10
February

بحرہند میں امن کا فروغ

تحریر: محمد اعظم خان

سمندر کے ذریعے بڑی تعداد میں نقل و حمل نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ فضائی نقل و حمل سے تقریباً 163گنا سستی بھی ہے۔ 90 فیصد بین البراعظمی سامان کی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جو کہ تقریباً 15ملین کنٹینرز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ کنٹینرز سا لانہ 200ملین سے زائد مرتبہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 38ہزار سے زائد تجارتی جہاز سمندری راستوں کے ذریعے 4500سے زائدبین الاقوامی بندرگاہوں کے درمیان ایک عالمگیر رابطے کا باعث بنتے ہیں۔
68.56ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا بحرہند دنیامیں تیسرا بڑا بحر ہے جو زمین کی سطح کے تقریباً 20فی صد حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔47ممالک کے ساحلوں اور کئی جزیروں کا مسکن بحر ہند جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے بہت اہم ہے۔

behrhindmainmut.jpgبحر ہندمیں سالانہ تقریباً ایک لاکھ جہاز ایک وسیع علاقے کا سفر کرتے ہیں اور یہ بحر دنیا میں‘ وزن کے اعتبار سے‘ سامان کی بڑی مقدار میں نقل و حرکت کا بحر مانا جاتا ہے۔ یہ بحر دنیا کے طویل سفر کرنے والے مال بردار جہازوں کی نقل و حمل کے لئے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً نصف بحری آمدو رفت اور پیٹرولیم مصنوعات کی80 فیصد سے زائد نقل و حمل اسی بحر کے ذریعے ہوتی ہے۔ دنیا کے تیل کا 65فیصد حصہ اور گیس کے 35فیصد ذخائر بحر ہند کے ساحلی ممالک میں واقع ہیں۔ کئی ممالک کی تجارتی آمدو رفت اسی بحرکے ذریعے ہوتی ہے۔ امریکہ ، فرانس اور جاپان، خلیج سے توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں ۔ مشرق سے مغرب کابحری تجارتی راستہ جو عین شمالی بحرِ ہند سے گزرتا ہے، دنیا کا اہم ترین تجارتی راستہ ہے اور ہزاروں جہاز ہر وقت اس پر رواں رہتے ہیں ۔
اکیسویں صدی اپنے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے بے مثال مواقع لائی ہے لیکن یہ مواقع سیاسی اور معاشی بد نظمی اور عدم استحکام جیسے خطرات سے دوچار ہیں ۔ دنیا کی قومی معیشتوں کے حوالے سے ان میں سے 80کی دہائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ، توانائی اور صنعتی خام مال کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔نتیجہ یہ کہ اس صورت حال نے بین الاقوامی تجارت کو بہت تیزی کے ساتھ بحری تجارتی راستوں کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، بحری قزاقی، سمندری وسائل کے استحصال،معاشی نظام میں بگاڑ اورعالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کے پس منظر میں عالمی سکیورٹی، اقتصادیات اور ماحول کو لاحق مختلف النوع خطرات میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے،جس کے لئے مشترکہ اورزیرک سوچ کی ضرورت ہے۔ بحری تجارت میں ہر ملک شامل ہے اور اس کی حفاظت تمام شراکت داروں کی مربوط حکمت عملی کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔


سا ل2007سے پاک بحریہ کی جانب سے منعقد ہ امن مشقیں اور انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس مغربی بحرہند میں میری ٹائم سکیورٹی کو بہتر بنانے کی جانب ایک غیر معمولی قد م ہے۔ ’’امن‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی انگریزی میں
’’Peace‘‘
کے ہیں۔اس مشق کا سلوگن ’’ امن کے لئے متحد
، Together for Peace‘‘
ہے جو اس مشق کی بنیاد بنا۔2007 سے منعقدہ ہرمشق میں عالمی بحری افواج اور مندوبین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔مشق امن 2007میں عالمی بحری افواج کے14 جہازوں، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی 2ٹیموں اور 21ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ سال 2009میں منعقدہ دوسری امن مشق میں14جہازوں، 2 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسزکی9ٹیموں اور 27ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ مارچ2011میں منعقد ہونے والی تیسری امن مشق میں 11 جہازوں، 3 ایئرکرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی اور میرینز کی 3 ٹیموں اور 28ممالک کے43مندوبین نے شرکت کی۔ امن مشقوں کے سلسلے کی چوتھی مشق امن 2013میں 12جہازوں ،2ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی6ٹیموں اور29ممالک کے 36 مندوبین نے شرکت کی۔
امن مشقوں کے انعقادکامقصد معلومات کے تبادلے اور باہمی دلچسپی کے اُمور بشمول میری ٹائم سکیورٹی کے مسائل ،دہشت گردی کے خاتمے اور انسانیت کی مدد جیسے آپریشنزپر یکساں سوچ کوفروغ دینا ہے۔ مشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فضا،سمندر اور زیر سمندر خطرات سے نبردآزمائی کے لئے مشترکہ مہارتوں کے فروغ اور مختلف مشقوں کے ذریعے سپیشل آپریشنز فورسز کی مہارتوں میں اضافے کا حصول بھی ان مشقوں کے انعقاد کے مقاصد میں شامل ہے۔


امن مشقوں کا انعقاد پاکستان نیوی کا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ کثیر مقاصد کے حصول کی حامل یہ مشقیں خطے میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی بحری افواج کے ساتھ پاک بحریہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہیں ۔ امن مشقوں کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی قوت کے طور پرپاک بحریہ کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اتحادی ممالک کا پاک بحریہ پر اعتماد بھی بڑھا ہے۔مشق امن 2017کا انعقاد اس اعتمادمیں مزید اضافے کا باعث ہوگا ۔مشق امن 2017 میں 35ممالک سے زائد جہاز، ایئرکرافٹ، ہیلی کاپٹرز، سپیشل آپریشنز فورسز/دھماکہ خیز مواد کو نا کا رہ بنانے والی ٹیمیں، میرینز پر مشتمل ٹیمیں اور مندوبین شرکت کریں گے۔ مشق امن 2017 میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں پر عالمی برادری کے اعتماد و یقین اور مستقبل میں پاکستان اور پاک بحریہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 
10
April

مردم شماری ایک اہم قومی ذمہ داری

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں

دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص وقفے کے بعد باقاعدہ طور پر مردمِ شماری کی جاتی ہے۔ اس کے لئے حکومت میں ایک الگ شعبہ ہوتا ہے جس کا کام نہ صرف مردم شماری کے لئے مطلوبہ انتظامات کرنا بلکہ مردم شماری سے حاصل اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی تجزیئے کی بنیاد پر حکومت مکمل ترقی اور قوم کی فلاح و بہبود کی خاطر طویل المیعاد بنیادوں پر پالیسیاں متعین کرتی ہے۔ پاکستان میں آزادی کے فوراً بعد1950میں مردم شماری کے لئے ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا تھا۔ ابتداء میں یہ شعبہ مرکزی وزارتِ داخلہ کا حصہ تھا اور اسی کے تحت پاکستان میں1951 میں ملک کی پہلی مردم شماری کا اہتمام کیاگیا تھا۔ لیکن متحدہ ہندوستان کے وہ علاقے جو اب پاکستان کا حصہ ہیں‘ میں پہلی مردم شماری 1881 میں منعقد ہوئی تھی۔1951 میں پہلی مردم شماری کے بعددوسری مردم شماری1962 میں ہوئی۔ تیسری مردم شماری1971 میں ہونی چاہئے تھی لیکن مشرقی پاکستان کے سیاسی بحران اور بھارت کے ساتھ جنگ کی وجہ سے1972 میں مردم شماری کا انعقاد کیا گیا۔ چوتھی مردم شماری اپنے دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد یعنی 1981 میں ہوئی لیکن اس سے اگلی یعنی پانچویں مردم شماری1991 کے بجائے 1998 (سات سال کی تاخیرسے) کرائی گئی۔ اس تاخیر کی وجہ بھی ملک کے بعد غیر معمولی سیاسی حالات اور خاص طور پر افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی مداخلت اور اس مداخلت کے خلاف افغان تحریک مزاحمت کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان میں آمد تھی۔ ان مہاجرین کی غالب اکثریت کا تعلق پشتون نسل سے تھا۔ اس لئے وہ پاکستان کی پشتون آبادی میں اس طرح گھل مل گئے کہ اُنہیں مردم شماری کے دوران علٰیحدہ شمار کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا لیکن چونکہ مردم شماری کو زیادہ دیر تک مؤخر نہیں کیا جاسکتا تھا‘ اس لئے1998 میں پاکستان کی پانچویں مردم شماری کا انعقاد ہوا۔ یہ مردم شماری ملک کی متنازعہ ترین مردم شماری تھی۔ کیونکہ پاکستان کے بعض علاقوں خصوصاً بلوچستان کے بعض حصوں میں مردم شماری کے عملے کو کام کرنے سے روک دیاگیا تھا۔ اس کی بھی بڑی وجہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں آباد افغان مہاجرین کی موجودگی تھی جو پاکستان میں اپنے طویل قیام کے دوران نہ صرف جائیداد ‘ روزگار اور کاروبار کے مالک بن چکے تھے‘ بلکہ متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے اُنہوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ بھی حاصل کر لئے تھے۔ بلوچستان کی بلوچ آبادی کو خدشہ تھا کہ ان افغان مہاجرین کو پاکستان کے شہری شمار کرکے صوبے میں پشتون آبادی کو زیادہ ظاہر کرکے بلوچ آبادی کو اقلیت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ بلوچستان میں غیربلوچ پاکستانی باشندوں مثلاً پنجابی اور کراچی سے اُردو بولنے والے لوگوں کی آباد کاری کی وجہ سے صوبے کی بلوچ آبادی میں پہلے ہی بہت تشویش پائی جاتی تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کے قیام کی وجہ سے بلوچ آبادی میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی تھی۔ کیونکہ بلوچیوں کو ڈر تھا کہ اگر ان افغان مہاجرین کو پشتون آبادی کا حصہ ظاہر کیا گیا تو صوبے میںآباد دو بڑے لسانی گروپوں یعنی پشتون اور بلوچوں کے درمیان آبادی کا توازن اول الذکر گروپ کے حق میں چلا جائے گا۔

mardamshumarihamara.jpg
کسی بھی ملک میں جہاں وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی اداروں میں نمائندگی اور وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ اہمیت آبادی کو حاصل ہو‘ وہاںآبادی میں کمی بیشی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے۔ اس کے دو صوبوں یعنی سندھ اور بلوچستان دو دو لسانی گروپوں یعنی بالترتیب سندھی اور اُردو زبان بولنے والے اور پشتو اور بلوچی بولنے والے علاقوں میں منقسم ہیں۔ سندھ میں یہ تقسیم دیہی اور شہری علاقوں میں تقسیم کی صورت پائی جاتی ہے جہاں بالترتیب سندھی اور اُردو بولنے والوں کی اکثریتی آبادی قیام پذیر ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت(آرٹیکل (3)51 ملک کی قومی اسمبلی کی نشستیں‘ صوبوں‘ فاٹا اور اسلام آباد کی کیپیٹل ٹیرٹری
(Capital Territory)
کے درمیان آخری مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر الاٹ کی جاتی ہیں۔ اس لئے ہر دس برس بعد قومی اسمبلی میں نہ صرف صوبوں بلکہ فاٹا اور اسلام آباد کے لئے بھی مختص نشستوں میں رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ آبادی کو انتخابات کے ذریعے صرف قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لئے بنیاد کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ صوبوں اور وفاق کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں بھی آبادی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی محکموں میں صوبوں کے لئے مختص کوٹے میں سرکاری ملازمتوں کو بھی آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس لئے ہر صوبہ اور وفاقی یونٹ اپنی اپنی آبادی کے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور مردم شماری کے موقع پر اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ صرف قومی اسمبلی میں مختص ان کی نشستوں میں اضافہ ہوسکے بلکہ وفاقی فنڈز کی تقسیم اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹے میں اُنہیں زیادہ سے زیادہ حصہ مل سکے۔1998 میں سات سال کی تاخیر کے بعد مردم شماری کے پیچھے بھی یہی محرکات کار فرما تھے۔ ان میں افغان مہاجرین کا مسئلہ سب سے نمایاں تھا لیکن 1998 کے بعد دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد2008 کے بجائے2017 میں چھٹی مردم شماری کے انعقاد میں تاخیر کی وجوہات میں وہ حالات بھی شامل تھے جن کا9/11 کے بعد خصوصاً افغانستان پر امریکی فضائی حملوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے تعلق تھا۔ اس دوران دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں خاندان خصوصاً پاکستان کے شمال میں واقع قبائلی علاقوں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اگرچہ بے گھر ہونے والے ان افراد کی اکثریت اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکی ہے لیکن بحالی اور آباد کاری کا عمل نامکمل ہونے کی وجہ سے ان بے گھر افراد کی خاصی تعداد ابھی تک اپنے گھروں سے دور رہائش پذیر ہے اور اس وجہ سے اُنہیں موجودہ مردم شماری میں شمار کرنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ اس طرح بلوچستان میں بھی امن و امان کی خراب صورت حال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شرپسندوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے بھی بعض بلوچ علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ان حالات کی وجہ سے بعض سیاسی جماعتوں نے موجودہ مردم شماری کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری سے پہلے افغان مہاجرین کو واپس اپنے گھروں کوبھیجا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعدادو شمار متنازعہ رہیں گے۔


پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی اگرچہ ایک بڑی تعداد نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہروں‘ قصبوں یا آباد علاقوں میں پناہ لی لیکن ان میں بیشتر نے ملک کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز کراچی کا رُخ کیا تھا۔ کراچی میں پشتون نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پہلے ہی ایک خاصی بڑی تعداد موجود ہے۔ قبائلی علاقوں سے مزید پشتون افراد کی آمد پر ایم کیو ایم نے احتجاج کیا اورمطالبہ کیاکہ یا تو کراچی میں بے گھر ہونے والے اِن پشتونوں کی آمد پر پابندی عائد کی جائے یا ان کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں اضافے کی بنیاد پر شہری علاقوں کے لئے مختص فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔ صاف ظاہر تھا کہ ایم کیو ایم ایک انسانی مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی تھی لیکن ایم کیو ایم کی سیاست صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ موجودہ مردم شماری کے اعلان کے بعد جب عملے نے اپنے کام کا آغاز کیا تو ایم کیوایم نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صوبے میں شہری آبادی کے مقابلے میں دیہی آبادی کو زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ نہ صرف صوبہ سندھ کے حصے میں وصول ہونے والے فنڈز کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں کو ملے بلکہ دیہی علاقوں میں ملازمتوں کے کوٹے 60 سے40 فیصد کو برقرار رکھا جاسکے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں ہر لسانی گروپ کوشش کررہا ہے کہ اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاسکے تاکہ سیاسی قوت‘ اختیارات اور قومی آمدنی میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیا جاسکے۔ حالانکہ یہ ایک خالصتاً انتظامی عمل ہے جس میں پیشہ ورانہ مہارت کے مالک اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ لوگ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔


ان حالات میں مردم شماری کے عمل کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پاک فوج سے مدد لی گئی۔ چونکہ پاکستان آرمی کی ایک بڑی تعداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغربی سرحدوں پر تعینات تھی اور مشرقی بارڈر پر بھارت کے غیرذمہ دار اور جارحانہ رویے کی وجہ سے بھی حالات غیر معمولی صورت حال کی متقاضی ہیں اس لئے مردم شماری میں فرائض کی انجام دہی کے لئے فوجی جوانوں کو فارغ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ موجودہ مردم شماری میں تاخیر کی وجوہات میں پاک فوج کے جوانوں کی عدم دستیابی بھی شامل تھی۔ تاہم جب سپریم کورٹ نے اگلے یعنی 2018 کے انتخابات سے قبل ہر حال میں مردم شماری کا حکم دیا تو موجود حکومت کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مردم شماری کا عمل فی الفور شروع کردے۔ یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہے اور دو مراحل میں اگلے دو ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اسے تحفظ فراہم کرنے اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے پاک فوج کے دو لاکھ سپاہی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ پروگرام کے مطابق ہر شمار کنندہ کے ساتھ فوج کا ایک سپاہی ہوگا۔ اس سے نہ صرف شمار کنندگان کو تحفظ حاصل ہوگا بلکہ فوج کی شراکت سے موجودہ مردم شماری کے پورے عمل پر قوم کے ہر طبقے اور ملک کے ہر حصے کا اعتماد بحال ہوگا۔ مردم شماری کا عمل شروع ہونے کے چند دن کے اندر مردم شماری کے عملے پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ایسے مزید واقعات کا خدشہ موجود ہے اور اس کے پیش نظر مردم شماری کے عمل میں فوج کی شرکت اور معاونت کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مردم شماری کے دوران شمار کنندگان کے ہمراہ فوجی جوانوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج قومی اہمیت کے ہر عمل پر سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ ملک کی خدمت کے لئے تیار ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
10
April

اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او اور پاکستان

Published in Hilal Urdu

تحریر: جاوید حفیظ

مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں منافع کماتی ہیں۔ نئے کارخانے لگتے ہیں۔ سڑکیں بنتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور انشورنس کا بزنس فروغ پاتا ہے۔ تجارتی روابط ٹورازم کو ترقی دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ تجارت ملکوں کے مابین امن اور خطے میں استحکام لاتی ہے۔ کیونکہ اقتصادی تعاون کے بین الاقوامی فروغ کے لئے امن اور استحکام اہم شرط ہے۔


علاقائی اقتصادی تعاون سے وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملتی ہے مثلاً پاکستان ٹیکسٹائل اور چاول برآمد کرتا ہے اور ہمسایہ ملک ایران یہ دونوں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ایران اگر یہ دونوں چیزیں کسی دورکے ملک سے منگوانے کے بجائے پاکستان سے خریدے تو اسے سستی بھی پڑیں گی کیونکہ ٹرانسپورٹ کرنے میں لاگت کم آئے گی۔ اسی طرح ایران تیل اور گیس برآمد کرتا ہے جبکہ اس کے ہمسایہ ممالک ترکی اور پاکستان کی انرجی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں ان تین ملکوں کے باہمی تعاون سے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے 1964 میں آر سی ڈی
(Regional Cooperation For Development)
بنائی گئی۔ اس تنظیم کا مقصد تینوں ملکوں کے مابین تجارت کا فروغ اور شاہراہ کے ذریعے سفر کو آسان بنانا تھا۔ یہی وہ شاہراہ تھی جو پاکستان کو یورپ سے منسلک کر سکتی تھی۔ ایران میں 1979 میں انقلاب آیا تو آر سی ڈی غیرفعال ہو گئی۔ 1985میں تینوں ممالک نے اسے نئے نام یعنی ای سی او
(Economic Cooperation Organisation)
کے ذریعے دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1992 میں افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے چھ ممالک اس تنظیم میں شامل ہو گئے۔ بیسیویں صدی نے علاقائی تعاون کا عروج دیکھا ہے اور بہت سے ممالک باہمی اشتراک سے مستفید ہوئے۔ اس تعاون کی سب سے بڑی مثال یورپی یونین ہے۔ تعاون اور اتحاد کی اس شکل میں سرمایہ اور لیبر آزادانہ ایک ملک سے دوسرے ممبر ملک جا سکتے ہیں۔ مثلاً فرانس کا شہری جرمنی، یونان، ہالینڈ کسی بھی ملک میں نہ صرف جاب کر سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں سے تھکے ہوئے یورپ کے لئے یہ بہت خوشگوار تجربہ تھا۔ اسی طرح کا ایک اور کامیاب تجربہ ایشیا میں آسیان کی صورت میں سامنے آیا۔ یہاں علاقائی تعاون سے سنگاپور، ملائشیا اور دیگر ممبر ممالک کو بہت فائدہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے معیار زندگی بہتر ہوا۔ ان ممالک نے نہ صرف باہمی تجارت کو خاصی حد تک بڑھایا بلکہ تعلیم صحت اور ریسرچ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کی معاونت کی، بالآخر خارجہ پالیسی کے امور میں بھی تعاون دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف یورپ کے کئی ممالک مشترکہ ویزہ پالیسی کا حصہ ہیں اور ایک کامن کرنسی یعنی یورو معرض وجود میں آئی۔ ان دو کامیاب علاقائی تنظیموں کے علاوہ چند ایسی مثالیں بھی مشاہدے میں آئیں جن میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور ان میں ایک تنظیم سارک بھی ہے۔

ecoaurpakistan.jpg
اس بات کا تعین بھی ضروری ہے کہ سارک ناکام تنظیم کیوں ہے۔ کسی بھی علاقائی تعاون تنظیم کی کامیابی کے لئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ ممبر ممالک کی سوچ اور مقاصد میں ہم آہنگی ہو۔ صاف ظاہر ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے ہدف مختلف ہیں۔ مثلاً انڈیا ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جو اس کا تابع فرمان ہو۔ مگر انڈیا اپنا یہ ہدف حاصل نہیں کر سکا اور 1998 کے ایٹمی تجربوں کے بعد تو پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ لیکن اس بات کا کیا علاج ہے کہ انڈیا نے اپنا برتری اور رعب جمانے کا ہدف ترک نہیں کیا۔ پھر انڈیا اور پاکستان کے مابین کئی حل طلب مسائل ہیں جن میں کشمیر سرفہرست ہے۔ ای سی او ممالک کے درمیان ایسے جھگڑے نہیں لہٰذا اس تنظیم کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔معیشت کا تنوع اور ایک دوسرے پر انحصار علاقائی تعاون کی کامیابی کی دوسری شرط ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں ٹیکسٹائل گڈز برآمد کرتے ہیں بین الاقوامی منڈی میں دونوں میں مقابلے کی فضا رہتی ہے۔ اسی طرح انڈیا، پاکستان اور سری لنکا تینوں چاول برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین باسمتی چاول برآمد کرنے کے سلسلے میں سخت مسابقت رہتی ہے۔ ای سی او کے ممبر ممالک میں ایسی کوئی مشکل نظر نہیںآتی۔ پاکستان اور ترکی بہت ساری ایسی چیزیں بناتے ہیں جن کی سنٹرل ایشیا میں کھپت ہے۔ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے اور ہمیں گرمیوں میں تاجکستان سے بجلی مل سکتی ہے۔ ایک منصوبہ جسے کاساایک ہزار
(CASA-1000)
کا نام دیا گیا ہے پر دستخط ہو چکے ہیں۔


عام طور پر کہا جاتا ہے کہ علاقائی تعاون اور تجارت کے فروغ کے لئے مذہبی اور کلچرل ہم آہنگی اور یکسانیت لازمی شرط نہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ترکی مسلمانوں کا ملک ہے۔ پوری کوشش کے باوجود ترکی ابھی تک یورپی یونین کی ممبر شب حاصل نہیں کر سکا۔ سارک ممالک کے لوگ تین چار مذاہب کے پیروکار ہیں۔ جن میں ہندو مت، اسلام، بدھ مت اور عیسائیت نمایاں ہیں۔ ان کے برعکس ای سی او ممبر ممالک میں ہر جگہ مسلمان اکثریت میں ہیں اور اس وجہ سے ای سی او کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔


ای سی او نے اب تک کیا اہداف حاصل کئے ہیں۔ اس تنظیم کا ریکارڈ کیسا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ریکارڈ دیکھنے کے بعد میں ای سی او کو نیم کامیاب تنظیم کہوں گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اس تنظیم کا مستقبل روشن ہے۔ ای سی او ممالک نے 2005ء میں سرکردہ اشخاص کا ایک پینل بنایا تھا تاکہ مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جائے۔ اس پینل کا کہنا تھا کہ اگر کسٹم ڈیوٹی کم کی جائے اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا ازالہ کیا جائے تو ای سی او ممبرز اپنی باہمی تجارت کو ٹوٹل ٹریڈ کے بیس فیصد تک لے جا سکتے ہیں۔ 2015 گزر گیا لیکن باہمی تجارت آٹھ فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ آئیے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تنظیم اپنے مکمل اہداف حاصل کرنے سے کیوں قاصر رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو افغانستان کی غیرمستحکم صورت حال نظر آتی ہے جو تاحال قائم ہے۔ دوسری بڑی وجہ ایران پر ایٹمی پروگرام کی وجہ سے لگنے والی عالمی اقتصادی پابندیاں تھیں تیسری وجہ یہ ہے کہ سنٹرل ایشیا کے کئی ممالک اپنے انفراسٹرکچر کی وجہ سے روس کی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔ ای سی او کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ان ملکوں کو روس کی معیشت اور تجارت سے دور کیا جائے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر گیس پائپ لائنز بن جائیں اور ممبر ممالک کا ایران پاکستان اور ترکی کے ساتھ زمینی سفر آرام دہ ہو جائے تو سنٹرل ایشین ممالک کو بہت فائدہ ہو گا۔ راقم الحروف جب دو شنبے میں سفیر تھا تو اس بات کا این ایچ اے کی مدد سے تعین کر لیا گیا تھا کہ اسلام آباد سے براستہ پشاور جلال آباد کابل تاجکستان کا سفر آسانی سے دس گھنٹے میں ممکن ہے۔ دو شنبے سے بائی روڈ ماسکو جانے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہے۔ اور اب آتے ہیں یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی ای سی او سمٹ کانفرنس کی جانب۔ فروری کے مہینے میں پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر دیکھنے میں آئی۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ای سی او سمٹ کانفرنس کو سبوتاژ کر دے گا لیکن دشمن اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کانفرنس میں چھ صدور ایک وزیراعظم اور دو نائب وزیراعظم آئے۔ ایران کے صدر حسن روحانی اور ترکی کے صدر طیب رجب اردوان
(Recep Tayyip Erdogan)
نمایاں رہے۔ یہ پاکستانی سفارت کاری کی واضح کامیابی تھی۔ اس سے پاکستان کی علاقائی اہمیت کا پھر سے اقرار ہوا ہے۔ انڈیا کا یہ دعویٰ کہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں تنہا ہے۔ غلط ثابت ہوا۔
اسلام آباد کی سربراہ میٹنگ کا شعار تھا۔
(Connecting for regional prosperity)
یعنی خطے میں خوشحالی لانے کے لئے ممبر ممالک کو جوڑا جائے، قریب تر لایا جائے۔ فارن سیکرٹری اعزازچوہدری نے اس کی وضاحت یوں کی کہ سڑکوں کے ذریعے سفر کو آرام دہ اور کم خرچ بنایا جائے تاکہ ممبر ممالک کے لوگ آسانی سے سارے خطے میں آ جا سکیں اور اس کے علاوہ مال بردار ٹرک اور ٹرالر بڑی تعداد میں روزانہ بارڈر کراس کریں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب سڑکوں کی حالت بہت اچھی ہو، ریلوے کا نظام فعال ہو، اور مال کی ٹرانسپورٹ کم قیمت ہو۔ سڑکوں اور ریلوے کے علاوہ پائپ لائن انرجی کی ٹرانسپورٹ کا آسان اور کم خرچ ذریعہ ہے۔ تیل کی نقل و حرکت کا یہ طریقہ ٹینکرز کے مقابلے میں آسان بھی ہے۔


اسلام آباد کی سربراہ کانفرنس میں وژن 2025ء کو ممبر ممالک نے اتفاق رائے سے پاس کیا۔ یہ مستقبل قریب کا روڈ میپ ہے۔ اس روڈ میپ کا ایک اہم نکتہ اگلے پانچ سال میں ممبر ممالک کے مابین تجارت کو دوگنا کرنے کا عزم ہے۔ اس کامیاب کانفرنس نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی پاکستان کو دنیا میں یا ہمارے خطے میں تنہا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ چین کے نائب وزیرخارجہ نے ہمارے وزیراعظم کی دعوت پر کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کی۔ کانفرنس کے اعلامیے میں سی پیک کا باقاعدہ ذکر ہے اور اس بات کا اقرار بھی ہے کہ یہ منصوبہ تمام خطے کی اقتصادی ترقی کو مہمیز کرے گا۔


دراصل سی پیک کا مقصد بھی ٹرانسپورٹ کو آسان بنانے کے لئے خنجراب سے گوادر تک سڑکیں اور اقتصادی ترقی کے پروجیکٹ بنانا ہے۔ تیل کی درآمد کے لئے چین تک پائپ لائن بچھانا ہے۔ پاکستان کی انرجی کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سی پیک کے منصوبے کی وجہ سے پاکستان میں بیس لاکھ یعنی دو ملین نئے جاب نکلیں گے۔ ای سی او کے ممبر ممالک بڑی آسانی سے سی پیک کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گوادر اور خنجراب کے راستے درآمد اور برآمد کر سکتے ہیں۔ ایران کی اقتصادی پابندیاں اٹھنے سے ای سی او تعاون بڑھے گا۔ تمام ممبر ممالک کو کوشش کرنی چاہئے کہ افغانستان میں امن جلد آئے۔ افغانستان میں امن اور استحکام پورے خطے میں خوشحالی لائے گا۔ دوسری طرف روس نے یوریشین اکنامک یونین اور سی پیک کولنک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ آج کے زمانے میں اقتصادی ترقی اور تجارت کا فروغ بہت اہم ہیں اور علاقائی تعاون ان دونوں اہداف کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ای سی او کی تنظیم نے ہمیں یہ اہداف پورے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

مضمون نگار، متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔

عظیم الشان پاکستان

 

اقوامِ عالم میں ہے اِک پہچان پاکستان
بہت مضبوط پاکستان‘ عظیم الشان پاکستان
جو اِک اشارہ ہو تو رکھ دیں جاں ہتھیلی پر
صفایا کر دیں باطل کا یہ فرزندانِ پاکستان
میری اس قوم نے پھر سے نئے پیمان باندھے ہیں
سلامت تاقیامت باصفا مردانِ پاکستان
میرے شہروں کی رونق بس انہی کے دم سے ہے قائم
میرا اِ ک اِک سپاہی واری و قربان پاکستان
شہیدوں‘ غازیوں کا قرض میں کیسے چکا پاؤں
میرے ہر گیت‘ ہر اک نظم کا عنوان پاکستان

عالیہ عاطف

*****

 
10
February

علاقائی تعاون۔ مگر کیسے؟

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا۔ مرکزی خیال یہی تھا کہ محفوظ اور مستحکم افغانستان ہی اس تمام خطے کی ترقی اور خوش حالی کا ضامن ہو گا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو کہ استنبول سلسلہ بھی کہلاتا ہے کل چودہ ممالک شامل ہیں۔ تمام اہم علاقائی ممالک اس کے ممبر ہیں جبکہ 17معاون ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ بارہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بطور معاون موجود ہیں۔ یہ تنظیم تین بنیادی مسائل یا معاملات جو کہ سیاسی مشاورت‘ اعتماد سازی کے اقدامات اور علاقائی تنظیموں سے تعاون ہیں،کی طرف مرکوز ہے۔
ماضی میں کچھ اس سے ملتی جلتی ایک کانفرنس
European Conference on Security & Cooperation
جو کہ یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کے نام سے جولائی 1973 میں شروع کی گئی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں ایسی کانفرنس کا انعقاد ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں مشہور زمانہ ہیلسنکی معاہدے پر اگست 1975 میں دستخط ہوئے۔ اسی کانفرنس نے آگے جا کر یورپی تنظیم برائے سکیورٹی اور تعاون کا روپ دھار لیا۔
OSCE
اس وقت دنیا کی سب سے بڑی علاقائی سکیورٹی کی تنظیم بن چکی ہے۔ جس کے 57ممالک ممبر ہیں۔ ہارٹ آف آیشیا کانفرنس شروع کرنے کے پیچھے ممکن ہے
OSCE
کاَ کامیاب انعقاد پیش نظر ہو۔ اس وقت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی ’6سال کے عرصے میں‘ 6کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ استنبول، کابل، الماتی، (قازقستان)،بیجنگ اور اسلام آباد جبکہ آخری یعنی چھٹی کانفرنس امرتسر میں 5دسمبر کو منعقد ہوئی۔


چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پہلے پاک بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔ 2016 کے وسط میں کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں تحریک آزادی میں مزید شدت اس وقت آئی۔ جب برہان مظفر وانی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ بھارت اپنی تمام تر ریاستی زور اور طاقت کے باوجود کشمیریوں کی حق خودارادی کی تحریک کو دبا نہ سکا۔ بھارت نے بڑھتی ہوئی تحریک کو پاکستان حمایتی قرار دیتے ہوئے سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا اور دو سطح پر پالیسی بنائی۔ پہلی سطح پر دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ پاکستان کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی تحریک آزادی کی مالی اور فوجی معاونت کر رہا ہے اور ساتھ ہی تمام تر ریاستی اور فوجی قوت اور ظلم و تشدد سے کشمیریوں کی تحریک کچلنے کی کوشش کی جانے لگی اور دوسری سطح پرلگاتار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارت کی جانب سے تقریباً 250سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان میں پہلے سے طے شدہ سارک سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے حلیف ممالک افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اس بائیکاٹ میں شامل کر لیا۔ نتیجتاً پاکستان نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی۔ اس پس منظر میں پاکستانی حکومت کے سامنے یہ سوال کھڑا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے یا بھارت کی طرح اس کا بائیکاٹ کرے۔ لیکن پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے کانفرنس ملتوی نہ ہونی تھی کیونکہ اس میں 13دوسرے ممالک بھی شامل تھے۔


حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح غیرذمہ دارانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ پاک بھارت کشیدگی مذاکرات سے ختم ہو گی نہ کہ ایک دوسرے سے بات چیت بالکل ختم کر دینے سے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مفادات ہیں اور امرتسر کانفرنس کا مقصد افغانستان اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرنا تھی۔ تیسرے یہ کہ اس وقت بھارت کی پالیسی پاکستان کو خطے میں اور دنیا بھر سے الگ تھلگ کرنا ہے تو اس کا بہترین توڑ یہی ہے کہ پاکستان اس کانفرنس میں شرکت بھی کرے اور اپنا حصہ بھی ڈالے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت سے تمام معاملات پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ میں یہ فورم
CAREC (Central Asian Regional Economic Cooperation)
کی بھی حمایت کرتا ہے اور
HOA
کے ممبر
CAREC
کے ممبر بھی ہیں لہٰذا کانفرنس میں شرکت کرنے سے
CAREC
میں بھی شمولیت مزید فعال ہو گی۔
چنانچہ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر محترم سرتاج عزیز امرتسر پہنچے۔ ان کا پرتپاک استقبال پاکستانی ہائی کمشنر نے کیا۔ تاہم سرتاج عزیز کو آدھ گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ بھارتی حکومت کی سردمہری پاکستانی مندوب کے پہنچتے ہی نظر آنے لگی۔


کانفرنس کا موضوع افغانستان تھا خاص کر اس میں موجود دہشت گردی سے نمٹنا تھا۔ پاکستان افغانستان تعلقات اس کانفرنس میں زبردست پلٹا کھا گئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں دہشت گردی کا سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ان کے مطابق ہمیں سرحد پار پاکستان سے ہونی والی دہشت گردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے 50کروڑ ڈالر کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے چاہئے کہ وہ رقم پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے خرچ کرے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر اب بھی دہشت گردی کو پناہ دے رہے ہیں۔ طالبان نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو ایک ماہ بھی نہ چل پاتے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کر رہا ہے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک ایشیائی یابین الاقوامی تنظیم ان دہشت گرد کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھے جو پاکستان کی شہ پر کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا کہ افیون کی کاشت پاکستان افغانستان ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہی ہو رہی ہے لہٰذا اس میں بھی پاکستان ہی ملوث ہے ۔حالانکہ افیون کی کاشتکاری مکمل طور پر افغانستان میں ہو رہی ہے۔


اشرف غنی کا ایسے وقت میں پاکستان پر الزامات دراصل ان کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے ہے۔ اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت اپنی کمزور اور ناکام پالیسیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھی ہے۔ لیکن بھارت اور اشرف غنی یہ بھول گئے ہیں کہ ان کی حکومت کا دائرہ کار کابل یا اس سے ملحقہ کچھ تھوڑے سے علاقے پر رہ گیا ہے۔ جب وہ افیون کی کاشت پر اپنی بے بسی بتا رہے تھے تو دراصل وہ یہ بھی بتا گئے کہ ان علاقوں پر ان کا کنٹرول ہی نہیں ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے تقریباً 2ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور اس سے خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اس کے حمایت یافتہ اشرف غنی محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندوستان امریکہ سے بھی فائدہ لے رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان دفاعی معاہدہ دراصل اس بڑھتی ہوئی دوستی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔


پاکستان کے نمائندے سرتاج عزیز نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ الزامات کا کھیل ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ الزامات کی بجائے ٹھوس اور مضبوط اقدامات ہی علاقائی تنازعات ختم کر سکتے ہیں اور یہ کہ پاکستان نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ پاکستان اس خطے میں اور خاص کر افغانستان میں امن لانے کے لئے مخلص ہے۔ سرتاج عزیز کی تقریر میں تشنگی باقی رہی۔ اگر وہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کو ریاستی دہشت گردی یعنی بھارتی مظالم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ نشاندہی کر دیتے تو کچھ مذائقہ نہ تھا۔ پھر جب بات افغانستان ہی کی ہو رہی تھی تو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں ہونے والے کئی ہولناک دہشت گردی کے واقعات جس میں سینکڑوں بے گناہ اپنی جان سے گئے، خاص کر آرمی پبلک سکول کا واقعہ ان کو یاد دلانے سے دنیا کے ممالک اور لوگ کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتے۔بہرحال روسی نمائندے نے سرتاج عزیز کی تقریر کی تعریف کی اسے انتہائی تعمیری اور دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان پر الزامات اور تنقید کو ناپسند کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ پاکستان کو کئی دوست ممالک خاص کر ایران، ترکی ملائشیا وغیرہ کی طرف سے کسی قسم کی تعریف یا پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر کسی تبصرہ کا انتظارہی رہا۔


بھارتی سرد مہری اور رویے سے دل برداشتہ سرتاج عزیز فوراً ہی وطن واپس پہنچنے اور اسی رات کو پریس کانفرنس میں بھارتی غیر سفارتی اور انتہائی ہتک آمیز رویے کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کو معلومات دیں ان سب باتوں کے باوجود حکومت پاکستان اس کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلہ کو صحیح گردانتے ہوئے کانفرنس کو کامیاب قرار دیتی رہی۔
کانفرنس کے آخری اعلامیے کا ایک حصہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں بالخصوص افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں مبینہ دہشت گرد گروپوں کا نام لیا گیا ہے اور ان کی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں داعش، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، لشکر طیبہ، جیش محمد، جمعیت الاحرار اور حزب اﷲ شامل ہیں۔ ان میں سے کتنی تنظیمیں پاکستان میں بنائی گئیں۔ جبکہ کئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکسان کو ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں اس پورے خطے میں ہونے والی دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے اور افغانستان صرف ایک مظلوم تماشائی بن گیا ہے۔ جس کی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال میں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر تنظیمیں امریکہ کی تخلیق کردہ ہیں۔ جن کو افغانستان میں مختلف ادوار میں یا مختلف علاقوں کی ضرورت کے پیش نظر تخلیق کیا گیا ور بعد میں غیرفعال کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اب پاکستان کو (الزام ڈال کر) اس میں شامل کر دیا گیا۔


مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بھی دنیا اور خاص کر مہاجرین کے ملک افغانستان کو شکرگزار اور پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے نہ کہ تنقید کا نشانہ بنائے۔
بھارتی ابلاغ عامہ نے بھی پاکستان کی شمولیت کو سراہنے کی بجائے اس پر کڑی تنقید کی بلکہ پاکستان کے ساتھ غیرسفارتی رویے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی ناکامی کہا۔ سوال یہ ہے کہ سرتاج عزیز کی جگہ اگر پاکستانی سفیر اس کانفرنس میں شرکت کرتے تو کیا اس وقت بھارت کا اور افغانستان کا رویہ مختلف ہوتا۔ یقیناًنہیں تو پھر بھارت سے معاملات اتنے آگے بڑھانے سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کے لئے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وہی بین الاقوامی برادری ہے جس کی رائے کشمیریوں کے اوپر ڈھائے گئے بھارتی مظالم بھی نہ بدل سکے۔ پچھلے چھ مہینے سے جس طرح کشمیری عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے جب یہ مظالم بھارت کے متعلق ان کی رائے نہ بدل سکے تو پاکستان کی

HOA

کانفرنس میں شمولیت کیا بدل سکے گی۔ بین الاقوامی برادری کی سردمہری اور کشمیر کو اہمیت نہ دینا دراصل بھارت کے بارے میں ایک قائم شدہ رائے ہے جو ہندوستان کی تمام پر تشدد کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اشرف غنی کی حکومت حقیقی طور پر ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ جس کا دائرہ کار کابل تک ہی محدود ہے۔ اشرف غنی کا کانفرنس میں بیان ’بھارت کی شہ پر اور امریکہ کی رضامندی سے‘ ہی ممکن تھا کیونکہ وہ بہت جلدی اپنے موقف تبدیل کر لیتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے وہ پاکستان کو ایک برادر ملک سمجھ رہے تھے۔


کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔


پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ بھارت اور افغانستان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اچھے تعلقات صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے

*****

کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔

*****

 

Follow Us On Twitter