10
January

باہمی تعاون مگر پاکستان کی قیمت پر نہیں

تحریر: ڈاکٹر ماریہ سلطان

نیوکلیئر سپلائیرز گروپ اگرچہ ایک غیر روایتی نظام ہے تاہم ٹیکنالوجی کو کنٹرول میں رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔روایتی طور پر اس سے نہ صرف حساس ٹیکنالوجی کی تجارت کو منضبط کیا جاتا رہا ہے بلکہ اسی نظام کے ذریعے تمام ہائی ٹیک مواد کی بین الاقوامی تجارت بھی ضابطہ کار میں لائی جاتی رہی ہے۔ دو الگ الگ فہرستوں میں تقسیم اس نظام کا ایک حصہ نیوکلیائی ٹیکنالوجی اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی صراحت کرتا ہے جب کہ دوسرے حصے میں بنیادی خام مال اور اہم مادوں ،جیسے بسمتھ، ایلومینیم وغیرہ، کی تجارت کا کنٹرول شامل ہے۔ مذکورہ دھاتیں اور دیگر نیوکلیائی مواد اور ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی ہائی ٹیک صنعت کی بقا کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس لئے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی اہمیت اور اندیشے ان دونوں درجوں میں آزادانہ تجارت سے جڑے ہوئے ہیں۔


تاہم گزشتہ چند سالوں سے اس ادارے کی غیر جانب داری اور موثر رہنے کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ ان شکوک کی بنیادی وجہ ہندوستان کو اس گروپ کا ممبر بنانے کے لئے کی جانے والی امریکہ کی جانب سے کوششوں کا بہت عمل دخل ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں امریکہ نے انتہائی جانبداری اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ نہ صرف نیوکلیئر کے میدان میں باہمی تعاون کے معاہدے کئے اور اس کو نیوکلیئرسپلائیر گروپ کی ممبر شب دلانے کے لئے پہلے سے طے شدہ قوانین کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی بلکہ اس باہمی تعاون کے منفی اثرات پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر بھی پڑنے شروع ہو گئے۔اب نہ صرف پاکستان کو نیوکلیئرسپلائیر گروپ کا ممبر بنانے کی، میڈیا بشمول سوشل میڈیا کے ایک مذموم مہم شروع کر دی گئی ہے بلکہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام، جس کی سکیورٹی ایک مسلمہ امر ہے، اس پر بھی حملے کئے جا رہے ہیں۔


ایک طرف تو بھارت کو نیوکلیئر سیفٹی کے ضمن میں بدترین ریکارڈ اور جوہری عدمِ پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود نیوکلیئرسپلائیر گروپ کی رکنیت دی جارہی ہے جب کہ دوسری طرف پاکستان کے صنعتی اداروں کو غیرروایتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپاہج کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا اور غیر روایتی پروپیگنڈے کا مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ صرف شرمناک بلکہ معتبر عالمی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان کا باعث بھی بنے گا۔ پاکستان کے لئے یہ قطعی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر منصفانہ طرزِ عمل ہے۔ اس سے جہاں ہماری مختصر اور طویل مدتی صنعتی ضروریات اور توانائی کے حصول کی کوششوں کو زِک پہنچے گی اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دفاع کے لئے انتہائی اہم نیوکلیئر صلاحیت کو مذموم پروپیگنڈے کے ذریعے داغ دار کرنے کی کوشش اور نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی اتفاقِ رائے کی روایت ، اس کی دوہری ٹیکنالوجی کی تجارت کو متاثر کرنے کی اہلیت اور بھارت امریکہ کا گٹھ جوڑ، پاکستان کی ترقی کی کوششوں پر بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔دونوں ملکوں کی جانب سے نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے یہ خدشات نہ صرف ترقی کے لئے ہمارے مشرق کے ساتھ اشتراک کو متاثر کریں گے بلکہ ہمارے ملک کی مستقبل میں تجارت نیز پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر بھی بُرے اثرات ڈالیں گے۔


جنیوا میں این ایس جی کے حوالے سے گفت و شنید اور بھارتی وزیرِاعظم کی این ایس جی میں شمولیت کی شاطرانہ کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب یہ انکشاف ہوا کہ نو بھارتی ادارے نیوکلیئرٹیکنالوجی کے حوالے سے خلاف ورزیوں کی وجہ سے حالیہ عرصے میں امریکہ کی درآمدی کنٹرول کی فہرست کا حصہ تھے۔ اس تمام کے باوجود موجودہ اوبامہ انتظامیہ اپنے آخری ایام میں بھارت کی نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت کے حصول میں مدد کر رہی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کے خلاف کسی معتبر شہادت کے بغیر ہی سوشل میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پرپاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اہم اقدامات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔


نیوکلیئرسپلائیر گروپ میں شمولیت ہو یا دیگر نیوکلیئر سے متعلق معاملات پاکستانی قوم کے خدشات بے بنیاد نہیں بلکہ اس کی ایک تازہ مثال اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے سات پاکستانی گروپس اور اداروں پر پابندی کا اعلان ہے۔ یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف کامرس نے ان سات
Entities
کو ایک نوٹیفکیشن کے تحت
Export Administration Regulations (EAR)
کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ تاہم یہ امر باعث تشویش اورمجرمانہ تعصب کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس پابندی کا باعث بننے والی کسی بھی وجوہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اپنے آخری مہینوں میں برتے گئے اس تعصب سے مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لئے پاکستانی اداروں کی فہرست میں شمولیت کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔


غیرمصدقہ اور مشکوک ذرائع جیسا کہ سوشل میڈیا، تجارتی ویب سائٹوں، انٹیلی جنس رپورٹوں اور وکی لیکس کی بنیاد پر تیار کردہ الفا پروجیکٹ پر شکوک کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس مشکوک رپورٹ کی بنیاد پاکستان کے پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات اور خدشات پیدا کئے جار ہے ہیں۔ ایسی رپورٹوں سے نہ صرف پاکستان کی نیوکلیئرسپلائر گروپ میں شمولیت کا کیس پیچیدہ ہوجائے گابلکہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ باہمی تعاون کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایسے ذرائع پر بھروسہ کرکے تشکیل دی گئی رپورٹ میں کالعدم اداروں کی فہرست میں شمولیت یا پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کے بارے میں تشویش پیدا کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہئے۔ پاکستانی کمپنیوں کی امریکہ کے کالعدم اداروں کی فہرست میں شمولیت ، جیسا کہ الفا رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا، پاکستان کی دفاعی ، نیوکلیائی اور عمومی صنعتوں کو بری طرح متاثر کرے گی۔


مذکورہ پروجیکٹ کا بظاہر مذموم مقصد مخصوص عناصر کے ایما پر پروپیگنڈا کو بنیاد بنا کر پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی صنعتوں کو نشانہ بنانا ہے۔ مزید برآں یہ رپورٹ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مستقبل کی امریکی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدہ تر بنانے کی کوشش بھی ہے۔
پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند ہے اور پاکستان نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کے معیارِ اہلیت پر پورا اترتا ہے۔ بے بنیاد،کمزور اور مشکوک معلومات کو بنیاد بنا کر امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے شکار اداروں کی فہرست میں توسیع پاکستان کی تجارت اور ترقی پر منفی اثرات ڈالے گی۔ اس طریقے سے بغیر کسی اصول اور معیار کے بین الاقوامی برآمدی کنٹرولز کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا باعثِ تشویش ہے۔ اسی طرح اگر بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کا قانوناً پابند نہیں کیا جاتا تو اس سے سب سے زیادہ نقصان نان این پی ٹی ممالک کو ہی ہو گا۔


پروجیکٹ الفا کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو این ایس جی کی ممبرشپ نہ دی جائے اور یہ بے بنیاد تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پروجیکٹ الفا نہ صرف ٹھوس مواد سے محروم ہے بلکہ اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور بظاہر اس پروجیکٹ کے ذریعے امریکہ۔ بھارت دفاعی صنعتوں کے مابین تعاون میں اضافے کے لئے راہ ہموار کرنا اور بھارت کو نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی کوشش ہے۔غیر روایتی نیٹ ورکس اور میڈیا میں چلائی جار ہی اس مسلسل مہم کا مقصد پاکستان کے دفاع،نیوکلیئر اور ہائی ٹیک صنعت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے جو کہ اصل حقائق سے قطعی مختلف ہے۔


بدقسمتی سے بھارت اور امریکہ کا باہمی تعاون بھارت کے لئے این ایس جی کی رکنیت کی درخواست تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کاپس پردہ محرک دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تجارت اور ٹیکنالوجی میں تعاون بھی ہے۔ اس تعاون کی چار جہتیں ہیں یعنی یو اے ویز
(Unmanned Aerial Vehicles)
کی بھارت میں پیداوار،بحرِ ہند میں بھارتی بالادستی کے لئے اقدامات،ایف سولہ کی فراہمی کا دفاعی معاہدہ اور جیٹ پروپلژن سسٹم جس سے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ کے لئے دفاعی معاہدہ تشکیل پا جائے گا۔


اسی طرح بھارت اور اسرائیل کا بری ،فضائی اور بحری فوجی تعاون بشمول انٹیلی جنس کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ موساد اور را کے مابین تعاون صرف انٹیلی جنس کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل بھارتی فوجیوں کو سرجیکل سٹرائیکس کا اہل بنانے کے لئے تربیت بھی دے رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے دفاعی اور سکیورٹی مفادات مشترکہ ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ملک وسیع پیمانے پر تعاون کررہے ہیں۔ جن میں بھارتی فضائیہ کے لئے جدید لڑاکا سسٹمز کی فراہمی،طویل فاصلے تک نشاندہی کرنے والے ٹریکنگ راڈار، زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل،بحریہ کو جدید جنگی کشتیوں کی فراہمی اور بہتری میں تعاون، اینٹی سب میرین ہیلی کاپٹروں کے لئے تعاون،جاسوس سٹیلائٹ اور اینٹی بالسٹک میزائل ٹیکنالوجی میں تعاون شامل ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور ہائی ٹیک صنعتوں میں تعاون تقریباً نو ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دونوں ملک کشمیر میں مشترکہ طور پرپُر امن جدوجہدِ آزادی کو دبانے کے لئے کوشاں ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کو نیوکلیئر دھمکیاں انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پروپیگنڈا مہم اور سوشل میڈیا کواستعمال کرنے میں ماہر اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو چاہئے تھا کہ اسلام آباد کی طرف سے ردِ عمل آنے سے قبل ہی پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیتی۔ تاہم جس
Website
نے اسرائیلی دھمکی والی خبر دی تھی اس کی تردید کرنے میں اسرائیل نے 96گھنٹے کی تاخیر کی۔ یہ تاخیر معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے بلاوجہ نہیں تھی بلکہ حالیہ دھمکی سوشل میڈیا کو بطورِ ذریعہ استعمال کرنے اور اسے علمی مباحثے کا حصہ بنا کر حقیقی صورتِ حال کا تاثر دینے کی بہترین مثال ہے۔


پاکستان کے دفاع، ہائی ٹیک صنعتوں اور نیوکلیئرپروگرام کے خلاف ایسے غیرمحفوظ ذرائع سے قائم کیا گیا تاثر قطعی ناقابلِ قبول ہے۔ سیاسی بنیادوں پر پابندیوں کو وسعت دینا اور بھارت امریکہ اور بھارت اسرائیل دفاعی تعاون پاکستان کے لئے مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ کا یہ تعاون اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کسی بھی ملک کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بنانے کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ مزید برآں امریکہ کی جانب سے بھارت کو ہائی ٹیک تجارت اور حساس ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون فراہم کیا جارہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کو نان ٹیرف اور ٹیرف رکاوٹوں کے ذریعے ننانوے اعشاریہ آٹھ فیصد رسائی سے محروم کیا جا رہاہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کے اصرار پر ان نو بھارتی اداروں کو پابندی کے شکار اداروں کی فہرست سے نکال دیا ہے جونیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ جس سے بھارت پر عائد تجارتی پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں۔ یہ تمام ادارے بھارت کے میزائل اور خلائی پروگرام پر دن رات عمل پیرا ہیں۔
بھارت کی این ایس جی میں شمولیت کے لئے امریکہ اس لئے بھی بھرپور کوششیں کر رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کی صنعت مشترک ہوگی جس سے بھارت کے بغیر ایس سی او ممالک کے مابین دفاعی تعاون کم موثر ہوجائے گا۔لگتا یہی ہے کہ ایشیاکی سطح پر بھارت کے ساتھ امریکہ اور دیگر چائنا مخالف ممالک کا ایک علاقائی بلاک بننے جا رہاہے۔ موجودہ امریکہ انتظامیہ کا بھارت کی طرف بے پناہ جھکاؤ امریکہ کے اپنے مفادات کو بھی ساؤتھ ایشیا میں زک پہنچائے گا کیونکہ اس خطے میں امریکہ تیزی سے صرف ایک ملک کے ساتھ تعاون کی جانب بڑھ رہا ہے۔


ماضی میں بھارت کو این ایس جی میں دی گئی رعایت عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے لئے اچھی ثابت ہوئی، نہ ہی اس سے جنوبی ایشیا میں استحکام آسکا۔ ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤکو یقینی بنانے کے لئے علاقائی استحکام اہم ترین عنصر ہے۔ نان این پی ٹی ممالک کو رکنیت دینے کے حوالے سے اس کلب کے تمام (اڑتالیس) ممالک کو غیر امتیازی طریقہ کار اپنانا چاہئے۔ نہ کہ صرف ایک ملک کو استثنا دینے کی کوشش۔ پاکستان دیگر نان این پی ٹی ممالک کے ساتھ بیک وقت این ایس جی میں شمولیت کا خواہش مند ہے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ رکنیت کے لئے نان این پی ٹی ممالک کی جانب سے دی گئی دونوں درخواستوں کا منصفانہ اور بیک وقت جائزہ لیا جائے۔ ایسا منصفانہ اور بے تعصبانہ طریقہ اختیار کرنے سے نیوکلیائی پھیلاؤ کو روکنے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔ پاکستان تقریباً ایک عشرے سے این ایس جی کے ساتھ کام کر رہاہے اور اب باقاعدہ طور پر گروپ میں شمولیت کے لئے تیار ہے۔


اس تمام صورت حال میں جس کو نیوکلیئر سکیورٹی اور تجارت کے نام پر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ایک اور پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ وہ پہلو پاکستان کی صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبے کو صرف تجارتی راہداری کے معنوں میں نہیں لیا جانا چاہئے بلکہ پاکستان، آنے والی دہائیوں میں، اس کو ایک مکمل معاشی و صنعتی منصوبہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان میں صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کا حصول بہت اہم ہو گا اور کسی طرح کی قدغن ہمارے بہتر مستقبل میں ایک رکاوٹ تصور کی جائے گی۔

مضمون نگار ساؤتھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ اور

SASSI

یونیورسٹی کی ڈائریکٹر جنرل اور چیئرپرسن ہیں۔ مصنفہ جنوبی ایشیا کے نیو کلیئر آرمز کنٹرول اور ڈس آرمامنٹ معاملات اور دفاع کی ماہر تجزیہ نگارہیں۔ ان کے تحقیقی مضامین مختلف جرنلز‘ اخبارات اور کتابوں میں شائع ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وجیکٹ الفا کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو این ایس جی کی ممبرشپ نہ دی جائے اور یہ بے بنیاد تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پروجیکٹ الفا نہ صرف ٹھوس مواد سے محروم ہے بلکہ اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور بظاہر اس پروجیکٹ کے ذریعے امریکہ ۔بھارت دفاعی صنعتوں کے مابین تعاون میں اضافے کے لئے راہ ہموار کرنا اور بھارت کو نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی کوشش ہے۔غیر روایتی نیٹ ورکس اور میڈیا میں چلائی جار ہی اس مسلسل مہم کا مقصد پاکستان کے دفاع،نیوکلیئر اور ہائی ٹیک صنعت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے جو کہ اصل حقائق سے قطعی مختلف ہے۔

*****

 
08
May

India’s Middle East Policy

Published in Hilal English

Written By: Dr. Zafar Nawaz Jaspal

India, presently, is undertaking its Middle East policy very seriously due to its energy needs, internal security challenges, regional/global political and economic objectives. Prime Minister Narendra Modi has revamped India’s Middle Eastern approach to boost economic and military engagement with the regional leading actors and also compete with China and Pakistan for influence in the West Asia. Though the regional strategic environment is complex and volatile, yet New Delhi is shrewdly encountering the regional internal divisions and rivalries, engaging Iran, Saudi Arab and Gulf Cooperation Council, remarkably. Besides improving its bilateral relations with the leading Middle Eastern Muslim countries; India is intelligently maintaining its robust commercial and defence relations with Israel.

 

indiamiddleeast.jpgThe critical examination of India’s Middle East policy underscores that New Delhi has successfully cultivated better diplomatic relations with all the major actors of the Middle East, especially with Israel, Iran and the members of the Gulf Cooperation Council (GCC) since the end of Cold War. In this context, the Indian diaspora (seven million expatriates) is playing a critical role. The Indian diaspora remits $33 to 35 billion back to India every year. It is also facilitating New Delhi in cultivating better relations with the Middle Eastern ruling elite and business community. Indeed, these countries are competing among themselves for their hegemony in the region, but India is intelligently maintaining close relations with all the relevant regional actors for the sake of its “Look Middle East” Policy.


India always considers Middle Eastern states important for its energy needs and for the pursuit of its political, economic, and military objectives in the regional and global politics. Nevertheless, today New Delhi’s main focus is on the Persian/Arabian Gulf states, with only minimal interest in the Maghreb and the Levant. Historically, New Delhi was very close to Cairo. The former used its amity with the latter for boosting its role within the Non-Aligned Movement. The end of Cold War and demise of former Soviet Union immensely altered the global politics. The transformation in the global setting makes India attractive for the United States and its likeminded nations. India intelligently seizes the moment for maximizing its stature in the community of nations and improving its relations with the Indian Ocean rim states. Consequently, during the last two decades, an impressive shift has taken place in India’s bilateral relations with the leading regional Middle Eastern States. Precisely, New Delhi has not only improved its image in the Middle East, but it also structured it relations with each Middle Eastern state in a bilateral and separate fashion.


New Delhi has established very close diplomatic relations and defense cooperation with Israel despite the continuity of Palestinians problem. Rhetorically, New Delhi remains an ardent supporter of Palestinian statehood. Realistically, however, India has been distancing from Palestinian cause. For instance, “India abstained both in July 2015 and in March 2016 from supporting a Palestine-sponsored resolution at the UN Human Rights Council in Geneva to launch a probe by the International Criminal Court against Israel for war crimes during the 2014 Gaza crisis”.


Ironically, the Middle Eastern states including Saudi Arab and Iran did not object the warming bilateral relations between Israel and India. New Delhi and Tel Aviv maintained informal relations for many decades. Nevertheless, both announced formal diplomatic relations in 1992. Prior to the 1990s, New Delhi was keeping clandestine contacts with Tel Aviv for refining its missile program and hatching conspiracies to sabotage Pakistan’s nuclear program. The review of literature proves that the weaknesses in India’s indigenous missile program obliges it to approach Israel with the connivance of the United States to overcome the technological obstacles. For instance, the leading Indian missile scientist, Dr. Abdul Kalam (latter became President of India) visited Israel in June 1996 and in the early months of 1997. He visited Israel to receive its assistance in the development of the Indian missile program, especially Agni project. He had shown interest in Israel’s developments in the surface-to-surface missile and theater missile defence systems (Arrow) technology and components.


The Indo-Israel Defence Partnership has constructive contribution in India’s armed forces modernization. Since 2006, Indian Defence Research and Development Organization and Israel’s Aerospace Industries have been working closely. The latter transferred sophisticated technology and equipments to India. On February 22, 2017, India’s Cabinet Committee of Security, a government body headed by Indian Prime Minister Narendra Modi and responsible for military procurements, approved 17,000-crore ($ 2.5 billion) a medium range surface-to-air missile (MR-SAM) system for the Indian Army. The missile has a range of 50-70 km. The missile is designed to defend against any type of airborne threat including aircraft, helicopters, anti-ship missiles, and UAVs as well as cruise missiles and combat jets within the range of 50-70 km.


India, recently, finalized $2.5 billion dollars deal for MR-SAM with Israel. Five regiments of the Indian Army would be beneficiary of this new Indo-Israel missile contract. The deal is for 200 missiles for five regiments, each getting 40 units. It was reported that: “The system will be based on the older Barak system of Israel, which is in use in India. It is being changed as per requirements.” In March 2017, New Delhi initiated negotiations with Tel Aviv for purchasing two more long-range Phalcon Airborne Warning And Control System (AWACS). In addition, New Delhi would also purchase high-tech military equipments from Israel. These developments manifest that Indo-Israel defence cooperation is supplementing Indian military buildup and modernization.

 

New Delhi has established very close diplomatic relations and defense cooperation with Israel despite the continuity of Palestinian problem. Rhetorically, New Delhi remains an ardent supporter of Palestinian statehood. Realistically, however, India has been distancing from Palestinian cause. For instance, “India abstained both in July 2015 and in March 2016 from supporting a Palestine-sponsored resolution at the UN Human Rights Council in Geneva to launch a probe by the International Criminal Court against Israel for war crimes during the 2014 Gaza crisis”.

Since early 1990s, India has fostered strong strategic partnership with Iran. The strategic partnership was further cemented in the beginning of twenty-first century. Though Bush Administration declared Iran as a member of ‘axis of evil’, yet India augmented its defence cooperation with Iran. India and Iran formally entered into a bilateral defence pact in November 2003. Indian Defense Research and Development Organization (DRDO) assisted practically Iranian nuclear establishment. On September 23, 2004, the Bush Administration under the authority of the Iran and Syria Nonproliferation Act sanctioned two Indian scientists for their activities in Iran. Dr. R. C. Surendar and Dr. Y. S. R. Prasad, both former directors of the Nuclear Power Corporation India. (The Washington Times, Thursday, October 21, 2004). On December 21, 2005, the administration sanctioned Sabero Organic Chemicals Gujarat Ltd., etc. again under the Iran and Syria Nonproliferation Act, for transfers of certain chemicals to Iran.


The Indo-Iran defence agreement was revitalized in 2009. It’s an open secret; Iran has been facilitating India in the materialization of its sea, road and railway connection with Central Asian States through Afghanistan. For instance, in 2014 India invested more than 85 million US dollars at Chabahar Port. India managed to engage Afghanistan through Iran. India and Iran’s strategic convergence on Afghanistan received a boost with the establishment of the Trilateral Transport and Transit Corridor on 23 May 2016. The trilateral transport and transit corridor, certainly, reduce Afghanistan’s dependence on Pakistan. Simultaneously, it increases India’s access to Afghanistan. Ironically, Iran severely condemns Israel, but it has been nurturing better relations with New Delhi. Similarly, India has been maintaining close relations with Iran despite the United States serious reservations on the Iranian political system and its nuclear program.


India has gradually been improving its bilateral relations with Saudi Arabia, the United Arab Emirates (UAE), and the other Gulf Cooperation Council (GCC). In February 2014, the then Crown Prince of Saudi Arabia, Abdulaziz Al Saud visited New Delhi. Prime Minister Narendra Modi’s first two Middle East visits were to Abu Dhabi in August 2015 and Riyadh in April 2016. His visits to Saudi Arabia and the United Arab Emirates resulted in stronger diplomatic, economic and defence engagements. According to the India–Saudi Arabia Joint Statement issued on April 3, 2016, both states cooperate to “dismantle terrorism infrastructures where they happen to exist and to cut off any kind of support and financing to the terrorists operating and perpetrating terrorism from their territories against other states.” Though, details of New Delhi’s strategic understanding with Riyadh remain largely unknown, yet in the realm of counterterrorism Riyadh has been cooperating with New Delhi. For instance, Saudis deported Indian terrorist Sayed Zabiuddin Ansari, also known as Abu Jundal in 2012.


The United Arab Emirates is also strengthening its ties with India. The Indian diaspora was permitted to build a temple in Dubai, during the visit of Premier Modi in 2015. Moreover, immediately after Modi’s visit, the UAE seized the Dawood Ibrahim’s possessions, and deported Afsha Jabeen to India. Sheikh Moahmmed Bin Zayed Al Nahyan, Abu Dhabi Crown Prince and Deputy Supreme Commander of the UAE Armed Forces, was invited by Premier Modi as the Chief Guest at the 2017 Republic Day celebrations in New Delhi. Presence of the Crown Prince at the parade ground substantiates both states deepening bilateral relations. Importantly, India and Qatar bilateral relations impressively improved during the last decade. In 2008, New Delhi committed “to protect Qatar’s assets and interests from external threats”. Similarly, Bahrain and India signed memorandum of understanding for defence cooperation.


The preceding discussion reveals that the ruling elite of the Middle Eastern states seems more interested in economic and military cooperation with India. They are deliberately ignoring the growing dominance of Hindutva forces in the Indian politics under the leadership of Premier Modi. Importantly, the Hindutva ideology portrays Islamic religion and civilization as intolerant, hostile to Hindu values, proselytizing, expansionist, repressive, and violent and therefore condemns it strongly. The right wing Hindu nationalists have not given up their dream of regaining the lost territories (the sacred lands of Hinduism and Buddhism lost to Islam during the second millennium, as the Vishwa Hindu Parishad or World Hindu Council, puts it) and restoring the Hindu supremacy over the entire Akhand Bharat (undivided India). Moreover, today, the Indian Muslims' condition is miserable. On April 25, 2017, the Indian state of Uttar Pradesh’s (UP) Bharatiya Janta Party (BJP) led government announced an end to holidays for Eid Milad-un-Nabi, Jumma-tul-Wida. Precisely, the Bharatiya Janata Party has been using the Hindutva slogan to exploit the anti-Muslim feelings for mustering the support of the Hindu vote for winning the elections.


To conclude, the positive trajectory in the Indian economic growth, military advancement and New Delhi’s multidimensional relations with the United States have enhanced India’s significance in the Middle Eastern nations' foreign policy. Rich Middle Eastern nations ruling elite view India a possible venue for their investment. While, India is endeavoring to use its current advantageous position in the region to dilute Pakistan’s influence in the Middle East. Therefore, it’s imperative that Islamabad ought to revamp its policy to enhance its economic and diplomatic connectivity with the Middle Eastern states.

 

The writer is Associate Professor at School of Politics and International Relations, Quaid-i-Azam University, Islamabad.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
May

Moscow Conference for Non-Military Solution to Afghan Conflict

Published in Hilal English

Written By: Hasan Khan

Instead of taking a solo approach, Russia initiated the process of ‘Moscow consultations’ taking all the regional countries along to come up with regional strategy for Afghanistan.

 

The two-day Moscow Conference on Afghanistan held on April 14 and 15, in the Russian capital, asserted to coordinate regional efforts and facilitate the process of ‘national reconciliation’ to stabilize Afghanistan.


A statement issued by the Russian Foreign Ministry stating the representatives of all participating parties including Russia, China, Afghanistan, India, Pakistan, Iran, Kazakhstan, Kyrgyzstan, Tajikistan, Turkmenistan and Uzbekistan called on the parties to shun violence and seek negotiated settlement for the conflict.


“A call has been sent to the Taliban movement to abandon its line for a military solution of the Afghan conflict in favor of direct talks with the government of the Islamic Republic of Afghanistan on the issue of national reconciliation,” the statement said.


Reports also suggested that Russia and China – the two regional powers – separately committed to convince Taliban militia to ‘focus less on fighting against Kabul’ and ‘more on the more imminent threat’, the growing influence of international terror syndicate, the Islamic State in Khorasan Province (ISKP) – a regional offshoot of ‘Islamic State’. Russia has also offered to host the intra-Afghan talks for peace between the Afghan government and the Taliban.


To be more realistic, it is this growing threat of Daesh, also called ISIS, in the eastern parts of Afghanistan with potentials of destabilizing the entire region that has forced Russia to get engaged in the Afghan conflict 37 years after Soviet invasion in December 1979. However, instead of taking a solo approach, Russia initiated the process of ‘Moscow consultations’ taking all the regional countries along to come up with regional strategy for Afghanistan.


Besides Russia, the growing influence of ISKP is also a matter of concern for China, Pakistan and Iran. Pakistan is sharing 2611 km border with Afghanistan and IS militants operating in the border regions were also behind various deadly terrorists’ attacks in Pakistan. Iran also fears Daesh due to its anti-Shia agenda.


Moscow process of consultation has grown over the time from a trilateral consultation initially involving Russia, China, and Pakistan in to dialogue involving all the neighboring states of Afghanistan and the regional powers.


Russia also invited the U.S. to participate in this third round of regional consultations for initiating political negotiations on Afghan issue, however, it refused [to participate] and instead branded the process as “unilateral Russian attempt to assert influence in the region.”


While initiating the process, its founding members China, Russia and Pakistan were in agreement over the fact that the continued fighting between Afghan forces and Taliban would ultimately strengthen the ISKP and increase its influence in the entire region.


Furthermore, there was an increasing concern among regional stakeholders that after facing defeat in Syria and rest of the Middle East, IS militants are fleeing and searching new abodes – and a destabilized Afghanistan was a prime attraction.


It is already evident that Russia has played a crucial role in defeating ISIS in Syria through counter-terrorism operations and infiltrating ethnic Chechens in the militant ranks, in the face of resistance from the U.S. and allies. Russia also successfully weakened the U.S.-installed regime in Libya and strengthened the opposition there.


Due to these U.S.-Russian proxies in the Middle Eastern countries, experts are of the opinion that the U.S. itself is involved in now shifting Daesh militants to Afghanistan in order to destabilize Russia by infiltrating IS militants into Central Asian States and also keep sorts of checks on growing economic and political influence of China.

 

The U.S. and Russia have a major difference of opinion in resolution of Afghan conflict. The U.S. want to continue its military engagements – though led by the Afghan national security forces – till the total annihilation of armed militia of Taliban. However, Russia, Pakistan and China think otherwise. Their approach towards resolution of Afghan conflict is manifested in this statement where the conference called on “ensuring a national reconciliation using political methods in accordance with the United Nations Security Council resolutions” to resolve this decades old conflict.

ISKP is currently carrying its activities in limited eastern areas of Afghanistan close to Pakistan border. However, once strengthened, it will definitely extend its activities from its current abodes in east to north of Afghanistan. And from there it can easily infiltrate into the bordering Central Asian Republics – known to be the soft belly of Moscow – thus undermining Moscow’s national security interests.


The aggressive posturing adopted by the U.S. and Russia over the perceived threat of IS militants in the region are clear signals that both the super powers are once again flexing muscles for new proxies on the traditional Afghan turf.


Despite the Russian clarification that its involvement in Afghan affairs is exclusively for its own national security interests and for checking growing influence of IS, Washington is deeply annoyed over the development alleging that by establishing links with Taliban insurgents, Russia is jeopardizing her years-long campaign in Afghanistan.


Commenting on the growing Moscow-Taliban links, U.S. Defense Secretary James Mattis told media recently, “I am not willing to say at this point if that has manifested into weapon and that sort of thing, but certainly what they (Russians) are up to there in light of their other activities gives us concern.”


On supplying arms and weapons to Taliban, CENTCOM Commander Gen Joseph L. Votel minced no words when speaking to members of Senate Armed Services Committee, he said, “(Russia) may be providing some kind of support to them (Taliban) in terms of weapons or other things… I believe what Russia is attempting to do is, it is trying to be an influential party.”


However, looking into the format of Moscow process, it appears all these countries are members of Shanghai Cooperation Organization (SCO). So by its composition, it is the SCO making efforts to formulate a strategy for preventing Afghanistan falling to IS terrorists, which may further infiltrate into SCO members. Stabilizing Afghanistan, the SCO members believe, is necessary to make sure that terrorism does not spread further into the region.


In Moscow process this common concern over growing terrorist activities in Afghanistan was echoed. It stated, “The parties [concerned] had a frank and thorough exchange of views on the current political and military situation in Afghanistan as well as on its prospects and expressed common concern over growing terrorist activities in the country leading to rising tensions and increasing violence which adds to the predicament of the Afghan people.”


The U.S. and Russia have a major difference of opinion in the resolution of Afghan conflict. The U.S. wants to continue its military engagements – though led by the Afghan national security forces – till the total annihilation of armed militia of Taliban. However, Russia, Pakistan and China think otherwise. Their approach towards resolution of Afghan conflict is manifested in this statement where the conference called on “ensuring a national reconciliation using political methods in accordance with the United Nations Security Council resolutions” to resolve this decades old conflict.


However, after all the U.S. is too crucial to the conflict to be ignored. Its refusal to participate in Moscow consultation will definitely thwart the prospects for achieving a stable Afghanistan. Besides, keeping the Afghan current dispensation intact by financing all its expenses including those of national security forces and police, the U.S. also has 8400 troops currently stationed in Afghanistan. And by all definitions, Washington is a major stakeholder to the Afghan conflict, and not being onboard, it will be very much difficult for surrogate – the Kabul regime – to agree to a process not supported by Washington.


Interestingly, Washington has already diverted attention of the world from the Moscow conference by dropping powerful bombs on alleged hideouts of IS in Afghanistan. It will become clear in days to come whether the attacks on IS hideouts is a policy shift to checkmate Russian efforts for elimination of IS threats or just distracting tactics. However, peace in Afghanistan is very crucial for peace in Pakistan. Therefore, Pakistan supports all efforts that in some way contribute towards resolution of Afghan conflict by involving all stakeholders.

 

The writer is a senior journalist, analyst and anchor person.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
May

Karachi's Youth

Published in Hilal English

Written By: Huma Kirmani

Karachi, a city by the Arabian Sea, which was once known as the "City of Lights", is now bickering in its misery of infinite apprehensions and anticipation; though circumstances are quite blatantly streaming in sea breeze of this terror inflicted city. The contemplating feature of Pakistan’s largest city and commercial hub, a place that contributes half of the total revenue collected by the FBR and the deplorable conditions of roads, mounds of uncollected waste, stagnant pools of un-drained rainwater and lack of development make it clear to any observer that Karachi is in steep and perceptible decline. Karachi’s overflowing gutters and garbage dumps can show how grotesque the provincial policy is which is a great disconnect, and has translated into gross mismanagement and general malaise.


Karachi has an estimated population of approximately 20 million; since the last census was done 17 years ago, putting the city’s population at 9.3 million then, one has to go with educated guesses and an area of over 3,500 square kilometres. Karachi is said to be mini Pakistan, reputed to have more Pashto speakers than Peshawar itself, and with over a million Bengalis, Afghans, Iranians, Palestinians and Burmese, Karachi is also home to practically all of Pakistan’s ethnic and language groups. Karachi has a distinct cosmopolitan and urban feel to it, far more as a carrier of the most heterogeneous culture. In lieu of its highly diversified cultural phenomenon, Karachi has its own lacerated ambiance of dread as almost 75 percent militants on terror watchlist for their alleged links with over a dozen proscribed organizations are untraceable in Karachi, some of them might be behind the recent wave of violence in the metropolis.

 

Karachi is said to be mini Pakistan, reputed to have more Pashto speakers than Peshawar itself, and with over a million Bengalis, Afghans, Iranians, Palestinians and Burmese, Karachi is also home to practically all of Pakistan’s ethnic and language groups. Karachi has a distinct cosmopolitan and urban feel to it, far more as a carrier of the most heterogeneous culture.

In the month of February 2017, Pakistan Rangers Sindh have killed notorious Lyari gang war commander Noor Muhammad alias Baba Ladla in a shootout in Lyari Town area of Karachi. Two of Baba Ladla's close associates, Sikandar alias Sikko and Mohammad Yaseen alias Mama, were also killed in the encounter. During the operation, Head Constable Fayyaz and Constable Tufail were also martyred. Karachi operation often moves into a higher gear as terrorists flee to mask their presence, nevertheless the Rangers said 364 terrorists associated with various banned organizations including al-Qaeda, different factions of the Tehreek-e-Taliban Pakistan and Lashkar-e-Jhangvi were also killed in gunfights with the force. Up to 7,312 weapons and 348,978 cartridges have been seized in the past two years while 27 soldiers from Rangers lost their lives.

karachiyouths.jpgViolence in Karachi emerges from multiple factors, which act together to magnify the impact of sublime criminal gangs and capitalize on perceived disenfranchisement and societal conflicts among different communities. The city has been bedeviled with targeted killings, ethnic and sectarian clashes, turf war by different political and criminal groups, extortion activities, bank looting, robberies and other street crimes. The unabated violence and chronic energy crises have made the city's situation more complex as ethnic groups from other provinces migrated to Karachi and increased number of groups have put the situation at stake as the current conflict dynamics in the city involve dozens of sectarian and militant organizations, thus making the city a battleground for more than 200 gangs.


All this chaos created ripples in overwhelming youth of this city that among youth is widely thought to stem from political, ethnic, religious and sectarian segregation within the city. The major reasons cited for young people’s involvement in violence are poverty, illiteracy and limited access to positive social interactions. These dreadful shadows of vicious tyranny generate violent culture in youth who become more violent, much to the advantage of the high profile facilitators, who sit behind scenes and control youth through various channels to meet their vested interests – as many of the political, ethnic and religious groups in Karachi have a ‘militant wing’. These wings recruit youth from colleges and universities or after their pursuit of higher education and they become an asset of these parties. These groups provide incentives including weapons and money to new recruits of the ‘youth wings’ in order to safeguard their interests. The parties attempt to enhance their economic and political status through these youth groups. There is a new trend emerging in which these parties are also using youth for extortion and blackmailing and have started recruiting violent youth to safeguard their interests and businesses in Karachi. Many youth have joined drug mafia as well. They are trained in order to protect and deliver drugs. These youth groups sell drugs to people all across Karachi including the elite. Only a small number of them are ever arrested by the police. Since the police is invariably unable to produce any evidence against them, they are released without any charges. Drugs are available everywhere, even at the most reputable institutes. There arises a question regarding the socio-political attitudes amongst youth in elite universities, that is, youth becoming radicalized followed by a conservative thought pattern that may be construed by some as bordering on radicalism. Youth from affluent socio-economic background and those, who have better career opportunities can fluctuate between being socio-culturally liberal but have a closed approach in matters pertaining to geo-politics, geo-strategy and identity politics. There is, in fact, evidence of the presence of pop-politics which itself is highly reductive and tends to follow a thought pattern which then feeds into ‘clash of civilizations’. The problem, therefore, is absence of intelligent thinking and an alternative narrative discourse in the society which would allow the youth to think ‘out of the box’.

 

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter