13
March

دہشت گردی کی نئی لہر

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: سمیع اللہ خان

دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے کاثبوت بھی ہے۔ 2015-16 کے دوران ضرب عضب سے دہشت گردی میں 70فیصدکمی واقع ہوئی۔ اس سے قبل 2007اور 2009 میں سوات آپریشن اور 2011-12میں جنوبی وزیرستان آپریشن کے ذریعے بھی ان کی سرکوبی کی گئی۔ محدودوسائل‘ ازلی دشمن کی موجودگی‘ معاشی ناہمواریوں سمیت عالمی استعمارکی آنکھ میں کھٹکتے سی پیک منصوبے پردجالی قوتوں کے ناپاک عزائم سمیت ہرمشکل پر پاکستان کی بہادر افواج نے خوش اسلوبی سے قابو پایااوردیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں امن کی بحالی نظر آنے لگی۔ مگرہرسوپھیلی امن کی خوشبوانسانیت کے دشمنوں کونہ بھائی اورانہوں نے چیئرنگ کراسنگ لاہور‘کوئٹہ ‘مہمندایجنسی ‘ پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان آواران‘ چارسدہ اور سیہون شریف جیسے مقامات کو اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھا کر معصوم جانوں کے لہوسے ایسی ہولی کھیلی کہ انسانیت خون کے آنسورونے لگی۔ 5 دنوں میں ہونے والے ان 8واقعات میں سوسے زائد پاکستانی شہید ہوئے مگر پاکستانی باہمت ہیں۔ وہ جوابی وار بھی کریں گے اور جیت کر بھی دکھائیں گے۔
ٹونی موریسن امریکن ناول نگارہیں۔ ان کے ناول
Beloved
میں ایک کردار بے بی سگزکاہے جوسفید چمڑی والے جابروں کے خلاف اپنے ہم نسل کالوں کو اس بات پراکساتی ہے کہ وہ ان کے ظلم کا مسکراکرجواب دیں ۔ان کامسکرانا درحقیقت غاصبوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہوتاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دھماکے کے دوسرے روز شہباز قلندرکے عقیدت مندوں کادھمال
laughter as a resistance
ہے ۔جواس بات کابین ثبوت ہے کہ اس قوم کا مورال بلند ہے۔ گیارہویں صدی کا قلندرخود ہی فرماگیا


تو آں قتل کہ از بہر تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِخنجرِخوں خوارمی رقصم
(تم وہ قاتل ہو کہ محض تماشارچانے کو میراخون بہاتے ہو اورمیں وہ بسمل ہوں کہ خنجرِ خوں خوار تلے بے نیازی سے رقص کرتاہوں)

 

dehshatgerdikinai.jpgدہشت گردی کی اس نئی لہرکے تانے بانے جوڑنے کے لئے اگر واقعات کی کڑیاں ملائی جائیں توحقیقت کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ ان بہیمانہ کارروائیوں کے پیچھے کون سے بے حس ہاتھ کارفرماہیں۔ اتوارکوکراچی میں میڈیاکارکن کی شہادت کے بعد تیرہ فروری کو مال روڈ پر دھماکہ کیا گیا۔ اسی دن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ذریعے دوپولیس اہلکاروں کی شہادت اوراس کے کچھ ہی دیربعد بھمبرسیکٹرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ سے تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ دشمن کس قدرمنظم انداز میں پاکستان کے جسم کوایذاء پہنچارہاہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی مداخلت کے جوثبوت امریکہ اور اقوام متحدہ کو دیئے گئے تھے‘ ان پرتاحال کوئی تسلی بخش ایکشن نہیں لیا گیا جس کامطلب بھارت سمجھ گیا ہے ۔


مقبوضہ کشمیرمیں جاری اندرونی عوامی تحریک سے دلبرداشتہ بھارتی آرمی چیف کا بے بسی سے اسے اندرونی شورش تسلیم کرنا‘ پاک چائنا اکنامک کاریڈورہرحال میں سبوتاژکرنے کے بھارتی ممبران اسمبلی کے تابڑتوڑ بیانات‘ اپنے طفیلی ممالک سے پاکستان کے خلاف زہراگلوانے کی حالیہ بھارتی پالیسی یہ سب ثابت کررہے ہیں کہ دشمن فائنل راؤنڈکھیلناچاہتاہے۔ اس کے تمام ترارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی تمام تر کوششیں فزوں ترکرناہوں گی۔ پولیس‘ سی ٹی ڈی‘ سپیشل فورس اور نیکٹاکو ازسرنوتشکیل دینا ہو گا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکوریٹنگ کے چکرسے نکل کرعوام کو آگاہی دیناہوگی۔


لاہورسانحہ میں ڈی آئی جی مبین احمداورایس ایس پی زاہد گوندل سمیت پندرہ افراد شہید ہوئے۔ان افسران کی شجاعت اوربہادری نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔پنجاب حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان کا نیٹ ورک تلاش کیابلکہ سہولت کار انوارالحق کوبھی گرفتارکرلیاجس کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جبکہ حملہ آور کا تعلق افغانستان کے علاقہ کنٹر سے ہے ۔ اسی طرح پشاورکے حیات آباد کے حملہ آور کی ملافضل اللہ کے ساتھ تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔ جمعرات کوسیہون شریف میں لعل شہباز قلند رکے دربار پر خود کش حملے میں 88 افراد کی شہادت ہوئی اور343زخمی ہوئے۔دھماکے میں مسلمانوں سمیت 3 ہندو بھی چل بسے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی صوفی درگاہیں ہر مذہب کے پیروکاروں کوروحانی تسکین پہنچاتی ہیں اور یہ بھی کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتاوہ بغیرکسی تمیزکے حملہ کرتے ہیں۔ اس قدر شدید نقصان کاازالہ توممکن نہیں لیکن اس سانحۂ عظیم نے قوم کے حوصلے مزید بلند کر دیئے ہیں اوروہ فوری اوربے رحم کارروائی کے متمنی دکھائی دے رہے ہیں ۔


پاکستان میں زیادہ تردہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور انڈس ہائی وے کااستعمال کرتے ہوئے دوسرے علاقوں تک پہنچتے ہیں ۔یہی انڈس ہائی وے اندرون سندھ سے گزرتی ہے ۔
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا ایک دھڑا جماعت الاحرارملوث ہے جوکہ ببانگ دہل اپنی مذموم کارروائیوں کا اعتراف کررہاہے ۔اس کی لیڈرشپ افغانستان میں موجودہے ۔اسے پاکستان میں لشکرجھنگوی کی اعانت حاصل ہے اور کچھ حصہ داعش سے بھی مددلیتاہے جبکہ دوسری جانب اس کی کڑیاں تحریک طالبان افغانستان تک بھی جاتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ داعش کاپھیلتاہوانیٹ ورک الاحرارکی دیدہ دلیری اور ہمسایہ ملک کی ریشہ دوانی ہمیں اس بات پر مجبورکررہی ہے کہ ہم افغانستان کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوارکریں اوراس کے ساتھ ساتھ عالمی استعمارکی شطرنج کی بازی اوردورُخے پن سے بھی خبرداررہیں۔ لیکن ہمیں ایک قومی بیانیہ اپنانے کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔راقم گزشتہ برس کے دوران مختلف مقامات پر دینی وعصری علوم کی درسگاہوں کے طلباء سے دہشت گردی کے موضوع پر گفتگو کرتا رہا ہے۔ ان میں سے بیشترایسے تھے جو ٹی ٹی پی کو تو غلط قراردے رہے تھے لیکن شام‘ عراق اوردیگرمسلم ممالک میں متحرک عسکری گروہوں کودبے لفظوں میں حق بجانب قرار دے رہے تھے۔ان کے ذہنوں سے ابہام دورکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ریاست کی حفاظت کرنی ہے یامسلم امہ کی ؟مسلم امہ کی حفاظت سرحدوں کی محتاج نہیں اوریہی وہ بیانیہ ہے جس کی بنیاد پر نجی عسکری گروہ معاشی‘ اخلاقی وافرادی قوت حاصل کرتے ہیں ۔جب تک ہم اس بیانیے کامتبادل قومی بیانیہ دین میں تلاش نہیں کرلیتے ان گروہوں کوشعوری و لاشعوری مدد ملتی رہے گی۔ دوسرے، پاکستان میں کچھ مسلم ممالک فرقہ واریت کی بنیاد پر اپنی اپنی پراکسی وارلڑ رہے ہیں ۔ اس کاسدباب مذہبی لٹریچر کی کڑی نگرانی اور مدارس کا ایک نصاب بنا کر کی جاسکتی ہے۔ہمیں سخت ایکشن لیتے ہوئے فقہ کی کتابوں میں سے کسی بھی مذہبی گروہ کی اکابرہستیوں کے خلاف نازیباالفاظ کو کتاب بدر کرنا ہو گا۔ مساجدمیں سرکاری خطیب ومؤذن کی تقرری سمیت تعلیمی اداروں میں ایسی فضا قائم کرنا ازحدضروری ہے جس سے انتہاپسندی کے ناسورکوپنپنے کی جگہ نہ ملے۔


پاکستان آرمی چیف قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ ہم خون کے ایک ایک قطرے کاحساب لیں گے ۔انہوں نے افغانستان میں موجودریزولیوٹ سپورٹ مشن
(Resolute Support Mission)
کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن کوپاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کاکہناہے کہ افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیومیں طلب کرکے ان 76دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جو پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ انھیں واضح اور دوٹوک اندازمیں کہا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں وگرنہ پاکستان خود کارروائی کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں مجرموں کے باہمی تبادلے پرمستقل قانون سازی کی جائے تاکہ اس عفریت کے پنپنے کے تمام راستے ہمیشہ کے لئے مسدودکئے جاسکیں۔


افغانستان کی اسمبلی ہم آواز ہوکرپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے۔ یہ صرف سابق صدرحامدکرزئی اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ کی ہی پالیسی نہیں بلکہ اس میں بھارت کی ایک عشرے کی چانکیانہ پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ پاکستان 2004کے بعد افغانستان کی تمام تر پالیسی امریکہ پر چھوڑ کربے نیازہوگیامگربھارت نے اپنااثرورسوخ بڑھاناشروع کردیا۔ویزہ پالیسی میں نرمی کی افغان طالب علموں کو اپنی جامعات میں جگہ دینے کے ساتھ ساتھ افغان کابینہ کے اخراجات برداشت کرنے کا بِیڑا بھی اٹھایااوراس طرح پاکستان مخالف کابینہ اورپالیسی کی تشکیل میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا۔


جبکہ دوسری جانب پاکستان کی مسلسل پکارکے باوجود افغانستان نے ٹی ٹی پی کے گروہوں کے خلاف ایکشن نہیں لیاکیونکہ وہ چانکیانہ دلدل میں دھنستے جارہے تھے اورپاکستان بھی طالبان اورافغان حکومت کے درمیان متوازن پالیسی پر کاربند رہنے پرمجبورتھا۔پاکستان اورافغانستان کے مابین 124برس پہلے کی کھینچی گئی ڈیورنڈلائن پربارڈرسیفٹی مینجمنٹ کے نام سے پابندیوں نے دوریوں میں مزید اضافہ کیا لیکن پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہ تھا کیونکہ افغان حکومت مسلسل بے نیازی برت رہی تھی۔ 2014میں بھی پاکستان نے افغانستان کو کمیونیکیشن ٹاورزکی معلومات شیئرکرنے کی درخواست کی لیکن اس پر بھی تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ افغانستان اس ضمن میں ہاتھ بڑھائے تاکہ دونوں ممالک میں امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ ہردوممالک کاامن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ افغان مہاجرین کی نقل وحمل کی کڑی نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس میں موجود را کے ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔

 

اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔


عالمی منظرنامے پرنظردوڑائی جائے تو ماضی قریب میں افغانستان اورپاکستان سمیت اس خطے میں بلیک واٹرنامی امریکن تنظیم کے ہزاروں کارکن امریکن مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گئے۔اس تنظیم کے مالک ایرک پرنس جسے جیرمی سکاہل جیسے لکھاری جنونی عیسائی کہتے ہیں اس وقت ڈونلڈٹرمپ کابینہ کی تشکیل میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔ ان کی بہن وزیرتعلیم جیسااہم عہدہ پر فائز ہیں۔اس سارے منظرنامے میں جہاں امریکہ میں سچ اورجھوٹ کے درمیان لکیرواضح ہوتی جارہی ہے وہیں ٹرمپ کی داعش کے خلاف شام اورعراق میں کارروائیاں اسے افغانستان اور پاکستان کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔ اس باراستعماری قوتیں پاکستان کے محروم وپسماندہ طبقات کواپناآلہ کاربناتے ہوئے لسانی وعلاقائی تعصبات سے بھی افرادی قوت حاصل کرسکتی ہیں۔ ہمیں ہرحال میں نیکٹاکوفعال کرناہوگا۔وزیراعظم کو اس کے باقاعدگی سے اجلاس بلاکرکارکردگی کوبہتربنانے کے لئے مثبت جامع اور دیرپالائحہ عمل تشکیل دیناہوگا۔


اگر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تو سندھ وپنجاب سمیت پورے ملک میں اس کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے ۔ کوئی ایسا دن نہیں جب اس نے کارروائی نہ کی ہو۔ مرکزی حکومت نے صوبائی سطح پرسویلین کاؤنٹر ٹیررازم فورس بنائی ہے جو آٹھ ہزارنفوس پرمشتمل ہے۔سی ٹی ڈی نے بروزجمعہ پنجاب کے شہرسرگودھامیں دودہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔ اسی طرح کراچی میں دہشت گردوں کوپکڑ کربڑی مقدارمیں اسلحہ برآمدکیا۔ ہفتہ کے روزلیہ میں الاحرارگروپ کے پانچ دہشت گردوں کوہلاک کرکے اسلحہ برآمدکیاگیا۔


اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔ فوجی عدالتوں کو ایکسٹینشن دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں ججز کے لئے سکیورٹی کا انتظام اوراس سسٹم میں مزید بہتری کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اپناناہوگی تاکہ آنے والی حکومتوں کو ان عارضی عدالتوں کے سہارے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
فاٹاکوکے پی کے میں ضم کئے بغیرچارہ نہیں ۔ہم کب تک 27ہزارمربع کلومیٹرکے اس علاقے کو انگریز حکومت کی طرح چلائیں گے جس کی ایک کروڑ قبائلی آبادی پاکستان سے والہانہ محبت کرتی ہے ۔ہمیں فاٹامیں عصری علوم کو اس قدرعام کرناہوگاکہ دنیاکی رائے اس کے متعلق بدل جائے اورکوئی بش، کوئی مائیکل ہیڈن (سابق ڈائریکٹرسی آئی اے)یامائیک مولن اس خطے کے متعلق ہرزہ سرائی نہ کرسکے۔


جمعے کے روز پاکستان نے افغانستان میں پہلی کارروائی کرتے ہوئے مہمند اور خیبرایجنسی کے دوسری طرف بنائے گئے الاحرارگروپ کے تربیتی مرکزسمیت چار کیمپوں کو نشانہ بنایاجس میں متعدد دہشت گردمارے گئے۔جماعت الاحرارکے ڈپٹی کمانڈرعادل باچہ کے کیمپ پربھی ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔ اندرون ملک کارروائی کرتے ہوئے سوسے زائد دہشت گردوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی طرح ہفتے کے روز کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے خودکش بمباروں کے تربیت کار رحمان باباسمیت بیس کے قریب دہشت گردافغانستان کی سرحدمیں ہلاک کردیئے۔ افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر ابرارحسین کو طلب کرکے کنٹراورننگرہارمیں ہونے والے حملے پر تشویش کااظہارکیاجسے پاکستانی سفیرابرارحسین نے مستردکرتے ہوئے پاکستانی موقف کومدلل اندازمیں پیش کیا کہ کس طرح علاقائی مفاد کی خاطرایک شرپسند ملک پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال کررہاہے۔افغان نائب وزیرخارجہ نے پاکستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے طورخم اورچمن سے پاک افغان سرحدکھولنے کے ساتھ ساتھ150 افغان باشندوں کی رہائی کامطالبہ بھی کیا۔ یاد رہے ہفتے کی رات کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے 330 مشتبہ افراد کوگرفتارکیاتھا جن میں غیرملکی بھی شامل ہیں ۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی


نیٹوکے ترجمان نے پاک افغان کشیدگی پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اس کے مناسب حل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔امریکی دفترخارجہ کے قائم مقام ترجمان مارک ٹونرنے بھی دہشت گردی سے ہونے والے پاکستانی نقصانات پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔


آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی ۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں افواج اور ملک کی عوام مل کر لڑاکرتے ہیں اورجس ملک کی عوام میں غیورباہمت اوردادشجاعت دینے والے افراد، سپاہی اور افسرموجود ہوں وہ کبھی بھی دہشت گردوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکتی۔ دہشت گردی کی حالیہ لہران بچے کچھے دہشت گردوں کی موت ثابت ہورہی ہے جو اپنی بلوں میں گھسے ہوئے تھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
09
March

Pak-China Friendship – A Regional Balancer for Global Peace

Written By: Dr. Mirwais Kasi

Pakistan-China friendship hardly finds a parallel in modern international relations as it is based on mutual respect, mutual advantages and equality and it has the potential to maximize the advantages for regional countries. Pakistan-China relation has displayed durability which has adjusted itself according to changing regional and international scenarios. This bilateral relationship has undoubtedly emerged as a very strong friendship which serves as an exceptional example for the rest of peace loving nations.

Pakistan and China enjoy time-honoured and time-tested friendship which has often been termed as “higher than the mountains and deeper than the oceans".Pakistan-China relations, though bilateral, yet offer opportunities for regional and international peace. Whether it is South Asia, Central Asia, the Middle East, North Africa or other contiguous regions, Pak-China relations in some way promote peace, prosperity and stability. In this context, the Central Asian Republics (CARs) are also attracted towards Pakistan-China partnership for obvious advantages. Pakistan-China alliance and its positive effects on Central Asian States are determined by their security needs, economic advantages, and their desire to serve as the energy corridor. This approach of mutual cooperation also strengthens the peace prospects in the entire region. Pakistan gave enhanced focus to relations with CARs in the early 1990s. Pakistan shared history, religion and ethnic affinities with these countries. Further, Pakistan also offered a natural trade route for Central Asian states to reach out the world markets; thus lower their trade and economic dependence on Russia. Pakistan also developed institutionalized arrangements to promote cooperation in the economic and commercial fields. Similarly, after disintegration of the erstwhile Soviet Union, CARs also got a pivotal position in the region. Therefore in the fall of 1992, the Economic Cooperation Organization (ECO) expanded and Kyrgyzstan, Tajikistan, Turkmenistan, Afghanistan, Kazakhstan, Uzbekistan and Azerbaijan were included as seven new members of ECO. Member states set the common objective of establishing a single market for goods and services. The ECO states have great potential for promotion of regional trade and economic development, which is yet to be exploited. Through the ECO, many schemes and projects for intra-regional cooperation are rapidly emerging. Although, currently ECO is not a customs union nor common marketplace or a close economic bloc, but with the passage of time there is a possibility for the ECO – which is basically an economic association of regional countries – to assume a political responsibility on geopolitical canvas. In any such case the growing collaborations and understanding between Pakistan, China and CARs from the forum of ECO will improve in scope and significance towards regional peace and stability.


On the other hand, the sudden disintegration of the USSR presented both challenges and opportunities for China. One of the landmarks of Chinese foreign policy is that it has been peacefully dealing with all the challenges to explore new opportunities in the Central Asian region. China not only peacefully resolved its border disputes with Central Asian countries, but it also initiated economic relations with them. Central Asia has rapidly turned into a raw material supplier for China, while China on the other hand has emerged as a supplier of finished product in the shape of machinery, chemicals and hi-tech equipment for CARs. Several free economic zones have been established for promotion of trade activities between the two sides aiming at mutual advantages. China has been assisting various Central Asian Republics in exploration of oil and gas resources and has been involved in the construction of several oil and gas pipelines connecting different channels. Beijing is also trying to expand its military cooperation with CARs, particularly, with its two immediate neighbours, Kyrgyzstan and Tajikistan. In addition, Shanghai Five forum – predecessor of the Shanghai Cooperation Organization (SCO), also played a significant role in bringing China closer to the CARs and leading them towards similarity of opinions and interests on a wide range of areas aiming to explore common interests. With the rise in non-traditional threats and vulnerability of CARs to these non-state actors, the security agenda of the Shanghai Five gradually began to expand.

 

Pakistan in this regard, through Gwadar Port and the CPEC, will play the role of bridge and the shortest link between China and African states. Also due to its Islamic ideological identity and OIC forum Pakistan wins the goodwill of many Muslim African stakeholders. Pakistan and China have thus gained valuable diplomatic support of African nations to defend their international interests.

Pakistan-China friendship has also played a positive and constructive role for Central Asian States. In 1995, Quadrilateral Agreement for Traffic in Transit; a transit trade agreement was signed between Pakistan, China, Kyrgyzstan and Kazakhstan. Later, Tajikistan also became a signatory of this transit trade agreement, which stipulates effective utilization of the Karakoram Highway (KKH) for trade between Pakistan and SCO member states via Kashgar. Although the agreement is still going through a transitional phase but in years to come its scope and significance will be expanded and it will attract more countries towards it. Furthermore, Pakistan’s entry into the SCO has a positive impact not only on Pakistan-China relations and CARs, but Pakistan-Russia relations as well. The SCO has been merging the interests of all these actors on regional and international level at a great pace and has been leading towards the rise of a new military, economic and resource-rich region in the world.


Similarly, China has provided all-out assistance for the development of Gwadar deep sea port in Pakistan and due to its strategic location, Gwadar has the potential to become a gateway to Central Asia and Xinjiang. Similarly, through a road network Pakistan-China will also offer outlets to Russia towards warm waters as well. Through KKH even Iran can access China via land route from Pakistan, and, CPEC also provides an opportunity to India for access to Afghanistan, CARs and Iran via Pakistan. Pakistan and China have been working on up-gradation of KKH realizing its importance. The up-gradation of the KKH is a Pakistan-China initiative to generate north-south and east-west economic corridors. Pakistan and China's commitment to establish an economic corridor gained momentum after Chinese President's visit to Pakistan in 2015 which assured Chinese heavy investment for CPEC having the potential to achieve regional connectivity objectives.

 

The smaller states of South Asia have seen some real Indian interference and military quests since 1947. India is the only South Asian state which has fought the most wars with its neighbours. Besides that India has also been involved in water sharing conflicts with three important states of South Asia namely; Pakistan, Bangladesh and Nepal. In addition, India not only nuclearized South Asia, but also promoted nuclear and missile race in the region.

Pakistan-China relationship also plays an important role in South-Asia, although India enjoys a little better position in the region due to its size, population and political clout. However, though India has failed to convince the South Asian neighbours to take India as an opportunity rather than a grave threat. India is seen as a problematic entity by most South Asian states and as an irritant and an unbalancing actor in South Asia because of hegemonic Indian objectives in the region. The smaller states of South Asia have seen some real Indian interference and military quests since 1947. India is the only South Asian state which has fought the most wars with its neighbours. Besides that India has also been involved in water sharing conflicts with three important states of South Asia namely; Pakistan, Bangladesh and Nepal. In addition, India not only nuclearized South Asia, but also promoted nuclear and missile race in the region. Pakistan-China relationship became a positive balancing factor in South Asia. Even sane indian voices admit the positive balancing effect of Pak-China collaboration on the region. It has helped in maintaing nuclear balance and thus minimized conventional arms race. Such developments changed the aggressive nature of India towards its small South Asian neighbours. Since the border agreement was made between Pakistan and China the situation in Kashmir got a bit complex for India. As China became a stakeholder, it shattered the Indian dreams of gaining control over the whole of Kashmir against the will of Kashmiri masses by negating their right to self-determination.

 

pakchinfriendsjip.jpgLikewise, this bilateral relationship has relevance and significance for U.S., Africa and Gulf region as well. Pakistan-China relations with the United States of America saw many ups and downs and it's difficult to describe the nature of the relationship between Pakistan and U.S. and U.S. and China. During the Cold War era Pakistan and U.S. were allies against the communist bloc, however, Pakistan-China collaborations, which began in late 1950s, initially became an irritant between Pakistan and the U.S. Later because of Pakistan, the U.S. and China came closer. The 1990s saw strained relations of the U.S. with Pakistan and China, the main divergent factors being Chinese assistance to Pakistan in missile and nuclear sectors. However, after 9/11 Pakistan became an ally of the U.S. in the War on Terror without compromising its close links with China, and, on the other hand China emerged as one of the biggest economic partners of the U.S. while both continue to be strategic adversaries of each other and their interests do clash at various points on trajectory. Despite many diverging elements, considering U.S. relations with Pakistan and China, the significance of Pakistan and China and their bilateral relations' significance for the U.S. cannot be ruled out completely. The economic partnership between the U.S. and China, Pakistan-U.S. partnership during times of crisis and the geo-strategic importance of Pakistan makes Pakistan-China partnership significant and relevant for the U.S. The United States has also been seeking Pakistan and China's assistance in achieving peace and stability in Afghanistan and addressing climate change, counter-terrorism, non-proliferation and promotion of human rights. The U.S. seeks Chinese support particularly in Asia-Pacific, including the Taiwan Strait, South China Sea and East China Sea. Similarly, the geo-strategic location of Pakistan also attracts the U.S. because it can serve as a gateway to CARs and offers a route from energy efficient states to energy deficient states. Chinese role in the development of ports, roads and railway network facilities make Pakistan-China relations relevant and significant for the U.S. as well.


In case of Africa, Pakistan and China attach great importance and relevance to this region as well. Both China and Pakistan have been sympathetic to the African position on many international issues and they have often sided with African countries in the UN Security Council. Pakistan and China, in terms of their relations with African states have turned to a new page with better understanding and cooperation with the objective to gain maximum advantages. Currently, Pakistan and China are interacting with African states on two levels:

 

Pakistan is also vital for Persian Gulf States since most of them strengthened their ties with the emerging super power China through Pakistan. Similarly, through land route Pakistan is the easiest and shortest choice in linking the Persian Gulf region with China, coining it as gateway between them. The strategic location and construction of Gwadar Port provides transit trade and oil supplying opportunities to China and Persian Gulf States through economical and secure options.

I. Through bilateralism via diplomatic, political, social and economic sectors.
II. Through multilateralism via regional, ideological and international forums.
China in particular provides alternate options to African states, by offering them aid and assistance without preconditions and dictations. China seeks natural resources while African nations need her support to explore their resources; consequently the two sides' interests converged to explore mutual advantages. Pakistan in this regard, through Gwadar Port and the CPEC, will play the role of bridge and the shortest link between China and African states. Also due to its Islamic ideological identity and OIC forum Pakistan wins the goodwill of many Muslim African stakeholders. Pakistan and China have thus gained valuable diplomatic support of African nations to defend their international interests.


In addition to above, counter-terrorism has also enhanced the understanding between Pakistan, China and African states. Terrorism became a global problem and African nations are also suffering because of it. They keenly observe Pakistan-China role in the war against terrorism and want to follow the same strategies to eliminate safe havens of terrorists from African land. In this regard, Pakistan and China's contributions are countless; they are not only exporting arms to governments of African countries, but through UN peacekeeping mission they train the local security forces to combat terrorism. As a result, Pakistan-China relations and relevance for African nations became more dynamic and constructive contribution towards peace and stability.


Similarly, in order to comprehend Pakistan-China relations' worth for the Gulf countries, it may be concluded that their ties have been framed through bilateral and multilateral collaboration in diplomatic, security and socio-economic sectors.


Religious similarity, Pakistan’s strategic location and its identity of being a military power among Islamic states have made Pakistan a natural ally of Persian Gulf States. Pakistan, despite its economic and social problems in recent years remains the ultimate hope for many of the Persian Gulf States, particularly after growing distrust towards the western powers. Similarly, Gulf States, particularly Gulf Cooperation Council (GCC) member countries, i.e., Saudi Arabia, Qatar, United Arab Emirates, Oman, Kuwait and Bahrain, are important from economic perspective for Pakistan as they always assisted Pakistan during the time of crisis.


Pakistan is also vital for Persian Gulf States since most of them strengthened their ties with the emerging super power China through Pakistan. Similarly, through land route Pakistan is the easiest and shortest choice in linking the Persian Gulf region with China, coining it as gateway between them. The strategic location and construction of Gwadar Port provides transit trade and oil supplying opportunities to China and Persian Gulf States through economical and secure options. China’s emergence as regional economic and military power and its expertise in the high-tech sector are attracting Gulf States towards China. Both Pakistan and China significantly developed friendly ties with Persian Gulf States without getting involved in their internal differences. Pakistan and China also maintained a balance between their relations with Iran and other Arab countries which is not less than a landmark of China and Pakistan's foreign policies. Both Pakistan and China now represent themselves as time-tested, credible, cordial and capable allies of Persian Gulf states and GCC members in particular.


To conclude, it can be said that Pakistan-China friendship hardly finds a parallel in modern international relations as it is based on mutual respect, mutual advantages and equality and it has the potential to maximize the advantages for regional countries. Pakistan-China relation has displayed durability which has adjusted itself according to changing regional and international scenarios. This bilateral relationship has undoubtedly emerged as a very strong friendship which serves as an exceptional example for the rest of peace loving nations. With the development of the CPEC, the Pakistan-China alliance presents opportunities that may lead towards security, prosperity, peace and regional and international balance that makes this bilateral relation significant and relevant not only for regional actors but for the rest of the world as well.

 

The writer is Assistant Professor at Department of International Relations, University of Balochistan, Quetta.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it..

 
13
March

سیہون شریف سے

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: مجاہد بریلوی

مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں sehwansharif.jpgاور چیختی بلبلاتی بچیوں سے لہو لہان ہو گئی۔ ابتدائی خبریں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اشارہ نہیں دے رہی تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمیوں نے دم توڑنا شروع کیا تو رات کے آخری پہر میں یہ تعداد 88کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ایک پروفیشنل صحافی کے ناتے، اور اس سے زیادہ افسردگی اور غم زدگی نے ایسا بے سکون اور بے چین کیا ہوا تھا کہ رات ہی کو سیہون جانے کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ایک تو کراچی سے حیدرآباد اور پھر سیہون تک اُدھڑی ہوئی سڑکیں اور اُن پر دیو قامت ٹرکوں اور ٹرالروں کا ایسا ہجوم تھا کہ سیہون پہنچتے پہنچتے دوپہر کا ایک بج گیا۔ سیہون شریف کا سارا بازار بند تھا اور مقامی آبادی سہمے ہوئے چہروں سے لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے ارد گرد سر جھکائے آنسو بہاتے نظر آئی۔ مگر جیسے ہی کیمرہ اُنکے سامنے آیا ڈرے سہمے سوگ میں ڈوبے لوگوں کی زبانیں دہشت گردوں کے خلاف آگ اُگلنے لگیں۔ میڈیا کی دی ایس این جی گاڑیاں اور مائیک بھی بس بریکنگ خبریں چلا رہے تھے۔ یہ اپیل نہیں کر رہے تھے کہ ڈاکٹر آئیں، خون دیں، ایمبولینسیں پہنچیں۔ ’’سائیں‘‘ ہم برباد ہو گئے، گھر اُجڑ گئے۔ چہار جانب سے یہی صدائیں آ رہی تھیں۔ مزار شریف کے اندر داخل ہوا تو مائیک کے سامنے زبان گنگ ہو گئی۔ خونی اعضاء کے لوتھڑے، اجرکیں، چادریں، جوتے اور چپلیں خون آلود۔۔۔ بتایا گیا کہ سکیورٹی کے اداروں نے سختی سے کہا ہے کہ کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو حتیٰ کہ فرش پر بُو دیتے خون کے دھبے بھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا کہ سرکٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ سخت سکیورٹی سے لگا کہ وزیر اعظم لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری بھی دیں گے۔ مگر گھنٹے بھر بعد معلوم ہوا کہ انٹیلی جنس نے اجازت نہیں دی۔


وزیر اعظم کی مزار شریف نہ آنے کی تصدیق ہوئی تو گھنٹوں سے انتظار کرتے زائرین کے لئے دروازے کھول دئیے گئے۔ ٹھیک اُسی وقت یعنی 24 گھنٹے پہلے 6 بج کر58 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھمال ڈالنے والوں کو خون میں نہلا دیا تھا۔ لعل شہباز کے عقیدت مند وجدمیں آکر اُسی وسیع وعریض احاطے میں دھمال ڈال رہے تھے۔ سخی شہباز قلندر۔۔۔ دما دم مست قلندر۔۔۔ یہ پیغام تھا دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کو جو ایک دہائی سے تعلیمی اداروں، بازاروں، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خودکش حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ’’اپنی شریعت‘‘ کی دہشت سے پوری قوم کو موت کی نیند سلا دیں گے۔ لعل شہباز قلندر کا مزار ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں عام دنوں میں تین چار ہزار اور جمعرات اور جمعے کو آٹھ دس ہزار زائرین محض اندورن سندھ ہی نہیں،سارے ملک سے آتے ہیں جو 88 زائرین شہید ہوئے اُن میں صرف 13کا تعلق سیہون شریف سے تھا۔ 35کا تعلق سندھ کے دیگر شہروں سے جبکہ باقی 40کا تعلق جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے تھا۔ خودکش حملوں میں ساڑھے تین سو زخمیوں میں سے بھی بیشتر کا تعلق سندھ سے باہر کے شہروں سے تھا اور یہ بات بھی اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہو کر موت کی نیند سونے والوں میں چار افراد کا تعلق ہندو اقلیت سے تھا۔ لعل شہباز قلندر کے مزار کے بیرونی احاطے سے نکل کر جب اندورنی دروازے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لعل شہباز قلندر کے مزار شریف پر کوئی آنچ آئی نہ ہی چھت پر لگے جہازی سائز فانوس کا کوئی شیشہ ٹوٹا۔ اتنے بڑے سانحے کے محض 20گھنٹے بعد سارا ماحول تبدیل ہوچکا تھا۔ خوف و دہشت کی جگہ دھمال ڈالتے زائرین کے تمتماتے چہرے اور سخی شہباز قلندر کی سر شاری میں ڈوبے زائرین کی دل دوز صدائیں۔ یہاں میں اپنے قبیلے یعنی میڈیا کے دوستوں سے یہ شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ اپنی ہر بریکنگ خبر میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کی تو ایک ایک بات پر لعنت ملامت کر رہے تھے مگر خود کش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کے بارے میں مصالحانہ اور عاجزانہ حد تک رویہ معذرت خواہانہ تھا اور یہ محض اس سانحہ کی بات نہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں ہونے والے 450 خودکش حملوں کے بعد
TALIBAN APOLOGIST
کایہی رویہ کم وبیش دیکھنے میں آیا۔ اب سے سال بھر پہلے تک تو یہ حال تھا کہ نام نہاد طالبان اور القاعدہ کے ترجمانوں کے باقاعدہ لائیو انٹرویوز گھنٹوں چلتے تھے جن میں وہ ہماری حکومتوں اور عوام کو درس دیتے کہ وہ اُن کی دہشت کی شریعت کے آگے سر خم کرلیں۔ میڈیا کا
TALIBAN APOLOGIST
حلقہ گو ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ایک حد تک حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنے لگا ہے مگر ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری قوم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہوچکے ہیں کہ یہ خود کش حملہ آور مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تو پھر ’’میڈیا‘‘ کے سرخیلوں کو بھی اپنی سوچ کو
Revisit
کرنا چاہئے کہ کم از کم دہشت گردی کے سوداگروں پر میڈیا اور قوم کو ایک آواز ہوناچاہئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
05
April

Defining Extremism and Terrorism

Written By: Lt Gen Shafaat Ullah Shah (R)

There is an ongoing debate in Jordan amongst scholars on the clear definition of extremism prominently iterated in a news item published in the February 28th issue of Jordan Times, stating that, "there is still no clear definition of ‘extremism’ in Jordan, experts warn". I am certain the same confusion is prevalent in many other countries which may also include Pakistan. Drawing on my military training which enables discerning black and white from shades of gray, I thought it imperative to contribute my views in endeavouring at a definition that could serve as the foundation for evolving a strategy to fight radicalism by all the elements of national power of any nation. It could also help launch a debate to arrive at a broadly acceptable definition of extremism, which is a prerequisite for devising a counter strategy.

 

Extremism
The dictionary definition of extremism states that ‘it is the quality or state of being extreme or advocacy of extreme measures or view’. Nowadays, the term is mostly used in a political or religious sense, for an ideology that is considered to be far outside the acceptable mainstream attitudes of a society. The term “extremism” is usually meant to be pejorative and expresses (strong) disapproval. However, it may also be meant in a more academic, purely descriptive, non-condemnatory sense. Extremists are usually contrasted with centrists. Political agendas perceived as extremist often include those from the far-left politics or far-right politics, as well as radicalism, fundamentalism, reactionism and fanaticism.

 

defanextremter.jpgThere have been many different definitions of “extremism”. Peter T. Coleman and Andrea Bartoli have provided more elaborate definitions. Extremism is a complex phenomenon, although its complexity is often hard to see. Most simply, it comprises activities (beliefs, attitudes, feelings, actions, strategies) of a character far removed from the ordinary. In conflict settings, it manifests itself as a severe form of conflict engagement. However, the labelling of activities, people, and groups as “extremist”, and the defining of what is “ordinary” in any setting is always a subjective and political matter. Thus, any discussion of extremism should be mindful of the following: the same extremist act will be viewed by some as just and moral (such as pro-social “freedom fighting”), and by others as unjust and immoral (anti-social “terrorism”) which depends on the observer’s values, politics, moral scope, and the nature of relationship with the actor. In addition, one’s sense of the moral or immoral nature of a given act of extremism (such as Nelson Mandela’s use of guerilla war tactics against the South African government) may change as conditions (leadership, world opinion, crises and historical accounts) change. Thus, the current and historical context of extremist acts shapes our views.


The terms ‘extremism’ or ‘extremist’ are almost always exonymic i.e., applied to a group by others rather than by a group labelling itself as extremists, as in the case of political radicals. There is no political party that calls itself “right-wing extremist” or “left-wing extremist”, and there is no sect of any religion that calls itself “extremist” or which calls its doctrine “extremism”. The term extremist is often used with reference to those who use or advocate violence against the will of society at large, but it is also used by some to describe those who advocate or use violence to enforce the will of the social body, such as a government or a majority constituency.


In the light of the foregoing, a rational definition of extremism could be, “An individual or a group which has extreme views, in conflict with the rest of the society, considers right only his version of views and imposes his views on others, if needed, by force”.


This definition has four distinct facets. It encompasses individuals, groups and organizations. Extreme views which may be in the realm of religion, politics, economics and social behaviour and are at variant or a contrast to popular beliefs of the rest of the society, considers that only his views or beliefs are righteous and others are on the wrong path and uses all means, pre-dominantly force, to instill these views into others. In the light of this definition, if we analyze the existing extremist organizations like Al-Qaeda, Daesh, Taliban etc. they embody these provisions. Their defining principle is ‘the imposition of the organization’s views on other segments of the society by the use of force and violent methods’.


In view of the ambiguous definitions provided by the Western societies regarding extremism and radical Islam, which could be subject to exploitation, it is the prime responsibility of Muslim scholars and states to define these terms in a rational perspective acceptable to Muslims all over the world. Extremism is outside the ambit of religious beliefs and dogmas. Narrowing its scope to Islam alone is a prejudiced approach. History is replete with examples of extremism manifested in other religions and societies.


Terrorism
While terrorism is an old phenomenon that has existed since antiquity, today we face a novel and a far more complex variant. It has changed its character and meaning over time. What was true for one terrorist group in a certain place, at a certain time, does not necessarily apply to another in a different country, at another time, reflecting different politics and traditions. As a result, consensus has become elusive over a universally accepted definition of terrorism. Conceptual problems positioned over the years can be reflected in the popular statement: “One man’s terrorist is another man’s freedom fighter”.
The absence of a universally agreed definition, however, does not mean lack of definition, or criminalization of terrorist acts within national jurisdiction. The diversity of contexts in which this kind of violence appeared over history and the many and often contending political causes, whose advocates use the definition for their own purposes makes it a difficult proposition. 9/11 created a new international dynamic that sought to de-legitimize any political violence aimed at civilians, irrespective of context and unwilling to distinguish this from resistance to state terrorism or foreign occupation.


The Resolution 1373 adopted by the United Nations Security Council on September 28, 2001 imposed wide ranging obligations on member states to combat terrorism in the absence of a definition of terrorism. Such ambiguity has served to emphasize the role of domestic legislation to criminalize terrorist offences. International counter-terrorism measures could not be implemented effectively due to the lack of a proper definition for terrorism. The United Nations has already adopted major international conventions or protocols (between 2001 and 2017), in addition to regional legal instruments, to provide the legal framework to prohibit various forms of terrorist behaviour.


The concept of “state terrorism” has been rejected by many Western countries on the grounds that the actions of states are already governed by rules of international law relating to state responsibility. This view has been endorsed by the UN Secretary General as well as the Report of his High Level Panel. But for many the question of states contravening international law remains an important and real one.


An agreed definition of terrorism enunciates, “Any action which is intended to cause death or serious bodily harm to civilians or non-combatants, when the purpose of such an act by its nature or context, is to intimidate a population, or to compel a government or an international organization, to do or to abstain from any act”. Any definition that is not backed by consensus can have a divisive effect and hinder international counter-terrorism efforts.


These stipulated definitions of the most serious threat facing mankind today could provide a common ground for identification and initiation of a punitive response or at a minimum basis to initiate a debate to coin all encompassing definitions. To define these phenomena in clear terms is also essential for an internationally accepted interpretation to devolve an efficacious response and develop a counter-narrative.

 

The writer is presently serving as Pakistan’s Ambassador to the Hashemite Kingdom of Jordan. He has also been Commander Lahore Corps and remained Military Secretary to the President. He is author of 'Soviet Invasion of Afghanistan' (published 1983).

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter