13
March

دہشت گردی کی نئی لہر

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: سمیع اللہ خان

دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے کاثبوت بھی ہے۔ 2015-16 کے دوران ضرب عضب سے دہشت گردی میں 70فیصدکمی واقع ہوئی۔ اس سے قبل 2007اور 2009 میں سوات آپریشن اور 2011-12میں جنوبی وزیرستان آپریشن کے ذریعے بھی ان کی سرکوبی کی گئی۔ محدودوسائل‘ ازلی دشمن کی موجودگی‘ معاشی ناہمواریوں سمیت عالمی استعمارکی آنکھ میں کھٹکتے سی پیک منصوبے پردجالی قوتوں کے ناپاک عزائم سمیت ہرمشکل پر پاکستان کی بہادر افواج نے خوش اسلوبی سے قابو پایااوردیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں امن کی بحالی نظر آنے لگی۔ مگرہرسوپھیلی امن کی خوشبوانسانیت کے دشمنوں کونہ بھائی اورانہوں نے چیئرنگ کراسنگ لاہور‘کوئٹہ ‘مہمندایجنسی ‘ پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان آواران‘ چارسدہ اور سیہون شریف جیسے مقامات کو اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھا کر معصوم جانوں کے لہوسے ایسی ہولی کھیلی کہ انسانیت خون کے آنسورونے لگی۔ 5 دنوں میں ہونے والے ان 8واقعات میں سوسے زائد پاکستانی شہید ہوئے مگر پاکستانی باہمت ہیں۔ وہ جوابی وار بھی کریں گے اور جیت کر بھی دکھائیں گے۔
ٹونی موریسن امریکن ناول نگارہیں۔ ان کے ناول
Beloved
میں ایک کردار بے بی سگزکاہے جوسفید چمڑی والے جابروں کے خلاف اپنے ہم نسل کالوں کو اس بات پراکساتی ہے کہ وہ ان کے ظلم کا مسکراکرجواب دیں ۔ان کامسکرانا درحقیقت غاصبوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہوتاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دھماکے کے دوسرے روز شہباز قلندرکے عقیدت مندوں کادھمال
laughter as a resistance
ہے ۔جواس بات کابین ثبوت ہے کہ اس قوم کا مورال بلند ہے۔ گیارہویں صدی کا قلندرخود ہی فرماگیا


تو آں قتل کہ از بہر تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِخنجرِخوں خوارمی رقصم
(تم وہ قاتل ہو کہ محض تماشارچانے کو میراخون بہاتے ہو اورمیں وہ بسمل ہوں کہ خنجرِ خوں خوار تلے بے نیازی سے رقص کرتاہوں)

 

dehshatgerdikinai.jpgدہشت گردی کی اس نئی لہرکے تانے بانے جوڑنے کے لئے اگر واقعات کی کڑیاں ملائی جائیں توحقیقت کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ ان بہیمانہ کارروائیوں کے پیچھے کون سے بے حس ہاتھ کارفرماہیں۔ اتوارکوکراچی میں میڈیاکارکن کی شہادت کے بعد تیرہ فروری کو مال روڈ پر دھماکہ کیا گیا۔ اسی دن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ذریعے دوپولیس اہلکاروں کی شہادت اوراس کے کچھ ہی دیربعد بھمبرسیکٹرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ سے تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ دشمن کس قدرمنظم انداز میں پاکستان کے جسم کوایذاء پہنچارہاہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی مداخلت کے جوثبوت امریکہ اور اقوام متحدہ کو دیئے گئے تھے‘ ان پرتاحال کوئی تسلی بخش ایکشن نہیں لیا گیا جس کامطلب بھارت سمجھ گیا ہے ۔


مقبوضہ کشمیرمیں جاری اندرونی عوامی تحریک سے دلبرداشتہ بھارتی آرمی چیف کا بے بسی سے اسے اندرونی شورش تسلیم کرنا‘ پاک چائنا اکنامک کاریڈورہرحال میں سبوتاژکرنے کے بھارتی ممبران اسمبلی کے تابڑتوڑ بیانات‘ اپنے طفیلی ممالک سے پاکستان کے خلاف زہراگلوانے کی حالیہ بھارتی پالیسی یہ سب ثابت کررہے ہیں کہ دشمن فائنل راؤنڈکھیلناچاہتاہے۔ اس کے تمام ترارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی تمام تر کوششیں فزوں ترکرناہوں گی۔ پولیس‘ سی ٹی ڈی‘ سپیشل فورس اور نیکٹاکو ازسرنوتشکیل دینا ہو گا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکوریٹنگ کے چکرسے نکل کرعوام کو آگاہی دیناہوگی۔


لاہورسانحہ میں ڈی آئی جی مبین احمداورایس ایس پی زاہد گوندل سمیت پندرہ افراد شہید ہوئے۔ان افسران کی شجاعت اوربہادری نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔پنجاب حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان کا نیٹ ورک تلاش کیابلکہ سہولت کار انوارالحق کوبھی گرفتارکرلیاجس کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جبکہ حملہ آور کا تعلق افغانستان کے علاقہ کنٹر سے ہے ۔ اسی طرح پشاورکے حیات آباد کے حملہ آور کی ملافضل اللہ کے ساتھ تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔ جمعرات کوسیہون شریف میں لعل شہباز قلند رکے دربار پر خود کش حملے میں 88 افراد کی شہادت ہوئی اور343زخمی ہوئے۔دھماکے میں مسلمانوں سمیت 3 ہندو بھی چل بسے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی صوفی درگاہیں ہر مذہب کے پیروکاروں کوروحانی تسکین پہنچاتی ہیں اور یہ بھی کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتاوہ بغیرکسی تمیزکے حملہ کرتے ہیں۔ اس قدر شدید نقصان کاازالہ توممکن نہیں لیکن اس سانحۂ عظیم نے قوم کے حوصلے مزید بلند کر دیئے ہیں اوروہ فوری اوربے رحم کارروائی کے متمنی دکھائی دے رہے ہیں ۔


پاکستان میں زیادہ تردہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور انڈس ہائی وے کااستعمال کرتے ہوئے دوسرے علاقوں تک پہنچتے ہیں ۔یہی انڈس ہائی وے اندرون سندھ سے گزرتی ہے ۔
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا ایک دھڑا جماعت الاحرارملوث ہے جوکہ ببانگ دہل اپنی مذموم کارروائیوں کا اعتراف کررہاہے ۔اس کی لیڈرشپ افغانستان میں موجودہے ۔اسے پاکستان میں لشکرجھنگوی کی اعانت حاصل ہے اور کچھ حصہ داعش سے بھی مددلیتاہے جبکہ دوسری جانب اس کی کڑیاں تحریک طالبان افغانستان تک بھی جاتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ داعش کاپھیلتاہوانیٹ ورک الاحرارکی دیدہ دلیری اور ہمسایہ ملک کی ریشہ دوانی ہمیں اس بات پر مجبورکررہی ہے کہ ہم افغانستان کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوارکریں اوراس کے ساتھ ساتھ عالمی استعمارکی شطرنج کی بازی اوردورُخے پن سے بھی خبرداررہیں۔ لیکن ہمیں ایک قومی بیانیہ اپنانے کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔راقم گزشتہ برس کے دوران مختلف مقامات پر دینی وعصری علوم کی درسگاہوں کے طلباء سے دہشت گردی کے موضوع پر گفتگو کرتا رہا ہے۔ ان میں سے بیشترایسے تھے جو ٹی ٹی پی کو تو غلط قراردے رہے تھے لیکن شام‘ عراق اوردیگرمسلم ممالک میں متحرک عسکری گروہوں کودبے لفظوں میں حق بجانب قرار دے رہے تھے۔ان کے ذہنوں سے ابہام دورکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ریاست کی حفاظت کرنی ہے یامسلم امہ کی ؟مسلم امہ کی حفاظت سرحدوں کی محتاج نہیں اوریہی وہ بیانیہ ہے جس کی بنیاد پر نجی عسکری گروہ معاشی‘ اخلاقی وافرادی قوت حاصل کرتے ہیں ۔جب تک ہم اس بیانیے کامتبادل قومی بیانیہ دین میں تلاش نہیں کرلیتے ان گروہوں کوشعوری و لاشعوری مدد ملتی رہے گی۔ دوسرے، پاکستان میں کچھ مسلم ممالک فرقہ واریت کی بنیاد پر اپنی اپنی پراکسی وارلڑ رہے ہیں ۔ اس کاسدباب مذہبی لٹریچر کی کڑی نگرانی اور مدارس کا ایک نصاب بنا کر کی جاسکتی ہے۔ہمیں سخت ایکشن لیتے ہوئے فقہ کی کتابوں میں سے کسی بھی مذہبی گروہ کی اکابرہستیوں کے خلاف نازیباالفاظ کو کتاب بدر کرنا ہو گا۔ مساجدمیں سرکاری خطیب ومؤذن کی تقرری سمیت تعلیمی اداروں میں ایسی فضا قائم کرنا ازحدضروری ہے جس سے انتہاپسندی کے ناسورکوپنپنے کی جگہ نہ ملے۔


پاکستان آرمی چیف قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ ہم خون کے ایک ایک قطرے کاحساب لیں گے ۔انہوں نے افغانستان میں موجودریزولیوٹ سپورٹ مشن
(Resolute Support Mission)
کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن کوپاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کاکہناہے کہ افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیومیں طلب کرکے ان 76دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جو پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ انھیں واضح اور دوٹوک اندازمیں کہا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں وگرنہ پاکستان خود کارروائی کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں مجرموں کے باہمی تبادلے پرمستقل قانون سازی کی جائے تاکہ اس عفریت کے پنپنے کے تمام راستے ہمیشہ کے لئے مسدودکئے جاسکیں۔


افغانستان کی اسمبلی ہم آواز ہوکرپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے۔ یہ صرف سابق صدرحامدکرزئی اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ کی ہی پالیسی نہیں بلکہ اس میں بھارت کی ایک عشرے کی چانکیانہ پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ پاکستان 2004کے بعد افغانستان کی تمام تر پالیسی امریکہ پر چھوڑ کربے نیازہوگیامگربھارت نے اپنااثرورسوخ بڑھاناشروع کردیا۔ویزہ پالیسی میں نرمی کی افغان طالب علموں کو اپنی جامعات میں جگہ دینے کے ساتھ ساتھ افغان کابینہ کے اخراجات برداشت کرنے کا بِیڑا بھی اٹھایااوراس طرح پاکستان مخالف کابینہ اورپالیسی کی تشکیل میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا۔


جبکہ دوسری جانب پاکستان کی مسلسل پکارکے باوجود افغانستان نے ٹی ٹی پی کے گروہوں کے خلاف ایکشن نہیں لیاکیونکہ وہ چانکیانہ دلدل میں دھنستے جارہے تھے اورپاکستان بھی طالبان اورافغان حکومت کے درمیان متوازن پالیسی پر کاربند رہنے پرمجبورتھا۔پاکستان اورافغانستان کے مابین 124برس پہلے کی کھینچی گئی ڈیورنڈلائن پربارڈرسیفٹی مینجمنٹ کے نام سے پابندیوں نے دوریوں میں مزید اضافہ کیا لیکن پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہ تھا کیونکہ افغان حکومت مسلسل بے نیازی برت رہی تھی۔ 2014میں بھی پاکستان نے افغانستان کو کمیونیکیشن ٹاورزکی معلومات شیئرکرنے کی درخواست کی لیکن اس پر بھی تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ افغانستان اس ضمن میں ہاتھ بڑھائے تاکہ دونوں ممالک میں امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ ہردوممالک کاامن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ افغان مہاجرین کی نقل وحمل کی کڑی نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس میں موجود را کے ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔

 

اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔


عالمی منظرنامے پرنظردوڑائی جائے تو ماضی قریب میں افغانستان اورپاکستان سمیت اس خطے میں بلیک واٹرنامی امریکن تنظیم کے ہزاروں کارکن امریکن مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گئے۔اس تنظیم کے مالک ایرک پرنس جسے جیرمی سکاہل جیسے لکھاری جنونی عیسائی کہتے ہیں اس وقت ڈونلڈٹرمپ کابینہ کی تشکیل میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔ ان کی بہن وزیرتعلیم جیسااہم عہدہ پر فائز ہیں۔اس سارے منظرنامے میں جہاں امریکہ میں سچ اورجھوٹ کے درمیان لکیرواضح ہوتی جارہی ہے وہیں ٹرمپ کی داعش کے خلاف شام اورعراق میں کارروائیاں اسے افغانستان اور پاکستان کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔ اس باراستعماری قوتیں پاکستان کے محروم وپسماندہ طبقات کواپناآلہ کاربناتے ہوئے لسانی وعلاقائی تعصبات سے بھی افرادی قوت حاصل کرسکتی ہیں۔ ہمیں ہرحال میں نیکٹاکوفعال کرناہوگا۔وزیراعظم کو اس کے باقاعدگی سے اجلاس بلاکرکارکردگی کوبہتربنانے کے لئے مثبت جامع اور دیرپالائحہ عمل تشکیل دیناہوگا۔


اگر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تو سندھ وپنجاب سمیت پورے ملک میں اس کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے ۔ کوئی ایسا دن نہیں جب اس نے کارروائی نہ کی ہو۔ مرکزی حکومت نے صوبائی سطح پرسویلین کاؤنٹر ٹیررازم فورس بنائی ہے جو آٹھ ہزارنفوس پرمشتمل ہے۔سی ٹی ڈی نے بروزجمعہ پنجاب کے شہرسرگودھامیں دودہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔ اسی طرح کراچی میں دہشت گردوں کوپکڑ کربڑی مقدارمیں اسلحہ برآمدکیا۔ ہفتہ کے روزلیہ میں الاحرارگروپ کے پانچ دہشت گردوں کوہلاک کرکے اسلحہ برآمدکیاگیا۔


اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔ فوجی عدالتوں کو ایکسٹینشن دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں ججز کے لئے سکیورٹی کا انتظام اوراس سسٹم میں مزید بہتری کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اپناناہوگی تاکہ آنے والی حکومتوں کو ان عارضی عدالتوں کے سہارے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
فاٹاکوکے پی کے میں ضم کئے بغیرچارہ نہیں ۔ہم کب تک 27ہزارمربع کلومیٹرکے اس علاقے کو انگریز حکومت کی طرح چلائیں گے جس کی ایک کروڑ قبائلی آبادی پاکستان سے والہانہ محبت کرتی ہے ۔ہمیں فاٹامیں عصری علوم کو اس قدرعام کرناہوگاکہ دنیاکی رائے اس کے متعلق بدل جائے اورکوئی بش، کوئی مائیکل ہیڈن (سابق ڈائریکٹرسی آئی اے)یامائیک مولن اس خطے کے متعلق ہرزہ سرائی نہ کرسکے۔


جمعے کے روز پاکستان نے افغانستان میں پہلی کارروائی کرتے ہوئے مہمند اور خیبرایجنسی کے دوسری طرف بنائے گئے الاحرارگروپ کے تربیتی مرکزسمیت چار کیمپوں کو نشانہ بنایاجس میں متعدد دہشت گردمارے گئے۔جماعت الاحرارکے ڈپٹی کمانڈرعادل باچہ کے کیمپ پربھی ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔ اندرون ملک کارروائی کرتے ہوئے سوسے زائد دہشت گردوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی طرح ہفتے کے روز کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے خودکش بمباروں کے تربیت کار رحمان باباسمیت بیس کے قریب دہشت گردافغانستان کی سرحدمیں ہلاک کردیئے۔ افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر ابرارحسین کو طلب کرکے کنٹراورننگرہارمیں ہونے والے حملے پر تشویش کااظہارکیاجسے پاکستانی سفیرابرارحسین نے مستردکرتے ہوئے پاکستانی موقف کومدلل اندازمیں پیش کیا کہ کس طرح علاقائی مفاد کی خاطرایک شرپسند ملک پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال کررہاہے۔افغان نائب وزیرخارجہ نے پاکستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے طورخم اورچمن سے پاک افغان سرحدکھولنے کے ساتھ ساتھ150 افغان باشندوں کی رہائی کامطالبہ بھی کیا۔ یاد رہے ہفتے کی رات کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے 330 مشتبہ افراد کوگرفتارکیاتھا جن میں غیرملکی بھی شامل ہیں ۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی


نیٹوکے ترجمان نے پاک افغان کشیدگی پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اس کے مناسب حل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔امریکی دفترخارجہ کے قائم مقام ترجمان مارک ٹونرنے بھی دہشت گردی سے ہونے والے پاکستانی نقصانات پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔


آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی ۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں افواج اور ملک کی عوام مل کر لڑاکرتے ہیں اورجس ملک کی عوام میں غیورباہمت اوردادشجاعت دینے والے افراد، سپاہی اور افسرموجود ہوں وہ کبھی بھی دہشت گردوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکتی۔ دہشت گردی کی حالیہ لہران بچے کچھے دہشت گردوں کی موت ثابت ہورہی ہے جو اپنی بلوں میں گھسے ہوئے تھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
March

Pak-China Friendship – A Regional Balancer for Global Peace

Written By: Dr. Mirwais Kasi

Pakistan-China friendship hardly finds a parallel in modern international relations as it is based on mutual respect, mutual advantages and equality and it has the potential to maximize the advantages for regional countries. Pakistan-China relation has displayed durability which has adjusted itself according to changing regional and international scenarios. This bilateral relationship has undoubtedly emerged as a very strong friendship which serves as an exceptional example for the rest of peace loving nations.

Pakistan and China enjoy time-honoured and time-tested friendship which has often been termed as “higher than the mountains and deeper than the oceans".Pakistan-China relations, though bilateral, yet offer opportunities for regional and international peace. Whether it is South Asia, Central Asia, the Middle East, North Africa or other contiguous regions, Pak-China relations in some way promote peace, prosperity and stability. In this context, the Central Asian Republics (CARs) are also attracted towards Pakistan-China partnership for obvious advantages. Pakistan-China alliance and its positive effects on Central Asian States are determined by their security needs, economic advantages, and their desire to serve as the energy corridor. This approach of mutual cooperation also strengthens the peace prospects in the entire region. Pakistan gave enhanced focus to relations with CARs in the early 1990s. Pakistan shared history, religion and ethnic affinities with these countries. Further, Pakistan also offered a natural trade route for Central Asian states to reach out the world markets; thus lower their trade and economic dependence on Russia. Pakistan also developed institutionalized arrangements to promote cooperation in the economic and commercial fields. Similarly, after disintegration of the erstwhile Soviet Union, CARs also got a pivotal position in the region. Therefore in the fall of 1992, the Economic Cooperation Organization (ECO) expanded and Kyrgyzstan, Tajikistan, Turkmenistan, Afghanistan, Kazakhstan, Uzbekistan and Azerbaijan were included as seven new members of ECO. Member states set the common objective of establishing a single market for goods and services. The ECO states have great potential for promotion of regional trade and economic development, which is yet to be exploited. Through the ECO, many schemes and projects for intra-regional cooperation are rapidly emerging. Although, currently ECO is not a customs union nor common marketplace or a close economic bloc, but with the passage of time there is a possibility for the ECO – which is basically an economic association of regional countries – to assume a political responsibility on geopolitical canvas. In any such case the growing collaborations and understanding between Pakistan, China and CARs from the forum of ECO will improve in scope and significance towards regional peace and stability.


On the other hand, the sudden disintegration of the USSR presented both challenges and opportunities for China. One of the landmarks of Chinese foreign policy is that it has been peacefully dealing with all the challenges to explore new opportunities in the Central Asian region. China not only peacefully resolved its border disputes with Central Asian countries, but it also initiated economic relations with them. Central Asia has rapidly turned into a raw material supplier for China, while China on the other hand has emerged as a supplier of finished product in the shape of machinery, chemicals and hi-tech equipment for CARs. Several free economic zones have been established for promotion of trade activities between the two sides aiming at mutual advantages. China has been assisting various Central Asian Republics in exploration of oil and gas resources and has been involved in the construction of several oil and gas pipelines connecting different channels. Beijing is also trying to expand its military cooperation with CARs, particularly, with its two immediate neighbours, Kyrgyzstan and Tajikistan. In addition, Shanghai Five forum – predecessor of the Shanghai Cooperation Organization (SCO), also played a significant role in bringing China closer to the CARs and leading them towards similarity of opinions and interests on a wide range of areas aiming to explore common interests. With the rise in non-traditional threats and vulnerability of CARs to these non-state actors, the security agenda of the Shanghai Five gradually began to expand.

 

Pakistan in this regard, through Gwadar Port and the CPEC, will play the role of bridge and the shortest link between China and African states. Also due to its Islamic ideological identity and OIC forum Pakistan wins the goodwill of many Muslim African stakeholders. Pakistan and China have thus gained valuable diplomatic support of African nations to defend their international interests.

Pakistan-China friendship has also played a positive and constructive role for Central Asian States. In 1995, Quadrilateral Agreement for Traffic in Transit; a transit trade agreement was signed between Pakistan, China, Kyrgyzstan and Kazakhstan. Later, Tajikistan also became a signatory of this transit trade agreement, which stipulates effective utilization of the Karakoram Highway (KKH) for trade between Pakistan and SCO member states via Kashgar. Although the agreement is still going through a transitional phase but in years to come its scope and significance will be expanded and it will attract more countries towards it. Furthermore, Pakistan’s entry into the SCO has a positive impact not only on Pakistan-China relations and CARs, but Pakistan-Russia relations as well. The SCO has been merging the interests of all these actors on regional and international level at a great pace and has been leading towards the rise of a new military, economic and resource-rich region in the world.


Similarly, China has provided all-out assistance for the development of Gwadar deep sea port in Pakistan and due to its strategic location, Gwadar has the potential to become a gateway to Central Asia and Xinjiang. Similarly, through a road network Pakistan-China will also offer outlets to Russia towards warm waters as well. Through KKH even Iran can access China via land route from Pakistan, and, CPEC also provides an opportunity to India for access to Afghanistan, CARs and Iran via Pakistan. Pakistan and China have been working on up-gradation of KKH realizing its importance. The up-gradation of the KKH is a Pakistan-China initiative to generate north-south and east-west economic corridors. Pakistan and China's commitment to establish an economic corridor gained momentum after Chinese President's visit to Pakistan in 2015 which assured Chinese heavy investment for CPEC having the potential to achieve regional connectivity objectives.

 

The smaller states of South Asia have seen some real Indian interference and military quests since 1947. India is the only South Asian state which has fought the most wars with its neighbours. Besides that India has also been involved in water sharing conflicts with three important states of South Asia namely; Pakistan, Bangladesh and Nepal. In addition, India not only nuclearized South Asia, but also promoted nuclear and missile race in the region.

Pakistan-China relationship also plays an important role in South-Asia, although India enjoys a little better position in the region due to its size, population and political clout. However, though India has failed to convince the South Asian neighbours to take India as an opportunity rather than a grave threat. India is seen as a problematic entity by most South Asian states and as an irritant and an unbalancing actor in South Asia because of hegemonic Indian objectives in the region. The smaller states of South Asia have seen some real Indian interference and military quests since 1947. India is the only South Asian state which has fought the most wars with its neighbours. Besides that India has also been involved in water sharing conflicts with three important states of South Asia namely; Pakistan, Bangladesh and Nepal. In addition, India not only nuclearized South Asia, but also promoted nuclear and missile race in the region. Pakistan-China relationship became a positive balancing factor in South Asia. Even sane indian voices admit the positive balancing effect of Pak-China collaboration on the region. It has helped in maintaing nuclear balance and thus minimized conventional arms race. Such developments changed the aggressive nature of India towards its small South Asian neighbours. Since the border agreement was made between Pakistan and China the situation in Kashmir got a bit complex for India. As China became a stakeholder, it shattered the Indian dreams of gaining control over the whole of Kashmir against the will of Kashmiri masses by negating their right to self-determination.

 

pakchinfriendsjip.jpgLikewise, this bilateral relationship has relevance and significance for U.S., Africa and Gulf region as well. Pakistan-China relations with the United States of America saw many ups and downs and it's difficult to describe the nature of the relationship between Pakistan and U.S. and U.S. and China. During the Cold War era Pakistan and U.S. were allies against the communist bloc, however, Pakistan-China collaborations, which began in late 1950s, initially became an irritant between Pakistan and the U.S. Later because of Pakistan, the U.S. and China came closer. The 1990s saw strained relations of the U.S. with Pakistan and China, the main divergent factors being Chinese assistance to Pakistan in missile and nuclear sectors. However, after 9/11 Pakistan became an ally of the U.S. in the War on Terror without compromising its close links with China, and, on the other hand China emerged as one of the biggest economic partners of the U.S. while both continue to be strategic adversaries of each other and their interests do clash at various points on trajectory. Despite many diverging elements, considering U.S. relations with Pakistan and China, the significance of Pakistan and China and their bilateral relations' significance for the U.S. cannot be ruled out completely. The economic partnership between the U.S. and China, Pakistan-U.S. partnership during times of crisis and the geo-strategic importance of Pakistan makes Pakistan-China partnership significant and relevant for the U.S. The United States has also been seeking Pakistan and China's assistance in achieving peace and stability in Afghanistan and addressing climate change, counter-terrorism, non-proliferation and promotion of human rights. The U.S. seeks Chinese support particularly in Asia-Pacific, including the Taiwan Strait, South China Sea and East China Sea. Similarly, the geo-strategic location of Pakistan also attracts the U.S. because it can serve as a gateway to CARs and offers a route from energy efficient states to energy deficient states. Chinese role in the development of ports, roads and railway network facilities make Pakistan-China relations relevant and significant for the U.S. as well.


In case of Africa, Pakistan and China attach great importance and relevance to this region as well. Both China and Pakistan have been sympathetic to the African position on many international issues and they have often sided with African countries in the UN Security Council. Pakistan and China, in terms of their relations with African states have turned to a new page with better understanding and cooperation with the objective to gain maximum advantages. Currently, Pakistan and China are interacting with African states on two levels:

 

Pakistan is also vital for Persian Gulf States since most of them strengthened their ties with the emerging super power China through Pakistan. Similarly, through land route Pakistan is the easiest and shortest choice in linking the Persian Gulf region with China, coining it as gateway between them. The strategic location and construction of Gwadar Port provides transit trade and oil supplying opportunities to China and Persian Gulf States through economical and secure options.

I. Through bilateralism via diplomatic, political, social and economic sectors.
II. Through multilateralism via regional, ideological and international forums.
China in particular provides alternate options to African states, by offering them aid and assistance without preconditions and dictations. China seeks natural resources while African nations need her support to explore their resources; consequently the two sides' interests converged to explore mutual advantages. Pakistan in this regard, through Gwadar Port and the CPEC, will play the role of bridge and the shortest link between China and African states. Also due to its Islamic ideological identity and OIC forum Pakistan wins the goodwill of many Muslim African stakeholders. Pakistan and China have thus gained valuable diplomatic support of African nations to defend their international interests.


In addition to above, counter-terrorism has also enhanced the understanding between Pakistan, China and African states. Terrorism became a global problem and African nations are also suffering because of it. They keenly observe Pakistan-China role in the war against terrorism and want to follow the same strategies to eliminate safe havens of terrorists from African land. In this regard, Pakistan and China's contributions are countless; they are not only exporting arms to governments of African countries, but through UN peacekeeping mission they train the local security forces to combat terrorism. As a result, Pakistan-China relations and relevance for African nations became more dynamic and constructive contribution towards peace and stability.


Similarly, in order to comprehend Pakistan-China relations' worth for the Gulf countries, it may be concluded that their ties have been framed through bilateral and multilateral collaboration in diplomatic, security and socio-economic sectors.


Religious similarity, Pakistan’s strategic location and its identity of being a military power among Islamic states have made Pakistan a natural ally of Persian Gulf States. Pakistan, despite its economic and social problems in recent years remains the ultimate hope for many of the Persian Gulf States, particularly after growing distrust towards the western powers. Similarly, Gulf States, particularly Gulf Cooperation Council (GCC) member countries, i.e., Saudi Arabia, Qatar, United Arab Emirates, Oman, Kuwait and Bahrain, are important from economic perspective for Pakistan as they always assisted Pakistan during the time of crisis.


Pakistan is also vital for Persian Gulf States since most of them strengthened their ties with the emerging super power China through Pakistan. Similarly, through land route Pakistan is the easiest and shortest choice in linking the Persian Gulf region with China, coining it as gateway between them. The strategic location and construction of Gwadar Port provides transit trade and oil supplying opportunities to China and Persian Gulf States through economical and secure options. China’s emergence as regional economic and military power and its expertise in the high-tech sector are attracting Gulf States towards China. Both Pakistan and China significantly developed friendly ties with Persian Gulf States without getting involved in their internal differences. Pakistan and China also maintained a balance between their relations with Iran and other Arab countries which is not less than a landmark of China and Pakistan's foreign policies. Both Pakistan and China now represent themselves as time-tested, credible, cordial and capable allies of Persian Gulf states and GCC members in particular.


To conclude, it can be said that Pakistan-China friendship hardly finds a parallel in modern international relations as it is based on mutual respect, mutual advantages and equality and it has the potential to maximize the advantages for regional countries. Pakistan-China relation has displayed durability which has adjusted itself according to changing regional and international scenarios. This bilateral relationship has undoubtedly emerged as a very strong friendship which serves as an exceptional example for the rest of peace loving nations. With the development of the CPEC, the Pakistan-China alliance presents opportunities that may lead towards security, prosperity, peace and regional and international balance that makes this bilateral relation significant and relevant not only for regional actors but for the rest of the world as well.

 

The writer is Assistant Professor at Department of International Relations, University of Balochistan, Quetta.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it..

 
13
March

سیہون شریف سے

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: مجاہد بریلوی

مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں sehwansharif.jpgاور چیختی بلبلاتی بچیوں سے لہو لہان ہو گئی۔ ابتدائی خبریں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اشارہ نہیں دے رہی تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمیوں نے دم توڑنا شروع کیا تو رات کے آخری پہر میں یہ تعداد 88کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ایک پروفیشنل صحافی کے ناتے، اور اس سے زیادہ افسردگی اور غم زدگی نے ایسا بے سکون اور بے چین کیا ہوا تھا کہ رات ہی کو سیہون جانے کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ایک تو کراچی سے حیدرآباد اور پھر سیہون تک اُدھڑی ہوئی سڑکیں اور اُن پر دیو قامت ٹرکوں اور ٹرالروں کا ایسا ہجوم تھا کہ سیہون پہنچتے پہنچتے دوپہر کا ایک بج گیا۔ سیہون شریف کا سارا بازار بند تھا اور مقامی آبادی سہمے ہوئے چہروں سے لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے ارد گرد سر جھکائے آنسو بہاتے نظر آئی۔ مگر جیسے ہی کیمرہ اُنکے سامنے آیا ڈرے سہمے سوگ میں ڈوبے لوگوں کی زبانیں دہشت گردوں کے خلاف آگ اُگلنے لگیں۔ میڈیا کی دی ایس این جی گاڑیاں اور مائیک بھی بس بریکنگ خبریں چلا رہے تھے۔ یہ اپیل نہیں کر رہے تھے کہ ڈاکٹر آئیں، خون دیں، ایمبولینسیں پہنچیں۔ ’’سائیں‘‘ ہم برباد ہو گئے، گھر اُجڑ گئے۔ چہار جانب سے یہی صدائیں آ رہی تھیں۔ مزار شریف کے اندر داخل ہوا تو مائیک کے سامنے زبان گنگ ہو گئی۔ خونی اعضاء کے لوتھڑے، اجرکیں، چادریں، جوتے اور چپلیں خون آلود۔۔۔ بتایا گیا کہ سکیورٹی کے اداروں نے سختی سے کہا ہے کہ کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو حتیٰ کہ فرش پر بُو دیتے خون کے دھبے بھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا کہ سرکٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ سخت سکیورٹی سے لگا کہ وزیر اعظم لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری بھی دیں گے۔ مگر گھنٹے بھر بعد معلوم ہوا کہ انٹیلی جنس نے اجازت نہیں دی۔


وزیر اعظم کی مزار شریف نہ آنے کی تصدیق ہوئی تو گھنٹوں سے انتظار کرتے زائرین کے لئے دروازے کھول دئیے گئے۔ ٹھیک اُسی وقت یعنی 24 گھنٹے پہلے 6 بج کر58 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھمال ڈالنے والوں کو خون میں نہلا دیا تھا۔ لعل شہباز کے عقیدت مند وجدمیں آکر اُسی وسیع وعریض احاطے میں دھمال ڈال رہے تھے۔ سخی شہباز قلندر۔۔۔ دما دم مست قلندر۔۔۔ یہ پیغام تھا دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کو جو ایک دہائی سے تعلیمی اداروں، بازاروں، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خودکش حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ’’اپنی شریعت‘‘ کی دہشت سے پوری قوم کو موت کی نیند سلا دیں گے۔ لعل شہباز قلندر کا مزار ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں عام دنوں میں تین چار ہزار اور جمعرات اور جمعے کو آٹھ دس ہزار زائرین محض اندورن سندھ ہی نہیں،سارے ملک سے آتے ہیں جو 88 زائرین شہید ہوئے اُن میں صرف 13کا تعلق سیہون شریف سے تھا۔ 35کا تعلق سندھ کے دیگر شہروں سے جبکہ باقی 40کا تعلق جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے تھا۔ خودکش حملوں میں ساڑھے تین سو زخمیوں میں سے بھی بیشتر کا تعلق سندھ سے باہر کے شہروں سے تھا اور یہ بات بھی اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہو کر موت کی نیند سونے والوں میں چار افراد کا تعلق ہندو اقلیت سے تھا۔ لعل شہباز قلندر کے مزار کے بیرونی احاطے سے نکل کر جب اندورنی دروازے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لعل شہباز قلندر کے مزار شریف پر کوئی آنچ آئی نہ ہی چھت پر لگے جہازی سائز فانوس کا کوئی شیشہ ٹوٹا۔ اتنے بڑے سانحے کے محض 20گھنٹے بعد سارا ماحول تبدیل ہوچکا تھا۔ خوف و دہشت کی جگہ دھمال ڈالتے زائرین کے تمتماتے چہرے اور سخی شہباز قلندر کی سر شاری میں ڈوبے زائرین کی دل دوز صدائیں۔ یہاں میں اپنے قبیلے یعنی میڈیا کے دوستوں سے یہ شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ اپنی ہر بریکنگ خبر میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کی تو ایک ایک بات پر لعنت ملامت کر رہے تھے مگر خود کش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کے بارے میں مصالحانہ اور عاجزانہ حد تک رویہ معذرت خواہانہ تھا اور یہ محض اس سانحہ کی بات نہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں ہونے والے 450 خودکش حملوں کے بعد
TALIBAN APOLOGIST
کایہی رویہ کم وبیش دیکھنے میں آیا۔ اب سے سال بھر پہلے تک تو یہ حال تھا کہ نام نہاد طالبان اور القاعدہ کے ترجمانوں کے باقاعدہ لائیو انٹرویوز گھنٹوں چلتے تھے جن میں وہ ہماری حکومتوں اور عوام کو درس دیتے کہ وہ اُن کی دہشت کی شریعت کے آگے سر خم کرلیں۔ میڈیا کا
TALIBAN APOLOGIST
حلقہ گو ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ایک حد تک حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنے لگا ہے مگر ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری قوم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہوچکے ہیں کہ یہ خود کش حملہ آور مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تو پھر ’’میڈیا‘‘ کے سرخیلوں کو بھی اپنی سوچ کو
Revisit
کرنا چاہئے کہ کم از کم دہشت گردی کے سوداگروں پر میڈیا اور قوم کو ایک آواز ہوناچاہئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
September

بھارتی فوج اور دریدہ مقبوضہ کشمیر

تحریر: سِلوی لاسر

جونہی ہم سڑک کے ساتھ ساتھ مڑتی بل کھاتی گلیوں کی طرف قدم اٹھاتے تو اچانک خود کو پتھر کی دیواروں کے درمیان پاتے۔ جس سے پتہ چلتا کہ ان دیواروں سے ملحق اینٹوں سے بنی رہائش گاہیں ایستادہ ہیں۔ جوں جوں ہم بلندی پر جا رہے تھے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان شام کے ملگجے میں ڈوبا آزاد جموں و کشمیر کا دارالحکومت، مظفر آباد ہماری آنکھوں کے سامنے آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ نیلگوں فضا میں اڑتی رنگ برنگی پتنگوں نے خوبصورت وادی کو اور بھی دلکش بنا دیا تھا۔ ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کی رسی پکڑے گزر رہا تھا۔ ہم شہر میں موجود کشمیری مہاجر ین کے ایک کیمپ میں پہنچے یہاں اس طرح کے کل دس کیمپ قائم ہیں جہاں تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے جانے والے تنازعہ جموں کشمیر کے متاثرین آباد ہیں۔
اس وقت ریاست جموں و کشمیر کے ایک حصے پر بھارت قابض ہے جبکہ دوسرا حصہ جہاں ہم موجود تھے، آزاد جموں و کشمیر کہلاتا ہے جو پاکستان کے زیرکنٹرول ہے۔ دونوں حصوں کو 740 کلو میٹر طویل لائن آف کنٹرول جدا کرتی ہے۔


کہنے کو تو ہم ایک کیمپ میں تھے تاہم یہ شہر کی کسی معروف جگہ کی طرح لگتا تھا۔ حکومت آزادکشمیر نے ہر خاندان کو اپنا گھر تعمیر کرنے کے لئے جگہ الاٹ کی ہے۔ اب یہ ’’کیمپ‘‘ مستقل رہائش گاہوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں اس لئے کہ کوئی نہیں جانتا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کا یہ طوفان کب تھمے گا۔ ان گھروں کی بالکونیوں سے سارے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ چھتوں پر رکھی ٹینکیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انہیں تازہ پانی اور دیگر سہولیات میسر ہیں۔ البتہ بعض جگہوں پر ترپالیں بھی نظر آتی ہیں جن پر یو این ایچ سی آر (یواین ہائی کمیشن برائے مہاجرین) کی مہر ثبت ہے جو ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ یہاں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے 142 خاندان بستے ہیں۔
لائن آف کنٹرول پر بھاری تعداد میں افواج تعینات ہیں۔ صدر کلنٹن نے 2000 ء میں اسے دنیا کا خطرناک ترین مقام قراردیا تھا۔ بعد ازاں 2004ء میں بھارتی فوج نے یہاں دوہری خاردار تار لگا کر آس پاس بے شمار بارودی سرنگیں بچھا دیں اور اسے تھرمل کیمروں اورنقل و حرکت پر نظر رکھنے والے آلات اور الارم سے لیس کردیا۔ اس طرح اس متنازعہ پٹی کو عارضی بارڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بظاہر تو یہ سرحدی لکیر ہے تاہم عالمی سطح پر اسے باقاعدہ بارڈر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ بھارت نے 1948ء میں اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار داد پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا جس کے مطابق جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ صرف اور صرف ایک آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔

 

bhartifojaur.jpgہم نے 70 ڈگری کی عمودی پہاڑی پر چڑھنا جاری رکھا۔ ایک نوجوان سمیر سے ملاقات ہوئی جو کشمیری مہاجرین کی ایسوسی ایشن کا نائب صدر ہے۔ اس نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت یہاں کے باسیوں کو یہ اراضی قیمتاََ مہیا کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے تاکہ مہاجرین واقعی اسے اپنا گھر محسوس کریں۔ بات چیت کرتے ہوئے وہ مجھے ایک مکان میں لے گیا۔ جہاں ایک ایسا خاندان آباد تھا جو یہاں بسنے والے دوسرے خاندانوں کی طرح بہت سارے سانحات سے دوچار ہوچکا ہے۔ عمودی جگہ پر جس ٹیرس میں ہم داخل ہوئے تھے وہاں سے نشیب میں وادی اور پہاڑوں کا نظارہ انتہائی دلکش تھا۔ اپنے مخصوص دیدہ زیب کشمیری لباس میں ملبوس دو ننھی منی بچیاں ہمیں دیکھ رہی تھیں۔ ہمیں آتا دیکھ کر گھر کی خواتین نے خود کو باورچی خانے میں چھپا لیا۔


ایک مضبوط اور طویل القامت شخص، جس کے چہرے سے شفقت نمایاں تھی، نے ہمیں اپنے مہمان خانے میں آنے کی دعوت دی۔ بظاہر مسرور، اس نے سب سے پہلے مجھے اپنی ماں کے بارے میں بتایا جو دو ہفتے قبل ہی مقبوضہ کشمیر سے آئی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ پچھلے 24 سال سے اپنی ماں کا چہرہ نہیں دیکھ سکا تھا۔ اسی دوران گلبہار نے اپنی شلوار کا پائنچا اٹھایا اور اپنی مصنوعی ٹانگ میرے سامنے کردی۔ اداسی اس کے چہرے سے نمایاں ہونے لگی۔ ٹانگ کے مصنوعی حصے کواتار کر گھٹنے سے اوپر تک کٹی ٹانگ دکھاتے ہوئے بولا: ’’ لائن آف کنٹرول کو پار کرتے ہوئے میرا پاؤں بھارتی فوج کی بچھائی بارودی سرنگ پر آگیا تھا۔‘‘


یہ بارودی سرنگیں 1947، ساٹھ و ستر کی دہائی اور معرکہ کارگل کے دوران لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ بچھائی گئی تھیں۔ اکثر و بیشتر شہری اور کسان ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ مون سون کی بارشوں اور بھارتی فوج کے پاس ریکارڈ نہ ہونے کے باعث بہت سی مائنز زمین کے اندر ہی ادھر ادھر سرک کر غائب ہوجاتی ہیں۔ صرف ضلع پونچھ میں 100 بچوں سمیت 550 افراد ان کی وجہ سے لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔
Cluster Munition Monitor Landmine and
کی ایک رپورٹ کے مطابق تنازعے کے آغاز سے اب تک مائنز اور ای آر ڈبلیو یعنی جنگی آتشیں مواد سے 3184 لوگ متاثر ہوئے۔ ان میں 2004ء سے لائن آف کنٹرول کے بھارتی قبضے والے علاقوں میں مرنے والے 1079 افراد بھی شامل ہیں۔
’’نوے کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں ، مَیں وہاں سے فرار ہوا۔‘‘ گلبہار نے ماضی کو کریدتے ہوئے بتایا۔دُکھ اور کرب سے اس کی آواز بمشکل نکل رہی تھی۔
’’ہمارے گروپ میں دس افراد تھے۔ میرے ساتھ میری بیوی اور ایک بچہ بھی تھا۔ دوسرے سات افراد کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔ ہم نے ہر قیمت پر وہاں سے بھاگنا تھا۔ جونہی ہم نے لائن آف کنٹرول پار کی، میرا پاؤں ایک مائن پر آ گیا۔‘‘ گلہبار جو پہلی حالت سے باہر آ چکا تھا، ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پھر گویا ہوا:
’’بھارتی فوج میرا پیچھا کررہی تھی۔ میں گرفتار ہونے سے بچنے کے لئے اِدھر اُدھر چھپتا پھرتا رہا۔ کبھی دوستوں اور کبھی رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیتا ۔ لیکن ہر مرتبہ انہیں میرے قدموں کے نشان مل جاتے۔ آخرکار میں نے محسوس کرلیا کہ اب میرے پاس مقبوضہ کشمیر کو چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ میں اپنی ماں کو بھی الوداع نہ کہہ سکا۔ اسے کچھ خبر نہیں تھی کہ میں کہاں ہوں۔ میں اپنا سر چھپانے کے لئے ہاتھ پیر مار رہا تھا۔ ہمیں لائن آف کنٹرول پر پہنچنے میں دو دن لگے۔ جب میں مائن پھٹنے سے زخمی ہوا تو پاک فوج نے میری دیکھ بھال کی۔ انہوں نے اپنے ہسپتال میں میرا علاج معالجہ کیا اور پھر ہمیں مظفرآباد لے آئے۔‘‘ گلبہار کوئی لیڈر تو نہ تھا۔ اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے 1990ء کے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔
اس کے برعکس سمیر جو ایک لیڈر تھا، اس نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ’’ہمارا جرم صرف اتنا ہے کہ ہم نے حق خودرادیت کے لئے آواز اٹھائی۔ یہ اقوام متحدہ کی قرارداد ہے، یہ ہمارا حق ہے۔ اپنی آزادی کے لئے آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں! یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس وقت، بھارتی فوج ہر گھر پر چھاپے مار رہی ہے، نوجوانوں کو زبردستی گرفتار کررہی ہے، لوگوں کو مار رہی ہے، انہیں جیلوں میں ڈال رہی ہے اور انہیں قتل کر رہی ہے!‘‘


گل بہار نے بتایا: ’’ آپ لیڈر ہیں یا نہیں، بھارتی فوج کے لئے یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہم تحریک کا حصہ تھے اس لیے وہ ہمیں گرفتار کرنے کے لئے آ پہنچے۔‘‘
1987ء کے انتخابات میں بھارتی سرکار کی دھاندلی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں میں، جو آبادی کا 80 فی صد ہیں، غصے کی شدید لہر دوڑ گئی۔ وادی میں احتجاجی مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جسے بھارتی فوج نے بربریت سے کچل دیا۔ 20 جنوری 1990ء کو بھارتی فوج نے سری نگر کے گاوکدل پل پر مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔یہ قتل عام کشمیری تاریخ میں سیاہ ترین باب کے طور پر محفوظ ہے۔


اس سانحے میں زندہ بچ جانے والوں کی داستانیں بڑی درناک ہیں۔ بھارتی فوجی زمین پر گرے زخمیوں کو قتل کر رہے تھے۔ جان بچانے کے لئے پل سے چھلانگ لگانے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پانی نے اپنے دامن میں لے لیا۔ سرکاری اعداد و شمار میں صرف 28 افراد ہی قتل کے زمرے میں لکھے گئے۔ لیکن مختلف ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 50 سے 287 تک تھی۔ اگلے مہینوں میں کشمیر میں غیرملکی ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کردی گئی۔ یہ آئندہ کئی برسوں تک کشمیریوں کے لئے تاریک اور ڈراؤنے خواب کی شروعات تھی۔ چھاپے، زبردستی گرفتاریاں، جبری طور پر لاپتہ اور غائب کرنے کے واقعات، تشدد۔۔۔۔ 1987ء اور 1995 ء کے دوران 76 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے صرف دو فی صد کو سزائیں سنائی گئیں۔ (عالمی کرائسز گروپ رپورٹ 2003
from the Past, Kashmir learning)
ایک نوجوان چائے لے آیا۔ ایک ننھی لڑکی بھی دروازے پر نمودار ہوئی۔ وہ دونوں گلہبار کا بیٹا اور بیٹی تھے۔ اس وقت گلبہار کے چھ بچے ہیں جن میں سے آخری پانچ مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔


آج کل کتنی رقم سے گزراوقات ہورہی ہے؟ اس سوال پر گلہبار بولا: ’’حکومت پاکستان مہاجرین کو ماہانہ 15 سو روپے فی کس گزارہ الاونس دیتی ہے۔ آئی سی آر سی (انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس) کے ساتھ کام کرنے سے قبل میں مصنوعی اعضاء بنایا کرتا تھا لیکن تین سال پہلے یہ منصوبہ اپنے انجام کو پہنچ گیا اور اس وقت میرے پاس کوئی کام نہیں‘‘۔
چہرے کے تیکھے خدوخال والی ایک باوقار بوڑھی عورت کمرے میں داخل ہوئی۔ اُس نے دیوار کے ساتھ بچھے قالین پر بیٹھنے سے قبل میرا بوسہ لیا۔سترسالہ آمینہ، گلبہار کی والدہ ہیں جو دو ہفتے قبل ہی آزاد جموں و کشمیر پہنچی تھیں۔ انہوں نے پہلی بار یہ علاقہ دیکھا تھا۔ ’’24 سال سے میں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس رہی تھی۔ جب بھی پاسپورٹ کے حصول کے لئے جاتی میری درخواست رد کردی جاتی۔ اس انکار کی وجہ صرف یہی تھی کہ متعلقہ حکام جانتے تھے کہ میرا بیٹا دوسری جانب (آزاد جمو ں و کشمیر میں) رہتاہے۔ میں نے بھی ہمت نہ ہاری۔ میں دوسری جگہ منتقل ہوگئی اور نئے پتے سے پاسپورٹ اور ویزے کے لئے درخواست دے ڈالی۔ اس دفعہ مجھے ویزہ مل گیا۔ ’’آپ گلبہار سے کس طرح ملیں؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میں بذریعہ بس واہگہ کے راستے پاکستان پہنچی۔ میں نے فوراً اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔‘‘ وہ بولی۔


گلبہار بولا: ’’ہمارے لئے یہ اتنا بڑا لمحہ تھا کہ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔24 سال بعد‘ گلے ملے تو آنکھیں چھلکنا ایک قدرتی امر تھا۔‘‘
بوڑھی عورت بولی:’’ میرے پاس دو ماہ کا ویزہ ہے‘ لیکن میں ایک ماہ مزید قیام کے لئے درخواست ضرور دوں گی‘‘
تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔‘‘
چھوٹی بچی اپنی دادی ماں کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی جو اسے صرف دو ہفتے قبل ہی ملی تھیں۔
’’آپ کا یہاں مستقل قیام کا ارادہ کیو ں نہیں‘‘؟ میرے سوال پر بوڑھی عورت مسکراتے ہوئے بولی:
’’وہاں جیل میں میرا ایک بیٹا بھی ہے۔ اس کے علاوہ میرے بھائی اور دوسرے رشتہ داربھی ہیں۔۔۔ میں یہاں نہیں رہ سکتی۔‘‘
آمینہ بھی دگر گوں حالات کی چکی سے گزر چکی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا : ’’میں بیوہ ہوں‘ میرے تیسرے بیٹے کو بھارتی فوج نے مار ڈالا۔ زندگی کے چار سال میں نے چھپ چھپ کر گزارے۔ جب حالات ذرا بہتر ہوئے تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا دوسرا بیٹا بھی جیل میں ہے۔ صرف ایک دفعہ میں اسے مل سکی۔ کئی دفعہ مجھ سے پوچھ گچھ کی گئی۔ میرا بیٹا (گلبہار) دوسری طرف (آزاد جمو ں وکشمیر) رہتا تھا! مجھے اپنے پوتے پوتیوں کے بارے میں کوئی خبر نہ تھی۔ اور یہ سب کیونکر ہوا؟ صرف اس لئے کہ ہم نے آزادی کامطالبہ کیا تھا۔‘‘
پوچھ گچھ کے دوران کیا کبھی آپ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔؟


’’میں بیان نہیں کرسکتی۔۔۔ میرے پاس الفاظ نہیں۔۔۔‘‘ گلبہار ماں کے بازؤں کو دکھاتے ہوئے بولا: ’’دیکھئے ان کے بازوؤں کا ایک ٹکڑا لٹک رہا ہے‘ مسل پوری طرح سے الگ ہوچکا ہے۔‘‘
ماں بولی: ’’وہ گلبہار کی جگہ کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔وہ بار بار یہی سوال دہراتے کہ گلبہار کہاں چھپا ہے۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ مجھے اُ س کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ بھارتی فوج کو کسی کا پاس نہیں تھا۔انہوں نے کھڑکیاں توڑ دیں۔ دروازوں کواکھاڑ دیا۔ حتیٰ کہ وہ عمر یا کسی اور چیز کا لحاظ رکھے بغیر بچوں اور عورتوں کو مارتے پیٹتے۔ بھارتی فوج کو ماؤں کی پروا تھی نہ بہنوں کی۔۔۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے ہم سے ایساسلوک روا رکھا کہ جیسے کہ ہم مرد ہوں۔ایک دن وہ ہماری ایک ہمسائی کو گرفتار کرکے لے گئے‘ ہم نے اُسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ یہ 1994-95 کی بات ہے۔ میں دنیا کو یہ بات بتانا چاہتی ہوں کہ جیساہم پاکستان میں محسوس کرتے ہیں‘ کاش ہم دوسری طرف بھی ایسا ہی محسوس کرسکتے! اگرچہ بھارت جمہوریت کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہاں ایسا ہونا ناممکن ہے۔۔۔ ’’صرف آزادی‘‘ اُس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔


’’دی گارڈین‘‘ میں شائع ہونے والی وکی لیکس کی منکشف شدہ رپورٹ کے مطابق2005ء میں آئی سی آر سی نے نئی دہلی میں موجودامریکی سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پابندِ سلاسل کئے جانے والے افراد کے سوچے سمجھے قتل کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ مگر انہوں نے اس سلسلے میں چپ سادھے رکھی۔ گارڈین ہی کے مطابق2001 ء اور2004ء میں آئی سی آر سی کی ٹیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے قید خانوں کا دورہ کیا اور 1296 قیدیوں سے علیحدگی میں ملاقات کی۔ ایسا لگتا تھا کہ171 قیدیوں سے ناروا سلوک کیا گیا جبکہ681کو معلومات اگلوانے کے چکر میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ (ان میں بہت سے کارکن نہ تھے)۔ قتل اور جبری غائب کرنے کے واقعات بھی بہت بڑی تعدادمیں ہیں۔


38سالہ سمیر بھی دل کی بھڑاس نکالنا چاہتا تھا۔ وہ رنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کیمپ میں نہیں رہتا بلکہ ایک جاب کے سلسلے میں شہر میں مقیم ہے۔ اُس نے بتایا کہ ’’میں مہاجرین کی سماجی اعانت کا نائب صدر ہوں یہاں مقیم بہت سے افراد کی طرح میں بھی90 کی دہائی میں یہاں پہنچا۔ اُس وقت میری عمر19 سال تھی۔ میں بھی مقبوضہ جموں وکشمیر سے ہوں۔ میں سری نگرمیں رہتا تھا اور تحریکِ آزادی کے آغاز کے وقت میں سٹوڈنٹ لیڈر تھا۔ اس کے فوراََ بعد بھارتی حکام نے ہمارے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں شروع کردیں۔ تمام رہنماء اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ جب ہم نے پہلے اجتماع کا انعقاد کیا، تو میں وادی کا انتہائی مطلوب شخص بن گیا۔ تین دفعہ میں ان کے ہتھے چڑھتے چڑھتے بچا۔ آخر میں پاکستان (آزاد کشمیر) جانے کے سوامیرے پاس کوئی راستہ نہ بچا تھا۔


وہ انسان نہ تھے، وہ مجھے قتل کردیتے یا پھر تشدد کا نشانہ بناتے۔ ہر روزسڑکوں پر ہمیں پندرہ سے بیس لاشیں ملتیں۔۔۔۔ کیوں؟ ۔۔۔ ’’ ادھر آپ تقریر کریں، ادھر وہ آپ کا نام نوٹ کرلیتے۔ وہ ہم سب کو جانتے تھے، گرفتار کرلیتے ، پہاڑوں پر لے جا کر قتل کردیتے اور لاش سڑک پر پھینک دیتے۔‘‘
’’ یہ تمام ہتھکنڈے ہمارا راستہ تو نہ روک سکے البتہ ہمارے دلوں میں بھارتی فوج کے خلاف مزید نفرت اور حق خودارادیت کے لئے لڑ مرنے کے ہمارے جذبے میں اضافے کا باعث ضرور بنے۔ ہم اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ہمارے گھر بار تباہ کردیئے، ہماری خواتین سے بدسلوکی کی اور ہمیں قتل کررہے ہیں۔۔۔ ظلم و بربریت نے ہمارے جذبوں کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پچیس سال سے ہم جدوجہد کررہے ہیں، اگر ہم اپنی منزل حاصل نہ کرسکے، تو ہمارے بچے ہمارے مشن کو جاری رکھیں گے۔ ہمارے خاندانوں پر انہوں نے جو ظلم و ستم ڈھایا ہے۔ اسے ہم بھلا نہ پائیں گے اور نہ انہیں معاف کریں گے۔ ‘‘


’’پاکستان کے لوگوں نے گرمجوشی سے ہمیں گلے لگایا۔ جب گلہبار بارودی سرنگ سے زخمی ہوا، پاک فوج نے اپنے ہسپتال میں اچھی طرح اس کی دیکھ بھال کی۔ ایک مرتبہ پھر میں پاکستان کے لوگوں، پاکستان آرمی اور ہماری فلاح و بہبود اور بحالی کے لئے کام کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میرے بچے حکومت پاکستان کے تعمیر کردہ سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ہم وہاں ماہانہ صرف سو روپے کی علامتی فیس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے بچوں کی فیس پانچ ہزار روپے ہے۔ تدریس کا معیار نہایت عمدہ ہے۔ ‘‘
’’بھارت میں ہندوؤں اور مسلمانوں سے یکساں سلوک رواں نہیں رکھا جاتا اور دنیا بھر میں جمہوریت کا دوسرا چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ لیڈرز اپنے وعدے پورے نہیں کرتے، ہمارے حق خودارادیت پر اقوام متحدہ اپنی ہی قرارداد پر عملدرآمد نہیں کروا سکی ہے۔ وہ معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں۔ یہ دہشت گردی ہے! ہم یہاں (آزاد کشمیرمیں) آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں، یہی ہم چاہتے ہیں۔ کوئی ہمارا تعاقب نہیں کرتا۔ ہم آزاد ہیں!‘‘


میں نے مظفر آباد کے دوسرے کیمپوں میں بھی اسی طرح کی داستانیں سنیں۔ کسی کی بہن کھو گئی، کسی کابھائی یا ماں نہ ملی۔ کسی کا باپ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جیسا کہ 33 سالہ یاسمین کے والد کے ساتھ ہوا۔ 90 کی دہائی میں اس نے اپنے والدین کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر سے آزاد کشمیر کے لئے رخت سفر باندھا۔ اُس نے بتایا: ’’ہم سری نگر کے قریب رہتے تھے۔ میرے والد ٹیلر ماسٹر تھے۔ بھارتی فوج نے میرے والد اور بھائیوں کو گرفتار کر لیا اور کئی روز تک ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔ ہم شام کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ ہم نے سکول بھی اس وجہ سے چھوڑ دیا کیونکہ ہمارے والدین کو ڈر تھا کہ کہیں بھارتی فوج ہمیں پکڑ کر لاپتہ نہ کردے۔ایک رات، ہمیں ہنگامی طور پر اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہ تھا حتی کہ سویٹر بھی نہ پہن سکے۔ ہمیں پتہ چلا تھا کہ بھارتی فوج ہمارے گھر پر ریڈ کی تیاری کررہی ہے۔ اس وقت میں سات سال کی تھی۔ ہم دو دن پیدل چلتے رہے۔ جب ہم کنٹرول لائن کی دوسری طرف اٹھمقام پہنچے، ایک خاندان نے ہمیں گلے لگایا۔ ہم نے وہاں ایک سال تک قیام کیا۔ دوسری طرف سے بھارتی فوج مسلسل فائرنگ کرتی رہتی۔ ایک روز ایک شیل میرے والد کو لگا اور وہ شہید ہوگئے۔‘‘
گلبہار اور اُس کے خاندان سے باتیں تو اتنی سنسنی خیز اور دلچسپ تھیں کہ مجھے احساس تک نہ رہا کہ رات کافی ڈھل چکی ہے۔ اُٹھ کر باہر دیکھا تو نیچے وادی اور سامنے پہاڑوں پر روشنی کے قمقمے جگمگا رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہزاروں ستارے آسمان پر چمک رہے ہوں۔ آج یہ بات سچ ثابت ہو رہی تھی کہ کشمیر کرۂ ارض کی خوبصورت وادیوں میں سے ایک وادی ہے گویا جنتِ ارضی ہے۔


افسوس! یہ تنازعہ اب تک90 ہزار انسانی جانیں لے چکا ہے۔ اَن گنت انسانی حقوق پامال ہوچکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور بے شمار مسلمانوں کا کوئی اتا پتا نہیں اُن کو آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی۔ کوئی نہیں جانتا۔ اے پی ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق آٹھ سے 10 ہزار نفوس صرف 1989ء تا2016ء کی دہائیوں میں غائب ہوئے کشمیریوں میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی تھی۔ حالیہ برسوں میں گوکہ صورتِ حال بہترہوئی ہے لیکن بھارتی افواج کے مسلسل حملوں نے بے چارے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اس سے قبل یہاں 300 کے لگ بھگ عقوبت خانے تھے۔ ان میں 13تو رسوائے زمانہ تھے جنہیں اب دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ کشمیری نوجوانوں پر یہاں کس طرح کا انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ سُن کر روح کانپ اُٹھتی ہے۔ ان عقوبت خانوں کے نام یکے بعد دیگرے ’’کارگو، پاپا2-اورہری نارا‘‘ بتائے جاتے ہیں۔ ’’کارگو‘‘ تو سائبر پولیس سٹیشن میں بدل دیا گیا ہے۔’’پاپا2-‘‘ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر کی سرکاری رہائش گاہ میں انسانیت سوز مظالم کی داستانیں رقم کررہا ہے۔2003ء سے لے کر اب تک نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان فائر بندی پر عمل کیا جارہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں سات اضلاع ایسے ہیں جو مستقل کرفیو کی زد میں ہیں۔


2005 ء میں دوستی بس کا آغاز ہوا جس نے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملانا شروع کیا۔ یہ ہفتے میں ایک دفعہ پیر کے روز چکوٹھی کے راستے مظفرآباد اور سری نگر آتی جاتی ہے۔ لیکن اس میں صرف وہی مسافر سفر کرسکتے ہیں جن کے خاندان 1947ء‘1965ء اور1971ء کی جنگوں کے دوران بچھڑ گئے تھے۔ اس کے علاوہ خاندانوں کو اول تو بھارتی سرکار پاسپورٹ اور ویزہ ہی نہیں دیتی ۔ اگر چار و ناچار مل جائے تو کشمیر بس کی بجائے اُنہیں واہگہ کے راستے امرتسر سے لاہور کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
اب بھی وادیِ کشمیر بہت بڑی خوفناک جگہ ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی فوج کشی کی گئی ہے۔ سات لاکھ باقاعدہ اور پیرا ملٹری افواج صرف ایک چھوٹی سی مقبوضہ وادی میں‘ حد ہے ! ابھی حال ہی میں فروری 2016 ء کے وسط میں بھارتی فوج نے دو کشمیری طالب علموں کو مظاہرے کے دوران قتل کردیا۔ ان میں22 سالہ دوشیزہ شائستہ حمید اور19 سالہ دانش فاروق میر شامل تھے۔ شائستہ حمید تو مظاہرے میں شریک بھی نہیں تھی۔ وہ اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑی تھی کہ اچانک اُسے گولی آن لگی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگئی۔ پوری مقبوضہ وادی میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اُن کے جنازے میں ہزاروں کشمیریوں نے شرکت کی۔ بھارتی فوج نے اس کا جواب کرفیو کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کے ساتھ دیا۔
ہر سال 5 فروری کو پاکستان یومِ یکجہتی کشمیر مناتا ہے۔ جسے مختصراً یومِ کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کو ہر طرح کی عالمی و سفارتی سطح پر اُجاگر کیا جائے گا۔ نواز شریف کے مشیرِ امورِ خارجہ نے بھی اقوامِ عالم پر زور دیا کہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔


اب تک ہزاروں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ چکے ہیں۔ آج جب کہ یہ رپورٹ شائع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر پچھلے 50 دن سے ایک بار پھر سخت ترین دباؤ میں ہے۔ اس کی وجہ سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے انتہائی مقبول نوجوان رہنما برہان وانی کی شہادت ہے۔17 اگست تک بھارتی بربریت66 افراد کی جان لے چکی ہے۔4500 نہتے شہری زخمی ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں‘ بھارتی فوج ایسی رائفلوں اور گولیوں کا استعمال کررہی ہے۔ جس کے چھرے آنکھوں اورچہرے میں پیوست ہو کر مستقل اندھا کر دیتے ہیں۔

مضمون نگار نے فرنچ یونیورسٹی پیرس سے پی ایچ ڈی کی۔ وہ گزشتہ 16برس سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور

Societe Asiatique

کی ممبر بھی ہیں۔
 

رکھنا پاکستان سلامت


رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!
پاک وطن کی شان سلامت یااللہ

سندھ، خیبر، پنجاب رہے مہران آباد
تیرے کرم سے گلگت بلتستان آباد
دھرتی کی پہچان سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!

دیس کے شہروں قصبوں صحراؤں کی خیر
اِس کے پہاڑوں ، وادیوں ، دریاؤں کی خیر
گلشن کی ہر آن سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ

مٹّی سونا کرنے والے شاد رہیں
محنت کش مزدُور سدا آباد رہیں
رکھ میرے دہقان سلامت یااللہ
پاک وطن کی شان سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ

 

ڈاکٹر اختر شمار

اب تک ہزاروں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ چکے ہیں۔ آج جب کہ یہ رپورٹ شائع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر پچھلے 50 دن سے ایک بار پھر سخت ترین دباؤ میں ہے۔ اس کی وجہ بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے انتہائی مقبول نوجوان رہنما برہان وانی کی شہادت ہے۔17 اگست تک بھارتی بربریت66 افراد کی جان لے چکی ہے۔4500 نہتے شہری زخمی ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں‘ بھارتی فوج ایسی رائفلوں اور گولیوں کا استعمال کررہی ہے۔ جس کے چھرے آنکھوں اورچہرے میں پیوست ہو کر مستقل اندھا کر دیتے ہیں۔

*****

تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔

*****

بھارتی فوج کو کسی کا پاس نہیں تھا۔انہوں نے کھڑکیاں توڑ دیں۔ دروازوں کواکھاڑ دیا۔ حتیٰ کہ وہ عمر یا کسی اور چیز کا لحاظ رکھے بغیر بچوں اور عورتوں کو مارتے پیٹتے۔ بھارتی فوج کو ماؤں کی پروا تھی نہ بہنوں کی۔۔۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے ہم سے ایساسلوک روا رکھا کہ جیسے کہ ہم مرد ہوں۔ایک دن وہ ہماری ایک ہمسائی کو گرفتار کرکے لے گئے‘ ہم نے اُسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔

*****

’’پاکستان کے لوگوں نے گرمجوشی سے ہمیں گلے لگایا۔ جب گلہبار بارودی سرنگ سے زخمی ہوا، پاک فوج نے اپنے ہسپتال میں اچھی طرح اس کی دیکھ بھال کی۔ ایک مرتبہ پھر میں پاکستان کے لوگوں، پاکستان آرمی اور ہماری فلاح و بہبود اور بحالی کے لئے کام کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میرے بچے حکومت پاکستان کے تعمیر کردہ سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ہم وہاں ماہانہ صرف سو روپے کی علامتی فیس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے بچوں کی فیس پانچ ہزار روپے ہے۔ تدریس کا معیار نہایت عمدہ ہے۔‘‘

*****

’’ یہ تمام ہتھکنڈے ہمارا راستہ تو نہ روک سکے البتہ ہمارے دلوں میں بھارتی فوج کے خلاف مزید نفرت اور حق خودارادیت کے لئے لڑ مرنے کے ہمارے جذبے میں اضافے کا باعث ضرور بنے۔ ہم اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ہمارے گھر بار تباہ کردیئے، ہماری خواتین سے بدسلوکی کی اور ہمیں قتل کررہے ہیں۔۔۔ ظلم و بربریت نے ہمارے جذبوں کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پچیس سال سے ہم جدوجہد کررہے ہیں، اگر ہم اپنی منزل حاصل نہ کرسکے، تو ہمارے بچے ہمارے مشن کو جاری رکھیں گے۔ ہمارے خاندانوں پر انہوں نے جو ظلم و ستم ڈھایا ہے۔ اسے ہم بھلا نہ پائیں گے اور نہ انہیں معاف کریں گے۔‘‘

*****

تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔‘‘

*****

اس سانحے میں زندہ بچ جانے والوں کی داستانیں بڑی درناک ہیں۔ بھارتی فوجی زمین پر گرے زخمیوں کو قتل کر رہے تھے۔ جان بچانے کے لئے پل سے چھلانگ لگانے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پانی نے اپنے دامن میں لے لیا۔ سرکاری اعداد و شمار میں صرف 28 افراد ہی قتل کے زمرے میں لکھے گئے۔ لیکن مختلف ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 50 سے 287 تک تھی۔ اگلے مہینوں میں کشمیر میں غیرملکی ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کردی گئی۔

*****

 

Follow Us On Twitter