10
February

ماسکو کانفرنس

تحریر: حماس حمید چوہدری

کہتے ہیں کہ مسئلہ چاہے کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو اس کا حل مذاکرات کی میز پرہی نکلتا ہے۔پچھلے کچھ سالوں سے اہلِ علم اور سیاسی دانشور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جس پختگی کا ذکر کر رہے تھے اس کا عملی مظاہرہ 27 دسمبر2016ء کو روس کے دارالحکومت ماسکو کی یخ بستہ فضاؤں میں منعقد کئے گئے پاکستان ،چین اور روس کے مشترکہ اجلاس میں نظر آیا۔اس اجلاس کا ایجنڈا دو اہم نکات پر مشتمل تھا، ایک تو افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا اور دوسرا پاک چین اقتصادی راہداری میں روس کی شمولیت کے لئے راہ ہموار کرنا۔


واشنگٹن اور نئی دہلی کی بڑھتی قربتیں دیکھ کر ماسکونے سفارتی سرگرمیوں کا رخ اسلام آباد کی جانب موڑ دیا ہے اور پاکستان نے بھی سفارتی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قدرتی طور پر پاکستان خطے میں چین کا سب سے بڑا اور اہم اتحادی ہے جبکہ روس چین کے ساتھ ا سٹریٹجک شراکت داری بڑھانے کا خواہش مند ہے جس کے لئے اسے پاکستان کا تعاون درکار ہے ۔اسی سلسلے میں پاکستان ، روس اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا آغاز ہوا اور دو خفیہ مذاکراتی مرحلوں کے بعد ستائیس دسمبر کوماسکو میں اسی مذاکراتی کڑی کے تیسرے مرحلے کا ایک کانفرنس کے ذریعے انعقاد کیا گیا جس میں خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور خاص طور پر افغانستان کے اندر قیام امن کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا ۔ سہ ملکی گروپ میں افغانستان کی شمولیت کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا جبکہ ایران بھی جلد اس منصوبے کا حصہ ہو گا تاہم بھارت کو اس اتحاد میں شامل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ دریں اثناء روسی میڈیا کے مطابق پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری (اب امریکہ میں پاکستانی سفیر)کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو چاہئے کہ مفاہمت کے حصول کی خاطر طالبان کے ساتھ پرامن مذاکرات کے حوالے سے عوام میں قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

maskoconfer.jpgتینوں ممالک اس حقیقت کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ خطے کی ترقی کا دارومدار افغانستان میں امن سے مشروط ہے جبکہ افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر پاکستان سمیت خطے کے دیگر تمام ممالک کو تشویش لاحق ہے ۔ماسکو کانفرنس میں داعش جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے اور مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔کانفرنس کے بعد پاکستان کا یہ موقف بھی سامنے آیا کہ امریکہ افغانستان میں امن قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اس لئے پاکستان اب خطے کے دیگر ممالک کے تعاون سے افغانستان میں سیا سی استحکام اور امن لانے کی بھرپورکوشش کرے گا جبکہ کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کی نمائندہ ماریہ زخارووا کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پر امن مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لئے بعض پابندیوں میں لچک اور نرمی دکھانے کی بھی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں وہ اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


سفارت کاری کا ایک اصول ہے کہ اس ہاتھ دو اور اس ہاتھ لو اور پاکستان انتہائی محتاط انداز میں اس اصول پر عمل پیرا ہے۔ افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان اور روس کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئی تھیں اور ماضی میں بھارت روس کا اتحادی اور اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار رہا تھا لیکن پچھلے کچھ عرصے کے دوران بھارت اور امریکہ کی نزدیکیاں بڑھنے سے روس کو خطے میں نئے دوستوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے پاکستان بہترین آپشن ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ چین کی مدد سے تعمیر ہونے والی اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ کے ذریعے گرم پانیوں تک براہ راست رسائی ہے۔ اقتصادی راہداری بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لئے ہر روز نت نئے منصوبے بنانے میں مصروف ہے اور ان حالات میں روس کو اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ روس بھی اقتصادی راہداری کے روٹس اور منصوبوں کی حفاظت کرے گا اور اس کے علاوہ پاکستان میں روسی سرمایہ کاری بھی بڑھے گی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو روسی منڈیوں تک براہ راست رسائی بھی ملے گی۔


ماسکو کانفرنس کے ایجنڈے کا دوسرا اہم نکتہ پاک چین اقتصادی راہداری میں روس کی شمولیت کے لئے راہ ہموار کرنا ہے جس کے تحت پاکستان نے روس کو گوادر بندرگاہ کے استعمال کی اجازت دیدی ہے ۔پاکستان اور روس کی قربت اس وقت ہی بڑھنا شروع ہو گئی تھی جب بھارت کے بارہا منع کرنے کی درخواست کے باوجود روس نے مشترکہ فوجی مشقوں کے لئے اپنے فوجی پاکستان بھیجے تھے۔ پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی تعاون اس وقت بڑھانے کا موقع ملا جب روس نے 2014ء میں پاکستان کے لئے دفاعی سازو سامان خریدنے کی پابندی کو نرم کیا۔یہ وہ وقت تھا جب بھارت امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بڑھانے میں مصروف تھا اوراسی وجہ سے روس اور بھارت میں فاصلے پیدا ہوئے جبکہ اس خلا کو پاکستان نے انتہائی احتیاط کے ساتھ پُر کیا جس سے پاک چین اور روس کے سہ ملکی اتحاد کی راہ ہموارہوئی ہے ۔


پاکستان ، چین اور روس تین ملکی اتحاد میں چین اقتصادی لحاظ سے مضبوط ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان اور روس دونوں کے لئے اہم اکنامک ڈرائیور ثابت ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان خطے میں اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے اس لئے چین اور روس دونوں اپنی اقتصادی پالیسیوں کی تکمیل کے لئے پاکستان کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعاون کو بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔کئی دہائیوں کے تعطل کے بعد دونوں ملک اپنے تعلقات کو استوار کرنے جا رہے ہیں ۔پاکستان پر امریکی دباؤ کم کرنے کے لئے ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ پچھلے پندرہ ماہ کے دوران پاکستان کے کئی اعلیٰ سول و فوجی افسران باہمی تعلقات کی مضبوطی کے لئے ماسکو کا دورہ کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں ہی پاکستان اور روس کے درمیان چار ایم آئی۔35 جنگی ہیلی کاپٹروں کی پاکستان کو فروخت کا معاہدہ طے پایا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ امریکہ کی بھارت نواز پالیسیو ں نے پاکستان کو امریکہ کا متبادل ڈھونڈنے پر مجبور کیا ہے۔اسی طرح روس جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا حامل ملک ہے جو کہ پاکستان اور چین دونوں کے لئے مغربی دفاعی سازو سامان کا متبادل بھی ہو سکتا ہے جبکہ روس ایک عرصے سے خلیجی ریاستوں کے گرم پانیوں تک رسائی کا خواہشمند رہا ہے جس کے لئے اسے افغانستان میں جنگ بھی لڑنا پڑی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا اورآج پاکستان نے روس کواقتصادی راہداری میں شمولیت کی دعوت دے کر خود اسے گرم پانیوں تک رسائی کا موقع فراہم کیا ہے جسے روس کسی قیمت پر بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔


موجودہ صورتحال میں دونوں ملکوں میں پر امن دیرپا تعلقات خطے میں امن اور استحکام کا باعث بنیں گے اور ماسکو کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی جب بات آتی ہے تو دوستی اور دشمنی جیسا کوئی لفظ وجود نہیں رکھتا بلکہ سارا مفادات کا کھیل ہوتاہے اور پاکستان کو بھی یہ بات سمجھ آچکی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی دیکھ کر یہ بات صاف معلوم ہو رہی ہے کہ پاکستان کو اب ملکی مفاد سے غرض ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی ریاست کسی بھی ملک سے ہاتھ ملانے کے لئے تیار ہے اور ہونا بھی اسی طرح چاہئے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
10
February

شام کی صورتِ حال اور عالمی سیاست

تحریر : محمد علی بیگ

شام کی روز بروز بدلتی صورت حال ایک عالمی مسئلہ ہے جو کہ شاید عظیم طاقتوں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ اگر ہم اس غور طلب معاملے پر ایک تنقیدی نظر دوڑائیں تو اس کی جڑیں عرب دنیا میں اٹھنے والے
Spring Revolution
سے ملتی ہیں۔ اس انقلاب نے جہاں عرب دنیامیں کئی دہائیوں سے بیٹھے حکمرانوں کو چلتا کیا وہیں پر یہ شام میں ایک خونریز جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 2011 کے شروع میں حقوق اور جمہوری نظام کے حق میں نکالے جانے والے جلوس اور ریلیاں اب ایک منظم اور باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہیں جو کہ اقوام متحدہ کے کردار اور فعال ہونے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ بہت سے محقق اور تبصرہ نگار یہ خیال کرتے ہیں کہ بشارالاسد کے خلاف نکالے جانے والے غم و غصے میں امریکہ کا کردار کلیدی ہے۔


روسی صدر پیوٹن کا یہ فیصلہ کہ وہ ہر قیمت پر بشارالاسداور اس کی حکومت کا دفاع کریں گے نے شام کو جنگِ کوریا اور ویت نام جیسا بنا دیا ہے۔ مگر یہ بات قابلِ دید ہے کہ پیوٹن کا یہ فیصلہ ایک عمل نہیں بلکہ شام کے لئے امریکی خارجہ پالیسی کا ردِ عمل ہے۔ یہ روسی صدر کا ایک مصمم اور غیر متزلزل ارادہ ہے کہ مغربی ممالک کی تمام تر مخالفت کے باوجود وہ شامی صدر کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اپنی تمام تر کو ششوں کے با وجودروس کے حمایت یافتہ بشا ر الاسد شام کے صرف پچیس فیصدحصے پر کنٹرول برقرار رکھ سکے ہیں۔ شامی صدر کو روس کے علاوہ ایران، عراق اور حزب اللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
1991میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ خیال کیا جانے لگا تھاکہ اب امریکہ ایک تن تنہا سپر پاور بن گیا ہے اور حتیٰ کہ ایک امریکی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر
Francis Fukuyama
نے اپنی مشہور کتاب
The End of History
بھی لکھ ڈالی اورشاید یہ خیال ظاہر کیا کہ اب امریکی طاقت کی بدولت جنگ ہونا نہایت مشکل اور ناممکن ہے۔ اس کتاب کے جواب میں ایک اور امریکی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر
Samuel Huntington
نے اپنی کتاب
The Clash of Civilizations
پیش کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ ہونے والی جنگیں نسل اور تہذیب کی بنیا د پر لڑی جائیں گی۔ مگر شام کے گھمبیر حالات اور روسی صدر پیوٹن کے عزم نے ان دونوں حضرات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری تو کچھ عرصہ پہلے تک بات چیت کی ناکامی کی صورت میں اپنے
Plan-B
کو بھی پیش کر چکے ہیں جس کے تحت امریکہ نے شام کی خود مختار ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا خاکہ پیش کیا۔ یہ بات حیران کن ہے کہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب
Sergey Lavrov
سے کئی ملاقاتیں کیں جن کی بنیا دی وجہ شاید شام میں امریکی آپریشنل اور سٹریٹجک کمزوریاں ہیں۔
یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ سیز فائر کے بعد17ستمبر 2016کو امریکہ نے شامی افواج پر دیر الزور کے مقام پر ایک شدید فضائی حملہ کیا جس میں تقریباً62شامی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس حملے نے نہ صرف شامی فوج کو نقصان پہنچایا بلکہ داعش کے جنگجوؤ ں کے لئے راستہ بھی ہموار کیا۔ یہ کیا ماجراہے کہ اگر ہم اُس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے2009-13کے بیانات کو دیکھیں تو وہ صاف طور پر یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ ہم جنگجوؤں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بشارالاسد کے بے رحمانہ اور مطلق العنان نظامِ حکومت کے خلاف لڑ سکیں۔
Wiki-Leaks
کے جولیان آسانج نے بھی ہیلری کلنٹن کے دوہرے معیار کا پردہ چاک کردیااور وہ تمام خفیہ دستاویزات عام کر دیں جن میں داعش کو اسلحے کی فراہمی اور تربیت سے متعلق معلوما ت تھیں۔ چند روسی اور عالمی ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بدنامِ زمانہ گوانتاناموبے جیل سے بیشتر قیدیوں کو خفیہ طور پر رہا کر کے داعش اور النصرہ فرنٹ میں شامل کیا گیااور اب وہی امریکی تربیت یافتہ جنگجو شام میں فساد کا باعث بن رہے ہیں۔
شاید یہ ایک حقیقت ہے کہ شام کے معاملے سے پہلے بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عالمی نظام
Unipolar
ہے یعنی اس نظام میں صرف ایک سُپر پاور (امریکہ) موجود تھا۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادکے برعکس اور اجازت کے بغیر 2003میں عراق پر حملہ کیا ۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ امریکہ ایک بار پھر شام میں عراق والی مثال دہرائے گا اور بشار الاسد کو صدام حسین کی طرح تختہ دار پر لٹکائے گا۔ تاہم امریکہ ایسا کرنے سے بوجوہ باز رہا۔
جولائی 2016میں ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت‘ روس اور ترکی کو بہت قریب لے آئی ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2015میں ترک فضائیہ نے روسی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا تھا جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں شدید تناؤ تھا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے نیٹو اور امریکہ کا ہاتھ تھا۔ کیو نکہ اُس وقت روسی فضائیہ امریکہ نواز باغیوں پر کاری ضرب لگانے میں مصروف تھی۔ اب پیوٹن اور طیب اوردگان ایک سمت جا رہے ہیں جس کا بنیا دی مقصد داعش اور امریکہ نواز کُرد باغیوں کا خاتمہ ہے جو کہ ترکی میں بیشتر بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ ایک امریکی صحافی
David Swanson
نے فروری 2016میں اپنے آرٹیکل میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شام میں سیزفائر امن کے لئے نہیں بلکہ دونوں اطراف اس کو اپنے اپنے حامی متحارب گروپوں کو اسلحہ اور دیگر چیزیں فراہم کر نے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔
اگر ہم شام میں ہونے والے تمام قتل و غارت گری سے قطعِ نظر اس معاملے کو عالمی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو ہم یہ بات ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ صورتِ حال صدر پیوٹن کی ایک عظیم سیاسی ،سفارتی اور فوجی فتح ہے۔ روسی افواج شام میں اپنے تمام جدید ترین اسلحے کو استعمال کر رہی ہیں اور اس کی آپریشنل استعدادِ کار کو پرکھ رہی ہیں۔ روسی فوج نے اپنے نہایت جدید ایئر ڈیفنس سسٹم S-400اور ایس - 300کوشام میں آپریشنل کر کے امریکی اور اتحادی فوجوں کی فضائی مہم کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس مسئلے کی بدولت امریکہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے
Tomahawk
کروز میزائل استعمال کرے گا لیکن روسی ایئر ڈیفنس سسٹم ان کروز میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس سے ایک طرف اگر روسی آپریشنل اور سٹریٹجک برتری نظر آئے گی تو دوسری طرف امریکی فوج کی حقیقی طاقت کی قلعی کُھل جائے گی۔ روسی سسٹم نے حقیقتاًشام میں امریکی فضائی افواج کونا قابلِ استعمال کردیا ہے۔
حَلب
(Aleppo)
کی حالیہ لڑائی میں ایک دلچسپ واقعہ دیکھنے میں آیا جب امریکہ نواز شامی باغیوں نے ایک امریکی ساختہ
BGM-71 TOW
اینٹی ٹینک میزائل سے روسی ساختہ جدید ترین ٹی - 90ٹینک کو نشانہ بنایا۔ ایک طرف تو اس واقعہ سے یہ بات بالکل صاف دکھائی دیتی ہے کہ شام کی لڑائی متحارب گروہوں کی نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے درمیان ہے ۔ دوسری طرف اس واقعے سے ایک حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ جدید ترین امریکی اینٹی ٹینک میزائل اپنی پوری ٹیکنالوجی اور قابلیت کے باوجودروسی ٹی - 90ٹینک کو تباہ کرنے میں ناکام رہا اور ٹینک کا عملہ محفوظ رہا۔ اس واقعے نے امریکی میزائل اور اسلحہ سازکمپنی
Raytheon
کو ایک نئی کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ روس اپنے جدیدترین ایس یو - 34 اور ایس یو - 35 طیاروں کو بھی شام میں استعمال کر رہا ہے۔ روس اب تک تقریباً پانچ سو ملین ڈالرشام کی جنگ پر خرچ کر چکا ہے اور لتا قیہ اور طرطوس میں قائم کئے جانے والے بحری اور فضائی فوجی اڈے شاید اس خرچ کے علاوہ ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ روسی افواج کی مشرقِ وسطیٰ میں تمام تر سرگرمیاں ا مریکی سینٹرل کمانڈکے لئے شدید دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔ روس نے2014میں
Crimea
کے واقعے کے بعدعالمی سیاسی پنڈتوں کی پیش گوئیوں کے بر عکس ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دکھائی ہے کہ وہ ایک موثر عالمی طاقت ہے ۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام کی لڑائی رُوس کے جدید ترین اسلحے کے لئے ایک شو روم کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اس کے ہتھیاروں کی برآمدات ریکارڈ 56بلین ڈالر کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہم ایک نیو کولڈ وارکے دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہیں اور ایک دوسرے کواور شاید پوری دنیا کو داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں سے مسلسل ڈرانے میں مصروف ہیں۔ در حقیقت داعش اور القاعدہ جیسے نان اسٹیٹ ایکٹرز ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہیں اور بجائے ان گروپوں کو ختم کرنے کے، ان کی آڑ میں اپنے مفادات کاتحفظ کیا جا رہا ہے ۔ آج بھی
Realpolitik ،Thucydides
اور
Machiavelli
کے اصول عالمی سیاست پر چھائے ہوئے ہیںیعنی اپنی پالیسی کو حالات کے مطابق شکل دینا اور پھر ان حالات سے فائدہ اٹھانا۔
شام کی تمام تر صورت حال مجموعی طور پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ثابت ہو رہی ہے۔ بھارت، جو کہ روس کا خود ساختہ اور تاریخی دوست ہونے کا بھی دعویدار ہے، نے بھی شام پر روسی مؤقف کی کھل کر حمایت نہیں کی جیساکہ روس نے1971کی جنگ میں بھارت کی نہ صرف کھل کر حمایت کی بلکہ امریکی بحری بیڑے کو مشرقی پاکستا ن کی فوجی امداد سے مکمل طور پر باز رکھا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی جس کی بنیاد ہمیشہ سے
Hedging
کے اصول پر منحصر رہی ہے اب شاید اسے مہنگی پڑ رہی ہے اور اس کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہو ئی قربتیں روس اور پاکستان کو قریب لارہی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ شام میں عالمی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کا اصل فائدہ روس ، چین اور ترکی کو ہو رہا ہے۔ تاہم اس کشمکش میں پاکستان، چین اور روس کے مزید قریب آ گیا ہے۔ حال ہی میں بھارت میں ہونی والی
BRICS
کانفرس میں وزیراعظم نریندر مودی کو ایک بڑا دھچکا لگا جب روس اور چین نے پاکستان پردہشت گردی کے بھارتی بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا۔ یہ تمام واقعا ت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی برادری نے داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن ضربِ عضب کے کردار کو سراہا ہے اور امن کے لئے اس کی نیک نیت کوششوں کی بھر پور حمایت کی ہے۔
یہ رائے قائم کر نا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کم از کم مزید سات سے آٹھ سال جاری رہے گی۔ کیونکہ اس جنگ میں شامل کوئی بھی فریق عارضی جنگ بندی کے لئے بھی تیا ر نہیں ہے۔ یہ رائے تمام فریقین کے نزدیک ایک حقیقت ہے کہ جنگ بندی یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیاں درحقیقت اُن کے دشمنوں کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس تمام حالت کو
Clausewitz
کے نظریہ
Fog of War
کی مدد سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جس کے مطابق جنگ افراد ، قوموں اور لیڈروں کے سوچنے اور سمجھنے پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ دُھند نما دُھواں نظر کی حد کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی بد اعتمادی اور غیر یقینی کی کیفیت کو بھی جنم دیتا ہے اور یہ کیفیت فیصلہ سازی کے عمل کو بہت حد تک متا ثر کرتی ہے۔اگر ہم ایک نظر رُوسی اور امریکی (مغربی )میڈیا پر ڈالیں تو ان دونوں کی آپس کی چپقلش اس بات سے ثابت ہو جاتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف زہر اُگلنے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتے ہیں۔ امریکی تمام حالات کا ذمہ روس اور روسی تمام تر ملبہ امریکہ اور مغربی طاقتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان سب باتوں کو سننے اور پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر حقیقت کیا ہے۔
امریکہ دنیا میں جمہوریت کے پھیلاؤ اوراظہارِ رائے کی آزادی کا خواہشمند ہے اور امریکی نظریہ ء
Manifest Destiny
شاید امریکی حکومت کو اس قدر عزیز ہے کہ وہ اس کی خاطر قوموں کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے سے گریز نہیں کرتی۔ برطانوی اور امریکی افواج نے اِسی خواہش پر پہلے صدام حسین کے پُرامن عراق کا بیڑہ غرق کیا اور پھر معمر قذافی کے خوشحال لیبیا کو آگ اور خون میں نہلا دیا۔ لیبیا اور عراق میں لگنے والی آگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ صدر پیوٹن کے متعلق نیو یارک ٹائمزکے ایک صحافی Steven Lee Myers
نے ایک کتاب
The New Tsar
لکھ ڈالی۔ جس میں انھوں نے صدر پیوٹن کو ایک نیا ’’زار‘‘ قرار دیا اور یہ کہا کہ وہ روس کی عالمی طاقت کو بڑھانے کے لئے تشدد کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ امریکہ یا روس دونوں شام کے اندرونی مسئلے کو ایک علاقائی جنگ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن شاید اصل ذمہ دار امریکہ ہے جس نے شام پر عراق کی طرح کا یَک طرفہ حملہ کرنے کا عندیہ 2011میں دے دیا تھا۔ یہ بات بھی امریکی اور مغربی ممالک کی سازشوں کا پردہ چاک کرتی ہے کہ شام کے خالصتاً سیاسی مسئلے کو سُنی اور شیعہ کے درمیان فساد بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور اب اس لڑائی میں سعودی عرب اور ایران آمنے سامنے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے عالمِ اسلام کی طا قت مکمل طور پر منقسم ہو چکی ہے۔
ایک امریکی ماہر سیا سیات
John Mearsheimer
نے 2004میں اپنے آر ٹیکل
Why China's Rise will not be Peaceful
میں یہ کہا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت جارحانہ عزائم کے لئے ہے۔ لیکن اس آرٹیکل کے بارہ سال گزرنے کے باوجود چین نے کسی مقام پر بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کی اور حتیٰ کہ امریکہ اور جاپان کے ساتھ بھی تجارت کا راستہ اختیار کیا۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ چین اس معاملے میں اپنا کر دار ادا کرے۔ روس اور امریکہ دونوں بلکہ پوری دنیا چین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اورتمام اقوامِ عالم یہ بات ذہن نشین کر چکی ہیں کہ اب چین کو عالمی سیا ست میں اس کا مقام دینا پڑے گا۔ چین شام میں امن فوج کی سر براہی کرے اور قیامِ امن کے فوری بعد ملک میں عالمی برادری کے مبصرین کی نگرانی میں آزاد اور شفاف الیکشن کرائے جائیں تا کہ شامی عوام اپنے حکمرانوں کا انتخاب خود کر سکیں۔ روس اور امریکہ چاہے کتنے ہی مذاکرات کر لیں مگر شاید مزید پانچ سال بھی شام کے مسئلے کا حل نہ ڈھونڈ پائیں گے۔ شاید یہ بات بہت سے لوگ
Utopian
اور نا قابلِ عمل خیال تصور کریں۔ مگر تقریباً چھ سال کی خانہ جنگی ، پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کی ہلاکت ، اربوں ڈالر کے انفراسٹرکچرکی تباہی اور لاکھوں انسانوں کی ہجرت اور سب سے بڑی بات کہ سپر طاقتوں اور علاقائی طاقتوں کی باہمی چپقلش کا یہ واحد حل ہے۔

مضمون نگار نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ایم فل کر رہے ہیں۔

(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)

 
08
February

‘Yes’ to Criteria Based Approach Only!

Written By: Ghazala Yasmin Jalil

India and Pakistan have been seeking the membership to the Nuclear Suppliers Group (NSG), which is a group comprising 48 states that seeks to regulate nuclear trade with the view to prevent proliferation of nuclear weapons and related technology. Both India and Pakistan formally applied for the membership in 2016 which was denied. There were two meetings in 2016, one in June and one in November where the question of membership of non-Nuclear Non-Proliferation Treaty (NPT) states was debated. There has been intense lobbying from both countries to sway the votes in their favour. The NSG has mainly been divided among those who want to admit India immediately, creating an exception for it, and those who oppose membership on exceptional basis and instead argue for criteria-based approach to NSG membership.


The existing criteria for NSG membership requires states to be either a party to the NPT, or a member of the Nuclear-Weapon-Free-Zone (NWFZ), have comprehensive International Atomic Energy Agency (IAEA) safeguards, and have good non-proliferation standing as well as have the capacity to export nuclear items. One criterion on which both India and Pakistan clearly fail is that they are not party to the NPT.

 

Given the grossly discriminatory nature of the proposal many countries like China, Turkey, New Zealand, Brazil, Ireland, Austria, Belarus, Italy, Switzerland among others have raised objections to the proposed criteria developed by Grossi. The objections have ranged from procedural aspects such as lack of transparency and selective engagement but also over the clear absence of impartiality and objectivity of the proposal. Russia has also called for greater transparency and the need for due process of consultations.

The U.S. has led the campaign to welcome India to the club on exceptional basis. The U.S. also won an India-specific waiver from the NSG in 2008 for export of nuclear technologies for its nuclear energy programme. This was followed by civil nuclear deals with the U.S., France, the UK and most recently with Japan. In effect, the 2008 waiver was partly motivated by commercial gains. It had politico-strategic significance as well. It was part of U.S. grand design of building India up as a regional power and a strategic counterweight to China. India is central to the U.S. Pivot to Asia policy, forcefully promoting India’s case for NSG is, thus, part of the U.S. larger geostrategic design.


The U.S. gained the waiver for India on non-proliferation arguments that the regime would be strengthened with India’s membership. However, India has clearly disregarded the essential norms of non-proliferation by keeping its nuclear reactors outside IAEA safeguards, continuing to produce fissile materials, continuing to refuse signing the Comprehensive Nuclear-Test-Ban Treaty (CTBT), and continuing to pursue modernization of nuclear armament, including sea-based nuclear capability and development of thermonuclear weapons. This is a clear disregard for the non-proliferation norms.


In 2008, some members of the NSG did express concern about India expanding its nuclear arsenal by diverting the fissile materials for the production of nuclear weapons. There are also international reports on how India has expanded its nuclear arsenal after the NSG waiver. During a U.S. senate hearing, Senator Markey said, “Since 2008, when we also gave them the exemption, India has continued to produce fissile materials for its nuclear programme virtually unchecked. At that time Pakistan warned us that the deal would increase the chances of the nuclear arms race in South Asia”.


There has been growing support within NSG for developing criteria for non-NPT states. China has led the campaign for a criteria-based approach. In the November 2016 meeting in Vienna, China proposed a two-point approach for induction of new non-NPT states to the NSG. Step one would be to find a solution applicable to all non-NPT applicants through consultations. Step two would be to discuss admission of specific non-NPT countries into the NSG. Chinese Foreign Ministry spokesman said that Chinese stance was that ‘the solution should be non-discriminatory, applicable to all non-NPT members and must not damage the core value of the NSG as well as the authority, effectiveness and integrity of the NPT’. According to reports, during the Vienna meeting about a quarter of NSG members supported the criteria-based approach, while another quarter supported India’s sole entry into the group and the other half did not take any specific positions. Besides China, the countries that supported the criteria-based approach included Russia, Brazil, Austria, New Zealand, Ireland and Turkey.


Argentinian Ambassador Rafael Grossi, who was appointed Special Envoy by the NSG chairperson to develop a consensus regarding the entry issue, presented a nine-point proposal for NSG membership on December 6, 2016. There are a number of issues with these points which largely favour India and seem tailored to win membership for India while keeping Pakistan out of NSG.


One point of the proposed membership criteria is regarding the separation of current and future civilian and nuclear facilities. India has already notified a separation plan as part of the requirements of the 2008 NSG waiver. Pakistan has separate military and civilian facilities but has not formally notified its separation plan to IAEA. At present, if the current proposal is adopted, this point would make Pakistan technically ineligible for NSG membership.

 

In the unlikely event that Grossi’s criteria is adopted then India can claim that it has already taken all measures according to NSG guidelines, while leaving Pakistan at a disadvantage. The biggest problem with the latest proposed criteria is that it seems tailor-made to smuggle India in the group. It would not only be discriminatory but would also make a mockery of the non-proliferation regime and principles. This would be of grave concern for Pakistan which is lobbying hard for a non-discriminatory approach to the issue whereby it hopes to get admitted to the group alongside India.

The second point proposes that states must have signed IAEA’s Additional Protocol. This point also favours India since it has already signed the Additional Protocol. In principle Pakistan has no problem with signing the Additional Protocol but it would take some time which means that India would have advantage over this point as well. Another point is that the candidate must commit to not conduct any nuclear explosion in future. Both India and Pakistan are eligible as per this criterion if they undertake not to conduct nuclear tests in the future. In fact, Pakistan has time and again proposed to India simultaneous signature of the CTBT and even a regional test ban agreement. All such proposals have been rejected by India.


Another point is a commitment not to use any item transferred either directly or indirectly from an NSG Participating Government or any item derived from transferred items in unsafeguarded facilities or activities. Both India and Pakistan can easily fulfil this criterion.


The most interesting point is: “An understanding that due to the unique nature of the non-NPT party applications, [non-NPT applicant] would join a consensus of all other participating governments on the merits of any non-NPT party application.” The last clause implies that there is a pre-condition on India that it will not oppose Pakistan’s entry. This clause has the inbuilt assumption that India would be admitted first, while Pakistan may enter later when it fulfills the new criteria. It is imperative that a simultaneous rather than sequential consideration of the two countries’ applications should take place. Once India is a member, it would not let Pakistan become a member. The countries that are lobbying for India’s entry into the group could lobby to keep Pakistan out as well.


Given the grossly discriminatory nature of the proposal many countries like China, Turkey, New Zealand, Brazil, Ireland, Austria, Belarus, Italy, Switzerland among others have raised objections to the proposed criteria developed by Grossi. The objections have ranged from procedural aspects such as lack of transparency and selective engagement but also over the clear absence of impartiality and objectivity of the proposal. Russia has also called for greater transparency and the need for due process of consultations. Pakistan has also rejected the proposal. Pakistani Foreign Office spokesman Nafees Zakaria said: “This would be clearly discriminatory and would contribute nothing in terms of furthering the non-proliferation objectives of the NSG.” He further said that Pakistan continues to emphasize the imperative for a non-discriminatory criteria-based approach for the NSG membership of non-NPT states in a non-discriminatory manner which would also advance the objective of strategic stability in South Asia.


In the unlikely event that Grossi’s criteria is adopted then India can claim that it has already taken all measures according to NSG guidelines, while leaving Pakistan at a disadvantage. The biggest problem with the latest proposed criteria is that it seems tailor-made to smuggle India in the group. It would not only be discriminatory but would also make a mockery of the non-proliferation regime and principles. This would be of grave concern for Pakistan which is lobbying hard for a non-discriminatory approach to the issue whereby it hopes to get admitted to the group alongside India.


Even international analysts see these proposals as very flexible and in essence designed to accommodate India. Daryl Kimball of Arms Control Association in the U.S. says: “The formula outlined in Grossi’s draft note sets an extremely low bar on NSG membership and its wording is vague and open to wide interpretation. Furthermore, this formula would not require India to take any additional non-proliferation commitments beyond the steps to which it committed in September 2008 ahead of the NSG’s country-specific exemption for India for civil nuclear trade.”7


The Obama administration has tried its best to win NSG membership for India. However, it is now upto the new U.S. administration on how aggressively it wants to pursue the matter. The NSG Chair has postponed the scheduled December informal NSG meeting till February 2017. During this period, he intends to engage in further consultations in an effort to develop consensus. For the time being Pakistan has scored a small success by working with principal countries to prevent India’s membership on preferential basis. However, the struggle for impartial and equal treatment as an aspiring member for NSG is far from over for Pakistan.


The matter of India and Pakistan's membership of the NSG will remain a much debated and pressing one. For Pakistan, it would be prudent to be well prepared once the matter of membership is debated by the NSG. According to the latest proposal, the separation of civilian and military nuclear facilities and signing of the IAEA additional protocol are two main issues over which Pakistan’s candidature may be rejected. Pakistan should formally notify IAEA of its separation plan of civilian and nuclear facilities and signing and ratifying the additional protocol to the safeguards agreement so that Pakistan can enhance its credentials for NSG membership.

 

The writer is a Research Fellow at the Institute of Strategic Studies, Islamabad and focuses on nuclear and arms control & disarmament issues.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

4,7 Daryl Kimball, “NSG Membership Proposal Would Undermine Nonproliferation,” Arms Control Association, December 21, 2016, https://www.armscontrol.org/blog/ArmsControlNow/2016-12-21/NSG-Membership-Proposal-Would-Undermine-Nonproliferation

 
09
February

Reconfigurable Warships – A Step Towards Building Pakistan an Affordable Navy

Written By: Usman Ansari

A reconfigurable family of corvettes that can replace a range of less capable vessels and provide a more credible and robust defence during wartime will certainly allow Pakistan to efficiently and cost effectively safeguard CPEC and its EEZ as well as Extended Continental Shelf from aggression.

For Pakistan a powerful navy is an essential guarantor of its seaward defence and prosperity. Its economy relies overwhelmingly on the sea as some 90 percent by volume and 70 percent by value of its trade is seaborne. This will only increase in importance when the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) becomes fully operational. However, though balanced and capable, the navy is presently understrength, and cannot meet this requirement without expansion and considerable modernization. This may appear daunting as out of the three services the navy is the most expensive in terms of unit/running costs of its platforms, and expansion/modernization will require tens of billions of dollars. Achieving this critical requirement need not be a quandary though. A base-line multi-role platform (reconfigurable from Offshore Patrol Vessel to fully armed warship) to be operated by Pakistan Navy and Maritime Security Agency (MSA), to replace a range of vessels operating in territorial waters and Extended Economic Zone (EEZ), will deliver long term lower operational costs and guarantee a credible conventional deterrent against aggression.

reconfigwarship.jpgThe workhorses of the Pakistani fleet are the destroyers and frigates that operate on the outer periphery of the EEZ and beyond. However, Pakistan Navy and MSA also operate a larger number of smaller vessels that can be replaced with a single multi-role design to lower long-term operational costs and increase Pakistan’s defencive capabilities. When the need arose to maintain operational requirements within restricted budgets, some countries examined more affordable multi-role platforms (generally corvettes/OPVs or light frigates) to sustain numbers/presence in less threatening environments. Unfortunately, a true multi-role capability is expensive, leading to acquisition of lightly armed patrol vessels for fisheries’ protection, search and rescue, pollution control, EEZ policing, and other coastguard type duties. However, though more affordable to acquire/operate they have limited war fighting capability. Consequently, when purchased instead in place of fully capable warships, the navy will probably not be able to fulfil its main role of national defence due to being inadequately equipped. Under these circumstances a resource constrained nation essentially cannot 'afford' a ship that cannot fight, as necessity dictates every ship be able to defend itself and actively participate in wartime operations. This is especially true for Pakistan Navy, which faces threats having to undertake anti-submarine/anti-surface warfare in a heavy electronic warfare measures and high air/missile threat environment, (and expect saturation missile attacks under these conditions). This, therefore, requires an affordable design that can replace a range of vessels and perform the full spectrum of roles, but still be credibly armed for wartime.


‘Affordable’ can be defined in terms of acquisition or operational costs. Low acquisition costs generally mean higher through-life operational costs. The formula is generally reversed when considering high acquisition costs mainly due to the cost of advanced technologies that help reduce operational/through-life expenditure. An affordable warship today could be powered by an integrated electric or combined diesel propulsion system, be highly automated to reduce manning levels, and be equipped with sophisticated radar and other sensors in an integrated mast for air and surface search, acquisition and fire control. Weaponry would consist of a package to deal with the conceivable spectrum of threats, such a ship would be expected to act alone or in conjunction with other warships. However, the physical footprint of some weaponry and sensors could dictate the feasibility of their inclusion on smaller vessels such as corvettes, requiring dedicated space for mission dependent modules. Consequently such designs may have common baseline weaponry such as a medium calibre gun, remotely operated small calibre guns, a gun and missile CIWS, and possibly ASW rocket launchers. There can be a temptation to only rely on a gun CIWS for air defence, but they are not (and never should be) the first line of defence against air threats, especially not in the environment Pakistan Navy operates. ASW rockets like the RDC-32 can be used against unmanned underwater/swimmer delivery vehicles. Further weaponry, such as varying anti-ship missile loads, ASW torpedoes, and mines, can be installed as and when required. Advanced air/surface search radar, electro-optical sensors, and hull-mounted sonar, would be pre-requisites on a baseline design, with additional modular sensors such as active towed array sonar for example, installed as and when required. However, even with this ability to swap or leave out equipment, including the previous list of characteristics in a ship design will see its cost rapidly escalate, therefore making a low tech single role vessel more attractive despite its inferiority.


However, meeting the expense of a multi-role capability can be mitigated by the modular concept of retaining dedicated space for mission dependent modules, but choosing not to include systems until they become affordable under the 'fitted for but not with' concept. This allows for systems to be installed when they become available, but does not delay service entry of the vessel itself, therefore having a reduced impact on operational availability especially at the lower end of the threat spectrum. Such a design could also have a dedicated reconfigurable stern compartment able to accept mission dependent equipment. For example, in the OPV role for the MSA this may include an 11m RHIB; for MCMV missions it could include a dedicated counter mine module to locate, classify, and destroy mines; or an active towed array sonar package for ASW operations. This space could also accommodate anti-ship/land attack missiles if they could be raised and fired through the flightdeck. Additionally space could also be used for containerized mission payloads. Such flexibility would allow one baseline design, configurable per mission requirements, to replace a range of vessels usually tasked with patrol and defence of territorial, EEZ and adjoining waters.


Additionally, propulsion options can further reduce costs. Gas turbines have high fuel consumption and are thus expensive to run, contributing to high operational costs. However, integrated electric propulsion has the benefit of reducing operational costs due to the lower levels of maintenance required. It also frees up internal space for other use due to the ability to place the diesel or other engines/generators in alternative areas, and the electric motors thereby reducing the length of the drive shafts. Acquisition costs are high however, but propulsion costs can also be reduced if alternative fuels are considered. Research is ongoing into various possibilities including organic biofuels such as biodiesel or that derived from plants such as camelina, organic derived additives such as ethanol, or even breaking down sea water. Pakistan’s sugarcane industry can produce ethanol in quantity, and this plus other biofuel alternatives such as biodiesel must be explored. At the very least, diesels are an affordable, economical, and reliable propulsion option that considerably reduce operational costs.


Including or excluding helicopters (the most powerful and flexible weapons on any warship), can also reduce costs as they entail added expense of acquisition, maintenance, and operations through fuel and expandables, plus crew training. However, a modular design, allowing vessels to be built with or without a hangar will allow operations requiring longer range/endurance to be handled by vessels equipped with a hangar to embark a helicopter. Missions closer to shore could be handled by those only built with a flight deck to allow resupply, plus refuelling and rearming shore-based ASW helicopters. Alternatively, operating rotary UAVs could keep overall costs down, but still maintain a larger operational footprint.


Warship designers presently offer platforms configurable to customer requirements. However, these are commonly built to certain specifications, and generally not reconfigurable once in service. The Danish STANFLEX system achieves this to a large extent as it allows mission specific modules and equipment to be included as and when required. Newer (some as yet un-built) warship designs have incorporated such concepts to achieve multirole flexibility. Of note in this regard is the U.S. experience of the Littoral Combat Ship Programme and its efforts to achieve this level of reconfigurable flexibility. Despite the programme’s teething troubles the concept is still the way forward. Unfortunately, most western designs are generally quite large, and have excessively high acquisition and operational costs, especially for Pakistan which needs such vessels in volume. However, such a concept is still a realistic option for Pakistan, one that features the above characteristics that will enable it to be fully multi-role, able to undertake the full spectrum of peacetime patrol to ‘hot’ conflict operations. This may require a tailor made solution with maximum public/private industrial involvement, but lacking the necessary domestic design experience Pakistan’s naval planners will have to seek foreign co-operation, which, due to financial and geopolitical reality narrows the field down to China and Turkey. China is an increasingly capable warship designer and its Type-056 corvette/OPV could form the basis for such a design. As a source of affordable technology co-operation with China would make such a programme feasible.


Whereas navies can be convinced of the need to spend money to save it (and lives) though, high acquisition costs may potentially deter decision-makers, (who generally think short term). However, the prospect of affordably delivering a credible defence capability at lower operational cost, (plus a steady work for KSEW that ultimately benefits local industry and the national exchequer), is a powerful counter argument. A reconfigurable family of corvettes that can replace a range of less capable vessels and provide a more credible and robust defence during wartime will certainly allow Pakistan to efficiently and cost effectively safeguard CPEC and its EEZ as well as Extended Continental Shelf from aggression.

 

The writer is currently Chief Analyst for the British-based naval news monthly, Warships international Fleet Review. He is also Pakistan’s correspondent for the U.S.-based Defence News and has contributed in various international defence publications.
 

Follow Us On Twitter