09
February

بمقابلہ۔۔۔ بمقابلہ۔۔۔

تحریر: جویریہ صدیق

جنگی جنون میں مبتلا بھارت، جس کا دفاعی بجٹ 52 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے بلکہ خطے میں ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے ایک طرف تو 2008 سے 2015 تک اس نے ہتھیار خریدنے کے لئے 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے جبکہ دوسری طرف اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود پر بہت کم خرچ کررہا ہے۔ بدانتظامی اور بے ایمانی اس قدر عروج پر ہے کہ بھارت کے فوجی بھوک، افلاس، تنگ دستی اور نامساعد حالات کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہوگئے ہیں ۔


بھارتی فوج اپنی حکومت اور اعلیٰ حکام کے ناروا رویے کے باعث بددلی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ مشکل حالات اور کم سہولیات میں ڈیوٹی بھارتی فوجیوں کے حوصلے پست کررہی ہے اور وہ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں ۔جس وقت میں یہ سطور رقم کررہی تھی اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب 10 بھارتی فوج برفانی تودے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے تھے۔کشمیر بھارتی فوجیوں کا قبرستان ثابت ہورہاہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فوجی آزادی کے متوالوں کی وجہ سے مزید خوف کا شکار ہیں ۔


دہلی سرکار کے جنگی جنون اور پاکستان سے دشمنی پر سیاست چمکانے میں قربانی کا بکرا صرف بھارتی فوجی بنتے ہیں ۔جنہیں ناکافی تربیت اور کم ساز و سامان کے ساتھ بارڈر اور مختلف آپریشنز میں بھیج دیا جاتا ہے اور جہاں انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اکثر اوقات دہلی سرکار خود بھی ڈرامے کرکے اپنی ہی فوج پر حملے کرواتی ہے خود اپنے فوجی مار کر الزام پاکستان پر دھر دیتی ہے ۔یہ طریقہ واردات بھی بھارتی فوجیوں کو بزدل بنا رہا ہے۔

bamuqablaba.jpgکم سہولتوں اور ناقص اسلحہ و ناکافی ساز و سامان کے باعث بھارتی فوجی نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں ۔خالی پیٹ جب وہ محاذوں پر ڈیوٹی سے اکتا جاتے ہیں تو چھٹی کی درخواست کرتے ہیں لیکن چھٹی نہیں ملتی ۔یہ وجہ بھارتی فوجیوں کو مزید چڑچڑا بنارہی ہے۔12 جنوری 2017 کو مشرقی بہار میں ایک سینئر اہلکار نے چھٹی نہ ملنے پر اپنے چار سینئر افسران پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ چاروں افسران اس واقعے میں جانبر نہیں ہوسکے۔یہ تمام سکیورٹی اہلکار سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس سے تعلق رکھتے تھے ۔اس بھارتی فورس کا کام اٹیمی تنصیبات اور ائیر پورٹ کی سکیورٹی ہے۔اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارتی اٹیمی تنصیبات کی سکیورٹی کیسے ہاتھوں میں ہے ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ فروری 2014 میں بھی ایک بھارتی فوجی نے سری نگر میں قائم ملٹری کیمپ میں اپنے 5 ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خود کشی کر لی تھی ۔وجہ یہی تھی کہ سینئر نے چھٹی دینے سے انکار کیا ۔فوجی لمبی ڈیوٹی، کم خوارک، سخت سردی اورنا مناسب رہائش کی وجہ سے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا اور جب اس نے دیکھا کہ چھٹی تو نہیں مل رہی تو اس نے موت کو گلے لگایا لیکن اس سے پہلے اپنے پانچ ساتھیوں کو بدلے کی آگ کی نذر کر دیا ۔


لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے دوران بھی بھارت کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔لیکن عیار و مکار دہلی سرکار اپنے فوجیوں کی لاشیں چھپا لیتی ہے اور ان کے لواحقین کو مجبور کرتی ہے کہ چپ چاپ ان کا انتم سنسکار کردو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو ۔یہ رویہ بھی بھارتی فوجیوں میں بددلی پھیلا رہا ہے ۔کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے لئے جان دینے والوں کو رات کی تاریکی میں آگ دی جاتی ہے اور ان کے گھر والے مہینوں مرنے والوں کی پینشن کے لئے دھکے کھاتے ہیں تو بھارتی فوجیوں کی لڑنے کی ہمت مزید شکستہ ہو جاتی ہے۔2 نومبر 2016 کو سابق بھارتی فوجی رام کشن گریوال نے پینشن کے معاملات حل نہ ہونے پر خودکشی کرلی تھی ۔


مقبوضہ کشمیر میں2014سے 2016تک 125 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جن میں سے18 اوڑی حملے میں مارے گئے تھے۔بھارت کے اپنے ہمسایوں پر حملے اور ریاستوں پر قابض رہنے کے لئے جنونیت نے اس کے اپنے فوجیوں کی کمر توڑ دی ہے۔جنگ میں مرنے والوں سے زیادہ تعداد خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی ہے ۔2009 سے 2014تک 597بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔2015میں 69فوجیوں نے خود کو موت کی نیند سلا لیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد پاگل پن کا شکار ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں ڈیوٹی دینے والے تقریبا 375 کے قریب بھارتی فوجی پاگل پن کا شکار ہو چکے ہیں اوران کا علاج نفسیاتی طبی مراکز میں جاری ہے۔


بھارتی فوج اور سرکار کی رہی سہی عزت کا جنازہ اس ویڈیو نے نکال دیا جس میں ایک بھارتی فوجی جوان تیج بہادر نے عام سپاہیوں کو ملنے والی سہولیات کا پول کھول دیا۔کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو سپاہی نے ویڈیو فیس بک پر ڈال دی اور ویڈیو وائرل ہوگئی ۔ویڈیو میں سپاہی جلی ہوئی روٹیاں اور پانی والی دال دکھا رہا ہے۔اس ویڈیو میں تیج نے کہا میں بی ایس ایف کی 29 بٹالین کا جوان ہوں یاد رہے یہ وہ بٹالین ہے جوکہ جموں و کشمیر میں فرائض انجام دیتی ہے۔


وہ کہتا ہے ہم برف، ٹھنڈ، طوفان میں روز گیارہ گھنٹے کی ڈیوٹی دیتے ہیں ۔تیج کہتاہے کہ نہ میڈیا ہماری صورتحال دکھاتا ہے نہ کوئی منسٹر ان کی بات سنتا ہے۔وہ کہتا ہے ہمارے حالات بہت خراب ہیں، ہمارے ساتھ بہت نا انصافی ہورہی ہے۔ہمیں اکثر بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے۔اکثر صبح ڈیوٹی بھی خالی پیٹ دینا پڑتی ہے۔ہمیں ناشتے میں ایک جلا ہوا پراٹھا ملتا ہے وہ بھی صرف چائے کے ساتھ۔ دوپہر میں صرف ہلدی، نمک والی دال ملتی ہے اور روٹیاں بھی جلی ہوئی ہوتی ہیں ۔


اس نے اپنے سینئرز کے بارے میں کہا کہ وہ چیزیں بیچ دیتے ہیں اسی وجہ سے اشیاء ان تک نہیں پہنچتی ۔اس نے سوال کیا ایسی خوارک کھا کر کیا دس گیارہ گھنٹے ڈیوٹی کی جاسکتی ہے؟تیج نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا شاید اس ویڈیو کے بنانے کے بعد وہ غائب کردیا جائے کیونکہ اعلیٰ افسران کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ باقی تین ویڈیوز میں اس نے پانی میں بنی دال دکھائی، جلی ہوئی روٹیاں دکھائیں۔ دہلی سرکار کی یہ ویڈیو دیکھ کر نیندیں اڑ گئیں۔کہاں 51 ارب ڈالر کا بجٹ اور کہاں بھوک سے بلبلاتے فوجی۔بی ایس ایف حکام یہ ویڈیو دیکھ کرسیخ پا ہوگئے اورالٹااس جوان کے خلاف انکوائری کاحکم دے دیا۔اس کے کیرئیر پر سوال اٹھا دیئے کہ اسکا کردار شروع سے ٹھیک نہیں، وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور اسے شراب کی بھی لت ہے‘ اس کی بہت عرصہ کونسلنگ بھی کی گئی ہے ۔


تیج نے میڈیا پر آکر کہا اگر بھارتی فوجی جوانوں کا خیال رکھا جاتا تو وہ ایسی ویڈیو کیوں پوسٹ کرتا۔اس نے کہا یہ مجھ پر الزام ہے کہ میرا کردار ٹھیک نہیں۔ یہ سب الزام تراشی میرے خلاف سچ کو سامنے لانے پر کی جارہی ہے۔تیج بہادر یادیو کی بیوی شرمیلا یادیو نے بھی کہا روٹی مانگنا کوئی جرم تو نہیں ۔جو سچائی ہے وہی ان کے شوہر سامنے لائے ۔شرمیلا نے مزید بتایا تیج کو سچ بولنے کی سزا ملی ہے۔ اس کو پلمبر بنا کر دوسری یونٹ میں بھیج دیا گیا ہے اور اس کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔ باڈر پر بیٹھے فوجی اب بھی بھوکے بیٹھے ہیں ۔
بی ایس ایف کے جوان کے بعد سی آر پی ایف کے جوان جیت سنگھ نے بھی اپنی ویڈیو بنا کراَپ لوڈ کردی اور اپنی تنخواہ اور مراعات میں اضافے اور چھٹی کا مطالبہ کرڈالا۔سلسلہ یہاں نہیں رکا بھارتی فوجی لانس نائیک یگیا پرتاب سنگھ نے بھی ویڈیو اپ لوڈ کردی جس میں اس نے کہا میں ایک سپاہی ہوں لیکن ہم سے افسروں کے گھر کے کام کروائے جاتے ہیں، ہم ان کے جوتے صاف کرتے ہیں ، ان کے کتوں کو سنبھالتے ہیں‘ ان کے گھروں میں ملازموں کی طرح کام کرتے ہیں۔


اس طرح کے ایک اور واقعے میں 29 ستمبر 2016 کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی چندو لال اپنے کمانڈر کے رویے سے نالاں ہوکر سرحد پار کرکے پاکستانی فوج کے پاس پہنچ گیا۔وہ اتنا بددل تھا کہ اپنے ملک واپس جانے کو تیار نہیں تھا۔تاہم پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت چندو کو بہت سے تحائف کے ساتھ واہگہ کے راستے واپس بھارت بھیج دیا ۔16 دسمبر2016 کو خاتون فوجی انیتا کماری نے مقبوضہ کشمیر میں خود کو گولی مار کر ہلاک کر ڈالا تھا۔اس طرح کے سیکڑوں واقعات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوجی بھارتی سرکار کے جنگی جنون اور رویے سے اکتا گئے ہیں ۔


بھارتی سرکار اپنے جنگی جنون کی آگ میں اپنے فوجیوں کو جھونک رہی ہے۔فوجی چھٹی اور سہولیات نہ ملنے کے باعث مایوس ہوگئے ہیں نہ ان کی زندہ ہوتے ہوئے عزت ہے نہ ہی مر کر عزت و تکریم۔بھارتی فوج قطعی طور پر بھی جنگ کے لئے تیار نہیں ہے۔بھارتی سرکار کے جنگی جنون نے بھارتی فوجیوں کو چڑچڑا اور نفسیاتی مریض بناکررکھ دیاہے۔ بھارت کی تینوں فورسز میں کوآرڈینیشن بہت کم ہے اسلحے کی دیکھ بھال بھی مناسب طریقے سے نہیں ہو رہی۔ بھارتی فوج میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ وزارت دفاع اور فوج میں خلیج حائل ہے جس کے باعث فوج کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ بھارتی فوجی خالی پیٹ اسلحہ اٹھا کر جنگ لڑنے سے قاصر ہیں ۔


اس کے برعکس پاکستان میں حالات بالکل مختلف ہیں ۔پاکستانی فوج انتظامی امور بہترین طریقے سے چلا رہی ہے اور پاک فوج کے سپاہیوں اور افسران کو بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔گزشتہ تین برس میں پاکستانی فوج نے بدترین دشمن اور سخت موسم کا مقابلہ کرتے ہوئے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت باقی علاقوں میں حکومتی رٹ قائم کی۔ اس دوران ان کے حوصلے بلند رہے اور کوئی بھی ایسا نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس میں سپاہیوں کو انتظامی طور پر کسی مشکل سے واسطہ پڑا ہو۔ الحمدللہ پاکستانی فوج میں خود کشی کی شرح زیرو فیصد ہے۔ محاذوں پر موجود پاکستانی سپاہیوں اور افسران کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔پاکستانی دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے جہاں بھارت 51 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے تو وہیں پاکستان6سے 8 ارب ڈالر اپنے دفاع پر خرچ کررہا ہے جوکہ ملکی بجٹ کا صرف 16سے 18فیصد ہوتا۔پاکستان کی پانچ لاکھ پر مشتمل فوج کو ہر طرح کی ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔پاک فوج کے افسران ہمیشہ اپنے جوانوں کے انتظام و انصرام کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ انتہائی ناگزیر حالات کے علاوہ پاک فوج ہمیشہ اپنے فوجیوں کے کھانے، چھٹی اور آرام کا خاطرخواہ انتظام کرتی ہے اور اونچے مورال اور بہترین ڈسپلن کو پہلی ترجیح دیتی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل حالات پڑنے پر پاکستانی فوجی اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اور کئی کئی ماہ اپنے گھر والوں سے دُور رہنے کے باوجود اپنے حوصلے و عزم کو بلند رکھتا ہے۔ پاک فوج کے افسر اور سپاہی کا پکا یقین ہے کہ پاک فوج زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اس کے خاندان اور گھر والوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑے گی۔ سیاچن گلیشیئر، کشمیر کے پہاڑ، تھر کے ریگستان، فاٹا اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ اور میدان ہوں، پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ ان کا مطمع نظر ذاتی یا دنیاوی منفعت نہیں ہے بلکہ پاکستان کا دفاع اور سلامتی باقی تمام فیکٹرز پر مقدم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی کے سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ نے پاکستان فوج کو دنیا کی بہترین فوج سے تعبیر کیا ہے۔


پاکستانی فوجی جس وقت محاذ پر ہوتے ہیں انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ ان کے بیوی بچے پیچھے کس حال میں ہوں گے ۔فوجیوں کے خاندانوں کے لئے بہترین تعلیمی، طبی اور رہائشی سہولیات موجود ہیں ۔افسران یا سپاہیوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاتی ۔اگر دوران جنگ کوئی فوجی، چاہے وہ سپاہی ہو یا افسر، شہید ہو جائے تو آرمی چیف اور کور کمانڈر خود اس کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔ شہید ہونے والے فوجی کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا جاتا ہے۔ تدفین اور جنازے کے اخراجات بھی آرمی کے ذمہ ہوتے ہیں ۔ان کے لواحقین کی مکمل داد رسی کی جاتی ہے۔شہید کے خاندان کو پینشن ملتی ہے، انشورنس کی رقم، بچوں کے لئے الاؤنس،بارہ ماہ کی سیلری، پلاٹ، زرعی اراضی، بیوہ اور بچوں کے لئے مفت طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔یہ چیزیں اس قربانی کا نعم البدل بالکل نہیں جوکہ ایک فوجی اپنی جان کو وطنِ عزیز پر قربان کرکے دیتا ہے تاہم یہ سہولیات اس کے خاندان کی گزر بسر میں آسانی پیدا کر دیتی ہیں۔اسی طرح اگر کوئی بھی فوجی زخمی ہوکر لوٹتا ہے تو اس کا علاج معالجہ آرمی کے ذمے ہے۔اگر وہ اپنی صحت یابی کے بعد فیلڈ میں نہیں جاسکتا تو اس کو آرمی کے دیگر محکموں میں پوسٹ کردیا جاتا ہے ۔اس کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔


پاکستان کے عوام اپنی فوج سے بہت محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔پاکستانی فوجی اپنے ملک اور عوام سے پیار کرتے ہیں۔ اس کے دفاع کے لئے ہر ممکن قربانیاں دیتے ہیں ۔افسران اور سپاہیوں کے مابین اخوت کا رشتہ مثالی ہے۔ جب وہ اپنے ساتھ اپنے سینئرز کو شانہ بشانہ جنگ لڑتے دیکھتے ہیں تو یہ ان کے جذبے اور ہمت کو دیتا ہے۔جب سپاہی اپنے سینئرز کو وہ کھانا کھاتا دیکھتے ہیں جو وہ خود کھاتے ہیں اور اپنی طرح کا رہن سہن تو یہ طبقاتی فرق کو مکمل طور پر ختم کردیتا ہے یہی بھائی چارہ پاک فوج کا اتحاد قائم رکھتا ہے۔بھارت جتنے بھی ہتھیار خرید لے لیکن اس کے فوجی اپنے اندر وہ جذبہ نہیں پیدا کرسکتے جو اسلام کے سپاہیوں، پاک فوج، میں موجود ہے ۔


کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

جویریہ صدیق ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

twitter@ Javerias

پاکستانی سپاہی دنیا کا بہترین سپاہی ہے۔

maj_gen_asif_ghafoor_new.jpg

میجر جنرل آصف غفور

افواجِ پاکستان میں ملازمت محض نوکری نہیں ہے بلکہ یہ ایک جذبہ ہے۔ یہ ایک طرز زندگی ہے۔ ہمارا ساتھ اوپر کی سطح سے لے کر بٹالین اور کمپنی کی سطح تک جاتا ہے۔ سال میں کوئی افسر اور جوان کتنی چھٹی جاتا ہے؟ ہم سال میں گیارہ ماہ تو اکٹھے رہتے ہیں۔ سو ہم سب آپس میں جڑی ہوئی ایک مربوط فیملی کی طرح سے ہیں۔ ہماری کمانڈ اور سپاہی کا رشتہ فوجی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والوں سے بھی ہے۔ ہم اپنے سولجرز کے بچوں کی شادیوں اور خوشی غمی میں ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اکٹھا کام کرتے ہیں۔ پاک فوج میں افسر اور سپاہی کا رشتہ سگے رشتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم ایک بہت ہی مضبوط اور منظم فوج ہیں اور جب ایک فوج مربوط ہوتی ہے تب ہی وہ کامیاب اور لمبی جنگ لڑ سکتی ہے۔جہاں تک سولجر کی ویلفیئر کا تعلق ہے تو افسر کی یہ ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ اپنے سپاہی کا خیال رکھے۔ اگر سپاہی کو اپنے افسر سے محبت نہیں ہے تو اس کے اندر اپنے ملک کے لئے جان دینے کا جذبہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور باہمی محبت ہمارے جذبے، عزم اور حوصلے کا بنیادی حصہ ہے۔ ہمارا سپاہی دنیا کا بہترین سپاہی ہے۔

 
08
February

افغانستان میں امریکی ناکامی کے سیاسی عوامل

Published in Hilal Urdu

تحریر : عقیل یوسف زئی

شورش زدہ افغانستان کے حالات تمام تر کوششوں کے باوجود بہتر نہیں ہو رہے اور 2018 کو اس ملک کی سلامتی اور سیکورٹی کے حوالے سے تجزیہ کار کافی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ سال 2002 کے دوران جب امریکہ اور نیٹو کی ایک لاکھ سے زائد فورسز افغانستان میں داخل ہوئیں تو طالبان نے ایک حکمتِ عملی کے تحت پسپائی اختیار کی کیونکہ ہر گوریلا گروپ کی یہی حکمتِ عملی ہوتی ہے کہ ریاستی کارروائیوں سے بچنے کے لئے وقتی طور پر پسپا ہو کر مناسب وقت کا انتظار کیا جائے اس حکمتِ عملی کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنی کامیابی اور طالبان کی مکمل شکست سے تعبیر کیا۔ اس دوران امریکہ نے تعمیرِ نو اور سیاسی استحکام کی جانب توجہ نہیں دی جس کی ضرورت تھی اور وہی غلطی دوبارہ دہرائی گئی جو 1988 کے دوران سوویت یونین کی واپسی کے بعد اپنائی گئی تھی۔ دوسری غلطی یہ کی گئی کہ جو طالبان سال2003-4 کے دوران بوجوہ جنگ کے بجائے سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہ رہے تھے ان کو اس عمل کا حصہ بننے نہیں دیا گیا اور حامد کرزئی کی خواہش کے برعکس ایسے طالبان کو وقتاً فوقتاً دیوار سے لگانے کی پالیسی اپنائی گئی۔ ایک اور غلطی یہ کی گئی کہ افغانستان کی پشتون اکثریت کو ریاستی سیٹ اپ سے باہر رکھا گیا اور ریاستی شیئرز کے تعین میں55 فیصد آبادی رکھنے والے پشتونوں کو محض 35 فیصد پر ٹرخایا گیا۔ اس کے مقابلے میں اقلیتی قومیتوں کو نہ صرف اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا بلکہ ایک منصوبے کے تحت نسلی منافرت کو کم کرنے کے بجائے مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ پشتون مایوسی کا شکار ہونے لگے اور ان کو یہ احساس ہونے لگا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جان بوجھ کر اُن کو ریاستی فیصلوںاور اداروں سے باہر رکھنا چاہ رہے ہیں۔ ردِ عمل میںپشتون آبادی نے طالبان کی پسِ پردہ معاونت شروع کی اور جو طالبان امریکی بمباری اور کارروائی سے پہاڑوں پر چڑھ گئے تھے ان کو واپس آنے کے لئے درکار ٹھکانے میسر آگئے۔ سال2005-6 کے دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ ''ہم سے یہ غلطی ہوئی کہ ہم نے تمام پشتونوںکو طالبان یا اُن کے حامی سمجھ کر ڈیل کیا اور ان عناصر کی سرپرستی کی جن کے ساتھ پشتون آبادی کی کشیدگی چل رہی تھی۔ ہم سے دوسری غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے پاکستان کے کردار کو نظر انداز کیا اور طالبان کی حمایت کی آڑ میں ہم نے اس کو شک کی نگاہ سے دیکھا حالانکہ طالبان کو اقتدار دلانے میں بنیادی کردار ہمارا تھا اور پاکستان نے اس کام میں ہماری معاونت کی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہم ہی نے پاکستان کے ساتھ ڈبل گیم کا آغاز کیا تو غلط نہیں ہوگا۔''

afghanmainamrikinakami.jpgدیگر امریکی حکام کے بیانات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں جس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ امریکہ نے ابتداء میں نئی حکومت کے قیام اور کائونٹر ٹیررازم سٹریٹجی میںبہت سی غلطیاں کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سال2004-5 کے دوران طالبان نے دوبارہ اپنی سرگرمیوں اور کارروائیوں کا آغاز کیا اور حالات پھر سے خراب ہونے لگے۔ امریکہ کے پاس مزاحمت کاروں کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے کا یا تو سرے سے کوئی پلان تھا ہی نہیں یا وہ جان بوجھ کر ایک غلط حکمت پر عمل پیرا تھے۔ دوسری طرف ان وارلارڈز کو غیر ضروری اختیارات اور کلیدی عہدے دے دیئے جو کہ نظریاتی طور پر روس اور ایران کے قریب تھے اور انہوںنے پسِ پردہ رہ کر ان کو اس کے باوجود اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا کہ اب وہ بوجوہ امریکہ کے قائم کردہ نئے سیٹ اپ کا حصہ تھے۔ دو تین سال تک حامد کرزئی ان وارلارڈز کے رحم وکرم پر رہے کیونکہ کرزئی کے پاس کوئی منظم فورس یا سیاسی طاقت نہیں تھی تاہم ان کی تجاویز اور فیصلوںپر عمل کرنے کے بجائے امریکہ نے ان عناصر پر زیادہ انحصار کیا جو کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ان پشتونوں کی نسل کشی میں کھلے عام ملوث رہے تھے جن کا عملاً طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ طالبان کے جبر کا نشانہ بنے تھے۔ دوسری طرف یورپی ممالک اور امریکہ کے درمیان بھی بعض معاملات پر ہم آہنگی کا فقدان رہا جبکہ تعمیرِ نو کے کام کی رفتار سست رہی، طالبان کے خلاف کارروائیوں میں بداحتیاطی کا مظاہرہ کیا گیا اور متعدد بار سکولوں، جنازوں اور شادی کی تقریبات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس طرزِ عمل نے افغان عوام کو نہ صرف مایوس کیا بلکہ وہ مجبوراًکئی بار مزاحمت پر بھی اُتر آئے اور یہی وجہ ہے کہ جب دوسرے دورانیے کے دوران صدر بارک اوبامہ نے واشنگٹن میں ایک ملاقات کے دوران حامد کرزئی سے ''ڈیلیور'' نہ کرنے کی شکایت کی تو کرزئی نے ان حملوں کی تحریری تفصیلات ان کے سامنے رکھ دیں جن کے دوران امریکیوں نے عام افغانوں اور ایسے اجتماعات کو نشانہ بنایا تھا اورمؤقف اپنایا کہ امریکہ کی فورسز اتنے وسائل کے باوجود طالبان کی آڑ میں عام شہریوں کو نشانہ بناکر ان کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ امریکی فورسز نے افغان روایات کے بالکل برعکس سرچ آپریشنز کے دوران دوسروں کے علاوہ خواتین اور گھروں کی تلاشیاں لے کر عوام کو مسلسل اذیت اور اشتعال کی کیفیت سے دوچار کئے رکھا۔ جبکہ بوڑھوں اور بچوں کو بھی ایسے ہی رویوں کا سامنا کرنا پڑا اس طرزِ عمل نے وہی نتائج دیئے جو کہ 80 کی دہائی میں افغانستان کے ''انقلاب ثور'' نے دیئے تھے۔1979 میں جب سردار محمد دائود کا تختہ اُلٹ کر کمیونسٹوں نے کابل پرقبضہ کیا تو انہوںنے جہاں ایک طرف محض ایک مہینے میں35ہزار لوگوں کو تشدد اورگولیوں کانشانہ بنا کر ہلاک کیا وہاں انہوں نے عام شہریوں کو ہراساں کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جس کے ردِّعمل میں جہاں ایک طرف ہزاروں لوگ عزت اور جان بچانے کے لئے ہجرت کر گئے، وہاں اسلامسٹ فورسز یا گروپوں کو مزاحمت کا موقع بھی ہاتھ آگیا اورعوام ان کے ساتھ رابطے اور تعاون کرنے لگے۔ بعد میں جب روسی افغانستان میںداخل ہوگئے تو انہوں نے بھی وہی طرزِ عمل اپنایا اور نتیجے کے طور پر لاکھوں افغانی نہ صرف پاکستان اور ایران کا رُخ کرنے لگے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مجاہدین کی صفوں میںشامل ہو کر مزاحمت پر اُتر آئے اور یوں نظریاتی معاملات نے باقاعدہ خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلی۔ امریکیوں اور ان کے شمالی اتحادیوں نے بھی وہی طرزِ عمل اپنایا اور اس کا طالبان نے فائدہ اٹھانا شروع کیا۔ حامد کرزئی کے لمبے عرصۂ اقتدار کے دوران ان کی اور امریکیوں کی باہمی چپقلش مسلسل برقرار رہی اور امریکی ان کی تجاویز کو نظرانداز کرتے رہے۔ سال 2013 کے دوران جب ڈاکٹر اشرف غنی کو افغان عوام نے منتخب کیا تو ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ نے نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے یہاں تک دھمکی دی کہ اگر ان کو اقتدار کا حصہ نہیں بنایاگیا تو افغانستان تقسیم ہو جائے گا اور مختلف علاقوں اور قومیتوں کے درمیان خانہ جنگی بڑھ جائے گی۔ اس مزاحمت کے نتیجے میں تقریباً نصف برس تک نئی حکومت کی تشکیل نہ ہو سکی اورریاستی ادارے غیرفعال رہے۔ اس طرزِ عمل نے بھی طالبان کو آگے بڑھنے کے بہترین مواقع فراہم کئے اور وہ شہروں کے دروازوں پر پہنچ کر نئے ٹھکانے ڈھونڈنے لگے۔ اس دوران جب امریکی فورسز کی تعداد کم کی گئی تو پاکستان سمیت بعض اہم افغان لیڈروں نے اس فیصلے کو خطرناک قرار دے دیا مگر امریکی اس اقدام کو درست قرار دیتے رہے۔ اس فیصلے نے بھی طالبان کے کام کو آسان بنا دیا اور وہ متعدد صوبوں میں پھیلنا شروع ہوگئے۔ غنی اور عبداﷲ کی باہمی کشیدگی نے جہاں طالبان کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے وہاں نسلی اختلافات میںمزید اضافہ ہونے لگا اور وہی صورت حال پھر سے بننی شروع ہوگئی جو کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بن گئی تھی۔ حکومت کی تشکیل میں بعض یورپی ممالک کے علاوہ بعض اسلامی ممالک عبداﷲ عبداﷲ کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور یوں اشرف غنی کو بے اختیار بنانے کی راہ ہموار ہوگئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادارے دو متضادالخیال گروپوں میںتقسیم ہونے کے باعث تصادم کی راہ پر چلنے لگے اور ریاستی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہونے لگا۔ اس صورت حال نے اشرف غنی کو کافی پریشان کیا اور ان کو وہ وقت بھی دیکھنا پڑا جب غیر ملکی دوروں کے دوران افغانستان کی نمائندگی بیک وقت دو لیڈر کرنے لگے۔ امریکیوں نے اس تمام عرصے کے دوران افغان طالبان کے ساتھ افغان حکومت کے رابطوں اور مفاہمتی کوششوں کو کسی بھی سطح پر کامیاب ہونے نہیں دیا جبکہ پاکستان کی ہر مفاہمتی کوشش کو بھی ناکام بنایا جس کی مثالی مری مذاکرات کے دوان ملا عمر کی موت کی خبر لیک کرنا اور دوسرے مرحلے کے دوران دوسرے طالبان امیر ملا اختر منصور کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانا تھا۔ نئی امریکی حکومت کے پاس ابتداء میں سرے سے افغان پالیسی تھی ہی نہیں۔ تاہم چند ماہ قبل ایک پالیسی کا اعلان کیا گیا تو وہ زمینی حقائق اور خطے کے حالات کے بالکل برعکس تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صورتحال مزید خراب ہونے لگی اور افغانستان میں حملوں کی تعداد خطرناک شکل اختیار کر گئی۔ اس دوران امریکہ پر داعش جبکہ روس اور ایران پر طالبان کی سرپرستی کے الزامات لگنے شروع ہوگئے۔ جبکہ مسلسل الزامات نے پاکستان کو بھی مجوزہ مفاہمتی عمل سے ہاتھ کھینچنے پر مجبور کیا۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ افغانستان مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے اور خدشہ ہے کہ صورت حال میں بوجوہ مزید ابتری واقع ہوگی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
08
February

اسرائیلی وزیراعظم کادورۂ بھارت

Published in Hilal Urdu

تحریر: علی جاوید نقوی

اسرائیل اوربھارت کوقریب لانے میں امریکہ کے کردار کوبھی نظراندازنہیں کیا جا سکتا، امریکی صدرٹرمپ افغانستان میں بھی بھارتی کردار بڑھانے کے حامی ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکاچھ روزہ دورۂ بھارت بے مقصد یااتفاقیہ نہیں تھابلکہ یہ خطے میں طاقت کاتوازن بگاڑنے کے منصوبے کاحصہ ہے۔ امریکہ، بھارت، اسرائیل ایک غیرعلانیہ گرینڈالائنس بناچکے ہیں،یہ گرینڈالائنس خطے میں قیام امن کے لئے ایک بڑاخطرہ ہے۔تینوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اورپالیسی ساز ایک دوسرے سے بھرپورتعاون کررہے ہیں۔امریکی دباؤ اور بھارتی اثرورسوخ کے باعث افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔اسرائیل بھی اس کھیل میں شامل ہوچکاہے ۔واشنگٹن،تل ابیب اورکابل سے اپنے اپنے ایجنٹوں کی ڈوریں ہلائی جارہی ہیں،اس کھیل میں کچھ ملک بھی شامل ہیں۔حیرت اس بات کی ہے کہ بھارت ایک طرف عرب ممالک سے تعلقات بڑھارہاہے تودوسری طرف اسرائیل سے نئے معاہدے کررہاہے۔ اسرائیل سے دوستی اورعربوں کوبھی سلام۔بھارت نے بیک وقت عرب ممالک اوراسرائیل دونوں کوخوش رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پروٹوکول کو نظراندازکرکے اسرائیلی وزیراعظم کاگرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا، شاید وہ ہمیں بتاناچاہتے تھے، ہوشیار ہو جاؤ ہم تمہارے خلاف متحد ہیں۔ملاقاتوں میں دونوں رہنما ایک دوسرے کوبھائی اوردوست قراردیتے رہے۔ اسرائیل اوربھارت کی قربتوںکی سب سے بڑی وجہ پاکستان ہے ۔ وہ بیانات کچھ بھی دیتے رہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک پاکستان کواپنادشمن سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ 130کاروباری شخصیات کاوفدتھا جس میں اسلحہ ساز،فوجی سامان اور حساس آلات بنانے والی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل تھے۔ اتنے بڑے وفد کے ساتھ آنے کامطلب یہ ہے کہ اسرائیل،بھارت کے ساتھ عسکری اور کاروباری تعلقات بڑھاناچاہتاہے ۔بھارت اوراسرائیل نے مفاہمت کی 9یادداشتوں پر دستخط کئے، جن میں سول ایوی ایشن، آئل، گیس، سائبر سکیورٹی، ٹیکنالوجی اورفلم پروڈکشن جیسے شعبے شامل ہیں۔جس وقت بھارتی وزیراعظم مودی،نیتن یاہوکے لئے اپنی پلکیں بچھار ہے تھے، بھارت کے مختلف شہروں میں مودی کے خلاف مظاہرے ہورہے تھے۔ مودی اورنیتن یاہوکے خلاف نعرے لگ رہے تھے، اسرائیلی جھنڈے جلائے جارہے تھے۔اسرائیلی وزیراعظم نے جہاں بہت سی ملاقاتیں کیں وہیں وہ ممبئی حملوں میں زندہ بچ جانے والے ایک بچے سے بھی ملے، یہ ایک پروپیگنڈا مہم کاحصہ تھا۔ اسرائیل سالانہ ایک ارب ڈالرسے زیادہ کافوجی سامان بھارت کوبرآمد کرتاہے۔ نئے معاہدوں سے بھارت کو فوجی سازوسامان کی برآمدبڑھ جائے گی ۔


نیتن یاہونے صرف سیاست دانوں اورپالیسی سازوں سے ہی ملاقات نہیں کی بلکہ بالی ووڈ اداکاروں سے بھی ملے،امیتابھ بچن اوربہت سے دوسرے بھارتی فنکاروں نے نیتن یاہوکے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بالی ووڈ کے فنکاروں کی خوب تعریف کی اورکہا کہ وہ اوراسرائیلی بالی ووڈ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔بھارت اوراسرائیل دونوں جانتے ہیں کہ فلموں اورڈراموں کے ذریعے کس طرح لوگوں کے ذہنوں اورسوچ کوبدلاجاسکتاہے ۔اب اسرائیل اوربھارت فلم انڈسٹری کے شعبے میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔


اسرائیلی وزیراعظم پاکستان کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں اورساتھ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کوبھارت اوراسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے پریشان نہیں ہوناچاہئے۔دونوں رہنما پاکستان کو نصیحتیں کررہے ہیں،لیکن دوسری طرف پاکستان کی چین سے دوستی اورسی پیک منصوبے سے امریکہ،بھارت اوراسرائیل تینوں پریشان ہیں۔انھیں اندازہ ہوگیا ہے کہ سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ہے،دوسری طرف ان ممالک کے سرمایہ کاروں کو ڈرہے کہ آئندہ چند سال میں چینی کمپنیاں انھیں دیوالیہ کردیں گی۔ انڈیا اسرائیل بزنس سیمینار بھی ہوا جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے بھارتی سرمایہ کاروں سے ناشتے پرملاقات کی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بائبل کے ساتھ ساتھ سنسکرت زبان کودنیا کی بہترین زبان قرار دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کادعویٰ ہے کہ ان کایہ دورہ بھارت اوراسرائیل دونوں کے لئے ترقی کے نئے دروازے کھول دے گا لیکن اس قسم کے دعوے ابھی قبل ازوقت ہیں۔

 

اسرائیل اوربھارت کی قربتوںکی سب سے بڑی وجہ پاکستان ہے ۔ وہ بیانات کچھ بھی دیتے رہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک پاکستان کواپنادشمن سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ 130کاروباری شخصیات کاوفدتھا جس میں اسلحہ ساز،فوجی سامان اور حساس آلات بنانے والی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل تھے۔ اتنے بڑے وفد کے ساتھ آنے کامطلب یہ ہے کہ اسرائیل،بھارت کے ساتھ عسکری اور کاروباری تعلقات بڑھاناچاہتاہے ۔

نیتن یاہوبھارت کادورہ کرنے والے دوسرے اسرائیلی وزیراعظم ہیں۔اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون بھارت کادورہ کرچکے ہیں۔بھارت اوراسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ صدرٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان کی بظاہربھارت نے مخالفت کی تھی لیکن دوسری طرف بھارت اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون بھی بڑھا رہا ہے۔ نیتن یاہو پندرہ سال میں بھارت کادورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی وزیراعظم ہیں لیکن اس وقت ان کی اپنی سیاسی پوزیشن بے حد کمزورہے۔اسرائیل کے اندران کی پالیسیوں کوتنقید کانشانہ بنایاجارہاہے۔دنیا کے بہت سے حکمرانوں کی طرح اُن پربھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ ان کے بیٹے کی ایک آڈیومنظرعام پرآئی ہے جس میں وہ گیس خریداری کے ایک سمجھوتے میں رشوت کامطالبہ کررہے ہیں۔ نیتن یاہوکادامن صاف نہیں،اسرائیل کی متنازعہ پالیسیوں کی طرح وہ خود بھی داغدار ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ بھارت کی جانب سے رشوت کی پیشکش پر اسرائیل، بھارت کوغیرروایتی ہتھیاراورٹیکنالوجی بھی خفیہ طورپرفراہم کرنے پرراضی ہو جائے۔ اس دورے کوسمجھنے کے لئے باریک بینی اورگہرائی سے اس کاجائزہ لیناہوگا۔


قارئین کویادہوگاجولائی 2017ء میں بھارتی وزیراعظم مودی نے اسرائیل کادورہ کیاتھا،وہ اسرائیل کادورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم تھے۔مودی جب اسرائیل پہنچے تونیتن یاہونے کہا تھا''ہم گزشتہ ستربرسوں سے آپ کا انتظار کر رہے تھے''۔اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان سات مختلف معاہدوں پردستخط کئے گئے تھے ۔ اسرائیلی وزیراعظم کا حالیہ دورہ بھارت اسی گٹھ جوڑ کا تسلسل ہے۔دونوں ممالک ایک دوسرے سے فوجی تعاون مسلسل بڑھارہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے نام پردونوں ممالک کے درمیان رابطے اورخفیہ معلومات کاتبادلہ بھی جاری ہے۔فلسطین کے حوالے سے بھارتی حکومت اپنامؤقف بدل چکی ہے جس پربھارتی مسلمانوں کوبے حد تشویش ہے۔ نیتن یاہوکے دورہ بھارت کے دوران کئی شہروں میں مسلم تنظیموں اورسول سوسائٹی نے فلسطینیوں پراسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کیااورجلوس نکالے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کے دوران بھی کشمیر ی نوجوانوں کومارا گیا، لائن آف کنٹرول پربھارتی جارحیت کے باعث کئی فوجی جوان شہید ہوگئے۔اسرائیل اور بھارت کے درمیان ایک قدرمشترک یہ بھی ہے کہ بھارت کشمیریوں پراوراسرائیل فلسطینیوں پرظلم ڈھارہاہے اوران کے علاقے پرقبضہ کئے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں لیکن دونوں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پروا نہیں کرتے اوردونوںکوامریکہ کی سرپرستی حاصل ہے۔یہ بات بھی غورطلب ہے کہ اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے جبکہ بھارت کومودی حکومت انتہاپسند ہندوریاست بنانے کی کوششیں کررہی ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں کی تحریک آزادی کوکچلنے کے لئے بھارت، اسرائیلی مہارت اوراسلحہ سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ کشمیریوں پرپیلٹ گن سمیت خطرناک ترین اسلحہ استعمال کیاجارہاہے۔


اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کے موقع پرپاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کو نئی دلی طلب کیاگیاتاکہ ان سے معلومات کاتبادلہ ہوسکے۔ سفارتی امور کے ماہرین جانتے ہیں ایسااُس وقت کیاجاتاہے جب متعلقہ ملک کی پالیسیوں کے بارے میں معلومات درکارہوتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ برادرعرب ممالک کوبھی بتایاجائے کہ ان کانام نہاد دوست بھارت نہ صرف اسرائیل سے مراسم بڑھا رہا ہے بلکہ وہ عرب ممالک کے مفادات کوبھی نقصان پہنچارہاہے۔
اسرائیل اوربھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں ہمیں ایک اورزاویے کو بھی مدنظررکھناہوگا وہ ہے ایران اوربھارت کے تعلقات اورمعاہدے ۔ایران کی اسرائیل اورامریکہ دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں۔بھارتی وزیراعظم نے نیتن یاہو کے دورے میں اپنی جس گرم جوشی کامظاہرہ کیاہے دیکھتے ہیں ایران اس پرکیا ردعمل ظاہرکرتاہے۔ایران اورافغانستان دونوں کواس بارے میں گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں اثرورسوخ مزیدبڑھانے کے لئے بھارت، ایران کی چابہاربندرگاہ استعمال کررہاہے ۔دوسری طرف افغان عوام کی اکثریت بھی خواہ وہ موجودہ اشرف غنی کی حکومت کے حامی ہو، اسرائیل کوپسند نہیں کرتی۔ اب اسرائیل اوربھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات نہ صرف پاکستان کے لئے خطرناک ہیں بلکہ ایران اورافغانستان کوبھی اس بارے میں سوچناپڑے گا۔ بھارت اوراسرائیل کی دوستی خطے کے تینوں مسلم ممالک پاکستان، ایران اور افغانستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بعض غیرملکی ذرائع ابلاغ کہہ رہے ہیں کہ یہ دوستی، شادی یارشتہ داری میں بدلتی نظرنہیں آرہی۔ ہاں ممکن ہے یہ کاروباری ڈیل کی حد تک کامیاب رہے۔بھارت کواسرائیلی اسلحہ اورٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جبکہ بھارت اپنی مصنوعات اورافرادی قوت اسرائیل کو فروخت کرنے کا خواہشمند بھی ہے۔ اس لئے دونوں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاناچاہتے ہیں۔


پاکستان، ایران اورافغانستان تینوں ہمسائے اورمسلم ممالک،خطے میں اسرائیل اوربھارت کے گٹھ جوڑ کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرسکتے ہیں لیکن اس کے لئے افغانستان کوبھارتی اثرورسوخ سے باہرنکلناہوگا،گوافغان حکومت کے لئے یہ اتناآسان نہیں ہے۔پاکستان اورایران کے درمیان بعض امورپرغلط فہمیاں پید اہوگئی تھیں۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے دورۂ ایران کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضابحال ہوئی ہے۔آرمی چیف کے بعد چیئرمین سینٹ اورحکومت کے دیگروفود نے بھی ایران کادورہ کیااورایرانی وفود بھی پاکستان آئے ۔وفود کے ان تبادلوں اورگفت وشنید سے تعلقات معمول پرلانے میں مدد ملی ہے۔ایرانی قیادت بھی کسی طورپریہ گوارا نہیں کرے گی کہ اسرائیل کا اس خطے یاافغانستان میں اثرورسوخ بڑھے ۔


اسرائیل اوربھارت کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے لئے بھی بڑاخطرہ ہے۔اسرائیل اوربھارت کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز 1992ء میں ہواتھا۔2003ء میں ایریل شیرون نے بھارت کادورہ کیا اور وہ بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے وزیراعظم بن گئے ۔اگرصورتحال کاباریک بینی سے تجزیہ کریں توواضح ہوجائے گاکہ ان دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے آغازکے ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردی اورقتل وغارت کاسلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ 2015ء میں بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے اسرائیل کادورہ کیا۔ 2017ء میں ہندوقوم پرست نریندرمودی نے وزیراعظم بننے کے بعد اسرائیل کا دورہ کیااورکئی معاہدوں پردستخط کئے۔صرف چھ ماہ بعد جنوری 2018ء میں نیتن یاہونے بھارت کاچھ روزہ دورہ کیا۔نیتن یاہو اورنریندر مودی ممبئی حملوں کی یاد میں آنسوبھی بہاتے رہے،بھارتی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پرتنقید کرنے کاموقع ہاتھ سے نہ جانے دیا ۔نیتن یاہوکادورہ عام نوعیت کانہیں بلکہ اسے انڈیا اوراسرائیل کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ کے تناظرمیںدیکھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک پاکستان دشمنی میں متحد ہیں دونوں کاٹارگٹ وطن عزیز ہے۔


اسرائیل اوربھارت کوقریب لانے میں امریکہ کے کردار کوبھی نظراندازنہیں کیا جا سکتا، امریکی صدرٹرمپ افغانستان میں بھی بھارتی کردار بڑھانے کے حامی ہیں،شاید نیتن یاہومودی کی ڈھارس بندھانے آئے ہوں۔اس بات کابھی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ،عرب دنیامیں اپنے پاؤں پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔اس کامقصد پاکستان اوردوست عرب ممالک میں دوریاں اورغلط فہمیاں پیداکرناہے۔اسرائیل اوربھارت کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ خطے کے امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ہمیں دوست ممالک کے ساتھ مل کراس کامقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
February

بھارت کی لائن آف کنٹرول پر جارحیت

Published in Hilal Urdu

تحریر: فرخند اقبال

خطّے کے امن اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ، بھارت کی لائن آف کنٹرول پر جارحےّت میں شدت ہے،جس کے نتیجے میں سرحد پر وطن کی حفاظت کی ذمہ داریاں نبھانے والے ہمارے بہادر فوجی جوانوں اور سرحدی علاقے کے شہریوں کی شہادتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر میں وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ''بھارت نے 2017میں 1300مرتبہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی جس میں 52پاکستانی شہری ہلاک اور 175زخمی ہوچکے ہیں۔''اس سے قبل 19جون 2017کو ڈائریکٹر جنرل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ظہیرالدین قریشی نے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کشمیر امور کو آگاہ کیا تھا''اب تک لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 832 افراد جان بحق اور 3000زخمی ہوچکے ہیں ،جبکہ 3300مکانات کو نقصانات پہنچا ہے۔ علاقے میں رہائش پذیر 425,000شہری خطرے کی زد میں ہیں۔''

 

مقبوضہ جموں و کشمیر پر قبضے کی وجہ سے اسے خطے میں ایٹمی جنگ کے لئے ایک فلیش پوائنٹ میں تبدیل کرنے والے بھارت کی اپنی سرحدوں کی پالیسی پورے ایشیا کے لئے نہایت خطرناک ہے۔اس کی جارحانہ خارجہ پالیسی سے خطے کے نہ تو مضبوط ممالک محفوظ ہیں اور نہ ہی کمزور۔ وہ اگر ایک طرف پاکستان اور چین جیسے طاقتور ممالک کی دشمنی کا بہانہ بناکر جدید اسلحے کے ڈھیر لگا رہا ہے تو دوسری جانب لالچ اور دھونس پر مبنی پالیسی کے ذریعے افغانستان، نیپال اور بنگلہ دیش جیسے کمزور ممالک کو بھی نہیں بخش رہا۔

بھارت کے اس امن دشمن رویے کی وجہ سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کی کشیدگ میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ اس سے خطّے کے امن و ترقی کا سفر بھی منجمد ہوچکا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے فرار کی پالیسی اور سرحدی جارحیت کے باعث خطّے میں عدم تعاون کی فضا ہے،جس کی سب سے بڑی مثال
South Asian Association of Regional Cooperation (SAARC)
کا تقریباً غیر فعال ہونا ہے۔ اقتصادی ترقی اور خطے کے ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے قائم تنظیم' سارک' میں پاکستان اور بھارت دو بڑے ملک ہیںاور اس تنظیم کی کامیابی اور اس کے مقاصد کے حصول کی بنیادی شرط ان دو ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات ہیں، لیکن بھارت کے غیرسنجیدہ رویے نے یہاں عدم تعاون اور بے یقینی کی فضا قائم کررکھی ہے۔ نتیجے میں تنظیم کے رکن ممالک پاکستان، بھارت، افغانستان، نیپال، بھوٹان ،بنگلہ دیش، مالدیپ اور سری لنکا کے درمیان تنظیمی تعلقات عنقاء ہیں۔ یہ ممالک اپنے اقتصادی مفادات کے لئے انفرادی پالیسیوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے درمیان گروپ کی سطح پر باہمی ہم آہنگی موجود نہیں ہے جو خطے کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی کے لئے لازمی ہوتی ہے۔ خطّے کے امن کی راہ میں اس وقت دو سب سے بڑی رکاوٹیں کشمیر اور افغانستان کے تنازعات ہیںجہاں پاکستان اور بھارت دونوں ممالک سٹیک رکھتے ہیں۔ ان تنازعات کا حل ان دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت پر منحصر ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں ہی ان تنازعات کے حل کی جانب سنجیدہ کوشش کی جاسکتی ہے، لیکن جب تک ان کی سرحد پر بنیادی امن قائم نہیں ہوگا ،نہ صرف ان تنازعات میں شدت آئے گی بلکہ اس سے ایک بڑی جنگ کے خطرات بھی ہر وقت منڈ لاتے رہیںگے۔بھارتی جارحیت کی وجہ سے سرحد پر شورش کے باعث خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ اس وقت بھارت دنیا میں اسلحے کی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ اس فہرست میں پاکستان 9ویں پوزیشن رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ رہنے کی وجہ سے دونوں جانب اقتصادی ترقی کی رفتار بھی سست روی کا شکار ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ خطے کے دیگر ملکوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہے کیونکہ وہ ان کی طاقتور حیثیت کے باعث اپنے آزادانہ تعلقات قائم نہیں کرسکتے،وہ گروپ بندی قسم کے تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے خطے میں باہمی ہم آہنگی اور تعمیری ماحول کا فقدان ہے۔

 

bharatkilineofcontrol.jpgبھارت کی خارجہ پالیسی خطّے میں عدم استحکام اور انتشار کا باعث بن رہی ہے۔ وہ اگر ایک طرف پاکستانی سرحد پر اشتعال انگیز کارروائیاں کرتا ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ بھی سرحد ی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کشمکش میں اسے حال ہی میں ڈوکلام کے تنازعے میںسُبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس نے تبت کے علاقے میں چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر کا بہانہ بناکر اپنے فوجی دستے سرحد پر تعینات کئے تھے، بعد ازاں وہ چین کے آگے گھٹنے ٹیک کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ بھارت ایک اور پڑوسی ملک نیپال کی اندرونی سیاست میں بھی بے جا مداخلت کرتا ہے۔ وہ نیپالی حکومت کے خلاف برسرپیکار مادھیشیوں کو شہہ دے کر ان کے ذریعے نیپال کی حکومت کمزور کرکے اسے اپنی مٹھی میں رکھنے کی تگ ودو میں مصروف رہتا ہے جس کی وجہ سے اس گروپ کی حکومتی فورسز سے جھڑپیں ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف نیپال کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیںبلکہ بھارت نے 2015میں اس ملک کی ناکہ بندی کرکے شدید اقتصادی اور انسانی بحران کو جنم دیا تھا۔ یاد رہے کہ اس ناکہ بندی کے دوران ادویات اور زلزلہ ریلیف مواد کی ترسیل بھی روک دی گئی تھی،جس پر عالمی سطح پر بھارت پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بھارت اس خطّے کی ترقی و خوشحالی کے لئے اہم کردار اداکرنے کی اہلیت رکھنے والی پاک چین اقتصادی راہداری کو بھی سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا ہے، اور اس کے لئے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں اس کی دہشت گرد کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب پاکستان ملک کے اندر اور خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے، خود کو جمہوریت کا چیمپیئن کہلانے والے بھارت کی امن دشمن پالیسیاں ان کوششوں کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔وہ نہ صرف لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی کے ذریعے پاکستانی فورسز کی توجہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز سے ہٹانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں کرنے کے لئے افغانستان کی سرزمین بھی ا ستعمال کرتا ہے۔
باوجود اس کے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پر سیزفائر کے تحت ایک
arrangement
موجود ہے جس کے تحت سرحد کی دونوں جانب دس کلومیٹر تک ایسی کسی فوجی چال
(Action)
کی تدبیر نہیں کی جاسکتی جس کے ذریعے دوسرے ملک کا دفاع خطرے میں پڑ سکتا ہو، بھارت ایل او سی کے قریب جاسوس ڈرونز استعمال کرتا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ جون میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھارت کو جدید ترین جاسوس ڈرونز کی فراہمی کا معاہدہ ہواتھا، جس کی ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں منظوری بھی دے دی ہے۔ بھارت ان ڈرونز میں نصب کیمروں کی مدد سے سرحد کے قریب پاکستان کے ایسے علاقوں پر نظر رکھنا چاہتا ہے جہاں پر ہماری دفاع یا دشمن کے حملے کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت کمزور ہوگی اوراسی طرح وہ وہاں سے مستقبل میں پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کر سکے گا۔ واضح رہے کہ بھارت کا ایسا کوئی بھی اقدام دونوں ممالک کے درمیان براہ راست جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے کیونکہ جب بھارت نے گزشتہ سال مقبوضہ جموں و کشمیر میں اوڑی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ بھارت اگر اگلی بار ڈرامے کے بجائے حقیقی سرجیکل سٹرائیک کرنے کی جرأت کرتا ہے تو پاکستان کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کرنے میں دریغ نہیں کرے گااور یوں ایک تباہ کن جنگ شروع ہونے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔


مقبوضہ جموں و کشمیر پر قبضے کی وجہ سے اسے خطے میں ایٹمی جنگ کے لئے ایک فلیش پوائنٹ میں تبدیل کرنے والے بھارت کی اپنی سرحدوں کی پالیسی پورے ایشیا کے لئے نہایت خطرناک ہے۔اس کی جارحانہ خارجہ پالیسی سے خطے کے نہ تو مضبوط ممالک محفوظ ہیں اور نہ ہی کمزور۔ وہ اگر ایک طرف پاکستان اور چین جیسے طاقتور ممالک کی دشمنی کا بہانہ بناکر جدید اسلحے کے ڈھیر لگا رہا ہے تو دوسری جانب لالچ اور دھونس پر مبنی پالیسی کے ذریعے افغانستان، نیپال اور بنگلہ دیش جیسے کمزور ممالک کو بھی نہیں بخش رہا۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو اس خطے پر جنگوں کے بادل ہمیشہ منڈلاتے رہیں گے اور یہاں خوشحالی ،امن اور ترقی کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے۔ یہ اس وقت اقوام متحدہ اور بڑے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی خطرناک خارجہ پالیسی پر توجہ مرکوز کریں اور اس پر دباؤ ڈالیں کہ وہ منفی پالیسیاں چھوڑ کر خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دیگر ممالک کا ساتھ دے۔

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter