09
September

بھارتی فوج اور دریدہ مقبوضہ کشمیر

تحریر: سِلوی لاسر

جونہی ہم سڑک کے ساتھ ساتھ مڑتی بل کھاتی گلیوں کی طرف قدم اٹھاتے تو اچانک خود کو پتھر کی دیواروں کے درمیان پاتے۔ جس سے پتہ چلتا کہ ان دیواروں سے ملحق اینٹوں سے بنی رہائش گاہیں ایستادہ ہیں۔ جوں جوں ہم بلندی پر جا رہے تھے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان شام کے ملگجے میں ڈوبا آزاد جموں و کشمیر کا دارالحکومت، مظفر آباد ہماری آنکھوں کے سامنے آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ نیلگوں فضا میں اڑتی رنگ برنگی پتنگوں نے خوبصورت وادی کو اور بھی دلکش بنا دیا تھا۔ ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کی رسی پکڑے گزر رہا تھا۔ ہم شہر میں موجود کشمیری مہاجر ین کے ایک کیمپ میں پہنچے یہاں اس طرح کے کل دس کیمپ قائم ہیں جہاں تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے جانے والے تنازعہ جموں کشمیر کے متاثرین آباد ہیں۔
اس وقت ریاست جموں و کشمیر کے ایک حصے پر بھارت قابض ہے جبکہ دوسرا حصہ جہاں ہم موجود تھے، آزاد جموں و کشمیر کہلاتا ہے جو پاکستان کے زیرکنٹرول ہے۔ دونوں حصوں کو 740 کلو میٹر طویل لائن آف کنٹرول جدا کرتی ہے۔


کہنے کو تو ہم ایک کیمپ میں تھے تاہم یہ شہر کی کسی معروف جگہ کی طرح لگتا تھا۔ حکومت آزادکشمیر نے ہر خاندان کو اپنا گھر تعمیر کرنے کے لئے جگہ الاٹ کی ہے۔ اب یہ ’’کیمپ‘‘ مستقل رہائش گاہوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں اس لئے کہ کوئی نہیں جانتا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کا یہ طوفان کب تھمے گا۔ ان گھروں کی بالکونیوں سے سارے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ چھتوں پر رکھی ٹینکیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انہیں تازہ پانی اور دیگر سہولیات میسر ہیں۔ البتہ بعض جگہوں پر ترپالیں بھی نظر آتی ہیں جن پر یو این ایچ سی آر (یواین ہائی کمیشن برائے مہاجرین) کی مہر ثبت ہے جو ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ یہاں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے 142 خاندان بستے ہیں۔
لائن آف کنٹرول پر بھاری تعداد میں افواج تعینات ہیں۔ صدر کلنٹن نے 2000 ء میں اسے دنیا کا خطرناک ترین مقام قراردیا تھا۔ بعد ازاں 2004ء میں بھارتی فوج نے یہاں دوہری خاردار تار لگا کر آس پاس بے شمار بارودی سرنگیں بچھا دیں اور اسے تھرمل کیمروں اورنقل و حرکت پر نظر رکھنے والے آلات اور الارم سے لیس کردیا۔ اس طرح اس متنازعہ پٹی کو عارضی بارڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بظاہر تو یہ سرحدی لکیر ہے تاہم عالمی سطح پر اسے باقاعدہ بارڈر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ بھارت نے 1948ء میں اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار داد پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا جس کے مطابق جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ صرف اور صرف ایک آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔

 

bhartifojaur.jpgہم نے 70 ڈگری کی عمودی پہاڑی پر چڑھنا جاری رکھا۔ ایک نوجوان سمیر سے ملاقات ہوئی جو کشمیری مہاجرین کی ایسوسی ایشن کا نائب صدر ہے۔ اس نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت یہاں کے باسیوں کو یہ اراضی قیمتاََ مہیا کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے تاکہ مہاجرین واقعی اسے اپنا گھر محسوس کریں۔ بات چیت کرتے ہوئے وہ مجھے ایک مکان میں لے گیا۔ جہاں ایک ایسا خاندان آباد تھا جو یہاں بسنے والے دوسرے خاندانوں کی طرح بہت سارے سانحات سے دوچار ہوچکا ہے۔ عمودی جگہ پر جس ٹیرس میں ہم داخل ہوئے تھے وہاں سے نشیب میں وادی اور پہاڑوں کا نظارہ انتہائی دلکش تھا۔ اپنے مخصوص دیدہ زیب کشمیری لباس میں ملبوس دو ننھی منی بچیاں ہمیں دیکھ رہی تھیں۔ ہمیں آتا دیکھ کر گھر کی خواتین نے خود کو باورچی خانے میں چھپا لیا۔


ایک مضبوط اور طویل القامت شخص، جس کے چہرے سے شفقت نمایاں تھی، نے ہمیں اپنے مہمان خانے میں آنے کی دعوت دی۔ بظاہر مسرور، اس نے سب سے پہلے مجھے اپنی ماں کے بارے میں بتایا جو دو ہفتے قبل ہی مقبوضہ کشمیر سے آئی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ پچھلے 24 سال سے اپنی ماں کا چہرہ نہیں دیکھ سکا تھا۔ اسی دوران گلبہار نے اپنی شلوار کا پائنچا اٹھایا اور اپنی مصنوعی ٹانگ میرے سامنے کردی۔ اداسی اس کے چہرے سے نمایاں ہونے لگی۔ ٹانگ کے مصنوعی حصے کواتار کر گھٹنے سے اوپر تک کٹی ٹانگ دکھاتے ہوئے بولا: ’’ لائن آف کنٹرول کو پار کرتے ہوئے میرا پاؤں بھارتی فوج کی بچھائی بارودی سرنگ پر آگیا تھا۔‘‘


یہ بارودی سرنگیں 1947، ساٹھ و ستر کی دہائی اور معرکہ کارگل کے دوران لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ بچھائی گئی تھیں۔ اکثر و بیشتر شہری اور کسان ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ مون سون کی بارشوں اور بھارتی فوج کے پاس ریکارڈ نہ ہونے کے باعث بہت سی مائنز زمین کے اندر ہی ادھر ادھر سرک کر غائب ہوجاتی ہیں۔ صرف ضلع پونچھ میں 100 بچوں سمیت 550 افراد ان کی وجہ سے لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔
Cluster Munition Monitor Landmine and
کی ایک رپورٹ کے مطابق تنازعے کے آغاز سے اب تک مائنز اور ای آر ڈبلیو یعنی جنگی آتشیں مواد سے 3184 لوگ متاثر ہوئے۔ ان میں 2004ء سے لائن آف کنٹرول کے بھارتی قبضے والے علاقوں میں مرنے والے 1079 افراد بھی شامل ہیں۔
’’نوے کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں ، مَیں وہاں سے فرار ہوا۔‘‘ گلبہار نے ماضی کو کریدتے ہوئے بتایا۔دُکھ اور کرب سے اس کی آواز بمشکل نکل رہی تھی۔
’’ہمارے گروپ میں دس افراد تھے۔ میرے ساتھ میری بیوی اور ایک بچہ بھی تھا۔ دوسرے سات افراد کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔ ہم نے ہر قیمت پر وہاں سے بھاگنا تھا۔ جونہی ہم نے لائن آف کنٹرول پار کی، میرا پاؤں ایک مائن پر آ گیا۔‘‘ گلہبار جو پہلی حالت سے باہر آ چکا تھا، ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پھر گویا ہوا:
’’بھارتی فوج میرا پیچھا کررہی تھی۔ میں گرفتار ہونے سے بچنے کے لئے اِدھر اُدھر چھپتا پھرتا رہا۔ کبھی دوستوں اور کبھی رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیتا ۔ لیکن ہر مرتبہ انہیں میرے قدموں کے نشان مل جاتے۔ آخرکار میں نے محسوس کرلیا کہ اب میرے پاس مقبوضہ کشمیر کو چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ میں اپنی ماں کو بھی الوداع نہ کہہ سکا۔ اسے کچھ خبر نہیں تھی کہ میں کہاں ہوں۔ میں اپنا سر چھپانے کے لئے ہاتھ پیر مار رہا تھا۔ ہمیں لائن آف کنٹرول پر پہنچنے میں دو دن لگے۔ جب میں مائن پھٹنے سے زخمی ہوا تو پاک فوج نے میری دیکھ بھال کی۔ انہوں نے اپنے ہسپتال میں میرا علاج معالجہ کیا اور پھر ہمیں مظفرآباد لے آئے۔‘‘ گلبہار کوئی لیڈر تو نہ تھا۔ اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے 1990ء کے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔
اس کے برعکس سمیر جو ایک لیڈر تھا، اس نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ’’ہمارا جرم صرف اتنا ہے کہ ہم نے حق خودرادیت کے لئے آواز اٹھائی۔ یہ اقوام متحدہ کی قرارداد ہے، یہ ہمارا حق ہے۔ اپنی آزادی کے لئے آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں! یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس وقت، بھارتی فوج ہر گھر پر چھاپے مار رہی ہے، نوجوانوں کو زبردستی گرفتار کررہی ہے، لوگوں کو مار رہی ہے، انہیں جیلوں میں ڈال رہی ہے اور انہیں قتل کر رہی ہے!‘‘


گل بہار نے بتایا: ’’ آپ لیڈر ہیں یا نہیں، بھارتی فوج کے لئے یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہم تحریک کا حصہ تھے اس لیے وہ ہمیں گرفتار کرنے کے لئے آ پہنچے۔‘‘
1987ء کے انتخابات میں بھارتی سرکار کی دھاندلی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں میں، جو آبادی کا 80 فی صد ہیں، غصے کی شدید لہر دوڑ گئی۔ وادی میں احتجاجی مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جسے بھارتی فوج نے بربریت سے کچل دیا۔ 20 جنوری 1990ء کو بھارتی فوج نے سری نگر کے گاوکدل پل پر مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔یہ قتل عام کشمیری تاریخ میں سیاہ ترین باب کے طور پر محفوظ ہے۔


اس سانحے میں زندہ بچ جانے والوں کی داستانیں بڑی درناک ہیں۔ بھارتی فوجی زمین پر گرے زخمیوں کو قتل کر رہے تھے۔ جان بچانے کے لئے پل سے چھلانگ لگانے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پانی نے اپنے دامن میں لے لیا۔ سرکاری اعداد و شمار میں صرف 28 افراد ہی قتل کے زمرے میں لکھے گئے۔ لیکن مختلف ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 50 سے 287 تک تھی۔ اگلے مہینوں میں کشمیر میں غیرملکی ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کردی گئی۔ یہ آئندہ کئی برسوں تک کشمیریوں کے لئے تاریک اور ڈراؤنے خواب کی شروعات تھی۔ چھاپے، زبردستی گرفتاریاں، جبری طور پر لاپتہ اور غائب کرنے کے واقعات، تشدد۔۔۔۔ 1987ء اور 1995 ء کے دوران 76 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے صرف دو فی صد کو سزائیں سنائی گئیں۔ (عالمی کرائسز گروپ رپورٹ 2003
from the Past, Kashmir learning)
ایک نوجوان چائے لے آیا۔ ایک ننھی لڑکی بھی دروازے پر نمودار ہوئی۔ وہ دونوں گلہبار کا بیٹا اور بیٹی تھے۔ اس وقت گلبہار کے چھ بچے ہیں جن میں سے آخری پانچ مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔


آج کل کتنی رقم سے گزراوقات ہورہی ہے؟ اس سوال پر گلہبار بولا: ’’حکومت پاکستان مہاجرین کو ماہانہ 15 سو روپے فی کس گزارہ الاونس دیتی ہے۔ آئی سی آر سی (انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس) کے ساتھ کام کرنے سے قبل میں مصنوعی اعضاء بنایا کرتا تھا لیکن تین سال پہلے یہ منصوبہ اپنے انجام کو پہنچ گیا اور اس وقت میرے پاس کوئی کام نہیں‘‘۔
چہرے کے تیکھے خدوخال والی ایک باوقار بوڑھی عورت کمرے میں داخل ہوئی۔ اُس نے دیوار کے ساتھ بچھے قالین پر بیٹھنے سے قبل میرا بوسہ لیا۔سترسالہ آمینہ، گلبہار کی والدہ ہیں جو دو ہفتے قبل ہی آزاد جموں و کشمیر پہنچی تھیں۔ انہوں نے پہلی بار یہ علاقہ دیکھا تھا۔ ’’24 سال سے میں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس رہی تھی۔ جب بھی پاسپورٹ کے حصول کے لئے جاتی میری درخواست رد کردی جاتی۔ اس انکار کی وجہ صرف یہی تھی کہ متعلقہ حکام جانتے تھے کہ میرا بیٹا دوسری جانب (آزاد جمو ں و کشمیر میں) رہتاہے۔ میں نے بھی ہمت نہ ہاری۔ میں دوسری جگہ منتقل ہوگئی اور نئے پتے سے پاسپورٹ اور ویزے کے لئے درخواست دے ڈالی۔ اس دفعہ مجھے ویزہ مل گیا۔ ’’آپ گلبہار سے کس طرح ملیں؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میں بذریعہ بس واہگہ کے راستے پاکستان پہنچی۔ میں نے فوراً اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔‘‘ وہ بولی۔


گلبہار بولا: ’’ہمارے لئے یہ اتنا بڑا لمحہ تھا کہ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔24 سال بعد‘ گلے ملے تو آنکھیں چھلکنا ایک قدرتی امر تھا۔‘‘
بوڑھی عورت بولی:’’ میرے پاس دو ماہ کا ویزہ ہے‘ لیکن میں ایک ماہ مزید قیام کے لئے درخواست ضرور دوں گی‘‘
تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔‘‘
چھوٹی بچی اپنی دادی ماں کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی جو اسے صرف دو ہفتے قبل ہی ملی تھیں۔
’’آپ کا یہاں مستقل قیام کا ارادہ کیو ں نہیں‘‘؟ میرے سوال پر بوڑھی عورت مسکراتے ہوئے بولی:
’’وہاں جیل میں میرا ایک بیٹا بھی ہے۔ اس کے علاوہ میرے بھائی اور دوسرے رشتہ داربھی ہیں۔۔۔ میں یہاں نہیں رہ سکتی۔‘‘
آمینہ بھی دگر گوں حالات کی چکی سے گزر چکی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا : ’’میں بیوہ ہوں‘ میرے تیسرے بیٹے کو بھارتی فوج نے مار ڈالا۔ زندگی کے چار سال میں نے چھپ چھپ کر گزارے۔ جب حالات ذرا بہتر ہوئے تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا دوسرا بیٹا بھی جیل میں ہے۔ صرف ایک دفعہ میں اسے مل سکی۔ کئی دفعہ مجھ سے پوچھ گچھ کی گئی۔ میرا بیٹا (گلبہار) دوسری طرف (آزاد جمو ں وکشمیر) رہتا تھا! مجھے اپنے پوتے پوتیوں کے بارے میں کوئی خبر نہ تھی۔ اور یہ سب کیونکر ہوا؟ صرف اس لئے کہ ہم نے آزادی کامطالبہ کیا تھا۔‘‘
پوچھ گچھ کے دوران کیا کبھی آپ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔؟


’’میں بیان نہیں کرسکتی۔۔۔ میرے پاس الفاظ نہیں۔۔۔‘‘ گلبہار ماں کے بازؤں کو دکھاتے ہوئے بولا: ’’دیکھئے ان کے بازوؤں کا ایک ٹکڑا لٹک رہا ہے‘ مسل پوری طرح سے الگ ہوچکا ہے۔‘‘
ماں بولی: ’’وہ گلبہار کی جگہ کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔وہ بار بار یہی سوال دہراتے کہ گلبہار کہاں چھپا ہے۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ مجھے اُ س کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ بھارتی فوج کو کسی کا پاس نہیں تھا۔انہوں نے کھڑکیاں توڑ دیں۔ دروازوں کواکھاڑ دیا۔ حتیٰ کہ وہ عمر یا کسی اور چیز کا لحاظ رکھے بغیر بچوں اور عورتوں کو مارتے پیٹتے۔ بھارتی فوج کو ماؤں کی پروا تھی نہ بہنوں کی۔۔۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے ہم سے ایساسلوک روا رکھا کہ جیسے کہ ہم مرد ہوں۔ایک دن وہ ہماری ایک ہمسائی کو گرفتار کرکے لے گئے‘ ہم نے اُسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ یہ 1994-95 کی بات ہے۔ میں دنیا کو یہ بات بتانا چاہتی ہوں کہ جیساہم پاکستان میں محسوس کرتے ہیں‘ کاش ہم دوسری طرف بھی ایسا ہی محسوس کرسکتے! اگرچہ بھارت جمہوریت کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہاں ایسا ہونا ناممکن ہے۔۔۔ ’’صرف آزادی‘‘ اُس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔


’’دی گارڈین‘‘ میں شائع ہونے والی وکی لیکس کی منکشف شدہ رپورٹ کے مطابق2005ء میں آئی سی آر سی نے نئی دہلی میں موجودامریکی سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پابندِ سلاسل کئے جانے والے افراد کے سوچے سمجھے قتل کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ مگر انہوں نے اس سلسلے میں چپ سادھے رکھی۔ گارڈین ہی کے مطابق2001 ء اور2004ء میں آئی سی آر سی کی ٹیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے قید خانوں کا دورہ کیا اور 1296 قیدیوں سے علیحدگی میں ملاقات کی۔ ایسا لگتا تھا کہ171 قیدیوں سے ناروا سلوک کیا گیا جبکہ681کو معلومات اگلوانے کے چکر میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ (ان میں بہت سے کارکن نہ تھے)۔ قتل اور جبری غائب کرنے کے واقعات بھی بہت بڑی تعدادمیں ہیں۔


38سالہ سمیر بھی دل کی بھڑاس نکالنا چاہتا تھا۔ وہ رنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کیمپ میں نہیں رہتا بلکہ ایک جاب کے سلسلے میں شہر میں مقیم ہے۔ اُس نے بتایا کہ ’’میں مہاجرین کی سماجی اعانت کا نائب صدر ہوں یہاں مقیم بہت سے افراد کی طرح میں بھی90 کی دہائی میں یہاں پہنچا۔ اُس وقت میری عمر19 سال تھی۔ میں بھی مقبوضہ جموں وکشمیر سے ہوں۔ میں سری نگرمیں رہتا تھا اور تحریکِ آزادی کے آغاز کے وقت میں سٹوڈنٹ لیڈر تھا۔ اس کے فوراََ بعد بھارتی حکام نے ہمارے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں شروع کردیں۔ تمام رہنماء اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ جب ہم نے پہلے اجتماع کا انعقاد کیا، تو میں وادی کا انتہائی مطلوب شخص بن گیا۔ تین دفعہ میں ان کے ہتھے چڑھتے چڑھتے بچا۔ آخر میں پاکستان (آزاد کشمیر) جانے کے سوامیرے پاس کوئی راستہ نہ بچا تھا۔


وہ انسان نہ تھے، وہ مجھے قتل کردیتے یا پھر تشدد کا نشانہ بناتے۔ ہر روزسڑکوں پر ہمیں پندرہ سے بیس لاشیں ملتیں۔۔۔۔ کیوں؟ ۔۔۔ ’’ ادھر آپ تقریر کریں، ادھر وہ آپ کا نام نوٹ کرلیتے۔ وہ ہم سب کو جانتے تھے، گرفتار کرلیتے ، پہاڑوں پر لے جا کر قتل کردیتے اور لاش سڑک پر پھینک دیتے۔‘‘
’’ یہ تمام ہتھکنڈے ہمارا راستہ تو نہ روک سکے البتہ ہمارے دلوں میں بھارتی فوج کے خلاف مزید نفرت اور حق خودارادیت کے لئے لڑ مرنے کے ہمارے جذبے میں اضافے کا باعث ضرور بنے۔ ہم اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ہمارے گھر بار تباہ کردیئے، ہماری خواتین سے بدسلوکی کی اور ہمیں قتل کررہے ہیں۔۔۔ ظلم و بربریت نے ہمارے جذبوں کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پچیس سال سے ہم جدوجہد کررہے ہیں، اگر ہم اپنی منزل حاصل نہ کرسکے، تو ہمارے بچے ہمارے مشن کو جاری رکھیں گے۔ ہمارے خاندانوں پر انہوں نے جو ظلم و ستم ڈھایا ہے۔ اسے ہم بھلا نہ پائیں گے اور نہ انہیں معاف کریں گے۔ ‘‘


’’پاکستان کے لوگوں نے گرمجوشی سے ہمیں گلے لگایا۔ جب گلہبار بارودی سرنگ سے زخمی ہوا، پاک فوج نے اپنے ہسپتال میں اچھی طرح اس کی دیکھ بھال کی۔ ایک مرتبہ پھر میں پاکستان کے لوگوں، پاکستان آرمی اور ہماری فلاح و بہبود اور بحالی کے لئے کام کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میرے بچے حکومت پاکستان کے تعمیر کردہ سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ہم وہاں ماہانہ صرف سو روپے کی علامتی فیس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے بچوں کی فیس پانچ ہزار روپے ہے۔ تدریس کا معیار نہایت عمدہ ہے۔ ‘‘
’’بھارت میں ہندوؤں اور مسلمانوں سے یکساں سلوک رواں نہیں رکھا جاتا اور دنیا بھر میں جمہوریت کا دوسرا چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ لیڈرز اپنے وعدے پورے نہیں کرتے، ہمارے حق خودارادیت پر اقوام متحدہ اپنی ہی قرارداد پر عملدرآمد نہیں کروا سکی ہے۔ وہ معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں۔ یہ دہشت گردی ہے! ہم یہاں (آزاد کشمیرمیں) آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں، یہی ہم چاہتے ہیں۔ کوئی ہمارا تعاقب نہیں کرتا۔ ہم آزاد ہیں!‘‘


میں نے مظفر آباد کے دوسرے کیمپوں میں بھی اسی طرح کی داستانیں سنیں۔ کسی کی بہن کھو گئی، کسی کابھائی یا ماں نہ ملی۔ کسی کا باپ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جیسا کہ 33 سالہ یاسمین کے والد کے ساتھ ہوا۔ 90 کی دہائی میں اس نے اپنے والدین کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر سے آزاد کشمیر کے لئے رخت سفر باندھا۔ اُس نے بتایا: ’’ہم سری نگر کے قریب رہتے تھے۔ میرے والد ٹیلر ماسٹر تھے۔ بھارتی فوج نے میرے والد اور بھائیوں کو گرفتار کر لیا اور کئی روز تک ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔ ہم شام کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ ہم نے سکول بھی اس وجہ سے چھوڑ دیا کیونکہ ہمارے والدین کو ڈر تھا کہ کہیں بھارتی فوج ہمیں پکڑ کر لاپتہ نہ کردے۔ایک رات، ہمیں ہنگامی طور پر اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہ تھا حتی کہ سویٹر بھی نہ پہن سکے۔ ہمیں پتہ چلا تھا کہ بھارتی فوج ہمارے گھر پر ریڈ کی تیاری کررہی ہے۔ اس وقت میں سات سال کی تھی۔ ہم دو دن پیدل چلتے رہے۔ جب ہم کنٹرول لائن کی دوسری طرف اٹھمقام پہنچے، ایک خاندان نے ہمیں گلے لگایا۔ ہم نے وہاں ایک سال تک قیام کیا۔ دوسری طرف سے بھارتی فوج مسلسل فائرنگ کرتی رہتی۔ ایک روز ایک شیل میرے والد کو لگا اور وہ شہید ہوگئے۔‘‘
گلبہار اور اُس کے خاندان سے باتیں تو اتنی سنسنی خیز اور دلچسپ تھیں کہ مجھے احساس تک نہ رہا کہ رات کافی ڈھل چکی ہے۔ اُٹھ کر باہر دیکھا تو نیچے وادی اور سامنے پہاڑوں پر روشنی کے قمقمے جگمگا رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہزاروں ستارے آسمان پر چمک رہے ہوں۔ آج یہ بات سچ ثابت ہو رہی تھی کہ کشمیر کرۂ ارض کی خوبصورت وادیوں میں سے ایک وادی ہے گویا جنتِ ارضی ہے۔


افسوس! یہ تنازعہ اب تک90 ہزار انسانی جانیں لے چکا ہے۔ اَن گنت انسانی حقوق پامال ہوچکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور بے شمار مسلمانوں کا کوئی اتا پتا نہیں اُن کو آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی۔ کوئی نہیں جانتا۔ اے پی ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق آٹھ سے 10 ہزار نفوس صرف 1989ء تا2016ء کی دہائیوں میں غائب ہوئے کشمیریوں میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی تھی۔ حالیہ برسوں میں گوکہ صورتِ حال بہترہوئی ہے لیکن بھارتی افواج کے مسلسل حملوں نے بے چارے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اس سے قبل یہاں 300 کے لگ بھگ عقوبت خانے تھے۔ ان میں 13تو رسوائے زمانہ تھے جنہیں اب دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ کشمیری نوجوانوں پر یہاں کس طرح کا انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ سُن کر روح کانپ اُٹھتی ہے۔ ان عقوبت خانوں کے نام یکے بعد دیگرے ’’کارگو، پاپا2-اورہری نارا‘‘ بتائے جاتے ہیں۔ ’’کارگو‘‘ تو سائبر پولیس سٹیشن میں بدل دیا گیا ہے۔’’پاپا2-‘‘ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر کی سرکاری رہائش گاہ میں انسانیت سوز مظالم کی داستانیں رقم کررہا ہے۔2003ء سے لے کر اب تک نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان فائر بندی پر عمل کیا جارہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں سات اضلاع ایسے ہیں جو مستقل کرفیو کی زد میں ہیں۔


2005 ء میں دوستی بس کا آغاز ہوا جس نے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملانا شروع کیا۔ یہ ہفتے میں ایک دفعہ پیر کے روز چکوٹھی کے راستے مظفرآباد اور سری نگر آتی جاتی ہے۔ لیکن اس میں صرف وہی مسافر سفر کرسکتے ہیں جن کے خاندان 1947ء‘1965ء اور1971ء کی جنگوں کے دوران بچھڑ گئے تھے۔ اس کے علاوہ خاندانوں کو اول تو بھارتی سرکار پاسپورٹ اور ویزہ ہی نہیں دیتی ۔ اگر چار و ناچار مل جائے تو کشمیر بس کی بجائے اُنہیں واہگہ کے راستے امرتسر سے لاہور کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
اب بھی وادیِ کشمیر بہت بڑی خوفناک جگہ ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی فوج کشی کی گئی ہے۔ سات لاکھ باقاعدہ اور پیرا ملٹری افواج صرف ایک چھوٹی سی مقبوضہ وادی میں‘ حد ہے ! ابھی حال ہی میں فروری 2016 ء کے وسط میں بھارتی فوج نے دو کشمیری طالب علموں کو مظاہرے کے دوران قتل کردیا۔ ان میں22 سالہ دوشیزہ شائستہ حمید اور19 سالہ دانش فاروق میر شامل تھے۔ شائستہ حمید تو مظاہرے میں شریک بھی نہیں تھی۔ وہ اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑی تھی کہ اچانک اُسے گولی آن لگی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگئی۔ پوری مقبوضہ وادی میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اُن کے جنازے میں ہزاروں کشمیریوں نے شرکت کی۔ بھارتی فوج نے اس کا جواب کرفیو کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کے ساتھ دیا۔
ہر سال 5 فروری کو پاکستان یومِ یکجہتی کشمیر مناتا ہے۔ جسے مختصراً یومِ کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کو ہر طرح کی عالمی و سفارتی سطح پر اُجاگر کیا جائے گا۔ نواز شریف کے مشیرِ امورِ خارجہ نے بھی اقوامِ عالم پر زور دیا کہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔


اب تک ہزاروں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ چکے ہیں۔ آج جب کہ یہ رپورٹ شائع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر پچھلے 50 دن سے ایک بار پھر سخت ترین دباؤ میں ہے۔ اس کی وجہ سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے انتہائی مقبول نوجوان رہنما برہان وانی کی شہادت ہے۔17 اگست تک بھارتی بربریت66 افراد کی جان لے چکی ہے۔4500 نہتے شہری زخمی ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں‘ بھارتی فوج ایسی رائفلوں اور گولیوں کا استعمال کررہی ہے۔ جس کے چھرے آنکھوں اورچہرے میں پیوست ہو کر مستقل اندھا کر دیتے ہیں۔

مضمون نگار نے فرنچ یونیورسٹی پیرس سے پی ایچ ڈی کی۔ وہ گزشتہ 16برس سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور

Societe Asiatique

کی ممبر بھی ہیں۔
 

رکھنا پاکستان سلامت


رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!
پاک وطن کی شان سلامت یااللہ

سندھ، خیبر، پنجاب رہے مہران آباد
تیرے کرم سے گلگت بلتستان آباد
دھرتی کی پہچان سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ!

دیس کے شہروں قصبوں صحراؤں کی خیر
اِس کے پہاڑوں ، وادیوں ، دریاؤں کی خیر
گلشن کی ہر آن سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ

مٹّی سونا کرنے والے شاد رہیں
محنت کش مزدُور سدا آباد رہیں
رکھ میرے دہقان سلامت یااللہ
پاک وطن کی شان سلامت یااللہ
رکھنا پاکستان سلامت یااللہ

 

ڈاکٹر اختر شمار

اب تک ہزاروں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ چکے ہیں۔ آج جب کہ یہ رپورٹ شائع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر پچھلے 50 دن سے ایک بار پھر سخت ترین دباؤ میں ہے۔ اس کی وجہ بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے انتہائی مقبول نوجوان رہنما برہان وانی کی شہادت ہے۔17 اگست تک بھارتی بربریت66 افراد کی جان لے چکی ہے۔4500 نہتے شہری زخمی ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں‘ بھارتی فوج ایسی رائفلوں اور گولیوں کا استعمال کررہی ہے۔ جس کے چھرے آنکھوں اورچہرے میں پیوست ہو کر مستقل اندھا کر دیتے ہیں۔

*****

تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔

*****

بھارتی فوج کو کسی کا پاس نہیں تھا۔انہوں نے کھڑکیاں توڑ دیں۔ دروازوں کواکھاڑ دیا۔ حتیٰ کہ وہ عمر یا کسی اور چیز کا لحاظ رکھے بغیر بچوں اور عورتوں کو مارتے پیٹتے۔ بھارتی فوج کو ماؤں کی پروا تھی نہ بہنوں کی۔۔۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے ہم سے ایساسلوک روا رکھا کہ جیسے کہ ہم مرد ہوں۔ایک دن وہ ہماری ایک ہمسائی کو گرفتار کرکے لے گئے‘ ہم نے اُسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔

*****

’’پاکستان کے لوگوں نے گرمجوشی سے ہمیں گلے لگایا۔ جب گلہبار بارودی سرنگ سے زخمی ہوا، پاک فوج نے اپنے ہسپتال میں اچھی طرح اس کی دیکھ بھال کی۔ ایک مرتبہ پھر میں پاکستان کے لوگوں، پاکستان آرمی اور ہماری فلاح و بہبود اور بحالی کے لئے کام کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میرے بچے حکومت پاکستان کے تعمیر کردہ سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ہم وہاں ماہانہ صرف سو روپے کی علامتی فیس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے بچوں کی فیس پانچ ہزار روپے ہے۔ تدریس کا معیار نہایت عمدہ ہے۔‘‘

*****

’’ یہ تمام ہتھکنڈے ہمارا راستہ تو نہ روک سکے البتہ ہمارے دلوں میں بھارتی فوج کے خلاف مزید نفرت اور حق خودارادیت کے لئے لڑ مرنے کے ہمارے جذبے میں اضافے کا باعث ضرور بنے۔ ہم اپنے بنیادی حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ہمارے گھر بار تباہ کردیئے، ہماری خواتین سے بدسلوکی کی اور ہمیں قتل کررہے ہیں۔۔۔ ظلم و بربریت نے ہمارے جذبوں کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پچیس سال سے ہم جدوجہد کررہے ہیں، اگر ہم اپنی منزل حاصل نہ کرسکے، تو ہمارے بچے ہمارے مشن کو جاری رکھیں گے۔ ہمارے خاندانوں پر انہوں نے جو ظلم و ستم ڈھایا ہے۔ اسے ہم بھلا نہ پائیں گے اور نہ انہیں معاف کریں گے۔‘‘

*****

تب وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف (مقبوضہ کشمیر) روانہ ہوجائیں گی اور ممکن ہے پھر کبھی لوٹ کر نہ آسکیں۔۔۔ ان کے رابطے کا واحد ذریعہ فون ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح گلبہار ہی کو رابطہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ’’صرف پاکستان سے ہی وہ کال کرسکتے ہیں۔بھارت سے یہاں کال نہیں ہوسکتی۔‘‘

*****

اس سانحے میں زندہ بچ جانے والوں کی داستانیں بڑی درناک ہیں۔ بھارتی فوجی زمین پر گرے زخمیوں کو قتل کر رہے تھے۔ جان بچانے کے لئے پل سے چھلانگ لگانے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پانی نے اپنے دامن میں لے لیا۔ سرکاری اعداد و شمار میں صرف 28 افراد ہی قتل کے زمرے میں لکھے گئے۔ لیکن مختلف ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 50 سے 287 تک تھی۔ اگلے مہینوں میں کشمیر میں غیرملکی ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کردی گئی۔

*****

 
09
September

دہشت گردی کے خلاف تاریخی معاہدہ

تحریر: علی جاوید نقوی

عوامی جمہوریہ چین کے شہر ارومچی میں چارملکی عسکری قیادت نے انسداد دہشت گردی کے ایک معاہدے پردستخط کئے ہیں۔اسے ایک تاریخی معاہدہ قراردیا جاسکتاہے۔ یہ معاہدہ چین ،پاکستان،افغانستان اورتاجکستان کی مسلح افواج کی قیادت نے کیاہے۔ پاکستان کی سرحدیں چین اور افغانستان سے ملتی ہیں جبکہ افغانستان کی ایک چھوٹی پٹی واخان جوایک راہداری ہے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان واقع ہے۔اس معاہدے سے نہ صرف خطے میں دہشت گردی کوختم کر نے میں مدد ملے گی بلکہ مشترکہ تربیتی مشقوں سے باہمی تعاون اور اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ افغانستان کی بدامنی کے باعث پورا خطہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس معاہدے کے مثبت اثرات پوری دنیا پرپڑیں گے۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ صرف فوجی معاہدے سے حالات کوبہترنہیں بنایاجاسکتا جب تک سیاسی سطح پر بھی اسی فہم وفراست کامظاہرہ نہ کیاجائے۔ میر ا اشارہ افغانستان کی حکومت کی طرف ہے جواس وقت بھارتی اثرورسوخ میں نظرآتی ہے۔کیا افغان حکومت بھارتی دباؤ سے نکل کرہمسایہ ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلے گی؟


معاہدے میں چاروں ملکوں نے انسداد دہشت گردی کامشترکہ میکنزم بنانے پراتفاق کیاہے۔اجلاس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف،چین کے چیف آف جوائنٹ سٹاف جنرل فینگ،افغان نیشنل آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل قدم شاہ شاہیم اورتاجکستان کے چیف آف جنرل سٹاف ، نائب وزیردفاع میجرجنرل ای اے کوبیڈرزودا نے شرکت کی۔اس گروپ کے پہلے اجلاس میں باہمی فوجی تعاون پراتفاق کیا گیا۔یقینی طورپر دہشت گردی علاقائی استحکام کے لئے خطرہ ہے جس کے لئے چارملکی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔ شرکأ نے چاروں ملکوں کی افواج کی انسداددہشت گردی کے لئے کوششوں کی تعریف کی۔ امن واستحکام کے لئے مل کرکام کرنے ،شواہد کی تصدیق اورخفیہ معلومات کے تبادلے میں تعاون کے عزم کااظہارکیا۔اتحاد میں شامل افواج مشترکہ تربیتی مشقیں بھی کریں گی۔اس چارملکی فوجی اتحاد کیوسی سی ایم کے قیام کاسہرا چین کے سرہے جس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مخلصانہ کوششیں بھی شامل ہیں اورانہوں نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔

 

pakcheendhst.jpgخطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ افغانستان جواس وقت دہشت گردوں کے لئے آسان ہدف اورپناہ گاہ ہے، کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ پاکستان اورچین کے فوجی تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں خصوصا داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لئے افغان فوج کی استعداد کارمزید بہتربنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ممبرممالک کے تجربات اورمدد سے زیادہ آسانی اورجلد حاصل کیاجا سکتا ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ چاروں ممالک تمام فیصلے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے کریں گے۔کسی فریق کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ اپنی مرضی اور رائے دوسرے ملک پرمسلط کرسکے۔ باہمی ریاستی احترام قائم رہے گا،چاروں ملک ایک دوسرے کی سلامتی اورخودمختاری کااحترام کریں گے۔یوں یہ معاہدہ برابری کی سطح پرہے۔کوئی ملک دوسرے ملک کوڈکٹیشن نہیں دے گا۔


خصوصی فوجی تربیت اورخفیہ معلومات کے تبادلے سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔چین کواس وقت ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے خطرہ ہے جوچین کے بعض علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی اس دہشت گرد گروپ سے نمٹنے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں۔اس گروپ کے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ضرب عضب کے باعث اس گروپ کے کچھ عناصر کی افغانستان منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چین سمجھتا ہے کہ افغانستان کی خراب صورتحال کے منفی اثرات چین کے مسلم اکثریتی صوبے پرپڑرہے ہیں۔دوسری طرف پاکستان بھی دہشت گردی کاشکارہے ۔تحریک طالبان کے دہشت گرداوراُن سے وابستہ کئی گروپوں نے اپناٹھکانہ افغانستان میں بنارکھا ہے۔یہ دہشت گرد اوران کے ماسٹرمائنڈ پاکستان میں کارروائیاں کرکے افغانستان میں روپوش ہوجاتے ہیں۔افغانستان میں ان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ افغان اورامریکی افواج نے ٹی ٹی پی کے خلاف اب تک جوکارروائیاں کی ہیں وہ ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد،افغان فوج سے زیادہ متحرک اورتجربہ کارہیں۔ امید ہے کہ اس اتحاد اورتربیت سے افغان فوج کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔


اس معاہدے کے مشترکہ اعلامیہ میں یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ یہ چارملکی فوجی اتحاد کسی ملک یا تنظیم کے خلاف نہیں۔ ممبرممالک جن دوسرے علاقائی اور بین الاقوامی معاہدوں کے پابند ہیں، ان کوجاری رکھیں گے۔ایک دوسرے سے تعاون اورمشترکہ اجلاسوں کافائدہ یہ ہوگا کہ ایک دوسرے کے موقف کوسمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔بدقسمتی سے دہشت گردوں نے اپنانیٹ ورک مختلف ممالک تک بڑھا لیاہے۔ داعش اورالقاعدہ کے دہشت گرد افغانستان،عراق ،شام ،تاجکستان اورازبکستان تک پھیلے ہوئے ہیں۔جبکہ ان کے ہمدرد اورسہولت کار مغربی ممالک میں بھی موجود ہیں ۔ بہت سے تاجک اورازبک گروپ افغانستان اوردیگرممالک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔


چین کی قیادت نے بجا طورپراس چیز کومحسوس کیا کہ دہشت گردی پرقابوپانے کے لئے علاقے کے ممالک کاآپس میں مل بیٹھنا اوردہشت گرد گروپوں کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون انتہائی ضروری ہے۔ خطے اورخصوصاً پاکستان میں امن کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں منفی بھارتی اثرورسوخ کوکم کیا جائے۔ افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث خود افغانستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔بھارت ،افغانستان کی سرزمین اورافغان خفیہ ایجنسی کوپاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے ۔افغان آرمی چیف کا پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بیٹھنا خطے کے لئے خوش آئند ہے۔اس سے ہمسایہ ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بھی دورہوں گی۔افغان فورسز کوبھارت کے اثرورسوخ سے نکالنے میں بھی مدد ملے گی۔ افغانستان کے مفادات اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سے وابستہ ہیں نا کہ بھارت سے۔جوامریکہ کی طرح افغان سرزمین کومحض اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہاہے۔ پاکستان اورافغانستان کی منتخب حکومتوں کے درمیان جوبدگمانی ہے، یہ منفی پروپیگنڈے کانتیجہ ہے ۔باہمی ملاقاتوں اورمذاکرات کے ذریعے انھیں دورکیا جاسکتا ہے۔ جب بات چیت شروع ہوتی ہے توغلط فہمیاں بھی دور ہوجاتی ہیں۔افغان سول و فوجی قیادت کویہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کادوست کون ہے اوردشمن کون ہے اور کون افغان سرزمین کو اس کے ہمسایوں کے خلاف استعمال کررہاہے۔


ہمالیہ سے بلنداورشہد سے میٹھی پاک چین دوستی دوسرے ملکوں کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔عوامی جمہوریہ چین اس وقت دنیا کاایک بڑا پاور پلیئر ہے۔ دفاعی صلاحیتیں ہوں یااقتصادی ترقی کی دوڑ چین آگے ہی بڑھتا جا رہا ہے۔ دفاعی میدان خصوصاً دفاعی پیداوار میں چین کی ترقی قابل رشک ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چنددہائیوں میں دفاعی انڈسٹری مزید ترقی کرے گی اورجلد امریکی اورمغربی ممالک کی دفاعی صنعت کوپیچھے چھوڑ دے گی۔ اس حوالے سے چین کی دفاعی منصوبہ بندی قابل رشک ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری، سی پیک، منصوبے کے بعد یہ دوستی یقینی طورپراپنی بلندیوں پرہوگی۔یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی نکتہ ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک یادودن میں پروان نہیں چڑھے بلکہ کئی سال پرمحیط ایک کہانی ہے۔ پاکستان نے عوامی جہوریہ چین سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد چین کے لئے پوری دنیا کے دروازنے کھول دیے۔پاکستان کے ذریعے ہی امریکہ اور چین کے درمیان رابطہ ہوا ۔تاریخی شاہراہ ریشم کی ایک علٰیحدہ کہانی ہے جہاں سے تجارتی قافلے پوری دنیا کورواں دواں ہوتے ہیں۔ اقتصادی راہداری اسی شاہراہ ریشم کی ترقی یافتہ شکل ہوگی جو پورے خطے میں ایک اقتصادی انقلاب برپاکرے گی۔ دونوں ممالک کے مابین دفاعی اور تجارتی معاہدے موجود ہیں۔کئی فوجی تربیتی مشقوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کے خصوصی دستے اور پیپلزلبریشن آرمی آپس میں کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر چکی ہیں۔ اب امید ہے کہ تاجکستان اورافغانستان کے دستے بھی اس معاہدے کے تحت مشقوں میں حصہ لیں گے جس سے دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے ان کی اہلیت اورقابلیت میں اضافہ ہوگا۔


اس چارملکی فوجی معاہدے سے توقع ہے کہ افغانستان اورپاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی۔افغانستان کواپنے کردار کا ازسرنوجائزہ لینے کاموقع ملے گا کہ آیاافغانستان ،بھارت کی پراکسی وار کوجاری رکھنا چاہتا ہے یاخطے میں امن کے لئے پاکستان اورچین کے ساتھ مل کرکام کرتا ہے۔ پاکستان پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہے افغانستان اورتاجکستان سمیت سنٹرل ایشیا کے ممالک اپنی تجارتی سرگرمیوں کے لئے گوادر پورٹ کواستعمال کرسکتے ہیں۔ نیز گوادرپورٹ سے تمام دوست ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


دہشت گردی کے خلاف قائم ہونے والایہ فوجی اتحاد مستقبل میں خطے کے ایک اہم سٹرٹیجک الائنس کی شکل اختیارکرسکتاہے۔یقینابعض ملکوں کویہ اتحاد پسند نہیں آیا ہوگا۔خصوصا بھارت یہ کوشش ضرور کرے گا کہ افغان فوج اس اتحاد کا متحرک حصہ نہ بنے ۔اس مقصد کے لئے بھارت افغانستان کی فوجی امداد اوراسے گولہ بارود کی فراہمی میں اضافہ کرسکتاہے۔ امریکہ کی بھی خواہش ہے کہ افغانستان میں چین اورپاکستان کااثرورسوخ نہ ہو۔ پاکستان نے جب بھی امریکہ کے سامنے افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کامعاملہ اٹھایا ہے، امریکیوں نے ہمارے دفترخارجہ کویہ کہہ کرمطمئن کرنے کی کوشش کی کہ بھارتی سرگرمیاں محدود ہیں، پریشان نہ ہوں۔ عوامی جمہوریہ چین نے پاکستان، افغانستان اورتاجکستان کوایک فوجی پلیٹ فارم پراکٹھا کرکے بڑا کام کیاہے۔ اس الائنس سے نہ صرف خطے میں امن قائم ہوگا بلکہ پورا خطہ ترقی بھی کرے گا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان دنیا کی اقتصادی سرگرمیوں کامرکز بننے جا رہا ہے۔ اس اقتصادی سرگرمی کے دشمن خطے میں دہشت گردی کرکے ہماری توجہ ہٹاناچاہتے ہیں لیکن یقین ہے کہ یہ چارملکی فوجی الائنس اقتصادی راہداری کی طرح مستقبل کی ایک دفاعی لائن ہوگی۔کسی دہشت گرد گروپ یاملک کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ اس میں دڑاڑیں ڈال سکے۔

سینیئرصحافی،مصنف اورکالم نگار علی جاوید نقوی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
09
September

کوئٹہ بم دھماکا، ایک بڑا سانحہ

تحریر: عفت رضوی

کوئٹہ کے محمد علی جناح روڈ پر واقع سول ہسپتال سالوں سے شہر بھر کے درد کے ماروں کی مسیحائی کرتا تھا۔ پھر ایک ایسا بھی روز آیا جب درد پر مرہم رکھنے والے اس گوشۂ عافیت کو ہی دہشت گردوں کی نظر کھا گئی۔ پیر 8 اگست کی علی الصبح بلوچستان بار کے صدر بلال انور کاسی اپنے کیسز کی پیروی کے لئے بلوچستان ہائی کورٹ جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں گولی کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ بار کے صدر کی شہادت کوئی معمولی بات نہ تھی۔ وکلا جو صبح گھر سے کالا کوٹ پہن کر اور یہ سوچ کر نکلے کہ انصاف کے متلاشیوں کی وکالت کریں گے۔ اپنے مقامی قائد کی شہادت کی خبر سنتے ہی سول اسپتال کوئٹہ پہنچے۔ بڑی تعداد ان وکلا کی تھی جو بلوچستان میں حق و انصاف کا علم بلند رکھتے تھے۔بار کے صدر کی شہادت ہوئے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ سول ہسپتال کے ایمرجنسی گیٹ پر ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دہشت گرد خود تو واصل جہنم ہوا،مگر اس کے سینے سے بندھے بم سے نکلنے والے بال بیرنگز نے آن کی آن میں 70 سے زائد قیمتی جانوں لقمۂ اجل کردیا۔
سانحہ تو گزر گیا، کبھی سوچا بھی ہے کہ کتنے عالی دماغوں سے ہم محروم ہوئے،کتنے خوابوں کا قتل ہوا، کتنے ارمان تھے جن کا دم گھٹا، کتنے حوصلے پگھل گئے، کتنی روحوں کو زخم لگے، کتنے گھر اُجڑے اور کتنی ماؤں کی گودیں۔۔۔۔۔

 

koitabam.jpgسانحہ صرف بارود کی بو سے قبر پر چڑھائی جانے والے پھولوں کی خوشبو تک کا سفر نہیں، سانحہ نوحے،بین، ماتم تک ختم ہوتا ہے نہ رسم چہلم تک۔ سانحہ تو یہ ہے کہ سول اسپتال کوئٹہ میں خون میں نہانے والے پشین کے 30 سالہ ایڈوکیٹ سید ضیا الدین کی 9 بہنیں،ماں ، بیوی اور ایک ننھی بیٹی اب ساری عمر اس ایک لمحے کو روئیں گی جب کسی حیوان صفت نے ان کے پیارے کو چھینا۔ سانحہ میتوں کی گنتی نہیں جس کی شدت شہید ہونے والوں کے ناموں کی تختیوں اور زخمی ہونے والوں کی فہرستوں سے عیاں ہو۔ سانحہ یہ ہے کہ چند کلو وزنی بارود ہم سے وہ 70 سے زائد سپوت چھین لے گیا جنہیں اس مٹی کا قرض چکانا تھا،ان میں کئی قانون دان تھے جنہیں بہت سے لوگوں کو انصاف دلانا تھا،وہ ڈاکٹرز جنہیں بہت سے بیماروں کی مسیحائی کرنا تھی، میڈیا کے نمائندے جو جان ہتھیلی پہ لئے اپنے فرائض انجام دیتے تھے ،ایک دھماکے نے ان سب کے ارادوں کو مٹی میں ملادیا۔ایسے سانحے کی سفاکی یہ ہے کہ وہ نہ عمر دیکھتا ہے نہ یہ کہ اس کا شکار ہونے والا کس قدر خوبرو ہے ، کس بلا کا ذہین ہے۔


سانحے کا بیان اس ماں کی خالی آنکھوں میں جھانک سکو تو جھانک لو جس نے اپنے بیٹے کو بچپنے میں اپنے آنچل کے سائے تلے چھپا لیا تھا کہ کہیں اسے دھوپ نہ لگ جائے،وہ ماں جس کا بیٹا خاک و خون میں لت پت سول اسپتال کے احاطے میں پڑا تڑپ رہا تھا۔سانحے کی تباہ کاری کسی مذمتی بیان سے کم نہیں ہوسکتی،نہ کوئی دلاسہ جانے والوں کو لوٹا سکتا ہے۔ ان سانحات کا خسارہ تو امدادی چیکوں سے بھی پورا نہیں ہوتا۔ ایسے خونی سانحہ کے معنی ان 55 سے زائد وکلا کے چیمبرز میں ڈھونڈیں جہاں رکھی قانون کی کتابوں کو اب کوئی کھولنے والا شاید ہی آئے۔
اس دل خراش واقعے کا ایک لمحہ کتنے برسوں کے انتظار کو بے وقعت کرگیا ان کا غم بیرسٹر عدنان کاسی کے والد شاید بیان کر پائیں جن کا ہونہار بیٹا بلوچستان کے ان چند وکلا میں سے ایک تھا جو بار ایٹ لا کی ڈگری کے لئے لندن گیا اور کامیاب بیرسٹر بن کر وطن واپس آیا، جس کی عدالتوں میں کیسز کی پیروی کے دوران بولی جانے والی فر فر انگریزی اور قانون پر گرفت کو سب دوست رشک سے دیکھتے تھے۔


سانحے کی سنگینی نجی ٹی وی چینل کے کیمرامین شہزاد خان کی اس کانپتی آواز میں محسوس کریں جب اس نے اس وقت کلمہ شہادت بمشکل ادا کیا، کیمرے پر اس کے ہاتھوں کی گرفت ٹوٹتی بکھرتی رہی،اس کے ہاتھ میں موجود کیمرا جنرل ساونڈ ریکارڈ پر تھا،اس کے کیمرے نے پورا منظر عکس بند کرلیا ، وہ شہزاد جو اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے بغیر کسی حفاظتی ڈھال کے کیمرا ہاتھ میں تھامے ہر کٹھن رپورٹنگ میں کود پڑتا تھا۔


سانحہ اب بھی محض ایک واقعہ لگے تو کوئٹہ کے وسط میں واقع ایک اور نجی ٹی وی نیوز چینل کے کیمرامین محمود خان کے گھر چلے جائیں ،ہوسکتا ہے محمود کے ننھے بچے بتا پائیں کہ بابا کی تصویر آٹھ اگست کے دن ٹی وی پر اتنا کیوں آتی رہی، یہی معصوم تھے نا کہ جن کی ہمیشہ یہ ضد رہتی تھی کہ بابا آپ نیوز چینل میں کام کرتے ہیں تو پھر ٹی وی اسکرین پر کیوں نہیں آتے۔
وہ جو سو سے زائد زخمی ہیں ،وہ کراچی اور کوئٹہ کے مختلف اسپتالوں کے بستروں پر آنکھیں بھینچے لیٹے ہیں، اور بار بار ایک ہی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح وہ لمحہ فراموش کردیں جب آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا تھا، کاش جسم کے زخموں کے ساتھ وہ گھاؤ بھی بھر جائیں جو روح کو مجروح کر گئے۔
کاش کہ اب کوئی سانحہ نہ ہو

(مصنفہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس فیلو، سوانح نگار ، قلمکار اور ایک نجی نیوز چینل میں رپورٹر ہیں)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وادئ کشمیرہماری


اس مٹی کے فرزند سے مٹی کی قسم لے
اک ہاتھ میں بندوق پکڑ اک میں قلم لے
سو بار اگر دشمنِ ایمان جنم لے
موقع ہی نہ دیں ہم کہ وہ پیکار میں دم لے
ناکام رہیں لشکرِ کفار کے حملے
اے فتحِ مبیں ! بڑھ کے مجاہد کے قدم لے
چلتی ہی چلے جائے ہے شمشیر ہماری
ہر حال میں ہے وادئ کشمیر ہماری
ویرانی پھرا کرتی ہے اب عیش کدوں میں
سو سکتے نہیں رات کو بھی چھاؤنیوں میں
ہیبت سے ہماری وہ چھپے اپنے بلوں میں
دہشت سے لہو جمنے لگا ان کی رگوں میں
یورش سے ہماری وہ اٹھا ہول دلوں میں
پسپائی کے آثار ہیں دشمن کی صفوں میں
تبدیل ہوئی تیر سے تقدیر ہماری
ہر حال میں ہے وادئ کشمیر ہماری
جینے کا سبق ہم نے پڑھا پھٹتے بموں میں
مظلوم کے معصوم دکھوں، اکھڑے دموں میں
اک جوش نیا دیکھتے ہی خستہ تنوں میں
داخل ہوئے بچپن سے جوانی میں دنوں میں
تلوار میں فولاد ڈھلا کارگہوں میں
آزادی کی جھنکار ہے بربط کی دھنوں میں
تکمیل پہ آ پہنچی ہے تصویر ہماری
ہر حال میں ہے وادئ کشمیر ہماری
پیمانوں میں آتی ہیں کہاں خون کی قدریں
پھولوں سے شہیدوں کی لدی رہتی ہیں قبریں
مدت سے لگائی نہیں باندھی ہوئی کمریں
اک روز نکل جائیں گی مفتوح کی سدھریں
روشن سرِ میدان ہوئیں فتح کی فجریں
اخبار میں آزادی کی چھپنے لگیں خبریں
کٹ کے ہے گرا چاہتی زنجیر ہماری
ہر حال میں ہے وادئ کشمیر ہماری


خالد اقبال یاسر

*****

 
07
September

Falsity of Modi's Assertions

Written By: Dr. Ahmad Rashid Malik

On Indian Independence Day on August 15, Prime Minister Narendra Modi, in his third consecutive Independence Day speech celebrating 70th anniversary, once again threatened Pakistan’s territorial integration. Speaking at the Red Fort in New Delhi, he declared that Pakistan glorifies terrorists and the people of Balochistan, Azad Kashmir, and Gilgit-Baltistan have thanked him [for his help].


The question arises that why the people of Balochistan, Azad Kashmir, and Gilgit-Baltistan thanked Modi? Secondly, what kind of assistance is he providing to them? Could he name any notable personalities or popular political parties who have approached? It was simply Modi’s propaganda against Pakistan. For Pakistanis, there was nothing new; the threat was as usual. It was an old mantra in new bottle, only the timing was different. Pakistani people can well identify hate-speech of Indian leaders since the time of their independence. It was Modi’s declaration of war against Pakistan for which he was preparing himself since taking oath in May 2014.


Modi’s mantra negates the Two-Nation Theory. He targeted Balochistan, Azad Kashmir, and Gilgit-Baltistan, which are almost half of Pakistan’s territory. Azad Kashmir has an area of 13,297 sq km or just one-third of the total area of Jammu and Kashmir. The rest is illegally occupied by India by fake accession and force. That is why protests keep on erupting in the Indian-occupied area. Hundreds of thousands of Kashmiris have lost their lives for seeking freedom. Over 68 people have been killed and many injured in the past couple of months.


Kashmir has reached boiling point in the past couple of months. Indian brutalities in the Indian Occupied Kashmir each day expose its hatred towards innocent Kashmiris.
Kashmir is a disputed territory. It is not an “integral part” of India, and therefore the people of Jammu and Kashmir have the right to ascertain their future. India is oppressing people of Kashmir and not allowing them to exercise their right of self determination to choose their future.


The United Nations Security Council not only passed the resolution (38) on January 17, 1948 to allow the people of Kashmir to decide their future, it passed 16 other resolutions until 1965 to ascertain the wishes of the people of Kashmir. However, the Indian Governments never respect the UN mandate on Kashmir. It is a mockery and shame that how Indian Governments have never implemented their international obligations for building peace in South Asia. They have shown that they are not interested in building peace and would continue with their non-compliance propaganda and brutalizing Kashmir.
Pakistan never annexed Azad Kashmir into its territory, but granted it greater autonomy keeping in view the people's aspirations and its own Constitution, President, Prime Minister, Cabinet, and an elected legislative assembly. The freedom of the people of Azad Kashmir speaks of Pakistan’s policy toward them since 1947.


Gilgit-Baltistan has an area of 72,971 sq km. The people of this area joined Pakistan by choice. Pakistan never fought a war in that area for its occupation. Northern Areas became a separate administrative territory in 1970 comprising Gilgit Agency, Baltistan, Hunza, and Nagar. Self-Governance was granted to Gilgit-Baltistan when it was renamed in 2009 to empower the people. Pakistan has also not amalgamated Gilgit-Baltistan on the ground that it would jeopardize the cause of Jammu and Kashmir, which needs to be resolved according to UN resolutions.


Frustrated by this move and what was already going on in Indian-Held Kashmir, Modi made a counter attack on Balochistan. Balochistan joined Pakistan in 1947. It is around 347,190 sq km in area that makes 44 percent of Pakistan’s total land area. Baloch separatists have been covertly assisted by India. Infact India created these separatists, and Modi has just made it clear that India is behind Baloch insurgency.


Indian spy agency RAW’s agent Kulbushan Yadav (alias Hussein Mubarak Patel) is among just many of those agents India has covertly sent to Balochistan to create uncertainty, to break the province from rest of the country, and bury the concept of Gwadar Port and CPEC. India often flaps sectarianism in Balochistan. The hidden agenda was exposed in March this year. In May an incident in Karachi also targeted a Chinese engineer engaged in a CPEC project and exposed RAW’s links with the so-called Sindudesh Liberation Army.


Modi is entangled in troubles for his anti-CPEC policy. He utterly misread CPEC, which has been moving fast and likely to complete a number of connectivity projects linking Kashgar with a number of destinations inside Pakistan soon. Modi could not hide his feelings and on the Day of Independence vociferously expressed his anti-Pakistan sentiments in public.


Pakistan has not been “dropping bombs in Balochistan”. It is conducting a targeted operation in that province which is entirely against terrorists taking refuge from FATA. Modi’s announcements are tantamount to India’s support for Baloch militants, that have been effectively controlled by Pakistan’s security forces. Pakistani military actions have upset their nefarious designs in these areas to create instability and break Pakistan. For them, it is a setback but for Pakistan, it means success as they are nearing the completions of operations.


Modi’s language was hostile, aggressive, provocative, irresponsible, and breached all political and diplomatic norms and damaging Pakistan’s vital interests. The statement seems to be well calculated as Modi is not interested in talks with Pakistan over a number of issues. He wants CPEC to be derailed and frozen. It looks like Modi’s statement was written by RAW and his security team. He has been obfuscating and de-tracking from the real issues and the dispute over Kashmir between the two countries. To strengthen his rule, he is trying to live on anti-Pakistan propaganda. There are indications that he might cancel his Islamabad visit where he is likely to attend SAARC Summit to be held in November this year.


India incites the policy of “State-Sponsored Terrorism”. For example, on every Indian Independence Day, Kashmiri people celebrate “Black Day”. What message does it give to the world? Is Indian leadership not aware of that? India is running the affairs of its occupied part through the deployment of over 700,000 troops, imposing long curfews for decades in a bid to control the State, brutalizing protest movements, killings innocent people, and bringing forth the draconian laws. On this Indian Independence Day, Indian security forces killed at least eight Kashmiris protesting against its rule. They are using pellet guns to blind the people in the Occupied Valley. Modi’s frustration shows that India is running out of options in Occupied Kashmir. Modi is ill-advised by his aides. He is playing the wrong game in a pointless way. He con not put Kashmir in the back-burner. His remarks have rather strengthened Pakistan’s case in Balochistan, the cause of Kashmir liberation, and CPEC.


India has been suppressing the independence movements in northeast of India such as in the States of Tripura, Meghalaya, Mizoram, Manipur, Assam, Nagaland, and Arunachal Pradesh. Hundreds of thousands of people have been killed but the separatist movements have not been wiped out. These ethno-religious political separatist movements are a flashpoint in Indian security. Communal strife in northeast demands the creation of more independent states. A number of insurgencies are active in this region. Modi should tackle these internal issues headache rather than interfering in Pakistan’s internal territorial affairs.

 

The writer is Senior Research Fellow at the Institute of Strategic Studies (ISS), Islamabad.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

Follow Us On Twitter