09
May

خطے کے امن کے لئے افغانستان میں امن ناگزیر

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ امریکہ کے جنگی اخراجات کو کم کرکے اسی سرمائے کو امریکی شہریوں کی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کریں گے۔امریکہ کے اندر وہ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتے ہیں، اس بارے تو کچھ کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔ تاہم شام اور افغانستان کو ملٹر ی انڈسٹریل کمپلیکس کی خوفناک جنگی ایجادات سے نواز کر دنیا کو بڑا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو تختہ مشق بنائے رکھنے کا امریکی وطیرہ برقرار رہے گا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ شام کے ائیربیس کو نشانہ بنانا اور افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانا ، ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پالیسی ہے یا اس نے اپنے اقتدار کے دوام اور کاروباری مفادات کی خاطر جنگی پالیسی کے سامنے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ گرچہ دونوں حملوں کا نشانہ براہ راست دو اسلامی ملک بنے ہیں تاہم بالواسطہ طور پر دونوں حملوں میں نہ صرف روس کے مفادات کو چوٹ پہنچی بلکہ باالفاظ دیگر اسے متنبہ کیا گیا ہے۔


صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے فوراً بعد سی آئی اے نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے، اس الزام کے تحت دونوں کے مابین سفارتی تعلقات میں تناؤ اتنا بڑھاکہ امریکہ نے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر بھی کردیا ، گرچہ اس وقت روس کی جانب سے بھی سخت ردعمل متوقع تھا مگر صدر پیوٹن نے اعلان کیا کہ روس ردعمل میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کریگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کہ جنہوں نے بطور صدر ابھی حلف نہیں لیا تھا، روس کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور امریکہ روس تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس سے قبل کہ نومنتخب امریکی صدر کی اس خواہش کو عالمی میڈیا میں پذیرائی ملتی متعدد ممالک کے کئی شہروں میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ جسے عالمی میڈیا کی بھرپور توجہ ملی۔ ان ہنگامہ خیز خبروں میں جنگی پالیسیوں میں بدلاؤ، حریف ممالک سے تعلقات میں بہتری جیسی امیدیں گم ہوکر رہ گئیں۔ نتیجتاً دو ملکوں شام اور افغانستان میں امریکہ نے انتہائی غیر متوقع اور غیر ضروری حملے کئے ہیں۔


7 اپریل 2017 کو علی الصبح مشرقی بحیرہ روم میں تعینات امریکی بحری بیڑے نے شام پر ٹوماہاک کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔ حملے میں امریکی بحری بیڑے نے شام کے صوبے حمص میں واقع الشعیرات اڈے پر59 ٹوماہاک کروز میزائل داغے۔الشعیرات اڈے کا جو کہ صوبہ حمص میں شہر حمص سے 31 کلو میٹر جنوب مشرق میں تدمر روڈ پر واقع ہے، شامی افواج اور باغیوں یا دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں اہم کردار رہا ہے ۔ حال ہی میں روس سے لئے جانے والے سخوئی اورمِگ 40 طیارے اسی بیس پر ہی رکھے گئے ہیں۔ روس اور شام نے ایس400 میزائل سسٹم کے لئے بھی اسی اڈے کا انتخاب کیا تھا۔ باالفاظ دیگر شام میں امریکہ نے جس اڈے کو نشانہ بنایا وہ شام اور روس کے مشترکہ زیراستعمال تھا۔
دوسرا بڑا حملہ مریکہ نے پاک افغان سرحد سے متصل صوبہ ننگرہار کے قریب اچین ضلع میں کیا۔ جس میں دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہر ی بم کو استعمال کیا گیا۔اس خوفناک بم کو ماسو آرڈننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) بم کہا جاتا ہے ، جس میں 11 ٹن وزنی بارودی مواد تھا۔ اپنے نام کے مخفف کے لحاظ سے، امریکی فضائیہ میں عرف عام میں اِسے ’’مدر آف آل بمز‘‘کہا جاتاہے ۔ یہ بم امریکی فضائیہ کے سی 130 طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے گرایا گیا۔ یہ 30فٹ لمبااور 40 انچ چوڑا ہے اور اس کا وزن 9500کلوگرام ہے ، وزن میں یہ ہیروشیما ایٹم بم سے دوگنا بڑاتھا۔عینی شاہدین کے مطابق بم پھٹتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ جیسے قیامت آگئی ہو۔ اس بم کی قیامت خیزی کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دواضلاع میں دور تک اس بم کی آواز سنی گئی اور اس کے اثرات افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بھی مرتب ہوئے۔متعدد علاقوں کی بیشتر عمارات میں دراڑیں آگئیں۔ اچین اور قریبی اضلاع میں پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے اور زمین میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ’’موآب‘‘ اس وقت چلایا گیا جب روس کے دارالحکومت ماسکو میں افغانستان کے مستقبل سے متعلق کانفرنس جاری تھی۔ اس کانفرنس میں خطے کے گیارہ ممالک چین، روس، ایران، ہندوستان، پاکستان، ازبکستان، قازقستان، ترکمانستان، کرغزستان،ا فغانستان اور تاجکستان شامل تھے۔

 

khitymainamank.jpgماسکو کانفرنس افغانستان کے امن سے متعلق اس تین رکنی فورم کا تسلسل تھی کہ جس میں پہلے ابتدائی طور پر چین ، روس اور پاکستان شامل تھے، بعد ازاں اس میں خطے کے تمام ممالک کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایسی کانفرنس کہ جس میں خطے کے تمام ممالک شریک تھے اس کا امریکہ نے بائیکاٹ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں خطے کے اندر روس کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا۔ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ امریکہ نے افغان امن سے متعلق ہونے والے سنجیدہ اقدامات یا مذکرات کو سبوتاژ کیا ہو۔ ماضی قریب میں بھی امریکی رویہ اس امر کا عکاس ہے کہ امریکہ بشمول نیٹو افغانستان میں پائیدار قیام امن کی کوششوں کو اپنے مفادات کے منافی سمجھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل چین نے بھی پاکستان اور افغانستان کو ساتھ لے کر ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا۔ امن کے حوالے سے کچھ پیش رفت بھی ہوئی کہ امریکی خواہش پر امریکہ کو اس میں شامل کرکے تین رکنی سے چار رکنی فورم کردیا گیا۔ امریکہ نے خود شامل ہونے کے بعد اس پلیٹ فارم سے بھی کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہونے دی بلکہ اقوام متحدہ میں جاکر افغانستان اور ہندوستان کو ساتھ ملاکر افغانستان کے مستقبل سے متعلق ایک نئی مثلث تشکیل دے دی۔ امریکہ کا یہ طرز عمل کم از کم اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ افغانستان میں سب کچھ امریکی ترجیحات میں شامل ہے ، ماسوائے امن کے۔


قرائن بتاتے ہیں کہ اکتوبر 2001ء میں نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ افغانستان میں امن کے دیپ روشن کرنے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے حصول اور خطے میں اپنی چودھراہٹ کا خواب لے کر آیا تھا۔ امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا تھا۔ ابھرتی ہوئی طاقت چین کا راستہ بھی روکنا تھا۔ ایران اور روس کے قریب بھی رہنا تھا اور پاکستان کے جوہری پروگرام پر بھی نگاہ رکھنا چاہتا تھا۔ بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قیام کے بعد افغانستان یا پاکستان میں امریکہ اپنا عسکری وجود بھرپور قوت کے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔اپریل 1996ء میں شنگھائی فائیو کی بنیاد رکھی گئی ۔جس میں روس اور چین دونوں شامل تھے۔ جبکہ ازبکستان شامل نہیں تھا۔ جون2001ء میں ازبکستان نے شمولیت اختیار کی۔جب شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وجود میں آنے کے تھوڑے ہی عرصے میں نائن الیون کا حادثہ برپا ہوا۔ گرچہ اس واقعے میں کوئی ایک حملہ آور بھی افغان نہیں تھا مگر اس کے باوجود افغانستان پہ امریکہ نے نیٹواور دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ چڑھائی کی۔ افغانستان جو کہ ایک طویل جنگی اور خانہ جنگی کی تاریخ اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ امریکہ کے لئے اتنا ہی آسان ہدف ثابت ہوا کہ آج سولہ سالہ قبضے کے بعد بھی امریکہ کو افغانستان میں دنیا کے سب سے بڑے بم چلانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔


اپنے وقت کی تین بڑی طاقتوں نے یکے بعد دیگرے افغانستان کوترنوالہ بنانے کی کوشش کی ہے مگر بالآخر تینوں کی کوششیں ناکامی پہ منتج ہوئیں۔ سلطنت برطانیہ ،کہ جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، نے دو دفعہ افغانستان سر کرنے کی کوشش کی۔ 1838سے 1842، 1870سے 1880،اینگلو افغان جنگوں میں افغان قبائل کے بیچ پھوٹ ڈالنے کے باوجود بھی برٹش افواج کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ 1979ء میں کمیونسٹ روس افغانستان میں داخل ہوا۔ افغانستان میں پندرہ ہزار روسی فوجوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔افغانستان سے نکلنے والے آخری روسی فوجی کے الفاظ تھے کہ نو سالہ جنگ کے بعد آج ایک بھی روسی فوجی افغانستان میں موجود نہیں ہے۔ اکتوبر2001 میں امریکہ نے نیٹو ممالک کے ساتھ حملہ کیا۔ 16سالہ جنگ کے بعد اسی افغانستان میں امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرانا پڑا ۔ 2013 ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے جریدے میں عراق اور افغان جنگ پر امریکی اخراجات کا تخمینہ چار سے چھ ٹریلین یو ایس ڈالر لگایا گیا۔
گزشتہ تیس سال سے افغانستان منظم اداروں سے محروم ملک چلا آرہا ہے، جس کے باعث اپنے وسائل اور آبادی کے اعداد و شمارکے حوالے سے بھی دوسروں کا دست نگر ہے۔ اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق پختون افغانستان کی کل آبادی کا تقریباً42فیصد، تاجک27فیصد،ہزارہ 11فیصد، ازبک9فیصد ہیں جبکہ ایمق، ترکمن،بلوچ، نورستانی اور قزلباشوں کی بھی قابل ذکر تعداد افغان آبادی کا حصہ ہے۔ مشرقی اور جنوبی افغانستان کو خالصتاً پشتونوں کا علاقہ قرار دیا جاتا ہے ۔کابل کے جنوب مغرب میں واقع علاقے بھی روایتی طور پر پختونوں ہی کا خطہ تصور کئے جاتے ہیں ۔تاجک زیادہ تر کابل شہر ، بدخشان اور کاپیسا کے صوبوں میں مقیم ہیں ، لیکن دوسری طرف انتہائی جنوبی صوبے یعنی ہرات میں بھی تاجکوں کی کافی بڑی تعداد نے سکونت اختیار کررکھی ہے ۔ ہزارہ نسل کے لوگ وسطی افغانستان میں مقیم ہیں ۔ ان کے اس علاقے کو ہزارہ جات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور بامیان صوبے کو اس کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے ۔ ایمق افغانستان

کے وسطی پہاڑی سلسلے کے مغربی علاقوں میں بس گئے ہیں ۔ کوہ ہندوکش کے شمال کا علاقہ ازبک قوم کا علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور مزار شریف کو ان کے مرکز اور اہم شہر کا درجہ حاصل ہے ۔


ایک طرف طویل جنگی تاریخ اور جنگ کو بطور پیشہ اپنائے رکھنے والے وہ افغان ہیں، جو نسلی، مسلکی اور لسانی اعتبار سے منقسم ہیں اور پاور شیئرنگ پہ بھی یقین نہیں رکھتے۔ دوسری طرف افغانستان پرامریکہ اور نیٹو کی صورت میں وہ قوت مسلط ہے کہ جو اپنا مفاد آج بھی جنگ اور بدامنی میں کھوجتی ہے۔ جس کے باعث مستقبل قریب میں افغانستان کے حالات میں بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔حتیٰ کہ امریکہ و نیٹوفورسز کا افغانستان سے فوری اور مکمل انخلابھی افغانستان میں پائیدار قیام امن کی ضمانت نہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان سرزمین پر متحارب قبائل و گروہ ہوں کا پاور شیئرنگ پر یقین نہ ہونا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف مختلف جہادی گروہ برسرپیکار تھے جو کہ امریکی مفاد کی جنگ لڑ رہے تھے جسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے ’’جہاد‘‘ ڈکلیئر کیا گیا ۔ ’’مجاہدین ‘‘ اپنی دانست میں ’’جہاد‘‘ اور حقیقت میں مختلف ممالک کے مفادات کی لڑائی میں مصروف رہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوویت یونین کے افغانستان میں آنے سے انخلاء تک امریکی مفاد کی جنگ لڑی گئی۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے نائن الیون تک خطے کے بالخصوص پڑوسی ممالک کے مفادات کی جنگ افغان و بیرونی گروہوں نے لڑی۔ اکتوبر 2001سے تاحال دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر قبضے اور عزائم کے حصول کی جنگ جاری ہے۔ان تمام جنگوں کے باوجود یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کوئی ایک بھی مسلح گروہ دوسرے کی بالادستی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ یہ مسلح گروہ دوسرے ممالک کی مفاد کی جنگ بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، جس کو بنیاد بناکر مستقبل کے نئے نقشے ترتیب دینے کی چہ میگوئیاں ہیں۔


سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، جبکہ امریکہ کے افغانستان پہ حملے و قبضے میں پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اور نان نیٹو اتحادی تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ افغانستان کی تعمیر و ترقی بالخصوص شعبہ جاتی و ادارہ جاتی تعاون میں پاکستان کو مقدم رکھتا ، اس کے برعکس امریکہ نے افغانستان میں نہ صرف بھارت کے قدم مضبوط کئے، بلکہ پاکستان کی تمام تر قربانیوں اور تعاون کو فراموش کرتے ہوئے دہشتگردوں سے تعاون کا الزام عائد کیا۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کو وار زون ڈکلیئر کرتے ہوئے پاکستانی علاقے میں کارروائیاں بھی کیں۔ افغانستان سے ماضی کے ’’مجاہدین‘‘ اور حال کے ’’دہشتگردوں‘‘ کو فاٹا میں دھکیلا گیااور پھر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فاٹا میں آپریشن کرے۔ پاکستان سے اس میں کچھ توقف ہوا تو تحریک طالبان پاکستان بن گئی ۔ جس کا مرکز پہلے فاٹا اور فاٹا میں فوجی آپریشن کے بعد افغانستان شفٹ ہوا۔ جہاں سے براہ راست یہ بھارتی سرپرستی میں چلی گئی۔بھارت نے بھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ مشرقی سرحد پر جنگ کے ذریعے کبھی بھی پاک فوج کو زیر نہیں کرسکتا، اس نے مغربی سرحد پہ بھی پاک فوج کو انگیج کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کے دفاع و سلامتی پر دہشتگردانہ حملوں کی افغانستان کی زمین سے براہ راست سرپرستی بھی کی۔ دوسری جانب امریکہ افغان طالبان کی قوت توڑنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکا۔ سولہ سالہ جنگ کے بعد بھی افغان طالبان ایک حقیقت ہیں اور کئی علاقوں میں اپنا مسلمہ وجود رکھتے ہیں۔گرچہ پاکستان افغان طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی تھا، اس کے باوجود آج بھی امریکہ و افغان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز تک لائے۔ حالانکہ اس تاثر کو اب ختم ہونا چاہئے کہ افغان طالبان پاکستان کے زیر اثر ہیں اور پاکستان کی بات مانتے ہیں، یہاں تک کہ جب ملا عمر برسراقتدار تھے تو اس وقت انہوں نے جنرل مشرف کی بات نہیں مانی تھی اور جنرل محمود کو خالی لوٹا دیا تھا۔


یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ داعش کا جنم اس وقت عراق میں ہوا جب امریکہ عراق میں موجود تھا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ داعش کے بنانے میں امریکی کردار کارفرما تھا۔داعش نے انتہائی مختصر عرصے میں یورپ سمیت کئی ممالک میں اپنے وجود کا احساس دلایا۔ بالخصوص یورپ کے ان ممالک کو داعش نے زیادہ نشانہ بنایا ،جنہوں نے عراق و شام میں بمباری کے لئے امریکہ کا ساتھ دینے سے معذوری اختیاری کی، جیسا کہ فرانس۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح افغانستان میں بھی داعش نے اپنی موجودگی کا اعلان کیا اور داعش میں سب سے پہلے ان دہشت گردوں نے شمولیت کا اعلان کیا، جنہیں بھارتی یا اس کے سرپرستوں کی چھتر چھایا حاصل تھی۔ جس سے اس خیال کو تقویت ملی کہ اب طالبان کی قوت کو توڑنے اور افغانستان کو ’’کنٹرولڈ ڈسٹرب‘‘
(Controlled Chaos)
میں رکھنے کے لئے باقاعدہ طور پر افغانستان میں داعش کی سرپرستی کی جارہی ہے ۔خطے میں اس نئے وبال سے افغان حکومت سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑی اور داعش کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کی فضا میں روس، ایران، چین ، پاکستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں سے روابط بھی کھل کرسامنے آئے۔ یہ وہی دور تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے مری مذاکرات کا اہتمام کیا، مگر ’’دوستوں‘‘ کو کہاں گوارا تھا کہ افغانستان میں امن سے پورا خطہ پرسکون ہو اور تعمیر و ترقی کی شاہراہ پہ چلے۔ چنانچہ مختصر وقفے سے طالبان امیر ملا اختر منصور کو بلوچستان میں نشانہ بنایاگیا، جس کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان مذاکرات کے ذریعے امن کا قیام ایک خواب بن کررہ گیا۔


بھارت میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ ویل نے چند برس قبل اپنی حکومت کو افغانستان میں امن سے متعلق ایک تجویز پیش کی تھی، گرچہ اس تجویزکے مطابق رابرٹ ویل نے امریکی حکومت اورنیٹو کو مشور ہ دیا تھا کہ پختون افغانستان اور غیر پختون افغانستان کوتقسیم کردیا جائے۔ بیرونی افواج (امریکہ، نیٹو) غیر پختون افغانستان (شمالی افغانستان) میں اپنا مرکز رکھیں۔ گرچہ طالبان کا گڑھ پختون علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم طالبان ، یا بیرونی افواج کے خلاف متحرک گروہ لسانی طور پر منقسم نہیں ہیں۔ مختلف لسانی گروہ افغانستان کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر شمال میں واقع قندوز صوبے میں پختونوں کی اکثریت ہے تو دوسری طرف جنوبی صوبے ہرات میں تاجک، ازبک، ہزارہ اکثریت میں ہیں جبکہ لوگر جیسے پختون علاقوں کے درمیان واقع صوبے میں بھی بڑی تعداد میں تاجک بستے ہیں ۔ ایسا بھی نہیں کہ شمال میں رہنے والے صرف ایک قومیت کے لوگ ہیں، یا جنوب میں صرف ایک ہی زبان کے بولنے والے موجود ہیں۔ چنانچہ لسانی بنیادوں پر تقسیم یا امن کی خواہش شائد اتنی سود مند نہ ہو ، تاہم انتظامی بنیادوں پر تقسیم اور پاور شیئرنگ کے ذریعے کسی حد تک افغانستان میں امن ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ شام کی طرز پر افغانستان میں بھی ’’پیس زونز‘‘ قائم کرکے کئی علاقوں میں امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ شاعر مشرق افغانستان کو ایشیا کا قلب مانتے تھے۔ قلب میں بے سکونی ہو تو جسم میں سکون ممکن نہیں، لہٰذاخطے کے امن کے لئے پرامن افغانستان ضروری ہے۔ جس کے لئے خطے کے تمام ممالک کو نیک نیتی سے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔


آسیا یک پیکرِ آب و گِل است
ملتِ افغاں در آں پیکر دل است
از گشادِ او گشادِ آسیا
از فسادِ او فسادِ آسیا

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
May

مقبوضہ کشمیر میں ناکام انڈین الیکشن ڈرامہ

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: علی جاوید نقوی

غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے۔

 

مقبوضہ کشمیر میں انڈین الیکشن ڈرامہ بُری طرح فلاپ ہوگیاہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کی نگرانی میں ان نام نہادضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار بھی منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی سرکار نے مقبوضہ وادی میں انتخابی ماحول بنانے کے لئے پیسے دے کر جعلی امیدوارکھڑے کئے،انتخابی مہم چلانے کے لئے بھی انھیں بھاری رقوم فراہم کی گئیں تاکہ غیرملکی میڈیا اورمبصرین کویہ تاثردیا جاسکے کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل امن ہے اورکشمیری انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں۔


ضمنی انتخابات کے موقع پربہت سخت انتظامات کئے گئے تھے۔بھارتی فوج نے ڈرادھمکا کرلوگوں کوپولنگ سٹیشنزلانے کی کوشش کی ۔کئی جگہ اعلانات کئے گئے کہ سیکورٹی فورسز چیک کریں گی کس نے ووٹ ڈالااورکس نے نہیں۔لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود الیکشن کاڈرامہ بری طرح فلاپ ہوگیا۔خود بھارتی میڈیا اورتجزیہ نگاروں کوبھی یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیربھارت کے کنٹرول میں نہیں رہا۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج تمام ترطاقت استعمال کرنے کے باوجود، کشمیریوں کوغلام بنانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جوبھارتی غلامی کے لئے تیارہو۔ہرشخص کی زبان پرآزادی کانعرہ ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن بھی کم ترین ٹرن آؤٹ اورعوامی بائیکاٹ سے پریشان ہے ، جس کے بعداننت ناگ میں ہونے والاضمنی الیکشن ملتوی کرکے اب 25مئی کوکرانے کااعلان کیاگیاہے۔

 

1غیرملکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ووٹنگ والے دن پولنگ اسٹیشنز سنسان پڑے تھے۔
2ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواربھی منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔
3بوڑھے، نوجوان بیٹوں کی نعشیں اٹھارہے ہیں لیکن ان کے چہروں پرخوف اورمایوسی کی بجائے آزادی کی امید ہے۔
4مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے بھارت،امریکہ سمیت، تمام ممالک کی پیشکشیں مستردکرچکاہے۔
5عالمی برادری کوطے کرناچاہئے بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل نہیں کرتاتواس کے ساتھ کیاسلوک کیا جائے،دوہرا معیارختم ہوناچاہئے۔
6بھارت ایک نام نہاد سیکولرریاست سے انتہاپسندہندوریاست کی طرف بڑھ رہاہے۔
7پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہاتھاکہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔کوئی اپنی شہہ رگ سے کیسے دستبردار ہوسکتاہے۔آج مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ پاکستانی پرچم لہرارہے ہیں،کشمیریوں کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں۔ کشمیری عوام نے بھارتی تشدداورخوف وہراس پھیلانے کے باوجود ان نام نہاد ضمنی انتخابات کاحصہ بننے سے انکارکردیاہے۔مقبوضہ کشمیرکے نوجوانوں کامقبول نعرہ ’’پاکستان زندہ باد،کشمیر بنے گاپاکستان‘‘ بن چکا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی محبت کا عالم یہ ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑمیں پاکستانی قومی ترانے کوانتہائی جوش وجذبے کے ساتھ پڑھتے ہیں،پاکستانی کرکٹرز جیسا یونیفارم پہنتے ہیں اورسبزہلالی پرچم اپنے گھروں پرلہراتے ہیں۔بھارتی فوج انھیں مارتی پیٹتی ہے، گرفتارکرتی ہے،اٹھالے جاتی ہے، لیکن وہ باربارپاکستان سے اپنی محبت کااظہارکررہے ہیں۔ایک کشمیری نوجوان نے الجزیرہ ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ’’ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہماری ماؤں،بہنوں کی عزت محفوظ نہیں، وہ ہمارے مذہب ’اسلام‘ سے نفرت کرتے ہیں،ہم سے نفرت کرتے ہیں، ہم بھارت کے ساتھ نہیں رہ سکتے‘‘۔بی بی سی سے گفتگوکرتے ہوئے ایک نوجوان نے کہا’’ہمیں الیکشن نہیں آزادی چاہئے‘‘۔کٹھ پتلی سیاست دان بھی اب اس بات کوسمجھ گئے ہیں کشمیری نوجوان الیکشن نہیں،حق خودارادیت چاہتے ہیں۔کشمیری نوجوان مختلف طریقوں سے بھارت سے اپنی نفرت کااظہارکررہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم جس کشمیری نوجوان کودہشت گرد کہتے ہیں وہ برہان وانی شہید ،کشمیری نوجوانوں کاہیرو ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے و الے احتجاج میں اب تک ایک سوسے زیادہ کشمیری شہید اور سولہ ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ نام نہادانتخابات رکوانے کے لئے احتجاج میں شہیداورزخمی ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

maqboozakashmirmain.jpg
بھارت میں ہندوقوم پرستی کواُبھارکرووٹ لینے والی بھارتیہ جنتاپارٹی ،مقبوضہ کشمیر میں بے بس نظرآتی ہے۔بی جے پی نے کامیابی کے لئے سرکاری مشینری کے ساتھ ساتھ لالچ اوردھونس سمیت ہرحربہ آزمایا لیکن وہ کشمیر ی حریت پسندوں اورحریت کانفرنس کورام نہ کرسکی ۔الیکشن کے دن بھارتی فوج اور دیگر فورسز کشمیریوں کوزبردستی ووٹ ڈالنے کے لئے مجبور کرتی رہیں ،لیکن کشمیریوں نے انھیں مسترد کردیا۔ کئی جگہ ووٹ ڈالنے کے لئے نوجوانوں کوتشدد کانشانہ بنایاگیا۔ ایسا لگ رہاتھا مقبوضہ کشمیر میں انتخابات نہیں ہورہے بلکہ فوجی مشقیں ہورہی ہیں۔ جگہ جگہ ناکے ،فوج کی گشت اورووٹ ڈالنے کے لئے کشمیریوں سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے۔کئی پولنگ بوتھز پرایک ووٹ بھی نہ ڈالاگیا۔ٹوٹل ٹرن آؤٹ چھ فیصد سے بھی کم رہایہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھی کم ترسطح ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں اتنے کم ٹرن آؤٹ کودرست نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنے کم ووٹ لینے والوں کوعوام کانمائندہ کہاجاسکتا ہے۔کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جس نے احتجاجاََ ووٹ بھی نہیں بنوایا ہوا،وہ موجودہ بھارتی انتخابی عمل اورکٹھ پتلی ریاستی حکومت کوتسلیم ہی نہیں کرتے۔وہ جماعتیں اورکٹھ پتلی حکومت جوکل تک ریاستی جبراورتشددمیں برابرکی شریک تھیں ،کشمیری عوام کی ہمدردیاں اورووٹ حاصل کرنے کے لئے اب تشدد اورقتل عام کی مذمت کررہی ہیں۔چند سال پہلے بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کوکمزورکرنے کے لئے ایک نیا حربہ استعمال کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لئے دوسری ریاستوں سے بھارتی شہریوں کولاکرآبادکیاگیا،انھیں خصوصی مراعات دی گئیں۔ لیکن پھربھی بھارت اپنی برتری قائم نہ کرسکا۔
اس وقت ہزاروں کشمیر ی نوجوان بھارتی قید میں ہیں۔ جن کاجرم بھارتی تسلط سے آزادی اورجعلی انتخابات کابائیکاٹ ہے،یہ نوجوان چاہتے ہیں کہ انھیں حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرسکیں۔ خود بھارتی میڈیا اس بات کوتسلیم کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اکثریت بھارت سے آزادی چاہتی ہے۔ماضی میں بھارت سے وفادری دکھانے والے فاروق عبداللہ بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ’’ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکاہے اوربھارت کومقبوضہ کشمیر پرپاکستان سے بات کرنا ہوگی ،ورنہ کچھ نہیں بچے گا‘‘۔سوشل میڈیااور ٹی وی چینلزپروہ فوٹیج بہت دیکھی گئیں جن میں بھارتی فوجوں کودیکھ کرخواتین اوربچے گھروں میں چھپنے کے بجائے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوں اورسڑکوں پرنکل آئے،جواب میں بھارتی فوجیوں نے ان نہتے کشمیریوں پرپیلیٹ گن کاظالمانہ استعمال کیا۔اس پیلیٹ گن کے بارے میں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ’’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنادیتی ہے ‘‘۔ان پیلٹ گنوں کے باعث درجنوں بچے اورنوجوان عمر بھر کے لئے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مؤثرآوازنہیں اٹھائی،میرے خیال میں پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔


بھارت ایک طرف سلامتی کونسل میں مستقل نشست اورویٹو پاور کاامیدوار ہے تو دوسری طرف اس کی حالت یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمد کرنے کوتیارنہیں۔کیاعالمی برادری کوبھارت پراعتماد کرناچاہئے؟ہرگز نہیں، بھارت عالمی برادری کااعتماد کھوچکا ہے۔اس کارویہ جارحانہ اورعلاقائی بالا دستی کاہے۔وہ نیپال،بھوٹان اوربنگلہ دیش کی طرح دیگرریاستوں کوبھی اپنی سٹیٹس بناناچاہتاہے۔بھارت کایہ جارحانہ رویہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے بڑاخطرہ ہے۔


یہ وقت ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کوبھی سوچناچاہئے کہ اتنی زیادہ امریکی نوازشات کے باوجود ،بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے امریکہ کی پیشکش بھی قبول کرنے کوتیارنہیں۔ جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ سمیت تمام دوست ممالک کی پیشکش کوقبول کرتارہاہے۔بھارتی رویہ عجیب وغریب ہے۔عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی مصالحت کی پیشکش کرتی ہے توبھارت کہتا ہے یہ دوطرفہ مسئلہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر حل کرنے کاکہتاہے تو بھارت پینترا بدل کرموقف اختیارکرتا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اوروہ اس پر بات چیت نہیں کرے گا۔ لیکن کیایہ بھارتی چالاکیاں عالمی امن اورجنوبی ایشیاکے لئے تباہ کن نہیں؟عالمی برادری کوخاموشی اختیارکرنے کی بجائے اپنامؤثررول ادا کرناچاہئے۔ جوملک، چاہے وہ بھارت ہویاکوئی اور،اقوام متحدہ کی قراردادوں کوتسلیم نہیں کرتا اس پرپابندیاں عائد کردینی چاہئیں تاکہ دوسرے ممالک کوبھی نصیحت ہو۔ مسئلہ کشمیر یابھارت کے معاملے میں دوہرامعیار ،پوری دنیا کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔


دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر پربھارتی کنٹرول بھارتی فوجیوں کے جبروتشدد کی وجہ سے ہے۔جس دن بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا،مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنافیصلہ سنا دیں گے ۔کشمیریوں کے دل، دلی کے لئے نہیں اسلام آباد کے لئے دھڑکتے ہیں۔

 

سوشل میڈیااور ٹی وی چینلزپروہ فوٹیج بہت دیکھی گئیں جن میں بھارتی فوجوں کودیکھ کرخواتین اوربچے گھروں میں چھپنے کے بجائے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوں اورسڑکوں پرنکل آئے،جواب میں بھارتی فوجیوں نے ان نہتے کشمیریوں پرپیلیٹ گن کاظالمانہ استعمال کیا۔اس پیلیٹ گن کے بارے میں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ’’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنادیتی ہے ‘‘۔ان پیلٹ گنوں کے باعث درجنوں بچے اورنوجوان عمر بھر کے لئے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف مؤثرآوازنہیں اٹھائی،میرے خیال میں پیلیٹ گن اتنی ہی خطرناک ہے جتنے کیمیائی ہتھیار۔

بھارتیہ جنتاپارٹی کی فرقہ وارانہ اورقومیت پرمبنی سوچ نے بھی نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت کی دیگرمذہبی اقلیتوں کویہ سوچنے پرمجبورکردیا ہے کہ بھارت میں ان کامستقبل کیاہے؟مذہبی اقلیتیں عملاً دوسرے درجے کی شہری بن چکی ہیں۔آج بھارت میں آپ کسی مسلمان یاغیرہندوپرالزام لگادیں کہ اس نے گائے ،جسے سرکاری طورپرمقدس جانور قرار دے دیا گیاہے ، ’’بے حرمتی‘‘ کی ہے۔بس انتہاپسند ہندو اورریاست دونوں فورا حرکت میں آجائیں گے۔ اخبارات روزانہ ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں ،مسلمان نوجوانوں کوگائے کے معاملے میں کس طرح تشدد کانشانہ بنایاجاتاہے ۔بھارتی لوک سبھا کے بعض اراکین کھلے لفظوں میں کہہ رہے ہیں ’’انسانی جان کی قیمت گائے سے زیادہ نہیں ‘‘۔ بھارت بہت تیزی سے ایک نام نہاد سیکولرریاست سے ہندوریاست کاسفر طے کررہاہے۔جہاں کروڑوں انسانوں کی زندگیاں غیرمحفوظ ہوگئی ہیں۔ہمیں اس خدشے کوبھی مدنظررکھناہوگاکہ ہندووانہ پالیسیوں اورمظالم سے تنگ آ کر روہنگیا مسلمانوں کی طرح، بھارتی مسلمان اورغیرہندوبڑی تعدادمیں پاکستان اوربنگلہ دیش ہجرت کرسکتے ہیں۔حادثاتی طورپروزیراعظم کامنصب سنبھالنے والے کسی شخص سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ وہ جواقدامات کررہاہے اسے اُن کے سائیڈایفیکٹس کااندازہ بھی ہوگا۔
کچھ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے،ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے کیاکررہے ہیں،سرکاری طورپرکشمیریوں کی شہادت پراخباری ردعمل جاری کردیاجاتاہے اس کے بعد اس وقت تک ایک خاموشی ،جب تک مزید کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی خبرنہیں آجاتی۔ہمیں اپنے رویے کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے اندریہ احساس پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کشمیریوں کی امیدوں کامرکز ہیں۔کیاہمیں علم نہیں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ،مسئلہ کشمیر عالمی سطح پراجاگرکرنے کے لئے کیا اقدامات کررہے ہیں۔ سوائے خاموش رہنے کے۔ مجھے یاد ہے جب اُس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے بزرگ سیاست دان اوربابائے اپوزیشن نواب زادہ نصراللہ خان کوکشمیر کمیٹی کاچیئرمین بنایاتوانہوں مسئلہ کشمیر کواپنااوڑھنابچھونابنالیا۔کئی ممالک کے دورے کئے،ان کی ہرگفتگو،ہرخطاب اورہرانٹرویو کاآغاز مسئلہ کشمیر کواجاگرکرنے سے ہوتاتھا۔ ان کی بیٹھک کے دروازے کشمیریوں اورکشمیری رہنماؤں کے لئے کھلے رہتے تھے۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اب تک کئی فارمولے اورحل پیش کئے جاچکے ہیں،بہت سے بیک ڈورچینلز اورڈپلومیسی اختیارکی جاچکی ہے۔لیکن ان سب کوششوں کے باوجود مسئلہ کشمیر جوں کا توں اپنی جگہ موجود ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار بھارت کاہے ،جومیں نہ مانوں والی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔بہت سے حکمرانوں کادعوی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پہنچ گئے تھے لیکن پھرکوئی نہ کوئی ایساواقعہ ہوگیا کہ ساری محنت پرپانی پھرگیا۔


بھارت سرکار نے الیکشن کے انعقاد کوکامیاب بنانے کے لئے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کوجیلوں میں ڈال دیا، سیکڑوں کارکنوں کوگرفتارکرلیا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کامؤقف واضح ہے ’’نام نہاد انتخابات، حق خود ارادیت کامتبادل کسی صورت نہیں ہوسکتے‘‘۔ ایک طرف بھارتی مراعات اورپیشکشیں ہیں اوردوسری طرف مشکلات ،اذیتیں اورصعوبتیں ہیں۔ کشمیر ی، بھارتی غلامی سے آزادی کے لئے جان ومال کی قربانی دینے کاعزم کرچکے ہیں۔آج بوڑھے کشمیر ی اپنے جوان بیٹوں کی نعشیں اٹھارہے ہیں لیکن ان کے چہروں پرملال اورافسردگی نہیں ایک نئی صبح اوربھارت سے آزادی کی امید ہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

بھارت۔۔ خفیہ نیوکلیئر سٹی اوراس کے غیر محفوظ ایٹمی اثاثے

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: فاران شاہد

پاکستان کے ازلی بدخواہ بھارت کو خطے میں اپنی دھاک بٹھانے کا شوق مسلسل ستاتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایٹمی میدان میں اپنی برتری دکھانے کے شوق میں ایک نیوکلیئر سٹی کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہونے کے پول متعدد بار کھل چکے ہیں۔امریکہ کا ایک بڑا تھنک ٹینک بھی بھارت کے جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دے چکا ہے۔ اس ضمن میں ہارورڈ کینیڈی سکول کی ایک رپورٹ مجریہ مارچ 2016ء میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی جوہری پروگرام کو بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ 2014ء میں بھارت کے اٹامک پاور اسٹیشن کے ہیڈٖ کانسٹیبل نے اپنی سروس رائفل سے تین افراد کو قتل کر دیا تھا۔ لیکن یہ ایک واقعہ نہیں، 1991ء سے 2003ء تک تو بھارت کے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں بلنڈرز اور کولپیسز ہوتے رہے ہیں، جہاں ہائیڈروجن لیکس، آئل لیکس، اٹامک پاور اسٹیشنز کا کولنگ سسٹم بند ہو جانا، فائر الارم بجنا، پائپ لیک ہونا، ری ایکٹرز اور ایٹمی پاور اسٹیشنز میں کئی کئی ٹن پانی بھر جانے جیسے واقعات کئی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے سائنس دان اور اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان محتاط سائنس دانوں کا دبے الفاظ میں کہنا ہے کہ بھارت میں ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی بھارتی ایٹمی اثاثوں کے عدم تحفظ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بھارت چونکہ ایک سیکولر ملک ہے اس لئے یہاں سیکولر اور جمہوریت پسند سیاستدانوں کے خیالات بھی دفاعی ماہرین سے ملتے جلتے ہیں۔ دریں اثناء متذکرہ بالا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور روس کے ایٹمی اثاثے بھارت سے زیادہ محفوظ ہیں جبکہ بھارتی انتظامات نہایت کمزور ہیں۔


دی ٹائمز آف انڈیا نے بھارت کی پالیسیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے خبر دی تھی کہ بھارت کی عسکری و سیاسی قیادت ہنگامی بنیادوں پر بڑی تعداد میں اسلحے کی خریداری کر رہی ہے۔ روس، فرانس اور اسرائیل سے تیار حالت میں جنگی ہتھیار خرید لئے گئے ہیں جو مارچ تک بھارت کو مل جائیں گے۔ علاوہ ازیں خریداری کے لئے دو اعلیٰ سطح کی بااختیار کمیٹیوں نے سامان حرب کی پڑتال کر کے اسی وقت فیصلہ کر لیا۔ اسرائیل سے فضا سے زمین میں مار کرنے والا
SAM
بارک 8 میزائل، روس سے S-400 اینٹی بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم، سخوئی 30ایم کے آئی، میخایان مگ29سی، ٹرانسپورٹ طیارے200کاموف، 2267ہیلی کاپٹرز، فضا میں تیل بھرنے والے طیارے اور دیگر حربی ساز و سامان کے معاہدے کئے ہیں۔ علاوہ ازیں T-90,T-72 ٹینک، کونکورس اور اینٹی میزائل اور سمیرج راکٹ اور بارود سے بھرے بم بھی خریدے ہیں۔ روس جو اس وقت معاشی طور پر کافی کمزور ہے اس خریداری سے اس میں خوش حالی کی لہر دوڑ گئی ہے۔


گزشتہ برس بھارتی مسلح افواج کے سربراہان نے مودی سرکار کو باور کروایا تھا کہ بھارت جنگ میں صرف سولہ دن تک ہی اپنا اسلحہ استعمال کر سکتا ہے، مزید گنجائش و صلاحیت نہیں۔ غالباً اسی لئے یہ استعداد بڑھا کر چالیس دن تک کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس نے یہ صلاحیت 1991ء میں ہی حاصل کر لی تھی۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت خفیہ جنگی تیاریاں اس لئے کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے پاس موجود ہتھیاروں سے خوفزدہ ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی یہاں سے بھی ملتی ہے کہ بھارتی افسر نے جرمنی کی ہوفنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے بھارت کے پاس زیادہ سے زیادہ اسلحہ ہونا چاہئے۔ بھارتی مصنفین غزالہ وہاب اور پراوین سباوہتی نے کتاب
Dragon at the Door
میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’’پاکستان نے اپنے آپ کو فوجی طاقت بنا لیا ہے جبکہ بھارت نے خود کو محض ملٹری فوج بنایا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک فوجی طاقت کا مطلب ہے کہ کوئی فوج فوجی طاقت کو مؤثر انداز میں ان اہداف اور ان جگہوں پر ایسے استعمال کرے کہ دشمن کے دانت کھٹے ہو جائیں۔ ملٹری فوج کے معنی یہ ہیں کہ صرف ہتھیاروں کو جمع کیا جائے۔ انہی کے بقول پاکستان فوجی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جب کہ بھارت جیو اسٹریٹیجک کھلاڑی بھی نہیں بن سکا۔ یعنی بھارت اپنی فوج کو اپنی سرحدوں سے آگے لے جانے کی صلاحیت سے عاجز ہے۔ بھارتی جنگی پالیسیوں پر پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ کیا اس نے ازبس اپنے آپ کو چین اور پاکستان تک ہی محدود کر رکھا ہے؟

 

bharatkikufiya.jpgدسمبر2015ء میں ’’فارن پالیسی‘‘ نامی جریدے نے یہی انکشافات کئے تھے جو ’’دی ٹائمز آف انڈیا‘‘نے فروری 2017ء میں کئے ہیں۔ متذکرہ رپورٹ میں یہ پول کھلا تھا کہ بھارت اپنی جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے جلاکیرے میں ایک "نیوکلیئر سٹی"کی تعمیر میں مصروف ہے۔ یہ برصغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جوہری شہر ہو گا۔ اس جوہری شہر میں ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے یورینیم کی افزودگی کی جائے گی، جس کا واضح مطلب جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے۔ نیوکلیئر سٹی میں ہی ایٹمی ریسرچ لیبارٹریاں اور ایٹمی ہتھیار بنائے جائیں گے۔ نیز اس سے بڑے پیمانے پر ائیر کرافٹنگ کی سہولیات بھی میسر آ سکیں گی۔ اور یہ شہر 2017ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کا جنگی جنون صرف پہلی مرتبہ ابھرکر سامنے نہیں آرہا بلکہ گزشتہ کئی عشروں سے خوف ناک ہتھیار بنانے اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی تگ و تاز کر رہاہے۔ برس ہا برس دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے اور حال ہی میں بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ کو پھر بڑھایا ہے۔ جس کا اولین مقصد جدید ہتھیاروں کے انبار لگانا ہے۔ آخر کار بھارت اتنے خوفناک ہتھیار کیوں جمع کر رہا ہے؟ درحقیقت ہمارا روایتی حریف ایشیا کی سب سے بڑی جنگی طاقت بننے کے خبط میں مبتلا ہے وہ اپنی اس بالاداستی کی راہ میں چین اور پاکستان کو بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور اس رکاوٹ کو جلد از جلد عبور کرنا چاہتا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ایک بڑے جوہری شہر کی تعمیرکے بارے میں رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد کسی بڑی طاقت نے تشویش کا اظہار کیا نہ ہی کوئی واویلا مچایاہے۔ دوسری جانب پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا کے بارے میں ان طاقتوں کا رویہ منافقانہ ہے۔ دوہری پالیسی کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ خود امریکہ پاکستان پر متعدد بار دباؤ ڈال چکا ہے کہ وہ (پاکستان) اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرے۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اسلامی ایٹم بم کا نام دے کر پوری دنیا میں پروپیگنڈا کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر عالمی طاقتیں بھی اس کے خلاف متحرک ہو گئیں۔ نتیجتاً ایران پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ المختصر اسلامی ممالک کو اس ایٹم بم سے دور کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ جبکہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ سمیت دیگر اسلام دشمن طاقتیں اسی ایٹم بم سے کھلونے کی طرح کھیل رہی ہیں۔ اس ضمن میں عراق پر بھی الزامات لگائے گئے کہ اس کے پاس مہلک ہتھیار ہیں اور اسی بات کو لے کر اس کا چیستان بنایا گیا۔ بعد میں امریکہ نے خود ہی ڈھٹائی سے تسلیم کر لیا کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیار ہونے کی اطلاع مصدقہ نہیں تھی۔ گویا ایک غیرمصدقہ اطلاع کو بنیاد بنا کر ایک ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا اور اس کے سربراہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ادھر لیبیا نے ایٹمی قوت بننے کی کوشش کی تو اسے نشان عبرت بنا کر ہی دم لیا گیا۔ ان تمام حقائق و شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تر صورت حالات کے مضمرات میں جھانکنے سے حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ چنانچہ بھارت کا جنگی جنون بالخصوص جوہری ہتھیاروں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاریوں سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کے خدشات بدرجہ اتم موجود ہیں اور پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے۔وہ پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کے لئے ہاتھ پاؤں بھی مار رہا ہے۔ تاہم اب تک بھارت پر عالمی طاقتوں کا کوئی دباؤ محسوس نہیں ہو رہا۔ مزید برآں اگر اس خاموشی کے پس منظر میں پاک بھارت تنازعات کا عمل دخل ہے تو پاکستان اس میدان میں بھی لڑنے کے لئے ہردم تیار ہے۔ پاکستان نے تو متعدد بار مذاکرات کی پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ تراشا اور راہ فرار لی۔ بھارت کی جانب سے ایل او سی کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ اس کی بلا اشتعال فائرنگ کی زد میں آنے والے شہداء کی تعداد چار سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس بات کا خیال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ بھارت کے ساتھ خفیہ طور پر ایشیا کی بڑی ایٹمی قوت بننے میں معاونت کر کے خوف ناک کھیل کھیل رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف خطے کا توازن بگڑے گا بلکہ (لازمی طور پر) خطرے سے دوچار ہو گا۔ اقوام متحدہ اور امریکہ نے اگر بھارت کے اس خفیہ ایٹمی پروگرام کی طرف توجہ نہ دی تو اس کا خمیازہ انہیں بھی بھگتنا پڑے گا۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ بطور کالم نویس منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
May

فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام توقعات و تحفظات

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: محمدمنیر

کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات جنہیں فاٹا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جو 7 قبائلی ایجنسیوں ‘خیبر‘ مہمند‘ کرم‘ شمالی و جنوبی وزیرستان ‘او رکزئی اور باجوڑ پر مشتمل ہے۔ یہ قبائلی علاقہ جات بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی وادیوں پر مشتمل ہیں جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں بہت سے درے واقع ہیں جن میں مالاکنڈ‘ خیبر‘ گندھاب ‘ کرم‘ گومل اور ٹوچی زیادہ مشہور ہیں۔ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدو رفت کا ذریعہ ہیں اور تاریخی اعتبار سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔


قبائلی علاقہ جات میں پانچ مشہور دریا‘ سوات‘ کابل‘ کرم ‘ ٹوچی اور گومل بہتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والے پشتون ہیں۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے لوگ بہت بہادر اور غیور ہیں۔ برطانوی حکومت‘ جو کہ برصغیر میں1849 تا1947 مسلط رہی‘ نے فاٹا کے قبائل پر مختلف طریقوں سے قابو پانے کی کوشش کی۔تاہم جنوب مغربی سرحدوں میں واقع قبائل نے برطانوی حکومت کے لئے بہت سے مسائل پیدا کئے۔


برطانوی حکومت کو بنیادی طور پر دو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو یہ کہ مقامی طور پر قبائل کو برطانیہ کے زیرِ اثر علاقوں پر قبضہ کرنے سے کیسے روکا جائے اور دوسرا یہ کہ بیرونی سطح پر روس کی مداخلت کا کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ مختلف اوقات میں برطانوی حکومت نے قبائل کے خلاف جنگیں بھی کیں لیکن وہ ان پر اپنا تسلط قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے قبائل کے ساتھ کبھی سختی اور کبھی ترقی کی پالیسی اختیار کی۔ تا ہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تاجدارِ برطانیہ قبائلی علاقوں میں تعلیمی اور صنعتی ترقی کے لئے کوئی کام نہ کرسکی۔ لیکن 1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا تو ان علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے کچھ اقدامات ضروراٹھائے گئے۔


قائدِاعظم کے ایک قریبی ساتھی میاں جعفر شاہ ‘جو شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں وزیرِ تعلیم بھی رہ چکے ہیں‘ کے مطابق خان عبدالغفار خان نے جون 1947 میں قائدِاعظم سے ملاقات کے دوران قیامِ پاکستان کی حمایت کے لئے تین اہم شرائط رکھیں جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں ضم کردیا جائے۔ قائدِاعظم نے خان عبدالغفار خان کی اس تجویز کو فوراً تسلیم کرتے ہوئے خان سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں قبائلی عوام کو ہمنوا بنانے کے لئے عملی اقدامات کریں تاکہ متفقہ طور پر اس تجویز کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ بابائے قوم قبائلیوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس مسئلے کو جمہوری اور آئینی انداز میں غیور قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہتے تھے۔ قبائلی علاقوں سے متعلق نوزائیدہ پاکستان کی پالیسیوں کا اندازہ بابائے قوم کی ان باتوں سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپریل1948میں قبائلی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے قبائلی سرداروں کو یقین دلایا کہ پاکستان ان علاقوں کی ترقی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا اور ان علاقوں کی اقتصادی خوشحالی کے لئے ہر قسم کی مالی و فنی معاونت فراہم کرے گا‘ تاکہ قبائلی بھائیوں کی زندگیوں کو بہتربنایاجائے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستان قبائلی نظام زندگی کے اندر کسی قسم کی غیرضروری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے یہاں تعلیمی اور سماجی ترقی کے لئے کوشاں رہے گا اور مالی مدد بھی جاری و ساری رکھی جائے گی۔ قائدِاعظم کی یہ دلی خواہش تھی کہ ان علاقوں کی مروجہ حیثیت کو بدلا جائے تاکہ ان قبائل کی زندگی کو بہتر اور آسان بنایا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ قبائلی علاقوں کو صرف امداد سے چلایا جائے اور وہ ہر سال بھکاریوں کی طرح حکومتِ پاکستان سے امداد کے طلبگار رہیں‘ بلکہ اس صورت حال کو بدلنا ہوگا تاکہ غیور قبائلی عوام بھی ملکی وسائل میں حصہ دار بن سکیں۔


یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قائدِاعظم کی وفات کے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں نے قائد کی خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا اور ان علاقوں کے لئے برطانوی حکمرانوں کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو جاری رکھا جس کے تحت قبائلی عوام کو بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ان کو وکیل‘ اپیل اور دلیل جیسے بنیادی حق تک بھی رسائی نہ دی گئی۔ فاٹا میں رہنے والے قبائلیوں کو ایف سی آر جیسے قوانین کے تحت چلایاجاتا رہا اور اُنہیں پولیٹیکل ایجنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ یہاں کے نمائندوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی دی گئی لیکن بدقسمتی سے یہ نمائندگان اپنے علاقوں کے لئے قانون سازی نہ کروا سکے۔


یہ بات خوش آئند ہے کہ2014 میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فاٹا میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں8 نومبر کو وزیرِاعظم پاکستان نے پانچ رُکنی فاٹا ریفارمز کمیٹی تشکیل دی۔ جس کی سربراہی ان کے مشیر برائے اُمورِ خارجہ سرتاج عزیز کو سونپی گئی۔ کمیٹی نے تمام قبائلی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ وزیرِاعظم کو پیش کی۔ وفاقی کابینہ نے 2 مارچ2017 کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے پانچ سال کے عرصے میں بتدریج انضمام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے بہت سی توقعات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی کابینہ نے فاٹا کمیٹی کی تمام شفارشات کو من و عن تسلیم کیا ۔ ان سفارشات میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ آڈٹ کے نظام کو فاٹا تک توسیع دی جائے۔ راہداری پرمٹ ختم کئے جائیں‘ بینکنگ سسٹم اور اعلٰی عدلیہ کو فاٹاتک توسیع دی جائے‘ رواج ایکٹ نافذ کیا جائے جس کے ذریعے فاٹا کا اپنا جرگہ کا نظام نافذ رہے گا۔ بہرحال رواج ایکٹ کے تحت جو قاضی کام کریں گے وہ بنیادی طور پر سیشن جج ہوں گے جن کے کسی بھی فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ سے رجوع کیا جاسکے گا۔


یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ ہماری قیادت فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پر متفق ہے۔ علاوہ ازیں فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام بھی اس فیصلے پر خوش ہیں کہ ان کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ مزید یہ کہ قومی اور صوبائی سطح کی کم و بیش تمام جماعتیں فاٹا میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں۔ البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ چند ایک جماعتیں اصلاحات کے نفاذ کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر جے یو آئی کا موقف ہے کہ اصلاحات نافذ کرنے سے پہلے فاٹا میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے فاٹا کے لوگوں کی رائے لے لی جاتی تو بہتر ہوتا۔ جبکہ پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ پانچ سال کے بجائے جتنا بھی جلدی ممکن ہو سکے فاٹا کا انضمام عمل میں لایا جائے۔ اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کرنے میں جلدی سے کام نہ لیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے
(TDPs)
کی بحالی کا کام مکمل کیا جائے اور افغانستان جانے والے قبائلیوں کو واپس لایا جائے۔ فاٹا کی تعمیرِ نو کی جائے اور اس کی بحالی کے لئے قومی وسائل کا پانچ فیصد مختص کیا جائے۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ فاٹا کو ضم کرنے کے حوالے سے آئینی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کا نفاذ ایک مشکل مرحلہ ہوگا اس لئے اصلاحات کے نفاذ کا ایک طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے تاکہ اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور ٹیکنیکل مسائل کا حل نکالا جاسکے۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے عوام کو ان اصلاحات سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خیبر پختونخوا سے ان کے الحاق کے بعد فاٹا میں اقتصادی ترقی کا عمل تیز ہوگا اور ان علاقوں میں گورننس بہتر ہوگی اور دہشت گردی پر بہترانداز میں قابو پایا جاسکے گا۔ فاٹا کے لوگ چاہتے ہیں کہ اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ فاٹا میں بلدیاتی/ لوکل باڈی الیکشنز(انتخابات) جلد کروائے جائیں۔


موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو انتہائی شفافیت اور مقامی قبائل کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھایا جائے۔ نیز یہ کہ ان اصلاحات اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم کئے جانے سے متعلق توقعات اور تحفظات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ فاٹا میں کی جانے والی اصلاحات ملکی ترقی اور سلامتی کی ضامن ہوں اور پاکستان کی دشمن قوتیں ان معمولی اختلافات کو اپنے مذموم عزائم کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بطورِ ریسرچ فیلو کام کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter