10
February

بحرہند میں امن کا فروغ

تحریر: محمد اعظم خان

سمندر کے ذریعے بڑی تعداد میں نقل و حمل نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضائی نقل و حمل سے تقریباً 163گنا سستی بھی ہے۔ 90 فیصد بین البراعظمی سامان کی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ تقریباً 15ملین کنٹینرز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ کنٹینرز سا لانہ 200ملین سے زائد مرتبہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 38ہزار سے زائد تجارتی جہاز سمندری راستوں کے ذریعے 4500سے زائدبین الاقوامی بندرگاہوں کے درمیان ایک عالمگیر رابطے کا باعث بنتے ہیں۔
68.56ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا بحرہند دنیامیں تیسرا بڑا بحر ہے جو زمین کی سطح کے تقریباً 20فی صد حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔47ممالک کے ساحلوں اور کئی جزیروں کا مسکن بحر ہند جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے بہت اہم ہے۔

behrhindmainmut.jpgبحر ہندمیں سالانہ تقریباً ایک لاکھ جہاز ایک وسیع علاقے کا سفر کرتے ہیں اور یہ بحر دنیا میں‘ وزن کے اعتبار سے‘ سامان کی بڑی مقدار میں نقل و حرکت کا بحر مانا جاتا ہے۔ یہ بحر دنیا کے طویل سفر کرنے والے مال بردار جہازوں کی نقل و حمل کے لئے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً نصف بحری آمدو رفت اور پیٹرولیم مصنوعات کی80 فیصد سے زائد نقل و حمل اسی بحر کے ذریعے ہوتی ہے۔ دنیا کے تیل کا 65فیصد حصہ اور گیس کے 35فیصد ذخائر بحر ہند کے ساحلی ممالک میں واقع ہیں۔ کئی ممالک کی تجارتی آمدو رفت اسی بحرکے ذریعے ہوتی ہے۔ امریکہ ، فرانس اور جاپان، خلیج سے توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں ۔ مشرق سے مغرب کابحری تجارتی راستہ جو عین شمالی بحرِ ہند سے گزرتا ہے، دنیا کا اہم ترین تجارتی راستہ ہے اور ہزاروں جہاز ہر وقت اس پر رواں رہتے ہیں ۔
اکیسویں صدی اپنے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے بے مثال مواقع لائی ہے لیکن یہ مواقع سیاسی اور معاشی بد نظمی اور عدم استحکام جیسے خطرات سے دوچار ہیں ۔ دنیا کی قومی معیشتوں کے حوالے سے ان میں سے 80کی دہائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ، توانائی اور صنعتی خام مال کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔نتیجہ یہ کہ اس صورت حال نے بین الاقوامی تجارت کو بہت تیزی کے ساتھ بحری تجارتی راستوں کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، بحری قزاقی، سمندری وسائل کے استحصال،معاشی نظام میں بگاڑ اورعالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کے پس منظر میں عالمی سکیورٹی، اقتصادیات اور ماحول کو لاحق مختلف النوع خطرات میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے،جس کے لئے مشترکہ اورزیرک سوچ کی ضرورت ہے۔ بحری تجارت میں ہر ملک شامل ہے اور اس کی حفاظت تمام شراکت داروں کی مربوط حکمت عملی کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔


سا ل2007سے پاک بحریہ کی جانب سے منعقد ہ امن مشقیں اور انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس مغربی بحرہند میں میری ٹائم سکیورٹی کو بہتر بنانے کی جانب ایک غیر معمولی قد م ہے۔ ’’امن‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی انگریزی میں
’’Peace‘‘
کے ہیں۔اس مشق کا سلوگن ’’ امن کے لئے متحد
، Together for Peace‘‘
ہے جو اس مشق کی بنیاد بنا۔2007 سے منعقدہ ہرمشق میں عالمی بحری افواج اور مندوبین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔مشق امن 2007میں عالمی بحری افواج کے14 جہازوں، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی 2ٹیموں اور 21ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ سال 2009میں منعقدہ دوسری امن مشق میں14جہازوں، 2 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسزکی9ٹیموں اور 27ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ مارچ2011میں منعقد ہونے والی تیسری امن مشق میں 11 جہازوں، 3 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی اور میرینز کی 3 ٹیموں اور 28ممالک کے43مندوبین نے شرکت کی۔ امن مشقوں کے سلسلے کی چوتھی مشق امن 2013میں 12جہازوں ،2ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی6ٹیموں اور29ممالک کے 36 مندوبین نے شرکت کی۔
امن مشقوں کے انعقادکامقصد معلومات کے تبادلے اور باہمی دلچسپی کے اُمور بشمول میری ٹائم سکیورٹی کے مسائل ،دہشت گردی کے خاتمے اور انسانیت کی مدد جیسے آپریشنزپر یکساں سوچ کوفروغ دینا ہے۔ مشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فضا،سمندر اور زیر سمندر خطرات سے نبردآزمائی کے لئے مشترکہ مہارتوں کے فروغ اور مختلف مشقوں کے ذریعے سپیشل آپریشنز فورسز کی مہارتوں میں اضافے کا حصول بھی ان مشقوں کے انعقاد کے مقاصد میں شامل ہے۔


امن مشقوں کا انعقاد پاکستان نیوی کا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ کثیر مقاصد کے حصول کی حامل یہ مشقیں خطے میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی بحری افواج کے ساتھ پاک بحریہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہیں ۔ امن مشقوں کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی قوت کے طور پرپاک بحریہ کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اتحادی ممالک کا پاک بحریہ پر اعتماد بھی بڑھا ہے۔مشق امن 2017کا انعقاد اس اعتمادمیں مزید اضافے کا باعث ہوگا ۔مشق امن 2017 میں 35ممالک سے زائد جہاز، ایئرکرافٹ، ہیلی کاپٹرز، سپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو نا کا رہ بنانے والی ٹیمیں، میرینز پر مشتمل ٹیمیں اور مندوبین شرکت کریں گے۔ مشق امن 2017 میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں پر عالمی برادری کے اعتماد و یقین اور مستقبل میں پاکستان اور پاک بحریہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
11
July

قدرتی وسائل پاکستان کی معیشت بہتر کرسکتے ہیں

Published in Hilal Urdu

تحریر: ملیحہ خادم

دریا، پہاڑ، سمندر، صحرا،زر خیز زمین اور چارموسم۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جواگرکسی ملک کے پاس ہوں تو وہاں کے باشندوں کو خوش قسمت خیال کیا جاتا ہے کیونکہ ان چھ عناصر کی موجودگی میں معیشت خود انحصاری کی راہ پر رواں دواں رہتی ہے اور عوام خوشحال رہتے ہیں نیز بہتر طرز زندگی کی ضمانت اور ذرائع روزگار بھی ہمہ وقت میسر ہیں- چونکہ مضبوط اورمستحکم معاشی حالات پرسکون معاشرے کو جنم دیتے ہیں اس لئے عوام کی فلاح کو ذہن میں رکھتے ہوئے جہاں تجارت، کاروبار اور افراط زر کے حوالے سے پالیسی بنانی ضروری ہے وہیں قدرتی وسائل کادرست استعمال بھی بے حد ضروری ہے ۔


قدرت نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازاہے۔ ہمارے پاس یہ سب چیزیں بھی ہیں اور صلاحیتوں سے مالامال قوم بھی۔ لیکن پھر بھی ہمارے معاشی حالات ابتر ہیں اور بحیثیت مجموعی ہم اور ہمارا ملک بیرونی امداد کے محتاج ہوتے جارہے ہیں۔ ہم بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ جھیل رہے ہیں، ہمارے ذرائع آمدن اورروزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ جہاں اوربہت سے عوامل اس صورتحال کو پیدا کررہے ہیں وہیں ہماری اپنی تساہل پسندی اور مستقبل پر نظر نہ رکھنے کی غلطی پاکستان کو نقصان پہنچارہی ہے۔


افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر ہمارے ارباب اختیار کی توجہ اس طرف کم ہے تو عام پاکستانی بھی کوتاہ اندیشی سے کام لے رہے ہیں۔ ہم قدرتی وسائل کو اندھادھند بغیر کسی منصوبہ بندی کے استعمال کررہے ہیں۔ ہم نے کل کے لئے سوچنا اور محنت کرنا کم کردیا ہے اس کے بجائے ہماری توجہ صرف آج سے وابستہ ہو کر رہ گئی ہے۔ تیل، پٹرولیم اور گیس کے ذخائر، قیمتی پتھر اور دھاتوں سے ہٹ کر اگر صرف قدرت کی طرف سے عطا کردہ وسائل کوہی اچھے طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان ترقی کرسکتا ہے۔

qudartiwasail.jpgدریا، پہاڑ جنگلات اور صحرا وغیرہ سیاحوں کے لئے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ وہ خدا کی خدائی دیکھنے کے لئے ایسے مقامات کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جس کا فائدہ نچلی سطح سے لے کر اوپر تک معیشت کو پہنچتا ہے۔ اس لئے ایسے مقامات کی حفاظت اور خوبصورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔


گزشتہ چند دہائیوں میں بدامنی اور دہشت گردی نے سیاحوں کو پاکستان سے خوفزدہ کردیا تھا لیکن اب جب کہ ہمارے ملک میں امن واپس آرہا ہے تو ہمیں سیاحت پر پوری توجہ دے کر پاکستان کو سیاحوں کی جنت بنا دینا چاہئے۔ اس سے معاشی حالات تو بہتر ہوں گے ہی ساتھ میں پاکستان اور پاکستانیوں کا اصل روشن اور مہمان نواز چہرہ بھی دنیا کے سامنے آئے گا۔ مناسب انتظامات اور بہتر منصوبہ بندی سے ہم مزید بہتری لا سکتے ہیں۔


پانی زندگی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ تیل کے بعد پانی پرجنگیں شروع ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ اس وقت ساری دنیا میں پانی کم ہورہا ہے۔ بیشتر ممالک نے اس بحران کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ پانی کے ذخائر بڑھانے کے علاوہ وہاں کی حکومتوں نے پانی کے بے جا استعمال اور زیاں کی روک تھام کا بندوبست بھی شروع کردیاہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں اس مسئلے کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نہ ڈیم بنارہے ہیں جو پانی ذخیرہ کرکے بجلی اور دیگر ضروریات کو پورا کریں اور نہ ہی ہماری توجہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی طرف ہے۔ بارشوں کے بعد وہ تمام پانی جو ہماری بہت سی ضروریات پوری کرسکتا ہے، سیلاب کی نظر ہوجا تا ہے اور عوام بجلی اورپانی کو ترستے رہ جاتے ہیں۔ ہم دریاؤں اور سمندرکے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بھگت رہے ہیں اور پانی کی کمی کا رونا بھی رورہے ہیں لیکن اس دہری مصیبت کے تدارک کی کوششیں سرکاری اورعوامی سطح پرآٹے میں نمک کے برابرہیں ۔ اگر ایک طرف ہماری موجودہ اور سابقہ تمام حکومتیں پانی کے ذخائر بنانے میں سستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں تو دوسری طرف عوام بلا ضرورت گھروں کے صحن، کپڑے اور گاڑیاں دھو کر پانی ضائع کرنے میں اکثر اوقات چستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔


پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی نصف سے زیادہ آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے،لیکن نااہلی اورناقص حکمت عملی نے ہمارے ملک کے زرعی شعبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کسانوں کی جدید خطوط پر تربیت نہ ہونے کے باعث کسان کاشتکاری کے نئے طریقوں سے واقف نہیں ہیں جس کی وجہ سے فصل کی کاشت کے لئے پرانے اور روایتی طریقے اپنائے جاتے ہیں، نتیجہ زرعی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے ۔ اس کی وجہ سے زراعت میں ہماری خودانحصاری کم ہورہی ہے اور ہم سبزیاں درآمد کرنا شروع کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی کمی اورزرعی اراضی کی سیرابی کے مروجہ طریقہ کارجو اکثر ملکوں میں متروکہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں، بھی کسانوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔


گزشتہ کچھ سالوں سے دنیا بھرمیں موسمیاتی تبدیلیاں رونماہورہی ہیں جن کی لپیٹ میں پاکستان بھی آیا ہوا ہے۔ اب پاکستان کا موسم بھی زیادہ گرم ہوتا جارہا ہے اور سیلاب سمیت دیگر قدرتی آفات جن میں خشک سالی، زلزلے اور طوفانی بارشیں شامل ہیں، پہلے کی نسبت زیادہ وقوع پذیر ہونے لگے ہیں۔ اس موسمیاتی تبدیلی نے زرعی پیداوار کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ بارش کی کمی‘ زیادتی یا شدید گرمی اور سردی فصلوں کونقصان پہنچارہی ہے اور چونکہ ہمارا کسان موسم کے ان تغیرات سے آگاہی نہیں رکھتا اس لئے وہ اپنی فصل کو موسمی تبدیلیوں سے بچا نہیں پاتا‘ لہٰذا اس کی محنت اور کمائی ضائع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔


ہم نے صنعتوں سے خارج ہونیوالی گیس اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے جو فضا کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی میں شامل ہوکر انسانی زندگی کی لئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ اکثر فیکٹریاں اپنا صنعتی فضلہ غیر محفوظ طریقے سے پھینک دیتی ہیں اور چونکہ سرکاری سطح پر یہاں بھی ناقص منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا دوردورہ ہے اس لئے اکثر یہ زہریلا مواد صنعتی علاقوں کے قرب و جوار کی آبادیوں میں متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کا ایک سبب یہ زہریلی اور مضر صحت گیس اور مادہ بھی ہیں جس کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے۔


گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث ہر سال قیمتی انسانی زندگیاں ضائع ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی ہماری حکومت کی حکمت عملی نہیں بن پارہی ۔ ماہرین موسمیاتی تغیرات سے بچنے کا آسان ترین حل شجر کاری کو قرار دیتے ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں نئے درخت لگانا تو درکنار لگے ہوئے درخت بھی کاٹے جارہے ہیں۔ دریاؤں کے کناروں پر موجود درخت سیلاب سے بچاو کابہترین اور قدرتی ذریعہ ہیں لیکن یہاں بھی ہم کوتاہ اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان درختوں کو کاٹ دیتے ہیں۔ ہر سال کتنے ہی ایکڑ زرعی ا راضی، رہائشی مکانات، مویشی اور انسانی جانیں سیلاب کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں لیکن ہم بیرونی امدد کے آسرے پر حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔


بجلی کے بحران، طوفا نی بارش، سیلاب سمیت ان تمام نقصانات کا خمیازہ ہماری معیشت کو بھگتنا پڑتا ہے اور ہم مزید بیرونی قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں۔ ضرورت وقت ہے کہ حکومت ان بنیادی مسائل پر خصوصی توجہ دے اور سب سے پہلے ملک میں پانی کے ذخائر میں اضافہ کرے تاکہ بجلی اور زراعت کا شعبہ مستحکم ہوسکے نیز ہر سال آنیوالے سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں سے بھی بچاجا سکے۔ نیز شجرکاری پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ گرمی کی شدت کا تدارک ہوسکے۔ دریاؤں، چشموں کے پانی کو استعمال میں لا کر اس سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ تھرکے صحرا کو پانی پہنچا کر وہاں قحط اور خشک سالی کی شکار معصوم زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب بہت زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہیں، بس ذرا سی منصوبہ بندی اور عزم درکار ہے تاکہ معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکے اور قدرتی وسائل سے استفادہ حاصل کیا جاسکے ۔

ملیحہ خادم فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

علاقائی تعاون۔ مگر کیسے؟

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا۔ مرکزی خیال یہی تھا کہ محفوظ اور مستحکم افغانستان ہی اس تمام خطے کی ترقی اور خوش حالی کا ضامن ہو گا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو کہ استنبول سلسلہ بھی کہلاتا ہے کل چودہ ممالک شامل ہیں۔ تمام اہم علاقائی ممالک اس کے ممبر ہیں جبکہ 17معاون ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ بارہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بطور معاون موجود ہیں۔ یہ تنظیم تین بنیادی مسائل یا معاملات جو کہ سیاسی مشاورت‘ اعتماد سازی کے اقدامات اور علاقائی تنظیموں سے تعاون ہیں،کی طرف مرکوز ہے۔
ماضی میں کچھ اس سے ملتی جلتی ایک کانفرنس
European Conference on Security & Cooperation
جو کہ یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کے نام سے جولائی 1973 میں شروع کی گئی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں ایسی کانفرنس کا انعقاد ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں مشہور زمانہ ہیلسنکی معاہدے پر اگست 1975 میں دستخط ہوئے۔ اسی کانفرنس نے آگے جا کر یورپی تنظیم برائے سکیورٹی اور تعاون کا روپ دھار لیا۔
OSCE
اس وقت دنیا کی سب سے بڑی علاقائی سکیورٹی کی تنظیم بن چکی ہے۔ جس کے 57ممالک ممبر ہیں۔ ہارٹ آف آیشیا کانفرنس شروع کرنے کے پیچھے ممکن ہے
OSCE
کاَ کامیاب انعقاد پیش نظر ہو۔ اس وقت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی ’6سال کے عرصے میں‘ 6کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ استنبول، کابل، الماتی، (قازقستان)،بیجنگ اور اسلام آباد جبکہ آخری یعنی چھٹی کانفرنس امرتسر میں 5دسمبر کو منعقد ہوئی۔


چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پہلے پاک بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔ 2016 کے وسط میں کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں تحریک آزادی میں مزید شدت اس وقت آئی۔ جب برہان مظفر وانی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ بھارت اپنی تمام تر ریاستی زور اور طاقت کے باوجود کشمیریوں کی حق خودارادی کی تحریک کو دبا نہ سکا۔ بھارت نے بڑھتی ہوئی تحریک کو پاکستان حمایتی قرار دیتے ہوئے سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا اور دو سطح پر پالیسی بنائی۔ پہلی سطح پر دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ پاکستان کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی تحریک آزادی کی مالی اور فوجی معاونت کر رہا ہے اور ساتھ ہی تمام تر ریاستی اور فوجی قوت اور ظلم و تشدد سے کشمیریوں کی تحریک کچلنے کی کوشش کی جانے لگی اور دوسری سطح پرلگاتار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارت کی جانب سے تقریباً 250سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان میں پہلے سے طے شدہ سارک سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے حلیف ممالک افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اس بائیکاٹ میں شامل کر لیا۔ نتیجتاً پاکستان نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی۔ اس پس منظر میں پاکستانی حکومت کے سامنے یہ سوال کھڑا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے یا بھارت کی طرح اس کا بائیکاٹ کرے۔ لیکن پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے کانفرنس ملتوی نہ ہونی تھی کیونکہ اس میں 13دوسرے ممالک بھی شامل تھے۔


حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح غیرذمہ دارانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ پاک بھارت کشیدگی مذاکرات سے ختم ہو گی نہ کہ ایک دوسرے سے بات چیت بالکل ختم کر دینے سے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مفادات ہیں اور امرتسر کانفرنس کا مقصد افغانستان اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرنا تھی۔ تیسرے یہ کہ اس وقت بھارت کی پالیسی پاکستان کو خطے میں اور دنیا بھر سے الگ تھلگ کرنا ہے تو اس کا بہترین توڑ یہی ہے کہ پاکستان اس کانفرنس میں شرکت بھی کرے اور اپنا حصہ بھی ڈالے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت سے تمام معاملات پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ میں یہ فورم
CAREC (Central Asian Regional Economic Cooperation)
کی بھی حمایت کرتا ہے اور
HOA
کے ممبر
CAREC
کے ممبر بھی ہیں لہٰذا کانفرنس میں شرکت کرنے سے
CAREC
میں بھی شمولیت مزید فعال ہو گی۔
چنانچہ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر محترم سرتاج عزیز امرتسر پہنچے۔ ان کا پرتپاک استقبال پاکستانی ہائی کمشنر نے کیا۔ تاہم سرتاج عزیز کو آدھ گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ بھارتی حکومت کی سردمہری پاکستانی مندوب کے پہنچتے ہی نظر آنے لگی۔


کانفرنس کا موضوع افغانستان تھا خاص کر اس میں موجود دہشت گردی سے نمٹنا تھا۔ پاکستان افغانستان تعلقات اس کانفرنس میں زبردست پلٹا کھا گئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں دہشت گردی کا سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ان کے مطابق ہمیں سرحد پار پاکستان سے ہونی والی دہشت گردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے 50کروڑ ڈالر کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے چاہئے کہ وہ رقم پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے خرچ کرے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر اب بھی دہشت گردی کو پناہ دے رہے ہیں۔ طالبان نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو ایک ماہ بھی نہ چل پاتے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کر رہا ہے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک ایشیائی یابین الاقوامی تنظیم ان دہشت گرد کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھے جو پاکستان کی شہ پر کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا کہ افیون کی کاشت پاکستان افغانستان ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہی ہو رہی ہے لہٰذا اس میں بھی پاکستان ہی ملوث ہے ۔حالانکہ افیون کی کاشتکاری مکمل طور پر افغانستان میں ہو رہی ہے۔


اشرف غنی کا ایسے وقت میں پاکستان پر الزامات دراصل ان کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے ہے۔ اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت اپنی کمزور اور ناکام پالیسیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھی ہے۔ لیکن بھارت اور اشرف غنی یہ بھول گئے ہیں کہ ان کی حکومت کا دائرہ کار کابل یا اس سے ملحقہ کچھ تھوڑے سے علاقے پر رہ گیا ہے۔ جب وہ افیون کی کاشت پر اپنی بے بسی بتا رہے تھے تو دراصل وہ یہ بھی بتا گئے کہ ان علاقوں پر ان کا کنٹرول ہی نہیں ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے تقریباً 2ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور اس سے خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اس کے حمایت یافتہ اشرف غنی محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندوستان امریکہ سے بھی فائدہ لے رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان دفاعی معاہدہ دراصل اس بڑھتی ہوئی دوستی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔


پاکستان کے نمائندے سرتاج عزیز نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ الزامات کا کھیل ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ الزامات کی بجائے ٹھوس اور مضبوط اقدامات ہی علاقائی تنازعات ختم کر سکتے ہیں اور یہ کہ پاکستان نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ پاکستان اس خطے میں اور خاص کر افغانستان میں امن لانے کے لئے مخلص ہے۔ سرتاج عزیز کی تقریر میں تشنگی باقی رہی۔ اگر وہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کو ریاستی دہشت گردی یعنی بھارتی مظالم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ نشاندہی کر دیتے تو کچھ مذائقہ نہ تھا۔ پھر جب بات افغانستان ہی کی ہو رہی تھی تو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں ہونے والے کئی ہولناک دہشت گردی کے واقعات جس میں سینکڑوں بے گناہ اپنی جان سے گئے، خاص کر آرمی پبلک سکول کا واقعہ ان کو یاد دلانے سے دنیا کے ممالک اور لوگ کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتے۔بہرحال روسی نمائندے نے سرتاج عزیز کی تقریر کی تعریف کی اسے انتہائی تعمیری اور دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان پر الزامات اور تنقید کو ناپسند کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ پاکستان کو کئی دوست ممالک خاص کر ایران، ترکی ملائشیا وغیرہ کی طرف سے کسی قسم کی تعریف یا پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر کسی تبصرہ کا انتظارہی رہا۔


بھارتی سرد مہری اور رویے سے دل برداشتہ سرتاج عزیز فوراً ہی وطن واپس پہنچنے اور اسی رات کو پریس کانفرنس میں بھارتی غیر سفارتی اور انتہائی ہتک آمیز رویے کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کو معلومات دیں ان سب باتوں کے باوجود حکومت پاکستان اس کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلہ کو صحیح گردانتے ہوئے کانفرنس کو کامیاب قرار دیتی رہی۔
کانفرنس کے آخری اعلامیے کا ایک حصہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں بالخصوص افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں مبینہ دہشت گرد گروپوں کا نام لیا گیا ہے اور ان کی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں داعش، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، لشکر طیبہ، جیش محمد، جمعیت الاحرار اور حزب اﷲ شامل ہیں۔ ان میں سے کتنی تنظیمیں پاکستان میں بنائی گئیں۔ جبکہ کئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکسان کو ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں اس پورے خطے میں ہونے والی دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے اور افغانستان صرف ایک مظلوم تماشائی بن گیا ہے۔ جس کی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال میں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر تنظیمیں امریکہ کی تخلیق کردہ ہیں۔ جن کو افغانستان میں مختلف ادوار میں یا مختلف علاقوں کی ضرورت کے پیش نظر تخلیق کیا گیا ور بعد میں غیرفعال کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اب پاکستان کو (الزام ڈال کر) اس میں شامل کر دیا گیا۔


مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بھی دنیا اور خاص کر مہاجرین کے ملک افغانستان کو شکرگزار اور پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے نہ کہ تنقید کا نشانہ بنائے۔
بھارتی ابلاغ عامہ نے بھی پاکستان کی شمولیت کو سراہنے کی بجائے اس پر کڑی تنقید کی بلکہ پاکستان کے ساتھ غیرسفارتی رویے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی ناکامی کہا۔ سوال یہ ہے کہ سرتاج عزیز کی جگہ اگر پاکستانی سفیر اس کانفرنس میں شرکت کرتے تو کیا اس وقت بھارت کا اور افغانستان کا رویہ مختلف ہوتا۔ یقیناًنہیں تو پھر بھارت سے معاملات اتنے آگے بڑھانے سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کے لئے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وہی بین الاقوامی برادری ہے جس کی رائے کشمیریوں کے اوپر ڈھائے گئے بھارتی مظالم بھی نہ بدل سکے۔ پچھلے چھ مہینے سے جس طرح کشمیری عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے جب یہ مظالم بھارت کے متعلق ان کی رائے نہ بدل سکے تو پاکستان کی

HOA

کانفرنس میں شمولیت کیا بدل سکے گی۔ بین الاقوامی برادری کی سردمہری اور کشمیر کو اہمیت نہ دینا دراصل بھارت کے بارے میں ایک قائم شدہ رائے ہے جو ہندوستان کی تمام پر تشدد کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اشرف غنی کی حکومت حقیقی طور پر ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ جس کا دائرہ کار کابل تک ہی محدود ہے۔ اشرف غنی کا کانفرنس میں بیان ’بھارت کی شہ پر اور امریکہ کی رضامندی سے‘ ہی ممکن تھا کیونکہ وہ بہت جلدی اپنے موقف تبدیل کر لیتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے وہ پاکستان کو ایک برادر ملک سمجھ رہے تھے۔


کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔


پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ بھارت اور افغانستان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اچھے تعلقات صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے

*****

کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔

*****

 
08
February

Regurgitating Cold Start Doctrine

Written By: Taj M. Khattak

How has the doctrine benefitted India if in its response Pakistan’s defence capability has improved to a level where today most independent analysts in the world routinely express the view that India will pay an unacceptably huge price if it ever embarked on an adventure against Pakistan? It would have been more prudent had India shown the intensions and invested sincere efforts in seeking resolution of Kashmir dispute in accordance with UN charter instead of wasting time and energies on a futile doctrine.

Soon after assuming command of Indian Army, its new Chief General Bipin Rawat, acknowledged existence of Cold Start Doctrine in an interview to the media. This was rather surprising as India had been in denial mode for nearly fifteen years since it first announced it in the aftermath of Kashmiri militants’ attack on Indian parliament in 2001. Former Defence Minister Jaswant Singh had gone to the extent of stating publicly, “There is no Cold Start Doctrine. No such thing. It was an off-the-cuff remark from a former Chief of Staff. I have been defence minister of the country. I should know”.


In 2011, Indian Army Chief, General V. K. Singh also reiterated similar views, stating, “There is nothing like Cold Start, but we have a ‘proactive strategy’ which takes steps in a proactive manner to achieve our objectives”. Such assertions led some analysts to erroneously believe that India had abandoned Cold Start Doctrine and would adhere to structure of Strike Corps organizations and doctrinal concept. Public pronouncements aside, India had been validating and re-validating its Cold Start Doctrine from time to time.

 

To this specter of a ‘nuclear overhang’ India has lately added its own pantomime version of ‘surgical strikes’. A surgical strike, conducted anywhere in the world, has always spoken for itself through results on the ground. Nowhere has its conduct needed to be defended to such nauseating ends except the Indian version where ‘sneak attempts’ at three locations along a heavily defended LoC and ‘retreat at the double’ were hyped up to fictional heights.

In 2011 India conducted ‘Operation Vijayee Bhava’ with 50,000 soldiers in Bikaner and Suratgarh area with stated aim of reducing mobilization time which it claimed to have cut down to just 2 days from 27 days in ‘Operation Parakaram’ in 2001-2002. This was followed by ‘Operation Sudarshan Shakti’ – India’s largest war games in two decades in which nearly 60,000 troops and 500 armoured vehicles participated. More recently, its 2 Corps (Strike Corps, Kharga) conducted ‘Exercise Brahmashira’ in Rajasthan to practice swift multiple offensives deep into enemy territory. India also upgraded its tactical level weaponry and inducted solid-fuel 150 kms ballistic missiles to provide effective fire support in such operations.


India’s aggressive designs against Pakistan first began to surface when its former Defence Minister George Fernandes famously lamented that India had ‘an archaic, non-aggressive, non-provocative defence policy’ and called for a shift. Fernandes, basically was referring to ‘Sunderji Doctrine’, a successor to Cold Start, according to which seven defensive ‘holding corps’ with relatively limited offensive power, were deployed near Pakistan’s border while Indian Army retained its offensive capabilities in ‘Strike Corps’ made up of mechanized infantry with extensive artillery support but stationed further away from the border. Indian defence planners believed that such a strategy was advantageous to Pakistan in mobilization and resulted in extra-regional powers to exert pressure on India thus preventing it from taking punitive actions against Pakistan at a place and time of its choosing.

 

Cold Start Doctrine was designed to punish Pakistan in a limited manner but it rested on a grossly flawed premise – that it will not trigger nuclear retaliation. It underestimated Pakistan’s resolve to go full spectrum in its defence for a fundamental reason that it just cannot allow any loss of territory to India.

In 1987, General Sunderji, even with a more conventional and defensive doctrine in place, and no mass agitation and large scale unrest in Kashmir to use as an excuse against Pakistan, exposed his country’s real intentions when Indian Army conducted ‘Exercise Brass Tacks’ close to Pakistan’s border. With over 400,000 troops, it was the largest since WW-II and bigger than anything NATO had ever conducted. It was after BBC’s Mark Tully’s disclosure that India was using live ammunition in open boxes that General Zia delivered his stern message to Prime Minister Rajiv Gandhi.

 

reguritincold.jpgPakistan took serious cognizance of the emerging threat environment and evolved doctrinal responses which it later validated against various hypotheses in large-scale field exercises. Pakistan also bolstered its defence through development of a solid fuel battlefield ballistic missile capable of carrying a low yield nuclear warhead and expressed an unflinching resolve to use it should a situation so demand.


In its more ambitious formulations, Cold Start Doctrine is a ‘limited war’ concept under proactive strategy where India’s conventional forces undertake aggressive and offensive armoured thrusts, in a compressed time frame, with infantry and air support. It is aimed at seizing Pakistan’s territory and holding it, while simultaneously perusing narrow enough objectives to deny Islamabad any justification to escalate conflict by opening additional conventional fronts – all under a ‘nuclear overhang’, a phrase coined by Indian defence establishment and used with increasing frequency in a dangerously insouciant manner.


To this spectre of a ‘nuclear overhang’ India has lately added its own pantomime version of ‘surgical strikes’. A surgical strike, conducted anywhere in the world, has always spoken for itself through results on the ground. Nowhere has its conduct needed to be defended to such nauseating ends except the Indian version where ‘sneak attempts’ at three locations along a heavily defended LoC and ‘retreat at the double’ were hyped up to fictional heights.

 

But, with a neighbour opposed to our very existence, Pakistan cannot ignore its security concerns. Only recently we were reminded, and by a person no less than Prime Minister Narendra Modi, that in 1971 India had played an iniquitous role in the break-up of Pakistan. One look at today’s battle hardened Armed Forces of Pakistan and it leaves no doubt in anyone’s mind that they are deeply imbued with the spirit of a higher mission in life. They will acquit themselves with honour and glory – should any challenge be thrown their way – Cold Start or whatever!

The change of tack from denial to an acknowledgement of Cold Start Doctrine’s existence warrants clarity – whether it is just doing away with erstwhile semantics of ‘ambiguity by design’ or the Indian Army has indeed streamlined its ‘limited war’ concept and now feels more confident under Modi government to flout it more openly. Whatever be the case, it begs the larger question whether it could serve India’s interest any better in these uncertain times than it did when it was first announced amidst apprehensions that it would incur a diplomatic and security cost without delivering corresponding deterrence benefits.


Those fears proved to be well founded as protests and agitations in Kashmir, the root cause of problems between India and Pakistan, and raison-d’être for Cold Start Doctrine, have transformed in nature from grievances against Indian state to outright hatred against its illegal occupation. How has the doctrine benefitted India if in its response Pakistan’s defence capability has improved to a level where today most independent analysts in the world routinely express the view that India will pay an unacceptably huge price if it ever embarked on an adventure against Pakistan? It would have been more prudent had India shown the intensions and invested sincere efforts in seeking resolution of Kashmir dispute in accordance with UN charter instead of wasting time and energies on a futile doctrine.


Cold Start Doctrine was designed to punish Pakistan in a limited manner but it rested on a grossly flawed premise – that it will not trigger nuclear retaliation. It underestimated Pakistan’s resolve to go full spectrum in its defence for a fundamental reason that it just cannot allow any loss of territory to India. Besides, a host of such factors as lack of strategic surprise, terrain and defensive deployment of Pakistan’s Army will mitigate, to a considerable extent, any mobilization advantages that Indian Army may have accrued through Cold Start Doctrine.


Tim Roemer, U.S. Ambassador to India from 2009-2011 also raised the other important question about New Delhi’s political will to pursue Cold Start option, due to fears that it might achieve only ‘mixed’ results, especially its decision to shy away in 2008 when Mumbai incident provided a perfect ‘casus belli’ if it ever wanted to undertake military action against Pakistan. He called the doctrine a ‘mixture of myths and reality’ where its real value lay more in its existence on paper than any application on ground.


Pakistan does not want war as wars are no answer to resolution of outstanding disputes between India and Pakistan. There are huge poverty and illiteracy issues in both countries towards which all resources and energies need to be channeled. Our political process needs to take deeper traction over a longer timeline and economy requires space to stretch itself in the evolving global trade regimes.


But, with a neighbour opposed to our very existence, Pakistan cannot ignore its security concerns. Only recently we were reminded, and by a person no less than Prime Minister Narendra Modi, that in 1971 India had played an iniquitous role in the break-up of Pakistan. One look at today’s battle hardened Armed Forces of Pakistan and it leaves no doubt in anyone’s mind that they are deeply imbued with the spirit of a higher mission in life. They will acquit themselves with honour and glory – should any challenge be thrown their way – Cold Start or whatever!

 

The writer is a retired Vice Admiral of Pakistan Navy.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter