13
March

سیہون شریف سے

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: مجاہد بریلوی

مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں sehwansharif.jpgاور چیختی بلبلاتی بچیوں سے لہو لہان ہو گئی۔ ابتدائی خبریں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اشارہ نہیں دے رہی تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمیوں نے دم توڑنا شروع کیا تو رات کے آخری پہر میں یہ تعداد 88کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ایک پروفیشنل صحافی کے ناتے، اور اس سے زیادہ افسردگی اور غم زدگی نے ایسا بے سکون اور بے چین کیا ہوا تھا کہ رات ہی کو سیہون جانے کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ایک تو کراچی سے حیدرآباد اور پھر سیہون تک اُدھڑی ہوئی سڑکیں اور اُن پر دیو قامت ٹرکوں اور ٹرالروں کا ایسا ہجوم تھا کہ سیہون پہنچتے پہنچتے دوپہر کا ایک بج گیا۔ سیہون شریف کا سارا بازار بند تھا اور مقامی آبادی سہمے ہوئے چہروں سے لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے ارد گرد سر جھکائے آنسو بہاتے نظر آئی۔ مگر جیسے ہی کیمرہ اُنکے سامنے آیا ڈرے سہمے سوگ میں ڈوبے لوگوں کی زبانیں دہشت گردوں کے خلاف آگ اُگلنے لگیں۔ میڈیا کی دی ایس این جی گاڑیاں اور مائیک بھی بس بریکنگ خبریں چلا رہے تھے۔ یہ اپیل نہیں کر رہے تھے کہ ڈاکٹر آئیں، خون دیں، ایمبولینسیں پہنچیں۔ ’’سائیں‘‘ ہم برباد ہو گئے، گھر اُجڑ گئے۔ چہار جانب سے یہی صدائیں آ رہی تھیں۔ مزار شریف کے اندر داخل ہوا تو مائیک کے سامنے زبان گنگ ہو گئی۔ خونی اعضاء کے لوتھڑے، اجرکیں، چادریں، جوتے اور چپلیں خون آلود۔۔۔ بتایا گیا کہ سکیورٹی کے اداروں نے سختی سے کہا ہے کہ کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو حتیٰ کہ فرش پر بُو دیتے خون کے دھبے بھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا کہ سرکٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ سخت سکیورٹی سے لگا کہ وزیر اعظم لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری بھی دیں گے۔ مگر گھنٹے بھر بعد معلوم ہوا کہ انٹیلی جنس نے اجازت نہیں دی۔


وزیر اعظم کی مزار شریف نہ آنے کی تصدیق ہوئی تو گھنٹوں سے انتظار کرتے زائرین کے لئے دروازے کھول دئیے گئے۔ ٹھیک اُسی وقت یعنی 24 گھنٹے پہلے 6 بج کر58 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھمال ڈالنے والوں کو خون میں نہلا دیا تھا۔ لعل شہباز کے عقیدت مند وجدمیں آکر اُسی وسیع وعریض احاطے میں دھمال ڈال رہے تھے۔ سخی شہباز قلندر۔۔۔ دما دم مست قلندر۔۔۔ یہ پیغام تھا دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کو جو ایک دہائی سے تعلیمی اداروں، بازاروں، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خودکش حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ’’اپنی شریعت‘‘ کی دہشت سے پوری قوم کو موت کی نیند سلا دیں گے۔ لعل شہباز قلندر کا مزار ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں عام دنوں میں تین چار ہزار اور جمعرات اور جمعے کو آٹھ دس ہزار زائرین محض اندورن سندھ ہی نہیں،سارے ملک سے آتے ہیں جو 88 زائرین شہید ہوئے اُن میں صرف 13کا تعلق سیہون شریف سے تھا۔ 35کا تعلق سندھ کے دیگر شہروں سے جبکہ باقی 40کا تعلق جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے تھا۔ خودکش حملوں میں ساڑھے تین سو زخمیوں میں سے بھی بیشتر کا تعلق سندھ سے باہر کے شہروں سے تھا اور یہ بات بھی اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہو کر موت کی نیند سونے والوں میں چار افراد کا تعلق ہندو اقلیت سے تھا۔ لعل شہباز قلندر کے مزار کے بیرونی احاطے سے نکل کر جب اندورنی دروازے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لعل شہباز قلندر کے مزار شریف پر کوئی آنچ آئی نہ ہی چھت پر لگے جہازی سائز فانوس کا کوئی شیشہ ٹوٹا۔ اتنے بڑے سانحے کے محض 20گھنٹے بعد سارا ماحول تبدیل ہوچکا تھا۔ خوف و دہشت کی جگہ دھمال ڈالتے زائرین کے تمتماتے چہرے اور سخی شہباز قلندر کی سر شاری میں ڈوبے زائرین کی دل دوز صدائیں۔ یہاں میں اپنے قبیلے یعنی میڈیا کے دوستوں سے یہ شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ اپنی ہر بریکنگ خبر میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کی تو ایک ایک بات پر لعنت ملامت کر رہے تھے مگر خود کش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کے بارے میں مصالحانہ اور عاجزانہ حد تک رویہ معذرت خواہانہ تھا اور یہ محض اس سانحہ کی بات نہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں ہونے والے 450 خودکش حملوں کے بعد
TALIBAN APOLOGIST
کایہی رویہ کم وبیش دیکھنے میں آیا۔ اب سے سال بھر پہلے تک تو یہ حال تھا کہ نام نہاد طالبان اور القاعدہ کے ترجمانوں کے باقاعدہ لائیو انٹرویوز گھنٹوں چلتے تھے جن میں وہ ہماری حکومتوں اور عوام کو درس دیتے کہ وہ اُن کی دہشت کی شریعت کے آگے سر خم کرلیں۔ میڈیا کا
TALIBAN APOLOGIST
حلقہ گو ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ایک حد تک حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنے لگا ہے مگر ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری قوم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہوچکے ہیں کہ یہ خود کش حملہ آور مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تو پھر ’’میڈیا‘‘ کے سرخیلوں کو بھی اپنی سوچ کو
Revisit
کرنا چاہئے کہ کم از کم دہشت گردی کے سوداگروں پر میڈیا اور قوم کو ایک آواز ہوناچاہئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
05
April

Defining Extremism and Terrorism

Written By: Lt Gen Shafaat Ullah Shah (R)

There is an ongoing debate in Jordan amongst scholars on the clear definition of extremism prominently iterated in a news item published in the February 28th issue of Jordan Times, stating that, "there is still no clear definition of ‘extremism’ in Jordan, experts warn". I am certain the same confusion is prevalent in many other countries which may also include Pakistan. Drawing on my military training which enables discerning black and white from shades of gray, I thought it imperative to contribute my views in endeavouring at a definition that could serve as the foundation for evolving a strategy to fight radicalism by all the elements of national power of any nation. It could also help launch a debate to arrive at a broadly acceptable definition of extremism, which is a prerequisite for devising a counter strategy.

 

Extremism
The dictionary definition of extremism states that ‘it is the quality or state of being extreme or advocacy of extreme measures or view’. Nowadays, the term is mostly used in a political or religious sense, for an ideology that is considered to be far outside the acceptable mainstream attitudes of a society. The term “extremism” is usually meant to be pejorative and expresses (strong) disapproval. However, it may also be meant in a more academic, purely descriptive, non-condemnatory sense. Extremists are usually contrasted with centrists. Political agendas perceived as extremist often include those from the far-left politics or far-right politics, as well as radicalism, fundamentalism, reactionism and fanaticism.

 

defanextremter.jpgThere have been many different definitions of “extremism”. Peter T. Coleman and Andrea Bartoli have provided more elaborate definitions. Extremism is a complex phenomenon, although its complexity is often hard to see. Most simply, it comprises activities (beliefs, attitudes, feelings, actions, strategies) of a character far removed from the ordinary. In conflict settings, it manifests itself as a severe form of conflict engagement. However, the labelling of activities, people, and groups as “extremist”, and the defining of what is “ordinary” in any setting is always a subjective and political matter. Thus, any discussion of extremism should be mindful of the following: the same extremist act will be viewed by some as just and moral (such as pro-social “freedom fighting”), and by others as unjust and immoral (anti-social “terrorism”) which depends on the observer’s values, politics, moral scope, and the nature of relationship with the actor. In addition, one’s sense of the moral or immoral nature of a given act of extremism (such as Nelson Mandela’s use of guerilla war tactics against the South African government) may change as conditions (leadership, world opinion, crises and historical accounts) change. Thus, the current and historical context of extremist acts shapes our views.


The terms ‘extremism’ or ‘extremist’ are almost always exonymic i.e., applied to a group by others rather than by a group labelling itself as extremists, as in the case of political radicals. There is no political party that calls itself “right-wing extremist” or “left-wing extremist”, and there is no sect of any religion that calls itself “extremist” or which calls its doctrine “extremism”. The term extremist is often used with reference to those who use or advocate violence against the will of society at large, but it is also used by some to describe those who advocate or use violence to enforce the will of the social body, such as a government or a majority constituency.


In the light of the foregoing, a rational definition of extremism could be, “An individual or a group which has extreme views, in conflict with the rest of the society, considers right only his version of views and imposes his views on others, if needed, by force”.


This definition has four distinct facets. It encompasses individuals, groups and organizations. Extreme views which may be in the realm of religion, politics, economics and social behaviour and are at variant or a contrast to popular beliefs of the rest of the society, considers that only his views or beliefs are righteous and others are on the wrong path and uses all means, pre-dominantly force, to instill these views into others. In the light of this definition, if we analyze the existing extremist organizations like Al-Qaeda, Daesh, Taliban etc. they embody these provisions. Their defining principle is ‘the imposition of the organization’s views on other segments of the society by the use of force and violent methods’.


In view of the ambiguous definitions provided by the Western societies regarding extremism and radical Islam, which could be subject to exploitation, it is the prime responsibility of Muslim scholars and states to define these terms in a rational perspective acceptable to Muslims all over the world. Extremism is outside the ambit of religious beliefs and dogmas. Narrowing its scope to Islam alone is a prejudiced approach. History is replete with examples of extremism manifested in other religions and societies.


Terrorism
While terrorism is an old phenomenon that has existed since antiquity, today we face a novel and a far more complex variant. It has changed its character and meaning over time. What was true for one terrorist group in a certain place, at a certain time, does not necessarily apply to another in a different country, at another time, reflecting different politics and traditions. As a result, consensus has become elusive over a universally accepted definition of terrorism. Conceptual problems positioned over the years can be reflected in the popular statement: “One man’s terrorist is another man’s freedom fighter”.
The absence of a universally agreed definition, however, does not mean lack of definition, or criminalization of terrorist acts within national jurisdiction. The diversity of contexts in which this kind of violence appeared over history and the many and often contending political causes, whose advocates use the definition for their own purposes makes it a difficult proposition. 9/11 created a new international dynamic that sought to de-legitimize any political violence aimed at civilians, irrespective of context and unwilling to distinguish this from resistance to state terrorism or foreign occupation.


The Resolution 1373 adopted by the United Nations Security Council on September 28, 2001 imposed wide ranging obligations on member states to combat terrorism in the absence of a definition of terrorism. Such ambiguity has served to emphasize the role of domestic legislation to criminalize terrorist offences. International counter-terrorism measures could not be implemented effectively due to the lack of a proper definition for terrorism. The United Nations has already adopted major international conventions or protocols (between 2001 and 2017), in addition to regional legal instruments, to provide the legal framework to prohibit various forms of terrorist behaviour.


The concept of “state terrorism” has been rejected by many Western countries on the grounds that the actions of states are already governed by rules of international law relating to state responsibility. This view has been endorsed by the UN Secretary General as well as the Report of his High Level Panel. But for many the question of states contravening international law remains an important and real one.


An agreed definition of terrorism enunciates, “Any action which is intended to cause death or serious bodily harm to civilians or non-combatants, when the purpose of such an act by its nature or context, is to intimidate a population, or to compel a government or an international organization, to do or to abstain from any act”. Any definition that is not backed by consensus can have a divisive effect and hinder international counter-terrorism efforts.


These stipulated definitions of the most serious threat facing mankind today could provide a common ground for identification and initiation of a punitive response or at a minimum basis to initiate a debate to coin all encompassing definitions. To define these phenomena in clear terms is also essential for an internationally accepted interpretation to devolve an efficacious response and develop a counter-narrative.

 

The writer is presently serving as Pakistan’s Ambassador to the Hashemite Kingdom of Jordan. He has also been Commander Lahore Corps and remained Military Secretary to the President. He is author of 'Soviet Invasion of Afghanistan' (published 1983).

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

مل کر آگے بڑھنا ہے

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: طاہرہ جالب

کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں۔ خوراک، زراعت، صنعتی ترقی اور افرادی قوت کیا ہے ؟ غرضیکہ ہر شعبے کی تنظیم و تشکیل کے لئے دیگر عوامل کے علاوہ مردم شماری پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے ملک کا مستقبل یقینی اورمحفوظ ہو جاتا ہے۔ ملک کی ترقی و تعمیر کا انحصار بھی مردم شماری پر ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک سیاسی ، سماجی ، معاشرتی اور معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ اپنے اندر بسنے والوں کی تعداد ، تعلیم، سماجی حیثیت اور معاشی کیفیت کے بارے میں بنیادی معلومات نہ رکھتا ہو۔ درست اعداد و شمار حاصل کرنے کے بعد حکومت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین پلاننگ کرتی ہے۔ مثلاً تعلیم کے شعبے میں تعلیمی پلاننگ جس سے معلوم ہو گا کہ کتنے افراد خواندہ ہیں اور کتنے ناخواندہ، کتنے مرد تعلیم یافتہ ہیں، کتنی خواتین تعلیم یافتہ ہیں اورکتنے افراد زیر تعلیم ہیں۔ جو سہولیات تعلیمی اداروں میں میسر ہیں اس کے اعداد و شمار سے الگ معلومات ملیں گی۔ مردم شماری کے ذریعے ہنر اور فنی مہارتوں کے بارے میں رحجان کا اندازہ لگا کر ملک میں ایسی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے جن کے لئے مستقبل میں افرادی قوت دستیاب ہو سکے۔ ذرائع آمد و رفت کے منصوبے بنانے کے لئے حکومت انہی اعداد و شمار کو استعمال کرتی ہے تاکہ ضرورت کے مطابق نقل و حمل کی ترقی کا پروگرام ترتیب دے کر معاشی اور معاشرتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔


اس کے علاوہ شرح افزائش کا اندازہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر زرعی پیداوار کی طلب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور غذائی قلت اور گرانی کو دور کیا جا سکتاہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی مردم شماری کے صحیح اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے جو منصوبہ بندی کی جاتی ہے مردم شماری اس کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔

 

milkaragybehna.jpgاگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے دو ہجری میں مدینہ شہر میں مردم شماری کرائی گئی۔ عہدِ رسالتؐ میں وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام قائم کیا گیا جس کے تحت صاحبِ حیثیت افراد سے خیرات و صدقہ لے کر معاشرے کے ضرورت مند افراد میں منصفانہ طور پر تقسیم کئے گئے۔ اس کے بعد 15 ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ نے باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ قبلِ مسیح رومن سلطنت نے فوجی اور سیاسی مقاصد اور جائیداد کی رجسٹریشن کے لئے پہلی مرتبہ رومن تہذیب میں باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ پھر باب الایران ، مصر ، چین اور جنوبی امریکہ میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مردم شماری کروائی گئی۔ مسلم ممالک میں شہر کوفہ میں بھی مردم شماری کے شواہد ملتے ہیں۔ جرمنی میں چودھویں صدی عیسوی میں بہت منظم طریقے سے مردم شماری کروائے جانے کا ریکارڈ ملتا ہے۔ پندرھویں صدی عیسوی میں سپین میں باقاعدہ مردم شماری کی گئی۔ کینیڈا ، امریکہ اور سویڈن اس مردم شماری کے مؤجد ہیں جو آج کل ہوتی ہے۔ مردم شماری ہر دس سال بعد لازمی قرار دی گئی ہے۔


19 سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں چھٹی مردم شماری ہو رہی ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے بعد 2008 میں یہ عمل ضروری تھا۔ مگر اب تک یہ مسئلہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گیند کی طرح اچھالا جاتا رہا ہے۔ آخر کار سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہو چکا ہے جوملک کی معیشت کو بہتر طور پر چلانے کے لئے ممد و معاون ثابت ہو گا۔ ملک بھر میں 15مارچ 2017 سے شروع ہونے والی مردم شماری 2 مراحل میں مکمل ہو گی۔ چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 63اضلاع پہلے مرحلے میں 15 مارچ سے 13اپریل تک خانہ اور مردم شماری ہو گی۔ باقی 88 اضلاع اور علاقوں میں مردم شماری دوسرے مرحلے میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


19 سال بعد ہونے والی مردم شماری پر اعتراضات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان ایک دوسرے کی نسبت زیادہ کی جنگ ہے تو بلوچستان میں افغان مہاجرین کو شمار کرنے پر بھی اعتراضات موجود ہیں۔ گویا چھٹی مردم شماری کا انعقاد پھر ایک مرتبہ چند شبہات کے ماحول میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس امر میں دو لاکھ فوجی اور ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب سول ملازمین کی شمولیت کافی حد تک شفافیت لائے گی۔ اس بار مردوں اور عورتوں کے علاوہ خواجہ سراؤں کو بھی گنا جائے گا۔ اگر اس بار مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا تو نہ صرف منصوبہ بندی کرنا آسان ہو گی بلکہ صوبوں اور اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم بھی درست اور منصفانہ ہو گی۔
موجودہ مردم شماری کا فیصلہ اوراس کی
Execution
ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے مگر اس تمام کوشش میں پاک آرمی کے رول کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ موجودہ حالات میں پاک فوج کو بہت سے محاذوں پر بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں روایتی اور غیر روایتی دونوں شامل ہیں۔ ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد کا آغاز کردیاگیا ہے جس کے اہداف یقینی طور پر ایک بھرپور عمل کے متقاضی ہیں۔ موجودہ آپریشن صر ف پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں فسادیوں کے تمام نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو لائن آف کنٹرول پر جارحانہ رویوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ یہ ہماری افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ قابلیت ہی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی’’ سرجیکل سٹرائیک‘‘ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہی رہا۔ مگر ہمیں یہ دشمن کے عزائم کی خبر ضرور دیتا ہے کہ اگر بس چلے تو دشمن کوئی بھی کارروائی کرنے سے باز نہیں رہے گا۔ ان تمام کمٹمنٹس کے ساتھ جو پاکستان دشمنوں کی پیدا کردہ ہیں۔ پاک فوج کی ایک نہایت مناسب تعداد ہمیشہ اپنی ٹریننگ میں بھی مصروف عمل رہتی ہے۔ غرضیکہ ان حالات میں دو لاکھ فوج کو سپیئر کرنا دراصل ان کی ایک اضافی ذمہ داری بن جاتا ہے جس کو اٹھانے کے لئے پاک فوج کی ہائی کمان سے لے کر ایک سپاہی تک سب نے خیر مقدم کیا ہے۔


موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی مردم شماری کے بارے میں مشترکہ پریس کانفرنس جس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں‘ ایک قومی یکجہتی اور سول ملٹری تعلقات میں مثالی ہم آہنگی کی غماز بھی تھی۔ میجر جنرل آصف غفور نے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مردم شماری کی افادیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پاک آرمی اور عوام کے درمیان ایک لازوال رشتہ ہے۔ اس مردم شماری کے دوران پاک فوج کے جوان ہر گھر کے دروازے تک آئیں گے۔ اس عمل کے دوران بے شک
Data Collection
بھی ہوگی مگر یہ پاک فوج کی طرف سے اپنی عوام کے لئے ایک جذبہ خیرسگالی کا پیغام بھی ہوگا۔ اب جب کہ مردم شماری کی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے جو کامیابی سے جاری ہے، تو ہمیں اطمینان رکھنا چاہئے کہ حکومت اور افواج کی یہ کاوش ضرورآنے والے دنوں میں پاکستان کی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
05
April

China and Russia: Forces for Peace in Afghanistan?

Written By: Didier Chaudet

When one talks about Afghanistan’s regional environment, one thinks first of Iran, Pakistan, and Central Asian countries: they have been the ones suffering the most of the Afghan wars and foreign interventions. But it would be a mistake to forget two other neighbours, less connected to Afghanistan by history, human links or cultural ties, but with greater means at their disposal to influence the fate of this country: China and Russia. Indeed, the Chinese-Afghan border is only 92.45 kilometres long, according to the website of the Chinese Ministry of Foreign Affairs. And as for Russia, it is not one of Kabul’s neighbours in the geographical sense of the world. It can be considered so only if one takes into account the symbiotic relationship between the Russian Federation and its “Near Abroad” in terms of security. But those two Great Powers have shown a greater interest in Afghanistan recently, and they seem to share a political will to invest in resolving the never-ending civil war.

 

chniaanrusia.jpg‘Security’ seems the key word to understand the Afghan foreign policy of those two regional Great Powers. And their recent diplomatic choices could have a positive impact on Pakistani national interests.

 

Russia: A Diplomatic Evolution of Afghanistan and Pakistan
The Russian evolution on the Afghan issue is particularly striking, from a rejection to accept any talks with the Taliban to a support for an inter-Afghan reconciliation. On December 27, 2016, Russia, with China and Pakistan, called for “integrating the armed opposition into peaceful life” and said it will support the idea to get Afghan Taliban leaders delisted from UN sanctions’ list. It is oversimplification to believe, like some American sources seem to do, that there is an “alliance” between the Kremlin and the Taliban. The reality is much more pragmatic: the Russians have accepted that the Taliban were not merely terrorists, but rather rebels representing a political force in Afghanistan, a force strong enough to make a pure military solution for the Afghan conflict strictly impossible.


The best way to understand the Russian evolution is the Chinese influence on this subject: clearly the Kremlin has been influenced by Beijing’s initiative towards Afghanistan. Broadly speaking, this evolution can be seen as Russia adapting to a geopolitical situation that has evolved over the last few years. Most importantly, there is a specific jihadist risk for Central Asia and Russia in Afghanistan now: Daesh. This is very clear from the discovery of a Russia-Taliban dialogue in December 2015, and the press release following the meeting in December 2016 reminded above: the Russians see the Taliban as the best option to fight ISIS in Afghanistan, as the Afghan legal government seems unable or unwilling to make it a priority. For Zamir Kabulov, the head of the Asia and Middle East department of the Russian foreign ministry and special envoy of the Russian president to Afghanistan, there are now 10,000 IS fighters in Afghanistan, and as he said to Russia Today in April 2016,“They are being trained against Central Asia and Russia”.


Even if the Russian numbers about IS in Afghanistan seem overblown, the Kremlin is right to worry about Daesh. After Arabic, Russian is the most important language in the so-called ‘Caliphate’. Militants from the Northern Caucasus became well-known fighters fighting for this terrorist organization or for Al-Qaeda’s branch in Syria. If one focuses on Central Asian fighters alone, numbers can still be a source of concern for the post-soviet countries: between 3000 and 5000 so called jihadists have travelled to fight for Al-Baghdadi in Iraq and Syria since 2013. And many of them were recruited in Russia itself, while they were working there, which means that ISIS has been able to build some sort of network, at least for recruiting, in the country. The fear that those terrorists could come to Afghanistan in order to strike later, Russian and Central Asian interests, is not a fantasy: from December 2016 to February 2017, Iranian authorities arrested individuals passing through their country to go to Afghanistan to fight in the name of the Islamic State of Khurasan Province (ISKP), following Daesh’s orders. A view is that ‘ISKP’ in Afghanistan is partly made up of anti-Pakistan Taliban formerly from the TTP and Central Asian jihadists from the ‘Islamic Movement of Uzbekistan’, it is clear that Daesh will seize any opportunity to strike Russia’s post-Soviet southern neighbours. In Afghanistan itself, it represents at least 7000 to 8500 militants (fighters and the ones supporting them) according to the Royal United Service Institute (RUSI). And despite some important victories won against the ISKP by the Taliban, it seems to be able to resist any action to eliminate it from the Afghan battlefield. Actually, the terrorist attack against a military hospital in Kabul, on March 8, 2017, that caused the death of nearly 50 people, is proof that Daesh is resourceful and could be a source of worries for Afghanistan and its regional environment.


Besides, Russia had to adapt to real geopolitical evolutions on the ground. To stick to a policy close to the one from India – opposing any talk with the Taliban – would not change the military situation on the ground, and the fears related to security in Central Asia. If the Russian “big brother” is unable to deliver concrete actions that could help protect its Near Abroad, the Central Asian leaders would have to look elsewhere for protection. Therefore, the Russian fear to lose its influence on them should not be underestimated. It was very clear when Moscow seemed to panic over the proposal of a military bloc between China, Pakistan, Afghanistan, and Tajikistan, made by General Fang Fenghui, the Chief of General Staff of the Chinese Army, in March 2016. The notion of this becoming a “Central Asian NATO” spread in the Russian media, with some Russian analysts seeing the Chinese proposal as a way to put Central Asia under its influence. The Chinese were able to calm such wild theories, but such a reaction proved that Russia is uneasy with China's rise. The fears caused in Central Asia because of the Afghan issue, and the fact that China is getting involved there, made it difficult for Russia to not do the same. Their previous approach did not help to make them more influent, and going against the Chinese involvement would make no sense, as China stays an important global ally to Moscow. Hence the only choice the Kremlin had was to strengthen its influence, reassure the Central Asians, and stay relevant on the Afghan issue. An evolution that looks a lot like the Chinese policy towards Afghanistan, as we will see in the second part of this analysis.

 

China: Looking for Peace in the Name of the “Big Picture”
China does not have a policy to mingle in another state’s internal affairs. It follows such a non-ideological vision of international relations much more strictly than Russia nowadays. Still, China showed concern and desire to influence positively the Afghan issue before the Russians themselves.


It is linked to concerns related to internal stability and security, most particularly in Xinjiang. It was clearly said by the Chinese Foreign Minister himself, Wang Yi, during a visit to Afghanistan in February 2014. The visit was as significant as its previous visit had been in 2002, when he was, then, the Vice Foreign Minister. It was the symbol of a rising concern to see Uyghur jihadists using Afghanistan to strike on Chinese soil. The local tensions in Xinjiang are manageable, and could be taken care of through police work against separatists and through the economic choices China has made to develop the region. Indeed, even if there is a fear of separatist/terrorist anti-China activities in Xinjiang, this territory is much more stabilized than North Caucasus in Russia. But the situation might become more volatile if “professional” jihadists/terrorists come from overseas. And they very much could. Li Wei, head of the counterterrorism research at the China Institute of Contemporary International Relations (CICIR) said during an interview in April 2016 that 300 Uyghur jihadists were affiliated with ISIS. Uyghur jihadists have associated themselves with Uzbek radicals from the Islamic Movement of Uzbekistan (IMU) and Islamic Jihad Union (IJU), who have been very active in Afghanistan, especially in the north. Al-Zawahiri, Al Qaeda’s leader, and al-Baghdadi, so-called “Caliph” for ISIS, have both recently declared that China was one of their enemies. It has been confirmed by propaganda videos made by Daesh and Al-Qaeda’s branch in Syria, respectively on February 25 and 27, 2017. Hence, the terrorist threat targeting China specifically has become more serious over the last few years; and China can only share Russia’s fears exposed above. Besides, during the same few years, Xinjiang has become even more important with the Silk Road Economic Belt project. This importance has been clearly proved this year, as the region’s authorities will inject no less than USD 24.8 billion in local infrastructure, mostly roads. It is more than the total funding for such infrastructure between 2011 and 2015. Clearly, Beijing is serious about making Xinjiang an important part of the One Belt, One Road Project. Hence, to counter any risk for its stability is of paramount importance.


In order to protect its own interests, China decided to push for peace in Afghanistan, still the best way to avoid the latter’s instability to be a weapon in Uyghur separatists and in Daesh’s hands. It seems Beijing carries the understanding that the Afghan Taliban are a part of the Afghan political spectrum, even after the fall of the “Afghan Emirate” (according to American sources like Foreign Policy). Since 2012 the exchanges between Chinese emissaries and the Taliban seem to have been more regular. At first to protect Chinese interests; then, from 2014, Chinese diplomacy has been an active force supporting a peace process between the Kabul government and the Taliban. The USA had failed to make its ideas of peace-talks a reality after Hamid Karzai, the then-president of Afghanistan, derailed American-led project in June 2013. Beijing clearly became part of such effort by being one of the states associated to the Quadrilateral Coordination Group, with Afghanistan, Pakistan and the USA. It met officially the first time in January 2016, but seemed to have been clearly limited by different views on what the peace process should be, the Americans and part of the Afghan government having difficulties to accept a true negotiation with what it implies, i.e., finding a compromise. The fact that the Americans killed the then-leader of the Taliban, Mullah Mansour, in May 2016, a few days after the last meeting of the QCG, is proof enough of a difference of perception of how peace should be achieved. Nowadays it seems that China is the main power truly active to achieve peace in order to solve the Afghan issue. It continues to talk to the Taliban: a delegation led by the Taliban Qatar office chief Sher Abbas Stanikazai visited China in February 2017, to discuss with Beijing the possibility to revive the peace process.

 

A Positive Evolution for Pakistan
Of course, Beijing’s policy is clearly in tune with Pakistan’s national interests. China, contrary to the USA or India, does not put blame of Afghan problems on Islamabad. On the contrary, it works with Pakistan on its Afghan policy. From the Fifth Heart of Asia Conference in 2015, it became clear that Chinese officially considered Pakistani involvement in the peace process as necessary for such process to have a chance to work. It appears clearly that, contrary to part of the Afghan elites in Kabul and to the American leadership, Beijing has understood that Pakistan had knowledge and some influence over part of the Afghan Taliban at least, but no full control over them. This more subtle, less simplistic approach from the Chinese made them understand that the Pakistani idea opposing a fragmentation of the Afghan Taliban was the right approach, as Taliban with a weak leadership would be unable to impose peace on their rank and file. Broadly speaking, Chinese diplomatic victory in Afghanistan would also be a victory for Pakistan.


Actually, Afghanistan gives another opportunity for Beijing to work together, with their diplomacies strongly aligned. The military cooperation between the two countries is already strong, and seems to have been further strengthened by the Chief of Army Staff Qamar Javed Bajwa’s three-day recent trip to China. And, of course, there is the CPEC: the China-Pakistan Economic Corridor at the core of the “One Belt,One Road Project" is itself at the heart of President Xi’s diplomacy. On this project, the shared Chinese-Pakistani initiative for Afghan peace is particularly important: a stable Afghanistan would be helpful to make the CPEC a success, and also to diminish the possibilities for Baloch separatists to find external support.


This changing evolution in Russia’s policy revolving Afghanistan problem has also been a good news for Pakistan. It should be remembered that the erstwhile USSR had been an antagonist for Pakistan. In 1971, the Kremlin gave weapons and helped organize training camps for guerilla forces against the Pakistan Army in East Pakistan, soon to become Bangladesh, in 1971. And after the Cold War, the Russians continued to have an unbalanced foreign policy towards South Asia. Russian's recent evolution in foreign affairs does not mean that Pakistan and Russia would become “allies” in no time: this simplistic approach would not take into account the fact that pro-India forces in Moscow are still strong and active. But such evolution means that they should arrive to a point where India-Russia links do not pose hurdles anymore to a good Russia-Pakistan bilateral relationship. Since 2007, when the then Prime Minister Mikhail Fradkov paid a three-day visit to Pakistan, there is a slow but constant positive evolution in the diplomatic relations between the two countries. Working on the Afghan issue together will strengthen this trend in the long term.


The regional environment nowadays makes it clear that the countries in Afghan neighbourhood are in agreement that there is a need of an Afghan peace process, as military force alone cannot change the situation. The only ones that seem to oppose such an approach, shared by Russia, China, Pakistan, as well as Iran, are ‘disconnected’ from Afghan reality. They see this country only through the lens of their opposition to other nations: India first, but also the USA. The former is on a quest to be the only great power in its regional environment. And to be more than an economic power, it needs to break the opposition of the other regional power in its neighbourhood, i.e., Pakistan. It sees China’s desire to gain back its role as a natural Asian Great Power as a threat to its own ambitions. As for the Americans, even if they gave their blessing to the idea of an Afghan peace process since the beginning of this decade, they seem unwilling to accept that other great powers could be capable of being “honest brokers” the USA was unable to be itself. Some, in Washington D.C. also have a problem with the Afghan policy designed in Beijing and in Moscow, as it includes Iran and Pakistan as part of the solution, not of the problem. Those two countries have often been used as scapegoats by Americans and some of their Afghan colleagues as an easy explanation for their common inability to win against the Taliban.


Hopefully, such division will soon disappear: with the danger that is Daesh, and the other hotspots in the world, to find a common ground for peace and stability in this region. The Americans, in particular, have lost 2300 soldiers so far in a war that has been costing the astronomical sum of 1.5 trillion dollars. Despite the temptation to oppose Russia and China, it should be easy for cooler heads to prevail. It would be good news for the Afghan regional environment as a whole, but also for the Afghan people itself.

 

The writer is the Editing Director of CAPE (Center for the Analysis of Foreign Policy). He is also a non-resident Scholar for IPRI (Islamabad Policy Research Institute). He is a specialist of geopolitical/security-related issues in Central Asia and South-West Asia (Iran, Afghanistan, Pakistan).
 

Follow Us On Twitter