09
August

مشرقِ وسطیٰ، تاریخ اور برپا تبدیلیاں

Published in Hilal Urdu

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

بحیرۂ روم سے بحیرۂ عرب تک پھیلا جس طرح مشرقِ وسطیٰ آج عالمی سیاست کا محور ہے، اگر ہم تاریخ میں جھانک کر دیکھیں تو یہی خطۂ ارض پچھلے تین ہزار برسوں سے زائد عرصے سے ایشیا، افریقہ اور یورپ کی تہذیب و تمدن اور سیاست کا مرکزومحور رہا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے یہیں سے جنم لیا۔ سمیری اور مصری تہذیب، یونانی تہذیب جسے آرکیالوجسٹ، یوریِشین تہذیب کہتے ہیں، انہی خطوں کے قریب پلی بڑھیں۔ دنیا کے تین بڑے اور اہم مذاہب، یہودیت، مسیحیت اور اسلام نے یہیں جنم لیا۔ انسانی تاریخ کی دو بڑی تہذیبیں جو آج بھی اپنی قدیم شکل میں موجود ہیں، مشرق وسطیٰ ہی سے تعلق رکھتی ہیں، یعنی عربی اور فارسی تہذیبیں۔ مشرقِ وسطیٰ تاریخ وسیاحت کا دلچسپ ترین موضوع ہے۔ رومن ایمپائر کا مشرقی خطہ درحقیقت مشرق وسطیٰ ہی تھا۔ یورپی تہذیب میں رومن ایمپائر دنیا کی بڑی طاقت کہلاتی ہے۔ مشرقی رومن ایمپائر کا دارالحکومت استنبول اس کا دل تھا، جو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کا ایک قدیم شہر ہے۔ ظہورِ اسلام کے بعد، فارس اور رومن بازنطینی تہذیب کی جگہ عربوں نے مسلمان ہوکرمشرق میں تہذیبی ترقی میں اپنی بالادستی قائم کرلی۔ عرب وعجم تصادم مشرقِ وسطیٰ کا ہزاروں سال پرانا تصادم ہے، جو اسلام کے ظہورسے پہلے، بعد از اسلام اور آج بھی اپنی نئی شکل میں موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پر عرب تہذیب کی چھاپ اسلام کے ظہور کے بعد گہری ہوگئی، یعنی
Arabnization
۔ عرب تہذیب اور زبان وثقافت نے مشرقِ وسطیٰ کو مکمل طور پر عرب کردیا۔ اس کے اثرات عرب صحارا اور جبل طارق کو عبور کرکے یورپ تک جا پہنچے۔ سپین میں مسلم تہذیب اِسی عرب تہذیب کا ایک اور اضافہ تھا۔ مسلم سپین نے دنیا کی تاریخ وتہذیب پر انمٹ اثرات چھوڑے۔ وقت آنے پر سپین سے مسلمانوں کا دَور ختم ہوگیا لیکن مسلم سپین انسانی تاریخ پر انمٹ اثرات چھوڑ گیا۔ مسلم سپین پر عربوں کے اسلامی دَور نے جو اثرات مرتب کئے، آج کا سارا مغرب اسی کا مرہون منت ہے۔ مسلم سپین نے تمام مدفون یونانی علوم کے ساتھ دنیا بھر کے علوم کو ترجمہ کرکے زندہ کردیا۔ مسلم سپین کا زوال تو ہوگیا لیکن یہ تاریخِ انسانی میں ایک شان دار اضافہ کرگیا۔

 

mashrikwusta.jpg یورپ ومغرب کی ترقی کا دروازہ ہی مسلم سپین ہے جس نے یونانی، ہندی اور عالمی علوم کو تراجم کے ذریعے زندہ کردیا۔ اور اپنے ہاں لوگوں کو فکر وخیال کی آزادی دی۔ یہودی تاریخ میں یہودی مسلم سپین کو اپنے لئے

Glorious Period
قرار دیتے ہیں کہ مسلم سپین نے یہودیوں کو علمی، فکری اور تحقیقی حوالے سے پھلنے پھولنے کے مواقع دئیے۔ مسلم سپین نے سماجی علوم میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ یورپ میں کلیسا کی سیاست سے علیحدگی مسلم سپین کے دانشوروں کی مرہون منت ہے جس نے یورپ اور مغرب کی کایا پلٹ دی، یعنی مسیحیت کی سیاست سے علیحدگی۔ یہ فکری تحریک سپین سے اٹلی میں داخل ہوئی۔ کلیسا اور پادری کو سیاست سے علیحدہ کردیاگیا۔ پھر یہ تحریک پھیلتی چلی گئی۔ فرانس کا انقلاب اور بعد میں یورپ میں سائنس کی ترقی اور صنعتی انقلاب اسی سماجی وفکری تحریک کے مرہون منت ہیں۔ یورپ سے جڑا مشرقِ وسطیٰ ہزاروں سالوں سے اس پر نظر اور نہ نظر آنے والے اثرات تسلسل سے چھوڑ رہا ہے۔
تہذیبوں کے عروج وزوال کی تاریخ پڑھیں تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اگر ایک خطے سے تہذیب ختم ہوتی ہے تو اس کی جگہ کوئی نئی تہذیب لے لیتی ہے۔ یورپ کے بطن سے جنم لینے والی تہذیب وطاقت بازنطینی سلطنت، جس کا دل قسطنطنیہ (استنبول) تھا، جب ختم ہوئی تو اناطولیہ میں پھیلے سلجوقی ترکوں سے جنم لینے والی ترک قوم نے اس کی جگہ لے۔ یہ سلجوقی ترک، وسطی ایشیا سے خانہ بدوشوں اور گڈریوں کی حیثیت سے مشرقِ وسطیٰ آئے۔ پہلے عربوں کے سپاہی بنے، پھر ترک ولائتیں قائم کیں اور پھر دنیا کی عظیم ترین سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تین براعظموں ،ایشیا، افریقہ اور یورپ تک سلطنتِ عثمانیہ پھیل گئی اور بازنطینی سلطنت کی جگہ لے لی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، جو صدیوں سے عرب وفارس میں تقسیم تھا، کے اندر ترک تہذیب نے صرف جنم ہی نہیں لیا، بلکہ دنیا کی عظیم الشان سلطنت قائم کرلی۔ تقریباً چار صدیوں تک سلطنت عثمانیہ نے جو ترکوں کی تہذیب تھی، عرب، افریقی، ایشیائی اور کچھ یورپی خطوں پر اپنا اقتدار قائم کئے رکھا۔ البتہ ایرانی یا فارسی خطوں پر اقتدار قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔


یورپ میں سائنسی اور صنعتی دَور نے مغربی تہذیب کو نئے مرحلے میں داخل کیا۔ کولونیئل ازم کے ذریعے یورپی طاقتیں دنیا بھر میں اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ایشیا، افریقہ، امریکہ، آسٹریلیا اور لاطینی امریکہ
Colonized
ہوگیا اور اسی کے ساتھ مغربی تہذیب نے سائنس اور ٹیکنالوجی سے دنیا پر بالادستی کا آغاز کردیا۔ آج کی دنیا اس مغرب کے زیر اثر ہے جس کے پاس ٹیکنالوجی ہے۔ ٹیکنالوجی کی طاقت نے اُن کو معاشی، اقتصادی اور عسکری بالادستی کے مواقع فراہم کردئیے۔ امریکہ، لاطینی امریکہ اور آسٹریلیا یورپی تہذیب کے سیٹلائٹس ہیں۔ آج کی دنیا مغرب کی دنیا ہے۔ اس مغربی دنیا نے سرمایہ داری کو جنم دیا جس نے کولونیئل ازم اور بعد میں عالمی سرمایہ داری اور پھر سپرپاور کو جنم دیا۔ مغربی تہذیب جو سرمایہ داری اور عالمی بالادستی پر گامزن تھی، اس کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب 1917ء میں ایشیا اور یورپ کی ملی جلی تہذیب روس نے لینن کی قیادت میں بالشویک انقلاب برپا کرکے مغرب کی سرمایہ داری اور سپر پاور کے تصور کو چیلنج کردیا۔ عالمی سرمایہ داری کے سرخیلوں کے لئے یہ خطرے کی گھنٹی تھی۔ محنت کشوں کی حکومت قائم ہوئی۔ یورپ اور مغرب کی سرمایہ داری چیلنج ہوئی۔ روس جس کے صدیوں سے یورپ کے ساتھ سیاسی وعسکری تصادم تھے، ایک اشتراکی اور نئے فلسفۂ معیشت و حکمرانی سے ابھرا۔ کمیونسٹ روس، اشتراکی روس نے جہاں عالمی سرمایہ داری اور سرمایہ دارانہ تہذیب وحکمرانی کو چیلنج کیا، وہیں یورپی تہذیب و طاقت کے سرخیل امریکہ کی عالمی بالادستی کو چیلنج کردیا۔ سرمایہ داری کے بطن سے جنم لینے والی عالمی طاقت کا مقابلہ کرتے ہوئے محنت کشوں کے فلسفے پر بننے والی ریاست
USSR
نے عالمی سامراج کی عالمی بالادستی کو مشکلات میں ڈال دیا۔ بعد میں اسی فلسفے کے تحت چین میں ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی قیادت میں کمیونسٹ چین کا ظہور ہوا اور یوں دنیا دو حصوں میں بٹ گئی۔ عالمی سرمایہ دار دنیا ، اس کے اتحادی اور مرہون منت خطے وحکمران اور سوشلسٹ دنیا۔ یہیں سے سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ سرد جنگ نے دنیا میں عالمی سرمایہ داری اور عالمی سامراج کے عالمی حکمرانی ایجنڈے کو ناکوں چنے چبوا دئیے، جس کی قیادت سابق سوویت یونین اور عوامی جمہوریہ چین کررہے تھے۔


1917ء میں روس میں انقلاب برپا ہوا۔اسی دوران جنگ عظیم اوّل نے دنیا بھر میں تبدیلیوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تقریباً چار صدیوں سے قائم عثمانی سلطنت اس جنگ عظیم اوّل میں بکھر گئی۔ عالمی سرمایہ دار سرخیل اب دنیا کی انرجی پر قابض ہونے کی منصوبہ بندی کے لئے سرگرم ہوئے اور انہوں نے برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی طاقتوں کے تعاون سے
New Middle East
کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا۔ جنگ عظیم اوّل نے مغربی سرمایہ دار اور سامراجی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ میں در آنے کے شان دار مواقع فراہم کردئیے اور مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم اور نئی ریاستوں کی تخلیق کا آغاز ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں متعدد مصنوعی ریاستیں قائم کی گئیں، جن پربعد میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جابر حکمران بٹھا دئیے گئے اور اسی کے ساتھ خطے میں ایک مذہبی ریاست کے قیام کے منصوبے پر عمل شروع کردیا گیا۔ دنیا بھر میں پھیلے صدیوں سے بکھرے یہودی جو مختلف تہذیبوں کا حصہ بن چکے تھے، یوکرائن، پولینڈ، روس، یورپ اور جگہ جگہ سے ان یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک یہودی مذہبی ریاست اسرائیل قائم کر دی گئی۔ سیکولر مغرب کا تضاد دیکھیں کہ اپنے ہاں غیرمذہبی ریاست وسیاست کا پرچار کرنے والوں نے مذہب کے نام پر ایک مصنوعی ریاست کا ظہور اپنے زورِ بازو سے قائم کردیا۔ ایک امریکی صدر نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں مغربی تہذیب کا دروازہ قرار دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس منصوبہ بندی کی تکمیل ہوئی جو مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم کی بنیاد پر کی گئی۔ مغرب اور عالمی سرمایہ داری کے مشرقِ وسطیٰ میں منصوبوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج وہ تحریکیں تھیں جو سوئل ازم اور نیشنل ازم کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں ابھر رہی تھیں۔ دنیا میں دو طاقتوں متحدہ ریاست ہائے امریکہ اور
USSR
(سابق سوویت یونین) کے مابین تصادم نے ان تحریکوں کو جِلا بخشی۔ مصر میں جمال عبد الناصر اس تحریک کے لیڈر بن کر ابھرے اور یوں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں عالمی سرمایہ داری، سامراجی اور اسرائیلی حکمت عملیوں کو چیلنج کردیا۔ اس سوشلسٹ اور نیشنلسٹ تحریک نے ایک وقت میں لبنان، مصر، شام، عراق سے الجزائر تک کواپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان خطوں میں اس فلسفے پر یقین رکھنے والوں نے انقلاب برپا کردئیے، یہ لوگ امریکہ، یورپ اور سامراج کے ساتھ ساتھ اسرائیل جیسی مصنوعی ریاست کی بالادستی کے خلاف تھے۔ اس تحریک میں جمال عبدالناصر کے علاوہ بن بیلا، معمر قذافی، یاسر عرفات، حافظ الاسد نمایاں تھے۔

 

ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔تبدیلی ہمیشہ کسی سماج، تہذیب اور قوم میں اپنے اندر سے آتی ہے۔جنگ و جدل ،مذہبی دہشت گردی میں گھرے مشرقِ وسطیٰ کے اندر مذہبی سیاست اور تنگ نظر قوم پرستی کے خلاف ہم نئی ترقی پسند عوامی تحریکوں کو مسترد نہیں کر سکتے جو عرب خطوں اور سارے مشرقِ وسطیٰ کو سامراجی ایجنڈے کے خلاف بیدار کرسکتی ہیں

دیوارِ برلن کے گرنے، مشرقی یورپ میں سوشلسٹ نظام کے منہدم ہونے اور سوویت یونین کے تحلیل ہونے نے یقیناًدنیا بھر کو متاثر کیا۔ دنیا یونی پولر ورلڈ میں بدل گئی۔ امریکہ، دنیا کی واحد سپر پاور اور مغرب کے سارے ملک اس کے اتحادی بن گئے۔ اس نے جہاں عالمی معیشت کو اپنے شکنجوں میں لینا شروع کردیا، وہیں عالمی عسکری بالادستی کا آغاز بھی کردیا۔ اس تبدیلی کے سب سے زیادہ اور براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ پر پڑے۔عراق کے خلاف پہلی خلیجی جنگ، افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی یلغار اور پھر عراق پر دوسری جنگ مسلط کی گئی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ حیران کن حالات سے دوچار ہوا۔ ذرا غور کریں، عراق، شام اور لیبیا جیسی ریاستوں کو کھوکھلا کردیا گیا اور سارے خطے میں مذہبی دہشت گردی کے بیج بو دئیے گئے۔ مذہبی دہشت گردی کو امریکی پالیسی سازوں نے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اب یہ دہشت گردی یمن تک اور سعودی عرب کی سرحدوں تک پھیلا دی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ترکی کی سرحدوں کے اندر اور ساتھ ساتھ بھی۔


مشرقِ وسطیٰ تین بڑی زبانوں ،عربی، فارسی اور ترک زبان بولنے والے سترہ ممالک پر مشتمل ہے۔عربوں کے علاوہ ایران اور ترکی مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک میں شمار ہوتے ہیں ۔2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر کے کوشش کی کہ لبنانی ریاست کی چولیں ہلا دی جائیں ۔لیکن اسرائیل کو ایک طرح کی فوجی شکست ہوئی جس کا اعتراف اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے کیا۔2006ء کی اسرائیلی شکست کے بعد سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے پہلی مرتبہ ایک اصطلاح استعمال کی،
"New Middle East"
۔ذرا 1990ء کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کے منظر نامے پر غور کریں تو ایک نیا مشرقِ وسطیٰ ہمارے سامنے ہے جو مستقبل کی جھلک ہے۔کھوکھلا، بکھرا، فرقوں میں بٹا عراق،لیبیا،شام اور خطے بھر میں پھیلے پُراسرار مذہبی دہشت گرد۔راقم کی تحقیق کے مطابق، امریکی منصوبہ بندی کے تحت مشرقِ وسطیٰ کو دوبنیادوں پر تقسیم کئے جانے کا کھیل جاری ہے۔ریاستوں اور قوموں کو فرقوں میں تقسیم کیا جائے اور دہشت گردی کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک مستقل ہتھیار کے طور پر پنپنے کے مواقع فراہم کئے جائیں،جو مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل
Destabilize
رکھے۔خانہ جنگیوں کے جواز اور مواقع جاری رکھے جائیں۔ شام ،عراق اور لیبیا اس مشرقِ وسطیٰ کی ایک جھلک ہیں۔اور اب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو باہمی تصادم میں جھونکنا ایک بڑی حکمت عملی ہے، یعنی عرب ریاستوں کے مابین بڑے تصادم کے امکانات پیدا کرنا۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ کی دو غیر عرب طاقتوں، ایران اور ترکی کو بھی جھونکنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ آج جس قدر کمزور ہے، شاید ہی پچھلی صدی میں اس قدر کمزور رہا ہو۔ بکھرا، تقسیم شدہ مشرقِ وسطیٰ، جنگ وجدل کا میدان، فساد و جنگوں کا مرکز اور اس میں نسلی ولسانی آمیزش بھی کی جائے گی، کُردوں کے حقوق کے نام پر، کہ ایسے مشرقِ وسطیٰ کا منصوبہ حتمی کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور ترک ریاست کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس منظر نامے میں روس اور چین کا سامراج مخالف کردار نہایت اہم ہے۔ کیونکہ امریکہ کے سامراجی ایجنڈے کے نشانہ چین اور روس ہیں اور دونوں اس کے خلاف متحد ہیں۔ خصوصاً روسی فیڈریشن کا کردار۔ اس لئے اگر توڑ پھوڑ، خانہ جنگی اور مذہبی دہشت گردی پھیلتی ہے تو اس کا اگلا نشانہ یورپ نہیں روس اور اس کی اتحادی کاکیشیائی اور وسطی ایشیائی ریاستیں ہیں۔ روسی صدر ولا دی میرپیوٹن بار بار کہتے ہیں کہ خطے میں پھیلتی دہشت گردی کا نشانہ روس ہے۔ اس لئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام کے تنازعے اور خانہ جنگی میں روس نے جہاں سلامتی کونسل میں بار بار ویٹو کیا، وہیں وہ باقاعدہ طور پر دمشق میں قائم بشارالاسد کا اتحادی اور شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پیدا کردہ دہشت گردوں کا مخالف اور ان کے خلاف جنگ میں شامل بھی ہے۔سلامتی کونسل میں ویٹو سے لے کر تنازعے کے حل تک، عوامی جمہوریہ چین، روس کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی پر اس کا اتحادی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ تین ہزار سال سے مختلف ادوار اور تہذیبوں میں اسی طرح محور رہا ہے جس طرح آج کی عالمی سیاست میں۔ موجودہ تقسیم ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں سرد جنگ کے بعد روس نے پہلی مرتبہ امریکی پالیسیوں کو براہِ راست رَد کیا جس نے مغربی دنیا کے مشرقِ وسطیٰ کے پلان کو ڈسٹرب کیاہے۔لیکن ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔تبدیلی ہمیشہ کسی سماج، تہذیب اور قوم میں اپنے اندر سے آتی ہے۔جنگ و جدل ،مذہبی دہشت گردی میں گھرے مشرقِ وسطیٰ کے اندر مذہبی سیاست اور تنگ نظر قوم پرستی کے خلاف ہم نئی ترقی پسند عوامی تحریکوں کو مسترد نہیں کر سکتے جو عرب خطوں اور سارے مشرقِ وسطیٰ کو سامراجی ایجنڈے کے خلاف بیدار کرسکتی ہیں۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
February

علاقائی تعاون۔ مگر کیسے؟

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا۔ مرکزی خیال یہی تھا کہ محفوظ اور مستحکم افغانستان ہی اس تمام خطے کی ترقی اور خوش حالی کا ضامن ہو گا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو کہ استنبول سلسلہ بھی کہلاتا ہے کل چودہ ممالک شامل ہیں۔ تمام اہم علاقائی ممالک اس کے ممبر ہیں جبکہ 17معاون ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ بارہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بطور معاون موجود ہیں۔ یہ تنظیم تین بنیادی مسائل یا معاملات جو کہ سیاسی مشاورت‘ اعتماد سازی کے اقدامات اور علاقائی تنظیموں سے تعاون ہیں،کی طرف مرکوز ہے۔
ماضی میں کچھ اس سے ملتی جلتی ایک کانفرنس
European Conference on Security & Cooperation
جو کہ یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کے نام سے جولائی 1973 میں شروع کی گئی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں ایسی کانفرنس کا انعقاد ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں مشہور زمانہ ہیلسنکی معاہدے پر اگست 1975 میں دستخط ہوئے۔ اسی کانفرنس نے آگے جا کر یورپی تنظیم برائے سکیورٹی اور تعاون کا روپ دھار لیا۔
OSCE
اس وقت دنیا کی سب سے بڑی علاقائی سکیورٹی کی تنظیم بن چکی ہے۔ جس کے 57ممالک ممبر ہیں۔ ہارٹ آف آیشیا کانفرنس شروع کرنے کے پیچھے ممکن ہے
OSCE
کاَ کامیاب انعقاد پیش نظر ہو۔ اس وقت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی ’6سال کے عرصے میں‘ 6کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ استنبول، کابل، الماتی، (قازقستان)،بیجنگ اور اسلام آباد جبکہ آخری یعنی چھٹی کانفرنس امرتسر میں 5دسمبر کو منعقد ہوئی۔


چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پہلے پاک بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔ 2016 کے وسط میں کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں تحریک آزادی میں مزید شدت اس وقت آئی۔ جب برہان مظفر وانی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ بھارت اپنی تمام تر ریاستی زور اور طاقت کے باوجود کشمیریوں کی حق خودارادی کی تحریک کو دبا نہ سکا۔ بھارت نے بڑھتی ہوئی تحریک کو پاکستان حمایتی قرار دیتے ہوئے سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا اور دو سطح پر پالیسی بنائی۔ پہلی سطح پر دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ پاکستان کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی تحریک آزادی کی مالی اور فوجی معاونت کر رہا ہے اور ساتھ ہی تمام تر ریاستی اور فوجی قوت اور ظلم و تشدد سے کشمیریوں کی تحریک کچلنے کی کوشش کی جانے لگی اور دوسری سطح پرلگاتار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارت کی جانب سے تقریباً 250سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان میں پہلے سے طے شدہ سارک سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے حلیف ممالک افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اس بائیکاٹ میں شامل کر لیا۔ نتیجتاً پاکستان نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی۔ اس پس منظر میں پاکستانی حکومت کے سامنے یہ سوال کھڑا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے یا بھارت کی طرح اس کا بائیکاٹ کرے۔ لیکن پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے کانفرنس ملتوی نہ ہونی تھی کیونکہ اس میں 13دوسرے ممالک بھی شامل تھے۔


حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح غیرذمہ دارانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ پاک بھارت کشیدگی مذاکرات سے ختم ہو گی نہ کہ ایک دوسرے سے بات چیت بالکل ختم کر دینے سے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مفادات ہیں اور امرتسر کانفرنس کا مقصد افغانستان اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرنا تھی۔ تیسرے یہ کہ اس وقت بھارت کی پالیسی پاکستان کو خطے میں اور دنیا بھر سے الگ تھلگ کرنا ہے تو اس کا بہترین توڑ یہی ہے کہ پاکستان اس کانفرنس میں شرکت بھی کرے اور اپنا حصہ بھی ڈالے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت سے تمام معاملات پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ میں یہ فورم
CAREC (Central Asian Regional Economic Cooperation)
کی بھی حمایت کرتا ہے اور
HOA
کے ممبر
CAREC
کے ممبر بھی ہیں لہٰذا کانفرنس میں شرکت کرنے سے
CAREC
میں بھی شمولیت مزید فعال ہو گی۔
چنانچہ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر محترم سرتاج عزیز امرتسر پہنچے۔ ان کا پرتپاک استقبال پاکستانی ہائی کمشنر نے کیا۔ تاہم سرتاج عزیز کو آدھ گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ بھارتی حکومت کی سردمہری پاکستانی مندوب کے پہنچتے ہی نظر آنے لگی۔


کانفرنس کا موضوع افغانستان تھا خاص کر اس میں موجود دہشت گردی سے نمٹنا تھا۔ پاکستان افغانستان تعلقات اس کانفرنس میں زبردست پلٹا کھا گئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں دہشت گردی کا سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ان کے مطابق ہمیں سرحد پار پاکستان سے ہونی والی دہشت گردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے 50کروڑ ڈالر کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے چاہئے کہ وہ رقم پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے خرچ کرے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر اب بھی دہشت گردی کو پناہ دے رہے ہیں۔ طالبان نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو ایک ماہ بھی نہ چل پاتے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کر رہا ہے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک ایشیائی یابین الاقوامی تنظیم ان دہشت گرد کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھے جو پاکستان کی شہ پر کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا کہ افیون کی کاشت پاکستان افغانستان ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہی ہو رہی ہے لہٰذا اس میں بھی پاکستان ہی ملوث ہے ۔حالانکہ افیون کی کاشتکاری مکمل طور پر افغانستان میں ہو رہی ہے۔


اشرف غنی کا ایسے وقت میں پاکستان پر الزامات دراصل ان کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے ہے۔ اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت اپنی کمزور اور ناکام پالیسیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھی ہے۔ لیکن بھارت اور اشرف غنی یہ بھول گئے ہیں کہ ان کی حکومت کا دائرہ کار کابل یا اس سے ملحقہ کچھ تھوڑے سے علاقے پر رہ گیا ہے۔ جب وہ افیون کی کاشت پر اپنی بے بسی بتا رہے تھے تو دراصل وہ یہ بھی بتا گئے کہ ان علاقوں پر ان کا کنٹرول ہی نہیں ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے تقریباً 2ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور اس سے خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اس کے حمایت یافتہ اشرف غنی محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندوستان امریکہ سے بھی فائدہ لے رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان دفاعی معاہدہ دراصل اس بڑھتی ہوئی دوستی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔


پاکستان کے نمائندے سرتاج عزیز نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ الزامات کا کھیل ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ الزامات کی بجائے ٹھوس اور مضبوط اقدامات ہی علاقائی تنازعات ختم کر سکتے ہیں اور یہ کہ پاکستان نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ پاکستان اس خطے میں اور خاص کر افغانستان میں امن لانے کے لئے مخلص ہے۔ سرتاج عزیز کی تقریر میں تشنگی باقی رہی۔ اگر وہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کو ریاستی دہشت گردی یعنی بھارتی مظالم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ نشاندہی کر دیتے تو کچھ مذائقہ نہ تھا۔ پھر جب بات افغانستان ہی کی ہو رہی تھی تو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں ہونے والے کئی ہولناک دہشت گردی کے واقعات جس میں سینکڑوں بے گناہ اپنی جان سے گئے، خاص کر آرمی پبلک سکول کا واقعہ ان کو یاد دلانے سے دنیا کے ممالک اور لوگ کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتے۔بہرحال روسی نمائندے نے سرتاج عزیز کی تقریر کی تعریف کی اسے انتہائی تعمیری اور دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان پر الزامات اور تنقید کو ناپسند کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ پاکستان کو کئی دوست ممالک خاص کر ایران، ترکی ملائشیا وغیرہ کی طرف سے کسی قسم کی تعریف یا پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر کسی تبصرہ کا انتظارہی رہا۔


بھارتی سرد مہری اور رویے سے دل برداشتہ سرتاج عزیز فوراً ہی وطن واپس پہنچنے اور اسی رات کو پریس کانفرنس میں بھارتی غیر سفارتی اور انتہائی ہتک آمیز رویے کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کو معلومات دیں ان سب باتوں کے باوجود حکومت پاکستان اس کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلہ کو صحیح گردانتے ہوئے کانفرنس کو کامیاب قرار دیتی رہی۔
کانفرنس کے آخری اعلامیے کا ایک حصہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں بالخصوص افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں مبینہ دہشت گرد گروپوں کا نام لیا گیا ہے اور ان کی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں داعش، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، لشکر طیبہ، جیش محمد، جمعیت الاحرار اور حزب اﷲ شامل ہیں۔ ان میں سے کتنی تنظیمیں پاکستان میں بنائی گئیں۔ جبکہ کئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکسان کو ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں اس پورے خطے میں ہونے والی دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے اور افغانستان صرف ایک مظلوم تماشائی بن گیا ہے۔ جس کی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال میں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر تنظیمیں امریکہ کی تخلیق کردہ ہیں۔ جن کو افغانستان میں مختلف ادوار میں یا مختلف علاقوں کی ضرورت کے پیش نظر تخلیق کیا گیا ور بعد میں غیرفعال کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اب پاکستان کو (الزام ڈال کر) اس میں شامل کر دیا گیا۔


مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بھی دنیا اور خاص کر مہاجرین کے ملک افغانستان کو شکرگزار اور پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے نہ کہ تنقید کا نشانہ بنائے۔
بھارتی ابلاغ عامہ نے بھی پاکستان کی شمولیت کو سراہنے کی بجائے اس پر کڑی تنقید کی بلکہ پاکستان کے ساتھ غیرسفارتی رویے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی ناکامی کہا۔ سوال یہ ہے کہ سرتاج عزیز کی جگہ اگر پاکستانی سفیر اس کانفرنس میں شرکت کرتے تو کیا اس وقت بھارت کا اور افغانستان کا رویہ مختلف ہوتا۔ یقیناًنہیں تو پھر بھارت سے معاملات اتنے آگے بڑھانے سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کے لئے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وہی بین الاقوامی برادری ہے جس کی رائے کشمیریوں کے اوپر ڈھائے گئے بھارتی مظالم بھی نہ بدل سکے۔ پچھلے چھ مہینے سے جس طرح کشمیری عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے جب یہ مظالم بھارت کے متعلق ان کی رائے نہ بدل سکے تو پاکستان کی

HOA

کانفرنس میں شمولیت کیا بدل سکے گی۔ بین الاقوامی برادری کی سردمہری اور کشمیر کو اہمیت نہ دینا دراصل بھارت کے بارے میں ایک قائم شدہ رائے ہے جو ہندوستان کی تمام پر تشدد کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اشرف غنی کی حکومت حقیقی طور پر ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ جس کا دائرہ کار کابل تک ہی محدود ہے۔ اشرف غنی کا کانفرنس میں بیان ’بھارت کی شہ پر اور امریکہ کی رضامندی سے‘ ہی ممکن تھا کیونکہ وہ بہت جلدی اپنے موقف تبدیل کر لیتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے وہ پاکستان کو ایک برادر ملک سمجھ رہے تھے۔


کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔


پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ بھارت اور افغانستان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اچھے تعلقات صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے

*****

کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔

*****

 
08
February

Regurgitating Cold Start Doctrine

Written By: Taj M. Khattak

How has the doctrine benefitted India if in its response Pakistan’s defence capability has improved to a level where today most independent analysts in the world routinely express the view that India will pay an unacceptably huge price if it ever embarked on an adventure against Pakistan? It would have been more prudent had India shown the intensions and invested sincere efforts in seeking resolution of Kashmir dispute in accordance with UN charter instead of wasting time and energies on a futile doctrine.

Soon after assuming command of Indian Army, its new Chief General Bipin Rawat, acknowledged existence of Cold Start Doctrine in an interview to the media. This was rather surprising as India had been in denial mode for nearly fifteen years since it first announced it in the aftermath of Kashmiri militants’ attack on Indian parliament in 2001. Former Defence Minister Jaswant Singh had gone to the extent of stating publicly, “There is no Cold Start Doctrine. No such thing. It was an off-the-cuff remark from a former Chief of Staff. I have been defence minister of the country. I should know”.


In 2011, Indian Army Chief, General V. K. Singh also reiterated similar views, stating, “There is nothing like Cold Start, but we have a ‘proactive strategy’ which takes steps in a proactive manner to achieve our objectives”. Such assertions led some analysts to erroneously believe that India had abandoned Cold Start Doctrine and would adhere to structure of Strike Corps organizations and doctrinal concept. Public pronouncements aside, India had been validating and re-validating its Cold Start Doctrine from time to time.

 

To this specter of a ‘nuclear overhang’ India has lately added its own pantomime version of ‘surgical strikes’. A surgical strike, conducted anywhere in the world, has always spoken for itself through results on the ground. Nowhere has its conduct needed to be defended to such nauseating ends except the Indian version where ‘sneak attempts’ at three locations along a heavily defended LoC and ‘retreat at the double’ were hyped up to fictional heights.

In 2011 India conducted ‘Operation Vijayee Bhava’ with 50,000 soldiers in Bikaner and Suratgarh area with stated aim of reducing mobilization time which it claimed to have cut down to just 2 days from 27 days in ‘Operation Parakaram’ in 2001-2002. This was followed by ‘Operation Sudarshan Shakti’ – India’s largest war games in two decades in which nearly 60,000 troops and 500 armoured vehicles participated. More recently, its 2 Corps (Strike Corps, Kharga) conducted ‘Exercise Brahmashira’ in Rajasthan to practice swift multiple offensives deep into enemy territory. India also upgraded its tactical level weaponry and inducted solid-fuel 150 kms ballistic missiles to provide effective fire support in such operations.


India’s aggressive designs against Pakistan first began to surface when its former Defence Minister George Fernandes famously lamented that India had ‘an archaic, non-aggressive, non-provocative defence policy’ and called for a shift. Fernandes, basically was referring to ‘Sunderji Doctrine’, a successor to Cold Start, according to which seven defensive ‘holding corps’ with relatively limited offensive power, were deployed near Pakistan’s border while Indian Army retained its offensive capabilities in ‘Strike Corps’ made up of mechanized infantry with extensive artillery support but stationed further away from the border. Indian defence planners believed that such a strategy was advantageous to Pakistan in mobilization and resulted in extra-regional powers to exert pressure on India thus preventing it from taking punitive actions against Pakistan at a place and time of its choosing.

 

Cold Start Doctrine was designed to punish Pakistan in a limited manner but it rested on a grossly flawed premise – that it will not trigger nuclear retaliation. It underestimated Pakistan’s resolve to go full spectrum in its defence for a fundamental reason that it just cannot allow any loss of territory to India.

In 1987, General Sunderji, even with a more conventional and defensive doctrine in place, and no mass agitation and large scale unrest in Kashmir to use as an excuse against Pakistan, exposed his country’s real intentions when Indian Army conducted ‘Exercise Brass Tacks’ close to Pakistan’s border. With over 400,000 troops, it was the largest since WW-II and bigger than anything NATO had ever conducted. It was after BBC’s Mark Tully’s disclosure that India was using live ammunition in open boxes that General Zia delivered his stern message to Prime Minister Rajiv Gandhi.

 

reguritincold.jpgPakistan took serious cognizance of the emerging threat environment and evolved doctrinal responses which it later validated against various hypotheses in large-scale field exercises. Pakistan also bolstered its defence through development of a solid fuel battlefield ballistic missile capable of carrying a low yield nuclear warhead and expressed an unflinching resolve to use it should a situation so demand.


In its more ambitious formulations, Cold Start Doctrine is a ‘limited war’ concept under proactive strategy where India’s conventional forces undertake aggressive and offensive armoured thrusts, in a compressed time frame, with infantry and air support. It is aimed at seizing Pakistan’s territory and holding it, while simultaneously perusing narrow enough objectives to deny Islamabad any justification to escalate conflict by opening additional conventional fronts – all under a ‘nuclear overhang’, a phrase coined by Indian defence establishment and used with increasing frequency in a dangerously insouciant manner.


To this spectre of a ‘nuclear overhang’ India has lately added its own pantomime version of ‘surgical strikes’. A surgical strike, conducted anywhere in the world, has always spoken for itself through results on the ground. Nowhere has its conduct needed to be defended to such nauseating ends except the Indian version where ‘sneak attempts’ at three locations along a heavily defended LoC and ‘retreat at the double’ were hyped up to fictional heights.

 

But, with a neighbour opposed to our very existence, Pakistan cannot ignore its security concerns. Only recently we were reminded, and by a person no less than Prime Minister Narendra Modi, that in 1971 India had played an iniquitous role in the break-up of Pakistan. One look at today’s battle hardened Armed Forces of Pakistan and it leaves no doubt in anyone’s mind that they are deeply imbued with the spirit of a higher mission in life. They will acquit themselves with honour and glory – should any challenge be thrown their way – Cold Start or whatever!

The change of tack from denial to an acknowledgement of Cold Start Doctrine’s existence warrants clarity – whether it is just doing away with erstwhile semantics of ‘ambiguity by design’ or the Indian Army has indeed streamlined its ‘limited war’ concept and now feels more confident under Modi government to flout it more openly. Whatever be the case, it begs the larger question whether it could serve India’s interest any better in these uncertain times than it did when it was first announced amidst apprehensions that it would incur a diplomatic and security cost without delivering corresponding deterrence benefits.


Those fears proved to be well founded as protests and agitations in Kashmir, the root cause of problems between India and Pakistan, and raison-d’être for Cold Start Doctrine, have transformed in nature from grievances against Indian state to outright hatred against its illegal occupation. How has the doctrine benefitted India if in its response Pakistan’s defence capability has improved to a level where today most independent analysts in the world routinely express the view that India will pay an unacceptably huge price if it ever embarked on an adventure against Pakistan? It would have been more prudent had India shown the intensions and invested sincere efforts in seeking resolution of Kashmir dispute in accordance with UN charter instead of wasting time and energies on a futile doctrine.


Cold Start Doctrine was designed to punish Pakistan in a limited manner but it rested on a grossly flawed premise – that it will not trigger nuclear retaliation. It underestimated Pakistan’s resolve to go full spectrum in its defence for a fundamental reason that it just cannot allow any loss of territory to India. Besides, a host of such factors as lack of strategic surprise, terrain and defensive deployment of Pakistan’s Army will mitigate, to a considerable extent, any mobilization advantages that Indian Army may have accrued through Cold Start Doctrine.


Tim Roemer, U.S. Ambassador to India from 2009-2011 also raised the other important question about New Delhi’s political will to pursue Cold Start option, due to fears that it might achieve only ‘mixed’ results, especially its decision to shy away in 2008 when Mumbai incident provided a perfect ‘casus belli’ if it ever wanted to undertake military action against Pakistan. He called the doctrine a ‘mixture of myths and reality’ where its real value lay more in its existence on paper than any application on ground.


Pakistan does not want war as wars are no answer to resolution of outstanding disputes between India and Pakistan. There are huge poverty and illiteracy issues in both countries towards which all resources and energies need to be channeled. Our political process needs to take deeper traction over a longer timeline and economy requires space to stretch itself in the evolving global trade regimes.


But, with a neighbour opposed to our very existence, Pakistan cannot ignore its security concerns. Only recently we were reminded, and by a person no less than Prime Minister Narendra Modi, that in 1971 India had played an iniquitous role in the break-up of Pakistan. One look at today’s battle hardened Armed Forces of Pakistan and it leaves no doubt in anyone’s mind that they are deeply imbued with the spirit of a higher mission in life. They will acquit themselves with honour and glory – should any challenge be thrown their way – Cold Start or whatever!

 

The writer is a retired Vice Admiral of Pakistan Navy.

E-mail: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
08
February

Cancellation of the 19th SAARC Summit: Prospects for New Regional Groupings

Written By: Arhama Siddiqa

The future of the South Asian Association for Regional Cooperation (SAARC) was put in a limbo after its 19th Summit, which was to be held in Islamabad in November 2016, was cancelled. Indian Prime Minister Narendra Modi declared that India would boycott the summit, citing “increasing cross-border terrorist attacks in the region and growing interference in the internal affairs of member states by one country”.


South Asia is a region inundated by many crises, menaces and problems such as poverty, unemployment, bad governance, corruption, illiteracy and terrorism, to name a few. The SAARC was established in 1985 in Bangladesh as a platform for promoting economic development and prosperity of the South Asian people. A quick review of the organization’s history showcases a turbulent one – an obvious cause being the Indo-Pak rivalry.


It wouldn’t be wrong to say that the 19th Summit was shrouded in dark clouds from the beginning. The boycott of Indian Foreign Minister Arun Jaitley of the Ministerial Conference of SAARC in August, the sudden jumping out of the Indian Home Minister Rajnath Singh from the SAARC Interior Ministers' meeting, the refusal of four SAARC member states (India, Afghanistan, Bangladesh and Maldives) to send their finance ministers to the Ministerial Conference in Pakistan and the refusal of India for bilateral talks with Pakistan on the sidelines of SAARC were all bad omens for regional peace and cooperation. These were also clear indications that India was not willing to use SAARC forum for any sort of conflict resolution or regional cooperation. It also exerted its negative influence on other smaller countries to show restraint and cold gestures towards this forum.


In its thirty years of existence, the performance of SAARC has been far below its potential. This organization presented an opportunity for all the countries to unite and create a representative consortium for the South Asian people. It had all the components to have made a serious impact in the international arena. Unfortunately, the opportunity has all but vanished. Alternatives like forming sub-regional groups are being seriously pondered upon as the only way forward. India has been spearheading the idea of another regional grouping for a long time. In fact, Delhi has launched a well-orchestrated effort with its might behind several initiatives in the region to bring together its allies in South Asia, leaving Pakistan detached with its longstanding “SAARC minus Pakistan” policy. Diplomatic sources say India aims to get behind two forums in earnest – BIMSTEC (Bay of Bengal Initiative for Multi-Sectoral Technical and Economic Cooperation) and BRICS (Brazil, Russia, India, China and South Africa) – and also to forge a new development platform for Bangladesh, India and Myanmar. Already, a beginning has been made in the form of BBIN (Bangladesh, Bhutan, India and Nepal).


On the surface India blames increasing terrorism for its decision to boycott the conference especially post-Uri attacks for which Delhi solely blames Islamabad. Evidence linking the attack either to militants based in Pakistan or to the country’s intelligence agencies has yet to be provided. India’s dramatic exit may even be a cover to deflect spotlight from its ongoing struggle to quell popular disturbances in the Indian Occupied Kashmir. Moreover, India’s push for a South Asian isolation of Pakistan is also driven by the fact that it received less than expected support on the world stage and at the UN General Assembly for the Comprehensive Convention on International Terror (CCIT), where it had hoped to corner Pakistan. Added to this is the criticism India received at the UN Human Rights Council over Kashmir. The most recent show of bellicosity was seen at the sixth ministerial Heart of Asia (HoA) conference held at Amritsar in December 2016. In its frustration over the futility of its efforts to “isolate” Pakistan, the Modi administration condescended to new lows by diverging from diplomatic etiquette by embarrassing the Pakistani delegation led by Sartaj Aziz. Indeed, it was conduct unbecoming when one of the highest echelons of the Pakistani government was not even seated at the centre table at the official dinner hosted by Prime Minister Modi. Moreover, the scene caused by Indian officials who tried to stop the Pakistani High Commissioner from speaking to Pakistani journalists was incongruous to say the least.


This makes it evident that ‘Hindutva’ inspired logic of New Delhi compels India to pursue becoming economic, strategic, and military hegemon in South Asia and the Indian Ocean.

 

By boycotting the 19th SAARC Summit, India has confirmed that all its claims about regional integration and cooperation are nothing but a hoax. India not only sabotaged the SAARC summit but it also coerced other small SAARC members to follow in its footsteps thus aiming at isolating Pakistan. The forum despite being weak could still have been used for bilateral and multilateral dialogue. In a globalized world where cultures, economies and interests are becoming increasingly interdependent and interlinked, South Asia is probably the only region which is deprived of good opportunities for integration because of Indian insolence and pursuance of hegemonic agenda.

China’s demand for full membership in SAARC challenges India’s dominance thus India opposed China’s entry into SAARC at the Kathmandu Summit in 2014. China’s successful diplomacy, trade and investment policies, and many cooperative agreements with SAARC nations inevitably give her greater influence in South Asia. It is fair enough to say that China’s entry in SAARC as a full member can give a push to the organization to grow as a regional bloc since China’s global economic influence can help provide the boost it needs. At the 2016 summit, Pakistan was expected to repeat its demand that Beijing be granted full membership in SAARC; Modi left no stone unturned to block that. Cleverly using information warfare campaign and a willingly agenda-driven Indian media, he promulgated his country’s economic and societal potential while marginalizing the need for conflict resolution.


In the current South Asian theatre, Pakistan, enabled by its prime geographical position, seeks to bring and maintain a balance of power in the region by brokering and balancing the power dynamics with and between bigger powers like China, Russia, the United States, and regional powers like Iran, the Gulf Cooperation Council States, and India. The China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) strategically aims at providing links between the overland Silk Road and Maritime Silk Road and has been made open for all regional countries, including India, although it seems Modi has decided to pass on the opportunity and has instead decided to seek to destabilize the project.


By boycotting the 19th SAARC Summit, India has confirmed that all its claims about regional integration and cooperation are nothing but a hoax. India not only sabotaged the SAARC summit but it also coerced other small SAARC members to follow in its footsteps thus aiming at isolating Pakistan. The forum despite being weak could still have been used for bilateral and multilateral dialogue. In a globalized world where cultures, economies and interests are becoming increasingly interdependent and interlinked, South Asia is probably the only region which is deprived of good opportunities for integration because of Indian insolence and pursuance of hegemonic agenda.


There is no question that the SAARC subterfuge will have visible impact in the short run. Nonetheless, it is designed to fail. If the hands-on support from Afghanistan, Bhutan and Bangladesh can be labelled a geopolitical victory for India, the silence of Nepal, Sri Lanka and Maldives is nothing short of a victory for Pakistan. For the sake of their own nations and the regional progress and prosperity, the leaders of all the member states need to put their differences aside and return to the negotiating table for a peaceful and durable resolution of existing issues. The trust deficit can be reduced only by discussion, dialogue and communication. However, if SAARC does not revert due to India’s stubborn attitude, Pakistan will have no option but to forge new alliances with all regional countries. This time CPEC should be the pivot of new alliances and regional grouping.

 

Follow Us On Twitter