08
November

افغانستان موجودہ حالات کے تناظر میں

تحریر: عقیل یوسف زئی

افغانستان کی سیکورٹی کے متعلق حالات نے غیرمتوقع طور پر بہت خطرناک شکل اختیار کر لی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ یہ شورش زدہ ملک ایک بار پھر بدترین بدامنی کا شکار ہونے والا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے نصف سے زائد صوبوں (تقریباً 18) میں طالبان نے ماہ اکتوبر کے دوران حملے کئے۔ جس کے نتیجے میں فریقین کے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور حالات اتنے خراب ہونے لگے ہیں کہ ایک حالیہ اجلاس کے دوران نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈروں نے افغان حکومت کو تجویز پیش کی کہ اگر ان کی فورسز طالبان کی پیش قدمی روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں تو عالمی فورسز کو پھر سے مختلف صوبوں میں طلب کیا جائے۔ ایک اور ذرائع کے مطابق نیٹو کے سربراہ نے اپنے ہیڈکوارٹر کو لکھے گئے ایک خط یا رپورٹ میں حالات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر طالبان کی حالیہ پیش قدمی جاری رہی تو ملک پھر سے انارکی کی لپیٹ میں چلا جائے گا اور انٹرنیشنل فورسز کو پھر سے میدان میں اترنا پڑے گا۔ مذکورہ مراسلے میں نیٹو حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں کوئی مؤثر قدم اُٹھائیں۔ امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن کے کابل میں واقع دفتر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف معتبر امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک کے چار پانچ مہینوں کے دوران افغانستان میں ناقابل یقین حد تک ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ان چند مہینوں کے اندر افغان فورسز، پولیس اور طالبان کے درمیان دو طرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 7000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ سال 2001 کے بعد جاری جنگ کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں قرار دی جا رہی ہیں۔ چار مختلف مواقع پر پولیس نے طالبان کے گروپوں کے سامنے ہتھیار بھی ڈالے ہیں۔

 

afghanmojoda.jpg

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ نے ایک حالیہ اجلاس کے دوران صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے بین السطور میں یہ بتانے کی کوشش بھی کی کہ انٹرنیشنل فورسز کی تعداد یا مراکز کم کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حملوں اور قبضوں کی تعداد میں اضافہ اس معاہدے کے بعد دیکھنے میں ملا جو کہ حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان طے پایا ہے۔ حملوں ہی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے حزب اسلامی کو متعدد مراعات دینے اور اخراجات کے لئے 40لاکھ ڈالرز کے مطالبے کی 10لاکھ کی پہلی قسط ادا کرنے کے باوجود پارٹی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کابل آنے سے گریزاں ہیں اور ان کے آنے میں تاخیر کی بنیادی وجہ سیکورٹی سے متعلق وہ خدشات ہیں جن سے کابل جیسا مرکزی شہر بھی محفوظ یا مبرا نہیں ہے۔ اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کا قطر دفتر پھر سے فعال ہونے لگا ہے اور طالبان افغان حکومت کے نمائندوں کی بعض اہم ملاقاتوں کی خبریں بھی زیرگردش ہیں مگر کارروائیاں پھر سے کم یا ختم نہیں ہو پا رہیں۔

 

اور ایک درجن سے زائد صوبے بدامنی اور حملوں کی زد میں ہیں۔ قطر پر اسس کے بارے میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں ملاعمر کے بھائی ملا عبدالمنان اور افغان انٹیلی جنس کے سربراہ معصوم ستانکزی کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ان ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فریقین نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور یہ کہ اس ملاقات میں ایک امریکی نمائندہ بھی موجود تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امن لانے کی ایک بڑی مگر آخری کوشش ہے اور اگر یہ ناکام ہوئی تو جنگ کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ یہ بات انتہائی خطرناک ہے کہ اس دوران افغانستان بدترین بدامنی اور دوطرفہ حملوں اور کارروائیوں کی زد میں رہا جبکہ طالبان نے سال 2015 اور 2016 کے دوران پہلی بار اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر نہ صرف یہ کہ تین صوبوں کے کئی اہم شہر اور علاقوں پر قبضہ کیا بلکہ بیک وقت ایک درجن سے زائد صوبوں میں کارروائیاں بھی کیں اور مختلف صوبوں میں ان کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس اور وزارت داخلہ کی تفصیلات کے مطابق ان حملوں میں اس وقت شدت آ گئی جب افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان مفاہمتی فارمولے کے تحت معاہدہ ہوا اور یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ گلبدین حکمت یار چند روز میں کابل پہنچنے والے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران طالبان نے جن صوبوں میں موثر کارروائیاں کیں ان میں فراہ، پکیتا، خوست، ننگرہار، غزنی، بغلان، بادغیس، پنچ شیر، قندوز خازیاں، ہلمند اور متعدد دیگر صوبے شامل ہیں۔ طالبان نے عرصہ دراز کے بعد پہلی دفعہ پنج شیر پر بھی حملے کئے۔ حالانکہ یہ وہ صوبہ رہا ہے جہاں مثالی امن رہا۔ اور حالت یہ رہی کہ یہاں نیٹو یا امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ دوسری طرف طالبان نے ترکمانستان کی سرحد پر واقع صوبہ یعنی بادغیس میں گزشتہ دنوں کے دوران اتنے حملے کئے کہ افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان آمدورفت اور اشیا کی ترسیل کا سلسلہ بھی روک دیا گیا۔

 

امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن کے کابل میں واقع دفتر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف معتبر امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک کے چار پانچ مہینوں کے دوران افغانستان میں ناقابل یقین حد تک ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق ان چند مہینوں کے اندر افغان فورسز، پولیس اور طالبان کے درمیان دو طرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 7000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اور ترکمانستان نے سرحد پر اپنی فورسز کی تعداد بھی بڑھائی۔ بادغیس ہی میں درجنوں پولیس اہلکاروں نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور کئی چیک پوسٹیں رضاکارانہ طور پر ان کے حوالے کیں۔ یہی صورت حال ایک اور صوبے قندوز میں بھی دیکھنے کو ملی۔ جہاں پر مرکزی شہر کے علاوہ نصف سے زائد اضلاع پر عملاً طالبان قابض ہو چکے ہیں اور صوبائی دارالحکومت کے متعدد علاقے بھی ان کے قبضے میں ہیں ۔قندوز کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ اتحادی افواج کے سربراہ جنرل جان نکسن نے اتوار کے روز افغان فورسز کے چیف جنرل عبداﷲ جبسبی کے ساتھ قندوز کا دورہ کیا اور صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ قندوز چند ماہ قبل بھی تقریباً 10روز تک طالبان کے قبضے میں رہا تھا۔ قندوز، بادغیس، فراہ اور پنج شیر جیسے اہم اور سرحدی صوبوں میں طالبان کی کامیاب کارروائیوں نے افغان فورسز کے علاوہ تاجکستان اور ترکمانستان جیسے پڑوسی ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایرانی سرحد کے ساتھ واقع اہم صوبہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ۔ اس صوبے کے متعدد علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں اور یہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار بھی داعش اور طالبان کے مسلسل حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورت حال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر طالبان کی سرگرمیاں اور کارروائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دوسری طرف وزارت داخلہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران افغان اور اتحادی فورسز نے 68بڑے آپریشن کئے جس کے نتیجے میں 1895طالبان اور داعش جنگجو مارے گئے جبکہ 3000زخمی ہوئے۔ دفاعی ماہرین طالبان کی حالیہ کارروائیوں کو بڑی تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق افغانستان سمیت متعدد دیگر ممالک میں جاری بدامنی اور بعض عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والی شورشوں نے دنیا کے امن اور مستقبل کے بارے میں نہ صرف متعدد سوالات پیدا کئے ہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 2015-16 کے دوران عالمی دہشت گردی کے واقعات میں جہاں ایک طرف 30فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

 

ایرانی سرحد کے ساتھ واقع اہم صوبہ ہرات بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ۔ اس صوبے کے متعدد علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں اور یہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ ننگرہار بھی داعش اور طالبان کے مسلسل حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس صورت حال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو افغانستان کے تقریباً تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر طالبان کی سرگرمیاں اور کارروائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔

 

عالمی طاقتیں باہمی دشمنیاں نبھانے کے لئے کمزور اور پسماندہ اقوام ممالک کو بے دردی کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں جبکہ دنیا کی سیاست اور معیشت کا رخ موڑنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس ڈرٹی گیم میں پورا حصہ ڈالتی آ رہی ہیں۔ ہمارے خطے میں جاری جنگ کی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔

وہاں دنیا کے تقریباً 20ممالک مسلسل حملوں کی زد میں رہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اب بھی یہ ہے کہ اہم اور متاثرہ ریاستوں کی سطح پر ان عوامل اور اسباب کے خاتمے کے لئے کوئی کام نہیں ہو رہا ہے جس کے باعث عالمی اور علاقائی امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ عالمی طاقتیں باہمی دشمنیاں نبھانے کے لئے کمزور اور پسماندہ اقوام ممالک کو بے دردی کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں جبکہ دنیا کی سیاست اور معیشت کا رخ موڑنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس ڈرٹی گیم میں پورا حصہ ڈالتی آ رہی ہیں۔ ہمارے خطے میں جاری جنگ کی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوئی۔ آثار بتا رہے ہیں کہ ہم ایک بار پھر انٹرنیشنل پراکسی وارز کی سیریز کا نشانہ بننے والے ہیں۔ کیونکہ ہماری جغرافیائی اہمیت خطے میں بڑی طاقتوں کی موجودگی اور خطے میں قدرتی وسائل کے لامحدود ذخائر وہ عوامل اور ذرائع ہیں جن کے باعث ہماری اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض عالمی کردار اور ان کے سپانسرز اس کوشش میں ہیں کہ عدم استحکام کی صورت حال کو قائم رکھ کر ان لامحدود وسائل پر ان کے قبضے کے امکانات کو کسی نہ کسی صورت میں یقینی بنایا جائے۔ متعدد عالمی سروے بتاتے ہیں کہ پاکستان کے فاٹا، پختونخوا اور بلوچستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 6سے 8 ٹریلین ڈالرز کے ناقابل یقین قدرتی وسائل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کے قدرتی ذخائر کا حجم بھی تقریباً اتنا ہی بتایا جاتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے چھپے خزانوں کا تخمینہ 10ٹریلین ڈالرز بھی لگایا جائے تو یہ اس جانب اشارہ ہے کہ یہ دنیا کا امیرترین خطہ ہے۔ دوسری طرف یہی حالت وسطی ایشیائی ریاستوں کی بھی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے کے ساتھ عالمی معیشت کا نہ صرف مستقبل وابستہ ہے بلکہ عالمی معیشت کے ٹھیکیدار یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہاں امن ہو اور یہ ممالک ان ذخائر سے فائدہ اٹھا کر دنیا کی توجہ کا مرکز بننے کے علاوہ لیڈنگ رول نبھانے کے قابل ہو جائیں۔خطے میں روس، امریکہ، چین اور ہندوستان جیسے اہم ممالک کی موجودگی بھی امن اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بادی النظر میں دکھائی یہ دے رہا ہے کہ اس تناظر میں بھی افغانستان کی صورت حال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس صورت حال نے پاکستان کے لئے بھی خطرات بڑھا دیئے ہیں اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ پاک افواج افغانستان کے ساتھ بارڈر میکنزم کو مکمل فعال بنانے میں بہت سنجیدہ دکھائی دیتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وطن کا ناز


عسکر پاک، دنیا میں، عجب اک آن رکھتی ہے
یہ اعلیٰ ظرف رکھتی ہے، یہ اونچی شان رکھتی ہے
یہ سب افواج عالم سے الگ پہچان رکھتی ہے
ہر اک ساعت یہ باندھے جنگ کا سامان رکھتی ہے
کہ شاعر اور نغمہ خواں اسے رخشندہ کہتے ہیں
یہ مہروماہ سے روشن اسے تابندہ کہتے ہیں
وطن کا ناز ہے یہ قوم کی آنکھوں کا تارا ہے
یہ ارض پاک کے ہر فرد کا مخلص سہارا ہے
جہاں مشکل گھڑی میں دیس نے اس کو پکارا ہے
وہاں لبیک حاضر ہوں فقط اس کا یہ نعرہ ہے
اسے دیکھو میدانِ جنگ میں کیسے یہ لڑتی ہے
یہ پوچھو جا کے دشمن سے گلا کیسے پکڑتی ہے
سبھی کو عزم و ہمت کا کٹھن رستا دکھایا ہے
وفا کا درس، غیرت کا سبق اس نے پڑھایا ہے
امن میں جنگ میں ہر کام کا بِیڑا اٹھایا ہے
یہ وہ چھکا ہے جس نے ہار سے سب کو بچایا ہے

 

نائب صوبیدار ریاض عاقب کوہلر

*****

 
10
October

How India Can Make Peace in Kashmir?

Written By: Ahmed Quraishi

The current Kashmir crisis has shattered every myth the world has come to know and believe about the oldest pending conflict since the Second World War. It is proven now that India does not control Kashmir and has a tenuous control at best over the state it invaded in 1947 and later illegally annexed. The world is no longer silent and ignorant about Indian human rights violations. The unarmed Kashmiris did and can break the siege and force the world to see what India wants to hide. And the United Nations can intervene and force a solution despite Indian non-cooperation.


The seven million Kashmiris of Kashmir Valley have effectively unsettled the world's second largest standing army. Today, Kashmir is the world's biggest peaceful civil disobedience movement to end a military occupation. The irony is that India, which produced Gandhi, a symbol of peaceful civil disobedience against British rule, is today a repressive and violent military occupier, in many ways far worse than the British colonizers. (The Indian army is accused of using rape as a tool of war in Kashmir, according to human rights organizations, and the government in New Delhi is quick to create laws that protect Indian soldiers involved in gang rapes and other war crimes.)

 

 

howindiacanmake.jpgIndia cannot defeat freedom in Kashmir any more than Britain could defeat the Indian quest for freedom seventy years ago.


India has failed to pacify Kashmir in seven decades and, short of an outright military-led genocide, cannot continue to forcibly maintain the status quo.


The Indian mismanagement of Kashmir conflict and the latest crisis betrays a high level of political and military immaturity in New Delhi that belies India's claim to big-power status. What's worse, the continued Indian mismanagement and wrong policy choices promise to destabilize a highly militarized region and entangle world powers already busy in Syria and other conflicts.


India has failed to resolve Kashmir issue and is unable or unwilling to act responsibly to end the conflict. An international intervention has become inevitable.

 

It is time that India offloads its Kashmir Burden and rids itself and the region of the source of incessant conflict for the past 69 years. The ruling elite in New Delhi should listen to Indian voices of reason that believe India should let the Kashmiris go.

The UN Has Spoken
The September 13 statement of UN High Commissioner for Human Rights Zeid Ra'ad Al-Hussein ends more than half-century of international silence on Kashmir conflict. It is a landmark development that settles the Indian claim over Kashmir being Indian territory (it is not, the High Commissioner has referred to Indian-administered Kashmir), and opens the door to international diplomacy to resolve the conflict.


In brief, the top international bureaucrat overseeing the global humanitarian system linked India to the use of excessive force in Kashmir reminded New Delhi that his office awaits Indian invitation to a UN fact-finding mission to Srinagar to meet victims, and declared that Kashmir requires an impartial international probe into the role of Indian army in the disputed region.


These were the High Commissioner's exact words:
“Two months ago, I requested the agreement of the Governments of India and Pakistan to invite teams from my Office to visit both sides of the line of control: in other words the Indian-administered Jammu and Kashmir and Pakistan-administered Kashmir. We had previously received reports, and still continue to do so, claiming the Indian authorities had used force excessively against the civilian population under its administration. We furthermore received conflicting narratives from the two sides as to the cause for the confrontations and the reported large numbers of people killed and wounded. I believe an independent, impartial and international mission is now needed crucially and that it should be given free and complete access to establish an objective assessment of the claims made by the two sides. I received last Friday a letter from the Government of Pakistan formally inviting an OHCHR team to the Pakistani side of the line of control, but in tandem with a mission to the Indian side. I have yet to receive a formal letter from the Government of India. I therefore request here and publicly, from the two Governments, access that is unconditional to both sides of the line of control.”

 

howindiacanmake1.jpgThis UN statement brought Kashmir back to international limelight after decades of neglect, alerted the community of international human rights activists and defenders to the urgency in Kashmir, put world powers on notice, and most importantly marked the failure of Indian diplomacy to convince the world of its position on Kashmir conflict.


The UN High Commissioner for Human Rights was delivering a policy statement at the start of the 33rd session of Human Rights Council at Geneva. This also was the first statement at the beginning of the second decade of the Council. Besides Kashmir, the statement dealt with Syria, Crimea, and other international conflicts.


The Indian response to the UN High Commissioner was immature, shocking and irresponsible, considering that it comes from a country that wants world-power status and thinks it should have a permanent seat in UN Security Council. Ajit Kumar, the Indian permanent representative at the Human Rights Council, made a confusing and disjointed statement. Kashmir belongs to India, he said, then went on to protest why the UN High Commissioner used the term ‘Indian-administered Kashmir’. He tried to win international sympathy by playing the Largest-Democracy Card (LDC), claiming that the Indian occupation setup in Kashmir was democratically elected.

 

India cannot defeat the idea of freedom. Countries more powerful than New Delhi have tried and failed in the past. Kashmir never was and will never be part of India. There is so much bad blood now between Kashmiris and Indians, especially after July 8, that coexistence does not seem possible.

Considering the fast-deteriorating situation between Pakistan and India because of the killings of the civilian population in Kashmir at the hands of the Indian army, diplomats, journalists and rights defenders expected a wiser response from India.


Indian Compulsions
Logically speaking, India has every reason to resolve Kashmir at this stage. New Delhi should have welcomed the opportunity of intervention by UN Human Rights Council. The High Commissioner gave Indian government a face-saving exit from a crisis that is getting out of Indian hands, if it has not already. Prime Minister Modi is facing Indian army commanders every day who tell him to pull out their soldiers from crowd-management assignments in Indian-occupied Kashmir. Indian generals tell Modi it is not their job to act as a riot police, and that the only solution they can offer at this stage is to start opening fire on every group of Kashmiri civilians peacefully protesting against Indian rule.


There is another stronger reason why India should accept a UN intervention after the September 13 statement of UN High Commissioner for Human Rights. After the attack on an Indian occupation army camp at Uri, near the temporary ceasefire line known as Line of Control, some Indian army commanders reportedly want to offset their failure in taming Kashmir by encouraging New Delhi to start a war against Pakistan. They have two ready pretexts: one is the Uri attack; and second is Modi government's ready-made charge that the massive civil disobedience movement and uprising in Kashmir is ‘orchestrated’ by Pakistan.


The UN High Commissioner's statement can save India from the warmongers in the government, like Ajit Doval, the national security advisor, and from some in the military who want to push India to an all-out war to cover up for failures in Kashmir. They also hope that war would end the Kashmir freedom movement and help India to subjugate Kashmiris for several more decades.


Kashmir entangles five of the nine known nuclear powers in the world – Pakistan, India and China directly, and United States, Russia indirectly. When India threatened war, Moscow sent Russian Army contingent to Islamabad for scheduled military exercises, turning down Modi's request to cancel the exercises.


Why Prime Minister Modi would not take the chance offered by the UN High Commissioner to extricate himself and his demoralized army from the Kashmir quagmire is anybody’s guess.


Kashmir Damages India's International Standing
With the UN breaking its silence on Kashmir (aside from the statement by UN High Commissioner for Human Rights, the UN Secretary-General has twice issued statements on Kashmir since July), the international media is disparaging India on Kashmir. New Delhi has not experienced this level of bad press in decades. Gains made by spending hundreds of millions of dollars on image-enhancing advertising campaigns, like ‘Incredible India’ and ‘Made in India’, could wipe out because of tensions and instability.


The American magazine, Quartz, boldly singled out Ajit Doval, the militant Indian national security advisor, for criticism for the tensions in the region in its September 18 report titled, ‘Doval Doctrine: Narendra Modi’s aggressive stand on Pakistan might make India more vulnerable to terror.’


The Guardian and Al-Jazeera have boldly covered Indian Army's attacks and killings of the civilian population in Kashmir with blunt headlines such as, ‘India is blinding young Kashmiri protesters – and no one will face justice,’ published by The Guardian on July 18.


The New York Times Editorial Board has written twice on Kashmir in two months. On both occasions, the paper has come down hard on India, going even to the extent of calling key allies of Modi's ruling party as ‘irresponsible’ for warmongering.


Within India itself, voices of dissent are growing. Few Indians are interested in Kashmir outside the Hindi Belt, the minority Hindi-speaking regions of North India that dominate the government and army in New Delhi. Many non-Hindi speaking Indians, who are in majority, feel Kashmir is a matter of ego for North Indian Hindi-speaking rulers. The Hindi-speaking ruling elite often gets derided for fixation on Kashmir and Pakistan, and is giving little attention to serious issues of health, poverty and social development that plague India.


Kashmir has cost India dearly. Wars and tensions related to this conflict have played a role in stopping India from winning support for a permanent seat in UN Security Council and membership in the Nuclear Suppliers Group.


India's Kashmir Burden
It is time that India offloads its Kashmir burden and rids itself and the region of the source of incessant conflict for the past 69 years. The ruling elite in New Delhi should listen to Indian voices of reason that believe India should let the Kashmiris go.


India cannot defeat the idea of freedom. Countries more powerful than New Delhi have tried and failed in the past. Kashmir never was and will never be part of India. There is so much bad blood now between Kashmiris and Indians, especially after July 8, that coexistence does not seem possible.


Any well wisher of India would ultimately give the same advice: India should heed the call of UN High Commissioner for Human Rights, allow a fact-finding mission to visit the victims in Kashmir. This will help start a process of healing in Kashmir and the region. The next steps could include withdrawal of the Indian army from the region. At a later stage, Pakistan could join India and the UN in finding a political solution, which could end in some form of a referendum supervised by the United Nations for Indian Occupied Kashmir and Azad Kashmir to decide their fate in accordance with UNSC resolutions.


This process will be arduous and will require the sustained commitment of India, Pakistan and the UN, but it is possible. Anything less than this will probably not be acceptable to the Kashmiris and the cycle of deaths and war could continue.


With the door to diplomacy opened by the United Nations, India should get on the right side of history and make things right for itself, for Kashmir, and for peace in the region and the world.

 

The author is a writer, journalist, researcher. He works on Kashmir for YFK-International Kashmir Lobby Group.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
November

بھارتی آبی جارحیت

تحریر:سمیع اللہ خان

دنیاآج پانی کا قطرہ قطرہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت خرچ کررہی ہے جبکہ ہم ہر برس 36ملین ایکڑفٹ پانی کو اپنی ہنستی بستی آبادیوں اورکھڑی فصلوں کو تباہ کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں اورپھروہ ہمیں منہ چڑاتاہوا بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ سترکھرب کایہ پانی سندھی ‘بلوچی ‘پٹھان ‘پنجابی وسرائیکی کی تمیزکئے بغیرسب کو چکمہ دے جاتاہے کیونکہ ہمارے عاقبت نااندیش رہنمادشمن کی بچھائی ہوئی شطرنج کی چال سمجھنے سے قاصرہیں ۔کاش! کسی کوتوفیق ہوکہ کالاباغ ڈیم کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے والی پہلی فائل کی تحقیق کرے کہ وہ کہاں سے بن کے آئی ؟کون سی ریاست ہے جو انسانوں سمیت آبی جانوروں اورتھر کے موروں کوبھی نہیں بخش رہی ؟کون سا ضمیر ہے جو چند میگاواٹ بجلی کی خاطرکراچی میں بسنے والے انسانوں کی حبس بے جاسے ہونے والی اموات کا ذمہ دار ہے ؟کون ہے جسے ’’تاراسنگھ‘‘ بسترمرگ پر بھی مکار قراردیتے ہوئے بے چینی سے پہلو بدلتے رہے؟کون ہے جو بنگلہ دیش کو بھی پاکستان دشمنی میں ڈبوکراس کے حصے کہ
Teesta
اور
Feni
دریاؤں کے پانی پرقبضہ جمائے بیٹھاہے؟ کون ہے جو
Barrage Farakkha
سے بنگلہ دیش کو پانچ سوملین ڈالرکے سالانہ نقصان سمیت سیلابوں اورخشک سالی کابھی نظارہ کرارہاہے؟
افسوس! صدافسوس! کہ ایسا بے ضمیروبے حس ملک ہماری ہمسائیگی میں آبادہے ۔جس نے ہمارے وجودمیں آنے کے پہلے برس ہی پانی کا بہاؤ کاٹ دیا۔ پھر 4مئی 1948کو
Inter-Dominion
معاہدے کے تحت بھارت‘ پاکستان کو اس کی ضرورت کے مطابق پانی دینے کا پابند ہواجس کی پاکستان نے قیمت اداکی۔اس ساری کہانی کا اصل محرک وہ ملک ہے جس نے پاکستان میں بہنے والے دریاؤں راوی اورستلج کے ہیڈورکس ‘مادھوپوراورستلج بھارت کی جھولی میں ڈال دیئے کیونکہ عیاردشمن نے
Miss Edwina
کواپنے اثرورسوخ کے لئے استعمال کیا اور باؤنڈری کمیشن کے انچارج ریڈکلف پر اثراندازہوا۔اس کے بعد گورداسپورکامسلم اکثریت کاعلاقہ بھارت کی ملکیت قراردینا بھی اسی سازش کی کڑی تھا کہ اس طرح بھارت کو کشمیر تک زمینی رسائی حاصل ہوگی ‘جس سے اسے پاکستان میں بہنے والے مغربی دریاؤں سندھ ‘چناب اورجہلم پر بھی مکمل کنٹرول حاصل ہوجائے گااوردونوں ممالک الجھے رہیں گے۔

 

bhartiabii.jpgبھارت نے آبی جارحیت کا دوسراپرزوردوربگلیہارڈیم سے شروع کیاجس میں 19ستمبر 1960کوعالمی ورلڈبینک کی سربراہی میں کراچی میں ہونے والے معاہدے سندھ طاس کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑاواٹرسٹوریج قائم کیا گیا۔جس سے وہ پاکستان کے حصے کا 34لاکھ کیوسک پانی ہڑپ کرگیا۔اس ڈیم کی ورکنگ کے پہلے ہی برس پاکستانی زراعت کو ایک کھرب سے زائد نقصان ہوا۔ پاکستان دریائے چناب سے 92لاکھ ایکڑاراضی کوسیراب کرتاہے جبکہ ڈیم کی تعمیرکے پہلے ہی برس پاکستان دریائے چناب سے محض 25لاکھ ایکڑاراضی کوسیراب کرسکا کیونکہ 35ہزارکیوسک کی جگہ ان دنوں تیرہ ہزارکیوسک آنے لگا۔جھوٹے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے ساتھ ساتھ ستمبر 2016میں بھارت نے بگلیہارڈیم پر دوسری مرتبہ چناب کاپانی روک دیا اور ہیڈمرالہ پرپانی کی آمدانتیس ہزار‘تین سوبیاسی کیوسک رہ گئی۔صرف دریائے چناب کا پانی اکیس ہزارآٹھ سوانیس کیوسک ہے لیکن اس وقت آنے والے انتیس ہزار میں دریائے مناورتوی کادوہزارنوسوسترکیوسک اوردریائے جموں توی کا 4,804کیوسک بھی شامل ہے۔


بگلیہارڈیم کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے تو اس کی تعمیر کاآغاز انڈیانے 1999میں کیا۔پاکستان کاموقف تھاکہ یہ سندھ طاس کی خلاف ورزی ہے اورانڈیااس کے ذریعے جنگ یا تناؤ کی کیفیت میں پاکستان کا پانی روک سکتاہے (جوکہ آج سچ ثابت ہوا)۔ اس تنازعے پر 1999سے 2004تک پاک بھارت مذاکرات کے کئی دورہوئے جوبھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بغیرکسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔18اپریل 2005کوناکام مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان نے ورلڈبینک کے سامنے چھ اعتراضات اٹھائے۔پھر اپریل 2005 میں پاکستان نے اس معاملے کے حل کے لئے سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل ixکی شق 2 کے تحت ورلڈبینک سے نیوٹرل ایکسپرٹ کی راہنمائی میں معاملہ سلجھانے کی گزارش کی۔مئی 2005میں ورلڈبینک نے
Lafitte Raymond
کی سربراہی میں اس مسئلے کے حل کے لئے ٹیم تشکیل دی جس نے فروری 2007کو اپنافیصلہ سناتے ہوئے بھارتی موقف کو تسلیم کیا اور بگلیہارڈیم پر معمولی اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسکی تعمیر کی اجازت دے دی۔ اگرسندھ طاس معاہدے سے لے کر بگلیہارڈیم تک دیکھاجائے تو جہاں پاکستان کوناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں اس کی متعلقہ ٹیم کی کمزوریاں بھی ابھر کر سامنے آتی ہیں۔
پاکستان میں پانی کوسٹورکرنے کی قوت تیس دن ہے جبکہ اس وقت انڈیا کے پاس پانی کومحفوظ کرنے کی قوت ایک سوبیس سے لے کر دوسودنوں تک ہے۔


سکھ نوجوانوں کوچاند ماری کے لئے استعمال کرنے والے بھارت نے 2007 میں ’’کشن گنگاڈیم‘‘ کا 330 میگاواٹ کامنصوبہ شروع کیا جس سے پاکستان میں قائم ہونے والے 969میگاواٹ کے ’’ نیلم جہلم پراجیکٹ ‘‘ سمیت پاکستان کے حصے کے پانی کو زبردست نقصان پہنچااوریہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 4کی شق 3 کے کلاز تھری ‘پیراگراف نمبرپانچ اورآرٹیکل سیون ‘ون ‘بی کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے۔دریائے نیلم ‘جہلم ریورکامعاون ہے۔۔ہیگ کی عالمی عدالت نے کشن گنگاپرفیصلہ سناتے ہوئے فروری 2013میں بھارت کو کہاتھا کہ وہ پانی کے ماحولیاتی بہاؤ کوبرقراررکھنے کے لئے نوکیوبک میٹرفی سیکنڈ پانی چھوڑنے کا پابندہوگامگر بھارت اپنی راویتی روش کے مطابق عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے محض 4.25کیوبک میٹرفی سیکنڈ کے حساب سے پانی چھوڑ رہاہے ۔انڈیانے انیس سوسترمیں کشمیری دریاؤں پر تینتیس ڈیم بنانے کااعلان کیاتھا جس میں سے بہت سے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
اسی طرح پاکستان کے حصے کے مغربی دریا‘ دریائے چناب کے پانی پر ریٹل پاورپراجیکٹ کے ذریعے ایک بڑی قدغن لگائی جارہی ہے ۔ آبی ماہرین کی رائے کے مطابق ریٹل پاورپراجیکٹ اگر بھارت کی خواہش کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچتاہے تو اس سے دریائے چناب کے قدرتی بہاؤ میں اکیس سے چالیس فیصد تک کمی متوقع ہے۔ جو پاکستانی پنجاب سمیت سندھ کی زمینوں کو بنجرکرنے کا ایک خطرناک منصوبہ ہے۔کشن گنگاکاپانی چوبیس کلومیٹرطویل ایک پاورپروڈکشن کینال کے ذریعے موڑاجائے گا جبکہ بقیہ پانی وولرجھیل سے جاملے گا‘اوردوسوتیرہ کلومیٹرطویل دریائے نیلم کونقصان پہنچائے گا۔۔انرجی کے ضمن میں 141ملین ڈالرسالانہ اورعلاقے میں زراعت کو 420 ملین ڈالرتک نقصان ہو سکتاہے۔ اس کے علاوہ
Nimoo-Bazgo
پراجیکٹ میں کاربن کریڈٹیس بھی بھارت کی مکارانہ صلاحیت اورپاکستانی آفیشلزکے غیرذمہ دارانہ رویہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
انڈیا 2012سے 2017تک 72ڈیمز کی تعمیر کاعندیہ دے چکاہے جس کے ذریعے وہ 15208میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا خواہش مندہے۔ان میں
Bursar Hydroetectric Project
میں پانی کوسٹورکرنے کی
2.2 MAF (Million Acre Feet)
قوت ہے جبکہ معاہدہ کے تحت دریائے چناب کے پانی کو بھارت 1.7
MAF
سے زیادہ سٹورکرنے کاحق دار نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکلvi کے تحت بھارت اس بات کا پابند ہے کہ منصوبوں کے متعلق ڈیٹااورمعلومات پاکستان کے ساتھ شیئرکرے لیکن وہ ہمیشہ ہی بادشاہوں کی اولادکی طرح اپنے آپ کو کسی قانون کاپابند تصورنہیں کرتا۔
(International Commission on Large Dams) ICOLD
کے ممبرہونے کی وجہ سے بھارت پر لازم ہے کہ بڑے ڈیمز کی معلومات پاکستان کے ساتھ شیئرکرے لیکن بھارت ایساکرنااپنی توہین سمجھتاہے۔
ICOLD
کے تحت 15میٹرسے اوپرکاہرڈیم‘ بڑا ڈیم ہی تصورہوگا ۔بھارت نے تفصیلی طورپر کسی بھی انجینئر پراجیکٹ کی مکمل معلومات کاتبادلہ نہیں کیا جبکہ بالخصوص
Pakal Dul 1000mw‘Ratle 780mw‘Kirthal 990 mw‘Seli 715
اور
Sawalkot
کے 1020 میگاواٹ جیسے بڑے ڈیمز کی مکمل معلومات چھپانے کے جرم کابھی مرتکب ٹھہرا ہے۔
2012کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں نوڈیمزتباہی کاشکار ہوئے۔ یہ تمام منصوبے ایسے ہیں کہ ان کونقصان پہنچنے کی صورت میں پاکستان کے ڈاؤن سٹریم کے علاقے میں انفراسٹریکچرکوشدید نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے‘ خصوصاً کشمیری دریاؤں پربننے والے ڈیمززیادہ خطرناک صورتحال کی غمازی کر رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی کٹھ پتلی حکومت نے بھی 1055 میگاواٹ کی قوت کے حامل سات ڈیمزکی تعمیر کاعندیہ 2012میں دیاتھاجس میں سے پانچ دریائے سندھ پرجبکہ ایک دریائے سرواوردوسرادراس پر۔انڈیاکااپنے دوسرے ہمسایہ ممالک سے بھی یہی رویہ ہے جواس کے استعماری عزائم کی بھرپورعکاسی کر رہا ہے۔
Farakka Barrage
کی تعمیرنے جہاں بنگلہ دیش کے زمینی پانی کو سترفیصدسے زیادہ آلودہ کرکے اسے پانچ سوملین ڈالرسالانہ کانقصان پہنچایاوہیں مون سون میں سیلاب کی آمداورخشک موسم میں خشک سالی بھی بنگلہ دیشیوں کامقدرٹھہری مگربنگلہ دیش ہے کہ بھارت کے ساتھ پیارکی پینگیں بڑھاتا ہی جارہاہے۔حسینہ واجدکی آنکھوں پرتوپاکستان دشمنی کے ایسے دبیز پردے ہیں کہ اسے اپنے ملک کی عوام کا خیال تک نہیں آتا۔2015میں جب مودی ‘بنگال کی وزیراعلیٰ ممتازبینرجی کو استعمال کرتے ہوئے ٹریفک اورسڑکوں کی تعمیرکے منصوبوں پردستخط کرواچکے تو حسینہ واجد نے ممتاز بینرجی کے ساتھ دریائے
Fani
اور
Teesta
کامعاملہ اُٹھایاتو انھوں نے محض چانکیانہ مسکراہٹ اچھال کرحسینہ واجد کے لبوں پرمہرلگادی ۔


بھارت دریائے جہلم پر مقبوضہ کشمیرمیں بارہ مولاکے مقام پر سری نگرسے سات کلومیٹر دورشمال میں وولربیراج بنارہاہے ۔اس پر بھی بھارت نے پہلے مذاکرات باربار بے نتیجہ ختم کئے اوراب وولربیراج پربات کرنے کے لئے ہی تیار نہیں۔ بھارت یہ ڈیم وولرجھیل کے دہانے پربنارہاہے۔ جہاں وہ مقبوضہ وادی میں نیلم جہلم دریامیں گرتی ہے۔اس کی سٹوریج قوت تین لاکھ ایکڑفیٹ ہے جوکہ سندھ طاس کے ضمیمہ ڈی کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے ۔شنید ہے کے دریائے جہلم پرمزید 54ڈیم زیرتعمیرہیں۔بھارت ‘دریائے سندھ کاپانی کارگل کے مقام پر دریائے برہم پترمیں ڈال رہاہے لیکن جب خطے کے اس بے مروت ملک کاپانی چین نے روکاتو اسے دن میں تارے نظرآگئے۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران چین نے تبت میں ایک ڈیم کے لئے برہم پترسے نکلنے والے ایک معاون دریاکاپانی بند کردیا۔چینی نیوزایجنسی کے مطابق تبت سے نکلنے والے دریائے یارلنگ زینگبو سے نکلنے والے معاون دریا ‘شیبوقوکاپانی لالہوڈڈیم کی تعمیرکی وجہ سے بندکیاگیا۔چین سے نکل کر یہ دریا بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں اروناچل پردیش اورآسام سے ہوتاہوا بنگلہ دیش تک جاتاہے۔یہ ڈیم295ملین کیوبک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ پانی کی حالیہ بندش سے برہم پترمیں 36 فیصد پانی کی کمی کاسامنادیکھنے میں آیا۔جس سے بھارت کی پانچ ریاستیں متاثر ہوئیں۔ چین کاکہناہے کہ اس کے بھارت سے پانی پر کوئی معاہدے نہیں ہیں اس لئے وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزادہے جبکہ اس سے قبل 2015 میں جب چین نے ایک پرانے ڈیم کو بحال کیاتودوسروں کاپانی ہڑپ کرنے والابھارت بلبلااُٹھا‘ اس کے ساتھ ساتھ چینی حکومت برہم پتر یعنی یارلنگ زینگبو پر مزید تین ڈیم کی تعمیرکاارادہ بھی رکھتی ہے۔بھارتی میڈیاکے ماہرین نے چین کے اس عمل کو ایک سفارتی اشارہ قراردیتے ہوئے کہاکہ یہ بھارت کے اس عمل کاردعمل ہے جواس نے سندھ طاس کی خلاف ورزی کرکے انجام دیاہے۔چین کوپانی کے حقوق سمجھانے والے بھارت پروہی مثال صادق آتی ہے کہ ’’اوروں کونصیحت خودمیاں فضیحت‘‘۔
بھارت کی ریاست راجستھان میں موجودکوئلے سے چلنے والے پاورپلانٹس تھرکے موروں سمیت گزشتہ برس کراچی میں ہونے والی اموات کے ذمہ دارہیں کیونکہ چمنیوں کارخ سندھ کی جانب کیا گیاہے۔ایسے حالات میں پاکستان کو چاہئے کہ اپنے حقوق کی جنگ عالمی فورم پرلڑے۔بھارت جوکہ کسی کو خاطرمیں نہیں لاتا‘ اور ورلڈبینک کی سربراہی میں ہونے والے معاہدے سے بھی بے نیازی کااظہارکررہاہے ۔اس کی اصل صورت ہمیں دنیاکے سامنے رکھناہوگی۔
اٹھارہ ستمبر کوہونے والے اُڑی حملے کے بعد بھارت نے انڈس واٹر کمشنرزکے ششماہی مذاکرات معطل کردیئے ۔جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہرچھ ماہ بعد مذاکرات ضروری قراردیئے گئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر بھارتی وزیراعظم نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنی کابینہ کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ ’’پانی‘‘کوخارجہ پالیسی کے ہتھیارکے طورپراستعمال کیاجائے گا۔اس قبیح حرکت پر پاکستان نے بھارت کویاددہانی کروائی کہ ’’ویاناکنونشن‘‘سمیت تمام عالمی قوانین بھارت کے اس اقدام کی حمایت نہیں کرتے کہ وہ نچلے علاقوں کی جانب پانی کا بہاؤ روک دے۔بھارت کی اسی مذموم کاوش پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کو چاہئے کہ 50برس سے قائم پرامن شراکت داری کے معاہدے پرسختی سے کاربندرہتے ہوئے باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔


سمجھوتہ ایکسپریس سے لے کرپٹھان کوٹ تک ‘ کلبھوشن سے لے کراڑی حملے تک، بھارت کی نیکوکاری کے جتنے بھی ثبوت ہیں، ببانگ دہل اقوام عالم کودکھاناہوں گے ۔ایسابھی دیکھنے میں آیاہے کہ کشمیرسمیت پانی کے مسئلہ پرپاکستان سے انصاف نہیں برتاگیاتاہم پاکستانی سفارت کاری کوبھی بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اُٹھناہوگا۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں دنیامیں ہونے والی جنگوں کی بنیادپانی ہوگا اوراس جنگ میں پاک بھارت نہیں بلکہ عالمی امن کو بھی خطرہ ہو گا۔ لہٰذا اقوام عالم کے ذمہ دارممالک کا فرض ہے کہ بھارت کوخطے میں بدکرداری سے روک کر اس خطے کی بدقسمتی کی لکیر کومزیدگہراہونے سے بچائے۔ اس حقیقت میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کاپانی بندکرناایک ’’حملہ ‘‘ ہی ہے جو پاکستان کوزراعت‘صنعت‘انرجی سمیت متعدد شعبوں میں کمزورترکرنے کی سازش کاحصہ ہے۔آبی ماہرین کے مطابق اگر بھارت اسی تواترسے ڈیم بناتارہاجن کا مقصد توانائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کروڑوں انسانوں کامعاشی قتل بھی ہے تو آنے والے پانچ برس میں ممکن ہے کہ پاکستان کوپانی کی دستیابی آٹھ سوکیوبک میٹرتک گر جائے۔ یہ ہیں بھارت کے وہ مکروہ اورگھٹیاعزائم جن کے ساتھ وہ پاکستان کے خلاف زہربھی اگلتاہے۔شایداستعمارکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اس کے پاس ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جس کی وجہ سے کھلی آنکھیں بھی کشمیرسے بے اعتنائی برت رہی ہیں۔ حیرت ہے کہ مسلمانوں کاقاتل دبئی میں کھڑے ہوکرپاکستان کوللکارتاہے اورپھر متحدہ عرب عمارات سے 75ارب ڈالرکی سرمایہ کاری بھی لے اُڑتاہے ۔یہ ہے وہ عالمی منظرنامہ جس میں پاکستان کو اپنی جنگ سفارت کاری کے میدان میں لڑنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بھارت کی آبی جارحیت کے ساتھ ساتھ اس کے مکروہ پراپیگنڈے کابھی پوری قوت کے ساتھ جواب دیاجاسکے۔

مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
October

Indian Ambitions in Middle East and Central Asia

Written By: Rear Admiral Waseem Akram

India is geographically an island nation surrounded by the Bay of Bengal, the Indian Ocean and the Arabian Sea, whereas to its north lay the majestic Himalayan Ranges. India shares its land borders with China, Nepal, Bhutan Bangladesh, Burma and Pakistan and has unsettled disputes with all its neighbours. China and India in particular have serious border disputes over 4000 km of shared borders in the Himalayas. Since the entire frontier runs through some of the highest elevations, it is impossible for either country to launch any meaningful armoured assault or sustain any major land operation against the other. In retrospect, China and India despite being neighbours are walled off from each other, with few passes available for communication linkages, hence chances of any major military encounter between them over land is minimal. The other major issue, India has, is with Pakistan, a nation located west of India, occupying a strategic position, as it blocks Indian land route access to Iran, Afghanistan and CARs to the West. Pakistan and India since inception, have unresolved ideological, political and land disputes, principal amongst them being the occupation of the state of Kashmir, occupied and oppressed by India for over 60 years, against their will for the right of self-determination.


With the disintegration of the USSR and strategic realignment with the U.S. since 1992, Indian by using money earned by its diaspora and foreign direct investment, has witnessed a phenomenal growth in its economy. Not only has the growth been in its GDP and foreign reserves, but for the first time in its history, India is poised to shift from its age old agriculture based economy to be an industrial giant. With industrial aspirations spiraling upwards, its want for raw material and energy resources requires assurances and safeguards.


India is currently the world's fourth-largest consumer of energy with a total energy consumption of 638 million tons of oil equivalent, behind Russia, China and the United States. India currently consumes 3.7 million bpd of crude oil and it is estimated that by 2040 India's daily crude usage will be to the tune of 10 million bpd. In 2014, India spent $138 billion to import 79 percent of its crude oil from abroad, out of which more than 57 percent came from the Middle East, specifically Saudi Arabia, Iraq, Iran, Kuwait and the UAE, while 85% of the country’s LNG came from Qatar and 5% from Yemen. It is estimated that by 2040, India will import 90 percent of its crude oil from abroad. Though Saudi Arabia is currently India's largest supplier, providing about 18 percent of the country's oil, however, New Delhi is actively trying to further deepen its diplomatic ties with Iran in order to diversify its foreign dependence. Concurrently, the surging domestic demand for coal will transform India, the world's second-largest coal producer, into the biggest coal importer within the next five years.


According to 2015 estimates some 7.589 million non-resident Indians are working in the Middle East and they are remitting about U.S. $ 37.2 billion (2014 estimates) back to India. Due to this large work force, India is exporting about U.S. $ 52.8 billion worth of goods to the Middle East.


Amidst this economic boom, Indian Prime Minister Narendra Modi undertook a series of visits in the CARs/Middle East in a bid to secure Indian aspiring interests. First on the list were five Central Asian countries – Kazakhstan, Kyrgyzstan, Uzbekistan, Turkmenistan and Tajikistan whom he visited from July 6-13, 2015. Apart from exploring the possibility of tapping huge hydrocarbon, mineral and uranium resources from these countries, PM Modi offered India’s expertise in improving security situation for checking the growing Islamic militancy in the region. He also discussed the possibility of lease of ex-Soviet airbase Ayni for the Indian Air Force with Tajikistan’s President Emomali Rahmon. It is believed that the key objectives behind these enhanced engagements, besides bilateral trade, was to paint Pakistan as a villain in the region and that is supporting Taliban and other extremist Islamic groups, thereby creating a pretext of increased India’s presence in the periphery of China.


Prime Minister Modi next visited the UAE for two days in August 2015 and became the first Indian Prime Minister to visit the United Arab Emirates in 34 years. During his visit to UAE he held talks with His Highness Shaikh Mohammad Bin Zayed Al Nahyan, Crown Prince of Abu Dhabi and Deputy Supreme Commander of the UAE Armed Forces and His Highness Shaikh Mohammad Bin Rashid Al Maktoum, Vice-President and Prime Minister of the UAE and Ruler of Dubai. During his visit, UAE and India raised their partnership to a strategic level by setting up a UAE-India Infrastructure Investment Fund with a target of $75 billion (Dh275 billion) and establishing a mechanism for regular meetings between their security agencies to improve operational cooperation. UAE also promised allocation of land for establishment of a Temple in Abu Dhabi, a religious victory for the Hindu extremist government in India. In addition, UAE also promised to support India in its bid for a permanent seat in for the United Nations Security Council; an act being regarded as a major diplomatic victory.

An economic power, with fairly strong armed forces and with a nuclear triad in place, is now set to project power far beyond its borders. The reasons for this power projection are manifold. First and the foremost is the securing of a constant source of raw material and energy for India’s rising industrial demands, with sea as its chief mode of transportation. Re-orientation of POL storage and other industrial manufacturing facilities to the East coast of India has been sparked by the India's supply-demand imbalance and its growing dependence on the Middle East and Africa.


Indian Prime Minister then visited Saudi Arabia on April 2-3, 2016 to bolster India’s engagement with the Kingdom. The two sides signed five agreements, including plans to cooperate in intelligence sharing, related to terror financing and money laundering, as well as a labour cooperation agreement, besides promoting bilateral investments in the private sector. The two sides also agreed on the need to intensify defence cooperation through mutual visits of military experts and joint military exercises. King Salman awarded Prime Minister Modi with Saudi Arabia’s highest civilian award, the King Abdul Aziz Sash. During his visit, Modi also met Crown Prince and Interior Minister Mohammed bin Nayef and held one-on-one talks with Saudi Foreign Minister Adel al-Jubeir and Board Chairman of Aramco, Abdul Aziz al-Faleh, who is also the Health Minister. It is important to note that bilateral trade between the two countries has reached $39 billion in 2014, which is expected to get a boost from the recent visit.


Prime Minister Modi’s next stop was Iran from May 22-23 this year. This was the first bilateral visit by an Indian Prime Minister to Iran in last 15 years. During the visit the two sides signed 12 MoUs, out of which five were regarding Chabahar Port and its associated infrastructure. India has pledged to invest $85 million in the first phase of construction of two berths in the port, one for container handling and other for multipurpose cargo.


In the second phase, India pledged to invest another $110 million to develop a 901km long railroad, linking Chabahar to the iron ore mines in Hajigak, Afghanistan. It is pertinent to mention that Iran has declared the surrounding area as a free trade industrial zone. The other MoUs covered potential Indian development of the Farzad B gas field, spelling out India’s monetary commitments, executing entities, deadlines, etc. It may be recalled that Kazakhstan-Turkmenistan-Iran railway line has already been inaugurated and India is making investments in the Iranian port of Chabahar with multiple aims in mind.


Fully backed by the Obama administration, Prime Minister Modi has cultivated a close relationship with Afghan President Ashraf Ghani and Iranian President Hassan Rouhani. On May 23, the three leaders witnessed the signing of a trilateral Chabahar Port agreement. Apart from meeting its energy needs, India intends to use Chabahar Port to expand trade with Afghanistan and Central Asia. Despite the fact that a large population of Indians is living below poverty line, India has steadily increased its presence and political influence in Afghanistan by donating development assistance of some U.S. $ 2 billion. In 2009, India completed work on 217 km highway (Route 606) that has linked Afghan city of Zaranj with border town of Delaram, which is connected through local roads network with Iranian port of Chabahar.


On June 4, PM Modi was given highest civilian award, the Amir Amanullah Khan Award by Afghan President. On the same day both the leaders also inaugurated Salma Dam in Herat province close to Iranian border, a $290 million project likely to provide electricity and irrigation water to locals. It is important to note that Herat population is predominately Shia and Iran enjoys good political influence in the area.


In another unprecedented move, PM Modi was offered the opportunity by Afghan President to address the Afghan nation through television. During his address Modi showed his deep concerns regarding insurgency gaining momentum under new Taliban leader Mullah Haibatullah Akhundzada. The address was indirectly a political snub for Pakistan and a shrewd move to implicate Islamabad in the ongoing terrorist activities in Afghanistan.


In his next stop to Qatar and during a meeting on June 6 with Qatari Emir Sheikh Tamim bin Hamad al-Thani, Modi signed seven MOUs on a range of subjects, including Qatar's promise to invest in India's National Infrastructure and Investment Fund (the Qatar Investment Authority already owns a $1 billion stake in Indian telecommunications firm Bharti Airtel).


For centuries, due to its peculiar geographic location, abundant agricultural and natural resources and huge human capital, India attracted invading armies from land and colonial powers through the sea. A nation that witnessed its riches exploited and transferred out, is now looking to emerge as a global power itself. India has spent nearly two decades to develop a strategic partnership with the U.S., an act amply supported by Tel Aviv. An economic power, with fairly strong armed forces and with a nuclear triad in place, is now set to project power far beyond its borders. The reasons for this power projection are manifold. First and the foremost is the securing of a constant source of raw material and energy for India’s rising industrial demands, with sea as its chief mode of transportation. Re-orientation of POL storage and other industrial manufacturing facilities to the East Coast of India has been sparked by the India's supply-demand imbalance and its growing dependence on Middle East and Africa.


Since majority of Indian energy imports and manufactured goods exports are through sea to and from the Gulf, the East Coast of India is of extreme economic significance. Therefore India’s Eastern seaboard, or in other words the North Arabian Sea (NAS) and beyond has figured out dominantly amongst Indian political, economic and military planners in recent decades. Pakistan being a major stakeholder in the NAS providing the most likely route for CARs energy highway and the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) through Gwadar, therefore securing of its interests in the sea has taken a centre stage in Indian politics. India has thus embarked upon an unprecedented and aggressive expansionist and modernization regime to transform its sea power in order to have an effective influence on the NAS in particular and IO in general.


Historically Pakistan has enjoyed cordial and close diplomatic and military relations with GCC countries, including a strategic alliance with Saudi Arabia. However due to ongoing internal turmoil, fight against terrorism in the shape of Operation Zarb-e-Azb and external pressures of sorts, Pakistan was unable to provide the military support expected during the recent Yemen crisis. This created a void which was duly identified and amply exploited by India. Playing its economic card and using its present strategic leverage with the U.S., India has secured a defense cooperation pact with the Kingdom in 2016. Similarly Modi again was able to make a dent in UAE-Pakistan relations when it won the backing of Abu Dhabi for India’s bid for permanent seat in UN Security Council.


In another shrewd move India has been able to secure a pact with Iran for construction and operations of Chabahar Port emulating Sino-Pakistan model for Gwadar Port. This pact will not only allow India to expand its trade routes with Central Asia but play an instrumental role in furthering its reach and influence in Afghanistan. From military stand point this port could act as spring board for India. It is a known fact that Indo-Iran strategic relationship is carving an environment to deny a Taliban dominated government returning to Kabul after the U.S. withdrawal. It is also an established fact that India while operating from Afghanistan, is trying to destabilize Pakistan by sponsoring TTP and sub-nationalist/insurgents in Balochistan. Similarly by bribing corrupt leadership of the present Afghan government, intelligence and military officials, New Delhi is trying to create a divide in between two partner countries that have survived and thrived together for decades. This in effect is to create a two-front dilemma for Pakistan, thereby stretching the nation and its element of nation power to the extremes.


Pakistan is located at extension of the Middle East. It has religious, cultural as well as historic affinity with the Middle Eastern countries including Iran. However competing interest in Afghanistan and Islamabad’s historic close ties with Riyadh is viewed with suspicion by Iran. Apart from geo-economics these are major contributory factors in bringing New Delhi close to Tehran. Pakistan could ill afford to let Iran and Afghanistan fall into the orbit of Indo-ERF axis. Therefore it is imperative for Pakistan to highlight that the real threat to the region is from Indo-Israel nexus and not from Pakistan and this threat basically resides in ideological domain. At present India is the largest recipient of Israeli arms and ammunition. India by cementing its relations with the U.S. through Israel is vying for the same role in South Asia, what function Tel Aviv is performing that is suppression and fragmentation of Muslim world. The irony of this complex game is that India is using money basically belonging to Muslims which is earned by non-resident Indians working in Gulf States to increase its military strength. It is contemplated that in future these Israeli origin arms acquired by India would be used to shed Muslim blood in the region. Similarly large arms shopping spree by New Delhi allows Tel Aviv to increase its economic clout globally thus ensuring consistent subjugations of Palestinian Muslims. In the same context through a well thought out media campaign Pakistan must bring to the front, Prime Minister Modi’s role in slaughtering of 2000 Muslims in Gujarat riots by Hindu extremists, desecration of Babri Mosque and strangulation of innocent Muslims in various Indian states on charges of consuming cow meat in recent months. Similarly denuding the actual objectives of India and its allies to divide and then rule the Muslim world would not restore the position of Pakistan in the Middle East but would also halt Indian malicious ingress into Central Asia and Middle East.


Another interesting phenomenon is that Indian aspirations of growth and its want for energy resources leave India vulnerable. As its dependence on raw materials and energy resources from sea increases, so does the opportunity of exploitation. A strong and potent Pakistan Navy could be that vital EoNP that helps in threatening the energy corridors of India by challenging its Sea Lines of Communication. Similarly the potential ability of Pakistan Navy to target and neutralize economic and military infrastructure on the Indian East Coast in times of war could also add to defensive dilemmas of the Indian military thinkers. Similarly, the other two services, Pakistan Army and Pakistan Air Force with enhanced capabilities will be a strong check on Indian expansionist designs duly supported by few other foreign powers.

 

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it..
 

Follow Us On Twitter