amongst the largest of such terminals, with the Ras Juaymah facility a distant second. Its closest rival, Iran’s Kharg Island terminal, had made an impressive start in the early fifties by establishing a linkage through a submarine cable with a major mainland oilfield. Located 16 miles off the coast of Iran, the port was incessantly bombed by the Iraqi Air Force during the Iran-Iraq war, which succeeded in reducing it to rubble by the fall of 1986. The Port has again risen from the ashes, though the process has been painfully slow owing to the sanctions the country has been perpetually burdened with.


Worries about a possible closure of the Strait of Hormuz led Saudi Arabia to construct a 745 mile East-West pipeline from Abqaiq, whose huge processing complex handles about two-thirds the country’s oil output, to Yanbu on the Red Sea. Such concerns became more real during the U.S.-Iran nuclear standoff which not only helped propel oil prices to a record $147 per barrel in 2008, but also prompted a tangible response from other regional oil producers. Billions of dollars in investment has converted Fujairah from a sleepy sheikhdom into a global energy transshipment hub, with enough capacity to store up to two-thirds of daily global demand (60 million barrels of crude) and more being planned during next two years to rival Singapore. The largest supertankers or VLCCs as they are called can now be seen making a beeline for this port. This has been achieved by linking the UAEs biggest oil fields with a 240 mile long and 48 inch wide pipeline to its only seaport east of Hormuz.


The next great opportunity arose out of what can be termed as an earth-shattering development in the mechanics of global sea trade. From a humble beginning of just 58 containers being carried in a vessel converted for the purpose way back in 1956, containerization has now become the new all-pervasive norm. It can be said to be the unheralded harbinger of globalization, as without its anti-theft, pro-efficiency and cost-effectiveness features, transoceanic shipping may well have remained a mirage.


As the concept took hold in the Indian Ocean region also, terminals dedicated to handling container trade sprang up, as they were bound to, in all the major regional ports. Globally, the share of countries with container ports rose from about 1% in 1966 to nearly 90% by 1983. Pakistan was a bit slow in appreciating this phenomenon as its first container terminal only commenced operations in 1998.


As ship sizes, measured in Twenty-foot Equivalent Units, kept increasing to achieve economy of scale, the larger ships commenced liner services, touching only a few well-located ports, with feeder services transporting the off-loaded containers to their ultimate destinations. Ports in the Indian Ocean best placed to capitalize on this trend were Aden, Colombo and Singapore. By the 1990s Singapore had gone on to become both the busiest port in terms of shipping tonnage as well as the largest transshipment hub. Colombo, though plagued by an unmanageable insurgency in the 1980s, which lasted for nearly three decades, still managed to hold itself as the largest and busiest port in South Asia. Despite being gifted with an ideal location and a natural harbour, Aden had to struggle to retain its position as terrorism and turmoil both took their toll. Salalah in Oman, which was a sleepy fishing and bunkering port in the 1990s, suddenly surged ahead to fill the void created by Aden’s volatile environment, particularly after the USS Cole bombing of 2002, and become a major regional transshipment hub catering to the East African region as well as the eastern coast of the Arabian peninsula.


Dubai’s Jebel Ali, constructed in 1979, did not take long to establish its credentials as the busiest and best-equipped port in the Middle-East, and was amongst the foremost in the region to attract containerized traffic. The U.S.-Iran nuclear standoff at the beginning of the current century, which stoked fears of a possible blockage of the Straits of Hormuz, led to the emergence of such transshipment hubs as Sohar in Oman and Sharjah’s Khor Fakkan, both located outside the Gulf. Khor Fakkan in particular has established itself in a short period of time as the best transshipment port in the region.


From what has been recounted so far, it can easily be gauged that in every crisis lies an opportunity, particularly for those discerning enough to take the plunge, and that every opportunity needs to be seized at the right moment. Risk taking works both ways and the sensible thing to do is to always have a Plan B ready to forestall possible disaster. Every crisis brings turbulence in its wake and the only maritime entities able to weather such storms are the ones who distinguish themselves by virtue of their efficiency, their recourse to best management practices and above all, by their ability to monitor and predict global trends likely to leave an impact on the maritime industry.

 

The writer is a retired Rear Admiral of Pakistan Navy and a Maritime Researcher. He has served as the Director General of the National Centre for Maritime Policy Research at Bahria University, Karachi.
 
10
July

مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندی۔۔۔کب تک؟

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: صائمہ جبار

قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ظاہر ہے شہ رگ کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ ظلم و ستم کا شکار ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے شہری پُرسکون رہ سکیں۔ گویا ان کی بے قراری ایک فطری امر ہے۔


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظلم و بربریت انتہا پر ہے ۔ ضلع بڈگام میں لوگوں کے پتھراؤ سے بچنے کے لئے ایک نوجوان کو فوجی جیپ کے آگے باندھ دیا گیا۔سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہونے والی اس ویڈیونے دنیا کو بھارتی بربریت کی صحیح تصویر دکھا ئی تو بھارت چکرا کر رہ گیا اوردنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہو نے کا دعویٰ کرنے والے بھارت نے26 اپریل 2017 کوکشمیر میں انٹر نیٹ مہیا کرنے والی تمام کمپنیوں کو فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ جیسی تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ گزشتہ پانچ برس میں بھارت 30 سے زائد کشمیریوں کا انٹر نیٹ بند کر چکا ہے۔جبکہ گزشتہ برس کشمیری کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد تو انٹرنیٹ بلیک آوٹ چھ ماہ تک جاری رہا۔برہان وانی کی شہرت بھی سوشل میڈیا سے ہی پھیلی تھی۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر کشمیری پنڈتوں کی علیٰحدہ بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ اور برہان وانی نے اپنی سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے ویڈیو پیغامات میں بھارت کے اس منصوبے کو بے نقاب کیا تھا۔ نوجوان کشمیری اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مظاہروں کی ویڈیو بناتے ہیں اور انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے اس کا جواز یہ دیا ہے کہ سماج دشمن عناصر سوشل میڈیا کو قومی مفاد کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

Software Freedom Law Centre
کی رپورٹ کے مطابق 2012 سے 2016 تک 31 سے زائد مرتبہ انٹرنیٹ کو کشمیر میں بلاک کیا گیا ہے ۔ تاہم اب پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹس پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تقریباً آٹھ لاکھ فوجی تعینات ہیں جو دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ فوجی موجودگی والا علاقہ بن چکا ہے۔ نیو یارک میں قائم کمیٹی’’ ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ ‘‘نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سوشل میڈیا پر عائد پابندی اٹھائی جائے۔رپورٹرز ودآؤٹ بارڈر کی عالمی تنظیم نے بھی کشمیر میں سوشل میڈیا بین پر تشویش کا اظہار کیا ہے،اور بھارت کو فوری طور پر یہ بین ختم کرنے کا کہا ہے۔


آج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار کرنا نا ممکن ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور وہ سوشل میڈیا کا استعمال کر کے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھا رہے ہیں۔ پیلٹ گن فائرنگ سے متاثر افراد کی تصاویر شاید ہم تک کبھی نہ پہنچتیں کیونکہ روایتی میڈیا پر تو پہلے سے پابندیاں تھیں۔ یہ تو سوشل میڈیا ہی تھا کہ جس کے ذریعے دنیا تک وہ تصاویر پہنچیں جو کہ بھارتی غنڈا گردی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔کشمیری نوجوان نہ صرف سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ احتجاج کی کال دینے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے رہے ہیں۔لوکل انتظامیہ اس بات سے خوفزدہ ہو کر سوشل میڈیا سایٹس پر پابندی لگا رہی ہے۔ٹویٹر،فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ کو بند کیا جا چکا ہے۔


لیکن ہمت ہے ان کشمیری نوجوانوں کی جنہوں نے ہار نہ ماننے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔انیس سالہ طالب علم عزیر جان نے کشمیریوں کے رابطے کے لئے فیس بک کا ایک لوکل ورژن بنا ڈالا۔جس کا نام کیش بک ہے۔کچھ ہی روز میں اس سائٹ پر سات سے آٹھ ہزار لوگوں نے اپنے آپ کو رجسٹر ڈکیا ہے اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔عزیر جان کے مطابق یہ سائٹ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ جب باقی تمام سوشل نیٹ ورکس کو بند کر دیا گیا ہے تو کشمیری آپس میں کیسے رابطے کریں گے۔ یہ سائٹ ان کو یہی سہولت دے گی۔بیانیے کی یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر بھی پھیل چکی ہے۔


آج کشمیر پہلے سے زیادہ بھارت کے خلاف ہے۔کشمیریوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے اورکشمیر میں حقِ خود ارادیت کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ مطالبہ 1947 سے چلا آ رہا ہے۔
مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا قدیم ترین بین الاقوامی حل طلب مسئلہ ہے۔بھارت پاکستان میں پہلی جنگ اسی مسئلے پر ہوئی۔بھارت اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں یکم جنوری 1948میں لے کر گیا۔کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے فوجی تعینات ہو گئے تھے۔اقوامِ متحدہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر بھارت کے ساتھ الحاق کرے گا یا پاکستان کے ساتھ اس کا فیصلہ ایک جمہوری طریقے سے حقِ خود ارادیت کے تحت کیا جائے گا۔بعد میں 3 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اس قرارداد پر پھر سے زور دیا گیا۔


اب تک کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ پیلٹ فائرنگ کا نیا ہتھیار بھارتی فوج کے ہاتھ آ گیا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کی بینائی جا چکی ہے۔ خواتین کی عصمت دری ، ماؤں کے سامنے جوان بیٹوں کا قتل بھارتی فوج کے لئے ایک عام سی بات ہے۔بھارتی افواج نے انسانی حقوق کی پامالی کا ریکارڈ کشمیر میں قائم کیا ہے۔


پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی محبت کا سلسلہ بہت پرانا اور تاریخی ہے۔ کشمیری شہدا کو پاکستانی جھنڈے میں دفنایا جاتا ہے۔ جنازوں میں پاکستان زندہ باد اور ہم لے کے رہیں گے آ زادی کے نعرے گونجتے رہتے ہیں۔
قدرتی حسن سے مالا مال وادی جموں وکشمیر انیسویں صدی میں مشہور سیاحتی مقام ہوا کرتی تھی۔ اس کا موسم اور دلکش مناظر سیاحوں کی نگاہ کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ لیکن اس حسین وادی کو ایسی نظر لگی کہ یہاں امن و امان ناپید ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ وادی کسی دیو کے تسلط میں ہے جس کی آزادی کے لئے وہاں کے مقیم اپنے خون کا نذرانہ دے رہے ہیں۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھارت کی ان سفاکانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کا نوٹس لے تا کہ کشمیر کو فلسطین بننے سے روکا جا سکے۔پاکستان کی طرف سے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کو خوش آمدید کہا گیا ہے لیکن بھارت کسی صورت اس مسئلے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی ماننے پر تیار نہیں ہوتا۔


بہرکیف جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھارت کے لئے ناممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے مظالم کو دنیا سے چھپائے رکھے۔ لہٰذا بھارت جس قدر بھی کوشش کرلے‘ ظلم و ستم کا بازار گرم کرے یا پھر سوشل میڈیا پر پابندیاں لگائے ۔ اب یہ بات طے ہے کہ جلد یا بابدیر بھارت کو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا اور کشمیریوں کو بھارت سے نجات مل کر رہے گی۔

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
July

نریندر مودی کی مسلم دشمنی

Published in Hilal Urdu July 2017

تحریر: عبد الستار اعوان

47ء میں تقسیم کے بعد بھارت کی فضا کبھی بھی مسلمانوں کے لئے سازگار نہیں رہی تاہم جب سے نریندر مودی ا ورا ن کا ٹولہ برسراقتدار آیا ہے مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر نفرتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اوریہ سرزمین ان پر اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ملک میں جس انداز سے اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں اگر یہ پالیسی ترک نہ کی گئی تو اس سے خود ریاست بہت بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے ۔ مودی سرکار کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے جونہی کوئی بہانہ ہاتھ آتا ہے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کی منافقت دیکھئے کہ وہ ایک طرف ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘ (وکاس ہندی زبان میں ترقی کو کہتے ہیں) کے نعرے لگاتے ہیں اور دوسری جانب مسلمانوں کے خلاف تعصب‘ تنگ نظر ی اور نفرتوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔آج کل ریاست آسام کے ایک کروڑ مسلمان نریندر مودی کے نشانے پر ہیں اور انہیںآسام سے بے دخل کرنے کے لئے نام نہاد قانونی جواز تلاش کرنے کی تیاریاں جار ی ہیں ۔آسام کی وزارت اعلیٰ پر مسلسل 16برس تک ترون گوگوئی جیسا متعصب شخص براجمان رہا جس کے دور میں مسلمانوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو ا اور اس نے انہیں پریشان کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،آج کل آسام کے وزیراعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے راہنما سبرانند سونووال ہیں جو 2016ء میں اس منصب پر فائز ہوئے ‘ان کے دور میں بھی مسلمانوں کے حصے میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں آیا۔


ریاست آسام بھارت کے شمال مشر ق میں واقع ہے ، اس کا دارالحکومت دسپور ہے ۔ یہ ریاست گھنے جنگلوں اور سرسبز پہاڑوں کی سرزمین کہلاتی ہے ۔ آسام کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب چونتیس فیصد بتایا جاتا ہے۔ آسام کے اکثر مسلمان بنگالی زبان بولتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بنگالی ہیں۔آسام میں مسلمانوں کی شہریت کا معاملہ گزشتہ39برس سے انتہائی سنگین چلاآ رہا ہے ۔ ماضی میں ایسے لاتعداد واقعات رونماہو چکے ہیں جب ریاستی اداروں کی ہلہ شیری سے متشدد ہندو تنظیموں نے مسلمان آبادیوں پر حملے کئے جن میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ا ور ان کی جائیدادیں برباد ہوئیں۔ مسلمانوں کو مختلف ادوار میں بنگالی ہونے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتاراجاتا رہا ہے ۔آسام کے مظلوم مسلمان 1983ء کے فسادات کو یاد کر کے آج بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں جب ہندو تنظیموں نے صرف چند دنوں میں چار ہزار کے قریب مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، عورتوں کی عصمت دری کی اور ان کی املاک کو لوٹاگیا ۔ اس واقعے کے متاثرین آج تک خوارہو رہے ہیں لیکن بھارتی عدالتیں انہیں انصاف فراہم کرنے سے کلی طور پر انکاری ہیں ۔

 

narindramodi.jpgکچھ عرصہ قبل جب آسام میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوا توعالمی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا:’’ آسام میں گزشتہ ہفتوں کے دوران بہت بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری ہوئی ہے۔ آزادی کے بعد غالباً یہ سب سے بڑا فساد ہے جس میں تقریباً چار لاکھ لوگ بے گھر ہو ئے۔ بھارت کے قومی اقلیتی کمیشن کے مطابق منظم حملوں کے بعد مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹا گیا اور اس کے بعد ان کی آبادیوں کو پوری طرح خاکستر کر دیا تاکہ یہ دوبارہ کبھی اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔غیر قانونی تارکین وطن کا سوال خطے کا ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس میں مذہبی نفرت کا پہلو بھی شامل رہا ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے آسام کے بھیانک مظالم کی خبریں کبھی شائع نہیں کی جاتیں۔‘‘
اگر ہم اس معاملے کا مختصر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شہریت کے عنوان پر آسامی مسلمانوں کے خلاف یہ مہم 1978ء میں آل آسام سٹوڈنٹس اور دیگر ہند و تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی۔ ان تنظیموں کا نعرہ تھا کہ یہ لوگ آسامی نہیں بنگالی ہیں اور انہیں ملک بدر کیا جائے ۔بعد ازاں یہ مہم مسلمانوں کے خلاف زبردست تحریک میں بدل گئی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔ جمعیۃ علما ئے ہند آسامی مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سب سے پرانی اور نمائندہ تنظیم ہے ۔اس جماعت نے دیگر اقلیتی پارٹیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کے خلاف جاری اس پرتشدد ہندو تحریک کو روکنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا اورمسلمانوں کے خلاف 1978ء سے جاری اس مہم کو 1985ء میں
Accord Assam
معاہدے کی صورت میں ختم کرانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ معاہدہ اس وقت کی راجیو گاندھی مرکزی حکومت ، آسام حکومت ، مسلمان مخالف تحریکوں اور جمعیۃ علمائے ہند کی باہمی رضامندی سے ہو ا۔ اس میں طے پایا کہ1971ء کو بنیاد بنایا جائے گا اور اس سے پہلے آسام میں آکر سکونت اختیار کرنے والوں کو بھارتی شہری تسلیم کیاجائے گا۔ بعد ازاں اس معاہدے کو پارلیمنٹ سے بھی پاس کروایا گیا اور ملک بھر کی جماعتوں نے اسے قبول کیا۔1985ء سے اب تک سب کچھ ٹھیک تھا لیکن چند سال پیشتر یہ معاہدہ اس وقت متنازع بنانے کی کوشش کی گئی جب سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کے دورِحکومت میں ہندو تنظیموں نے بھارتی عدالتوں میں رٹ دائر کر دی کہ 1971کے بجائے 1951ء کی ووٹر لسٹوں کو بنیادبنا کر شہریت کا فیصلہ کیا جائے، اس رٹ میں آسام اکارڈمعاہدے کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کر دیا گیا جس کی وجہ سے اب آسام کے لاکھوں مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیاہے ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر مسلمانوں کی نمائند ہ سیاسی جماعت جمعیۃ علمائے ہند اپنی دو حامی جماعتوں آل آسام مینارٹیز سٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی کے تعاون سے میدان میں آ کر آسام اکارڈ کا بھرپور دفاع کررہی ہے۔


اس وقت یہ کیس بھارتی سپریم کورٹ میں ہے جسے آسام کی 14مسلمان مخالف ہندوجماعتوں کی بھرپور تائید حاصل ہے جبکہ دوسری جانب تین جماعتیں جمعیۃ علمائے ہند ، آل آسام مینارٹیز سٹوڈنٹس اور سٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی اپنے حق کے لئے لڑ رہی ہیں۔یہ مقدمہ پہلے سپریم کورٹ کے ڈویژن بنچ کے پاس تھا جس نے فریقین سے سوالات کر کے انہیں جواب داخل کرنے کا حکم دیا ،بعد میں یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ کے حوالے کر دیاگیا ۔ یکم مئی 17ء کو جمعیت علمائے ہند اور اس کی حامی جماعتوں نے ان سوالات کے جوابات اور دیگر دستاویزات بنچ کے رو بروپیش کیں۔ اب سپریم کورٹ میں ان مقدمات کی باقاعد ہ سماعت کا آغا ز ہو چکا ہے اور آسام کے لاکھوں مسلمانوں کی نظریں اس فیصلے پر ہیں جو ان کے مستقبل پر اثر انداز ہونے جا رہا ہے ۔


مسلمان راہنما ؤں کا موقف بڑا واضح اور مدلل ہے کہ حکومت آسام اکار ڈ 1985کی پاسداری کرے اور اس کے مطابق ہی شہریت کا فیصلہ کیا جائے۔ آسام میں مذہب کی بنیاد پر شہری تفریق قابل قبول نہیں۔شہریت کے لیے مذہب کو بنیاد بنا نا متحدہ قومیت اوراُس سیکولراز م کے بھی سراسر منافی ہے جس کا بھارت دعویدار ہے۔ آسام میں کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے تو اسے ملک سے فوراً نکالا جانا چاہیے خواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہولیکن کسی حقیقی شہری کو بلا وجہ پریشان نہ کیا جائے۔


مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ ہندو تنظیمیں ریاستی آشیر باد سے مسلمانوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھڑا کر رہی ہیں کیونکہ آسام اکارڈ میں شہریت کا جو پیمانہ مقرر کیا گیا تھا اور جس کے تحت قومی شہری اندراج(‘ نیشنل سٹیزن رجسٹریشن) کا کام تقریباً مکمل ہوچکا تھا ،اس میں چونکہ مسلمانوں کے حوالے سے بنگلہ دیشی مسئلہ دم توڑتا ہوا نظرآیا اس وجہ سے حکومت نے یہ نئی ساز ش تیار کی اوراب وہ عدالتوں کاسہارا لے کر 71ء کے مقرر کردہ اپنے ہی وضع کردہ پیمانے کو کالعدم قرار دے کر مسلمانوں کے لئے نئی مشکلات پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ آسامی مسلمانوں کے ممتاز لیڈراور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ آسام کے مسلمانوں کے خلاف سازش چل رہی ہے کہ ان سے شہریت کے حقوق چھین لئے جائیں ، ان سے ووٹنگ کا حق سلب کر لیا جائے لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔


اس ضمن میں معروف بھارتی صحافی عابد انور اور عمران عاکف خان کہتے ہیں کہ ’’ا فسوسناک بات یہ ہے کہ آسام کی سابق ترون گوگو ئی حکومت اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے بجائے محض سیاسی مفادات کی خاطر لٹکاتی رہی۔ آسام کے مسلمانوں کے استحصال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریاستی حکومت نے آسام میں بارڈر پولیس بناکر اسے مکمل اختیا دے دیا ہے کہ وہ جسے چاہے غیر ملکی قرار دے کر عقوبت خانوں میں ڈال سکتی ہے۔ ہزاروں معصوم لوگ بارڈر پولیس کے ظلم و ستم کا شکار ہو چکے ہیں۔بھارتی صحافی برادری کا کہنا ہے کہ نئی دلی سرکار کا دوہرا پیمانہ دیکھئے کہ ایک طرف تو حکومت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر چکی ہے جس کے پاس ہوتے ہی لاکھوں غیر ملکی ہندو پناہ گزینوں کو بھارتی شہریت مل جائے گی جبکہ دوسری جانب بھارت کے لاکھوں حقیقی شہریوں کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے بھارتی شہریت سے محروم کر دیاجائے گا ‘‘۔


دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ آسام میں شہریت کے حوالے سے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ظالمانہ فیصلے سے براہ راست پچاس لاکھ مسلمان خواتین کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ آسام کے حقیقی شہری اور بنگالی مہاجر کے درمیان فرق کرنے کے لئے قومی شہری رجسٹریشن کا فارمولہ اختیار کیا گیا تھا اور اس میں شہریت کو ثابت کرنے کے لئے جودستاویزات درکار تھیں ان میں ایک پنچایت سرٹیفکیٹ بھی شامل تھا ۔ یہ سرٹیفکیٹ پنچایت سیکرٹری کی جانب سے اس لڑکی کو دیاجاتا ہے جو شادی کر کے دوسرے گھر چلی جاتی ہے، یہ سرٹیفکیٹ اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ لڑکی بنگالی نہیں آسامی شہریت کی حامل ہے ۔گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک تازہ فیصلے میں قومی رجسٹر برائے شہریت نامی اس سرٹیفکیٹ اور اس کی معاون دستاویزات کو واضح طور پربے حیثیت ،بے معنی اور غیر مستند قرار دے دیا ہے جس سے 50لاکھ سے زائد خواتین کی شہریت منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔آسام کی مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں اب تک 80فی صد کام مکمل ہو چکا تھا کہ گوہاٹی ہائی کورٹ نے اس کے خلاف فیصلہ دے ڈالا۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کی شہریتی جانچ پڑتال کے لئے ایک ٹربیونل بھی کام کر رہاہے جس کی جانب سے مسلمانوں کولاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے آسامی مسلمانوں کے نمائند ہ سیاسی وفد نے حال ہی میں وزیراعلیٰ آسام سے ملاقات کر کے کہا کہ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کو روکاجائے لیکن تاحال وزیراعلیٰ کی جانب سے کسی قسم کے اقدامات سامنے نہیں آئے۔ایک طرف ہندو تنظیموں نے آسام اکارڈ کے خلاف درجنوں مقدمات دائر کر رکھے ہیں تو دوسری جانب مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ پریشان کن امریہ ہے کہ پولیس نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلمان خواتین کو گرفتار کر ناشروع کر دیا ہے ۔


بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس قدر خطرنا ک ہے کہ عموماً مسلمان خواتین کو رات کے وقت گرفتار کر کے انہیں حراستی مراکز
(Detention Camps)
میں قید کر دیاجاتا ہے جبکہ یہ گرفتاریاں سراسر غیر قانونی ہیں۔بھارتی آئین کی روسے کسی خاتون کی گرفتاری رات کے وقت اور بغیر لیڈی پولیس کے نہیں کی جاسکتی لیکن آسام میں اس کی واضح خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے جب ان حراستی مراکز میں جانے کے لئے اجازت چاہی تو کہا گیا کہ وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہوگی، جب انہوں نے وزارت داخلہ سے رجوع کیا تو انہیں وہاں سے بھی کوئی اجازت نامہ نہ ملا ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ حراستی مراکز میں خواتین کے ساتھ کیا ہورہاہے کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا لیکن جو تھوڑی بہت اطلاعات ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ بہت لرزہ دینے والی ہیں۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مسلمان خواتین کو مجرموں کے ساتھ رکھا جارہا ہے اوردرندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عصمت دری کی جارہی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان کیمپوں میں ہزاروں مسلمان خواتین تڑپ رہی ہیں لیکن ’’سیکولر بھارت ‘‘ اور ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘کی دعویدار مودی سرکار انہیں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔


آسام کے گزشتہ ادوار اور تازہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ سراسر بی جے پی حکومت اور نریندر مودی کی مسلم دشمنی کا شاخسانہ ہے ، چونکہ آسام اکارڈ اور قومی شہری رجسٹریشن کی رو سے بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف مہم دم توڑ چکی تھی اور ان کی شہریت کا مسئلہ تقریباً حل ہو چکا تھا جبکہ مودی حکومت اور ہندو تنظیمیں نہیں چاہتیں کہ مسلمان اس سے نجات حاصل کریں چنانچہ نئی دلی سرکار ایک بار پھر ہندو تنظیموں کو تھپکی دے کر قومی شہریت کی منسوخی کا یہ ڈرامہ کھیل رہی ہے اور اپنی عدالتوں اور اپنے ہی وضع کردہ قانون اور آئینی پیمانے کے ذریعے اخلاقی جواز تلاش کرکے یہ مسئلہ دوبارہ تازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آسام کے ایک کروڑ مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ اس ضمن میں غالب گمان یہی ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کافیصلہ بھی آسام کے مسلمانوں کے خلاف آئے گا کیونکہ ماضی کے لاتعداد فیصلے گواہ ہیں جو ان نام نہادعدالتوں نے واضح طور پر جانبدار ی اور ہندو نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف دیئے ۔ خاکم بدہن‘ اگر یہ فیصلہ بھی آسام اکارڈ کے خلاف آتا ہے تو اس سے ایک کروڑ مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگنے کا خدشہ ہے۔شہریت کے حوالے سے آسامی مسلمانوں کو اس وقت آسام سول کورٹس، گوہاٹی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں درجنوں مقدمات کا سامنا ہے اور اب یہ لاکھوں فرزندان اسلام حسرت و یاس بھری نگاہوں سے ان عدالتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جن کے فیصلوں سے ان کا مستقبل روشن یا پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریک ہو جائے گا .......


بہر کیف معاملہ گولڈن ٹیمپل کا ہو ، بابری مسجد ، گجرات قتل عام یا آسام کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی حالتِ زار کا‘ یہ سب بھارتی حکمرانوں کی تنگ نظری کے مظاہر ہیں۔ جب تک بھارتی حکمران ،فوج اور ہندو لیڈراپنے اندر سے تعصب کے میل کو ختم نہیں کرتے ،اپنی اصلاح پر توجہ نہیں دیتے، اقلیتوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کی طرح زندگی گزارنے کے مواقع نہیں دیتے ‘بھارت مسائل کی دلدل میں دھنستا جائے گا اور بقول بھارتی صحافی خشونت سنگھ بالآخر اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ‘پاکستان یا دنیا کا کوئی بھی ملک اسے تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے تعصبانہ رویوں کی بدولت ہی خود کشی کا ارتکاب کر ے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter