10
January

باہمی تعاون مگر پاکستان کی قیمت پر نہیں

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر ماریہ سلطان

نیوکلیئر سپلائیرز گروپ اگرچہ ایک غیر روایتی نظام ہے تاہم ٹیکنالوجی کو کنٹرول میں رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔روایتی طور پر اس سے نہ صرف حساس ٹیکنالوجی کی تجارت کو منضبط کیا جاتا رہا ہے بلکہ اسی نظام کے ذریعے تمام ہائی ٹیک مواد کی بین الاقوامی تجارت بھی ضابطہ کار میں لائی جاتی رہی ہے۔ دو الگ الگ فہرستوں میں تقسیم اس نظام کا ایک حصہ نیوکلیائی ٹیکنالوجی اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی صراحت کرتا ہے جب کہ دوسرے حصے میں بنیادی خام مال اور اہم مادوں ،جیسے بسمتھ، ایلومینیم وغیرہ، کی تجارت کا کنٹرول شامل ہے۔ مذکورہ دھاتیں اور دیگر نیوکلیائی مواد اور ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی ہائی ٹیک صنعت کی بقا کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس لئے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی اہمیت اور اندیشے ان دونوں درجوں میں آزادانہ تجارت سے جڑے ہوئے ہیں۔


تاہم گزشتہ چند سالوں سے اس ادارے کی غیر جانب داری اور موثر رہنے کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ ان شکوک کی بنیادی وجہ ہندوستان کو اس گروپ کا ممبر بنانے کے لئے کی جانے والی امریکہ کی جانب سے کوششوں کا بہت عمل دخل ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں امریکہ نے انتہائی جانبداری اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ نہ صرف نیوکلیئر کے میدان میں باہمی تعاون کے معاہدے کئے اور اس کو نیوکلیئرسپلائیر گروپ کی ممبر شب دلانے کے لئے پہلے سے طے شدہ قوانین کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی بلکہ اس باہمی تعاون کے منفی اثرات پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر بھی پڑنے شروع ہو گئے۔اب نہ صرف پاکستان کو نیوکلیئرسپلائیر گروپ کا ممبر بنانے کی، میڈیا بشمول سوشل میڈیا کے ایک مذموم مہم شروع کر دی گئی ہے بلکہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام، جس کی سکیورٹی ایک مسلمہ امر ہے، اس پر بھی حملے کئے جا رہے ہیں۔


ایک طرف تو بھارت کو نیوکلیئر سیفٹی کے ضمن میں بدترین ریکارڈ اور جوہری عدمِ پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود نیوکلیئرسپلائیر گروپ کی رکنیت دی جارہی ہے جب کہ دوسری طرف پاکستان کے صنعتی اداروں کو غیرروایتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپاہج کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا اور غیر روایتی پروپیگنڈے کا مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ صرف شرمناک بلکہ معتبر عالمی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان کا باعث بھی بنے گا۔ پاکستان کے لئے یہ قطعی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر منصفانہ طرزِ عمل ہے۔ اس سے جہاں ہماری مختصر اور طویل مدتی صنعتی ضروریات اور توانائی کے حصول کی کوششوں کو زِک پہنچے گی اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دفاع کے لئے انتہائی اہم نیوکلیئر صلاحیت کو مذموم پروپیگنڈے کے ذریعے داغ دار کرنے کی کوشش اور نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی اتفاقِ رائے کی روایت ، اس کی دوہری ٹیکنالوجی کی تجارت کو متاثر کرنے کی اہلیت اور بھارت امریکہ کا گٹھ جوڑ، پاکستان کی ترقی کی کوششوں پر بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔دونوں ملکوں کی جانب سے نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے یہ خدشات نہ صرف ترقی کے لئے ہمارے مشرق کے ساتھ اشتراک کو متاثر کریں گے بلکہ ہمارے ملک کی مستقبل میں تجارت نیز پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر بھی بُرے اثرات ڈالیں گے۔


جنیوا میں این ایس جی کے حوالے سے گفت و شنید اور بھارتی وزیرِاعظم کی این ایس جی میں شمولیت کی شاطرانہ کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب یہ انکشاف ہوا کہ نو بھارتی ادارے نیوکلیئرٹیکنالوجی کے حوالے سے خلاف ورزیوں کی وجہ سے حالیہ عرصے میں امریکہ کی درآمدی کنٹرول کی فہرست کا حصہ تھے۔ اس تمام کے باوجود موجودہ اوبامہ انتظامیہ اپنے آخری ایام میں بھارت کی نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت کے حصول میں مدد کر رہی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کے خلاف کسی معتبر شہادت کے بغیر ہی سوشل میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پرپاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اہم اقدامات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔


نیوکلیئرسپلائیر گروپ میں شمولیت ہو یا دیگر نیوکلیئر سے متعلق معاملات پاکستانی قوم کے خدشات بے بنیاد نہیں بلکہ اس کی ایک تازہ مثال اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے سات پاکستانی گروپس اور اداروں پر پابندی کا اعلان ہے۔ یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف کامرس نے ان سات
Entities
کو ایک نوٹیفکیشن کے تحت
Export Administration Regulations (EAR)
کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ تاہم یہ امر باعث تشویش اورمجرمانہ تعصب کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس پابندی کا باعث بننے والی کسی بھی وجوہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اپنے آخری مہینوں میں برتے گئے اس تعصب سے مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لئے پاکستانی اداروں کی فہرست میں شمولیت کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔


غیرمصدقہ اور مشکوک ذرائع جیسا کہ سوشل میڈیا، تجارتی ویب سائٹوں، انٹیلی جنس رپورٹوں اور وکی لیکس کی بنیاد پر تیار کردہ الفا پروجیکٹ پر شکوک کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس مشکوک رپورٹ کی بنیاد پاکستان کے پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات اور خدشات پیدا کئے جار ہے ہیں۔ ایسی رپورٹوں سے نہ صرف پاکستان کی نیوکلیئرسپلائر گروپ میں شمولیت کا کیس پیچیدہ ہوجائے گابلکہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ باہمی تعاون کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایسے ذرائع پر بھروسہ کرکے تشکیل دی گئی رپورٹ میں کالعدم اداروں کی فہرست میں شمولیت یا پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام کے بارے میں تشویش پیدا کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہئے۔ پاکستانی کمپنیوں کی امریکہ کے کالعدم اداروں کی فہرست میں شمولیت ، جیسا کہ الفا رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا، پاکستان کی دفاعی ، نیوکلیائی اور عمومی صنعتوں کو بری طرح متاثر کرے گی۔


مذکورہ پروجیکٹ کا بظاہر مذموم مقصد مخصوص عناصر کے ایما پر پروپیگنڈا کو بنیاد بنا کر پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی صنعتوں کو نشانہ بنانا ہے۔ مزید برآں یہ رپورٹ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مستقبل کی امریکی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدہ تر بنانے کی کوشش بھی ہے۔
پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند ہے اور پاکستان نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کے معیارِ اہلیت پر پورا اترتا ہے۔ بے بنیاد،کمزور اور مشکوک معلومات کو بنیاد بنا کر امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے شکار اداروں کی فہرست میں توسیع پاکستان کی تجارت اور ترقی پر منفی اثرات ڈالے گی۔ اس طریقے سے بغیر کسی اصول اور معیار کے بین الاقوامی برآمدی کنٹرولز کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا باعثِ تشویش ہے۔ اسی طرح اگر بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کا قانوناً پابند نہیں کیا جاتا تو اس سے سب سے زیادہ نقصان نان این پی ٹی ممالک کو ہی ہو گا۔


پروجیکٹ الفا کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو این ایس جی کی ممبرشپ نہ دی جائے اور یہ بے بنیاد تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پروجیکٹ الفا نہ صرف ٹھوس مواد سے محروم ہے بلکہ اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور بظاہر اس پروجیکٹ کے ذریعے امریکہ۔ بھارت دفاعی صنعتوں کے مابین تعاون میں اضافے کے لئے راہ ہموار کرنا اور بھارت کو نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی کوشش ہے۔غیر روایتی نیٹ ورکس اور میڈیا میں چلائی جار ہی اس مسلسل مہم کا مقصد پاکستان کے دفاع،نیوکلیئر اور ہائی ٹیک صنعت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے جو کہ اصل حقائق سے قطعی مختلف ہے۔


بدقسمتی سے بھارت اور امریکہ کا باہمی تعاون بھارت کے لئے این ایس جی کی رکنیت کی درخواست تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کاپس پردہ محرک دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تجارت اور ٹیکنالوجی میں تعاون بھی ہے۔ اس تعاون کی چار جہتیں ہیں یعنی یو اے ویز
(Unmanned Aerial Vehicles)
کی بھارت میں پیداوار،بحرِ ہند میں بھارتی بالادستی کے لئے اقدامات،ایف سولہ کی فراہمی کا دفاعی معاہدہ اور جیٹ پروپلژن سسٹم جس سے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ کے لئے دفاعی معاہدہ تشکیل پا جائے گا۔


اسی طرح بھارت اور اسرائیل کا بری ،فضائی اور بحری فوجی تعاون بشمول انٹیلی جنس کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ موساد اور را کے مابین تعاون صرف انٹیلی جنس کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل بھارتی فوجیوں کو سرجیکل سٹرائیکس کا اہل بنانے کے لئے تربیت بھی دے رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے دفاعی اور سکیورٹی مفادات مشترکہ ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ملک وسیع پیمانے پر تعاون کررہے ہیں۔ جن میں بھارتی فضائیہ کے لئے جدید لڑاکا سسٹمز کی فراہمی،طویل فاصلے تک نشاندہی کرنے والے ٹریکنگ راڈار، زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل،بحریہ کو جدید جنگی کشتیوں کی فراہمی اور بہتری میں تعاون، اینٹی سب میرین ہیلی کاپٹروں کے لئے تعاون،جاسوس سٹیلائٹ اور اینٹی بالسٹک میزائل ٹیکنالوجی میں تعاون شامل ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور ہائی ٹیک صنعتوں میں تعاون تقریباً نو ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دونوں ملک کشمیر میں مشترکہ طور پرپُر امن جدوجہدِ آزادی کو دبانے کے لئے کوشاں ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کو نیوکلیئر دھمکیاں انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پروپیگنڈا مہم اور سوشل میڈیا کواستعمال کرنے میں ماہر اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو چاہئے تھا کہ اسلام آباد کی طرف سے ردِ عمل آنے سے قبل ہی پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیتی۔ تاہم جس
Website
نے اسرائیلی دھمکی والی خبر دی تھی اس کی تردید کرنے میں اسرائیل نے 96گھنٹے کی تاخیر کی۔ یہ تاخیر معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے بلاوجہ نہیں تھی بلکہ حالیہ دھمکی سوشل میڈیا کو بطورِ ذریعہ استعمال کرنے اور اسے علمی مباحثے کا حصہ بنا کر حقیقی صورتِ حال کا تاثر دینے کی بہترین مثال ہے۔


پاکستان کے دفاع، ہائی ٹیک صنعتوں اور نیوکلیئرپروگرام کے خلاف ایسے غیرمحفوظ ذرائع سے قائم کیا گیا تاثر قطعی ناقابلِ قبول ہے۔ سیاسی بنیادوں پر پابندیوں کو وسعت دینا اور بھارت امریکہ اور بھارت اسرائیل دفاعی تعاون پاکستان کے لئے مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ کا یہ تعاون اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کسی بھی ملک کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بنانے کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ مزید برآں امریکہ کی جانب سے بھارت کو ہائی ٹیک تجارت اور حساس ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون فراہم کیا جارہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کو نان ٹیرف اور ٹیرف رکاوٹوں کے ذریعے ننانوے اعشاریہ آٹھ فیصد رسائی سے محروم کیا جا رہاہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کے اصرار پر ان نو بھارتی اداروں کو پابندی کے شکار اداروں کی فہرست سے نکال دیا ہے جونیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ جس سے بھارت پر عائد تجارتی پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں۔ یہ تمام ادارے بھارت کے میزائل اور خلائی پروگرام پر دن رات عمل پیرا ہیں۔
بھارت کی این ایس جی میں شمولیت کے لئے امریکہ اس لئے بھی بھرپور کوششیں کر رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کی صنعت مشترک ہوگی جس سے بھارت کے بغیر ایس سی او ممالک کے مابین دفاعی تعاون کم موثر ہوجائے گا۔لگتا یہی ہے کہ ایشیاکی سطح پر بھارت کے ساتھ امریکہ اور دیگر چائنا مخالف ممالک کا ایک علاقائی بلاک بننے جا رہاہے۔ موجودہ امریکہ انتظامیہ کا بھارت کی طرف بے پناہ جھکاؤ امریکہ کے اپنے مفادات کو بھی ساؤتھ ایشیا میں زک پہنچائے گا کیونکہ اس خطے میں امریکہ تیزی سے صرف ایک ملک کے ساتھ تعاون کی جانب بڑھ رہا ہے۔


ماضی میں بھارت کو این ایس جی میں دی گئی رعایت عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے لئے اچھی ثابت ہوئی، نہ ہی اس سے جنوبی ایشیا میں استحکام آسکا۔ ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤکو یقینی بنانے کے لئے علاقائی استحکام اہم ترین عنصر ہے۔ نان این پی ٹی ممالک کو رکنیت دینے کے حوالے سے اس کلب کے تمام (اڑتالیس) ممالک کو غیر امتیازی طریقہ کار اپنانا چاہئے۔ نہ کہ صرف ایک ملک کو استثنا دینے کی کوشش۔ پاکستان دیگر نان این پی ٹی ممالک کے ساتھ بیک وقت این ایس جی میں شمولیت کا خواہش مند ہے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ رکنیت کے لئے نان این پی ٹی ممالک کی جانب سے دی گئی دونوں درخواستوں کا منصفانہ اور بیک وقت جائزہ لیا جائے۔ ایسا منصفانہ اور بے تعصبانہ طریقہ اختیار کرنے سے نیوکلیائی پھیلاؤ کو روکنے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔ پاکستان تقریباً ایک عشرے سے این ایس جی کے ساتھ کام کر رہاہے اور اب باقاعدہ طور پر گروپ میں شمولیت کے لئے تیار ہے۔


اس تمام صورت حال میں جس کو نیوکلیئر سکیورٹی اور تجارت کے نام پر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ایک اور پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ وہ پہلو پاکستان کی صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبے کو صرف تجارتی راہداری کے معنوں میں نہیں لیا جانا چاہئے بلکہ پاکستان، آنے والی دہائیوں میں، اس کو ایک مکمل معاشی و صنعتی منصوبہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان میں صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کا حصول بہت اہم ہو گا اور کسی طرح کی قدغن ہمارے بہتر مستقبل میں ایک رکاوٹ تصور کی جائے گی۔

مضمون نگار ساؤتھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ اور

SASSI

یونیورسٹی کی ڈائریکٹر جنرل اور چیئرپرسن ہیں۔ مصنفہ جنوبی ایشیا کے نیو کلیئر آرمز کنٹرول اور ڈس آرمامنٹ معاملات اور دفاع کی ماہر تجزیہ نگارہیں۔ ان کے تحقیقی مضامین مختلف جرنلز‘ اخبارات اور کتابوں میں شائع ہوتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وجیکٹ الفا کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو این ایس جی کی ممبرشپ نہ دی جائے اور یہ بے بنیاد تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پروجیکٹ الفا نہ صرف ٹھوس مواد سے محروم ہے بلکہ اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور بظاہر اس پروجیکٹ کے ذریعے امریکہ ۔بھارت دفاعی صنعتوں کے مابین تعاون میں اضافے کے لئے راہ ہموار کرنا اور بھارت کو نیوکلیئرسپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی کوشش ہے۔غیر روایتی نیٹ ورکس اور میڈیا میں چلائی جار ہی اس مسلسل مہم کا مقصد پاکستان کے دفاع،نیوکلیئر اور ہائی ٹیک صنعت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے جو کہ اصل حقائق سے قطعی مختلف ہے۔

*****

 
10
January

مکالمہ۔تشدّدپسندانہ رویوں کا تریاق

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر منہاس مجید

جب بھی فرقہ وارانہ تنازعات کی بات ہوتی ہے تو مغربی ممالک اُسے چودہ سو سال پہلے خلفائے راشدین کے انتخاب کو بنیاد بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سنی شیعہ مسلمان صدیوں تک، باوجود اجتہادی اور فقہی اختلافات کے، باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان اختلافات نے عالمِ اسلام میں بالعموم اور رفتہ رفتہ مشرقِ وسطیٰ میں بالخصوص فرقہ واریت کی شکل اختیار کرلی جس کی مثال سولہویں صدی میں سلطنت فارس اور سلطنت عثمانیہ کی آپس میں جنگیں تھیں‘ تاہم وہ محدود تھیں۔ موجودہ شیعہ سنی تنازعات جو کہ ابتدا میں معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں کچھ عرصہ بعد تشدد کی انتہائی شکل اختیار کر لیتے ہیں مگر ختم پھر بھی نہیں ہوتے اور بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ان کے ختم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تنازعہ جو کسی مخصوص جگہ پر محدود لوگوں کے درمیان شروع ہوا تھااس کے بعد بیرونی عناصر کی مداخلت سے بین الاقوامی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کی وجوہات اندرونی اور بیرونی مداخلت دونوں ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ بیرونی مداخلت سے پیشتر ہم عالمِ اسلام میں موجودہ خامیوں کا مشاہدہ کریں۔


تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم سے ہی مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔1919 کے مصری انقلاب سے لے کر ترکی کی جنگِ آزادی (1919-1923)تک، عراق کرد تنازعہ (1919-2003)، سعودی عرب یمن جنگ (1934)، عراقی شیعہ بغاوت(1935-36) اور پھر دوسری جنگِ عظیم سے لے کر عراق ایران جنگ اور اس کے بعد کے واقعات جو مسلم ممالک کے درمیان باعث تنازعات رہے ہیں اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مغربی دنیا آج بھی انہی جنگوں کا حوالہ دیتی ہے اور مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے اواخر میں جبکہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ اختتام کو پہنچ رہی تھی‘ اس سرد جنگ میں مسلم ممالک کو دونوں طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور ان کے قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ کیا۔ سلیم راشد اپنی کتاب ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد مغرب ایک نئے دشمن کی تلاش میں تھا جس پر وہ اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرسکے اور ان کے لئے اسلام اور مسلم امہ سے بہتر دشمن اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی بات کا اعتراف شیرین ہنٹر نے بھی اپنی کتاب’’ دی فیوچر آف اسلام اینڈ ویسٹ‘‘ میں کیا ہے کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد اسلام مغرب کے لئے دشمن ہوگا۔ آج فرقہ واریت کی جب بات ہوتی ہے تو ان مذکورہ باتوں کو نظر انداز کرکے فقط مسلمانوں کے اندرونی تنازعات اور اختلافات کو ہی سبب گردانا جاتا ہے اور داعش یا اس طرح کی مسلح تنظیموں کے وجود کو انہی اختلافات کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔


9/11کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کے ساتھ ساری دنیادہشت گردی کی لپیٹ میں آجاتی ہے لیکن مٹھی بھر دہشت گردوں کا الزام سارے مسلمانوں پرلگایا گیا کیونکہ وہ مٹھی بھر لوگ’’ مسلمان‘‘ تھے۔ عراق پر حملہ ہوا۔ تیونس، لیبیا، شام، مصر، لبنان عرب سپرنگ کی لپیٹ میں آئے لیکن وہاں وہ امن قائم نہ ہو سکا جیسا کہ امریکہ کی بظاہرخواہش تھی کیونکہ امریکہ کی ڈیموکریٹک پیس تھیوری کے مطابق جہاں جمہوریت ہوگی، وہاں امن ہوگا اور جہاں حکمران مطلق العنان
(Autocratic)
ہیں، وہاں نا انصافی ہوگی۔ جہاں تک مذہبی اقلیتوں کا تعلق ہے چاہے وہ شیعہ سنی ہوں یا دیگر غیر مسلم ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور ان کی آپس میں لڑائیاں جاری رہتی ہیں۔ مغربی ممالک نے جہاں جہاں اپنی آزاد اقدارمتعارف کرانے کے لئے مسلح جارحیت کا راستہ اپنایا ہے وہاں امن قائم نہیں ہو سکا بلکہ یہ جارحیت مزید بدامنی پھیلنے کا باعث بنی ہے۔


اگر مشرقِ وسطیٰ کا جائزہ لیا جائے تو عراق اور شام میں حکومتی اختیار ختم ہونے پر فرقہ وارانہ تنازعات کا دوبارہ ظہور ہوا جس کے نتیجے میں داعش منظم ہوئی اور عراق میں سنی صوبوں اور شام کے مشرقی علاقوں میں پھیل گئی۔ داعش نے شام میں ریاستی عملداری کے خاتمے اور عراق میں سنی برادری کو سیاسی دھارے سے علیحدہ کرنے کا بروقت اور پورا فائدہ اٹھایا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں کہیں بھی وہ علاقے جو حکومتی دسترس سے باہر رہے ہیں تو اس خلانے دہشت گرد تنظیموں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہاں وہ اپنے مراکز قائم کریں اور وہیں سے وہ دہشت گردی کو پھیلا سکیں۔ اس کے علاوہ ریاستی عملداری کے ختم ہونے سے بیرونی عناصر فائدہ اُٹھا کر اپنے مقاصد پورا کرتے ہیں جیسا کہ عراق اور شام کی صورت حال میں ایران، سعودی عرب، ترکی، قطر، امریکہ، روس اور دیگر ممالک کی مداخلت ہے۔ جب ہم عرب سپرنگ کی بات کرتے ہیں تو یہ تیونس سے لے کر بحرین تک حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی تحریک کا نام ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ آزادی، انصاف اور خوشحالی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ تحریک بھی فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہوگئی اور اس ناسور نے مختلف ممالک کو فوری طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔اس آگ نے عالمِ اسلام کو دو دھڑوں میں تقسیم کردیا اور ہر ایک فریق دوسرے فریق سے خوفزدہ ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ جب شام میں سنی بشارالاسد کی حکومت سے برسرپیکارہیں تو ان کو سعودی عرب اور قطر کی معاونت حاصل ہے دوسری جانب شامی حکومت کو ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے جس میں مالی اور عسکری دونوں تعاون شامل ہیں۔ اسی طرح غیر ریاستی عناصر حزب اﷲ کو ایران جبکہ لیبیا کی رضاکارانہ فورس کو سعودی عرب کا تعاون حاصل ہے۔ بحرین کی شیعہ آبادی جو حکومت کے خلاف بغاوت کر رہی ہے اس کو ایران اور شام کی مدد حاصل ہے جبکہ بحرین کی حکومت کو سعودی عرب کا تعاون حاصل ہے۔ یاد رہے کہ بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف حکومت کا جانبدارانہ رویہ نیا نہیں ہے لیکن عرب سپرنگ ان پر بھی اثر انداز ہو اہے۔


عراق اور شام کے حالیہ تنازعے نے فرقہ وارانہ وفاداریوں کو عیاں کردیا ہے۔ عموماً سیاسی تنازعات فرقہ واریت کا روپ اختیار کرلیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ جیسا کہ ہم مشاہدہ کررہے ہیں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ڈرامائی انداز میں ایک نئی سرد جنگ کی طرف جارہا ہے۔ جہاں دونوں اس خطے میں اپنی بالا دستی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ اب یہ پراکسی وار کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ہر د و فریق فرقہ واریت کی اس جنگ میں اپنے مخالف فریق کے خلاف مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ شام،یمن، عراق سب جگہ صفِ اول کی جنگ فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑی جارہی ہے یعنی شیعہ بمقابلہ سنی حالانکہ یہ ایک فیکٹر ہے جو ہمیں ہر سطح پر نظر آتا ہے۔ اِن تنازعات کی وجہ دیگر بہت سے سٹریٹیجک ایشوز بھی ہیں اور غیر ملکی مداخلت بھی۔


لبنان اور کویت میں عارضی امن تو قائم ہے لیکن فرقہ واریت کی چنگاری کو کبھی بھی ہوا لگ سکتی ہے۔ مسلم دنیا کا آپس میں اختلاف یعنی شیعہ بلاک اور سنی بلاک میں تقسیم ہونا داعش جیسی تنظیم کو پیدا کرنے کا باعث بنا ہے جو بغیر کسی تفریق کے مغرب، شیعہ سنی، ایران حتیٰ کہ سعودی عرب کو بھی اپنا دشمن سمجھتی ہے۔


ان واقعات کے تناظر میں مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کے بدلتے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ کے صدر اوبامہ نے اعتراف کیا ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہدِ صدارت کی بدترین غلطی تھی۔ عراق پر حملے کو مغربی سکالرز تاریخ کی ایک بہت بڑی غلطی قرار دے چکے ہیں۔ اوبامہ حکومت کے ایران کے ساتھ کئی دہائیوں کے اختلافات اور پابندیوں کے بعد جوہری توانائی اور دیگر امور پر بات چیت اگرچہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے لیکن مذاکرات کے راستے کو اپنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلحے کا استعمال اختلافات کوحل کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اس خطے میں جاری بحران کو حل کئے بغیر نکلنا بھی ان پُر تشدد واقعات اور دہشت گردی کی وجہ ہے۔


المختصر یہ بات تو طے ہے کہ امتِ مسلمہ میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح مختلف مسالک اور فرقے موجود ہیں اور ان کے آپس میں کچھ بنیادی اور کچھ فروعی اختلافات کی وجہ سے تنازعات اور اندرونی چپقلش کا ماحول موجود رہتا ہے مگر موجودہ صورتحال میں اور بالخصوص مشرقِ وسطی میں جاری لڑائیاں کچھ اور خفیہ عوامل کی نشان دہی کرتی ہیں۔ تاہم اب ہم اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے سارا الزام دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ چہ جائیکہ ہم وہ حالات پیدا کریں کہ دوسرے ہماری مدد کے بہانے آکر معاملات کو اور خراب کریں ہمیں چاہئے کہ ہم سب مل کر فی الفور آپس میں مکالمے کا آغاز کریں۔ آپس میں مکالمہ اس نیت کے ساتھ کہ ہم نے مل کر امن و آشتی کے ساتھ رہنا ہے ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات کا احترام کرنا ہے اور اپنی موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کو اندرونی جنگ و جدل سے ہر حال میں بچانا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشروں میں بات کرنے کی روایت کی حوصلہ افزائی اور تشدد کی ہر شکل کی حوصلہ شکنی کریں تو امیدِ واثق ہے کہ مسلم آبادیاں آپس میں بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ
Diversity
یعنی تنوع کو خدا تعالیٰ کی تخلیق کا ایک امر سمجھیں اور یک رنگی‘ یک نسلی اور یک مذہبی ایجنڈے کے بجائے ایک دوسرے کی مثبت صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ معاشرے مختلف طبقات اور رنگ و نسل سے مل کر ہی بنتے ہیں یہ مسلمان علماء کرام‘ دانشوروں اور حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف مسلمانوں میں موجود فرقہ بندیوں کو تشدد اور جنگ کے راستے پر جانے سے روکیں بلکہ اپنے معاشروں میں بسنے والے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا بھی احترام کریں۔ یاد رکھیں کہ اندرونی جنگیں باقی تمام طرح کی لڑی جانے والی جنگوں سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ہوتی ہیں۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور اُس میں جاری پراکسی وارز
(Porxy Wars)
کا بہت گہری نظر سے تجزیہ کرنا چاہئے اور اس طرح کی جنگ کو پاکستان سے ہر حال میں دُور رکھنا چاہئے۔ پاکستان کی افواج نے ابھی تک تمام غیرریاستی دہشت گرد گروپوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے مگر اس خطرے کا سدِباب سماجی اور سیاسی سطح پر بھی نہایت ضروری ہے۔ ہمیں ایک پرامن معاشرہ درکار ہے جو صرف پُر امن بقائے باہمی کے اصولوں پرعمل سے ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے اور مکالمہ ان تمام کوششوں کی کنجی ہے۔ ہمیں مکالمے کی طاقت سے تشدد کے رویوں کو روکنا ہو گا۔ آیئے آپس میں بات کریں اور اس موجودہ ہلاکت خیزی کے طوفان کو روکیں جس سے ہماری دشمن قوتیں مسلسل فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

مضمون نگار یونیورسٹی آف پشاور کے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
January

پاکستان ترکی تعلقات، پس منظر وپیش منظر

Published in Hilal Urdu

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

ترکی کی سرحدیں تو پاکستان سے نہیں ملتیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ترکی اور پاکستان کے دل آپس میں ملتے ہیں۔ ترکیہ جمہوریہ، دنیا کا ایک ایسا منفرد ملک ہے جس کے باسیوں کے تعلقات سرزمینِ پاکستان میں بسنے والے لوگوں سے قیامِ پاکستان 1947ء بلکہ قراردادِ لاہور 1940ء سے بھی پہلے تاریخ میں نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جنگ عظیم اوّل میں تب دیکھنے کو ملا جب بکھرتی سلطنتِ عثمانیہ کو ابھرتی مغربی سامراجی طاقتوں نے ترکوں کو اپنے وطن سے محروم اور ترک قوم کو مٹانے کے لئے سرزمین ترکیہ پر یلغار کردی۔ مختلف مغربی طاقتوں نے بچے کھچے ترکی کو لوٹ کا مال سمجھ کر بندر بانٹ کرنا چاہی اور اس کے لئے جنگ گیلی پولی برپا کی گئی، جس میں غیرمتوقع طور پر ترک لیفٹیننٹ کرنل مصطفی کمال نے مغربی دنیا کی اتحادی افواج کو شکست فاش سے دوچار کردیا اور یہیں سے مصطفی کمال کو پاشا کا لقب ملا۔ اس دوران سرزمینِ متحدہ ہندوستان میں بسنے والے لوگوں نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک یادگار تحریک برپا کی۔ تب ترکی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، اپنی بقا کی آخری اور فیصلہ کن جنگ، جس کی قیادت غازی مصطفی کمال پاشا اتاترک کررہے تھے۔ برصغیر میں چلنے والی اس ترک دوست تحریک کو ’’تحریک خلافت‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ غازی مصطفی کمال پاشا نے جنگی میدانوں میں مغربی استعماری طاقتوں کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔


یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے لوگ اپنی آزادی کے لئے متحد ہورہے تھے اور مسلمانانِ برصغیر کے قائد محمد علی جناحؒ ، تحریک آزادی کو ایک نئے دھارے پر ڈال رہے تھے۔ بعد میں جنم لینے والی ریاستِ پاکستان کی ترکیہ جمہوریہ سے تعلقات کی بنیادیں یہیں سے اُستوار ہوئیں۔ ترکوں نے اپنی جنگ کامیابی سے جیتی اور عوامی جمہوری انقلاب برپا کرکے 1923ء میں ترکیہ جمہوریہ کی بنیاد رکھ دی۔ یہ مسلم دنیا کی واحد جمہوریت ہے جو کسی سامراج یا نوآبادیاتی نظام کی
Legacy
نہیں۔ مصطفی کمال پاشا نے جہاں ایک طرف مغربی استعماری قوتوں کو شکست دی تو دوسری طرف ایک آئینی جمہوری ریاست کا قیام اپنی قیادت کے تحت مکمل کیا۔ علامہ اقبال ؒ جنہیں ہم برصغیر میں مسلمانوں کی ریاست (پاکستان) کا فکری بانی کہتے ہیں، وہ ترکی میں مصطفی کمال پاشا کے تصورِ ریاست سے کس قدر متاثر تھے، اس پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

pakturktal.jpg’’ترکوں کے سیاسی اور مذہبی افکار میں اجتہاد کا جو تصور کام کررہا تھا، اسے عہد حاضر کے فلسفیانہ خیالات سے اور زیادہ تقویت پہنچی اور جس سے اس میں مزید وسعت پیدا ہوتی چلی گئی۔ مثال کے طور پر حلیم ثابت ہی کا نظریہ ہے جو اس نے اسلامی قانون کے بارے میں قائم کیا اور جس کی بنیاد اس نے جدید عمرانی تصورات پر رکھی‘‘ اور’’پھر اگر اسلام کی نشاۃ ثانیہ ناگزیر ہے، جیساکہ میرے نزدیک قطعی طور پر ہے، تو ہمیں بھی ترکوں کی طرح ایک نہ ایک دن اپنے عقلی اور ذہنی ورثے کی قدرو قیمت کا جائزہ لینا پڑے گا۔‘‘
علامہ محمد اقبال
، (The Reconstruction of Religious Thought in Islam)
صفحہ 121 اقبال اپنے بنیادی سیاسی فلسفے میں ترکیہ جمہوریہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ قرار دیتے ہیں۔مفکرِ پاکستان علامہ اقبال اور بانئ ترکی مصطفی کمال پاشا اتاترک کا سالِ وفات 1938ء ہی ہے۔ جب جدید ترکی کے بانی غازی مصطفی کمال پاشا کا انتقال ہوا تو بانئ پاکستان محمد علی جناح ؒ نے اس عظیم رہبر کے انتقال پر آل انڈیا مسلم لیگ کو درج ذیل حکم نامہ جاری کیا۔
"I request Provincial, District and Primary Muslim Leagues all over India to observe Friday the 18th of November as Kemal Day and hold public meetings to express deepest feeling of sorrow and sympathy of Musalmans of India in the irreparable loss that the Turkish Nation has suffered in the passing away of one of the greatest sons of Islam and a world figure and the saviour and maker of Modern Turkey--- Ghazi Kemal Ataturk."
Date: 11-11-1938 (Quaid-e-Azam Papers, National Archives of Pakistan)
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں قوموں کے تعلقات کس قدر گہری سطح پر قائم ہوئے۔ مفکرِ پاکستان اور بانئ پاکستان، جدید ترکی کے قائد مصطفی کمال پاشا کے حامی ہی نہیں بلکہ اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کے مداح بھی تھے، جسے ہمارے رجعت پسند حلقوں نے جان بوجھ کر ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔


قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ ، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے تو ترکیہ جمہوریہ نے اپنے ایک معروف ترک شاعر و ادیب اور دانشور یحییٰ کمال کو پاکستان میں اپنا سفیر نامزد کیا۔ پاکستان میں ترکی کے پہلے سفیر نے بانئ پاکستان کو 4مارچ 1948ء کو سفارتی اسناد پیش کیں۔ اس موقع پر قائد اعظم محمدعلی جناحؒ نے فرمایا:


’’کئی تاریخی میدانِ جنگوں میں آپ کے لیڈر کے کارنامے، آپ کے انقلاب کی کامیابی، عظیم اتاترک کا ابھرنا اور ان کا کیریئر، اپنے اعلیٰ تدبر سے ان کا آپ کو ایک قوم کی تعبیر دینا، حوصلہ مندی اور پیش بینی، ان تمام واقعات سے پاکستان کے عوام بخوبی واقف ہیں۔ درحقیقت برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری کے آغاز ہی سے ، آپ کے ملک میں رونما تبدیلیوں کا یہاں عوام پوری ہمدردی اور دلچسپی سے مشاہدہ کرتے رہے ہیں ۔‘‘
اس کے بعد تاریخی، سماجی اور روحانی طور پر دونوں قوموں کے مابین تعلقات سفارتی سطح پر بھی قائم ہوگئے۔ ترکی اور پاکستان نے ہردور میں ثابت کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اگر ان تعلقات کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب ترک قوم کسی مشکل کا شکار ہوئی تو پاکستانیوں نے بلا جھجک ترکوں کی حمایت کی اور اسی طرح ترکوں نے پاکستان کی۔ ترکی اور یونان کے درمیان قبرص کے مسئلے پر پاکستان نے روزِ اوّل سے ہی ترکوں کو کسی بھی عالمی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر سپورٹ کیا۔ جب 1974ء میں ترکی نے وزیراعظم بلندایجوت (مرحوم) کی حکومت میں قبرصی ترک عوام کو جاری خانہ جنگی سے نجات دلوانے کے لئے آپریشن کیا تو پاکستان نے کھل کر ترک حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ۔ اس وقت پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی اور انہوں نے ترکی کی ہر طرح سے مدد کا سرکاری سطح پر اعلان کیا۔ مسئلہ قبرص پر ترکی کے ساتھ تنازعاتی ملک چونکہ یونان تھا، اس لئے پاکستان کی جانب سے ترکی کی بھر پور حمایت کرنے پر یونان نے ہزاروں پاکستانیوں کو بحری کمپنیوں سے فارغ کردیا۔ ایک ملاقات کے دوران میرے دوست جناب بلند ایجوت (مرحوم) نے مجھے بتایا کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ یونانی بحری کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو یونانیوں نے فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے تو میں نے اسی وقت سرکاری حکم نامہ جاری کیا کہ ان متاثرین کو ترک بحری کمپنیوں میں ملازمتیں دے دی جائیں۔ اسی طرح ترکی، پاکستان کے ساتھ ہر عالمی محاذ پر ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ دونوں پاک بھارت جنگوں 1965ء اور 1971ء اور کشمیر کے مسئلے پر ترکی نے بلالحاظ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔


سرد جنگ کے زمانے میں دونوں ممالک آر سی ڈی اور سینٹو جیسے علاقائی اتحاد میں شامل رہے تو تب بھی دوست تھے اور جب یہ عالمی اتحاد ختم ہوئے تب بھی باہمی دوستی میں کمی نہ آئی۔ آج ترکی، دنیا میں ابھرتا ہوا ایک اہم ملک ہے، اس تناظر میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت مزید مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ انقرہ، جدید ترکی کا دارالحکومت ہے اور اس جدید شہر کے وسط میں سب سے بڑی اور اہم شاہراہ بانئ پاکستان محمد علی جناحؒ کے نام سے منسوب ہے، ’’جناح جاہ دیسی‘‘ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی شاہراہ پر بھارت کا سفارت خانہ ہے۔ ذرا تصور کریں، ترکی میں بھارتی سفارت خانے کی تمام دستاویزات پر جب ’’جناح جاہ دیسی‘‘ لکھنا ہوتا ہے تو بھارتیوں کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔ پاکستان میں مینارِ پاکستان، فیصل مسجد، داتا گنج بخش مسجد سمیت متعدد عمارات ترک معماروں کا کام ہیں اور اسلام آباد سے لے کر لاڑکانہ تک متعدد شاہراہیں، بانئ ترکی اتاترک کے نام سے منسوب ہیں۔


اس بدلتی دنیا میں جو یک محوریت سے مختلف علاقائی، تجارتی اور سٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدل رہی ہے، ترکی اور پاکستان دو اہم ممالک ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیا کا اہم ترین ملک اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور مسلم دنیا کی طاقت ور ترین وار مشینری رکھنے والا ملک ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایک سنگم کی سی ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دہانے پر بدلتی دنیا میں نیا کردار حاصل کررہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تعلقات اور چین کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اِن تعلقات کو اوربھی بڑھا رہا ہے۔ ایسے ہی ترکی مشرقِ وسطیٰ کاایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ملک ہے۔ تعلیم، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بعد دوسری اہم وار مشینری رکھنے والا، نیٹو کا دوسرا بڑا حصہ دار ہے۔ لہٰذا ان دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اب اس بدلتی دنیا میں ایک نیا علاقائی اور عالمی توازن بنانے میں نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔


اگر ہم اس سارے خطے پر سرسری نگاہ دوڑائیں تو اس خطے میں اہم ترین ممالک میں چین، روس، بھارت، پاکستان اور ترکی یک محوریت سے ملٹی پولر دنیا میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے جا رہے ہیں۔ اس میں ترکی اور پاکستان تقریباً تمام علاقائی اور عالمی معاملات میں ایک صف میں کھڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے یہ آئیڈیل تعلقات درحقیقت ایک فطری اتحادی کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگر افغانستان کے مسئلے میں ترکی اپنے ازبک نسلی تعلقات کے حوالے سے اور نیٹو کا رکن ہونے کے ناتے ایک خاص سیاسی مقام رکھتا ہے تو اسی طرح افغانستان، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون ہے۔ 9/11 کے بعد ترکی اور پاکستان، افغانستان کے مسئلے پر ایک دوست اور اتحادی کے طور پر بیشتر معاملات میں ایک موقف پر رہے اور ہم نے دیکھا دونوں دوست ممالک افغانستان میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کے علاوہ اپنے طور پر بھی مصروفِ کارہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک بڑی عالمی طاقتوں کے علاوہ بھی کئی علاقائی اور عالمی معاملات کو سلجھانے میں کوشاں ہیں۔


ترکی اور پاکستان متعدد شعبوں میں شریکِ کار ہیں خصوصاً دفاعی حوالے سے، لیکن ان گہرے تعلقات سے ہم مزید فوائد بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ خصوصاً تعلیم، صحت، صنعت، تجارت اور زراعت کے شعبوں میں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی زراعت کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے ترکی کی زرعی ترقی و صنعت سازی سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں بھی۔ میں پچھلی تین دہائیوں سے ترکی کی سیاست، تاریخ، ثقافت، تہذیب اور معاشرت کو سمجھنے میں مصروف ہوں۔ میرا یہ یقین ہے کہ اگر ہمارے پالیسی ساز، درج بالا شعبوں میں، ایک دوسرے سے تیزرفتاری سے تعاون بڑھائیں تو پاکستان اس منزل کو چند سالوں میں چھو سکتا ہے جس کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا ہے، یعنی ایک جدید تعلیم یافتہ، صنعتی اور مضبوط معیشت رکھنے والا ملک۔ ضرورت صرف سنجیدگی اور فیصلہ کرنے کی ہے۔ اس حوالے سے ترکی میں پاکستان کے سفیر سہیل محمود کا یہ جملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان ترکی تعلقات شان دار تاریخ رکھتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہمہ وقت آبیاری کی ضرورت ہے۔ سہیل محمود، انقرہ میں اور ترک سفیر صادق بابر گرگن پاکستان میں سفارتی حوالے سے بے مثال کردار ادا کررہے ہیں۔ ان دونوں سفارت کاروں کو میں نے ان دو روایتی دوستوں کے تعلقات کو سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے عروج پر پایا لیکن ان سفارتی کوششوں کے علاوہ پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے ان شعبوں میں تعاون کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے جو ہماری حکومت کے ایجنڈے میں زیادہ نمایاں نہیں، یعنی تعلیم، ٹیکنالوجی، علمی وادبی تحقیق، زراعت اور صنعت۔ اور اسی طرح ہم ترکوں کے ساتھ متعدد شعبوں میں اپنے تجربات شیئر کرسکتے ہیں، خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹرز اور آئی ٹی کے شعبے میں۔ اگر دونوں ممالک میں اہل فکر ودانش سے متعلق لوگوں کا
Exchange
پروگرام شروع کر دیا جائے تو دونوں ممالک جلد ہی اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جس سے یہ اہم مسلم ریاستیں دیگر مسلم دنیا کی رہنمائی کرسکتی ہیں۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
September

بھارتی فوج اور دریدہ مقبوضہ کشمیر

تحریر: سِلوی لاسر

جونہی ہم سڑک کے ساتھ ساتھ مڑتی بل کھاتی گلیوں کی طرف قدم اٹھاتے تو اچانک خود کو پتھر کی دیواروں کے درمیان پاتے۔ جس سے پتہ چلتا کہ ان دیواروں سے ملحق اینٹوں سے بنی رہائش گاہیں ایستادہ ہیں۔ جوں جوں ہم بلندی پر جا رہے تھے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان شام کے ملگجے میں ڈوبا آزاد جموں و کشمیر کا دارالحکومت، مظفر آباد ہماری آنکھوں کے سامنے آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ نیلگوں فضا میں اڑتی رنگ برنگی پتنگوں نے خوبصورت وادی کو اور بھی دلکش بنا دیا تھا۔ ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کی رسی پکڑے گزر رہا تھا۔ ہم شہر میں موجود کشمیری مہاجر ین کے ایک کیمپ میں پہنچے یہاں اس طرح کے کل دس کیمپ قائم ہیں جہاں تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے جانے والے تنازعہ جموں کشمیر کے متاثرین آباد ہیں۔
اس وقت ریاست جموں و کشمیر کے ایک حصے پر بھارت قابض ہے جبکہ دوسرا حصہ جہاں ہم موجود تھے، آزاد جموں و کشمیر کہلاتا ہے جو پاکستان کے زیرکنٹرول ہے۔ دونوں حصوں کو 740 کلو میٹر طویل لائن آف کنٹرول جدا کرتی ہے۔


کہنے کو تو ہم ایک کیمپ میں تھے تاہم یہ شہر کی کسی معروف جگہ کی طرح لگتا تھا۔ حکومت آزادکشمیر نے ہر خاندان کو اپنا گھر تعمیر کرنے کے لئے جگہ الاٹ کی ہے۔ اب یہ ’’کیمپ‘‘ مستقل رہائش گاہوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں اس لئے کہ کوئی نہیں جانتا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کا یہ طوفان کب تھمے گا۔ ان گھروں کی بالکونیوں سے سارے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ چھتوں پر رکھی ٹینکیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انہیں تازہ پانی اور دیگر سہولیات میسر ہیں۔ البتہ بعض جگہوں پر ترپالیں بھی نظر آتی ہیں جن پر یو این ایچ سی آر (یواین ہائی کمیشن برائے مہاجرین) کی مہر ثبت ہے جو ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ یہاں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے 142 خاندان بستے ہیں۔
لائن آف کنٹرول پر بھاری تعداد میں افواج تعینات ہیں۔ صدر کلنٹن نے 2000 ء میں اسے دنیا کا خطرناک ترین مقام قراردیا تھا۔ بعد ازاں 2004ء میں بھارتی فوج نے یہاں دوہری خاردار تار لگا کر آس پاس بے شمار بارودی سرنگیں بچھا دیں اور اسے تھرمل کیمروں اورنقل و حرکت پر نظر رکھنے والے آلات اور الارم سے لیس کردیا۔ اس طرح اس متنازعہ پٹی کو عارضی بارڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بظاہر تو یہ سرحدی لکیر ہے تاہم عالمی سطح پر اسے باقاعدہ بارڈر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ بھارت نے 1948ء میں اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار داد پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا جس کے مطابق جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ صرف اور صرف ایک آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔

 

bhartifojaur.jpgہم نے 70 ڈگری کی عمودی پہاڑی پر چڑھنا جاری رکھا۔ ایک نوجوان سمیر سے ملاقات ہوئی جو کشمیری مہاجرین کی ایسوسی ایشن کا نائب صدر ہے۔ اس نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت یہاں کے باسیوں کو یہ اراضی قیمتاََ مہیا کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے تاکہ مہاجرین واقعی اسے اپنا گھر محسوس کریں۔ بات چیت کرتے ہوئے وہ مجھے ایک مکان میں لے گیا۔ جہاں ایک ایسا خاندان آباد تھا جو یہاں بسنے والے دوسرے خاندانوں کی طرح بہت سارے سانحات سے دوچار ہوچکا ہے۔ عمودی جگہ پر جس ٹیرس میں ہم داخل ہوئے تھے وہاں سے نشیب میں وادی اور پہاڑوں کا نظارہ انتہائی دلکش تھا۔ اپنے مخصوص دیدہ زیب کشمیری لباس میں ملبوس دو ننھی منی بچیاں ہمیں دیکھ رہی تھیں۔ ہمیں آتا دیکھ کر گھر کی خواتین نے خود کو باورچی خانے میں چھپا لیا۔


ایک مضبوط اور طویل القامت شخص، جس کے چہرے سے شفقت نمایاں تھی، نے ہمیں اپنے مہمان خانے میں آنے کی دعوت دی۔ بظاہر مسرور، اس نے سب سے پہلے مجھے اپنی ماں کے بارے میں بتایا جو دو ہفتے قبل ہی مقبوضہ کشمیر سے آئی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ پچھلے 24 سال سے اپنی ماں کا چہرہ نہیں دیکھ سکا تھا۔ اسی دوران گلبہار نے اپنی شلوار کا پائنچا اٹھایا اور اپنی مصنوعی ٹانگ میرے سامنے کردی۔ اداسی اس کے چہرے سے نمایاں ہونے لگی۔ ٹانگ کے مصنوعی حصے کواتار کر گھٹنے سے اوپر تک کٹی ٹانگ دکھاتے ہوئے بولا: ’’ لائن آف کنٹرول کو پار کرتے ہوئے میرا پاؤں بھارتی فوج کی بچھائی بارودی سرنگ پر آگیا تھا۔‘‘


یہ بارودی سرنگیں 1947، ساٹھ و ستر کی دہائی اور معرکہ کارگل کے دوران لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ بچھائی گئی تھیں۔ اکثر و بیشتر شہری اور کسان ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ مون سون کی بارشوں اور بھارتی فوج کے پاس ریکارڈ نہ ہونے کے باعث بہت سی مائنز زمین کے اندر ہی ادھر ادھر سرک کر غائب ہوجاتی ہیں۔ صرف ضلع پونچھ میں 100 بچوں سمیت 550 افراد ان کی وجہ سے لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔
Cluster Munition Monitor Landmine and
کی ایک رپورٹ کے مطابق تنازعے کے آغاز سے اب تک مائنز اور ای آر ڈبلیو یعنی جنگی آتشیں مواد سے 3184 لوگ متاثر ہوئے۔ ان میں 2004ء سے لائن آف کنٹرول کے بھارتی قبضے والے علاقوں میں مرنے والے 1079 افراد بھی شامل ہیں۔
’’نوے کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں ، مَیں وہاں سے فرار ہوا۔‘‘ گلبہار نے ماضی کو کریدتے ہوئے بتایا۔دُکھ اور کرب سے اس کی آواز بمشکل نکل رہی تھی۔
’’ہمارے گروپ میں دس افراد تھے۔ میرے ساتھ میری بیوی اور ایک بچہ بھی تھا۔ دوسرے سات افراد کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔ ہم نے ہر قیمت پر وہاں سے بھاگنا تھا۔ جونہی ہم نے لائن آف کنٹرول پار کی، میرا پاؤں ایک مائن پر آ گیا۔‘‘ گلہبار جو پہلی حالت سے باہر آ چکا تھا، ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پھر گویا ہوا:
’’بھارتی فوج میرا پیچھا کررہی تھی۔ میں گرفتار ہونے سے بچنے کے لئے اِدھر اُدھر چھپتا پھرتا رہا۔ کبھی دوستوں اور کبھی رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیتا ۔ لیکن ہر مرتبہ انہیں میرے قدموں کے نشان مل جاتے۔ آخرکار میں نے محسوس کرلیا کہ اب میرے پاس مقبوضہ کشمیر کو چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ میں اپنی ماں کو بھی الوداع نہ کہہ سکا۔ اسے کچھ خبر نہیں تھی کہ میں کہاں ہوں۔ میں اپنا سر چھپانے کے لئے ہاتھ پیر مار رہا تھا۔ ہمیں لائن آف کنٹرول پر پہنچنے میں دو دن لگے۔ جب میں مائن پھٹنے سے زخمی ہوا تو پاک فوج نے میری دیکھ بھال کی۔ انہوں نے اپنے ہسپتال میں میرا علاج معالجہ کیا اور پھر ہمیں مظفرآباد لے آئے۔‘‘ گلبہار کوئی لیڈر تو نہ تھا۔ اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے 1990ء کے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔
اس کے برعکس سمیر جو ایک لیڈر تھا، اس نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ’’ہمارا جرم صرف اتنا ہے کہ ہم نے حق خودرادیت کے لئے آواز اٹھائی۔ یہ اقوام متحدہ کی قرارداد ہے، یہ ہمارا حق ہے۔ اپنی آزادی کے لئے آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں! یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس وقت، بھارتی فوج ہر گھر پر چھاپے مار رہی ہے، نوجوانوں کو زبردستی گرفتار کررہی ہے، لوگوں کو مار رہی ہے، انہیں جیلوں میں ڈال رہی ہے اور انہیں قتل کر رہی ہے!‘‘


گل بہار نے بتایا: ’’ آپ لیڈر ہیں یا نہیں، بھارتی فوج کے لئے یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہم تحریک کا حصہ تھے اس لیے وہ ہمیں گرفتار کرنے کے لئے آ پہنچے۔‘‘
1987ء کے انتخابات میں بھارتی سرکار کی دھاندلی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں میں، جو آبادی کا 80 فی صد ہیں، غصے کی شدید لہر دوڑ گئی۔ وادی میں احتجاجی مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جسے بھارتی فوج نے بربریت سے کچل دیا۔ 20 جنوری 1990ء کو بھارتی فوج نے سری نگر کے گاوکدل پل پر مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔یہ قتل عام کشمیری تاریخ میں سیاہ ترین باب کے طور پر محفوظ ہے۔


اس سانحے میں زندہ بچ جانے والوں کی داستانیں بڑی درناک ہیں۔ بھارتی فوجی زمین پر گرے زخمیوں کو قتل کر رہے تھے۔ جان بچانے کے لئے پل سے چھلانگ لگانے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پانی نے اپنے دامن میں لے لیا۔ سرکاری اعداد و شمار میں صرف 28 افراد ہی قتل کے زمرے میں لکھے گئے۔ لیکن مختلف ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 50 سے 287 تک تھی۔ اگلے مہینوں میں کشمیر میں غیرملکی ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کردی گئی۔ یہ آئندہ کئی برسوں تک کشمیریوں کے لئے تاریک اور ڈراؤنے خواب کی شروعات تھی۔ چھاپے، زبردستی گرفتاریاں، جبری طور پر لاپتہ اور غائب کرنے کے واقعات، تشدد۔۔۔۔ 1987ء اور 1995 ء کے دوران 76 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے صرف دو فی صد کو سزائیں سنائی گئیں۔ (عالمی کرائسز گروپ رپورٹ 2003
from the Past, Kashmir learning)
ایک نوجوان چائے لے آیا۔ ایک ننھی لڑکی بھی دروازے پر نمودار ہوئی۔ وہ دونوں گلہبار کا بیٹا اور بیٹی تھے۔ اس وقت گلبہار کے چھ بچے ہیں جن میں سے آخری پانچ مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔


آج کل کتنی رقم سے گزراوقات ہورہی ہے؟ اس سوال پر گلہبار بولا: ’’حکومت پاکستان مہاجرین کو ماہانہ 15 سو روپے فی کس گزارہ الاونس دیتی ہے۔ آئی سی آر سی (انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس) کے ساتھ کام کرنے سے قبل میں مصنوعی اعضاء بنایا کرتا تھا لیکن تین سال پہلے یہ منصوبہ اپنے انجام کو پہنچ گیا اور اس وقت میرے پاس کوئی کام نہیں‘‘۔
چہرے کے تیکھے خدوخال والی ایک باوقار بوڑھی عورت کمرے میں داخل ہوئی۔ اُس نے دیوار کے ساتھ بچھے قالین پر بیٹھنے سے قبل میرا بوسہ لیا۔سترسالہ آمینہ، گلبہار کی والدہ ہیں جو دو ہفتے قبل ہی آزاد جموں و کشمیر پہنچی تھیں۔ انہوں نے پہلی بار یہ علاقہ دیکھا تھا۔ ’’24 سال سے میں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس رہی تھی۔ جب بھی پاسپورٹ کے حصول کے لئے جاتی میری درخواست رد کردی جاتی۔ اس انکار کی وجہ صرف یہی تھی کہ متعلقہ حکام جانتے تھے کہ میرا بیٹا دوسری جانب (آزاد جمو ں و کشمیر میں) رہتاہے۔ میں نے بھی ہمت نہ ہاری۔ میں دوسری جگہ منتقل ہوگئی اور نئے پتے سے پاسپورٹ اور ویزے کے لئے درخواست دے ڈالی۔ اس دفعہ مجھے ویزہ مل گیا۔ ’’آپ گلبہار سے کس طرح ملیں؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میں بذریعہ بس واہگہ کے راستے پاکستان پہنچی۔ میں نے فوراً اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔‘‘ وہ بولی۔


گلبہار بولا: ’’ہمارے لئے یہ اتنا بڑا لمحہ تھا کہ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔24 سال بعد‘ گلے ملے تو آنکھیں چھلکنا ایک قدرتی امر تھا۔‘‘
بوڑھی عورت بولی:’’ میرے پاس دو ماہ کا ویزہ ہے‘ لیکن میں ایک ماہ مزید قیام کے لئے درخواست ضرور دوں گی‘‘
تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔‘‘
چھوٹی بچی اپنی دادی ماں کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی جو اسے صرف دو ہفتے قبل ہی ملی تھیں۔
’’آپ کا یہاں مستقل قیام کا ارادہ کیو ں نہیں‘‘؟ میرے سوال پر بوڑھی عورت مسکراتے ہوئے بولی:
’’وہاں جیل میں میرا ایک بیٹا بھی ہے۔ اس کے علاوہ میرے بھائی اور دوسرے رشتہ داربھی ہیں۔۔۔ میں یہاں نہیں رہ سکتی۔‘‘
آمینہ بھی دگر گوں حالات کی چکی سے گزر چکی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا : ’’میں بیوہ ہوں‘ میرے تیسرے بیٹے کو بھارتی فوج نے مار ڈالا۔ زندگی کے چار سال میں نے چھپ چھپ کر گزارے۔ جب حالات ذرا بہتر ہوئے تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا دوسرا بیٹا بھی جیل میں ہے۔ صرف ایک دفعہ میں اسے مل سکی۔ کئی دفعہ مجھ سے پوچھ گچھ کی گئی۔ میرا بیٹا (گلبہار) دوسری طرف (آزاد جمو ں وکشمیر) رہتا تھا! مجھے اپنے پوتے پوتیوں کے بارے میں کوئی خبر نہ تھی۔ اور یہ سب کیونکر ہوا؟ صرف اس لئے کہ ہم نے آزادی کامطالبہ کیا تھا۔‘‘
پوچھ گچھ کے دوران کیا کبھی آپ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔؟


’’میں بیان نہیں کرسکتی۔۔۔ میرے پاس الفاظ نہیں۔۔۔‘‘ گلبہار ماں کے بازؤں کو دکھاتے ہوئے بولا: ’’دیکھئے ان کے بازوؤں کا ایک ٹکڑا لٹک رہا ہے‘ مسل پوری طرح سے الگ ہوچکا ہے۔‘‘
ماں بولی: ’’وہ گلبہار کی جگہ کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔وہ بار بار یہی سوال دہراتے کہ گلبہار کہاں چھپا ہے۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ مجھے اُ س کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ بھارتی فوج کو کسی کا پاس نہیں تھا۔انہوں نے کھڑکیاں توڑ دیں۔ دروازوں کواکھاڑ دیا۔ حتیٰ کہ وہ عمر یا کسی اور چیز کا لحاظ رکھے بغیر بچوں اور عورتوں کو مارتے پیٹتے۔ بھارتی فوج کو ماؤں کی پروا تھی نہ بہنوں کی۔۔۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے ہم سے ایساسلوک روا رکھا کہ جیسے کہ ہم مرد ہوں۔ایک دن وہ ہماری ایک ہمسائی کو گرفتار کرکے لے گئے‘ ہم نے اُسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ یہ 1994-95 کی بات ہے۔ میں دنیا کو یہ بات بتانا چاہتی ہوں کہ جیساہم پاکستان میں محسوس کرتے ہیں‘ کاش ہم دوسری طرف بھی ایسا ہی محسوس کرسکتے! اگرچہ بھارت جمہوریت کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہاں ایسا ہونا ناممکن ہے۔۔۔ ’’صرف آزادی‘‘ اُس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔


’’دی گارڈین‘‘ میں شائع ہونے والی وکی لیکس کی منکشف شدہ رپورٹ کے مطابق2005ء میں آئی سی آر سی نے نئی دہلی میں موجودامریکی سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پابندِ سلاسل کئے جانے والے افراد کے سوچے سمجھے قتل کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ مگر انہوں نے اس سلسلے میں چپ سادھے رکھی۔ گارڈین ہی کے مطابق2001 ء اور2004ء میں آئی سی آر سی کی ٹیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے قید خانوں کا دورہ کیا اور 1296 قیدیوں سے علیحدگی میں ملاقات کی۔ ایسا لگتا تھا کہ171 قیدیوں سے ناروا سلوک کیا گیا جبکہ681کو معلومات اگلوانے کے چکر میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ (ان میں بہت سے کارکن نہ تھے)۔ قتل اور جبری غائب کرنے کے واقعات بھی بہت بڑی تعدادمیں ہیں۔


38سالہ سمیر بھی دل کی بھڑاس نکالنا چاہتا تھا۔ وہ رنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کیمپ میں نہیں رہتا بلکہ ایک جاب کے سلسلے میں شہر میں مقیم ہے۔ اُس نے بتایا کہ ’’میں مہاجرین کی سماجی اعانت کا نائب صدر ہوں یہاں مقیم بہت سے افراد کی طرح میں بھی90 کی دہائی میں یہاں پہنچا۔ اُس وقت میری عمر19 سال تھی۔ میں بھی مقبوضہ جموں وکشمیر سے ہوں۔ میں سری نگرمیں رہتا تھا اور تحریکِ آزادی کے آغاز کے وقت میں سٹوڈنٹ لیڈر تھا۔ اس کے فوراََ بعد بھارتی حکام نے ہمارے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں شروع کردیں۔ تمام رہنماء اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ جب ہم نے پہلے اجتماع کا انعقاد کیا، تو میں وادی کا انتہائی مطلوب شخص بن گیا۔ تین دفعہ میں ان کے ہتھے چڑھتے چڑھتے بچا۔ آخر میں پاکستان (آزاد کشمیر) جانے کے سوامیرے پاس کوئی راستہ نہ بچا تھا۔


وہ انسان نہ تھے، وہ مجھے قتل کردیتے یا پھر تشدد کا نشانہ بناتے۔ ہر روزسڑکوں پر ہمیں پندرہ سے بیس لاشیں ملتیں۔۔۔۔ کیوں؟ ۔۔۔ ’’ ادھر آپ تقریر کریں، ادھر وہ آپ کا نام نوٹ کرلیتے۔ وہ ہم سب کو جانتے تھے، گرفتار کرلیتے ، پہاڑوں پر لے جا کر قتل کردیتے اور لاش سڑک پر پھینک دیتے۔‘‘
’’ یہ تمام ہتھکنڈے ہمارا راستہ تو نہ روک سکے البتہ ہمارے دلوں میں بھارتی فوج کے خلاف مزید نفرت اور حق خودارادیت کے لئے لڑ مرنے کے ہمارے جذبے میں اضافے کا باعث ضرور بنے۔ ہم اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ہمارے گھر بار تباہ کردیئے، ہماری خواتین سے بدسلوکی کی اور ہمیں قتل کررہے ہیں۔۔۔ ظلم و بربریت نے ہمارے جذبوں کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پچیس سال سے ہم جدوجہد کررہے ہیں، اگر ہم اپنی منزل حاصل نہ کرسکے، تو ہمارے بچے ہمارے مشن کو جاری رکھیں گے۔ ہمارے خاندانوں پر انہوں نے جو ظلم و ستم ڈھایا ہے۔ اسے ہم بھلا نہ پائیں گے اور نہ انہیں معاف کریں گے۔ ‘‘


’’پاکستان کے لوگوں نے گرمجوشی سے ہمیں گلے لگایا۔ جب گلہبار بارودی سرنگ سے زخمی ہوا، پاک فوج نے اپنے ہسپتال میں اچھی طرح اس کی دیکھ بھال کی۔ ایک مرتبہ پھر میں پاکستان کے لوگوں، پاکستان آرمی اور ہماری فلاح و بہبود اور بحالی کے لئے کام کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میرے بچے حکومت پاکستان کے تعمیر کردہ سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ہم وہاں ماہانہ صرف سو روپے کی علامتی فیس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے بچوں کی فیس پانچ ہزار روپے ہے۔ تدریس کا معیار نہایت عمدہ ہے۔ ‘‘
’’بھارت میں ہندوؤں اور مسلمانوں سے یکساں سلوک رواں نہیں رکھا جاتا اور دنیا بھر میں جمہوریت کا دوسرا چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ لیڈرز اپنے وعدے پورے نہیں کرتے، ہمارے حق خودارادیت پر اقوام متحدہ اپنی ہی قرارداد پر عملدرآمد نہیں کروا سکی ہے۔ وہ معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں۔ یہ دہشت گردی ہے! ہم یہاں (آزاد کشمیرمیں) آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں، یہی ہم چاہتے ہیں۔ کوئی ہمارا تعاقب نہیں کرتا۔ ہم آزاد ہیں!‘‘


میں نے مظفر آباد کے دوسرے کیمپوں میں بھی اسی طرح کی داستانیں سنیں۔ کسی کی بہن کھو گئی، کسی کابھائی یا ماں نہ ملی۔ کسی کا باپ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جیسا کہ 33 سالہ یاسمین کے والد کے ساتھ ہوا۔ 90 کی دہائی میں اس نے اپنے والدین کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر سے آزاد کشمیر کے لئے رخت سفر باندھا۔ اُس نے بتایا: ’’ہم سری نگر کے قریب رہتے تھے۔ میرے والد ٹیلر ماسٹر تھے۔ بھارتی فوج نے میرے والد اور بھائیوں کو گرفتار کر لیا اور کئی روز تک ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔ ہم شام کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ ہم نے سکول بھی اس وجہ سے چھوڑ دیا کیونکہ ہمارے والدین کو ڈر تھا کہ کہیں بھارتی فوج ہمیں پکڑ کر لاپتہ نہ کردے۔ایک رات، ہمیں ہنگامی طور پر اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہ تھا حتی کہ سویٹر بھی نہ پہن سکے۔ ہمیں پتہ چلا تھا کہ بھارتی فوج ہمارے گھر پر ریڈ کی تیاری کررہی ہے۔ اس وقت میں سات سال کی تھی۔ ہم دو دن پیدل چلتے رہے۔ جب ہم کنٹرول لائن کی دوسری طرف اٹھمقام پہنچے، ایک خاندان نے ہمیں گلے لگایا۔ ہم نے وہاں ایک سال تک قیام کیا۔ دوسری طرف سے بھارتی فوج مسلسل فائرنگ کرتی رہتی۔ ایک روز ایک شیل میرے والد کو لگا اور وہ شہید ہوگئے۔‘‘
گلبہار اور اُس کے خاندان سے باتیں تو اتنی سنسنی خیز اور دلچسپ تھیں کہ مجھے احساس تک نہ رہا کہ رات کافی ڈھل چکی ہے۔ اُٹھ کر باہر دیکھا تو نیچے وادی اور سامنے پہاڑوں پر روشنی کے قمقمے جگمگا رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہزاروں ستارے آسمان پر چمک رہے ہوں۔ آج یہ بات سچ ثابت ہو رہی تھی کہ کشمیر کرۂ ارض کی خوبصورت وادیوں میں سے ایک وادی ہے گویا جنتِ ارضی ہے۔


افسوس! یہ تنازعہ اب تک90 ہزار انسانی جانیں لے چکا ہے۔ اَن گنت انسانی حقوق پامال ہوچکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور بے شمار مسلمانوں کا کوئی اتا پتا نہیں اُن کو آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی۔ کوئی نہیں جانتا۔ اے پی ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق آٹھ سے 10 ہزار نفوس صرف 1989ء تا2016ء کی دہائیوں میں غائب ہوئے کشمیریوں میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی تھی۔ حالیہ برسوں میں گوکہ صورتِ حال بہترہوئی ہے لیکن بھارتی افواج کے مسلسل حملوں نے بے چارے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اس سے قبل یہاں 300 کے لگ بھگ عقوبت خانے تھے۔ ان میں 13تو رسوائے زمانہ تھے جنہیں اب دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ کشمیری نوجوانوں پر یہاں کس طرح کا انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ سُن کر روح کانپ اُٹھتی ہے۔ ان عقوبت خانوں کے نام یکے بعد دیگرے ’’کارگو، پاپا2-اورہری نارا‘‘ بتائے جاتے ہیں۔ ’’کارگو‘‘ تو سائبر پولیس سٹیشن میں بدل دیا گیا ہے۔’’پاپا2-‘‘ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر کی سرکاری رہائش گاہ میں انسانیت سوز مظالم کی داستانیں رقم کررہا ہے۔2003ء سے لے کر اب تک نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان فائر بندی پر عمل کیا جارہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں سات اضلاع ایسے ہیں جو مستقل کرفیو کی زد میں ہیں۔


2005 ء میں دوستی بس کا آغاز ہوا جس نے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملانا شروع کیا۔ یہ ہفتے میں ایک دفعہ پیر کے روز چکوٹھی کے راستے مظفرآباد اور سری نگر آتی جاتی ہے۔ لیکن اس میں صرف وہی مسافر سفر کرسکتے ہیں جن کے خاندان 1947ء‘1965ء اور1971ء کی جنگوں کے دوران بچھڑ گئے تھے۔ اس کے علاوہ خاندانوں کو اول تو بھارتی سرکار پاسپورٹ اور ویزہ ہی نہیں دیتی ۔ اگر چار و ناچار مل جائے تو کشمیر بس کی بجائے اُنہیں واہگہ کے راستے امرتسر سے لاہور کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
اب بھی وادیِ کشمیر بہت بڑی خوفناک جگہ ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی فوج کشی کی گئی ہے۔ سات لاکھ باقاعدہ اور پیرا ملٹری افواج صرف ایک چھوٹی سی مقبوضہ وادی میں‘ حد ہے ! ابھی حال ہی میں فروری 2016 ء کے وسط میں بھارتی فوج نے دو کشمیری طالب علموں کو مظاہرے کے دوران قتل کردیا۔ ان میں22 سالہ دوشیزہ شائستہ حمید اور19 سالہ دانش فاروق میر شامل تھے۔ شائستہ حمید تو مظاہرے میں شریک بھی نہیں تھی۔ وہ اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑی تھی کہ اچانک اُسے گولی آن لگی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگئی۔ پوری مقبوضہ وادی میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اُن کے جنازے میں ہزاروں کشمیریوں نے شرکت کی۔ بھارتی فوج نے اس کا جواب کرفیو کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کے ساتھ دیا۔
ہر سال 5 فروری کو پاکستان یومِ یکجہتی کشمیر مناتا ہے۔ جسے مختصراً یومِ کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کو ہر طرح کی عالمی و سفارتی سطح پر اُجاگر کیا جائے گا۔ نواز شریف کے مشیرِ امورِ خارجہ نے بھی اقوامِ عالم پر زور دیا کہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔


اب تک ہزاروں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ چکے ہیں۔ آج جب کہ یہ رپورٹ شائع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر پچھلے 50 دن سے ایک بار پھر سخت ترین دباؤ میں ہے۔ اس کی وجہ سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے انتہائی مقبول نوجوان رہنما برہان وانی کی شہادت ہے۔17 اگست تک بھارتی بربریت66 افراد کی جان لے چکی ہے۔4500 نہتے شہری زخمی ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں‘ بھارتی فوج ایسی رائفلوں اور گولیوں کا استعمال کررہی ہے۔ جس کے چھرے آنکھوں اورچہرے میں پیوست ہو کر مستقل اندھا کر دیتے ہیں۔

مضمون نگار نے فرنچ یونیورسٹی پیرس سے پی ایچ ڈی کی۔ وہ گزشتہ 16برس سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور

Societe Asiatique

کی ممبر بھی ہیں۔
 

رکھنا پاکستان سلامت


رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!
پاک وطن کی شان سلامت یااللہ

سندھ، خیبر، پنجاب رہے مہران آباد
تیرے کرم سے گلگت بلتستان آباد
دھرتی کی پہچان سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!

دیس کے شہروں قصبوں صحراؤں کی خیر
اِس کے پہاڑوں ، وادیوں ، دریاؤں کی خیر
گلشن کی ہر آن سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ

مٹّی سونا کرنے والے شاد رہیں
محنت کش مزدُور سدا آباد رہیں
رکھ میرے دہقان سلامت یااللہ
پاک وطن کی شان سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ

 

ڈاکٹر اختر شمار

اب تک ہزاروں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ چکے ہیں۔ آج جب کہ یہ رپورٹ شائع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر پچھلے 50 دن سے ایک بار پھر سخت ترین دباؤ میں ہے۔ اس کی وجہ بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے انتہائی مقبول نوجوان رہنما برہان وانی کی شہادت ہے۔17 اگست تک بھارتی بربریت66 افراد کی جان لے چکی ہے۔4500 نہتے شہری زخمی ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں‘ بھارتی فوج ایسی رائفلوں اور گولیوں کا استعمال کررہی ہے۔ جس کے چھرے آنکھوں اورچہرے میں پیوست ہو کر مستقل اندھا کر دیتے ہیں۔

*****

تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔

*****

بھارتی فوج کو کسی کا پاس نہیں تھا۔انہوں نے کھڑکیاں توڑ دیں۔ دروازوں کواکھاڑ دیا۔ حتیٰ کہ وہ عمر یا کسی اور چیز کا لحاظ رکھے بغیر بچوں اور عورتوں کو مارتے پیٹتے۔ بھارتی فوج کو ماؤں کی پروا تھی نہ بہنوں کی۔۔۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے ہم سے ایساسلوک روا رکھا کہ جیسے کہ ہم مرد ہوں۔ایک دن وہ ہماری ایک ہمسائی کو گرفتار کرکے لے گئے‘ ہم نے اُسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔

*****

’’پاکستان کے لوگوں نے گرمجوشی سے ہمیں گلے لگایا۔ جب گلہبار بارودی سرنگ سے زخمی ہوا، پاک فوج نے اپنے ہسپتال میں اچھی طرح اس کی دیکھ بھال کی۔ ایک مرتبہ پھر میں پاکستان کے لوگوں، پاکستان آرمی اور ہماری فلاح و بہبود اور بحالی کے لئے کام کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میرے بچے حکومت پاکستان کے تعمیر کردہ سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ہم وہاں ماہانہ صرف سو روپے کی علامتی فیس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے بچوں کی فیس پانچ ہزار روپے ہے۔ تدریس کا معیار نہایت عمدہ ہے۔‘‘

*****

’’ یہ تمام ہتھکنڈے ہمارا راستہ تو نہ روک سکے البتہ ہمارے دلوں میں بھارتی فوج کے خلاف مزید نفرت اور حق خودارادیت کے لئے لڑ مرنے کے ہمارے جذبے میں اضافے کا باعث ضرور بنے۔ ہم اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ہمارے گھر بار تباہ کردیئے، ہماری خواتین سے بدسلوکی کی اور ہمیں قتل کررہے ہیں۔۔۔ ظلم و بربریت نے ہمارے جذبوں کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پچیس سال سے ہم جدوجہد کررہے ہیں، اگر ہم اپنی منزل حاصل نہ کرسکے، تو ہمارے بچے ہمارے مشن کو جاری رکھیں گے۔ ہمارے خاندانوں پر انہوں نے جو ظلم و ستم ڈھایا ہے۔ اسے ہم بھلا نہ پائیں گے اور نہ انہیں معاف کریں گے۔‘‘

*****

تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔‘‘

*****

اس سانحے میں زندہ بچ جانے والوں کی داستانیں بڑی درناک ہیں۔ بھارتی فوجی زمین پر گرے زخمیوں کو قتل کر رہے تھے۔ جان بچانے کے لئے پل سے چھلانگ لگانے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پانی نے اپنے دامن میں لے لیا۔ سرکاری اعداد و شمار میں صرف 28 افراد ہی قتل کے زمرے میں لکھے گئے۔ لیکن مختلف ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 50 سے 287 تک تھی۔ اگلے مہینوں میں کشمیر میں غیرملکی ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کردی گئی۔

*****

 

Follow Us On Twitter