13
October

بھارت کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور ہائیڈروجن بم پروگرام

تحریر: فرخند اقبال

بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کی خاطر قائم نیو کلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ اس گروپ میں شمولیت کے ذریعے اپنے پر امن سول نیوکلئیر پروگرام کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔اس قسم کے دعوے وہ 1974سے پہلے امریکہ اور فرانس کے ساتھ اپنے معاہدوں کے بارے میں بھی کرتا رہا ہے یہاں تک کہ اس نے ایٹمی دھماکے کرکے خود کو ایٹمی طاقت ثابت کردیا۔اب کی بار وہ اس انتہائی اہم گروپ کو استعمال کر کے پہلے سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہائیڈروجن بم پروگرام پر جاری کام کی رفتار تیز کرنا چاہتاہے۔بھارت کی اس وقت سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ کسی طرح خود کو ایک عالمی طاقت ثابت کردے جس کے لئے اس نے خارجی سطح پر انتہائی جارحانہ پالیسی اختیار کی ہوئی ہے جس کی ایک اہم مثال امریکہ کے ساتھ اس کا حالیہ دفاعی معاہدہ
Logistics Exchange Memorandum of Agreement (LEMOA)
ہے جبکہ داخلی سطح پر وہ مبینہ طور پر ہائیڈروجن بم پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ 20جون 2014کو دفاعی و سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے انتہائی معتبر جریدے
IHS Jane146s
نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارت خفیہ طور پر ہائیڈروجن بم بنا رہا ہے جس کے لئے بھارتی ایٹمی سائنسدان میسورمیں واقع
Indian Rare Metals Facility
میں خفیہ طریقے سے یورینیم ہیکسا فلورائیڈ افزودہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو ہائیڈروجن بم بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔اس کے بعد دسمبر 2015میں معروف امریکی ادارے
Center for Public Integrity
نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ بھارت جنوبی ریاست کرناٹکا میں واقع برصغیر کی سب سے بڑی نیوکلیئر تجربہ گاہ میں دیگر ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ہائیڈروجن بم کی تیاری کر رہا ہے، اسی ماہ انتہائی معتبر امریکی جریدے
Foreign Policy
نے بھی ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں بھارت کے ہائیڈروجن بم پروگرام کے بارے میں مختلف انکشافات کئے گئے۔بھارت کے ہائیڈروجن بم پروگرام پر اس کے علاوہ بھی مختلف حلقوں میں گاہے بگاہے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن جوہری عدم پھیلاؤ کی ٹھیکیدار عالمی طاقتیں ایک بار پھر ماضی کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور کسی بھی جانب سے اس معاملے پر سنجیدہ ردّعمل دیکھنے میں نہیں آرہا،اس کے بر عکس امریکہ سمیت کئی اہم ممالک بھارت کو نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت دینے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔


تاریخ ہمیشہ ہی بھارت کے نیوکلیئر پروگرام پر مہربان رہی ہے۔ بھارت جب ایٹم بم بنانے کی کوششیں کر رہا تھا تو اس وقت کی دو سپر پاورز امریکہ اورسابقہ سویت یونین کے درمیان سرد جنگ جاری تھی، اس وقت دونوں عالمی طاقتیں اس خطّے میں اتحادیوں کی تلاش میں تھیں اور باوجود اس کے کہ امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے اور روس کی کے جی بی اپنی حکومتوں کو بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں وقتاً فوقتاً خفیہ رپورٹس دیتے رہے لیکن اس وقت دونوں میں کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ بھارت کے خلاف کوئی سخت موقف اختیار کر کے اسے مخالف کیمپ میں ڈال دے جو کہ اپنی آبادی، معیشت اور جغرافیے کے باعث جنوبی ایشیاء میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔بھارت نے ان حالات کا بھرپور فائدہ اُٹھایا اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرلی۔اب جبکہ وہ ہائیڈروجن بم پر کام کر رہا ہے تو اس وقت بھی خطّہ ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور وہ ایک بار پھر بھرپور طریقے سے عالمی طاقتوں کی ضرورت بنتا جارہا ہے ۔خطّے میں نئے تعلقات استوار ہو رہے ہیں اور وہ
Pivot to Asia
اور
China Containment
جیسی بڑی پالیسیوں کا مہرہ بن رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی طاقتیں اس کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں ’’سب اچھا ہے‘‘کا ورد کر رہی ہیں اور اسے مکمل ڈھیل دے رہی ہیں۔
اب ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہر سطح پر تعطل کا شکار ہیں پاکستان نے 16اگست کو بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات نہ کرنے کے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کرنے کی پیشکش کی ، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ یہ معاہدہ نہ صرف خطّے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے بہت اہم ہوگا ،ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے جنوبی ایشیاء میں اسلحے کی دوڑ سے بچنے کے لئے مزید اقدامات کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے نہ صرف نئے امکانات پیدا ہوں گے بلکہ اس کے ساتھ نیو کلیئر سپلائیرز گروپ میں بھی مثبت پیغام جائے گا جس کی رکنیّت حاصل کرنے کے لئے دونوں ممالک نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔لیکن بھارت نے پہلے کی طرح اس پیشکش کا بھی مثبت جواب نہیں دیا ۔ پاکستان نے 1998میں بھی دونوں ممالک کی جانب سے ایٹمی تجربات کرنے کے بعد بھارت کو
Comprehensive Test Ban Treaty (CTBT)
پر دستخط کرنے کی پیشکش کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس معاہدے پر دستخط کرکے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ لیکن بھارت نے اس وقت بھی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔


اس وقت پاکستان کی جانب سے ایٹمی تجربات نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش اور بھارت کی جانب سے اس پیشکش کا استرداد کرنا ہر گز کوئی چھوٹا یا معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کی خطّے کے مستقبل کی شکل ترتیب دینے کے لئے جاری پالیسیوں کا عکاس ہے۔ یہ اس بات کا عکاس ہے کہ جنوبی ایشیاء کی دو بڑی طاقتیں اس وقت کس قسم کی علاقائی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور وہ خطّے کے سیاسی و اسٹریٹیجک مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس میں بیک وقت ایڈجسٹ ہونے اور اسے اپنے حق میں ڈھالنے کے لئے کون کون سے حربے استعمال کریں گے۔ اگر بھارت کی خارجہ پالیسی کا بغور جائزہ لیا جائے تو وہ ایک بہت بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والاغیر وابستگی کا عنصر اب تاریخ کا ذکر بن چکاہے، وہ بھارت جو ماضی قریب میں صرف اس خدشے کی بناء پر امریکہ اور ویت نام کے زیادہ قریب نہیں جارہا تھا کہ اس کی وجہ سے چین اور روس کی ناراضگی مول لینا پڑسکتی ہے ،وزیر اعظم نریندرامودی کی حکومت آنے کے بعدبھارت اس راہ میں بہت بولڈ اقدامات اٹھا رہا ہے۔بھارت کے چین کے ساتھ پائے جانے والے تنازعات پہلے سرحدی سے اقتصادی اور اب اسٹریٹیجک تنازعات میں بدل رہے ہیں۔اب وہ نہ صرف امریکہ بلکہ ایک عرصے سے جاری چین اور امریکہ کے کشمکش میں امریکہ کے حلیف ممالک جاپان اورآسٹریلیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔اس گٹھ جوڑ کی دو اہم مثالیں مئی میں صدر باراک اوبامہ کا امریکہ اور چین کے درمیان بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں شامل اہم کردار ویت نام کا دورہ ہے جو کہ امریکہ،ویت نام جنگ کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان نئے سرے سے تعلقات شروع کرنے کا عہد کیا گیا،جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں اپنے دورہ ویت نام میں ویت نام کو بھارتی ساختہ براہموس میزائل لے جانے کی اہلیت رکھنے والے بحری جہاز خریدنے کے لئے 500ملین ڈالر کا قرضہ دے دیا جسے ویت نام بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں چین کے خلاف استعمال کرسکتا ہے، واضح رہے کہ بھارت اس سے قبل جنوری میں بھی ویت نام کو 100ملین ڈالرکا قرض دے چکا ہے جس کا زیادہ تر مقصد بھی دفاعی تھا۔اس کے علاوہ بحر ہند میں پاکستان اور چین کی شدید مخالفت کے باوجود فوجی موجودگی بڑھانا بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک الگ اور ایک اہم باب ہے، جبکہ افغانستان میں اثرورسوخ کو وہ خطّے میں اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کے لئے لازمی سمجھتا ہے اور وہاں بھی امریکہ اس کی پشت پر آچکا ہے جو کہ خطّے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت کو اپنا مہرہ بنانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے ۔


اس پورے منظرنامے میں بھارت کا ہائیڈروجن بم پروگرام اور اس کی خارجہ پالیسی کا نئی اپروچ کوئی الگ الگ معاملات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔بھارت اس خطّے کی ایک بالادست طاقت بننا چاہتا ہے اور وہ جس قسم کی جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کی تعمیل کے لئے وہ لازم سمجھتاہے کہ ایٹم بم رکھنے والے ممالک کی گروپ میں شامل ہونے کے بعد اب ہائیڈروجن بم رکھنے والے ممالک کے گروپ میں بھی شامل ہو کرخود کو دفاعی طور پر ایک انتہائی طاقتور ملک ثابت کرکے دیگر ممالک پر نفسیاتی برتری حاصل کرے اور اپنا کھیل کھل کر کھیلے۔بھارت خطّے میں اسلحے کی نئی دوڑ کا آغاز کرکے دیگر ممالک کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا چاہتاہے تاکہ وہ خطّے میں اپنی بالادستی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کا خاتمہ کرسکے۔ ایٹم بم اور ہائیدروجن بم جیسے ہتھیار پوری دنیا کی تباہی کا موجب بننے کے سبب حالیہ تاریخ میں پراکسی وارز کا باعث بن رہے ہیں جس کی اہم مثال شام اور عراق کے تنازعات ہیں جہاں آپس میں برسر پیکار ان ہتھیاروں سے لیس بڑی طاقتیں ایک دوسرے پر براہ راست حملے سے تو گریز کرتی ہیں لیکن طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے لئے دوسرے ممالک کے میدانوں میں ایک دوسر سے نبرد آزما ہیں، اس اصول کے پیش نظر بھارت کے ایسے اقدامات خطّے کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے اور وہ خطّے کو نئے تنازعات میں الجھا دے گا۔یہ صورتحال مزید مخدوش ہوجائے گی اگر بھارت کے نیوکلیئر پروگرام کے جنگی مقاصد کو نظرانداز کرکے اسے نیو کلیئر سپلائیرز گروپ کی رکنیت دے دی گئی ۔بھارت اس گروپ کے ذریعے درآمد کرنے والا کچھ فیول دنیا کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کے لئے اپنے سویلین ری ایکٹرز میں استعمال کرے گا اور ملک میں پہلے سے موجودفیول کو ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے استعمال کرے گا ، یہ اس کی کوئی نئی پالیسی نہیں ہے اس پالیسی پر وہ 2008میں ہونے والے امریکہ-بھارت سول نیوکلئیر معاہدے کے بعد سے عمل پیرا ہے۔

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

بحر ھند میں پاکستان اور چین کی شدید مخالفت کے باوجود فوجی موجودگی بڑھانا بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک الگ اور ایک اہم باب ہے، جبکہ افغانستان میں اثرورسوخ کو وہ خطّے میں اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کے لئے لازمی سمجھتا ہے اور وہاں بھی امریکہ اس کی پشت پر آچکا ہے جو کہ خطّے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت کو اپنا مہرہ بنانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے ۔

*****

اس پورے منظرنامے میں بھارت کا ہائیڈروجن بم پروگرام اور اس کی خارجہ پالیسی کا نئی اپروچ کوئی الگ الگ معاملات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔بھارت اس خطّے کی ایک بالادست طاقت بننا چاہتا ہے اور وہ جس قسم کی جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کی تعمیل کے لئے وہ لازم سمجھتاہے کہ ایٹم بم رکھنے والے ممالک کی گروپ میں شامل ہونے کے بعد اب ہائیڈروجن بم رکھنے والے ممالک کے گروپ میں بھی شامل ہو کرخود کو دفاعی طور پر ایک انتہائی طاقتور ملک ثابت کرکے دیگر ممالک پر نفسیاتی برتری حاصل کرے اور اپنا کھیل کھل کر کھیلے۔

*****

 
10
October

Behind the Fence of Lies

Written By: Amir Zia

Plain, simple logic says that if the Indian troops carried out ‘surgical strikes’ in Azad Kashmir as claimed, Pakistan would have retaliated and immediately raised the issue internationally.


After all, how can silence over any cross-border intrusion suit Pakistan? Taking an Indian aggression lying down means encouraging an already belligerent Hindu nationalist government of Prime Minister Narendra Modi to act more belligerently. It would be opening gates for other such future assaults and accepting Indian hegemony. Absence of a pro-active military, political or diplomatic stance from Pakistan in the face of Indian aggression would also damage the struggle of Kashmiris against New Delhi’s rule in the occupied valley. It is tantamount to foregoing the right to defend ourselves and surrendering the country’s sovereignty.

 

In a nutshell, staying silent could never be an option for Pakistan had the Indians breached the international or the disputed border as New Delhi claims that its forces did on the night of September 28-29 in four sectors of Azad Kashmir – Bhimbar, Hot Spring, Lipa and Kel. If the Indian claim had been true, Pakistan would have responded with all its might – come what may – even when its ruling elite appears fractured and divided.

 

behindfence.jpg

Skirmishes along the Line of Control in the form of an exchange of small arms, mortar or artillery fire cannot be described as surgical strikes under any military or non-military definition. On September 29, Indians violated the ceasefire and resorted to unprovoked firing, which the Pakistani troops matched blow by blow. According to the Director General ISPR, Lt Gen Asim Saleem Bajwa, Indian troops opened fire at 2 a.m. at four locations over an area spanning 155 miles. The exchange of gunfire lasted about five hours, but the Indian troops did not cross the Line of Control, he told a group of local and foreign journalists in Baghsar, Azad Kashmir – a couple of days after the incident.


Pakistan remains justified in asking why have not the Indians produced any evidence of their much-trumpeted surgical strikes, including bodies if they took them back? Why the Indian leadership has not been able to pinpoint the places where the damage was done or the targets that were destroyed or killed?


Pakistan, according to General Bajwa, welcomes an independent inquiry to verify the authenticity of the Indian claims. “Our side remains open to the United Nations observers and journalists,” he said. This position is in contrast to that of Indians, who have barred independent journalists and observers from visiting the troubled occupied Kashmir region.

 

One obvious explanation of this increased rhetoric is that the domestic compulsions of Indian politics is forcing Modi government to heighten tensions, which suits Modi ahead of elections in a couple of crucial states. The Indian premier will be able to rally behind his party the conservative Hindu vote bank to whom he promised that he would get tough with Pakistan in response to the alleged terrorism fomented from its soil.

Pakistan, on its part, has so far stuck to the Ceasefire Agreement between the South Asian nuclear armed rivals 2003. Pakistan Army responds only when Indians fire on its positions. Such ceasefire violations from the Indian side have increased since Modi assumed power in May, 2014.


Many Indians may find it ironic that despite all the chest-thumping and claims of executing punishing surgical strikes on the alleged training camps of militants, Pakistan Army is asking a simple question “where did these occur and how come they have remained ignorant of the fact?”


And Pakistan is not the only one challenging the false Indian narrative. The United Nations’ Military Observer Group (UNMOGIP) also failed to find any evidence to verify the Indian claim, while no other independent source has yet managed to confirm it either.


Even India’s half-baked version is enough to torpedo its own claims. Firstly, the term ‘surgical strikes’ is generally associated with airstrikes. They are carried out with precision weapons, delivered through aircraft, helicopter, armed drones or cruise missiles. Any such strike is difficult to defend because of its speed and element of surprise. According to India’s own claim it was a ground assault.


Secondly, if it was a ground intrusion, as claimed, it is impossible for any force – small or large – to penetrate even a couple of kilometers inside Azad Kashmir, hit the targets and return undetected on foot in a matter of four to five hours in one of the world’s most sensitive and heavily deployed frontiers.


The fact is that Indians targeted Pakistani posts, as they always do, from across the border in which two Pakistani soldiers were martyred and that resulted in an exchange of fire. Nothing less and nothing more.


Perhaps it’s not even the matter of debate now whether Indians really carried out their much propagated ‘surgical strikes’ in Azad Kashmir or not.


The pertinent question, however, is then why is the Indian leadership making such false claims? Is there any design behind this madness of taking the credit of executing surgical strikes that never happened?


One obvious explanation of this increased rhetoric is that the domestic compulsions of Indian politics is forcing Modi government to heighten tensions, which suits Modi ahead of elections in a couple of crucial states. The Indian premier will be able to rally behind his party the conservative Hindu vote bank to whom he promised that he would get tough with Pakistan in response to the alleged terrorism fomented from its soil.


The second reason behind India’s white lies is that even without conducting any “surgical” or “non-surgical strikes,” it lowered the threshold for any possible conflict between the two countries. This is a dangerous development in this nuclear-armed region as New Delhi has practically war-gamed the possibility of such a strike and underlined to the world that it would like to take such a step.
Therefore, Pakistan’s Armed Forces cannot remain contended with the fact that such intrusion did not occur. The enemy has revealed its intentions in big, bold letters.


Indian security officials describe New Delhi’s aggressive posture as “defensive-offensive”, which is a stark departure from the past “defensive” one. Under this policy, being dubbed as the Doval Doctrine, New Delhi plans to build pressure on Pakistan on several fronts. And the LoC is just one of the many. Hurting Pakistan’s economy, sponsoring and fomenting terrorism in Balochistan and Karachi and pushing a diplomatic offensive to portray the country as a breeding ground of regional and international terrorism remain some of the other announced and unannounced components of this strategy.


The Indian leadership believes that their country’s growing economic clout and strategic partnership with the United States would allow them to get away with brinkmanship in order to throw Pakistan on the back foot, equate Kashmir’s indigenous freedom struggle with terrorism and even scrap the World Bank-brokered water sharing agreement between the two countries. But this is their wishful thinking as Pakistan Army troops are fully alert on Eastern borders to respond to any aggression by India.


This Indian strategy has made South Asia as the world’s most unsafe nuclear flash-point.


It would be wrong to assume that Indians started their overt diplomatic offensive and the covert efforts to destabilize Pakistan through terrorism after the September 18 attack on their Brigade Headquarters in Uri or because of the ongoing popular anti-India uprising in the occupied Kashmir following the killing of 22-year-old Kashmiri freedom fighter Burhan Muzaffar Wani on July 8. They have been working on this strategy and executing it in parts since Modi assumed power. Remember the arrest of Indian spy Kulbhushan Yadav in March 2016 from Balochistan. Yadav had been operating a network involved in terrorist activities in parts of Balochistan and Karachi.


In our case while the masses have rallied around the Pakistani Armed Forces, the political leadership has to take the initiative, show vision and go beyond offering lip-service in tackling and countering the Indian threat.


Pakistan needs a sustained multi-pronged approach on a war-footing to secure its national interests and ensure continued diplomatic and political support to Kashmir’s freedom struggle.


Firstly, it involves putting your own house in order and taking some basic steps like appointing a fulltime foreign minister to spearhead the country’s diplomatic efforts and counter the Indian moves to internationally isolate Islamabad. It also requires rejuvenating and restructuring the dormant Kashmir Committee and appointing as its head a person of diplomatic background.


Pakistan also needs to support the Kashmiri diaspora in the western countries by giving them the lead and ownership of efforts aimed at highlighting the Indian atrocities and human rights violations as well as underlining the need for a plebiscite in line with the UN resolution.


Pakistan also has to unapologetically spell out through a sustained international campaign that a genuine freedom struggle cannot be equated with terrorism. The central contradiction in Pakistan-India relations is not terrorism, but the unresolved Kashmir dispute. There should be no compromise on this position.


Experience shows that bilateralism has miserably failed between Pakistan and India in resolving the Kashmir conflict. While Pakistan should remain open to direct talks, but these should not bar it from internationalizing this issue at every available forum.


Islamabad also must reconsider its foreign policy particularly towards Afghanistan, which has joined hands with India to destabilize Pakistan. The United States and its NATO allies have been using Pakistan as a scapegoat for their policy failures in Afghanistan. They are building pressure on Islamabad by giving a free-hand to India in the war-ravaged state. Pakistan must refuse to bow to the pressure and demands of “Do More” and ask Washington to address its concerns regarding the use of Afghan soil against the country.


Resolving Pakistan’s internal challenges – no matter how small they are – should also be a priority to deny Indians from exploiting our internal vulnerabilities. This requires smart politics, some give and take and precise operations in some of the volatile parts of the country.


Pakistan Armed Forces have the capacity and ability to counter any Indian aggression, but the fourth generation warfare cannot be won until all the state institutions, including the media, are supporting this effort. Pakistan can only ensure regional peace if it is politically stable and united, economically vibrant and militarily strong.

 

The writer is an eminent journalist who regularly contributes for print and electronic media.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Twitter: @AmirZia1

 
08
November

پاکستان کی اندرونی دفاعی لائن کو بھی مضبوط کیجئے

تحریر: محمود شام

ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت، بے روزگاری، اخلاقیات و آداب کی پامالی، حکمران طبقوں کی بد دیانتی، زندگی کی معقول سہولتیں نہ ہونے کے سبب مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جس سے نفسیاتی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ سیاستدانوں کی آپس کی چپلقش اور ٹاک شوز میں بے ہنگم شور و غل اوربے نتیجہ بحثوں کی وجہ سے عام شہری اور خاص طور پر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت زیادہ افسردہ ہوجاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اُمید کی خوشبو‘ روشن مستقبل کی نوید اور ملکی کامیابیوں کی بشارت صرف فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات سے آتی ہے۔ ہر پاکستانی فوج کی طرف دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔


بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کے خلاف جو پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں۔ جس طرح کے بیانات دئیے جارہے ہیں یہ خلاف توقع نہیں ہیں کیونکہ نریندر مودی کی پرورش جس مسلمان دشمن اور ہندو عصبیت کے ماحول میں ہوئی ہے۔اس کے نتیجے میں اسی قسم کا متعصب، انسانیت سے متصادم اور امن و سلامتی کا قاتل کردار ہی تیار ہونا چاہئے تھا۔ میں نے نریندر مودی کے خاندان‘بچپن‘ لڑکپن‘ پنڈتوں‘ سنیاسیوں کے ساتھ گزرے لمحات کے بارے میں کتابیں پڑھی ہیں۔ اس بھیانک ماضی سے اسی قسم کی لڑاکااور شدت پسند پروڈکٹ بننے کی اُمید کی جاسکتی تھی۔ تعجب ہوتا اگر ان غاروں‘ جنگلوں‘ کچی بستیوں اور گندگی بھرے محلوں سے کوئی اچھی اقدار والا انسان برآمد ہوتا۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی شعبہ‘ کوئی ادارہ یا کوئی یونیورسٹی بھارت کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔ کیا کسی نے قبل از وقت یہ اندازہ کیا تھا کہ ایک ایسا مسلمان دشمن اور انسانیت سے نفرت کرنے والا ’’ہندوتوا‘‘ کا پر چارک بھارت کا سیاہ و سفید کا مالک بننے والا ہے۔ اس سے خطے میں کتنی وحشتیں رونما ہوں گی‘ طاقت کا توازن بگڑے گا اورانسانیت کی اعلیٰ اقدار خطرے میں پڑیں گی۔ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ کہ وہ ایسے امکانات سے عوام کو، اور متعلقہ اداروں کو با خبر بلکہ خبردار بھی کرتے رہیں۔ بھارت میں الیکشن سے بہت پہلے مودی کے بارے میں کافی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ کچھ اپنے طور پر اور کچھ بی جے پی نے خود غیر ملکی اخبار نویسوں اور مصنفوں سے لکھوائی بھی تھیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت بھارت کی طرف سے جو جارحانہ پالیسی اختیار کی جارہی ہے وہ صرف بھارتی وزیر اعظم کی ذاتی نفرتوں تک محدود ہے یا پورا بھارت اسی خود کش موڈ میں ہے۔ یہ بھی کہ اس اشتعال اور دیوانہ پن کے کیا اسباب ہیں۔

 

بھارت کی فوجی پیش قدمی کا جواب تو پاکستان کی فوج پوری طرح دے سکتی ہے۔ بھارت کے پس پردہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی سیاسی قیادت‘ یونیورسٹیوں‘ علماء‘ تاجر تنظیموں اور صنعتی اداروں کو سرگرم ہونا ہے۔ وہ سیکٹر نامزد کرنے ہوں گے، جہاں پاکستان بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سر فہرست دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً ریکوڈک وغیرہ سے معدنیات کی دریافت اور برآمد‘ جاگیرداری اور سرداری کا خاتمہ اور زیادہ انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے

پاکستان کی طرف سے کامیاب ایٹمی تجربات اور بعد میں میزائلوں کے ایک لا متناہی سلسلے نے پاکستان کو باہ سے محفوظ کردیا تھا۔ اس لیے جنوبی ایشیا میں بھی اور عالمی سطح پر یہ باور کیا جارہا تھا کہ بھارت اب سرحدوں پر کسی چھیڑ چھاڑ کا متحمل نہیں ہوگا۔ لیکن بھارت کا ایک بڑا حصّہ پاکستان کو دل سے ایک الگ وحدت تسلیم نہیں کرتا۔ وہاں باقاعدہ یہ فکر پائی جاتی ہے کہ پاکستان بھارت ماتا کے جسم کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس لیے وہ ایک طرف اپنی نئی نسلوں کو مسلمانوں کے بارے میں گمراہ کن خیالات سے متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کو اپنے لئے ایک مستقل خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس کے لئے مسلسل نئی نئی کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ فلمیں بنائی جاتی ہیں اور ٹی وی ڈرامہ سیریل تخلیق کئے جاتے ہیں۔


پاکستان جب باہر سے محفوظ ہوگیا۔ اس کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ جنہوں نے آج سے 42سال پہلے یہ یقین کرلیا تھا کہ پاکستان بھی ایٹم بم بناسکتا ہے۔ 1998میں اس کے عملی مظاہرے سے یہ حقیقت پوری دنیا پر اجاگر ہوگئی۔ اب ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے سیاسی قائدین تو اس کے بعد ایسے مطمئن ہوئے کہ انہوں نے وطن کی فکر ہی ترک کردی۔ اپنے خزانے بھرنے لگے۔ پاکستان کے عوام کو جو مسائل درپیش تھے۔ بجلی کی کمی‘ پانی کی قلّت‘ بیشتر صنعتوں کا فقدان اور روزگار کے معقول مواقع نہ ملنا وہ ان سب سے بے نیاز‘ اپنے کارخانے بیرون ملک لگاتے رہے۔ اپنے کروڑوں پاؤنڈ بیرونی ملکوں میں جمع کرواتے رہے۔


لیکن دوسری طرف بھارت نے پاکستان کو باہر سے محفوظ ہونے پر پاکستان کو اندر سے غیر محفوظ کرنے کی ٹھان لی۔ جس کے لیے پاکستان میں فرقہ ورانہ تقسیم‘ لسانی تفریق اور علاقائی نا انصافی نے بہت ہی سازگار فضا تعمیر کر رکھی تھی۔ مغربی ملکوں نے وہاں کی یونیورسٹیوں اور میڈیا نے بھی پاکستان کے ایک بڑے حلقے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ بھارت کو پاکستان پر بہت سبقت حاصل ہے کیونکہ وہاں حکومت کی تبدیلی ہمیشہ انتخاب سے ہوتی ہے۔ وہاں فوج کبھی خود اقتدار پر قابض نہیں ہوتی۔ پاکستان میں بہت سی ایسی تنظیمیں، این جی اوز، سامنے آگئیں جو پاکستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار فوجی آمریت کو ٹھہراتی تھیں۔ اس طرح بھارت کو بہت آسانی سے ایسا ماحول مل گیا جس میں وہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرسکتا تھا۔ اس کے لیے افغانستان سے بھی بہت مدد مل گئی۔ افغان عوام اور مہاجرین کے لئے پاکستان کی طرف سے بہت کچھ کرنے کے باوجود افغان شہریوں میں پاکستان کے خلاف نفرتیں پیدا کی گئیں۔ اس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا بھی بہت دخل ہے مذہبی شدت پسندی کو سیاسی اسلام کہا گیا۔ لیکن ان غارت گروں کے پیچھے بھی پاکستان دشمنوں کا پراپیگنڈہ اور مالی تعاون شامل ہے۔

 

بھارت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بلکہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘ کتنی سادگی معصومیت ہے۔ انڈیا کی فلمیں تو پاکستان کے سنیما گھروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں لیکن پاکستانی فلموں کو انڈیا کے سنیما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل پاکستان کی فلمیں نہیں دکھاتے۔

جمہوریت اور آمریت کے درمیان مقابلے کا ذہنی تاثر بہت ہی منطقی‘ سیاسی‘ اور اخلاقی طور پر پھیلایا گیا۔ اس میں میڈیا‘ اینکر پرسنزاور کالم نویسوں سب کا دخل ہے۔ اس بحث میں ہم پاکستان کا تاریخی‘ عمرانی اور سماجی پس منظر بھول جاتے ہیں۔ یہاں کی مختلف وحدتوں کی سرشت اور فطرت کونظر انداز کردیتے ہیں۔ سیاسی حکمرانوں کی ناکامی اور نا اہلی کو فراموش کردیتے ہیں جب انتظامی خلا پیدا ہوتا ہے تو کسی نہ کسی طاقت ور ادارے کے لئے اس خلا کو پُر کرنا عین فطری ہوتا ہے۔ یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ 1947سے اب تک یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آنے والی قومی سیاسی جماعتوں نے مستحکم سیاسی جمہوری معاشرہ تعمیر نہیں کیا۔ خود ان جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ بد ترین قسم کی آمریت ہے۔ تو یہ جماعتیں ملک میں مستحکم جمہوری ماحول کیسے تخلیق کرسکتی ہیں۔ اس طرز استدلال سے میں یہ بتانے کی کوشش کررہا ہوں کہ جمہوریت اور آمریت میں یا سیاسی پارٹیوں اور فوج میں مقابلے کی تکرار نے ہمارے ہاں بھارت کو ایک جمہوری آئیڈیل کے طور پر منوایا۔ وہاں کے میڈیا کو ہم مثالی آزاد میڈیا قرار دینے لگے۔ وہاں کی عدلیہ کو مثالی انصاف گاہیں سمجھنے لگے۔ وہاں کے تعلیمی اداروں کو رول ماڈل خیال کرنے لگے۔ وہاں کی فلمی صنعت کو دُنیا کی کامیاب ترین فلم انڈسٹری ماننے لگے۔


اتنا دھواں پھیلادیا گیا‘ اتنی دُھند بکھیر دی گئی کہ ہم دُنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں غربت کی دلدل میں پھنسے کروڑوں انسانوں کو بھول گئے۔ کشمیر میں اس جمہوریت کے لگائے گئے زخموں‘ بسائے گئے قبرستانوں اور گرائی گئی لاشوں کو جمہوریت اور آمریت کی بحث میں پس پشت ڈالتے گئے۔
میں معافی چاہتا ہوں کہ یہ زخم ہرے کررہا ہوں لیکن یہ حقیقت ہے۔ انہی مباحث میں ہم نے پاکستان کو اندر سے کمزور کیاہے۔ آج کے حقائق یہ ہیں کہ پاکستان پر ہزاروں ارب کے قرضے ہیں۔ ہم ابھی ان قرضوں پر لگے سود کی قسطیں ادا کررہے ہیں۔ اصل زر ہماری آنے والی نسلیں واپس کریں گی۔ غربت کا عالم یہ ہے کہ کئی کروڑ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ کرپشن میں ہم سر فہرست ملکوں میں ہیں۔ بجلی کی قلّت کے باعث صنعتیں دوسرے ملکوں کو منتقل ہورہی ہیں۔ بڑے ڈیم بنانا ہماری ضرورت تھی اسے سیاسی مسئلہ بناکر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ حالانکہ اربوں روپے اس کی امکانی رپورٹوں پرخرچ کئے گئے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ زوروں پر ہے۔ یہ کون لوگ تھے جو اس شدت پسندی کا شکار ہوئے۔ ہم نے اندازہ نہیں کیا ۔ شروع میں ان کی سرپرستی کی وہ اب ہماری سا لمیت کے در پے ہوگئے۔


شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن ابھی حتمی نتائج کا انتظار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی حکومتوں کو ان علاقوں میں کام کرنا چاہئے تھا۔ جہاں خود کش بمباروں کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں وہاں دل اور دماغ جیتنے چاہئیں تھے لیکن اس حوالے سے بہت کم کام ہورہا ہے۔
بھارت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بلکہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘ کتنی سادگی معصومیت ہے۔ انڈیا کی فلمیں تو پاکستان کے سنیما گھروں میں پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں لیکن پاکستانی فلموں کو انڈیا کے سنیما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینل پاکستان کی فلمیں نہیں دکھاتے۔ اسی طرح بھارت کے فلمی اداکاراؤں کو تو ہمارے ٹی وی چینلوں پر اشتہارات میں مختلف مصنوعات فروخت کرتے دکھایا جارہا ہے، ہمارے شہروں میں بھی ان کے ہورڈنگز لگے ہوئے ہیں۔ بھارتی اداکار‘ اداکارائیں پاکستان میں مقبول کروائی جارہی ہیں لیکن بھارت کے کسی ٹی وی چینل یا کسی شہر کی دیواروں پر پاکستان کے اداکار و اداکارائیں نظر نہیں آتے ہیں ٹھیک ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن اس طرح فن یک طرفہ بھی نہیں ہوتا۔ کیا پاکستان کی سر زمین، شعر و ادب، افسانہ نویسی اور کردار نگاری کے حوالے سے بانجھ ہوگئی ہے؟کیا ہمارے ہاں حسین ماڈل لڑکے لڑکیاں نہیں ہیں؟


اس طویل تمہید کے ذریعے میں نے اپنا درد اس لیے بکھیرا ہے کہ بھارت کو ہر پہلو سے سمجھنا ضروری ہے۔ یقیناًوہاں بھی انسان بستے ہیں۔ انہیں نیست و نابود کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اللہ کاشکر ہے کہ ہم باہر سے محفوظ ہیں۔ سمجھنا یہ ہے کہ بھارت اب چھیڑ چھاڑ کررہا ہے تو اس کے سیاسی مقاصد کیا ہیں۔ کیا وہ کشمیر میں مزاحمت سے دُنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ کیا وہ بڑھتی ہوئی غربت سے دنیا کی توجہ کسی اور طرف مرکوز کرنا چاہتا ہے؟ بھارت اگر فوجی جارحیت کرے گا تو کیا ہماری فوج اس کے لئے پوری طرح تیار ہے؟ ہمارے پاس جذبے کی کمی ہے نہ اسلحے کی۔ پھر ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں۔ آج کل کے دَور میں دُنیا کسی بھی بین الاقوامی سرحد پر کسی فوجی جھڑپ کے حق میں نہیں ہے۔ یہ بھارت بھی بخوبی جانتا ہے ۔ اس لئے پاکستان پر بھارت کا بڑے پیمانے پر فوجی حملہ اس کا مقصد ہو ہی نہیں سکتا۔


بھارت کا اصل ہدف پاکستان کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی تیز رفتار تعمیر سے روکنا ہے کیونکہ اس کی تعمیر اور اس پر تجارتی آمدورفت سے پاکستان اندر سے بھی محفوظ ہوجائے گا۔بھارت کا مقصد پاکستانی قوم کو مزید تقسیم کرنا ہے۔ ثقافتی یلغار کو جاری رکھنا ہے، پاکستان کے عوام کو یہ احساس دلانا ہے کہ باہر سے محفوظ ہونے کے باوجود آپ اندر سے غیر محفوظ ہیں۔


بھارت کی فوجی پیش قدمی کا جواب تو پاکستان کی فوج پوری طرح دے سکتی ہے۔ بھارت کے پس پردہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی سیاسی قیادت‘ یونیورسٹیوں‘ علماء‘ تاجر تنظیموں اور صنعتی اداروں کو سرگرم ہونا ہے۔ وہ سیکٹر نامزد کرنے ہوں گے، جہاں پاکستان بھارت کے مقابلے میں کمزور ہے۔ سر فہرست دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً ریکوڈک وغیرہ سے معدنیات کی دریافت اور برآمد‘ جاگیرداری اور سرداری کا خاتمہ اور زیادہ انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے۔
باہر سے محفوظ اور مستحکم پاکستان اسی وقت تک دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہ سکتا ہے جب تک اس کی دوسری دفاعی لائن مستحکم ہے۔ دوسری دفاعی لائن کا استحکام سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔ اس طرف جتنی توجہ ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔ زیادہ تر وہ میگا پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں جن میں بہت زیادہ فنڈز لگتے ہیں، اس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ ہمارے شہریوں کی اکثریت مایوس اور غیر مطمئن ہے اور نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں یعنی بلدیاتی اداروں کو اختیارات کے ساتھ اقتدار دیا جائے۔ ان کی بہترین کارکردگی شہریوں کو مطمئن کرے گی اور مایوسیوں کو بڑی حد تک ختم کرے گی۔ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں زندگی کو آسان بنایا جائے‘ مفت اور لازمی تعلیم‘ مفت علاج اور اچھی محفوظ سرکاری ٹرانسپورٹ بلدیاتی ادارے فراہم کریں۔


ہماری یونیورسٹیوں کو اپنے اپنے علاقوں کے خام مال‘ فصلوں‘ روایات اور میراث پر تحقیق کرنی چاہئے۔ روزگار کے وسائل پیدا کرنے کی سفارشات دینی چاہئیں۔ تاکہ مختلف علاقوں سے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ کم ہو۔ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد پر دباؤ نہ بڑھے۔
مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لئے سیکورٹی اور طاقت کا استعمال دائمی نہیں ہوسکتا۔ اصل ہدف یہ ہے کہ دل اور دماغ جیت کر شدت پسندی کی طرف جانے کے رُجحانات روکے جائیں۔ سیاسی جماعتوں اور علماء کو مل کر اس ہدف کو حاصل کرنا چاہئے۔


زیادہ صوبے بناکر بہتر انتظامی وحدتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ نا انصافی کے مواقع کم کئے جاسکتے ہیں۔
یہ تاثر دل سے نکال دینا چاہئے کہ ہم انڈیا کے مقابلے میں رقبے میں‘ آبادی میں اور فوجی طاقت میں بہت چھوٹے ہیں۔ دُنیا میں بہت چھوٹی چھوٹی قومیں بڑے ہمسایوں کے برابر زندہ ہیں اور ترقی کررہی ہیں۔ اصل طاقت اکیسویں صدی میں علم ہے‘ ٹیکنالوجی ہے، رقبہ، آبادی اور بڑی فوج نہیں ہے۔ پاکستان جس علاقے میں واقع ہے اس کی اپنی صدیوں پر محیط تاریخ ہے۔ وہ زیادہ دیر بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے۔اس حصّے کی اپنی الگ اور خود مختار معیشت رہی ہے۔ ہم اپنے ادب‘ تاریخ‘ ثقافت اور تمدّن کا جائزہ لیں تو ہم مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے زیادہ قریب رہے ہیں۔


ہمارا محل وقوع بھارت سے کہیں بہتر اور حساس ہے۔ پاکستان میں نوجوان آبادی کا تناسب بھارت سمیت کئی ملکوں سے بہتر ہے ۔اپنے اپ کو پہچانیے۔ ترجیحات کے تعین اور اس پر برق رفتاری سے عمل کی ضرورت ہے۔پاکستان، ہماری عظیم سرزمین، صدیوں سے ایک الگ جغرافیائی وحدت ہے جسے انڈس ویلی کہا جاتا ہے۔ 5ہزار برس کی قدیم تہذیبیں ہڑپّہ، ٹیکسلا، موہنجو دڑو، اسی خطّے میں ہیں۔ 8ہزار سال پرانی تہذیب مہرگڑھ بھی اسی علاقے میں ہے۔ ہماری اپنی صدیوں پرانی شناخت ہے۔ آخری دینِ متین، اسلام، سے ہمکنار ہونے کے بعد ہماری یہ تہذیب اور زیادہ مستحکم اور مالا مال ہوگئی ہے۔ اس میں عرب ادب و ثقافت کے رنگ بھی شامل ہوگئے۔ اس لئے ہمیں اپنی تہذیب پر اپنے آپ پر مکمل اعتماد اور فخر ہونا چاہئے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

لفظ امید ہوتے ہیں


آؤ ایک بات سمجھ لیں
کہ لفظ صرف لکھنے کے نہیں ہوتے
آرائش نہیں ہوتے‘ زیبائش نہیں ہوتے
عمل کی برکتوں سے خالی
فن کی آلائش نہیں ہوتے
لفظ تو مقدس سپوت ہوتے ہیں
زمین پر زندہ وجود ہوتے ہیں
فکر و فقر کے مارے‘ حب الوطنی کے شہ پارے
آسمانوں پر نہیں‘ ہم میں موجود ہوتے ہیں
لفظ امید ہوتے ہیں
وطن کی فصیل ہوتے ہیں
لفظ کی حرمت کی قسم
آؤ کے تن بیچ دیں۔ من بیچ دیں
ایستادہ صلیبوں پر جسم بیچ دیں۔ جاں بیچ دیں
کہ میرے وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے
آؤ کہ سب غرض کی آلائشوں کے انبار
کہیں دور جا کے دفن کر آئیں
اپنی خلوتوں کی آسائشوں اور جسم کی آسانیوں کو
وطن کی خاک وخوں کر آئیں۔ وطن کے نام کر آئیں
آؤ قربان ہو جائیں
کہ میرے وطن پر کڑا وقت آن پڑا ہے

طاہر محمود

*****

 
10
October

Indo-U.S. Logistics Agreement and its Implications

Written By: Taj M. Khattak

LEMOA would lay a framework which would enable India and U.S. to reciprocally share military logistics which would greatly help in furthering their staying power over extended distances. Besides, LEMOA, they have also inked Communications Interoperability and Security Memorandum Agreement (CISMOA) and Basic Exchange and Co-operation Agreement (BECA) for geo-spatial co-operation. CISMOA would allow India an access into U.S.’ proprietary encrypted communications equipment and systems for secure communications with Indian naval, ground and air assets. BECA meanwhile would facilitate geo-spatial co-operation and allow sharing sensitive data to assist targeting and navigation.

*****

In the words of Secretary Carter, these ‘three fundamental agreements’ will guide U.S.’ high technology co-operation with India. He has also referred to it as ‘an anchor of global security’. The U.S. hasn’t done too well to improve global security wherever else it dropped its anchor in recent times like in Afghanistan, Iraq, Somalia and Yemen to name a few places. The regional countries therefore see this development as yet another move for expansionist designs and hegemony considering that India ranks number two globally in procurement of arms. For the foreseeable future, these and other Indo-U.S. accords are likely to stay as a constant in regional politics and warrant robust policy responses to counter their impact and reach.

*****

India and U.S. have recently signed a Logistics Exchange Memorandum of Agreement (LEMOA) which could have far reaching implications for the region in the prevailing environments of their strategic relationship. It was first proposed by Washington in 2004 but resisted by the Congress-led United Progressive Alliance (UPA) government for reasons of being too intrusive, compromising country’s ‘non-aligned stance’ in international arena and irking neighboring China and Russia.


The proposal was fast-tracked after Prime Minister Modi came into power and the ensuing bonhomie between the two leaders – Modi has met Obama seven times in last three years, on one forum or the other, and Obama has visited India twice in his eight years of presidency – a first for any U.S. President. In their joint strategic vision in 2015, the two leaders envisaged their countries as important drivers for broad-based regional prosperity and global growth. They agreed to build a partnership to support increased connectivity for sustainable and inclusive development as well as poverty alleviation. The agreement calls for deeper co-operation between two militaries through sharing of each other’s logistic support bases, with no provisions of stationing troops yet, but there is obviously more than what meets the eye.

 

LEMOA would lay a framework which would enable India and U.S. to reciprocally share military logistics which would greatly help in furthering their staying power over extended distances. Besides, LEMOA, they have also inked Communications Interoperability and Security Memorandum Agreement (CISMOA) and Basic Exchange and Co-operation Agreement (BECA) for geo-spatial co-operation. CISMOA would allow India an access into U.S.’ proprietary encrypted communications equipment and systems for secure communications with Indian naval, ground and air assets. BECA meanwhile would facilitate geo-spatial co-operation and allow sharing sensitive data to assist targeting and navigation.


Unlike the Cold War era alignments, these agreements are specific – for U.S. it is against China and for India against Pakistan. It is not clear how this will affect India’s strategic nuclear submarines program which is strongly and irrevocably tethered to Russian nuclear industry. Under an ‘Information Exchange’ accord, a team of U.S. Navy officials recently visited Cochin shipyard where India’s first indigenous aircraft carrier (IAC-1) is under construction and the project was facing technical difficulties. LEMOA will further boost that initiative.

 

indouslogic.jpg

Under a new maritime security dialogue, which addresses cross-cutting security and foreign policy issues, India and U.S. have concluded a ‘White Shipping Agreement’ (WSA), ostensibly to improve maritime domain awareness but in plain words it will allow India and U.S. to exchange information about ships in their respective waters. It has been agreed to classify ships into three categories, i.e., white (commercial), grey (naval) and black (illegal vessels). The Indian Navy’s Information Management and Analysis Centre (IMAC) at Gurgaon would act as the nodal center for WSA related activities. Whether or not, joint U.S.-Indian Navy patrols in Indian Ocean and South China Sea (SCS), which are presently being resisted by India, materialize in the future remains to be seen.

 

India is already violating the spirit of United Nations Convention on the Law of the Sea (UNCLOS) by requiring 24 hours prior notice for ships carrying hazardous and dangerous cargos like oil, chemicals, noxious liquids, and radio-active material to enter its Exclusive Economic Zone (EEZ). In other words it is endeavoring to ‘territorialize’ its EEZ when UNCLOS only grants sovereignty over living and non-living resources on or under the seabed but below surface of water. Since both India and U.S. see global terrorism through their own foggy prisms, WSA will give added impetus to this abuse of internationally recognized principle of right of innocent passage in oceans of the world.

 

India, a non-claimant and extra-regional actor, has grossly overstated its interest when it sent a naval task force for an extended deployment into SCS, including joint participation with other non-claimant Japan and U.S. Navy in ‘Exercise Malabar’ off Okinawa. U.S. has wooed regional claimant Vietnam by lifting lethal weapons sale restrictions to exert further pressure on China.

The agreement pledges safeguarding maritime security and ensuring freedom of navigation and over-flights throughout the region including South China Sea (SCS). It emphasis on enhancing energy transmission, free trade, people-to-people contact and development of infrastructure and connectivity linking South, South East, and Central Asia, The two sides called upon all parties to avoid threat or use of force and pursue resolution of territorial and maritime disputes through peaceful means in accordance with universally recognized principles of international law, including the UNCLOS.


The SCS reference is unambiguously pointed towards China which has laid historic claims to Spratly and Paracels islands. For China, the facilities on Fiery Cross Reef in middle of the sea is crucial as it serves the purpose of an ‘unsinkable aircraft carrier’, as it were, for protection of its energy lifeline and seaborne trade comprising raw material and finished products from its major industrial centers heading for or emerging from Malacca Straits. Shanghai alone handles the highest volume of global trade valued at U.S. $ 2 trillion annually. This protection becomes critical since out of the two entry/exit points in Indian Ocean, the one at Straits of Hormuz in Persian Gulf is controlled since 1995 by the U.S. through its Fifth Fleet in Bahrain and the other, Malacca Straits, by India through its tri-services Andaman and Nicobar Command (ANC) at Port Blair.


The SCS territorial dispute dates back to 1887 when France (as colonial power) and China signed ‘China-Vietnam Boundary Accord’ which recognized China as rightful owner of Paracels and Spratlys islands. After World War II, when former President Harry Truman extended U.S. control of continental shelf to unspecified limits, claiming all natural resources and other South American nations extended their claim to 200 nautical miles; China also re-asserted its claim to these islands and produced its now famous 9-dash map.

 

In their joint vision, Obama and Modi also pledged common commitment to Universal Declaration of Human Rights (UDHR). This would be funny, were it not a serious matter. Secretary Kerry recently forgot to counsel his hosts in New Delhi against perpetuating worst form of state sponsored terrorism in Kashmir but President Obama remembered human rights in Laos which created much furor and reflected just how much even its close allies are frustrated with U.S. duplicity.

Beijing’s historic claim is now being challenged by the U.S. through conducting what it calls ‘freedom of navigation’ operations’ (FONOP) in SCS. Recently, after a large scale Chinese presence in SCS which included aircraft carrier, modern ships and submarines, the U.S. conducted its FONOP-3 which also constituted an aircraft carrier, modern ships and submarines. The FONOP-3 has now been followed by a joint exercise by Russian and Chinese Navies. The U.S. naval maneuvers are clearly intimidation tactics as there is nothing in Permanent Court of Arbitration’s award on SCS which supports a mandatory congressional assessment negating China’s sovereign claim and justify military action if it contemplated one.


India, a non-claimant and extra-regional actor, has grossly overstated its interest when it sent a naval task force for an extended deployment into SCS, including joint participation with other non-claimant Japan and U.S. Navy in ‘Exercise Malabar’ off Okinawa. U.S. has wooed regional claimant Vietnam by lifting lethal weapons sale restrictions to exert further pressure on China.


Whether or not, joint U.S.-Indian Navy patrols in Indian Ocean and South China Sea, which are presently being resisted by India, materialize in the future remains to be seen. But LEMOA will help such deployments which are violations of reasonable principles of geo-political moderation which heighten regional tensions when need of the hour is to demilitarize and diffuse the situation through diplomacy. Interestingly, USA has not ratified UNCLOS even though it has no maritime territorial dispute with any country but rarely misses an opportunity to call upon others to resolve disputes in accordance with this law.


In their joint vision, Obama and Modi also pledged common commitment to Universal Declaration of Human Rights (UDHR). This would be funny, were it not a serious matter. Secretary Kerry recently forgot to counsel his hosts in New Delhi against perpetuating worst form of state sponsored terrorism in Kashmir but President Obama remembered human rights in Laos which created much furor and reflected just how much even its close allies are frustrated with U.S. duplicity.


In the words of Secretary Carter, these ‘three fundamental agreements’ will guide U.S.’ high technology co-operation with India. He has also referred to it as ‘an anchor of global security’. The U.S. hasn’t done too well to improve global security wherever else it dropped its anchor in recent times like in Afghanistan, Iraq, Somalia and Yemen to name a few places. The regional countries therefore see this development as yet another move for expansionist designs and hegemony considering that India ranks number two globally in procurement of arms. For the foreseeable future, these and other Indo-U.S. accords are likely to stay as a constant in regional politics and warrant robust policy responses to counter their impact and reach.


The Indo-U.S. nuclear deal has already affected delicate strategic stability in the region, which, in tandem with U.S. support for India’s membership of Nuclear Suppliers Group (NSG) and UNO, could be further exacerbated by LEMOA. For some corrections in the strategic imbalance in the short term perspective, it would make sense to move close to our all weather friend China. However, with burgeoning Indo-China trade, it is quite likely that Sino-Indian geo-economics imperative may over shadow Sino-Pak geo-strategic and geo-political considerations. This, despite CPEC, could constrain China from embracing Pakistan any tighter than we would wish and might come sooner than we anticipate.


Before that tipping point reaches, we need to address our known internal shortcomings and re-set our national compass to weather the storms in the turbulent times ahead.

 

The writer is a retired Vice Admiral of Pakistan Navy.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter