13
March

آپریشن رَدّا لفساد

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: علی جاوید نقوی

پاک فوج نے ملک بھرسے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن ردالفساد شروع کردیاہے،اوریہ کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن کااعلان ہوا توملک بھرمیں اس کاخیرمقدم کیاگیا۔عوام کے تمام طبقات کی خواہش اورمطالبہ تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کوکسی خاص علاقے تک محدود نہ رکھاجائے، دہشت گرد جہاں اورجس علاقے میں بھی چھپے ہوں انھیں نشانہ بنایا جائے۔ اب نہ صرف دہشت گردوں کاخاتمہ کیاجائے گا،بلکہ ان کے سہولت کاروں اورغیرقانونی اسلحے کاکام کرنے والوں کوبھی پکڑاجائے گا۔پاکستان کے بیس کروڑ عوام کی نگاہیں فوج پرلگی ہیں اورانھیں یقین ہے اس آپریشن کے بعد امن وامان کی صورتحال میں مزید بہتری آجائے گی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اورسکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اورعزم وہمت کی مثالیں قائم کی ہیں،ان قربانیوں کوپوری دنیا نے سراہا ہے۔عوام کے حوصلے بھی بلند ہیں اور وہ ہرمحاذپرفوج کے ساتھ کھڑے نظرآئے ہیں۔

 

urduoptradufsad.jpgدہشت گردوں کے خلاف اب تک مرحلہ وار کئی کامیاب آپریشن ہوچکے ہیں،یہ آپریشن سوات ،باجوڑ ایجنسی،شمالی اورجنوبی وزیرستان،خیبرایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں کئے گئے ،ضرب عضب کے نتیجے میں کافی بہتری آئی، لیکن نیشنل ایکشن پلان پرسست روی سے عمل ہونے کے باعث بہت سے پہلو باقی رہ گئے۔دہشت گردوں کومکمل شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے چاروں عناصر،مقننہ،عدلیہ، فوج اورمیڈیاایک پیج پرہوں۔قوم ان سب کی پشت پرہو ۔دہشت گردی کے خلاف سب کی سوچ ایک جیسی ہو۔اگرکسی بھی ادارے کاکوئی شخص کسی قسم کی کوتاہی کاذمہ دار ہوتواسے بھی سزادی جائے۔ اگرہم سوفیصد نتائج چاہتے ہیں تو سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ باقی اداروں کوبھی متحرک ہوناہوگا۔خوش قسمتی سے اس وقت پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے ریاست کے تمام عناصر کی سوچ ایک ہے کہ ان دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا جائے اور ایک بے رحم آپریشن کیا جائے، جو دہشت گردوں کی نسلیں اور ان کے سرپرست بھی یاد رکھیں۔ماضی میں ہماری کمزوریوں کا فائدہ ہمارے دشمنوں نے اٹھایا،اب ہمیں اس کاموقع نہیں دیناچاہئے۔دوسری طرف ہمیں دشمن کی کمزوریوں سے بھی فائدہ اٹھا نے کی ضرورت ہے اب اس جنگ کوخود دشمن کے ملک میں دھکیل دینا چاہئے، بعض اوقات اینٹ کاجواب پتھرسے دیناضروری ہوجاتاہے۔ ہم سب اس بات کوبھی بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گرداپنی شکلیں اورطریقہ کاربدل چکے ہیں۔یہ چاہے کسی شکل اورروپ میں ہوں ان کاسدباب ضروری ہے۔ ایک اہم پہلو دہشت گردی کے لئے آنے والا پیسہ ہے۔دہشت گردوں کے مالی وسائل پرضرب لگانابھی ضروری ہے۔ غیرقانونی طریقوں سے پاکستان آنے والے پیسوں کے علاوہ کرپشن ،جرائم اوراسمگلنگ کاپیسہ بھی دہشت گردی میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس پرکنٹرول کرنابھی بہت ضروری ہے۔ غیرقانونی پیسے کی آمد بند ہو جائے تودہشت گردوں کودستیاب وسائل بھی ختم ہوجائیں گے۔غیرقانونی پیسے کے بغیرمنظم دہشت گردی ممکن نہیں۔بہت سے کیسز میں جرائم پیشہ افراد دہشت گردوں کے ساتھی اورسہولت کاربنے ہیں ،وہ بھاری معاوضے کے عوض کچھ بھی کرنے کوتیارہوتے ہیں ۔اُنھیں اس سے غرض نہیں کہ ان دھماکوں سے ملک کو کتنا نقصان ہورہاہے،کتنے بچے یتیم ہو رہے ہیں، اورکتنے سہاگ اجڑ رہے ہیں۔


اس ساری صورتحال میں میڈیا کوبھی دیگراداروں کی طرح اپنا رول متعین کرنا ہو گا،دہشت گرداوران کے سہولت کار کسی ہمدردی کے مستحق نہیں۔بعض اوقات ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے چکرمیں صحافتی اخلاقیات اور اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جاتاہے۔یہ رویہ درست نہیں۔ کارکن صحافی تنظیمیں اورمیڈیا مالکان کواپنے رول کافیصلہ خودکرناہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔ ہم سب کوایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اپنی ذمہ داروں کااحساس کرناہوگا،تب ہی کامیابی ممکن ہے۔


عوامی رائے یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بے رحم آپریشن ہونا چاہئے، اگرفوجی عدالتیں مدت ختم ہونے کے فورًا بعد بحال کردی جاتیں اور دہشت گردوں کوسزائے مو ت دینے کاسلسلہ جاری رہتا توشایدانھیں دوبارہ سر اٹھانے کاموقع نہ ملتا،لیکن بدقسمتی سے بعض حلقوں کی طرف سے نہ صرف سستی کا مظاہرہ کیا گیا بلکہ فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دے کرانہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اورہمدردوں کوبھی سخت سزائیں دی جاسکیں ۔دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے نئی قانون سازی اوربعض قوانین میں تبدیلی ناگزیر ہے۔


پاکستان کے قبائلی عوام اوران کے نمائندے ایک عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔پاکستان کے موجودہ قوانین کادائرہ قبائلی علاقوں تک بڑھا دیا جائے ۔لاہور اورکراچی میں جرائم کی جوسزا ہے ،قبائلی علاقوں میں بھی وہی ہو۔بعض سیاسی جماعتیں اس حوالے سے مصلحتوں کاشکارنظرآتی ہیں۔ دنیا بھرمیں جوممالک دہشت گردی کاشکارہوئے ،وہاں سکیورٹی فورسز کااستعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی وسماجی حوالوں سے بھی اصلاحات لائی گئیں ،قانون سازی بھی کی گئی ۔زندگی کے ہرشعبے نے اس پہلو پرتوجہ دی پھرکہیں جاکردہشت گردی پرقابوپایا گیا۔ ہمارے یہاں بدقسمتی یہ رہی ہے کہ سکیورٹی فورسز سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کوختم کرنے کے ساتھ ساتھ باقی سیاسی وسماجی معاملات کوبھی ٹھیک کریں۔جبکہ ایک مربوط نیشنل ایکشن پلان اوراختیارات کے بغیر ایساممکن ہی نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیاہے کہ چندعلاقوں میں آپریشن شروع کیاگیاتوبچ جانے والے دہشت گرد دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے۔اسے روکنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ پنجاب کے بعض علاقوں کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہاں دہشت گردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں ہیں۔پنجاب میں رینجرز کوآپریشن کے اختیارات ملنے کے بعد امید ہے کہ دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی یہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کردی جائیں گی۔دہشت گرد ملک بھرمیں غیرقانونی طورپرمقیم افغان مہاجرین کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ایسے مہاجرین کوواپس افغانستان بھجوا دیناچاہئے جو پاکستانیوں کی مہمان نوازی کاصلہ دہشت گردی کی شکل میں دے رہے ہیں۔دہشت گردی کی موجودہ لہرکے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،ٹھوس معلومات اورشواہد کے بعد پاک فوج نے دہشت گردوں کے بعض ٹھکانے مکمل طورپرتباہ کردئیے ہیں،لیکن سازشوں کے اس کھیل کے جلد ختم ہونے کی توقع نہیں ۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کوہرجگہ نشانہ بنایاجائے۔

لشکرجھنگوی ،مجلس الاحرار اورٹی ٹی پی کی ڈوریں ،افغانستان اوربھارت سے ہلائی جارہی ہیں۔

دہشت گرد تنظیموں کی سرپرست اعلی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ ہے۔

اس بات کوبھی ذہن میں رکھناچاہیے کہ دشمن ،افغان فورسز کو پاکستان کے خلاف الجھاناچاہتاہے۔

دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ انھیں فنڈنگ کرنے والوں کوبھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی فوج اپنی مہارت اورصلاحیتوں کے باعث دنیا کی بہترینا فواج میں شامل ہے۔

پاکستان کے 20کروڑ عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔

ماضی کی طرح پاکستان کا مستقبل بھی روشن ہے۔

افغانستان اورخطے میں امن قائم رکھنے کے لئے چین، پاکستان،افغانستان اورتاجکستان کے درمیان ایک فوجی معاہدہ اورالائنس موجود ہے ۔اس کاایک اہم اجلاس گزشتہ سال اگست میں ہواتھا،جس میں یہ فیصلہ کیاگیا تھا کہ چاروں ممالک خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کرکام کریں گے۔چین میں ہونے والے اجلاس میں چاروں ممالک کے آرمی چیف موجودتھے۔افغان آرمی چیف نے یقین دلایا تھا کہ وہ دیگرممالک سے تعاون کریں گے۔ تاہم افغان فوج اور حکومت پربھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے باعث اس بات کاخدشہ محسوس کیا جارہاتھا کہ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مؤثراقدامات نہیں کرے گا۔اب بھی اس بات کاامکان زیادہ ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے کیمپ ختم کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کاسلسلہ جاری رکھے ،یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ افغان فوج، بھارتی خفیہ ایجنسی کی کسی چال کاشکارہوجائے اورپاکستان کے خلاف ہی جارحیت کربیٹھے۔یہ خطرہ بہرحال موجودہے۔ہمیں چین کے تعاون سے افغانستان کواس بات کے لئے رضامند کرنا ہو گاکہ وہ الزام تراشی اورکسی دوردراز ملک کے مفادات کاتحفظ کرنے کے بجائے اپنے عوام کے مفادات کودیکھے۔ افغان حکومت کے منفی رویے کاخمیازہ افغان عوام کوبھگتناپڑ ے گا۔افغانستان میں لشکر جھنگوی،ٹی ٹی پی اورجماعت الاحرارکے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ان سب دہشت گردوں کی سرپرست اعلی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ ہے۔افغان حکومت کی غیرسنجیدگی کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے ایک فہرست افغانستان کے حوالے کی توجواب میں افغان حکومت نے اپنی ایک فہرست کابل میں موجود پاکستانی سفارت کارکوپکڑا دی۔


پاکستان کے دشمن پاکستان کی اقتصادی ترقی اورکامیابیوں سے پریشان ہیں۔چین اورپاکستان کے درمیان شروع ہونے والا اقتصادی راہداری منصوبہ، سی پیک ایک گیم چینجرمنصوبہ ہے۔ بعض دشمنوں کاخیال تھا کہ پاکستان اپنے مسائل اورمشکلات پرقابونہیں پاسکے گا ،لیکن معاملہ بالکل الٹ نکلا ،پاکستان نے نہ صرف درپیش چیلنجزکا مقابلہ کیابلکہ خودکومضبوط بھی کیا۔سی پیک منصوبے نے پاکستان کے لئے ترقی کے دروازے کھول دئیے ہیں،جس سے بھارت کی نیندیں اڑگئی ہیں ۔


آپریشن ردالفساد اورپہلے کیے جانے والے آپریشنزمیں ایک بڑا اوربنیادی فرق یہ ہے کہ پہلے تمام آپریشنزٹارگٹڈ آپریشن تھے اورخاص علاقوں تک محدودرہے لیکن ردالفسادملک بھرمیں چھپے ہوئے فسادیوں کے خلاف ہے ۔سیاسی جماعتوں ،رہنماؤں اوردانشوروں اورادیبوں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام نے بھی آپریشن ردالفساد کی حمایت کی ہے ،تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام اس بات پرمتفق ہیں کہ دہشت گردی کرنے والے اورانھیں سہولتیں فراہم کرنے والے یادہشت گردوں کی کسی طرح بھی حمایت کرنے والے فسادفی الارض کے مرتکب ہورہے ہیں، تمام مکاتب فکرکے جید علمائے کرام نے نہ صرف فسادیوں کے خلاف فتوی دیا ہے بلکہ سکیورٹی فورسزکے شانہ بشانہ ان دہشت گردوں سے لڑنے کابھی اعلان کیاہے۔


بائیس فروری کولاہورمیں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔ اس اجلاس میں پنجاب کے تمام کورکمانڈرزاورڈی جی رینجرزبھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات اور دہشت گردی کے چھپے ہوئے خطرے کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے کے علاوہ اب تک کی کارروائیوں میں حاصل ہونی والی کامیابیوں کو مستحکم اور سرحدوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ پاک فضائیہ، بحریہ، سول آرمڈ فورسز اور دیگر سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔پنجاب رینجرز کی طرف سے وسیع البنیاد سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے آپریشن بھی کئے جائیں گے۔ ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے علاوہ سرحدوں کی مؤثر نگرانی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آپریشن ’ردالفساد‘ کے تحت ملک بھر کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا۔ گولہ و بارود پر کنٹرول بھی کیا جائے گا۔اگران تمام نکات اورفیصلوں پرغورکیاجائے تویہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔


دہشت گردوں اورجرائم پیشہ افراد کے خلاف اب تک جتنے آپریشن کیے گئے ہیں اکثر کامیاب ہوئے ہیں۔اگرصرف کراچی آپریشن کاہی تنقیدی جائزہ لیں تویہ آپریشن بھی اپنے اہداف میں کامیاب رہا۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں بھی کمی آئی ہے اورکراچی کی رونقیں بھی لوٹ آئی ہیں۔ جوبازارخوف کے باعث سرشام بندہوجاتے تھے اب وہاں رات گئے تک لوگوں کی چہل پہل رہتی ہے۔ گزشتہ سال 2016 میں 2015 کے مقابلے میں ٹارگٹ کلنگ میں 72فیصد کمی آئی۔ انسپکٹرجنرل سندھ پولیس کی جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ فورسز کے کامیاب آپریشن کے باعث کراچی میں امن وامان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہترہے۔نہ صرف ٹارگٹ کلنگ بلکہ بھتہ خوری ،ڈکیتی اورقتل کے واقعات بھی بہت کم ہوگئے ہیں۔اسی طرح سوات ،شمالی وجنوبی وزیرستان،باجوڑ اورقبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد حالات بہتر ہورہے ہیں ،اگران اعداد وشمار کودیکھا جائے توصورتحال بہت حوصلہ افزأ ہے۔جہاں تک دہشت گردی کی موجودہ لہر کاتعلق ہے یہ ختم ہوتے دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی آخری کوشش ہے ۔ فسادیوں کے خلاف جاری آپریشن ردالفساد سے امید ہے کہ ان کاجلد خاتمہ ہوجائے گا۔قوم پورے جذبے کے ساتھ فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کامستقبل پاکستان کے ماضی کی طرح روشن ہے۔

اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
13
March

فاٹا کی پسماندگی۔ وسیع تر اصلاحات کی ضرورت

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: عقیل یوسف زئی

سات قبائلی ایجنسیوں پر مشتمل پاکستان کے سرحدی علاقے یعنی فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور مختلف ادوار میں اس مقصد کے لئے حکومت کی جانب سے تبدیلیاں یا اصلاحات لانے کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل محض اعلانات تک محدود رہا اور کسی بھی حکومت نے عملاً ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس اہم ترین جغرافیائی یونٹ کو مین سٹریم پالیٹکس یا سسٹم کا حصہ بنایا جائے اور غالباً اسی غفلت یا رویّے کا نتیجہ ہے کہ فاٹا ماضی میں نہ صرف یہ کہ انتہاپسندوں کا مرکز بنا رہا بلکہ یہاں کے لاکھوں عوام بنیادی انسانی حقوق اور ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم رہے۔ برٹش راج نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بعض دیگر نوآبادیات کی طرح فاٹا کو بھی اس مقصد کے لئے بفر زون کے طور پر تخلیق کیا کہ اس سرحدی پٹی کو برٹش انڈیا یعنی ہندوستان اور روس (سوویت یونین) کے درمیان حدِ فاصل کے طور پر استعمال میں لایا جائے اور اس مقصد کے لئے اس علاقے میں خصوصی یا کالونین قوانین بنائے گئے۔ قبائل پر ایسے قوانین اور ضابطے لاگو کئے گئے جن کی آج بھی مہذب دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ 1947 سے قبل متحدہ ہندوستان میں بھی درجنوں ایسے علاقے تھے جہاں اس نوعیت کے قوانین موجود تھے۔ تاہم آزادی کے بعد ایسے علاقوں کو نئی ریاستوں کے مروجہ قوانین کے اندر لایا گیا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے علاقوں جیسے حقوق اور وسائل دیئے گئے۔ بدقسمتی سے فاٹا کو ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں یا اصلاحات سے بوجوہ محروم رکھا گیا اور یہ علاقے تا حال کالونین سسٹم کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے بعض حکمرانوں نے بھی جمہوریت پسند ہونے کے باوجود جمہوری ادوار میں بھی یہاں کے عوام کو کالونین سسٹم سے نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ حالت تو یہ رہی کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر نے اپنے دورِ اقتدار میں فاٹا میں بعض ایسے علاقے بھی شامل کرائے جو کہ ان کی حکومت سے قبل خیبر پختونخوا (صوبہ سرحد) کا حصہ تھے۔ ان کے دورِحکومت تک فاٹامیں ایجنسیوں کی تعداد چار یا پانچ تھی۔ انہوں نے یہ تعداد چھ یا سات کردی مگر اس کی کوئی خاص وجہ بتانے سے گریزکیا اور ایسا کرنے سے قبل متعلقہ علاقوں کے عوام سے ان کی رائے معلوم کرنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ متعدد اہم لیڈروں نے بھی فاٹا کو مین سٹریم میں لانے کی کوشش تو درکنار ان علاقوں میں موجود کالونین قوانین کو آزادی کے باوجود دوسرے علاقوں تک توسیع دینے یا پھیلانے کا رویہ اختیارنہیں کیا اور بعض ایجنسیاں70 کی دہائی میں قائم کی گئیں۔ بعض ماہرین کے مطابق جناب بھٹو نے یہ اقدامات افغانستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اٹھائے تھے۔ فاٹا کے عوام کا یہ کہہ کر جذباتی استحصال کیا جاتا رہا کہ وہ آزاد اور غیور قبائل ہیں یا یہ کہ وہ پاکستانی سرحدوں کے بے تنخواہ سپاہی یا محافظ ہیں۔ مگر ان کے بنیادی حقوق یا ضروریات کا کسی بھی حکومت نے کوئی خیال نہیں رکھا اور ان کی انسانی حقوق کی عملاً حالت یہ رہی کہ وہ 90 کی دہائی تک بالغ رائے دہی کی بنیاد پر الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے حق سے بھی محروم تھے اور یہ حق بھی کسی جمہوری حکومت یا حکمران کی بجائے مرحوم سردار فاروق احمدخان نے نگران وزیرِاعظم کے طور پر ان کو دیا۔ سال1988 کے بعد جمہوری حکومتیں تسلسل کے ساتھ آتی رہیں اور ان حکومتوں کی پارلیمانی ضروریات یعنی تشکیل میں فاٹا کے آزاد ممبران اسمبلی کا ہر دور میں بنیادی کردار رہا۔ تاہم افسوسناک بات یہ رہی کہ ان حکومتوں یا پارلیمانی قوتوں نے نومنتخب قبائلی ارکان کو دوسرے آئینی حقوق کے علاوہ اس حق سے بھی محروم رکھا کہ وہ فاٹا کے لئے کی جانے والی قانون سازی میں حصہ لیں۔ یہ غالباً دنیا کا وہ واحد علاقہ رہا جس کے نمائندے اپنے ہی علاقے یا عوام کے لئے قانون سازی میں حصہ لینے سے محروم تھے اور یہ سلسلہ تا دمِ تحریرکسی تبدیلی کے بغیر جاری ہے۔ ان کے ساتھ دوسرا مذاق یہ ہوتا رہا کہ ان کو مروجہ پارلیمانی سسٹم یا سیٹ اپ کے ذریعے چلانے کے بجائے براہِ راست صدرِ مملکت کے بعض صوابدیدی اختیارات میں دیا گیا اور کسی بھی اہم فیصلے سے قبل فاٹا کے نمائندوں‘ اسمبلی یا عوام سے ان کی رائے لینے کی ضرورت ہی ختم کردی گئی۔ فاٹا کو 70 یا 80کی دہائی میں ایک پالیسی کے تحت ان گروپوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی گئی جو کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے قائم کئے گئے تھے تاہم اس وقت غالباً حکمرانوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کرنے سے فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہوگا اور بعد میں80 کی دہائی میں کرم ایجنسی اور بعض دیگر علاقوں میں بعض ممالک کی پراکسی وارز کے جس سلسلے کا آغاز ہوا اس کے اثرات اور نتائج پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔ کرم ایجنسی میں فرقہ واریت کی ایسی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد کے ادوار میں پورے ملک تک اپنی شاخیں پھیلائیں اور اس علاقے کے فرقہ ورانہ اثرات نے دوسرے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ ڈیورنڈ لائن کے نام نہاد تنازعے کی بنیاد پر فاٹا میں افغانستان کی مبینہ مداخلت کا سلسلہ بھی کسی وقفے کے بغیر جاری رہا اور کئی دہائیوں تک حالت یہ رہی کہ افغانستان کی حکومت سے قبائل کی نہ صرف وزارت قائم رہی بلکہ یہاں کے عوام کے لئے مختلف شعبوں میں کوٹہ سسٹم بھی رکھا جاتا رہا۔ اس طریقہ کار کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی نوعیت کی عجیب وغریب انتظامی حیثیت کی پیچیدگیوں کا شکار رہا اور جب افغان جہاد کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو اس علاقے کو فرنٹ ایریا کی اہمیت حاصل ہو گئی۔

 

1947 سے قبل متحدہ ہندوستان میں بھی درجنوں ایسے علاقے تھے جہاں اس نوعیت کے قوانین موجود تھے۔ تاہم آزادی کے بعد ایسے علاقوں کو نئی ریاستوں کے مروجہ قوانین کے اندر لایا گیا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے علاقوں جیسے حقوق اور وسائل دیئے گئے۔ بدقسمتی سے فاٹا کو ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں یا اصلاحات سے بوجوہ محروم رکھا گیا اور یہ علاقے تا حال کالونین سسٹم کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔

90 کی دہائی میں جب قبائل کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تو آج کی اصلاحات کی طرح اس وقت بھی ’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی عناصر نے شور مچایا کہ قبائل جمہوری نظام سے نابلد ہیں اس لئے یہ تجربہ ناکام ثابت ہوگا۔ تاہم 1997 کے الیکشن میں ریکارڈ امیدوار میدان میں نکل آئے اور تنقید کاروں کے دعوے اس وقت غلط ثابت ہوئے جب باجوڑ ایجنسی کے ایک حلقے میں نہ صرف یہ کہ پورے ملک کی سطح پر ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے بلکہ متعدد قبائلی علاقوں میں خواتین نے بھی ووٹ پول کئے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کامیاب تجربے کے بعد فاٹا میں اصلاحات کے لئے عملی اقدامات کئے جاتے مگر بوجوہ ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاٹا کی تقریباً تمام ایجنسیاں بعد کے حالات کے باعث انتہا پسندی کے مراکز میں تبدیل ہوگئیں اور یہاں کے عوام کو جو محدود حقوق حاصل تھے وہ ان سے بھی محروم ہوگئے۔ سال 2001 کے بعد پھر سے ضرورت اس بات کی تھی کہ نئے حالات اور تقاضوں کے تناظر میں فاٹا کو مین سٹریم پالیٹکس اور سسٹم کا حصہ بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے اور یہاں سے کالونین قوانین اور ظالمانہ رواجوں کا خاتمہ کیا جاتا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ انگریز کے ایف سی آر قوانین کو فوراً ختم کیا جاتا اور اس اہم جغرافیائی علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے حقوق پیکیجز کا اعلان کیا جاتا۔ مگر ایسا کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی اور جب سرحدی تبدیلیوں کے تناظر میں پاک فوج کو پہلی بار فاٹا میں تعینات کیا گیا تو علم ہوا کہ یہاں کا انفراسٹرکچر تباہ حال‘ انتہائی فرسودہ اور ناقابلِ برداشت حالات سے دوچار ہے اور یہ علاقہ (فاٹا) زندگی اور سہولیات کی دوڑ میں ملک کے دیگر علاقوں سے بہت پیچھے ہے۔ سال 2003 میں اقوامِ متحدہ کے ایک ادارے نے فاٹا کو دنیا کا پسماندہ ترین علاقہ قرار دیا اور جب عالمی اداروں نے اس کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے فنڈز دینے شروع کئے تو کرپٹ ترین پولیٹیکل انتظامیہ کے وارے نیارے ہوگئے اور ایک وقت میں حالت یہ رہی کہ پشاور کے گورنر ہاؤس میں پولیٹیکل ایجنٹ اور دیگر افسران کی تعیناتی کے لئے کروڑوں کی باقاعدہ بولیاں لگنی شروع ہوگئیں۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور یہ شرمناک حقیقت سب کو معلوم ہے کہ کسی بھی پولیٹیکل ایجنٹ کی تعیناتی کے لئے تین سے دس کروڑ تک کی بولی لگائی جاتی ہے۔ نائن الیون کے بعد جو امداد آتی رہی وہ متعلقہ حکام کے لئے ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کی گئی اور اس کاروبار میں پشاور اسلام آباد کے متعلقہ افسران‘ قبائلی مالکان اور منتخب نمائندے پولیٹیکل انتظامیہ کے شراکت دار بنے۔ فاٹا کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ کی جاتی رہی کہ اس کو این ایف سی ایوارڈ اور دیگر فورمز کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ انتظامی اور اقتصادی طور پر اسے کوٹہ سسٹم کی طرز پر چلایا جاتا رہا۔2001 کے بعد گزشتہ چند برسوں تک اتنی بڑی آبادی کو نو سے بیس ارب روپے کے انتہائی قلیل بجٹ پر ٹرخایا جاتا رہا اور اس میں بھی آدھا بجٹ کرپٹ انتظامیہ کے اکاؤنٹس میں چلاجاتا تھا۔ ایف سی آر اور ایسے دیگر قوانین کے ذریعے قدم قدم پر عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رہا۔ عدالتی نظام کی حالت اتنی شرمناک رہی کہ اگر کسی باشندے نے کسی فیصلے کے خلاف اپیل کرنا ہوتی تو اسے بھی اس اتھارٹی (پولیٹیکل ایجنٹ) کے پاس جانا پڑتا تھا جس نے اسے سزا سنائی ہوتی ہے۔ عدالتی نظام نہ ہونے کے باعث لاکھوں عوام پولیٹیکل انتظامیہ کے رحم و کرم پر رہے اوراجتماعی ذمہ داری کے انتہائی فرسودہ نظام کے باعث ہر روز سیکڑوں لوگ جبرو ستم کا نشانہ بنتے گئے۔ ترقی کی حالت کیا رہی اس کا اندازہ محض اس ایک مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ 70 لاکھ سے زائد کی آبادی کے اتنے وسیع وعریض علاقے میں آج ایک بھی یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ فاٹا کی سب سے ترقی یافتہ ایجنسی یعنی خیبر ایجنسی کی حالت یہ ہے کہ فروری 2017تک یہاں کے ہسپتالوں میں ایک میں بھی سٹی سکین مشین موجود نہیں تھی۔ یوں پورے فاٹا میں ایک بھی کالج موجود نہیں ہے اور65 فیصد علاقے بجلی جیسی سہولت سے محروم ہیں۔ فوج نے علاقے میں لاتعداد منصوبے شروع کئے ہیں جن میں متعدد بڑے طبی یونٹس‘ سڑکیں اور کیڈٹ کالجز شامل ہیں مگر سول حکومتوں کی کارکردگی انتہائی مجرمانہ رہی اور حالت یہ رہی کہ حال ہی میں پاکستان سے واپس جانے والے یو این ڈی پی کے ایک کنٹری ڈائریکٹر نے اقوامِ متحدہ کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ فاٹا اکیسویں صدی میں بھی دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں میں سرِ فہرست ہے اور یہاں کے عوام افریقہ کے بعد پسماندہ ممالک سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ سال2013 کے الیکشن میں فاٹا کے بعض امیدواروں نے عوام کے مسلسل اصرار پر فاٹا میں وسیع اصلاحات کے ایجنڈے پر حصہ لیا تو عوام نے ان کو بھاری مینڈیٹ سے اسمبلیوں میں بھیجا۔ اسی دوران سال 2014 کے دوران جب نیشنل ایکشن پلان کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کے نکات میں تقریباً تین ایسے نکات تھے جن میں کہا گیا کہ فاٹا سے انتہا پسندی اور پسماندگی ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے اور اسے مین سٹریم کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس عزم کو عوام اور اکثر سیاسی قوتوں کی آشیرباد حاصل رہی۔ تاہم بدقسمتی سے سول حکومت نے اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی اور آپریشن سے لے کر ٹی ڈی پیز اور بحالی کے کاموں تک سب معاملات فوج کے کندھوں پر ڈالے رکھے۔ ممبران اسمبلی نے اس رویے کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مخاطب کیا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا اصرار بڑھتا گیا تو حکومت نے اصلاحات کے لئے ایک پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی جس نے تین ماہ تک فاٹا کی تمام ایجنسیوں کے دورے کرکے عوام‘ منتخب نمائندوں اور صاحب الرائے حلقوں سے ان کی رائے اور تجاویز معلوم کیں اور جب حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی تو اس کا خلاصہ یہ تھا کہ فاٹا میں وسیع تر بنیادی اصلاحات نہ صرف یہاں کے جنگ زدہ عوام بلکہ پاکستان کے امن‘ استحکام اور خوشحالی کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ انتظامی تبدیلی کے بارے میں تین آپریشنز تجویز کئے گئے جن میں الگ صوبے کا قیام اورصوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں تقریباً75فیصد رائے صوبے میں فاٹا شمولیت کے حق میں سامنے آئی اور اس رائے کو اکثریتی عوامی نمائندوں کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہوئی جن میں پیپلزپارٹی‘ تحریکِ انصاف‘ جماعت اسلامی‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ قومی وطن پارٹی‘ نیشنل پارٹی اور متعدد دیگر شامل ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب فاٹا کے ممبران نے ادغام اور دیگر اصلاحات کے لئے کمیٹی کی سفارشات اور عوامی مطالبات کے تناظر میں ایک بل اسمبلی میں پیش کیا اور اس کو تائید حاصل ہوئی تو دوچھوٹی جماعتوں نے بوجوہ اس کی مخالفت شروع کی جس کے باعث حکومت ابہام کا شکار ہوئی اور اپنی دو اتحادی جماعتوں کے دباؤپر مصلحت یا تاخیر کا شکار ہوگئی۔ اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی سے دو قراردادوں کے ذریعے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے کا حصہ بنایا جائے۔ جو اس جانب اشارہ تھا کہ صوبے کے عوام بھی اپنے قبائلی بھائیوں کو گلے لگانے کے لئے تیار بلکہ بے تاب ہیں۔ نئے تقاضوں اور حالات کے تناظر میں جس قومی اتفاقِ رائے کا قیام سامنے آیا ہے اس کو پاکستان کی مقتدر قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہے کیونکہ ان کو حالات کا بخوبی ادراک ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ فاٹا کو پُرامن‘ خوشحال اور محفوظ بنایا جائے تاہم بعض نام نہاد سیاسی قوتوں کے رویے نے معاملے کو متنازعہ بنادیا ہے جس پر قبائلی عوام کا شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق کے لئے پھر سے جدوجہد کرنے نکل آئے ہیں۔

انتظامی تبدیلی کے بارے میں تین آپریشنز تجویز کئے گئے جن میں الگ صوبے کا قیام اورصوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں تقریباً75فیصد رائے صوبے میں فاٹا شمولیت کے حق میں سامنے آئی اور اس رائے کو اکثریتی عوامی نمائندوں کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہوئی

سیاسی مبصرین کا متفقہ خیال اور رائے ہے کہ مزید تاخیر یا بہانوں کے بجائے اکثریتی رائے اور مخصوص حالات کا احترام اور ادراک کرتے ہوئے فاٹا کو اندھیروں‘ فرسودہ قوانین‘ کولونین گورننس اور پسماندگی سے نکالنے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور یہاں کے عوام کو وہ حقوق دیئے جائیں جو کہ پشاور‘ لاہور‘ کراچی اور کوئٹہ کے عوام کو حاصل ہیں۔ جو اقلیتی حلقے ریفرنڈم یا الگ صوبے کا مطالبہ پیش کررہے ہیں۔ ان کے مطالبے کا نہ تو کوئی سیاسی جواز ہے اور نہ ہی ان کی تجاویز کو سیاسی یا عوامی تائید حاصل ہے۔ ان کا مقصد فاٹا کے ایک بہتر مستقبل کو پھر سے سوالیہ نشان بنانا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ حسبِ معمول وارزون بنا رہے اور یہاں کے بے بس ‘ فرسودہ قوانین‘ کرپٹ انتظامیہ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے رحم و کرم پر ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اصلاحات اتفاقِ رائے کی بجائے کثرت رائے کے فارمولے کے تحت عمل میں لائی جائیں اور ایک ایسے فاٹا کی بنیاد رکھی جائے جہاں امن و خوشحالی اور استحکام آئے۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش کرتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
March

Atrocities in Kashmir: The Way India is Muzzling People

Written By: Sylvie Lasserre

Three days after the attack on an Indian military base in Uri on September 18, 2016, the Indian media reported the arrest of two Pakistani school children living in a village within an hour's walk from the Line of Control (LoC), which they had inadvertently crossed, having lost their way. During this attack, 17 soldiers were killed as well as the three militants. India, of course, immediately accused Pakistan, who rejected the claim saying: "No sane individual can suggest that Mujahideen carried out this attack to damage the Kashmiri cause”.


Yet, reassuring news for the families of the teenagers came out as, according to the Hindustan Times, an Indian daily, it was a mistake and the two 16 years old boys, Ahsan Khursheed and Faisal Hussain Awan, were expected to be repatriated the following day: "After careful investigation, we established that the boys said the truth and had no criminal intent," an official, under cover of anonymity, confessed to the famous daily.

 

atrocitesinkashminr.jpgHowever, the teenagers did not reappear, and a few days later, the Indian media were radically changing the story: sixteen-year-old boys became 19-year-old men who, after interrogation, reportedly guided the terrorists, although the teenagers were arrested on September 21, which was three days after the Uri attack. One knows what interrogations can be in Jammu and Kashmir... One had to accuse Pakistan, these teenagers were “perfect” to constitute the missing "proof".


Indeed, strangely, the Uri attack occurred just four days before Nawaz Sharif’s speech at the United Nations General Assembly on September 22. When one wants to kill his dog, one says that he is rabid. In fact, this is what happened: the Indian delegation to the General Assembly of the United Nations represented by the Foreign Minister Sushma Swaraj, Modi being absent, brandished Uri attack as "the worst attack on human rights" to justify the violence and atrocities committed in Jammu and Kashmir.

 

Despite the curfew, the Kashmiris regularly go out on the street, braving the Indian security forces which do not hesitate to fire. Since July, more than a hundred civilians have been killed, about ten thousand wounded, several hundreds of whom have lost their eyesight due to the pellet shots of the Indian Army, including women and children.

According to a Pakistani security report, some extracts of which were reported by the Pakistani newspaper The News, "The attack was deliberately designed and carried out by some sections of the Indian security establishment, in order to deflect perceived pressure at the UN over the Kashmir uprising". And indeed, the recent uprisings in Kashmir are totally indigenous and are conducted by a new generation of Kashmiris who have risen up against the occupation of India and demand freedom. Burhan Wani is their symbol.


Moreover, the Indian government seemed so annoyed at the perspective of its atrocities in Jammu and Kashmir appearing under the spot light at the General Assembly of the United Nations that it used illegal means to silence the human rights defenders who were to talk at the 33rd UN Human Rights Council in Geneva: On the morning of September 14, Khurram Parvez, a well-known Kashmiri human rights defender, was detained at Delhi Airport and prevented from taking his flight to Geneva. "I was stopped at the immigration desk. I told them that there was no charge against me and that therefore they could not prevent me from leaving the territory. But they replied that they knew nothing more and only carried out the orders," deplored Khurram Parvez. The following day, September 15, he was arrested at his home without charge and released two and a half months later: "They detained me illegally for 76 days before releasing me, thanks to international pressure and the decision of the High Court of Justice of Jammu and Kashmir, which stated that my arrest was illegal," said the human rights activist, who is also president of the Asian Federation Against Involuntary Disappearances (AFAD), adding that “they were also about to arrest Parvez Imroz and Kartik Murukutla, two human rights lawyers who were travelling to Geneva as well, but on another flight. An administrative error went in their favour and they were able to take their flight and deliver their report". In fact, India had to prevent them at any cost from denouncing the atrocities committed by the Indian Army on the civilian population of Jammu and Kashmir.

atrocitesinkashminr1.jpgHuman rights abuses by the Indian Army are recurrent in Jammu and Kashmir. The population, which claims its right to self-determination, lives in perpetual fear of the army, especially since the turmoil of the summer of 2016 following the death of Burhan Wani, the young and adulated commander of Hizb-ul-Mujaheedin, killed on July 8, 2016 by Indian security forces. Here, everybody is convinced that the 22-year-old militant was murdered – as the witnesses testify – and not killed in a fight as the army claims.
On the day of the funeral, an impressive human tide, nearly 200,000 angry people, some waving the Pakistani banner, participated in the burial of Burhan Wani whose body was wrapped in the Pakistani flag although they were in Kashmir administered by India. In fact, there, some people dream of becoming a part of Pakistan. On July 15, as protest movements rumbled in the valley, the Indian state imposed a curfew that lasted 79 days. Mobile networks and the internet were also paralyzed.


Despite the curfew, the Kashmiris regularly go out on the street, braving the Indian security forces which do not hesitate to fire. Since July, more than a hundred civilians have been killed, about ten thousand wounded, several hundreds of whom have lost their eyesight due to the pellet shots of the Indian Army, including women and children. Raids in villages, arbitrary and illegal detentions, enforced disappearances, acts of torture against civilians succeed one another in the valley. Testimonies of the brutality of soldiers abound, such as this one, for example: "First the electricity was cut off, then the soldiers began to attack our house, they beat us, including my ten-year-old niece," told a man to Agence France-Presse (AFP) from his hospital bed. "During the raid, the army and the Special Operations Group (SOG) men entered the houses, ransacked supplies and beat the occupants, injuring a dozen people, including women and children. The soldiers also took some 30 young people with them to their camp where they were beaten," said the residents of a village where the lifeless body of a 30-year-old school teacher, Shabir Ahmad Mangoo, beaten to death, was found in the streets on the morning of a raid. It should be noted that the number of soldiers deployed in Jammu and Kashmir is over 700,000, which is one soldier for about 15 civilians, making it the most militarized region in the world.


How far will the greatest "democracy" in the world go in order to continue its abuses against the population without grabbing the attention of the international community? If it could hinder Khurram Parvez, who is an Indian citizen, India could not prevent Nawaz Sharif, the Prime Minister of Pakistan, from attending the 33rd United Nations General Assembly, where he devoted half his speech to the violation of human rights in Jammu and Kashmir: "On behalf of the Kashmiri people; on behalf of the mothers, wives, sisters, and fathers of the innocent Kashmiri children, women and men who have been killed, blinded and injured; on behalf of the Pakistani nation, I demand an independent inquiry into the extra-judicial killings, and a UN fact finding mission to investigate brutalities perpetrated by the Indian occupying forces, so that those guilty of these atrocities are punished".


After Uri attack followed what India calls "surgical strikes" against Pakistan, from the other side of the LoC, that have killed dozens of innocent civilians. In fact, many villagers, including children, were hit by the Indian soldiers. On October 24, 2 people including an infant were killed. On the 28th, three people, one woman and one girl were killed; on November 19, four teenagers; four days later, eight passengers on a bus were killed and nine injured and on December 16 a school bus was targeted leaving one child dead and four injured. The killings have continued ever since.


Today, more than four months after the abduction of Ahsan Khursheed and Faisal Hussain Awan, their families are extremely desperate and still without any news. However, a glimmer of hope is beginning to emerge since an official from the Indian National Investigation Agency (NIA) began to speak anonymously to the Indian press. According to him, there was no evidence of guilt at the end of January and he mentioned the possibility that the boys "may have been frightened or constrained when they gave their first testimony." By the end of January, a senior official of the Union Home Ministry told The Hindu, an Indian daily: “We will decide on the fate of the two Pakistani boys in a month. So far, there is no evidence of them having guided the terrorists to the Uri camp. We are still verifying the details and their antecedents”.


Meanwhile, the elder brother of Faisal Hussain Awan, Ghulam Mustafa Tabassum, who is a medical practioner working in Lahore, is multiplying the contacts in order to try to find some providential help and get the two boys freed. As a last chance, he has written to Narendra Modi, the Prime Minister of India. But there is still no news. Ghulam Mustafa Tabassum told Indian media that their mother could not sleep anymore, and that he had to tell her lies, like: the boys were fine, well treated and fed and kept in a juvenile centre and that he could talk to them on the phone from time to time. The truth is that they are trapped by the political game of India and that no news regarding them and their health has emerged.


As for now, brutalities and human rights violations against the Kashmiri population continue in Jammu and Kashmir, despite regular denunciations to the United Nations.

The writer is a renowned French journalist.

Email:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it..

 
13
March

دہشت گردی کی نئی لہر

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: سمیع اللہ خان

دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے کاثبوت بھی ہے۔ 2015-16 کے دوران ضرب عضب سے دہشت گردی میں 70فیصدکمی واقع ہوئی۔ اس سے قبل 2007اور 2009 میں سوات آپریشن اور 2011-12میں جنوبی وزیرستان آپریشن کے ذریعے بھی ان کی سرکوبی کی گئی۔ محدودوسائل‘ ازلی دشمن کی موجودگی‘ معاشی ناہمواریوں سمیت عالمی استعمارکی آنکھ میں کھٹکتے سی پیک منصوبے پردجالی قوتوں کے ناپاک عزائم سمیت ہرمشکل پر پاکستان کی بہادر افواج نے خوش اسلوبی سے قابو پایااوردیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں امن کی بحالی نظر آنے لگی۔ مگرہرسوپھیلی امن کی خوشبوانسانیت کے دشمنوں کونہ بھائی اورانہوں نے چیئرنگ کراسنگ لاہور‘کوئٹہ ‘مہمندایجنسی ‘ پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان آواران‘ چارسدہ اور سیہون شریف جیسے مقامات کو اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھا کر معصوم جانوں کے لہوسے ایسی ہولی کھیلی کہ انسانیت خون کے آنسورونے لگی۔ 5 دنوں میں ہونے والے ان 8واقعات میں سوسے زائد پاکستانی شہید ہوئے مگر پاکستانی باہمت ہیں۔ وہ جوابی وار بھی کریں گے اور جیت کر بھی دکھائیں گے۔
ٹونی موریسن امریکن ناول نگارہیں۔ ان کے ناول
Beloved
میں ایک کردار بے بی سگزکاہے جوسفید چمڑی والے جابروں کے خلاف اپنے ہم نسل کالوں کو اس بات پراکساتی ہے کہ وہ ان کے ظلم کا مسکراکرجواب دیں ۔ان کامسکرانا درحقیقت غاصبوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہوتاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دھماکے کے دوسرے روز شہباز قلندرکے عقیدت مندوں کادھمال
laughter as a resistance
ہے ۔جواس بات کابین ثبوت ہے کہ اس قوم کا مورال بلند ہے۔ گیارہویں صدی کا قلندرخود ہی فرماگیا


تو آں قتل کہ از بہر تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِخنجرِخوں خوارمی رقصم
(تم وہ قاتل ہو کہ محض تماشارچانے کو میراخون بہاتے ہو اورمیں وہ بسمل ہوں کہ خنجرِ خوں خوار تلے بے نیازی سے رقص کرتاہوں)

 

dehshatgerdikinai.jpgدہشت گردی کی اس نئی لہرکے تانے بانے جوڑنے کے لئے اگر واقعات کی کڑیاں ملائی جائیں توحقیقت کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ ان بہیمانہ کارروائیوں کے پیچھے کون سے بے حس ہاتھ کارفرماہیں۔ اتوارکوکراچی میں میڈیاکارکن کی شہادت کے بعد تیرہ فروری کو مال روڈ پر دھماکہ کیا گیا۔ اسی دن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ذریعے دوپولیس اہلکاروں کی شہادت اوراس کے کچھ ہی دیربعد بھمبرسیکٹرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ سے تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ دشمن کس قدرمنظم انداز میں پاکستان کے جسم کوایذاء پہنچارہاہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی مداخلت کے جوثبوت امریکہ اور اقوام متحدہ کو دیئے گئے تھے‘ ان پرتاحال کوئی تسلی بخش ایکشن نہیں لیا گیا جس کامطلب بھارت سمجھ گیا ہے ۔


مقبوضہ کشمیرمیں جاری اندرونی عوامی تحریک سے دلبرداشتہ بھارتی آرمی چیف کا بے بسی سے اسے اندرونی شورش تسلیم کرنا‘ پاک چائنا اکنامک کاریڈورہرحال میں سبوتاژکرنے کے بھارتی ممبران اسمبلی کے تابڑتوڑ بیانات‘ اپنے طفیلی ممالک سے پاکستان کے خلاف زہراگلوانے کی حالیہ بھارتی پالیسی یہ سب ثابت کررہے ہیں کہ دشمن فائنل راؤنڈکھیلناچاہتاہے۔ اس کے تمام ترارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی تمام تر کوششیں فزوں ترکرناہوں گی۔ پولیس‘ سی ٹی ڈی‘ سپیشل فورس اور نیکٹاکو ازسرنوتشکیل دینا ہو گا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکوریٹنگ کے چکرسے نکل کرعوام کو آگاہی دیناہوگی۔


لاہورسانحہ میں ڈی آئی جی مبین احمداورایس ایس پی زاہد گوندل سمیت پندرہ افراد شہید ہوئے۔ان افسران کی شجاعت اوربہادری نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔پنجاب حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان کا نیٹ ورک تلاش کیابلکہ سہولت کار انوارالحق کوبھی گرفتارکرلیاجس کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جبکہ حملہ آور کا تعلق افغانستان کے علاقہ کنٹر سے ہے ۔ اسی طرح پشاورکے حیات آباد کے حملہ آور کی ملافضل اللہ کے ساتھ تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔ جمعرات کوسیہون شریف میں لعل شہباز قلند رکے دربار پر خود کش حملے میں 88 افراد کی شہادت ہوئی اور343زخمی ہوئے۔دھماکے میں مسلمانوں سمیت 3 ہندو بھی چل بسے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی صوفی درگاہیں ہر مذہب کے پیروکاروں کوروحانی تسکین پہنچاتی ہیں اور یہ بھی کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتاوہ بغیرکسی تمیزکے حملہ کرتے ہیں۔ اس قدر شدید نقصان کاازالہ توممکن نہیں لیکن اس سانحۂ عظیم نے قوم کے حوصلے مزید بلند کر دیئے ہیں اوروہ فوری اوربے رحم کارروائی کے متمنی دکھائی دے رہے ہیں ۔


پاکستان میں زیادہ تردہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور انڈس ہائی وے کااستعمال کرتے ہوئے دوسرے علاقوں تک پہنچتے ہیں ۔یہی انڈس ہائی وے اندرون سندھ سے گزرتی ہے ۔
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا ایک دھڑا جماعت الاحرارملوث ہے جوکہ ببانگ دہل اپنی مذموم کارروائیوں کا اعتراف کررہاہے ۔اس کی لیڈرشپ افغانستان میں موجودہے ۔اسے پاکستان میں لشکرجھنگوی کی اعانت حاصل ہے اور کچھ حصہ داعش سے بھی مددلیتاہے جبکہ دوسری جانب اس کی کڑیاں تحریک طالبان افغانستان تک بھی جاتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ داعش کاپھیلتاہوانیٹ ورک الاحرارکی دیدہ دلیری اور ہمسایہ ملک کی ریشہ دوانی ہمیں اس بات پر مجبورکررہی ہے کہ ہم افغانستان کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوارکریں اوراس کے ساتھ ساتھ عالمی استعمارکی شطرنج کی بازی اوردورُخے پن سے بھی خبرداررہیں۔ لیکن ہمیں ایک قومی بیانیہ اپنانے کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔راقم گزشتہ برس کے دوران مختلف مقامات پر دینی وعصری علوم کی درسگاہوں کے طلباء سے دہشت گردی کے موضوع پر گفتگو کرتا رہا ہے۔ ان میں سے بیشترایسے تھے جو ٹی ٹی پی کو تو غلط قراردے رہے تھے لیکن شام‘ عراق اوردیگرمسلم ممالک میں متحرک عسکری گروہوں کودبے لفظوں میں حق بجانب قرار دے رہے تھے۔ان کے ذہنوں سے ابہام دورکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ریاست کی حفاظت کرنی ہے یامسلم امہ کی ؟مسلم امہ کی حفاظت سرحدوں کی محتاج نہیں اوریہی وہ بیانیہ ہے جس کی بنیاد پر نجی عسکری گروہ معاشی‘ اخلاقی وافرادی قوت حاصل کرتے ہیں ۔جب تک ہم اس بیانیے کامتبادل قومی بیانیہ دین میں تلاش نہیں کرلیتے ان گروہوں کوشعوری و لاشعوری مدد ملتی رہے گی۔ دوسرے، پاکستان میں کچھ مسلم ممالک فرقہ واریت کی بنیاد پر اپنی اپنی پراکسی وارلڑ رہے ہیں ۔ اس کاسدباب مذہبی لٹریچر کی کڑی نگرانی اور مدارس کا ایک نصاب بنا کر کی جاسکتی ہے۔ہمیں سخت ایکشن لیتے ہوئے فقہ کی کتابوں میں سے کسی بھی مذہبی گروہ کی اکابرہستیوں کے خلاف نازیباالفاظ کو کتاب بدر کرنا ہو گا۔ مساجدمیں سرکاری خطیب ومؤذن کی تقرری سمیت تعلیمی اداروں میں ایسی فضا قائم کرنا ازحدضروری ہے جس سے انتہاپسندی کے ناسورکوپنپنے کی جگہ نہ ملے۔


پاکستان آرمی چیف قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ ہم خون کے ایک ایک قطرے کاحساب لیں گے ۔انہوں نے افغانستان میں موجودریزولیوٹ سپورٹ مشن
(Resolute Support Mission)
کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن کوپاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کاکہناہے کہ افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیومیں طلب کرکے ان 76دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جو پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ انھیں واضح اور دوٹوک اندازمیں کہا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں وگرنہ پاکستان خود کارروائی کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں مجرموں کے باہمی تبادلے پرمستقل قانون سازی کی جائے تاکہ اس عفریت کے پنپنے کے تمام راستے ہمیشہ کے لئے مسدودکئے جاسکیں۔


افغانستان کی اسمبلی ہم آواز ہوکرپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے۔ یہ صرف سابق صدرحامدکرزئی اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ کی ہی پالیسی نہیں بلکہ اس میں بھارت کی ایک عشرے کی چانکیانہ پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ پاکستان 2004کے بعد افغانستان کی تمام تر پالیسی امریکہ پر چھوڑ کربے نیازہوگیامگربھارت نے اپنااثرورسوخ بڑھاناشروع کردیا۔ویزہ پالیسی میں نرمی کی افغان طالب علموں کو اپنی جامعات میں جگہ دینے کے ساتھ ساتھ افغان کابینہ کے اخراجات برداشت کرنے کا بِیڑا بھی اٹھایااوراس طرح پاکستان مخالف کابینہ اورپالیسی کی تشکیل میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا۔


جبکہ دوسری جانب پاکستان کی مسلسل پکارکے باوجود افغانستان نے ٹی ٹی پی کے گروہوں کے خلاف ایکشن نہیں لیاکیونکہ وہ چانکیانہ دلدل میں دھنستے جارہے تھے اورپاکستان بھی طالبان اورافغان حکومت کے درمیان متوازن پالیسی پر کاربند رہنے پرمجبورتھا۔پاکستان اورافغانستان کے مابین 124برس پہلے کی کھینچی گئی ڈیورنڈلائن پربارڈرسیفٹی مینجمنٹ کے نام سے پابندیوں نے دوریوں میں مزید اضافہ کیا لیکن پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہ تھا کیونکہ افغان حکومت مسلسل بے نیازی برت رہی تھی۔ 2014میں بھی پاکستان نے افغانستان کو کمیونیکیشن ٹاورزکی معلومات شیئرکرنے کی درخواست کی لیکن اس پر بھی تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ افغانستان اس ضمن میں ہاتھ بڑھائے تاکہ دونوں ممالک میں امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ ہردوممالک کاامن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ افغان مہاجرین کی نقل وحمل کی کڑی نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس میں موجود را کے ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔

 

اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔


عالمی منظرنامے پرنظردوڑائی جائے تو ماضی قریب میں افغانستان اورپاکستان سمیت اس خطے میں بلیک واٹرنامی امریکن تنظیم کے ہزاروں کارکن امریکن مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گئے۔اس تنظیم کے مالک ایرک پرنس جسے جیرمی سکاہل جیسے لکھاری جنونی عیسائی کہتے ہیں اس وقت ڈونلڈٹرمپ کابینہ کی تشکیل میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔ ان کی بہن وزیرتعلیم جیسااہم عہدہ پر فائز ہیں۔اس سارے منظرنامے میں جہاں امریکہ میں سچ اورجھوٹ کے درمیان لکیرواضح ہوتی جارہی ہے وہیں ٹرمپ کی داعش کے خلاف شام اورعراق میں کارروائیاں اسے افغانستان اور پاکستان کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔ اس باراستعماری قوتیں پاکستان کے محروم وپسماندہ طبقات کواپناآلہ کاربناتے ہوئے لسانی وعلاقائی تعصبات سے بھی افرادی قوت حاصل کرسکتی ہیں۔ ہمیں ہرحال میں نیکٹاکوفعال کرناہوگا۔وزیراعظم کو اس کے باقاعدگی سے اجلاس بلاکرکارکردگی کوبہتربنانے کے لئے مثبت جامع اور دیرپالائحہ عمل تشکیل دیناہوگا۔


اگر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تو سندھ وپنجاب سمیت پورے ملک میں اس کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے ۔ کوئی ایسا دن نہیں جب اس نے کارروائی نہ کی ہو۔ مرکزی حکومت نے صوبائی سطح پرسویلین کاؤنٹر ٹیررازم فورس بنائی ہے جو آٹھ ہزارنفوس پرمشتمل ہے۔سی ٹی ڈی نے بروزجمعہ پنجاب کے شہرسرگودھامیں دودہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔ اسی طرح کراچی میں دہشت گردوں کوپکڑ کربڑی مقدارمیں اسلحہ برآمدکیا۔ ہفتہ کے روزلیہ میں الاحرارگروپ کے پانچ دہشت گردوں کوہلاک کرکے اسلحہ برآمدکیاگیا۔


اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔ فوجی عدالتوں کو ایکسٹینشن دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں ججز کے لئے سکیورٹی کا انتظام اوراس سسٹم میں مزید بہتری کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اپناناہوگی تاکہ آنے والی حکومتوں کو ان عارضی عدالتوں کے سہارے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
فاٹاکوکے پی کے میں ضم کئے بغیرچارہ نہیں ۔ہم کب تک 27ہزارمربع کلومیٹرکے اس علاقے کو انگریز حکومت کی طرح چلائیں گے جس کی ایک کروڑ قبائلی آبادی پاکستان سے والہانہ محبت کرتی ہے ۔ہمیں فاٹامیں عصری علوم کو اس قدرعام کرناہوگاکہ دنیاکی رائے اس کے متعلق بدل جائے اورکوئی بش، کوئی مائیکل ہیڈن (سابق ڈائریکٹرسی آئی اے)یامائیک مولن اس خطے کے متعلق ہرزہ سرائی نہ کرسکے۔


جمعے کے روز پاکستان نے افغانستان میں پہلی کارروائی کرتے ہوئے مہمند اور خیبرایجنسی کے دوسری طرف بنائے گئے الاحرارگروپ کے تربیتی مرکزسمیت چار کیمپوں کو نشانہ بنایاجس میں متعدد دہشت گردمارے گئے۔جماعت الاحرارکے ڈپٹی کمانڈرعادل باچہ کے کیمپ پربھی ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔ اندرون ملک کارروائی کرتے ہوئے سوسے زائد دہشت گردوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی طرح ہفتے کے روز کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے خودکش بمباروں کے تربیت کار رحمان باباسمیت بیس کے قریب دہشت گردافغانستان کی سرحدمیں ہلاک کردیئے۔ افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر ابرارحسین کو طلب کرکے کنٹراورننگرہارمیں ہونے والے حملے پر تشویش کااظہارکیاجسے پاکستانی سفیرابرارحسین نے مستردکرتے ہوئے پاکستانی موقف کومدلل اندازمیں پیش کیا کہ کس طرح علاقائی مفاد کی خاطرایک شرپسند ملک پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال کررہاہے۔افغان نائب وزیرخارجہ نے پاکستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے طورخم اورچمن سے پاک افغان سرحدکھولنے کے ساتھ ساتھ150 افغان باشندوں کی رہائی کامطالبہ بھی کیا۔ یاد رہے ہفتے کی رات کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے 330 مشتبہ افراد کوگرفتارکیاتھا جن میں غیرملکی بھی شامل ہیں ۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی


نیٹوکے ترجمان نے پاک افغان کشیدگی پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اس کے مناسب حل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔امریکی دفترخارجہ کے قائم مقام ترجمان مارک ٹونرنے بھی دہشت گردی سے ہونے والے پاکستانی نقصانات پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔


آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی ۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں افواج اور ملک کی عوام مل کر لڑاکرتے ہیں اورجس ملک کی عوام میں غیورباہمت اوردادشجاعت دینے والے افراد، سپاہی اور افسرموجود ہوں وہ کبھی بھی دہشت گردوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکتی۔ دہشت گردی کی حالیہ لہران بچے کچھے دہشت گردوں کی موت ثابت ہورہی ہے جو اپنی بلوں میں گھسے ہوئے تھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter